Sunday, 28 December 2025

تکبر کے معنیٰ وحقیقت، خرابیاں وانجام اور علاج


تکبر کی حقیقت قرآن کی روشنی میں:

الکبر والتکبیر والاستکبار کے معنیٰ قریب قریب ایک ہی ہیں، پس کبر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے۔

الاستکبار ( اسعاےل ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ۔

(1)ایک یہ کہ انسان بڑا بننے کا قصد کرے۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو جس پر تکبر کرنا انسان کو سزاوار(لائق-حق) ہے تو محمود ہے۔

(2)دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں، یہ مذموم ہے۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے؛ فرمایا:

أَبى وَاسْتَكْبَرَ

[البقرة:34]

مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔


[المفردات في غريب القرآن-للراغب:]




Thursday, 25 December 2025

خشوع کے معنیٰ، اہمیت، فضیلت، نشانیاں اور حصول کے طریقے


خشوع کا مطلب:

خشوع سے مراد ایسا قلبی سکون اور انکساری ہے جو اللہ تعالی کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اور خضوع کا لفظ بھی تقریبا خشوع کے ہم معنیٰ ہے؛ لیکن اصل کے اعتبار سے خشوع کا لفظ آواز اور نگاہ کی پستی اور تذلل کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ وہ مصنوعی نہ ہو؛ بلکہ قلبی خوف اور تواضع کا نتیجہ ہو اور خضوع کا لفظ بدن کی تواضع اور انکساری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

تفصیل کے لیے دیکھیے:

[معارف القرآن، سورہ بقرہ، آیت نمبر:45]


فضیلتِ خشوعِ نماز:

(1) اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان ؓ کے پاس حاضر تھا آپ نے وضو کے لئے پانی منگوا کر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ:

مَا مِنَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وخشوعها وركوعها، إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ

ترجمہ:

جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

[صحیح مسلم:228(543) ]



Tuesday, 23 December 2025

ملائکہ (فرشتوں) پر ایمان

فرشتوں پر ایمان
عقیدہ:
اللہ تعالی نے کچھ مخلوقات نور سے پیدا کرکے(1) ان کو ہماری نظروں سے چھپادیا ہے۔ ان کو فرشتہ کہتے ہیں۔ بہت سے کام انکے حوالے ہیں۔(2) وہ کبھی اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔ جس کام میں لگادیا ہے اس میں لگے رہتے ہیں۔(3) ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں۔ حضرت جبریل(4)، میکائیل(5)، اسرافیل(6)، ملک الموت (عزرائیل)(7) علیہم السلام۔