تکبر کی حقیقت قرآن کی روشنی میں:
الکبر والتکبیر والاستکبار کے معنیٰ قریب قریب ایک ہی ہیں، پس کبر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے۔
الاستکبار ( اسعاےل ) اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ۔
(1)ایک یہ کہ انسان بڑا بننے کا قصد کرے۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو جس پر تکبر کرنا انسان کو سزاوار(لائق-حق) ہے تو محمود ہے۔
(2)دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں، یہ مذموم ہے۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے؛ فرمایا:
أَبى وَاسْتَكْبَرَ
[البقرة:34]
مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔
[المفردات في غريب القرآن-للراغب:]


