Thursday, 8 January 2026

موحدین کا جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچ جانا۔

 

موحدین کا جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچ جانا۔

حدیث نمبر 1

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

" (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا) (¬1) (لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ) (¬2) (وَكَانَ يَتَسَمَّعُ الَأَذَانَ) (¬3) (فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ بَعْدَمَا يُصْبِحُ (¬4) ") (¬5) (فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " عَلَى الْفِطْرَةِ (¬6) "، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ (¬7) "، فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى) (¬8).


ترجمہ:


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ جب ہمارے ساتھ کسی قوم پر (جنگی) چڑھائی کرتے (1) تو صبح ہونے تک (ان پر) حملہ نہ کرتے (2)۔ آپ ﷺ (صبح کو) اذان سننے کے لیے کان لگاتے (3)، پھر اگر اذان سنتے تو (حملہ) روک لیتے، اور اگر اذان نہ سنتے تو صبح ہونے کے بعد (ہی) چڑھائی کرتے (4)۔"


(5) (ایک بار) آپ ﷺ نے ایک شخص کو (یہ) کہتے سنا: "اللہ اکبر، اللہ اکبر"، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "(یہ شخص) فطرت (اسلام) پر ہے۔" (6) پھر اس شخص نے کہا: "اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان لا الہ الا اللہ"، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تو آگ (جہنم) سے نکل گیا۔" (7) لوگوں نے دیکھا تو وہ بکریاں چرانے والا ایک چرواہا تھا۔ (8)



---


حواشی وحوالہ جات:


(1)  (خ) صحيح البخاري، حديث نمبر 585۔

(2)  (خ) صحيح البخاري، حديث نمبر 2784۔ (م) صحيح مسلم، حديث نمبر 382۔

(3)  (م) صحيح مسلم، حديث نمبر 382۔

(4)  تحفۃ الاحوذی کی شرح سے: یعنی آپ ﷺ اس (معاملے) میں ثبوت اور احتیاط فرماتے، اس احتیاز اور خیال سے کہ کہیں ان (مشرکین) میں کوئی مومن نہ ہو، پھر آپ ﷺ اس پر بے خبری اور اس کے حال سے ناواقفیت کی حالت میں چڑھائی کر دیں۔ اس میں یہ بیان ہے کہ اذان دین اسلام کا شعار ہے، اسے چھوڑنا جائز نہیں۔ اگر کسی بستی کے تمام لوگ اسے ترک کرنے پر جمع ہو جائیں تو حاکم (سلطان) کا ان سے (اسے قائم کروانے کے لیے) قتال کرنا جائز ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ جس تک دعوت پہنچ چکی ہو، اسے (دوبارہ) دعوت دیے بغیر بھی قتال کرنا جائز ہے۔ (تحفة الأحوذي: ج4/ص291)

(5)  (خ) صحيح البخاري، حديث نمبر 2784۔ (م) صحيح مسلم، حديث نمبر 382۔

(6)  شرح النووي على مسلم سے: یعنی اسلام پر۔ (شرح النووي على مسلم: ج2/ص107)

(7)  شرح النووي على مسلم سے: یعنی توحید (کے اقرار) کی وجہ سے (آگ سے نکل گیا)۔ (شرح النووي على مسلم: ج2/ص107)

(8)  (م) صحيح مسلم، حديث نمبر 382۔ (ت) الجامع الصحيح للترمذي، حديث نمبر 1618۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. حملے میں احتیاط و تحقیق: رسول اللہ ﷺ کا دشمن پر صبح ہونے تک حملہ مؤخر کرنا اور اذان کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرنا کہ کہیں ان میں کوئی مسلمان تو نہیں ہے، یہ جنگی اخلاقیات میں انتہائی احتیاط، انصاف اور بے گناہوں کو نقصان سے بچانے کی اعلیٰ ترین تعلیم ہے۔

2. اذان کی اہمیت و شعاریت: اذان کو دین اسلام کی ایک واضح علامت اور شعار قرار دیا گیا ہے۔ اس کا ترک کرنا جائز نہیں اور حکمران کا فرض ہے کہ وہ اسے قائم کروائے۔

3. توحید کی بنیادی اہمیت: چرواہے کے صرف "اللہ اکبر" اور "لا الہ الا اللہ" کہنے پر آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ وہ "فطرت (اسلام) پر ہے" اور "آگ سے نکل گیا"، اس بات پر زور دیتا ہے کہ نجات کی بنیاد اصل میں اللہ کی وحدانیت کا اقرار (توحید) ہے۔

4. قبولیت اسلام کا آسان معیار: اسلام قبول کرنے والے کے لیے پیچیدہ اعمال یا علم کی شرط نہیں، بلکہ خلوص دل سے کلمہ طیبہ کا اقرار ہی اسے ایمان داروں کی جماعت میں شامل اور جہنم سے نجات کا سبب بن جاتا ہے۔

5. ظاہری حیثیت سے بالاتر نظر: معاشرے میں ایک چرواہے کی معمولی حیثیت کے باوجود، رسول اللہ ﷺ نے اس کے کلمہ گو ہونے کی وجہ سے اس کی عظمت اور نجات کا اعلان فرمایا۔ یہ ظاہری دنیوی درجات کے بجائے ایمان و تقویٰ کو معیار برتری قرار دیتا ہے۔

6. دعوتِ اسلام کی ذمہ داری: حدیث میں یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جس قوم تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہو اور وہ اسے رد کر دے، تو اس کے خلاف (ضرورت پڑنے پر) قتال جائز ہو سکتا ہے۔





حدیث نمبر 2

عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ:

مَا زِلْنَا نُمْسِكُ عَنِ الاسْتِغْفَارِ لأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا مِنْ فِي نَبِيِّنَا - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} 

(¬1) قَالَ: فَإِنِّي أَخَّرْتُ شَفَاعَتِي لأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا. (¬2)


ترجمہ:


حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "ہم بڑے گناہوں والوں (اہل کبائر) کے لیے مغفرت کی دعا (استغفار) کرنے سے رکتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کے منہ مبارک سے یہ فرماتے سنا: 'بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا دوسرے (گناہوں) کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔' (1) آپ ﷺ نے فرمایا: 'پس میں نے قیامت کے دن اپنی امت کے بڑے گناہوں والوں (اہل کبائر) کے لیے اپنی شفاعت مؤخر (مخصوص طور پر) رکھی ہے۔' (2) پس ہم اپنے دلوں میں موجود بہت سی (باتوں/شکوک) سے رک گئے۔"

¬_________


حواشی و حوالہ جات:


(1) [سورۃ النساء، آیت: 48]


(2)· (صم) السنۃ لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 830۔

· (طس) المعجم الصغیر للطبرانی، حدیث نمبر 5942۔

· (يع) مسند ابی یعلی الموصلی، حدیث نمبر 5813۔

· اور محدث البانی نے "ظلال الجنۃ" (حدیث نمبر 830) میں اسے "حسن" قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. شرک ناقابلِ مغفرت گناہ: نجات اور مغفرت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اور ناقابل معافی جرم شرک ہے۔ یہی وہ واحد گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے معاف نہیں کرے گا، جیسا کہ قرآن کی آیت سے بھی ثابت ہے۔

2. صغیرہ گناہوں پر اللہ کی رحمت کی وسعت: شرک کے علاوہ دیگر تمام گناہ (چاہے کبیرہ ہوں یا صغیرہ) اللہ کی مشیت پر ہیں، وہ جس کے لیے چاہے انہیں معاف فرما دے۔ اس میں اللہ کی رحمت کی وسعت اور اس کی مغفرت کا دروازہ کھلا ہونے کی بشارت ہے۔

3. شفاعتِ نبوی ﷺ کا خاص دائرہ کار: رسول اللہ ﷺ کی عظیم الشان شفاعت قیامت کے دن گنہگار مسلمانوں، خاص طور پر اہلِ کبائر (بڑے گناہ والوں) کے لیے ہوگی، تاکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے بچ جائیں یا اس سے باہر آ جائیں۔ یہ شفاعت شرک کرنے والوں کے لیے نہیں ہوگی۔

4. اہلِ سنت کا اہم عقیدہ: یہ حدیث اہل سنت والجماعت کے اس اصولی عقیدے کی واضح دلیل ہے کہ مرتکبِ کبائر (بڑا گناہ کرنے والا) مسلمان کافر نہیں ہوتا۔ وہ اللہ کی مشیت پر ہے، اگر اللہ چاہے تو اسے معاف فرما دے، یا پھر اسے جہنم میں عارضی طور پر رکھنے کے بعد نبی ﷺ کی شفاعت یا اپنی رحمت سے نکال کر جنت میں داخل فرما دے گا۔ وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔

5. صحابہ کرام کا علمی احتیاط: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ابتداء میں اہل کبائر کے لیے دعائے مغفرت سے رکنا اور پھر نبی ﷺ کی وضاحت سن کر اپنے شکوک دور کر لینا، دین کے معاملات میں علم اور دلیل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے علم میں اضافے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے۔





حدیث نمبر 3

عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ:

كُنَّا نُوجِبُ لأَهْلِ الْكَبَائِرِ النَّارَ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآية عَلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} ،

" فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ نُوجِبَ لأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الدِّينِ النَّارَ " (¬1)


ترجمہ:


اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "ہم بڑے گناہوں والوں (اہل کبائر) کے لیے جہنم واجب (لازمی) سمجھتے تھے، یہاں تک کہ نبی ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: 'بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا دوسرے (گناہوں) کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔' (سورۃ النساء:48)، پس رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم دین (اسلام) والوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی جہنم (کا دائمی عذاب) واجب قرار دیں۔"


---


حوالہ جات:


(1) محدث البانی نے "ظلال الجنۃ" (حدیث نمبر 973) میں اسے "حسن" قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. صحابہ کا ابتدائی فہم: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ابتدائی فہم یہ تھا کہ بڑے گناہ (کبائر) کرنے والا مسلمان جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ خیال انسانی فکر کی حد تک تھا۔

2. قرآنی تعلیم کی اصلاح: اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح فرما کر صحابہ کے اس فہم کی اصلاح فرمائی کہ شرک کے سوا دیگر تمام گناہوں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر منحصر ہے، اور وہ جسے چاہے بخش دے۔

3. شفاعت کی گنجائش: اس آیت اور نبی ﷺ کے ارشاد سے یہ بات واضح ہوئی کہ اہل کبائر (بڑے گناہ والے مسلمان) صرف شرک کی وجہ سے ہی جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے، بلکہ اللہ کی رحمت یا نبی ﷺ کی شفاعت سے انہیں نجات مل سکتی ہے۔

4. مسلمان پر کفر کا حکم لگانے کی ممانعت: رسول اللہ ﷺ نے صراحتاً یہ حکم دیا کہ کسی اہل دین (مسلمان) کے بارے میں یہ قطعی حکم لگانا کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا، جائز نہیں ہے۔ یہ حکم شرک کے مرتکب کے لیے نہیں ہے۔

5. اہل سنت کا بنیادی عقیدہ: یہ حدیث اہل سنت والجماعت کے اس اہم عقیدے کی مزید تائید کرتی ہے کہ مرتکب کبائر (بڑا گناہ کرنے والا) مسلمان، ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ وہ فاسق و گنہگار ہے، لیکن کافر نہیں۔ اس کا انجام اللہ کے حکم پر ہے، یا معافی یا عذاب۔

6. دین میں احتیاط کی تعلیم: نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ کسی مسلمان کے لیے جہنم واجب نہ ٹھہراؤ، درحقیقت دین کے معاملات میں احتیاط، اللہ کی رحمت سے ناامیدی نہ کرنے اور کسی کے بارے میں قطعی بدترین فیصلہ صادر نہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔





حدیث نمبر 4

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" إِذَا اجْتَمَعَ أَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ وَمَعَهُمْ مَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، يَقُولُ الْكُفَّارُ: أَلَمْ تَكُونُوا مُسْلِمِينَ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالُوا: فَمَا أَغْنَى عَنْكُمْ إِسْلامُكُمْ وَقَدْ صِرْتُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟، قَالُوا: كَانَتْ لَنَا ذُنُوبٌ فَأُخِذْنَا بِهَا، فَيَسْمَعُ اللَّهُ مَا قَالُوا، فَيَأْمُرُ بِمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ فَأُخْرِجُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا: يَا لَيْتَنَا كُنَّا مُسْلِمِينَ فَنَخْرُجُ كَمَا خَرَجُوا، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: {الر تِلْكَ آَيَاتُ الْكِتَابِ وَقُرْآَنٍ مُبِينٍ , رُبَمَا يَوَدُّ الذين كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ} 

(¬1) " (¬2)



ترجمہ:


حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"جب دوزخ والے دوزخ میں جمع ہوں گے، اور ان کے ساتھ اہل قبلہ (مسلمان) میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنہیں اللہ نے چاہا (یعنی گنہگار مسلمان)، تو کفار (ان مسلمان گنہگاروں سے) کہیں گے: کیا تم مسلمان نہیں تھے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، (مسلمان) تھے۔ وہ (کفار) کہیں گے: پھر تمہارا اسلام تمہیں کس کام آیا، جب کہ تم بھی ہمارے ساتھ دوزخ میں آ گئے؟ وہ (مسلمان) کہیں گے: ہم سے (دنیا میں) گناہ سرزد ہوئے تھے، سو انہی (گناہوں) کے سبب ہم پکڑے گئے۔


پھر اللہ تعالیٰ ان کی یہ بات سنے گا اور اہل قبلہ (مسلمان) میں سے (دوزخ میں موجود) ہر ایک کے نکالے جانے کا حکم دے گا۔


جب دوزخ والے (کفار) یہ منظر دیکھیں گے تو کہیں گے: کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے تو ہم بھی نکل جاتے جیسے یہ (مسلمان) نکل گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے (اس موقع پر) یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: 'الف، لام، را۔ یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ اکثر اہلِ کفر تمنا کریں گے کہ کاش! وہ (دنیا میں) مسلمان ہوتے۔' (سورۃ الحجر: 1-2)۔"


---


حوالہ جات:


(1) [سورۃ الحجر، آیات: 1، 2]


(2)


· (صم) السنۃ لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 843۔

· (حب) صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 7432۔

· اور محدث البانی نے "ظلال الجنۃ" اور "صحیح موارد الظمآن" (حدیث نمبر 2202) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. توحید کی بنیاد پر نجات کی امید: اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص اسلام (لا الہ الا اللہ) کی بنیاد پر مرا، خواہ وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب تھا، اسے دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہنا پڑے گا۔ اس کا عذاب عارضی ہوگا، آخرکار وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔

2. اللہ کی عدالت اور رحمت: اللہ تعالیٰ گنہگار مسلمان کو اس کے گناہوں کی سزا ضرور دیتا ہے، جو عدل ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اپنی رحمت اور نبی ﷺ کی شفاعت کے ذریعے اسے بخش بھی دیتا ہے، جو اس کی رحمت ہے۔

3. مسلمان اور کافر کا فرق: قیامت کے دن بھی مسلمان اور کافر کے درمیان بنیادی فرق واضح رہے گا۔ کافر توحید کی بنیاد ہی سے محروم ہونے کی وجہ سے دائمی عذاب میں رہیں گے، جبکہ گنہگار مسلمان عارضی عذاب کے بعد نجات پا جائیں گے۔

4. دوزخ میں کفار کا پچھتاوا: جب کفار گنہگار مسلمانوں کو دوزخ سے نکلتا دیکھیں گے تو انہیں شدید پچھتاوا ہوگا اور وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ لیکن اس وقت یہ پچھتاوا بے سود ہوگا۔ قرآن پاک نے اسی احساس کو بیان کیا ہے۔

5. زندہ لوگوں کے لیے سبق: یہ واقعہ ہمارے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ دوزخ سے نکلنے کی یہ آخری امید بھی صرف اسی کو حاصل ہے جس نے اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے دنیا چھوڑی۔ کفر پر موت اس نجات کی تمام امیدوں کو ساقط کر دیتی ہے۔

6. شفاعت کی تصدیق: حدیث میں اللہ کے حکم سے مسلمانوں کے دوزخ سے نکالے جانے کا ذربہ نبی ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ یا دیگر انبیاء و صالحین کی شفاعت کے عملی ظہور کی طرف بھی اشارہ ہے۔

7. گناہوں سے بچاؤ کی ترغیب: اگرچہ گنہگار مسلمان دائمی عذاب سے تو بچ جائیں گے، لیکن دوزخ میں داخل ہو کر عذاب کا مزہ چکھنا اور کفار کے سامنے رسوائی اٹھانا ایک انتہائی ذلت آمیز انجام ہے۔ اس لیے ہر صورت گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔





حدیث نمبر 5

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (¬1) وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ مِنْ خَيْرٍ (¬2) وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ بُرَّةٍ (¬3) مِنْ خَيْرٍ، وَيَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَفِي قَلْبِهِ وَزْنُ ذَرَّةٍ (¬4) مِنْ خَيْرٍ " (¬5)


ترجمہ:


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"وہ شخص دوزخ سے نکالا جائے گا جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا ہو (1) اور اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی (ایمان) ہو (2)۔ اور وہ شخص دوزخ سے نکالا جائے گا جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا ہو اور اس کے دل میں گیہوں کے دانے کے برابر (3) نیکی (ایمان) ہو۔ اور وہ شخص دوزخ سے نکالا جائے گا جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا ہو اور اس کے دل میں ذرہ کے برابر (4) نیکی (ایمان) ہو۔"


---


حواشی وحوالہ جات:


(1) فتح الباری کی تشریح سے: آپ ﷺ کے فرمان "جس نے لا الہ الا اللہ کہا" میں توحید کا اقرار زبانی طور پر کرنا شرط ہونے کی دلیل ہے۔ یا پھر یہاں 'قول' سے مراد قلبی اقرار و تصدیق ہے۔ یعنی جس نے توحید کا اقرار کیا اور اس کی تصدیق کی۔ اقرار ضروری ہے، اسی لیے آپ ﷺ نے ہر مرتبہ اس کا ذکر فرمایا۔ اگر پوچھا جائے کہ پھر رسالت (محمد ﷺ کی رسالت) کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ تو جواب یہ ہے کہ مراد پورا کلمہ ہے، اور پہلا حصہ (لا الہ الا اللہ) پورے کلمے پر دلالت کرتا ہے، جیسے آپ کہتے ہیں: میں نے "قل ہو اللہ احد" پڑھی، یعنی پوری سورت۔ (فتح الباری: ج1/ص70)


(2) حاشیہ السندی کی تشریح سے: آپ ﷺ کے فرمان "نیکی (ایمان) ہو" کے بارے میں بعض روایات میں "مِنْ إِيمَان" (ایمان میں سے) آیا ہے۔ یعنی صرف نفاق (منافقت) کے ساتھ کہنے والا مراد نہیں، بلکہ وہ شخص جس کے دل میں ایمان اور تصدیق کی کچھ مقدار ہو۔ (حاشية السندي على ابن ماجه: ج8/ص164)


(3) فتح الباری کی تشریح سے: "البرة" گیہوں کے دانے کو کہتے ہیں۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ گیہوں کا وزن جو کے دانے سے کم ہوتا ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے پہلے جوں (بڑا دانہ) کا ذکر فرمایا، پھر گیہوں (چھوٹا دانہ) کا، پھر ذرہ (انتہائی چھوٹا) کا۔ اور بعض علاقوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 44 کے تحت)


(4) فتح الباری کی تشریح سے: "الذرۃ" کم سے کم چیز کو کہتے ہیں جو تولی جا سکے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ ذرہ ہے جو سورج کی کرن میں سوئی کی نوک کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ چھوٹی چینٹی کو کہتے ہیں۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 44 کے تحت)


(5)

· (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 44۔

· (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 193۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. توحید: نجات کی بنیادی شرط: ہمیشہ کی نجات (دوزخ سے بالکل آزادی) کی بنیاد "لا الہ الا اللہ" کا اقرار ہے۔ یہی وہ واحد سبب ہے جس کی بنا پر کوئی شخص آخرکار دوزخ سے آزاد ہوگا۔

2. ایمان کی قلبی حقیقت: نجات کے لیے محض زبانی اقرار کافی نہیں، بلکہ دل میں اس کی تصدیق اور ایمان کی کوئی نہ کوئی مقدار (چاہے ذرہ کے برابر ہی کیوں نہ ہو) ضروری ہے۔ یہ ایمان کی حقیقت پر زور دیتا ہے۔

3. اللہ کی بے انتہا رحمت: حدیث میں ایمان کی کم سے کم مقدار (ذرہ، رائی، گیہوں کے برابر) کا ذکر اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اپنے بندے کے دل میں ایمان کے ذرہ کو بھی ضائع نہیں کرتا اور اسی کی بنیاد پر اسے عذاب سے نجات دیتا ہے۔

4. گناہگار مسلمان کی امید: یہ حدیث گناہگار مسلمانوں کے لیے نہایت ہی تسلی کا باعث ہے۔ اگرچہ وہ گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہو سکتے ہیں، لیکن دل میں موجود ایمان کی ذرا سی رمق بھی انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب سے بچا لے گی۔

5. ایمان کی قدر و منزلت: ایمان کی کم از کم مقدار بھی اتنی قیمتی ہے کہ وہ ابدی عذاب سے نجات کا سبب بن جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اسے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

6. شرک کی ہولناکی: اس حدیث کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو شخص "لا الہ الا اللہ" کا قائل اور اس پر ایمان رکھنے والا ہو، وہی اس رحمت کا مستحق ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص شرک میں مبتلا ہو، اس کے پاس نجات کا یہ راستہ نہیں ہے۔

7. شفاعت کی تائید: یہ حدیث اس بات کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ جن گنہگار مسلمانوں کے دل میں ایمان کی معمولی مقدار ہوگی، انہیں دوزخ سے نکالنے میں نبی ﷺ کی شفاعت یا اللہ کی رحمت کارفرما ہوگی۔





حدیث نمبر 6

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" لَيُصِيبَنَّ أَقْوَامًا سَفْعٌ (¬1) مِنَ النَّارِ عُقُوبَةً بِذَنُوبٍ أَصَابُوهَا، ثُمَّ يُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ , يُقَالُ لَهُمْ: الْجَهَنَّمِيُّونَ " (¬2)


ترجمہ:


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کچھ لوگوں کو گناہوں کی سزا میں سے جہنم کی کجھلی (یا دھبہ) (1) ضرور لگے گی جو انہوں نے کمائی ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا۔ انہیں 'جہنمی' کہا جائے گا۔" (2)


---


حواشی کے حوالہ جات:

(1) السفعۃ (کجھلی/دھبہ): یہ ایک جلن یا داغ ہے جو چہرے کے رنگ کو سیاہی مائل کر دیتا ہے۔ (یعنی جہنم کا عارضی اور مختصر عذاب)۔

(2)


· (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 7012۔

· (حم) مسند امام احمد، حدیث نمبر 12511۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. عدل الٰہی کا ظہور: اللہ تعالیٰ کا نظامِ عدل یہ تقاضا کرتا ہے کہ گناہوں کی مناسب سزا ضرور ملے، خواہ وہ مؤمن ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ سزا جہنم میں عارضی طور پر داخلے یا اس کی آگ کے اثر (کجھلی/داغ) کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

2. رحمت الٰہی کی فراوانی: سزا دینے کے باوجود، اللہ کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے جاتی ہے۔ آخرکار وہ اپنے فضل و رحمت سے ان گنہگار مؤمنین کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرما دے گا۔

3. اہلِ ایمان کے لیے دائمی عذاب سے برأت: یہ حدیث اس اہم عقیدے کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت پر فوت ہوا، خواہ وہ کتنے ہی گناہوں کا مرتکب کیوں نہ رہا ہو، وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔ اس کا عذاب عارضی اور محدود ہوگا۔

4. "جہنمی" کی پکار کی حکمت: انہیں "جہنمی" کہلانے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ جہنم میں (عارضی طور پر) داخل ہوئے تھے، یا یہ ان کے گناہوں اور اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کی یاد دہانی ہوگی۔ اس کے باوجود ان کا حتمی ٹھکانا جنت ہے۔

5. گناہوں سے ڈرنے اور رحمت سے امید رکھنے کا توازن: یہ حدیث مؤمن کے دل میں دو چیزیں یکجا کرتی ہے: اپنے گناہوں اور ان کے انجام سے خوف (کیونکہ سزا ضرور ملے گی) اور اللہ کی وسیع رحمت پر پختہ امید (کیونکہ آخرکار نجات ضرور ملے گی)۔

6. توبہ و استغفار کی ترغیب: اگرچہ مؤمن کے لیے رحمت کا دروازہ کھلا ہے، لیکن عذاب جہنم کا تصور ہمیں گناہوں سے بچنے، توبہ و استغفار کرنے اور نیک اعمال بڑھانے کی ہمیشہ ترغیب دیتا ہے تاکہ ہم اس عارضی عذاب سے بھی بچ سکیں۔





حدیث نمبر 7

عَنْ عَبْدِ الله بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا، فَيَمْكُثُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانَ،

لَوْ أَضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الدُّنْيَا لأَطْعَمَهُمْ وَسَقَاهُمْ وَلَحَفَهُمْ وَلَزَوَّجَهُمْ، لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا "۔


ترجمہ:


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کچھ لوگ دوزخ میں رہیں گے جتنے عرصے اللہ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں دوزخ سے نکال لے گا۔ پھر وہ جنت کے سب سے نچلے درجے میں ایک نہر کے کنارے ٹھہریں گے جس کا نام 'الحیوان' ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک دنیا والوں کی مہمانی (ضیافت) کرے تو وہ انہیں کھلائے گا، پلائے گا، (ضرورت کے مطابق) کپڑے دے گا اور شادی کرائے گا، اور اس سے اس کی نعمتوں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔"


---


حوالہ جات:

(1)


· (صم) السنۃ لابن ابی عاصم، حدیث نمبر 834۔

· (حب) صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 7428۔

· محدث البانی نے "ظلال الجنۃ" میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

· شیخ شعیب ارناؤط نے (صحیح ابن حبان کے تعلیقے میں) کہا ہے: اس کی سند قوی ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. عذاب کی مدت اللہ کی مشیت پر: گنہگار مسلمانوں کے دوزخ میں رہنے کی کوئی مقررہ مدت نہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی پر منحصر ہے۔ یہ مدت کسی کے لیے کم اور کسی کے لیے زیادہ ہو سکتی ہے۔

2. رحمتِ الٰہی کا فیصلہ کن کردار: نجات کا حتمی سبب اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے، خواہ وہ براہ راست ہو یا کسی نبی یا صالح بندے کی شفاعت کے ذریعے۔

3. درجاتِ جنت کا نظام: جنت کے بھی مختلف درجات ہیں۔ گنہگار مسلمان جنہیں دوزخ کی سزا ملنے کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا، وہ جنت کے سب سے نچلے درجے ("أَدْنَى الْجَنَّةِ") میں جائیں گے۔ یہ ان کے اعمال کی کمی کی وجہ سے ہوگا، لیکن پھر بھی وہ عظیم نعمتیں ان کا مقدر ہوں گی۔

4. جنت کی نعمتوں کی فراوانی و وسعت: "نہرِ حیوان" کے کنارے کی نعمتیں اتنی وسیع اور بے پایاں ہوں گی کہ اگر کوئی ایک شخص ساری دنیا والوں کو ضیافت کرے، تو اس سے اس کی اپنی نعمتوں میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ جنت کی نعمتوں کی فراوانی اور اللہ کے خزانے کی وسعت کی عظیم دلیل ہے۔

5. ایمان کی قدر و قیمت: اس حدیث سے ایک بار پھر واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی دولت اتنی قیمتی ہے کہ اس کے حامل کو آخرکار نجات ضرور ملتی ہے، خواہ اس نے گناہوں کے باعث عارضی عذاب ہی کیوں نہ بھگتا ہو۔

6. گناہوں سے بچاؤ کی ترغیب: اگرچہ نجات آخرکار ملنی ہے، لیکن دوزخ کا عذاب اور جنت کے نچلے درجے میں جانا ایک تکلیف دہ اور کمتر مقام ہے۔ اس لیے ہمیں گناہوں سے بچنے اور اعلیٰ درجات کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔

7. شفاعت کی تائید: یہ حدیث اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ کرتی ہے کہ گنہگار مسلمانوں کو دوزخ سے نکالنے میں نبی ﷺ اور دیگر مقرب بندوں کی شفاعت کارفرما ہوگی، جو اللہ کی رحمت کو متحرک کرے گی۔




حدیث نمبر 8

عَنْ عُمَرَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ الله، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا يأتي بِهِمَا عَبْدٌ مُحِقٌّ , إِلَّا وَقَاهُ اللَّهُ حَرَّ النَّارِ "

ترجمہ:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی بندہ ان دونوں باتوں (یعنی کلمہ توحید و رسالت) کو سچے دل (اور صحیح عقیدے) سے نہیں لاتا، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ سے بچا لیتا ہے۔"


---


حوالہ جات:

· (يع) مسند ابی یعلی الموصلی، حدیث نمبر 230۔

· اور شیخ البانی نے "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 3221) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. کلمہ شہادت کی عظمت و مرکزی حیثیت: نبی اکرم ﷺ کی طرف سے خود ان الفاظ میں گواہی دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کا اقرار دین اسلام کی بنیاد اور نجات کا واحد ذریعہ ہے۔

2. اخلاص شرطِ قبولیت: نجات صرف زبانی اقرار سے نہیں، بلکہ اس کے لیے "محق" ہونا ضروری ہے۔ یعنی دل کی گہرائیوں سے سچے یقین، خلوص اور صحیح عقیدے کے ساتھ اس کی تصدیق کرنا۔ یہ منافقت، شک یا جبر کے بغیر پختہ ایمان ہے۔

3. دوزخ سے حفاظت کا یقینی وعدہ: جو شخص اس شرط (اخلاص) کے ساتھ کلمہ توحید و رسالت کا اقرار کرے، اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھنے کا قطعی وعدہ فرماتا ہے۔ یہ موحدین کے لیے نجات کی ضمانت ہے۔

4. توحید و رسالت کا اٹوٹ ربط: حدیث میں دونوں گواہیوں کو ایک ساتھ اور لازم و ملزوم طور پر بیان کرنا اس اصول کی تائید کرتا ہے کہ کامل ایمان کے لیے اللہ کی وحدانیت کے ساتھ ساتھ محمد ﷺ کی رسالت کی تصدیق بھی ضروری ہے۔

5. نبی ﷺ کی شفقت و بشارت: آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "میں گواہی دیتا ہوں"، درحقیقت امت کو یہ خوشخبری سنانا اور انہیں تسلی دینا ہے کہ سچا ایمان رکھنے والا ہرگز اللہ کی رحمت سے محروم نہیں رہے گا۔

6. عمل کی بنیاد نیت پر ہے: حدیث کا مرکزی نکتہ "محق" (سچا ہونا) ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کی قبولیت کی بنیاد نیت، اخلاص اور دل کی کیفیت پر ہے، نہ کہ محض ظاہری الفاظ پر۔





حدیث نمبر 9

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ , يَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى قَلْبِ مُوقِنٍ , إِلَّا غَفَرَ اللَّه لَهَا " 

ترجمہ:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کوئی بھی شخص جو اس حالت میں مرے کہ وہ گواہی دے رہا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی یقین کے ساتھ دل سے ہو، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا۔"


---


حوالہ جات:


(1)


· (جة) سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3796۔

· (حم) مسند امام احمد، حدیث نمبر 22051۔

· اور شیخ البانی نے "صحیح الجامع" (حدیث نمبر 5793) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 2278) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. موت کے وقت ایمان کی نجات: یہ حدیث اس اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے کہ نجات کا حتمی فیصلہ انسان کے آخری وقت پر منحصر ہے۔ جو شخص آخر وقت میں ایمان کی حالت پر فوت ہو، اس کے لیے مغفرت اور نجات کی بشارت ہے۔

2. کلمہ کی شرطِ قبولیت: یقینِ قلبی: محض زبانی گواہی کافی نہیں۔ نجات کے لیے ضروری ہے کہ کلمہ شہادت دل کے گہرے یقین اور تصدیق کے ساتھ ادا کیا جائے۔ یہ ایمان کی حقیقی کیفیت ہے۔ "موقن" کا لفظ شک، تردد یا ریاکاری کے بغیر پختہ عقیدے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

3. اللہ کی وسیع مغفرت کا وعدہ: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کے وعدے کو شرط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ شرط پوری کرنے والے کے لیے مغفرت یقینی ہے۔ یہ اللہ کے فضل اور رحمت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

4. توحید و رسالت کا اتحاد: نبی ﷺ نے دونوں گواہیوں (توحید اور رسالت) کو ایک ساتھ نجات کا ذریعہ بتایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامل ایمان کے لیے دونوں کا اقرار ضروری ہے۔

5. خاتمہ بالخیر کی اہمیت: یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی زندگی کا اختتام ایمان پر کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور اللہ سے اچھے انجام کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔

6. اللہ کی رحمت سے امید: یہ بشارت ہر اس شخص کے لیے امید کا دروازہ کھولتی ہے جس کے دل میں ذرہ بھر بھی سچا ایمان ہو۔ وہ اللہ کی وسیع مغفرت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

7. منافقت سے انتباہ: حدیث اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ صرف زبانی کلمہ، بغیر دل کے یقین کے، نجات کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ اس سے منافقین کے انجام سے ڈرانا مقصود ہے۔





حدیث نمبر 10

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله - رضي الله عنهما - قَالَ:

(سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه - رضي الله عنه -: مَا لِي أَرَاكَ قَدْ شَعِثْتَ وَاغْبَرَرْتَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -؟ , لَعَلَّكَ سَاءَتْكَ يَا طَلْحَةُ إِمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ (¬1)؟ - يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ - رضي الله عنه - فَقَالَ: لَا) (¬2) (مَعَاذَ اللَّهِ , إِنِّي لَأَجْدَرُكُمْ أَنْ لَا أَفْعَلَ ذَلِكَ) (¬3) (وَأَثْنَى عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رضي الله عنه - , وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ) (¬4) (إِلَّا وَجَدَ رُوحَهُ لَهَا رَوْحًا (¬5) حِينَ تَخْرُجُ مِنْ جَسَدِهِ , وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (¬6) )

[ وفي رواية: إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ , وَأَشْرَقَ لَوْنُهُ] 

( (¬7) )

[ وفي رواية: وَكَانَتْ نُورًا لِصَحِيفَتِهِ] 

"( (¬8) (فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْهَا , وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا) (¬9) )

[ وفي رواية: فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهَا إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ] 

(¬10) (فَذَلِكَ الذي دَخَلَنِي , قَالَ عُمَرُ - رضي الله عنه -: فَأَنَا أَعْلَمُهَا , قَالَ طَلْحَةُ: فلله الحمد , فَمَا هِيَ؟ , قَالَ: هِيَ الْكَلِمَةُ الَّتِي) (¬11) (أَرَادَ عَمَّهُ عَلَيْهَا) (¬12) (عِنْدَ الْمَوْتِ) (¬13) (وَلَوْ عَلِمَ كَلِمَةً أَنْجَى لَهُ مِنْهَا لَأَمَرَهُ) (¬14) (بِهَا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَقَالَ طَلْحَةُ: صَدَقْتَ، هِيَ والله هِيَ) (¬15) (لَوْ عَلِمَ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْهَا لَأَمَرَهُ بِهَا) (¬16). (¬17)


ترجمہ:


حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے کہتے سنا: "میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد سے بکھرے ہوئے اور خاک آلود (یعنی بہت اداس اور غمزدہ) کیوں دیکھ رہا ہوں؟ اے طلحہ! شاید آپ کو اپنے چچا زاد بھائی کی امارت (خلافت) ناگوار گزری ہے؟" (1) (یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "نہیں، (2) اللہ کی پناہ! میں تم سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ ایسا نہ کروں (3)"، اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تعریف کی، "لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: **'میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں، جو کوئی بندہ موت کے وقت کہے، (4) مگر یہ کہ اس کی روح کو (اس وقت) اس سے راحت (5) ملے گی جب وہ جسم سے نکل رہی ہو، اور قیامت کے دن اس کے لیے (وہ کلمہ) نور ہوگا۔ (6)' (اور ایک روایت میں ہے: مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کر دے گا اور اس کا رنگ (چہرہ) روشن ہو جائے گا) (7)۔ (اور ایک روایت میں: اور وہ (کلمہ) اس کے صحیفہ (اعمال) کے لیے نور ہوگا)۔ (8)" تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس (کلمہ) کے بارے میں نہیں پوچھا اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجھے اس سے آگاہ کیا۔ (9) (اور ایک روایت میں: مجھے اس کے بارے میں پوچھنے سے صرف یہ بات روکتی رہی کہ میں آپ ﷺ کے سامنے تھا (لیکن موقع نہ مل سکا)، یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات ہو گئی) (10)۔ پس یہی (بات) ہے جو مجھے (اداس) کر رہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "پس میں وہ (کلمہ) جانتا ہوں۔" حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "اللہ کا شکر ہے، پس وہ کیا ہے؟" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "وہی کلمہ ہے جو آپ ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) کو موت کے وقت (13) (کہنے) کے لیے چاہا تھا (12)، اور اگر آپ ﷺ کوئی ایسا کلمہ جانتے جو اس سے (بھی) زیادہ نجات دہ ہوتا تو ضرور اسے اس کا حکم دیتے (14): (وہ) 'لا الہ الا اللہ' ہے۔" تو حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: "آپ نے سچ کہا، اللہ کی قسم! وہی ہے (15)۔ اگر آپ ﷺ کوئی ایسا کلمہ جانتے جو اس سے افضل ہوتا تو ضرور اسے اس کا حکم دیتے۔" (16)


---


حوالہ جات اور تشریحات:


(1) یعنی: کیا آپ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے راضی نہیں ہیں؟ (حاشیة السندي على ابن ماجه: ج7/ص185)

(2) (حم) 252، وقال الشيخ شعيب الأرناءوط: صحيح بطرقه۔ (جة) 3795

(3) (حم) 187، وقال الشيخ شعيب الأرناءوط: صحيح بطرقه۔

(4) (حم) 1387، (جة) 3795

(5) (رَوْحًا) یعنی: رحمت اور رضوان۔ (حاشیة السندي على ابن ماجه: ج7/ص185)

(6) (حم) 187، (جة) 3795

(7) (حم) 1386، وقال الشيخ شعيب الأرناءوط: إسناده صحيح۔

(8) (جة) 3795، (حم) 252

(9) (حم) 187

(10) (حم) 1386

(11) (حم) 187

(12) (جة) 3795

(13) (حم) 1387

(14) (جة) 3795

(15) (حم) 1387

(16) (حم) 252

(17) صَحِيح الْجَامِع: 2492، الصَّحِيحَة: 2492 (شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. کلمہ توحید کی فضیلت و عظمت: یہ حدیث اس بات پر واضح مہر ثبت کرتی ہے کہ "لا الہ الا اللہ" سب سے اعلیٰ، سب سے بڑا اور سب سے زیادہ نجات دہندگان کلمہ ہے۔ اگر اس سے افضل کوئی کلمہ ہوتا تو نبی ﷺ ضرور اپنے پیارے چچا ابوطالب کو اس کی وصیت فرماتے۔

2. موت کے وقت کلمہ کا اثر: آخری سانسوں کے وقت سچے دل سے اس کلمہ کا ادا کرنا انتہائی فائدہ مند ہے۔ یہ روح کو راحت، تکلیف کو دور، چہرے کو روشن اور قیامت کے دن اس کے لیے نور کا باعث بنتا ہے۔

3. ایمان پر خاتمہ کی اہمیت: حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی اور کلمہ توحید کا اقرار نجات کے لیے نہایت ہی قیمتی موقع ہے۔

4. صحابہ کرام کا فکری معیار: حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کا اداس ہونا محض دنیوی اقتدار کی خاطر نہ تھا، بلکہ ایک ایسی عظیم بات کو نہ جاننے کا افسوس تھا جو آخرت کی نجات کا ذریعہ ہے۔ یہ صحابہ کرام کے اعلیٰ فکری اور اخروی معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

5. صحابہ کرام میں باہمی مشاورت و علم کا تبادلہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت طلحہ سے پوچھنا اور پھر ان کی الجھن دور کرنا، صحابہ کرام کے باہمی خلوص، مشاورت اور علم کے تبادلے کی عمدہ مثال ہے۔

6. توحید کی دعوت میں نبی ﷺ کی سعی: نبی ﷺ کا اپنے مشرک چچا ابوطالب کو آخری وقت میں بھی "لا الہ الا اللہ" کہلوانے کی سعی کرنا، آپ ﷺ کی توحید کی دعوت اور اپنے قریبی رشتہ داروں کی نجات کے لیے فکر مندی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔

7. خلوصِ نیت کی ضرورت: ابوطالب کے واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ محض قرابت یا محبت نجات دینے والی نہیں، بلکہ اصل چیز دل کا ایمان اور خلوص ہے۔ ابوطالب نے دل سے اقرار نہ کیا، اس لیے نجات نہ پا سکے۔

8. موت سے پہلے تیاری: یہ حدیث ہر مسلمان کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ اپنی موت سے پہلے اپنے ایمان اور اعمال درست کر لے اور "لا الہ الا اللہ" کو اپنی زبان و دل کا ورد بنائے، تاکہ آخری وقت میں یہی کلمہ اس کی نجات کا ذریعہ بنے۔




حدیث نمبر 11

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ:

" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِعَمِّهِ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله، أَشْهَدُ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " , قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ (¬1) لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ (¬2) فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّه يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ} (¬3) " (¬4)

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: "رسول اللہ ﷺ نے اپنے (مشرک) چچا (ابو طالب) سے فرمایا: کہو: لا الہ الا اللہ، میں قیامت کے دن اس (کلمہ) کی گواہی تمہارے لیے دوں گا۔" انہوں (ابو طالب) نے کہا: اگر قریش مجھے طعنہ نہ دیتے، وہ کہتے کہ اس پر (اس کلمہ کو کہنے پر) اسے (صرف) بے صبری (اور موت کا خوف) نے آمادہ کیا تھا (1)، تو میں ضرور تمہاری آنکھ ٹھنڈی کر دیتا (2)۔ پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: "بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے، لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔" (سورۃ القصص: 56) (3)" (4)


---


حواشی کے حوالہ جات:


(1) الْجَزَعُ (بے صبری): صبر کی ضد، اور اہل زبان کی جماعتوں کا قول ہے کہ وہ الْخَرَعُ ہے: اور وہ کمزوری اور بزدلی ہے۔ (تحفة الأحوذي: ج8/ص27)


(2) أَقَرَّ اللَّهُ عَيْنَهُ (اس کی آنکھ ٹھنڈی کر دی): یعنی اللہ نے اس کی آرزو پوری کر دی یہاں تک کہ اس کی نفس راضی ہو گیا اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو گئی پھر کسی چیز کی طرف مائل نہیں ہوتی۔ (شرح النووي على مسلم: ج1/ص98)


(3) [سورۃ القصص، آیت: 56]


(4)


· (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 25۔

· (ت) الجامع الصحیح للترمذي، حدیث نمبر 3188۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے: اس واقعہ اور آیت سے واضح ہوتا ہے کہ ہدایت دینا محض اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ نبی ﷺ جیسے عظیم ہادی بھی اپنے پیارے رشتہ دار کو ہدایت نہ دے سکے، جب تک اللہ نے ہدایت نہ دی۔

2. رسول اللہ ﷺ کی شفقت و ہمدردی: آپ ﷺ کا اپنے چچا کو آخری وقت میں بھی توحید کی دعوت دینا اور ان کی نجات کے لیے فکر مند ہونا، آپ ﷺ کی بے مثال شفقت اور امت کی خیر خواہی کو ظاہر کرتا ہے۔

3. دنیاوی رسوائی کا خوف، نقصان دہ: ابوطالب نے کلمہ توحید اس لیے نہیں کہا کہ وہ قریش کے طعنہ اور دنیاوی رسوائی سے ڈرتے تھے۔ یہ دنیاوی حیثیت اور لوگوں کی رائے کا خوف انسان کو آخرت کی نجات سے محروم کر سکتا ہے۔

4. موت کے وقت ایمان کی اہمیت: یہ واقعہ ایک بار پھر موت کے وقت ایمان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ابوطالب نے اگرچہ زندگی بھر نبی ﷺ کی حمایت کی، لیکن آخری وقت میں صریح ایمان نہ لانے کی وجہ سے نجات نہ پا سکے۔

5. کلمہ توحید کی شرط: اخلاص و یقین: محض زبان سے کلمہ کہہ لینا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے دل کا اخلاص، یقین اور خالص نیّت ضروری ہے۔ ابوطالب کا جواب ظاہر کرتا ہے کہ ان کا ارادہ خالصتاً اللہ کے لیے نہیں تھا۔

6. قدرت الٰہی پر توکل: مبلغ اور داعی کے لیے یہ درس ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری (تبلیغ) پوری کرے، پھر نتیجہ پر اللہ پر بھروسہ رکھے، کیونکہ ہدایت دینا اس کے ہاتھ میں ہے۔

7. قرآن کے نزول کے اسباب: یہ واقعہ قرآن کی ایک آیت کے نزول کا سبب بنا، جو قرآن کے علوم میں سے "اسباب نزول" کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔






حدیث نمبر 12

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

كَانَ غُلَامٌ مِنَ الْيَهُودِ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -، فَمَرِضَ، " فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَعُودُهُ) (¬1) (وَهُوَ بِالْمَوْتِ) (¬2) (فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ) (¬3) (فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ") (¬4) (فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا القاسِم، فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ، " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ: الحمد لله الذي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ) (¬5) (وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِأَصْحَابِهِ: صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ (¬6)) (¬7) "

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک یہودی لڑکا (خادم کے طور پر) کام کرتا تھا۔ وہ بیمار پڑ گیا، تو رسول اللہ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے (1)، (اس وقت) وہ (لڑکا) مرنے کے قریب تھا (2)۔ آپ ﷺ اس کے سرہانے بیٹھ گئے (3) اور اسے اسلام کی دعوت دی (4)۔ اس لڑکے نے (اس وقت) اپنے باپ کی طرف دیکھا جو وہیں موجود تھا، تو اس کے باپ نے کہا: ابوالقاسم (ﷺ) کی بات مان لو۔ چنانچہ وہ لڑکا مسلمان ہو گیا، پھر فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ وہاں سے باہر تشریف لائے اور فرما رہے تھے: ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس (لڑکے) کو میرے ذریعے آگ (جہنم) سے بچا لیا۔‘‘ (5) اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا: ’’اپنے بھائی (کی نمازِ جنازہ) پڑھو۔‘‘ (7)"


---


حواشی کے حوالہ جات:


(1) (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1290۔

(2) (حم) مسند احمد، حدیث نمبر 13399، وقال الشيخ شعيب الأرناءوط: إسناده صحيح۔

(3) (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1290، (د) سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 3095۔

(4) (حم) مسند احمد، حدیث نمبر 13399، (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1290۔

(5) (حم) مسند احمد، حدیث نمبر 13399، (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 1290۔

(6) فتح الباری کی تشریح سے: اس حدیث میں درج ذیل باتوں کی اجازت ہے: مشرک کو ملازم رکھنا، اور اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنا۔ اس میں اچھے برتاؤ اور عہد کی پاسداری (کا حکم) ہے۔ چھوٹے (بچے) سے کام لینا (جائز ہے)۔ (عقلمند) بچے کو اسلام پیش کرنا (جائز ہے)، اگر وہ اس (کی سمجھ) کے لائق نہ ہوتا تو آپ ﷺ اسے اسلام پیش نہ فرماتے۔ اور آپ ﷺ کے فرمان ’’اسے میرے ذریعے آگ سے بچا لیا‘‘ سے یہ دلیل ملتی ہے کہ اس کا اسلام درست ہو گیا، اور یہ کہ اگر کوئی بچہ کفر کو سمجھنے کے بعد (اس پر قائم رہے) اور اسی پر مر جائے تو وہ عذاب میں ہوگا۔ (فتح الباري لابن حجر: ج4/ص427)

(7) (حم) مسند احمد، حدیث نمبر 13762، وصححها الألباني في الإرواء: 2480۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات (مختصراً):


1. انسانی ہمدردی اور رحمت: رسول اللہ ﷺ کا اپنے غیر مسلم خادم کی عیادت کرنا، انسانیت اور رحمتِ عالم ﷺ کا عملی مظاہرہ ہے۔

2. موت کے وقت بھی دعوتِ حق: آپ ﷺ نے لڑکے کو آخری وقت میں بھی اسلام کی دعوت دی، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ موت کے قریب بھی توبہ اور ایمان قبول کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔

3. توحید پر نجات: لڑکے کے صرف کلمہ پڑھ لینے اور اسلام قبول کر لینے پر آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ اللہ نے اسے جہنم سے بچا لیا، توحید کی بنیاد پر نجات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

4. مسلمان کی نمازِ جنازہ: آپ ﷺ کا صحابہ کو نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اسلام قبول کر لے، خواہ فوراً بعد فوت ہو جائے، اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔

5. نابالغ کا عقل رکھنا: حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ اگر سمجھدار ہو تو اسے اسلام کی دعوت دی جا سکتی ہے اور اس کا اسلام درست ہے۔





حدیث نمبر 13

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَلَى رَجُلٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: يَا خَالُ، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " , فَقَالَ: أَوَخَالٌ أَنَا أَوْ عَمٌّ؟ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا، بَلْ خَالٌ , فَقَالَ لَهُ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "، قَالَ: هُوَ خَيْرٌ لِي؟ , قَالَ: " نَعَمْ " (¬1)

¬_________

ترجمہ:


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: "رسول اللہ ﷺ بنی نجار کے ایک بیمار شخص کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'اے چچا! کہو: لا الہ الا اللہ۔' اس شخص نے کہا: کیا میں (تمہارا) چچا ہوں یا ماموں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'نہیں، بلکہ چچا (ہی ہو)،' پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'کہو: لا الہ الا اللہ۔' اس نے پوچھا: کیا یہ میرے لیے بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔'"


---


حوالہ جات:


(1)


· (حم) مسند امام احمد، حدیث نمبر 12565۔

· محدث البانی نے "أحكام الجنائز" (صفحہ 15) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

· شیخ شعیب ارناؤط نے کہا ہے: اس کی سند شرط مسلم پر صحیح ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. مریض کی عیادت کی فضیلت: رسول اللہ ﷺ کا اپنے ایک قبیلے (بنی نجار) کے بیمار شخص کی عیادت کے لیے جانا، مریضوں کی تیمارداری اور ان سے ملنے کی ترغیب اور اس کے ثواب پر دلالت کرتا ہے۔

2. قرابت داروں سے نرمی و شفقت: آپ ﷺ نے اس شخص سے نرمی اور شفقت کے ساتھ "اے چچا!" کہہ کر مخاطب کیا، حالانکہ وہ آپ ﷺ کے حقیقی چچا نہ تھے۔ یہ قرابت داری اور عمر میں بڑے ہونے کے احترام میں نرم گفتاری اور خوش اخلاقی کی تعلیم دیتا ہے۔

3. موت کے وقت کلمہ توحید کی تاکید: اس حدیث میں بھی رسول اللہ ﷺ نے ایک مرنے والے شخص کو آخری وقت میں "لا الہ الا اللہ" کہنے کی ترغیب دی۔ یہ اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ موت کے وقت کلمہ توحید کی تلقین کرے۔

4. کلمہ توحید کی عظمت و برتری: جب اس مرنے والے شخص نے پوچھا: "کیا یہ میرے لیے بہتر ہے؟" تو رسول اللہ ﷺ نے "ہاں" فرمایا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کلمہ توحید دنیا و آخرت کی ہر بھلائی اور بہتری سے بڑھ کر ہے۔ یہی نجات کا اصل ذریعہ ہے۔

5. ایمان پر آخرت کی بھلائی: مرنے والے شخص کا یہ سوال اور پھر رسول اللہ ﷺ کا جواب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایمان اور کلمہ توحید کی بنیاد پر ہی آخرت کی حقیقی بھلائی اور نجات ممکن ہے۔

6. دعوت و تبلیغ کا حکیمانہ اسلوب: آپ ﷺ نے براہ راست حکم دینے کے بجائے، نرمی اور پیار سے مخاطب کرتے ہوئے، پہلے اس کا دل حاصل کیا، پھر دعوت دی۔ یہ دعوت و تبلیغ کے مؤثر اور حکیمانہ اسلوب کی تعلیم دیتا ہے۔





حدیث نمبر 14

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِرَجُلٍ: أَسْلِمْ "، قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا، قَالَ: " أَسْلِمْ وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا "

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: "رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: 'اسلام قبول کر لو۔' اس نے کہا: میں (اپنے دل میں) ناراضگی (یا ہچکچاہٹ) محسوس کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اسلام قبول کر لو، اگرچہ تم (ابھی) ناراض (یا ہچکچا) ہو۔'"


---


حوالہ جات:

(1)


· (حم) مسند امام احمد، حدیث نمبر 12080۔

· (يع) مسند ابی یعلی الموصلی، حدیث نمبر 3879۔

· محدث البانی نے "صحیح الجامع" (حدیث نمبر 974) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 1454) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. عمل کا تقدم: یہ حدیث اس اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے کہ اسلام میں اصل چیز "عمل" ہے۔ دل کی مکمل رضامندی اور جذباتی طور پر پختہ ہونے کا انتظار کیے بغیر، عملی طور پر حکمِ الٰہی اور رسول کی دعوت کو قبول کر لینا اور اطاعت شروع کر دینا نجات کا سبب بنتا ہے۔

2. دل کی کیفیت وقت کے ساتھ بدلتی ہے: ابتدائی ہچکچاہٹ یا ناراضگی ایمان کے قبول ہونے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بسا اوقات آدمی عمل شروع کر کے اور اسلام پر چل کر دھیرے دھیرے اس کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے، تو اس کا دل بھی مطمئن اور راضی ہو جاتا ہے۔ ایمان بڑھتا ہے۔

3. دعوتِ اسلام میں حکمت: نبی ﷺ کا اس شخص کو یہ کہہ کر اسلام کی دعوت دینا کہ "اگرچہ تم ناراض ہو"، درحقیقت اس کی نفسیاتی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک حکیمانہ اور مؤثر طریقہ تھا۔ آپ ﷺ نے اس کے اعتراض کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ اسے تسلیم کرتے ہوئے ہی عمل کی ترغیب دی۔

4. دین فطرت ہے: اسلام فطرتِ سلیمہ کا دین ہے۔ ہو سکتا ہے کسی شخص کے دل پر کفر و شرک کی تاریکیوں یا بری عادتوں کے پردے پڑے ہوں، لیکن جب وہ اسلام کا اعلان کرتا اور اس پر عمل کرنا شروع کرتا ہے تو یہ پردے ہٹنے لگتے ہیں اور فطرت روشن ہوتی چلی جاتی ہے۔

5. نبی ﷺ کی دعوت میں پیہم کوشش: یہ حدیث نبی ﷺ کی اس کوشش کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ آپ ﷺ ہر ممکن شخص کو ایمان کی طرف بلاتے تھے، خواہ اس میں ابتدائی ہچکچاہٹ ہی کیوں نہ ہو۔

6. منافقین سے فرق: یہاں "کارہًا" (ناراض) ہونے کا مطلب نفاق یا دل کی مخالفت نہیں، بلکہ ایک جذباتی ہچکچاہٹ یا سمجھ نہ پانا ہے۔ منافق تو زبان سے اسلام کا اقرار کرتا ہے لیکن دل سے اس کا انکار رکھتا ہے، جبکہ یہاں شخص نے اپنے جذبات کا برملا اظہار کیا اور پھر بھی اسے عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔





حدیث نمبر 15

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

" (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ " وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رضي الله عنه - رَدِيفُهُ (¬1) عَلَى الرَّحْلِ) (¬2) (فَقَالَ: " يَا مُعَاذُ "، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: " يَا مُعَاذُ "، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: " يَا مُعَاذُ "، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ (¬3) إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ) (¬4) (فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا؟) (¬5) (قَالَ: " لَا , إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهِ ") (¬6) (فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا (¬7)) (¬8).


ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: "رسول اللہ ﷺ اپنے کچھ سفر میں تھے اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے (1) (2)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے معاذ!' انہوں نے کہا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے معاذ!' انہوں نے کہا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے معاذ!' انہوں نے کہا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'کوئی بھی بندہ جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اپنے دل کی سچائی سے (3)، مگر یہ کہ اللہ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔' (4) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ سنا دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟ (5) آپ ﷺ نے فرمایا: 'نہیں، مجھے ڈر ہے کہ وہ صرف اسی (کلمہ) پر بھروسہ کرنے لگیں (اور عمل چھوڑ دیں)۔' (6) پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی موت کے وقت (علم چھپانے کے) گناہ کے خوف سے اسے لوگوں کو بتا دیا (7)۔" (8)


---


حواشی کے حوالہ جات:


(1) یعنی: رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار۔

(2) (حم) مسند احمد، حدیث نمبر 13768، (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 128۔

(3) فتح الباری کی تشریح سے: آپ ﷺ کے فرمان "صدقًا" میں منافق کی گواہی سے احتراز (الگ ہونا) ہے۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 128 کے تحت)

(4) (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 128، (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 32۔

(5) (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 32، (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 128۔

(6) (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 129، (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 32۔

(7) فتح الباری کی تشریح سے: یعنی گناہ میں پڑنے کے خوف سے، اور مراد علم چھپانے سے حاصل ہونے والے گناہ سے ہے۔ اس حدیث میں پیچھے سوار ہونے (الارداف) کی جواز، نبی ﷺ کے تواضع کا بیان، اور علم میں حضرت معاذ بن جبل کے مقام کی دلیل ہے کیونکہ آپ ﷺ نے انہیں خاص کر کے یہ بات بتائی۔ اس میں طالب علم کا اپنے اشکال کے بارے میں پوچھنے کا جواز ہے، اور اکیلا جاننے والے کے لیے اسے پھیلانے کی اجازت لینا بھی ہے۔ (فتح الباری، حدیث نمبر 128 کے تحت)

(8) (م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 32، (خ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 128۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. توحید و رسالت: نجات کی بنیاد: سچے دل سے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کا اقرار ہمیشہ کی جہنم سے نجات کی ضمانت ہے۔ یہ ایمان کی عظمت اور اس کے اجر کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

2. ایمان کی شرط: اخلاص و صداقت: نجات صرف اس صورت میں ہے جب اقرار "دل کی سچائی" ("صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ") کے ساتھ ہو۔ محض زبانی اقرار (جیسے منافق کرتے ہیں) کافی نہیں۔

3. علم کی اشاعت میں حکمت و مصلحت: نبی ﷺ نے ابتداء میں اس خوشخبری کے عام کرنے سے اس لیے منع فرمایا کہ لوگ صرف کلمہ پر تکیہ کر کے نیک اعمال ترک نہ کر دیں۔ یہ تعلیم و تبلیغ میں وقت، حالات اور مصلحت کو ملحوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

4. علم چھپانے کی مذمت: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا اپنی موت کے وقت اس علم کو بیان کر دینا اس بات کی نشاندہی ہے کہ علم کو چھپانا گناہ ہے، اور عالم کو چاہیے کہ وہ مفید علم لوگوں تک ضرور پہنچائے۔

5. نبی ﷺ کی شفقت و تربیت: آپ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا نام تین بار پکار کر ان کی توجہ حاصل کی، جو تربیت اور اہم بات سنانے کا مؤثر طریقہ ہے۔ نیز سفر میں انہیں اپنے پیچھے بٹھانا آپ ﷺ کے تواضع اور قربت کی دلیل ہے۔

6. صحابی کا علمی مقام و فہم: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال پوچھنا اور پھر مناسب وقت پر علم پھیلانا ان کے گہرے فہم اور علم کے تقاضوں کو سمجھنے کی دلیل ہے۔

7. عمل کی ترغیب: حدیث کا یہ پہلو کہ لوگ صرف کلمہ پر بھروسہ نہ کر لیں، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی ضروری ہیں۔ ایمان نجات کی بنیاد ہے، لیکن اعمال درجات بلند کرتے ہیں اور ایمان کی تکمیل کرتے ہیں۔





حدیث نمبر 16

عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ قَالَ:

(قَالَ لَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ - رضي الله عنه - فِي مَرَضِهِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ) (¬1) (لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ إِلَّا أَنْ تَتَّكِلُوا , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ:) (¬2) (" مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (¬3) وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ) (¬4) " (¬5)

¬_________

ترجمہ:


کثیر بن مرہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا:

"ہم سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسی بات سنی ہے جسے میں تم سے چھپاتا رہا تھا (1)۔ مجھے تم سے اسے بیان کرنے سے صرف یہ بات روکتی رہی کہ کہیں تم (اس پر) بھروسہ (کر کے عمل چھوڑ) نہ دو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: (2)

'جس شخص کا آخری کلام 'لا الہ الا اللہ' ہو (3)، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔' (4)" (5)


---


حوالہ جات:


(1) (حم) مسند احمد، 22087۔ شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: اس کی سند حسن ہے۔

(2) (حم) مسند احمد، 22113۔ شیخ شعیب ارناؤوط نے کہا: حدیث صحیح ہے۔

(3) تشریح: حافظ ابن حجر فتح الباری میں فرماتے ہیں: اس حدیث اور دیگر احادیث میں 'لا الہ الا اللہ' کہنے سے مراد کلمہ شہادتین (دونوں گواہیاں) ہیں۔ لہٰذا رسالت کے ذکر کے چھوٹ جانے سے کوئی اشکال نہیں رہتا۔

زین بن المنیر کہتے ہیں: قول 'لا الہ الا اللہ' ایک لقب ہے جو شرعاً دونوں شہادتوں کے اقرار پر جاری ہوتا ہے۔

(عون المعبود، 7/100)

(4) (حم) مسند احمد، 22087۔ (د) سنن ابی داؤد، 3116۔

(5) محدث البانی نے اسے "الإرواء" (687) میں حسن قرار دیا ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. کامیابی کی حتمی ضمانت: اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی طرف سے ایک عظیم بشارت اور مضبوط ترین ضمانت ہے کہ موت کے وقت کا سچا ایمان اور اقرار جنت کی کنجی ہے۔

2. اخلاص شرط ہے: یہ ضمانت اس بات سے مشروط ہے کہ یہ کلمہ انسان کا آخری کلام ہو۔ یہ اس وقت ایمان کی صداقت اور دل کے اللہ سے لگاؤ کی دلیل ہے، جبکہ انسان خالص توحید کے کلمے پر دنیا سے رخصت ہو رہا ہو۔

3. اللہ کی رحمت کی وسعت: "وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" (اس کے لیے جنت واجب ہو گئی) کے الفاظ اللہ کے وعدے کی قطعیت اور مومن بندے پر اس کی رحمت کی تکمیل کو ظاہر کرتے ہیں۔

4. آخری وقت کی اہمیت: حدیث انسان کے اختتام اور اللہ سے ملاقات کی اس حالت کی انتہائی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ یہ ہر مسلمان کو اچھے انجام کی کوشش اور اس کے لیے دعا کرنے پر ابھارتی ہے۔

5. یہاں "لا الہ الا اللہ" کے معنی: علماء کرام نے وضاحت کی ہے کہ ایسی نصوص میں "لا الہ الا اللہ" کا لفظ جامع لقب کی حیثیت رکھتا ہے جس سے مراد کلمہ شہادتین یعنی 'لا الہ الا اللہ' اور 'محمد رسول اللہ' دونوں ہیں۔ یہ صرف پہلی شہادت تک محدود نہیں۔

6. صحابہ کا علم پہنچانے میں حکمت: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں مصلحت اور لوگوں کی حالت کے پیش نظر اس حدیث کو چھپایا، اس ڈر سے کہ کہیں وہ اعمال کی محنت چھوڑ کر صرف اس کلمے پر بھروسہ نہ کرنے لگیں اور اس کے حقوق و شرائط پوری نہ کریں۔ بعد میں موت کے وقت علم چھپانے کے گناہ کے خوف سے اسے بیان کر دیا۔ یہ بشارت دینے اور غفلت سے ڈرانے کے درمیان توازن قائم کرنے کا طریقہ ہے۔

7. ترغیب ہے، غفلت کا سبب نہیں: یہ حدیث دل میں اللہ اور اس کی وحدانیت کی محبت کو مضبوط کرنے کی ترغیب ہے، تاکہ یہی بات اس کی زبان پر جاری ہو۔ یہ اعمال صالحہ سے بے نیاز ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایمان نجات کی بنیاد ہے اور اعمال اس کی تکمیل اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔





حدیث نمبر 17

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

(بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -) (¬1) (عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ (¬2)) (¬3) (فَقَالَ: " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , " ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذُ " , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , " ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذُ " , فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ (¬4)) (¬5) (قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ (¬6) وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ (¬7)؟ " , فَقُلْتُ: اللَّه وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ: " حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا (¬8) وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا (¬9)) (¬10) 

[ وفي رواية: وَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ] 

(¬11) " , (فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَلَا أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ؟ , قَالَ: " لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا (¬12)) (¬13) "


ترجمہ:

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: "میں نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا (1) جس کا نام 'عفیر' تھا (2) (3)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے معاذ بن جبل!' میں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ 'پھر آپ ﷺ تھوڑی دیر چلے، پھر فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ 'پھر آپ ﷺ تھوڑی دیر چلے، پھر فرمایا: اے معاذ! میں نے عرض کیا: حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں (4)۔" (5)


آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے (6) اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے (7)؟" میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کا اپنے بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں (8)، اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو (9)۔" (10)

(اور ایک روایت میں ہے: "بے شک بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ ان میں سے اس شخص کو عذاب نہ دے جس نے ایسا کیا ہو۔") (11)


(میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "انہیں خوشخبری نہ دو، کہیں وہ (صرف اسی پر) بھروسہ کرنے لگیں (12)۔") (13)


---


حوالہ جات اور تشریحات:


(1) (خ) صحیح البخاری، 5622۔ (م) صحیح مسلم، 30۔

(2) فتح الباری کی تشریح سے: حدیث میں دو آدمیوں کا ایک گدھے پر سوار ہونا جائز ہے۔ (فتح الباري: ج18/ص339)

(3) (خ) 2701، (م) 30۔

(4) فتح الباری کی تشریح سے: (نبی ﷺ کا) بار بار پکارنا اس بات کی تاکید کے لیے ہے جو آپ ﷺ بتانے والے ہیں، اور (سامع کا) اسے سمجھنے اور یاد رکھنے میں مبالغہ (توجہ) کرنے کے لیے ہے۔ (فتح الباري: ج18/ص339)

(5) (خ) 5622، (م) 30۔

(6) فتح الباری کی تشریح سے: یہاں مراد وہ (حق) ہے جو اللہ اپنے بندوں پر رکھتا ہے، ان پر جسے لازم قرار دیا گیا ہے۔ (فتح الباري: ج18/ص339)

(7) فتح الباری کی تشریح سے: بندوں کا اللہ پر حق وہ (جزا و ثواب) ہے جس کا اس نے ان سے وعدہ کیا ہے، پس اس (وعدے) کی وجہ سے وہ (حق) ثابت اور واجب ہو جاتا ہے۔ (فتح الباري: ج18/ص339)

(8) فتح الباری کی تشریح سے: عبادت سے مراد اطاعتوں کا عمل اور معاصی سے اجتناب ہے۔ اور اس پر عدمِ شرک کو عطف کیا گیا ہے کیونکہ یہ توحید کی تکمیل ہے۔ عبادت پر اسے عطف کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بعض کفار یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اللہ کی عبادت کرتے ہیں، لیکن وہ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتے تھے، اس لیے اس کے نفہ کی شرط لگائی۔ ابن حبان نے کہا: اللہ کی عبادت زبان سے اقرار، دل سے تصدیق اور جوارح (اعضا) سے عمل کا نام ہے۔ اسی لیے جواب میں فرمایا: "جب وہ ایسا کریں تو بندوں کا کیا حق ہے؟" پس آپ ﷺ نے فعل کا لفظ استعمال فرمایا، قول کا نہیں۔ (فتح الباري: ج18/ص339)

(9) فتح الباری کی تشریح سے: آپ ﷺ نے صرف شرک کے نفہ پر اکتفا فرمایا ہے، کیونکہ یہ (لفظاً) توحید کو (اقتضائاً) اور رسالت کے اثبات کو (لزوماً) مستلزم ہے، کیونکہ جو رسول اللہ ﷺ کو جھٹلائے گا اس نے اللہ کو جھٹلایا، اور جس نے اللہ کو جھٹلایا وہ مشرک ہے۔ پس مراد وہ ہے جو اس حالت میں مرا کہ وہ تمام واجباتِ ایمان پر مؤمن تھا۔ اور آپ ﷺ کے فرمان "جنت میں داخل ہوا" میں کوئی اشکال نہیں، کیونکہ یہ لفظ اس سے عام ہے کہ عذاب سے پہلے داخل ہوا یا بعد میں۔ (فتح الباري، حدیث نمبر 129 کے تحت)

(10) (خ) 2701، (م) 30۔

(11) (حم) 10808، وقال الشيخ شعيب الأرناءوط: إسناده صحيح۔

(12) فتح الباری کی تشریح سے: علماء نے کہا ہے کہ حضرت معاذ کو لوگوں کو خوشخبری دینے سے منع کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رخصت (آسانی) والی احادیث عام لوگوں میں نہیں پھیلائی جاتیں، کہیں ان کی سمجھ مقصود تک نہ پہنچ سکے۔ معاذ نے یہ حدیث سنی تو ان میں عمل میں اور زیادہ اجتہاد اور اللہ کے خوف میں اضافہ ہوا، لیکن جو ان کے مرتبے کو نہ پہنچا ہو، اس سے یہ خدشہ ہے کہ وہ اس خبر کے ظاہر پر بھروسہ کر کے کوتاہی کرنے لگے، حالانکہ اس کے متواتر نصوصِ کتاب و سنت کے مخالف ہونے کا یہ معنی نہیں کہ بعض موحد گنہگار جہنم میں داخل ہوں گے۔ لہٰذا دونوں باتوں کے درمیان جمع ضروری ہے۔ علماء نے اس میں کئی راستے اختیار کیے ہیں: (1) کہا گیا کہ مراد شرک کی آگ میں داخل ہونے سے نجات ہے۔ (2) کہا گیا کہ مراد موحد کے تمام بدن کے عذاب سے نجات ہے، کیونکہ آگ سجدہ گاہوں کو نہیں جلاتی۔ (3) کہا گیا کہ یہ (وعدہ) ہر اس شخص کے لیے نہیں جس نے توحید کی اور عبادت کی، بلکہ یہ خاص ہے اس کے لیے جس نے اخلاص کیا۔ اور اخلاص اس کے معنی کو دل سے پختہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے، اور گناہ پر اصرار کے ساتھ اس کا پختہ ہونا متصور نہیں، کیونکہ دل اللہ کی محبت اور اس کے خوف سے لبریز ہو جاتا ہے، پھر اعضاء طاعت کی طرف متحرک اور معصیت سے رک جاتے ہیں۔ (تنبیہ): معاذ کی حضرت انس بن مالک سے مروی حدیث گزر چکی ہے، لیکن وہ "لا الہ الا اللہ" کی شہادت کے متعلق تھی، اور یہ (موجودہ حدیث) اللہ کے بندوں پر حق کے متعلق ہے، لہٰذا یہ دو الگ احادیث ہیں۔ حمیدی اور ان کے متبعین نے وہم کیا جب انہوں نے دونوں کو ایک حدیث قرار دیا۔ ہاں، دونوں میں یہ بات مشترک پائی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو بتانے سے منع فرمایا کہیں وہ بھروسہ نہ کرنے لگیں، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ایک ہی حدیث ہوں۔ اور حضرت انس والی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ "پس معاذ نے اپنی موت کے وقت (علم چھپانے کے) گناہ کے خوف سے اسے لوگوں کو بتا دیا" اور یہاں یہ (واقعہ) موجود نہیں، واللہ اعلم۔ (فتح الباري: ج8/ص481)

(13) (خ) 2701، (م) 30۔ اور الحسن بن سفیان نے اپنی مسند میں یہ (لفظ) روایت کیا ہے: "آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، انہیں چھوڑ دو کہ وہ اعمال میں (اچھے) مقابلے کریں، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ (صرف اسی پر) بھروسہ کرنے لگیں۔" (فتح الباری، حدیث نمبر 129 کے تحت)


---


حاصل شدہ اسباق و نکات (مختصراً):


1. توحید کی بنیادی ذمہ داری: انسان کا اللہ پر سب سے بڑا حق، جس کی ادائیگی اس پر واجب ہے، یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے۔ یہی دین کا بنیادی مقصد ہے۔

2. اللہ کا وعدۂ نجات: جو شخص شرک سے بچتے ہوئے خالص توحید پر قائم رہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اسے (آخرکار) جہنم کے دائمی عذاب میں نہیں ڈالے گا۔ یہ موحدین کے لیے بشارت ہے۔

3. عبادت کا جامع تصور: یہاں عبادت سے مراد محنم نماز روزہ ہی نہیں، بلکہ اطاعت کے تمام اعمال اور معصیت سے اجتناب ہے۔ شرک سے بچنا اس کی تکمیل ہے۔

4. تبلیغ میں حکمت و مصلحت: نبی ﷺ نے ابتداء میں اس عام بشارت کے پھیلانے سے اس لیے منع فرمایا کہ کہیں لوگ محض کلمہ پر تکیہ کر کے اعمالِ صالحہ ترک نہ کر دیں۔ یہ تعلیم میں مصلحت اور سامعین کی نفسیات کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

5. ایمان و عمل کا توازن: حدیث کا یہ پہلو واضح کرتا ہے کہ ایمان (توحید) نجات کی بنیاد ہے، لیکن اس کے ساتھ اعمالِ صالحہ کا ہونا بھی ضروری ہے۔ صرف زبانی اقرار کافی نہیں۔

6. اللہ کے حقوق کی معرفت: حدیث ہمیں سب سے پہلے اللہ کے حقوق (توحید و عبادت) پہچاننے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ یہی انسان کی کامیابی کی بنیاد ہے۔

7. صحابی کی فہم و فراست: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ سوال پوچھنا اور پھر آپ ﷺ کے حکم پر عمل کرنا ان کے فہم اور ادب کی دلیل ہے۔





حدیث نمبر 18

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّه لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، يُصَلِّي الْخَمْسَ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، غُفِرَ لَهُ "، قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ الله؟ , قَالَ: " دَعْهُمْ يَعْمَلُوا " (¬1)


ترجمہ:


حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:

"جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، اور پانچوں نمازوں کی پابندی کرتا ہو، اور رمضان کے روزے رکھتا ہو، تو اسے بخش دیا جائے گا۔" میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "انہیں چھوڑ دو کہ وہ (نیک) عمل کرتے رہیں۔"


حوالہ:

(حم) مسند احمد، حدیث نمبر 22081۔ محدث البانی نے "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 1315) میں اسے صحیح قرار دیا ہے.


---


📖 حدیث کی وضاحت اور اسباق


یہ حدیث ایمان، عمل اور اللہ کی وسیع رحمت کے درمیان توازن قائم کرنے والی ایک اہم تعلیم ہے۔


1. مغفرت کے لیے بنیادی شرائط

حدیث میں مغفرت و نجات کے لیے تین واضح شرائط بیان کی گئی ہیں:


· توحید کی حفاظت: اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرنا۔

· نماز کا اہتمام: فرض پانچ وقتہ نمازوں کی پابندی کرنا۔

· روزے کی ادائیگی: فرض روزوں (رمضان) کو قائم رکھنا۔


یہ تینوں ارکان اسلام کی بنیاد ہیں۔ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص ان بنیادی فرائض پر قائم رہے اور شرک سے بچے، تو اللہ کی رحمت اس کی مغفرت کا وعدہ کرتی ہے۔


2. تعلیم و تبلیغ میں حکمت: "دَعْهُمْ يَعْمَلُوا"

آپ ﷺ کا حضرت معاذ کو ابتداء میں اس بات کی عام تبلیغ سے روکنا ایک گہری تربیتی حکمت پر مبنی ہے:


· مقصد: یہ روکاٹ اس ڈر کی وجہ سے تھی کہ کہیں لوگ محض اس وعدۂ مغفرت پر بھروسہ (اتّکال) کر کے نیک اعمال کی محنت اور جہد سے غافل نہ ہو جائیں۔

· تربیتی اصول: یہ اس اصول کی عملی تعلیم ہے کہ معلم اور داعی کو سامعین کی نفسیات، فہم اور وقت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے علم پہنچانا چاہیے۔ بعض اوقات کسی خوشخبری کا اعلان، اگرچہ حق ہے، مگر مصلحت کے تحت مؤخر کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ مقصد فوت نہ ہو جائے۔

· علم کی ذمہ داری: بعد میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا اپنی موت کے قریب اس حدیث کو بیان کر دینا، علم چھپانے کے گناہ (تأثُّمًا) کے خوف کی وجہ سے تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ کبھی مصلحت کے تحت بات مؤخر کی جائے، لیکن علم کو بالکلیہ چھپانا جائز نہیں۔


3. ایمان، عمل اور رحمت کا توازن

یہ حدیث درج ذیل اہم نکات کی وضاحت کرتی ہے:


· عمل کی اہمیت: آپ ﷺ کا فرمان "دَعْهُمْ يَعْمَلُوا" (انہیں عمل کرنے دو) اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مغفرت اور نجات کے وعدے کا مقصد لوگوں کو عمل سے غافل کرنا نہیں، بلکہ انہیں مزید محنت و عبادت پر ابھارنا ہے۔

· اللہ کی رحمت کی وسعت: حدیث شرک سے پاک توحید اور فرائض کی ادائیگی پر اللہ کی وسیع مغفرت کی بشارت دیتی ہے، جو مومن کے لیے امید اور تسکین کا باعث ہے۔

· کمال کی طرف رغبت: حدیث کا مقصد یہ نہیں کہ انسان صرف انہی بنیادی فرائض پر اکتفا کر لے، بلکہ یہ کم از کم معیار بتاتی ہے جس پر قائم رہنے والے سے اللہ کی رحمت کی امید وابستہ ہے۔ مومن کو ہمیشہ نیکیوں میں سبقت اور کمال کی طرف کوشش کرنی چاہیے۔


💎 حاصل شدہ اہم فوائد کا خلاصہ


· نجات کی بنیاد: توحید اور فرائض (نماز و روزہ) پر استقامت نجات و مغفرت کی بنیادی شرط ہے۔

· دعوت میں حکمت: علم پہنچاتے وقت سامعین کے فہم اور نفسیات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

· عمل کی ترغیب: اللہ کے وعدے ہمارے لیے عمل کی محنت ترک کرنے کا سبب نہیں، بلکہ مزید اجتہاد کی تحریک ہیں۔

· علم کی امانت: مصلحت کے تحت وقتی تاخیر جائز ہے، لیکن علم کو مکمل طور پر چھپانا جائز نہیں۔

· امید و عمل کا توازن: مومن کو اللہ کی رحمت پر پختہ امید رکھتے ہوئے اپنے اعمال درست کرنے کی ہمیشہ کوشش میں رہنا چاہیے۔






حدیث نمبر 19

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" (مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ , وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ (¬1) وَرُوحٌ مِنْهُ (¬2) وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ , وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ , أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ الْعَمَلِ (¬3)) (¬4) 

[ وفي رواية: أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ] (¬5) "


ترجمہ:


حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور یہ کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں، اور یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈالا (1) اور اس کی جانب سے ایک روح ہیں (2)، اور یہ کہ جنت سچی ہے اور دوزخ سچی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، جو کچھ بھی وہ عمل کرتا رہا ہو (3)۔" (4)


(اور ایک روایت میں ہے: "اللہ تعالیٰ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا داخل کرے گا۔") (5)


---


📖 حدیث کی وضاحت اور اسباق


یہ حدیث ایمان کے بنیادی ارکان، خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اسلامی عقیدے کی وضاحت اور موحدین کے لیے جنت کے وعدے پر مشتمل ہے۔


1. ایمان کے بنیادی ارکان کی گواہی

حدیث میں جو گواہی طلب کی گئی ہے، وہ اسلام کے ان بنیادی عقائد پر مشتمل ہے جو ہر مسلمان کے لیے ضروری ہیں:


· اللہ کی وحدانیت: "لا الہ الا اللہ" کے اقرار کے ساتھ اس کی توحید کی صراحت۔

· رسالت محمدیہ: آپ ﷺ کی رسالت کی تصدیق، یہ بیان کرتے ہوئے کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول دونوں ہیں۔

· حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صحیح مقام: انہیں اللہ کا بندہ اور رسول تسلیم کرنا، ان کی غیر معمولی پیدائش ("اللہ کا کلمہ" اور "اس کی طرف سے ایک روح") کے باوجود انہیں اللہ کا بیٹا یا معبود قرار دینے سے انکار کرنا۔

  · "کلمۃ اللہ" ہونے کی تشریح: فتح الباری میں ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اللہ کی مخلوقات پر اس کی حجت ہیں، جنہیں بغیر باپ کے پیدا کیا گیا، اور جنہوں نے وقت سے پہلے بولنا شروع کیا۔ یہ نام اس لیے بھی ہے کہ انہیں اللہ کے "کن" فرمانے سے پیدا کیا گیا۔

  · "روح منہ" ہونے کی تشریح: اس نام کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مُردوں کو زندہ کرنے کی قدرت دی گئی تھی، یا اس لیے کہ وہ ایک روح (مخلوق) ہیں جو کسی جاندار کے جزء کے بغیر پیدا ہوئی۔

· آخرت پر ایمان: جنت اور دوزخ کے وجود پر یقین رکھنا۔


2. ایمان پر نجات کا وعدہ اور عمل کا مقام

حدیث کا مرکزی وعدہ یہ ہے کہ جو شخص ان عقائد کا اقرار کرے گا، اللہ اسے "جو کچھ بھی وہ عمل کرتا رہا ہو" کے باوجود جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس کے دو اہم پہلو ہیں:


· نجات کی ضمانت: یہ وعدہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سچے دل سے توحید اور رسالت کا اقرار، اور دیگر ضروری عقائد پر ایمان، انسان کو جہنم میں ہمیشہ رہنے سے بچا لیتا ہے۔ یہ ایمان کی عظمت اور اللہ کی وسیع رحمت کو ظاہر کرتا ہے۔

· عمل کا اثر درجات پر: الفاظ "عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ" (جو کچھ بھی وہ عمل کرتا رہا ہو) کی تشریح میں علماء کہتے ہیں کہ ایمان دار جنت میں داخل ضرور ہوگا، لیکن اس کا درجہ اور مقام اس کے نیک اعمال کے مطابق ہوگا۔ جو زیادہ نیک عمل کرے گا، اس کا مقام بلند تر ہوگا۔ حضرت نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث جنت میں داخلے کے کلی وعدے پر محمول ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ کبیرہ گناہ بھی ہوں تو وہ اللہ کی مشیت پر ہے؛ اگر عذاب دیا گیا تو آخر کار اس کا انجام جنت پر ہوگا۔


3. جنت کے دروازوں میں انتخاب کی فضیلت

ایک روایت میں اضافہ ہے کہ ایسا شخص "جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا داخل کیا جائے گا۔" یہ موحد کے لیے ایک بہت بڑی فضیلت اور عزت افزائی ہے۔ علماء نے اس کا دوسری احادیث (جیسے ہر شخص کا ایک مخصوص دروازہ ہونا) کے ساتھ یوں جمع کیا ہے کہ اسے اختیار حاصل ہوگا، اور وہ خود وہ دروازہ منتخب کرے گا جو اس کے لیے بہتر سمجھے گا۔


---


💎 حاصل شدہ اہم فوائد کا خلاصہ


· عقیدہ کی اہمیت: اسلام میں صحیح عقیدہ (توحید، رسالت، آخرت) نجات کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔

· حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسلامی تصور: انہیں اللہ کا برگزیدہ بندہ اور رسول ماننا ضروری ہے، انہیں معبود یا بیٹا قرار دینا کفر ہے۔

· ایمان اور عمل کا تعلق: ایمان نجات کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ نیک اعمال جنت میں بلند درجات اور بہتر مقام کا سبب بنتے ہیں۔

· اللہ کی رحمت کی وسعت: بنیادی عقائد پر استقامت رکھنے والے کے لیے اللہ کا وعدہ بہت وسیع ہے اور وہ اسے آخرکار جنت میں پہنچائے گا۔

· موحد کی فضیلت: اسے جنت میں داخلے کے لیے دروازہ چننے کا اختیار دیا جائے گا، جو ایمان کی قدر و منزلت کو ظاہر کرता ہے۔

· گناہگار مؤمن کی امید: اگرچہ وہ عذاب کا مستحق ہو سکتا ہے، لیکن اس کا حتمی ٹھکانا جنت ہے۔





حدیث نمبر 20

عَنْ الصُّنَابِحِيِّ (¬1) قَالَ:

دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رضي الله عنه - وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ , فَقَالَ: مَهْلًا , لِمَ تَبْكِي؟ فوالله لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ , وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ , ثُمَّ قَالَ: والله مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا , وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي (¬2) سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقُولُ: " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ (¬3) " (¬4)


ترجمہ:


صنابحی (ابو عبداللہ، عبدالرحمٰن بن عسیلہ المرادی) سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا:

میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ (اس وقت) موت کی حالت میں تھے، تو میں رونے لگا۔ آپ نے فرمایا: "آہستہ، تم کیوں رو رہے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی مانگی جائے تو میں تمہاری ضرور گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تو میں تمہاری ضرور شفاعت کروں گا، اور اگر میں استطاعت رکھوں گا تو تمہارا ضرور بھلا کروں گا۔"

پھر آپ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ سے جو کوئی حدیث میں نے سنی جس میں تمہارے لیے خیر ہو، وہ میں نے تمہیں ضرور سنائی ہے، سوائے ایک حدیث کے۔ اور آج میں وہ تمہیں سنا دوں گا، کیونکہ (اب) مجھ پر موت کا وقت آن پہنچا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: 'جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم (کا دائمی عذاب) حرام کر دیا۔'"


---


📜 حدیث کا تعارف و اسنادی حیثیت


یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت کے واقعے اور آپ ﷺ کے ایک اہم وعدے پر مشتمل ہے۔ اس کی اسنادی حیثیت درج ذیل ہے:


حوالہ:

· صحیح مسلم: حدیث نمبر 29

· جامع الترمذی: حدیث نمبر 2638


راویِ حدیث (تابعی): اسے بیان کرنے والے صنابحی ہیں، جن کا نام ابو عبداللہ، عبدالرحمٰن بن عسیلہ المرادی ہے۔ وہ ایک جلیل القدر تابعی ہیں جو یمن کے قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کی زیارت کے لیے سفر کیا، لیکن راستے ہی میں آپ ﷺ کی وفات کی خبر سنی۔ پھر انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر بڑے صحابہ کرام سے علم حاصل کیا۔


صحابی (حدیث کا اصل راوی): یہ حدیث حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو بدری صحابی اور عقیدہ و عبادات کے معاملے میں انتہائی مضبوط شخصیت کے مالک تھے۔


---


📖 الفاظِ حدیث کی وضاحت اور تشریح


حدیث کے بعض اہم الفاظ اور جملوں کی مختصر تشریح درج ذیل ہے:


1. "وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي" (اور مجھ پر موت کا وقت آن پہنچا ہے):

   · معنی: میری موت قریب آ گئی ہے اور زندگی سے نجات (یا بچاؤ) کی امید ختم ہو گئی ہے۔ [شرح النووي على مسلم]

2. "حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ" (اللہ نے اس پر جہنم حرام کر دی):

   · معنی: مراد یہ ہے کہ اس پر جہنم میں ہمیشہ رہنا حرام کر دیا گیا، جیسا کہ کافروں کے لیے ہے۔ [تحفة الأحوذي]

   · تشریح: یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچا موحد آخرکار جہنم سے نکل کر جنت میں داخل ہو گا، خواہ اسے گناہوں کی پاداش میں عارضی عذاب ہی کیوں نہ بھگتنا پڑے۔


---


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات


اس حدیث سے درج ذیل قیمتی اسباق ملتے ہھیں:


1. علم چھپانے کی مذمت اور امانت داری:


· حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا اپنی زندگی کے آخری لمحات میں یہ حدیث بیان کرنا، "تأثُّمًا" یعنی علم چھپانے کے گناہ کے خوف کی وجہ سے تھا۔

· یہ ہر عالم اور طالب علم کے لیے یہ سبق ہے کہ مفید علم کو چھپانا جائز نہیں، بلکہ اسے لوگوں تک پہنچانا ایک امانت ہے۔


2. صحابی کا اعلیٰ اخلاق اور ہمدردی:


· حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا اپنے مرض الموت میں بھی آنے والے شخص کو تسلی دینا، اس کے لیے گواہی، شفاعت اور بھلائی کی دعا کرنا، صحابہ کرام کے اعلیٰ اخلاق، ہمدردی اور اخروی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔


3. کلمہ توحید کی عظمت اور نجات کی ضمانت:


· یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کا سچے دل سے اقرار ہی نجات کی بنیاد ہے۔

· یہ اقرار انسان پر جہنم کے دائمی عذاب کو حرام کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت اور توحید کی قدر و منزلت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔


4. صحیح احادیث کی حجیت و اہمیت:


· یہ حدیث امام مسلم کی "الصحیح" میں موجود ہے، جو امت اسلامیہ کے ہاں قرآن کے بعد سب سے معتبر کتابوں میں سے ہے . امام بخاری اور امام مسلم جیسے ائمہ نے اپنی کتابوں میں صحیح احادیث کا چناؤ انتہائی محنت اور تحقیق سے کیا، اگرچہ انہوں نے ہر صحیح حدیث شامل کرنے کا التزام نہیں کیا .


---


🔍 صحیح مسلم کی معتمد حیثیت


اس حدیث کا اصل ماخذ "صحیح مسلم" ہے، جو امت مسلمہ کے نزدیک قرآن کریم کے بعد سب سے قابل اعتماد کتب میں سے ایک ہے:


· اجماعی قبولیت: اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اجماع ہے کہ "الصحیحان" (بخاری و مسلم) میں موجود احادیث (نادر استثنائات کے سوا) قابل حجت اور عمل کے لائق ہیں .

· اعلیٰ شرائط: امام مسلم رحمہ اللہ نے انتہائی سخت شرائط پر احادیث کا انتخاب کیا، جس کی وجہ سے ان کی کتاب کو بلند مقام حاصل ہوا۔

· دفاعِ صحیحین: بعض اوقات کم فہم یا بدعتی لوگ صحیحین پر اعتراضات کرتے ہیں، لیکن اہل علم نے ہر دور میں ان کتابوں کی صحت و حجیت کا دفاع کیا ہے .


اس حدیث کا مطالعہ ہمارے ایمان میں اضافہ کرتا ہے اور ہمیں توحید کی اہمیت اور علم کے ابلاغ کی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔





حدیث نمبر 21

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ دَهْرِهِ، أَصَابَهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ " 

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے 'لا الہ الا اللہ' کہا، تو یہ (کلمہ) اس کے لیے اپنی عمر (یا زمانے) کے کسی ایک دن میں نفع بخش ہوگا، (اگرچہ) اس سے پہلے اسے جو (مصیبت یا آزمائش) پہنچنی تھی وہ اسے پہنچ چکی ہوگی۔"


---

📜 حوالہ

· "المعجم الاوسط للطبرانی" میں حدیث نمبر 6396 پر موجود ہے۔

· حکمِ حدیث: محدث شیخ البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں "صحیح الجامع الصغیر" (حدیث نمبر 6434) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 1932) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔


---


🔍 حدیث کی وضاحت اور تشریح


· "نَفَعَتْهُ يَوْمًا مِنْ دَهْرِهِ" (تو یہ اپنی عمر کے کسی ایک دن میں اس کے لیے نفع بخش ہوگی): مراد یہ ہے کہ سچے دل سے کہا گیا یہ کلمہ انسان کی دنیوی زندگی، مرض الموت یا آخرت (قیامت) کے دن—ان میں سے کسی ایک موقع پر بھی اس کے لیے فائدہ اور نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس میں یہ بشارت بھی ہے کہ یہ کلمہ موت کے وقت قبولیت اور شفاعت کا سبب بن سکتا ہے۔

· "أَصَابَهُ قَبْلَ ذَلِكَ مَا أَصَابَهُ" (اس سے پہلے اسے جو پہنچنی تھی وہ اسے پہنچ چکی ہوگی): یعنی کلمہ کا نفع ملنے سے پہلے، دنیا میں اس شخص کو جو بھی تکالیف، مصیبتیں، آزمائشیں یا حتیٰ کہ گناہوں کی سزا مقدر تھی، وہ اس پر آچکی ہوگی۔ لیکن اس سب کے باوجود، اس کلمہ کا اثر اور نفع اسے ضرور ملے گا۔ یہ اللہ کی رحمت کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

---


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات


1. کلمہ توحید کا عملی نفع: یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ "لا الہ الا اللہ" محض ایک رسمی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عملی اور حقیقی نفع رکھنے والا کلمہ ہے جو مومن کی زندگی یا موت کے کسی نہ کسی حساس موڑ پر اس کے کام آتا ہے۔

2. آزمائشوں کے باوجود امید: حدیث یہ سبق دیتی ہے کہ دنیاوی مصائب، بیماریاں یا پریشانیاں انسان کے ایمان اور اس کے کلمہ کی قدر کو ختم نہیں کرتیں۔ بلکہ ان کے باوجود، سچا ایمان آخرکار نفع بخش ثابت ہوتا ہے۔ یہ مومن کے لیے صبر اور اللہ کی رحمت پر یقین کی ترغیب ہے۔

3. نجات میں تاخیر کا مقصد: ممکن ہے کہ کلمہ کا نفع فوری طور پر ظاہر نہ ہو، بلکہ زندگی کے آخری حصے یا آخرت میں ظاہر ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی حکمت میں بعض نعمتیں اور نجات مقررہ وقت پر آتی ہے۔

4. اخلاص شرط ہے: حدیث میں "نفع" کا وعدہ ہے، لیکن یہ نفع اس صورت میں ہے جب کلمہ سچے دل، اخلاص اور صحیح عقیدے کے ساتھ کہا گیا ہو۔ محض زبان سے ادا کر دینا کافی نہیں۔

5. توحید کا جامع تصور: دیگر احادیث کی طرح یہاں بھی "لا الہ الا اللہ" سے مراد پورا کلمہ شہادتین (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) ہی ہے، کیونکہ دونوں کا اقرار ایمان کے لیے ضروری ہے .


---


🤝 دیگر احادیث کے ساتھ ربط و توافق


یہ حدیث ان بہت سی صحیح احادیث کا حصہ ہے جو اس بات کی واضح تصدیق کرتی ہیں کہ سچے دل سے "لا الہ الا اللہ" کہنا نجات کی بنیاد ہے، چاہے انسان سے گناہ سرزد ہوئے ہوں ۔ تاہم، نبی ﷺ نے بعض صحابہ کو ایسی احادیث عام کرنے سے منع بھی فرمایا تھا، اس ڈر سے کہ لوگ صرف کلمہ پر بھروسہ کر کے نیک اعمال کی محنت ترک نہ کر دیں ۔ اس لیے ہمیں ایمان کی بنیاد (کلمہ) پر قائم رہتے ہوئے، اعمال صالحہ میں بھی سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔


آپ کے سوالات کے تسلسل سے یہ موضوع مکمل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ اس سلسلے کی کسی اور حدیث پر بات کرنا چاہیں یا ان تمام نکات کا ایک مجموعی خلاصہ چاہیں تو ضرور بتائیے۔





حدیث نمبر 22

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , دَخَلَ الْجَنَّةَ (¬1)" (¬2)

ترجمہ:

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔"

حوالہ:

(م) صحیح مسلم، حدیث نمبر 26، اور (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر 464


وضاحت:

قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ شہادتین (مسلمانوں) میں سے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی (گناہ) کرے اس کے بارے میں لوگوں (امت کے گروہوں) میں اختلاف ہوا۔


· مرجئہ نے کہا: ایمان کے ساتھ گناہ نقصان نہیں پہنچاتا۔

· خوارج نے کہا: (گناہ) اسے نقصان پہنچاتا ہے اور وہ اس (گناہ) کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے۔

· معتزلہ نے کہا: اگر اس کا گناہ کبیرہ (بڑا گناہ) ہو تو وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا، اور نہ اسے مؤمن کہا جائے گا نہ کافر، بلکہ اسے فاسق کہا جائے گا۔

· اشاعرہ (اہل سنت) نے کہا: بلکہ وہ مؤمن ہے، اگرچہ اسے معاف نہ کیا گیا اور عذاب دیا گیا، لیکن اسے جہنم سے نکالنا اور جنت میں داخل کرنا ضروری ہے۔


انہوں (قاضی عیاض) نے کہا: اور یہ حدیث خوارج اور معتزلہ پر حجت (دلیل) ہے۔


رہی بات مرجئہ کی، اگر وہ اس (حدیث کے) ظاہر پر حجت (دلیل) قائم کریں، تو ہم کہیں گے: اس (حدیث) کا محمل (مطلب یہ ہے) کہ اسے بخش دیا گیا، یا شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکال لیا گیا، پھر جنت میں داخل کر دیا گیا۔ پس آپ ﷺ کے قول "دَخَلَ الْجَنَّةَ" (جنت میں داخل ہو گیا) کا معنی یہ ہو گا کہ اسے سزا (عذاب) دینے کے بعد جنت میں داخل کیا گیا۔ اور ضروری ہے کہ اس کی یہ تاویل (تشریح) کی جائے، کیونکہ بہت سی ظاہری نصوص (احادیث) میں بعض نافرمانوں (عصاة) کے عذاب کا ذکر آیا ہے۔ پس اس (حدیث) کی تاویل ضروری ہے تاکہ شریعت کی نصوص (دلائل) باہم متعارض (متناقض) نہ ہوں۔


آپ ﷺ کے قول (وَهُوَ يَعْلَمُ) (اور وہ جانتا ہو) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ غُلاتِ مرجئہ (مرجئہ کے غلو کرنے والوں) کا رد کیا جائے جو کہتے ہیں کہ شہادتین کا ظاہر کرنے والا جنت میں داخل ہو جائے گا، اگرچہ وہ دل سے اس کا اعتقاد نہ رکھتا ہو۔ اور آپ ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں اسے یہ قید لگا کر بیان فرمایا ہے: "غَیر شَاکٍّ فِيهِمَا" (ان (کلموں) میں شک کیے بغیر)۔ اور یہ ہمارے کہے ہوئے (مطلب) کی تائید کرتا ہے۔


قاضی (عیاض) نے کہا: اور اس (لفظ) سے وہ لوگ بھی دلیل لے سکتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض دل کی معرفت (جاننا) نافع (فائدہ مند) ہے بغیر شہادتین کے اقرار (زبان سے کہنے) کے، کیونکہ اس (حدیث) میں صرف "علم" (جاننا) پر اکتفا کیا گیا ہے۔ لیکن اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ معرفت (دل کا علم) شہادتین (زبانی اقرار) کے ساتھ مرتبط ہے، ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر نفع نہیں دیتی اور نہ ہی جہنم سے نجات دلاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو زبان کی کسی بیماری کی وجہ سے یا وقت نہ ملنے کی وجہ سے شہادتین کہنے پر قادر نہ ہو، بلکہ موت نے اسے آلیا ہو۔


اور جماعت (اہل سنت) کے مخالفین کے لیے اس لفظ سے کوئی حجت (دلیل) نہیں ہے؛ کیونکہ یہ دوسری حدیث میں مفصل (وضاحت کے ساتھ) آیا ہے: "مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" (جس نے لا الہ الا اللہ کہا)، اور "مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ" (جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں)۔


اور یہ حدیث اور اس جیسی بہت سی حدیثیں اپنے الفاظ میں اختلاف رکھتی ہیں، لیکن تحقیق کرنے والوں (اہل التحقیق) کے نزدیک ان کے معانی میں اتفاق ہے۔ چنانچہ یہ لفظ اس حدیث میں آیا ہے، اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کی ایک روایت میں ہے: "مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ" (جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہو گیا)۔ اور آپ ﷺ سے ایک روایت میں ہے: "مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" (جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گیا)۔ اور آپ ﷺ سے (یہ بھی ہے): "مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ" (کوئی بندہ جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، مگر یہ کہ اللہ نے اس پر جہنم حرام کر دی)۔ اور حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بھی اسی طرح ہے۔ اور حضرت عبادہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے: "عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَل" (جو کچھ بھی وہ عمل کرتا رہا ہو)۔ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: "لَا يَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرُ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ" (کوئی بندہ جو ان دونوں (کلموں) کے ساتھ اللہ سے ملے اور ان میں شک نہ کرتا ہو، مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو گیا، اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو)۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: "حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى" (اللہ نے اس شخص پر جہنم حرام کر دی جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہی)۔


یہ تمام احادیث امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب (صحیح مسلم) میں ذکر کی ہیں۔ پھر انہوں نے سلف (اگلی امت کے علماء) کی ایک جماعت، جن میں (سعید) ابن المسیب بھی شامل ہیں، سے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ (احادیث) فرائض اور امر و نہی کے نزول سے پہلے کی ہیں۔ اور بعض (علماء) نے کہا: یہ مجمل (اختصار والی) ہیں، ان کی شرح کی ضرورت ہے، اور ان کا معنی یہ ہے: جس نے کلمہ کہا اور اس کا حق اور اس کی فرضیت ادا کی۔ اور یہ (قول) حسن بصری رحمہ اللہ کا ہے۔ اور کہا گیا: یہ (وعدہ) اس کے لیے ہے جس نے ندامت اور توبہ کی حالت میں اسے کہا ہو اور اسی پر مر گیا ہو۔ اور یہ (قول) امام بخاری رحمہ اللہ کا ہے۔


اور یہ تاویلات (تشریحات) صرف اس صورت میں ہیں جب ان احادیث کو ان کے ظاہر پر محمول (لاگو) کیا جائے۔ لیکن جب انہیں ان کے صحیح مقام پر رکھا جائے تو ان کی تاویل محققین کے بیان کردہ طریقے پر کوئی مشکل نہیں رہتی۔ پس ہم پہلے اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اہل سنت کا مذہب، ان کے تمام گروہوں — خیر القرون (بہترین زمانے) کے سلف صالحین، اہل حدیث، فقہاء، اور ان کے مذہب پر چلنے والے متکلمین (اشاعرہ) — کا اس بات پر اجماع ہے کہ گناہگار (اہل الذنوب) اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہیں، اور یہ کہ ہر وہ شخص جو ایمان پر مرا اور اخلاصِ دل سے شہادتین کا اقرار کرنے والا تھا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اگر وہ تائب ہو یا گناہوں سے پاک ہو، تو وہ اپنے رب کی رحمت سے جنت میں داخل ہو گا اور کلی طور پر جہنم اس پر حرام ہو جائے گی۔


پھر اگر ہم مذکورہ دونوں الفاظ (دخل الجنة اور حرّم علیه النار) کو اس شخص کے بارے میں محمول کریں جس کی یہی صفت ہو، تو بات واضح ہو جاتی ہے، اور یہی (حسن بصری اور امام بخاری رحمہما اللہ کی) دونوں تاویلات کا معنی ہے۔


اور اگر یہ شخص فرائض کو ضائع کرنے یا محرمات (حرام کاموں) کے ارتکاب میں مخلط (کوتاہی کرنے والا) ہو، تو وہ (اللہ کی) مشیت میں ہے۔ اس کے بارے میں ابتداءً (پہلے ہی) یہ قطعی فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ اس پر جہنم حرام ہے یا وہ جنت کا مستحق ہے، بلکہ صرف اس بات کا قطعی فیصلہ کیا جائے گا کہ آخرکار اس کا جنت میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اور اس سے پہلے اس کی حالت مشیت (اللہ کے فیصلے) کے خطرے میں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے اس کے گناہ کی سزا دے، اور اگر چاہے تو اپنے فضل سے اسے معاف فرما دے۔


اور یہ ممکن ہے کہ ان احادیث کو خود انہی سے سمجھا جائے اور ان کے درمیان جمع کیا جائے۔ پس جنت کا استحقاق مراد لینے کا مطلب وہی ہے جو ہم نے اہل سنت کے اجماع سے پہلے بیان کیا، کہ ہر موحد کا جنت میں داخل ہونا ضروری ہے، خواہ فوری طور پر (معاف ہو کر) یا تاخیر سے۔ اور "جہنم کا حرام ہونا" سے مراد ہمیشہ کے عذاب کا حرام ہونا ہے، خوارج اور معتزلہ کے دونوں موقف کے خلاف۔


اور حدیث "مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ" (جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت میں داخل ہو گیا) میں یہ ممکن ہے کہ یہ خاص طور پر اس شخص کے لیے ہو جس کا یہی آخری نطق اور آخری لفظ ہو، اگرچہ اس سے پہلے وہ (گناہوں میں) مخلط (ملوث) رہا ہو۔ پس یہ (کلمہ) اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس پر رحمت، اس کی نجات اور جہنم پر اس کی حرمت کا سبب بن جائے گا، اس شخص کے برعکس جو موحدین میں سے مخلط ہو لیکن اس کا یہ آخری کلام نہ ہو۔


اور اسی طرح حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جو اس طرح کا ذکر اور جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہونے کا بیان ہے، وہ خاص طور پر اس شخص کے لیے ہے جس نے نبی ﷺ کے ذکر کردہ (کلمہ) کو کہا ہو اور اس نے شہادتین کے ساتھ اس کے حدیث میں مذکور ایمان اور توحید کی حقیقت کو جمع کیا ہو۔ پس اس کے لیے ایسا ثواب ہو گا جو اس کی برائیوں پر غالب آجائے گا اور اس کے لیے مغفرت، رحمت اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ابتداءً ہی جنت میں داخلے کا سبب بن جائے گا۔ واللہ اعلم۔


یہ قاضی عیاض رحمہ اللہ کے کلام کا آخر ہے اور یہ انتہائی خوبصورت ہے۔

رہی وہ بات جو انہوں نے ابن المسیب وغیرہ سے نقل کی ہے، وہ ضعیف اور باطل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان احادیث میں سے ایک کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، اور وہ متاخر الاسلام (آخری دور میں اسلام لانے والے) ہیں۔ انہوں نے غزوہ خیبر کے سال، سن سات ہجری میں اسلام قبول کیا ہے (اتفاق سے)، اور اس وقت شریعت کے احکام (مکمل طور پر) قائم ہو چکے تھے۔ اور ان واجبات میں سے اکثر کی فرضیت قائم ہو چکی تھی، اور نماز، روزہ، زکواۃ اور دیگر احکام کی فرضیت متعین ہو چکی تھی۔ اور اسی طرح حج (بھی)، ان کے قول کے مطابق جو کہتے ہیں کہ وہ سن پانچ یا چھ ہجری میں فرض ہوا، اور یہی دو قول اس قول سے راجح ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ سن نو ہجری میں فرض ہوا، واللہ اعلم۔


اور شیخ ابو عمرو ابن الصلاح رحمہ اللہ تعالیٰ نے محض شہادت سے جنت میں داخلے والی ان ظاہری نصوص (احادیث) کی ایک اور تاویل ذکر کی ہے۔ انہوں نے کہا: یہ ممکن ہے کہ یہ بعض راویوں کی طرف سے (نقل میں) اختصار ہو جو ان کی حفظ و ضبط (یاد رکھنے اور محفوظ کرنے) میں کوتاہی کی وجہ سے ہوا ہو، رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نہ ہو، کیونکہ دوسری روایت میں یہ (حدیث) مکمل آئی ہے۔ اور اس قسم کی تاویل پہلے گزر چکی ہے۔ انہوں نے کہا: اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان کفار کے خطاب میں اختصار ہو جو بتوں کے پجاری تھے، جن کا اللہ تعالیٰ کی توحید اسلام کے لیے ضروری دیگر تمام امور کے ساتھ قرین (جوڑا ہوا) تھا اور ان کا تقاضا کرتا تھا۔ اور کافر، جب وہ توحید کا اقرار نہ کرتا ہو جیسے مشرک اور ثنوی (دو خداؤں کا قائل)، پھر اس نے کہا: لا الہ الا اللہ، اور اس کی وہی حالت ہے جو ہم نے بیان کی، تو اس کے اسلام کا حکم لگایا جائے گا۔ اور ہم اس حالت میں بعض اپنے اصحاب کے اس قول کو نہیں کہتے کہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا، اس کے اسلام کا حکم لگایا جائے گا، پھر اسے دیگر احکام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اس وقت اسے اسلام کو مکمل کرنے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر اس نے (ایسا) نہ کیا تو اس کا حکم مرتد کا حکم بن جائے گا، اس کے باوجود نہ تو حقیقت میں اور نہ ہی آخرت کے احکام میں اس کے اسلام کا حکم لگایا جائے گا۔ اور جس شخص کا ہم نے ذکر کیا ہے، وہ حقیقت میں اور آخرت کے احکام میں مسلمان ہے۔ واللہ اعلم۔


----



💎 حاصل شدہ اہم اسباق و نکات کا خلاصہ


اس حدیث اور اس کی تشریح سے درج ذیل قیمتی اسباق ملتے ہیں:


1. نجات کی بنیاد: علم و یقین کے ساتھ توحید


· حدیث میں "یعلم" (جانتا ہو) کی قید انتہائی اہم ہے۔ اس سے مراد دل کا پختہ علم، یقین اور تصدیق ہے۔ محض زبانی طور پر "لا الہ الا اللہ" کہہ دینا کافی نہیں۔

· اس طرح یہ حدیث ایمان کی حقیقی کیفیت پر زور دیتی ہے اور منافقین کے صرف زبانی اقرار کو باطل کرتی ہے۔


2. موحد کے لیے جنت کی حتمی ضمانت


· جو شخص سچے دل سے توحید کا قائل ہو کر فوت ہوا، اس کے لیے جنت میں داخل ہونے کی حتمی ضمانت ہے۔

· یہ وعدہ اللہ کی وسیع رحمت اور توحید کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔


3. گناہگار مؤمن کی نجات: اہل سنت کا عقیدہ


· یہ حدیث اور اس کی تشریح اہل سنت والجماعت کے اس اصولی عقیدے کی واضح تائید کرتی ہے کہ گناہگار مسلمان (مرتکبِ کبائر) کافر نہیں ہوتا۔

· اس کا انجام اللہ کی مشیت پر منحصر ہے:

  · اللہ چاہے تو اپنے فضل سے اسے معاف فرما دے۔

  · یا پھر اسے اس کے گناہوں کی پاداش میں عارضی طور پر جہنم میں ڈالے، لیکن آخرکار اسے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل فرما دے۔ اس پر جہنم کا دائمی عذاب حرام ہے۔

· یہ عقیدہ خوارج (جو گناہگار کو کافر کہتے ہیں) اور معتزلہ (جو کہتے ہیں کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا) دونوں کے باطل نظریات کا رد ہے۔


4. ایمان پر خاتمہ کی اہمیت


· حدیث اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ انسان کی زندگی کا اختتام ایمان پر ہونا نہایت ہی اہم اور بڑی کامیابی ہے۔


5. علم کی امانت اور اس کے ابلاغ کی ذمہ داری


· قاضی عیاض کی یہ تشریح امام نووی رحمہ اللہ کی کتاب "شرح النووي على مسلم" سے لی گئی ہے، جو ایک معتبر شرح ہے۔ اس کا مطالعہ ہمیں علم کے صحیح مصادر تک رسائی اور علمائے حق کے فیض سے مستفید ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔


---







حدیث نمبر 23

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" يَدْرُسُ الْإِسْلَامُ (¬1) كَمَا يَدْرُسُ وَشْيُ الثَّوْبِ (¬2) حَتَّى لَا يُدْرَى مَا صِيَامٌ وَلَا صَلَاةٌ وَلَا نُسُكٌ وَلَا صَدَقَةٌ , وَلَيُسْرَى (¬3) عَلَى كِتَابِ اللَّهِ فِي لَيْلَةٍ فلَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ مِنْهُ آيَةٌ , وَتَبْقَى طَوَائِفُ مِنْ النَّاسِ , الشَّيْخُ الْكَبِيرُ وَالْعَجُوزُ , يَقُولُونَ: أَدْرَكْنَا آبَاءَنَا عَلَى هَذِهِ الْكَلِمَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَنَحْنُ نَقُولُهَا " , فَقَالَ صِلَةُ لِحُذَيْفَةَ: مَا تُغْنِي عَنْهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَهُمْ لَا يَدْرُونَ مَا صَلَاةٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا نُسُكٌ وَلَا صَدَقَةٌ؟ , فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَا صِلَةُ " تُنَجِّيهِمْ مِنْ النَّارِ , تُنَجِّيهِمْ مِنْ النَّارِ , تُنَجِّيهِمْ مِنْ النَّارِ " (¬4)

ترجمہ:

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اسلام (اس طرح) مٹ جائے گا جس طرح کپڑے کا نقش و نگار (رنگ اور نقش) مٹ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ (زمین پر) یہ بھی معلوم نہ رہے گا کہ صیام (روزہ) کیا ہے، نہ صلاۃ (نماز) کیا ہے، نہ نسک (قربانی/عبادت) کیا ہے اور نہ صدقہ کیا ہے۔ اور ایک رات میں کتاب اللہ (قرآن) (لوگوں کے سینوں سے) اٹھا لیا جائے گا، پس روئے زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہے گی۔ اور لوگوں کے کچھ گروہ باقی رہ جائیں گے — بوڑھا مرد اور بڑھیا عورت — وہ کہیں گے: ہم نے اپنے باپ دادا کو اس کلمہ (یعنی) 'لا الہ الا اللہ' پر پایا، سو ہم بھی یہی کہتے ہیں۔"


راوی کہتے ہیں کہ (اس مجلس میں موجود) صِلہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: لا الہ الا اللہ ان کے کس کام آئے گی جب کہ وہ نہ نماز جانتے ہوں گے، نہ روزہ، نہ قربانی اور نہ صدقہ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: "اے صِلہ! یہ (کلمہ) انہیں دوزخ سے بچا لے گی، یہ انہیں دوزخ سے بچا لے گی، یہ انہیں دوزخ سے بچا لے گی۔"


---

📜 حوالہ:


· (4) محدث البانی رحمہ اللہ نے اسے "سنن ابن ماجہ" (حدیث نمبر 4049) اور "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 87) میں صحیح قرار دیا ہے۔


---


📖 الفاظ کی وضاحت (حواشی کے مطابق):


(1) يَدْرُسُ الْإِسْلَامُ: "درس" کپڑے کے پرانے ہو جانے اور اس کے رنگ نقش کے مٹ جانے کو کہتے ہیں۔ یعنی اسلام کمزور اور مٹتا ہوا ہو جائے گا۔

(2) وَشْيُ الثَّوْبِ: کپڑے کا نقش و نگار، بُناوٹ یا کشیدہ کاری۔

(3) وَلَيُسْرَى: "سری" سے ہے، یعنی پھیل جانا، چھا جانا یا (یہاں) مٹ جانا/اٹھا لیا جانا۔ مراد یہ ہے کہ قرآن کا علم لوگوں کے دلوں سے محو ہو جائے گا۔


---


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:


1. آخری زمانے میں دین کی کمزوری کا بیان:


· یہ حدیث قیامت سے پہلے کے ایک انتہائی دُور کی تصویر پیش کرتی ہے جب دین اسلام کی تعلیمات اور اس کے شعائر تقریباً مٹ چکے ہوں گے۔ نماز، روزہ، زکواۃ اور حج جیسی عبادات کو کوئی نہیں جانتا ہوگا۔

· سب سے المناک بات یہ ہے کہ قرآن مجید بھی لوگوں کے سینوں اور صحیفوں سے محو ہو جائے گا۔ یہ علم دین کے اٹھائے جانے کی انتہائی شدید شکل ہے۔


2. توحید کی بنیاد کا باقی رہنا:


· ان تاریک حالات میں بھی، "لا الہ الا اللہ" کا کلمہ باقی رہے گا۔ بوڑھے لوگ اسے اپنے بزرگوں کی روایت کے طور پر اپنی زبان پر جاری رکھیں گے، اگرچہ وہ اس کے معنی، تقاضوں اور دیگر احکام سے ناواقف ہوں گے۔

· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ توحید کا بنیادی عقیدہ ہی اصل اساس ہے جو انتہائی مشکل حالات میں بھی قائم رہ سکتا ہے۔


3. صرف کلمہ توحید پر نجات کا وعدہ (خاص حالات میں):


· حدیث کا سب سے اہم اور واضح نکتہ یہ ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صِلہ کے سوال کے جواب میں تین بار پے در پے تاکید کے ساتھ فرمایا: "یہ (کلمہ) انہیں دوزخ سے بچا لے گی۔"

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص سچے دل سے "لا الہ الا اللہ" کا قائل ہو، خواہ وہ دین کے دیگر تفصیلی احکام (نماز، روزہ وغیرہ) سے ناواقف ہی کیوں نہ ہو، وہ اللہ کی رحمت سے جہنم کے دائمی عذاب سے بچ جائے گا۔ یہ ان انتہائی خاص حالات کے لیے ہے جب دین کا علم بالکل ہی مٹ چکا ہو۔

· یہ بات ان تمام صحیح احادیث کی تائید کرتی ہے جو "لا الہ الا اللہ" پر خاتمہ ہونے والے کو جنت کی بشارت دیتی ہیں۔


4. موجودہ حالات میں سبق (تنبیہ):


· یہ حدیث ہمارے لیے ایک بہت بڑی تنبیہ اور انتباہ ہے۔ ہم ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جب قرآن و سنت کا علم موجود ہے، نماز، روزہ کے احکام معلوم ہیں۔ ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم صرف کلمہ پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اسلام کے تمام احکام کو سیکھیں اور ان پر عمل کریں۔

· حدیث کا مقصد ہمیں یہ بتانا ہے کہ توحید نجات کی بنیاد ہے، لیکن یہ ہمیں فرائض کی ادائیگی سے غافل ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔


5. اہل سنت کے عقیدے کی مزید تائید:


· یہ حدیث ایک بار پھر اس اہل سنت کے عقیدے کی واضح دلیل ہے کہ توحید کا اقرار نجات کی ضمانت ہے۔ جو شخص شرک سے بچتے ہوئے فوت ہوا، وہ آخرکار جنت میں داخل ہو گا، خواہ اس کی جہنم میں عارضی سزا مقدر ہو یا نہ ہو۔




حدیث نمبر 24

عَنْ عَبْدِ الله بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ - رضي الله عنهما - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" مَنْ لَقِيَ اللَّه وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَضُرَّ مَعَهُ خَطِيئَةٌ , كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ مُشْرِكٌ بِهِ , دَخَلَ النَّارَ وَلَمْ تَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ "۔

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اس کے ساتھ کوئی (چھوٹی یا بڑی) خطا (گناہ) بھی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ جیسا کہ اگر کوئی شخص اس سے (اللہ سے) اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ دوزخ میں داخل ہو گا، اور اس کے ساتھ کوئی (اچھا) عمل (حسنة) بھی نفع نہیں دے گا۔"

---


📜 حوالہ

· (حم) مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر 6586.

· شیخ شعیب ارناؤوط: "اس کی سند شرط شیخین (بخاری و مسلم) پر صحیح ہے۔" یعنی اس حدیث کے راویوں کی شرائط امام بخاری اور امام مسلم کے معیار پر پوری اترتی ہیں، جو اس کی صحت کی بلند درجے کی دلیل ہے۔

· احمد شاکر: انہوں نے بھی اس کے سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

---


💎 حاصل شدہ اسباق و نکات


یہ حدیث شریف ایک بڑے عقیدتی اصول کو قائم کرتی ہے اور قیامت کے دن قبولیت و نجات کی بنیادی کسوٹی کو واضح کرتی ہے:


1. فیصلہ کن کسوٹی: توحید اور شرک

حدیث اس بات کا فیصلہ صادر کرتی ہے کہ اعمال کی قبولیت اور بندے کے آخرت میں انجام کا اصل پیمانہ اللہ کے لیے خالص توحید کا عقیدہ ہے۔ جو شخص اللہ سے موحد کی حالت میں ملے، اس نے بڑی رکاوٹ عبور کر لی اور نجات کو یقینی بنا لیا، خواہ اس کے ساتھ کوتاہیاں ہوں۔


2. موحد کے لیے مغفرت کی وسیع گنجائش

فرمان "وَلَمْ تَضُرَّ مَعَهُ خَطِيئَةٌ" (اور اس کے ساتھ کوئی خطا نقصان نہیں پہنچائے گی) سے مراد یہ نہیں کہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ توحید کی بنیاد اتنی مضبوط اور اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ اگر وہ شخص تائب نہ بھی ہوا ہو، تو اللہ اپنے فضل سے اس کے گناہ معاف فرما سکتا ہے یا اسے عارضی عذاب کے بعد جنت میں داخل فرما دے گا۔ اس پر جہنم کا دائمی عذاب لازم نہیں آتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ موحد کے گناہ اسے کافر نہیں بناتے۔


3. مشرک کے لیے نیکیوں کا بے نتیجہ ہونا

دوسری طرف، جو شخص شرک کی حالت میں مرے گا، اس کی تمام ظاہری نیکیاں، خیرات، اچھے اخلاق وغیرہ بالکل بے نتیجہ اور ضائع ہو جائیں گے۔ قیامت کے دن اسے ان کا کوئی فائدہ نہیں ملے گا، کیونکہ شرک تمام اعمال کی قبولیت کی بنیاد کو ہی باطل کر دیتا ہے۔ یہ شرک کی ہولناکی کو واضح کرتا ہے۔


4. نجات میں ترجیحی ترتیب

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات کے دو درجے ہیں:


· پہلا اور بنیادی درجہ: شرک سے پاک توحید پر موت۔ یہ جنت میں داخلے کی ضمانت ہے۔

· دوسرا درجہ: توحید کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کی کثرت۔ یہ جنت میں بلند درجات اور اللہ کی خاص رضا کا سبب بنتے ہیں۔

  پہلا درجہ ہر مؤمن کے لیے ضروری ہے، دوسرا درجہ بہتر اور افضل ہے۔


5. اہل سنت کے عقیدے کی مزید تصدیق

یہ حدیث اہل سنت والجماعت کے اس اصولی عقیدے کی ایک اور واضح دلیل ہے کہ مرتکب کبائر (بڑے گناہوں والا) مؤمن، اگرچہ گنہگار اور فاسق ہے، لیکن جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔ اس کا شرک کرنے والے (کافر) سے بنیادی فرق برقرار رہے گا۔


---


🤝 دیگر احادیث کے ساتھ ہم آہنگی


یہ حدیث ان تمام صحیح احادیث کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے جو یہ بتاتی ہیں کہ:


· "لا الہ الا اللہ" کہنے والا جنت میں جائے گا۔

· "لا الہ الا اللہ" دوزخ سے بچا لے گی۔

  ان تمام احادیث کا مرکزی نقطہ یہی ہے کہ خالص توحید ہی نجات کی بنیاد ہے۔


خلاصہ: یہ حدیث ہمیں سب سے پہلے شرک سے بچنے اور توحید کو خالص رکھنے کی تاکید کرتی ہے، کیونکہ یہی قبولیت کی کلید ہے۔ ساتھ ہی یہ اللہ کی وسیع رحمت پر امید بھی دلاتی ہے کہ توحید پر استقامت رکھنے والا آخرکار نجات پا ہی لے گا۔




حدیث نمبر 25

عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رضي الله عنه - قَالَ:

(خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي , " فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَمْشِي وَحْدَهُ وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ " فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ , فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ (¬1) " فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ " , فَقُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ , فَقَالَ: " تَعَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ " , قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً) (¬2) (فَاسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ , فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ , مَا أُحِبُّ أَنَّ عِنْدِي مِثْلَ أُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا , تَمْضِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ (¬3) وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ , إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ , إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّه هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - وَحَثَا عَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ شِمَالِهِ , وَبَيْنَ يَدَيْهِ , وَمِنْ خَلْفِهِ - (¬4)) (¬5) (ثُمَّ مَشَيْنَا فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ " , قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ) (¬6) (قَالَ: " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) (¬7) (إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - مِثْلَمَا صَنَعَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى) (¬8) (وَحَثَا) (¬9) (عَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ شِمَالِهِ , وَمِنْ خَلْفِهِ) (¬10) (وَبَيْنَ يَدَيْهِ - وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا) (¬11) (وَقَلِيلٌ مَا هُمْ) (¬12) (قَالَ: ثُمَّ مَشَيْنَا) (¬13) (سَاعَةً فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا) (¬14) (وَلَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ) (¬15) (فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ (¬16) حَوْلَهُ حِجَارَةٌ) (¬17) (ثُمَّ انْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ (¬18)) (¬19) (فِي سَوَادِ اللَّيْلِ) (¬20) (حَتَّى تَوَارَى عَنِّي) (¬21) (فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ ") (¬22) (فَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عَرَضَ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - , فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ , فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ لِي: " لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ " , فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَتَانِي) (¬23) (" فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ يَقُولُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ " , قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّه فِدَاءَكَ , مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا (¬24)

فَقَالَ: " ذَلِكَ جِبْرِيلُ - عليه السلام - , عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ فَقَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ , وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ , قَالَ: نَعَمْ " , فَقُلْتُ 

[ يَا رَسُولَ اللَّهِ] 

(¬25): وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ , قَالَ: " نَعَمْ " , قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ , قَالَ: " نَعَمْ , وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ (¬26)) (¬27) "


ترجمہ:


حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: "میں ایک رات نکلے تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تنہا چل رہے ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھ کوئی آدمی نہیں ہے۔ تو میرا خیال ہوا کہ آپ ﷺ کو اس بات سے ناگواری ہوگی کہ آپ کے ساتھ کوئی چلے۔ پس میں چاند کے سایے (1) میں چلنے لگا۔ آپ ﷺ نے مڑ کر دیکھا اور مجھے دیکھ لیا، تو فرمایا: 'یہ کون ہے؟' میں نے کہا: (میں) ابوذر ہوں، اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'آجاؤ اے ابوذر!'۔" حضرت ابوذر کہتے ہیں: "پس میں آپ ﷺ کے ساتھ ایک گھڑی چلا۔"


(2) "ہمارے سامنے اُحُد پہاڑ آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے ابوذر! مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحُد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور مجھ پر تین (دن) (3) گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار (بھی) بچا ہو، سوائے اس (مال) کے جسے میں قرض کے لیے رکھوں، مگر یہ کہ میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح (خیرات) کروں' — اور آپ ﷺ نے اپنی دائیں جانب، بائیں جانب، آگے اور پیچھے (اشارہ کر کے خیرات کی طرف) پھینکا (4)۔"


(5) "پھر ہم چلے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے ابوذر!' میں نے کہا: 'لبیک یا رسول اللہ (6)'۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'بے شک مال جمع کرنے والے ہی قیامت کے دن محروم (مفلِس) ہوں گے (7)، سوائے اس کے جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح — پہلی مرتبہ کی طرح — کیا ہو (8)۔' اور آپ ﷺ نے (انفاق کرتے ہوئے) (9) اپنی دائیں، بائیں، پیچھے (10) اور آگے (اشارہ کیا) — اور اس میں اچھا کام کیا (11) — اور ایسے لوگ بہت کم ہیں (12)۔"


(13) "پھر ہم چلے، ایک گھڑی چلنے کے بعد آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: 'یہاں بیٹھ جاؤ۔ (14) اور نہ ہٹو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں۔ (15)' پس آپ ﷺ نے مجھے ایک ہموار زمین (16) میں بٹھا دیا جس کے ارد گرد پتھر تھے (17)، پھر آپ ﷺ 'حَرّہ' (18) کی طرف رات کی تاریکی میں چل پڑے (19) (20)، یہاں تک کہ آپ ﷺ میری نظر سے اوجھل ہو گئے (21)۔"


"آپ ﷺ میرے پاس سے (گئے اور) ٹھہرے، تو آپ نے بہت دیر ٹھہرنے کی (22)۔ مجھے خوف ہوا کہ شاید نبی ﷺ پر کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو، تو میں ان کی طرف جانا چاہا، پھر مجھے آپ ﷺ کے فرمان 'نہ ہٹو یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آؤں' کی یاد آئی، پس میں نہیں ہٹا یہاں تک کہ آپ ﷺ میرے پاس آئے (23)۔"


"میں نے آپ ﷺ کو آتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: 'اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟' حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں: پھر جب آپ ﷺ تشریف لائے تو میں صبر نہ کر سکا، میں نے عرض کیا: 'اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ حرہ کے کنارے کس سے بات کر رہے تھے؟ میں نے کسی کو آپ کو (جواب میں) کچھ کہتے نہیں سنا۔' (24)"


"تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، وہ مجھ سے حرہ کے کنارے ملے اور انہوں نے کہا: اپنی امت کو خوشخبری دے دو کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ تو میں نے کہا: اے جبرائیل! اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔' پس میں نے (پھر) عرض کیا (25): 'اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں۔' میں نے (پھر) پوچھا: 'اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟' آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، اگرچہ اس نے شراب پی ہو (26)۔'" (27)


---


🔍 الفاظ کی وضاحت (حواشی کے مطابق):


(1) "في ظل القمر": یعنی اس جگہ جہاں چاند کی روشنی نہ ہو، تاکہ اپنے آپ کو چھپا سکے۔ اور اس نے چلنا جاری رکھا اس احتمال سے کہ نبی ﷺ پر کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ آپ کے قریب ہو۔ (فتح الباری)

(3) "تمضى علىَّ ثالثة": یعنی میرے اوپر تین دن گزر جائیں۔

(4) "عن يمينه وشماله" (دائیں بائیں): مراد ہر قسم کی بھلائی اور معروف کام ہیں۔ (شرح النووی)

(16) "قاع": ہموار اور نشیبی زمین۔ (فتح الباری)

(18) "الحرة": مدینہ کے شمال کی جانب ایک مشہور جگہ، جس کے پتھر سیاہ ہیں۔ (فتح الباری)

(24) "ما سمعت أحدا يرجع إليك شيئًا": یعنی میں نے کسی کو آپ کے سوال کا جواب دیتے نہیں سنا۔

(26) "وإن شرب الخمر": یہ الفاظ حدیث کے آخری حصے میں ہیں، جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ تیسری بار سوال کرتے ہیں تو آپ ﷺ اس میں شراب پینے کا بھی اضافہ فرما دیتے ہیں۔


---


📜 حوالہ جات:


یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ مختلف حصوں کے حوالے درج ذیل ہیں:


(1) (خ) 6078 , (م) 94

(2) (خ) 6078 , (م) 94

(5) (خ) 6079 , (م) 94

(6) (م) 94 , (خ) 6079

(7) (خ) 6078 , (م) 94

(8) (م) 94 , (خ) 6079

(9) (حم) 21385

(10) (خ) 6079

(11) (خ) 6078 , (م) 94

(12) (خ) 6079

(13) (م) 94 , (خ) 6078

(14) (خ) 6078 , (م) 94

(15) (خ) 6079 , (م) 94

(17) (خ) 6078 , (م) 94

(19) (خ) 6078 , (م) 94

(20) (خ) 6079

(21) (م) 94 , (خ) 6079

(22) (خ) 6078 , (م) 94

(23) (خ) 6079 , (م) 94

(25) (خ) 5913

(27) (خ) 6078 , (م) 94


---


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:


1. توحید: نجات کی حتمی اور قطعی بنیاد


· اس طویل واقعے کا مرکزی اور اہم ترین نکتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف سے دی گئی وہ خوشخبری ہے جو نبی ﷺ نے امت کو پہنچائی: "جو شخص اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے مرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔" یہ نجات کی حتمی ضمانت ہے۔

· حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا بار بار سوال کرنا (اگرچہ اس نے زنا کیا، چوری کی، شراب پی) اور آپ ﷺ کا ہر بار "ہاں" کا جواب دینا، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ توحید کی بنیاد پر اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ بڑے سے بڑے گناہوں کو بھی معاف فرما سکتی ہے۔


2. اہل سنت کا عقیدہ: مرتکب کبائر کی نجات


· یہ حدیث اہل سنت والجماعت کے اس اصولی عقیدے کی سب سے واضح اور مضبوط ترین دلائل میں سے ایک ہے کہ گناہگار مسلمان (مرتکب کبائر) اگرچہ فاسق ہے اور عذاب کا مستحق ہو سکتا ہے، لیکن وہ کافر نہیں ہوتا۔ اس کا حتمی انجام جنت ہے، خواہ عذاب کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔

· شرک کے علاوہ دیگر تمام گناہوں کی معافی اللہ کی مشیت اور رحمت پر منحصر ہے۔


3. دنیوی مال و دولت کی حقیقت اور انفاق کی فضیلت


· حدیث کے پہلے حصے میں آپ ﷺ نے دنیا کی دولت کی بے ثباتی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عظمت کو بیان فرمایا۔

· آپ ﷺ کا فرمان "المكثرين هم المقلون يوم القيامة" (مال جمع کرنے والے ہی قیامت کے دن محروم ہوں گے) ہمیں مال کو آخرت کے لیے ذریعہ بنانے کی تلقین کرتا ہے۔


4. نبی ﷺ کی تربیت اور صحابی کا ادب


· حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا آہستہ چلنا، آپ ﷺ کے حکم پر بیٹھے رہنا خواہ کتنی ہی دیر ہو جائے، اور پھر بے چینی کے باوجود ادب کے ساتھ سوال کرنا، صحابہ کرام کے نبی ﷺ کے ساتھ ادب اور محبت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔


5. فرشتوں کا نبی ﷺ سے ملاقات اور وحی کا ذریعہ


· یہ واقعہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ فرشتے (جبرائیل علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس مختلف شکلوں میں آتے تھے اور وحی لاتے تھے۔


6. گناہوں سے بچنے کی ترغیب


· اگرچہ حدیث گناہگار موحد کے لیے امید دلاتی ہے، لیکن اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم گناہوں پر دلیر ہو جائیں۔ یہ حدیث "احادیث الرجاء" (امید دلانے والی احادیث) میں سے ہے، جن کا مقصد مایوس ہونے والوں کو امید دلانا ہے، نہ کہ گناہوں کے ارتکاب کی ترغیب دینا۔ اہل علم نے اس کی واضح تشریح کی ہے۔ (فتح الباری کے حاشیہ 26 میں دیکھیں)




حدیث نمبر 26

عَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - لِرَجُلٍ: يَا فُلَانُ , فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ فَعَلَهُ - " , فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ,

فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ كَذِبَكَ بِتَصْدِيقِكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "


ترجمہ:


حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: "رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: 'اے فلاں! تم نے ایسا ایسا کام کیا؟' — اور رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ اس نے واقعی یہ کام کیا تھا — تو اس (شخص) نے کہا: 'نہیں، اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں!'


پس آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: 'بے شک اللہ نے تمہاری اس جھوٹی قسم کو (معاف کر دیا ہے) تمہارے 'لا الہ الا اللہ' (کے اقرار) کی تصدیق کی وجہ سے۔'"


---


📜 حوالہ

· (عبد بن حميد): عبد بن حميد کی کتاب "المنتخب من المسند" میں، جلد 3، صفحہ 175، حدیث نمبر 1374۔

· (يع): مسند ابی یعلی الموصلی، حدیث نمبر 3368۔

· محدث البانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "السلسلۃ الصحیحۃ" (حدیث نمبر 3064) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


---


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات


1. کلمہ توحید کی عظمت و تاثیر


· یہ حدیث اس بات کی واضح ترین مثال ہے کہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کس قدر عظیم، با برکت اور گناہوں کو مٹانے والا ہے۔

· اس شخص نے ایک جھوٹی قسم کھائی، جو بذات خود ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن اس نے اپنی قسم میں "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کیا۔ صرف اسی کلمہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کی جھوٹی قسم کو بھی معاف فرما دیا۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلمہ صرف آخرت ہی میں نجات کا ذریعہ نہیں، بلکہ دنیا میں بھی گناہوں کے ازالے اور اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔


2. اخلاص شرط ہے: اقرارِ توحید ہی کافی نہیں


· اگر غور کیا جائے تو اس شخص نے "لا الہ الا اللہ" کو اپنی جھوٹی قسم کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔ وہ اسے سچے دل سے اللہ کی توحید کے اقرار کے طور پر نہیں کہہ رہا تھا۔

· پھر بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے اس کی جھوٹی قسم کو "تمہارے 'لا الہ الا اللہ' (کے اقرار) کی تصدیق" کی وجہ سے معاف کر دیا۔

· اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کا دل جھوٹ پر تھا، لیکن اس کی زبان سے نکلے ہوئے کلمہ توحید کے الفاظ میں اتنی برکت تھی کہ اللہ نے اس کے جرم کو معاف فرما دیا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے اس کلمہ کا اقرار کرے، تو اس کی کتنی زیادہ فضیلت اور اثر ہوگا۔


3. گناہوں کی معافی میں اللہ کی وسیع رحمت


· حدیث اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور مغفرت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنے بندے کے ذریعے کہے گئے کلمہ توحید کے احترام میں اس کی خطاؤں کو معاف فرما دیتا ہے۔

· یہ ہمارے لیے بہت بڑی امید اور تسلی کا باعث ہے کہ اگر ہم اپنی زبان کو کلمہ توحید سے تر رکھیں، خواہ کتنی ہی لغزشیں ہوں، اللہ کی رحمت ہمارے گناہوں پر غالب آسکتی ہے۔


4. نبی ﷺ کی تربیتی حکمت


· رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ اس شخص نے وہ کام کیا ہے، پھر بھی آپ ﷺ نے اس سے سوال فرمایا۔ یہ آپ ﷺ کی تربیتی حکمت تھی تاکہ:

  · وہ شخص خود اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔

  · جب وہ انکار کرے تو آپ ﷺ اسے اس کے انکار کے برے انجام سے بچانے کے لیے کوئی راستہ بتا سکیں۔

  · امت کو یہ سبق ملے کہ کلمہ توحید کتنا مؤثر ہے۔


5. عمل پر اصرار نہیں، بلکہ توبہ اور توحید کی طرف رجوع


· آپ ﷺ نے اس شخص پر اس کے جرم کا اصرار نہیں کیا یا اسے سزا نہیں دی۔ بلکہ آپ ﷺ نے اسے اس کی بڑی خطا (جھوٹی قسم) کے باوجود معافی کی خوشخبری سنائی۔

· یہ تربیت کا ایک نرم اور مؤثر طریقہ ہے جو شخص کو مزید گناہ سے بچاتا ہے اور اسے اللہ کی رحمت کی طرف لوٹاتا ہے۔


---


🤝 دیگر احادیث کے ساتھ ہم آہنگی


یہ حدیث ان تمام صحیح احادیث کی تائید کرتی ہے جو یہ بتاتی ہیں کہ:


· "لا الہ الا اللہ" گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔

· "لا الہ الا اللہ" کہنے والا آخرت میں جنت میں جائے گا۔

  یہ حدیث اس بات کی عملی مثال پیش کرتی ہے کہ کیسے یہ کلمہ دنیا میں ہی گناہ کے اثرات کو زائل کر سکتا ہے۔


خلاصہ: یہ مختصر مگر انتہائی پُر اثر حدیث ہمیں دو بڑے اسباق دیتی ہے: اول، ہمیشہ اپنی زبان کو کلمہ توحید سے تر رکھیں، یہ بڑے سے بڑے گناہوں کے لیے بھی معافی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دوم، اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں، وہ اپنے ناموں اور کلمات کی عزت و احترام میں بندے کی خطاؤں کو معاف فرما دیتا ہے۔





حدیث نمبر 27

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه - رضي الله عنهما - قَالَ:

أَتَى النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الموجبتان (¬1)؟ , فَقَالَ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ " (¬2)

ترجمہ:

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول! وہ کون سی دو چیزیں ہیں جو (جنت یا دوزخ) واجب کر دیتی ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اس حال میں موت پائی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گیا، اور جس نے اس حال میں موت پائی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا ہو، تو وہ دوزخ میں داخل ہوا۔"


---


حوالہ جات:


· (م) صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 93 ۔

· (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل، حدیث نمبر: 15237۔


---


سبق نمبر 1: نجات اور ہلاکت کی سب سے بڑی بنیاد


اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایمان اور کفر کی اس بنیادی حد فاصل کو انتہائی مختصر اور جامع الفاظ میں بیان فرمایا ہے جو انسان کے ابدی انجام کا فیصلہ کرتی ہے۔ جنت اور دوزخ کو واجب کرنے والی اصل چیز توحید اور شرک ہے۔


سبق نمبر 2: توحید کی اہمیت پر زور


آپ ﷺ کے فرمان میں "لا یشرک باللہ شیئا" (اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو) کی قید اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نجات صرف زبانی اقرار سے نہیں، بلکہ عقیدے اور عمل دونوں میں اللہ کی وحدانیت کو خالص رکھنے سے ہے۔ شرک کی تمام اقسام (بڑا شرک) سے بچنا ضروری ہے۔


سبق نمبر 3: موت کے وقت کی حالت کا فیصلہ کن ہونا


حدیث میں "من مات" (جس نے موت پائی) کے الفاظ بار بار استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا حتمی انجام اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس حالت پر دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کا اختتام ایمان و توحید کی حالت پر کرنے کی فکر کریں۔


سبق نمبر 4: اہل سنت کے عقیدے کی تصدیق


یہ حدیث اہل سنت والجماعت کے اس اصولی عقیدے کی عکاس ہے کہ گناہگار مسلمان اگرچہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، لیکن جب تک وہ شرک کا مرتکب نہیں ہوتا، اسے کافر نہیں کہا جا سکتا اور وہ آخرت میں اللہ کی رحمت یا نبی ﷺ کی شفاعت سے جہنم کے دائمی عذاب سے نجات پا سکتا ہے۔


سبق نمبر 5: عمل کی اہمیت کا تقاضا


اگرچہ حدیث میں نجات کی بنیاد توحید کو قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ ہرگز عمل کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ دین کے دیگر تمام احکام (نماز، روزہ، زکواۃ وغیرہ) توحید کے تقاضے اور اس کی تکمیل ہیں۔ جو شخص توحید کا دعویٰ کرے، اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تقاضوں کو پورا کرے۔







حدیث نمبر 28

(28) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ:

كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رضي الله عنهما - فِي نَفَرٍ، " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا (¬1) فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا (¬2) فَفَزِعْنَا فَقُمْنَا، وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ، فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -، حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا (¬3) لِلأَنْصَار لِبَنِي النَّجَّارِ، فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا؟ , فَلَمْ أَجِدْ، فَإِذَا رَبِيعٌ (¬4) يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَهُ (¬5) فَاحْتَفَزْتُ (¬6) كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -، فَقَالَ: " أَبُو هُرَيْرَةَ؟ " , قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا شَأْنُكَ؟ " , قُلْتُ: كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا، فَكُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ، وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِي، " فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - نَعْلَيْهِ وَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ "، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ - رضي الله عنه - , فَقَالَ: مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ , فَقُلْتُ: هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -، بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي (¬7) فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَأَجْهَشْتُ (¬8) بُكَاءً، وَرَكِبَنِي عُمَرُ (¬9) فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ " , فَقُلْتُ: لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ، فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي، وَقَالَ: ارْجِعْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يَا عُمَرُ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ " , قَال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ؟ , قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: فلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُون، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " فَخَلِّهِمْ ".


ترجمہ:


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی ایک جماعت میں موجود تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری موجودگی(¬1) میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم پر (واپسی میں) تاخیر ہوگئی۔ ہمیں خدشہ ہوا کہ کہیں آپ کو ہم سے جدا نہ کردیا جائے (یعنی دشمن کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے)(¬2)، تو ہم گھبرا گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ سب سے پہلے میں ہی گھبرایا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلا، یہاں تک کہ میں انصار کے بنو نجار کے باغ(¬3) کے پاس پہنچا۔ میں اس کے گرد گھرا کہ کہیں اس کا کوئی دروازہ تلاش کروں؟ تو مجھے کوئی دروازہ نہیں ملا۔ پھر ایک نہر(¬4) تھی جو باغ کے اندر باہر والے کنویں(¬5) سے داخل ہورہی تھی۔ میں نے (اس تنگ جگہ میں) سمٹ کر گھسنا شروع کیا(¬6) جیسے لومڑی سمٹ کر گھستی ہے، اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ آپ نے فرمایا: "ابوہریرہ؟" میں نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا: "تمہارا کیا حال ہے؟" میں نے عرض کیا: آپ ہمارے درمیان تھے، پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم پر تاخیر ہوگئی۔ ہمیں خوف ہوا کہ کہیں آپ کو ہم سے جدا نہ کردیا جائے، تو ہم گھبرا گئے۔ سب سے پہلے میں ہی گھبرایا۔ میں اس باغ کے پاس آیا، پھر میں نے سمٹ کر گھسنا شروع کیا جیسے لومڑی سمٹ کر گھستی ہے، اور یہ لوگ میرے پیچھے ہیں۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے دو جوتے عنایت فرمائے اور کہا: اے ابوہریرہ! میرے ان دو جوتوں کو لے جاؤ، اور اس باغ کے پیچھے سے جس سے بھی تمہاری ملاقات ہو جو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسے دل کے یقین کے ساتھ، تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔

پہلے شخص سے میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! یہ دو جوتے کیا ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو جوتے ہیں۔ آپ نے مجھے ان کے ساتھ بھیجا ہے، جس سے بھی میری ملاقات ہو جو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسے دل کے یقین کے ساتھ، میں اسے جنت کی بشارت دے دوں۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا، تو میں اپنے سرین(¬7) کے بل گر گیا۔ انہوں نے کہا: واپس جاؤ، اے ابوہریرہ! تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹا اور میں زور سے رونے(¬8) لگا، اور عمر رضی اللہ عنہ میرے پیچھے(¬9) آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: "تمہیں کیا ہوا اے ابوہریرہ؟" میں نے عرض کیا: میری ملاقات عمر سے ہوئی، تو میں نے انہیں اس بات کی خبر دی جس کے لیے آپ نے مجھے بھیجا تھا۔ انہوں نے میرے سینے پر ایک ایسا طمانچہ مارا کہ میں اپنے سرین کے بل گر گیا اور انہوں نے کہا: واپس جاؤ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اے عمر! تمہیں اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا جو تم نے کیا؟" انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا آپ نے ابوہریرہ کو اپنے جوتوں کے ساتھ بھیجا ہے کہ جس سے بھی اس کی ملاقات ہو جو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسے دل کے یقین کے ساتھ، وہ اسے جنت کی بشارت دے دے؟ آپ نے فرمایا: "ہاں۔" انہوں نے عرض کیا: آپ ایسا نہ فرمایا کیجیے، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ لوگ صرف اسی پر بھروسا کرنے لگیں گے (اور اعمال چھوڑ دیں گے)۔ انہیں چھوڑ دیجیے کہ وہ (نیک) اعمال کرتے رہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اچھا، انہیں چھوڑ دو۔"(یعنی یہ بشارت عام نہ کرو)۔


حوالہ:

[صحیح مسلم» حدیث نمبر 31]


حواشی:

(¬1) یعنی ہمارے درمیان سے۔

حوالہ: یہ شارحین کی وضاحت ہے، بنیادی ماخذ (م) یعنی صحيح مسلم سے حدیث مروی ہے۔


(¬2) یعنی دشمن کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے، خواہ قید کر لے یا کوئی اور نقصان پہنچائے۔

حوالہ: شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 108).


(¬3) "النہایہ" کے مصنف کہتے ہیں: "الحائط" وہ کھجور کا باغ ہے جس کے گرد دیوار ہو۔

حوالہ: النهاية في غريب الأثر لابن الأثير۔


(¬4) "الربیع" نہر (چھوٹی ندّی) کو کہتے ہیں۔

حوالہ: یہ بھی غریب الحدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔


(¬5) یعنی وہ کنواں باغ سے باہر والی جگہ میں تھا۔

حوالہ: شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 108).


(¬6) یعنی میں نے (اپنے بدن کو) سکیڑ لیا تاکہ وہ راستہ میرے لیے کشادہ ہو جائے (اور میں اندر گھس سکوں)۔

حوالہ: شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 108).


(¬7) "الاسْت" سرین (پچھاڑی) کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور ایسے ناپسندیدہ ناموں کے لیے کنایہ (گول مول بیان) کا استعمال پسندیدہ ہے۔ یہی ادب قرآن عظیم اور سنت میں آیا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ}، {وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضكُمْ إِلَى بَعْضٍ}، {أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ الْغَائِطِ}۔ اور کبھی صریح نام مصلحت کے تحت بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، مثلاً {الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي}۔

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انہیں دھکا دینا، اس کا مقصد انہیں گرانا یا تکلیف دینا نہیں تھا، بلکہ انہیں (اپنے کام سے) روکنا تھا، اور ان کے سینے پر ہاتھ مارنا تاکہ ان کی ممانعت زیادہ مؤثر ہو۔

امام قاضی عیاض اور دیگر علماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرنا، آپ کے حکم پر اعتراض یا اس کی تردید نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے ابو ہریرہ کو جو کام سونپا تھا، وہ صرف امت کے دلوں کو خوش کرنے اور انہیں بشارت دینے کے لیے تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اس بات کو چھپانا ہی امت کے لیے بہتر ہے، تاکہ لوگ (اعمال چھوڑ کر) صرف اسی پر بھروسا نہ کرنے لگیں، اور یہ کہ ان کے لیے اس بشارت میں جلدی کرنے سے بہتر یہ ہے کہ وہ (اعمال کی طرف) راغب رہیں۔ جب انہوں نے یہ رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی تو آپ نے ان کی تائید فرمائی۔

حوالہ: شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 108).


(¬8) "الجَهْش" یہ ہے کہ انسان کسی کی طرف اس طرح لپکے اور پناہ لے جیسے بچہ اپنی ماں باپ کی طرف لپکتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ رونے کا بھی ارادہ ہو۔

حوالہ: النهاية في غريب الأثر - (ج 1 / ص 851).


(¬9) یعنی انہوں نے فوراً اور بغیر کسی تاخیر کے میرا پیچھا کیا اور میرے پیچھے پیچھے چل پڑے۔

حوالہ: (النووي - ج 1 / ص 108).

---


حاصل شدہ اسباق ونکات:


1. محبت رسول: صحابہ کرام کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی محبت اور فکر مندی۔

2. کلمہ توحید کی عظمت: "لا إله إلا الله" کا دل کے یقین کے ساتھ اقرار جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔

3. دور اندیشی اور حکمت عملی: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دینا، یہ دکھاتا ہے کہ مصلحت عامہ کے لیے ایک بظاہر اچھے کام کو مؤخر یا خفیہ رکھنا بھی جائز ہے۔

4. قابلِ تقلید قیادت: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رائےفقہ صحابی کی مفید رائے کو قبول فرما لینا، مشورے اور اجتماعی تدبر کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

5. ایمان کی شرط: نجات کے لیے محض زبانی اقرار کافی نہیں، بلکہ دل کا یقین (تصدیق) ضروری ہے۔

6. ابلاغِ حدیث کا ثواب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ثواب حاصل کرنے کے لیے اس قدر چلّہ مارنا اور پھر پوری دیانت داری سے واقعہ بیان کرنا۔

7. ادبِ بیان: ناپسندیدہ الفاظ کے اظہار میں کنایہ اور احتیاط کا استعمال، جیسا کہ قرآن و سنت میں ہے۔




حدیث نمبر 29

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ - رضي الله عنه - قَالَ:

(كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ (¬1) وَأَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا (¬2) فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا (¬3) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " افْعَلُوا ") (¬4) (فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: مَا بَقَاؤُكُمْ بَعْدَ إِبِلِكُمْ (¬5)؟ , فَدَخَلَ عُمَرُ - رضي الله عنه - عَلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -) (¬6) (فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ (¬7)) (¬8) (وَمَا بَقَاؤُهُمْ بَعْدَ إِبِلِهِمْ؟) (¬9) (وَلكِنْ لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ، فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ، لَعَلَّ اللَّه أَنْ يَجْعَلَ فِيهَا ذَلِكَ) (¬10) (فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " نَعَمْ , فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - بِنِطَعٍ (¬11) فَبَسَطَهُ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ "، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ، وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ، وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكِسْرَةٍ) (¬12) (وَذُو النَّوَى بِنَوَاهُ، - قُلْتُ (¬13): وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى؟ , قَالَ: كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ -) (¬14) (قَالَ: حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ) (¬15) (قَالَ فَتَطَاوَلْتُ لِأَحْزِرَهُ كَمْ هُوَ فَحَزَرْتُهُ كَرَبْضَةِ الْعَنْزِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً) (¬16) (" فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ "، قَالَ: فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ) (¬17) (" فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ (¬18)) (¬19) (ثُمَّ قَالَ: " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ (¬20)) (¬21) (لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ) (¬22) 

[ وفي رواية: لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا فَيُحْجَبَ عَن الْجَنَّةِ] (¬23) 

[ وفي رواية: لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ] (¬24) "


ترجمہ:


حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے، (ایک وقت آیا کہ) لوگوں کی زادِ راہ ختم ہو گئی (¬1) اور لوگ بھوک کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ، اگر آپ اجازت دیں تو ہم اپنے پانی کے اونٹ (¬2) ذبح کر لیں، پھر ہم (ان کا گوشت) کھائیں اور ان سے تیل (یعنی چربی) بنائیں (¬3)؟" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایسا کرو (¬4)۔"

(یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے ملے تو انہوں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "اپنے اونٹوں کے بعد (سفر کے لیے) تمہاری بقا کیا ہوگی (¬5)؟" پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے (¬6) اور عرض کیا: "یا رسول اللہ، اگر آپ نے (ایسا کرنے کی) اجازت دی تو سواری کے جانور کم ہو جائیں گے (¬7) (¬8)۔ ان کے اونٹوں کے بعد ان کی بقا کیسے ہوگی (¬9)؟ لیکن (اس کی بجائے) آپ لوگوں کے بچے ہوئے زادِ راہ کو جمع کریں، پھر اس پر برکت کی دعا فرمائیں (¬10)۔ عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس میں (کفایت) پیدا کر دے۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ٹھیک ہے۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چمڑے کا دسترخوان (¬11) منگوایا اور اسے بچھا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے بچے ہوئے زادِ راہ منگوایا۔ تو ایک شخص ایک مٹھی مکئی لایا، دوسرا ایک مٹھی کھجور لایا، اور تیسرا ایک روٹی کا ٹکڑا لایا (¬12)۔ (کچھ لوگ) گٹھلیوں کو ان کی گٹھلیوں کے ساتھ لائے — میں (سلمہ) نے پوچھا (¬13): وہ گٹھلیوں کے ساتھ کیا کرتے تھے؟ (راوی نے) کہا: وہ انہیں چوستے تھے اور پھر ان پر پانی پی لیتے تھے (¬14) —۔ (سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا:) یہاں تک کہ اس دسترخوان پر تھوڑی سی چیز جمع ہو گئی (¬15)۔

سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "میں نے اس کا اندازہ لگانے کے لیے لمبا ہو کر دیکھا، تو میں نے اس کا اندازہ لگایا جیسے ایک بکری کا دودھ چھوڑنے والا پھر (دودھ کے بعد کا تھوڑا سا مادہ) ہوتا ہے، حالانکہ ہم چودہ سو آدمی تھے (¬16)۔"

(سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر برکت کی دعا فرمائی، پھر فرمایا: 'لو، اپنے برتنوں میں ڈال لو۔' " (سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) تو انہوں نے اپنے برتنوں میں (یہ خوراک) ڈالی یہاں تک کہ پورے لشکر میں کوئی بھی برتن نہیں چھوڑا مگر انہوں نے اسے بھر دیا۔ اور انہوں نے (خوب) کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کچھ بچ گیا (¬17)۔"

(سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) "(اس معجزے کو دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دانت (یعنی نواجذ) ظاہر ہو گئے (¬18) (¬19)۔ پھر آپ نے فرمایا: 'میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں (¬20) (¬21)۔ جو بندہ ان (دو باتوں) میں شک کیے بغیر اللہ سے ملاقات کرے گا، وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا (¬22)۔'"

[ایک روایت میں ہے: جو بندہ ان (دو باتوں) میں شک کیے بغیر اللہ سے ملاقات کرے گا، اُسے جنت سے محروم نہیں کیا جائے گا] (¬23)۔

[اور ایک روایت میں ہے: جو بندہ ان (دو باتوں) میں شک کیے بغیر اللہ سے ملاقات کرے گا، قیامت کے دن اس سے آگ روک دی جائے گی] (¬24)۔


---


حواشی اور حوالہ جات:


(¬1) یعنی ان کا زادِ راہ (خوراک) ختم ہو گیا۔

حوالہ: فتح الباري لابن حجر - (ج 9 / ص 171)۔


(¬2) نَواضح (اونٹوں) سے مراد وہ اونٹ ہیں جن پر پانی بھرا جاتا ہے (کنویں سے)۔

حوالہ: شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 102)۔


(¬3) اس سے مراد ادھین کا وہ معروف مطلب نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے: ہم ان کی چربی سے تیل (گھی) بنائیں۔

حوالہ: شرح النووي على مسلم - (ج 1 / ص 102)۔


(¬4) صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔ صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔


(¬5) کیونکہ مسلسل پیدل چلنا بعض اوقات ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔

حوالہ: فتح الباري لابن حجر - (ج 9 / ص 171)۔


(¬6) حوالہ: صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔


(¬7) یہاں ظَہر سے مراد سواری کے جانور ہیں، انہیں ظَہر اس لیے کہتے ہیں کہ ان پر (سوار ہو کر) پیٹھ پر سفر کیا جاتا ہے۔


(¬8) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔ صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔


(¬9) حوالہ: صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔


(¬10) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔ مسند احمد (حم)، مسند نمبر: 11095۔


(¬11) النِّطْع: چمڑے کا بنا ہوا ایک دسترخوان یا بچھونا۔


(¬12) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔


(¬13) سائل (یہ پوچھنے والے) ابو صالح ہیں، جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد (اور راوی) ہیں۔


(¬14) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔


(¬15) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔ صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔


(¬16) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 1729 (بعض نسخوں میں)۔


(¬17) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔ صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔


(¬18) النواجذ: دانتوں کے پچھلے حصے، یا وہ دانت جو ڈاڑھوں کے بعد آتے ہیں۔


(¬19) حوالہ: مسند احمد (حم)، مسند نمبر: 15487، اور شیخ شعیب الارنؤوط نے فرمایا: اس کا سند قوی ہے، اور دیکھیں سلسلہ الصحیحہ تحت حدیث: 3221۔


(¬20) آپ ﷺ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ معجزے کا ظاہر ہونا رسالت کی تائید کرنے والی چیز ہے۔

حوالہ: فتح الباري لابن حجر - (ج 9 / ص 171)۔


(¬21) حوالہ: صحیح البخاری (خ)، حدیث نمبر: 2484۔ صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔


(¬22) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔


(¬23) حوالہ: صحیح مسلم (م)، حدیث نمبر: 27۔


(¬24) حوالہ: مسند احمد (حم)، مسند نمبر: 15487۔


---


حاصل شدہ اسباق ونکات


1. حکمتِ مشاورت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ابتدائی تجویز فوراً قبول فرما لی، لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوراندیشی اور بہتر مصلحت کی بنیاد پر دوسرا راستہ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمایا۔ یہ قیادت اور اجتماعی مشورے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

2. معجزے کی تصدیق ایمان: غزوہ تبوک کے مشکل حالات میں تھوڑی سی خوراک کا چودہ سو افراد کے لیے کافی ہو جانا ایک واضح معجزہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معجزے کے فوراً بعد اپنی رسالت کی گواہی دی، جو یہ بتاتا ہے کہ معجزے کا مقصد ایمان کو مضبوط کرنا اور رسالت کی تصدیق کرنا ہے۔

3. ایمانِ یقینی کی فضیلت: حدیث کا اختتام اس اہم اصول پر ہوتا ہے کہ جو شخص دل کے پورے یقین کے ساتھ "لا إله إلا الله" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے، اس کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ یہ ایمان میں شک و شبہے سے پاک یقین کی عظیم اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

4. دوراندیشی اور فکرِ آخرت: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل ایک مجاہد کی دوربین سوچ کا مظہر ہے۔ انہوں نے فوری ضرورت (بھوک مٹانا) اور طویل المدتی مصلحت (سفر جاری رکھنے کے لیے سواریوں کا بچانا) کے درمیان توازن قائم کیا۔ ساتھ ہی، ان کی فکر صرف دنیاوی سفر تک محدود نہ تھی، بلکہ انہوں نے لوگوں کو آخری سفر (آخرت) کے لیے عمل کرنے پر آمادہ رکھنے کی بھی فکر کی۔

5. توکل اور اسباب: یہ واقعہ توکل (اللہ پر بھروسہ) کے صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔ توکل یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کر دیا جائے (جیسے بچی کھچی خوراک جمع کرنا)، بلکہ یہ ہے کہ اسباب اختیار کرنے کے بعد پورا بھروسہ اللہ پر رکھا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے برکت سے فرمایا۔

6. سادگی اور قناعت: صحابہ کرام کی انتہائی مشکل حالات میں بھی صبر، قناعت اور اپنی تھوڑی سی چیزیں (یہاں تک کہ کھجور کی گٹھلیاں) پیش کر دینے کا جذبہ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔





حدیث نمبر 30

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ:

(أَتَى عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ - رضي الله عنه - وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ - رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي (¬1) وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي , فَإِذَا كَانَتْ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ , فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ بِهِمْ , فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِينِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " , قَالَ عِتْبَانُ: " فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - وَأَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ , فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَأَذِنْتُ لَهُ) (¬2) (فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ ") (¬3) (فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْ الْبَيْتِ , " فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فَكَبَّرَ) (¬4) (وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ) (¬5) (ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ ") (¬6) (فَحَبَسْتُهُ (¬7) عَلَى خَزِيرَةٍ (¬8) تُصْنَعُ لَهُ) (¬9) (فَتَسَامَعَتْ الْأَنْصَارُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي بَيْتِي فَأَتَوْهُ) (¬10) (حَتَّى كَثُرَ الرِّجَالُ فِي الْبَيْتِ) (¬11) (وَتَخَلَّفَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ , وَكَانَ يُزَنُّ بِالنِّفَاقِ (¬12)) (¬13) (فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّه وَرَسُولَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " لَا تَقُلْ ذَلِكَ , أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّه؟ " فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ) (¬14) (أَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ لَنَرَى) (¬15) (وَجْهَهُ (¬16) وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ") (¬17) وفي رواية (¬18): " لَنْ يُوَافِيَ عَبْدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " وفي رواية (¬19): " لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ " وفي رواية (¬20):

" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ , أَوْ قَالَ: لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ (¬21) "


ترجمہ:


حضرت محمود بن الربيع الأنصاري رضي الله عنه سے روایت ہے کہ: حضرت عتبان بن مالک (جو کہ بدر کے غازی انصار میں سے تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ، میری بینائی کمزور ہو گئی ہے (¬1) اور میں اپنی قوم (بنی سالم) کی امامت کرتا ہوں۔ جب بارشیں ہوتی ہیں تو میرے اور ان کے درمیان والی وادی میں سیلاب آ جاتا ہے، پھر میں ان کی مسجد تک نہیں پہنچ سکتا کہ انہیں نماز پڑھاؤں۔ (اس لیے) میری خواہش ہے، یا رسول اللہ، کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں تاکہ میں اسے (مستقل) مصلّی (نماز پڑھنے کی جگہ) بنا لوں۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "ان شاء اللہ میں ایسا کروں گا۔"


عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دن چڑھے ہمارے ہاں تشریف لے آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دروازے پر) اجازت مانگی، میں نے اجازت دی تو آپ اندر تشریف لے آئے۔ بیٹھنے سے پہلے ہی آپ نے فرمایا: 'تمہارے گھر میں کہاں نماز پڑھنا پسند کرو گے؟' (¬3) میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، تکبیر (تحریمہ) کہی (¬4) اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھ کر دو رکعتیں پڑھیں (¬5)۔ پھر آپ نے سلام پھیرا اور جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے بھی سلام پھیرا (¬6)۔"


عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: **"پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (واپس جانے سے) روک لیا (¬7) تاکہ آپ کے لیے تیار کی گئی خزیرہ (¬8) (کھانے میں) پیش کروں (¬9)۔" (کھانا کھانے کے دوران) انصار کو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ہیں، تو وہ آپ سے ملنے آنے لگے (¬10) یہاں تک کہ گھر میں آدمیوں کی کثرت ہو گئی (¬11)۔ ان میں سے ایک شخص (جس کا نام) مالک بن دخشُن تھا، پیچھے رہ گیا۔ اس کے بارے میں (لوگوں کا) گمان تھا کہ وہ منافق ہے (¬12) (¬13)۔"


عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "ان میں سے ایک شخص بولا: 'مالک بن دخشُن کہاں ہے؟' ان میں سے کسی نے کہا: 'وہ تو منافق ہے، اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'ایسا مت کہو! کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے 'لا إله إلا الله' کہا ہے، اور وہ اس کہنے میں اللہ ہی کی ذات کو مطلوب رکھتا ہے؟' اس شخص نے کہا: 'اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔' (¬14) ہم تو اللہ کی قسم! اس کا رُخ (¬16) اور اس کی نصیحت منافقوں کی طرف ہی دیکھتے ہیں (¬15)۔'** تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'بیشک اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر آگ حرام کر دی ہے جس نے 'لا إله إلا الله' کہا، اور وہ اس کہنے میں اللہ ہی کی ذات کو مطلوب رکھتا ہے۔' (¬17)


روایات کے اضافے:


· روایت (¬18) میں ہے: "قیامت کے دن کوئی بندہ 'لا إله إلا الله' کہنے والا، جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو، اللہ کے حضور پیش نہیں ہوگا مگر یہ کہ اللہ اس پر آگ حرام کر دے گا۔"

· روایت (¬19) میں ہے: "جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، وہ ہرگز آتشِ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یا وہ اسے چھو نہیں سکے گی۔"

· روایت (¬20) میں ہے: "جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، تو آتشِ دوزخ اسے ہرگز نہیں چھوئے گی، یا (آپ ﷺ نے) فرمایا: وہ ہرگز دوزخ میں داخل نہیں ہوگا (¬21)۔"

[صحیح مسلم:33، مسند احمد:23821]



📚 وضاحت اور حوالہ جات:


حاشیہ (¬1): (یعنی میری بینائی میں کچھ خرابی آگئی ہے / کمزور ہو گئی ہے)۔


(¬2): حوالہ: (خ) صحيح البخاري، حدیث نمبر 415۔ اور (م) صحيح مسلم، حدیث نمبر 33 ۔

(¬3): حوالہ: (خ) 840، (م) 33۔

(¬4): حوالہ: (خ) 415، (م) 33۔

(¬5): حوالہ: (خ) 414، (م) 33۔

(¬6): حوالہ: (خ) 840، (م) 33۔


حاشیہ (¬7): (یعنی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس جانے سے روک لیا)۔ حوالہ: فتح الباري لابن حجر (ج 2 / ص 145)۔


حاشیہ (¬8): (الْخَزِيرَة) ابن قتیبہ کہتے ہیں: یہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کٹے ہوئے گوشت سے بنائی جاتی ہے، پھر اس پر زیادہ پانی ڈالا جاتا ہے، جب یہ پک جائے تو اس پر آٹا چھڑک دیا جاتا ہے۔ اگر اس میں گوشت نہ ہو تو وہ عصیدہ (دلیہ) ہے۔ حوالہ: فتح الباري (ج 2 / ص 145)۔


(¬9): حوالہ: (خ) 1130، (م) 33۔


(¬10) (حم) مسند أحمد، حدیث نمبر 16528 ۔ اور (خ) 1186۔


حاشیہ (¬11): حوالہ: (خ) 1186، (م) 33۔


حاشیہ (¬12): (فلاں شخص فلاں چیز کے ساتھ 'وزن' کیا جاتا ہے، یعنی اس پر اس کا الزام/اتہام لگایا جاتا ہے)۔ حوالہ: لسان العرب (ج 13 / ص 200)۔


(¬13): حوالہ: (حم) 16528۔

(¬14): حوالہ: (خ) 415، (م) 33۔

(¬15): حوالہ: (خ) 1186، (م) 33۔

(¬16): (یعنی اس کا میلان/رُخ)۔ حوالہ: فتح الباري (ج 2 / ص 145)۔

(¬17): حوالہ: (خ) 415، (م) 33۔

(¬18): حوالہ: (خ) 6422۔

(¬19): حوالہ: (م) 33۔

(¬20): حوالہ: (حم) 12407، اور شیخ شعیب الأرناءوط نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

(¬21): (شرح کے مطابق:) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اس حدیث کے تحت ایک اہم باب قائم کیا ہے: "باب مَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ" یعنی "شبہات سے بچنے والے کا بیان"۔ اس حدیث پر علماء کے درمیان کافی گفتگو ہوئی ہے، کیونکہ اس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ صرف کلمہ پڑھ لینے سے جنت کی ضمانت مل جاتی ہے، جبکہ دیگر نصوص میں ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کی شرط بھی لگائی گئی ہے۔ مشہور مفسر حدیث امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے اس کی متعدد توجیہات بیان کی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

1. منکرین کے مقابلے میں: یہ وعید اس شخص کے لیے ہے جو کلمہ توحید کا انکار کرے، نہ کہ اس مسلمان کے لیے جو کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو۔

2. تخلیقِ نار (دوزخ کی تیاری) کے اعتبار سے: یعنی وہ شخص اُس ابدی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے، ہاں اگر وہ صاحبِ کبیرہ ہے تو عارضی عذاب کے بعد جنت میں داخل ہو جائے گا۔

3. شرطِ قبولیت کے اعتبار سے: یعنی جس نے کلمہ توحید کو اس کے تمام تقاضوں (تصدیقِ قلب، اقرارِ لسان، عمل بالارکان) کے ساتھ اخلاص سے پڑھا، اس پر آگ حرام ہے۔

4. احتیاط پر ابھارنا: بعض علماء، جیسے امام زہری رحمہ اللہ، کا قول نقل کیا گیا ہے کہ بعد میں فرائض اور احکام نازل ہوئے، اس لیے اس حدیث سے غلط فہمی (اغترار) نہیں پکڑنی چاہیے، اور احتیاط یہی ہے کہ شخص کبیرہ گناہوں سے بچے۔



💎 حدیث سے حاصل شدہ اسباق و نکات


اس طویل اور عظیم حدیث سے متعدد قیمتی فوائد، شرعی احکام اور اخلاقی درس ملتے ہیں:


1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت و تواضع


· آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عام صحابی کی درخواست کو قبول فرمایا، ان کے گھر تشریف لے گئے، ان کی ضرورت کو سمجھا اور انہیں خوش کرنے کی کوشش کی۔ یہ آپ کی بے پناہ عاجزی اور امت کے ساتھ شفقت کو ظاہر کرتا ہے۔


2. نمازِ نفل باجماعت کی مشروعیت


· رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر میں دو رکعت نفل نماز باجماعت ادا فرمائی۔ اس سے نفل نمازوں میں بھی جماعت کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے، اگرچہ یہ فرض نمازوں کی طرح تاکیدی نہیں ہے۔


3. گھر میں نماز پڑھنے والی جگہ (مصلّٰی) بنانے کا جواز


· حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر میں نماز ادا کر کے اس جگہ کو باعثِ برکت بنایا اور اسے 'مصلّٰی' بنانے کی اجازت دی۔ اس سے گھروں میں نماز کے لیے مخصوص جگہیں بنانے کی ترغيب ملتی ہے۔


4. عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کی رخصت


· حضرت عتبان رضی اللہ عنہ بوڑھے اور نابینا تھے اور درمیان میں وادی حائل تھی۔ ان کے عذر کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مسجد میں جماعت چھوڑنے پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، بلکہ ان کی سہولت کا انتظام فرمایا۔ یہ شرعی عذر کی موجودگی میں جماعت چھوڑنے کی گنجائش پر دلیل ہے۔


5. 'لا إله إلا الله' کا عظمت و فضیلت


· حدیث کا مرکزی اور اہم ترین پیغام کلمہ توحید 'لا إله إلا الله' کی عظمت، شرافت اور اس کے بے پناہ اثرات ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس کلمے کو دل کے یقین اور اخلاص کے ساتھ پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت واجب کر دے گا یا آگ حرام کر دے گا۔ یہ کلمہ نجات کا بنیادی ذریعہ ہے۔


6. مسلمان کے ظاہر پر حکم لگانا اور باطن کو اللہ پر چھوڑنا


· جب ایک صحابی نے مالک بن دخشُن کو منافق کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ 'لا إله إلا الله' کہتا ہے اور ہمیں اس کے باطن کا علم نہیں۔ ہمارا کام کسی کے ظاہری اسلام کے بارے میں حکم لگانا ہے، اس کے دل کی نیت جاننا اللہ کا کام ہے۔ یہ ایک اہم اصول ہے جس سے ہمیں کسی مسلمان کو محض گمان کی بنا پر کافر یا منافق قرار دینے سے روکا گیا ہے۔


7. کسی کے گھر مہمان بن کر جانے والے کے لیے آداب


· رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ مدعو تھے، لیکن پھر بھی حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچ کر دوبارہ اجازت طلب فرمائی۔ یہ مہمان کے لیے ادب سکھاتا ہے کہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لے۔


8. طعامِ مہمان کی فضیلت اور برکت


· حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک کر ایک سادہ سے کھانے 'خزیرہ' کی دعوت دی۔ اس عمل سے مہمان کی تواضع اور اسے کھانا کھلانے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔


9. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامت


· انصار کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عتبان رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہیں تو وہ محبت اور عقیدت میں جوق در جوق آپ سے ملنے آئے۔ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی زندہ مثال ہے۔


10. کلمہ توحید کی شرائط: اخلاص اور یقین


· رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں کلمہ کی قبولیت کی دو اہم شرطیں بیان فرمائی ہیں: 'مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ' (دل کے پورے یقین کے ساتھ) اور 'يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ' (صرف اللہ کی رضا کے لیے)۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ دل کا یقین اور عمل کا اخلاص ضروری ہے۔




حدیث نمبر 31

عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ:

" (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ (¬1) " , فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ (¬2) فلَا يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ، فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ، فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا (¬3) مِنْ طِينٍ " فَكَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ) (¬4) (وَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَنْبَتَيْهِ) (¬5) (فَبَيْنَمَا نَحْنُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -) (¬6) " (إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ (¬7) يَمْشِي) (¬8) (شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ) (¬9) (كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ) (¬10) (شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ) (¬11) (أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا) (¬12) (لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ , وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ) (¬13) (فَسَلَّمَ مِنْ طَرَفِ السِّمَاطِ (¬14)) (¬15) (فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، " فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - السَّلَامَ ") (¬16) (قَالَ: أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: " ادْنُهْ "، فَمَا زَالَ يَقُولُ: أَدْنُو مِرَارًا، وَيُقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " ادْنُ "، حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -) (¬17) 

[ وفي رواية: فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْه , وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ] 

(¬18) (فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا الْإِسْلَامُ؟ , قَالَ: " الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا) (¬19) 

[ وفي رواية: أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ] 

(¬20) (وَأَنْ تُقِيمَ الصَلَاةَ 

[ الْمَكْتُوبَةَ] 

(¬21) وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ 

[ الْمَفْرُوضَةَ] 

(¬22) وَتَصُومَ رَمَضَانَ) (¬23) (وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنْ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا) (¬24) (وَتَعْتَمِرَ , وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ , وَأَنْ تُتِمَّ الْوُضُوءَ) (¬25) " (قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟) (¬26) 

[ وفي رواية: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ (¬27)] 

(قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ: صَدَقْتَ، فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ: صَدَقْتَ) (¬28) (عَجِبْنَا 

[ مِنْهُ] 

(¬29) يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ) (¬30) (ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ , قَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ (¬31) وَمَلَائِكَتِهِ (¬32) وَكُتُبِهِ , وَبِلِقَائِهِ (¬33)

وَرُسُلِهِ 

[ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ] 

(¬34) وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ (¬35) 

[ وفي رواية: بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ] 

(¬36)) (¬37) (وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ) (¬38) (خَيْرِهِ وَشَرِّهِ) (¬39) " (قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -: " نَعَمْ "، قَالَ: صَدَقْتَ) (¬40)


ترجمہ:


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے بیچ (¬1) بیٹھا کرتے تھے۔ کوئی مسافر (¬2) آتا تو وہ نہیں جانتا تھا کہ ان میں سے کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یہاں تک کہ (کسی سے) پوچھتا۔ پس ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایک ایسی مجلس (بیٹھنے کی جگہ) بنائیں جسے کوئی اجنبی آپ کو دیکھ کر پہچان لے۔ پس ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک اونچا چبوترا (¬3) بنایا، پھر آپ اس پر تشریف فرما ہوتے تھے (¬4) اور ہم آپ کے دونوں طرف بیٹھتے تھے (¬5)۔"


"ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (¬6) (کہ) اتنے میں ایک شخص (¬7) آیا (¬8)، (وہ) سفید کپڑوں میں ملبوس تھا (¬9)، گویا اس کے کپڑوں پر کوئی میل نہیں لگی (¬10)، (اس کے) بال انتہائی سیاہ تھے (¬11)، لوگوں میں سب سے حسین چہرے والا، سب سے بہتر خوشبو والا (¬12) تھا۔ اس پر سفر کا کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا، اور ہم میں سے کوئی اسے نہیں پہچانتا تھا (¬13)۔"


"اس نے مجلس کے کنارے سے سلام کیا (¬14) (¬15) اور کہا: السلام علیک اے محمد۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا (¬16)۔ اس نے کہا: اے محمد، کیا میں قریب آ جاؤں؟ آپ نے فرمایا: 'قریب آ جاؤ'۔ وہ بار بار کہتا رہا: 'کیا میں قریب آ جاؤں؟' اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرماتے رہے: 'آ جاؤ'، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں گھٹنوں پر رکھ دیا (¬17)۔"

[ایک روایت میں ہے: تو اس نے اپنے گھٹنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنی ہتھیلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رانوں پر رکھ دیں] (¬18)


"اس نے پوچھا: مجھے بتائیے، اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: 'اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (¬19)۔"

[ایک روایت میں ہے: یہ کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں] (¬20)

"اور (یہ کہ) تم نماز قائم کرو

[فرض] (¬21)

اور زکوٰۃ ادا کرو

[فرض] (¬22)

اور رمضان کے روزے رکھو (¬23)، اور اگر تمہارے پاس استطاعت ہو تو (خانہ کعبہ کا) حج کرو (¬24)۔ اور عمرہ کرو، جنابت سے غسل کرو اور وضو کو مکمل کرو (¬25)۔"


"اس (سائل) نے کہا: اگر میں یہ سب کر لوں تو کیا میں مسلم ہوں گا؟ (¬26)"

[ایک روایت میں ہے: اگر میں یہ سب کر لوں تو کیا میں نے اسلام قبول کر لیا؟ (¬27)

"(آپ نے) فرمایا: 'ہاں'۔ اس (سائل) نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی کہ 'آپ نے سچ فرمایا' (¬28) تو ہمیں تعجب ہوا (¬29) کہ یہ (خود) پوچھتا ہے اور (جواب دینے والے کی) تصدیق بھی کرتا ہے (¬30)۔"


"پھر اس نے کہا: اے محمد، مجھے بتائیے ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: 'ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ (¬31)، اس کے فرشتوں پر (¬32)، اس کی کتابوں پر، اس سے ملاقات پر (¬33)، اس کے رسولوں پر

[اور جنت و دوزخ پر] (¬34)

اور آخرت کے اٹھائے جانے پر (¬35)

[ایک روایت میں ہے: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر] (¬36)

ایمان لاؤ (¬37)، اور تقدیر کے ہر (حکم) پر ایمان لاؤ (¬38)، اس کی بھلائی اور برائی پر (¬39)۔'"


"اس (سائل) نے کہا: اگر میں یہ سب کر لوں تو کیا میں مؤمن ہوں گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'ہاں'۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا (¬40)۔"


---


حواشی اور حوالہ جات:


(¬1): یعنی ان کے درمیان اور اکثریت میں۔ عون المعبود (ج 10 / ص 216)۔

(¬2): یعنی مسافر۔ عون المعبود (ج 10 / ص 216)۔

(¬3): قاموس میں ہے: الدُّكَّان: ایک ایسی عمارت جس کی چھت چپٹی ہوتی ہے تاکہ اس پر بیٹھا جا سکے۔ عون المعبود (ج 10 / ص 216)۔

(¬4): حوالہ: (س) یعنی السنن الصغرى للنسائي، حدیث نمبر 4991۔ اور (د) یعنی سنن أبي داود، حدیث نمبر 4698۔

(¬5): حوالہ: (د) 4698۔

(¬6): حوالہ: (حم) یعنی مسند الإمام أحمد، حدیث نمبر 367۔ شیخ شعیب الارنؤوط فرماتے ہیں: اس کی سند شرط شیخین (بخاری و مسلم) پر صحیح ہے۔

(¬7): (یعنی) فرشتہ تھا جو انسان کی شکل میں آیا تھا۔ فتح الباري (ح48)۔

(¬8): حوالہ: (خ) یعنی صحيح البخاري، حدیث نمبر 4499۔

(¬9): حوالہ: (م) یعنی صحيح مسلم، حدیث نمبر 8۔ (ت) یعنی الجامع الصحيح للترمذي، حدیث نمبر 2610۔

(¬10): حوالہ: (س) 4991۔

(¬11): حوالہ: (م) 8، (ت) 2610۔

(¬12): حوالہ: (س) 4991۔

(¬13): حوالہ: (م) 8، (ت) 2610۔

(¬14): یعنی جماعت سے، مراد وہ لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ عون المعبود (ج 10 / ص 216)۔

(¬15): حوالہ: (د) 4698۔

(¬16): حوالہ: (س) 4991، (د) 4698۔

(¬17): حوالہ: (س) 4991۔

(¬18): حوالہ: (م) 8، (س) 4990۔

(¬19): حوالہ: (خ) 50، (م) 8۔

(¬20): حوالہ: (م) 8، (س) 4990۔

(¬21): حوالہ: (م) 9، (جة) یعنی سنن ابن ماجة، حدیث نمبر 64۔

(¬22): حوالہ: (م) 9، (جة) 64۔

(¬23): حوالہ: (خ) 50، (م) 8۔

(¬24): حوالہ: (م) 8، (س) 4990۔

(¬25): حوالہ: (حب) یعنی صحيح ابن حبان، حدیث نمبر 173۔ (خز) یعنی صحيح ابن خزيمة، حدیث نمبر 1۔ نیز دیکھیے: صحيح الترغيب والترهيب: 175، 1101۔ البانی نے الإرواء میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ شعیب الارنؤوط (حب) 173 میں فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے۔ اور (د) 4695 میں ان تین چیزوں (جنابت سے غسل) کا ذکر ہے۔

(¬26): حوالہ: (حب) 173، (خز) 1۔

(¬27): حوالہ: (س) 4991۔

(¬28): حوالہ: (س) 4991۔

(¬29): حوالہ: (جة) 63۔

(¬30): حوالہ: (م) 8، (س) 4990۔

(¬31): آپ کے فرمان "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر..." سے معلوم ہوا کہ سائل نے ایمان کے متعلقات (ارکان) کے بارے میں پوچھا تھا نہ کہ لفظ کے لغوی معنی کے بارےہ۔ ورنہ جواب ہوتا: ایمان (زبان کے اعتبار سے) تصدیق ہے۔ فتح الباري (ح48)۔

(¬32): فرشتوں پر ایمان کا مطلب ہے ان کے وجود اور اس بات کی تصدیق کہ وہ ایسے ہیں جیسا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا (عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ)۔ فرشتوں کو کتابوں اور رسولوں پر مقدم رکھنے میں واقعاتی ترتیب کا لحاظ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کتاب فرشتے کے ذریعے رسول تک پہنچاتا ہے۔ اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ فرشتے رسولوں سے افضل ہیں۔ فتح الباري (ح48)۔

(¬33): یہاں "ملاقات" کا ذکر کتابوں اور رسولوں کے درمیان آیا ہے، مسلم کی دونوں سندوں میں بھی ایسے ہی ہے۔ دیگر روایات میں یہ لفظ نہیں ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ تکرار ہے کیونکہ یہ ایمان بالبعث میں داخل ہے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ تکرار نہیں۔ بعض نے کہا: "البعث" سے مراد قبروں سے اٹھنا ہے اور "اللقاء" سے مراد اس کے بعد (اللہ سے ملاقات) کا ہونا ہے۔ یا "اللقاء" انتقال دنیا کے وقت ہوتا ہے اور "البعث" اس کے بعد۔ خطابی نے کہا: "اللقاء" سے مراد اللہ کی رویت (دیدار) ہے۔ نووی نے اس پر اعتراض کیا کہ کوئی شخص اپنے لیے اللہ کی رویت کا قطعی یقین نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ صرف مؤمن کے لیے خاص ہے اور انسان نہیں جانتا کہ اس کا خاتمہ کیسے ہوگا، پھر یہ ایمان کی شرط کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ مراد اس بات پر ایمان لانا ہے کہ یہ (رویت) اصل میں حق ہے۔ یہ اہل سنت کے لیے آخرت میں اللہ کی رویت کے اثبات میں ایک قوی دلیل ہے، کیونکہ اسے ایمان کی بنیادوں میں شمار کیا گیا ہے۔ فتح الباري (ح48)۔

(¬34): حوالہ: (حم) 184۔ شیخ شعیب الارنؤوط فرماتے ہیں: اس کی سند شرط شیخین پر صحیح ہے۔

(¬35): رہا "البعث الآخر"، تو کہا گیا کہ "آخر" کا لفظ تاکید کے لیے ہے، جیسے "امس الذَّاهب" (گزرا ہوا کل)۔ یا اس لیے کہ "بعث" دو مرتبہ ہوتا ہے: پہلا: عدم سے وجود میں لانا، یا نطفہ و علقہ کے بعد ماں کے شکم سے دنیوی زندگی میں۔ دوسرا: قبروں سے اٹھا کر مستقل ٹھکانے کی طرف لے جانا۔ "یوم الآخر" اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے دنوں میں آخری ہے۔ اس پر ایمان کا مطلب ہے جو کچھ اس میں حساب، میزان، جنت و دوزخ واقع ہونے والا ہے اس کی تصدیق کرنا۔ فتح الباري (ح48)۔

(¬36): حوالہ: (حم) 184۔

(¬37): حوالہ: (خ) 50، (م) 8۔

(¬38): حوالہ: (م) 10، (س) 4990۔

(¬39): حوالہ: (م) 8، (ت) 2610۔

(¬40): حوالہ: (س) 4991، (حم) 2926۔


---


حدیث سے حاصل شدہ اسباق و نکات


1. تواضع رسول ﷺ: آپ ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان عام لوگوں کی طرح بیٹھتے تھے، کوئی خاص تمیز نہیں تھی۔

2. تعلیم کا بہترین انداز: فرشتہ جبریل علیہ السلام نے انسان کی شکل اختیار کر کے سوال جواب کا طریقہ اپنایا تاکہ امت کو دین کے بنیادی احکام براہ راست رسول اللہ ﷺ کی زبانی سکھائے۔

3. دین کی بنیادی تعریف: یہ حدیث دین کے تین بنیادی درجات کی واضح تعریف فراہم کرتی ہے: اسلام (ظاہری عمل)، ایمان (قلبی عقیدہ)، اور احسان (اس کے بعد والا حصہ)۔

4. ارکان اسلام: حدیث میں اسلام کے بنیادی ارکان کی تفصیل موجود ہے: کلمہ شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور عمرہ۔ نیز طہارت (غسل جنابت، وضو) کو بھی شامل کیا گیا۔

5. ارکان ایمان: ایمان کے چھ ارکان کی مکصر فہرست: اللہ، فرشتے، آسمانی کتابیں، رسول، آخرت کے دن، اور تقدیر کے خیر و شر پر ایمان۔

6. علم دین سیکھنا: سوال کر کے علم حاصل کرنا اور تصدیق کر کے اسے مضبوط بنانا سنت ہے۔

7. آداب مجلس و سوال: سائل نے ادب کے ساتھ سلام کیا، قریب جانے کی اجازت مانگی اور باادب انداز میں بیٹھا۔

8. تقدیر پر ایمان: ایمان کے ارکان میں سے ایک اہم رکن تقدیر کے ہر حکم پر، خیر ہو یا شر، اللہ کی طرف سے ہونے پر یقین رکھنا ہے۔

9. دین کی جامعیت: دین محض چند عبادات یا عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جس میں اعتقاد، عبادت، اخلاق اور معاملات سب شامل ہیں۔

10. تعلیم کی ذمہ داری: جس طرح رسول اللہ ﷺ نے امت کو دین کی تعلیم دی، ہر صاحب علم پر بھی لازم ہے کہ وہ دین کی صحیح تعلیم لوگوں تک پہنچائے۔








No comments:

Post a Comment