تحقیق: رمضان میں آسمان پر سرخ ستون (عمود) کا نمودار ہونا - قحط کی علامت
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ، عَنْ عَبْدَةَ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِيهَا، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ عَمُودًا مِنْ نَارٍ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي السَّمَاءِ فَأَعِدُّوا مِنَ الطَّعَامِ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّهَا سَنَةُ جُوعٍ»
ترجمہ:
"ہم سے عبدالقدوس نے بیان کیا، انہوں نے عبدہ بنت خالد بن معدان سے، انہوں نے اپنے والد خالد بن معدان (تابعی) سے، انہوں نے کہا:
"جب تم مشرق کی طرف سے آسمان میں رمضان کے مہینے میں آگ کا ایک ستون (عمود) دیکھو، تو جتنا تم سے ہو سکے کھانے کا سامان مہیا کر لو، کیونکہ وہ سال قحط کا ہوگا۔"
[الفتن لنعیم بن حماد: 649]
حكم الحديث:
(1)یہ روایت ضعيف ہے۔
[ضعيف الجامع الصغير:514]
کیونکہ امام نعیم بن حماد کی کتاب "الفتن" کی روایات زیادہ تر خالد بن معدانؒ اور کثیر بن مرۃؒ پر موقوف یا مرسل ہیں، (یعنی ان دونوں راویوں نے براہِ راست نبی ﷺ سے نہیں سنا کیونکہ یہ دونوں راوی تابعی ہیں، ان کا نبی ﷺ کے نام کوئی بات بغیر کسی صحابی کی واسطہ یا خود نبی ﷺ سے ملاقات کے مرفوعا نقل کرنا صحیح نہیں)، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی طرف رفع منسوب کرنا راوی کی غلطی ہے، یعنی یہ حدیث مرفوع (صحیح) نہیں ہے، نیز اسانید بھی قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ واللہ اعلم
دوسری روایت میں:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ قَالَ: نا زَيْدُ بْنُ بِشْرٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ ابْنَةُ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمْ عَمُودًا أَحْمَرَ قِبَلَ الْمَشْرِقِ فِي رَمَضَانَ، فَادَّخِرُوا طَعَامَ سَنَتِكُمْ، فَإِنَّهَا سَنَةُ جُوعٍ»
ترجمہ:
"ہم سے احمد بن رشدین نے بیان کیا، کہا: ہم سے زید بن بشر حضرمی نے، کہا: ہم سے بشر بن بکر نے، کہا: مجھ سے ام عبداللہ بنت خالد بن معدان نے، انہوں نے اپنے والد (خالد بن معدان) سے، اور انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جب تم رمضان میں مشرق کی طرف سرخ ستون دیکھو تو اپنے سال بھر کا کھانا ذخیرہ کر لو، کیونکہ وہ قحط کا سال ہوگا۔"
[المعجم الأوسط للطبراني:371]
تشریح وتحقیق علامہ مناوی(م1031ھ):
(إِذَا رَأَيْتُمْ) آسمان کی سمتوں میں (عَمُودًا أَحْمَرَ) یعنی سرخ ستون کی طرح ایک لکیر جو ظاہر ہو (مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ) مشرق کی طرف سے (فِي شَهْرِ رَمَضَانَ) رمضان کے مہینے میں، تو یہ قحط سالی کی علامت ہے۔
(فَادَّخِرُوا) یہ حکم ارشاد کے طور پر ہے (طَعَامَ سَنَتِكُمْ) یعنی اس سال کے لیے اپنے اہل و عیال کا کھانا ذخیرہ کر لو تاکہ تمہارے دل مطمئن رہیں۔
یہ ذخیرہ کرنا توکل کے منافی نہیں، اس لیے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (جو سب سے بڑے متوکل تھے) نے اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا کھانا ذخیرہ کیا تھا۔
(فَإِنَّهَا سَنَةُ جُوعٍ) کیونکہ اس ستون کا ظہور اس سال قحط کی علامت ہے۔
یہ حکم (ذخیرہ کرنے کا) ظاہر ہے کہ اس وقت کے لوگوں (اہل حجاز) سے خطاب ہے، اور قحط صرف ان کے علاقے میں ہوگا، لیکن اس کے عموم کا احتمال بھی ہے۔
حکمتِ تخصیص (رمضان میں اس علامت کا ظہور):
کیونکہ تقدیرِ الٰہی کا نسخہ (انتقال) لیلۃ القدر میں ہوتا ہے جو رمضان میں ہے، اور پھر یہ صحف میکائیل علیہ السلام (جو رزق کے فرشتے ہیں) کو سونپ دیے جاتے ہیں، اس لیے مناسب ہے کہ علامت بھی اسی مہینے میں ظاہر ہو۔
حکمتِ عمودی شکل:
اس لیے کہ اس کا شر پھیلنے والا ہوگا اور قحط شدید اور طویل ہوگا۔
حکمتِ سرخ رنگ:
سرخ رنگ مذموم ہے، کیونکہ شیطان اس رنگ کو پسند کرتا ہے اور اسے زیب دیتا ہے۔ عرب قحط کے سال کو "السنة الحمراء" (سرخ سال) کہتے ہیں، اور شدید رات کو "لیلة طويلة" کہتے ہیں، اور سخت موت کو "الموت الأحمر" کہا جاتا ہے۔
نتیجہ:
اس حدیث میں یہ بھی ثابت ہوا کہ قحط کے خوف سے کھانا ذخیرہ کرنا جائز ہے اور یہ توکل کے منافی نہیں، لیکن یہ ذخیرہ اپنی زمین کی پیداوار سے ہو یا خرید کر ہو، جیسا کہ نبی ﷺ نے خود کیا تھا۔
[فیض القدیر شرح جامع الصغیر-للمناوی: 1/361-362]
حکم الحدیث:
علامہ البانی لکھتے ہیں کہ یہ روایت منکر ہے۔
امام ہیثمیؒ نے "مجمع الزوائد" (۵/۳۵) میں کہا:
"اسے امام طبرانیؒ نے 'الکبیر' اور 'الاوسط' میں روایت کیا ہے، اور اس میں (ام عبداللہ بنت خالد بن معدان) ہیں، جنہیں میں نہیں جانتا، اور باقی راوی ثقہ(قابلِ اعتماد) ہیں۔"
میں(علامہ البانی) کہتا ہوں: احمد بن رشدین - جو احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین مصری ہیں - وہ بھی ان (ثقہ راویوں) میں سے نہیں ہیں؛ کیونکہ امام ذہبیؒ نے "المغنی" میں انہیں ذکر کیا ہے اور کہا ہے:
"امام ابن عدیؒ نے کہا: اس کی حدیث اس کے ضعف کے ساتھ لکھی جائے گی"!
پس ممکن ہے کہ یہ حدیث "طبرانی کبیر" میں ان کی سند کے علاوہ کسی اور طریق سے ہو، اور اس حصے میں جو (صحابی) عبادہ کی حدیثیں ہیں، جہاں تک میں جانتا ہوں وہ اس (طبرانی کبیر) کے مطبوعہ نسخے میں موجود نہیں ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
[سلسلة الأحاديث الضعيفة:6988]
(3) اس روایت کی روافض(شیعہ) میں اہمیت:
ہے کیونکہ وہ اس واقعہ کو ظہورِ مہدی کے ساتھ جوڑتے ہیں، چنانچہ ان بعض کتابوں میں اس روایے کے الفاظ یہ ہیں:
وعن الإمام الصادق عليه السلام قال : ( إذا رأيتم ناراً عظيمة من قبل المشرق تطلع ليال فعندها فرج الناس . وهي قدام القائم بقليل ) .
[البحار : 52 / 240]
وعن الإمام الباقر عليه السلام قال : ( إذا رأيتم ناراً من المشرق شبه الهردي العظيم ، تطلع ثلاثة أيام أو سبعة ، فتوقعوا فرج آل محمد صلى الله عليه وآله إن شاء الله عز وجل ، إن الله عزيز حكيم ) .
[البحار : 52 / 230]
[الغيبة للشيخ النعماني: ص ٢٧٦]
https://ablibrary.net/book_content/14615/204
یہ بات تو مخفی نہیں ہے کہ جس مہدی(امام غائب) کے ظہور کا لوگ انتظار کر رہے ہیں، وہ اہلِ سنت کے مہدی نہیں۔
(4)تیسری بات علامہ مناوی نے ((فیض القدیر)) میں اس روایت کے، جو شواہد ذکر کیے جو دراصل نعیم بن حماد کی کتاب ((الفتن)) سے ماخوذ ہیں، ان شواہد کو دیکھ کر غالب رجحان یہی ہے کہ: ایران کے آئل ڈپوٹ کی آگ کو ((عَمُودًا أَحْمَرَ)) قرار دینا درست نہیں ہے، کیونکہ ان شواہد میں اس کے اوصاف میں ایک بات تو یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سرخ ستون "اسمان" پر دکھائے دے گا، نہ کہ زمین پر ہوگا۔ اور دوسری بات یہ بیان کی گئی ((يَرَاهُ أَهْلُ الْأَرْضِ كُلُّهُمْ)) یعنی زمین پر بچنے والے تمام لوگوں کو وہ سست نشانی نظر ائے گی[الفتن لنعیم بن حماد:633]، یہ بات اسی وقت متحقق ہو سکتی ہے جب یہ نشانی اسمان پر ہو۔
نیز بعض روایات میں اس علامت کے باقی رہنے کی مدت بھی بہت بتائی گئی ہے، تین دن یا سات دن:
وعن الإمام الباقر عليه السلام قال : ( إذا رأيتم ناراً من المشرق شبه الهردي العظيم ، تطلع ثلاثة أيام أو سبعة ، فتوقعوا فرج آل محمد صلى الله عليه وآله إن شاء الله عز وجل ، إن الله عزيز حكيم ) .
[الغيبة للشيخ النعماني: ص ۲۶۳(263)، الإشاعة لأشراط الساعة-البرزنجي: ص223]
(5) اس روایت کے بعض طرق متعدد حوادث کا ذکر ملتا ہے، جو لگاتار پیش آئیں گے، یہ روایت ملاحظہ فرمائیں:
حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عُلَيٍّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضىاللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَكُونُ آيَةٌ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، ثُمَّ تَظْهَرُ عِصَابَةٌ فِي شَوَّالٍ، ثُمَّ تَكُونُ مَعْمَعَةٌ فِي ذِيِ الْقَعْدَةِ، ثُمَّ يُسْلَبُ الْحَاجُّ فِي ذِيِ الْحِجَّةِ، ثُمَّ تُنْتَهَكُ الْمَحَارِمُ فِي الْمُحْرِمِ، ثُمَّ يَكُونُ صَوْتٌ فِي صَفَرٍ، ثُمَّ تَنَازُعُ الْقَبَائِلِ فِي شَهْرَيْ رَبِيعٍ، ثُمَّ الْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ بَيْنَ جُمَادَى وَرَجَبٍ، ثُمَّ نَاقَةٌ مُقْتِبَةٌ خَيْرٌ مِنْ دَسْكَرَةٍ تَغِلُّ مِائَةَ أَلْفٍ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نُعَيْمٌ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ قَتَادَةَ رَجُلٌ
ترجمہ:
"ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے مسلمہ بن علی سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا:
'رمضان کے مہینے میں ایک نشانی ہوگی، پھر شوال میں ایک گروہ ظاہر ہوگا، پھر ذوالقعدہ میں جنگ و جدل ہوگی، پھر ذوالحجہ میں حاجیوں کو لُوٹ لیا جائے گا، پھر محرم (محرم الحرام) میں حرمتوں کو پامال کیا جائے گا، پھر صفر میں ایک زبردست آواز (یا چیخ) ہوگی، پھر ربیع کے دو مہینوں میں قبائل آپس میں جھگڑیں گے، پھر حقیقی عجب (یعنی سب سے بڑھ کر حیرت کی بات) جمادی اور رجب کے درمیان ہوگی، پھر ایک ایسی اونٹنی جس پر پالان ہو (اور وہ سواری کے قابل ہو) اس مرتبان (یا کنوارے لڑکے) سے بہتر ہے جو ایک لاکھ (درہم) خیانت کرے'۔"
ابوعبداللہ نعیم (راوی) کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں، البتہ میرے خیال میں (یہ یقین ہے کہ) میں نے یہ حدیث مسلمہ بن علی سے سنی ہے، ان شاء اللہ، اور ان (مسلمہ بن علی) اور قتادہ کے درمیان ایک آدمی کا فاصلہ ہے۔"
[کتاب الفتن لنعیم بن حماد(1/225) حدیث نمبر 628]
یعنی مسلمہ نے براہِ راست قتادہ سے نہیں سنا بلکہ ان کے درمیان ایک راوی اور ہے، لہذا یہ روایت بھی محلِ نظر وکمزور ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ: اس وقت ایران کا جو واقعہ پیش آیا ہے، اس کا تعلق مذکورہ روایت سے واضح نہیں ہے، نیز معاشی بحران کے اسباب بھی الگ ہیں، یعنی خصوصی طور پر آئل ڈپوٹ کے حادثے سے مربوط نہیں ہیں۔
بس (قرآن وسنت کی متفقہ باتوں کو جانتے مانتے) اللہ تعالیٰ سے حالات کی درستگی، فتنوں سے نجات، اور عافیت مانگتے رہیں۔