شیعہ اور سنی کے درمیان امام مہدی کے متعلق عقائد میں کیا کیا فرق ہیں؟
یہ سوال اسلامی فکر کے ایک انتہائی اہم پہلو کو چھوتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ امام مہدی علیہ السلام پر عقیدہ دونوں مکاتب میں مشترک ہے، لیکن اس حوالے سے گہرے اور بنیادی فرق بھی موجود ہیں۔
یہاں اہم فرق کو ایک جدول میں پیش کیا جا رہا ہے:
پہلو اہل سنت کا عقیدہ اہل تشیع (اثنا عشری) کا عقیدہ
🔹 حیثیتِ عقیدہ بہت سے علمائے کرام کے نزدیک سنت اور اخبارِ متواترہ پر مبنی ایک اہم عقیدہ ہے۔ ایمان کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اور رکنِ دین ہے، جس کا انکار غلط ہے۔
🔹 شخصیت کا تعارف آپ کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا، جو نبی کریم ﷺ کی اولاد سے ہوں گے۔ آپ بارہویں امام، حضرت محمد بن حسن عسکری علیہ السلام ہیں۔
🔹 ولادت آج تک پیدا نہیں ہوئے؛ قیامت سے پہلے دنیا میں پیدا ہوں گے۔ پیدا ہو چکے ہیں اور غیبت میں ہیں؛ سن 255 ہجری میں سامرا (عراق) میں پیدا ہوئے۔
🔹 غیبت کا تصور یہ تصور بنیادی طور پر مسترد ہے۔ کوئی زندہ شخص غیبت میں نہیں ہے۔ دو حصوں پر مشتمل ہے: غیبت صغریٰ (امام کے نائبین سے رابطہ) اور غیبت کبریٰ (براہ راست رابطہ منقطع)۔
🔹 عصمت (بے خطائی) تمام انبیاء کی طرح ایک عظیم ولی ہوں گے، مگر معصوم نہیں ہوں گے۔ لازمی اور اہم سمجھی جاتی ہے۔ معصوم ہونا امامت کی بنیادی شرط اور ان کے مقام کا حصہ ہے۔
🔹 ظہور کے بعد کردار زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور بیت المقدس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امامت کروائیں گے۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، اپنی مرضی کے مطابق حکومت کریں گے، اور حضرت عیسیٰ آپ کی پیروی کریں گے۔
💎 خلاصہ
خلاصہ یہ کہ امام مہدی پر ایمان دونوں فریقین کے ہاں موجود ہے، لیکن:
· اہل سنت اسے قیامت سے پہلے پیدا ہونے والی ایک عظیم شخصیت سمجھتے ہیں، جس کی تفصیلات متعدد احادیث میں موجود ہیں۔
· اہل تشیع (اثنا عشری) کا عقیدہ ہے کہ وہ بارہویں امام ہیں جو پہلے ہی پیدا ہو کر غیبت میں چلے گئے ہیں، اور اب ان کا ظہور ہوگا۔

No comments:
Post a Comment