Wednesday, 8 July 2026

سانپ کے متعلق بیان


احادیث میں سانپ کے بارے میں مختلف احکام اور ہدایات ملتی ہیں، جنہیں بنیادی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:


اصلاحِ عقیدہ

حکم نمبر 1: نقصان دہ سانپوں کو مارنا۔


نبی کریم ﷺ نے خاص طور پر نقصان دہ سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے، جن کی پہچان بھی بتائی گئی ہے۔


· حکمِ قتل: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "سانپوں کو مارو

اسحاق بن اسماعیل، سفیان، ابن عجلان، ، حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
«مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً، فَلَيْسَ مِنَّا» يَعْنِي الْحَيَّاتِ
ترجمہ:
ہم نے سانپوں سے صلح نہیں کی جب سے ہم نے ان سے جنگ شروع کی اور جو ان میں سے کسی سانپ کو چھوڑے ڈر کر وہ ہم میں سے نہیں۔
[سنن أبي داود:5248 ، مسند أحمد:9588 ، مسند البزار:8372، صحيح ابن حبان:5644]

تشریح :
" بدلے کے خوف " کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ڈر کی وجہ سے سانپ کو نہ مارے کہ کہیں اس کا جوڑا مجھ سے انتقام نہ لے ، چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کسی سانپ کو مار ڈالا اور پھر اس کے جوڑے نے آ کر اس شخص کو کاٹ لیا اور بدلہ لیا ، مارا جانے والا سانپ اگر نر ہوتا ہے تو اس کی مادہ انتقام لینے آتی ہے اور اگر وہ مادہ تھی تو اس کا نر بدلہ لینے آتا ہے ، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے ہاں یہ خوف ایک عقیدے کی حد تک تھا وہ کہا کرتے تھے کہ سانپ کو ہرگز نہیں مارنا چاہئے ، اگر اس کو مارا جائے گا تو اس کا جوڑا آ کر انتقام لے گا ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے قول و اعتقاد سے منع فرمایا ۔


· مخصوص اقسام: خاص طور پر ”ذُو الطُّفْیَتَیْنِ“ (جس کی پیٹھ پر دو سفید یا کالی لکیریں ہوں) اور ”الأَبْتَرَ“ (جس کی دم چھوٹی یا کٹی ہوئی ہو) کو مارنے کا خاص حکم ہے۔

· وجہ: ان سانپوں کو مارنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آنکھوں کی بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔

· حیثیت: یہ احکام صحیح احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔



حکم نمبر 2: گھروں میں رہنے والے سانپوں سے نمٹنا


گھر میں ملنے والے سانپ کے لیے طریقہ کار مختلف ہے، پہلے اسے موقع دینے کا حکم ہے۔


· تین دن کی مہلت: گھریلو سانپ کو تین بار آگاہ کیا جائے کہ وہ گھر چھوڑ دے۔

· پھر قتل: اگر تین بار متنبہ کرنے کے باوجود وہ واپس آئے تو اسے مار دینا چاہیے۔

· ممکنہ وجہ: اس ہدایت کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض گھریلو سانپ جن (Jinn) ہو سکتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہو۔

· ابتدائی حکم میں تبدیلی: ایک روایت کے مطابق، نبی ﷺ نے ابتداء میں تمام سانپ مارنے کا حکم دیا تھا، مگر بعد میں گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرما دیا۔



حکم نمبر 3: نماز کی حالت میں


نماز کی حالت میں بھی سانپ کو مارنے کی اجازت ہے۔


· نماز توڑ کر مارنا: رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔



۔


---


دیگر اہم احادیث:

· سانپ کو پالتو جانور بنانا جائز نہیں، بلکہ اسے ختم کرنا چاہیے۔


· سود خور کا بھیانک انجام: فرمایا:

جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔

[سنن ابن ماجہ:2273]




· قیامت کے دن، جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا، اس کا مال ایک زہریلے نر سانپ کی شکل اختیار کر لے گا جو اسے ڈسے گا۔



*حدیث 1: کافر پر ستر (90) اژدہے مسلط کیے جائیں گے۔*

· حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدہے (تنین) مسلط کر دیے جاتے ہیں، جو قیامت تک اسے ڈستے اور نوچتے رہیں گے۔ اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو زمین کسی قسم کا سبزہ نہ اگائے۔"




شرح البيضاويؒ (متوفی 685ھ) :

پہلا احتمال: کہ اس سے مخصوص عدد (یعنی قطعی 99) مراد ہے، اور اس عدد کی خصوصیت (تعیین) توقیفی ہے، یعنی اس میں عقل و اجتہاد کو کوئی دخل نہیں، بلکہ اسے وحی کے ذریعے ہی حاصل کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے نماز کی رکعات کی تعداد (توقیفی ہے اور اس میں قیاس نہیں چلتا)۔

اور دوسری قول (رائے) یہ ہے: کہ بے شک اللہ کے 99 نام ہیں (اسماء الحسنیٰ)۔ ان میں سے ہر نام اس معنی پر دلالت کرتا ہے جس پر ایمان لانا واجب ہے۔ چونکہ کافر نے ان سب سے اعراض کیا (منہ موڑا) اور نہ تو مجموعی طور پر ان پر ایمان لایا اور نہ تفصیل کے ساتھ، اس لیے ہر نام کے بدلے اس پر ایک "تنین" (جو بہت بڑا سانپ ہے) مسلط کر دیا گیا۔

"تنہشہ" یعنی وہ اسے ڈسے گا اور قیامت کے دن تک کاٹتا رہے گا۔

اور تیسرا احتمال (یا مؤول معنی) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے کثرت (بہت زیادہ تعداد) مراد ہو، اور "تنین" کو اس طرح مؤول کیا جائے کہ اس سے مراد وہ تمام مصائب، مکروہات اور عذاب ہیں جو کافر کو (قبر اور آخرت میں) گھیر لیں گے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔"

اس شرح سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
غیبات میں تسلیمِ امر:
بیضاویؒ نے واضح کیا کہ قبر کے عذاب کی کیفیت اور تعداد (99) ایک غیبی حقیقت ہے۔ اس میں عقل کو دخل نہیں دینا چاہیے، بلکہ اسے ویسے ہی ماننا چاہیے جیسے حدیث میں آیا ہے (بغیر تکلف کے)۔

توقیفیت کا اصول:
عبادات کی تعداد (رکعات، طواف وغیرہ) اور غیبیات کی تعداد (جہنم کے دروازے، قبر کے اژدہے وغیرہ) میں قیاس اور اجتہاد جائز نہیں۔ یہ صرف وحی سے معلوم ہوتا ہے، اور جیسے آیا ہے ویسے ایمان لانا واجب ہے۔

اسمائے حسنیٰ سے ربط:
یہ ایک بہت عمدہ اشارہ ہے کہ اللہ کے ناموں سے محبت اور ان پر ایمان انسان کو عذاب سے بچاتا ہے، جبکہ ان سے اعراض کرنے والے کو عذاب گھیر لیتا ہے۔ (یہ وہ نکتہ ہے جو عام وعظ و نصیحت میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔

تأویل کی گنجائش اور حد:
بیضاویؒ نے مؤول معنی (کثرت اور مصائب) کو بھی جائز رکھا، مگر اسے نہ تو پہلی دلیل بنایا اور نہ اسے نص پر مقدم کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء متقدمین جہاں نص کو ظاہر پر رکھتے تھے، وہاں متشابہات میں عقلی توجیہات کو بطورِ احتمال بیان کرتے تھے، مگر انہیں قطعی نہیں گردانتے تھے۔








شرح ابن الملكؒ (متوفی 854ھ) :

"کافر پر (قبر میں) ننانوے (99) اژدہے مسلط کیے جائیں گے" یعنی انہیں اس پر مقرر کر دیا جائے گا تاکہ وہ اسے عذاب اور اذیت پہنچائیں۔ "تنین" بہت بڑے سانپ کو کہتے ہیں۔

اس عدد (99) کی مخصوص تعیین صرف وحی کے ذریعے معلوم ہو سکتی ہے، عقل اسے خود نہیں جان سکتی۔

پہلا احتمال (بیضاویؒ کی طرح): یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے 99 نام (اسماء الحسنیٰ) ہیں، کافر نے ان ناموں والے (اللہ) کے ساتھ شرک کیا، اس لیے ہر نام کے بدلے اس پر ایک اژدہا مسلط کر دیا گیا۔

دوسرا احتمال (نیا اور اہم اضافہ): یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک سو (100) رحمتیں ہیں، جن میں سے ایک رحمت اس نے دنیا میں انسانوں، جنوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی، جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور باقی 99 رحمتیں اس نے آخرت کے لیے اپنے مومن بندوں کے لیے روک رکھی ہیں۔ پس اس (کافر) پر ہر اس رحمت کے بدلے جو مومنین کے لیے مخصوص ہے، ایک اژدہا مسلط کر دیا گیا (یعنی 99 رحمتوں کے مقابل 99 اژدہے)۔

"تنہشہ وتلدغہ" (وہ اسے ڈسے گا اور کاٹے گا) ان دونوں کے معانی ایک ہی ہیں، اور انہیں ایک ساتھ ذکر کرنا تاکید کے لیے ہے۔ کہا گیا ہے کہ "نہش" (سانپ کا ڈسنا) "لدغ" سے زیادہ شدید ہوتا ہے، کیونکہ اس کا اثر سانپ کے ڈسنے اور کتے کے کاٹنے جیسا عظیم ہوتا ہے۔

"حتیٰ تقوم الساعة" یعنی قیامت تک (یہ عذاب جاری رہے گا)۔

"لو أن تنينًا منها نفخ في الأرض" یعنی اگر ان اژدہوں میں سے ایک بھی زمین پر پھونک مار دے (یعنی اس کے منہ کی گرم ہوا اور حرارت زمین تک پہنچ جائے) تو اس کی حرارت سے زمین اس طرح جل جائے گی کہ وہ کوئی سبزہ (ہری گھاس یا درخت) نہ اگا سکے، یعنی اس میں کوئی نباتات یا درخت باقی نہ رہے۔"










*حدیث 2: کافر پر ستر (70) اژدہے مسلط کیے جائیں گے۔*

"تنین" (اژدہا) کیا ہے؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بے شک مومن اپنی قبر میں ایک سرسبز باغ (روضہ) میں ہوتا ہے، اس کی قبر کو ستر ہاتھ (تقریباً 35 میٹر) تک کشادہ کر دیا جاتا ہے، اور اسے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن کر دیا جاتا ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ} (سورۃ طٰہٰ: 124) کس بارے میں نازل ہوئی؟"
آپ ﷺ نے مزید فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ 'مَعِيشَةً ضَنْكًا' (تنگ معیشت) سے کیا مراد ہے؟"
صحابہؓ نے عرض کیا:
اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"یہ کافر کا قبر کا عذاب ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (کافر) پر ننانوے (99) اژدہے (تنین) مسلط کیے جائیں گے۔ کیا تم جانتے ہو 'تنین' کیا ہے؟ یہ ستر (70) سانپ ہیں، ہر سانپ کے سات (7) سر ہوں گے، وہ اسے قیامت کے دن تک ڈستے اور نوچتے رہیں گے۔"















گگگگ