Sunday, 2 June 2013

اہلُ الرّائے (علماۓ فقہ) اور اہل الحدیث (علماۓ حدیث) کا مقام و فرق

محدث جليل إمام اعمشؒ(م148ھ) اپنے وقت کے محدث و فقیہ نے امام ابو حنیفہؒ سے کہا تھا:
نَحْنُ الصَّيَادِلَةُ وَأَنْتُمُ الأَطِبَّاءُ۔
ترجمہ:
آپ طبیب(Doctor) ہیں اور ہم لوگ عطار(Pharmacists) ہیں.
[جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر  » بَابُ ذِكْرِ مَنْ ذَمَّ الإِكْثَارَ مِنَ الْحَدِيثِ ...، رقم الحديث: 1195]
[شرف اصحاب الحدیث ونصیحۃ اہل الحدیث: ص261]

Saturday, 11 May 2013

علامہ وحید الزمان کا اہل حدیث ہونا اہل حدیث کی کتابوں سے














=================================================
فقہ حنفی کو قرآن و سنّت کے خلاف کہنے والے اس جدید فرقہ اہل حدیث کے دعوا "الله و رسول کی ہی مانو" کے بلا دلیل و ثبوت مسائل دیکھئے، جن کو انہوں نے فقہ حنفی سے بغض کے سبب "فقہ نبی المختار" یا "فقہ خیر الخلائق" کے موضوع پر "نزل الابرار من فقہ نبی المختار"، "کنز الحقائق من فقہ خیر الخلائق" اور "هدية المهدي من فقہ المحمدی" کے نام سے اپنے اس دعوا کے باوجود قرآن و حدیث کے کافی نہ ہونے کا ثبوت ان کتابوں کو لکھ کر دیا ہے، جنہیں یہ لوگ اب بھی اپنے گھروں، دکانوں اور انٹرنیٹ سائٹس پر شایع کرتے دین کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام کرتے ہیں. اس تحریر کا مقصد صرف برائی سے روکنا اور اوم کو گمراہی سے بچانا ہے. اگر موجودہ غیر مقلدین اہلِ حدیث احباب نیچے پیش کی گئی باتوں کا انکار کرتے ہیں اور اہلِ حدیث جماعت کے ان علماء کی ان تحریروں کو گمراہی سمجھتے ہیں تو ان سے عرض ہے کہ اہلِ سنّت والجماعت علماء کی کتابوں کے خلاف وہ جس طرح دن رات پروپگنڈہ کررہے ہیں اسی طرح ان کتابوں کے خلاف بھی جلسے اور بیانات کریں، ان کے خلاف کتابیں، اشتہارات اور آپکے جمہور علماء کے دستخطوں کے ساتھ اجماعی فتویٰ سے اپنے ان علاماوں کی گمراہی متفقہ فیصلہ اور ان کی کتب رکھنے، شایع کرنے اور ان کی کتب سے حوالہ اپنی نئی شایع کردہ کتب میں دینے سے سختی سے روکتے اپنی برأت کا ثبوت دیں.



غیر مقلدین کے نذدیک خنزیر کی عظمت:
علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں: ”خنزیر پاک ہے ۔ خنزیر کی ہڈی ، پٹھے ، کھر ، سینگ اور تھوتھنی سب پاک ہیں۔“ (کنزالحقائق۔ ص13)

غیر مقلدین کے نزدیک خنزیر ماں کی طرح پاک ہے:
علامہ صدیق حسن خان لکھتے ہیں: ” خنزیر کے حرام ہونے سے اس کا ناپاک ہونا ہر گز ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ ماں حرام ہے مگر ناپاک نہیں“۔ (بدور الاہلہ۔ ص16)

غیر مقلدین کے نزدیک خنزیر کا جھوٹا اور کتے کا پیشاب ، پاخانہ پاک ہے:
علامہ وحید الزماں خان لکھتے ہیں: ” لوگوں نے کتے اور خنزیر اور ان کے جھوٹے کے متعلق اختلاف کیا ۔ زیادہ راجح یہ ہے کہ ان کا جھوٹا پاک ہے۔ ایسے لوگوں نے کتے کے پیشاب ، پاخانے کے متعلق اختلاف کیا ہے ۔ حق بات یہ ہے کہ ان کے ناپاک ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔“ (نزل الابرار۔ ج1 ص50)

گدھی ، کتیا اور سورنی کا دودھ غیر مقلدین کے لیے پاک ہے:
معروف غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں: ”گدھی ، کتیا اور سورنی کا دودھ پاک ہے“۔ (بدورالاہلہ ۔ ص18)

غیر مقلدین کے نزدیک عورت کی شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے

مشہور غیر مقلد عالم علامہ وحید الزماں لکھتے ہیں :
”عورت کی شرمگاہ کی رطوبت پاک ہے“ (کنزالحقائق س16)








غیر مقلد عالم ..... لکھتے ہیں :
"ومنه يعلم ان من الصحابة من هو فاسق كالوليد ومثله يقال في حق معاوية وعمرو مغيرة و سمرة".(نزل الأبرار : ٢/٩٤)
ترجمہ : اس سے معلوم ہوا کہ کچھ صحابہ فاسق ہیں جیسا کہ ولید (بن عقبہ) اور اسی کے مثل کہا جاۓ گا، معاویہ (بن ابی سفیان) ، عمرو (بن عاص)، مغیرہ (بن شعبہ) اور سمرہ (بن جندب) کے حق میں (کہ وہ بھی فاسق ہیں).





=================
معروف غیر مقلد عالم علامہ وحید الزماں خان لکھتے ہیں:
”منی خواہ گاڑھی ہو یا پتلی ، خشک ہو یا تر ہر حال میں پاک ہے۔“(نزل الابرار ۔ ج1ص49)؛

مشہور غیر مقلد عالم نواب نور الحسن خان لکھتے ہیں:؛
”منی ہر چند پاک ہے“ (عرف الجادی ۔ ص10)


اور نامور غیر مقلد عالم مولانا ابو الحسن محی الدین لکھتے ہیں:
”منی پاک ہے اور ایک قول میں کھانے کی بھی اجازت ہے“( فقہ محمدیہ ۔ ج1ص 46)؛

تبصرہ : اب ایسے لوگوں کا کھانا ، دعوت اور ان جیسے لوگوں کے پیچھے نماز کیا  ہوگی؟؟؟






==========================
ہم نہیں مانتے!!!
غیر مقلدین کے معتبر ترین علماءکے یہ مسائل جب غیر مقلدین کے سامنے بیان کئے جاتے ہیں تو لا جواب ہو کر ان کا رنگ زرد پڑجاتا ہے ۔ جب کوئی جواب ان سے نہیں بن پڑتا تو چار ونا چار یہ کہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ ”ہم ان علاماء، ان کتابوں اور ان مسائل کو نہیں مانتے ۔ ہم تو صرف قرآن وحدیث کو مانتے ہیں “

ہم غیر مقلدین سے پوچھتے ہیں:

٭۔۔۔کیا یہ علماءخود کو اہل حدیث نہیں کہتے تھے اور کیا انہوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم قرآن وحدیث کے مسائل لکھ رہے ہیں؟

٭۔۔۔ جب آپ قرآن وحدیث ہی کو مانتے ہیں تو پھر آپ کے علماءکتابیں کیوں لکھتے ہیں ؟ کیا قرآن وحدیث کو ماننے کے لیے ترجمے والا قرآن اور احادیث کی مترجم کتابیں کافی نہیں؟

٭۔۔۔آپ ان علماءکی بات نہیں مانتے تو یہ علماءآپ کی بات نہیں مانتے۔کیا وجہ ہے کہ ایک غیر مقلد عالم فتویٰ دیتا ہے دوسرا کہتا ہے میں نہیں مانتا ۔ ایک غیر مقلد عالم کتاب لکھتا ہے تو دوسرا عالم اسے نہیں مانتا ۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر غیر مقلد اپنے نفس کی مان رہا ہوتا ہے اور نام قرآن وحدیث لیتا ہے ۔

٭۔۔۔ کیا غیر مقلدین کے علاوہ بھی دنیا میں کوئی فرقہ گزرا ہے جس کے اکابر گمراہ اور اصاغر (چھوٹے) راہ راست پر ہوں۔

٭۔۔۔ اگر آپ ان علماءکو نہیں مانتے تو ہمارا آپ سے مطالبہ ہے کہ لگائیے ان علماءپر کفر کا فتویٰ۔کیا کفر ، شرک اور گمراہی کے فتوے آپ لوگوں نے علمائے دیوبند ہی کے لیے سنبھال کر رکھے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک آپ لوگوں نے متفقہ طور پر ان پر کفر اور شرک اور گمراہی کا کوئی فتویٰ نہیں لگایا۔ اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی اشتہار ، پمفلٹ یا کوئی کتابچہ تقسیم کیا ۔ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ

ان علماءکو مانتے ہیں۔

ان مسائل کو مانتے ہیں ۔

ان کتابوں کو مانتے ہیں ۔

لیکن

اعتراف نہیں کرتے۔

مسئلہ فاتحہ خلف الامام

غیر مقلدین نے ہتھیار ڈال دئیے

بغیر فاتحہ کے مقتدی کی نماز ہو جاتی ہے ارشاد الحق اثری کا فرمان

بزرگ غیر مقلد عالم ارشاد الحق اثری فاتحہ خلف الامام پر اپنی تحقیقی کتاب ”توضیح الکلام “ میں لکھتے ہیں:

”امام بخاری ؒ سے لے کر دورِ قریب کے محققین اہل حدیث تک کسی کی تصنیف میں یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ فاتحہ نہ پڑھنے والے کی نماز باطل ہے اور وہ بے نماز ہے۔آج بعض حضرات نے جو قدم اُٹھایا ہے ، جماعت کے نامور اور ذمہ دار حضرات میں ان کا شمار نہیں ہوتا۔” (توضیح الکلام ج۱۔ ص۳۴)

آگے اثری صاحب لکھتے ہیں:

” جو یہ سمجھے کہ فاتحہ خلف الامام فرض نہیں ، نماز خواہ جہری ہو یا سری اور اپنی تحقیق پر عمل کر لے (یعنی فاتحہ نہ پڑھے ) تو اس کی نماز باطل نہیں ہوتی ”۔ (توضیح الکلام ج۱ص۵۴)

اس سے ظاہر ہوا کہ فاتحہ کے بغیر مقتدی کی نماز ہو جاتی ہے اور جو غیر مقلد علماءبغیر فاتحہ کے نماز کو باطل کہتے ہیں وہ غیر ذمہ دار لوگ ہیں۔

سجدوں میں رفع یدین

غیر مقلدین کے لیے سو شہیدوں کا ثواب

حضراتِ غیر مقلدین کی مستند ، مرکزی اور مسلمہ کتاب ” فتاویٰ علمائے حدیث ” میں ہے:

” سجدوں میں رفع یدین منسوخ نہیں ۔ یہ نبی ﷺ کی آخری عمر کا فعل ہے اور اس سنت کو ذندہ کرنے والوں کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا”۔(ملخصاً۔ فتاویٰ علمائے حدیث ۔ ج۴۔ ۷۰۳،۶۰۳)

کیا سعودی عرب والے غیر مقلد ہیں ؟۔۔۔نہیں !!!

سعودی عرب والے امام احمد بن حنبل ؒ کے مقلد ہیں بلخصوص حرمین شریفین کے آئمہ کے حنبلی ہونے میں تو کوئی شک نہیں ۔ محمد بن عبدالوہاب ؒ کے صاحب زادہ امام عبداللہ بن عبدالوہابؒ فرماتے ہیں: “ہم فروعی مسائل میں حضرت امام احمد بن حنبل ؒکے طریقے پر ہیں ، چونکہ ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہؒ، امام مالک ؒ ، امام شافعی ؒ ، اور امام احمد ابن حنبلؒ کا طریقہ منضبط ہے اس لیے ہم ان کے کسی مقلد پر انکار نہیں کرتے ۔۔۔۔ ہم لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ چاروں ائمہ میں سے کسی ایک ہی کی تقلید کریں” (تحفہ وہابیہ ترجمہ الدیة السنیہ ص۶۱)

دیکھیے سعودی عرب کے امام تو لوگوں کو ائمہ کی تقلید پر مجبور کر رہے ہیں۔ غیر مقلدین انہیں مشرک اس لیے نہیں کہتے کہ پیٹ پر لات پڑتی ہے۔

غیر مقلدین بتائیں :

۱) حرمین شریفین میں تراویح بیس رکعات ہوتی ہے۔ آپ آٹھ پڑھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں اور بیس تراویح کو بدعت کیوں کہتے ہیں؟ (رفع اختلاف از مولوی عثمان دہلوی غیر مقلد ص ۴۵)

۲) حرمین شریفین میں نماز ِ جنازہ ہمیشہ آہستہ پڑھا ئی جاتی ہے۔ آپ یہاں بلند آواز سے کیوں پڑھتے ہیں؟

۳) سعودی عرب میں ”مجلس ہیئت کبار العلماء“ کے فیصلے کے مطابق تین طلاق تین ہی ہوتی ہیں ۔ آپ ایک کیوں کہتے ہیں؟

۴) حرمین شریفین میں نماز جمعہ میں دو اذانیں ہوتی ہیں جبکہ آپ دوسری اذان کوبدعت کہتے ہیں۔ (فتاویٰ ثنائیہ۔ ج۱ ۔ ص۵۳۴)

۵) سعودیہ والے کہتے ہیں کہ مقتدی کی نماز بغیر فاتحہ پڑھے ہو جاتی ہے ۔ (معنی ابن قدامہ ۔ ج۱۔ ص۶۰۱)

جبکہ آپ کہتے ہیں کہ بغیر فاتحہ کے مقتدی کی نماز نہیں ہوتی ۔


Tuesday, 23 April 2013

صحابہ کرامؓ کے بارے میں جدید فرقہ اہلحدیث اور ان کے علماء کا نقطۂ نظر

ہمارا مسلک : اہلِ سنّت والجماعت
ہماری دعوت : اتباعِ کتاب و سنّت
ہمارا نعرہ : اتحادِ امت
ہماری کوشش : احیاءِ توحید و سنّت اور خاتمۂ شرک و بدعت
ہمارا مقصد : اشاعتِ معروفات و ازالۂ منکرات
منجانب : مجلس تحفظ سنّت و دفاعِ صحابہؓ ، آندھراپردیش
نوٹ : اس اشتہار کا مکمل احترام فرمائیے ، نیچے گرنے سے یا کسی بھی بے احترامی سے بچائیے ، اس میں آیاتِ قرآنیہ اور احدیثِ مبارکہ تحریر ہیں اس کو پڑھئیے اور چھاپ کر دوسروں تک پہونچاکر ثوابِ دارین حاصل کیجئے.

محترم اسلامی بھائیو! اہلِ سنّت والجماعت کا ہر دور میں اس عقیدہ پر کامل اتفاق رہا ہے کہ پوری انسانیت میں انبیاءِ کرام علیھم السلام کے بعد صحابہ کرامؓ سب سے افضل ہیں. قرآنِ پاک میں الله پاک نے کی آیتوں میں صحابہ کرامؓ کی تعریف فرمائی. حضور اکرمؐ نے بیشمار احادیث میں صحابہ کرامؓ  کے فضائل بیان فرماۓ. ایک حدیث میں آپؐ نے پوری امّت کو تاکید فرمائی  کہ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي.... میرے صحابہؓ کے بارے میں الله سے ڈرو،  میرے بعد ان کو نشانہ ملامت مت بناؤ، جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی  (ترمذی) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ سے محبت نبی سے محبت سے اور صحابہ سے دشمنی نبی سے دشمنی ہے. دوسری حدیث شریف میں آپؐ نے صحابہ کرامؓ  کے بارے میں فرمایا : أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ....الخ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے تم جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے.(مشکوٰة: ص554). قرآن و سنّت کی روشنی میں اہلِ سنّت والجماعت کے نزدیک صحابہؓ معیارِ حق ہیں، ان کے اقوال و افعال حجت ہیں، اور ان کو برا بھلا کہنے والا زندیق ہے. صحابہ کرامؓ کے ذریعہ پوری امت تک قرآن و حدیث کا علم پہنچا. صحابہ کرامؓ ہی دین اسلام کے کامل ومکمل ترجمان ہیں وار الله و رسولؐ کے سچے عاشق اور مطيع و فرمانبردار ہیں.

کتاب و سنّت کی گواہی، سلفِ صالحین اور پوری امت کے برخلاف ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کے اہل حدیث غیر مقلدین حضرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں بے خوفی کے ساتھ زبان درازی کرتے اور ناشائستہ کلمات زبان و قلم سے نکالتے چلے جاتے ہیں، جن کی چند مثالیں یہاں پیش کی جاتی ہیں :

ایک بڑے غیر مقلد عالم ..... لکھتے ہیں :
"ومنه يعلم ان من الصحابة من هو فاسق كالوليد ومثله يقال في حق معاوية وعمرو مغيرة و سمرة".(نزل الأبرار : ٢/٩٤)
ترجمہ : اس سے معلوم ہوا کہ کچھ صحابہ فاسق ہیں جیسا کہ ولید (بن عقبہ) اور اسی کے مثل کہا جاۓ گا، معاویہ (بن ابی سفیان) ، عمرو (بن عاص)، مغیرہ (بن شعبہ) اور سمرہ (بن جندب) کے حق میں (کہ وہ بھی فاسق ہیں).


دوسرے غیر مقلد عالم ..... تحریر کرتے ہیں :
سیدنا علیؓ کے خودساختہ حکمرانا عبوری دور کو خلافتِ راشدہ میں شمار کرنا صریحاً دینی بددیانتی ہے، مگر اغیار نے جس چاپکدستی سے آنجنابؓ کی نام نہاد خلافت کو خلافتِ حقہ ثابت کرنے کے لیے دنیاۓ سبائیت سے درآمد کردہ مواد سے جو کچھ تاریخ کے صفحات میں قلمبند کیا ہے اس کا حقیقت سے قطعی کوئی تعلق یا واسطہ نہیں. (خلافتِ راشدہ : ٥٥-٥٦)

مشہور غیر مقلد عالم ..... کا کہنا ہے :
"ولا يلتزمون ذكر الخلفاء ولا ذكر سلطان الوقت لكونه بدعه" (هدية المہدی : ١/١١٠)
ترجمہ : (اہل حدیث خطبہ جمعہ میں) خلفاءِ راشدینؓ اور بادشاہِ وقت کا ذکر کا التزام نہیں کرتے، کیونکہ یہ بدعت ہے.

یہی غیر مقلد صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں :
یہ ممکن ہے کہ اولیاءِ کرامؒ کو دوسری وجوہ سے ایسی افضلیت حاصل ہو جو صحابی کو حاصل نہ ہو، جیسا کہ ابن سیرین سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ ہمارے امام مہدی ابوبکرؓ و عمرؓ سے افضل ہیں.(هدية المہدی : ١/٩٠)


موجودہ جماعت اہل حدیث کے ایک صاحب قلم ......... خلیفۂ راشد حضرت علیؓ کے متعلق لکھتے ہیں :
" آپ کو امت نے اپنا خلیفہ منتخب نہیں کیا تھا، آپ دنیاۓ سبائیت کے منتخب خلیفہ تھے، اسی لئے آپ کی خودساختہ خلافت کا چارپانچ سالہ امت کے لیے عذابِ خداوندی تھا، جس میں ایک لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید خوں میں تڑپ تڑپ کر ختم ہوگئے."(صدیقہ کائنات : ٢٢٨)

حضرت امام حسنؓ و امام حسینؓ کو صحابی کہنا سبائیت کی ترجمانی یا تقلید کی خرابی ہے، غیر مقلد انھیں زمرۂ صحابہؓ سے نکال سکتے ہیں!
"حضرات حسنین کو زمرۂ صحابہؓ میں شمار کرنا صریحاً سبائیت کی ترجمانی ہے یا اندھا دھند تقلید کی خرابی".(سیدنا حسن بن علی:٢٣)

حضرت حسینؓ کی کوفہ روانگی بچکانہ حرکت، سفر کی مشقتوں کو جھیلنا ان کے بس کا روگ نہیں تھا (جس نے اسلام کے لیے جان دیدی کیا وہ سفر کی مشقت برداشت نہیں کرسکتا؟)
"حقیقت یہ ہے کہ مکہ سے روانگی تک خروج کے ارادہ کو کسی نے کوئی اہمیت نہ دی، اس پرامن سلطنت کے اندر اس ایک آدمی کی اس قسم کی حرکات سنجیدہ لوگوں کے نزدیک ایک بچکانہ حرکت تھی، جن لوگوں نے آپ کو روکا ان لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ گھر سے نکل کر شدائدِ سفر کی تکلف ایک شہزادے کے بس کا روگ نہیں ہونگی". (واقعہ کربلا : ٧)

نواسۂ رسولؐ حضرت حسینؓ کا سفر اسلام کی سربلندی کے لئے نہیں تھا بلکہ خلافت کی حرص میں تھا:
"آپ اعلاۓ كلمة الحق کے نظریہ کے تحت عازم کوفہ نہیں ہوۓ تھے، بلکہ حصولِ خلافت کے لیے آپ نے یہ سفر اختیار کیا تھا". (واقعہ کربلا : ١٨)

درویشِ امت حضرت ابوذر غفاریؓ کمیونسٹ نظریہ سے متاثر تھے:
علامہ اقبال کا ایک شعر ہے: مٹایا کیسر و قصرىٰ کی استبداد کو کس نے؛ وہ کیا تھا زور حیدر، فقر بوذر، صدق سلیمانی.
اس شعر پر حکیم صاحب تنقید کرتے ہوۓ لکھتے ہیں: "(اس شعر میں) دوسرے نمبر پر حضرت ابوذر غفاری کا نام ہے جو ابن سبا کے کمیونسٹ نظریہ سے متاثر ہوکر ہر کھاتے پیتے مسلمان کے پیچھے لٹھ لیکر بھاگ اٹھتے تھے". (خلافتِ راشدہ:١٣٤)

صحابہؓ مشت زنی کیا کرتے تھے العياذ بالله:
بعض اهلِ علم نقل ایں استمناء از صحابہ نزد غیبت از اھل خود کردہ اند
ترجمہ : صحابہ جب اہل و عیال سے جب دور ہوتے تو صحابہ کرام بھی مشت زنی کیا کرتے تھے.(عرف الجادی : ص ٢٠٧)



خلفاۓ راشدینؓ الله و نبیؓ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے:
برادران! حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان غنی، حضرت علی رضی الله عنہم قطعاً اپنی اپنی خلافت کے زمانہ میں دونوں معنی کے لحاظ سے أولو الأمر تھے ..... اور آگے لکھتے ہیں .... "لیکن باوجود اس کے نہ تو کسی ایک  صحابی نے ان کی تقلید کی اور نہ کوئی ان کی طرف منسوب ہوا؛ بلکہ ان کے اقوال کی خلاف ورزی کی، جب وہ فرمانِ الله اور فرمانِ رسول کے خلاف نظر آۓ".(طریق محمدی:٢٦١)






خطبہ جمعہ میں خلفاء الراشدین کا ذکر کرنا بدعت ہے۔ (ھدیة المہدی ص110)


حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ ثانی مقرر کرنا اصل اسلام کے خلاف تھا۔(طریق محمدی ص83)


حضرت عمرؓ معمولی اور موٹے موٹے مسائل میں غلطی کرتے تھے:
"حنفی بھائیو! ذرا کلیجہ پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے بتلاؤ کہ حضرت امام ابوحنیفہؒ علم و فقہ میں بڑھے ہوۓ تھا یا حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ خليفة المسلمين. امیر المؤمنينؓ! پس آؤ سنو! بہت سے صاف صاف موٹے موٹے مسائل ایسے ہیں حضرت فاروق اعظم نے ان میں غلطی کی ہے.(طریق محمدی:٧٨)




  • فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے صاف صاف موٹے مسائل میں غلطی کی۔(طریق محمدی ص54)
  • روز مرہ کے مسائل حضرت عمررضی اﷲ عنہ سے مخفی رہے ۔(طریق محمدی ص55)





==========
ان لوگوں کا تراویح کو بدعت عمری کہنا اور حضرت عثمان غنیؓ کے جاری کردہ اذان ثانی کو بدعت عثمانی قرار دینا، سب کو معلوم ہے، جب کہ ہرشخص جانتا ہے کہ بدعت بدترین گناہ اور دین میں زیادتی کی مذموم کوشش ہے، کیا اس سے حضرت عمرؓ وحضرت عثمانؓ بے خبر تھے؟ اور کیا ان سے اس کا ارتکاب ہوسکتا تھا؟ 

==========

  • ہم نے عمررضی اﷲ عنہ کا کلمہ نہیں پڑھا جو ان کی بات مانیں۔(فتاوی ثنائیہ جلد2ص252)
  • حضرت عمررضی اﷲ عنہ کے بہت سے مسائل حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف تھے ۔(فتاوی ثنائیہ جلد2ص252)
  • حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا فعل نہ قابل حجت ہے نہ واجب العمل۔(فتاوی ثنائیہ جلد2ص252)
  • متعہ سے اگر حضرت عمررضی اﷲ عنہ منع نہ کرتے تو کوئی زانی نہ ہوتا۔(لغات الحدیث جلد4ص186)
  • حضرت عمررضی اﷲ عنہ کا فتوی حجت نہیں۔(فتاوی ستاریہ جلد2ص65)
  • اجتہاد عمررضی اﷲ عنہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف تھا۔(تیسیر الباری جلد7ص170)
  • حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا عمل قابل حجت نہیں۔(فتاوی ثنائیہ جلد 2ص233)
  • حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اور حضر عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے سامنے دو آیات اور کئی احادیث کو پیش کیا گیا مگر انہوں نے مصلحت کی وجہ سے نہ مانا۔(تنویر آلافاق ص108)
  • حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی سمجھ معتبر نہیں۔(شمع محمدی ص19)
  • حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کا قول حجت نہیں۔(تیسیر الباری جلد7ص165)
  • حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اور حضر عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے سامنے دو آیات اور کئی احادیث کو پیش کیا گیا مگر انہوں نے مصلحت کی وجہ سے نہ مانا۔(تنویر آلافاق ص108)
  • اذان عثمانی رضی اﷲ عنہ بدعت ہے اور کسی طرح جائز نہیں۔فتاوی ستاریہ جلد3ص85,86,87)
  • حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی خودساختہ خلافت کا چار، پانچ سالہ دور امت کےلئے عذاب خداوندی تھا ۔(صدیقہ کائنات ص237)
  • حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی وفات کے بعد امت نے سکھ کا سانس لیا۔(صدیقہ کائنات ص237)
  • آپ رضی اﷲ عنہ دنیائے سبائيت ( شیعت) کے منتخب خلیفہ تھے۔(صدیقہ کائنات ص237)
  • نبی علیہ السلام کی زندگی ہی میں آپ (علی رضی اﷲعنہ) حصول خلافت کے خیال کو اپنے دل میں پروان چڑھانے میں مشغول تھے۔(صدیقہ کائنات ص237)
  • حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا تین طلاقوں کو تین کہنے کا فیصلہ غصہ کی بنیاد تھا ۔(تنویر آلافاق فی مسئلة الطلاق ص103)
  • خلفاء الراشدین نے قرآن و سنت کے خلاف فیصلے دئيے اور امت نے اس کو رد کر دیا۔(تنویر آلافاق فی مسئلة الطلاق ص107)
  • حضرت معاويہ رضی اﷲ عنہ اور عمر رضی اﷲ عنہ کے مناقب بیان کرنا جائز نہیں ہیں۔(لغات الحدیث جلد2ص36)
  • معاويہ رضی اﷲ عنہ اور عمروبن عاص رضی اﷲ عنہ شریر تھے ۔(لغات الحدیث جلد 2ص36)
  • اسلام کا سارا کام معاويہ رضی اﷲ عنہ نے خراب کیا۔(لغات الحدیث جلد3ص104)

  • صحابی رضی اﷲ عنہم کا قول حجت نہیں ہے ۔(فتاوی نذیریہ جلد1ص340)
  • موقوفات (اقوال و افعال) صحابہ رضی اﷲ عنہم حجت نہیں۔(رسالہ عبد المنان ص14-81-84-85-59)
  • متاخرین علماءصحابہ رضی اﷲ عنہم سے افضل ہو سکتے ہیں(ھدیة المہدی ص90)
  • صحابہ رضی اﷲ عنہم اور فقہا رحمہ اﷲ کے اقوال گمراہ کن ہیں۔(فتاوی ثنائیہ جلد2ص247)
  • اقوال صحابہ رضی اﷲ عنہم حجت نہیں۔(عرف الجادی ص44-58-80-101-207)
  • صحابہ رضی اﷲ عنہم کی فہم معتبر نہیں۔(الروضة الندیہ ص98)
  • حضرت مغیرہ رضی اﷲ عنہ کی3/4 دیانتداری کوچ کر گئی ۔(لغات الحدیث جلد3ص160)




نوٹ: طوالت کے خوف سے بعض جگہ مفہوم ذکر کیا گیا ہے۔

حضورؐ کی بات بھی بغیر وحی کے حجت اور دلیل نہیں:
"سنئے جناب! بزرگوں کی، مجتہدوں اور اماموں کی راۓ، قیاس، اجتہاد، استنباط اور ان کے اقوال تو کہاں شریعتِ اسلام میں، تو خود پیغمبر الله صلی الله علیہ وسلم بھی اپنی طرف سے بغیر وحی کے اپنی طرف سے کچھ فرمائیں تو وہ بھی حجت نہیں".(طریق محمدی:٥٧) 

صحابہ کرامؓ کو برا بولنے والے سرکار دوعالمؐ کے ارشاد کی روشنی میں اور حضورؐ کا ارشاد مبارک کہ صحابہؓ کو برا بولنے والوں کے ساتھ مسلمانوں کا کیا رویہ ہونا چاہیے؟

صحابہ کرامؓ کو برا کہنے والے کا کوئی عمل الله کے ہاں قبول نہیں؛ نہ فرض نہ نفل:
حضورؐ نے فرمایا کہ الله نے مجھے منتخب کیا اور میرے لیے میرے ساتھیوں کا انتخاب فرمایا، ان میں سے میرے کچھ وزراء بناۓ، مددگار اور قرابت دار بناۓ، بس جو انھیں برا کہے اس پر الله کی، الله کے فرشتوں کی، اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، قیمت کے دن نہ اس کا فرض قبول کیا جاۓ گا، نہ نفل".(المعجم الکبیر: ١٧ / ١٤٠)

صحابہ کرامؓ کو برا کہنے والوں کے ساتھ ہمارا کیا طرزِ عمل ہونا چاہیے؟

الله نے میرے لیے ساتھیوں کا انتخاب فرمایا اور انھیں میرے صحابہ، مددگار اور قرابت دار بنایا، ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو انھیں برا کہیں گے، ان میں نقائص اور کمی نکالیں گے، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو نہ ان کے ساتھ نکاح کا رشتہ رکھو، نہ ان کے ساتھ کھاؤ پیو، نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو اور نہ ان کے جنازہ کی نماز پڑھو.(جامع الاحادیث : ٧/ ٤٣١، مظاھر الحق : ٥/ ٥٨)

صحابہؓ کو برا کہنے والوں پر لعنت بھیجنے کا حکم:
آںحضورؐ نے فرمایا : جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کے بے بارے میں برا کہہ رہے ہیں تو کہو الله تمہارے شر پر لعنت کرے.(ترمذی شریف: كِتَاب الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر : ٣٨٠١)
مسلمانو! فرقہ اہل حدیث قرآن و حدیث پر عمل کا دھوکہ دیکر اس کی آڑ میں صحابہ کرامؓ کو برا کہنے اور ان مقدس شخصیات کو مجروح کرنے کا کام کر رہا ہے، حالانکہ نبیؐ نے ان کی اتباع کا حکم دیا ہے اور انھیں راہِ ہدایت کے ستارے قرار دیا ہے، لیکن یہ بدنصیب کہتے ہیں کہ صحابہؓ کے کام اور ان کی باتیں شریعت کا حصہ نہیں، ان کی اتباع کی ضرورت نہیں، جب کہ یہ اپنے مولویوں کی بات کو صحابہؓ کی بات سے بھی زیادہ اہمیت دیتے ہوۓ ان کی بات نہ ماننے والے کو گمراہ کہنے لگتے ہیں، اب بھلا بتائیے ان بدنصیبوں کی بات مانی جاۓ گی یا حضور پرنورؐ کی؟؟؟ یہ یہودیوں کی ایک بڑی سازش ہے؛ کیونکہ امت اور نبیؐ کے درمیان واسطہ یہی جماعت صحابہؓ ہے؛ اگر ان کو ہی ناقابلِ اعتبار کردیا گیا تو پھر دین کی عمارت ہی گرجاۓ گی، فرقہ اہلحدیث کے ماننے والوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور الله کے لیے امت کو گمراہ نہ کریں، ١٤٠٠/سو سال تک صحابہؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ، امت کے علماء، مشائخ اور اولیاء الله جس راہ پر چل کر الله کے مقرب بنے ہیں آج کی پندرھویں صدی کا مسلمان بھی اس راہ پر چل کر الله کا مقرب اور مقبول بندہ بن سکتا ہے، اس کو نۓ دین یا نئی تشریحات کی بلکل ضرورت نہیں، یہ گمراہی ہے. (اس تحریر کا مقصد صرف حق بات کی طرف توجہ دلانا ہے اور بری سے روکنا ہے. اگر موجودہ غیر مقلدین اہلِ حدیث احباب اوپر پیش کی گئی باتوں کا انکار کرتے ہیں اور اہلِ حدیث جماعت کے ان علماء کی ان تحریروں کو گمراہی سمجھتے ہیں تو ان سے عرض ہے کہ اہلِ سنّت والجماعت علماء کی کتابوں کے خلاف وہ جس طرح پروپگنڈہ کررہے ہیں اسی طرح ان کتابوں کے خلاف بھی جلسے اور بیانات کریں، ان کے خلاف کتابیں اور اشتہارات چھاپ کر اپنی برأت کا ثبوت دیں.

معیاِرِ حق، ایمان و ہدایت : ایمان و فہمِ صحابہ کرامؓ