Friday, 30 August 2019

بیعت کا معنی، حکم، طریقہ، فوائد کے شرائط اور اقسام

عقیدہ:
بیعت کرنا سنت ہے، فرض یا واجب نہیں۔
تشریح:
البیع کے معنی بیجنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔۔ بایع السلطان ( بادشاہ کی بیعت کرنا ) اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ۔ اس اقرارِ بیعۃ یا مبایعۃ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [سورۃ التوبة:111] تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ میں بیعتِ رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کہ آیت : لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح:18] اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے راضی ہوا ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ ... [ التوبة:111] اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ انکے لئے جنت ہے میں پایا جاتا ہے۔
[تفسیر مفردات القرآن، امام راغب اصفہانیؒ]

اللہ عزوجل نے فرمایا:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ [الفتح : 10]
بےشک جنہوں نے بیعت کی ہے آپ ﷺ سے، انہوں نے تو درحقیقت اللہ سے بیعت کی ہے۔

بیعت سنت ہے، لازم نہیں۔
البيعة سنة وليست بواجبه
[القول الجمیل: ص12، فتح البیان فی مقاصد القرآن:13/97]

Monday, 19 August 2019

برے علماء کون؟



برے علماء کون؟
(1) اپنی رائے کی "ملاوٹ" سے نئی تفسیر و تشریح کرنے والے یا مکمل بات کو "چھپانے" والے۔
القرآن:
اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ(اصل حقیقت)تم اچھی طرح جانتے ہو۔
[سورۃ البقرۃ:42]




(2) بےعمل اسکالرز:
کیا تم حکم تو کرتے ہو لوگوں کو نیکی کا لیکن بھلادیتے ہو اپنے آپ کو جبکہ(سمجھ کر)پڑھتے بھی ہو کتاب کو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
[سورۃ البقرۃ:44]




(3) دنیا کیلئے دین کو بدلنے والے:
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی"قیمت"وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[سورۃ البقرۃ:174]

اے ایمان والو !(یہودی)عالموں اور(عیسائی)راہبوں درویشوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ (رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔)
[سورۃ التوبۃ:34]






(4) جمہور متقدمین علماء سے اختلاف رکھنے سے بڑھ کر مخالفت ومقابلہ كرے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُقْبِلَ بِوُجُوهِ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ» ۔
ترجمہ:
جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا(بحث)کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے۔
[ترمذي2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]
تشریح:
جو علم حاصل کرے یعنی وہ بعد والا چھوٹا-اکیلا شخص ہے جو پہلے والے بڑے اور بہت سے علماء سے صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ مخالفت ومقابلہ کرے، تاکہ سستی اور جلد شہرت پائے تو یہ نافرمانی گناہِ کبیرہ ہی نہیں بلکہ "فساد" ہے، جو صرف نافرمان کو ہی نقصاندہ نہیں بلکہ خالق کی مخلوق اور دین میں بگاڑ پیدا کرنا ہے، جو قرآن کے مطابق لوگوں کو قتل کرنے سے بھی زیادہ سخت[سورۃ البقرۃ:191] اور بڑا [سورۃ البقرۃ:217] گناہ ہے کیونکہ قتل کرنے سے اس مقتول کا صرف دنیاوی نقصان ہوا، لیکن جو دین کو بگاڑے اور لوگوں کو گمراہ کرے وہ تو آخرت کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔

ایسا شخص کم علم عوام سے بحث کرتا ہے تو اس کا ارادہ ومقصد انہیں اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے، اور جب یہ خود جہنم میں داخل ہوگا تو اس کے پیروکاروں کا انجام کیا ہوگا۔

اس حدیث میں بڑی اہم اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاً تو اسلام کی ترقیات وفتوحات کا ذکر کیا، پھر کچھ علماء وقُراء کا ذکرکیا، جو خود پسندی یا اَنانیت میں مبتلا ہوں گے کہ بڑے پرانے علماء کی بڑی جماعت کی اختلافی رائے کا علمی حق کے نام پر ان سب کو گمراہ قرار دے گا۔ اور اس گروہ کو اس طور پر ذکر کیا ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقیات اور فتوحات میں یہی لوگ رکاوٹ ہیں؛ کیوں کہ اس گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد بہ طورِ تقابل پیش کیا ہے۔
یہ بڑی قابلِ عبرت بات ہے اور سو فیصد صحیح ہے ، کیوں کہ خود پسندی اور اَناپرستی کی وجہ سے یہ لوگ نہ علمائے حق کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ علمائے حق کو آگے آنے دیتے ہیں؛ بل کہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں اپنی ہمت اور وقت واستعداد خرچ کرتے ہیں، مقصد صرف اپنی اَنا کی تسکین اور اپنی عزت وشہرت کا بقا وتحفظ ہوتا ہے؛ پھر دین کو ترقی کیسے ہوگی اور فتوحات کا دروازہ کہاں سے کھلے گا؟اس سے معلوم ہوا کہ علمائے سُو ہی اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں؛ لہٰذا اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں سے مراد علمائے سُو ہیں، جوصرف اپنے دنیوی مفادات اور نام وشہرت کے لیے دینی علوم حاصل کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔


Wednesday, 3 July 2019

فضیلتِ فقہ اور مقامِ فقہاء

فقہ کسے کہتے ہیں؟
فقہ کی لغوی معنی ﴿سمجھ، فہم﴾ ہے۔

فقہ کی اصطلاح معنیٰ:
امام راغب اصفھانی(م502ھ) لکھتے ہیں:
الفقہ کے معنی علمِ حاضر سے علمِ غائب تک پہنچنا کے ہیں ، قرآن میں ہے:
فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً
۔۔۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ حدیث(بات)کی فقہ(سمجھ)نہیں پارہے ہیں۔
(سورۃ النساء: 78)
وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ۔۔۔۔۔ لیکن منافقین فقہ(سمجھ)نہیں رکھتے۔(سورۃ المنافقون:7)[مفردات في غريب القرآن: ص ؍ 642]

یعنی فقہ وہ باطنی علم کی گہرائی ہے جو ظاہری الفاظ کے سرسری پڑھ یا سُن لینے سے نہیں حاصل ہوتی، بلکہ اس کیلئے مسلسل فکرونظر کی ضرورت پڑتی ہے۔



Wednesday, 29 May 2019

فوت شدہ نمازوں کی قضا کے احکام ومسائل


قضا کے معنیٰ:
القضاء کے معنیٰ قولا یا عملا کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں، اور قضاءِ (1)قولی اور (2)عملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں:

(1)قضاءِ الہیٰ اور (2)قضاءِ بشری، چناچہ قضاءِ الہیٰ کے متعلق فرمایا:۔
وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ
ترجمہ:
اور تمہارے پروردگار نے فیصلہ فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو
[سورۃ الإسراء:23]
القرآن:
فَاِذَا قَضَيۡتُمُ الصَّلٰوةَ
ترجمہ:
پھر جب تم پوری کرچکو نماز۔۔۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 103]

Thursday, 21 March 2019

اللہ کے راستے۔۔۔اللہ کی راہیں


اللہ کی خاطر کی گئی ہر نیکی، اللہ کے راستے ہیں:
القرآن:
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[سورۃ العنکبوت:69]

امام مُجَاهِدٌ نے فرمایا:
«لَيْسَ سَبِيلُ الله وَاحِدًا، كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فهو فِي سَبِيلِ الله»
ترجمہ:
"اللہ کا راستہ صرف ایک نہیں ہے۔ ہر نیک عمل جو بھی کیا جائے، وہ اللہ کے راستے میں ہے۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ:30839]

تشریح:
یہ عبارت دو اہم نکات پر روشنی ڈالتی ہے:  
1. اللہ تک پہنچنے کے راستوں کی کثرت:
پہلا جملہ "لَيْسَ سَبِيلُ الله وَاحِدًا" اس تصور کو رد کرتا ہے کہ اللہ کی رضا صرف ایک مخصوص طریقے یا رسمی عبادت تک محدود ہے۔ یہ تنگ نظری اور جمود کے خلاف ایک واضح بیان ہے، جو بتاتا ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے مختلف مظاہر بھی اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔  

2. ہر نیکی کو اللہ کا راستہ قرار دینا:
دوسرا حصہ "كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فهو فِي سَبِيلِ الله" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کوئی بھی اچھا کام، چاہے وہ مالی مدد ہو، علمی خدمت ہو، یا معاشرتی بہتری، اگر نیک نیت سے کیا جائے تو وہ "اللہ کے راستے" میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ایمان صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نیکی اور احسان (بہترین عمل) کو شامل کرتا ہے۔  

نوٹ:
- قرآن و حدیث میں "سَبِيلِ الله" کا لفظ اکثر جہاد(یعنی اللہ کی اطاعت میں مشقت اٹھانے) یا مالی قربانیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے سورۃ التوبہ:24، التوبہ:60)، لیکن یہاں اس کا دائرہ وسیع کرکے ہر نیک عمل کو شامل کیا گیا ہے۔  
- یہ تصور "نیت" کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے، کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" (صحیح بخاری:1)۔  
- یہ فقرہ اسلامی اخلاقیات کی وسعت کو بیان کرتا ہے، جس کے مطابق ہر وہ کام جو معاشرے کی بہتری یا کسی کی مدد کے لیے ہو، شرک اور گناہ سے پاک ہونے کی شرط پر، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔  

خلاصہ:
اس عبارت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین کو تنگ دائرے میں نہ سمجھا جائے۔ ہر نیک عمل، چھوٹا ہو یا بڑا، اگر خلوصِ نیت سے کیا جائے تو وہ اللہ کے راستے میں قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ نظریہ انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Wednesday, 20 February 2019

گمراہی کے اسباب اور علاج

(1) اللہ کی کتاب کو چھوڑنا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابُ اللهِ
ترجمہ:
۔۔۔اور تحقیق میں چھوڑے جا رہا ہوں تم میں اللہ کی کتاب، نہیں تم گمراہ ہوگے اگر تم اسے مضبوط پکڑوگے۔۔۔
[مصنف ابن أبي شيبة:32072، صحیح مسلم:1218، سنن ابوداؤد:1905، المنتخب من مسند عبد بن حميد:858+1135، أخبار مكة للفاکھی:1891، السنة لابن أبي عاصم:1556، السنن الكبرى للنسائی:3987، المنتقى لابن الجارود:469 صحیح ابن خزیمۃ:2809، صحیح ابن حبان:1457+3944، المستدرك الحاكم:318(321)، حجة الوداع لابن حزم:92، السنن الكبرى للبيهقي:8827، مستخرج أبي عوانة:3922]



تشریح:
"اور آپ نے صرف کتاب (اللہ) پر اکتفا فرمایا؛ کیونکہ وہ سنت پر عمل پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: 'اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو' (النساء: 59) اور فرمان: 'رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ' (الحشر: 7) کی وجہ سے۔ اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمسک کرنے میں اصل اور بنیادی اصول کتاب (اللہ) ہی ہے۔"

(1)شرح امام الطيبي الشافعی(م560ھ):
آپ ﷺ کے قول "لن تضلوا بعده" (تم اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے) کے معنی ہیں: اس (کتاب) سے تمسک کرنے اور اس پر عمل کرنے کے بعد۔
اور لفظ "کتاب" (کا منصوب ہونا) "ما" سے بدل ہے یا اس کا بیان۔ اور ابہام کے بعد تفسیر (تفصیل) کرنا قرآن کے شان کو عظمت دینے کے لیے ہے۔
اور اس کلام کے بعد یعنی "وقد تركت فيكم" (اور بے شک میں نے تم میں چھوڑا ہے) – یہ پچھلا کلام – تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔
[شرح المشكاة للطيبي:2553، ج6 / ص1966

(2)امام ابن هبيرة الحنبلی(ت560هـ) :
"اور آپ ﷺ کا یہ فرمان۔۔۔اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتاب اللہ ہی ہدایت کا ذریعہ ہے؛ پس جو شخص اسے تھامے رکھے گا وہ گمراہ نہیں ہو گا۔"
"اور کتاب اللہ ہی میں یہ فرمان ہے: {رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ}، پس کتاب اللہ سے تمسک کرنا ہر اس چیز (سنت نبوی وسنت الخلفاء راشدین) سے تمسک کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔"








تخریج:
(1)حديثِ ابن عباسؓ
[بيهقى:20123، حاكم:318]
(2)حديثِ ابوھریرہؓ
[حاكم :٣١٩، دارقطنى (٤/٢٤٥)]
(3)حديثِ زيد بن ثابتؓ:
إنى تارك فيكم كتاب الله هو حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة۔
ترجمہ:
میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب چھوڑ رہا ہوں۔ یہ اللہ کی رسی ہے۔ جو اس کی پیروی کرتا ہے وہ راہ راست پر ہے اور جو اسے چھوڑتا ہے وہ غلط راستے پر ہے۔
[مصنف ابن أبى شيبة:30078، صحیح ابن حبان:123]

نوٹ:
اس میں نہ "سنتی" کا ذکر ہے اور نہ "وعترتى أهل بيتى" کا۔


Sunday, 28 October 2018

چہل حدیث سیرت نبوی ﷺ


بسم الله الرحمن الرحيم

(1) كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَحِيمًا رَقِيقًا.
[صحیح مسلم:1641]
تھے الله کے رسول ﷺ مہربان اور نرم دل۔



(2) وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا.
[صحیح مسلم:1213]
اور تھے الله کے رسول ﷺ درگزر کرنے والے۔



3) كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَيُحْيِي آخِرَه.
[مسلم:739، نسائی:1640، ابن ماجہ:1365]
آپ سوتے تھے رات کے شروع میں اور عبادت کرتے تھے رات کے آخری حصہ میں۔



(4) وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِه.
[مسلم:373، ابوداؤد:18، ترمذی:3384، ابن ماجہ:302]
اور تھے نبی ﷺ اللہ تعالٰی کا ذکر کرتے ہر وقت۔



(5) كَانَ ﷺ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاك.
[مسلم:253، ابوداؤد:51، نسائی:8، ابن ماجہ:290]
آپ ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو پہلے مسواک فرماتے تھے۔



(6) كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِه.
[ابوداؤد:3984، طبرانی:4081]
تھے رسول الله ﷺ جب کسی کے لئے دعا کرتے تو پہلے اپنے لئے دعا فرماتے۔



(7) كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ.
[بخاری:214، ابوداؤد:171، نسائی:131، ترمذی:58، ابن ماجہ:509]
تھے نبی ﷺ وضوء فرماتے ہر نماز کے وقت۔



(8) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الغُسْل.
[ترمذى:107، نسائي:252، ابن ماجة:579]
بےشک نبی ﷺ غسل کے بعد وضوء نہیں فرماتے تھے۔






Tuesday, 21 November 2017

جائز و ناجائز تاویل وتفسیر

تاویل کے معنیٰ:
ایک لفظ میں کئی معانی کا احتمال ہو، ان میں سے ایک کو غلبۂ گمان کی بنیاد پر ترجیح دینا، نہ کہ یقین کی بنیاد پر۔


تفسیر اور تاویل میں فرق:
علامہ ابو منصور ماتریدی﷫ فرماتے ہیں کہ الفاظِ قرآنی کے معانی کو قطعیت کے ساتھ بیان کیا جائے کہ اس لفظ کے یہی معنیٰ ہیں،اس کا نام تفسیر ہے ۔اور تاویل کہتے ہیں کہ لفظ کے چند محتمل معانی میں سے کسی معنیٰ کو بغیر قطعیت کے ترجیح دی جائے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ تفسیرکا تعلق روایات سے ہوتا ہے اور تاویل کا تعلق درایات سے ہوتا ہےیعنی آیات سے متعلق روایات بیان کرنے کوتفسیر کہتے ہیں اور معانیِ قرآن اور اس کے احکام کے بیان وغیرہ کو تاویل کہتے ہیں۔
علامہ راغب﷫ فرماتے ہیں کہ تفسیر اور تاویل میں فرق یہ ہے کہ لفظِ تفسیر الفاظ اور مفردات میں استعمال ہوتا ہے اور تاویل معانی اور جملوں میں استعما ل ہوتا ہے۔اور آگے فرماتے ہیں کہ کتبِ الٰہیہ کے لئے تاویل اور دیگر کتابوں کے لئے تفسیر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔

ابو طالب التغلبی﷫ فرماتے ہیں کہ تاویل ، مراد الٰہی اور اس کی حقیقت کی خبر دینے کا نام ہے اور تفسیر مراد کی دلیل بتانے کا نام ہے ۔

[الاتقان فی علوم القرآن: النوع السابع والسبعون: فی معرفۃ تفسيره وتأويلہ وبيان شرفہ والحاجۃ الیہ]

Wednesday, 12 July 2017

بغیر وضو قرآن مجید’چھونا‘جائز نہیں

جس طرح نماز بغیر(کامل)طہارت(یعنی وضو)کے(صحیح)نہیں[1]، اسی طرح بغیر(کامل)طہارت(یعنی وضو)کے قرآن چھونا(بھی جائز)نہیں[2]۔

[1] ۔۔۔وَلَا صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ۔
[سنن أبي داود  - كِتَاب الطَّهَارَةِ، بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ، رقم الحدیث:59]
لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ۔۔۔
[صحیح مسلم - كِتَابِ الطَّهَارَةِ ، بَابُ وُجُوبِ الطَّهَارَةِ لِلصَّلَاةِ ، رقم الحدیث:224]


[2] حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ مَالِك ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنْ " لَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ . قَالَ مَالِك : وَلَا يَحْمِلُ أَحَدٌ الْمُصْحَفَ بِعِلَاقَتِهِ وَلَا عَلَى وِسَادَةٍ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ۔۔۔.


عبداللہ بن ابی بکر بن حزمؒ سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے لکھی تھی عمرو بن حزمؓ کے واسطے اس میں یہ بھی تھا کہ ’’قرآن نہ چھوئے مگر جو (شخص) پاک ہو‘‘۔ کہا(امام)مالکؒ نے:کوئی شخص مصحف (کتاب اللہ) کو فیتہ پکڑ کر یا تکیہ پر رکھ کر نہ اٹھائے مگر وہ پاک ہو(تو صحیح ہے)۔۔۔۔



تخريج الحديث


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمسنن الدارمي21952266عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
2لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمصحيح ابن حبان67036559أبو حاتم بن حبان354
3لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمسنن الدارقطني385433الدارقطني385
4لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمالسنن الكبرى للبيهقي13491 : 309البيهقي458
5لا يمس القرآن إلا طاهراعمرو بن حزمالسنن الكبرى للبيهقي3751 : 87البيهقي458
6لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمموطأ مالك برواية محمد بن الحسن الشيباني269296مالك بن أنس179
7لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي453571هبة الله اللالكائي418
8لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمشعب الإيمان للبيهقي1942---البيهقي458
9لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمالتمهيد لابن عبد البر295017 : 397ابن عبد البر القرطبي463
10لا يمس القرآن إلا على طهورعمرو بن حزمالتمهيد لابن عبد البر294917 : 396ابن عبد البر القرطبي463
11لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمالتحقيق في مسائل الخلاف لابن الجوزي172178أبو الفرج ابن الجوزي597
12لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزممعالم التنزيل تفسير البغوي12161206الحسين بن مسعود البغوي516
13لا تمس القرآن إلا على طهرعمرو بن حزمالوسيط في تفسير القرآن المجيد9144 : 240الواحدي468
14لا يمس القرآن إلا طاهرعمرو بن حزمأخبار مكة للفاكهي2923---الفاكهي275
15ألا يمس القرآن إلا طاهر ولا طلاق قبل نكاح ولا عتاق حتى يبتاععمرو بن حزمالسفر الثاني من تاريخ ابن أبي خيثمة1567---ابن أبي خيثمة279


تخريج الحديث


 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا تمس القرآن إلا وأنت طاهرحكيم بن حزامالمستدرك على الصحيحين60633 : 485الحاكم النيسابوري405
2لا تمس القرآن إلا وأنت على طهرحكيم بن حزامسنن الدارقطني386434الدارقطني385
3لا تمس القرآن إلا وأنت طاهرحكيم بن حزامالمعجم الأوسط للطبراني34093301سليمان بن أحمد الطبراني360
4لا تمس القرآن إلا وأنت طاهرحكيم بن حزامالمعجم الكبير للطبراني30673135سليمان بن أحمد الطبراني360
5لا تمس القرآن إلا وأنت طاهرحكيم بن حزامشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي455574هبة الله اللالكائي418


تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالموطأ مالك رواية يحيى الليثي466468مالك بن أنس179
2ألا تمس القرآن إلا على طهرموضع إرسالسنن الدارقطني382429الدارقطني385
3ولا تمس القرآن إلا طاهراموضع إرسالسنن الدارقطني384432الدارقطني385
4لا تمس القرآن إلا على طهرموضع إرسالالسنن الكبرى للبيهقي3741 : 87البيهقي458
5لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالمعرفة السنن والآثار للبيهقي203217البيهقي458
6لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالموطأ مالك برواية أبي مصعب الزهري148234مالك بن أنس179
7لا يمس القرآن إلا طاهر لا يصلي الرجل وهو عاقص شعره ألا يحتبي وليس بين فرجه وبين السماء شيءموضع إرسالالمطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر9289ابن حجر العسقلاني852
8لا يمس القرآن إلا على طهرموضع إرسالمصنف عبد الرزاق12791328عبد الرزاق الصنعاني211
9لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالالمراسيل مع الأسانيد لأبي داود8292أبو داود السجستاني275
10لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالالمراسيل مع الأسانيد لأبي داود8393أبو داود السجستاني275
11لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالالإبانة الكبرى لابن بطة11211121ابن بطة العكبري387
12خلق أحدكم يجمع في بطن أمه أربعين ليلة ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يبعث الله إليه ملكا بأربع كلمات فيقول اكتب أجله ورزقه وشقي أو سعيد وإن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة حتى ما يكون بينه وبين الجنة إلا ذراع فيغلب عليه الكتاب الذي قد سبق فيختم لموضع إرسالالحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 2154---قوام السنة الأصبهاني535
13أن لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالشرح السنة274275الحسين بن مسعود البغوي516
14لا تمس القرآن إلا على طهورموضع إرسالالأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر610630محمد بن إبراهيم بن المنذر318
15لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالتفسير القرآن لعبد الرزاق الصنعاني30633149عبد الرزاق الصنعاني211
16لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالالمصاحف لابن أبي داود648739ابن أبي داود السجستاني316
17لا يمس القرآن إلا طاهراموضع إرسالأحكام القرآن الكريم للطحاوي123144الطحاوي321
18لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالفضائل القرآن للقاسم بن سلام114136القاسم بن سلام الهروي224
19لا يمس القرآن إلا طاهرموضع إرسالفضائل القرآن للقاسم بن سلام762918القاسم بن سلام الهروي224

حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الدِّينَوَرِيُّ الْبَصْرِيُّ , ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ , ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لا يَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلا طَاهِرٌ " .
[المعجم الكبير للطبراني » بَابُ التَّاءِ » بَابٌ » عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ ... » سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ۔۔۔ رقم الحديث: 13049]
تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يمس القرآن إلا طاهراعبد الله بن عمرسنن الدارقطني383431الدارقطني385
2لا يمس القرآن إلا طاهراعبد الله بن عمرالسنن الكبرى للبيهقي3761 : 88البيهقي458
3لا يمس القرآن إلا طاهرعبد الله بن عمرالمعجم الصغير للطبراني1160139سليمان بن أحمد الطبراني360
4لا يمس القرآن إلا طاهرعبد الله بن عمرالمعجم الكبير للطبراني1304913217سليمان بن أحمد الطبراني360
5لا يمس القرآن إلا طاهرعبد الله بن عمرشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي454573هبة الله اللالكائي418







عن عبد الرحمن بن يزيد قال :كنا مع سلمان رضي الله عنه ، فانطلق إلى حاجة فتوارى عنا ، ثم خرج إلينا وليس بيننا وبينه ماء قال : فقلنا له : يا أبا عبد الله ، لو توضأت فسألناك عن أشياء من القرآن . قال : فقال : " سلوا ، فإني لست أمسه " . فقال : " إنما يمسه المطهرون ، ثم تلا إنه لقرآن كريم في كتاب مكنون لا يمسه إلا المطهرون " . " هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه . 
[المستدرك على الصحيحين للحاكم :كِتَابُ التَّفْسِيرِ، تَفْسِيرُ سُورَةِ الْوَاقِعَةِ، رقم الحدیث:3782]
عبد الرحمٰن بن زیدؒ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت سلمان فارسیؓ کےساتھ تھے، وہ قضاء حاجت کیلئے ہم سے دور چلے گئے، پھر جب تشریف لائے تو ہم نے کہا:اگر آپ وضو کرلیں تو ہم آپ سے قرآن کے بارے میں کچھ پوچھیں۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے فرمایا: مجھ سے سوال کرو کیونکہ میں اس(قرآن)کو چھو نہیں رہا ہوں، اس کو پاک آدمی ہی چھو سکتا ہے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی:
بلاشبہ یہ قرآن محترم ہے، محفوظ کتاب (لوحِ محفوظ) میں ہے، اسے نہیں چھوتے مگر وہی جو پاک ہیں۔
[حاکم:3782، دارقطنی:443، بیھقی:412]



{لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ المطهرون} من جميع الأدناس أدناس الذنوب وغيرها إن جعلت الجملة صفة لكتاب مكنون وهو اللوح وان جعلها صفة للقرآن فالمعنى لا ينبغي أن يمسه إلا من هو على الطهارة من الناس والمراد مس المكتوب منه
[تفسير النسفي  (المتوفى: 710هـ) : 3/429]

المطہرونؔ وہ تمام گندگیوں سے پاک ہیں۔ گناہوں کی میل کچیل وغیرہ سے یہ اس وقت معنی ہے جبکہ تم اس کو کتاب مکنون کی صفت قرار دو ۔ جو کہ لوح محفوظ ہے ، اور اگر اس کو قرآن مجید کی صفت قرار دو تو اس وقت معنی یہ ہوگا اس کو لوگوں میں سے وہ چھو سکتا ہے جو طہارت کی حالت میں ہو اور مس سے مراد اس کے لکھے ہوئے کا چھونا ہے۔ 





حضرت عمرؓ کی بہن سے حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے موقع پر کہا تھا : جب کہ وہ ان کے پاس گئے اور صحیفہ منگوایا تو حضرت عمر کی بہن نے کہا : لا یمسہٗ الا المطھرون۔ اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں، حضرت عمر اٹھے، غسل کیا اور سلام لائے۔ یہ واقعہ سورة طہٰ کے شروع میں گزر چکا ہے۔ اس تعبیر کی بناء پر قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : یہاں مطہرون سے مراد احداث اور انجاس سے پاک لوگ ہیں۔
حوالہ:
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْأَزْرَقَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا بِسَيْفِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قِيلَ لَهُ: " إِنَّ خَتَنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوَا وَتَرَكَا دِينَكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ " فَمَشَى عُمَرُ حَتَّى أَتَاهُمَا وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالَ لَهُ خَبَّابٌ، وَكَانُوا يَقْرَءُونَ طه فَقَالَ عُمَرُ: " أَعْطُونِي الْكِتَابَ الَّذِي هُوَ عِنْدَكُمْ فَأَقْرَأُ " قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ يَقْرَأُ الْكِتَابَ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: إِنَّكَ رِجْسٌ، وَإِنَّهُ {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: 79] فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ. قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ، فَقَرَأَ: طه ". وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ، وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ السَّبْعَةِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
[السنن الكبرى للبيهقي (المتوفى: 458هـ) : جُمَّاعُ أَبْوَابِ سُنَّةُ الْوُضُوءِ وَفَرْضِهِ ، بَابُ نَهْيِ الْمُحْدِثِ عَنْ مَسِّ الْمُصْحَفِ ، رقم الحدیث:413
دلائل النبوة للبيهقي (المتوفى: 458هـ) : 2/219 جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْمَبْعَثِ ، بَابُ ذِكْرِ إِسْلَامِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ]
تاريخ المدينة لابن شبة (المتوفى: 262هـ) : أَخْبَارُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : 2/657
أحكام القرآن للجصاص (المتوفى: 370هـ) : 3/555
تفسير القرطبي (المتوفى: 671هـ) : 
تفسير الماوردي (المتوفى: 450هـ) : 
سير أعلام النبلاء، للذهبي (المتوفى: 748هـ) : 1/255،دار الحديث- القاهرة
تاريخ الإسلام، للذهبي (المتوفى: 748هـ) : 1/174، دار الكتاب العربي، بيروت
نصب الراية لأحاديث الهداية، للزيلعي (المتوفى: 762هـ) : 1/199
الدر المنثور، للسيوطي (المتوفى: 911هـ) : 5/560
الخصائص الكبرى للسيوطي (المتوفى: 911هـ) : 1/219
تاريخ الخلفاء للسيوطي (المتوفى: 911هـ) : 91، مكتبة نزار مصطفى الباز
تاريخ الخميس:1/295، دار صادر - بيروت
شرح الزرقاني (المتوفى: 1122هـ) :2/6 - دار الكتب العلمية
صَحِيحُ الأثَر وجَمَيلُ العبر من سيرة خير البشرﷺ:121، مكتبة روائع المملكة - جدة





نوٹ: ایک ہے قرآن مجید کا بغیر وضو ’’پڑھنا‘‘، تو اس کے جائز ہونے پر اتفاق ہے، دوسرا ہے قرآن مجید کو بغیر وضو ’’چھونا‘‘ تو تفسیر وفقہ کی اَکثر کتابوں مثلاً، تفسیر قرطبی، تفسیر کبیر، تفسیر ابن کثیر اور شامی، بدایۃ المجتہد، بدائع الصنائع وغیرہ میں یہ صراحت ہے کہ جمہور فقہاء واکثر مفسرین اور حضراتِ صحابہ وتابعین میں حضرت علیؓ، ابن مسعودؓ، سعد بن وقاصؓ، سعید بن زیدؓ، عطاء، زہری، ابراہیم نخعی، حکم، حماد، امام مالک، امام ابوحنیفہ، شافعی رحمہم اللہ وغیرہ کے نزدیک جنبی اور حائضہ کی طرح بے وضو شخص کے لئے بھی قرآنِ کریم کو چھونا ناجائز اور قرآن کی توہین ہے۔
(تفسیر القرطبي ۱۷؍۱۴۶-۱۴۷ بیروت، ۱۷؍۲۲۶ دار إحیاء التراث العربي بیروت، ومثلہ في تفسیر الکبیر للفخر الرازي ۲۹؍۱۹۳- ۱۹۴، تفسیر ابن کثیر مکمل ص: ۱۲۰۴ دار السلام ریاض، معارف القرآن ۸؍۲۸۶، روح المعاني ۲۷،۱۵۴، بدائع الصنائع ۱؍۱۴۰، بدایۃ المجتہد ۱؍۳۰ بیروت)
واتفق الفقهاء علی أن غیر المتوضی یجوز له تلاوة القرآن أو النظر إلیه دون لمسه ……وفی(صـ4۵۳) والخلاصة أنه وقع الإجماع ماعدا داؤد أنه لایجوز المحدث حدثا أکبر أن یمس المصحف . (نجم الفتاوی ج۲ /۷۸-۷۹ بحذف)

اور جو شخص بے وضو ہو وہ شریعت کی نظر میں حکما پاک نہیں کہا جاسکتا۔
لا یجوز لمحدث مس مصحف إلا بغلافہ المنفصل لا المتصل في الصحیح۔
(مجمع الأنہر / کتاب الطہارۃ ۱؍۴۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت، رد المحتار / کتاب الطہارۃ ۱؍۱۷۳ کراچی، وکذا في النہر الفائق / کتاب الطہارۃ ۱؍۱۳۴ المکتبۃ الإمدادیۃ ملتان)
ویحرم بہ تلاوۃ القرآن بقصدہ … ومسہ بالأکبر وبالأصغر مس المصحف، إلا بغلاف متجاف غیر مشرز أو بصرۃ، بہ یفتیٰ۔ (الدر المختار / کتاب الطہارۃ ۱؍۱۷۲-۱۷۳ کراچی، طحطاوي ۱۴۳)
لا یجوز لہما ولجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنہ کالخریطۃ والجلد الغیر المشرز لا بما ہو متصل بہ ہو الصحیح۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الطہارۃ ۱؍۳۹ زکریا، الہدایۃ ۱؍۶۴) 




علامہ ابن تیمیہ ؒ نے بھی یہی تحریر فرمایا کہ بغیر وضو کے قرآن کریم نہیں چھونا چاہئے، اور یہی حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور دیگر صحابۂ کرام کی رائے تھی اور کسی ایک صحابی سے اس کے خلاف منقول نہیں۔ (مجمع الفتاویٰ: ۲۲۶/۲۱ ۔ ۲۸۸/۲۱)

شیخ حافظ ابن البر ؒ نے تحریر فرمایا کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ مصحف چھونے کے لئے وضو ضروری ہے۔ (الاستذکار: ۱۰/۸)


سعودی عرب کے سابق مفتی شیخ عبدالعزیز بن بازؒ نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی فرمایا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے جو انٹرنیٹ کے مذکورہ لنکس پر پڑھا اور سنا جاسکتا ہے۔


( جلد کا نمبر 4صفحہ 112)


(3) ایسے شخص کے لئے قرآن کی تلاوت کا حکم جسے حدث اصغر لاحق ہے


سوال نمبر: - 2 فتوی نمبر:557
س 2: کیا قضائے حاجت (یعنی بیت الخلاء) سے فراغت کے بعد پتھر سے جائے نجاست صاف کرنے والے کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اسے اٹھانا جائز ہے، جیساکہ آج مدارس میں پانی فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کرنا پڑتاہے، چنانچہ مدرس قضائے حاجت کے بعد درس قرآن دیتا ہے، تو کیا اس کے لئے پتھر سے صاف کر لینا کافی ہوگا یا وضو کرنا ضروری ہوگا اگرچہ اسے مشقت اٹھانی پڑے؟
ج 2: جو صرف پتھر سے جائے نجاست صاف کرے اور وضو نہ کرے اس کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے چاہے مدرس ہو یا طالب علم، بشرطیکہ جنبی نہ ہو، لیکن وضو کرکے تلاوت کرنا افضل ہے، البتہ حدث اکبر یا حدث اصغر کے بعد وضو کئے بغیر مصحف چھونا جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے، ان کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے:  ﺟﺴﮯ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻙ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﭼﮭﻮ ﺳﻜﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ، اور جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عمرو بن حزم کو بھیجے گئے خط میں یہ حکم ہے: صرف پاک لوگ ہی قرآن کو چهو سكتے ہيں۔ اور جزدان کے واسطے سے قرآن اٹھانا جائز ہے، کیونکہ اس سے چھونے کا تحقق نہیں ہوتا، یہی حنابلہ، ابو حنيفہ، حسن بصری، اور ایک جماعت کا قول ہے، لیکن اگر حدث اکبر یا حدث اصغر کے بعد کسی شخص کو قرآن چھونے کی ضرورت ہو اور پاکی حاصل کرنے کے لئے پانی نہ ہو تو تیمم کرلے، اس طور پر چھونا جائز ہے۔
وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلَّم۔



علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی




ممبرنائب صدر برائے کمیٹیصدر
عبد اللہ بن منیععبدالرزاق عفیفیابراہیم بن محمد آل شیخ


امام مالکؒ جب درسِ حدیث دیتے یا امام بخاری ؒ جب کوئی حدیث شریف لکھتے تواس پہلے دوگانہ ادا کرتے اور پھر حدیث شریف لکھتے ۔ جب حدیث شریف لکھنے کے لیے اتنا اہتمام فرماتے تھے تو قرآن پاک کے بارے میں کیا عمل ہونا چاہئے ؟ بات چونکہ بہت طویل ہوگئی بس اسی پر اکتفاء کرتا ہوں نہیں تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔