یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔
[القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3]
یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
البیع کے معنی بیجنے اور شراء کے معنی خریدنے کے ہیں لیکن یہ دونوں لفظ ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔۔ بایع السلطان ( بادشاہ کی بیعت کرنا ) اس قلیل مال کے عوض جو بادشاہ عطا کرتا ہے اس کی اطاعت کا اقرار کرنا ۔ اس اقرارِ بیعۃ یا مبایعۃ کہا جاتا ہے اور آیت کریمہ : فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ [سورۃ التوبة:111] تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ میں بیعتِ رضوان کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر کہ آیت : لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح:18] اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے تو اللہ ان سے راضی ہوا ۔ اور آیت کریمہ : إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ ... [ التوبة:111] اللہ نے خرید لی مسلمانوں سے ان کی جان اور ان کا مال اس قیمت پر کہ انکے لئے جنت ہے میں پایا جاتا ہے۔
(1) اپنی رائے کی "ملاوٹ" سے نئی تفسیر و تشریح کرنے والے یا مکمل بات کو "چھپانے" والے۔
القرآن:
اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو، اور نہ حق بات کو چھپاؤ جبکہ(اصل حقیقت)تم اچھی طرح جانتے ہو۔
[سورۃ البقرۃ:42]
(2) بےعمل اسکالرز:
کیا تم حکم تو کرتے ہو لوگوں کو نیکی کا لیکن بھلادیتے ہو اپنے آپ کو جبکہ(سمجھ کر)پڑھتے بھی ہو کتاب کو، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
[سورۃ البقرۃ:44]
(3) دنیا کیلئے دین کو بدلنے والے:
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی"قیمت"وصول کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے، قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[سورۃ البقرۃ:174]
اے ایمان والو !(یہودی)عالموں اور(عیسائی)راہبوں درویشوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ (رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ موڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔)
[سورۃ التوبۃ:34]
(4) جمہور متقدمین علماء سے اختلاف رکھنے سے بڑھ کر مخالفت ومقابلہ كرے۔
جس شخص نے علم اس لیے حاصل کیا تاکہ علماء سے مقابلہ کرے یا کم علم لوگوں سے جھگڑا(بحث)کرے یا لوگوں کو علم کے ذریعہ اپنی طرف مائل کرے، اللہ تعالی ایسے شخص کو جہنم میں داخل کریں گے۔
[ترمذي2654، ابن ماجة:253، طبراني:199، حاكم:293]
تشریح:
جو علم حاصل کرے یعنی وہ بعد والا چھوٹا-اکیلا شخص ہے جو پہلے والے بڑے اور بہت سے علماء سے صرف اختلاف ہی نہیں بلکہ مخالفت ومقابلہ کرے، تاکہ سستی اور جلد شہرت پائے تو یہ نافرمانی گناہِ کبیرہ ہی نہیں بلکہ "فساد" ہے، جو صرف نافرمان کو ہی نقصاندہ نہیں بلکہ خالق کی مخلوق اور دین میں بگاڑ پیدا کرنا ہے، جو قرآن کے مطابق لوگوں کو قتل کرنے سے بھی زیادہ سخت[سورۃ البقرۃ:191] اور بڑا [سورۃ البقرۃ:217] گناہ ہے کیونکہ قتل کرنے سے اس مقتول کا صرف دنیاوی نقصان ہوا، لیکن جو دین کو بگاڑے اور لوگوں کو گمراہ کرے وہ تو آخرت کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔
ایسا شخص کم علم عوام سے بحث کرتا ہے تو اس کا ارادہ ومقصد انہیں اپنی طرف مائل کرنا ہوتا ہے، اور جب یہ خود جہنم میں داخل ہوگا تو اس کے پیروکاروں کا انجام کیا ہوگا۔
اس حدیث میں بڑی اہم اورقابلِ غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاًتواسلام کی ترقیات وفتوحات کاذکرکیا،پھر کچھ علماء وقُراء کا ذکرکیا، جو خود پسندی یا اَنانیت میں مبتلا ہوں گے کہ بڑے پرانے علماء کی بڑی جماعت کی اختلافی رائے کا علمی حق کے نام پر ان سب کو گمراہ قرار دے گا۔ اور اس گروہ کو اس طور پر ذکر کیا ہے کہ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی ترقیات اور فتوحات میں یہی لوگ رکاوٹ ہیں؛ کیوں کہ اس گروہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی ترقی کا ذکر کرنے کے بعد بہ طورِ تقابل پیش کیا ہے۔
یہ بڑی قابلِ عبرت بات ہے اور سو فیصد صحیح ہے ، کیوں کہ خود پسندی اور اَناپرستی کی وجہ سے یہ لوگ نہ علمائے حق کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ علمائے حق کو آگے آنے دیتے ہیں؛ بل کہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں اپنی ہمت اور وقت واستعداد خرچ کرتے ہیں، مقصد صرف اپنی اَنا کی تسکین اور اپنی عزت وشہرت کا بقا وتحفظ ہوتا ہے؛ پھر دین کو ترقی کیسے ہوگی اور فتوحات کا دروازہ کہاں سے کھلے گا؟اس سے معلوم ہوا کہ علمائے سُو ہی اسلام کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے ہیں؛ لہٰذا اس حدیث میں قرآن پڑھنے والوں سے مراد علمائے سُو ہیں، جوصرف اپنے دنیوی مفادات اور نام وشہرت کے لیے دینی علوم حاصل کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔
امام راغب اصفھانی(م502ھ) لکھتے ہیں: الفقہ کے معنی علمِ حاضر سے علمِ غائب تک پہنچنا کے ہیں ، قرآن میں ہے: فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً
۔۔۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ حدیث(بات)کی فقہ(سمجھ)نہیں پارہے ہیں۔
(سورۃ النساء: 78)
وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ ۔۔۔۔۔ لیکن منافقین فقہ(سمجھ)نہیں رکھتے۔(سورۃ المنافقون:7)[مفردات في غريب القرآن: ص ؍ 642]
یعنی فقہ وہ باطنی علم کی گہرائی ہے جو ظاہری الفاظ کے سرسری پڑھ یا سُن لینے سے نہیں حاصل ہوتی، بلکہ اس کیلئے مسلسل فکرونظر کی ضرورت پڑتی ہے۔
اور جن لوگوں نے ہماری خاطر کوشش کی ہے، ہم انہیں ضرور بالضرور اپنے راستوں کی ہدایت دیں گے، اور یقینا اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
[سورۃ العنکبوت:69]
امام مُجَاهِدٌ نے فرمایا:
«لَيْسَ سَبِيلُ الله وَاحِدًا، كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فهو فِي سَبِيلِ الله»
ترجمہ:
"اللہ کا راستہ صرف ایک نہیں ہے۔ ہر نیک عمل جو بھی کیا جائے، وہ اللہ کے راستے میں ہے۔"
[مصنف ابن ابی شیبہ:30839]
تشریح:
یہ عبارت دو اہم نکات پر روشنی ڈالتی ہے:
1. اللہ تک پہنچنے کے راستوں کی کثرت:
پہلا جملہ "لَيْسَ سَبِيلُ الله وَاحِدًا" اس تصور کو رد کرتا ہے کہ اللہ کی رضا صرف ایک مخصوص طریقے یا رسمی عبادت تک محدود ہے۔ یہ تنگ نظری اور جمود کے خلاف ایک واضح بیان ہے، جو بتاتا ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے مختلف مظاہر بھی اللہ کے قریب کرنے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔
2. ہر نیکی کو اللہ کا راستہ قرار دینا:
دوسرا حصہ "كُلُّ خَيْرٍ عَمِلَهُ فهو فِي سَبِيلِ الله" اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کوئی بھی اچھا کام، چاہے وہ مالی مدد ہو، علمی خدمت ہو، یا معاشرتی بہتری، اگر نیک نیت سے کیا جائے تو وہ "اللہ کے راستے" میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ ایمان صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں نیکی اور احسان (بہترین عمل) کو شامل کرتا ہے۔
نوٹ:
- قرآن و حدیث میں "سَبِيلِ الله" کا لفظ اکثر جہاد(یعنی اللہ کی اطاعت میں مشقت اٹھانے) یا مالی قربانیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے (جیسے سورۃ التوبہ:24، التوبہ:60)، لیکن یہاں اس کا دائرہ وسیع کرکے ہر نیک عمل کو شامل کیا گیا ہے۔
- یہ تصور "نیت" کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے، کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" (صحیح بخاری:1)۔
- یہ فقرہ اسلامی اخلاقیات کی وسعت کو بیان کرتا ہے، جس کے مطابق ہر وہ کام جو معاشرے کی بہتری یا کسی کی مدد کے لیے ہو، شرک اور گناہ سے پاک ہونے کی شرط پر، اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
خلاصہ:
اس عبارت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دین کو تنگ دائرے میں نہ سمجھا جائے۔ ہر نیک عمل، چھوٹا ہو یا بڑا، اگر خلوصِ نیت سے کیا جائے تو وہ اللہ کے راستے میں قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ یہ نظریہ انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی رضا تلاش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
"اور آپ نے صرف کتاب (اللہ) پر اکتفا فرمایا؛ کیونکہ وہ سنت پر عمل پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان: 'اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو' (النساء: 59) اور فرمان: 'رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ' (الحشر: 7) کی وجہ سے۔ اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ تمسک کرنے میں اصل اور بنیادی اصول کتاب (اللہ) ہی ہے۔"
"اور آپ ﷺ کا یہ فرمان۔۔۔اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کتاب اللہ ہی ہدایت کا ذریعہ ہے؛ پس جو شخص اسے تھامے رکھے گا وہ گمراہ نہیں ہو گا۔"
"اور کتاب اللہ ہی میں یہ فرمان ہے: {رسول تمہیں جو دے وہ لے لو، اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ}، پس کتاب اللہ سے تمسک کرنا ہر اس چیز (سنت نبوی وسنت الخلفاء راشدین) سے تمسک کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے۔"
ایک لفظ میں کئی معانی کا احتمال ہو، ان میں سے ایک کو غلبۂ گمان کی بنیاد پر ترجیح دینا، نہ کہ یقین کی بنیاد پر۔
تفسیر اور تاویل میں فرق:
علامہ ابو منصور ماتریدی فرماتے ہیں کہ الفاظِ قرآنی کے معانی کو قطعیت کے ساتھ بیان کیا جائے کہ اس لفظ کے یہی معنیٰ ہیں،اس کا نام تفسیر ہے ۔اور تاویل کہتے ہیں کہ لفظ کے چند محتمل معانی میں سے کسی معنیٰ کو بغیر قطعیت کے ترجیح دی جائے۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ تفسیرکا تعلق روایات سے ہوتا ہے اور تاویل کا تعلق درایات سے ہوتا ہےیعنی آیات سے متعلق روایات بیان کرنے کوتفسیر کہتے ہیں اور معانیِ قرآن اور اس کے احکام کے بیان وغیرہ کو تاویل کہتے ہیں۔
علامہ راغب فرماتے ہیں کہ تفسیر اور تاویل میں فرق یہ ہے کہ لفظِ تفسیر الفاظ اور مفردات میں استعمال ہوتا ہے اور تاویل معانی اور جملوں میں استعما ل ہوتا ہے۔اور آگے فرماتے ہیں کہ کتبِ الٰہیہ کے لئے تاویل اور دیگر کتابوں کے لئے تفسیر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔
ابو طالب التغلبی فرماتے ہیں کہ تاویل ، مراد الٰہی اور اس کی حقیقت کی خبر دینے کا نام ہے اور تفسیر مراد کی دلیل بتانے کا نام ہے ۔
[الاتقان فی علوم القرآن: النوع السابع والسبعون: فی معرفۃ تفسيره وتأويلہ وبيان شرفہ والحاجۃ الیہ]
عبداللہ بن ابی بکر بن حزمؒ سے روایت ہے کہ جو کتاب رسول اللہ ﷺ نے لکھی تھی عمرو بن حزمؓ کے واسطے اس میں یہ بھی تھا کہ ’’قرآن
نہ چھوئے مگر جو (شخص) پاک ہو‘‘۔ کہا(امام)مالکؒ نے:کوئی شخص مصحف (کتاب اللہ) کو فیتہ پکڑ کر یا تکیہ پر رکھ کر نہ اٹھائے مگر وہ پاک ہو(تو صحیح ہے)۔۔۔۔
{لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ المطهرون} من جميع الأدناس أدناس الذنوب وغيرها إن جعلت الجملة صفة لكتاب مكنون وهو اللوح وان جعلها صفة للقرآن فالمعنى لا ينبغي أن يمسه إلا من هو على الطهارة من الناس والمراد مس المكتوب منه [تفسير النسفي (المتوفى: 710هـ) : 3/429] المطہرونؔ وہ تمام گندگیوں سے پاک ہیں۔ گناہوں کی میل کچیل وغیرہ سے یہ اس وقت معنی ہے جبکہ تم اس کو کتاب مکنون کی صفت قرار دو ۔ جو کہ لوح محفوظ ہے ، اور اگر اس کو قرآن مجید کی صفت قرار دو تو اس وقت معنی یہ ہوگا اس کو لوگوں میں سے وہ چھو سکتا ہے جو طہارت کی حالت میں ہو اور مس سے مراد اس کے لکھے ہوئے کا چھونا ہے۔
حضرت عمرؓ کی بہن سے حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کے موقع پر کہا تھا : جب کہ وہ ان کے پاس گئے اور صحیفہ منگوایا تو حضرت عمر کی بہن نے کہا : لا یمسہٗ الا المطھرون۔ اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں، حضرت عمر اٹھے، غسل کیا اور سلام لائے۔ یہ واقعہ سورة طہٰ کے شروع میں گزر چکا ہے۔ اس تعبیر کی بناء پر قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا : یہاں مطہرون سے مراد احداث اور انجاس سے پاک لوگ ہیں۔
حوالہ:
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الرَّزَّازُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ يَعْنِي الْأَزْرَقَ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا بِسَيْفِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قِيلَ لَهُ: " إِنَّ خَتَنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوَا وَتَرَكَا دِينَكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ " فَمَشَى عُمَرُ حَتَّى أَتَاهُمَا وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالَ لَهُ خَبَّابٌ، وَكَانُوا يَقْرَءُونَ طه فَقَالَ عُمَرُ: " أَعْطُونِي الْكِتَابَ الَّذِي هُوَ عِنْدَكُمْ فَأَقْرَأُ " قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ يَقْرَأُ الْكِتَابَ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ: إِنَّكَ رِجْسٌ، وَإِنَّهُ {لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ} [الواقعة: 79] فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ. قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ، فَقَرَأَ: طه ". وَلِهَذَا الْحَدِيثِ شَوَاهِدُ كَثِيرَةٌ، وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ السَّبْعَةِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ [السنن الكبرى للبيهقي (المتوفى: 458هـ) : جُمَّاعُ أَبْوَابِ سُنَّةُ الْوُضُوءِ وَفَرْضِهِ ، بَابُ نَهْيِ الْمُحْدِثِ عَنْ مَسِّ الْمُصْحَفِ ، رقم الحدیث:413 دلائل النبوة للبيهقي (المتوفى: 458هـ) : 2/219 جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْمَبْعَثِ ، بَابُ ذِكْرِ إِسْلَامِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ] تاريخ المدينة لابن شبة (المتوفى: 262هـ) : أَخْبَارُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : 2/657 أحكام القرآن للجصاص (المتوفى: 370هـ) : 3/555 تفسير القرطبي (المتوفى: 671هـ) : تفسير الماوردي (المتوفى: 450هـ) : سير أعلام النبلاء، للذهبي (المتوفى: 748هـ) : 1/255،دار الحديث- القاهرة تاريخ الإسلام، للذهبي (المتوفى: 748هـ) : 1/174، دار الكتاب العربي، بيروت نصب الراية لأحاديث الهداية، للزيلعي (المتوفى: 762هـ) : 1/199 الدر المنثور، للسيوطي (المتوفى: 911هـ) : 5/560 الخصائص الكبرى للسيوطي (المتوفى: 911هـ) : 1/219 تاريخ الخلفاء للسيوطي (المتوفى: 911هـ) : 91، مكتبة نزار مصطفى الباز تاريخ الخميس:1/295، دار صادر - بيروت شرح الزرقاني (المتوفى: 1122هـ) :2/6 - دار الكتب العلمية صَحِيحُ الأثَر وجَمَيلُ العبر من سيرة خير البشرﷺ:121، مكتبة روائع المملكة - جدة
نوٹ: ایک ہے قرآن مجید کا بغیر وضو ’’پڑھنا‘‘، تو اس کے جائز ہونے پر اتفاق ہے، دوسرا ہے قرآن مجید کو بغیر وضو ’’چھونا‘‘ تو تفسیر وفقہ کی اَکثر کتابوں مثلاً، تفسیر قرطبی، تفسیر کبیر، تفسیر ابن کثیر اور شامی، بدایۃ المجتہد، بدائع الصنائع وغیرہ میں یہ صراحت ہے کہ جمہور فقہاء واکثر مفسرین اور حضراتِ صحابہ وتابعین میں حضرت علیؓ، ابن مسعودؓ، سعد بن وقاصؓ، سعید بن زیدؓ، عطاء، زہری، ابراہیم نخعی، حکم، حماد، امام مالک، امام ابوحنیفہ، شافعی رحمہم اللہ وغیرہ کے نزدیک جنبی اور حائضہ کی طرح بے وضو شخص کے لئے بھی قرآنِ کریم کو چھونا ناجائز اور قرآن کی توہین ہے۔ (تفسیر القرطبي ۱۷؍۱۴۶-۱۴۷ بیروت، ۱۷؍۲۲۶ دار إحیاء التراث العربي بیروت، ومثلہ في تفسیر الکبیر للفخر الرازي ۲۹؍۱۹۳- ۱۹۴، تفسیر ابن کثیر مکمل ص: ۱۲۰۴ دار السلام ریاض، معارف القرآن ۸؍۲۸۶، روح المعاني ۲۷،۱۵۴، بدائع الصنائع ۱؍۱۴۰، بدایۃ المجتہد ۱؍۳۰ بیروت) واتفق الفقهاء علی أن غیر المتوضی یجوز له تلاوة القرآن أو النظر إلیه دون لمسه ……وفی(صـ4۵۳) والخلاصة أنه وقع الإجماع ماعدا داؤد أنه لایجوز المحدث حدثا أکبر أن یمس المصحف . (نجم الفتاوی ج۲ /۷۸-۷۹ بحذف) اور جو شخصبے وضو ہو وہ شریعت کی نظر میں حکما پاک نہیں کہا جاسکتا۔ لا یجوز لمحدث مس مصحف إلا بغلافہ المنفصل لا المتصل في الصحیح۔ (مجمع الأنہر / کتاب الطہارۃ ۱؍۴۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت، رد المحتار / کتاب الطہارۃ ۱؍۱۷۳ کراچی، وکذا في النہر الفائق / کتاب الطہارۃ ۱؍۱۳۴ المکتبۃ الإمدادیۃ ملتان) ویحرم بہ تلاوۃ القرآن بقصدہ … ومسہ بالأکبر وبالأصغر مس المصحف، إلا بغلاف متجاف غیر مشرز أو بصرۃ، بہ یفتیٰ۔ (الدر المختار / کتاب الطہارۃ ۱؍۱۷۲-۱۷۳ کراچی، طحطاوي ۱۴۳) لا یجوز لہما ولجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنہ کالخریطۃ والجلد الغیر المشرز لا بما ہو متصل بہ ہو الصحیح۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الطہارۃ ۱؍۳۹ زکریا، الہدایۃ ۱؍۶۴)
علامہ ابن تیمیہ ؒ نے بھی یہی تحریر فرمایا کہ بغیر وضو کے قرآن کریم نہیں چھونا چاہئے، اور یہی حضرت سلمان فارسیؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور دیگر صحابۂ کرام کی رائے تھی اور کسی ایک صحابی سے اس کے خلاف منقول نہیں۔ (مجمع الفتاویٰ: ۲۲۶/۲۱ ۔ ۲۸۸/۲۱)
شیخ حافظ ابن البر ؒ نے تحریر فرمایا کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ مصحف چھونے کے لئے وضو ضروری ہے۔ (الاستذکار: ۱۰/۸)
سعودی عرب کے سابق مفتی شیخ عبدالعزیز بن بازؒ نے بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں یہی فرمایا ہے کہ بغیر وضو کے قرآن کریم کا چھونا جائز نہیں ہے جو انٹرنیٹ کے مذکورہ لنکس پر پڑھا اور سنا جاسکتا ہے۔
(3) ایسے شخص کے لئے قرآن کی تلاوت کا حکم جسے حدث اصغر لاحق ہے
سوال نمبر: - 2 فتوی نمبر:557
س 2: کیا قضائے حاجت (یعنی بیت الخلاء) سے فراغت کے بعد پتھر سے جائے نجاست صاف کرنے والے کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اسے اٹھانا جائز ہے، جیساکہ آج مدارس میں پانی فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کرنا پڑتاہے، چنانچہ مدرس قضائے حاجت کے بعد درس قرآن دیتا ہے، تو کیا اس کے لئے پتھر سے صاف کر لینا کافی ہوگا یا وضو کرنا ضروری ہوگا اگرچہ اسے مشقت اٹھانی پڑے؟
ج 2: جو صرف پتھر سے جائے نجاست صاف کرے اور وضو نہ کرے اس کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے چاہے مدرس ہو یا طالب علم، بشرطیکہ جنبی نہ ہو، لیکن وضو کرکے تلاوت کرنا افضل ہے، البتہ حدث اکبر یا حدث اصغر کے بعد وضو کئے بغیر مصحف چھونا جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے، ان کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے: ﺟﺴﮯ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻙ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﭼﮭﻮ ﺳﻜﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ، اور جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عمرو بن حزم کو بھیجے گئے خط میں یہ حکم ہے: صرف پاک لوگ ہی قرآن کو چهو سكتے ہيں۔ اور جزدان کے واسطے سے قرآن اٹھانا جائز ہے، کیونکہ اس سے چھونے کا تحقق نہیں ہوتا، یہی حنابلہ، ابو حنيفہ، حسن بصری، اور ایک جماعت کا قول ہے، لیکن اگر حدث اکبر یا حدث اصغر کے بعد کسی شخص کو قرآن چھونے کی ضرورت ہو اور پاکی حاصل کرنے کے لئے پانی نہ ہو تو تیمم کرلے، اس طور پر چھونا جائز ہے۔
وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلَّم۔
امام مالکؒ جب درسِ حدیث دیتے یا امام بخاری ؒ جب کوئی حدیث شریف لکھتے تواس پہلے دوگانہ ادا کرتے اور پھر حدیث شریف لکھتے ۔ جب حدیث شریف لکھنے کے لیے اتنا اہتمام فرماتے تھے تو قرآن پاک کے بارے میں کیا عمل ہونا چاہئے ؟ بات چونکہ بہت طویل ہوگئی بس اسی پر اکتفاء کرتا ہوں نہیں تو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔