Friday, 5 April 2013

احادیث میں ابدال کا بیان

ابدال : وہ سچی توبہ کرنے والا متقی بندہ جس کی حالت و زندگی کو الله پاک گناہوں سے نیکیوں میں بدل دے.
القرآن : إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِهِم حَسَنٰتٍ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا {25:70} 
ترجمہ : مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے .
یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کرے گا۔ یا یہ کہ بدیوں کو مٹا کر توبہ اور عمل صالح کی برکت سے ان کی تعداد کے مناست نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ کما یظہر من بعض الاحادیث۔

علامہ سیوطی نے تقریباً بیس کتب وروات سے ایسی حدیثیں نقل کی ہیں جن سے ابدال وغیرہ کا ثبوت ہوتا ہے، اور تمام حدیثوں کو صحیح وحسن فرمایا ہے۔ (دلائل السلوک: ۹۳)
علامہ سیوطی کی کتاب الحاوی للفتاوی میں حضرت ابوہریرہ کی روایت میں ہے کہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ کے غلام کے بارے میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ ان سات میں سے ایک ہے۔ جن کے ذریعے اللہ تعالی زمین والوں کو محفوظ رکھتے ہیں (الحاوی للفتاوی: ۲/۲۴۹)
یہ ہستیاں معصوم عن الخطاء نہیں ہوتی ہیں البتہ اللہ تعالیٰ ان کو بشری کمزوریوں سے پاک کردیتے ہیں، عالم کی وجود وبقاء کے لیے جو امور من جانب اللہ ان کے سپرد ہوتے ہیں وہ اس کو بجالاتے ہیں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں کرتے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، قَالَ : ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ ، فَقَالُوا : الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : لَا ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ ، وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا ، يُسْقَى بِهِمْ الْغَيْثُ ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمْ الْعَذَابُ " .


١) ابن عبید کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جس وقت عراق میں تھے، ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہوا، لوگوں نے کہا امیرالمومنین! ان کے لئے لعنت کی بد دعاء کیجئے، فرمایا نہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابدال شام میں ہوتے ہیں، یہ کل چالیس آدمی ہوتے ہیں ، جب بھی ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی جگہ بدل کر کسی دوسرے کو مقرر فرما دیتے ہیں (اور اسی وجہ سے انہیں ابدال کہا جاتاہے) ان کی دعاء کی برکت سے بارش برستی ہے، ان ہی کی برکت سے دشمنوں پر فتح نصیب ہوتی ہے اور اہل شام سے ان ہی کی برکت سے عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے۔
[مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 854 (46953)]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الأبدال يكونون بالشام وهم أربعون رجلا كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا يسقى بهم الغيث وينتصر بهم على الأعداء ويصرف عن أهل الشام بهم العذابعلي بن أبي طالبمسند أحمد بن حنبل874898أحمد بن حنبل241
2الأبدال يكونون بالشام وهم أربعون رجلا كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا يسقى بهم الغيث وينتصر بهم على الأعداء ويصرف عن أهل الشام بهم العذابعلي بن أبي طالبالأحاديث المختارة448---الضياء المقدسي643
3الأبدال يكونون بالشامعلي بن أبي طالبإتحاف المهرة13617---ابن حجر العسقلاني852
4الأبدال بالشام بهم يرحم الله جميع أهل الأرض وينصرهم على الأعداء كلما هلك منهم رجل أخلف الله مكانه رجلاعلي بن أبي طالبفضائل الشام لابن السمعاني2121عبد الكريم بن محمد السمعاني562
5الأبدال يكونون بالشام وهم أربعون رجلا كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا فيسقى بهم الغيث وينتصر بهم على الأعداء ويصرف عن أهل الشام بهم العذابعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر613---ابن عساكر الدمشقي571
6الأبدال بالشام يكونون وهم أربعون رجلا بهم تسقون الغيث وبهم تنصرون على أعدائكم ويصرف عن أهل الأرض البلاء والغرقعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر6141 : 289ابن عساكر الدمشقي571
7الأبدال بالشام والنجباء بالكوفةعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر6281 : 296ابن عساكر الدمشقي571
8الأبدال من الشام والنجباء من أهل مصر والأخيار من أهل العراقعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر630---ابن عساكر الدمشقي571
9الأبدال يكونون بالشام وهم أربعون رجلا كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا يسقى بهم الغيث وينتصر بهم على الأعداء ويصرف عن أهل الشام بهم العذابعلي بن أبي طالبفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل15271727أحمد بن حنبل241
10الأبدال قال هم ستون رجلا قلت يا رسول الله جلهم لي قال ليسوا بالمتنطعين ولا بالمبتدعين ولا بالمتنعمين لم ينالوا ما نالوا بكثرة صيام ولا صلاة ولا صدقة ولكن بسخاء النفس وسلامة القلوب والنصيحة لأئمتهم إنهم يا علي في أمتي أقل من الكبريت الأحمرعلي بن أبي طالبالأولياء لابن أبي الدنيا88ابن أبي الدنيا281


حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا " , قَالَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ فِيهِ : يَعْنِي حَدِيثَ عَبْدِ الْوَهَّابِ كَلَامٌ غَيْرُ هَذَا ، وَهُوَ مُنْكَرٌ , يَعْنِي : حَدِيثَ الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَان .
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ » حَدِيثُ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، رقم الحديث: 22138]

٢)  حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرح تیس ابدال ہوں گے جب بھی ان میں سے کوئی ایک فوت ہوگا تو اس کی جگہ اللہ تعالیٰ کسی دوسرے کو مقرر فرما دیں گے۔
[مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 2763 (67792)]

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الأبدال في هذه الأمة ثلاثون مثل إبراهيم خليل الرحمن كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلاعبادة بن الصامتمسند أحمد بن حنبل2213822244أحمد بن حنبل241
2الأبدال في هذه الأمة ثلاثون مثل إبراهيم خليل الرحمن كلما مات منهم واحد بدل الله مكانه رجلاعبادة بن الصامتالمسند للشاشي12501314الهيثم بن كليب الشاشي335
3الأبدان في هذه الأمة ثلاثون مثل إبراهيم خليل الرحمن كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلاعبادة بن الصامتإتحاف المهرة6570---ابن حجر العسقلاني852
4لا يزال في هذه الأمة ثلاثون مثل إبراهيم خليل الرحمن كلما مات واحد بدل الله مكانه رجلاعبادة بن الصامتأخبار أصبهان لأبي نعيم5581 : 220أبو نعيم الأصبهاني430
5الأبدال في هذه الأمة ثلاثون مثل إبراهيم خليل الرحمن كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلاعبادة بن الصامتتاريخ دمشق لابن عساكر6201 : 292ابن عساكر الدمشقي571



تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لا يزال أربعون رجلا من أمتي قلوبهم على قلب إبراهيم يدفع الله بهم عن أهل الأرض يقال لهم الأبدال قال رسول الله إنهم لم يدركوها بصلاة ولا بصوم ولا صدقة قالوا يا رسول الله فبم أدركوها قال بالسخاء والنصيحة للمسلمينعبد الله بن مسعودالمعجم الكبير للطبراني1024110390سليمان بن أحمد الطبراني360
2لا يزال أربعون رجلا من أمتي قلوبهم على قلب إبراهيم يدفع الله بهم عن أهل الأرض يقال لهم الأبدال فقال رسول الله إنهم لم يدركوها بصلاة ولا بصوم ولا بصدقة قالوا يا رسول الله فبم أدركوها قال بالسخاء والنصيحة للمسلمينعبد الله بن مسعودحلية الأولياء لأبي نعيم53325337أبو نعيم الأصبهاني430
3لا يزال أربعون رجلا من أمتي قلوبهم على قلب إبراهيم يدفع الله بهم عن أهل الأرض يقال لهم الأبدال قال رسول الله إنهم لم يدركوها بصلاة ولا بصوم ولا بصدقة قالوا يا رسول الله فبم أدركوها قال بالسخاء والنصيحة للمسلمينعبد الله بن مسعودمعرفة الصحابة لأبي نعيم41194523أبو نعيم الأصبهاني430


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1البدلاء أربعون اثنان وعشرون بالشام وثمانية عشر بالعراق كلما مات منهم واحد بدل الله مكانه آخر فإذا جاء أمر الله قبضوا كلهم فعند ذلك تقوم الساعةأنس بن مالكالثاني والعشرون من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي49---أبو طاهر السلفي576
2البدلاء أربعون اثنان وعشرون بالشام وثمانية عشر بالعراق كلما مات منهم واحد أبدل الله مكانه آخر فإذا جاء الأمر قبضوا كلهم فعند ذلك تقوم الساعةأنس بن مالكالرابع والعشرون من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي20---أبو طاهر السلفي576
3بدلاء أمتي أربعون رجلا اثنان وعشرون بالشام وثمانية عشر بالعراق كلما مات منهم واحد أبدل مكانه آخر فإذا جاء الأمر قبضواأنس بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر6171 : 290ابن عساكر الدمشقي571
4البدلاء أربعون اثنان وعشرون بالشام وثمانية عشر بالعراق كلما مات منهم واحد أبدل الله مكانه آخر فإذا جاء الأمر قبضوا كلهم فعند ذلك تقوم الساعةأنس بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر6181 : 291ابن عساكر الدمشقي571
5الأبدال أربعون رجلا وأربعون امرأة كلما مات رجل أبدل الله مكانه رجلا وكلما ماتت امرأة أبدل الله مكانها امرأةأنس بن مالكالتبصرة لابن الجوزي182---ابن الجوزي597


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1فيهم الأبدال وبهم ترزقون وبهم تنصرونعوف بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر6151 : 290ابن عساكر الدمشقي571
2فيهم الأبدال وبهم تنصرون وبهم ترزقونعوف بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر6161 : 290ابن عساكر الدمشقي571

٣) حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں (اگلا خلیفہ منتخب کرنے میں) اختلاف ہوجائے گا اس دوران ایک آدمی مدینہ سے نکل کر مکہ کی طرف بھاگے گا لوگ اسے خلافت کے لیے نکالیں گے لیکن وہ اسے ناپسند کرتے ہوں گے پھر لوگ ان کے ہاتھ پر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کریں گے پھر وہ ایک لشکر شام سے بھیجیں گے تو وہ لشکر، ، بیدائ، ، کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے جب لوگ اس لشکر کو دیکھیں گے تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں ان کے پاس آئیں گی ان سے بیعت کریں گی پھر ایک آدمی اٹھے گا قریش میں سے جس کی ننھیال بنی کلب میں ہوگی وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا تو وہ اس لشکر پر غلبہ حاصل کرلیں گے اور وہ بنوکلب کا لشکر ہوگا اور ناکامی ہو اس شخص کے لیے جو بنوکلب کے اموال غنیمت کی تقسیم کے موقع پر حاضر نہ ہو، مہدی مال غنیمت تقسیم کریں گے اور لوگوں میں انکے نبی کی سنت کو جاری کریں گے اور اسلام پر اپنی گردن زمین پر ڈال دے گا (سارے کرہ ارض پر اسلام پھیل جائے گا) پھر اس کے بعد سات سال تک وہ زندہ رہیں گے پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان انکی نماز جنازہ پڑھیں گے امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ بعض ہشام کے حوالہ سے یہ کہا کہ وہ نوسال تک زندہ رہیں گے جبکہ بعض نے کہا کہ سات سال تک رہیں گے۔
[سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 893 (18962- امام مہدی کا بیان : قتل ہونے میں کیا امید کی جائے]


٤) امام ابو نعیم اصفہانی، عبداللہ بن محمد بن جعفر، محمد بن ابراہیم بن شعیب، سلیمان بن داود شاذ کوفی، جعفر بن سلیمان کے سلسلہ سند سے مروی ہیں کہ میں نے امام وہب بن منبہ رح کے ایک ہم مجلس کو یہ کہتے ہوۓ سنا : میں نے خواب میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا میں نے ان سے کہا یا رسول الله! آپ کی امت کے ابدال کہاں پاۓ جاتے ہیں؟ آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے شام کی طرف اشارہ کیا. میں نے پھر کہا : یا رسول الله! کیا ان میں سے کوئی عراق میں بھی پایا جاتا ہے؟ ارشاد فرمایا : ہاں، وہاں محمد بن واسع ہے.


تشریح : حدیث میں جس ہستی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات گرامی مراد ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوداؤد نے اس روایت کو باب المہدی میں نقل کیا ہے ۔ 
مدینہ سے مراد یا تو مدینہ طیبہ ہے ، یا وہ شہر مراد ہے جہاں مذکورہ خلیفہ یا سربراہ حکومت کا انتقال ہوگا اور اس کے جانشین کے انتخاب پر لوگوں میں اختلاف ونزاع پیدا ہو جائے گا اس موقع پر حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکہ بھاگ جانا، مذکورہ اختلاف ونزاع کے فتنہ سے بچنے کے لئے ہو گا، اور مکہ چلے جانے کو ترجیح اس لئے دیں گے کہ وہ شہر مقدس نہ صرف یہ کہ ہر اس شخص کے لئے جائے امن ہے جو اس میں پناہ لینے کا طالب ہو بلکہ سکون وعافیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہنے کی سب سے بہتر جگہ ہے ۔ 
بیداء اصل میں جنگل اور ہموار زمین کو کہتے ہیں اور مکان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن یہاں حدیث میں بیداء سے ایک مقام مراد ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے ۔ 
شام کے لشکر سے مراد سفیانی کا لشکر ہے ، نیز اس لشکر کا امام مہدی کے خلاف محاذ آرائی کے لئے آنا دراصل سفیانی حکومت کا پیدا کردہ ایک فتنہ ہوگا جو حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے اس بارے میں تقریبا تواتر کے ساتھ متعدد احادیث منقول ہیں ان میں سے ایک صحیح حدیث وہ ہے جس کو امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس طرح نقل کیا ہے کہ ۔ وہ سفیانی (جو آخر زمانہ میں شام کے علاقوں پر قابض و حکمران ہو گا) نسلی طور پر خالد ابن یزید ابن معاویہ ابن ابواسوی کی پشت سے تعلق رکھتا ہوگا ، وہ بڑے سر اور چیچک زدہ چہرے والا ہوگا ، اس کی آنکھ میں ایک سفید دھبہ ہوگا ، دمشق کی طرف اس کا ظہور ہوگا اس کے تابعداروں کی جماعت زیادہ تر قبیلہ کلب سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہوگی ، لوگوں کا خون بہانا اس کی خاص عادت ہوگی ، یہاں تک کہ وہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر کے بچوں کو ہلاک کر دیا کرے گا ، وہ جب حضرت امام مہدی کے ظہور کی خبر سنے گا تو ان سے جنگ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجے گا جو شکست کھا جائے گا ، اس کے بعد وہ سفیانی بذات خود ایک لشکر لے کر حضرت امام مہدی کے مقابلہ کے لئے چلے گا لیکن وہ مقام بیداء پر پہنچ کر اپنے تمام لشکر والوں کے ساتھ زمین میں دھنس جائے گا اور کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچے گا صرف ایک وہ شخص بچ جائیگا جو حضرت امام مہدی کو سفیانی اور اس کے لشکر کے عبرتناک حشر کی خبر پہنچائے گا ۔ 
" ابدال " اولیاء اللہ کے ایک گروہ کو کہتے ہیں جن کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کائنات کے نظام کو برقرار اور استوار رکھتا ہے دنیا میں کل ابدال کی تعداد ستر رہتی ہے، اس میں چالیس ابدال تو شام میں رہتے ہیں اور تیس ابدال باقی ملکوں میں ان اولیاء اللہ کو ابدال اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کی ادلی بدلی ہوتی رہتی ہے، یعنی جب ان میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کے بدلے میں کوئی دوسرا مقرر کر دیا جاتا ہے یا ان کو ابدال اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ وہ ایسی مقدس ہستیاں ہیں جو عبادت و ریاضت کے ذریعہ ابنے اندر سے تمام بری عادتیں اور نا پسندیدہ خصلتیں ختم کر دیتے ہیں اور ان کے بدلے میں اچھی عادتیں اور اعلیٰ اخلاق پیدا کر لیتے ہیں ! اس مقدس گروہ کے بارے میں احادیث میں ذکر آیا ہے گو سیوطی نے سنن ابوداؤد کی شرح میں لکھا ہے کہ ابدال کا ذکر صحاح ستہ میں نہیں آیا ہے علاوہ ابوداؤد کی اس حدیث کے جو یہاں نقل ہوئی ہے، اس حدیث کو حاکم نے بھی نقل کیا ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے، تاہم سیوطی نے صحاح ستہ کے علاوہ دوسری مستند و معتبر کتابوں سے ایسی بہت سی احادیث کو جمع الجوامع میں نقل کیا ہے جن میں ابدال کا ذکر ہے ، ان میں سے اکثر احادیث میں چالیس کا عدد مذکور ہے اور بعض میں تیس کا انہوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ایک یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ ابدال نے جو یہ اعلیٰ درجہ پایا ہے وہ بہت زیادہ نماز روزہ کرنے کی وجہ سے نہیں پایا ہے اور نہ ان عبادتوں کی وجہ سے ان کو تمام لوگوں سے ممتاز کیا گیا ہے بلکہ انہوں نے اتنا اعلیٰ درجہ سخاوت نفس، سلامتی دل اور مسلمانوں کی خیر خواہی رکھنے کی وجہ سے پایا ہے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ علی ! میری امت میں ایسے لوگوں کا وجود کہ جو ابدال کی صفت کے حامل ہوں، سرخ گندھک سے بھی زیادہ نادر ہے یعنی جس طرح سرخ گندھک بہت کمیاب چیز ہے اسی طرح دنیا میں ابدال بھی کم ہیں ۔ " ایک اور حدیث میں، جو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے ، یہ فرمایا گیا ہے کہ جس شخص میں تین صفتیں یعنی رضا بالقضاء ، ممنوعات سے کلی احتراز اور خدا کے دین کی خاطر غصہ کرنا ، پائی جائیں اس کا شمار ابدال کی جماعت میں ہوتا ہے ؟ نیز امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے احیاء العلوم میں نقل کیا ہے کہ جو شخص روزانہ تین مرتبہ یہ دعا پڑھنے کا التزام رکھے اس کے لئے ابدال کا درجہ لکھا جا سکتا ہے ، دعا یوں ہے : 
آیت ( اللہم اغفر لا مۃ محمد ، اللہم ارحم امۃ محمد ، اللہم تجاوز عن امۃ محمد ۔ 
" اے اللہ ! امت محمدی کی مغفرت فرما ، اے اللہ امت محمدی پر رحم فرما ، اے اللہ امت محمدی کے گناہوں سے درگذر فرما ۔ " 
حاصل یہ ہے کہ جو شخص اپنے اندر سے تمام انسانی واخلاقی برائیاں بدل ڈالے اپنے نفس کو پوری طرح پاکیزہ اور مہذب بنا لے اور مخلوق خداوندی کا خیر خواہ ہو جائے ، تو اس کا شمار ابدال کی جماعت میں ہوگا ۔ 
" عصائب " بھی اولیاء اللہ کے ایک گروہ کا نام ہے جیسا کہ ابدال ! حضرت علی کرمہ اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ ابدال شام کے ملک میں رہتے ہیں ، عصائب عراق کے ملک میں اور نجبا مصر کے ملک میں ( ابدال اور عصائب کی طرح نجباء بھی اولیاء اللہ کی قسموں میں سے ایک قسم ہے ) نیز بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ " عصائب " ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اپنے معاشرہ میں سب سے زیادہ، عابد و زاہد اور نیک ہوں یہ وضاحت غالبا لغوی معنی کے اعتبار سے ہے ، کیونکہ لغت میں " عصب القوم " قوم کے نیک ترین لوگوں کو کہتے ہیں ۔ 
قبیلہ کلب کی لشکر آرائی اور اس کی طرف سے قتل وقتال کا واقع ہونا آخر زمانہ میں ایک " فتنہ " کے طور پر ظاہر ہوگا اور یہ فتنہ بھی حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ظہور کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے ۔ 
" اور مسلمانوں کا دین اپنی گردن پر رکھ دے گا " کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام قائم اور پائیدار ہو جائے گا ' شریعت کی فرمانروائی پورے سکون واطمینان کے ساتھ جاری ہو جائے گی اور تمام مسلمان آسودگی واطمینان کے ساتھ زندگی گذاریں گے واضح رہے کہ " جران " اونٹ کی گردن کے اس اگلے حصہ کو کہتے ہیں جو ذبح کی جگہ سے نحر کی جگہ تک ہوتا ہے ، اونٹ جب چلتے چلتے ٹھہر جاتا ہے اور آرام لینے کے لئے بیٹھتا ہے تو اپنی گردن کے اس حصہ کو زمین پر دراز کر دیتا ہے جس سے اس کو بہت راحت ملتی ہے پس یہاں دین کو اونٹ کی گردن سے تشبیہہ دینے کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ حضرت امام مہدی کے زمانہ میں اسلام کو ثبات وقرار مل جائے گا کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی خلفشار نہیں ہوگا ، باہمی مخالفت ومناقشت اور جنگ وجدال کا نام ونشان تک مٹ جائے گا ، دین واسلام کی برتری ، احکام سنت کی پابندی اور ملی نظام کی خوشحالی کا دور دورہ ہوگا ۔


٤) سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دس مرتبہ سورت اخلاص پڑھے گا اس کے لیے جنت میں ایک محل بنا دیا جائے گا۔ جو شخص بیس مرتبہ پڑھے گا اسکے لیے جنت میں دو محل بنا دیے جائیں گے اور جو شخص تین مرتبہ پڑھے گا اسکے لیے جنت میں تین محل بنا دیے جائیں گے حضرت عمر بن خطاب نے عرض کی یا رسول اللہ اس طرح تو ہم بہت سے محل پا لیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی رحمت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں ابوعقیل نامی راوی کا نام زہرہ بن معبد ہے لوگوں نے یہ بات سنی کہ یہ صاحب ابدال کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔
=================
قطب کسے کہتے ہیں ؟؟؟

ابدال، قطب وغیرہ، ہم معنی الفاظ ہیں، ﷲ والے کسی کی تعریف سے متاثر نہیں ہوتے اسی لیے انہیں قطب کہتے ہیں۔ قطب ستارہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں۔ نہ مخلوق کی تعریف ان پر اثر انداز ہوتی ہے نہ برائی۔ مدح و ذم ان کے لیے برابر ہوتی ہے۔ 

حدیث میں ابدال کے متعلق یوں ذکر آیا ہے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بعض لوگوں نے گزارش کی کہ آپ اہل شام پر لعنت اور بد دعا فرمادیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کہ میں نے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ملک شام میں چالیس ابدال ہوتے ہیں، جب ان میں سے کسی ایک کی وفات ہوجاتی ہے توان کی جگہ دوسرے کو قائم مقام کردیا جاتا ہے، اور انھیں کی برکت اور دعاوٴں سے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے، اور کفار اور دشمنوں کے خلاف اہل شام کی مدد کرتا ہے، اور انھیں کی برکت سے اہل شام کے اوپر سے عذاب کو دور فرماتا ہے۔ (مشکاة شریف: : ۲/۵۸۲ ; رقم الحديث : 6268)
اسی کی شرح میں ملا علی قاری نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت نقل کی، جس سے غوث، قطب، ولی وغیرہ کے وجود کا پتہ چلتا ہے، نیز مذکورہ بالا حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ان کی برکت سے بارش، دشمنوں کے مقابل میں مدد، اور عذاب کو دفع کیا جاتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مرقاة: ج۱۱ ص۴۶۰، ط امدادیہ پاکستان) مظاہر حق جدید، ج۷ ص۵۲۸) دلائل السلوک، تعلیم الدین، رسائل ابن عابدین وغیرہ۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”الخیر الدالّ“ میں قدرے تفصیلی بحث فرمائی ہے۔
جن ممالک یا صوبے یا علاقہ میں آسمانی آفات اور بلائیںآ تی ہیں، اس کی وجہ عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ وہاں والوں کی طرف سے خدا کی نافرمانی حد سے تجاوز کرجاتی ہے حتی کہ ان سے قطب وابدال کی توجہات ہٹ جاتی ہیں، خدا تعالیٰ بھی سخت ناراض ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں آسمانی عذاب اور آفات ان پر آپڑتی ہیں۔ قطب وابدال کا معاملہ پوشیدہ ہوتا ہے اور ائمہ مجتہدین اور مجددین کا حال پوشیدہ نہیں ہوتا ہے، راہِ نبوت، راہ ولایت سے اعلیٰ اور فائق ہوتی ہے، اور حضرات صحابہٴ کرام میں سے ہرایک کو قطب وابدال سے اعلیٰ درجہ حاصل تھا، اور ائمہ مجتہدین اور فقہاء ومحدثین اور ہرصدی میں آنے والے مجددین کا کام ہی منہاجِ نبوت اور صحابہٴ کرام کے طریقہ کو زندہ کرنا اور شرک وبدعت کو دین سے نکال کر مٹانا ہے، اس لیے صرف حضرات صحابہٴ کرام اور خلفائے راشدین اور ان کے طریقوں کو زندہ کرنے والے ائمہ مجتہدین اور ہرصدی کے مجددین کا اتباع کرنا ہم سب پر لازم ہے۔ (انوارِ ہدایت) واللہ تعالیٰ اعلم

************************************
حدیث مجدد اور  معیار مجددیت
مجدد کا اصطلاحی مفہوم: مجدد کے لفظی معنی تجدید کرنے والے کے ہیں لیکن اصطلاح میں مجدد اس شخص کو کہتے ہیں جو ان بدعات اور خرابیوں کو دور کرسکے جن کی وجہ سے حقائق ومعارف اسلام دوبارہ اپنی اصلی شان میں نظر آسکیں۔

بظاہر نبی اور مجدد میں بڑی حد تک مشابہت پائی جاتی ہے کیونکہ دونوں کا کام اصلاح خلق ہے لیکن ایک اہم فرق بھی موجود ہے جو دونوں کو ایک دوسرے سے جدا اور صاف طور سے متمیز کردیتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ نبی کتاب لاتا ہے اور خدا کا پیغام لوگوں کو سناتا ہے اور اس کتاب اور پیغام کی بنا پر لوگوں کو ایک نئے آئین اور نئے طریق کی طرف بلاتا ہے۔ وہ انبیائے ماسبق کا مطیع اور تابع نہیں ہوتا یعنی وہ پرانے دین کو پیش نہیں کرتا بلکہ اپنا دین اور اپنی شریعت جاری کرتا ہے اور اس کی بناء پر لوگوں کے عقائد واعمال کی اصلاح کرتا ہے لیکن مجدد نہ کوئی کتاب لاتا ہے اور نہ نیا دستور العمل پیش کرتا ہے اور نہ کوئی دعویٰ کرتا ہے اور نہ منکرین ومومنین میں امتیاز روا رکھتا ہے‘ نہ اپنے منکرین کو کافر کہتا ہے اور نہ کسی نئے آئین کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے نہ وہ کوئی امت بناتا ہے اور نہ شریعت میں کمی بیشی کرسکتا ہے۔ وہ جس نبی کی امت میں ہے اس امت کے اندر رہ کر اسی نبی کے دین کو جس کا وہ خود پابند ہے از سر نوزندہ کرتا ہے۔ اس کی بعثت کا مقصد بدعات کا سیئہ کا دور کرنا ہوتا ہے یعنی وہ لوگوں کو صرف کتاب اور سنت کی طرف بلاتا ہے جن کی طرف سے لوگ غافل ہیں۔ دعویٰ تو بڑی چیز ہے اس کے لئے یہ بھی لازمی نہیں کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ میں مجدد ہوں۔ اگر کسی نے کہا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجددیت کا دعویٰ کوئی لازمی اور ضروری چیز ہے۔


حدیث مجدد:
ان تصریحات ضروریہ کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں شروع سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اس امت میں مجددین ومصلحین پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس خیال کا مبنیٰ اور ماخذ سنن ابودائود کی ایک حدیث ہے جسے میں ذیل میں نقل کرتا ہوں

عن ابی ہریرہؓ فیما اعلم عن رسول اﷲﷺ قال ان اﷲ یبعث لھذہ الامۃ علیٰ راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۰ سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب مایذکر فی  قرن المائۃ‘ج۲ص۱۳۲

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اﷲ اس امت کے لئے ہر صدی کے آغاز میں ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو دین کی اصلاح کرے گا

سنن ابو دائود‘ صحاح ستہ میں شامل ہے اور محدثین کا عموماً اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے۔ مثلاً حاکم نے اپنی مستدرک ج۵ص۷۳۰ نمبر۸۶۳۹طبع بیروت میں اور امام بیہقی نے اپنی مدخل میں اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ نواب صدیق حسن خاں مرحوم نے اپنی کتاب حجج الکرامہ ص۵۱ میں لکھا ہے کہ حدیث مجدد‘ ہم کو ابودائود‘ امام حاکم اور امام بیہقی کی معرفت پہنچی ہے اور اس کی صحت مسلم ہے۔نیز ملا علی قاریؒ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۱ ص۳۰۲ پر لکھا ہے کہ یہ حدیث جو ہم کو ابودائود کی معرفت پہنچی ہے صحیح ہے اس کے راوی سب ثقہ ہیں۔

القصہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی صحت روایتاً اور درایتاً دونوں طریقوں سے ثابت ہوسکتی ہے۔ اول الذکر طریق اوپر مذکور ہوچکا اوردرایتاً اس لئے صحیح ہے کہ جب آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپﷺ کے بعد قیامت تک کوئی شخص نبوت کے مرتبہ پر فائز نہیں ہوسکتا۔ باب نبوت بہ پیرائے وحی رسالت تاقیامت بند ہوچکا ہے۔ تشریعی یا غیرتشریعی کسی قسم کا نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ جب بعثت انبیاء کا مقصد یعنی اعطائے ہدایت حاصل ہوچکا تو پھر نبی کی بعثت ایک فعل عبث ہوا اور اﷲ تعالیٰ کی شان اس سے کہیں ارفع ہے کہ وہ کوئی کام ایسا کرے جو حکمت اور مقصد سے خالی ہو

فعل الحکیم  لایخلوعن الحکمۃ۰

لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مرور ایام سے دین کی حقیقت عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور بدعات ومحدثات کا رواج ہوجاتا ہے۔ پس لازمی ہے کہ ہر صدی میں کم از کم ایک بندہ خدا کا ایسا پیدا ہو جو لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف بلائے اور دین اسلام کو از سر نو زندہ کرے اور اس کی حقیقی خوبیوں کو از سر نو عالم آشکارا کرے۔ تاکہ حق وباطل میں امتیاز ہوسکے۔


مجدد کا تخیل:
واضح ہو کہ اسلام میں مجددین ومصلحین امت کی بعثت کا تخیل عقائد میں داخل نہیں ہے اور نہ اس پر نجات کا دار ومدار ہے۔ آنحضرتﷺ کی رسالت اور قرآن مجید کی حقانیت پر ایمان لانا اور نیک عمل کرنا نجات وفلاح اخروی کے لئے کافی وافی ہے۔ اگر ایک مسلمان قرآن مجید کو اپنا ہادی وپیشوا بنالے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس بات کی بھی تلاش کرے کہ میرے زمانہ میں کون شخص مرتبہ مجددیت پر فائز ہے اور اگر اسے یہ معلوم بھی ہوجائے کہ فلاں شخص مجدد ہے توبھی اس کے لئے یہ لازمی یا ضروری نہیں کہ وہ اس کی مجددیت پر ایمان لائے کیونکہ اسلام میں کسی مجدد کی مجددیت پر ایمان لانا فرض یا واجب قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے انکار سے اس کے اسلام اور ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا کیونکہ اس کا یہ فعل کسی نص صریح کی تکذیب کو مستلزم نہیں۔ اسی لئے کسی زمانہ میں کسی مفسر‘ محدث یا امام نے مجددین پر ایمان لانے کو شرط اسلام یا ایمان قرار نہیں دیا۔ 


معیار مجددیت:
اب میں وہ شرائط پیش کرتا ہوں جن کا مجدد میں پایا جانا۔میری رائے میں اشد ضروری ہے۔

۱) علم قرآن وحدیث:
پہلی شرط یہ کہ مجدد اپنے زمانہ میں قرآن مجید کا سب سے بڑاعالم ہو۔ تاکہ اس کے حقائق ومعارف سن کر عوام وخواص دونوں اس کے گرویدہ ہوجائیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک علوم ظاہری کے ساتھ ساتھ علوم باطنی کسی شخص کو حاصل نہ ہوں وہ قرآن مجید کے معارف عالیہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس اگر ایک طرف مجدد منطق اور فلسفہ کا ماہر ہو تو دوسری طرف وہ تصوف اور سلوک کے مقامات بھی طے کرچکا ہو۔ بقول امام غزالی :

جو شخص تصوف میں مرتبہ بلند نہیں رکھتا وہ نبوت ورسالت ‘ وحی والہام وغیرہ کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ سوائے اس کے کہ ان لفظوں کو زبان سے ادا کرلے۔


۲) قوت اصلاح:
مجدد کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ اس میں اصلاح کی خاص اور غیر معمولی قوت ہو اور یہ بات اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب اس نے پہلے اپنے احوال کی اصلاح کرلی ہو۔ ورنہ یوں تو ہر شخص وعظ ونصائح کا دفتر کھول سکتا ہے۔ اخلاق حسنہ کا درس دے سکتا ہے لیکن اس زبانی جمع خرچ سے افراد امت کی اصلاح کا عظیم الشان کام سرانجام نہیں دیا جاسکتا۔مجدد وہ ہے جس کی زندگی سراپا قرآن وسنت کے مطابق ہو۔ یہ نہ ہو کہ جب مخالفین اس پر اعتراضات کریں تو وہ جامہ ٔانسانیت سے معراء ہوکر انہیں بے نقط سنانے لگے اور اس کی تحریر ایسی سو قیانہ ہوجائے کہ اس کو پڑھ کے بے شرمی وبے حیائی بھی آنکھیںبند کرلیں۔ مجدد وہ ہے جس کے الفاظ میں جادو ہو۔ جس کی باتوں میں اعجاز ہو۔ جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔ جو حیوانوں کو انسان بنادے اور انسانوں کو خدا سے ملادے۔

۳) زہد وتقویٰ:
مجدد کے لئے تیسری شرط زہد وتقویٰ ہے۔ اس کی زندگی ایسی ہو کہ جو شخص اس کے پاس بیٹھے اسے یہ معلوم ہو کہ یہ شخص خدا رسیدہ ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں خدا تعالیٰ اور اس کے احکام کو سامنے رکھے۔ اس کا ہر فعل اسلام کی عزت کے لئے ہو۔ نہ یہ کہ وہ اپنی مطلب برآری کے لئے بے گناہ انسانوں کو اذیت دے اور لوگوں کو تہدید آمیز خطوط لکھے کہ اگر تم میرا کہنا نہیں مانو گے تو میں فلاں فلاں طریقہ سے تمہیں ایذا پہنچائوں گا اور اپنے بیٹے سے کہہ کر تمہاری لڑکی کو طلاق دلوا دوں گا۔ ظاہر ہے کہ ایسی بات اس شخص کے قلم سے ہرگز نہیں نکل سکتی جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تقویٰ یا خوف خدا ہوگا۔ مجدد وہ ہے جس کی زندگی زہد واتقاء کی جیتی جاگتی تصویر ہو۔ اس کا اشد مخالف بھی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کا فلاں فعل شرط تقویٰ کے خلاف ہے۔ حاشیہ نشینوں کی گواہی چنداں معتبر نہیں

الفضل ماشھدت بہ الاعدائ۰

بزرگی وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے۔ متقی وہ ہے جس کی زندگی سراپا قرآن مجیدکے سانچہ میں ڈھلی ہوئی ہو اور مجدد بننے کے لئے یہ لازمی شرط ہے جو متقی نہیں وہ مئومن بھی نہیں مجدد ہونا تو بڑی بات ہے

ذٰلک فضل اﷲ یوتیہ من یشآء ۰

والا مضمون ہے۔

۴) حریت آموزی:
چوتھی شرط یہ ہے کہ مجدد مسلمانوں کو حریت کا درس دے۔ حریت اسلام کا امتیازی نشان ہے۔ مسلمان اگر حقیقی معنوں میں مسلمان بن جائیں تو وہ غلام نہیں رہ سکتے

انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین۰

اس پر شاہد ہے۔ پس مجدد کی ایک خاص شناخت یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائے کہ اسلام اور اغیار کی غلامی یہ اجتماع ضدین ہے۔ مجدد کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں میں ایمان کی شمع کو از سر نو روشن کرے نہ یہ کہ انہیں الٹا غلامی کا سبق پڑھائے اور اغیار کی گرفت کو مضبوط کرے۔ مجدد کا فرض یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائے کہ شیر کی حیات یک روزہ روباہ کی حیات صد سالہ سے بہتر ہے۔ اگر وہ نا مساعدہ حالات کی وجہ سے انہیں آزادی سے ہم آغوش نہ کراسکے تو کم از کم اس گوہر گراں مایہ کو حاصل کرنے کا ولولہ تو ان کے اندر پیدا کرے۔ نہ یہ کہ اغیار کی شان میں قصیدہ خوانی کرے اور ان کی پالیسی کو شرط ایمان اور جزو اسلام بنالے۔

۵) اعلائے کلمتہ الحق:
پانچویں شرط جو شرط ماسبق کا منطقی نتیجہ ہے۔ اعلائے کلمتہ الحق کی صفت ہے جس کا پایا جانا مجدد میں از بس ضروری ہے۔ حضرت امام شافعیؒ اور حضرت امام الاحرار امام ابن تیمیہؒ اور حضرت مجدد الف ثانی  کی زندگیوں میں یہ صفت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ چنانچہ آخر الذکر دو حضرات نے جیل خانہ کی صعوبتوں کو بطیب خاطر برداشت کیا لیکن اعلائے کلمتہ الحق کا دامن کسی حال میں ہاتھ سے نہ چھوڑا۔

جب معاندین وحاسدین نے جہانگیر کے کان بھرے کہ شیخ سرہندیؒ حضور کے خلاف سازش میں مصروف ہیں تو ممکن تھا کہ حضرت موصوف جہانگیر کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھ کر نہ صرف رنج قید سے محفوظ ہوجاتے بلکہ دنیا وی حشمت سے بھی بہرہ اندوز ہوتے لیکن آپ نے اپنے دوستوں سے فرمایا کہ امتحان کا وقت آپہنچا۔ دعا ہے کہ پائے ثبات میں لغزش نہ آئے۔ جہانگیر نے آپ کو گوالیار کے جیل خانہ میں بھجوادیا لیکن آپ نے معافی مانگ کر حریت اور صداقت کے نام کو بٹہ نہیں لگایا اور دوران اسیری میں تمام قیدیوں کو اسلام کا شیدا بناکر جہانگیر اور اس کے حاشیہ نشینوں کو محو حیرت کردیا۔ پھول کو جس جگہ رکھو گے خوشبو دے گا۔ ان لوگوں نے بھی جن کو عرف عام میں مجدد نہیں کہتے اعلاء کلمتہ الحق کی روشن مثالیں ہمارے سامنے پیش کی ہیں۔ مثلاً سید الشہداء حضرت حسینؓ اور امام عالی مقام حضرت احمد بن حنبلؒ۔

الغرض جو شخص مسلمانوں کی اصلاح اور تجدید دین کے لئے معبوث ہو اس کا اولین فرض یہ ہے کہ حق بات کہنے سے کسی حال میں بھی باز نہ رہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس کام سے اسے باز نہ رکھ سکے۔ میری رائے میں تو مردان حق آگاہ کی یہ پہلی نشانی ہے۔

۶) خلق:
چھٹی شرط یہ ہے کہ مجدد خلق محمدیﷺ کا نمونہ ہو۔ کیونکہ انسانیت کا کمال اسی صفت سے ظاہر ہوتا ہے اور اگر مجدد میں خود یہ صفت نہ ہو تو وہ دوسروں کو کیا انسان بناسکتا ہے؟۔ مجدد وہ ہے جس کی صحبت میں بیٹھ کر خلق محمدیﷺ کی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔ مجدد وہ ہے جو دشمنوں کے حق میں بھی دعا کرے نہ یہ کہ انہیں گالیاں دے اور اعتراضات سن کر جامہ سے باہر ہوجائے۔

۷) قبولیت:
ساتویں شرط مجدد بننے کے لئے یہ ہے کہ اس میں مقنا طیسی کشش پائی جائے جو دراصل روحانیت اور خدا رسی کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔ حضرت سید احمد صاحب رائے بریلویؒ  کہ صدی سیزدھم کے مجددین میں سے تھے۔ صفت روحانیت سے نمایاں طور پر متصف تھے۔ لوگ ان سے مناظرہ کرنے آتے تھے لیکن ان کے حلقہ بگوش ہوکر واپس جاتے تھے۔ کلکتہ کے زمانہ قیام میں انہوں نے ہزار ہا مسلمانوں کو از سر نو مسلمان بنا دیا۔ کتاب وسنت کو زندہ کرنا ان کا دن رات کا مشغلہ تھا اور یہی ایک مجدد کا مقصد حیات ہوتا ہے۔

اولیاء اﷲ بھی اپنے اپنے زمانہ میں اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ اس لئے ان میں بھی یہ صفت نمایاں ہوتی ہے۔ کون سا مسلمان ہے جو میرے آقا اور مولیٰ حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ کی روحانیت سے واقف نہیں ہے۔ جوگی جیپال پر جوفتح حضور نے پائی اسے جانے دیجئے۔ وہ تو حضرت ختمی مرتبت سردار دوجہاں تاجدار مدینہﷺ کی غلامی کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا۔ روزانہ زندگی اس قدر روحانیت سے لبریز تھی کہ جس پر ایک نگاہ پڑگئی اس کی کایاپلٹ گئی۔ وصال کے بعد بھی حضور کا مزار پرانوار مرجع سلاطین رہا۔بڑے بڑے کجکلاہ آستان بوسی اور ناصیہ فرسائی کو اپنے لئے موجب سعادت سمجھتے رہے۔ یہ سب روحانیت ہی کے کرشمے ہیں۔

مجددین میں بھی یہ صفت لازمی طور پر پائی جاتی ہے۔ روحانیت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ روحانیت کو مجدد سے وہی نسبت ہے جو خوشبو کو پھول سے۔ خوشبو نہ ہو تو پھول کس کام کا؟۔ محض منطق اور فلسفہ سے انسان خود اپنے آپ کو مطمئن نہیں کرسکتا۔ دوسروں کو کیا ایمان اور ایقان عطا کرے گا؟۔ حکمت نظری کافی ہوتی تو امام غزالی  کیوں نواح دمشق میں بادیہ نشینی اختیار کرتے؟۔

۸) دنیادار نہ ہو:
مجدد کے لئے آٹھویں شرط یہ ہے کہ وہ دنیاوی بکھیڑوں سے بالکل پاک صاف ہو۔ دنیا میں رہے لیکن دنیاوی امور سے بالکل الگ تھلگ۔ باہمہ دلے بے ہمہ خاصان خدا کی ہر زمانہ میں یہی روش رہی ہے۔ شاہ ولی اﷲ صاحبؒ اور مولانا محمد قاسمؒ صاحب کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ بزرگ بظاہر دنیا میں رہتے تھے لیکن دنیا دارا نہ تھے۔ ان کی تمام تر توجہ خدا اور اس کے پسندیدہ دین کی طرف مبذول رہتی تھی اور ہر وقت تبلیغ واشاعت اسلام میں مصروف رہتے تھے۔ نہ کسی سے چندہ طلب کرتے تھے نہ اشتہار شائع کرتے تھے۔

۹) عاجزی وانکساری:
نویں شرط یہ ہے کہ مجدد میں عاجزی اور انکساری پائی جائے۔ مجدد وہ ہے جو حلم اور فروتنی‘ ایثار اور تحمل کا ایک پیکر مجسم ہو

نہد شاخ پر میوہ سربر زمین

باوجود عالم ہونے کے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھے۔ جس قدر اس کی شہرت ہوتی جائے وہ خاکساری اختیار کرے۔ مولانا محمد قاسم صاحبؒ کو جن لوگوں نے دیکھا ہے ان کا بیان ہے کہ وہ سادگی اور فروتنی میں اپنی مثال آپ ہی تھے۔ کبھی کوئی کلمہ غرور یا تکبر کا ان کی زبان سے نہیں نکلا۔ اجنبی لوگوں کو یہ گمان بھی نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ قاسم العلوم کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ تمام عمر نان جویں پر قناعت کی اور کھدر کے علاوہ کوئی کپڑا زیب تن نہیں فرمایا۔اگرچہ ایک دنیا ان کی کفش برداری کو موجب سعادت سمجھتی تھی لیکن ان کے کسی قول یا فعل سے یہ بات کبھی مترشح نہیں ہوئی کہ وہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتے ہیں۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ جو شخص اپنی حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے وہ اپنے آپ کو ہیچ سمجھتا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی خدمت قرار دیتا ہے۔ فخرومباحات سے کوسوں دور رہتا ہے کہ یہ بات اس امر کا ثبوت ہے کہ نفس اماّرہ ابھی زندہ ہے۔ ایسے لوگوں سے فوق العادت کام ظاہر ہوتے ہیں لیکن وہ ان پر نازاں نہیں ہوتے۔ وہ دوسروں کے لئے جیتے ہیں اپنے لئے نہیں اور اسی میں سروری کا راز مضمر ہے۔

۱۰) کارہائے نمایاں:
دسویں اور آخری شرط مجددیت یہ ہے کہ مجدد اپنی زندگی میں کوئی ایسا کارہائے نمایاں انجام دے جس کو دیکھ کر آنے والی نسلیں بھی اس کے مرتبہ کا اعتراف کریں۔ جیسے ہم انگریزی میں (WORK OF PERMANT VALUE) کہہ سکتے ہیں۔ خواہ وہ کام جہاد سے متعلق ہو یا تقریر سے‘ تحریر سے وابستہ ہو یا تصنیف سے‘ اصلاح رسوم سے متعلق ہو یا قیام چشمہ فیض سے۔

مثلاً امام غزالی   کی احیاء العلوم ‘ امام رازیؒ کی تفسیر اور شاہ ولی اﷲ صاحبؒ کی حجتہ اﷲ البالغہ ایسی کتابیں ہیں جن کو پڑھ کر ہر مصنف مزاج انسان ان بزرگوں کی جلالت شان کا معترف ہوجاتا ہے

مشک آنست کہ خود ببویدنہ کہ عطار بگوید

لطف تو اسی بات میں ہے کہ مجدد کی ظاہری اور باطنی زندگی ایسی ہو کہ اس کے ہمعصر اور آئندہ نسلیں جب اس کے کارنامے دیکھیں تو غلبہ ٔظن کی بنا پر اسے خود بخود مجدد کا لقب دے دیں۔ مجدد کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو کتاب اور سنت کی طرف بلائے۔ اسلام کو از سر نو زندہ کردے۔ بدعات کا قلع قمع کردے۔ لوگ اسے خود بخود مجدد کہنے لگیں گے۔ اس کے لئے نہ دعویٰ کرنا ضروری ہے نہ مسلمانوں پر اس کی شناخت فرض ہے۔ دعویٰ تو وہ کرتا ہے جو نئی بات یا نیا پیغام لاتا ہے۔

مجدد تو صرف کتاب وسنت کو پیش کرتا ہے جو پہلے سے موجود ہوتی ہے لیکن لوگ ان دونوں کی طرف سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس کا کام یہ ہے کہ اسلام کی اصلی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرے اور اپنے طریق عمل سے لوگوں میں اسلامی شریعت پر عامل ہونے کی تحریک پیدا کردے اور کوئی کام ایسا کرجائے جس کو دیکھ کر آنے والی نسلیں اس کے مرتبہ کو بآسانی شناخت کرسکیں


No comments:

Post a Comment