Saturday, 30 March 2013

شیطان اور شیطانی اعمال

يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ وَالمَيسِرُ وَالأَنصابُ وَالأَزلٰمُ رِجسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ {5:90}
اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ
اس آیت سے پہلے بھی بعض آیات خمر (شراب) کے بارہ میں نازل ہو چکی تھیں۔ اول یہ آیت نازل ہوئی۔ { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِؕ قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا } (بقرہ رکوع ۲۷) گو اس سے نہایت واضح اشارہ تحریم خمر کی طرف کیا جا رہا تھا مگر چونکہ صاف طور پر اس کے چھوڑنے کا حکم نہ تھا اس لئےحضرت عمرؓ نے سن کر کہا { اللّٰھم بَیِّنْ لَنَا بَیَانًا شافیًا } اس کے بعد دوسری آیت آئی { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی } (نساء رکوع ۶) اس میں بھی تحریم خمر کی تصریح نہ تھی گو نشہ کی حالت میں نماز کی ممانعت ہوئی اور یہ قرینہ اسی کا ذکر تھا کہ غالبًا یہ چیز عنقریب کلیۃً حرام ہونے والی ہے۔ مگر چونکہ عرب میں شراب کا رواج انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اس کا دفعۃً چھڑا دینا مخاطبین کے لحاظ سےسہل نہ تھا اس لئے نہایت حکیمانہ تدریج سے اولًا قلوب میں اس کی نفرت بٹھلائی گئ اور آہستہ آہستہ حکم تحریم سے مانوس کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس دوسری آیت کو سن کر پھر وہ ہی لفط کہے { اللّٰھم بَیِّنْ لَنَا بَیَانًا شافیًا } آخرکار "مائدہ" کی یہ آیتیں جو اس وقت ہمارےسامنے ہیں { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } سے {ف َھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ } تک نازل کی گئیں۔ جس میں صاف صاف بت پرستی کی طرح اس گندی چیز سےبھی اجتناب کرنے کی ہدایت تھی۔ چنانچہ حضرت عمرؓ { فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ } سنتے ہی چلا اٹھے { اِنْتَھَیْنَا اِنْتَھَیْنَا } لوگوں نےشراب کے مٹکے توڑ ڈالے، خم خانے برباد کر دیے۔ مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہتی پھرتی تھی۔ سارا عرب اس گندی شراب کو چھوڑ کر معرفت ربانی اور محبت و اطاعت نبوی کی شراب طہور سے مخمور ہو گیا اور ام الخبائث کے مقابلہ پر حضور ﷺ کا یہ جہاد ایسا کامیاب ہوا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ جس چیز کو قرآن کریم نے اتنا پہلےاتنی شدت سے روکا تھا آج سب سے بڑےشراب خوار ملک امریکہ وغیرہ اس کی خرابیوں اور نقصانات کو محسوس کر کے اس کے مٹا دینے پر تلے ہوئےہیں فللہ الحمد و المنتہ۔
"انصاب" و "ازلام" کی تفسیر اسی سورت کی ابتداء میں { وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْابِالْاَزْلَامِ } کے تحت میں گذر چکی۔
==============================================================

إِنَّ المُبَذِّرينَ كانوا إِخوٰنَ الشَّيٰطينِ ۖ وَكانَ الشَّيطٰنُ لِرَبِّهِ كَفورًا {17:27}
کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفران کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے
یعنی مال خدا کی بڑی نعمت ہے جس سے عبادت میں دلجمعی ہو ، بہت سی اسلامی خدمات اور نیکیاں کمانے کا موقع ملے ، اس کو بیجا اڑانا ناشکری ہے جو شیطان کی تحریک و اغواء سے وقوع میں آتی ہے اور آدمی ناشکری کر کے شیطان کے مشابہ ہو جاتا ہے ۔ جس طرح شیطان نے خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو عصیان و اضلال میں خرچ کیا ۔ اس نے بھی حق تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو نافرمانی میں اڑایا۔
==============================================================

۱۔ نمازی کے آگے سے گزرنے والا:۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی شخص سترہ کی جانب نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی بندہ تمھارے اور سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو تم اس کو روکو، اگر وہ نہ رکے تو اس سے لڑائی کرو کیونکہ "وہ شیطان ہے"
[بخاری، کتاب الصلاۃ، باب یردالمصلی من مر بین یدیہ، حدیث: ۵۰۹]


تشریح 
" قتل" کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقۃً ایسے آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دینا چاہئے بلکہ قتل سے مراد یہ ہے کہ چونکہ نمازی کے آگے سے گزرنا بہت برا ہے اس لیے اگر کوئی آدمی نمازی کے آگے سے گزرنا چاہے تو اسے پوری طاقت و قوت کے ساتھ گزرنے سے روک کر اسے اتنی بڑی غلطی کے ارتکاب سے بچایا جائے۔ 
قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ ایسے آدمی کو کسی ایسی چیز کے ذریعے روکا جائے جس کا استعمال اس روکنے کے سلسلے میں جائز ہو اور اس روک تھام میں اگر گزرنے ولا آدمی مر جائے تو علماء کے نزدیک متفقہ طور پر اس کا قصاص نہیں ہوگا۔ ہاں دیت کے واجب ہونے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے چنانچہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ایسی شکل میں دیت واجب ہوگی اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ واجب نہیں ہوگی۔


حدیث میں ایسے آدمی کو شیطان کہا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے چونکہ اس آدمی کو بہکا کر اس غلط کام کو کرنے پر مجبور کیا لہٰذا وہ آدمی اس شیطانی کام کر نے کی بناء پر بمنزلہ شیطان کے ہوا۔ 
یا اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا غلط کام کرنے والا آدمی انسانوں کا شیطان ہے اس لیے کہ شیطان کے معنی سر کش کے ہیں خواہ انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے ہو اسی لیے شریر النفس آدمی کو شیطان انس کہا جاتا ہے۔


۲۔ کالا کتا:۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ( مدینہ کے ) کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دے دیا تھا چنانچہ ( ہم مدینہ اور اطراف مدینہ کے کتوں کو مار ڈالتے تھے ) یہاں تک کہ جو عورت جنگل سے آتی اور اس کا کتا اس کے ساتھ ہوتا تو ہم اس کو بھی ختم کر دیتے تھے ، پھر بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام کتوں کو مار ڈالنے سے منع فرما دیا اور یہ حکم دیا کے خالص سیاہ کتے کو جو دو نقطوں والا ہو مار ڈالنا تمہارے لئے ضروری ہے کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ "
[صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب قدر ما یستر المصلی، حدیث: ۵۱۰]


تشریح 
علماء نے لکھا ہے کہ کتوں کو مار ڈالنے کا حکم صرف مدینہ منورہ کے ساتھ مخصوص تھا کیونکہ وہ شہر مقدس محض اسی اعتبار سے تقدیس کا حامل نہیں تھا کہ اس میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اقامت پذیر تھے بلکہ اس اعتبار سے بھی اس کو پاکیزگی کی عظمت حاصل تھی کہ وہ وحی کے نازل ہونے اور ملائکہ کی آمد و رفت کی جگہ تھا ، لہذا یہ بات بالکل موزوں اور مناسب تھی کہ اس کی سر زمین کو کتوں کے وجود سے پاک رکھا جاتا ۔ 
عورتوں کی تخصیص یا تو اس وجہ سے ہے کہ جو عورتیں جنگل میں بود وباش رکھتی تھیں ان کو ( مویشیوں وغیرہ کی حفاظت کے لئے ) کتوں کی زیادہ ضرورت ہوتی تھی ، اور جب وہ شہر میں آتیں تو اس وقت بھی ان کا کتا ان کے ہمراہ ہوتا تھا ۔ 
یا یہ کہا جائے کہ یہاں عورت کی قید محض اتفاقی ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کتوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جاتا تھا جو جنگل سے شہر آ جاتے تھے خواہ وہ کسی عورت کے ساتھ آتے یا کسی مرد وغیرہ کے ساتھ ۔ 
" جو دو نقطوں والا ہو ' یعنی وہ کالا بھجنگ کتا جس کی دونوں آنکھوں پر دو سفید نقطے ( ٹپکے ) ہوتے ہیں ۔ اس قسم کا کتا چونکہ انتہائی شریر اور لوگوں کے لئے سخت تکلیف اور ایذاء پہنچانے والا ہوتا ہے اس لئے اس کو " شیطان " فرمایا گیا ہے ۔ 
اس کو " شیطان " کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسا کتا نہ نگہبانی کے کام کا ہوتا ہے اور نہ شکار پکڑنے کے مصرف کا ، چنانچہ اسی سبب سے حضرات امام احمد و اسحق نے یہ کہا ہے کہ سیاہ کتے کا پکڑا ہوا شکار حلال نہیں کیونکہ وہ شیطان ہے ۔ 
حضرت امام نووی فرماتے ہں کہ عقور یعنی کٹ کھنے کتے کو مار ڈالنے پر تو علمار کا اتفاق ہے اگرچہ وہ سیاہ رنگ کا نہ ہو لیکن اس کتے کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں جو نقصان و ضرر پہنچانے والا نہ ہو ۔ 
امام حرمین کہتے ہیں کہ کتوں کو مار ڈالنے کے حکم کی اصل صورت حال یہ ہے کہ پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا ، بعد میں اس حکم کی عمومیت منسوخ کر کے اس کے صرف یک رنگ سیاہ کتے تک محدود کر دیا گیا اور پھر آخری طور پر ان تمام کتوں کو مار ڈالنے کی ممانعت نافذ ہوئی جو نقصان و ضرر پہنچانے والے نہ ہوں ، یہاں تک کہ یک رنگ سیاہ کتے کو بھی اس حکم میں شامل کر دیا گیا اگر اس سے نقصان و ضرر پہنچنے کا خطرہ نہ ہو تو اس کو بھی ختم نہ کیا جائے ۔ 
" اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ( سارے کتوں کے یا مدینہ کے ) کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ، لیکن شکاری کتوں اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں اور مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کو مستثنی رکھا ۔ " ( بخاری ومسلم )


۳۔ غیر محرموں کے سامنے زیب و زینت کا اظہار کرنے والی عورت:۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت شیطان کی صورت میں آتی جاتی ہے، جب تم میں سے کوئی ایک کسی عورت کو دیکھے تو وہ اپنے اہل کو آئے ۔ یہ عمل اس کے دل میں داخل شدہ خیالات کو ختم کردے گا۔
[صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب ندب من رأی امراۃ فوقعت فی نفسہ أن یأتی أھلہ، حدیث: ۱۴۰۳]

۴۔ عشقیہ اشعار پڑھنے والا:۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول الہ ﷺ کے ساتھ "عرج" نامی جگہ سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک شاعر سامنے آیا۔ وہ شعر گوئی کررہا تھا، تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: شیطان کو پکڑ یا اس شیطان کو روکو، تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے پیٹ کو پیپ کے ساتھ بھر لے جو اس کی آنتوں کو کاٹ کے رکھ دے ، یہ اس کے لیے اشعار یاد کرنے سے بہتر ہے۔
[مسلم ، کتاب الشعر، بابٌ، حدیث: ۲۲۵۹]


۵۔ تنہا سفر کرنے والا:۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک سوار شیطان ہے، دوسوار شیطان ہیں اور تین افراد ہوں تو قافلہ ہے۔"
[جامع الترمذی، ابواب الجہاد عن رسول اللہﷺ ، باب ماجاء فی کراھیۃ أن یسافر الرجل وحدہ، حدیث: ۱۶۷۴]
تشریح : 
تین سوار سوار ہیں کا مطلب یہ ہے کہ تین سوار اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کو سوار کہا جائے کیونکہ وہ شیطان کی فریب کاریوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ گویا اس طرح ایک یا دو سوار کو سفر کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ سفر میں کم سے کم تین ساتھیوں کا ہونا ضروری ہے اس لئے کہ تنہا سفر کرنے میں ایک نقصان تو یہ ہے کہ جماعت فوت ہو جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ اگر اس کو کوئی ضرورت وحادثہ پیش آجائے تو اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا اور وہ ہر معاملے میں درماندہ رہتا ہے ، اسی طرح اگر محض دو ساتھی سفر کریں تو اس صورت میں اگر خدانخواستہ یہ بات پیش آجائے کہ ایک ساتھی بیمار ہو جائے یا مر جائے تو دوسرا ساتھی سخت مضطر اور پریشان ہو گا اور یہ چیز شیطان کی خوشی کا باعث ہے یا یہ مراد ہے کہ اگر کوئی شخص تنہا سفر کرے یا سفر کے دو ہی ساتھی ہوں تو شیطان کو بڑی آسانی کے ساتھ یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ان کو گمراہ کرے اور برائی میں مبتلا کرے ، اسی بات کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے ایک سوار یا دو سوار کو شیطان فرما دیا گیا ہے ۔ 
بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ سفر میں کم سے کم تین آدمی ہونے چاہئیں تاکہ اول تو وہ جماعت سے نماز ادا کریں اور دوسرے یہ کہ اگر ایک شخص کو دوران سفر کسی ضرورت سے کہیں جانا پڑے تو دو باقی رہیں اور آپس میں ایک دوسرے کی دلبستگی واطمینان کا ذریعہ بنیں اور اگر اس شخص کے آنے میں تاخیر ہو جائے تو ان دونوں میں سے ایک اس کی خبر لینے اور تاخیر کا سبب جاننے کے لئے چلا جائے اور دوسرا سامان وغیرہ کی دیکھ بھال کرتا رہے ۔  

۶۔ کبوتر اور اس کے پیچھے بھاگنے والا:۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کبوتری کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: "شیطان ، شیطانہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
[ابوداؤد، کتاب الأدب، باب فی اللعب بالحمام، حدیث: ۴۹۴۰]
تشریح
اس شخص کو شیطان اس لئے فرمایا کہ وہ حق سے بعد اختیار کئے ہوئے تھا اور لایعنی و بے مقصد کام میں مشغول تھا اور ان کبوتروں کو اس بنا پر شیطان فرمایا کہ انہوں نے اس شخص کو بازی اور لہو و لعب میں مشغول کر کے ذکر الہٰی اور دین و دنیا کے دوسرے کاموں سے باز رکھا ، اس سے معلوم ہوا کہ کبوتر بازی حرام ہے اور نووی نے لکھا ہے کہ انڈے سے بچے حاصل کرنے کے لئے دل کو بہلانے کی خاطر اور نامہ بری کے مقصد سے کبوتروں کو پالنا بلا کراہت جائز ہے لیکن ان کو اڑانا مکروہ ہے ۔


۷۔ گانا سننے اور گنگنانے والا:۔، ۸۔ رقص کرنے اور دیکھنے والا:۔
ایک حبشی عورت رقص کررہی تھی اور گاناگا رہی تھی ۔ اچانک عمر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا تو تمام لوگ وہاں سے بھاگ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت کی وجہ سے بھاگتا دیکھ رہا ہوں۔
[جامع الترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب عمر بن الخطاب، حدیث: ۳۶۹۱]

۹۔ خلوت کے راز افشاء کرنے والے مردوعورت:۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "شاید کہ تم میں سے کوئی ایک اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہو جو اس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا ہوتا ہے اور شایدکہ تم (عورتوں )میں سے کوئی ایک بھی ایسا کرتی ہے۔ تو ایک سیاہ رنگ کی عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی: "اے اللہ کے رسول ﷺ! مرد بھی اور عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں ۔" تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ان کی مثال اس شیطان کی طرح ہے جو شیطانہ سے راستہ میں اپنی حاجت کو پورا کرے اور لوگ دیکھ رہے ہوں۔
[مصنف ابن ابی شیبہ ۳۹/۴، مسند احمد ، حدیث: ۲۷۰۳۶]

١٠ - نماز میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان
مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 73 
" اور حضرت عثمان ابن ابی العاص ( عثمان بن ابی العاص کی کنیت ابوعبداللہ ہے قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے تقفی کہلاتے ہیں آپ قبیلہ ثقیتف کے وفد کے ہمراہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کر کے ہدایت سے مشرف ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے قبیلہ کا امیر مقرر کر دیا تھا وفات نبوی کے بعد جب اہل طائف ارتداد کی طرف مائل ہونے لگے تو عثمان بن ابی العاص ہی کی ذات تھی جس نے ان کو ارتداد سے باز رکھا آپ نے بصرہ میں ٥١ھ میں وفات پائی۔) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے اور میری نماز اور میری قرات کے درمیان شیطان حائل ہو جاتا ہے اور ان چیزوں میں شبہ ڈالتا رہتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب تمہیں اس کا احساس ہو ( کہ شیطان وسو اس و شبہات میں مبتلا کرے گا) تو تم اس (شیطان مردود) سے اللہ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین دفعہ تھتکار دو۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق) میں نے اسی طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وسو اس و شبہات سے محفوظ رکھا۔" (صحیح مسلم) 

تشریح
نماز ہی وہ سب سے اہم عبادت ہے جس میں اللہ کے نیک بندوں کا بہکانے اور ورغلانے کے لیے شیطان اپنی سعی و کوشش سب سے زیادہ صرف کرتا ہے یہ شیطان کی تخریب کاری ہوتی ہے۔ جو عام لوگوں کو نماز کے دوران پوری ذہنی یکسوئی سے محروم رکھتی ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کی نیت باندھتے ہیں دل و دماغ میں دنیا بھر کے خیالات کا اجتماع ہونا شروع ہو جاتا ہے وہ باتیں جو کبھی یاد نہیں آتیں نماز ہی کے دوران ذہن میں کلبلانے لگتی ہیں۔ شیطان طرح طرح کے وسوسے اور خیالات پیدا کرتا رہتا ہے، کبھی تو یہ پھونک دیتا ہے کہ نماز مکمل نہیں ہوئی ہے بلکہ ایک رکعت یا دو رکعت چھوٹ گئی ہے، کبھی یہ وہم گزار دیتا ہے کہ نماز صحیح نہیں ہوئی ہے۔ فلاں رکن ترک ہوگیا ہے۔ قرات میں فلاں آیت چھوٹ گئی ہے۔ اس وسوسہ اندازی سے شیطان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنی نماز کا سلسہ منقطع کر دے اور نیت توڑ دے شیطان کی اس تخریب کاری سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب شیطانی اثر سے اس طرح کے واہمے اور شکوک پیدا ہوں تو اپنی نماز کا سلسلہ منقطع نہ کرو، نیت نہ توڑو، بلکہ نماز پوری کرو اور شیطان سے کہو کہ ہاں میں غلطی کر رہا ہوں، نماز میری درست نہیں ہو رہی ہے لیکن میں نماز پڑھوں گا اور تیرے کہنے پر عمل نہیں کروں گا ۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ طریقہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے بہت ہی کارگر ہے۔ اس لیے کہ اس طرح شیطان نمازی سے مایوس ہو جاتا ہے اور جب وہ یہ جان لیتا ہے کہ یہ میرے قبضے میں آنے والا نہیں ہے تو اس کے پاس سے ہٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب کہ نمازی کو یقین ہے کہ میں نماز ٹھیک پڑھ رہا ہوں، نماز کے ارکان و افعال اور قرات میں کوئی کوتاہی یا غلطی واقع نہیں ہو رہی ہے اور اگر واقعی اس کی نماز میں کوئی کوتاہی واقع ہو رہی ہے یا ارکان کی ادائیگی میں غلطی ہو رہی ہے اور اس کا احساس ہو رہا ہے تو اس غلطی و کوتاہی کو دور کرنا اور نماز کی صحت و درستی کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ دراصل اس حکم ( کہ شیطانی خلل اندازی سے صرف نظر کر کے اپنی پوری کرو) کا بنیادی مقصد اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ شیطان سے چوکنا رہو، اس کو اثر انداز ہونے کا موقع نہ دو، اپنے دل و دماغ کو اتنا پاکیزہ اور مجلی رکھو کہ شیطانی وسوسوں اور واہموں کو راہ نہ ملے۔ نماز اس قدر ذہنی یکسوئی توجہ اور حضور قلب کے ساتھ پڑھو کہ شیطان تمہارے پاس آنے کا ارادہ ہی نہ کرے اس حکم کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ غیر درست عمل کو درست نہ کرو اور سہل انگاری دکھاؤ۔



١١ - 
وضو کا شیطان
مشکوۃ شریف:جلد اول:حدیث نمبر 394 
" اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر کار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " وضو کا ایک شیطان ہے جسے " ولہان" کہا جاتا ہے لہٰذا پانی کے وسوسہ سے بچو" (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ) اور امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور محدثین کے نزدیک اس کی سند قوی نہیں ہے اس لیے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ خارجہ (ایک عالم) کے علاوہ کسی نے اس کی سند بیان کی ہو اور وہ (خارجہ) ہمارے محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔"
تشریح
" ولھان" کے معنی ہیں عقل کا جاتے رہنا اور متحیر ہونا۔ یہ نام اس شیطان کا اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کر کے انہیں متحیّر اور بے عقل کر دیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وضو کرنے والا اس چکر میں پھنس کر وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ وہ جب وضو کرتا ہے تو یہ وسوسے اس کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں کہ نامعلوم فلاں عضو پر ٹھیک سے پانی پہنچا ہے یا نہیں ؟ فلاں عضو کو ایک مرتبہ دھویا ہے یا دو مرتبہ؟
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " پانی کے وسوسہ سے بچو " یعنی وضو کے وقت پانی استعمال کرنے میں جب اس قسم کے وسوسے اور وہم پیدا ہوں تو انہیں قائم نہ رہنے دو بلکہ انہیں اپنے دل سے باہر نکال پھینکو تاکہ حدود سنت سے تجاوز نہ کر سکو، کیونکہ اس شیطان کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ وضو کرنے والا ان وسوسوں اور اوہام میں مبتلاء ہو کر اعضاء وضو کو تین مرتبہ سے بھی زیادہ دھو ڈالے یا ضرورت سے زیادہ پانی خرچ کرے جس کی بنا پر وہ مسنون طریقہ سے ہٹ جائے۔ 




١٢ - جن اور شیطان
شکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 56
" اور حضرت سائب ( جو حضرت ہشام ابن زہرہ کے ازاد کردہ غلام تھے اور تابعی ہیں ) کہتے ہیں کہ ( ایک دن ) ہم حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے ، چنانچہ جب کہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ہم نے ان ( ابوسعید ) کے تخت کے نیچے ایک سرسراہٹ سنی ہم نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا ، میں اس کو مارنے کے لئے جھپٹا، مگر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نماز پڑھ چکے تو انہوں نے مکان کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ " کیا تم نے اس کمرے کو دیکھا ہے ؟ " میں نے کہا کہ " ہاں ! " پھر حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ " اس کمرے میں ہمارے خاندان کا ایک نوجوان رہا کرتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ " حضرت ابوسعید نے کہا کہ " ہم سب لوگ ( یعنی وہ نوجوان بھی ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ خندق میں گئے ، ( جس کا محاذ مدینہ کے مضافات میں قائم کیا گیا تھا ) ( روزانہ ) دوپہر کے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( گھر جانے کی ) اجازت مانگ لیا کرتا تھا ( کیونکہ دلہن کی محبت اس کو اس پر مجبور کرتی تھی ) چنانچہ ( اجازت ملنے پر ) وہ اپنے اہل خانہ کے پاس چلا جاتا ( اور رات گھر میں گزار کر صبح کے وقت پھر مجاہدین میں شامل ہو جاتا ) ایک دن حسب معمول ، اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کو اجازت دیتے ہوئے ) فرمایا کہ اپنے ہتھیار اپنے ساتھ رکھو ، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بنو قریظہ تم پر حملہ نہ کر دیں ( بنو قریظہ مدینہ میں یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا جو اس موقع پر قریش مکہ کا حلیف بن کر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک تھا اس نوجوان نے ہتھیار لے لئے اور ( اپنے گھر کو ) روانہ ہو گیا) جب وہ اپنے گھر کے سامنے پہنچا تو ) کیا دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی ( گھر کے ) دونوں دروازوں ( یعنی اندر اور باہر کے دروازے ) کے درمیان کھڑی ہے ، نوجوان نے عورت کو مار ڈالنے کے لئے اس کی طرف نیزہ اٹھایا کیونکہ ( یہ دیکھ کر کہ اس کی بیوی باہر کھڑی ہے ) اس کو بڑی غیرت آئی لیکن عورت نے ( جبھی ) اس سے کہا کہ " اپنے نیزے کو اپنے پاس روک لو اور ذرا گھر میں جا کر دیکھو کہ کیا چیز میرے باہر نکلنے کا سبب ہوئی ہے ۔ " ( یہ سن کر ) وہ نوجوان گھر میں داخل ہوا ، وہاں یکبارگی اس کی نظر ایک بڑے سانپ پر پڑی جو بستر پر کنڈلی مارے پڑا تھا ۔ نوجوان نیزہ لے کر سانپ پر جھپٹا اور اس کو نیزہ میں پرو لیا پھر اندر سے نکل کر باہر آیا اور نیزے کو گھر کے صحن میں گاڑ دیا ، سانپ نے تڑپ کر نوجوان پر حملہ کیا ، پھر یہ معلوم نہ ہو سکا کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا ، سانپ یا نوجوان ؟ ( یعنی وہ دونوں اس طرح ساتھ مرے کہ یہ بھی پتہ نہ چل سکا کہ پہلے کس کی موت واقع ہوئی ) ۔

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ماجرا بیان کر کے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اس نوجوان کو ہمارے لئے زندہ کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ساتھی اور رفیق کے لئے مغفرت طلب کرو ۔ " اور پھر فرمایا کہ ۔ " ( مدینہ کے ان گھروں میں " عوامر " یعنی جنات رہتے ہیں ( جن میں مؤمن بھی ہیں اور کافر بھی ) لہٰذا جب تم ان میں سے کسی کو ( سانپ کی صورت میں ) دیکھو تو تین بار یا تین دن اس پر تنگی اختیار کرو پھر اگر وہ چلا جائے تو فبہا ورنہ اس کو مار ڈالو کیونکہ ( اس صورت میں یہی سمجھا جائے گا کہ ) وہ ( جنات میں کا ) کافر ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ ۔ " جاؤ اپنے ساتھی کی تکفین و تدفین کرو ۔ "
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ " مدینہ میں ( کچھ ) جن ہیں ( اور ان میں وہ بھی ہیں ) جو مسلمان ہو گئے ہیں ان میں سے جب تم کسی کو ( سانپ کی صورت میں ) دیکھو تو تین دن اس کو خبردار کرو ، پھر تین دن کے بعد بھی اگر وہ دکھائی دے تو اس کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہے ۔ " ( مسلم )

تشریح
" آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے ۔ " علماء نے لکھا ہے کہ صحابہ کی یہ روش نہیں تھی کہ وہ اس طرح کی کوئی استدعا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کریں ۔ اس موقع پر ان لوگوں کا خیال یہ تھا کہ نوجوان حقیقت میں مرا نہیں ہے بلکہ زہر کے اثر سے بیہوش ہو گیا ہے ۔ اس خیال سے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کی استدعا کی تھی۔
" مغفرت طلب کرو ۔ " اس ارشاد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ اس کو زندہ کرنے کی دعا کی درخواست کیوں کرتے ہو کیونکہ وہ تو اپنی راہ پر چل کر موت کی گود میں پہنچ گیا ہے جس کے حق میں زندگی کی دعا قطعا فائدہ مند نہیں ہے ، اب تو اس کے حق میں سب سے مفید چیز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت اور بخشش کی درخواست کرو ۔
" اس پر تنگی اختیار کرو یا اس کو خبردار کرو ۔ " کا مطلب یہ ہے کہ جب سانپ نظر آئے تو اس سے کہو کہ تو تنگی اور گھیرے میں ہے اب نہ نکلنا اگر پھر نکلے گا تو ہم تجھ پر حملہ کریں گے اور تجھ کو مار ڈالیں گے ، آگے تو جان ۔
ایک روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول ہے کہ سانپ کو دیکھ کر یہ کہا جائے

انشدکم بالعہد الذی اخذ علیکم سلیمان بن داؤد علیماالسلام لا تاذونا ولا تظہروا لنا ۔
" میں تجھ کو اس عہد کی قسم دیتا ہوں جو حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے تجھ سے لیا تھا کہ ہم کو ایذاء نہ دے اور ہمارے سامنے مت آ ۔ "
" وہ شیطان ہے ۔ " یعنی خبردار کر دینے کے بعد بھی وہ غائب ہوا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ مسلمان جن نہیں ہے بلکہ یا تو کافر جن ہے یہ حقیقت میں سانپ ہے اور یا ابلیس کی ذریات میں سے ہے اس صورت میں اس کو فورا مار ڈالنا چاہئے ۔ اس کو " شیطان " اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ آگاہی کے بعد بھی نظروں سے غائب نہ ہو کر اس نے اپنے آپ کو سرکش ثابت کیا ہے اور عام بات کہ جو بھی سرکش ہوتا ہے خواہ وہ جنات میں کا ہو یا آدمیوں میں کا اور یا جانوروں میں کا اس کو شیطان کہا جاتا ہے ۔ 

١٣ - جرس اور مزامیر :

مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 1004
اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ " جرس ( یعنی گھنگرو اور گھنٹی ) مزامیر (بانسریاں) شیطان ( یعنی شیطانی باجہ ) ہے ۔ " (مسلم )

تشریح :
" مزامیر " دراصل " مزمار " کی جمع ہے اور مزمار " بانسری " کو کہتے ہیں جو بجائی جاتی ہے ، نیز " زمر " اور " تزمیر " بانسری کے ساتھ گانے کو کہتے ہیں ۔ مزامیر بلفظ جمع اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس کی آواز میں اس طرح کا تسلسل ہوتا ہے کہ وہ منقطع نہیں ہوتی گویا اس آواز کی ہر لے اور ہر سلسلہ ایک مزمار ہے ۔ نیز " جرس " کو مزامیر شیطان اس وجہ سے فرمایا گیا ہے کہ وہ انسان کو ذکر واستغراق اور مشغولیت عبادت سے باز رکھتا ہے ۔ 








No comments:

Post a Comment