Monday, 12 August 2013

نبی معصوم کیوں؟؟؟


اگر انبیاء معصوم نہ ہوں تو وہ اطاعت واتباع کے قابل کیسے ہوتے؟ جبکہ اللہ نے انبیاء کی رسالت (یعنی بھیجے جانے) کا مقصد ہی ان کی اطاعت قرار دیا ہے:

وَما أَرسَلنا مِن رَسولٍ إِلّا لِيُطاعَ بِإِذنِ اللَّهِ ۚ {4:64}
اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے
یعنی اللہ تعالیٰ جس رسول کو اپنے بندوں کی طرف بھیجتا ہے سو اسی غرض کے لئے بھیجتا ہے کہ اللہ کے حکم کے موافق بندے ان کے کہنے کومانیں تو اب ضرور تھا کہ یہ لوگ رسول کے ارشاد کو بلاتامل پہلے ہی سے دل و جان سے تسلیم کرتے



امام اعظم ابو حنیفہؒ ، علم عقائد کے موضوع پر لکھی گئی اپنی معروف تصنیف ’’الفقہ الا کبر‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’والانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کلھم منزھون عن الصغائر والکبائروالکفروالقبائح، وقدکانت منہم زلات والخطایا‘‘
’’تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام صغائر اور کبائر اور کفر و قبائح سے بالکل منزہ اور پاک تھے۔ ہاں البتہ لغزش اور بھول چوک ان سے بھی سرزد ہوتی رہی ہے‘‘
﴿البیان الازہر اردو ترجمہ الفقہ الاکبر:ص۸۳﴾

جیسے:
معصوم بچوں سے ابتدائی بےعلمی یا بےتوجہی وغیرہ کے سبب غلطیاں ہو تو سکتی ہیں لیکن وہ قابلِ معافی اور سزا سے محفوظ ہوتے ہیں۔

وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رَسولٍ وَلا نَبِىٍّ إِلّا إِذا تَمَنّىٰ أَلقَى الشَّيطٰنُ فى أُمنِيَّتِهِ فَيَنسَخُ اللَّهُ ما يُلقِى الشَّيطٰنُ ثُمَّ يُحكِمُ اللَّهُ ءايٰتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ {22:52}
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے اپنے پیشرو حضرت شاہ عبدالقادرؒ کی روش اختیار فرمائی ہے جس کی طرف حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہٗ نے بھی "حجۃ اللہ البالغہ" کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ "موضح القران" میں لکھتے ہیں"نبی کو ایک حکم (یا ایک خبر) اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اس میں ہرگز ذرہ بھر تفاوت نہیں ہو سکتا ۔اور ایک اپنے دل کا خیال (اور رائے کا اجتہاد) ہے وہ کبھی ٹھیک پڑتا ہے کبھی نہیں۔ جیسےحضرت نے خواب میں دیکھا (اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے) کہ آپ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ کیا ۔خیال میں آیا کہ شاید امسال ایسا ہو گا (چنانچہ عمرہ کی نیت سے سفر شروع کیا۔ لیکن درمیان میں احرام کھولنا پڑا) اور اگلے سال خواب کی تعبیر پوری ہوئی ۔ یا وعدہ ہوا کہ کافروں پر غلبہ ہو گا۔ خیال آیا کہ اب کی لڑائی میں ۔ اس میں نہ ہوا، بعد کو ہوا۔ پھر اللہ جتلا دیتا ہے کہ جتنا حکم یا وعدہ تھا اس میں سرِ مو تفاوت نہیں۔"ہاں نبی کے ذاتی خیال و اجتہاد میں تفاوت ہو سکتا ہے گو نبی اصل پیشین گوئی کے ساتھ ملا کر اپنے ذاتی خیال کی اشاعت نہیں کرتا بلکہ دونوں کو الگ رکھتا ہے۔ باقی اس صورت میں "القاء" کی نسبت شیطان کی طرف ویسی ہو گی جیسے { وَمَا اَنْسَانِیْہ اِلَّا الشیطانُ اَنْ اَذْکُرَہٗ } میں "اِنْساء" کی نسبت اس کی طرف کی گئ ہے۔ واللہ اعلم۔ احقر کے نزدیک بہتریں اور سہل ترین تفسیر وہ ہے جس کی مختصر اصل سلف سے منقول ہے۔ یعنی "تمنّٰی" کو بمعنی قرات و تلاوت یا تحدیث کے اور "اُنیست" کو بمعنی متلؤ یا حدیث کے لیا جائے ۔ مطلب یہ ہے کہ قدیم سے یہ عادت رہی ہے کہ جب کوئی نبی یا رسول کوئی بات بیان کرتا یا اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ شیطان اس بیان کی ہوئی بات یا آیت میں طرح طرح کے شبہات ڈال دیتا ہے۔ یعنی بعض باتوں کے متعلق بہت لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کر دیتا ہے۔ مثلًا نبی نے آیت { حُرِّمَ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ } الخ پڑھ کر سنائی ، شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کہتے ہیں۔ یا آپ نے { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ } پڑھا ۔اس نے شبہ ڈالا کہ { مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ } میں حضرت مسیح و عزیر اور ملائکۃ اللہ بھی شامل ہیں۔ یا آپ نےحضرت مسیح کے متعلق پڑھا { کَلِمَۃٌ اَلْقَاھَا اِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِنْہُ } شیطان نے سمجھایا کہ اس سے حضرت مسیحؑ کی ابنیت و اولوہیت ثابت ہوتی ہے۔ اس القاء شیطان کے ابطال رد میں پیغمبر اللہ تعالیٰ کی وہ آیات سناتے ہیں جو بالکل صاف اور محکم ہوں اور ایسی پکی باتیں بتلاتے ہیں جن کو سن کر شک و شبہ کی قطعًا گنجائش نہ رہے۔ آیات محکمات سے شیطانی شبہات کا علاج: گویا "متشابہات" کی ظاہری سطح کو لے کر شیطان جو اغواء کر تا ہے " آیات محکمات" اس کی جڑ کاٹ دیتی ہیں جنہیں سن کر تمام شکوک و شبہات ایک دم کافور ہو جاتے ہیں۔ یہ دو قسم کی آیتیں کیوں اتاری جاتی ہیں؟ شیطان کو اتنی وسوسہ اندازی اور تصرف کا موقع کیوں دیا جاتا ہے؟ اور آیات کا جو احکام بعد کو کیا جاتا ہے ابتداء ہی سے کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ یہ سب امور حق تعالیٰ کی غیر محدود علم و حکمت سے ناشی ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو علمًا و عملًا دارامتحان بنایا ہے ۔ چنانچہ اس قسم کی کارروائی میں بندوں کی جانچ ہے کہ کون شخص اپنے دل کی بیماری یا سختی کی وجہ سے پادر ہوا شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور کون سمجھدار آدمی اپنے علم و تحقیق کی قوت سے ایمان و اخبات کے مقام بلند پر پہنچ کر دم لیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آدمی نیک نیتی اور ایمانداری سے سمجھنا چاہے تو اللہ تعالیٰ دستگیری فرما کر اس کو سیدھی راہ پر قائم فرما دیتے ہیں ۔ رہے منکریں و مشککین ان کو قیامت تک اطمینان حاصل نہیں ہو سکتا ؂ ہر چہ گیرد علتی علت شود۔ ہماری اس تقریر میں دور تک کئ آیتوں کا مطلب بیان ہو گا۔ سمجھدار آدمی اس کے اجزا کو آیات کے اجزاء پر بے تکلف منطبق کر سکتا ہے۔ یہ آیات جیسا کہ ہم نے سورہ " آل عمران" کے شروع میں بیان کیا تھا۔ { ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰیَاتٌ مُحْکماتٌ } الخ سے بہت مشابہ ہیں۔ چنانچہ { اِلَّا اِذَا تَمنّی اَلْقَی الشَیْطَانُ فِی اُمْنِیَّتِہٖ } میں "متشابہات" کا اور { ثُمَّ یُحْکِمُ اللہُ اٰیَاتِہٖ } میں "محکمات" کا ذکر ہوا ۔ اور { لِیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشیْطَانُ فِتْنَۃً } الخ میں زائغین کی دو قسمیں مذکور ہوئیں۔ جن میں { اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ } کا کام ابتغاء تاویل ، اور { اَلْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ } کی غرض ابتغاء فتنہ ہے آگے { لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا لْعِلْمَ } الخ کو آیۃ {وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ } الخ کی جگہ سمجھو اور وہاں جو دعا { رَبَّنَا لَا تزغ قُلُوبَنَا بَعْدَ اذ ھَدَیْتَنَا } سے کی تھی یہاں اس کی اجابت کا ذکر { اِنَّ اللہَ لَھَادِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْم } میں کیا گیا۔ اور { رَبَّنَا اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْہِ } کے مناسب۔ { وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ مِرْیَۃٍ مِنْہُ حَتّٰی تَاتِیَھُمُ السَّاعَۃُ } الی قولہ ۔ { یَحْکُمُ بَیْنَھُمْ } ہوئی (تنبیہ) آیت حاضرہ کے تحت میں مفسرین نے جو قصہ "غرانیق" کا ذکر کیا ہے اس پر بحث کا یہاں موقع نہیں ۔ شاید سورہ نجم میں کچھ لکھنے کی نوبت آئے ۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں بہت بسط سے اس پر کلام کیا ہے۔ بہرحال آیت کا مطلب سلف کی تفیسر کے موافق بلکل صاف ہے گویا یہ تفصیل اس کی ہوئی جو اوپر { وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْ اٰ یَا تِنَا مُعَاجِزِیْنَ } میں ابطال آیات اللہ کی سعی کا ذکر تھا۔


معصوم کون ؟؟؟
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ ، فَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ تَعَالَى "
[صحيح البخاري » كِتَاب الْأَحْكَامِ » بَاب بِطَانَةِ الْإِمَامِ وَأَهْلِ مَشُورَتِهِ الْبِطَانَةُ ...رقم الحديث: 6686]

ترجمہ : حضرت ابوسعید خدریؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ نہیں بھیجا الله نے کوئی (ایسا) نبی، اور نہ خلیفہ بنایا کسی (ایسے) خلیفہ کو  گر اس کے لئے دو باطن ہوتے ہیں، ایک باطن تو اس کو خیر کا حکم دیتا ہے اور اس کو رغبت دلاتا ہے، دوسرا باطن اس کو شر کا حکم دیتا ہے اور شر کی طرف ابھارتا ہے اور معصوم وہ ہے جسے اللہ محفوظ رکھے۔

تشریح : دو چھپے ہوئے رفیقوں سے مراد فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چنانچہ فرشتہ اور شیطان ہیں یہ دونوں انسان کے باطن میں رہتے ہیں چنانچہ فرشتہ تو نیک کام کرنے کی ہدایت کرتا رہتا ہے اور نیکی کی ترغیب دیتا ہے جب کہ شیطان برے کام کرنے پر اکساتا رہتا ہے اور برائی کی طرف دھکیلتا رہتا ہے ۔
" اور معصوم وہ ہے الخ " کے ذریعہ انبیاء کرام صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین ، خلفاء راشدین اور بعض دوسرے خلفاء وامراء کا حال بیان کیا گیا ہے جن کو اللہ نے شیطان کے شر و فتنہ سے محفوظ رکھا ہے ۔ 
" دو رفیقوں " سے مراد وزیر و مشیر ہو سکتے ہیں جو خلیفہ کے ساتھ ہر دم رہنے کی وجہ سے بطانہ (استرا) سے مشابہ ہو گئے ہیں ، چنانچہ ہر نبی اور خلیفہ کے ساتھ جو مشیر کار اور مصاحب رہتے تھے ان میں دو مختلف خیالات کے حامل افراد بھی ہوتے تھے یا ان کے ساتھ دو جماعتیں ہوتی تھیں جو آپس میں مختلف الرائے ہوتی تھیں جیسا کہ عام طور پر امراء وسلاطین اور والیان ریاست کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جو لوگ ان کے صاحب ، مشیران کار اور کار پرداز ہوتے ہیں ان کے خیالات اور آراء کا بعد بین المشرقین ہوتا ہے ، چنانچہ ان میں سے جو لوگ اچھے خیالات کے اور صائب ہوتے ہیں وہ اپنے والی وامیر کو اچھے مشورہ دیتے ہیں اور جن کے خیالات فاسد ہوتے ہیں یا جن کے طبائع میں برائی کا مادہ ہوتا ہے وہ اپنے والی وامیر کو غلط مشورے دیتے ہیں اور ان کو برائی کی راہ پر چلانا چاہتے ہیں آگے اللہ کی مصلحت کار فرما ہوتی ہے کہ وہ جس والی وامیر کو چاہتا ہے برے مصاحبین کے خیالات اور ان کے مشورے قبول کرنے سے بچاتا ہے ۔
انبیاء چونکہ چنے ہوۓ ہوتے ہیں تو الله تعالیٰ ان کو معصوم (محفوظ) ان کی نبوت سے پہلے شروع سے کرتے ہیں، جبکہ غیر نبی کو بعد میں ان کے سچے ارادہ و عمل کو خود اپنانے سے محفوظ بنادیتے ہیں. کیونکہ اسی کی اتباع کا حکم دیا جاتا ہے جو اس (الله) کے حکم کے تابع (پیروی کرنے والا) و منیب (رجوع کرنے والا) ہوتا ہے اور غیر نبی (مہاجر و انصار صحابہؓ کی اتباع کرنے والوں پر اپنی رضا و جنت کی عظیم کامیابی کی خوشخبری اور حکم بھی دیا ، فرمایا اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو انکے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے اور تیار کر رکھے ہیں واسطے انکے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کےنہریں رہا کریں انہی میں ہمیشہ یہی ہے بڑی کامیابی [سورہ التوبہ : ١٠٠] اور فرمایا : ... اور راہ چل اس کی جو رجوع ہوا میری طرف ... [لقمان : ١٥] کیونکہ ان کے دل پہلے سے کفر ، گناہ اور نافرمانی سے نفرت نہ کرتے تھے، بلکہ بعد میں الله نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال کر ان  چیزوں کی نفرت پیدا کی؛ جیسا کہ الله تعالیٰ نے قرآن میں ان کی شان بیان فرمائی : ... اور اللہ نے محبت ڈال دی تمہارے دل میں ایمان کی اور کھبا دیا اسکو تمہارے دلوں میں اور نفرت ڈال دی تمہارے دل میں کفر اور گناہ اور نافرمانی کی وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر. [سورہ الحجرات : ٧]؛
اسی لئے ان کی طرح سچا ایمان لانے کا (کلمہ گو منافقین کو) حکم فرمایا : اور جب کہا جاتا ہے ان کو ایمان لاؤ جس طرح ایمان لائے سب لوگ تو کہتے ہیں : کیا ہم ایمان لائیں جس طرح ایمان لائے بیوقوف ، جان لو وہی ہیں بیوقوف لیکن نہیں جانتے [البقرہ : ١٣]؛



عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ " ، قَالُوا : وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَإِيَّايَ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ "[صحيح مسلم » كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ ... » بَاب تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ ... رقم الحديث: 5039]

حضرت عبداللہؓ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر ایک آدمی کے ساتھ اس کا جن ساتھی مقرر کیا گیا ہے صحابہؓ کرام نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: اور میرے ساتھ بھی مگر اللہ نے میری اس پر مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہو گیا، پس وہ مجھے نیکی ہی کا حکم کرتا ہے۔(مسلم)





عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ " ، قُلْنَا : وَمِنْكَ ، قَالَ : " وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ ، فَأَسْلَمُ " .[جامع الترمذي » كِتَاب الرَّضَاعِ » بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِيبَات ... رقم الحديث: 1088]

ترجمہ : حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس عورت کا خاوند موجود نہ ہو اس عورت کے پاس مت جاؤ کیونکہ شیطان انسان کے خون کی جگہ میں گردش کرتا ہے لوگوں نے عرض کی آپ کا بھی۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ لیکن اللہ نے اس کے خلاف میری مدد کی اور  اس نے اسلام قبول کرلیا۔[سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر  621 (45565- دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان : شیطان انسان کے خون کی رگوں میں گردش کرتا ہے۔]





عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآَلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حِينَ قَالُوا : خَشِينَا أَنَّ الَّذِي بِرَسُولِ اللَّهِ ذَا الْجَنْبِ ، قَالَ : " إِنَّهَا مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُسَلِّطَهُ عَلَيَّ " . [المستدرك على الصحيحين » رقم الحديث: 8301]
السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 7/1016 ، المحدث:الألباني - خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن
ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی علالت میں کسی نے آپ سے کہا : ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ کو کہیں ذات الجنب کی بیماری نہ ہو ، آپ نے فرمایا : یہ بیماری شیطانی اثر ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ شیطان کو الله تعالیٰ میرے اوپر مسلط فرمادے.( رواہ ام سلمہ و ابن عباس)


نوٹ : " ذات الجنب" ایک مشہور بیماری ہے اس بیماری سے پہلو کے اندر دل اور سینہ کے قریب پھنسیاں ہو جاتی ہیں اور اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ مریض کا سانس رکتا ہے اور بخار اور کھانسی رہتی ہے۔

" ذات الجنب " ایک بیماری ہے اس کی صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ سینے میں ورم ہو جاتا ہے اور یہ اگرچہ عضلات میں پیدا ہوتا ہے مگر پھر باطن سے ظاہر میں آ جاتا ہے اور یہ صورت خطرناک ہے اور اس کا شمار مہلک امراض میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذات الجنب کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ریاح غلیظہ کے رک جانے کی وجہ سے پہلو میں ایک درد ہوتا ہے یہاں حدیث میں جس ذات الجنب کا ذکر ہے اس سے مراد یہی دوسری صورت ہے کیونکہ " عود ہندی " ریاحی امراض کی دوا ہے 



عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " .[سنن ابن ماجه » كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَالْجَمَاعَاتِ » بَاب الدُّعَاءِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ، رقم الحديث: 765]


ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے اور یہ کہے (اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ) اور جب مسجد سے نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے اور کہے (اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ) اے اللہ ! مجھے محفوظ رکھئے شیطان مردود سے ۔
=============================================
گمراہی سے معصوم نبی
القرآن : اور اگر ہم آپ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کو تھام نہ لیتے تو قریب تھا کہ کچھ نہ کچھ آپ ان کی طرف جھک جاتے [بنی اسرائیل : ٧٤]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بےمثال ثابت قدمی: "ترکن" رکون سے ہے ۔ جو ادنیٰ جھکاؤ اور خفیف میلان قلب کو کہتے ہیں اس کے ساتھ شَیْئًا قَلِیْلًا بڑھایا گیا تو ادنیٰ سے ادنیٰ ترین مراد ہو گا۔ پھر لَقَدْ کِدْتَّ فرما کر اس کے وقوع کو اور بھی گھٹا دیا ۔ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ آپ پیغمبر معصوم ہیں جن کی عصمت کی سنبھال حق تعالیٰ اپنے فضل خصوصی سے کرتا ہے تو ان چالاک شریروں کی فریب بازیوں سے بہت ہی تھوڑا سا ادھر جھکنے کے قریب ہو جاتے مگر انبیاء کی عصمت کا تکفل ان کا پروردگار کر چکا ہے ۔ اس لئے اتنا خفیف جھکاؤ بھی نہ پایا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ میں تقوے کی فطری قوت کس قدر مضبوط اور ناقابل تزلزل تھی۔
**********************
القرآن : قسم ہے تارے کی جب گرے۔ بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بے راہ چلا۔ اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے۔ یہ تو وحی ہے بھیجی ہوئی [سورہ النجم : ١-٤]؛
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی راست روی: "رفیق" سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی نہ آپ غلط فہمی کی بناء پر راستہ سے بہکے، نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر بے راہ چلے، بلکہ جس طرح آسمان کے ستارے طلوع سے لیکر غروب تک ایک مقرر رفتار سے معین راستہ پر چلے جاتے ہیں۔ کبھی ادھر اُدھر ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ آفتاب نبوت بھی اللہ کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا ادھر پڑ جائے۔ ایسا ہو تو ان کی بعثت سے جو غرض متعلق ہے وہ حاصل نہ ہو۔ انبیاء علیھم السلام آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی رہنمائی ہوتی ہے اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے۔ ایسے ہی تمام انبیاء کی تشریف بری کے بعد آفتاب محمدی (ﷺ) مطلع عرب سے طلوع ہوا۔ پس اگر قدرت نے ان ظاہری ستاروں کا نظام اس قدر محکم بنایا ہے کہ اس میں کسی طرح کے تزلزل اور اختلال کی گنجائش نہیں تو ظاہر ہے کہ ان باطنی ستاروں اور روحانی آفتاب و ماہتاب کا انتظام کس قدر مضبوط و محکم ہونا چاہیئے۔ جن سے ایک عالم کی ہدایت و سعادت وابستہ ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وحی ہیں: یعنی کوئی کام تو کیا۔ ایک حرف بھی آپ کے دہن مبارک سے ایسا نہیں نکلتا جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ بلکہ آپ جو کچھ دین کے باب میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں وحی متلوّ کو قرآن اور غیر متلوّ کو حدیث کہا جاتا ہے۔

انتقال کے بعد بھی عصمت نبوی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ فِي صُورَتِي ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .[صحيح البخاري » كِتَاب الْعِلْمِ » بَاب إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ...رقم الحديث: 108]


ترجمہ : حضرت ابوہریرہؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میرا نام رکھ لو، مگر میری کنیت (جو ابوالقاسم ہے) نہ رکھو اور (یقین کرلو کہ) جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقینا اس نے مجھے دیکھ لیا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بناسکتا اور جو شخص عمدا میرے اوپر جھوٹ بولے تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے۔

===================================
جانِ نبی کی حفاظت
يٰأَيُّهَا الرَّسولُ بَلِّغ ما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ ۖ وَإِن لَم تَفعَل فَما بَلَّغتَ رِسالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعصِمُكَ مِنَ النّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الكٰفِرينَ {5:67}
اے رسول پہنچا دے جو تجھ پر اترا تیرے رب کی طرف سے اور اگر ایسا نہ کیا تو تو نے کچھ نہ پہنچایا اس کا پیغام اور اللہ تجھ کو بچا لے گا لوگوں سے بیشک اللہ راستہ نہیں دکھلاتا قوم کفار کو
تشریح : یعنی آپ اپنا فرض ادا کئے جاؤ خدا تعالیٰ آپ کی جان اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھلائے گا، باقی ہدایت و ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ ایسی قوم جس نے کفر و انکار ہی پر کمر باندھ لی ہے اگر راہ راست پر نہ آئی تو تم غم نہ کرو اور نہ مایوس ہو کر اپنے فرض کو چھوڑو۔ نبی کریم ﷺ نے اس ہدایت ربانی اور آئین آسمانی کے موافق امت کو ہر چھوٹی بڑی چیز کی تبلیغ کی۔ نوع انسانی کے عوام و خواص میں سےجو بات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی آپ نے بلا کم و کاست اور بے خوف و خطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کر دی اور وفات سے دو ڈھائی مہینے پہلے حجۃ الوداع کے موقع پر جہاں چالیس ہزار سے زائد خادمان اسلام اور عاشقان تبلیغ کا اجتماع تھا آپ نے علیٰ رؤس الاشہاد اعلان فرما دیا کہ "اے خدا تو گواہ رہ میں (تیری امانت) پہنچا چکا"۔



معصوم بچپن
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً ، فَقَالَ : هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ لَأَمَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ ، فَقَالُوا : إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ ، قَالَ أَنَسٌ : وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ "[صحيح مسلم » كِتَاب الإِيمَانِ » بَاب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ ... رقم الحديث: 240]


ترجمہ : حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے حضرت جبرائیل نے آپ کو پکڑا، آپ کو پچھاڑا اور دل کو چیر کر اس میں سے جمے ہوئے خون کا ایک لو تھڑا نکالا اور کہا کہ یہ آپ میں شیطان کا حصہ تھا پھر اس دل کو سونے کے طشت میں زم زم کے پانی سے دھویا پھر اسے جوڑ کر اس جگہ میں رکھ دیا اور لڑکے دوڑتے ہوئے آپ کی رضاعی والدہ کی طرف آئے اور کہنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل کر دئے گئے یہ سن کر سب دوڑے دیکھا صرف آپ کا رنگ خوف کی وجہ سے بدلا ہوا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے آپ کے سینہ مبارک میں اس سلائی کا نشان دیکھا تھا۔(ترجمان)





شرف نبوت سے پہلے معصوم جوانی
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا هَمَمْتُ بِقَبِيحٍ مِمَّا يَهُمُّ بِهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ إِِلا مَرَّتَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ ، كِلْتَاهُمَا عَصَمَنِي اللَّهُ مِنْهُمَا ، قُلْتُ لَيْلَةً لِفَتًى كَانَ مَعِي مِنْ قُرَيْشٍ بِأَعْلَى مَكَّةَ فِي غَنَمٍ لأَهْلِنَا نَرْعَاهَا : أَبْصِرْ لِي غَنَمِي حَتَّى أَسْمُرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِمَكَّةَ كَمَا يَسْمُرُ الْفِتْيَانُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَخَرَجْتُ ، فَلَمَّا جِئْتُ أَدْنَى دَارٍ مِنْ دُورِ مَكَّةَ سَمِعْتُ غِنَاءً ، وَصَوْتَ دُفُوفٍ ، وَمَزَامِيرَ ، قُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : فُلانٌ تَزَوَّجَ فُلانَةَ ، لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ، فَلَهَوْتُ بِذَلِكَ الْغِنَاءِ ، وَبِذَلِكَ الصَّوْتِ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَنِمْتُ ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ ، فَرَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي ، فَقَالَ : مَا فَعَلْتَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، ثُمَّ فَعَلْتُ لَيْلَةً أُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَخَرَجْتُ ، فَسَمِعْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقِيلَ لِي : مِثْلُ مَا قِيلَ لِي ، فَسَمِعْتُ كَمَا سَمِعْتُ ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي ، فَمَا أَيْقَظَنِي إِِلا مَسُّ الشَّمْسِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِِلَى صَاحِبِي ، فَقَالَ لِي : مَا فَعَلْتَ ؟ فَقُلْتُ : مَا فَعَلْتُ شَيْئًا " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَاللَّهِ ، مَا هَمَمْتُ بَعْدَهُمَا بِسُوءٍ مِمَّا يَعْمَلُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ ، حَتَّى أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِنُبُوَّتِهِ.[صحيح ابن حبان » كِتَابُ التَّارِيخِ » بَابُ بَدْءِ الْخَلْقِ » ذِكْرُ الْخَبَرِ الْمُدْحِضِ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ ...رقم الحديث: 6407]


ترجمہ : حضرت علیؓ بن ابی طالب سے مروی ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ خود سنا کہ جن ناشائستہ حرکات کا جاہلیت کے لوگ عام طور پر ارادہ کیا کرتے تھے بجز دو مرتبہ کے میرے دل میں کبھی ان کا خطرہ نہیں گزرا اور ان دونوں مرتبہ میں بھی الله تعالیٰ نے مجھ کو ان میں شرکت کرنے سے بچالیا ہے. ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ ایک قریشی نوجوان جو مکّہ مکرمہ کی بالائی جانب میں اپنی بکریاں چرایا کرتا تھا وہ میرے ساتھ تھا، میں نے اس سے کہا کہ تم ذرا میری بکریوں کی بھی دیکھ بھال رکھنا میں بھی اور نوجوانوں کی طرح آج مکّہ مکرمہ میں جاکر افسانہ گوئی کے شغل کا ارادہ کر رہا ہوں، اس نے کہا : اچھی بات ہے، جب میں چلا اور مکّہ مکرمہ کی آبادی کے قریب ایک گھر کے نزدیک پہنچا تو میں نے گانے، دف اور باجہ بجانے کی آوازیں سنیں. میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ تو لوگوں نے کہا  کہ فلاں قریشی شخص کا فلاں عورت سے نکاح ہوا ہے، میں اس گانے بجانے کے قصہ میں پڑ کر قصہ گوئی کی محفل کی شرکت سے غافل ہوگیا اور اس زور کی نیند آئی کہ پھر دھوپ کی تیزی سے ہی میری آنکھ کھلی. میں اپنے رفیق کے پاس لوٹ آیا، اس نے پوچھا : کہو ، یہاں سے جاکر تم نے کیا کیا ؟ تو میں نے از اول تا آخر سارا ماجرا اس کو سنا دیا. (پھر) ایک شب میں نے اس سے ایسا ہی کہا ، وہ راضی ہوگیا ، پھر میں قصہ گوئی کے لیے نکلا ، پھر مجھے گانے کی آواز آئی اور جیسا شادی کا قصہ مجھ سے پہلے کہا گیا تھا اس مرتبہ پھر وہی مجھ سے کہا گیا. اس قصہ میں لگ کر میں پھر ایسا غافل ہوا کہ مجھ کو نیند آگئی حتیٰ کہ دھوپ کی تیزی سے میری آنکھ کھلی. جب میں اپنے رفیق کے پاس آیا، اس نے  مجھ سے پوچھا : کہو یہاں سے جاکر تم نے کیا کیا ؟ میں نے کہا: میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا . الله کی قسم پھر اس کے بعد پھر کبھی میں نے کسی ایسی حرکت کا ارادہ نہیں کیا جس کے جاہلیت کے لوگ عادی تھے، یہاں تک کہ الله تعالیٰ نے مجھے شرف نبوت سے نوازدیا. 



عَنْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارُهُ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ : يَا ابْنَ أَخِي ، لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ ، قَالَ : فَحَلَّهُ ، فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ عُرْيَانًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .[صحيح البخاري » كِتَاب الصَّلَاةِ » بَاب كَرَاهِيَةِ التَّعَرِّي فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا ..., رقم الحديث: 354]
ترجمہ : حضرت جابرؓ بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ (کی تعمیر) کے لئے قریش کے ہمراہ پتھر اٹھاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم) پر آپ کی ازار بندھی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے چچا عباس نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! کاش تم اپنی ازار اتار ڈالتے اور اسے اپنے شانوں پر پتھر کے نیچے رکھ لیتے، جابر کہتے ہیں کہ آپ نے ازار کھول کر اسے اپنے شانوں پر رکھ لیا، تو بیہوش ہو کر گر پڑے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی برہنہ نہیں دیکھے گئے۔ (صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر  361)؛
دوسرے الفاظ میں یوں ہے کہ
وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ[صحيح البخاري » كِتَاب الْحَجِّ » بَاب فَضْلِ مَكَّةَ وَبُنْيَانِهَا، رقم الحديث: 1485
اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ گئیں،

وفي حديث أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ : فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ ، خَمِّرْ عَوْرَتَكَ ، فَذَلِكَ أَوَّلُ مَا نُودِيَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ فَمَا رُئِيَتْ لَهُ عَوْرَةٌ بَعْدُ وَلا قَبْلُ " .[دلائل النبوة للبيهقي » الْمَدْخَلُ إِلَى دَلائِلِ النُّبُوَّةِ وَمَعْرِفَةِ ... » حَدِيثُ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ ... » بَابُ : مَا جَاءَ فِي بِنَاءِ الْكَعْبَةِ عَلَى طَرِيقِ ...رقم الحديث: 409]
اور حضرت ابوالطفیلؓ کی روایت میں ہے کہ : اس وقت (غیب سے) کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے ، پس یہ پہلی (غیبی) پکار تھی اور الله ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے، چنانچہ پھر کبھی آپ کو برہنہ نہیں دیکھا گیا.





حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَيَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، قَالَ : كَانَ صَنَمٌ مِنْ نُحَاسٍ ، يُقَالُ لَهُ : إِسَافٌ ، أَوْ نَائِلَةُ ، يَتَمَسَّحُ بِهِ الْمُشْرِكُونَ إِذَا طَافُوا ، فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطُفْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا مَرَرْتُ مَسَحْتُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَمَسَّهُ " ، قَالَ زَيْدٌ فَطُفْتُ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لأَمَسَّنَّهُ حَتَّى أَنْظُرَ مَا يَكُونُ ، فَمَسَحْتُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تُنْهَ ؟ " قُلْتُ : زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بِإِسْنَادِهِ ، قَالَ زَيْدٌ : فَوَالَّذِي هُوَ أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ مَا اسْتَلَمَ صَنَمًا حَتَّى أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِالَّذِي أَكْرَمَهُ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ. [دلائل النبوة للبيهقي » الْمَدْخَلُ إِلَى دَلائِلِ النُّبُوَّةِ وَمَعْرِفَةِ ... » حَدِيثُ هِنْدِ بْنِ أَبِي هَالَةَ فِي صِفَةِ النَّبِيِّ ... » بَابُ : مَا جَاءَ فِي حِفْظِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ...رقم الحديث: 393]
الصحيح المسند - الصفحة أو الرقم: 362 ، المحدث:الوادعي ، خلاصة حكم المحدث: حسن

ترجمہ : حضرت زیدؓ بن حارثہؓ بیان کرتے ہیں کہ (مکّہ مکرمہ میں) تانبہ کا ایک بت تھا جس کو لوگ اساف اور نائلہ کہتے تھے، مشرکین جب طواف کرتے تو تبرکاً اس کو چھوتے تھے، ایک مرتبہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طواف کیا، میں نے بھی آپ کے ساتھ طواف کیا، جب میں اس بت کے پاس سے گذرا تو میں نے بھی اسے ہاتھ لگایا، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : اسے ہاتھ نہ لگانا. زید کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ضرور ہاتھ لگا کر رہوں گا حتیٰ کہ دیکھ لوں کہ کیا ہوتا ہے، چنانچہ میں نے اس کو ہاتھ لگادیا ، تو آپ نے فرمایا : باز نہیں آؤگے؟  امام بیہقی فرماتے ہیں کہ بعض راویوں نے اس روایت میں اتنا اضافہ اور کیا ہے کہ زید کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو نبوت سے سرفراز کیا اور آپ پر قرآن نازل فرمایا، آپ نے کبھی کسی بت کو نبوت سے قبل بھی ہاتھ نہیں لگایا، یہاں تک کہ الله تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے نوازا اور آپ پر قرآن نازل فرمایا.(بیہقی فی دلائل النبوة ، كذا في البداية والنهاية)


تنبیہ : الله کے رسول کے صحابہؓ کے دل پہلے سے کفر ، گناہ اور نافرمانی سے نفرت نہ کرتے تھے، بلکہ بعد میں الله نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت ڈال کر ان کی نفرت پیدا کی؛ جیسا کہ الله تعالیٰ نے قرآن میں ان کی شان بیان فرمائی : ... اور اللہ نے محبت ڈال دی تمہارے دل میں ایمان کی اور کھبا دیا اسکو تمہارے دلوں میں اور نفرت ڈال دی تمہارے دل میں کفر اور گناہ اور نافرمانی کی وہ لوگ وہی ہیں نیک راہ پر. [سورہ الحجرات : ٧]



صحابہؓ میں سے خصوصاً حضرت عمر فاروقؓ سے شیطان کا خوف اور شیطانیت کا بھاگنا 


حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَال : سَمِعْتُ بُرَيْدَةَ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ , فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا " ، فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ , فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا , ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ ، إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ , ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ , فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ ".[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » أبوابُ الْمَنَاقِبِ » باب في مناقب عمر بن الخطاب رضي الله عنهرقم الحديث: 3652]

ترجمہ : حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ کسی جہاد سے واپس تشریف لائے تو ایک سیاہ فام باندی حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صحیح سلامت واپس لائے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا اگر تم نے نذر مانی تھی تو بجا لو ورنہ نہیں اس نے دف بجانا شروع کیا تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے وہ بجاتی رہی پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے پر بھی وہ دف بجاتی رہی لیکن اس کے بعد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے تو وہ دف نیچے رکھ کر اس پر بیٹھ گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرؓ! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے کیونکہ میں موجود تھا اور یہ دف بجا رہی تھی پھر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (یکے بعد دیگرے) آئے تب بھی یہ بجاتی رہی لیکن جب تم آئے تو اس نے دف بجانا بند کر دیا۔ 




حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْعُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا , فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي " ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ لِي : " أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ " ، قَالَتْ : فَجَعَلْتُ أَقُولُ : لَا ، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَتْ : فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ " ، قَالَتْ : فَرَجَعْتُ .[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » أبوابُ الْمَنَاقِبِ » باب في مناقب عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، رقم الحديث: 3653]

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے شوروغل اور بچوں کی آواز سنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اس کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ ! آؤ دیکھو میں گئی اور ٹھوڑی آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر رکھ کر اس عورت کو دیکھنے لگی میری ٹھوڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے اور سر کے درمیان تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا جی نہیں بھرا؟ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک میری کیا قدرو منزلت ہے لہذا میں نے کہا نہیں اتنے میں حضرت عمرؓ آ گئے اور انہیں دیکھتے ہی سب بھاگ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں شیاطین جن و انس عمرؓ کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے پھر میں لوٹ آئی



(جاری ہے)

============================
عصمت انبیا پر قرآنی شواہد
﴿وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ﴾․ (اٰل عمران :132)
ترجمہ: ”اور حکم مانو اللہ کا، اور رسول کا تاکہ تم پہ رحم ہو۔“

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِیُطَاعَ بِإِذْنِ اللّہ﴾․(النساء :64)
ترجمہ:”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا، مگر اس واسطے کہ اس کا حکم مانیں اللہ کے فرمانے سے“۔

ان آیات میں رسو ل کی مطلق اطاعت کا حکم ملا ہے ۔اگر انبیا معصوم نہ ہوتے تو ان کی مطلق اطاعت کا حکم نہ ملتا، بلکہ امرا کی اطاعت کی طرح ان کی اطاعت کا بھی ایک پیمانہ مقرر ہوتا۔جیسا کہ حدیث رسول میں ہے امیر کی اطاعت اس وقت تک ضروری ہے جب تک وہ معصیت کا حکم نہ دے ۔ اور جب معصیت کا حکم دے تو پھر اس کی اطاعتکی کوئی ضرورت نہیں۔“(السمع والطاعةحق ما لم یومربالمعصیة، فاذا امر بمعصیة فلا سمع ولاطاعة․ صحیح البخاری :رقم الحدیث:2796)

لیکن انبیاء کی اطاعت کا کوئی پیمانہ نہیں ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت قرار پائی ہے۔ ﴿مَّنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّہ﴾․ (النساء:80)
ترجمہ:”جس نے حکم مانا رسول کا اس نے حکم مانا اللہ کا۔)جو یقینا عصمت انبیاء کی واضح دلیل ہے۔

احکام خداوندی سے روگردانی کرنے والا شخص ظالم ہوتا ہے۔ اور ظالم کبھی منصب نبوت سے سرفراز نہیں ہوسکتا۔ ﴿لاَ یَنَالُ عَہْدِیْ الظَّالِمِیْنَ﴾․ (تفسیر الکبیر البقرة تحت آیة رقم:124) (نہیں پہنچے گا میرا اقرار ظالموں کو)۔

﴿وانہم عندنا لمن المصطفین الاخیار﴾ (ص:47)
ترجمہ:”اور وہ سب ہمارے نزدیک ہیں چنے ہوئے نیک لوگوں میں۔“) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں (انبیا)کو مطلقاً اخیار کے لقب سے نوازا ہے، یعنی ان کے افعال اقوال اور صفات میں خیر کا عنصر چھایا ہوا ہے۔یہ خیر کے پتلے جبھی ہوسکتے ہیں جب معصیت کے شر سے محفوظ اور معصوم ہوں، لہٰذا یہ آیت بھی عصمت انبیا کی واضح دلیل ہے۔(تفسیر کبیر،ص: تحت آیة رقم:37)

﴿لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْل اللّٰہ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾․(الاحزاب:21)
(تمہارے لیے بھلی(مفید)تھی رسول اللہ کی چال)یعنی اللہ کے رسول عمدہ نمونہ ہیں،جنہیں دیکھ کر اطاعت الٰہی کا فریضہ انجام دیا جا سکتا ہے۔اطاعت الٰہی کا نمونہ ایسی ذات ہو سکتی ہے جو گناہوں سے پاک ہو۔

﴿مَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُؤْتِیَہُ اللّہُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُواْ عِبَاداً لِّیْ مِن دُونِ اللّہِ﴾․(اٰل عمران:79)
ترجمہ:”کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ اس کو دیوے کتاب اور حکمت اور پیغمبرکرے، پھر وہ کہے لوگوں کو کہ تم میرے بندے ہو جاؤ، اللہ کو چھوڑ کر“۔

ابو حیان نے اس آیت کریمہ سے عصمت انبیا پر استدلال کیا ہے کہ نبوت کے منصب جلیل پر فائز ہونے والا شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت شعاری سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کر سکتا۔ (تفسیر البحر المحیط:اٰل عمران، تحت آیة رقم:79)۔

شیعوں کے عقیدہ عصمت آئمہ پر ایک نظر
شیعوں کے نزدیک انبیا ورسل کے علاوہ أئمہ(شیعوں کے نظریہ امامت پر تفصیلی بحث سورة الانبیاء کی آیت﴿وجعلنا ہم ائمہ یہدون بأمرنا﴾(73) کے تحت آئے گی،ان شاء اللہ)بھی معصوم ہوتے ہیں۔ ”عصمت امام“ کا عقیدہ ،امامیہ اسماعیلہ شیعہ کے بچے بچے کی نوک زبان پر رہتا ہے ،اس لیے حوالوں کی ضرورت تو نہ تھی، تاہم اس سلسلے کے چند جملے پڑھ لیجئے۔

اصو ل کافی میں امام رضا کا ایک خطبہ منقول ہے، جس میں اماموں کے فضائل و خصائل بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے۔
الامام المطھر من الذنوب والمبرأ عن العیوب․(اصول کافی ،کتاب الحجة،باب نادر جامع فی فضل الامام ،200/1)

امام گناہوں سے پاک اور عیوب سے مبرا ہوتا ہے، آگے اس خطبہ میں ہے۔
”فھو معصوم موید، موفق مسدد، قد امن من الخطایا والزلل،والعثار، یخصہ اللہ بذلک، لیکون حجة علی عبادہ“․ (اصول کافی ،کتاب الحجة،باب نادر جامع فی فضل الامام ،203/1)
”پس وہ معصوم ہے، اس کو تائید و توفیق حاصل ہے اور اس کو راہ مستقیم پر رکھا جاتا ہے اور وہ غلطی ولغزش سے محفوظ ہے،اللہ تعالیٰ اس کو یہ خصوصیت اس لیے عطا فرماتے ہیں کہ اس کے بندوں پر حجت ہو۔“

علامہ باقر مجلسی نے اپنی معروف و مشہور کتاب”بحار الانوار“ میں عصمت امام پر مستقل ایک باب باندھا ہے، اس باب میں”اعتقادات ”الصدوق “سے نقل کیا ہے۔

”اعتقادنا فی الأنبیاء والرسل والأئمة أنہم معصومون مطہرون من کل دنس وأنہم لایذنبون ذنبا صغیراً ولا کبیراً…“․ (بحارالانوار ،کتاب الامامہ،باب عصمة الامام ،25/211)
”انبیاء ورسل اور ائمہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ معصوم اور ہرگندگی سے پاک ہوتے ہیں اور ان سے کوئی چھوٹا بڑا گناہ سرزد نہیں ہو سکتا۔“

عصمت أئمہ پر شیعہ حضرات کی پہلی دلیل
شیعہ حضرات کے پاس عصمتِ ائمہ پر کوئی صریح نصّ نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ امام نبی کا نائب اور قائم مقام ہوتا ہے،نیابت کے نازک فرائض سے ایسا شخص عہدہ بر آ ہو سکتا ہے جو صفات کمال میں نبی کا ہم مثل اور معصومیت کے درجے پر فائز ہو۔ 

عقیدت کی دنیا میں ممکن ہے کہ اسے دلیل کا نام دیاجائے ،لیکن علم و دانش کی دنیا میں اس ناقص طرز استدلال کو دلیل کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ۔چناں چہ امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ شیعوں کی اس مایہ ناز دلیل کا جواب دیتے ہوئے تحریر ماتے ہیں ۔

یہ امام تمام کاموں میں نبی کا نائب نہیں ہوتا۔نبی کے دو کام ہیں،اول:بارگاہ الٰہی سے احکام حاصل کریں۔دوم : یہ کہ مخلوق خدا کو وہ احکام پہنچائیں ۔امام صرف دوسرے کام میں نبی کا نائب ہوتا ہے اور عصمت کی ضرورت صرف پہلے کام میں ہے۔کیوں کہ نبی نے جہاں سے احکام حاصل کیے ہیں وہ ما خذان کا ہماری نظر کے سامنے نہیں ،وہاں تک ہماری رسائی نہیں کہ ہم جانچ سکیں کہ آیا احکام لینے میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی ہے۔ لہذا اگر نبی معصوم نہ ہوں تو دین پر اعتبار نہ رہے گا۔ 

بخلاف امام کے کہ وہ بارگاہ احدیت سے احکام نہیں لیتا،اس پر وحی نہیں آتی ،اس کا کام صرف یہ ہے کہ نبی کے پہنچائے ہوئے احکام، یعنی قرآن و حدیث کی اشاعت و حفاظت کرے اور انہیں کی تنقیح کرتا رہے،امام کا ماخذ سب کے پیش نظر ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کا علم ہو سکتا ہے اور دین میں کوئی اشتباہ پیدا نہیں ہو سکتا ۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر یہ کلیہ صحیح ہو کہ معصوم کے نائب کا بھی معصوم ہونا ضروری ہے تو چاہیے کہ تمام علمائے مجتہدین بھی معصوم ہو جائیں۔کیوں کہ بالاتفاق علمائے مجتہدین نائب نبی یا نائب امام ہیں،علمائے مجتہدین کو جانے دیجیے، خود امام اپنے زمانے میں جن کو اپنا نائب مقرر کر کے اطراف و جوانب میں روانہ کرتا ہے،ان کا معصوم ہونا ضروری ہو گا ،مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں جن جن لوگوں کو اپنی طرف سے کسی مقام کا حاکم بنایا اور ان کو اپنا نائب قرار دیا، ان سب کو معصوم کہنا چاہیے، حالاں کہ آ ج تک مخالفین(شیعہ)میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہو ا اور نہ ہو سکتا ہے۔کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نائبوں نے جو جو ظلم کیے ہیں۔کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود ہمیشہ اپنے نائبوں کے شاکی رہے ہیں اور ان کی خیانتوں پر افسوس فر مایا۔

پس اب یا تو حضرات مخالفین اپنے اجماع کے اور بداہت کے خلاف تمام علماء مجتہدین اورنُوّاب أئمہ کے معصوم ہونے کے قائل ہو جائیں۔

اور پھر اس کے بعد کھلم کھلا ختم نبوت کا انکار کرکے اس امر کا اقرار کر لیں کہ امام سب کاموں میں نائب نبی ہوتا ہے،اس پر بھی وحی اترتی ہے۔(واضح رہے کہ شیعوں کے نزدیک ائمہ پر بھی مقدس وحی کا نزول ہوتا ہے اور ان کو تحلیل و تحریم کا بھی اختیار ہوتا ہے ،شیعوں کے نظریہ امامت،پر مکمل اور مدلل بحث سورة الانبیاء کی آیت وجعلنا ہم ائمة یھدون بأمرنا:73 کی تفسیر کے ضمن میں آئے گی۔ان شاء اللہ) اور وہ اپنے وحی کے احکام کی تبلیغ کرتا ہے ،نہ قرآن و حدیث کی اور یا عصمت ائمہ کے عقیدہ کفریہ سے تائب ہو کر سچے مومن بن جائیں۔(تحفہ خلافت، امام اہل سنت مولانا عبدالشکور لکھنوی:ص:72:73)۔

عصمت ائمہ پر شیعہ حضرات کی دوسری دلیل
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّہِ وَالرَّسُولِ إِن کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیْْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلا﴾ (النساء:59) (اے ایمان والو!حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول اور حاکموں کا، جو تم میں سے ہوں،پھر اگر جھگڑپڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے، اگر یقین رکھتے ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔)

شیعہ حضرات اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں دو دعوے کرتے ہیں۔
اس آیت کریمہ اولی الامر سے (بارہ)ائمہ مراد ہیں۔
نیز آیت کریمہ میں اللہ رسول اور امراء کی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے، جو اس دعوی پر واضح دلیل ہے کہ امام بھی رسول کی طرح معصوم ہوتا ہے، بصورت دیگر ا ن تینوں کی اطاعت کا یکساں حکم نہ ہوتا۔

دوسری دلیل کا تجزیہ
اس آیت کریمہ سے ”عصمت امام“ کا مطلب اخذ کرنا سراسر مغالطہ دینے کی کوشش ہے۔کیوں کہ اللہ ،رسول ،اور اولی الأمر (ائمہ)کی اطاعت کا حکم یکساں نہیں ہے بلکہ الله، رسول،کی اطاعت اور ائمہ کی اطاعت میں ایک بنیادی فرق ہے جو اسی آیت کے دوسرے حصے سے نمایا ں ہے ﴿فان تنازعتم فی شیٴ فردوہ الی اللہ ورسولہ﴾(پھر اگر جھگڑپڑو کسی چیز میں تو اس کورجوع کرو طرف اللہ کے اور رسول کے اگر یقین رکھتے اللہ پر، قیامت کے دن پر)امر ا اور رعیت کے مابین کھڑے ہونے والے تنازع کو ختم کرانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا جارہا ہے ۔اگر ائمہ معصوم ہوتے تو تنازع نہ ہوتا،امت کا ہرفرد ان کے اشارہ آبرو پر سرخم تسلیم کرتا، لیکن یہاں تنازع کا سوال اس لیے پیدا ہوا ہے کہ امرا معصوم نہیں ہیں،غلطی کر سکتے ہیں،راہ حق سے بھٹک سکتے ہیں، اس لیے رجوع کا حکم امام کی طرف نہیں ہے۔

آیت کا یہ حصہ شیعوں کے نظریہ عصمت ائمہ کی پوری عمارت منہدم کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شیعوں کے خانہ ساز راویوں نے پریشان ہو کر فوراً ایک روایت گھڑلی کہ یہ آیت تحریف شدہ ہے، اصل آیت میں رعایا کا آپس میں تنازع ہو جانے کی صورت میں رجوع کا حکم تینوں (اللہ ،رسول اور اولی الأمر)کی طرف تھا۔لیکن”محرفین“نے اس آیت سے اولی الامر کا لفظ نکال دیا،چناں چہ تفسیر صافی میں اس آیت کے تحت لکھا ہے:

القمی عن الصادق قال نزل فان تنازعتم فی شیٴ فردوہ الی اللہ والی الرسول والی اولی الامر منکم، وفی الکافی والعیاشی عن الباقر: انہ تلا فی ہذہ الایة ہکذا فان خفتم تنازعاً فی امر فردوہ الی اللہ والی الرسول والی اولی الامر منکم․ قال:کذا نزلت․ وکیف یامرہم اللہ عزوجل بطاعتہ وولاة الأمر ویرخص فی تنازعتم؟(تفسیر صافی،النساء، تحت آیة رقم :59)

قمی نے امام جعفر صادق  سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی ( فان تنازعتم فی شیٴ فردوہ الی اللہ والی الرسول والی اولی الامر منکم)یعنی جب کسی معاملے میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ ورسول اور ان امراء کی طرف لوٹاؤجو تم سے ہوں۔

”کافی“:اور” عیاشی“میں امام باقر سے روایت ہے کہ انہوں نے بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھا… ان کے بقول یہ آیت اسی طرح نازل ہوئی تھی، کیوں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالی امراء کی اطاعت کا حکم بھی دے پھر ان سے تنازع کرنے کی اجازت بھی دے؟

جس مذہب کے تمام دلائل ”عقیدہ تحریف القرآن“کی کوکھ سے جنم لیتے ہوں وہاں قرآن وسنت کی کون سے دلیل کا ر گر ہو سکتی ہے۔؟(شیعہ عقیدہ تحریف القرآن کی تفصیلی بحث آگے آئے گی۔ان شاء اللہ )

ایک شبہے کا ازالہ
واضح رہے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ پر امرا کی طرف بھی رجوع کرنے کا حکم ملتا ہے۔﴿وَإِذَا جَاء ہُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِہِ وَلَوْ ردُّوہُ إِلَی الرَّسُولِ وَإِلَی أُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ﴾․(النساء : 83) (اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اوراگر اس کو پہنچادیتے رسول تک اور اپنے حاکموں تک تو تحقیق کرتے اس کو جو اُن میں تحقیق کرنے والے ہیں۔) اس آیت میں امرا سے رجوع کا حکم دیا جارہا ہے،لیکن اس رجوع کا تعلق شرعی معاملات سے نہیں، بلکہ امن و خوف کی خبروں سے ہے، جو افواہ بن کر معاشرے میں افراتفر ی کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔

ایسی خبروں کے متعلق ہدایت دی جارہی ہے کہ انہیں افواہ بنانے کے بجائے بارگاہ رسالت اور امرا کو باخبر کیا جائے، تاکہ وہ حقیقت حال سے واقف ہوکر آئندہ کی حکمت عملی مرتب کریں۔

لہٰذا اس آیت میں خاص امور میں امیر کی طرف رجوع کرنے کے حکم سے ”عصمت امام “کا شبہ پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

مسئلہ عصمت انبیاء علیہم السلام اور سید مودودی صاحب کی قلمی شوخیاں
مولانا مودودی صاحب کے علمی و فکری لٹریچر کی پوری سرگردانی کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ موصوف کی ذاتی خوبیاں اور صلاحیتیں لائق تحسین اور قابل اعتراف ہیں، بایں ہمہ ان کے علمی مزاج کی دو خامیاں ایسی ہیں جن سے چشم پوشی کرنا حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔

موصوف ایک صاحب طرز ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ زود نویس تھے۔ظاہر ہے کہ بہت زیادہ لکھنے کے معنی یہ ہیں کہ خیالات و افکار کی جو لہریں وادی قلب میں اتریں انہیں میزان شریعت سے گزار ے بغیر صفحہ قرطاس پر اتاردیا جائے۔

مغرب کے فلسفہ تہذیب و تمدن پر عقابی نظر اور ناقدانہ رائے رکھنے کے باوجود دینی علوم و معارف سے ان کا تعلق سطحی نوعیت کا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کا اشہب خامہ مغربی فکروفلسفہ سے نبرد آزما ہونے کے لیے میدان کا ر زار میں اتر کر ایسی جو لانیاں دکھاتا ہے کہ زبان سے بے اختیار دادو ستائش کے کلمات نکل جاتے ہیں، لیکن جب یہی قلم مذہبی موضوعات پر اٹھتا ہے تو قدم قدم پہ ٹھوکریں کھاتا ہے، حتی کہ حریم نبوت تک پہنچ کر بھی ادب سے ناآشنا رہتا ہے۔

ان دو خامیوں سے ان کی علمی حیثیت مجروح اور ان کی تحریریں اور تقریریں تضاد بیانی کا شکار ہوگئیں۔

چناں چہ عصمت انبیائے علیہم السلام جیسا ایک سیدھا ساد ھا اور بے غبار مسئلہ بھی ان کی قلمی رنگینیوں کی زد سے نہ بچ سکا، چناں چہ ایک جگہ تو اہل سنت کی موافقت میں لکھتے ہیں ۔

”نبی اگرچہ گناہ کرنے پر قادر ہوتا ہے، لیکن بشر کی تمام صفات سے متصف ہونے کے باوجود اور جملہ انسانی جذبات، احساسات وخواہشات رکھتیہوئے بھی وہ ایسا نیک نفس اور خدا ترس ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر کبھی گناہ کا قصد نہیں کرتا، اپنے ضمیر میں اپنے رب کی ایسی ایسی زبردست حجتیں اور دلیلیں رکھتا ہے، جن کے مقابلے میں خواہش نفس کبھی کامیاب نہیں ہونے پاتی اور اگر نادانستہ اس سے کوئی لغزش سرزد ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فوراً وحی جلی کے ذریعے اس کی اصلاح فرما دیتا ہے۔“ (تفہیم القرآن جلددوم، سورة یوسف تحت آیة رقم :24 طبع دوم، 1958) اب ان کی وہ تحریریں بھی پڑھیے جہاں وہ مقام نبوت کی رفعتوں سے بے نیاز ہو کر بلادھڑک لکھتے ہیں :

”نبی ہونے سے پہلے تو حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ایک بہت بڑا گناہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کردیا۔“(رسائل و مسائل ،حصہ اول ص:31 طبع دوم)

حضرت موسی علیہ السلام کے ہاتھوں ایک حربی کافر بلا ارادہ قتل ہو گیا تھا، حربی ہونے کی وجہ سے اس کا قتل ویسے بھی مباح تھا۔لیکن سید مودودی صاحب اسے بہت بڑا گناہ قرار دے رہے ہیں ۔

”موسی ں کی مثال اس جلد فاتح باز کی سی ہے جو اپنے اقتدار کا استحکام کیے بغیر مارچ کرتا ہواچلاجائے اور پیچھے جنگل کی آگ کی طرح مفتوحہ علاقے میں بغاو ت پھیل جائے۔“(رسالہ ترجمان القران ج29 عدد4:ص:5)

یعنی صاحب عزم پیغمبر بھی انتظامی امور سے ناواقف تھے۔

حضرت داؤد علیہ السلام پر خواہش نفس کی پیروی کا الزام 
”حضرت داؤد علیہ السلام کے فعل میں خواہش نفس کا کچھ دخل تھا اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی کوئی تعلق تھا اور کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرماں روا کو زیب نہ دیتا تھا۔“(تفہیم القرآن ج 4،سورہ ص،تحت آیة رقم :ص 327 طبع اول)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
حضرت داؤد علیہ اسلام نے اپنے عہد کی اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہوکر اور یا سے طلاق کی درخواست کی تھی۔“(تفہیمات ،حصہ دوم ص:42،طبع دوم)

حضرت یونس علیہ السلام پر کوتاہی کا الزام 
” حضرت یونس علیہ السلام سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتا ہیاں ہوگئی تھیں…جب نبی ادائے رسالت میں کوتاہی کر گیا۔“(تفہیم القرآن ،حصہ دوم ،سورة:ص ،تحت آیہ رقم ،98،طبع سوم)

حضرت یوسف علیہ السلام پر ڈکٹیٹر شپ کا الزام
حضرت یوسف علیہ السلام کے ارشاد :﴿ اجعلنی علیٰ خزائن الارض﴾(سورة یوسف:55)(مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر)کے بارے میں فرماتے ہیں

”یہ محض وزیر مالیات کے منصب کا مطالبہ نہیں تھا، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں،بلکہ یہ ڈکٹیٹر شپ کا مطالبہ تھا اور اس کے نتیجے میں سیدنا یوسف علیہ السلام کو جو پوزیشن حاصل ہوئی وہ قریب قریب وہی پوزیشن تھی جو اس وقت اٹلی میں مسولینی کو حاصل ہے۔“(تفہیمات ،ص:122 طبع چہارم)

حضرت یوسف علیہ السلام پر ڈکٹیٹر شپ کے مطالبے کا الزام اور ان کے عدل وانصاف پر مبنی اقتدار کو ایک ظالم اور کافر بدنام زمانہ حاکم مسولینی کے اقتدار سے تشبیہدینا کیا معنیٰ رکھتا ہے؟!

حضرت نوح علیہ السلام پر بشری کمزوری سے مغلوب ہونے کا الزام”بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلی واشرف انسان بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہو جاتا ہے۔“(تفہیم القرآن ،سورة ص:تحت آیہ رقم ۔46 ،حصہ دوم، طبع چہارم)

سید مودودی صاحب کا ”لطیف نکتہ“
”عصمت دراصل انبیائے کے لوازم سے نہیں ہے اور یہ ایک لطیف نکتہ اللہ تعالیٰ نے بالارادہہر نبی سے کسی نہ کسی وقت حفاظت اٹھا کر ایک دو لغزشیں ہو جانے دی ہیں تاکہ لوگ انبیا کو خدانہ سمجھیں اور جان لیں کہ یہ بھی بشر ہیں۔“(تفہیمات ،ج2 ،ص :43 :طبع دوم)

انبیاء کی بشریت جاننے کے لیے اس انوکھے معیار کا انکشاف ہمیں اپنی علمی زندگی میں پہلی بار ہواہے، کیا بشریت کا پتہ لگانے کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اہل وعیال رکھتے ہیں ؟کھاتے پیتے ہیں؟

الغرض انبیاء علیہم السلام کے متعلق مولانا سید مودودی کے قلم سے نکلنے والے یہ شہ پارے سوئے ادب میں داخل ہیں یا نہیں ؟اس کا ایک معیار تو بقول حضرت لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کے یہ ہے کہ:

اگر یہی فقرے ،یہی تعبیرات وتمثیلات خود مولانا موصوف کے حق میں استعمال کی جائیں تو وہ سوئے ادب میں شمار ہوں گی یانہیں؟مثلاً اگر کہا جائے کہ مولانا ڈکٹیٹر تھے،اپنے دور کے مسولینی تھے،جذبہ جاہلیت سے مغلوب ہوجاتے تھے۔حاکمانہ اقتدار کا نامناسب استعمال کر جاتے تھے، اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے کام لیتے تھے،ان کے کاموں میں خواہش نفس کا بھی کچھ دخل ہوتا تھا۔

یقین جانیے! مولانا کا کوئی مداح اور عقیدت مند یہ الزامات برداشت نہیں کرے گا ۔اگر یہ جملے مولانا کے روبرو دھرائے جاتے تو وہ بھی صدائے احتجاج بلند کرتے ۔اب آپ ہی انصاف فرمائیں جو الفاظ سید مودودی کی ذات مآب کے لیے تنقیص شان کے آئینہ دار ہوں، وہ انبیا علیہم السلام جیسے مقدس گروہ کے حق میں محترم اور معزز کیسے ہوسکتے ہیں؟اپنی شان تقدیس کے متعلق تو لکھتے ہیں۔

”خدا کے فضل سے میں نے کوئی کام یا کوئی بات جذبات سے مغلوب ہو کر نہیں کیا اور کہا ،حتی کے ایک ایک لفظ جو میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے ،یہ سمجھتے ہوئے کہاہے اس کا حساب مجھے خدا کو دینا ہے، نہ کہ بندوں کو، چناں چہ اپنی جگہ بالکل مطمئن ہوں کہ میں نے کوئی ایک لفظ بھی خلاف حق نہیں کہا“۔(رسائل مسائل حصہ اول ،ص:2،3 طبع دوم)

ایک تقریرمیں فرماتے ہیں:
”میرے رب کی مجھ پر عنایت ہے کہ اس نے میرے دامن کو داغوں سے محفوظ رکھا۔“(تقریر چار روزہ کانفرنس ،جماعت اسلامی بمقام لاہور، 25 تا 28اکتوبر 1963ء ،روزنامہ مشرق لاہور،26اکتوبر)

مولانا غیر معصوم ہوتے ہوئے بھی کبھی جذبات سے مغلوب نہیں ہوئے اور ان کادامن داغوں سے محفوظ رہا۔اور انبیائے کرام کی معصوم جماعت جن کی راہ نمائی کے لیے عرش الہٰی سے وحی اترتی تھی، وہ ان کے خیال کے مطابق کبھی جذبات سے مغلوب ہو جاتی اور کبھی خواہش نفس کا شکار ہو جاتی۔فیاللعجب

اس کا دوسرا معیا ریہ ہے کہ اہل زبان ان فقروں سے کیا تاثر لیتے ہیں۔ان کے عرف میں یہ سوئے ادب میں داخل ہیں یا نہیں ؟اگر ان دونوں معیاروں پر جانچنے کے بعد طے ہو جائے کہ ان جملوں اور فقروں میں سوء ادب کا پہلو نمایاں طور پر پایا جاتا ہے توان کے عقیدت مندو ں کو چاہے وہ ایسی تمام تحریریں جو سوئے ادب پر مبنی ہیں ان کی اشاعت یکسر روک کر اللہ تعالیٰ کے حضور معافی کے خواست گار ہوں، کیوں کہ انبیائے کرام کے حق میں ادنی تنقیص بھی سلب ایمان کی علامت ہے۔

﴿فَتَلَقَّی آدَمُ مِن رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْْہِ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ، قُلْنَا اہْبِطُواْ مِنْہَا جَمِیْعاً فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مِّنِّیْ ہُدًی فَمَن تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ، وَالَّذِیْنَ کَفَرواْ وَکَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا أُولَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ ﴾․(البقرہ:38-37)

پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے چند باتیں، پھر متوجہ ہوگیا اللہ اس پر، بے شک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا، مہربان ،ہم نے حکم دیا نیچے جاوٴ یہاں سے تم سب ،پھر اگر تم کو پہنچے میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو چلا میری ہدایت پر نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو لوگ منکرہوئے اور جھٹلایا ہمار ی نشانیوں کو ،وہ ہیں دوزخ میں جانے والے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

ربط…گزشتہ آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش کا ذکر تھا، ان آیات میں ان کی توبہ اور قبول توبہ کا ذکر ہے ۔

تفسیر
﴿فَتَلَقَّی آدَمُ﴾حضرت آدم علیہ السلام سے جب بھولے سے لغزش صادر ہوگئی تو وہ فرط ندامت میں ایک عرصے تک آہ وفغاں میں مصروف رہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی شان کریمی نے انہیں کچھ ایسے کلمات سکھائے جسے زبان پر لاتے ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرماکر اپنی آغوش رحمت میں لے لیا۔وہ کلمات کون سے تھے؟ان میں مختلف روایات ہیں،تاہم قرآن کریم میں یہ الفاظ حضرت آدم وحوا علیہما لسلام کی زبان سے منقول ہیں۔ ﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْن﴾(الاعراف:22) 

ترجمہ:”بولے وہ دونوں اے رب ہمارے! ظلم کیا ہم نے اپنی جان پر اور اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے توہم ضرور ہوجائیں گے تباہ“

﴿قُلْنَا اہْبِطُواْ منھا جَمِیْعاً﴾نیچے اترنے کا حکم دوبارہ ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر دوبار اترنے کا حکم ہوا، لغزش کے صادر ہونے کے بعد پھر قبول توبہ کے بعد۔پہلا حکم ،حاکمانہ طرز پر تھا اور اس سے اظہار ناراضگی مقصود تھی۔دوسرا حکم حکیمانہ طرز پر اور منصب خلافت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے ہے۔لہٰذا کسی کو تکرار کا شبہ نہ ہونا چاہیے۔ ﴿فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مِّنِّیْ ہُدًی…﴾جو لوگ دنیا کے ظلمت کدہ میں احکام الہی کی روشنی میں زندگی بسر کریں گے وہ فتنہ محشر کی ہولناکیوں کے خوف،اورحزن وملال کی کسی کیفیت سے دوچار نہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ صدمہ دوطرح کا ہوتاہے، کسی حادثے سے قبل ،یا کسی حادثے کے بعد ،مثلاًمریض کے خدشہ موت سے جوصدمہ لگارہتاہے اسے خوف کہتے ہیں اور مریض کے فوت ہونے کے بعد جوصدمہ لاحق ہوتاہے اسے حزن کہتے ہیں،اولیاء اللہ بروز قیامت ان دونوں سے محفوظ رہیں گے۔

ممکن ہے یہاں کسی کوشبہ ہو کہ احادیث رسول کریم صلى الله عليه وسلم میں توبارہا یہ تذکرہ آیا ہے کہ اس روز بڑے بڑے مقرب بند ے بھی خوف زدہ ہوں گے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث رسول کریم صلى الله عليه وسلم میں جس خوف کا تذکرہ ہے ،اس سے خوف طبعی مراد ہے، یعنی طبعاًتو وہ بھی خوف زدہ ہوں گے، لیکن کوئی خوف ناک واقعہ ان پر نہیں آئے گا، یہ بالکل ایسا ہے جیسے مجلس عدالت میں وکیل ملزم سے کہہ دے کہ اطمینان رکھو، تمہیں اس مقدمے میں کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ۔اس سے ملزم مطمئن تو ہو جاتا ہے، لیکن طبعاً خوف لگارہتا ہے۔

﴿والذین کفروا....﴾سے دوسرے گروہ کا تذکرہ ہے، جو احکام الہٰی کو پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ان کا انجام یہی ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

﴿یٰبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اذْکُرُواْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَوْفُواْ بِعَہْدِیْ أُوفِ بِعَہْدِکُمْ وَإِیَّایَ فَارْہَبُونِ﴾․(البقرة:40)

اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے وہ احسان جو میں نے تم پر کیے اور تم پورا کرو میرا اقرار تو میں پورا کروں تمہارا اقرار اور مجھ ہی سے ڈرو۔

تفسیر
بنی اسرائیل کو انسانی تاریخ میں ایک امتیازی مقام حاصل ہے،کئی سو سالوں تک توحید کا علم ان کے ہاتھوں میں لہراتا رہا ،تقریباًدو ہزار سال تک اس نسل اور قوم سے انبیاء اور رسول پید اہوتے رہے، حضرت داوٴد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام ،جیسے عظیم الشان بادشاہ اور حضرت یوسف علیہ السلام جیسے وزیر باتدبیر اسی قوم سے اٹھے۔قرآن کریم میں سورة بقرة سے سورة الصف تک تقریباًچالیس بار ان کا تذکرہ ہوا ہے۔اس آیت میں انسانیت کے اسی مخصوص طبقے سے خطاب فرماکر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کی یاد دہانی کرائی، شاید شرما حضوری ہی میں ایمان قبول کرلیں۔

بنی اسرائیل کے عروج وزوال کی داستانوں کے ہر موڑ میں عبرت وبصیرت کے کئی سامان اور ہدایت وضلالت کے کئی نشان ہیں،اس اہمیت کے پیش نظر ان کا تفصیلی تعارف بھی کرادیا جاتاہے، تاکہ ان سے متعلقہ مضامین سمجھنے میں دشواری نہ ہو۔

بنی اسرائیل کا تعارف
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کا اصل وطن ”بَابِل“کا علاقہ تھا،جہاں بت پرست بادشاہ نمرود کی حکومت تھی، آپ نے اسے توحید کی دعوت دی تو بادشاہ اور رعایا نے طیش میں آکر آپ کو آگ کی بھٹی میں جھونک دیا، قدرت حق سے وہ آگ گلزار بن گئی ،پھر آپ بَابِل سے ہجرت فرماکرفلسطین کے علاقے کنعان تشریف لے آئے،آپ نے تین عقد فرمائے، پہلی بیوی حضرت سارہ علیہا السلام تھیں،دوسری حرم محترمہ حضرت ہاجرہ علیہاالسلام تھیں،تیسر اعقد حضرت سارہ علیہا السلام کی وفات کے بعد حضرت قتورہ علیہاالسلام سے فرمایا۔

حضرت ہاجرہ علیہاالسلام سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے، حضرت ہاجرہ علیہا السلام ہی تھیں جنہیں آپ مکہ معظمہ کے چٹیل میدانوں میں بحکم خداوندی چھوڑ گئے تھے، اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام گود میں تھے ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد مکہ معظمہ ہی میں آباد ہوگئی تھی،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جداعلی حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ہیں۔

حضرت سارہ علیہا السلام کے بطن مبارک سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے ان کی اولاد کنعان ہی میں مقیم تھی، حضرت اسحاق علیہ السلام کے فرزند یعقوب علیہ السلام تھے، جن کا لقب اسرائیل تھا، اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے ”الله کا برگزیدہ بندہ“ یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ آپ کے بارہ بیٹے تھے، جب آپ کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر میں زمام اقتدار سنبھالی تو سب بھائی کنعان سے مصر چلے آئے اور حضرت یوسف کی وفات کے بعد بھی وہیں آباد رہے، اگرچہ انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا، پشتہاپشت وہاں رہنے سے بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلوں میں تقسیم ہو چکی تھی، ان کی تعداد چھے لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔

چوں کہ یہ لوگ مصر کے اصل باشندے نہیں تھے، اس لیے وہاں کے مقامی باشندے ”قبطیوں“ نے انہیں بری طرح غلام بنا رکھا تھا، بیگار میں پکڑ لیتے، ظلم وستم کا پہاڑ توڑتے، حتی کہ ان کے لڑکوں کو ذبح کر دیتے، بنی اسرائیل کے پاس ان مظالم کا جواب سوائے رونے دھونے کے کچھ نہ تھا۔

حضرت موسی علیہ السلام کی بعثت اور دعوت
ان حالات میں الله تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر احسان فرماتے ہوئے ان میں حضرت موسی علیہ السلام کو رسول بنا کر مبعوث فرمایا، جنہوں نے فرعون کو توحید کی دعوت پیش کی اور بنی اسرائیل پر ظلم وستم کرنے سے روکا، فرعون لسانِ نبوت پر کان دھرنے کے بجائے مخالفت پر اتر آیا۔

بالآخر حضرت موسی علیہ السلام راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر مملکت فرعون سے نکلنے کی غرض سے چل کھڑے ہوئے ، فرعون کو خبر ہوئی تو وہ بھی لشکر لے کر آپ کے تعاقب میں چل پڑا۔ اتنے میں بنی اسرائیل ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں سمندر تھا، دھول اڑاتا ہوا فرعونی لشکر تھا۔

الله تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی عصا مبارک سمندر پر ماری جس سے سمندر پھٹا اور مختلف راستے بن گئے ، بنی اسرائیل ان راستوں پر چل کر بسلامت گزر گئے، ان کے دیکھا دیکھی فرعون نے بھی اپنا لشکر سمندر میں اتار دیا، جب درمیان میں پہنچا تو سمندر مل گیا اور فرعون اپنے لشکریوں سمیت غرق آب ہو گیا۔

بنی اسرائیل وادی تیہ میں
سمندر پار کرنے کے بعد اپنے آبائی علاقے میں جانے کے لیے رختِ سفر باندھا ،آبائی علاقہ زیادہ دور نہیں تھا، لیکن حضرت موسی علیہ السلام کو ستانے اور اذیت دینے کی وجہ سے چالیس سال یہ وادی تیہ میں صحرائی بگولوں کی طرح سرگرداں رہے ( صبح کو جہاں سے چلتے شام کو وہیں پہنچ جاتے)، جب موسی علیہ السلام جبل طور پر توریت شریف لینے گئے تو انہوں نے پیچھے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی، علاوہ ازیں عجیب وغریب مطالبے شروع کر دیے مثلاً الله تعالیٰ کو اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک ہم اپنی آنکھوں سے انہیں دیکھ نہ لیں۔ الله تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی غذا من وسلوی کے متعلق کہنے لگے کہ ہم ایک ہی چیز پر صبر نہیں کرسکتے ہمیں سبزی ، پیاز ، کھیرا چاہیے۔ اسی طرح کے مختلف واقعات اسی وادی میں پیش آئے، حضرت موسی علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے زمانہ میں ان کا علاقہ فتح ہوا اور بیت المقدس میں داخلہ نصیب ہوا۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل کو یہودی بھی کہا جاتا ہے۔

یہودی مدینہ میں کب آئے
اس بارے میں مؤرخین کی رائے یہ ہے کہ جب بخت نصر ظالم اورکافر بادشاہ نے بیت المقدس پر حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو یہودیوں کی ایک جماعت نے حجاز کا رخ کرکے وادی القری اور تیماء اورمدینہ منورہ میں ڈیرہ ڈال دیا، یہاں پہلے سے بنی جرہم اور عمالقہ کے کچھ لوگ آباد تھے، جنہوں نے کھجوروں کے باغ اور زراعت کا پیشہ اپنا رکھا تھا، یہودی ان کے ساتھ گھل مل کے رہنے لگے، جب آبادی بڑھی اور غلبہ حاصل ہوا تو مقامی آبادی کو باہر نکال کر ان کی املاک اپنے زیر تسلط کر لیں، اسی حال میں یہ لوگ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ ( فتوح البلدان للبلاذری،ص:229)

بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھاہے کہ یہودی علماء نے توریت شریف میں حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے متعلق پڑھ رکھا تھا کہ آپ ایسے شہر کی طرف ہجرت فرمائیں گے جہاں بکثرت کھجوروں کے باغ ہوں گے اور وہ شہر دو پتھریلی زمینوں کے درمیان ہو گا چناں چہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت اس شہر کی تلاش میں نکلی مدینہ منورہ پہنچ کر جب اس کی جغرافیائی کیفیت دیکھی تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہی وہ شہر ہے جہاں آپ صلى الله عليه وسلم ہجرت فرمائیں گے ۔ (معجم البلدان للحموی:5/82)

واضح رہے کہ ہجرت سے قبل مدینہ منورہ کا نام یثرب تھا، بعد میں مدینة الرسول ، طیبہ وغیرہ کے ناموں سے معروف ہوا۔

اوس وخزرج مدینہ میں
یہودیوں کے بسنے کے سالہا سال بعد یمن کے دو بت پرست قبیلے ”اوس“ و”خزرج“ بھی وہیں آکر آباد ہو گئے، جب آپ صلی الله علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تومجموعی طور پر وہاں تین قبیلے یہودیوں کے یعنی۔ ۱ بنی نضیر،۲۔ بنی قریظہ۳۔ بنیقینقاع اور دو قبیلے یمن کے ”اوس“ و”خزرج“ آباد تھے، انہوں نے تو اسلام قبول کر لیا اور انصار مدینہکے نام سے معروف ہوئے ، لیکن یہودیوں نے من حیث المجموع اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آگے آنے والی آیات میں انہیں کو دعوت حق دی گئی ہے۔

ایک شبہ او ر اس کا ازالہ
ممکن ہے یہاں کسی کو شبہ ہو کہ ان آیات میں مخاطب تو وہ لوگ ہیں جو آپ صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے، لیکن و اقعات وہ بیان کیے جارہے ہیں جو سینکڑوں اور ہزاروں بر س قبل ہوئے تھے، مثلاً تم نے بچھڑا بنایا، ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا۔ کیوں کر درست ہو سکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کہ خطاب کبھی شخصی حیثیت سے ہوتا ہے اور کبھی قومی حیثیت سے ان مقامات میں خطاب شخصی حیثیت سے نہیں بلکہ قومی حیثیت سے کیا جارہا ہے لہٰذا اس طرح کے خطاب میں کچھ شبہ نہ ہونا چاہیے۔

ایک قادیانی کا فریب استدلال
حضرت مولانا حبیب احمد کیرانوی رحمہ الله تعالیٰ ایک قادیانی کے فریب استدلال کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

جب غلام احمد قادیانی مدعی نبوت نے اپنے یہ جھوٹے الہامات شائع کیے کہ خدا نے محمدی بیگم سے میری شادی کر دی ہے اور وہ ہر مانع کو دور کرکے میرے نکاح میں آوے گی اور ناممکن ہے کہ خدا کا وعدہ ٹل جاوے وغیرہ وغیرہ اور نتیجہ یہ ہوا کہ غلام احمد مر گیا اور محمدی بیگم کی صورت بھی نصیب نہ ہوئی، نکاح میں آنا تو درکنار ۔ تو مسلمانوں کی طرف سے قادیانیوں پر اعتراض کیا گیا کہ اگر تمہارے نبی سچے تھے تو یہ الہامات جھوٹے کیوں ہوئے؟ اس کے جواب میں خلیفہ نور الدین نے اپنی خلافت کا حق ادا کرتے ہوئے یہ کہا کہ بسا اوقات خطاب ایک شخص کو ہوتا ہے اور مراد دوسرا ہوتا ہے … جیسا کہ یا بنی اسرائیل میں خطاب ان بنی سرائیل کو ہے جو جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں موجود تھے اورمراد ان سے اگلے آباؤ اجداد ہیں ، اس طرح جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں۔ حالاں کہ فارس وروم خلافت حضرت عمر رضی الله عنہ میں فتح ہوئے، پس ان الہامات میں مرزا غلام احمد قادیانی سے ان کی اولاد مراد ہے او رمحمدی بیگم سے خود محمدی بیگم یا اس کی کوئی اولاد مراد ہے ۔ اور مطلب یہ تھاکہ تمہاری اولاد سے محمدی بیگم یا اس کی کسی اولاد کی شادی ہوئی، لہٰذا یہ الہامات جھوٹے نہیں۔

لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے یہ جواب محض لغو ہے، کیوں کہ اول تو یہ مجاز ہے او رمجاز کے لیے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے ، قرآن وحدیث میں قرائن موجود ہیں اور مرزا کی وحی میں اس مجاز کا کوئی قرینہ نہیں تھا، کیوں کہ مرزا عمر بھی یہی سمجھتا رہا کہ خود میری شادی خاص محمدی بیگم سے ہو گی اور وہ اسی تمنامیں مر گیا۔

دوسرا یہ کہ یہ قاعدہ ہر فعل میں صحیح نہیں کہ یوں کہا جائے کہ میری فلاں عورت سے شادی ہوئی اور مراد لیا جائے کہ میرے بیٹے کی اس کی بیٹی سے شادی ہوئی، اس کینظیر کسی جگہ ہو تو دکھلائی جاوے او راگر اس قاعدے کو کلیہ تسلیم کیا جاوے تو پھر قادیانیوں پر یہ اشکال ہو گا کہ جن الہامات میں مرزا کو نبی یا رسول، یا چنیں وچناں کہا گیا ہے، ان میں اس کی کیا دلیل ہے کہ خود مرزا مراد ہے، شاید وہاں بھی اس کی کوئی اولاد مراد ہو ۔ اگر اس کا وہ جواب دیں کہ مرزا نے ان سے ایسا ہی سمجھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا نے نکاح کے متعلق بھی یہی سمجھا کہ خود میرا نکاح ہو گا، نہ کہ میری اولاد کا، اگر وہاں فہم مرزا حجت ہے تو یہاں بھی ہونی چاہیے او راگر یہاں حجت نہیں تو وہاں بھی نہ ہونی چاہیے۔ آخر وجہ فرق کیا ہے ؟

اگر ان اعتراضات کا جواب کسی قادیانی کے پاس ہو تو ہم سننا چاہتے ہیں۔“ (حل القرآن، البقرہ، تحت آیہ:47)

﴿وَآمِنُواْ بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُمْ وَلاَ تَکُونُواْ أَوَّلَ کَافِرٍ بِہِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَإِیَّایَ فَاتَّقُونِ، وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُون﴾․(سورہ البقرہ: 41 تا42)

ترجمہ:” اور مان لو اس کتاب کو جو میں نے اتاری ہے، سچ بتانے والی ہے، اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے او رمت ہو سب میں اوّل منکر اس کے اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا اور مجھ ہی سے بچتے رہو اور مت ملاؤ صحیح میں غلط او رمت چھپاؤ سچ کو جان بوجھ کر“۔

تفسیر
﴿وَلاَ تَکُونُواْ أَوَّلَ کَافِرٍ بِہ﴾… اس آیت کی تفسیر سمجھنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہودی اہل کتاب تھے او ران کے علمی رعب کی دھاک پورے بلاد عرب میں چھائی ہوئی تھی ، انہوں نے توریت میں موجود آپ صلى الله عليه وسلم کی صفات مبارکہ کی بدولت آپ صلى الله عليه وسلم کی شخصیت ورسالت سے اچھی طرح واقفیت حاصل کر لی تھی، ان کے مقابلے میں نصاری بھی اہل کتاب تھے، لیکن تا حال ان تک دعوت حق نہیں پہنچی تھی، اس لیے یہودیوں کے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ ایمان کی دولت سے دامن سمیٹ کرالسابقین الأولین کی صف میں کھڑے ہو جاتے، لیکن ان کی کج فطری کی انتہا دیکھیے کہ انہوں نے کافرانہ روش میں پہل کر کے اپنی بدنصیبی کے سارے دروازے کھول لیے، اس آیت میں ان کی اس روش پر تنبیہ کی گئی ہے۔

﴿ولا تشتروا بایتی ثمناً قلیلاً…﴾ علمائے بنی اسرائیل اس بات سے خوف زدہ تھے کہ نئے دین کو قبول کرنے کی صورت میں ان کے مذہبی اقتدار کا خاتمہ اور نذرانوں کا چلتا ہوا کاروبار بند ہو جائے گا، اس لیے ان کی مکمل کوشش ہوتی کہ عوام الناس ان صفات وکمالات پر مطلع نہ ہونے پائیں جو آپ صلی الله علیہ وسلم کے متعلق توریت میں مذکور ہیں، توریت کی ان آیات وصفحات کو چھپاتے، اگر کوئی مطلع ہو جاتا تو اسے ورغلاتے، غلط سلط تاویلیں کرکے اسے بہکاتے اور غلط فہمی میں ڈال دیتے ، اس طرح ان کے نذرانوں کی آمد بھی جاری رہتی اور عقیدت مندوں کا جھرمٹ بھی چھایارہتا۔

واضح رہے کہ ﴿ولا تشتروا بایتی ثمناً قلیلاً﴾ ( اور نہ لو میری آیتوں پر مول تھوڑا) کا یہ مطلب نہیں کہ اگر منھ مانگے دام مل رہے ہوں تو حق بیچ دو۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں دنیا کے تمام خزانے او رسکے کھوٹے ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہٰذا حق کا غلغلہ حق نیت کے ساتھ حق طریقے کے ساتھ ہمیشہ بلند ہی رکھنا چاہیے۔

خدمات دینیہ پر اجرت لینے کا شرعی حکم
جو افراد دینی خدمات میں مصروف ہوں اور امامت، اذان، کتبِ دینیہ اور قرآن کریم کی تعلیم دینے پراجرت وصول کرتے ہوں ، ان کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ، ان کے لییتنخواہ لینا بلاشبہ جائز ہے، کیوں کہ اگر امت کا یہ طبقہ محنت مزدوری، تجارت وزراعت میں لگ جائے تو دینی علوم کا سلسلہ یکسر بند ہو جائے گا، مساجد ویران ہو جائیں گی ، حلال وحرام بتانے والا کوئی نہ رہے گا ۔

جو لوگ ان دینی خدام پر انگلیاں اٹھا کر انہیں ﴿ولاتشتروا بایتی ثمناً قلیلاً ﴾کا مصداق ٹھہراتے ہیں وہ شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں ،کیوں کہ اس آیت کریمہ کے مصداق تو وہ لوگ ہیں جو نذرانوں کی وصول یابی کی طمع میں حق کو چھپاتے ہیں یا اس میں ردو بدل کرکے دین حق کو عوامی خواہش کے مطابق ڈھال کر دنیا کے مفاد حاصل کرتے ہیں ۔

ذیل میں خدمات دینیہ پر اجرت کے جواز میں چند دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔
1... خلفائے راشدین نے اپنے اپنے دورِ خلافت میں ان حضرات کے لیے وظائف اور تنخواہیں مقرر فرمائیں۔ ( قال الامام الزیلعی رحمہ الله تعالیٰ وقد روی عن عمر بن الخطاب رضی الله عنہ أنہ کان یرزق المعلمین، ثم اسند عن ابراہیم بن سعد عن ابیہ ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ کتب إلی بعض عمالہ ان اعط الناس علی تعلیم القرآن نصب الرایة․ وقال الامام ابویوسف رحمہ الله تعالیٰ ولم تزل الخلفاء تجری للقضاة الأرزاق من بیت مال المسلمین ( کتاب الخراج لأبی یوسف ، ص:187)

خلفائے راشدین کا یہ فعل ہمارے لیے حجت کی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین․ (شرح معانی الاثار: باب المسح علی الخفین، رقم الحدیث:468) ” کہ تم پر میری اور خلفاء راشدین کے طریقے کی ابتاع لازم ہے۔“

2... ائمہ ثلاثہ امام احمد بن حنبل ،امام مالک، امام شافعی رحمہم الله اور متأخرین فقہائے احناف کے نزدیک یہ اجرت بلاشبہ جائز ہے۔ ( وقال الامام النووی رحمہ الله تعالی: (قولہ صلی الله علیہ وسلم خذوامنھم، واضربوا لی بسھم معکم) ھذا تصریح بجواز أخذ الأجرة علی الرقیة بالفاتحة والذکر، وإنہ حلال لا کراہیة فیھا، وکذا الأجرة علی تعلیم القرآن وہذا مذہب الشافعی ومالک واحمد وإسحاق، و أبی ثور وأخرین من السلف․ (شرح مسلم للنووی:2/224) وقال العلامة ابن نجیم رحمہ الله تعالی: أما المختار للفتوی فی زماننا: یجوز أخذ الاجر للإمام والمؤذن والمعلم، والمفتی کما صرحوابہ فی کتاب الإجارات․ (البحرالرائق)

اگر قرآن وحدیث میں اس کی ممانعت کی تصریح ہوتی تو حضرات خلفائے راشدین، حضرت ائمہ ثلاثہ رحمہم الله، جمہور علمائے کرام، متاخرین فقہائے احناف رحمہم الله تعالی ان کے خلاف کبھی جواز کا فتوی صادر نہ فرماتے او رجن احادیث سے اجرت کے ناجائز ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے ان میں اکثر احادیث ضعیف ہیں، اگر کچھ روایات صحیح بھی ہوں تو وہ مؤول ہیں یا منسوخ۔ (قال العلامة الزیلعی رحمہ الله تعالی تحت حدیث ابی بن کعب رضی الله تعالیٰ عنہ: قال: علمت رجلاً القرآن فأھدی إلی قوساً، فذکرت ذلک للنبی صلی الله علیہ وسلم: إن اخذتھا أخذت قوساً من نارقال فرددتھا․ قال البیہقی فی المعرفة فی کتاب النکاح: ھذا حدیث اختلف فیہ علی عبادة بن نسی، قیل عنہ عن جنادة ابن ابی امیہ عن عبادة بن الصامت، وقیل عنہ عن الاسود بن ثعلبة عن عبادة، وقیل عن عطیة بن قیس عن ابی بن کعب، ثم ان ظاہرہ متروک عندنا وعندھم، فإنہ لو قبل الھدیة، وکانت غیر مشروطة، لم یتسحق ھذا الوعید، ویشبہ ان یکون منسوخاً بحدیث ابن عباس وحدیث الخدری رضی الله عنہما، وابو سعید الاصطخری من اصحابنا ذھب إلی جواز الأخذ فیہ علی مالا یتعین فرضہ علی معلمہ ومنعہ فیما یتعین علیہ تعلیمہ، وحمل علی ذلک اختلاف الاثار، وقدروی عن عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ أنہ کان یرزق المعلمین․ ثم اسند عن ابراہیم بن سعد عن ابیہ ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ کتب إلی بعض عمالہ ان اعط الناس علی تعلیم القرآن․ نصب الرأیة:2/137) البتہ ان لوگوں کے لیے اجرت ممنوع ہے جن کا مقصد امور دینیہ سے دنیا کمانا ہو۔

3... نیز یہ تعلیم وتدریس کا معاوضہ نہیں، بلکہ حبسِ اوقات کا معاوضہ ہے، جو جائز ہے۔ ( قال العلامة ابن نجیم رحمہ الله تعالیٰ (ورزق القاضی) یعنی وحل رزق القاضی من بیت المال، لأن بیت المال أعد لمصالح المسلمین، ورزق القاضی منھم: لأنہ حبس نفسہ لنفع المسلمین وفرض النبی صلی الله علیہ وسلم لعلی رضی الله عنہ لما بعثہ إلی الیمن، وکذا الخلفاء من بعدہ، ھذا اذا کان بیت المال جمع من حل، فإن جمع من حرام وباطل لم یحل، لأنہ مال الغیر یجب ردہ علی أربابہ، ثم إذا کان القاضی محتاجاً فلہ ان یأخذ لیستوسل إلی اقامة حقوق المسلمین، لانہ لواشتغل بالکسب لما تفرغ لذالک وإن کان غنیاً فلہ أن یأخذ وھو الأصح لما ذکرنا من العلة، ونظراً لمن یأتی بعدہ من المحتاجین ولأن رزق القاضی إذا قطع فی زمان یقطع الولاة بعد ذلک لمن یتولی بعدہ․“ (تکملة البحرالرائق،8/208)

ایک شبہہ اور اس کا ازالہ
امام نووی ودیگر بہت سے فقہائے کرام رحمہم الله تعالیٰ نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ الله سے تعلیم قرآن اور درس وتدریس پر اجرت لینا مکروہ وممنوع نقل فرمایا ہے۔ (ومنعھا ابوحنیفة رحمہ الله تعالی ٰ فی تعلیم القرآن وأجازھا فی الرقیة)․(شرح مسلم للنووی رحمہ الله تعالی:2/224) پھر احناف کے لیے یہ معاوضہ کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے ؟ 

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ممانعت اس وقت ہے جب بیت المال سے ان کے وظائف مقرر ہوں، اب جب بیت المال کا نظام درہم برہم ہو گیا تو فقہائے احناف رحمہم الله تعالیٰ میں سے متاخرین حضرات نے ائمہ ثلاثہ رحمہم الله کی طرح جواز کا فتوی دیا ہے ۔ ( قال الإمام قاضی خان رحمہ الله تعالی: وان استاجر رجلاً لتعلیم القرآن لا تصح الإجارة عند المتقدمین، ولا اجر لہ، بین لذلک وقتاً أو لم یبین، ومشایخ بلخ رحمہم الله تعالی جوزوا ھذہ الاجارة حتی حکی عن محمد بن سلام رحمہ الله تعالی أنہ قال: اقضی بتسمیر باب الوالد بأجرة المعلم، وقال الشیخ الإمام ابوبکر محمد بن فضل رحمہ الله تعالی: إنما کرہ المتقدمون الاستکجار لتعلیم القرآن وکرھو أخذ الأجر علی ذلک، لانہ کان للمعلمین عطیات فی بیت المال فی ذلک الزمان، وکان لھم زیادہ رغبة فی أمر الدین واقامة الحسبة، وفی زماننا انقطعت عطیاتھم، وانقضت رغائب الناس فی أمر الأخرة، فلو اشتغلوا بالتعلیم مع الحاجة إلی مصالح المعاش لاختل معاشھم، فقلنا بصحة الاجارة ووجوب الاجرة للمعلم بحیث لو امتنع الوالد عن اعطاء الاجر حبس فیہ․ ( الخانیہ علی ھامش الھندیة، الاجارة: 2/325)

علاوہ ازیں آپ رحمہ الله تعالی کی طرف سے ممانعت کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔
1... آپ نے کمال تقوی کی وجہ سے امور دینیہ پر اجرت لینے کو منع فرمایا۔
2... مال دار اور صاحب حیثیت لوگوں کے لیے مکروہ فرمایا ہو ۔
3... جو لوگ دینی کاموں پر اجرت لینے کو مقصود بالذات سمجھیں ان کے لیے مکروہ وممنوع ہے۔
4... چوں کہ خیر القرون میں مفلس خدام دین کو بیت المال سے باقاعدہ تنخواہیں اور وظیفے ملتے تھے اس لیے ان کو الگ اجرت لینا مکروہ ہے۔ (احسن الفتاوی، الاجارہ:7280)

ایصال ثواب کے لیے ختم قرآن پر اجرت لینا بالاتفاق ناجائز ہے
دینی تعلیم کا فروغ او راس کی نشرو اشاعت کا اہتمام کرنا ایک ایسی اہم دینی ضرورت ہے جس کی بقا کے لیے علماء نے اس پر اجرت لینے کے جواز پر فتوی دیا، لہٰذا اس جواز کا دائرہ کار اس ضرورت تک ہی محدود رہے گا ۔ مُردوں کے ایصال ثواب وغیرہ کے لیے ختم قرآن کا اہتمام کوئی دینی ضرورت نہیں، جس کے لیے اجرت لے کر قرآن کریم پڑھا جائے ۔ لہٰذا اس موقع پر اجرت لینا حرام ہے ، دینے اور لینے والے دونوں گناہ گار ہوں گے ، جب اجرت ہی حرام ہے تو مردے کو ثواب کیا پہنچے گا؟ (ولا سیما إذا کان فی الورثة صغار أغائب ، مع قطع النظر عما یحصل عند ذلک غالباً من المنکرات الکثیرة کایقاد الشموع والقنادیل التی توجد فی الأفراح، وکدق الطبول، والغناء بالأصوات… وأخذ الأجرة علی الذکر وقراء ة القرآن وغیر ذلک مما ھو مشاھد فی ھذہ الأزمان، وما کان کذلک فلاشک فی حرمتہ وبطلان الوصیة بہ، ولاحول ولا قوة الا بالله العظیم․ ( ردالمحتار:1/841)

وقال العلامة بدرالدین العینی رحمہ الله تعالی: قولہ: ولاتاکلوا بہ أی بالقرآن مثل أن یستاجر الرجل لیقرأ علی رأس قبر قیل ہذا القراء ة لا یستحق بھا الثواب لا للمیت ولا للقاری، قالہ تاج الشریعة رحمہ الله تعالی․ ( البنایة شرح الھدایة:9/339)

﴿وَأَقِیْمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّکَاةَ وَارْکَعُواْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ، أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ، وَاسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّہَا لَکَبِیْرَةٌ إِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِیْنَ، الَّذِیْنَ یَظُنُّونَ أَنَّہُم مُّلاَقُوا رَبِّہِمْ وَأَنَّہُمْ إِلَیْْہِ رَاجِعُون﴾․ (البقرة:43 تا46)
اور قائم رکھو نماز اور دیا کرو زکوٰة اور جھکو نماز میں جھکنے والوں کے ساتھ، کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے ہو اپنے آپ کو اور تم پڑھتے ہو کتاب؟ پھر کیوں نہیں سوچتے ہو؟ اورمدد چاہو صبر سے اور نماز سے اور البتہ وہ بھاری ہے، مگر انہیں عاجزوں پر، جن کو خیال ہے کہ وہ روبرو ہونے والے ہیں اپنے رب کے اور یہ کہ ان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

ربط
گزشتہ آیات میں اسلام کے بنیادی ارکان کفر سے توبہ کرکے ایمان لانے کا حکم دیا جارہا ہے، اب ان آیات میں اسلام کی فروعات نماز، زکوٰة وغیرہ کی تلقین کی جارہی ہے۔

تفسیر
بنی اسرائیل کو نماز، زکوٰة کی ادائیگی اور اہل رکوع کی معیت اختیار کرنے کا حکم دیا جارہا ہے ، نماز کا تعلق بدنی عبادت سے اور زکوٰة کا تعلق مالی عبادت سے ہے ۔ خشوع اور خضوع ایک باطنی کیفیت ہے، جو اہل تواضع کی صحبت سے نصیب ہوتی ہے، اس باطنی کیفیت کے حصول کے لیے اہل رکوع کی معیت کا حکم دیا گیا، یہ درحقیقت بنی اسرائیل کے قومی مرض کا علاج تھا، جس میں یہ ایک عرصے سے مبتلا تھے، نماز سے حب جاہ کم ہو گی، زکوٰة سے حب مال اور بخل کا علاج ہو گا اور تواضع سے حسد کی جڑیں ختم ہوں گے۔

بے عمل عالم پر زجر الہی:﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِر…﴾

یہودی علماء اور اکابر اپنے مسلمان عزیزوں کو پس پردہ اطمینان دلاتے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم پیغمبر حق ہیں ، ہم لوگ تو کسی مصلحت کے پیش نظر اسلام کے دامن سے وابستہ نہیں ہو سکتے، لیکن تم اس دین حق پر جمے رہو ۔ الله تعالیٰ نے ان کو اس دو رخی پالیسی سے منع فرمایا کہ دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہوئے اپنے آ پ کو بھول جاتے ہو ۔ اس مقام پر حضرت حکیم الامت تھانوی رحمہ الله لکھتے ہیں ”مسئلہ اس سے یہ نہیں نکلتا کہ بے عمل کو واعظ بننا جائز نہیں، بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بے عمل بننا جائز نہیں، ان دونوں باتوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔“ (بیان القرآن،البقرة آیہ رقم:44)

حب جاہ ومال کا علاج
﴿وَاسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ…﴾ یہودی علماء کو اپنی سیادت وقیادت سے دست کش ہو کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا ، اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے الله تعالیٰ نے انہیں صبر اورنماز سے مدد لینے کا حکم دیا ، صبر سے مال کی محبت کم ہوتی ہے ، کیوں کہ مال اس بنا پر محبوب ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے خواہشات ولذات کا حصول ممکن ہوتا ہے، جب اس کے ترک کرنے پر کمر باندھ لی جا ئے تو مال بھی محبوب نہ رہے گا ۔ نماز سے حب جاہ کم ہوتی ہے، کیوں کہ اس کی ہر ادا سے عاجزی اور پستی جھلکتی ہے ، اقامت صلوٰة کا اہتمام حب جاہ کا بہترین علاج ہے، جب یہ فاسد مادہ ختم ہو گا تو ایمان لانے میں کوئی مشکل نہ رہے گی۔

لیکن اقامت صلوٰة کا اہتمام بھی ایک دشوار اور مشکل معاملہ ہے ، اس کا حل کیا ہے ؟ اس کے متعلق فرماتے ﴿وَإِنَّہَا لَکَبِیْرَةٌ إِلاَّ عَلَی الْخَاشِعِیْن﴾ کہ بے شک نماز دشوار ضرور ہے، مگر جن کے دلوں میں خشوع ہو ان پر کچھ بھی دشوار نہیں ۔ جب دلوں میں آخرت کی فکر چھا جائے اور اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا یقین پیداہو جائے تو نیکی کا ہر راستہ آسان ہو جاتا ہے۔

﴿یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اذْکُرُواْ نِعْمَتِیَ الَّتِیْ أَنْعَمْتُ عَلَیْْکُمْ وَأَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِیْنَ، وَاتَّقُواْ یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَیْْئاً وَلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَةٌ وَلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَلاَ ہُمْ یُنصَرُون﴾․ (البقرة:47۔48)
اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے احسان جو میں نے تم پر کیے اور اس کو کہ میں نے تم کو بڑائی دی تمام عالم پر اور ڈرو اس دن سے کہ کام نہ آئے کوئی شخص کسی کے کچھ بھی اور قبول نہ ہو اس کی طرف سے سفارش اور نہ لیا جائے اس کی طرف سے بدلہ اور نہ ان کو مدد پہنچے۔

ربط
بنی اسرائیل پر انعامات او رترغیب وترہیب سے اجمالی تذکرے کے بعد اب تفصیلی ذکر آرہا ہے۔

تفسیر
﴿وَأَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِیْن﴾ سے بنی اسرائیل کے آباء واجداد، انبیائے کرام، علمائے دین وصلحائے امت مراد ہیں، جنہیں الله تعالیٰ نے انسانیت کی راہ نمائی کا منصب عطا فرماکر اپنے زمانے کے تمام لوگوں پر فضیلت بخشی اور یہ برگزیدہ بندے اپنے منصب کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے،لیکن ان کی ناخلف اولاد اس منصب کی ذمے داریاں نہ سنبھال سکی، انبیاء کی تکذیب ، دعوت حق سے اعراض، آسمانی کتاب میں تحریف وتاویل کی راہیں کھول کر اپنی فضیلت کے منارے کو خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کر دیا۔

اب اس فضیلت کا تاج امت مسلمہ کے سر پررکھ دیا گیا ہے، جسے الله تعالیٰ نے خیر امت کنتم خیر امة کے لقب سے نواز کر بھٹکے ہوئے انسانوں کی ہدایت کا فریضہ سونپ دیا ہے۔

﴿وَاتَّقُواْ یَوْماً لاَّ تَجْزِی﴾ دنیا میں ایک مجرم کی رہائی کے لیے جتنے طریقے کارگر ہو سکتے ہیں اس آیت میں ان سب کی نفی ہو رہی ہے ، نیز اس آیت سے بنی اسرائیل کے اس غلط عقیدے کی بھی تردید ہو رہی ہے جو انبیاء کی اولاد ہونے کے ناطے ان میں پھیل چکا تھا کہ کافرانہ عقائد اور فاسقانہ اعمال کے باوجود بزرگوں سے نسبت اور ان کی شفاعت کی بدولت وہ خلد بریں کے مزے لوٹیں گے۔ حالاں کہ دخول جنت کا دار ومدار ایمان اور اعمال صالحہ ہیں،حسب ونسب کے ہوائی قلعے بنا کر خلد بریں کے مزے نہیں لوٹے جاسکتے۔

کفار کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی
بروز قیامت کسی کافر کی سفارش نہیں ہو گی، چہ جائیکہ قبول کی جائے۔ تمام مفسرین کااجماع ہے کہ آیت کریمہ ﴿لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَیْْئاً وَلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَةٌ﴾ میں ”نفس“ سے مراد کافر ہے، نہ کہ ہر نفس ( تفسیر القرطبی، البقرة، تحت آیہ رقم:48) کیوں کہ استحقاق شفاعت کے لیے مومن ہونا ضروری ہے۔

اہلسنت والجماعةکے نزدیک شفاعت کا مفہوم
اہلسنت والجماعة کے نزدیک گناہ کبیرہ کے مرتکب مسلمانوں کے گناہ معاف کیے جانے کی سفارش کرنے کا نام شفاعت ہے ۔ قیامت کے دن جب اہل کبائر اپنے فاسقانہ اعمال کی وجہ سے مصائب والآم کی گھڑیوں سے گزر رہے ہوں گے تو انبیائے کرام ، علمائے دین، شہدا وصلحا ئے امت بارگاہ الہی میں ان کے گناہوں کے معاف کیے جانے کی سفارش فرمائیں گے، جسے الله تعالیٰ منظور فرماکر ان کی مغفرت کا اعلان فرما دیں گے، یہ اہلسنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔ ( … ماعلم قطعا من ثبوت شفاعة نبینا علیہ الصلاة والسلام تواتراً واجماعاً من الأمة․ (التمیز لما أودعہ الزمخشری من الاعتزال فی تفسیر الکتاب العزیز، البقرة تحت آلایة رقم:48)” وقد جاء ت الآثار التی بلغت بمجموعہا التواتر بصحة الشفاعة فی الآخرة، وأجمع السلف الصالح ومن بعدھم من أھل السنة علیھا، ومنعت الخوارج وبعض المعتزلة“․ (شرح الطیبی، کتاب احوال القیامة، باب الحوض والشفاعة تحت رقم الحدیث:5598) ”والشفاعة ثابتة للرسل، والأخیار فی حق اھل الکبائر بالمستفیض من الأخبار“․ ( شرح کتاب الفقہ الاکبر للملا علی القاری، ص:160)

اہلسنت کا مسلک قرآن کریم کی روشنی میں
الله تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾․(سورہٴ محمد:19) (اور معافی مانگ اپنے گناہ کے واسطے اورایمان دار مردوں اور عورتوں کے لیے) اس آیت کریمہ میں الله تعالیٰ نے اہل ایمان کے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے ، اسی طلب مغفرت کا نام شفاعت ہے ، پھر چوں کہ آیت کریمہ میں لفظ”ذنب“ صغائرو کبائر دونوں کو شامل ہے، اس لیے تمام گناہوں کے بارے میں شفاعت ثابت ہو گئی۔ نبی کی ذات چوں کہ معصوم ہوتی ہے، اس لیے ان کے حق میں لفظ”ذنب“ سے ترک اولیٰ یا ایسا صغیرہ مراد ہے جو سہواً صادر ہو اہو۔ (والشفاعة ثابتة للرسل… لنا قولہ تعالی: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾․(شرح العقائد للنسفی)

﴿فَمَا تَنفَعُہُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِیْن﴾․(المدثر:48) (پھر کام نہ آئے گی ان کے ( حق میں ) سفارش سفارش کرنے والوں کی )

اس آیت کریمہ میں الله تعالیٰ قیامت کے دن کافروں کی بد حالی اور مایوسی کی کیفیت بیان کر رہے ہیں کہ اس روز ان کے حق میں کوئی سفارش بھی سود مند نہ ہو گی ، جب کسی کی بد حالی بیان کرنا مقصود ہو تو وہی حال اورکیفیت بیان کی جاتی ہے جو اس کے ساتھ خاص ہو ، معلوم ہوا کہ شفاعت کا سود مند نہ ہونا کفار کے ساتھ خاص ہے ،رہے مؤمنین تو ان کے حق میں سفارش سود مند ہو گی ۔ 

مذکورہ استدلال پر ایک شبہہ اور اس کا ازالہ
ہر عبارت میں دو طرح کے مفہوم ہوتے ہیں ۔
1. مفہوم موافق  2.  مفہوم مخالف، مفہوم موافق اس حکم کو کہتے ہیں جو اس عبارت میں مذکور ہو ، مفہوم مخالف اس حکم کو کہتے ہیں جو عبارت میں ذکر کردہ حکم کے برعکس ہو اور عبارت اس حکم کے متعلق بالکل خاموش ہو، مثلاً ایک حدیث شریف میں ہے فی الغنم السائمة زکوٰة کہ ”سائمہ“ چراگاہوں میں چرنے والی بکریوں میں زکوٰة ہے۔ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ جوبکریاں ” غیر سائمة“ ہوں، یعنی چراگاہوں میں پیٹ بھرنے کے بجائے گھاس وغیرہ خرید کر انہیں کھلایا جاتا ہو تو ان بکریوں میں زکوٰة نہیں ہے۔ یہ حکم حدیث مبارکہ کے مفہوم مخالف سے سمجھا گیا ہے، مفہوم مخالف شوافع کے ہاں تو حجت ہے، لیکن احناف کے ہاں قرآن وحدیث میں یہ حجت نہیں ۔ اس تمہید کے بعد اب سمجھیے کہ اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آیت شفاعت میں کافروں کے حق میں شفاعت کے نافع ہونے کی نفی کی گئی ہے، مؤمنین کے حق میں شفاعت کے نافع ہونے یا نہ ہونے کے متعلق آیت بالکل خاموش ہے، لیکن تم اسی آیت سے اہل ایمان کے حق میں شفاعت کے نافع ہونے کو ثابت کرتے ہو، یہ تو مفہوم مخالف سے استدلال ہوا جو معتزلہ کے علاوہ خود احناف کے نزدیک بھی حجت نہیں تو معتزلہ کے خلاف حجت کیسے ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ استدلال مفہوم مخالف سے نہیں، بلکہ کلام کے اسلوب بیان سے ہے۔ (قولہ تعالیٰ: فما تنفعھم شفاعة الشافعین، فإن اسلوب ھذا الکلام یدل علی ثبوت الشفاعة فی الجملة، وإلا فما کان لنفی نفعھا عن الکافرین عند القصد إلی تقبیح حالھم وتحقیق بأسہم معنی، لأن مثل ھذا المقام یقتضی أن یوسموا بما یخصھم، لا بما یعمھم وغیرہم، ولیس المراد ان تعلیق الحکم بالکفر یدل علی نفیہ عماعداہ، حتی یرد علیہ انہ إنما یقوم حجة علی من یقول بمفہوم المخالفة“․ (شرح العقائد للنسفي،ص:116)

اہلسنت کا مسلک حدیث مبارکہ کی روشنی میں
گناہ گار مسلمانوں کے حق میں شفاعت کا مضمون احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔ ( وقد جاء ت الاثار التی بلغت بمجموعہا التواتر بصحة الشفاعة فی الآخرة لمذنبي المؤمنین، واجمع السلف والخلف ومن بعدھم من أھل السنن علیھا․ شرح مسلم للنووی رحمہ الله 3/31) ”بل الأحادیث فی باب الشفاعة متواترة․“ (شرح کتاب الفقہ الاکبر للملا علی القاری، ص:159)

1... حضرت انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری شفاعت امت کے اہل کبائر کے حق میں ہو گی ۔ (جامع الترمذی، باب القیامة، رقم الحدیث:2435)

2... حضرت عبدالله بن ابی الجدعا ء رضی الله تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے ایک آدمی کی سفارش سے قبیلہ بنو تمیم کے افراد سے زیادہ افراد جنت میں داخل ہوں گے۔ ( جامع الترمذی، باب القیامة، رقم الحدیث:2438)

3... حضرت عوف بن مالک رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اختیار دیا کہ آدھی امت کے دخول جنت پر، جسے چاہوں منتخب کر لوں میں نے شفاعت کاانتخاب کیا اور یہ شفاعت ہر اس مسلمان کے لیے ہے جس کو موت اس حال میں آئی ہو کہ وہ الله تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ رکھتا ہو ۔( جامع الترمذی، باب القیامة، رقم الحدیث:2441)

شفاعت کی اقسام
شفاعت کی پانچ قسمیں ہیں۔ 
1... میدان حشرکی ہو لناکیوں سے چھٹکارا پانے اور حساب وکتاب جلدی شروع کرنے کی شفاعت۔ جب انبیاء علیہم الصلاة والسلام پر بھی نفسی نفسی کا عالم طاری ہو گا، اس وقت نبی اکرم ، شفیع اعظم، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم فداہ ابی وامی دربار الہٰی میں تعجیل حساب کی سفارش فرمائیں گے۔ یہ شفاعت آپ علیہ الصلاہ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے ۔
2... امت کی ایک بہت بڑی جماعت کے لیے حساب وکتاب کے بغیر جنت میں داخل کرنے کی سفارش ۔یہ شفاعت بھی آپ علیہ الصلاة والسلام کی خصوصیات میں سے ہے ۔
3... امت کے بہت سے افراد کو جہنم سے بچانے کی سفارش حالاں کہ ان پر جہنم واجب ہوچکی ہو گی ۔
4... جو گناہ گار مسلمان جہنم کے عذاب میں مبتلاہوں گے ،ان کو جہنم کے عذاب سے نکال کر جنت میں داخل کرانے کی سفارش۔
5... اہل جنت کے حق میں رفع درجات کی سفارش۔

(والشفاعة خمسة اقسام: اولھا: مختصة بنبینا علیہ الصلاة والسلام، وھی الإراحة من ھول الموقف وتعجیل الحساب۔
الثانیة: فی داخل قوم الجنة بغیر حساب، وھذہ وردت فی نبینا علیہ الصلاة والسلام․
الثالثة: الشفاعة لقوم استوجبوا النار، فیشفع فیھم نبینا علیہ الصلاة والسلام ومن یشاء الله تعالی․
الرابعة: الشفاعة فیمن دخل النار من المذنبین․
الخامسة: الشفاعة فی زیادة الدرجات فی الجنة لأھلھا، وھذہ لاننکرھا أیضاً)․ (شرح الطیبی، کتاب احوال القیامة، باب الحوض والشفاعة، تحت رقم الحدیث:5598) 

شفیع کون لوگ ہوں گے؟
شفعاء کے مبارک گروہ میں انبیائے کرام کی مقدس جماعت، اپنا لہو بہا کر اسلام کے گلستان فکر کو سینچنے والے عاشقانِ پاک طینت، نبی کے اسوہ حسنہ میں ڈھل جانے کی کوشش کرنے والے صلحائے امت ، اطاعت الہی سے سرشار ملائکہ عظام سبھی شامل ہیں۔ (وشفاعة الانبیاء حق) … وکذا شفاعة الملائکة… وکذا شفاعة العلماء والأولیاء والشھداء والفقراء)․ (شرح کتاب فقہ الاکبر، للملاعلی القاری، ص:160)

اہلسنت کے مسلک شفاعت پر چند شبہات او ران کے جوابات
پہلاشبہ… گناہ کبیرہ کی شفاعت کا عقیدہ رکھنے سے گناہوں میں جرأت پیدا ہو جاتی ہے ،اس لیے شفاعت کو صغائر تک محدود رکھا جائے۔
جواب… یہ شبہہ اس وقت پیدا ہونا چاہیے جب ہم شفاعت ہر مسلمان کے حق میں واجب ہونے کاعقیدہ رکھتے ہوں، ہم تو صرف جواز شفاعت کے قائل ہیں، صرف اس بنا پر معاصی پر جرأت کیوں کر ہو گی ؟ (…ولان فی اثبات الشفاعة لأصحاب الکبائر تحریض الناس علی الذنوب، وانہ لایجوز… قلنا: لیس کذلک، فإنا لانحکم بوجوب الشفاعة لیأمن العبد العذاب، ویتکل علی الشفاعة، ویتجرأ علی الذنوب، بل نقول بجوازھا وتصورھا فی حق کل فرد من اصحاب الکبائر․ (حاشیة علی المسایرة شرح المسامرة ، ص:214)

دوسرا شبہ: علامہ زمخشری عفا الله عنہ اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں کہ کلام عرب میں جہاں کہیں بھی اسم نکرہ کسی نفی کے تحت واقع ہوتو وہ عمومیت کا فائدہ دیتا ہے ،لہٰذا اس آیت کریمہ ﴿ولایقبل منھا شفاعة﴾ میں لفظ شفاعة نکرہ ہے او رنفی ( لایقبل) کے تحت واقع ہے، لہٰذا اس کی عمومیت کاتقاضا یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی کے حق میں کسی کی شفاعت قبول نہ ہو گی۔
جواب… اس میں کوئی شک نہیں جونکرہ تحت النفی واقع ہو وہ عمومیت کا فائدہ دیتا ہے، لیکن یہ بھی بلاغت کا مسلمہ اصول ہے کہ ہر عمومیت میں کچھ تخصیصی پہلو بھی پائے جاتے ہیں، سوائے اس عام کے جس میں تخصیص عقلاً محال ہو،آیت مذکورہ میں عمومیت کی تخصیص دیگر آیات اور احادیث متواترہ سے ہو رہی ہے، جنہیں ہم گذشتہ صفحات میں تفصیل سے بیان کر آئے ہیں۔ علامہ زمخشری عفا الله عنہ نے اپنے اعتزالی عقیدے کے تحفظ کے لیے ادھورا قاعدہ بیان کرکے علمی چکمہ دینے کی کوشش کی ہے۔ (وکذلک قولہ تعالی: ﴿ویقبل منھا شفاعة﴾ اورد الزمخشری ھذا اللفظ العام علی ظاہرہ لأجل اعتزالہ وانکارہ وشیعتہ للشفاعة، ولم یذکرتاویلہ ولا تخصیصہ، ولا شک ان النکرة مع النفی من الفاظ العموم، لکن الفاظ العموم للتخصیص إلا ما منع برہان العقل من تخصیصہ… (التمیز لما اودعہ الزمحشری من الاعتزال فی تفسیر الکتاب العزیز، البقرة تحت آیہ رقم:48)

خوارج او رمعتزلہ کے نزدیک شفاعت کا مفہوم
شفاعت بمعنی عفو ودرگزر قرآن وسنت کے دلائل قطعیہ او راجماع سے ثابت ہے، اس لیے معتزلہ و خوارج علی الاطلاق مسئلہ شفاعت کاانکار تو نہ کرسکے، لیکن اس کا مفہوم بگاڑ دیا، چناں چہ ان کے نزدیک شفاعت اہل صغائر کی مغفرت اور اہل ایمان کے رفع درجات کا نام ہے۔ ( ان المعتزلة قصروھا علی المطیعین والتائبین لرفع الدرجات وزیادة المثوبات․ ( شرح المقاصد، المقصد السادس:3/399) ”وأما تاویلھم احادیث الشفاعة بکونھا مختصة بزیادة الدرجات فباطل․“ (شرح الطیبی، کتاب احوال القیامة، تحت الحدیث رقم:5598)

خوارج ومعتزلہ کے چند دلائل او ران کا علمی تجزیہ
خوارج ومعتزلہ کی پہلی دلیل اور اس کا علمی تجزیہ:
خوارج ومعتزلہ اپنے موقف پر ان آیات کو پیش کرتے ہیں جن میں مطلقاً شفاعت کی نفی کی گئی ہے ۔﴿ولا یقبل منھا شفاعة﴾․ (البقر:48) ﴿وما للظالمین من حمیم ولا شفیع یطاع﴾․ (غافر:18) (کوئی نہیں گناہ گاروں کا دوست اور نہ سفارشی) 

علامہ تفتازانی رحمہ الله نے اس استدلال کے چار جوابات پیش کیے ہیں۔
1... آیات مذکورہ میں شفاعت کی نفی صرف کفار سے متعلق ہے کہ ان کے حق میں کوئی سفارش قابل قبول نہ ہو گی، اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ یہ نفی عام ہے، کفار ہوں یا مؤمنین ،کسی کو کسی کی سفارش فائدہ نہ دے سکے گی ۔
2... تو پھر دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ نفی قیامت کی کسی خاص گھڑی اور لمحے سے متعلق ہے جس میں کوئی سفارش قبول نہ ہو گی ، قرآن کریم کی آیت میں ﴿من ذالذی یشفع عندہ إلا بإذنہ﴾․ ( البقرة:255) ( ایسا کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس مگر اجازت سے) میں اسی گھڑی کی طرف اشارہ ہے، بالفرض اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ نفی قیامت کے ہر لمحے اورانسانیت کے ہر فرد سے متعلق ہے ۔
3... تو اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ نفی کسی حال کے ساتھ مخصوص ہے ،مثلاً جب کسی کے جہنم میں جانے کا قطعی فیصلہ صادر ہوچکا ہو گا تو پھر سفارش کوئی فائدہ نہ دے گی، اگر تمام ازمنہ ، تمام احوال، تمام اشخاص کے حق میں شفاعت کی نفی اور غیر مفید ہونے کو تسلیم کر لیا جائے تو چوتھا جواب یہ ہے کہ:
4... دوسری طرف شفاعت کی قبولیت پر بھی دلائل موجود ہیں، لہٰذا دونوں میں تطبیق کی یہی صورت ہے کہ معتزلہ کی پیش کردہ نصوص ،جو شفاعت کی نفی پر دلالت کرتی ہیں، کفار کے ساتھ خاص کر دی جائیں او راہل ایمان کے حق میں شفاعت روا رکھی جائے۔ ( والجواب بعد تسلیم دلالتھا علی العموم فی الأشخاص والازمان والأحوال أنہ یجب تخصیصھا بالکفار جمعاً بین الأدلة․ (شرح العقائد للنسفی، ص:116، مبحث: الشفاعة ثابتة)

دوسری دلیل اور اس کا علمی تجزیہ:
قرآن کریم میں ہے ولا یشفعون إلا لمن ارتضی․ (الانبیاء:28) (اور سفارش نہیں کرتے مگر اس کی جس سے الله راضی ہو۔) یہ آیت واضح لفظوں میں اعلان کر رہی ہے کہ استحقاق شفاعت کے دروازے انہیں پر کھلیں گے جن کی شفاعت پر الله تعالیٰ خود راضی ہوں گے ، نافرمان بندوں ( اہل کبائر) سے چوں کہ الله تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں اس لیے ان کے حق میں کسی سفارش پر رضائے الہٰی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

اس کے علاوہ ایک دیگر آیت ․﴿فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک﴾․ ( سو معاف کر ان کو جو توبہ کریں اور چلیں تیری راہ پر۔) کا مفہوم بتارہا ہے کہ طلب مغفرت کا حکم انہیں کے لیے ہے جو کبائر سے توبہ کر چکے ہوں۔

جواب… منکرین شفاعت کے علم برداروں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ رضائے الہی کا پروانہ کس بنیاد پر ملتا ہے ؟ اس کا مدار کیا ہے ؟ ایمان بالله یا اعمالہ صالحہ؟ اگر اس کا مدار ایمان بالله ہے تو پھر یہ دولت ایک گناہ گار مسلمان کو بھی حاصل ہے، لہٰذا اس کے حق میں قبول شفاعت کا عقیدہ اختیار کرنے میں بخل سے کام نہ لینا چاہیے۔

اگر اس کا مدار اعمال صالحہ ہیں تو پھر تمہیں کھل کر یہ دعوی کرنا چاہیے کہ انصاف پسند کافر ، مجسمہ اخلاق ملحد بھی رضائے الہی کے شرف سے فیض یاب ہو کر شفاعت کا مستحق بن سکتا ہے، اگر تمہیں یہ تسلیم نہیں تو یہ مانے بغیر کوئی چارہ کار نہیں کہ مسلمان اگرچہ گناہ گار ہو، لیکن صاحب ایمان ہونے کی جہت سے الله تعالیٰ کی رضا اسے حاصل ہوتی ہے او رآیت کریمہ﴿ولا یشفعون إلا لمن ارتضی﴾ ․ ( الانبیاء:28) (اور سفارش نہیں کرتے مگر اس کی جس سے الله رضی ہو) میں رضائے الہی کی یہی جہت مذکور ہے۔

اور ﴿فاغفرللذین تابوا﴾ ( غافر:7) (سو معاف کران کو جو توبہ کریں) میں توبہ سے مراد شرک سے توبہ ہے۔ لہٰذا اس سے اہل کبائر کی عدم شفاعت کا استدلال نہیں کیا جاسکتا۔ ( بانا لانسلم ان من ارتضی لایتناول الفاسق، فإنہ مرتضی من جھة الإیمان والعمل الصالح، وان کان مبغوضاً من جھة المعصیة، بخلاف الکافر المتصف بمثل العدل أو الجور،فانہ لیس بمرتضی عند الله تعالیٰ اصلاً لفوات الحسنات وأساس الکمالات…، فإن المراد تابوا عن الشرک)․ (شرح المقاصد، المقصد السادس:3/401)

تیسری دلیل: 
ایک دعا ہے جسے مسلمان شب وروز مانگتے ہیں اوراس کے صحیح ہونے پر سب کا اجماع ہے۔”اللھم اجعلنا من اھل شفاعة محمد صلی الله علیہ وسلم“․ ( اے الله! ہمیں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرما۔) 

اگر شفاعت اہل کبائر کی مغفرت کا نام ہوتا تو یہ دعا سرے سے صحیح ہی نہ ہوتی، کیوں کہ پھر اس کا مفہوم یوں ہوتا کہ اے الله ہمیں اہل کبائر میں داخل فرما، تاکہ شفاعت کے مستحق بن سکیں۔

جواب… اس دعا کا تعلق حا لتِ معصیت سے ہے، یعنی گناہ گار ہونے کی صورت میں شفاعت محمدی نصیب فرمانا، جس طرح ”اللھم اغفر لنا“ کے معنی ہیں اے الله ہماری مغفرت فرما۔ یعنی گناہ گار ہونے کی صورت میں اس کا یہ مطلب کوئی نہیں لیتا کہ اے الله! ہمیں گناہوں میں مبتلا کرکے پھر مغفرت فرما۔ ( ان المراد اجعلنا من اھل الشفاعة علی تقدیر المعاصی کما فی قولنا: اجعلنا من اھل المغفرة واھل التوبة․ (شرح المقاصد، المقصد السادس:3/401)

﴿وَإِذْ نَجَّیْْنَاکُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوْء َ الْعَذَابِ یُذَبِّحُونَ أَبْنَاء کُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاء کُمْ وَفِیْ ذَلِکُم بَلاء ٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ، وَإِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَأَنجَیْْنَاکُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنتُمْ تَنظُرُون﴾․ (البقرة:49۔50)
اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ رہائی دی ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے، جو کرتے تھے تم پر بڑا عذاب، ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمہاری عورتوں کو اور اس میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بڑی او رجب پھاڑ دیا ہم نے تمہاری وجہ سے دریا کو، پھر بچا دیا ہم نے تم کو اور ڈبا دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھ رہے تھے۔

یہاں سے بنی اسرائیل پر ہونے والی عنایات خاصہ کا تذکرہ ہو رہا ہے ۔

پہلی عنایت: نجومیوں نے فرعون کو یہ پیش گوئی کی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیری سلطنت زوال کے گھاٹ اتر جائے گی ۔ چناں چہ فرعون نے بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو ذبح کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔ سوائے لڑکیوں کے، تاکہ ان سے خدمت گزاری کا کام لیا جاسکے ، ہزاروں بچے فرعونی ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے، پوری قوم غم والم کی کیفیت میں مبتلا تھی ۔ الله تعالیٰ نے فرمایا میرے اس احسان کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں اس ظلم سے نجات دی ﴿فی ذٰلکم بلاء من ربکم عظیم﴾․

”بلاء“ کے چندمعنی آتے ہیں اگر ذلکم کااشارہ ذبح کی طرف لیا جائے تو مصیبت کے معنی میں ہو گا او راگر نجات کی طرف اشارہ ہو تو ”بلاء“ نعمت کے معنی میں ہو گا او راگر مجموعہ کی طرف ہو تو امتحان کے معنی لیے جائیں گے۔ ( التحریر والتنویر، البقرة تحت آیہ رقم:49)

حضرت موسی علیہ السلام ایک طویل مدت تک فرعون کو دعوت حق دیتے رہے ، لیکن فرعون نے اس کا کوئی اثر قبول نہ کیا ، بالآخر الله تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لیا اور فرعون کی بے خبری میں فرعون کی مملکت چھوڑنے کا قصد فرما لیا ، بحر قلزم کے کنارے پہنچے تو فرعون بھی اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ آگے سمندر اور پیچھے دشمن۔ بنی اسرائیل کو موت کے آثار نظر آنے لگے۔ حضرت موسی ں نے تسلی دے کر فرمایا۔ ﴿إن معی ربی سیھدین﴾ اس موقع پر رب ذوالجلال کے حکم سے اپنی لاٹھی سمندر پر ماری تو بطور معجزہ سمندر کا پانی منجمد ہو گیا اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لیے بارہ راستے بن گئے ، جہاں سے گزر کر یہ بسلامت دوسرے کنارے اتر گئے ،فرعون نے دیکھا دیکھی میں اپنے گھوڑے بھی ان راستوں پر اتار دیے، جب درمیان میں پہنچا تو الله تعالیٰ کے حکم سے سمندر جاری ہو گیا اور طوفانی موجوں نے فرعون اور اس کے لشکر کو گھیر کر ہمیشہ کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دیا، یہ الله تعالیٰ کی عنایت خاص ہے کہ ان کے دشمن کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کرکے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشی۔

﴿وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَی أَرْبَعِیْنَ لَیْْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِہِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ، ثُمَّ عَفَوْنَا عَنکُمِ مِّن بَعْدِ ذَلِکَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ، وَإِذْ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُون﴾․ (البقرة:51۔53)
اور جب ہم نے وعدہ کیا موسی سے چالیس رات کا، پھر تم نے بنا لیابچھڑا موسی کے بعد او رتم ظالم تھے، پھر معاف کیا ہم نے تم کو اس پر بھی، تاکہ تم احسان مانو اور جب ہم نے دی موسی کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا کرنے والے احکام ،تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ۔

﴿وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَی أَرْبَعِیْنَ لَیْْلَة﴾ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کو آزادی نصیب ہوئی اور شب وروز کے تمام لمحے آزاد فضاؤں میں بسر ہونے لگے تو انہیں ایک ایسے مجموعہ قوانین کی ضرورت محسوس ہوئی جس کی روشنی میں زندگی کے پیش آمدہ مسائل بآسانی حل کیے جائیں۔ قوم نے اس خواہش کا اظہار حضرت موسی ں سے کیا ۔ آپ ں نے قوم کی یہ درخواست بارگاہ الہی میں پیش کی، جواب میں آپ کو کوہ طور میں چالیس روز تک اعتکاف میں رہنے کا حکم ملا، جہاں آپ ذکرواذکار اور عبادت الہٰی میں مشغول رہے، جب چالیس دن تکمیل کو پہنچے تو الله تعالیٰ کی طرف سے تورات ملی، تورات عبرانی زبان میں قانون کو کہتے ہیں۔ ( روح المعانی، البقرة آیہ رقم:51)

﴿ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِہ﴾جب حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور میں معتکف تھے تو بنی اسرائیل میں سے ایک شخص سامری نے سونے اور چاندی سے بچھڑے کا قالب بنا کر اس میں حضرت جبرائیل ں کے گھوڑے کے قدموں سے اٹھائی ہوئی خاک ڈال دی، جس کی تاثیر سے اس بچھڑے کے قالب سے مختلف آوازیں نکلنے لگیں، بنی اسرائیل حیران تھے کہ یہ کیا چیز ہے ؟ سامری نے یہ دعوی کرکے ان کی حیرت دور کر دی کہ اس بچھڑے میں الله تعالیٰ کی ذات حلول کر چکی ہے، یہی ہمارا معبود ہے، جس کی تلاش میں موسی علیہ السلام کوہ طور تشریف لے جاچکے ہیں، اتنے بڑے جرم کے بعد بھی توبہ کرنے پر الله تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔ الله تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو ۔اس توبہ کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے۔

﴿وَإِذْ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ وَالْفُرْقَانَ﴾”فرقان“ فیصلے کی چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کیا جاسکے۔ (مفردات الفاظ القرآن لراغب، فرق، ص:633)

اس سے یا تو وہ احکام شرعیہ مراد ہیں جو تورات میں مذکور تھے، جن سے عقائد اور عملی اختلافات کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ ( تفسیر ابن کثیر ، البقرة تحت آیہ رقم:54) یا اس سے مراد وہ معجزات ہیں، جو سچے اور جھوٹے دعوی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ (تفسیر روح المعانی، البقرة تحت آیہ رقم:54) یا یہ تورات ہی کی ایک صفت ہے، جو کتاب ہونے کے ساتھ ساتھ فیصل کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ (تفسیر کشاف، البقرة تحت آیہ رقم:54)

﴿وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُواْ إِلَی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ عِندَ بَارِئِکُمْ فَتَابَ عَلَیْْکُمْ إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم﴾․(البقرة:54)
اورجب کہا موسی نے اپنی قوم سے! اے قوم تم نے نقصان کیا اپنا، یہ بچھڑا بنا کر، سواب توبہ کرو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف اور مار ڈالو اپنی اپنی جان، یہ بہتر ہے تمہارے لیے تمہارے خالق کے نزدیک، پھر متوجہ ہوا تم پر، بے شک وہی ہے معاف کرنے والا، نہایت مہربان۔

موسی علیہ السلام جب کوہ طور سے واپس تشریف لائے اور قوم کو مبتلائے شرک دیکھا تو سخت پریشان اور غمگین ہوئے، سامری کو ڈانٹا، شرک میں مبتلا جہلاء کو زجر وتنبیہ کی، انہیں اپنی غلطی اور مشرکانہ اعمال پر ندامت ہوئی، معافی اور توبہ کے خواست گار ہوئے، ان کی توبہ کی قبولیت کا یہ طریقہ تجویز ہوا کہ جو مسلمان شرک سے دور رہے وہ اپنے ہاتھوں سے ان عزیزوں اوررشتہ داروں کو تہ تیغ کریں جو گوسالہ پرستی میں مبتلاہو گئے تھے۔ یہ بڑا سخت امتحان تھا، لیکن اسی میں ان کے لیے خیر تھی کہ وہ اس جہاں میں مقتول ہو کر آخرت کے دائمی عذاب سے بچ گئے ۔ یہ سزا بالکل ایسی ہی تھی جیسے ہماری شریعت میں بعض گناہوں کی سزا توبہ کے باوجود قتل ہے۔ 

ایک غلط فہمی کا ازالہ
اردو طبقہ کے بعض مفسرین نے اسے فتنہ ارتداد کی سزا قرار دیا ہے ، لیکن یہ درست نہیں، کیوں کہ بنی اسرائیل کو جب یہ سزا دی جارہی تھی اس وقت وہ اپنے مشرکانہ افعال سے توبہ کرکے سچے مسلمان بن چکے تھے ، تجدید ایمان کے بعدجو سزا دی جائے اسے ارتداد کی سزا نہیں کہا جاسکتا۔ یہاں قتل کی سزا درحقیقت ان کی توبہ کا ہی ایک مرحلہ تھا ،نہ کہ ارتداد کی سزا کا ایک حصہ۔

﴿إِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم﴾
دنیائے مسیحیت نے الله تعالیٰ کے متعلق یہ خیال اختیار کررکھا ہے کہ وہ قانونِ مکافاتِ عمل کا پابند ہے، اس لیے کسی گناہ گار کو سزا دیے بغیر معاف کرنا اس کے قانون کے منافی ہے، تاہم وہ رحیم بھی ہے ،جس کا تقاضا یہ ہے کہ بندوں کے گناہوں سے درگزر کیا جائے ۔ اس لیے اس نے اپنے بیٹے مسیح کو سب کی طرف سے سے بطور کفارہ سزا دے کر سب کو معاف کر دیا۔

یہودیوں نے خدا کی جباریت وقہاریت کو اس قدر زورو شور سے بیان کیاکہ رحمت الہی کی ساری تصویر دھندلی ہو گئی ۔ الله تعالیٰ نے اپنی شانِ توابیت اور شانِ رحیمی کو بیان کرکے تمام گم راہیوں کی تردید فرمائی۔

﴿وَإِذْ قُلْتُمْ یَا مُوسَی لَن نُّؤْمِنَ لَکَ حَتَّی نَرَی اللَّہَ جَہْرَةً فَأَخَذَتْکُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ، ثُمَّ بَعَثْنَاکُم مِّن بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون﴾․(البقرة:55۔56)
اور جب تم نے کہا اے موسی! ہم ہر گز یقین نہ کریں گے تیرا جب تک کہ نہ دیکھ لیں الله کو سامنے، پھرآلیا تم کو بجلی نے او رتم دیکھ رہے تھے، پھر اٹھا کھڑا کیا ہم نے تم کو مر گئے پیچھے تاکہ تم احسان مانو۔

بنی اسرائیل کا لقائے الہی کا اصرار
حضرت موسی ں تورات لے کر قوم کے پاس تشریف لائے تو بعض اسرائیلیوں نے اسے کتاب الہٰی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ان کا اصرار تھا کہ الله تعالیٰ خود اعلان فرمائیں کہ یہ میری کتاب ہے ۔ الله تعالیٰ نے حضرت موسی ں کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے چیدہ چیدہ ستر افراد کو لے کر کوہ طور پر تشریف لے آئیں، جہاں انہیں یہ اعلان بھی سنا دیا جائے گا۔ (تفسیر بیضاوی، البقرة تحت آیہ رقم:55) کتاب الہٰی کی صداقت کا اعلان سننے کے بعد ان کا مطالبہ ہوا کہ جب تک ہم الله تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہ لائیں گے ، چوں کہ اس آب وگِل کی دنیا میں رہ کر خدا کا دیدار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس بے جا مطالبے اور گستاخی پر خدا کی طرف سے ایک بجلی آئی اور اس نے سب کو موت کی نیند سلا دیا۔ ( تفسیر کبیر للرازی، البقرة تحت آیہ رقم:55) اس صورت حال میں بنی اسرائیل کی طرف سے اس بدگمانی کا خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ حضرت موسی ں نے کسی تدبیر سے ان تمام افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہو گا۔ اس لیے حضرت موسی علیہ السلام نے ان کے لیے حیاتِ نو کی دعا فرمائی، جو قبول ہوئی او رانہیں ایک نئی زندگی سے سر فراز کیا گیا، یہ الله تعالیٰ کا کتنا بڑا انعام تھا!!!

﴿وَظَلَّلْنَا عَلَیْْکُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَیْْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَی کُلُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَکِن کَانُواْ أَنفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ، وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُواْ ہَذِہِ الْقَرْیَةَ فَکُلُواْ مِنْہَا حَیْْثُ شِئْتُمْ رَغَداً وَادْخُلُواْ الْبَابَ سُجَّداً وَقُولُواْ حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطَایَاکُمْ وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ، فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ قَوْلاً غَیْْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَاء بِمَا کَانُواْ یَفْسُقُون﴾․ (البقرة:57 تا59)
اور سایہ کیا ہم نے تم پر ابر کا اور اتارا تم پر من اور سلویٰ ،کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دی او رانہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہ کیا، بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے رہے او رجب ہم نے کہا داخل ہو اس شہر میں او رکھاتے پھرو اس میں جہاں چاہو فراغت سے اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے او رکہتے جاؤ بخش دے تومعاف کر دیں گے ہم تمہارے قصور اور زیادہ بھی دیں گے نیکی والے کو، پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو کہہ دی گئی تھی ان سے، پھر اتارا ہم نے ظالموں پر عذاب آسمان سے، ان کی عدول حکمی پر۔

تفسیر
﴿وَظَلَّلْنَا عَلَیْْکُمُ الْغَمَام…﴾ یہ قصہ بھی وادی تِیہ میں پیش آیا، گزشتہ صفحات میں بنی اسرائیل کے تعارف میں ذکر کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کا آبائی اورا صلی وطن شام تھا، حضرت یوسف ں کے زمانہ اقتدار میں یہ مصر میں آکر بسے تھے او رملک شام میں ایک دوسری قوم عمالقہ قابض ہو گئی تھی ،فرعون کی غرقابی کے بعد انہیں عمالقہ سے جہاد کرکے اپنا ملک چھڑانے کا حکم ہوا۔ لیکن انہوں نے عمالقہ کی قوت وطاقت کے قصے سن رکھے تھے، اس لیے ہمت ہاربیٹھے او رجہاد کرنے سے صاف انکار کر دیا، الله تعالیٰ نے سزا کے طور پر وادی تیہ میں چالیس سال تک سرگرداں رکھا، خیمے پھٹ گئے تھے، دھوپ کی شدت ہوئی تو الله تعالیٰ سے آسمان کو ابر آلود کر دیا۔ ان کی نافرمانیوں کے باوجود الله تعالیٰ انہیں انعامات سے نوازتے رہے ۔ کسی قسم کی زراعت او رکاروبار بھی نہ تھا، خوردونوش کے لیے الله تعالیٰ نے ان کے لییمن وسلویٰ اتارا۔ ”من“ دھنیا کے سائز کے ترنجبین قسم کے دانے ہوتے ہیں جو نہایت شیریں ہوتے تھے ۔ رات کو ان کے خیموں کے اردگرد برس جاتے ، بنی اسرائیل صبح کو جمع کر لیتے ، ”سلوی“ بیٹر قسم کا ایک پرندہ تھا، جن کے غول درغول دریائے شور سے اڑکر ان کے خیموں کے اردگر آکے بیٹھ جاتے، جنہیں یہ آسانی سے پکڑ کر گوشت وکباب بناتے۔

﴿وَلَکِن کَانُواْ أَنفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ﴾… بنی اسرائیل کو من وسلوی ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن انہوں نے اس کا ذخیرہ کرکے حکم الہٰی کو توڑ ڈالا، جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ گوشت سڑنے لگا۔ مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر بنی اسرائیل ذخیرہ اندوزی کا ارتکاب نہ کرتے تو گوشت کبھی نہ گلتا اور نہ سڑتا، خواہ مہینوں پڑا رہتا۔ مگر ان کی نافرمانی کی وجہ سے گوشت سڑنے لگا۔ خدا کی نافرمانی کرکے اپنے نفس پر خود ہی ظلم کا ارتکاب کیا۔

﴿وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُواْ ہَذِہِ الْقَرْیَة الخ﴾… یہ قصہ بھی وادی تیہ کا ہے، اس مقام پر الله تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی سرکشی، بے ادبی اور اس کے برے انجام سے آگاہ فرمایا ہے۔

بنی اسرائیل کو من وسلوی کی صورت میں ملنے والی مفت اور صحت بخش غذا کی کوئی اہمیت نہ تھی، انہیں شکایت تھی کہ ہم ایک ہی کھانا کھا کھا کر تنگ آچکے ہیں، اب دال ، سبزیاں وغیرہ کھانے کو جی چاہتا ہے، ان کے اصرار پر الله تعالیٰ نے انہیں ایک ایسی بستی میں جانے کا حکم دیا جہاں ان کی مطلوبہ چیزیں وافر مقدار میں تھیں ۔ نیز بستی میں داخل ہونے کے آداب بھی بتلائے گئے کہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ شکر الہی بجالاتے ہوئے داخل ہونا او رزبان پہ یہ ورد جاری رکھنا اے الله! ہمارے غلطیوں کو معاف فرما دے۔ اگر تم نے ان ہدایت پر عمل کیا تو ہم تمہاری لغزشوں سے در گذر کرکے مزید اجر سے بھی نوازیں گے۔

لیکن بنی اسرائیلیوں نے الله تعالیٰ کے اس حکم کا مذاق اڑایا، عاجزی او رانکساری کے بجائے اکڑتے ہوئے داخل ہوئے اور کلمہ استغفار ”حطة“ ( اے الله! ہماری مغفرت فرما) کو لفظ حبة فی شعرة ( غلہ جَو کے درمیان ہے ) سے بدل دیا۔ اس مذاق پر عذاب الہٰی کی شکل میں طاعون پھوٹا او رسب گستاخ اس میں مر گئے۔

﴿وَإِذِ اسْتَسْقَی مُوسَی لِقَوْمِہِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْْناً قَدْ عَلِمَ کُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ کُلُواْ وَاشْرَبُواْ مِن رِّزْقِ اللَّہِ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْن﴾․(البقرة:60)
اور جب پانی مانگا موسی نے اپنی قوم کے واسطے تو ہم نے کہا مار اپنے عصا کو پتھر پر سو بہ نکلے اس سے بارہ چشمے ، پہچان لیا ہر قوم نے اپنا گھاٹ کھاؤ اور پیو الله کی روزی اور نہ پھرو ملک میں فساد مچاتے۔

جب بنی اسرائیل وادی تیہ میں اترے تو وہاں پانی پانے کی کوئی سبیل نہ تھی ، انسانی زندگی کی بقا کے لیے پانی سے زیادہ اہم چیز کون سی ہو سکتی ہے ۔ اس لیے حضرت موسی ں نے بارگاہ الہی میں پانی کے لیے التجا فرمائی ، آپ کو ایک خاص پتھر پر عصا مارنے کا حکم ہوا ، جہاں عصا لگتے ہی بارہ چشمے پھوٹ پڑے، جوبارہ قبائل میں تقسیم ہو گئے اور سب کی ضروریات بآسانی پوری ہونے لگیں ۔ الله تعالیٰ نے پانی مہیا فرما کر کتنے بڑے انعام سے نوازا!!

عقل پرستوں کا اصول فطرت او رمعجزہ
عقل پرستوں کا اصول یہ ہے کہ اس کاروبار دنیا کا ہر فعل تعلیل وتسبیب کے ہمہ گیر قانون پر استوار ہے ، ذرّے سے لے کر پہاڑ تک ، قطرہ سے لے کر سمندر تک، کوئی چیز اس سے مستثنیٰ نہیں، کائنات کے ہر حصے پر اسی قاعدے او رقانون کی حکم رانی ہے ۔ یہ ایک ایسا اٹل قانون ہے کہ بقول سر سید اس کا انحراف خدا بھی نہیں کر سکتا ۔ ( محصلہ تحریر فی اصول التفسیر بمع تفسیر القرآن ، سرسید، الأصل الثامن، ص:21) عقل پرست اسے قانون فطرت کا نام دیتے ہیں، اسی قانون کی آڑ میں یہ معجزات او رکرامات کا انکار کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں مذکور خرقِ عادات کو قانون فطرت میں ڈھالنے کے لیے تاویل وتحریف سے کام لیتے ہیں چناں چہ سر سید صاحب :﴿فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْْنا﴾(تو ہم نے کہا مار اپنے عصا کو پتھر پر ،سو بہ نکلے اس سے بارہ چشمے) پتھر سے چشمے بہنے کا انکار کرتے ہوئے اس آیت کریمہ کا ترجمہ کرتے ہیں۔

”حجر کے معنی پہاڑ کے ہیں اور ضرب کے معنی رفتن ( چلنا) کے ، پس صاف معنی ”فاضرب بعصاک الحجر“ کے ہوئے کہ اپنی لاٹھی کے سہارے پہاڑ پر چل ، اس پہاڑ کے پرے ایک مقام ہے، جہاں بارہ چشمے پانی کے جاری تھے، خدا نے فرمایا ” فانفجرت منہ اثنتا عشرة عیناً“ یعنی اس میں سے پھوٹ نکلے ہیں بارہ چشمے۔ ( تفسیر القرآن، البقرہ:60)۔

عربی زبان سے شدبد رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ حجر ( پتھر) بول کر پہاڑ مراد نہیں لیا جاتا اور ضرب بمعنی رفتن ( چلنا) اس وقت ہوتا ہے جب اس کے صلے میں لفظ ” فی“ ہو، لیکن عقل پرستوں کو قاعدے اور قانون سے کیا واسطہ؟ انہیں تو فقط اپنا مطلب نکالنا ہے اگرچہ وہ ”شوربے کی تحقیق“ کی صورت میں نکل رہا ہو ۔ شوربے سے روٹی کھانے کے مفہوم سے ہر خاص وعام واقف ہے، لیکن اگر کوئی شخص اس کی لغوی تحقیق میں جت کر یہ دعوی کر ڈالے کہ اس کا مطلب کھارے پانی سے روٹی کھانے کے ہیں ۔کیوں کہ، شوربہ شوراور آب سے مرکب ہے شور کھارے اور آب پانی کو کہتے ہیں، بتائیے! اس مسخرے پن کو تحقیق کا نام دیا جاسکتا ہے؟

مناسب ہے کہ اس مقام پر اس بنیادی اختلاف پر تفصیلی بحث ہو جائے جو خرق عادات امو رکے انکار کا موجب بنتا ہے۔ لہٰذا معجزہ کی حقیقت، اس کا ثبوت، منکرین کے دلائل وشبہات کا تفصیلی جائزہ لیاجارہا ہے۔

معجزہ کی تعریف
جو خرقِ عادات امور کسی مدعی نبوت کی ذات گرامی سے صادر ہوں اسے قرآن کریم کی اصطلاح میں آیت اور متکلمین اسلام کی اصطلاح میں معجزہ کہتے ہیں، معجزے کا مطلب ہے عاجز کر دینے والا، معجزے کو معجزہ اس لیے کہتے ہیں کہ نبوت ورسالت کے منکرین اس کے ہم مثل لانے سے عاجز ہوتے ہیں۔ معجزہ اپنے ظہور میں کسی سبب طبعی کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ وہ خالص ارادہ الہی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتا ہے او رمدعی نبوت کی صداقت کا خدائی اعلان ہوتا ہے۔ (المعجزات: جمع معجزة وھی امر یظہر بخلاف العادة علی یدمدعی النبوة عند تحدی المنکرین علی وجہ یعجز المنکرین عن الاتیان بمثلہ، وذلک لانہ لولا التائید بالمعجزة لما وجب قبول قولہ․ ( شرح العقائد النسفیہ مبحث النبوة:135)

معجزہ نبوت کی دلیل ہے یا نہیں؟
اس کاجواب ایک دوسرے سوال پر موقوف ہے، وہ یہ کہ ایک نبی اور رسول اپنے دعوے نبوت ورسالت پر لوگوں کو کس طرح اطمینان دلائے گا؟

فلاسفہ کاجو گروہ معجزات کو سبب طبعی کا نتیجہ قرار دیتا ہے، ان کا موقف یہ ہے کہ ”پہلے یہ طے کیا جائے کہ صحیح عقائد او راعمال خیر کیا ہیں؟ اس امر کے محقق ہو جانے کے بعد جب یہ دیکھا جائے کہ ایک شخص لوگوں کو دین حق کی دعوت دیتا ہے اور یہ بھی نظر آئے کہ اس کی بات لوگوں کو باطل سے حق کی طرف لانے میں نہایت قوی اثر رکھتی ہے تو ہم کو یقین آجائے گا کہ وہ سچا پیغمبر ہے او رواجب الاتباع ہے ۔ یہ طریقہ عقل سے زیادہ قریب ہے او راس پر کم سے کم شبہے وارد ہوتے ہیں۔ (علم الکلام اور کلام، شبلی نعمانی:2/129)

فلاسفہ کا یہ موقف علامہ رازی رحمہ الله نے مطالب عالیہ میں نقل فرمایا ہے، جیسے ہمارے برصغیر کے معروف فلسفی علامہ شبلی نعمانی نے ”علم الکلام او رکلام“ میں اپنے مدعی پر پیش کیا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس قدر عقلی شبہات اس طریق پر وارد ہوتے ہیں کسی اور پر نہیں ہوتے ۔ کون سے اعمال، خیرکے ضمن میں شمار ہوں گے اورکون سے اعمال؟ شر کے ضمن میں ؟ اس کا فیصلہ وحی کی راہ نمائی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لیے یہ کہنا ہی غلط ہے کہ ”پہلے یہ طے کیا جائے کہ صحیح عقائد اوراعمال خیر کیا ہیں “نبی کی بعثت کے مقاصد میں سے اہم مقصد یہی ہے کہ وہ ان اعمال ، افعال، عقائد، کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے جسے لوگوں کی خواہشات نے بگاڑ دیا ۔ اگر لوگ عقائد کی تصحیح اور اعمال خیر کو اپنے تئیں محقق کر لیں تو پھر بعثت انبیاء چہ معنی دارد؟

مزید برآں انسانی عقل خیروشر کے جو پیمانے تیار کرتی ہے وہ سب مفادات ، مصالح، خود غرضی ، ہویٰ پرستی کے سانچے میں ڈھلے ہوتے ہیں جونظریہ ضرورت کے تحت بدل بھی سکتے ہیں، اس کی چھوٹی سی اور معروف مثال لیجیے۔ زنا تمام شرائع میں حرام رہا، خود عقل بھی ایک عرصے تک اس کی حرمت اورقباحت کا فیصلہ دیتی رہی لیکن اب یورپ کے فلاسفہ اور لادینی عناصر باہمی رضا مندی سے ہونے والے زنا کو ”آزادی عمل“ کی معراج قرار دے چکے ہیں، آپ ہی فیصلہ کریں انبیائے کرام کی بعثت خیر وشر کے انہیں پیمانوں کو سند جواز عطا کرنے کے لیے ہوتی ہے ؟

اس مفروضے کا دوسرا جز یہ ہے کہ ”اس کی بات لوگوں کو باطل سے حق کی طرف لانے میں نہایت قوی اثر رکھتی ہے تو ہم کو یقین آجائے گا کہ وہ سچا پیغمبر ہے۔“ معرفت نبوت کی یہ دلیل بھی محل نظر ہے، حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک توحید کی دعوت دیتے رہے، لیکن ان کی آواز پر لبیک کہنے والے افراد اکثریت نہ بن سکے، بلکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز بعض نبی ایسے ہوں گے جن کے ساتھ صرف دو امتی ہوں گے ، بعض کے ساتھ صرف تین امتی ہوں گے ۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، رقم الحدیث:4284)

اسی طبقے کے بعض جدت پسندوں نے نبی کے حسن اخلاق اور حسن تعلیم کو دلیل نبوت قرار دیا۔

لیکن یہ مفروضہ بھی درست نہیں۔ نبوت ایک عظیم الشان دعوی ہے، اس کا تعلق عام وخاص، جاہل وعالم، امیر وفقیر سب کے لیے یکساں ہے او رحسن اخلاق وحسن تعلیم ایسی عام فہم دلیل نہیں،جو ہر طبقے کے لیے مفید ہو، نیز حسنِ اخلاق ایک کسبی چیز ہے، اسے اگر نبوت کی دلیل ٹھہرا دیا جائے تو ہر مجسمہ اخلاق کے لیے دعوی نبوت کی راہ ہم وار ہو جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ عقل کی پرپیچ وادیوں میں قدم رکھنے والے فلاسفہ دلیل نبوت کے متعلق فیصلہ کن رائے دینے سے عاجز ہیں۔

اب آئیے متکلمین اسلام کی طرف! جن کا دعوی ہے کہ معجزہ دلیل نبوت ہے۔ کیوں کہ یہ عام فہم دلیل ہے؟ جو چیز طاقت بشر یہ سے خارج اور قادر مطلق کا کرشمہ ہو اس کانظارہ کرنے والا ہر شخص فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس شخص کا قادر مطلق کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے ، اسی کو تسلیم کر لینے کا نام نبوت ہے، معجزے کے ظہور سے نبی کی سچائی کا علم اضطراری طور پر پیدا ہو جاتا ہے ،جس طرح آفتاب کو دیکھ کر بے اختیار دن کے وجود کا علم ہوتا ہے۔

معجزے کو دلیل نبوت نہ سمجھنے والوں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ معجزات کے و قوع سے تو اس لیے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ قرآن کریم کی آیات قطعیہ اور اخبار متواترہ سے ثابت ہیں۔ مثلاً حضرت موسی علیہ السلام کے عصا مارنے سے پتھر سے پانی کانکل آنا۔عصائے موسی علیہ السلام کا سانپ بن کر جادو گروں کے سانپوں کو نگل جانا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے آتش نمرود کا گل وگلزار ہو جانا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا بے جان چیزوں میں حیات نو ڈال دینا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم کے انگشت مبارک سے پانی کا جاری وساری ہونا۔ ستون حنانہ کا آپ علیہ السلام کی جدائی میں رونا۔ انبیاء علیہم السلام کی ذات مبارکہ سے یہ افعال کیوں صادر ہوئے؟ یہ سب کھیل تماشا اور لہوو لعب تھا۔(نعوذ بالله) یا اس سے کوئی غرض وغایت تھی؟ اگر لہو ولعب تھا تو یہ انبیاء کے حسن اخلاق اور حسن تعلیم کے منافی ہے کہ وہ لوگوں کو لہو ولعب میں مصروف رکھ کر یادحق سے غافل رکھیں اور اگر ان افعال کا ظہور کسی غرض وغایت پرمبنی تھا تو وہ کیا ہیں ؟ 

معجزہ اور سحر میں فرق
معجزہ اور سحر میں چند وجوہ سے فرق ہے۔

معجزے کے ظہور میں بعض اوقات نبی کے ارادے کو بھی دخل نہیں ہوتا اور سحر ہمیشہ ساحر کے ارادے اور خبر سے وجود میں آتا ہے ۔ جب حضرت موسی علیہ السلام کو جادوگروں کے مقابلے میں اپنی عصا ڈالنے کا حکم ہوا تو انہیں خبر بھی نہ تھی کہ وہ سانپ بن جائے گا، اس لیے اسے سانپ بنتے ہوئے دیکھ کر آپ خود بھی خوف زدہ ہو گئے ۔

معجزے کے ظہور میں اسبابِ طبعیہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا، جب کہ سحر کے ظہور میں مخفی اسباب طبعیہ کار فرما ہوتے ہیں ، جس کا اقرار خود ساحر بھی کرتے ہیں، اس لیے انہیں خرق عادات بھی نہیں کہا جاسکتا۔

کوئی شعبدہ باز او رجادوگر انبیاء سے ظاہر ہونے والے معجزوں کا معارض نہیں لاسکتا۔ ( المسامرة فی شرح المسایرة، الأصل العاشر، فی اثبات نبوة نبینا، ص:199) یہی وجہ ہے کہ ساحرانِ فرعون نے موسی ں کا معجزہ دیکھ کر فوراً شکست تسلیم کر لی اور اقرار کر لیا کہ یہ معجزہ ہے ،جو اسباب طبعیہ سے ماوریٰ ہے، اسے سبب طبعیہ کے ذریعے شکست نہیں دی جاسکتی۔ جب ساحر اوراہل فن معجزہ کو کسی سبب وغیرہ کا نتیجہ نہیں قرار دیتے تو ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا یہ کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ ” سحر او رمعجزہ میں کوئی فرق نہیں، دونوں اسباب طبعیہ کا نتیجہ ہیں “؟ جنہیں اس فن سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

انبیاء علیہم السلام روحانیت اور اخلاقیات کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں ، شعبدہ باز اور ساحر اخلاق رزیلہ کا شکار ہوتے ہیں، گندگی اور ناپاکی کے بغیر انہیں سحر پر قدرت ہی حاصل نہیں ہوتی۔

انبیاء علیہم السلام معجزوں کے ذریعے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے ہیں اور ساحر اپنے سحر کو معاش کا ذریعہ سمجھتے ہیں، چناں چہ ساحران فرعون نے اپنے جادوگری کے مظاہرے سے قبل اجرت کا مطالبہ پیش کیا:﴿وَجَاء السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالْواْ إِنَّ لَنَا لأَجْراً إِن کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِیْن﴾․ (الاعراف:113)

”بولے ہمارے لیے کچھ مزدوری ہے اگر ہم غالب ہوئے۔“

اگر جادوگر او رساحر نبوت کا دعوی کر دے تو اس کی جادوگری اور ساحری کا سارا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے، کیوں کہ نبوت اور جادوگری دو متضاد چیزیں ہیں ،جو ایک ساتھ نہیں چل سکتیں۔ (ملخص تفسیر عثمانی،البقرہ تحت آیہ رقم:50) 
 (جاری)

فرشتہ بھی معصوم ہوتے ہیں :
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا قوا أَنفُسَكُم وَأَهليكُم نارًا وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَةُ عَلَيها مَلٰئِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا يَعصونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُم وَيَفعَلونَ ما يُؤمَرونَ {66:6}؛
اے ایمان والو بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے جسکی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر، اُس پر مقرر ہیں فرشتے تندخو زبردست، نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے اُنکو اور وہی کام کرتے ہیں جو اُنکو حکم ہو 

No comments:

Post a Comment