Monday, 13 October 2014

خلیفہ سوئم سیدنا حضرت عثمان ؓ


صحابہ کی شان اور بیعت رضوان:
القرآن : تحقیق اللہ مؤمنوں سے راضی ہوا جب وہ آپ سے بیعت کررہے تھےدرخت کے نیچے،سو اس نے معلوم کرلیا جو ان کے دلوں میں (خلوص تھا) تو اس نے ان پر تسلی اتاری،او ربدلہ میں انہیں قریب ہی ایک فتح عطا کی۔[الفتح :18]

تفسیر ابن کثیر:- چودہ سو صحابہ اور بیعت رضوان پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ بیعت کرنے والے چودہ سو کی تعداد میں تھے اور یہ درخت ببول کا تھا جو حدیبیہ کے میدان میں تھا ، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن جب حج کو گئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک جگہ نماز ادا کر رہے ہیں پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ تو جواب ملا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت الرضوان ہوئی تھی۔ حضرت عبدالرحمن نے واپس آکر یہ قصہ حضرت سعید بن مسیب سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا میرے والد صاحب بھی ان بیعت کرنے والوں میں تھے ان کا بیان ہے کہ بیعت کے دوسرے سال ہم وہاں گئے لیکن ہم سب کو بھلا دیا گیا وہ درخت ہمیں نہ ملا پھر حضرت سعید فرمانے لگے تعجب ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ جاننے والے ہو ۔ پھر فرمایا ہے ان کی دلی صداقت نیت وفا اور سننے اور ماننے والی عادت کو اللہ نے معلوم کر لیا پس ان کے دلوں میں اطمینان ڈال دیا اور قریب کی فتح انعام فرمائی۔ یہ فتح وہ صلح ہے جو حدیبیہ کے میدان میں ہوئی جس سے عام بھلائی حاصل ہوئی اور جس کے قریب ہی خیبر فتح ہوا پھر تھوڑے ہی زمانے کے بعد مکہ بھی فتح ہو گیا پھر اور قلعے اور علاقے بھی فتح ہوتے چلے گئے ۔ اور وہ عزت و نصرت و فتح و ظفر و اقبال اور رفعت حاصل ہوئی کہ دنیا انگشت بدنداں حیران و پریشان رہ گئی ۔ اسی لئے فرمایا کہ بہت سی غنیمتیں عطا فرمائے گا ۔ سچے غلبہ والا اور کامل حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے ہم حدیبیہ کے میدان میں دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے ندا کی کہ لوگو بیعت کے لئے آگے بڑھو روح القدس آچکے ہیں ۔ ہم بھاگے دوڑے حاضر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے آپ اس وقت ببول کے درخت تلے تھے ہم نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی جس کا ذکر آیت ( لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا 18؀ۙ) 48- الفتح:18) میں ہے ۔ حضرت عثمان کی طرف سے آپ نے اپنا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر خود ہی بیعت کر لی ، تو ہم نے کہا عثمان بڑے خوش نصیب رہے کہ ہم تو یہاں پڑے ہوئے ہیں اور وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں گے یہ سن کر جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بالکل ناممکن ہے کہ عثمان ہم سے پہلے طواف کر لے گو کئی سال تک وہاں رہے ۔ 

تفسیر عثمانی:- (ف ۸) وہ کیکر کا درخت تھا حدیبیہ میں ۔ غالباً "لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ " الخ فرمانے کی وجہ ہی سے اس بیعت کو "بیعت الرضوان" کہتے ہیں ۔ شروع سورت میں اس کا مفصل قصہ گزر چکا۔ (ف ۹) یعنی ظاہر کا اندیشہ اور دل کا توکل، حسن نیت، صدق و اخلاص اور جب اسلام وغیرہ۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے "مافی قلوبہم" سے یہ ہی مراد لیا ہے مگر ابو حیان کہتے ہیں کہ صلح اور شرائط صلح کی طرف سے دلوں میں جو رنج و غم اور اضطراب تھا وہ مراد ہے اور آگے "فانزل السکینۃ علیہم" اس پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ 

تفسیر تھانوی:- ف٦۔ جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش نہیں ہوا۔ ف۱۔ مراد اس سے فتح خیبر ہے ۔ 

تفسیر معارف القرآن:- خلاصہ تفسیر تحقیق اللہ ان مسلمانوں سے (جو آپ کے ہم سفر ہیں) خوش ہوا جبکہ یہ لوگ آپ سے درخت کے نیچے (جہاں میں ثابت قدم رہنے پر) بیعت کر رہے تھے اور ان کے دلوں میں جو کچھ (اخلاص اور عہد کو پورا کرنے کا عزم) تھا اللہ کو وہ بھی معلوم تھا اور (اس وقت) اللہ تعالیٰ نے ان (کے قلب) میں اطمینان پیدا کر دیا (جس سے ان کو خدا کا حکم ماننے میں ذرا پس و پیش یا تردد نہیں ہوا ۔ یہ تو معنوی نعمتیں ہوئیں) اور (اس کے ساتھ کچھ محسوس نعمتیں بھی دی گئیں جن میں معنوی نعمتیں بھی شامل تھیں ، چنانچہ) ان کو ایک لگتے ہاتھ فتح دے دی(مراد اس فتح سے فتح خیبر ہے) اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جن کو یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست (اور ) بڑا حکمت والا ہے (کہ اپنی قدرت اور حکمت سے جس وقت جس کے لئے مناسب سمجھتا ہے فتح دے دیتا ہے اور کچھ اسی فتح خیبر پر بس نہیں بلکہ) اللہ تعالیٰ نے تم سے (اور بھی) بہت سی غنیمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے جن کو تم لو گے سو (ان میں سے) سردست تم کو یہ دے دیہے اور (اس کے دینے کے لئے خیبر اور حلفاء خیبر کے) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے (یعنی سب کے دلوں پر رعب ڈال دیا کہ ان کو زیادہ دراز دستی کی ہمت نہ ہوئی اور اس سے تمہارا دنیوی نفع بھی مقصود تھا تاکہ آرام اور فراغت ملے) اور (دینی نفع بھی تھا) تاکہ یہ (واقعہ) اہل ایمان کیلئے (دوسرے وعدوں کے سچے ہونے کا) ایک نمونہ ہو جائے (یعنی خدا کے وعدوں کے سچا ہونے پر اور زیادہ ایمان پختہ ہو جائے) اور تاکہ (اس نمونہ کے ذریعہ ) تم کو (آئندہ کے لئے ہر کام میں ) ایک سیدھے راستہ پر ڈال دے (مراد اس راستہ سے توکل اور اللہ پر بھروسہ ہے یعنی ہمیشہ کے لئے اس واقعہ کو سوچ کر اللہ پر اعتماد سے کام لیا کرو اس طرح دینی نفع دو ہو گئے ایک علمی اور اعتقادی جس کو ولتکون سے بیان فرمایا ، دوسرا عملی و اخلاقی جس کو یھدیکم کے الفاظ سے ارشاد فرمایا) اور ایک فتح اور بھی (موعود) ہے جو ( اس وقت تک ) تمہارے قابو میں نہیں آئی (مراد اس سے فتح مکہ ہے جو اب تک واقع نہیں ہوئی تھی مگر) خدا تعالیٰ اس کو احاطہ (قدرت ) میں لئے ہوئے ہے (جب چاہے گا تم کو عطا کر دے گا) اور (اسی کی کیا تخصیص ہے) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ معارف و مسائل (آیت) لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، اس بیعت سے مراد بیعت حدیبیہ ہے جس کا ذکر اس سے پہلے بھی (آیت) ان الذین یبایعونک میں آ چکا ہے یہ آیت بھی اسی سے متعلق اور اس کی تاکید ہے اس آیت میں حق تعالیٰ نے اس بیعت کے شرکاء سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا دیا ہے اسی لئے اس کو بیعت رضوان بھی کہا جاتا ہے اور مقصود اس سے ان شرکاء بیعت کی مدح اور ان کو اس عہد کے پورا کرنے کی تاکید ہے ۔ صحیحین میں حضرت جابر کی روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن ہماری تعداد چودہ سو نفر کی تھی ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انتم خیر اھل الارض، یعنی تم لوگ تمام روئے زمین کے انسانوں سے بہتر ہو اور صحیح مسلم میں ام بشر سے مرفوعاً روایت ہے کہ لایدخل النار احد ممن بایع تحت الشجرة، یعنی جن لوگوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں کوئی جہنم میں نہیں جائے گا (مظہری) اس لئے اس بیعت کے شرکاء کی مثال شرکاء غزوہ بدر کی سی ہے جیسا ان کے متعلق قرآن و حدیث میں رضائے الٰہی اور جنت کی بشارتیں ہیں اسی طرح شرکاء بیعت رضوان کے لئے بھی یہ بشارت آئی ہے ۔ یہ بشارتیں اس پر شاہد ہیں کہ ان سب حضرات کا خاتمہ ایمان اور اعمال صالحہ مرضیہ پر ہوگا کیونکہ رضائے الٰہی کا یہ اعلان اس کی ضمانت دے رہا ہے ۔ صحابہ کرام پر طعن و تشنیع اور ان کی لغزشوں میں غور و بحث اس آیت کیخلاف ہے : تفسیر مظہری میں فرمایا کہ جن خیار امت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے غفران و مغفرت کا یہ اعلان فرما دیا ہے ، اگر ان سے کوئی لغزش یا گناہ ہوا بھی ہے تو یہ آیت اس کی معافی کا اعلان ہے ۔ پھر ان کے ایسے معاملات کو جو مستحسن نہیں ہیں غور و فکر اور بحث و مباحثہ کا میدان بنانا بدبختی اور بظاہر اس آیت کی مخالفت ہے ۔ یہ آیت روافض کے قول کی واضح تردید ہے جو ابوبکر و عمر اور دوسرے صحابہ پر کفر و نفاق کے الزام لگاتے ہیں شجرة رضوان: شجرہ، جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے ایک ببول کا درخت تھا اور مشہور یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ لوگ وہاں چل کر جاتے اور اس درخت کے نیچے نمازیں پڑھتے تھے ۔ حضرت فاروق اعظم کو خطرہ ہوا کہ کہیں آئندہ آنے والے جہلاء اسی درخت کی پرستش نہ شروع کر دیں جیسے پچھلی امتوں میں اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں اس لئے اس درخت کو کٹوا دیا مگر صحیحین میں ہے کہ حضرت طارق بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے لئے گیا تو راستے میں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو ایک مقام پر جمع تھے اور نماز پڑھ رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کونسی مسجد ہے انہوں نے کہا کہ یہ وہ درخت ہے جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی ، میں اس کے بعد حضرت سعید بن مسیب کے پاس حاضر ہوا اور اس واقعہ کی خبر ان کو دی ، انہوں نے فرمایا کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جو اس بیعت رضوان میں شریک ہوئے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہم جب اگلے سال مکہ مکرمہ حاضر ہوئے تو ہم نے وہ درخت تلاش کیا ہمیں بھول ہوگئی اس کا پتہ نہیں لگا۔ پھر سعید بن مسیب نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جو خود اس بیعت میں شریک تھے ان کو تو پتہ نہیں لگا تمہیں وہ معلوم ہو گیا عجیب بات ہے کیا تم ان سے زیادہ واقف ہو (روح المعانی) اس سے معلوم ہوا کہ بعد میں لوگوں نے محض اپنے تخمینہ اور اندازہ سے کسی درخت کو متعین کر لیا اور اس کے نیچے حاضر ہونا اور نمازیں پڑھنا شروع کر دیا ، فاروق اعظم کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ وہ درخت نہیں پھر خطرہ ابتلائے شرک کا لاحق ہو گیا اس لئے اس کو قطع کرا دیا ہو ۔ کیا بعید ہے۔ فتح خیبر: خیبر در حقیقت ایک صوبہ کا نام ہے جس میں بہت سی بستیاں اور قلعے اور باغات شامل ہیں (مظہری) (آیت) وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا ، اس فتح قریب سے مراد باتفاق فتح خیبر ہے جو حدیبیہ سے واپس آنے کے بعد واقع ہوئی ہے بعض روایات کے مطابق تو حدیبیہ سے واپسی کے بعد آپ کا قیام مدینہ منورہ میں صرف دس روز اور دوسری روایت کے مطابق بیس روز رہا اس کے بعد خیبر کے لئے روانہ ہو گئے اور ابن اسحق کی روایت کے مطابق آپ ذی الحجہ میں مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے اور محرم 7 ہجری میں آپ غزوہ خیبر کے لئے تشریف لے گئے اور ماہ صفر سن7 ہجری میں خیبر فتح ہوا ۔ واقدی کے مغازی میں یہی لکھا ہے اور حافظ ابن حجرنے فرمایا کہ یہی راحج ہے (تفسیر مظہری ) بہرحال یہ ثابت ہوا کہ یہ واقعہ فتح خیبر سفر حدیبیہ سے کافی دنوں کے بعد پیش آیا ہے اور سورہ فتح کا سفر حدیبیہ کے دوران نازل ہونا سب کے نزدیک متفق علیہ ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ پوری سورت اسی وقت نازل ہوئی یا کچھ آیتیں بعد میں آئیں ۔ اگر پہلی صورت راجح ہو تو ان آیتوں میں واقعہ خیبر کا بیان بطور پیشگوئی کے ہو اور اس کو بصیغہ ماضی قطعی اور یقینی ہونے کی بناءپر تعبیر کیا گیا اور اگر دوسرا قول راحج ہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ آیتیں بعد وقوع فتح خیبر کے نازل ہوئی ہوں واللہ اعلم۔ 

تفسیر مدنی صغیر:- ف۱ سو اس سے ان بندگان صدق و صفا اور پیکران اخلاص و یقین کا ذکر فرمایا گیا ہے، جو بیعت رضوان کی اس عظیم الشان بیعت میں شرکت کے شرف سے مشرف ہوئے تھے، جس جیسی دوسری کسی بیعت کی کوئی مثال چشم فلک نے شاید ہی کبھی دیکھی ہو، سو اس سے اس بیعت کی عظمت شان کو بھی واضح فرما دیا گیا۔ اور اس میں شریک ہونے والے ان مخلصین کے بےمثال انعام کا بھی، سو آیت کریمہ کا آغاز ہی اس بشارت سے کیا گیا۔ اور وہ بھی تاکید در تاکید کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ راضی ہوگیا ان اہل ایمان سے جنہوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اے پیغمبر! جبکہ وہ آپ کے ہاتھ پر اس درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، اس شجرہ سے مراد کیکر کا درخت ہے کہ اسی کے نیچے یہ عظیم الشان بیعت ہوئی تھی۔ اور تَحْتَ الشَّجَرَۃِ (اس درخت کے نیچے) کی اس تصریح سے غربت و مسافرت کی اس حالت کی طرف اشارہ فرمادیا گیا جس میں تاریخ کی یہ عظیم الشان اور بےمثال بیعت وقوع پذیر ہوئی تھی۔ یعنی یہ بیعت غربت و مسافرت میں اور بےسرو سامانی کے اس عالم میں ہوئی تھی، کہ کیکر کے ایک درخت کے سائے کے سوا کسی اور چیز کا سایہ بھی میسر نہ تھا۔ اور بیعت تھی حضرت امام الانبیاء علیہ وعلی سائر ہم الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ پر۔ اور بیعت بھی تھی جہاد اور موت پر۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ کل چودہ سو نفوس قدسیہ تھے جو اپنے اصل مستقر (مدینہ منورہ) سے کوئی چھ سو کلو میٹر سے بھی زیادہ دُوری پر تھے۔ اور وہ بھی جنگی لباس کے بجائے احرام کی چادروں میں ملبوس تھے، جبکہ ان کے دشمن وہاں سے کل کوئی سولہ سترہ کیلومیٹر کے فاصلے پر اپنے اصل مستقر میں تھے۔ جہاں ان کے پاس ہر قسم کا سامان حرب وضرب موجود تھا، جبکہ لباس احرام میں ملبوس ان اہل ایمان کے پاس ایک ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا۔ سو ان حالات میں ان صدق شعاروں کا اللہ کے رسول کے حکم و ارشاد پر بغیر کسی پس و پیش، اور بدون کسی طرح کے لیت و لعل اور تسویف وتاخیر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنا۔ اور پوری وفاداری اور صدق شعاری کے ساتھ موت اور جہاد کیلئے تیار ہو جانا، اس بات کی کھلی شہادت اور واضح ثبوت ہے کہ یہ حضرات اپنے ایمان میں سچے، مخلص اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں درجہ کمال پر فائز تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو صاف اور صریح طور پر اور تاکیدی الفاظ میں اپنی رضا وخوشنودی کی سند سے نوازا۔ اور یہ ایسا منفرد اور بےمثال انعام و اعزاز ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ کرام کے سوا پوری امت میں اور کسی کو نہ نصیب ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں یہ امر بھی واضح رہنا چاہئیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام سے یہ بیعت اس وقت لی تھی جبکہ آپ کو یہ خبر پہنچی تھی، کہ کفار مکہ نے حضرت عثمان بن عفان کو شہید کر دیا ہے، جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کے طور پر آپ کی طرف سے ان لوگوں کے ساتھ بات کرنے وہاں گئے تھے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون عثمان کا بدلہ لینے اور کفار سے جہاد کرنے کیلئے یہ بیعت لی تھی۔ لیکن جب کفار مکہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بیعت اور جہاد کی تیاری کی خبر ملی تو ان پر رعب طاری ہوگیا، اور انہوں نے فورا حضرت عثمان رضی اللہ کو رہا کر دیا، اور صلح کی عرض پیش کی۔ اور اس بارے میں مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے ان کو یہ پیشکش بھی کی کہ اگلے سال آپ لوگ تین دن کیلئے یہاں آئیں ۔ ان تین دنوں میں ہم شہر کو آپ کیلئے خالی کر دیں گے، تاکہ آپ لوگ امن و امان کے ساتھ اس میں رہیں (ابن کثیر، ابن جریر، قرطبی، اور صفوہ، وغیرہ) پھر اس ضمن میں (فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَةَ عَلَيْهِمْ) 48۔ الفتح:18) کی تصریح سے اس اہم حقیقت کو بھی واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کے حال کو جان لیا۔ اور ان کے دلوں کے صدق و صفا کے نتیجے میں ان پر سکون و اطمینان کی خاص کیفیت نازل فرما دی۔ اور اسی صدق واخلاص کے نتیجے میں اس نے ان کو قریب کی فتح یعنی فتح خیبر سے سرفراز فرمایا۔ اور بہت سے دوسری غنیمتوں سے نوازا جو ان کو اسکے بعد نصیب ہوئیں، جس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوگئی کہ حدیبیہ کا معاہدہ ان کی شکست نہیں فتح تھی، اور یہی فتح بعد میں فتح مکہ کا مقدمہ اور اس کا دیباچہ قرار پائی۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام کی صداقت و حقانیت اور ان کی عظمت شان کے بارے میں قرآن حکیم کی ان تصریحات کے باوجود اور حضرت عثمان بن عفان کے اس انفرادی حیثیت و شان کے یا وصف جو آپ کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوئی، اس سب کے باوجود جو لوگ ان قدسی صفت حضرات صحابہ کرام پر زبان طعن وتشنیع دراز کرتے ہیں، اور ان کے ایمان تک میں کیڑے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کتنے بہکے بھٹکے، اور کس قدر ظالم اور بدبخت لوگ ہیں، بھلا جن حضرات کے دلوں کا امتحان اللہ پاک لے۔ اور اسکے بعد وہ ان کو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ کے عظیم الشان اور بےمثال سر ٹیفکیٹ سے نواز دے۔ ان سے بڑھ کر پاکیزہ اور صدق شعار انسان اور کون ہوسکتا ہے؟ اور کس طرح اور کیونکر؟ فرضی اللہ عنہم وارضا ہم وعنا معہم اجمعین۔ یہاں پر ایک اور بات بھی یہ قابل ذکر ہے جو کہ کیکر کے اس درخت سے متعلق ہے جس کا ذکر تحت الشجرۃ کے لفظ سے فرمایا گیا ہے، سو اسکے بارے میں ایک مشہور روایت وہ ہے جو نافع مولی ابن عمر سے مروی ہے کہ لوگ اس درخت کے پاس جا جا کر نمازیں پڑھنے لگے، تو حضرت عمر کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے اس پر لوگوں کو ڈانٹا، اور اس درخت کو کٹوا دیا، (طبقات ابن سعدج ٢ ص ١٠٠) لیکن اس سے متعلق اسکے علاوہ اور بھی کئی روایات پائی جاتی ہیں مثلاً خود حضرت نافع ہی سے دوسری روایت اس بارے یہ مروی ومنقول ہے کہ بیعت رضوان کے کئی سال بعد حضرات صحابہ کرام نے اس درخت کو تلاش کیا مگر وہ اس کو نہ پہچان سکے۔ اور ان کے درمیان اس بارے اختلاف ہوگیا کہ وہ کونسا درخت ہے، اور ان کی یہ روایت بھی طبقات ابن سعد ہی میں مروی و منقول ہے، (طبقات ج ٢ ص ١٠٥) جبکہ دوسری روایت جو کہ بخاری ومسلم اور طبقات ابن سعد میں حضرت سعید بن مسیب سے مروی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ میرے والد بیعت رضوان میں شریک تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ صلح حدیبیہ کے دوسرے سال جب ہم لوگ عمرۃ القضاء کیلئے گئے تو ہم اس درخت کو بھول چکے تھے۔ تلاش کرنے کے بعد بھی ہم اس کو نہ پاسکے۔ اور تیسری روایت جو ابن جریر سے مروی ہے اس میں کہا گیا کہ حضرت عمر کا اپنے عہد خلافت میں ایک مرتبہ جب حدیبیہ کے مقام سے گزر ہوا تو آپ نے اس درخت کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ درخت کہاں ہے، جسکے نیچے بیعت ہوئی تھی؟ تو کسی نے کہا وہ فلاں درخت ہے، اور کسی نے کہاں فلاں تو اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑو اس تکلف کی کیا ضرورت ہے؟ سو ان روایات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس درخت کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا حالانکہ وہ ایک ایسا عظیم الشان درخت تھا کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ موجود ہے، اور نہ ہوسکتی ہے، کہ اس کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے اور حضرت امام الانبیاء نے اسکے نیچے صحابہ کرام سے بیعت لی۔ مگر اس کے باوجود آج اس کا کوئی نام و نشان موجود نہیں، سو اس میں ان مشرکوں کیلئے بڑا درس عبرت ہے، جنہوں نے طرح طرح ایسے درختوں کو مقدس قرار دیکر ان کی پوجا شروع کر رکھی ہے، جن کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس، سو اس طرح کی مظاہر و ظواہر پرستی کا دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ سے کوئی لگاؤ نہیں ۔ 

تفسیر مدنی کبیر:- [41] بیعت رضوان والوں کیلئے اجر عظیم کا ذکر و بیان : سو اس سے بیعت رضوان والوں کے لیے رضا ء خداوندی کے عظیم الشان اجر و انعام کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور لقد کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ راضٰ ہوگیا ان ایمان والوں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر [اے پیغمبر!] بیعت کر رہے تھے، پس اس سے دو اہم باتیں معلوم ہوگئیں ، ایک یہ کہ جن حضرات نے اس بیعت میں شرکت فرمائی تھی وہ سب کے سب سچے پکے مومن تھے، اور دوسرے یہ کہ ان کو اللہ پاک کی رضا کا سرٹیفکیٹ مل گیا، اور اللہ ان سے راضی ہوگیا، اسی لئے اس بیعت کو بیعت رضوان یعنی رضاء خداوندی والی بیعت کہا جاتا ہے، اور آیت کریمہ کو قد اور لام تاکید کی ڈبل تاکید سے شروع فرمایا گیا ہے ، پس جو کوئی ان صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کرے گا اور ان کے ایمان و یقین اور صدق و صفا میں کیڑے نکالے گا، جیسا کہ روا فض وغیرہ کا وطیرہ ہے تو وہ اس آیت کریمہ اور اس اعلان و ارشاد خداوندی کے انکار کی وجہ سے کافر قرار پائے گا، والعیاذ باللہ اور صحیح مسلم، ابو داؤد اور ترمذی وغیرہ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن حضرات نے بیعت رضوان میں شرکت فرمائی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہیں جائے گا، رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین پس جن حضرات نے حدیبیہ کے اس نازک موقع پر اور احرام کی حالت میں ہونے کے باوجود پیغمبر کے ہاتھ پر جہاد اور موت کی بیعت کی، انہوں نے اپنے صدق ایمان کا عملی طور پر پورا پورا ثبوت پیش کر دیا، اور انہوں نے اپنی اس بیعت کا حق ادا کر دیا، اس لیے ان کو خداوند قدوس کی رضاء و خوشنودی کی سند اس صراحت و وضاحت کے ساتھ عطاء فرمائی گئی جو ایک بے مثال انعام اور عدیم النظیر اعزاز و اکرام تھا جس سے حضرت واہب مطلق جل و علا شانہ نے ان کو نوازا، رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھم وارضاہم وعنا معھم اجمعین اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی محبت اور اطاعت و اتباع سے سرشار رکھے اور ان کے نقش قدم پر چلتے رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ [42] شجرہئِ بیعت کی عظمت شان اور اس سے متعلق درسِ عظیم: جمہور مفسرین کے نزدیک یہ درخت سمرۃ [کیکر] کا درخت تھا جسے ببول بھی کہا جاتا ہے، پھر اللہ پاک نے اس درخت کو چھپا دیا تاکہ کہیں لوگ اس کی تعظیم و تقدیس کے ذریعے شرک میں مبتلا نہ ہوجائیں، اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ قدرت کی طرف سے اس درخت کو اس طرح چھپا دیا گیا کہ ہم میں سے دو آدمیوں کے درمیان بھی اس کے بارے میں اتفاق رائے نہیں پایا جاتا تھا، نیز آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درخت کا اس طرح چھپا دیا جانا قدرت کی طرف سے بہر بڑی رحمت تھی، اور امر واقع بھی یہی ہے کہ جو لوگ آج کل کے دور میں ہر ایرے غیرے درختوں، پتھروں اور قبروں تک کو پوجنے سے نہیں چوکتے تو ان کو اگر وہ درخت مل جاتا، جس کے نیچے بیعت رضوان جیسا تاریخ ساز اور مقدس واقعہ پیش آیا، تو اس کے ساتھ یہ کیا کچھ نہ کرتے، پھر بھی حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جب کچھ لوگوں نے ایک درخت کے بارے میں یہ مشہور کر دیا کہ یہ وہی درخت ہے جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی اور لوگ اس کی زیارت و تعظیم کو آنے لگے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی اطلاع ملتے ہی اسے فوری طور پر کٹوا کر ختم کر دیا [ملاحظہ و تفسیر المراغی، جامع البیان، فتح البیان اور محاسن التاویل وغیرہ] سبحان اللہ! کہاں یہ صورت حال اور عظیم الشان نمونہ ء عبرت و بصیرت کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس درخت کو کٹوا دیتے ہیں، جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی، اور حضرت امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیعت خود لی اور جس کا ذکر قرآن حکیم میں اس صراحت و وضاحت سے فرمایا گیا ہے، اور کہاں آج کے جاہل مسلمان کا یہ طرز عمل، کہ وہ جگہ جگہ، طرح طرح کے درختوں خود ساختہ " سرکاروں " اور آستانوں کی کھلم کھلا اور طرح طرح سے پوجا پاٹ کا ارتکاب کر رہا ہے، جہاں کوئی بزرگ بیٹھا تھا اس کو " بیٹھک " کے نام سے مقدس مقام قرار دے دیا گیا، اور اس کی زیارت و درشن کے پروگرام بنائے جانے لگے، اور طرح طرح کی خرافات کا ارتکاب کیا جانے لگا، اور ایسے لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اللہ کے نبی بذات خود اپنی تریسٹھ سالہ حیات طیبہ میں کہاں کہاں نہ بیٹھے ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہء کرام رضی اللہ عنہم اور انکے بعد ان کی پیروی کرنے والے تابعین عظام کہاں کہاں نہ بیٹھے ہوں گے، اور حرمین شریفین کی ارض طیبہ کا تو چپہ چپہ پاک و مقدس اور عظیم الشان روایات کا امین و پاسدار ہے، مگر اس سب کے باوجود جب وہاں اس طرح کی کسی بیٹھک کا کوئی تصور تک نہیں تو پھر اور کسی جگہ اس کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے؟ کاش کہ ان لوگوں کو اتنی واضح اور جلی حقیقت سمجھ آجاتی، اور یہ اس طرح کی شرکیات کی دلدل میں نہ پھنستے، اور اپنی عاقبت خراب نہ کرتے، مگر کہاں اور کیونکر؟ جبکہ یہ اس بارہ میں سوچنے اور غور کرنے کے بھی روادار نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ ایسے لوگ اس طرح کی خود ساختہ اور من گھڑت چیزوں کو رواج دینے کیلئے طرح طرح کے جھوٹے قصے بناتے اور پھیلاتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔ [43] صحابہء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے صدق و صفا کیلئے خدائی شہادت کا ذکر و بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے جان لیا اس کو جو کہ ان کے دلوں میں تھا۔ یعنی صدق و صفا اور نور ایمان و یقین جس کی بنا پر ان کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا گیا، کہ اللہ پاک سبحانہ وتعالیٰ کی دادودہش اور بخشش و عطاء یوں ہی نہیں مل جاتی، اور اس کے یہاں محض ظاہرداری سے کام نہیں چل سکتا، بلکہ وہاں پر اصل دار و مدار دل کی دنیا اور اس کے اندر چھپی ہوئی نیتوں پر ہوتا ہے، سو دلوں کے اس منفرد اور کٹھن امتحان میں یہ حضرات صحابہء کرام رضی اللہ عنہم صاف و کھرے نکلے اور پورے اترے، اسلئے ان کو رضاء خداوندی کے اس عظیم الشان اور بے مثال سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا، کیونکہ سنت الٰہی یہی ہے کہ اللہ کے بندے جب اللہ کی راہ میں جہاد کیلئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو طاہری حالات خواہ کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، رب کریم ان کی حوصلہ افزائی فرماتا ہے اور ان کو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے، اور خداوند قدس کی طرف سے حاصل ہونے والی حوصلہ افزائی انسان کو ایسی قوت بخشتی ہے کہ اس کو کوئی طاقتور سے طاقتور دشمن بھی شکست نہیں دے سکتا۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ [44] حضرات صحابہء کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کیلئے سکون و اطمینان قلوب کی نوازش کا ذکر و بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس صدق و صفا اور نور ایمان و یقین کی بنا پر ان کو خاص عنایت سے نوازا گیا۔ چنانچہ ارشاد ہوا کہ اس نے نازل فرما دی ان پر سکون و اطمینان کی خاص کیفیت۔ جس سے ان کے دلوں میں نہ کوئی خوف تھا نہ پریشانی، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ نہتے خالی ہاتھ، اور احرام کی دو چادروں میں ملبوس ہونے کے باوجود، کفار کے ساتھ ان کے گھر میں لڑنے کے لئے تیار ہوگئے، اور پیغمبر کے ہاتھ پر رضا و رغبت موت کیلئے بیعت کی، اس بے مثال صدق و اطمینان اور اطاعت و فدا کاری کی مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی ہوگی، نہ اس کے بعد قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی " فرضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین " سو باطن کی صفائی اور نیت و ارادہ کی سچائی انسان کو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں اور عنایتوں کا موردو مستحق بنا دیتی ہے۔ اور اسی کی بدولت انسان پر اس واہب مطلق جل جلالہ کی طرف سے رحمتوں اور عنایتوں کی بارش ہوتی ہے جتنا کسی کا باطن صاف اور ایمان و یقین قوی و مضبوط ہوگا اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی عنایات کا مستحق اور امورد بنے گا۔ اسلئے ہمیشہ اور ہرحال میں اس کے ساتھ اپنے قلب و باطن اور ارادہ عمل کا معاملہ صحیح رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہی اصل اور اساس ہے سارے معاملے کی۔ اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور بدرجہ ء تمام و کمال نصیب فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین ، واکرم الاکرمین، [45] شرکائے حدیبیہ کیلئے ایک خاص انعام کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے حدیبیہ کے شرکاء کیلئے قریب کی فتح اور مغانم کثیرہ کے انعام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ عام طور پر حضرات مفسرین کرام نے اس فتح سے مراد فتح خیبر لی ہے، لیکن دوسرا قول اس ضمن میں حضرات اہل علم کا یہ بھی ہے کہ اس فتح سے مراد یہی صلح حدیبیہ کی فتح ہے کہ یہی وہ بنیادی اور اہم فتح تھی جس سے اہل حق کے لئے دوسری تمام فتوحات کے راستے اور دروازے کھلتے اور آسان ہوتے چلے گئے، اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد مکہ مکرمہ فتح ہوا خیبر کی فتح نصیب ہوئی اور دیگر فتوحات حاصل ہوتی گئیں [ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ] اور یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ ہی کو قرآن حکیم میں فتح مبین فرمایا گیا۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں شرکاء حدیبیہ کیلئے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر آئندہ اور یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ ہی کو قرآن حکیم میں فتح مبین فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں شرکائے حدیبیہ کے لئے ان کے صدق و اخلاص کی بناء پر آئندہ حاصل ہونے والی فتوحات اور غنائم کثیرہ کی بشارت و خوشخبری کا ذکر ہے، سو بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ جتنا صحیح ہوگا اتنا ہی وہ اس کو نوازے گا، وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید،

Allah was pleased with the believers when they were pledging allegiance with you (by placing their hands in your hands) under the tree, and He knew what was in their hearts, so He sent down tranquility upon them, and rewarded them with a victory, near at hand,
[AL-QURAN : Chapter#48, Verse#18]

Tafsir al-Jalalayn :
Verily God was pleased with the believers when they pledged allegiance to you, at al-Hudaybiyya, under the tree, this was an acacia — they [these believers] numbered 1300 or more; he took an oath of allegiance from them that they would fight against Quraysh and not [attempt to] flee from death. And He, God, knew what was in their hearts, of sincerity and loyalty, so He sent down the spirit of Peace upon them, and rewarded them with a near victory, which was the conquest of Khaybar, following their departure from al-Hudaybiyya,

Tanwîr al-Miqbâs min Tafsîr Ibn ‘Abbâs :
Allah then mentioned His pleasure with those who swore allegiance at the pledge of Ridwan, saying: (Allah was well pleased with the believers when they swore allegiance unto thee beneath the tree) when they swore allegiance to you at al-Hudaybiyyah under the Samurah tree; they were about 1,500 men who swore allegiance to assist and defend the Prophet and to remain in fighting, if need be, till death, (and He knew what was in their hearts) of truthfulness and loyalty, (and He) Allah Exalted is He (sent down peace of reassurance) tranquillity (on them) and removed zealotry from them, (and hath rewarded them) after this (with a near victory) the conquest of Khaybar, soon after that;

Quran Tafsir Ibn Kathir :
Good News to the Participants of the Ridwan Pledge of Allah's Pleasure and earning Spoils of War
Allay Says,
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ...
Indeed, Allah was pleased with the believers when they gave the pledge to you under the tree,
Allah declares that He is pleased with the believers who gave the pledge to the Messenger of Allah under the tree. We mentioned the number of these believers as being one thousand and four hundred and that the tree was a Samurah tree, located in the area of Hudaybiyyah.
Al-Bukhari narrated from Tariq that Abdur-Rahman said,
"I went on Hajj and passed by people praying and asked, `What is this Masjid'
They said, `This is the tree where the Messenger of Allah took the pledge of Ar-Ridwan.'
So, I went to Sa`id bin Al-Musayyib and told him. Sa`id said,
`My father told me that he was among those who gave their pledge to the Messenger of Allah under the tree. My father said:
The following year, when we went out, we forgot its place and could not agree which tree it was.'
Sa`id said, `The Companions of Muhammad forgot where the tree was, but you know where it is. Therefore, you have better knowledge than them!'''
Allah said,
... فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ ...
He knew what was in their hearts,
meaning, of truthfulness, trustworthiness, obedience and adherence,
... فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ﴿١٨﴾
and He sent down As-Sakinah, (calmness and tranquility), upon them, and He rewarded them with a near victory.
i.e. in reference to the goodness that Allah the Exalted and Most Honored caused to happened to the Companions on account of the peace treaty between them and their disbelieving enemies. Ever after that, the Companions gained abundant, general and continuous benefits and accomplishments, leading to the conquest of Khyber and Makkah and then the various surrounding provinces and areas. They earned tremendous glory, triumphs and an elevated and honorable status in this life and in the Hereafter,
just as Allah the Exalted said,
وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ﴿١٩﴾
And abundant spoils that they will capture. And Allah is Ever All-Mighty, All-Wise




 أن عائشة ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي ، كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ ، فَتَحَدَّثَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ ، فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَلَا أَقُولُ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ ، فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ ، فَقَالَ : أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اس حال میں کہ آپ کی رانیں یا پنڈلیاں مبارک کھلی ہوئی تھیں (اسی دوران) حضرت ابوبکر ؓ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں لیٹے باتیں کررہے تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں باتیں کرتے رہے، پھر حضرت عثمان ؓ نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو سیدھا کرلیا، روای محمد کہتے ہیں کہ میں نہیں کہتا کہ یہ ایک دن کی بات ہے، پھر حضرت عثمان ؓ اندر داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے تو جب وہ سب حضرات نکل گئے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا حضرت ابوبکر ؓ آئے تو آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عمر ؓ تشریف لائے تو بھی آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عثمان ؓ آئے تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنے کپڑووں کو درست کیا تو آپ نے فرمایا (اے عائشہ!) کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهصحيح مسلم44212403مسلم بن الحجاج261
2ألا أستحيي من رجل والله إن الملائكة تستحيي منهعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2377337808أحمد بن حنبل241
3عثمان رجل حيي وإني لو أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يقضي إلي حاجتهعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2477024810أحمد بن حنبل241
4عثمان رجل حيي ولو أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يقضي إلي حاجتهعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان70636906أبو حاتم بن حبان354
5ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان70646907أبو حاتم بن حبان354
6ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهالسنن الكبرى للبيهقي29752 : 230البيهقي458
7ألا أستح من رجل والله إن الملائكة لتستحي منهعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه8921018إسحاق بن راهويه238
8عثمان رجل حيي ولو دخل على تلك الحال لخشيت أن لا يبلغ حاجتهعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه10041139إسحاق بن راهويه238
9عثمان رجل حيي وإني لو أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يقضي منه حاجتهعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه10051140إسحاق بن راهويه238
10عثمان رجل حيي ولو أذنت له على تلك الحال لم يذكر حاجتهعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه15871769إسحاق بن راهويه238
11عثمان حيي ولو أذنت له على ذلك الحال لخشيت أن لا يبلغ في حاجتهعائشة بنت عبد اللهمسند أبي يعلى الموصلي43744437أبو يعلى الموصلي307
12ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهمسند أبي يعلى الموصلي47474815أبو يعلى الموصلي307
13عثمان يستحي من الله وإني أستحي منهعائشة بنت عبد اللهمسند الشاميين للطبراني925943سليمان بن أحمد الطبراني360
14عثمان رجل حيي ولو أني أذنت له في تلك الحال خشيت أن لا يقضي حاجته إليعائشة بنت عبد اللهالجامع لمعمر بن راشد101920409معمر بن راشد الأزدي154
15عثمان حيي ستير تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني88258601سليمان بن أحمد الطبراني360
16أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهمعجم ابن الأعرابي11531168ابن الأعرابي340
17دخل أبو بكر فلم تهتش له ولم تباله ثم دخل عمر فلم تهتش له ولم تباله ثم دخل عثمان فجلست وسويت ثيابك فقال ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهمعجم الشيوخ لتاج الدين السبكي412---السبكي771
18ألا أستحيي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهحديث إسماعيل بن جعفر312312إسماعيل بن جعفر180
19ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهحديث أبي الفضل الزهري220241الحسن بن علي الجوهري381
20أبا بكر استأذن على النبي ورسول الله لابس مرط أم المؤمنين فأذن له فقضي حاجته فأستأذن عليه عمر وهو على تلك الحال فقضى إليه حاجته ثم خرج فاستأذن عليه عثمان فاستوى جالسا ثم قال لعائشعائشة بنت عبد اللهنسخة عبد الله بن صالح كاتب الليث411633عبد الوهاب بن منده475
21أبا بكر استأذن على النبي ورسول الله لابس مرط أم المؤمنين فأذن له فقضى حاجته فاستأذن عليه عمر وهو على تلك الحال فقضى إليه حاجته ثم خرج فاستأذن عليه عثمان فاستوى جالسا وقال لعائشةعائشة بنت عبد اللهفوائد أبي علي المدائني17---أحمد بن علي بن شعيب المدائني300
22عثمان رجل شديد الحياء ولو أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يبلغ في حاجتهعائشة بنت عبد اللهالحادي عشر من الفوائد المنتقاة لابن أبي الفوارس75---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
23كان رسول الله مضطجعا في بيته كاشفا عن فخذيه فاستأذن أبو بكر فأذن له وهو على تلك الحال فتحدث ثم استأذن عمر فأذن له وهو على تلك الحال فتحدث ثم استأذن عثمان فجلس رسول الله وسوى ثيابه قال محمد ولا أقول ذلك في يوم واحد فأخعائشة بنت عبد اللهحديث السراج برواية الشحامي2262---محمد بن إسحاق بن إبراهيم السراج313
24ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهحديث علي بن حجر42---ابن خزيمة311
25ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهتأويل مختلف الحديث لابن قتيبة1311 : 300عبد الله بن مسلم276
26ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهالشريعة للآجري1469---الآجري360
27ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهشرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين8786ابن شاهين385
28ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي21202558هبة الله اللالكائي418
29ألا أستحيي من رجل يستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهالحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 2459---قوام السنة الأصبهاني535
30مضطجعا في بيته كاشفا عن فخذيه أو ساقيه فاستأذن أبو بكر فأذن له فدخل وهو على تلك الحال فتحدث ثم استأذن عمر فأذن له وهو كذلك فتحدث ثم استأذن عثمان فجلس رسول الله وسوى ثيابه قال محمد ولا أقول ذلك في يوم واحد فدخل فتحدث فلما خرج قالت عائشةعائشة بنت عبد اللهشرح السنة38073899الحسين بن مسعود البغوي516
31عثمان رجل حيي ولو أني أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يقضي حاجتهعائشة بنت عبد اللهشرح السنة38083900الحسين بن مسعود البغوي516
32ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهالأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر23382402محمد بن إبراهيم بن المنذر318
33ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهمشكل الآثار للطحاوي14771695الطحاوي321
34عثمان رجل حيي ولو أني أذنت له على تلك الحال لحسبت أن لا يقضي إلي حاجتهعائشة بنت عبد اللهمشكل الآثار للطحاوي14941717الطحاوي321
35ألا أستحيي ممن تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهطرح التثريب للعراقي301 : 69أبو زرعة العراقي806
36عثمان شديد الحياء ولو رآني على تلك الحال لانقبض عن حاجته وقصر فيهاعائشة بنت عبد اللهأنساب الأشراف للبلاذري1647---أحمد بن يحيى البلاذري279
37عثمان شديد الحياء خشيت أن لا يبلغ حاجتهعائشة بنت عبد اللهتاريخ واسط لأسلم بن سهل الرزاز1481 : 71أسلم بن سهل الرزاز292
38ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3989339 : 80ابن عساكر الدمشقي571
39ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3989439 : 80ابن عساكر الدمشقي571
40ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3989539 : 81ابن عساكر الدمشقي571
41ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3989639 : 82ابن عساكر الدمشقي571
42عثمان رجل شديد الحياء ولو أذنت له على تلك الحال لخشيت أن لا يبلغ في حاجتهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3989839 : 83ابن عساكر الدمشقي571
43عثمان رجل شديد الحياء وقالوا لو أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يبلغ في حاجتهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3989939 : 83ابن عساكر الدمشقي571
44عثمان حيي ستير تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3990239 : 85ابن عساكر الدمشقي571
45عثمان يستحي من الله وإني أستحي منهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3990339 : 86ابن عساكر الدمشقي571
46ألا أستحي من رجل والله إن الملائكة لتستحي منهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3990439 : 86ابن عساكر الدمشقي571
47عثمان حيي ستير تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل364450أحمد بن حنبل241
48عثمان رجل حيي وإني لو أذنت له على تلك الحال خشيت ألا يقضي إلي حاجتهعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل644760أحمد بن حنبل241
49عثمان رجل حيي وإني لو أذنت له على تلك الحال خشيت أن لا يقضي إلي حاجتهعائشة بنت عبد اللهفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد5250عبد الله بن أحمد بن حنبل290
50ألا أستحي من رجل يستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم1616أبو نعيم الأصبهاني430
51ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةعائشة بنت عبد اللهالأدب المفرد للبخاري601603محمد بن إسماعيل البخاري256

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرمسند أحمد بن حنبل2587125926أحمد بن حنبل241
2ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرمسند أحمد بن حنبل2587225927أحمد بن حنبل241
3ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرالسنن الكبرى للبيهقي29772 : 231البيهقي458
4وضع ثوبه بين فخذيهحفصة بنت عمرالسنن الكبرى للبيهقي29782 : 231البيهقي458
5ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرمسند أبي يعلى الموصلي69887038أبو يعلى الموصلي307
6ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمربغية الباحث عن زوائد مسند الحارث973976الهيثمي807
7وضع ثوبه بين فخذيه فجاء أبو بكر فدخل والنبي على هيئته ثم جاء عمر ثم جاء علي ثم جاء الناس من أصحاب النبي فتحدث معهم ثم جاء عثمان فاستأذن فجلل عليه ثم أذن له فلما خرجوا قلت يا رسول الله استأذن أبو بكر ثم عمر ثم علي وأنحفصة بنت عمرمسند عبد بن حميد15561547عبد بن حميد249
8ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء11691308الهيثمي807
9ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرالمعجم الأوسط للطبراني91658932سليمان بن أحمد الطبراني360
10ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرالمعجم الكبير للطبراني18910355سليمان بن أحمد الطبراني360
11ألا أستحيي مما تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرالمعجم الكبير للطبراني18951400سليمان بن أحمد الطبراني360
12ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرجزء ابن جريج6662عبد الملك بن جريج150
13ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرجزء ابن عرفة6975الحسن بن عرفة العبدي257
14ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرالجزء العاشر من الفوائد المنتقاة136---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
15ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرأربعون حديثا من الصحاح العوالي8---إسماعيل بن أحمد بن محمد النيسابوري541
16ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرأمالي ابن بشران6291 : 270أبو القاسم بن بشران430
17ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرأمالي ابن بشران ( مجالس أخرى )6071 : 270عبد الملك بن بشران431
18جاءك أبو بكر وعمر وعلي وناس من أصحابك وأنت على هيئتك فلما جاء عثمان تجللت ثوبك فقال ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرأمالي ابن بشران 105---أبو القاسم بن بشران430
19جاء أبو بكر وعمر وعلي وناس من أصحابك وأنت على هيئتك فلما جاء عثمان تجللت بثوبك قالت فقال ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتسعة مجالس من أمالي طراد بن محمد الزينبي25---طراد الزينبي491
20ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرالسنة لابن أبي عاصم10761284ابن أبي عاصم287
21أولا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرشرح معاني الآثار للطحاوي17291732الطحاوي321
22أولا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرمشكل الآثار للطحاوي14961719الطحاوي321
23ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرمعرفة الصحابة لأبي نعيم264280أبو نعيم الأصبهاني430
24ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرسير السلف الصالحين لإسماعيل بن محمد الأصبهاني331 : 154إسماعيل بن محمد الأصبهاني535
25ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3990539 : 87ابن عساكر الدمشقي571
26ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3990639 : 88ابن عساكر الدمشقي571
27أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3990739 : 88ابن عساكر الدمشقي571
28ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3990839 : 89ابن عساكر الدمشقي571
29ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3990939 : 90ابن عساكر الدمشقي571
30ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3991039 : 90ابن عساكر الدمشقي571
31ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةحفصة بنت عمرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل631748أحمد بن حنبل241
32ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكة عليهم السلامحفصة بنت عمرفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد3636عبد الله بن أحمد بن حنبل290
33ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةحفصة بنت عمرفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد10295عبد الله بن أحمد بن حنبل290

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة وإني لأستحيي من الله أن أبايع وعثمان قتيل على الأرض لم يدفن بعد فانصرفوا فلما دفن رجع الناس فسألوني البيعة فقلت اللهم إني مشفق مما أقدم عليه ثم جاءت عزيمة فبايعت فلقد قالوا يا أمير المؤمنين فكأنما صدع قلبي وقلت اللهم خذعلي بن أبي طالبالمستدرك على الصحيحين44653 : 93الحاكم النيسابوري405
2ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة وإني لأستحيي من الله أن أبايع وعثمان قتيل على الأرض لم يدفن بعد فانصرفوا فلما دفن رجع الناس إلي فسألوني البيعة فقلت اللهم إني مشفق مما أقدم عليه ثم جاءت عزيمة فبايعت فلقد قالوا يا أمير المؤمنين فكأنما صدع قلبي فقلت اللهمعلي بن أبي طالبالمستدرك على الصحيحين44953 : 101الحاكم النيسابوري405
3رحم الله عثمان تستحيي منه الملائكةعلي بن أبي طالبالسنة لابن أبي عاصم10771286ابن أبي عاصم287
4ألا أستحي ممن تستحييه الملائكة وإني لأستحي من الله أن أبايع وعثمان قتيل على وجه الأرض لم يدفن بعدعلي بن أبي طالبتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم137---أبو نعيم الأصبهاني430
5أستحيي ممن استحيت منه الملائكةعلي بن أبي طالبتاريخ جرجان للسهمي5451 : 369حمزة بن يوسف السهمي345
6ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة عثمان بن عفانعلي بن أبي طالبمعرفة الصحابة لأبي نعيم263279أبو نعيم الأصبهاني430
7جاء عثمان فغطيتها فقال إني لأستحيي ممن استحيت منه الملائكةعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر3991239 : 91ابن عساكر الدمشقي571
8ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكةعلي بن أبي طالبتاريخ دمشق لابن عساكر4069639 : 450ابن عساكر الدمشقي571

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة والذي نفس محمد بيده إن الملائكة لتستحي من عثمان كما تستحي من الله ورسوله ولو دخل وأنت قريبة مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث حتى يخرجعبد الله بن عمرمسند أبي يعلى الموصلي68976947أبو يعلى الموصلي307
2ألا أستحيي من رجل يستحي من الله ورسوله ولو دخل وأنت قريب مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث حتى يخرجعبد الله بن عمرالمطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر40433912ابن حجر العسقلاني852
3ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة والذي نفس محمد بيده إن الملائكة لتستحي من عثمان كما تستحي من الله ورسوله ولو دخل وأنت قريبة مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث حتى يخرجعبد الله بن عمرالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء11701309الهيثمي807
4ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكةعبد الله بن عمرالمعجم الكبير للطبراني1308213253سليمان بن أحمد الطبراني360
5ألا أستحي من رجل تستحي منه الملائكة والذي نفس محمد بيده إن الملائكة لتستحي من عثمان كما تستحي من الله ورسوله ولو دخل وأنت قريبة وقال أبو بكر قريب مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث حتى يخرجعبد الله بن عمرتاريخ دمشق لابن عساكر3991139 : 91ابن عساكر الدمشقي571

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة عثمان بن عفانعبد الله بن عباسكشف الأستار23632505نور الدين الهيثمي807
2ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكة إن الملائكة تستحي من عثمانعبد الله بن عباسالمعجم الكبير للطبراني1149711656سليمان بن أحمد الطبراني360
3ألا أستحيي ممن تستحي منه الملائكة إن الملائكة لتستحي من عثمان بن عفانعبد الله بن عباسالشريعة للآجري1468---الآجري360
4ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكة إن الملائكة لتستحي من عثمانعبد الله بن عباستاريخ دمشق لابن عساكر3991339 : 91ابن عساكر الدمشقي571
5ألا أستحي ممن تستحي منه الملائكة إن الملائكة تستحي من عثمان بن عفانعبد الله بن عباستاريخ دمشق لابن عساكر3991439 : 92ابن عساكر الدمشقي571

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1عثمان رجل حيي وإني خشيت أن أثبت له وأنا على تلك الحال أن لا يبلغ إلي في حاجتهسعيد بن العاصمسند الشاميين للطبراني31603222سليمان بن أحمد الطبراني360
2أبا بكر استأذن على رسول الله وهو مضطجع على فراشه لابس مرط عائشة فأذن لأبي بكر وهو كذلك فقضى أبو بكر حاجته ثم انصرف ثم استأذن عمر وهو على تلك الحال فقضى حاجته ثم انصرف قال عثمان ثم استأذنت فجلس رسول الله فجمع عليه ثيابسعيد بن العاصالمعجم الكبير للطبراني53775516سليمان بن أحمد الطبراني360
3استأذن أبو بكر على النبي وهو مضطجع على فراشه لابسا مرط عائشة زوج النبي فأذن لأبي بكر وهو كذلك ثم قضى إليه حاجته ثم انصرف ثم استأذن عمر فأذن له وهو على ذلك فقضى إليه حاجته ثم انصرفسعيد بن العاصمعرفة الصحابة لأبي نعيم29823266أبو نعيم الأصبهاني430
4عثمان رجل حيي وإني خشيت إن أذنت له وأنا على حالتي تلك لا يبلغ إلي حاجتهسعيد بن العاصتاريخ دمشق لابن عساكر3990139 : 85ابن عساكر الدمشقي571
5عثمان رجل حيي وإني خفت أن لو أذنت له وأنا على حالي تلك لا يبلغ إلي في حاجةسعيد بن العاصتاريخ دمشق لابن عساكر70126---ابن عساكر الدمشقي571
6عثمان رجل حيي وخشيت إن أذنت له وأنا على حالي تلك أن لا يبلغ حاجتهسعيد بن العاصالتدوين في أخبار قزوين للرافعي54---عبد الكريم الرافعي623

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1أستحي من رجل تستحي منه الملائكةأنس بن مالكشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي21212560هبة الله اللالكائي418
2أستحيي ممن تستحيي منه الملائكةأنس بن مالكمشكل الآثار للطحاوي14791696الطحاوي321

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1عثمان رجل حيي وإني خشيت أن أثبت له وأنا على تلك الحال أن لا يبلغ إلي في حاجتهسعيد بن العاصمسند الشاميين للطبراني31603222سليمان بن أحمد الطبراني360
2أبا بكر استأذن على رسول الله وهو مضطجع على فراشه لابس مرط عائشة فأذن لأبي بكر وهو كذلك فقضى أبو بكر حاجته ثم انصرف ثم استأذن عمر وهو على تلك الحال فقضى حاجته ثم انصرف قال عثمان ثم استأذنت فجلس رسول الله فجمع عليه ثيابسعيد بن العاصالمعجم الكبير للطبراني53775516سليمان بن أحمد الطبراني360
3استأذن أبو بكر على النبي وهو مضطجع على فراشه لابسا مرط عائشة زوج النبي فأذن لأبي بكر وهو كذلك ثم قضى إليه حاجته ثم انصرف ثم استأذن عمر فأذن له وهو على ذلك فقضى إليه حاجته ثم انصرفسعيد بن العاصمعرفة الصحابة لأبي نعيم29823266أبو نعيم الأصبهاني430
4عثمان رجل حيي وإني خشيت إن أذنت له وأنا على حالتي تلك لا يبلغ إلي حاجتهسعيد بن العاصتاريخ دمشق لابن عساكر3990139 : 85ابن عساكر الدمشقي571
5عثمان رجل حيي وإني خفت أن لو أذنت له وأنا على حالي تلك لا يبلغ إلي في حاجةسعيد بن العاصتاريخ دمشق لابن عساكر70126---ابن عساكر الدمشقي571
6عثمان رجل حيي وخشيت إن أذنت له وأنا على حالي تلك أن لا يبلغ حاجتهسعيد بن العاصالتدوين في أخبار قزوين للرافعي54---عبد الكريم الرافعي623

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةمسند أحمد بن حنبل1870218633أحمد بن حنبل241
2عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةمسند أحمد بن حنبل1870618637أحمد بن حنبل241
3عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةتاريخ دمشق لابن عساكر3991739 : 92ابن عساكر الدمشقي571
4عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةتاريخ دمشق لابن عساكر3991839 : 93ابن عساكر الدمشقي571
5عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةتاريخ دمشق لابن عساكر3991939 : 93ابن عساكر الدمشقي571
6عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل611725أحمد بن حنبل241
7عثمان رجل حييعبد الله بن علقمةفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد99عبد الله بن أحمد بن حنبل290




عَنْطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ , وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ " .
ترجمہ : حضرت طلحہ بن عبید الله سے مروی ہے کہ رسول الله نے ارشاد فرمایا : ہر نبی کا جنّت میں ایک رفیق (قریبی دوست) ہوگا، اور میرا رفیق یعنی جنّت میں عثمان ہوں گے.
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لكل نبي رفيق ورفيقي يعني في الجنة عثمانطلحة بن عبيد اللهجامع الترمذي36603698محمد بن عيسى الترمذي256
2لكل نبي رفيق ورفيقي عثمانطلحة بن عبيد اللهمسند أبي يعلى الموصلي656665أبو يعلى الموصلي307
3لكل نبي رفيقا في الجنة وإن رفيقي فيها عثمان قال قال طلحة اللهم نعمطلحة بن عبيد اللهالمسند للشاشي2930الهيثم بن كليب الشاشي335
4لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي في الجنة طلحة بن عبيد اللهطلحة بن عبيد اللهأخبار أصبهان لأبي نعيم23862 : 258أبو نعيم الأصبهاني430
5لكل نبي رفيقا وإن رفيقي في الجنة عثمانطلحة بن عبيد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3994739 : 104ابن عساكر الدمشقي571
6لكل نبي رفيق ورفيقي عثمانطلحة بن عبيد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر3994839 : 104ابن عساكر الدمشقي571
7لكل نبي رفيق ورفيقي يعني في الجنة عثمانطلحة بن عبيد اللهأسد الغابة998---علي بن الأثير630
8لكل نبي رفيق ورفيقي في الجنة عثمانطلحة بن عبيد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل513616أحمد بن حنبل241
9لكل نبي رفيق ورفيقي عثمان بن عفانطلحة بن عبيد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل702820أحمد بن حنبل241
10لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي عثمان بن عفان في الجنةطلحة بن عبيد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل725841أحمد بن حنبل241
11لكل نبي رفيق ورفيقي في الجنة عثمان بن عفانطلحة بن عبيد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل745860أحمد بن حنبل241
12لكل نبي رفيق وعثمان رفيقي في الجنةطلحة بن عبيد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل746861أحمد بن حنبل241
13لكل نبي رفيق ورفيقي عثمان يعني ابن عفان في الجنةطلحة بن عبيد اللهفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد150142عبد الله بن أحمد بن حنبل290
14لكل نبي رفيق ورفيقي في الجنة عثمان بن عفانطلحة بن عبيد اللهفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد167157عبد الله بن أحمد بن حنبل290
15لكل نبي رفيق وعثمان رفيقي في الجنةطلحة بن عبيد اللهفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد169159عبد الله بن أحمد بن حنبل290

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1عثمان بن عفان رفيقي في الجنةعلي بن أبي طالبمشيخة أبي الحسين بن المهتدي بالله54---أبو الحسين محمد بن علي بن المهتدي بالله330
2عثمان بن عفان رفيقي في الجنةعلي بن أبي طالبالسادس عشر من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي30---أبو طاهر السلفي576

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ليس من نبي إلا وله رفيق من أمته معه في الجنة وأن عثمان رفيقي ومعي في الجنة فقال طلحة اللهم نعم قال ثم انصرف طلحةعثمان بن عفانالمستدرك على الصحيحين44753 : 96الحاكم النيسابوري405
2لكل نبي رفيقا من أمته معه في الجنة وإن عثمان بن عفان هذا رفيقي في الجنةعثمان بن عفانالسنة لابن أبي عاصم10791288ابن أبي عاصم287
3لكل نبي رفيقا من أمته معه في الجنة إن عثمان هذا رفيقي في الجنةعثمان بن عفانشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي21272566هبة الله اللالكائي418
4ليس من نبي إلا ومعه من أصحابه رفيق من أمته معه في الجنة وإن عثمان بن عفان هذا يعنيني رفيقي معي في الجنةعثمان بن عفانفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل665783أحمد بن حنبل241

تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرسنن ابن ماجه106109ابن ماجة القزويني275
2لكل نبي رفيق يعني في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرالخامس والثلاثون من المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي15---أبو طاهر السلفي576
3لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرموضح أوهام الجمع والتفريق للخطيب11852 : 233الخطيب البغدادي463
4لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرالسنة لابن أبي عاصم10801289ابن أبي عاصم287
5لكل نبي رفيق ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرالشريعة للآجري1471---الآجري360
6لكل نبي خليل في أمته وإن خليلي عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرحلية الأولياء لأبي نعيم70417047أبو نعيم الأصبهاني430
7لكل نبي خليلا من أمته وأن خليلي عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتاريخ بغداد للخطيب البغدادي21437 : 326الخطيب البغدادي463
8لكل نبي رفيقا في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر3994939 : 104ابن عساكر الدمشقي571
9لكل نبي رفيق ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر3995039 : 105ابن عساكر الدمشقي571
10لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر3995139 : 105ابن عساكر الدمشقي571
11لكل نبي خليلا من أمته وإن خليلي عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر3999839 : 124ابن عساكر الدمشقي571
12لكل نبي خليل في أمته وإن خليلي عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر3999939 : 125ابن عساكر الدمشقي571
13لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرالتدوين في أخبار قزوين للرافعي1150---عبد الكريم الرافعي623
14لكل نبي رفيقا في الجنة وإن رفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرتهذيب الكمال للمزي2149---يوسف المزي742
15لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل641757أحمد بن حنبل241
16لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل727843أحمد بن حنبل241
17لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد4947عبد الله بن أحمد بن حنبل290
18لكل نبي رفيق في الجنة ورفيقي فيها عثمان بن عفانعبد الرحمن بن صخرفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد144135عبد الله بن أحمد بن حنبل290




آپ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ ہیں۔ آپ کا نام عثمان تھا اور آپ کے والد کا نام عفان بن ابی العاص تھا۔ پانچویں پشت میں آپ کا سلسلہ نسبِ حضور اکرم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ عام الفیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ حضور اکرم ﷺ سے تقریباً 4 سال چھوٹے تھے۔ آپ کا لقب ذوالنورین (دو نور والے) ہے۔
حضور اکرم ﷺ کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں۔ اس طرح آپ کو حضور کے داماد ہونے کا شرف حاصل ہوا اور یہ ایسا شرف ہے جو آپ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔ علماء فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر آخری نبی حضرت محمد   تک کسی کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں نہیں آئیں سوائے حضرت عثمان  کے اس طرح آپ ذوالنورین ہوئے۔
آپ نے اسلام قبول کرنے کے بعد بہت تکالیف اٹھائیں۔ آپ نے پہلے حبشہ پھر مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ آپ کو اللہ تعالٰی نے بہت دولتمند بنایا تھا اور اپنی دولت سے آپ نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں بہت مدد کی۔ جب آپ نے تین سو اونٹ مع ساز و سامان کے راہ خدا میں خرچ کئے تو اس موقع پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اب عثمان کو وہ عمل کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا جو اس کے بعد کریں گے۔ (مشکوٰۃ) 
یعنی حضرت عثمان  کا یہ ایسا عمل ہے کہ اب کوئی نفلی عمل نہ بھی کریں تب بھی ان کے بلند مرتبے کیلئے یہ عمل کافی ہے۔
جب حضور ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ آئے تو وہاں پینے کا میٹھا پانی نہیں تھا۔ صرف ایک یہودی کا کنواں تھا جو مدینہ سے تقریباً 4 کلو میٹر کے فاصلے پر وادی عقیق میں تھا۔ یہودی اس کنویں کے پانی کو فروخت کیا کرتا تھا۔ مسلمانوں کو پانی کی بڑی تکلیف تھی۔ چنانچہ حضرت عثمان  نے وہ کنواں بیس ہزار درہم میں یہودی سے خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔
ایک مرتبہ جب حضور اکرم ﷺ مقام حدیبیہ میں پہنچے تو اس وقت آپ نے حضرت عثمان غنی  کو قاصد کی حیثیت سے مکہ روانہ کیا تاکہ آپ کفار مکہ سے بات کریں کہ مسلمان خان کعبہ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہیں۔
جب حضرت عثمان غنی مکہ چلے گئے تو یہ مشہور ہوا کہ مکہ والوں نے حضرت عثمان غنی  کو شہید کر دیا ہے۔ چنانچہ ان کی غیر موجودگی میں بیعت رضوان کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر قرآن مجید (قرآن: ٣٨/١٨) میں موجود ہے۔ صحابہ کرام نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی۔ جب تمام صحابہ بیعت کر چکے تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں پھر اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا اور حضرت عثمان کی طرف سے بیعت فرمائی۔ یعنی فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ پھر ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے۔ (ترمذی شریف)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی  ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اکرم  نے اپنے مبارک ہاتھ کو حضرت عثمان غنی کا ہاتھ قرار دیا۔ یہ وہ شرف ہے جو حضرت عثمان غنی  کے سوا کسی دوسرے صحابہ کو حاصل نہیں۔
حضرت ابو موسٰی اشعری  فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور ﷺ کے ہمراہ ایک باغ میں تھا کہ ایک صاحب آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس باغ کا دروازہ کھلوایا۔ تو حضور اکرم  نے ارشاد فرمایا۔ دروازہ کھول دو اور آنے والے کو جنت کی بشارت دو میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ حضرت ابو بکرصدیق  ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ایک صاحب آئے اور انہوں نے دروازہ کھلوایا۔ حضور اکرم  نے ان کے بارے میں فرمایا۔ ان کیلئے بھی دروازہ کھول دو اور ان کو بھی جنت کی بشارت دو۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہ حضرت عمر فاروق  ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ایک تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا تو نبی کریم  نے مجھ سے فرمایا آنے والے کیلئے دروازہ کھول دو اور ان مصیبتوں پر جو اس شخص کو پہنچیں گی جنت کی خوشخبری دو۔ حضرت موسٰی اشعری فرماتے ہیں کہ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا آنے والے شخص حضرت عثمان غنی  ہیں۔ (ملاحظہ کیجئے بخاری و مسلم شریف)
سبحان اللہ کیا مقام و مرتبہ ہے صحابہ کرام کا کہ حضور اکرم  نے حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی  کو دنیا ہی میں جنتی ارشاد فرما دیا۔

حضرت عثمان غنی کی شہادت کی پیش گوئیاں
ایک مرتبہ حضور اکرم  حضرت ابو بکر صدیق، اور حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی  کے ہمراہ احد پہاڑ پرتشریف لے گئے یکایک پہاڑ تھر تھر ہلنے لگا تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اے احد (پہاڑ) تو ٹھہر جا کہ تیرے اوپر صرف ایک نبی یا صدیق یا دو شہید ہیں۔ (ملاحظہ کیجئے تفسیر معالم التنزیل صفحہ 216 جلد6)
اس حدیث مبارکہ میں دو شہید سے مراد سیدنا حضرت عمر فاروق اور سیدنا حضرت عثمان غنی  ہیں۔ ایک مرتبہ مستقبل میں فتنے برپا ہونے کا حضور ﷺ نے ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ “یہ شخص اس فتنے میں ظلم سے قتل کیا جائے گا۔ یہ کہتے ہوئے آپ نے حضرت عثمان غنی  کی طرف اشارہ فرمایا۔ (ترمذی شریف)
حضور اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ اور آئندہ مہینوں کا ذکر فرمایا کہ اتنے میں ایک شخص سر پر کپڑا ڈالے وہاں سے گزرا تو حضور نے فرمایا یہ شخص اس روز ہدایت پر ہوگا۔ ایک صحابی اٹھے اور اس شخص کو دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنی  تھے۔ (ترمذی ابن ماجہ)
ان تمام دلائل سے یہ واضح ہوا کہ حضرت عثمان غنی  کے شہید ہونے کی خبر حضور ﷺ نے پہلے ہی دے دی اور یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ شہادت کے موقع پر بھی حق پر ہوں گے حضرت عثمان غنی  یہ خوب جانتے تھے کہ دریا کا بہتا ہوا پانی تو رک سکتا ہے۔ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے مگر حضور سرور کونین حضرت محمد ﷺ کا فرمان غلط نہیں ہوسکتا اسی لئے آپ کو اپنی شہادت کا ہورا یقین تھا اور آپ عمر کے آخر تک اپنی شہادت کا انتظار کرتے رہے۔
ایک مرتبہ حضور سرور کونین حضرت محمد ﷺ نے حضرت عثمان سے ارشاد فرمایا:
يَا عُثْمَانُ إِنَّهُ لَعَلَّ اللَّهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا , فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ .
[جامع الترمذي » كِتَاب الدَّعَوَاتِ » أبوابُ الْمَنَاقِبِ ... رقم الحديث: 3667(3705)]
اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے ایک قمیض پہنائے گا (یعنی خلعت خلافت سے سرفراز فرمائے گا) اگر لوگ اس قمیض کے اتارنے کا تجھ سے مطالبہ کریں تو ان کی خواہش پر یہ قمیض نہ اتارنا۔ (یعنی خلافت نہ چھوڑنا)
(ملاحظہ کیجئے ابن ماجہ شریف، ترمذی شریف)
الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1الله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهمعائشة بنت عبد اللهجامع الترمذي36673705محمد بن عيسى الترمذي256
2يا عثمان إن ولاك الله هذا الأمر يوما فأرادك المنافقون أن تخلع قميصك الذي قمصك الله فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهسنن ابن ماجه109112ابن ماجة القزويني275
3الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على أن تخلعه فلا تخلعه لهم ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2390623944أحمد بن حنبل241
4الله عسى أن يلبسك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2400724044أحمد بن حنبل241
5الله ملبسك قميصا تريدك أمتي على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2427524315أحمد بن حنبل241
6الله لعله أن يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه ثلاث مرارعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2460024635أحمد بن حنبل241
7الله لعله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان70726915أبو حاتم بن حبان354
8الله مقمصك قميصاعائشة بنت عبد اللهالمستدرك على الصحيحين44823 : 97الحاكم النيسابوري405
9ستبتلى بعدي فلا تقاتلنعثمان بن عفانالأحاديث المختارة367---الضياء المقدسي643
10كساك الله ثوبا فأرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهمسند الشاميين للطبراني10091030سليمان بن أحمد الطبراني360
11الله قمصك بعدي قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهمسند الشاميين للطبراني12101234سليمان بن أحمد الطبراني360
12الله لعله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهنعمان بن بشيرمسند الشاميين للطبراني19151934سليمان بن أحمد الطبراني360
13إنك ستبتلى بعدي فلا تقاتلنعثمان بن عفانالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء15761774الهيثمي807
14الله لعله أن يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه ثلاثاعائشة بنت عبد اللهمصنف ابن أبي شيبة3136232581ابن ابي شيبة235
15الله لعله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهمصنف ابن أبي شيبة3695138651ابن ابي شيبة235
16يقمصك الله قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني29172833سليمان بن أحمد الطبراني360
17الله سيقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهالمعجم الأوسط للطبراني38773751سليمان بن أحمد الطبراني360
18الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهزيد بن أرقمالمعجم الكبير للطبراني49175061سليمان بن أحمد الطبراني360
19الله مقمصك قميصاعائشة بنت عبد اللهالجزء الأول والثاني من فوائد ابن بشران3030أبو الحسين بن بشران415
20الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهزيد بن أرقمالثاني من حديث أبي الحسين بن المظفر34---أبو الحسين بن المظفر448
21الله مقمصك قميصا يريدك الناس على خلعه فلا تخلعه فإن أنت خلعته لم ترح رائحة الجنةعائشة بنت عبد اللهأمالي ابن سمعون الواعظ1212ابن سمعون الواعظ387
22الله لعله أن يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهالسنة لابن أبي عاصم9711172ابن أبي عاصم287
23الله أن يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهالسنة لابن أبي عاصم9721173ابن أبي عاصم287
24كساك الله ثوبا فأراد المنافقون أن تخلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهالسنة لابن أبي عاصم9771178ابن أبي عاصم287
25الله مقمصك قميصاالسنة لابن أبي عاصم9781179ابن أبي عاصم287
26الله لعله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهالسنة لأبي بكر بن الخلال420---أبو بكر الخلال311
27غشاك الله يوما قميصا فأرادك المنافقون أن تخلعه فلا تخلعهعثمان بن عفانالسنة لأبي بكر بن الخلال425---أبو بكر الخلال311
28أبشر بالجنة بعد بلاء شديدزيد بن أرقمالشريعة للآجري1412---الآجري360
29الله مقمصك فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهزيد بن أرقمالشريعة للآجري1413---الآجري360
30الله ملبسك قميصاعائشة بنت عبد اللهشرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين103102ابن شاهين385
31الله سيقمصك قميصا إن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي21302569هبة الله اللالكائي418
32الله سيقمصك قميصا إن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهمشكل الآثار للطحاوي46565310الطحاوي321
33الله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهمشكل الآثار للطحاوي46575311الطحاوي321
34الله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه ثلاث مراتعائشة بنت عبد اللهتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم155---أبو نعيم الأصبهاني430
35الله كساك يوما سربالا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه لظالمموضع إرسالالطبقات الكبرى لابن سعد28573 : 37محمد بن سعد الزهري230
36الله أن يقمصك قميصا من بعدي فإن أرادك المبيتون على خلعه فلا تخلعهنعمان بن بشيرتاريخ المدينة لابن شبة17331866ابن شبة النميري262
37الله يقمصك قميصا من بعدي فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهتاريخ المدينة لابن شبة17341867ابن شبة النميري262
38الله لعله أن يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهتاريخ المدينة لابن شبة17351869ابن شبة النميري262
39الله يقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهتاريخ المدينة لابن شبة17361870ابن شبة النميري262
40الله مقمصك قميصاعائشة بنت عبد اللهتاريخ المدينة لابن شبة17371871ابن شبة النميري262
41أناسا من المنافقين سيريدونك على أن تنزع قميصا كساكه الله فلا تفعلعثمان بن عفانتاريخ المدينة لابن شبة19462095ابن شبة النميري262
42إذا أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه فحاصروه خمسين يوماعثمان بن عفانتاريخ المدينة لابن شبة22262394ابن شبة النميري262
43الله يقمصك قميصا فإن أراد المنافقون على أن تخلعه فلا تخلعه لهم ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهسير السلف الصالحين لإسماعيل بن محمد الأصبهاني361 : 158إسماعيل بن محمد الأصبهاني535
44كساك الله ثوبا فأرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4035839 : 278ابن عساكر الدمشقي571
45الله عسى أن يلبسك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4035939 : 279ابن عساكر الدمشقي571
46الله لعله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036039 : 279ابن عساكر الدمشقي571
47الله لعله أن يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036139 : 280ابن عساكر الدمشقي571
48الله مقمصك قميصا وقالا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهمعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036239 : 280ابن عساكر الدمشقي571
49الله يقمصك فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036339 : 281ابن عساكر الدمشقي571
50الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على أن تخلعه فلا تخلعه لهم ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036439 : 281ابن عساكر الدمشقي571
51الله مقمصك قميصا أو مسربلك سربالا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036539 : 282ابن عساكر الدمشقي571
52الله ملبسك قميصاعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036839 : 283ابن عساكر الدمشقي571
53الله ملبسك قميصاعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4036939 : 283ابن عساكر الدمشقي571
54الله يقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4037039 : 283ابن عساكر الدمشقي571
55الله مقمصك قميصا يريدك الناس على خلعه فلا تخلعه فإن أنت خلعته لم ترح رائحة الجنةعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4037139 : 284ابن عساكر الدمشقي571
56إنك ستبتلى بعدي فلا تقاتلنعثمان بن عفانتاريخ دمشق لابن عساكر4037839 : 286ابن عساكر الدمشقي571
57إنك ستبوء بالخلافة من بعدي وسيريدك المنافقون على خلعها وصم في ذلك اليوم تفطر عنديأنس بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4038639 : 290ابن عساكر الدمشقي571
58الله قمصك قميصا فأرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر5643153 : 19ابن عساكر الدمشقي571
59الله مقمصك بعدي قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر68609---ابن عساكر الدمشقي571
60لعل الله يقمصك قميصا فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه لهمعائشة بنت عبد اللهأسد الغابة1012---علي بن الأثير630
61لعل الله أن يقمصك بقميص فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهتهذيب الكمال للمزي1643---يوسف المزي742
62الله كساك يوما قميصا وإن أرادك المنافقون أن تخلعه فلا تخلعهموضع إرسالفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل614728أحمد بن حنبل241
63الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على أن تخلعه فلا تخلعه لهم ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل697815أحمد بن حنبل241
64الله عسى أن يلبسك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل698816أحمد بن حنبل241
65الله كساك يوما قميصا فأرادك المنافقون أن تخلعه فلا تخلعهموضع إرسالفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد1212عبد الله بن أحمد بن حنبل290
66الله مقمصك قميصاعائشة بنت عبد اللهفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد186178عبد الله بن أحمد بن حنبل290
67الله عسى أن يلبسك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهفضائل عثمان بن عفان لعبد الله بن أحمد187179عبد الله بن أحمد بن حنبل290
68الله مقمصك قميصا فإن أراد المنافقون خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم3636أبو نعيم الأصبهاني430
69الله ملبسك قميصا تريدك أمتي على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم3737أبو نعيم الأصبهاني430
70الله مقمصك قميصا أو مسربلك سربالا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهالمجالسة وجواهر العلم للدينوري286282أبو بكر الدينوري333
71الله مقمصك قميصا أو مسربلك سربالا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه ولا كرامةعائشة بنت عبد اللهالمجالسة وجواهر العلم للدينوري29182805أبو بكر الدينوري333
72يقمصك الله قميصا من بعدي فإذا أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعائشة بنت عبد اللهبحر الفوائد المسمى بمعاني الأخيار للكلاباذي126125محمد بن إسحاق الكلاباذي384
73الله أن يقمصك قميصا من بعدي فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعهعثمان بن عفانصفة النفاق ونعت المنافقين لأبي نعيم9393أبو نعيم الأصبهاني430
74الله مقمصك قميصا فأرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهصفة النفاق ونعت المنافقين لأبي نعيم9494أبو نعيم الأصبهاني430
75الله مقمصك قميصا فإن أرادك المنافقون على خلعه فلا تخلعه حتى تلقانيعائشة بنت عبد اللهصفة النفاق ونعت المنافقين لأبي نعيم9595أبو نعيم الأصبهاني430


حضرت عثمان غنی  کے خلاف سازشیں
حضرت عثمان  عرب کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کی دولت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تبلیغ اسلام میں لاکھوں درہم و دینار راہ خدا میں خرچ کرنے کے باوجود شہادت کے وقت زمینوں اور مختلف جائدادوں کے علاوہ پینتیس لاکھ درہم اور ڈیڑھ لاکھ دینار نقد چھوڑے۔ (ملاحظہ کیجئے مستدرک حاکم صفحہ 96 جلد3)
حضرت عثمان غنی  نہایت نرم مزاج تھے آپ میں عفوو درگزر کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ آپ انتہائی فیاض اور سخی تھے۔ جیسے آپ سخی تھے ویسے ہی سخاوت کرتے تھے، سیکڑوں بیواؤں، یتیموں اور غریب رشتے داروں کی مدد اپنے ذاتی مال سے فرماتے۔ آپ کی غیر معمولی فیاضی اور سخاوت کی وجہ سے اسلام دشمن قوتوں کو آپ کے خلاف غلط واقعات مشہور کرنے کا موقع ملا۔ ان اسلام دشمن مخالفین میں سب سے بڑا فتنہ ایک یہودی عبداللہ بن سباء تھا۔ اسلام نے سب سے زیادہ نقصان چونکہ یہودیوں کے مذہبی وقار کو پہنچایا تھا۔ اس لئے وہ شروع ہی سے اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔ یہودیوں اور مجوسیوں نے بدلہ لینے کیلئے حضرت عثمان  کے خلاف سازشوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ آپ کی خلافت کے ابتدائی پانچ سال امن و سکون میں گزرے۔ فتوحات کی وسعت اور مال غنیمت کی فروانی سے مملکت اسلامیہ کو ترقی اور خوشحالی نصیب ہوئی۔ صحابہ کرام جو اسلام کے سچے فدائی تھے آہستہ آہستہ دنیا سے رخصت ہوتے جا رہے تھے۔ ان کی جگہ نئی نسل آتی گئی۔ جن کے دلوں میں اپنے اسلاف جیسا خلوص اور ولولہ نہیں تھا بلکہ مال دولت کی فراوانی نے ان میں سے بعض میں رشک اور حسد کا مادہ پیدا کر دیا تھا۔ 

سازشوں کا آغاز
اسلام دشمن یہودی عبداللہ ابن سباء جو بظاہر خود کو مسلمان کہتا تھا۔ یہ ظالم بڑا سازشی ذہن رکھتا تھا۔ اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی بڑھتی ہوئی ترقی اور خوشحالی کو دیکھ کر حضرت عثمان  کے خلاف درحقیقت اسلام کے خلاف ایک سازشی منصوبہ بنایا۔ یہودی حضور کی ظاہری حیات سے ہی اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں تھے۔ لیکن حضرت عمر فاروق  کے دور خلافت تک وہ اپنے ناپاک مشن میں کامیاب نہ ہوئے۔ حضرت عثمان غنی فطرتاً بہت رحم دل تھے۔ آپ کے نامزد کردہ گورنروں سے بعض معاملات میں اگر کوئی کوتاہی ہو جاتی تو علم میں آ جانے کے بعد آپ اس کا تدارک کرتے۔ مگر کبھی نرمی کرتے نظر انداز بھی کر دیا کرتے۔ اس سے یہودیوں کو بد نام کرنے کا موقع ملا۔ عبداللہ ابن سباء اور اس کے آلہ کاروں نے سب سے پہلے اہل بیت سے محبت اور ان کی حمایت کا دعوٰی کیا اور مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کیلئے نئے اور من گھڑت عقائد کا پرچار کیا۔ اس نے یہ نظریہ دیا کہ حضور اکرم ایک دن حضرت عیسٰی   کی طرح دنیا میں آئیں گے اور ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور حضور ﷺ کے وصی حضرت علی ہیں اور جو رسول ﷺ کی وصیت کو پورا نہ کرے وہ ظالم ہے۔ عثمان نے خلافت ظلم سے حاصل کی ہے اس کے علاوہ انہوں نے یہ پروپیگنڈہ بھی کیا کہ انہوں نے صحابہ کرام کو اہم عہدوں سے برطرف کرکے اپنے خاندان کے ناتجربہ کار نوجوانوں کو عہدوں پر فائز کیا۔
بیت المال کا پیسہ بے کار صرف کیا اور اپنے عزیزوں کو بڑی بڑی رقمیں دیں۔ مروان طرابلس کے مال غنیمت کا پانچواں حصہ دے دیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کو خمس کا پانچواں حصہ دیا اور عبداللہ بن خالد کو 50 ہزار دئیے۔
حکم بن العاس کو جسے حضور ﷺ نے جلا وطن کر دیا۔ دوبارہ مدینہ بلا لیا۔ یہ وہ اعتراض تھے جو اسلام دشمن قوتوں نے ان کے خلاف اٹھائے۔
اسلام دشمن قوتوں کا جو اعتراض ہے اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اگر کسی صحابہ کو عہدوں سے معزول کرنے کے معقول اسباب ہوں تو اس کو معزول کرنا کوئی شرعی جرم نہیں۔ حضرت عمر فاروق  جیسے صحابی نے بھی کسی موقع پر حضرت خالد بن ولید  کو سپہ سالار کے منصب سے معزول کیا تھا۔ حضرت عثمان  نے جن صحابہ کو معزولی کیا اس کی وجوہات بھی معقول تھیں۔ حضرت ابو موسٰی اشعری کو بر طرف کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ بصرہ کی رعایا ان کے خلاف ہو گئی تھی اور حضرت عثمان  سے ان کی معزول کا مطالبہ کیا لٰہذا وہ معزول ہوئے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص  کی معزولی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بیت المال سے رقم قرض لی تھی جسے وہ ادا نہ کر پا رہے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود کو بڑھاپے کی وجہ سے بر طرف کیا گیا اس وجہ سے حضرت عثمان  نے جن لوگوں کو عہدوں پر فائز کیا وہ موزوں ترین تھے ان کی شجاعت اور بہادری نے اسلامی حکومت کا دائرہ وسیع کردیا۔
حضرت عثمان غنی  پر جو دوسرا اعتراض اسلامی لبادہ اوڑھے یہودی ایجنٹوں نے اٹھایا وہ بھی غلط تھا کیونکہ جس ہستی نے ابتدائی دورِ اسلام میں اپنی بے دریغ دولت لٹائی ہو وہ بیت المال کی دولت پر کیا نگاہ ڈالیں گے۔ انہیں بیت المال سے فائدہ اٹھانے کی کوئی حاجت نہ تھی بلکہ حضرت عثمان غنی  وہ صحابی بزرگ تھے جو بیت المال سے اپنا ذاتی وظیفہ بھی نہیں لیتے تھے۔ اللہ نے آپ کو بڑا فیاض اور سخی بنایا تھا اس لئے اپنے ذاتی مال سے اپنے غریب رشتے داروں کی مدد فرماتے۔ اسے اسلام دشمن قوتوں نے دوسرا رنگ دے کر قوم کو منتشر کیا۔ حالانکہ آپ نے خود ایک موقعہ پر ارشاد فرمایا۔ لوگ کہتے کہ میں اپنے خاندان والوں سے محبت کرتا ہوں اور ان کو دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ میں ان کے واجبی حقوق ادا کرتا ہوں جو کچھ میں ان کو دیتا ہوں اپنے ذاتی مال سے مسلمانوں کا مال نہ میں اپنے لئے حلال سمجھتا ہوں اور نہ کسی دوسرے کیلئے۔ (طبری صفحہ 2952)
بیت المال میں خیانت کے حوالے سے جو سبائیوں نے پروپیگنڈہ کیا وہ بھی غلط اور مسخ شدہ تھا۔ مثلاً مروان کو مالِ غنیمت کا آپ نے کوئی حصہ عطا نہیں کیا۔ بلکہ مروان نے اس حصہ کو پانچ لاکھ میں خریدا تھا۔ (ابن خلدون صفحہ29، جلد2)
عبداللہ بن ابی سرح کو خمس کا البتہ پانچواں حصہ دیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جب عبداللہ بن ابی سرح نے طوابلس پر حملہ کیا تو حضرت عثمان  نے اس کی حوصلہ افزائی کے لئے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم اس مہم میں کامیاب ہوئے تو تم کو مال غنیمت کے خمس کا پانچواں حصہ دیا جائے گا۔ جب طرابلس فتح ہوا تو امیر المومنین حضرت عثمان غنی  نے حسبِ وعدہ خمس کا پانچواں حصہ دے دیا لیکن مسلمانوں کو اس پر اعتراض ہوا تو حضرت عثمان  نے فرمایا اگر تم لوگ راضی نہیں تو یہ خمس واپس کردیا جائے گا چنانچہ آپ نے عبداللہ بن ابی سرح کو وہ خمس واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ (ملاحظہ کیجئے طبری صفحہ2815)
اسی طرح عبداللہ بن خالد کو بھی ان کی اعلٰی خدمات کے صلہ میں پچاس ہزار دئیے تھے لیکن جب مسلمانوں نے اعتراض کیا تو اسے بھی واپس کرا دیا۔ (ملاحظہ کیجئے طبری صفحۃ 2949)
ّعبداللہ بن سباء یہودی نے اس سازش کا جال تمام اسلامی مرکزوں میں بچھا دیا اور ہر جگہ خفیہ خط و کتابت کے ذریعے ایسا منظم اور وسیع پروپیگنڈہ کیا کہ چند ہی دنوں میں پورے ملک کی فضا خراب ہوگئی۔ (ملاحظہ کیجئے طبری صفحہ 2947)
ملک کے ہر گوشے میں ابن سباء کے پروپیگنڈے کا کچھ نہ کچھ اثر ہوا خصوصاً عراق میں جہاں مختلف قوموں کی مخلوق آبادی تھی اس فتنہ کا مرکز بن گیا اور اس طرح کوفہ اور بصرہ میں حضرت عثمان  کے مخالفین ابھر کر سامنے آگئے۔ کوفہ میں جو انتہا پسند ابھر کر سامنے آئے ان کے سرغنہ اشتر نحفی، جندب بن کعب عمیرہ بن صابی تھے۔ ان کا کام حضرت عثمان غنی  کو بدنام کرنا تھا یہ لوگ ذرا ذرا سی بات پر فتنہ برپا کر دیتے۔ ان کی فتنہ انگیزیوں سے تنگ آکر کوفہ کے شرفاء خاص طور پر کوفہ کے گورنر سعید بن العاص نے حضرت عثمان  کو ایک پیغام بھیجا کہ کوفہ کو شرپسندوں سے بچایا جائے اور ان لوگوں کو یہاں سے نکال کر کہیں اور بھیج دیا جائے۔ حضرت عثمان غنی  نے ان کی درخواست قبول کی اور قیام امن کی خاطر ان تمام انتہا پسندوں کو صوبہ شام بھیج دیا جہاں کے گورنر حضرت امیر معاویہ  تھے۔
ان انتہا پسند سرغنہ کے کوفہ سے نکل جانے کے بعد اگرچہ کوفہ میں کسی کو آپ کے خلاف اٹھنے کی ہمت نہ ہوئی لیکن عبداللہ بن سباء کے گروہ جو سبائی کہلاتے تھے اندر اندر مضبوط ہوتے گئے جن کا صرف ایک مقصد تھا کہ حضرت عثمان  خلافت سے دست بردار ہو جائیں۔
انتہا پسندوں کا مطالبہ دن بدن زور پکڑ گیا اور حضرت عثمان غنی  کے خلاف سازشوں کا جال پھیلتا گیا، آپ نے جب اس حقیقت کو محسوس کیا تو اکابر صحابہ سے مشورہ کیا۔ کسی نے کہا یہ خفیہ سازش ہو رہی ہے۔ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ سازش کرنے والے عناصر کو پکڑ کر انہیں قتل کر دیا جائے کسی نے مشورہ دیا کہ آپ نرمی سے زیادہ کام لیتے ہیں حضرت عمر  سے زیادہ لوگوں کو دیتے ہیں اور حضرت ابو بکر و حضرت عمر  کے طریقے کو اختیار کیجئے۔ یہ مشورہ سن کر آپ نے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس حادثے کا خوف ہے وہ آکر رہے گا دروازہ بند بھی کر دیا جائے تو وہ بزور قوت کھول دیا جائے گا۔ لیکن میں اس دروازے کو نرمی سے بند کروں گا البتہ حدوداللہ میں نرمی نہیں برتوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے لوگوں کی بھلائی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی فتنہ کی چکی چلنے والی ہے۔ تم لوگوں میں سکون پیدا کرو۔ (طبری صفحہ6۔ 2945)
حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی  فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان  نے اپنے غلاموں سے فرمایا کہ اللہ کی قسم خونریزی سے پہلے میرا قتل ہو جانا مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں خونریزی کے بعد قتل کیا جاؤں۔ (تحفہ اثناء عشر)
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اس قول کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ حضرت عثمان  جانتے تھے کہ میری شہادت لکھ دی گئی ہے اور اللہ کے رسول  نے اس کی بشارت مجھے دے دی ہے اگر بلوائیوں سے جنگ کی بھی گئی تب بھی میں قتل کر دیا جاؤں گا لٰہذا ان بلوائیوں سے جنگ کرنا فائدہ مند نہیں۔ (تحفہ اثناء عشریہ)
آخرکار بلوائیوں نے اپنے بغض کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے حضرت عثمان غنی  کے مکان کو گھیر لیا آپ کے لئے پانی بند کر دیا۔ جب حضرت علی  کو یہ علم ہوا تو آپ نے اپنے دونوں بیٹوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین  کو حضرت عثمان  کی حفاظت کیلئے مامور کر دیا اور دونوں شہزادے تلوار ہاتھوں میں لئے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ دروازوں پر سخت پہرہ دیکھ کر بلوائیوں کو اندر داخل ہونے کی ہمت نہ ہوئی۔ البتہ وہ پڑوس کے مکان پہنچ گئے اور وہاں سے چھت کود کر امیر المومنین حضرت عثمان  کے گھر میں داخل ہوئے اور امیر المومنین پر جھپٹ پڑے اور انہیں نہایت بے دردی سے شہید کرکے خاموشی سے فرار ہوگئے۔
آپ کی شہادت کی اطلاع جب حضرت علی  کو ملی تو آپ کو اپنے دونوں بیٹوں پر بہت غصہ آیا اور غصے کی حالت میں آپ نے ایک طمانچہ حضرت امام حسن  کو ایک گھونسا حضرت امام حسین  کو مارا اور فرمایا جب تم دونوں دروازوں پر موجود تھے تو امیر المومنین شہید کیسے ہوئے۔ جب حضرت علی  کو معلوم ہوا کہ قاتل دروازہ سے نہیں بلکہ پڑوس کی دیوار کود کر اندر داخل ہوئے ہیں تو آپ نے حضرت عثمان غنی  کی اہلیہ سے پوچھا کہ امیر المومنین کو کس نے شہید کیا۔ آپ پردہ دار خاتون تھیں آپ نے کہا میں قاتلوں کو نہیں جانتی البتہ ان کے ساتھ محمد بن ابو بکر یعنی حضرت ابوبکر صدیق  کے بیٹے تھے۔ حضرت علی  نے محمد بن ابوبکر کو بلاکر پوچھا تو انہوں نے کہا حضرت نائلہ سچ کہتی ہیں بیشک میں گھر میں داخل ضرور ہوا تھا اور قتل کا ارادہ بھی کیا تھا لیکن جب انہوں نے میرے باپ حضرت ابو بکر کا ذکر کیا تو میں ان سے دور ہوگیا۔ میں اپنے اس فعل پر بہت نادم ہوں اور اللہ سے توبہ کرتا ہوں خدا کی قسم میں نے ان کو قتل نہیں کیا۔ (ملاحظہ کیجئے تاریخ خلفاء)
بعض مورخین نے لکھا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ آپ کے مکان میں جو بلوائی کودے تھے ان کا نام خمار جو مصر کا رہنے والا تھا یا اسود تھا۔
حضرت عثمان غنی ، 35ھ میں شہید ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر 82 سال تھی۔ آپ کا دورِ خلافت بارہ سال رہا۔ آپ کا مزارِ اقدس جنت البقیع (مدینہ منورہ) میں ہے۔

انقلاب کی کوشش اور حضرت عثمان کی شہادت:
حضرت عثمان ؓ کے دوازدہ سالہ خلافت میں ابتدائی چھ سال کامل امن وامان سے گزرے،فتوحات کی وسعت،مال غنیمت کی فراوانی،وظائف کی زیادتی،زراعت کی ترقی اورحکومت کے عمدہ نظم ونسق نے تمام ملک میں تمول، فارغ البالی اورعیش وتنعم کو عام کردیا، یہاں تک کہ بعض متقشف صحابہ ؓ ایام نبوت کی سادگی اور بے تکلفی کو یاد کرکے اس زمانہ کی ثروت اورسامان تعیش کو دیکھ کر حددرجہ غمگین تھے کہ اب مسلمانوں کے اس دنیاوی رشک وحسد کا وقت آگیا جس کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی؛چنانچہ حضرت ابوذر غفاری ؓ جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح الاسلام کاخطاب دیاتھا، اعلانیہ اس کے خلاف وعظ کہتے تھے اورفرماتے تھے کہ ضرورت سے زیادہ جمع کرنا ایک مسلمان کے لئے ناجائز ہے،شام کا ملک جس کے حاکم امیر معاویہ ؓ تھے اور جو صدیوں تک رومی تعیش وتکلفات کا گہوارہ رہ چکا تھا وہاں کے مسلمانوں میں سب سے زیادہ برائیاں پیداہورہی تھیں، حضرت ابوذر ؓ برملاان امراء اوردولت مندوں کے خلاف وعظ کہتے تھے جس سے نظام حکومت میں خلل پڑتا تھا،اس لئے امیر معاویہ ؓ کی استدعا پرحضرت عثمان ؓ نے ان کو مدینہ بلوالیا،مگر اب مدینہ بھی وہ اگلا مدینہ نہ رہا تھا، بیرونی لوگوں کے بڑے بڑے محل تیار ہوچکے تھے، اس لئے حضرت ابوذر ؓ نے یہاں سے بھی دل برداشتہ ہوکر ربذہ نام کے ایک گاؤں میں اقامت اختیار کیا۔
حضرت عثمان ؓ کے آخری زمانہ میں جو فتنہ وفساد برپا ہوا اس کی حقیقت یہی ہے کہ دولتمندی اورتمول کی کثرت نے مسلمانوں میں بھی اس کے وہ لوازم پیدا کردئے جو ہر قوم میں ایسی حالت میں پیدا ہوجاتے ہیں اور بالآخر ان کے ضعف اورانحطاط کاسبب بن جاتے ہیں، اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں سے فرمایا کرتے تھے کہ "لااخاف علیکم الفقربل اخاف علیکم الدنیا"،مجھے تمہارے فقروفاقہ سے کوئی خوف نہیں ہے؛بلکہ تمہاری دولت دنیاوی ہی کے خطرات سے ڈرتا ہوں ،تمول اوردولت کی کثرت کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کل قوم کے فوائد کے مقابلہ میں ہرجماعت اورہر فرد اپنے جماعتی اورشخصی فوائد کو ترجیح دینے لگتا ہے ،جس سے بغض وعناد پیدا ہوجاتا ہے،قومی وحدت کا شیرازہ بکھرجاتا ہے اورانحطاط کا دور شروع ہوجاتا ہے؛لیکن اس کےعلاوہ اس فتنہ وفساد کی پیدائش کے بعض اور اسباب بھی تھے۔
(۱)سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کی وہ نسل جو فیض نبوت سے براہ راست مستفیض ہوئی تھی ختم ہوچکی تھی جو لوگ موجود تھے وہ اپنی کبرسنی کے سبب سے گوشہ نشین ہورہے تھے اور ان کی اولاد ان کی جگہ لے رہی تھی، یہ نوجوان زہد واتقاء عدل وانصاف حق پسندی وراستبازی میں اپنے بزرگوں سے کمتر تھے، اس بناء پر رعایا کے لئے ویسے فرشتہ رحمت ثابت نہ ہوئے جیسے ان کے اسلاف تھے۔
(۲)حضرت ابوبکر ؓ کے مشورہ اورمسلمانوں کی پسندیدگی سے امامت وخلافت کے لئے قریش کا خاندان مخصوص ہوگیا تھا اوربڑے بڑے عہدے بھی زیادہ تر ان ہی کو ملتے تھے، نوجوان قریشی اس کو اپنا حق سمجھ کر دوسرے عرب قبیلوں کو اپنا محکموم سمجھنے لگے،عام عرب قبائل کا دعویٰ تھا کہ ملک کی فتوحات میں ہماری تلواروں کی بھی کمائی ہے، اس لئے وظائف ،منصب اورعہدوں میں قریش اورہم میں مساوات چاہئے۔
(۳)اس وقت کابل سے لے کر مراکش تک اسلام کے زیرنگیں تھا جس میں سینکڑوں قومیں آباد تھیں،ان محکوم قوموں کے دلوں میں قدرتاً مسلمانوں کے خلاف انتقام کا جذبہ موجودتھا؛لیکن ان کی قوت کے مقابلہ میں بے بس تھے،اس لئے انہوں نے سازشوں کا جال بچھایا جن میں سب سے آگے مجوسی اوریہودی تھے۔
(۴)حضرت عثمان ؓ فطرتاً نیک ،ذی مروت اورنرم خو تھے،عموما ًلوگوں سے سختی کا برتاؤ نہیں کرتے تھے،اکثر جرائم کو برد باری اورحلم سے ٹال دیا کرتے تھے، اس سے شریروں کے حوصلے بڑھ گئے۔
(۵)حضرت عثمان ؓ اموی تھے، اس لئے فطرتا ًان کے جذبات اپنے اہل خاندان کے ساتھ خیر خواہانہ تھے اور آپ ان کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے اوراپنے ذاتی مال سے ان کی امداد فرمایا کرتے تھے،شریرلوگوں نے اس کو یوں ملک میں پھیلایا کہ حضرت عثمان سرکاری بیت المال سے ان کے ساتھ دادودہش کرتے ہیں۔
(۶)ہرامام کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے کارکن اورعمال اس کے مطیع اور فرمانبردار ہوں، اسلام کی دوسری نسل میں جواب پہلی نسل کی جگہ لے رہی تھی،امام وقت کی اطاعت کا وہ مذہبی جذبہ نہ تھا جو اول الذکر میں موجود تھا،ایسی حالت میں حضرت عثمان ؓ نظام خلافت کے قیام واستحکام کے لئے بنی امیہ میں سے زیادہ افراد لینےپر مجبور ہوئے۔
(۷)مختلف محکوم قوموں کے شورش پسند اشخاص اس لئے انقلاب کے خواہاں تھے کہ شاید اس سے ان کی حالت میں کوئی فرق پیدا ہو۔
(۸)غیرقوموں کے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے یا مسلمانوں نے غیر قوموں کی عورتوں سے جو شادیاں کرلی تھیں یا وہ باندیاں بنی تھیں ان کی اولاد یں بہت کچھ فتنہ کا باعث بنیں۔
ان مختلف الخیال جماعتوں کے اغراض ومقاصد پر نظر ڈالنے سے یہ بالکل نمایاں ہو جاتا ہے کہ اس فتنہ وانقلاب کے حقیقی اسباب یہی تھے جو اوپر مذکور ہوئے،مثلاً
(۱)بنوہاشم بنوامیہ کے عروج وترقی کو پسند نہیں کرتے تھے اور خلافت کے مناسب اورعہدوں کا سب سے زیادہ اپنے کو مستحق جانتے تھے۔
(۲)عام عرب قبائل مناصب اورعہدوں اورجاگیروں کے استحقاق میں اپنے کو قریشیوں سے کم نہیں سمجھتے تھے، اس لئے وہ قریشی افسروں کے غرور تمکنت کو توڑنا اوراپنا جائز استحقاق اورمساوات حاصل کرنا چاہتے تھے۔
(۳)مجوسی چاہتے تھے کہ ایسا انقلاب پیدا کیا جائے جس میں ان کی مدد سے حکومت ایسے عام خاندان میں منتقل ہو جس سے وہ بہتر سے بہتر حقوق اورمراعات حاصل کرسکیں اور عام عربوں کے مقابلہ میں ان کا استحقاق کم نہ سمجھا جائے۔
(۴)یہودی چاہتے تھے کہ مسلمانوں میں ایسا افتراق پیدا کردیا جائے کہ ان کی قوت پاش پاش ہوجائے۔
یہ اغراض مختلف تھیں اور ہرجماعت اپنی غرض کے لئے کوشش میں مصروف تھی،اس لئے خفیہ ریشہ دوانیاں شروع ہوگئیں ،عمال کے خلاف سازشیں ہونے لگیں اورخود امیر المومنین کو بدنام کرنے کی کوشش شروع ہوئی،حضرت عثمان ؓ نے ان فتنوں کو دبانا چاہا ؛لیکن یہ آگ ایسی لگی تھی کہ جس کا بجھانا آسان نہ تھا، فتنہ پردازوں کا دائرہ عمل روز بروز وسیع ہوتا گیا،یہاں تک کہ تمام ملک میں ایک خفیہ جماعت پیدا ہوگئی تھی جس کا مقصد فتنہ وفساد تھا،کوفہ کی انقلاب پسند جماعتوں میں اشترنخعی ،ابن ذی الحبکہ،جندب، صعصہ،ابن الکوار،کمیل اورعمیر بن ضابی خاص طورپر قابل ذکر ہیں،(ابن اثیر ج ۳ : ۱۰۸)ان لوگوں کا خیال تھا کہ امارت وریاست قریش کے ساتھ مخصوص ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے، عام مسلمانوں نے ممالک فتح کئے ہیں،اس لئے وہ سب اس کے مستحق ہیں، سعید بن عاص والی کوفہ سے اس جماعت کوخاص طورپر عداوت تھی، ان کو بدنام کرنے کے لئے روز ایک نئی تدبیر اختراع کی جاتی تھی اورقریش کے خلاف ملک کو تیار کرنے کے لئے طرح طرح کے وسائل کام میں لائے جاتے تھے، اشراف کوفہ نے ان مفسدہ پردازویوں سے تنگ آکر امیرالمومنین سے التجا کی کہ خدا کیلئے جلد ان فتنہ جُو اشخاص سے کوفہ کو نجات دلائے ،حضرت عثمان ؓ نے تقریباً دس آدمیوں کو جوا اس جماعت کے سرگروہ تھے،شام کی طرف جلاوطن کردیا۔
(ایضاً،:۱۱۳)

اسی طرح بصرہ میں بھی ایک فتنہ پرداز جماعت پیدا ہوگئی تھی،حضرت عثمان ؓ نے یہاں سے بھی کچھ آدمیوں کو ملک بدرکرادیا؛لیکن فتنہ کی آگ اس حد تک بھڑک چکی تھی کہ یہ معمولی چھینٹے اس کو بجھانہ سکے ؛بلکہ یہ انتقال مکانی اور بھی ان خیالات کی اشاعت کا سبب بن گئے اور پہلے جو آگ ایک جگہ سلگ رہی تھی وہ سارے ملک میں پھیل گئی۔
مصر سازش کا سب سے بڑا مرکز تھا، مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن یہودی تھے؛چنانچہ ایک یہودی النسل نو مسلم عبداللہ بن سبانے اپنی حیرت انگیز سازشانہ قوت سے مختلف الخیال مفسدوں کو ایک مرکز پر متحد کردیا اور اس کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے اس نے مذہب میں عجیب وغریب عقائد اختراع کئے اورخفیہ طورپر ہر ملک میں اس کی اشاعت کی موجودہ شیعی فرقہ دراصل انہی عقائد پر قائم ہوا،مفسدین کی جماعت تمام ملک میں پھیلی ہوئی تھی اور ان میں سے ہر ایک کامطمع نظر مختلف تھا اورآئندہ خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں بھی ہر ایک کی نظر الگ الگ شخصیتوں پر تھی،اہل مصر حضرت علی ؓ کے عقیدت کیش تھے، اہل بصرہ حضرت طلحہ ؓ کے طرف دار تھے، اہل کوفہ حضرت زبیر ؓ کو پسند کرتے تھے، اہل عراق کی جماعت تمام قریش سے عداوت رکھتی تھی اورایک جماعت سرے سے عربوں ہی کے خلاف تھی ؛لیکن امیر المومنین حضرت عثمان ؓ کی معزولی اوربنوامیہ کی بیخ کنی پر سب باہم متفق تھے،عبداللہ بن سبا کی حکمت عملی سے ان اختلافات سے قطع نظر کرکے سب کو ایک مقصد یعنی حضرت عثمان ؓ کی مخالفت پر متحد کردیا اور تمام ملک میں اپنے داعی اور سفیر پھیلادیئے تاکہ ہرجگہ فتنہ کی آگ بھڑکا کر بدامنی پیدا کردی جائے اور اس مقصد کے حصول کے لئے داعیوں کو حسب ذیل طریقوں پر عمل کی ہدایت کی:
(۱)بظاہر متقی وپرہیز گار بننا اورلوگوں کو وعظ وپند سے اپنا معتقد بنانا۔
(۲)عمال کو دق کرنا اورہر ممکن طریقہ سے ان کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا۔
(۳)ہرجگہ امیرالمومنین کی کنبہ پروری اور ناانصافی کی داستان مشتہر کرنا۔
ان طریقوں پر نہایت مستعدی کے ساتھ عمل کیا گیا،ولید بن عقبہ والی کوفہ پر شراب خوری کا الزام قائم کیا گیا اورحد بھی جاری کی گئی جو درحقیقت ایک بڑی سازش کا نتیجہ تھا، اسی طرح حضرت ابوموسی اشعری ؓ والی بصرہ کی معزولی بھی جس کا ذکر آئندہ آئے گا ان ہی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ تھی۔
؁ ۳۱ ھ میں جبکہ قیصر روم نے پانچ سوجنگی جہازوں کے عظیم الشان بیڑے کے ساتھ اسلامی سواحل پر حملہ کیا اورمسلمان بڑے خوف وہراس میں مبتلا ہوگئے اس وقت بھی یہ انقلاب پسند اپنی فتنہ انگیزی سے باز نہیں آئے اور محمد بن ابی حذیفہ ؓ اور محمد بن ابی بکر ؓ جو مفسدین کے دام تزویر میں پھنس چکے تھے، اسلامی بیڑے کے امیر البحر عبداللہ بن ابی سرح ؓ کو ہرطرح دق کیا،نماز میں بے موقع تکبیریں بلند کرکے برہمی پیداکرتے،عبداللہ بن سعد کی اعلانیہ مذمت کرتے اورمجاہدین سے کہتے کہ تم رومیوں کے مقابلہ میں جہاد کرنے جاتے ہو،حالانکہ اسلام کو خود مدینہ میں مجاہدین کی ضرورت ہے،لوگ تعجب سے کہتے کہ مدینہ میں کیا ضرورت ہے؟تو وہ حضرت عثمان ؓ کا نام لیتے اور کہتے کہ اس ظالم کو معزول کرنا اسلام کی سب سے بڑی خدمت ہے،اس نے سنت شیخین کو چھوڑدیا،کبارصحابہ کو معزول کرکے اپنے اعزہ واقارب کو سیاہ وسپید کا مالک بنادیاہے۔
غرض ہرطرح کی فریب کاریوں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی، اسلامی بیڑا رومیوں کے مقابلہ کے لئے روانہ ہوا تو محمد بن ابی حذیقہ ؓ، محمد بن ابی بکؓر نے ایک کشتی پر سوار ہو کر بیڑے کا تعاقب کیا اورجہا ں جہاز لنگر انداز ہوتے وہ اپنی کشتی کو قریب لے کر کے اپنے خیالات کی اشاعت کرتے،مجاہدین رومی بیڑے کو شکست دے کر مظفر ومنصور واپس آئے تو چند نے محمد بن ابی بکر ؓ اور محمد بن ابی حذیفہ کو جہادسے پہلو تہی کرنے پر ملامت کی، انہوں نےکہا کہ ہم اس جہاد میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں جس میں انتظام عثمان کے ایماء سے ہوا ہو؟اور جس کا امیر عبداللہ بن سعد ہو،اس کے بعد حسب معمول حضرت عثمان ؓ کے معائب اوربرائیوں کی طویل داستان شروع کردی (ابن اثیر)عبداللہ بن سعد نے جب دیکھا کہ دونوں کسی طرح اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے اور ان کے مسموم خیالات آہستہ آہستہ اپنا اثر کررہے ہیں تو نہایت سختی سے ان کو منع کیا اور کہاکہ خدا کی قسم اگرا میر المومنین کا خیال نہ ہوتاتوتمہیں اس مفسدہ پردازی کا مزہ چکھادیتا ۔
مدینہ بھی مفسدین سے خالی نہ تھا،کبارصحابہ حضرت عثمان کے ساتھ تھے اس لئے علانیہ اس جماعت کا کوئی اثر نہ ہوا،البتہ اخیر عہد یعنی ۳۵ھ میں جس سال حضرت عثمان ؓ شہید ہوئے مفسدین مدینہ اس قدر بے باک ہوگئے کہ بیرونی مفسدوں کی مددسے ان کو خودامیر المومنین پر بھی دست ستم دراز کرنے کی جرأت ہوگئی؛چنانچہ ایک دفعہ جمعہ کے روز حضرت عثمان ؓ منبر پر خطبہ دے رہے تھے،ابھی حمدوثنا ہی شروع کی تھی کہ ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا‘‘عثمان! کتاب اللہ کو اپنا طرز عمل بنا’’لیکن صبر وتحمل کے اس پیکرنے نرمی سے کہابیٹھ جاؤ دوسری مرتبہ کھڑے ہو کر پھر اس نے اسی جملہ کا اعادہ کیا،حضرت عثمان ؓ نے ہر بار نرمی سے بیٹھنے کو فرمایا ؛لیکن اس کی سازش پہلے سے ہوچکی تھی،ہر طرف سے مفسدین نے نرغہ کرلیا اور اس قدر سنگریزے اور پتھروں کی بارش کی کہ نائب رسول زخموں سے چور چورہوکر منبر سے فرش خاک پر گرپڑا، مگر صبر وتحمل کا یہ عالم تھا کہ اس بے ادبی پر بھی جذبہ غیض وغضب کو ہیجان نہ ہوا۔
(ابن اثیر ج ۳ : ۱۲۷)

غرض مختلف عناصر نے مل کر افترا پردازیوں اورکذب بیانیوں سے اس طرح حضرت عثمان ؓ کو بدنام کرنے کی کوشش کی اورآپ کی مخالفت کا صورا اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ اتنی طویل مدت کے بعد اس زمانہ میں بھی بہت سے تعلیم یافتہ حضرات جو واقعات کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے،ان غلط بیانیوں اورفریب کاریوں سے متاثر نظر آتے ہیں، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پرتمام اعتراضات کو قلمبند کرکے اصل واقعات کوبے نقاب کردیا جائے۔
اس وقت تک حضرت عثمان ؓ پر جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:
(۱)کبارصحابہ مثلاً حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ، مغیرہ بن شعبہ ؓ، عمروبن عاص ؓ، عماربن یاسر ؓ عبداللہ بن مسعود ؓ اورعبدالرحمن بن ارقم کو معزول کرکے خاص اپنے کنبہ کے نااہل اورناتجربہ کار افراد کو مامور کیا۔
(۲)بیت المال میں بے جاتصرف کیا اورمسرفانہ طریقہ پر اپنے اعزہ واقارب کے ساتھ سخاوت کا اظہار کیا،مثلاً حکم بن العاص ؓ کو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں جلاوطن کردیا تھا مدینہ آنے کی اجازت دی اوربیت المال سے ایک لاکھ درہم عطا کئےاور اس کے لڑکے حارث کو اجازت دی کہ بازار میں جو فروخت ہو اس کی قیمت سے اپنے لئے عشر وصول کرے،مروان کو افریقہ کے مال غنیمت کا خمس دیا گیا، اسی طرح عبداللہ ابن خالد ؓ کو تین لاکھ درہم کا گرانقدر عطیہ مرحمت کیا اورخود اپنی صاحبزادیوں کو بیت المال کے قیمتی جواہرات عنایت فرمائے،حالانکہ فاروق اعظم ؓ نہایت شدت کے ساتھ اس قسم کے تصرفات سے احتراز کیا تھا، اس کے علاوہ اپنے لئے ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا اورمصارف کا تمام بار بیت المال پر ڈالا بیت المال کے مہتمم عبداللہ بن ارقم ؓ اورمعیقیب نے اس اسراف پر اعتراض کیا تو ان کو معزول کرکے زید بن ثابت ؓ کو یہ عہدہ تفویض کردیا،ایک دفعہ بیت المال میں وظائف تقسیم ہونے کے بعد ایک لاکھ درہم پس انداز ہوئے،حضرت عثمان ؓ نے بے وجہ زید بن ثابت کو یہ گراں قدر رقم لینے کی اجازت دے دی۔
(۳)عبداللہ بن مسعود ؓ اور ابی ؓ کے روزینے بند کردئے۔
(۴)مدینہ کے اطراف میں بقیع کو سرکاری چراگاہ قراردیا اور عوام کو اس سے مستفید ہونے سے روک دیا۔
(۵)مدینہ کے بازار میں بعض اشیاء کی خرید وفروخت اپنے لئے مخصوص کرلی اورحکم دیا کہ کھجور کی گٹھلیاں امیرالمومنین کے ایجنٹ کے سوا کوئی دوسرا نہیں خرید سکتا۔
(۶)اپنے حاشیہ نشینوں اورقرابت داروں کو اطراف ملک میں نہایت وسیع قطعات زمین مرحمت فرمائے حالانکہ اس سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا تھا۔
(۷)بعض کبار صحابہ کی تذلیل کی گئی اور ان کو جلاوطن کیا گیا،مثلاً ابوذر غفاری ؓ،عمار بن یاسر ؓ، جندب بن جنادہ ؓ، عبداللہ بن مسعود ؓ، اورعبادہ بن ثابت ؓ کے ساتھ نہایت نامنصفانہ سلوک ہوا۔
(۸)زیدبن ثابت ؓ کے تیار کردہ مصحف کے سوا تمام مصاحف کو جلادیا۔
(۹)حدود کے اجراء میں تغافل سے کام لیا۔
(۱۰)فرائض وغیرہ میں تمام امت کے خلاف روایات شاذہ پر عمل کیا گیا،حالانکہ شیخین جب تک روایات کی اچھی طرح توثیق نہیں کرلیتے تھے ان کو قبول نہیں کرتے تھے۔
(۱۱)مذہب میں بعض نئی بدعتیں پیدا کیں جن کو اکثر صحابہ نے ناپسند کیا،مثلاً حج کے موقع پر منی میں دورکعت نماز کے بجائے چاررکعت نماز اداکی،حالانکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شیخین نے کبھی دورکعت سے زیادہ نہیں پڑھی۔
(۱۲)مصری وفد کے ساتھ بد عہدی کی گئی جس کا نتیجہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی صورت میں ظاہر ہوا۔
مذکورہ بالا واقعات میں حضرت عثمان ؓ کے فردقرارداد جرم کو رنگ آمیزی کرکے نہایت بدنما اور مکروہ بنایاگیا ہے ؛لیکن اس میں سے ایک الزام بھی تحقیق کی کسوٹی پر صحیح نہیں اترتا،ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اس میں صداقت کا کتنا شائبہ ہے اوراس کو رنگ آمیزی سے کتنا بدنما بنادیا گیا ہے،سب سے پہلا الزام جو بجائے خود متعدد الزامات کا مجموعہ ہے، اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
(۱)کبارصحابہ ؓ کو ذمہ داری کے عہدوں سے معزول کردیا۔
(۲)نااہل اورناتجربہ کارافراد کو رعایا کی قسمت کا مالک بنادیا۔
(۳)اپنے خاندان کو فوقیت دی۔
امراول کی نسبت تحقیقی فیصلہ سے قطع نظر کرکے پہلے دیکھنا چاہئے کہ اگر یہ الزام ہے تو اسلام کے سب سے عادل اور مدبر خلیفہ فاروق اعظم ؓ پر جن کا عدل وانصاف اورتدبر دنیائے اسلام کے لئے قیامت تک مایہ نازرہے گا، یہی الزام عائد ہوتا ہے یا نہیں؟ جنہوں نے حضرت خالد سیف اللہ ؓ، مغیرہ بن شعبہ ؓ ،اورسعدوقاص فاتح ایران کو معزول کردیا تھا ،یا حضرت علی ؓ اس اعتراض کے مورد ہوتے ہیں یا نہیں؟ جنہوں نے عنان حکومت ہاتھ میں لینے کے ساتھ ہی تمام عمال عثمانی کو یک قلم موقوف کردیا جن کی قوت بازونے طرابلس، آرمینیہ اورقبرس کو زیرنگیں کیا تھا، حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی قسم کے واقعات کسی خاص وقتی سبب کی بنا پر ایک شخص کے لئے موجب مدح اوردوسرے کے لئے موجب ذم بنادئے جاتےہیں اور اس پر ایسی ملمع سازی کی جاتی ہے کہ کسی کو تحقیق وتنقید کا خیال تک نہیں آتا۔
حضرت عثمان ؓ نےکبار صحابہ میں سے جن لوگوں کو معزول کیا تھا ان میں سے عمر وبن العاص ؓ سعد بن ابی وقاص اورابو موسیٰ اشعری ؓ کی معزولی کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے،اس سے معلوم ہوگا کہ عمروبن العاص ؓ والی مصر نے اسکندریہ کی بغاوت فروکرنے میں ذمیوں کے ساتھ نامنصفانہ سلوک کیا تھا اور ان کو لونڈی غلام بنا لیا تھا،نیز نئی نہروں کے جاری ہونے کے باوجود وہ مصر کے مالیات میں کچھ اضافہ نہ کرسکے اورآخر عبداللہ بن ابی سرح کی تقرری کے بعد اس سے کہیں زیادہ ہوگیا۔
اسی طرح سعد بن ابی وقاص ؓ والی کوفہ نے بیت المال سے ایک بیش قرار رقم قرض لی اورپھر اسکے ادا کرنے میں تساہل کرتےرہے، یہاں تک کہ عبداللہ بن مسعود ؓ مہتمم بیت المال سے سخت کلامی کی نوبت پہنچی،(طبرانی ص ۲۸۱۱)ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ والی ٔ بصرہ رعایا کو خوش نہ رکھتے تھے اور تمام اہل بصرہ انکے مخالف ہوگئے تھے؛ چنانچہ ان کے وفد نے درالخلافہ جاکر ان کی معزولی کا مطالبہ کیا،کیا یہ تمام وجوہ ان حضرات کو معزول کردینے کے لئے کافی نہ تھے؟ مغیرہ بن شعبہ پر رشوت ستانی کا الزام قائم کیا گیا،اگرچہ یہ سراسر بہتان تھا ؛لیکن حضرت عثمان ؓ نے ان کو اس لئے معزول کردیاکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی جگہ سعدبن ابی وقاص ؓ کی تقرری کی وصیت کی تھی،( ایضاً : ۲۸۰۲)عمار بن یاسر ؓ کو حضرت عثمان ؓ نے معزول نہیں کیا تھا ؛بلکہ وہ عہد فاروقی ہی میں معزول ہوچکے تھے، البتہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی معزولی بے وجہ تھی؛لیکن لوگوں نے حضرت عثمان ؓ کو ان کی طرف سے اس قدر بدگمان کردیا تھا کہ ان کو معزول کردینا ناگزیر ہوگیا، رہا بیت المال کے مہتمم عبداللہ بن ارقم ؓ اورمعیقیب کی سبکدوشی تو اس کے متعلق خود حضرت عثمان ؓ کا بیان موجود ہے جو انہو ں نے ان دونوں بزرگوں کی معزولی کے سلسلہ میں ایک جلسۂ عام میں دیا تھا۔
الا ان عبداللہ بن ارقم لم یزل علی حرائتکم زمن ابی بکر وعمر الی الیوم وانہ کبروضعف وقد ولینا علمہ زیدبن ثابت
"صاحبو!عبداللہ بن ارقم ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے زمانہ سے اس وقت تک آپ کی تقسیم وظائف کی خدمت انجام دیتے رہے ؛لیکن اب بوڑھے اورضعیف ہوگئے ہیں اس لئے اس خدمت کو زید بن ثابت کے سپرد کردیا ہے۔"
ظاہر ہے کہ مال کی نگرانی کا کام جس قدر اہم اورمشکل ہے اس لحاظ سے اگرحضرت عثمان ؓ نے ان دونون کو جو ضعف اورپیری کے باعث اپنی خدمات کو باحسن وجوہ انجام نہیں دے سکتے تھے سبکدوش کردیا اور اس عہدہ پر زید بن ثابت ؓ کو جوپڑھنے لکھنے اورحساب وکتاب میں خاص طورسے ممتاز تھے،مامور کیا تو کون سی خطاکی؟
امر دوم کی نسبت غورکرنا چاہئے کہ نااہل اورناتجربہ کار افراد کی تقرری کا الزام کہاں تک درست ہے؟ اس میں شک نہیں کہ ولید بن عقبہ ؓ، سعید بن العاص ؓ، عبداللہ بن ابی سرح ؓ اور عبداللہ بن عامر اگرچہ صحابہ کرام اورفاروقی عمال کی طرح زہد واتقاء کے مالک نہ تھے، تاہم ان کے انتظامی کارنامے عظیم الشان فتوحات کسی طرح ان کو نااہل اورناتجربہ کار نہیں ثابت کرتے،ولید بن عقبہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جزیرہ کے عامل رہ چکے تھے،(طبری ص ۲۸۱۳) سعید بن العاص نے طبرستان اورآرمینیہ فتح کیا،( ابن اثیر ج ۳ : ۸۴) عبداللہ بن ابی سرح نے طرابلس اورقبرس کو زیر نگیں کیا، (ایضاً ،فتوح البلدان : ۲۳۵)کیا ان کی یہ فتوحات ان کی ناتجربہ کاری کا ثبوت ہیں۔
عبداللہ بن عامر والی بصرہ البتہ ایک کمسن نوجوان تھے ؛لیکن فطری لیاقت کوعمر کی کمی زیادتی سے کوئی تعلق نہیں،فتوحات کے سلسلہ میں اوپر گزرچکا ہے کہ اسی نوجوان نے کابل،ہرات،سبحستان اورنیشاپور کو اسلام کے زیرنگیں کیا تھا،غرض نااہل اورناتجربہ کار عمال کے تقرر کا الزام سراسرخلاف واقعہ ہے۔
البتہ امر سوم یعنی اپنے خاندان کے لوگوں کو ذمہ داری کے عہدوں پر مامور کرنے کا الزام ایک حد تک قابل غورہے، اس میں شک نہیں کہ شیخین ؓ اس بارے میں نہایت محتاط تھے اورہر ایک شک وشبہ کے موقع سے بچتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ وہ خلافت کے معاملات میں اپنے اعزہ واقارب کے لئے ہمیشہ کوتاہ دست رہے؛لیکن حضرت عثمان ؓ ایک سادہ طبع اورنیک نفس بزرگ تھے،مزاج میں اتنی پیش بینی نہ تھی،نیز اپنے اختیارات سے اپنے قرابت مندوں کو فائدہ پہنچانا صلۂ رحم جانتے تھے، ایک دفعہ جب لوگوں نے اس طرزِ عمل کی اعلانیہ شکایتیں کیں تو حضرت عثمان ؓ نے صحابہ ؓ کو جمع کیا اورخدا کا واسطہ دے کرپوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تمام عرب پر ترجیح نہیں دیتے تھے اور کیا قریش میں بنو ہاشم کا سب سے زیادہ خیال نہیں رکھتے تھے؟ لوگ خاموش رہے تو ارشاد فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی کنجی ہوتی تو تمام بنی امیہ کو اس میں بھردیتا،(ابن سعد ج ۳ قسم اول تذکرۃ عثمان بن عفان ج اول : ۶۲)بہر کیف یہ امام وقت کی ایک اجتہادی رائے تھی،ممکن ہے کہ عام لوگ اس سے متفق نہ ہوں ؛لیکن اس سے حضرت عثمان ؓ کے فضل وکمال کا دامن داغدار نہیں ہوسکتا۔
دوسرا الزام بیت المال میں مسرفانہ تصرف کا ہے ؛لیکن ثبوت میں جن واقعات کو پیش کیا گیا ہے وہ یا تو سرتا پا غلط ہیں یا رنگ آمیزی کرکے ان کی صورت بدل دی گئی ہے، ہم تفصیل کے ساتھ ہر ایک واقعہ کو اس کی اصلی صورت میں دکھاتے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ مفسدین نے کس طرح واقعات کی صورت کو مسخ کرکے حضرت عثمان ؓ کو بدنام کرنےکی کوشش کی تھی، اس سلسلہ میں سب سے اول ہم کو یہ دیکھنا چاہئے کہ ذاتی طورپر حضرت عثمان ؓ کی مالی حالت کیسی تھی؟ تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ وہ اپنی ذاتی دولت سے اس قسم کی فیاضی اورجودوکرم پر قادر تھے یا نہیں؟
یہ مسلمہ تاریخی واقعہ ہے جس سےکسی کو انکار نہیں کہ حضرت عثمان صحابہ کرام میں سب سے زیادہ دولت مند اور متمول تھے، ان کی دولت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ہزارہا روپے بیررومہ کی خریداری پر صرف کئے،ایک بیش قراررقم سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی توسیع کی اورلاکھوں روپے سے ‘‘جیش عسرت’’ کو آراستہ کیا،اب سوال یہ ہے کہ راہ خدا میں جس کے جو دوسخا کا یہ حال ہو وہ اپنی دولت سے ذوالقربی کے ساتھ کچھ صلہ رحم نہیں کرسکتا تھا؟
اس کے متعلق ایک موقع پر خودحضرت عثمان ؓ نے یہ تقریر فرمائی تھی جس سے اس الزام کی حقیقت پورے طور پر واضح ہوجاتی ہے:
قالو انی احب اھل بیتی واعطیھم فاما جی فانہ لم یمل معھم علی جوربل احمل الحقوق علیھم واھااعطاؤ ھم فانی مااعطیھم من مالی ولا استحل اھوال المسلمین لنفسی ولالاحدمن الناس ولاکنت اعطی العطیۃ الکبیرۃ الرغیبۃ من صلب مالی فی ازمان رسول اللہ وابی بکر وعمرؓ وانا یومشذ شحیح حریض افحین اتیت علی اسنان اھل بیتی وفنی عمری و ودعت الذی لی فی اھلی قال الملحدون ماقالواوانی واللہ ماحملت علی مصرمن الامصار فضلا فیجوز ذالک لمن قالہ ولقد رددتہ علیھم وماقدم علی الاالاخماس ولا یحل لی منھا شئی فولی المسلمون وصنعھا فی اھلھا دونی ولایتلفت من مال اللہ بقلس مما فوقہ وما ابتلغ منہ مااکل الامن مالی۔
(طبری ص ۱۹۵۳)

‘‘لوگ کہتے ہیں کہ مدینہ میں اپنے خاندان والوں سے محبت رکھتا ہوں اور ان کے ساتھ فیاضی کرتا ہوں ؛لیکن میری محبت نے مجھے ظلم کی طرف مائل نہیں کیا ہے؛ بلکہ میں صرف ان کے واجبی حقوق اداکرتا ہوں اسی طرح فیاضی بھی اپنے ہی مال تک محدود ہے،مسلمانوں کا مال نہ میں اپنے لئے حلال سمجھتا ہوں اورنہ کسی دوسرے کے لئے ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکر وعمر ؓ کے عہد میں بھی اپنے مال سے گراں قدر عطیے دیا کرتا تھا، حالانکہ میں اس زمانہ میں بخیل وحریص تھا اور اب جبکہ میں اپنی خاندانی عمر کو پہنچ چکا ہوں،زندگی ختم ہوچکی ہے اور اپنا تمام سرمایہ اپنے اہل وعیال کے سپرد کردیا ہے تو ملحد ین ایسی باتیں مشہور کرتے ہیں،خدا کی قسم ! میں نے کسی شہر پرخراج کا کوئی بار ایسا نہیں ڈالا ہے کہ اس قسم کا الزام دینا جائز ہو اور جو کچھ وصول ہوا،میرے پاس صرف خمس آتا ہے اور اس میں سے بھی میرے لئے کچھ لینا جائز نہیں ،مسلمانوں نے اس کو میرے مشورہ کے بغیر مستحقین میں صرف کیا، خدا کے مال میں ایک پیسہ کا تصرف نہیں کیا جاتا میں اس سے کچھ نہیں لیتا ہوں،یہاں تک کہ کھاتا بھی ہوں تو اپنے ہی مال سے۔’’
مذکورہ بالاتصریحات کے بعد اب ہم کو ان واقعات کی طرف رجوع کرنا چاہئے جن کی بنا پر ذوالنورین ؓ کی تابش ضیا کو غبار آلودکہاجاتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ حکم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کو جلاوطن کردیا تھا ؛لیکن اخیر عہدمیں حضرت عثمان ؓ کی سفارش سے مدینہ آنے کی اجازت دیدی تھی چونکہ شیخین کو ذاتی طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظوری کا علم نہیں تھا اس لئے انہوں نے مدینہ آنے کی اجازت نہیں دی، جب حضرت عثمان ؓ نے عنان خلافت ہاتھ میں لی تو اپنے ذاتی علم کی بنا پرا ن کو مدینہ بلالیا(صاحب اصابہ اور اسد الغابہ دونوں نے حکم کے حالات میں اس کا تذکرہ کیا ہے)اوران کے لڑکے مروان سے اپنی ایک صاحبزادی کا نکاح کردیا، اورصلہ رحم کے طورپر جیب خاص سے حکم کو ایک لاکھ درہم عطا فرمائے، نیز مروان کو جہیز میں ایک لاکھ درہم کا عطیہ مرحمت کیا،یہ ہے اصل واقعہ جس کو مفسدین نے رنگ آمیزی کرکے کچھ سے کچھ کردیا،طرابلس کے مال غنیمت سے مروان کو خمس دلانے کا واقعہ سراسر بہتان ہے،اس کی صحیح کیفیت یہ ہے کہ مروان نے اس کو خرید لیا تھا۔
چنانچہ مورخ ابن خلدون لکھتا ہے:
وارسل ابن زبیر بالفتح والخمس فاشتراہ مروان بن حکم مخمس مائۃ الف دینار وبعض الناس یقول اعطاہ ایاہ ولایصح وانما اعطیٰ ابن ابی سرح خمس الخمس من الغزوۃ الاولیٰ( ابن خلدون ج ۲ : ۱۲۹)

"ابن زبیر نے فتح کا مژدہ اورپانچواں حصہ دارالخلافہ روانہ کیا جس کو پانچ لاکھ دینار پر مروان نے خرید لیا اوربعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مروان کودے دیا گیا صحیح نہیں ہے ؛بلکہ پہلے معرکہ کے مال غنیمت کے خمس کا خمس ابن ابی سرح کو دیدیا تھا۔"
اب یہ اعتراض رہ جاتا ہے کہ کسی غزوہ کے مال غنیمت کا کوئی حصہ ابن ابی سرح کو دینے کا کیا واقعہ تھا ؛لیکن واقعہ یہ ہے کہ طرابلس کی جنگ کے قبل حضرت عثمان ؓ نے ابن ابی سرح سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم اس معرکہ میں کامیاب ہوئے تو مال غنیمت کے پانچویں حصہ کا پانچواں حصہ تم کو دیا جائے گا؛چنانچہ فتح کے بعد حسب وعدہ ان کو دیدیا،اس سے عام مسلمانوں کوشکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے حضرت عثمان ؓ سے اس کا اظہار کیا تو انہوں نے اس کو واپس لے لیا،طبری کے یہ الفاظ ہیں:
فان رضیتم فقد جازوان سخطتم فھوروقالوا انانسخطہ قال فھورد وکتب الی عبداللہ برذالک
(طبری : ۲۸۱۵)

"حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ اگر تم لوگ اس پرراضی ہو تو ان کا ہوچکا اورتمہاری مرضی کے خلاف ہے تو واپس ہے،لوگوں نے کہا ہم راضی نہیں ہیں،فرمایا واپس ہے اورعبداللہ کو واپس کرنے کاحکم نامہ لکھ دیا۔"
عبداللہ بن خالد کو تین لاکھ کا عطیہ مرحمت فرمایا گیا؛لیکن اس کی نسبت خود حضرت عثمان ؓنے مصری معترضین سے فرمایا تھا کہ میں نے بیت المال سے یہ رقم بطور قرض لی ہے،حارث بن حکم کو مدینہ کے بازار سے عشر وصول کرنے کا اخیتار دینا بالکل بے بنیاد ہے،اسی طرح اپنی صاحبزادیوں کو ہیرے جواہرات دینے کا جو قصہ صرف ابن اسحاق نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے اور چونکہ درمیانی راوی مجہول ہے، اس لئے قابل استناد نہیں۔
بیت المال کے صرف سے اپنے لئے محل تعمیر کرنے کا قصہ محض کذاب صریح ہے جو فیاض طبع اپنے ابر کرم سے دوسروں کو سیراب کرتا ہو اورجو اپنا مقررہ وظیفہ بیت المال سے لینا پسند نہ کرتا ہو وہ اپنے لئے عام مسلمانوں کا شرمندہ احسان ہونا کسی طرح گوارہ کرتا ۔
زید بن ثابت ؓ مہتمم بیت المال کو ایک لاکھ درہم دینے کی روایت بالکل بے بنیاد ہے اصل واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ بیت المال میں اخراجات کے بعد ایک معقول رقم پس انداز ہوئی،حضرت عثمان ؓ نے زید بن ثابت ؓ کو حکم دیا کہ اس کو کسی رفاہ عام کے کام پر صرف کردیں؛چنانچہ انہوں نے اس کو مسجد کی توسیع اورتعمیر میں صرف کردیا،انشاء اللہ اس کا تفصیلی بیان تعمیرات کے سلسلہ میں آئے گا۔
(۳)حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اورحضرت ابی ؓ کے وظائف کا بند کرنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں،امام وقت کو سیاسی وجوہ کی بنا پر اس قسم کے اختیارات حاصل ہیں،حضرت عثمان ؓ کو ان دونوں بزرگوں کی طرف سے کچھ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی، اس لئے انہوں نے کچھ دنوں کے لئے وظیفہ روک دیا تھا؛چنانچہ جب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے وفات پائی تو غایت انصاف سے کام لے کر جس قدر وظیفہ بیت المال کے ذمہ باقی تھا جس کی مقدار تخمینا ًبیس پچیس ہزار تھی ان کے ورثاء کے حوالہ کردیا۔
(ابن سعد جزو۳ قسم اول تذکرۂ عبداللہ بن مسعود ؓ)

(۴)چوتھا اعتراض بالکل بے معنی ہے،فوجی گھوڑوں اورزکوٰۃ کے اونٹوں کے لئے چراگاہیں بنوانا خلیفہ وقت کا منصبی فرض ہے،خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام بقیع کو چراگاہ قراردیا تھا،حضرت عمرؓ نے تمام ملک میں وسیع چراگاہیں تیارکرائی تھیں ،عہد عثمانی میں قدرتاً گھوڑوں اوراونٹوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا، یہاں تک کہ صرف ایک چراگاہ میں چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے تھے،(الوفاء باخبار دارالمصطفی ص ۱۵۶) اس لئے سرکاری چراگاہوں کا وسیع پیمانہ پر انتظام کرنا ضروری تھا اورچونکہ یہ تمام چراگاہیں سرکاری خرچ سے تیار ہوئی تھیں، اس لئے عوام کو اس سے مستفید ہونے کا کوئی حق نہ تھا،البتہ اگر الزام کی یہ صورت ہوکہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے ذاتی گھوڑوں اوراونٹوں کے لئے مقام بقیع کی چراگاہ کو مخصوص کرلیا تھا تو اس کے متعلق انہوں نے خود جن الفاظ میں اپنی برأت ظاہر کی ہے وہ اس بحث کے لئے کافی ہے۔
قالوا حمیت حمی وانی واللہ ماحمیت حمی قبلی واللہ ماحمواشیا لاحد الاما غلبہ علیہ اھل المدینۃ ثم لم یمنعوامن رعیۃ احدا وافتروا المصدقات المسلمین یجمعونھا لئلا یکون بین من یلیھا وبین احد الامن ساقہ ھما ومالی من بغیر غیروااحلتین ومالی ثاغیۃ ولا راعیۃ وانی قدولیت وانی اکثرالعرب بعیر اوشاء فمالی الیوم شاۃ ولا بغیر غیر بعیرین الحجی
(طبری : ۲۹۵۲)

‘‘لوگ کہتے ہیں کہ تونے مخصوص چراگاہیں بنائی ہیں حالانکہ خدا کی قسم میں نے اسی کو مخصوص چراگاہ قراردیا ہے جو مجھ سے پہلےمخصوص ہوچکی تھی اورخدا کی قسم ان لوگوں سے وہی مخصوص چراگاہیں تیار کرائیں جن پر تمام اہل مدینہ غالب آئے،اس کے بعد چرانے سے کسی کو نہیں روکا اوراس کو مسلمانوں کے صدقہ پر محدودو کردیا،اس لئے ان کو چراگاہ بنایا تاکہ والی صدقہ اورکسی کے درمیان نزاع نہ واقع ہو، پھر کسی کو نہ منع کیا نہ اس کو ہٹایا، بجز اس کے جس نے بطور ثبوت کے کوئی درہم دیا میرے پاس اس وقت دو اونٹوں کے سوا اورکوئی مویشی نہیں ہے حالانکہ جس وقت میں نے خلافت کا بارگراں اپنے سرلیا ہے تو میں عرب میں سب سے زیادہ اونٹوں اوربکریوں کا مالک تھا اورآج ایک اونٹ اورایک بکری تک نہیں ہے صرف حج کے لئے دو اونٹ رہ گئے ہیں۔’’
(۵)بازار میں بعض اشیاء کی خریدوفروخت کو اپنے لئے مخصوص کرلینے کا قصہ بالکل غلط ہے،اگر اس کو صحیح تسلیم کرلیا جائے تو نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک جفاکار بادشاہ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ،البتہ کھجور کی گھٹلیوں کو زکوٰۃ کے اونٹوں کی خوراک کے لئے خرید نے کا انتظام کیا گیا ہوگا؛لیکن اس سے کوئی الزام عائد نہیں ہوسکتا۔
(۶)اپنے حاشیہ نشینوں اوراہل قرابت کو اطراف ملک میں وسیع قطعات زمین مرحمت فرمانے کا جو الزام عائد کیا گیا ہے اس کی صحیح کیفیت یہ ہے:
عہد عثمانی میں بہت سے اہل یمن گھر اورجائداد چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تھے، حضرت عثمان ؓ نے ان لوگوں کی راحت اورسہولت کےخیال سے نزول کی اراضی کا ان کی یمن کی جائدادسے تبادلہ کرلیاتھا، مثلاً حضرت طلحہ ؓ کو ایک قطعہ زمین دیا تو اس کے معاوضہ میں کندہ میں ان کی مملوکہ جائداد پر قبضہ کرلیا، انتظامی حیثیت سے اس قسم کا رد وبدل ناگزیر تھا۔
عراق میں بہت سی زمین غیر آباد پڑی ہوئی تھی جن لوگوں نے اس کو قابل زراعت بنایاحضرت عثمان ؓنے من احبی ارضا میتۃ فھی لہ پر عمل کرکے ان کو اس کا مالک قراردیا اورملک کو آباد اورقوم کو مرفہ الحال کرنے کے لئے اس قسم کی ترغیب وتحریص نہ صرف جائز ؛بلکہ ضروری ہے۔
(۷)اگرحضرت عثمان ؓ نے اخلاقی یا سیاسی مصالح کی بناپر کسی صحابی کی تادیب کی تو اس سے اس کی تذلیل نہیں ہوئی، حضرت عمرؓ نے ابی بن کعب ؓ پر کوڑا اٹھایا،عیاض بن غنم کا کرتہ اترواکر بکریاں چرانے کودیں اور سعدوقاص ؓ کو درے مارے تو کسی نے اس کو تذلیل پر محمول نہیں کیا۔
حضرت ابوذر ؓ کو حضرت عثمان ؓ نے جلاوطن نہیں کیا تھا ؛بلکہ وہ خود تارک دنیا ہو گئے تھے؛چنانچہ جب حضرت عثمان ؓ نے تحقیقات کے لئے ان کو طلب کیا اور وہ دربار خلافت میں حاضر ہوئے تو حضرت عثمان ؓ نے پہلے فرمایا کہ آُ پ میرے پاس رہئے، آپ کے اخراجات کا میں کفیل ہوں ؛لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ تمہاری دنیا کی مجھ کو ضرورت نہیں۔
(ابن سعد تذکرہ ابوذر ؓ)

اسی طرح عبادہ بن صامت ؓ کے ساتھ بھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا ؛بلکہ ان کی جلاوطنی کی روایت کے برخلاف ایک مستند روایت موجود ہے کہ وہ حضرت عثمان ؓ کے آخری عہد تک شام میں تقسیم غنیمت کےعہد ہ پر مامور تھے،البتہ عمار بن یاسر ؓ،جندب بن جنادہ ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کےساتھ کچھ سختیاں ہوئیں ؛لیکن اس کی ان سے تذلیل نہیں ہوئی۔
ایک مصحف کے سوا تمام مصاحف کے جلادینے کا الزام صرف ان لوگوں کے نزدیک قابل وقعت قرارپاسکتا ہے، جن کے دل بصیرت سے اورآنکھیں بصارت سے محروم ہیں، حضرت عثمان ؓ نے خود کوئی صحیفہ ترتیب دے کر پیش نہیں کیا ؛بلکہ فتنہ کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی حضرت ابوبکر ؓ نے جو مصحف تیار کرایا تھا اسی کی نقلیں حضرت عثمان ؓ نے مختلف امصارودیارمیں بھجوادیں اوراسی کی تسلیم پر تمام امت کو متفق کر دیا ،یہ آپ کا وہ کارنامہ ہے جس کے باراحسان سے امت محمدیہ کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتی۔
(۹)اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت عثمان ؓ نہایت رحم دل اوررقیق القلب تھے ؛لیکن شرعی حدود کے اجراء میں انہوں نے کبھی تساہل سے کام نہیں لیا،جن واقعات کی بنا پر ان کو اجرائے حدود میں تغافل شعار بتایا جاتا ہے،ان کی تفصیل یہ ہے:
(۱)عبیداللہ بن عمر ؓ سے ہر مزان کا قصاص نہیں لیا گیا۔
(۲)ولید بن عقبہ پر شراب خوری کی حد جاری کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔
ہرمزان کا واقعہ یہ ہے کہ جب فاروق اعظم ؓ کو ابولولو مجوسی نے شہید کیا توعبید اللہ بن عمر ؓ غضب ناک ہوکر قاتل کی لڑکی اورہرمزان کو جو ایک نومسلم ایرانی تھا قتل کردیا ؛کیونکہ ان کے خیال میں یہ سب سازش میں شریک تھے؛چنانچہ حضرت عثمان ؓ نے جب عنان خلافت ہاتھ میں لی تو سب سے پہلے یہی مقدمہ پیش ہوا،آپ ؓنے صحابہ ؓ سے اس کے متعلق رائے طلب کی ،حضرت علی ؓ نے عبید اللہ بن عمر کو ہرمزان کے قصاص میں قتل کردینے کا مشورہ دیا،بعض مہاجرین نے کہا عمر ؓ کل قتل ہوئے اوران کا لڑکا آج ماراجائےگا؟عمروبن العاص نے کہا، امیر المومنین اگر آپ عبیداللہ کو معاف کردیں گے تو امید ہے کہ خدا ٓپ سے باز پرس نہ کرے گا ،غرض اکثر صحابہ ؓ عبید اللہ کے قتل کردینے کے خلاف تھے ،حضرت عثمان ؓ نے فرمایا چونکہ ہرمزان کا کوئی وارث نہیں ہے ،اس لئے بحیثیت امیر المومنین میں اس کا والی ہوں اور قتل کے بجائے دیت پر راضی ہوں، اس کے بعد خود اپنے ذاتی مال سے دیت کی رقم دے دی،( ابن اثیر ج ۳ : ۸۷،۸۹) حضرت عثمان ؓ نے جس عمدگی کے ساتھ اس مقدمہ کا فیصلہ کیا ہے اس سے بہتر نہیں ہوسکتا تھا؛ کیونکہ قبیلہ عدی کبھی ہرمزان کے قصاص میں عبید اللہ بن عمر ؓ کے قتل کو پسندید گی کی نگاہ سے نہیں دیکھتا اوردرحقیقت اسی وقت فتنہ وفساد کی آگ مشتعل ہوجاتی۔
ولید بن عقبہ والی کوفہ نے بادہ نوشی کی توحضرت عثمان ؓ نے فوراً معزول کردیا ؛لیکن حد کے اجراء میں اس وجہ سے تاخیر ہوئی کہ گواہوں پر کامل اطمینان نہیں تھا،جب کافی ثبوت بہم پہنچ گیا تو پھر حد کے اجراء میں پس وپیش نہیں کیا گیا۔
(فتح الباری ج ۷ : ۴۵ وطبری ص ۲۸۴۹)

(۱۰)یہ خیال کہ حضرت عثمان ؓ نے موثق روایات کو چھوڑ کر روایات شاذہ پر عمل کیا قطعی غلط ہے البتہ اجتہادی مسائل میں اختلاف آراء ہوااوریہ حضرت عثمان ؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ؛بلکہ تمام صحابہ ؓ میں اس قسم کا اختلاف پایا جاتا ہے۔
(۱۱)مذہب میں اختراع بدعات کا الزام نہایت لغو اورسراسر کذب ہے،اتباع سنت حضرت عثمان ؓ کا مقصد حیات تھا،منی میں دو کے بجائے چار رکعت نماز اداکرنا بھی دراصل ایک نص شرعی پر مبنی تھا؛چنانچہ جب صحابہ نے اس کو بدعت پر محمول کرکے اس پر ناپسندید گی کا اظہار کیا توخود حضرت عثمان ؓ نے ایک مجمع میں چار رکعت نماز پڑھنے کی حسب ذیل وجہ بیان کی:
یایھا الناس انی تاھلت بمکۃ منذ قدمت وانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من تاھل فی بلد فلیصل صلوٰۃ المقیر
(مسند ابن حنبل ج۱ : ۶۲)

‘‘صاحبو!جب میں مکہ پہنچا تویہاں اقامت کی نیت کرلی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو کسی شہر میں اقامت کی نیت کرے اس کو مقیم کی طرح نماز پڑھنی چاہئے۔
(۱۲)بارہواں الزام ‘‘مصر ی وفد’’کے ساتھ بدعہدی کا ہے ،اس پر تفصیلی بحث حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے موقع پر آئے گی۔
شورش کے انسداد اوراصلاح کی آخری کوشش
غرض یہ حقیقت ہے ان تمام الزامات کی جن کی بنیاد پر سازش ،فتنہ پردازی اورانقلاب کی عمارت قائم کی گئی تھی اور اس حد تک مکمل ہوچکی تھی کہ اس کا انہدام تقریباً ناممکن ہوگیا تھا،تاہم حضرت عثمان ؓ نے شورش رفع کرنے کے لئے اصلاح اورشکایتوں کے ازالہ کی ایک آخری کوشش کی اورتمام عمال کو دارالخلافہ میں طلب کرکے اس کے متعلق ایک مجلس شوریٰ منعقد کی جس میں امیر معاویہ ؓ، عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ،سعید بن العاص ؓ اورعمروبن العاص ؓ خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔
حضرت عثمان ؓ نے ایک مختصر تقریر کے بعد موجودہ شورش کو رفع کرنے کے متعلق ہر ایک سے رائے طلب کی،عبداللہ بن عامرؓ نے کہا امیرالمومنین! میراخیال ہے کہ اس وقت کسی ملک پر فوج کشی کردی جائے،لوگ جہاد میں مشغول ہوجائیں گے تو فتنہ وفساد کی آگ خود بخود سرد ہوجائے گی۔
سعید بن العاص ؓ نے کہا، موجودہ شورش صرف ایک جماعت کی وجہ سے ہے، اس کے سرگروہ اگر قتل کردیئے جائیں تو مفسدین کا شیرازہ بکھرجائے گا اورملک میں کامل امن وامان پیدا ہوجائے گا۔
امیر معاویہ ؓ نے کہا،ہر ایک عامل اپنے صوبہ میں امن وامان قائم رکھنے کا ذمہ لے میں ملک شام کا ضامن ہوں۔
عبداللہ بن سعد ؓ نے کہا شورش پسند گروہ حریص وطمع ہے اس لئے مال وزر سے اس کا منہ بند کیا جاسکتا ہے۔
عمروبن العاص ؓ نے کہا امیر المومنین! آپ کی بے اعتدالیوں نے لوگوں کو احتجاج حق پر آمادہ کیا ہے،اس کے تدارک کی صرف دوہی صورتیں ہیں،یاعدل وانصاف سے کام لیجئے یا خلافت سے کنارہ کشی اختیار کیجئے، اگر یہ دونوں ناپسند ہوں تو پھر جو چاہے کیجئے، حضرت عثمان ؓ نے تعجب سے عمروبن العاص ؓ کی طرف دیکھا اور فرمایا،افسوس!کیا تم میری نسبت ایسی رائے رکھتے ہو؟ عمروبن العاص ؓ خاموش رہے؛لیکن جب مجمع منتشر ہوگیا اور تنہا حضرت عثمان رہ گئے تو کہا امیر المومنین !آپ مجھے بہت زیادہ محبوب ہیں،مجمع عام میں میں نے جو رائے دی وہ صرف نمائشی تھی تاکہ مفسدین مجھے ہم خیال سمجھ کر اپنا راز دار بنائیں اور اس طرح آپ کو ان کے خیروشر سے مطلع کرتا رہوں،اگرچہ یہ عذر معقول اوردل نشین نہ تھا تاہم حضرت عثمان ؓ خاموش ہوگئے۔
( ابن اثیر ج۳ : ۱۱۷،۱۱۸)

مجلس شوریٰ کے ارکان نے اگرچہ اپنے اپنے خیال کے مطابق مفید آرائیں دیں ؛لیکن ان میں سے کسی رائے سے بھی اصل مرض کا ازالہ نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے اصلاح ملک کا کوئی مکمل دستور العمل تیار نہ ہوسکا اورحضرت عثمان ؓ نے تمام عمال کو واپس کردیا(ایضاً) اورخود ایک مکمل اسکیم سوچنے میں مصروف ہوگئے۔
مفسدین کوفہ کی رضا جوئی
پہلے گزرچکا ہے کہ مفسدین کوفہ سعید بن العاص ؓ سے خاص بغض وعناد رکھتے تھے؛چنانچہ جب وہ مجلس شوریٰ میں شریک ہوگئے تو انہوں نے باہم عہد کیا کہ اب وہ ان کے کوفہ آنے میں بزورمزاحم ہوں گے؛چنانچہ جب سعید بن العاص مدینہ سے کوفہ گئے تو مفسدین نے شہر سے باہر نکل کر مقام جرعہ میں مزاحمت کی اورسعید ؓ کو مدینہ جانے پر مجبور کردیا۔
حضرت عثمان ؓ نے ان لوگوں کی خواہش کے مطابق سعید ؓ کو معزول کرکے ابو موسیٰ اشعری ؓ کا تقرر کیا اور باغیوں کے پاس لکھ بھیجا کہ میں نے تمہاری خواہش کے مطابق تقرر کردیا اورآخر وقت تک تمہاری اصلاح میں جدوجہد کروں گا اورکسی وقت صبر کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑوں گا۔
(طبری ص ۲۹۳۶)

تحقیقات وفود
حضرت عثمان ؓ برابر اصلاح ملک کی فکر میں تھے کہ کوئی مناسب تدبیر سمجھ میں نہیں آتی تھی،حضرت طلحہ ؓ نے مشورہ دیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں حالات کی تحقیق کے لئے وفود روانہ کئے جائیں، حضرت عثمان ؓ کو یہ رائے پسند آئی ؛چنانچہ ؁ ۳۵ھ میں حضرت محمد بن مسلمہؓ کوفہ،اسامہ بن زیدؓ بصرہ،عمار بن یاسر ؓصر ،عبداللہ بن عمر ؓ شام اوربعض دوسرے صحابہ ؓ دیگر صوبہ جات کی طرف تفتیش حال کےلئے روانہ کئے(ایضاً : ۲۹۴۳)نیز تمام ملک میں گشتی اعلان جاری کردیا کہ میں عموما ًحج کے موقع پرتمام عمال کو جمع کرتا ہوں اور جس عامل کے خلاف کوئی شکایت پیش کی جاتی ہے،فوراً تحقیقات کرکے تدارک کرتا ہوں ؛لیکن باوجود اس کے معلوم ہوا ہے کہ بعض عمال بے وجہ لوگوں کو مارتے ہیں،گالی دیتے ہیں اور دوسرے طریقہ سے ظلم وتعدی کرتے ہیں، اس لئے یہ اعلان عام ہے کہ جس کو مجھ سے یا میرے کسی عامل سے کوئی شکایت ہو وہ حج کے موقع پر بیان کرے میں کامل تدارک کرکے ظالم سے مظلوم کا حق دلاؤں گا۔
(ابن اثیر ج ۳ : ۱۲۲)

انقلاب کی کوشش
ادھر دربارخلافت میں یہ اصلاحات کی تجویزیں پیش ہورہی تھیں،دوسری طرف ملک میں ایک عظیم الشان انقلاب کی سازش مکمل ہوچکی تھی،چنانہ بصرہ ،کوفہ اورمصر کے فتنہ پردازوں نے آپس میں طے کرکے اپنے اپنے شہر سے حاجیوں کی وضع میں مدینہ کا رخ کیا(ایضاً : ۱۲۵) تاکہ حضرت عثمان ؓ سے بزوراپنے مطالبات تسلیم کرائیں۔
مدینہ کے قریب پہنچ کر شہر سے دو تین میل کے فاصلہ پر قیام کیا اورچند آدمی جو اس جماعت کے سرگروہ تھے باری باری حضرت طلحہ ؓ، حضرت زبیر ؓ ،حضرت سعدوقاص ؓ اورحضرت علی ؓ کے پاس گئے کہ وہ اپنی وساطت سے معاملہ کا تصفیہ کرادیں؛لیکن سب نے اس جھگڑے میں پڑنے سے انکار کردیا۔
حضرت عثمان ؓ کو فتنہ وفساد کا دبانا اورلوگوں کی صحیح شکایات کا رفع کرنا،بہرحال منظورتھا اس لئے انہوں نے مفسدین کے اجتماع کی خبر سنی توحضرت علی ؓ کو بلاکر کہا کہ آپ اس جماعت کو راضی کرکے واپس کردیجئے،میں جائز مطالبات کے تسلیم کرنے کے لئے تیار ہوں؛چنانچہ حضرت علی ؓ کی وساطت سے مفسدین واپس گئے،( ایضاً : ۱۲۹ طبع یورپ) اس کے بعد حضرت عثمان ؓ نے جمعہ کے روز مسجد میں خطبہ دیااورتفصیل کے ساتھ اصلاحی اسکیم اوراپنے آئندہ طرز عمل کی توضیح کی،لوگ خوش ہوئے کہ اب منازعات کا خاتمہ ہوگیا اور جدید اصلاحات کے اجراء سے ایک طرف تو بنو امیہ کا زور ٹوٹ جائے گا،دوسری طرف باغِ اسلام میں جس کو مسلسل پانچ سال کے فتنہ وفساد اورسازش فتنہ پردازی کی بادخزاں نے بے رونق کردیا ہے پھر تازہ بہار آجائے گی؛لیکن یہ غنچہ سرورا بھی اچھی طرح کھلا بھی نہ تھاکہ مرجھا گیا اورایک دن دفعۃً مدینہ کی گلیوں میں تکبیر کے نعروں اورگھوڑوں کی ٹاپوں سے شور قیامت برپا ہوگیا،کبارصحابہ گھبراکر گھروں سے نکل آئے، دیکھا کہ مفسدین کی جماعت پھر واپس آگئی ہے اور ‘‘انتقام !انتقام’’ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔
حضرت علی ؓ نے بڑھ کر واپس آنے کا سبب دریافت کیا،مصریوں نے کہا کہ راہ میں دربارخلاف کا ایک قاصد ملاکہ جو نہایت تیزی وعجلت کے ساتھ مصر جارہا تھا،اس کی مشتبہ حالت سے بدگمانی ہوئی اورخیال ہوا کہ ضرور ہم لوگوں کے متعلق والی مصر کے پاس احکام جارہے ہیں،تلاشی لی گئی تو درحقیقت ایک ایسا فرمان برآمد ہوا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ ہم لوگوں کی گردن ماردی جائے،اس لئے اب ہم اس بدعہدی اورفریب کاری کا انتقام لینے آئے ہیں۔
خلافت سے کنارہ کشی کا مطالبہ
حضرت عثمان ؓ کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تو آپ نے حیرت کے ساتھ اپنی لاعلمی ظاہر کی،اورقسم کھا کر کہا کہ مجھے مطلقاً اس خط کی اطلاع نہیں ہے،حضرت عثمان ؓ کے حلفیہ انکار پر لوگوں نے قیاس کیا کہ یہ یقیناً مروان کی شرارت ہے،مصریوں نے کہا بہرحال کچھ بھی ہو جو خلیفہ اس قدر غافل ہوکہ اس کی لا علمی میں ایسے اہم امور پیش آجائیں اوراسے خبر نہ ہو وہ کسی طرح خلافت کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا اورحضرت عثمان ؓ سے مسند خلافت سے کنارہ کش ہوجانے کا مطالبہ کیا،آپ نےفرمایا جب تک مجھ میں رمق جان باقی ہے میں اس خلافت کو جو خدانے مجھے پہنایا ہے خود اپنے ہاتھوں سے نہیں اتاروں گا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق میں اپنی زندگی کے آخر لمحہ تک صبر کروں گا۔
(ابن سعد تذکرہ عثمان ؓ)

محاصرہ
حضرت عثمان ؓ کے انکار پر مفسدین نے کاشانۂ خلافت کا نہایت سخت محاصرہ کرلیا جو چالیس دن تک مسلسل قائم رہا،اس عرصہ میں اندر پانی تک پہنچانا جرم تھا، ایک دفعہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ ؓ نے اپنے ساتھ کھانے پینے کی کچھ چیزیں لے کر حضرت عثمان ؓ تک پہنچنے کی کوشش کی مگر مفسدین کے قلوب نورایمان سے خالی ہوچکے تھے،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم محترم کا بھی پاس ولحاظ نہ کیا اور بے ادبی کے ساتھ مزاحمت کرکے ان کواپس کردیا،ہمسایہ گھروں سے کبھی کبھی رسد اورپانی کی امداد پہنچ جاتی تھی،مفسدین کی خیرہ سری سے صحابہ کرام ؓ کی بے احترامی اتنی بڑھ گئی تھی کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ،ابوہریرہ ؓ، سعد وقاص ؓ،اورزید بن ثابت ؓ جیسے اکابر صحابہ تک کی کسی نے نہ سنی اوران کی توہین کی،حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کے بلانے پر ان کے گھر کے اندر جانا چاہا تو لوگوں نے ان کو روک دیا،آپ نے مجبور ہوکر اپنا سیاہ عمامہ اتار کر قاصد کو دے دیا اورکہا جو حالت ہے اس کو دیکھ لو اورجاکر کہہ دو(ابن سعد ج ۳ قسم اول) بہت سے صحابہ مدینہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، حضرت عائشہؓ نے سفر حج کا ارادہ کرلیا، اکابر صحابہ نے ان پر آشوب حالات میں گوشہ نشینی مناسب سمجھی، ذمہ دار صحابہ میں اس وقت تین بزرگ حضرت علی ؓ، حضرت طلحہ ؓ، حضرت زبیر ؓ موجود تھے جو نہ تو بے تعلق رہ سکتے تھے اور نہ ان حالات پر ان کو قابو تھا،تینوں صاحبوں نے کچھ کوششیں بھی کیں مگر اس ہنگامہ میں کوئی کسی کی نہیں سنتا تھا اس لئے یہ تینوں اصحاب بھی عملاً علیحدہ رہے،مگر اپنے اپنے جگر گوشوں کو خلیفہ وقت کی حفاظت کے لئے بھیج دیا،حضرت امام حسن ؓ دروازہ پر پہرہ دے رہے تھے،حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو حضرت عثمان ؓ کے گھر میں جو جان نثار موجود تھے ان کی افسری پر متعین کیا۔

باغیوں کو حضرت عثمان ؓ کی فہمائش
کاشانۂ خلافت کا محاصرہ کرنے والے باغیوں کو متعدد دفعہ حضرت عثمان ؓ نے سمجھانے کی کوشش کی،ان کے سامنے مؤثر تقریریں کیں،حضرت ابی بن کعب ؓ نے تقریر کی،مگر ان لوگوں پر کسی چیز کا اثر نہ ہوا، حضرت عثمان ؓ نے چھت کے اوپر سے مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ آئے تو یہ مسجد تنگ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون اس زمین کو خریدکر وقف کرےگا؟ اس کے صلہ میں اس کو اس سے بہتر جگہ جنت میں ملے گی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی،توکیا اسی مسجد میں تم مجھے نماز پڑھنے نہیں دیتے،تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں،بتاؤ کیا تم جانتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اس میں رومہ کے سوا میٹھے پانی کا کنواں نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو کون خریدکر عام مسلمانوں پر وقف کرتا ہے؟ اوراس سے بہتر اس کو جنت میں ملے گا تو میں نے ہی اس کی تعمیل کی،تو کیا اسی کے پانی پینے سے مجھے محروم کررہے ہو؟ کیا تم جانتے ہو کہ عسرت کے لشکر کو میں ہی نے سازوسامان سے آراستہ کیاتھا؟ سب نے جواب دیا خداوندا!یہ سب باتیں سچ ہیں(ابن حنبل ج اول : ۷۴،۷۵،۷۰) مگر سنگدلوں پر اس کا اثر بھی نہ ہوا، پھر مجمع کو خطاب کرکے فرمایا، تم کو قسم دیتا ہوں،تم میں کسی کو یاد ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ پر چڑھے تو پہاڑ ہلنے لگا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑ کو پاؤں سے ٹھوکر مارکر فرمایا، اے حرا ٹھہر جا کہ تیری پیٹھ پر اس وقت ایک نبی اورایک صدیق اورایک شہید ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگوں نے کہایاد ہے،پھرفرمایا خدا کا واسطہ دیتا ہوں ،بتاؤ کہ حدیبیہ میں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سفیر بناکر بھیجا تھا تو کیا خود اپنے ایک دست مبارک کو میرا ہاتھ قرار نہیں دیا؟اور میری طرف سے خود ہی بیعت نہیں کی؟ سب نے کہا سچ ہے۔
(ایضاً : ۵۹)

آخر میں باغی یہ دیکھ کر کہ حج کا موسم چند روز میں ختم ہوجاتا ہے اور اس کے ختم ہوتے ہی لوگ مدینہ کا رخ کریں گے اور موقع نکل جائے گا، آپ کے قتل کے مشورے کرنے لگے جس کو خود حضرت عثمان ؓ نے اپنے کانوں سے سنا اور مجمع کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا،لوگو! آخر کس جرم پر تم میرے خون کے پیاسے ہو؟ اسلام کی شریعت میں کسی کے قتل کی صرف تین ہی صورتیں ہیں یا تو اس نے بدکاری کی ہو تو اس کو سنگسار کیا جائے یا اس نے بالارادہ کسی کو قتل کیا ہو تو وہ قصاص میں مارا جائے گا یا وہ مرتد ہوگیا ہو تو وہ قتل کیا جائے گا، میں نے نہ تو جاہلیت میں اور نہ اسلام میں بدکاری کی ،نہ کسی کو قتل کیا اور نہ اسلام کے بعد مرتد ہوا،اب بھی گواہی دیتا ہوں کہ خدا ایک ہے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندہ اور رسول ہیں ،(ایضاً : ۶۲)لیکن باغیوں پر ان میں سے کوئی تقریر کارگرنہ ہوئی۔
جان نثاروں کے مشورے اوراجازت طلبی
بعض جان نثاروں نے مختلف مشورے دیئے مغیرہ بن شعبہ ؓ نے آکر عرض کیا ‘‘امیر المومنین!تین باتیں ہیں،ان میں سے ایک قبول کیجئے،آپ کے طرفداروں اورجان نثاروں کی ایک طاقتور جماعت یہاں موجود ہے اس کو لے کر نکلیے اوران باغیوں کا مقابلہ کرکے ان کو نکال دیجئے آپ حق پر ہیں وہ باطل پر،لوگ حق کا ساتھ دیں گے، اگر یہ منظور نہیں تو پھر صدر دروازہ چھوڑکر دوسری طرف سے دیوار توڑکر اس محاصرہ سے نکلئے اور سواریوں پر بیٹھ کر مکہ معظمہ چلے جائیے وہ حرم ہے وہاں یہ لوگ لڑنہ سکیں گے، یا پھر یہ کہ شام چلے جائیے وہاں کے لوگ وفادار ہیں اور معاویہ ؓ موجود ہیں، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں باہر نکل کر ان سے جنگ کروں تو میں وہ پہلا خلیفہ بننا نہیں چاہتا جوا مت محمدیہ کی خونریزی کرے،اگر مکہ معظمہ چلاجاؤں تو بھی اس کی امیدنہیں کہ یہ لوگ حرم الہی کی توہین نہ کریں گے اورجنگ سے باز آجائیں گے،اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق وہ شخص نہیں بننا چاہتا جو مکہ جاکر اس کی بے حرمتی کا باعث ہوگا اورشام بھی نہیں جاسکتا کہ اپنے ہجرت کے گھر اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار کو نہیں چھوڑ سکتا۔
(ابن حنبل ج۱ : ۲۷)

حضرت عثمان ؓ کا گھر بہت بڑا اور سیع تھا، دروازہ اورگھر میں صحابہ اور عام مسلمانوں کی خاصی جمعیت موجود تھی جس کی تعداد ساتھ سو تھی(ابن سعد ج ۳ ق ۱ : ۴۹)اورجس کے سردار حضرت زبیر ؓ کے بہادر صاحبزادہ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ تھے،(ایضاً)وہ حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ امیر المومنین! اس وقت گھر کے اندر ہماری خاصی تعداد ہے،اجازت ہو تو میں ان باغیوں سے لڑوں،فرمایا اگر ایک شخص کا بھی ارادہ ہو تو میں اس کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ وہ میرے لئے اپنا خون نہ بہائے۔
(ایضاً)

گھر میں اس وقت بیس غلام تھے ان کو بھی بلا کر آزاد کردیا،(اب حنبل ج ۱ : ۷۲) حضرت زید بن ثابت نے آکر عرض کیا کہ امیرالمومنین!انصار دروازہ پر کھڑے اجازت کے منتظر ہیں کہ وہ دوبارہ اپنے کارنامے دکھائیں،فرمایا اگر لڑائی مقصود ہے تو اجازت نہ دوں گا،(ابن سعد ج ۳ : ۴۸) اس وقت میرا سب سے بڑا مددگار وہ ہے جو میری مدافعت میں تلوار نہ اٹھائے،(ایضاً) حضرت ابوہریرہ ؓ نے اجازت مانگی تو فرمایا،اے ابو ہریرہ ؓ ! کیا تمہیں پسند آئے گا کہ تم تمام دنیا کو اورساتھ ہی مجھ کو بھی قتل کردو، عرض کیا نہیں، فرمایا کہ اگر تم نے ایک شخص کو بھی قتل کیا تو گویا سب قتل ہوگئے،(یہ سورۂ مائدہ ع ۵ کی آیت ۶ کی طرف اشارہ ہے) ابوہریرہ ؓ یہ سن کر لوٹ آئے۔
(ایضاً)

شہادت کی تیاری
حضرت عثمان ؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق یہ یقین تھا کہ ان کی شہادت مقدر ہوچکی ہے۔(ابن حنبل ج اول : ۶۶) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مرتبہ ان کو اس سانحہ سے خبردارکیا تھا اور صبر واستقامت کی تاکید فرمائی تھی،حضرت عثمان ؓ اس وصیت پر پوری طرح قائم تھےاورہر لمحہ ہونے والے واقعہ کے منتظر تھے، جس دن شہادت ہونے والی تھی، آپ روزہ سے تھے جمعہ کا دن تھا خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابوبکر ؓ وعمرؓ تشریف فرما ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ عثمان جلدی کرو، تمہارے افطار کے ہم منتظر ہیں،بیدار ہوئے تو حاضرین سے اس خواب کا تذکرہ کیا، اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ میری شہادت کا وقت آگیا،باغی مجھے قتل کرڈالیں گے،انہوں نے کہا امیر المومنین! ایسا نہیں ہوسکتا!فرمایا میں یہ خواب دیکھ چکا ہوں اور ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں کہ‘‘ عثمانؓ آج جمعہ میرے ساتھ پڑھنا،(ابن سعد ج ۳ : ۵۳ اورحاکم ج ۳ : ۹۹ و: ۱۰۳ میں یہ دونوں خواب مذکور ہیں اور ابن حنبل میں صرف پہلے خواب کا ذکر ہے)پھر پائجامہ جس کو کبھی نہیں پہنا تھا،منگا کر پہنا،(ابن حنبل ج اول : ۱۷۱) اپنے بیس غلاموں کو بلاکر آزاد کیا اورقرآن کھول کر تلاوت میں مصروف ہو گئے۔

شہادت
باغیوں نے مکان پر حملہ کردیا،حضرت امام حسن ؓ جو دروازہ پر متعین تھے مدافعت میں زخمی ہوئے،چار باغی دیوارپھاند کر چھت پر چڑھ گئے،آگے آگے حضرت ابوبکر ؓ کے چھوٹے صاحبزادے محمد بن ابی بکر تھے، جو حضرت علی ؓ کی آغوشںِ تربیت میں پلے تھے، یہ کسی بڑے عہدے کے طلب گار تھے جس کے نہ ملنے سے حضرت عثمان ؓ کے دشمن بن گئےتھے، انہوں نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان ؓ کی ریش مبارک پکڑلی اور زور سے کھینچی،حضرت عثمان ؓ نے فرمایا،بھتیجے! اگر تمہارے باپ زندہ ہوتے تو ان کو یہ پسند نہ آتا،یہ سن کر محمد بن ابی بکر شرما کر پیچھے ہٹ گئے اور ایک دوسرے شخص کنانہ بن بشر نے آگے بڑھ کر پیشانی مبارک پر لوہے کی لاٹ اس زور سے ماری کہ پہلو کے بل گرپڑے، اس وقت بھی زبان سے ‘‘بسم اللہ توکلت علی اللہ’’ نکلا سودان ابن حمران مراوی نے دوسری جانب ضرب لگائی جس سے خون کا فوارہ جاری ہوگیا، ایک اورسنگدل عمر وبن الحمق سینہ پر چڑھ بیٹھا اور جسم کے مختلف حصوں پر پے درپے نیزوں کے نوزخم لگائے،کسی شقی نے بڑھ کر تلوار کا وارکیا،وفادار بیوی حضرت نائلہ نے جو پاس ہی بیٹھی تھیں ہاتھ پر روکا،تین انگلیاں کٹ کر الگ ہوگئیں،وارنے ذوالنورین ؓ کی شمع حیات بجھادی،اس بے کسی کی موت پر عالمِ امکان نے ماتم کیا، کائنات ارضی وسماوی نے خون ناحق پر آنسو بہائے ،کارکنانِ قضا وقدرنے کہا جو خون آشام تلوار آج بے نیام ہوئی ہے وہ قیامت تک بے نیام رہے گی اورفتنہ وفساد کا جو درازہ کھلا ہے وہ حشر تک کھلا رہے گا۔
( صحیح بخاری کتاب الفتن میں اس کا اشارہ ہے)

شہادت کے وقت حضرت عثمان ؓ تلاوت فرما رہے تھے،قرآن مجید سامنے کھلا تھا، اس خون ناحق نے جس آیت کو خون ناب کیا وہ یہ ہے:
"فَسَیَکْفِیْکَہُمُ اللہُo وَھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ"
"خدا تم کو کافی ہے اوروہ سننے اورجاننے والا ہے۔"
جمعہ کے دن عصر کے وقت شہادت کا واقعہ پیش آیا، دودن تک لاش بے گوروکفن پڑی رہی،حرم رسول میں قیامت برپا تھی،باغیوں کی حکومت تھی، ان کے خوف سے کسی کو اعلانیہ دفن کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی،سنیچر کا دن گزرکررات کوچند آدمیوں نے ہتھیلی پر جان رکھ کر تجہیز وتکفین کی ہمت کی اورغسل دیئے بغیر اسی طرح خون آلود پیراہن میں شہید مظلوم کا جنازہ اٹھایا اور کل سترہ افراد نے کابل سے مراکش تک کے فرماں روا کے جنازہ کی نماز پڑھی،مسند ابن جنبل میں ہے کہ حضرت زبیرؓ نے اورابن سعد میں ہے کہ حضرت جبیر بن معطم ؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع کے پیچھے حش کو کب میں اس حلیم و برد باری کے مجسمہ اوربیکسی ومظلومی کے پیکر کو سپرد خاک کیا (مسند ابن حنبل ج ۱ : ۷۳) بعد کو یہ دیوار توڑکر جنت البقیع میں داخل کرلیا گیا، آج بھی جنت البقیع کے سب سے آخر میں مزار مبارک موجود ہے۔
حضرت عثمان ؓ کا ماتم
صحابہ کرام اور عام مسلمانوں میں سے کوئی اس سانحہ عظمیٰ کے سننے کے لئے تیار نہ تھا اورکسی کو یہ وہم وگمان بھی نہ تھا کہ باغی اس حد تک جرأت کریں گے کہ امام وقت کے قتل کے مرتکب ہوں گے اورحرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کریں گے، اس لئے جس نے اس کو سنا انگشت بدنداں رہ گیا،جو لوگ حضرت عثمان ؓ کی طرز حکومت کے کسی قدر شاکی تھے انہوں نے بھی اس بیکسی اورمظلومی کی موت پر آنسو بہائے ،تمام لوگوں میں سناٹا چھاگیا، خودباغی بھی جن کی پیاس اس خون سے بجھ چکی تھی،اب مآل کارکو سوچ کر اپنی حرکت پر نادم تھے؛لیکن دشمنوں نے اسلام کے لئے سازش کا جو جال بچھایا تھا اس میں وہ کامیاب ہوچکے تھے، متحد اسلام سنی ،شیعہ ،خارجی اورعثمانی مختلف حصوں میں بٹ گیا اور ایسا تفرقہ پڑا جو قیامت تک کے لئے قائم رہ گیا۔
حضرت علی ؓ مسجد سے نکل کر حضرت عثمان ؓ کے گھر کی طرف آرہے تھے کہ راہ میں شہادت کی اطلاع ملی، یہ خبر سنتے ہی دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا،خداوندا!میں عثمان کے خون سے بری ہوں،حضرت عمر ؓ کے بہنوئی سعید بن زید بن عمروبن نفیل ؓ نے کہا لوگو! اگر کوہ احد تمہاری اس بداعمالی کے سبب پھٹ کر تم پر گرپڑے تو بھی بجا ہے، حضرت حذیفہ ؓ نے جو صحابہ میں فتنہ وفساد کی پیشین گوئی کے سب سے بڑے حافظ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محرم اسرار تھے، فرمایا، آہ! عثمان کے قتل سے اسلام میں وہ رخنہ پڑگیا جواب قیامت تک بند نہ ہوگا، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اگر تمام خلقت عثمان کے قتل میں شریک ہوتی تو قوم لوط کی طرح آسمان سے اس پر پتھر برستے ،ثمامہ بن عدی ؓ صحابی کو جو صنعائے یمن کے والی تھے،اس کی خبر پہنچی تووہ روپڑے اورفرمایا کہ افسو س !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی جاتی رہی،ابوحمید ساعدہ ؓ نے قسم کھائی کہ جب تک جیوں گا،ہنسی کا منہ نہ دیکھوں گا،عبداللہ بن سلام ؓ صحابی نے کہا، آہ!آج عرب کی قوت کا خاتمہ ہوگیا،حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا،عثمان ؓ مظلوم مارے گئے،خدا کی قسم !ان کانامۂ اعمال دھلے کپڑے کی طرح پاک ہوگیا، حضرت زید بن ثابت ؓ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا تارجاری تھا،حضرت ابوہریرہ ؓ کا یہ حال تھا کہ جب اس سانحہ کا ذکر آجاتا تو دھاڑیں مارمار کر روتے۔

(یہ تمام الفاظ ابن سعد ج ۳ قسم اول ص ۵۵، ۵۶ میں مذکور ہیں، حضرت سعید بن زید بن عمروبن نفیل کا فقرہ صحیح بخاری باب اسلام سعید بن زید ؓ بھی مذکور ہے،حضرت علی ؓ کا فقرہ حاکم مستدرک میں بسند صحیح نقل کیا ہے)



فتح اسکندریہ:
حضرت عثمان غنیؓ کے ابتدائی سال خلافت یعنی ۲۴ ھ میں کوئی اہم اور قابل تذکرہ واقعہ ظہور پذیر نہیں ہوا، اس جگہ ایک بات بیان کردینی ضروری ہے کہ قیصرِ روم ہرقل کا انتقال اسکندریہ کی فتح سے سات ماہ بعد قسطنطنیہ میں ہوچکا تھا، فتح بیت المقدس کے بعد ہرقل  ایشیائے کوچک اورشام سے بھاگ کر قسطنطنیہ چلا گیا تھا اور جس قدر ملک مسلمانوں نے فتح کیا تھا،اُس کے واپس کرنے سے مایوس اوربقیہ علاقہ کی حفاظت کی تدبیروں میں پریشان تھا،اس کے بعد حضرت عمرو بن العاصؓ نے جب مصر پر فوج کشی کی،تو مقوش شاہِ  مصر نے جزیہ کی ادائیگی پر صلح کرکے مصر و اسکندریہ اُن کے سپرد کر دیا تھا، ہر قل مصر  کو اپنا صوبہ سمجھتا تھا اور مقوقش اس کا ماتحت تھا مصر پر مسلمانوں کے قابض ہونے کی خبر سُن کر ہرقل کو اور بھی صدمہ ہوا اوراسی رنج میں سات مہینے کے بعد فاروقِ اعظمؓ کے عہد خلافت میں فوت ہوا،اس کی جگہ اس کا بیٹا قسطنطین  تخت نشین ہوا،قسطنطین نے اسکندریہ کے اوپر سے مسلمانوں کی سیادت اُٹھانے اور براہ راست اپنے قبضے میں لانے کے لئے ایک زبردست مہم بھیجی،رومی فوج جہازوں کے ذریعہ قسطنطنیہ سے روانہ ہوکر ساحل اسکندریہ پر اتری،اسکندریہ میں مقوقش نے رومیوں کو داخل ہونے سے روکا اوراپنے عہد پر جو وہ مسلمانوں سے کرچکا تھا قائم رہا۔
مسلمانوں کو رومیوں کے اس حملہ کی اطلاع ہوئی،تو وہ فسطاط (قاہرہ) سے نکلے ادھر سے رومی اسکندریہ کو چھوڑ کر اسلامی چھاؤنی کی طرف متوجہ ہوئے،راستے ہی میں مقابلہ ہوا بڑی سخت لڑائی ہوئی رومی فوج کا سپہ سالار اعظم ماراگیا، اوربہت سے رومی میدان جنگ میں کھیت رہے جو بچے انہوں نے بہ مشکل فرار اوراپنی کشتیوں پر سوار ہوکر قسطنطنیہ کی راہ لی،حضرت عمرو بن العاصؓ نے رومیوں  کو بھگا کر اسکندریہ  اورنواحِ اسکندریہ کے باشندوں کے تمام اُن نقصانات کی تحقیق کرائی جو رومی فوج کے ذریعہ ہوا تھا،اُن تمام نقصانات کو عمرو بن العاص نے پورا کیا؛ کیونکہ وہ ذمیوں کی حفاظت اوراُن کو نقصانات سے بچانے کا ذمہ دار اپنے آپ کو سمجھتے تھے،اس کے بعد حضرت عمرو بن العاصؓ نے شہر اسکندریہ  کی  شہر پناہ کو منہدم کیا اوراپنی چھاؤنی فسطاط کو واپس چلے آئے،اسکندریہ کی شہر   پناہ کو منہدم کرانا اس لئے ضروری تھا کہ رومیوں کے حملہ آور ہونے اوراسکندریہ پر قابض ہوجانے کا خطرہ دور ہوجائے ،یہ واقعہ ۲۵ھ کی ابتداء کا ہے۔

فتح آرمینیا:
فاروقِ اعظمؓ کی وفات کا حال سُن کر ہی رومیوں میں بھی اسکندریہ پر حملہ کرنے کی ہمت پیدا ہوئی تھی،اوراسی خبر کو سُن کر ہمدان ورے وغیرہ ایرانی علاقوں میں بھی بغاوتوں کی سازشیں نمودار ہوئیں،  ایرانیوں نے کہا کہ ہم اب عربوں کی رعایا بن کر نہ رہیں گے بلکہ اپنی خود مختار حکومتیں قائم کریں گے، ان بغاوتوں کا حال سُن کر حضرت عثمان غنیؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ، براء بن عازبؓ اورقرط بن کعبؓ وغیرہ سرداروں کو مامور فرمادیا، ان سرداروں نے بہت جلد ان بغاوتوں کو فرو کردیا تھا، حضرت سعد بن وقاصؓ حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں معزول ہوکر مدینہ منورہ میں آگئے تھے،حضرت عثمان غنیؓ نے تخت خلافت پر متمکن ہوتے ہی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو پھر گورنری پر مقرر کردیا،اسی زمانہ میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کوفہ کے بیت المال کے عامل یا افسر خزانہ تھے۔
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے جو کوفہ کے گور نر مقرر ہوکر آئے تھے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے کچھ قرض لے لیا،چند روز کے بعد عبداللہ بن مسعودؓ نے اُس قرض کا تقاضا کیا،مگر حضرت سعدؓ اس کو ادا نہ کرسکے،اسی میں بات بڑھ گئی اور دونوں صاحبوں کی شکر رنجی وبے لطفی کی خبر مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی تک پہنچی  انہوں نے حضرت سعد بن وقاصؓ کو ۲۵ھ میں کوفہ کی گورنری سے معزول کرکے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو مقرر کیا ،آذربائیجان کی حفاظت  کے لئے جو فوج رہتی تھی،وہ بھی گورنر کوفہ کے ماتحت سمجھی جاتی تھی اورکوفہ کی چھاؤنی ہی سے باری باری ایک سردار مناسب فوج کے ساتھ آذربائیجان کے لئے روانہ کیا جاتا تھا ،سعد بن وقاصؓ کے زمانے میں عتبہ بن فرقد آذر بائیجان میں مقرر تھے، سعدؓ کے معزول ہونے پر عتبہ بن فرقد بھی آذر بائیجان سے معزول کرکے بلائے گئے ،آذر بائیجان والوں نے عتبہ کے جاتے ہی فوراً بغاوت کا علم بلند کیا ، ولید بن عتبہ نے فوراً آذر بائیجان پر فوج کشی کی،آذر بائیجان  والوں نے پرانی شرائط پر پھر صلح کرلی،اورجزیہ ادا کرنے لگے، ولید بن عقبہ جو عہد فاروقی میں جزیرہ  کے عامل تھے اوراب کوفہ کے گورنر مقرر ہوئے تھے ،حضرت عثمان غنیؓ کے رضاعی بھائی تھے ،حضرت سعدؓ چونکہ بڑے متقی پرہیزگار شخص تھے اور ولید بن عقبہ زہد وعبادت میں سعدؓ کے مرتبہ کونہ پہنچتے تھے،اس لئے اہل کوفہ ولید کے آنے اور سعدؓ کے جانے سے کچھ خوش نہ تھے،انہیں ایام میں جب کہ ولید بن عقبہ نے آذر بائیجان  پر چڑھائی کی تھی۔
حضرت امیر معاویہ عامل دمشق نے حبیب بن مسلمہؓ کو آرمینیا کی طرف روانہ کیا تھا اورحبیب بن مسلمہ وہاں کے اکثر شہروں  اورقلعوں پر قابض ہوکر رومیوں کو جزیہ ادا کرنے پر مجبور کرچکے تھے یہ خبر سُن کر ایک رومی سردار قیصر قسطنطین کے حکم کے موافق ملیطبہ،سیواس ،قونیہ وغیرہ شہروں اورچھاؤ نیوں سے اسی ہزار فوج لے کر براہِ خلیج قسطنطین حبیب بن مسلمہ پر چڑھ آیا،حبیبؓ نے اس فوج گراں کا حال سُن کر حضرت امیر معاویہ کو لکھا،انہوں نے فوراً بلا توقف حضرت عثمان غنیؓ کو اطلاع دی،حضرت عثمان غنیؓ نے فوراً ولید بن عقبہ گورنر کوفہ کو لکھا کہ دس ہزار فوج حبیب بن مسلمہ کی مددکے واسطے آرمینیا کی طرف روانہ کردو، یہ فرمان عثمانی حضرت ولید بن عقبہ کو موصل میں ملا، جب کہ وہ فتح آذربائیجان سے کوفہ کی طرف آرہے تھے،انہوں نے اسی وقت سلمان بن ربیعہ کو آٹھ ہزار فوج کے ساتھ آرمینیا کی جانب روانہ کردیا۔
حبیب بن مسلمہ اورسلمان بن ربیعہ نے مل کر تمام علاقہ آرمینیا کو فتح کرلیا اوربحر خضر کے کنارے کوہ قاف تک پہنچ گئے،وہاں سلمان بن ربیعہ شروان اورتمام علاقہ جبال کو تصرف میں لاتے ہوئے کوفہ  کی طرف آئے اور حبیب بن مسلمہؓ حضرت  امیر معاویہؓ کی خدمت میں بمقام دمشق حاضر ہوئے،اس کے بعد امیر معاویہؓ نے خود ایک جمعیت لے کر رومی علاقہ پر چڑھائی کی،رومی لشکر خوف زدہ ہوکر انطاکیہ وطرطوس کے تمام درمیانی قلعہ چھوڑ کر فرار ہوگیا،حضرت امیر معاویہ نے انہیں قلعوں میں اپنی چھاؤ نیاں قائم کرکے ان میں سے بعض قلعوں کو ویران ومسمار بھی کردیا،یہ تمام واقعات ۲۵ھ میں وقوع پذیر ہوئے،اب آئیندہ ۲۶ھ شروع ہوتا ہے۔

مصر کے واقعات وتغیرات:
حضرت عبداللہ بن سعدؓ المعروف بہ ابن ابی سرح حضرت عثمان غنیؓ کے رضاعی بھائی تھے،عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک مرتبہ مرتد ہوکر پھر صدق  دل سے مسلمان ہوئے تھے ،حضرت عثمان غنیؓ نے ان کو مصر کا عامل اورافسر خزانہ  بناکر بھیجا اورعمرو بن العاصؓ کو صرف فوجی افسر رکھا،ان فوجی وملکی افسروں میں ناچاقی پیدا ہوئی اورحضرت عثمان غنیؓ نے اس ناچاقی سے مطلع ہوکر ۲۶ھ میں حضرت عمرو بن العاصؓ کو قطعاً معزول وبرطرف کرکے عبداللہ بن سعدؓ کو مصر واسکندریہ میں کامل  اختیارات دے دئیے اگرچہ عبداللہ بن سعدؓ بھی عرب کے مشہور بہادروں اور  شہسواروں میں شمار ہوتے تھے، لیکن وہ حضرت عمرو بن العاصؓ کی طرح نہ تجربہ کار تھے نہ مصر میں حضرت عمروؓ کی سی ہردل عزیزی حاصل کرسکتے تھے،حضرت عمروؓ کے معزول ہونے سے اہل مصر کو سخت صدمہ ہوا، اوروہ اپنے نئے حاکم یعنی عبداللہ بن سعدؓ کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہوگئے، قیصر  قسطنطین نے جب مصر کا یہ حال اورحضرت عمرو بن العاص کے معزول ہونے کی کیفیت سُنی تو اُس نے اپنے  ایک زبردست  اورتجربہ کار سپہ سالار کو ایک زبردست فوج دے کر کشتیوں کے ذریعہ اسکندریہ کی جانب روانہ کردیا،شہر میں جو رومی یعنی یونانی لوگ تھے، وہ سب اس رومی فوج سے مل گئے،غرض کچھ معمولی  سی زود خورد اورخون ریزی کے بعد اسکندریہ رومی فوج کے قبضہ میں آگیا ،یہ سُن کر حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو پھر مصر کا گور نر مقرر کرکے روانہ کیا، عمرو بن العاصؓ نے اس ملک میں آتے ہی رومی فوج کے مقابلے  کی ایسی تیاریاں کیں اوراس طرح مقابلہ کیا کہ رومیوں کو سخت نقصان برداشت کرنے کے بعد اسکندریہ چھوڑ کر بھاگنا پڑا، اب کی مرتبہ حضرت عمرو بن العاصؓ نے اسکندریہ تیسری مرتبہ فتح کیا تھا اور اس مرتبہ  اسکندریہ  کے فتح کرنے سے پہلے قسم کھائی تھی کہ تمام شہر کو ویران ومسمار کردوں گا لیکن فتح کے بعد انہوں نے اپنے لشکر کو خوں ریزی  اورقتل وغارت گری سے قطعاً روک دیا،جس جگہ لشکر کو قتل وغارت کی ممانعت کا حکم دیا تھا،اُس جگہ ایک مسجد تعمیر کرادی جس کا نام رحمت مشہور ہوا، جب حضرت عمرو بن العاصؓ ملکِ مصر پر پورے طور پر قابض ومتصرف ہوگئے اور تمام انتظامات ملکی بھی مکمل ہوگئے تو حضرت عثمانِ غنی خلیفہ وقت نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو مصر کی حکومت سے معزول کرکے ان کی جگہ حضرت عبداللہ بن سعدؓ کو پھر مصر کا گورنر مقرر کردیا اس مرتبہ حضرت عمروؓ کو اپنے معزول ہونے کا صدمہ ہوا،ادھر عبداللہ بن سعدؓ کو بھی اپنے مامور ومقرر ہونے کا رنج ہوا، کیونکہ وہ مصر کی بگڑتی ہوئی حالت کو خود نہ سنبھال سکے تھے،اس کو عمروبن العاص نے سُدھار ااوراُس کے بعد پھر ملک کی حکومت ان کو دے دی گئی،اب عبداللہ بن سعد کو یہ فکر ہوئی  کہ کسی طرح اپنی گذشتہ بد نامی کی  تلافی کروں

فتح افریقہ:
حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے حضرت عثمان غنیؓ سے اجازت طلب کی کہ شمال افریقہ پر چڑھائی ہونی چاہئے،اس زمانہ میں افریقہ ایک برا اعظم کا نام ہے، مگر اُس زمانہ میں افریقہ نام کی ایک ریاست بھی تھی،جو طرابلس اورطنجہ کے درمیانی علاقہ پر  پھیلی ہوئی تھی، لیکن اس زمانہ میں افریقہ اُن ملکوں کے مجموعہ پر بھی بولا جاتا تھا جو آج کل براعظم افریقہ کے شمالی حصہ میں واقع ہیں یعنی طرابلس الجیریا،ٹیونس مراکو وغیرہ،حضرت عثمان غنیؓ نے عبداللہ بن سعدؓ کو فوج کشی کی اجازت دے دی ،انہوں نے دس ہزار فوج کےسا تھ مصر سے خروج کرکے علاقہ برقہ میں سرحدی رئیسوں کو مغلوب کیا،ان رئیسوں کو اپنے زمانہ حکومت میں عمرو بن العاصؓ بھی چڑھائی کرکے جزیہ کی ادائیگی کے لئے مجبور کرچکے تھے اور بعد میں وہ موقع پاکر خود مختار ہوگئے تھے،اس لئے اب انہوں نے جزیہ  کے ادا کرنے اور اپنے آپ کو محکوم تسلیم کرنے مین زیادہ چون وچرا نہیں کی،اس کے بعد جب عبداللہ بن سعدؓ ملک کے درمیانی حصے اور طرابلس کی طرف بڑھنے لگے،تو حضرت عثمان غنی  نے مدینہ منورہ سے ایک فوج مرتب کرکے ان کی مدد کے لئے روانہ کی،اس فوج میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ حضرت عبداللہ بن عباسؓ ،حضرت عبداللہ بن زبیرؓ،حضرت عمرو بن العاصؓ حضرت حسین بن علیؓ، حضرت ابن جعفر وغیرہ حضرات شامل تھے، یہ فوج مصر سےہوتی ہوئی برقہ میں پہنچی،تو وہاں عبداللہ بن سعدؓ نے استقبال کرکے اس سے ملاقات کی،اب سب مل کر طرابلس کی طرف بڑھے،رومیوں نے طرابلس سے نکل کر مقابلہ کیامگر شکست کھا کر بھاگے، مسلمانوں کا طرابلس پر قبضہ ہوگیا،طرابلس پر قبضہ مکمل کرکےخاص ریاست افریقہ کی طرف لشکر اسلام بڑھا ،افریقہ کا بادشاہ جرجیر نامی قیصر کا ماتحت اورخراج گزار تھا،اس کو جب اسلامی لشکر کے اپنی طرف متوجہ ہونے کی اطلاع ملی،تو اُس نے ایک لاکھ بیس ہزار فوج جمع کرکے ایک شبانہ روز کی مسافت پر آگے بڑھ کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا،دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابل پہنچ گئے، تو حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے سب سے پہلے عیسائی لشکر کو اسلام کی دعوت دی،جر جیر نے اس دعوت کا صاف انکار کیا تو دوبارہ جزیہ ادا کرنے کے لئے کہا گیا،جب اس نے جزیہ ادا کرنے سے بھی صاف انکار کیا تو مسلمانوں نے صف آرائی کرکے لڑائی شروع کی،لڑائی بڑے زورو شور سے ہوئی،فتح وشکست کی نسبت کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی تھی،کہ اتنے میں مسلمانوں کی کمک کے لئے ایک تازہ دم فوج پہنچی،اور لشکر اسلام سے نعرہ تکبیر بلند ہوا۔
اس اجمال کی تفصیل اس طرح ہے کہ بعد مسافت کے سبب اس لشکر کی خبر مدینہ منورہ میں جلد نہیں پہنچ سکتی تھی، حضرت عثمان غنیؓ نے جب دیکھا کہ لشکر افریقہ کی خبر آئے ہوئے زیادہ دن گذر گئے ہیں تو انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن زبیرؓ کو ایک دستہ فوج کے ہمراہ افریقہ  کی طرف  روانہ فرمادیا تھا،حضرت عبدالرحمن بن زبیرؓ اپنی فوج کے ساتھ لشکر اسلام میں داخل ہوگئے، اس لئے مسلمانوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا ،جرجیر نے نعرۂ تکبیر سُن کر دریافت کیا کہ مسلمانوں  میں کیوں یہ نعرۂ تکبیر بلندا ہوا، تو اس کو بتایا گیا کہ مسلمانوں کی ایک تازہ دم فوج مدد کے لئےپہنچ گئی ہے، جر جیر یہ سُن کر بہت فکر مند ہوا، مگر اس روز لڑائی کا کوئی فیصلہ نہ ہوسکا،شام ہونے پر دونوں فوجیں اپنے اپنے خیموں کی طرف متوجہ ہوئیں،اگلے روز جب لڑائی شروع  ہوئی تو عبداللہ بن زبیرؓ نے میدان جنگ میں عبداللہ بن سعدؓ کو موجود نہ پاکر سبب دریافت کیا اُن کو بتایا گیا کہ جرجیر  نے منادی کرادی ہے کہ جو شخص عبداللہ بن سعدؓ کا سرکاٹ کر لائے گا، اس کو ایک لاکھ دینار بطور انعام دئے جائیں گے اوراُس کے ساتھ جرجیر اپنی لڑکی کی شادی بھی کردے گا، لہذا عبداللہ بن سعدؓ جان کے خوف سے میدان میں نہیں آئے، عبداللہ بن زبیر یہ بات سُن کر عبداللہ بن سعدؓ کے پاس ان کے خیمہ میں گئے اورکہا کہ تم بھی اپنے لشکر میں منادی کرادو، کہ جو شخص جرجیر کا سرکاٹ کر لائے گا، اُس کو مالِ غنیمت سے ایک لاکھ دینار دیا جائے گا اورجر جیر کی لڑکی سے اس کا نکاح کیا جائے گا اور جر جیر کے ملک کا حاکم اُس کو بنادیا جائے گا۔
چنانچہ اُسی وقت عبداللہ بن سعدؓ نے منادی کرادی جس سے جرجیر کو سخت مصیبت پیش آئی، عبداللہ بن سعد میدان میں آگئے اور آج بھی طرفین نے خوب خوب داد شجاعت دی، مگر فتح وشکست کا کوئی فیصلہ  نہ ہوسکا، جب رات ہوئی تو مجلس مشورت منعقد ہوئی اور عبداللہ بن زبیرؓ نے رائے دی کہ اسلامی لشکر سے آدھی فوج میدان جنگ میں جاکر دشمن کا مقابلہ کرے اورآدھی خیموں میں رہے،جب حسب دستور دونوں فوجیں شام تک لڑائی لڑتی ہوئی تھک کر ایک دوسرے سے جدا ہوں اوراپنے اپنے خیموں کی طرف متوجہ ہوں ،تو اس وقت وہ تازہ دم فوج جو خیموں میں بیٹھی رہی ہے شمشیر بہ کف رومیوں پر ٹوٹ پڑے، اس طرح ممکن ہے کہ لڑائی کا فیصلہ جلد ہوجائے، اس رائے کو سب نے پسند کیا، اگلے دن یعنی تیسرے روز کی  جنگ میں نصف فوج صبح سے مصروف جنگ ہوئی اور نصف فوج عبداللہ بن زبیرؓ کی ماتحتی میں خیموں کے اندر منتظر رہی،دوپہر تک فریقین لڑتے رہے اور بعد دوپہر ایک دوسرے سے جدا ہوئے فوراً ابن الزبیرؓ اپنی تازہ دم فوج لے کر خیموں سے نکل پڑے اوررومیوں پر حملہ آور ہوئے  رومی اس حملے کی تاب نہ لاکر اپنے خیموں کی پناہ میں گئے ، لیکن ان کو وہاں  بھی پناہ نہ ملی ،مسلمانوں نے اُن کو گرفتار اورقتل کرنا شروع کردیا۔
جرجیر نے مقابلہ کیا ابن الزبیرؓ نے اُس کو تلوار کے ایک ہی وارے سے قتل کردیا ،اگلے روز مسلمان اُس میدان سے کوچ کرکے آگے بڑھے اورافریقہ کے دارالصدر شہر سبیطلہ کا محاصرہ کیا چند روز کے بعد اس کو فتح کرکے بے حد و بے شمار مال  غنیمت پر قبضہ پایا سواروں کو فی کس تین تین ہزار دینار ملےشہر سبیطلہ کی فتح کے بعد مسلمانوں نے آگے بڑھ کر قلعہ جم کا محاصرہ کیا جس کو اہل افریقہ نے خوب مستحکم کررکھا تھا، اس کو بھی مسلمانوں نے امان کے ساتھ فتح کرلیا اہل افریقہ نے اسلامی طاقت کے آگے اپنے آپ کو مغلوب و مجبور دیکھ کر دس لاکھ دینار جزیہ دے کر صلح کرلیا،ابن زبیرؓ افریقہ کی بشارت اورمال غنیمت کا خمس لے کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے، اورحضرت عثمانِ غنیؓ خلیفہ وقت کی خدمت میں پیش کیا اس خمس کو مروان الحکم نے پانچ لاکھ کے عوض خرید لیا،عبداللہ بن سعدؓ ایک برس تین مہینے کے بعد ۲۷ ھ میں افریقہ سے مصر کو واپس آئے،افریقہ والوں نے بجائے جرجیر کے اپنا ایک اوربادشاہ منتخب کرلیا اور مسلمانوں کو مقررہ جزیہ ادا کرنے لگے،افریقہ اسی ریاست یا اُسی ملک کا نام سمجھنا چاہئے جس کو قرطاجنہ کا ملک کہتے تھے۔

فتح قبرص وروڈس:
عبداللہ بن سعدؓ جب علاقۂ قرطاجنہ یا افریقہ سے مصر واپس چلے آئے اوراُسی سال یعنی ۲۷ ھ میں ان کی جگہ عبداللہ بن نافعہ مصر کے گورنر مقرر ہوئے،تو قسطنطین بے پھر جنگی تیاریاں شروع کیں، ۲۸ھ میں اس نے ایک بحری فوج افریقہ کی طرف روانہ کی،اس فوج نے ساحل افریقہ پر اُتر کر اس خراج کے دینے سے انکار کیا اورکہا کہ جب ہمارے ملک پر مسلمان حملہ آور ہوئے تو قیصر کو خراج کے دینے سے انکار کیا اورکہا کہ جب ہمارے ملک پر مسلمان حملہ آور ہوئے تو قیصر ہماری کوئی امداد نہ کرسکا ،لہذا اب اس کی سیادت تسلیم کرنا اوراُس کو خراج دینا ہمارے لئے ضروری نہیں،یہاں تک کے اہل افریقہ اوررومی لشکر میں مقابلہ ہوا، رومیوں نے اہل افریقہ کو شکست دی اور وہاں سے اسکندریہ کی طرف بڑھے یہاں عبداللہ بن نافع نے مدافعت اورمقابلہ کی تیاری کی،رومی سردار افریقہ سے اسکندریہ کی طرف آیا،تو قیصر روم خود چھ سو کشتیاں لے کر اسکندریہ کے ارادے سے روانہ ہوا، دونوں طرف سے رومی لشکر اسکندریہ پر قبضہ کرنے کے لئے آگئے،اُدھر سے اسلامی لشکر نے مقابلہ کیاسخت خوں ریز لڑائی ہوئی اورنتیجہ یہ ہوا کہ فلسطین اوراس کی فوج باحال تباہ اسکندریہ سے فرار ہوکر قبرص کی طرف گئے قبرص کو انہوں نے اپنا بحری مرکز اور جنگی سامان کا صدر مقام بناکر رکھا تھا-
اس کیفیت کو یہیں ملتوی چھوڑ کر حضرت امیر معاویہؓ کا حال بھی اسی موقع پر تھوڑا سا عرض کردینا نہایت ضروری ہے تاکہ سلسلہ مضمون پورے طور پر مربوط ہوسکے۔
وفات فاروقی کے وقت حضرت امیر معاویہؓ دمشق واردن کے گور نر تھے اورحمص وقنسرین کے حاکم حضرت عمیر بن سعید انصاریؓ تھے،وفاتِ فاروقی کے بعد حضرت عمیرؓ بن سعید نے استعفاداخل کیا توحضرت عثمان غنیؓ نے حمص و قنسرین کا علاقہ بھی حضرت امیر معاویہؓ کے دائرۂ حکومت میں داخل کردیا،اُس کے بعد جب عبدالرحمن بن علقمہ حاکم فلسطین فوت ہوئے تو حضرت عثمان غنیؓ نے فلسطین کا ملک بھی حضرت امیر معاویہ کی حکومت میں دے دیا، اس طرح رفتہ رفتہ ۲۷ ھ میں  حضرت امیر معاویہؓ تمام اضلاع شام کے مستقل حاکم ہوگئے تھے،حضرت امیر معاویہؓ نے خلافت فاروقی کے آخری ایام میں ساحل شام سے روانہ ہوکر جزیرہ قبرص پر حملہ کرنے کی اجازت فاروق اعظمؓ سے  چاہی تھی،فاروق اعظمؓ کو بحری حملہ کی اجازت دینے میں تامل تھا اوربحری حملہ کی اجازت حاصل نہ ہونے پائی تھی کہ فاروق اعظمؓ شہید ہوگئے، اب حضرت عثمان غنیؓ سے امیر معاویہ ؓ نے بحری حملہ کی اجازت چاہی اور دربار عثمانی سے چند شرائط کے ساتھ اجازت حاصل ہوچکی تھی ،منجملہ اورشرائط کے ایک شرط یہ تھی کہ اس لڑائی اور بحری  حملہ میں جس شخص کا جی چاہے وہ شریک ہو کسی کو ہرگز شرکت کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔
چنانچہ حضرت امیر معاویہؓ کی تحریک سے ایک گروہ قبرص پر حملہ کرنے کے تیار ہوگیا جس میں حضرت ابو ذر غفاری،حضرت ابوالدرداء،شداد بن اوسؓ،عبادہ بن صامتؓ اوران کی بیوی ام حرامؓ بنت ملحان بھی شامل تھے،اس گروہ مجاہدین کی سرداری حضرت عبداللہ بن قیس کو دی گئی،مجاہدین کا لشکر کشتیوں میں سوار ہوکر قبرص کی طرف روانہ ہوا،قسطنطین قیصر روم اسکندریہ سے شکست کھا کر قبرص میں آیا، تو اس کے تعاقب میں مصر کا اسلامی لشکر بھی مصر سے کشتیوں میں سوار ہوکر پہنچ گیا، اُدھر اسلامی لشکر قبرص میں پہنچا، اُدھر ساحل شام سے مذکورۂ بالااسلامی لشکر قبرص کے ساحل پر اُترا جس وقت کشتی سے ساحل پر ام حرامؓ اتریں تو گھوڑا بدک کر بھاگا وہ گرپڑیں اورفوت ہوگئیں،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق یہی پیشن گوئی کی تھی جو حرف بہ حرف پوری ہوگئی،قسطنطین قبرص میں تاب مقابلہ نہ لاسکا، یہاں سے بہزار خرابی فرار ہوکر قسطنطنیہ پہنچا اوروہاں فوت ہوا، لیکن بہ روایت دیگر اہل قبرص ہی نے قسطنطین کو مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست پر شکست کھاتے دیکھ کر ایک روز جب کہ وہ حمام میں گیا ہوا تھا،موقع پاکر قتل کردیا تھا،قبرص سے فارغ ہوکر انہوں نے روڈس کا ارادہ کیا،روڈس والوں نے خوب جم کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا،کئی خوں ریز معرکوں کے بعد روڈس پر بھی اسلامی لشکر کا قبضہ ہوگیا اسی جزیرے میں ایک بہت بڑا تانبے کا بت تھا  جس کی ایک ٹانگ جزیرہ کے ساحل پر اوردوسری ٹانگ ساحل کے قریبی ٹاپور پر تھی اوران دونوں ٹانگوں کے  بیچ میں اتنی چوڑی آبنائے تھے کہ جہاز اس کے اندر ہوکر جاتے تھے،حضرت امیر معاویہؓ نے اس بُت کو توڑ کر اُس کے تانبے کے ٹکڑے اسکندریہ والی فوج کے ہمراہ اسکندریہ روانہ کردیئے ،جہاں ان کو ایک یہودی نے خرید لیا تھا،قبرص و روڈس کی فتوحات سے حضرت امیر معاویہ کی شہرت وہردل عزیز ی میں بہت بڑا اضافہ ہوا ؛کیونکہ ان بحری فتوحات نے مسلمانوں کے لئے قسطنطنیہ اوردوسرے ملکوں پر چڑھائیوں کا گویا ایک دروازہ کھول دیا تھا،یہ تمام واقعات ۲۸ ھ کے آخریا ۲۹ ھ کے شروع زمانہ تک کے ہیں۔

ایران میں تغیرات انتظامی:
۲۷ھ کے ابتدائی ایام میں بصرہ والوں نے اپنے گورنر حضرت ابو موسی اشعری کی شکایت مدینہ منورہ میں آکر خلیفہ وقت سے کی،حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو بصرہ کی  حکومت سے معزول کرکے اپنے ماموں زاد بھائی عبداللہ بن عامر کرزبن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس کو مقرر فرمادیا تھا،اُس وقت عبداللہ بن عامر کی عمر قریبا پچیس سال کی تھی ،ان کو حضرت عثمانؓ نے نہ صرف ابو موسیٰ اشعری کے لشکر کی ؛بلکہ عثمان بن العاصی ثقفی والی عمان وبحرین  کے لشکر کی بھی سرداری سپرد کی،عبید اللہ  بن معمر خراسان کے گورنر تھے،ان کو وہاں سے خلیفہ وقت نے تبدیل کرکے فارس کے صوبہ کی گورنری تفویض کی اور خراسان کی حکومت پر عمیر بن عثمان بن سعدؓ کو مقرر فرمایا ،عمیر بن عثمان نے خراسان پہنچتے ہی نہایت مستعدی اورقوت کے ساتھ ملک کا انتظام کیا اورفرخانہ تک کے علاقہ پر قبضہ کرلیا ،۲۷ ھ کے آخر اور ۲۸ ھ کے شروع میں عمیر بن  عثمان خراسان کی گورنری سے معزول ہوئے ،ان کی جگہ ابن احمر مامور ہوئے اور عبدالرحمن بن عبس کرمان کی حکومت پر مقرر کئے گئے چند روز کے بعد کرمان کی گور نری سے عبدالرحمن معزول ہوئے اوران کی جگہ عاصم بن عمرو مقرر ہوئے اور سجستان کی گورنری عمران بن النفیل کودی گئی۔

اہل ایران کی بغاوت اوراسلامی فتوحات:
مندرجہ بالا تبدیلیاں چونکہ جلد جلد وقوع پذیر ہوئیں،لہذا ایرانیوں نے انتظامی تغیرات کو اپنے لئے ایک غیبی تائید سمجھ کر آپس میں سازشیں شروع کردیں اور بغاوت پر آمادہ ہوکر اسلامی لشکر کے مقابلہ کی تیاریاں کرلیں،ان تیاریوں اوربغاوتوں کے مراکز اصطخر اورجور دو مقام تھے ،عبید اللہ بن معمر فارس کے گورنر نے ان باغیانہ سازشوں اور تیاریوں کا حال سُن کر ۲۷ھ میں اصطخر والوں پر چڑھائی کی، اصطخر کے دروازہ پر لڑائی ہوئی اور عبیداللہ بن معمر شہید ہوئے،حضرت عبید اللہ بن معمر کے شہید ہونے پر ان کی فوج وہاں سے فرار ومنتشر ہوگئی، یہ خبر سُن کر عبداللہ بن عامر حاکم بصرہ اپنا لشکر لے کر فارس کی طرف بڑھے ان کے مقدمہ الجیش کی سرداری عثمان بن العاصؓ کے سپرد تھی عبداللہ بن عامر تواسطخر کی طرف گئے اورہرم بن حیان کو جو رکا محاصرہ کرنے کے لئے روانہ کیا،اسطخر کے نواح میں ایرانیوں نے جمعیت کثیر کے ساتھ بڑی بہادری وپامردی سے اسلامی لشکر کا مقابلہ کیا، بڑی خوفناک  اورخوں ریز جنگ  ہوئی بالآخر ایرانی مسلمانوں کے مقابلہ سے بھاگے مسلمانوں نے اسطخر پر قبضہ کیا اورباغیوں کے قتل وغارت میں کمی کی۔
ہرم بن حیان کو جور کا محاصرہ کئے ایک مدت گذرچکی تھی، ہرم بن حیان دن بھر روزہ رکھتے اور دشمنوں سے لڑتے ،شام کو افطار کرکے نماز میں مصروف ہوجاتے،ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ افطار کے بعد ان کو کھانے  کے لئے روٹی نہ ملی، انہوں نے  اگلے دن اسی حالت میں روزہ رکھا، اس روز بھی کھانا نہ ملا غرض اس طرح ان کو ایک ہفتہ ہوگیا کہ روزہ پر روزہ رکھتے رہے،جب ضعف بہت بڑھ گیا تو انہوں نے اپنے خادم سے کہا کہ بیٹے تجھے کیا ہوگیا ہے کہ میں ایک ہفتے سے پانی کے ساتھ روزہ افطار کرکے روزہ رکھ رہا ہوں اور تو مجھ کو کھانے کے لئے روٹی نہیں دیتا، خادم نے کہا میرے سردار ! میں روز انہ آپ کے لئے روٹی پکا کر جاتا ہوں، تعجب ہے کہ آپ کو نہیں ملتی،اگلے روز خادم نے روٹی پکا کر حسب معمول رکھی اور خود گھات میں بیٹھ کر روٹی کی نگرانی کرنے لگا کہ دیکھوں کون آکر روٹی لے جاتا ہے ،کیا دیکھتا ہے کہ شہر کی طرف سے ایک کتا آیا اورروٹی اٹھا کر چل دیا، خادم بھی آہستہ سے اٹھ کر اُس کتے کے پیچھے ہو لیا کتا روٹی لئے ہوئے شہر پناہ کی طرف گیا اورایک بدرو کے راستے شہر میں داخل ہوگیا خادم یہ دیکھ کر واپس لوٹا اور ہرم بن حیان کی خدمت میں تمام واقعہ عرض کیا ہرم بن حیان نے اس کو تائید غیبی سمجھا اورچند بہادر آدمیوں کو لے کر رات کے وقت اسی بدرو کے راستے شہر کے اندر داخل ہوگئے اور پاسبانوں کو قتل کرکے فورا شہر کا دروازہ کھول دیا ،اسلامی فوج نے شہر میں داخل ہوکر شہر کو فتح کیا اوراس طرح بآسانی جور پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ،مسلمانوں نے یہاں یعنی شہر جور میں بھی اوراسطخر میں بھی باغیوں کو سخت سزائیں دے کر آئندہ کے لئے بغاوت کا سد باب کیا،اس فتح کی خبر مسلمانوں نے مدینہ کو بھیجی اورآئندہ کے لئے خلیفہ وقت سے ہدایات طلب کیں۔

۲۹ھ کا حج:
حضرت عثمان غنیؓ مدینہ منورہ  سے مہاجرین وانصار کی جماعت کے ایک ساتھ حج بیت اللہ کے ارادے سے روانہ ہوئے،منی  میں پہنچ کر حکم دیا، کہ خیمہ نصب کریں،اورحاجیوں کو جمع کرکے اس میں ضیافت کریں،لوگوں نے اس بات کو بدعت سمجھ کرنا پسند کیا؛کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورصدیق ؓ اورفاروقؓ کے زمانے میں ایسا نہیں ہوا تھا، اسی سفر میں قبیلہ جہنیہ کی ایک عورت آپ کی خدمت میں پیش کی گئی ،یہ عورت پہلے بیوہ تھی پھر اس نے عقد ثانی کیا اور بعد نکاح صرف چھ مہینے گذرنے پر اس کے لڑکا پیدا ہوا، حضرت عثمانؓ نے اس عورت پر رجم کرنے کا حکم دیا،جب اس حکم کی خبر حضرت علیؓ کو پہنچی، تو وہ حضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں پہنچے اورکہا کہ قرآن مجید میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے "وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا" جس سے معلوم ہوا کہ حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے ہے اور مدتِ رضاعت قرآن مجید میں دوسری جگہ بیان کی گئی ہے ؛کہ "وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ" پس دودھ  پلانے کی مدت دو سال یعنی چوبیس مہینے تیس مہینے میں سے خارج کریں،تو باقی حمل کی اقل مدت چھ مہینے رہتی ہے،لہذا اس عورت پر زنا یقین طور پر ثابت نہیں، حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت علیؓ کا یہ کلام سُن کر فوراً آدمی دوڑادیا کہ اس کو رجم نہ کیا جائے،لیکن اس آدمی کے پہنچنے سے پہلے اس کو رجم کیا جاچکا تھا،حضرت عثمان غنیؓ کو اس کا سخت ملال وافسوس رہا،اسی سال حضرت عثمان غنیؓ نے مسجد نبوی کی توسیع کی،مسجد کا طول ایک سو ساٹھ گز اور عرض ایک سو پچاس گزر رکھا اور پتھر کے ستون لگائے درودیواریں تمام پختہ بنوائیں۔

۳۰ہجری:
ولید بن عقبہ جیسا کہ اوپر مذکور ہوچکا ہے کوفہ کی گورنری پر مامور تھے،ابو زبیدہ شاعر جو پہلے نصرانی تھا اوراب مسلمان ہونے کے بعد بھی شراب خوری سے باز نہ آیا تھا،ولید بن عقبہ کی صحبت میں زیادہ رہتا تھا،لوگوں نے ولید بن عقبہ کو بھی شراب خوری کا الزام لگایا رفتہ رفتہ یہ شکایت دربار خلافت تک پہنچی،وہاں سے ولید بن عقبہ کی طلبی کا حکم آیا، یہ مدینہ منورہ میں جواب دیہی کے لئے حاضر ہوئے،ان کے مخالف بھی شکایتیں کرنے مدینے میں پہنچ گئے،ولید جب مدینہ میں گئے اورحضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے،تو انہوں نے  ولید سے مصافحہ کیا،لوگوں کو یہ مصافحہ کرنا بھی ناگوار گذرا، پھر شراب خوری کے الزام کی تحقیق شروع ہوئی، تو کوئی ایسا گواہ پیش نہ ہوا،جو یہ کہے کہ میں نے ولید کی شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے،لہذا شک و شبہ کی حالت میں حضرت عثمان نے  حد جاری کرنے میں تامل کیا ،لوگوں نے اس تامل وتوقف پر بھی بدگمانی کو راہ دی، بالآخر دربار خلافت میں یہ گواہی پیش ہوئی کہ ہم نے ولید بن عقبہ کو شراب پیتے ہوئے تو نہیں دیکھا لیکن شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا ہے،اسکے بعد حضرت عثمان غنیؓ نے حکم دیا کہ ولید کے دُرے لگائے جائیں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس مجلس میں موجود تھے،عبداللہ بن جعفر ابی طالب نے ولید کے درے مارنے شروع کردئے، جب چالیس درے لگ چکے،تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے روک دیا اورکہا کہ اگرچہ فاروق اعظمؓ نے شراب خور کے اسی درے لگائے ہیں اور وہ بھی درست ہیں،لیکن صدیق اکبرؓ نے شراب خوری کے چالیس درے لگائے ہیں، اورمجھ کو اس معاملہ میں صدیق اکبرؓ کی تقلید زیادہ محبوب ہے،اُس کے بعد خلیفہؓ وقت نے ولید بن عقبہ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کرکے ان کی جگہ سعید بن العاصؓ کو کوفہ کا گور نر مقرر کیا۔

حضرت ابو ذرؓ غفاری کا واقعہ:
اسی ۳۰ ھ میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کا واقعہ پیش آیا،کہ وہ ملک شام میں حضرت امیر معاویہؓ کی ماتحتی میں تشریف رکھتے تھے،وہاں انہوں نے یہ آیت کریمہ "وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ" کے معانی ومطالب میں امیر معاویہؓ سے مخالفت کی ،ابوذر غفاریؓ فرماتے تھے کہ روپیہ جمع کرنا اورسب کا سب راہ خدا میں خرچ نہ کردینا کسی طرح جائز نہیں اورحضرت امیر معاویہؓ  فرماتے تھے کہ انفاق فی سبیل اللہ سے مراد زکوٰۃ کا ادا کرنا ہے جس روپیہ کی زکوٰۃ ادا کی جائے اس کا جمع ہونا گناہ نہیں ہے،اگر بلا شرط روپیہ  کا جمع کرنا گناہ ہوتا ،تو قرآن کریم میں ترکہ کی تقسیم اور وراثت کے حصص کا ذکر نہ ہوتا، حضرت ابو ذر غفاری کے اس عقیدے کا حال وہاں  کے لوگوں کو معلوم ہوا تو سب نے اُن کا مذاق اُڑایا اورنو عمر لوگ خاص کر زیادہ تمسخر کرنے لگے حضرت  ابوذر کا اصرار بھی ترقی کرتا گیا،یہاں تک نوبت پہنچی کہ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کو اس کیفیت کی اطلاع دی،خلیفہ وقت نے حکم بھیجا کہ حضرت ابو ذرؓ کو نہایت تکریم کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ کردو، مدینہ میں آکر حضرت ابوذرؓ نے اپنے عقیدے کا اعلان شروع کردیا،چونکہ اُن کے مزاج میں درشتی تھی،لہذا لوگ اُن سے عموما چشم پوشی ودرگذر ہی کرتے تھے،لیکن یہاں بھی نو عمر اور خوش طبع لوگ موجود تھے،وہ کبھی نہ کبھی اُن کو چھیڑ ہی دیتے تھے،اتفاقاً اسی عرصہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کی وفات ہوئی،وہ بہت مال دار شخص اور عشرہ مبشرہ میں شامل تھے، کسی نے حضرت ابو ذرؓ سے کہا کہ عبدالرحمن نے اس قدر دولت چھوڑی ہے ،اُن کی نسبت آپ کا کیا حکم ہے،انہوں نے بلاتامل حضرت عبدالرحمن پر بھی اپنا فتویٰ جاری کردیا، اس پر حضرت کعبؓ احبار جو حضرت فاروق  اعظمؓ کے عہد خلافت میں مسلمان ہوئے تھے اوربنی اسرائیل کے زبردست عالم تھے، معترض ہوئے ،ابو ذر نے یہ کہہ کر کہ اے یہودی تجھ کو ان مسائل سے کیا واسطہ اپنا عصا اٹھایا اورکعب احبار پر حملہ آور ہوئے،کعب احبار بھاگے اورحضرت عثمان غنیؓ کی مجلس کی طرف گئے، اُن کے پیچھے پیچھے ابوذرؓ بھی اپنا عصا لئے ہوئے پہنچے،بڑی مشکل سے حضرت عثمان کے غلاموں نے کعب احبار کو بچایا اور حضرت ابو ذرؓ کو باز رکھا،حضرت ابو ذرؓ کا غصہ جب فرو ہوا تو وہ خود حضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ میرا تو عقیدہ یہی ہے کہ سب کا سب مال خدا کی راہ میں خرچ کردینا واجب ہے شام کے لوگوں نے میری مخالفت کی اور مجھ کو ستانا چاہا،اب مدینہ میں بھی لوگ اسی طرح میری مخالفت کرنے لگے ہیں،آپ بتائیں کہ میں کیا تدبیرا اختیار کروں اورکہاں چلا جاؤں ،اس پر حضرت عثمان غنیؓ نے اُن کو مشورہ دیا کہ آپ مدینہ سے باہر کسی گاؤں میں سکونت اختیار فرمالیں ؛چنانچہ حضرت ابو ذرؓمدینہ سے تین میل کے فاصلے پر مقام موضع ربذہ میں جاکر سکونت پذیر ہوگئے۔

خَاتمِ نَبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگشتری جس سے خطوط اورفرامین مہر کیا کرتے تھے،وفات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس تھی،حضرت عائشہؓ نے وہ انگوٹھی جب کہ صدیق اکبرؓ خلیفہ منتخب ہوگئے تو اُن کو سپرد کردی،صدیق اکبرؓ کے بعد وہ انگوٹھی فاروق اعظمؓ کے پاس رہی، فاروق اعظمؓ نے جب کہ انتخاب کا کام اصحاب شوریٰ کے سپرد کیا،وہ انگوٹھی ام المومنین حضرت حفصہؓ کو سپرد کردی،کہ جو شخص خلیفہ منتخب  ہو اُس کو پہنچا دی جائے،جب حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ مقرر ہوئے،تو حضرت حفصہؓ نے وہ انگشتری اُن کی خدمت میں پہنچادی،اسی سال یعنی ۳۰ ھ میں مدینہ میں وہ دو میل کے فاصلے پر ایک کنویں میں جس کا نام بیرا ریس ہے،وہ انگشتری حضرت عثمانؓ کے ہاتھ سے گر گئی،اس کنویں کا تمام پانی سینچ دیا گیا اورانگوٹھی کے لئے بڑی تلاش و کوشش کی گئی،لیکن وہ کہیں ہاتھ نہ آئی، خاتم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح غائب ہوجانے سے حضرت عثمانِ غنیؓ کو سخت ملال ہوا، اُسی وقت سے حضرت عثمان غنیؓ پر حادثات وفتن کا نزول شروع ہوا، حضرت عثمانِ غنیؓ نے اُس انگوٹھی کے گم ہوجانے پر ایک اور انگوٹھی بالکل اسی طرح اسی نمونہ اوراُسی شکل وشمائل کی بنوائی تھی۔
اسی سال جب مسجد نبوی میں نمازیوں کی کثرت ہوئی اورجمعہ کے دن ایسی کثرت ہونے لگی کہ اذان کی آواز سب نمازیوں تک پہنچنی دشوار ہوئی، تو حضرت عثمان غنی نے حکم دیا کہ مؤذن بلند مقام پر چڑھ کر خطبہ کی اذان سے پہلے ایک اور اذان دیا کریں، اس طرح جمعہ کے دن دو اذانیں ہونے لگیں، اسی سال حضرت عثمانِ غنیؓ نے صحابہ کرام کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی عراق وشام کی جائدادیں فروخت کرکے ،مکہ ،طائف وغیرہ میں جائدادیں خرید لیں؛چنانچہ اکثر صحابہؓ نے اس پر عمل کیا۔

فتح طبرستان:
سعید بن العاص نے کوفہ کی گورنری پر مامور ہوکر اورکوفہ پہنچ کر ایک لشکر مرتبہ کیا،اس لشکر میں حسن بن علیؓ، عبداللہ بن عمرؓ، ابن عمروؓ،عبداللہ بن زبیرؓ،حذیفہ بن الیمانؓ وغیرہ بھی شامل تھے،اس لشکر کے ساتھ سعید بن العاصؓ نے طبرستان پر حملہ کرکے طبرستان وجرجان کے تمام علاقے اورمشہور شہروں کو فتح کرلیا اوریزید بن المہلب کو قومس کی طرف روانہ کیا۔

اشاعت قرآن مجید:
حضرت حذیفہ بن الیمانؓ جب بصرہ،کوفہ،رے، شام وغیرہ ہوتے ہوئے مدینہ منورہ میں واپس تشریف لائے،تو انہوں نے کہا  کہ یہ عجیب بات ہے کہ عراق والے قرآن مجید کو ایک اور قرأت پر پڑھتے  اور شام والے کسی دوسری قرأت کو پسند کرتے ہیں،بصرہ والوں کی قرأت کوفہ والوں سے اور کوفہ والوں کی قرأت فارس والوں سے الگ ہے،مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب کو ایک ہی قرأت پر جمع کیا جائے،حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرام کو جمع کرکے مجلس مشورت منعقد کی،سب نے حذیفہ بن الیمانؓ کی رائے کو پسند فرمایا،اُس کے بعد حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت حفصہؓ کے پاس سے قرآن مجید کا وہ نسخہ منگوایا جو خلافت صدیقی میں حضرت زید بن ثابتؓ اور دوسرے صحابہ کے زیر اہتمام جمع اور مرتب ہوا تھا اور اول حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پاس پھر اُن کے بعد فاروق اعظمؓ کے زیر تلاوت رہا اور فاروق اعظمؓ کی شہادت کے بعد حضرت حفصہؓ کے پاس تھا،اس قرآن مجید کی نقل اور کتابت پر عثمان غنی نے کئی معقول وموزوں حضرات کو معمور کیا، جب بہت سی نقلیں تیار ہوگئیں، تو ایک نسخہ بڑے بڑے شہروں میں بھیج کر ساتھ ہی حکم بھیجا کہ سب اسی کے موافق قرآن مجید نقل کرائیں اور پہلی جو نقل جس کے پاس ہو وہ جلادی جائے کوفہ میں جب قرآن مجید پہنچا تو صحابۂ کرام بہت خوش ہوئے، لیکن عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنی ہی قرأت پر اصرار کیا۔

۳۱ھ کے واقعات:
دربار خلافت سے جو احکام جاری ہوئے اُن کے مواق ہرم بن حیان لشکری،ہرم حیان عبسی حرث بن راشد بلادفارس کے اضلاع میں احنف بن قیس خراسان میں اور حبیب بن قرہ مرو میں، خالد بن عبداللہ بلخ میں ،قیس بن بیرہ طوس میں عامل مقرر ہوئے،خراسان کے کئی شہروں میں بغاوت نمودار  ہوئی،عبداللہ بن عامر نے فوج کشی کرکے تمام بغاوتوں کو فرو کیا پھر نیشا پور پر چڑھائی کرکے وہاں کے سرکشوں کو درست کیا،نیشا پور سے فارغ ہوکر حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے ایک لشکر سرخس کی طرف روانہ کیا اورایک جمعیت لے کر خود ہرات کی جانب گئے،ہرات کو فتح کرکے بلخ وطبرستان کی بغاوتوں کو فرو کیا،اس کے بعد کرمان سجستان اورفارس کے صوبوں میں جاکر وہاں کے تمام سرکشوں کو مطیع ومنقاد کیا،اس طرح تمام بلاد ایران وعراق میں عبداللہ بن عامر کی دھاک بیٹھ گئی اورلوگ اُن کے نام سے خوف کھانے لگے۔

یزد جرد کی ہلاکت:
ایرانی سلطنت تو فاروق اعظمؓ ہی کے عہد خلافت میں برباد ہوچکی تھی،سلطنت کے بعد سرحدی صوبے یا بعض شہر جو باقی تھے وہ خلافت عثمانی میں مسخر ہوگئے تھے،لیکن یزد جرد شاہ فارس کی حالت یہ تھی کہ کبھی رے میں ہے کبھی بلخ میں کبھی مرو میں ہے تو کبھی اصفہان میں کبھی اسطخر  میں ہے تو کبھی جیحون  کو عبور  کرکے ترکستان  کو چلا گیا ہے کبھی چین  میں ہے کبھی پھر فارس کے اضلاع میں آگیا ہے،غرض اس کے ساتھ کئی ہزار ایرانیوں کی جمعیت تھی،اور وہ اپنی خاندانی عظمت اورساسانی اقتدار وبزرگی کی بدولت لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلینے میں کامیاب  ہوجاتا  اورلوگ بھی اس توقع میں کہ شاید اس کا ستارۂ  اقبال پھر طلوع ہو، اس کے ساتھ ہوجاتے تھے،یہی سب سے بڑی وجہ تھی کہ ایران کے اکثر صوبوں ،ضلعوں اورشہروں میں کئی کئی مرتبہ بغاوت ہوئی،اورمسلمان سرداروں نے اس کو بار بار فرو کیا، اس مرتبہ یعنی ۳۱ ھ میں یزد جر د چین وترکستان کی طرف سے ایک جمعیت کے ساتھ نواح بلخ میں آیا، یہاں اس نے بعض شہروں  پر چند روز قبضہ حاصل کیا لیکن اس کے  اقبال کی نحوست نے اُس کو ناکام فرار ہونے اور مسلمان کی قید میں پڑنے کے لئے بھاگ کر ایک پن چکی والے کی پناہ میں جانے پر مجبور کیا پن چکی والے نے اس کے قیمتی لباس کے لالچ  میں جب کہ وہ سورہا تھا قتل کردیا اورلباس و زیور  اورہتھیار وغیرہ اُتار کر اس کی لاش کو پانی میں ڈال دیا،یہ واقعہ نواح مرو میں مقام مرغاب کے متصل ۲۳ اگست ۶۵۱ ء کو وقوع پذیر ہوا ،یزد جرد کے چار سال تو عیش وعشرت کی حالت میں گذرے،سولہ برس تباہی وآوارگی میں بسر ہوئے ان سولہ برس میں آخری دس سال مفروری کے عالم میں گذرے، اس کے بعد ایرانی فتنے سب فرو ہوگئے۔
اسی سال محمد بن ابی حذیفہؓ اورمحمد بن ابی بکرؓ نے جو مصر میں والی مصر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے پاس مقیم تھے عبداللہ بن سعد سے مخالفت وناخوشی  کا اظہار کیا،عبداللہ بن سعد کے ساتھ اُن  دونوں بزرگوں کی ناخوشی بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے علانیہ حضرت عثمان غنیؓ پر اعتراض وطعن کیا کہ انہوں نے عبداللہ  بن سعد جیسے شخصوں کو جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناخوش رہے صوبوں کا گور نر بنا رکھا ہے اوران کی زیادتیاں اورمظالم دیکھ کر بھی معزول نہیں کرتے۔

۳۲ھ کے واقعات:
۳۱ ھ کے ماہ ذی الحجہ میں جب عبداللہ بن عامر حج بیت اللہ کے لئے خانۂ کعبہ کی طرف روانہ ہوئے تو  ملک ایران کے ایک ایرانی سردار مسمی قارن نے ملک کے مختلف صوبوں سے چالیس ہزار کا ایک لشکر جمع کرکے ایرانی صوبوں پر قبضہ کرلینے کا مناسب موقع پایا،قارن کی اس شرارت ودلیری کے مقابلے میں عبداللہ بن حازم ایک سردار نے صرف چند ہزار مسلمانوں کی جمعیت سے وہ کارنمایاں کیا کہ ایرانیوں کو سخت ترین ذلت ونامرادی کے ساتھ شکست کھانی پڑی، عبداللہ بن حازم اپنی تین چار ہزار جمعیت کو لے کر ایرانیوں کے چالیس ہزار لشکر کی طرف روانہ ہوئے،قریب پہنچ کر انہوں  نے مجاہدین کو حکم دیا کہ اپنے اپنے نیزوں  کو کپڑا لپیٹ لیں اورکپڑے تیل و چربی سے ترکرلیں جب لشکر کا رن  کے قریب پہنچا تو شام ہوکر رات ہوچکی تھی،عبداللہ بن حازم نے حکم دیا کہ تمام نیزوں کے کپڑوں کو آگ لگادیں اور دشمن پر حملہ آور ہوں اس اچانک حملہ آوری اوران شعلوں کی روشنی دیکھ کر ایرانی حواس باختہ ہوکر بھاگے اور کسی کو مقابلہ  کرنے کا ہوش نہ رہا،مسلمانوں نے بہتوں کو قتل کیا،بہتوں کو گرفتار کیا،بہت سے اپنی جان بچا کر لے گئے اور بچ کر نکلئے،عبداللہ بن عامر حج بیت اللہ سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ  حضرت عثمانیؓ  کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے،بعض روایات کے بموجب حضرت عبدالرحمن  بن عوفؓ نے ۸۵برس  کی عمر میں اس سال یعنی ۳۲ھ میں وفات پائی اور بہت سی دولت اوراولاد چھوڑی۔

۳۳ھ کے واقعات:
ولید بن عقبہ کی معزولی کے بعد کوفہ کی گورنری پر سعید بن العاصؓ مقرر ہوئے تھے جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا ہے،سعید بن العاصؓ نے کوفہ میں پہنچ کر اہل کوفہ کی دلجوئی اورمدارات میں کوئی کوتاہی نہ کی،مالک بن حارث نخعی جو مالکِ بن اشترکے نام سے مشہور ہے،ثابت بن قیس ہمدانی،اسود بن یزید،علقمہ بن قیس، جندب بن زہیر جندب بن کعب ازدی،عروہ بن الجعد،عروبن الحق خزاعی، صعصعہ وزید پسران سوجان بن المواعدی مکیل بن زیاد وغیر ہم سب سعید بن العاصؓ کی صحبت میں آکر بیٹھتے اوربے تکلفانہ باتیں کرتے کبھی ہنسی مذاق کی باتیں بھی ہوجاتیں،ایک روز سعید بن العاصؓ  گورنر کوفہ کی زبان سے نکلا کہ یہ علاقہ تو قریش کا باغ ہے،یہ سُن کر مالک اشترنے فورا غصے کے لہجہ میں کہا کہ جس علاقے کو اللہ تعالیٰ نے ہماری تلواروں کے زور سے فتح کیا ہے تم اس کو اپنی قوم کا بستان خیال کرتے ہو،ساتھ ہی دوسرے  لوگوں نے اس قسم کی باتیں شروع کیں،شوروغل بلند ہوا تو عبدالرحمن اسدی نے لوگوں کو شور وغل مچانے سے منع کیا، اُس پر سب نے مل کر عبدالرحمن کو مارا اوراس قدر زدوکوب کیا کہ بے چارہ بے ہوش ہوگیا، اس واقعہ کے بعد سعید بن العاصؓ نے رات کی صحبت موقوف کرکے درباری مقرر  کردیئے کہ لوگوں کو آنے سے باز رکھیں،اس رات کی روزانہ مجلس کے برخاست ہونے کا لوگوں کو بہت ملال ہوا اوراب عام طور پر جہاں دو چار آدمی مل کر بیٹھتے یا کھڑے ہوتے سعید بن العاصؓ کی اوراُن کے ساتھ حضرت عثمان غنیؓ کی بھی شکایت زبان پر لاتے،ان شکایت کرنے والوں کے گرد اوربہت سے بازاری آدمی جمع ہوجاتے۔
رفتہ رفتہ یہ سلسلہ طویل ہوا اورفتنہ بڑھنے لگا تو سعید بن العاصؓ نے یہ تمام روداد حضرت عثمان غنی کی خدمت میں  لکھ کر بھیج دی،عثمان غنیؓ نے جواباً سعید بن العاصؓ کو لکھا کہ ان لوگوں کو کوفہ سے شام کی طرف امیر معاویہؓ  کے پاس بھیج دو، چنانچہ سعید بن العاصؓ نے سب کو شام کی طرف روانہ کردیا،حضرت امیر معاویہؓ نے اُن کی خوب خاطر مدارات کی،اُن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور اُن کا روزینہ بھی مقرر  کردیا،بات یہ تھی کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کو لکھ دیا تھا کہ چند سرکش لوگوں  کی ایک جماعت تمہاری طرف بھجوائی جاتی ہے تم کو شش کرو کہ وہ راہِ راست پر آجائیں،اسی لیے امیر معاویہ نے ان لوگوں کے ساتھ نہایت محبت وہمدردی کا برتاؤ کیا، چند روز کے بعد انہوں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ قریش کی سیادت کو تسلیم کریں اورمسلمانوں کے باہمی اتفاق کو درہم برہم نہ ہونے دیں ؛لیکن خلیفہ ابن صوجان نے امیر معاویہؓ کی نہایت معقول وہمدردانہ باتوں کا بہت ہی غیر معقول اور سراسرنادرست جواب دیا اوراپنی ضد پر اڑارہا،مجبوراً امیر معاویہؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کو لکھا کہ یہ لوگ راہ راست پر آنے والے نظر نہیں آتے،حضرت عثمان غنیؓ نے اُن کو لکھا کہ ان لوگوں کو حمص کی جانب عبدالرحمن بن خالدؓ کے پاس بھیج دو، حضرت امیر معاویہؓ نے اُن کو حمص کی جانب روانہ کردیا،عبدالرحمنؓ بن خالد والی حمص نے ان کے ساتھ ان کے حسب حال سختی اور درشتی کا برتاؤ کیا،حتی کہ اپنی مجلس میں بیٹھنے کی بھی  اجازت نہیں دی، چند روز کے بعد یہ لوگ سیدھے ہوگئے اوراپنی سابقہ سرکشی کی حرکات پر اظہار افسوس کیا، عبدالرحمن بن خالد  نے اس کی اطلاع دربار خلافت کو لکھ بھیجی وہاں سے اجازت آگئی کہ اگر یہ لوگ اب کوفہ کی طرف جانا چاہیں تو جانے دو

عبداللہ بن سبا:
عبداللہ بن سبا المعروف بہ ابن السوداء شہر صنعاء کار ہنے والا ایک یہودی تھا،وہ حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں یہ دیکھ کر کہ مسلمانوں کو دولت خوب حاصل ہوتی ہے اوراب یہی دنیا میں سب سے بڑی فاتح قوم بن گئی ہے مدینہ میں آیا اور بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا، مدینہ میں اس کا آنا اور رہنا بہت ہی غیر معروف اورناقابل التفات تھا، اس نے مدینے میں رہ کر مسلمانوں کی اندرونی اورداخلی کمزوریوں کو خوب جانچا اور  مخالف اسلام تدابیر کو خوب سوچا،انہیں ایام میں بصرہ  کے اندر ایک شخص حکیم بن جبلہ رہتا تھا،اس نے یہ طرفہ اختیار کیا کہ اسلامی لشکر کے ساتھ کسی فوج میں شریک ہوجاتا تو موقع پاکر ذمیوں کو لوٹ لیتا کبھی کبھی اورلوگوں کو بھی اپنا شریک بنانا اورڈاکہ زنی اختیار کرنا، اس کی ڈاکہ زنی کی خبریں مدینہ میں حضرت عثمان غنیؓ تک پہنچیں۔
انہوں نے گورنر بصرہ کو لکھا کہ حکیم بن جبلہ کو شہر بصرہ کے اندر نظر بند رکھو اور حدود شہر سے باہر  ہرگز نہ نکلنے دو اس حکم کی تعمیل میں وہ بصرہ کے اندر محصور ونظر بند رہنے لگا، عبداللہ بن سبا حکیم بن جبلہ کے حالات سُن کر مدینہ سے روانہ ہوا اور بصرہ میں پہنچ کر حکیم بن عبداللہ کے مکان پر مقیم ہوا، یہاں اس نے حکیم بن جبلہ اور اس کے ذریعہ  اس کے دوستوں اور دوسرے لوگوں سے مراسم پیدا کئے اپنے آپ کو مسلمانوں کا حامی اور خیر خواہِ آل رسول ظاہر  کرکے لوگوں کے دلوں میں اپنے منصوبے کے موافق فساد انگیز خیالات وعقائد پیدا کرنے لگا، کبھی کہتا کہ مجھ کو تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس بات کے تو قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے ؛لیکن اس بات کو نہیں مانتے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  بھی دنیا میں ضرور آئیں گے؛چنانچہ ان لوگوں کو "إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ"  کی غلط تفسیر سُنا سُنا کر اس عقید ے پر قائم کرنا شروع کیا کہ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی مراجعت دنیا میں ضرورہوگی،بہت سے احمق  اس فریب میں آگئے،پھر اس نے ان احمقوں کو اس عقیدے پر  قائم کرنا شروع کیا کہ ہر پیغمبر کا ایک خلیفہ اور وصی ہوا کرتا ہے، اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں، جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  خاتم الانبیاء ہیں،اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ خاتم الاوصیاء ہیں، پھر اس نے علانیہ کہنا شروع کیا کہ لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضرت علیؓ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بناکر بڑی حق تلفی کی ہے،اب سب کو چاہئے کہ حضرت علیؓ کی مدد کریں اور موجودہ خلیفہ کو قتل یا معزول کرکے حضرت علیؓ کو خلیفہ بنادیں ،عبداللہ بن سبایہ تمام منصوبے اوراپنی تحریک  کی ان تمام چیزوں کو مدینہ منورہ سے سوچ سمجھ کر بصرہ آیا تھا اوراس نے نہایت احتیاط اورقابلیت کے ساتھ بااقساط اپنی مجوزہ بد عقیدیوں کو شائع کرنا اورلوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا۔
رفتہ رفتہ اس فتنے کا حال بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عامر کو معلوم ہوا تو انہوں نے عبداللہ بن سبا کو بلا کر پوچھا کہ تم کون ہو،کہاں سے آئے اوریہاں کیوں آئے ہو، عبداللہ بن سبا نے کہا مجھ کو اسلام سے دلچسپی ہے میں اپنے یہودی مذہب کی کمزوریوں کے خلاف ہوکر اسلام کی طرف متوجہ ہوا ہوں اوریہاں آپ کی رعایا بن کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں، عبداللہ بن عامر نے کہا کہ میں نے تمہارے حالات اورتمہاری باتوں کو تحقیق کیا ہے،مجھ کو تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کوئی فتنہ برپا کرنا اورمسلمانوں کو گمراہ کرکے یہودی ہونے کی حیثیت سے جمعیت اسلامی میں افتراق وانتشار پیدا کرنا چاہتے ہو،چونکہ عبداللہ بن عامر کی زبان سے پتے کی باتیں نکل گئی تھیں،لہذا اس کے بعد عبداللہ بن سبانے بصرہ میں اپنا قیام مناسب نہ سمجھا اوراپنے خاص الخاص راز دار اورشریک کار لوگوں کو وہاں چھوڑ کر اور اپنی بنائی ہوئی جماعت کے لئے مناسب تجاویز ہدایات سمجھا کر بصرہ سے چل دیا،اوردوسرے اسلامی فوجی مرکز یعنی کوفہ میں آیا، یہاں پہلے ہی سے ایک جماعت حضرت عثمان غنیؓ اوران کے عامل کی دشمن موجود تھی،عبداللہ بن سبا کو کوفہ میں آکر بصرہ سے زیادہ بہتر موقع اپنی شرارتوں کو کامیاب بنانے کا ملا،عبداللہ بن سبا کو ایک طرف تو اسلام سے مخالفت  تھی دوسری طرف اس کو حضرت عثمان  غنیؓ سے خاص ذاتی عداوت تھی اورحضرت عثمان غنیؓ سے کوئی انتقام یا بدلہ لینے کا خواہش مند معلوم ہوتا تھا کوفہ میں آکر بہت جلد عبداللہ بن سبا نے اپنے زہد واتقا کا سکہ لوگوں کے دلوں  پر بٹھادیا،عام طور پر لوگ اس کو تعظیم وتکریم کی نگاہ سے دیکھنے اوراس کا ادب ولحاظ کرنے لگے،جب کوفہ میں عبداللہ بن سبا کے پھیلائے ہوئے خیالات کا چرچا ہوا تو یہاں کے گورنر سعید بن العاصؓ نے اُسے بلاکر ڈانٹا اور وہاں کے سمجھدار اورشریف آدمیوں نے بھی اس کو مشتبہ آدمی سمجھا؛چنانچہ عبداللہ بن سبا کوفہ سے نکل کر شام کی طرف روانہ ہوا،مگر جس طرح بصرہ میں وہ اپنی جماعت چھوڑ آیا تھا اسی طرح کوفہ میں بھی اُس نے اپنی ایک زبردست جماعت چھوڑی،جس میں  مالک اشتر وغیرہ مذکورہ بالااشخاص اوران کے احباب اوراقارب زیادہ تر شامل تھے،کوفہ سے وہ شام یعنی دمشق میں پہنچا تو یہاں اس کی دال زیادہ نہ گلی اور جلد ہی اسے یہاں سے شہر بدر ہونا پڑا،عبداللہ بن سبا کی عداوت حضرت عثمان غنیؓ اوربنو امیہ سے دم بہ دم ترقی کررہی تھی، اورہر جلاوطنی کے لئے ایک نیا میدان اورنیا موقع کامیابی کا پیدا کردیتی تھی،شام  سے خارج ہوکر وہ سیدھا مصر میں پہنچا،وہاں کے گورنر  عبداللہ بن سعد تھے مصر میں عبداللہ بن سبا نے اپنے سابقہ تجربہ سے فائدہ اُٹھا کر زیادہ احتیاط اورزیادہ گہرے پن کے ساتھ کام شروع کیا یہاں اس نے اپنی خفیہ سو سائٹی کا مکمل نظام مرتب کیا اورمحبت اہلبیت اورحمایت علیؓ کے اظہار کوخاص الخاص ذریعہ کامیابی بنایا،مصر کے گورنر عبداللہ بن سعد کی نسبت بھی مصریوں کو اوروہاں کے مقیم عربوں کو شکایات تھیں ،عبداللہ بن سعد کو افریقہ پرنیز قیصر قسطنطنیہ کے معاملات کی وجہ سے داخلی باتوں کی طرف زیادہ متوجہ رہنے کی فرصت بھی نہ تھی۔
یہاں سے عبداللہ بن سبا نے اپنے بصرہ کوفہ کے دوستوں سے خط وکتابت جاری کی اورمقررہ نظام کے موافق مصر، کوفہ، اور بصرہ سے  وہاں کے عاملوں کی شکایت میں مدینہ والوں کے پاس پیہم خطوط جانے شروع ہوئے،ساتھ ہی بصرہ والوں کے پاس کوفہ اورمصر سے خطوط پہنچے کہ یہاں کے گورنروں نے بڑے ظلم  پر کمر باندھ رکھی ہے اوررعایا پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اسی طرح بصرہ اورکوفہ سے مصر والوں کے پاس اوربصرہ ومصر و دمشق سے کوفہ والوں کے پاس خطوط پہنچنے لگے، چونکہ  کسی جگہ بھی عاملوں اور گورنروں کے ہاتھ سے رعایا پر ظلم نہ ہوتا تھا، لہذا ہر جگہ کے آدمیوں نے یہ سمجھا کہ ہم سے زیادہ اور تمام صوبوں پر ظلم و تشدد اوربے انصافی روا رکھی جارہی ہے اور حضرت عثمان غنیؓ ظالمانہ طور پر اپنے عاملوں اور گورنروں کو ان کے عہدوں پر بحال رکھتے اور معزول کرنے سے انکار کرتے ہیں چونکہ ہر ایک صوبے اور ہر ایک علاقے سے مدینہ منورہ میں بھی برابر خطوط پہنچ رہے تھے، لہذا حضرت عثمان غنیؓ نے عمار بن یاسرؓ کو مصر کی جانب اور محمد بن مسلمہ کو کوفے کی جانب روانہ کیا کہ وہاں کے حالات دیکھ کر آئیں اور صحیح اطلاع دربار خلافت میں پہنچائیں، عمار بن یاسرؓ جب مصر میں پہنچے تو وہاں کے ان لوگوں نے جو عبداللہ بن سعدؓ گور نر مصر سے ناخوش تھے اوران لوگوں نے جو عبداللہ بن سبا کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے عمار بن یاسر کو اپنا ہم نوا وہم خیال بنالیا اور ان کو مدینہ منورہ میں واپس جانے سے یہ کہہ کر روک لیا کہ حضرت عثمانؓ دیدہ ودانستہ ظلم وستم کو روا رکھتے ہیں ان کی امداد ومصاحیت سے پرہیز کرنا مناسب ہے،محمد بن مسلمہ نے کوفہ پہنچ کر حضرت عثمان غنیؓ کو اطلاع دی کہ یہاں کے عوام بھی اور شرفاء بھی علانیہ زبان درازی اورطعن و تشنیع پر زبان کھولتے  اور عذر بغاوت  کے علامات کا اظہار  کررہے ہیں، انہیں ایام میں اشعث بن قیس، سعید بن قیس، صائب بن اقرع، مالک بن حبیب، حکیم بن سلامت ،جریر بن عبداللہ، سلمان بن ربیع وغیرہ حضرات جو صاحبِ  اثر اورعزم وہمت کے وارث اور خلافت اسلامیہ کے حامی تھے کوفہ سے دوسرے مقامات کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔
سعید بن العاصؓ نے ہر طرف شورش اورلوگوں کی زبانوں پر علانیہ  شکایات کو دیکھ کر قعقاع بن عمرو کو اپنا قائم مقام بنایا اورکوفہ سے مدینہ کا عزم کیا کہ خلیفۂ وقت کو جاکر خود زبانی تمام حالات  سنائیں، اوراندیشہ وخطرہ کی پوری کیفیت سمجھائیں، سعید بن العاصؓ کے روانہ ہونے کے بعد کوفہ کے لوگوں نے مالک اشتر وغیرہ کو جو حمص میں مقیم تھے لکھا کہ آج کل کوفہ بالکل خالی ہے جس طرح ممکن ہو اپنے آپ کو کوفہ میں پہنچادیں،کوفہ میں بارعب عمال خلافت کے موجود نہ رہنے کے سبب عوام کی زبانیں  بالکل  بے لگام ہوگئیں  اورعلانیہ لوگ عثمان غنیؓ اوران کے عاملوں کو برا بھلا کہنے اورطعن و تشنیع کرنے لگے اس ہنگامے نے یہاں تک ترقی کی کہ یزید بن قیس کوفہ والوں کی ایک جمعیت ہمراہ لے کر اس ارادے سے نکلا کہ مدینہ میں پہنچ کر حضرت عثمان غنیؓ کو خلع خلافت پر مجبور کرے، قعقاع بن عمرو یہ دیکھ کر سدِّ راہ ہوئے اورایک جمعیت اپنے ہمراہ لے جاکر یزید بن قیس کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔
یزید نے قعقاع بن عمرو کی منت وسماجت کرلی اورکہا مجھ کو سعید بن العاصؓ سے بعض شکایات ہیں اس کے سوا اورکوئی مقصد نہ تھا کہ سعید بن العاصؓ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کرایا جائے،قعقاع بن عمرو نے یزید کو چھوڑدیا،لیکن اس کے بعد ہی مالک بن اشتراپنی جماعت کے ساتھ حمص سے کوفہ میں پہنچ گیا،ان لوگوں کے کوفے پہنچنےپر شورش پسندوں میں ایک تازہ قوت اورجوش پیدا ہوا،مالکِ اشتر نے علانیہ لوگوں پر یزید بن قیس کی جماعت میں شامل ہونے کی ترغیب دی اورخود بھی یزید بن قیس کے لشکریوں میں شامل ہوکر کوفہ سے روانہ ہوا قعقاع اس جمعیت کا مقابلہ نہ کرسکے، یہ لوگ کوفہ سے روانہ ہوکر قادسیہ کے قریب مقام جرعہ میں پہنچے۔

۳۴ھ کے واقعات:
کوفہ کی تو وہ حالت تھی جو اوپر مذکور ہوئی،اُدھر حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے دوسرے عاملوں کے نام بھی فرامین روانہ کردئے کہ اس مرتبہ بعد حج سب مدینہ منورہ میں میرے پاس آکر شریک مشورہ ہوں؛ چنانچہ  شام سے حضرت امیر معاویہؓ ،مصر سے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح،کوفہ سے سعید بن العاصؓ، بصرہ سے عبداللہ بن عامر اور بعض دوسرے چھوٹے چھوٹے صوبوں سے بھی وہاں کے عامل مدینہ  میں آکر جمع ہوئے،حضرت عثمان غنیؓ نے علاوہ ان عمال کے مدینہ منورہ کے صاحب الرائے حضرات کو بھی شریک مجلس کیا اوردریافت کیا کہ یہ شورش جو میرے خلاف پھیلی ہے اس کا سبب بتاؤ  اورمجھ کو مفید مشورہ دو کہ میں کیا کروں عبداللہ بن عامر نے کہا کہ میرے نزدیک ان لوگوں کو جہاد میں مصروف کردینا بہترین علاج ہے ،خالی بیٹھے ہوئے اس قسم کے فساد اور فتنے سوجھتے ہیں، جب جہاد میں مصروف ہوجائیں گے تو یہ شورشیں خود بخود فنا ہوجائیں گی، سعید بن العاصؓ نے کہا کہ ان شریر لوگوں کے سرداروں یعنی شرارت کے اماموں  کی بات بات پر معقول گرفت کی جائے اوران کو منتشر کردیا جائے،اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کے پیر ولوگ خود بخود منتشر ہوجائیں گے، امیر المومنین حضرت عثمانؓ نے کہا کہ یہ رائے تو معقول ہے لیکن اس پر عملدر آمد آسان نہیں،حضرت  امیر معاویہؓ نے کہا کہ ہم لوگ جو صوبوں کے گورنر  ہیں اپنے اپنے صوبوں کو سنبھالیں اوران مفسدوں سے ہر ایک صوبے کو بکلی پاک کردیں،عبداللہ بن سعدؓ نے کہا کہ یہ لوگ سب کے سب لالچی اورزبردست ہیں ان کو مال و زرد ے کر اپنا بنالینا چاہئے۔
 اسی مجلس میں جب شورش اورفساد کے متعلق اصل حالات ایک دوسرے سے دریافت کئے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ تمام شورش  محض فرضی اورخیالی طور پر برپا کی گئی ہے،اصلیت اس کی کچھ بھی نہیں ہے،یہ معلوم ہوکر لوگوں کو اور بھی تعجب ہوا،بعض حضرات نے یہ مشورہ دیا کہ جو لوگ اس قسم کی شرارتوں اوربغاوتوں میں حصہ لیتے ہیں،ان سب کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر قتل کردیا جائے، اور مجرموں کے ساتھ کسی نرمی اوررعایت کو روانہ رکھا جائے، حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ میں صرف اس قدر سزا دے سکتا ہوں جس قدر قرآن وحدیث نے مقرر کی ہے،جب تک میں کسی کو علانیہ مرتد ہوتے ہوئے نہ دیکھوں اس وقت کیسے کسی کو قتل کرسکتا ہوں، جن جن جرموں کی حدود مقرر ہیں انہیں پر حد جاری کرسکتا ہوں،باقی اپنے خلاف ہر ایک فتنہ کو صبر واستقامت کے ساتھ برداشت کرنے کا عزم رکھتا ہوں، غرض اس قسم کی باتیں ہوکر یہ مجلس برخاست ہوئی اور کوئی خاص تجویز اورطرز عمل نہیں سوچا گیا،البتہ یہ ضرور ہوا کہ جہاد کے لئے بعض اطراف میں فوجیں روانہ کرنے کا حکم ضرور بعض عاملوں کو دیا گیا،مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر عمال اپنے اپنے صوبوں کی طرف روانہ ہوئے ،جب سعید بن العاصؓ اپنے صوبے کی طرف روانہ ہوئے تو مقام جرعہ پر پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ کوفہ والوں کا ایک بڑا لشکر یزید بن قیس کی ماتحتی میں موجود ہے،سعید بن العاصؓ کے پہنچنے پر یزید نے بڑی سختی اوردرشتی  سے کہا کہ تم یہاں سے فوراً واپس چلے جاؤ،ہم تم کو کوفہ میں ہرگز داخل نہ ہونے دیں گے،یہ سُن کر سعید بن العاصؓ کے غلام نے کہا کہ یہ نا ممکن ہے کہ سعید واپس چلے جائیں،یہ سُن کر مالک اشتر نے فوراً آگے بڑھ کر سعید کے غلام کا پاؤں پکڑا اوراونٹ سے نیچے کھینچ کر قتل کردیا اورسعید بن العاصؓ سے کہا کہ جاؤ عثمان سے کہدو کہ ابو موسیٰ اشعری کو بھیج دے، سعید مجبوراً وہاں سے لوٹے اور مدینے میں واپس آکر تمام ماجرا حضرت عثمان غنیؓ کو سنایا انہوں نے اسی وقت ابو موسیٰ اشعری کو اپنے پاس بلا کر کوفہ کی گور نری پرمامور فرمایا، ابو موسی اشعریؓ مدینہ سے روانہ ہوکر  کوفہ میں پہنچے اوراپنے ہمراہ حضرت عثمان کا ایک خط کوفہ والوں کے نام لائے کہ تم نے جس شخص کو اپنے لئے پسند اورمنتخب کیا ہے اسی کو تمہاری طرف بھیجا جاتا ہے یہ بھی لکھا تھا کہ جہاں تک شریعت مجھ کو اجازت  دے گی میں تمہاری خواہشات پوری کئے جاؤں گا اورتمہاری زیادتیوں کو برداشت کرکے تمہاری اصلاح کی کوشش کروں گا۔
ابو موسیٰ نے کوفہ میں پہنچ کر جمعہ کے روز تمام لوگوں کے سامنے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا جس میں جماعت مسلمین کے اندر تفرقہ مٹانے اورامیر المومنین عثمان غنیؓ کی اطاعت کرنے کی تاکید کی ابو موسیٰ کی اس تقریر سے کوفہ میں کسی قدر سکون نمودار ہوا اورعام لوگ جو سبائی جماعت سے بے خبر  اور بے تعلق تھے مطمئن ہوگئے،لیکن عبداللہ بن سبا کے گروہ اورحضرت عثمانؓ سے عناد رکھنے والوں نے رفتہ رفتہ حضرت عثمان غنیؓ  کے عمال اور کوفہ کےاردگرد کے اضلاع میں رہنے والے چھوٹے چھوٹے حکام کے متعلق جو عثمان غنیؓ کے مقرر کئے ہوئے تھے شکایات کرنی شروع کیں اور خط و کتابت کے ذریعہ مدینہ منورہ میں دوسرے بااثر  حضرات  کو بھی حضرت عثمان غنیؓ سے بد گمان بنانا شروع کیا ،مدینہ والوں کے پاس جب باہر والوں سے عاملوں کی شکایات میں خطوط پہنچتے تو وہ بہت پیچ وتاب کھاتے، حضرت عثمان غنیؓ کے پاس آتے اوراُن کو عمال کی سزا دہی اورمعزولی کے لئے مجبور کرتے، حضرت عثمان غنیؓ  عندالتحقیق چونکہ اپنے عاملوں کو بے خطا پاتے لہذا وہ اُن کو سزادینے یا معزول کرنے میں تامل کرتے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود مدینہ منورہ میں عثمان غنیؓ کے متعلق لوگوں کی زبان پر علانیہ شکایتیں آنے لگیں اورجا بجا خلیفۂ وقت کی نسبت سرگوشیاں شروع ہوئیں یہ رنگ دیکھ کر ابو اسید ساعدیؓ کعب بن مالکؓ اورحسان بن ثابتؓ وغیرہ بعض حضرات مدینہ میں لوگوں کو طعن وتشنیع سے روکتے اوراطاعتِ خلیفہ کی تاکید کرتے تھے،مگر لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا یہ وہ زمانہ تھا کہ عبداللہ بن سبا کے ایجنٹ تمام ممالک اسلامیہ اورتمام بڑے بڑے شہروں اورقصبوں میں پہنچ چکے تھے اوراس کے متبعین ہرجگہ پیدا ہوچکے تھے۔
ممالک اسلامیہ میں طاقت کے اعتبار سے آجکل پانچ بڑے بڑے مرکز تھے،مدینہ تو دارالخلافہ تھا اور شروع ہی سے وہ اسلامی طاقت و شوکت کا منبع و مرکز رہا تھا، کوفہ و بصرہ دونوں  فوجی چھاؤنیاں یا لشکری  لوگوں اورجنگ جو عربی قبائل کی بستیاں تھیں اوردونوں مقاموں پر اسلامی طاقت اس قدر موجود تھی کہ تمام ایرانی صوبوں پر جیحون کے پار ترکستان تک اورآرمینیہ تک وجارجیہ کے صوبوں تک اور بحر خضر  اوربحر اسود کے ساحلوں تک کوفہ وبصرہ کا رعب طاری تھا،فسطاہ یا قاہرہ بھی فوجی چھاؤنی تھی اور مصر کے علاوہ طرابلس و فلسطین تک  اس کا اثر پڑتا تھا، دمشق تمام ملک کا دارالصدر تھا،یہاں بھی مسلمانوں کی اس قدر فوجی طاقت موجود تھی کہ قیصر روم اس طاقت سے خائف تھا اورجب کبھی دمشقی  فوج کا قیصری فوج سے مقابلہ ہوا، رومیوں نے ہمیشہ شکست ہی کھائی،عبداللہ بن سبا شروع ہی میں ان پانچوں مرکزوں کی اہمیت کو محسوس کرچکا تھا اوراس کو معلوم تھا کہ ان کے سوا کوئی چھٹا مقام ایسا نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی فوجی طاقت اور عربوں کی جنگ جو جمعیت  ان میں سے کسی مقام کے برابر موجود ہو،لہذا وہ سب سے پہلے مدینہ منورہ میں آیا ،یہاں سے وہ بصرہ پہنچا، بصرہ سے کوفہ،کوفہ سے دمشق اوردمشق سے مصر پہنچا،دمشق میں اس کو حضرت امیر معاویہؓ کی وجہ سے کم کامیابی ہوئی باقی ہر جگہ وہ کامیابی کے ساتھ لوگوں کے خیالات کو خراب کرتا اور چھوٹی یا بڑی ایک جماعت بناتا اوراپنے راز دار شریک کا ر ایجنٹ ہر مقام پر چھوڑتا گیا،دمشق میں بھی اس نے اتنا کام ضرور کیا کہ حضرت ابو ذرؓ کے واقعہ سے فائدہ اٹھا کر لوگوں میں اس خیال کو پھیلایا کہ ابوذرؓ سچ کہتے ہیں، اوروہ راستی پر  تھے؛ کیونکہ بیت المال کو امیر معاویہؓ نے اللہ کا مال بتا کر اس پر قبضہ کرنا اوراپنے زیر تصریف رکھنا چاہا ہے حالانکہ وہ مسلمانوں کا مال ہے اورسارے مسلمان اس میں شریک ہیں اورانہیں میں اس کو تقسیم کردینا چاہئے، اسی سلسلے میں اس نے حضرت عثمان غنیؓ کو بھی مورد الزام ٹھہرایا، اورلوگوں کو ان کے خلاف بھڑکایا،اُن کے بعد عبداللہ بن سبا حضرت ابودرداءؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اورنہایت احتیاط اور قابلیت کے ساتھ اپنے خیالات فاسدہ ان کی خدمت میں پیش کرنے شروع کئے انہوں نے عبداللہ بن سبا کی باتیں سُن کر صاف طور پر کہہ دیا کہ تم یہودی معلوم ہوتے ہو اوراسلام کے پردے میں مسلمانوں کو گمراہ کرتے پھر رہے ہو،وہاں جب اس کی دال نہ گلی تو وہ حضرت عبادہ بن صامتؓ کی خدمت میں پہنچاانہوں نے جب اُس کے خیالات سنے اوراس کی باتوں سے اس کا اندازہ کیا تو فوراً اس کو پکڑلیا اورحضرت امیر معاویہ کی خدمت میں لے جاکر کہا کہ مجھ کو تو یہ وہی شخص معلوم ہوتا ہے جس نے ابوذرؓ کو بہکادیا اور تم سے  لڑادیا ہے حضرت امیر معاویہؓ نے اسی وقت اس کو دمشق سے نکلوا دیا تھا، اور وہ وہاں سے مصر کی طرف جاکر مصروف کا ر اوراپنی سازشی تدابیر کے جال کے پھیلانے میں مصروف ہوگیا تھا۔
جب ممالکِ محروسہ کے ہر گوشے سے مدینہ منورہ میں خطوط آنے لگے اور خود دارالخلافہ میں شورش کے سامان ہوئے تو حضرت عثمان غنیؓ  کے پاس مدینہ کے بعض اکابرآئے اوران کو توجہ دلائی کہ اپنے عاملوں کی خبرلیں اورلوگوں کی شکایتیں دور کریں، حضرت عثمان غنیؓ نے صحابۂ کرام کی جماعت  میں چند معتبر ومعتمد حضرات کو منتخب کرکے ہر ایک صوبے کی طرف ایک آدمی بھیجا کہ اصل  حالات معلوم کرکے آئیں اوریہاں آکر بیان کریں ؛چنانچہ محمد بن مسلمہ کو کوفہ کی جانب اسامہ بن زید بصرہ کی جانب،عبداللہ بن عمر شام کی جانب روانہ ہوئے،اسی طرح ہر ایک چھوٹے یا بڑے صوبے کی طرف ایک ایک تفتیش کنندہ روانہ ہوا ،چند روز کے بعد سب نے بیان کیا کہ ہم نے تو عاملوں اور والیوں میں کسی قسم کی کوئی برائی نہیں دیکھی سب اپنے اپنے علاقہ میں پوری توجہ اور کوشش کے ساتھ مصروف کار ہیں اور کوئی خلاف شریعت حرکت  بھی اُن سے سرزد نہیں ہوتی نہ رعایا میں سے کوئی شریف اورذی عقل شخص اُن کا شاکی ہے،یہ کیفیت اہل مدینہ نے سُنی  اورقدرے ان کی تسکین ہوئی ؛ لیکن چند ہی روز کے بعد پھر وہی کیفیت پیدا ہوگئی اب یہ وہ زمانہ تھا کہ حج کا موسم قریب آگیا تھا،حضرت عثمان غنیؓ نے ایک منشور عام ہر شہر وقصبہ میں عام رعایا کے نام اس مضمون کا بھیجا کہ:
میرے پاس اس قسم کی خبریں پہنچ رہی ہیں کہ میرے عاملوں سے رعایا کو کچھ نقصان پہنچ رہا ہے وہ ظلم و ستم کا برتاؤ کرتے ہیں،لہذا میں نے تمام عاملوں کے پاس احکام روانہ کردئے ہیں کہ وہ اس مرتبہ حج میں ضرور شریک ہوں پس جس شخص کو میرے کسی عامل سے کچھ شکایت ہو وہ حج کے موقع پر آکر اپنی شکایت میرے سامنے پیش کرے اوراپنا حق مجھ سے یا میرے عامل سے بعد تصدیق وصول کرلے۔

حضرت عثمانؓ کا فرمان:
ایک ایک حکم ہر عامل کے پاس بھی پہنچ گیا کہ ضرور شریک حج ہونا چاہئے؛چنانچہ عبداللہ بن سعدؓ والئ مصر معاویہ ؓ بن ابی سفیان والئی شام،عبداللہ بن عامر وغیرہ تمام عمال مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر جمع ہوگئے ،عبداللہ بن سبا کی تجویز کے موافق لوگ ہر ایک صوبے اور ہر ایک مرکز سے روانہ ہوئے اوربجائے اس کے کہ مکہ معظمہ میں آتے مدینہ منورہ میں آکر جمع ہوگئے،حج کے ایام میں حضرت عثمان غنیؓ نے اعلان کرایا کہ تمام عامل موجود ہیں جس کا جی چاہے اپنی شکایت پیش کرے، مگر کوئی شخص کسی عامل کی شکایت لے کر نہ آیا خلیفہ وقت کی مجلس میں جو شخص موجود تھے وہ ا س فساد اورفتنے کے مٹانے کی نسبت باہم مشورہ کرنے لگے اوراس طرح اُن کی باتوں نے طول کھینچا ،حضرت عثمان غنی ؓ نے سب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ فتنہ تو ضرور برپا ہونے والاہے اوراس کا دروازہ عنقریب کھل جائے گا  میں یہ نہیں چاہتا کہ فتنہ کے اس دروازے کو کھولنے کا انتظام مجھ پر عائد ہو، خدائے تعالیٰ خوب آگاہ ہے کہ میں نے لوگوں کے ساتھ سوائے بہتری اور بھلائی کے اورکچھ نہیں کیا  اس کے بعد سب خاموش ہوگئے اور حج سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ میں آئے،یہاں آکر حضرت عثمان غنیؓ نے ان لوگوں کو جو باہر سے آئے ہوئے تھے ایک جلسہ میں طلب کیا اوراسی جلسہ میں حضرت علیؓ ،حضرت طلحہؓ اورحضرت زبیر کو بھی بلوایا، حضرت امیر معاویہؓ بھی مکہ سے حضرت عثمان غنیؓ کے ساتھ آئے تھے اوروہ بھی اس وقت موجود تھے،اس مجلس میں سب سے پہلے حضرت امیر معاویہؓ نے کھڑے ہوکر حمد و ثنا کے بعد کہا کہ:
آپ سب حضرات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اورصاحب حل و عقد  ہیں، اس امت کے سرپرست ہیں،آپ حضرات نے اپنے دوست یعنی حضرت عثمان غنیؓ کو بلا رورعایت خلیفہ منتخب کیا، اب وہ بوڑھے ہوگئے ہیں،اُن کی نسبت قسم قسم کی باتیں لوگوں کی زبان پر جاری ہیں آپ لوگوں نے اس معاملہ میں اگر کوئی فیصلہ کیا ہے تو اس کو ظاہر کیجئے میں جواب دینے کے لئے تیار ہوں،ہاں یہ بھی بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کو خلافت وامارت کی طمع ہو تو یاد رکھو کہ تم لوگ سوائے پیٹھ پھیر کر بھاگنے کے اورکچھ حاصل نہ کرسکو گے۔
اس تقریر کے آخری فقرے کو سن کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضرت امیر معاویہؓ کو جھڑک دیا وہ بیٹھ گئے اورحضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے،انہوں نے فرمایا کہ:
اس میں شک نہیں کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ اورحضرت عمر فاروقؓ نے خلیفہ ہوکر احتیاط اوراحتساب کی وجہ سے اپنے عزیز واقارب کی مطلق بات نہ پوچھی،حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رشتہ داروں کا لحاظ فرماتے اوراُن کو مدد دیتے تھے،میرے عزیز واقارب غریب لوگ ہیں،میں اُن کے ساتھ سلوک کرتا ہوں،اگر تم اس کو ناجائز ثابت کردو تو میں اس طز عمل سے دست کش ہونے کو تیار ہوں۔

اعتراض:
حضرت عثمان غنیؓ نے یہیں تک فرمایا تھا کہ ایک شخص نے اٹھ کر اعتراض کیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ناجائز طور پر مال دیتے ہیں،مثلا عبداللہ بن سعدؓ کو آپ نے تمام مالِ غنیمت بخش دیا،حضرت عثمان غنیؓ نے جواب دیا کہ میں نے اس کو مال غنیمت کے خمس میں سے صرف پانچواں حصہ دیا ہے مجھ سے پہلے خلافت صدیقی اور خلافت فاروقی میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں اس کے بعد ایک اور شخص اٹھا اوراس نے کہا کہ تم نے اپنے عزیز واقارب کو امارتیں اورحکومتیں دے رکھی ہیں،مثلاً معاویہ بن ابی سفیان کو تمام ملک شام پر امیر بنارکھا ہے ،بصرہ کی امارت سے ابو موسیٰ اشعری کو معزول کرکے ان کی جگہ عبداللہ بن عامر کو امیر بنایا ،کوفہ کی امارت سے مغیرہ بن شعبہ کو جدا کرکے ولید  بن عقبہ کو اوراس کے بعد سعید بن العاص کو امیر بنایا ،یہ سُن کر حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ جن لوگو ں کو میں نے امارتیں دے رکھی ہیں وہ میرے اقارب نہیں ہیں اور وہ اپنے عہدوں کے کام کو بحسن وخوبی انجام دینے کی قابلیت رکھتے ہیں اگر وہ آپ لوگوں کی رائے میں امارت کے قابل نہیں ہیں اور مجھ پر ان کے بے جارعایت کا الزام عائد ہوتا ہے  تو میں ان لوگوں کی جگہ دوسروں کو مقرر کرنے کے لئے تیار ہوں ؛چنانچہ میں نے سعید بن العاصؓ کو ان کی امارت سے جدا کرکے ابو موسیٰ اشعری کو کوفہ کا گورنر بنا دیا ہے اُس کے بعد ایک شخص نے کہا کہ تم نے بلا استحقاق اورناقابل رشتہ داروں کو امارتیں دی ہیں جو ان امارتوں کے اہل نہ تھے،مثلاً عبداللہ بن عامر ایک نوجوان شخص ہیں ان کو والی نہیں بنانا چاہئے تھا حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عامر عقل و فراست دین داری وقابلیت میں خاص طور پر ممتاز ہے محض نوجوان ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُسامہ بن زیدؓ کو صرف ۱۷ سال کی عمر میں کیوں امیر بنایا تھا، اس کے بعد ایک اور شخص اُٹھا اوراُس نے کہا کہ آپ کو اپنے کنبے والوں سے بڑی محبت ہے، آپ ان کو بڑے بڑے عطیات  دیتے ہیں،حضرت عثمانؓ  نے جواب دیا کہ اہل خاندان سے محبت کا ہونا کوئی گناہ نہیں ہے میں ان کو اگر عطیات دیتا ہوں تو بیت المال  سے نہیں ؛بلکہ اپنے ذاتی مال سے دیتا ہوں،بیت المال سے تو میں نے اپنے خرچ کے لئے بھی ایک کوڑی نہیں لی،اپنے رشتہ داروں کے لئے بلا استحقاق کیسے لے سکتا ہوں، اپنے ذاتی مال کا مجھ کو اختیار ہے جس کو چاہوں دوں۔
اس کے بعد ایک شخص اُٹھا اوراُس نے کہا کہ تم نے چراگاہ کو اپنے لئے مخصوص کرلیا ہے ،حضرت عثمانؓ نے جواب دیا کہ میں جب خلیفہ ہوا تھا تو مدینے میں مجھ سے زیادہ نہ اونٹ کسی کے تھے نہ بکریاں؛ لیکن آج کل میرے پاس صرف دو اونٹ ہیں جو صرف حج کی سواری کے لئے رکھ لئے ہیں میں اُن کو چرائی پر بھی نہیں بھیجتا،البتہ بیت المال کے اونٹوں کی چراگاہ ضرور مخصوص ہے، اوروہ میرے زمانے میں نہیں ؛بلکہ پہلے سے مخصوص چلی آتی ہے اس کا مجھ پر کوئی الزام  نہیں لگایا جاسکتا، پھر ایک شخص نے کہا کہ تم یہ بتاؤ کہ تم نے منیٰ میں پوری نماز کیوں پڑھی حالانکہ قصر کرنی چاہئے تھے،حضرت عثمان غنیؓ نے جواب دیا کہ میرے اہل وعیال مکہ میں مقیم تھے لہذا میرے لئے نماز قصر نہ کرنا جائز تھا، غرض اسی  قسم کے اعتراضات سر مجلس لوگوں نے کئے اور حضرت عثمان غنیؓ نے ہر ایک کا جواب کافی وشافی دیا اس کے بعد جلسہ برخاست ہوا اور  لوگ خاموشی کے ساتھ اٹھ کر منتشر ہوگئے،حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا کہ آپ کی طرف سے لوگوں کے ساتھ نرمی کا ضرورت سے زیادہ  اظہار ہورہا ہے،فاروق اعظمؓ کا یہ طریقہ نہیں تھا،اُن سے سیکڑوں کوس پر بیٹھے ہوئے عامل اُن کے پیش خدمت غلام سے اوربھی زیادہ ڈرتے تھے اور خائف رہتے تھے لوگوں کے ساتھ نرمی صرف اسی حد تک برتنی چاہئے جہاں تک کہ فساد کے پیدا ہونے کا اندیشہ تک نہ ہو آپ جن لوگوں کو جانتے ہیں کہ وہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو قتل نہیں کروایتے،حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت عمروؓ کے اس مشورے کو سُنا اورخاموش ہوگئے۔

۵۲ھ کے واقعات:
مدینہ منورہ میں جن صوبوں کے والی حضرت عثمانؓ کے ہمراہ مکہ معظمہ سے آئے تھے وہ سب یکے بعد دیگرے اپنے اپنے صوبوں کی طرف رخصت ہوگئے، آخر میں حضرت معاویہؓ بھی رخصت ہونے کے لئے حضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھ کو اندیشہ  معلوم ہوتا ہے کہ کہیں آپ پر حملہ نہ ہو اور آپ اس کی مدافعت نہ کرسکیں،مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ میرے ساتھ ملک شام کی جانب چلیں،وہاں تمام اہل شام میرے فرماں بردار اورشریک کار ہیں حضرت عثمان غنیؓ نے جواب دیا کہ میں کسی حالت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب و ہمسائیگی ترک نہیں کرسکتا، یہ سن کر حضرت امیر معاویہؓ نے کہا اچھا اجازت دیجئے کہ میں ایک زبردست لشکر ملک شام سے آپ کی حفاظت کے لئے یہاں بھیج دوں کہ وہ مدینہ میں مقیم رہے  حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسیوں یعنی مدینہ والوں کو تنگ کرنا نہیں چاہتا یہ سُن کر حضرت معاویہ نے کہا کہ آپ ضرور دھوکہ کھائیں گے،حضرت عثمانؓ غنی اُس کے جواب میں  حَسْبِیَ اللہ ونِعْمَ الْوَکِیْل کہہ کر خاموش ہوگئے، حضرت معاویہؓ پھر وہاں سے اُٹھ کر حضرت علیؓ ،طلحہؓ،زبیرؓ کی خدمتوں میں حاضر ہوئے اور بوقت ضرورت حضرت عثمان غنیؓ کی امداد کی سفارش وفرمائش کرکے شام کی جانب روانہ ہوگئے۔

عبداللہ بن سباکی سازش:
عبداللہ بن سبا نے مصر میں بیٹھے بیٹھے اپنے تمام انتظامات خفیہ طور پر مکمل کرلئے تھے حضرت عمار بن یاسر اور ورقا بن رافع انصاری جیسے صحابیوں کو بھی اس نے اپنے دام تزویر میں لے لیا تھا،لیکن اس کی اصل تحریک اورمقصود حقیقی کا حال سوائے اس کے چند خاص الخاص مسلمان نما یہودیوں کے کسی کو معلوم نہ تھا، بظاہر اُ س نے حُب علیؓ اورحُب اہل بیت کو خلافت عثمانی کے درہم برہم کرنے کے لئے ایک ذریعہ بنایا تھا، مذکورہ بالا فوجی مقاموں سے بہت سے سادہ لوح عرب اس کے فریب میں آچکے تھے؛چنانچہ عبداللہ بن سبا کی تحریک واشارے کے موافق ہر ایک مقام پر مہم عثمانؓ کے لئے تیاریاں کیں،ہر مقام اور ہر گروہ کے آدمی اس بات پر متفق تھے کہ حضرت عثمانؓ کو معزول یا قتل کردیا جائے؛ لیکن اس کے بعد خلیفہ کس کو بنایا جائے اس میں اختلاف تھا،کوئی حضرت علیؓ کا نام لیتا تھا،کوئی زبیر بن  العوام کو بہتر سمجھتا تھا اورکوئی حضرت طلحہ کو خلافت کے لئے سب سے موزوں سمجھتا  تھا ؛چونکہ عبداللہ  بن سبا کو اسلام سے کوئی ہمدردی  تو تھی ہی نہیں،اس کا مقصد صرف عثمان غنی کی مخالفت تھی لہذا اس نے حضرت علیؓ کی حمایت ومحبت کے بہانے کو اس موقع پر زیادہ  استعمال کرنا ترک  کردیا اور لوگوں کو آئندہ خلافت کے انتخاب میں مختلف الخیال دیکھ کر ان کے حال پر چھوڑدیا۔

فتنہ برداز قافلوں کی روانگی:
سب سے پہلے ایک ہزار آدمیوں کا ایک قافلہ مشہور کرکے کہ ہم حج کرنے جاتے ہیں مصر سے روانہ ہوا اس قافلہ میں عبدالرحمن بن عدیس،کنانہ بن بشر یمنی سودان بن عمران وغیرہ شامل تھے، اس قافلے  کاسردار غافقی بن حرب مکی تھا، تجویز کی گئی تھی کہ مصر سے یہ ایک ہزار آدمی سب کے سب ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ روانہ نہ ہوں؛بلکہ مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے چار چھوٹے چھوٹے قافلوں کی شکل میں روانہ ہوں اور آگے کئی منزل کے بعد مل کر سب ایک قافلہ بن جائیں ؛چنانچہ ایسا ہی ہوا، ایک ہزار  کا قافلہ مقام کوفہ سے مالک اشترکی سرداری میں اسی اہتمام کے ساتھ یعنی چار حصوں میں منقسم ہوکر روانہ ہوا اس قافلہ میں زید بن صفوان عبدی، زیاد بن النفرحارثی، عبداللہ بن اماسم عامری  بھی شامل تھے اسی طرح ایک ہزار کا قافلہ حرقوس بن زہیر سعدی کی سرداری میں بصرہ سے روانہ ہوا جس میں حکیم بن جبلہ عبدی بشر بن شریک قیسی وغیرہ شامل تھے،یہ تمام قافلے ماہ شوال ۳۵ ھ میں اپنے اپنے شہروں سے روانہ ہوئے اور سب نے یہ مشہور کیا کہ ہم حج ادا کرنے جاتے ہیں،ان سب نے آپس میں پہلے ہی سے یہ تجویز پختہ کرلی تھی کہ اس مرتبہ امیر المومنین عثمان بن عفانؓ کو ضرور معزول یا قتل کریں گے اپنے اپنے مقاموں سے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر روانہ ہوئے پھر سب یک جا ہوئے اس کے بعد چند منزلیں طے کرکے تینوں صوبوں  کے قافلے مل کرایک ہوگئے اور سب کے سب مل  کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے جب مدینہ منورہ تین منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو وہ لوگ جو طلحہ ؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے آگے بڑھ کر زوخشب میں ٹھیر گئے،جو لوگ زبیرالعوام کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے مقام اعوص میں آکر مقیم ہوگئے جو لوگ حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے وہ ذوالمروہ میں مقیم ہوگئے،طلحہؓ کے حامیوں میں زیادہ تعداد بصرہ کے لوگوں کی ،زبیر بن العوام کے طرفداروں میں زیادہ  تعداد کوفہ کے لوگوں کی تھی جو لوگ حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے ان میں زیادہ تر مصر کے لوگ شامل تھے۔
زیاد بن المنظر اورعبداللہ بن الاصم نے ان تمام بلوائیوں  سے کہا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرے رہو،جلدی نہ کرو ہم پہلے مدینہ میں داخل ہوکر اہل مدینہ کی حالت معلوم کرآئیں،  کیونکہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ مدینہ والوں نے بھی جنگی تیاری کی ہے،اگر یہ خبر صحیح ہے تو پھر ہم سے کچھ نہ ہوسکے گا، تمام بلوائی یہ سن کر خاموش ہوگئے اور یہ دونوں مدینہ میں داخل ہوئے مدینہ میں پہنچ کر یہ دونوں  حضرت علیؓ،طلحہؓ،زبیر اورامہات المومنین سے ملے اوران سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا ان سبھوں نے ان کو ملامت کی اور واپس جانے کا حکم دیا۔
اس جگہ یہ بات خصوصیت سے قابل ذکر ہے کہ عبداللہ بن سبا کے آدمی جو مدینہ منورہ میں موجود تھے،انہوں نے حضرت علیؓ،حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ اورامہات المومنین کے نام سے بہت سے خطوط لکھ لکھ کر کوفہ،بصرہ،ومصر کے ان لوگوں کے نام روانہ کئے جوان بزرگوں کے نام سے عقیدت رکھتے تھے اور عبداللہ بن سبا کے دام تزویر میں پورے اوریقینی طور سے نہیں پھنسے تھے،ان خطوط میں لکھا گیا تھا کہ حضرت عثمان اب اس قابل نہیں رہے کہ ان کو تخت خلافت پر متمکن رہنے دیا جائے،مناسب یہی ہے اورامت مسلمہ کی فلاح اسی میں مضمر ہے کہ آنے والے ماہ ذی الحجہ میں اس ضروری کام کو سرانجام دے دیا جائے، یہی وجہ تھی کہ یہ تینوں قافلے مدینہ منورہ میں ہر قسم کا فساد مچانے اورکشت وخون کرنے کے ارادے سے چلے تھے،تین ہزار آدمیوں کا کیا حوصلہ تھا کہ وہ اس مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تصرف کرتے،اورزبردستی اپنے ارادے  پورے کرانے کے عزم سے آتے، جس مدینہ پر جنگ احزاب کے کثیر التعداد کفار دخل نہ پاسکے تھے،ان بلوائیوں کو یہی شیری اوردلیری تھی کہ مدینہ کے اکابر سب ہماری حمایت پر آمادہ ہیں اورہم جو کچھ کریں گے گویا انہی کے منشا کو پورا کریں گے،مدینہ میں جب ہر ایک بزرگ نے ان کی آمد کو نامناسب قرار دیا اور انہوں نے مدینہ میں کسی قسم کی مستعدی اورجنگی تیاری بھی نہ دیکھی تو انہوں نے ان بزرگوں کی مخالفت رائے کو مصلحت اندیشی پر محمول کیا اورواپس جاکر تمام بلوائیوں کے نمائندوں اورسرداروں کو جمع کیا اورمدینہ والوں کی طرف سے اطمینان دلا کر یہ تجویز پیش کی ،سرداران مصر جن میں زیادہ تر حضرت علیؓ کے حامی ہیں حضرت علیؓ کے پاس بصرہ والے طلحہؓ کے پاس اورکوفہ والے زبیرؓ کےپاس جائیں ؛چنانچہ یہ لوگ مدینہ میں داخل ہوکر تینوں حضرات کی خدمت میں الگ الگ حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم حضرت عثمان کی خلافت کو کسی طرح پسند نہیں کرتے،آپ ہم سے بیعت خلافت لے لیں،ہر ایک بزرگ سے بیعت لینے کی فرمائش کی گئی اورہر ایک نے سختی سے انکار کیا،جب انکار دیکھا تو مصر والوں نے حضرت علیؓ سے کہاکہ ہمارے یہاں کا عامل عبداللہ بن سعد چونکہ ظالم ہے ہم اس کو معزول کرائے بغیر مدینہ سے باہر ہرگز نہ جائیں گے،بلوائیوں  کے ان سرداروں کے اصرار اورجرأت کو دیکھ کر اورمناسب وقت سمجھ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ اوربعض دوسرے اصحاب کرام نے حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر مشورہ دیا کہ ان بلوائیوں کو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہاں سے ٹال دو اوران کی ضدپوری کردو،یعنی عبداللہ بن سعدؓ کو مصر کی امارت سے معزول کردو،حضرت عثمان غنیؓ نے دریافت کیا کہ پھر کس کو مصر کا عامل تجویز کیا جائے۔

مصر کی امارت:
حضرت علیؓ نے اور دوسرے صحابہؓ نے محمد بن ابی بکرؓ کا نام لیا وہ پہلے ہی سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حامی اور عبداللہ بن سبا کے فریب میں آئے ہوئے تھے حضرت عثمان غنیؓ نے محمد بن ابی بکرؓ کو مصر کی امارت کا فرماں لکھ کردے دیا، اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بلوائیوں کے سرداروں کو رخصت کیا، اورکہا کہ جاؤ اب تمہاری ضد پوری ہوگئی،حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ نے بھی بہت کچھ سمجھا بجھا کر لوگوں کو رخصت کردیا،تیسرے یا چوتھے روز کیا دیکھتے ہیں کہ باغیوں کی ساری کی ساری جماعت تکبیر کے نعرے بلند کرتی ہوئی مدینہ میں داخل ہوئی اور حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کرلیا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے گئے تھےپھر کیسے واپس آگئے،انہوں نے کہا کہ خلیفہ نے اپنے غلام کے ہاتھ  عبداللہ بن سعدؓ کے پاس مصر کی جانب  ایک خط روانہ کیا تھا کہ ہم جب وہاں پہنچیں تو وہ ہم کو قتل کردے،ہم نے وہ خط پکڑلیا ہے،اس کو لے کر آئے ہیں،ساتھ ہی مصری وکوفی قافلے بھی واپس آگئے ہیں کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ رنج  وراحت میں شرکت کریں،حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ واللہ یہ تم لوگوں کی سازش ہے اور تمہاری نیت نیک نہیں ہے،ان لوگوں نے کہا خیر جو کچھ بھی ہو اس خلیفہ کو قتل کرنا ضروری ہے،آپ اس کام میں ہماری مدد کریں،حضرت علیؓ نے برہم ہوکر فرمایا میں بھلا تمہاری مدد کیسے کرسکتا ہوں یہ سن کر ان لوگوں نے کہا کہ پھر آپ نے ہم کو کیوں لکھا تھا؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے تم کو کبھی کچھ بھی نہیں لکھا یہ سُن کر وہ آپس میں حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے،حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کے بعد مدینہ سے باہر مقام احجارالزیت میں تشریف لے گئے اور بلوائیوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو تنگ کرنا شروع کردیا،اب تک بلوائی لوگ حضرت عثمان غنیؓ کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے،اب انہوں نے اُن کے پیچھے نمازیں پڑھنی چھوڑدیں اوردوسرے لوگوں کو بھی زبردستی حضرت عثمانؓ کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکنا شروع کیا۔
حضرت عثمان غنیؓ نے یہ رنگ اورمدینہ کی گلیوں کو بلوائیوں سے پُر دیکھ کر مختلف ممالک کے والیوں کو خطوط لکھے اورامداد طلب کی یا یہ خبریں خود بخود ہی ان ممالک میں پہنچیں ،چنانچہ مصر،شام،کوفہ،بصرہ سے نیک دل لوگوں اور صحابہ کرام نے مدینہ کی طرف لوگوں کو روانہ ہونے اورخلیفہ وقت کی مدد کرنے کی ترغیب دی،حضرت معاویہؓ نے حبیب بن مسلمہ فہری کو اورعبداللہ بن سعدؓ نے معاویہ بن خدیج کو روانہ کیا کوفہ سے قعقاع بن عمرو ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے،اسی طرح بصرہ سے بھی ایک جماعت روانہ ہوئی ان خبروں کے پہنچنے اوران امدادی جمعیتوں  کے روانہ ہونے میں ضرور کچھ نہ کچھ تامل واقع ہوا؛کیونکہ ان میں سے کوئی بھی حضرت عثمانؓ غنی کی شہادت  سے پہلے مدینہ میں نہ پہنچ سکا سب نے راستہ ہی میں واقعہ شہادت کا حال سُنا اور راستہ ہی سے اپنے اپنے صوبوں کی طرف واپس روانہ ہوگئے ،تیس دن تک حالت محاصرہ میں حضرت عثمان غنیؓ نمازوں کے لئے مسجد میں آتے رہے اس کے بعد بلوائیوں نے ان کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی کا جانا بند کردیا، حضرت عثمانؓ نے ہر چند کہا کہ تم عینی شاہد پیش کرو کہ میں نے یہ خط لکھا ہے جس کو تم نے بہانہ  بنایا ہے ،یا مجھ سے قسم لے لو،مجھ کو اس کا کوئی علم نہیں ہے،بلوائیوں نے کسی کی کوئی معقول بات پسند نہ کی،ایک عام افرا تفری کا زمانہ تھا،حضرت عثمان غنیؓ پر بلوائیوں نے پانی کا جانا بند کردیا،تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی،پھر ایک ہمسایہ کے ذریعہ پوشیدہ طور پر پانی گھر میں پہنچتا رہا۔

حضرت ابو ایوب انصاری کی امامت:
حضرت عثمان غنیؓ جب خود مسجد میں نہ آسکے تو انہوں نے نمازوں کی امامت کے لئے ابو ایوبؓ انصاری کو مقرر فرمایا،لیکن چند روز کے بعد بلوائیوں کے سردار غافقی بن حرب مکی نے خود نمازوں کی امامت شروع کردی، مصر میں جس طرح محمد بن ابی بکرؓ حضرت عثمانؓ کے خلاف کوشش فرماتے تھے اسی طرح محمد بن حذیفہ بھی مخالفت عثمانی میں مصروف تھے،جب مصر سے عبدالرحمن بن عدیس کی  سرگردگی میں قافلہ روانہ ہوا تو محمد بن ابی بکرؓ ان لوگوں کے ساتھ ہی مدینہ منورہ میں آئے تھے لیکن محمد بن حذیفہ وہیں مصر میں رہ گئے تھے ،حضرت عثمان غنیؓ کے محاصرہ کی خبر جب مصر میں پہنچی تو عبداللہ بن سعدؓ وہاں سے خود ایک جمعیت لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے،جب مقام رملہ پہنچے تو ان کے پاس خبر پہنچی کہ محمد بن حذیفہ نے مصر پر قبضہ کرلیا ہے،یہ سُن کر وہ واپس آگئے،فلسطین ہی میں تھے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر پہنچ گئی،محاصرہ کی خبر چالیس روز تک ممتدرہی اس عرصہ میں حضرت علیؓ کئی مرتبہ حضرت عثمان غنیؓ کے پاس آئے اورانہوں نے بلوائیوں  کے سمجھانے اورواپس چلے جانے کی کوششیں بھی کیں،لیکن حضرت عثمان غنیؓ کے میر منشی مروان بن الحکم نے جوان کا چچازاد بھائی بھی تھا، حضرت علیؓ اوربنو ہاشم  کے دوسرے سرداروں کو ناخوش کرنے اورجلی کٹی باتوں کے کہنے کی غلطی بار بار کی ،کئی مرتبہ حضرت عثمان  غنی ؓ نے اپنی پاک باطنی اورنیک نیتی سے بگڑے ہوئے معاملے کو سلجھا بھی لیا، اورا عیان قریش وانصار کی حمایت بھی حاصل کرلی،لیکن اس شخص مروان بن حکم نے عین وقت پر اپنی دریدہ دہنی اور بد لگامی سے بنے بنائے کام کو بگاڑدیا۔

مروان بن حکم کی شراتیں:
حضرت عثمان غنیؓ ایک بامروت اورنرم مزاج انسان تھے، اسی لئے مروان کو اس جرأت اور دیدہ دلیری کا موقع ملتا رہا، مروان اوراس کے باپ حکم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے خارج کردیا تھا اورحضرت ابوبکرصدیقؓ اورفاروق اعظمؓ نے بھی اپنے اپنے عہد خلافت  میں ان باپ بیٹوں کو مدینہ میں داخل ہونے نہ دیا تھا لیکن جب حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان کو مدینہ میں بلالیا اور قرابت ورشتہ داری کے خیال سے اُن پر احسان کرنا ضروری سمجھ کر اپنا میر منشی بنالیا، کاتب یعنی میر منشی بن کرمروان نے خلیفہ کے مزاج میں اور بھی زیادہ دخل پالیا، اوراپنی چالاکیوں سے صحابہ کرام کے خلاف بعض اوقات درِ خلافت سے احکام صادر کرادینے میں کامیاب ہونے لگا، یہی وجہ تھی کہ باشندگان مدینہ مروان بن حکم سے ناراض تھے اور ان ایام محاصرہ اورچہل روز بدامنی کے دوران میں اہل مدینہ نے باغیوں اور بلوائیوں کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ مروان کے مطالبہ کی آواز بلند کرائی اوراگر حضرت عثمانؓ مروان کو بلوائیوں کے سپرد کردیتے تو یقیناً یہ فتنہ بھی فرو ہوجاتا، کیونکہ کم از کم مدینہ میں تو کوئی شخص حضرت عثمانؓ کا مخالف باقی نہ رہتا، مدینہ کے ہر شخص کو اگر ملال تھا تو مروان سے تھا ،حضرت عثمانؓ سے کسی کو کوئی خصوصی عناد اورعداوت نہ تھی،حضرت عثمان ؓ نے مروان کے سپرد کرنے میں اس لئے انکار کیا کہ ان کو یقین تھا یہ لوگ مروان کو فوراً قتل کردیں گے لہذا انہوں نے پسند نہ کیا کہ مروان کے قتل کا موجب بنیں ،جب بلوائیوں نے زیادہ شورش برپا کی اوریہ معلوم ہوا کہ اب بلوائی حضرت عثمان غنیؓ کے مکان کا دروازہ گرا کر اندر داخل ہونا اوران کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت  علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے صاحبزادوں حضرت امام حسن  اورامام حسین ؓ کو بھیجا کہ حضرت عثمانؓ کے دروازے پر مسلح  موجود رہو اور بلوائیوں کو مکان کے اندر داخل ہونے سے روکو،اسی طرح حضرت طلحہ اورحضرت زبیرؓ نے بھی اپنے اپنے صاحبزادوں کو حضرت عثمان ؓ کے دروازے پر بھیج دیا،ان صاحبزادوں نے دروازہ پر پہنچ کر بلوائیوں کو روکا اوران کو اس لئے مجبوراً رکنا پڑا کہ اگر ان میں سے کسی کو کوئی صدمہ پہنچ جاتا تو تما م بنی ہاشم کے مخالف اوردرپے مقابلہ ہونے کا اندیشہ تھا، ادھر بلوائیوں کو اس بات کا اندیشہ تھا کہ حضرت عثمانؓ کے عاملوں نے محاصرہ کی خبر سُن کر ضرور مدینہ کی طرف فوجیں روانہ کی ہوں گی، اگر وہ فوجیں پہنچ گئیں تو پھر مقصد برآری دشوار ہوگی،لہذا انہوں نے فوری تدابیر شروع کردیں، اورحضرت عثمان غنیؓ کے ایک متصلہ مکان میں داخل ہوکر اور دیوار کود کر ایک جماعت  ان کے مکان کے اندر داخل ہوگئی۔

حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت:
بلوائیان مصر نے جب مدینہ منورہ میں دوبارہ واپس آکر خط لوگوں کو دکھایا اورحضرت عثمانِ غنیؓ نے حلفیہ اس خط سے اپنی لا علمی کا اظہار کیا تو عبدالرحمن بن عدیس نے جو بلوائیوں کا سرغنہ تھا،کہا کہ تم اپنے اس قول اورحلف میں جھوٹے ہو تب بھی اور سچے ہو تب بھی تمہارا خلیفہ رکھنا کسی طرح جائز نہیں،کیونکہ اگرتم جھوٹ بول رہے ہو تو جھوٹے کو مسلمانوں کا خلیفہ نہیں ہونا چاہئے اوراگر سچے ہو تو ایسے ضعیف خلیفہ کو جس کی اجازت و اطلاع کے بغیر جو جس کا جی چاہے حکم لکھ کر بھیج دے خلیفہ نہیں رکھنا چاہئے،عبدالرحمن بن عدیس نے حضرت عثمانؓ سے کہا کہ آپ خود ہی خلافت چھوڑدیں،انہوں نے جواب میں کہا کہ میں اس کرتے کو جس کو خدانے مجھے پہنایا ہے،خود نہیں اتاروں گا،یعنی خلافت کے منصب کو خود نہیں چھوڑوں گا،اس کے بعد بلوائیوں نے ان کے مکان کا محاصرہ کرلیا اورسختی شروع کی،جب خلیفۂ وقت پر پانی بھی بند کردیا گیا،اورپانی کی نایابی سے تکلیف واذیت ہوئی  تو حضرت عثمان غنیؓ اپنے مکان کی چھت پر چڑھے اوراپنے حقوق جتائے اوراپنا سابق الایمان ہونا بھی لوگوں کو یاد دلایا، اس تقریر کا بلوائیوں پر کچھ اثر ہوا کہ ان میں سے اکثر یہ کہنے لگے کہ بھائی اب ان کو جانے دو اوران سے درگذر کرولیکن اتنے میں مالک بن اشترآگیا،اس نے لوگوں کے مجمع کو پھر سمجھا یا کہ دیکھو کہیں دام فریب میں نہ آجا نا چنانچہ لوگ پھر مخالفت پر آمادہ ہوگئے،بلوائیوں کو جب یقین ہوگیا کہ ممالک اسلامیہ سے جو فوجیں آئیں گی وہ ضرور حضرت عثمانؓ کی حامی اور ہماری مخالف ہوں گی، تو انہوں نے یعنی اُن کے سرداروں نے حضرت عثمان غنیؓ کے شہید کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا، انہیں ایام میں حضرت عائشہؓ نے حج کا ارادہ کیا اوراپنے بھائی محمد بن ابی بکر کو بلوایا کہ وہ ہمارے ساتھ چلیں،تو محمد بن ابی بکرؓ نے ان کے ساتھ جانے سے صاف انکار کردیا ؛کیونکہ وہ  بلوائیوں کے ساتھ شیر وشکر ہورہے تھے،حضرت حنظلہؓ کاتب وحی نے کہاکہ تم ام المومنینؓ کے ساتھ نہیں جاتے اور سفہائے عرب کی پیروی کرتے ہو یہ تمہاری شان کے بعید ہے ،محمد بن ابی بکرؓ نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا،پھر حنظلہؓ کوفہ کی طرف چلے گئے،حضرت طلحہؓ اورحضرت زبیرؓ اور دوسرے صحابیوں نے اپنے اپنے دروازے بند کرلئے تھے نہ گھر سے باہر نکلتے تھے نہ کسی سے ملتے تھے حضرت ابن عباسؓ نے عثمان غنی کے دروازے پر موجود درہ کر بلوائیوں کا مقابلہ کیا اور  اُن کو روکا لیکن اُن کو حضرت عثمانؓ نے امیر الحاج بناکر باصرار مکہ روانہ کیا،ورنہ وہ فرماتے تھے مجھ کو ان بلوائیوں سے جہاد کرنا حج کرنے سے زیادہ محبوب ہے،حسن بن علیؓ،عبداللہ بن زبیرؓ،محمد بن طلحہؓ ،سعید بن العاصؓ،نے دروازہ کھولنے سے بلوائیوں کو روکا اورلڑکر ان کو پیچھے ہٹادیا۔
 لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے ان لوگوں کو قسمیں دے کر لڑنے سے روکا اورگھر کے اندر بلا لیا بلوائیوں نے دروازہ میں آگ لگادی اوراندر گھس آئے،ان لوگوں نے ان کو پھر مقابلہ کرکے باہر نکال دیا، اس وقت حضرت عثمان غنیؓ قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے"الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"(یہ وہ لوگ ہیں جن لوگوں نے آکر خبر دی کہ مخالف لوگوں نے تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے بھیڑ جمع کی ہے ذرا ان سے ڈرتے رہنا، تو اس خبر کو سُن کر ان کے ایمان اور بھی مضبوط ہوگئے اور بول اٹھے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) تو حاضرین سے مخاطب ہوکر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہدلیا ہے، میں اس عہد پر قائم ہوں، اورتم ہر گز ان بلوائیوں کا مقابلہ اوران سے قتال بالکل نہ کرو، حضرت حسنؓ بن علیؓ کو حکم دیا کہ تم بھی اپنے باپ کے پاس چلے جاؤ، لیکن انہوں نے جانا پسند نہ کیا اور دروازہ پر بلوائیوں کو روکتے رہے۔
مغیرہ بن الاخنسؓ یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لاسکے اپنے چند ہمراہیوں کو لے کر بلوائیوں کے مقابلہ پر آئے اورلڑکر شہید ہوئے،اسی طرح ابوہریرہؓ بھی یہ کہتے ہوئے: یا قوم مالی ادعو کم الی النجاۃ وتدعوننی الی النار (لوگو! مجھے کیا ہوا ہے کہ میں تم کو نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگے کی طرف بلاتے ہو) بلوائیوں پر ٹوٹ پڑے،حضرت عثمان غنیؓ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے باصرار حضرت ابوہریرہؓ کو واپس بلوایا اورلڑائی سے باز رہنے کا حکم دیا، اسی عرصہ میں حضرت عبداللہ بن سلام تشریف لائے انہوں نے بلوائیوں کو سمجھانا اورفتنہ سے باز رکھنا چاہا،لیکن بجائے اس کے کہ ان کی نصیحت کابلوائیوں پر کچھ اثر ہوتا وہ عبداللہ بن سلام سے بھی لڑنے پر آمادہ ہوگئے،حضرت عثمان غنیؓ کے مکان میں جس قدر آدمی تھے ان میں سے کچھ تو کوٹھے پر چڑھے ہوئے تھے اور باغیوں کی کوشش اورنقل وحرکت کے نگراں تھے،کچھ لوگ دروازہ پر تھے اور باہر سے داخل ہونے اور گھسنے والے بلوائیوں کو اندر آنے سے روک رہے تھے،حضرت عثمان غنیؓ اوران کی بیوی نائلہ بنت الفرافصہ گھر میں تھے۔
بلوائیوں نے ہمسائے کے گھر میں داخل ہوکر اور دیوار کود کر حضرت عثمان پر حملہ کیا سب سے پہلے محمد بن ابی بکرؓ حضرت عثمان غنیؓ کے قریب پہنچے اوراُن کی داڑھی پکڑ کر کہا کہ اے نعثل(لمبی داڑھی والے) خدا تجھ کو رسوا کرے،حضرت عثمانؓ نے کہا کہ میں نعثل نہیں ؛بلکہ عثمان امیرالمومنین ہوں ،محمد بن ابی بکرؓ نے کہا تجھ کو اس بڑھاپے میں بھی خلافت کی ہوس ہے،حضرت عثمانؓ نے کہا کہ تمہارے باپ ہوتے تو وہ میرے اس بڑھاپے کی قدر کرتے اور میری اس داڑھی کو اس طرح نہ پکڑتے محمد بن ابی بکرؓ یہ سُن کر کچھ شرما گئے اورداڑھی چھوڑ کر واپس چلے گئے،اُن کے واپس جانے کے بعد بد معاشوں کا ایک گروہ اسی طرف سے دیوار کود کر اندر آیا، جس میں بلوائیوں کا ایک سرغنہ عبدالرحمن بن عدیس کنانہ بن بشیر عمرو بن عمق،عمیر بن حنابی، سودان بن حمران غافقی تھے،کنانہ بن بشیر نے آتے ہی حضرت عثمان غنیؓ پر تلوار چلائی، ان کی بیوی نائلہ نے فوراً آگے بڑھ کر تلوار کو ہاتھ سے روکا،ان کی انگلیاں  کٹ کر الگ جا پڑیں،پھر دوسرا وار کیا ،جس سے آپ شہید ہوگئے،اس وقت آپ قرآن کی تلاوت  میں مصروف تھے،خون کے قطرات قرآن شریف کی آیت پر گرے "فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" عمرو بن عمق نے آپ پر نیزے سے نو زخم پہنچائے۔
عمیر بن حنابی نے آگے بڑھ کر ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں،وہ ہر ٹھوکر لگاتے ہوئے کہتا جاتا تھا،کیوں تم نے ہی میرے باپ کو قید کیا تھا جو بے چارہ حالت قید ہی میں مرگیا تھا،گھر کے اندر یہ قیامت برپا ہوگئی،چھت والوں اور دروازے والوں کو خبر ہی نہ ہوئی، آپ کی بیوی نائلہ نے آوازیں دیں تو لوگ چھت پر سے اترے اور دروازے کی طرف سے اندر متوجہ ہوئے بلوائی اپنا کام کرچکے تھے وہ بھاگے بعض ان میں سے حضرت عثمان کے غلاموں کے ہاتھوں سے مارے گئے،اب کسی کونہ دروازے پر رہنے کی ضرورت تھی نہ کسی کی حفاظت باقی رہی تھی،چاروں طرف سے بلوائیوں ،بدمعاشوں نے زور کیا،گھر کے اندر داخل ہوکر تمام گھر کا سامان لوٹ لیا حتی کہ جسم کے کپڑے تک بھی نہ چھوڑے اس بدامنی اورہلچل کے عالم میں بجلی کی طرح مدینہ میں عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر پھیل گئی،یہ حادثہ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ یوم جمعہ کو وقوع پذیر ہوا،تین دن تک حضرت عثمان غنیؓ کی لاش بے گور وکفن پڑی رہی آخر حکیم بن حزام اورجبیر بن مطعم دونوں حضرت علیؓ کے پاس گئے، انہوں نے دفن کرنے کی اجازت دی،رات کے وقت عشاء ومغرب کے درمیان جنازہ لے کر نکلے،جنازہ کے ساتھ زبیرؓ،حسنؓ،ابو جہم بن حذیفہؓ،مروان وغیرہ تھے،بلوائیوں نے جنازہ کی نماز پڑھنے اور دفن کرنے میں بھی رکاوٹ پیدا کرنی چاہی، مگر حضرت علیؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے سختی سے ان کومنع کیا،جبیر بن مطعمؓ نے جنازہ کی نمازپڑھائی،بغیر غسل کے انہیں کپڑوں میں جو پہنے ہوئے تھے دفن کئے گئے۔
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے وقت ممالکِ اسلامیہ میں مندرجہ ذیل عامل وامیر مامور تھے عبداللہ بن الحضرمی مکہ میں،قاسم بن ربیعہ ثقفی طائف میں ،یعلی بن مینہ صنعاء میں عبداللہ بن ربیعہ جند میں،عبداللہ بن عامل بصرہ میں،معاویہ بن ابو سفیان ملکِ شام میں، عبدالرحمن بن خالد حمص میں،حبیب بن مسلمہ قنسرین میں، ابولاعور سلمی اردن میں،  عبداللہ بن قیس فزاری بحرین میں عقلمہ بن حکیم کندی معاویہ کی طرف سے فلسطین میں،ابو موسیٰ اشعری کوفہ میں،امام اورقعقاع بن عمرو سالارلشکر تھے،جابر مزنی اورسماک انصاری دونوں خراج سواد پر مامور تھے،جریر بن عبداللہ قرقیسیا میں،اشعث بن قیس آذربائیجان میں،سائب بن اقرع اصفہان  میں گورنر مقرر تھے مدینہ منورہ میں بیت المال کے افسر عقبہ بن عمرو اورقضا پر زبیر بن ثابت مامور تھے۔
حضرت عثمان غنیؓ ۸۲ سال کی عمر میں بارہ سال خلافت کرکے فوت ہوئے،جنت البقیع کے قریب مدفون ہوئے، آپ کے کل گیارہ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہوئی تھیں۔

خلافت عثمانی پر ایک نظر:
خلافتِ عثمانیؓ کے واقعات پڑھ کر بے اختیار قلب پر یہ نمایاں اثر ہوتا ہے کہ ہم عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت صدیقی و فاروقی کے زمانے کو طے  کرکے کسی نئے زمانے میں داخل ہوتےہیں، اس زمانے کی آب و ہوا بھی نئی ہے اور لوگوں کی وضع قطع میں بھی غیر معمولی تغیر پیدا ہوگیا ہے،زمین وآسمان غرض ہر چیز کی کیفیت متغیر ہے،خلافتِ فاروقی تک مسلمانوں کی نگاہ میں مال ودولت کی کوئی وقعت و قیمت نہ تھی،خود خلیفہ کی حالت  یہ ہوتی تھی کہ اپنے اہل وعیال کی ضروریات پورا کرنے کے لئے دوسرے لوگوں سے بھی بہت ہی کم روپیہ اس کے ہاتھ میں آتا تھا اور اس بے زری وافلاسی کو نہ خلیفہ وقت کوئی مصیبت تصور فرماتا تھا،نہ عام لوگ مال و دولت کی طرف خواہش مند نظر آتے تھے،مسلمانوں کی سب سے بڑی خواہش اعلاء کلمۃ اللہ اوران کی سب سے بڑی مسرت راہِ خدامیں قربان  ہوجانا تھا،عہدِ عثمانی میں یہ بات محسوس طور پر کم ہوگئی تھی،حضرت  عثمان غنیؓ تو پہلے ہی سے مال دار شخص تھے،خلیفہ ہونے کے بعد بھی ان کی سابقہ ہر دو خلفاء کی عدالتوں میں نمایاں فرق نظر آنا چاہئے تھا؛چنانچہ وہ فرق نظر آیا،فاروق اعظمؓ کے آخر زمانے تک فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اوردولت مند وزر خیز علاقے ان کے زمانے میں مسلمانوں نے مسخر و مفتوح کئے،ان کی دولت تو مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی اور آرہی تھی،لیکن وہ  اس دولت کے استعمال اورعیش وراحت حاصل کرنے کے طریقوں سے نا آشنا تھے،حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں مسلمانوں نے  حاصل شدہ دولت سے عیش حاصل کرنا شروع کیا،مدینہ کے معمولی چھپر محلوں اور ایوانوں کی شکل میں تبدیل ہونے لگے،لوگوں کے دلوں میں جائداد حاصل کرنے اورروپیہ جمع رکھنے کا شوق پیدا ہوا، اس شوق کے ساتھ ہی سپہ گری و مردانگی کا خصوصی جذبہ جو مسلمانوں اورعربوں کا امتیازی نشان تھا،کافور ہونے لگا،سپاہیانہ اخلاق کی جگہ آج کل کی اصطلاح کے مطابق رئیسانہ  اخلاق پیدا ہونے لگے جن کو حقیقتاً زمانۂ اخلاق کہنا چاہئے اور یہ سب سے بڑی مصیبت اور سب سے بڑی بد نصیبی  تھی جو مسلمانوں پر وارد ہوئی۔
صدیق اکبرؓ اورفاروق اعظمؓ کے زمانے تک قریش اورحجازی عرب جس میں اکثریت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ دیکھے ہوئے تھی، ایک غالب عنصر کی حیثیت سے موجود تھے،وہ سب کے سب اسلام کو اپنی چیز  سمجھتے اوراپنے آپ کو اسلام کا وارث جانتے تھے،اسلام کے مقابلے میں قبائلی امتیاز ان کے دلوں سے بالکل مٹ گئے تھے،اسلام کے رشتے سے بڑھ کر ان کے نزدیک  کوئی رشتہ نہ تھا اور اسلام سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی محبوب چیز نہ تھی، فتوحات کے وسیع ہونے اورممالکِ اسلامیہ کے کثیر ہونے سے مسلمانوں کی افواج اورمسلمانوں کی جمعیت میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی جو ابھی چند روز سے اسلام میں داخل ہوئے تھے اوران کے دلوں میں اسلامی محبت قبائلی امتیاز اور قومی وخاندانی خصوصیات پر غالب نہیں ہونے پائی تھی،عہدِ  فاروقی کی فتوحات کثیرہ وعظیمہ جن افواج کے ذریعہ ہوئیں ان میں بنی بکر ،بنی وائل، بنی عبدالقیس،بنی ربیعہ، بنی ازد، بنی کندہ، بنی تمیم، بنی قضاعہ وغیرہم قبائل کے لوگ زیادہ تھے،انہیں لوگوں نے ایرانی صوبوں ، شامی علاقوں اور مصر و فلسطین  وغیرہ کو فتح کیا تھا،انہیں کے ذریعہ ایرانی ورومی شہنشاہیوں کے پرخچے اُڑے تھے،لیکن ان مذکورہ قبائل میں سے کوئی بھی قبیلہ ایسا نہ تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی شرفِ صحبت سے فیضیاب ہوا ہو، ان میں سے اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض صحبت پائے ہوئے تھا، تو ایسے لوگوں کی تعداد الشافہ کا لمعدوم کے حکم میں تھی،یہ تمام قبائل جو اسلام کی جرار فوج ثابت ہوئے معصیت سوز ایمان اور مجنونانہ شیفتگی ،اسلام میں قریشی اورحجازی صحابہ کرامؓ کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتے تھے،مگر فاروقِ اعظمؓ کی نگاہ اس قدر وسیع و عمیق تھی کہ ہر مسئلہ کی جزئیات تک کا ان کو احاطہ تھا ،انہوں نے ایسا نظام قائم کر رکھا تھا اورمہاجر و انصار کی سیادت کی ایسی حفاظت کی کہ ان کے عہدِ خلافت میں یہ ممکن ہی نہ ہوا کہ کوئی غیر مہاجر یا انصار کی ہمسری کا خیال تک بھی لاسکے، تمام مہاجرین وانصار کی حیثیت  فاروق اعظمؓ کے زمانہ میں ایک شاہی خاندان اور فاتح قوم کی تھی فاروقِ اعظمؓ نے ایک طرف بڑی کوشش اور احتیاط کے ساتھ اپنی فتحمند فوج اور صف شکن وعربی سپا ہیوں کے خصوصی سپاہیانہ اورجوانمردانہ جذبات کے حفاظت و نگرانی کی حتیٰ کہ شام کے خوش سواد شہروں اور سامانِ عیش رکھنے والی بستیوں میں یا ان کے قریب بھی عہدِ فاروقیؓ میں اسلامی فوجوں کو قیام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا تھا، دوسری طرف سے انہوں نے نہایت ہی اعلیٰ تدبر اورانتہائی مآل اندیشی کے ساتھ جلیل القدر  اور صاحبِ ِ اقتدار صحابیوں کو صحبتِ عوام ؛بلکہ صحبتِ عام سے خاص خوبی کے ساتھ بچا کر رکھا کہ کسی کو بھی محسوس نہ ہونے پایا اوران جلیل القدر اصحاب کرام کے رعب وعظمت کی ایک طرف حفاظت ہوئی دوسری طرف ہمہ وقت ان کے گرد مدینہ منورہ میں نہ صرف ملکِ عرب ؛بلکہ تمام دنیا کےمنتخب اوربا اقتدار وصاحبِ اثر جماعت موجود رہتی تھی۔
حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں یہ باتیں رفتہ رفتہ یکے بعد دیگرے مٹتی گئیں،مذکورہ بالا عربی قبائل اپنے آپ کو مہاجرین وانصار قریشی وحجازی لوگوں کا ہمسر ؛بلکہ ان سے بڑھ کر سمجھنے لگے، صحابہ کرامؓ جو شاہی  خاندان کا مرتبہ رکھتے تھے دُور دراز صوبوں میں منتشر ہوگئے،مدینہ منورہ کی جمعیت درہم برہم ہوگئی اور خود دارالخلافہ قوت کا مرکز نہ رہ سکا،اس کانتیجہ یہ ہوا کہ ساتھ ہی ساتھ قومی وقبائلی امتیازات تازہ ہونے لگے،ہر ایک قبیلے اور ہر ایک خاندان کی الگ الگ عصبیت قائم ہوگئی،آپس میں وہی عہدِ جاہلیت کی رقابتیں زیادہ ہونے لگیں اور اسلامی رشتہ اور دینی اخوت کا اثر قومی وخاندانی امتیازات پر فائق نہ رہ سکا،مہاجرین  وانصار نو مسلموں کی کثرت کے اندر درخورہونے  کی وجہ سے اپنے   اقتدوعظمت کو باقی نہ رکھ سکے۔
حضرت عثمان غنیؓ نرم مزاج تھے،حکومت وانتظام کے باقی رکھنے کے لئے  تنہا نرم مزاجی ہی کافی نہیں ہوسکتی ؛بلکہ اس کے لئے طاقت وسختی کے اظہار کی بھی ضرورت ہوا کرتی ہے حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں ایک طرف تو مسلمانوں کے دلوں میں مال ودولت اورعیش وراحت جسمانی کی قدر پیدا ہونے لگی، اور دوسری طرف خلیفہ وقت کا رعب واقتدار دلوں سےکم ہونے لگا، اس حالت میں شہرت پسند اورجاہ طلب لوگوں کو اپنی اولوالعزمیوں کے اظہار اوراپنے ارادوں کے پورا کرنے کی کوششوں کا موقع ملنے لگا،قریشیوں اورحجازیوں میں جو اس قسم کے اولوالعزم اشخاص تھے،ان کو بڑی آسانی کے ساتھ نو مسلم قبائل کی حمایت اور فتح مند لشکریوں کی اعانت وحمایت حاصل ہونے لگی۔
اسلام سے پیشتر قبیلۂ قریش دوحصوں میں منقسم سمجھا جاتا تھا،ایک بنو امیہ،دوسرے بنو ہاشم اگرچہ بنو ہاشم اور بنو امیہ دونوں خاندان مل کر تمام قبیلہ قریش  کو پورا نہیں کرتے تھے ؛بلکہ مثل اس کے اور بھی خاندان قریش میں تھے،لیکن بنو ہاشم اور بنو امیہ چونکہ ایک دوسرے کے رقیب  اورمخالف تھے لہذا باقی خاندان بھی انہیں میں  سے کسی نہ کسی کے طرف دار تھے ،بنو امیہ کی طاقت اوران کا اثر ورسوخ ظہورِ اسلام کے قریب زمانہ میں بنو ہاشم سے بڑھ گیا تھا،اگرچہ ظہورِ اسلام سے بہت پہلے وہ بنو ہاشم سے کمزور تھے،جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبیلۂ بنو ہاشم  میں مبعوث ہوئے تو بنو اُمیہ نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اسلام کی سب سے زیادہ مخالفت  کی،احد و احزاب کی خطرناک وعظیم الشان  لڑائیوں میں مخالفین اسلام کی فوجوں کا سپہ سالار ابو سفیان تھا، جو بنو امیہ سے تھا، آخر نتیجہ یہ ہوا کہ خود ابو سفیان  اور بنو امیہ سب اسلام میں داخل ہوگئے، امویوں اورہاشمیوں کا فرق اور امتیاز بالکل مٹ گیا، اسلام نے بنو امیہ اوربنو ہاشم  دونوں کو بالکل  ایک کردیا،نسلی اور قبائلی امتیازات کا نام ونشان باقی نہ رہا، حضرت ابوبکر صدیقؓ اورحضرت عمر فاروقؓ کے عہدِ خلافت میں بھی یہی کیفیت رہی اور سارے کے سارے قبائل ایک ہی رنگ میں رنگین نظر آتے تھے؛ لیکن حضرت عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں بنو امیہ کو عہدِ جاہلیت کی رقابتیں پھر یاد آگئیں ، پھر حضرت عثمان غنی چونکہ بنو امیہ تھے اورساتھ ہی ان کو اپنے کنبے  کی پرورش اوراپنے رشتہ داروں پر احسان کرنے کا زیادہ خیال تھا،لہذا بنو امیہ کو زیادہ منافع حاصل ہوتے ،ادھر فوجی اور جنگی اولوالعزمیوں  کے ساتھ مالی اولوالعزمیاں  بھی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے لگی تھیں، خلیفۂ وقت کے رعب  واقتدار کی گرفت بھی کم ہوگئی تھی،مہاجرین وانصار اورقریشیوں کا اقتدار  بھی نو مسلم بہادروں کی کثرت کے سبب ہلکا پڑنے لگا تھا،مدینہ منورہ میں بھی بااثر اورطاقتور لوگوں کی یک دل جمعیت کمزور ہوکر قریباً  معدوم ہوچکی تھی،لہذا  بنوامیہ نے ان تمام باتوں سے فائدہ اُٹھانے میں کمی نہیں کی،حضرت عثمان غنیؓ کی نرم مزاجی سے تو انہوں نے یہ فائدہ اُٹھا یا کہ مروان بن الحکم کو ان کا میر منشی ہونے کی حالت میں بنو امیہ کا ایسا حامی و طرفدار بنادیا کہ اس نے جا اور بے جا ہمہ وقت اوربہر طور بنو امیہ کو فائدہ پہنچوانے ،آگے بڑھانے،طاقتور بنانے میں مطلق کوتاہی نہیں کی۔
جب ملکوں اورصوبوں کی گور نریاں زیادہ تر بنوامیہ ہی کو مل گئیں اور تمام ممالکِ اسلامیہ میں ہر جگہ بنو امیہ  ہی حاکم اورصاحبِ اقتدار نظر آنے لگے تو انہوں نے اپنے اقتدار رفتہ کے واپس لینے یعنی بنو ہاشم کے مقابلہ میں اپنا مرتبہ بلند قائم کرنے کی کوشش کی،اس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ  بنو ہاشم اور دوسرے قبائل کو بھی بنو امیہ کی ان کوششوں کا احساس ہوا،یہ کہنا کہ خود حضرت عثمان غنیؓ بنو امیہ کی ایسی کوششوں کے متحرک  اورخواہش مند تھے سراسر بہتان  وافترا ہے؛ کیونکہ ان کے اندر کسی سازش،کسی پالیسی، کسی منافقت کا نام ونشان تک بھی  نہیں بتایا جاسکتا، ان کی نرم مزاجی درگذر اور رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک سے پیش آنے کی دو صفتوں نے مل کر بنو امیہ  کو موقع دے دیاکہ وہ اپنے قومی  وخاندانی  اقتدار کے قائم کرنے کی تدبیروں میں مصروف ہوں اور اس طرح  عہد جاہلیت کی فراموش شدہ رقابتیں پھر تازہ ہوجائیں، ان رقابتوں کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے مال و دولت کی فراوانی اور عیش  وتن آسانی کی خواہش نے اور بھی سہارا دیا، اس قسم کی باتوں کا وہم و گمان بھی صدیقی وفاروقی عہدِ خلافت میں کسی کو نہیں ہوسکتا تھا اس موقع پر مجبوراً یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگرچہ خاندان والوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان کرنا  ایک خوبی کی بات ہے ؛لیکن اس اچھی بات پر ایک خلیفہ کو عمل درآمد کرانے کے لئے بڑی ہی احتیاط کی ضرورت ہے اور حضرت عثمان غنیؓ سے شاید کماحقہ،احتیاط کے برتنے میں کمی ہوئی اور مروان  بن الحکم اپنے چچا زاد بھائی کو آخر وقت تک اپنا کاتب یعنی میر منشی اوروزیر ومشیر رکھنا تو بلاشک احتیاط کے خلاف تھا، نہ اس لئے کہ وہ آپ کا رشتہ دار تھا ؛بلکہ اس لئے کہ وہ اتقا اور روحانیت میں ناقص اور  مرتبہ جلیلہ کا اپنی قابلیت وخصائل کے اعتبار سے اہل اور حقدار نہ تھا۔
حضرت عثمان غنیؓ کے خلیفہ ہوتے ہی ایرانی صوبوں میں جگہ جگہ بغاوتیں ہوئیں، مگر اسلامی فوجوں نے باغیوں کی ہر جگہ گوشمالی کی اور تمام بغاو ت زدہ علاقوں میں پھر امن و امان اور اسلامی حکومت قائم کردی،ان بغاوتوں  کے فرو کرنے میں ایک یہ بھی فائدہ ہوا کہ ہر باقی صوبہ  کے سرحد علاقوں  کی طرف بھی توجہ کی گئی اوراس طرح بہت سے نئے نئے علاقے بھی مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے،مثلاً جنوبی ایران کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے سلسلے میں سیستان  و کرمان  کے صوبوں  پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہوا،شمالی ومشرقی ایرانی کی بغاوتوں،ترکوں اور چینیوں کی چڑھائیوں کے انسداد کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہرات ،کابل، بلخ،اورجیحون پار کے علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ،رومیوں نے مصر و اسکندریہ پر چڑھائیاں کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رومیوں کو مسلمانوں نے شکست دے کر بھگا دیا اورجزیرہ سائپرس اورروڈس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا،افریقہ کے رومی گور نر نے فوجیں جمع کرکے مصر کی اسلامی فوج کو دھمکانا چاہا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برقہ طرابلس تک کا علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا، اسی طرح ایشیائے کوچک کی رومی فوجوں نے بھی ہاتھ پاؤں ہلانے  چاہے، مسلمانوں نے ان کو قرار واقعی سزا دے کر آرمینیہ اور طغلس تک کے علاقہ پر قبضہ کرلیا ۔
غرض حضرت عثمان غنی کے زمانے میں بھی بہت کافی اور اہم فتوحات مسلمانوں کو حاصل ہوئیں اور حدود اسلامیہ کے حدود پہلے سے بہت زیادہ وسیع ہوگئے،ایران وشام و مصر وغیرہ ملکوں میں حضرت عثمان غنیؓ کے حکم کے موافق گور نروں نے سڑکیں بنوانے،مدرسے قائم کرنے،تجارت وحرفت اورزراعت کو فروغ دینے کی کوششیں کیں، یعنی سلطنت اسلامیہ نے اپنی ظاہری ترقی کے ساتھ ہی مصنوعی ترقی بھی کی،لیکن یہ تمام ترقیات زیادہ تر خلافت عثمانی کے نصف اول یعنی ابتدائی چھ سال میں ہوئیں،  نصف آخری یعنی چھ  سال  کے عرصہ میں اندرونی اور داخلی فسادات کی پیدائش اورنشو ونما ہوتی رہی، اس سے پیشتر کے مسلمانوں کا مطمح نظر اور قبلۂ توجہ اشاعتِ  اسلام اور شرک شکنی کے سوا اور کچھ نہ تھا،لیکن اب وہ توجہ آپس کی مسابقت اوربرادر افگنی میں بھی مصروف ہونے لگی،بنو امیہ نےمدینہ منورہ میں اپنی تعداد اور اثر کو بڑھا لیا اوراطراف و جوانب کے صوبوں اورملکوں میں بھی ان کا اثر روز افزوں ترقی کرنے لگا۔
یہ ضروری نہ تھا کہ بنو امیہ کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر دوسرے مسلمان قبائل موافقت یا مخالفت میں بے سوچے سمجھے حصہ لینے لگتے اور قومی جانب داری کی آگ میں کود پڑتے ؛بلکہ بنو امیہ کی غلط کاریوں کو محسوس کرنے کے بعد صحابہؓ کرامؓ یعنی مہاجرین وانصار کی محترم جماعت اگر سہو لت و معقولیت کے ساتھ لوگوں کو سمجھاتی اوراس فتنہ کو نشو ونما پانے سے پہلے دبا دینے کی کوشش کرتی تو اصحابِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا اثر امت محمدیہ  صلی اللہ علیہ وسلم  میں ضرور موجود تھا کہ ان بزرگوں کی کوشش صدا بصحراثابت نہ ہوتی، بنو امیہ نے اپنا اقتدار بڑھانے کی کوششیں شروع کیں،ان کا احساس صحابۂ  کرام کو کچھ عرصہ کے بعد ہوا اورجب احساس ہوا تو اس وقت سے علاج کی کوششیں بھی شروع ہوکر کامیاب ہوسکتی تھیں لیکن بد قسمتی اورسوء اتفاق سے امت مسلمہ کو ایک سخت و شدید ابتلاء  میں مبتلا ہونا پڑا، یعنی عین اسی زمانےمیں نہایت چالاک وعقلمند اور صاحب عزم وارادہ یہودی عبداللہ بن سبا اسلام کی تخریب ومخالفت  کے لئے آمادہ ومستعد ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی منافقوں کے ہاتھوں سے مسلمانوں کو بارہا ابتلا میں مبتلا ہونا پڑا، اوراب عہدِ عثمانی میں بھی ایک منافق یہودی مسلمانوں کی ایذا رسانی کا باعث ہوا یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ عبداللہ بن اُبی زیادہ خطرناک منافق تھا یا عبداللہ بن سبا بڑا منافق تھا؛لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ عبداللہ بن اُبی کو اپنے شرارت آمیز منصوبوں میں کامیابی کم حاصل ہوئی اور نامرادی و ناکامی بیشتر اس کے حصے میں آئی، لیکن عبداللہ بن سبا اگرچہ خود کوئی ذاتی کامیابی حاصل نہ کرسکا تاہم مسلمانوں کی جمعیت کو وہ ضرور نقصان عظیم  پہنچا سکا؛کیونکہ اس نقصانِ عظیم کے موجبات پہلے سے مرتب و مہیا ہور ہے تھے،عبداللہ بن سبا کی مسلم کش کوششوں کا سب سے زبردست پہلو یہ تھا کہ اس نے بنو امیہ کی مخالفت  میں یک لخت ویکایک تمام عرب قبائل کو برانگیختہ اورمشتعل کردیا جس کے لئے اس نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حمایت و محبت کو ذریعہ اوربہانہ بنایا جن قبائل میں اس نے مخالفت بنو امیہ  اورعداوت عثمانی پیدا کرنی چاہی، یہ سب کے سب وہی لوگ تھے جو اپنی فتوحات پر مغرور اوراپنے کارنامے کے مقابلے میں قریش واہل حجاز کو خاطر میں نہ لاتے تھے،لیکن سابق الاسلام  نہ تھے ؛بلکہ نو مسلمانوں میں ان کا شمار تھا،عبداللہ بن سبا نے بڑی آسانی سے بنو امیہ کے سواباقی  اہل مدینہ کو حضرت عثمانؓ کی بد گوئی اور بنو امیہ کی عام شکایت  پر آمادہ کردیا،پھر وہ بصرہ کوفہ  دمشق وغیرہ فوجی مرکزوں میں گھوما، جہاں سوائے دمشق کے ہر جگہ اس کو مناسب آب و ہوا  اورموافق سامان میسر ہوئے، دمشق میں بھی اس کو کم کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ یہاں بھی اس نے حضرت ابو ذر غفاریؓ والے واقعہ سے خوب فائدہ اُٹھا یا،آخر میں وہ مصر پہنچا اور تمام مرکزی مقاموں کے اندر جہاں وہ خود سامان  فراہم کراآیا تھا،مصر میں بیٹھے بیٹھے اپنی تحریک کو ترقی دی،مصر کواس نے اپنا مرکز  اس لئے بنایا کہ یہاں کا گور نر عبداللہ بن سعد خود مختاری میں تو دوسرے گورنروں سے بڑھا ہوا اوروقت نظر میں دوسروں سے کم اور رومیوں وغیرہ کے حملوں کی روک تھام کے خیال اور افریقہ و طرابلس وغیرہ کی حفاظت کی فکر میں اندرونی تحریکوں اورداخلی کاموں کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوسکتا تھا، یہیں اس کو دو تین صحابی ایسے مل گئے جو بڑی آسانی سے اس کے ارادوں کی اعانت میں شریک و مصروف ہوگئے۔
اس نے بصرہ میں حضرت طلحہؓ اورکوفہ میں حضرت زبیرؓ کی مقبولیت کو بڑھاہوا دیکھا ؛لیکن وہ جانتا تھا کہ تمام عالم اسلام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مقبو لیت ان دونوں حضرات سے بڑھ جائے گی، لہذا اس نے بصرہ ، کوفہ،دمشق  کو بڑی آسانی سے چھوڑدیا اور مصر میں بیٹھ کر اپنے کام کو اس طرح شروع کیا کہ بصرہ، کوفہ والوں کی اس مخالفت کو ترقی دی جو ان کو بنو امیہ اور حضرت عثمانؓ کے ساتھ پیدا ہوچکی تھی،لیکن مصر میں اس مخالفت کے پیدا کرنے اوراس کو ترقی دینے کے علاوہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی محبت اوراُن کے مظلوم ہونے،حقدارِ خلافت ہونے، وصی ہونے وغیرہ کے خیالات کو شائع کیا، اس اشاعت میں بھی بڑی احتیاط سے کام لیا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طرفداروں کی ایک زبردست جماعت بنالینے میں کامیاب ہوا،عبداللہ بن سبا کی ان کاروائیوں نے بہت ہی جلد عالم اسلام میں ایک شورش پیدا کردی، اس شورش  کے پیدا ہوجانے کے بعد صحابہ کرام سے وہ موقع جاتا رہا کہ وہ خود بنو امیہ کے راہ راست پر رکھنے کے کوشش میں کامیاب ہوتے ،عبداللہ بن سبا کی شرارتوں میں غالباً سب سے  پلید شرارت یہ تھی کہ اس نے مدینہ منورہ سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے فرضی خطوط کو کوفہ و بصرہ و مصر والوں کے پاس بھیجوائے  اوراس طرح اپنے آپ کو بھی حضرت علی  کرم اللہ وجہہ کا ایجنٹ تعین کرانے اور لوگوں کو دھوکا دینے میں خوب کامیاب ہوا،یہ اس کا ایسا فریب تھا کہ ایک طرف حضرت عثمان غنیؓ شہید ہوئے اور دوسری طرف آج تک لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا  ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت  علیؓ کے اشارے اور سازش سے حضرت عثمان غنیؓ شہید کئے گئے،حالانکہ  اس سے زیادہ غلط اور نا درست کوئی دوسری بات نہیں ہوسکتی، وہ یعنی عبداللہ بن سبا نہ حضرت عثمانؓ کا دوست تھا، نہ حضرت علیؓ سے اس کو کوئی ہمدردی تھی وہ  تو دونوں کا یکساں دشمن اوراسلام کی بربادی کا خواہاں تھا، اس لئے جہاں اس نے ایک طرف حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کرایا،دوسری طرف حضرت علیؓ کو شریکِ سازش ثابت کرکے ان کی عزت وحرمت  کو بھی سخت نقصان پہنچا نا چاہا۔
حضرت ابوبکرصدیقؓ اورحضرت عمر فاروقؓ کے بعد اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ منتخب ہوتے تو یہ انتخاب عین وقت پر اور تر تیب کے اعتبار سے بالکل موزوں  اورمناسب تھا ،حضرت علی  کرم اللہ وجہہ اگر حضرت عمر فاروقؓ کے بعد تختِ خلافت پر متمکن ہوجاتے تو فاروق اعظمؓ اورحضرت علیؓ  کی خلافت میں بے حد مشابہت نظر آتی،وہی سادگی،وہی زہد و تقویٰ، وہی مال و دولت سے بے تعلق ہونا ہی خاندانی اور   قومی حمایت  سے بے تعلق ہونا وغیرہ باتیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ میں موجود تھیں جو حضرت عمرؓ میں پائی جاتی تھیں  اوراس طرح شاید عرصہ دراز تک قومی پاسداری اورخاندانی حمایت کا مسئلہ مسلمانوں میں پیدا نہ ہوتا، حضرت عثمان غنیؓ کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا خلیفہ مقرر ہونا ہی  حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہدِ خلافت کی عام ناکامیوں کا اصل سبب ہے جیسا کہ آئندہ حالات سے ثابت ہوجائے گا۔

خصائل وخصائص عثمانی:
عثمان غنیؓ  کی فطرت کی نہایت  ہی  سلیم  وبرد بار  ثابت ہوئی تھی ، عہد جاہلیت  ہی میں شراب اپنے  اوپر حرام کرلی  تھی، کبھی عہدِ جاہلیت میں بھی زنا کے پاس تک نہیں بھٹکے نہ کبھی چوری کی ،عہد جاہلیت میں بھی ان کی سخاوت سے لوگ ہمیشہ فیض یاب ہوتے رہتے تھے،ہر سال حج کو جاتے،منیٰ میں اپنا خیمہ نصب کراتے، جب تک حجاج کو کھانا نہ کھلا لیتے لوٹ کر اپنے خیمہ میں نہ آتے اوریہ وسیع دعوت صرف اپنی جیب خاص سے کرتے،جیش العسرۃ کا تمام سامان حضرت عثمان غنی نے مہیا فرمایا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلبیت  نبوی پر بارہا فاقہ کی مصیبت آتی تھی اکثر موقعوں پر حضرت عثمانؓ  ہی واقف ہوکرضروری سامان  بھجواتے تھے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار ہا ان کے لئے دعا کی ہے کہ "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ قَد رَضِیْتُ عَنْ عُثْمَان فَارض عنہ اللھم انی قد رضیت عن عثمان فارض عنہ "(اے اللہ! میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا،اے اللہ ! میں عثمانؓ سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا، ایک مرتبہ یہ دعا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام سے صبح تک مانگتے رہے،ایک مرتبہ خلافتِ صدیقی میں سخت قحط پڑا، لوگوں کو کھانا اور غلہ دستیاب  نہ ہونے کی سخت تکلیف ہوئی، ایک روز  خبر مشہور ہوئی کہ حضرت عثمان غنیؓ کے ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے آئے ہیں، مدینہ کے تاجر  فوراً حضرت عثمانؓ کے پاس پہنچے اورکہا کہ ہم کو ڈیوڑھے نفع سے غلہ دے دو یعنی جس قدر تم کو غلہ سو روپے میں پڑا ہے ،ہم سے اس کے ڈیڑھ سو روپے لے لو،حضرت عثمان غنیؓ نے کہا کہ تم سب لوگ گواہ رہو کہ میں نے اپنا تمام غلہ فقراء ومساکین مدینہ کودے دیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اسی شب میں نے خواب دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار حُلہ نوری پہنے ہوئے جارہے ہیں، میں دوڑ کر آگے بڑھا اور عرض کیا: مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا بے حد اشتیاق تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جانے کی جلدی ہے، عثمانؓ نے آج ایک ہزار اونٹ غلہ صدقہ دیا ہے اورخدائے تعالیٰ نے اس کو قبول فرما کر جنت میں ایک عروس کے ساتھ عثمان ؓ کا عقد کیا ہے،اس عقد میں شریک ہونے جارہا ہوں،حضرت عثمان غنیؓ جب سے ایمان لائے،آخر وقت تک برابر ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے رہے، کبھی اگر کسی جمعہ کو آزاد نہ کرسکے تو اگلے جمعہ کو دو غلام آزاد کئے،ایام محاصرہ میں بھی جبکہ بلوائیوں نے آپ ؓ پر پانی تک بند کررکھا تھا آپ ؓ نے غلاموں کو برابر آزاد کیا، آپ ؓ نہایت سادہ کھانا کھاتے تھے اور سادہ لباس پہنتے؛ لیکن مہمانوں کو ہمیشہ نہایت لذیذ اور قیمتی کھانا کھلاتے تھے، عہدِ خلافت میں بھی کبھی آپ ؓ نے دوسرے لوگوں سے برتری اور فضیلت تلاش نہیں کی، سب کے ساتھ بیٹھتے ،سب کی عزت کرتے  اور کسی  سے اپنی تکریم  کے خواہاں نہ ہوتے تھے،ایک مرتبہ آپ ؓ  نے اپنے غلام سے کہا کہ میں نے تیرے اوپر زیادتی کی تھی تو مجھ سے اس کا بدلہ لے لے ،غلام نے آپ ؓ کے کہنے سے آپ ؓ کے کان پکڑے،آپ ؓ نے اُس سے کہا کہ بھائی خوب زور سے پکڑو کیونکہ دنیا کا قصاص آخرت کے بدلے سے بہرحال آسان ہے،قرآن کریم کی اشاعت اورقرآن کریم کی ایک قرأت پر سب کو جمع کرنا اوپر مذکور ہوچکا ہے ،مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی توسیع کا حال بھی اوپر آچکا ہے،آپ ؓ نے روزینوں کی تقسیم اور وظائف کے دینے کے لئے ایام اور اوقات مقرر فرما رکھے تھے، ہر ایک کام وقت پر اور با قاعدہ کرنے کی آپ کو عادت تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابو بکر صدیقؓ،حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں جمعہ کے دن اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر پر جاتا تھا،حضرت عثمان غنیؓ کے زمانے میں لوگوں کی کثرت ہوئی تو آپ ؓ نے حکم دیا کہ خطبہ کی اذان سے پہلے بھی ایک اذان ہواکرے؛چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک جمعہ کے دن یہ اذان دی جاتی ہے۔

بعض ضروری اشارات:
جس وقت بلوائیوں نے مدینہ منورہ میں داخل ہوکر  بد تمیزیاں شروع کردی تھیں اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مدینہ سے مکہ کی جانب حج کے لئے روانہ ہوئیں،حج سے فارغ ہوکر آپ ؓ مدینہ منورہ کو واپس آرہی تھیں کہ مقام سرف میں بنی لیث کے ایک شخص عبید بن ابی سلمہ نامی کے ذریعہ یہ خبر سُنی کہ حضرت عثمان غنیؓ کو بلوائیوں نے شہید کردیا یہ خبر سن کر آپ ؓ مکہ واپس لوٹ گئیں۔
جس وقت بلوائیوں نے مدینہ میں ہجوم کیا تو حضرت عمرو بن العاصؓ بھی مدینہ میں موجود تھے مگر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ بلوائیوں کی گستاخیاں اوران کا تسلط ترقی کرکے تمام مدینہ کو مغلوب کرچکا ہے اور شرفائے مدینہ بلوائیوں کے مقابلے میں مجبور ہوچکے  ہیں تو عمرو بن العاص نے معہ اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ اورمحمد کے مدینہ سے کوچ کیا اور فلسطین میں آکر رہنے لگے، یہاں تک کہ ان کے پاس فلسطین میں حضرت عثمان غنیؓ کے شہید ہونے کی خبر پہنچی۔
عبداللہ بن سعدؓ گورنر مصر یہ سُن کر کہ مدینہ منورہ میں بلوائیوں نے حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر رکھا ہے،مصر سے مدینہ کی جانب روانہ ہوئے مگر راستے میں یہ سُن کر کہ عثمان غنیؓ شہید ہوگئےمصر کی جانب لوٹے تو معلوم ہوا کہ وہاں محمد بن ربیعہ نے مصر پر قبضہ کرلیا ہے،عبداللہ بن سعدؓ مجبوراً فلسطین میں مقیم ہوگئے اور پھر دمشق کی طرف چلے گئے۔
قتل عثمان غنیؓ کے وقت مدینہ منورہ میں علیؓ، طلحہؓ،زبیرؓ تین بڑے اور صاحبِ اثر حضرات موجود تھے،ان کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ اورحضرت سعد بن وقاص وغیرہ بھی اسی مرتبہ کے حضرات تشریف رکھتے تھے،مگر بلوائیوں اورباغیوں کے ہاتھوں سب کی عزتیں معرض خطر میں تھیں، مدینہ کی حکومت تمام وکمال ان بلوائیوں کے ہاتھ میں تھی اول الذکر ہرسہ اصحاب اگرچہ بلوائیوں کی نگاہ میں خاص عزت ووقعت بھی رکھتے تھے،لیکن ان سب نے اپنی اپنی عزتوں کی حفاظت کے خیال سے گھروں کے دروازے بند کرلئےتھے  اورسب خانہ نشین  ہو بیٹھے تھے،کوئی گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ بعض ضرورتوں سے مدینہ