
«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»
ترجمہ:
"علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:2030]
📜 شرح المناوی:
اس (حدیث) کے بارے میں اقوال میں اختلاف اور آراء میں تضاد پایا گیا ہے، اور اس فرض کردہ علم کے بارے میں تقریباً بیس (۲۰) اقوال ہیں۔ ہر گروہ اپنے علم (موقف) پر دلائل قائم کرتا ہے، اور ہر ایک کا دوسرے کے لیے ایک معارضہ ہے، اور بعض کا بعض سے تضاد ہے۔
ان میں سے بہترین قول قاضی (عیاض) کا یہ قول ہے:
"وہ علم جسے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں، جیسے خالق (اللہ) کی معرفت، اس کے رسولوں کی نبوت، اور نماز کی کیفیت اور اسی طرح کے امور، پس ان کا سیکھنا عین فرض ہے۔"
امام غزالی نے 'احیاء علوم الدین' میں فرمایا:
"اس (حدیث) سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کا علم ہے جس سے قلبی معارف (روحانی بصیرت) پیدا ہوتی ہیں، اور یہ علم کلام (فلسفیانہ مناظرہ) سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو اس سے حجاب (رکاوٹ) بن جاتا ہے۔ اور اس (معرفت) تک رسائی مجاہدہ (نفس کی کشمکش) کے ذریعے ہی ممکن ہے، پس (کہا گیا ہے کہ) تم مجاہدہ کرو تو تمہیں مشاہدہ (رویت) حاصل ہوگی۔" پھر انہوں نے اس کی توضیح میں تفصیل بیان کی جو سینوں کو کشادہ اور دلوں کو نور سے بھر دیتی ہے۔
📌 حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)
۱. حدیث کی سند اور اس کا درجہ
یہ حدیث کئی صحابہ کرام سے مروی ہے، جس کی وجہ سے یہ حسن کے درجے تک پہنچ جاتی ہے:
راوی:
حضرت انس بن مالک، حضرت حسین بن علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت علی، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم
حکم:
اگرچہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، لیکن بعض اہل علم نے اسے صحیح اور حسن کہا ہے۔ امام سیوطی نے اسے صحیح اور علامہ البانی نے صحيح الجامع میں شامل کیا ہے۔
۲. "علم" سے کیا مراد ہے؟ (علماء کے بیس اقوال)
اس حدیث میں مذکور "علم" کی تفسیر میں علماء کے تقریباً بیس اقوال ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں:
مفسر موقف
قاضی عیاض وہ علم جسے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں، جیسے اللہ کی معرفت، نبوت کا یقین، اور نماز کے احکام۔
امام غزالی اصل مقصود اللہ اور اس کی صفات کا معرفت ہے جو مجاہدہ (نفس کی کشمکش) سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ علم کلام (فلسفیانہ مناظرہ) سے۔
سہروردی علم اخلاص اور نفس کی آفات کی معرفت ہے۔
۳. فرض عین اور فرض کفایہ کا اصول
فقہاء کے نزدیک:
فرض عین: وہ علم جو ہر مسلمان پر فرداً فرداً واجب ہے، جیسے نماز، روزہ، حلال و حرام کی بنیادی پہچان۔
فرض کفایہ: وہ علم جسے اگر کچھ لوگ سیکھ لیں تو دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے، جیسے طب، ریاضی، اور دیگر فنون۔
۴. امام غزالی کا قیمتی اضافہ: "مجاہدہ تشاہد" کا اصول
امام غزالی نے وضاحت فرمائی کہ اللہ کی معرفت محض علمی بحث و مناظرہ (علم کلام) سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کا ذریعہ مجاہدہ (نفس کی اصلاح، عبادت، اور ریاضت) ہے۔ انہوں نے یہ اصول دیا:
"جاهد تشاهد" — تم مجاہدہ کرو تو تمہیں مشاہدہ (روحانی بصیرت) حاصل ہوگی۔
۵. خواتین کا حکم (مسلمہ کا ذکر)
اگرچہ حدیث کے لفظ میں "مسلم" (مذکر) آیا ہے، لیکن علماء کا اتفاق ہے کہ یہ حکم خواتین پر بھی عین طور پر لاگو ہوتا ہے، کیونکہ شریعت کے عمومی احکام میں عورت اور مرد برابر ہیں، الا یہ کہ کوئی خاص دلیل کسی ایک کو مستثنیٰ کرے۔
۶. اس حدیث سے عملی اسباق
علم کا حصول ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے — چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔
ضروری علم (جیسے عقائد، نماز، روزہ، حلال و حرام) سیکھنا فرض عین ہے۔
دوسرے علوم (جیسے طب، انجینئرنگ، معاشیات) فرض کفایہ ہیں۔
علم کا اصل مقصد اللہ کی معرفت اور قربت ہے، نہ کہ محض معلومات کا ذخیرہ۔
روحانی ترقی کے لیے علم کے ساتھ عمل اور مجاہدہ ضروری ہے۔
کمزور سند کے باوجود اس حدیث کے معنی کو دوسری صحیح احادیث سے تقویت حاصل ہے۔
خلاصہ:
یہ حدیث "طلب العلم فريضة على كل مسلم" اگرچہ سنداً مختلف فیہا ہے، لیکن اس کا مفہوم قرآن و سنت کے عمومی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ہر مسلمان پر ضروری دینی علم حاصل کرنا فرض ہے، اور اللہ کی معرفت کا حصول مجاہدہ اور عمل کے بغیر ممکن نہیں۔
جنگ کیا ہے؟
(13) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«الْحَرْبُ خَدْعَةٌ»
ترجمہ:
"جنگ دھوکہ ہے۔"
📜 شرح المناوی:
«الْحَرْبُ خَدْعَةٌ» "جنگ دھوکہ (خدعہ) ہے" – (یہ لفظ) تین طرح پڑھا جاتا ہے:
پہلی صورت: "خَدْعَةٌ" (خاء کی فتح اور دال کا سکون) – یعنی ایک (واحد) دھوکہ، جس شخص کے لیے یہ (دھوکہ) آسان ہو جائے تو اس کے لیے فتح و کامرانی ہے۔
دوسری صورت: "خُدْعَةٌ" (خاء کی ضم اور دال کا سکون) – یعنی یہ (جنگ) انسان کو بہت زیادہ دھوکہ دینے والی ہے، کیونکہ یہ اسے وہم میں مبتلا کر کے خیالی باتیں دکھاتی ہے اور امیدیں دلاتی ہے، پھر جب وہ اس میں پڑتا ہے تو اسے معاملہ اپنے گمان کے برعکس پاتا ہے۔
تیسری صورت: "خُدَعَةٌ" (خاء کی ضم اور دال کی فتح) – یہ "ہمزۃ" اور "لمزۃ" کی طرح مبالغہ کا صیغہ ہے (یعنی بہت زیادہ دھوکہ باز)۔
چوتھی صورت: "خَدَعَةٌ" (دونوں کی فتح) – یہ "خادع" کی جمع ہے (یعنی دھوکے باز لوگ)۔
پانچویں صورت: "خِدْعَةٌ" (خاء کی کسر اور دال کا سکون) – یعنی یہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکا دیتی ہے، یا یہ کہ یہ دھوکہ دینے کی جگہ اور اس کا مقام اور متوقع مرکز ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
ان تمام لغوی صورتوں میں سب سے زیادہ فصیح "خَدْعَةٌ" (خاء کی فتح اور دال کا سکون) ہے، اور یہی نبی کریم ﷺ کی زبان ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس میں "تاء" (آخر میں) وحدانیت (ایک دھوپ) کی دلیل ہے – یعنی اگر دھوکہ مسلمانوں کی طرف سے ہو تو گویا آپ ﷺ نے انہیں اس کی ترغیب دی، خواہ ایک بار ہی ہو؛ اور اگر کفار کی طرف سے ہو تو گویا آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ان کے مکر و فریب سے خبردار کیا، خواہ ایک بار ہی ہو، اور ان سے ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے بڑا فساد پیدا ہو سکتا ہے۔
عسکری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں چالاکی اور حکمتِ عملی (مماکرۃ) نیزے بازی اور تلوار بازی سے زیادہ نفع بخش ہے۔ اور مشہور کہاوت ہے: "جب تم غالب نہ آ سکو تو چال چلو (یعنی دھوکہ دو)"۔ یہ قول غزوۂ خندق کے موقع پر ارشاد ہوا، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو قریش، غطفان اور یہودیوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے لیے بھیجا تھا، جیسا کہ واقدی نے ذکر کیا ہے۔
یہ دھوکہ توریہ (کچھ کہہ کر کچھ مراد لینا)، قسم اور وعدہ خلافی (جہاں جائز ہو) کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے، خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، بشرطیکہ اس میں کسی عہد یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس لیے جنگ میں پوری فکر اور رائے کو بروئے کار لانا چاہیے، کیونکہ یہ بہادری سے زیادہ نفع بخش ہے۔ یہ حدیث حکمتوں اور امثال (قیمتی اقوال) میں شمار کی جاتی ہے۔
حرالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
جنگ دراصل ایک ایسی چیز کی مدافعت ہے جو انسان کو اپنی طرف سے وسعت دینے کا تقاضا کرتی ہے، اور وہ اسے اپنی پوری طاقت سے روکتا ہے۔
تخریج اور شواہد:
یہ حدیث درج ذیل محدثین نے اپنی کتابوں میں بیان کی ہے:
- امام معمر بن راشد [الجامع-معمر بن راشد:20205]
- امام سعيد بن منصور [سنن سعيد بن منصور:2889]
- امام احمد بن حنبل [مسند احمد:13341، 934-697]
- امام ابن أبي شيبة [المصنف-ابن أبي شيبة:33671]
- امام أبو عوانة [مستخرج أبو عوانة:6551]
- امام بخاریؒ [صحيح البخاري:3030]
- امام مسلمؒ [صحيح مسلم:1740]
- امام ابو داودؒ [ابوداود:2637]
- امام ترمذیؒ [سنن الترمذي:1675]
- امام النسائي [السنن الكبرى-النسائي:8589]
- امام ابن ماجہؒ [سنن ابن ماجہ:2833-2834]
- امام أبي داود الطيالسي [مسند أبي داود الطيالسي:1804]
- امام أبو يعلى الموصلي [مسند أبي يعلى:1968]
- امام الطبرانى [المعجم الكبير للطبراني:2728]
- امام الطبریؒ [تهذيب الآثار-مسند علي:202]
- امام ابن الأعرابي [معجم شيوخ ابن الأعرابي:549]
- امام ابن المقرئ [معجم ابن المقرئ:1152]
- امام القضاعي [مسند الشهاب:8]
- امام أبي الشيخ الأصبهاني [أمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني:2]
- امام اللكي [نسخة نبيط بن شريط:333 (5)]
صحابہ کرام جو اس حدیث کے راوی ہیں:
(1)حضرت جابر بن عبداللہؓ سے
[بخاري:3030، سنن الترمذي:1675]
(2)حضرت ابوہریرہؓ سے
(3)حضرت انس بن مالکؓ سے
(4)حضرت کعب بن مالک انصاریؓ سے
(5)حضرت ابن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ سے
(6)حضرت ابن عمرؓ سے
(7)حضرت نواس بن سمعان کلابی سے
[مستخرج أبو عوانة:6551، التاريخ الكبير البخارى (٣/٤٣٦)]
(8)حضرت نعيم بن مسعود اشجعی
(9)حضرت علیؓ سے
[بخاری: 3611، 5057، 6930، مسلم: 1066][البزار:537-485، احمد:934-697]
(10)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے
(11)حضرت أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ سے
(12)حضرت حسن بن علی سے
[أبو عوانة:6541، الطبرانى:2728، أبو يعلى:6760]
(13)حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے
(14)حضرت زید بن ثابت
[مستخرج أبو عوانة:6542، تهذيب الآثار-مسند علي:202، معجم ابن المقرئ:1152، طبراني:4866]
(15)حضرت عبداللہ بن سلام
[المعجم الكبير للطبراني:368، مسند أبي يعلى:7495]
(16)حضرت عوف بن مالک
(17) حضرت خالد بن ولید
ان کی روایت ہے: "نبی کریم ﷺ جب کسی سفر یا غزوے کا ارادہ فرماتے تو اس کے علاوہ کسی اور (مقام) کی طرف اشارہ کرتے (توریہ کرتے) اور فرماتے: جنگ دھوکہ ہے۔"
اور یہ حدیث (ان تمام طرق کی بنا پر) متواتر ہے۔
---
حاشیہ (لغوی وضاحت):
"خَدْعَة" (فتح خاء، سکون دال) سب سے فصیح ہے۔
"خُدْعَة" (ضم خاء، سکون دال)۔
"خُدَعَة" (ضم خاء، فتح دال)۔
ان تینوں کے علاوہ دوسری صورتیں بھی ہیں۔
اصلِ خدع کا مطلب ہے: کسی چیز کا اظہار کرنا اور اس کے خلاف اس کا اِضمار (چھپانا) کرنا۔
یعنی مکمل جنگ دراصل مخادعہ (ایک دوسرے کو دھوکا دینا) ہے، نہ کہ محض برسرِ پیکار مقابلہ۔
اس میں فتح و کامرانی دھوکہ دینے کے ساتھ حاصل ہوتی ہے، بغیر کسی حرج کے۔
اس حدیث میں جنگ میں احتیاط اور کافروں کو دھوکہ دینے کی ترغیب ہے، الا یہ کہ اس میں عہد شکنی یا امان کی خلاف ورزی ہو، جو جائز نہیں۔
ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:
جنگ میں دھوکہ تعویض (توریہ)، کمین گاہیں اور اس کے علاوہ دوسرے ذرائع سے کیا جاتا ہے۔
اس حدیث میں جنگ میں رائے اور تدبیر استعمال کرنے کی طرف اشارہ ہے، بلکہ اس کی ضرورت بہادری سے بھی زیادہ ہے، اسی لیے اس حدیث نے اس اہم نکتے کی طرف اکتفا کیا ہے، جیسے کہ قول ہے: "الحج عرفة" (حج عرفات ہے – یعنی حج کا اصل رکن عرفات ہے)۔
📌 حاصل اسباق و نکات
حدیث کی صحت اور متواتر ہونا
یہ حدیث متعدد صحابہ کرام (جابر، ابوہریرہ، انس، کعب، ابن عباس، عائشہ، حسین، زید بن ثابت، خالد بن ولید وغیرہ رضی اللہ عنہم) سے مروی ہے اور امام سیوطی کے نزدیک متواتر ہے، یعنی یقینی طور پر ثابت شدہ سنت ہے۔
جنگ میں دھوکہ دینے کی شرعی اجازت
ائمہ کرام (خاص طور پر امام نووی) کا اس پر اتفاق ہے کہ کافروں کو جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے، چاہے وہ توریہ، قسم، وعدہ خلافی، یا کمین گاہوں کے ذریعے ہو، بشرطیکہ کسی عہد یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔
جنگ میں تدبیر اور عقل کا استعمال بہادری سے زیادہ اہم ہے
امام نووی اور ابن العربی نے واضح کیا کہ جنگ میں رائے، فکر اور حکمتِ عملی کا استعمال محض بہادری سے زیادہ نفع بخش ہے۔ اسلام محض طاقت کا نہیں، بلکہ عقل و تدبیر کا دین ہے۔
عملی نمونہ: غزوۂ خندق اور نعیم بن مسعود کا واقعہ
اس حدیث کا عملی اطلاق غزوۂ خندق میں ہوا، جب نبی ﷺ نے نعیم بن مسعود (جو نئے مسلمان تھے اور ان کی قوم کو علم نہیں تھا) کو قریش، غطفان اور یہودیوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے لیے بھیجا، جس سے مسلمانوں کو بڑی فتح حاصل ہوئی۔
توریہ (equivocation) اور اس کا جواز
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جنگ میں توریہ (کچھ کہنا اور کچھ مراد لینا) اور جھوٹی قسم (جہاں ضرورت ہو) جائز ہے، تاکہ دشمن کو دھوکہ دے کر نقصان سے بچا جا سکے۔
عہد اور امان کی پاسداری
اس حدیث میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ دھوکہ صرف اس وقت جائز ہے جب کسی مسلمان یا کافر کے ساتھ کوئی معاہدہ (عہد) یا امان نہ ہو۔ اگر کسی سے عہد کیا گیا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنا حرام ہے۔
(حوالہ: قرآن: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ – الإسراء: 34، اور صحیح مسلم)
جنگ میں حیلوں اور کمین گاہوں کا جواز
ابن العربی نے فرمایا کہ اس حدیث میں کمین گاہیں لگانا اور تعویض (مورائی) کرنا بھی شامل ہے، جو کہ جنگی حیلے ہیں اور جائز ہیں۔
لغت عرب کی گہرائی اور فصاحت
اس حدیث میں لفظ "خدعة" کی متعدد قرآتیں ہیں، جن کے معانی میں باریک فرق ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عربی زبان کا ہر لفظ اپنے محل اور موقع کے مطابق معانی رکھتا ہے، اور اس کا مطالعہ باعثِ علم و بصیرت ہے۔
خلاصہ:
یہ حدیث جنگ میں حکمتِ عملی، چالاکی اور دشمن کو دھوکہ دینے کی اجازت دیتی ہے، تاکہ مسلمانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ یہ روایت صحیح اور متواتر ہے، اور اس پر عمل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کسی عہد یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں، بلکہ عقل، فکر اور تدبیر کا میدان ہے۔
تفاسیر:
یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔
[تفسير الثعلبي:21 /356 سورۃ الاحزاب، آیت 10]
رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اس خوف اور شدت میں رہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، (اس وجہ سے کہ) ان کے دشمن آپس میں متحد ہو گئے تھے اور ان پر اوپر سے اور نیچے سے (مختلف اطراف سے) حملہ آور ہو رہے تھے۔
پھر بیشک (قبیلہ) غطفان کے نعیم بن مسعود بن عامر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میری قوم کو میرے اسلام کا علم نہیں ہے، لہٰذا آپ مجھے جو حکم دیں میں کروں گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم ہمارے یہاں (نظر آنے والے) ایک آدمی ہو، (اس لیے) اگر تم سے ہوسکے تو ہماری طرف سے (ان میں) تفرقہ ڈال دو، کیونکہ جنگ ایک چال (فریب/خدعہ) ہے۔
چنانچہ نعیم بن مسعود (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ بنو قریظہ کے پاس پہنچے، اور وہ جاہلیت میں ان کے ہم نشیں (دوست) تھے، انہوں نے ان سے کہا: اے بنو قریظہ! تم لوگ میری محبت کو جانتے ہو اور خاص طور پر میرے اور تمہارے درمیان (جو تعلق) ہے۔ انہوں نے کہا: تم نے سچ کہا، تم ہمارے نزدیک متہم (خائن) نہیں ہو۔
پھر انہوں نے (نعیم) ان سے (بنی قریظہ سے) کہا: قریش اور غطفان محمد ﷺ کی جنگ کے لیے آئے ہیں اور تم نے ان کی ان کے خلاف (محمد کے خلاف) مدد کی ہے، اور بیشک قریش اور غطفان تم لوگوں کی طرح (یہاں کے رہنے والے) نہیں ہیں، (کیونکہ) یہ شہر تمہارا شہر ہے، اس میں تمہارے اموال، اولاد اور عورتیں ہیں، تم اسے چھوڑ کر کسی اور جگہ نہیں جا سکتے، جبکہ قریش اور غطفان کے اموال، اولاد اور عورتیں دور (دوسری جگہ) ہیں، اگر انہیں کوئی موقع اور غنیمت نظر آتی ہے تو اسے حاصل کر لیتے ہیں، اور اگر ایسا نہ ہو تو اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے اور تمہیں اس شخص (محمد) کے ساتھ (اکیلا) چھوڑ دیں گے، اور وہ شخص تمہارے شہر میں ہے، اگر وہ تمہارے ساتھ اکیلا پڑ گیا تو تمہیں اس کی کوئی طاقت نہیں (تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے)، پس تم ان لوگوں (قریش وغطفان) کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک تم ان سے (قریش وغطفان سے) ان کے سرداروں میں سے کوئی رہن (یرغمال) نہ لے لو، جو تمہارے ہاتھ میں ضمانت بن کر رہیں کہ وہ تمہارے ساتھ مل کر محمد ﷺ سے جنگ کریں گے، یہاں تک کہ تم ان سے (محمد سے) دو بدو مقابلہ کرو۔
انہوں (بنی قریظہ) نے کہا: بیشک تم نے ایک بہترین رائے اور (خیر خواہی کا) مشورہ دیا ہے۔
[تفسير البغوي:6 /329 سورۃ الاحزاب:10]
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا ارادہ کرتے تو اپنے اصلی ارادوں کو چھپاتے۔" وہ کہتا تھا کہ جنگ فریب ہے۔ چنانچہ جب اس نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا تو اس نے اپنا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا۔ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ کے لوگوں کو سارہ نامی عورت کے ذریعے ایک خط لکھا جس میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے آگاہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے نبی پر نازل کی، اور معاملہ کھل گیا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:
تم ان سے خفیہ طور پر دوستی کی بات کرتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم خفیہ طور پر کرتے ہو، اور جو کچھ علانیہ کرتے ہو، میں اس سب کو پوری طرح جانتا ہے۔
[تفسير السمعاني:3 (5 /413) سورۃ الممتحنۃ:1]
ہمارے علمائے کرام نے فرمایا: امام کے خلاف خیانت دوسروں کے خلاف خیانت سے زیادہ بڑی اور گھناؤنی ہے کیونکہ اس سے بدعنوانی پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ خیانت کریں اور یہ ان کے بارے میں معلوم ہو جائے اور وہ عہد کو نہ توڑیں تو دشمن ان پر کسی عہد یا صلح کا اعتبار نہیں کرے گا، اس لیے اس کی طاقت بڑھے گی اور اس کا نقصان بڑھے گا اور یہ لوگوں کو دین میں داخل ہونے سے روکے گا۔ اور اس کے لیے مسلم رہنماؤں کی مذمت کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر دشمن کا کوئی معاہدہ نہ ہو تو اس کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا جائے اور ہر فریب اس کے خلاف استعمال کیا جائے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مفہوم ہے: ’’جنگ دھوکہ ہے‘‘۔
[تفسير القرطبي:8 /33 سورۃ الانفال:58]
لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔
[موسوعة التفسير المأثور:20175 سورۃ النساء، آیت 114]
شرح موسى شاهين لاشين(متوفی 1430ھ) :
«الحرب خدعة» (جنگ ایک چال/دھوکہ ہے) میں "خدعة" کی تین مشہور لغات ہیں۔
علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ان میں سب سے زیادہ فصیح «خَدْعَة» ہے (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ)۔ ثعلب اور دیگر نے کہا: یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے۔
دوسری (لغت) «خُدْعَة» ہے (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔
تیسری (لغت) «خُدَعَة» ہے (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ)۔
اور منذری نے ایک چوتھی لغت نقل کی ہے: «خَدَعَة» (دونوں کے زبر کے ساتھ)۔
اور مکی نے ایک پانچویں لغت نقل کی ہے: «خِدْعَة» (خاء کے کسرہ اور دال کے جزم کے ساتھ)۔
رہا «خَدْعَة» (فتح الخاء وسکون الدال) – تو یہ مصدر کے وزن پر ہے، فاعل کو مصدر کے نام سے صفت دی گئی ہے، یعنی وہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکہ دیتی ہے – یا مفعول کو مصدر کے نام سے صفت دی گئی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے: «هذا الدرهم ضرب الأمير» یعنی اس کا ضرب کیا ہوا (سکہ)۔
خطابی نے کہا: یہ اسمِ مرہ (ایک بار) کے وزن پر ہے، یعنی جنگ ایک (ہی) چال ہے – اور کیا چال ہے؟ – پس جسے اس میں ایک بار دھوکہ دے دیا جائے، وہ اسے پچھاڑ دیتی ہے اور ہلاک کر دیتی ہے، اور اسے کوئی دوسرا موقع نہیں ملتا۔
یا اس کا معنی (اگر مسلمانوں کے لیے ہو) یہ ہے کہ تم اپنے دشمنوں کو جنگ میں (چاہے) ایک بار ہی دھوکہ دو۔
اور اگر (یہ قول) کفار کی طرف سے ہو تو معنی یہ ہے کہ تم کفار کے دھوکے اور مکر سے ڈرو، چاہے ان کا دھوکہ ایک بار ہی کیوں نہ ہو – کیونکہ اس سے جو فساد پیدا ہوتا ہے وہ اگرچہ کم ہو، اس کے باوجود اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
اور رہا «خُدَعَة» (ضم الخاء وفتح الدال) – تو یہ صفت مبالغہ کے وزن پر ہے، یعنی بہت زیادہ دھوکہ دینے والی، جیسے «هِمَزَةٍ» اور «لُمَزَةٍ» (بہت زیادہ عیب جوئی اور طعن کرنے والا)۔
اور رہا «خُدْعَة» (ضم الخاء وسکون الدال) – تو یہ مصدر (اصل) پر ہے۔
اور رہا «خَدَعَة» (فتحہما) – تو یہ «خَادِع» (دھوکہ دینے والا) کی جمع ہے، یعنی اس (جنگ) کے اہل (جنگجو) اس صفت کے حامل ہیں – گویا اس نے کہا: «أَهْلُ الْحَرْبِ خَادِعُونَ» (جنگ کے اہل دھوکہ دینے والے ہیں)۔
یہ کہا جاتا ہے: میں نے فلاں کو دھوکہ دیا – «خَدَعْتُ الرَّجُلَ أَخْدَعُهُ خَدْعًا وَخِدْعًا وَخَدِيعَةً وَخَدْعَةً» – جب میں نے اسے اس کے برعکس ظاہر کیا جو میں چھپا رہا تھا۔
اور ایک شخص «خَدَّاعٌ»، «خَدُوعٌ»، «خَدِعٌ»، «خَدَعَةٌ» (بہت دھوکہ باز) ہوتا ہے۔
ابن العربی نے کہا: جنگ میں خدیعہ (دھوکہ) توریتہ (کنایہ/ایہام) کے ذریعے ہوتی ہے، کمین (گھات لگانے) کے ذریعے ہوتی ہے، اور وعدہ خلافی (جھوٹا وعدہ) کے ذریعے ہوتی ہے۔
[فقہ الحدیث]
نووی نے کہا: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے – جس طرح بھی ممکن ہو – مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔ (انتهیٰ)
اور اس حدیث میں جنگ میں احتیاط اختیار کرنے کی ترغیب ہے، اور اس میں جنگ میں رائے (حکمت عملی) کے استعمال کی طرف اشارہ ہے – بلکہ اس کی ضرورت بہادری سے بھی زیادہ مؤکد ہے۔
یہ حدیث ہمیں جنگ میں جھوٹ کے حکم کی طرف لے جاتی ہے۔
ترمذی نے اسماء بنت یزید سے مرفوعاً روایت کیا ہے:
"جھوٹ صرف تین جگہوں پر حلال ہے: (۱) آدمی کا اپنی بیوی سے (خوشی کے لیے) بات کرنا، (۲) جنگ میں جھوٹ، اور (۳) لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔"
اور علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا ان تینوں میں جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) جائز ہے؟ یا یہ تلویح اور تعریض (کنایہ/ایہام) تک محدود ہے؟
نووی نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں میں جھوٹ کی حقیقت (صراحۃً) جائز ہے، البتہ تعریض (کنایہ) بہتر ہے۔
ابن العربی نے کہا: جنگ میں جھوٹ ان مستثنیٰ چیزوں میں سے ہے جو نص (حدیث) کے ذریعے جائز ہے – مسلمانوں کے ساتھ نرمی کے لیے، ان کی اس کی ضرورت اور ان کی کمزوری کی وجہ سے۔ اور عقل کو اس کی حرمت یا حلت میں کوئی دخل نہیں، یہ معاملہ صرف شرع کے سپرد ہے۔
ابن بطال نے کہا: میں نے اپنے بعض شیوخ سے پوچھا تو انہوں نے کہا:
جنگ میں مباح جھوٹ وہ ہے جو تعریضات (کنایات) پر مشتمل ہو، نہ کہ مثلاً امان دینے کی صراحت (کے ساتھ جھوٹ)۔
مہلب نے کہا: دین کی کسی بھی چیز میں حقیقی جھوٹ (بالکل) جائز نہیں ہے۔ (انتهیٰ)
میرے نزدیک (مصنف کا موقف):
ان تین چیزوں میں جھوٹ کی اجازت (نصاً) اور ان کے علاوہ میں (قیاساً) دراصل «أخف الضررین» (دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان) کو اختیار کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ اور دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان کو برداشت کرنا واجب ہے، یا کم از کم مندوب (مستحب) ہے۔
اور اس وقت یہ نہیں کہا جائے گا کہ کم تر نقصان کا فعل اپنی ذات میں مباح ہے۔ اور اسی طرح ان تینوں چیزوں اور ان جیسی دوسری چیزوں میں جھوٹ – ہم یہ نہیں کہتے کہ جھوٹ اپنی ذات میں حلال اور جائز ہے، بلکہ اس کے ترک کرنے پر جو نقصان مترتب ہوتا ہے، وہ اسے جائز کرتا ہے۔
ان تینوں کے علاوہ – مثلاً:
اگر کوئی مجرم، قاتل اور خونریز شخص کسی مظلوم کے پیچھے اسے قتل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہے، اور تم نے اس مظلوم کو ایک خندق میں چھپتے دیکھا، پھر وہ مجرم تم سے پوچھے: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ وہ کہاں ہے؟
تو کیا تم اسے اس کا پتہ دو گے تاکہ وہ اسے قتل کرے؟
یا تم جھوٹ بولو گے؟
اور کیا اس وقت تم جھوٹ پر عذاب پاؤ گے یا ثواب؟
جواب واضح ہے۔
واللہ اعلم۔
[فتح المنعم شرح صحيح مسلم:3988 (7 /97-99)]
شرح الخطابيؒ (متوفی 388ھ) :
اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے، اگرچہ دوسرے معاملات میں یہ ممنوع ہے۔
اور اس (یعنی "خدعة") کی کئی وجوہ (لغات) سے روایت ہے:
خَدْعَة (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) – اور یہ ان میں سب سے اچھی ہے۔
خُدْعَة (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔
خُدَعَة (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ)۔
پہلے (خَدْعَة) کا معنی ہے: کہ یہ ایک (ہی) چال ہے، جس نے اس میں ایک بار دھوکہ کھایا، اسے (دوبارہ موقع) نہیں دیا جاتا (یعنی اس کی لغزش قبول نہیں کی جاتی)۔
اور خُدْعَة کا معنی ہے: کہ اس کے ذریعے مردوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ دھوکے کی جگہ اور اس کا مقام ہے، جیسا کہ جس چیز سے کھیلا جائے اسے «لُعْبَة» (کھلونا) کہا جاتا ہے۔
رہا خُدَعَة (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ) تو اس کا معنی ہے کہ یہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے، انہیں فتح کی امید دلاتی ہے اور ان سے وفا نہیں کرتی، جیسا کہ «ضَحْكَة» اور «هُزْأَة» کہا جاتا ہے، جب کوئی شخص لوگوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان پر ہنستا ہے۔
[أعلام الحديث (شرح صحيح البخاري) - الخطابي :676 (2 / 1432)]
شرح القاضي عياضؒ(متوفی 544ھ):
اور آپ ﷺ کا قول: «الحرب خدعة» (جنگ ایک چال/فریب ہے)۔
قاضیؒ نے کہا: اہلِ علم کا کہنا ہے کہ جنگ میں خدعہ (چال/فریب) جائز ہے جس طرح بھی ممکن ہو، اس حدیث کی بنا پر، مگر یہ کہ عہد و پیمان اور امان کی نفی (نقض) ہو تو یہ جائز نہیں۔
طبریؒ نے کہا: جنگ میں جھوٹ سے صرف وہی (بات) جائز ہے جو اس کے علاوہ (امن کے وقت) جائز نہیں، یعنی تعریض (کنایہ/ایہام) اور ایسی بات جو پہیلیوں (الغاز) کو محتمل ہو، اور کسی چیز کی خبر دینے کا قصد اس طرح کرنا کہ وہ ظاہری طور پر (اسی طرح) ہو۔
امام نے کہا: کہا جاتا ہے:
«خَدْعَة» (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) – یہ «مصدر محدود» (مفعول مطلق) کے طور پر ہے، جیسے «ضَرْبَة» اور «نَفْخَة»۔
«خُدْعَة» (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ) – یہ «اسم» ہے، جیسے «لُعْبَة» (کھیل) کے وزن پر، اور اس سے ایک بار (مرتبہ) مراد نہیں ہوتا جیسا کہ مصدر محدود سے مراد ہوتا ہے۔
«خُدَعَة» (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ) – یہ اس (جنگ) کی صفت ہے، اور اس کا معنی ہے: کہ وہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے، جیسے کہا جاتا ہے «ضَحْكَة» (بہت ہنسنے والا) اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنساتا ہے، اور «هُزْأَة» (بہت مذاق کرنے والا) اس شخص کے لیے جو ان کا مذاق اڑاتا ہے۔
قاضی نے کہا: نبی ﷺ کی زبان (لفظ) «خَدْعَة» (زبر کے ساتھ) ہے، اور یہ (تینوں میں) سب سے زیادہ فصیح ہے۔
ثعلب نے کہا: بعض نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ وہ (جنگ) اپنے اہل(جنگ جو) کو دھوکہ دیتی ہے، (یہاں) «فاعل» کو «مصدر» کے نام سے صفت دی گئی ہے۔
اور کہا گیا: ممکن ہے کہ یہ «مفعول» کی صفت ہو، جیسا کہ کہا جاتا ہے: «دِرْهَمٌ ضَرْبُ الْأَمِيرِ» یعنی اس کا ضرب کیا ہوا (سکہ)۔
اور کہا گیا: اس کا معنی ایک بار (ایک مرتبہ) ہے، یعنی اگر اس میں خدعہ (چال) واقع ہو جائے تو (اس پر) لغزش (عثرة) قبول نہیں کی جاتی (یعنی یک بار کا دھوکہ حتمی ہوتا ہے)۔
اس (مصنف/قائل) نے کہا: جس نے «خُدْعَة» (پیش اور جزم کے ساتھ) کہا، تو (اس کا مفہوم) اس طرف ہے کہ وہ (جنگ) دھوکہ دیتی ہے؛ کیونکہ جب دونوں میں سے ایک فریق اس میں دوسرے کو دھوکہ دیتا ہے تو گویا اس نے اس میں دھوکہ کیا۔
اور جس نے اسے «خُدَعَة» (پیش اور زبر کے ساتھ) کہا، تو وہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکہ دیتی ہے، یا انہیں ہمیشہ فتح کی امید دلاتی ہے، حالانکہ حال (ان کا انجام) اس کے علاوہ (کسی اور صورت) کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
[إكمال المعلم بفوائد مسلم-القاضي عياض:6 /42]
شرح مظهر الدين الزيدانيؒ(متوفی 727ھ):
«الحرب خدعة» (جنگ ایک چال ہے)۔ اس میں خاء کے زبر (فتحہ) اور دال کے جزم (سکون) کے ساتھ (پڑھنا) جائز ہے، اور خاء کے پیش (ضمہ) اور دال کے جزم کے ساتھ (بھی جائز ہے)، اور خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ (بھی جائز ہے)۔
اور ان میں سب سے زیادہ فصیح (بلیغ) خاء کا زبر اور دال کا جزم ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا گیا ہے، اور یہ «خَدَعَ» (دھوکہ دیا، فریب دیا) سے ایک بار (مرتبہ) کے معنی میں ہے – جب وہ دھوکہ دے اور مکر (چال) کرے۔
[المفاتيح في شرح المصابيح:2985(4 /401)]
شرح ابن رسلانؒ (متوفی 844ھ) :
انہوں نے کہا: «الحرب خَدْعَةٌ» (جنگ ایک چال ہے) غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر (فرمایا)، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو (تفرقہ ڈالنے کے لیے) بھیجا۔
«الحرب خدعة» کی تین مشہور لغات ہیں، علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ان میں سب سے زیادہ فصیح:
«خَدْعَةٌ» ہے (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) — یہ «خَدَعَ» سے مصدر ہے۔ ثعلب اور دیگر نے کہا: یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے۔ (خطابی، ص: 68)
دوسری (لغت) «خُدْعَةٌ» ہے (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔
تیسری (لغت) «خُدَعَةٌ» ہے (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ)۔
اور معنی یہ ہے: کہ جنگ دھوکے والی ہوتی ہے — پس مصدر کو اسم کی جگہ رکھا گیا ہے۔ یعنی: ان (دشمنوں) کے ساتھ چاہے ایک بار ہی دھوکہ (خداع) استعمال کرنا چاہیے۔
اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے — جس طرح بھی ممکن ہو — مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔
اور حدیث میں تین چیزوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت صحیح طور پر ثابت ہے، ان میں سے ایک جنگ ہے۔
(صحیح مسلم: 2605، ابوداؤد: 4921)
طبری نے کہا: جنگ میں جھوٹ میں سے صرف تعریض (کنایہ/ایہام) جائز ہے، جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) جائز نہیں۔
(ملاحظہ کریں: شرح صحیح البخاری لابن بطال: 5/187، شرح النووی علی مسلم: 12/45)
نووی (شرح مسلم: 12/45) نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) مباح ہے، البتہ تعریض (کنایہ) پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔
کہا گیا: کہ جنگ میں چال بازی (مماکرۃ) کثرت تعداد (مکاثرۃ) سے زیادہ نفع بخش ہے۔
روایت ہے کہ عمرو بن عبد ود نے علی (رضی اللہ عنہ) کو مبارزت (دعوتِ مقابلہ) کے لیے بلایا، جب علی (رض) ان کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا: "میں نے دو (آدمیوں) سے لڑنے کے لیے مبارزت نہیں کی" — تو عمرو (یہ سن کر) متوجہ ہوا (پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا) تو علی (رض) نے ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔
[شرح سنن أبي داود لابن رسلان:2636(11 / 391)]
شرح ابن الملكؒ(متوفی 854ھ):
«جنگ (ایک) چال ہے» – خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ – (یہ) ایک بار (مرتبہ) کے لیے ہے؛ یعنی: جب جنگجو ایک بار دھوکہ کھا جائے تو وہ دوبارہ (اس کا موقع) نہیں دیا جاتا۔
اور (یہ) خاء کے پیش کے ساتھ بھی روایت ہوئی ہے، اور یہ «خِدَاع» (دھوکہ) کا اسم ہے، اور (خاء کے) پیش اور (دال کے) زبر کے ساتھ – یعنی: جنگ بہت زیادہ دھوکہ دینے والی ہے۔
[شرح المصابيح لابن الملك:2985(4 /388)]
شرح القسطلانيؒ(متوفی 923ھ):
«(باب)» — تنوین کے ساتھ — «الحرب خدعة» — خاءِ معجمہ کے زبر اور دالِ مهملہ کے جزم کے ساتھ — جیسا کہ الفرع اور اس کے اصل (ماخذ) میں ہے، اور یہی سب سے زیادہ فصیح ہے، اور ابوذر الہروی اور القزاز نے بھی اسی پر جزم کیا ہے۔
اور ثعلب نے کہا: ہمیں یہ پہنچا ہے کہ یہی نبی ﷺ کی لغت ہے۔
اور اصیلی کے نزدیک — جیسا کہ الفتح میں مذکور ہے — «خُدْعَةٌ» ہے (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔
اور «خُدَعَةٌ» (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ) — جیسے «هِمَزَةٍ» اور «لُمَزَةٍ» کے وزن پر — کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے، اور یہ صیغۂ مبالغہ ہے۔
اور منذری نے «خَدَعَةٌ» (دونوں کے زبر کے ساتھ) نقل کیا ہے، جو «خَادِعٌ» کی جمع ہے۔
اور مکی اور دیگر نے «خِدْعَةٌ» (خاء کے کسرہ اور دال کے جزم کے ساتھ) نقل کیا ہے — پس یہ کل پانچ لغات ہیں۔
اور جزم (سکون) کے ساتھ (لغت) کا معنی: کہ وہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکہ دیتی ہے — فاعل کو مصدر کے نام سے صفت دینے کے طور پر، یا مفعول کی صفت کے طور پر — جیسا کہ کہا جاتا ہے: «هذا الدرهم ضرب الأمير» یعنی اس کا ضرب کیا ہوا (سکہ)۔
اور خطابی سے مروی ہے کہ یہ ایک بار (مرتبہ) کے لیے ہے، یعنی جب ایک بار دھوکہ کھا جائے تو اس کی لغزش (عثرت) قبول نہیں کی جاتی (یعنی اسے دوبارہ موقع نہیں ملتا)۔
اور پیش کے ساتھ (خاء) اور جزم کے ساتھ (دال) کا معنی: کہ وہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے — یعنی یہ دھوکے کی جگہ اور اس کا مقام ہے۔
اور دال کے زبر کے ساتھ (خُدَعَة) کا معنی: کہ وہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے، انہیں فتح کی امید دلاتی ہے اور ان سے وفا نہیں کرتی — جیسے «ضَحْکَةٌ» (بہت ہنسنے والا) جب وہ لوگوں کو ہنساتا ہے۔
اور کہا گیا: «تاء» (ہ) لانے میں حکمت وحدت (اکائی) کی طرف دلالت ہے — اگر دھوکہ مسلمانوں کی طرف سے ہو تو گویا اس نے انہیں اس پر حض (ترغیب) دی ہے، چاہے ایک بار ہی کیوں نہ ہو۔
اور اگر وہ کفار کی طرف سے ہو تو گویا اس نے انہیں ان کے مکر سے ڈرایا ہے — اگرچہ وہ ایک بار ہی کیوں نہ ہو — کیونکہ اس سے جو فساد پیدا ہوتا ہے، چاہے وہ کم ہو، اس کے باوجود اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3028 (6 /500)]
اور نبی ﷺ نے جنگ کو «خدعہ» (چال) اس لیے کہا — جیسا کہ واقدیؒ نے کہا — غزوہ خندق کے موقع پر، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو بھیجا کہ قریش، غطفان اور یہود (بنی قریظہ) کے درمیان تفرقہ ڈالے۔
اور (یہ خدعہ / چال) «توریہ» (کنایہ/ایہام) کے ذریعے ہوتی ہے، «کمین» (گھات لگانے) کے ذریعے، اور «وعدہ خلافی» (جھوٹا وعدہ) کے ذریعے — اور یہ حرام (چیزوں) میں سے مستثنیٰ اور مخصوص جائز امور میں سے ہے۔
اور نوویؒ نے کہا: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے — جس طرح بھی ممکن ہو — مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3028 (6 /501)]
«الحرب خدعة» — اور اس میں (پچھلی طرح) جنگ میں رائے (حکمت عملی) کے استعمال کی طرف اشارہ ہے — بلکہ اس کی ضرورت بہادری سے بھی زیادہ مؤکد ہے۔
[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3030(6 /502)]
شرح الملا على القاريؒ (متوفی 1014ھ) :
قاموس میں ہے: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ» — (خاء کے) تین (مختلف) زبر، پیش اور جزم کے ساتھ مروی ہے، اور «كَهُمَزَةٍ» (یعنی خُدَعَة، پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال) کے ساتھ بھی، اور ان سب کے ساتھ روایت ہے۔ یعنی: جنگ ایک (ہی) چال سے ختم ہو جاتی ہے۔
اور سیوطیؒ کی «مختصر النهاية» میں ہے: (خاء کے) زبر اور پیش کے ساتھ (دال کے جزم کے ساتھ)، اور پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال۔
پہلا (خَدْعَة) — اس کا معنی ہے کہ جنگ کا معاملہ ایک (ہی) چال (دھوکے) سے ختم ہو جاتا ہے۔ یعنی جب جنگجو ایک بار دھوکہ کھا جائے تو اسے کوئی (دوسرا) موقع نہیں ملتا، اور یہ سب سے زیادہ فصیح اور صحیح روایت ہے۔
دوسرے (خُدْعَة) کا معنی «خداع» (دھوکہ) کا اسم ہے۔
تیسرے (خُدَعَة) کا معنی ہے کہ جنگ مردوں کو دھوکہ دیتی ہے اور انہیں (جھوٹی) امید دلاتی ہے اور ان کے ساتھ وفا نہیں کرتی، جیسا کہ کہا جاتا ہے: «فُلَانٌ رَجُلٌ لِعْبَةٌ وَضِحْكَةٌ» — یعنی وہ شخص جو کثرت سے کھیلتا اور ہنستا ہے۔
عیاض کی «المشارق» میں ہے: قوله: «الحرب خدعة» — اس طرح ابوذر اور صحیحین کے اکثر راویوں نے روایت کیا ہے، اور اصیلی نے اسے «خُدْعَةٌ» (پیش کے ساتھ) ضبط کیا ہے۔
اور ابوذر نے کہا: نبی ﷺ کی زبان (لفظ) «خَدْعَة» (زبر کے ساتھ) ہے، اور اصمعی اور دیگر نے بھی یہی کہا۔ اور یونس نے اس میں دو (زبر اور پیش) اور تیسرا (پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال) طریقہ بھی نقل کیا ہے۔
اور ایک چوتھی زبان (لغت) بھی ہے «خَدَعَةٌ» (خاء اور دال دونوں کے زبر کے ساتھ)۔
پس «خَدَعَةٌ» (دونوں زبر) کے معنی ہیں کہ اس (جنگ) کا معاملہ ایک (ہی) چال سے ختم ہو جاتا ہے جو اس میں دھوکہ کھاتا ہے، پھر اس کا قدم ڈگمگا جاتا ہے اور اسے اس کا کوئی ازالہ یا دوبارہ موقع نہیں ملتا — گویا اس نے اس سے احتیاط کی طرف توجہ دلائی ہے۔
اور جس نے خاء کو پیش اور دال کو زبر کے ساتھ پڑھا (خُدَعَة) — اس نے فعل کو خود جنگ کی طرف منسوب کیا، یعنی وہ (جنگ) خود اس شخص کو دھوکہ دیتی ہے جو اس پر اعتماد کر لے، یا اس کے اہل (جنگجو) اس میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔
اور جس نے دونوں کو زبر کے ساتھ پڑھا (خَدَعَة) — تو یہ «خَادِع» (دھوکہ دینے والا) کی جمع ہے، یعنی اس کے اہل (جنگجو) اس صفت کے حامل ہیں — پس تم ان پر اعتماد نہ کرو، گویا اس نے کہا: «أَهْلُ الْحَرْبِ خَدَعَةٌ» (جنگ کے اہل دھوکہ دینے والے ہیں)۔
اور «خَدَع» کی اصل یہ ہے کہ کسی چیز کو ظاہر کرنا اور اس کے خلاف (دوسری چیز) کو چھپانا۔
توربشتیؒ نے کہا: یہ تین طریقوں سے مروی ہے:
«خَدْعَةٌ» (فتح الخاء وسکون الدال) — یعنی یہ (جنگ) ایک (ہی) چال ہے، جس شخص کو یہ میسر آ جائے اس کے لیے فتح حق ہے۔
«خُدْعَةٌ» (ضم الخاء وسکون الدال) — یعنی اس میں زیادہ تر مکر (چال) اور خدعہ (دھوکہ) ہے۔
«خُدَعَةٌ» (ضم الخاء وفتح الدال) — یعنی وہ (جنگ) انسان کو اس چیز سے دھوکہ دیتی ہے جو وہ اسے (خوش فہمی میں) دکھاتی ہے اور امید دلاتی ہے، پھر جب وہ اس میں داخل ہوتا ہے تو اسے اس کے برعکس پاتا ہے۔
نوویؒ نے کہا: ان (لغات) میں سب سے زیادہ فصیح خاء کا زبر اور دال کا جزم ہے (خَدْعَة) — اور یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے۔
اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ کافروں کے ساتھ جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے جس طرح بھی ممکن ہو، مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو۔
اور حدیث میں تین چیزوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت صحیح طور پر ثابت ہے (جنگ، دو لوگوں کے درمیان اصلاح، اور بیوی کا شوہر سے اور شوہر کا بیوی سے (خوشی کے لیے) کہنا)۔
طبریؒ نے کہا: جنگ میں جھوٹ میں سے صرف تعریض (کنایہ/ایہام) جائز ہے، اور اس کی حقیقت (صراحتاً جھوٹ) جائز نہیں۔
مگر ظاہر (جمہور کے نزدیک) جھوٹ کی حقیقت کی اباحت ہے، البتہ تعریض (کنایہ) پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔
(یہ حدیث متفق علیہ ہے) — اور اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح شیخین (بخاری و مسلم) نے حضرت ابوہریرہ سے، اور احمد نے حضرت انس سے، اور ابوداؤد نے حضرت کعب بن مالک سے، اور ابن ماجہ نے ابن عباس اور حضرت عائشہ سے، اور بزار نے حضرت حسین سے، اور طبرانی نے حسن، زید بن ثابت، اور نواس بن سمعان سے، اور ابن عساکر نے حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہم اجمعین) سے روایت کیا ہے۔
اور اسی طرح الجامع الصغیر میں بھی ہے — پس یہ حدیث تقریباً متواتر ہے، کیونکہ صحابہ کرام جن سے روایت کی گئی ہے اور ان کی اسناد کی کثرت ہے۔
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح-الملا على القاري:3939 (6 /2535)]
شرح الصنعانيؒ(متوفی 1182ھ):
«الحرب خدعة» – (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) یعنی یہ ایک (ہی) چال ہے، جس شخص کو یہ میسر آ جائے اس کے لیے فتح (حق) ہے۔
اور (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ) – یعنی وہ (جنگ) انسان کو دھوکہ دیتی ہے اس چیز سے جو وہ اسے (خوش فہمی میں) دکھاتی ہے اور امید دلاتی ہے، پھر جب وہ اس میں داخل ہوتا ہے تو اسے اس کے برعکس پاتا ہے۔
اور «ہمزہ» کے وزن پر (خُدَعَة، پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال) – یہ صیغہ مبالغہ ہے۔
اور دونوں زبر کے ساتھ (خَدَعَة) – یہ «خَادِع» (دھوکہ دینے والا) کی جمع ہے۔
اور (کسرہ کے ساتھ خاء اور جزم کے ساتھ دال – خِدْعَة) – یعنی دھوکے کا مقام، اس کا مظنہ اور اس کی جگہ۔
نووی نے کہا: ان (لغات) میں سب سے زیادہ فصیح خاء کا زبر اور دال کا جزم ہے (خَدْعَة) – اور یہی نبی ﷺ کی لغت ہے۔ اس کا مطلب (کہ یہ آپ کی لغت ہے) یہ ہے کہ آپ نے اسے (اسی طرح) ادا کیا، اور روایت بھی اسی طرح آپ سے منقول ہے۔
عسکری نے کہا: اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جنگ میں چال بازی (مماکرۃ) نیزہ بازی اور ضرب (مار) سے زیادہ نفع بخش ہے۔
اور مشہور مثل ہے: «إذا لم تغلب فاخلب» (یعنی اگر تم غالب نہ آ سکو تو دھوکہ دو / چال چلو)۔
اور آپ ﷺ نے یہ (حدیث) غزوہ خندق کے موقع پر فرمائی، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو بھیجا کہ قریش، غطفان اور یہود (بنی قریظہ) کے درمیان تفرقہ ڈالے۔
اور (یہ خدعہ / چال) «توریہ» (کنایہ/ایہام)، «قسم» (جھوٹی قسم) اور «وعدہ خلافی» (جھوٹا وعدہ) کے ذریعے ہوتی ہے۔
نووی نے کہا: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے – جس طرح بھی ممکن ہو – جب تک کہ اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو۔
پس (اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ) جنگ میں «فکر کو جگانا» اور «رائے کو استعمال کرنا» چاہیے جہاں تک ممکن ہو – کیونکہ اس میں (یعنی رائے اور حکمت عملی میں) بہادری سے زیادہ نفع ہے۔
اور یہ حدیث «حکم» (دانشمندانہ اقوال) میں شمار کی گئی ہے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير:2636(5 / 417)]
📜 حدیث "الحرب خدعة" کی تمام تشریحات سے حاصل اسباق و نکات
پہلا باب: لغوی تحقیق (مختلف لغات اور ان کے معانی)
اس حدیث میں "خدعة" کی کل پانچ مشہور لغات ہیں، جن کا ذکر تمام شارحین (ابن رسلان، صنعانی، قسطلانی، مظہر الدین، عبد الحق الدهلوی وغیرہ) نے کیا ہے:
لغت - تلفظ - معنی - نوٹ
خَدْعَة خاء کا زبر، دال کا جزم ایک بار کا دھوکہ – جس نے ایک بار دھوکہ کھایا، اسے دوبارہ موقع نہیں ملتا افصح اور صحیح ترین – یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے (ثعلب، خطابی، نووی، قسطلانی)
خُدْعَة خاء کا پیش، دال کا جزم دھوکے کا اسم – خود خداع (دھوکہ) کا نام یہ دھوکے کی جگہ اور مقام کو ظاہر کرتا ہے
خُدَعَة خاء کا پیش، دال کا زبر بہت زیادہ دھوکہ دینے والی – صیغۂ مبالغہ (جیسے ہمزۃ ولمزۃ) جنگ مردوں کو دھوکہ دیتی ہے اور انہیں جھوٹی امید دلاتی ہے
خَدَعَة خاء اور دال دونوں کا زبر جمع خادع – یعنی جنگ کے اہل (جنگجو) دھوکہ دینے والے ہیں منذری نے نقل کیا
خِدْعَة خاء کا کسرہ، دال کا جزم دھوکے کی جگہ اور مظنہ مکی اور دیگر نے نقل کیا۔
دوسرا باب: فقہی احکام (جنگ میں دھوکہ اور جھوٹ کی اجازت)
۱۔ جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے – بلکہ بعض اوقات ضروری ہے
نوویؒ، خطابیؒ، ابن العربیؒ، اور جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے – جس طرح بھی ممکن ہو (چال، کمین، توریہ، جھوٹا وعدہ، وغیرہ)۔
شرط: عہد و پیمان یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو – ورنہ یہ جائز نہیں۔
۲۔ جنگ میں جھوٹ بولنے کی اجازت
صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی وغیرہ میں روایت ہے کہ تین چیزوں میں جھوٹ جائز ہے: (۱) جنگ، (۲) میاں بیوی کے درمیان خوشی کے لیے بات، (۳) لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔
نوویؒ کا موقف: جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) مباح ہے، البتہ تعریض (کنایہ/ایہام) بہتر ہے۔
طبریؒ کا موقف: جنگ میں صرف تعریض (کنایہ) جائز ہے، جھوٹ کی حقیقت جائز نہیں۔
ابن العربیؒ کا موقف: جنگ میں جھوٹ نص (حدیث) کے ذریعے جائز ہے – مسلمانوں کی کمزوری اور ضرورت کی وجہ سے۔
۳۔ تعریض (کنایہ/ایہام) کی افضلیت
اکثر شارحین (نووی، خطابی، صنعانی، قسطلانی) نے تعریض کو صراحت پر ترجیح دی ہے – یعنی ایسی بات کہنا جو دو معنی رکھتی ہو، اور سامع غلط مفہوم لے لے، جبکہ بولنے والے کا ارادہ دوسرا ہو۔
مثال: نعیم بن مسعود کا واقعہ – انہوں نے بنی قریظہ کو قریش اور غطفان کے بارے میں ایسی باتیں کہیں جو ظاہراً مشورہ تھیں مگر باطن میں تفرقہ ڈالنے کا منصوبہ تھا۔
تیسرا باب: عملی حکمتِ عملی (جنگ میں رائے کی اہمیت)
۱۔ جنگ میں رائے (حکمت عملی) بہادری سے زیادہ اہم ہے
صنعانی، قسطلانی، اور دیگر نے اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جنگ میں «مماکرۃ» (چال بازی) «مکاثرۃ» (تعداد کی کثرت) سے زیادہ نفع بخش ہے۔
مشہور مثل: «إذا لم تغلب فاخلب» – یعنی اگر تم غالب نہ آ سکو تو دھوکہ دو / چال چلو۔
۲۔ اس حدیث کا عملی اطلاق (غزوہ خندق کا واقعہ)
یہ حدیث غزوہ خندق (یوم الاحزاب) کے موقع پر ارشاد ہوئی، جب مسلمان محصور تھے اور اطراف سے کفار (قریش، غطفان) اور یہود (بنی قریظہ) نے گھیر لیا تھا۔
نبی ﷺ نے نعیم بن مسعود (جو ابھی مسلمان ہوئے تھے اور ان کی قوم کو علم نہیں تھا) کو بھیجا کہ وہ دشمنوں کے درمیان تفرقہ ڈالے۔
نعیم نے بنی قریظہ کو یہ کہہ کر قریش اور غطفان سے الگ کر دیا کہ وہ تمہیں تنہا چھوڑ دیں گے – اس طرح انہوں نے مؤثر چال سے پوری جنگ کا رخ موڑ دیا۔
۳۔ چال کی اقسام (ابن العربیؒ اور دیگر کے مطابق)
جنگ میں خدعہ (دھوکہ) تین طریقوں سے ہو سکتا ہے:
توریہ (کنایہ/ایہام) – دو معنی والی بات کہنا۔
کمین (گھات لگانا) – دشمن کو دھوکہ دے کر حملہ کرنا۔
وعدہ خلافی (جھوٹا وعدہ) – دشمن کو جھوٹا وعدہ دینا (جب تک کہ عہد و امان کی خلاف ورزی نہ ہو)۔
۴۔ علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ (عمرو بن عبد ود کے ساتھ)
صنعانیؒ نے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عبد ود نے علی (رض) کو مبارزت کے لیے بلایا۔
علی (رض) نے فرمایا: "میں نے دو (آدمیوں) سے لڑنے کے لیے مبارزت نہیں کی" – عمرو پیچھے مڑا تو علی (رض) نے ان پر حملہ کر کے قتل کر دیا۔
یہ چال / توریہ کی ایک عملی مثال ہے جو جنگ میں استعمال ہوئی۔
چوتھا باب: اخلاقی اور روحانی اسباق
۱۔ جنگ میں احتیاط اور ہوشیاری
قسطلانی نے کہا: اس حدیث میں جنگ میں احتیاط اختیار کرنے کی ترغیب ہے – چاہے دشمن کا دھوکہ ایک بار ہی کیوں نہ ہو، اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔
۲۔ دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان کا انتخاب
مصنف (شرح کا مؤلف) نے ایک اہم اصولی نکتہ بیان کیا: جنگ میں جھوٹ کی اجازت دراصل «أخف الضررین» (دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان) کو اختیار کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔
مثال: اگر کوئی ظالم کسی مظلوم کو قتل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہو اور آپ جانتے ہو کہ مظلوم کہاں چھپا ہے – تو کیا آپ سچ بول کر اسے قتل کروائیں گے؟ یا جھوٹ بول کر اسے بچائیں گے؟ جواب واضح ہے۔
۳۔ شریعت کا مقصد (مصالحِ عباد کا تحفظ)
ابن العربی نے کہا: جنگ میں جھوٹ کی اجازت مسلمانوں کے ساتھ نرمی کے لیے ہے، ان کی کمزوری اور ضرورت کی وجہ سے۔
اس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ شریعت کا مقصد محض احکام کا نفاذ نہیں، بلکہ بندوں کے مفادات کا تحفظ بھی ہے – اور بعض اوقات ایک چھوٹا سا نقصان (جھوٹ) ایک بڑے نقصان (قتل عام یا شکست) کو روکنے کے لیے جائز ہو جاتا ہے۔
پانچواں باب: اصولی نکات (قواعدِ فقہیہ)
نمبر - نکتہ / سبق - وضاحت
۱ "الضرورات تبیح المحظورات" (مجبوریاں ممنوعات کو مباح کر دیتی ہیں) جنگ کی مجبوری میں جھوٹ (جو عام حالات میں حرام ہے) مباح ہو جاتا ہے۔
۲ "ارتکاب أخف الضررین" (دو نقصانات میں سے ہلکے کا ارتکاب) جھوٹ (ہلکا نقصان) کو قتل (بڑا نقصان) پر ترجیح دی گئی۔
۳ "المصالح المرسلة" (مصالحِ عباد کا تحفظ) شریعت کا مقصد بندوں کی مصلحت ہے – اس لیے بعض اوقات چھوٹی رخصتیں دی جاتی ہیں۔
۴ "الوسائل لها أحكام المقاصد" (ذرائع کا حکم مقاصد کے تابع ہے) اگر جھوٹ (ذریعہ) کسی بڑی مصلحت (مقصد) کے لیے ہو تو وہ جائز ہے۔
۵ "التعریض أولى من التصريح" (کنایہ صراحت سے بہتر ہے) اگر تعریض (کنایہ) سے کام چل سکتا ہے تو صریح جھوٹ سے بچنا چاہیے۔
چھٹا باب: خلاصہ اور جامع نتیجہ
حدیث «الحرب خدعة» کے کلیدی اسباق:
لغوی: اس حدیث کی پانچ لغات ہیں – افصح «خَدْعَة» (فتح الخاء، سکون الدال) ہے، جو نبی ﷺ کی زبان ہے، اور اس کا مفہوم "ایک بار کا دھوکہ" ہے۔
فقہی: جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے – بشرطیکہ عہد و امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔
عملی: جنگ میں رائے (حکمت عملی) بہادری سے زیادہ اہم ہے – چال بازی (مماکرۃ) کثرت تعداد (مکاثرۃ) سے زیادہ نفع بخش ہے۔
اخلاقی: تعریض (کنایہ) کو صریح جھوٹ پر ترجیح دی گئی ہے – اگر کام چل سکتا ہے تو براہِ راست جھوٹ سے بچنا چاہیے۔
اصولی: شریعت میں "أخف الضررین" کا اصول ہے – چھوٹا نقصان (جھوٹ) بڑے نقصان (قتل) کو روکنے کے لیے جائز ہے۔
تاریخی: غزوہ خندق میں نعیم بن مسعود کا واقعہ اس حدیث کا عملی اطلاق ہے – جس نے ایک چال سے پوری جنگ کا رخ موڑ دیا۔
جامع حکمت: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں حکمت، رائے اور چالاکی کو استعمال کیا جا سکتا ہے – بشرطیکہ وہ شریعت کی حدود میں ہو اور کسی بڑے نقصان کو روکنے کے لیے ہو۔
📌 آخری نکتہ:
یہ حدیث محض جنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اصول (حکمتِ عملی، چالاکی اور رائے کا استعمال) زندگی کے ہر پہلو میں لاگو کیا جا سکتا ہے – تجارت، سیاست، معاشرتی تعلقات، اور دفاعِ نفس وغیرہ۔
واللہ أعلم بالصواب۔
حج: ایک ایسا جہاد جس میں کوئی تکلیف (کانٹا) نہیں۔
(14) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا:"میں بہت بزدل ہوں اور میں کمزور ہوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا:
«هَلُمَّ إِلَى جِهَادٍ لَا شَوْكَةَ فِيهِ: الْحَجِّ»
"پھر تم اس جہاد کی طرف آؤ جس میں کوئی خونریزی نہیں: حج کی طرف۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:4287، المعجم الکبیر للطبرانی:2910]
---
حوالہ (تخریج):
محدث » کتاب » رقم/حديث
عبد الرزاق، المصنف (8809)
سعيد بن منصور، السنن (2242)
البغوي، الجعديات (2478)
راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما
---
حکم (حیثیت)
یہ حدیث صحیح / حسن ہے اور قابلِ عمل ہے۔
امام الہیثمی» وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
[مجمع الزوائد:5257]
امام الصنعانی» حسن» رمز المصنف لحسنه
[التنویر شرح الجامع الصغیر:9578]
علامہ البانی» صحیح
[صحيح الترغيب:1098، صحيح الجامع:7044]
---
شرح (تشریح)
۱. سیاق و سباق (موقعیت):
ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنی بزدلی اور جسمانی کمزوری کا اظہار کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جہاد بالسیف (میدانِ جنگ میں قتال) کی استطاعت نہیں رکھتا۔
۲. "هَلُمَّ" کے معنی:
لفظ "هَلُمَّ" کے معنی "آؤ" یا "میرے پاس آؤ" کے ہیں، اور یہ یہاں "إلى" کے ساتھ متعدی ہے۔
۳. "جهاد لا شوكة فيه" کے معنی:
"شَوْكة" (کانٹا) سے مراد مشقت، تکلیف، اور سختی ہے۔ یعنی ایسا جہاد جس میں جنگ کی مشقت اور جان کا خطرہ نہ ہو۔
۴. حج کو جہاد کیوں کہا گیا؟
شارحین نے اس کی چند وجوہات بیان کی ہیں:
· حاجی اپنے نفس کی خواہشات اور شیطان کے وسوسوں کے خلاف جہاد کرتا ہے۔
· حج میں مال اور جسم کی مشقت تو ہے، مگر جان کا خطرہ نہیں۔
· حج کمزوروں، بوڑھوں اور عورتوں کا جہاد ہے۔
· مسلمانوں کا اجتماع مشرکین کو بیت اللہ سے دور رکھتا ہے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9578]
---
حاصل اسباق و نکات
1. اسلام میں وسعت اور رحمت:
اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی استطاعت کے مطابق عبادت رکھی ہے۔ جو شخص جہادِ قتال پر قادر نہ ہو، اس کے لیے حج جہاد کا متبادل ہے۔
2. حج کے فضائل:
حجِ مبرور (مقبول حج) گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
3. نیت اور خلوص:
اس حدیث میں نیت کی اہمیت ہے — کمزور شخص نے جہاد کی نیت کی، اور نبی ﷺ نے اسے حج کی طرف رہنمائی فرمائی۔
4. اعمال میں آسانی:
شریعت میں تکلیف کو دور کرنا مقصود ہے۔ حج اگرچہ خود ایک مشقت ہے، مگر قتال کی مشقت سے ہلکا ہے۔
5. ہر استطاعت کے لیے راستہ:
یہ حدیث بوڑھوں، بیماروں، عورتوں اور کمزوروں کے لیے بشارت ہے کہ ان کے لیے بھی جہاد کا دروازہ کھلا ہے۔
6. حج: روحانی جہاد:
حج دراصل نفس کے خلاف جہاد ہے — اپنی خواہشات کو روکنا، صبر کرنا، اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا۔
---
خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حج ایک ایسا جہاد ہے جس میں قتال کی مشقت نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو جنگی جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ حدیث صحیح/حسن ہے اور اس پر عمل کرنا (یعنی حج کی فضیلت کو جاننا اور اس کی ترغیب دینا) باعثِ خیر ہے۔
📜 شرح المناوی:
"ہَلُمَّ" کے بارے میں رضی (شارح) نے فرمایا کہ یہ (عربی زبان میں) متعدی (فعل متعدی) اور لازم (فعل لازم) دونوں طرح آتا ہے:
ایک معنی "أَقْبِلْ" (آؤ) کے ہیں، تو یہ "إلی" کے ساتھ متعدی ہوتا ہے (مثلاً: ہلم إلیَّ یعنی میرے پاس آؤ)۔
اور دوسرے معنی "أَحْضِرْ" (لاؤ) کے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "هَلُمَّ شُهَدَاءَكُم" (سورۃ البقرہ: ۱۱۱) یعنی "اپنے گواہ لاؤ"۔
اور خلیل بن احمد کے نزدیک یہ "ہاء تنبیہ" ہے جس کے ساتھ "لَم" ملا دی گئی ہے، جو "لَمَّ اللہُ شَعَثَہ" (اللہ نے اس کی پریشانی دور کی) سے ماخوذ ہے، اور اس کا معنی ہے "اپنی ذات کو ہماری طرف جمع کر"۔ پھر جب یہ مرکب بنا تو اس کا اصل معنی بدل گیا، کیونکہ اب یہ "أقبل" یا "أحضر" کے معنی میں آتا ہے، جبکہ پہلے "أجمع" (جمع کرنا) کے معنی میں تھا، اور یہ اسمِ فعل بن گیا، جیسے دوسرے اسمائے افعال جو اپنی اصل سے منقول ہیں۔
"إلی جهاد لا شوكة فيه الحج" – یعنی اس جہاد کی طرف جس میں کوئی جنگ (قتال) نہیں، (یعنی حج)۔ "شوكة" سے مراد جنگ کی شدت اور سختی ہے۔
اسی سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ماخوذ ہے جب انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو (ہرمز کے سامنے) کہا: "آپ نے میرے پیچھے بہت سے لوگ چھوڑے ہیں اور سخت شرکہ (یعنی شدید جنگ اور ظاہری قوت) ہے۔"
---
📌 حاصل اسباق و نکات
۱. "ہلم" کا لغوی اور صرفی تجزیہ
اس عبارت میں لفظ "ہلم" کا تفصیلی لغوی اور صرفی تجزیہ پیش کیا گیا ہے:
یہ متعدی اور لازم دونوں طرح آتا ہے۔
اس کے دو معنی ہیں: "آؤ" (أقبل) اور "لاؤ" (أحضر)۔
خلیل بن احمد کے نزدیک یہ "ہاء تنبیہ" اور "لم" (جو "لم الله شعثہ" سے ماخوذ ہے) کا مرکب ہے، اور ترکیب کے بعد اس کا معنی بدل گیا۔
یہ اسمِ فعل ہے، جیسے دوسرے اسمائے افعال۔
۲. حج کو "جهاد لا شوكة فيه" کہنے کی حکمت
اس حدی میں حج کو "جهاد لا شوكة فيه" (بغیر کانٹے کا جہاد) کہا گیا ہے، کیونکہ اس میں قتال (جنگ) کی مشقت اور جان کا خطرہ نہیں، البتہ اس میں نفس کی خواہشات، شیطان اور سفر کی تکلیف کے خلاف جہاد ہے۔
۳. کمزور اور بزدل شخص کے لیے جہاد کا متبادل
اس حدیث کا سیاق یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی بزدلی اور جسمانی کمزوری کا اظہار کیا، تو نبی ﷺ نے اسے حج کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت میں ہر استطاعت کے لیے راستہ ہے — جو جہادِ قتال پر قادر نہ ہو، وہ حج کے ذریعے جہاد کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔
۴. حدیث کی سند اور اس کا درجہ
اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے، اور منذری نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے، جس کی بنا پر امام سیوطی/مناوی نے اس پر حسن کا نشان لگایا ہے۔
۵. "شوکة" کے معنی اور اس کا استعمال
"شوكة" کے معنی سختی، شدت، اور جنگی قوت کے ہیں۔ اس حدیث میں اس سے مراد جنگ کی تلوار اور نیزے ہیں، یعنی حج میں یہ سب کچھ نہیں ہے۔
۶. حج کی فضیلت اور اس کا جہاد سے موازنہ
حج کو جہاد قرار دینا اس کی عظمت اور فضیلت کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جنگی جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "الجهاد الأكبر هو جهاد النفس" (بزرگ جہاد نفس کا جہاد ہے) — اور حج میں نفس کا جہاد بھی ہے۔
خلاصہ:
یہ عبارت لفظ "ہلم" کے لغوی اور صرفی پہلوؤں اور اس حدیث کی تشریح پر مشتمل ہے کہ حج ایک ایسا جہاد ہے جس میں قتال کی مشقت نہیں۔ یہ حدیث حسن ہے اور اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام نے ہر شخص کی استطاعت کے مطابق عبادت کا راستہ رکھا ہے، اور حج کمزوروں، بوڑھوں اور عورتوں کے لیے جہاد کا متبادل ہے۔
عنوان:
رات کے وقت کھجور توڑنے اور فصل کاٹنے سے ممانعت
(15) حضرت حسینؓ بن علی ؓ نے فرمایا
نَهَى رَسُولُ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - عَنِ الْجِدَادِ بِاللَّيْلِ , وَالْحَصَادِ بِاللَّيْلِ
ترجمہ
"نبی کریم ﷺ نے رات کے وقت کھجوریں توڑنے اور رات کے وقت (اناج کی) فصل کاٹنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔"
[کنزالعمال:15904]
---
حوالہ (تخریج)
[الخراج يحيى بن آدم (٤٢٣)، المراسيل أبو داود (١٢٧)]
محدث » کتاب » رقم/حدیث
امام بیہقی، السنن الکبریٰ 7302 (4/133)
امام سیوطی/الصنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر (9322)
علامہ البانی صحيح الجامع (6872) السلسلة الصحيحة (2393)
راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما
---
حکم (حیثیت)
یہ حدیث صحیح / حسن ہے اور قابلِ عمل ہے۔
امام سیوطی/الصنعانی حسن انہوں نے اس پر "رمز لحسنه" (حسن کا نشان) لگایا ہے۔
[صحيح الجامع:6872، السلسلة الصحيحة:2393]
خلاصہ حکم:
یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا یعنی رات کے وقت فصل کاٹنے اور پھل توڑنے سے اجتناب کرنا مستحب یا ضروری ہے، تاکہ غریبوں اور مسکینوں کے حقوق ادا کیے جا سکیں۔
---
شرح (تشریح)
امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
1. "الجَدَّاد" (جیم کے فتحہ(زبر) اور کسرہ(زیر) دونوں کے ساتھ) کے معنی کھجور کے پھل کو توڑنے (صرام النخل) کے ہیں۔
2. "الحَصَاد" کے معنی کھیتی (اناج) کو کاٹنے کے ہیں۔
3. اس ممانعت کی علت (وجہ) یہ بیان کی گئی ہے کہ:
· لوگ رات کی تاریکی میں چھپ کر یہ کام کرتے تھے تاکہ غرباء اور مسکینوں کو ان کا حق (زکوٰۃ، عشر، یا حصہ) نہ دینا پڑے۔
· جب دن میں یہ کام کیا جائے تو فقراء موجود ہوتے ہیں اور انہیں ان کا شرعی حق دیا جا سکتا ہے۔
4. اس سلسلے میں سورۃ القلم (نون) کے اصحاب الجنتہ (باغ والوں) کا واقعہ یاد دلایا گیا ہے، جنہوں نے رات کو چپکے سے اپنا باغ توڑنے کا ارادہ کیا تاکہ مسکینوں کو کچھ نہ ملے، اور انجام کار اللہ تعالیٰ نے ان کا پورا باغ جل کر تباہ کر دیا (سورۃ القلم: 17-33)۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9322]
حقوقِ فقراء کی ادائیگی کا حکم:
امام الصنعانی اور دیگر شارحین اس حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
۱. لفظی معنی
· "الجذاذ" (فتحہ(زبر) اور کسرہ(زیر) دونوں کے ساتھ): کھجور کے پھل کو توڑنے (صرام النخل) کو کہتے ہیں۔
· "الحصاد": کھیتی (اناج) کو کاٹنے کو کہتے ہیں۔
۲. اصل علتِ ممانعت (فقراء سے فرار)
لوگ رات کی تاریکی میں چھپ کر یہ کام کرتے تھے تاکہ غرباء اور مسکینوں کو ان کا حق (زکوٰۃ، عشر، یا حصہ) نہ دینا پڑے۔ اس لیے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا، اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی طرف اشارہ کیا:
"وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ"
"اور اس کا حق (عشر یا زکوٰۃ) اس کے کاٹنے کے دن دے دیا کرو۔"
(الأنعام: 141)
امام زمخشری (صاحب تفسیر الکشاف) نے اسی آیت کی روشنی میں اس حدیث کی علت کو حقوقِ فقراء قرار دیا ہے۔
۳. دوسری علت (ہوام) کا رد
بعض علماء نے اس ممانعت کی علت یہ بتائی کہ رات کو کیڑے مکوڑے (هوام) زیادہ ہوتے ہیں جو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے منع کیا گیا۔
مگر امام زمخشری اور دیگر محققین کے نزدیک یہ علت ضعیف اور غیر صحیح ہے، کیونکہ اصل مقصد حقوق العباد کی ادائیگی ہے، نہ کہ محض حفاظتِ جسم۔
[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:9379]
---
حاصل اسباق و نکات
1. حقوق العباد کی پاسداری (معاشی انصاف):
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو غریبوں اور مسکینوں کے حقوق کی انتہائی اہمیت ہے۔ پیداوار (فصل، پھل) پر زکوٰۃ یا عشر واجب ہے، اور اسے موقع ملنے پر ادا کرنا ضروری ہے۔
2. چھپ کر حقوقِ اللہ سے بچنا حرام ہے:
رات کی تاریکی میں فصل کاٹنا تاکہ فقراء نہ دیکھ سکیں، ایک مکر اور فریب کی صورت ہے، جیسا کہ قرآن میں اصحاب الجنتہ کا واقعہ ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔
3. نیت کا دارومدار:
اسلام میں نیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کوئی رات کو اس لیے فصل کاٹتا ہے کہ اس کے پاس دن میں وقت نہیں، اور وہ غریبوں کا حق علیحدہ سے ادا کرتا ہے، تو شاید اس میں حرج نہ ہو، لیکن اصل حکمت حقوق کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔
4. غریبوں کے ساتھ نرمی اور شفقت:
اس حدیث میں غرباء کے ساتھ ہمدردی اور ان کے جذبات کا خیال رکھنے کا درس ہے کہ جب وہ دن میں فصل کٹتے دیکھیں تو انہیں خوشی ہو اور وہ اپنا حق مانگ سکیں۔
5. معاشرتی انصاف اور شفافیت:
اسلام نے معاشی معاملات میں شفافیت کو ترجیح دی ہے۔ رات کو چھپ کر کام کرنا دھوکہ دہی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے اسے روکا گیا۔
6. قرآنی قصے سے سبق (سورۃ القلم):
اصحاب الجنتہ کا قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے جو غریبوں کا حق روکتا ہے، اور اس کی نعمت کو تباہ کر دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر دوسروں کا حق ادا کریں۔
7. وقت کا شعور (دن اور رات کا فرق):
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اوقات کے اعتبار سے بعض کاموں کی افضلیت یا ممانعت ہے۔ رات کا وقت عبادات اور آرام کے لیے ہے، جبکہ دن کا وقت معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
8. علتِ حکم کا صحیح ادراک:
اس حدیث کی شرح میں زمخشری کا استدلال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ احکام کی علتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ محض ظاہری حفاظت (کیڑے مکوڑے) کو علت بنانا درست نہیں، بلکہ اصل روح حقوقِ بندگان ہے۔
5. آیتِ قرآنی سے استدلال:
اس حدیث کی تشریح میں اللہ کا فرمان "وآتوا حقه يوم حصاده" پیش کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ شریعت کا ہر حکم قرآن کے اصولوں کے تابع ہے، اور حدیث قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔
---
خلاصہ:
حدیث "نهى عن الجداد بالليل والحصاد بالليل" صحیح ہے اور اس کا پیغام یہ ہے کہ رات کے وقت کھجوریں توڑنے اور فصل کاٹنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ غرباء اور مسکینوں کو ان کا حق (زکوٰۃ، عشر) ادا کیا جا سکے، اور وہ اس میں شریک ہو سکیں۔ یہ حکم معاشی انصاف، شفافیت، اور حقوق العباد کی ادائیگی کو فروغ دیتا ہے جیسا کہ زمخشری نے واضح کیا، اصل وجہ فقراء سے فرار ہے، نہ کہ کیڑوں کا خوف۔ ہمیں اپنے زرعی معاملات میں اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے، اور اصحاب الجنتہ کے انجام سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
(16) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، وَأَنْتُمْ بعدي أشد اخْتِلَافًا۔
ترجمہ:
"تم (میری حیات میں) اختلاف کر چکے ہو حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، اور تم میرے بعد شدید اختلاف کرو گے۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2908، الصَّحِيحَة:3256]
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صائد کے لیے دھوئیں (دُخ) کو چھپا رکھا تھا، پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ میں نے تمہارے لیے کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا: دُخ (دھواں)۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "دور ہو جا! تو اپنی مدت سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔"
جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے گئے تو لوگوں نے پوچھا: اس نے کیا کہا؟ بعض نے کہا: اس نے 'دُخ' کہا، بعض نے کہا: بلکہ اس نے 'زُخ' کہا۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«هَذَا وَأَنْتُمْ مَعِي تَخْتَلِفونَ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا»
ترجمہ:
"یہ (اختلاف) ہوا اور تم میرے ساتھ ہو، پس تم میرے بعد (اور بھی) شدید اختلاف کرو گے۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2909]
«إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يَحْتَجِمُ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا مَاتَ»۔
📜 شرح المناوی:
"بے شک جمعہ کے دن ایک گھڑی (یعنی ایک لمحہ) ہے – اور کہا گیا ہے کہ یہاں فلکی گھڑی مراد نہیں – کہ جس میں کوئی شخص حجامت (پچھنا) لگواتا ہے تو وہ مر جاتا ہے، یعنی حجامت کی وجہ سے۔ اور 'فی الجمعۃ' کا مطلب ہے جمعہ کے دن، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد پورے ہفتے کی کوئی گھڑی ہے، لیکن پہلا معنیٰ زیادہ قریب ہے، اور دوسری روایت میں اس کی تائید ہے۔"
یہ حدیث (امام سیوطی کی 'الجامع الصغیر' میں) 'ع' (یعنی ایک راوی) کے طریق سے یحییٰ بن العلاء سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ طلحہ بن عبید سے، وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔
اس سلسلۂ سند میں یحییٰ بن العلاء شامل ہیں، جو کذاب (جھوٹا) ہے۔ امام ذہبی نے 'التنقیح' میں کہا: "اس کی سند میں یحییٰ بن العلاء جیسا راوی ہے، جو متروک (ترک شدہ) ہے۔" اور 'المیزان' میں فرمایا: "یحییٰ بن العلاء البجلی کو جماعت نے ضعیف قرار دیا، دارقطنی نے کہا: متروک، اور امام احمد نے کہا: کذاب یضع الحدیث (جھوٹا اور حدیث وضع کرنے والا) ہے، پھر انہوں نے اس کی منکر روایات میں سے ایک یہ روایت بھی ذکر کی۔"
ابن جوزی نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا اور کہا: یہ موضوع ہے۔
مصنف (مناوی) نے ابن جوزی کے اس موقف پر اشکال کرتے ہوئے کہا: "بیہقی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت اس لفظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ 'جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے کہ جو شخص اس میں حجامت لگواتا ہے تو اسے ایسی بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے وہ شفاء نہیں پاتا'، اور انہوں نے کہا کہ اس کے ایک راوی عطاء ضعیف ہیں۔"
---
📌 حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)
۱. یہ حدیث سنداً سخت ضعیف اور موضوع ہے
یہ روایت محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) اور سخت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں یحییٰ بن العلاء البجلی نامی راوی شامل ہے، جسے ائمۂ جرح و تعدیل نے کذاب (جھوٹا) اور واضع (حدیث گھڑنے والا) قرار دیا ہے۔
۲. راوی کی سند میں شدید کمزوری ہے
یحییٰ بن العلاء: امام احمد بن حنبل نے اسے "کذاب یضع الحدیث" (جھوٹا اور حدیث وضع کرنے والا) کہا ہے۔
دارقطنی نے اسے "متروک" (ترک شدہ) قرار دیا۔
امام ذہبی نے اسے "متروک" اور "ضعیف" کہا ہے۔
۳. ابن جوزی کا موقف
ابن جوزی نے اس روایت کو اپنی کتاب 'الموضوعات' (من گھڑت احادیث) میں شامل کرتے ہوئے اسے صراحتاً موضوع قرار دیا ہے۔
۴. مصنف (مناوی) کا ابن جوزی پر اشکال
مناوی نے ابن جوزی کے اس حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بیہقی نے اس روایت کو ایک اور لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے: "جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے کہ جو شخص اس میں حجامت لگواتا ہے تو اسے ایسی بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے وہ شفاء نہیں پاتا" – البتہ اس میں بھی راوی عطاء کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
۵. اس روایت پر عمل کرنا جائز نہیں
چونکہ یہ حدیث موضوع ہے، اس لیے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی جمعہ کے دن حجامت سے ڈرنا) جائز نہیں ہے۔
۶. حجامت کے ایام کا اصل حکم
حجامت کے مستحب اور مکروہ ایام کے بارے میں صحیح احادیث سے رہنمائی حاصل کی جائے، نہ کہ اس موضوع روایت سے۔ حجامت ایک مفید علاج ہے، اور اس کے لیے مناسب اوقات کا تعین طبی اور شرعی اصولوں کے مطابق کیا جائے۔
۷. سند کی تحقیق کا اہم سبق
اس روایت کی سند میں یحییٰ بن العلاء جیسے راوی کی موجودگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی روایت کو بغیر سند کی تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اہم کیوں نہ لگے۔
۸. موضوع روایت کو بیان کرنے کی ممانعت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين" (مسلم) – جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرے، وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے اس روایت کو بطورِ دین بیان کرنا جائز نہیں۔
خلاصہ: یہ روایت "إن في الجمعة ساعة لا يحتجم فيها أحد إلا مات" محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) ہے، کیونکہ اس کے راوی یحییٰ بن العلاء کو ائمہ نے کذاب اور متروک قرار دیا ہے۔ ابن جوزی نے اسے موضوع کہا، جبکہ مناوی نے بیہقی کی دوسری روایت کا حوالہ دے کر اشکال کیا، مگر وہ روایت بھی ضعیف ہے۔ لہٰذا اس روایت پر عمل کرنا اور اسے سنتِ نبوی سمجھنا درست نہیں۔ حجامت کے احکام کے لیے صحیح احادیث سے رجوع کریں۔
سمندر میں سفر کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی فضیلت
(22) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا أَنْ يَقُولُوا:
"میری امت کی غرق (دریا میں ڈوبنے) سے حفاظت کا ذریعہ یہ ہے کہ جب وہ سوار ہوں (کشتی یا سواری پر) تو یہ کہیں:
{بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ} (ھود:41)
{وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} (الأنعام:91)"
[مسند ابویعلی:6781، عمل الیوم واللیلة-ابن السنی:501]
---
حکم حدیث:
امام منذری اس پر سکوت کیا (ضعف کا احتمال)
امام ہیثمی اسے ضعیف قرار دیا۔
علامہ البانی ضعیف (سلسلة الأحاديث الضعيفة، حدیث نمبر 1362)
حافظ ابن حجر سند میں کلام ہے۔
وجہ ضعف:
اس حدیث کی سند میں جبارہ بن مغلس اور یحییٰ بن العلاء نامی راوی ہیں جن پر محدثین نے جرح کی ہے۔
---
آیت کی وضاحت
پوری آیت:
{بِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} (ہود: 41)
ترجمہ:
"اس کا چلنا اور اس کا رکنا اللہ کے نام سے ہے، بے شک میرا رب بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"
یہ وہ آیت ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کشتی میں سوار ہوتے وقت پڑھی تھی۔
---
دیگر ممکنہ آیات (شرح میں مذکور)
شارحین نے اس حدیث کی تشریح میں تین آیات کا ذکر کیا ہے جو "وما قدروا اللہ حق قدرہ" سے شروع ہوتی ہیں:
1. {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ} (الأنعام: 91)
2. {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ} (الحج: 74)
3. {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} (الزمر: 67)
شارحین نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی آیت مراد ہو سکتی ہے، لیکن پہلی آیت (سورہ ہود والی) زیادہ مشہور اور مناسبت رکھتی ہے۔
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. سمندر میں سفر کی دعا:
حدیث میں بتایا گیا کہ سمندر میں سوار ہوتے وقت "بسم اللہ مجراھا ومرساھا" پڑھنا ڈوبنے سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
2. حدیث کی سند میں ضعف:
اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے معنی دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔
3. حضرت نوح کی سنت:
یہ آیت حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کشتی میں سوار ہوتے وقت پڑھی تھی، اس لیے اس کا پڑھنا مستحب ہے۔
4. سفر کی دعاؤں کی اہمیت:
سفر کرتے وقت دعائیں پڑھنا باعثِ برکت اور حفاظت ہے۔
5. اللہ کے ناموں کی برکت:
"بسم اللہ" پڑھنے سے ہر کام میں برکت اور حفاظت ہوتی ہے۔
6. ضعیف حدیث پر عمل:
فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ شدید ضعیف نہ ہو۔
7. سمندر کے سفر کی حفاظت:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مشکل اور خطرناک سفر میں اللہ کا نام لے کر اس کی پناہ مانگنی چاہیے۔
8. آیات کا انتخاب:
سمندر کے سفر کے لیے سورہ ہود کی آیت 41 سب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ یہ خود کشتی کے سفر کے بارے میں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
📜 شرح المناوی:
"میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ (امان) اس وقت ہے جب وہ سمندر (یا کشتی) میں سوار ہوں" — طبرانی کی روایت میں "السفینة" (کشتی) کا لفظ ہے، ابن مردویہ کی روایت میں "سفینة" اور ایک روایت میں "الفلك" (جہاز) ہے۔ البتہ ابن السنی کی روایت کا لفظ، جس کی طرف مصنف (سیوطی) نے نسبت کی ہے، صرف "ركبوا" (سوار ہوں) ہے، اور نہ تو اس میں "بحراً" (سمندر) کا ذکر ہے اور نہ "سفینة" (کشتی) کا، جیسا کہ امام نووی نے ذکر کیا ہے۔
(یہ امان اس وقت ہے) جب وہ کہیں (یعنی یہ آیات پڑھیں) — جب کشتی میں داخل ہوں یا اس کے چلنے کے وقت — اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھیں: "بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا" (یعنی جہاں یہ چلتی ہے اور جہاں ٹھہرتی ہے) "الآية" (یعنی آخر تک)۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: "وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ" مکمل پڑھیں یہاں تک کہ "يُشْرِكُونَ" تک۔
امام نووی نے اپنی کتاب "الأذكار" میں "باب ما يقول إذا ركب سفينة" (کشتی میں سوار ہونے کی دعا) کے تحت اس حدیث کو ابن السنی کی طرف منسوب کر کے نقل کیا ہے، اور پھر اس کے بعد فرمایا: "مختلف نسخوں میں 'إذا ركبوا' (جب وہ سوار ہوں) ہے، 'السفينة' (کشتی) کا ذکر نہیں۔"
اور بعض نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ: "جس شخص نے یہ دونوں آیات پڑھیں اور پھر وہ (کسی حادثے میں) ڈوب گیا یا غرق ہو گیا، تو وہ (اللہ کے) ذمہ ہے" (یعنی اس کا بدلہ اللہ دے گا)۔
یہ حدیث (ع) اور ابن السنی نے ابو یعلیٰ کی مذکورہ سند سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابو یعلیٰ نے بیان کیا، انہیں جنادہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن العلاء نے خبر دی، انہیں مروان بن سالم نے خبر دی، انہیں طلحہ العقیلی نے خبر دی، وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے (روایت کرتے ہیں) کہ نبی کریم ﷺ نے (یہ) فرمایا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: "جنادہ ضعیف ہیں، اور ان کے شیخ (یحییٰ بن العلاء) ان سے بھی زیادہ ضعیف ہیں، اور ان کے شیخ کے شیخ (مروان بن سالم) بھی متفقہ طور پر (اسی طرح) ہیں، اور طلحہ (العقیلی) مجہول (نامعلوم) ہیں۔"
اور امام ذہبی نے "المیزان" میں کہا: "یحییٰ بن العلاء — امام احمد بن حنبل نے فرمایا: یہ کذاب (جھوٹا) ہے اور حدیث وضع کرتا ہے، پھر انہوں نے اس کی منکر روایات میں سے ایک یہ روایت بھی ذکر کی ہے۔"
📌 حاصل اسباق و نکات
۱. یہ حدیث سنداً سخت ضعیف (بلکہ موضوع) ہے
یہ روایت محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور موضوع (من گھڑت) ہے۔ اس کی سند میں متعدد کمزور راوی ہیں:
یحییٰ بن العلاء: امام احمد بن حنبل نے اسے "کذاب یضع الحدیث" (جھوٹا اور حدیث وضع کرنے والا) کہا ہے۔
مروان بن سالم: ضعیف راوی۔
جنادہ: ضعیف۔
طلحہ العقیلی: مجہول (نامعلوم)۔
اس لیے علامہ البانی نے اسے "موضوع" (من گھڑت) قرار دیا ہے، اور امام سیوطی نے اسے "ضعیف" کہا ہے۔
۲. اس روایت پر عمل کرنا اور اسے سنت سمجھنا جائز نہیں
چونکہ یہ حدیث موضوع ہے، اس لیے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی خاص طور پر ان آیات کو ڈوبنے سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھنا) درست نہیں ہے۔
۳. قرآن کی آیات پڑھنا بطورِ دعا جائز ہے، مگر اس خاص فضیلت کے ساتھ نہیں
اگرچہ یہ مخصوص روایت ضعیف ہے، لیکن سورہ ہود کی آیت ۴۱ ("بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا") اور سورہ الانعام کی آیت ۹۱ ("وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ") کو پڑھنا بطورِ عام دعا اور ذکر جائز ہے۔ البتہ انہیں "ڈوبنے سے امان" کا خصوصی ذریعہ سمجھنا اس روایت کی بنا پر درست نہیں۔
۴. سند کی تحقیق اور راویوں کی جرح کا اہم سبق
اس روایت کی سند میں یحییٰ بن العلاء، مروان بن سالم، جنادہ اور طلحہ العقیلی جیسے راوی ہیں جنہیں ائمہ نے کذاب، ضعیف اور مجهول قرار دیا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی روایت کو بغیر سند کی تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے۔
۵. امام نووی اور ابن السنی کی روایت میں لفظی اختلاف
امام نووی نے اس حدیث کو ابن السنی کی کتاب سے نقل کیا ہے، اور انہوں نے خود اس میں "السفينة" (کشتی) کا ذکر نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سے ہمیں متن کی تحقیق اور الفاظ کی باریکیوں کا ادراک ہوتا ہے۔
۶. موضوع روایت کو بیان کرنے کی ممانعت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين" (صحیح مسلم) — "جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرے، وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔" اس لیے اس روایت کو بطورِ دین بیان کرنا جائز نہیں ہے۔
خلاصہ:
یہ روایت "أمان لأمتي من الغرق إذا ركبوا البحر..." محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) اور سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راوی کذاب، متروک اور مجهول ہیں۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور اسے ڈوبنے سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔ البتہ مذکورہ آیات کو بطورِ عام دعا اور ذکر پڑھنا جائز ہے، مگر اس خاص فضیلت کے ساتھ نہیں۔
(23) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے سورہ ھود(17) کی آیت {اور اس(روشن ہدایت) کے پیچھے ہی اس کی حقانیت کا گواہ خود اسی میں آیا ہے} کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
الشاهد ﴿مِنَ اللَّهِ﴾ محمد صلى الله عليه وسلم.
"گواہ ﴿اللہ کی طرف سے﴾ محمد ﷺ ہیں۔"
[تفسیر الطبری:18040، ﴿تفسیر ابن ابی حاتم:10758﴾]
(24) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَسَنُ والحسين سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ:
"حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:366]
«الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ»
"بچہ (نسل) بستر (شوہر) کا ہے۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:5617]
یعنی ولدیت کا تعلق شوہر سے ہوتا ہے جس کی بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہو)۔
"یا رسول اللہ! کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھی سواری (اونٹنی) ہو؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔"
انہوں نے کہا: "کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھا لباس ہو؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔"
انہوں نے کہا: "کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھے جوتے ہوں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔"
انہوں نے کہا: "کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ میں کھانا تیار کروں اور اپنی قوم کو دعوت دوں تو وہ میرے پیچھے چلیں اور میرے پاس کھانا کھائیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔"
انہوں نے کہا: "پھر تکبر کیا ہے یا رسول اللہ؟" آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ»
"یہ کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو حقیر جانے۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:9088]
هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ اتَّقَوْا ثُمَّ قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔
"یہ امیر المؤمنین ہیں، (لہٰذا) ڈرو!" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} (اور احسان کرو بے شک اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے)۔
[تفسیر ابن ابی حاتم:6779]
عنوان:
«اعْتِكَافُ عَشْرٍ فِي رَمَضَانَ كَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ»
ترجمہ:
"رمضان میں دس دن کا اعتکاف دو حج اور دو عمرے کے برابر ہے۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2888]
---
📜 شرح المناوي:
اعتکافِ عشر (یعنی دس دنوں کا اعتکاف) – یعنی مسجد میں نیت کے ساتھ ٹھہرنا – رمضان میں دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے، یعنی اس کا ثوا (نفل/غیر فرض) دو حج اور دو عمروں کے ثواب کے برابر ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے (پہلے) عشرۂ اوسط (رمضان کے درمیانی دس دن) کا اعتکاف فرمایا، پھر آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا اور اس پر مداومت فرمائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ اور بہتر یہ ہے کہ یہاں "عشر" سے مراد آخری عشرہ (اخیرہ) ہی ہے، کیونکہ جب کوئی شخص لیلۃ القدر کی تلاش میں اس کا اعتکاف کرے اور اس کی تمام راتوں میں قیام (عبادت) کرے تو گویا اس نے لیلۃ القدر کو پا لیا، اور لیلۃ القدر کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، اور یقیناً یہ دو حج اور دو عمروں کے ثواب سے زیادہ ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی بھی اجازت ہے کہ رمضان کا ذکر بغیر لفظ "شہر" کے کیا جائے۔
(یہ حدیث) طبرانی نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور مصنف (سیوطی) نے اس پر ضعف کا نشان لگایا ہے، اور یہ صحیح ہے، کیونکہ ہیثمی نے کہا: اس میں عنبسہ بن عبدالرحمن القرشی راوی ہے جو متروک (ترک شدہ) ہے۔
[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:1140]
---
📜 دوسری روایت کی شرح:
(یعنی ثواب میں ان کے ہم پلہ ہے)۔ یہ حدیث اعتکاف کی ترغیب دینے کے اسلوب پر وارد ہوئی ہے، کیونکہ اس میں دل کا حق کی طرف مائل ہونا، اس کے ساتھ خلوت کرنا، لوگوں سے الگ تھلگ ہونا اور صرف اسی (اللہ) کی عبادت میں مشغول رہنا ہے، یہاں تک کہ اس کی تمام تر توجہ اسی (اللہ) کی طرف ہو جائے اور اس کے تمام خیالات اس کے ذکر میں مصروف ہو جائیں، پس اس کی اللہ کے ساتھ اُنس (قربت) لوگوں کے ساتھ اُنس کی جگہ لے لیتی ہے۔
(یہ حدیث) بیہقی نے حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور مصنف (سیوطی) کے ظاہری کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بیہقی نے اسے تخریج کیا اور اس پر اعتماد کیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ بیہقی نے خود اس پر اشکال کیا ہے اور فرمایا: "اس کی سند ضعیف ہے اور محمد بن زاذان (جو اس کے راویوں میں سے ہیں) متروک (ترک شدہ) ہیں، اور بخاری نے فرمایا: اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی۔" اس کے علاوہ اس میں عنبعسہ بن عبدالرحمن بھی ہیں، جن کے بارے میں بخاری نے کہا: "لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا" اور ذہبی نے "الضعفاء" میں کہا: "متروک اور متہم (یعنی وضع حدیث کا الزام لگانے والا)" ہے۔
[فيض القدير-المناوي:8479]
---
📌 حاصل اسباق و نکات
1. حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے اسے دلیل نہ بنائیں۔
امام ہیثمی نے اس راوی "عنبعسہ بن عبدالرحمن" کو متروک قرار دیا ہے، اور البانی نے اسے موضوع کہا ہے۔ لہٰذا اس مخصوص روایت کو بطورِ سنتِ قطعی پیش نہ کریں۔
(حوالہ: مجمع الزوائد، السلسلة الضعیفة للألبانی)
2. اعتکاف بذاتِ خود سنتِ مؤکدہ ہے
اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ نے ہر سال آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔
(حوالہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم)
3. لیلۃ القدر کی فضیلت ہزار مہینوں سے بہتر ہے
شارح (مناوی) نے وضاحت کی کہ اگر اعتکاف کا مقصد لیلۃ القدر کی تلاش ہے تو اس کی عبادت کا ثواب دو حج و عمرہ سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ" (القدر: ۳)۔
4. ثواب کا موازنہ اعتکاف کی روح پر ہے، نہ کہ لفظی جزا پر
اس روایت میں "دو حج اور دو عمرے" کا ذکر محض ترغیب کے لیے ہے، تاکہ لوگ اعتکاف کی طرف راغب ہوں۔ اصل فضیلت لیلۃ القدر کے ادراک اور اخلاص میں ہے۔
5. رمضان کا ذکر بغیر "شہر" کے جائز ہے
اس حدیث میں لفظ "رمضان" بغیر "شہر" کے آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ شرعی اور لغوی طور پر "شہر رمضان" کہنا ضروری نہیں، بلکہ صرف "رمضان" کہنا بھی جائز اور فصیح ہے۔
6. ضعیف روایت پر عمل کا اصول
علمائے کرام کے نزدیک فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو اور اس کا مفہوم شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔ یہاں یہ روایت موضوع ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دیں اور صحیح احادیث سے اعتکاف کی فضیلت حاصل کریں۔
---
خلاصہ:
اعتکاف (خاص طور پر رمضان کے آخری عشرہ میں) سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن مذکورہ روایت "اعتكاف عشر في رمضان كحجتين وعمرتين" سنداً ضعیف / موضوع ہے، اس لیے اسے چھوڑ کر صحیح احادیث پر عمل کریں اور لیلۃ القدر کی تلاش میں اعتکاف کو اپنی عادت بنائیں۔
---
حوالہ (تخریج):
محدث - کتاب - مقام
الطبرانی المعجم الکبیر (3/128، رقم 2888)
البیہقی شعب الإیمان (3/424، رقم 3965)
الطبرانی المعجم الأوسط (7/221، رقم 7326)
راوی: حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما
---
حکم (حیثیت):
یہ حدیث ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے۔
محدث-حکم-دلیل
امام ہیثمی-ضعیف-اس میں عیینہ بن عبدالرحمن القرشی راوی ہے جو متروک ہے
امام بیہقی-ضعیف-فرمایا: "إسناده ضعیف ومحمد بن زاذان أحد رجاله"
امام مناوی-ضعیف-رمز المصنف لضعفه
ابن الملقن-ضعیف-اسنادہ ضعیف
شیخ البانی-موضوع-اسے "السلسلة الضعیفة" اور "ضعیف الترغیب والترهیب" میں موضوع قرار دیا.
---
شرح (تشریح)
یہ حدیث اعتکاف کی فضیلت میں آئی ہے کہ رمضان کے دس دن کا اعتکاف دو حج اور دو عمروں کے ثواب کے برابر ہے۔
· "عشر" سے مراد رمضان کے آخری عشرہ (۲۱ سے ۳۰ رمضان) ہیں، کیونکہ نبی ﷺ اخیر عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
· اعتکاف کے لغوی معنی: کسی چیز پر جم کر رہنا اور اس کی پابندی کرنا۔
· شرعی اصطلاح میں: مسجد میں کسی مخصوص شخص کا مخصوص کیفیت کے ساتھ ٹھہرنا۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:]
---
حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)
1. حدیث کی سند ناقص ہے:
اس حدیث کے راویوں میں عیینہ بن عبدالرحمن القرشی (متروک) اور محمد بن زاذان (ضعیف) جیسے راوی ہیں، اس لیے یہ قابل عمل نہیں۔
2. موضوع ہونے کے باوجود اعتکاف سنت ہے:
اگرچہ یہ روایت موضوع ہے، لیکن نبی ﷺ کا رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ کو وفات ہو گئی" (متفق علیہ)۔
3. موضوع حدیث کی نشاندہی ضروری ہے:
علمائے کرام نے اس حدیث کو واضح طور پر موضوع قرار دے کر امت کو گمراہی سے بچایا۔
4. اعمال کا دارومدار نیت اور اخلاص پر ہے:
اگرچہ اس مخصوص روایت کا ثواب ثابت نہیں، لیکن اخلاص کے ساتھ کیے گئے اعتکاف کا اجر اللہ کے ہاں بہت عظیم ہے۔
5. ضعیف احادیث پر عمل کا اصول:
علمائے اصول کے نزدیک فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ:
· وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو۔
· اس کا مفہوم شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔
· اس پر عمل کرنے والا اسے یقینی طور پر ثابت نہ سمجھے۔
---
خلاصہ: مذکورہ حدیث "اعتكاف عشر في رمضان كحجتين وعمرتين" سنداً ضعیف بلکہ موضوع ہے، اس لیے اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ البتہ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا اس سنت کو بغیر اس روایت کے اپنانا چاہیے۔
"جب رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین دن پہلے کا وقت تھا تو جبرائیل علیہ السلام آپ پر نازل ہوئے اور کہا: 'اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف آپ کی تعظیم، آپ کو فضیلت دینے اور آپ کی خصوصی عنایت کے لیے بھیجا ہے۔ وہ آپ سے اس چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہے جس کا علم اسے آپ سے زیادہ ہے۔ وہ فرماتا ہے: آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟'
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو غمزدہ پاتا ہوں، اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو پریشان پاتا ہوں۔'
فرماتے ہیں: جب تیسرا دن آیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، ملک الموت علیہ السلام نازل ہوئے اور ان دونوں کے ساتھ ایک اور فرشتہ ہوا میں نازل ہوا جس کا نام اسماعیل تھا، وہ ستر ہزار فرشتوں پر تھا، ان میں کوئی فرشتہ نہ تھا مگر وہ ستر ہزار فرشتوں پر تھا، جبرائیل علیہ السلام ان کی تشییع فرما رہے تھے۔
جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف آپ کی تعظیم، آپ کو فضیلت دینے اور آپ کی خصوصی عنایت کے لیے بھیجا ہے۔ وہ آپ سے اس چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہے جس کا علم اسے آپ سے زیادہ ہے۔ وہ فرماتا ہے: آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟'
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو غمزدہ پاتا ہوں، اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو پریشان پاتا ہوں۔'
فرماتے ہیں: پھر ملک الموت صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر اجازت طلب کی۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'اے محمد! یہ ملک الموت آپ سے اجازت طلب کر رہے ہیں، انہوں نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت نہیں مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت مانگیں گے۔'
آپ ﷺ نے فرمایا: 'انہیں اجازت دے دو۔'
چنانچہ جبرائیل علیہ السلام نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور عرض کیا:
'اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ آپ جس چیز کا مجھے حکم دیں، میں اس کی اطاعت کروں۔ اگر آپ مجھے حکم دیں کہ میں آپ کی روح قبض کر لوں تو میں قبض کر لوں، اور اگر آپ ناپسند کریں تو میں چھوڑ دوں۔'
رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'اے ملک الموت! کیا تم ایسا کرو گے؟'
انہوں نے کہا: 'ہاں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے حکم کی اطاعت کروں جو آپ مجھے دیں۔'
اس پر جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'بے شک اللہ عزوجل آپ سے ملاقات کے لیے بے حد مشتاق ہے۔'
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'پس تم اسی کی طرف بڑھو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔'
جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'یہ میری زمین پر آخری آمد ہے، میری دنیا میں صرف آپ کی حاجت (ملاقات) تھی۔'
جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور تعزیت (تسلی) کے لیے کوئی آیا تو ایک آنے والا آیا، لوگ اس کی آواز سنتے تھے لیکن اس کی شخصیت نہیں دیکھتے تھے، اس نے کہا:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، إِنَّ فِي اللهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَبِاللهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ۔
'تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں۔ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر مصیبت میں تسلی دینے والا ہے، ہلاک ہونے والے کا بدل دینے والا ہے اور ہر فوت ہونے والی چیز کو پالینے والا ہے۔ پس اللہ پر بھروسہ کرو اور اسی سے امید رکھو۔ بے شک مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم رہ جائے۔ تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔'
[المعجم الکبیر للطبرانی:2890]
«أَوْصَى أَنْ يُنْفَذَ جَيْشُ أُسَامَةَ، وَلَا يَسْكُنَ مَعَهُ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَهْلُ دِينِهِ»
"آپ ﷺ نے وصیت فرمائی کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی فوج روانہ کی جائے، اور مدینہ میں صرف اہل دین (مسلمان) ہی آپ کے ساتھ رہیں۔"
محمد (بن علی بن حسین) کہتے ہیں: اور میں تیری وصیت بھول گیا۔
[المعجم الکبیر للطبرانی:2891]
:
میں محمد بن علی بن حسین (زین العابدین) رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، آپ کے پاس آپ کا بیٹا (حضرت باقر) بھی تھا۔ آپ نے (مجھ سے) فرمایا: "کھانے پر آؤ۔"
میں نے کہا: "اے فرزند رسول اللہ! میں کھانا کھا چکا ہوں۔"
آپ نے مجھ سے فرمایا: "یہ کاسنی (ہندبانہ) ہے۔"
میں نے پوچھا: "اے فرزند رسول اللہ! کاسنی (ہندبانہ) میں کیا (خاص بات) ہے؟"
آپ نے فرمایا: "مجھے میرے والد (علی بن حسین) نے اپنے دادا (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَا مِنْ وَرَقَةٍ مِنْ وَرَقِ الْهِنْدِبَاءِ إِلَّا وَعَلَيْهَا قَطْرَةٌ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ»
'کاسنی (ہندبانہ) کا کوئی پتہ ایسا نہیں جس پر جنت کا ایک قطرہ نہ ہو۔'
پھر آپ (محمد بن علی) تیل لے کر آئے اور فرمایا: "تیل لگاؤ۔"
میں نے کہا: "اے فرزند رسول اللہ! میں تیل لگا چکا ہوں۔"
آپ نے فرمایا: "یہ بنفشہ کا تیل ہے۔"
میں نے پوچھا: "بنفشہ میں کیا (خاص بات) ہے؟"
آپ نے فرمایا: "مجھے میرے والد (علی بن حسین) نے اپنے دادا (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ فَضْلَ الْبَنَفْسَجِ عَلَى سَائِرِ الْأَدَهْانِ كَفَضْلِ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ فَضْلَ دُهْنِ الْبَنَفْسَجِ كَفَضْلِ الْإِسْلَامِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ»
'بے شک بنفشہ کا تیل تمام تیلوں پر ایسی فضیلت رکھتا ہے جیسی فضیلت عبدالمطلب کی اولاد کو باقی قریش پر حاصل ہے، اور بے شک بنفشہ کے تیل کی فضیلت تمام ادیان پر اسلام کی فضیلت کی طرح ہے۔'
[المعجم الکبیر للطبرانی:2892]
«إِنَّ اللهَ يَغْضِبُ لِغَضَبِكِ، وَيَرْضَى لِرَضَاكِ»
"بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور تمہاری رضا کی وجہ سے راضی ہوتا ہے۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:182]
«لَا تَطْرُقُوا الطَّيْرَ فِي أَوْكَارِهَا، فَإِنَّ اللَّيْلَ لَهُ أَمَانٌ»
"پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رات کے وقت مت بے دخل کرو، کیونکہ رات ان کے لیے امان (اور سکون) کا وقت ہے۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2896]
«لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ»
"جذام کے مریضوں کی طرف مسلسل (بار بار) نہ دیکھا کرو۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2897]
میں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے پوچھا: کیا آپ نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے انہیں حوضِ زمزم میں بیٹھے دیکھا۔
میں نے پوچھا: کیا آپ نے انہیں خضاب لگاتے دیکھا؟ انہوں نے کہا:
«لَا إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُهُ وَلِحْيَتُهُ سَوْدَاءُ إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ، يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ، وَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ بَيَاضٌ. وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابَ ذَلِكَ الْمَوْضِعُ مِنْهُ، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِ»
"نہیں، سوائے اس کے کہ میں نے انہیں دیکھا کہ ان کی داڑھی یہاں (ٹھوڑی کے نیچے) تک سیاہ تھی، اور اس کے نیچے سفیدی تھی۔"
اور انہوں (عبیداللہ) نے یہ ذکر کیا کہ نبی ﷺ کی داڑھی میں بھی وہ جگہ سفید تھی، اور حسین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی مشابہت اختیار کرتے تھے۔
[المعجم الکبیر للطبرانی:2900]
حاجت کے سامنے ہدیہ بہترین معاون / چیز ہے
«نِعْمَ الشَّيْءُ الْهَدِيَّةُ أَمَامَ الْحَاجَةِ»
"حاجت (سوال) سے پہلے تحفہ دینا بہترین چیز ہے۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2903]
---
"بہترین چیز (یا بہترین مدد، یا بہترین کلید) حاجت (پیش کرنے) سے پہلے ہدیہ ہے۔"
(ایک روایت میں ہے: "حاجت طلب کرنے میں ہدیہ بہترین مدد ہے۔")
---
حوالہ (تخریج)
محدث » کتاب » صحابی
الطبرانی المعجم الکبیر / الأوسط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما
الحاکم » المستدرک » حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (سند اجود)
الدیلمی الفردوس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
الصنعانی التنویر شرح الجامع الصغیر (9252)
المناوی فیض القدیر شرح الجامع الصغیر (9271)
---
حکم (حیثیت)
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے (اور ابن الجوزی کے نزدیک موضوع ہے، مگر حاکم کی دوسری سند بہتر ہے)۔
محدث حکم وجہ / وضاحت
امام سیوطی / الصنعانی ضعیف انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" (ضعف کا نشان) لگایا ہے۔
امام ہیثمی اس میں ہاشم بن سعد راوی مختلاف فیہ وثقه ابن حبان، لیکن جماعت نے اسے ضعیف کہا۔
ابن الجوزی موضوع (من گھڑت) انہوں نے اسے موضوعات میں شامل کیا۔
محققین (مناوی کے حوالے سے) حاکم کی سند اجود (بہتر) ہے حاکم نے اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہتر سند کے ساتھ روایت کیا، اس لیے اس مخصوص سند کو موضوع کہنا محلِ نظر ہے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9252]
خلاصہ حکم:
حسین بن علی رضی اللہ عنہما والی یہ خاص سند ضعیف ہے، اور ابن الجوزی نے اسے موضوع کہا ہے، لیکن الحاکم کی دوسری سند (از عائشہ رضی اللہ عنہا) بہتر ہے۔ البتہ مجموعی حیثیت میں یہ حدیث درجہ صحیح کو نہیں پہنچتی، اس لیے اسے سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھا جا سکتا، البتہ اس کے معنی (حاجت سے پہلے ہدیہ دینا) دوسرے اصولوں سے تائید پاتے ہیں۔
---
شرح (تشریح)
۱. مفہومِ حدیث
اس حدیث میں حاجت مند کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ جب وہ کسی سے کوئی حاجت (ضرورت) پوری کرنے کے لیے جائے تو اس کے سامنے پہلے سے ہدیہ پیش کرے تاکہ اس کا دل جھک جائے اور حاجت پوری کرنے میں آسانی ہو۔
۲. مختلف روایات کے الفاظ
· "نعم الشيء" = بہترین چیز۔
· "نعم العون" = بہترین مددگار۔
· "نعم المفتاح" = بہترین کلید۔
یہ تینوں الفاظ ایک ہی معنی پر دلالت کرتے ہیں: ہدیہ حاجت پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
۳. امام خطیب بغدادی اور دارقطنی کا واقعہ (فیض القدیر کی شرح سے)
امام المناوی نے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے:
امام دارقطنی کے پاس ایک شخص آیا اور اس سے قرآت (پڑھنا) سیکھنے کا سوال کیا، مگر امام نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے احادیث املا کرانے کا کہا تو امام نے دس احادیث یاد سے املا کر دیں، جن میں سب کا متن تھا: "نعم الشيء الهدية أمام الحاجة"۔ وہ شخص چلا گیا، پھر آیا اور اس نے امام کو کچھ ہدیہ پیش کیا۔ امام نے اسے قریب کیا اور اسے کئی (بضعة عشر) احادیث املا کر دیں، جن کا متن تھا: "إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه" (جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز آئے تو اس کی عزت کرو)۔
ابن الجوزی نے اس پر اعتراض کیا کہ دارقطنی نے ایسی روایات کیوں بیان کیں جو صحیح نہیں تھیں؟
مناوی (مؤلف) نے ابن الجوزی کو جواب دیا:
"مجھے ابن الجوزی پر تعجب ہے کہ انہوں نے بغیر تثبت کے ثابت شدہ احادیث کو رد کر دیا، کیونکہ حدیث «إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه» دس سے زائد صحابہ سے مروی ہے، اور یہ متواتر (یا متواتر کے قریب) ہے!"
[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:9271]
---
حاصل اسباق و نکات
1. ہدیہ دینا ایک اچھا اخلاقی اور سماجی رویہ ہے:
ہدیہ دلوں کو جوڑتا ہے اور باہمی محبت و الفت کا ذریعہ ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تهادوا تحابوا" (صحیح) — آپس میں ہدیہ دو، محبت کرو۔ اس حدیث میں اسے حاجت پوری کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
2. جائز ہدیہ اور ناجائز رشوت میں فرق:
یہاں ہدیہ جائز حاجت (مثلاً کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا، کسی اہلِ خیر سے مالی امداد مانگنا) کے لیے ترغیب ہے، نہ کہ رشوت (جس سے ناحق کوئی حق چھینا جائے یا باطل کو حق بنایا جائے)۔ رشوت حرام ہے جیسا کہ قرآن میں ہے: "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ" (البقرہ: 188)۔
3. سند کی تحقیق کا اہم سبق (دارقطنی اور ابن الجوزی کا واقعہ):
اس واقعے سے ہمیں دو چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
· ائمہ کرام (جیسے دارقطنی) بعض اوقات فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث کو بطورِ ترغیب بیان کر دیتے تھے، مگر ان کا مقصد صرف تشویق ہوتا تھا، نہ کہ یہ یقین دلانا کہ یہ صحیح ہے۔
· ابن الجوزی نے سخت موقف اختیار کیا اور کئی احادیث کو موضوع کہہ دیا، جبکہ مناوی نے انہیں جواب دیا کہ دوسری سندوں کی وجہ سے یہ احادیث ثابت ہیں۔ اس سے ہمیں شدت اور اعتدال کا توازن سیکھنے کو ملتا ہے۔
4. تعدد طرق (شواہد) حدیث کو تقویت دیتے ہیں:
اگرچہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما والی سند میں کلام ہے، لیکن حاکم کی عائشہ رضی اللہ عنہا والی سند اجود (بہتر) ہے، اس لیے اس حدیث کو سرے سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمیں اصولِ حدیث کا درس دیتا ہے۔
5. معزز مہمان کی تعظیم کرنا (اخلاقِ نبوی):
دوسری روایت "إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه" سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں عزت و احترام کو بہت اہمیت دی گئی ہے، خاص طور پر اس شخص کی جو اپنی قوم میں معزز ہو۔
6. فضائل میں ضعیف حدیث کا اصول:
اس حدیث کو اگرچہ فضائلِ اعمال (یعنی اخلاقی ترغیب) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے یقینی سنت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس پر عمل کرنا (یعنی حاجت سے پہلے ہدیہ دینا) اگر کوئی شخص کرے تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اسے "یقینی طور پر رسول اللہ ﷺ کا فرمان" نہ سمجھے۔
---
خلاصہ: حدیث "نعم الشيء الهدية أمام الحاجة" سنداً ضعیف ہے، اور ابن الجوزی نے اسے موضوع کہا ہے، مگر حاکم کی دوسری سند (از عائشہ رضی اللہ عنہا) بہتر ہے۔ اس کا مفہوم (حاجت سے پہلے ہدیہ دینا) اخلاقی طور پر درست ہے اور اس کی تائید دوسری احادیث سے ہوتی ہے، تاہم اسے سنتِ ثابتہ قرار نہ دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہدیہ دلوں کو جوڑنے اور حاجت پوری کرنے کا ذریعہ بنائیں، مگر اسے کبھی رشوت کی صورت میں استعمال نہ کریں۔
(37) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ»
ترجمہ:"میں نے (ایک بار) نبی کریم ﷺ کو کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2904]
(38) ابو سعید التیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ لَبِسَ مَشْهُورًا مِنَ الثِّيَابِ أَعْرَضَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»۔
ترجمہ:
"جس نے شہرت والا کپڑا پہنا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے منہ پھیر لے گا۔"
[المعجم الکبیر للطبرانی:2906]
(39) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا وَرِجْلَاهُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ»
ترجمہ:
"مریض کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر اس کی استطاعت ہو۔ اگر استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھے۔ اگر سجدہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو اشارہ کرے اور اپنا سجدہ اپنے رکوع سے زیادہ جھک کر کرے۔ اگر بیٹھ کر پڑھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو قبلہ رخ دائیں پہلو پر لیٹ کر پڑھے۔ اگر دائیں پہلو پر لیٹ کر پڑھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو پیٹھ کے بل چت لیٹ کر پڑھے اور اس کے پاؤں قبلہ کی طرف ہوں۔"
[سنن الدارقطنی:1706، السنن الكبري للبيهقي:3678]
عنوان
وضو کا بچا ہوا پانی سجدہ گاہ پر بہانا
(40) ---
ترجمہ:
"آپ ﷺ جب وضو فرماتے تو (وضو کا) کچھ پانی بچا رکھتے، یہاں تک کہ اسے اپنی سجدہ گاہ پر بہا دیتے۔"
---
حوالہ (تخریج)
الطبرانی المعجم الکبیر (3/85، رقم 2739)
ابو یعلی المسند (6782)
---
حکم (حیثیت)
اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے، لیکن راجح قول کے مطابق یہ ضعیف ہے۔
امام ہیثمی حسن انہوں نے فرمایا: "إسناده حسن" (اس کی سند حسن ہے)۔
[مجمع الزوائد (1/234)]
امام صنعانی ضعف کا اشارہ انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" کیا، یعنی ضعف کی طرف اشارہ کیا، اور ایک مقام پر سکوت کیا۔
[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانی :6603]
علامہ البانی ضعیف انہوں نے اسے "ضعیف الجامع(4364)" اور "السلسلة الضعیفة(2150)" میں واضح طور پر ضعیف قرار دیا۔
---
شرح (تشریح)
امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں تین اہم نکات بیان کرتے ہیں:
1. "فضل ماء":
لفظ "فضل" (بتشدید ضاد) کے معنی بچا رکھنا یا فضلہ چھوڑنا ہے، یعنی آپ ﷺ وضو کے دوران پورا پانی استعمال نہیں کرتے تھے، بلکہ کچھ مقدار بچا لیتے تھے۔
2. "یسيله" (بتشدید تائی) کے معنی بہانا یا جاری کرنا ہے۔
3. "موضع سجوده" کی تشریح میں اختلاف:
· شارح (قاضی عبدالباقی) نے کہا کہ شاید اس سے مراد زمین ہے (یعنی سجدہ گاہ کی جگہ)۔
· لیکن امام الصنعانی خود اس قول کو بعید قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: "میں نہیں سمجھتا کہ اس سے مراد زمین ہو، کیونکہ کسی دوسری حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ ﷺ زمین پر پانی چھڑکتے تھے۔"
لہٰذا راجح قول یہ ہے کہ اس سے مراد آپ ﷺ کی پیشانی ہے، یعنی آپ وضو کے بعد بچا ہوا پانی اپنی پیشانی پر بہاتے تھے تاکہ سجدہ کے دوران وہ تر رہے۔
[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانی :6603]
---
حاصل اسباق و نکات
1. وضو میں فضول خرچی سے بچنا اور پانی کی قدر کرنا:
اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پانی کو ضائع نہیں ہونے دیتے تھے بلکہ بچا ہوا پانی کسی نافع کام میں لاتے تھے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "لا تسرف في الماء ولو كنت على نهر جار" (ابن ماجہ، صحیح) — پانی میں اسراف نہ کرو، چاہے بہتے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔
2. سجدہ گاہ یا پیشانی کی تعظیم اور حفظانِ صحت:
اگر اس سے مراد پیشانی ہے تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سجدہ کے اعضاء کو صاف اور تر رکھنا چاہیے۔ بعض اہل علم نے اسے پیشانی کی نمی سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدہ کرتے وقت زیادہ خشکی نہ ہو۔
3. سند کی تحقیق کی اہمیت:
اس حدیث میں ہیثمی نے "حسن" کہا، جبکہ البانی نے "ضعیف"۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی عمل کو سنت کہنے سے پہلے محدثین کے اقوال کا موازنہ کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اسے واجب یا سنت مؤکدہ قرار نہیں دیا۔
4. متشابہ احادیث میں احتیاط کا اصول:
چونکہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے اور دوسری احادیث میں یہ عمل صراحتاً ثابت نہیں، اس لیے اسے مستحب (نفل) سمجھا جا سکتا ہے، واجب نہیں۔ اگر کوئی اس پر عمل کرے تو بہتر ہے، ورنہ کوئی حرج نہیں۔
5. احادیث کی تشریح میں علماء کا اختلاف:
امام الصنعانی نے اس حدیث کی شرح میں واضح کیا کہ "موضع سجوده" کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ فقہاء اور محدثین کے درمیان فروعی مسائل میں اختلاف معمول کی بات ہے، اور ہر قول کی اپنی دلیل ہے۔
6. وضاحت: کیا یہ عمل مسنون ہے؟:
شیخ البانی کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اسے نبی ﷺ کی طرف یقینی طور پر منسوب کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص احتیاطاً یا کسی امام کے قول پر عمل کرتے ہوئے وضو کا بچا ہوا پانی پیشانی پر مل لے تو اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ اسے سنتِ قطعی نہ سمجھے۔
---
خلاصہ:
حدیث "كان إذا توضأ فضل ماء حتى يسيله على موضع سجوده" مختلف فیہا ہے۔ امام ہیثمی نے اسے حسن کہا، جبکہ علامہ البانی اور امام صنعانی کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ وضو کا بچا ہوا پانی اپنی پیشانی پر بہاتے تھے (زمین پر نہیں)۔ اس پر عمل مستحب ہے، واجب نہیں، اور اسے سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
(41) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللهِ التَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ»
"عقل کا سر (سب سے بڑا حصہ) اللہ پر ایمان لانے کے بعد لوگوں سے محبت اور اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔"
[حلية الأولياء:3/203]
عنوان
گوشت گندم کے ساتھ انبیاء کا شوربہ ہے.
---
(42) اللحم بالبر مرقة الأنبياء.
ترجمہ
"گوشت کو گندم کے ساتھ (ملا کر کھانا) انبیاء کا شوربہ ہے۔"
[الديلمي:5458، جامع الأحاديث للسيوطي:19641]
---
حوالہ (تخریج)
الدیلمی الفردوس بمأثور الخطاب (5458)
المتقی الہندی کنز العمال (40996)
السیوطی الجامع الصغیر (7749)
الصنعانی التنویر شرح الجامع الصغیر (7730)
---
حکم (حیثیت):
یہ حدیث سنداً ضعیف بلکہ شدید ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔
امام سیوطی ضعیف انہوں نے الجامع الصغیر میں اس پر (ض) کا رمز لگایا ہے۔
علامہ البانی ضعیف جداً انہوں نے اسے "ضعیف الجامع" (4965) اور "السلسلة الضعیفة" (418) میں شدید ضعیف قرار دیا ہے۔
حافظ العراقی لا أصل له انہوں نے تخریج الإحیاء (3/73) میں اسے "بے اصل" کہا ہے۔
الدیلمی سند سے ناواقف انہوں نے اس پر "بیض" (خالی چھوڑ) دیا کیونکہ انہیں اس کی کوئی سند نہیں ملی۔
خلاصہ حکم:
یہ روایت سنداً ناقص ہے اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف یقینی طور پر منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ البانی نے اسے "ضعیف جداً" (شدید ضعیف) قرار دیا ہے۔
---
شرح (تشریح)
امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
· "اللحم بالبر": لفظ "البر" (بضم الباء الموحدة) کے معنی گندم (حنطہ) کے ہیں۔
· "مرقة الأنبياء": یعنی انبیاء کرام علیہم السلام گوشت اور گندم کو ملا کر (شوربہ بنا کر) کھاتے تھے۔
· نتیجہ: اس میں یہ اشارہ ہے کہ گوشت کھانا انبیاء علیہم السلام کی سنت میں شامل ہے۔
[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانی:7730]
---
حاصل اسباق و نکات
1. گوشت کھانا انبیاء کی سنت ہے:
اگرچہ یہ خاص روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن گوشت کھانے کی ترغیب دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ خود گوشت تناول فرماتے تھے اور اسے پسند فرماتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: "سید الإدام فی الدنیا والآخرۃ اللحم" (کنز العمال)۔
2. غذائیت کا پہلو:
گوشت اور گندم کا ملاپ ایک مکمل اور متوازن غذا ہے جو جسم کو طاقت اور توانائی فراہم کرتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا اسے پسند فرمانا اس کی افادیت کی دلیل ہے۔
3. سادگی اور اعتدال:
اس حدیث میں سادگی اور قناعت کا درس ہے کہ انبیاء علیہم السلام سادہ اور مفید غذا کو ترجیح دیتے تھے۔
4. سند کی تحقیق کی اہمیت:
اس حدیث کا ضعیف ہونا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی بھی قول کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے پہلے سند کی تحقیق ضروری ہے۔ حافظ العراقی نے اسے "لا أصل له" (بے اصل) کہا، جبکہ البانی نے "ضعیف جداً" قرار دیا۔
5. ضعیف حدیث پر عمل کا اصول:
چونکہ یہ روایت شدید ضعیف ہے، اس لیے اسے بطور دلیل استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ گوشت کھانے کی ترغیب دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، مگر اس مخصوص روایت کو نبی ﷺ کی طرف منسوب نہ کریں۔
---
خلاصہ:
حدیث "اللحم بالبر مرقة الأنبياء" سنداً ضعیف جداً ہے اور اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ البتہ گوشت کھانا دوسری صحیح احادیث کی روشنی میں مستحب اور انبیاء کی سنت ہے۔ اس لیے گوشت کو گندم کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ اسے اس مخصوص روایت کی بنا پر سنت نہ سمجھیں۔
(43) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اے انس! بے شک علی عرب کے سردار ہیں۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "کیا آپ عرب کے سردار نہیں ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وعلي سَيِّدُ الْعَرَبِ»
"میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور علی عرب کے سردار ہیں۔"
[حلية الأولياء:5/38]
(44) أَخْبَرَنَا علي بن أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ , ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ , ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عن إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابن عَبَّاسٍ , قَالَ: " أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عليه وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَاتَّبَعْتُ هَوْدَجَهَا فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهَا تُلَبِّي حَتَّى رَمَتْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ كَبَّرَتْ " وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ الحسين بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عنهما.
ترجمہ:
کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ یوم عرفہ کو بھیجا، تو میں ان کی سواری کے پیچھے چلا۔
"میں مسلسل انہیں (حضرت میمونہ کو) تلبیہ پکارتے سنتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، پھر انہوں نے تکبیر کہی۔"
اور ہمیں یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے بھی (تلبیہ کے بارے میں ایسا ہی منقول ہے)۔
[السنن الكبري للبيهقي:9449]
عنوان:
عجب (خود پسندی) کا عمل کو برباد کرنا.
متن (عربی):
(45) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ الْعُجْبَ لَيُحْبِطُ عَمَلَ سَبْعِينَ سَنَةً"
ترجمہ:
"بے شک عجب (خود پسندی) ستر سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔"
[مسند الفردوس للديلمي:8، جامع الأحاديث للسيوطي:44817]
حکم حدیث:
یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کی سند میں موسیٰ بن ابراہیم المروزی نامی راوی ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
[زهر الفردوس:844، ضعيف الجامع:1505، الضعيفة:2567]
---
شرح الصنعاني:
(إِنَّ الْعُجْبَ) "عجب" (عین کے ضمہ اور جیم کے سکون کے ساتھ) کے معنی ہیں: نعمت کو بڑا سمجھنا اور اس پر اطمینان کرنا، جبکہ اسے منعم (اللہ) کی طرف منسوب کرنا بھول جانا، جیسے کوئی شخص اپنی عبادت کو بڑا سمجھے اور یہ بھول جائے کہ اللہ نے ہی اسے اس کی توفیق دی اور اس پر مدد کی۔
(لَيُحْبِطُ) یعنی برباد کر دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے۔
(عَمَلَ سَبْعِينَ سَنَةً) اس کا احتمال ہے کہ یہ مبالغہ کے لیے ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حقیقت میں ہو (یعنی واقعی ستر سال کا عمل ضائع ہو جاتا ہے)۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني: 2068]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. عجب کی تعریف اور اس کی حقیقت:
عجب ایک باطنی بیماری ہے جس میں انسان اپنی عبادات، نیکیوں، یا کسی بھی نعمت کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے۔ عجب میں انسان اپنی ذات کو دیکھتا ہے، اللہ کو نہیں۔
2. عجب کا انجام:
عجب انسان کے نیک اعمال کو برباد کر سکتی ہے، یہاں تک کہ ستر سال کی عبادت بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ یہ اس کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
3. عجب اور تکبر میں فرق:
· عجب: انسان اپنے آپ کو اچھا سمجھے (اپنی ذات کی تعریف)۔
· تکبر: انسان دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھے۔
عجب تکبر کا پیش خیمہ ہے۔
4. علاج:
· اپنی عبادات کو اللہ کا فضل سمجھنا، اپنی محنت نہیں۔
· اپنی کمزوریوں اور گناہوں کو یاد رکھنا۔
· ہمیشہ یہ سوچنا کہ میرا عمل قبول ہوا یا نہیں؟
· نبی ﷺ کی اس دعا کو پڑھنا: "اللَّهُمَّ لَا تُزَكِّي نَفْسِي، إِنَّكَ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي" (اے اللہ! میری نفس کو پاک نہ بتا، تو مجھ سے زیادہ اسے جانتا ہے)۔
5. حدیث کا درجہ:
یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى} (النجم: 32)
(پس تم اپنی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ (اللہ) زیادہ جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے)۔
6. عجب سے بچنے کا طریقہ:
· ہر نعمت کو اللہ کا فضل سمجھنا۔
· اپنے گناہوں کو یاد رکھنا۔
· دوسروں کی برائیوں کو ڈھونڈنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنا۔
· نیکی کرنے کے بعد بھی عاجزی اختیار کرنا۔
7. حدیث کا پیغام:
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عجب ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کی ساری محنت کو ضائع کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے بچنا چاہیے اور ہمیشہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
متن (عربی):
(46) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اتَّخِذُوا عِنْدَ الْفُقَرَاءِ أَيَادِيَ؛ فَإِنَّ لَهُمْ دَوْلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ"
ترجمہ:
"غریبوں کے ساتھ احسان (اور نیکی) کے ہاتھ بڑھاؤ (یعنی ان پر احسان کرو)، کیونکہ قیامت کے دن ان کے لیے (اللہ کے ہاں) ایک خاص مرتبہ اور شفاعت کا مقام ہوگا۔"
---
تخریج و حوالہ جات:
· حلیۃ الأولیاء لابی نعیم: 4/71 (عن الحسین بن علی رضی اللہ عنہما)
· سنن ابن ماجہ: 3685 (لفظ: "يصف الناس يوم القيامة صفوفاً...")
· مسند ابو یعلیٰ: 3490
---
حکم حدیث اور محدثین کے اقوال:
حافظ ابن حجر عسقلانی "باطل" (اس حدیث کی کوئی حقیقت نہیں)
امام سخاوی "باطل" (متعدد احادیث کے بعد فرمایا: "كل هذا باطل")
امام ابن تیمیہ "موضوع" (من گھڑت)
امام ذہبی "موضوع" (من گھڑت)
امام الصنعانی حدیث کو ضعیف قرار دیا (رمز المصنف لضعفه)
خلاصہ:
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. غریبوں پر احسان کرنے کی ترغیب:
اگرچہ یہ خاص حدیث ضعیف ہے، لیکن قرآن و سنت میں غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ} (البقرۃ: 177)
2. غریبوں کا قیامت میں مرتبہ:
اگرچہ اس حدیث میں مذکور "دولۃ" (خاص مرتبہ اور شفاعت) کا لفظ اس سند کے ساتھ ثابت نہیں، لیکن صحیح احادیث میں غریبوں اور مسکینوں کے لیے جنت میں بلند مقام کا ذکر ہے۔
3. ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا حکم:
محدثین کے قواعد کے مطابق، موضوع (من گھڑت) حدیث کو کسی بھی صورت میں بیان کرنا یا اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اس کے مفہوم (غریبوں کی مدد کی فضیلت) کی تائید دوسری صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔
4. احیاءِ سنت اور بدعت میں فرق:
اگر کوئی شخص غریبوں کی مدد کرتا ہے تو یہ اس کی نیکی ہے، لیکن اسے اس مخصوص حدیث کی بناء پر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں کرنا چاہیے۔
5. علماء کی تحقیق کی اہمیت:
اس حدیث کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابن تیمیہ، ذہبی، ابن حجر، سخاوی جیسے جلیل القدر محدثین نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ اس لیے عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ علماء کی تحقیق کو نظر انداز نہ کریں۔
6. غریبوں کے ساتھ حسن سلوک:
اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن غریبوں کے ساتھ نرمی، ان کی مدد، اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اسلام کا بنیادی اخلاقی اصول ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
ابن مطیع اپنے ساتھیوں کے ساتھ امام محمد بن حنفیہ کے پاس آیا اور کہا کہ یزید شرابی، بےنمازی، حکمِ قرآن کا مخالف ہے۔ تو آپ نے یہ کہا کہ:























No comments:
Post a Comment