Friday, 7 October 2016

سیدنا حسینؓ کی سیرت، فضائل اور چہل حدیث


فضائل ومناقب:

عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَنَالَتْ مِنِّي، فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ المَغْرِبَ، وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ المَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى العِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ، فَسَمِعَ صَوْتِي، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا، حُذَيْفَةُ»؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ»؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ ‌سَيِّدَةُ ‌نِسَاءِ أَهْلِ الجَنَّةِ وَأَنَّ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ سَيِّدَا ‌شَبَابِ ‌أَهْلِ ‌الجَنَّةِ»
ترجمہ:
حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جاسکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: کون ہو؟ حذیفہ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو، کیا بات ہے؟ (پھر) آپ نے فرمایا: یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین ؓ اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں۔

[سنن الترمذي:3781، السنن الكبرى-النسائي:8240، مسند أحمد:23329+23330]









ابونعیم نے بیان کیا کہ میں حضرت ابن عمر ؓ کی خدمت میں موجود تھا ان سے ایک شخص نے (حالت احرام میں) مچھر کے مارنے کے متعلق پوچھا (کہ اس کا کیا کفارہ ہوگا) ابن عمر ؓ نے دریافت فرمایا کہ تم کہاں کے ہو؟ اس نے بتایا کہ عراق کا، فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو، (مچھر کی جان لینے کے تاوان کا مسئلہ پوچھتا ہے) حالانکہ اس کے ملک والوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو (بےتکلف قتل کر ڈالا) میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ یہ دونوں (حسن اور حسین ؓ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے چاہنے والے اللہ کے محبوب: 


حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَی شَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي قُلْتُ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ قَالَ فَکَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ عَلَی وَرِکَيْهِ فَقَالَ هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ۔
ترجمہ:
حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں کسی کام سے نبی اکرم ﷺ کے پاس گیا، آپ ﷺ اپنے اوپر کچھ لپیٹے ہوئے تھے مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا تھا۔ جب میں کام سے فارغ ہوا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے کھولا تو آپ ﷺ کے کولہے پر حسنؓ اور حسینؓ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں میرے اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ! میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے اس سے بھی محبت فرما۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

[سنن الترمذي:3769 (5/656) أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ، بَابُ مَنَاقِبِ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ]

[حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، سعيد - وهو ابن أبي هند- لم يذكروا له سماعاً من عائشة، ولا من أمِّ سَلَمة، وهو لم يسمع من أبي هريرة وأبي موسى، وعائشة وأمُّ سلمة أقدمُ وفاةً منهما.
وقد جاء مصرحاً بأنه سعيد بن أبي هند عند عبد بن حميد، وكذلك عند الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/11، وقد وهم الحافظ ابن حجر في تعيينه في "أطراف المسند" 9/393 حين سماه سعيد بن أبي سعيد المقبري، والله أعلم.
وهو عند أحمد في "الفضائل" (1357) ، بهذا الإسناد.
وأخرجه عبد بن حميد (1533) عن عبد الرزاق، عن عبد الله بن سعيد، عن أبيه، قال: قالت أمُّ سلمة، فذكر نحوه، فجعله عن أمِّ سلمةَ وحدَها دون شك.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (2815) من طريق الفضل بن موسى، عن عبد الله بن سعيد، عن أبيه، عن عائشة وحدَها.
وأورده الهيثمي في "مجمع الزوائد" 9/187، وقال: رواه أحمد، ورجاله رجال الصحيح.
وأخرجه ابن طهمان في "مشيخته" (3) عن عبَّاد بن إسحاق، وابنُ أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (429) ، والطبرانيُّ في "الكبير" (2821) ، والحاكمُ 4/398، والبيهقيُّ في "الدلائل" 6/468 من طريق موسى بن يعقوب الزَّمْعي، كلاهما عن هاشم بن هاشم بن عتبة، عن عبد الله بن وهب- وهو ابن زَمْعَة الأسدي الزَّمْعي عن أمِّ سَلَمة نحوه. قال الحاكم: صحيحٌ على شرط الشيخين ولم يخرجاه! ووافقه الذهبي! قلنا: موسى بن يعقوب الزَّمْعي- وإن كان ضعيفاً- توبع بعبّاد بن إسحاق.
وأخرجه ابن أبي شيبه 15/97-98، وابنُ أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (428) ، والطبراني في "الكبير" (2820) و23/ (754) من طريق موسى الجهني، عن صالح بن أربد، قال: قالت أمُّ سلمة 0 فذكر نحوه. فال البخاري في "التاريخ الكبير" 4/273: صالح بن أربد النخعي روى عنه موسى الجهني: منقطع.
وأخرجه الطبراني أيضاً (2817) من طريق عمرو بن ثابت، عن الأعمش، عن أبي وائل شقيق بن سلمة، عن أمِّ سلمة نحوه.
وعمرو بن ثابت، وهو النكري، ضعيف، كان يتشيع.
وأخرجه الطبراني أيضاً (2819) و23/ (637) من طريق يحيى الحماني، عن سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن أم سلمة نحوه. والحماني ضعيف، والمطلب لم يسمع من أحد من الصحابة.
وأخرجه الطبراني أيضاً (2814) من طريق ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عروة بن الزبير، عن عائشة، مطولاً.
وأخرجه الدارقطني في "العلل" 5/ورقة 84 من طريق شعبة، عن عمارة بن غزيّة الأنصاري، عن أبيه، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي، عن عائشة، فذكر نحوه.
وأخرجه الدارقطني أيضاً 5/84 من طريق سفيان، عن عمارة الأنصاري، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث، عن عائشة، عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نحوه، ولم يقل: عن أبيه. وهو الصحيح فيما قال.
وأخرجه البيهقي في "الدلائل" 6/470 من طريق يحيى بن أيوب، عن عمارة بن غزيّة، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، قال: كان لعائشة ... فذكر نحوه. وقال: هكذا رواه يحيى بن أيوب عن عمارة بن غزيّة مرسلاً، ورواه إبراهيم بن أبي يحيى، عن عمارة، موصولاً، فقال: عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة، عن عائشة.
قلنا: ويحيى بن أيوب- وهو المصري- فيه ضعف.
وفي الباب: عن أنس بن مالك، سلف برقم (13539) ، وإسناده ضعيف، وذكرنا هناك بقية أحاديث الباب.]









عشق حسنینؓ، عشق مصطفیؑ ہی ہے!

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا۔
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرات حسنینؓ کے متعلق فرمایا: جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے در حقیقت وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، اور جو ان دونوں (حسن اور حسین) سے بغض رکھتا ہے درحقیقت وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔ 

[المصنف-عبد الرزاق:6566(6369)، مسند إسحاق بن راهويه:211، مسند أحمد:7876+9673+10872، مسند البزار:9410، السنن الكبرى - النسائي:8112، المعجم الكبير للطبراني:2646+2647، المستدرك على الصحيحين للحاكم:4799، السنن الكبرى - البيهقي:6894]










سیدنا حسینؓ کی نرالی شان:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ العَقَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحُسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ المَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ» ۔
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  حسین بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم   ﷺ  نے فرمایا: اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے۔

[سنن الترمذي:3784، الشريعة للآجري:1648، المستدرك على الصحيحين للحاكم:4794، صحيح ابن حبان:6971،الأحاديث المختارة:410 ، كنز العمال:37651، جامع الأحاديث:38841]










عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: «الحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ»۔
ترجمہ:
حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ حسن ؓ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین ؓ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہ تھے۔

[سنن الترمذي:3779، مسند أحمد:774+854، صحيح ابن حبان: التقاسيم والأنواع:3311، الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان:6974]



شہادتِ حسین اور نبوی پیشگوئی:
(1)عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لِإِحْدَاهُمَا: لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي: إِنَّ ابْنَكَ هَذَا: حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا. قَالَ: فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ.
ترجمہ:
ام المومنین حضرت عائشہؓ یا ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی  ‌ﷺ ‌نے ان دونوں میں سے کسی ایک سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے جو اس سے پہلے میرے پاس نہیں آیا اور مجھ سے کہا: تمہارا بیٹا حسین قتل کیا جائے گا، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جس میں اسے قتل کیا جائے گا۔ پھر اس نے سرخ مٹی نکال کر دکھائی۔
[مسند أحمد:26524، الصحيحة:822]

نکات:
(1)حضرت حسینؓ کی فضیلت(شہید کے درجہ پر فائز ہونا)۔
[فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل:1357، مجمع الزوائد:15113]
(2)فتنوں کا بیان:- حضرت حسین کی قتل کی جگہ
[المطالب العالية محققا:18/ 250]
(3)نبی کے نبوت کے سچائی کے دلائل:-معجزات اور پیشگوئیاں۔
[دلائل النبوة - السقار: صفحہ21]
(4)نواسہ مصطفیٰ ﷺ کو یہ امت قتل کرے گی۔
[صحيح ابن حبان:4855]
(5)اللہ کے فیصلون پر راضی رہنا۔
(6)اللہ کے کہنے پر پیغمبر ابراہیم کا اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کرنے کا نمونہ
(7)ہر سال ماتم ونوحہ کے بجائے صبر کرنا سنت ہے۔










صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  سے مراسم اور تعلق
مؤرخ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
’’حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان  رضی اللہ عنہم  آپ کی تکریم و تعظیم کیا کرتے تھے، (باوجودیکہ اس وقت تک حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  صغیر السن تھے، مگر یہ جانثارانِ رسول قرابتِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا کیوں کر لحاظ نہ کرتے؟) پھر آپ اپنے والد گرامی قدر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ  کے ساتھ رہے، ان کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی، مشاجرہ ٔ جمل اور صفین میں بھی شرکت کی، والد ماجد کی بہت توقیر کرتے تھے، ان کی شہادت تک اطاعت گزاری کی، پھر مصالحتِ سیدنا حسن با سیدنا معاویہ  رضی اللہ عنہما  کو بھی تسلیم کیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  ان دونوں صاحبزادوں کا خصوصی اکرام کرتے، انہیں خوش آمدید اور مرحبا کہتے، عطایا دیتے، دو لاکھ درہم تک ان کی خدمت میں پیش کرتے۔ حضرت حسن  رضی اللہ عنہ  وفات پاگئے تو حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  ہر سال وفد کے ساـتھ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے پاس آتے تو حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  ان کی خوب خدمت اور عزت کرتے، خلافتِ معاویہؓ میں ہونے والے غزوہ ٔ قسطنطنیہ میں بھی آپ شریک تھے۔‘‘
[البدایۃ والنہایۃ: ۸/۱۶۲]



صحابہ کرام کی اہل بیت سے محبت:
حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ: أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: «وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي» 
ترجمہ:
اے لوگو میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔ پہلی تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے ۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو ۔ غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی ۔ پھر فرمایا کہ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں ، تین بار فرمایا۔
[صحیح مسلم:2408]
«إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»
ترجمہ:
"بے شک میں تم میں دو بھاری چیزیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت (یعنی) میرے اہل بیت۔ اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ حوض (کوثر) پر مجھ سے جا ملیں۔"

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي.
ترجمہ:
”اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر“۔
[ترمذی 3789]


حضرت ابو سعید خدری‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُبْغِضُنَا أَهْلَ الْبَيْتِ رَجُلٌ إِلَّا أَدْخَلَهُ الله النار
ترجمہ:
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کوئی اہل بیت سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل کرے گا ۔

دوسری روایت میں ہے:
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا صَفَنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَصَلَّى، وَصَامَ ثُمَّ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ مُبْغِضٌ لِأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ دَخَلَ النَّارَ
ترجمہ:
پس اگر کوئی شخص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو لیکن مرتے وقت دل میں اہل بیت سے بغض ہو، تو جہنم میں جائے گا۔



حضرت معاویہؓ کی اہل بیت سے محبت:
حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:
رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمُصُّ لِسَانَهُ - أَوْ قَالَ: شَفَتَهُ، يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ - وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌- صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سیدنا حسن بن علی ‌- صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ - کی زبان کو یا ہونٹ کو چوس رہے تھے اور جس زبان یا ہونٹوں کو رسول اللہ ‌- صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نے چوما ہو، اسے عذاب نہیں ہوگا۔
[مسند احمد:16848، 16859، 16869، 16888، 16926]
[السنن الكبرى-للنسائي:5298-5299، شرح معاني الآثار-الطحاوي:3/159، الطبراني:844-846، مسند الشاميين للطبراني: ج: 28/ 62، ط: مؤسسة الرسالة]



معاویہؓ کے علیؓ کے متعلق تاثرات
فقال(معاوية) :
لا والله إني لأعلم أنه أفضل مني وأحق بالأمر مني
ترجمہ:
(معاویہؓ نے کہا کہ): اللہ کی قسم! علیؓ مجھ سے افضل ہیں۔
[سير أعلام النبلاء 140/3 وقال المحقق شعيب الأرنؤوط ورفقاؤه: رجاله ثقات]



حسنين كريمين اور امير معاويہ رضى الله عنہم کے تحائف:
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد محمد بن علي بن حسين بن على بن ابى طالب رضى الله عنهم سے بيان كرتے ہیں کہ حسن اور حسين رضى الله عنہما معاويہ رضى الله عنہ کے تحائف قبول كرتے تهے۔
أَنَّ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ: «كَانَا يَقْبَلَانِ جَوَائِزَ مُعَاوِيَةَ»
حسن اور حسین معاویہ کے انعامات کو قبول کرتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا یہ فرمان صحیح بخاری میں موجود ہے:
’’ارْقُبُوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ أَہْلِ بَیْتِہٖ۔‘‘
ترجمہ:
’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اہلِ بیت میں آپ کی قرابت کا لحاظ رکھو۔‘‘
[صحیح البخاری: رقم۳۷۵۱]
علامہ ڈاکٹر خالد محمود  رحمہ اللہ  تحریر فرماتے ہیں:
’’حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی خلافت تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ  اور امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے تعلقات اچھے تھے۔ حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی پوری کوشش تھی کہ وہ روابط جو انہوں نے حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ نہایت بہترین انداز میں قائم کررکھے ہیں ٹوٹنے نہ پائیں۔ شیخ ابن بابویہ قمی حضرت زین العابدین  رحمہ اللہ  سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  نے آخری وقت میں یزید کو جو نصیحتیں کیں، ان میںسے ایک یہ تھی:
’’حقِ حرمتِ اورا بشناس و منزلت و قرابتِ او را باپیغمبر بیاد آورد، باکردہ ہائے او مواخذہ مکن و روابطی کہ من با او دریں مدت محکم کردہ ام قطع مکن۔‘‘
ترجمہ:
’’حضرت حسین  رضی اللہ عنہ  کے حقِ احترام کو پہچاننا اور انہیں جو قرب اور درجہ حضور ِ اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاں حاصل ہے اُسے یاد رکھنا، ان کے کسی عمل پر ان سے مواخذہ نہ کرنا اور وہ تعلقات جو میں نے اب تک ان سے نہایت مضبوط کر رکھے ہیں انہیں ہرگز قطع نہ کرنا۔‘‘
(جلاء العیون، ص:۳۸۸، ایران)
[عبقات: ۱/۱۸۵]

ازواج و اولاد
آپ کی ازواجِ طاہرات ؒ میں لیلیٰ ، حباب، حرار اور غزالہ شامل ہیں۔ اولاد درج ذیل ہے: صاحبزادیوں میں سکینہ، فاطمہ اور زینب۔(سیرالصحابہؓ) بیٹوں میں: علی اکبر، علی اصغر، زید، ابراہیم، محمد، حمزہ، ابوبکر، جعفر، عمر، یزید۔
[تاریخ الائمہ، للرافضۃ، ص:۸۳]



(2)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ  أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: " امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ، لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ "، قَالَ: وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ، فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهَرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مَنْكِبِهِ، وَعَلَى عَاتِقِهِ، قَالَ: فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُحِبُّهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ: قَالَ ثَابِتٌ: " بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ "۔
ترجمہ:
حضرت انسؓ بن مالک سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارش کے ذمے دار فرشتے نے اللہ تعالیٰ سے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی، اللہ تعالیٰ نے اسے اجازت دے دی، نبی ﷺ نے اس موقع پر حضرت ام سلمہؓ سے فرمایا کہ دروازے کا خیال رکھو کہ ہمارے پاس کوئی اندر نہ آنے پائے، تھوڑی دیر میں حضرت حسینؓ آئے اور گھر میں داخل ہونا چاہا، حضرت ام سلمہؓ نے انہیں روکا تو وہ کود کر اندر داخل ہوگئے اور جا کر نبی ﷺ کی پشت پر، مونڈھوں اور کندھوں پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس سے محبت ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں! تو فرشتے نے کہا کہ یاد رکھئے! آپ کی امت اسے قتل کر دے گی، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ جگہ بھی دکھا سکتا ہوں جہاں یہ شہید ہوں گے، یہ کہہ کر فرشتے نے اپنا ہاتھ مارا تو اس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی آگئی، حضرت ام سلمہؓ نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں باندھ لی۔
[مسند أحمد:13539+13794، مسند أبي يعلى:3402، صحيح ابن حبان:4855، المعجم الكبير للطبراني:2813، دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني:492 الصحيحة: 822، صحيح الكتب التسعة وزوائده:6667]




(3)عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ صَاحِبَ مِطْهَرَتِهِ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ، فَنَادَى عَلِيٌّ: اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللهِ، ‌بِشَطِّ ‌الْفُرَاتِ قُلْتُ: وَمَاذَا قَالَ؟، دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَيْنَاهُ تَفِيضَانِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ، مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ؟ قَالَ: " بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ قَبْلُ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ ‌بِشَطِّ ‌الْفُرَاتِ " قَالَ: فَقَالَ: " هَلْ لَكَ إِلَى أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. فَمَدَّ يَدَهُ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَأَعْطَانِيهَا، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا»۔
ترجمہ:
عبداللہ بن نجی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ علی‌ؓ  کے ساتھ جا رہے تھے،وہ ان کے وضو کا برتن (لوٹا) اٹھایا کرتے تھے۔ جب وہ (نینویٰ) کے قریب پہنچے جبکہ علی‌ؓ  صفین کی طرف جا رہے تھے۔ تو علی‌ؓ نے آواز دی:ابو عبداللہ! رکو، ابو عبداللہ! فرات کے کنارے رکو، میں نے کہا: کیا ہوا؟ علی‌ؓ  نے کہا: ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس گیا،آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ کو کسی نے غصہ دلایا ہے؟ آپ کی آنکھوں آنسو کیوں جاری ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ جبریل ابھی ابھی میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ حسین فرات کے کنارے قتل کیا جائے گا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم پسند کرو گے کہ میں اس کی مٹی کی خوشبو سنگھاؤں؟ علی‌ؓ  کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے ہاتھ آگے بڑھایا، آپ نے مٹی کی ایک مٹھی مجھے دی، مجھے بھی اپنی آنکھوں پر قابو نہ رہا اور آنسو نکل آئے۔
[مسند أحمد:648،  الصحيحة:1171]

نکات:
(1)حضرت حسینؓ کی فضیلت(شہید کے درجہ پر قائز ہونا)۔
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:4818، مشكاة المصابيح:6180]
(2)فتنوں کا بیان:- حضرت حسین کا مقتل
[البداية والنهاية ت التركي:9/ 238، إمتاع الأسماع:12/ 237، المقفى الكبير:3/322]
(3)اپنی بیٹی (حضرت فاطمہؓ) کے بیٹے ابی عبداللہ الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں ان کے بیان کرنے کے بارے میں کیا بیان کیا گیا ہے۔ اور جو نشانیاں اس وقت ظاہر ہوئیں جو آپؓ کے دادا (محمد ﷺ) کی نبوت کی درستی پر دلالت کرتی ہیں۔
[دلائل النبوة للبيهقي: 6/ 469]



شرح المناوي:
(جبريل نے مجھے خبر دی کہ حسین) یعنی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے (کو شاطئ الفرات پر قتل کیا جائے گا) ۔ "شاطئ" (ضمہ فاء کے ساتھ) کے معنی ہیں نہر کے کنارے۔ یہ کوفہ کی مشہور عظیم نہر ہے جو روم کی حدود کے آخر سے نکلتی ہے، پھر شام کے کناروں سے گزرتی ہے، پھر "الطف" کی سرزمین سے گزرتی ہے جو کربلا کے علاقوں میں سے ہے۔ اس لیے اس روایت اور طبرانی کی روایت "بأرض الطف" اور "بکربلاء" میں کوئی تضاد نہیں ہے۔

اور یہ نبوت کی نشانیوں اور معجزات میں سے ہے، کیونکہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو عراق کے لوگوں کے خطوط مدینہ آئے کہ انہوں نے (حسین رضی اللہ عنہ) کی بیعت کر لی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو ان کے پاس بھیجا، تو انہوں نے بیعت کی۔ پھر آپ نے (حسین) خود وہاں جانے کا ارادہ کیا، لیکن لوگوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور آپ کو جمعہ کے دن، 10 محرم، سنہ 61 ہجری کو قتل کر دیا گیا۔

اس قتل کے وقت سورج گرہن لگا جس نے آدھے دن ستارے ظاہر کر دیے، جیسا کہ بیہقی نے روایت کیا ہے۔ جنوں نے ان کی موت پر نوحہ کیا، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس دن نبی ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آپ کے ہاتھ میں خون کی شیشی تھی۔ جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج سے اسے جمع کر رہا ہوں۔"

آپ کے مبارک سر کو شہروں میں پھرایا گیا یہاں تک کہ عسقلان پہنچا، جہاں اس کے امیر نے اسے دفن کر دیا۔ پھر جب فرنگیوں نے عسقلان پر قبضہ کر لیا تو صالح طلائع (فاطمی وزیر) نے بھاری مال دے کر اسے واپس لیا اور قاہرہ میں اس پر ایک مشہد (مزار) تعمیر کیا، جیسا کہ قاضی الفاضل نے اپنی قصیدے میں اشارہ کیا ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے نقل کر کے قبول کیا ہے۔

البتہ بعض نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ حافظ ابو العلاء ہمدانی نے ذکر کیا ہے کہ یزید بن معاویہ نے اسے مدینہ بھیجا، تو وہاں کے عامل عمرو بن سعید بن العاص نے اسے کفن دیا اور بقيع میں اس کی والدہ کے پاس دفن کر دیا۔ اور یہی سب سے صحیح قول ہے۔

زبیر بن بکار نے کہا: سر کو مدینہ لے جایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا۔ قرطبی نے کہا: زبیر اہلِ نسب میں سب سے زیادہ جاننے والے اور اس سلسلے میں بہترین عالم ہیں۔

امامیہ (شیعہ) کہتے ہیں کہ سر کو حبشہ واپس لے جایا گیا اور قتل کے چالیس دن بعد کربلا میں دفن کیا گیا۔ قرطبی نے کہا: جو کچھ عسقلان یا قاہرہ میں اس کے ہونے کے بارے میں کہا گیا ہے وہ باطل ہے، صحیح نہیں ہے اور ثابت نہیں ہے۔

ابن خالویہ نے اعمش سے، انہوں نے منہال بن عمرو اسدی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: "اللہ کی قسم! میں نے حسین کا سر دیکھا جب وہ دمشق میں لایا گیا، اور اس کے سامنے ایک شخص سورۃ الکہف پڑھ رہا تھا۔ جب وہ آیت {أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا} پر پہنچا تو اللہ نے اس سر کو تیز زبان سے گویا کیا: 'اصحاب الکہف سے زیادہ عجیب میرے قتل اور میرے سر کو لے جانا ہے۔'"

ابن عساکر نے کہا: اس کی سند مجہول ہے۔

اس کے قتل کی تفصیل دلوں کو پاش پاش کر دینے والی اور جسموں کو پگھلا دینے والی ہے۔ اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اسے قتل کیا، یا اس پر راضی ہوا، یا اس کا حکم دیا، اور وہ دور ہو جیسے عاد دور ہوئی۔

ابو الفرج بن جوزی نے اپنی کتاب "الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم يزيد" میں کہا ہے کہ متورع علماء نے یزید پر لعنت کرنا جائز قرار دیا ہے۔

حافظ الدین الکردی الحنفی کے فتوے میں ہے: "یزید پر لعنت کرنا جائز ہے، لیکن مناسب یہ ہے کہ ایسا نہ کیا جائے، اور اسی طرح حجاج کے بارے میں ہے۔"

ابن الکمال نے کہا: امام قوام الدین الصفاری سے منقول ہے کہ یزید پر لعنت کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن معاویہ پر لعنت کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ فاروق (عمر رضی اللہ عنہ) کے عامل تھے، البتہ انہوں نے اپنے اجتہاد میں خطا کی، اللہ ان سے درگزر فرمائے، اور ہم ان کے بارے میں خاموش رہیں کیونکہ ان کے پیشوا اور ساتھی (نبی ﷺ اور صحابہ) کی تعظیم ہے۔

ابن جوزی سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا: "کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یزید نے حسین کو قتل کیا جبکہ وہ دمشق میں تھا اور حسین عراق میں؟" تو انہوں نے شعراً جواب دیا:

"تیر نے نشانہ لگایا اور تیر انداز ذی سلم میں تھا... جس نے عراق میں نشانہ لگایا اس نے بہت دور تک تیر مارا۔"

ابن العربی پر اہل بیت سے محبت کا غلبہ اس قدر تھا کہ انہوں نے کہا: "اسے اس کے دادا (نبی ﷺ) کی تلوار نے قتل کیا۔"

حاکم نے مستدرک میں ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو وحی بھیجی: "میں نے یحییٰ بن زکریا کے بدلے ستر ہزار قتل کیے، اور میں اپنی بیٹی کے بیٹے حسین کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار قتل کروں گا۔" حاکم نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔ ذہبی نے کہا: یہ مسلم کی شرط پر ہے۔ ابن حجر نے کہا: یہ ایک کمزور سند کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً وارد ہوا ہے: "حسین کا قاتل آگ کے تابوت میں ہوگا، اس پر دنیا کے آدھے لوگوں کا عذاب ہوگا۔"

(ابن سعد) نے اپنی طبقات میں مدائنی سے، انہوں نے یحییٰ بن زکریا سے، انہوں نے ایک شخص سے، انہوں نے شعبی سے، اور انہوں نے حضرت علی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: "میں ایک دن نبی ﷺ کے پاس گیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے" – پھر انہوں نے یہ حدیث ذکر کی۔

اسی طرح امام احمد نے مسند میں اس کا ہم معنی روایت کیا ہے، اس لیے اسے ان کی طرف منسوب کرنا زیادہ مناسب تھا، لیکن شاید مصنف کو یاد نہیں رہا۔

یحییٰ بن زکریا کو ذہبی نے "الضعفاء" میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ دارقطنی وغیرہ نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔

لیکن مصنف (منذری) رحمہ اللہ نے اسے حسن ہونے کا اشارہ کیا ہے، شاید اس لیے کہ اس کے شواہد ہیں۔ چنانچہ طبرانی کے معجم میں حضرت عائشہ سے مرفوعاً روایت ہے: "جبريل نے مجھے خبر دی کہ میرے بیٹے حسین کو میرے بعد زمینِ طف پر قتل کیا جائے گا، اور وہ مجھے یہ مٹی لے کر آیا اور مجھے بتایا کہ اسی میں ان کی قبر ہے۔"

اور اسی طرح ام سلمہ، زینب بنت جحش، ابو امامہ، معاذ، ابو الطفیل اور دیگر سے بھی اس کے ہم معنی روایات ہیں جن کا ذکر طویل ہے۔

اس لیے مصنف نے اسے حسن قرار دیا، لیکن انہوں نے صحیح نہیں کیا کہ صرف ابن سعد پر اکتفا کیا، جبکہ اس کے راوی اور طرق بہت زیادہ ہیں۔

[فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: حدیث نمبر 281]
---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. حضرت حسینؓ کی شہادت کی پیشین گوئی:
      یہ حدیث نبوت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی حیات میں ہی حضرت حسین کی شہادت اور ان کے مدفن کے بارے میں خبر دے دی تھی۔
2. حضرت حسین کا مقام و مرتبہ:
      آپ رسول اللہ ﷺ کے نواسے، حضرت علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے بیٹے اور اہل بیت کے عظیم فرد تھے۔ آپ کی شہادت اسلام کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک واقعہ ہے۔
3. قتل کے وقت کا تعین:
      آپ کی شہادت 10 محرم، 61 ہجری کو جمعہ کے دن ہوئی، اور اس وقت سورج گرہن لگا، جو اس واقعے کی عظمت اور اہمیت کی علامت ہے۔
4. آپ کے سر مبارک کے بارے میں اختلاف:
      آپ کے سر مبارک کے بارے میں مختلف روایات ہیں: بعض کہتے ہیں عسقلان میں دفن ہوا، بعض کہتے ہیں قاہرہ میں، بعض کہتے ہیں مدینہ میں بقيع میں، اور بعض کہتے ہیں کربلا میں واپس لایا گیا۔ قرطبی کے نزدیک عسقلان اور قاہرہ والی روایات باطل ہیں، اور زبیر بن بکار کے نزدیک مدینہ میں دفن ہوا۔
5. یزید بن معاویہ کے بارے میں علماء کے اقوال:
   · ابن جوزی اور حافظ الدین الکردی کے نزدیک یزید پر لعنت کرنا جائز ہے۔
   · ابن الکمال نے کہا: یزید پر لعنت جائز ہے، لیکن معاویہ پر لعنت جائز نہیں۔
   · تفتازانی نے کہا: میں یزید کے اسلام میں شک نہیں رکھتا، بلکہ اس کے ایمان میں شک ہے۔
   · ابن العربی نے کہا: حسین کو اس کے دادا کی تلوار نے قتل کیا۔
6. حضرت حسین کے قاتل کے لیے سخت وعید:
      احادیث میں آتا ہے کہ حسین کے قاتل کو آگ کے تابوت میں ڈالا جائے گا اور اس پر دنیا کے آدھے لوگوں کا عذاب ہوگا۔
7. اللہ کا انتقام:
      حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کے بدلے ستر ہزار قتل کیے، اور حسین کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار قتل کرے گا۔
8. اہل بیت سے محبت اور ان کا دفاع:
      یہ واقعہ اہل بیت سے محبت اور ان کے دفاع کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، اور ان کے دشمنوں کی مذمت کرتا ہے۔
9. حدیث کی سند میں کلام:
      اس حدیث کی بعض سندوں میں یحییٰ بن زکریا جیسے ضعیف راوی ہیں، لیکن اس کے دوسرے طرق (شواہد) کی وجہ سے یہ قابلِ قبول ہے۔
10. علماء کا اختلاف اور اجتہاد:
        اس مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، لیکن جمہور کا موقف یہ ہے کہ یزید پر لعنت کرنا جائز ہے، جبکہ معاویہ کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





(4)عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ، قَالَ: «مَا هُوَ؟» قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَوُضِعَتْ فِي حِجْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتِ خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا، فَيَكُونُ فِي حِجْرِكِ» فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ يَوْمًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ حَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ، فَإِذَا عَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُهْرِيقَانِ مِنَ الدُّمُوعِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا لَكَ؟ قَالَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ‌أُمَّتِي ‌سَتَقْتُلُ ‌ابْنِي هَذَا» فَقُلْتُ: هَذَا؟ فَقَالَ: «نَعَمْ، وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَاءَ»۔
ترجمہ:
ام الفضل بنت حارثؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا، اللہ کے رسول! میں نے رات ایک عجیب سا خواب دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ بہت شدید ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے دیکھا کہ گویا گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو آپ کے جسم اطہر سے کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے خیر دیکھی ہے، ان شاء اللہ فاطمہ بچے کو جنم دیں گی اور وہ تمہاری گود میں ہو گا۔ “ فاطمہؓ نے حسینؓ کو جنم دیا اور وہ میری گود میں تھا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔ (تو انہوں نے ان کو دودھ پلایا، جو قثم بن عباس کا دودھ تھا) ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے حسینؓ کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ پھر میں کسی اور طرف متوجہ ہو گئی، اچانک دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے، وہ بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! میرے والدین آپ پر قربان ہوں! آپ کو کیا ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل ؑ میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت عنقریب میرے اس بیٹے کو شہید کر دے گی۔ میں نے کہا: اس (بچے) کو؟ انہوں نے کہا: ہاں! اور انہوں نے مجھے اس (جگہ) کی سرخ مٹی لا کر دی۔ “
[المستدرك على الصحيحين للحاكم:4818، دلائل النبوة للبيهقي:6/ 469، الصحيحة:‌‌821]
(مسند أحمد:26878، سنن ابن ماجه:3923، المعجم الكبير للطبراني:2541)




(5)أَخبَرنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ بِمَالٍ لَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَدْ تَوَجَّهَ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَحِقَهُ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمَيْنِ، أَوْ ثَلَاثَةٍ، فَقَالَ: إِلَى أَيْنَ؟ فَقَالَ: هَذِهِ كُتُبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَبَيْعَتُهُمْ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَأَبَى، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلى الله عَلَيه وسَلم فَخَيَّرَهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، ‌فَاخْتَارَ ‌الآخِرَةَ، ‌وَلَمْ ‌يُرِدِ ‌الدُّنْيَا، وَإِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيه وسَلم، كَذَلِكَ يُرِيدُهُ بِكُمْ، فَأَبَى، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَقَالَ: أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ، وَالسَّلَامُ۔
ترجمہ:
ہم سے ثقیف کے مولا محمد بن اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن محمد بن الصباح نے بیان کیا، ہم سے شبابہ بن سوار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن اسماعیل بن سالم نے شعبی کی سند سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت ابن عمرؓ کو ان کے مال کے ساتھ خبر ملی کہ حضرت حسین بن علی عراق گئے ہیں، تو وہ دو تین دن کے سفر میں ان کے پیچھے گئے، تو آپ(حضرت ابن عمرؓ) نے کہا: کہاں جارہے ہیں؟ آپ(حضرت حسینؓ) نے کہا: یہ اہل عراق کے خطوط ہیں اور(کس میں) ان کی بیعت ہیں، آپ(حضرت ابن عمرؓ) نے فرمایا: ایسا نہ کریں، لیکن آپ(حضرت حسینؓ) نے انکار کر دیا، حضرت ابن عمرؓ نے ان سے کہا: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو دنیا اور آخرت کے درمیان انتخاب کا اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے تو آخرت کی زندگی کا انتخاب کیا اور دنیا کو نہیں چاہا۔ اور آپ نبی اکرم ﷺ کے جگر کا ٹکڑا ہیں، نبی ﷺ بھی آپ سے یہی چیز چاہیں گے(کہ آپ بھی دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوں)، لیکن آپؓ نے (واپس آنے سے) انکار کردیا، تو حضرت ابن عمرؓ نے آپ کو گلے سے لگایا اور (روتے ہوئے) کہا: میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں(اللہ آپ کو قتل ہونے سے سلامت رکھے)۔ والسلام
[صحيح ابن حبان: التقاسيم والأنواع:3305، الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان:6968]
(معجم ابن الأعرابي:2409، الشريعة للآجري1668، صحيح موارد الظمآن:1886)




حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ " قَالَ عَمَّارٌ: " فَحَفِظْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ "۔
ترجمہ:
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ ﷺ کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ یہ کیا ہے؟ فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں۔ راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ: ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کرلی بعد میں پتہ چلا کہ حضرت امام حسینؓ اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن حضرت ابن عباسؓ نے خواب دیکھا تھا )
[احمد (2165)،  إسناده قوي على شرط مسلم.
وأخرجه الطبراني (2822) و (12837) ، والحاكم 4/397-398 من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. وصححه الحاكم على شرط مسلم ووافقه الذهبي، وسيأتي برقم (2553) .]



اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نبی ﷺ کو معلوم تھا کہ میرا نواسہ شہید کردیا جائے گا تو اللہ سے دعا کیوں نہیں کی کہ اے اللہ! میرے نواسے کو بچالے، حضرت علی و حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی بیٹے کی شہادت کی خبر پہلے سے ہی معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں رد نہیں ہونگی پھر ان لوگوں نے نبی سے دعا کرنے کے لئے کیوں نہیں کہا جس کا جواب یہی ہے کہ دین کو بچانے کے لئے صبر و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے اور دین کو پھیلانے کے لئے کرامت کی ضرورت ہوتی ہے اور نانا کے دین کو بچانے کے لئے نواسے نے اپنا گھرانہ قربان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ آگے چل کر میرے دین کو جھٹلانے کی کوشش کی جائے گی ، قرآن مجید کی بے حرمتی کی جائے گی دین اسلام کے اصول ضابطوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی اس وقت میرے نواسے سے کہا جائے گا کہ تم بھی بیعت کرو اور اگر میرا نواسہ بیعت کرلے گا تو دین اسلام کی شبیہ بگڑ جائے گی پھر آنے والی نسلیں کہیں گی جب نبی کی شریعت کو بدلا جارہا تھا تو خود نبی کے نواسے نے مخالفت نہیں کی،، گویا ظالموں کے لئے وہ سند بن جائے گی اور پھر دین اسلام کی تصویر بگڑتی چلی جائے گی اس لیے نبی نے آنکھوں سے آنسو بہایا لیکن دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھایا اور آج ہم ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں کہ ظلم و بر بریت، جاہلیت و دہشتگردی کے خلاف سب سے پہلے اور سب سے بڑی جنگ نانا محمد الرسول اللہ اور نواسہ امام حسین نے لڑی ہے
[مشکوٰۃ/ خصائص کبریٰ/ صواعق محرقہ]

************************


چند صحیح ومستند احادیث بروایتِ سیدنا حسینؓ:

(1) اللہ کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ باتیں:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ اللهَ يُحِبُّ مَعَالِيَ الأُمُورِ وأَشْرَافَهَا ، وَيَكْرَهُ سَفَسَافِهَا  .
ترجمہ:
یقیناً اللہ تعالیٰ بلند اور زیادہ شرف والے معاملات کو پسند کرتا ہے اور گھٹیا-بری باتوں کو ناپسند کرتا ہے۔
[الصحيحة:1627(286)، المعجم الكبير للطبراني:2894، مسند الشهاب القضاعي:1001]

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث صحیح ہے، قابل عمل اور معتبر ہے۔

· امام صنعانی نے اس پر سکوت فرمایا اور رجال (راویوں) کو موثق قرار دیا۔
· علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے:
  · "صحيح الجامع" (1890)
  · "السلسلة الصحيحة" (1378)

نوٹ: ابن عدی نے اگرچہ راوی خالد بن الیاس میں کلام کیا ہے، لیکن انہوں نے خود فرمایا: "مع ضعفه يكتب حديثه" (کمزوری کے باوجود اس کی حدیث لکھی جائے گی)، اور دوسرے شواہد کی بنا پر البانی نے اسے صحیح قرار دیا۔

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

"معالی الامور" سے مراد شریف اخلاق اور بلند صفات ہیں، جبکہ "سفسافها" سے مراد حقیر اور پست چیزیں ہیں۔

پھر وہ ایک عظیم فلسفیانہ نکتہ بیان کرتے ہیں:

· انسان اپنی فکر کی قوت اور حسن ادراک کی وجہ سے فرشتوں سے مشابہت رکھتا ہے۔
· انسان اپنی شہوت اور دناءت (پستی) کی وجہ سے حیوانات سے مشابہت رکھتا ہے۔

لہٰذا:

· جس شخص کی ہمت اعلیٰ اخلاق کے حصول پر مرکوز ہو، اللہ اس سے محبت فرماتا ہے اور وہ فرشتوں سے مشابہ ہو جاتا ہے۔
· جس شخص کی ہمت پستی اور برے اخلاق کی طرف مائل ہو، وہ حیوانی دنیا سے جا ملتا ہے۔

حیوانات سے مشابہت کی صورتیں:

· کتا (حرص و لالچ)
· خنزیر (شہوت پرستی)
· اونٹ (کینہ اور بغض)
· چیتا/شیر (تکبر)
· لومڑی (مکر و فریب)
· شیطان (ان تمام برائیوں کا مجموعہ)

---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. اللہ کی محبت کا معیار اخلاق ہے:
   اللہ تعالیٰ صرف ظاہری عبادات ہی نہیں، بلکہ بلند اخلاق اور شریف صفات کو پسند فرماتا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق" (صحیح بخاری) — میں تو اخلاق کو مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
2. اخلاق کی بلندی انسان کو فرشتوں کے قریب کرتی ہے:
   انسان کی عقل اور فکر اسے ملائکہ کی صفات عطا کرتی ہے، اس لیے ہمیں اپنی سوچ اور ادراک کو بلند رکھنا چاہیے۔
3. اخلاق کی پستی انسان کو حیوانات سے بھی نیچا کر دیتی ہے:
   جب انسان اپنی شہوات اور پست خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ" (الأعراف: 179)۔
4. ہر بری صفت کسی نہ کسی حیوان کی علامت ہے:
   اسلام نے حسد، تکبر، مکر، حرص اور شہوت پرستی کو سختی سے منع کیا ہے کیونکہ یہ صفات انسان کو حیوانی درجے تک گرا دیتی ہیں۔
5. ہمت کی بلندی ضروری ہے:
   انسان کی ہمت (عزیمت) اس کی شخصیت کا تعین کرتی ہے۔ اگر ہمت بلند ہو تو انسان اعلیٰ اخلاق کا حامل بنتا ہے اور اگر پست ہو تو برائیوں میں ڈوب جاتا ہے۔
6. اس حدیث کی سند معتبر ہے:
   علامہ البانی کی تصحیح اور امام صنعانی کے سکوت کی وجہ سے یہ حدیث قابل اعتماد ہے، لہٰذا اس پر عمل کرنا اور اسے اپنانا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

---

خلاصہ: یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ اخلاق اور شریف صفات کو پسند فرماتا ہے اور پستی اور برائیوں کو ناپسند کرتا ہے۔ ہمیں اپنی ہمت کو بلند رکھنا چاہیے، اخلاق کو سنوارنا چاہیے، اور جانوروں والی صفات (حسد، تکبر، مکر، حرص) سے بچنا چاہیے تاکہ اللہ کی محبت اور فرشتوں کی مشابہت حاصل ہو سکے۔




📜 شرح المناوی:
"بے شک اللہ تعالیٰ اعلیٰ اور شریف امور کو پسند فرماتا ہے" — اور یہ (اعلیٰ امور) شرعی اخلاق اور دینی خصلتیں ہیں، نہ کہ دنیاوی امور، کیونکہ ان میں بلندی دراصل (روحانی) گراوٹ ہے۔ "اور وہ ان کی پستی اور حقارت کو ناپسند فرماتا ہے" ۔ (ایک روایت میں) بیہقی کے الفاظ ہیں: "اور وہ ان سے نفرت فرماتا ہے" ۔

پس جو شخص اللہ کے بندوں میں سے پاکیزہ اخلاق کا حامل ہو، اللہ اس سے محبت فرماتا ہے، اور جو بری صفات سے متصف ہو، اللہ اس سے نفرت کرتا ہے۔

اور (اعلیٰ اخلاق کا ایک پہلو) عزتِ نفس ہے، یعنی اپنے آپ کو برائیوں، پستیوں اور ایسی حرصوں سے بچانا جو مردوں کی گردنیں کاٹ دیتی ہیں (یعنی ان کی عزت و ہمت تباہ کر دیتی ہیں)۔ پس وہ اپنے نفس کو اس سے بلند رکھتا ہے کہ اسے ان (برائیوں) میں ڈالے۔ اور اس (عزت نفس) سے تکبر مراد نہیں، کیونکہ تکبر دو بری چیزوں سے پیدا ہوتا ہے: اپنی تعریف (عجب) اور دوسروں کو حقیر جاننا۔ جبکہ عزت نفس دو عمدہ صفات سے پیدا ہوتی ہے: اپنی عزت کرنا اور اپنے مالک (اللہ) کی تعظیم کرنا، پس اس سے عزت نفس اور پاکدامنی پیدا ہوتی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے لیے اہل پیدا کیے ہیں، کیونکہ بنی آدم اس مٹی کے تابع ہیں جس سے وہ پیدا کیے گئے ہیں۔ پس اچھی مٹی کے نفوس بلند، کریم، سخاوت، کشادگی، نرمی اور رحمت پر طبعی طور پر مائل ہوتے ہیں، ان میں سختی اور خشکی نہیں ہوتی۔ اور خراب مٹی کے نفوس بدبختی، سختی، کنجوسی، بغض اور اس جیسی چیزوں پر پیدا کیے گئے ہیں۔

📌 تنبیہ (۱):
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ بندہ انسانیت کی صفات میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ حیوان، نباتات اور جمادات کی صفات سے بلند ہو کر اعلیٰ اور شریف امور کی طرف بڑھتا ہے، جو کہ فرشتوں کی صفات ہیں۔ اس وقت اس کی ہمت رضوانی عالم (جنت کی بلندیوں) کی طرف بڑھتی ہے اور وہ روحانی عالم (ملأ روحانی) کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔

📌 تنبیہ (۲):
بعض حکماء (دانشمندوں) نے کہا: بلند ہمتوں اور پاکیزہ ذہنوں کے ذریعے دل روحانی عقل کی ہوا (نسیم) کی طرف صاف ہو جاتے ہیں اور وہ نور کی بادشاہت (ملکوت) میں ترقی کرتے ہیں اور اس قوت (اللہ کی قدرت) میں جو آنکھوں سے مخفی ہے لیکن نظروں کو محیط ہے، ترقی کرتے ہیں، اور الغ باگ (دلوں کے باغات) میں چرتے ہیں جو گندگیوں سے پاک ہیں۔ اور افکار کے ذریعے ان اخلاق کی گندگی دور ہو جاتی ہے جو جسمانی ہیکلوں کے اطراف کو گھیرے ہوئے ہیں۔ پس جب (نفس) صاف ہو جاتا ہے اور گندگی سے جدا ہو جاتا ہے تو روحیں زندہ ہو جاتی ہیں جن تک کوئی فنا اور زوال نہیں پہنچتا۔

📖 تخریج:
یہ حدیث طبرانی نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما (امیرالمومنین) سے روایت کی ہے۔
ہیثمی نے کہا: "اس میں خالد بن الیاس راوی ہیں، جنہیں احمد، ابن معین، بخاری اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے، البتہ باقی راوی ثقہ ہیں۔"
اور ان کے شیخ عراقی نے کہا: "بیہقی نے اسے متصل اور منفصل (دونوں طرح) روایت کیا ہے، اور دونوں سندوں کے راوی ثقہ ہیں۔"


📌 حاشیہ (۱) (اللہ کی محبت اور نفرت کی بنیاد):
انسان فرشتوں سے فکر کی قوت اور امتیاز (تمیز) کی وجہ سے مشابہت رکھتا ہے، اور حیوانات سے شہوت اور پستی (دناءت) کی وجہ سے مشابہت رکھتا ہے۔
پس جس نے اپنی ہمت کو اعلیٰ اخلاق کے حصول میں صرف کیا، اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور وہ فرشتوں سے ملحق ہو جاتا ہے (اپنے اخلاق کی پاکیزگی کی وجہ سے)۔
اور جس نے اپنی ہمت کو پست اور برے اخلاق کی طرف صرف کیا، وہ حیوانات سے جا ملتا ہے:
(بعض اوقات) کتے کی طرح (حرص و لالچ)۔
خنزیر کی طرح (شہوت پرستی)۔
اونٹ کی طرح (کینہ اور بغض)۔
چیتے/شیر کی طرح (تکبر)۔
لومڑی کی طرح (مکر و فریب)۔
اور (ان تمام برائیوں کا مجموعہ) شیطان کی طرح۔

📌 حاصل اسباق و نکات
۱. اللہ کی محبت کا معیار اخلاق ہے، نہ کہ دنیاوی بلندی
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے مال، جاہ، یا مرتبے کی وجہ سے محبت نہیں کرتا، بلکہ اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ صفات کی وجہ سے۔ دنیاوی بلندی (جب تک کہ وہ دینی اصولوں کے مطابق نہ ہو) اصل میں روحانی گراوٹ ہے۔
(حوالہ: فیض القدیر، اور قرآنی اصول: إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ – الحجرات: 13)

۲. عزت نفس (شرف النفس) اور تکبر میں فرق
عزت نفس یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو برائیوں اور پستی سے بچائے، اپنی عزت کرے اور اپنے رب کی تعظیم کرے۔

تکبر یہ ہے کہ انسان اپنی تعریف کرے (عجب) اور دوسروں کو حقیر جانے۔
اس حدیث کی شرح میں واضح کیا گیا کہ عزت نفس ایک پسندیدہ صفت ہے، جبکہ تکبر ناپسندیدہ اور حرام ہے۔
(حوالہ: صحیح مسلم، حدیث: "لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر")

۳. انسان کی فطرت اور اس کی دو قسمیں (اچھی اور بری مٹی)
اس عبارت میں ارشاد ہے کہ انسان اس مٹی کے تابع ہیں جس سے وہ پیدا کیے گئے ہیں۔

اچھی مٹی (طیبہ) سے پیدا ہونے والے فطرتاً سخی، نرم، اور رحم دل ہوتے ہیں۔

خراب مٹی (خبیثہ) سے پیدا ہونے والے فطرتاً سخت، بخیل، اور بدبخت ہوتے ہیں۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی جبلت (فطرت) اس کی اصل پر اثر انداز ہوتی ہے، البتہ تربیت اور مجاہدہ سے اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
(حوالہ: صحیح مسلم – حدیث: "مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة..."، اور حدیث: "الناس معادن..." (بخاری و مسلم))

۴. انسان کی دوہری جبلت: فرشتہ صفت اور حیوانی صفت
انسان میں دو متضاد صفتیں ہیں:

فرشتہ صفت: عقل، فکر، تمیز اور اعلیٰ اخلاق۔

حیوانی صفت: شہوت، غضب، حرص اور پستی۔
انسان کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ اپنی ہمت کو اعلیٰ اخلاق (فرشتہ صفت) کی طرف مائل کرے۔
(حوالہ: قرآن: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا – الشمس: 7-8)

۵. برے اخلاق کے انجام (حیوانات سے مشابہت)
جس شخص نے برے اخلاق کو اپنا لیا، اس کی تشبیہ مختلف حیوانات سے دی گئی ہے:

کتا (حرص و لالچ)۔
خنزیر (شہوت پرستی)۔
اونٹ (کینہ)۔
چیتا (تکبر)۔
لومڑی (مکر)۔
شیطان (ان تمام برائیوں کا مجموعہ)۔
(حوالہ: قرآن: أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ – الأعراف: 179)

۶. اعلیٰ اخلاق کا حصول انسان کو فرشتوں کے قریب کرتا ہے
جس نے اپنی ہمت کو اعلیٰ اخلاق میں صرف کیا، وہ فرشتوں کی صفات سے متصف ہو جاتا ہے اور اللہ کی محبت کا مستحق بن جاتا ہے۔
(حوالہ: اس حدیث کا متن، اور امام غزالی کا قول)

۷. حدیث کی سند اور اس کا درجہ (تحقیق)
اس حدیث کی سند میں خالد بن الیاس کے بارے میں کلام ہے (انہیں احمد، ابن معین، بخاری اور نسائی نے ضعیف کہا ہے)، لیکن باقی راوی ثقہ ہیں۔
بیہقی نے اسے دو طریقوں سے روایت کیا ہے (متصل اور منفصل)، اور دونوں کے راوی ثقہ ہیں۔
علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے (جیسا کہ پچھلی تخریج میں صحيح الجامع (1890) اور السلسلة الصحيحة (1378) میں آیا ہے)۔ لہٰذا یہ حدیث قابلِ عمل ہے۔

۸. روحانی ترقی کا راستہ (افکار اور مجاہدہ)
شرح میں بتایا گیا کہ پاکیزہ افکار اور بلند ہمتیں دل کو صاف کرتی ہیں اور انسان کو روحانی عالم (ملأ روحانی) کی طرف اٹھاتی ہیں۔ یہ علم، عبادت اور مجاہدہ کے بغیر ممکن نہیں۔
(حوالہ: امام غزالی کی تعلیمات – "جاهد تشاهد")

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اعلیٰ اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور پست اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔ انسان کی کامیابی اپنی عزت نفس کو برقرار رکھنے، تکبر سے بچنے، اور اپنی ہمت کو فرشتہ صفت اخلاق (جود، سخاوت، نرمی، اور رحمت) کی طرف مائل کرنے میں ہے، جبکہ حیوانی صفات (حرص، شہوت، کینہ، تکبر، مکر) سے بچنا ضروری ہے۔ اس حدیث کی سند میں کچھ کمزوری ہے، لیکن دوسری سندوں کی وجہ سے یہ قابلِ قبول اور قابلِ عمل ہے۔





القرآن:
(اے پیغمبر!)کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر منہ موڑو گے تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
[سورۃ آل عمران:32]

البتہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان کو اللہ ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
[سورۃ آل عمران:57]

نتیجہ یہ کہ اللہ ان لوگوں کو اپنے فضل سے جزاء دے گا جو ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں۔ یقینا اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
[سورۃ الروم:45]






(2) اصلاحِ عقیدہ» عقیدت میں غلُوّ» حد سے زیادہ-بےجا تعریف کرنے کی مذمت:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَرْفَعُونِي فَوْقَ قِدْرِي، فَإِنَّ اللهَ اتَّخَذَنِي عَبْدًا قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَنِي نَبِيًّا.
ترجمہ:
اے لوگو! مجھے میری شان سے آگے نہ بڑھاؤ، کیونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے نبی بنانے سے پہلے بندہ بنایا ہے۔
﴿تفسیر ابن کثیر»سورۃ النساء:171، المائدۃ:77}


حضرت علی بن الحسینؒ اپنے والد (حضرت حسینؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ آپؓ نے فرمایا:
"ہمیں اسلام کی محبت کی بنیاد پر دوست رکھو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَا تَرْفَعُونِي فَوْقَ حَقِّي، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى اتَّخَذَنِي عَبْدًا قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَنِي رَسُولًا»
ترجمہ:
'تم مجھے میرے حق سے بڑھا کر نہ پیش کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنانے سے پہلے بندہ بنایا تھا۔'"

📜 شرح:
یعنی میری تعریف (مدح) میں حد سے تجاوز نہ کرو، جیسا کہ نصاریٰ (عیسائیوں) نے ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تعریف میں غلو (حد سے بڑھنا) کیا یہاں تک کہ وہ گمراہ ہو گئے اور انہیں اللہ کا بیٹا اور الٰہ بنا لیا۔

اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند اور پاک ہے جو ظالم لوگ کہتے ہیں۔

پس (یاد رکھو) میں تو صرف اس (اللہ) کا بندہ ہوں، لہٰذا تم میری حق میں (یہی) کہو: "عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ" (یعنی اللہ کا بندہ اور اس کا رسول)۔

"(لا تُطْروني) کا اصل (لا تُطْرِيُوني) ہے، پس راء کو ساکن کر دیا گیا اور یاء کی ضمہ اس (راء) کی طرف منتقل کر دی گئی، پھر یاء کو اس کے ساکن ہونے اور واو کے ساکن ہونے کی وجہ سے حذف کر دیا گیا۔
اور (الإطراء) کا معنیٰ تعریف میں غلو (حد سے بڑھنا) ہے، یعنی: تم میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو جیسا کہ نصاریٰ (عیسائیوں) نے عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا اور انہیں الٰہ بنا لیا۔"

📌 حاصل اسباق و نکات:
۱. انبیاء کی تعریف میں غلو (حد سے بڑھنا) حرام ہے
یہ حدیث ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ کسی بھی نبی یا بزرگ کی تعریف میں حد سے بڑھنا (غلو) جائز نہیں۔ یہ وہی راستہ ہے جس پر پچھلی امتیں چلیں اور گمراہ ہوئیں۔
(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 3445)

۲. عیسائیوں کا انجام (عبرت کا سبق)
عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مقامِ نبوت سے بڑھا کر الٰہ اور اللہ کا بیٹا بنا لیا، حالانکہ وہ خود ایک بشر اور اللہ کے رسول تھے۔ اس حدیث میں انہیں اس غلو کی وجہ سے گمراہ قرار دیا گیا ہے۔
(حوالہ: وہ لوگ یقینا کافر ہوچکے ہیں جنہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔  – (سورۃ المائدہ: 72)  – یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں، اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں...(سورۃ التوبہ:30)  – اور انھوں نے اس(اللہ) کے لیے اس کے بعض بندوں کو جز(حصے) بنا ڈالے، بے شک انسان یقینا صریح ناشکرا ہے۔ (سورۃ الزخرف:15)

۳. نبی کریم ﷺ کا مقام: "عبد الله ورسوله" (بندہ اور رسول)
نبی کریم ﷺ نے خود اپنے لیے دو صفات اختیار کیں:

عبد الله (اللہ کا بندہ) – جو عبودیت اور محض بندگی کی دلیل ہے۔
رسوله (اس کا رسول) – جو نبوت اور رسالت کی دلیل ہے۔

یہ نہایت اعتدال پسند اور کامل تعریف ہے، جو نہ تو غلو ہے اور نہ ہی تنقیص۔

۴. اللہ کی ذات کی تطہیر (تقدیس)
اس جملے میں "تعالى الله عما يقول الظالمون علواً كبيراً" کے ذریعے اللہ کی ذات کو شرک اور جھوٹی صفات سے پاک قرار دیا گیا ہے، اور یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی توحید کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔
(حوالہ: قرآن: سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ – الصافات: ۱۵۹)

۵. حدیث کی اصل اور اس کا درجہ (تصحیح)
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے:

"لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ"
(بخاری: ۳۴۴۵، مسلم: ۱/۲۹)

۶. عملی تطبیق: اہلِ بیت اور بزرگان کی تعظیم کا طریقہ
اس حدیث سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہم اہلِ بیت اور اولیاء اللہ کی تعظیم کریں، لیکن انہیں الٰہی مقام نہ دیں، نہ انہیں غیب کا علم یا حاجات میں قدرتِ مطلق سمجھیں۔ ان کا اصل مقام بندگی اور رسالت/ولایت ہے۔

۷. عقیدہ کا توازن (اعتدال)
اس حدیث نے ہمیں ایک ایسا اعتدال کا اصول سکھایا ہے جو تمام ادیان میں محفوظ نہیں رہا۔ ہمیں چاہیے کہ نبی ﷺ کی محبت اور تعظیم کو شرعی حدود میں رکھیں اور ان حدود سے تجاوز نہ کریں۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں انبیاء اور بزرگان کی تعریف میں غلو (حد سے بڑھنے) سے منع کرتی ہے اور خاص طور پر عیسائیوں کی گمراہی (عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا اور الٰہ بنانا) کو عبرت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے لیے دو صفات عبد اللہ (اللہ کا بندہ) اور رسولہ (اس کا رسول) کو ترجیح دی ہے، اور یہی ان کی سب سے بڑی تعریف اور عزت ہے۔




اچھے اسلام کی علامت – فضول اور بےکار کاموں کو ترک کرنا

(3) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ، قِلَّةَ الْكَلامِ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ
ترجمہ:
انسان کے اسلام کی خوبی(کمال) یہ ہے کہ وہ بےفائدہ باتوں میں کم از کم گفتگو کرے۔
[مسند احمد:1732(1642) الزھد-ھناد:1118]

(دوسری روایت میں ہے)

مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ
ترجمہ:
انسان کے اسلام کی خوبی(کمال) یہ ہے کہ وہ بیکار کاموں کو چھوڑ دے۔

وضاحت:
یعنی اس بات/چیز کی ٹوہ اور جستجو میں نہ لگے، جو بات/چیز حرام یا مکروہ ہو اس کا چھوڑنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، خواہ اس کا اسلام عمدہ ہو یا نہ ہو لیکن عمدہ اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بیکار اور غیر مفید بات کو بھی چھوڑ دے، اگرچہ وہ حرام یا مکروہ نہ ہو یعنی مباح بات ہو لیکن اس کے کرنے میں آخرت کا فائدہ نہ ہو۔

القرآن:
...اور وہ(مومن) لوگ بے کار وفضول باتوں سے اعراض(کنارہ) کرتے ہیں۔
[سورۃ المومنون:3]
القرآن:
کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں؟ کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں؟ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟
[سورۃ البلد:7، تفسیر الماتریدي:10/534]
القرآن:
انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔
[سورۃ ق:18]


حوالہ جات(تخریج)
(1)حدیثِ حضرت ابو ہریرہؓ
(2)حدیثِ حسینؓ بن علیؓ
[مسند احمد:1732(1642) الزھد-ھناد:1118]
(3)حدیثِ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت ابو ذرؓ
[معرفة الصحابة-أبو نُعَيم:3991، الأسامي والكنى-الحاكم:2434]
(4)حدیثِ حضرت علیؓ، زید بن ثابتؓ، حارث بن ہشامؓ
(5)حدیثِ علیؒ بن حسینؓ

---
حکم (حیثیت)
یہ حدیث حسن (اور بعض طرق کے اعتبار سے صحیح) ہے، قابلِ عمل اور قابلِ قبول ہے۔

محدث حکم وجہ / وضاحت
امام سیوطی / الصنعانی صحیح انہوں نے اس پر "رمز لصحته" (صحت کا نشان) لگایا ہے۔
امام نووی (الأذکار) حسن انہوں نے اسے اپنی کتاب "الأذکار" (3/343) میں حسن قرار دیا ہے۔
امام ہیثمی ثقہ راوی انہوں نے فرمایا: "رجال أحمد والطبراني ثقات" (احمد اور طبرانی کے تمام راوی ثقہ ہیں)۔
علامہ البانی حسن / صحیح انہوں نے اسے "صحيح الجامع" (5912) اور "صحيح الترغيب" (2954) میں صحیح قرار دیا ہے۔
امام ابن حجر حسن انہوں نے اسے "بلوغ المرام" (255) میں شامل کر کے اس کے حسن ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔

خلاصہ حکم:
یہ حدیث نووی کی چالیس احادیث (حدیث نمبر 12) میں شامل ہے اور ائمہ کرام کے نزدیک حسن سے لے کر صحیح تک کے درجے کی حامل ہے۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور اسے اپنانا ہر مسلمان کے لیے باعثِ خیر ہے۔
---
شرح (تشریح)
امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
1. ((بےفائدہ/بےکار باتیں)) – اس سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جس کا انسان کو کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہ ہو۔ یہ فضول کاموں (لغو، بےہودہ گفتگو، بےکار تجسس، دوسروں کے عیوب تلاش کرنے، اور بےمعنی مشغولیات) کی تمام اقسام کو شامل ہے۔
2. ((کسی شخص کے اسلام کی خوبی)) – یعنی انسان کے اسلام کی خوبصورتی اور کامل ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ بےکار اور بےفائدہ چیزوں سے کنارہ کش ہو جائے۔ مخالف مفہوم یہ بھی ہے کہ جس شخص کا اسلام برا (ناپسندیدہ) ہو، وہ انہی چیزوں میں پڑتا ہے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
3. مصنف نے اس حدیث کو "حديث جليل جامع نافع" (ایک عظیم، جامع اور نفع بخش حدیث) قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ بندے کے تمام حالات (قول، فعل، ارادہ، نگاہ، سوچ) پر محیط ہے۔



شرح المناویؒ:
"مِنْ": امام طیبی (رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ یہ لفظ "تبعیضیہ" (جزویہ) ہے، یعنی اس خوبی کا ایک حصہ یہ ہے۔ اور اس کا "بیانیہ" (توضیحی) ہونا بھی جائز ہے (یعنی یہ بیان کر رہا ہے کہ حسنِ اسلام کیا ہے)۔

"حُسْنِ إسْلَامِ الْمَرْءِ": نبی کریم ﷺ نے "ایمان" کے بجائے "اسلام" کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ اسلام کا تعلق ظاہری اعمال (افعال و ترک) سے ہے، اور انسان کا کرنا اور چھوڑنا اسی پر مبنی ہوتا ہے۔

نیز آپ نے "حسن" (خوبی) کا ذکر اس لیے کیا کہ اسلام کی پہچان محض ظاہری عمل (بطورِ صورت) سے نہیں ہوتی، جب تک کہ وہ عمل "حسن" (یعنی مکمل شرائط کے ساتھ) نہ ہو، چہ جائے کہ صرف درستگی (صحت) ہی کافی ہو۔

اور اس خوبی کو "ترک ما لا يعنيه" (یعنی اس چیز کو چھوڑ دینا جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں) میں قرار دیا۔

"تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ" کی تشریح:

لفظ "تَرْكُهُ" کے پہلے حرف (ت) کو فتحہ(زبر) کے ساتھ پڑھا جاتا ہے (یعنی تَرْک، بِکسر نہیں)۔

"عَنَاهُ الْأَمْرُ" کا مطلب ہے کہ اس چیز نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی، اور وہ اس کا قصد و ارادہ بن گئی۔

"مَا لَا يَعْنِيهِ" (جس کا تعلق نہیں) سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد تمام قسم کے فضول (بیکار) امور ہیں، خواہ وہ افعال (اعمال) ہوں یا اقوال (باتیں)۔

اس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ "جس کا اسلام برا (ناپسندیدہ) ہو، وہ ان چیزوں میں پڑتا ہے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔"

اس حدیث کی جامعیت:

یہ ایک عظیم، جامع اور نفع بخش حدیث ہے، جس کے تحت بندے کی تمام کیفیات اور حالات داخل ہو جاتے ہیں۔

(ب) حدیث کے مخرجین اور اسناد کی حیثیت
اس حدیث کو درج ذیل محدثین نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے، اور ان کی اسناد کے بارے میں تفصیل درج ذیل ہے:

ماخذ / محدث راوی (صحابی) اسناد کی حیثیت
(ت) یعنی ترمذی اور (هـ) یعنی ابن ماجہ حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) امام نووی نے "الأذكار" (ص: 334) میں اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
(حم) یعنی مسند احمد اور (طب) یعنی طبرانی حضرت حسن بن علی (رضی اللہ عنہما) امام ہیثمی کہتے ہیں کہ احمد اور طبرانی کے رجال (راوی) ثقہ (معتبر) ہیں۔
(حکیم) یعنی مستدرک حاکم میں "الکنی" کے باب میں، از ابو بکر الشیرازی حضرت ابو ذر (رضی اللہ عنہ) -
(ک) یعنی تاریخ نیشاپور (خطیب بغدادی) میں حضرت علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) -
(طس) یعنی معجم الطبرانی الصغیر میں حضرت زید بن ثابت (رضی اللہ عنہ) امام ہیثمی کہتے ہیں: اس سند میں "محمد بن کثیر بن مروان" نامی راوی ہیں، جو ضعیف ہیں (اس لیے یہ سند کمزور ہے)۔
(ابن عساکر) یعنی تاریخ دمشق میں حضرت حارث بن ہشام (رضی اللہ عنہ) وہ صحابی ہیں جو "مسلمہ الفتح" (فتح مکہ کے مسلمان) میں شامل ہیں۔
(ج) شارح (امام صنعانی) کا خلاصہ اور حتمی فیصلہ
شارح (امام صنعانی) اس پوری بحث کے بعد فرماتے ہیں:

"مصنف (امام سیوطی) نے ان تمام مخرجین کو جمع کر کے اس حدیث کی تقویت کی طرف اشارہ کیا، اور ان لوگوں کا رد کیا جنہوں نے اسے ضعیف قرار دیا۔"

نتیجہ:

اسی بناء پر امام نووی نے اسے "حسن" کہا ہے۔

بلکہ امام ابن عبد البر نے اسے "صحیح" قرار دیا ہے۔

ایک اہم نکتہ:

اس حدیث کو پانچ صحابہ کرام (ابو ہریرہ، حسن بن علی، علی بن ابی طالب، زید بن ثابت، اور حارث بن ہشام) سے روایت کیا گیا ہے۔

اس کثرتِ طرق کی وجہ سے ان لوگوں کا قول بھی باطل ہو گیا جو کہتے تھے کہ یہ حدیث صرف 'مرسل' ہے (یعنی اس کی سند صحابی تک نہیں پہنچتی)۔

[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانیؒ:8224]


🧾 خلاصہ اور حاصلِ مطلب
اس پوری شرح کا لبِ لباب یہ ہے:

اسلام کی خوبی اور کمال فضول اور بے کار چیزوں کو چھوڑنے میں ہے۔

فضول سے مراد وہ تمام اقوال و افعال ہیں جن کا انسان کی دینی یا دنیوی ضرورت سے کوئی تعلق نہیں۔

اس حدیث کا مفہوم یہ بھی ہے کہ جس کا اسلام برا ہوگا، وہ انہی فضول چیزوں میں پڑا رہے گا۔

یہ حدیث سنداً قوی اور معتبر ہے، جسے متعدد صحابہ سے کئی طرق سے روایت کیا گیا ہے، اور اسے امام نووی نے حسن اور امام ابن عبد البر نے صحیح قرار دیا ہے۔

یہ حدیث دین کا ایک عظیم ضابطہ ہے جو انسان کو ہر قسم کے بیکار اور نقصان دہ امور سے بچاتی ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
---

حاصل اسباق و نکات:

1. اسلام کی کامل نشانی اخلاقی پاکیزگی ہے:
   اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام صرف ظاہری عبادات (نماز، روزہ وغیرہ) کا نام نہیں، بلکہ معاشرتی اور اخلاقی پہلو (فضول سے بچنا) بھی اس کی خوبصورتی اور کامل ہونے کی علامت ہے۔
2. فضول کاموں کی تعریف اور اقسام:
   "مالا يعنيه" میں ہر وہ کام شامل ہے:
   · فضول گفتگو (جھوٹ، غیبت، چغلی، بےہودہ باتین) – جیسا کہ قرآن میں ہے: "وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ" (المؤمنون: 3)۔
   · فضول نگاہ (دوسروں کے عیوب تلاش کرنا، غیرمحرم کو دیکھنا)۔
   · فضول مداخلت (دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت دخل اندازی)۔
   · فضول مشاغل (وقت ضائع کرنے والے کھیل، فضول تفریحات)۔
3. یہ حدیث جامع اور اصلُ الاصول ہے:
   امام نووی نے اس حدیث کو زہد اور خوش اخلاقی کا اصل اصول قرار دیا ہے۔ حافظ ابن رجب نے اس کی شرح میں فرمایا کہ یہ حدیث اسلام کے اخلاقی نظام کا نصف حصہ ہے، اور دوسرا نصف حدیث "لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه" پر مشتمل ہے۔
4. وقت کا ضیاع اور اس کا نقصان:
   انسان کا قیمتی سرمایہ وقت ہے۔ فضول کاموں میں وقت ضائع کرنا ناقص اسلام اور ناقص عقل کی علامت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ" (بخاری) — دو نعمتیں ہیں جن میں بہت سے لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور فراغت۔
5. اخلاص اور آخرت کی فکر:
   یہ حدیث ہمیں آخرت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جو کام آخرت میں کام نہ آئے، اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ یہی زہدِ حقیقی ہے، یعنی دنیا کو چھوڑنا نہیں بلکہ فضول دنیاوی امور کو ترک کرنا۔
6. عملی زندگی میں ضابطہ:
   اس حدیث کو اپنانے کے لیے ہمیں چاہیے:
   · ہر بات کہنے سے پہلے سوچیں: "کیا یہ مجھے فائدہ پہنچائے گی؟"
   · ہر کام کرنے سے پہلے جائزہ لیں: "کیا اس میں میرے لیے دینی یا دنیوی بھلائی ہے؟"
   · دوسروں کے معاملات میں بغیر پوچھے مداخلت نہ کریں۔
   · وقت کو ذکر، تلاوت، علم، یا حلال کمائی میں صرف کریں۔
7. سند کی کثرت (تعدد طرق):
   اس حدیث کو سات صحابہ کرام (ابو ہریرہ، حسین، ابو بکر، ابو ذر، علی، زید بن ثابت، حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم) سے روایت کیا گیا ہے۔ طرق کی کثرت اس حدیث کو تقویت دیتی ہے اور اسے مختلف ائمہ کے نزدیک حسن / صحیح بناتی ہے۔

---

خلاصہ: یہ حدیث "من حسن إسلام المرء تركه مالا يعنيه" ائمہ کرام کے نزدیک حسن اور صحیح ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کامل اسلام کی علامت فضول کاموں (قول، فعل، نگاہ، اور سوچ) سے بچنا ہے۔ اس حدیث کو اپنے معمولات کا حصہ بنا کر ہم اپنے ایمان اور اخلاق کو بہتر بنا سکتے ہیں، اپنے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں، اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔





حضرت علیؒ بن حسینؓ بن علی ؓ  اپنے والد (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ»

ترجمہ:

"علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" 
 [المعجم الاوسط للطبرانی:2030]

📜 شرح المناوی:

اس (حدیث) کے بارے میں اقوال میں اختلاف اور آراء میں تضاد پایا گیا ہے، اور اس فرض کردہ علم کے بارے میں تقریباً بیس (۲۰) اقوال ہیں۔ ہر گروہ اپنے علم (موقف) پر دلائل قائم کرتا ہے، اور ہر ایک کا دوسرے کے لیے ایک معارضہ ہے، اور بعض کا بعض سے تضاد ہے۔

ان میں سے بہترین قول قاضی (عیاض) کا یہ قول ہے:

"وہ علم جسے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں، جیسے خالق (اللہ) کی معرفت، اس کے رسولوں کی نبوت، اور نماز کی کیفیت اور اسی طرح کے امور، پس ان کا سیکھنا عین فرض ہے۔"

امام غزالی نے 'احیاء علوم الدین' میں فرمایا:

"اس (حدیث) سے مراد اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کا علم ہے جس سے قلبی معارف (روحانی بصیرت) پیدا ہوتی ہیں، اور یہ علم کلام (فلسفیانہ مناظرہ) سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو اس سے حجاب (رکاوٹ) بن جاتا ہے۔ اور اس (معرفت) تک رسائی مجاہدہ (نفس کی کشمکش) کے ذریعے ہی ممکن ہے، پس (کہا گیا ہے کہ) تم مجاہدہ کرو تو تمہیں مشاہدہ (رویت) حاصل ہوگی۔" پھر انہوں نے اس کی توضیح میں تفصیل بیان کی جو سینوں کو کشادہ اور دلوں کو نور سے بھر دیتی ہے۔

[فيض القدير-المناوي:5264]


📌 حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

۱. حدیث کی سند اور اس کا درجہ

یہ حدیث کئی صحابہ کرام سے مروی ہے، جس کی وجہ سے یہ حسن کے درجے تک پہنچ جاتی ہے:

راوی:

حضرت انس بن مالک، حضرت حسین بن علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت علی، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم

حکم:

اگرچہ اکثر محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، لیکن بعض اہل علم نے اسے صحیح اور حسن کہا ہے۔ امام سیوطی نے اسے صحیح اور علامہ البانی نے صحيح الجامع میں شامل کیا ہے۔


۲. "علم" سے کیا مراد ہے؟ (علماء کے بیس اقوال)

اس حدیث میں مذکور "علم" کی تفسیر میں علماء کے تقریباً بیس اقوال ہیں، جن میں سے چند اہم یہ ہیں:

مفسر موقف

قاضی عیاض وہ علم جسے سیکھنے سے کوئی چارہ نہیں، جیسے اللہ کی معرفت، نبوت کا یقین، اور نماز کے احکام۔

امام غزالی اصل مقصود اللہ اور اس کی صفات کا معرفت ہے جو مجاہدہ (نفس کی کشمکش) سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ علم کلام (فلسفیانہ مناظرہ) سے۔

سہروردی علم اخلاص اور نفس کی آفات کی معرفت ہے۔


۳. فرض عین اور فرض کفایہ کا اصول

فقہاء کے نزدیک:

فرض عین: وہ علم جو ہر مسلمان پر فرداً فرداً واجب ہے، جیسے نماز، روزہ، حلال و حرام کی بنیادی پہچان۔

فرض کفایہ: وہ علم جسے اگر کچھ لوگ سیکھ لیں تو دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے، جیسے طب، ریاضی، اور دیگر فنون۔


۴. امام غزالی کا قیمتی اضافہ: "مجاہدہ تشاہد" کا اصول

امام غزالی نے وضاحت فرمائی کہ اللہ کی معرفت محض علمی بحث و مناظرہ (علم کلام) سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کا ذریعہ مجاہدہ (نفس کی اصلاح، عبادت، اور ریاضت) ہے۔ انہوں نے یہ اصول دیا:

"جاهد تشاهد" — تم مجاہدہ کرو تو تمہیں مشاہدہ (روحانی بصیرت) حاصل ہوگی۔


۵. خواتین کا حکم (مسلمہ کا ذکر)

اگرچہ حدیث کے لفظ میں "مسلم" (مذکر) آیا ہے، لیکن علماء کا اتفاق ہے کہ یہ حکم خواتین پر بھی عین طور پر لاگو ہوتا ہے، کیونکہ شریعت کے عمومی احکام میں عورت اور مرد برابر ہیں، الا یہ کہ کوئی خاص دلیل کسی ایک کو مستثنیٰ کرے۔


۶. اس حدیث سے عملی اسباق

علم کا حصول ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے — چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔

ضروری علم (جیسے عقائد، نماز، روزہ، حلال و حرام) سیکھنا فرض عین ہے۔

دوسرے علوم (جیسے طب، انجینئرنگ، معاشیات) فرض کفایہ ہیں۔

علم کا اصل مقصد اللہ کی معرفت اور قربت ہے، نہ کہ محض معلومات کا ذخیرہ۔

روحانی ترقی کے لیے علم کے ساتھ عمل اور مجاہدہ ضروری ہے۔

کمزور سند کے باوجود اس حدیث کے معنی کو دوسری صحیح احادیث سے تقویت حاصل ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث "طلب العلم فريضة على كل مسلم" اگرچہ سنداً مختلف فیہا ہے، لیکن اس کا مفہوم قرآن و سنت کے عمومی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ہر مسلمان پر ضروری دینی علم حاصل کرنا فرض ہے، اور اللہ کی معرفت کا حصول مجاہدہ اور عمل کے بغیر ممکن نہیں۔






(4) درود کی فضیلت:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:
اصل بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔
[مسند احمد:1736(1645)، سنن الترمذی:3546، صحیح ابن حبان:909، مسند البزار:1342، عمل اليوم والليلة للنسائي:56-55، عمل اليوم والليلة لابن السني:384، مسند ابویعلیٰ:6776، السنن الکبریٰ للنسائی:9883، المستدرک الحاکم:2015، شعب الایمان:1567، فضل الصلاة على النبي لإسماعيل القاضي:32]

القرآن:
بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو۔
[سورۃ الأحزاب:56، تفسیر ابن کثیر:6/467]






(5) سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَخَطِئَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ؛ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ»
ترجمہ:
"جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود پڑھنے میں خطا (کوتاہی) کرے، اس نے جنت کا راستہ خطا (کھو) دیا۔" 
[المعجم الکبیر للطبرانی:2887]






عنوان

جہاں بھی ہو مجھ پر درود بھیجو، درود مجھ تک پہنچتا ہے۔

---
سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«حَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ،  فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي» 

ترجمہ

"تم جہاں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود (ضرور) مجھ تک پہنچتا ہے۔"
[المعجم الأوسط للطبراني:365]
---

حوالہ (تخریج)

محدث کتاب رقم / مقام
الطبرانی المعجم الکبیر (3/82، رقم 2729)
الهیثمی مجمع الزوائد (10/162)
السخاوی القول البدیع (ص: 167)
الألبانی صحيح الجامع (3164)
الألبانی السلسلة الصحيحة (3146)

راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث صحیح ہے اور قابلِ عمل ہے۔

محدث» حکم» وجہ / وضاحت
امام ہیثمی» سند میں مجہول راوی ہے» کہا: "اس میں حمید بن ابی زینب راوی ہے، جسے میں نہیں جانتا، البتہ باقی رجال صحیح کے ہیں۔"
[مجمع الزوائد:17295]

امام سخاوی» شواہد کی بنا پر قابلِ قبول» انہوں نے فرمایا: "اس حدیث کے شواہد (معاون روایات) موجود ہیں۔"

علامہ البانی» صحیح» انہوں نے اسے (صحيح الجامع:3164، صحيح الترغيب:1665، الصحيحة:3146) میں شامل کر کے اس کی تصحیح کی ہے۔

اصولی نکتہ: اگرچہ ایک سند میں مجہول راوی ہے، لیکن شواہد کی موجودگی اور دوسری صحیح احادیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں دو اہم نکات بیان کرتے ہیں:

1. "حيثما كنتم" کا عموم (ہر جگہ) ہے، لیکن اس سے وہ مقامات مستثنیٰ ہیں جن میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، جیسے بیت الخلاء (پیشاب و پاخانہ کی جگہ)۔ ان ناپاک جگہوں پر درود پڑھنا منع ہے۔
2. "فإن صلاتكم تبلغني" کی وضاحت: درودِ پاک کو فرشتے (سیّاحون) نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہیں، جیسا کہ دوسری صحیح حدیث میں آتا ہے: "إن لله ملائكة سياحين يبلغوني عن أمتي السلام" (نسائی، صحیح) — اللہ کے سیاح فرشتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:3752]



روحانی نفوس کا ملأ اعلیٰ سے اتصال اور درودِ پاک کے عموم سے استثنا.
شرح المناوي:
"کیونکہ روحانی نفوس جب جسمانی تعلقات سے الگ ہو جاتی ہیں تو وہ عروج کرتی ہیں اور ملأ اعلیٰ (فرشتوں کی عالم) سے جا ملتی ہیں، اور ان کے لیے کوئی حجاب باقی نہیں رہتا، چنانچہ وہ خود بھی مشاہدہ کے ذریعے سب کچھ دیکھ لیتی ہیں اور فرشتے کے ذریعے (بھی) انہیں خبر پہنچتی ہے۔ اور اس میں ایک راز ہے جسے وہ شخص جان سکتا ہے جسے اس کی توفیق ملے۔ قاضی (عبدالباقی) نے إتحاف میں کہا: اس عموم سے وہ جگہیں مستثنیٰ ہیں جن میں اللہ کا ذکر نہیں کیا جاتا، جیسے بیت الخلاء، لہٰذا ان میں نبی ﷺ پر درود نہیں پڑھا جائے گا۔"
فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:3768]
---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. درود پاک کی عظمت اور قبولیت:
   یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو ہمارا درود پہنچتا ہے، چاہے ہم دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔ یہ آپ ﷺ کی روحانی حیات اور امت سے تعلق کا ثبوت ہے۔
2. جگہ کی کوئی قید نہیں (سوائے ناپاک جگہوں کے):
   حدیث کا عموم یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسجد، گھر، بازار، راستے وغیرہ ہر جگہ درود پڑھا جا سکتا ہے، البتہ بیت الخلاء اور جنبی (غسل کے) مقامات پر درود پڑھنا مکروہ یا منع ہے کیونکہ وہ ذکرِ الٰہی کے لیے نا مناسب ہیں۔ (دیکھیں: الآداب الشرعية لابن مفلح)
3. شواہد کی اہمیت (علمِ حدیث کا اصول):
   اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کمزور سند والی حدیث اگر دوسرے طرق (شواہد) سے تقویت پا لے تو وہ حسن لغیرہ یا صحیح لغیرہ کے درجے پر فائز ہو سکتی ہے۔ اسی لیے البانی نے اسے صحیح قرار دیا۔
4. فرشتوں کا درود پہنچانے کا کام:
   اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو خصوصی طور پر امت کا سلام اور درود نبی ﷺ تک پہنچانے کا ذمہ دار بنایا ہے۔ اس سے نبی ﷺ کی عظمت اور امت سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
5. دعوتِ عمل:
   ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اور ہر جگہ (سوائے ناپاک مقامات کے) نبی ﷺ پر درود بھیجتے رہیں، خاص طور پر جمعہ کے دن، صبح و شام، اور ہر نماز کے بعد، کیونکہ یہ روحانی غذائیت اور گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔
6. علمائے کرام کا اجماعی موقف:
   اگرچہ ابتدائی طور پر ہیثمی نے ایک راوی کو مجہول کہا، لیکن دوسرے ائمہ (سخاوی، البانی) نے شواہد کی روشنی میں اسے قبول کر لیا۔ اس سے ہمیں اجتہاد اور تحقیق کا درس ملتا ہے کہ کسی ایک قول کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔

---

خلاصہ: یہ حدیث "حيثما كنتم فصلوا عليّ فإن صلاتكم تبلغني" علامہ البانی کے مطابق صحیح ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم جہاں بھی ہوں، نبی ﷺ پر درود بھیج سکتے ہیں اور یہ درود فرشتوں کے ذریعے آپ ﷺ تک پہنچایا جاتا ہے، سوائے ناپاک جگہوں (جیسے بیت الخلاء) کے جہاں درود پڑھنا درست نہیں۔ ہمیں اس سنت کو ہر حال میں اپنانا چاہیے۔





(6) سوالی کا حق:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ ﴿فَرَسِهِ﴾
ترجمہ:
سائل کا حق ہوتا ہے، اگرچہ وہ ﴿اپنے﴾ گھوڑے پر ہی سوار ہو۔



القرآن:
اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔
[سورۃ العادیات:19،المعارج:25]
...اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں....
[سورۃ البقرہ:177-تفسیر الثعلبي:4/342]




شرح ملا علی القاری:

(اور حضرت حسین سے) اور ایک نسخے میں (حسن) دونوں زیر کے ساتھ (ابن علی) – رضی اللہ عنہما – سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سائل (مانگنے والے) کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔" یعنی اسے رد نہ کرو، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر تم سے اپنے کھانے اور اپنی سواری کے چارے کی طلب میں آئے۔

ابن الاثیر نے "النہایۃ" میں کہا: "سائل" یعنی طالب (مانگنے والا) اور اس کا مطلب یہ ہے کہ سائل کے بارے میں حسن ظن رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جب وہ تمہارے سامنے آئے اور اسے جھٹلا کر یا رد کر کے ناامید نہ کرو، بشرطیکہ اس کے سچے ہونے کا امکان موجود ہو۔ یعنی سائل کو ناامید نہ کرو، اگرچہ اس کی ظاہری صورت تمہیں مشکوک لگے اور وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے، کیونکہ ممکن ہے اس کے پاس گھوڑا ہو لیکن اس کے پیچھے اہلِ عیال یا قرض ہو جس کی وجہ سے اس کے لیے صدقہ لینا جائز ہو، یا وہ مجاہدین میں سے ہو یا قرض داروں میں سے ہو اور اس کا صدقہ میں حصہ ہو۔

اس حدیث کو امام احمد، ابو داود اور اسی طرح ضیاء نے روایت کیا ہے۔ اور ابو داود نے حضرت علیؓ سے، طبرانی نے "الکبیر" میں ہرماس بن زیاد سے، اور ابن عدی نے "الکامل" میں ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے، اور اس کے الفاظ ہیں: "سائل کو دو، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔"

سیوطی نے ابو داود کی تعلیق میں ذکر کیا ہے: "اور یہ روایت کیا گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: سائل کا حق ہے، اگرچہ وہ چاندی کے طوق (پٹے) والے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔" (یہاں تک)

قاضی – رحمہ اللہ – نے کہا: یعنی سائل کو رد نہ کرو، اگرچہ وہ تمہارے پاس ایسی حالت میں آئے جو اس کی مالداری پر دلالت کرتی ہو، اور میرا خیال ہے کہ اگر اس کے پاس کوئی حاجت نہ ہوتی جو اسے سوال کرنے پر مجبور کرتی تو وہ اپنا چہرہ (ذلت کے لیے) ہرگز پیش نہ کرتا۔

اور "مصابیح" میں یہ حدیث مرسل (یعنی صحابی کا واسطہ چھوڑ کر) بیان کی گئی ہے۔

توربشتی نے کہا: "مصابیح" میں اس حدیث کو مرسل کہا گیا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ یہ اصل (نسخہ) میں ثابت ہے یا یہ کوئی چیز ہے جو اس کے ساتھ ملائی گئی ہے؟ اور میں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی سند کے ساتھ مسند (متصل) پایا ہے، اور ابو داود نے اپنی کتاب میں اپنی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی باقی حدیث کو حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سائل کا حق ہے۔"

طیبی – رحمہ اللہ – نے کہا: "یہاں خلط ملط ہے، کیونکہ یہ دونوں حدیثیں دراصل الگ الگ متصل (مسند) ہیں اور مصابیح کے مصنف نے انہیں ایک ہی مرسل حدیث بنا دیا ہے، اور اگر انہیں الگ الگ سمجھا جائے تو دوسری حدیث اس باب میں داخل نہیں ہوتی، اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تنزل (تخفیف) کی راہ پر اور مصابیح کے مصنف کے بقول جب ایک اور طریق سے یہ مرسل آتی ہے تو یہ مان لیا جائے کہ یہ دونوں دراصل ایک ہی حدیث ہیں۔"





یہ شاید پہلے زمانے کا رواج تھا۔ تاہم، ہمارے دور میں، ہم بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے بھیک مانگنا اپنا پیشہ بنا لیا ہے اور جن کے پاس زائد دولت ہے۔ ایسی صورتوں میں ان کے لیے بھیک مانگنا حرام ہے اور لوگوں کے لیے ان کو دینا بھی حرام ہے۔ اور خدا ہی بہتر جانتا ہے۔


حاصل اسباق اور نکات
سائل کے ساتھ حسنِ ظن:
کسی بھی مانگنے والے کو صرف ظاہری دولت (گھوڑے کی سواری) کی بنیاد پر جھوٹا یا مستحق نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بڑی حاجتیں اور اخراجات (جیسے قرض یا اہلِ عیال) اس کے پیچھے ہو سکتے ہیں۔
رد کرنے کی ممانعت:
حدیث کا صریح حکم ہے کہ سائل کو جھٹلایا یا ناامید نہ کیا جائے، بشرطیکہ اس کا سچا ہونا ممکن ہو۔
مستحقین کی مختلف صورتیں:
سائل صرف ننگے فقیر ہی نہیں ہوتے، بلکہ مجاہدین، غارمین (قرض دار) اور وہ لوگ بھی اس میں شامل ہیں جو ظاہر میں مالدار دکھائی دیں لیکن مجبوری میں مبتلا ہوں۔[حوالہ سورۃ البقرۃ:273]
دوسرے انبیاء کی تعلیمات کی تائید:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصول صرف امتِ محمدیہ کے لیے نہیں، بلکہ تمام آسمانی تعلیمات میں سائل کی حرمت اور اس کا حق رہا ہے۔
علمِ حدیث میں تحقیق کی اہمیت:
اس شرح سے پتہ چلتا ہے کہ کسی حدیث کو "مرسل" کہنے یا "متصل" کہنے میں محدثین کے درمیان اختلاف ہو سکتا ہے، اور ہر روایت کی علت و سند کو پرکھنا ضروری ہے۔
وجہِ سوال کو سمجھنے کی کوشش:
بظاہر مالدار شخص کا سوال کرنا عجیب لگتا ہے، لیکن قاضی کا قول ہے کہ اگر مجبوری نہ ہوتی تو کوئی اپنا چہرہ ذلت کے لیے پیش نہ کرتا، لہٰذا اس کی کوئی نہ کوئی خفیہ مجبوری ضرور ہوتی ہے۔
امام حسینؓ سے روایت کی فضیلت:
اس حدیث کا سلسلۂ سند حضرت حسین بن علیؓ تک پہنچتا ہے، جو اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے کیونکہ یہ آپ کے اخلاقی اور عملی درس کا حصہ ہے۔
دین میں آسانی اور گنجائش:
شریعت نے سائل کو حق دیا ہے اور اسے مسترد کرنے کی بجائے عطیہ دینے کو ترجیح دی ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی اور غربت کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔
علمی تنقید کی روایت:
محدثین کے درمیان رَوایات کی صحت و ضعف پر بحث و تمحیص کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہا، جو اسلامی علوم کی حفاظت اور تدوین کا موجب بنا۔
صدقہ کے مستحقین کا وسیع دائرہ:
اس حدیث کی روشنی میں صدقہ صرف بظاہر ناداروں تک محدود نہیں، بلکہ وہ لوگ بھی اس کے مستحق ہیں جو اپنی ضرورت یا قرض کی وجہ سے سوال کرنے پر مجبور ہوں۔


📜 شرح المناوی:

(سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے) یعنی اسے عطیہ دینے کا حق ہے اور اسے رد نہ کرنا، اگرچہ وہ اچھی حالت، خوشنما ظاہری اور شاندار سواریوں پر ہو، کیونکہ اس کے پیچھے (اس کی ذمہ داری میں) اہلِ عیال یا قرض ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے صدقہ لینا جائز ہے۔ اور اس میں جیسا کہ امام غزالی نے کہا: سوال کرنے کا جواز ہے، کیونکہ اگر یہ مطلقاً حرام ہوتا تو ظالم کی اس کی زیادتی پر اعانت کرنا جائز نہ ہوتی، اور (سائل کو) دینا (اس کی زیادتی پر) اعانت ہے۔

اس حدیث کو امام احمد(1730)، ابو داود(1665) اور ضیاء مقدسی نے (حضرت حسین بن علی) سے روایت کیا ہے۔

حافظ عراقی نے کہا: اس کی سند میں یعلیٰ بن ابی یحییٰ ہیں، جنہیں ابو حاتم نے مجہول (ناشناختہ) کہا ہے، اور ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ ابو داود نے ان پر خاموشی اختیار کی (یعنی نہ جرح کی اور نہ تعدیل)۔ عراقی نے مزید کہا: ابن الصلاح کا قول ہے کہ امام احمد کی طرف چار احادیث منسوب ہیں جو بازاروں میں گردش کرتی ہیں جن کی کوئی اصل (سند) نہیں، ان میں سے یہ (حدیث) بھی ہے، لیکن یہ (قول) امام احمد کی طرف صحیح نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو اپنی مسند میں شامل نہیں کیا۔

اور (اس حدیث کو) ابو داود نے حضرت علی امیرالمؤمنین سے بھی روایت کیا ہے، اس پر بھی ابو داود نے خاموشی اختیار کی۔ عراقی نے کہا: اس (سند) میں ایک شیخ ہے جس کا نام نہیں لیا گیا (یعنی مبہم راوی)۔

اور طبرانی نے "ابو حَدِید" (جسے دو زیروں کے ساتھ مصغر کیا گیا ہے) ہرماس بن زیاد بن مالک الباہلی البصری سے روایت کیا ہے، جو صحابی ہیں اور انہوں نے یمامہ میں سکونت اختیار کی، جیسا کہ ابن القعقاع اور دوسروں نے ذکر کیا ہے۔ ہیثمی نے کہا: یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کے ایک راوی عثمان بن فائد کی کمزوری کی وجہ سے۔ (یہاں تک) اور ابن جوزی نے اسے اپنی کتاب "الموضوعات" (من گھڑت احادیث) میں ذکر کیا اور قزوینی نے ان کی پیروی کی، لیکن ابن حجر اور علائی نے اس (ضعیف/موضوع قرار دینے) کو رد کیا ہے۔


📌 حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)
۱. سائل کو دینا حق ہے، چاہے وہ مالدار دکھائی دے
یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ سائل کو اس کی ظاہری حالت کی بنا پر رد نہ کیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس گھوڑا یا اچھا لباس ہو، لیکن وہ حقیقی ضرورت مند ہو۔

۲. گھوڑے کی ملکیت غنا (مالداری) کی دلیل نہیں
امام ابن عبد البرؒ نے وضاحت کی کہ اگر کوئی شخص گھوڑے کا مالک ہے لیکن اسے اپنی کمزوری یا معاشی مجبوری کی وجہ سے اس کی ضرورت ہے، تو یہ اسے امیر نہیں بناتا اور وہ صدقہ لے سکتا ہے۔

۳. سوال کرنا مطلقاً حرام نہیں
امام غزالیؒ کے مطابق، اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ سوال کرنا (مانگنا) جائز ہے، ورنہ نبی ﷺ اس کی اجازت نہ دیتے اور نہ ہی سائل کو دینے کی ترغیب دیتے۔

۴. حدیث کی سند میں اختلاف — تحقیق لازم ہے
اس حدیث کو بعض ائمہ نے حسن، بعض نے صحیح اور بعض نے ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی روایت کو بغیر سند کی تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے۔

۵. امام احمد اور ابن المدینی کا قول "لا أصل له"
امام احمد بن حنبل اور ابن المدینی نے اس حدیث کو "لا أصل له" (بے اصل) کہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے نزدیک یہ حدیث نبی ﷺ سے ثابت نہیں۔

۶. موضوع روایت کو بیان کرنے کی ممانعت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين" (مسلم) — جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرے، وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے اس روایت کو بطورِ دین بیان کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے۔

خلاصہ:
یہ حدیث "للسائل حق وإن جاء على فرس" سنداً مختلف فیہا ہے — بعض ائمہ نے اسے حسن، بعض نے صحیح اور بعض نے ضعیف حتیٰ کہ موضوع کہا ہے۔ اس کے باوجود، اس کا مفہوم (سائل کو رد نہ کرنا) قرآن و سنت کے عمومی اصولوں کے مطابق ہے، اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ سائل کے ساتھ درگزر اور احسان کا معاملہ کریں، بشرطیکہ وہ جھوٹا اور دھوکے باز نہ ہو۔




القرآن:
اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔[سورۃ العادیات:19،المعارج:25]
...اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں....
[سورۃ البقرہ:177-تفسیر الثعلبی:4/341]







(7) ربعیہ بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے حسینؓ بن علی ؓ سے پوچھا کہ آپ کو نبی ﷺ کی کوئی بات یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اس بالاخانے پر چڑھ گیا جہاں صدقہ کے اموال پڑے تھے، میں نے ایک کھجور پکڑ کر اسے اپنے منہ میں چبانا شروع کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا:
أَلْقِهَا فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ
ترجمہ:
اسے نکال دو، کیونکہ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔
[مسند احمد:1731(1641) حدیث سیدنا حسینؓ]

[حدیث سیدنا حسنؓ، مصنف ابن ابی شیبہ:11012،۔مصمف عبد الرزاق:5984، مسند احمد:1724(1634)، مسند دارمی:1591، مسند ابوداؤد الطیالسی:1177، صحیح ابن خزیمہ:2347، صحیح ابن حبان:722، مسند ابویعلیٰ:6762، المعجم الکبیر طبرانی:2741]

نوٹ:
آپ کو نبی کی کوئی بات یاد ہے۔۔۔۔سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین نے احادیث بہت ہی کم بیان کی ہیں۔

📜 شرح الصنعانی:
"بے شک ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر صدقہ (لینا) حلال نہیں ہے۔"

(یہ جملہ "إنا آل محمد" منصوب ہے، جیسا کہ ہم نے "معشر" کے بارے میں کہا تھا۔ اور "آلہ" سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں، اور بعض نے اس کے علاوہ بھی کہا ہے۔)

اور "إن لا تحل لنا الصدقة" کی خبر ہے — بعض نے کہا: اس سے مراد فرض صدقہ (زکوٰۃ) ہے، کیونکہ صدقہ کے مطلق ذکر سے یہی متبادر ہوتا ہے۔ اور بعض نے کہا: مطلقاً (نفل اور فرض دونوں) — اور یہ امام مالک کا مذہب ہے۔ جبکہ پہلا قول (صرف فرض) شافعیہ، حنفیہ اور دیگر کا مسلک ہے۔

📖 تخریج (حوالہ)
یہ حدیث امام احمد بن حنبل اور ابن حبان نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔

امام ابن حجر نے "الفتح" میں کہا: "اس کی سند قوی ہے۔"
امام ہیثمی نے کہا: "امام احمد کے راوی ثقہ ہیں۔"



📜 شرح المناوی:
"بے شک ہم (یعنی) آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) — یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب کے مؤمنین — (ہیں)۔"

(علامہ عکبری نے رائے دی ہے کہ لفظ "آل" منصوب ہے، بطورِ مفعولِ مطلق یا فعل "أَعْنِي" (یعنی مراد ہے) کے ساتھ، اور یہ مرفوع نہیں ہے کہ "إن" کی خبر ہو، کیونکہ یہ (یعنی ہمارا آل ہونا) تو معلوم ہے اور اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور "إن" کی خبر یہ ہے:)
"ہم پر صدقہ حلال نہیں ہے۔"

(کیونکہ صدقہ ایک پاکیزگی اور دھلائی ہے، جسے اعلیٰ مرتبے اور برگزیدہ لوگ (اپنی عزت کی وجہ سے) ناپسند کرتے ہیں۔ اور (محدثین نے) اسے (صدقہ) عرف (معروف) کے ساتھ مخصوص کر دیا تاکہ معلوم ہو کہ اس سے مراد زکوٰۃ ہے، یعنی) ہم پر وہ معروف صدقہ (جو عرف میں صدقہ کہلاتا ہے) حلال نہیں، اور وہ فرض (زکوٰۃ) ہے۔

بخلاف نفل صدقہ کے، تو وہ (شافعیہ، حنابلہ اور اکثر حنفیہ کے نزدیک) ان کے لیے حلال ہے، جبکہ امام مالک نے (صدقے کی) مطلق حرمت کو عام کیا ہے۔

امام زمخشری نے کہا: "صدقہ انبیاء پر حرام ہے۔" اور کہا گیا: "یہ (صدقہ) ہمارے نبی ﷺ کے سوا دوسرے انبیاء کے لیے حلال تھا، جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: 'وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا' (اور ہم پر صدقہ کرو)۔"

📖 تخریج (حوالہ)
یہ حدیث امام احمد بن حنبل اور ابن حبان نے ابو الحواری کے واسطے سے حضرت حسن بن علی (امیرالمؤمنین) رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔

ابو الحواری کا بیان: "ہم حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس تھے، تو ان سے پوچھا گیا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا (حدیث) یاد رکھی ہے؟ یا (کہا) آپ نے آپ ﷺ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں آپ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ صدقہ کی کھجوروں کے ایک ڈھیر (جرین) سے گزرے، تو میں نے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی، تو آپ ﷺ نے اسے میرے منہ سے (لعاب کے ساتھ) نکال لیا۔" پھر بعض لوگوں نے کہا: "آپ اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟" تو آپ ﷺ نے (یہ جواب دیا)۔

امام ہیثمی نے کہا: "امام احمد کے راوی ثقہ ہیں۔"
امام ابن حجر نے "الفتح" میں کہا: "اس کی سند قوی ہے۔"


📌 حاصل اسباق و نکات
۱. آل محمد (ﷺ) پر صدقہ (زکوٰۃ) حرام ہے
یہ حدیث اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ، آپ کی آل (بنو ہاشم اور بنو مطلب) اور آپ کی ازواج مطہرات پر زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ لینا حرام ہے۔ یہ ان کی تعظیم اور عزت کی حفاظت کے لیے ہے۔
(حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر 1069)

۲. "صدقہ" سے کیا مراد ہے؟ (علماء کا اختلاف)
اس حدیث میں "الصدقة" کے بارے میں علماء کے دو اقوال ہیں:

قول اول (شافعیہ، حنابلہ، اکثر حنفیہ): اس سے مراد فرض صدقہ (زکوٰۃ) ہے، کیونکہ صدقہ کا مطلق ذکر زکوٰۃ پر ہی منصرف ہوتا ہے۔

قول دوم (امام مالک): اس سے مراد مطلق صدقہ ہے، خواہ وہ فرض ہو یا نفل۔

راجح قول: جمہور کے نزدیک یہ حکم زکوٰۃ کے ساتھ خاص ہے، البتہ نفل صدقہ ان کے لیے جائز ہے، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ہدیہ اور نفل صدقہ قبول فرمایا۔
(حوالہ: صحیح بخاری، حدیث نمبر 1485)

۳. "آل" سے کون لوگ مراد ہیں؟
علماء کے نزدیک "آل محمد" سے مراد:

بنو ہاشم (حضرت علی، عباس، جعفر اور ان کی اولاد)۔
بنو مطلب (حضرت حارث بن عبدالمطلب اور ان کی اولاد)۔

نیز ازواج مطہرات (نبی ﷺ کی بیویاں) بھی اس حکم میں شامل ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔
(حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ)

۴. صدقہ کی حرمت کی حکمت
اس حکمت کی چند وجوہات ہیں:
آل محمد کی عزت و وقار کی حفاظت۔
انہیں لوگوں کے اموال کی آلودگی سے بچانا۔
ان کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے، جیسا کہ دوسری احادیث میں آیا ہے۔
صدقہ لوگوں کے اموال کی گندگی (پاکیزگی کے لیے) ہے، اور اعلیٰ مرتبے والے اس سے دور رہتے ہیں۔

۵. اس حدیث کی سند قوی اور قابلِ اعتماد ہے
امام ابن حجر نے "فتح الباری" میں اس کی سند کو قوی قرار دیا ہے، اور امام ہیثمی نے کہا کہ امام احمد کے راوی ثقہ ہیں۔ اس لیے یہ حدیث قابلِ احتجاج اور قابلِ عمل ہے۔
(حوالہ: فتح الباری، مجمع الزوائد)

۶. حدیث کا پس منظر (واقعہ)
اس حدیث کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بچپن میں صدقہ کی ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی، تو نبی ﷺ نے اسے فوراً نکال کر فرمایا: "ہمیں صدقہ نہیں کھانا چاہیے۔" اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بچوں کو بھی احکامِ شرع کی تعلیم دینی چاہیے اور انہیں حرام اشیاء سے روکنا چاہیے۔

۷. انبیاء علیہم السلام پر صدقے کا حکم
امام زمخشری نے کہا کہ صدقہ انبیاء پر حرام ہے، البتہ بعض علماء نے کہا کہ یہ حکم ہمارے نبی ﷺ کے سوا دوسرے انبیاء کے لیے نہیں تھا، جیسا کہ سورہ یوسف (آیت 88) میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا: "وَتَصَدَّقْ عَلَيْنَا" (اور ہم پر صدقہ کرو) — جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے صدقہ جائز تھا۔

خلاصہ:
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آل محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر صدقہ (زکوٰۃ) حرام ہے، تاکہ ان کی عزت و وقار محفوظ رہے۔ اس میں صدقہ سے مراد زکوٰۃ (فرض صدقہ) ہے، البتہ نفل صدقہ ان کے لیے جائز ہے (جمہور کے نزدیک)۔ یہ حدیث سنداً قوی ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس کا پس منظر ہمیں بچوں کی شرعی تربیت کا بھی سبق دیتا ہے۔






عنوان
مصیبت یاد آنے پر استرجاع (إنا للہ وإنا إليہ راجعون) پڑھنے کا ثواب
(8) مصیبت میں صبر کرنا» استرجاع یعنی اللہ کی طرف لوٹنے کے اقرار کی تجدید۔
حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ طَالَ عَهْدُهَا قَالَ عَبَّادٌ قَدُمَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاهُ مِثْلَ أَجْرِهَا يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا
ترجمہ:
جس مسلمان مرد یا عورت کو کوئی مصیبت پہنچے پھر اسے وہ یاد آئے، حالانکہ اسے گذرے ہوئے کتنا ہی لمبا عرصہ ہوچکا ہو، عباد نے کہا: پرانا زمانہ ہوچکا ہو، پھر وہ کہے اس کیلئے استرجاع۔(یعنی انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ لیا کرے) تو تجدید(نیا) کردے گا ﴿لکھ دے گا﴾ اللہ اس کیلئے اسے، پس وہ عطاء کرے گا اسے ویسا ہی اجر جو اس مصیبت کے دن دیا تھا۔
[مسند احمد:1734(1644)، ﴿سنن ابن ماجہ:1600﴾، مسند ابویعلیٰ:6777، المعجم الاوسط للطبرانی:2768-4944، المعجم الکبیر للطبرانی:2895]

القرآن:
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:156، تفسیر الثعلبی:323، تفسیر ابن کثیر:1/469]

📜 شرح المناوی:
"جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے" — یعنی وہ چیز جو اسے خود، اس کے اہل خانہ یا اس کے مال میں تکلیف دے — "پھر وہ اس مصیبت کو یاد کرے اور اس وقت استرجاع پڑھ لے" — یعنی "إنا للہ وإنا إليہ راجعون" کہے — "چاہے اس مصیبت کو گزرے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہو" — مصنف (سیوطی) فرماتے ہیں: ایک روایت میں ہے کہ "جس نے چالیس سال بعد استرجاع پڑھا" — "تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی اجر عطا فرمائے گا جتنا اس دن تھا جب یہ مصیبت اس پر نازل ہوئی تھی" کیونکہ استرجاع بندے کا (اللہ کے سامنے) تسلیم و رضا کا اقرار ہے اور اعضاء کو ثابت قدم رکھنے کا اظہار ہے، اور اس لیے بھی کہ اس نے (پہلے) یہ کلمہ تو کہا تھا، لیکن پھر اپنے برے اعمال کی وجہ سے اسے آلودہ کر دیا اور اس کی برکت کو کمزور کر دیا، پس جب وہ اسے دوبارہ کہتا ہے تو اس نے اس چیز کی تجدید کر دی جو کمزور پڑ گئی تھی اور اس چیز کو پاک کر دیا جو آلودہ ہو گئی تھی۔

قاضی (عبدالباقی) نے فرمایا: صبر محض زبان سے استرجاع پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ (صبر) دل اور زبان دونوں سے ہے، اس لیے کہ وہ دل میں یہ تصور کرے کہ وہ جس (کام) کے لیے پیدا کیا گیا ہے (وہ رب کی طرف لوٹنا ہے) کیونکہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والا ہے، اور وہ اللہ کی اپنے اوپر نعمتوں کو یاد کرے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اس پر جو نعمتیں باقی ہیں وہ اس چیز سے کہیں زیادہ ہیں جو اس سے چھینی گئی ہے، تو مصیبت اس پر آسان ہو جاتی ہے اور وہ (اللہ کے سامنے) سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔

بعض (علماء) نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس ایک کلمہ کو مصیبت زدگان کی پناہ گاہ بنا دیا ہے کیونکہ اس میں عجیب و غریب معانی جمع کر دیے گئے ہیں۔

📌 فائدہ (متن کا اضافی حصہ)
ایک مرفوع حدیث (جو بظاہر مرسل ہے) میں آیا ہے کہ مصیبت میں اجر کو برباد کرنے والی چیزیں یہ ہیں: (۱) ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارنا (ماتم کرنا) اور (۲) (صبر جمیل کے بجائے) شکوہ کناں الفاظ کہنا۔

یہ حدیث (ابن ماجہ وغیرہ) نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور امام منذری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

📌 حاشیہ (۱) کی تشریح:
اللہ تعالیٰ نے ان کلمات (إنا للہ وإنا إليہ راجعون) کو مصیبت زدگان کی پناہ گاہ اور آزمائش میں مبتلا افراد کے لیے محفوظ جگہ بنایا ہے، کیونکہ اس میں مبارک معانی جمع کر دیے گئے ہیں۔

"إنا للہ" : توحید، بندگی کا اقرار اور ملکیتِ الٰہی کا اعتراف ہے۔

"وإنا إليه راجعون" : موت، قبروں سے اٹھنے (بعث) کا یقین، اور اس بات کا اعتراف ہے کہ تمام معاملات کا رجوع اسی (اللہ) کی طرف ہے۔

سعید بن جبیر نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے (اس کلمہ کی برکت کو اتنی واضح طور پر) کسی نبی کو نہیں دیا، اور اگر حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس (کلمہ کی اس وقت کی فضیلت) کا علم ہوتا تو وہ 'یا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ' (ہائے افسوس یوسف پر) نہ کہتے۔"


📌 حاصل اسباق و نکات:
۱. یہ روایت سنداً ضعیف ہے، اس لیے اسے سنتِ قطعی نہ سمجھیں
امام منذری نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کی سند میں کلام ہے۔ البتہ اس کا مفہوم (استرجاع کی فضیلت اور رضا بالقضاء) صحیح احادیث اور قرآن سے ثابت ہے۔ (حوالہ: فیض القدیر، اور منذری کا قول)

۲. استرجاع صرف مصیبت کے وقت نہیں، بلکہ ہر وقت باعثِ اجر ہے
یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ اگر کوئی پرانی مصیبت یاد آئے تو اس وقت بھی "إنا للہ وإنا إليہ راجعون" پڑھنا باعثِ اجر ہے، چاہے اسے گزرے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہو۔

۳. استرجاع کی تجدید گناہوں کو مٹاتی ہے
شارحین نے فرمایا: انسان زبان سے تو یہ کلمہ پڑھتا ہے، لیکن برے اعمال اسے آلودہ کر دیتے ہیں۔ جب وہ دوبارہ استرجاع پڑھتا ہے تو وہ اس کلمہ کی تجدید کرتا ہے اور اسے گناہوں کی آلائش سے پاک کرتا ہے۔

۴. صبر محض زبان کا نہیں، دل کا بھی ہے
قاضی کا قول بہت اہم ہے: صبر صرف زبان سے "إنا للہ" کہنے کا نام نہیں، بلکہ دل سے اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنا اور یہ دیکھنا کہ جو کچھ باقی ہے وہ جو چھینا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ ہے — تب مصیبت آسان ہو جاتی ہے۔

۵. استرجاع میں توحید اور آخرت کا یقین مضمر ہے
"إنا للہ" میں توحید اور بندگی کا اقرار ہے، جبکہ "وإنا إليه راجعون" میں موت، بعث اور آخرت کا یقین ہے۔ یہ کلمہ محض ایک دعا نہیں، بلکہ مسلمان کا مکمل منہجِ حیات ہے۔

۶. سعید بن جبیر کا قول — حضرت یعقوب علیہ السلام سے عبرت
سعید بن جبیر نے فرمایا کہ اگر حضرت یعقوب علیہ السلام کو اس کلمہ کی برکت کا علم ہوتا تو وہ افسوس کے بجائے صبر و تسلیم کا اظہار کرتے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مصائب میں صبر اور استرجاع انبیاء کا طریقہ ہے، اور یہ ہماری روحانی بلندی کا ذریعہ ہے۔

۷. مصیبت میں ممنوع افعال سے بچیں
اس حدیث کی شرح میں ایک فائدہ یہ بھی بیان کیا گیا کہ مصیبت میں ماتم کرنا (اپنے ہاتھوں کو مارنا) اور شکوہ کناں الفاظ کہنا اجر کو برباد کر دیتا ہے۔ اس لیے مصیبت میں جزع (بے صبری) اور شکوہ سے بچنا چاہیے۔

۸. رضا بالقضاء پر اجر ملتا ہے، چاہے مصیبت پرانی ہو
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا (رضا بالقضاء) ہمیشہ باعثِ اجر ہے، چاہے مصیبت کو گزرے ہوئے کتنے ہی عرصہ ہو گیا ہو۔

خلاصہ: یہ روایت "من أصيب بمصيبة ... وإن تقادم عهدها" اگرچہ سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم (استرجاع کی فضیلت، رضا بالقضاء، اور صبرِ حقیقی) قرآن و صحیح احادیث سے مکمل طور پر مؤید ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب بھی کوئی مصیبت یاد آئے، دل و زبان سے "إنا للہ وإنا إليہ راجعون" پڑھیں، اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں، اور ماتم اور شکوہ سے بچیں۔ البتہ اس مخصوص روایت کو سنتِ نبوی قرار نہ دیں، کیونکہ اس کی سند میں کلام ہے۔
---

ترجمہ
"جس شخص کو کوئی مصیبت (جان، مال یا اہلِ خانہ میں) پہنچے، پھر وہ اس مصیبت کو یاد کرے اور اس وقت استرجاع (إنا للہ وإنا إليہ راجعون) پڑھ لے، چاہے اس مصیبت کو گزرے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی ثواب عطا فرمائے گا جتنا اس دن تھا جب یہ مصیبت اس پر نازل ہوئی تھی۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:2768]

(ایک روایت میں ہے: "چالیس سال بعد استرجاع پڑھنے والے کے لیے بھی")

---

حوالہ (تخریج)

محدث» کتاب» رقم/حديث 
 الصنعانی» التنویر شرح الجامع الصغیر (8440)
المناوی» فیض القدیر شرح الجامع الصغیر (8459)
المنذری» الترغیب والترہیب ——

راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، اس لیے قابلِ عمل نہیں (سوائے فضائلِ اعمال کے اصول کے تحت، جس کی بھی یہاں گنجائش نہیں)۔

محدث» حکم» وجہ / وضاحت
امام سیوطی / الصنعانی» ضعیف» انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" (ضعف کا نشان) لگایا ہے۔
امام منذری» ضعیف» انہوں نے بھی اسے واضح طور پر ضعیف قرار دیا ہے۔
امام الهيثمي» ضعيف.[مجمع الزوائد:3946]

خلاصہ حکم:
یہ روایت سنداً ناقص ہے، لہٰذا اسے بطورِ دلیلِ شرعی پیش نہیں کیا جا سکتا، البتہ اس کے اندر موجود معانی (جیسے رضا بالقضاء، استرجاع کی فضیلت) دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔
---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

"استرجاع" کے الفاظ "إنا للہ وإنا إليہ راجعون" ہیں، جو مصیبت کے وقت پڑھے جاتے ہیں۔ اس حدیث میں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی پرانی مصیبت کو یاد کر کے یہ کلمہ پڑھے تو اسے اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اسے مصیبت کے دن ملا تھا۔

بعض علماء نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے اس ایک کلمہ کو مصیبت زدگان کی پناہ گاہ بنایا ہے، کیونکہ اس میں عجیب و غریب معانی جمع کر دیے گئے ہیں۔"

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رضا بالقضاء (اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا) پر اجر ملتا ہے، چاہے مصیبت کو گزرے ہوئے کتنا ہی عرصہ ہو گیا ہو۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:8440]

---

امام المناوی نے اس حدیث کی بہت عمدہ شرح کی ہے:

۱. استرجاع کا مفہوم اور اس کی حکمت

"إنا للہ وإنا إليہ راجعون" کے الفاظ میں دو عظیم حقائق ہیں:

· "إنا للہ": توحید، بندگی کا اقرار، اور یہ تسلیم کہ ہم اور ہماری تمام چیزیں اللہ کی ملکیت ہیں۔
· "إنا إليہ راجعون": موت اور آخرت کا یقین، اور یہ اقرار کہ ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

۲. گزرے ہوئے وقت پر ثواب کیوں ملتا ہے؟

شارحین نے اس کی تین وجوہات بیان کی ہیں:

· یہ استرجاع بندے کا تسلیمِ رضا اور جوارح (اعضاء) کو ثابت قدم رکھنے کا اقرار ہے۔
· انسان زبان سے تو یہ کلمہ پڑھتا ہے، مگر بعد میں برے اعمال سے اسے آلودہ کر دیتا ہے۔ جب وہ دوبارہ استرجاع پڑھتا ہے تو وہ اس کلمے کی تجدید کرتا ہے اور اسے گناہوں کی آلائش سے پاک کرتا ہے۔
· اس میں مصیبت کے وقت کے مقابلے میں جذبۂ تسلیم کو تازہ کیا جاتا ہے۔

۳. قاضی عبدالباقی کا قول

قاضی صاحب فرماتے ہیں:
"صبر محض زبان سے استرجاع پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ صبر دل اور زبان دونوں سے ہے۔ بندہ دل میں یہ تصور کرے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والا ہے، اور اللہ کی باقی نعمتوں کو یاد کرے جو اس کے پاس موجود ہیں، تو اسے اندازہ ہو گا کہ اللہ نے جو کچھ چھینا ہے اس سے کہیں زیادہ اس کے پاس باقی رکھا ہے، اس لیے مصیبت اس پر آسان ہو جاتی ہے اور وہ اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔"

۴. یہ کلمہ مصیبت زدگان کی پناہ گاہ ہے

بعض علماء نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے اس ایک کلمہ (إنا للہ وإنا إليہ راجعون) کو مصیبت زدگان کی پناہ گاہ اور آزمائش میں مبتلا افراد کے لیے محفوظ جگہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس میں عجیب و غریب معانی جمع کر دیے گئے ہیں۔"

---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. مصیبت کا ہر لمحہ یاد رکھنا اور اس پر صبر کرنا:
   اس حدیث کا مفہوم (اگرچہ سنداً ضعیف ہے) یہ ہے کہ جب بھی کوئی مصیبت یاد آئے، استرجاع پڑھنا ایک اچھا عمل ہے۔ اس سے رضا بالقضاء کا جذبہ زندہ رہتا ہے۔
2. استرجاع محض ایک دعا نہیں، بندے کا منہجِ حیات ہے:
   جیسا کہ شرح میں گزرا، استرجاع کا تعلق توحید، بندگی، موت اور آخرت کے یقین سے ہے۔ یہ ایک مسلمان کے ایمان کا حقیقی اظہار ہے۔
3. ثواب کا تسلسل اور کلمہ کی تجدید:
   یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیکی کو زبان اور عمل سے تازہ کرتے رہنا چاہیے۔ گناہوں کے باعث نیکیاں مٹ جاتی ہیں، لیکن انہیں دوبارہ پڑھ کر (جیسے استرجاع، استغفار) زندہ کیا جا سکتا ہے۔
4. "الصبر عند الصدمة الأولى" سے کوئی تضاد نہیں:
   نبی ﷺ کا فرمان "إنما الصبر عند الصدمة الأولى" (صحیح بخاری) ہے، یعنی مکمل صبر تو پہلی ضرب پر ہوتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں صبر نہ کریں، بلکہ اس کا تعلق اعلیٰ درجہ کے صبر سے ہے، جبکہ ہر وقت مصیبت یاد کر کے استرجاع پڑھنے میں بھی اجر ہے۔
5. جو چیزیں اجر کو برباد کر دیتی ہیں:
   شارحین نے ایک اور روایت (مرسل) کا حوالہ دیا کہ مصیبت میں اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارنا (ماتم) اور یہ کہنا کہ 'صبر جمیل' کے بجائے شکوہ کرنا اجر کو ضائع کر دیتا ہے، اس لیے مصیبت میں جزع (بے صبری) اور شکوہ سے بچنا چاہیے۔
6. ایک قیمتی فائدہ: استرجاع کا جامع ہونا:
   امام سعید بن جبیر فرماتے ہیں: اللہ نے یہ کلمہ کسی نبی کو اس طرح نہیں دیا جس طرح اس امت کو دیا (یہ امتیازی فضیلت ہے)۔ اگر حضرت یعقوب علیہ السلام کو یہ کلمہ کی حقیقت معلوم ہوتی تو وہ "یا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ" (یوسف: 84) نہ کہتے۔

---

خلاصہ: یہ روایت "من أصيب بمصيبة ... وإن تقادم عهدها" اگرچہ سنداً ضعیف ہے اور اس پر عمل کرنا بطورِ سنت مؤکدہ درست نہیں، لیکن اس کے پائے جانے والے معانی (رضا، تسلیم، استرجاع کی فضیلت، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر) قرآن و صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ لہٰذا مصیبت یاد آنے پر دل و زبان سے إنا للہ وإنا إليہ راجعون پڑھنا باعثِ اجر ہے، البتہ اس مخصوص روایت کو سنتِ نبوی قرار نہ دیں۔






(9) حاملانِ قرآن جنت کے سردار ہیں:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ:
"قرآن کے حامل (یعنی اسے پڑھنے، حفظ کرنے اور اس پر عمل کرنے والے) قیامت کے دن جنت والوں کے عرفاء(رئیس وسردار) ہوں گے۔"

[طبرانی:2899، جامع الاحادیث-السیوطی:11646، کنزالعمال:2289]

القرآن:
...جن پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا۔۔۔
[سورۃ الجمعہ:5]
بےشک ہمارے ذمہ ہے اس(قرآن)کو جمع(یاد)کروانا اور پڑھوانا۔
[سورۃ القیامۃ:19]



حوالہ (تخریج)

محدث کتاب رقم / مقام
الطبرانی المعجم الکبیر (3/132، رقم 2899)
الهیثمی مجمع الزوائد (7/161)
ابن الجوزی الموضوعات (1/253)
الألبانی ضعیف الجامع (2744)
الألبانی السلسلة الضعیفة (3497)

راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث سنداً ضعیف بلکہ ابن الجوزی کے نزدیک موضوع (من گھڑت) ہے۔

محدث حکم وجہ
امام ہیثمی ضعیف سند میں اسحاق بن ابراہیم بن سعید المدنی موجود ہے، جو ضعیف راوی ہے۔
ابن الجوزی موضوع انہوں نے اسے اپنی کتاب "الموضوعات" میں ذکر کیا اور راوی کو متروک قرار دیا۔
علامہ البانی ضعیف انہوں نے اسے "ضعیف الجامع" اور "السلسلة الضعیفة" میں ذکر کیا۔

🔹 اہم نکتہ:
امام سیوطی یا الصنعانی (مصنف) نے اس پر "المتن صحیح" (یعنی متن/معنی درست ہے) کا تعقب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ سند کمزور ہے، لیکن اس کا مفہوم صحیح احادیث سے مؤید ہے، اس لیے اسے بالکل باطل نہیں کہا جا سکتا۔

---

شرح (تشریح)

"حملة القرآن" سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کو:

· حفظ کریں
· تلاوت کریں
· احکام پر عمل کریں
· دوسروں کو سکھائیں

"عرفاء" (جمع عریف) اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی قبیلے یا گروہ کے حالات سے باخبر ہو اور ان کا نگراں ہو۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اہل قرآن جنت میں دوسروں کی نسبت بلند مرتبہ، رئیس اور سردار ہوں گے۔

---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. اہل قرآن کا مقام بہت بلند ہے:
   اگرچہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن قرآن کے اہل کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

· نبی ﷺ نے فرمایا: "خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ" (بخاری) — تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔

2. سند اور متن کا فرق:
   اس حدیث کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں اصول حدیث کا سبق دیتی ہے۔ یہاں سند ضعیف ہے، لیکن متن صحیح ہے (دوسری احادیث کی رو سے)۔ لہٰذا محدثین اسے فضائل میں بطور شاہد (معاون) استعمال کر سکتے ہیں، مگر اسے "نبی کا قول" سمجھ کر یقینی طور پر ثابت نہیں کر سکتے۔
3. موضوع اور ضعیف کی باریکی:

· ابن الجوزی نے اسے موضوع (من گھڑت) کہا کیونکہ ان کے نزدیک راوی (اسحاق بن ابراہیم) متروک ہے۔
· صنعانی نے اسے صحیح المتن کہا کیونکہ یہ مفہوم قرآن کے عمومی اصولوں (إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ...) اور دوسری احادیث کے خلاف نہیں ہے۔
· البانی نے اسے ضعیف کہا (موضوع نہیں)، کیونکہ شواہد کی بنا پر وہ اسے بالکل گھڑا ہوا نہیں سمجھتے۔

4. قرآن کی حرمت اور توقیر:
   اہل قرآن کا جنت میں سردار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کو صرف پڑھنا ہی نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا اور اس کی تعلیم دینا بھی ضروری ہے۔
5. عریف کا تصور:
   اسلام میں علماء اور حفاظ قرآن کو امت کا وارث اور رہنما قرار دیا گیا ہے۔ عریف کا لفظ ذمہ داری اور قیادت کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی اہل قرآن کو چاہیے کہ وہ اپنی قوم کی اصلاح اور رہنمائی کریں۔
6. ضعیف حدیث پر عمل کا اصول:
   علمائے کرام کے مطابق فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ:

· وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو (یہاں اختلاف ہے)۔
· اس کا مفہوم کسی صحیح نص کے خلاف نہ ہو (یہاں مفہوم صحیح ہے)۔
· اسے سنت یقینی نہ سمجھا جائے۔

---

خلاصہ: یہ حدیث کہ "حملة القرآن عرفاء أهل الجنة" سنداً تو طبرانی کی روایت میں ضعیف ہے، اور ابن الجوزی نے اسے موضوع تک کہہ دیا، لیکن اس کا معنی اور مفہوم صحیح احادیث سے مؤید ہے، جس کی بنا پر امام سیوطی/صنعانی نے اس کے متن کو صحیح قرار دیا۔ لہٰذا ہم اہل قرآن کی فضیلت پر یقین رکھیں، مگر اس مخصوص لفظی روایت کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے "یقیناً" نہ کہیں، بلکہ اسے ثابت شدہ احادیث سے ثابت کریں۔



(10) آیۃ الکرسی کی فضیلت:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من قَرَأَ آيَة الْكُرْسِيّ فِي دبر الصَّلَاة الْمَكْتُوبَة كَانَ فِي ذمَّة الله إِلَى الصَّلَاة الْأُخْرَى 
ترجمہ:
جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھی، دوسری نماز تک وہ اللہ کی حفاظت اور ذمہ میں رہے گا۔
﴿تفسير الدر المنثور-امام السيوطي: ج2 ص6﴾

شرح الصنعاني:
"(وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے) یعنی اللہ اسے مصائب سے یا گناہوں اور معصیتوں سے محفوظ رکھے گا۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسے تکلیف پہنچائے گا، اللہ اس سے اس کا بدلہ لے گا، خاص طور پر اس شخص کے ساتھ۔ ورنہ عام طور پر جو بھی کسی مومن کو ناجائز تکلیف پہنچاتا ہے، اللہ اس سے اس کا بدلہ لے گا۔"
[التنوير شرح الجامع الصغير:8775]

(من قرأ آية الكرسي دبر كل صلاة مكتوبة) یعنی فرض نمازوں کے بعد آیت الکرسی پڑھے – اس سے نفلی نمازیں خارج ہو جائیں گی، کیونکہ "مکتوبہ" کا لفظ صرف فرض نمازوں کے لیے ہے۔ یہ عمل نماز سے فارغ ہونے کے فوراً بعد کیا جائے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير:8907]



شواھد الحدیث:
آیت الکرسی کی فضیلت اور محدثین کا اختلاف
متن (عربی):
(1)حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ»
ترجمہ:
"جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے۔"
(2)(اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت میں مزید یہ فرمانِ رسول ہے کہ:)
«وَمَنْ قَرَأَهَا حِينَ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ، آمَنَهُ اللَّهُ عَلَى دَارِهِ وَدَارِ جَارِهِ، وَأَهْلِ دُوَيْرَاتٍ حَوْلَهُ»
ترجمہ:
"اور جس شخص نے اسے سونے کے وقت پڑھا، اللہ اسے اس کے گھر، اس کے پڑوسی کے گھر، اور اس کے اردگرد کے چھوٹے چھوٹے گھروں والوں کی حفاظت کرے گا۔"



شرح عبد الحق الدهلوي:

قولہ: (لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ)
اس کلام پر اشکال کیا گیا کہ ظاہر تو یہ تھا کہ کہا جائے: "اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف زندگی روکتی ہے" (کیونکہ زندگی ہی رکاوٹ ہے، جبکہ موت تو جنت میں داخلے کا سبب ہے)۔

اس کے کئی جوابات دیے گئے ہیں:

پہلا جواب: یہاں "موت" سے مراد دنیاوی فانی زندگی ہے جو موت پر ختم ہوتی ہے (یعنی موت کی طرف منسوب کر دی گئی)۔ یہ جواب کمزور ہے اور سمجھ سے بعید ہے۔

دوسرا جواب: مراد "موت کا مؤخر ہونا اور اس کا نہ آنا" ہے۔

تیسرا جواب: مراد یہ ہے کہ بندہ قبر میں ہوگا، اور جب بعث (دوبارہ اٹھنا) ہوگا تو جنت میں داخل ہوگا۔

چوتھا جواب (نور الحق کا قول): مراد یہ ہے کہ دنیا میں جنت میں فوری داخل ہونے سے صرف موت ہی رکاوٹ ہے۔ موت شرط ہے، اور جنت مؤخر (آخرت میں) ہے۔ اگر موت نہ ہوتی تو وہ ابھی جنت میں داخل ہو جاتا، لیکن چونکہ جنت میں موت نہیں ہوتی، اور موت کے بغیر جنت میں داخلہ ممکن نہیں، اس لیے اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

طیبی کا قول: موت اس کے اور جنت کے درمیان حائل ہے، جب موت آ کر ختم ہو جائے گی تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔

ایک اور تشریح: قبر میں داخلے سے پہلے موت حائل ہے، اور موت کے بعد روح جنت میں داخل ہو جاتی ہے۔

قولہ: (مَضْجَعَهُ) (سونے کی جگہ)
مضجع (جیم کے فتحہ کے ساتھ) سونے کی جگہ کو کہتے ہیں۔

(رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَقَالَ: إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ)
بیہقی نے اسے روایت کیا اور کہا: اس کی سند ضعیف ہے۔

"سفر السعادۃ" کا حوالہ
صاحبِ "سفر السعادۃ" نے اس حدیث کا پہلا حصہ (نماز کے بعد والا) نسائی کی روایت سے ابوامامہ کے حوالے سے ذکر کیا اور کہا:

"یہ حدیث نسائی کے علاوہ طبرانی، رویانی، دارقطنی، ابن حبان اور دیگر نے بھی روایت کی ہے۔ بعض حفاظ نے اسے صحیح کہا ہے۔

ابن الجوزی نے اسے "الموضوعات" (من گھڑت احادیث) میں ذکر کیا، لیکن حفاظ نے ان پر اعتراض کیا۔

ابن الجوزی نے محمد بن حمیر کے ضعف کی وجہ سے اسے موضوع کہا، جبکہ:

امام بخاری نے انہیں معتدل (قابل قبول) قرار دیا۔

یحییٰ بن معین (جو رجال کی جانچ میں سب سے سخت ہیں) نے انہیں ثقہ کہا۔
ان دو بزرگوں کی توثیق ان کی عدالت کے لیے کافی ہے۔

دوسرا حصہ (سونے سے پہلے والی روایت)
اس میں لفظ ہے: "من قرأ آية الكرسي في دبر الصلاة المكتوبة كان في ذمة الله إلى الصلاة الأخرى" (جو شخص فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے، وہ اگلی نماز تک اللہ کی ذمہ داری میں ہوتا ہے)۔

یہ حدیث کئی صحابہ سے مروی ہے:
حضرت علی
جابر بن عبداللہ
عبداللہ بن عمر
انس بن مالک
مغیرہ بن شعبہ
ابوامامہ

ان تمام صحابہ کی روایات کے مختلف طریق ہیں، اور ان کا جمع ہونا اس حدیث کی اصل کو تقویت دیتا ہے۔



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

آیت الکرسی کی عظمت: یہ قرآن کی سب سے بڑی آیت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا تھا ۔

فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت: یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی جائے۔ اس کا وعدہ ہے کہ ایسا کرنے والے کو جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے ۔

کبیرہ گناہوں سے اجتناب شرط ہے: شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں جنت کا وعدہ اس وقت تک ہے جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے ۔

حدیث کا درجہ: اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، لیکن متعدد طرق اور شواہد کی وجہ سے یہ قابل قبول ہے۔

امام ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں ذکر کیا۔

امام حاکم نے اسے صحیح کہا ۔

البانی نے اسے صحیح قرار دیا ۔

ابن الجوزی کا موقف اور اس کا رد: ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا، لیکن محدثین نے اسے رد کیا ۔

امام بخاری نے محمد بن حمیر سے روایت کی ہے۔

یحییٰ بن معین نے انہیں ثقہ کہا ہے۔

ضعیف حدیث کا فضائل میں استعمال: علماء کا قاعدہ ہے کہ ضعیف حدیث کو فضائل اعمال میں بغیر اس کے عقیدہ بنائے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت: اس سے انسان اپنے گھر، پڑوسیوں اور آس پاس کے رہنے والوں کی حفاظت میں ہو جاتا ہے۔

پڑوسیوں کی حفاظت: اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی بہت تاکید ہے، اور اس حدیث میں اس کی حفاظت کا بھی ذکر ہے۔

اذکار کی برکات: آیت الکرسی جیسی عظیم آیت کا ذکر انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں محفوظ رکھتا ہے۔

عمالِ صالح کی اہمیت: تھوڑا سا عمل (آیت الکرسی پڑھنا) اگر پابندی کے ساتھ کیا جائے تو بہت بڑی نجات کا سبب بن سکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب



شرح ملا علی قاری:
(وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر کے لکڑی کے تختوں پر (خطبہ دیتے ہوئے) سنا۔

ابن حجر نے فرمایا: "اس کا حکمت یہ تھی کہ منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینے کی دلیل کے بعد مزید وضاحت کی جائے، اور اس واقعے کو یاد دلانا اس امر کی تنبیہ ہے کہ یہ حکم (آیت الکرسی پڑھنے کا) لکڑی کے منبر کے بننے کے بعد کا ہے۔"

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے زمین پر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، جب مسلمان کثرت میں ہو گئے تو ان کے لیے طرافاء (ایک خاص قسم کی لکڑی) کا منبر بنایا گیا تاکہ آپ اس پر کھڑے ہو کر سب کو سنائیں۔ یہ منبر ہجری کے آٹھویں سال میں بنایا گیا، اور بعض نے ساتویں سال کہا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی" یعنی فرض نماز کے بعد، جیسا کہ حصن کی روایت میں ہے۔

"اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے"

امام تفتازانی نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، اب صرف موت باقی ہے جو رکاوٹ ہے۔ گویا موت کہہ رہی ہے: "پہلے میرا آنا ضروری ہے، پھر تو جنت میں جا سکتا ہے۔"

طیبی نے کہا: یعنی موت اس کے اور جنت میں داخل ہونے کے درمیان حائل ہے، جب موت آ کر ختم ہو جائے گی تو اس کا داخلہ ہو جائے گا۔ اسی طرح نبی ﷺ کا فرمان ہے: "اور موت اللہ سے ملاقات سے پہلے ہے" ۔

میرے (ملا علی قاری) کا قول: ممکن ہے کہ مقصد یہ ہو کہ اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز ہرگز نہیں روک سکتی، کیونکہ موت خود جنت میں داخل ہونے سے مانع نہیں ہے، بلکہ اس کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ اس شعر کی طرح ہے:
"اور ان میں کوئی عیب نہیں سوائے اس کے کہ ان کی تلواریں..." (یعنی یہ عیب نہیں ہے، بلکہ مدح ہے)۔

اور ممکن ہے کہ معنی یہ ہو: اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی، سوائے اس کے کہ وہ کافر ہو کر مر جائے، اس سے یہ اشارہ ہے کہ دیگر گناہ اسے نہیں روکیں گے۔

(وَمَنْ قَرَأَهَا حِينَ يَأْخُذُ مَضْجَعَهُ) یعنی جب وہ سونے کے لیے اپنی جگہ پر بیٹھے۔

(آمَنَهُ اللَّهُ) یعنی اللہ اسے محفوظ کر دے گا، اور اسے ہر ناپسندیدہ چیز سے خوف نہیں ہوگا۔

(وَعَلَى دَارِهِ) یعنی اس کے گھر میں موجود چیزوں کی حفاظت کرے گا۔

(وَدَارِ جَارِهِ) یعنی اس کے پڑوسی کے گھر، مال، جان وغیرہ کی حفاظت کرے گا۔

(وَأَهْلِ دُوَيْرَاتٍ حَوْلَهُ) "دُوَيْرَات" "دُوَيْرَة" (گھر کی تصغیر) کی جمع ہے، جو "دار" کی تصغیر ہے۔

ابن حجر نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کے آس پاس کے چھوٹے گھروں والوں کی بھی حفاظت کرے گا، خواہ وہ اس کے بالکل متصل نہ ہوں۔ پڑوسی سے مراد یہاں حقیقی پڑوسی (متصل) ہے، حالانکہ عرف میں چاروں طرف سے چالیس گھروں تک پڑوسی کہلاتے ہیں۔

طیبی نے کہا: اللہ نے ان کی حفاظت کو "عَلَى" کے ساتھ متعدی کیا، یعنی انہیں اس بات سے محفوظ رکھا کہ ان کے گھر والوں کو کوئی نقصان پہنچے، جیسا کہ قرآن میں ہے: {مَا لَكَ لَا تَأْمَنَّا عَلَى يُوسُفَ} (یوسف: 11) یعنی تم یوسف کے بارے میں ہم سے کیوں خائف ہو؟

(اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا اور کہا: اس کی سند ضعیف ہے۔)

جان لو کہ ضعیف حدیث کو فضائل اعمال میں عمل کیا جا سکتا ہے، اور اس حدیث کا پہلا حصہ (نماز کے بعد والا) حصن میں ہے، اور نسائی، ابن حبان اور ابن السنی نے اسے روایت کیا ہے۔

میرک نے کہا: ان سب نے حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت کیا ہے۔

حافظ منذری نے کہا: اسے نسائی اور طبرانی نے ایسی سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے جن میں سے ایک سند صحیح ہے۔ طبرانی نے بعض طرق میں "اور قل ہو اللہ احد" کا اضافہ کیا ہے، اور اس اضافے کے ساتھ اس کی سند بھی جید ہے۔

ابن حجر نے کہا: اس حدیث کا ابوامامہ سے ایک صحیح شاہد ہے جسے نسائی نے روایت کیا ہے، اور طبرانی نے آیت الکرسی کی فضیلت میں دوسری احادیث روایت کی ہیں۔

لیکن امام نووی نے کہا: یہ سب ضعیف ہیں۔

اور روایات کا کثرت سے آنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی صحیح اصل ہے۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

آیت الکرسی کی عظمت: یہ قرآن کی سب سے بڑی آیت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا تھا ۔

فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت: یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی جائے۔ اس کا وعدہ ہے کہ ایسا کرنے والے کو جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے ۔

سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت: اس سے انسان اپنے گھر، پڑوسیوں اور آس پاس کے رہنے والوں کی حفاظت میں ہو جاتا ہے۔

کبیرہ گناہوں سے اجتناب شرط ہے: شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں جنت کا وعدہ اس وقت تک ہے جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے ۔

حدیث کا درجہ: اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، لیکن متعدد طرق اور شواہد کی وجہ سے یہ قابل قبول ہے۔

امام منذری نے کہا: اس کی ایک سند صحیح ہے ۔

ابن حجر نے کہا: اس کا شاہد صحیح ہے ۔

البانی نے اسے صحیح قرار دیا ۔

ضعیف حدیث کا فضائل میں استعمال: علماء کا قاعدہ ہے کہ ضعیف حدیث کو فضائل اعمال میں بغیر اس کے عقیدہ بنائے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

ذکر کی برکات: آیت الکرسی جیسی عظیم آیت کا ذکر انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں محفوظ رکھتا ہے۔

پڑوسیوں کی حفاظت: اسلام میں پڑوسیوں کے حقوق کی بہت تاکید ہے، اور اس حدیث میں اس کی حفاظت کا بھی ذکر ہے۔

عمالِ صالح کی اہمیت: تھوڑا سا عمل (آیت الکرسی پڑھنا) اگر پابندی کے ساتھ کیا جائے تو بہت بڑی نجات کا سبب بن سکتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب



شرح الصنعاني:

(من قرأ آية الكرسي دبر كل صلاة مكتوبة) یعنی فرض نمازوں کے بعد آیت الکرسی پڑھے – اس سے نفلی نمازیں خارج ہو جائیں گی، کیونکہ "مکتوبہ" کا لفظ صرف فرض نمازوں کے لیے ہے۔ یہ عمل نماز سے فارغ ہونے کے فوراً بعد کیا جائے۔

(لم يمنعه من دخول الجنة إلا أن يموت) امام تفتازانی نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، اب صرف موت باقی ہے جو رکاوٹ ہے۔ (یہ نہیں کہ موت خود رکاوٹ ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ وہ ضرور جنت میں جائے گا، صرف موت آنی باقی ہے)۔

یہ حدیث ہمیں فرض نمازوں کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

(تخریج: ن حب عن أبي أمامة) یہ حدیث امام نسائی (ن) اور امام ابن حبان (حب) نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

مصنف (منذری) نے اسے صحیح ہونے کا اشارہ کیا ہے۔

ابن الجوزی نے اسے اپنی کتاب "الموضوعات" میں ذکر کیا کیونکہ اس میں محمد بن حمیر نامی راوی ہیں جنہوں نے اسے منفرد طور پر روایت کیا ہے۔

لیکن محدثین نے اس اعتراض کا رد کیا ہے کیونکہ امام بخاری نے محمد بن حمیر سے استدلال کیا ہے، اور یحییٰ بن معین (جو رجال حدیث کے بارے میں سب سے سخت ناقد ہیں) نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔

ابن القیم نے فرمایا: یہ حدیث کئی ضعیف طرق سے مروی ہے، لیکن جب یہ ضعیف طرق ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو جائیں تو وہ ایک قوت پیدا کر دیتے ہیں (یعنی یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچ جاتی ہے)۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

آیت الکرسی کی عظمت:
آیت الکرسی قرآن کی سب سے بڑی آیت ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا تھا ۔ اس میں اللہ کی توحید، حیات، قیومیت، علم اور قدرت کا مکمل اظہار ہے۔

فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت:
یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی جائے۔ اس کا وعدہ ہے کہ ایسا کرنے والے کو جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے ۔

شرط: کبیرہ گناہوں سے اجتناب:
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ ایسی احادیث میں جنت کا وعدہ اس وقت تک ہے جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے ۔ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں پر اصرار کرے تو یہ وعدہ اس پر لاگو نہیں ہوتا۔

حدیث کی سند میں اختلاف:
اس حدیث کی سند میں محمد بن حمیر نامی راوی ہیں۔ ان کے بارے میں محدثین کے اقوال مختلف ہیں:
یحییٰ بن معین اور دحیم نے انہیں ثقہ کہا ہے ۔
ابو حاتم نے کہا: "یہ حدیث لکھی جا سکتی ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا" ۔
ابن حجر نے انہیں "صدوق" کہا ہے ۔
ابن الجوزی کا موقف اور اس کا رد: ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا، لیکن محدثین نے اسے رد کیا کیونکہ:
امام بخاری نے محمد بن حمیر سے روایت کی ہے۔
یحییٰ بن معین (جو سخت ناقد ہیں) نے انہیں ثقہ کہا ہے ۔
ابن القیم کا اصول: انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی حدیث کئی ضعیف طرق سے مروی ہو تو وہ طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور حدیث "حسن لغیرہ" کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔

نماز کے بعد اذکار کی اہمیت:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ فرض نماز کے بعد تھوڑا وقت لگا کر آیت الکرسی جیسی عظیم آیت پڑھنا ہمارے لیے کتنا بڑا ذریعۂ نجات ہے۔

دعا اور توبہ کی ضرورت:
شیخ ابن باز نے واضح کیا کہ ان وعدوں کے باوجود انسان کو اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے اور کبیرہ گناہوں سے بچنا چاہیے ۔

واللہ اعلم بالصواب




شرح المناوي:

آیت الکرسی کی فضیلت اور محدثین کا اختلاف
(مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ)
ترجمہ:
"جس نے ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی، اسے جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے۔"

امام تفتازانی نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے کی تمام شرائط پوری ہو چکی ہیں، اب صرف موت باقی ہے جو رکاوٹ ہے۔ گویا موت کہہ رہی ہے: "پہلے میرا آنا ضروری ہے، پھر تو جنت میں جا سکتا ہے۔"

بعض علماء نے کہا: "دبر الصلاة" سے مراد نماز کے بعد ہے، لیکن اس میں اختلاف ہے کہ یہ سلام سے پہلے ہے یا بعد میں۔ امام ابن تیمیہ نے اسے سلام سے پہلے ہونے کو ترجیح دی ہے، جبکہ دوسرے علماء کے نزدیک سلام کے بعد ہے۔

فائدہ: قسطلانی کی شرح بخاری میں ہے کہ جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کا التزام کرے، اس کی روح کو اللہ کے سوا کوئی اور قبض نہیں کرے گا۔

تخریج:

(ن) امام نسائی نے روایت کیا۔

(حب) امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

ابن الجوزی نے اس حدیث کو اپنی کتاب "الموضوعات" (من گھڑت احادیث) میں ذکر کیا کیونکہ اسے محمد بن حمیر نے منفرد طور پر روایت کیا ہے۔

لیکن محدثین نے ان کی تردید کی، کیونکہ:

امام بخاری نے محمد بن حمیر سے استدلال کیا ہے اور ان سے حدیث روایت کی ہے۔

یحییٰ بن معین (جو رجال حدیث کے سب سے سخت ناقد ہیں) نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔

ابن القیم نے فرمایا: یہ حدیث کئی ضعیف طرق سے مروی ہے، لیکن جب یہ ضعیف طرق ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو جائیں اور ان کے راستے مختلف ہوں تو وہ ایک قوت پیدا کر دیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اصل ہے اور یہ موضوع (من گھڑت) نہیں ہے۔

ابن حجر نے "تخریج المشکاة" میں فرمایا: "ابن الجوزی اس حدیث کو موضوع کہنے میں غافل رہے، یہ ان کی سب سے نمایاں غلطیوں میں سے ہے۔"

دمیاطی نے کہا: اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں، جب یہ ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو جائیں تو ایک قوت پیدا ہو جاتی ہے۔

ذہبی نے اپنی تاریخ میں سیف ابن ابی المجد حافظ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: "ابن الجوزی نے اپنی کتاب الموضوعات میں کچھ ایسی احادیث کو موضوع قرار دے کر غلطی کی ہے جن کے بارے میں کسی نے صرف ایک راوی کی کمزوری کی بات کہی تھی۔ یہ زیادتی اور بے راہ روی ہے، اور ان میں سے یہ حدیث بھی ہے۔"



حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

آیت الکرسی کی عظمت:
یہ قرآن کی سب سے بڑی آیت ہے ۔ نبی ﷺ نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا: "آیت الکرسی قرآن کی سب سے بڑی آیت ہے" اور اس کی فضیلت میں کہا: "اس کے لیے دو لب اور دو ہونٹ ہیں جو عرش کے ساق پر اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔" 

فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنے کی فضیلت:
یہ حدیث اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی جائے۔ اس کا وعدہ ہے کہ ایسا کرنے والے کو جنت میں داخل ہونے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے ۔

کبیرہ گناہوں سے اجتناب شرط ہے:
شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں جنت کا وعدہ اس وقت تک ہے جب تک بندہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے ۔ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں پر اصرار کرے تو یہ وعدہ اس پر لاگو نہیں ہوتا ۔

ابن الجوزی کا موقف اور اس کا رد:
ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا، لیکن محدثین نے اسے رد کیا ۔
امام بخاری نے محمد بن حمیر سے روایت کی ہے۔
یحییٰ بن معین نے انہیں ثقہ کہا ہے۔

حدیث کا درجہ:
جمہور محدثین کے نزدیک یہ حدیث صحیح یا حسن ہے۔
ابن حبان نے اسے اپنی صحیح میں ذکر کیا اور صحیح کہا ۔
امام نووی نے اسے حسن کہا ۔
ابن کثیر نے کہا: یہ سند بخاری کی شرط پر ہے ۔
البانی نے اسے صحیح قرار دیا ۔
ابن القیم کا اصول: انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی حدیث کئی ضعیف طرق سے مروی ہو تو وہ طرق ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں اور حدیث "حسن لغیرہ" کے درجے تک پہنچ جاتی ہے، بشرطیکہ وہ طرق مختلف ہوں اور ان کے مخرج مختلف ہوں ۔

حدیث کی صحت کی شہادت:
اس حدیث کو کئی صحابہ سے روایت کیا گیا ہے:
ابو امامہ (اصل روایت)
علی بن ابی طالب
عبداللہ بن عمر
مغیرہ بن شعبہ
جابر بن عبداللہ
انس بن مالک
ان تمام طرق کے جمع ہونے سے حدیث قوت اختیار کر جاتی ہے ۔

آیت الکرسی کا شیطان سے بچاؤ:
آیت الکرسی انسان کو شیطان کے شر سے بچاتی ہے، جیسا کہ مشہور حدیث میں ہے کہ شیطان نے ابوہریرہ کو بتایا: "جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی پڑھو، اللہ کی طرف سے ایک محافظ تمہارے ساتھ ہوگا اور شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔" 

نماز کے بعد اذکار کی اہمیت:
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ فرض نماز کے بعد تھوڑا وقت لگا کر آیت الکرسی جیسی عظیم آیت پڑھنا ہمارے لیے کتنا بڑا ذریعۂ نجات ہے ۔

شیخ ابن باز کا عمل:
انہوں نے فرمایا: "میں نے ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنا کبھی نہیں چھوڑا۔"  یہ اس عمل کی اہمیت اور ان کے اس پر یقین کو ظاہر کرتا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب




(11) حسنِ سلوک کی فضیلت:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«من أجرى الله على يديه فرجا لمسلم فرّج الله عنه كرب الدنيا والآخرة»
ترجمہ:
جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کی تنگی کیلئے آسانی جاری کردی تو اللہ تعالیٰ دور کرے گا، اس سے دنیا و آخرت کی کرب وپریشانی۔

القرآن:
اور اگر کوئی تنگدست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے، اور صدقہ ہی کردو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو۔
[سورۃ البقرة:280]


شرح المناویؒ:
جس شخص کے ہاتھوں اللہ نے کسی مسلمان (معصوم) کی مصیبت دور کی، تو اللہ اس سے دنیا اور آخرت کی مصیبتیں دور کر دے گا، یہ اس کے عمل کا بدلہ ہے۔ اور لوگوں کی حاجتیں پوری کرنا بہت بڑا فضل(کرم واحسان) ہے، جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

شرح الصنعانیؒ:
جس شخص کے ہاتھوں اللہ نے (دنیا کی) کسی مصیبت کو دور کیا (مسلمان کے لیے) یا کسی معاہد (غیر مسلم) کے لیے، تو وہ مأجور(اجر/ثواب دیا گیا) ہے، اگرچہ اسے یہ خاص اجر نہ ملے۔ اللہ اس سے دنیا اور آخرت کی مصیبتیں دور کر دے گا۔ اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ اللہ ایک مصیبت دور کرنے پر اس کی تمام مصیبتیں دور کر دے گا۔ اس لیے اس میں بندوں کو ترغیب ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مصیبتیں دور کرنے کی فکر کریں تاکہ اللہ ان کی مصیبتیں دور کرے۔ اور حاجتیں پوری کرنا بہت بڑا فضل(کرم واحسان) ہے۔


حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

دوسروں کی مصیبت دور کرنے کا عظیم اجر:
جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت دور کرتا ہے، اللہ اس سے دنیا اور آخرت کی تمام مصیبتیں دور کر دیتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا فضل ہے۔

معاہد (غیر مسلم) کی مدد کرنے پر بھی اجر ہے:
اگر کوئی شخص کسی معاہد (غیر مسلم جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو) کی مصیبت دور کرے تو وہ بھی اجر پاتا ہے، اگرچہ اسے وہ خاص اجر نہ ملے جو مسلمان کو ملتا ہے۔

ایک نیکی کا بدلہ کئی گنا:
ایک مصیبت دور کرنے پر اللہ تمام مصیبتیں دور کر دیتا ہے۔ یہ اللہ کے فضل اور کرم کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

مسلمانوں کا باہمی تعاون:
یہ حدیث مسلمانوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں، ایک دوسرے کی مصیبتیں دور کریں، تاکہ اللہ ان کی مصیبتیں دور کرے۔

حاجت پوری کرنے کی فضیلت:
لوگوں کی حاجتیں پوری کرنا اور ان کی مشکلات دور کرنا بہت بڑا فضل ہے، جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

دنیا اور آخرت کی کامیابی:
جو شخص دنیا میں دوسروں کی مصیبت دور کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

عمل کا بدلہ:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نیکی کا بدلہ بھرپور دیتا ہے، اور ایک نیکی کا بدلہ کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے۔

مسلمانوں کی ذمہ داری:
ہر مسلمان پر ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھائی کی مصیبت دور کرنے کی کوشش کرے، خواہ وہ مالی ہو، جسمانی ہو، یا نفسیاتی۔

اللہ کی رحمت کی وسعت:
اس حدیث سے اللہ کی رحمت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی نیکی کے بدلے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔

اجتماعی فلاح:
جب مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں گے تو پوری امت کی فلاح ہوگی، اور اللہ کی رحمت نازل ہوگی۔



(12) لازمی بخشش کا نسخہ:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ الْمَغْفِرَةِ  إِدْخَالَ السُّرُورِ عَلَى أَخِيكَ الْمُسْلِمِ
ترجمہ:
مغفرت کو لازم کردینے والی باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم اپنے مسلمان بھائی پر سرور (خوشی) داخل کرو۔

القرآن:
۔۔۔ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور پرہیزگاری میں۔۔۔
[سورۃ المائدۃ:3]

📜 شرح المناوی:
"(بے شک) مغفرت کے اسباب میں سے (غیبوں کا جاننے والا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرمانے کے لیے یہ چیز موجب بناتا ہے) تمہارا اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرنا (ہے)۔"

**(ایک روایت میں) "ادخال" (کے صیغے کے ساتھ) آیا ہے، جس کا مطلب ہے خوشی اور بشاشت پہنچانا۔

یعنی (یہ خوشی) کسی کے ساتھ احسان کی بشارت دے کر، کسی کو ہدیہ و تحفہ پیش کر کے، کسی تنگ دست کی پریشانی دور کر کے، کسی محترم شخص کو نقصان سے بچا کر، یا اس سے ملتے جلتے دوسرے ذرائع سے (حاصل کی جا سکتی ہے)۔

(یہ سب) اس لیے کہ تمام مخلوقات (اللہ کی) عیال (زیر کفالت) ہیں، اور اللہ تعالیٰ کو ان میں سے وہ شخص سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی عیال کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع بخش ہو، اور جس سے اللہ محبت فرماتا ہے، اس کی مغفرت فرما دیتا ہے۔

📖 تخریج (حوالہ)
یہ حدیث امام طبرانی نے اپنی کتابوں "المعجم الکبیر" اور "المعجم الأوسط" میں حضرت عبداللہ بن حسن سے، وہ اپنے والد (حسن بن علی) سے، وہ اپنے دادا حضرت حسین بن علی (جو نبی کریم ﷺ کی دو ریحانوں (خوشبودار پھولوں) میں سے ایک ہیں) سے روایت کی ہے۔

🧐 محدثین کا حکم (حیثیتِ حدیث)
محدث حکم وجہ
امام منذری ضعیف ——
امام ہیثمی ضعیف فرمایا: "اس میں جہم بن عثمان راوی ہیں، جو ضعیف ہیں۔"
حافظ ابن حجر اس میں جہالت (نامعلومی) ہے فرمایا: "جہم بن عثمان میں جهالة (نامعلومی) ہے اور بعض اہل علم نے ان پر کلام کیا ہے۔"
نوٹ: اگرچہ اس روایت کی سند میں جہم بن عثمان کی وجہ سے کمزوری ہے، لیکم عبداللہ بن حسن (جو اس کے راویوں میں سے ایک ہیں) اہل بیت کے ائمہ اور عبادت گزاروں میں سے ہیں، ایک تابعی ہیں، جنہوں نے عبداللہ بن جعفر اور دیگر کبار تابعین سے روایت کی ہے، اور خود امام مالک اور امام زہری نے ان سے روایت کیا ہے اور بڑے علماء نے ان کی تعریف کی ہے۔

📌 حاصل اسباق و نکات
۱. مسلمان بھائی کو خوش کرنا مغفرت کا باعث ہے
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دوسروں کو خوش کرنا، خاص طور پر مسلمان بھائی کو، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو بندے کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
(حوالہ: فیض القدیر، اور عمومی اصولِ شریعت)

۲. خوشی پہنچانے کے بے شمار طریقے
شارحین نے اس کی چند صورتیں بیان کی ہیں:

بشارت (خوشخبری دینا)۔
ہدیہ (تحفہ دینا)۔
تفریج کرب (پریشانی دور کرنا)۔
انقاذ محترم (کسی کو نقصان سے بچانا)۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مسرت پہنچانے کا دائرہ صرف مال خرچ کرنے تک محدود نہیں، بلکہ قسمت کا سہارا، اچھا مشورہ، اور مصیبت میں تعاون بھی اس میں شامل ہے۔
(حوالہ: فیض القدیر، اور شرح الحدیث)

۳. تمام مخلوقات اللہ کی عیال ہیں (اللہ کے زیرِ کفالت)
اس حدیث میں ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے: "الخلق كلهم عيال الله" یعنی تمام مخلوقات اللہ کی عیال (زیر کفالت) ہیں۔ جو شخص ان کی خدمت اور انہیں فائدہ پہنچاتا ہے، وہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب بن جاتا ہے۔
(حوالہ: یہ قول حدیث میں بھی آیا ہے، جیسا کہ سنن ابی داود (1642) میں ہے: "الخلق عيال الله، وأحبهم إلى الله أنفعهم لعياله")

۴. نفع پہنچانے والا محبوبِ الٰہی ہے
اللہ تعالیٰ کو وہ بندہ پسند ہے جو دوسروں کے لیے موجبِ نفع ہو، خواہ وہ نفع مادی ہو یا معنوی (علم، اخلاق، یا مدد)۔ اس کے برعکس، جو شخص دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے یا ان کی فکر نہیں کرتا، وہ اللہ کے قریب نہیں۔
(حوالہ: صحیح احادیث میں آیا ہے: "خير الناس أنفعهم للناس" (بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کو زیادہ نفع پہنچائیں) — [مسند الشهاب:1234])

۵. سند کی کمزوری کے باوجود معنی صحیح ہے
اگرچہ اس مخصوص روایت کی سند میں جہم بن عثمان کی وجہ سے ضعف ہے (جیسا کہ ہیثمی اور ابن حجر نے واضح کیا)، لیکن اس کا مفہوم مکمل طور پر صحیح احادیث اور قرآن کے اصولوں کے مطابق ہے۔ مثال کے طور پر، نبی ﷺ کا فرمان:

"من نفس عن مؤمن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة" 
(صحیح مسلم: 2699)
یعنی "جو شخص کسی مومن سے دنیا کی کوئی پریشانی دور کرے، اللہ اس سے قیامت کی کوئی پریشانی دور کرے گا۔"

۶. راوی کی تحقیق کا اہم سبق
اس عبارت میں محدثین نے ایک راوی (جہم بن عثمان) کو ضعیف قرار دیا، جبکہ دوسرے راوی (عبداللہ بن حسن) کو ثقہ اور قابلِ تعریف کہا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ سند کا ہر ایک راوی الگ سے جانچا جاتا ہے اور کسی ایک راوی کی وجہ سے پوری روایت رد یا قبول نہیں کی جاتی، بلکہ تحقیق کے بعد اس کی حیثیت متعین کی جاتی ہے۔
(حوالہ: اصولِ جرح و تعدیل)

۷. اہل بیت کی تعظیم اور علمی مقام
اس روایت میں عبداللہ بن حسن کا ذکر ہے، جو اہل بیت کے ائمہ اور تابعین میں سے ہیں۔ امام مالک اور زہری جیسے عظیم محدثین نے ان سے روایت کیا ہے، جو ان کی علمی عظمت کا ثبوت ہے۔
(حوالہ: فیض القدیر، اور دیگر کتبِ رجال)

۸. عملی تطبیق (ہر مسلمان کے لیے سبق)
ہمیں چاہیے کہ:

اپنے مسلمان بھائی کی کم مائیگی اور پریشانی کو دور کریں۔

اسے خوشخبری دیں (مثلاً کسی نیکی کی اطلاع)۔

اسے تحفے اور ہدیے دے کر دل جیتیں۔

اسے نقصان (جسمانی، مالی، یا اخلاقی) سے بچائیں۔


خلاصہ:
یہ روایت "إن من موجبات المغفرة إدخالك السرور على أخيك المسلم" اگرچہ سنداً ضعیف ہے (جہم بن عثمان کی وجہ سے)، لیکن اس کا مفہوم قرآن و سنت کے عین مطابق ہے اور دوسری صحیح احادیث سے مؤید ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو ہر ممکن طریقے سے خوش کریں، ان کی پریشانیاں دور کریں، اور انہیں نفع پہنچائیں، کیونکہ اس طرح ہم اللہ کی محبت اور مغفرت کے مستحق بن سکتے ہیں۔







جنگ کیا ہے؟

(13) حضرت حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«الْحَرْبُ خَدْعَةٌ»

ترجمہ:

"جنگ دھوکہ ہے۔"

[مسند البزار:1344]


📜 شرح المناوی:

«الْحَرْبُ خَدْعَةٌ» "جنگ دھوکہ (خدعہ) ہے" – (یہ لفظ) تین طرح پڑھا جاتا ہے:

پہلی صورت: "خَدْعَةٌ" (خاء کی فتح اور دال کا سکون) – یعنی ایک (واحد) دھوکہ، جس شخص کے لیے یہ (دھوکہ) آسان ہو جائے تو اس کے لیے فتح و کامرانی ہے۔

دوسری صورت: "خُدْعَةٌ" (خاء کی ضم اور دال کا سکون) – یعنی یہ (جنگ) انسان کو بہت زیادہ دھوکہ دینے والی ہے، کیونکہ یہ اسے وہم میں مبتلا کر کے خیالی باتیں دکھاتی ہے اور امیدیں دلاتی ہے، پھر جب وہ اس میں پڑتا ہے تو اسے معاملہ اپنے گمان کے برعکس پاتا ہے۔

تیسری صورت: "خُدَعَةٌ" (خاء کی ضم اور دال کی فتح) – یہ "ہمزۃ" اور "لمزۃ" کی طرح مبالغہ کا صیغہ ہے (یعنی بہت زیادہ دھوکہ باز)۔

چوتھی صورت: "خَدَعَةٌ" (دونوں کی فتح) – یہ "خادع" کی جمع ہے (یعنی دھوکے باز لوگ)۔

پانچویں صورت: "خِدْعَةٌ" (خاء کی کسر اور دال کا سکون) – یعنی یہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکا دیتی ہے، یا یہ کہ یہ دھوکہ دینے کی جگہ اور اس کا مقام اور متوقع مرکز ہے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

ان تمام لغوی صورتوں میں سب سے زیادہ فصیح "خَدْعَةٌ" (خاء کی فتح اور دال کا سکون) ہے، اور یہی نبی کریم ﷺ کی زبان ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس میں "تاء" (آخر میں) وحدانیت (ایک دھوپ) کی دلیل ہے – یعنی اگر دھوکہ مسلمانوں کی طرف سے ہو تو گویا آپ ﷺ نے انہیں اس کی ترغیب دی، خواہ ایک بار ہی ہو؛ اور اگر کفار کی طرف سے ہو تو گویا آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ان کے مکر و فریب سے خبردار کیا، خواہ ایک بار ہی ہو، اور ان سے ہرگز غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے بڑا فساد پیدا ہو سکتا ہے۔

عسکری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں چالاکی اور حکمتِ عملی (مماکرۃ) نیزے بازی اور تلوار بازی سے زیادہ نفع بخش ہے۔ اور مشہور کہاوت ہے: "جب تم غالب نہ آ سکو تو چال چلو (یعنی دھوکہ دو)"۔ یہ قول غزوۂ خندق کے موقع پر ارشاد ہوا، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو قریش، غطفان اور یہودیوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے لیے بھیجا تھا، جیسا کہ واقدی نے ذکر کیا ہے۔

یہ دھوکہ توریہ (کچھ کہہ کر کچھ مراد لینا)، قسم اور وعدہ خلافی (جہاں جائز ہو) کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

ائمہ کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے، خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، بشرطیکہ اس میں کسی عہد یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اس لیے جنگ میں پوری فکر اور رائے کو بروئے کار لانا چاہیے، کیونکہ یہ بہادری سے زیادہ نفع بخش ہے۔ یہ حدیث حکمتوں اور امثال (قیمتی اقوال) میں شمار کی جاتی ہے۔

حرالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

جنگ دراصل ایک ایسی چیز کی مدافعت ہے جو انسان کو اپنی طرف سے وسعت دینے کا تقاضا کرتی ہے، اور وہ اسے اپنی پوری طاقت سے روکتا ہے۔


تخریج اور شواہد:

یہ حدیث درج ذیل محدثین نے اپنی کتابوں میں بیان کی ہے:

  1. امام معمر بن راشد [الجامع-معمر بن راشد:20205]
  2. امام سعيد بن منصور [سنن سعيد بن منصور:2889]
  3. امام احمد بن حنبل [مسند احمد:13341، 934-697]
  4. امام ابن أبي شيبة [المصنف-ابن أبي شيبة:33671]
  5. امام أبو عوانة [مستخرج أبو عوانة:6551]
  6. امام بخاریؒ [صحيح البخاري:3030]
  7. امام مسلمؒ [صحيح مسلم:1740]
  8. امام ابو داودؒ [ابوداود:2637]
  9. امام ترمذیؒ [سنن الترمذي:1675]
  10. امام النسائي [السنن الكبرى-النسائي:8589]
  11. امام ابن ماجہؒ [سنن ابن ماجہ:2833-2834]
  12. امام أبي داود الطيالسي [مسند أبي داود الطيالسي:1804]
  13. امام أبو يعلى الموصلي [مسند أبي يعلى:1968]
  14. امام الطبرانى [المعجم الكبير للطبراني:2728]
  15. امام الطبریؒ [تهذيب الآثار-مسند علي:202]
  16. امام ابن الأعرابي [معجم شيوخ ابن الأعرابي:549]
  17. امام ابن المقرئ [معجم ابن المقرئ:1152]
  18. امام القضاعي [مسند الشهاب:8]
  19. امام أبي الشيخ الأصبهاني [أمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني:2]
  20. امام اللكي [نسخة نبيط بن شريط:333 (5)]



صحابہ کرام جو اس حدیث کے راوی ہیں:

(1)حضرت جابر بن عبداللہؓ سے

[بخاري:3030، سنن الترمذي:1675]

(2)حضرت ابوہریرہؓ سے

[مسلم:1740][البزار:9391]

(3)حضرت انس بن مالکؓ سے

[احمد:13341]

(4)حضرت کعب بن مالک انصاریؓ سے

[ابوداود:2637]

(5)حضرت ابن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ سے

[ابن ماجہ:2833-2834]

(6)حضرت ابن عمرؓ سے

[البزار:5412]

(7)حضرت نواس بن سمعان کلابی سے

[مستخرج أبو عوانة:6551، التاريخ الكبير البخارى (٣/٤٣٦)]

(8)حضرت نعيم بن مسعود اشجعی

[مستخرج أبو عوانة:6553]

(9)حضرت علیؓ سے

[بخاری: 3611، 5057، 6930، مسلم: 1066][البزار:537-485، احمد:934-697]

(10)حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے

[مسند أبي يعلى:4559]

(11)حضرت أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ سے

[مسند أحمد:27597]

(12)حضرت حسن بن علی سے

[أبو عوانة:6541، الطبرانى:2728، أبو يعلى:6760]

(13)حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے

[مسند البزار:1344]

(14)حضرت زید بن ثابت

[مستخرج أبو عوانة:6542، تهذيب الآثار-مسند علي:202، معجم ابن المقرئ:1152، طبراني:4866]

(15)حضرت عبداللہ بن سلام

[المعجم الكبير للطبراني:368، مسند أبي يعلى:7495]

(16)حضرت عوف بن مالک

[مستخرج أبو عوانة:6552]

(17) حضرت خالد بن ولید


ان کی روایت ہے: "نبی کریم ﷺ جب کسی سفر یا غزوے کا ارادہ فرماتے تو اس کے علاوہ کسی اور (مقام) کی طرف اشارہ کرتے (توریہ کرتے) اور فرماتے: جنگ دھوکہ ہے۔"

اور یہ حدیث (ان تمام طرق کی بنا پر) متواتر ہے۔

---

حاشیہ (لغوی وضاحت):

"خَدْعَة" (فتح خاء، سکون دال) سب سے فصیح ہے۔

"خُدْعَة" (ضم خاء، سکون دال)۔

"خُدَعَة" (ضم خاء، فتح دال)۔

ان تینوں کے علاوہ دوسری صورتیں بھی ہیں۔


اصلِ خدع کا مطلب ہے: کسی چیز کا اظہار کرنا اور اس کے خلاف اس کا اِضمار (چھپانا) کرنا۔

یعنی مکمل جنگ دراصل مخادعہ (ایک دوسرے کو دھوکا دینا) ہے، نہ کہ محض برسرِ پیکار مقابلہ۔

اس میں فتح و کامرانی دھوکہ دینے کے ساتھ حاصل ہوتی ہے، بغیر کسی حرج کے۔

اس حدیث میں جنگ میں احتیاط اور کافروں کو دھوکہ دینے کی ترغیب ہے، الا یہ کہ اس میں عہد شکنی یا امان کی خلاف ورزی ہو، جو جائز نہیں۔

ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

جنگ میں دھوکہ تعویض (توریہ)، کمین گاہیں اور اس کے علاوہ دوسرے ذرائع سے کیا جاتا ہے۔

اس حدیث میں جنگ میں رائے اور تدبیر استعمال کرنے کی طرف اشارہ ہے، بلکہ اس کی ضرورت بہادری سے بھی زیادہ ہے، اسی لیے اس حدیث نے اس اہم نکتے کی طرف اکتفا کیا ہے، جیسے کہ قول ہے: "الحج عرفة" (حج عرفات ہے – یعنی حج کا اصل رکن عرفات ہے)۔

[فيض القدير-المناوي:3812]



📌 حاصل اسباق و نکات

حدیث کی صحت اور متواتر ہونا

یہ حدیث متعدد صحابہ کرام (جابر، ابوہریرہ، انس، کعب، ابن عباس، عائشہ، حسین، زید بن ثابت، خالد بن ولید وغیرہ رضی اللہ عنہم) سے مروی ہے اور امام سیوطی کے نزدیک متواتر ہے، یعنی یقینی طور پر ثابت شدہ سنت ہے۔

جنگ میں دھوکہ دینے کی شرعی اجازت

ائمہ کرام (خاص طور پر امام نووی) کا اس پر اتفاق ہے کہ کافروں کو جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے، چاہے وہ توریہ، قسم، وعدہ خلافی، یا کمین گاہوں کے ذریعے ہو، بشرطیکہ کسی عہد یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔

جنگ میں تدبیر اور عقل کا استعمال بہادری سے زیادہ اہم ہے

امام نووی اور ابن العربی نے واضح کیا کہ جنگ میں رائے، فکر اور حکمتِ عملی کا استعمال محض بہادری سے زیادہ نفع بخش ہے۔ اسلام محض طاقت کا نہیں، بلکہ عقل و تدبیر کا دین ہے۔

عملی نمونہ: غزوۂ خندق اور نعیم بن مسعود کا واقعہ

اس حدیث کا عملی اطلاق غزوۂ خندق میں ہوا، جب نبی ﷺ نے نعیم بن مسعود (جو نئے مسلمان تھے اور ان کی قوم کو علم نہیں تھا) کو قریش، غطفان اور یہودیوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے لیے بھیجا، جس سے مسلمانوں کو بڑی فتح حاصل ہوئی۔

توریہ (equivocation) اور اس کا جواز

اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جنگ میں توریہ (کچھ کہنا اور کچھ مراد لینا) اور جھوٹی قسم (جہاں ضرورت ہو) جائز ہے، تاکہ دشمن کو دھوکہ دے کر نقصان سے بچا جا سکے۔

عہد اور امان کی پاسداری

اس حدیث میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ دھوکہ صرف اس وقت جائز ہے جب کسی مسلمان یا کافر کے ساتھ کوئی معاہدہ (عہد) یا امان نہ ہو۔ اگر کسی سے عہد کیا گیا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنا حرام ہے۔

(حوالہ: قرآن: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ – الإسراء: 34، اور صحیح مسلم)

جنگ میں حیلوں اور کمین گاہوں کا جواز

ابن العربی نے فرمایا کہ اس حدیث میں کمین گاہیں لگانا اور تعویض (مورائی) کرنا بھی شامل ہے، جو کہ جنگی حیلے ہیں اور جائز ہیں۔

لغت عرب کی گہرائی اور فصاحت

اس حدیث میں لفظ "خدعة" کی متعدد قرآتیں ہیں، جن کے معانی میں باریک فرق ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عربی زبان کا ہر لفظ اپنے محل اور موقع کے مطابق معانی رکھتا ہے، اور اس کا مطالعہ باعثِ علم و بصیرت ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث جنگ میں حکمتِ عملی، چالاکی اور دشمن کو دھوکہ دینے کی اجازت دیتی ہے، تاکہ مسلمانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ یہ روایت صحیح اور متواتر ہے، اور اس پر عمل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کسی عہد یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ صرف طاقت کا مظاہرہ نہیں، بلکہ عقل، فکر اور تدبیر کا میدان ہے۔



تفاسیر:

یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں، اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔

[تفسير الثعلبي:21 /356 سورۃ الاحزاب، آیت 10]


رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اس خوف اور شدت میں رہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، (اس وجہ سے کہ) ان کے دشمن آپس میں متحد ہو گئے تھے اور ان پر اوپر سے اور نیچے سے (مختلف اطراف سے) حملہ آور ہو رہے تھے۔

پھر بیشک (قبیلہ) غطفان کے نعیم بن مسعود بن عامر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میری قوم کو میرے اسلام کا علم نہیں ہے، لہٰذا آپ مجھے جو حکم دیں میں کروں گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم ہمارے یہاں (نظر آنے والے) ایک آدمی ہو، (اس لیے) اگر تم سے ہوسکے تو ہماری طرف سے (ان میں) تفرقہ ڈال دو، کیونکہ جنگ ایک چال (فریب/خدعہ) ہے۔

چنانچہ نعیم بن مسعود (وہاں سے) نکلے یہاں تک کہ بنو قریظہ کے پاس پہنچے، اور وہ جاہلیت میں ان کے ہم نشیں (دوست) تھے، انہوں نے ان سے کہا: اے بنو قریظہ! تم لوگ میری محبت کو جانتے ہو اور خاص طور پر میرے اور تمہارے درمیان (جو تعلق) ہے۔ انہوں نے کہا: تم نے سچ کہا، تم ہمارے نزدیک متہم (خائن) نہیں ہو۔

پھر انہوں نے (نعیم) ان سے (بنی قریظہ سے) کہا: قریش اور غطفان محمد ﷺ کی جنگ کے لیے آئے ہیں اور تم نے ان کی ان کے خلاف (محمد کے خلاف) مدد کی ہے، اور بیشک قریش اور غطفان تم لوگوں کی طرح (یہاں کے رہنے والے) نہیں ہیں، (کیونکہ) یہ شہر تمہارا شہر ہے، اس میں تمہارے اموال، اولاد اور عورتیں ہیں، تم اسے چھوڑ کر کسی اور جگہ نہیں جا سکتے، جبکہ قریش اور غطفان کے اموال، اولاد اور عورتیں دور (دوسری جگہ) ہیں، اگر انہیں کوئی موقع اور غنیمت نظر آتی ہے تو اسے حاصل کر لیتے ہیں، اور اگر ایسا نہ ہو تو اپنے شہروں کو لوٹ جائیں گے اور تمہیں اس شخص (محمد) کے ساتھ (اکیلا) چھوڑ دیں گے، اور وہ شخص تمہارے شہر میں ہے، اگر وہ تمہارے ساتھ اکیلا پڑ گیا تو تمہیں اس کی کوئی طاقت نہیں (تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے)، پس تم ان لوگوں (قریش وغطفان) کے ساتھ اس وقت تک جنگ نہ کرو جب تک تم ان سے (قریش وغطفان سے) ان کے سرداروں میں سے کوئی رہن (یرغمال) نہ لے لو، جو تمہارے ہاتھ میں ضمانت بن کر رہیں کہ وہ تمہارے ساتھ مل کر محمد ﷺ سے جنگ کریں گے، یہاں تک کہ تم ان سے (محمد سے) دو بدو مقابلہ کرو۔

انہوں (بنی قریظہ) نے کہا: بیشک تم نے ایک بہترین رائے اور (خیر خواہی کا) مشورہ دیا ہے۔

[تفسير البغوي:6 /329 سورۃ الاحزاب:10]

[تفسير الثعلبي:8 /17]


جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا ارادہ کرتے تو اپنے اصلی ارادوں کو چھپاتے۔" وہ کہتا تھا کہ جنگ فریب ہے۔ چنانچہ جب اس نے مکہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا تو اس نے اپنا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا۔ حاطب بن ابی بلتعہ نے مکہ کے لوگوں کو سارہ نامی عورت کے ذریعے ایک خط لکھا جس میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روش سے آگاہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے نبی پر نازل کی، اور معاملہ کھل گیا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:

تم ان سے خفیہ طور پر دوستی کی بات کرتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم خفیہ طور پر کرتے ہو، اور جو کچھ علانیہ کرتے ہو، میں اس سب کو پوری طرح جانتا ہے۔

[تفسير السمعاني:3 (5 /413) سورۃ الممتحنۃ:1]


ہمارے علمائے کرام نے فرمایا: امام کے خلاف خیانت دوسروں کے خلاف خیانت سے زیادہ بڑی اور گھناؤنی ہے کیونکہ اس سے بدعنوانی پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ خیانت کریں اور یہ ان کے بارے میں معلوم ہو جائے اور وہ عہد کو نہ توڑیں تو دشمن ان پر کسی عہد یا صلح کا اعتبار نہیں کرے گا، اس لیے اس کی طاقت بڑھے گی اور اس کا نقصان بڑھے گا اور یہ لوگوں کو دین میں داخل ہونے سے روکے گا۔ اور اس کے لیے مسلم رہنماؤں کی مذمت کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر دشمن کا کوئی معاہدہ نہ ہو تو اس کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا جائے اور ہر فریب اس کے خلاف استعمال کیا جائے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مفہوم ہے: ’’جنگ دھوکہ ہے‘‘۔

[تفسير القرطبي:8 /33 سورۃ الانفال:58]


لوگوں کی بہت سی خفیہ سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہوتی، الا یہ کہ کوئی شخص صدقے کا یا کسی نیکی کا یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔

[موسوعة التفسير المأثور:20175 سورۃ النساء، آیت 114]





شرح موسى شاهين لاشين(متوفی 1430ھ) :

«الحرب خدعة» (جنگ ایک چال/دھوکہ ہے) میں "خدعة" کی تین مشہور لغات ہیں۔

علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ان میں سب سے زیادہ فصیح «خَدْعَة» ہے (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ)۔ ثعلب اور دیگر نے کہا: یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے۔

دوسری (لغت) «خُدْعَة» ہے (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔

تیسری (لغت) «خُدَعَة» ہے (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ)۔

اور منذری نے ایک چوتھی لغت نقل کی ہے: «خَدَعَة» (دونوں کے زبر کے ساتھ)۔

اور مکی نے ایک پانچویں لغت نقل کی ہے: «خِدْعَة» (خاء کے کسرہ اور دال کے جزم کے ساتھ)۔

رہا «خَدْعَة» (فتح الخاء وسکون الدال) – تو یہ مصدر کے وزن پر ہے، فاعل کو مصدر کے نام سے صفت دی گئی ہے، یعنی وہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکہ دیتی ہے – یا مفعول کو مصدر کے نام سے صفت دی گئی ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے: «هذا الدرهم ضرب الأمير» یعنی اس کا ضرب کیا ہوا (سکہ)۔

خطابی نے کہا: یہ اسمِ مرہ (ایک بار) کے وزن پر ہے، یعنی جنگ ایک (ہی) چال ہے – اور کیا چال ہے؟ – پس جسے اس میں ایک بار دھوکہ دے دیا جائے، وہ اسے پچھاڑ دیتی ہے اور ہلاک کر دیتی ہے، اور اسے کوئی دوسرا موقع نہیں ملتا۔

یا اس کا معنی (اگر مسلمانوں کے لیے ہو) یہ ہے کہ تم اپنے دشمنوں کو جنگ میں (چاہے) ایک بار ہی دھوکہ دو۔

اور اگر (یہ قول) کفار کی طرف سے ہو تو معنی یہ ہے کہ تم کفار کے دھوکے اور مکر سے ڈرو، چاہے ان کا دھوکہ ایک بار ہی کیوں نہ ہو – کیونکہ اس سے جو فساد پیدا ہوتا ہے وہ اگرچہ کم ہو، اس کے باوجود اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔

اور رہا «خُدَعَة» (ضم الخاء وفتح الدال) – تو یہ صفت مبالغہ کے وزن پر ہے، یعنی بہت زیادہ دھوکہ دینے والی، جیسے «هِمَزَةٍ» اور «لُمَزَةٍ» (بہت زیادہ عیب جوئی اور طعن کرنے والا)۔

اور رہا «خُدْعَة» (ضم الخاء وسکون الدال) – تو یہ مصدر (اصل) پر ہے۔

اور رہا «خَدَعَة» (فتحہما) – تو یہ «خَادِع» (دھوکہ دینے والا) کی جمع ہے، یعنی اس (جنگ) کے اہل (جنگجو) اس صفت کے حامل ہیں – گویا اس نے کہا: «أَهْلُ الْحَرْبِ خَادِعُونَ» (جنگ کے اہل دھوکہ دینے والے ہیں)۔

یہ کہا جاتا ہے: میں نے فلاں کو دھوکہ دیا – «خَدَعْتُ الرَّجُلَ أَخْدَعُهُ خَدْعًا وَخِدْعًا وَخَدِيعَةً وَخَدْعَةً» – جب میں نے اسے اس کے برعکس ظاہر کیا جو میں چھپا رہا تھا۔

اور ایک شخص «خَدَّاعٌ»، «خَدُوعٌ»، «خَدِعٌ»، «خَدَعَةٌ» (بہت دھوکہ باز) ہوتا ہے۔

ابن العربی نے کہا: جنگ میں خدیعہ (دھوکہ) توریتہ (کنایہ/ایہام) کے ذریعے ہوتی ہے، کمین (گھات لگانے) کے ذریعے ہوتی ہے، اور وعدہ خلافی (جھوٹا وعدہ) کے ذریعے ہوتی ہے۔

[فقہ الحدیث]

نووی نے کہا: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے – جس طرح بھی ممکن ہو – مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔ (انتهیٰ)

اور اس حدیث میں جنگ میں احتیاط اختیار کرنے کی ترغیب ہے، اور اس میں جنگ میں رائے (حکمت عملی) کے استعمال کی طرف اشارہ ہے – بلکہ اس کی ضرورت بہادری سے بھی زیادہ مؤکد ہے۔

یہ حدیث ہمیں جنگ میں جھوٹ کے حکم کی طرف لے جاتی ہے۔

ترمذی نے اسماء بنت یزید سے مرفوعاً روایت کیا ہے:

"جھوٹ صرف تین جگہوں پر حلال ہے: (۱) آدمی کا اپنی بیوی سے (خوشی کے لیے) بات کرنا، (۲) جنگ میں جھوٹ، اور (۳) لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔"

اور علماء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا ان تینوں میں جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) جائز ہے؟ یا یہ تلویح اور تعریض (کنایہ/ایہام) تک محدود ہے؟

نووی نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں میں جھوٹ کی حقیقت (صراحۃً) جائز ہے، البتہ تعریض (کنایہ) بہتر ہے۔

ابن العربی نے کہا: جنگ میں جھوٹ ان مستثنیٰ چیزوں میں سے ہے جو نص (حدیث) کے ذریعے جائز ہے – مسلمانوں کے ساتھ نرمی کے لیے، ان کی اس کی ضرورت اور ان کی کمزوری کی وجہ سے۔ اور عقل کو اس کی حرمت یا حلت میں کوئی دخل نہیں، یہ معاملہ صرف شرع کے سپرد ہے۔

ابن بطال نے کہا: میں نے اپنے بعض شیوخ سے پوچھا تو انہوں نے کہا:

جنگ میں مباح جھوٹ وہ ہے جو تعریضات (کنایات) پر مشتمل ہو، نہ کہ مثلاً امان دینے کی صراحت (کے ساتھ جھوٹ)۔

مہلب نے کہا: دین کی کسی بھی چیز میں حقیقی جھوٹ (بالکل) جائز نہیں ہے۔ (انتهیٰ)

میرے نزدیک (مصنف کا موقف):

ان تین چیزوں میں جھوٹ کی اجازت (نصاً) اور ان کے علاوہ میں (قیاساً) دراصل «أخف الضررین» (دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان) کو اختیار کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔ اور دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان کو برداشت کرنا واجب ہے، یا کم از کم مندوب (مستحب) ہے۔

اور اس وقت یہ نہیں کہا جائے گا کہ کم تر نقصان کا فعل اپنی ذات میں مباح ہے۔ اور اسی طرح ان تینوں چیزوں اور ان جیسی دوسری چیزوں میں جھوٹ – ہم یہ نہیں کہتے کہ جھوٹ اپنی ذات میں حلال اور جائز ہے، بلکہ اس کے ترک کرنے پر جو نقصان مترتب ہوتا ہے، وہ اسے جائز کرتا ہے۔

ان تینوں کے علاوہ – مثلاً:

اگر کوئی مجرم، قاتل اور خونریز شخص کسی مظلوم کے پیچھے اسے قتل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہے، اور تم نے اس مظلوم کو ایک خندق میں چھپتے دیکھا، پھر وہ مجرم تم سے پوچھے: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ وہ کہاں ہے؟

تو کیا تم اسے اس کا پتہ دو گے تاکہ وہ اسے قتل کرے؟

یا تم جھوٹ بولو گے؟

اور کیا اس وقت تم جھوٹ پر عذاب پاؤ گے یا ثواب؟

جواب واضح ہے۔

واللہ اعلم۔

[فتح المنعم شرح صحيح مسلم:3988 (7 /97-99)]





شرح الخطابيؒ (متوفی 388ھ) :

اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے، اگرچہ دوسرے معاملات میں یہ ممنوع ہے۔

اور اس (یعنی "خدعة") کی کئی وجوہ (لغات) سے روایت ہے:

خَدْعَة (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) – اور یہ ان میں سب سے اچھی ہے۔

خُدْعَة (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔

خُدَعَة (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ)۔

پہلے (خَدْعَة) کا معنی ہے: کہ یہ ایک (ہی) چال ہے، جس نے اس میں ایک بار دھوکہ کھایا، اسے (دوبارہ موقع) نہیں دیا جاتا (یعنی اس کی لغزش قبول نہیں کی جاتی)۔

اور خُدْعَة کا معنی ہے: کہ اس کے ذریعے مردوں کو دھوکہ دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ دھوکے کی جگہ اور اس کا مقام ہے، جیسا کہ جس چیز سے کھیلا جائے اسے «لُعْبَة» (کھلونا) کہا جاتا ہے۔

رہا خُدَعَة (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ) تو اس کا معنی ہے کہ یہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے، انہیں فتح کی امید دلاتی ہے اور ان سے وفا نہیں کرتی، جیسا کہ «ضَحْكَة» اور «هُزْأَة» کہا جاتا ہے، جب کوئی شخص لوگوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان پر ہنستا ہے۔

[أعلام الحديث (شرح صحيح البخاري) - الخطابي :676 (2 / 1432)]





شرح القاضي عياضؒ(متوفی 544ھ):

اور آپ ﷺ کا قول: «الحرب خدعة» (جنگ ایک چال/فریب ہے)۔

قاضیؒ نے کہا: اہلِ علم کا کہنا ہے کہ جنگ میں خدعہ (چال/فریب) جائز ہے جس طرح بھی ممکن ہو، اس حدیث کی بنا پر، مگر یہ کہ عہد و پیمان اور امان کی نفی (نقض) ہو تو یہ جائز نہیں۔

طبریؒ نے کہا: جنگ میں جھوٹ سے صرف وہی (بات) جائز ہے جو اس کے علاوہ (امن کے وقت) جائز نہیں، یعنی تعریض (کنایہ/ایہام) اور ایسی بات جو پہیلیوں (الغاز) کو محتمل ہو، اور کسی چیز کی خبر دینے کا قصد اس طرح کرنا کہ وہ ظاہری طور پر (اسی طرح) ہو۔

امام نے کہا: کہا جاتا ہے:

«خَدْعَة» (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) – یہ «مصدر محدود» (مفعول مطلق) کے طور پر ہے، جیسے «ضَرْبَة» اور «نَفْخَة»۔

«خُدْعَة» (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ) – یہ «اسم» ہے، جیسے «لُعْبَة» (کھیل) کے وزن پر، اور اس سے ایک بار (مرتبہ) مراد نہیں ہوتا جیسا کہ مصدر محدود سے مراد ہوتا ہے۔

«خُدَعَة» (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ) – یہ اس (جنگ) کی صفت ہے، اور اس کا معنی ہے: کہ وہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے، جیسے کہا جاتا ہے «ضَحْكَة» (بہت ہنسنے والا) اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنساتا ہے، اور «هُزْأَة» (بہت مذاق کرنے والا) اس شخص کے لیے جو ان کا مذاق اڑاتا ہے۔

قاضی نے کہا: نبی ﷺ کی زبان (لفظ) «خَدْعَة» (زبر کے ساتھ) ہے، اور یہ (تینوں میں) سب سے زیادہ فصیح ہے۔

ثعلب نے کہا: بعض نے کہا: اس کا معنی یہ ہے کہ وہ (جنگ) اپنے اہل(جنگ جو) کو دھوکہ دیتی ہے، (یہاں) «فاعل» کو «مصدر» کے نام سے صفت دی گئی ہے۔

اور کہا گیا: ممکن ہے کہ یہ «مفعول» کی صفت ہو، جیسا کہ کہا جاتا ہے: «دِرْهَمٌ ضَرْبُ الْأَمِيرِ» یعنی اس کا ضرب کیا ہوا (سکہ)۔

اور کہا گیا: اس کا معنی ایک بار (ایک مرتبہ) ہے، یعنی اگر اس میں خدعہ (چال) واقع ہو جائے تو (اس پر) لغزش (عثرة) قبول نہیں کی جاتی (یعنی یک بار کا دھوکہ حتمی ہوتا ہے)۔

اس (مصنف/قائل) نے کہا: جس نے «خُدْعَة» (پیش اور جزم کے ساتھ) کہا، تو (اس کا مفہوم) اس طرف ہے کہ وہ (جنگ) دھوکہ دیتی ہے؛ کیونکہ جب دونوں میں سے ایک فریق اس میں دوسرے کو دھوکہ دیتا ہے تو گویا اس نے اس میں دھوکہ کیا۔

اور جس نے اسے «خُدَعَة» (پیش اور زبر کے ساتھ) کہا، تو وہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکہ دیتی ہے، یا انہیں ہمیشہ فتح کی امید دلاتی ہے، حالانکہ حال (ان کا انجام) اس کے علاوہ (کسی اور صورت) کی طرف پلٹ سکتا ہے۔

[إكمال المعلم بفوائد مسلم-القاضي عياض:6 /42]





شرح مظهر الدين الزيدانيؒ(متوفی 727ھ):

«الحرب خدعة» (جنگ ایک چال ہے)۔ اس میں خاء کے زبر (فتحہ) اور دال کے جزم (سکون) کے ساتھ (پڑھنا) جائز ہے، اور خاء کے پیش (ضمہ) اور دال کے جزم کے ساتھ (بھی جائز ہے)، اور خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ (بھی جائز ہے)۔

اور ان میں سب سے زیادہ فصیح (بلیغ) خاء کا زبر اور دال کا جزم ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا گیا ہے، اور یہ «خَدَعَ» (دھوکہ دیا، فریب دیا) سے ایک بار (مرتبہ) کے معنی میں ہے – جب وہ دھوکہ دے اور مکر (چال) کرے۔

[المفاتيح في شرح المصابيح:2985(4 /401)]





شرح ابن رسلانؒ (متوفی 844ھ) :

انہوں نے کہا: «الحرب خَدْعَةٌ» (جنگ ایک چال ہے) غزوہ احزاب (خندق) کے موقع پر (فرمایا)، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو (تفرقہ ڈالنے کے لیے) بھیجا۔

«الحرب خدعة» کی تین مشہور لغات ہیں، علماء اس بات پر متفق ہیں کہ ان میں سب سے زیادہ فصیح:

«خَدْعَةٌ» ہے (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) — یہ «خَدَعَ» سے مصدر ہے۔ ثعلب اور دیگر نے کہا: یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے۔ (خطابی، ص: 68)

دوسری (لغت) «خُدْعَةٌ» ہے (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔

تیسری (لغت) «خُدَعَةٌ» ہے (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ)۔

اور معنی یہ ہے: کہ جنگ دھوکے والی ہوتی ہے — پس مصدر کو اسم کی جگہ رکھا گیا ہے۔ یعنی: ان (دشمنوں) کے ساتھ چاہے ایک بار ہی دھوکہ (خداع) استعمال کرنا چاہیے۔

اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے — جس طرح بھی ممکن ہو — مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔

اور حدیث میں تین چیزوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت صحیح طور پر ثابت ہے، ان میں سے ایک جنگ ہے۔

(صحیح مسلم: 2605، ابوداؤد: 4921)

طبری نے کہا: جنگ میں جھوٹ میں سے صرف تعریض (کنایہ/ایہام) جائز ہے، جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) جائز نہیں۔

(ملاحظہ کریں: شرح صحیح البخاری لابن بطال: 5/187، شرح النووی علی مسلم: 12/45)

نووی (شرح مسلم: 12/45) نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) مباح ہے، البتہ تعریض (کنایہ) پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔

کہا گیا: کہ جنگ میں چال بازی (مماکرۃ) کثرت تعداد (مکاثرۃ) سے زیادہ نفع بخش ہے۔

روایت ہے کہ عمرو بن عبد ود نے علی (رضی اللہ عنہ) کو مبارزت (دعوتِ مقابلہ) کے لیے بلایا، جب علی (رض) ان کی طرف متوجہ ہوئے تو کہا: "میں نے دو (آدمیوں) سے لڑنے کے لیے مبارزت نہیں کی" — تو عمرو (یہ سن کر) متوجہ ہوا (پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا) تو علی (رض) نے ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔

[شرح سنن أبي داود لابن رسلان:2636(11  / 391)]





شرح ابن الملكؒ(متوفی 854ھ):

«جنگ (ایک) چال ہے» – خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ – (یہ) ایک بار (مرتبہ) کے لیے ہے؛ یعنی: جب جنگجو ایک بار دھوکہ کھا جائے تو وہ دوبارہ (اس کا موقع) نہیں دیا جاتا۔


اور (یہ) خاء کے پیش کے ساتھ بھی روایت ہوئی ہے، اور یہ «خِدَاع» (دھوکہ) کا اسم ہے، اور (خاء کے) پیش اور (دال کے) زبر کے ساتھ – یعنی: جنگ بہت زیادہ دھوکہ دینے والی ہے۔

[شرح المصابيح لابن الملك:2985(4 /388)]



شرح القسطلانيؒ(متوفی 923ھ):

«(باب)» — تنوین کے ساتھ — «الحرب خدعة» — خاءِ معجمہ کے زبر اور دالِ مهملہ کے جزم کے ساتھ — جیسا کہ الفرع اور اس کے اصل (ماخذ) میں ہے، اور یہی سب سے زیادہ فصیح ہے، اور ابوذر الہروی اور القزاز نے بھی اسی پر جزم کیا ہے۔

اور ثعلب نے کہا: ہمیں یہ پہنچا ہے کہ یہی نبی ﷺ کی لغت ہے۔

اور اصیلی کے نزدیک — جیسا کہ الفتح میں مذکور ہے — «خُدْعَةٌ» ہے (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ)۔

اور «خُدَعَةٌ» (خاء کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ) — جیسے «هِمَزَةٍ» اور «لُمَزَةٍ» کے وزن پر — کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے، اور یہ صیغۂ مبالغہ ہے۔

اور منذری نے «خَدَعَةٌ» (دونوں کے زبر کے ساتھ) نقل کیا ہے، جو «خَادِعٌ» کی جمع ہے۔

اور مکی اور دیگر نے «خِدْعَةٌ» (خاء کے کسرہ اور دال کے جزم کے ساتھ) نقل کیا ہے — پس یہ کل پانچ لغات ہیں۔

اور جزم (سکون) کے ساتھ (لغت) کا معنی: کہ وہ (جنگ) اپنے اہل کو دھوکہ دیتی ہے — فاعل کو مصدر کے نام سے صفت دینے کے طور پر، یا مفعول کی صفت کے طور پر — جیسا کہ کہا جاتا ہے: «هذا الدرهم ضرب الأمير» یعنی اس کا ضرب کیا ہوا (سکہ)۔

اور خطابی سے مروی ہے کہ یہ ایک بار (مرتبہ) کے لیے ہے، یعنی جب ایک بار دھوکہ کھا جائے تو اس کی لغزش (عثرت) قبول نہیں کی جاتی (یعنی اسے دوبارہ موقع نہیں ملتا)۔

اور پیش کے ساتھ (خاء) اور جزم کے ساتھ (دال) کا معنی: کہ وہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے — یعنی یہ دھوکے کی جگہ اور اس کا مقام ہے۔

اور دال کے زبر کے ساتھ (خُدَعَة) کا معنی: کہ وہ (جنگ) مردوں کو دھوکہ دیتی ہے، انہیں فتح کی امید دلاتی ہے اور ان سے وفا نہیں کرتی — جیسے «ضَحْکَةٌ» (بہت ہنسنے والا) جب وہ لوگوں کو ہنساتا ہے۔

اور کہا گیا: «تاء» (ہ) لانے میں حکمت وحدت (اکائی) کی طرف دلالت ہے — اگر دھوکہ مسلمانوں کی طرف سے ہو تو گویا اس نے انہیں اس پر حض (ترغیب) دی ہے، چاہے ایک بار ہی کیوں نہ ہو۔

اور اگر وہ کفار کی طرف سے ہو تو گویا اس نے انہیں ان کے مکر سے ڈرایا ہے — اگرچہ وہ ایک بار ہی کیوں نہ ہو — کیونکہ اس سے جو فساد پیدا ہوتا ہے، چاہے وہ کم ہو، اس کے باوجود اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔

[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3028 (6 /500)]

اور نبی ﷺ نے جنگ کو «خدعہ» (چال) اس لیے کہا — جیسا کہ واقدیؒ نے کہا — غزوہ خندق کے موقع پر، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو بھیجا کہ قریش، غطفان اور یہود (بنی قریظہ) کے درمیان تفرقہ ڈالے۔

اور (یہ خدعہ / چال) «توریہ» (کنایہ/ایہام) کے ذریعے ہوتی ہے، «کمین» (گھات لگانے) کے ذریعے، اور «وعدہ خلافی» (جھوٹا وعدہ) کے ذریعے — اور یہ حرام (چیزوں) میں سے مستثنیٰ اور مخصوص جائز امور میں سے ہے۔

اور نوویؒ نے کہا: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے — جس طرح بھی ممکن ہو — مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو، تو یہ جائز نہیں ہے۔

[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3028 (6 /501)]

«الحرب خدعة» — اور اس میں (پچھلی طرح) جنگ میں رائے (حکمت عملی) کے استعمال کی طرف اشارہ ہے — بلکہ اس کی ضرورت بہادری سے بھی زیادہ مؤکد ہے۔

[إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري:3030(6 /502)]





شرح الملا على القاريؒ (متوفی 1014ھ) :

قاموس میں ہے: «الْحَرْبُ خَدْعَةٌ» — (خاء کے) تین (مختلف) زبر، پیش اور جزم کے ساتھ مروی ہے، اور «كَهُمَزَةٍ» (یعنی خُدَعَة، پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال) کے ساتھ بھی، اور ان سب کے ساتھ روایت ہے۔ یعنی: جنگ ایک (ہی) چال سے ختم ہو جاتی ہے۔

اور سیوطیؒ کی «مختصر النهاية» میں ہے: (خاء کے) زبر اور پیش کے ساتھ (دال کے جزم کے ساتھ)، اور پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال۔

پہلا (خَدْعَة) — اس کا معنی ہے کہ جنگ کا معاملہ ایک (ہی) چال (دھوکے) سے ختم ہو جاتا ہے۔ یعنی جب جنگجو ایک بار دھوکہ کھا جائے تو اسے کوئی (دوسرا) موقع نہیں ملتا، اور یہ سب سے زیادہ فصیح اور صحیح روایت ہے۔

دوسرے (خُدْعَة) کا معنی «خداع» (دھوکہ) کا اسم ہے۔

تیسرے (خُدَعَة) کا معنی ہے کہ جنگ مردوں کو دھوکہ دیتی ہے اور انہیں (جھوٹی) امید دلاتی ہے اور ان کے ساتھ وفا نہیں کرتی، جیسا کہ کہا جاتا ہے: «فُلَانٌ رَجُلٌ لِعْبَةٌ وَضِحْكَةٌ» — یعنی وہ شخص جو کثرت سے کھیلتا اور ہنستا ہے۔

عیاض کی «المشارق» میں ہے: قوله: «الحرب خدعة» — اس طرح ابوذر اور صحیحین کے اکثر راویوں نے روایت کیا ہے، اور اصیلی نے اسے «خُدْعَةٌ» (پیش کے ساتھ) ضبط کیا ہے۔

اور ابوذر نے کہا: نبی ﷺ کی زبان (لفظ) «خَدْعَة» (زبر کے ساتھ) ہے، اور اصمعی اور دیگر نے بھی یہی کہا۔ اور یونس نے اس میں دو (زبر اور پیش) اور تیسرا (پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال) طریقہ بھی نقل کیا ہے۔

اور ایک چوتھی زبان (لغت) بھی ہے «خَدَعَةٌ» (خاء اور دال دونوں کے زبر کے ساتھ)۔

پس «خَدَعَةٌ» (دونوں زبر) کے معنی ہیں کہ اس (جنگ) کا معاملہ ایک (ہی) چال سے ختم ہو جاتا ہے جو اس میں دھوکہ کھاتا ہے، پھر اس کا قدم ڈگمگا جاتا ہے اور اسے اس کا کوئی ازالہ یا دوبارہ موقع نہیں ملتا — گویا اس نے اس سے احتیاط کی طرف توجہ دلائی ہے۔

اور جس نے خاء کو پیش اور دال کو زبر کے ساتھ پڑھا (خُدَعَة) — اس نے فعل کو خود جنگ کی طرف منسوب کیا، یعنی وہ (جنگ) خود اس شخص کو دھوکہ دیتی ہے جو اس پر اعتماد کر لے، یا اس کے اہل (جنگجو) اس میں دھوکہ کھا جاتے ہیں۔

اور جس نے دونوں کو زبر کے ساتھ پڑھا (خَدَعَة) — تو یہ «خَادِع» (دھوکہ دینے والا) کی جمع ہے، یعنی اس کے اہل (جنگجو) اس صفت کے حامل ہیں — پس تم ان پر اعتماد نہ کرو، گویا اس نے کہا: «أَهْلُ الْحَرْبِ خَدَعَةٌ» (جنگ کے اہل دھوکہ دینے والے ہیں

اور «خَدَع» کی اصل یہ ہے کہ کسی چیز کو ظاہر کرنا اور اس کے خلاف (دوسری چیز) کو چھپانا۔

توربشتیؒ نے کہا: یہ تین طریقوں سے مروی ہے:

«خَدْعَةٌ» (فتح الخاء وسکون الدال) — یعنی یہ (جنگ) ایک (ہی) چال ہے، جس شخص کو یہ میسر آ جائے اس کے لیے فتح حق ہے۔

«خُدْعَةٌ» (ضم الخاء وسکون الدال) — یعنی اس میں زیادہ تر مکر (چال) اور خدعہ (دھوکہ) ہے۔

«خُدَعَةٌ» (ضم الخاء وفتح الدال) — یعنی وہ (جنگ) انسان کو اس چیز سے دھوکہ دیتی ہے جو وہ اسے (خوش فہمی میں) دکھاتی ہے اور امید دلاتی ہے، پھر جب وہ اس میں داخل ہوتا ہے تو اسے اس کے برعکس پاتا ہے۔

نوویؒ نے کہا: ان (لغات) میں سب سے زیادہ فصیح خاء کا زبر اور دال کا جزم ہے (خَدْعَة) — اور یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے۔

اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ کافروں کے ساتھ جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے جس طرح بھی ممکن ہو، مگر اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو۔

اور حدیث میں تین چیزوں میں جھوٹ بولنے کی اجازت صحیح طور پر ثابت ہے (جنگ، دو لوگوں کے درمیان اصلاح، اور بیوی کا شوہر سے اور شوہر کا بیوی سے (خوشی کے لیے) کہنا)۔

طبریؒ نے کہا: جنگ میں جھوٹ میں سے صرف تعریض (کنایہ/ایہام) جائز ہے، اور اس کی حقیقت (صراحتاً جھوٹ) جائز نہیں۔

مگر ظاہر (جمہور کے نزدیک) جھوٹ کی حقیقت کی اباحت ہے، البتہ تعریض (کنایہ) پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔

(یہ حدیث متفق علیہ ہے) — اور اسے احمد، ابوداؤد، ترمذی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح شیخین (بخاری و مسلم) نے حضرت ابوہریرہ سے، اور احمد نے حضرت انس سے، اور ابوداؤد نے حضرت کعب بن مالک سے، اور ابن ماجہ نے ابن عباس اور حضرت عائشہ سے، اور بزار نے حضرت حسین سے، اور طبرانی نے حسن، زید بن ثابت، اور نواس بن سمعان سے، اور ابن عساکر نے حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہم اجمعین) سے روایت کیا ہے۔

اور اسی طرح الجامع الصغیر میں بھی ہے — پس یہ حدیث تقریباً متواتر ہے، کیونکہ صحابہ کرام جن سے روایت کی گئی ہے اور ان کی اسناد کی کثرت ہے۔

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح-الملا على القاري:3939 (6 /2535)]






شرح الصنعانيؒ(متوفی 1182ھ):

«الحرب خدعة» – (خاء کے زبر اور دال کے جزم کے ساتھ) یعنی یہ ایک (ہی) چال ہے، جس شخص کو یہ میسر آ جائے اس کے لیے فتح (حق) ہے۔

اور (خاء کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ) – یعنی وہ (جنگ) انسان کو دھوکہ دیتی ہے اس چیز سے جو وہ اسے (خوش فہمی میں) دکھاتی ہے اور امید دلاتی ہے، پھر جب وہ اس میں داخل ہوتا ہے تو اسے اس کے برعکس پاتا ہے۔

اور «ہمزہ» کے وزن پر (خُدَعَة، پیش کے ساتھ خاء اور زبر کے ساتھ دال) – یہ صیغہ مبالغہ ہے۔

اور دونوں زبر کے ساتھ (خَدَعَة) – یہ «خَادِع» (دھوکہ دینے والا) کی جمع ہے۔

اور (کسرہ کے ساتھ خاء اور جزم کے ساتھ دال – خِدْعَة) – یعنی دھوکے کا مقام، اس کا مظنہ اور اس کی جگہ۔

نووی نے کہا: ان (لغات) میں سب سے زیادہ فصیح خاء کا زبر اور دال کا جزم ہے (خَدْعَة) – اور یہی نبی ﷺ کی لغت ہے۔ اس کا مطلب (کہ یہ آپ کی لغت ہے) یہ ہے کہ آپ نے اسے (اسی طرح) ادا کیا، اور روایت بھی اسی طرح آپ سے منقول ہے۔

عسکری نے کہا: اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جنگ میں چال بازی (مماکرۃ) نیزہ بازی اور ضرب (مار) سے زیادہ نفع بخش ہے۔

اور مشہور مثل ہے: «إذا لم تغلب فاخلب» (یعنی اگر تم غالب نہ آ سکو تو دھوکہ دو / چال چلو)۔

اور آپ ﷺ نے یہ (حدیث) غزوہ خندق کے موقع پر فرمائی، جب آپ ﷺ نے نعیم بن مسعود کو بھیجا کہ قریش، غطفان اور یہود (بنی قریظہ) کے درمیان تفرقہ ڈالے۔

اور (یہ خدعہ / چال) «توریہ» (کنایہ/ایہام)، «قسم» (جھوٹی قسم) اور «وعدہ خلافی» (جھوٹا وعدہ) کے ذریعے ہوتی ہے۔

نووی نے کہا: علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے – جس طرح بھی ممکن ہو – جب تک کہ اس میں عہد یا امان کی نفی (نقض) نہ ہو۔

پس (اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ) جنگ میں «فکر کو جگانا» اور «رائے کو استعمال کرنا» چاہیے جہاں تک ممکن ہو – کیونکہ اس میں (یعنی رائے اور حکمت عملی میں) بہادری سے زیادہ نفع ہے۔

اور یہ حدیث «حکم» (دانشمندانہ اقوال) میں شمار کی گئی ہے۔

[التنوير شرح الجامع الصغير:2636(5 / 417)]



📜 حدیث "الحرب خدعة" کی تمام تشریحات سے حاصل اسباق و نکات

پہلا باب: لغوی تحقیق (مختلف لغات اور ان کے معانی)

اس حدیث میں "خدعة" کی کل پانچ مشہور لغات ہیں، جن کا ذکر تمام شارحین (ابن رسلان، صنعانی، قسطلانی، مظہر الدین، عبد الحق الدهلوی وغیرہ) نے کیا ہے:

لغت -   تلفظ   - معنی   - نوٹ

خَدْعَة خاء کا زبر، دال کا جزم ایک بار کا دھوکہ – جس نے ایک بار دھوکہ کھایا، اسے دوبارہ موقع نہیں ملتا افصح اور صحیح ترین – یہی نبی ﷺ کی زبان (لغت) ہے (ثعلب، خطابی، نووی، قسطلانی)

خُدْعَة خاء کا پیش، دال کا جزم دھوکے کا اسم – خود خداع (دھوکہ) کا نام یہ دھوکے کی جگہ اور مقام کو ظاہر کرتا ہے

خُدَعَة خاء کا پیش، دال کا زبر بہت زیادہ دھوکہ دینے والی – صیغۂ مبالغہ (جیسے ہمزۃ ولمزۃ) جنگ مردوں کو دھوکہ دیتی ہے اور انہیں جھوٹی امید دلاتی ہے

خَدَعَة خاء اور دال دونوں کا زبر جمع خادع – یعنی جنگ کے اہل (جنگجو) دھوکہ دینے والے ہیں منذری نے نقل کیا

خِدْعَة خاء کا کسرہ، دال کا جزم دھوکے کی جگہ اور مظنہ مکی اور دیگر نے نقل کیا۔


دوسرا باب: فقہی احکام (جنگ میں دھوکہ اور جھوٹ کی اجازت)

۱۔ جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے – بلکہ بعض اوقات ضروری ہے

نوویؒ، خطابیؒ، ابن العربیؒ، اور جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ میں کافروں کو دھوکہ دینا جائز ہے – جس طرح بھی ممکن ہو (چال، کمین، توریہ، جھوٹا وعدہ، وغیرہ)۔

شرط: عہد و پیمان یا امان کی خلاف ورزی نہ ہو – ورنہ یہ جائز نہیں۔

۲۔ جنگ میں جھوٹ بولنے کی اجازت

صحیح مسلم، ابوداؤد، ترمذی وغیرہ میں روایت ہے کہ تین چیزوں میں جھوٹ جائز ہے: (۱) جنگ، (۲) میاں بیوی کے درمیان خوشی کے لیے بات، (۳) لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔

نوویؒ کا موقف: جھوٹ کی حقیقت (صراحتاً) مباح ہے، البتہ تعریض (کنایہ/ایہام) بہتر ہے۔

طبریؒ کا موقف: جنگ میں صرف تعریض (کنایہ) جائز ہے، جھوٹ کی حقیقت جائز نہیں۔

ابن العربیؒ کا موقف: جنگ میں جھوٹ نص (حدیث) کے ذریعے جائز ہے – مسلمانوں کی کمزوری اور ضرورت کی وجہ سے۔

۳۔ تعریض (کنایہ/ایہام) کی افضلیت

اکثر شارحین (نووی، خطابی، صنعانی، قسطلانی) نے تعریض کو صراحت پر ترجیح دی ہے – یعنی ایسی بات کہنا جو دو معنی رکھتی ہو، اور سامع غلط مفہوم لے لے، جبکہ بولنے والے کا ارادہ دوسرا ہو۔

مثال: نعیم بن مسعود کا واقعہ – انہوں نے بنی قریظہ کو قریش اور غطفان کے بارے میں ایسی باتیں کہیں جو ظاہراً مشورہ تھیں مگر باطن میں تفرقہ ڈالنے کا منصوبہ تھا۔


تیسرا باب: عملی حکمتِ عملی (جنگ میں رائے کی اہمیت)

۱۔ جنگ میں رائے (حکمت عملی) بہادری سے زیادہ اہم ہے

صنعانی، قسطلانی، اور دیگر نے اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جنگ میں «مماکرۃ» (چال بازی) «مکاثرۃ» (تعداد کی کثرت) سے زیادہ نفع بخش ہے۔

مشہور مثل: «إذا لم تغلب فاخلب» – یعنی اگر تم غالب نہ آ سکو تو دھوکہ دو / چال چلو۔

۲۔ اس حدیث کا عملی اطلاق (غزوہ خندق کا واقعہ)

یہ حدیث غزوہ خندق (یوم الاحزاب) کے موقع پر ارشاد ہوئی، جب مسلمان محصور تھے اور اطراف سے کفار (قریش، غطفان) اور یہود (بنی قریظہ) نے گھیر لیا تھا۔

نبی ﷺ نے نعیم بن مسعود (جو ابھی مسلمان ہوئے تھے اور ان کی قوم کو علم نہیں تھا) کو بھیجا کہ وہ دشمنوں کے درمیان تفرقہ ڈالے۔

نعیم نے بنی قریظہ کو یہ کہہ کر قریش اور غطفان سے الگ کر دیا کہ وہ تمہیں تنہا چھوڑ دیں گے – اس طرح انہوں نے مؤثر چال سے پوری جنگ کا رخ موڑ دیا۔

۳۔ چال کی اقسام (ابن العربیؒ اور دیگر کے مطابق)

جنگ میں خدعہ (دھوکہ) تین طریقوں سے ہو سکتا ہے:

توریہ (کنایہ/ایہام) – دو معنی والی بات کہنا۔

کمین (گھات لگانا) – دشمن کو دھوکہ دے کر حملہ کرنا۔

وعدہ خلافی (جھوٹا وعدہ) – دشمن کو جھوٹا وعدہ دینا (جب تک کہ عہد و امان کی خلاف ورزی نہ ہو)۔

۴۔ علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ (عمرو بن عبد ود کے ساتھ)

صنعانیؒ نے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عبد ود نے علی (رض) کو مبارزت کے لیے بلایا۔

علی (رض) نے فرمایا: "میں نے دو (آدمیوں) سے لڑنے کے لیے مبارزت نہیں کی" – عمرو پیچھے مڑا تو علی (رض) نے ان پر حملہ کر کے قتل کر دیا۔

یہ چال / توریہ کی ایک عملی مثال ہے جو جنگ میں استعمال ہوئی۔


چوتھا باب: اخلاقی اور روحانی اسباق

۱۔ جنگ میں احتیاط اور ہوشیاری

قسطلانی نے کہا: اس حدیث میں جنگ میں احتیاط اختیار کرنے کی ترغیب ہے – چاہے دشمن کا دھوکہ ایک بار ہی کیوں نہ ہو، اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہیے۔

۲۔ دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان کا انتخاب

مصنف (شرح کا مؤلف) نے ایک اہم اصولی نکتہ بیان کیا: جنگ میں جھوٹ کی اجازت دراصل «أخف الضررین» (دو نقصانات میں سے ہلکے نقصان) کو اختیار کرنے کے زمرے میں آتی ہے۔

مثال: اگر کوئی ظالم کسی مظلوم کو قتل کرنے کے لیے دوڑ رہا ہو اور آپ جانتے ہو کہ مظلوم کہاں چھپا ہے – تو کیا آپ سچ بول کر اسے قتل کروائیں گے؟ یا جھوٹ بول کر اسے بچائیں گے؟ جواب واضح ہے۔

۳۔ شریعت کا مقصد (مصالحِ عباد کا تحفظ)

ابن العربی نے کہا: جنگ میں جھوٹ کی اجازت مسلمانوں کے ساتھ نرمی کے لیے ہے، ان کی کمزوری اور ضرورت کی وجہ سے۔

اس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ شریعت کا مقصد محض احکام کا نفاذ نہیں، بلکہ بندوں کے مفادات کا تحفظ بھی ہے – اور بعض اوقات ایک چھوٹا سا نقصان (جھوٹ) ایک بڑے نقصان (قتل عام یا شکست) کو روکنے کے لیے جائز ہو جاتا ہے۔


پانچواں باب: اصولی نکات (قواعدِ فقہیہ)

نمبر -   نکتہ / سبق   -   وضاحت

۱ "الضرورات تبیح المحظورات" (مجبوریاں ممنوعات کو مباح کر دیتی ہیں) جنگ کی مجبوری میں جھوٹ (جو عام حالات میں حرام ہے) مباح ہو جاتا ہے۔

۲ "ارتکاب أخف الضررین" (دو نقصانات میں سے ہلکے کا ارتکاب) جھوٹ (ہلکا نقصان) کو قتل (بڑا نقصان) پر ترجیح دی گئی۔

۳ "المصالح المرسلة" (مصالحِ عباد کا تحفظ) شریعت کا مقصد بندوں کی مصلحت ہے – اس لیے بعض اوقات چھوٹی رخصتیں دی جاتی ہیں۔

۴ "الوسائل لها أحكام المقاصد" (ذرائع کا حکم مقاصد کے تابع ہے) اگر جھوٹ (ذریعہ) کسی بڑی مصلحت (مقصد) کے لیے ہو تو وہ جائز ہے۔

۵ "التعریض أولى من التصريح" (کنایہ صراحت سے بہتر ہے) اگر تعریض (کنایہ) سے کام چل سکتا ہے تو صریح جھوٹ سے بچنا چاہیے۔


چھٹا باب: خلاصہ اور جامع نتیجہ

حدیث «الحرب خدعة» کے کلیدی اسباق:

لغوی: اس حدیث کی پانچ لغات ہیں – افصح «خَدْعَة» (فتح الخاء، سکون الدال) ہے، جو نبی ﷺ کی زبان ہے، اور اس کا مفہوم "ایک بار کا دھوکہ" ہے۔

فقہی: جنگ میں دھوکہ دینا جائز ہے – بشرطیکہ عہد و امان کی خلاف ورزی نہ ہو۔

عملی: جنگ میں رائے (حکمت عملی) بہادری سے زیادہ اہم ہے – چال بازی (مماکرۃ) کثرت تعداد (مکاثرۃ) سے زیادہ نفع بخش ہے۔

اخلاقی: تعریض (کنایہ) کو صریح جھوٹ پر ترجیح دی گئی ہے – اگر کام چل سکتا ہے تو براہِ راست جھوٹ سے بچنا چاہیے۔

اصولی: شریعت میں "أخف الضررین" کا اصول ہے – چھوٹا نقصان (جھوٹ) بڑے نقصان (قتل) کو روکنے کے لیے جائز ہے۔

تاریخی: غزوہ خندق میں نعیم بن مسعود کا واقعہ اس حدیث کا عملی اطلاق ہے – جس نے ایک چال سے پوری جنگ کا رخ موڑ دیا۔

جامع حکمت: یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں حکمت، رائے اور چالاکی کو استعمال کیا جا سکتا ہے – بشرطیکہ وہ شریعت کی حدود میں ہو اور کسی بڑے نقصان کو روکنے کے لیے ہو۔


📌 آخری نکتہ:

یہ حدیث محض جنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا اصول (حکمتِ عملی، چالاکی اور رائے کا استعمال) زندگی کے ہر پہلو میں لاگو کیا جا سکتا ہے – تجارت، سیاست، معاشرتی تعلقات، اور دفاعِ نفس وغیرہ۔

واللہ أعلم بالصواب۔






حج: ایک ایسا جہاد جس میں کوئی تکلیف (کانٹا) نہیں۔

(14) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہا:

"میں بہت بزدل ہوں اور میں کمزور ہوں۔" آپ ﷺ نے فرمایا:
«هَلُمَّ إِلَى جِهَادٍ لَا شَوْكَةَ فِيهِ: الْحَجِّ»
    "پھر تم اس جہاد کی طرف آؤ جس میں کوئی خونریزی نہیں: حج کی طرف۔" 
 [المعجم الاوسط للطبرانی:4287، المعجم الکبیر للطبرانی:2910]

---

حوالہ (تخریج):

محدث » کتاب » رقم/حديث

عبد الرزاق، المصنف (8809)

سعيد بن منصور، السنن (2242)

البغوي، الجعديات (2478)


راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث صحیح / حسن ہے اور قابلِ عمل ہے۔

امام الہیثمی» وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

[مجمع الزوائد:5257]

امام الصنعانی» حسن» رمز المصنف لحسنه

[التنویر  شرح الجامع الصغیر:9578]

علامہ البانی» صحیح

[صحيح الترغيب:1098، صحيح الجامع:7044]

---

شرح (تشریح)

۱. سیاق و سباق (موقعیت):

ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے اپنی بزدلی اور جسمانی کمزوری کا اظہار کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جہاد بالسیف (میدانِ جنگ میں قتال) کی استطاعت نہیں رکھتا۔

۲. "هَلُمَّ" کے معنی:

لفظ "هَلُمَّ" کے معنی "آؤ" یا "میرے پاس آؤ" کے ہیں، اور یہ یہاں "إلى" کے ساتھ متعدی ہے۔

۳. "جهاد لا شوكة فيه" کے معنی:

"شَوْكة" (کانٹا) سے مراد مشقت، تکلیف، اور سختی ہے۔ یعنی ایسا جہاد جس میں جنگ کی مشقت اور جان کا خطرہ نہ ہو۔

۴. حج کو جہاد کیوں کہا گیا؟

شارحین نے اس کی چند وجوہات بیان کی ہیں:

· حاجی اپنے نفس کی خواہشات اور شیطان کے وسوسوں کے خلاف جہاد کرتا ہے۔

· حج میں مال اور جسم کی مشقت تو ہے، مگر جان کا خطرہ نہیں۔

· حج کمزوروں، بوڑھوں اور عورتوں کا جہاد ہے۔

· مسلمانوں کا اجتماع مشرکین کو بیت اللہ سے دور رکھتا ہے۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9578]

---

حاصل اسباق و نکات

1. اسلام میں وسعت اور رحمت:

   اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی استطاعت کے مطابق عبادت رکھی ہے۔ جو شخص جہادِ قتال پر قادر نہ ہو، اس کے لیے حج جہاد کا متبادل ہے۔

2. حج کے فضائل:

   حجِ مبرور (مقبول حج) گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔

3. نیت اور خلوص:

   اس حدیث میں نیت کی اہمیت ہے — کمزور شخص نے جہاد کی نیت کی، اور نبی ﷺ نے اسے حج کی طرف رہنمائی فرمائی۔

4. اعمال میں آسانی:

   شریعت میں تکلیف کو دور کرنا مقصود ہے۔ حج اگرچہ خود ایک مشقت ہے، مگر قتال کی مشقت سے ہلکا ہے۔

5. ہر استطاعت کے لیے راستہ:

   یہ حدیث بوڑھوں، بیماروں، عورتوں اور کمزوروں کے لیے بشارت ہے کہ ان کے لیے بھی جہاد کا دروازہ کھلا ہے۔

6. حج: روحانی جہاد:

   حج دراصل نفس کے خلاف جہاد ہے — اپنی خواہشات کو روکنا، صبر کرنا، اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا۔

---

خلاصہ:

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حج ایک ایسا جہاد ہے جس میں قتال کی مشقت نہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے رحمت ہے جو جنگی جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ حدیث صحیح/حسن ہے اور اس پر عمل کرنا (یعنی حج کی فضیلت کو جاننا اور اس کی ترغیب دینا) باعثِ خیر ہے۔


📜 شرح المناوی:

"ہَلُمَّ" کے بارے میں رضی (شارح) نے فرمایا کہ یہ (عربی زبان میں) متعدی (فعل متعدی) اور لازم (فعل لازم) دونوں طرح آتا ہے:

ایک معنی "أَقْبِلْ" (آؤ) کے ہیں، تو یہ "إلی" کے ساتھ متعدی ہوتا ہے (مثلاً: ہلم إلیَّ یعنی میرے پاس آؤ)۔

اور دوسرے معنی "أَحْضِرْ" (لاؤ) کے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "هَلُمَّ شُهَدَاءَكُم" (سورۃ البقرہ: ۱۱۱) یعنی "اپنے گواہ لاؤ

اور خلیل بن احمد کے نزدیک یہ "ہاء تنبیہ" ہے جس کے ساتھ "لَم" ملا دی گئی ہے، جو "لَمَّ اللہُ شَعَثَہ" (اللہ نے اس کی پریشانی دور کی) سے ماخوذ ہے، اور اس کا معنی ہے "اپنی ذات کو ہماری طرف جمع کر"۔ پھر جب یہ مرکب بنا تو اس کا اصل معنی بدل گیا، کیونکہ اب یہ "أقبل" یا "أحضر" کے معنی میں آتا ہے، جبکہ پہلے "أجمع" (جمع کرنا) کے معنی میں تھا، اور یہ اسمِ فعل بن گیا، جیسے دوسرے اسمائے افعال جو اپنی اصل سے منقول ہیں۔

"إلی جهاد لا شوكة فيه الحج" – یعنی اس جہاد کی طرف جس میں کوئی جنگ (قتال) نہیں، (یعنی حج)۔ "شوكة" سے مراد جنگ کی شدت اور سختی ہے۔

اسی سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ماخوذ ہے جب انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو (ہرمز کے سامنے) کہا: "آپ نے میرے پیچھے بہت سے لوگ چھوڑے ہیں اور سخت شرکہ (یعنی شدید جنگ اور ظاہری قوت) ہے۔"

[فيض القدير-المناوي:9597]

---

📌 حاصل اسباق و نکات 

۱. "ہلم" کا لغوی اور صرفی تجزیہ

اس عبارت میں لفظ "ہلم" کا تفصیلی لغوی اور صرفی تجزیہ پیش کیا گیا ہے:

یہ متعدی اور لازم دونوں طرح آتا ہے۔

اس کے دو معنی ہیں: "آؤ" (أقبل) اور "لاؤ" (أحضر)۔

خلیل بن احمد کے نزدیک یہ "ہاء تنبیہ" اور "لم" (جو "لم الله شعثہ" سے ماخوذ ہے) کا مرکب ہے، اور ترکیب کے بعد اس کا معنی بدل گیا۔

یہ اسمِ فعل ہے، جیسے دوسرے اسمائے افعال۔


۲. حج کو "جهاد لا شوكة فيه" کہنے کی حکمت

اس حدی میں حج کو "جهاد لا شوكة فيه" (بغیر کانٹے کا جہاد) کہا گیا ہے، کیونکہ اس میں قتال (جنگ) کی مشقت اور جان کا خطرہ نہیں، البتہ اس میں نفس کی خواہشات، شیطان اور سفر کی تکلیف کے خلاف جہاد ہے۔


۳. کمزور اور بزدل شخص کے لیے جہاد کا متبادل

اس حدیث کا سیاق یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی بزدلی اور جسمانی کمزوری کا اظہار کیا، تو نبی ﷺ نے اسے حج کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت میں ہر استطاعت کے لیے راستہ ہے — جو جہادِ قتال پر قادر نہ ہو، وہ حج کے ذریعے جہاد کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔


۴. حدیث کی سند اور اس کا درجہ

اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے، اور منذری نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے، جس کی بنا پر امام سیوطی/مناوی نے اس پر حسن کا نشان لگایا ہے۔


۵. "شوکة" کے معنی اور اس کا استعمال

"شوكة" کے معنی سختی، شدت، اور جنگی قوت کے ہیں۔ اس حدیث میں اس سے مراد جنگ کی تلوار اور نیزے ہیں، یعنی حج میں یہ سب کچھ نہیں ہے۔


۶. حج کی فضیلت اور اس کا جہاد سے موازنہ

حج کو جہاد قرار دینا اس کی عظمت اور فضیلت کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جنگی جہاد کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "الجهاد الأكبر هو جهاد النفس" (بزرگ جہاد نفس کا جہاد ہے) — اور حج میں نفس کا جہاد بھی ہے۔


خلاصہ:

یہ عبارت لفظ "ہلم" کے لغوی اور صرفی پہلوؤں اور اس حدیث کی تشریح پر مشتمل ہے کہ حج ایک ایسا جہاد ہے جس میں قتال کی مشقت نہیں۔ یہ حدیث حسن ہے اور اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام نے ہر شخص کی استطاعت کے مطابق عبادت کا راستہ رکھا ہے، اور حج کمزوروں، بوڑھوں اور عورتوں کے لیے جہاد کا متبادل ہے۔





عنوان:

رات کے وقت کھجور توڑنے اور فصل کاٹنے سے ممانعت

(15) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  نے فرمایا

نَهَى رَسُولُ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - عَنِ الْجِدَادِ بِاللَّيْلِ , وَالْحَصَادِ بِاللَّيْلِ

ترجمہ

"نبی کریم ﷺ نے رات کے وقت کھجوریں توڑنے اور رات کے وقت (اناج کی) فصل کاٹنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔"

[کنزالعمال:15904]

---

حوالہ (تخریج)

[الخراج يحيى بن آدم (٤٢٣)، المراسيل أبو داود (١٢٧)]


محدث » کتاب » رقم/حدیث

امام بیہقی، السنن الکبریٰ 7302 (4/133)

امام سیوطی/الصنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر (9322)

علامہ البانی صحيح الجامع (6872) السلسلة الصحيحة (2393)


راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث صحیح / حسن ہے اور قابلِ عمل ہے۔

امام سیوطی/الصنعانی حسن انہوں نے اس پر "رمز لحسنه" (حسن کا نشان) لگایا ہے۔

[صحيح الجامع:6872، السلسلة الصحيحة:2393]


خلاصہ حکم:

یہ حدیث صحیح ہے اور اس پر عمل کرنا یعنی رات کے وقت فصل کاٹنے اور پھل توڑنے سے اجتناب کرنا مستحب یا ضروری ہے، تاکہ غریبوں اور مسکینوں کے حقوق ادا کیے جا سکیں۔

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

1. "الجَدَّاد" (جیم کے فتحہ(زبر) اور کسرہ(زیر) دونوں کے ساتھ) کے معنی کھجور کے پھل کو توڑنے (صرام النخل) کے ہیں۔

2. "الحَصَاد" کے معنی کھیتی (اناج) کو کاٹنے کے ہیں۔

3. اس ممانعت کی علت (وجہ) یہ بیان کی گئی ہے کہ:

   · لوگ رات کی تاریکی میں چھپ کر یہ کام کرتے تھے تاکہ غرباء اور مسکینوں کو ان کا حق (زکوٰۃ، عشر، یا حصہ) نہ دینا پڑے۔

   · جب دن میں یہ کام کیا جائے تو فقراء موجود ہوتے ہیں اور انہیں ان کا شرعی حق دیا جا سکتا ہے۔

4. اس سلسلے میں سورۃ القلم (نون) کے اصحاب الجنتہ (باغ والوں) کا واقعہ یاد دلایا گیا ہے، جنہوں نے رات کو چپکے سے اپنا باغ توڑنے کا ارادہ کیا تاکہ مسکینوں کو کچھ نہ ملے، اور انجام کار اللہ تعالیٰ نے ان کا پورا باغ جل کر تباہ کر دیا (سورۃ القلم: 17-33)۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9322]


حقوقِ فقراء کی ادائیگی کا حکم:

امام الصنعانی اور دیگر شارحین اس حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں:

۱. لفظی معنی

· "الجذاذ" (فتحہ(زبر) اور کسرہ(زیر) دونوں کے ساتھ): کھجور کے پھل کو توڑنے (صرام النخل) کو کہتے ہیں۔

· "الحصاد": کھیتی (اناج) کو کاٹنے کو کہتے ہیں۔

۲. اصل علتِ ممانعت (فقراء سے فرار)

لوگ رات کی تاریکی میں چھپ کر یہ کام کرتے تھے تاکہ غرباء اور مسکینوں کو ان کا حق (زکوٰۃ، عشر، یا حصہ) نہ دینا پڑے۔ اس لیے نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا، اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی طرف اشارہ کیا:

"وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ"

"اور اس کا حق (عشر یا زکوٰۃ) اس کے کاٹنے کے دن دے دیا کرو۔"

(الأنعام: 141)

امام زمخشری (صاحب تفسیر الکشاف) نے اسی آیت کی روشنی میں اس حدیث کی علت کو حقوقِ فقراء قرار دیا ہے۔

۳. دوسری علت (ہوام) کا رد

بعض علماء نے اس ممانعت کی علت یہ بتائی کہ رات کو کیڑے مکوڑے (هوام) زیادہ ہوتے ہیں جو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے منع کیا گیا۔

مگر امام زمخشری اور دیگر محققین کے نزدیک یہ علت ضعیف اور غیر صحیح ہے، کیونکہ اصل مقصد حقوق العباد کی ادائیگی ہے، نہ کہ محض حفاظتِ جسم۔

[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:9379]

---

حاصل اسباق و نکات

1. حقوق العباد کی پاسداری (معاشی انصاف):

   اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو غریبوں اور مسکینوں کے حقوق کی انتہائی اہمیت ہے۔ پیداوار (فصل، پھل) پر زکوٰۃ یا عشر واجب ہے، اور اسے موقع ملنے پر ادا کرنا ضروری ہے۔

2. چھپ کر حقوقِ اللہ سے بچنا حرام ہے:

   رات کی تاریکی میں فصل کاٹنا تاکہ فقراء نہ دیکھ سکیں، ایک مکر اور فریب کی صورت ہے، جیسا کہ قرآن میں اصحاب الجنتہ کا واقعہ ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔

3. نیت کا دارومدار:

   اسلام میں نیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کوئی رات کو اس لیے فصل کاٹتا ہے کہ اس کے پاس دن میں وقت نہیں، اور وہ غریبوں کا حق علیحدہ سے ادا کرتا ہے، تو شاید اس میں حرج نہ ہو، لیکن اصل حکمت حقوق کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

4. غریبوں کے ساتھ نرمی اور شفقت:

   اس حدیث میں غرباء کے ساتھ ہمدردی اور ان کے جذبات کا خیال رکھنے کا درس ہے کہ جب وہ دن میں فصل کٹتے دیکھیں تو انہیں خوشی ہو اور وہ اپنا حق مانگ سکیں۔

5. معاشرتی انصاف اور شفافیت:

   اسلام نے معاشی معاملات میں شفافیت کو ترجیح دی ہے۔ رات کو چھپ کر کام کرنا دھوکہ دہی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے اسے روکا گیا۔

6. قرآنی قصے سے سبق (سورۃ القلم):

   اصحاب الجنتہ کا قصہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے جو غریبوں کا حق روکتا ہے، اور اس کی نعمت کو تباہ کر دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر دوسروں کا حق ادا کریں۔

7. وقت کا شعور (دن اور رات کا فرق):

   اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اوقات کے اعتبار سے بعض کاموں کی افضلیت یا ممانعت ہے۔ رات کا وقت عبادات اور آرام کے لیے ہے، جبکہ دن کا وقت معاشی سرگرمیوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

8. علتِ حکم کا صحیح ادراک:

   اس حدیث کی شرح میں زمخشری کا استدلال ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ احکام کی علتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ محض ظاہری حفاظت (کیڑے مکوڑے) کو علت بنانا درست نہیں، بلکہ اصل روح حقوقِ بندگان ہے۔

5. آیتِ قرآنی سے استدلال:

   اس حدیث کی تشریح میں اللہ کا فرمان "وآتوا حقه يوم حصاده" پیش کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ شریعت کا ہر حکم قرآن کے اصولوں کے تابع ہے، اور حدیث قرآن کی وضاحت کرتی ہے۔

---

خلاصہ:

حدیث "نهى عن الجداد بالليل والحصاد بالليل" صحیح ہے اور اس کا پیغام یہ ہے کہ رات کے وقت کھجوریں توڑنے اور فصل کاٹنے سے منع کیا گیا ہے تاکہ غرباء اور مسکینوں کو ان کا حق (زکوٰۃ، عشر) ادا کیا جا سکے، اور وہ اس میں شریک ہو سکیں۔ یہ حکم معاشی انصاف، شفافیت، اور حقوق العباد کی ادائیگی کو فروغ دیتا ہے جیسا کہ زمخشری نے واضح کیا، اصل وجہ فقراء سے فرار ہے، نہ کہ کیڑوں کا خوف۔ ہمیں اپنے زرعی معاملات میں اس اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیے، اور اصحاب الجنتہ کے انجام سے ہمیں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔




(16) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، وَأَنْتُمْ بعدي أشد اخْتِلَافًا۔

ترجمہ:

"تم (میری حیات میں) اختلاف کر چکے ہو حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، اور تم میرے بعد شدید اختلاف کرو گے۔"

[المعجم الکبیر للطبرانی:2908، الصَّحِيحَة:3256]

حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن صائد کے لیے دھوئیں (دُخ) کو چھپا رکھا تھا، پھر آپ نے اس سے پوچھا کہ میں نے تمہارے لیے کیا چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا: دُخ (دھواں)۔
    آپ ﷺ نے فرمایا: "دور ہو جا! تو اپنی مدت سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔
    جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے گئے تو لوگوں نے پوچھا: اس نے کیا کہا؟ بعض نے کہا: اس نے 'دُخ' کہا، بعض نے کہا: بلکہ اس نے 'زُخ' کہا۔ 
    اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«هَذَا وَأَنْتُمْ مَعِي تَخْتَلِفونَ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا» 

ترجمہ:

"یہ (اختلاف) ہوا اور تم میرے ساتھ ہو، پس تم میرے بعد (اور بھی) شدید اختلاف کرو گے۔

[المعجم الکبیر للطبرانی:2909]






(17) ہدیہ (تحفہ) میں حسنِ سلوک:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من أتته هدية وعنده قوم جلوس فهم شركاؤه فيها.
ترجمہ:
جس کے پاس ہدیہ(تحفہ) آئے اور اس کے پاس لوگ بیٹھے ہوں تو وہ بھی اس ہدیہ میں شریک(حصہ دار) ہیں۔
[کنزالعمال:15065]

القرآن:
۔۔۔اور (احسان-اچھا سلوک کرو) پاس بیٹھنے والے (ہم مجلسی) سے بھی۔۔۔
[سورۃ النساء:36]


📜 شرح الصنعانی:
"جس شخص کے پاس کوئی ہدیہ آئے، اور اس کے پاس بیٹھے ہوئے کچھ لوگ موجود ہوں، تو وہ سب اس (ہدیہ) میں شریک ہیں۔"
تشریح:
یہ ہدیہ خواہ کوئی بھی ہو—جب کوئی شخص کسی کے پاس ہدیہ لے کر آئے اور وہاں دوسرے لوگ بیٹھے ہوں، تو وہ سب اس ہدیہ میں شریک ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم نشین (جلیس) کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت فرمائی ہے، اور ہدیہ اس احسان کا بہترین ذریعہ ہے—یہ وہ رزق ہے جو اللہ اپنے بندے تک پہنچاتا ہے۔


📜 شرح المناوی:
"جس شخص کے پاس (طبرانی کی روایت کے مطابق: جسے) کوئی ہدیہ پیش کیا جائے، اور اس کے پاس بیٹھے ہوئے کچھ لوگ موجود ہوں، تو وہ سب اس (ہدیہ) میں شریک ہیں۔"

تشریح: یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہم نشین (جلیس) کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت فرمائی ہے، اور یہ حکم ساتھی (حضر میں)، رفیقِ سفر (سفر میں) اور بیوی (جو ان سب سے بڑی ہے) سب کو شامل ہے۔ ان کا عزت و احترام کا حق اس لیے واجب ہے کہ ہم ان کے ساتھ اپنی نعمت (ہدیہ) میں شریک کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے تمہارے لیے موافق سہولت اور نفع پیدا کیا ہے۔ پس اگر تم ان کا حق ادا نہیں کرو گے تو تم نے ان کا شکر ادا نہیں کیا، اور اللہ ناشکروں کو پسند نہیں فرماتا۔

حکیم (دانشمند) نے کہا:
"جلیس (ہم نشین) وہ لوگ ہیں جو تمہاری صحبت میں اس قدر مداومت رکھتے ہیں کہ وہ تمہارے ساتھ ایک وجود بن گئے ہیں۔ پس ہر شخص جو تمہارے پاس بیٹھے وہ تمہارا جلیس نہیں، بلکہ جلیس وہ ہے جو تمہیں اپنے راز بتاتا ہے اور تمہارے معاملات میں تمہارے ساتھ گھل مل جاتا ہے، اس کا حق اور حرمت ہے۔"

📖 حکایت (واقعہ)
ابن العربی نے کہا:
"مجھے بہجۃ الملک ابو طالب ابن عین الدولہ (بادشاہِ صور) نے بتایا کہ انہوں نے بادشاہِ مصر کو ایک عظیم ہدیہ بھیجا، جس میں ہر طرح کی نفیس چیزیں، سلطنتی آلات اور عجیب و غریب خزانے شامل تھے۔ انہوں نے کہا: اس کی خوبصورتی کی کوئی مثال نہیں تھی، اور اسے جمع کرنے میں کئی سال لگے۔ جب یہ مکمل ہوا تو اسے بادشاہِ مصر کی طرف بھیج دیا۔ جب قاصد (رسل) مصر کے خیمے (فسطاط) میں داخل ہوئے اور ہدیے کی کتابیں پیش کیں، تو اس وقت وہاں ابن ربیعہ (بادشاہِ طے) مہمان تھے۔ انہوں نے بادشاہِ مصر سے کہا: 'یہ ہدیہ مشترک ہے۔' تو بادشاہِ مصر نے جواب دیا: 'ہم جیسے لوگوں کے لیے شرکت درست نہیں اور نہ ہی مناسب ہے، یہ پوری ہدیہ آپ کی ہے۔' پس انہوں نے اسے (پوری) لے لیا۔"

بہجۃ الملک نے کہا: "مجھے اس ہدیہ کے جانے کا اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس بات کا کہ میں اس کی عین اشیاء (تفصیلات) نہ دیکھ سکا، تاکہ میں وہ چیزیں دیکھتا جو اپنی سلطنت میں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔"

📖 تخریج (حوالہ)
یہ حدیث امام طبرانی (معجم الکبیر و الاوسط) اور خطیب بغدادی نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔

محدثین کے اقوال:

محدث حکم وجہ
امام ہیثمی ضعیف فرمایا: "اس میں یحییٰ بن سعید القطان راوی ہیں، جو ضعیف ہیں۔"
امام عقیلی "لا یصح فی هذا المتن حدیث" فرمایا: "اس متن میں کوئی صحیح حدیث نہیں۔"
امام بخاری "لا یصح" (تعلیقاً) انہوں نے اسے معلقاً نقل کیا اور کہا: "یہ صحیح نہیں۔"
امام ذہبی "لا یصح" (المیزان میں) انہوں نے بخاری کا قول نقل کیا۔
ابن الجوزی موضوع (من گھڑت) انہوں نے اس کے تمام طرق کو موضوع قرار دیا۔
نوٹ:

مندل بن علی (دوسری سند میں) کے بارے میں کلام ہے، لیکن بعض نے انہیں ثقہ بھی کہا ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک موقوف (ان کا اپنا قول) روایت ہے جس کی سند جید (اچھی) ہے، البتہ مرفوع (نبی ﷺ سے منسوب) روایت کو ابن الجوزی نے موضوع قرار دیا ہے۔



📌 حاصل اسباق و نکات
۱۔ یہ روایت سنداً ضعیف اور موضوع ہے، اس لیے اسے سنتِ نبوی نہ سمجھیں
یہ حدیث محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، اور ابن الجوزی نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔ اس کی سند میں یحییٰ بن سعید العطار اور مندل بن علی جیسے راوی ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف کہا ہے۔ لہٰذا اس روایت کو بطورِ سنتِ نبوی پیش کرنا یا اس پر عمل کرنا درست نہیں ہے۔ (حوالہ: فیض القدیر، مجمع الزوائد، الموضوعات لابن الجوزی)

۲۔ "جلیس" (ہم نشین) کا حق—ایک اخلاقی اور قرآنی اصول
اگرچہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم (ہم نشینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا) قرآن و سنت کے عمومی اصولوں کے مطابق ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جلیس کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت فرمائی ہے۔

جلیس وہ ہے جو تمہارے ساتھ بیٹھتا ہے، تمہیں اپنے راز بتاتا ہے، اور تمہارے معاملات میں شریک ہوتا ہے—اس کا حق اور حرمت ہے۔ (حوالہ: فیض القدیر کی شرح)

۳۔ ہدیہ کی تقسیم کا اصل حکم (فقہی اصول)
فقہاء کے نزدیک:

اگر کوئی شخص کسی کو ہدیہ دے اور وہاں دوسرے لوگ بیٹھے ہوں، تو ہدیہ صرف اس شخص کا ہوگا جسے دیا گیا ہے، جب تک کہ ہدیہ دینے والا صراحتاً سب کو شامل نہ کرے۔

البتہ اخلاقی طور پر مستحب ہے کہ ہدیہ پانے والا اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے اور انہیں کچھ دے، خاص طور پر اگر وہ اس کے جلیس (خاص ہم نشین) ہوں۔ (حوالہ: فقہی کتب)

۴۔ اس حدیث کا ایک موقوف طریق (ابن عباس سے)
اگرچہ مرفوع روایت موضوع ہے، لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک موقوف روایت (یعنی ان کا اپنا قول) ہے جس کی سند جید (اچھی) ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معنی (ہدیہ میں جلیس کا حق) صحابہ کرام کے ہاں ایک اخلاقی اصول تھا، چاہے وہ بطورِ سنتِ نبوی ثابت نہ ہو۔ (حوالہ: لسان المیزان)

۵۔ سند کی تحقیق اور راویوں کی جرح کا اہم سبق
اس روایت کی سند میں یحییٰ بن سعید القطان، مندل بن علی اور محمد بن مسلم الطائفی جیسے راوی ہیں جن کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی روایت کو بغیر سند کی تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے۔ (حوالہ: اصولِ جرح و تعدیل)

۶۔ ہدیہ اور بادشاہوں کے آداب (واقعہ سے سبق)
اس حدیث کی شرح میں جو واقعہ نقل کیا گیا ہے (بادشاہِ صور اور بادشاہِ مصر کا) اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ باوقار اور اعلیٰ مرتبے والے لوگ ہدیہ کو مشترک نہیں سمجھتے، بلکہ اسے پورا قبول کرتے ہیں۔ البتہ وہ اپنے جلیسوں کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک ضرور کرتے ہیں۔ یہ حلم، بردباری اور جود و سخا کا مظہر ہے۔

خلاصہ:
یہ روایت "من أتته هدية وعنده قوم جلوس فهم شركاؤه فيها" محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) اور سخت ضعیف ہے، اس لیے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا اور اس پر عمل کرنا درست نہیں۔ البتہ اس کا مفہوم (ہم نشینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور ان کا حق ادا کرنا) اخلاقی اور قرآنی اصولوں کے مطابق ہے، اور صحابہ کرام سے اس معنی کی ایک موقوف روایت موجود ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے جلیسوں (ہم نشینوں) کے ساتھ احسان اور اچھا سلوک کریں، لیکن اس مخصوص ہدیہ کی تقسیم کو سنتِ نبوی نہ سمجھیں۔






(18) انجان مسلمان کا جنازہ کون پڑھائے؟
حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إذا حضرت الجنازة فالإمام أحق بالصلاة عليها من غيره.
ترجمہ:
جب جنازہ آجائے تو امام(راہنما) اس پر نماز جنازہ پڑھانے کا دوسرے سے زیادہ حق دار ہے۔
[الديلمى:1309، المطالب العالية:870، جامع الاحادیث:1795، کنزالعمال:42288(42301)]

القرآن:
اور جب آپ ان میں ہوں تو آپ پڑھائیں انہیں نماز۔۔۔
[سورۃ النساء:102]

تشریح:
ولی صاحب حق ہے، مگراس سے مقدم سلطان وقاضی وامام حی ہے۔ اور محلہ کی مسجد کےامام کو ولی پرمقدم قراردیا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے کہ محلہ کا وہ امام جو حاکمِ وقت کی طرف سے مقررکردہ ہے، اس کو محلہ کے لوگوں پر حاکم اور قاضی کی طرح ایک قسم کی ولایت حاصل ہوئی ہے، وہ نماز جنازہ پڑھانے میں ولی پرمقدم ہوتا ہے۔

بادشاہ یا قاضی یا اس کا نائب حاضر ہونے کے وقت میت پر نمازہ جنازہ پڑھانے کا حق ولی کے بنسبت انہیں لوگوں کا ہے، اگر بادشاہ یا قاضی یا ان کی طرف سے مقرر شدہ نائب نہیں ہے، تو استحباباً محلّے کےامام کو ولی پر مقدم کرنا چاہیے، اگر ولی محلّے کے امام سے افضل ہے تو ولی کو مقدم کرنا چاہیے، لہذا یہ مسئلہ درست ہے اگر بادشاہِ وقت کی طرف سے مسجد کا امام مقرر ہے تو ولی پر اس کا حق وجوباً مقدم ہے کیوں کہ یہ بادشاہ کا نائب ہے، اورجس طرح بادشاہ کی موجودگی میں ان کی تعظیم کی وجہ سے ولی پر اس کا حق مقدم ہے اسی طرح نائب کی موجودگی میں بھی نائب کا حق مقدم ہے، اوراگر وہ امام بادشاہ وقت کی طرف سے مقرر نہیں ہے تو مسجد کے امام کا حق استحباباً مقدم ہےکیوں اس میں وہ علت نہیں پائی جارہی جو بادشاہ کے نائب میں پائی جارہی تھی اور استحباباً اس وجہ سے مقدم ہے کہ میّت زندگی میں نماز پڑھانے پر اس پر راضی تھا تو مرنے کے بعد اسی کو پڑھانا چاہیے، اگر اس کی موجودگی میں ولی نماز پڑھائے تو درست ہے، اسی طرح اگر ولی اس محلہ کے امام سے افضل ہے تو ولی ہی کو نماز پڑھانا چاہیے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح میں ہے:

 "السلطان أحق بصلاته الواجب تعظيمه "ثم نائبه" لأنه السنة "ثم القاضي" لولايته ثم صاحب الشرط ثم خليفة الوالي ثم خليفة القاضي "ثم إمام الحي" لأنه رضيه في حياته فهو أولى من الولي في الصحيح "ثم الولي

قوله: "السلطان أحق بصلاته" المراد بالسلطان الخليفة قوله: "لواجب تعظيمه" أي لتعظيمه الواجب لأن في تقديم غيره عليه إهانته قوله: "ثم نائبه" أي نائب الخليفة في أحكام السياسة وهو أمير البلدة كما في الدرر ويجب تقديمه ولا ينافيه قوله لأنه السنة لأن المراد بها في كلامه الطريقة المعهودة في الدين قوله: "لأنه السنة" أي لأن تقديم النائب هو السنة أي علم منها فقد قدم الحسين سعيد بن العاص ليصلي على جنازة أخيه الحسن وكان سعيد حينئذ واليا على المدينة فقال له الحسين: تقدم ولولا السنة ما قدمتك أفاده في الشرح...

قوله: "ثم إمام الحي" المراد به إمام مسجد محلته لكن بشرط أن يكون أفضل من الولي وإلا فالولي أولى منه كما في النهر وفي الشرح والصلاة في الأصل حق الأولياء لقربهم إلا أن الإمام والسلطان يقدمان لعارض الإمامة العظمى والسلطنة فإن في التقدم عليهما ازدراء وفساد أمر المسلمين فيتحاشى عن ذلك الفساد فيجب تقديم من له حكم عام وأما إمام الحي فيستحب تقديمه على طريق الأفضلية وليس بواجب كما في المستصفى قوله: "لأنه رضيه الخ" قال البرهان الحلبي على هذا لو علم أنه كان غير راض به حال حياته ينبغي أن لا يستحب تقديمه".

[حاشية الطحطاوي: کتاب الصلوۃ، باب احکام الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته، ص:588، ط:دارالکتب العلمیۃ]

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(ثم إمام الحي) فيه إيهام، وذلك أن تقديم الولاة واجب، وتقديم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن يكون أفضل من الولي، وإلا فالولي أولى كما في المجتبى...

(قوله: وذلك أن تقديم الولاة واجب) لأن في التقديم عليهم ازدراء بهم، وتعظيم أولي الأمر واجب، كذا في الفتح. وصرح في الولوالجية والإيضاح وغيرهما بوجوب تقديم السلطان، وعلله في المنبع وغيره بأنه نائب النبي - صلى الله عليه وسلم - الذي هو أولى بالمؤمنين من أنفسهم فيكون هو أيضا كذلك إسماعيل (قوله بشرط إلخ) نقل هذا الشرط في الحلية، ثم قال: وهو حسن، وتبعه في البحر (قوله إمام المسجد الجامع) عبر عنه في شرح المنية بإمام الجمعة. [تنبيه]

وأما إمام مصلي الجنازة الذي شرطه الواقف وجعل له معلوما من وقفه فهل يقدم على الولي كإمام الحي أم لا للقطع بأن علة الرضا بالصلاة خلفه في حياته خاصة بإمام المحلة؟ والذي يظهر لي أنه إن كان مقررا من جهة القاضي فهو كنائبه، وإن من جهة الناظر فكالأجنبي أفاده في البحر. وخالفه في النهر بأن ما مر في باب الإمامة من تقديم الراتب على إمام الحي يقتضي تقديمه هنا عليه. واستظهر المقدسي أنه كالأجنبي مطلقا لأنه إنما يجعل للغرباء، ومن لا ولي له.

أقول: وهذا أولى لما يأتي من أن الأصل أن الحق للولي، وإنما قدم عليه الولاة وإمام الحي لما مر من التعليل وهو غير موجود هنا".

[فتاویٰ شامی: کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ الجنازۃ، ج:2، ص:220، ط:ایچ ایم سعید]




(19) حرام کمائی نامقبول اور غذا جہنم کا سبب ہے:
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مثل الذي يصيب المال من الحرام ثم يتصدق به لم يقبل الله منه إلا كما يتقبل من الزانية التي تؤتى ثم تصدق به على المرضى.
ترجمہ:
حرام آمدنی میں سے صدقہ کرنے والی کی مثال اس زانیہ عورت کی طرح ہے جو اپنی زنا کی آمدنی میں سے مریضوں وغیرہ پر صدقہ کرے۔
[جامع الاحادیث-السیوطی:20986، کنزالعمال:9262]

القرآن:
... اللہ تو ان لوگوں سے (قربانی) قبول کرتا ہے جو متقی ہوں۔
[سورۃ المائدۃ:27]
القرآن:
... اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا کرو...
[سورۃ البقرہ:267]




(20) بادشاہوں کی اصلاح:
ایمان کی فضیلت» مومن کی علامت » برائی سے روکنا۔
سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لا ينبغي لنفس مؤمنة ترى من يعصي الله فلا تنكر عليه.
ترجمہ:
کسی مومن جان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اس شخص کو دیکھے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اور اس پر انکار(روک ٹوک) نہ کرے۔
[حکیم ترمذی:1/66، جامع الاحادیث-السیوطی:18160، کنزالعمال:5614]

القرآن:
اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
[سورۃ التوبہ:71]




(21) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يَحْتَجِمُ فِيهَا أَحَدٌ إِلَّا مَاتَ»۔
ترجمہ:
    "بے شک جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اگر اس میں کوئی شخص پچھنا لگوائے تو مر جائے گا۔
"
[مسند ابویعلی:6779، السنن الكبري للبيهقي:19541]

 📜 شرح المناوی:

"بے شک جمعہ کے دن ایک گھڑی (یعنی ایک لمحہ) ہے – اور کہا گیا ہے کہ یہاں فلکی گھڑی مراد نہیں – کہ جس میں کوئی شخص حجامت (پچھنا) لگواتا ہے تو وہ مر جاتا ہے، یعنی حجامت کی وجہ سے۔ اور 'فی الجمعۃ' کا مطلب ہے جمعہ کے دن، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد پورے ہفتے کی کوئی گھڑی ہے، لیکن پہلا معنیٰ زیادہ قریب ہے، اور دوسری روایت میں اس کی تائید ہے۔"

یہ حدیث (امام سیوطی کی 'الجامع الصغیر' میں) 'ع' (یعنی ایک راوی) کے طریق سے یحییٰ بن العلاء سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ طلحہ بن عبید سے، وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی گئی ہے۔

اس سلسلۂ سند میں یحییٰ بن العلاء شامل ہیں، جو کذاب (جھوٹا) ہے۔ امام ذہبی نے 'التنقیح' میں کہا: "اس کی سند میں یحییٰ بن العلاء جیسا راوی ہے، جو متروک (ترک شدہ) ہے۔" اور 'المیزان' میں فرمایا: "یحییٰ بن العلاء البجلی کو جماعت نے ضعیف قرار دیا، دارقطنی نے کہا: متروک، اور امام احمد نے کہا: کذاب یضع الحدیث (جھوٹا اور حدیث وضع کرنے والا) ہے، پھر انہوں نے اس کی منکر روایات میں سے ایک یہ روایت بھی ذکر کی۔"

ابن جوزی نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا اور کہا: یہ موضوع ہے۔

مصنف (مناوی) نے ابن جوزی کے اس موقف پر اشکال کرتے ہوئے کہا: "بیہقی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت اس لفظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ 'جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے کہ جو شخص اس میں حجامت لگواتا ہے تو اسے ایسی بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے وہ شفاء نہیں پاتا'، اور انہوں نے کہا کہ اس کے ایک راوی عطاء ضعیف ہیں۔"

[فيض القدير-المناوي:2328]

---

📌 حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

۱. یہ حدیث سنداً سخت ضعیف اور موضوع ہے

یہ روایت محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) اور سخت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں یحییٰ بن العلاء البجلی نامی راوی شامل ہے، جسے ائمۂ جرح و تعدیل نے کذاب (جھوٹا) اور واضع (حدیث گھڑنے والا) قرار دیا ہے۔

۲. راوی کی سند میں شدید کمزوری ہے

یحییٰ بن العلاء: امام احمد بن حنبل نے اسے "کذاب یضع الحدیث" (جھوٹا اور حدیث وضع کرنے والا) کہا ہے۔

دارقطنی نے اسے "متروک" (ترک شدہ) قرار دیا۔

امام ذہبی نے اسے "متروک" اور "ضعیف" کہا ہے۔

۳. ابن جوزی کا موقف

ابن جوزی نے اس روایت کو اپنی کتاب 'الموضوعات' (من گھڑت احادیث) میں شامل کرتے ہوئے اسے صراحتاً موضوع قرار دیا ہے۔

۴. مصنف (مناوی) کا ابن جوزی پر اشکال

مناوی نے ابن جوزی کے اس حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بیہقی نے اس روایت کو ایک اور لفظ کے ساتھ نقل کیا ہے: "جمعہ کے دن ایک گھڑی ہے کہ جو شخص اس میں حجامت لگواتا ہے تو اسے ایسی بیماری لاحق ہوتی ہے جس سے وہ شفاء نہیں پاتا" – البتہ اس میں بھی راوی عطاء کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔

۵. اس روایت پر عمل کرنا جائز نہیں

چونکہ یہ حدیث موضوع ہے، اس لیے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی جمعہ کے دن حجامت سے ڈرنا) جائز نہیں ہے۔

۶. حجامت کے ایام کا اصل حکم

حجامت کے مستحب اور مکروہ ایام کے بارے میں صحیح احادیث سے رہنمائی حاصل کی جائے، نہ کہ اس موضوع روایت سے۔ حجامت ایک مفید علاج ہے، اور اس کے لیے مناسب اوقات کا تعین طبی اور شرعی اصولوں کے مطابق کیا جائے۔

۷. سند کی تحقیق کا اہم سبق

اس روایت کی سند میں یحییٰ بن العلاء جیسے راوی کی موجودگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی روایت کو بغیر سند کی تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اہم کیوں نہ لگے۔

۸. موضوع روایت کو بیان کرنے کی ممانعت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين" (مسلم) – جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرے، وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے اس روایت کو بطورِ دین بیان کرنا جائز نہیں۔


خلاصہ: یہ روایت "إن في الجمعة ساعة لا يحتجم فيها أحد إلا مات" محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) ہے، کیونکہ اس کے راوی یحییٰ بن العلاء کو ائمہ نے کذاب اور متروک قرار دیا ہے۔ ابن جوزی نے اسے موضوع کہا، جبکہ مناوی نے بیہقی کی دوسری روایت کا حوالہ دے کر اشکال کیا، مگر وہ روایت بھی ضعیف ہے۔ لہٰذا اس روایت پر عمل کرنا اور اسے سنتِ نبوی سمجھنا درست نہیں۔ حجامت کے احکام کے لیے صحیح احادیث سے رجوع کریں۔




عنوان:

سمندر میں سفر کرتے وقت بسم اللہ پڑھنے کی فضیلت

(22) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَمَانُ أُمَّتِي مِنَ الْغَرَقِ إِذَا رَكِبُوا أَنْ يَقُولُوا:

ترجمہ:

"میری امت کی غرق (دریا میں ڈوبنے) سے حفاظت کا ذریعہ یہ ہے کہ جب وہ سوار ہوں (کشتی یا سواری پر) تو یہ کہیں:
    {بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ} (ھود:41) 
    {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ} (الأنعام:91)" 
 [مسند ابویعلی:6781، عمل الیوم واللیلة-ابن السنی:501]

---

حکم حدیث:

امام منذری اس پر سکوت کیا (ضعف کا احتمال)

امام ہیثمی اسے ضعیف قرار دیا۔

علامہ البانی ضعیف (سلسلة الأحاديث الضعيفة، حدیث نمبر 1362)

حافظ ابن حجر سند میں کلام ہے۔


وجہ ضعف:

اس حدیث کی سند میں جبارہ بن مغلس اور یحییٰ بن العلاء نامی راوی ہیں جن پر محدثین نے جرح کی ہے۔

---

آیت کی وضاحت

پوری آیت:

{بِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} (ہود: 41)

ترجمہ:

"اس کا چلنا اور اس کا رکنا اللہ کے نام سے ہے، بے شک میرا رب بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"


یہ وہ آیت ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کشتی میں سوار ہوتے وقت پڑھی تھی۔

---

دیگر ممکنہ آیات (شرح میں مذکور)

شارحین نے اس حدیث کی تشریح میں تین آیات کا ذکر کیا ہے جو "وما قدروا اللہ حق قدرہ" سے شروع ہوتی ہیں:

1. {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَى بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ} (الأنعام: 91)

2. {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ} (الحج: 74)

3. {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} (الزمر: 67)


شارحین نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی آیت مراد ہو سکتی ہے، لیکن پہلی آیت (سورہ ہود والی) زیادہ مشہور اور مناسبت رکھتی ہے۔

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. سمندر میں سفر کی دعا:

      حدیث میں بتایا گیا کہ سمندر میں سوار ہوتے وقت "بسم اللہ مجراھا ومرساھا" پڑھنا ڈوبنے سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

2. حدیث کی سند میں ضعف:

      اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے معنی دوسری احادیث سے ثابت ہیں۔

3. حضرت نوح کی سنت:

      یہ آیت حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کشتی میں سوار ہوتے وقت پڑھی تھی، اس لیے اس کا پڑھنا مستحب ہے۔

4. سفر کی دعاؤں کی اہمیت:

      سفر کرتے وقت دعائیں پڑھنا باعثِ برکت اور حفاظت ہے۔

5. اللہ کے ناموں کی برکت:

      "بسم اللہ" پڑھنے سے ہر کام میں برکت اور حفاظت ہوتی ہے۔

6. ضعیف حدیث پر عمل:

      فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ شدید ضعیف نہ ہو۔

7. سمندر کے سفر کی حفاظت:

      یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مشکل اور خطرناک سفر میں اللہ کا نام لے کر اس کی پناہ مانگنی چاہیے۔

8. آیات کا انتخاب:

      سمندر کے سفر کے لیے سورہ ہود کی آیت 41 سب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے، کیونکہ یہ خود کشتی کے سفر کے بارے میں ہے۔

واللہ اعلم بالصواب




📜 شرح المناوی:

"میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ (امان) اس وقت ہے جب وہ سمندر (یا کشتی) میں سوار ہوں" — طبرانی کی روایت میں "السفینة" (کشتی) کا لفظ ہے، ابن مردویہ کی روایت میں "سفینة" اور ایک روایت میں "الفلك" (جہاز) ہے۔ البتہ ابن السنی کی روایت کا لفظ، جس کی طرف مصنف (سیوطی) نے نسبت کی ہے، صرف "ركبوا" (سوار ہوں) ہے، اور نہ تو اس میں "بحراً" (سمندر) کا ذکر ہے اور نہ "سفینة" (کشتی) کا، جیسا کہ امام نووی نے ذکر کیا ہے۔

(یہ امان اس وقت ہے) جب وہ کہیں (یعنی یہ آیات پڑھیں) — جب کشتی میں داخل ہوں یا اس کے چلنے کے وقت — اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھیں: "بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا" (یعنی جہاں یہ چلتی ہے اور جہاں ٹھہرتی ہے) "الآية" (یعنی آخر تک)۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: "وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ" مکمل پڑھیں یہاں تک کہ "يُشْرِكُونَ" تک۔

امام نووی نے اپنی کتاب "الأذكار" میں "باب ما يقول إذا ركب سفينة" (کشتی میں سوار ہونے کی دعا) کے تحت اس حدیث کو ابن السنی کی طرف منسوب کر کے نقل کیا ہے، اور پھر اس کے بعد فرمایا: "مختلف نسخوں میں 'إذا ركبوا' (جب وہ سوار ہوں) ہے، 'السفينة' (کشتی) کا ذکر نہیں۔"

اور بعض نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے کہ: "جس شخص نے یہ دونوں آیات پڑھیں اور پھر وہ (کسی حادثے میں) ڈوب گیا یا غرق ہو گیا، تو وہ (اللہ کے) ذمہ ہے" (یعنی اس کا بدلہ اللہ دے گا)۔

یہ حدیث (ع) اور ابن السنی نے ابو یعلیٰ کی مذکورہ سند سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابو یعلیٰ نے بیان کیا، انہیں جنادہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن العلاء نے خبر دی، انہیں مروان بن سالم نے خبر دی، انہیں طلحہ العقیلی نے خبر دی، وہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے (روایت کرتے ہیں) کہ نبی کریم ﷺ نے (یہ) فرمایا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے فرمایا: "جنادہ ضعیف ہیں، اور ان کے شیخ (یحییٰ بن العلاء) ان سے بھی زیادہ ضعیف ہیں، اور ان کے شیخ کے شیخ (مروان بن سالم) بھی متفقہ طور پر (اسی طرح) ہیں، اور طلحہ (العقیلی) مجہول (نامعلوم) ہیں۔"

اور امام ذہبی نے "المیزان" میں کہا: "یحییٰ بن العلاء — امام احمد بن حنبل نے فرمایا: یہ کذاب (جھوٹا) ہے اور حدیث وضع کرتا ہے، پھر انہوں نے اس کی منکر روایات میں سے ایک یہ روایت بھی ذکر کی ہے۔"

[فيض القدير-المناوي:1613]


📌 حاصل اسباق و نکات

۱. یہ حدیث سنداً سخت ضعیف (بلکہ موضوع) ہے

یہ روایت محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور موضوع (من گھڑت) ہے۔ اس کی سند میں متعدد کمزور راوی ہیں:

یحییٰ بن العلاء: امام احمد بن حنبل نے اسے "کذاب یضع الحدیث" (جھوٹا اور حدیث وضع کرنے والا) کہا ہے۔

مروان بن سالم: ضعیف راوی۔

جنادہ: ضعیف۔

طلحہ العقیلی: مجہول (نامعلوم)۔

اس لیے علامہ البانی نے اسے "موضوع" (من گھڑت) قرار دیا ہے، اور امام سیوطی نے اسے "ضعیف" کہا ہے۔

۲. اس روایت پر عمل کرنا اور اسے سنت سمجھنا جائز نہیں

چونکہ یہ حدیث موضوع ہے، اس لیے اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا اور اس پر عمل کرنا (یعنی خاص طور پر ان آیات کو ڈوبنے سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھنا) درست نہیں ہے۔

۳. قرآن کی آیات پڑھنا بطورِ دعا جائز ہے، مگر اس خاص فضیلت کے ساتھ نہیں

اگرچہ یہ مخصوص روایت ضعیف ہے، لیکن سورہ ہود کی آیت ۴۱ ("بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِيهَا وَمُرْسَاهَا") اور سورہ الانعام کی آیت ۹۱ ("وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ") کو پڑھنا بطورِ عام دعا اور ذکر جائز ہے۔ البتہ انہیں "ڈوبنے سے امان" کا خصوصی ذریعہ سمجھنا اس روایت کی بنا پر درست نہیں۔

۴. سند کی تحقیق اور راویوں کی جرح کا اہم سبق

اس روایت کی سند میں یحییٰ بن العلاء، مروان بن سالم، جنادہ اور طلحہ العقیلی جیسے راوی ہیں جنہیں ائمہ نے کذاب، ضعیف اور مجهول قرار دیا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی روایت کو بغیر سند کی تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مفہوم کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے۔

۵. امام نووی اور ابن السنی کی روایت میں لفظی اختلاف

امام نووی نے اس حدیث کو ابن السنی کی کتاب سے نقل کیا ہے، اور انہوں نے خود اس میں "السفينة" (کشتی) کا ذکر نہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس سے ہمیں متن کی تحقیق اور الفاظ کی باریکیوں کا ادراک ہوتا ہے۔

۶. موضوع روایت کو بیان کرنے کی ممانعت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "من حدث عني بحديث يرى أنه كذب فهو أحد الكاذبين" (صحیح مسلم) — "جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی حدیث بیان کرے، وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔" اس لیے اس روایت کو بطورِ دین بیان کرنا جائز نہیں ہے۔


خلاصہ:

یہ روایت "أمان لأمتي من الغرق إذا ركبوا البحر..." محدثین کے نزدیک موضوع (من گھڑت) اور سخت ضعیف ہے، کیونکہ اس کے راوی کذاب، متروک اور مجهول ہیں۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور اسے ڈوبنے سے بچاؤ کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔ البتہ مذکورہ آیات کو بطورِ عام دعا اور ذکر پڑھنا جائز ہے، مگر اس خاص فضیلت کے ساتھ نہیں۔


(23) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے سورہ ھود(17) کی آیت {اور اس(روشن ہدایت) کے پیچھے ہی اس کی حقانیت کا گواہ خود اسی میں آیا ہے} کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:
الشاهد ﴿مِنَ اللَّهِ﴾ محمد صلى الله عليه وسلم.
ترجمہ:

"گواہ ﴿اللہ کی طرف سے﴾ محمد ﷺ ہیں۔" 

[تفسیر الطبری:18040، ﴿تفسیر ابن ابی حاتم:10758﴾]



(24) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْحَسَنُ والحسين سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»

ترجمہ:

"حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:366]





(25) حضرت حسینؓ بن علی ؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ»
 "بچہ (نسل) بستر (شوہر) کا ہے۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:5617]
یعنی ولدیت کا تعلق شوہر سے ہوتا ہے جس کی بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہو)۔




(26) حضرت فاطمہ بنت الحسین رضی اللہ عنہا اپنے والد (حضرت حسین) سے روایت کرتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے عرض کیا:

    "یا رسول اللہ! کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھی سواری (اونٹنی) ہو؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔"
    انہوں نے کہا: "کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھا لباس ہو؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔" 
    انہوں نے کہا: "کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ ہم میں سے کسی کے پاس اچھے جوتے ہوں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔" 
    انہوں نے کہا: "کیا یہ تکبر میں سے ہے کہ میں کھانا تیار کروں اور اپنی قوم کو دعوت دوں تو وہ میرے پیچھے چلیں اور میرے پاس کھانا کھائیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں۔" 
    انہوں نے کہا: "پھر تکبر کیا ہے یا رسول اللہ؟" آپ ﷺ نے فرمایا:
«أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ، وَتَغْمِصَ النَّاسَ»
"یہ کہ تو حق کو حقیر سمجھے اور لوگوں کو حقیر جانے۔"
[المعجم الاوسط للطبرانی:9088]






(27) محمد بن حاطب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت حسینؓ بن علی ؓ  کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

هَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ اتَّقَوْا ثُمَّ قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ۔
    "یہ امیر المؤمنین ہیں، (لہٰذا) ڈرو!" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} (اور احسان کرو بے شک اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے)۔ 
[تفسیر ابن ابی حاتم:6779]






عنوان:

رمضان کے عشرے (آخری دس دن) کا اعتکاف

(28) حضرت علی بن الحسین رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«اعْتِكَافُ عَشْرٍ فِي رَمَضَانَ كَحَجَّتَيْنِ وَعُمْرَتَيْنِ»
ترجمہ:

"رمضان میں دس دن کا اعتکاف دو حج اور دو عمرے کے برابر ہے۔" 
[المعجم الکبیر للطبرانی:2888]

---

📜 شرح المناوي:

اعتکافِ عشر (یعنی دس دنوں کا اعتکاف) – یعنی مسجد میں نیت کے ساتھ ٹھہرنا – رمضان میں دو حج اور دو عمروں کے برابر ہے، یعنی اس کا ثوا (نفل/غیر فرض) دو حج اور دو عمروں کے ثواب کے برابر ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے (پہلے) عشرۂ اوسط (رمضان کے درمیانی دس دن) کا اعتکاف فرمایا، پھر آخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا اور اس پر مداومت فرمائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ اور بہتر یہ ہے کہ یہاں "عشر" سے مراد آخری عشرہ (اخیرہ) ہی ہے، کیونکہ جب کوئی شخص لیلۃ القدر کی تلاش میں اس کا اعتکاف کرے اور اس کی تمام راتوں میں قیام (عبادت) کرے تو گویا اس نے لیلۃ القدر کو پا لیا، اور لیلۃ القدر کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے، اور یقیناً یہ دو حج اور دو عمروں کے ثواب سے زیادہ ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی بھی اجازت ہے کہ رمضان کا ذکر بغیر لفظ "شہر" کے کیا جائے۔


(یہ حدیث) طبرانی نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور مصنف (سیوطی) نے اس پر ضعف کا نشان لگایا ہے، اور یہ صحیح ہے، کیونکہ ہیثمی نے کہا: اس میں عنبسہ بن عبدالرحمن القرشی راوی ہے جو متروک (ترک شدہ) ہے۔

[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:1140]

---

📜 دوسری روایت کی شرح:

(یعنی ثواب میں ان کے ہم پلہ ہے)۔ یہ حدیث اعتکاف کی ترغیب دینے کے اسلوب پر وارد ہوئی ہے، کیونکہ اس میں دل کا حق کی طرف مائل ہونا، اس کے ساتھ خلوت کرنا، لوگوں سے الگ تھلگ ہونا اور صرف اسی (اللہ) کی عبادت میں مشغول رہنا ہے، یہاں تک کہ اس کی تمام تر توجہ اسی (اللہ) کی طرف ہو جائے اور اس کے تمام خیالات اس کے ذکر میں مصروف ہو جائیں، پس اس کی اللہ کے ساتھ اُنس (قربت) لوگوں کے ساتھ اُنس کی جگہ لے لیتی ہے۔

(یہ حدیث) بیہقی نے حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور مصنف (سیوطی) کے ظاہری کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بیہقی نے اسے تخریج کیا اور اس پر اعتماد کیا، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ بیہقی نے خود اس پر اشکال کیا ہے اور فرمایا: "اس کی سند ضعیف ہے اور محمد بن زاذان (جو اس کے راویوں میں سے ہیں) متروک (ترک شدہ) ہیں، اور بخاری نے فرمایا: اس کی حدیث نہیں لکھی جاتی۔" اس کے علاوہ اس میں عنبعسہ بن عبدالرحمن بھی ہیں، جن کے بارے میں بخاری نے کہا: "لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا" اور ذہبی نے "الضعفاء" میں کہا: "متروک اور متہم (یعنی وضع حدیث کا الزام لگانے والا)" ہے۔

[فيض القدير-المناوي:8479]

---

📌 حاصل اسباق و نکات

1. حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے اسے دلیل نہ بنائیں۔

      امام ہیثمی نے اس راوی "عنبعسہ بن عبدالرحمن" کو متروک قرار دیا ہے، اور البانی نے اسے موضوع کہا ہے۔ لہٰذا اس مخصوص روایت کو بطورِ سنتِ قطعی پیش نہ کریں۔

      (حوالہ: مجمع الزوائد، السلسلة الضعیفة للألبانی)

2. اعتکاف بذاتِ خود سنتِ مؤکدہ ہے

      اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ نے ہر سال آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔

      (حوالہ: صحیح بخاری، صحیح مسلم)

3. لیلۃ القدر کی فضیلت ہزار مہینوں سے بہتر ہے

      شارح (مناوی) نے وضاحت کی کہ اگر اعتکاف کا مقصد لیلۃ القدر کی تلاش ہے تو اس کی عبادت کا ثواب دو حج و عمرہ سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ" (القدر: ۳)۔

4. ثواب کا موازنہ اعتکاف کی روح پر ہے، نہ کہ لفظی جزا پر

      اس روایت میں "دو حج اور دو عمرے" کا ذکر محض ترغیب کے لیے ہے، تاکہ لوگ اعتکاف کی طرف راغب ہوں۔ اصل فضیلت لیلۃ القدر کے ادراک اور اخلاص میں ہے۔

5. رمضان کا ذکر بغیر "شہر" کے جائز ہے

      اس حدیث میں لفظ "رمضان" بغیر "شہر" کے آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ شرعی اور لغوی طور پر "شہر رمضان" کہنا ضروری نہیں، بلکہ صرف "رمضان" کہنا بھی جائز اور فصیح ہے۔

6. ضعیف روایت پر عمل کا اصول

      علمائے کرام کے نزدیک فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو اور اس کا مفہوم شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔ یہاں یہ روایت موضوع ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دیں اور صحیح احادیث سے اعتکاف کی فضیلت حاصل کریں۔

---

خلاصہ:

اعتکاف (خاص طور پر رمضان کے آخری عشرہ میں) سنتِ مؤکدہ ہے، لیکن مذکورہ روایت "اعتكاف عشر في رمضان كحجتين وعمرتين" سنداً ضعیف / موضوع ہے، اس لیے اسے چھوڑ کر صحیح احادیث پر عمل کریں اور لیلۃ القدر کی تلاش میں اعتکاف کو اپنی عادت بنائیں۔

---

حوالہ (تخریج):

محدث - کتاب - مقام

الطبرانی المعجم الکبیر (3/128، رقم 2888)

البیہقی شعب الإیمان (3/424، رقم 3965)

الطبرانی المعجم الأوسط (7/221، رقم 7326)


راوی: حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت):

یہ حدیث ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے۔

محدث-حکم-دلیل

امام ہیثمی-ضعیف-اس میں عیینہ بن عبدالرحمن القرشی راوی ہے جو متروک ہے

امام بیہقی-ضعیف-فرمایا: "إسناده ضعیف ومحمد بن زاذان أحد رجاله"

امام مناوی-ضعیف-رمز المصنف لضعفه

ابن الملقن-ضعیف-اسنادہ ضعیف

شیخ البانی-موضوع-اسے "السلسلة الضعیفة" اور "ضعیف الترغیب والترهیب" میں موضوع قرار دیا.

---

شرح (تشریح)

یہ حدیث اعتکاف کی فضیلت میں آئی ہے کہ رمضان کے دس دن کا اعتکاف دو حج اور دو عمروں کے ثواب کے برابر ہے۔

· "عشر" سے مراد رمضان کے آخری عشرہ (۲۱ سے ۳۰ رمضان) ہیں، کیونکہ نبی ﷺ اخیر عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔

· اعتکاف کے لغوی معنی: کسی چیز پر جم کر رہنا اور اس کی پابندی کرنا۔

· شرعی اصطلاح میں: مسجد میں کسی مخصوص شخص کا مخصوص کیفیت کے ساتھ ٹھہرنا۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:]

---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)


1. حدیث کی سند ناقص ہے:

   اس حدیث کے راویوں میں عیینہ بن عبدالرحمن القرشی (متروک) اور محمد بن زاذان (ضعیف) جیسے راوی ہیں، اس لیے یہ قابل عمل نہیں۔

2. موضوع ہونے کے باوجود اعتکاف سنت ہے:

   اگرچہ یہ روایت موضوع ہے، لیکن نبی ﷺ کا رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ کو وفات ہو گئی" (متفق علیہ)۔

3. موضوع حدیث کی نشاندہی ضروری ہے:

   علمائے کرام نے اس حدیث کو واضح طور پر موضوع قرار دے کر امت کو گمراہی سے بچایا۔

4. اعمال کا دارومدار نیت اور اخلاص پر ہے:

   اگرچہ اس مخصوص روایت کا ثواب ثابت نہیں، لیکن اخلاص کے ساتھ کیے گئے اعتکاف کا اجر اللہ کے ہاں بہت عظیم ہے۔

5. ضعیف احادیث پر عمل کا اصول:

   علمائے اصول کے نزدیک فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ:

· وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو۔

· اس کا مفہوم شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔

· اس پر عمل کرنے والا اسے یقینی طور پر ثابت نہ سمجھے۔

---

خلاصہ: مذکورہ حدیث "اعتكاف عشر في رمضان كحجتين وعمرتين" سنداً ضعیف بلکہ موضوع ہے، اس لیے اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ البتہ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا اس سنت کو بغیر اس روایت کے اپنانا چاہیے۔




(29) حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت حسین) کو یہ کہتے سنا:

    "جب رسول اللہ ﷺ کی وفات سے تین دن پہلے کا وقت تھا تو جبرائیل علیہ السلام آپ پر نازل ہوئے اور کہا: 'اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف آپ کی تعظیم، آپ کو فضیلت دینے اور آپ کی خصوصی عنایت کے لیے بھیجا ہے۔ وہ آپ سے اس چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہے جس کا علم اسے آپ سے زیادہ ہے۔ وہ فرماتا ہے: آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟' 
    نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو غمزدہ پاتا ہوں، اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو پریشان پاتا ہوں۔'
    فرماتے ہیں: جب تیسرا دن آیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، ملک الموت علیہ السلام نازل ہوئے اور ان دونوں کے ساتھ ایک اور فرشتہ ہوا میں نازل ہوا جس کا نام اسماعیل تھا، وہ ستر ہزار فرشتوں پر تھا، ان میں کوئی فرشتہ نہ تھا مگر وہ ستر ہزار فرشتوں پر تھا، جبرائیل علیہ السلام ان کی تشییع فرما رہے تھے۔ 
    جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف آپ کی تعظیم، آپ کو فضیلت دینے اور آپ کی خصوصی عنایت کے لیے بھیجا ہے۔ وہ آپ سے اس چیز کے بارے میں پوچھ رہا ہے جس کا علم اسے آپ سے زیادہ ہے۔ وہ فرماتا ہے: آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟' 
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو غمزدہ پاتا ہوں، اے جبرائیل! میں اپنے آپ کو پریشان پاتا ہوں۔' 
    فرماتے ہیں: پھر ملک الموت صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر اجازت طلب کی۔ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'اے محمد! یہ ملک الموت آپ سے اجازت طلب کر رہے ہیں، انہوں نے آپ سے پہلے کسی آدمی سے اجازت نہیں مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت مانگیں گے۔' 
    آپ ﷺ نے فرمایا: 'انہیں اجازت دے دو۔' 
    چنانچہ جبرائیل علیہ السلام نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آگے بڑھے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: 
    'اے محمد! اللہ عزوجل نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ آپ جس چیز کا مجھے حکم دیں، میں اس کی اطاعت کروں۔ اگر آپ مجھے حکم دیں کہ میں آپ کی روح قبض کر لوں تو میں قبض کر لوں، اور اگر آپ ناپسند کریں تو میں چھوڑ دوں۔' 
    رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'اے ملک الموت! کیا تم ایسا کرو گے؟' 
    انہوں نے کہا: 'ہاں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ کے حکم کی اطاعت کروں جو آپ مجھے دیں۔' 
    اس پر جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'بے شک اللہ عزوجل آپ سے ملاقات کے لیے بے حد مشتاق ہے۔' 
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'پس تم اسی کی طرف بڑھو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے۔' 
    جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: 'یہ میری زمین پر آخری آمد ہے، میری دنیا میں صرف آپ کی حاجت (ملاقات) تھی۔' 
    جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اور تعزیت (تسلی) کے لیے کوئی آیا تو ایک آنے والا آیا، لوگ اس کی آواز سنتے تھے لیکن اس کی شخصیت نہیں دیکھتے تھے، اس نے کہا:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ، إِنَّ فِي اللهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَبِاللهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ۔
    'تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں۔ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر مصیبت میں تسلی دینے والا ہے، ہلاک ہونے والے کا بدل دینے والا ہے اور ہر فوت ہونے والی چیز کو پالینے والا ہے۔ پس اللہ پر بھروسہ کرو اور اسی سے امید رکھو۔ بے شک مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم رہ جائے۔ تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو۔'
[المعجم الکبیر للطبرانی:2890]






(30) حضرت ابوجعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ اپنے والد (حضرت علی بن حسین) سے اور وہ اپنے دادا (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت تین وصیتیں فرمائیں:

«أَوْصَى أَنْ يُنْفَذَ جَيْشُ أُسَامَةَ، وَلَا يَسْكُنَ مَعَهُ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَهْلُ دِينِهِ»
"آپ ﷺ نے وصیت فرمائی کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی فوج روانہ کی جائے، اور مدینہ میں صرف اہل دین (مسلمان) ہی آپ کے ساتھ رہیں۔
محمد (بن علی بن حسین) کہتے ہیں: اور میں تیری وصیت بھول گیا۔ 
[المعجم الکبیر للطبرانی:2891]

:




(31) بشر بن عبداللہ بن عمرو بن سعید الخثعمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    میں محمد بن علی بن حسین (زین العابدین) رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، آپ کے پاس آپ کا بیٹا (حضرت باقر) بھی تھا۔ آپ نے (مجھ سے) فرمایا: "کھانے پر آؤ۔"
    میں نے کہا: "اے فرزند رسول اللہ! میں کھانا کھا چکا ہوں۔" 
    آپ نے مجھ سے فرمایا: "یہ کاسنی (ہندبانہ) ہے۔" 
    میں نے پوچھا: "اے فرزند رسول اللہ! کاسنی (ہندبانہ) میں کیا (خاص بات) ہے؟" 
    آپ نے فرمایا: "مجھے میرے والد (علی بن حسین) نے اپنے دادا (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَا مِنْ وَرَقَةٍ مِنْ وَرَقِ الْهِنْدِبَاءِ إِلَّا وَعَلَيْهَا قَطْرَةٌ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ»
    'کاسنی (ہندبانہ) کا کوئی پتہ ایسا نہیں جس پر جنت کا ایک قطرہ نہ ہو۔'
    پھر آپ (محمد بن علی) تیل لے کر آئے اور فرمایا: "تیل لگاؤ۔" 
    میں نے کہا: "اے فرزند رسول اللہ! میں تیل لگا چکا ہوں۔" 
    آپ نے فرمایا: "یہ بنفشہ کا تیل ہے۔" 
    میں نے پوچھا: "بنفشہ میں کیا (خاص بات) ہے؟" 
    آپ نے فرمایا: "مجھے میرے والد (علی بن حسین) نے اپنے دادا (حضرت حسین) سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ فَضْلَ الْبَنَفْسَجِ عَلَى سَائِرِ الْأَدَهْانِ كَفَضْلِ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ، وَإِنَّ فَضْلَ دُهْنِ الْبَنَفْسَجِ كَفَضْلِ الْإِسْلَامِ عَلَى سَائِرِ الْأَدْيَانِ»
    'بے شک بنفشہ کا تیل تمام تیلوں پر ایسی فضیلت رکھتا ہے جیسی فضیلت عبدالمطلب کی اولاد کو باقی قریش پر حاصل ہے، اور بے شک بنفشہ کے تیل کی فضیلت تمام ادیان پر اسلام کی فضیلت کی طرح ہے۔'
 [المعجم الکبیر للطبرانی:2892]






(32) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

«إِنَّ اللهَ يَغْضِبُ لِغَضَبِكِ، وَيَرْضَى لِرَضَاكِ»
"بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور تمہاری رضا کی وجہ سے راضی ہوتا ہے۔
[المعجم الکبیر للطبرانی:182]






(33) حضرت فاطمہ بنت الحسین رضی اللہ عنہا اپنے والد (حضرت حسین) سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تَطْرُقُوا الطَّيْرَ فِي أَوْكَارِهَا، فَإِنَّ اللَّيْلَ لَهُ أَمَانٌ»
"پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں رات کے وقت مت بے دخل کرو، کیونکہ رات ان کے لیے امان (اور سکون) کا وقت ہے۔"
 [المعجم الکبیر للطبرانی:2896]






(34) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا تُدِيمُوا النَّظَرَ إِلَى الْمَجْذُومِينَ»
"جذام کے مریضوں کی طرف مسلسل (بار بار) نہ دیکھا کرو۔
 [المعجم الکبیر للطبرانی:2897]






(35) سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    میں نے عبیداللہ بن ابی یزید سے پوچھا: کیا آپ نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے انہیں حوضِ زمزم میں بیٹھے دیکھا۔ 
    میں نے پوچھا: کیا آپ نے انہیں خضاب لگاتے دیکھا؟ انہوں نے کہا:
«لَا إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُهُ وَلِحْيَتُهُ سَوْدَاءُ إِلَى هَذَا الْمَوْضِعِ، يَعْنِي عَنْفَقَتَهُ، وَأَسْفَلُ مِنْ ذَلِكَ بَيَاضٌ. وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابَ ذَلِكَ الْمَوْضِعُ مِنْهُ، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِ»
"نہیں، سوائے اس کے کہ میں نے انہیں دیکھا کہ ان کی داڑھی یہاں (ٹھوڑی کے نیچے) تک سیاہ تھی، اور اس کے نیچے سفیدی تھی۔
    اور انہوں (عبیداللہ) نے یہ ذکر کیا کہ نبی ﷺ کی داڑھی میں بھی وہ جگہ سفید تھی، اور حسین رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی مشابہت اختیار کرتے تھے۔ 

[المعجم الکبیر للطبرانی:2900]


حاجت کے سامنے ہدیہ بہترین معاون / چیز ہے


(36) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«نِعْمَ الشَّيْءُ الْهَدِيَّةُ أَمَامَ الْحَاجَةِ»

"حاجت (سوال) سے پہلے تحفہ دینا بہترین چیز ہے۔"

[المعجم الکبیر للطبرانی:2903]



---

"بہترین چیز (یا بہترین مدد، یا بہترین کلید) حاجت (پیش کرنے) سے پہلے ہدیہ ہے۔"

(ایک روایت میں ہے: "حاجت طلب کرنے میں ہدیہ بہترین مدد ہے۔")

---

حوالہ (تخریج)


محدث » کتاب » صحابی

الطبرانی المعجم الکبیر / الأوسط حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما

الحاکم » المستدرک » حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (سند اجود)

الدیلمی الفردوس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

الصنعانی التنویر شرح الجامع الصغیر (9252)

المناوی فیض القدیر شرح الجامع الصغیر (9271)

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث سنداً ضعیف ہے (اور ابن الجوزی کے نزدیک موضوع ہے، مگر حاکم کی دوسری سند بہتر ہے)۔


محدث حکم وجہ / وضاحت

امام سیوطی / الصنعانی ضعیف انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" (ضعف کا نشان) لگایا ہے۔

امام ہیثمی اس میں ہاشم بن سعد راوی مختلاف فیہ وثقه ابن حبان، لیکن جماعت نے اسے ضعیف کہا۔

ابن الجوزی موضوع (من گھڑت) انہوں نے اسے موضوعات میں شامل کیا۔

محققین (مناوی کے حوالے سے) حاکم کی سند اجود (بہتر) ہے حاکم نے اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بہتر سند کے ساتھ روایت کیا، اس لیے اس مخصوص سند کو موضوع کہنا محلِ نظر ہے۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9252]


خلاصہ حکم:

حسین بن علی رضی اللہ عنہما والی یہ خاص سند ضعیف ہے، اور ابن الجوزی نے اسے موضوع کہا ہے، لیکن الحاکم کی دوسری سند (از عائشہ رضی اللہ عنہا) بہتر ہے۔ البتہ مجموعی حیثیت میں یہ حدیث درجہ صحیح کو نہیں پہنچتی، اس لیے اسے سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھا جا سکتا، البتہ اس کے معنی (حاجت سے پہلے ہدیہ دینا) دوسرے اصولوں سے تائید پاتے ہیں۔

---

شرح (تشریح)

۱. مفہومِ حدیث

اس حدیث میں حاجت مند کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ جب وہ کسی سے کوئی حاجت (ضرورت) پوری کرنے کے لیے جائے تو اس کے سامنے پہلے سے ہدیہ پیش کرے تاکہ اس کا دل جھک جائے اور حاجت پوری کرنے میں آسانی ہو۔


۲. مختلف روایات کے الفاظ

· "نعم الشيء" = بہترین چیز۔

· "نعم العون" = بہترین مددگار۔

· "نعم المفتاح" = بہترین کلید۔

یہ تینوں الفاظ ایک ہی معنی پر دلالت کرتے ہیں: ہدیہ حاجت پوری کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔


۳. امام خطیب بغدادی اور دارقطنی کا واقعہ (فیض القدیر کی شرح سے)

امام المناوی نے ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے:

امام دارقطنی کے پاس ایک شخص آیا اور اس سے قرآت (پڑھنا) سیکھنے کا سوال کیا، مگر امام نے انکار کر دیا۔ پھر اس نے احادیث املا کرانے کا کہا تو امام نے دس احادیث یاد سے املا کر دیں، جن میں سب کا متن تھا: "نعم الشيء الهدية أمام الحاجة"۔ وہ شخص چلا گیا، پھر آیا اور اس نے امام کو کچھ ہدیہ پیش کیا۔ امام نے اسے قریب کیا اور اسے کئی (بضعة عشر) احادیث املا کر دیں، جن کا متن تھا: "إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه" (جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز آئے تو اس کی عزت کرو)۔


ابن الجوزی نے اس پر اعتراض کیا کہ دارقطنی نے ایسی روایات کیوں بیان کیں جو صحیح نہیں تھیں؟

مناوی (مؤلف) نے ابن الجوزی کو جواب دیا:

"مجھے ابن الجوزی پر تعجب ہے کہ انہوں نے بغیر تثبت کے ثابت شدہ احادیث کو رد کر دیا، کیونکہ حدیث «إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه» دس سے زائد صحابہ سے مروی ہے، اور یہ متواتر (یا متواتر کے قریب) ہے!"

[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:9271]

---

حاصل اسباق و نکات

1. ہدیہ دینا ایک اچھا اخلاقی اور سماجی رویہ ہے:

   ہدیہ دلوں کو جوڑتا ہے اور باہمی محبت و الفت کا ذریعہ ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "تهادوا تحابوا" (صحیح) — آپس میں ہدیہ دو، محبت کرو۔ اس حدیث میں اسے حاجت پوری کرنے کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا ہے۔

2. جائز ہدیہ اور ناجائز رشوت میں فرق:

   یہاں ہدیہ جائز حاجت (مثلاً کسی عالم سے مسئلہ پوچھنا، کسی اہلِ خیر سے مالی امداد مانگنا) کے لیے ترغیب ہے، نہ کہ رشوت (جس سے ناحق کوئی حق چھینا جائے یا باطل کو حق بنایا جائے)۔ رشوت حرام ہے جیسا کہ قرآن میں ہے: "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ" (البقرہ: 188)۔

3. سند کی تحقیق کا اہم سبق (دارقطنی اور ابن الجوزی کا واقعہ):

   اس واقعے سے ہمیں دو چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں:

   · ائمہ کرام (جیسے دارقطنی) بعض اوقات فضائلِ اعمال میں ضعیف احادیث کو بطورِ ترغیب بیان کر دیتے تھے، مگر ان کا مقصد صرف تشویق ہوتا تھا، نہ کہ یہ یقین دلانا کہ یہ صحیح ہے۔

   · ابن الجوزی نے سخت موقف اختیار کیا اور کئی احادیث کو موضوع کہہ دیا، جبکہ مناوی نے انہیں جواب دیا کہ دوسری سندوں کی وجہ سے یہ احادیث ثابت ہیں۔ اس سے ہمیں شدت اور اعتدال کا توازن سیکھنے کو ملتا ہے۔

4. تعدد طرق (شواہد) حدیث کو تقویت دیتے ہیں:

   اگرچہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما والی سند میں کلام ہے، لیکن حاکم کی عائشہ رضی اللہ عنہا والی سند اجود (بہتر) ہے، اس لیے اس حدیث کو سرے سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمیں اصولِ حدیث کا درس دیتا ہے۔

5. معزز مہمان کی تعظیم کرنا (اخلاقِ نبوی):

   دوسری روایت "إذا أتاكم كريم قوم فأكرموه" سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام میں عزت و احترام کو بہت اہمیت دی گئی ہے، خاص طور پر اس شخص کی جو اپنی قوم میں معزز ہو۔

6. فضائل میں ضعیف حدیث کا اصول:

   اس حدیث کو اگرچہ فضائلِ اعمال (یعنی اخلاقی ترغیب) کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے یقینی سنت نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس پر عمل کرنا (یعنی حاجت سے پہلے ہدیہ دینا) اگر کوئی شخص کرے تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ اسے "یقینی طور پر رسول اللہ ﷺ کا فرمان" نہ سمجھے۔


---


خلاصہ: حدیث "نعم الشيء الهدية أمام الحاجة" سنداً ضعیف ہے، اور ابن الجوزی نے اسے موضوع کہا ہے، مگر حاکم کی دوسری سند (از عائشہ رضی اللہ عنہا) بہتر ہے۔ اس کا مفہوم (حاجت سے پہلے ہدیہ دینا) اخلاقی طور پر درست ہے اور اس کی تائید دوسری احادیث سے ہوتی ہے، تاہم اسے سنتِ ثابتہ قرار نہ دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہدیہ دلوں کو جوڑنے اور حاجت پوری کرنے کا ذریعہ بنائیں، مگر اسے کبھی رشوت کی صورت میں استعمال نہ کریں۔






(37) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

«رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ وَهُوَ قَائِمٌ»

ترجمہ:

"میں نے (ایک بار) نبی کریم ﷺ کو کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا۔
    [المعجم الکبیر للطبرانی:2904]




(38) ابو سعید التیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

«مَنْ لَبِسَ مَشْهُورًا مِنَ الثِّيَابِ أَعْرَضَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»۔

ترجمہ:
"جس نے شہرت والا کپڑا پہنا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے منہ پھیر لے گا۔
 [المعجم الکبیر للطبرانی:2906]





(39) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«يُصَلِّي الْمَرِيضُ قَائِمًا إِنِ اسْتَطَاعَ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ صَلَّى قَاعِدًا , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَسْجُدَ أَوْمَأَ وَجَعَلَ سُجُودَهُ أَخْفَضَ مِنْ رُكُوعِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ صَلَّى مُسْتَلْقِيًا وَرِجْلَاهُ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ»
ترجمہ:
"مریض کھڑے ہو کر نماز پڑھے اگر اس کی استطاعت ہو۔ اگر استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھے۔ اگر سجدہ کرنے کی استطاعت نہ ہو تو اشارہ کرے اور اپنا سجدہ اپنے رکوع سے زیادہ جھک کر کرے۔ اگر بیٹھ کر پڑھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو قبلہ رخ دائیں پہلو پر لیٹ کر پڑھے۔ اگر دائیں پہلو پر لیٹ کر پڑھنے کی بھی استطاعت نہ ہو تو پیٹھ کے بل چت لیٹ کر پڑھے اور اس کے پاؤں قبلہ کی طرف ہوں۔"

[سنن الدارقطنی:1706، السنن الكبري للبيهقي:3678]






عنوان

وضو کا بچا ہوا پانی سجدہ گاہ پر بہانا

(40) ---

ترجمہ:

"آپ ﷺ جب وضو فرماتے تو (وضو کا) کچھ پانی بچا رکھتے، یہاں تک کہ اسے اپنی سجدہ گاہ پر بہا دیتے۔"

---

حوالہ (تخریج)

الطبرانی المعجم الکبیر (3/85، رقم 2739)

ابو یعلی المسند (6782)

---

حکم (حیثیت)

اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے، لیکن راجح قول کے مطابق یہ ضعیف ہے۔


امام ہیثمی حسن انہوں نے فرمایا: "إسناده حسن" (اس کی سند حسن ہے)۔

[مجمع الزوائد (1/234)]

امام صنعانی ضعف کا اشارہ انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" کیا، یعنی ضعف کی طرف اشارہ کیا، اور ایک مقام پر سکوت کیا۔

[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانی :6603]

علامہ البانی ضعیف انہوں نے اسے "ضعیف الجامع(4364)" اور "السلسلة الضعیفة(2150)" میں واضح طور پر ضعیف قرار دیا۔

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں تین اہم نکات بیان کرتے ہیں:

1. "فضل ماء":

   لفظ "فضل" (بتشدید ضاد) کے معنی بچا رکھنا یا فضلہ چھوڑنا ہے، یعنی آپ ﷺ وضو کے دوران پورا پانی استعمال نہیں کرتے تھے، بلکہ کچھ مقدار بچا لیتے تھے۔

2. "یسيله" (بتشدید تائی) کے معنی بہانا یا جاری کرنا ہے۔

3. "موضع سجوده" کی تشریح میں اختلاف:

· شارح (قاضی عبدالباقی) نے کہا کہ شاید اس سے مراد زمین ہے (یعنی سجدہ گاہ کی جگہ)۔

· لیکن امام الصنعانی خود اس قول کو بعید قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: "میں نہیں سمجھتا کہ اس سے مراد زمین ہو، کیونکہ کسی دوسری حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ ﷺ زمین پر پانی چھڑکتے تھے۔"

  لہٰذا راجح قول یہ ہے کہ اس سے مراد آپ ﷺ کی پیشانی ہے، یعنی آپ وضو کے بعد بچا ہوا پانی اپنی پیشانی پر بہاتے تھے تاکہ سجدہ کے دوران وہ تر رہے۔

[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانی :6603]

---

حاصل اسباق و نکات

1. وضو میں فضول خرچی سے بچنا اور پانی کی قدر کرنا:

   اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ پانی کو ضائع نہیں ہونے دیتے تھے بلکہ بچا ہوا پانی کسی نافع کام میں لاتے تھے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "لا تسرف في الماء ولو كنت على نهر جار" (ابن ماجہ، صحیح) — پانی میں اسراف نہ کرو، چاہے بہتے دریا کے کنارے ہی کیوں نہ ہو۔

2. سجدہ گاہ یا پیشانی کی تعظیم اور حفظانِ صحت:

   اگر اس سے مراد پیشانی ہے تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سجدہ کے اعضاء کو صاف اور تر رکھنا چاہیے۔ بعض اہل علم نے اسے پیشانی کی نمی سے تعبیر کیا ہے تاکہ سجدہ کرتے وقت زیادہ خشکی نہ ہو۔

3. سند کی تحقیق کی اہمیت:

   اس حدیث میں ہیثمی نے "حسن" کہا، جبکہ البانی نے "ضعیف"۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کسی بھی عمل کو سنت کہنے سے پہلے محدثین کے اقوال کا موازنہ کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء نے اسے واجب یا سنت مؤکدہ قرار نہیں دیا۔

4. متشابہ احادیث میں احتیاط کا اصول:

   چونکہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے اور دوسری احادیث میں یہ عمل صراحتاً ثابت نہیں، اس لیے اسے مستحب (نفل) سمجھا جا سکتا ہے، واجب نہیں۔ اگر کوئی اس پر عمل کرے تو بہتر ہے، ورنہ کوئی حرج نہیں۔

5. احادیث کی تشریح میں علماء کا اختلاف:

   امام الصنعانی نے اس حدیث کی شرح میں واضح کیا کہ "موضع سجوده" کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ فقہاء اور محدثین کے درمیان فروعی مسائل میں اختلاف معمول کی بات ہے، اور ہر قول کی اپنی دلیل ہے۔

6. وضاحت: کیا یہ عمل مسنون ہے؟:

   شیخ البانی کی تحقیق کے مطابق یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اسے نبی ﷺ کی طرف یقینی طور پر منسوب کرنا درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص احتیاطاً یا کسی امام کے قول پر عمل کرتے ہوئے وضو کا بچا ہوا پانی پیشانی پر مل لے تو اس میں حرج نہیں، بشرطیکہ اسے سنتِ قطعی نہ سمجھے۔

---

خلاصہ:

حدیث "كان إذا توضأ فضل ماء حتى يسيله على موضع سجوده" مختلف فیہا ہے۔ امام ہیثمی نے اسے حسن کہا، جبکہ علامہ البانی اور امام صنعانی کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ وضو کا بچا ہوا پانی اپنی پیشانی پر بہاتے تھے (زمین پر نہیں)۔ اس پر عمل مستحب ہے، واجب نہیں، اور اسے سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔







(41) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللهِ التَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ» 
"عقل کا سر (سب سے بڑا حصہ) اللہ پر ایمان لانے کے بعد لوگوں سے محبت اور اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔
 [حلية الأولياء:3/203]





عنوان

گوشت گندم کے ساتھ انبیاء کا شوربہ ہے.

---

(42) اللحم بالبر مرقة الأنبياء.

ترجمہ

"گوشت کو گندم کے ساتھ (ملا کر کھانا) انبیاء کا شوربہ ہے۔"

[الديلمي:5458، جامع الأحاديث للسيوطي:19641]

---

حوالہ (تخریج)

الدیلمی الفردوس بمأثور الخطاب (5458)

المتقی الہندی کنز العمال (40996)

السیوطی الجامع الصغیر (7749)

الصنعانی التنویر شرح الجامع الصغیر (7730)

---

حکم (حیثیت):

یہ حدیث سنداً ضعیف بلکہ شدید ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔

امام سیوطی ضعیف انہوں نے الجامع الصغیر میں اس پر (ض) کا رمز لگایا ہے۔

علامہ البانی ضعیف جداً انہوں نے اسے "ضعیف الجامع" (4965) اور "السلسلة الضعیفة" (418) میں شدید ضعیف قرار دیا ہے۔

حافظ العراقی لا أصل له انہوں نے تخریج الإحیاء (3/73) میں اسے "بے اصل" کہا ہے۔

الدیلمی سند سے ناواقف انہوں نے اس پر "بیض" (خالی چھوڑ) دیا کیونکہ انہیں اس کی کوئی سند نہیں ملی۔


خلاصہ حکم:

یہ روایت سنداً ناقص ہے اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف یقینی طور پر منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ البانی نے اسے "ضعیف جداً" (شدید ضعیف) قرار دیا ہے۔

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

· "اللحم بالبر": لفظ "البر" (بضم الباء الموحدة) کے معنی گندم (حنطہ) کے ہیں۔

· "مرقة الأنبياء": یعنی انبیاء کرام علیہم السلام گوشت اور گندم کو ملا کر (شوربہ بنا کر) کھاتے تھے۔

· نتیجہ: اس میں یہ اشارہ ہے کہ گوشت کھانا انبیاء علیہم السلام کی سنت میں شامل ہے۔

[التنویر شرح الجامع الصغیر-الصنعانی:7730]

---

حاصل اسباق و نکات

1. گوشت کھانا انبیاء کی سنت ہے:

   اگرچہ یہ خاص روایت سنداً ضعیف ہے، لیکن گوشت کھانے کی ترغیب دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ نبی ﷺ خود گوشت تناول فرماتے تھے اور اسے پسند فرماتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے: "سید الإدام فی الدنیا والآخرۃ اللحم" (کنز العمال)۔

2. غذائیت کا پہلو:

   گوشت اور گندم کا ملاپ ایک مکمل اور متوازن غذا ہے جو جسم کو طاقت اور توانائی فراہم کرتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کا اسے پسند فرمانا اس کی افادیت کی دلیل ہے۔

3. سادگی اور اعتدال:

   اس حدیث میں سادگی اور قناعت کا درس ہے کہ انبیاء علیہم السلام سادہ اور مفید غذا کو ترجیح دیتے تھے۔

4. سند کی تحقیق کی اہمیت:

   اس حدیث کا ضعیف ہونا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کسی بھی قول کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے پہلے سند کی تحقیق ضروری ہے۔ حافظ العراقی نے اسے "لا أصل له" (بے اصل) کہا، جبکہ البانی نے "ضعیف جداً" قرار دیا۔

5. ضعیف حدیث پر عمل کا اصول:

   چونکہ یہ روایت شدید ضعیف ہے، اس لیے اسے بطور دلیل استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ گوشت کھانے کی ترغیب دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، مگر اس مخصوص روایت کو نبی ﷺ کی طرف منسوب نہ کریں۔

---

خلاصہ:

حدیث "اللحم بالبر مرقة الأنبياء" سنداً ضعیف جداً ہے اور اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ البتہ گوشت کھانا دوسری صحیح احادیث کی روشنی میں مستحب اور انبیاء کی سنت ہے۔ اس لیے گوشت کو گندم کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں، البتہ اسے اس مخصوص روایت کی بنا پر سنت نہ سمجھیں۔



(43) حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"اے انس! بے شک علی عرب کے سردار ہیں۔" 
 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "کیا آپ عرب کے سردار نہیں ہیں؟" 
    آپ ﷺ نے فرمایا:
 «أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ، وعلي سَيِّدُ الْعَرَبِ»

"میں اولاد آدم کا سردار ہوں، اور علی عرب کے سردار ہیں۔
 [حلية الأولياء:5/38]







(44) أَخْبَرَنَا علي بن أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ , ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ , ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عن إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابن عَبَّاسٍ , قَالَ: " أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ مَعَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عليه وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَاتَّبَعْتُ هَوْدَجَهَا فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهَا تُلَبِّي حَتَّى رَمَتْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ كَبَّرَتْ " وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنِ الحسين بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عنهما.

ترجمہ:

کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ یوم عرفہ کو بھیجا، تو میں ان کی سواری کے پیچھے چلا۔ 
    "میں مسلسل انہیں (حضرت میمونہ کو) تلبیہ پکارتے سنتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں، پھر انہوں نے تکبیر کہی۔
    اور ہمیں یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے بھی (تلبیہ کے بارے میں ایسا ہی منقول ہے)۔ 
[السنن الكبري للبيهقي:9449]





عنوان:

عجب (خود پسندی) کا عمل کو برباد کرنا.

متن (عربی):

(45) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"إِنَّ الْعُجْبَ لَيُحْبِطُ عَمَلَ سَبْعِينَ سَنَةً"

ترجمہ:

"بے شک عجب (خود پسندی) ستر سال کے عمل کو برباد کر دیتی ہے۔"

[مسند الفردوس للديلمي:8، جامع الأحاديث للسيوطي:44817]


حکم حدیث:

یہ حدیث ضعیف ہے۔ اس کی سند میں موسیٰ بن ابراہیم المروزی نامی راوی ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔

[زهر الفردوس:844، ضعيف الجامع:1505، الضعيفة:2567]

---

شرح الصنعاني:

(إِنَّ الْعُجْبَ) "عجب" (عین کے ضمہ اور جیم کے سکون کے ساتھ) کے معنی ہیں: نعمت کو بڑا سمجھنا اور اس پر اطمینان کرنا، جبکہ اسے منعم (اللہ) کی طرف منسوب کرنا بھول جانا، جیسے کوئی شخص اپنی عبادت کو بڑا سمجھے اور یہ بھول جائے کہ اللہ نے ہی اسے اس کی توفیق دی اور اس پر مدد کی۔

(لَيُحْبِطُ) یعنی برباد کر دیتا ہے اور باطل کر دیتا ہے۔

(عَمَلَ سَبْعِينَ سَنَةً) اس کا احتمال ہے کہ یہ مبالغہ کے لیے ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حقیقت میں ہو (یعنی واقعی ستر سال کا عمل ضائع ہو جاتا ہے)۔

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني: 2068]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. عجب کی تعریف اور اس کی حقیقت:

      عجب ایک باطنی بیماری ہے جس میں انسان اپنی عبادات، نیکیوں، یا کسی بھی نعمت کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے۔ عجب میں انسان اپنی ذات کو دیکھتا ہے، اللہ کو نہیں۔

2. عجب کا انجام:

      عجب انسان کے نیک اعمال کو برباد کر سکتی ہے، یہاں تک کہ ستر سال کی عبادت بھی ضائع ہو سکتی ہے۔ یہ اس کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

3. عجب اور تکبر میں فرق:

   · عجب: انسان اپنے آپ کو اچھا سمجھے (اپنی ذات کی تعریف)۔

   · تکبر: انسان دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھے۔

        عجب تکبر کا پیش خیمہ ہے۔

4. علاج:

   · اپنی عبادات کو اللہ کا فضل سمجھنا، اپنی محنت نہیں۔

   · اپنی کمزوریوں اور گناہوں کو یاد رکھنا۔

   · ہمیشہ یہ سوچنا کہ میرا عمل قبول ہوا یا نہیں؟

   · نبی ﷺ کی اس دعا کو پڑھنا: "اللَّهُمَّ لَا تُزَكِّي نَفْسِي، إِنَّكَ أَنْتَ أَعْلَمُ بِهَا مِنِّي" (اے اللہ! میری نفس کو پاک نہ بتا، تو مجھ سے زیادہ اسے جانتا ہے)۔

5. حدیث کا درجہ:

      یہ حدیث سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

      {فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى} (النجم: 32)

      (پس تم اپنی پاکیزگی بیان نہ کرو، وہ (اللہ) زیادہ جانتا ہے کہ کون پرہیزگار ہے)۔

6. عجب سے بچنے کا طریقہ:

   · ہر نعمت کو اللہ کا فضل سمجھنا۔

   · اپنے گناہوں کو یاد رکھنا۔

   · دوسروں کی برائیوں کو ڈھونڈنے کے بجائے اپنی اصلاح کرنا۔

   · نیکی کرنے کے بعد بھی عاجزی اختیار کرنا۔

7. حدیث کا پیغام:

      یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عجب ایک ایسا گناہ ہے جو انسان کی ساری محنت کو ضائع کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں اس سے بچنا چاہیے اور ہمیشہ اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب







متن (عربی):

(46) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"اتَّخِذُوا عِنْدَ الْفُقَرَاءِ أَيَادِيَ؛ فَإِنَّ لَهُمْ دَوْلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ"

ترجمہ:

"غریبوں کے ساتھ احسان (اور نیکی) کے ہاتھ بڑھاؤ (یعنی ان پر احسان کرو)، کیونکہ قیامت کے دن ان کے لیے (اللہ کے ہاں) ایک خاص مرتبہ اور شفاعت کا مقام ہوگا۔"

---

تخریج و حوالہ جات:

· حلیۃ الأولیاء لابی نعیم: 4/71 (عن الحسین بن علی رضی اللہ عنہما)

· سنن ابن ماجہ: 3685 (لفظ: "يصف الناس يوم القيامة صفوفاً...")

· مسند ابو یعلیٰ: 3490

---

حکم حدیث اور محدثین کے اقوال:

حافظ ابن حجر عسقلانی "باطل" (اس حدیث کی کوئی حقیقت نہیں)

امام سخاوی "باطل" (متعدد احادیث کے بعد فرمایا: "كل هذا باطل")

امام ابن تیمیہ "موضوع" (من گھڑت)

امام ذہبی "موضوع" (من گھڑت)

امام الصنعانی حدیث کو ضعیف قرار دیا (رمز المصنف لضعفه)


خلاصہ:

یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے۔

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. غریبوں پر احسان کرنے کی ترغیب:

      اگرچہ یہ خاص حدیث ضعیف ہے، لیکن قرآن و سنت میں غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کرنے کی بہت تاکید آئی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

      {وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ} (البقرۃ: 177)

2. غریبوں کا قیامت میں مرتبہ:

      اگرچہ اس حدیث میں مذکور "دولۃ" (خاص مرتبہ اور شفاعت) کا لفظ اس سند کے ساتھ ثابت نہیں، لیکن صحیح احادیث میں غریبوں اور مسکینوں کے لیے جنت میں بلند مقام کا ذکر ہے۔

3. ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا حکم:

      محدثین کے قواعد کے مطابق، موضوع (من گھڑت) حدیث کو کسی بھی صورت میں بیان کرنا یا اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اس کے مفہوم (غریبوں کی مدد کی فضیلت) کی تائید دوسری صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔

4. احیاءِ سنت اور بدعت میں فرق:

      اگر کوئی شخص غریبوں کی مدد کرتا ہے تو یہ اس کی نیکی ہے، لیکن اسے اس مخصوص حدیث کی بناء پر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں کرنا چاہیے۔

5. علماء کی تحقیق کی اہمیت:

      اس حدیث کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابن تیمیہ، ذہبی، ابن حجر، سخاوی جیسے جلیل القدر محدثین نے اسے موضوع قرار دیا ہے۔ اس لیے عام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ علماء کی تحقیق کو نظر انداز نہ کریں۔

6. غریبوں کے ساتھ حسن سلوک:

      اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن غریبوں کے ساتھ نرمی، ان کی مدد، اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اسلام کا بنیادی اخلاقی اصول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






عنوان

مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کی فضیلت (حج و عمرہ کے برابر اجر)

---
(47) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من ذهب في حاجة أخيه  المسلم فقضيت حاجته كتبت له حجة وعمرة، فإن لم تقض له كتبت له عمرة
ترجمہ:
"جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی کسی حاجت (ضرورت) کے لیے جائے — خواہ وہ کوئی بھی حاجت ہو — پھر اس کی حاجت پوری کر دی جائے، تو اس کے لیے (ثواب میں) ایک حج اور ایک عمرہ لکھ دیا جاتا ہے۔ اور اگر حاجت پوری نہ ہو سکے (تب بھی) اس کے لیے (ایک) عمرہ (کا اجر) لکھ دیا جاتا ہے۔"
[جامع الأحاديث للسيوطي:22200]
---

حوالہ (تخریج)

محدث » کتاب » رقم / حديث
البیہقی » شعب الإیمان (7652)
الصنعانی » التنویر شرح الجامع الصغیر (8663)


راوی (بنیادی): حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

اس حدیث کی حیثیت سنداً ضعیف ہے، اور خاص طرق میں موضوع (من گھڑت) تک ہے، لہٰذا اسے نبی ﷺ کی طرف یقینی طور پر منسوب نہیں کیا جا سکتا۔

محدث» حکم» وجہ / وضاحت
امام الصنعانی ضعیف انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" (ضعف کا نشان) لگایا ہے۔
علامہ البانی (طریقِ بیہقی) موضوع (من گھڑت) انہوں نے "ضعیف الجامع" (5587) اور "السلسلة الضعیفة" (769) میں اسے موضوع قرار دیا۔
علامہ البانی (طریقِ ادب المفرد، ابو داود) ضعیف انہوں نے ان طرق کو "ضعیف الجامع" (5590) اور "الضعیفة" (1265) میں ضعیف کہا ہے۔

خلاصہ حکم:
مذکورہ بالا مخصوص روایت (بیہقی کے طریق سے) موضوع ہے، البتہ دوسرے طرق (ادب المفرد، ابو داود) میں ضعیف ہے۔ اس لیے اسے دلیلِ شرعی یا سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھا جا سکتا، البتہ فضائلِ اعمال کے باب میں (بطورِ احتیاط) اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اسے یقینی سنت نہ سمجھا جائے۔

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

· "من ذهب في حاجة أخيه المسلم": یعنی کوئی بھی ضرورت ہو (مالی، جسمانی، اخلاقی، یا تعاون کی)۔
· "فقضيت حاجته كتبت له حجة وعمرة": اگر اس کی کوشش سے بھائی کی حاجت پوری ہو جائے تو اسے حج اور عمرہ کا اجر ملتا ہے۔ اس کا مطلب ثواب کی مماثلت ہے، نہ کہ خود حج و عمرہ کی ادائیگی۔
· "وإن لم تقض كتبت له عمرة": اگر حاجت پوری نہ ہو (مشکل ہو یا کوئی رکاوٹ آ جائے) تب بھی اس کی نیت اور محنت کے بدلے عمرہ کا اجر ملتا ہے۔

اس کی تائید میں مصنف نے ابو العتاهیہ کے اشعار نقل کیے ہیں:

"اقض الحوائج ما استطعت ... وكن لهم أخيك فارج"
(جتنا ہو سکے حاجتیں پوری کرو، اور ان کے لیے مددگار بھائی بنو۔)
"فلخير أيام الفتى ... يوم قضى فيه الحوائج"
(نوجوان کے بہترین دن وہ ہیں جب اس نے لوگوں کی حاجتیں پوری کیں۔)
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:8663]
---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. دوسروں کی مدد کرنا باعثِ اجرِ عظیم ہے:
   اگرچہ یہ روایت سنداً کمزور ہے، لیکن مسلمانوں کی مدد اور ان کی حاجت پوری کرنا قرآن و سنت کا عمومی حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى" (المائدہ: 2)۔
2. کوشش کا اجر، چاہے نتیجہ نہ ملے:
   اس حدیث کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو نتیجہ پر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر حاجت پوری نہ بھی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نیت اور سعی کا اجر ضرور عطا فرماتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں ہے: "من هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة" (مسلم) — جس نے نیکی کا ارادہ کیا مگر عمل نہ کر سکا، اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔
3. روایت کے ضعیف ہونے کے باوجود عمل کی ترغیب:
   علمائے کرام نے اس روایت کو موضوع اور ضعیف قرار دے کر امت کو اس کی سند سے آگاہ کیا، تاکہ کوئی شخص اسے صحیحِ نبوی نہ سمجھ بیٹھے۔ تاہم اس کے معنی کو رد نہیں کیا گیا، کیونکہ یہ اخلاقی اصول (جسے صحیح احادیث تقویت دیتی ہیں) کے مطابق ہے۔
4. فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث کا اصول:
   علماء اصول کے مطابق فضائل (نوافل اور مستحبات) میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ:

· وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو (یہاں خاص طریق موضوع ہے، لہٰذا اس سے احتیاط برتی جائے)۔
· اس کا مفہوم شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔
· اسے یقینی سنت نہ سمجھا جائے۔

5. احادیث کے طرق کا موازنہ:
   اس روایت نے ہمیں یہ سبق بھی دیا کہ ایک ہی مفہوم کی متعدد سندیں ہو سکتی ہیں۔ جہاں ایک طریق موضوع ہے، وہیں دوسرا طریق ضعیف ہے۔ محدثین ان تمام طرق کو جمع کر کے حدیث کی مجموعی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔ البانی نے اس کے مجموعی طرق کو ضعیف ہی قرار دیا، صحیح نہیں۔
6. شعر کا پیغام (ابو العتاهیہ):
   ان اشعار میں عملی زندگی کا درس ہے کہ انسان کی عظمت اور بہترین ایام وہ ہیں جب وہ دوسروں کے کام آئے۔ یہی نبوی اخلاق ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "خير الناس أنفعهم للناس" (صحیح) — بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کو زیادہ نفع پہنچائیں۔

---

خلاصہ: روایت "من ذهب في حاجة أخيه المسلم ... وإن لم تقض كتبت له عمرة" خاص سند (بیہقی) کے اعتبار سے موضوع اور دوسری سندوں کے اعتبار سے ضعیف ہے، اس لیے اسے بطورِ سنتِ قطعی پیش نہ کریں۔ البتہ مسلمانوں کی حاجت پوری کرنا، ان کی مدد کرنا، اور اس میں کوشش کرنا قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں اعلیٰ اخلاق اور باعثِ اجر ہے، اور اگر کوئی شخص اس روایت کو بغیر یقینِ قطعی کے (صرف احتیاطاً) اپنائے تو اس میں حرج نہیں۔




شرح (تشریح – از فیض القدیر)

امام المناوی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

1. "لأجل الله" کا اضافہ – اس سے معلوم ہوا کہ اجر کا دارومدار اخلاصِ نیت پر ہے۔ کوئی بھی عمل جب خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو اس کی قدر بےحد بڑھ جاتی ہے۔
2. "فقضيت حاجته" – اگر حاجت پوری ہو جائے تو حج اور عمرہ کا اجر ملتا ہے، جس کا مطلب ثواب کی مماثلت ہے، نہ کہ خود فرض حج و عمرہ کی ادائیگی۔
3. "وإن لم تقض" – اگر کسی معقول وجہ سے حاجت پوری نہ ہو سکے تب بھی محض سعی (کوشش) اور نیت کی بدولت عمرہ کا اجر ملتا ہے۔ المناوی اس کی وضاحت کرتے ہیں: "یعنی اس کے بدلے اسے قبول شدہ عمرے کا اجر عطا کیا جاتا ہے، جو اس کی اس خدمت کا بدلہ ہے۔"
4. اس میں "مقبولہ" (قبول شدہ) کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی اس نیک کوشش کو قبول فرماتا ہے اور اسے اجرِ عظیم سے نوازتا ہے۔

[فيض القدير شرح الجامع الصغير-المناوي:8682]
---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. اخلاصِ نیت (لأجل الله) ہر عمل کی روح ہے:
   اس حدیث میں "لأجل الله" کا اضافہ اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرتے ہوئے بھی نیت خالص ہونی چاہیے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "إنما الأعمال بالنيات" (بخاری) — اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
2. نتیجہ نہ ملنے پر بھی اجر ضائع نہیں ہوتا:
   اس حدیث کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو مایوسی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوشش کرنے کے باوجود حاجت پوری نہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نیت اور محنت کا اجر ضرور عطا فرماتا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے: "من هم بحسنة فلم يعملها كتبت له حسنة" (مسلم)۔
3. روایت کے ضعیف ہونے کے باوجود مفہوم درست ہے:
   اگرچہ یہ روایت سنداً موضوع/ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم قرآن و سنت کے عمومی اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى" (المائدہ: 2)۔
4. فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث کا اصول:
   علمائے اصول کے مطابق فضائل (نوافل اور مستحبات) میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ:
   · وہ شدید ضعیف یا موضوع نہ ہو (یہاں خاص طریق موضوع ہے، لہٰذا اس سے احتیاط برتی جائے)۔
   · اس کا مفہوم شریعت کے کسی اصول کے خلاف نہ ہو۔
   · اسے یقینی سنت نہ سمجھا جائے۔
5. حج و عمرہ کے اجر کا مفہوم:
   اس کا مطلب یہ نہیں کہ حاجت پوری کرنے والا خود حج و عمرہ سے بے نیاز ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب ثواب کی برابری ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "من صلى البردين دخل الجنة" (بخاری) — یعنی فجر و عصر پڑھنے والا جنت میں داخل ہوگا، مگر اس کا مطلب تمام فرائض کی ادائیگی سے بے نیازی نہیں۔
6. عملی زندگی میں کردار:
   یہ حدیث ہمیں سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مددگار، ہمدرد اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم كمثل الجسد الواحد" (مسلم) — مسلمان آپس میں محبت اور رحمت میں ایک جسم کی مانند ہیں۔

---

خلاصہ: حدیث "من ذهب في حاجة أخيه المسلم ... وإن لم تقض كتب له عمرة" سنداً ضعیف بلکہ موضوع ہے، اس لیے اسے بطورِ سنتِ قطعی پیش نہ کریں۔ البتہ اس کے اندر موجود تمام معانی و نکات (اخلاص، سعی، دوسروں کی مدد، اور اجرِ عظیم) مکمل طور پر قرآنی اور صحیح نبوی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔ لہٰذا اللہ کی خاطر مسلمانوں کی حاجت پوری کرنا اور ان کی مدد کے لیے کوشش کرنا باعثِ اجرِ عظیم ہے، اور ہمیں اس اخلاقی اصول کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔




عنوان
نوزائیدہ بچے کے کان میں اذان و اقامت کا حکم

---
(47) سیدنا حسینؓ بن علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مَنْ وُلِدَ لَهُ فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى، لَمْ تَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ".
ترجمہ:
"جس کے ہاں بچہ پیدا ہو، تو وہ اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے، تو اسے 'ام الصبیان' (بچوں کی ایک خاص بیماری) کوئی نقصان نہ پہنچائے گی۔"
[جامع الأحاديث للسيوطي:24133]
---
حوالہ (تخریج)

محدث » کتاب » رقم/حدیث
ابو یعلی، المسند (6780)
ابن السنی، عمل الیوم واللیلۃ (623)
الدیلمی، مسند الفردوس(5982)

راوی: حضرت حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما

---

حکم (حیثیت)

یہ حدیث سنداً ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) ہے، اس لیے قابلِ عمل نہیں۔

محدث حکم وجہ / وضاحت
امام سیوطی / الصنعانی ضعیف انہوں نے اس پر "رمز لضعفه" (ضعف کا نشان) لگایا ہے۔
امام ہیثمی ضعیف کہا: "اس میں مروان بن سالم الغفاری راوی ہے، جو متروک (ترک شدہ) ہے۔"
[مجمع الزوائد:6206] 
امام ذہبی موضوع کہا: "یحییٰ بن العلاء کذاب (جھوٹا) اور وضع حدیث کرنے والا ہے۔"
علامہ البانی موضوع انہوں نے اسے "السلسلة الضعیفة" (1/491) اور "ضعیف الجامع" (5881) میں موضوع قرار دیا ہ۔

ابن عدی ، غیر محفوظ
[الکامل فی الضعفاء (7/198)]

خلاصہ حکم: اس حدیث کی سند میں مروان بن سالم الغفاری (متروک) اور یحییٰ بن العلاء (کذاب وضاع) جیسے راوی ہیں، اس لیے یہ موضوع ہے اور اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں。

---

شرح (تشریح)

امام الصنعانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

· "أم الصبيان" سے مراد ایک خاص قسم کی بیماری یا تکلیف ہے جو بچوں کو لاحق ہوتی ہے۔
· اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اذان و اقامت اس بیماری سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔
· مروان بن سالم الغفاری اور یحییٰ بن العلاء البجلی الرازی کی وجہ سے یہ حدیث سخت ضعیف ہے۔
[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:9066]
---

حاصل اسباق و نکات (باحوالہ)

1. اذان و اقامت کی فضیلت ثابت ہے، مگر اس سند سے نہیں:
   نبی ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے کان میں اذان دی تھی، جسے ترمذی نے "حسن صحیح" کہا ہے اور البانی نے بھی اسے حسن قرار دیا ہے。 البتہ اقامت کا ذکر اس روایت میں نہیں، اور مذکورہ حدیث میں اقامت کا جو اضافہ ہے وہ موضوع ہے۔
2. محدثین کا موقف:
   شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "نبی ﷺ سے ثابت نہیں کہ آپ نے کسی بچے یا بچی کے کان میں اذان دی ہو، البتہ بعض احادیث میں کچھ ضعف ہے۔" تاہم بطور استحباب بہت سے اہل علم نے اس پر عمل کیا ہے، مگر اسے سنتِ مؤکدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
3. سند کی تحقیق کی اہمیت:
   اس حدیث میں مروان بن سالم اور یحییٰ بن العلاء جیسے راوی ہیں جنہیں ائمہ نے متروک اور کذاب قرار دیا ہے。 یہ ہمیں جرح و تعدیل کے فن کی اہمیت کا سبق دیتا ہے۔
4. بچے کے کان میں اذان کہنے کی حکمت:
   اذان کا مقصد بچے کے کان میں پہلی آواز اللہ اکبر اور لا الٰہ الا اللہ ہو، تاکہ اس کی زندگی کا آغاز ذکرِ الٰہی سے ہو۔
5. موضوع حدیث کی نشاندہی:
   علمائے کرام نے اس حدیث کو موضوع قرار دے کر امت کو گمراہی سے بچایا۔ اس لیے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا درست نہیں، البتہ بغیر اسے سنتِ نبوی سمجھے اذان کہنے میں کوئی حرج نہیں۔

---

خلاصہ: حدیث "من ولد له ولد فأذن في أذنه اليمنى وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان" موضوع (من گھڑت) ہے، اس لیے اسے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔ البتہ صرف اذان کا حکم دوسری صحیح روایات سے ثابت ہے، اور بچے کے کان میں اذان کہنا مستحب ہے، مگر اسے اس مخصوص روایت کی بنا پر سنت نہ سمجھا جائے۔







سیرت حضرت حسینؓ بن علیؓ
نام ونسب
حسین نام، ابو عبداللہ کنیت "سید شباب اہل الجنہ"اورریحانۃ النبی لقب، علی مرتضیؓ باپ اورسیدہ بتولؓ جگر گوشۂ رسول ماں تھیں اس لحاظ سے آپ کی ذات گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی، شجرہ طیبہ یہ ہے،حسینؓ بن علی ؓ بن ابی طالب بن ہاشم بن عبد مناف قرشی ہاشمی ومطلبی،ع
دل وجان باوفدایت چہ عجب خوش لقبی

***
پیدائش
ابھی آپ شکم مادر میں تھے کہ حضرت حارثؓ کی صاحبزادی نے خواب دیکھا کہ کسی نے رسول اکرمﷺ کے جسم اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے،انہوں نے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے ایک ناگوار اور بھیانک خواب دیکھا ہے،فرمایا کیا؟ عرض کیا ناقابل بیان ہے فرمایا بیان کرو آخر کیا ہے؟ آنحضرتﷺ کے اصرار پر انہوں نے خواب بیان کیا ،آپﷺ نے فرمایا یہ تو نہایت مبارک خواب ہے ،فاطمہؓ کے لڑکا پیدا ہوگا اورتم اس کو گود میں لوگی۔
(مستدرک حاکم:۳/۱۷۶)
کچھ دنوں کے بعد اس خواب کی تعبیر ملی اور ریاض نبوی میں وہ خوش رنگ ارغوانی پھول کھلا، جس کی مہک حق وصداقت ،جرأت وبسالت،عزم واستقلال ،ایمان وعمل اورایثار وقربانی کی وادیوں کو ابد الآباد تک بساتی اورجس کی رنگینی عقیق کی سرخی ،شفق کی گلگونی اورلالہ کے داغ کو ہمیشہ شرماتی رہے گی، یعنی شعبان ۴ھ میں علیؓ کاکا شانہ حسینؓ کے تولد سے رشک گلزار بنا، ولادت باسعادت کی خبر سن کر آنحضرتﷺ تشریف لائے اورفرمانے لگے بچے کو دکھاؤ، کیا نام رکھا گیا؟ اورنومولود بچہ کو منگا کر اس کے کانوں میں اذان دی ،اس طرح گویا پہلی مرتبہ خود زبان وحی والہام نے اس بچہ کے کانوں میں توحید الہیٰ کا صور پھونکا درحقیقت اسی صور کا اثر تھا کہ
سرداد،دست نداددردستِ یزید حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ
پھر فاطمہ زہراؓ کو عقیقہ کرنے اور بچہ کے بالوں کے ہموزن چاندی خیرات کرنے کا حکم دیا ،پدر بزرگوار کے حکم کے مطابق فاطمہ زہراؓ نے عقیقہ کیا۔
[مستدرک حاکم:۳/۷۶،فضائل حسینؓ، موطا امام مالک کتاب العقیقہ باب ماجاء فی العقیقہ میں بھی اس کا ذکر ہے]
والدین نے حرب نام رکھا تھا ،لیکن آنحضرتﷺ کو یہ نام پسند نہ آیا، آپ نے بدل کر حسینؓ رکھا۔
(اسد الغابہ:۲/۱۸)


***
عہد نبویﷺ
حضرت حسینؓ کے بچپن کے حالات میں صرف ان کے ساتھ آنحضرتﷺ کے پیار اورمحبت کے واقعات ملتے ہیں،آپ ان کے ساتھ غیر معمولی شفقت فرماتے تھے،تقریباً روزانہ دونوں کو دیکھنے کے لئے حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لے جاتے اور دونوں کو بلا کر پیار کرتے اورکھلاتے، دونوں بچے آپ سے بیحد مانوس اورشوخ تھے،لیکن آپ نے کبھی کسی شوخی پر تنبیہ نہیں فرمائی؛بلکہ ان کی شوخیاں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے تھے، اس قسم کے تمام حالات حضرت حسنؓ کے تذکرہ میں لکھے جاچکے ہیں، اس لئے یہاں ان کے اعادہ کی حاجت نہیں حضرت حسینؓ کا سن صرف سات برس کا تھا کہ نانا کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا۔

***
عہد صدیقی
حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں امام حسینؓ کی عمر۷،۸ سال سے زیادہ نہ تھی اس لئے ان کے عہد کا کوئی خاص واقعہ قابل ذکر نہیں ہے،بجز اس کے کہ حضرت ابوبکرؓ،نبیرہ رسول کی حیثیت سے حضرت حسینؓ کو بہت مانتے تھے۔

***
عہد فاروقی
حضرت عمرؓ کے ابتدائی عہدِ خلافت میں بھی بہت صغیر السن تھے، البتہ آخری عہد میں سن شعور کو پہنچ چکے تھے،لیکن اس عہد کی مہمات میں ان کا نام نظر نہیں آتا، حضرت عمرؓ بھی حضرت حسینؓ پر بڑی شفقت فرماتے تھے اورقرابتِ رسول ﷺ کا خاص لحاظ رکھتے تھے ؛چنانچہ جب بدری صحابہؓ کے لڑکوں کا دو دو ہزار وظیفہ مقرر کیا، توحضرت حسینؓ کا محض قرابت رسول کے لحاظ سے پانچ ہزار ماہوار مقرر کیا۔
(فتوح البلدان بلاذری ذکر عطا عمر بن الخطاب)
آپ کسی چیز میں بھی حضرت حسینؓ کی ذات گرامی کو نظر انداز نہ ہونے دیتے تھے ایک مرتبہ یمن سے بہت سے حلے آئے، حضرت عمرؓ نے تمام صحابہؓ میں تقسیم کئے، آپ قبر اور منبر نبوی کے درمیان تشریف فرما تھے، لوگ ان حلوں کو پہن پہن کر شکریہ کے طور پر آکر سلام کرتے تھے، اسی دوران میں حضرت حسنؓ وحسینؓ حضرت فاطمہؓ کے گھر سے نکلے، آپ کا گھر حجرہ مسجد کے درمیان میں تھا، حضرت عمرؓ کی نظر ان دونوں پر پڑی تو ان کے جسموں پر حلے نظر نہ آئے، یہ دیکھ کر آپ کو تکلیف پہنچی اور لوگوں سے فرمایا مجھے تمہیں حلے پہنا کر کوئی خوشی نہیں ہوئی، انہوں نے پوچھا امیر الومنین یہ کیوں ،فرمایا اس لئے کہ ان دونوں لڑکوں کے جسم ان حلوں سے خالی ہیں اس کے بعد فوراً حاکم یمن کو حکم بھیجا کہ جلد سے جلد دو حلے بھیجو اور حلے منگوا کر دونوں بھائیوں کو پہنانے کے بعد فرمایا، اب مجھے خوشی ہوئی ایک روایت یہ ہے کہ پہلے حلے حضرت حسنؓ وحسینؓ کے لائق نہ تھے۔
[تاریخ دمشق-امام ابن عساکر:۴/۳۲۱،۳۲۳]
حضرت عمرؓ حسینؓ کو اپنے صاحبزادے عبداللہ سے بھی جو عمر اورذاتی فضل وکمال میں ان دونوں سے فائق تھے،زیادہ مانتے تھے، ایک مرتبہ آپ منبر نبویﷺ پر خطبہ دے رہے تھے کہ حسینؓ آئے اور منبر پر چڑھ کر کہا میرے باپ (رسول اللہ ﷺ ) کے منبر سے اترو اوراپنے باپ کے منبر پر جاؤ، حضرت عمرؓ نے اس طفلانہ شوخی پر فرمایا کہ میرے باپ کے تو کوئی منبر ہی نہ تھا اورانہیں اپنے پاس بٹھالیا، خطبہ تمام کرنے کے بعد انہیں اپنے ساتھ گھرلیتے گئے راستہ میں پوچھا کہ یہ تم کو کس نے سکھایا تھا؟ بولے واللہ کسی نے نہیں، پھر فرمایا کبھی کبھی میرے پاس آیا کرو ؛چنانچہ اس ارشاد کے مطابق ایک مرتبہ حسینؓ ان کے پاس گئے اس وقت حضرت عمرؓ معاویہؓ سے تنہائی میں کچھ گفتگو کررہے تھے اورابن عمرؓ دروازہ پر کھڑے تھے،حسینؓ بھی ان ہی کے پاس کھڑےہوگئے اور بغیرملےہوئے ان ہی کے ساتھ واپس چلے گئے، اس کے بعد جب حضرت عمرؓ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے پوچھا تم آئے کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا امیر المومنین میں حاضر ہوا تھا،مگر آپ معاویہ سے گفتگو میں مشغول تھے،اس لئے عبداللہ کے ساتھ کھڑا رہا، پھر ان ہی کے ساتھ لوٹ گیا،فرمایا تم کو ان کا ساتھ دینے کی کیا ضرورت تھی، تم ان سے زیادہ حقدار ہوجو کچھ ہماری عزت ہے وہ خدا کے بعد تم ہی لوگوں کی دی ہوئی ہے۔
[الإصابة في تمييز الصحابة:۳/۱۵]

***
عہد عثمانی
حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں پورے جوان ہوچکے تھے؛چنانچہ سب سے اول اسی عہد میں میدان جہاد میں قدم رکھا اور ۳۰ ھ میں طبرستان کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے [ابن اثیر:۳/۸۴] پھر جب حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت برپا ہوئی اورباغیوں نے قصر خلافت کا محاصرہ کرلیا تو حضرت علیؓ نے دونوں بھائیوں کو حضرت عثمانؓ کی حفاظت پر مامور کیا کہ باغی اندر گھسنے نہ پائیں ؛چنانچہ حفاظت کرنے والوں کے ساتھ ان دونوں نے بھی نہایت بہادری کے ساتھ باغیوں کو اندر گھسنے سے روکے رکھا جب باغی کوٹھے پر چڑھ کر اندر اتر گئے اورحضرت عثمانؓ کو شہید کرڈالا اورحضرت علیؓ کو شہادت کی خبر ہوئی تو انہوں نے دونوں بھائیوں سے نہایت سختی کے ساتھ باز پرس کی کہ تمہارے ہوتے ہوئے باغی کس طرح اندر گھس گئے۔

***
جنگ جمل وصفین
جنگ جمل میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ تھے ،اختتام جنگ کے بعد کئی میل تک حضرت عائشہ کو پہنچانے کے لئے گئے،جنگ جمل کے بعد صفین کے قیامت خیز واقعہ میں بھی آپ نے بڑی سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا، لیکن یہاں ان لاطائل تفصیلات کی ضرورت نہیں التوائے جنگ کے بعد معاہدہ نامہ میں بحیثیت شاہد کے حضرت حسینؓ کے بھی دستخط تھے پھر جنگ صفین کے بعد خوارج کی سرکوبی میں بڑے انہماک سے حصہ لیا۔

***
حضرت علیؓ کی شہادت
اس کے بعد ۴۰ھ میں حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ ہوا زخم بہت کاری تھا، جب حالت زیادہ نازک ہوئی تو حضرت حسنؓ وحسینؓ کو بلاکر مفید نصیحتیں کیں اورمحمد بن حنفیہ کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرکے مرتبہ شہادت پر ممتاز ہوگئے۔

***
عہد معاویہ
حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسنؓ خلیفہ ہوئے،لیکن جیسا کہ اوپر ان کے حالات میں معلوم ہوچکا ہے، آپ مسلمانوں کی خونریزی سے بچنے کے لئے معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبرداری پر آمادہ ہوگئے اور حسینؓ کو اپنے عزم سے آگاہ کیاحسینؓ نے اس کی بڑی پر زور مخالفت کی جس کی تفصیل اوپر گذرچکی ہے، لیکن حضرت حسنؓ کے عزم راسخ کے سامنے ان کی مخالفت کا میاب نہ ہوسکی اور۴۱ھ میں حضرت حسنؓ امیر معاویہؓ کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے،حضرت حسینؓ کو بھی برادر بزرگ کے فیصلہ کے سامنے سرخم کرنا پڑا، گو حضرت حسینؓ امیر معاویہؓ کو حق پر نہیں سمجھتے تھے،تاہم ان کے زمانہ کی لڑائیوں میں برابر شریک ہوتے تھے؛چنانچہ ۴۹ھ میں قسطنطنیہ کی مشہور مہم میں جس کا کماندار سفیان بن عوف تھا، مجاہدانہ شرکت کی تھی، جس کا ذکر امیر معاویہؓ کے حالات میں اوپر گذر چکا ہے۔




***
حضرت حسنؓ کا انتقال
اسی سال یعنی ۴۹ھ میں حضرت حسنؓ کا انتقال ہوگیا اس سلسلہ میں حضرت حسینؓ کو جوجو واقعات پیش آئے ان کا تذکرہ حضرت حسنؓ کے حالات میں گزر چکا ہے اس لئے یہاں ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔


***
امیر معاویہ اورحسینؓ
ممکن ہے حضرت امام حسینؓ کا دل امیر معاویہؓ کی جانب سے صاف نہ رہا ہو،یا وہ ان کو اچھا نہ سمجھتے ہوں لیکن دونوں کے ظاہر تعلقات خوشگوار تھے اورامیر معاویہؓ ان کا بڑا لحاظ رکھتے تھے، حضرت حسنؓ نے دستبرداری کے وقت حسینؓ کے لئے جورقم مقرر کرائی تھی وہ امیر معاویہؓ انہیں برابر پہنچاتے رہے ؛بلکہ اس رقم کے علاوہ بھی مسلوک ہوتےرہتے تھے البتہ یزید کے ولی-عہدی کے وقت ناخوشگواری پیدا ہوگئی تھی،لیکن اس میں بھی کوئی بدنما صورت نہیں پیدا ہونے پائی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ۵۶ھ میں جب امیر معاویہؓ نے اہل مدینہ سے یزید کی بیعت لینی چاہی تو طبری کے بیان کے مطابق سوائے چند لوگوں کے کل اہل مدینہ نے بیعت کرلی بیعت نہ کرنے والوں میں ایک امام حسینؓ بھی تھے، لیکن جب عام بیعت ہوگئی تو امیر معاویہؓ نے ان لوگوں سے کچھ زیادہ اصرار نہیں کیا(طبری:۷۱۹۷) یہ طبری کی روایت ہے ابن اثیر کی روایت کی رُو سے امیر معاویہؓ نے پہلے تمام اکابر مدینہ سے بزور بیعت لی اوران کی بیعت کو عوام کے سامنے سند میں پیش کرکے سب سے بیعت لی اورکسی نے کوئی اختلاف نہیں کیا، سب خاموش رہے،ان خاموش رہنے والوں میں حضرت حسینؓ بھی تھے، اس کی تفصیل امیر معاویہؓ کے حالات پر لکھی جاچکی ہے۔
امیر معاویہؓ نہایت زمانہ شناس اور بڑے عاقبت بین مدبر تھے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کا پہلے سے اندازہ کرلیتے تھے چنانچہ اس کا یقین تھا کہ ان کے بعد ابن زبیر ضرور خلافت کا دعویٰ کریں گے اورحسینؓ کو بھی اہل عراق یزید کے مقابلہ میں کھڑا کردیں گے اس لئے موت کے وقت یزید سے دونوں کے بارہ میں وصیت کرتے گئے، حضرت حسینؓ کے متعلق خاص طور سے تاکید کی تھی کہ میرے بعد عراق والے حسین ؓ کو تمہارے مقابلہ لاکر چھوڑیں گے جب وہ تمہارے مقابلہ میں آئیں اور تم کو ان پر قابو حاصل ہوجائے تو درگذر سے کام لینا کیونکہ وہ قرابت دار، بڑے حقدار اوررسول اللہ ﷺ کے عزیز ہیں۔
[تاریخ طبری:۷/۱۹۰،والفخزی:۱۰۲]

***
یزید کی تخت نشینی:
رجب ۶۰ھ میں امیر معاویہؓ کا انتقال ہوا ان کے بعد یزید جس کی بیعت وہ اپنی زندگی ہی میں لے چکے تھے،ان کا جانشین ہوا، تختِ حکومت پر قدم رکھنے کے بعد یزید کے لئے سب سے اہم معاملہ حضرت حسینؓ اورابن زبیرؓ کی بیعت کا تھا،کیونکہ یزید کی ولیعہدی کی بیعت کے وقت ان دونوں نے اس کو نہ دل سے تسلیم کیا تھا اورنہ زبان سے اقرار کیا تھا اوران کے بیعت نہ کرنے کی صورت میں خود ان کی جانب سے دعویٰ خلافت اورحجاز میں یزید کی مخالفت کا خطرہ تھا،کیونکہ ان کے دعویٰ خلافت سے سارا حجاز یزید کے خلاف اٹھ کھڑا ہوتا اورحسینؓ کی وجہ سے عراق میں بھی شورش بپا ہوجاتی جیسا کہ آیندہ چل کر ابن زبیرؓ کے دعویٰ خلافت کے زمانہ میں ہوا کہ شام کے بعض حصوں کے سوا قریب قریب پورا ملک ابن زبیرؓ کے ساتھ ہوگیا، ان اسباب کی بنا پر اپنی حکومت کی بقا اور تحفظ کے لئے یزید نے ان دونوں سے بیعت لینا ضروری سمجھا گویہ اس کی ناعاقبت اندیشی تھی اگر وہ سمجھداری سے کام لے کر ان بزرگوں کو ساتھ ملا لیتا تو بہت ممکن تھا کہ وہ ناگوار واقعات پیش نہ آتے جنہوں نے نہ صرف یزید کو ساری دنیا میں بد نام ؛بلکہ اموی حکومت کو لوگوں کی نگاہوں میں مطعون کردیا، جس کا اثر اموی حکومت پر بہت برا پڑا۔
(بنی امیہ کے خلاف عباسیوں کی دعوت میں کامیابی کا ایک بڑا سبب حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ بھی تھا)
لیکن یزید نے ان پہلوؤں کو نظر انداز کرکے تخت حکومت پر قدم رکھتے ہی ولید بن عتبہ حاکم مدینہ کے نام ان دونوں سے بیعت لینے کا تاکیدی حکم بھیجا، ابھی تک مدینہ میں امیر معاویہؓ کی وفات کی خبر نہ پہنچی تھی،ولید کے لئے اس حکم کی تعمیل بہت مشکل تھی، وہ اس کے انجام سے واقف تھا، اس لئے بہت گھبرایا اوراس نے اپنے نائب مروان سے مشورہ کیا،مروان سخت مزاج تھا اس نے کہا دونوں کو اسی وقت بلا کر ان سے بیعت کا مطالبہ کرو اگر مان جائیں تو فبہا اوراگر ذرا بھی لیت و لعل کریں تو سر قلم کردو، ورنہ ان لوگوں کو معاویہ کی موت کی خبر مل گئی تو پھر ان میں سے ہر ایک شخص ایک ایک مقام پر خلافت کا مدعی بن کر کھڑا ہوجائے گا اوراس وقت سخت دشواری پیش آئے گی۔
اس مشورہ کے بعد ولید نے ان دونوں کو بلا بھیجا ،اولاً یہ طلبی ایسے غیر معمولی وقت میں ہوئی تھی جو ولید کے ملنے کا وقت نہ تھا دوسرے امیر معاویہؓ کی علالت کی خبریں مدینہ آچکی تھیں ان قیاسات سے دونوں آدمی سمجھ گئے کہ امیر معاویہؓ کا انتقال ہوگیا ہے اورانہیں بیعت کے لئےبلایا گیا ہے،تاکہ معاویہ کی موت کی خبر پھیلنے سے پہلے ہی مدینہ میں بیعت لے لی جائے، حضرت حسینؓ کو اندازہ تھا کہ انکار بیعت کی صورت میں کس حد تک معاملہ نزاکت اختیار کرسکتا ہے،اس لئے اپنی حفاظت کا سامان کرکے ولید کے پاس پہنچے اورمکان کے باہر آدمیوں کو متعین کردیا تاکہ اگر کوئی ناگوار شکل پیش آئے تو وہ لوگ فورا آپ کی آواز پر پہنچ جائیں ،ولید نے انہیں امیر معاویہؓ کی موت کی خبر سنا کر یزید کی بیعت کے لئے کہا، حضرت حسینؓ نے تعزیت کے بعد یہ عذر کیا کہ میرے جیسا آدمی چھپ کر بیعت نہیں کرسکتا، اورنہ میرے لئے خفیہ بیعت کرنا زیبا ہے جب تم عام بیعت کے لئے لوگوں کو بلاؤ گے تو میں بھی آجاؤں گا اور عام مسلمان جو صورت اختیار کریں گے اس میں مجھے بھی کوئی عذر نہ ہوگا، ولید نرم خو اور صلح پسند آدمی تھا اس لئے رضا مند ہوگیا اورحضرت حسینؓ لوٹ گئے ،مروان جس نے زبردستی بیعت لینے اورانکار کی صورت میں قتل کردینے کی رائے دی تھی ولید کی اس نرمی اورصلح پسندی پر بہت برہم ہوا اورکہا تم نے میرا کہنا نہ مانا، اب تم ان پر قابو نہیں پاسکتے، ولید بولا افسوس تم فاطمہؓ بنت رسولﷺ کے لڑکے حسینؓ کے خون سے میرے ہاتھ آلودہ کرنا چاہتے ہو خدا کی قسم قیامت کے دن حسینؓ کے خون کا جس سے محاسبہ کیا جائے گا، اس کا پلہ خدا کے نزدیک ہلکا ہوگا۔
[ابن اثیر:۴/۱۰واخبارالطوال:۲۴۱،حسینؓ کے ساتھ ابن زبیرؓ کے حالات بھی ہیں،ان کا ذکر ان کے حال میں آئندہ آئے گا]

***
صاحبزادہ علی المرتضیٰ امام محمد بن حنفیہؒ کا مشورہ:
ولید کے پاس سے واپس آنے کے بعد حضرت حسینؓ بڑی کشمکش میں تھے، آپ کو اس مشکل سے مفر کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی ،ایک طرف آپ یزید کی بیعت دل سے سخت ناپسند کرتے تھے، کیونکہ اس کی ولیعہدی کی بیعت خلفائے راشدینؓ کے اسلامی طریقۂ انتخاب کے بالکل خلاف غیر شرعی اور قیصر وکسریٰ کے طرز کی پہلی شخصی ومورثی بادشاہت تھی، دوسری جمہور امت کے خلاف بھی نہیں چاہتے تھے؛ چنانچہ ولید سے فرمادیا تھا کہ جب تمام اہل مدینہ بیعت کرلیں گے تو مجھے بھی کوئی عذر نہ ہوگا، تیسرے اہل عراق خود آپ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے اورآپ کے پاس اس مضمون کے بہت سے خطوط آچکے تھے کہ آپ ظالم حکومت کے مقابلہ میں خلافت قبول کیجئے ان تمام حالات نے آپ کو بڑی کشمکش میں مبتلا کردیا۔
جس دن حضرت حسینؓ ولید سے ملے تھے، اس کے دوسرے دن حضرت عبداللہ بن زبیرؓ مدینہ سے مکہ نکل گئے اوردن بھر ولید اوران کا عملہ ان کی تلاش میں سرگرداں رہا، اس لئے حضرت حسینؓ کا کسی کو خیال نہ آیا، اس کے بعد دوسرے دن ولید نے پھر حضرت حسینؓ کے پاس یاد دہانی کے لئے آدمی بھیجا آپ نے ایک دن کی اور مہلت مانگی، ولید نے اسے بھی منظور کرلیا، اس کے بعد بھی حسینؓ کوئی فیصلہ نہ کرسکے اوراسی کشمکش اورپریشانی میں اپنے اہل وعیال اورعزیز واقربا کو لیکر رات کو نکل کھڑے ہوئے ؛لیکن ابھی تک یہ بھی طے نہیں کیا تھا کہ مدینہ سے نکل کر جائیں تو کدھر جائیں،محمد بن حنفیہ نے مشورہ دیا کہ اس وقت آپ یزید کی بیعت اور کسی مخصوص شہر کے ارادہ سے جہاں تک ہوسکے الگ رہیے اوران لوگوں کو خود اپنی خلافت کی دعوت دیجئے اگر وہ لوگ بیعت کرلیں تو خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اگر کسی دوسرے شخص پر لوگوں کا اجتماع ہوجائے تو اسے آپ کے اوصاف وکمالات اور فضائل میں کمی نہ آئے گی، مجھے خوف ہے کہ اگر آپ اس پر شور زمانہ میں کسی مخصوص شہر اور مخصوص جماعت کے پاس جانے کا قصد کریں گے تو ان میں اختلاف پیدا ہوجائے گا، ایک فریق آپ کی حمایت کرے گا دوسرا مخالفت، پھر یہ دونوں آپس میں لڑیں گے اورآپ ان کے نیزوں کا پہلا نشانہ بنیں گے، اس طرح اس امت کا معزز ترین اور شریف ترین شخص جس کا ذاتی اورنسبی شرف میں کوئی مقابل نہیں ہے سب سے زیادہ ذلیل اور پست اور اس کا خون سب سے زیادہ ارزاں ہوجائے گا، یہ مشورہ سن کر حضرت حسینؓ نے پوچھا پھر میں کہاں جاؤں، محمد بن حنفیہ نے کہا: مکہ اگر وہاں آپ کو اطمینان حاصل ہوجائے تو کوئی نہ کوئی راہ نکل آئے گی، اور اگر وہاں بھی اطمینان حاصل نہ ہو تو کسی اور ریگستان اور پہاڑی علاقہ میں نکل جائیے اور اس وقت تک برابر ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل ہوتے رہیے جب تک ملک کا کوئی فیصلہ ہوجائے اس درمیان میں آپ کسی نہ کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں گے، جب واقعات سامنے آجاتے ہیں اس وقت آپ کی رائے بہت زیادہ صائب ہوجاتی اور آپ کا طریقہ کار بہت زیادہ صحیح ہوجاتا ہے، حضرت حسینؓ نے محمد بن حنفیہ کا مشورہ پسند کیا اور فرمایا تمہاری نصیحت بہت محبت آمیز ہے تمہاری رائے بھی صائب ہوگی۔
[تاریخ طبری:۷/۲۲۰،۲۲۱،ملحضا]

حضرت علی کے صاحبزادے امام محمد بن الحنفیہؒ کی یزید کے متعلق گواہی:
ابن مطیع اپنے ساتھیوں کے ساتھ امام محمد بن حنفیہ کے پاس آیا اور کہا کہ یزید شرابی، بےنمازی، حکمِ قرآن کا مخالف ہے۔ تو آپ نے یہ کہا کہ:
مِنْهُ مَا تَذْكُرُونَ، وَقَدْ حَضَرْتُهُ وَأَقَمْتُ عِنْدَهُ، فَرَأَيْتُهُ مُوَاظِبًا عَلَى الصَّلَاةِ، مُتَحَرِّيًا لِلْخَيْرِ، يَسْأَلُ عَنِ الْفِقْهِ، مُلَازِمًا لِلسُّنَّةِ۔
ترجمہ:
میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا جو تم ذکر کرتے ہو، اور یقینا میں اس کے پاس قیام کرتا، تو میں نے دیکھا اسے ہمیشہ پابند نماز کا، خیر کا متلاشی، فقہ(دینی مسائل) پوچھتا رہتا، اور سنت کی پابندی کرتا۔
[البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:11/ 653 دارالھجر، مختصر تاريخ دمشق(امام)ابن عساکر:28/ 27 دارلافکر]

اس نے کہا: یہ اسکا آپ کیلئے بناوٹ اور دکھلاوا ہوگا۔
[تاريخ الإسلام(امام)الذھبی:5/ 274 تدمیری]

آپ نے فرمایا:
اور وہ کیا ہے جو مجھ سے خوف یا امید رکھے کہ وہ میرے لئے خشوع کرے؟! کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تمہیں شراب پینے کے متعلق جس کا تم تذکرہ کرتے ہو؟ پس اگر وہ تم پر ظاہر کرے تو یقینا تم اس کے شراکت دار ہو، اور اگر وہ تم پر ظاہر نہ کرے تو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم شہادت دو جس بات کو تم نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا: یہ بات ہمارے نزدیک حق ہے، چاہے ہم نے اسے نہ دیکھا ہو۔ آپ نے ان سے فرمایا: یقینا انکار کیا اللہ نے اس(علم نہ رکھنے والے) شاہدی دینے والوں سے۔ پس اللہ نے فرمایا: {سوائے ان کے جو حق کی گواہی دیتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں}۔ [سورۃ الزخرف: 86]۔ میں تمہیں(اپنی طرف سے)کسی چیز کا حکم نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا: شاید آپ اس بات ناپسند کرتے ہیں کہ آپ کے علاوہ کوئی اور اس معاملے کو سنبھالے، تو پھر ہم آپ کو اپنے معاملے کی سرپرستی دیتے ہیں۔ آپ نے کہا: نہیں ہے حلال لڑنا اس پر جو تم مجھ سے ارادہ رکھتے ہو۔
[تاريخ الإسلام(امام)الذھبی:5/ 274 تدمیری، البداية والنهاية(امام)ابن کثیر:11/ 653 دارالھجر، مختصر تاريخ دمشق(امام)ابن عساکر:28/ 27 دارلافکر]
***
حضرت حسینؓ کا سفر مکہ:
اس وقت مدینہ بہت پر آشوب ہو رہا تھا ،اس کے مقابلہ میں اگر کہیں امن تھا تو وہ حرم محترم تھا اور حضرت حسینؓ کے پاس کوفہ سے خط پر خط اورآدمی پر آدمی آرہے تھے کہ آپ کوفہ تشریف لائیے ہم سب جان نثاری کے لئے تیار ہیں،لیکن محمد بن حنفیہ نے کسی دوسرے مقام پر جانے کی مخالفت کی تھی اورمکہ ہی میں قیام کرنے کا مشورہ دیا تھا، اس لئے حضرت حسینؓ نے مدینہ چھوڑ کر مکہ جانے کا قصد کرلیا؛چنانچہ شعبان ۶۰ ھ میں مع اہل وعیال مکہ روانہ ہوگئے،راستہ میں عبداللہ بن مطیع ملے انہوں نے آپ کو مدینہ سے جاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا میں آپ پر فدا ہوں کہاں کا قصد ہے فرمایا فی الحال مکہ جاتا ہوں،عبداللہ نے کہا، اس میں مضائقہ نہیں،مگر خدا کے لئے کوفہ کا قصد نہ کیجئے گا، وہ منحوس شہر ہے، وہاں آپ کے والد شہید کئے گئے، آپ کے بھائی بے یار و مدد گار چھوڑے گئے،نیز ے سے زخمی ہوئے جان جاتے جاتے بچی، آپ حر م میں بیٹھ جایے، آپ عرب کے سردار ہیں، حجازی آپ کے مقابلہ میں کسی کو نہ مانیں گے، حرم میں بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ لوگوں کو اپنی طرف مائل کیجئے ،میرے چچا اورماموں آپ پرفدا ہوں آپ حرم کو ہرگز ہرگز نہ چھوڑئیے گا اگر نصیب دشمناں آپ پر کوئی آنچ آئی تو ہم سب غلام بناڈالے جائیں گے۔

***
تحقیق حال
مکہ پہنچنے کے بعد حضرت حسینؓ نے شعب ابی طالب (یہ وہی گھاٹی ہے جس میں آغاز اسلام میں قریش نے آنحضرتﷺ اورآپ کے ساتھ آپ کےحامیوں کو تبلیغ اسلام کے جرم میں نظر بند کیا تھا) میں قیام فرمایا، آپ کی آمد کی خبر سن کر لوگ جوق درجوق زیارت کے لئے آنے لگے اورکوفیوں کے بلاوے کے خطوط کا تانتا بندھ گیا ،عمائد کوفہ کے وفود نے آکر عرض کیا کہ آپ جلد سے جلد کوفہ تشریف لے چلئے وہاں کی مسند خلافت آپ کے لئے خالی ہے اورہماری گردنیں آپ کے لئے حاضر ہیں، حضرت حسینؓ نے یہ اشتیاق سن کر فرمایا میں تمہاری محبت اور ہمدردی کا شکر گذار ہوں؛ لیکن فی الحال نہیں جاسکتا، پہلے اپنے بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجتا ہوں، یہ وہاں کے حالات کا اندازہ لگا کر مجھے اطلاع دیں گے،اس وقت میں کوفہ کا قصد کرونگا ؛چنانچہ مسلم کو ایک خط دے کر کوفہ روانہ کردیا کہ وہ براہ راست خود حالات کا صحیح اندازہ لگا کر اطلاع دیں اوراگر حالات کا رخ کچھ بدلا ہوا دیکھیں تو لوٹ آئیں ؛چنانچہ مسلم دو آدمیوں کو لیکر کوفہ روانہ ہوگئے ،راستہ میں بڑی دشواریاں پیش آئیں پانی کی قلت کی وجہ سے دونوں آدمی ہلاک ہوگئے، مسلم نے کوفہ کے قریب پہنچ کر حضرت حسینؓ کو خط لکھا کہ میں ان ان دشواریوں کے ساتھ یہاں تک پہنچا ہوں، بہتر ہوتا کہ یہ خدمت کسی دوسرے کے سپرد کردیجاتی، لیکن امام نے جواب میں لکھا کہ یہ تمہاری کمزوری ہے ہمت نہ ہارو، اس لئے مسلم کو چاروناچار کوفہ میں داخل ہونا پڑا، کوفہ والے چشم براہ ہی تھے مسلم کو ہاتھوں ہاتھ لیا اوران کے پہنچتے ہی کوفہ میں یزید کی علانیہ مخالفت شروع ہوگئی۔

***
یزید کو مسلم کے پہنچنے کی اطلاع
مسلم کے کوفہ پہنچنے کے بعد حکومت شام کے جاسوسوں نے پایہ تخت دمشق اطلاع بھیجی کہ حسینؓ کی طرف سے مسلم بیعت لینے کے لئے کوفہ آگئے ہیں،اگر سلطنت کی بقا منظور ہے تو فوراً اس کا تدارک ضروری ہے،اس اطلاع پر دربار دمشق سے عبید اللہ بن زیاد کے نام تاکیدی حکم آیا کہ تم فوراً کوفہ جاکر مسلم کو خارج البلد کردو اوراگر وہ اس میں مزاحمت کریں تو قتل کردو، ابن زیاد کو بصرہ میں یہ فرمان ملا اتفاق سے اسی دن حضرت حسینؓ کا ایک اورقاصد اہل بصرہ کے نام بھی آپ کا خط لیکر آیا تھا، بصرہ والوں کو یزید کے فرمان کا علم ہوچکا تھا اس لئے انہوں نے اس قاصد کو چھپادیا، مگر ابن زیاد کے خسر کو اس کا علم ہوگیا تھا،اس نے ابن زیاد کو خبر کردی،ابن زیاد نے اسی وقت قاصد کو گرفتار کرکے قتل کرادیا اور جامع بصرہ میں تقریر کی کہ "امیر المومنین"نے مجھے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی حکومت بھی مرحمت فرمائی ہے، اس لئے میں وہاں جارہا ہوں، میری عدم موجودگی میں میرا بھائی عثمان میری نیابت کرے گا، تم لوگوں کو اختلاف اورشورش سے بچنا چاہیے یاد رکھو جس کے متعلق مجھے ان میں حصہ لینے کی اطلاع ملے گی:اس کو اور اس کے حامی دونوں کو قتل کرڈالوں گا اور قریب وبعید اورگناہگار وناکردہ گناہ سب کو ایک گھاٹ اتاروں گا،تآنکہ تم لوگ راہ راست پر آجاؤ ،میرا فرض سمجھا نا تھا اسے میں نے پورا کردیا، اب میں بری الذمہ ہوں۔

***
کوفہ میں ابن زیاد کا ورود
اس تہدید آمیز تقریر کے بعد ابن زیاد بصرہ سے کوفہ روانہ ہوگیا، اہل کوفہ حضرت حسینؓ کیلئے چشم براہ تھے اورآپ کے دھوکے میں ہر باہر سے آنے والے کو دیکھ کر مرحبا با بن رسول اللہ کا نعرہ لگاتے تھے، اس لئے ابن زیاد کوفہ میں جن جن راستوں سے گذرا یہی نعرہ سنائی دیا ان کو سن کر جوش غضب سے لبریز ہو گیا اور سیدھا جامع مسجد پہنچا اور لوگوں کو جمع کرکے تقریر کی کہ "باشند گان کوفہ امیر المومنین نے مجھے تمہارے شہر کا حاکم بناکر بھیجا ہے اور مظلوم کے ساتھ انصاف مطیع ومنقاد کے ساتھ احسان اورنافرمان اورباغی کے ساتھ سختی کا حکم دیا ہے ،میں اس حکم کی پوری پابندی کروں گا، فرما نبرداروں کے ساتھ پدرانہ شفقت سے پیش آؤں گا؛ لیکن مخالفوں کے لئے سم قاتل ہوں۔

***
کوفہ میں مسلم کا خفیہ سلسلۂ بیعت
اس اعلان سے مسلم گھبراگئے اور رات کو اپنے قیام گاہ سے نکل کراہل بیعت کے ایک چاہنے والے ہانی بن عروہ مذحجی کے یہاں پہنچے، ابن زیاد کے اعلان سے سب خوفزدہ ہورہے تھے، اس لئے ہانی کو پہلے مسلم کے ٹھہرانے میں تذبذب ہوا،لیکن پھر زنانہ مکان کے ایک محفوظ حصہ میں چھپادیا، حضرت حسینؓ کا ایک بڑا حامی شریک بن اعور سلمی جو بصرہ کا ایک مقتدر اور معزز شخص تھا،عبیداللہ بن زیاد کے ساتھ کوفہ آیا ہوا تھا،اس تعلق سے ہانی نے اسے بھی اپنا مہمان بنایا اورمسلم کے ساتھ ٹھہرایا، اس نے ہانی کو مسلم کی امد اوپر آمادہ کیا اور مسلم کے پاس حضرت حسینؓ کےحامیوں کی خفیہ آمد ورفت شروع ہوگئی اوران کی بیعت کا سلسلہ جاری ہوگیا سوء اتفاق اسی دوران میں شریک بیمار پڑگیا، ابن زیاد کو خبر ہوئی تو وہ عیادت کیلئے آیا اُ س کے آنے کی خبر سن کر شریک نے پہلے سے اس کا قصہ چکانے کا بندوبست کرلیا اورمسلم کو ایک خفیہ مقام پر چھپا کر ہدایت کردی کہ وہ موقع پاتے ہی نکل کر ابن زیاد کا کام تمام کردیں اس کے بعد بصرہ کی مسند خلافت تمہارے لئے خالی ہوجائے گی، اورکوئی مزاحم باقی نہ رہے گا ،ہانی نے اپنے گھر میں یہ صورت ناپسند کی، لیکن شریک نے اس قتل کو مذہبی خدمت بتا کر ہانی کو آمادہ کرلیا، اس کے بعد ہی عبیداللہ بن زیاد عیادت کے لئے آگیا اور دیر تک بیٹھا رہا مگر مسلم نہ نکلے، شریک نے اشارہ بھی کیا، مگر کسی وجہ سے مسلم نے حملہ مناسب نہ سمجھا اورابن زیاد بچ کر نکل گیا، اس کی واپسی کے بعد شریک نے کہا تم نے بڑی بزدلی سے کام لیا، مسلم نے جواب دیا اول ہمارے میز بان ہانی کو یہ صورت حال پسند نہ تھی دوسرے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ "ایمان اچانک حملہ سے روکتا ہے " اور اچانک حملہ مسلمانوں کے شایان شان نہیں، میرے پاؤں پکڑ لیتا تھا، بہرحال مسلم نے اپنی دینداری کی بنا پر ابن زیاد کے قتل کا بہترین موقع کھودیا، لیکن اس کے بعد بھی ان کا سلسلہ بیعت بدستور برابر جاری رہا اور اٹھارہ ہزار اہل کوفہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرکے حضرت حسینؓ کے زمرۂ عقیدت میں داخل ہوگئے۔

***
ہانی مذحجی کا قتل
ابن زیاد کو مسلم کی تلاش میں عرصہ گذرچکا تھا؛ لیکن ابھی تک اسے ان کا پتہ نہ چلتا تھا، آخر کار اس نے اپنے غلام معقل کو سراغ رسانی پر مامور کیا، اس قسم کی خفیہ تحریکوں کا پتہ چلانے کے لئے بہترین مقام مسجد تھی، کیونکہ مسجد میں ہر قسم کے لوگ آتے تھے اس لئے یہ غلام سیدھا جامع مسجد پہنچا، یہاں دیکھا کہ ایک شخص مسلسل نمازیں پڑھ رہا ہے، معقل نے نمازوں کی کثرت سے قیاس کیا کہ یہ حضرت حسینؓ کے حامیوں میں ہے اوراس کے پاس جاکر کہا کہ میں شامی غلام ہوں، خدا نے میرے دل میں اہل بیت نبویﷺ کی محبت ڈال دی ہے، میرے پاس تین ہزار درہم ہیں،میں نے سنا ہے کہ یہاں حسینؓ کا کوئی داعی آیا ہے، میں یہ حقیر رقم اس کی خدمت میں نذر کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ا س کو کسی کار خیر میں صرف کریں یہ سن کر داعی نے سوال کیا، مسجد میں اور مسلمان بھی ہیں، تم نے خاص طور سے مجھ سے یہ سوال کیوں کیا؟ معقل نے جواب دیا، آپ کے بشرہ پرخیر کے آثار نظرآئے، معقل کی اس پر فریب گفتگو سے وہ شخص دام میں آگیا،اس کو معقل کی حمایت ِحسینؓ کا یقین ہوگیا؛چنانچہ اس ملاقات کے دوسرے دن معقل اس داعی کے ہمراہ مسلم کے پاس پہنچا اور تین ہزار درہم پیش کرکے بیعت کی، اورحالات کا پتہ چلانے کیلئے اظہار عقیدت وخدمت کے بہانے ان ہی کےپاس رہنے لگا، رات بھر مسلم کے پاس رہتا اور دن کو ابن زیاد کے پاس جاکر مفصل رپورٹ پہنچاتا، ہانی چونکہ مقتدر آدمی تھے اس لئے پہلے ابن زیاد کے پاس آیا جایا کرتے تھے، لیکن جب سے مسلم کے مشن کے کارکن ہوگئے تھے اس وقت سے بیماری کا بہانہ کرکے آنا جانا ترک کردیا تھا، ایک دن زیاد کے پاس محمد بن اشعث اوراسماء بن خارجہ آئے، ابن زیاد نے ان سے پوچھا ہانی کا کیا حال ہے، انہوں نے کہا بیمار ہیں، ابن زیاد نے کہا کیسے بیمار ہیں کہ دن بھر اپنے دروازہ پر بیٹھے رہتے ہیں، یہ دونوں یہاں سے واپس گئے تو ہانی سے ابن زیاد کا سوئے ظن بیان کیا اور کہا کہ تم ابھی ہمارے ساتھ چلو تاکہ اسی وقت معاملہ صاف ہوجائے ان دونوں کے کہنے سے ہانی ان کے ساتھ ہوگئے، مگر دل میں اطمینان نہ تھا اس لئے قصر امارت کے پاس پہنچ کر ان کو خوف پیدا ہوا انہوں نے کہا کہ مجھے اس شخص سے ڈر معلوم ہوتا ہے، محمد بن اشعث نے اطمینان دلایا کہ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں تم بالکل بری الذمہ ہو اور ہانی کو اندر لے گئے ،ابن زیاد کو تمام خفیہ حالات کی خبر ہوچکی تھی اس نے ہانی کو دیکھتے ہی یہ شعر پڑھا۔
أُرِيدُ حِبَاءَه ويرُيدُ قَتلى … عَذِيرَك ‌من ‌خَليِلك ‌من مُرادِ
میں اس کو انعام دینا چاہتا ہوں اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے  قبیلۂ مراد سے اپنے کسی دوست کو معذرت کے لئے لا۔
[الأخبار الطوال-أبو حنيفة الدينوري(م282ھ) : صفحہ237،تاريخ الطبري:5/ 365، الكامل في التاريخ-ابن الأثير:3/ 139، البداية والنهاية-ابن كثير:11/ 484 ت التركي]
ہانی نے یہ شعر سن کر پوچھا اس کا کیا مطلب ہے؟ ابن زیاد نے کہا مطلب پوچھتے ہو مسلم کو چھپانا، ان کی بیعت کے لئے لوگوں کو خفیہ جمع کرنا اس سے بڑھ کر سنگین جرم کیا اورہوسکتا ہے، ہانی نے اس الزام سے انکار کیا،ابن زیاد نے اسی وقت معقل کو طلب کیا اور ہانی سے کہا اسے پہچانتے ہو،معقل کو دیکھ کر ہانی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اب وہ سمجھے کہ یہ شیعیت کے بھیس میں جاسوسی کررہا تھا اس عینی شہادت کے سامنے انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی، اس لئے صاف صاف اقرار کرلیا کہ آپ سچ کہتے ہیں،لیکن خدا کی قسم میں نے مسلم کو بلایا نہیں تھا اورکل واقعہ صحیح صحیح بیان کرکے وعدہ کیا کہ ابھی جاکر انہیں اپنے گھر سے نکالے دیتا ہوں اورنکال کر واپس آتا ہوں،لیکن ابن زیاد نے اس کی اجازت نہ دی اورکہا کہ خدا کی قسم تم اس وقت تک یہاں سے واپس نہیں جاسکتے جب تک مسلم یہاں نہ آجائیں ،ہانی نے جواب دیا یہ نہیں ہوسکتا، خدا کی قسم میں اپنے مہمان اورپناہ گزین کو قتل کے لئے کبھی تمہارے حوالہ نہیں کروں گا، یہ جواب سن کر ابن زیاد بیتاب ہوگیا اوراس زور سے ہانی کو بید مارا کہ ان کی ناک پھٹ گئی اور ابرو کی ہڈی ٹوٹ گئی اور انہیں ایک گھر میں ڈلوادیا۔
[اخبار الطوال:۲۴۸،۲۵۱]
ادھر شہر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ ہانی قتل کردیئے گئے،یہ افواہ سن کر ہانی کے قبیلہ والے ہزاروں کی تعداد میں قصر امارت پر ٹوٹ پڑے اور انتقام انتقام کا نعرہ لگانے لگے یہ نازک صورت دیکھ کر ابن زیاد بہت گھبرایا اورقاضی شریح سے کہا آپ ہانی کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر ہانی کے قبیلہ والوں کو اطمینان دلادیجئے کہ وہ قتل نہیں کئے گئے ؛چنانچہ قاضی صاحب ہانی کے معائنہ کے لئے گئے ہانی اپنے قبیلہ والوں کا شور وہنگامہ سن رہے تھے، قاضی کو دیکھ کر کہا یہ آوازیں میرے قبیلہ والوں کی معلوم ہوتی ہیں،ا نہیں آپ صرف اتنا پیام پہنچادیجیے کہ اگر اس وقت ان لوگوں میں سے دس آدمی بھی آجائیں تو میں چھوٹ سکتا ہوں، لیکن قاضی شریح کے ساتھ جاسوس لگاہوا تھا اس لئے وہ یہ پیام نہ پہنچا سکے اوربنی مذحج کوہانی کی زندگی کا یقین دلا کر واپس کردیا۔

***
اہل کوفہ کی غداری
مسلم بن عقیل نے ہانی کے قتل کی افواہ سنی تو اپنے اٹھارہ ہزار آدمیوں کے ساتھ قصرامارۃ پر حملہ کرکے ابن زیاد کو گھیرلیا، اس وقت ابن زیاد کے پاس صرف پچاس آدمی تھے ۳۰ پولیس کے آدمی اور ۲۰ عمائد کوفہ،ان کے علاوہ مدافعت کی کوئی قوت نہ تھی، اس لئے اس نے محل کا پھاٹک بند کرالیا اور لوگوں سے کہا کہ تم لوگ نکل کر اپنے اپنے قبیلہ والوں کو تہدید وتخویف طمع اورلالچ کے ذریعہ سے جس طرح بھی ہوسکے مسلم کے ساتھ سے علیحدہ کردو اور عمائد کوفہ کو حکم دیا کہ قصر کی چھت پرچڑھ کر یہ اعلان کریں کہ اس وقت جو شخص امیر کی اطاعت کریگا اس کو انعام واکرام دیا جائےگا جو بغاوت کرے گا اس کو نہایت سنگین سزا دیجائے گی ،عمائد کوفہ کے اس اعلان پر مسلم کے بہت سے ساتھی منتشر ہوگئے ،شہر کے لوگ آتے تھے اوراپنے اعزہ واقربا کو لیجاتے تھے، اس طرح چھنٹتے چھنٹتے مسلم کے ساتھ کل ۳۰ آدمی رہ گئے جب انہوں نے کوفی حامیان حسینؓ کی یہ غداری دیکھی تو کندہ کے محلہ کی طرف چلے گئے اوریہاں باقی ماندہ تیسوں آدمیوں نے بھی ایک ایک کرکے ساتھ چھوڑدیا اورمسلم تن تنہا رہ گئے، اس کسم پرسی کی حالت میں کوفہ کی گلیوں کی خاک چھانتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے ،طوعہ نامی ایک عورت کے دروازے پر پہنچے،اس عورت کا لڑکا بلال شورش پسندوں کے ساتھ نکل گیا تھا وہ اس وقت اس کی واپسی کا انتظار کررہی تھی۔
مسلم نے اس کے دروازہ پر پہنچ کر پانی مانگا،اس نے پانی پلایا پانی پلانے کے بعد کہا اب جاؤ اپنا راستہ لو؛ لیکن مسلم جاتے تو اب کہا جاتے ان کے لئے کوئی جائے پناہ باقی نہ رہ گئی تھی، اس لئے وہ سن کر خاموش ہوگئے، عورت نے پھر دو تین مرتبہ کہا تیسری مرتبہ مسلم نے جواب دیا کہ میں اس شہر میں پردیسی ہوں،میرا گھر اورمیرے اقربا یہاں نہیں، ایسی حالت میں تم میرے ساتھ کچھ سلوک کرسکتی ہو؟ عورت نے پوچھا کس قسم کا؟ مسلم نے کہا میں مسلم بن عقیل ہوں،کوفہ والوں نے میرے ساتھ غداری کی ہے، بوڑھی عورت خدا ترس تھی، مسلم کی داستانِ مصیبت سن کر انہیں اپنے مکان میں چھپایا اور ان کی خبر گیری کرتی رہی ،اس کے بعد جب اس کا لڑکا واپس آیا اوراس نے ماں کو مکان کے ایک خاص حصہ میں زیادہ آتے جاتے دیکھا تو سبب پوچھا بوڑھی ماں نے پہلے چھپایا ؛لیکن جب بیٹے نے زیادہ اصرار کیا تو راز داری کا وعدہ لیکر بتادیا۔

***
مسلم کی گرفتاری
جب سے مسلم ہانی کے گھر سے نکلے تھے، اسی وقت سے ابن زیاد ان کی تلاش میں مصروف تھا؛ لیکن پتہ نہ چلتا تھا اس لئے اس نے ایک دن اہل شہر کو مسجد میں جمع کرکے اعلان کیا کہ جاہل اورکمینہ مسلم بن عقیل نے جو فتنہ بپا کیا ہے اس کو تم لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اس لئے جس شخص کے گھر سے وہ برآمد ہوں گے وہ ماخوذ ہوگا اورجو انہیں گرفتار کرکے لائے گا اسے انعام دیا جائے گا، اس اعلان کے بعد حسین بن تمیم کو کوفہ میں عام تلاشی کا حکم دیا، جس عورت کے گھر میں روپوش تھے اس کے لڑکے کو علم ہوچکا تھا ابن زیاد کے اعلان سے وہ گھبرا گیا، اوردوسرے دن صبح کو اس نے عبدالرحمن بن محمد سے تذکرہ کیا کہ مسلم ہمارے گھر میں روپوش ہیں ،عبدالرحمن نے قصرامارۃ میں جاکر اپنے باپ کو اطلاع دی، اس نے ابن زیاد سے کہدیا اس طرح مسلم کا پتہ چل گیا،ابن زیاد نے اُسی وقت ستر آدمیوں کا ایک دستہ مسلم کی گرفتاری کے لئے بھیج دیا، دستہ کی آمد کا شور سن کر مسلم سمجھ گئے؛ لیکن مطلق خوفزدہ نہ ہوئے اورتن تنہا پورے دستہ کا نہایت شجاعت وبہادری کے ساتھ مقابلہ کرکے انہیں گھر سے باہر کردیا یہ لوگ پھر ریلا کرکے اندر گھسے ،مسلم نے پھر نکال باہر کیا، کہ اتنے میں بکر بن حمران نے مسلم کے چہرہ پر ایسا وار کیا کہ اوپر کا ہونٹ کٹ گیا اورسامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے ؛لیکن اس حالت میں بھی مسلم نے اس شخص کو نہایت سخت زخمی کردیا اس کے زخمی ہوتے ہی باقی ۶۹ آدمی چھت پر چڑھ گئے اور اوپر سے مسلم کے اوپر آگ اور پتھر برسانے لگے ،مسلم نے یہ بزدلی دیکھی تو گلی میں نکل آئے اور بڑا پرزور مقابلہ کیا، شامی دستہ کے امیر محمد بن اشعث نے کہا کہ تنہا کب تک مقابلہ کروگے جان دینے سے کیا فائدہ میں تمیں امان دیتا ہوں ،سپر ڈال دو اوراپنے کو بیکار ہلاک نہ کرو، مسلم نے اس کے جواب میں نہایت بہادرانہ رجز پڑھا، لیکن محمد بن اشعث نے یقین دلایا کہ تمہارے ساتھ کوئی فریب نہ کیا جائے گا، مقابلہ سے باز آجاؤ،مسلم زخموں سے چور ہوچکے تھے،مزید مقابلہ کی طاقت باقی نہ تھی، اس لئے مکان کی دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے،محمد بن اشعث نے پھر امان کی تجدید کی،لیکن عمرو ابن عبید اللہ سلمی نے اسے تسلیم نہ کیا اورمسلم کی سواری کے لئے اونٹ تک مہیا نہ کیا؛چنانچہ اس خستہ حالت میں ان کو خچر پر سوار کرکے تلوار چھین لی گئی،تلوار چھننے سے مسلم کو اپنی زندگی سے مایوسی ہوگئی، اوربادیدہ پرنم کہا یہ پہلا دھوکا ہے، محمد بن اشعث نے پھر اطمینان دلایا،لیکن مسلم بہت مایوس تھے،بولے اب امان کہاں اس کی طرف آس ہی آس ہے،عمرو ابن عبید اللہ نے اشکباری پر طعنہ دیا کہ خلافت کے مدعی کو مصائب سے گھبراکر رونانہ چاہیے ،مسلم نے کہا میں اپنے لئے نہیں روتا ہوں ؛بلکہ اپنے گھر والوں کے لئے روتا ہوں جو تمہارے یہاں آرہے ہیں حسینؓ کے لئے روتا ہوں ،آل حسینؓ کے لئے روتا ہوں، پھر محمد بن اشعث سے کہا میرا بچانا تمہارے بس سے باہر ہے،البتہ اگر تم سے ہوسکے تو میرے بعد اتنا کام کرنا کہ حسینؓ کو میری حالت کی خبر کرکے یہ پیام بھجوادینا کہ وہ اپنے اہل بیت کو لے کر لوٹ جائیں اور کوفہ والوں پر ہرگز ہرگز اعتماد نہ کریں، محمد بن اشعث نے کہا خدا کی قسم جس طرح بھی ہوسکے گا یہ پیام ضرور پہنچاؤں گا ، محمد بن اشعث نے یہ وعدہ پورا بھی کیا جس کا ذکر آئندہ آئے گا۔
مسلم کو امان دینے کے بعد محمد بن اشعث انہیں قصرامارت میں لایا،اورابن زیاد سے کہا کہ میں مسلم کو امان دے چکا ہوں،لیکن ابن زیاد نے اسے تسلیم نہیں کیا اورکہا تم کو امان دینےکا اختیارنہ تھا ،میں نے تم کو صرف گرفتار کرنے کے لئے بھیجا تھا، اس کی ڈانٹ سُن کر محمد بن اشعث خاموش ہوگئے،مسلم بن عمرو باہلی نے جواب دیا دیکھتے ہو کتنا ٹھنڈا پانی ہے لیکن ا س میں سے تم کو ایک قطرہ بھی نہیں مل سکتا، تم کو اس کے عوض آتش دوزخ کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا، اس کے اس کہنے پر مسلم نے پوچھا تم کون ہو؟ ابن عمرونے جواب دیا میں وہ ہوں جس نے حق کو اس وقت پہچاناجب تم نے اسے کوچھوڑا اورامت مسلمہ اورامام وقت کا خیر خواہ رہا جب تم نے ان کے ساتھ گھاٹ کی اوراس کا مطیع و منقاد رہا، جب تم نے سرکشی کی میں مسلم بن عمرو ہوں مسلم بن عقیل نے یہ جواب سن کر کہا تیری ماں تجھے روئے تو بھی کس قدر سنگ دل،قسی القلب، ظالم اور درشت خو ہے، ہاہلہ کے بچے تو مجھ سے زیادہ کھولتے ہوئے پانی اوردائمی دوزخ کا مستحق ہے۔

***
ابن زیاد سے گفتگو
مسلم بن عمرو اورمسلم بن عقیل کی اس تلخ گفتگو کے بعد ایک نرم دل نے پانی کا پیالہ لیا، مگر زخموں کی کثرت سے مسلم کا ہر موئے بدن خوننابہ فشاں ہورہا تھا، اس لئے جیسے ہی گلاس منہ سے لگاتے تھے، خون سے بھرجاتا اورمسلم اسے ہٹا لیتے،تیسری مرتبہ گلاس لبوں سے لگا یاتو دو دانت جو مقابلہ میں اکھڑ گئے تھے اور خفیف سے اٹکے ہوئے تھے،گلاس کی ٹھیس لگتے ہی اس میں رہ گئے، مسلم نے گلاس لبوں سے ہٹا لیا اورکہا خدا کا شکر ہے،پانی پینا قسمت میں ہوتا تو یہ نوبت نہ آتی غرض اسی طرح تشنہ لب ابن زیاد کے سامنے پیش کئے گئے ،مسلم نے قاعدہ کے مطابق ابن زیاد کو سلام نہیں کیا، نگران نے ٹوکا امیر کو سلام نہیں کرتے؟ کہا اگر وہ قتل کرنا چاہتے ہیں تو سلام نہیں کروں گا اوراگر قتل کا ارادہ نہیں ہے تو بہت سے سلام لیں گے، ابن زیاد بولا، اپنی عمر کی قسم ضرور قتل کروں گا، مسلم نے کہا واقعی، ابن زیاد نے جواب دیا، ہاں واقعی، مسلم نے کہا اگر قتل ہی کرنا ہے تو پھر اپنے کسی قبیلہ والے سے کچھ وصیت کرنے کی مہلت دو ،ابن زیاد نے یہ درخواست قبول کرلی،اس وقت مسلم کے قریبی اعزہ میں عمر بن سعد پاس تھا، مسلم نے اس سے کہا میں تم سے ایک راز کی بات کہتا ہوں عمر بن سعد نے سننے سے انکار کیا، اس کے انکار پر ابن زیاد نے غیرت دلائی کہ اپنے ابن عم کو مایوس نہ کرنا چاہیے، (یہ طبری کی روایت ہے،دنیوری کا بیان ہے کہ عمر بن سعد نے یہ تمام وصیتیں نہایت خوشی سے سنیں اوران کے پورا کرنے کا پختہ وعدہ کیا۔) اس کے غیر ت دلانے پر عمر بن سعد مسلم کے پاس گیا، انہوں نے وصیت کی کہ میں نے کوفہ میں سات سو درہم قرض لئے تھے، میرے بعد انہیں ادا کرنا، اورمیری لاش لے کر دفن کردینا، حسینؓ آرہے ہوں گے ان کے پاس آدمی بھیج کر راستہ سے واپس کردینا ابن سعد نے ابن زیاد سے ان وصیتوں کے بارہ میں پوچھا اس نے کہا جو وصیت مال کے متعلق ہے اس کے بارہ میں تم کو پورا اختیار ہے جیسا چاہو کرو، حسینؓ کے بارہ میں میرا طرز عمل یہ ہے کہ اگر وہ یہاں نہ آئیں گے تو میں خواہ مخواہ ان کا تعاقب نہ کراؤں گااور اگر آگئے تو چھوڑ بھی نہیں سکتا، البتہ لاش کے بارہ میں تمہاری سفارش نہیں سنی جاسکتی جس نے ہماری اتنی مخالفت کی ہو اس کی لاش ہر گز اس طرز عمل کی مستحق نہیں ہے اورایک روایت یہ ہے کہ لاش کے متعلق بھی اس نے کہا کہ قتل کرنے کے بعد ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے۔
(طبری:۷/۲۶۵،۲۶۶)

***
مسلم اورابن زیاد
اس وصیت کے بعد مسلم دوباہ پھر ابن زیاد کے سامنے لائے گئے اوران دونوں میں یہ مکالمہ ہوا:
ابن زیاد:لوگ آپس میں متحد و متفق تھے،تم ان میں تفرقہ اوراختلاف ڈلوانے اورآپس میں لڑانے کے لئے آئے؟
مسلم:یہ خلاف واقعہ ہے ،میں ہرگز اس مقصد کے لئے نہیں آیا؛بلکہ کوفہ والوں کا خیال تھا کہ تمہارے باپ نے ان کے بزرگوں اورنیک لوگوں کو قتل کیا، ان کا خون بہایا اور اسلامی خلافت کو چھوڑ کر قیصر وکسریٰ کا ساطرز عمل اختیار کیا، اس لئے ہم یہاں قیام عدل اورکتاب اللہ کے احکام کی دعوت دینے کے لئے آئے۔
ابن زیاد: یہ چوٹیں سن کر غضبناک ہوگیا تھا بولا فاسق تیرے منہ پر یہ دعویٰ زیب نہیں دیتا کیا تو جب مدینہ میں بادہ نوشی کرتا تھا، اس وقت ہم یہاں عدل وکتاب اللہ پر عمل کی دعوت نہیں دیتے تھے؟
مسلم: میں شراب پیتا تھا؟ خدا کی قسم وہ خوب جانتا ہے کہ تو جھوٹ بول رہا ہے اور بغیر علم کے اتہام لگاتا ہے جیسا تو نے بیان کیا میں ویسا نہیں ہوں مجھ سے زیادہ شراب نوشی کا وہ مستحق ہے جس کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے آلودہ ہیں جو خدا کی حرام کی ہوئی جانوں کولیتا ہے اوربغیر قصاص کے لوگوں کو قتل کرتا ہے،حرام خون بہاتا ہے محض ذاتی عداوت ،غصہ اورسوئے ظن پر لوگوں کی جان لیتا ہے اورپھر ان ستم آرائیوں پر اس طرح لہو ولعب میں مشغول ہے گویا اس نے کچھ کیا ہی نہیں۔
ابن زیاد: فاسق تیرے نفس نے تجھے ایسی چیز کی تمنا دلائی جس کا خدانے تجھے اہل نہ سمجھا ،اسی لئے تیری آروزو پوری نہ ہونے دی۔
مسلم:پھر اس کا کون اہل تھا؟
ابن زیاد: امیر المومنین یزید!
مسلم: ہر حال میں خدا کا شکر ہے ،وہ ہمارے اور تمہارے درمیان جو فیصلہ چاہے کردے ۔
ابن زیاد:معلوم ہوتا ہے تم خلافت کو اپنا حق سمجھتے ہو؟
مسلم:خیال ہی نہیں ؛بلکہ اس کا یقین ہے۔
ابن زیاد :اگر میں تم کو اس بری طرح قتل نہ کروں کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہ ملے تو خدا مجھے قتل کرے۔
مسلم:بیشک اسلام میں تم کو ایسی نئی مثالوں کے قائم کرنے اورنئی بدعات کے جاری کرنے کا حق ہے جو اس میں نہیں ہیں تم کوخدا کی قسم !تم برے طریقہ سے قتل کرنا، برے طریقہ سے مثل کرنا، اورخبث سیرت کسی ایک برائی کو بھی نہ چھوڑو ان برائیوں کا تم سے زیادہ کوئی مستحق نہیں ہے۔
یہ دندان شکن جواب سن کر ابن زیاد بالکل بے قابو ہوگیا اور مسلمؓ، حسینؓ، علیؓ اورعقیلؓ پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی، گالیاں برسانے کے بعد مسلمؓ کو پانی پلوا کر جلادوں کو حکم دیا کہ انہیں محل کی بالائی منزل پر لے جاکر قتل کردو اور قتل کرنے کے بعد ان کا دھڑ نیچے پھینک دو ،مسلم نے اس قتل بے گناہی کے خلاف پھر ایک بار احتجاج کیا؛ لیکن کون سننے والا تھا،آخر میں ابن زیاد نے یہ خدمت اس شخص کے سپرد کی جس کو مسلم نے زخمی کیا تھا تاکہ وہ انتقامی جذبہ کے ساتھ انہیں قتل کرے؛چنانچہ یہ شخص مسلم کو مقتل کی طرف لے چلا، اس وقت مسلمؓ کی زبان پر تکبیر ،استغفار اورملائکہ اوررُسل پردرود سلام جاری تھا اور ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدایا میرے اوران لوگوں کے درمیان تو ہی فیصلہ کر جنہوں نے ہم کو دھوکا دیا جھٹلایا اورذلیل کیا ،جلاد نے مقامِ قتل پر لیجا کر گردن ماردی اورسرکے ساتھ دھڑ بھی نیچے پھینک دیا، اس درد ناک طریقہ پر حضرت حسینؓ کا ایک نہایت قوی بازو ٹوٹ گیا۔
[تاریخ طبری:۷/۲۶۵،۲۶۷]

***
اس کے دوسرے دن پھر ابن عباسؓ آئے اورکہا "ابن عم میرا دل نہیں مانتا، صبر کی صورت بنانا چاہتا ہوں،مگر حقیقۃ ًصبر نہیں کرسکتا، مجھے اس راستہ میں تمہاری ہلاکت کاخوف ہے، عراقیوں کی قوم فریبی ہے ،تم ہر گز ان کے قریب نہ جاؤ، مکہ ہی میں رہو، تم اہل حجاز کے سردار ہو، اگر ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے کہ وہ واقعی تمہیں بلانا چاہتے ہیں تو ان کو لکھو کہ پہلے وہ اپنے دشمنوں کو نکال دیں،پھر تم جاؤ،لیکن اگر نہیں رکتے اوریہاں سے جانے ہی پر اصرار ہے تو یمن چلے جاؤ، وہ ایک وسیع ملک ہے وہاں قلعے اورگھاٹیاں ہیں تمہارے باپ کے حامی ہیں اور بالکل الگ تھلگ مقام ہے، تم اسی گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر لوگوں کو دعوتی خطوط لکھو اورہر طرف اپنے دعاۃ بھیجو، مجھ کو امید ہے کہ اس طرح امن و عافیت کے ساتھ تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا ،یہ سن کر حضرت حسینؓ نے فرمایا مجھ کو یقین ہے کہ آپ میرے شفیق ناصح ہیں ،لیکن اب تو میں ارادہ کرچکا ہوں، حضرت ابن عباسؓ جب بالکل مایوس ہوچکے تو فرمایا، اچھا اگر جاتے ہی ہو تو عورتوں اوربچوں کو ساتھ نہ لے جاؤ، مجھ کو خطرہ ہے کہ تم بھی عثمانؓ کی طرح اپنے بچوں اور عورتوں کے سامنے نہ قتل کردیئے جاؤ اور وہ غریب دیکھتے رہ جائیں، لیکن کار کنانِ قضا وقدر کو کچھ اور ہی منظور تھا، اس لیے ابن عباسؓ کی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اورحضرت حسینؓ کسی بات پر رضامندنہ ہوئے، (طبری:۷/۲۷۲،۲۷۵) پھر ابوبکر بن حارث نے آکر عرض کیا کہ آپ کے والد ماجد صاحب اقتدار تھے ان کی طرف مسلمانوں کا عام رجحان تھا ان کے احکام پر سرجھکاتے تھے،شام کے علاوہ تمام ممالک اسلامیہ ان کے ساتھ تھے، اس اثر واقتدار کے باوجود جب وہ معاویہ کے مقابلہ میں نکلے تو دنیا کی طمع میں لوگوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا،تنہا ساتھ ہی چھوڑنے پر اکتفا نہیں کیا ؛بلکہ ان کے سخت مخالف ہوگئے اورخدا کی مرضی پوری ہوکر رہی ان کے بعد عراقیوں نے آپ کے بھائی کے ساتھ جو کچھ کیا وہ بھی آپ کی نگاہ کے سامنے ہے، ان تجربات کے بعد بھی آپ اپنے والد کے دشمنوں کے پاس اس امید پر جاتے ہیں کہ وہ آپ کا ساتھ دیں گے، شامی آپ سے زیادہ مستعد اورمضبوط ہیں،لوگوں کے دلوں میں ان کا رعب ہے، یاد رکھئے کہ آپ کے پہنچتے ہی شامی کوفیوں کو طمع دلا کر توڑلیں گے اوریہ سگِ دنیا فوراً ان سے مل جائیں گے اورجن لوگوں کو آپ کی محبت کا دعویٰ ہے اور جنہوں نے مدد کا وعدہ کیا ہے وہی لوگ آپ کو چھوڑ کر آپ کے دشمن بن جائیں گے،ابوبکر حارث کا یہ پرزور استدلال بھی حضرت حسینؓ کے عزم راسخ کو بدل نہ سکا ،آپ نے جواب دیا خدا کی مرضی پوری ہوکر رہے گی
[مسعودی:۳/۴۵۷،برحاشیہ نفع الطیب]
اس کے بعد حضرت ابن عمرؓ اوردوسرے خاص خاص ہوا خواہوں نے روکنا چاہا، لیکن قضائے الہی نہیں ٹل سکتی تھی۔

***
مکہ سے کاروان اہل بیت کی روانگی
غرض ترویہ کے دن ذی الحجہ(۶۰ ھ)کو کاروان اہل بیت مکہ سے روانہ ہوا، عمرو بن سعید بن عاص اموی حاکم مکہ کے سواروں نے روکنے کی کوشش کی؛ لیکن حضرت حسینؓ زبردستی آگے بڑھتے چلے گئے اور تنعیم پہنچ کر مزید اونٹ کرایہ پر لئے اور بڑھتے ہوئے صفاح پہنچے، یہاں فرزدق شاعر ملا، آپ نے اس سے عراق کے حالات پوچھے،اس نے کہا آپ نے ایک باخبر شخص سے حال پوچھا، لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں،لیکن تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں، قضائے الہی آسمان سے اترتی ہے خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے آپ نے سنکر فرمایا تم نے سچ کہا :
لِلَّهِ الْأَمْرُ ‌يَفْعَلُ ‌مَا ‌يَشَاءُ وَكُلَّ يَوْمٍ رَبُّنَا فِي شَأْنٍ 
اگر اللہ کا حکم ہمارے موافق ہو تو اس کی نعمتوں پر اس کے شکر گزار ہوں گے ،شکر گزاری میں وہی مدد گار ہے اوراگر اللہ کا فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو بھی ہماری نیت حق اور تقویٰ ہے، فرزدق سے گفتگو کے بعد قافلہ آگے بڑھا۔
[البداية والنهاية-ابن كثير:11/ 540 ت التركي، الكامل في التاريخ-ابن الأثير:3/ 140، تاريخ الطبري:5/ 386 أنساب الأشراف للبلاذري:3/ 164-165]
راستہ میں عبداللہ بن جعفر کا خط ملا کہ میں خدا کا واسطہ دلاتا ہوں، میرا خط ملتے ہی فوراً لوٹ آئیے، مجھے ڈر ہے کہ جہاں آپ جارہے ہیں وہاں آپ کی ہلاکت اورآپ کے اہلبیت کی بربادی ہے،اگر خدانخواستہ آپ ہلاک ہوگئے تو دنیا تاریک ہوجائے گی، آپ ہدایت یابوں کا علم اورمومنوں کا آسرا ہیں، آپ سفر میں جلدی نہ کیجئے، خط کے بعد ہی میں بھی پہنچتا ہوں، اس خط کے بعد عبداللہ نے عمرو بن سعید حاکم مکہ سے کہا کہ وہ اپنی جانب سے بھی ایک خط لکھ کر حسینؓ کو واپس بلالے، عمرو بن سعید نے کہا تم مضمون لکھ دو میں اس پر مہر لگادوں گا؛چنانچہ عبداللہ نے عمرو کی جانب سے حسب ذیل خط لکھا:
"میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو اس راستہ سے پھیردے ،جدھر تم جارہے ہو میں نے سنا ہے کہ تم عراق جاتے ہو، میں تم کو خدا کا واسطہ دلاتا ہوں کہ افتراق اورانشقاق سے باز آؤ،اس میں تمہاری ہلاکت ہے میں تمہارے پاس عبداللہ بن جعفر اوراپنے بھائی کو بھیجتا ہوں، تم ان کے ساتھ لوٹ آؤ میں تم کو امان دیتا ہوں اورتمہارے ساتھ صلہ رحمی اوربھلائی سے پیش آؤں گاتمہاری مدد کروں گا تم میرے جوار میں نہایت اطمینان اورراحت کے ساتھ رہو گے اس تحریر پر خدا وکیل اورشاہد ہے"۔
عمرونے اس تحریر پر اپنی مہر کردی اورعبداللہ بن جعفر اوریحییٰ بن عمرو دونوں اس کو لے کر حضرت حسینؓ کے پاس گئے، حضرت حسینؓ نے اسے پڑھا، اورپڑھ کر فرمایا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہے، اس میں آپ نے مجھے ایک حکم دیا ہے میں اس حکم کو پورا کروں گا ،خواہ اس کا نتیجہ میرے موافق نکلے یا مخالف ،عبداللہ اوریحییٰ نے پوچھا کیا خواب تھا، فرمایا میں نے اسے نہ کسی سے بیان کیا ہے اورنہ مرتے دم تک بیان کروں گا ،اس گفتگو کے بعد عمرو بن سعید کے خط کا جواب لکھا کہ جو شخص اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہے ،عمل صالح کرتا ہے اوراپنے اسلام کا معترف ہے،وہ خدا اور اس کے رسول سے اختلاف کیونکر کر سکتا ہے،تم نے مجھے امان ،بھلائی اورصلہ رحمی کی دعوت دی ہے، پس بہترین امان اللہ تعالی کی امان ہے، جو شخص دنیا میں خدا سے نہیں ڈرتا ،خداقیامت کے دن اس کو امان نہیں دیگا، اس لئے میں دنیا میں خدا کا خوف چاہتا ہوں تاکہ قیامت کے دن اس کی امان کا مستحق رہو ں،اگر خط سے تمہاری نیت واقعی میرے ساتھ صلہ رحمی اورنیکی کی ہے تو خدا تم کو دنیا اورآخرت دونوں میں جزائے خیر دے، والسلام
[تاریخ طبری:۷/۲۶۹،۲۸۱]

***
ابن زیاد کے انتظامات
ادھر کاروان اہل بیت منزلیں طے کررہا تھا دوسری طرف اموی حکام ان کے مقابلہ کے لئے اپنے انتظامات کررہے تھے؛چنانچہ آپ کی آمد کی خبر سن کر ابن زیاد نے قادسیہ سے لیکر خفان،قطقطانہ اورجبل لعلع تک سواریوں کا تانتا باندھ دیا تھا کہ اہل بیت کے قافلہ کی نقل وحرکت کی خبریں دم بدم ملتی رہیں اوراہل کوفہ اورحضرت حسینؓ میں خط و کتابت اورنامہ وپیام کا سلسلہ قائم نہ رہ سکے، حضرت حسینؓ نے مقام حاجز میں پہنچ کر قیس بن مسہر صیدادی کو اپنی آمد کا اطلاعی خط دیکر کوفہ روانہ کیا ؛لیکن اموی حکام نے پہلے سے راستوں کی ناکہ بندی کرلی تھی، اس لئے قیس قادسیہ میں گرفتار کرلئے گئے اورابن زیاد کے پاس کوفہ بھجوادیئے گئے ،ابن زیاد نے انہیں یہ گستاخانہ حکم دیا کہ قصر کی چھت پر چڑھ کر کذاب ابن کذاب حسینؓ بن علیؓ کو گالیاں دو،قیس اس حکم پر قصر کے اوپر چڑھ گئے، لیکن ایک فدائی حسینؓ کی زبان اس کی دشنام سے کس طرح آلودہ ہوسکتی تھی؛چنانچہ اس موقع پر بھی انہوں نے وہی فرض ادا کیا جس کے لئے وہ بھیجے گئے تھے،یعنی حضرت حسینؓ کی آمد کی ان الفاظ میں اطلاع دی کہ "لوگو میں حسینؓ فاطمہ بنت رسول اللہ کے لخت جگر اوربہترین مخلوق کا ہر کارہ ہوں وہ حاجز تک پہنچ چکے ہیں،ان کی مدد تمہارا فرض ہے، یہ کہہ کر ابن زیاد اوراس کے باپ پر لعنت بھیجی اورحضرت علیؓ کے لئے استغفار کیا،ابن زیاد نے اس عدول حکمی اوراس اہانت پر حکم دیا کہ اس کو بلند مقام سے نیچے گراکر مارڈالا جائے، اس حکم کی اسی وقت تعمیل ہوئی اورمسلم کے بعد حضرت حسینؓ کا دوسرا فدائی ان کی راہ میں نثار ہوگیا۔
[ابن اثیر:۴/۳۴]

***
حسین اورعبداللہ بن مطیع
حسینؓ کی ملاقات عبداللہ بن مطیع سے ہوئی،جو عراق سے لوٹ رہے تھے ،عبداللہ بن مطیع نے پوچھا فدیت بابی وامی یا ابی رسول اللہ آپ خدا اوراپنے جدامجد کے حرم کے باہر کیوں نکلے، فرمایا کوفہ والوں نے بلایا ہے، کہ معالم حق زندہ کیا جائے اوربدعتوں کو مٹایا جائے،عبداللہ نے عرض کیا آپ کو خدا کا واسطہ دلاتا ہوں، آپ ہرگز کوفہ کا قصد نہ کیجئے اورآپ وہاں یقیناً شہید کردیئے جائیں گے،فرمایا جو کچھ خدانے لکھ دیا ہے اس سے زیادہ اورکیا ہوسکتا ہے ۔
[اخبار الطوال:۲۵۸،۲۵۹]

***
ایک جانباز کا ایثار
عبداللہ بن مطیع سے ملاقات کے بعد حضرت حسینؓ نے مقام زرو ومیں منزل کے قریب ہی ایک خیمہ نظر آیا، پوچھا کس کا خیمہ ہے،معلوم ہوا زہیر بن قین کا، وہ حج سے فارغ ہوکر کوفہ جارہے ہیں ،حضرت حسینؓ نے ان کو بلابھیجا، مگر انہوں نے ملنے سے انکار کیا، ان کے انکار پر ان کی بیوی نے کہا، سبحان اللہ ابن رسول اللہ بلاتے ہیں اورتم نہیں جاتے، بیوی کے اس کہنے پر وہ چلے گئے اورحضرت حسینؓ سے ملاقات کی،آپ سے ملتے ہی دفعۃ خیالات بدل گئے ،اسی وقت اپنا خیمہ اکھڑوا کے حضرت حسینؓ کے خیمہ کے قریب نصب کرایااور بیوی کو طلاق دے کر کہا تم اپنے بھائی کے ساتھ گھر لوٹ جاؤ، میں نے جان دینے کی ٹھان لی ہے اوراپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوئے کہ تم میں سے جو لوگ شہادت کے طلبگار ہوں وہ میرے ساتھ چلیں اورجو لوگ نہ چاہتے ہوں وہ آگے بڑھ جائیں ؛لیکن اس صدائے حق کا کسی نے جواب نہ دیا اور سبھوں نے کوفہ کا راستہ لیا اورزہیر حضرت حسینؓ کے ساتھ زرود سے آگے بڑھے۔
[اخبار الطوال:۲۵۹]

***
مسلم کے قتل کی خبر ملنا
ابھی تک حضرت حسین ؓ مسلم بن عقیل کے قتل سے بالکل بےخبر تھے مقام ثعلبیہ میں ایک اسدی سے جو کوفہ سے آرہا تھا مسلم اورہانی کے قتل کا حال معلوم ہوا ،یہ وحشتناک خبر سن کر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، اس اطلاع کے بعد ہوا خواہوں نے ایک مرتبہ پھر سمجھایا اورقسمیں دلا دلا کر اصرار کیا کہ آپ یہیں سے لوٹ چلئے کوفہ میں آپ کا کوئی حامی و مددگار نہیں ہے، یہ سب آپ کے دشمن ہوجائیں گے ؛لیکن مسلم کے بھائی بضد ہوئے کہ خدا کی قسم جب تک ہم اپنے بھائی کا بدلہ نہ لیں گے یا قتل نہ ہوجائیں گے اس وقت تک نہیں لوٹ سکتے،حضرت حسینؓ نے فرمایا جب یہ لوگ نہ ہوں گے تو پھر ہماری زندگی کس کام کی غرض یہاں سے بھی قافلہ آگے بڑھا۔

***
عبداللہ بن بقطر کے قتل کی خبر
حضرت حسینؓ جن جن چشموں سے گزرتے تھے لوگ جوق درجوق ساتھ ہوتے جاتے تھے رزبار پہنچ کر عبداللہ بن بقطر کے قتل کی خبر ملی، عبداللہ کو آپ نے راستہ سے مسلم کے پاس خط دیکر بھیجا تھا،لیکن راستہ ہی میں حصین ابن نمیر کے سواروں نے ان کو گرفتار کرکے ابن زیاد کے پاس بھیجوادیا،اس نے قیس بن مسہر کی طرح انہیں بھی حضرت حسینؓ پر لعنت بھیجنے کا حکم دیا؛ لیکن اس فدائی نے بھی وہی نمونہ پیش کیا جو اس کے پیشر وپیش کرچکے تھے ،انہوں نے کہا لوگو! فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کے لڑکے حسینؓ آرہے ہیں تم لوگ ابن مرجانہ (ابن زیاد) کے مقابلہ میں ان کی مدد کرو، ابن زیاد نے انہیں بھی قصر امارت کی بلندی سے گروادیا جسم کی ساری ہڈیاں چور چور ہوگئیں اوراس درد ناک طریقہ سے حسینؓ کے ایک اور فدائی کا خاتمہ ہوگیا۔
[ابن اثیر:۴/۳۶]
یاد ہوگا کہ مسلم بن عقیل نے محمد بن اشعث اورعمر بن سعد سے وصیت کی تھی کہ وہ ان کے بعد حضرت حسینؓ کو اہل کوفہ کی بیوفائی کی اطلاع دیکر انہیں یہاں آنے سے روک دیں ان دونوں نے یہ وصیت پوری کی اورحضرت حسینؓ کے پاس آدمی بھیجے لیکن عبداللہ بن بقطر کے قتل کی خبر ملنے کے بعد ان دونوں کے قاصد پہنچے جب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
[طبری:۷/۲۹۴]

***
پہلی تقریر
حضرت حسینؓ کو جب مسلسل یہ دل شکن خبریں ملیں تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے تقریر کی کہ مسلم بن عقیل ،ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن بقطر کے قتل کی درد ناک خبریں موصول ہوچکی ہیں ،ہمارے شیعوں نے ہمارا ساتھ چھوڑدیا ہے ،اس لئے تم میں سے جو شخص لوٹنا چاہے وہ خوشی سے لوٹ سکتا ہے، ہماری جانب سے اس پر کوئی الزام نہیں ،یہ تقریر سن کر عوام کا ہجوم چھٹنے لگا اورصرف جان نثار باقی رہ گئے جو مکہ سے ساتھ آئے تھے۔
[طبری:۷/۲۹۵]
زبالہ سے بڑھ کر بطن عقبہ میں قافلہ اترا یہاں ایک شخص ملا، اس نے نہایت لجاجت کے ساتھ کہا کہ میں آپ کو خدا کا واسطہ دلاتا ہوں آپ لوٹ جائیے خدا کی قسم آپ نیزوں کی انی اور تلواروں کی دھار کے مقابلہ میں جارہے ہیں،جن لوگوں نے آپ کو بلایا ہے اگر انہوں نے آپ کے لئے راستہ صاف کردیا ہوتا اوران کے جنگ میں کام آنے کی توقع ہوتی تو یقیناً آپ جاسکتے تھے،لیکن موجودہ حالات میں کسی طرح جانا مناسب نہیں، فرمایا جو تم کہتے ہو میں بھی جانتا ہوں،لیکن خدا کے حکم کے خلاف نہیں کیا جاسکتا۔
[طبری:۷/۲۹۵]

***
محرم ۶۱ھ کے خونی سال کا آغاز
بطن عقبہ کے بعد قافلہ شراف میں اترا یہاں سواریوں کو پانی وغیرہ پلاکر ذی حشمہ کی طرف مڑکر پہاڑ کے دامن میں خیمہ زن ہوا، اب محرم ۶۰ ھ کا خون آشام سال شروع ہوچکا تھا،ذی حشمہ میں حربن یزید تمیمی جو حکومت شام کی جانب سے حضرت حسینؓ اوران کے ساتھیوں کو گھیر کر کوفہ لانے کے لئے بھیجا گیا تھا ،ایک ہزار سواروں کے ساتھ پہنچا اورحضرت حسینؓ کے قافلہ کے سامنے قیام کیا، ظہر کے وقت حضرت حسینؓ نے اذان کا حکم دیا اور اقامت کے وقت نکل کر حر کے دستہ کے سامنے حمد وثنا کے بعد حسب ذیل تقریر کی،
لوگو! میں خدا اور تم لوگوں سے عذر خواہ ہوں، میں تمہارے پاس خود سے نہیں آیا، ؛بلکہ میرے پاس اس مضمون کے تمہارے خطوط اورتمہارے قاصد آئے کہ ہمارا کوئی امام نہیں آپ آئیے شاید خدا آپ کے ذریعہ ہمیں سیدھے راستہ پر لگادے، اب میں آگیا ہوں، اگر تم لوگ عہد ومیثاق کرکے مجھے پورا اطمینان دلادو تو میں تمہارے شہر چلوں اوراگر ایسا نہیں کرتے اورہمارا آنا تمہیں ناگوار ہے تو میں جہاں سے آیا ہوں وہیں لوٹ جاؤں ۔
یہ تقریر سن کر سب خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے اقامت کا حکم دیا اور حر سے پوچھا میرے ساتھ نماز پڑھو گے یا علیحدہ؟ حر نے کہا نہیں آپ کے ساتھ ہی پڑھوں گا حر کی یہ اقتداء فی الصلوٰۃ ان کے لئے پہلی فال نیک تھی؛چنانچہ اس نے امام کے پیچھے نماز پڑھی، نماز کے بعد حضرت حسینؓ اپنے خیمہ میں چلے آئے اورحر اپنے فرودگاہ پر لوٹ گیا۔
اس کے بعد عصر کے وقت حضرت حسینؓ نے قافلہ کو کوچ کا حکم دیا اور کوچ سے پہلے نماز باجماعت ادا کی ،نماز کے بعد حسب ذیل تقریر کی:
لوگو! اگر تم لوگ خدا سے ڈرواورحقدار کا حق پہچانو،تو یہ خدا کی رضا مندی کا موجب ہوگا، ہم اہل بیت خلافت کے ان عہدیداروں کے مقابلہ میں جنہیں اس کا کوئی استحقاق نہیں اور جو تم پر ظلم و زیادتی کے ساتھ حکومت کرتے ہیں خلافت کے حقیقی مستحق ہیں، اگر اب تم کو ہماراآنا ناگوار ہے اور تم ہمارا حق نہیں پہچانتے اور تمہاری رائے اس سے مختلف تھی جو تمہارے خطوط اور تمہارے قاصدوں سے معلوم ہوئی تھی تو میں لوٹ جاؤں۔
(طبری:۷/۲۹۷،۲۹۸)

***
حضرت حسینؓ اورحر میں تند گفتگو
اس تقریر پر حر نے پوچھا، قاصد اورخطوط کیسے؟حر کے اس استعجاب پر حضرت حسینؓ نے کوفیوں کے خطوط سے بھرے ہوئے دو تھیلے منگا کر ان کے سامنے انڈلوادیئے،ان خطوط کو دیکھ کر حر نے کہا، ہم لوگوں کا اس جماعت سے کوئی تعلق نہیں جنہوں نے یہ خطوط لکھے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ آپ سے جس جگہ ملاقات ہوجائے اس جگہ سے آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں اورآپ کو ساتھ لیجا کر ابن زیاد کے پاس کوفہ پہنچادیں، حضرت حسینؓ نے فرمایا تمہاری موت اس سے زیادہ قریب ہے یہ کہہ کر کاروان اہل بیت کو لوٹانا چاہا؛ لیکن حر نے مزاحمت کی ،حضرت حسینؓ نے فرمایا تیری ماں تجھ کو روئے تو کیا چاہتا ہے، حر نے کہا آپ کے علاوہ اگر کوئی دوسرا عرب یہ کلمہ زبان سے نکالتا تو میں بھی برابر کا جواب دے لیتا؛ لیکن خدا کی قسم میں آپ کی ماں کا نام عزت ہی کے ساتھ لوں گا، امام نے فرمایا،آخر چاہتے کیا ہو؟ حر نے کہا صرف اس قدر کہ آپ میرے ساتھ ابن زیاد کے پاس چلے چلیے،فرمایا میں تمہارا کہنا نہیں مان سکتا، حر نے کہا تو پھر میں آپ کو چھوڑ بھی نہیں سکتا، اس رد وقدح میں دونوں میں تلخ وتند گفتگو ہوگئی،حر نے کہا مجھے آپ سے لڑنے کا حکم نہیں ہے،صرف یہ حکم ملا ہے کہ آپ جہاں ملیں آپ کو لیجا کر کوفہ پہنچادوں، اس لئے مناسب یہ ہے کہ ایسا راستہ اختیار کیجئے جو نہ کوفہ پہنچائے اور نہ مدینہ واپس کرے، اس درمیان میں میں ابن زیاد کو لکھتا ہوں اورآپ یزید کو لکھئے، شاید خدا عافیت کی کوئی صورت پیدا کردے اورمیں آپ کے معاملہ میں آزمائش سے بچ جاؤں، حر کے اس مشورہ پر حضرت حسینؓ عذیب اورقادسیہ کے بائیں جانب ہٹ کے چلنے لگے، حر بھی ساتھ ساتھ چلا۔
(ابن اثیر:۴/۴۰)

***
خطبہ
آگے بڑھ کر مقام بیضہ میں آپ نے پھر ایک پر جوش خطبہ دیا کہ :
لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے،جس نے ظالم محرمات الہی کو حلال کرنے والے ،خدا کے عہد توڑنے والے، سنت رسول ﷺ کے مخالف اورخدا کے بندوں پر گناہ اورزیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اوراس کو قولاً اورعملاً غیرت نہ آئی تو خدا کو حق ہے کہ اس کو اس بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کرے، لوگو!خبردار ہوجاؤ! ان لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کی ہے اور رحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے ،ملک میں فساد پھیلایا ہے، حدود الہی کو بیکار کردیا ہے اورحلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کردیا ہے، اس لئے مجھ کو غیرت آنے کا زیادہ حق ہے میرے پاس تمہارے خطوط آئے ،تمہارے قاصد آئے کہ تم نے بیعت کرلی ہے اور تم مجھے بے یار ومددگار نہ چھوڑو گے پس اگر تم اپنی بیعت پوری کروگے تو راہ راست کو پہنچو گے، میں علیؓ اور فاطمہؓ بنت رسول اللہ ﷺ کا بیٹا ہوں، میری جان تمہاری جانوں کے برابر اورمیرے اہل تمہارے اہل کے برابر ہیں، میری ذات تم لوگوں کے لئے نمونہ ہے اور اگر تم ایسا نہ کروگے اور اپنا عہد توڑ کر میری بیعت کا حلقہ اپنی گردن سے نکال ڈالو گے تو یہ بھی تمہاری ذات سے بعید اورتعجب انگیز فعل نہ ہوگا، تم اس سے پہلے میرے باپ،میرے بھائی میرے ابن عم مسلم کے ساتھ ایسا ہی کر چکے ہو،وہ فریب خوردہ ہے جو تمہارے فریب میں آگیا ،تم نے اپنے فعل سے اپنا حصہ ضائع کردیا، جو شخص عہد شکنی کرتاہے وہ گویا اپنی ذات سے عہد توڑتا ہے،عنقریب خدا مجھ کو تمہاری امداد سے بے نیاز کردے گا، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
(ابن اثیر:۴/۴۰،۴۱)
یہ تقریر سن کر حر نے کہا کہ میں آپ کو خدا کو یاد دلاتا ہوں اورشہادت دیتا ہوں کہ اگر آپ نے جنگ کی تو قتل کردیئے جائیں گے حضرت حسینؓ نے فرمایا تم مجھے موت سے ڈراتے ہو کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ تم مجھے قتل کردو گے میں نہیں سمجھتا تمہارے اس کہنے پر تم کو اس کے سوا اورکیا جواب دوں جو اوسی کے چچازاد بھائی نے اوسی کو اس وقت دیا تھا،جب اوسی نے انہیں قتل ہونے سے ڈرا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دینے سے روکا تھا کہ تم رسول اللہ کی امداد کے لئے نکلو گے تو قتل کردیئے جاؤ گے اس پر انہوں نے یہ جواب دیا۔
سامضی وما بالموت عار علی الفتی اذا مانوی خیر ارجاھد مسلما
میں عنقریب روانہ ہوتا ہوں اور موت جوانمرد کے لئے عار نہیں ہے جب کہ اس کی نیت نیک ہو اورمسلمان کی طرح جہاد کرے۔
حر نے یہ جواب سنا تو الگ ہٹ کے چلنے لگا۔

***
قیس بن مسہر کا قتل
عذیب الہجانات پہنچ کر حضرت حسینؓ کے چار انصار ملے،جو طرماح بن عدی کی رہنمائی میں کوفہ کی خبریں لئے ہوئے آرہے تھے حر نے کہا یہ لوگ کوفہ کے باشندے ہیں اس لئے انہیں روک لوں گا یا لوٹادوں گا ،حضرت حسینؓ نے فرمایا یہ میرے انصار ہیں اوران لوگوں کے برابر ہیں جو میرے ساتھ آئے ہیں،اس لئے اپنی ذات کی طرح ان کی حفاظت بھی کروں گا اوراگر تم اپنے عہد و پیمان پر قائم نہ رہے تو جنگ کروں گا، یہ عزم سن کر حر رک گیا اور حضرت حسینؓ نے کوفیوں سے پوچھا کہ اہل کوفہ کا کیا حال ہے؟ مجمع بن عدی نے کہا، اشراف کوفہ کو بڑی بڑی رشوتیں دی گئی ہیں، ان کی ہتھیلیاں روپیوں سے بھردی گئی ہیں ،اس لئے وہ سب آپ کے خلاف متحد اور مشتعل ہو رہے ہیں، البتہ عوام کے دل آپ کی طرف مائل ہیں،لیکن کل ان کی تلواریں بھی آپ کے خلاف کھیچی ہوں گی ،یہ حال سن کر آپ نے قاصد قیس بن مسہر کا حال پوچھا، معلوم ہوا قتل کردیئے گئے، قیس کے قتل کی خبر سن کر آپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہوگئے اورآپ کے رخسار مبارک پر آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں اورزبان پر یہ آیت جاری ہوگئی:
فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا
(الاحزاب:۲۳)
مسلمانوں میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنی منت پوری کی (یعنی شہید ہوئے) اوربعض ان میں سے ایسے ہیں جو شہادت کے منتظر ہیں اورانہوں نے کوئی ردوبدل نہ کیا۔
پھر قیس کیلئے دعا فرمائی کہ خدا یا ہم کو اوران لوگوں کو جنت عطا فرما اوراپنے رحمت کے مستقر میں ہمارے اوران کیلئے اپنے لئے اپنے ذخیرہ ثواب کا بہترین حصہ جمع فرما۔
(ابن اثیر:۴/۴۱)

***
طرماح بن عدی کا اپنے وطن چلنے کی دعوت دینا
حضرت حسینؓ کا یہ تاثر دیکھ کر طرماح بن عدی نے کہا، آپ کے ساتھ کوئی بڑی جماعت بھی نہیں ہے، اتنے آدمیوں کے لئے تو یہی لوگ کافی ہیں جو آپ کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں (حر کا دستہ) میں نے کوفہ سے روانگی کے وقت وہاں انسانوں کا اتنا بڑا ہجوم دیکھا کہ اس سے پہلے ایک میدان میں کبھی نہ دیکھا تھا اوریہ انبوہ عظیم آپ کے مقابلہ میں بھیجنے کےلئے جمع کیا گیا تھا، اس لئے میں آپ کو خدا کا واسطہ دلاتا ہوں کہ اگر آپ کے امکان میں ہو تو اب آپ ایک بالشت بھی آگے نہ بڑھیے اگر آپ ایسے مقام پر جانا چاہتے ہیں، جہاں کے لوگ اس وقت تک آپ کی حفاظت کریں،جب تک آپ کی کوئی صحیح رائے قائم نہ ہوجائے اورجو کچھ آپ کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق کوئی آخری فیصلہ نہ کرلیں تو ہمارے ساتھ چل کر ہمارے پہاڑ کے دامن میں قیام کیجئے،خدا کی قسم یہ پہاڑ ایسا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہم نے سلاطین غسان وحمیر، نعمان بن منذر اورتمام ابیض واحمر کو روکا ہے خدا کی قسم جو ہمارے یہاں آیا کبھی ذلیل نہیں ہوا، چلئے میں آپ کو ساتھ لے چل کر وہاں ٹھہراتا ہوں، وہاں سے آپ باجہ وسلمی قبائل طے کو بلا بھیجئے وہ دس دن کے اندر اندر پیادوں اورسواروں کا ہجوم کردیں گے، پھر جب تک آپ کا دل چاہے قیام کیجئے، اگر وہاں کوئی ہنگامی حادثہ پیش آیا تو بیس ہزار طائی آپ کی مدد کریں گے جو آپ کے سامنے اپنی تلواروں کے جو ہر دکھائیں گے اور کوئی شخص آپ کے قریب نہ پہنچنے پائے گا حضرت حسینؓ نے ان کی دعوت کے جواب میں ان کا شکریہ ادا کیا کہ خداتم کو اورتمہاری قوم کو جزائے خیر دے ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہوچکا ہے،اس عہد کی روسے اب ہم نہیں لوٹ سکتے ہم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے اوران کے معاملات کیا صورت اختیار کریں گے، یہ جواب سن کر طرماح دوبارہ امداد کے لئے آنے کا وعدہ کرکے بال بچوں سے ملنے کے لئے گھر چلے گئے اورحسب وعدہ واپس بھی ہوئے مگر حضرت حسینؓ کی شہادت اس قدر جلد ہوگئی کہ طرماں کو آتے ہوئے راستہ میں اس کی خبر ملی۔
(ابن اثیر:۴/۴۱،۴۲)

***
قصر بنی مقاتل کی منزل اورخواب
عذیب الہجانات سے بڑھ کر قصر بنی مقاتل میں قافلہ اترا یہاں ایک خیمہ نصب تھا،حضرت حسینؓ نے پوچھا کس کا خیمہ ہے، معلوم ہوا عبید اللہ ابن حرجعفی ! فرمایا، انہیں بلا لاؤ، انہوں نے انا للہ وانا لیہ راجعون پڑھ کر جواب دیا، میں صرف اسی لئے کوفہ سے چلا آیا تھا کہ اپنی موجودگی میں وہاں حسینؓ کا آنا پسند نہ کرتا تھا، اس لئے اب میں ان کا سامنا کرنا نہیں چاہتا، آدمی نے آکر حضرت حسینؓ کو یہ جواب سنادیا اسے سن کر حضرت حسینؓ خود ان کے پاس تشریف لے گئے اوراپنی مدد کے لئے کہا، لیکن عبید اللہ نے آپ کو بھی وہی جواب دیا جو پہلے آدمی کو دے چکے تھے، حضرت حسینؓ نے فرمایا اگر تم میری مدد نہیں کرتے تو کم از کم خدا کا خوف کرکے مجھے سے لڑنے والے زمرہ میں تو شامل نہ ہو، عبید اللہ نے کہا انشاءاللہ ایسا نہ ہوگا، اس کے بعد حضرت حسینؓ اپنی فرودگاہ پر لوٹ آئے، تھوڑی رات گئے ٓنکھ لگ گئی تھی کہ پھر آپ انا اللہ وانا الیہ راجعون اورالحمد اللہ رب العالمین پڑہتے ہوئے بیدار ہوگئے ،آپ کے صاحبزادہ زین العابدین نے پوچھا، ابا آپ نے الحمد اللہ وانا اللہ کیوں پڑھا؟ فرمایا میری آنکھ لگ گئی تھی کہ میں نے خواب میں ایک سوار دیکھا وہ کہہ رہا تھا کہ قوم جارہی ہے اور موت اس کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ خواب ہماری موت کی خبر ہے ،شیر دل صاحبزادے نے جواب دیا، ابا خدا آپ کو برے وقت سے بچائے کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ فرمایا خدا میری جانب سے تم کو اس کی جزائے خیر دے اس خواب کی صبح کو یہاں سے کوچ کا حکم دیا۔

***
حرم کے نام ابن زیاد کا فرمان
قصر بنی مقاتل سے چل کر قافلہ نینوا میں اترا ،حر ساتھ ساتھ تھا، یہاں اس کو ابن زیاد کا فرمان ملا کہ میرے خط کے دیکھتے ہی حسینؓ کو گھیر کر ایسے چٹیل میدان میں لاکر اتاروجہاں کوئی قلعہ اورپانی کا چشمہ وغیرہ نہ ہو، حر نے یہ فرمان حضرت حسینؓ کو سنادیا اورانہیں اسی قسم کے میدان کی طرف لیجانا چاہا ،حسینی لشکر والوں نے کہا ہم کو چھوڑدو، ہم اپنی مرضی سے نینویٰ ،غاضر یہ یا شقیقہ میں خیمہ زن ہوں گے، حر نے کہا ہم ایسا نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمارے ساتھ جاسوس لگا ہوا ہے ،اس پر زہیر بن قین نے کہا، یا ابن رسول اللہ آئندہ جو وقت آئے گا وہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا، ابھی لڑنا آسان ہے اس دستہ کے بعد جو فوجیں آئیں گی ان کا مقابلہ ہم نہ کرسکیں گے؛ لیکن خیر خواہ امت نے جواب دیا میں اپنی طرف سے لڑائی کی ابتدا نہ کروں گا، زہیر نے کہا اچھا کم از کم اتنا کیجئے کہ سامنے والے قریہ میں منزل کیجئے وہاں فرات کا ساحل ہے ،گاؤں بھی مضبوط و مستحکم ہے اگر یہ لوگ وہاں جانے سے مزاحم ہوں گے تو ہم ان کا مقابلہ کرلیں گے ؛کیوں کہ ان سے لڑنا بعد کے آنے والوں کے مقابلہ میں آسان ہے، حضرت حسینؓ نے گاؤں کا نام پوچھا؟ معلوم ہوا"عق" فرمایا، خدایا میں تجھ سے اورعقر(ذبح کرنا) سے پناہ مانگتا ہوں غرض پنجشنبہ ۲ محرم ۶۱ھ کو نینویٰ کے میدان کرب وبلا میں قافلہ خیمہ زن ہوا۔
(ابن اثیر:۲/۴۳،۴۴)

***
عمربن سعد کے سامنے رے کے حکومت کا پیش کیا جانا
ادھر اہلبیت نبویﷺ کا غریب الوطن قافلہ نینویٰ کے میدان میں پڑا تھا، دوسری طرف کوفہ میں ان چند نفوس کے لئے بڑی زبردست تیاریاں ہورہی تھیں، اسی زمانہ میں دیلمیوں نے دستبی پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا، اس لئے عمر بن سعد رے کا حاکم بناکر دیالمہ کی سرکوبی پر مامور کیا گیا تھا اور وہ فوجیں لیکر حرام اعین تک پہنچ گیا تھا کہ اسی دوران حضرت حسینؓ کے مقابلہ کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت پیش آئی جو ان کا مقابلہ کرسکے،ابن زیاد نے اس کام کے لئے ابن سعد کو بلا بھیجا اورکہا حسینؓ کا مقابلہ سب سے مقدم ہے، پہلے ان سے نپٹ لو پھر عہدہ پر واپس جانا، عمربن سعد نے کہا خدا امیر پر رحم کرے مجھ کو اس خدمت سے معاف رکھا جائے، ابن زیاد نے کہا اگر تم کو اس سے عذر ہے تو رے کی حکومت نہ ملے گی،اس دھمکی پر ابن سعد نے اس مئلہ پر غور کرنے کی مہلت مانگی ،ابن زیاد نے مہلت دی اورابن سعد نے اپنے ہواخواہوں سے اس بارہ میں مشورہ لینا شروع کیا،ظاہر ہے کہ حسینؓ کے خون کا بار اٹھانے کی تائید کون کرسکتا تھا؛چنانچہ سب نے اس کی مخالفت کی ان کے بھانجے حمزہ بن مغیرہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے آکر کہا،ماموں! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ حسینؓ کے مقابلہ میں جاکر خدا کا گناہ اپنے سر نہ لیجئے، اورقطع رحم نہ کیجئے، (عمر کے والد حضرت سعد بن وقاص آنحضرتﷺ کے رشتہ کے ماموں تھے اس لحاظ سے عمر حضرت حسینؓ کا عزیز تھا) خدا کی قسم اگر آپ کی دنیا آپ کا مال آپ کی حکومت سب ہاتھوں سے نکل جائے تو وہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ خدا سے ملئے اورآپ کے ہاتھ حسینؓ کے خون بے گناہی سے آلودہ ہوں، ابن سعد نے کہا انشاء اللہ تمہارے مشورہ پر عمل کروں گا۔
عمار بن عبداللہ بن یسار اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتےہیں کہ ابن سعد کو حسینؓ کے مقابلہ کے لئے جانے کا حکم ملنے کے بعد میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے تذکرہ کیا کہ امیر نے مجھے حسینؓ کے مقابلہ میں جانے کا حکم دیا تھا، مگر میں نے انکار کردیا، عبداللہ نے کہا خدا تم کو نیک ہدایت دے، تم کبھی بھی ایسا نہ کرنا اورہرگز نہ جانا، یہ کہہ کر عبداللہ چلے آئے، اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ابن سعد جانے کی تیاریاں کررہا ہے تو یہ دوبارہ گئے مگر اس مرتبہ ابن سعد نے ان کو دیکھ کر منہ پھیر لیا ،عبداللہ اس کا عندیہ سمجھ کر واپس چلے آئے، اس فیصلہ کے بعد ابن سعد ابن زیاد کے پاس گیا اورکہا کہ آپ نے یہ خدمت میرے سپرد کی ہے ،اورحکومت کا فرمان بھی لکھ چکے ہیں، اس لئے اس کا انتظام بھی کردیجئے اورحسینؓ کے مقابلہ میں میرے ساتھ کوفہ کے فلاں فلاں اشراف کو بھیجئے، ابن زیاد نے کہا تم کو مجھے اشراف کوفہ کے نام بتانے کی ضرورت نہیں میں اپنے ارادہ میں تمہارے احکام کا پابند نہیں ہوسکتا کہ تمہاری رائے سے فوج کا انتخاب کروں اگر تم کو جانا ہے تو میری فوج کے ساتھ جاؤ ورنہ حکومت کا فرمان واپس کردو، جب ابن سعد نے دیکھا کہ ابن زیاد اس کا یہ کہنا بھی نہیں مانتا تو چار وناچار اسی فوج کے ساتھ جانے پر آمادہ ہوگیا۔
(طبری:۷/۳۰۸،۳۰۹)






***
عمر بن سعد کی آمد
غرض تیسری محرم۶۱ھ کو چار ہزار فوج کے ساتھ ابن سعد نینوا پہنچا اورعزرہ بن قیس احمسی کو حضرت حسینؓ کے پاس ان کے آنے کا سبب پوچھنے کیلئے بھیجنا چاہا کہ وہ یہاں کیوں آئے ہیں؟ اورکیا چاہتے ہیں،لیکن عزرہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت حسینؓ کو بلانے کے خطوط لکھے تھے اس لئے اب اس کو یہ پوچھنے کے لئے جاتے ہوئے غیرت معلوم ہوئی اس لئے انکار کردیا، اس کے انکار پر دوسرے لوگوں کے سامنے یہ خدمت پیش کی گئی،لیکن مشکل یہ تھی کہ جس کا نام لیا جاتا تھا وہ حضرت حسینؓ کے بلانے والوں میں نکلتا تھا،اس لئے کوئی آمادہ نہ ہوتا تھا، آخر میں ایک جری شخص کثیر بن عبداللہ شعبی نے کھڑے ہوکر کہا کہ میں جاؤں گا اگر ان کے ساتھ کچھ اورمقصد ہو تو وہ بھی پورا کرنے کو تیار ہوں،ابن سعد نے کہا میں اورکچھ نہیں چاہتا،ان سے جاکر صرف اتنا پوچھو کہ وہ کس لئے آئے ہیں؟ چنانچہ کثیر یہ پیام لیکر گیا،ابو ثمامہ صائدی نے حضرت حسینؓ کو اطلاع دی کہ ابو عبداللہ آپ کے پاس روئے زمین کا شریر ترین اورخونریز ترین شخص آرہا ہے، پھر کثیر بن عبداللہ سے کہا کہ تلوار علیحدہ رکھ کر حسینؓ سےملاقات کرو، کثیر نے جواب دیا: خدا کی قسم یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا ،میں قاصد ہوں ،پیام لایا ہوں، اگر تم سننا چاہو تو پیام پہنچادوں گا،ورنہ واپس چلاجاؤں گا،ابوثمامہ نے کہا اچھا اگر تلوار نہیں رکھتے تو میں تمہاری تلوار کے قبضہ پر ہاتھ رکھے رہوں گا، تم حسینؓ کے ساتھ گفتگو کرلینا، کثیر نے کہا یہ بھی نہیں ہوسکتا تم قبضہ بھی نہیں چھوسکتے، ابو ثمامہ نے کہا اچھا تم مجھے پیام بتادو میں جاکر حسینؓ کو پہنچادوں گا، کثیر اس پر بھی آمادہ نہ ہوا اوربلا پیام پہنچائے ہوئےلوٹ گیا اس کی واپسی کے بعد ابن سعد نے قرہ بن سعد حنظلی کو بھیجا یہ سنجیدہ اورسلجھے ہوئے آدمی تھے، انہوں نے جاکر سلام کے بعد ابن سعد کا پیام پہنچایا، حضرت حسینؓ نے جواب دیا کہ تمہارے شہر والوں نےمجھے خطوط لکھ کر بلایا ہے، اب اگر تم لوگ میر آنا ناپسند کرتے ہو تو میں لوٹ جاؤں، قرہ نے جاکر ابن سعد کو یہ جواب سنادیا، جواب سن کر اس نے اطمینان کی سانس لی اورکہا امید ہے کہ اب خدا مجھ کو حسینؓ کے ساتھ جنگ کرنے سے بچالے گااوراپنا سوال اورحسینؓ کا جواب لکھ کر بھیج دیا، لیکن کاتب ازل اس کا نامہ اعمال سیاہ کرچکا تھا، اس لئے ابن سعد کی اس مصالحانہ تحریر کے بعد بھی اس نے صلح و مسالمت کی روش اختیار نہ کی اورابن سعد کو جواب لکھا کہ تمہارا خط ملا، تم نے جو کچھ لکھا میں سمجھا تم حسینؓ اوران کے کل ساتھیوں سے یزید کی بیعت لے لو جب وہ بیعت کرلیں گے اس وقت پھر دیکھا جائے گا، ابن سعد کو یہ تحریر ملی تو بولا، معلوم ہوتا ہے ابن زیاد دامن عافیت نہیں چاہتا۔

***
پانی کی بندش
اس کے بعد ہی دوسرا حکم پہنچا کہ حسینؓ اوران کے ساتھیوں پر پانی بند کردو، جس طرح تقی زکی اورمظلوم امیر المومنین عثمانؓ کے ساتھ کیا گیا تھا اوران سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کرو،بیعت کے بعد پھر میں ان کے بارہ میں غور کروں گا، اس حکم پر ابن سعد نے پانسو سواروں کا ایک دستہ فرات پر پانی روکنے کے لئے متعین کردیا، اس دستہ نے ساتویں محرم سے پانی روک دیا، عبداللہ ابن ابی حصین شامی نے امام حسینؓ سے مخاطب ہوکر کہا حسینؓ پانی دیکھتے ہو کیسا آسمان کے جگر جیسا جھلک رہا ہے؛ لیکں خدا کی قسم تم کو ایک قطرہ بھی نہیں مل سکتا، تم اسی طرح پیاسے مروگے ،آپ نے فرمایا خدایا، اس کو پیاسا مار اوراس کی کبھی مغفرت نہ فرما (ایضا:۳۱۲) جب حسینی لشکر پر پیاس کا غلبہ ہوا تو حضرت حسینؓ نے اپنے سوتیلے بھائی عباسؓ بن علیؓ کو ۳۰ سوار اور ۲۰ پیدل کے ساتھ پانی لینے کو بھیجا، یہ چشمے پر پہنچے تو عمروبن حجاج مزاحم ہوا، لیکن عباسؓ نے مقابلہ کرکے ہٹادیا اورپیادوں نے ریلا کرکے مشکیں بھرلیں اور عباسؓ نے انہیں کھڑے کھڑے لشکر میں بھیجوادیا۔

***
حضرت حسینؓ اورعمر بن سعد
اس کے بعد حضرت حسینؓ نے ابن سعد کے پاس کہلا بھیجا کہ میں رات کو کسی وقت اپنے اورتمہارے لشکر کے درمیان تم سے ملنا چاہتا ہوں، آپ کی اس خواہش پر ابن سعد بیس آدمیوں کو لیکر موجودہ مقام پر ملنے کیلئے آیا حضرت حسینؓ کے ساتھ بھی بیس آدمی آئے تھے،لیکن آپ نے انہیں علیحدہ کردیا، آپ کی تقلید میں ابن سعد نے بھی اپنے آدمی ہٹادیئے اور دونوں میں رات کی تنہائی میں بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی یہ گفتگو کیا تھی اس کا صحیح علم کسی کو نہیں ،لوگوں نے مختلف قیاسات لگائے ہیں بعض راویوں کا بیان ہے کہ حضرت حسینؓ نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم دونوں اپنی اپنی فوجیں یہیں چھوڑ کر یزید کے پاس چلے چلیں ابن سعد نے کہا میرا گھر گرادیا جائے گا فرمایا میں بنوادوں گا،ابن سعد نے کہا میری جائداد ضبط کرلی جائے گی،فرمایا میں اس سے بہتر جائداددونگا، لیکن ابن سعد کسی قیمت پر ساتھ جانے کے لئے آمادہ نہ ہوا، دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ مجھے جہاں سے آیا ہوں واپس جانے دو،یا یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے دو، پھر اس کے بعد وہ خود کوئی فیصلہ کریگا، یا کسی سرحدی مقام پر بھیج دو۔
(طبری:۳۱۲،۳۱۴)
پہلی روایت تو خیر قابل قیاس ہے،اس لئے صحیح سمجھی جاسکتی ہے، لیکن دوسری روایت راویۃ اور درایۃ دونوں حیثیتوں سے کمزور ہے اورناقابل اعتبار ہے،اس کی روایتی حیثیت یہ ہے کہ اس روایت کا ایک راوی مجالد بن سعید محدثین کے نزدیک پایۂ اعتبار سے ساقط ہے، حافظہ ذہبی اورابن حجر دونوں نے اس پر جرح کی ہے (میزان الاعتدال:۳/۸،تہذیب التہذیب:۱/۳۹) اس کے علاوہ عقبہ بن سمعان کا بیان ہے کہ میں مدینہ سے مکہ اورمکہ سے عراق تک برابر حضرت حسینؓ کے ساتھ رہا اورشہادت تک ان سے جدانہ رہا، مگر آپ نے مدینہ میں مکہ میں راستہ میں عراق میں لشکر گاہ میں غرض شہادت تک کہیں بھی کسی گفتگو میں کوئی ایسا خیال ظاہر نہیں فرمایا، جس سے ظاہر ہوتا کہ آپ یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے یا کسی سرحدی مقام پر نکل جانے کے لئے آمادہ تھے ،آپ نے ہمیشہ یہی فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو، خدا کی زمین بہت وسیع ہے کہیں چلا جاؤنگا جب تک لوگ کوئی فیصلہ نہ کرلیں۔
درایتی حیثیت یہ ہے کہ ابن زیاد کا تو یہی حکم تھا کہ اگر حسینؓ بیعت کرلیں تو ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے اورابن سعد بھی دل سے یہی چاہتا تھا کہ کسی طرح جنگ کی نوبت نہ آنے پائے ؛چنانچہ اس نے اسے ٹالنے کی پوری کوشش کی تھی اورابن زیاد کو لکھا تھا کہ حسینؓ واپس جانے پر آمادہ ہیں،لیکن ابن زیاد نے جواب دیا تھا کہ اب وہ بغیر بیعت کے واپس نہیں جاسکتے بیعت کے بعد پھر دیکھا جائے گا یہ جواب سن کر ابن سعد نے کہا تھا یہ امن و عافیت نہیں چاہتا، اس لئے حضرت حسینؓ کے بیعت پر آمادہ ہوجانے کے بعد ابن سعد کا اس کو نامنظور کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔

***
ابن زیاد کا تہدیدی فرمان
ابن سعد گو دنیاوی جاہ وحشم کی طمع میں حضرت حسینؓ سے لڑنے پر آمادہ ہوگیا تھا پھر بھی متعدد وجوہ سے اس کا دل اب تک برابر ملامت کررہا تھا، حضرت حسینؓ کی ذات گرامی وہ تھی کہ قرابت نبویﷺ کی وجہ سے غیر متعلق اوربیگانہ اشخاص بھی مشکل سے آپ کے ساتھ کسی بد سلوکی کی جرأت کرسکتے تھے اور ابن سعد تو آپ کا عزیز بھی تھا اس لئے نینوٰی آنے کے بعد بھی وہ برابر جنگ ٹالتا رہا کہ شاید اس طرح اس گناہ عظیم سے بچنے کی کوئی صورت نکل آئے، ابن زیاد نے اس ڈھیل کو محسوس کیا تو آخر میں نہایت سخت فرمان بھیجا کہ میں نے تم کو اس لئے نہیں بھیجا ہے کہ تم ڈھیل دیتے رہو، دن بڑھاتے چلے جاؤ اورحسینؓ کے سفارشی بن کر ان کی بقا اور ان کی سلامتی کی تمنا کرو، تم حسینؓ اوران کے ساتھیوں سے میرا حکم ماننے کے لئے کہو اگر مان جائیں تو سب کو ہمارے پاس بھیج دو، ورنہ فوراً حملہ کردو، کہ دو سرکش اورجھگڑنے والے ہیں اوراگر یہ کام تم سے نہ ہوسکے تو فوج ذی الجوشن کے حوالہ کرکے تم الگ ہوجاؤ، ہم نے جو حکم دیا ہے اسے وہ پورا کریں گے۔
(طبری:۷/۳۱۶)
ابن زیاد نے یہ فرمان شمر ذی الجوشن اور عبداللہ بن ابی المحل کے ذریعہ سے ابن سعد کے پاس بھجوایا تھا،عبداللہ کی پھوپھی ام نبین حضرت علیؓ کو بیاہی تھیں، اور عباس، عبداللہ ،جعفر اورعثمان ان ہی کے بطن سے تھے ،اس لئے عبداللہ نے اسے اپنے غلام کرمان کے ہاتھ عباس وغیرہ کے پاس بھجوادیا،غلام نے انہیں لیجا کر دیا کہ تمہارے ماموں نے یہ امان نامہ دیا ہے اس پر غیور باحمیت بھانجوں نے جواب دیا کہ ماموں سے جاکر سلام کہنا اور کہنا امان نامہ پہنچا، لیکن ہمیں امان کی ضرورت نہیں،خدا کی امان ابن سمیہ (ابن زیاد) کی امان سے بہتر ہے۔
(طبری:۷/۳۱۶)

***
سعد کا آخری فیصلہ
شمر نے ابن زیاد کا یہ فرمان لاکر ابن سعد کو دیا تو وہ پڑھ کر بہت برہم ہوا اورکہا تمہارا برا ہو اورجو چیز تم میرے پاس لائے ہو، خدا اس کا برا کرے خدا کی قسم معلوم ہوتا ہے کہ میں نے ابن زیاد کو جو کچھ لکھا تھا اس کے قبول کرنے سے تم ہی نے اس کو روک کر ہمارا کام بگاڑا ہے ،ہم کو امید تھی کہ صلح کی کوئی صورت نکل آئے گی ،حسینؓ کے پہلو میں ایک خوددار دل ہے اس لئے وہ کبھی اس کے سامنے نہ جھکیں گے،شمر ابن سعد کی یہ باتیں سن کر بولا، بتاؤ اب تم کیا کرتے ہو؟ امیر کے حکم کی تعمیل کرکے ان کے دشمنوں کو قتل کرو گے یا نہیں؟اگر قتل نہیں کرتے تو فوج میرے حوالہ کردو، ابن سعد کے ضمیر اورنفس میں اب بھی کشمکش جاری تھی ؛لیکن رے کی حکومت نہیں چھوڑی جاتی تھی اس لئے نفس وضمیر کی کشمکش میں بالآخر نفس غالب آگیا اور وہ اس بار عظیم کو اٹھانے کے لئے آمادہ ہوگیا اور شمر سے کہا کہ میں خود اس کام کو کروں گا تم پیدل کی نگرانی کرو(ابن اثیر:۴/۴۷) ۹ محرم ۶۱ ھ کو جنگ کی تیاریاں شروع کردیں آغاز جنگ سے پہلے شمر نے حسینی فوج کے پاس جاکر ایک مرتبہ پھر عباسؓ کے بھائیوں کو سمجھایا کہ بنی اخت میں تم کو امان دیتا ہوں ؛لیکن اس مرتبہ غیرت مند نوجوانوں نے پہلے سےبھی زیادہ سخت جواب دیا کہ تجھ پر اور تیری امان پر خدا کی لعنت ہو اگر تو ہمارا ماموں ہوتا تو ہم کو امان دیتا اورابن رسول اللہ ﷺ کو نہ دیتا۔
(ابن اثیر:۴/۴۷)

***
ایک شب کی اجازت
اسی تاریخ کو عصر کے وقت ابن سعد کچھ لوگوں کو ساتھ لئے ہوئے حضرت حسین ؓ کی فرودگاہ پر آپ سے ملنے آیا، آپ نے ملاقات کے لئے نکلنے کا عزم کیا؛ لیکن عباسؓ نے روکا کہ آپ تکلیف نہ کیجئے میں جاتا ہوں، حضرت حسینؓ نے فرمایا، اچھا تم ہی جاؤ مگر یہ پوچھ لینا کہ یہ لوگ کیوں آئے ہیں؛چنانچہ عباسؓ جاکر ان سے ملے اورآنے کا مقصد پوچھا، فوجیوں نے جواب دیا کہ امیر فلاں فلاں مقصد سے آئے ہیں غالباً اس سے آغاز جنگ کی طرف اشارہ تھا؛کیونکہ عباسؓ نے انہیں جواب دیا کہ ‘‘ اچھا ابھی جلدی نہ کرو، میں امام کو تمہارے آنے کا مقصد بتادوں؛چنانچہ انہوں نے حضرت حسینؓ کو اس کی خبر کی آپ نے فرمایا، اچھا آج رات بھر کی اورمہلت لے لو تاکہ اس آخری رات کو اچھی طرح نمازیں پڑھ لیں، دعائیں مانگ لیں اورتوبہ واستغفار کرلیں، خدا خوب جانتا ہے کہ مجھ کو نماز، اس کی کتاب کی تلاوت اوردعا اور استغفار سے کتنادلی تعلق ہے،عباسؓ نے جاکر ابن سعد کے دستہ سے کہا کہ آج تم لوگ لوٹ جاؤ، رات کو ہم اس معاملہ پر غور کریں گے اورجو کچھ فیصلہ ہوگا صبح جواب دیں گے، ابن سعد نے شمر سے پوچھا تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا آپ امیر ہیں آپ جانیں شمر کے بعد پھر اور لوگوں سے رائے لی سب نے مہلت دینے کی رائے دی اورابن سعد اس دن لوٹ گیا ان لوگوں کی واپسی کے بعد امام نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے حسب ذیل خطبہ دیا:

***
خطبہ
میں خدا کا بہترین ثنا خواں ہوں اور مصیبت اورراحت ہر حال میں اس کا شکر گزار ہوں ،خدا یا میں تیری حمد کرتا ہوں کہ تونے ہم لوگوں کو نبوت سے سرفراز کیا اورہمیں گوش شنوا،دیدہ بینا اوردل آشنا دیا، ہم کو قرآن سکھایا اوردین میں فہم عطا کی اب ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما، اما بعد مجھے کسی کے ساتھی اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اورکسی کے اہل اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکو کار اورصلہ رحمی کرنے والا کوئی دوسرا گھرانا نہیں معلوم ہوتا ،خدا تم لوگوں کو ہماری جانب سے جزائے خیر دے میں ان دشمنوں کی وجہ سے آج کا دن کل ہی کا دن سمجھ رہا ہوں اس لئے میں تم لوگوں کو بخوشی واپس جانے کی اجازت دیتا ہوں، میری طرف سے کوئی ملامت نہ ہوگی،رات ہوچکی ہے،ایک ایک اونٹ لے لو اورایک ایک آدمی میرے ایک ایک اہل بیت کا ہاتھ پکڑ کے ساتھ لیلے خدا تم سب کو جزائے خیردے تم لوگ اپنے اپنے شہروں اوردیہاتوں میں چلے جاؤ یہاں تک کہ خدایہ مصیبت آسان کردے، یہ اس لے کہہ رہاہوں کہ لوگ مجھ ہی کو ڈھونڈھیں گے میرے بعد کسی کی تلاش نہ ہوگی۔

***
جانثاروں کی تقریریں
اس تقریر پر تمام اعزہ نے یک زبان ہوکر جواب دیا کیا ہم صرف اس لئے چلے جائیں کہ آپ کےبعد زندہ رہیں؟ خداہم کو یہ دن نہ دکھائے،اس جواب پر حضرت حسینؓ نے بنو عقیل سے فرمایا کہ مسلم کا قتل تمہارے لئے بہت ہوچکا ہے اس لئے تم کو اجازت دیتا ہوں کہ تم لوگ لوٹ جاؤ ؛لیکن باحمیت بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم لوگوں کو کیا جواب دیں گے؟کیا یہ کہیں گے کہ اپنے سردار،اپنے آقا اورابن عم کو چھوڑآئے ان کے لئے ایک تیر بھی نہ چلایا،ایک نیزہ بھی نہ مارا ،تلوار کا ایک دھار بھی نہ کیا اور معلوم نہیں ان کا کیا حشر ہو؟ خدا کی قسم ہم ہرگز ایسا نہیں کرسکتے ،ہم لوگ جان مال اوراہل وعیال سب آپ کے اوپر سے فدا کردیں گے،آپ کے ساتھ لڑیں گے ،جو انجام آپ کا ہوگا وہی ہمارا بھی ہوگا،آپ کےبعد جینا بے کار ہے۔
بنو عقیل کے بعد مسلم بن عوسجہ اسدی نے اٹھ کر کہا کہ ہم آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں اورخدا کے سامنے آپ کے اداکے حق کا عذر نہ کریں؟ خدا کی قسم میں اس وقت تک آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا جب تک دشمنون کے سینوں میں نیزہ نہ توڑلوں اورتلوار نہ چلالوں، خدا کی قسم اگر میرے پاس اسلحہ بھی نہ ہوتا تو دشمنوں سے پتھر مار مارکر لڑتا اورآپ کے اوپر سے فدا ہوجاتا ۔
(یہ خطبہ اورجوابات ابن اثیر:۴/۴۸،۴۹ سے ماخوذ ہیں)
مسلم بن عوسجہ کے بعد سعد بن عبداللہ حنفی نے اٹھ کر تقریر کی کہ خدا کی قسم ہم اس وقت تک آپ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے،جب تک خدا کو یہ معلوم نہ ہوجائے کہ ہم نے رسول اللہ کے بعد بھی آپ کا فرمان ملحوظ رکھا، اگر مجھ کو یہ بھی یقین ہوتا کہ میں ستر مرتبہ قتل کیا جاؤں گا اور ہر مرتبہ زندہ کرکے آگ میں جلا کر میری خاک اڑادی جائے گی تو بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑتا تاآنکہ اپنے کو موت کے حوالہ کردیتا نہ کہ ایسی صورت میں جبکہ معلوم ہے کہ مرنا ایک ہی مرتبہ ہے اوراس موت میں ابدی عزت ہے۔
سعد بن عبداللہ حنفی کے بعد زہیر بن قین اٹھ کر بولے، خدا کی قسم مجھے تمنا ہے کہ میں قتل ہوتا، پھر زندہ ہوتا، پھر قتل کیا جاتا، اسی طرح ہزار مرتبہ زندہ ہو ہوکر قتل کیا جاتا اور خدا اس قتل سے آپ کی ذات اورآپ کے اہل بیت کے نوجوانوں کو بچالیتا غرض اس طریقہ سے ہرجان نثار نے اپنی اپنی عقیدت اورجانثاری کا اظہار کیا۔
(طبری:۷/۲۲۲،۲۲۳)

***
شب عاشورہ
جمعرات کا دن گزرنے کے بعد عاشورہ کی وہ تاریک رات نمودار ہوئی جس کی صبح کو میدان کربلا میں قیامت بپا ہونے والی تھی درمیان میں صرف ایک ہی رات رہ گئی تھی جس میں حضرت حسینؓ کو حجلۂ عبادت میں جمالِ حقیقت کے ساتھ راز ونیاز کرنا تھی اوراس کی راہ میں جان دینے کے لئے تیاریاں بھی کرنی تھی؛چنانچہ آپ نے منتشر خیموں کو ایک جگہ ترتیب سے نصب کرایا، ان کی پشت پر خندق کھدوا کر آگ جلوادی کہ دشمن عقب سے حملہ آور نہ ہوسکیں اورہتھیاروں کی صفائی کرائی جس وقت آپ کی تلوار صاف کی جارہی تھی، اس وقت آپ نے چند عبرتناک اشعار پڑھے آپ کی جان نثار بہن حضرت زینبؓ کو ان انتظامات سے ہونے والے واقعات کا کچھ اندازہ ہوگیا تھا، اوروہ حضرت حسینؓ کے پاس بدحواس دوڑتی ہوئی آئیں اور چیخ چیخ کر رونے لگیں کہ کاش آج موت میری زندگی کا خاتمہ کردیتی ہائے میری ماں فاطمہؓ میرے باپ علیؓ اورمیرے بھائی حسنؓ میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا، بھیا ان گزرے ہوؤں کے جانشین اورہم لوگوں کے محافظ اورہمارا سہارا تم ہی ہو،بہن کو اس طرح مضطرو بے قرار دیکھ کر فرمایا زینب علم ووقار کو شیطان کے حوالہ نہ کرو؛ لیکن یہ وقت وقار وسکینہ کا نہ تھا، زینب بولیں بھائی! میں آپ پر سے قربان،آپ کے بدلہ میں اپنی جان دینا چاہتی ہوں، بہن کی یہ دلدوز اورمحبت بھری باتیں سن کر بھائی کا دل بھی بھر آیا اورآپ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے فرمایا زینب ذرا چین سے رہنے دو، یہ جواب سن کر زینبؓ نے منہ لپیٹ لیا اورڈاڑھیں مار کر رونے لگیں کہ آپ کا اپنے کو مجھ سے الگ الگ رکھنا میرے دل کے ٹکڑے اڑائے دیتا ہے، یہ کہا اورچیخ مار کر بیہوش ہوگئیں ،حضرت حسینؓ نے منہ پر پانی کے چھینٹے دیئے جب ہوش آیا تو صبر کی تلقین کی کہ زینبؓ خدا سے ڈرو اورخدا سے تسکین حاصل کرو،ایک نہ ایک دن سارے روئے زمین کے باشندے مرجائیں گے آسمان والوں میں بھی کوئی باقی نہ رہے گا آسمان وزمین کی تمام چیزیں فانی ہیں صرف ایک خدا کی ذات باقی رہے گی،میری ماں میرے باپ اورمیرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے اورہر مسلمان کے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات نمونہ ہے تم اسی نمونہ سے صبر و تسلی حاصل کرو، میں تم کو خدا کی قسم دلاتا ہوں کہ اگر میں مرجاؤں تو اسوۂ رسول کے خلاف نہ کرنا، میری موت پر گریبان نہ پھاڑنا، منہ نہ نوچنا، اوربین نہ کرنا، بہن کو صبر وشکر اورضبط وتحمل کی تلقین کرکے خیمہ سے باہر تشریف لائے اورحفاظت کے ضروری انتظامات کرکے صبح صادق تک سب لوگ نماز ،دعا استغفار اورتضرع وزاری میں مصروف رہے۔
(ابن اثیر:۴/۵)

***
قیامت صغریٰ
شب عاشورہ ختم ہونے کے بعد صبح قیامت نمودار ہوئی جس میں تاریخ اسلام کا سب سے زیادہ دلدوز واقعہ پیش آنے والا تھا اور باختلافِ روایت جمعہ یا سنیچر کے دن بعد نماز فجر حسینی فوج لڑنے کے لئے تیار ہوگئی،یہ کوئی لشکر جرار نہ تھا؛بلکہ بہتر (۷۲)جان نثاروں کی ایک مختصر جماعت تھی، جس کی ترتیب یہ تھی کہ میمنہ پر زہبیر بن قین تھے اورمیسرہ پر حبیب ابن مظہر ،عباسؓ علمدار کے ہاتھوں میں حسینی علم تھا، ادھر یہ مٹھی بھر جان نثار تھے،دوسری طرف چار ہزار شامی تھے، حضرت حسینؓ جب میدان جنگ میں جانے کے لئے رہوار پر سوار ہوئے تو قرآن سامنے رکھا اوردونوں ہاتھ اٹھا کر بارگاہِ ایزدی میں یہ دعا کی:

***
بارگاہ ایزدی میں دعا
خدایا تو ہر مصیبت میں میرا بھروسہ اورہر تکلیف میں میرا ا ٓسرا ہے،مجھ پر جو وقت آئے ان میں توہی میرا پشت وپناہ تھا بہت سے غم واندوہ ایسے ہیں جن میں دل کمزور پڑجاتا ہے، کامیابی کی تدبیریں کم ہوجاتی ہیں اور رہائی کی صورتیں گھٹ جاتی ہیں،دوست اس میں ساتھ چھوڑدیتے ہیں اور دشمن شماتت کرتے ہیں؛ لیکن میں نے اس قسم کے تمام نازک اوقات میں سب کو چھوڑ کر تیری طرف رجوع کیا تجھی سے اس کی شکایت کی تو نے ان مصائب کے بادل چھانٹ دئے اور ان کے مقابلہ میں میرا سہارا بنا توہی ہر نعمت کا ولی، ہر بھلائی کا مالک اورہر آرزو اورخواہش کامنتہی ہے۔
آپ دعا سے فارغ ہوئے کہ شمر نے اس آگ کے شعلوں کو دیکھ کر جو خیموں کی پشت پر اس کی حفاظت کے لئے جلائی گئی تھی بآواز بلند کہا،حسینؓ قیامت سے پہلے دنیا ہی میں آگ مل گئی،آپ نے جواب دیا تو اس میں جلنے کا زیادہ مستحق ہے، مسلم ابن عو سجہ نے عرض کیا یا ابن رسول اللہ شمر زد میں ہے،ارشاد ہو تو تیر چلا کر اس کا خاتمہ کردوں فرمایا نہیں، میں اپنی جانب سے ابتدا کرنا نہیں چاہتا اورشامی فوج کے قریب جاکر بطورا تمام حجت کے فرمایا:

***
اتمام حجت
لوگو جلدی نہ کرو، پہلے میرا کہنا سن لو اورمجھ پر سمجھا نے کا جو حق ہے اسے پورا کرلینے دواورمیرے آنے کا عذر بھی سن لو پھر اس کے بعد تمہیں اختیار ہے اگر میرا عذر قبول کرلو گے میرا کہنا سچ مانوں گے اورانصاف سے کام لوگے تو خوش قسمت ہوگے اور تمہارے لئے میری مخالفت کی کوئی سبیل باقی نہ رہے گی اوراگر تم نے میرا عذر قبول نہ کیا اور انصاف سے کام نہ لیا تو:
فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ وَشُرَكَاءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَلَا تُنْظِرُونِ
(یونس:۷۱)
پس تم اورتمہارے شریک سب مل کر اپنی ایک بات ٹھہرالو تاکہ تمہاری وہ بات تم میں سے کسی کے اوپر مخفی نہ رہے،تم میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کرڈالو اورمجھے مہلت نہ دو،
إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتَابَ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ
(الاعراف:۱۹۶)
میرا والی اللہ ہے،جس نے کتاب نازل کی اوروہی صالحین کا ولی ہوتا ہے۔
آپ کی بہنوں اورصاحبزادیوں نے یہ تقریر سنی تو خیمہ امامت میں ماتم بپا ہوگیا، ان کے رونے کی آوازیں سن کر آپ نے عباسؓ اورعلی کو بھیجا کہ جاکر انہیں خاموش کردو، میری عمر کی قسم ابھی ان کو بہت رونا ہے، بہنوں اورلڑکیوں کو خاموش کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر آخری اتمامِ حجت کے لئے کوفیوں کے سامنے تقریر فرمائی کہ:
لوگو!میرے نسب پر غور کرو میں کون ہوں؟ پھر اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر اپنے کو ملامت کرو،خیال کرو کہ میرا قتل اور میری آبروریزی تمہارے لئے زیبا ہے ؟کیا میں تمہارے نبی کی بیٹی کا لڑکا اوراس کے وصی،ابن عم، خدا پر سب سے پہلے ایمان لانے والے اس کے رسول اوراس کی کتاب کی تصدیق کرنے والے کا ،فرزند نہیں ہوں؟ کیا سید الشہدا حمزہ میرے باپ کے اورجعفر طیار ذوالجناحین میرے چچا نہ تھے؟ کیا تم کو نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے اورمیرے بھائی کے متعلق فرمایا تھا کہ یہ دونوں جو انان جنت کے سردار ہوں گے، اگر میں سچ کہتا ہوں اوریقیناً سچ کہتا ہوں ؛کیونکہ جب سے مجھے معلوم ہوا کہ جھوٹے پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اس وقت سے میں عمداً جھوٹ نہیں بولا اوراگر مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو تم میں اس کے جاننے والے موجود ہیں، ان سے اس کی تصدیق کرلو، جابر بن عبداللہ انصاری،ابو سعید خدری،سہل بن احمد ساعدی،زید بن ارقم،انس بن مالکؓ ابھی زندہ ہیں ان سے پوچھو یہ تمہیں بتائیں گے کہ انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے، مجھے بتاؤ کیا اس فرمان میں میری خون ریزی کیلئے کوئی روک نہیں۔
اس تقریر کے دوران میں شمرذی الجوشن نے حضرت حسینؓ کے ایمان پر چوٹ کی ،حبیب ابن مظاہر نے اس کا دندان شکن جواب دیکر کہا کہ امام جو کچھ فرماتے ہیں اس کو تونہیں سمجھ سکتا ؛کیونکہ خدانے تیرے قلب پر مہر لگادی ہے، ذی الجوشن کے اعتراض اورحبیب کے جواب کے بعد جناب امام نے پھر تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا:
خیراگر تم کو اس میں کچھ شک ہے تو اسے جانے دو لیکن کیا اس میں بھی کچھ شبہ ہے کہ میں تمہارے نبی کی بیٹی کا بیٹا ہوں، خدا کی قسم آج مشرق سے لیکر مغرب تک روئے زمین پر تم میں اور کسی غیر قوم میں بھی میرے سوا کسی نبیﷺ کا نواسہ موجود نہیں ہے، میں خاص تمہارے نبی کی لڑکی کا بیٹا ہوں، مجھے بتاؤ تم لوگ میرے خون کے کیوں خواستگار ہو، کیا میں نے کسی کو قتل کیا ہے؟ کسی کا مال ضائع کیا ہے؟ کسی کو زخمی کیا ہے، ان نصائح اورسوالات کو سن کر سب خاموش رہے،کسی نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے بعد آپ نے نام لے لےکر سوالات شروع کئے، اے شیث بن ربعی! ،اے حجار بن اجبر، اے قیس بن اشعث، اے یزید بن حارث کیا تم نے مجھ کو نہیں لکھا تھا، پھل پک چکے ہیں ،کھجوریں سرسبز ہیں، دریا جوش میں ہیں فوجیں تیار ہیں، تم فوراً آؤ، ان لوگوں نے جواب دیا! ہم نے نہیں لکھا تھا، فرمایا سبحان اللہ ،خدا کی قسم تم نےلکھا تھا، لوگو! اگر تم کو میرا آنا ناگوار ہے تو مجھے چھوڑ دو تاکہ میں کسی پر امن خطہ کی طرف چلاجاؤں ،اس پر قیس بن اشعث بولا، تم اپنے بنی عم کا کہنا کیوں نہیں مان لیتے، ان کی رائے تمہارے مخالف نہ ہوگی اور ان کی جانب سے کوئی ناپسندیدہ سلوک نہ ہوگا ،حضرت حسینؓ نے فرمایا، کیوں نہیں ،آخر تم بھی تو اپنے بھائی کے بھائی ہو، تم کیا چاہتے ہو کہ بنو ہاشم مسلم بن عقیل کے خون کے علاوہ تم سے اوردوسرے خون کے بدلہ کا بھی مطالبہ کریں، خدا کی قسم میں ذلیل کی طرح اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہ دوں گا اور غلام کی طرح اس کا اقرار نہیں کروں گا، (طبری :۷/۳۲۹،۳۳۰)اور یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ
(الدخان:۲۰)
اور میں اپنے اورتمہارے رب سے پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھ کو سنگسار کرو
إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(غافر:۲۷)
میں اپنے اورتمہارے رب سے ہر مغرور و متکبر سے جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتا پناہ مانگتا ہوں۔

***
زہیر بن قیس کی تقریر
اس تقریر کے بعد آپ سواری بٹھا کر اتر پڑے اورشامی آپ کی طرف بڑھے ان کا ہجوم دیکھ کر زہیر بن قین نے شامیوں کے سامنے بڑی پرجوش تقریر کی:
اے اہل کوفہ خدا کے عذاب سے ڈرو ،ہر مسلمان کا یہ فرض ہے کہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو نصیحت کرے،ابھی تک ہم بھائی بھائی ہیں ایک مذہب اورایک ملت کے ماننے والے ہیں جب تک ہمارے درمیان تلوار نہ اٹھ جائے اس وقت تک ہم کو تمہیں نصیحت کرنے کا حق ہے ،جب آپس میں تلواریں اُٹھ جائیں گی تو ہمارا تمہارا رشتہ ٹوٹ جائے گا اورہماری تمہاری جماعت الگ الگ ہوجائے گی، خدا نے ہم کو اورتم کو نبی ﷺ کی ذریت کے بارہ میں آزمائش میں مبتلا کیا ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں میں تم کو ان کی امداد اورعبید اللہ بن زیاد کا ساتھ چھوڑ نے کی دعوت دیتا ہوں ،اس لئے کہ تم کو ان سے سوائے برائی کے کچھ حاصل نہ ہوگا وہ تمہاری آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیریں گے،تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹیں گے،تمہارا مثلہ کریں گے تم کو کھجور کی شاخوں پر لٹکائیں گے،حجر بن عدی اورہانی بن عروہ وغیرہ کی طرح تمہارے ممتاز لوگوں کو بھی قتل کریں گے۔
زہیر بن قین کی یہ تقریر سن کر کوفیوں نے انہیں گالیاں دیں اورابن زیاد کی تعریف کرکے بولے، خدا کی قسم ہم حسینؓ اوران کے ساتھیوں کو قتل یا انہیں گرفتار کرکے امیر ابن زیاد کے پاس پہنچائے بغیر نہیں ٹل سکتے،زہیر بن قین نے پھر انہیں سمجھایا کہ خدا کے بندو! فاطمہؓ کا فرزند ابن سمیہ کے مقابلہ میں امداد واعانت کا زیادہ مستحق ہے، اگر تم ان کی امداد نہیں کرتے تو خدا را انہیں قتل تو نہ کرو، ان کا معاملہ ان کے اوران کے ابن عم یزیدپر چھوڑدو، وہ حسینؓ کو قتل نہ کرنے کی صورت میں تم سے زیادہ رضا مند ہوگا، اس پر شمر ذی الجوشن نے زہیر بن قین کو ایک تیر مارا اورکہا خاموش رہو، خدا تمہارا منہ بندکرے اپنی بک بک سے پریشان کرڈالا،اس پر زہیر نے کہا،ابن بوال تجھ سے کون خطاب کرتا ہے تو تو جانور ہے ،خدا کی قسم میرا خیال ہے کہ تو کتاب اللہ کی ان دو آیتوں کو بھی نہیں جانتا "وابشر بالخزی یوم القیامۃ والعذاب العلیم"شمر بولا خدا تجھ کو اورتیرے ساتھی کو ایک ساتھ قتل کرے، زہیر نے جواب دیا موت سے ڈراتا ہے،خدا کی قسم حسینؓ کے ساتھ جان دینا مجھ کو تیرے ساتھ دائمی زندگی سے زیادہ عزیز ہے، پھر بآواز بلند کوفیوں سے خطاب کیا کہ لوگو تم اس سنگ دل ظالم کے فریب میں نہ آؤ خدا کی قسم جو لوگ محمدﷺ کی اولاد اوران کے اہل بیت کا خون بہائیں گے وہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔

***
حرکا حضرت حسینؓ سے ملنا
کوفیوں کی آنکھوں پر پردے پڑچکے تھے اور دلوں پر مہر لگ چکی تھی، اس لئے حضرت حسینؓ اورآپ کے ساتھیوں کی ساری افہام و تفہیم رائےگاں گئی،کسی پر کوئی اثر نہ ہوا اورامام نے زہیر بن قین کو واپس بلالیا، ان کی واپسی کے بعد کوئی وقت منتظر باقی نہ رہااور عمر بن سعد حضرت حسینؓ کی طرف بڑھا اس کی پیش قدمی کے ساتھ ہی اس گروہ اشقیا میں سے دفعۃ ایک پرستار حق نکل آیا، یہ حُر تھے عین اس وقت جب طبل جنگ پر جوب پڑنے والی تھی حر کی آنکھوں کے سامنے تاریکی کا پردہ ہٹ گیا اورحق کا جلوہ نظر آنے لگا ؛چنانچہ کوفی فوج کا ساتھ چھوڑ کر حضرت حسینؓ کی فوج میں چلے آئے اور عرض کیا،میری جانب سے جو کچھ گستاخیاں اوربے عنوانیاں ہوچکیں وہ ہوچکیں اب اپنی جان غمگساری کے لئے پیش کرتا ہوں، امید ہے ابھی درتوبہ باز ہوگا ،حضرت حسینؓ نے فرمایا تمہاری توبہ قبول ہوگی ،تمہیں بشارت ہوکہ تم دنیا اورآخرت دونوں میں"حُر"آزاد ہو۔

***
حر کی تقریر
حسینی فوج میں شامل ہونے کے بعد حُر نے کوفیوں سے کہا ،لوگو حسینؓ نے جو تین صورتیں تمہارے سامنے پیش کی ہیں ان میں کوئی صورت کیوں نہیں منظور کرلیتے،تاکہ خدا تم کو ان کے ساتھ لڑنے سے بچالے،ابن سعد بولا میں دل سے یہ چاہتا ہوں ،لیکن افسوس اس کی کوئی سبیل نہیں نکلتی ،حُر نے پھر کہا اے اہل کوفہ پہلے تم نے حسینؓ کو بلایا جب وہ آگئے تو تم نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اوریہ خیال کرتے رہے کہ ان کی حمایت میں لڑو گے پھر اُن کے مخالف ہوگئے اوراب ان کے قتل کے درپے ہو، انہیں ہر طرف سے گھیر لیا ہے اورخدا کی وسیع زمین میں کسی طرف ان کو جانے نہیں دیتے کہ وہ اوران کے اہل بیت کسی پر امن مقام پر چلے جائیں اس وقت ان کی حالت بالکل قیدی کی ہورہی ہے کہ وہ اپنی ذات کو نہ کوئی فائدہ پہنچاسکتا ہے اورنہ نقصان سے بچا سکتا ہے، تم نے اُن پر فرات کا پانی بند کردیا،جس پانی کو یہودی،نصرانی ،مجوسی سب پیتے ہیں اوردیہات کے سور اورکتے تک اس میں لوٹتے ہیں، اس کے لئے حسینؓ اوران کے اہل وعیال تشنہ لب تڑپتے ہیں تم نے محمد ﷺ کے بعد ان کی اولاد کا کیا خوب لحاظ کیا؟اگر تم توبہ کرکے اپنی روش نہیں چھوڑگے تو خدا تمہیں قیامت کے دن پیاسا تڑپائے گا۔

***
جنگ کا آغاز
حر کی اس تقریر پر ابن سعد علم لے کر بڑھا اورپہلا تیر چلا کر اعلان جنگ کردیا اوردونوں طرف سے آدمی نکل نکل کے داد شجاعت دینے لگے، شامیوں کی فوج سے یسار اور سالم دو شخص نکلے ادھرے سے تنہا عبداللہ بن عمیر ان کے جواب میں آئے اور ایک ہی وار میں یسار کو ڈھیر کردیا پاس ہی سالم تھا اُس نے جھپٹ کر عبداللہ پر وار کیا، عبداللہ نے ہاتھوں پر روکا انگلیاں اڑگئیں ،لیکن انہی کٹی انگلیوں سے سالم کو مار گرایا،عبداللہ کی بیوی بھی ساتھ تھیں، انہوں نے شوہر کو لڑتے دیکھا تو خود بھی ہاتھ میں خیمہ کی ایک چوب لے کر یہ کہتے ہوئی آگے بڑھیں کہ میرے ماں باپ تم پر سے فدا ہوں، آل محمد ﷺ کی طرف سے لڑتے رہو، عبداللہ نے انہیں عورتوں کے خیمہ میں لوٹانا چاہا، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ میں تمہارا ساتھ نہ چھوڑوں گی،تمہارے ساتھ جان دوں گی، حضرت حسین ان کی ضد دیکھ کر آواز دی،کہ خدا تم کو اہل بیت کی جانب سے جزائے خیر دے تم لوٹ جاؤ، عورتوں پر جہاد فرض نہیں ہے،آپ کے ارشاد پر وہ لوٹ گئیں۔
اس کے بعد عمروبن حجاج شامی لشکر کے میمنہ کو لے کر حضرت حسینؓ کی طرف بڑھا جب آپ کے قریب پہنچا تو فدائیان حسینؓ پاؤں ٹیک کر سینہ سپر ہوگئے اورنیزوں کے وار سے شامی سواروں کے گھوڑوں کے منہ پھیر دیئے،پھر شامی جماعت سے ابن جوزہ نامی ایک شخص نکل کر بآواز بلند پکارا،حسینؓ ہیں؟ کسی نے اس کا جواب نہ دیا ،دوسری مرتبہ پھر اس نے بھی سوال کیا تیسری مرتبہ سوال کرنے پر لوگوں نے کہااس سے تمہارا کیا مقصد ہے؟ اس نے کہا حسینؓ تم کو دوزخ کی بشارت ہو، حضرت حسینؓ نے جواب میں فرمایا، تو جھوٹا ہے میں دوزخ میں نہیں ؛بلکہ رب رحیم شفیع اورمطاع کے حضور میں جاؤں گا، تیرا نام کیا ہے جواب دیا ابن حوزہ فرمایا خدایا اس کو آگ میں داخل کر اتفاق سے اسی دوران میں ابن حوزہ کا گھوڑا بدک کر ایک نہر میں پھاند پڑا اورابن جوزہ کا پاؤں رکاب میں اٹک گیا اسی حالت میں پھر دوسری مرتبہ بدک کر بھاگا اورابن حوزہ پیٹھ سے لٹک گیاگھوڑا سرپٹ بھاگا اورابن حوزہ پتھروں کی رگڑ سے چور چور ہوکر مرگیا، اس کے بعد شامی فوج سے یزید بن معقل نکلا اورحسینی لشکر سے بریربن حضیر ان کے مقابل ہوئے زبانی مباحثہ کے بعد دونوں نے تلواریں نکال لیں، یزید بن معقل نے بریر پر وار کیا بریر نے وار خالی کردیا اورجواب میں ایسی کاری تلوار ماری کہ یزید کی خود کاٹی ہوئی دماغ تک پہنچ گئی اور وہ زمین پر ڈھیر ہوگیا یزید کو تڑپتا دیکھ کر شامی فوج کے ایک سپاہی رضی بن منقد نے بریر پر حملہ کیا دونوں میں کشتی ہونے لگی بریر اس کو چت کر کے سینہ پر بیٹھ گئے،رضی کو چت دیکھ کر کعب بن جابرازوی شامی نے بریر پر نیزہ سے حملہ کیا،نیزہ ان کی پیٹھ میں پیوست ہوگیا بریر زخمی ہوکر رضی کے سینہ سے اتر پڑے، ان کے اترتے ہی کعب نے تلوار سے زخمی کرکے گرادیا، اسی طرح رضی کی جان بچ گئی بریر کے بعد عُمر بن قرظہ انصاری بڑھے اورحضرت حسینؓ کے سامنے داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے،عمروبن قرظہ کا بھائی ابن سعد کے ساتھ تھا، عمروکہ خاک وخون میں غلطاں دیکھ کر پکارا،کذاب ابن کذاب حسینؓ تو نے میرے بھائی کو گمراہ کیا اور دھوکہ دیکر قتل کرادیا آپ نے جواب دیا خدانے تیرے بھائی کو نہیں ؛بلکہ تجھ کو گمراہ کیا، تیرے بھائی کو اس نے ہدایت دی یہ جواب سن کر وہ بولا اگر میں تم کو قتل نہ کروں تو خدا مجھے قتل کرے،یہ کہتے ہی حضرت حسینؓ کی طرف چھپٹا،مگر نافع بن ہلال مراوی نے ایسا نیزہ مارا کہ وہ چاروں شانے چت گرا، مگر اس کے ساتھیوں نے بڑھ کر بچالیاان کے بعد حر بن یزید نکلے اورحضرت حسینؓ کے سامنے بڑی شجاعت وبہادری سے لڑے ،یزید بن سفیان ان کے مقابلہ کو آیا،حر نے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا، حر کے بعد نافع بن ہلال بڑھے شامیوں میں مزاحم بن حریث ان کے مقابل آیا، نافع نے اسے بھی اس کے ساتھیوں کے پاس پہنچادیا۔

***
عام جنگ
ابھی تک لڑائی کا انداز یہ تھا کہ ایک ایک شخص ایک ایک کے مقابل میں نکلتا تھا ،مگر شامی لشکر سے جو نکلا وہ بچ کر نہ گیا اس لئے عمرو بن حجاج پکارا لوگو! جن لوگوں سے تم لڑرہے ہو یہ سب اپنی جان پر کھیلے ہوئے ہیں اس لئے آیندہ کوئی شخص تنہا ان کے مقابلہ میں نہ جائے،ان کی تعداد تو اتنی کم ہے کہ اگر تم لوگ ان کو صرف پتھروں سے مارو تو بھی ان کا کام تمام ہوجائے گا کوفہ والو طاعت اورجماعت کی پوری پابندی کرو، اس شخص (حسینؓ) کے قتل میں کسی شک وشبہ اور تذبذب کی راہ نہ دو جو دین سے بھاگا ہے اورجس نے امام کی مخالفت کی ہے ،عمربن سعد کو بھی عمرو بن حجاج کی یہ رائے پسند آئی؛چنانچہ اس نے فرداً فردا ًمبارزت سے روک دیا اورعام جنگ کا آغاز ہوگیا، عمر بن حجاج میمنہ کو لے کر حضرت حسینؓ پر حملہ آور ہوا تھوڑی دیر تک آپس میں کشمکش جاری رہی، اس معرکہ میں مشہور جان نثار مسلم بن عوسجہ اسدی شہید ہوئے،غبار چھٹا تو لاشہ نظر پڑا، حضرت حسینؓ قریب تشریف لے گئے کچھ کچھ جان باقی تھی فرمایا، مسلم تم پر خدا رحم کرے فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا حضرت حسینؓ کے بعد حبیب مطہر نے آکر جنت کی بشارت دی اور کہا اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا کہ میں عنقریب تمہارے پاس پہنچوں گا، تو تم سے وصیت کرنے کی درخواست کرتا اور اسے پوری کرتا، مسلم میں بقدر رمق جان باقی تھی، حضرت حسینؓ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ صرف ان کے بارہ میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے لئے جان دے دینا یہ وصیت کرکے محبوب آقا کے سامنے جان دیدی کہ
(ابن اثیر:۴/۵۸)
بچہ ناز رفتہ باشد زجہان نیاز مندے کہ بوقت جان سپردن بسرش رسید باشی
مسلم کی موت پر شامی فوج میں بڑی خوشی ہوئی۔

***
دوسرا حملہ
اس کے بعد دوسرے ریلے میں شمر شامی میسرہ کولے کر حسینی میسرہ پر حملہ آور ہوا اس حملہ کے بعد شامی چاروں طرف سے حسینی فوج پر ٹوٹ پڑے،بڑا زبردست مقابلہ ہوا، حسینی فوج کے بہادر عبداللہ الکلبی کئی آدمیوں کو قتل کرکے خود شہید ہوئے،اس معرکہ میں حسینی فوج میں ۳۲ آدمی تھے،لیکن اس پامردی سے لڑے کہ جدھر رخ کرتے تھے ،شامیوں کی صفیں الٹ دیتے تھے اوران کی سواریوں کی صفیں درہم برہم ہوجاتی تھیں، شامی سوار دستہ کے کماندار غررہ بن قیس نے اپنے سواروں کی یہ بے تر تیبی دیکھی تو ابن سعد کے پاس کہلا بھیجا کہ مٹھی بھر آدمیوں نے ہمارے دستہ کا یہ حال کردیا ہے اس لئے فوراً کچھ پیدل اورکچھ تیر انداز بھیجو،ابن سعد نے اس کی درخواست پر پانچسو سواروں کا دستہ بھیج دیا، اس دستہ نے جاتے ہی حسینی لشکر پر تیروں کی بارش شروع کردی اور تھوڑی دیر میں ان کے تمام گھوڑے زخمی ہوکر بے کار ہوگئے پھر بھی ان کے استقلال میں کمی نہ آئی سب سوار گھوڑوں سے اتر پڑے اوردوپہر تک اس بہادری اوربے جگری سے لڑتے رہے کہ شامیوں کے دانت کھٹے کردیئے۔

***
اہل بیت کے خیموں کا جلایا جانا
شامی جنگ کو جلد ختم کردینے کے لئے آگے بڑھنا چاہتے تھے،لیکن حضرت حسینؓ نے اپنے خیموں کی ترتیب کچھ اس طرح رکھی تھی کہ شامی ایک ہی رخ سے حملہ کرسکتے تھے،اس لئے عمربن سعد نے حکم دیا کہ خیمے اکھاڑدیئے جائیں تاکہ ہر طرف سے حسینی فوج پر حملہ کیا جاسکے؛چنانچہ شامی خیمے اکھاڑنے کے لئے آگے بڑھے،لیکن اس میں بھی یہ دشواری آگئی کہ جب وہ حسینی خیموں میں گھسنے کا قصد کرتے تھے تو آڑ میں پڑجاتے تھے،اس لئے حسینی سپاہی انہیں مارلیتے تھے ابن سعد نے اس صورت میں بھی ناکامی دیکھی تو خیموں میں آگ لگوادی، حضرت حسینؓ نے دیکھا تو فرمایا یہ بھی اچھا ہوا میدان صاف ہوجائے گا تو یہ لوگ پشت سے حملہ آور نہ ہوسکیں گے، حضرت حسینؓ کا یہ خیال بالکل صحیح نکلا، خیموں کے جل جانے سے پشت سے حملہ کا خطرہ جاتا رہا، شمر اہلبیت کے خیمہ میں نیزہ مار کر بولا کہ اس کو معہ آدمیوں کے جلادوں گا عورتوں نے سنا تو چلاتی ہوئی خیموں سے باہر نکل آئیں، حضرت حسینؓ نے دیکھا تو شمر کو ڈانٹا کہ تو میرے اہل بیت کو آگ میں جلانا چاہتا ہے، خدا تجھ کو آتش دوزخ میں جلائے کچھ اس ڈانٹ کے اثر اورکچھ لوگوں کے غیرت دلانے سے شمر لوٹ گیا، اس کے جاتےہی زہیر بن قین نے کوفیوں کو اہل بیت کے خیموں سے ہٹادیا۔
(طبری:۷/۳۴۷،۳۵۰)

***
جانبازوں کی شہادت
پچھلے معرکوں میں شمعِ امامت کے بہت سے پروانے فدا ہوچکے تھے اب امامؓ کے ساتھ صِرف چند جاں نثار باقی رہ گئے تھے،ان کے مقابلہ میں کوفیوں کا ٹڈی دل تھا اس لئے ان کے قتل ہونے سے ان میں کوئی کمی نظر نہ آتی تھی، لیکن حسینی فوج میں سے ایک آدمی بھی شہید ہوجاتا تھا تو اس میں نمایاں کمی محسوس ہوتی تھی، یہ صورت حال دیکھ کر عمروبن عبداللہ صاعدی نے امام سے عرض کیا کہ میری جان آپ پر فدا ہو،اب شامی بہت قریب ہوتے جاتے ہیں اورکوئی دم میں پہنچنا چاہتے ہیں، اس لئے چاہتا ہوں کے پہلے میں جان دے لوں اس کے بعد پھر آپ کو کوئی گزند پہنچے ابھی میں نے نماز نہیں پڑھی ہے، نماز پڑھ کر خدا سے ملنا چاہتا ہوں ان کی اس درخواست پر حضرت حسینؓ نے فرمایا، ان لوگوں سے کہو کہ تھوڑی دیرکے لئے جنگ ملتوی کردیں تاکہ ہم لوگ ظہر کی نماز ادا کرلیں، آپ کی زبان سے یہ فرمائش سن کر حصین بن نمیر شامی بولا، تمہاری نماز قبول نہ ہوگی؟حبیب بن مظہر نے جواب دیا گدھے! آل رسول کی نماز قبول نہ ہوگی اور تیری قبول ہوگی؟ یہ جواب سن کر حصین کو طیش آگیا اورحبیب پر حملہ کردیا، حبیب نے اس کے گھوڑے کے منہ پر ایسا ہاتھ مارا کہ وہ دونوں پاؤں اٹھا کر کھڑا ہوگیا اورحصین اس کی پیٹھ سے نیچے آگیا؛ لیکن اس کے ساتھیوں نے بڑھ کر بچالیا اس کے بعد حبیب اور کوفیوں میں مقابلہ ہونے لگا کچھ دیر تک حبیب نہایت کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے؛ لیکن تن تنہا کب تک انبوہ کثیر کے مقابل میں ٹھہرسکتے بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے، ان کی شہادت سے حضرت حسینؓ کا ایک اور بازو ٹوٹ گیا اورآپ بہت شکستہ خاطر ہوئے مگر کلمۂ صبر کے علاوہ زبان مبارک سے کچھ نہ نکلا، حر نے آقا کو غمگین دیکھا تو رجز پڑہتے ہوئے بڑھے اور مشہور جان نثار زہیر بن قین کے ساتھ مل کر بڑی بہادری اورشجاعت سے لڑے؛لیکن یہ بھی کب تک لڑتے، آخر میں کوفی پیادوں نے ہر طرف سے حر پر ہجوم کردیا اور یہ پروانہ بھی شمع امامت پر سے فدا ہوگیا۔
(طبری:۷/۳۴۷،۳۵۰)

***
جان نثاروں کی آخری جماعت کی فدا کاری
اب ظہر کا وقت آخر ہورہا تھا، لیکن کوفی نماز پڑہنے کے لئے بھی دم نہ لیتے تھے، اس لئے امام نے صلوۃ خوف پڑھی، اورنماز کے بعد پھر پورے زور کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی اوراس گھمسان کا رن پڑا کہ کربلا کی زمین تھرا گئی کوفیوں کا ہجوم بڑھتے بڑھتے حضرت حسینؓ کے پاس پہنچ گیا تیروں کی بارش پر ٹڈی دل کا گمان ہوتا تھا، مشہور جان باز حنفی امام کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے اور جتنے تیر آئے سب مردانہ وار اپنے سینہ پر روکے ؛لیکن ایک انسان کب تک مسلسل تیر بازی کا ہدف بن سکتا تھا، بالآخر یہ بھی امام کی راہ میں سینہ چھلنی کرکے فدا ہوگئے،ان کے بعد زہیر بن قین کی باری آئی، یہ بھی داد شجاعت دیتے ہوئے اپنے پیشترؤں سے جاملے، ان کے بعد نافع بن ہلال بجلی جنہوں نے ۱۲ کوفیوں کو قتل کیا تھا گرفتار کرکے شہید کئے گئے اب حسینی لشکر کا بڑا حصہ آقائے نامدار پر سے فدا ہوچکا تھا، صرف چند جان نثار باقی رہ گئے تھے، جب انہوں نے دیکھا کہ شامی فوجوں کے مقابلہ میں زیادہ دیر تک ٹھہرنے کی طاقت باقی نہیں ہے، تو یہ طے کرلیا کہ قبل اس کے کہ امام ہمام پر کوئی نازک وقت آئے سب کے سب آپ پر سے فدا ہوجائیں ؛چنانچہ تمام فدائی اہل بیت ایک ایک کرکے پروانہ وار بڑھنے لگے، اس جماعت میں سب سے اول عبداللہ اورعبدالرحمن بڑھے، ان کے بعد دونوجوان سیف بن حارث اورمالک بن عبدنکلے اس وقت دونوں کی آنکھوں سے آنسو کی لڑیاں جاری تھیں، امام نے پوچھا تم روتے کیوں ہو؟ عرض کیا اپنی جان کے لئے نہیں روتے، رونا اس پر ہے کہ آپ کو چاروں طرف سے اعداء کے نرغے میں محصور دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے امام نے کہا خدا تم دونوں کو متقیوں جیسی جزا دے ان دونوں کے بعد حنظلہ بن شامی نکلے اور کوفیوں کو سمجھایا کہ وہ حسینؓ کے خون بے گناہی کا وبال اپنے سر نہ لیں؛ لیکن اب اس قسم کی افہام و تفہیم کا وقت ختم ہوچکا تھا، حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ اب انہیں سمجھانا بے کار ہے، آپ کے اس ارشاد پر حنظلہ آپ اورآپ کے اہل بیت پر صلوٰۃ وسلام بھیج کر رخصت ہوئے اورلڑتے لڑتے شہید ہوگئے ان کے بعد سیف اورمالک دونوں نوجوانوں نے جانیں فدا کیں، ان کے بعد عابس بن ابی شبیب اورشوذب بڑھے،شوذب شہید ہوئے،لیکن عابس بہت مشہور بہادر تھے، ان کے مقابلہ میں کسی شامی کو آنے کی ہمت نہ پڑتی تھی، اس لئے ہر طرف سے ان پر سنگباری شروع کردی، عابس نے ان کی یہ بزدلی دیکھی تو اپنی زرہ اور خود اتار کر پھینک دی اورحملہ کر کے بے محابہ دشمن کی صفوں میں گھستے ہوئے چلے گئے اورانہیں درہم برہم کردیا لیکن تن تنہا ایک انبوہ کا مقابلہ آسان نہ تھا اس لئے شامیوں نے انہیں بھی گھیر کر شہید کردیا اسی طریقہ سے عمروبن خالد، جبار بن حارث،سعد، مجمع بن عبید اللہ سب جان نثار ایک ایک کرکے فدا ہوگئے اورتنہا سوید بن ابی المطالح باقی رہ گئے۔
(ابن اثیر:۴/۶۱،۶۲)

***
علی اکبرکی شہادت
جب سارے فدایانِ اہل بیت ایک ایک کرکے جامِ شہادت پی چکے اور نونہالان اہل بیت کے علاوہ اور کوئی جان نثار باقی نہ رہا تو اہل بیت کرام کی باری آئی اور سب سے اول ریاضِ امامت کے گل تر خاندانِ نبویﷺ کے تابندہ اختر علی اکبرؓ میدان میں آئے اور تلوار چمکاتے اوریہ رجز
انا علی بن حسین بن علی ورب البیت ولی بالبنی
میں حسینؓ ابن علیؓ کا بیٹا علی ہوں خانہ کعبہ کے رب کی قسم ہم نبی کے قرب کے زیادہ حقدار ہیں
تاللہ لا یحکم فینا ابن الدعی
خداکی قسم نامعلوم باپ کا بیٹا ہم پر حکومت نہیں کرسکے گا۔
پڑہتے ہوئے بڑھے، آپ رجز پڑھ پڑھ کر حملہ کرتے تھے اوربجلی کی طرح کوند کر نکل جاتے تھے، مرہ بن منقذ تمیمی آپ کی یہ برق رفتاری دیکھ کر بولا، اگر علی اکبرؓ میری طرف سے گذریں تو حسینؓ کو بے لڑکے کا بنادوں، علی اکبرؓ ابھی کم سن تھے، جنگ وجدال کا تجربہ نہ تھا مرہ کا طنز سن کر سیدھے اس کی طرف بڑھے مرہ ایک جہاندیدہ اورآزمودہ کار تھا جیسے ہی علی اکبرؓ اس کے پاس پہنچے ،اس نے تاک کر ایسا نیزہ مارا کہ جسم اطہر میں پیوست ہوگیا،نیزہ لگتے ہی شامی ہر طرف سے ٹوٹ پڑے اوراس گلبدن کے جسم کو جس نے پھولوں کی سیج پر پرورش پائی تھی ٹکڑے اڑادئے، ان کی جان نثار پھوپھی جنہوں نے بڑے نازوں سے ان کو پالا تھا،خیمہ کے روزن سے یہ قیامت خیز نظارہ دیکھ رہی تھیں، چہیتے بھتیجے کو خاک وخون میں تڑپتا دیکھ کر بے تاب ہوگئیں یا رائے ضبط باقی نہ رہا اوریا ابن خاہ کہتی ہوئی خیمہ سے باہر نکل آئیں اور بھتیجے کی لاش کے ٹکڑوں پر گرپڑیں، ستم رسیدہ بھائی حسینؓ نے دکھیاری بہن کا ہاتھ پکڑ کر خیمہ کے اندر کیا کہ ابھی وہ زندہ تھے اور مخدرات عصمت مآب پر غیر محرموں کی نظر پڑنے کا وقت نہیں آیا تھا بہن کو خیمے میں پہنچانے کے بعد علی اکبر کی لاش اوراپنے قلب وجگر کے ٹکڑوں کو بھائیوں کی مدد سے اٹھواکر لائے اورخیمہ کے سامنے لٹادیا۔
(ابن اثٰر:۴/۳۵۷)
یہ بھی عجیب بے کسی کا عالم تھا، تمام اعزہ واقربا شہید ہوچکے ہیں،ایک طرف جانثاروں کی تڑپتی ہوئی لاشیں ہیں دوسری طرف جوان مرگ بیٹے علی اکبرؓ کا پاش پاش بدن ہے تیسری طرف زینب خستہ حال پر غش طاری ہے،اس بے کسی کے عالم میں کبھی علی اکبرؓ کی لاش کو دیکھتے ہیں اور کبھی آسمان کی طرف نظر اٹھاتے ہیں کہ آج تیرے ایک وفادار بندہ نے تیری راہ میں سب سے بڑی نذر پیش کر کے سنت ابراہیمی پوری کی ہے، تو اسے قبول فرما لیکن اس وقت بھی زبان پر صبر وشکر کے علاوہ حرف شکایت نہیں آتا کہ
من ازیں درد گرانما یہ چہ لذت یابم کہ بہ اندازۂ آن صبروثباتم دادند

***
خاندان بنی ہاشم کے دوسرے نو نہالوں کی شہادت
حضرت علی اکبرؓ کی شہادت کے بعد مسلم بن عقیل کے صاحبزادے عبداللہ میدان میں آئے، ان کے نکلتے ہیں عمرو بن صبیح صیدادی نے تاک کر ایسا تیر مارا کہ یہ تیر تیر قضا بن گیا، ان کے بعد جعفر طیار کے پوتے عدی نکلے انہوں نے بھی عمروابن تہشل کے ہاتھوں جام شہادت پیا، پھر عقیلؓ کے صاحبزادے عبدالرحمن میدان میں آئے، ان کو عبداللہ بن عروہ نے تیر کا نشانہ بنایا، بھائی کو نیم بسمل دیکھ کر محمد بن عقیل بے تحاشا نکل پڑے لیکن لقیط بن ناشر نے ایک ہی تیر میں ان کا بھی کام تمام کردیا، ان کے بعد حضرت حسنؓ کے صاحبزادے قاسم میدان میں آئے یہ بھی عمروبن سعد بن مقبل کے ہاتھوں شہید ہوئے، قاسم کے بعد ان کے دوسرے بھائی ابوبکرؓ عبداللہ بن عقبہ کے ہاتھوں شہید ہوئے ،امام کے سوتیلے بھائی حضرت عباسؓ نے جب دیکھا کہ جو نکلتا ہے وہ سید ھا حوض کوثر پہنچتا ہےاور عنقریب برادر بزرگ تن تنھہا ہونے والے ہیں تو بھائیوں سے کہا کہ آقا کے سامنے سینہ سپردہوجاؤ اوران پر اپنی جانیں فدا کردو، اس آواز پر تینوں بھائی عبداللہ، ،جعفرؓ، اورعثمانؓ حضرت حسینؓ کے سامنے دیوار آہن بن کر جم گئے اور تیروں کی بارش کو اپنے سینوں پر روکنے لگے اورزخموں سے خون کا فوارہ چھوٹنے لگا تھا، لیکن ان کی جبین شجاعت پر شکن تک نہ آتی تھی، آخر میں ہانی بن ثوب نے عبداللہ اورجعفر کو شہید کرکے اس دیوار آہن کو بھی توڑدیا اور تیسرے بھائی عثمان کو یزید اصبحی نے تیر کا نشانہ بنایا تینوں بھائیوں کے بعد اب صرف تنہا عباسؓ باقی رہ گئے تھے، یہ بڑھ کر حضرت حسینؓ کے سامنے آگئے اورچاروں طرف سے آپ کو بچانے لگے اوراسی ناموس اکبر کی حفاظت میں جان دی (اخبار الطوال:۲۶۸)عباسؓ کے بعد اہل بیت میں خود امام ہمام اور عابد بیمار کے علاوہ کوئی باقی نہ رہ گیا

***
فاعتبر وایا اولی الابصار
اللہ اللہ یہ بھی نیرنگی دہر اورانقلاب زمانہ کا کیسا عجیب اورکیسا عبرتناک منظر ہے کہ جس کے نانا کے گھر کی پاسبانی ملائکہ کرتے تھے،آج اس کا نواسہ بے برگ ونوا بے یار و مددگار کربلا کے دشت غربت میں کھڑا ہے اور روئے زمین پر خدا کے علاوہ اس کا کوئی حامی و مددگار نہیں، غزوہ بدر میں جس کے نانا کی حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے اترے تھے، آج اس کے نواسہ کو ایک انسان بھی محافظ نہیں ملتا ایک وہ وقت تھا کہ رسول اللہ ﷺ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے،دشمنان اسلام کی ساری قوتیں پاش پاش ہوچکی تھیں، رحمتِ عالمﷺ کے دامنِ عفو وکرم کے علاوہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ باقی نہ رہ گئی تھی، اسلام اورمسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان جنہوں آنحضرتﷺ اورمسلمانوں کے ساتھ بعض وعداوت اوردشمنی اورکینہ توزی کا کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھا تھا، بے بس ولاچار دربارِ رسالت میں حاضر کئے گئے تھے،ایک طرف ان کے جرائم کی طویل فہرست تھی،دوسری طرف رحمۃ للعالمین کی شانِ رحمت وکرم ،تاریخ کو معلوم ہے کہ سرکار رسالتﷺ سے اس سنگین اوراشتہاری مجرم کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا، قتل کی دفعہ عائد نہیں کی گئی، جلاوطنی کی سزا تجویز نہیں ہوئی، قید خانہ کی چار دیواری میں بند نہیں کیا گیا؛ بلکہ"من دخل دارابی سفیان فھو امن"جو شخص ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے اس کا جان و مال محفوظ ہے، کے اعلان کرم سے نہ صرف تنہا ابو سفیان کی جان بخشی فرمائی گئی ؛بلکہ ان کے گھر کو جس میں بارہا مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوچکی تھیں، آنحضرتﷺ کے قتل کے مشورے ہوچکے تھے "دارالامن بناکر وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین" کی عملی تفسیر فرمائی گئی، ایک طرف یہ رحمت، یہ عفو وکرم اوریہ درگذر تھا،دوسری طرف ٹھیک باون برس کے بعد زمانہ کا رخ بدلتا ہے اورایک دوسرا منظر پیش کرتا ہے، ایک طرف ان ہی ابوسفیان کے پوتے (عبید اللہ بن زیاد) کی طاغوتی طاقتیں ہیں، اوردوسری طرف رحمۃ للعالمینﷺ کی ستم رسیدہ اولاد ہے، نبوت کا ساراکنبہ ابو سفیان کی ذریات کے ہاتھوں تہِ تیغ ہوچکا ہے کر بلا کا میدان اہل بیت کے خون سے لالہ زار بنا ہوا ہے،جگر گوشۂ رسول کی آنکھوں کے سامنے گھر بھر کی لاشیں تڑپ رہی ہیں، اعزہ کے قتل پر آنکھیں کون بار ہیں، بھائیوں کی شہادت پر سینہ وقف ماتم ہے، جواں مرگ لڑکوں اوربھتیجوں کی موت پر دل فگار ہے ؛لیکن اس حالت میں بھی وحوش وطیور تک کے لئے امان ہے، لیکن جگر گوشۂ رسولﷺ کے لئے امان نہیں اورآج وہی تلواریں جو فتح مکہ میں مفتوحانہ ٹوٹ چکی تھیں، وشت کربلا میں نوجوانانِ اہل بیت کا خون پی کر بھی سیر نہیں ہوئیں اور حسینؓ کے خون کی پیاس میں زبانیں چاٹتی ہیں،لیکن پیکر صبر و قرار حسین اس حالت میں بھی راضی برضا ہیں اوراس بے بسی میں بھی جادہ مستقیم سے پاؤں نہیں ڈگمگاتے ،سنا ہوگا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے شروع شروع میں اسلام کی دعوت شروع کی تو کفارِ مکہ آپ کے چچا ابو طالب کے پاس ،جو آپ کے کفیل تھے، آئے اورکہا تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کی توہین کرتا ہے ہمارے آبا واجداد کو گمراہ کہتا ہے ہم کو احمق ٹھہراتا ہےاس لئے یا تم بیچ سے ہٹ جاؤ یا تم بھی میدان میں آؤ کہ ہم دونوں میں سے ایک کا فیصلہ ہوجائے، اس پر ابو طالب نے آنحضرتﷺ کو سمجھایا کہ جان عم میرے اوپر اتنا بار نہ ڈال کہ میں اٹھا نہ سکوں، آنحضرتﷺ کے ظاہری پشت و پناہ جو کچھ تھے، ابو طالب تھے،آنحضرتﷺ نے ان کے پائے ثبات میں لغزش دیکھی تو آبدیدہ ہوکر فرمایا، خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں آفتاب اوردوسرے ہاتھ میں ماہتاب لاکر رکھ دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہ آٓؤں گایا خدا اس کام کو پورا کریگا یا میں خود اس پر سے نثار ہوجاؤں گا۔
(ابن ہشام:۱/۱۳۹)
اس جواب کے بعد آنحضرتﷺ پھر بدستور دعوتِ اسلام میں مصروف ہوگئے اور قریش نے اس کے جواب میں آپ کو سخت سے سخت اذیتیں پہنچانا شروع کیں، لیکن اس راہ کے کانٹے آپ کے لئے پھول تھے، اس لئے یہ تکلیفیں بھی آپ کو دعوتِ اسلام سے نہ روک سکیں قریش نے اپنی محدود نظر کے مطابق قیاس کیا تھا کہ محمدﷺ کو نام ونمود اور جاہ وحشم کی خواہش ہے؛چنانچہ ان کا ایک نمائندہ عتبہ بن ربیعہ ان کی طرف سے آنحضرتﷺ کے پاس آیا اورکہا محمد کیا چاہتے ہو، کیا مکہ کی ریاست ؟ کیا کسی بڑے گھرانے میں شادی؟ کیا دولت کا ذخیرہ؟ ہم یہ سب کچھ تمہارے لئے مہیا کرسکتے ہیں اوراس پر بھی راضی ہیں کہ مکہ تمہارے زیر فرمان ہو جائے ؛لیکن تم ان باتوں سے باز آجاؤ، لیکن ان سب ترغیبات کے جواب میں آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ
(فصلت:۹)
اے محمد ان لوگوں سے کہدو کہ تم لوگ خدا کا انکار کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین پیدا کی اوراس کا مقابل ٹھہراتے ہو، یہ خدا سارے جہاں کا پروردگار ہے۔
آج باون برس کے بعد حضرت حسینؓ پھر اسی اسوۂ نبویﷺ کو زندہ کرتے ہیں اور امت مسلمہ کو حق وصداقت ،عزم ، استقلال اورایثار وقربانی کا سبق دیتے ہیں اور نا انصاف حدود اللہ اورسنتِ رسول اللہ کو پامال کرنے والی، خلق خدا کو اپنی ظالمانہ حکومت کا نشانہ بنانے والی اورمحرمات الہی کو رسوا کرنے والی حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور ببانگ دہل اعلان فرماتے ہیں کہ لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ظالم محرماتِ الہی کو حلال کرنے والے خدا کے عہد کو توڑنے والے سنتِ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے والے ،خدا کے بندوں پر گناہ اور زیادتی کے ساتھ حکومت کرنے والے بادشاہ کو دیکھا اور قولاً وعملاً اس کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو خدا کو حق ہے کہ اس شخص کو اس ظالم بادشاہ کی جگہ دوزخ میں داخل کرے ،آگاہ ہوجاؤ ان لوگوں نے شیطان کی حکومت قبول کی ہے اوررحمن کی اطاعت چھوڑ دی ہے،ملک میں فساد پھیلایا ہے، حدود اللہ کو بے کار کردیا ہے،مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں،خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کردیا ہے اورحلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کردیا ہے، اس لئے مجھے اس کے بدلنے کا حق ہے۔
(ابن اثیر:۴/۴۰)
آج بھی حق وصداقت کی اس آواز کو خاموش کرنے کے لئے یہ ترغیب دلائی جاتی ہے کہ حسینؓ تم اپنے بنی عم (یزید) کی اطاعت قبول کرلو، جو کچھ تم چاہتے ہو، اس کو وہ پورا کریں گے اوران کی جانب سے تمہارے ساتھ کوئی ناروا سلوک نہ ہوگا، لیکن حضرت حسینؓ جواب دیتے ہیں کہ خد ا کی قسم میں ذلیل آدمی کی طرح ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر غلام کی طرح اقرار نہ کروں گا، یہ جواب دے کر یہ آیت تلاوت فرماتے ہیں:
وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ
(الدخان:۲۰)
میں نے اپنے اور تمہارے رب سے پناہ مانگی ہے کہ تم مجھے سنگسار کرو
إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ
(غافر:۲۷)
میں اپنے اور تمہارے رب سے ہر مغرور متکبر سے جو یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا پناہ مانگتا ہوں۔
کہ آنحضرتﷺ کے ارشاد "ترکت فیکم الثقلین کتاب اللہ واھل بیتی"کا یہی مقصد تھا۔ 

***
آفتاب امامت کی شہادت
اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ تمام نوجوانان اہل بیت شہید ہوچکے ہیں اور اب اس خانوادہ نبوت میں سوائے عابد بیمار اورامام خستہ تن کے کوئی باقی نہیں ہے،لیکن سنگدل شامی اس نوبت کے بعد بھی امام ہمام کو چھوڑنے والے نہ تھے؛چنانچہ بالآخر وہ قیامت خیز ساعت بھی آگئی کہ فلکِ امامت کا آفتاب میدان جنگ کے افق پر طلوع ہوا، یعنی حضرت حسینؓ شامی فوج کی طرف بڑھے، ابن زیاد کے حکم کے مطابق ساتویں محرم سے حسینی لشکر پر پانی بند کردیا گیا تھا، جب تک عباس علمدار زندہ تھے جان پر کھیل کر پانی لے آتے تھے لیکن ان کے بعد ساقی کوثر ﷺ کے نواسہ کو کوئی پانی دینے والا بھی باقی نہ تھا اہل بیت کے خیموں میں جو پانی تھا وہ ختم ہوچکا تھا اورامام کے لب خشک تھے حلق سوکھ رہی تھی،اعزہ کے قتل سے دل نگار ہو رہا تھا، جی چھوٹ چکا تھا، اس لئے کوفیوں کے لئے آپ کا کام تمام کردینا آسان تھا، لیکن وہ لاکھ سنگدل اور جفا پیشہ سہی،پھر بھی مسلمان تھے ،اس لئے جگر گوشۂ رسول کے خون کا بار عظیم اپنے سر نہ لینا چاہتے تھے ہمت کرکے بڑہتے تھے لیکن جرأت نہ پڑتی تھی ،ضمیر ملامت کرتا تھا اورپلٹ جاتے تھے،(مستدرک حاکم فضائل حسینؓ) حضرت حسینؓ کی پیاس لمحہ بہ لمحہ زیادہ بڑہتی جاتی تھی،آخر میں آپ نے رہوار کو فرات کی طرف موڑا کہ ذرا حلق نم کرکے کانٹے دور کریں؛ لیکن کوفیوں نے نہ جانے دیا، یہ وہی تشنہ لب ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ چند آدمیوں کے ساتھ کہیں تشریف لئے جا رہے تھے کہ حسنینؓ کے رونے کی آواز کانوں میں آئی،جلدی سے گھر گئے اورپوچھا میرے بیٹے کیوں رورہے ہیں، فاطمہؓ نے کہا پیاسے ہیں،اتفاق سے اس وقت پانی نہ تھا لوگوں سے پوچھا لیکن کسی کے پاس نہ نکلا تو آپ نے یکے باد دیگرے دونوں کو اپنی زبان مبارک چسا کر ان کی تشنگی فرو کی۔
یہ اسی رحمت عالمﷺ کا تشنہ لب نواسہ ہے کہ جب مکہ میں خشک سالی ہوتی تھی،فصیلیں تباہ ہونے لگتی تھیں،سبزہ سوکھ جاتا تھا اورخلق اللہ بھوکوں مرنے لگتی تھی،تو رسول اللہ ﷺ کے اوراسلام کے سب سے بڑے دشمن ابو سفیان آتے تھے اور کہتے تھے محمد ﷺ تم صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہو، تمہاری قوم خشک سالی سے ہلاک ہوئی جارہی ہے خدا سے پانی کی دعا کرو،آنحضرتﷺ اپنے اس سب سے بڑے دشمن کی،درخواست پر پانی کے لئے دعا فرماتے تھے،دفعتاً ابر اٹھتا تھا اورسات دن تک مسلسل اس شدت کی بارش ہوتی تھی کہ جل تھل ہوجاتا تھا۔
(بخاری،جلد۱،ابواب الاستقا:۱۳۶)
ٹھیک باون برس کے بعد اسی رحمۃ عالمﷺ اوردوست ودشمن کے سیراب کرنے والے کا نواسہ ایک قطرہ پانی کے لئے ترستا ہے اورانہیں ابوسفیان کی ذریات کے حکم سے پانی کی ایک بوند اس کی خشک حلق تک نہیں پہنچنے پاتی ہے، آہ! اناا عطینک الکوثر نواسہ اوریوں تشنہ کام ہے۔ع
تفوبرتواے چرخ گرواں تفو
آخر جب پیاس کی شدت ناقابل برداشت ہوگئی تو پھر ایک مرتبہ نرغہ اعداء سے فرات کی طرف بڑھے اور ساحل تک پہنچ گئے ،پانی لے کر پینا چاہتے تھے کہ حصین بن نمیر نے ایسا تیرا مارا کہ دہنِ مبارک سے خون کا فوارہ پھوٹ نکلا، آپ نے چلو میں پانی لے کر آسمان کی طرف اچھالا کہ اے بے نیاز یہ لالہ گوں منظر تو بھی دیکھ لے کہ
بحرمِ عشقِ توام میکشند غوغا ئیست تونیز برسرم آکر خوش تماشا ئیست
چلو سے خون کی نذر پیش کرکے فرمایا کہ خدایا جو کچھ تیرے نبی کے نواسہ کے ساتھ کیا جارہا ہے اس کا شکوہ تجھی سے کرتا ہوں کہ مباداع
خونِ من زیزی وگویند سزا وار نبود
جس قدر امام نڈھال ہوتے جاتے تھے،شامیوں کی جسارت زیادہ بڑہتی جاتی تھی ؛چنانچہ جب انہوں نے دیکھا کہ امام میں تاب مقادمت باقی نہیں ہے اوراہل بیت کے خیموں کی طرف بڑھے اور حضرت حسینؓ کو ادھر جانے سے روک دیا آپ نے فرمایا کہ تمہارا کوئی دین وایمان ہے؟ تمہارے دلوں سے قیامت کا خوف بالکل ہی جاتا رہا؟ ان سرکشوں اورجاہلوں کو میرے اہل بیت کی طرف جانے سے روکو، لیکن امام مظلوم کی فریاد کوئی نہ سنتا تھا؛بلکہ آپ کی فریاد پر ان کی شقادت اوربڑھتی جاتی تھی اور شمر لوگوں کو برابر ابھار رہا تھا، اس کے ابھارنے پر یہ شوریدہ بخت ہر طرف سے ٹوٹنے لگے ، لیکن شمشیر حسینی ان بادلوں کو ہوا کی طرح اڑادیتی تھی مگر ایک خستہ دل خستہ جگر اور زخموں سے چور ہستی میں سکت ہی کیا باقی تھی، یہ بھی حسینؓ ہی کا دل تھا کہ اب تک دشمنوں کے بے پناہ ریلے کو روکے ہوئے تھے، لیکن تابکے، بالآخر وہ وقت آگیا کہ ماہ خلافت کو شامیوں نے نرغہ کے تاریک بادلوں میں گھیر لیا، امام کو محصور دیکھ کر اہل بیت کے خیمہ سے ایک بچہ دوڑتا ہوا نکل آیا اور بحر بن کعب سے جو حضرت حسینؓ کی طرف بڑھ رہا تھا ، معصومانہ انداز سے کہا، خبیث عورت کے بچے میرے چچا کو قتل کرےگا، ہاشمی بچہ کی اس ڈانٹ پر اس بزدل نے بچہ پر تلوار کا وار کیا بچہ نے ہاتھ پر روکا، نازک نازک ہاتھ دیوہیکل کا وار کس طرح روکتے، ہاتھ جھول گیا، حضرت حسینؓ نے بچہ کو نیم بسمل دیکھ کر سینہ سے چمٹا لیا اور کہا بیٹا صبر کرو، عنقریب خدا تم کو تمہارے اجداد سے ملادیگا، رسول اللہ ﷺ ،علیؓ، حمزہؓ، جعفرؓ اور حسنؓ کے پاس پہنچ جاؤ گے (ابن اثیر:۴/۶۶) بچہ کو تسلی دے کر ابن اسداللہ الغالبؓ پھر حملہ آور ہوئے اور جدھر رخ کردیا دشمنوں کی صفیں درہم برہم کردیں۔
(طبری:۷/۴۶۴)



میدان کر بلا میں قیامت بپا تھی، ہر طرف تلواروں کی چمک سے بجلی تڑپ رہی تھی، کہ دفعتاً مالک بن شبر کندی نے دوشِ نبویﷺ کے شہ سوار پر ایسا وار کیا کہ تلوار کلاہ مبارک کو کاٹتی ہوئی کاسۂ سر تک پہنچ گئی، خون کا فوراہ پھوٹ نکلا اورسارا بدن خون کے چھینٹوں سے لالۂ احمر ہوگیا، پیراہن مبارک کی رنگینی پکار اٹھی۔
حُلہّہا سوختہ انداہل بہشت ازغیرت تاشہیدانِ توگلگوں کفنے ساختہ اند
لیکن اس وقت بھی امام ہمام کے صبر وسکون میں فرق نہ آیا دوسری ٹوپی منگا کر زخمی فرق مبارک پر رکھی اوراس پر سے عمامہ باندھا اور شیر خوار بچہ کو بلاکر گود میں لیا کہ اس کے بعد پدری شفقت کا سایہ سر سے اٹھنے والا تھا، کسی سنگدل نے ایسا تیرمارا کہ بچہ گود میں تڑپ کر رہ گیا۔
(اخبار الطوال،صفحہ۲۶۹،یہ اخبار الطوال کا بیان ہے کہ میدان کربلا میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا اذان کے لئے امام کے پاس لایا گیا، کسی نے امام پر تیر چلایا،اتفاق سے وہ آپ کے بجائے بچہ کے حلق میں آکر لگا اوراس معصوم نے دنیا میں آکھ کھولتے ہی بند کرلی۔)
جان نثار بہن یہ قیامت خیز منظر دیکھ کر خیمہ سے نکل آئیں اور چلاتی ہوئی دوڑیں کہ کاش آسمان زمین پر ٹوٹ پڑتا ،ابن سعد حضرت حسینؓ کے پاس کھڑا تھا اس سے کہنے لگیں ،عمر!کیا قیامت ہے، ابوعبداللہ قتل کئے جارہے ہیں اور تم دیکھ رہے ہو، گو ابن سعد کی آنکھوں میں جاہ وحشمت کی طمع نے پردے ڈال دیئے تھے پھر بھی عزیز تھا،خون میں محبت تھی زینبؓ کی فریاد سن کر بے اختیار رودیا اوراتنا رویا کہ رخسار اورڈاڑھی پر آنسوؤں کی لڑی دان ہوگئی اور فرطِ خجالت سے زینبؓ کی طرف سے منہ پھیرلیا۔
امام ہمام لڑتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے،آج تم لوگ میرے قتل کے لئے جمع ہوئے ہو،خدا کی قسم میرے بعد کسی ایسے شخص کو قتل نہ کرو گے جس کا قتل میرے قتل سے زیادہ خدا کی ناراضی کا موجب ہوگا، خدا تم کو ذلیل کرکے مجھے قتل کردیا تو خدا تم پر سخت عذاب نازل فرمائے گا اور تم میں باہم خون ریزی کرائے گا اور جب تک تم پر دونا عذاب نہ کریگا، اس وقت تک راضی نہ ہوگا ۔
حضرت حسینؓ کی حالت لمحہ بہ لمحہ غیر ہوتی جاتی تھی ،زخموں سے سارا بدن چور ہوچکا تھا؛ لیکن کسی کو شہید کرنے کی ہمت نہ پڑتی تھی اور سب اس جبل معصیت کو ایک دوسرے پر ٹال رہے تھے،شمر یہ تذبذب دیکھ کر پکارا، تمہارا برا ہو، تمہاری مائیں لڑکوں کو روئیں، دیکھتے کیا ہو؟ بڑھ کر حسینؓ کو قتل کردو، اس للکار پر شامی چاروں طرف سے امام ہمام پر ٹوٹ پڑے ایک شخص نے تیر مارا، تیر گردن میں آکر بیٹھ گیا، امام نے اس کو ہاتھوں سے نکال کے الگ کیا ابھی آپ نے تیر نکالا ہی تھا کہ زرعہ بن شریک تمیمی نے ہاتھ پر تلوار ماری،پھر گردن پر وار کیا ان پیہم زخموں نے امام کو بالکل نڈھال کردیا، اعضا جواب دے گئے اورکھڑے ہونے کی طاقت باقی نہ رہی، آپ اٹھتے تھے اورسکت نہ پاکر گرپڑتے تھے عین اسی حالت میں سنان بن انس نے کھینچ کر ایسا کاری نیزہ مارا کہ فلکِ امامت زمین بوس ہوگیا، سنگدل اورشقی ازلی خولی بن یزید سر کاٹنے کے لئے بڑھا، لیکن ہاتھ کانپ گئے،تھراکے پیچھے ہٹ گیا اور سنان بن انس نے اس سرکو جو بوسہ گاہِ سرورکائناتﷺ تھا جسم اطہر سے جدا کرلیا۔ اور ۱۰ محرم الحرام ۶۱ھ مطابق ۶۸۱ء میں خانوادۂ نبوی کا آفتاب ہدایت ہمیشہ کے لئے روپوش ہوگیا اس شقادت اور سنگدلی پر زمین کانپ اٹھی، عرش الہی تھراگیا، ہوا خاموش ہوگئی،پانی کی روانی رک گئی،آسمان خون رویا،زمین سے خون کے چشمے پھوٹے ،شجر وحجر سے نالۂ وشیون کی صدائیں بلند ہوئیں ،جن وانس نے سینہ کوبی کی،ملائکہ آسمانی میں صف ماتم بچھی کہ آج ریاضِ نبویﷺ کا گل سرسبد مرجھا گیا،علیؓ کا چمن اجڑ گیا اورفاطمہؓ کا گھر بے چراغ ہوگیا۔
چوں خون زحلق تشنہ اوبرزمین رسید جوش از زمین بہ ذرہ در وعرش بریں رسید
تحل بلند اوچوخساں برزمین زوند طوفان بآسمان زغبار زمین رسید
باوآن غبارچوں بمزارِنبیﷺ رساند گرواز مدینہ برفلک،ہفتمین رسید
کرواین خیال وہم غلط کار کان غبار تادامنِ جلال جہان آفرین رسید
ہست ازملال گرچہ بری ذاتِ ذوالجلال
اوردرولست وہیچ ولے نیست بے ملال

***
ستم بالائے ستم
امام ہمام کو شہید کرنے کے بعد بھی سنگدل اور خونی شامیوں کا جذبہ غبار فرو نہ ہوا اور شہادت کے بعد وحشی شامیوں نے اس جسدِ اطہر کو جسے رسول ﷺ نے اپنے جسدِ مبارک کا ٹکڑا فرمایا تھا، گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کیا، اس بہیمانہ شقاوت کے بعد لٹیرے پردہ نشینانِ عفاف کے خیموں کی طرف بڑھے اوراہل بیت کا کل سامان لوٹ لیا، ابھی خانوادۂ نبوی ﷺ میں ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ (عابد بیمار) باقی تھا جس وقت شمر ان کے خیمے کی طرف آیا، اس وقت زین العابدینؓ بیمار تھے، سپاہی بولے اس کو کیوں چھوڑتے ہو؟ ایک شخص حمید بن مسلم کے دل میں خدا نے رحم ڈال دیا اس نے کہا سبحان اللہ ابھی وہ کمسن ہیں کمسنوں کو بھی قتل کرو گے (یہ صحیح نہیں کہ زین العابدینؓ کمسن بچہ تھے،بروایت صحیح اس وقت ان کی عمر ۲۳ یا ۲۴ سال تھی؛ لیکن اس وقت بیمار تھے، اس لئے جنگ میں شریک نہ ہوئے تھے، ابن سعد:۶/۱۶۴) ابھی یہ سپاہیوں کو سمجھا رہا تھا کہ عمر بن سعد آگیا ،اس نے کہا خبردار کوئی شخص خیموں میں نہ جائے اورنہ اس بیمار کو ہاتھ لگائے،جس نے جو کچھ لوٹا ہو، سب واپس کردے،عمر بن سعد کے اس کہنے پر سپاہیوں نے ہاتھ روک لیا، حضرت عابدؓ پر اس برتاؤ کا بڑا اثر ہوا، آپ نے اس کا شکریہ ادا کیا؛ لیکن لوٹا ہوا مال کسی نے واپس نہ کیا۔
(ابن اثیر:۴/۶۹،۷۰)

***
اہل بیت کا سفر کوفہ
حضرت حسینؓ کی شہادت کے بعد شامی بقیۃ السیف اہل بیت کو کربلا سے کوفہ لے چلے، اس وقت تک شہداء کی لاشیں اسی طرح بے گوروکفن پڑی ہوئی تھیں، اہل بیت کا یہ ستم رسیدہ اور لٹا ہوا قافلہ اسی راستہ سے گزرا، بے گوروکفن لاشوں پر عورتوں کی نظر پڑی تو قافلہ میں ماتم بپا ہوگیا، حضرت حسینؓ کی بہن اورصاحبزادیوں نے سرپیٹ لئے زینب رورو کر کہتی تھیں کہ
اے محمد گرقیامت سربروں آری نرخاک
سربروں آروقیامت درمیان خلق بین
اے دادا جان محمدﷺ جس پر ملائکہ آسمانی درود وسلام بھیجتے ہیں، آئیے دیکھئے حسینؓ کا لاشہ چٹیل میدان میں اعضا بریدہ، خاک وخون میں آلودہ پڑا ہے، آپ کی لڑکیاں قید ہیں آپ کی ذریت مقتول بھی ہوئی ہے،ہوا ان پر خاک اڑارہی ہے، یہ دلدوز بین سن کر دوست و دشمن سب رودیئے۔
اسی طریقہ سے یہ قافلہ کوفہ لے جاکر ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت زینب ننگے پاؤں، نہایت خراب لباس اورخستہ حالت میں تھیں، لونڈیاں ساتھ تھیں، ابن زیاد نے اس زبوں حالت میں دیکھ کر پوچھا یہ کون ہیں؟ زینبؓ نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے مکرر سہ کرر سوال پر ایک لونڈی نے کہا کہ زینب بنت فاطمہؓ ہیں، یہ سن کر اس سنگدل نے کہا خدا کا شکر ہے جس نے تم کو رسوا کیا، تمہیں قتل کیا اور تمہاری جدتوں کو جھٹلایا، زینبؓ نے جواب دیا، تیرا خیال غلط ہے، خدا کا شکر ہے کہ جس نے ہم کو محمد ﷺ سے نوازا اورہم کو پاک کیا ہم نہیں ؛بلکہ فاسق (ابن زیاد) رسوا ہوتے ہیں اور جھٹلائے جاتے ہیں، ابن زیاد بولا تم نے دیکھا خدا نے تمہارے اہل بیت کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ زینب نے جواب دیا ، ان کی قسمت میں شہادت مقدر ہوچکی تھی، اس لئے وہ مقتل میں آئے اور عنقریب وہ اور تم خدا کے روبرو جمع ہوگے، اس وقت وہ اس کے سامنے اس کا انصاف طلب کریں گے، یہ دندان شکن جوابات سن کر ابن زیاد غصہ سے بے تاب ہوکر بولا، خدا نے تمہارے اہل بیت کے سرکش اور نافرمان آدمی سے میرا غصہ ٹھنڈا کردیا، شہید بھائی پر یہ چوٹ سن کر زینبؓ ضبط نہ کرسکیں اوررو کر کہنے لگیں، میری عمر کی قسم تم نے ہمارے ادھیڑوں کو قتل کیا ،ہمارے گھر والوں کو نکالا،ہماری شاخوں کو کاٹا، اورہماری جڑ کو اکھاڑا، اگر اسی سے تمہاری تسکین ہوتی تو ہوگئی، ابن زیاد زینبؓ کے یہ بیباکانہ جوابات سن کر بولا، یہ جرأت اوریہ شجاعت! میری عمر عمر کی قسم تمہارے باپ بھی شجاع تھے،زینبؓ بولیں، عورتوں کو شجاعت سے کیا تعلق۔
اس کے بعد زین العابدینؓ پر اس کی نظر پڑی، پوچھا، تمہارا نام کیا ہے جواب دیا علی بن حسینؓ،نام سن کر کہنے لگا، کیا خدا نے علی بن حسینؓ کو قتل نہیں کیا؟ زین العابدینؓ خاموش رہے،ابن زیاد نے کہا بولتے کیوں نہیں؟ فرمایا میرے دوسرے بھائی کا نام بھی علی تھا، وہ قتل ہوئے، ابن زیاد نے کہا ان کو خدانے قتل نہیں کیا، زین العابدینؓ پھر چپ ہوگئے ابن زیاد نے پھر پوچھا چپ کیوں ہو؟ انہوں نے جواب میں یہ آیت تلاوت کی:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا
(الزمر:۴۲)
اللہ ہی نفسوں کو موت دیتا ہے جب ان کی موت کا وقت آتا ہے۔
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
(آل عمران:۱۴۵)
کسی نفس میں یہ مجال نہیں کہ بغیر اذن خداوندی کے مرجائے۔
ان کا جواب سن کر کہا تم بھی ان ہی میں ہو اور ان کے بلوغ کی تصدیق کراکے قتل کا حکم دیا، یہ حکم سن کر زین العابدینؓ نے کہا ان عورتوں کو کس کے سپرد کروگے، جان نثار پھوپھی زینبؓ یہ سفاکانہ حکم سن کر تڑپ گئیں اور ابن زیاد سے کہا ابھی تک تم ہمارے خون سے سیر نہیں ہوئے ،کیا ہمارا کوئی بھی آسرا باقی نہ رکھو گے، یہ کہہ کر زینب العابدین سے چمٹ گئیں اور ابن زیاد سے مصر ہوئیں کہ تم کو خدا کی قسم اگر ان کو قتل کرنا چاہتے ہو تو ان کے ساتھ مجھ کو بھی قتل کردو، لیکن زین العابدینؓ پر مطلق کوئی ہراس طاری نہ ہوا، انہوں نے نہایت سکون اور اطمینان سے کہا، اگر تم مجھے قتل ہی کرنا چاہتے ہو تو عزیز داری کا پاس کرکے اتنا کرو کہ کسی متقی آدمی کو ان عورتوں کے ساتھ کردو، جو ان کو اچھی طرح پہنچادے، زین العابدینؓ کی یہ درخواست سن کر ابن زیاد ان کا منہ تکنے لگا اور اس شقی کے دل میں بھی رحم آگیا حکم دیا کہ اس لڑکے کو عورتوں کے ساتھ رہنے کے لئے چھوڑدو۔

***
سفر شام
ابن زیاد نے اہل بیت کے حالات اور شہداء کے سروں کا معائنہ کرنے کے بعد انہیں شام روانہ کردیااور خدا خدا کرکے اہل بیت کرام کی در بدری کی مصیبت ختم ہوئی، اہل بیت کے ساتھ جو کچھ اہانت آمیز برتاؤ ہوا وہ ابن زیاد کی ذاتی خباثتِ نفس کا نتیجہ تھا، یزید کا دامن ایک حد تک اس سے بری ہے، اس میں شک نہیں کہ شہادت کا واقعہ ہائلہ اور اس کے بعد اہل بیت کے ساتھ جو زیادتیاں ہوئیں وہ یزید ہی کی عہد میں ہوئیں اوراس نے اس کا شرعی قصاص بھی نہیں لیا، اس حیثیت سے یقیناً وہ مجرم اور بہت بڑا مجرم ہے، لیکن درحقیقت ان واقعات کو اس کے حکم سے کوئی تعلق نہیں یہ سب واقعات بغیر اس کے حکم کے اوراس کی لاعلمی میں ہوئے، اس لئے ان کی ذمہ داری زیادہ تر ابن زیادہ کے سر ہے، یزید کو تاعمر اس کا قلق رہا ،جیسا کہ آیندہ واقعات سے معلوم ہوگا ۔

***
حضرت حسین کی خبر شہادت پر یزید کا تاثر
چنانچہ سب سے اول جب زحر بن قیس نے یزید کے دربار میں حضرت حسینؓ اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر پہنچائی اور غایت خیر خواہی میں اس کو پوری تفصیل سے مزے لے کر بیان کرنے لگا تو یزید انہیں سن کر آبدیدہ ہوگیا اوربولا اگر تم لوگ حسینؓ کو قتل نہ کرتے تو میں تم سے زیادہ خوش ہوتا، ابن سمیہ (ابن زیاد) پر خدا کی لعنت ہو اگر میں ہوتا تو خدا کی قسم حسینؓ کو معاف کر دیتا، خدا حسینؓ پر اپنی رحمت نازل کرے،زحر نے انعام واکرام کی طمع میں بڑی لفاظی اورحاشیہ آرائی کے ساتھ شہادت کا واقعہ بیان کیا تھا،لیکن یزید نے اسے کچھ بھی نہ دیا۔
(طبری:۷/۳۷۵)
علامہ ابو حنیفہ احمد بن داؤد دینوری جن کو اہل بیت نبویﷺ کے ساتھ خاص عقیدت ہے اوپر کا واقعہ اپنی تاریخ اخبار الطوال میں اس طرح لکھتے ہیں کہ:
جب یزید نے حسینؓ کی شہادت کے واقعات سنے تو آبدیدہ ہوگیا اور کہا تم لوگوں کا برا ہو اگر تم لوگ حسینؓ کو چھوڑدیتے تو میں زیادہ خوش ہوتا، ابن مرجانہ پر خدا کی لعنت ہو،خدا کی قسم!اگر میں حسینؓ کے پاس موجود ہوتا،تو ان کو معاف کردیتا، خدا ابو عبداللہ پر رحمت نازل فرمائے۔
(اخبار الطوال:۲۷۲)

***
شاتمین اہلبیت کو تنبیہ
جب محضر بن ثعلبہ اہل بیت کا ستم رسیدہ قافلہ لے کر یزید کے پھاٹک پر پہنچا تو چلایا کہ محضر بن ثعلبہ :امیر المومنین کی خدمت میں لئیموں اورفاجروں کا سر لایا ہے، یزید نے یہ صدا سن کر کہا کہ ام محضر نے جو بچہ جنا ہے وہ سب سے زیادہ شریر اور لیئم ہے اس کے بعد جب حضرت حسینؓ اوردوسرے مقتولوں کے سر اس کے سامنے پیش کئے گئے تو اس نے حضرت حسینؓ کے سر پر ایک نگاہ ڈالی اورایک شعر پڑھ کر کہا، خدا کی قسم ! حسینؓ اگر میں تمہارے ساتھ ہوتا تو تم کو قتل نہ کرتا، اس کے بعد یحییٰ ابن حکم نے ایک قطعہ پڑھا، جس میں ابن سمیہ کی تعریف اوراہل بیت پر کچھ طعن تھا،یزید نے سن کر اس کے سینے پر ہاتھ مارا اورڈانٹ کر خاموش کیا۔
(طبری:۷/۳۷۶)
شہداء کے سروں کے ملاحظہ کے بعد اہل بیت کے قافلہ کو طلب کیا اورامرائے شام کے روبرو زین العابدین سے کہا علی! تمہارے باپ نے میرے ساتھ قطع رحم کیا، میرے حق سے غفلت کی اورحکومت میں جھگڑا کیا یہ اسی کا نتیجہ ہے جسے تم دیکھ رہے ہو،زین العابدین نے اس پر یہ آیت تلاوت کی:
"مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا"
(الحدید:۲۲)
جتنی مصیبتیں روئے زمین پر اورخود تم پر نازل ہوتی ہیں وہ سب ہم نے ان کے پیدا کرنے سے پہلے کتاب میں لکھ رکھی ہیں۔
یہ جواب سن کر یزید نے اپنے لڑکے خالد سے کہا کہ تم اس کا جواب دو لیکن اس کی سمجھ میں نہ آیا تو یزید نے خود بتایا کہ کہو:
وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ
(الشوری:۳۰)
تم کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اوربہت سی خطاؤں کو معاف کردیتا ہے۔

***
اہلبیت نبویﷺ کا معائنہ
اس سوال وجواب کے بعد عورتوں اور بچوں کو بلاکر اپنے سامنے بٹھایا اس وقت یہ سب نہایت ابتر حالت میں تھے، یزید نے انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہا، خدا ابن مرجانہ کا برا کرے اگر اس کے اور تمہارے درمیان قرابت ہوتی تو تمہارے ساتھ یہ سلوک نہ کرتا اور نہ اس طرح سے تم کو بھیجتا، فاطمہ بنت علیؓ کا بیان ہے کہ جب ہم لوگ یزید کے سامنے پیش کئے گئے تو تو ہماری حالت دیکھ کر اس پر رقت طاری ہوگئی اور ہمارے لئے کوئی حکم دیا اور بڑی نرمی اور ملاطفت کا برتاؤ کیا۔
(ابن اثیر:۴/۷۳)
علامہ ابن اثیر اسی مجلس کا واقعہ لکھتے ہیں کہ:

***
اہلبیت کے فضائل کا اعتراف
یزید نے امام حسینؓ کے سر سے مخاطب ہوکر کہا کہ حسینؓ اگر میں تمہارے ساتھ ہوتا تو کبھی تم کو قتل نہ کرتا،پھر حاضر ین سے مخاطب ہوا کہ تم لوگ جانتے ہو ان کا یہ انجام کیوں ہوا؟ اس لئے ہوا کہ یہ کہتے تھے کہ ان کے باپ علیؓ میرے باپ سے ان کی ماں فاطمہؓ میری ماں سے ان کے دادا رسول اللہ ﷺ میرے دادا سے بہتر تھے، یہ ہے کہ ان کے باپ اور میرے باپ نے خدا سے محاکمہ چاہا اورلوگوں کو معلوم ہے کہ خدانے کس کے حق میں فیصلہ دیا ان کا یہ کہنا کہ ان کی ماں میری ماں سے بہتر تھیں تو میری عمر کی قسم مجھے اعتراف ہے کہ ان کی ماں میری ماں سے بہتر تھیں اوران کا یہ کہنا کہ ان کے نانارسول اللہ ﷺ میرے دادا سے بہتر تھے، تو میں اپنی عمر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کوئی وہ مسلمان جو خدا اور یوم قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ ہم میں سے کسی کو رسول اللہ ﷺ کا مثل نہیں ٹھہراسکتا مگر افسوس انہوں نے قل اللھم مالک الملک کا خدائی فرمان نہیں پڑھا تھا۔

***
یزید کے گھر میں حسینؓ کا ماتم
اہل بیت سے گفتگو کے بعد ان سب کو خاص حرا سرا میں ٹھہرانے کا حکم دیا، یزید خود حضرت حسینؓ کا رشتہ دار تھا، اس کی عورتیں بھی عزیز تھیں، اس لئے ستم رسیدہ قافلہ کے زنانخانے میں داخل ہوتے ہی یزید کے گھر میں کہرام مچ گیا، اور ساری عورتوں نے نوحہ کیا تین دن تک کامل یزید کے گھر میں ماتم بپا رہا، اس دوران میں یزید برابر زین العابدین کو اپنے ساتھ دسترخوان پر بلاکر کھلاتا تھا۔
(طبری:۷/۳۷۸)

***
نقصان مالی کی تلافی
یاد ہوگا کہ حضرت حسینؓ کی شہادت کے بعد شامی وحشیوں نے اہل بیت نبوی کا کل سازو سامان لوٹ لیا تھااور ابن سعد کے حکم کے باوجود کسی نے واپس نہ کیا تھا،یزیدنے اس کی پوری تلافی کی اور تمام عورتوں سے پوچھ پوچھ کر جن جن کا جس قدر مال و متاع گیا تھا ،اس کا دونا مال دلوایا، سکینہ بنتِ حسینؓ اس کے اس تلافی مافات سے بہت متاثر ہوئیں؛چنانچہ وہ کہتی تھیں کہ میں نے منکرین خدا میں یزید سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔

***
اگر میری اولاد بھی کام آجاتی
چند دن قیام کرنے کے بعد جب اہل بیت کو کسی قدر سکون ہوا تو یزید نے انہیں عزت واحترام کے ساتھ مدینہ بھجوانا چاہا اور سب کو بلاکر زین العابدینؓ سے کہا ابن مرجانہ پر خدا کی لعنت ہو اگر میں ہوتا تو حسینؓ جو کچھ کہتے میں مان لیتا اوران کی جان بچانے کی پوری کوشش کرتا خواہ اس میں میری اولاد ہی کیوں نہ کام آجاتی ،لیکن اب قضائے الہی پوری ہوچکی، بہرحال جب بھی تم کو کسی قسم کی ضرورت پیش آئے تو فوراً مجھے لکھنا۔
(ایضا:۳۷۹)

***
شام سے اہلبیت کی مدینہ روانگی
ان سب سے مل کر نعمان بن بشیر کو حکم دیا کہ اہل بیت کی ضروریات کا کل سامان مہیا کیا جائے اورچند دیانتدار اورنیک شامیوں کے ساتھ انہیں رخصت کیا جائے اورحفاظت کے لئے مدینہ تک سواروں کا دستہ ساتھ جائے، اس حکم پر جملہ ضروری سامان مہیا کیا گیا اوریزید نے انہیں رخصت کیا جو لوگ حفاظت کے لئے ساتھ کئے گئے تھے، انہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے،ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہوتے تھے،جہاں قافلہ منزل کرتا تھا، یہ لوگ پردہ کے خیال سے الگ ہٹ جاتے تھے،اسی حفاظت و مدارات کے ساتھ قافلہ کو مدینہ پہنچایا، مخدرات اہل بیت کے شریف اور منت پذیر دل ان محافظوں کے شریفانہ سلوک سے بہت متاثر ہوئے؛ چنانچہ فاطمہؓ اورزینبؓ نے اپنے کنگن اور بازو بند اتار کر شکرانہ کے طور پر بھیجے اورزبانی کہلایا کہ اس وقت ہم معذور ہیں،اسی قدر معاوضہ دے سکتے ہیں؛ لیکن نعمان بن بشیر نے اس کو واپس کردیا اورکہا اگرہم نے دنیاوی منفعت کے لئے یہ خدمت کی ہوتی تو یہ چیزیں معاوضہ ہوسکتی تھیں،لیکن خدا کی قسم ہم نے جو کچھ کیا وہ خالصۃ للہ اور رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے خیال سے کیا ہے۔
(ابن اثیر:۴/۷۶)

***
بعض غیر مستند روایات پر تنقید
اوپر کے واقعات سے اہل بیت نبویﷺ کے ساتھ یزید کے برتاؤ کا پورے طور پر اندازہ ہوجاتا ہے اوران بے سروپا انسانوں کی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے، جن سے مخدرات عصمت مآب کی سخت توہین ہوتی ہے، البتہ دو ایک واقعات ضرور اس قسم کے ملتے ہیں،جو نازیبا کہے جاسکتے ہیں اوریقیناً قابل ملامت ہیں؛ لیکن ان واقعات کی صحت ہی محلِ نظر ہے،بہرحالت وہ واقعات ہم اس موقع پر بجنسہ نقل کرتے ہیں:
ایک واقعہ یہ ہے کہ فاطمہ بنت علیؓ نوخیز اور خوبصورت تھیں، جب خاندان نبویﷺ کی مستورات یزید کے سامنے پیش کی گئیں تو فاطمہؓ کو دیکھ کر ایک شامی وحشی نے کہا، امیر المومنین یہ لڑکی مجھے دیدیجئے اس کی فرمایش پر فاطمہؓ ڈر گئیں اوراپنی بڑی بہن کا کپڑا پکڑلیا، زینبؓ ان سے عمر میں بڑی تھیں، وہ جانتی تھیں کہ یزید شرعا ًفاطمہؓ کو کسی کے حوالہ نہیں کرسکتا، اس لئے انہوں نے اس شامی کو ڈانٹا تو جھوٹ بکتا ہے، اگر تو مر بھی جائے تو یہ لڑکی نہ تجھ کو مل سکتی ہے اور نہ یزید کو چونکہ زینبؓ نے جواب میں یزید کو بھی شامل کرلیا تھا، اس لئے یزید نے کہا تم جھوٹ کہتی ہو، اگر میں چاہوں تو اس لڑکی کو لے سکتا ہوں، زینبؓ نے پھر کہا جب تک تم ہمارا مذہب چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار نہ کرلو، اس وقت تک تمہارے لئے ہر گز یہ جائز نہیں (یعنی مال غنیمت کے طورپر مسلمان عورت پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا) اس پر یزید اورزیادہ برہم ہوگیا اورکہا یہ خطاب مجھ سے ہے میں دین سے نکلوں یا تمہارے باپ اور بھائی دین سے نکلے تھے،زینبؓ نے کہا،خدا کے دین، میرے باپ کے دین، میرے نانا کے دین سے تم کو، تمہارے باپ کو اورتمہارے دادا کو ہدایت ملی، یزید نے کہا دشمن خدا تو جھوٹ کہتی ہے،زینبؓ نے جواب دیا تو تو جابرا میرہے، اس لئے ظلم سے برا کہتا ہے اوراپنی بادشاہت کے زعم میں استبداد کرتا ہے، اس جواب پریزید شرما کر خاموش ہوگیا ،شامی نے پھر کہا امیر المومنین! یہ لڑکی مجھے عنایت ہو، شامی کے دوبارہ کہنے پر یزید نے اس کو ڈانٹا کہ خدا تجھ کو موت دے اورکبھی تجھے بیوی بھی نصیب نہ ہو۔
(گویہ طبری کی روایت ہے لیکن اس کا روای حارث بن کعب شیعہ ہے اس لئے ظاہر ہے کہ یزید کی مخالفت میں اس روایت کا کیا پایہ ہوگا اس کی تدلیس کا اندازہ اس طرح بھی ہوتا ہے کہ یہی واقعہ حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں بھی لکھا ہے مگر اس میں یزید کی اس تلخ گفتگو کا کوئی ذکر نہیں؛چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ جب اہل بیت کا قافلہ یزید کے پاس پہنچا تو جو شامی وہاں تھے وہ یزید کے پاس فتح کی مبارکباد دینے کے لئے آئے تھے، ان میں سے ایک سرخ رنگ کے آدمی نے اہل بیت کی ایک لڑکی کی طرف دیکھ کر کہا امیر المومنین! یہ لڑکی مجھے دے دیجئے، زینبؓ بولیں، خدا کی قسم یہ لڑکی نہ تجھ کو مل سکتی ہے اورنہ خود یزید کو، جب تک وہ اللہ کے دین سے نہ نکل جائے، شامی نے دوبارہ پھر سوال کیا مگر یزید نے روک دیا۔
اس روایت میں یزید کی سخت کلامی کا مطلق تذکرہ نہیں اور اس واقعہ میں جو بد نمائی تھی وہ بھی بالکل نہیں پائی جاتی، درایۃ ًبھی یہ روایت خلاف قیاس ہے؛ کیونکہ جس لڑکی کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے اس کا نام فاطمہ بنت علیؓ بتایا ہے اوراس کے لئے جاریہ کا استعمال کیا گیا ہے یعنی وہ اس وقت بہت کم سن لڑکی تھی، حالانکہ اس وقت فاطمہ بنت علیؓ کی عمر ۲۴،۲۵ سال سے کم نہ رہی ہوگی، کیونکہ حضرت علیؓ ۴۰ھ میں شہید ہوئے اور ۶۱ھ کا یہ واقعہ ہے اس لئے اگر حضرت علیؓ کی وفات کے وقت فاطمہؓ کی عمر دو تین سال بھی مانی جائے،تب بھی ۶۱ھ میں ۲۴ سال کی ہوگی اورجاریہ سے گزر کر وہ پوری بال بچوں والی عورت ہوں گی،کیونکہ جاریہ کمسن اورنوخیزہ لڑکی کو کہتے ہیں اس لحاظ سے سرے سے اس واقعہ کی صحت ہی مشتبہ ہوجاتی ہے۔
دوسرا مشہور واقعہ یہ ہے کہ جب یزید کے سامنے حضرت حسینؓ کا سر لایا گیا تو اس نے چھڑی سے دندانِ مبارک کو ٹہونکا دیا، مگر یہ واقعہ سراسر جھوٹ ہے یہ واقعہ ابن زیاد کا ہے جس کو غلط فہم راویوں نے یزید کی طرف منسوب کردیا۔
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ بالکل جھوٹ ہے، کیونکہ جن صحابہ سے یہ واقعہ مروی ہے وہ شام میں موجود ہی نہ تھے۔
ان دو واقعوں کے علاوہ اورکوئی قابل ذکر واقعہ کسی مستند تاریخ میں مذکور نہیں ہے باقی عام طورپر جو پردروافسانے شہادت ناموں میں ملتے ہیں وہ محض مجالسِ عزا کی گرمی کے لئے گھڑ لئے گئے ہیں کہ ع:بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستان کے لئے،ورنہ تاریخی حیثیت سے ان کی کوئی حقیقت نہیں ؛البتہ حضرت علیؓ اورحضرت حسینؓ پر چوٹ اور طعن وطنز کی بہت سی مثالیں ہیں، لیکن یہ تمام باتیں یزید کے ساتھ مخصوص نہیں ؛بلکہ امیر معاویہؓ اورعمر بن عبدالعزیزؓ کے سوا شروع سے آخر تک قریب قریب تمام اموی فرما نروا اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور یہ ان کی خاندانی چشمک کا نتیجہ تھا۔

***
واقعہ شہادت پر ایک نظر
درحقیقت حضرت حسینؓ کا واقعہ شہادت بھی منجملہ ان واقعات کے ہے جس میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں نے بڑی افراط و تفریط سے کام لیا ہے، بعض اسے اتنا گھٹاتے ہیں کہ خام بدہن حضرت حسینؓ کو حکومت کا باغی قرار دے کر آپ کے قتل کو جائز ٹھہراتے ہیں اوربعض اتنا بڑھاتے ہیں کہ اس کا اندرونی سلسلہ تکمیل نبوت سے ملادیتے ہیں، خود اہلسنت کے اکابر علما نے اس میں بڑی بڑی نکتہ آفرینیاں کی ہیں ؛چنانچہ بعضوں نے واقعہ شہادت اور تکمیل نبوت میں اس طرح ایک مخفی رشتہ قائم کیا ہے کہ خدائے تعالی نے تمام انبیاء کے انفرادی فضائل ذات پاک محمدیﷺ میں جمع کردیئے تھے اورآپ کی ذات گرامی حسن یوسف،دم عیسیٰ ید بیضاداری کی حامل اورآنچہ خوبان ہمہ دارند تو تنہا داری کی مصداق تھی خدا کی راہ میں شہادت بھی ایک بہت بڑی فضیلت ہے، جس سے اس نے اپنے بہت سے محبوب انبیاء کو نوازا ؛لیکن چونکہ ذات محمدی ان سب سے اعلی وارفع تھی اور امت کے ہاتھوں شہادت آپ کے مرتبہ نبوت سے فرو تر تھی اس لئے اس منصب کی تکمیل کے لئے آپ کے نواسہ کو جو گویا آپ کے جسد اطہر کا ایک ٹکڑا تھے ،انتخاب فرمایا،اس طرح سے آپ کی جامعیت کبریٰ میں جو خفیف سا نقص باقی رہ گیا تھا اس کی تکمیل ہوگئی۔
خو ش اعتقادی کا اقتضا یہ ہے کہ ان بزرگوں کے خیالات کو عقیدت کے دل سے قبول کرلیا جائے،لیکن اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس قسم کی خیالات کی حیثیت شاعرانہ نکتہ آفرینی اورخوش خیالی سے زیادہ نہیں ہے،کیونکہ نبوت کی تکمیل کیلئے کسی بیرونی جزو کی ضرورت نہیں ،نبوت خود ایسا جامع اور کامل وصف ہے جو اپنی تکمیل کیلئے کسی بیرونی سہارے کا محتاج نہیں،ہزاروں انبیاء ورسل دنیا میں آئے؛ لیکن کیا ان میں سے سب خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوئے اورجن کو یہ منصب نہیں ملا ان کی نبوت ناقص رہ گئی؟ غالبا ًاسے کوئی صاحب مذہب بھی تسلیم نہ کرے، پھر ذات پاک محمدیﷺ تو خود قصر نبوت کی آخری تکمیل اینٹ تھی جس کے بعد کسی کمال کی حاجت نہیں اور سورہ فتح اور سورۂ مائدہ نے اس تکمیل پر تصدیقی مہر کردی تھی اور اگر بالفرض تکمیل نبوت کے لئے کسی درجہ پر شہادت کی ضرورت تسلیم بھی کرلی جائے (اگرچہ اس کی مذہبی سند نہیں ہے) تو غزوہ احد میں سید الشہداء حضرت حمزہؓ کی شہادت پر اس کی تکمیل ہوچکی تھی اور چچا کی شہادت کے بعد نواسہ کی شہادت کا انتظار باقی نہ رہ گیا تھا، پھر یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ شہادت گو مرتبہ نبوت سے فرو تر ہے ،لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں تکمیل فرض نبوت کے خاطر کیا کیا مصائب نہیں برداشت کئے ہر طرح کی سختیاں سہیں، دشمنوں کی گستاخیاں برداشت کیں گلوئے مبارک میں پھندا ڈالا گیا، راستہ میں کانٹے بچھائے گئے،پشت مبارک پر نجاستوں کے انبار لادے گئے، سنگباری سے جسم مبارک سے خون کے فوارے چھوٹے،دندان مبارک شہید کیا گیا، گھر سے بے گھر ہوئے ،جان تک لینے کی تیاریاں کی گئیں کیا میزان آزمائش میں شہادت کے مقابلہ میں یہ قربانیاں ہلکی رہیں گی۔
ہرگز نہیں ایک مرتبہ جان دے دینا تو پھر بھی آسان ہے لیکن مسلسل مشق ستم بنا رہنا اس سے بہت دشوار ہے، اس کے علاوہ اگر مذہبی حیثیت سے اس قسم کی خیال آرائیوں پر غور کیا جائے تو ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی اس کی تائید میں کوئی ضعیف سے ضعیف روایت بھی تو نہیں مل سکتی اوربغیر حدیث کی شہادت کے اسے کسی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا، مذہب اسلام میں بہت سی گمراہیاں اسی منصب نبوت کے ساتھ افراط و تفریط کرنے سے ہوئی ہیں، اس لئے اس قسم کے تخیلات سے محض شاعرانہ نکتہ کی حیثیت سے لطف لیا جاسکتا ہے،لیکن اسے اعتقاد نہیں بنایا جاسکتا۔
لیکن اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس شہادت کی حیثیت کیا تھی؟ کیا حضرت حسینؓ محض حصول خلافت کے لئے کوفہ گئے مگر اس میں ناکام رہے اور قتل کردیئے گئے یا اس کے اندر کوئی اور راز مضمر تھا، اگر پہلی صورت مان لی جائے تو پھر حسینؓ کی شہادت اور عام حوصلہ مندوں کی قسمت آزمائی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا اس کے جواب کے لئے یزید کی ولیعہدی سے لیکر واقعہ شہادت تک کے حالات پر نظر ڈالنی چاہیے کہ یزید کی ولیعہدی کی مذہبی حیثیت کیا تھی اور کن حالات میں مسلمانوں نے اسے ولیعہد تسلیم کیا تھا؟ اوراس کے ہمعصروں میں اس منصب کے لئے اس سے زیادہ اہل اشخاص موجود تھے یا نہیں؟ اورخلافت کے بعد اس کا طرز حکومت کیسا تھا؟
امیر معاویہؓ نے جس طرح یزید کو ولیعہد بنایا تھا اس کی تفصیل اوپر ان کے حالات میں گذر چکی ہے، گو اس بارہ میں روایات مختلف ہیں تاہم اتنا قدر مشترک ہے کہ مدینہ کے ارباب رائے صحابہؓ نے خوشی سے امیر کی یہ بدعت نہیں تسلیم کی اور عبداللہ بن زبیرؓ، عبدالرحمن بن ابی بکر، حسینؓ اوردوسرے نوجوانون نے علی الامکان اس کی مخالفت کی تھی، ابن زبیرؓ نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم خلافت کے بارہ میں رسول اللہ ﷺ اورخلفائے راشدینؓ کے طریقہ کے علاوہ اورکوئی نیا طریقہ نہیں قبول کرسکتے، عبدالرحمن بن ابی بکرؓ نے اس سے بھی زیادہ تلخ لیکن صحیح جواب دیا، مروان نے جب مدینہ میں یزید کی ولیعہدی کا مسئلہ پیش کیا تو کہا امیر المومنین معاویہ چاہتے ہیں کہ ابو بکرؓ وعمرؓ کی سنت کے مطابق اپنے لڑکے یزید کو خلیفہ بنا جائیں، عبدالرحمن نے جواب دیا یہ ابوبکر و عمرؓ کی سنت نہیں ہے؛بلکہ کسریٰ وقیصر کی ہے ،ابو بکرؓ و عمرؓ نے اپنی اولاد کو اپنا جانشین نہیں کیا ؛بلکہ اپنے خاندان میں سے بھی کسی کو نہیں بنایا، لیکن چونکہ عہد نبوت کے بُعد کی وجہ سے بڑی حد تک حریت و آزادی کا خاتمہ ہوچکا تھا، اس لئے کچھ لوگوں نے امیر معاویہ کے دبدبۂ وشکوہ سے مرعوب ہوکر کچھ لوگوں نے مال وزر کے مطع میں اوربعضوں نے محض اختلاف امت کے خطرہ سے بچنے کے لئے یزید کو ولیعہد مان لیا، جو لوگ مخالفت تھے انہوں نے بھی جان کے خوف سے خاموشی اختیار کرلی، بہرحال کسی نے خو شدلی کے ساتھ یزید کو ولیعہد نہیں تسلیم کیا، ابن زبیرؓ،حسینؓ، عبدالرحمنؓ، گو خاموش ہوگئے تھے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی ولیعہدی تسلیم نہیں کی تھی، امیر معاویہ نے ان سے یہاں تک کہا کہ تم لوگ یزید کو محض خلیفہ کا نام دیدو، باقی عمال کا عزل ونصب، خراج کی تحصیل وصول اوراس کا مصرف سب تمہارے ہاتھوں میں رہے گا، لیکن اس قیمت پر بھی انہوں نے آمادگی ظاہر نہ کی، ان کے انکار پر امیر معاویہ بھی مصلحت وقت کے خیال سے خاموش ہوگئے ۔
یہ یزید کی ولیعہد کی صورت تھی اس کے علاوہ اگر اس حیثت سے دیکھا جائے کہ اس وقت یزید سے بہترا شخاص اس منصب کے لئےموجود تھے تو یزید کی ولیعہدی اورزیادہ قابل اعتراض ہوجاتی ہے کیونکہ مذکورہ با لاتینوں بزرگوں میں سے ہر ایک یزید کے مقابلہ میں زیادہ اہل تھا ،اکابر صحابہ میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ اوربعض دوسرے بزرگ موجود تھے، جن کے ہوتے ہوئے یزید کا نام کسی طرح نہیں لیا جاسکتا تھا،لیکن امیر معاویہؓ نے ان تمام شخصیتوں سے قطع نظر کرکے یزید کو ولیعہد بنادیا، اس کے بعد جب یزید خلیفہ ہوا تو بھی اس نے اپنے آپ کو اس منصب کا اہل ثابت نہیں کیا ،بجائے اس کے کہ وہ ان بزرگوں کے مشورہ سے نظام حکومت چلاتا یا کم از کم امیر معاویہ کی طرح نرم پالیسی رکھتا، اس نے تخت خلافت پر قدم رکھتے ہی استبدادشروع کردیا اورعمائد مکہ سے بیعت لینے کے احکام جاری کئے ،ایسی صورت میں حضرت حسینؓ یا اس نامنصفانہ حکم کو مان لیتے اور یزید کی غیر شرعی بیعت کو قبول کرکے تاریخ اسلام میں ظلم نا انصافی کے سامنے سپر ڈالنے کی مثال قائم کرتے یا اس کے خلاف آواز بلند کرکے استبداد کے خلاف عملی جہاد کا سبق دیتے ،ان دونوں صورتوں میں آپ نے دوسری صورت اختیار کی اوراس حکومت کے خلاف اٹھ کر غیر شرعی طریق پر قائم ہوئی تھی اورجس نے بہت سی اسلامی روایات کو پامال کررکھا تھا،مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے حریت وآزادی کا سبق دیدیا جس کا ثبوت خود حضرت حسینؓ اور آپ کے دعاۃ کی تقریروں سے ملتا ہے؛چنانچہ مسلم بن عقیل پر جب ابن زیاد نے یہ فرد جرم قائم کیا کہ لوگ متحد الخیال تھے ایک زبان تھے تم انہیں پراگندہ کرنے ان میں پھوت ڈلوانے اوران کو آپس میں لڑانے کے لئے آئے، تو مسلم نے اس کا یہ جواب دیا:
كلا لست أتيت ولكن أهل المصر زعموا أن أباك قتل خيارهم وسفك دماءهم وعمل فيهم أعمال كسرى وقيصر فأتيناهم لنأمر بالعدل وندعو إلى حكم الكتاب
(تاریخ الطبری،باب ذکر الخبر عن مراسلۃ الکوفیین:۳/۲۹۱،شاملۃ۳۸)
ہرگز نہیں میں خود سے نہیں آیا ؛بلکہ شہر (کوفہ)والوں کا خیال تھا کہ تمہارے باپ نے ان کے بھلے آدمیوں کو قتل کیا،ان کا خون بہایا اوران میں کسریٰ وقیصر کا ساطرز عمل اختیار کیا اس لئے ہم ان کے پاس آئے تاکہ ہم لوگوں کو انصاف کا حکم اورکتاب اللہ کے حکم کی دعوت دیں۔
قال أبو مخنف عن عقبة بن أبي العيزار إن الحسين خطب أصحابه وأصحاب الحر بالبيضة فحمد الله وأثنى عليه ثم قال أيها الناس إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال من رأى سلطانا جائرا مستحلا لحرم الله ناكثا لعهد الله مخالفا لسنة رسول الله يعمل في عباد الله بالإثم والعدوان فلم يغير عليه بفعل ولا قول كان حقا على الله أن يدخله مدخله ألا وإن هؤلاء قد لزموا طاعة الشيطان وتركوا طاعة الرحمن وأظهروا الفساد وعطلوا الحدود واستأثروا بالفيء وأحلوا حرام الله وحرموا حلاله وأنا أحق من غير قد أتتني كتبكم وقدمت علي رسلكم ببيعتكم أنكم لا تسلموني ولا تخذلوني فإن تممتم على بيعتكم تصيبوا رشدكم فأنا الحسين بن علي وابن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم نفسي مع أنفسكم وأهلي مع أهليكم فلكم في أسوة وإن لم تفعلوا ونقضتم عهدكم وخلعتم بيعتي من أعناقكم فلعمري ما هي لكم بنكر لقد فعلتموها بأبي وأخي وابن عمي مسلم والمغرور من اغتر بكم فحظكم أخطأتم ونصيبكم ضيعتم ومن نكث فإنما ينكث على نفسه وسيغني الله عنكم والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ۔
(تاریخ الطبری،باب ذکر الخبر عماکان فیھا من:۳/۳۰۶،شاملۃ:۳۸)
ابو مخنف عقبہ بن ابی العیزار سے روایت کرتے ہیں کہ مقام بیضہ میں حسینؓ نے اپنے اور حر کے ساتھیوں کے سامنے خطبہ دیا اور حمد و ثنا کے بعد کہا کہ لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے ایسے بادشاہ کو دیکھا جو ظالم ہے خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرتا ہے خدا کے عہد کو توڑتا ہے سنت رسول کی مخالفت کرتا ہے خدا کے بندوں میں گناہ اورزیادتی کے ساتھ حکومت کرتا ہے اور دیکھنے والے کو اس پر عملا یا قولا غیرت نہ آئی تو خدا کو یہ حق ہے کہ اس بادشاہ کی جگہ اس دیکھنے والے کو دوزخ میں داخل کردے میں تم کو آگاہ کرتا ہوں کہ ان لوگوں (بنی امیہ) نے شیطان کی اطاعت قبول کرلی ہے اوررحمن کی اطاعت چھوڑدی ہے، خدا کی زمین پر فتنہ وفساد پھیلا رکھا ہے حدود اللہ کو بیکار کردیا ہے ،مال غنیمت میں اپنا حصہ زیادہ لیتے ہیں،خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اوراس کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کردیا ہے اس لئے مجھے ان باتوں پر غیرت آنے کا زیادہ حق ہے، میرے پاس بلاوے کے تمہارے خطوط آئے ،بیعت کا پیام لے کر تمہارے قاصد آئے،انہوں نے کہا کہ تم مجھے دشمنوں کے حوالہ نہ کرو گے اوربے یارومددگار نہ چھوڑوگے پس اگر تم اپنی بیعت کے حقوق پورے کرو گے تو ہدایت پاؤ گے میں حسینؓ علی ؓ ابن ابی طالب اور فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کا بیٹا ہوں میری جان تمہاری جانوں کے ساتھ اورمیرے اہلبیت تمہارے گھر والوں کے ساتھ ہیں تمہارے لئے میری ذات نمونہ ہے اب اگر تم اپنے فرائض پورے نہ کروگے اوراپنا عہد وپیمان توڑ کر اپنی گردنوں سے میری بیعت کا حلقہ اتاروگے تو خدا کی قسم تم سے یہ بھی بعید نہیں، تم میرے باپ بھائی اور میرے ابن عم مسلم کے ساتھ ایسا کرچکے ہو،وہ فریب خوردہ ہے،جو تمہارے فریب میں آگیا تم نے نقص عہد کرکے اپنا حصہ ضائع کردیا جو شخص عہد توڑ تا ہے اس کا وبال اسی پر ہوتا ہے اورعنقریب خدا مجھ کو تمہاری امداد سے بے نیاز کردیگا ،والسلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ۔
اس تقریر سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یزید کے مقابلہ میں حضرت حسینؓ کا آنا محض حصول خلافت کے لئے نہ تھا؛بلکہ اس کا مقصد اسلامی خلافت کا احیا تھا، یعنی موروثی حکومت کے اثر سے اس کے نظام میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں ان کو دور کرکے پھر خلافت راشدہ کی یاد تازہ کردی جائے اس کا ثبوت اس طرح بھی ملتا ہے کہ حضرت حسینؓ نے خود اس کی خواہش نہیں کی ؛بلکہ جب اہل عراق نے پیہم خطوط سے آپ کو اس کا یقین دلادیا کہ ان کے لئے یزید کی حکومت ناقابل برداشت ہے،اس وقت آپ نے کوفہ کا قصد فرمایا، اسی لئے آپ کے تشریف لانے کے بعد جب عراقیوں نے دھوکا دیدیا تو آپ واپس جانے پر آمادہ ہوگئے اور فرمایا کہ تم نے اپنی شکایات کی بنا پر مجھے بلایا تھا، اب جب کہ تم اسے پسند نہیں کرتے تو مجھے بھی اس کی خواہش نہیں ہے میں جہاں سے آیا ہوں واپس چلا جاؤں گا۔
درحقیقت حضرت امام حسین ؓ کے دعویٰ خلافت اور شہادت کے بارہ میں افراط و تفریط سے پاک صحیح مسلک یہ ہے کہ نہ آپ شیعی عقیدہ کے مطابق خلیفہ برحق تھے اور نہ خوارج کے عقیدہ کے مطابق نعوذ باللہ باغی جس کا قتل روا ہو ؛بلکہ آپ کوفیوں کی دعوت پر ایک نیک مقصد تجدید خلافت کے لئے اٹھے تھے اوراس کی راہ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔

***
فضل وکمال
آنحضرتﷺ کی زندگی میں حسینؓ کمسن بچہ تھے اس لئےبراہ راست ذاتِ نبوی ﷺ سے استفادہ کا موقع نہ ملا،لیکن حضرت علیؓ جیسے مجمع البحرین علم و عمل باپ کی تعلیم و تربیت نے اس کی پوری تلافی کردی، تمام اربابِ سیر آپ کے کمالات علمی کے معترف ہیں ،علامہ ابن عبدالبر،امام نوی،علامہ ابن اثیر تمام بڑے بڑے ارباب سیر اس پر متفق ہیں کہ حسینؓ بڑے فاضل تھے (دیکھو استیعاب ابن عبدالبر،تہذیب الاسماء نووی اوراسد الغابہ وغیرہ تراجم حسینؓ) لیکن افسوس اس اجمالی سند کے علاوہ واقعات کی صورت میں ان کمالات کو کسی سیرت نگارنے قلمبند نہیں کیا۔

***
احادیث نبویﷺ
حضرت حسینؓ خانوادہ نبویﷺ کے رکن رکین تھے، اس لئے آپ کو احادیث کا بہت بڑا حافظ ہونا چاہیے تھا، لیکن صغر سنی کے باعث آپ کو اس کے مواقع کم ملے اورجو ملے بھی اس میں ابھی آپ کا فہم و حافظہ اس لائق نہ تھا کہ سمجھ کر محفوظ رکھ سکتے ،اس لئے براہِ راست آنحضرتﷺ سے سنی ہوئی مرویات کی تعداد کل آٹھ ہے (تہذیب الکمال:۸۳) جو آپ کی کمسنی کو دیکھتے ہوئے کم نہیں کہی جاسکتی البتہ بالواسطہ روایات کی تعداد کافی ہے،آنحضرتﷺ کے علاوہ جن بزرگوں سے آپ نے حدیثیں روایت کی ہیں،ان کے نام حسب ذیل ہیں: حضرت علیؓ، حضرت فاطمہ زہراؓ، ہند ابی ہالہ، عمر بن الخطابؓ وغیرہ جن رواۃ نے آپ سے روایتیں کی ہیں ان کے نام یہ ہیں ،آپ کے برادر بزرگ حضرت حسنؓ ،صاحبزادہ علی اورزید، صاحبزادی سکینہ، فاطمہ ،پوتے ابو جعفر الباقر، عام رواۃ میں شعبی ،عکرمہ ،کرز التمیمی سنان بن ابی سنان دولی، عبداللہ بن عمرو بن عثمان، فرزدق شاعر وغیرہ
(تہذیب التہذیب :۴/۳۴۵)

***
فقہ وفتاویٰ
قضا وافتا میں حضرت علیؓ کا پایہ تمام صحابہؓ میں بڑا تھا، اس موروثی دولت میں حضرت حسینؓ کو بھی وافر حصہ ملا تھا؛چنانچہ ان کے معاصر ان سے استفتا کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ابن زبیرؓ کو جو عمر میں ان سے بڑے اورخود بھی صاحب کمال بزرگ تھے،قیدی کی رہائی کے بارہ میں استفتا کی ضرورت ہوئی، تو انہوں نے حضرت حسینؓ کی طرف رجوع کیا اوران سے پوچھا، ابو عبداللہ قیدی کی رہائی کے بارہ میں تمہارا کیا خیال ہے اس کی رہائی کا فرض کسی پر عائدہ ہوتا ہے، فرمایا ان لوگوں پر جن کی حمایت میں وہ لڑا ہو۔
اس طرح ایک مرتبہ ان کو شیر خوار بچہ کے وظیفہ کے بارہ میں استفسار کی ضرورت ہوئی تو اس میں بھی انہوں نے حضرت حسینؓ کی طرف رجوع کیا آپ نے بتایا کہ پیدائش کے بعد ہی جب سے بچہ آواز دیتا ہے وظیفہ واجب ہوجاتا ہے۔
اسی طریقہ سے کھڑے ہوکر پانی پینے کے بارہ میں پوچھا،آپ نے اس سوال پر اسی وقت اونٹنی کا دودھ دہا کر کھڑے کھڑے پیا، آپ کھڑے ہوکر کھانے میں بھی مضائقہ نہ سمجھتے تھے ؛چنانچہ بھنا ہوا بکری کا گوشت لے لیتے تھے اور کھاتے کھلاتے چلے جاتے تھے۔
(یہ تینوں واقعات استیعاب سے ماخوذ ہیں :۱/۱۴۸)
آپ کے تفقہ کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ فقیہ اعظم حضرت امام ابو حنیفہؒ، حضرت امام باقر کے شاگرد تھے اورحدیث و فقہ میں ان سے بہت کچھ استفادہ کیا تھا اور دینی علوم میں امام باقر کو سلسلہ بہ سلسلہ اپنے اسلاف کرام سے بڑا فیض پہنچا تھا۔

***
خطابت
ان مذہبی کمالات کے علاوہ اس عہد کے عرب کے مروجہ علوم میں بھی پوری دستگاہ رکھتے تھے،خطابت اس زمانہ کا بڑا کمال تھا، آپ کے والد بزرگوار حضرت علیؓ اپنے عہد کے سب سے بڑے خطیب تھے، نہج البلاغہ کے خطبات آپ کے کمال خطابت کے شاہد ہیں،حضرت حسینؓ کو بھی اس موروثی کمال سے وافر حصہ ملا تھا اوران کا شمار اس عہد کے ممتاز خطیبوں میں تھا، واقعہ شہادت کے سلسلہ میں آپ کے بہت سے خطبات گزرچکے ہیں ان سے آپ کی خطابت کا پورا اندازہ ہوگیا ہوگا۔
شاعری
ادب اور تذکرہ و تراجم کی کتابوں میں آپ کی جانب بہت سے حکیمانہ اشعار منسوب ہیں؛ لیکن ان کی صحت مشکوک ہے۔

***
کلمات طیبات
آپ کے کلماتِ طیبات اورحکیمانہ مقولے اخلاق وحکمت کا سبق ہیں فرماتے تھے ،سچائی عزت ہے، جھوٹ عجز ہے، رازداری امانت ہے،حق جوار قرابت ہے اور دوستی ہے، عمل تجربہ ہے، حسن خلق عبادت ہے،خاموشی زینت ہے،بخل فقر ہے ،سخاوت دولتمندی ہے،نرمی عقلمندی ہے،ایک مرتبہ آپ نے حسن بصریؒ سے چند اخلاقی باتیں کیں وہ آپ کو پہچانتے تھے، اس لئے یہ باتیں سن کر متعجب ہوئے،آپ جب چلے گئے تو لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون تھے لوگوں نے کہا حسینؓ بن علیؓ،یہ سن کر حسن بصریؒ نے کہا تم نے میری مشکل حل کردی،یعنی اب کوئی تعجب کی بات نہیں۔
(یعقوبی:۲/۲۹۲)

***
فضائل اخلاق
آپ کی ذات گرامی فضائل اخلاق کا مجموعہ تھی ارباب سیر لکھتے ہیں کہ کان الحسین رضی اللہ عنہ کثیر الصلوٰۃ والصوم والحج والصدقہ وافعال الخیر جمیعا یعنی حضرت حسینؓ بڑے نمازی،بڑےروزہ دار، بہت حج کرنے والے ،بڑے صدقہ دینے والے اور تمام اعمال حسنہ کو کثرت سے کرنے والے تھے۔
(استیعاب واسدالغابہ،تذکرہ حسین)

***
عبادت
فضائل اخلاق میں راس الاخلاق عبادت الہی ہے، حضرت حسینؓ کو تمام عبادات خصوصاً نماز سے بڑا ذوق تھا، اس کی تعلیم بچپن میں خود صاحبِ شریعت علیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے حاصل کی تھی، اس تعلیم کا اثر یہ تھا کہ آپ بکثرت نمازیں پڑہتے تھے،کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کو بیویوں سے بھی ملنے کا کم موقع ملتا تھا ،ایک مرتبہ کسی نے امام زین العابدین سے کہا تمہارے باپ کی اولاد کس قدر کم ہے آپ نے فرمایا اس پر تعجب کیوں ہے، وہ رات وہ دن میں ایک ایک ہزار نمازیں پڑہتے تھے، عورتوں سے ملنے کا انہیں موقعہ کہاں ملتا تھا، (استیعاب واسد الغابہ،تذکرہ حسینؓ) یہ روایت مبالغہ آمیز ہے،اس سے زندگی کی دوسری ضروریات کے ساتھ ایک ایک ہزار رکعتیں روزانہ پڑہنا ناممکن ہے،غالباً راوی سے سہو ہوگیا ہے؛ لیکن اس سے ان کی کثرتِ عبادات کا ضرور پتہ ملتا ہے ۔
روزہ بھی کثرت کے ساتھ رکھتے تھے،تمام ارباب سیر آپ کی کثرت صیام پر متفق ہیں حج بھی بکثرت کرتے تھے اوراکثر پا پیادہ حج گئے،زہیر بن بکار مصعب سے روایت کرتے ہیں کہ حسینؓ نے پچیس حج پا پیادہ کئے۔
(یعقوبی:۲/۱۹۲،۱۹۳)

***
صدقات وخیرات
مالی اعتبار سے آپ کو خدانے جیسی فارغ البالی عطا فرمائی تھی اسی فیاضی سے آپ اس کی راہ میں خرچ کرتے تھے، ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حسینؓ خدا کی راہ میں کثرت سے خیرات کرتے تھے (تہذیب الاسماء نوی:۲/۱۶۳) کوئی سائل کبھی آپ کے دروازہ سے ناکام نہ واپس ہوتا تھا ایک مرتبہ ایک سائل مدینہ کی گلیوں میں پھرتا پھراتا ہوا در دولت پر پہنچا، اس وقت آپ نماز میں مشغول تھے،سائل کی صدا سن کر جلدی جلدی نماز ختم کرکے باہر نکلے، سائل پر فقر و فاقہ کے آثار نظر آئے، اسی وقت قنبر خادم کو آواز دی،قنبر حاضر ہوا، آپ نے پوچھا ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی رہ گیا ہے،قنبر نے جواب دیا،ا ٓپ نے دوسو درہم اہل بیت میں تقسیم کرنے کے لئے دیئے تھے وہ ابھی تقسیم نہیں کئے گئے ہیں، فرمایا اس کو لے آؤ، اہل بیت سے زیادہ ایک مستحق آگیا ہے؛چنانچہ اسی وقت دو سو کی تھیلی منگا کر سائل کے حوالہ کردی اور معذرت کی کہ اس وقت ہمارا ہاتھ خالی ہے، اس لئے اس سے زیادہ خدمت نہیں کرسکتے، (ایضا:۳۲۳) حضرت علیؓ کے دور خلافت میں جب آپ کے پاس بصرہ سے آپ کا ذاتی مال آتا تھا تو آپ اسی مجلس میں اس کو تقسیم کردیتے تھے۔
(ابن عساکر :۴/۳۱۲)
صدقات وخیرات کے علاوہ بھی آپ بڑے فیاض اورسیر چشم تھے،شعراء کو بڑی بڑی رقمیں دے ڈالتے تھے،حضرت حسنؓ بھی فیاض تھے،لیکن آپ کی فیاضی بر محل اورمستحق اشخاص کے لئے ہوتی تھی، اس لئے ان کو حضرت حسینؓ کی بے محل فیاضیاں پسند نہ آتیں تھیں؛چنانچہ ایک مرتبہ ان کو اس غلط بخشی پر ٹوکا، حضرت حسینؓ نے جواب دیا کہ بہترین مال وہی ہے جس کے ذریعہ سے آبرو بچائی جائے۔
(ایضا:۳۲۲)

***
انکسار وتواضع
لیکن اس وقار وسکینہ کے باوجود تمکنت وخود پسندی مطلق نہ تھی اورآپ حد درجہ خاکسار اور متواضع تھے، ادنی ادنی اشخاص سے بے تکلف ملتے تھے، ایک مرتبہ کسی طرف جارہے تھے،راستہ میں کچھ فقراء کھانا کھارہے تھے، حضرت حسینؓ کو دیکھ کر انہیں بھی مدعو کیا ان کی درخواست پر آپ فوراً سواری سے اتر پڑے اورکھانے میں شرکت کرکے فرمایا کہ تکبر کرنے والوں کو خدا دوست نہیں رکھتا اور فقراء سے فرمایا کہ میں نے تمہاری دعوت قبول کی ہے اس لئے تم بھی میری دعوت قبول کرو اوران کو گھر لے جاکر کھانا کھلایا، ایثار وحق پرستی آپ کی کتابِ فضائل اخلاق کا نہایت جلی عنوان ہے اس کی مثال کے لئے تنہا واقعہ شہادت کافی ہے کہ حق کی راہ میں سار اکنبہ تہِ تیغ کرادیا لیکن ظالم حکومت کے مقابلہ میں سپر نہ ڈالی ۔

***
استقلال ورائے
حضرت حسنؓ سراپا حلم تھے،آپ کے مزاج میں مطلق گرمی نہ تھی بنو ہاشم اوربنو امیہ میں بہت قدیم رقابت تھی، لیکن حسنؓ نے اس رقابت کو بھی دل سے فراموش کردیا تھا، اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ بنی امیہ کے مقابلہ میں خلافت سے دست بردار ہوگئے ،اس باب میں حضرت حسینؓ کا حال حضرت حسنؓ سے بالکل مختلف تھا، بنی امیہ کے مقابلہ میں آپ کسی دست برداری اورمصالحت کو پسند نہیں فرماتے تھے، جس پر آپ کی تقریریں شاہد ہیں اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ جب امام حسنؓ نے خلافت سے دستبرداری کا ارادہ ظاہر کیا تو حضرت حسینؓ نے نہایت سختی کے ساتھ اس کی مخالفت کی،لیکن امام حسنؓ نے ان کی مخالفت کے باوجود اپنا ارادہ نہ بدلا اورخلافت سے دست بردار ہوکر دنیا کو بتلادیا کہ مسلمانوں کی خیر خواہی کے مقابلہ میں حکومت سلطنت کی بھی کوئی قیمت نہیں،لیکن حضرت حسینؓ کی یہ کیفیت بھی حق پرستی ہی کا نتیجہ تھی، اس لئے دونوں بزرگوں کے اوصاف، اخلاق کے دو مختلف مظاہر تھے ۔

***
ذاتی حالات ، ذریعہ معاش
حضرت حسینؓ مالی حیثیت سے ہمیشہ فارغ البال رہے اور بہت عیش وآرام کے ساتھ زندگی بسر کی، حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ میں ۵ ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کیا تھا، جو حضرت عثمانؓ کے زمانہ تک برابر ملتا رہا، اس کے بعد حضرت حسنؓ نے خلافت سے دستبرداری کے وقت امیر معاویہؓ سے ان کے لئے دو لاکھ سالانہ مقرر کرا دیئے تھے،غرض اس حیثیت سے آپ کی زندگی مطمئن تھی۔

***
حلیہ
حضرت امام حسنؓ وحسینؓ دونوں بھائی شکل وصورت میں آنحضرتﷺ کے مشابہ تھے۔
(اس کا ذکر حدیث کی متعدد کتابوں میں ہے)

***
ازواج واولاد
آپ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں آپ کی ازواج میں لیلیٰ، حباب، حرار، اورغزالہ تھیں، ان سے متعدد اولادیں ہوئیں، جن میں علی اکبر، عبداللہ اور ایک چھوٹے صاحبزادے واقعہ کربلا میں شہید ہوئے ، امام زین العابدین باقی تھے، انہیں سے نسل چلی ،صاحبزادیوں میں سکینہ، فاطمہ اور زینب تھیں۔
بعض پچھلی کتابوں میں حضرت امام حسینؓ کی ازواج میں ایک کا نام یزد گرد شاہ ایران کی لڑکی شہر بانوں کا بھی ملتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضرت امام زین العابدینؓ ان ہی کے بطن سے تھے، لیکن کسی قدیم ماخذ میں اس کا ذکر نہیں ہے، اس لئے قابل اعتماد نہیں اور ایرانیوں نے سیاسی مقصد کے لئے گھڑی ہے۔






کیا یزید نے سیدنا حسینؓ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا؟

اول:

مسلمانوں کو ہمیشہ سے تاریخی کتب کے جھوٹے قصوں اور واقعات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے، اگر کوئی عقل مند اس فرمانِ باری تعالی پر غور کرے:
( تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ )
ترجمہ: یہ امت ہے جو گزر گئی جو اس نے کمایا اس کیلیے وہی ہےاور تمہارے  لئے وہ ہےجو تم نے کمایا، اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔[ البقرة:134]
اور پھر اس آیت پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو لگام دے، اور فتنوں سے متعلقہ گفتگو میں مت پڑے، تاکہ اللہ کے سامنے جب جائے تو اس نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو، نبوی خانوادے سے محبت کرے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی روا رکھے تو وہ اپنے رب کے ہاں متقی شخص ہو گا اور اس کا دین بھی صحیح سلامت ہوگا۔

مسلمانوں کے ما بین ہونے والے اختلافات اور جھگڑوں کو بیان کرنے والے عام طور پر راوی  جھوٹے ، نا معلوم  اور کذاب ہوتے ہیں، اس لیے ان راویوں کی جانب سے بیان کردہ روایات پر بالکل بھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ وہ عادل راوی نہیں ہیں، جبکہ کسی کی بات پر اعتماد کرنے کیلیے اللہ تعالی نے اصول بیان فرمایا کہ:
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ )
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تاکید کر لو [مبادا] تم کسی قوم کو لا علمی کی بنا پر کوئی گزند پہنچاؤ اور پھر تمھیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔[ الحجرات:6]

انہی جھوٹے قصوں میں سے وہ ہے جو طبرانی نے اپنی کتاب "تاریخ":  (5/461) میں اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (69/176) میں ابو مخنف  کی سند سے بیان کیا ہے کہ وہ حارث بن کعب سے وہ فاطمہ بنت علی سے بیان کرتے ہیں کہ: "جس وقت ہمیں یزید بن معاویہ کے سامنے بٹھایا گیا تو اس نے ہمارے ساتھ نرم لہجہ اپنایا اور ہمیں کچھ دینے کا حکم دیا، اور اچھا برتاؤ کیا، وہ مزید کہتی ہیں کہ: اہل شام میں سے سرخ رنگ کا آدمی یزید کے پاس گیا اور اس سے کہا: "امیر المؤمنین! یہ لڑکی -یعنی میں فاطمہ بنت علی-مجھے ہبہ کردیں" اور میں خوبرو لڑکی تھی، تو میں یہ سن کر کانپ گئی اور سہم گئی، اور سمجھنے لگی کہ ان کیلیے ایسا کرنا جائز ہے، تو میں نے اپنی بہن زینب کے کپڑے پکڑ لیے ، زینب مجھ سے بڑی اور سمجھدار تھیں ، نیز انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا، تو انہوں نے کہا:
"اللہ کی قسم! تم غلط کہتے ہو، تم کمینے ہو! یہ بات نہ تیرے لیے جائز ہے اور نہ ہی اس [یزید] کیلیے۔
تو یزید نے کہ: تم غلط کہتی ہو! یہ بات میں کر سکتا ہوں، اور اگر میں چاہوں تو اسے پورا بھی کر سکتا ہوں۔
تو زینب نے کہا: تم ہر گز ایسا نہیں کر سکتے! اللہ تعالی نے تمہارے لیے ایسا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی، الا کہ تم ہمارے دین سے خارج ہو جاؤ، اور کسی دوسرے دین کے پیرو کار بن جاؤ۔

فاطمہ کہتی ہیں: یہ سن کر یزید غصہ سے لال پیلا ہو گیا ۔
اور کہنے لگا: کیا تم مجھے اس انداز سے مخاطب کرتی ہو! دین سے تو تمہارا باپ اور بھائی خارج ہو چکا ہے۔
تو زینب نے کہا: اللہ کے دین ، میرے والد، بھائی اور نانا کے دین  پر ہی تو تیرا باپ، اور دادا ہدایت یافتہ ہوئے تھے۔

یزید نے کہا: اللہ کی دشمن! تم غلط کہتی ہو!
زینب نے کہا: تو ہم پر مسلط کیا گیا حکمران ہے، ظلم کرتے ہوئے گالیاں دیتے ہو! اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر مسلط ہو۔

زینب کہتی ہیں کہ : پھر ایسا محسوس ہوا کہ یزید کو کچھ شرم آئی اور خاموش ہو گیا، اس پر اُس شامی شخص نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ: "امیر المؤمنین! یہ لڑکی مجھے ہبہ کر دیں"
تو یزید نے کہا: اللہ تجھے نیست و نابود کرے !تو بن بیاہے ہی رہے گا"
ابن کثیر نے اسے ابو مخنف کی سند کیساتھ البداية والنهاية (11/562) میں اسی طرح بیان کیا ہے ۔

جبکہ ابو مخنف کا نام : لوط بن یحیی ہے ، اس کے بارے میں امام ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" أخباري تالف، لا يوثق به. تركه أبو حاتم وغيره "پرلے درجے کا قصہ گو ہے، اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اسے ابو حاتم وغیرہ نے ترک کر دیا تھا۔
دارقطنی کہتے ہیں: ضعیف ہے۔
ابن معین کہتے ہیں: " ليس بثقة "یعنی: یہ ثقہ نہیں ہے، اور ایک بار یہ بھی کہا ہے کہ: " ليس بشيء "یعنی: اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
ابن عدی کہتے ہیں کہ: " شيعي محترق، صاحب أخبارهم "کٹر شیعہ تھا اور انہی کے قصے بیان کرتا تھا"
دیکھیں: ميزان الاعتدال (3 /419)

لہذا یہ روایت ہی صحیح نہیں ہے بلکہ جھوٹ ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ  یزید بن معاویہ چھڑی سے حسین رضی اللہ عنہ کے دانتوں کو چھیڑ رہا تھا تو اس پر زینب نے کہا:
" یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے تنگ کر دئیے ہیں اور ہمیں ایسے ہانکا گیا جیسے لونڈیوں کو ہانکا جاتا ہے، اس طرح تو اللہ کی بارگاہ میں سرفراز ہو گیا اور ہم رسوا ہو گئے ہیں؟ کیا تیرے خیال میں یہ سب کچھ اللہ کی بارگاہ میں تیرے شان و مقام کی وجہ سے ہے؟ آج تو اپنی ناک اٹھائے پھر رہا ہے ، مسرت و شاد مانی سے سرشار ہو کر مغرور ہے۔ آزاد کردہ غلاموں کی اولاد! کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کیا ہوا ہے جبکہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم  کی بیٹیوں در بدر پھرا رہا ہے ۔ تو نے ان کی بے پردگی کی اور ان کے چہرے سب کیلیے عیاں کیے ،  تیرے حکم پر دشمنوں نے انہیں شہر شہر پھرایا ۔۔۔"

یہ قصہ بے بنیاد ہے اہل علم کی کتابوں میں اس کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، اس قصہ کو بیان کرنے کیلیے صرف رافضیوں کی کتابیں ہیں جو کہ جھوٹ بولنے میں مشہور ہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"صحیح بخاری میں جو بات ثابت ہے کہ: حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لایا گیا اور وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے سامنے حسین رضی اللہ عنہ کے اگلے دانتوں  کو چھڑی سے کریدنے لگا"

جبکہ مسند میں ہے کہ: "یہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہوا"

لیکن کچھ لوگ منقطع سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ  یزید بن معاویہ  کے موجودگی میں ہوا تھا، لیکن یہ بات بالکل باطل ہے" انتہی
مجموع الفتاوى (27/ 469)

اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:
"یزید بن معاویہ شام میں تھا، حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت وہ عراق میں نہیں تھا، چنانچہ جو یہ بات نقل کرتا ہے کہ  یزید بن معاویہ  کی موجودگی میں عبید اللہ بن زیاد نے انس بن مالک اور ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے سامنے حسین رضی اللہ عنہ کے دانتوں پر چھڑی سے کریدا یہ بالکل واضح جھوٹ ہے اور متواتر روایات سے اس کا جھوٹ ہونا معلوم ہوتا ہے" انتہی
مجموع الفتاوى (27/ 470)

دوم:

مشہور و معروف یہ بات ہے کہ یزید بن معاویہ نے حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی اسے پسند جانا بلکہ ابن زیاد کو حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر برا بھلا بھی کہا ، نیز حسین رضی اللہ عنہ کے جو اہل خانہ ان کے ساتھ تھے ان کی تکریم بھی  کی اور انہیں شایان شان طریقے سے مدینہ واپس بھیج دیا، اپنے پاس نہیں رکھا۔

اس بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یزید بن معاویہ  کی پیدائش عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ہوئی ، یزید دینداری اور خیر میں مشہور نہیں تھا، نوجوان مسلمان تھا،  اس نے اپنے والد کے بعد حکمرانی کی باگ دوڑ سنبھالی ، اگرچہ کچھ مسلمانوں نے اسے اس لائق نہیں سمجھا ، اور کچھ اس پر راضی تھے ، تاہم اس میں بہادری اور سخاوت کے اوصاف پائے جاتے تھے، اعلانیہ طور پر گناہوں کا رسیا نہیں تھا جیسے کہ  اس کے بارے میں ان کے مخالفین کہتے ہیں۔

نیز اس نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا، اور نہ ہی حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر اظہارِ خوشی کیا ، نہ ہی حسین رضی اللہ عنہ کے دندان کو چھڑی سے کریدا، نہ ہی حسین رضی اللہ عنہ کا سر شام اس کے پاس لے جایا گیا، تاہم اس نے حسین رضی اللہ عنہ کو روکنے کا حکم دیا تھا، نیز سیاسی معاملات سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی چاہے اس کیلیے مسلح راستہ اپنانا پڑے۔

لیکن یزید کے مشیر اس کے حکم سے بھی آگے بڑھ گئے اور شمر بن ذی الجوشن نے عبید اللہ بن زیاد کو قتل کرنے کی ترغیب دلائی ، چنانچہ عبید اللہ بن زیاد نے حسین رضی اللہ عنہ پر تشدد کیا ، تو حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دیں، یا میں اسلامی سرحدوں پر پہرے دار بن جاتا ہوں یا مکہ واپس چلا جاتا ہوں۔

لیکن انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کی کوئی بات نہ مانی اور انہیں گرفتاری دینے کا کہا اور عمر بن سعد کو حسین رضی اللہ عنہ سے لڑنے کا کہا انہوں نے حسین رضی اللہ عنہ کے ان کے اہل خانہ کے ساتھ قتل کر دیا، اللہ تعالی حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ سے راضی ہو۔

آپ رضی اللہ عنہ کا قتل بہت بڑا سانحہ تھا، کیونکہ حسین رضی اللہ عنہ اور ان سے پہلے عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل  اس میں امت میں بڑے بڑے فتنوں کا باعث بنا، نیز ان کے قاتلین اللہ تعالی کے ہاں بد ترین مخلوق ہیں۔

اس کے بعد جب حسین رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ یزید بن معاویہ  کے پاس آئے تو یزید نے ان کا احترام کیا اور انہیں مدینہ روانہ کر دیا، یزید کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ابن زیاد پر حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے کی وجہ سے لعنت بھی کی ، یزید نے یہ بھی کہا کہ میں اہل عراق سے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے بغیر ہی راضی تھا۔

لیکن ان باتوں کے با وجود یزید نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی حسین رضی اللہ عنہ کیلیے کوئی اقدامات کیے اور قصاص بھی نہیں لیا ، حالانکہ قصاص لینا یزید پر واجب تھا، چنانچہ اسی وجہ سے اہل حق یزید کو اس واجب کے ترک کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر امور کی وجہ سے  ملامت کرنے لگے ۔

لیکن یزید کے مخالفین یزید کے خلاف باتیں کرتے ہوئے بہت سی جھوٹی چیزیں بھی شامل کر دیتے ہیں۔" انتہی
مجموع الفتاوى (3/ 410)

کتب میں یہ بھی موجود ہے کہ یزید کو حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر ندامت ہوئی ، وہ کہا کرتا تھا: "مجھے کیا ہوتا اگر میں اس تکلیف کو برداشت کر لیتا، اور ان[حسین رضی اللہ عنہ] کو  اپنے گھر میں ٹھہراتا، اور پھر انہیں ان کے بارے میں مکمل خود مختاری دے دیتا، اگرچہ اس کی وجہ سے مجھے اپنی سلطنت میں کمی اٹھانی پڑتی؛ تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے خانوادے کے حقوق کی پامالی نہ ہو"
پھر کہا کرتا تھا: "اللہ تعالی مرجانہ کے بیٹے [عبید اللہ بن زیاد]پر لعنت فرمائے کہ اس نے حسین رضی اللہ عنہ کو باہر نکال کر مجبور کیا ، حالانکہ حسین رضی اللہ عنہ نے اس سے تین مطالبے کیے تھے: کہ اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے، یا وہ میرے [یزید بن معاویہ کے]پاس آ جائیں، یا پھر مسلمانوں کی سرحدوں پر  پہرے دار کی حیثیت بقیہ زندگی گزاریں یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں موت دے دے، لیکن عبید اللہ نے ایسا نہ کیا اور انہیں قتل کر دیا، اس طرح سے عبید اللہ نے مسلمانوں میں میرے بارے میں نفرت پھیلا دی، اور ان کے دلوں میں میرے بارے میں دشمنی کا بیج بو دیا، پھر نیک و بد ہر شخص مجھ سے نفرت کرنے لگا؛ کیونکہ لوگوں نے حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کو بہت ہی زیادہ اہمیت دی حالانکہ میرا اس میں کوئی دخل نہیں تھا یہ کارستانی صرف ابن مرجانہ کی تھی، اللہ تعالی اس پر لعنت فرمائے اور اپنا غضب نازل کرے۔"
البداية والنهاية (11/ 651)، سير أعلام النبلاء (4/370)

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یزید بن معاویہ  کے بارے میں سب سے سنگین الزام جو لگایا جاتا ہے وہ شراب نوشی سمیت دیگر کچھ اور غلط کام ہیں لیکن حسین رضی اللہ عنہ کا قتل  نہ تو اس کے حکم سے ہوا اور نہ ہی اسے برا لگا، جیسے کہ یزید کے دادا  ابو سفیان نے احد کے دن کہا تھا۔

اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یزید نے کہا تھا: "اگر میں حسین کے پاس ہوتا تو ایسا نہ کرتا جیسا ابن مرجانہ یعنی عبید اللہ بن زیاد نے کیا "
اس نے حسین رضی اللہ عنہ کا سر لیکر آنے والوں کو کہا کہ: تمھیں اس سے کم اطاعت بھی کافی تھی! اور انہیں اس کارستانی پر کچھ نہیں دیا، جبکہ حسین رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کا احترام کیا اور ان سے چھینا گیا سب مال سمیت بہت کچھ انہیں دیا اور انہیں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ مکمل شایانِ شان انداز میں مدینہ واپس بھیج دیا ، اور جس دوران حسین رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ یزید کے اہل خانہ کے گھر میں تھے تو یزید کے گھر والوں نے ان کے ساتھ تین دن تک سوگ بھی کیا" انتہی
البداية والنهاية (11/ 650)

یہ سب کچھ یزید  کا دفاع یا یزید کی جانب میلان رکھنے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یزید کے بارے میں معتدل  رائے ہی یہ ہے کہ: یزید کا حکم دیگر ظالم حکمرانوں جیسا ہے کہ نہ تو اس سے بنائی جائے اور نہ ہی بگاڑی جائے ، اس سے محبت بھی نہ کی جائے اور اسے گالی بھی نہ دی جائے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہی وجہ ہے کہ اہل سنت اور امت اسلامیہ کے ائمہ کرام کا موقف یہ ہے کہ: یزید کو گالی دی جائے اور نہ ہی اس سے محبت کی جائے، چنانچہ صالح بن احمد بن حنبل کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ: وہ یزید سے محبت کرتے ہیں، تو میرے والد [امام احمد بن حنبل]نے کہا: "بیٹا! کوئی اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والا بھی یزید سے محبت کر سکتا ہے؟
تو اس پر میں نے کہا: اباجی! پھر آپ اس پر لعنت کیوں نہیں کرتے؟
تو انہوں نے کہا: بیٹا! آپ نے اپنے والد کو کبھی کسی پر لعنت کرتے ہوئے دیکھا ہے؟" انتہی
مجموع الفتاوى (3/ 412)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ:

" ابو محمد المقدسی کہتے ہیں: جس وقت ان سے یزید کے بارے میں پوچھا گیا-تو جیسے مجھے بات پہنچی ہے - انہوں نے کہا تھا: اسے گالی دی جائے نہ محبت کی جائے۔
اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہمارے دادا ابو عبد اللہ ابن تیمیہ سے جب یزید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: "بے عزتی نہ کرو اور نہ ہی احترام کرو"
اور یہ یزید اور اس جیسے دیگر لوگوں کے بارے میں معتدل ترین اور بہترین موقف ہے" انتہی
مجموع الفتاوى (4/ 483)






No comments:

Post a Comment