Sunday, 30 October 2016

گانے باجے اور آلاتِ موسیقی کی حرمت

گانے سننا حرام اور برا فعل ہے، اور یہ دلوں کے مرض اور ان کی سختی اور اللہ کے ذکر اور نماز سے دور کرنے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور اکثر اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ  (سورۃ لقمان:6)  ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔} کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد گانے باجے ہیں۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود - رضي الله عنه - اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ لغو باتوں سے مراد گانا ہے۔ اور اگر گانے کے ساتھـ آلات لہو و لعب ہوں جیسے رباب، سارنگی، دو تارہ اور ڈھول تو اس کی حرمت اور زیادہ سخت ہوجائے گی۔ اور بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ گانا آلات لہو و لعب (موسیقی) کے ساتھـ ہو تو وہ بافاقِ علماء حرام ہے؛ لہذا اس سے بچنا چاہیے. 





اور رسول الله صلى الله عليه وسلم سے صحيح سند سے یہ ثابت ہے كہ آپ نے فرمایا: میری امت کے کچھـ اقوام زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔[ابوداؤد:4039]


بہت سارے دلائل سے معلوم ہوا ہے کہ گانا سننا اور اس میں مشغول ہونا خاص طور پر جب تفریحی آلات کے ساتھـ ہو جیسے سارنگی اور موسیقی وغیرہ کے ساتھـ تو یہ شیطان کے بڑے فریبوں میں سے ہے، اور اس کے ان جالوں میں سے ہے جس سے وہ جاہلوں کے دلوں کو شکار کرتا ہے، اور اس کے ذریعے سے قرآن سننے سے روکتا ہے، اور ان کے لئے فسق اور نافرمانی میں مشغول رہنا محبوب کرتا ہے، نیز گانا شیطان کا قرآن، اور اس کی بانسری، اور زنا کی منتر، اور لواطت کی اور شر اور فساد کے مختلف قسموں کو دعوت دینے والا ہے، اور یقیناً ابو بکر طرطوشى اور دیگر اہل علم نے ائمہ اسلام سے حکایت کی ہے کہ انہوں نے گانے کی مذمت کی اور تفریحی آلات کی، اور اس سے پرہیز کیا، اور حافظ علامہ ابو عمرو بن صلاح رحمہ الله نے سارے علماء سے اس گانے کی حرمت نقل کی ہے، جو سارنگی وغیرہ جیسے تفریحی آلات میں سے کسی چیز پر مشتمل ہو، یہ اس لئے کیونکہ گانے اور ساز میں دل کی بیماریاں، اور اخلاق کا فساد، اور اللہ کی ذکر اور نماز سے رکاوٹ ہوتی ہے، اور یقینا گانا اس لغو میں شامل ہے جس کی اللہ نے مذمت اور عیب جوئی کی ہے،اور اس سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے، جس طرح پانی سے دانہ اگتا ہے، خصوصی طور پر جب یہ ان گلوکار مرودوں اور عورتوں سے جو اس کے لئے مشہور ہوں، تو اس کا ضرر اور خطرناک اور دلوں کو فاسد کرنے میں زیادہ شدید ہوگا، اللہ تعالی فرماتا ہے:     ﺍﻭﺭﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﻐﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻛﻮ ﻣﻮﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻛﮧ ﺑﮯﻋﻠﻤﯽ ﻛﮯ ﺳﺎتھـ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﺍﹴللہ ﻛﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮩﲀﺋﯿﮟﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﮨﻨﺴﯽ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ، ﯾﮩﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﺳﻮﺍﻛﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ(سورۃ لقمان:6) ﺟﺐ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﯾﺘﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻛﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻜﺒﺮ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎ ﻛﮧ ﺍﺱ ﻛﮯﺩﻭﻧﻮﮞ کاﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﭦ ﻟﮕﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺩ ﻧﺎﻙ ﻋﺬﺍﺏ ﻛﯽ ﺧﺒﺮ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ ۔ ، واحدی اور دیگر اکثر مفسریں نے کہا ہے، ابن مسعود رضی الله عنہ جو بڑے صحابہ اور ان کے علماء میں سے تھے، وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ لغو بات سے مراد گانا ہے،اور آپ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ: گانا دل میں ایسے ہی نفاق اگاتا ہے جیسے پانی زراعت کو اگاتا ہے، اور صحابہ اور تابعین میں اسلاف سے گانے اور تفریحی آلات کی مذمت، اور اس سے پرہیز کرنے کے بارے میں بہت سارے آثار وارد ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:
میری امت سےاقوام ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں ۔ امام بخاری نے اسے روايت كيا ہے۔ اور الحر حرام شرمگاہ کو کہتے ہیں، اور اس سے مراد زنا ہے، اور ساز سے مراد ہر تفریحی آلہ ہے جیسے موسیقی، طبلہ، سارنگی، رباب، اور تانت وغیرہ، علامہ ابن قیم رحمہ الله "كتاب الإغاثة" میں لکھا ہے کہ: المعازف کی تفیسر ہر تفریحی آلات سے کرنے میں اہل لغت کے درمیان اختلاف نہیں ہے۔ اور ترمذی نے عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت کی ہے کہتے ہیں کہ: رسول الله صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا: میری امت میں سنگ باری اور خسف ومسخ (زمین میں دھنسنے اور اشکال کی تبدیلی) کے واقعات ہوں گے، تو ایک مسلمان شخص نے کہا کہ : اے اللہ کے رسول! یہ سب کب ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا: جب لونڈی بازی اور موسیقی عام ہو جائے، اور شراب نوشی کھلے عام ہونے لگے۔[ترمذی:2212]




اور احمد نے اپنی مسند میں جيد اسناد کے ساتھـ تخريج كی ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بے شک نبی صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالی نے شراب، جوّا، طبلہ، اور ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے۔[ابوداود:3696] اور اس حدیث کے ایک راوی سفیان نے کہا کہ: الکوبہ سے مراد طبلہ ہے، اور گانے اور لغو باتوں کی مذمت میں بہت سارے آثار وارد ہیں جو اس مقالے میں بیان کرنا ممکن نہیں ہیں، اور جو ہم نے ذکر کیا ہے حق کے طلبگار کے لئے اس میں کفایت اور قناعت ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو اسٹیشن کو گانے اور تفریحی آلات بہم پہنچانے کے دعویدارں کی عقل میں خلل پیدا ہوا ہے یہاں تک کہ قبیح کو اچھا اور اچھے کو قبیح محسوس کرنے لگے، اور اس کی طرف بلانے لگے جو ان کے لئے اور دوسروں کے لئے نقصاندہ ہے، اور وہ اس سے پیدا ہونے والے نقصانات اور شر اور فساد کی پرواہ نہیں کرتے، اور اللہ تعالی نے کیا ہی خوب فرمایا ہے:     ﻛﯿﺎ ﭘﺲ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﻛﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺑﺮﮮ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﺰﯾﻦ ﻛﺮﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﺲ ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ( ﻛﯿﺎ ﻭﮦ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺷﺨﺺ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ ؟ ) ، ( ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ ) ﻛﮧ ﺍللہ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺩﻛﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﺲ ﺁﭖ ﻛﻮ ﺍﻥ ﭘﺮ ﻏﻢ ﻛﮭﺎ ﻛﮭﺎ ﻛﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮨﻼﻛﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ، ﯾﮧ ﺟﻮ ﻛﭽھ ﻛﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﻘﯿناً اللہ تعالیٰ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ۔[فاطر:8]
 اور شاعر نے کیا ہی سچ کہا ہے:
آزمائش کے دنوں میں انسان پر گذرتی ہے
یہاں تک کی اس کو اچھا سمجھتا ہے جو اچھا نہیں ہوتا۔


بینڈ باجے اور موسیقی کی آواز:
حَدَّثَنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثنا أَبُو عَاصِم، حَدَّثنا شَبِيب بن بشر البجلي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم: صوتان ملعونان في الدنيا والآخرة: مزمار عند نعمة ورنة عند مصيبة.
[مسند البزار:14/62، مُسْنَدُ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رقم الحدیث 7513]

حکم الحدیث: حسن۔
[الأحاديث المختارة:2200+2201، صَحِيح الْجَامِع: 3801 , الصَّحِيحَة: 427]
المحدث : المنذري | المصدر : الترغيب والترهيب: 4/268 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات
المحدث : ابن القيم | المصدر : مسألة السماع: 318 | خلاصة حكم المحدث : صحيح
المحدث : الهيثمي | المصدر : مجمع الزوائد: 16/3 | خلاصة حكم المحدث : رجاله ثقات
المحدث : الهيتمي المكي | المصدر : الزواجر: 1/159 | خلاصة حكم المحدث : رواته ثقات












موسیقی کے ساتھ نعت پڑھنا کیسا ہے؟
شریعت مطہرہ نے موسیقی سے منع فرمایاہے۔ چنانچہ اس کی ممانعت کس قدر سختی سے کی گئی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی ہوسکتا ہے ،ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر   کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ راستے میں طبل کی آواز آنا شروع ہوگئی آپ  نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ یہ آوا ز غیر اختیاری طور پربھی آپ کے کانوں میں نہ پڑے، پھر آپ وہاں سے ہٹ گئے اور تین دفعہ ایسا ہی کیا پھر فرمایا کہ نبی ﷺنے بھی اسی طرح کیاتھا۔ کیا یہ واقعہ اس بات پر دلالت کرنے کیلئے کافی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ   کو موسیقی سے کس قدر نفرت تھی۔
  اس کے علاوہ ایک روایت میںفرمایاکہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہو جائے گی تو ان میں مصائب کا نزول شروع ہوجائے گا ان چیزوں میں سے ایک چیز آپ نے یہ بھی ذکر فرمائی کہ جب ان میں گانے والیاںاور آلات موسیقی عام ہوجائیں گے۔
اب اس کے بعد ہر صاحب بصیرت شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ جس چیز سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ آپ اس کی آواز سننا پسند نہیں فرماتے تھے تو اب اگر اسی کے ساتھ آپ کا ذکرمبارک کیا جائے اور اسے ثواب بھی گردانا جائے تو اس سے بڑھ کر اور حماقت کیا ہوگی ۔ یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری  نے اپنی کتاب شرح فقہ اکبر میں احناف کی کتب کے حوالے سے یہ جزئیہ نقل کیا ہے :
من قرأ القرآن علی ضرب الدف والقضیب یکفر  (ص ۱۶۷)
(جو شخص کلام مقدس کو دف یا بانسری پر پڑھے وہ کافر ہے) 
اس کے بعد اپنا فتوی نقل کرتے ہوئے ملا علی قاری حنفی فرماتے ہیں:  
 قلت !ویقرب منہ ضرب الدف والقضیب مع ذکر اللہ تعالی ونعت المصطفیﷺ،وکذا التصفیق علی الذکر۔
اسی ( کفر) کے قریب ہے دف اور بانسری بجانااللہ کے ذکر اور محمدﷺ کی نعت کے ساتھ،اور یہی حکم ذکر کے ساتھ تالی بجانے کا ہے۔  
یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں دف وغیرہ کا ذکر ہے جس کا بعض مواقع پر جواز بھی ثابت ہے،اور رہی آجکل کی موسیقی اس کے ناجائز ہونے میں تو کسی کا اختلاف بھی نہیں،اس کے بعد بھی اتنی جرأت ؟وہ  ذات رؤف وکریم ہے ورنہ ہمارے اس فعل پر نہ معلوم ہمارے اوپر کیا کچھ نازل ہوجاتااور ہم اسی کے مستحق تھے ،کہ اللہ کے نبی ﷺ کا جب ہم نے سرعام مذاق اڑانا شروع کردیا آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ یہ مذاق ہے یا نہیں؟ کہ جس چیز سے آپ منع کریں ہم نہ صرف وہی کام کریں بلکہ اسے علی الاعلان کرتے ہوئے اس پر یہ بھی سمجھیں کہ ہمیں اس پر ثواب بھی مل رہا ہے،تعجب ہے مسلمانوں کی سوچ پر کہ نہ معلوم انہیں کیا ہوگیا ہے کہ العیاذ بااللہ اپنے نبی ﷺ کی نافرمانی کو انہوں نے فرمانبرداری سمجھ کر اس پر فخر کرنا شروع کردیا۔اللہ تعالی ہمیں دین کی حقیقی سمجھ عطا فرمائیں۔آمین
لما فی قولہ تعالی :وَمِنَ النَّاسِ مَن یَّشْتَرِیْ لَھْوَالْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ  عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّیَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ  o(لقمان:۶)
وفی جامع الترمذی (۴۴/۲): عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللہﷺ:اذا فعلت امتی خمس عشرۃ خصلۃ حل بھاالبلاء… واتخذت القیان والمعازف۔
وفی ابن ماجۃ (صـ۱۳۷):حدثنا محمد بن یحی …عن مجاھد قال کنت مع ابن عمر فسمع صوت طبل فادخل اصبعیہ فی اذنیہ ثم تنحی حتی فعل ذلک ثلاث مرات ثم قال ھکذا فعل رسول اللہﷺ۔
وفی بدائع الصنائع (۵۱۳/۶):…دلت المسئلۃ علی ان مجرد الغناء معصیۃ وکذا الاستماع الیہ  وکذا ضرب القصب والاستماع الیہ  الا تری ان اباحنیفۃ رضی اللہ عنہ سماہ ابتلاء۔
وفی الدرالمختار (۳۴۸/۶): وفی السراج ودلت المسئلۃ ان الملاھی کلھا حرام ویدخل علیھم بلااذنھم لانکار المنکر قال ابن مسعود صوت اللھو والغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء النبات۔










طریقت میں قوالی ،سماع مزا میر اور مجلس موسیقی وغیرہ نہیں ہے ؟؟؟
          الجواب: واضح رہے کہ احادیث اور عبارات فقہ سے مزا میر اور ملا ہی کی حرمت روز روشن کی طرح معلوم ہے ۔البتہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے کچھ شرائط سے جواز کی طرف میلان کیا ہے ۔اور وہ شرائط ان قوالوں میں معدوم اور مفقود ہیں۔لہٰذا ان کو جائز سمجھنے والوں پر کفر کا شدید خطرہ موجود ہے۔ یہ لوگ اپنی بد معاشیوں اور عیاشیوں پر ان بزرگوں کے کلام سے پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔لیکن فقہ حنفی نے ان (مستحلی الرقص والغناء) کو کافر کہا ہے۔ {۱}
۱}قال ابن عابدین (قولہ ومن یستحل الرقص قالوا بکفرہ)المرادبہ التمائل والخفض والرفع بحرکات 
موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب الی التصوف وقد نقل فی البزازیہ عن القرطبی اجماع الائمۃ علی حرمۃ ھذاالغناء وضرب القضیب والرقص قال ورأیت فتویٰ شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکر مانی ان مستحل ھذا الرقص کافر وتما مہ فی شرح الوھبانیۃ ونقل فی نور العین عن التمھید انہ فاسق لا کافر ثم قال التحقیق القاطع للنزاع فی امرالرقص والسماع یستدعی تفصیلا ذکرہ فی عوارف المعارف واحیاء العلوم وخلاصتہ ما اجاب بہ العلامۃ النحریر ابن کمال باشا الخ۔(ردالمحتار ہامش الدر المختار ص۳۳۷ جلد ۳ قبیل باب البغاۃ مطلب فی مستحل الرقص )

سماع اور غنا میں فرق:
سماع کے معنیٰ سننے کے ہیں، عرف میں اس سے مراد گانا سننا ہوتا ہے، اور غناء کے معنیٰ گانے کے ہیں، پس سماع گانا سننے اور غناء گانے کو کہتے ہیں۔
قرآن، حدیث یا نعت سننے کو عرف میں سماع نہیں کہتے۔







ٹیپ ریکارڈ پر تلاوت اور موسیقی سننے کا حکم

واضح رہے کہ سوال میں دو چیزوں کا ذکر ہے ۱- تصویر کا مباح ہونا ۲- ریکارڈ شدہ موسیقی کے سننے کا جائز ہونا اور ان دونوں چیزوں کے جواز کی بنیاد ایک فاسد قیاس پر ہے اور قیاس کا مدار محض اس دعویٰ پر ہے کہ: ’’جو حکم اصل کا ہے وہ نقل اور عکس کا نہیں ہے‘‘۔
مذکورہ شخص کا یہ کہنا کہ ’’جو حکم اصل کا ہے وہ حکم نقل اور عکس کا نہیں ہے‘‘ مسلّم نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جو اصل کا حکم ہے وہی نقل اور عکس کا ہے چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ صورت جس کی حکایت ہے حکم میں اسی کے تابع ہے پس اصل اگر مذموم ہے  جیسے معازف ومزامیر وصوتِ نساء وامارد ویا فحش ومعصیت‘‘ اسکی حکایت بھی ایسی ہی مذموم ہے اور اگر اصل مباح‘ (ہو تو اسکی)حکایت بھی مباح ہے اور اگر اصل محمود ہے تو فی نفسہ اسکی حکایت بھی ایسی ہی ہے‘‘۔
[امداد الفتاوی،کتاب العقائد والاحکام سوال نمبر ۵۱۰۔ :۶؍۲۱۹۔ط:دار العلوم کراچی۔۱۴۲۷ھ بمطابق ۲۰۰۶ء۔]

باقی یہ کہنا کہ نقل اصل کے حکم میں نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر ثواب نہیں ملتا‘ درست نہیں‘ بلکہ ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر ثواب ضرورملتاہے‘ اس لئے کہ ریکارڈ شدہ تلاوت کے بھی وہی آداب ہیں جو اصل تلاوت سننے کے ہیں۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ ’’جدید آلات‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن کریم جب اس میں (ٹیپ ریکارڈ میں) پڑھنا جائز ہے تو اس کا سننا بھی جائز ہے‘ شرط یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں نہ سناجائے جہاں لوگ اپنے کاروبار یا دوسرے مشاغل میں لگے ہوں‘ یاسننے کی طرف متوجہ نہ ہوں‘ ورنہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا ‘‘۔ (۱)
البتہ ریکارڈ شدہ آیت ِ سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ سجدۂ تلاوت کے وجوب کیلئے تلاوتِ صحیحہ کا ہونا ضروری ہے اور تلاوت کے صحیح ہونے کیلئے تلاوت کرنے والے کا باشعور اور متمیز ہونا ضروری ہے،کیونکہ صبی غیر متمیز اور مجنون سے آیت سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوتا، چونکہ مذکورہ آلہ (ٹیپ ریکارڈ وغیرہ) ایک لاشعور اور بے جان شئہے، اس وجہ سے اس پر آنے والی تلاوت تلاوت صحیحہ نہیں اور جب تلاوت صحیحہ نہیں تو اس کے سننے سے سجدۂ تلاوت بھی واجب نہیں۔ پھر چونکہ کیسٹ سے وہ کلام اللہ کی آواز سن رہا ہے اور اس کے دل میں کلام اللہ کی عظمت میں اضافہ ہورہاہے اور دیگر گناہ کی چیزوں سے اپنے کانوں کو محفوظ رکھے ہوئے ہے‘ اس لئے اسکو ریکارڈ شدہ تلاوت سننے پر اجر وثواب ضرور ملے گا۔جیساکہ البدائع میں ہے:

’’بخلاف السماع من البغاء والصدی فان ذلک لیس بتلاوۃ‘ وکذا اذا سمع من المجنون لان ذلک لیس بتلاوۃ صحیحۃ لعدم اہلیتہ لانعدام التمییز ‘‘۔
[آلات جدیدہ کے شرعی احکام از مولانا مفتی محمد شفیع ،ٹیپ ریکارڈر مشین پر تلاوت قرآن کا حکم ،ص:۲۰۷،ط: ادارۃ المعارف۔]


(۲)  بدائع الصنائع للکاسانی، کتاب الصلوۃ، سبب وجوبھا وبیان من تجب علیہ…الخ: ۱؍۴۴۰،ط: دار احیاالتراث العربی بیروت،الطبعۃ الثانیہ ۱۴۱۹ھ بمطابق ۱۹۹۸ء۔
لہذا مذکورہ شخص کا ٹیپ ریکارڈ سے موسیقی سننے کے جواز پر استدلال کرنا اور یہ کہنا کہ: کیسٹ کیؔ موسیقی چونکہ اصل موسیقی نہیں‘ بلکہ موسیقی کی نقل ہے‘اس لئے اس کے سننے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا‘ بالکل غلط ہے‘ کیونکہ جب کیسٹ سے تلاوت سننا باعث اجر وثواب ہے‘ تو اسی طرح کیسٹ سے موسیقی سننا بھی گناہ ہے‘ اور موسیقی کی کیسٹ سننے سے جو ذہن کے اندر کدورت اور یاد الٰہی سے غفلت پیدا ہوگی‘ اس کا گناہ الگ ہے۔
پھر اگر بالفرض والتقدیر: ہم مان بھی لیں کہ ٹیپ ریکارڈ سے تلاوت سننے پر اجرو ثواب نہیں ملتا‘ تب بھی اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ عکس اورنقل اصل کے حکم میں نہیں‘قابل تسلیم نہیں ‘کیونکہ بہت ساری ایسی اشیاء ہیں کہ جن کے عکس کا وہی حکم ہوتاہے جو اس کے اصل کا ہوتاہے‘ مثلاً:جس طرح قرآن مجید کی لکھی ہوئی کوئی سورۃ قابل احترام ہے‘ اسی طرح اس کی فوٹو کاپی بھی قابل احترام ہے‘ جس طرح اصل کی بے اکرامی ناجائز ہے‘ اسی طرح اس سورۃ کی فوٹو کاپی کی بے احترامی بھی ہرگز جائز نہیں۔
علاوہ ازیں موسیقی کی حرمت کے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ جن وجوہ کی بنأ پر موسیقی سننا حرام ہے‘ وہ تمام کی تمام موسیقی کی کیسٹ میں بھی پائی جاتی ہیں‘ مثلاً: شہوت کا بیدار ہونا اور تلذذکا حاصل ہونا‘ یہ دونوں صورتوں میں پیدا ہوتے ہیں‘ یہ الگ بات ہے کہ اگرموسیقی گانے والوں سے براہ راست سنی جائے تو اس کا منفی اثر زیادہ ہوتا ہے۔ الغرض موسیقی خواہ براہ راست سنی جائے یا اسکی کیسٹ سنی جائے اس سے دل میں نفاق پیداہوتاہے جیساکہ حدیث میں ہے:
’’ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع‘‘
[شعب الإیمان للبیھقی ،الباب الرابع والثلاثون فی حفظ اللسان ،فصل فی حفظ اللسان عن الغناء: ۴؍۲۷۹،رقم الحدیث(۵۱۰۰)ط:دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔]

رہا تلاوت پر ثواب کا حصول! تو وہ محض تلاوت سننے پرہے‘ نہ کہ اس سے تأثر لینے پر‘  لہٰذا یہ قیاس غلط ہے کہ ثواب چونکہ اصل تلاوت پر ہے اور وہ یہاں مفقود ہے اس لئے ثواب نہیں۔
رہا تصویر کا مسئلہ ! تو خانہ کعبہ اور بیت اللہ کی تصویر پر ثواب نہ ملنے کو بنیاد بناکر‘ نا محرم اور جاندار اشیأ کی تصویر بنانے‘ پاس رکھنے اور دیکھنے پر جواز کا استدلال کرنا غلط اور قیاس مع الفارق ہے‘ کیونکہ اس میں بے جان شئ کی تصویر پر جاندار شئی کی تصویر کو قیاس کیاگیا ہے اور یہ قیاس قیاس مع الفارق ہے۔ دوسری بات یہ کہ دلائل شرعیہ میں قیاس کا آخری درجہ ہے‘ سب سے پہلے کتاب اللہ ہے‘ پھر سنت رسول ہے‘ پھر اجماع ہے اور آخر میں قیاس ہے‘ جبکہ جاندار شئی کی تصویر کی حرمت پر بے شمار نصوص (احادیث نبویؐ) موجود ہیں‘ لہٰذا حرمت کی ان نصوص کے باجود محض ایک قیاس مع الفارق سے کیونکر جاندار شئی کی تصویر کی اباحت اور جواز کو ثابت کیا جاسکتاہے؟۔
باقی خانہ کعبہ کی تصویر پر ثواب کا ملنا نہ ملنا تو یہ ایک امر شرعی ہے‘ کسی چیز میں ثواب یا عقاب کا ہونا نص شرعی کا محتاج ہے‘ بغیر نص شرعی کے کسی چیز میں ثواب یا عقاب کو ثابت نہیں کیا جاسکتا‘ چونکہ یہاں پر نص شرعی موجود نہیں اس لئے اس میں عقلی طور پر ثواب کا اثبات کیونکر ممکن ہے۔ جیساکہ محدث عظیم ملا علی قاریؒ ذیل کی حدیث میں تحریر فرماتے ہیں:
’’عن عابس بن ربیعۃ قال رأیت عمر یقبل الحجر ویقول انی لاعلم انک حجر ما تنفع ولاتضر ولولا انی رأیت رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم یقبل ما قبلتک‘‘۔
[مشکوۃ المصابیح ،کتاب المناسک،باب دخول مکۃ والطواف،الفصل الثالث ص:۲۲۸۔ط: قدیمی کراچی]

اس کے ذیل میں ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:
’’وفیہ اشارۃ منہ ؓ الی ان ہذا امر تعبدی فنفعل وعن علتہ لانسأل‘‘
[مرقاۃ المفاتیح ،کتاب المناسک، باب دخول مکۃ الفصل الثالث:۵؍۴۷۹۔ط: رشیدیہ کوئٹہ۔]

لہذا خانہ کعبہ کی تصویر کو بنیاد بناکر جاندار شئی کی تصویر کے جواز اور نامحرم عورت کی تصویر دیکھنے کے جواز پر استدلال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




No comments:

Post a Comment