یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔
[القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3]
یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
ہاں مگر جو کوئی (شرک و نافرمانی سے) (1)توبہ کرلے، (2)ایمان بھی لے آئے، (3)اور نیک عمل کرتا رہے تو اللہ ایسے لوگوں کی (پچھلی)برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
[سورۃ الفرقان:70]
یعنی حالت کفر میں انہوں نے جو برے کام کیے تھے، وہ ان کے نامہ اعمال سے مٹا دئیے جائیں گے، اور اسلام لا کر جو نیک عمل کیے ہوں گے وہ ان کی جگہ لے لیں گے۔
یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کرے گا۔ یا یہ کہ بدیوں کو مٹا کر توبہ اور عمل صالح کی برکت سے ان کی تعداد کے مناسب نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ جیسا کہ(نیچے)بعض احادیث سے ظاہر ہے۔
نہیں ہے کوئی طاقت الله کی نافرمانی سے (بچانے والی) سوائے الله کے بچانے کے، اور نہیں ہے کوئی قوت الله کی اطاعت(یعنی فرمانبرداری) پر سوائے الله کی مدد کے۔
[الترغيب في فضائل الأعمال-ابن شاهين(م385ھ) » حدیث#351]
.....اور سو(100) مرتبہ اَللّٰهُ اَکْبَرُ(یعنی الله سب سے بڑا ہے) کہو، یہ تمہارے لئے(الله کی خاطر قربانی کیلئے) نکیل ڈالی ہوئی مقبول سو(100) اونٹنیوں کے برابر (یعنی اتنا ثواب حاصل کرنے جیسا) ہوگا.....
۔۔۔اور جس نے سو(100) بار صبح ﴿سورج طلوع ہونے سے پہلے﴾ اور سو(100) بار شام کو بھی ﴿سورج غروب ہونے سے پہلے﴾ اَللّٰهُ اَکْبَرُ(یعنی الله سب سے بڑا ہے) کہا تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے زیادہ نیک عمل لے کر حاضر نہ ہوگا، سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کہا ہوگا یا اس کے برابر کہا ہوگا۔
[سنن-الترمذي:3471، سنن ابن ماجہ:3810]
﴿السنن الكبريٰ-النسائي:10588، صحيح الترغيب:658﴾
قرآنی اشارہ»سورۃ طٰہٰ:130، سورۃ ق:39
مرنے سے پہلے زندگی بھر کے بغیر-مانگے عطا کئے گئے اللہ کے انعامات کا شکر ادا کرلو ۔۔۔ بےشک جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت(رضا) ہی سے ہوگا، لیکن اعمال ہی (1)قیامت کے حساب، (2)جہنم کے عذاب اور (3)جنت میں سب سے نیچے پیچھے ہونے کی دائمی ندامت سے بچانے کا وسیلہ ہیں۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی آدم میں سے ہر انسان کو تین سو ساٹھ جوڑوں سے پیدا کیا گیا ہے، جس نے اللہ کی بڑائی بیان کی، اور اللہ کی تعریف کی، اور اللہ کی تہلیل کی (یعنی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا)، اور اللہ کی تسبیح کی (یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ کہا)، اور اَسْتَغْفَرَ اللَّهَ کہا، اور لوگوں کے راستہ سے پتھر یا کانٹے یا ہڈی کو ہٹادیا، اور نیکی کا حکم کیا، اور برائی سے منع کیا تین سو ساٹھ جوڑوں کی تعداد کے برابر۔ تو وہ اس دن چلتا ہے حالانکہ اس نے اپنی جان کو دوزخ سے دور کرلیا ہے ابو توبہ کی روایت ہے کہ:شام کرتا ہے وہ اسی حال میں۔ (یعنی سب گناہوں سے پاک و صاف ہوگا)۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے، تو «الله اكبر» کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔
[صحيح البخاري:2993+2994]
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مؤذن «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ دہرائے اور جب وہ «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» اور «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» کہے تو سننے والا بھی یہی الفاظ کہے۔ اور جب مؤذن «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» کہے تو سننے والا «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہے۔ پھر مؤذن جب «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» کہے تو سننے والے کو «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا چاہئیے۔ اس کے بعد مؤذن جب «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ» اور «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے تو سننے والے کو بھی یہی الفاظ دھرانے چاہئیں اور جب سننے والے نے اس طرح خلوص اور دل سے یقین رکھ کر کہا تو وہ جنت میں داخل ہوا۔“
[التاريخ الكبير للبخاري:2729، صحيح مسلم:385، سنن أبي داود:527، صحيح ابن خزيمة:417]
الله کی بڑائی-کبریائی کا مطلب:
القرآن:
اور تمام تر بڑائی(چودھراہٹ-شہنشاہی) اسی کو حاصل ہے ، آسمانوں میں بھی ، اور زمین میں بھی ، اور وہی ہے جس کا اقتدار(حکومت) بھی کامل ہے ، جس کی حکمت بھی کامل۔
[سورۃ الجاثیہ:37]
اور کہو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی شریک ہے، اور نہ اسے عاجزی سے بچانے کے لیے کوئی حمایتی درکار ہے۔ اور اس کی ایسی بڑائی بیان کرو جیسی بڑائی بیان کرنے کا اسے حق حاصل ہے۔
[سورۃ الکھف:111]
پھر جب انہوں (حضرت ابراھیمؑ) نے سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا : یہ میرا رب ہے۔ یہ زیادہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوا تو انہوں نے کہا : اے میری قوم ! جن جن چیزوں کو تم اللہ کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو، میں ان سب سے بیزار ہوں۔
[سورۃ الانعام:78]
لہٰذا
۔۔۔۔۔الله کی رضامندگی تو سب سے بڑی چیز(کامیابی)ہے۔۔۔۔۔
[سورۃ التوبۃ:72]
...یقینا الله کا ذکر "سب" سے بڑا(اچھا کام)ہے...
[سورۃ العنکبوت:45]
تو عذاب دے گا اسے الله سب سے بڑا عذاب۔
[سورۃ الغاشیہ:44]
یعنی
الله کا عذاب بھی سب سے بڑا ہے۔
الله زیادہ حقدار ہے کہ۔۔۔
القرآن:
اسی سے ڈرا جائے
[سورۃ التوبۃ:13]الزمر:38، الفتح:11
اس کو راضی کیا جائے
[التوبۃ:62]
اس کا قرض(یعنی عبادات کی قضا)ادا کیا جائے۔
[بخاری:1953]
اس سے وفاء کی جاۓ۔
[بخاری:7315]
اس سے(تنہائی میں بھی)حیاء کی جاۓ۔
[ابوداؤد:4017]
اللہ کی خوبیاں:
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام سلیم ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئے جن کے ذریعے میں دعاء کرلیا کروں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: دس مرتبہ سبحان اللہ، دس مرتبہ الحمدللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر اپنی ضرورت کا اللہ سے سوال کرو، اللہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارا کام کردیا، میں نے تمہارا کام کردیا۔
[مسند احمد:12207]
سنن الترمذي:481، سنن نسائي:1299، صحيح ابن خزيمة:850، صحيح ابن حبان:2011،
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عرفہ(9 ذی الحجہ) کے دن فجر کی نماز سے ایامِ تشریق کے آخری دن(13 ذی الحجہ) کی نماز عصر تک تکبیرِ تشریق کہتے تھے۔
[الآثار لأبي يوسف:295، الأصل لمحمد بن الحسن - ت الأفغاني:1/ 384، الآثار لمحمد بن الحسن:208،المصنف - ابن أبي شيبة - ت الشثري:5749+5750، الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف-ابن المنذر:2203، فضل عشر ذي الحجة للطبراني:35+36، سنن الدارقطني:1733+1734، المستدرك على الصحيحين للحاكم:1111، معرفة السنن والآثار-البيهقي:7001+7003، السنن الصغير للبيهقي:682]
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم (علیہ السلام) سے ملا، ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتادینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے، اور اس کی باغبانی: «سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ{وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ }» سے ہوتی ہے۔
[سنن الترمذي:3462 {المعجم الكبير للطبراني:10363، المعجم الأوسط للطبراني:4170، المعجم الصغير للطبراني:539، ترتيب الأمالي الخميسية للشجري:1121، المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي:14}]
[صحيح الترغيب والترهيب:1550، صحيح الجامع الصغير:3460+5152، الصحيحة:105]
تحمید کہتے ہیں حمد بیان کرنے کو، یعنی الله کی تعریف(تعارف وپہچان) بیان کرنے کو۔
جیسے:
پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تمام تعریفیں الله کیلئے جو کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا، جس نے ہم پر احسان کیا، ہمیں گمراہی سے ہدایت دی اور ہمیں کھلایا پلایا اور ننگے پن سے کپڑا پہنایا اور اندھے پن کے بدلہ روشنی بخشی اور اپنی بہت سے مخلوق پر ہمیں بڑی فضیلت دی اور ہمیں اچھی آزمائش میں مبتلا کیا۔
تمام تعریفیں الله کیلئے نہ میرے رب کو الوداع کہتے ہوۓ اور نہ بدلہ دیتے ہوۓ اور نہ ناشکری اور اس سے بےپرواہی کرتے ہوۓ۔
[حاکم:2003]
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ
ترجمہ:
اور الحمدلله کہنا اعمال نامہ کو نیکیوں سے بھردیتا ہے۔
[صحیح مسلم:223(556)۔باب فضل الوضوء]
الله پاک کے آخری پیغمبر محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ ترجمہ:
۔۔۔ ہر تحمید (یعنی سبحان الله کہنا) بھی صدقہ(نیکی)ہے۔۔۔
اور جو تعریف کہے الله کی 100 مرتبہ صبح کو اور 100 مرتبہ شام کو بھی تو گویا اس نے فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے 100 گھوڑے فراہم کئے...یا...اس نے 100 جہاد کئے۔۔۔
حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہر رات سورہٴ واقعہ پڑھتا ہے وہ (کبھی بھی) فاقے کی حالت کو نہیں پہنچتا۔
[فضائل القرآن-امام أبو عبيد القاسم بن سلام (م224ھ) : ص257]
(مشيخة-يعقوب بن سفيان الفسوي(م277ھ): حدیث نمبر 13)
(مسند-امام الحارث(م282ھ): حدیث نمبر 721)
(عمل اليوم والليلة-ابن السني(م364ھ): حدیث نمبر 680)
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية-ابن حجر العسقلاني (م852ھ):حدیث نمبر3742
جامع الأحاديث-الجلال السيوطي (م911ھ):حدیث نمبر 23441
الجامع الصغير وزيادته-الجلال السيوطي (م911ھ):حدیث نمبر 12546
[بغية الباحث: 226، والجامع الصغير: 2/ 634]
(2)عن أبي ظَبْية قال: مرض عبد الله بن مسعود فعاده عثمان بن عفان رضي الله عنهما فقال ما تشتكي قال ذنوبي قال فما تشتهي قال رحمة ربي قال ألا أدعوا لك طبيبا قال الطبيب أمرضني قال ألا أمر لك بعطائك قال لا حاجة لي فيه قال يكون لولدك من بعدك قال قال أتخشى على ولدي الفقر أمرت بناتي بقراءة سورة بسورة الواقعة فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من قرأ سورة الواقعة كل ليلة لم تصبه فاقة أبدا۔
ترجمہ:
ابو ظبیہ فرماتے ہیں:
جب عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے، اس بیماری میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، پوچھا: آپ کو کیا شکوہ ہے؟ فرمایا: اپنے گناہوں کا، دریافت کیا: خواہش کیا ہے؟ فرمایا: اپنے رب کی رحمت کی، پوچھا: کسی طبیب کو بھیج دوں؟ فرمایا: طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے۔ پوچھا: کچھ مال بھیج دوں؟ فرمایا: مال کی کوئی حاجت نہیں، کہا: آپ کے بچوں کے کام آئے گا، فرمایا: کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے؟ سنئے! میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورۃ الواقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورۃ الواقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا۔
[من حديث أبي بكر أحمد بن علي بن لال عن شيوخه(م398ھ): حدیث نمبر 9]
تفسير الثعلبي:حدیث نمبر2981
شعب الإيمان-امام البيهقي(م458ھ) : حدیث نمبر2267
ترتيب الأمالي الخميسية-الشجري(م499ھ) : حدیث نمبر2876
التمهيد - ابن عبد البرؒ(م463ھ)- ت بشار: 3/666
محاضرات الأدباء-الراغب الأصفهاني(م502ھ) : 1/507
غرائب التفسير وعجائب التأويل-أبو القاسم الكرمانيؒ (بعد 531): 2/1175
تاريخ دمشق لابن عساكرؒ(م571ھ) : 33/186
أسد الغابة في معرفة الصحابة ط العلمية-امام ابن الأثير(م630ھ) :3182(3/381)
تفسير القرطبي(م671ھ):17/194 سورۃ الواقعہ
تهذيب الأسماء واللغات-النووي(م676ھ):1/290، الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية:3/279
المدخل-ابن الحاج (م737ھ) :4/115
تخريج أحاديث الكشاف-الزيلعي(م762ھ) : 2/411
تفسير النيسابوري(م850ھ) : 6/247
تفسير ابن كثير(م774ھ) - ت السلامة : 7/511 سورۃ الواقعہ
تاریخ ابن کثیر=البداية والنهاية ط الفكر:7/163
وَكَانَ أَبُو ظَيْبَةَ لَا يَدَعُهَا أَبَدًا۔
ترجمہ:
اور(اس واقعہ کے راوی) ابوظبیہ بھی اس (سورۃ الواقعہ کو بلاناغہ پڑھنا) کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔
[تفسير البغوي(م510ھ):8/28- طيبة]
تفسير الخازن(م741ھ):4/234
اللباب في علوم الكتاب-ابن عادل (م775ھ):18/450
السراج المنير-الخطيب الشربيني (م977ھ):4/201
(3)حضرت مسروقؒ سے روایت ہے:
من أراد أن يعلم نبأ الأولين والآخرين، ونبأ أهل الجنة، ونبأ أهل النار، ونبأ أهل الدنيا، ونبأ أهل الآخرة، فليقرأ سورة الواقعة
ترجمہ:
جو چاہے کہ وہ جانے خبریں اولین اور آخرین کی، اور خبریں(خوبیاں)جنت والوں کی، اور خبریں(خامیاں)جہنم والوں کی، اور خبریں دنیاوالوں کی، اور خبریں آخرت والوں کی۔۔۔۔تو وہ پڑھے سورۃ الواقعہ۔
[تفسير الثعلبي:2982]
(4)حضرت ابی بن کعبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
من قرأ سورة الواقعة لم يكتب من الغافلين ويبعثه الله يوم القيامة من المقربين۔
ترجمہ:
جو پڑھے سورۃ الواقعہ تو نہیں لکھا جائے گا اسے (کافروں جیسا)غافل لوگوں میں سے اور اسے اٹھائے گا اللہ قیامت کے دن مقرب لوگوں میں۔
[تفسير الثعلبي:2982، التيسير في التفسير-أبو حفص النسفي(م537ھ):14/231]
(5)حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
علموا نساءكم سورة الواقعة فإنها سورة الغنى۔
ترجمہ:
اپنی عورتوں کو سورۃ الواقعہ سکھاؤ، کیونکہ یہ مالدار کرنے والی سورت ہے۔
[الفردوس بمأثور الخطاب:4005، زهر الفردوس = الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس:1969، المطالب العالية محققا:15/ 311]
سورۃ الواقعۃ کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے کہ اس سے رزق میں تنگی نہیں آتی ۔تاہم یہ فضیلت رات کے کسی بھی حصہ میں پڑھنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ خاص مغرب کے بعد پڑھنا ضروری نہیں۔
اگرچہ یہ احادیث ضعیف ہیں تاہم ایک تو ان میں ضعف کم ہے۔
دوسرا یہ متعدد طرق سے منقول ہےاور ایسی ضعیف احادیث فضائل اعمال میں چند شرائط کے ساتھ قابل عمل شمار ہوتی ہیں:
1ــ ضعف شدید نہ ہو ، ضعف شدید راوی کے متہم بالکذب یا فحش غلط کی وجہ سے ہوتا ہے۔(اس حدیث میں ایسا کوئی راوی نہیں جو متہم بالکذب فاحش الغلط ہو۔)
2ــ کسی معمول بہ اصل کے مطابق ہو،قرآن ،حدیث ،اجماع اور قیاس کے مخالف اس کا مضمون نہ ہو۔(یہ حدیث بھی کسی شرعی اصل کے خلاف نہیں ہے۔)
3ــ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے یہ اعتقاد نہ ہو کہ یہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے بلکہ احتیاطا اس پر عمل کیا جائے۔
لہذا مذکورہ بالا شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے اس حدیث پر عمل کیا جاسکتاہے اوراسے آگے بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔
الحَدِيث الْحَادِي عشر عَن رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ أَنه قَالَ : “من قَرَأَ سُورَة الْوَاقِعَة فِي كل ليله لم تصبه فاقة أبداَ”.
قلت (القائل هو الزيلعي ت 762هـ ) رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان فِي الْبَاب التَّاسِع عشر من حَدِيث الْحجَّاج ابْن منهال ثَنَا السّديّ بن يَحْيَى الشَّيْبَانِيّ أَبُو الْهَيْثَم عَن شُجَاع عَن أبي فَاطِمَة أَن عُثْمَان بن عَفَّان عَاد ابْن مَسْعُود فِي مَرضه فَقَالَ مَا تَشْتَكِي قَالَ ذُنُوبِي قَالَ فَمَا تشْتَهي قَالَ وَجه رَبِّي قَالَ أَلا نَدْعُو لَك طَبِيبا قَالَ الطَّبِيب أَمْرَضَنِي قَالَ أَلا آمُر لَك بِعَطَائِك قَالَ منحتنيه قبل الْيَوْم فَلَا حَاجَة لي فِيهِ قَالَ تَدعه لأهْلك وَعِيَالك قَالَ إِنِّي عَلَّمْتهمْ شَيْئا إِذا قَالُوهُ لم يَفْتَقِرُوا سَمِعت رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ يَقُول (من قَرَأَ الْوَاقِعَة كل لَيْلَة لم يفْتَقر)انْتَهَى.
(تخريج الكشاف : 3/411 ، رقم الحديث : 1295 ، ط : دار ابن خزيمة)
وقال أيضا : فقد تبين ضعف هَذَا الحَدِيث من وُجُوه.
أَحدهمَا : الِانْقِطَاع كَمَا ذكره الدَّارَقُطْنِيّ وَابْن أبي حَاتِم فِي علله نقلا عَن أَبِيه.وَالثَّانِي : نَكَارَة مَتنه كَمَا قَالَ أَحْمد. وَالثَّالِث ضعف رُوَاته كَمَا ذكره ابْن الْجَوْزِيّ.وَالرَّابِع : الإضراب فَمنهمْ من يَقُول أَبُو طيبَة بِالطَّاءِ الْمُهْملَة بعْدهَا يَاء آخر الْحُرُوف كَمَا ذكره الدَّارَقُطْنِيّ وَمِنْهُم من يَقُول بِظَاء مُعْجَمه بعْدهَا بَاء موحده وَمِنْهُم من يَقُول أَبُو فَاطِمَة كَمَا ذكرهمَا الْبَيْهَقِيّ وَمِنْهُم من يَقُول أَبُو شُجَاع وَمِنْهُم من يَقُول عَن أبي شُجَاع وَقد اجْتمع عَلَى ضعفه الإِمَام أَحْمد وَأَبُو حَاتِم وَابْنه وَالدَّارَقُطْنِيّ وَالْبَيْهَقِيّ وَابْن الْجَوْزِيّ تَلْوِيحًا وَتَصْرِيحًا وَالله أعلم.وَذكره النَّسَائِيّ فِي كتاب الكنى فَقَالَ أَبُو ظَبْيَة شُجَاع عَن ابْن عمر رَوَى عَنهُ السّري بن يَحْيَى انْتَهَى.
کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر روز 1000 نیکیاں کمائے؟ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے پوچھا: ہم میں سے کوئی شخص 1000 نیکیاں (روزانہ) کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ 100 بار سُبْحَانَ اللَّهِ (یعنی پاک ہے اللہ) کہے ۔ اس کے لیے 1000 نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے 1000 گناہ مٹا دئیے جائیں گے۔
[صحیح مسلم» کتاب الذکر، باب فضل التھلیل والتسبیح، حدیث#2698]
جس نے سو(100) بار صبح اور سو بار شام کو بھی تسبیح پڑھی (یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ ۔۔۔۔ پاک ہے اللہ ۔۔۔۔ کہا) تو وہ سو(100 نفل) حج کیے ہوئے شخص کی طرح ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔