Virtues of Prophetic Affirmation:
حوقلۃ
عرف میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہنا ہے۔ کہا جاتا ہے: قد أكثر من الحوقلة
یعنی کثرت سے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہنا۔
[الإبانة في اللغة العربية-الصحاري (م511ھ): 4/ 630]
الله پاک کے آخری پیغمبر محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا:
کیا میں تمہیں نہ بتاؤں وہ کلمہ جو جنت کے خزانوں میں سے
[صحيح البخاري:4205-6409، صحيح مسلم:2704(6864)، سنن ابن ماجه:3824]
ایک خزانہ ہے؟
[صحيح البخاري:6384-7386، صحيح مسلم:2704(6864)، سنن الترمذي:3461-3374]
جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے؟
[مسند أحمد:15480-21996، سنن الترمذي:3581، السنن الكبرى-النسائي:10117، أمالي المحاملي رواية ابن مهدي الفارسي:306، صحيح الترغيب والترهيب:1581]
جو(کثرت سے/بہت زیادہ) کہے:
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
(یعنی نہیں ہے کوئی طاقت اور نہیں ہے کوئی قوۃ سوائے اللہ(کی مدد)سے)۔
[مسند-البزار:2004-8553]
تو بےشک یہ اس کیلئے 99 بیماریوں کی دوا ہے، (99 مصیبتوں کے دروازے بند کرتا ہے)، جن میں ادنی "غم" ہے.
[المستدرک-الحاكم:1990، جامع الاحادیث-السیوطي:4328]
بندہ جب یہ کلمہ کہتا ہے تو الله فرماتے ہیں: میرا بندہ مسلمان ہوگیا اور میرے سامنے سرِتسلیم خم ہوگیا۔
[مسند-احمد» حدیث#8426 مسند-البزار» حدیث#9607، المستدرک-الحاکم» حدیث#54]
نبوی تفسیر Prophetic Commentary:
«لَا حَوْلَ عَنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعِصْمَةِ اللَّهِ، وَلَا قُوَّةَ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ»
یعنی
نہیں ہے کوئی طاقت الله کی نافرمانی سے (بچانے والی) سوائے الله کے بچانے کے، اور نہیں ہے کوئی قوت الله کی اطاعت(یعنی فرمانبرداری) پر سوائے الله کی مدد کے۔
[مسند-البزار:2004]
[الترغيب في فضائل الأعمال-ابن شاهين(م385ھ) » حدیث#351]
[شعب الإيمان-البيهقي » حدیث#655-656-657
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد»حدیث#16907،
مسند-البزار(م282ھ)»حدیث#2005
الدر المنثور في التفسير بالمأثور»سورۃ الکھف:آية38
عنوان: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ – جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ
عربی متن
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - يَخْدُمُهُ، فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟" قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ."
ترجمہ:
حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے دے دیا۔ (قیس کہتے ہیں:) پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں دو رکعتیں پڑھ چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے مارا (یعنی ہلکا سا لگایا) اور فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟" میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔" (1)
حوالہ جات :
(1) یہ حدیث مسند الإمام أحمد (15518)، جامع الترمذی (3581)، سنن النسائی (10187)، اور المستدرک للحاکم (7787) میں مروی ہے۔ نیز دیکھیں صحیح الجامع (2610) اور السلسلة الصحيحة (1746)۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "حسن لغيره" (یہ حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے حسن ہے)۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔ اسے امام أحمد، امام ترمذی، امام نسائی، اور امام حاکم نے روایت کیا۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (2610) اور السلسلة الصحيحة (1746) میں درج کیا۔
حدیث کا مرکزی مضمون:
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے مقرر تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ بتایا۔
وہ دروازہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" ہے۔
عنوان: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ – جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ
عربی متن
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ:
"سَمِعَنِي النَّبِيُّ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - وَأَنَا أَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، قَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟"، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: قُلْ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ."
ترجمہ:
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سنا جبکہ میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! (1) کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟ (2) میں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔" (3)
تخریج و حوالہ جات
اس حدیث کو امام بخاری نے صحیح البخاری (6021) میں، امام مسلم نے صحیح مسلم (45 - 2704) میں، امام ترمذی نے جامع الترمذی (3374) میں، امام ابوداود نے سنن أبی داود (1526) میں، امام ابن ماجہ نے سنن ابن ماجہ (3824) میں، اور امام أحمد نے مسند أحمد (19590) میں روایت کیا ہے۔ علامہ البانی نے اسے السلسلة الصحيحة (1528) اور صحيح الترغيب والترهيب (1585) میں درج کیا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن قیس ہے، اور یہ حدیث متفق علیہ (بخاری و مسلم) ہے۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں:
{وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ} (الإنسان: 30)
(اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔)
تفسیر: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسان کی کوئی طاقت یا ارادہ اللہ کی توفیق کے بغیر مؤثر نہیں۔
2. اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نہیں:
{وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ} (الكهف: 39)
(اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا: مَا شَاءَ اللَّهُ، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔)
تفسیر: یہ آیت "لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کے الفاظ پر مشتمل ہے، جو حدیث کے مفہوم کی قرآنی بنیاد ہے۔
3. اللہ ہی مدد کرنے والا ہے:
{إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ} (آل عمران: 160)
(اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔)
تفسیر: نصرت اور قوت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اسی لیے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا جاتا ہے۔
4. اللہ پر توکل:
{وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} (الطلاق: 3)
(اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔)
تفسیر: یہ کلمہ توکل اور اللہ پر بھروسے کا اعلیٰ اظہار ہے۔
5. ذکر سے دلوں کا اطمینان:
{أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ} (الرعد: 28)
(خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔)
تفسیر: یہ کلمہ ذکر ہے، اور ذکر سے دل کو سکون ملتا ہے۔
6. اللہ کی یاد میں مشغول رہنا:
{فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ} (البقرة: 152)
(پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔)
تفسیر: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" اللہ کی یاد کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔
حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ"
(سب سے افضل ذکر "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" ہے، اور سب سے افضل دعا "الْحَمْدُ لِلَّهِ" ہے۔)
(جامع الترمذی: 3383)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ مَاؤُهَا، طَيِّبٌ تُرَابُهَا، فَأَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا غَرْسُهَا؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(جنت کے درخت زیادہ لگاؤ، کیونکہ اس کا پانی میٹھا اور اس کی مٹی پاکیزہ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کے درخت کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔)
(جامع الترمذی، مسند أحمد)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، كَانَتْ لَهُ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ اس کے لیے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بن گیا۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔)
(صحیح البخاری: 6384، صحیح مسلم: 2704)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ"
(جس نے دس بار "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔)
(مسند أحمد، سنن الترمذی)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الَّذِي يَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(بیشک اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہتا ہے۔)
(مسند أحمد)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگایا گیا۔)
(مسند أحمد، سنن الترمذی)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، بیشک یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
فقہی نکات
1. یہ کلمہ ذکر ہے: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" ایک عظیم ذکر ہے، جسے کثرت سے پڑھنا مستحب ہے۔
2. معنی: "لَا حَوْلَ" یعنی کسی حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونے کی طاقت نہیں، اور "لَا قُوَّةَ" یعنی کسی کام کو کرنے کی قوت نہیں، مگر اللہ کی مدد سے۔
3. جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ: اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا اجر جنت میں محفوظ ہے، یا یہ جنت کے خزانوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، یا یہ توحید اور توکل کا جامع اظہار ہے۔
4. یہ کلمہ کب پڑھا جائے: ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں، بعد از نماز، صبح و شام، اور مصیبت کے وقت۔
5. یہ کلمہ کسی فرض کا بدل نہیں: یہ ایک ذکر ہے، نماز، روزہ، زکاۃ، حج جیسی فرض عبادات کا متبادل نہیں۔
6. توکل اور اسباب: یہ کلمہ اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں، بلکہ یہ اسباب پر بھروسے کی نفی اور اللہ پر توکل کا اظہار ہے۔
7. ریا سے پاک: یہ کلمہ اپنی طاقت اور خود پسندی کو ختم کرتا ہے، اور انسان کو عاجزی کی طرف لے جاتا ہے۔
8. بدعت نہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے اسے پڑھنا سنت ہے، اور اس کے فضائل میں کوئی شک نہیں۔
9. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت: شریعت میں کسی کو "خليفة الله" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا، اور ذکر میں بھی اخلاص ضروری ہے۔
تصوف کے نکات
1. توحیدِ افعال: صوفیاء کے نزدیک "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" توحیدِ افعال کا اعلیٰ اظہار ہے، یعنی کوئی حرکت یا قوت اللہ کی مدد کے بغیر نہیں۔
2. خودی کی نفی: یہ کلمہ خودی اور انا کو مٹاتا ہے، اور بندے کو اللہ کی قدرت کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
3. ذکرِ قلبی: یہ صرف زبان کا ذکر نہیں، بلکہ دل کا ذکر ہے، جو انسان کو اللہ کی قربت سے ہمکنار کرتا ہے۔
4. مصیبت میں سکون: صوفیاء اس کلمے کو مصیبت اور پریشانی کے وقت پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ کی مدد کا یقین دلاتا ہے۔
5. عجب اور ریا سے نجات: یہ کلمہ اپنے آپ کو کچھ سمجھنے سے بچاتا ہے، اور ریا سے پاک کرتا ہے۔
6. "خليفة الله" کا رد: صوفیاء "خليفة الله" کے بجائے "خليفة رسول الله" کہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
7. اللہ کی طرف رجوع: یہ کلمہ بندے کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، قاری، گورنر، اور قاضی تھے۔
2. یہ حدیث صحیح البخاری (6021) اور صحیح مسلم (2704) میں مروی ہے، جو اس کی صحت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ کو یہ کلمہ سکھایا، جو جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ ہے۔
4. امام ابن حجر، امام نووی، اور دیگر محدثین نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔
5. یہ کلمہ صحابہ کرام اور سلف صالحین کے ہاں بہت معروف تھا، اور وہ اسے کثرت سے پڑھتے تھے۔
6. علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا۔
7. اہلِ سنت کے نزدیک یہ کلمہ ذکر، توحید، اور توکل کا جامع اظہار ہے۔
8. "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کو جنت کے خزانوں میں سے کہا گیا، کیونکہ یہ توحید کا خلاصہ ہے۔
9. یہ کلمہ قیامت کے دن بندے کے لیے نور اور نجات کا ذریعہ ہو گا۔
10. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسے کثرت سے پڑھیں اور اس کے معنی پر غور کریں۔
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ ہے۔
2. یہ کلمہ توحید، توکل، اور اللہ کی مدد کا اعتراف ہے۔
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ کو یہ کلمہ سکھایا۔
4. یہ کلمہ ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں پڑھنا چاہیے۔
5. یہ فرض عبادات کا بدل نہیں، بلکہ ایک عظیم ذکر ہے۔
6. یہ کلمہ خود پسندی، عجب، اور ریا کو ختم کرتا ہے۔
7. یہ کلمہ دل کو سکون اور اللہ کی قربت عطا کرتا ہے۔
8. یہ کلمہ جنت میں درخت لگانے کا ذریعہ ہے۔
9. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. قیامت کی علامات پر ایمان رکھنا اور آخرت کی تیاری کرنا ضروری ہے۔
مقاصد
1. اس عظیم کلمے کی فضیلت سے آگاہ کرنا۔
2. توحید اور توکل کی تعلیم دینا۔
3. ذکر کی ترغیب دینا۔
4. جنت کے خزانوں کے بارے میں بتانا۔
5. خود پسندی اور ریا سے بچنے کی ترغیب دینا۔
6. مشکل وقت میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" سکھایا اور اسے جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ قرار دیا۔
یہ کلمہ توحید، توکل، اور اللہ کی مدد کا جامع اظہار ہے۔ یہ ہر وقت پڑھنے، مشکل وقت میں سکون، جنت میں درخت لگانے، اور اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔
نتیجہ: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ ذکر، توحید، اور توکل کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں اللہ پر بھروسہ، اپنی بےبسی کا اعتراف، اور اللہ کی قدرت پر یقین کا درس ملتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
📚 تخریج:-دیگر روایات
۱. صحیح بخاری (6384):
اسی مفہوم کی روایت، الفاظ: ”اے لوگو! اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ تم ایک سننے والے، دیکھنے والے کو پکار رہے ہو۔“ پھر فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کہو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
۲. صحیح بخاری (6409):
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی ﷺ ایک گھاٹی میں چڑھے، ایک شخص نے بلند آواز سے کہا: لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ آپ ﷺ اپنی خچر پر تھے، فرمایا: ”تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔“ پھر فرمایا: ”اے ابو موسیٰ! یا اے عبداللہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔“
۳. صحیح بخاری (6610):
اسی طرح، الفاظ: ”اے لوگو! اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ تم ایک سننے والے، دیکھنے والے کو پکار رہے ہو۔“ پھر فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ سکھاؤں: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔“
۴. صحیح بخاری (7386):
اسی مفہوم کی روایت۔
۵. صحیح مسلم (2704):
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے اوپر نرمی کرو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے، بلکہ تم ایک سننے والے، قریب والے کو پکار رہے ہو، اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔“ اور میں آپ کے پیچھے تھا اور میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔“
اسی مفہوم کی متعدد اسانید مسلم میں ہیں، جن میں بعض میں ”اللہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے“ کے الفاظ ہیں (یعنی علم اور قدرت کے اعتبار سے قریب ہے)۔
۶. سنن ترمذی (3461):
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم لوٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور آوازیں بلند کیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک تمہارا رب بہرا نہیں اور نہ غائب ہے، وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کے سروں کے درمیان ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ سکھاؤں: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (البانی: صحیح)
۷. سنن ترمذی (3581):
حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے انہیں نبی ﷺ کی خدمت کے لیے بھیجا۔ وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں نماز پڑھ چکا تھا، آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے (ہلکے سے) مارا اور فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔“ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (البانی: صحیح)
۸. سنن ابی داؤد (1526، 1527، 1528):
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایات ہیں۔ ایک میں ہے: ”جو تم پکار رہے ہو وہ تم میں سے کسی کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔“ اور پھر ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“ جنت کا خزانہ قرار دیا۔ (البانی: صحیح، سوائے ”بینکم وبین أعناق رکائبکم“ کے، جو منکر ہے)
۹. سنن ابن ماجہ (3824):
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے مجھے سنا جب میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔“ (البانی: صحیح)
۱۰. مسند احمد:
متعدد اسانید (19575، 19579، 19599، 19604، 19605، 19648، 19745، 19755) میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی روایت ہے، کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ہے۔“
۱۱. صحیح ابن حبان (804):
اسی مفہوم کی روایت۔ (البانی: صحیح)

عنوان: ہلاک ہو گئے مال جمع کرنے والے – جنت کا خزانہ اور اللہ کی طرف پناہ
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ:
كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم - فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: "يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: حَثَا بِكَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ - وَقَلِيلٌ مَا هُمْ" ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ: "يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" (1) "فَإِنَّ اللهَ - عزَّ وجل - يَقُولُ: أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ." (2)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے بعض لوگوں کے کھجوروں کے باغ میں چل رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'اے ابوہریرہ! ہلاک ہو گئے مال جمع کرنے والے (مکثرون)، سوائے اس کے جو اس طرح، اس طرح اور اس طرح کہے' — تین بار — آپ نے اپنی ہتھیلیوں سے دائیں، بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا (یعنی مال کو ہر طرف خرچ کرے) — 'اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔'
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلے، پھر فرمایا:
'اے ابوہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟'
میں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ!
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ'
(اللہ کی مدد کے بغیر نہ کوئی حرکت ہے اور نہ کوئی قوت، اور اللہ سے پناہ اللہ ہی کی طرف ہے۔) (1)
'پس بیشک اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرنڈر کر دیا (أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ)۔' (2)
حوالہ جات:
(1) یہ حصہ مسند الإمام أحمد (8071، 10808) اور المعجم للطبرانی فی الدعاء (1637) میں مروی ہے۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "إسناده صحيح" (اس کی سند صحیح ہے)۔
(2) یہ حصہ مسند الإمام أحمد (8407، 10747)، سنن النسائی (9841)، المستدرك للحاکم (54)، اور شعب الإیمان للبیہقی (193) میں مروی ہے۔ نیز دیکھیں صحیح الجامع (2614) اور السلسلة الصحيحة حدیث 1528 کے تحت۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "إسناده حسن" (اس کی سند حسن ہے)۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام أحمد، امام نسائی، امام حاکم، اور امام بیہقی نے روایت کیا۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے پہلے حصے کو صحیح اور دوسرے حصے کو حسن قرار دیا۔ علامہ البانی نے اسے صحیح الجامع (2614) اور السلسلة الصحيحة (1528) میں درج کیا۔
حدیث کا مرکزی مضمون:
مکثرون (مال جمع کرنے والے) کی ہلاکت کی خبر۔
استثنا: وہ لوگ جو مال کو دائیں، بائیں اور سامنے (ہر طرف) خرچ کریں۔
جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" ۔
اللہ کا فرمان: "أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" (میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرنڈر کر دیا)۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں:
{وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ} (الإنسان: 30)
(اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔)
تفسیر: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" اسی حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسان کی کوئی طاقت یا ارادہ اللہ کی توفیق کے بغیر مؤثر نہیں۔
2. اللہ کی قوت کے سوا کوئی قوت نہیں:
{وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ} (الكهف: 39)
(اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو کیوں نہ کہا: مَا شَاءَ اللَّهُ، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔)
تفسیر: یہ آیت "لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کے الفاظ پر مشتمل ہے، جو حدیث کے مفہوم کی قرآنی بنیاد ہے۔
3. اللہ سے پناہ اللہ ہی کی طرف:
{وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ} (الأنعام: 17)
(اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔)
تفسیر: "وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" کا مطلب ہے کہ اللہ کے فیصلے سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں، سوائے اللہ کی رحمت اور اس کی طرف رجوع کے۔
4. اللہ کی طرف بھاگنا:
{فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ} (الذاریات: 50)
(پس اللہ کی طرف بھاگو۔)
تفسیر: ہر خوف اور مصیبت سے اللہ کی طرف بھاگنا چاہیے، کیونکہ اسی میں نجات ہے۔
5. اللہ پر توکل:
{وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} (الطلاق: 3)
(اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔)
تفسیر: یہ کلمہ توکل اور اللہ پر بھروسے کا اعلیٰ اظہار ہے۔
6. مال کی محبت سے بچنا:
{وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا} (الفجر: 20)
(اور تم مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔)
تفسیر: "مکثرون" کی ہلاکت کی وجہ مال کی محبت اور اس کے حقوق ادا نہ کرنا ہے۔
7. اللہ کی راہ میں خرچ کرنا:
{وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ} (البقرة: 272)
(اور تم جو بھلائی خرچ کرو گے وہ تمہارے ہی لیے ہے۔)
تفسیر: حدیث میں "ہکذا وہکذا وہکذا" سے مراد مال کو ہر طرف اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔
8. اسلام اور سرنڈر:
{إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ} (البقرة: 131)
(جب اس کے رب نے اس سے کہا: اسلام لاؤ، اس نے کہا: میں نے رب العالمین کے لیے اسلام قبول کیا۔)
تفسیر: "أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" اسی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، كَانَتْ لَهُ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ اس کے لیے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بن گیا۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ مَاؤُهَا، طَيِّبٌ تُرَابُهَا، فَأَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا غَرْسُهَا؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(جنت کے درخت زیادہ لگاؤ، کیونکہ اس کا پانی میٹھا اور اس کی مٹی پاکیزہ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کے درخت کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔)
(جامع الترمذی، مسند أحمد)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ"
(جس نے دس بار "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔)
(مسند أحمد، سنن الترمذی)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الَّذِي يَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(بیشک اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہتا ہے۔)
(مسند أحمد)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگایا گیا۔)
(مسند أحمد، سنن الترمذی)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، بیشک یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْمُكْثِرُونَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا"
(مال جمع کرنے والے قیامت کے دن مفلس ہوں گے، سوائے اس کے جو اس طرح اور اس طرح کہے۔)
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ ظَهْرٍ فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا ظَهْرَ لَهُ"
(جس کے پاس سواری کا فالتو جانور ہو، وہ اسے اس شخص کو دے جس کے پاس سواری نہ ہو۔)
(صحیح مسلم)
فقہی نکات
1. مال جمع کرنے کی مذمت: حدیث میں "مکثرون" (مال جمع کرنے والے) کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے، یعنی وہ لوگ جو مال کو جمع کرتے ہیں اور اس کے حقوق ادا نہیں کرتے۔
2. استثنا: وہ لوگ جو مال کو دائیں، بائیں اور سامنے (ہر طرف) خرچ کرتے ہیں، یعنی اللہ کی راہ میں فیاضی سے دیتے ہیں۔
3. جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
4. معنی: "لَا حَوْلَ" یعنی کسی حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونے کی طاقت نہیں، اور "لَا قُوَّةَ" یعنی کسی کام کو کرنے کی قوت نہیں، مگر اللہ کی مدد سے۔ "وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" یعنی اللہ کے فیصلے سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں، سوائے اللہ کی رحمت اور اس کی طرف رجوع کے۔
5. یہ کلمہ کب پڑھا جائے: ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں، بعد از نماز، صبح و شام، اور مصیبت کے وقت۔
6. یہ کلمہ کسی فرض کا بدل نہیں: یہ ایک ذکر ہے، نماز، روزہ، زکاۃ، حج جیسی فرض عبادات کا متبادل نہیں۔
7. توکل اور اسباب: یہ کلمہ اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں، بلکہ یہ اسباب پر بھروسے کی نفی اور اللہ پر توکل کا اظہار ہے۔
8. اسلام اور سرنڈر: "أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" کا مطلب ہے کہ بندے نے اللہ کے حکم کے سامنے سرنڈر کر دیا، اور اپنی طاقت و قوت کا اعتراف ختم کر دیا۔
9. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت: شریعت میں کسی کو "خليفة الله" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا، اور ذکر میں بھی اخلاص ضروری ہے۔
تصوف کے نکات
1. توحیدِ افعال: صوفیاء کے نزدیک "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" توحیدِ افعال کا اعلیٰ اظہار ہے، یعنی کوئی حرکت یا قوت اللہ کی مدد کے بغیر نہیں۔
2. خودی کی نفی: یہ کلمہ خودی اور انا کو مٹاتا ہے، اور بندے کو اللہ کی قدرت کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
3. ذکرِ قلبی: یہ صرف زبان کا ذکر نہیں، بلکہ دل کا ذکر ہے، جو انسان کو اللہ کی قربت سے ہمکنار کرتا ہے۔
4. مصیبت میں سکون: صوفیاء اس کلمے کو مصیبت اور پریشانی کے وقت پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ کی مدد کا یقین دلاتا ہے۔
5. عجب اور ریا سے نجات: یہ کلمہ اپنے آپ کو کچھ سمجھنے سے بچاتا ہے، اور ریا سے پاک کرتا ہے۔
6. "أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ": صوفیاء کے نزدیک یہ فناء فی اللہ اور رضا بالقضا کی اعلیٰ منزل ہے۔
7. مال کی محبت سے نجات: صوفیاء مال کی محبت کو دل کی تاریکی مانتے ہیں، اور فیاضی کو قلب کی صفائی کا ذریعہ۔
8. "خليفة الله" کا رد: صوفیاء "خليفة الله" کے بجائے "خليفة رسول الله" کہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، بہت زیادہ احادیث کے راوی، اور اصحابِ صفہ میں سے تھے۔
2. یہ حدیث مسند الإمام أحمد (8071، 10808، 8407، 10747)، سنن النسائی (9841)، المستدرك للحاکم (54)، اور شعب الإیمان للبیہقی (193) میں مروی ہے۔
3. علامہ البانی نے اسے صحیح الجامع (2614) اور السلسلة الصحيحة (1528) میں درج کیا۔
4. "مکثرون" سے مراد امیر صحابہ بھی ہو سکتے ہیں، جنہیں مال کی کثرت کی وجہ سے حساب میں سختی کا سامنا ہو گا، مگر جو خرچ کریں گے وہ نجات پائیں گے۔
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے کھجوروں کے باغ میں یہ نصیحت فرمائی، جو خلوت اور ذکر کا موقع تھا۔
6. "أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" ایک حدیث قدسی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی تسلیم و رضا کو بیان فرماتا ہے۔
7. ابن کثیر، امام نووی، اور ابن حجر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔
8. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث ذکر، توحید، توکل، اور فیاضی کی بنیاد ہے۔
9. مال کی محبت اور جمع کرنے کی مذمت قرآن و حدیث میں بکثرت آئی ہے۔
10. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں اور ذکرِ الٰہی کو اپنا معمول بنائیں۔
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. "مکثرون" (مال جمع کرنے والے) ہلاک ہو گئے، سوائے ان کے جو مال کو ہر طرف خرچ کریں۔
2. "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ ہے۔
3. "وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" یعنی اللہ سے پناہ اللہ ہی کی طرف ہے۔
4. "أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" یعنی بندے نے اسلام قبول کیا اور سرنڈر کر دیا۔
5. یہ کلمہ توحید، توکل، اور اللہ کی مدد کا اعتراف ہے۔
6. یہ کلمہ ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں پڑھنا چاہیے۔
7. یہ فرض عبادات کا بدل نہیں، بلکہ ایک عظیم ذکر ہے۔
8. یہ کلمہ خود پسندی، عجب، اور ریا کو ختم کرتا ہے۔
9. یہ کلمہ دل کو سکون اور اللہ کی قربت عطا کرتا ہے۔
10. مال کی محبت سے بچنا اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا نجات کا ذریعہ ہے۔
مقاصد
1. مال جمع کرنے کی مذمت اور فیاضی کی ترغیب۔
2. جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمے کی فضیلت بتانا۔
3. توحید اور توکل کی تعلیم دینا۔
4. ذکر کی ترغیب دینا۔
5. اللہ کی طرف پناہ اور رجوع کی تعلیم دینا۔
6. اسلام اور سرنڈر کے مفہوم کو واضح کرنا۔
7. خود پسندی اور ریا سے بچنے کی ترغیب دینا۔
8. مشکل وقت میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دینا۔
9. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
10. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال جمع کرنے والوں (مکثرون) کی ہلاکت کی خبر دی، سوائے ان کے جو مال کو ہر طرف اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ" کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا، اور فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے: "أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ" (میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرنڈر کر دیا)۔
نتیجہ: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ توحید، توکل، ذکر، اور فیاضی کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں مال کی محبت سے بچنے، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنے کا درس ملتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب

عنوان: نبی ﷺ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات اور جنت کے درخت لگانے کا کلمہ
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم -:
"لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ، عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ للهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ" (1) وَ"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" (2)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میں معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا، تو انہوں نے فرمایا: اے محمد! میری طرف سے اپنی امت کو سلام پہنچاؤ، اور انہیں بتاؤ کہ جنت کی مٹی پاکیزہ ہے، اس کا پانی میٹھا ہے، اور وہ ہموار میدان ہے، اور اس کے درخت لگانے کا بیج یہ ہے: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ" (1) اور "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" (2)
حوالہ جات:
(1) یہ حصہ جامع الترمذی (3462)، المعجم الأوسط للطبرانی (4170)، اور مسند البزار (1992) میں مروی ہے۔ نیز دیکھیں صحیح الجامع (5152)، السلسلة الصحيحة (105)، اور صحیح الترغیب والترہیب (1550)۔
(2) یہ حصہ مسند الإمام أحمد (23598)، صحیح ابن حبان (821)، اور شعب الإیمان للبیہقی (657) میں مروی ہے۔ نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة حدیث 105 کے تحت، اور صحیح الترغیب والترہیب (1583)۔
حدیث کی تخریج و حکم
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ترمذی، امام طبرانی، امام بزار، امام أحمد، امام ابن حبان، اور امام بیہقی نے روایت کیا۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (5152)، السلسلة الصحيحة (105)، اور صحیح الترغیب والترہیب (1550، 1583) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔
حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امت محمدیہ کو سلام پہنچانا۔
جنت کی صفات: مٹی پاکیزہ، پانی میٹھا، ہموار میدان۔
جنت کے درخت لگانے کا کلمہ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. معراج کا واقعہ:
{سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى} (الإسراء: 1)
(پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی۔)
تفسیر: معراج کا واقعہ قرآن میں مذکور ہے، اور اسی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انبیاء سے ملاقات ہوئی، جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی شامل تھے۔
2. جنت کی وسعت اور نعمتیں:
{وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ} (آل عمران: 133)
(اور اپنے رب کی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔)
تفسیر: جنت کی وسعت اور اس کی نعمتیں بےشمار ہیں، اور حدیث میں اسے "ہموار میدان" کہا گیا ہے، جس میں بےشمار درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
3. جنت کا پانی:
{فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ} (محمد: 15)
(اس میں ایسے نہریں ہیں جن کا پانی بدبودار نہیں ہوتا۔)
تفسیر: حدیث میں جنت کے پانی کو "عذب" (میٹھا) کہا گیا، جو اس آیت کی تفسیر ہے۔
4. ذکر کی فضیلت:
{وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} (الأحزاب: 35)
(اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور عظیم اجر تیار کیا ہے۔)
تفسیر: حدیث میں ذکر کو "جنت کے درخت لگانے کا بیج" کہا گیا، جو اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔
5. تسبیح و تحمید:
{فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ} (النصر: 3)
(پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور اس سے مغفرت طلب کر۔)
تفسیر: "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" اسی آیت کی تعمیل ہے۔
6. اللہ کی کبریائی:
{وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا} (الإسراء: 111)
(اور اس کی بڑائی بیان کر، بہت بڑائی۔)
تفسیر: "اللهُ أَكْبَرُ" اسی آیت کی عملی صورت ہے۔
7. توحید:
{فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ} (محمد: 19)
(پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔)
تفسیر: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" توحید کا اعلان ہے۔
8. اللہ کی مدد:
{وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ} (هود: 88)
(اور میری توفیق صرف اللہ کی مدد سے ہے۔)
تفسیر: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" اسی آیت کا عملی اظہار ہے۔
حدیث سے مزید شواہد
📜 حدیث کے شواہد
سند اول: مسند احمد (۲۳۵۵۲)
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: " مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ قَالَ: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "
سند دوم: صحیح ابن حبان (۸۲۱)
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لِجِبْرِيلَ: مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟، قَالَ جِبْرِيلُ: هَذَا مُحَمَّدٌ ﷺ، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ أُمَّتَكَ أَنْ يُكْثِرُوا غِرَاسَ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ، وَأَرْضُهَا وَاسِعَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِإِبْرَاهِيمَ: "وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ "، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.
📖 ترجمہ
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
رسول اللہ ﷺ کو جس رات معراج کرائی گئی، آپ ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (حضرت جبرائیل سے) پوچھا: ”اے جبرائیل! آپ کے ساتھ کون ہے؟“
حضرت جبرائیل نے کہا: ”یہ محمد ﷺ ہیں۔“
تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (نبی ﷺ سے) فرمایا:
”اے محمد! اپنی امت کو حکم دیں کہ وہ جنت کی کاشت زیادہ کریں، کیونکہ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔“
آپ ﷺ نے پوچھا: ”جنت کی کاشت کیا ہے؟“
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:
”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“
(اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کوئی حرکت ممکن ہے اور نہ کوئی طاقت۔)
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ مَاؤُهَا، طَيِّبٌ تُرَابُهَا، فَأَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا غَرْسُهَا؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(جنت کے درخت زیادہ لگاؤ، کیونکہ اس کا پانی میٹھا اور اس کی مٹی پاکیزہ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کے درخت کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔)
(جامع الترمذی، مسند أحمد)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، غُرِسَتْ لَهُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ"
(جس نے "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ" کہا، اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا گیا۔)
(مسند أحمد، سنن ابن ماجہ)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ"
(میں معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام سے ملا، انہوں نے کہا: اے محمد! میری طرف سے اپنی امت کو سلام پہنچاؤ۔)
(جامع الترمذی: 3462)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ، عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ"
(بیشک جنت کی مٹی پاکیزہ ہے، پانی میٹھا ہے، اور وہ ہموار میدان ہے۔)
(جامع الترمذی: 3462، المعجم الأوسط: 4170)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَأَنَّ غِرَاسَهَا: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ"
(اور اس کے درخت لگانے کا بیج: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ ہے۔)
(جامع الترمذی: 3462)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ"
(باقی رہنے والی نیکیاں: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ ہیں۔)
(مسند أحمد، المستدرک)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، كَانَتْ لَهُ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ اس کے لیے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ بن گیا۔)
(المستدرک للحاکم: 7787)
فقہی نکات
1. جنت کے درخت لگانے کا کلمہ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ جنت میں درخت لگانے کا بیج ہیں۔
2. یہ کلمات کب پڑھے جائیں: ہر وقت، خاص طور پر صبح و شام، بعد از نماز، اور ہر فرصت میں۔
3. جنت کی صفات: جنت کی مٹی پاکیزہ، پانی میٹھا، اور وہ ہموار میدان ہے، جس میں بےشمار درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
4. حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلام: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلام امت تک پہنچایا، جو ان کی امت کے لیے سلامتی اور دعا ہے۔
5. یہ کلمہ کسی فرض کا بدل نہیں: یہ ایک ذکر ہے، نماز، روزہ، زکاۃ، حج جیسی فرض عبادات کا متبادل نہیں۔
6. توکل اور اسباب: یہ کلمہ اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں، بلکہ یہ اسباب پر بھروسے کی نفی اور اللہ پر توکل کا اظہار ہے۔
7. ریا سے پاک: یہ کلمہ اپنی طاقت اور خود پسندی کو ختم کرتا ہے، اور انسان کو عاجزی کی طرف لے جاتا ہے۔
8. بدعت نہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے اسے پڑھنا سنت ہے، اور اس کے فضائل میں کوئی شک نہیں۔
9. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت: شریعت میں کسی کو "خليفة الله" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا، اور ذکر میں بھی اخلاص ضروری ہے۔
تصوف کے نکات
1. ذکر کی حقیقت: صوفیاء کے نزدیک سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ قلب کے درخت ہیں، جو جنت میں درخت لگاتے ہیں۔
2. معراج اور روحانی سفر: معراج ظاہری اور باطنی دونوں سفر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات روحانی قربت کی علامت ہے۔
3. جنت کے درخت: صوفیاء کے نزدیک ہر ذکر جنت میں ایک درخت لگاتا ہے، اور یہ درخت قیامت کے دن مومن کے لیے سایہ اور ثمر بنیں گے۔
4. "باقیاتِ صالحات": یہ کلمات باقیاتِ صالحات ہیں، یعنی وہ نیکیاں جو ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔
5. خودی کی نفی: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" خودی اور انا کو مٹاتا ہے، اور بندے کو اللہ کی قدرت کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
6. "خليفة الله" کا رد: صوفیاء "خليفة الله" کے بجائے "خليفة رسول الله" کہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
7. اللہ کی طرف رجوع: یہ کلمات بندے کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
8. محبتِ الٰہی: یہ کلمات اللہ کی محبت اور اس کی قربت کا ذریعہ ہیں۔
تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، قاری، اور فقیہ تھے۔
2. یہ حدیث معراج کے واقعے سے متعلق ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی۔
3. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کو سلام پہنچانے کا کہا، جو ان کی امت کے لیے محبت اور دعا کی علامت ہے۔
4. یہ حدیث جامع الترمذی (3462)، المعجم الأوسط (4170)، مسند البزار (1992)، مسند أحمد (23598)، صحیح ابن حبان (821)، اور شعب الإیمان (657) میں مروی ہے۔
5. امام البانی نے اسے صحیح قرار دیا۔
6. ابن کثیر، امام نووی، اور ابن حجر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔
7. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث ذکر، توحید، اور توکل کی بنیاد ہے۔
8. "سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ" کو باقیاتِ صالحات کہا گیا، کیونکہ یہ آخرت میں باقی رہنے والی نیکیاں ہیں۔
9. یہ کلمات جنت میں درخت لگانے کا ذریعہ ہیں، اور قیامت کے دن مومن کے لیے سایہ اور ثمر بنیں گے۔
10. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان کلمات کو کثرت سے پڑھیں اور ان کے معنی پر غور کریں۔
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی۔
2. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امت محمدیہ کو سلام پہنچایا۔
3. جنت کی مٹی پاکیزہ، پانی میٹھا، اور وہ ہموار میدان ہے۔
4. جنت کے درخت لگانے کا کلمہ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ۔
5. یہ کلمات باقیاتِ صالحات ہیں، یعنی ہمیشہ باقی رہنے والی نیکیاں ۔
6. یہ کلمات جنت میں درخت لگاتے ہیں۔
7. یہ کلمات ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں پڑھنے چاہیے۔
8. یہ فرض عبادات کا بدل نہیں، بلکہ عظیم ذکر ہیں۔
9. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. قیامت کی علامات پر ایمان رکھنا اور آخرت کی تیاری کرنا ضروری ہے۔
مقاصد
1. ان عظیم کلمات کی فضیلت سے آگاہ کرنا۔
2. توحید اور توکل کی تعلیم دینا۔
3. ذکر کی ترغیب دینا۔
4. جنت کے درخت لگانے کے بارے میں بتانا۔
5. حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت محمدیہ کے لیے محبت بتانا۔
6. مشکل وقت میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کا ذکر فرمایا، جنہوں نے امت محمدیہ کو سلام پہنچایا اور بتایا کہ جنت کی مٹی پاکیزہ، پانی میٹھا، اور وہ ہموار میدان ہے، اور اس کے درخت لگانے کا بیج یہ کلمات ہیں:
سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ اور لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ۔
نتیجہ: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ ذکر، توحید، توکل، اور جنت کی تیاری کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے، جنت کے درخت لگانے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
عنوان: جنت کے درخت لگانے کی ترغیب – لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
عربی متن
عَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى اللهُ عليه وسلَّم -:
"أَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ مَاؤُهَا، طَيِّبٌ تُرَابُهَا، فَأَكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِهَا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ."
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جنت کے درخت زیادہ لگاؤ، کیونکہ اس کا پانی میٹھا ہے اور اس کی مٹی پاکیزہ ہے۔ پس اس کے درخت زیادہ لگاؤ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔" (1)
حوالہ جات:
(1) یہ حدیث المعجم الكبير للطبرانی (12/364، حدیث 13354) میں مروی ہے۔ نیز المعجم للطبرانی فی الدعاء (1658) میں بھی موجود ہے۔ امام البانی نے اسے صحیح الجامع (1213) میں درج کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔
حدیث کی تخریج و حکم:
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام طبرانی نے المعجم الكبير اور المعجم فی الدعاء میں روایت کیا، اور امام البانی نے صحیح الجامع (1213) میں درج کر کے اس کی صحت کی تصدیق کی۔
حدیث کا مرکزی مضمون:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے درخت زیادہ لگانے کی ترغیب دی۔
جنت کی صفات: پانی میٹھا، مٹی پاکیزہ۔
جنت کے درخت لگانے کا کلمہ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" ۔
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. جنت کی وسعت اور نعمتیں:
{وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ} (آل عمران: 133)
(اور اپنے رب کی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔)
تفسیر: جنت کی وسعت اور اس کی نعمتیں بےشمار ہیں، اور حدیث میں اسے "ہموار میدان" کہا گیا ہے، جس میں بےشمار درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
2. جنت کا پانی:
{فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاءٍ غَيْرِ آسِنٍ} (محمد: 15)
(اس میں ایسے نہریں ہیں جن کا پانی بدبودار نہیں ہوتا۔)
تفسیر: حدیث میں جنت کے پانی کو "عذب" (میٹھا) کہا گیا، جو اس آیت کی تفسیر ہے۔
3. جنت کی مٹی:
{وَأَرْضٌ طَيِّبَةٌ} (الأعراف: 58)
(اور پاکیزہ زمین۔)
تفسیر: حدیث میں جنت کی مٹی کو "طیب" (پاکیزہ) کہا گیا، جو اس آیت کی تفسیر ہے۔
4. ذکر کی فضیلت:
{وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا} (الأحزاب: 35)
(اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور عظیم اجر تیار کیا ہے۔)
تفسیر: حدیث میں ذکر کو "جنت کے درخت لگانے کا بیج" کہا گیا، جو اس آیت کی عملی تفسیر ہے۔
5. باقیاتِ صالحات:
{وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا} (الكهف: 46)
(اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے نزدیک ثواب اور امید کے لحاظ سے بہتر ہیں۔)
تفسیر: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" باقیاتِ صالحات میں سے ہے، جو آخرت میں باقی رہتی ہے۔
6. اللہ کی مدد:
{وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ} (هود: 88)
(اور میری توفیق صرف اللہ کی مدد سے ہے۔)
تفسیر: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" اسی آیت کا عملی اظہار ہے۔
7. اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں:
{وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ} (الإنسان: 30)
(اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔)
تفسیر: یہ کلمہ اللہ کی مشیت کے سامنے سرنڈر کا اعلان ہے۔
8. توکل:
{وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ} (الطلاق: 3)
(اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔)
تفسیر: یہ کلمہ توکل اور اللہ پر بھروسے کا اعلیٰ اظہار ہے۔
حدیث سے مزید شواہد
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگایا گیا۔)
(مسند أحمد، سنن الترمذی)
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّهُ عَذْبٌ مَاؤُهَا، طَيِّبٌ تُرَابُهَا، فَأَكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِهَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَا غِرَاسُهَا؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(جنت کے درخت زیادہ لگاؤ، کیونکہ اس کا پانی میٹھا اور اس کی مٹی پاکیزہ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کے درخت کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ۔)
(جامع الترمذی، مسند أحمد)
3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، غُرِسَتْ لَهُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ"
(جس نے "سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ" کہا، اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگایا گیا۔)
(مسند أحمد، سنن ابن ماجہ)
4. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، كَانَتْ لَهُ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(جس نے "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ اس کے لیے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بن گیا۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ"
(باقی رہنے والی نیکیاں: سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ ہیں۔)
(مسند أحمد، المستدرک)
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، بیشک یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔)
(صحیح البخاری: 6021، صحیح مسلم: 2704)
7. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ عَشْرَ مَرَّاتٍ، كَانَتْ لَهُ عِدْلَ عِتْقِ رَقَبَةٍ"
(جس نے دس بار "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہا، وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔)
(مسند أحمد، سنن الترمذی)
8. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الَّذِي يَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ"
(بیشک اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہتا ہے۔)
(مسند أحمد)
فقہی نکات
1. جنت کے درخت لگانے کی ترغیب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے درخت زیادہ لگانے کی ترغیب دی، اور یہ "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کہنے سے ہوتا ہے۔
2. جنت کی صفات: جنت کا پانی میٹھا اور مٹی پاکیزہ ہے، اور وہ ہموار میدان ہے، جس میں بےشمار درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
3. یہ کلمہ کب پڑھا جائے: ہر وقت، خاص طور پر صبح و شام، بعد از نماز، اور ہر فرصت میں۔
4. یہ کلمہ کسی فرض کا بدل نہیں: یہ ایک ذکر ہے، نماز، روزہ، زکاۃ، حج جیسی فرض عبادات کا متبادل نہیں۔
5. توکل اور اسباب: یہ کلمہ اسباب اختیار کرنے کے منافی نہیں، بلکہ یہ اسباب پر بھروسے کی نفی اور اللہ پر توکل کا اظہار ہے۔
6. ریا سے پاک: یہ کلمہ اپنی طاقت اور خود پسندی کو ختم کرتا ہے، اور انسان کو عاجزی کی طرف لے جاتا ہے۔
7. بدعت نہیں: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس لیے اسے پڑھنا سنت ہے، اور اس کے فضائل میں کوئی شک نہیں۔
8. باقیاتِ صالحات: یہ کلمہ باقیاتِ صالحات میں سے ہے، یعنی وہ نیکیاں جو آخرت میں باقی رہتی ہیں ۔
9. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت: شریعت میں کسی کو "خليفة الله" کہنا جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. نیت کے مطابق حشر: ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا، اور ذکر میں بھی اخلاص ضروری ہے۔
تصوف کے نکات
1. ذکر کی حقیقت: صوفیاء کے نزدیک "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" قلب کے درخت ہیں، جو جنت میں درخت لگاتے ہیں۔
2. جنت کے درخت: صوفیاء کے نزدیک ہر ذکر جنت میں ایک درخت لگاتا ہے، اور یہ درخت قیامت کے دن مومن کے لیے سایہ اور ثمر بنیں گے۔
3. "باقیاتِ صالحات": یہ کلمہ باقیاتِ صالحات میں سے ہے، یعنی وہ نیکیاں جو ہمیشہ باقی رہتی ہیں ۔
4. خودی کی نفی: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" خودی اور انا کو مٹاتا ہے، اور بندے کو اللہ کی قدرت کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
5. ذکرِ قلبی: یہ صرف زبان کا ذکر نہیں، بلکہ دل کا ذکر ہے، جو انسان کو اللہ کی قربت سے ہمکنار کرتا ہے۔
6. "خليفة الله" کا رد: صوفیاء "خليفة الله" کے بجائے "خليفة رسول الله" کہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
7. اللہ کی طرف رجوع: یہ کلمہ بندے کو ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
8. محبتِ الٰہی: یہ کلمہ اللہ کی محبت اور اس کی قربت کا ذریعہ ہے۔
تاریخی پس منظر
1. یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی، بہت زیادہ عبادت گزار، اور متقی تھے۔
2. یہ حدیث المعجم الكبير للطبرانی (12/364، حدیث 13354) اور المعجم فی الدعاء (1658) میں مروی ہے۔
3. امام البانی نے اسے صحیح الجامع (1213) میں درج کیا اور صحیح قرار دیا۔
4. ابن کثیر، امام نووی، اور ابن حجر نے اس حدیث کی تفصیلی تشریح کی ہے۔
5. اہلِ سنت کے نزدیک یہ حدیث ذکر، توحید، اور توکل کی بنیاد ہے۔
6. "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" کو جنت کے درخت لگانے کا بیج کہا گیا، کیونکہ یہ توحید کا خلاصہ ہے۔
7. یہ کلمہ جنت میں درخت لگانے کا ذریعہ ہے، اور قیامت کے دن مومن کے لیے سایہ اور ثمر بنے گا۔
8. مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اسے کثرت سے پڑھیں اور اس کے معنی پر غور کریں۔
9. یہ کلمہ ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں پڑھنا چاہیے۔
10. قیامت کی علامات پر ایمان رکھنا اور آخرت کی تیاری کرنا ضروری ہے۔
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے درخت زیادہ لگانے کی ترغیب دی۔
2. جنت کا پانی میٹھا اور مٹی پاکیزہ ہے۔
3. جنت کے درخت لگانے کا کلمہ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" ۔
4. یہ کلمہ جنت میں درخت لگاتا ہے۔
5. یہ کلمہ باقیاتِ صالحات میں سے ہے۔
6. یہ کلمہ ہر وقت، خاص طور پر مشکل وقت میں پڑھنا چاہیے۔
7. یہ فرض عبادات کا بدل نہیں، بلکہ ایک عظیم ذکر ہے۔
8. یہ کلمہ خود پسندی، عجب، اور ریا کو ختم کرتا ہے۔
9. "خليفة الله" کہنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اللہ کا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔
10. آخرت کی تیاری کرنا اور جنت کے درخت لگانا نجات کا ذریعہ ہے۔
مقاصد
1. اس عظیم کلمے کی فضیلت سے آگاہ کرنا۔
2. جنت کے درخت لگانے کی ترغیب دینا۔
3. توحید اور توکل کی تعلیم دینا۔
4. ذکر کی ترغیب دینا۔
5. جنت کی صفات کے بارے میں بتانا۔
6. مشکل وقت میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کی تعلیم دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. "خليفة الله" کہنے کی ممانعت کو واضح کرنا۔
9. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
10. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے درخت زیادہ لگانے کی ترغیب دی، اور بتایا کہ جنت کا پانی میٹھا اور مٹی پاکیزہ ہے، اور اس کے درخت لگانے کا بیج "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ" ہے۔
نتیجہ: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ ذکر، توحید، توکل، اور جنت کی تیاری کی بنیاد ہے۔ اس سے ہمیں اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے، جنت کے درخت لگانے، اور آخرت کی تیاری کا درس ملتا ہے۔
واللہ أعلم بالصواب
(۱) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت
عربی:
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(ابن ماجہ: 3825، مسند احمد: 21298)
ترجمہ:
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟" میں نے عرض کیا: "کیوں نہیں، یا رسول اللہ!" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" (اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کوئی حرکت ممکن ہے اور نہ کوئی طاقت)۔
درجہ: صحیح (البانی)
(۲) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت
عربی:
قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(مسند احمد: 21298)
ترجمہ:
مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے ابو ذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ کہو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(۳) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے تیسری روایت
عربی:
كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
(مسند احمد: 21336)
ترجمہ:
میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟" میں نے کہا: "کیوں نہیں!" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(۴) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے چوتھی روایت
عربی:
عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
(مسند احمد: 21346)
ترجمہ:
نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ (وہ) لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ہے۔"
(۵) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پانچویں روایت
عربی:
قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
(مسند احمد: 21349)
ترجمہ:
مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ چاہتے ہو؟" میں نے کہا: "ہاں" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(۶) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے چھٹی روایت
عربی:
عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ»
(مسند احمد: 21387)
ترجمہ:
نبی ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔"
(۷) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ساتویں روایت
عربی:
قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(مسند احمد: 21394)
ترجمہ:
مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(۸) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے آٹھویں روایت
عربی:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
(مسند احمد: 21504)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ چاہتے ہو؟" میں نے کہا: "ہاں" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(۹) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نویں روایت
عربی:
كُنْتُ أَمْشِي خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: "يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(صحیح ابن حبان: 820)
ترجمہ:
میں نبی ﷺ کے پیچھے چل رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اے ابو ذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟" میں نے عرض کیا: "کیوں نہیں، یا رسول اللہ!" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
درجہ: صحیح (البانی)
(۱۰) حضرت حازم بن حرمله رضی اللہ عنہ سے روایت
عربی:
مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ لِي: "يَا حَازِمُ أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"
(ابن ماجہ: 3826)
ترجمہ:
میں نبی ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "اے حازم! کثرت سے 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے۔"
درجہ: صحیح لغیرہ (البانی)
(۱۱) حضرت قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت
عربی:
أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ يَخْدُمُهُ، قَالَ: فَمَرَّ بِيَ النَّبِيُّ ﷺ وَقَدْ صَلَّيْتُ فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الجَنَّةِ؟" قُلْتُ: بَلَى؟ قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
(ترمذی: 3581، مسند احمد: 15480)
ترجمہ:
ان کے والد (سعد بن عبادہ) نے انہیں نبی ﷺ کی خدمت کے لیے بھیجا۔ وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں نماز پڑھ چکا تھا، تو آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے (ہلکے سے) مارا اور فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟" میں نے کہا: "کیوں نہیں!" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
درجہ: حسن صحیح غریب (ترمذی)، صحیح (البانی)
(۱۲) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت
عربی:
أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»
(مسند احمد: 21996، 22099، 22115)
ترجمہ:
نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ نہ بتاؤں؟" انہوں نے پوچھا: "وہ کیا ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"
📊 تخریج و درجات کا خلاصہ
راوی ماخذ درجہ
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ابن ماجہ: 3825 صحیح
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ مسند احمد: 21298، 21336، 21346، 21349، 21387، 21394، 21504 صحیح
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ صحیح ابن حبان: 820 صحیح
حضرت حازم بن حرمله رضی اللہ عنہ ابن ماجہ: 3826 صحیح لغیرہ
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ ترمذی: 3581، مسند احمد: 15480 حسن صحیح، صحیح
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مسند احمد: 21996، 22099، 22115 صحیح
💡 اہم نکات
۱. "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کی حقیقت
"حول" = حرکت، تبدیلی، تدبیر
"قوة" = طاقت، قوت
مفہوم: اللہ کی توفیق کے بغیر نہ کوئی حرکت ممکن ہے اور نہ کوئی طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔
۲. جنت کا خزانہ کیوں؟
یہ کلمہ توحید کا جامع اعلان ہے، جس میں بندہ تسلیم کرتا ہے کہ:
تمام حرکات و سکنات اللہ کے حکم سے ہیں۔
تمام قوت و طاقت اللہ ہی کی عطا ہے۔
بندہ اپنی کسی چیز کا مالک نہیں۔
اسی لیے یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے، کیونکہ یہ اخلاص، توکل اور توحید کا کامل اظہار ہے۔
۳. کثرت سے پڑھنے کی ترغیب
نبی ﷺ نے فرمایا: "أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" (کثرت سے پڑھو)۔
۴. یہ کلمہ کن مواقع پر پڑھا جائے؟
ہر مشکل اور پریشانی کے وقت۔
گناہ سے بچنے کے لیے۔
نیکی کے کام کے شروع کرنے سے پہلے۔
اذان کے بعد (مشہور دعا میں)۔
نماز کے بعد (تسبیحات میں)۔
💎 خلاصہ
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ":
جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
یہ توحید، اخلاص اور توکل کا جامع کلمہ ہے۔
نبی ﷺ نے اسے کثرت سے پڑھنے کی ترغیب دی۔
یہ صحیح اور متعدد اسانید سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کلمے کی حقیقت کو سمجھنے اور کثرت سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

(۱) ترمذی: 3601
ابو کریب ← ابو خالد الاحمر ← ہشام بن غاز ← مکحول ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
"کثرت سے 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کا خزانہ ہے۔"
مکحول نے کہا:
جو شخص "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَنْجَى مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ" کہے، اس سے ستر (70) دروازے تکالیف کے کھول دیے جاتے ہیں، جن میں سب سے کم فقر (غربت) ہے۔
امام ترمذی کا حکم: اس حدیث کی سند متصل نہیں، کیونکہ مکحول نے ابو ہریرہ سے نہیں سنا۔
البانی: یہ حدیث "صحیح" ہے، سوائے مکحول کے اس قول کے، کیونکہ وہ مقطوع ہے۔
(۲) مسند احمد: 7966
محمد بن جعفر اور ہاشم ← شعبہ ← ابو بلج ← عمرو بن میمون ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں جنت کے خزانے سے ایک کلمہ نہ بتاؤں، جو عرش کے نیچے سے ہے؟ (وہ) 'لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' ہے۔ اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرِ تسلیم خم کیا۔"
شعیب الارناؤوط: حدیث صحیح ہے، سوائے "من تحت العرش" کے الفاظ کے، اور اس کی سند حسن ہے۔
(۳) مسند احمد: 8426
بکر بن عیسیٰ ← ابو عوانہ ← ابو بلج ← عمرو بن میمون ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے سے ایک کلمہ نہ بتاؤں، جو عرش کے نیچے سے ہے؟"
میں نے کہا: "ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان!"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم کہو: 'لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ'۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرِ تسلیم خم کیا۔"
عمرو نے کہا: میں نے ابو ہریرہ سے کہا: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"؟ تو انہوں نے کہا:
"نہیں، یہ سورۃ الکہف میں ہے: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ}۔"
شعیب الارناؤوط: حدیث صحیح ہے، سوائے "تحت العرش" کے، اور سند حسن ہے۔
(۴) مسند احمد: 8660
حسن ← زہیر ← ابو بلج ← عمرو بن میمون ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے سے ایک کلمہ نہ بتاؤں؟"
میں نے کہا: "ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان!"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم کہو: 'لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ'۔"
(۵) مسند احمد: 8753
سلیمان بن داؤد ← شعبہ ← ابو بلج ← عمرو بن میمون ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں جنت کے خزانے سے ایک کلمہ نہ بتاؤں، جو عرش کے نیچے سے ہے: 'لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ'۔"
شعیب الارناؤوط: حدیث صحیح ہے، سوائے "تحت العرش" کے۔
(۶) مسند احمد: 9233
احمد بن عبد الملک ← زہیر ← ابو بلج یحییٰ بن ابی سلیم ← عمرو بن میمون ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں جنت کے خزانے سے ایک کلمہ نہ سکھاؤں؟"
میں نے کہا: "ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان!"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"کہو: 'لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ'۔"
(۷) مسند احمد: 10056
محمد بن جعفر ← شعبہ، حجاج ← شعبہ ← عاصم بن عبید اللہ ← عبید (مولیٰ ابی رہم) ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں: 'لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ'۔"
(۸) مسند احمد: 10736
سلیمان بن داؤد ← شعبہ ← عبد الرحمٰن بن عابس ← کمیل بن زیاد ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟"
میں نے کہا: "کیوں نہیں!"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔"
پھر فرمایا:
"اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرِ تسلیم خم کیا۔"
(۹) مسند احمد: 8085
عبد الرزاق ← معمر ← ابو اسحاق ← کمیل بن زیاد ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ کے ایک باغ میں چل رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! مال جمع کرنے والے ہلاک ہو گئے، سوائے اس کے جو ایسے، ایسے اور ایسے کہے" (تین بار، اپنی ہتھیلیوں سے دائیں، بائیں اور سامنے اشارہ کیا) "اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔"
پھر کچھ دیر چلے اور فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟"
میں نے کہا: "کیوں نہیں، یا رسول اللہ!"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ۔"
پھر کچھ دیر چلے اور فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کا اللہ پر کیا حق ہے اور اللہ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟"
میں نے کہا: "اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کا لوگوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ پھر جب وہ ایسا کریں تو اللہ پر حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔"
(۱۰) مسند احمد: 8406
یحییٰ بن یزید بن عبد الملک ← ان کے والد ← سعید بن ابی سعید ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"کثرت سے 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ' کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔"
(۱۱) مسند احمد: 10795
یحییٰ بن آدم ← عمار بن رزیق ← ابو اسحاق ← کمیل بن زیاد ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
رسول اللہ ﷺ مدینہ کے کھجور کے باغ میں تشریف لے گئے اور فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! مال جمع کرنے والے ہلاک ہو گئے۔ بے شک قیامت کے دن مال جمع کرنے والے ہی کم ہوں گے، سوائے اس کے جو مال ایسے، ایسے اور ایسے (راہِ خدا میں) خرچ کرے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔"
پھر فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ'۔"
پھر فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟"
میں نے کہا: "اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو ایسا کرے، اللہ اسے عذاب نہ دے۔"
(۱۲) مسند احمد: 10918
ابو احمد ← جابر بن الحر نخعی ← عبد الرحمٰن بن عابس ← کمیل بن زیاد ← ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
میں نبی ﷺ کے ساتھ ایک باغ میں نکلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! اکثر لوگ ہلاک ہو گئے، سوائے اس کے جو ایسے، ایسے کہے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔"
پھر فرمایا:
"کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں: 'لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ'۔"
پھر فرمایا:
"اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟"
میں نے کہا: "اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اس کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔"
پھر فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ بے شک ان کا حق یہ ہے کہ جب وہ ایسا کریں تو اللہ انہیں عذاب نہ دے۔"
میں نے کہا: "کیا میں انہیں یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"انہیں چھوڑ دو، وہ عمل کریں۔"
📌 خلاصہ اور اہم نکات
موضوع وضاحت
کلمہ کی فضیلت "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
"لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" یہ بھی جنت کا خزانہ ہے، اور اللہ فرماتا ہے: "میرے بندے نے اسلام قبول کیا اور سرِ تسلیم خم کیا۔"
ستر دروازے مکحول کا قول ہے کہ یہ کلمہ پڑھنے سے 70 دروازے تکالیف کے کھل جاتے ہیں، جن میں سب سے کم غربت ہے۔ (یہ قول مقطوع ہے)
"تحت العرش" بعض روایات میں "تحت العرش" کے الفاظ ہیں، مگر محدثین کے نزدیک یہ صحیح نہیں، اصل کلمہ صحیح ہے۔
مال جمع کرنے والے اکثر مال جمع کرنے والے قیامت کے دن ہلاک ہوں گے، سوائے ان کے جو راہِ خدا میں خرچ کریں۔
اللہ کا حق بندوں پر اللہ کا حق: عبادت اور شرک سے اجتناب۔
بندوں کا حق اللہ پر بندوں کا حق: جو عبادت اور شرک سے بچیں، اللہ انہیں عذاب نہ دے گا۔
درجات متعدد اسانید سے یہ روایات صحیح یا حسن ہیں۔ البانی اور شعیب الارناؤوط نے "صحیح دون قوله تحت العرش" کہا ہے۔
💎 نتیجہ
یہ تمام روایات "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" اور "لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کی عظمت، اس کے جنت کے خزانہ ہونے، اور اس کے کثرت سے پڑھنے کی ترغیب پر زور دیتی ہیں۔ س

روایت ۱
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
میرے خلیل ﷺ نے مجھے سات باتوں کا حکم دیا:
مسکینوں سے محبت کرنے اور ان کے قریب رہنے کا۔
اپنے سے نیچے والے کو دیکھنے اور اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھنے کا۔
رشتہ جوڑنے کا، اگرچہ وہ (رشتہ) منہ موڑ لے۔
کسی سے کچھ نہ مانگنے کا۔
حق بات کہنے کا، اگرچہ وہ کڑوی ہو۔
اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کا۔
کثرت سے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنے کا، کیونکہ یہ (کلمات) عرش کے نیچے ایک خزانے سے ہیں۔
(مسند احمد: 21415)
روایت ۲
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
میرے محبوب ﷺ نے مجھے پانچ باتوں کی وصیت کی:
مسکینوں پر رحم کرنا اور ان کے ساتھ بیٹھنا۔
اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا اور اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھنا۔
رشتہ جوڑنا، اگرچہ وہ (رشتہ) منہ موڑ لے۔
حق بات کہنا، اگرچہ وہ کڑوی ہو۔
«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنا۔
غفرہ کے مولیٰ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ان پانچوں میں سے ہمارے درمیان صرف یہی باقی رہ گیا ہے: ہمارا قول «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»۔
ابو عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث خود حکم بن موسیٰ سے سنی، اور انہوں نے محمد بن کعب سے، ابو ذر سے، نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔
(مسند احمد: 21517)
روایت ۳
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
میرے خلیل ﷺ نے مجھے بھلائی کی خصلتوں کی وصیت کی:
میں اپنے سے اوپر والے کو نہ دیکھوں، اور اپنے سے نیچے والے کو دیکھوں۔
مسکینوں سے محبت اور ان کے قریب رہنے کی وصیت کی۔
رشتہ جوڑنے کی وصیت کی، اگرچہ وہ منہ موڑ لے۔
اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنے کی وصیت کی۔
حق بات کہنے کی وصیت کی، اگرچہ وہ کڑوی ہو۔
کثرت سے «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» کہنے کی وصیت کی، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔
(صحیح ابن حبان: 449، البانی: صحیح)
روایت ۴
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:
”اے ابو ذر! کیا تم نے نماز پڑھی؟“
میں نے کہا: ”نہیں۔“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور نماز پڑھو۔“
میں اٹھا اور نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
”اے ابو ذر! اللہ کی پناہ مانگو انسانوں اور جنوں کے شیاطین کے شر سے۔“
میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
پھر فرمایا:
”اے ابو ذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“
میں نے کہا: ”کیوں نہیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔“
آپ ﷺ نے فرمایا:
”کہو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
پھر میں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! نماز کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین چیز ہے جو مقرر کی گئی ہے؛ جس کا جی چاہے کم کرے اور جس کا جی چاہے زیادہ کرے۔“
میں نے پوچھا: ”روزہ کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ایسا قرض ہے جو ادا کر دیا جائے گا۔“
میں نے پوچھا: ”صدقہ کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کئی گنا بڑھا چڑھا کر، اور اللہ کے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔“
میں نے پوچھا: ”کون سا صدقہ افضل ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”فقیر کو خفیہ صدقہ دینا، اور کم مال والے کا اپنی طاقت کے مطابق دینا۔“
میں نے پوچھا: ”آپ پر نازل ہونے والی سب سے عظیم چیز کون سی ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» (آیت الکرسی)
یہاں تک کہ آپ ﷺ نے پوری آیت ختم کی۔
میں نے پوچھا: ”سب سے پہلے نبی کون تھے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدم۔“
میں نے پوچھا: ”کیا آدم نبی تھے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، نبی تھے، جن سے کلام کیا گیا۔“
میں نے پوچھا: ”کتنے رسول بھیجے گئے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین سو پندرہ، بہت بڑی جماعت۔“
(مسند احمد: 21552، شعیب ارناؤوط: اسناد ضعیف)
روایت ۵
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے، اور لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے، اس لیے وہ آپ سے دور رہے۔ اتنے میں ابو ذر رضی اللہ عنہ آئے اور بے تکلف آ کر آپ کے پاس بیٹھ گئے۔
نبی ﷺ نے ان کی طرف رخ کر کے فرمایا:
”اے ابو ذر! کیا تم نے آج نماز پڑھی؟“
انہوں نے کہا: ”نہیں۔“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور نماز پڑھو۔“
جب انہوں نے چار رکعات چاشت کی نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے ان کی طرف رخ کر کے فرمایا:
”اے ابو ذر! اللہ کی پناہ مانگو جنوں اور انسانوں کے شیاطین کے شر سے۔“
انہوں نے کہا: ”یا نبی اللہ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، انسانوں اور جنوں کے شیاطین ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی باتیں دھوکے کے طور پر وحی کرتے ہیں۔“
پھر فرمایا:
”اے ابو ذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کا ایک کلمہ نہ سکھاؤں؟“
انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»۔“
ابو ذر کہتے ہیں: میں نے کہا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ»۔ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے، مجھے آپ کی بات میں دیر محسوس ہوئی۔
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! ہم جاہلیت اور بت پرستی والے لوگ تھے، پھر اللہ نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ بتائیں نماز کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز بہترین چیز ہے جو مقرر کی گئی ہے؛ جس کا جی چاہے کم کرے اور جس کا جی چاہے زیادہ کرے۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! روزہ کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ایسا قرض ہے جو ادا کر دیا جائے گا۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! صدقہ کیا ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”کئی گنا بڑھا چڑھا کر، اور اللہ کے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! کون سا صدقہ افضل ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”فقیر کو خفیہ صدقہ دینا، اور کم مال والے کا اپنی طاقت کے مطابق دینا۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! آپ پر نازل ہونے والی سب سے عظیم چیز کون سی ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» (آیت الکرسی)۔
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! کون سا شہید افضل ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جس کا خون بہایا گیا اور اس کا گھوڑا مارا گیا۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے قیمتی اور اس کے مالک کے نزدیک سب سے عزیز۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدم۔“
میں نے کہا: ”یا نبی اللہ! کیا آدم نبی تھے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، نبی تھے، جن سے کلام کیا گیا۔ اللہ نے انہیں اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: اے آدم! سامنے آؤ۔“
میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! انبیاء کی کل تعداد کتنی ہے؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک لاکھ چوبیس ہزار، ان میں سے رسول تین سو پندرہ ہیں، بہت بڑی جماعت۔“
(مسند احمد: 22288، شعیب ارناؤوط: اسناد ضعیف جدا)
📌 نوٹ
«حم» = مسند امام احمد بن حنبل۔
«حب» = صحیح ابن حبان۔
جہاں ضعیف یا صحیح کا حکم دیا گیا ہے، وہ فائل میں موجود محققین کے اقوال کے مطابق ہے۔
روایت ۱: سنن ترمذی (۳۵۶۸)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی ہوئی تھیں، جن سے وہ تسبیح کیا کرتی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے آسان اور افضل ہے؟“
پھر فرمایا:
”سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ“
ترجمہ:
”اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات آسمان میں ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات زمین میں ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات ان دونوں کے درمیان ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات وہ پیدا کرنے والا ہے۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے اتنی ہی بار، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اتنی ہی بار، اور نہ کوئی حرکت ہے نہ طاقت مگر اللہ کی توفیق سے، اتنی ہی بار۔“
امام ترمذی کا حکم: یہ حدیث حسن غریب ہے (سعد کی روایت سے)۔
البانی: منکر۔
روایت ۲: سنن ابو داؤد (۱۵۰۰)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے سامنے کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں تھیں، جن سے وہ تسبیح کرتی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے آسان یا افضل ہے؟“
پھر فرمایا:
”سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ“
ترجمہ:
”اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات آسمان میں ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات زمین میں ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات ان دونوں کے درمیان ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات وہ پیدا کرنے والا ہے۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے اتنی ہی بار، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اتنی ہی بار، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اتنی ہی بار، اور نہ کوئی حرکت ہے نہ طاقت مگر اللہ کی توفیق سے، اتنی ہی بار۔“
البانی: ضعیف۔
روایت ۳: صحیح ابن حبان (۸۳۷)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت کے پاس گئے، اس کے ہاتھ میں کھجور کی گٹھلیاں یا کنکریاں تھیں، جن سے وہ تسبیح کرتی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے آسان اور افضل ہے؟“
پھر فرمایا:
”سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ“
ترجمہ:
”اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات آسمان میں ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات زمین میں ہیں، اللہ پاک ہے اتنی بار جتنی مخلوقات وہ پیدا کرنے والا ہے۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے اتنی ہی بار، اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اتنی ہی بار، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اتنی ہی بار، اور نہ کوئی حرکت ہے نہ طاقت مگر اللہ کی توفیق سے، اتنی ہی بار۔“
البانی: منکر بذکر الحصی (کنکریوں کے ذکر کے ساتھ منکر)۔
📊 تخریج و درجات کا خلاصہ
ماخذ حدیث نمبر درجہ
سنن ترمذی ۳۵۶۸ حسن غریب / منکر (البانی)
سنن ابو داؤد ۱۵۰۰ ضعیف (البانی)
صحیح ابن حبان ۸۳۷ منکر بذکر الحصی (البانی)
💡 اہم نکات
تسبیح کا طریقہ: صحابیہ کنکریوں یا گٹھلیوں سے تسبیح کر رہی تھیں، نبی ﷺ نے انہیں افضل اور آسان طریقہ بتایا۔
کلماتِ تسبیح: نبی ﷺ نے چند کلمات سکھائے جو گنتی سے بڑھ کر اجروثواب رکھتے ہیں۔
«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» بھی ان کلمات میں شامل ہے۔
درجہ: یہ روایات سنداً ضعیف یا منکر ہیں، اس لیے انہیں بطورِ دلیل پیش کرنا محلِ نظر ہے۔
صحیح متبادل: تسبیح کے لیے صحیح احادیث میں انگلیوں سے گننا اور مخصوص اذکار (سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ) ثابت ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح احادیث پر عمل کرنے اور ضعیف روایات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مرنے سے پہلے زندگی بھر کے بغیرمانگے عطا کئے گئے اللہ کے انعامات کا شکر ادا کرلو۔۔۔بےشک جنت میں داخلہ اللہ کی رحمت(رضا) ہی سے ہوگا، لیکن اعمال ہی (1)قیامت کے حساب، (2)جہنم کے عذاب اور (3)جنت میں سب سے نیچے پیچھے ہونے کی دائمی ندامت سے بچانے کا وسیلہ ہیں۔۔
No comments:
Post a Comment