Islamic Affirmation:
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں)
تحمید کہتے ہیں حمد بیان کرنے کو، یعنی الله کی تعریف(تعارف وپہچان) بیان کرنے کو۔
جیسے:
پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تمام تعریفیں الله کیلئے جو کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا، جس نے ہم پر احسان کیا، ہمیں گمراہی سے ہدایت دی اور ہمیں کھلایا پلایا اور ننگے پن سے کپڑا پہنایا اور اندھے پن کے بدلہ روشنی بخشی اور اپنی بہت سے مخلوق پر ہمیں بڑی فضیلت دی اور ہمیں اچھی آزمائش میں مبتلا کیا۔
تمام تعریفیں الله کیلئے نہ میرے رب کو الوداع کہتے ہوۓ اور نہ بدلہ دیتے ہوۓ اور نہ ناشکری اور اس سے بےپرواہی کرتے ہوۓ۔
[حاکم:2003]
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ
ترجمہ:
اور الحمدلله کہنا اعمال نامہ کو نیکیوں سے بھردیتا ہے۔
[صحیح مسلم:223(556)۔باب فضل الوضوء]
ترجمہ:
روزانہ تحمید کہنے کی تعداد اور فضیلت:
الله کے آخری پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ۔۔۔وَخَيْرٌ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ
۔۔۔اور کہا کرو 100 بار الحمدلله...اور(یہ) 100 جانور قربان کرنے سے بہتر ہیں۔۔۔
[احمد:26911]
وَمَنْ حَمِدَ اللَّهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَمَلَ عَلَى مِائَةِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ قَالَ: غَزَا مِائَةَ غَزْوَةٍ
ترجمہ:
اور جو تعریف کہے الله کی 100 مرتبہ صبح کو اور 100 مرتبہ شام کو بھی تو گویا اس نے فی سبیل اللہ غازیوں کی سواریوں کے لیے 100 گھوڑے فراہم کئے...یا...اس نے 100 جہاد کئے۔۔۔
[ترمذی:3471]
القرآن:
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں (کیونکہ) وہ پالنہار ہے سارے جہانوں کا۔
[سورۃ الفاتحہ:1]
تفسیر:
اگر آپ کسی عمارت کی تعریف کریں تو در حقیقت وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے، لہذا اس کائنات میں جس کسی چیز کی تعریف کی جائے وہ بالآخر اللہ تعالیٰ ہی کی تعریف ہے ؛ کیونکہ وہ چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے، تمام جہانوں کا پروردگار کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انسانوں کا جہان ہو یا جانوروں کا، سب کی تخلیق اور پرورش اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور ان جہانوں میں جو کوئی چیز قابل تعریف ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور شان ربوبیت کی وجہ سے ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اور اندھیریاں اور روشنی بنائیَ پھر بھی جن لوگوں کفر اپنا لیا ہے وہ دوسروں کو (خدائی میں) اپنے پروردگار کے برابر قرار دے رہے ہیں۔
[سورۃ الانعام:1]
اور کہو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا، نہ اس کی سلطنت میں کوئی شریک ہے، اور نہ اسے عاجزی(بےبسی) سے بچانے کے لیے کوئی حمایتی درکار ہے۔ اور اس کی ایسی بڑائی بیان کرو جیسی بڑائی بیان کرنے کا اسے حق حاصل ہے۔
[سورۃ الاسراء:111]
تفسیر:
بہت سے انکار کرنے والوں کا یہ خیال تھا کہ جس ذات کا نہ کوئی بیٹا ہو اور نہ اس کی سلطنت میں کوئی شریک ہو، وہ تو بڑی کمزور ذات ہوگی، اس آیت نے واضح فرمادیا کہ اولاد اور مددگاروں کی حاجت اس کو ہوتی ہے جو کمزور ہو، اور اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی قوی ہے کہ اسے کمزوری دور کرنے کے لئے نہ کسی اولاد کی ضرورت ہے نہ کسی مددگار کی حاجت۔
تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی، اور اس میں کسی قسم کی کوئی خامی نہیں رکھی۔
[سورۃ الکھف:1]
اور کہہ دو کہ : تمام تعریفیں اللہ کی ہیں، وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، پھر تم انہیں پہچان بھی لو گے۔ اور تمہارا پروردگار تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں ہے۔
[سورۃ النمل:93]
تفسیر:
39: اللہ تعالیٰ اپنے آخری پیغمبر ﷺ کی حقانیت اور اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دنیا میں دکھاتا رہا ہے، مثلاً: بہت سی پیشگی خبریں جو آپ نے وحی کی بنیاد پر دی تھیں، وہ لوگوں نے کھلی آنکھوں پر پوری ہوتی ہوئی دیکھیں، جیسا کہ سورة روم کے شروع میں اس کی ایک مثال آنے والی ہے۔ یہاں اس قسم کی نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، اور قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس وقت قیامت کے منکر بھی اسے پہچان لیں گے، لیکن اس وقت کا پہچاننا فائدہ مند نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گذر چکا ہوگا۔
تمام تر تعریف اس اللہ کی ہے جس کی صفت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، اور آخرت میں بھی تعریف اسی کی ہے، اور وہی ہے جو حکمت کا مالک ہے، مکمل طور پر باخبر۔
[سورۃ سبا:1]
تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے ان فرشتوں کو پیغام لے جانے کے لیے مقرر کیا ہے، جو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے ہیں۔ وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے۔
[سورۃ فاطر:1]
تفسیر:
پچھلے جملے کی مناسبت سے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن فرشتوں کی پروں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتا ہے، اضافہ کردیتا ہے، چنانچہ حضرت جبرئیل ؑ کے چھ سو پروں کی تعداد حدیث میں آئی ہے، لیکن الفاظ عام ہیں، اور ہر تخلیق کو شامل ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس کی تخلیق میں چاہتا ہے، کسی خاص وصف کا اضافہ فرما دیتا ہے۔
وہی سدا زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لیے اس کو اس طرح پکارو کہ تمہاری تابع داری خالص اسی کے لیے ہو۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
[سورۃ غافر:65]
اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت ایسی جیسی ہوسکتی ہے ؟ الحمدللہ (اس مثال سے بات بالکل واضح ہوگئی) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔
[سورۃ الزمر:29]
تفسیر:
جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید(یعنی ایک خدا) کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
(
اللہ کی خوبیاں:
[طبرانی:12345، حاکم:1851]
الله تعالی بندے کو(کبھی صرف)اس لقمہ یا گھونٹ
کی وجہ سےجنت میں داخل فرمادیتا ہےجس پر وہ الله کی تعریف کرتا ہے.
[الاحادیث المختارۃ:2078]
اگر تم شکر کروگے تو یقینا میں تمہیں ضرور زیادہ
دوں گا۔
[سورۃ ابراھیم:7]
---
روزمرہ تحمید:
1. سونے اور جاگنے کی دعائیں (صحیح احادیث)
· عربی (سونے سے پہلے):
بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَحْيَا وَبِاسْمِكَ أَمُوتُ
· ترجمہ:
"اے اللہ! میں تیرے نام (کی توفیق و مدد) سے جیتا ہوں اور تیرے نام (کی مشیت) سے مرتا ہوں۔"
· عربی (جاگنے پر):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں (نیند کی) موت کے بعد زندہ کیا، اور اسی کی طرف (قیامت کے دن) پلٹ کر جانا ہے۔"
[صحيح البخاري:6312]
سورج نکلنے کے بعد:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا، ولم يهلكنا بِذُنُوبِنَا۔
ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے آج کے دن ہمیں (ہمارے گناہوں سے) نجات بخشی اور ہمیں ہمارے گناہوں کے باعث ہلاک نہیں کیا۔"
[صحیح مسلم:822(1911)، صحیح ابن حبان:2607]
---
2. کھانے پینے اور روزے سے متعلق دعائیں
· عربی (روزہ افطار کرتے وقت - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَانَنِي فَصُمْتُ وَرَزَقَنِي فَأَفْطَرْتُ
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری مدد فرمائی تو میں نے روزہ رکھا، اور جس نے مجھے رزق عطا کیا تو میں نے افطار کیا۔"
[الجامع الصغير:9829، مصنف ابن أبي شيبة:9744]
· عربی (کھانے کے بعد - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔"
[ترمذي:3457]
· عربی (پانی پینے کے بعد - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَقَانَا عَذْبًا فُرَاتًا بِرَحْمَتِهِ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِلْحًا أُجَاجًا بِذُنُوبِنَا
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنی رحمت سے شیریں اور میٹھا پانی پلایا، اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے اسے کھاری اور تلخ نہیں بنایا۔"
[تفسير ابن أبي حاتم:18799، الدعاء للطبراني:899]
قناعت کی توفیق کی دعا:
الحمد لله الذي قَنَّعَنَا بِمَا رَزَقَنَا.
[حاکم:7146، الصَّحِيحَة:2392]
کھانے کی دعوت کے بعد کی دعا:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا:
"ایک انصاری صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (کھانے پر) دعوت دی۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرما لیا اور اپنے ہاتھ دھو لیے تو آپ نے یہ دعا پڑھی:
الحمد لله الذي أَطْعَمَ وَلَا يُطْعَمُ، مَنَّ عَلَيْنَا فَهَدَانَا، وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكُلَّ بَلاءٍ حَسَنٍ أَبْلانَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ مِنَ الطَّعَامِ، وَسَقَى مِنَ الشَّرَابِ، وَكَسَا مِنَ الْعُرْيِ، وَهَدَى مِنَ الضَّلالَةِ، وَبَصَّرَ مِنَ الْعَمَى، وَفَضَّلَ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
ترجمہ:
'تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو (سب کو) کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا۔ جس نے ہم پر احسان فرمایا، پس ہمیں ہدایت بخشی، اور ہمیں کھلایا پلایا، اور ہمیں ہر اچھی آزمائش سے نوازا۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے کھانے والے کو کھانا کھلایا، پینے والے کو پانی پلایا، ننگے کو کپڑا پہنایا، گمراہ کو ہدایت دی، اندھے کو بینائی بخشی، اور بہت سی مخلوق پر فضیلت عطا فرمائی۔
تمام تعریفیں رب العالمین کے لیے ہیں۔'
[صحیح ابن حبان:5219 , السنن الکبری النسائی:10133، صحيح موارد الظمآن:1131]
---
3. طہارت اور بیت الخلاء سے متعلق دعائیں
· عربی (بیت الخلاء سے نکلتے وقت - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذَاقَنِي لَذَّتَهُ وَأَبْقَى فِيَّ قُوَّتَهُ وَأَذْهَبَ عَنِّي أَذَاهُ
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس (کھانے) کی لذت چکھائی، اس کی قوت مجھ میں باقی رکھی اور مجھ سے اس کی تکلیف دور کی۔"
[الدعاء للطبراني:370]
· عربی (بیت الخلاء سے نکلتے وقت - ایک اور ضعیف دعا):
غُفْرَانَكَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّي الْأَذَى وَعَافَانِي
· ترجمہ:
"تیری بخشش! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھ سے تکلیف دور کی اور مجھے عافیت بخشی۔"
[سنن ابن ماجة:300-301]
---
4. مختلف موقعوں کی دیگر دعائیں
· عربی (آئینہ دیکھنے پر - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَسَّنَ خَلْقِي وَخُلُقِي، وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میری صورت اور میرے اخلاق کو حسین بنایا، اور میرے اندر اس چیز کو زینت بنایا جو دوسرے میں عیب ہے۔"
[ابويعلى:2611، ابن السني:164]
· عربی (نئی پوشاک پہننے پر - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا لباس پہنایا جس سے میں اپنی شرم گاہ کو چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے آراستہ ہوتا ہوں۔"
[ترمذي:3560]
· عربی (دعا قبول ہونے کی علامت پر - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت سے نیک کام پورے ہوتے ہیں۔"
[صحیح الجامع الصغیر:4640، السلسلة الأحاديث الصحیحة:265]
· عربی (کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر - ضعیف دعا):
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا
· ترجمہ:
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس (مصیبت) سے بچا لیا جس میں تجھے مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر واضح فضیلت عطا فرمائی۔"
[ترمذی:3431-3432]
کسی معاملہ میں آسانی وگنجائش پر حمد:
اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سعة.
ترجمہ:
اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے معاملے میں وسعت رکھی۔
[سنن ابوداؤد:226]
---
سونے کی دعا۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی خواب گاہ میں آتے تو کہتے:
«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي، وَأَطْعَمَنِي، وسقاني، وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ».
ترجمہ:
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ہر آفت سے بچایا اور ٹھکانا عطا کیا، اور جس نے مجھے کھلایا، اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور بڑا احسان کیا، اور جس نے مجھے دیا، اور بہت دیا، اللہ کے لیے ہر حال میں حمد و شکر ہے، اے اللہ! اے ہر چیز کو پالنے والے! اور ہر چیز کے مالک! اے ہر چیز کے حقیقی معبود! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ سے۔
[سنن ابوداؤد:5058، السنن الکبریٰ للنسائی:10566، مسند احمد:5983، عمل الیوم والليلة لإبن السني:723]
مم








No comments:
Post a Comment