Friday, 16 August 2024

قناعت یعنی اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کے فضائل

ادابِ زندگی وبندگی۔

قناعت۔


لغوی معنیٰ:

القَنَاعَة عربی زبان کا لفظ ہے، جس کی معنیٰ تھوڑی چیز پر رضا مندی، جو کچھ مل جائے اس پر صبر کرلینے کی خُو(عادت) ہے۔

"القَانِعُ" کے معنی رضامند کے ہیں۔ قناعت کے کچھ دوسرے معانی ہیں: چھپانا، قبول کرنا اور ماننا۔

[لسان العرب : 297/8]


اصطلاحی معنیٰ:

كَانَ غَيْرَ كَافٍ وَتَرْكُ التَّطَلُّعِ إِلَى المَفْقودِ.

ترجمہ:

قناعت ان نیک اخلاق(عادات) میں سے ہے، کہ موجود حلال چیزوں پر نفس کا راضی رہنا، خواہ وہ ناکافی ہو، اور جو نہیں ہے اس کے لیے خواہشات کو ترک کرنا ہے۔


تشریح:

القَنَاعَةُ مِنَ الأَخْلاَقِ الفَاضِلَةِ التي هِيَ مِنْ صِفاتِ الأَنْبِياءِ وَأَهْلِ الإِيمَانِ، وَهِيَ عِبارَةٌ عَنْ امْتِلاءِ قَلْبِ العَبْدِ بِالرِّضَا، وَالبُعْدِ عَنِ الغَضَبِ وَالشَّكْوَى عَمَّا لَمْ يَتَحَقَّقْ وَالطَّمَعِ فِيمَا لاَ يْمَلِكُ، وَالقَناعَةُ قِسْمانِ: 1- قَناعَةُ الفَقِيرِ، وَهِيَ الرِّضَا بِالحَلالِ المَوْجودِ وَتَرْكِ النَّظَرِ فِي الحَرامِ وَالغَضَبِ عِنْدَ فَواتِ نِعْمَةٍ. 2- قَناعَةُ الغَنِيِّ، وَهِيَ أَنْ يَكونَ رَاضِيًا شَاكِرًا مُسْتَعْملًا النِّعْمَةَ فِي طَاعَةِ اللهِ، لَا جَاحدًا طَامِعًا فِي أَموالِ الآخَرِينَ. وَالقَناعَةُ لَهَا فَوائِدُ عَدِيدَةٌ فَهِيَ شِفاءٌ وَدَواءٌ مِنْ أَمْراضِ الجَشَعِ وَالطَّمَعِ وَالحَسَدِ وَالسَّرِقَةِ وَغَيْرِهَا.

ترجمہ:

قناعت حسن اخلاق میں سے ہے جو انبیاء اور اہل ایمان کی خصوصیات میں سے ہے اور یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بندے کا دل قناعت سے لبریز ہو اور دور رہے غصہ سے اور جو کچھ اسے حاصل نہیں ہوا اس کا شکوہ کرنے سے اور لالچ سے اس چیز کی جو اس کے پاس نہیں۔

قناعت دو قسم کی ہوتی ہے: (1)فقیر کی قناعت: جو موجود حلال پر راضی رہنے اور حرام میں نظر ڈالنے اور نعمت کے ضایع ہونے پر غصہ ہونے کو ترک کر دینا ہے۔ (2) مالدار کی قناعت: یہ ہے کہ وہ راضی اور شکر گزار ہو، اللہ کی اطاعت میں نعمت کا استعمال کرے، ناشکری اور دوسروں کے مال میں لالچ نہ رکھے۔

اور قناعت کے بہت سے فائدے ہیں، یہ حرص، لالچ، حسد، چوری اور دیگر روحانی-اخلاقی بیماریوں کے لیے شفاء اور دوا ہے۔

[معجم مقاييس اللغة : 33/5 - تهذيب الأخلاق : ص22 - الفروق اللغوية للعسكري : ص430 - لسان العرب : 297/8 - التوقيف على مهمات التعاريف : ص275 -]


 

امام الراغب الاصفہانی لفظ قناعت کے متعلق لکھتے ہیں کہ:

اقنع راسہ اس نے اپنے سر کو اونچا کیا۔ قرآن میں ہے :

مُقْنِعِي رُؤُسِهِمْ

سر اٹھائے ہوئے

[سورۃ إبراهيم:43]

بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قناع سے مشتق ہے اور قناع اس چیز کو کہتے ہیں جس سے سر ڈھانکا جائے۔ اس سے قَنِعَ (س) کے معنیٰ ہیں اس نے اپنے فقر(غربت) کو چھپانے کے لئے سر پر قناع اوڑھ لیا۔ اور قنع (ف) کے معنیٰ سوال کرنے کے لئے سر کھولنے کے ہیں۔ جیسا کہ خفی (س) کے معنیٰ چھپنے اور خفٰی کے معنیٰ خفاء کو دور کرنے یعنی ظاہر ہونے کے ہیں۔ اور رجل مقتنع کا محاورہ قناعۃ سے ہے یعنی وہ آدمی جس کی شہادت کو کافی سمجھا جائے، اس کی جمع مقانع ہے۔

[مفردات القرآن-امام الراغب» سورۃ ابراھیم:43]



(1)حضرت ابن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ

ترجمہ:

یقیناً وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اسلام قبول کیا، اور اسے بقدرِ کفایت رزق عطا کیا گیا، اور اللہ نے اسے قناعت (یعنی اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے) کی توفیق دی اس(رزق)پر جو اسے عطا کیا گیا۔

[صحیح مسلم:1054، سنن ابن ماجہ:4138، سنن الترمذی:2348، مسند احمد:6572، صحيح ابن حبان:270، المستدرك الحاكم:7149، القناعة لابن السني:8]



فقہ الحدیث:

کفایت شعاری اور قناعت پسندی کا بیان۔

[صحیح مسلم:1054(2426)]

گذارے کے لائق روزی پر صبر کرنا۔

[سنن الترمذي:2348+2349]

قناعت کا بیان۔

[سنن ابن ماجہ:4138]


اپنے ہاتھ کے کمائی کے ذریعہ (لوگوں سے مانگنے سے) پاکدامن اور بےپرواہ رہنے اور جو کچھ اللہ نے بغیر مانگے اسے عطا کیا اس کی فضیلت کا بیان۔

[السنن الكبرىٰ-للبيهقي:7868]



حاصل اسباق و نکات:


1. کامیابی کی حقیقی تعریف: حدیث بتاتی ہے کہ حقیقی "کامیابی" (فلاح) دنیاوی مال و دولت یا عہدوں میں نہیں، بلکہ تین چیزوں کے مجموعے میں ہے: اسلام، کفایت شعار رزق، اور قناعت۔

2. اسلام: بنیادِ فلاح: پہلا نکتہ ایمان اور اسلام (اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا) ہے۔ یہ تمام نیکیوں اور کامیابیوں کی جڑ ہے۔ بغیر اسلام کے کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں۔

3. رزق میں "کفاف" کی برکت: "کفاف" سے مراد وہ رزق ہے جو ضرورت پوری کرے، فقر و تنگ دستی نہ ہو، لیکن اس میں اضافی فراوانی بھی نہ ہو کہ انسان فتنے میں پڑ جائے۔ یہ ایک بہترین دعا ہے کہ اللہ ایسی معاشی استطاعت عطا فرمائے جو بندے کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچائے اور حرص و طمع سے محفوظ رکھے۔

4. قناعت: قلب کا سکون: "قَنَّعَهُ اللَّهُ" کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل کو عطا کردہ رزق پر مطمئن اور شاکر کر دے۔ قناعت ایک عظیم نعمت اور دل کی دولت ہے جو انسان کو ہر حال میں شکر گزار اور مطمئن رکھتی ہے، خواہ مال کم ہو یا زیادہ۔

5. تینوں کا مجموعی اثر: جب یہ تینوں صفات (اسلام، کفایت شعار رزق، اور قناعت) کسی انسان میں جمع ہو جائیں تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب و کامران ہو جاتا ہے۔

   · اسلام اس کی آخرت سنوارتا ہے۔

   · کفاف اس کی دنیاوی ضروریات پوری کرتا ہے۔

   · قناعت اس کے دل کو سکون و اطمینان عطا کرتی ہے۔

6. مادی تعیش کی نفی: حدیث یہ پیغام دیتی ہے کہ کامیابی کے لیے لازمی نہیں کہ انسان کے پاس بے پناہ دولت ہو۔ بلکہ تھوڑا سا رزق، لیکن دل کے قناعت سے سیر ہونے پر بھی انسان بہت بڑی کامیابی پا سکتا ہے۔

7. اللہ کی طرف سے عطا: حدیث کے الفاظ "وَقَنَّعَهُ اللَّهُ" پر غور کریں۔ یہ بتاتا ہے کہ قناعت محض ایک کوشش نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک خاص عطیہ اور نعمت ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں۔


خلاصہ:

یہ حدیث ہمیں زندگی کے ایک متوازن اور کامیاب نمونہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے جس میں روحانی سلامتی (اسلام)، معاشی استحکام (کفاف)، اور قلبی اطمینان (قناعت) شامل ہیں۔ یہ تینوں چیزیں مل کر انسان کو حقیقی "فلاح" (کامیابی) سے ہمکنار کرتی ہیں۔




تشریح:

جن اخلاق کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب اور اس دنیا میں بھی بہت بلند ہو جاتا ہے اور دل کی بے چینی اور کڑھن کے سخت عذاب سے بھی اس کو نجات مل جاتی ہے، ان میں سے ایک قناعت اور استغناء بھی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کو جو کچھ ملے اس پر وہ راضی اور مطمئن ہو جائے اور زیادہ کی حرص و لالچ نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو قناعت کی یہ دولت عطا فرمائے، بلا شبہ اس کو بڑی دولت عطا ہوئی، اور بڑی نعمت سے نوازا گیا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے چند ارشادات ذیل میں پڑھئے: 


تشریح:

بلا شبہ جس بندہ کو ایمان کی دولت نصیب ہو، اور ساتھ ہی اس دنیا میں گذارے کا کچھ ضروری سامان بھی، اور پھر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قناعت اور طمانیت کی دولت بھی نصیب فرما دے، تو اس کی زندگی بڑی مبارک اور بڑی خوشگوار ہے اور اس پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے۔ یہ قناعت اور دل کی طمانیت وہ کیمیا ہے جس سے فقیر کی زندگی بادشاہ کی زندگی سے زیادہ لذیذ اور پُر مسرت بن جاتی ہے۔ 

ایں کیمیائے ہستی قاروں کند گدارا

آدمی کے پاس اگر دولت کے ڈھیر ہوں، لیکن اس میں اور زیادہ کے لئے طمع اور حرص ہو، اور وہ اس میں اجافہ ہی کی فکر اور کوشش میں لگا رہے، اور "هل من مزيد" ہی کے پھیر میں پڑا رہے تو اسے کبھی قلبی سکون نصیب نہ ہو گا، اور وہ دل کا فقیر ہی رہے گا برخلاف اس کے اگر آدمی کے پاس صرف جینے کا مختصر سامان ہو، مگر وہ اس پر مطمئن اور قانع ہو تو فقر و افلاس کے باوجود وہ دل کا غنی رہے گا، اور اس کی زندگی بڑے اطمینان اور آسودگی کی زندگی ہوگی۔ اس حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے ایک دوسری حدیث میں ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے۔

[معارف الحدیث:372]


القرآن:

جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 97]



بنی سلیم کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"إِنَّ اللهَ تَعَالَى يَبْتَلِي الْعَبْدَ فِيمَا أَعْطَاهُ، فَإِنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَهُ بُورِكَ لَهُ وَوُسِّعَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارِكْ لَهُ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى مَا كُتِبَ لَهُ"

ترجمہ:

بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو اس چیز میں آزماتا ہے جو اسے عطا کی ہے۔ پس اگر وہ اس پر راضی ہو جائے جو اللہ نے اس کے لیے مقسوم (مقرر) کیا ہے، تو اس کے لیے برکت رکھی جاتی ہے اور اس پر کشادگی کی جاتی ہے۔ اور اگر وہ راضی نہ ہو، تو اس کے لیے برکت نہیں رکھی جاتی اور جو کچھ اس کے لیے لکھا گیا تھا اس پر اضافہ نہیں کیا جاتا۔

[کنزالعمال:7090، صحيح الجامع:1869،  الصحيحة:1658]

[جامع الأحاديث-للسيوطي:7166، أخرجه أحمد (٥/٢٤، رقم ٢٠٢٩٤) ، قال الهيثمى (١٠/٢٥٧) : رجاله رجال الصحيح. وابن قانع (١/٢٨٧) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (٧/١٢٥، رقم ٩٧٢٥) ، وأورده ابن عبد البر فى الاستيعاب (١/٧٢، ترجمة أحمر بن سليم) ]

---


💎 حدیث کے مرکزی اسباق و نکات:


1. ہر نعمت ایک امتحان ہے


اللہ تعالیٰ کا فرمان "يَبْتَلِي الْعَبْدَ فِيمَا أَعْطَاهُ" ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے:


· مال، صحت، اولاد، علم، عزت — ہر وہ چیز جو اللہ نے دی ہے وہ ایک آزمائش ہے کہ ہم اسے کہاں اور کیسے استعمال کرتے ہیں۔

· یہ امتحان کم نعمت میں بھی ہے اور زیادہ نعمت میں بھی۔


2. رضا: کامیابی کی کنجی


حدیث میں "رضي" (راضی ہو گیا) کلمہ کلیدی ہے:


· "بورك له": رضامندی ہی وہ دروازہ ہے جس سے برکت داخل ہوتی ہے۔

· "وسعه": رضامندی ہی وہ سبب ہے جس سے روزی اور زندگی میں کشادگی آتی ہے۔

· برکت کا مطلب صرف مال کی زیادتی نہیں، بلکہ دل کی قناعت، استعمال میں برکت، اور اطمینان ہے۔


3. ناراضی: محرومی کا سبب


"وإن لم يرض" (اور اگر راضی نہ ہوا) کے نتائج سخت ہیں:


· "لم يبارك له": اس کی نعمتوں سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔ وہ مال ہو مگر دل خالی، صحت ہو مگر سکون نہ ہو، اولاد ہو مگر اطاعت گزار نہ ہو۔

· "ولم يزد على ما كتب له": اس کی مقدارِ مقسوم (مقررہ حصہ) میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ بے چینی اور حسرت اسے وہی چیز دے گی جو اس کی تقدیر میں تھی، مگر بغیر برکت کے۔


4. قضاء پر یقین کا سبق


یہ حدیث تقدیر پر ایمان کا عملی پہلو سکھاتی ہے:


· جو کچھ ملنا تھا، وہ "ما كتب له" (جو اس کے لیے لکھا گیا تھا) کے مطابق ہی ملے گا۔

· رضا یا ناراضی صرف برکت کے حصول یا زوال کا سبب بنتی ہے، مقدار بدلنے کا نہیں۔


---


📊 پوری سیرتِ تعلیمات کے ساتھ ربط:


یہ حدیث آپ کے زیربحث تمام سابقہ تعلیمات کا قلبی نتیجہ اور عملی فارمولا ہے۔


پچھلی تعلیمات اس حدیث "يبتلي العبد..." کے ساتھ ربط

1. "خيركم أزهدكم في الدنيا"  (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) زہد درحقیقت دل کی رضا کا نام ہے۔ جب دل دنیا سے بے رغبت ہو جاتا ہے تو پھر وہ جو مل جائے اس پر بھی راضی ہو جاتا ہے۔

2. "دعوا الدنيا لأهلها"  (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے مقسوم (حصے) پر راضی رہو، اور دوسروں کے حصے کی طمع اور حسد نہ کرو۔

3. "الغنى اليأس مما في أيدي الناس"  (دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے) جب آپ لوگوں کے پاس موجود چیز سے "اليأس" (مایوس/بے نیاز) ہو جائیں گے، تو پھر آپ اپنے مقسوم پر راضی ہو جائیں گے۔ یہی حقیقی غنیٰ ہے۔

4. "إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر"  (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) طمع ہی تو ہے جو انسان کو اپنے مقسوم پر ناراض کرتی ہے اور اسے "الفقر الحاضر" (موجودہ مفلسی) میں مبتلا کرتی ہے۔

5. "فراش للرجل..."  (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے) تین بستروں پر راضی رہنا ہی برکت کا سبب ہے۔ چوتھے بستر کی طمع ناراضی اور برکت کے زوال کا سبب ہے۔

6. "فضوح الدنيا أهون من فضوح الآخرة"  (دنیا کی رسوائی ہلکی ہے) جو شخص اپنی مقسوم روزی پر راضی ہے، وہ کبھی دنیا کی رسوائی کے ڈر سے کوئی گناہ یا خیانت نہیں کرے گا۔

7. "عرض علي ربي ليَجعل لي بطحاء مكة ذهبا"  (مجھے سونے کی وادی پیش کی گئی) رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل رضا کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے مقسوم (بھوک و سیری) پر راضی رہ کر برکت اور وسعت حاصل کی۔

8. "ذو الدرهمين أشد حسابا"  (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) جو شخص اپنے مقسوم پر راضی نہیں اور زیادہ مال کی طمع میں مبتلا ہے، وہی تو سخت حساب کا مستحق بنتا ہے۔


---


🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی:


1. نعمت کو امتحان سمجھیں: ہر چیز کو دیکھتے ہوئے یہ سوچیں: "اللہ مجھے اس کے ذریعے کس بات میں آزما رہا ہے؟ شکر میں؟ خرچ کرنے میں؟ حق ادا کرنے میں؟"

2. دل کی رضا کو تربیت دیں: زبان سے "الحمد لله على كل حال" (ہر حال میں اللہ کی حمد ہے) کہیں، اور دل سے بھی قناعت کی عادت ڈالیں۔

3. برکت کی دعا کریں: رسول اللہ ﷺ سکھایا کرتے تھے: "اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعْصِيَتِكَ، وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ، وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مُصِيبَاتِ الدُّنْيَا" (اے اللہ! ہمیں اپنے خوف میں سے اتنا دے جو ہمیں تیری نافرمانی سے روک دے، اور اپنی اطاعت میں سے اتنی دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور یقین میں سے اتنا دے جو دنیا کی مصیبتوں کو ہم پر ہلکا کر دے۔)[ترمذی:3502]

4. ناراضی کے اسباب سے بچیں: دوسروں سے موازنہ، فضول توقعات، اور حال پر نہ گزارنے کی عادت سے بچیں۔


نتیجہ:


"إن الله يبتلي العبد فيما أعطاه" والی حدیث درحقیقت آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا قلبی جوہر اور حتمی مقصد ہے۔


یہ ہمیں بتاتی ہے کہ:


· دنیا سے بے رغبتی، زہد، تواضع، اور لوگوں سے بے نیازی کا حتمی نتیجہ یہی "رضا بالقضاء" (تقدیر پر راضی رہنا) ہے۔

· یہی رضا ہی برکت، وسعت اور اطمینان کی کنجی ہے۔

· اور یہی رضا ہی انسان کو طمع، حسد، بے چینی اور آخرت کی رسوائی سے بچاتی ہے۔


یہ قناعت اسی ایک جملے میں سمٹ آتا ہے: اللہ نے جو دیا ہے، اس پر راضی رہو — یہی تمہاری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔









سب سے بڑا شکرگذار کون؟

حضرت ابوھریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يَا أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ كُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ،‏‏‏‏ وَكُنْ قَنِعًا تَكُنْ أَشْكَرَ النَّاسِ،‏‏‏‏ وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا،‏‏‏‏ وَأَحْسِنْ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا،‏‏‏‏ وَأَقِلَّ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ.

ترجمہ:

اے ابوہریرہ! ورع(ڈرنے) والے بن جاؤ تم ہوجاؤ گے لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار، اور قناعت-پسند بن جاؤ تم ہوجاؤ گے لوگوں میں سب سے زیادہ شکر کرنے والے، اور لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو تم ہوجاؤ گے مومن، اور پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو تم ہوجاؤ گے مسلمان، اور کم ہنسا کرو کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کردیتی ہے۔

[سنن ابن ماجہ:4217، شعب الإيمان:5750، مسند ابويعلي:5865]



نوٹ:

کامل شکر یہ ہے کہ احسان کرنے والے محسن کے (1)دل میں احسانات یاد رکھنا (2)زبان سے احسانات بیان کرنا (3)عمل سے ان کا بدلہ احسان سے دینا۔




حاصلِ اسباق و نکات:


1. ورع (پرہیزگاری) عبادت کی روح ہے: حقیقی عبادت صرف نماز روزے کی کثرت میں نہیں، بلکہ ہر شک اور شبہ والی چیز سے بچنے میں ہے۔ جو شخص حرام و حلال کے درمیان واضع حد قائم رکھے، وہی سب سے بڑا عبادت گزار بنتا ہے۔

2. قناعت شکرگزاری کی کنجی: دل کی قناعت (جو کچھ مل گیا اس پر راضی رہنا) انسان کو سب سے زیادہ شکر گزار بندہ بنا دیتی ہے۔ کیونکہ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اللہ کی تقسیم پر راضی اور اس کے عطا کردہ کے لیے شاکر رہتے ہیں۔

3. ایمان کا معیار: اخلاقی ہم آہنگی: کامل ایمان کا تقاضا ہے کہ آپ دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ یہ نفیس نفس (خود غرضی) کے خلاف جنگ اور ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یہ تعلیم اجتماعی ہمدردی اور انصاف کی بنیاد رکھتی ہے۔

4. اسلام کا عملی مظہر: حسنِ سلوک: اسلام صرف عقیدے کا نام نہیں، بلکہ عملی رویوں کا نام ہے۔ خاص طور پر پڑوسی کے حقوق کا خیال رکھنا اور اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اسلام کے واضح اور اہم تقاضوں میں سے ہے۔

5. توازن اور وقار: مسلمان کا وقار اور قلب کی زندہ دلی اس بات میں ہے کہ وہ ہنسی مذاق میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ بے جا اور کثرت سے ہنسنا دل (روحانی حساسیت) کو مردہ کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہنسی پر پابندی نہیں، بلکہ اعتدال اور سنجیدگی کا حکم ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث ایک مکمل اسلامی شخصیت کی تعمیر کا نقشہ پیش کرتی ہے، جس میں تقویٰ، قناعت، ہم دردی، حسنِ معاشرت اور وقار جیسی صفات شامل ہیں۔ یہ بتاتی ہے کہ عبادت صرف رسمی اعمال تک محدود نہیں، بلکہ یہ اعلیٰ اخلاق، قلبی کیفیتوں اور دوسروں کے ساتھ اچھے تعلق میں ظاہر ہوتی ہے۔



حضرت جابر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«عَلَيْكُمْ بِالْقَنَاعَةِ، فَإِنَّ الْقَنَاعَةَ مَالٌ لَا يَنْفَدُ ﴿وكنزٌ لا يفنى﴾»

ترجمہ:

تم لازم کرلو قناعت پسندی کو، کیونکہ قناعت وہ مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔﴿اور وہ خزانہ ہے جو فنا نہیں ہوتا﴾۔

[المعجم الاوسط للطبرانی:6922، ﴿الزهد الكبير للبيهقي:104﴾ الترغيب-للمنذري:1233، مجمع الزوائد:17869، کنزالعمال:7102]

القرآن:

جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

[سورۃ النحل:97»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:5/165]


حاصلِ اسباق و نکات:


1. قناعت کی فرضیت و اہمیت: لفظ "عَلَيْكُمْ" (تم پر لازم ہے) سے قناعت کی تاکید اور اہمیت واضح ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک پسندیدہ صفت نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے ضروری امر ہے۔

2. قناعت: لازوال دولت: قناعت کو "ایسا مال جو ختم نہ ہو" قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کا ہر مال فانی اور ختم ہونے والا ہے، مگر دل کی قناعت ایک ایسی دائمی دولت ہے جو کبھی گھٹتی نہیں بلکہ انسان کو ہمیشہ امیر و غنی رکھتی ہے۔

3. قناعت: ناقابل چوری خزانہ: قناعت ایک ایسا خزانہ (کنز) ہے جسے کوئی چوری نہیں کر سکتا، نہ اس پر کوئی قبضہ کر سکتا ہے۔ یہ خزانہ انسان کے دل میں محفوظ رہتا ہے اور ہر قسم کے دنیاوی خطرات سے محفوظ ہے۔

4. بے نیازی کا سرچشمہ: قناعت انسان کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچاتی ہے۔ جو شخص قناعت اختیار کر لے، وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بے نیاز محسوس کرتا ہے، چاہے اس کے پاز موادل کم ہی کیوں نہ ہو۔

5. قلب کی سلامتی: قناعت سے دل میں سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ آسودگی اور مطمئن رہنا ہی دراصل حقیقی دولت ہے، جبکہ لالچ و حرص دل کی مفلسی اور بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

6. مال کی نئی تعریف: حدیث مال و دولت کی تعریف ہی بدل دیتی ہے۔ حقیقی مال وہ نہیں جو صندوقوں میں بند ہو، بلکہ وہ ہے جو دل میں قناعت کی صورت میں جمع ہو۔

7. حرص سے نجات: قناعت انسان کو بے انتہا مال جمع کرنے کے لالچ اور ہوس سے بچاتی ہے، جو اکثر انسان کو برباد کر دیتی ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی دولت وہ نہیں جو نظر آتی ہے، بلکہ وہ قلبی کیفیت (قناعت) ہے جو انسان کو ہمیشہ کے لیے بے نیاز اور مطمئن بنا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا لازوال خزانہ ہے جو نہ چوری ہو سکتا ہے اور نہ ختم ہو سکتا ہے۔



قناعت کی مسنون دعائیں:

حضرت ابو امامہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک شخص کو فرمایا: تو کہہ:

«اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَفْسًا بِكَ مُطْمَئِنَّةً، تُؤْمِنُ بِلِقَائِكَ، وَتَرْضَى بِقَضَائِكَ، وَتَقْنَعُ بِعَطَائِكَ»۔

ترجمہ:

اے اللہ! میں تجھ سے نفس مطمئنہ کا سوال کرتا ہوں جو تیری ملاقات پر ایمان رکھے، تیرے فیصلہ پر راضی رہے اور تیری عطاء پر قناعت پذیر ہو۔

[المعجم الکبیر للطبرانی:7490، وابن عساكر في تاريخ دمشق: 35/ 80 - 81 (3873)، 69/ 158 (9342)]

[جامع الاحادیث-السیوطی:15250+41346، کنزالعمال:3735+5082]




حضرت علی سے روایت ہے:

"أعطيك خمسة آلاف شاة أو أعلمك خمس كلمات؟ فيها صلاح دينك ودنياك، قل: اللهم اغفر لي ذنبي، ووسع لي خلقي وطيب لي كسبي وقنعني بما رزقتني، ولا تذهب طلبي إلى شيء صرفته عني".

ترجمہ:

میں تجھے پانچ ہزار نیکیاں دوں یا تجھ کو پانچ کلمات سکھاؤں جن میں تیرے دین اور تیری دنیا کی بھلائی ہے۔ یوں کہہ:

اللهم اغفر لي ذنبي، ووسع لي خلقي وطيب لي كسبي وقنعني بما رزقتني، ولا تذهب طلبي إلى شيء صرفته عني.

اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما، میرے اخلاق کشادہ کر، میرا ذریعہ معاش پاکیزہ کر، جو رزق تو نے مجھے دیا ہے اس پر مجھے قناعت پسند کر اور مجھے ایسی چیز کی طلب میں نہ لگا جو تو نے مجھ سے پھیر دی ہے۔

[جامع الاحادیث-السیوطی:3783+32373، کنزالعمال:3834+5061]



حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اس دعا کو بھی نہ چھوڑا کرتے تھے:

«اللَّهُمَّ قَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي،  وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَاخْلُفْ عَلَى كُلِّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ»

اے اللہ! مجھے قناعت دے میرے رزق پر اور اس میں میرے لیے برکت پیدا فرما، اور جو کچھ بھی ضائع یا کم ہوجائے تو اس کا بہتر بدل عطا فرما۔

[المستدرك الحاكم:1674، 1878، 3360، شعب الايمان:4047]

[تفسير ابن ابي حاتم:12651،سورۃ النحل:97]

[جامع الاحادیث-السیوطی:39030، کنزالعمال:5094]


قرآنی شواھد:

اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔۔۔

[سورۃ البقرۃ:45»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:1/161]


القرآن:

(مالی امداد کے بطور خاص) مستحق وہ فقرا ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لیے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لیے ناواقف آدمی انہیں مال دار سمجھتا ہے، تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

[سورۃ البقرۃ:273»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:2/96]


القرآن:

جس شخص نے بھی مومن ہونے کی حالت میں نیک عمل کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے، اور ایسے لوگوں کو ان کے بہترین اعمال کے مطابق ان کا اجر ضرور عطا کریں گے۔

[سورۃ النحل:97»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:5/165]



القرآن:

دیکھو ہم نے کس طرح ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے۔ اور یقین رکھو کہ آخرت درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے، اور فضیلت کے اعتبار سے بھی کہیں زیادہ ہے۔

[سورۃ الاسراء:21»تفسیر ابن کثیر:6/523]

تفسیر:

(11) یعنی دنیا میں کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت زیادہ رزق عطا فرمایا ہے، اور کسی کو کم، البتہ جس چیز کے لئے انسان کو پوری کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے فوائد ہیں کیونکہ وہ دنیا کے فوائد کے مقابلے میں بدرجہا زیادہ ہیں۔



القرآن:

اور تمہیں نادار پایا تو غنی کردیا۔

[سورۃ الضحیٰ:8»تفسیر البغوي:2385]

تفسیر:

(5)حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ آپ نے تجارت میں جو شرکت فرمائی، اس سے آپ کو اچھا خاصا نفع حاصل ہوا تھا۔


شواھدِ احادیث:


نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے زندگی گزارنے اور دنیا (کی لذتوں) سے علیحدہ رہنے کا بیان۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا أَكَلَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْلَتَيْنِ فِي يَوْمٍ إِلَّا إِحْدَاهُمَا تَمْرٌ.

ترجمہ:

حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے گھرانہ نے اگر کبھی ایک دن میں دو مرتبہ کھانا کھایا تو ضرور اس میں ایک وقت صرف کھجوریں ہوتی تھیں۔

[صحیح بخاری:6455]



حاصلِ اسباق و نکات:


1. سادگی اور قناعت کا عملی نمونہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ دنیا میں سادگی اور قناعت کی زندہ مثال تھا۔ یہ حدیث ان کی معاشی اور معاشرتی سادگی کو ظاہر کرتی ہے۔

2. ضرورت پر اکتفا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ دن میں ایک وقت باقاعدہ کھانا کھاتا تھا اور دوسرے وقت میں اکثر صرف کھجور پر گزارہ کر لیتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ضرورت بھر پر ہی قناعت کرتے تھے، زیادہ جمع کرنے کے حریص نہ تھے۔

3. کھجور کی غذائی و روحانی اہمیت: کھجور نہ صرف ایک سادہ اور مقوی غذا ہے، بلکہ یہ پیغمبرانہ غذاؤں میں سے ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سادہ اور قدرتی غذائیں صحت اور معنویت دونوں کے لیے بہتر ہیں۔

4. دنیا سے بے رغبتی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت کے پاس دنیا کے سارے وسائل موجود تھے، لیکن انہوں نے آخرت کو ترجیح دیتے ہوئے دنیا کی زینت و نعمتوں سے اختیاری طور پر پرہیز کیا۔

5. شکر گزاری کا سبق: معمولی اور سادہ رزق پر گزارہ کرنا درحقیقت اللہ کی نعمتوں کی صحیح قدرشناسی (شکر) ہے۔ یہ عمل یہ سکھاتا ہے کہ نعمت کی کمی و زیادتی سے بالا ہو کر، جو کچھ میسر ہے اس پر شکر گزار رہنا چاہیے۔

6. امت کے لیے رہنمائی: یہ حدیث امتِ مسلمہ کو یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی اور سعادت مال و اسباب کی کثرت میں نہیں، بلکہ سادگی، قناعت اور اپنے نبی کی سنت پر عمل کرنے میں ہے۔

7. اعلیٰ اخلاق کی بنیاد: سادگی اور قناعت انسان کو حرص، لالچ اور بخل جیسے رذائل سے پاک کرتی ہے اور اس میں سخاوت، توکل اور نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی صفات پیدا کرتی ہیں۔


خلاصہ:

یہ حدیث ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی سادہ اور قانعانہ زندگی کا نقشہ پیش کرتی ہے، جو ہمارے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر دنیوی آسائشوں سے اجتناب کیا اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے تابع رکھا۔ یہ ہمارے لیے یہ درس ہے کہ ہمیں اپنی زندگیاں ضرورت اور سادگی کے اصول پر گزارنی چاہئیں، خواہشات اور نمود و نمائش سے دور رہنا چاہیے۔





عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِنْ كُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ لَنَمْكُثُ شَهْرًا مَا نُوقِدُ فِيهِ بِنَارٍ،‏‏‏‏ مَا هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ‏‏‏۔

ترجمہ:

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم آل محمد ﷺ مہینہ ایسے گزارتے تھے کہ ہمارے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، سوائے کھجور اور پانی کے کچھ نہیں ہوتا تھا۔

[سنن ابن ماجہ:4144، صحیح مسلم:2972، صحیح البخاری:2567، 6458، سنن الترمذی:2471]


حاصلِ اسباق و نکات:


1. زہد و قناعت کی اعلیٰ مثال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھرانہ دنیاوی آسائشوں سے مکمل طور پر بے نیاز تھا۔ ایک مہینے تک چولھا نہ جلانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ پکے ہوئے کھانوں اور گرم غذاوں کے بغیر گزارہ کر لیتے تھے۔

2. غذا میں انتہائی سادگی: ان کی غذا انتہائی سادہ اور بنیادی تھی — صرف کھجور اور پانی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسمانی ضروریات کو بہت ہی کم از کم سطح پر رکھا اور نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھا۔

3. دنیا سے بے رغبتی کا عملی مظہر: یہ روایت دوسری احادیث کی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے عدم وابستگی کو مزید واضح کرتی ہے۔ آپ نے عمدہ اور لذیذ کھانوں کو اختیاری طور پر ترک کر کے یہ عملی سبق دیا کہ مومن کا مقصد صرف پیٹ بھرنا نہیں بلکہ آخرت کی تیاری کرنا ہے۔

4. قدرتی غذا کی اہمیت: کھجور اور پانی ایک مکمل اور صحت بخش غذا ہے۔ یہ انتخاب صرف سادگی ہی نہیں، بلکہ صحت مندانہ طرز زندگی کی بھی رہنمائی کرتا ہے۔

5. صبر اور استقامت کا درس: سردی یا دیگر موسمی حالات میں بھی گرم کھانے کے بغیر گزارہ کرنا صبر اور برداشت کی عظیم تربیت ہے۔ یہ دل کی مضبوطی اور اللہ پر توکل کا پختہ ثبوت ہے۔

6. خوشحالی میں بھی سادگی: قابل غور بات یہ ہے کہ یہ سادگی غربت یا مجبوری کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ ایک اختیاری اور شعوری انتخاب تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسودگی کے دور میں بھی سادگی اور قناعت کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

7. امت کے لیے ہمیشہ رہنما اصول: یہ حدیث ہر دور کے مسلمانوں کے لیے یہ رہنمائی کرتی ہے کہ حقیقی کامیابی اور اللہ کی رضا مال و اسباب کی کثرت میں نہیں، بلکہ دل کی بے نیازی، سادگی اور نبی کی سنت پر عمل میں ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی زندگی کی انتہائی سادگی اور زہد کو بیان کرتی ہے، جو صرف کھجور اور پانی پر گزارہ کرنے کی حد تک تھی۔ یہ ہمارے لیے ایک زندہ مثال ہے کہ مومن کو دنیا کی رنگینیوں اور کھانوں کی فراوانی میں پڑ کر اپنا مقصدِ حیات نہیں بھولنا چاہیے، بلکہ ضرورت پر اکتفا کرتے ہوئے سادہ زندگی گزارنی چاہیے تاکہ دل دنیا کی محبت سے آزاد رہے اور آخرت کی تیاری ہو سکے۔



عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ الْأَسْوَدَانِ،‏‏‏‏ التَّمْرُ وَالْمَاءُ،‏‏‏‏ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ جِيرَانُ صِدْقٍ،‏‏‏‏ وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ،‏‏‏‏ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ أَلْبَانَهَا،‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَكَانُوا تِسْعَةَ أَبْيَاتٍ.

ترجمہ:

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ کبھی کبھی آل محمد ﷺ پر پورا مہینہ ایسا گزر جاتا تھا کہ ان کے گھروں میں سے کسی گھر میں دھواں نہ دیکھا جاتا تھا، ابوسلمہ نے پوچھا: پھر وہ کیا کھاتے تھے؟ کہا: دو کالی چیزیں یعنی کھجور اور پانی، البتہ ہمارے کچھ انصاری پڑوسی تھے، جو صحیح معنوں میں پڑوسی تھے، ان کی کچھ پالتو بکریاں تھیں، وہ آپ کو ان کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے نو گھر تھے۔

[سنن ابن ماجہ:4145]


حاصل اسباق ونکات:

1. زہد و قناعت کی اعلیٰ ترین مثال: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی معاشی زندگی انتہائی سادگی کی عکاس تھی۔ مہینوں چولھا نہ جلانا ظاہر کرتا ہے کہ وہ پکی ہوئی غذا اور گرم کھانوں کے بغیر گزارہ کر لیتے تھے۔

2. غذا میں انتہائی اختصار: ان کی بنیادی غذا صرف دو چیزیں تھیں: کھجور اور پانی۔ اسے "الاسودان" (دو سیاہ چیزیں) کہا گیا جو انتہائی سادگی کی دلیل ہے۔

3. سادگی میں بھی تنوع کا فقدان نہیں: اگرچہ بنیادی غذا سادہ تھی، مگر جب پڑوسیوں کی طرف سے دودھ بطور ہدیہ آتا تو وہ اسے قبول فرما لیتے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سادگی کا مطلب تنوع یا نعمت کو رد کرنا نہیں، بلکہ اس پر انحصار نہ کرنا ہے۔

4. حسنِ سلوک اور ہمسایوں کے حقوق: یہ حدیث پڑوسیوں کے حقوق اور ان سے اچھے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ انصار کے پڑوسیوں کا اپنے نبی کے گھرانے کو دودھ بھیجنا، حسنِ جوار اور محبت کا بہترین عملی اظہار ہے۔

5. معاشرتی تعاون و رواداری: مسلمان معاشرے میں ہمسایوں کا ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا اور صلہ رحمی کرنا اسلامی اخوت کی بنیاد ہے۔

6. قناعت میں بھی شکر گزاری: اگرچہ آپ کا گھرانہ قناعت کی انتہا پر تھا، لیکن جب کوئی نعمت ملتی تو اسے قبول کرنا اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا بھی سنت ہے۔

7. دنیاوی اسباب سے بے تعلقی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نو گھرانوں کا مہینوں چولھا نہ جلانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے دنیاوی آسائشوں کو اختیاری طور پر ترک کر رکھا تھا، نہ کہ مجبوری کی وجہ سے۔

8. تربیتی پہلو: یہ سادگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا نتیجہ تھی جو اپنے اہلِ خانہ کو دنیا کی محبت سے بچا کر آخرت کی تیاری کی طرف راغب کر رہے تھے۔


خلاصہ:

یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کی سادہ زندگی، قناعت، اور ہمسایوں کے ساتھ اعلیٰ اخلاقی تعلقات کا مجموعی نقشہ پیش کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھرانے کو دنیاوی لذتوں سے دور رکھ کر زہد و قناعت کی تربیت دی، لیکن ساتھ ہی معاشرتی تعلقات اور ہمسایوں کے حقوق کی پاسداری بھی سکھائی۔ یہ ہمارے لیے یہ درس ہے کہ ہمیں اپنی زندگیاں سادگی اور قناعت سے گزارنی چاہئیں، لیکن معاشرتی حقوق اور حسنِ سلوک کو ہرگز نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔




عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَلْتَوِي فِي الْيَوْمِ مِنَ الْجُوعِ،‏‏‏‏ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ.

ترجمہ:

حضرت نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دن میں بھوک سے کروٹیں بدلتے رہتے تھے، آپ کو خراب اور ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے اپنا پیٹ بھر لیتے۔

[سنن ابن ماجہ:4146، صحیح مسلم:2978، سنن الترمذی:2372]


حاصل اسباق ونکات:

1. پیغمبرانہ صبر و استقامت: رسول اللہ ﷺ کو شدید ترین جسمانی تکالیف (یہاں تک کہ فاقہ سے پیٹ پر بٹھا ہوا درد) کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آپ کے غیر معمولی صبر، استقامت اور اپنے مشن کے لیے پختہ عزم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔

2. فقر و غنا کی حقیقی تعریف: یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دنیاوی دولت و آسائش کی کمی کسی کے مقام و مرتبے کو کم نہیں کرتی۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا مرتبہ تقویٰ اور آخرت کی فکر کا ہے، نہ کہ مال و اسباب کا۔

3. اختیاری زہد و قناعت: آپ ﷺ کے پاس اسباب ہونے کے باوجود اس شدت کو اختیار کرنا، دنیا سے بے رغبتی (زہد) کی انتہا ہے۔ یہ صرف گزارہ کرنے (قناعت) سے ایک قدم بلند ہے، جہاں انسان دانستہ طور پر آسائش ترک کر کے اپنے آپ کو تربیت دیتا ہے۔

4. خود پر دوسروں کی ترجیح (ایثار): یہ حالت صرف آپ ﷺ کی ذاتی ضرورت کے لیے نہ تھی، بلکہ ممکن ہے کہ آپ نے جو کچھ بھی تھا، مسکینوں اور ضرورت مندوں کو دے دیا ہو، جو کہ آپ کے اعلیٰ اخلاقِ ایثار کی غمازی کرتا ہے۔

5. امت کے لیے ہمیشہ درس: حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بیان کرنا اس لیے تھا کہ جب مسلمان مال و دولت میں کھلنے لگیں تو وہ اپنے نبی کی اس تکلیف دہ حالت کو یاد رکھیں، تاکہ ان کے دل دنیا میں پھنس کر سخت نہ ہو جائیں اور شکر و انکساری کا دامن نہ چھوڑیں۔

6. دنیا کی بے ثباتی کا احساس: "الدقل" سے مراد گھٹیا، خشک اور ناقص کھجور ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اکثر اوقات اسی پر گزارہ کرنا یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی لذتیں عارضی ہیں اور انسان کو ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کے اصل منبع کی طرف توجہ رکھنی چاہیے۔

7. رہبانیت سے انحراف: اس شدید حالت کے باوجود، آپ ﷺ نے کبھی بھی رہبانیت (دنیا کو یکسر ترک کر دینا) اختیار نہیں کی، بلکہ شادی کی، تجارت کی اور معاشرتی زندگی گزاری۔ یہ توازن بتاتا ہے کہ اسلام میں ترکِ دنیا نہیں، بلکہ دنیا کو ہاتھ میں رکھتے ہوئے دل سے اس کی محبت نکال دینے کی تعلیم ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی انتہائی غربت، صبر اور اختیاری قناعت کی ایک مؤثر تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اور عظمت دنیاوی آسائشوں میں نہیں، بلکہ آزمائش پر صبر، اللہ پر توکل، اور دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دینے میں ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے دنیا کی محبت سے دل کو بچانے اور آخرت کی تیاری کے لیے ایک طاقتور یاددہانی ہے۔





عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ مِرَارًا:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ،‏‏‏‏ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ،‏‏‏‏ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ.

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو باربار فرماتے سنا ہے: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! آل محمد کے پاس کسی دن ایک صاع غلہ یا ایک صاع کھجور نہیں ہوتا، اور ان دنوں آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں۔

[سنن ابن ماجہ:4147، صحیح البخاری:2069، سنن الترمذی:1215]

حاصل اسباق و نکات:

1. غایت درجہ کی سادگی اور فقر: حدیث بیان کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے گھر میں اکثر اوقات ایک صاع (تقریباً تین کلو) غلہ یا کھجور تک نہیں ہوتی تھی۔ یہ آپ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کی انتہائی سادہ زندگی اور مالی تنگی کی واضح تصویر ہے۔

2. قسم کے ساتھ تاکید: آپ ﷺ نے "وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ" (اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے) کے الفاظ استعمال کر کے اس بات کی سچائی اور اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ محض ایک گذرا ہوا واقعہ نہیں، بلکہ آپ کی زندگی کا ایک مستقل اور اہم پہلو تھا۔

3. ذمہ داریوں کے باوجود توکل: اس وقت آپ ﷺ کے نو ازواج مطہرات تھیں۔ اتنے بڑے گھرانے کی کفالت کی ذمہ داری کے باوجود گھر میں بنیادی غذا کا ذخیرہ نہ ہونا، آپ کے اللہ پر کامل توکل اور بے پایاں اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ دنیاوی اسباب جمع کرنے کے بجائے اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے تھے۔

4. دنیا سے بے رغبتی کا عملی مظہر: یہ صورتحال کسی مجبوری یا معاشی بحران کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ آپ ﷺ کا دانستہ اور اختیاری انتخاب تھا۔ آپ نے دنیا کی فراوانی کو اپنے پاس جمع ہونے نہیں دیا، بلکہ دوسروں پر خرچ کر دیا۔

5. ایثار اور دوسروں کی طرف پیش قدمی: اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ بھی آتا، آپ ﷺ اپنے گھر والوں سے پہلے مسکینوں، محتاجوں اور مسافروں کی ضرورت پوری کرتے۔ یہ آپ کے اعلیٰ اخلاقِ ایثار کی بلند ترین مثال ہے۔

6. اطاعت الٰہی کی خاطر صبر: یہ فقر و تنگ دستی کسی آزمائش یا سزا کے طور پر نہیں تھی، بلکہ اللہ کی راہ میں اختیار کی گئی ایک حالت تھی۔ آپ ﷺ نے اس پر صبر کیا اور اپنی امت کو یہ سبق دیا کہ اللہ کی رضا کے آگے ہر چیز ہیچ ہے۔

7. امیروں اور حکمرانوں کے لیے سبق: آپ ﷺ پوری امت کے روحانی پیشوا اور حکمران تھے، مگر آپ کی ذاتی زندگی اس درجہ سادہ اور بے تکلف تھی۔ یہ ہر دور کے حکمرانوں اور امیروں کے لیے یہ درس ہے کہ عوام کی خدمت اور ان کے دکھ درد کا احساس رکھنا چاہیے۔

8. قناعت کی حقیقی روح: قناعت صرف تھوڑے پر راضی رہنے کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات بالکل خالی ہاتھ ہونے کے باوجود اللہ کی ذات پر راضی رہنا اور اس کے فضل کی امید رکھنا ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے گھرانے کی انتہائی تنگ دستی، آپ کے اللہ پر عظیم توکل، اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینے (ایثار) کی عکاس ہے۔ یہ تصویر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کا اصل سرمایہ اس کا ایمان اور اس کا پروردگار ہے، نہ کہ گودام بھرے اناج۔ یہ ہمارے لیے دنیا کی جمع اندوزی کی بجائے آخرت کی تیاری، اور اپنے سے پہلے دوسروں کی بھلائی کی فکر کرنے کا ایک لازوال نمونہ ہے۔




عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ،‏‏‏‏ أَوْ:‏‏‏‏ مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ.

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ سے زیادہ نہیں رہا، یا آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ نہیں رہا۔

[سنن ابن ماجہ:4148، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:2404]


حاصل اسباق و نکات:

1. معاشی سادگی کی انتہا: "مُدّ" غلے کا ایک چھوٹا پیمانہ ہے (تقریباً ایک بالغ کے ایک وقت کے کھانے کے برابر)۔ یہ بیان کرتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے گھرانے کے پاس اکثر اوقات اتنا ہی غذا ہوتی تھی جو بمشکل ایک وقت کی ضرورت پوری کر سکے۔ یہ آپ کی زندگی کی انتہائی سادگی کی واضح دلیل ہے۔

2. اختیاری فقر اور زہد: یہ حالت آپ ﷺ کے اختیار کردہ راستے (زہد) کا نتیجہ تھی، نہ کہ مجبوری کا۔ آپ نے دنیا کے سامان کو اپنے پاس جمع ہونے سے روک دیا تھا، کیونکہ آپ کا مقصد دنیوی جمع اندوزی نہیں بلکہ آخرت کی تیاری تھی۔

3. توکل کی حقیقی تصویر: اتنی چھوٹی سی مقدار پر ایک بڑے گھرانے کا گزارہ کرنا، اللہ تعالیٰ پر آپ کے کامل بھروسے اور یقین (توکل) کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ کو پختہ یقین تھا کہ کل کا رزق اللہ خود لے آئے گا۔

4. ایثار کی بلندی: اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو کچھ بھی آتا، اس میں سے آپ ﷺ اپنے گھر والوں سے پہلے مسکینوں، مسافروں اور ضرورت مندوں کا حصہ نکالتے تھے۔ آپ کی ترجیح ہمیشہ دوسروں کی ضرورت پوری کرنا ہوتی تھی۔

5. قناعت کا عملی سبق: قناعت صرف تھوڑے پر راضی رہنے کا نام نہیں، بلکہ بعض اوقات "بہت تھوڑے" پر بھی شکر گزار رہنا ہے۔ یہ حدیث قناعت کی اس اعلیٰ ترین منزل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

6. امیروں اور رہنماؤں کے لیے آئینہ: آپ ﷺ پوری انسانیت کے رہنما تھے، مگر آپ کی ذاتی معیشت اس قدر سادہ تھی۔ یہ ہر دور کے حکمرانوں، رہنماؤں اور امیروں کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے کہ انہیں عوامی دولت پر ذاتی عیش کرنے کے بجائے، عوام کے دکھ درد کو سمجھنا چاہیے۔

7. دنیا کی بے ثباتی کا احساس: بار بار ایسی احادیث کا ذکر اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان دنیا کی چمک دمک اور اس کی فراوانی میں پھنس کر اپنا اصل مقصد نہ بھول جائیں۔ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کی چیزیں عارضی۔

8. سیرت کا مستقل پہلو: یہ کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی زندگی کا ایک مستقل اور نمایاں پہلو تھا، جسے آپ نے اپنی زبانِ مبارک سے امت کو بار بار سنا کر یاد دلایا۔


خلاصہ:

یہ حدیث نبی کریم ﷺ کے گھرانے کی معاشی حالت کی انتہائی سادگی کو بیان کرتی ہے، جہاں اکثر اوقات ایک وقت کے لیے بمشکل کھانا میسر ہوتا تھا۔ یہ ہمارے لیے اختیاری زہد، اللہ پر کامل توکل، دوسروں پر اپنی ضروریات کو ترجیح دینے (ایثار)، اور انتہائی قناعت کا ایک زندہ نمونہ پیش کرتی ہے۔ یہ سبق دیتی ہے کہ مومن کی کامیابی اور عزت مال و دولت میں نہیں، بلکہ اخلاق، صبر، اور اللہ کی رضا میں ہے۔






عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَكَثْنَا ثَلَاثَ لَيَالٍ،‏‏‏‏ لَا نَقْدِرُ أَوْ لَا يَقْدِرُ عَلَى طَعَامٍ.

ترجمہ:

حضرت سلیمان بن صرد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، اور ہم تین دن تک ٹھہرے رہے مگر ہمیں کھانا نہ ملا جو ہم آپ کو کھلاتے۔

[سنن ابن ماجہ:4149 (تحفة الأشراف: ٤٥٧٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٧٣)]


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق ونکات:


اگرچہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم نبی ﷺ کی سیرت کے اس مسلمہ پہلو سے ہم آہنگ ہے جو سابقہ صحیح احادیث (جیسے آلِ محمد کے پاس صرف کھجور و پانی ہونا) میں بیان ہوا ہے۔ اس روایت کے سیاق میں درج ذیل نکات ہیں:

1. مہمان نوازی میں بھی حد درجہ سخاوت: نبی ﷺ کا کسی کے گھر مہمان بن کر ٹھہرنا، اور میزبان کا اپنی تمام تر مجبوری کے باوجود آپ کی خدمت کرنا، اسلامی مہمان نوازی کا اعلیٰ معیار پیش کرتا ہے۔

2. غربت پر شرمندگی نہیں: میزبان کا یہ اعتراف کہ وہ تین راتوں تک کھانا فراہم نہ کر سکا، یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی مالی مجبوری پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے، صبر و قناعت اور اخلاص کے ساتھ حالات کا سامنا کرنا چاہیے۔

3. آپ ﷺ کی سادگی اور قناعت کا عملی نمونہ: اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ نے نہ صرف اپنے گھر میں سادگی اختیار کی، بلکہ دوسروں کے گھر میں بھی ہر قسم کی مشکل اور تنگی کو بڑے صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ برداشت فرمایا۔

4. راوی کا تعارف: حدیث کے راوی سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے خود "سلیمان" نام رکھا۔ آپ فاضل، عابد اور بعد میں تاریخی واقعات میں نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیت تھے۔


💡 ضروری وضاحت


یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، لیکن نبی ﷺ کی زندگی کی سادگی اور آپ کے اصحاب کے ساتھ آپ کے تعلق کا ایک بیان ضرور ہے۔ آپ کی سیرت کے یہ پہلو بہت سی صحیح اور مستند احادیث سے ثابت ہیں، جو اس سے پہلے پیش کی جا چکی ہیں (جیسے آلِ محمد کے پاس صرف کھجور و پانی ہونا، یا آپ کا خود فاقے سے پیٹ پر بٹھا ہونا)۔


خلاصہ: یہ روایت، اگرچہ ضعیف، نبی کریم ﷺ کی سادگی، صبر، اور دوسروں کے گھر میں بھی قناعت کے ایک ممکنہ واقعے کی عکاس ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مہمان اور میزبان دونوں کو اپنے حالات پر صبر کرنا چاہیے، مجبوری پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے، اور ہر حال میں اخلاق و رواداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔ تاہم، نبی ﷺ کے زہد و قناعت کے بارے میں تفصیلات زیادہ تر صحیح احادیث سے ہی اخذ کی جاتی ہیں۔





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِطَعَامٍ سُخْنٍ،‏‏‏‏ فَأَكَلَ فَلَمَّا فَرَغَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا دَخَلَ بَطْنِي طَعَامٌ سُخْنٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا.

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس تازہ گرم کھانا لایا گیا، آپ ﷺ نے اسے کھایا، جب فارغ ہوئے تو فرمایا: الحمدللہ میرے پیٹ میں اتنے اور اتنے دن سے گرم تازہ کھانا نہیں گیا۔

[سنن ابن ماجہ:4150 (تحفة الأشراف: ١٢٤٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٤٧٤)]


حاصل اسباق ونکات:

1. زہد و قناعت کی انتہا: گرم کھانا ایک عام اور بنیادی آسائش سمجھی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ آپ کو بہت دنوں کے بعد گرم کھانا ملا ہے، آپ کی زندگی میں اختیاری سختی اور دنیوی آسائشوں سے دوری کی واضح ترین مثال ہے۔

2. ہر نعمت پر شکر کا اظہار: آپ ﷺ نے گرم کھانا کھانے کے فوراً بعد اللہ کی حمد بیان کی۔ یہ سکھاتا ہے کہ مومن کو ہر چھوٹی بڑی نعمت، خاص کر وہ جو ماضی میں میسر نہ ہو، پر فوری شکر ادا کرنا چاہیے۔

3. نعمت کی قدر کا احساس: جب کوئی نعمت مسلسل محرومی کے بعد ملے تو اس کی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ ذکر کرنا امت کو یہ احساس دلانا تھا کہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی نعمتیں (جیسا گرم کھانا) بھی اللہ کا بڑا انعام ہیں جنہیں معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

4. سادگی کا مستقل معمول: یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کی سادگی اور بغیر گرم کھانے کے گزارہ کرنا کوئی ایک دن کا واقعہ نہیں، بلکہ آپ کی زندگی کا ایک مستقل اور طویل معمول تھا۔ "کَذَا وَكَذَا" (اتنا اتنا عرصہ) کے الفاظ اس دورانیے کی لمبائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

5. تواضع اور انکساری: آپ ﷺ نے اپنی یہ "محرومی" یا سادگی چھپانے کے بجائے، اللہ کی حمد کے ساتھ بیان فرما کر امت کے سامنے اپنی انکساری اور سادگی کا اعلان کیا۔ اس سے آپ کی شانِ تواضع بھی ظاہر ہوتی ہے۔

6. تربیتِ امت کا پہلو: آپ ﷺ کا یہ فرمانا درحقیقت صحابہ کرام اور پوری امت کے لیے ایک عملی تربیت تھی تاکہ وہ دنیا کی آسائشوں میں پڑ کر اپنا اصل مقصدِ زندگی نہ بھولیں اور ہمیشہ قناعت و شکر کو اپنا شعار بنائیں۔

7. دنیا کی بے ثباتی کا سبق: گرم کھانے جیسی بنیادی آسائش سے طویل محرومی یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا اور اس کی لذتیں عارضی اور فانی ہیں۔ مومن کا تعلق اس دنیا سے اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا ایک مسافر کا ہوتا ہے۔


خلاصہ:

یہ مختصر سی حدیث نبی کریم ﷺ کی زندگی کی انتہائی سادگی، آپ کا ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر شکر ادا کرنے کا طریقہ، اور امت کو دنیا سے بے رغبتی کی تربیت دینے کا بلیغ بیان ہے۔ یہ ہمارے لیے یہ درس ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی نعمتوں کی قدر کریں، ان پر اللہ کا شکر بجا لائیں، اور ہمیشہ سادگی اور قناعت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا۔

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! آل محمد ﷺ کو بقدرِ ضرورت رزق عطا فرما۔

[صحیح بخاری:6460، صحیح مسلم:1055(2427)، سنن الترمذی:2861، سنن ابن ماجہ:4139]

حاصل اسباق ونکات:

1. زہد کی انتہائی تعریف: "قُوت" سے مراد وہ خوراک ہے جو صرف جان بچانے اور بنیادی توانائی کے لیے کافی ہو، نہ کہ وہ جو شکم سیری اور لذت کے لیے ہو۔ یہ دعا نبی کریم ﷺ کے دنیا اور اس کی لذتوں سے کلی طور پر بے رغبتی کی واضح ترین علامت ہے۔

2. نبیانہ دعا اور تربیت: یہ محض ایک ذاتی دعا نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی امت کو یہ سکھانے کا طریقہ ہے کہ ایک مومن کو اللہ سے کیا مانگنا چاہیے۔ آپ نے ہمیں یہ عملی سبق دیا کہ دنیا کی فراوانی نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی مانگیں۔

3. نفس کے خلاف جنگ: زیادہ اور لذیذ کھانا اکثر انسان کو سستی، غفلت اور نفس پرستی میں ڈال دیتا ہے۔ "قوت" کی دعا درحقیقت نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے، سادگی اختیار کرنے اور عبادت کے لیے توانائی محفوظ رکھنے کی درخواست ہے۔

4. آپ ﷺ کا انتخاب: آپ ﷺ کے پاس یہ اختیار تھا کہ اللہ سے دنیا کی کوئی بھی نعمت مانگتے، مگر آپ نے دانستہ طور پر صرف بقا کی بنیادی ضرورت مانگی۔ یہ اختیاری فقر اور بے نیازی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔

5. قناعت کی عملی تشریح: قناعت صرف اس پر راضی رہنا نہیں جو مل جائے، بلکہ یہ وہ دل کی کیفیت ہے جس میں انسان دانستہ طور پر تھوڑے پر اکتفا کرنے کی دعا مانگتا ہے۔ یہ دعا قناعت کے اس اعلیٰ مقام کو بیان کرتی ہے۔

6. آلِ محمد کے لیے خصوصی تربیت: آپ ﷺ نے یہ دعا صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ اپنے پورے گھرانے (آلِ محمد) کے لیے فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ چاہتے تھے کہ آپ کا گھرانہ بھی دنیا کی زینت سے دور، سادگی اور زہد کی عملی تصویر بن کر رہے۔

7. دنیا اور آخرت میں توازن: "قوت" کا مطالبہ درحقیقت ایک متوازن زندگی کا اصول سکھاتا ہے: اتنا ضرور ہو کہ صحت برقرار رہے اور اللہ کی عبادت کر سکیں، لیکن اتنا زیادہ بھی نہ ہو کہ دنیا کی محبت دل میں گھر کر جائے۔

8. شکر کی بنیاد: جب رزق صرف "قوت" ہو تو انسان ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ فراوانی اکثر انسان کو غفلت اور ناشکری میں ڈال دیتی ہے۔ یہ دعا شکرگزاری کے جذبے کو ہمیشہ زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔


خلاصہ:

یہ مختصر دعا نبی کریم ﷺ کے زہد، دنیا سے بے رغبتی، اور اپنے گھرانے کی تربیت کے انتہائی بلند معیار کا اعلان ہے۔ یہ ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ ہماری دعاؤں اور توقعات کا محور دنیاوی فراوانی نہ ہو، بلکہ اتنا رزق ہو جو ہمیں اللہ کی عبادت کرنے کے قابل رکھے اور ہمارے دل کو دنیا کی محبت سے پاک کر دے۔ یہی وہ "قوت" ہے جس پر انسان کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا انحصار ہے۔




عَنْ أَنَسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا مِنْ غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ إِلَّا وَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ أُتِيَ مِنَ الدُّنْيَا قُوتًا۔

ترجمہ:

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کوئی مالدار یا فقیر ایسا نہ ہوگا جو یہ تمنا نہ کرے کہ اس کو دنیا میں بہ قدر ضرورت روزی ملی ہوتی۔

[سنن ابن ماجہ:4140، مسند احمد:12163-12709، شعب الایمان-للبیھقی:10378]

حدیث:

عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ إِلَّا وَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ أُتِيَ مِنَ الدُّنْيَا قُوتًا۔


ترجمہ و مفہوم:

"قیامت کے دن کوئی امیر ہو یا غریب (سب) یہی تمنا کرے گا کہ اسے دنیا میں صرف قوت (بنیادی ضرورت) ہی دی گئی ہوتی۔"


حاصل اسباق ونکات:


1. آخرت کا حقیقی احساس: یہ حدیث اُس وقت کے روحانی اور نفسیاتی احساس کو بیان کرتی ہے جب انسان ہمیشہ کی زندگی کا مشاہدہ کرے گا اور دنیا کی حقیقت اس پر عیاں ہوگی۔ اس وقت ہر شخص کو اپنی دنیوی حرص و ہوس پر شدید پچھتاوا ہوگا۔

2. 'قناعت' کا حتمی ثبوت: تمام تر احادیثِ سادگی کا یہ نچوڑ اور منطقی انجام ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص خود اعتراف کرے گا کہ قناعت اور "قوت" پر اکتفا کرنا ہی درست راستہ تھا۔ اس دن دنیا کی فراوانی اور جمع اندوزی بوجھ اور حسرت بن کر رہ جائے گی۔

3. امیر و غریب کے لیے یکساں سبق: حدیث میں دونوں طبقوں کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سبق ہر انسان کے لیے ہے۔

   · امیر یہ چاہے گا کہ اس نے مال جمع نہ کیا ہوتا اور اسے جواب دہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

   · غریب یہ چاہے گا کہ اس نے جو تھوڑا تھا اس پر صبر و شکر کیا ہوتا، نہ کہ دوسروں کے مال پر حسرت۔

4. دنیا کی حقیقت کا اعلان: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی 'قوت' سے زیادہ ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب میں بوجھ اور پریشانی کا باعث ہے۔ یہ دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی اہمیت کا سب سے بڑا اعلان ہے۔

5. نبی ﷺ کی دعا کا مقصد واضح ہونا: آپ ﷺ کی دعا "اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" کا حقیقی مقصد اور حکمت اس حدیث میں کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔ آپ نے ہمیں وہ راستہ دکھایا جو قیامت کے دن پچھتاوے سے بچائے گا۔

6. عملی زندگی کا معیار: یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے اپنے معیارِ زندگی کا پیمانہ مقرر کر دیتی ہے۔ ہر خرچ اور ہر خواہش پر غور کرتے وقت یہ سوال کرنا چاہیے: کیا یہ محض 'قوت' ہے یا اس سے زیادہ؟ کیا قیامت کے دن میں اس پر شکرگزار رہوں گا یا پشیمان؟


خلاصہ:

یہ سلسلہ جو نبی کریم ﷺ اور آپ کے گھرانے کی سادگی، فاقہ کشی، پتوں پر گزارہ اور گرم کھانے کی شدید محرومی سے شروع ہوا، وہ اسی ایک حدیث پر آ کر مکمل ہوتا ہے۔ یہ احادیث درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں:

· پہلا رخ (سابقہ تمام احادیث): دنیا میں عملی نمونہ اور تربیت کہ کیسے رہنا ہے۔

· دوسرا رخ (یہ آخری حدیث): آخرت میں اس کا نتیجہ اور انعام کیا ہوگا۔

حتمی نتیجہ: قیامت کے دن کامیاب وہی ہوگا جس نے دنیا میں "قوت" پر قناعت کی اور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنایا۔ یہی تمام احادیث کا مرکزی اور جامع سبق ہے۔


زہد و تقوی کا بیان:

عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا

ترجمہ:

حضرت خالد بن عمیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عتبہ بن غزوان سے سنا وہ کہتے ہیں کہ مجھے کیا دیکھتا ہے میں تو ان ساتوں میں سے سا تو اں ہوں کہ جو نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس کھانے کے لئے سوائے حبلہ درخت کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔

[صحیح مسلم:(7437)]


حاصل اسباق ونکات:

1. صحابہ کا فقر اور صبر: یہ حدیث اسلام کے ابتدائی دور میں صحابہ کرام کی انتہائی غربت، سادگی اور صبر کی عکاس ہے۔ وہ صرف سات افراد تھے جن کا کھانا جنگلی پودوں کے پتوں تک محدود تھا۔

2. رسول اللہ ﷺ کی قربت میں راحت: حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ فخریہ انداز میں بیان کرنا ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قربت اور صحبت میں رہنا ہی ان کے لیے سب سے بڑی دولت تھی، چاہے جسمانی طور پر کتنی ہی سختیاں اٹھانی پڑیں۔

3. صفِ اول کے مجاہدین کی تکالیف: یہ سات افراد درحقیقت اسلام کے پہلے مجاہدین اور داعی تھے۔ ان کی یہ حالت بتاتی ہے کہ اس عظیم دین کی بنیادیں کس قدر مشقت، قربانی اور صبر پر رکھی گئی تھیں۔

4. شدید ترین جسمانی تکلیف پر صبر: "حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا" (یہاں تک کہ ہمارے ہونٹ/منہ کے کنارے پھٹ گئے) کے الفاظ ان کی انتہائی جسمانی تکلیف اور پھر بھی صبر کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی لازوال استقامت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

5. توکل اور یقین کی بلندی: اس حالت کے باوجود وہ اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اللہ پر یقین اور آخرت پر ایمان دنیاوی ہر تکلیف سے بڑھ کر تھا۔

6. دنیا کی حقیقت کا ادراک: یہ واقعہ امت کے لیے ہمیشہ یہ یاد دہانی کرے گا کہ دنیا اور اس کی لذتیں کتنی عارضی اور بے وقعت ہیں۔ اصل کامیابی تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا میں ہے۔

7. قناعت کی اعلیٰ مثال: ان حالات میں بھی شکر اور قناعت سے کام لینا، اور اسے بعد میں ایک عزت و فخر کے واقعے کے طور پر بیان کرنا، دل کی قناعت کی حقیقی تصویر ہے۔

8. دعوت کے مراحل کی دشواری: یہ حدیث ہر داعی اور مصلح کو یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی دعوت کا آغاز ہمیشہ مشکلات اور مصائب سے ہوتا ہے۔ صبر و استقامت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث اسلام کے ابتدائی مجاہدین کی انتہائی تکلیف دہ زندگی، ان کے رسول اللہ ﷺ سے والہانہ محبت، اور ایمان کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے جذبے کی داستان ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین کی سربلندی کے لیے اولین افراد نے جو قربانیاں دیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ صرف کھانے پینے کی تنگی کا واقعہ نہیں، بلکہ ایمان، صبر اور توکل کی ایک عظیم داستان ہے۔











القرآن:

اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 155]


سب سے بڑا غنی(بےنیاز-مالدار)کون؟

حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

۔۔۔وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ

ترجمہ: 

...اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ غنی(بےنیاز) رہو گے۔۔۔

[سنن الترمذي:2305، مسند احمد:8094، المعجم الأوسط-للطبراني:7054، شعب الإيمان:9543، الصحيحة:930]






القرآن:

اور تمہیں نادار پایا تو غنی کردیا۔

[سورۃ الضحیٰ:8»تفسیر البغوي:2385]

تفسیر:

(5)حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ آپ نے تجارت میں جو شرکت فرمائی، اس سے آپ کو اچھا خاصا نفع حاصل ہوا تھا۔


حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفس».

ترجمہ:

"(حقیقی) دولت مال و اسباب کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ (حقیقی) دولت تو دل کی بے نیازی (اور قناعت) ہے۔"

[صحیح البخاری:6446، صحیح مسلم:1051(2420)، سنن الترمذی:2373، سنن ابن ماجہ:4137، مشکوٰۃ المصابیح:5170]


حاصل اسباق و نکات:

1. دولت کی نئی اور حقیقی تعریف: اسلام دنیا کی مادی تعریف کو یکسر بدل دیتا ہے۔ حدیث سکھاتی ہے کہ حقیقی امیر وہ نہیں جس کے پاس لاکھوں کا مال ہے، بلکہ وہ ہے جس کا دل اس مال کی محبت اور حرص سے آزاد ہے۔

2. قلب کی دولت سب سے بڑی دولت: مال و اسباب (العَرَض) فانی اور ختم ہونے والا ہے، جبکہ دل کی بے نیازی اور قناعت (غِنَى النَّفْس) ایک ایسی ابدی دولت ہے جو نہ چھینی جا سکتی ہے، نہ ختم ہوتی ہے، اور ہر حال میں انسان کو امیر و غنی رکھتی ہے۔

3. سکونِ قلب کا اصل ذریعہ: دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ لاکھوں کروڑوں کے مالدار بھی بے سکونی اور بے چینی کا شکار رہتے ہیں۔ حدیث کا پیغام ہے کہ سکون اور اطمینان کا تعلق مال کی مقدار سے نہیں، بلکہ دل کی کیفیت سے ہے۔

4. غربت و امارت کا اصل پیمانہ: اس تعریف کے مطابق، ایک قناعت پسند غریب شخص درحقیقت حقیقی امیر ہے، جبکہ ایک حریص اور لالچی امیر شخص حقیقی معنوں میں مفلس ترین ہے۔ اللہ کے ہاں معیار یہی ہے۔

5. پچھلی تمام احادیث کا نچوڑ اور خلاصہ: آپ کے سوالات کے سلسلے میں پیش کردہ تمام احادیث اسی ایک جملے کی تشریح اور عملی تفسیر ہیں۔

   · جب نبی ﷺ اور آلِ محمد کے پاس صرف کھجور و پانی ہوتا تھا، تو وہ غنی النفس (دل کے امیر) تھے۔

   · جب آپ ﷺ فاقے سے پیٹ پر بٹھاتے تھے، تو بھی غنی النفس تھے۔

   · جب آپ ﷺ نے "اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" کی دعا مانگی، تو غنی النفس بننے کی درخواست تھی۔

   · جب قیامت کے دن ہر شخص "قوت" کی تمنا کرے گا، تو درحقیقت غنی النفس بننے کی حسرت کرے گا۔

6. عملی زندگی کے لیے ایک کسوٹی: یہ حدیث ہر مسلمان کے لیے اپنے آپ کو پرکھنے کا ایک آلہ (ٹول) اور کسوٹی مہیا کرتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: "کیا میں مال کی کثرت کی طرف بڑھ رہا ہوں، یا غنی النفس (دل کی دولت) کی طرف؟"


خلاصہ:

یہ پورا سلسلہ جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کی عملی سادگی، قربانی اور فاقہ کشی سے شروع ہوا، وہ اسی ایک حدیث کی طرف منتج ہوتا ہے، جو پورے درس کا قلب و روح ہے۔


· عمل (سابقہ احادیث): ہمیں کس طرح رہنا چاہیے۔

· نظرئیہ (یہ حدیث): اس کی کیوں اور اس کا مقصد کیا ہے۔

حتمی نتیجہ: اسلام ہمیں مال و دولت کا مخالف نہیں بناتا، بلکہ ہمیں اس کا مالک بننے کے بجائے اس کا دانشمند منتظم بننا سکھاتا ہے۔ کامیاب زندگی وہ ہے جہاں مال ہاتھ میں ہو مگر دل میں نہ ہو، ضرورت کے لیے ہو مگر ہوس کے لیے نہ ہو۔ یہی "غِنَى النَّفْس" (دل کی دولت) ہے، اور یہی تمام انبیاء، اولیاء اور صالحین کا راستہ ہے۔





عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ لِىْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ , تَقُوْلُ كَثْرَةَ الْمَالِ الْغِنَى؟ " قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " تَقُوْلُ قِلَّةَ الْمَالِ هِيَ الْفَقْرُ؟ " , قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ ذَالِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : " الْغِنَى فِى الْقَلْبِ , وَالْفَقْرُ فِى الْقَلْبِ ".

ترجمہ:

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجھ سے ارشاد فرمایا: ابوذر! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال زیادہ ہونے کا نام غنیٰ(مالداری) ہے؟ میں نے عرض کیا: ہاں حضور! (ایسا ہی سمجھا جاتا ہے)۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ مال کم ہونے کا نام فقیری و محتاجی ہے؟ میں نے عرض کیا، ہاں حضور! (ایسا ہی خیال کیا جاتا ہے) یہ بات آپ نے مجھ سے تین دفعہ ارشاد فرمائی۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: (اصلی) دولتمندی دل کے اندر ہوتی ہے، اور (اصلی) محتاجی و فقیری بھی دل ہی میں ہوتی ہے۔

[معجم کبیر للطبرانی:1643]


تشریح:

حقیقت یہی ہے کہ تونگری اور محتاجی، خوشحالی اور بدحالی کا تعلق روپیہ، پیسہ سے زیادہ آدمی کے دل سے ہے، اگر دل غنی اوربے نیاز ہے، تو آدمی نچنت اور خوشحال ہے اور اگر دل حرص و طمع کا گرفتار ہے، تو دولت کے ڈھیروں کے باوجود وہ خوشحالی سے محروم اور محتاج و پریشان حال ہے، سعدی علیہ الرحمہ کا مشہور قول ہے: 

تونگری بدل ست نہ بہ مال

[معارف الحدیث:374]



حاصل اسباق و نکات:

1. دنیاوی تعریف کی تردید: رسول اللہ ﷺ نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کر کے پہلے دنیا کے عام غلط تصور کو واضح کیا، پھر اس کی تردید فرمائی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جسے دولت اور غربت سمجھتے ہیں، اسلام میں اس کی تعریف بالکل مختلف ہے۔

2. تدریجی تربیت کا اسلوب: آپ ﷺ نے ایک ہی بات کو تین بار دہرایا۔ یہ اس بات کی اہمیت اور اس پر غور و فکر کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک مؤثر تعلیمی اور تربیتی طریقہ ہے۔

3. حقیقت کا اعلان: "الْغِنَى فِي الْقَلْبِ، وَالْفَقْرُ فِي الْقَلْبِ" کا جملہ پورے مسئلے کا حرفِ آخر اور نچوڑ ہے۔ یہ کسی فلسفے یا رائے کا اظہار نہیں، بلکہ آسمانی حقیقت اور الٰہی تعریف ہے۔

4. ابوذر رضی اللہ عنہ کا مقام: یہ حدیث ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی عظمت اور آپ ﷺ کی ان سے خصوصی تربیت کا بھی پتہ دیتی ہے۔ آپ زہد و قناعت کے مجسمہ تھے، اس لیے یہ سبق خاص طور پر انہیں سمجھایا گیا۔

5. ذاتی مشاہدے کا درس: آپ ﷺ کا ابوذر سے سوال کرنا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے ذاتی خیالات اور معیارات پر غور کرنا چاہیے۔ کیا ہمارے معیار بھی دنیاوی ہیں، یا پھر الٰہی؟

6. پچھلی تمام احادیث کا منطقی انجام: یہ حدیث اس سارے سلسلے کا منطقی اور حتمی نتیجہ ہے۔

   · جب آپ ﷺ فاقے سے تڑپتے تھے تو دل کے امیر (غنی القلب) تھے۔

   · جب آلِ محمد کے پاس کچھ نہ تھا تو وہ دل کے امیر تھے۔

   · آپ ﷺ کی دعا "رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" درحقیقت دل کی دولت (غنی القلب) مانگنے کی دعا تھی۔

   · قیامت کے دن ہر شخص کی تمنا دل کی دولت والی زندگی گزارنے کی ہوگی۔

7. غنی القلب کی علامات: دل کی دولت (غنی القلب) کی چند علامات یہ ہیں:

   · جو ملا اس پر شکر کرنا۔

   · جو نہ ملا اس پر صبر کرنا۔

   · دوسروں کے پاس دیکھ کر حسد و کینہ نہ رکھنا۔

   · اللہ کے وعدے پر پختہ یقین رکھنا۔

8. فقر القلب کی علامات: دل کی مفلسی (فقر القلب) کی چند علامات یہ ہیں:

   · ہمیشہ کمتری اور محرومی کا احساس۔

   · دوسروں کے مال و اسباب کی طرف حریص نظر۔

   · جو ہے اس پر ناشکری۔

   · ہمیشہ بے چینی اور بے سکونی۔


خلاصہ:

ابوذر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس پورے سلسلے کی آخری اینٹ اور تکمیل ہے۔ پچھلی تمام احادیث "کیا؟" اور "کس طرح؟" کا جواب تھیں (نبی ﷺ اور صحابہ نے کیسے قناعت کی؟)۔ یہ حدیث "کیوں؟" کا جواب دیتی ہے: کیونکہ حقیقی دولت اور غربت کا تعلق مال سے نہیں، بلکہ دل کی کیفیت سے ہے۔

نتیجہ: اس سارے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ ہماری تمام تر کوشش "غِنَى الْقَلْب" (دل کی دولت) حاصل کرنے کی ہونی چاہیے۔ یہی وہ خزانہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کام آئے گا۔ جسے یہ مل گیا، وہ ہمیشہ کے لیے امیر ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی "غِنَى الْقَلْب" عطا فرمائے اور دل کی مفلسی سے اپنی پناہ میں رکھے۔







عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَکُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَائٍ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ

ترجمہ:

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے بعض انصاری صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ طلب فرمایا آپ ﷺ نے ان کو عطا فرمایا انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے ان کو عطا فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہوگیا۔ تو فرمایا میرے پاس جو کچھ ہوتا ہے اس کو ہرگز تم سے بچا کر نہ رکھوں گا۔ جو شخص سوال سے بچتا ہے اللہ اس کو بچاتا ہے اور جو استغناء اختیار کرتا ہے اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے جو کچھ تم میں سے کسی کو دیا جائے وہ خیر ہے اور صبر سے بڑھ کر کوئی وسعت نہیں۔

[صحیح مسلم:2424، سنن الترمذي:2024، سنن النسائي:2588، صحيح ابن حبان:4563(3400)، شرح السنة للبغوي:1613، شعب الایمان-للبيهقي:3503، 9707، 9708]


تشریح:

س حدیث کا خاص سبق یہی ہے کہ بندہ اگر چاہتا ہے کہ وہ دوسرے بندوں کا محتاج نہ ہو، اور ان کے سامنے اس کو دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے، اور مصائب و مشکلات اس کو اپنی جگہ سے ہٹا نہ سکیں، تو اسے چاہئے کہ اپنی استطاعت کی حد تک وہ خود ایسا بننے کی کوشش کرے، اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی پوری پوری مدد فرمائے گا اور یہ سب چیزیں اس کو نصیب ہو جائیں گے۔ 

حدیث کے آخری حصہ میں فرمایا گیا ہے کہ " کسی بندے کو صبر سے زیادہ وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی "۔ واقعہ یہی ہے کہ " صبر " دل کی جس کیفیت کا نام ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نہایت وسیع اور نہایت عظیم نعمت ہے، اسی لیے قرآن مجید کی آیت " وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ " میں صبر کو صلوٰۃ یعنی نماز پر بھی مقدم کیا گیا ہے۔

[معارف الحدیث:375]


حاصل اسباق ونکات:

1. سخاوت کی انتہا: یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی غایت درجہ کی سخاوت اور سائلین کے ساتھ ہمدردی کا بیان ہے۔ آپ نے اپنے پاس موجود سارا مال دوسروں پر لٹا دیا، یہاں تک کہ خود محتاج ہو گئے۔ یہ عمل آپ کے "غنی القلب" (دل کے امیر) ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

2. اخلاص اور شفقت کا اظہار: جب آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ بچا تو آپ نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے شفقت بھرے الفاظ میں کہا: "جو بھلائی میرے پاس ہوگی، میں تم سے نہیں چھپاؤں گا۔" اس میں اخلاص، محبت اور درد مندی کی انتہا ہے۔

3. تین اصولی راہنمائی: آپ ﷺ نے مال نہ ہونے پر صرف معذرت ہی نہیں کی، بلکہ انہیں زندگی کے تین ابدی اصول سکھا دیے جو مال سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں:

   · استعفاف (بے نیازی اختیار کرنا): جو شخص سوال کرنے سے بچے اور اپنی ضرورت چھپائے، اللہ اسے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچا دے گا۔

   · استغنا (بے نیازی چاہنا): جو شخص دل سے اللہ کے ہاں بے نیاز ہونے کی خواہش اور کوشش کرے، اللہ اسے حقیقی بے نیازی (دل کی دولت) عطا فرما دے گا۔

   · تصبّر (جان بوجھ کر صبر اختیار کرنا): جو شخص جان بوجھ کر صبر کرنے کی کوشش کرے، اللہ اسے حقیقی صبر کی طاقت عطا فرما دے گا۔

4. صبر: عظیم ترین عطیہ: آپ ﷺ نے صبر کو سب سے بہترین اور وسیع ترین عطیہ قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر ہی وہ کلید ہے جو انسان کو ہر مصیبت، ہر ضرورت اور ہر آزمائش میں کامیاب کرتی ہے۔ یہ دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔

5. سوال سے بچنے کی ترغیب: حدیث کا واضح پیغام یہ ہے کہ سوال (مانگنا) سے حتی الامکان بچنا چاہیے، کیونکہ یہ انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت چھپائے، صبر کرے اور اللہ سے استغنا کی دعا مانگے۔

6. رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا اسلوب: آپ ﷺ نے صرف مال دینے تک محدود نہیں رہے، بلکہ موقع ملتے ہی لوگوں کو ایسی تعلیم دی جو انہیں ہمیشہ کے لیے سوال سے بے نیاز کر دے۔ یہ آپ کی حکمتِ تربیت کی عظیم مثال ہے۔

7. پچھلی احادیث کا عملی اطلاق: یہ حدیث پچھلی تمام تعلیمات (غنی القلب، قناعت، زہد) کا عملی اطلاق سکھاتی ہے۔

   · سائل کے لیے درس: استعفاف و استغنا اختیار کرو (دل کی دولت حاصل کرو)۔

   · معطی (دینے والے) کے لیے درس: رسول اللہ ﷺ کی طرح سخاوت کرو، اور اگر کچھ نہ ہو تو اچھے اخلاق اور نصیحت سے کام لو۔


خلاصہ:

یہ حدیث اس عظیم سلسلے کا ایک عملی اور متوازن انجام ہے۔ اس سلسلے کا خلاصہ تین باتوں میں ہو سکتا ہے:

1. دل کی حالت (نظرئیہ): "الْغِنَى فِي الْقَلْبِ" (دولت دل میں ہے)۔

2. عملی زندگی (اطلاق): سادگی، قناعت، ایثار اور صبر سے رہو۔

3. معاشرتی تعلق (تکمیل): دوسروں کے ساتھ سخاوت کرو، اور اگر تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو انہیں صبر و قناعت کا سبق دو۔

حتمی نتیجہ: اسلام ہمیں دنیا سے فرار کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اس کے دامِ حرص سے آزاد رہنے کا گر سکھاتا ہے۔ یہ آزادی ہی حقیقی "غنی القلب" (دل کی دولت) ہے، جس کا حصول ہر مومن کی نجات کا راستہ ہے۔








حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: ابْنَ آدَمَ تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسِدَّ فَقْرَكَ وَإِنْ لَا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَكَ شُغُلًا وَلَمْ أسُدَّ فقرك .

ترجمہ:

’’بے شک اللہ فرماتا ہے: انسان! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے دل کو مال داری (قناعت) سے بھر دوں گا، تیری محتاجی ختم کر دوں گا اور اگر تو (ایسے) نہیں کرے گا تو میں تمہیں کاموں میں مصروف کر دوں گا اور تیری محتاجی ختم نہیں کروں گا۔‘‘

[سنن ابن ماجة:4107، سنن الترمذي:2466، حاكم:3698، صحيح ابن حبان:4721(393)،  مسند احمد:8696، مشکوٰۃ المصابیح:5172]


حاصل اسباق و نکات:

1. اللہ کا براہِ راست خطاب اور وعدہ: یہ ایک حدیث قدسی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ براہِ راست اپنے بندے سے گفتگو فرما رہے ہیں۔ یہ اس بات کی عظیم اہمیت اور سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض ایک نصیحت نہیں، بلکہ خالق کا وعدہ اور انتباہ ہے۔

2. عبادت اور غنی القلب کا گہرا تعلق: یہ حدیث پچھلی تمام احادیث ("الْغِنَى فِي الْقَلْبِ" وغیرہ) کی حقیقی وجہ اور عملی کلیہ بتاتی ہے۔ دل کی دولت (غِنًى) حاصل کرنے کا راستہ عبادت میں تفریغ (فراغت اور یکسوئی) ہے۔

3. تفریغ کا مفہوم: "تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِي" کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا چھوڑ کر جنگل میں چلا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب ہے:

   · دل کو دنیاوی حرص، لالچ اور فکر سے خالی کرنا۔

   · وقت کا ایک حصہ خاص طور پر اللہ کی عبادت، ذکر اور مناجات کے لیے نکالنا۔

   · ہر کام میں اخلاص اور یادِ الٰہی کو شامل رکھنا۔

4. اللہ کا دو طرفہ وعدہ (Positive and Negative): اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ دو طرح سے بیان فرمایا ہے:

   · اگر کرو گے (Positive): "أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسِدَّ فَقْرَكَ" — تمہارا سینہ بے نیازی سے بھر دوں گا۔ یہی وہ "غنی القلب" ہے جس کی تمام احادیث میں تعریف کی گئی۔

   · اگر نہیں کرو گے (Negative): "مَلَأْتُ يَدَكَ شُغُلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ" — تمہارے ہاتھ مصروفیت سے بھر دوں گا مگر تمہاری محتاجی دور نہ کروں گا۔

5. دنیاوی مصروفیت اور مفلسی کا چکر: دوسرا وعدہ درحقیقت آج کے انسان کی حیرت انگیز طور پر درست تصویر ہے۔ لوگ دن رات مصروف ہیں، ہاتھ بھرے ہوئے ہیں، لیکن دل خالی اور محتاج ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ زیادہ کام اور زیادہ کمائی سے فقر دور ہوگا، مگر اللہ کا قانون ہے کہ اگر عبادت سے تعلق نہیں، تو مصروفیت بڑھے گی مگر فقر نہیں جائے گا۔

6. پورے سلسلے کا حتمی حل: آپ کے سارے سوالوں کا خلاصہ اس ایک حدیث میں آگیا۔

   · سوال: نبی ﷺ اور صحابہ نے اتنی سختی، فقر اور قناعت کیسے برداشت کی؟

   · جواب: کیونکہ انہوں نے "تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِي" (میری عبادت کے لیے فراغت حاصل کی)۔

   · نتیجہ: تو اللہ نے ان کا سینہ "غِنًى" (بے نیازی) سے بھر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دل کے امیر تھے، چاہے دنیا میں کچھ نہ رکھتے ہوں۔

7. عبادت کا وسیع مفہوم: یہاں "عبادت" سے مراد صرف نماز روزہ نہیں، بلکہ وہ پوری زندگی کا اللہ کے تابع ہو جانا ہے جس میں ذکر، فکر، شکر، صبر، سخاوت، اور اخلاص سب شامل ہیں۔


خاتمہ اور حتمی خلاصہ:

یہ سلسلہ جس نے نبی ﷺ کی سادگی سے آغاز کیا تھا، وہ اللہ کے اس وعدے پر منتج ہوتا ہے جو ہر مشکل کا حل اور ہر سوال کا جواب ہے۔


· احادیث سیرت (عمل): ہمیں "کیا" کرنا چاہیے بتاتی ہیں — سادگی، قناعت، ایثار۔

· احادیث تصور (نظرئیہ): ہمیں "کیوں" کرنا چاہیے بتاتی ہیں — کیونکہ "الْغِنَى فِي الْقَلْبِ" (دولت دل میں ہے)۔

· حدیث قدسی (کلیہ و حل): ہمیں "کس طرح" حاصل کرنا چاہیے بتاتی ہے — "تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِي" (میری عبادت کے لیے فراغت حاصل کرو)۔


آخری نتیجہ: اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے ایک آسان راستہ رکھ دیا ہے: اپنی مصروفیات سے تھوڑی سی فراغت نکال کر میری طرف آؤ، میں تمہارے دل کو وہ بے نیازی دوں گا جو تمہیں ہر فقر اور ہر محتاجی سے آزاد کر دے گی۔ یہی وہ "غنی القلب" ہے جس کے حصول کی کوشش ہی درحقیقت عین عبادت ہے۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس حدیث قدسی پر غور و عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے وعدے کے مطابق ہمارے دلوں کو حقیقی بے نیازی سے مالا مال کر دے۔





القرآن:

جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کریں گے، اور جو شخص (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اسے اسی میں سے دے دیں گے، (4) اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

[سورۃ الشورى، آیت نمبر 20 ﴿تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:7/ 344﴾]

تفسیر:

(4)یہی مضمون ﴿سورة بنی اسرائیل:18﴾ میں گذرا ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص صرف دنیا کی بہتری چاہے، اس کو دنیا کی نعمتیں دی جاتی ہیں، لیکن ہر مانگی ہوئی چیز پھر بھی نہیں ملتی، بلکہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتا ہے، اور جتنا دینا چاہتا ہے، اتنا دیتا ہے۔


مہنگائی کے سیلاب میں سادگی، میانہ روی اور قناعت کی ضرورت:

تواضع اختیار کرنا۔

حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ؛ بَيْتٌ يَسْكُنُهُ، وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ، وَجِلْفُ الْخُبْزِ، وَالْمَاءِ.

ترجمہ:

(دنیا کی چیزوں میں سے) آدم کی اولاد کا حق سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کیلئے ایک گھر ہو جس میں وہ زندگی بسر کرسکے، اور اتنا کپڑا ہو کہ جس سے اور اپنا ستر(ننگ) ڈھانپ سکے، اور (بغیر سالن) روٹی اور پانی کیلئے برتن ہوں کہ جس سے وہ کھانے پینے کی ضرورت پوری کرسکے۔

[ترمذى:2341 حاكم:7866، شعب الإيمان:6280، تفسیر ابن ابی حاتم:8672]




حاصل اسباق و نکات:

1. انسانی حقوق کی حتمی اور آخری تعریف: یہ حدیث انسانی ضروریات اور حقوق کی قرآن و سنت کی رو سے آخری اور انتہائی تعریف پیش کرتی ہے۔ اس سے کم کوئی انسان حق نہیں رکھتا، اور اس سے زیادہ کی ہر چیز فضل، نعمت یا اضافہ ہے جس کے لیے شکر لازم ہے۔

2. قناعت کا حتمی معیار: پچھلی تمام احادیث میں بیان ہونے والی سادگی، فقر اور قناعت کا عملی اور قابلِ پیمائش معیار یہی تین چیزیں ہیں: رہائش، لباس، خوراک (روٹی اور پانی)۔ جو شخص اس پر راضی ہو، وہ کامل قناعت پر فائز ہے۔

3. دنیا کی حقیقت کا اعلان: حدیث کا آغاز "لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ" (ابن آدم کا کوئی حق نہیں) سے ہوا ہے۔ یہ ایک تہہ دار اور گہرا فلسفہ بیان کرتا ہے کہ دنیا اور اس میں موجود ہر چیز پر انسان کا کوئی پیدائشی یا فطری حق نہیں۔ جو کچھ ملتا ہے وہ محض اللہ کا فضل اور عطیہ ہے۔

4. حرص و طمع کی بنیاد کا خاتمہ: اگر انسان یہ عقیدہ بنا لے کہ اس کا حق صرف یہی تین چیزیں ہیں، تو اس کی ہر قسم کی حرص، لالچ، ہوس اور دوسروں کے مال پر نظر خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس اس سے زیادہ ہے، وہ فضلِ الٰہی ہے۔

5. "جِلْفُ الْخُبْزِ" کا مفہوم: "جِلْفُ الْخُبْزِ" سے مراد سخت، خشک اور بے مزہ روٹی ہے، نہ کہ نرم اور لذیذ روٹی۔ یہ مزید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنیادی ضرورت صرف پیٹ بھرنا ہے، نہ کہ لذت حاصل کرنا۔

6. زہد کی انتہائی عملی شکل: یہ حدیث درحقیقت زہد (دنیا سے بے رغبتی) کی انتہائی عملی اور قابلِ عمل شکل پیش کرتی ہے۔ ہر مسلمان اس معیار کو اپنے سامنے رکھ کر اپنی زندگی کی ضروریات کو پرکھ سکتا ہے۔

7. پچھلی تمام احادیث کا خلاصہ اور منطقی انجام: آپ کے سارے سوالوں کا یہ سلسلہ اسی ایک حدیث میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔

   · نبی ﷺ کے گھر میں صرف کھجور و پانی تھا — یہ "جِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ" (روٹی اور پانی) کا عملی نمونہ تھا۔

   · آپ ﷺ کا سادہ گھر اور معمولی لباس — یہ "بَيْتٌ يَسْكُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ" (رہائش اور لباس) کا عملی نمونہ تھا۔

   · آپ ﷺ کی دعا "اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" — یہ اسی "جِلْفُ الْخُبْزِ" (روٹی) کی دعا تھی۔

8. معاشی انصاف کا اسلامی فلسفہ: یہ حدیث معاشرے کے امیروں اور حکمرانوں کے لیے بھی ایک پیمانہ ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاشرے کے ہر فرد کی یہ بنیادی تین ضروریات (رہائش، لباس، خوراک) پوری ہوں۔


حتمی نتیجہ:

1. نتیجہ (Conclusion): انسان کا حق صرف تین چیزیں ہیں: گھر، کپڑا، روٹی اور پانی۔

2. ثبوت (Evidence): نبی کریم ﷺ اور آلِ بیت کی پوری زندگی اسی کی عملی تفسیر تھی۔

3. فلسفہ (Philosophy): اس سے زیادہ کی ہر چیز فضل ہے، جس پر شکر واجب ہے نہ کہ اس پر حق سمجھا جائے۔

4. منزل (Destination): جو شخص اس پر راضی ہو گیا، وہی حقیقی "غنی القلب" (دل کا امیر) ہے۔


یہی وہ دینِ فطرت کا سادہ اور واضح پیغام ہے جو ہر دور، ہر معاشرے اور ہر انسان کے لیے یکساں طور پر قابلِ عمل اور نجات دہندہ ہے۔


اللہ تعالیٰ ہمیں اس سادہ حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔



القرآن:

اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم عاد کے بعد جانشین بنایا، اور تمہیں زمین پر اس طرح بسایا کہ تم اس کے ہموار علاقوں میں محل بناتے ہو، اور پہاڑوں کو تراش کر گھروں کی شکل دے دیتے ہو۔ لہذا اللہ کی نعمتوں پر دھیان دو ، اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔

[سورۃ نمبر 7 الأعراف، آیت نمبر 74]






لوگوں سے لپٹ کر سوال کرنے والا کون؟


‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَعَدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ:‏‏‏‏ مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اسْتَكْفَى كَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ  میری ماں نے مجھے رسول اللہ  ﷺ  کے پاس  (کچھ مانگنے کے لیے)  بھیجا، میں آیا، اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف منہ کیا، اور فرمایا:  جو بےنیازی چاہے گا اللہ عزوجل اسے بےنیاز کر دے گا اور جو شخص سوال سے بچنا چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا، اور جو تھوڑے پر قناعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوگا۔ اور جو شخص مانگے اور اس کے پاس ایک اوقیہ  (یعنی چالیس درہم)  کے برابر مال ہو تو گویا اس نے چمٹ کر مانگا ، تو میں نے  (اپنے دل میں)  کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے، چناچہ میں آپ سے بغیر کچھ مانگے واپس چلا آیا۔

[سنن النسائي:2595، سنن ابی داود:1628]


حاصل اسباق ونکات:

1. براہ راست تربیت کا نبیانہ اسلوب: واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر آنے والے کا استقبال کرتے اور موقع کی مناسبت سے براہ راست نصیحت فرما دیتے تھے، چاہے وہ کوئی سوال کیے بغیر ہی ہو۔ یہ آپ ﷺ کی حکمتِ تربیت اور نفاستِ اخلاق کی عکاس ہے۔

2. خوددار زندگی کے تین سنہری اصول: آپ ﷺ نے تین اصول بیان فرما کر ایک باعزت اور بے نیاز زندگی کا مکمل فلسفہ سنا دیا:

   · جو استغنیٰ (اللہ کے ہاں بے نیازی چاہے): اللہ اسے (دل کی) دولت عطا فرما دے گا۔

   · جو استعفَّ (عزت نفس برقرار رکھے اور سوال سے بچے): اللہ اسے عزت و عفت عطا فرمائے گا۔

   · جو استکفیٰ (اللہ کی کفایت پر بھروسہ کرے): اللہ اسے کافی ہو جائے گا اور اس کی ضروریات پوری فرمائے گا۔

3. سوال میں حد سے زیادتی کی مذمت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (تقریباً چالیس درہم) کے برابر مال ہو، تو اس نے حد سے زیادتی کی۔ "اَلْحَفَ" کا مطلب ہے بے جا اصرار، تکلیف دہ سوال اور بھیک مانگنا۔

4. صحابی کا فوری عمل اور ذہانت: نوجوان صحابی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فوراً سمجھ لیا کہ ان کی اونٹنی "یاقوتہ" ایک اوقیہ سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ لہٰذا انہوں نے فوری طور پر اپنا ارادہ بدل لیا اور بغیر کچھ مانگے واپس آ گئے۔ یہ آپ کی ذہانت، شرافت اور تعلیمِ نبوی ﷺ پر فوراً عمل کی بہترین مثال ہے۔

5. سوال سے باز رہنے کا عملی سبق: یہ پوری حدیث درحقیقت سوال (بھیک) سے مکمل پرہیز کی ترغیب ہے۔ آپ ﷺ نے اصول بتائے اور ایک عملی معیار (اوقیہ) بھی مقرر فرما دیا کہ جس کے پاس معمولی سا سرمایہ ہو، اسے سوال نہیں کرنا چاہیے۔

6. عزتِ نفس کا تحفظ: یہ تعلیمات کا محور انسان کی عزتِ نفس، خودداری اور اللہ پر توکل کو قائم رکھنا ہے۔ سوال کرنا انسانی عزت کو مجروح کرتا ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے۔

7. پچھلی احادیث سے ربط: یہ حدیث اس سے پہلے بیان ہونے والی حدیث (جس میں انصار نے سوال کیا تھا) کا ایک عملی تتمہ اور تفصیل ہے۔ وہاں آپ ﷺ نے اصول بیان کیے تھے، یہاں ان اصولوں کا ایک واضح معیار اور عملی نظارہ پیش کیا گیا ہے۔


خلاصہ:

یہ حدیث ہمیں سوال سے بچنے، اللہ پر توکل کرنے، اپنی عزت نفس کو قائم رکھنے اور تھوڑے پر قناعت کرنے کا جامع سبق دیتی ہے۔ اس میں نبی ﷺ کی حکمتِ تربیت، صحابہ کی ذہانت اور عمل کی سریع التأثیری، اور اسلامی تعلیمات کی عملی جامعیت سب کچھ موجود ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ اسے ہمیشہ دل کی دولت (استغناء) حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ ہاتھ پھیلانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔


القرآن:

...(مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔۔

[سورۃ البقرۃ:273» تفسیر ابن کثیر:1/ 706، تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:2/97]


کتنی دنیا کافی ہے۔

حضرت عبیداللہ بن محصن سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا.

ترجمہ:

جو تم میں سے صبح کرے اس حاطل میں کہ وہ اپنے گھر امن سے ہو، اس کے بدن میں عافیت ہو، اس کے پاس اس روز کا کھانا موجود ہو، تو گویا اس کے پاس پوری دنیا سمٹ کر آگئی۔

[ترمذي:2346، ابن ماجہ:4141، شعب الایمان-للبیھقي:10362، جامع الأحاديث-للسيوطي:21269، کنزالعمال:7083، الصحيحة:2318]


القرآن:

۔۔۔اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا۔

[سورۃ المائدة، آیت نمبر 20 ﴿تفسیر ابن کثیر:3/ 74﴾]


حاصل اسباق و نکات:

1. حقیقی کامیابی کی نئی تعریف: حدیث ان تین بنیادی نعمتوں (صحت، امن، روزی) کو دنیا کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ انسان کو کروڑوں کی دولت اور وسیع سلطنت کی بجائے، ان معمولی نظر آنے والی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔

2. قناعت کا عملی پیمانہ: اگر کسی کے پاس یہ تین چیزیں ہیں، تو اسے اپنے آپ کو دنیا کا سب سے زیادہ امیر سمجھنا چاہیے۔ یہ وہی "قوت یومہ" ہے جس کی طرف پچھلی تمام احادیث میں اشارہ کیا گیا تھا۔

3. نعمتوں کے احساس (Gratitude) کی تربیت: رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں کہ ہر روز صبح اٹھ کر اپنے آپ سے یہ تین سوال کریں: کیا میں تندرست ہوں؟ کیا میں محفوظ ہوں؟ کیا میرے پاس کھانا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو اللہ کا شکر ادا کریں، کیونکہ آپ کے پاس پوری دنیا ہے۔

4. دنیا کی بے ثباتی کا احساس: حدیث کا اختتامی جملہ "فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا" (گویا اس کے لیے ساری دنیا اکٹھی کر دی گئی) درحقیقت یہ بتاتا ہے کہ دنیا کی حقیقی قیمت اور اس کا خلاصہ یہی تین چیزیں ہیں۔ اس سے زیادہ جو کچھ ہے، وہ اضافہ اور فضل ہے۔

5. انسانی ضروریات کا اسلامی چارٹر: یہ حدیث درحقیقت انسانی حقوق کا اسلامی منشور ہے۔ ہر فرد، حکومت اور معاشرے کا فرض ہے کہ وہ ہر شخص کو یہ بنیادی حقوق (صحت، تحفظ، روزی) فراہم کرے۔

6. فقر کے خوف سے نجات: بہت سے لوگ مستقبل کے فقر کے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ حدیث اس خوف کو دور کرتی ہے اور سکھاتی ہے کہ آج کی روزی آج کے لیے کافی ہے۔ کل کی فکر کل کا دن آنے پر کریں۔

7. پچھلی تمام احادیث کا منطقی انجام اور خلاصہ: آپ اس طویل سلسلے کا یہ حدیث حتمی اور مکمل خلاصہ ہے۔

   · پہلی احادیث میں "قوت" اور "قناعت" کی تعریف کی گئی۔

   · درمیان میں "غنی القلب" (دل کی دولت) کا فلسفہ سمجھایا گیا۔

   · اب یہ حدیث بتا رہی ہے کہ "قناعت" اور "غنی القلب" کا عملی نتیجہ اور ثمرہ کیا ہے؟ — وہ یہ کہ آپ ہر صبح اپنے آپ کو دنیا کا سب سے امیر اور کامیاب انسان سمجھیں۔


حتمی نتیجہ:

زہد وقناعت  سے جو سبق نکلتا ہے، وہ ایک ہی جملے میں سمٹ سکتا ہے:

"تمھاری صحت تمھاری پہلی دولت ہے، تمھارا امن تمھاری سب سے بڑی خوشی ہے، آج کی روٹی تمھاری سب سے قیمتی متاع ہے۔ جو شخص ان تین چیزوں کو پا لے، اس نے پوری دنیا پا لی۔ باقی سب کچھ اضافی اور عارضی ہے۔"

یہی وہ حقیقی قناعت ہے جس کی طرف اسلام بلاتا ہے۔ اسے پانے والا ہمیشہ خوش، مطمئن اور اللہ کا شکرگزار رہے گا۔


اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان نعمتوں کی قدر کرنے، ان پر شکر ادا کرنے اور ہمیشہ قانع رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔


حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ابن آدم عندك ما يكفيك، وأنت تطلب ما يطغيك، ابن آدم لا بقليل تقنع، ولا من كثير تشبع، ابن آدم إذا أصبحت معافى في جسدك آمنا في سربك عندك قوت يومك، فعلى الدنيا العفاء.

ترجمہ:

اے انسان! تیرے پاس وہ ہے جو تیرے لیے کافی ہے جبکہ تو ایسی چیز طلب کرتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے، اے انسان تو تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا، اور نہ زیادہ سے سیر ہوتا ہے، اے انسان! جب تو اس طرح صبح کرے کہ تیرے بدن میں عافیت ہو، تیرے گھر میں امن ہو اور تیرے پاس ایک دن کا کھانا ہو تو دنیا پر مٹی یعنی تف ہے۔

[القناعة لابن السني:16، المعجم الأوسط:8875، شعب الایمان-للبیھقي:10360، کنزالعمال:7081]



تشریح:

اللہ تعالیٰ داتا ہیں وہ خوب جانتے ہیں کس کو کتنا دینا ہے کون سرکش ہوگا اور کون فرمان بردار، سلیمان و محمد ﷺ کو دنیا کی بادشاہت دی لیکن عجز و انکساری کے پیکر تھے، فرعون و شداد کو چند حیلوں سے حکومت ملی تو لگے سرکشی کرنے۔






حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا أصبحت آمنا في سربك معافى في بدنك عندك قوت يومك فعلى الدنيا العفاء.

ترجمہ:

جب تو اپنے گھر میں امن سے ہو تیرے بدن میں عافیت ہو اور تیرے پاس تیرے اس روز کا کھانا ہو تو دنیا پر خاک پڑے۔

[شعب الایمان-للبیھقي:10361، کنزالعمال:7082]









حضرت عثمان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"كُلُّ شَيْءٍ فَضْلٌ عَنْ ظِلِّ بَيْتٍ وَجِلْفِ الْخُبْزِ وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَةَ الرَّجُلِ وَالْمَاءِ لَمْ يَكُنْ لابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ"

ترجمہ:

ہر وہ چیز جو ایک سائبان (گھر)، سخت روٹی، ایسا کپڑا جو مرد کی شرمگاہ چھپائے، اور پانی کے علاوہ ہے، وہ ابن آدم کے لیے حقیقی حق میں سے نہیں۔

[القناعة لابن السني:70،  طبراني:147، شعب الایمان-للبیھقي:6179+10367، جامع الأحاديث-للسيوطي:15649+15655، کنزالعمال:6126-7132


💎 حدیث کے مرکزی اسباق و نکات:


1. "حق" ابن آدم کی تعریف

حدیث میں "حق" (ابن آدم کے لیے) سے مراد بنیادی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ چار چیزیں ہیں:

· ظل بيت (گھر کی چھت/سائبان): رہائش کا بنیادی انتظام۔

· جلف الخبز (سخت/سادہ روٹی): بھوک مٹانے کے لیے بنیادی خوراک۔

· ثوب يواري عورة الرجل (شرمگاہ چھپانے والا کپڑا): حیا اور ستر پوشی کا بنیادی انتظام۔

· الماء (پانی): زندگی کی بنیادی ضرورت۔

نوٹ:

"جلف الخبز" (سخت روٹی) سے مراد سادہ ترین خوراک ہے، نہ کہ لذیذ کھانا۔ یہ قناعت کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔


2. "فضل" کا مفہوم: فضول یا زائد؟

· "كل شيء فضل عن..." کا مطلب ہے: ہر وہ چیز جو ان چار چیزوں سے زیادہ ہے۔

· یہاں "فضل" کا مفہوم دوہرا ہے:

  1. زائد/اضافی (Extra): جو بنیادی ضرورت سے زیادہ ہے۔

  2. فضل/احسان (Favor): جو اللہ کی طرف سے اضافی نعمت ہے۔

· حدیث کا پیغام یہ ہے کہ ابن آدم کا حق صرف بنیادی ضروریات ہیں۔ باقی سب کچھ یا تو اضافی نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنا چاہیے، یا فضول ہے جس کی طمع نہیں کرنی چاہیے۔


3. زندگی کا کم سے کم معیار

رسول اللہ ﷺ نے انسان کی کم از کم ضروریات کی حد بیان فرما دی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ:

· انسان کو بڑے محلات، لذیذ کھانوں، فیشن ایبل کپڑوں اور مشروبات کی کثرت کی دوڑ میں نہیں پڑنا چاہیے۔

· جس کے پاس یہ چار چیزیں ہوں، وہ حق دار ہے کہ اللہ کا شکر ادا کرے، کیونکہ اس کی بنیادی ضروریات پوری ہو گئیں۔

---

📊 یگر تعلیمات کے ساتھ ربط:

دیگر احادیث کا اس حدیث "كل شيء فضل..." کے ساتھ ربط

1. "خيركم أزهدكم في الدنيا" (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) زہد کا عملی مطلب یہی ہے کہ انسان "ظل بيت، جلف الخبز، ثوب، ماء" پر اکتفا کرے اور باقی سب کو "فضل" سمجھے۔

2. "دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) حق (چار چیزیں) اپنے لیے رکھو، اور "كل شيء فضل" (ہر اضافی چیز) دنیا والوں کے لیے چھوڑ دو۔

3. "فراش للرجل..." (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے) "ظل بيت" (گھر) میں تین بستر تک حق ہے۔ چوتھا بستر "فضل" ہے جو شیطان کا راستہ بن سکتا ہے۔

4. "الغنى اليأس مما في أيدي الناس" (دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے) جب آپ سمجھ جائیں کہ آپ کا حق صرف چار چیزیں ہیں، تو پھر آپ لوگوں کے ہاتھ کی ہر چیز (جو ان چار سے زیادہ ہے) سے "اليأس" (مایوس/بے نیاز) ہو جائیں گے۔ یہی حقیقی غنیٰ ہے۔

5. "إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) طمع درحقیقت ان چار چیزوں سے زیادہ کی خواہش کا نام ہے۔ یہی "الفقر الحاضر" (موجودہ مفلسی) ہے۔

6. "إن الله يبتلي العبد فيما أعطاه" (اللہ نعمت میں آزماتا ہے) یہ چار چیزیں بھی ایک امتحان ہیں: کیا ہم ان پر راضی ہیں؟ کیا ہم ان کا شکر ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم اضافی نعمتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں؟

7. "ذو الدرهمين أشد حسابا" (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) ہر وہ چیز جو ان چار چیزوں سے زیادہ ہے، وہ "درهم ودینار" ہی تو ہے جس کا سخت حساب ہوگا۔

8. "عرض علي ربي ليَجعل لي بطحاء مكة ذهبا" (مجھے سونے کی وادی پیش کی گئی) رسول اللہ ﷺ نے سونے کی پوری وادی (جو "كل شيء فضل" کی انتہا ہے) کو ٹھکرا کر "ظل بيت وجلف الخبز..." والی زندگی پر راضی رہنے کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

---

🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی:

1. ضرورت اور خواہش میں فرق: اپنی ہر خریداری یا خواہش پر سوچیں: کیا یہ چار بنیادی ضروریات میں سے ہے؟ اگر نہیں، تو یہ "فضل" (اضافی/زائد) ہے۔

2. قناعت کی تربیت: اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو سادہ کھانا، سادہ لباس، اور معمولی رہائش پر خوش رہنے کی تربیت دیں۔

3. اضافی نعمت کا صحیح استعمال: جو کچھ چار ضروریات سے زیادہ ہے، اسے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں — غریبوں کی مدد، علم دین کی اشاعت، معاشرے کی بہتری کے لیے۔

4. دعا: رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: "اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا" (اے اللہ! آلِ محمد کا رزق صرف قوت (بھوک مٹانے کے لیے) بنا دے۔)


نتیجہ:

"كل شيء فضل عن ظل بيت وجلف الخبز وثوب يواري عورة الرجل والماء" والی حدیث درحقیقت آپ کے زیربحث ساری روحانی تعلیمات کا عملی منشور اور آخری حد ہے۔

یہ ہمیں بتاتی ہے کہ:

· تمہارا دنیا میں حقیقی حق صرف چار چیزیں ہیں۔

· ان کے علاوہ سب کچھ یا تو اللہ کا فضل ہے جس کا شکر ادا کرنا چاہیے، یا فضول ہے جس کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہیے۔

· یہی وہ سادگی اور قناعت کا نقطہ ہے جہاں پہنچ کر انسان طمع، حرص، حسد، دنیا کی محبت اور آخرت کی رسوائی کے تمام داموں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

لفظ قناعت اسی ایک جملے میں سما جاتا ہے: اپنے چار بنیادی حقوق پر قناعت کرو — یہی زہد کی انتہا، رضا کی بنیاد، اور کامیابی کی کنجی ہے۔




حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"مَا فَوْقَ الْخُبْزِ وَجَرَّةِ الْمَاءِ، وَظِلِّ الْحَائِطِ وَظِلِّ الشَّجَرَةِ فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"

ترجمہ:

روٹی اور پانی کے برتن سے اوپر، اور دیوار اور درخت کے سائے سے اوپر (جو کچھ ہے) وہ اضافی (نعمت) ہے جس کے بارے ابن آدم سے قیامت کے دن حساب لیا جائے گا۔

[الديلمى:6246، جامع الاحادیث-للسیوطی:20202، کنزالعمال:7133]



---

💎 قول کے مرکزی اسباق و نکات:

1. ضروریات کی مزید تخفیف

پچھلی حدیث ("ظل بيت، جلف الخبز، ثوب، ماء") میں چار بنیادی ضروریات بیان ہوئی تھیں۔ اس قول میں مزید تخفیف کرتے ہوئے صرف دو چیزیں باقی رکھی گئی ہیں:

· الخبز وجرة الماء (روٹی اور پانی کا برتن): خوراک و پانی — بقا کی بنیادی ضرورت۔

· ظل الحائط وظل الشجرة (دیوار اور درخت کا سائے): پناہ گاہ — تحفظ کی بنیادی ضرورت۔

یہ زہد اور قناعت کی انتہائی تصویر ہے۔


2. "فضل" کی نئی تعریف: احتساب کی چیز

پچھلی حدیث میں "فضل" کا لفظ استعمال ہوا تھا۔ اس قول میں "فضل" کی مزید وضاحت کر دی گئی ہے:

· "فضل" صرف اضافی نعمت نہیں ہے۔

· بلکہ "فضل" وہ چیز ہے جس کے بارے میں "يُحَاسَبُ بِهِ" (اس کے ذریعے حساب لیا جائے گا)۔

· ہر وہ چیز جو روٹی، پانی اور سائے سے زیادہ ہے، وہ قیامت کے حساب کا سبب بنے گی۔


3. احتساب کا واضح اعلان

یہ قول "ذو الدرهمين أشد حسابا" (دو درہم والے کا حساب سخت ہے) والے تصور کو مزید وسیع اور عام کر دیتا ہے:

· صرف درہم و دینار ہی نہیں، بلکہ ہر اضافی نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

· "يحاسب به" کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ یہ اضافی نعمت:

  · کہاں سے آئی؟ (حلال/حرام)

  · کیسے استعمال ہوئی؟ (شکر/ناشکری)

  · کس پر خرچ ہوئی؟ (اپنے نفس پر/اللہ کی راہ میں)

---

📊 پوری سیرتِ تعلیمات کے ساتھ ربط:

دیگر احادیث کا اس قول "ما فوق الخبز..." کے ساتھ ربط

1. "كل شيء فضل عن ظل بيت..."  (چار سے زیادہ سب فضل ہے) یہ قول اسے مزید محدود کرتا ہے: "ما فوق الخبز وجرة الماء..." (دو سے زیادہ سب فضل ہے)۔ دنیا سے بے رغبتی کی حتمی سطح۔

2. "ذو الدرهمين أشد حسابا"  (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) یہ قول اس احساس کو عام کرتا ہے: ہر "فضل" (اضافی چیز) "يحاسب به" (حساب کی چیز) ہے۔

3. "فراش للرجل..."  (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے) "ظل الحائط" (دیوار کا سایہ) ہی بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے بہتر "فراش" (بستر) "فضل" ہے جس کا "يحاسب به" (حساب ہوگا)۔

4. "إن الله يبتلي العبد فيما أعطاه"  (اللہ نعمت میں آزماتا ہے) ہر "فضل" ایک امتحان ہے، اور قیامت میں اسی امتحان کے نتائج کا حساب ہوگا۔

5. "إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر"  (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) "ما فوق الخبز..." (روٹی سے اوپر) کی ہر خواہش "طمع" ہے، جو "الفقر الحاضر" (موجودہ مفلسی) ہے، اور آخرت میں "يحاسب به" (حساب کی چیز) بنے گی۔

6. "الغنى اليأس مما في أيدي الناس"  (دولت مندی بے نیازی ہے) جب آپ سمجھ جائیں کہ آپ کا حق صرف "الخبز وجرة الماء" ہے، تو پھر لوگوں کے ہاتھ کی ہر چیز سے "اليأس" (بے نیازی) آسان ہو جائے گی۔

7. "عرض علي ربي ليَجعل لي بطحاء مكة ذهبا"  (مجھے سونے کی وادی پیش کی گئی) رسول اللہ ﷺ نے "ما فوق الخبز وجرة الماء" (روٹی و پانی سے اوپر) کی پوری وادی سونے کو ٹھکرا کر یہی سبق دیا تھا۔

---

🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی:

1. ہر چیز کو دو سوالوں کے پیمانے پر پرکھیں:

   · کیا یہ "الخبز وجرة الماء" (روٹی و پانی) کی سطح پر ہے؟ (حق)

   · یا یہ "ما فوق" (اس سے اوپر) ہے؟ (فضل = احتساب)

2. خریداری سے پہلے سوچیں: کیا یہ چیز بنیادی بقا اور تحفظ کے لیے ہے؟ اگر نہیں، تو یہ "فضل" ہے جس کا "يحاسب به" (حساب ہوگا)۔

3. اضافی نعمت کا "سائنسی" استعمال: جو کچھ بھی "فضل" ہے، اسے تین سوالوں کے ساتھ استعمال کریں:

   · کیا یہ حلال ہے؟ (مصدر)

   · کیا میں اس کا شکر ادا کر رہا ہوں؟ (استعمال)

   · کیا میں اس میں سے دوسروں کا حق ادا کر رہا ہوں؟ (انفاق)

4. دعا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہمیشہ یاد رکھیں: "اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الْمُقْسِطِينَ لا مِنَ الْمُقَسَّطِينَ" (اے اللہ! مجھے انصاف کرنے والوں میں کر، نہ کہ مجھ پر انصاف کرنے والوں میں۔)


نتیجہ:

"مَا فَوْقَ الْخُبْزِ وَجَرَّةِ الْمَاءِ... فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ ابْنُ آدَمَ" کا قول درحقیقت آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا حتمی نتیجہ اور آخری چیلنج ہے۔

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ:

· تمہارا دنیا میں اصل حق صرف روٹی، پانی اور سایہ ہے۔

· اس سے اوپر کی ہر چیز ایک اضافی نعمت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا۔

· یہی وہ انتہائی زہد ہے جو انسان کو دنیا کی ہر محبت، ہر طمع، ہر خواہش سے آزاد کر دیتا ہے۔

یہ روحانی تعلیم اسی ایک جملے میں ختم ہو جاتا ہے: روٹی، پانی اور سائے پر قناعت کرو — باقی سب کچھ تمہارے حساب میں اضافہ ہے۔ یہی وہ حقیقی آزادی ہے جس کے لیے یہ ساری تعلیمات دی گئی ہیں۔



شکر وقناعت پیدا کرنے کا نبوی نسخہ:

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ،‏‏‏‏ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ۔

ترجمہ:

اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے۔

[سنن ابن ماجہ:4142، صحیح مسلم:2963، سنن الترمذی:5213]


القرآن:

اور تم ان چیزوں کی طرف ہرگز آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہیں، اور نہ ان لوگوں پر اپنا دل کڑھاؤ، اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، ان کے لیے اپنی شفقت کا بازو پھیلا دو۔

[سورۃ الحجر، آیت نمبر 88، ﴿تفسیر البغوی:1247﴾]

القرآن:

اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔

[سورۃ نمبر 20 طٰهٰ، آیت نمبر 131]


اہم اسباق ونکات:

1. شکرگزاری کا درس: انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سے کم نصیب لوگوں کو دیکھے تاکہ اسے اپنی نعمتوں کی قدر معلوم ہو اور وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔

2. نعمت کی ناشکری سے بچاؤ: جو لوگ اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتے ہیں، وہ اپنی نعمتوں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں، جس سے ناشکری پیدا ہوتی ہے۔

3. قلبی اطمینان اور قناعت: اس رویے سے انسان کو دل کا سکون اور قناعت ملتی ہے، جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی بنیاد ہے۔

4. حسد سے محفوظ رہنا: اوپر والوں کی طرف دیکھنے سے حسد پیدا ہوتا ہے، جو ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس حدیث میں اس خطرناک جذبے سے بچنے کی تربیت دی گئی ہے۔

5. نعمت کی حفاظت کا ذریعہ: شکر کرنے سے نعمتیں بڑھتی ہیں اور ان کی حفاظت ہوتی ہے، جبکہ ناشکری سے نعمتیں چھن جاتی ہیں۔

6. عملی نفسیات: یہ حدیث انسانی فطرت کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ایک عملی حل پیش کرتی ہے کہ خوشی اور اطمینان کے لیے نگاہ کا رخ کیسے ہونا چاہیے۔

7. توازن کی تعلیم: اسلام نے ہر معاملے میں توازن سکھایا ہے—نہ تو تکبر کرنا کہ اپنے سے کم تر کو دیکھو، اور نہ ہی احساسِ کمتری کہ صرف اوپر والوں کو دیکھو۔


یہ حدیث انسان کو مثبت سوچ، شکرگزاری اور نفسیاتی صحت کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔



قناعت ضروری کیوں؟

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: 

إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ،‏‏‏‏ وَلَكِنْ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَى أَعْمَالِكُمْ وَقُلُوبِكُمْ.

ترجمہ:

بےشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے اعمال اور دلوں کو دیکھتا ہے۔

[سنن ابن ماجہ:4143، صحیح مسلم:2564]


اہم اسباق ونکات:

1. معیارِ قربتِ الٰہی ظاہری نہیں باطنی ہے: اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کی شکل و صورت، نسل و خاندان، یا مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اصل معیار اس کے اعمال اور دل کی کیفیت ہے۔

2. اعمالِ صالحہ کی اہمیت: اللہ کی نظر میں انسان کے نیک اعمال کی قدر و منزلت ہے، کیونکہ یہی اس کے ایمان اور عمل کا عملی ثبوت ہیں۔

3. نیتوں کی پاکیزگی کی ضرورت: "دلوں" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت کی صفائی پر ہے۔ نیک عمل بھی اگر ریا کاری یا بری نیت سے کیا جائے تو اللہ کے ہاں بے وزن ہو سکتا ہے۔

4. ظاہری تفاخر کی مذمت: رنگ و نسل، حسن و جمال یا مال و دولت پر فخر کرنا اسلام کی نظر میں مذموم ہے، کیونکہ یہ چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔

5. مساواتِ انسانی کا درس: اس حدیث سے انسانی مساوات کا اصول ملتا ہے، کیونکہ تمام انسان اللہ کے ہاں یکساں ہیں اور فضیلت کا معیار صرف تقویٰ، اچھے اعمال اور پاکیزہ دل ہے۔

6. اخلاص پر زور: چونکہ اللہ دلوں کو دیکھتا ہے، اس لیے ہر عمل میں خلوصِ نیت لازمی ہے۔ ظاہری دکھاوے والے اعمال بے کار ہیں۔

7. توازنِ ظاہر و باطن: حدیث اعمال اور قلوب دونوں کا ذکر کرکے ظاہر و باطن کے توازن کی تعلیم دیتی ہے۔ صرف نیک نیت کافی نہیں، عمل بھی ضروری ہے اور صرف عمل بھی کافی نہیں، نیت کی پاکیزگی بھی لازم ہے۔

8. انسانیت کی حقیقی بلندی کا پیمانہ: انسان کی حقیقی عظمت اور بلندی کا پیمانہ اس کی شخصیت، علم، عمل اور اخلاق ہیں، نہ کہ اس کی مادی یا جسمانی خصوصیات۔


یہ حدیث مسلمانوں کو یہ درس دیتی ہے کہ وہ اپنی توانائیاں ظاہری آرائش و نمائش کی بجائے اپنے باطن کی اصلاح اور اعمالِ صالحہ کی طرف صرف کریں، کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جو اللہ کے ہاں قابلِ قدر ہیں۔


القرآن:

....کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو دوسروں سے زیادہ نہیں جانتا؟

[سورۃ الأنعام، آیت نمبر 53 ﴿تفسیر ابن کثیر:3/ 261]



القرآن:

اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے۔۔۔

[سورۃ الحج، آیت نمبر 37 ﴿تفیسر ابن کثیر:5/ 431﴾ ]



القرآن:

اور لوگوں کے سامنے (غرور سے) اپنے گال مت پھلاؤ، اور زمین پر اتراتے ہوئے مت چلو۔ یقین جانو اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔

[سورۃ لقمان، آیت نمبر 18 ﴿تفیسر ابن کثیر:6/ 343﴾ ]


القرآن:

اور نہ تمہارے مال تمہیں اللہ کا قرب عطا کرتے ہیں اور نہ تمہاری اولاد۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ایسے لوگوں کو ان کے عمل کا دوہرا ثواب ملے گا، اور وہ (جنت کے) بالاخانوں میں چین کریں گے۔

[سورۃ سبإ، آیت نمبر 37 ﴿تفسیر ابن کثیر:6/ 522﴾]



القرآن:

اے لوگو ! حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہیں مختلف قوموں اور خاندانوں میں اس لیے تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کی پہچان کرسکو،  درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔

[سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13 ﴿تفیسرالبغوی:2016، تفسیر ابن کثیر:7/ 386﴾]


سوال کرنا-مانگنا ناپسندیدہ عمل ہے۔

حضرت زبیر بن عوام سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:

لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَجِئَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، ‏‏‏‏‏‏خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مَنَعُوهُ.

ترجمہ:

اگر تم میں سے کوئی (صبح سویرے) اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے(اور صدقہ کرے)، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔

[مسند احمد:1429، سنن ابن ماجہ:1836، صحیح البخاری:1471، السنن الکبریٰ-للبیھقی:7864،11852، شرح السنۃ للبغوی البغوی:1616]

وضاحت:

یعنی اگر مانگنے پر دیں تو مانگنے کی ایک ذلت ہوئی، اور نہ دیں تو دوہری ذلت مانگنے کی، اور مانگنے پر نہ ملنے کی، برخلاف اس کے اپنی محنت سے کمانے میں کوئی ذلت نہیں اگرچہ مٹی ڈھو کر یا لکڑیاں چن کر اپنی روزی حاصل کرے، یہ جو مسلمان خیال کرتے ہیں کہ پیشہ یا محنت کرنے میں ذلت اور ننگ و عار ہے، یہ سب شیطانی وسوسہ ہے، اس سے زیادہ ننگ و عار اور ذلت و رسوائی سوال کرنے اور ہاتھ پھیلانے میں ہے، بلکہ پیشے اور محنت میں گو وہ کتنا ہی حقیر ہو بشرطیکہ شرع کی رو سے منع نہ ہو کوئی ذلت نہیں ہے۔


القرآن:

...(مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔۔

[سورۃ البقرۃ:273» تفسیر البغوی:320]


حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق ونکات:

1. معاشی خود انحصاری اور محنت کی فضیلت: اللہ کے رسول ﷺ نے محنت مزدوری کرکے روزی کمانے کو سوال (بھیک) سے بہتر قرار دیا، چاہے وہ معمولی نوعیت کا کام ہی کیوں نہ ہو۔

2. سوال (بھیک مانگنے) سے اجتناب: حدیث میں لوگوں سے مانگنے سے بچنے کی واضح ترغیب ہے، چاہے دینے والا دے یا نہ دے۔ یہ عمل ذلت اور دوسروں پر انحصار کا سبب بنتا ہے۔

3. ہر حلال روزی کی عزت: چھوٹے سے چھوٹا حلال کام (جیسے لکڑیاں اکٹھی کرکے بیچنا) بھی شرعاً قابل عزت ہے۔ کسی محنت مشقت کے کام کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔

4. عملی جدوجہد کی ترغیب: آپ ﷺ نے صرف نظریہ نہیں دیا بلکہ عملی مثال دے کر سمجھایا کہ انسان کو اپنی محنت سے روزی کمانی چاہیے۔

5. عزت نفس کی حفاظت: محنت کرکے کھانا انسان کی عزت نفس کو قائم رکھتا ہے، جبکہ سوال کرنا اسے مجروح کرتا ہے۔

6. سماجی ذمہ داری: حدیث کا پیغام یہ بھی ہے کہ ہر فرد کو اپنی کفالت کی ذمہ داری خود اٹھانی چاہیے اور معاشرے پر بوجھ نہیں بننا چاہیے۔

7. سوال کی ذہنی اور معاشرتی قباحتیں: سوال کرنے سے نہ صرف سائل کی ذہنی حالت متاثر ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی اس کی توقیر کم ہوتی ہے۔

8. جائز ذرائع سے روزی کمانے کی اہمیت: یہ حدیث حلال روزی کی تلاش کی ترغیب دیتی ہے، خواہ اس میں جسمانی مشقت ہی کیوں نہ درکار ہو۔


یہ حدیث مسلمانوں کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے، محنت و مشقت سے گریز نہ کرنے، اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی محنت سے روزی کمانے کی عظیم تعلیم دیتی ہے۔


مجھے تجارت اور دولت اندوزی کا حکم نہیں دیا گیا»


حضرت جُبیر بن نُفیر تابعی سے روایت ہے وہ بطریق ارسال رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں، کہ آپ نے ارشاد فرمایا:

«مَا أَوْحَى اللهُ إِلَيَّ أَنْ أَجْمَعَ الْمَالَ وَأَكُونَ مِنَ التَّاجِرِينَ وَلَكِنْ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ».

ترجمہ:

مجھے اللہ کی طرف سے اس کی وحی نہیں کی گئی، اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں مال و دولت جمع کروں، اور تجارت و سودا گری کو اپنا پیشہ اور مشغلہ بناؤں۔ بلکہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے، اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اپنے رب کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہ، اور ہو جا اللہ کے حضور میں جھکنے والوں اور گرنے والوں میں سے اور کئے جا بندگی اپنے پروردگار کی، موت آنے تک۔

[شرح السنة-للبغوي:4036، جامع الأحاديث-للسيوطي:19886]

[تفسير البغوي:1249، سورة الحجر:98-99]


تشریح:

جن کو شریعت کے اصول و احکام کا کچھ علم ہے، وہ جانتے ہیں کہ تجارت اور اس کے ذریعہ دولت کمانا ناجائز نہیں ہے، اور شریعت کے احکام کا ایک بڑا حصہ تجارت وغیرہ مالی معاملات سے بھی متعلق ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے خود ان تاجروں کی بڑی بڑی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں، جو امانت داری، راستبازی اور دیانت داری کے ساتھ تجارت کرتے ہوں، لیکن رسول اللہ ﷺ کا جو خاص مقام تھا اور جو کام اللہ تعالیٰ کو آپ سے لینا تھا، اس میں تجارت جیسے کسی جائز معاشی مشغلے میں بھی مشغول ہونے کی گنجائش نہ تھی، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو قناعت اور توکل کا وافر سرمایہ دے کر اس فکر سے فارغ بھی فرما دیا تھا۔

رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کا مطلب یہی ہے کہ مجھے تو ان ہی کاموں میں اپنے کو لگانا ہے جن کا مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر اور حکم ہے، میرا کام تجارت اور دولت اندوزی نہیں ہے۔ 

آپ کے امتیوں میں بھی اللہ کے جو بندے خالص متوکلانہ طرزِ زندگی کو اپنے لیے پسند کریں، اور اس راستے کے شدائد و مصائب پر صبر کی ہمت رکھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی دولت ان کو میسر ہو، تو ان کے لیے بھی بلا شبہ یہی افضل ہے، لیکن کن کا یہ حال نہ ہو، ان کو کسی جائز معاشی مشغلہ کا اختیار کرنا خاص کر ہمارے اس زمانہ میں ضروری ہے۔

[معارف الحدیث:188]


اس حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

1. رسول اللہﷺ کا مقامِ اعلیٰ: اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو دنیوی جمع و منفعت کے بجائے بلند روحانی مقامات پر فائز کیا۔ آپﷺ تاجرِ آخرت تھے، نہ کہ مال و دولت کے تاجر۔


2. دنیوی لذت سے بے نیازی: نبوت کا مقصد دنیا میں مال جمع کرنا یا دنیوی تجارت میں مگن رہنا نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاقی و روحانی تربیت ہے۔


3. عبادت ہی اصل مقصد حیات: انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد اللہ کی عبادت، تسبیح و سجود ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: "وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ"۔(اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔)[سورۃ الذاريات،آیت نمبر 56]


4. ذکر و شکر کی اہمیت: "سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ" سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں اللہ کی تسبیح و حمد کرنا نبی کا شیوہ اور امت کا وظیفہ ہے۔


5. سجدہ کی فضیلت: "وَ كُنْ مِّنَ السَّاجِدِيْنَ" سے سجدے کی کثرت کی ترغيب ملتی ہے، جو بندے کو اللہ کے سب سے قریب کر دیتا ہے۔


6. استقامت کا اصول: "وَ اعْبُدْ رَّبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِيْنُ" سے زندگی بھر عبادت پر ثابت قدمی کا درس ملتا ہے۔ یہاں "الیقین" سے مراد موت ہے۔


7. زہد و قناعت کی تعلیم: حدیث میں دنیا کی تجارت اور مال جمع کرنے کی بجائے زہد و قناعت اور آخرت کی تجارت کی ترغيب ہے۔


8. توحید پر استقامت: عبادت کو موت تک جاری رکھنے کا حکم، ایمان و توحید پر آخرت تک ثابت قدم رہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔


نتیجہ:

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہماری زندگی کا محور مال و دولت نہ ہو، بلکہ اللہ کی عبادت، ذکر و شکر اور سجدہ و اطاعت ہو۔ ہمیں دنیوی لذتوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنی توانائیاں آخرت کی کامیابی کے لیے صرف کرنی چاہئیں، کیونکہ حقیقی کامیابی اور سکون اسی میں ہے۔




القرآن:

تو (اس کا علاج یہ ہے کہ) تم اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، اور سجدہ بجا لانے والوں میں شامل رہو۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو، یہاں تک کہ تم پر وہ چیز آجائے جس کا آنا یقینی ہے۔

[سورۃ الحجر، آیت نمبر 98-99 ﴿تفسیر البغوی:1249﴾]

تفسیر:

اس سے مراد موت ہے، یعنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاردو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دے کر اپنے پاس بلالیں۔




تھوڑے پر قناعت


حضرت ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

َحُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ  الْآخِرَةِ، وَمُرَّةُ الْآخِرَةِ حُلْوَةُ الدُّنْيَا.

ترجمہ:

دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے۔

[حاکم:5058، طبرانی:3438، احمد:22899، کنزالعمال:6115، الصحيحة:1817]


اس حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات درج ذیل ہیں:

1. دنیا و آخرت میں معکوس تعلق: دنیا کی لذتیں اور آرام آخرت میں ناکامی اور تکلیف کا باعث بنتے ہیں، جبکہ آخرت کی کامیابی کے لیے دنیا میں کی گئی محنت اور تکالیف آخرت میں لذت و سرور کا سبب ہیں۔


2. ترجیحات کا تعین: انسان کو اپنی ترجیحات کا تعین کرتے وقت یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ عارضی دنیوی لذت کو ابدی آخرت کی خوشی پر ترجیح نہ دی جائے۔


3. قربانی کا اصول: آخرت کی پائیدار خوشی حاصل کرنے کے لیے دنیاوی لذتوں اور آسائشوں میں کمی اور قربانی دینا لازم ہے۔


4. عارضیت بمقابلہ دوام: حدیث دنیا کی عارضی لذتوں اور آخرت کی دائمی لذتوں کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کرتی ہے۔


5. انتباہ و بشارت: یہ حدیث ایک انتباہ (دنیا کی لذت سے) اور بشارت (آخرت کی تکلیف پر صبر کرنے والوں کے لیے) دونوں پر مشتمل ہے۔


6. اعتدال اور توازن: اس سے دنیا میں اعتدال اور توازن کی راہ متعین ہوتی ہے کہ آخرت کو برباد کر کے صرف دنیا کے پیچھے نہ پڑا جائے۔


7. عمل کی ذمہ داری: انسان کو اپنے ہر عمل کے دنیا و آخرت پر پڑنے والے اثرات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔


یہ حدیث انسان کو اس بات پر غور وفکر کی دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مختصر سفر میں ایسے اقدامات کرے جو اس کے ابدی سفر کے لیے مفید ثابت ہوں۔


القرآن:

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) کوچ کرو تو تم بوجھ ہو کر زمین سے لگ گئے ؟ (36) کیا تم آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی پر راضی ہوچکے ہو ؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر تھوڑا۔

[سورۃ التوبة، آیت نمبر 38 ﴿تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:4/ 191﴾]


تفسیر:

(36) یہاں سے غزوہ تبوک کے مختلف پہلووں کا بیان شروع ہورہا ہے جو اس سورت کے تقریبا آخر تک چلا گیا ہے اس غزوے کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ فتح مکہ اور غزوہ حنین کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد شام سے آنے والے کچھ سودا گروں نے مسلمانوں کو بتایا کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہرقل مدینہ منورہ پر ایک زور دار حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ جس کے لیے اس نے ایک بڑا لشکر شام اور عرب کی سرحد پر جمع کرلیا ہے، اور اپنے فوجیوں کو سال بھر کی تنخواہ پیشگی دے دی ہے۔ صحابہ کرام اگرچہ اب تک بہت سی جنگیں لڑ چکے تھے، مگر وہ سب جزیرہ عرب کے اندر تھیں، یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کی مانی ہوئی ایک بڑی طاقت سے مقابلہ پیش آرہا تھا۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ ہرقل کے حملے کا انتظار کیے بغیر خود پیش قدمی کی جائے، اور خود وہاں پہنچ کر مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں کو اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے تیاری کا حکم دیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ اول تو دس سال کی متواتر جنگوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ فتح مکہ کے بعد سکون کے کچھ لمحات میسر آئے تھے۔ دوسرے جس وقت اس جنگ کے لیے روانہ ہونا تھا۔ وہ ایسا وقت تھا کہ مدینہ منورہ کے نخلستانوں میں کھجوریں پک رہی تھیں۔ انہی کھجوروں پر اہل مدینہ کی سال بھر کی معیشت کا دار و مدار تھا۔ ایسی حالت میں باغات کو چھوڑ کر جانا نہایت مشکل تھا۔ تیسرے یہ عرب میں گرمی کا سخت ترین موسم تھا جس میں آسمان سے آگ برستی اور زمین سے شعلے نکلتے محسوس ہوتے ہیں۔ چوتھے تبوک کا سفر بہت لمبا تھا، اور تقریبا آٹھ سو میل کا یہ پورا راستہ لق ودق صحراؤں پر مشتمل تھا۔ پانچویں سفر کے لیے سواریاں کم تھیں۔ چھٹے اس سفر کا مقصد رومی سلطنت سے ٹکر لینا تھا جو اس وقت نہ صرف یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، بلکہ اس کے طریقہ جنگ سے بھی اہل عرب پوری طرح مانوس نہیں تھے۔ غرض ہر اعتبار سے یہ انتہائی مشقت، جان و مال اور جذبات کی قربانی کا جہاد تھا جس کے لیے آنحضرت ﷺ تیس ہزار صحابہ کرام کے لشکر کے ساتھ تبوک روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرقل اور اس کے لشکر پر آپ کی اس جرأت مندانہ پیش قدمی کا ایسا رعب طاری فرما دیا کہ وہ سب واپس چلے گئے اور مقابلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ مذکورہ بالا مشکل حالات کے باوجود صحابہ کرام کی بھاری اکثریت ماتھے پر بل لائے بغیر جاں نثاری کے جذبے سے اس مہم میں شریک ہوئی۔ البتہ کچھ صحابہ ایسے بھی تھے جنہیں یہ سفر بھاری معلوم ہوا، اور شروع میں انہیں کچھ تردد رہا، لیکن آخر کار وہ لشکر میں شامل ہوگئے۔ اور چند ایسے بھی تھے جو اس تردد کی وجہ سے آخر تک فیصلہ نہ کرسکے، اور سفر میں شرکت سے محروم رہے۔ دوسری طرف وہ منافقین تھے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہوگئے تھے لیکن اندر سے مسلمان نہیں تھے۔ ایسی سخت مہم میں مسلمانوں کا ساتھ دینا ان کے لیے ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے وہ مختلف حیلوں بہانوں سے مدینہ منورہ میں رک گئے اور ساتھ نہیں گئے۔ اس سورت کی آنے والی آیات میں ان سب قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے، اور ان کے طرز عممل پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ ﴿آیت نمبر 38﴾ میں جن لوگوں کو ملامت کی گئی ہے ان سے مراد منافقین بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں ”اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو“ ان کے ظاہری دعوی کے مطابق فرمایا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خطاب ان صحابہ کرام سے ہو جن کے دل میں تردد پیدا ہوا تھا۔ البتہ ﴿آیت نمبر 42﴾ سے تمام تر بیان منافقین ہی کا ہے۔


حضرت حسن سے روایت ہے ۔۔۔ کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خيركم أزهدكم في الدنيا، وأرغبكم في الآخرة.

ترجمہ:

تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو دنیا سے بےرغبت ہو اور آخرت کی رغبت رکھنے والا ہو۔

[شعب الایمان-للبیھقی:10521-10645، جامع الاحادیث-الیسوطی:45073، کنزالعمال:6116]


القرآن:

لیکن تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو۔

[سورۃ نمبر 87 الأعلى، آیت نمبر 16]





حاصلِ اسباق و نکات:


1. خیریت کا معیار:

      انسان کی فضیلت و برتری کا معیار دنیاوی مال و متاع نہیں، بلکہ اس کا دل کا رجحان اور ترجیحات ہیں۔

2. زہد کی حقیقت:

      "زہد" سے مراد دنیا کی مذموم محبت اور حرص سے دوری ہے، نہ کہ جائز دنیوی ضروریات کو ترک کرنا۔ یہ دل کی دنیا سے بے رغبتی کا نام ہے۔

3. آخرت کی رغبت:

      "آخرت کی رغبت" سے مراد اعمالِ صالحہ کی کثرت، اللہ کی رضا کے حصول کی تڑپ، اور جنت کی نعمتوں کی شدید خواہش ہے۔

4. توازن کا حکم:

      حدیث دنیا و آخرت میں توازن قائم کرنے کی ترغیب دیتی ہے: دنیا کو ہاتھ میں رکھیں (جائز ضروریات پوری کریں)، مگر دل میں نہ آنے دیں۔

5. دل کی تربیت:

      اصل توجہ دل کے حال پر ہونی چاہیے کہ وہ دنیا کی بجائے آخرت کے لیے کیسے زیادہ مشتاق ہو۔

6. عملی تطبیق:

      زہد کے تقاضے:

   · حرام سے مکمل پرہیز

   · حلال میں ضرورت پر اکتفا

   · فضول خرچی اور نمود و نمائش سے اجتناب

   · دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش

7. تربیتی نکتہ:

      یہ حدیث انسان کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے: "کیا میرا دل دنیا کی طرف زیادہ مائل ہے یا آخرت کی طرف؟"

8. اجتماعی پیغام:

      اگر معاشرے کے افراد میں یہ صفات پیدا ہوجائیں، تو معاشرہ استغنا، قناعت اور باہمی تعاون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔


نتیجہ:

حقیقی کامیابی اس میں ہے کہ انسان دنیا کو پاؤں کی نیچے کی خاک سمجھے اور آخرت کو اپنی ہمیشہ کی جائے قرار دے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کی رضا اور everlasting سکون تک پہنچاتا ہے۔



اس حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

1. بہترین انسان کی پہچان:

حدیث انسان کی فضیلت و برتری کا معیار بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق "تم میں بہترین شخص وہ ہے جو دنیا سے زیادہ بے رغبت اور آخرت کے لیے زیادہ رغبت رکھنے والا ہو"۔ یہ معیار دنیوی مال و منصب، قوم یا خاندان کی بجائے نیت، عمل اور روحانی ترجیحات پر مبنی ہے۔


2. زہد کی حقیقت:

یہاں "زہد" سے مراد دنیا سے بے نیازی اور اس کے فانی ہونے کا یقین ہے، نہ کہ کام کاج ترک کرنا یا فقر اختیار کرنا۔ زہد کا مطلب ہے:

· دل میں دنیا کی محبت کو آخرت کی محبت پر غالب نہ آنے دینا

· حلال روزی کمانے کے ساتھ اللہ کی یاد اور آخرت کی تیاری کو مرکز بنانا

· مال و دولت کو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ سمجھنا، مقصد نہ بنانا


3. توازن کا فلسفہ:

حدیث دو انتہاؤں سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے:

· دنیا سے مکمل قطع تعلق نہیں، بلکہ اسے آخرت کا ذریعہ سمجھنا

· آخرت کی رغبت سے مراد صرف عبادات نہیں، بلکہ ہر اچھا عمل جو آخرت میں کام آئے

· یہ توازن رسول اللہﷺ کے اسوہ میں واضح ہے: آپﷺ دنیا میں رہے، تجارت کی، لیکن آپ کا دل ہمیشہ آخرت کی طرف مائل رہا


4. عملی نفسیات کی تشکیل:

حدیث انسان کے داخلی نظامِ اقدار کی تشکیل کرتی ہے:

· دنیا کی عارضی لذتوں کو دیکھنے کی بجائے آخرت کی دائمی نعمتوں پر نظر رکھنا

· مشکلات میں صبر اور آسانی میں شکر کی عادت ڈالنا

· ہر عمل کے آخرت میں نتائج کو پیش نظر رکھنا


5. اجتماعی اصلاح کا ذریعہ:

جب افراد کا یہ رویہ ہوگا تو معاشرہ بھی پاکیزہ ہوگا:

· لالچ، حرص اور خودغرضی کم ہوگی

· باہمی تعاون اور ایثار کا جذبہ بڑھے گا

· دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی بجائے انفاق و سخاوت عام ہوگی


نتیجہ:

یہ حدیث ہمیں ترجیحات کے صحیح تعین کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کا مقصد انسان کو دنیا سے بے نیاز کرنا نہیں، بلکہ اسے صحیح راستے پر استوار کرنا ہے تاکہ وہ دنیا کو پل صراط کی طرح استعمال کرے، نہ کہ اسے منزل سمجھ بیٹھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کی کامیابی اور معاشرے کی فلاح دونوں کا ضامن ہے۔




حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

دَعُوا الدُّنْيَا لأَهْلِهَا    دَعُوا الدُّنْيَا لأَهْلِهَا    دَعُوا الدُّنْيَا لأَهْلِهَا    ثَلاثًا مَنْ أَخَذَ مِنَ الدُّنْيَا أَكْثَرَ مِمَّا يَكْفِيهِ أَخَذَ جَيْفَةً، وهُو لا يَشْعُرُ.

ترجمہ:

دنیا، دنیا والوں کے لیے چھوڑ دو۔ دنیا، دنیا والوں کے لیے چھوڑ دو۔ دنیا، دنیا والوں کے لیے چھوڑ دو۔ جس نے اپنی ضرورت سے زائد دنیا حاصل کی تو اس نے اپنی موت لی، جبکہ اسے معلوم نہیں۔

[مسند البزار:6444، الديلمى:363، جامع الاحادیث:12333، کنزالعمال:6117۔6317]


اس حدیث مبارکہ سے حاصل ہون والے اسباق و نکات:

1. دنیا پر قبضہ نہیں، استعمار ہے:

"دَعُوا الدُّنْيَا لأَهْلِهَا" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) کا تین بار تکرار اس بات پر زور دیتا ہے کہ:

· دنیا کی چیزوں پر قبضہ جما کر نہ بیٹھا جائے

· ہر شخص صرف اپنی ضرورت پوری کرے، دوسروں کے حق نہ مارے

· اجتماعی زندگی میں توازن اور انصاف ضروری ہے۔


2. کفایت کا فلسفہ:

حدیث "حدِ کفایت" کا واضح تصور پیش کرتی ہے:

· ہر شخص کے لیے وہی لینا جائز ہے جو اس کی ضرورت ہے

· ضرورت سے زیادہ لینا ناجائز ہے، چاہے حلال ذریعے سے ہی کیوں نہ ہو

· "أَكْثَرَ مِمَّا يَكْفِيهِ" سے مراد فضول خرچی، ذخیرہ اندوزی، یا تکاثر (مال بڑھانے کی دوڑ) ہے


3. مردار کے برابر ہونے کا شدید انتباہ:

"أَخَذَ جَيْفَةً" (اس نے مردار اٹھایا) کا استعارہ انتہائی شدید ہے:

· ضرورت سے زیادہ مال رکھنا روحانی مردار کے برابر ہے

· جس طرح مردار جسمانی طور پر گندا ہوتا ہے، اسی طرح فضول مال روحانی طور پر نجس ہے

· یہ مال قیامت میں عذاب کا سبب بنے گا۔


4. نفسیاتی بے حسی کا خطرہ:

"وَهْوَ لَا يَشْعُرُ" (اور وہ شعور نہیں رکھتا) سب سے خطرناک بات ہے:

· انسان مال جمع کرتے کرتے اس قدر بے حس ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی غلطی کا احساس تک نہیں رہتا

· دولت کی محبت دل کو سخت کر دیتی ہے

· یہ بے حسی اسے آخرت کے عذاب تک پہنچا دیتی ہے


5. معاشی انصاف کا حکم

حدیث میں اجتماعی انصاف کا پہلو بھی ہے:

· ایک شخص کا زیادہ مال جمع کرنا دوسرے کے حقوق کا خیال نہ رکھنا ہے

· معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے

· اسلام نے زکوٰۃ، وراثت اور انفاق کے ذریعے اس توازن کو قائم رکھا ہے


6. سادگی اور قناعت کی ترغیب

· ضرورت پر اکتفا کرنا سادگی کی زندگی ہے

· قناعت حقیقی دولت ہے

· رسول اللہﷺ کی زندگی اس کا عملی نمونہ تھی


نتیجہ:

یہ حدیث ہمیں سادگی، قناعت اور انصاف کا سبق دیتی ہے۔ ہمیں اپنی ضروریات کو محدود رکھنا چاہیے تاکہ دوسروں کے حقوق ضائع نہ ہوں۔ مال و دولت کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے، ہمیں اپنی توانائیاں روحانی ترقی اور معاشرتی بھلائی کے لیے استعمال کرنی چاہئیں۔ یہی راستہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ضامن ہے۔


عملی اطلاق:


1. اپنی ضروریات کا جائزہ لیں اور غیر ضروری اخراجات کم کریں

2. بچت ہو تو اسے دوسروں کی مداد کے لیے استعمال کریں

3. ہمیشہ اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہمارا مال درحقیقت اللہ کی امانت ہے۔






حضرت ابوذر ؓ ﴿ابوہریرہ ؓ﴾ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ذو الدرهمين أشد حسابا من ذي الدرهم، وذو الدينارين أشد حسابا من ذي الدينار.

ترجمہ:

دو درھم والے کا حساب، ایک درھم والے سے سخت ہوگا اور دو دینار والے کا حساب ایک دینار والے سے سخت تر ہوگا۔

[شعب الایمان-للبیھقی:10647، ﴿الديلمى:3156، جامع الاحادیث:12518﴾، کنزالعمال:6118]

نوٹ:

۔۔۔ چاندی سے ڈھالے ہوئے سکے کو درھم اور سونے سے ڈھالے ہوئے کو دینار کہتے ہیں۔


اس حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:


اس حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ "دو درہم والے کی حساب ایک درہم والے سے زیادہ سخت ہے، اور دو دینار والے کی حساب ایک دینار والے سے زیادہ سخت ہے"۔


یہ حدیث درج ذیل اہم ترین اسباق پر مشتمل ہے:


۱. مال کی زیادتی، ذمہ داری کی زیادتی ہے


· ہر درہم و دینار کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا۔

· مال جتنا زیادہ ہوگا، پوچھ گچھ اور حساب کتاب بھی اتنا ہی زیادہ تفصیلی اور سخت ہوگا۔

· یہ تصور واضح کرتا ہے کہ اسلام میں مال صرف نعمت نہیں بلکہ ایک امانت اور امتحان بھی ہے۔


۲. حساب کے تین اہم پہلو


شدید حساب کے مندرجہ ذیل مراحل ہوں گے:


· کسب کے بارے میں: ہر پیسہ کہاں سے، کیسے اور کس طریقے سے کمایا؟ حلال تھا یا حرام؟

· حقوق کے بارے میں: اس مال میں اللہ کا حق (زکوٰۃ)، رشتہ داروں، مسکینوں اور معاشرے کے حقوق ادا ہوئے یا نہیں؟

· دل کے تعلق کے بارے میں: کیا مال دل پر چھا گیا تھا؟ کیا اس نے اللہ کی یاد اور آخرت کی فکر سے غافل کردیا تھا؟


۳. انتباہ، مذمت نہیں


یہ حدیث مالدار ہونے کی مذمت نہیں کرتی، بلکہ صحیح راستے پر چلنے کی ہدایت کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:


· انسان مال جمع کرتے وقت حلال و حرام کا فرق ملحوظ رکھے۔

· مال کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کا عادی بنے۔

· دولت کو دل میں جگہ نہ دے، بلکہ اسے صرف ہاتھ میں رکھے (یعنی اس کے ساتھ دل کا تعلق نہ ہو)۔


۴. پچھلی احادیث کے ساتھ ربط


یہ حدیث آپ کے ذکر کردہ پچھلے اقوال کی تکمیل کرتی ہے:


· "خيركم أزهدكم..." کے ساتھ ربط: زاہد وہی ہے جو مال کی کثرت کے باوجود اللہ کے حساب سے ڈرتا رہے۔

· "دعوا الدنيا لأهلها..." کے ساتھ ربط: ضرورت سے زیادہ مال اٹھانے والا شخص نہ صرف "جيفہ" (مردار) اٹھاتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ "أشد حسابا" (سخت تر حساب) بھی مول لیتا ہے۔

· "حلوة الدنيا..." کے ساتھ ربط: دنیا کی میٹھی چیز (مال) اگر بے حساب جمع کی جائے تو آخرت میں اس کا حساب بہت کڑوا ہوگا۔


عملی زندگی کے لیے رہنما اصول:


1. کسبِ حلال پر سختی سے عمل کریں۔

2. مال آتے ہی سب سے پہلے زکوٰۃ اور دیگر واجب حقوق ادا کریں۔

3. مال کو دل میں نہ بٹھائیں، بلکہ ایک مفید ذریعہ سمجھیں۔

4. ہمیشہ یاد رکھیں کہ مال کی ہر اضافی اکائی آپ کے حساب کی کتاب میں اضافی سوال بن جائے گی۔


نتیجہ: یہ حدیث مومن کے لیے ایک تنبیہی آلارم ہے کہ وہ مال و دولت کی دوڑ میں اس بات کو ہرگز نہ بھولے کہ ہر درہم و دینار کے بارے میں ایک دن اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ یہی خیال اسے حرام کمائی، حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی، اور مال کے ساتھ دل لگا نے سے بچائے گا۔




حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لا يكون زاهدا حتى يكون متواضعا.

ترجمہ:

(انسان) اس وقت تک زاہد نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ متواضع ہوجائے۔

[المعجم الكبير-للطبراني:10048، کنزالعمال:6119]


اسباق ونکات:

1. زہد کا اصل مقصد: تکبر کو ختم کرنا

· زہد کا مقصد صرف دنیا سے بے رغبتی نہیں، بلکہ اس کے ذریعے انانیت، تکبر اور احساسِ برتری کو ختم کرنا ہے۔

· اگر کوئی شخص دنیا سے بے رغبتی کا دعویٰ کرے لیکن اس کے اندر تکبر ہو، تو اس کا زہد ناقص اور بے روح ہے۔


2. تواضع: زہد کی اصل روح

· تواضع وہ روح ہے جو زہد کے عمل کو حقیقی معنوں میں عبادت بنا دیتی ہے۔

· بغیر تواضع کے، زہد محض ایک ظاہری ریاکاری یا اخلاقی برتری کا غرور بن کر رہ جاتا ہے۔

· حقیقی زاہد وہ ہے جو دنیا چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کے غرور کو بھی چھوڑ دے۔


3. عملی زندگی میں تعلق:

· زہد آپ کو ظاہری سادگی اختیار کرنے پر ابھارتا ہے۔

· تواضع آپ کو دل کی فروتنی اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

· مثال: سادہ کپڑے پہننا زہد ہے، لیکن دوسرے سادہ کپڑے پہننے والوں کو اپنے سے کمتر سمجھنا تکبر ہے۔ تواضع یہیں پر اس تکبر کو ختم کرتی ہے۔


4. پچھلی احادیث کے ساتھ ہم آہنگی:

یہ قول آپ کے زیر بحث سابقہ احادیث کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے:

· "خيركم أزهدكم...": سب سے بہتر شخص وہ ہے جو دنیا سے بے رغبت ہو۔ اب اس قول سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بے رغبتی تواضع کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

· "ذو الدرهمين أشد حسابا...": زیادہ مال والے کے سخت حساب میں سے ایک حساب یہ بھی ہوگا کہ کیا اس کے مال نے اس میں تکبر اور غرور پیدا کر دیا تھا؟ تواضع اس خطرے سے بچاتی ہے۔

· "دعوا الدنيا لأهلها...": دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہ سمجھا جائے۔ یہی تواضع ہے۔


عملی زندگی کے لیے اصول:

1. اپنی ہر ظاہری عبادت اور سادگی کے پیچھے اپنے دل کا جائزہ لیں: کیا میں واقعی عاجز ہوں یا صرف دکھاوا کر رہا ہوں؟

2. علم، عبادت یا دنیوی ترک کے سبب کبھی بھی دوسرے مسلمان بھائی کو اپنے سے کم تر مت سمجھیں۔

3. یاد رکھیں: اللہ کے نزدیک معیار تقویٰ ہے، نہ کہ ظاہری سادگی یا مال کی کثرت۔

4. ہمیشہ اس دعا پر عمل کریں جسے رسول اللہ ﷺ اکثر پڑھا کرتے تھے:

       "اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا"

       (اے اللہ! تو مجھے میری اپنی نظر میں چھوٹا کر دے، اور لوگوں کی نظر میں بڑا کر دے۔)


نتیجہ:

اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی کامیابی دوہری ترک پر مشتمل ہے:

1. ظاہر کا ترک: دنیا کی فضول خواہشات اور نمود و نمائش کو ترک کرنا۔ (یہ زہد ہے)

2. باطن کا ترک: اپنے دل سے تکبر، غرور اور خود پسندی کو نکال پھینکنا۔ (یہ تواضع ہے)

   دونوں مل کر ہی مومن کو حقیقی آزادی اور اللہ کے قرب کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔





شرح للمناوی:

"(کوئی شخص) زاہد نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ متواضع نہ ہو جائے۔ یعنی (وہ) بندوں کے لیے نرم خو (اور) جھکے ہوئے پروں والا (عاجز و انکسار والا) ہو۔"

[فیض القدیر-للمناوی:9862]


شرح سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

امام المناوی رحمہ اللہ نے "لا يكون زاهدا حتى يكون متواضعا" کی جو تشریح فرمائی ہے، اس میں تواضع کی حقیقت کو دو خوبصورت علامات سے واضح کیا ہے:

1. تواضع کی دو عملی علامتیں:

امام صاحب فرماتے ہیں کہ متواضع وہ شخص ہے جو:

· "لين الجانب": نرم خو اور ملنسار ہو۔ اس کا رویہ دوسروں کے لیے کڑوا یا اکھڑا نہ ہو۔

· "مخفوض الجناح": جھکے ہوئے پروں والا (یعنی عاجزی اور انکساری اختیار کرنے والا) ہو۔ یہ محاورہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو تکبر کی بجائے عجز و انکساری دکھاتا ہے۔


2. تواضع کا ہدف: "عباد الله"

یہ نرمی اور انکساری کا ہدف صرف "عباد الله" یعنی اللہ کے بندے ہیں۔ اس سے مراد:

· خاص طور پر عام مسلمان، چاہے وہ غریب ہوں، کم علم ہوں یا معمولی مقام رکھتے ہوں۔

· تواضع کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے علم، عمل یا زہد کے باعث اپنے آپ کو ان سے برتر نہ سمجھیں۔


3. زہد کی کسوٹی: دوسروں کے ساتھ سلوک

اس شرح سے معلوم ہوا کہ:

· کسی کے زہد کی اصل آزمائش اس کی تنہائی یا اس کے لباس میں نہیں، بلکہ لوگوں کے درمیان اس کے برتاؤ میں ہے۔

· اگر کوئی شخص سادہ زندگی گزارتا ہے لیکن لوگوں سے اکھڑا، مغرور یا سخت ہے، تو اس کا زہد ناقص ہے۔

· حقیقی زاہد وہ ہے جس کا زہد اسے لوگوں کے قریب کرے، ان سے دور نہ کرے۔


4. پچھلے تمام احادیث/اقوال کے ساتھ مکمل ہم آہنگی:

سابقہ حدیث/قول اس شرح کے ساتھ ربط

"خيركم أزهدكم..." (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) بہترین ہونے کے لیے صرف بے رغبتی کافی نہیں، بلکہ اس بے رغبتی کے نتیجے میں "لين الجانب" (نرم خوئی) پیدا ہونی چاہیے۔

"ذو الدرهمين أشد حسابا..." (دو درہم والے کا حساب سخت ہے) زیادہ مال والے سے پوچھا جائے گا: کیا تیرے مال نے تجھے "مخفوض الجناح" (عاجز) بننے سے روکا؟ کیا تو مالدار ہو کر لوگوں سے اکھڑا ہو گیا؟

"دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) دنیا کو چھوڑنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔

"حلوة الدنيا مرَّة الآخرة" (دنیا کی مٹھاس آخرت میں کڑوی ہے) اگر دنیا کی "مٹھاس" (مال، مقام) نے آپ کو لوگوں کے ساتھ سخت بنا دیا، تو یقیناً یہ آخرت میں کڑوی ہوگی۔


عملی زندگی کے لیے مختصر رہنما:

1. اپنے زہد یا تقویٰ کو کبھی بھی دوسروں پر فوقیت جتانے کے لیے استعمال نہ کریں۔

2. ہمیشہ چھوٹوں پر شفقت، بڑوں سے ادب، اور ہم مرتبہ لوگوں سے حسن سلوک کو اپنا شعار بنائیں۔

3. یاد رکھیں: رسول اللہ ﷺ سب سے بڑے زاہد تھے، مگر آپ ﷺ کی تواضع، نرم خوئی اور ہر کسی کے ساتھ خندہ پیشانی سب سے زیادہ تھی۔


نتیجہ:

امام المناوی کی یہ شرح ہمیں بتاتی ہے کہ زہد کی تکمیل اخلاق میں ہوتی ہے۔ دنیا سے بے رغبتی کا اصل ثمرہ یہ ہے کہ انسان کا دل دنیاوی چیزوں سے خالی ہو کر اللہ کے بندوں کے لیے محبت، نرمی اور عاجزی سے بھر جائے۔ یہی وہ "لين الجانب مخفوض الجناح" کا حقیقی روپ ہے جو ایک مومن کو دنیا و آخرت میں سرخرو کرتا ہے۔




حضرت ابی امامہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا،  فَقُلْتُ: لَا، يَا رَبِّ، وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ ثَلَاثًا، وَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ، وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ.

ترجمہ:

میرے رب (اللہ تعالیٰ) نے مکہ کے پہاڑوں کو سونے کا بنا کر میرے سامنے پیش کیا، تو میں نے عرض کی، اے میرے رب! میں (دنیا میں) ایک روز سیر اور ایک روز بھوک سے رکھ، (کیونکہ) جب میں خالی پیٹ ہوں گا تو آپ کی طرف زاری کروں گا، اور آپ کو یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو آپ کی تعریف اور شکر کروں گا۔

[طبرانی:7835، سنن الترمذی:2347، مسند احمد:22190، شرح السنۃ للبغوی:4044، شعب الایمان-للبیھقی:1467،10410، کنزالعمال:6120]


القرآن:

بڑی شان ہے اس (اللہ) کی جو اگر چاہے تو تمہیں ان سب سے کہیں بہتر چیز، (ایک باغ کے بجائے) بہت سے باغات دیدے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور تمہیں بہت سے محلات کا مالک بنا دے۔

[سورۃ الفرقان، آیت نمبر 10 ﴿تفسیر البغوی:1552﴾]


---


💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اہم اسباق و نکات:


1. رسول اللہ ﷺ کا اعلیٰ ترین مقامِ زہد

· آپ ﷺ کو پوری وادیِ مکہ کے سونے میں تبدیل ہونے کا عالمی معاشی اختیار پیش کیا گیا، مگر آپ ﷺ نے اسے ٹھکرا دیا۔

· یہ صرف سادگی نہیں، بلکہ دنیا کی سب سے بڑی دولت کو اللہ کی رضا کے آگے ہیچ سمجھنے کا عمل ہے۔


2. بھوک کو یادِ الہٰی کا ذریعہ بنانا

· آپ ﷺ نے جان بوجھ کر بھوک کو ترجیح دی تاکہ اس کے ذریعے:

  · اللہ کے سامنے عاجزی اور گڑگڑاہٹ ("تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ") بڑھے۔

  · دل کی یکسوئی کے ساتھ ذکر ("وَذَكَرْتُكَ") ہو سکے۔

· یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسائش بعض اوقات غفلت کا سبب بن جاتی ہے، جبکہ تنگی یادِ الہٰی کا سبب بنتی ہے۔


3. ہر حال میں شکرگزاری

· آپ ﷺ نے دونوں حالات (بھوک اور سیری) کو عبادت میں تبدیل کرنے کا فارمولا دیا:

  · تنگی میں: تضرع (گڑگڑاہٹ) + ذکر

  · آسائش میں: حمد (تعریف) + شکر

· اس سے معلوم ہوا کہ مومن کا ہر حال عبادت ہے، خواہ وہ مشکل ہو یا آسان۔


4. "روزے" کی روحانی حکمت کی طرف اشارہ

· یہ رویہ درحقیقت ہمہ وقت روحانی روزے کا مفہوم رکھتا ہے:

  · بھوک پیٹ کے روزے کی مانند ہے جو دل کو نرم کرتی ہے۔

  · سیری کے وقت شکر کا اظہار نعمت کے روحانی روزے کی مانند ہے۔


5. پچھلی تمام تعلیمات کا خلاصہ

یہ حدیث آپ کے زیربحث پچھلے تمام اقوال کی عملی تفسیر ہے:

۔ "خيركم أزهدكم..." (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) سونے کی پوری وادی کو ٹھکرانا زہد کی انتہا ہے۔

۔ "ذو الدرهمين أشد حسابا..." (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) آپ ﷺ نے اس سخت حساب سے بچنے کے لیے مال کی کثرت سے اجتناب کیا۔

۔ "دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) آپ ﷺ نے دنیا (سونے کی وادی) کو دنیا والوں کے لیے چھوڑ دیا۔

"لا يكون زاهدا حتى يكون متواضعا" (زاہد متواضع ہوتا ہے) بھوک میں تضرع اور گڑگڑاہٹ تواضع کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔

۔ "لين الجانب مخفوض الجناح" (نرم خو اور جھکا ہوا) اللہ کے سامنے گڑگڑانا "مخفوض الجناح" (جھکے ہوئے پروں والے) ہونے کی اصل تصویر ہے۔


🕌 عملی زندگی کے لیے رہنمائی:

1. ضرورت اور لالچ میں فرق: مال و دولت صرف ضرورت کے مطابق حاصل کریں، لالچ اور جمع کرنے کی ہوس سے بچیں۔

2. تنگی کو روحانی موقع سمجھیں: مالی تنگی، بیماری یا پریشانی کے اوقات کو اللہ سے قربت، دعا اور عجز کا موقع سمجھیں۔

3. آسائش میں شکرگزاری: خوشحالی کے وقت شکر کے الفاظ، صدقہ اور اللہ کی حمد کو معمول بنائیں۔

4. "ذکر" کو ہمہ وقت بنائیں: آپ ﷺ کا یہ اصول ہے کہ ہر حال میں اللہ کا ذکر جاری رہے، خواہ بھوک ہو یا سیری۔


نتیجہ:

یہ حدیث ہمیں حقیقی کامیابی کا راستہ دکھاتی ہے۔ یہ راستہ مال و دولت کا نہیں، بلکہ اللہ سے تعلق کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ حقیقی دولت وہ ہے جو اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرے، نہ کہ وہ جو بینک بیلنس بڑھائے۔ یہی وہ "زہد" ہے جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔




حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ.

ترجمہ:

غنا و بےنیازی یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے نا امیدی ہو۔

[المعجم ابن الأعرابي:2329، طبراني:10239، المعجم الأوسط:5778،  الفوائد-تمام:1653، کنزالعمال:6121]

حلية الاولیاء:(٤/ ١٨٨ و ٨/ ٣٠٤)


---


💎 مرکزی سبق: دل کی حتمی آزادی


یہ قول دنیا سے بے رغبتی اور توکل کے اعلیٰ ترین درجے کی طرف اشارہ کرتا ہے:


· "الیاس" (مایوسی) کا یہاں مثبت مفہوم ہے — امید اور طمع کا خاتمہ۔

· مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل لوگوں کے مال، ان کی مدد، ان کی تعریف اور ان کے عطیات سے اس طرح خالی ہو جائے کہ اسے ان سے کوئی امید وابستہ نہ رہے۔

· یہ اللہ پر پورے طور پر بھروسے (توکل) کی علامت ہے، کیونکہ جب بندہ مخلوق سے مایوس ہو جاتا ہے تو پوری طرح خالق کی طرف رجوع ہو جاتا ہے۔


---


📊 پچھلی تمام تعلیمات کے ساتھ ربط


یہ قول آپ کے ذکر کردہ سارے سلسلے کو ایک لازمی نتیجے پر پہنچاتا ہے:


پچھلی تعلیمات اس قول "الیأس مما فی أیدی الناس" کے ساتھ تعلق

1. دنیا کی مٹھاس آخرت میں کڑوی ہے جب آپ لوگوں کے پاس موجود دنیا (مال، مقام) سے دل ہٹا لیں گے، تو اس کی "مٹھاس" آپ کو آخرت کی کامیابی سے محروم نہیں کرے گی۔

2. مال جمع کرنا مقصدِ زندگی نہیں مال جمع کرنے کی ہوس درحقیقت لوگوں سے امید (طمع) ہی تو ہے۔ اس سے مایوسی ہی اصل زہد ہے۔

3. بہترین شخص دنیا سے بے رغبت ہو دنیا سے بے رغبتی کا ایک بڑا حصہ لوگوں کے پاس موجود چیزوں سے بے رغبتی ہی ہے۔

4. دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو لوگوں کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے، اس سے مایوس ہو کر آپ عملاً دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

5. زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے زیادہ مال کی طمع اور لوگوں سے اس کی امید ہی تو انسان کو حرام و حلال کی تمیز سے غافل کرتی ہے، جو سخت حساب کا سبب بنتی ہے۔

6. زاہد متواضع ہوتا ہے حقیقی تواضع اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان لوگوں سے تعریف و مرتبہ کی امید ترک کر دے۔

7. نرم خو اور جھکا ہوا ہونا جب آپ لوگوں سے کسی چیز کے طلبگار نہیں رہیں گے، تو آپ کا رویہ فطری طور پر "لین الجانب" (نرم خو) ہو جائے گا۔

8. سونے کی وادی کو ٹھکرانا رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل اللہ کے سوا ہر چیز سے بے نیازی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔


---


🛠️ عملی زندگی کے لیے اقدامات


"لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے مایوس ہونے" کے کیا عملی معنی ہیں؟


1. مال و دولت کے معاملے میں:

   · کسی کے دولت مند ہونے پر رشک نہ کرنا۔

   · کسی کے مال یا میراث کی طرف طمع کی نظر سے نہ دیکھنا۔

   · یہ یقین رکھنا کہ رزق دینے والا صرف اللہ ہے، کوئی انسان نہیں۔

2. سماجی مرتبے کے معاملے میں:

   · لوگوں سے تعریف اور عزت کی امید نہ رکھنا۔

   · منصب یا عہدے کے لیے خوشامد اور چاپلوسی سے گریز کرنا۔

3. مدد و تعاون کے معاملے میں:

   · ضرورت کے وقت لوگوں سے مدد مانگنا جائز ہے، لیکن دل کا انحصار صرف اللہ پر ہو۔

   · اگر کوئی مدد نہ کرے تو دل میں اس کا بغض یا مایوسی نہ ہو، بلکہ یہ سمجھے کہ اللہ نے اس میں کوئی بھلائی نہیں رکھی۔

4. دل کی کیفیت:

   · ہمیشہ یہ دعا کرنا: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَاقَةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ"

   · (اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مفلسی سے، محتاجی سے، ذلت سے، اور اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔)


نتیجہ:


"الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس" درحقیقت آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا حتمی مقام ہے۔ یہ وہ قلبی اطمینان ہے جو انسان کو اس وقت ملتا ہے جب وہ:


1. دنیا کی بے ثباتی سمجھ لے (نظر درست)

2. اللہ کی عبادت کو محور بنا لے (ترجیح واضح)

3. مال کی ذمہ داری سمجھ لے (احساس ذمہ داری)

4. تواضع اور نرمی اختیار کر لے (اخلاق عالیہ)

5. اور آخر میں اپنا دل مخلوق کی محبت، خوف اور امید سے پاک کر کے خالق سے وابستہ کر لے۔


یہی وہ حقیقی آزادی ہے جس کی طرف یہ ساری تعلیمات رہنمائی کرتی ہیں۔




حضرت ابن مسعود ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الغنى اليأس مما في أيدي الناس، ومن مشى منكم إلى طمع من طمع الدنيا فليمش رويدا.

ترجمہ:

غنا یہ ہے کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے مایوسی ہوجائے، تم میں سے جو دنیا کی کسی لالچ کی طرف چلے تو وہ آہستہ چلے۔

[کنزالعمال:6122]

---


1. الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ


(حقیقی دولتمندی لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے مایوسی ہے)


📖 مفہوم و تشریح:


یہ قول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور حدیث کی کتابوں میں بھی اس معنی میں روایات آئی ہیں۔ اس کا گہرا مفہوم یہ ہے:


· "الغنى" (دولت مندی) کی دنیا میں عام تعریف یہ ہے کہ مال و دولت کا ذخیرہ ہو۔

· لیکن اسلام کی نظر میں حقیقی "الغنى" (دولت مندی) یہ ہے کہ آپ کا دل لوگوں کے پاس موجود مال، مقام، تعریف اور عطیات سے بے نیاز ہو جائے۔

· یہ قلبی غنیٰ ہے، جو درحقیقت حقیقی آزادی اور اطمینان ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ" (دولت مندی مال کی کثرت سے نہیں ہوتی، بلکہ دولت مندی دل کی بے نیازی ہے۔)


🔗 پچھلی تعلیمات کے ساتھ ربط:


یہ قول آپ کی گذشتہ تعلیمات کے منطقی نتیجے کو بیان کرتا ہے:


· جب آپ "دنیا سے بے رغبت" ہو جائیں گے (خيركم أزهدكم)،

· "دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ" دیں گے (دعوا الدنيا لأهلها)،

· اور "لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے مایوس" ہو جائیں گے (اليأس مما في أيدي الناس)،

· تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ حقیقی معنوں میں "دولت مند" (الغنى) ہو جائیں گے۔ یہ وہی قلبی سکون ہے جو ساری تگ و دو کا اصل مقصد ہے۔


---


2. وَمَنْ مَشَى مِنْكُمْ إِلَى طَمَعٍ مِنْ طَمَعِ الدُّنْيَا فَلْيَمْشِ رُوَيْدًا


(اور تم میں سے جو شخص دنیا کی کسی طمع (لالچ) کی طرف چلے، تو اسے آہستہ چلنا چاہیے)


📖 مفہوم و تشریح:


یہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اور اس میں گہری نصیحت اور انتباہ ہے:


· "طمع الدنیا" سے مراد دنیا کی ہر وہ چیز ہے جس کے حصول کی لالچ انسان کے دل میں ہو — چاہے وہ مال ہو، منصب ہو، شہرت ہو یا کوئی اور دنیوی فائدہ۔

· "فليمش رويدا" (آہستہ چلے) کا حکم ایک رمز اور اشارہ ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں:

  1. انتباہی پہلو: اس راستے پر جلدی مت کرو، کیونکہ یہ راستہ خطرناک ہے۔ ذرا سوچو، غور کرو کہ کہاں جا رہے ہو۔ یہ دنیا کی لالچ تمہیں اللہ سے دور اور آخرت میں تباہی تک لے جا سکتی ہے۔

  2. احتیاطی پہلو: اگر تمہیں دنیوی ضرورت ہی پوری کرنی ہے (جیسے حلال روزی کمانا)، تو پھر بھی لالچ اور ہوس کے بجائے توکل اور سنت کے طریقے سے کرو۔ بے جا دوڑ دھوپ اور حرص سے کام نہ لو۔


🔗 پچھلی تعلیمات کے ساتھ ربط:


یہ حدیث پچھلے سبق کا عملی فارمولا پیش کرتی ہے:


· "ذو الدرهمين أشد حسابا" والی حدیث نے مال کی زیادتی کے خطرات بتائے۔

· یہ حدیث بتاتی ہے کہ اس خطرناک راستے پر قدم رکھتے وقت ہی احتیاط کر لو۔

· جب آپ "اليأس مما في أيدي الناس" (لوگوں کے ہاتھ میں موجود چیز سے مایوس) ہو جائیں گے، تو پھر آپ میں "طمع الدنیا" (دنیا کی لالچ) ہی نہیں رہے گی، اور آپ کو "فليمش رويدا" (آہستہ چلنے) کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔


---


🔄 دونوں اقوال کا باہمی ربط اور حتمی سبق:


یہ دونوں جملے ایک دوسرے کے مثبت اور منفی پہلو بیان کرتے ہیں، گویا ایک مکمل ہدایت ہے:


"الْغِنَى الْيَأْسُ..."  (حقیقی دولت مندی) "وَمَنْ مَشَى إِلَى طَمَع..."  (دنیا کی لالچ کی طرف چلنے والے کے لیے)

مثبت ہدف  (تمہارا مقصد یہ ہونا چاہیے) منفی راستہ  (اس راستے سے بچو، یا انتہائی احتیاط سے چلو)

آزادی  (دل کی بے نیازی) غلامی  (لالچ دل کو غلام بنا لیتی ہے)

اطمینان  (قلبی سکون) بے چینی  (حصول کی دوڑ میں اضطراب)

نتائج: آخرت میں کامیابی خطرات: دنیا و آخرت دونوں میں نقصان


نتیجہ:


آپ کے زیربحث یہ سارا سلسلہ تعلیمات ایک روحانی سفر ہے جو ان دو نکات پر منتج ہوتا ہے:


1. تمہارا حقیقی ہدف: "الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس" ہو — یعنی ایسی قلبی دولت مندی حاصل کرو جس میں تمہارا دل مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہر چیز سے آزاد ہو۔

2. تمہارا بڑا خطرہ: "طَمَعِ الدُّنْيَا" (دنیا کی لالچ) ہے۔ اس کی طرف بھاگنے سے پہلے "فليمش رويدا" — رک کر سوچ لو کہ کیا تم ایک ایسی چیز کے پیچھے دوڑ لگا رہے ہو جو تمہیں تمہارے حقیقی ہدف ("قلبی غنیٰ") سے دور کر دے گی؟


یہی وہ حتمی حکمت ہے جو انسان کو دنیا کے دھوکے سے بچاتی ہے اور اسے آخرت کی کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔




حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

الغنى اليأس مما في أيدي الناس، وإياك والطمع فإنه الفقر الحاضر.

ترجمہ:

حقیقی دولتمندی لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے مایوسی ہے، اور تُو طمع (لالچ) سے بچ کیونکہ وہ موجودہ/حاضِر مفلسی ہے۔

[حاکم:8126، المعجم الأوسط:7753، جامع الاحادیث:44941، کنزالعمال:6123]


📖 مفہوم و تشریح


یہ قول درحقیقت دو حصوں پر مشتمل ایک مکمل ہدایت ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں:


1. الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ (حقیقی دولتمندی...):

   · اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل لوگوں کے پاس موجود مال، مراتب، تعریف اور دنیوی فوائد سے اس قدر بے نیاز ہو جائے کہ ان سے کسی چیز کی امید یا طمع ہی ختم ہو جائے۔

   · یہ قلبی دولت اور روحانی غنیٰ کی اعلیٰ ترین حالت ہے۔

2. وَإِيَّاكَ وَالطَّمَعَ فَإِنَّهُ الْفَقْرُ الْحَاضِرُ (اور طمع سے بچ...):

   · "إياك" کا لفظ شدید تنبیہ اور ڈرانا ظاہر کرتا ہے جیسے کہا جائے: "خبردار! طمع سے بچنا!"

   · "الطمع" وہ شدید لالچ اور حِرص ہے جو انسان کو کسی چیز کے پیچھے بے تاب کر دے۔

   · "الفقر الحاضر" (موجودہ/حاضِر مفلسی): یہ اس قول کی سب سے زوردار بات ہے۔ طمع کو مفلسی قرار دیا گیا ہے، اور وہ بھی ایسی مفلسی جو "آج اور ابھی" موجود ہے، کل کی نہیں۔


---


💎 مرکزی اسباق و نکات


1. طمع کی شناخت اور اس کی حقیقت


· طمع صرف مال کی ہوس نہیں، بلکہ ہر وہ چیز جس کے حصول کی لالچ دل میں ہو — چاہے وہ منصب ہو، شہرت ہو، تعریف ہو یا کوئی اور دنیوی فائدہ۔

· طمع کی حقیقت یہ ہے کہ وہ بظاہر تو امید ہے مگر درحقیقت مفلسی ہے۔ طمعگار شخص:

  · ہمیشہ کم تر محسوس کرتا ہے۔

  · ہمیشہ حاجت مند رہتا ہے۔

  · اس کا دل غیر مطمئن رہتا ہے۔

  · یہی تو "الفقر الحاضر" ہے — ایک ایسی روحانی مفلسی جو اس کے ساتھ ہر وقت حاضر رہتی ہے، چاہے وہ کروڑوں کا مالک ہی کیوں نہ ہو۔


2. دو متضاد قلبی حالتیں: "الغنى" بمقابلہ "الفقر"


یہ قول دو قلبی کیفیات کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر سمجھاتا ہے:


حالتِ قلب "الْغِنَى" (حقیقی دولتمندی) "الطَّمَع" (لالچ) = "الْفَقْرُ الْحَاضِر" (موجودہ مفلسی)

تعریف الیأس مما فی أیدی الناس  (لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی/بے نیازی) حرص اور لالچ  (لوگوں کے ہاتھ کی چیز کی شدید خواہش)

نتیجہ آزادی و اطمینان  (دل مالک ہوتا ہے، محتاج نہیں) غلامی و بے چینی  (دل محتاج ہوتا ہے، مالک نہیں)

ظاہری صورت ممکن ہے غریب نظر آئے ممکن ہے امیر نظر آئے

باطنی حقیقت حقیقی امیر (دل کا غنی) حقیقی فقیر (دل کا محتاج)


---


🔗 پوری سیرتِ تعلیمات کے ساتھ مکمل ربط


یہ قول آپ کے زیربحث پوری سیرت کا منطقی اختتام اور حتمی خلاصہ ہے:


پچھلی تعلیمات کا سلسلہ اس قول کے ساتھ ربط: "الغنى اليأس..." اس قول کے ساتھ ربط: "إياك والطمع..."

1. دنیا کی مٹھاس کڑوی جب دل لوگوں سے بے نیاز ہو، تو دنیا کی "مٹھاس" دل کو لگتی ہی نہیں۔ طمع ہی تو ہے جو انسان کو اس "کڑوی مٹھاس" کی طرف کھینچتا ہے۔

2. مال جمع کرنا مقصد نہیں مال جمع کرنے کی دوڑ دراصل لوگوں سے امید و طمع کا نتیجہ ہے۔ طمع ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو مال جمع کرنے پر اکساتا ہے۔

3. بہترین شخص زاہد ہے زاہد کا دل "اليأس مما في أيدي الناس" (بے نیازی) کی وجہ سے ہی بے رغبت ہوتا ہے۔ طمع، زہد کی ضد ہے۔ طمعگار شخص حقیقی زاہد نہیں ہو سکتا۔

4. دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو یہ اصول اسی وقت پورا ہوگا جب دل میں "اليأس مما في أيدي الناس" ہوگا۔ طمع ہی انسان کو دوسروں کا حق مارنے اور دنیا پر قبضہ جمانے پر اکساتا ہے۔

5. زیادہ مال کا سخت حساب سخت حساب کا ایک بڑا سبب مال کے ساتھ طمع اور دل لگاؤ ہی ہے۔ طمع ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو حرام و حلال کی تمیز بھلا دیتا ہے۔

6. زاہد متواضع ہوتا ہے حقیقی تواضع اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان لوگوں سے کسی چیز کی طمع ترک کر دے۔ طمعگار شخص اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے چاپلوسی کرتا ہے یا مایوس ہو کر تکبر کرتا ہے۔

7. نرم خو اور جھکا ہوا جب آپ طمع سے پاک ہوں گے، تو دوسروں کے ساتھ سچی نرمی سے پیش آسکیں گے۔ طمع انسان کے رویے کو مصنوعی، کڑوا یا مفاد پرست بنا دیتی ہے۔

8. سونے کی وادی کو ٹھکرانا یہ عمل "اليأس مما في أيدي الناس" کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ یہ عمل "إياك والطمع" (طمع سے بچنے) کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔

9. آہستہ چلو (فليمش رويدا) یہ وہ حالتِ مقصود ہے جس تک پہنچنا ہے۔ یہ وہ خطرناک راستہ ہے جس پر آہستہ چلنے کی تنبیہ کی گئی۔


---


🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی


1. خود کو پرکھیں: اپنے دل کا جائزہ لیں۔ کیا آپ کسی کے مال، اس کے عہدے، اس کی تعریف یا اس کی توجہ کے طالب ہیں؟ اگر ہاں، تو سمجھ لیں کہ آپ "الفقر الحاضر" (موجودہ مفلسی) کا شکار ہیں۔

2. دعا کریں: رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ"۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و پریشانی سے، عاجزی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے)۔

   · "غَلَبَةِ الرِّجَالِ" (لوگوں کے غلبے) سے پناہ مانگنا درحقیقت "الطمع" اور "اليأس مما في أيدي الناس" کے عدم توازن سے پناہ مانگنا ہے۔

3. عمل کریں: اپنی ضروریات کو محدود رکھیں۔ دوسروں کو دینے کی عادت ڈالیں (صدقہ، تحفہ، مدد)۔ اس سے دل میں بے نیازی پیدا ہوتی ہے اور طمع ختم ہوتی ہے۔


حتمی نتیجہ:


"الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ، وَإِيَّاكَ وَالطَّمَعَ فَإِنَّهُ الْفَقْرُ الْحَاضِرُ" کا قول درحقیقت آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا حتمی نچوڑ ہے۔


یہ ہمیں بتاتا ہے کہ:


· تمہاری منزل: "الغنى" (دل کی دولت مندی) ہے، جو "اليأس مما في أيدي الناس" (لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے بے نیازی) سے حاصل ہوتی ہے۔

· تمہارا سب سے بڑا دشمن: "الطمع" (لالچ) ہے، جو درحقیقت "الفقر الحاضر" (تمہاری موجودہ روحانی مفلسی) ہے۔


یہی وہ آخری حکمت ہے جو انسان کو دنیا کے دھوکے سے بچا کر اسے حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے — وہ کامیابی جو دل کے اطمینان میں ہے، نہ کہ ہاتھوں کے ذخیرے میں۔



ایک انصاری شخص نے کہا: اے رسول اللہ! مجھے مختصر سی نصیحت کریں، آپ نے فرمایا: (1)جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوسی اختیار کرلو (2)اور لالچ سے بچنا کیونکہ وہ موجودہ فقر(محتاجی) ہے۔

[مستدرك حاكم:7928، كتاب الزهد للبيهقي:101، مسند الرويانى:1538، مسند الديلمى:4069، مجمع الزوائد:7129، جامع الأحاديث للسيوطي:14228]


القرآن:

...(مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔۔

[سورۃ البقرۃ:273»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:2/96]

تشریح:

"لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے مایوس ہو جانا لازم کرلو (یعنی اس سے ناامیدی اختیار کرو)"۔ اور ایک روایت میں "الیاس" کی جگہ "الیاس" (یعنی ناامیدی) ہے، جو امید کے برعکس ہے۔ یعنی (لوگوں کے مال و دولت سے) پکی ناامیدی اختیار کرو اور اپنے آپ کو اس سے بالکل ناامید کر لو۔ اور ایک روایت میں "فإنه غني" (یعنی وہ بے نیاز ہے) کے بعد یہ اضافہ ہے: "اور طمع(لالچ) سے بچو" یعنی اس سے پرہیز کرو، "کیونکہ یہ موجودہ فقر (یعنی فقیری) ہے"۔ اسی لیے بعض عارفین کہتے ہیں: جو شخص قناعت سے محروم ہو، مال اس کے فقر (یعنی حاجت مندی) کو سوائے مزید بڑھانے کے کچھ نہیں دیتا۔

"اور اپنی نماز ایسے پڑھو جیسے (دنیا سے) رخصت ہونے والا شخص ہو" یعنی نماز کا آغاز اس حال میں کرو کہ تو دوسروں کو چھوڑ کر اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے اور اپنی پوری توجہ کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو۔

"اور اس کام سے بچو جس کے لیے معذرت کرنی پڑے" یعنی ایسی بات کہنے سے پرہیز کرو جس کی وجہ سے تجھے معافی مانگنی پڑے۔

[فیض القدیر للمناوی: 5485]





حضرت جابر ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

فراش للرجل، وفراش لامرأته، والثالث للضيف، والرابع للشيطان.

ترجمہ:

"(گھر میں) ایک بستر آدمی کے لیے ہو، دوسرا بستر اس کی بیوی کے لیے ہو، تیسرا بستر مہمان کے لیے ہو، اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوگا"۔

[صحیح مسلم:2084، سنن ابوداؤد:4142، سنن النسائی:3385، صحیح ابن حبان:4157(673)، شرح السنۃ للبغوی:3127، مسند احمد:14124-14475، کنزالعمال:6124]

تشریح:

مراد یہ ہے کہ دنیا کی چیزوں کی کمی کرو کثرت سے بچو۔


القرآن:

یقین جانو کہ جو لوگ (بےہودہ کاموں میں) مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

[سورۃ الإسراء، آیت نمبر 27]


حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات:

---


💎 حدیث کا مرکزی سبق: کفایت اور توازن


یہ حدیث مسلمان کے ضروریاتِ زندگی میں اعتدال اور توازن کا واضح قانون بیان کرتی ہے۔ اس کا مقصد تنگ دستی نہیں، بلکہ فضول خرچی، عیش پرستی اور شیطانی وسوسوں سے بچانا ہے۔


---


🔍 تفصیلی اسباق:


1. بنیادی ضرورت کی تعریف


حدیث ہمیں بنیادی ضرورت کا معیار سکھاتی ہے:


· فراش للرجل: انسان کی اپنی بنیادی آرام گاہ۔

· ولامرأته: بیوی کا حق اور اس کی ذاتی ضرورت کا احترام۔

· والثالث للضيف: معاشرتی رابطے اور مہمان نوازی کی فرضیت۔

· ان تین سے زیادہ اضافی بستر جمع کرنا غیر ضروری ہے۔


2. خاندانی زندگی میں باہمی احترام


مرد اور عورت کے لیے الگ بستر کا ذکر درحقیقت دونوں کے:


· ذاتی وقار اور آرام کا خیال رکھنا سکھاتا ہے۔

· حقوق کی حدود متعین کرتا ہے۔

· گھریلو زندگی میں تنظیم و نظم کی ترغیب دیتا ہے۔


3. مہمان نوازی: معاشرتی فریضہ


تیسرے بستر کو "مہمان کے لیے" خاص کرنا اسلام میں مہمان نوازی کے مقام کو ظاہر کرتا ہے:


· مسلمان کا گھر صرف ذاتی استعمال کے لیے نہیں، بلکہ معاشرتی خدمت کے لیے بھی ہونا چاہیے۔

· یہ انفاق اور ایثار کی عملی تربیت ہے۔


4. شیطان کا راستہ: زائدہ پرستی


"والرابع للشيطان" کا جملہ انتہائی پر معنی ہے:


· ہر غیر ضروری اور زائد چیز شیطان کے لیے داخلے کا راستہ بن جاتی ہے۔

· یہ زائد چیز انسان کو عیش پرستی، نمود و نمائش اور حرص میں مبتلا کر سکتی ہے۔

· اس سے دل کی سختی، شکرگزاری میں کوتاہی اور آخرت سے غفلت پیدا ہوتی ہے — یہ سب شیطانی اثرات ہیں۔


5. وسائل کی منصفانہ تقسیم


جب ہر شخص ضرورت بھر ہی رکھے گا، تو:


· معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی۔

· امیروں کے ہاں غیر ضروری جمع غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

· یہ درحقیقت "دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) کا عملی اطلاق ہے۔


---


📊 پچھلی تمام تعلیمات کے ساتھ ربط


یہ حدیث آپ کے زیربحث پوری سیرتِ تعلیمات کا عملی اور ٹھوس اطلاق ہے:


پچھلی تعلیمات اس حدیث "فراش للرجل..." کے ساتھ عملی ربط

"دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) تین بستر تک اپنی ضرورت ہے، باقی دوسروں کے لیے چھوڑ دو۔ چوتھا بستر جمع کرنا دوسرے محتاج کے حق کو مارنا ہے۔

"خيركم أزهدكم" (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) زہد یہ ہے کہ آپ صرف تین بستروں پر اکتفا کریں، حالانکہ آپ زیادہ جمع کر سکتے ہیں۔

"ذو الدرهمين أشد حسابا" (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) ہر چوتھے بستر (زائد مال) کے بارے میں قیامت میں سوال ہوگا کہ یہ کیوں جمع کیا؟

"لا يكون زاهدا حتى يكون متواضعا" (زاہد متواضع ہوتا ہے) تین بستروں پر قناعت کرنے والا متواضع ہے۔ چوتھے بستر کی طمع میں پڑنا تکبر کی علامت ہے (میں اس سے بہتر ہوں)۔

"اليأس مما في أيدي الناس" (لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی) جب آپ "الفراش الرابع" (چوتھے بستر) کی طمع چھوڑ دیں گے، تو آپ درحقیقت "اليأس مما في أيدي الناس" پر عمل کریں گے۔

"إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) چوتھے بستر کی خواہش ہی طمع ہے، جو "الفقر الحاضر" (موجودہ روحانی مفلسی) ہے۔

"عرض علي ربي ليَجعل لي بطحاء مكة ذهبا" (سونے کی وادی کو ٹھکرانا) رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل "الفراش الرابع" (چوتھے بستر) سے بھی بڑھ کر زہد کی اعلیٰ مثال ہے۔


---


🛠️ عملی زندگی میں اطلاق


یہ حدیث صرف بستروں تک محدود نہیں، بلکہ ہر مال، ساز و سامان اور سہولت پر لاگو ہوتی ہے:


· گاڑیاں: ایک ضرورت کے لیے، دوسری بیوی/خاندان کے لیے، تیسری کاروبار کے لیے — چوتھی شیطان کے لیے۔

· مکان: ایک رہنے کے لیے — دوسرا شیطان کے لیے (بلا ضرورت کوٹھی یا زمین کا ذخیرہ)۔

· کپڑے: ضرورت بھر — اضافی شیطان کے لیے (فیشن اور نمود کے لیے)۔

· فرنیچر، برتن، سجاوٹ: ضرورت بھر — اضافی شیطان کے لیے۔


نتیجہ:


"فراش للرجل..." والی حدیث درحقیقت آپ کی زیربحث ساری تعلیمات کا عملی نمونہ اور آخری حد ہے۔ یہ ہمیں کفایت شعاری کا وہ واضح معیار دیتی ہے جو:


1. انسان کی بنیادی ضروریات پوری کرتا ہے۔

2. خاندانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔

3. معاشرتی ذمہ داری (مہمان نوازی) ادا کرتا ہے۔

4. شیطان کے راستوں (فضول خرچی، عیش پرستی، حرص) کو بند کرتا ہے۔


یہی وہ متوازن زندگی ہے جو انسان کو دنیا کی محبت میں ڈوبنے سے بچاتی ہے اور آخرت کی تیاری میں مدد دیتی ہے — اور یہی ساری روحانی تعلیمات کا حتمی مقصد ہے۔



حضرت فضل بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«فضوح الدنيا أَهْوَنُ ﴿ايسر﴾ ﴿خير﴾  مِنْ فضوح الْآخِرَةِ».

ترجمہ:

دنیا کی ذلت و رسوائی آخرت کی ذلت سے ہلکی ﴿آسان﴾ ﴿بہتر﴾ ہے۔

[مسند الشهاب للقضاعي:246، ﴿المعجم الأوسط-للطبراني:2629﴾ ﴿المعجم الكبير-للطبراني:718﴾ جامع الاحادیث-للسیوطی:10069، کنزالعمال:615]


📖 مفہوم و تشریح


یہ قول ایک گہری حقیقت بیان کرتا ہے جسے سمجھنا ہر عاقل کے لیے ضروری ہے۔


· "فَضُوحُ الدُّنْيَا" (دنیا کی رسوائی): اس سے مراد وہ شرمندگی، بے عزتی یا عیب جو دنیا میں کسی کے سامنے ظاہر ہو جائے۔ مثلاً:

  · مالی بدحالی پر لوگوں کی جانب سے طعنہ

  · کسی غلطی یا گناہ کے انکشاف پر لوگوں کی ملامت

  · معاشرے میں عزت کا نقصان

  · یہ عارضی ہے، چند دنوں، مہینوں یا سالوں کی بات ہے۔

· "فَضُوحُ الْآخِرَةِ" (آخرت کی رسوائی): یہ وہ عظیم اور ہولناک رسوائی ہے جو قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے ہوگی۔

  · جب انسان کے سب راز کھولے جائیں گے، چاہے وہ کتنے ہی چھپائے گئے ہوں۔

  · جب اعمال نامہ ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس میں درج ہر چھوٹے بڑے گناہ کو پڑھوایا جائے گا۔

  · جب ساری مخلوق (فرشتے، پیغمبر، تمام انسان) کے سامنے اس کی برائی ظاہر کی جائے گی۔

  · یہ رسوائی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے، اس کا اختتام نہیں۔


---


💎 مرکزی اسباق و نکات


1. ترجیحات کا صحیح تعین:

یہ قول ہمیں ہمیشہ بڑے نقصان کے مقابلے میں چھوٹے نقصان کو برداشت کرنے کی حکمت سکھاتا ہے۔

· اگر آپ کے سامنے دو راستے ہوں:

  1. دنیا میں تھوڑی سی شرمندگی اٹھا کر آخرت میں عزت حاصل کرنا۔

  2. دنیا میں ذرا سی عزت بچا کر آخرت میں ابدی رسوائی مول لینا۔

· عقلمند انسان پہلا راستہ اختیار کرے گا۔


2. گناہوں پر پردہ ڈالنے کا اصل مقام

انسان کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کے عیب دنیا میں ہی ڈھکے رہیں۔ لیکن اگر انتخاب کرنا پڑے تو:

· عیب دنیا میں ظاہر ہو جانا بہتر ہے، بشرطیکہ وہ توبہ و استغفار کا سبب بنے اور آخرت میں وہ عیب چھپ جائے۔

· عیب دنیا میں چھپانا برا ہے اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ وہی عیب آخرت میں کھل کر سامنے آ جائے۔


3. صبر کی اہمیت:

جب انسان کو دنیا میں کسی بات پر رسوائی یا بے عزتی اٹھانی پڑے (مثلاً سچ بات کرنے پر، دین پر قائم رہنے پر، گناہ چھوڑنے پر)، تو اسے صبر کرنا چاہیے۔ یہ چھوٹی رسوائی اس بڑی رسوائی سے بچا لے گی جو قیامت کے دن ہوگی۔

---

🔗  سیرتِ تعلیمات کے ساتھ مکمل ربط:

یہ قول درحقیقت آپ کے زیربحث ساری تعلیمات کا منطقی انجام اور حتمی انتباہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم نے پچھلی تمام تعلیمات پر عمل نہ کیا، تو اس کا آخری نتیجہ کیا ہوگا۔

پچھلی تعلیمات اگر ان پر عمل نہ کیا، تو نتیجہ "فَضُوحُ الْآخِرَةِ" (آخرت کی رسوائی)

1. "حلوة الدنيا مرَّة الآخرة" (دنیا کی مٹھاس آخرت میں کڑوی ہے) اگر تم نے دنیا کی "مٹھاس" (حرام لذتیں، عیش) کو ترجیح دی، تو آخرت میں اس کی "کڑواہٹ" تمہاری رسوائی کی شکل میں ظاہر ہوگی۔

2. "لا تجمع المال" (مال جمع مت کرو) اگر تم نے مال جمع کیا اور حقوق ادا نہیں کیے، تو قیامت میں وہی مال تمہارے چہرے پر مارا جائے گا — یہ عظیم رسوائی ہوگی۔

3. "خيركم أزهدكم" (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) اگر تم دنیا کے طالب بنے رہے، تو آخرت میں "طالب دنیا" کے طور پر پکارے جاؤ گے — یہ کیسی رسوائی ہوگی!

4. "دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) اگر تم نے دوسروں کا حق مار کر مال جمع کیا، تو قیامت میں مظلوم تمہارے گناہ لے کر کھڑا ہوگا — یہ سامنے رسوائی ہوگی۔

5. "ذو الدرهمين أشد حسابا" (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) سخت حساب کے دوران تمہاری ہر خردبرد اور حرص کھل کر سامنے آئے گی — یہ رسوائی ہوگی۔

6. "لا يكون زاهدا حتى يكون متواضعا" (زاہد متواضع ہوتا ہے) اگر تم نے زہد کا دعویٰ کیا مگر تکبر کیا، تو قیامت میں یہ ریاکاری ظاہر ہوگی — یہ رسوائی ہوگی۔

7. "إياك والطمع" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) طمع کی وجہ سے جو حرام کام کیے، وہ سب کے سامنے ظاہر ہوں گے — یہ رسوائی ہوگی۔

8. "الفراش الرابع للشيطان" (چوتھا بستر شیطان کا ہے) ہر غیر ضروری چیز کے بارے میں سوال ہوگا اور تم جواب نہ دے سکو گے — یہ رسوائی ہوگی۔

---

🛠️ عملی زندگی میں اطلاق: کس چیز سے ڈریں؟

ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لیتے وقت ہمیشہ یہ سوال کرنا چاہیے:

"کیا میں اس کام کو اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ یا اس لیے کہ اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے؟"

· غلط رویہ: کسی گناہ کو صرف اس لیے چھوڑنا کہ لوگ دیکھ لیں گے۔ جب لوگ نہ دیکھیں، تو وہی گناہ کرنا۔ یہ منافقت ہے، اور منافق کی آخرت میں سخت رسوائی ہے۔

· صحیح رویہ: کسی گناہ کو اس لیے چھوڑنا کہ اللہ دیکھ رہا ہے، اور وہ قیامت کے دن رسوا کر سکتا ہے۔ چاہے دنیا میں کوئی نہ دیکھے۔


نتیجہ:

یہ فرمان ہمارے سامنے دو رسوائیوں کا انتخاب رکھتا ہے۔

1. چھوٹی، عارضی رسوائی: جو دنیا میں آئے، اگر ہم نے سچ بولنے، حق پر قائم رہنے، گناہ چھوڑنے کی وجہ سے اٹھانی پڑے۔

2. بڑی، ابدی رسوائی: جو آخرت میں ہوگی، اگر ہم نے جھوٹ بولنے، باطل کی پیروی کرنے، گناہ کرنے کی وجہ سے دنیا میں ذرا سی عزت بچائی ہو۔

حکیم اور عقلمند انسان ہمیشہ پہلی رسوائی کو گوارا کر لیتا ہے، تاکہ دوسری رسوائی سے بچ سکے۔ یہی وہ حتمی حکمت ہے جو انسان کو دنیا کے دھوکے سے نکال کر آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔


زیربحث یہ ساری روحانی تعلیمات اسی ایک نکتے پر منتج ہوتی ہیں:

دنیا کی عارضی تکلیف (چاہے وہ بے رغبتی ہو، تنگی ہو، یا رسوائی ہو) آخرت کی دائمی مصیبت (عذاب اور رسوائی) سے بہتر ہے۔




📖 مفہومِ حدیث کی وضاحت:

· "فضوح" سے مراد وہ رسوائی، بے عزتی اور شرمندگی ہے جو کسی برے عمل کے ظاہر ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

· "أهون" کا مطلب ہے ہلکا، کم تر اور زیادہ قابلِ برداشت۔

· دنیا کی رسوائی: لوگوں کے درمیان بے عزتی ہو جانا، لوگوں کی نظر میں گر جانا۔ یہ عارضی، محدود اور موت کے ساتھ ختم ہونے والی ہے۔

· آخرت کی رسوائی: قیامت کے دن اللہ اور تمام مخلوق کے سامنے گناہوں کا کھل جانا، نامۂ اعمال کا دایاں/بائیں ہاتھ میں ملنا، جہنمی ہونے کی صورت میں سب کے سامنے ذلت اٹھانا۔ یہ دائمی، عالمگیر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔

---

💎 مرکزی سبق:

یہ قول انسان کو ترجیحات کے صحیح تعین کا احساس دلاتا ہے:

· لوگ دنیا میں لوگوں کی نظر اور اپنی شہرت بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، لیکن اللہ کی ناراضی اور آخرت کی رسوائی سے بے پروا ہوتے ہیں۔

· یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی خوف وہ ہے جو اللہ کے غضب کا ہو، نہ کہ لوگوں کی تنقید کا۔

· یہ ایک ذہنی توازن پیدا کرتا ہے: اگر آپ دنیا کی کسی معمولی رسوائی سے ڈرتے ہیں، تو پھر آخرت کی عظیم الشان رسوائی سے کہیں زیادہ ڈرنا چاہیے۔

---

📊 پچھلی تمام تعلیمات کے ساتھ ربط

یہ قول آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا ایک منطقی نتیجہ ہے:

پچھلی تعلیمات اس قول "فضوح الدنيا..." کے ساتھ ربط

"حلوة الدنيا مرَّة الآخرة"  (دنیا کی مٹھاس آخرت میں کڑوی ہے) دنیا کی "عزت و شہرت" (جو ایک مٹھاس ہے) اگر گناہ سے حاصل ہو تو آخرت میں رسوائی و ذلت (کڑواہٹ) بن جائے گی۔

"دعوا الدنيا لأهلها"  (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) دنیا کی "نمائش اور دکھاوا" (جس کے لیے لوگ مال جمع کرتے ہیں) دراصل آخرت میں رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔

"ذو الدرهمين أشد حسابا"  (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) سخت حساب ہی تو وہ موقع ہے جہاں آخرت کی رسوائی کا خدشہ ہے اگر مال غلط طریقے سے کمایا یا خرچ کیا گیا ہو۔

"لا يكون زاهدا حتى يكون متواضعا"  (زاہد متواضع ہوتا ہے) دنیا میں تواضع اختیار کرنا (اور ممکنہ طور پر لوگوں کی نظر میں "چھوٹا" لگنا) آخرت کی رسوائی سے بچاتا ہے اور وہاں اللہ کی نظر میں بلند درجہ دلاتا ہے۔

"إياك والطمع"  (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) طمع انسان کو ایسے گناہوں پر اکساتی ہے جو آخرت میں رسوائی کا سبب بن سکتے ہیں (جیسے رشوت، دھوکہ، چوری)۔

"فراش للرجل..."  (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے) زائد اور غیر ضروری مال جمع کرنا آخرت میں سوال و جواب اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے۔

"الغنى اليأس مما في أيدي الناس"  (حقیقی دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے) جب آپ لوگوں کی تعریف و مذمت سے آزاد ہو جائیں گے، تو آپ کو دنیا کی رسوائی کا کوئی خوف نہیں رہے گا۔ آپ صرف آخرت کی رسوائی سے بچنے کی فکر کریں گے۔

---

🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی:


یہ قول ہماری فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے:

1. گناہ سے بچنا: جب آپ کسی گناہ کے قریب ہوں، تو سوچیں: کیا میں اس چھوٹے سے دنیوی فائدے (لذت، فائدہ، شہرت) کے لیے آخرت کی عظیم رسوائی مول لوں؟

2. حق بات کہنا: اگر آپ کوئی حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، تو یاد کریں: "فَضُوحُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ"۔ لوگوں کی وقتی ناراضی آخرت کی دائمی ناراضی سے بہتر ہے۔

3. توبہ کرنا: اگر سے کوئی گناہ ہو گیا ہے، تو لوگوں سے شرمندہ ہونے کے بجائے اللہ سے شرمندہ ہوں اور فوراً توبہ کریں۔ دنیا کی شرمندگی عارضی ہے، آخرت کی شرمندگی دائمی ہے۔

4. آخرت کی فکر: اپنی تمام تر کوششوں کا محور آخرت میں عزت و کامیابی کو بنائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس کا مقصود زندگی آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں استغناء و بےنیازی پیدا کردیتا ہے، اور اسے دل جمعی عطا کرتا ہے، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے اور جس کا مقصود طلب دنیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس کی جمع خاطر کو پریشان کردیتا ہے اور دنیا اس کے پاس اتنی ہی آتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہے۔" (ترمذی: 2465)


نتیجہ:

یہ حدیث درحقیقت آپ کے زیربحث سارے سفرِ روحانی کا ایک اہم منطقی انجام ہے۔

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ:

· اگر ہم نے دنیا کی بے ثباتی سمجھ لی (حلوة الدنيا...)

· دنیا سے بے رغبتی اختیار کر لی (خيركم أزهدكم...)

· لوگوں سے بے نیازی حاصل کر لی (اليأس مما في أيدي الناس)

· اور طمع سے بچ گئے (إياك والطمع...)


تو پھر ہمارے سامنے آخری امتحان یہ ہوگا: کہ ہم اپنی تمام تر کوششوں کو آخرت کی کامیابی اور آخرت کی رسوائی سے بچنے پر مرکوز رکھیں۔

یہی وہ حتمی کامیابی ہے جس کی طرف یہ ساری تعلیمات ہماری رہنمائی کرتی ہیں — دنیا کی عارضی رسوائی کے خوف سے نکل کر آخرت کی دائمی رسوائی کے خوف میں زندگی گزارنا، اور اسی خوف کے ذریعے اللہ کی رضا اور جنت کی دائمی عزت حاصل کرنا۔




📖 شرح للمناوی:

(دنیا کی ذلت و رسوائی آخرت کی ذلت سے ہلکی ﴿آسان﴾ ﴿بہتر﴾ ہے۔) یعنی دنیا میں جو عار اور تکلیف نفس کو اپنے عیوب کے لوگوں میں کھل جانے اور پھیل جانے سے ہوتی ہے، یہ اس حالت سے ہلکی ہے کہ وہی عیوب چھپائے جائیں اور انسان انہیں لئے ہوئے لوگوں کے سامنے ملطخ (آلودہ) رہے، یہاں تک کہ قیامت کے بڑے موقف پر تمام حاضرین کے سامنے وہ عیوب نشر و شہرت پا جائیں۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ نے اس عورت سے فرمائی جو (بے بنیاد شک کے باعث) اپنے خاوند کے ساتھ مُلاعنہ کرنا چاہتی تھی (تاکہ وہ سچائی ظاہر کر سکے)۔ لہٰذا جو شخص کسی ایسے معاملے میں مبتلا ہو جس میں کسی کی جان یا مال میں خیانت، کمی یا کوئی حق واجب الادا ہو، اسے چاہیے کہ (صرف) عار و فضيحہ کے خوف سے اس حق کو ادا کرنے سے انکار نہ کرے۔


💎 شرح سے نکات و اسباق


1. فضيحہ کا درست تصور: "کھل جانا" بمقابلہ "چھپا رہنا"

· دنیا کی فضيحہ: یہ ایک "محدود علاج" کی مانند ہے۔ عیوب کا "کشف" (کھل جانا) اور "نشر" (پھیل جانا) درحقیقت "استحلال" (حق دار کو مطمئن کرنا) اور "تنصل" (اپنے آپ کو اس گناہ سے پاک کر لینے) کا ذریعہ ہے۔ یہ ایک تکلیف ضرور ہے، لیکن شفا یابی کے لیے ہے۔

· آخرت کی فضيحہ: یہ ایک "لا علاج مرض" کی مانند ہے۔ عیوب کا "كتمان" (چھپانا) اور "بقائها على رؤوس الناس ملطخا بها" (لوگوں کے سامنے آلودہ رہنا) درحقیقت اس مرض کو بڑھانا ہے، یہاں تک کہ وہ "الموقف الأعظم" (عظیم ترین محشر) میں "على رؤوس الأشهاد" (تمام گواہوں کے سامنے) مکمل طور پر "تنشر وتشهر" (پھیل اور مشہور) ہو جائے۔


2. ندامت کی دو اقسام: "شفا بخش" بمقابلہ "مہلک"

· "عار ومشقة" (شرمندگی اور تکلیف) جو دنیا میں ہو: یہ ایک صحیح اور ضروری ندامت ہے جو انسان کو گناہ سے پاک کرتی ہے۔ یہ توبہ کا حصہ ہے۔

· جو شرمندگی آخرت میں ہو: یہ ایک بے فائدہ، تباہ کن اور دائمی رسوائی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ عذاب کا حصہ ہے۔


3. حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے رد عمل پر رسول اللہ ﷺ کا جواب

شرح میں مذکور ہے کہ یہ کلمہ آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا جب ایک شخص نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے "فَضَحْتَ نَفْسَكَ" (تو نے اپنی ذات کو رسوا کر دیا) کہا۔

آپ ﷺ کا جواب ("فضوح الدنيا أهون...") درحقیقت یہ سبق دیتا ہے:

· حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ردعمل دنیوی شرمندگی کے خوف پر مبنی تھا۔

· رسول اللہ ﷺ کا جواب آخرت کی شرمندگی کے خوف کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

· اس سے معلوم ہوا کہ نیک ترین لوگ بھی بعض اوقات دنیوی فضيحہ کے خوف میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جبکہ نبی ﷺ کی نظر ہمیشہ آخرت کے دائمی انجام پر ہوتی ہے۔


4. عملی اطلاق: حقوق کی ادائیگی میں اصل رکاوٹ کو دور کرنا

شرح کا آخری جملہ اس سارے فلسفے کا عملی نتیجہ بتاتا ہے:

"فعلى من ابتلى بأمر فيه خيانة أو تطفيف أو توجه حق عليه في نفس أو مال أن لا يمتنع من أداء الحق خوف العار والفضيحة۔"

یعنی جو شخص کسی خیانت، کمی یا جان و مال کے کسی حق میں مبتلا ہو، اسے صرف عار و فضيحہ کے خوف سے حق ادا کرنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔

· بنیادی مسئلہ: حقوق کی ادائیگی سے رکاوٹ اکثر "خوف العار والفضيحة" (عار و رسوائی کا ڈر) ہوتا ہے۔

· اسلامی حل: اس ڈر کو "فضوح الآخرة" (آخرت کی رسوائی) کے زیادہ بڑے خوف سے بدل دو۔

· نتیجہ: جب آخرت کی رسوائی کا خوف غالب آجائے گا، تو دنیا کی رسوائی کا ڈر خود بخود ختم ہو جائے گا اور انسان حق ادا کرنے پر آمادہ ہو جائے گا۔


🔗 سیرت تعلیمات کے ساتھ ربط

یہ شرح آپ کے زیربحث سارے سلسلے کی ایک منطقی تکمیل ہے:

1. "دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو): دنیا کی رسوائی کا خوف درحقیقت دنیا اور اس کے لوگوں سے لگاؤ ہی ہے۔ جب آپ دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دیں گے، تو آپ کو "خوف العار" (شرمندگی کا ڈر) نہیں رہے گا۔

2. "إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے): دنیا کی رسوائی کا ڈر درحقیقت طمع کا نتیجہ ہے — طمعِ عزت، طمعِ مقام، طمع کہ لوگ کیا کہیں گے۔

3. "الغنى اليأس مما في أيدي الناس" (دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے): جب آپ لوگوں کی رائے، ان کی تعریف یا مذمت سے "اليأس" (مایوس/بے نیاز) ہو جائیں گے، تو پھر آپ کو ان کے سامنے رسوا ہونے کا کوئی "خوف" نہیں رہے گا۔

4. "ذو الدرهمين أشد حسابا" (دو درہم والے کا حساب سخت ہے): جو شخص دنیا کی رسوائی کے ڈر سے حق ادا نہیں کرتا، وہ درحقیقت آخرت کی سخت تر رسوائی اور حساب کو دعوت دے رہا ہے۔

5. "عرض علي ربي ليَجعل لي بطحاء مكة ذهبا" (مجھے سونے کی وادی پیش کی گئی): رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل "خوف العار" (لوگوں میں کیا کہیں گے کے ڈر) سے مکمل آزادی کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔


نتیجہ:

امام المناوی کی یہ شرح ہمیں ایک عملی حکمت سکھاتی ہے: دنیا کی عارضی شرمندگی کو آخرت کی دائمی رسوائی پر قربان کر دو۔ یہی وہ کلیہ ہے جو انسان کو گناہوں کے اعتراف، حقوق کی ادائیگی اور توبہ کی طرف راغب کرتا ہے۔ یہ خوفِ آخرت ہی ہے جو خوفِ دنیا کو ختم کر کے انسان کو حقیقی آزادی اور طہارت عطا کرتا ہے — اور یہی آپ کے زیربحث ساری روحانی تعلیمات کا حتمی مقصد ہے۔

---







حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
القناعة مال لا ينفد.
ترجمہ:
قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔
[کنزالعمال:7080]





حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"أَحَبُّكُم إِلَى اللهِ أَقَلُّكُمْ طُعْمًا، وَأَخَفُّكُمْ بَدَنًا"

ترجمہ:

اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے محبوب وہ شخص ہے جو کم سے کم کھانے والا اور سب سے ہلکا جسم رکھنے والا ہو۔

[جامع الأحاديث-للسيوطي:712، کنزالعمال:7084]



💎 حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق و نکات


اگرچہ روایت ضعیف ہے، مگر اس کا مفہوم کئی دوسرے صحیح ذرائع سے ثابت ہے اور درج ذیل قیمتی اسباق پر مشتمل ہے:


1. قناعت اور ضرورت پر اکتفا


· یہ حدیث آپ کے پچھلے سوال "كُلُّ شَيْءٍ فَضْلٌ عَنْ ظِلِّ بَيْتٍ..." کے مفہوم کی تکمیل کرتی ہے۔

· "أَقْلُّكُمْ طُعْمًا" (کم سے کم کھانا) کا مطلب یہ ہے کہ انسان صرف بھوک مٹانے اور قوت حاصل کرنے کے لیے کھائے، نہ کہ لذت، عیش یا پیٹ بھرنے کے لیے۔

· یہ وہی کفایت شعاری ہے جو انسان کو "ما فوق الخبز وجرة الماء..." (روٹی اور پانی سے زیادہ) کی طمع سے بچاتی ہے۔


2. قلب و جسم کی ہلکاپن (نشاطِ عبادت)


· "أَخَفُّكُمْ بَدَنًا" (سب سے ہلکا جسم) سے مراد موٹاپا اور جسمانی بوجھ نہ ہونا ہے۔

· علماء نے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ "خِفَّةُ الْبَدَنِ أَمْرٌ مَحْمُودٌ" (جسم کا ہلکا ہونا پسندیدہ امر ہے) ۔

· وجہ یہ ہے کہ:

  · کم کھانے سے پیٹ ہلکا رہتا ہے۔

  · ہلکے جسم سے عبادت کے لیے چستی اور نشاط ملتا ہے۔

  · یہ دل کی نرمی، صفائی اور یکسوئی کا باعث بنتا ہے ۔


3. حرص و شہوت پر قابو


· "أَقْلُّكُمْ طُعْمًا" درحقیقت شہوتِ بطن (پیٹ کی خواہش) پر قابو پانے کی تربیت ہے۔

· جب انسان کھانے کی خواہش (جو سب سے بنیادی خواہش ہے) پر قابو پا لے، تو دوسری خواہشات (مال، مقام، شہرت) پر قابو پانا آسان ہو جاتا ہے۔

· یہی وہ زہد ہے جو آپ کی پہلی حدیث "خَيْرُكُمْ أَزْهَدُكُمْ فِي الدُّنْيَا" میں بیان ہوا تھا۔


4. روحانی توجہ کا مرکز


· امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: "مَا أَفْلَحَ سَمِينٌ قَطُّ" (کبھی کوئی موٹا شخص فلاح نہیں پا سکا)۔

· انہوں نے وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ عاقل شخص یا تو اپنی آخرت اور اٹھنے کی فکر میں رہتا ہے، یا اپنی دنیا اور معاش کی فکر میں۔ اور چربی (موٹاپا) فکر کے ساتھ جمع نہیں ہوتی۔ جو شخص ان دونوں میں سے کسی کی فکر نہ کرے، وہ جانوروں کے درجے میں ہو جاتا ہے، تب ہی اس کی چربی جمع ہوتی ہے ۔

· اس لیے "أَخَفُّكُمْ بَدَنًا" درحقیقت دل کی بیداری اور آخرت کی فکر کی علامت ہے۔


📊 پوری سیرتِ تعلیمات کے ساتھ ربط


یہ مفہوم آپ کے زیربحث تمام سابقہ تعلیمات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے:


• "خَيْرُكُمْ أَزْهَدُكُمْ فِي الدُّنْيَا" (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو):

کم کھانا اور ہلکا جسم رکھنا زہد کی واضح علامت ہے۔


• "الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاس" (دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے):

جب آپ کھانے کی لذت سے بے نیاز ہو جائیں گے، تو پھر دوسری دنیوی لذتوں سے بے نیازی آسان ہو جائے گی۔


• "إِيَّاكَ وَالطَّمَعَ فَإِنَّهُ الْفَقْرُ الْحَاضِرُ" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے):

"أَقْلُّكُمْ طُعْمًا" کا رویہ طعام کی طمع کو ختم کر کے دل کو حقیقی غنیٰ سے مالا مال کرتا ہے۔


• "فَرَاشٌ لِلرَّجُلِ... وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ" (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے):

جس طرح ضرورت سے زیادہ بستر شیطان کا راستہ ہے، اسی طرح ضرورت سے زیادہ کھانا اور اس سے پیدا ہونے والا بوجھیلے پن بھی روحانی ترقی میں رکاوٹ ہے۔


• "مَا فَوْقَ الْخُبْزِ وَجَرَّةِ الْمَاءِ... فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ" (روٹی و پانی سے زیادہ ہر چیز کا حساب ہوگا):

"أَقْلُّكُمْ طُعْمًا" کا عمل درحقیقت اسی احساسِ حساب کا نتیجہ ہے۔ انسان صرف بقا کی خوراک (روٹی و پانی) پر اکتفا کرتا ہے تاکہ قیامت کے حساب سے بچ سکے۔


خلاصہ اور نتیجہ:


"أَحَبُّكُم إِلَى اللهِ أَقَلُّكُمْ طُعْمًا وَأَخَفُّكُمْ بَدَنًا" کا مفہوم درحقیقت آپ کے سارے روحانی سلسلے کا ایک منطقی عملی نتیجہ ہے۔


یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:


· دنیا سے بے رغبتی (زہد) کا آغاز اپنے پیٹ اور اپنے جسم سے ہوتا ہے۔

· کم کھانا صرف ایک جسمانی عادت نہیں، بلکہ قلبی تربیت ہے جو انسان کو حرص، طمع اور دنیا کی محبت سے آزاد کرتی ہے۔

· ہلکا جسم صرف صحت کی علامت نہیں، بلکہ عبادت کے لیے نشاط اور آخرت کی فکر کی نشانی ہے۔


لہٰذا: اپنی بنیادی خواہشات (کھانے) پر قابو پا کر، اپنے جسم کو ہلکا رکھ کر، اپنے دل کو دنیا کی محبت کے بوجھ سے آزاد کرو — یہی وہ راستہ ہے جو اللہ کے قرب اور محبت تک پہنچاتا ہے۔






📖 شرح للمناوی:

· "أحبكم إلى الله أقلكم طعما" (بضم الطاء): یعنی "أكلا" (کم کھانا)۔ اس سے "الصوم" (روزہ) کی طرف کنایہ کیا گیا ہے، کیونکہ روزہ دار عموماً کم کھاتا ہے۔ یا پھر یہ کھانے میں کمی کی ترغیب ہے، تاکہ انسان صرف عبادت کے لیے قوت حاصل کرنے اور ناگزیر معاش کے لیے ہی کھائے۔

· "وأخفكم بدنا": یہ پہلی بات کی وجہ/علت بتاتا ہے، کیونکہ جو کم کھاتا ہے اس کا جسم ہلکا ہوتا ہے، اور جس کا جسم ہلکا ہو وہ عبادت کے لیے چست و توانا ہوتا ہے۔ اور عبادت کا باطن (دل) کے نور اور چمک پر گہرا اثر ہوتا ہے۔

· ہلکا جسم ممدوح اور موٹاپا مذموم ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "ما أفلح سمين قط" (کبھی کوئی موٹا شخص فلاح نہیں پا سکا)۔ ان کی وجہ یہ ہے کہ عاقل یا تو اپنی آخرت اور اٹھنے کی فکر میں رہتا ہے، یا اپنی دنیا اور معاش کی فکر میں۔ اور چربی (موٹاپا) فکر کے ساتھ جمع نہیں ہوتی۔ جب انسان ان دونوں میں سے کسی کی فکر نہ کرے، تو وہ جانوروں کے درجے میں ہو جاتا ہے، تب ہی اس کی چربی جمع ہوتی ہے۔

· بھوک (جوع) راہِ الٰہی کے سفر کی بنیاد ہے، اسی لیے اسے "الأحبية" (اللہ کی محبت) کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔

· یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کی روایت: ایک رات انہوں نے جو کی روٹی سے شکم سیر کھانا کھا لیا، تو اپنے ورد (ذکر) سے سو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: "اے یحییٰ! کیا تو نے میرے گھر سے بہتر گھر اور میرے پڑوس سے بہتر پڑوس پایا ہے؟... اگر تو فردوس کی ایک جھلک دیکھ لے تو تیرا جسم پگھل جائے اور تیری روح مشتاق ہو کر نکل جائے..."

· الشاذلی رحمہ اللہ کا قول: میں نے ایک مرتبہ اسی دن تک بھوکا رہا، تو میرے دل میں خیال آیا: کیا مجھے اس سے کوئی فائدہ ہوگا؟ اتنے میں ایک عورت غار سے نکلی جس کا چہرہ خوبصورتی میں سورج کی مانند تھا۔ وہ کہہ رہی تھی: "افسوس ہے اس پر جو اسی دن بھوکا رہ کر اپنے عمل سے اپنے رب پر دلیل قائم کرتا ہے! میں چھ مہینے سے کھانا چکھی ہی نہیں۔"

· امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شبع (پیٹ بھر کھانا) شیطان کے بڑے دروازوں میں سے ہے، اگرچہ حلال سے ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ شہوات کو تقویت دیتا ہے، اور شہوات شیطان کے ہتھیار ہیں۔

· یحییٰ علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ: ابلیس حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے پاس ہر قسم کی "معاليق" (لٹکی ہوئی چیزیں/پھندے) ہیں۔ ابلیس نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ شہوات ہیں جن کے ذریعے میں بنی آدم کو پکڑتا ہوں۔ ابلیس نے کہا: کیا میرے لیے بھی ان میں کوئی حصہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب تو شکم سیر ہوتا ہے تو تجھے نماز اور ذکر سے غافل کر دیتا ہوں۔ یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اپنا پیٹ کبھی نہیں بھروں گا۔ ابلیس بولا: اور اللہ کی قسم! میں کبھی نصیحت نہیں کروں گا۔

· حدیث کا درجہ: یہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، لیکن اس کے راوی ابو بکر بن عیاش کے بارے میں ضعف (کمزوری) ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں "ضعفه ابن نمير وهو ثقة" (ابن نمیر نے انہیں ضعیف کہا ہے حالانکہ وہ ثقہ ہیں) کہا ہے۔ اس لیے یہ روایت ضعیف ہے۔

[فیض القدیر-للمناوی:221]

---

💎 شرح سے نکات و اسباق

امام المناوی کی یہ شرح درج ذیل قیمتی اسباق پر مشتمل ہے:

1. کم کھانا = روحانی روزہ: "أقلكم طعما" صرف کم کھانا ہی نہیں، بلکہ درحقیقت ایک مسلسل روحانی روزہ کی کیفیت ہے جہاں انسان ہمیشہ اپنی خواہش پر قابو رکھتا ہے۔

2. جسمانی ہلکاپن = روحانی نشاط: "أخفكم بدنا" کا مقصد صرف صحت نہیں، بلکہ عبادت کے لیے چستی اور دل کی بیداری ہے۔ یہ وہ نشاط ہے جو نماز، ذکر اور تفکر میں مدد دیتا ہے۔

3. بھوک: راہِ الٰہی کی بنیاد: شرح میں واضح کیا گیا ہے کہ "الجوع أساس سلوك الطريق إلى الله"۔ بھوک درحقیقت دل کی نرمی، غفلت سے بچاؤ اور اللہ کی طرف سفر کی پہلی سیڑھی ہے۔

4. پیٹ بھر کھانا: شیطان کا ہتھیار: امام غزالی کے حوالے سے یہ اہم نکتہ سامنے آتا ہے کہ "الشبع" (پیٹ بھر کھانا) حلال ہو یا حرام، وہ شیطان کا بڑا ہتھیار ہے جو شہوات کو بیدار کرتا ہے۔

5. علماء و اولیاء کا عملی اسوہ: شرح میں امام شافعی، یحییٰ بن زکریا، الشاذلی اور امام غزالی کے اقوال و واقعات پیش کیے گئے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ اولیاء و علماء کا عملی راستہ رہا ہے۔

6. روایت کا درجہ واضح کرنا: امام المناوی نے راوی کی کمزوری کو بھی واضح کیا ہے، جو اہل علم کی دیانت داری کی علامت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر بات کو بغیر تحقیق کے قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگے۔

---

📊 دیگر احادیث اس شرح کے ساتھ ربط

"خيركم أزهدكم في الدنيا" (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) "أقلكم طعما" (کم کھانا) زہد کی پہلی اور بنیادی شکل ہے۔ جب انسان کھانے کی لذت سے بے نیاز ہو جائے تو باقی دنیا آسان ہو جاتی ہے۔

"دعوا الدنيا لأهلها" (دنیا کو اس کے اہل کے لیے چھوڑ دو) کھانے میں کمی درحقیقت اپنے پیٹ کا حق ادا کرنا ہے، اور دوسروں کا حق (ضرورت مندوں کا) ان کے لیے چھوڑ دینا ہے۔

"الغنى اليأس مما في أيدي الناس" (دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے) جب آپ لذیذ کھانوں کی طمع ترک کر دیں گے، تو پھر لوگوں کے ہاتھ کی ہر چیز سے "اليأس" (بے نیازی) پیدا ہو جائے گی۔

"إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) "أقلكم طعما" کا عمل درحقیقت "طعام کی طمع" کو ختم کر کے دل کو "الغنى" (دولت) سے بھر دیتا ہے۔

"مَا فَوْقَ الْخُبْزِ وَجَرَّةِ الْمَاءِ... فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ" (روٹی و پانی سے زیادہ ہر چیز کا حساب ہوگا) "أقلكم طعما" کا فلسفہ یہی ہے کہ انسان "الخبز وجرة الماء" (روٹی اور پانی) پر اکتفا کرے، کیونکہ اس سے زیادہ "فضل" ہے جس کا "يحاسب به" (حساب ہوگا)۔

"إن الله يبتلي العبد فيما أعطاه" (اللہ نعمت میں آزماتا ہے) طعام بھی ایک امتحان ہے۔ کیا ہم کم پر راضی ہیں؟ کیا ہم شکر ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم ضرورت مندوں کا حق ادا کرتے ہیں؟

"فراش للرجل..." (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے) جس طرح چوتھا بستر شیطان کا راستہ ہے، اسی طرح "ما فوق الخبز" (روٹی سے زیادہ) کھانا بھی شیطان کے ہتھیار (شہوات) کو مضبوط کرتا ہے۔

---

🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی

امام المناوی کی اس شرح سے ہمیں درج ذیل عملی اقدامات کرنے چاہئیں:

1. کھانے کو مقصد نہ بنائیں: کھانا صرف زندہ رہنے اور عبادت کی قوت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھیں، لذت اور تفریح کا نہیں۔

2. ایک تہائی اصول کو اپنائیں: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ"۔ (ابن آدم نے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی ریڑھ کو سیدھا رکھیں۔ اگر زیادہ ہی کھانا ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے رکھے۔)[ترمذی:2380]

3. روزہ رکھنے کی عادت ڈالیں: نفلی روزے رکھیں۔ یہ شہوات کو کمزور اور دل کو منور کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

4. شکر کی عادت ڈالیں: ہر لقمے سے پہلے "بسم الله" اور کھانے کے بعد "الحمد لله" کہنے کو معمول بنائیں۔ یہ شکر ہے جو نعمت میں برکت کا سبب بنتا ہے۔

5. دوسروں کو کھلانے کی عادت ڈالیں: جو کچھ ضرورت سے زیادہ ہے، اسے غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کریں۔ یہ شکر کا عملی اظہار ہے۔


نتیجہ:

امام المناوی کی یہ شرح ہمیں ایک عملی روحانی فارمولا دیتی ہے: اپنے پیٹ پر قابو پا کر اپنے دل پر قابو پاؤ۔ یہی وہ راستہ ہے جو زہد، قناعت، رضا، اور اللہ کی محبت تک پہنچاتا ہے۔ آپ کے زیربحث یہ سارا روحانی سفر اسی ایک نکتے پر ختم ہوتا ہے: کھاؤ تو صرف زندہ رہنے کے لیے، نہ کہ زندہ رہو صرف کھانے کے لیے۔






حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ وَتُقَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ شَرًّا جَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ"

ترجمہ:

جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی دولتمندی اس کے نفس (دل) میں رکھ دیتا ہے اور اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی مفلسی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔

[صحيح ابن حبان:3055، کنزالعمال:7085]

القرآن:

...درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔

[سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13 ﴿تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:7/ 581﴾]

---

💎 حدیث کے مرکزی اسباق و نکات:

یہ حدیث آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا نچوڑ اور حتمی نتیجہ ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے بھلائی یا برائی کے ارادے کی دو عملی علامتیں بیان کرتی ہیں:


1. بھلائی کی دو علامتیں

· أ. غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ: (اس کی دولتمندی اس کے نفس میں)

  · یہ وہی "الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ" ہے جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔

  · اس کا مطلب ہے کہ اس کا دل لوگوں کے ہاتھوں میں موجود ہر چیز سے بے نیاز اور مطمئن ہے۔

  · یہ حقیقی غنیٰ ہے — خواہ ظاہری طور پر وہ امیر ہو یا غریب۔

· ب. تُقَاهُ فِي قَلْبِهِ: (اس کی پرہیزگاری اس کے دل میں)

  · یہاں "تُقَاهُ" سے مراد خشیت الٰہی، خوفِ آخرت اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ ہے۔

  · جب یہ دل میں راسخ ہو جائے تو انسان ہر قدم پر اللہ کو یاد رکھتا ہے۔


2. برائی کی ایک علامت

· فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: (اس کی مفلسی اس کی آنکھوں کے سامنے)

  · اس کا مطلب یہ ہے کہ مال و دولت کی کمی اور دنیوی محرومی ہمیشہ اس کے سامنے اور فکر میں رہتی ہے۔

  · یہ وہی "الفقر الحاضر" (موجودہ مفلسی) ہے جو طمع سے پیدا ہوتی ہے۔

  · ایسا شخص ہر وقت حسرت، بے چینی اور عدم اطمینان کا شکار رہتا ہے، چاہے اس کے پاس کروڑوں ہی کیوں نہ ہوں۔

---

📊 پوری سیرتِ تعلیمات کے ساتھ ربط:

دیگر احادیث کا اس حدیث "إذا أراد الله بعبد خيرا..." کے ساتھ ربط

"خيركم أزهدكم في الدنيا" (بہترین وہ جو دنیا سے بے رغبت ہو) زہد ہی وہ راستہ ہے جو "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" (دل کی دولتمندی) تک پہنچاتا ہے۔

"الغنى اليأس مما في أيدي الناس" (دولت مندی لوگوں کے ہاتھ کی چیز سے مایوسی ہے) یہ قول درحقیقت "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" کی ہی تعریف ہے۔

"إياك والطمع فإنه الفقر الحاضر" (طمع سے بچو، وہ موجودہ مفلسی ہے) "فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ" کا مطلب ہی "الفقر الحاضر" ہے جو طمع کا نتیجہ ہے۔

"ذو الدرهمين أشد حسابا" (زیادہ مال والے کا حساب سخت ہے) جو شخص "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" (دل کی دولتمندی) نہیں رکھتا، وہی مال جمع کرتا ہے اور سخت حساب کا مستحق بنتا ہے۔

"فراش للرجل..." (چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے) "فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ" والا شخص ہی چوتھے بستر کی طمع کرے گا، جو شیطان کا راستہ ہے۔

"ما فوق الخبز وجرة الماء... فضل يحاسب به" (روٹی و پانی سے زیادہ ہر چیز کا حساب ہے) "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" والا شخص روٹی و پانی پر راضی ہو جاتا ہے، اس لیے وہ "فضل" کے حساب سے بچ جاتا ہے۔

"إن الله يبتلي العبد فيما أعطاه" (اللہ نعمت میں آزماتا ہے) یہ حدیث امتحان کے نتائج بتاتی ہے: "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" = رضا (کامیابی)، "فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ" = ناراضی (ناکامی)۔

"أحبكم إلى الله أقلكم طعما وأخفكم بدنا" (اللہ کے نزدیک محبوب کم کھانے اور ہلکے جسم والا) کم کھانا اور ہلکا جسم درحقیقت "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" کا عملی مظہر ہے۔

---

🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی:

اس حدیث سے ہمیں دو بنیادی عملی ٹیسٹ ملتے ہیں جن سے ہم اپنے بارے میں جان سکتے ہیں کہ اللہ ہمارے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے یا برائی کا:

1. اپنے دل کا جائزہ لیں (خفیہ ٹیسٹ):

   · کیا آپ لوگوں کے مال، ان کے عہدوں، ان کی تعریف سے بے نیاز ہیں؟

   · کیا آپ چوری، رشوت، دھوکہ اور حرام کمائی سے ڈرتے ہیں؟

   · اگر ہاں، تو یہ "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ وَتُقَاهُ فِي قَلْبِهِ" کی علامت ہے — اللہ آپ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے۔

2. اپنی فکر کا جائزہ لیں (ظاہری ٹیسٹ):

   · کیا آپ کی زیادہ تر فکر اور بات چیت مال کمانے، دولت بڑھانے، اور دنیوی اشیاء کے گرد گھومتی ہے؟

   · کیا آپ ہمیشہ اپنی "مفلسی" اور "محرومی" کا رونا روتے ہیں، چاہے آپ کے پاس بہت کچھ ہو؟

   · اگر ہاں، تو یہ "فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ" کی واضح علامت ہے — آپ برائی کے خطرے میں ہیں۔

3. دعا:

   · اس دعا کو اپنا معمول بنائیں جو رسول اللہ ﷺ اکثر پڑھا کرتے تھے: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ"۔

   · "غَلَبَةِ الرِّجَالِ" (لوگوں کے غلبے) سے پناہ مانگنا درحقیقت "فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ" (لوگوں کے ہاتھ کی چیز کی محتاجی) سے پناہ مانگنا ہے۔


نتیجہ:

"إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا..." والی حدیث درحقیقت آپ کے زیربحث سارے روحانی سفر کا حتمی نتیجہ اور آخری حکمت ہے۔

یہ ہمیں بتاتی ہے کہ:

· اللہ کی بھلائی کا نشان یہ نہیں کہ آپ کے ہاتھ میں کتنا مال ہے، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے دل میں کتنی بے نیازی اور پرہیزگاری ہے۔

· اللہ کی برائی کا نشان یہ نہیں کہ آپ کے ہاتھ خالی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ مفلس بننے کا خیال ہے۔


یہ سارا سفرِ روحانی اسی ایک نکتے پر منتج ہوتا ہے:

اللہ سے مانگو کہ وہ تمہیں "غِنَى النَّفْس" (دل کی دولتمندی) اور "تَقْوَى الْقَلْب" (دل کی پرہیزگاری) عطا فرمائے، اور تمہیں "فَقْرٌ بَيْنَ الْعَيْنَيْن" (آنکھوں کے سامنے مفلسی) کے عذاب سے بچائے۔

یہی وہ حقیقی کامیابی ہے جس کے لیے یہ ساری تعلیمات دی گئی ہیں۔




حضرت  ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"إِذَا اشْتَدَّ كَلْبُ الْجُوعِ فَعَلَيْكَ بِرَغِيفٍ وَجَرَّةٍ مِنَ الْمَاءِ الْقُرَّاحِ، وَقُلْ عَلَى الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا مِنِّي الدَّمَارُ"

ترجمہ:

جب سخت بھوک لگے تو ایک چپاتی کھالو اور صاف پانی کا ایک گھونٹ پی لو، اور کہو دنیا اور دنیا والوں پر مار پڑے۔

[شعب الایمان-للبیھقي:10366، جامع الأحاديث-للسيوطي:1368، کنزالعمال:7086]

---

💎 قول کے مرکزی اسباق و نکات


1. "كلب الجوع" کا زوردار استعارہ

· "كَلْبُ الْجُوعِ" (بھوک کا کتا) ایک انتہائی طاقتور استعارہ ہے جو:

  · بھوک کی شدت، تکلیف اور بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔

  · جس طرح کتا شکار کے پیچھے پڑ جاتا ہے، اسی طرح بھوک انسان کو دنیا کے پیچھے دوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔


2. بنیادی ضرورت کی انتہائی تعریف

· "رَغِيفٌ وَجَرَّةٌ مِنَ الْمَاءِ الْقُرَّاحِ" (ایک روٹی اور صاف پانی کا برتن):

  · یہ آپ کی زیربحث حدیث "مَا فَوْقَ الْخُبْزِ وَجَرَّةِ الْمَاءِ..." کا عملی اطلاق ہے۔

  · "الْمَاءِ الْقُرَّاحِ" (صاف، بے ذائقہ پانی) کی تصریح مزید زور دیتی ہے کہ صرف بقا کی ضرورت پوری کرنی ہے، لذت نہیں۔


3. دنیا سے قلبی مفارقت کا اعلان

· "وَقُلْ عَلَى الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا مِنِّي الدَّمَارُ":

  · یہ دنیا اور اہلِ دنیا سے مکمل لاتعلقی اور بیزاری کا اعلان ہے۔

  · "الدَّمَارُ" (تباہی) کا لفظ انتہائی سخت ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کی محبت دل سے اس قدر نکل جانی چاہیے کہ گویا وہ تباہ ہو چکی ہو۔

  · یہ "دَعُوا الدُّنْيَا لِأَهْلِهَا" اور "الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ" کا قلبی اور جذباتی اظہار ہے۔

---

📊 پچھلی تعلیمات کا اس قول کے ساتھ ربط

یہ قول آپ کے زیربحث تمام تعلیمات کی عملی، جذباتی اور قلبی تکمیل ہے:

"خَيْرُكُمْ أَزْهَدُكُمْ فِي الدُّنْيَا" "رَغِيفٌ وَجَرَّةُ مَاءٍ" پر اکتفا ہی زہد کی انتہا ہے۔

"الْغِنَى الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ" "عَلَى الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا مِنِّي الدَّمَارُ" کہنا درحقیقت "اليأس" کا عملی اعلان ہے۔

"إِيَّاكَ وَالطَّمَعَ فَإِنَّهُ الْفَقْرُ الْحَاضِرُ" بھوک میں بھی "رَغِيفٌ وَجَرَّةُ مَاءٍ" پر اکتفا کرنا "الطمع" (لالچ) کو ختم کرتا ہے۔

"مَا فَوْقَ الْخُبْزِ وَجَرَّةِ الْمَاءِ... فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ" یہ قول عملاً اسی اصول پر چلتا ہے۔

"أَحَبُّكُمْ إِلَى اللهِ أَقَلُّكُمْ طُعْمًا" "رَغِيفٌ وَجَرَّةُ مَاءٍ" "أقل طعم" (کم سے کم کھانا) کی اعلیٰ مثال ہے۔

"إِذَا أَرَادَ اللهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا جَعَلَ غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" "رَغِيفٌ وَجَرَّةُ مَاءٍ" پر راضی ہو کر اور دنیا سے "الدَّمَارُ" کہہ کر، انسان "غِنَاهُ فِي نَفْسِهِ" حاصل کر لیتا ہے۔

---

🛠️ عملی زندگی کے لیے رہنمائی

1. بھوک کو آزمائش سمجھیں: جب شدید بھوک لگے، تو اسے اپنے صبر اور قناعت کا امتحان سمجھیں، نہ کہ لذیذ کھانے کی طرف دوڑنے کا اشارہ۔

2. کم سے کم پر اکتفا کرنے کی عادت ڈالیں: ہمیشہ سادہ ترین کھانا کھانے کی کوشش کریں۔ جب "كلب الجوع" (بھوک کی شدت) بھی آپ کو "رَغِيفٌ وَجَرَّةُ مَاءٍ" (روٹی اور پانی) پر راضی رکھ سکے، تو آپ حقیقی قناعت حاصل کر لیں گے۔

3. دل کی کیفیت کو الفاظ دیں: زبان سے "عَلَى الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا مِنِّي الدَّمَارُ" کہنا درحقیقت دل کے اس جذبے کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ ایک قلبی ورزش ہے۔

4. خود سے وعدہ کریں: اپنے آپ سے عہد کریں کہ "میں اپنی ضرورت کو روٹی اور پانی تک محدود رکھوں گا، اور اپنا دل دنیا اور دنیا والوں کی محبت سے پاک رکھوں گا۔"

---

نتیجہ:

"إِذَا اشْتَدَّ كَلْبُ الْجُوعِ..." والا قول درحقیقت آپ کے سارے روحانی سفر کا حتمی قلبی رویہ اور عملی فارمولا ہے۔

یہ دو کام سکھاتا ہے:

1. اپنی ضرورت کو انتہائی کم کر دو: "رَغِيفٌ وَجَرَّةُ مَاءٍ" (روٹی اور پانی کا برتن)۔

2. اپنا دل دنیا اور اہلِ دنیا سے بالکل خالی کر دو: "عَلَى الدُّنْيَا وَأَهْلِهَا مِنِّي الدَّمَارُ" (دنیا اور اہلِ دنیا پر میری طرف سے تباہی)۔

یہی وہ انتہائی زہد اور قلب کی پاکیزگی ہے جس کی طرف یہ ساری تعلیمات رہنمائی کرتی ہیں۔ جب انسان بھوک کی شدت میں بھی سادہ روٹی اور پانی پر راضی ہو جائے، اور دنیا سے اس کا دل اس قدر کٹ جائے کہ اسے تباہی کی دعا دے دے، تو پھر وہ حقیقی معنوں میں آزاد ہو جاتا ہے — اللہ کے سوا کسی کا محتاج نہیں رہتا۔


یہ فکر اس ایک جملے میں مکمل ہوتا ہے:

"اپنی جسمانی ضرورت کو 'روٹی اور پانی' تک محدود کرو، اور اپنے دل کی حالت کو 'دنیا پر تباہی' تک پہنچا دو۔"




حضرت جذع سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أكثر ﴿خير﴾ أمتي الذين لم يعطوا فيبطروا، ولم يقتر عليهم فيسألوا.

ترجمہ:

میری امت کے سب سے زیادہ ﴿بہترین﴾ لوگ وہ ہیں جنہیں (اس لیے) نہیں دیا گیا کہ وہ اترانے لگیں اور نہ ان سے (ضرورت کا سامان) روکا گیا کہ وہ لوگوں سے مانگنے لگیں۔

[کنزالعمال:7087 ﴿7088﴾]

[جامع الأحاديث-للسيوطي:4272 ﴿12033﴾، البخارى فى التاريخ الكبير (٨/٤٣٣) ، المحاملى فى الأمالى (ص ٤٠٦، رقم ٤٧٦) . والخطيب فى موضح أوهام الجمع والتفريق (٢/٤٣٧) . وعزاه الحافظ فى الإصابة (١/٤٦٩، رقم ١١١٨) لابن شاهين.]

تشریح:

یعنی انھیں اعتدال کی روزی عطا کی گئی ہے۔












روزی کم ہونا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہیں ہے


حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن الله تعالى إذا أحب عبدا جعل رزقه كفافا.

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتے ہیں تو اس کا رزق (قابل) کفایت کرتے دیتے ہیں۔

[جامع الأحاديث-للسيوطي6636، کنزالعمال:7089]








حضرت عمران سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن الله تعالى يحب الفقير المتعفف أبا العيال.

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کو وہ نادار شخص پسند ہے جو (باوجود) عیالدار (ہونے کے بھی) سوال سے بچنے والا ہو۔

[کنزالعمال:7091]







حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن الطير إذا أصبحت سبحت ربها، وسألته قوت يومها.

ترجمہ:

پرندہ صبح کی وقت اپنے رب کی تسبیح کرتا ہے اور اپنے اس روز کی روزی مانگتا ہے۔

[کنزالعمال:7092]

[جامع الأحاديث-للسيوطي:6492، أخرجه الخطيب (١١/٩٧) قال المناوى (٢/٣٦٦) : فيه الحسين بن علوان أورده الذهبى فى الضعفاء وقال متهم متروك]

القرآن:

ساتوں آسمان اور زمین اور ان کی ساری مخلوقات اس کی پاکی بیان کرتی ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو۔ (25) حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا بردبار، بہت معاف کرنے والا ہے۔

[سورۃ الإسراء، آیت نمبر 44 ﴿تفیسر الدر المنثور-امام السیوطی:5/ 295﴾]

تفسیر:

(25) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ساری چیزیں زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اگر اس کی تخلیق پر غور کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے، نیز ہر چیز اسی کے تابع فرمان ہے اور یہ مطلب بھی کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ ساری چیزیں حقیقی معنی میں تسبیح کرتی ہوں، اور ہم اسے نہ سمجھتے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز یہاں تک کہ پتھروں میں بھی ایک طرح کی حس پیدا فرمائی ہے۔ اور یہ بات قرآن کریم کی کئی آیتوں کی روشنی میں زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اور آج کی سائنس نے بھی یہ تسلیم کرلیا ہے کہ پتھروں میں بھی ایک طرح کی حس پائی جاتی ہے۔




حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لِيَقِلُّ طُعْمَهُمْ،  فَتَسْتَنِيرُ بُيُوتُهُمْ»

ترجمہ:

(فلاں) گھر والے (ایسے ہیں) ان کا کھانا (تو) کم ہے (مگر) ان کے گھر منور ہیں۔

[الجوع-لابن ابی الدنیا:71، کنزالعمال:7093]

[جامع الأحاديث-للسيوطي:7594، المعجم الاوسط:5165]





حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ  بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ،» وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ، وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ.

ترجمہ:

(اے عائشہ!) اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی تو تمہارے لیے اتنی دنیا کافی ہونی چاہیے جتنا ایک سوار کا توشہ ہوتا ہے اور مالدار لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے بچنا اور کوئی کپڑا پرانا (سمجھ کر) نہ اتارنا یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا چکو۔

[سنن الترمذی:1780، شعب الایمان-للبیھقي:6181، کنزالعمال:7094]






حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خيار أمتي القانع، وشرارهم الطامع.

ترجمہ:

میری امت کے بہترین لوگ قناعت پسند ہیں اور برے لوگ لالچ کرنے والے ہیں۔

[کنزالعمال:7095]







حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خير الرزق ما كان يوما بيوم كفافا.

ترجمہ:

بہترین رزق وہ ہے جو دن بدن کافی ہو۔

[الديلمى:2907، جامع الأحاديث-للسيوطي:12056، کنزالعمال:7096]





حضرت زیاد بن جبیر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خير الرزق الكفاف.

ترجمہ:

بہترین رزق وہ ہے جو (حسب ضرورت) کافی ہو۔

[الزھد-لوکیع:113، مسند احمد:1477، کنزالعمال:7097 الصحيحة:1834]

القرآن:

اور دنیوی زندگی کی اس بہار کی طرف آنکھیں اٹھا کر بھی نہ دیکھو جو ہم نے ان (کافروں) میں سے مختلف لوگوں کو مزے اڑانے کے لیے دے رکھی ہے، تاکہ ہم ان کو اس کے ذریعے آزمائیں۔ اور تمہارے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ دیرپا ہے۔

[سورۃ طه، آیت نمبر 131، موسوعة التفسير المأثور:48645]







حضرت انس ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

طوبى لمن أسلم فكان عيشه كفافا.

ترجمہ:

خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو مسلمان ہو اور اس کی (گزر اوقات کی) زندگی (میں قابل کفایت رزق) ہو۔

[کنزالعمال:7098]






حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

طوبى لمن بات حاجا، وأصبح غازيا، رجل مستور ذو عيال، متعفف قانع باليسير من الدنيا، يدخل عليهم ضاحكا، ويخرج عنهم ضاحكا، فوالذي نفسي بيده إنهم هم الحاجون الغازون في سبيل الله عز وجل.

ترجمہ:

خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جو رات کو حج کرنے والا اور صبح کو غازی تھا، (وہ ایسا) آدمی ہے جس کا حال (لوگوں سے) پوشیدہ ہے عیالدار ہے سوال سے بچتا ہے دنیا کی تھوڑی چیزوں پر قناعت کرتا ہے، لوگوں کے پاس ہنستے ہوئے آتا ہے اور ہنستے ہوئے واپس جاتا ہے اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں حج اور غزوہ کرنے والے ہیں۔

[الديلمى:3923، جامع الأحاديث-للسيوطي:13963، کنزالعمال:7099]








حضرت عبد الله بن حنطب سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

طوبى لمن رزقه الله الكفاف ثم صبر عليه.

ترجمہ:

خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جسے اللہ تعالیٰ نے کفایت (کا رزق) دیا پھر وہ (اسی پر) صبر کرتا ہے۔

[شعب الایمان-للبیھقي:9724، جامع الأحاديث-للسيوطي:13972 ﴿الديلمى:3924﴾، کنزالعمال:7100]


القرآن:

اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔۔۔

[سورۃ البقرۃ:45»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:1/161]






حضرت فضالة بن عبيد سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ لِلْإِسْلَامِ،  وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ».

ترجمہ:

اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے اسلام کی ہدایت ملی اور اس کی زندگی قابل کفایت ہے اور وہ اس پر قانع ہے۔

[السنن الكبري-للنسائي:11793، صحيح الجامع:3931، کنزالعمال:7101]

القرآن:

...(مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔۔

[سورۃ البقرۃ:273»تفسیر الدر المنثور-امام السیوطی:2/96]

















حضرت ابوامامہ اور ثعلبة ابن حاطب سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

قليل تؤدي شكره خير من كثير لا تطيقه.

ترجمہ:

وہ تھوڑا (مال) جس پر تم شکر کرو اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی تم میں طاقت نہ ہو۔

[کنزالعمال:7104]

(البغوی والباوردی وابن قانع وابن السکن وابن شاہین عن ابی امامہ عن ثعلبۃ بن حاطب)







حضرت عبادة بن الصامت سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ليس بي رغبة عن أخي موسى، عريش كعريش موسى؟

ترجمہ:

مجھے اپنے بھائی موسیٰ سے بےرغبتی نہیں، کیا تم میرے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے چبوترے جیسا چیوترا بنانا چاہتے ہو؟

[کنزالعمال:7105]

تشریح:

یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے جو چبوترا بنایا گیا تھا اس کی نوعیت و ضرورت جدا تھی مجھے چونکہ اس کی ضرورت نہیں تو کوئی یہ نہ سمجھے کہ مجھے اپنے بھائی موسیٰ (علیہ السلام) کے فعل سے اعراض اور ان کی ذات پر اعتراض ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ لوگ مسجد میں گفتگو کے لیے بیٹھ جائیں گے اور ہر مسجد میں ایسے چبوترے بننے شروع ہوجائیں گے۔





حضرت سالم بن عطية سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

عرش كعرش موسى؟

ترجمہ:

مجھے، موسیٰ (علیہ السلام) کے چبوترے جیسے چبوترے کی ضرورت نہیں۔

[کنزالعمال:7106]

(بیہقی عن سالم بن عطیۃ)








حضرت عثمان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ليس لابن آدم حق فيما سوى هذه الخصال: بيت يسكنه وثوب يواري عورته، وجلف الخبز والماء.

ترجمہ:

ان چیزوں کے علاوہ انسان کو (زائد ضرورت) کسی چیز کا حق حاصل نہیں، رہنے کے لیے گھر، بدن ڈھانپنے کے لیے کپڑا، روٹی کا ٹکڑا (جو سخت ہو) اور پانی۔

[کنزالعمال:7107]






حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ثلاث لا يحاسب بهن العبد: ظل خص يستظل به وكسرة يشد بها صلبه، وثوب يواري به عورته.

ترجمہ:

تین (نعمتوں) کا بندے سے حساب نہ ہوگا، سرکنڈوں سے بنے گھر کا سایہ، جس سے وہ سایہ حاصل کرے اتنا روٹی کا ٹکڑا جسے اپنی کمر سیدھی کرسکے، اور اتنا کپڑا جس سے اپنا ستر چھپا سکے۔

[کنزالعمال:7108]

(مسند احمد فی الزھد، بیہقی عن الحسن، مرسلاً)








ما أبالي ما رددت به عني الجوع.

ترجمہ:

مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں کسی چیز سے اپنی بھوک دور کرلوں۔

[کنزالعمال:7109]

(ابن المبارک عن الاوزاعی معضلا)


تشریح:

یعنی جو کچھ حلال اور طیب کھانے کے لیے مل جائے۔




حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما فوق الإزار وظل الحائط وجرة الماء فضل يحاسب به العبد يوم القيامة.

ترجمہ:

جو چیز تہبند، دیوار کے سائے اور پانی کے گھونٹ سے بڑھ کر ہو تو رائد (از ضرورت) ہے قیامت کے روز بندے سے اس کا حساب لیا جائے گا۔

[کنزالعمال:7110]





حضرت ابوسعید الخدری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما قل وكفى خير مما كثر وألهى.

ترجمہ:

تھوڑی چیز جو کافی ہو اس سے بہتر ہے جو (ہو تو) زائد ہو (لیکن) غفلت میں ڈال دے۔

[کنزالعمال:7111]






حضرت علي سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من رضي من الله باليسير من الرزق رضي الله منه بالقليل من العمل.

ترجمہ:

جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھوڑے رزق پر راضی ہوگیا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوجائیں گے۔

[کنزالعمال:7112]








حضرت معاوية ابن حيدة سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

نعم العون على الدين قوت سنة.

ترجمہ:

ایک سال کی خوراک دین کے لیے بہترین معاون ہے۔

[کنزالعمال:7113، مسند الفردوس-للدیلمی:6335]








حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة.

ترجمہ:

اے اللہ! عیش(زندگی) تو صرف آخرت کی عیش(زندگی) ہے۔

[کنزالعمال:7114]

(مسند احمد، بیہقی، ترمذی، ابو داؤد، نسائی، عن انس)






حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما من أحد يوم القيامة غني أو فقير إلا ود أن ما كان أوتي من الدنيا قوتا.

ترجمہ:

قیامت کے روز فقیر و مالدار چاہے گا کہ اسے صرف اتنی دنیا ملتی جس سے اس کی روزی حاصل ہوجاتی۔

[کنزالعمال:7115]








حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

اللهم اجعل رزق آل محمد في الدنيا قوتا.

ترجمہ:

اے اللہ! محمد ﷺ کی اولاد کا رزق گزر بسر کا بنا دے۔

[کنزالعمال:7116]




حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا أراد الله بعبد خيرا أرضاه بما قسم، وبارك له فيه.

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو بھلائی دینا چاہتے ہیں تو اسے اپنی تقسیم پر راضی کردیتے ہیں اور اس میں اسے برکت دیتے ہیں۔

[کنزالعمال:7117]




حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال والجسم فلينظر إلى من هو دونه في المال والجسم.

ترجمہ:

جب تم میں سے کوئی اپنے سے اعلیٰ شخص کو دیکھے جو مال اور جسم میں افضل ہے تو اسے چاہیے کہ اسے دیکھ لے جو مال اور بدن میں اس سے کم درجہ کا ہے۔

[کنزالعمال:7118]





حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال والخلق فلينظر إلى من هو أسفل منه ممن فضل هو عليه.

ترجمہ:

جب تم میں سے کوئی مال اور پیدائش میں اپنے سے برتر کو دیکھے تو اس چاہے کہ اپنے سے کم تر کو دیکھ لے جس پر اسے فضیلت حاصل ہے۔

[کنزالعمال:7119]





حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إذا أراد الله بعبد خيرا جعل غناه في نفسه، وتقاه في قلبه، وإذا أراد الله بعبد شرا جعل فقره بين عينيه.

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو بھلائی پہنچانا چاہتے ہیں تو اس کے دل میں غنا اور تقویٰ (لاپرواہی) پیدا فرما دیتے ہیں اور جب کسی بندے کو برائی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو فقر و فاقہ کو اس کا نصب العین بنا دیتے ہیں۔

[کنزالعمال:7120]







حضرت عبداللہ بن الشخیر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن الله ليبتلي العبد بالرزق لينظر كيف يعمل؟ فإن رضي بورك له فيه، وإن لم يرض لم يبارك له فيه.

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ بندے کو رزق میں (تنگی کرکے) آزماتا ہے تاکہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے؟ پھر اگر وہ راضی ہوجائے تو اسے اس (مال) میں برکت دی جاتی ہے اور اگر راضی نہ ہو تو برکت نہیں دی جاتی۔

[کنزالعمال:7121]


تشریح:

۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہوتا ہے صرف اس بندے پر اس کی حماقت کا اظہار کرنا ہوتا ہے کہ یہ اس کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ کسی پر تاگے برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے۔





گھر کا سامان مختصر ہونا چاہیے

حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إنما هو فراش للزوج، وفراش للمرأة، وفراش للضيف وفراش للشيطان.

ترجمہ:

بستر تو ایک خاوند کے لیے ہونا چاہے اور ایک بیوی کے لیے اور ایک مہمان کے لیے (اور ضرورت سے زائد) بستر شیطان کے لیے ہوگا۔

[کنزالعمال:7122]






حضرت ابن مسعود ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إنما يكفي أحدكم ما قنعت به نفسه، وإنما يصير إلى أربعة أذرع في شبر، وإنما يرجع الأمر إلى آخره.

ترجمہ:

تم میں سے کسی کے لیے اتنا کافی ہے جس پر اس کا دل قناعت کرسکے، انجام کار اسے چار گز ایک بالشت جگہ میں جانا ہے پھر معاملہ اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔

[کنزالعمال:7123]


تشریح:

یعنی قبر میں جانا ہے اور پھر آخرت میں جمع ہونا ہے۔






حضرت ابو عبیدہ بن جراح سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن ينسأ الله في أجلك يا أبا عبيدة فحسبك من الخدم ثلاثة: خادم يخدمك، وخادم يسافر معك، وخادم يخدم أهلك، ويرد عليهم، وحسبك من الدواب ثلاثة: دابة لرجلك، ودابة لثقلك ودابة لغلامك، إن أحبكم إلي وأقربكم مني من لقيني على مثل الحال التي فارقني عليها.

ترجمہ:

اے ابو عبیدہ! اگر اللہ تعالیٰ تمہاری عمر میں اضافہ کرے تو تمہارے لیے تین خادم کافی ہیں، ایک خادم جو تمہاری خدمت کرے، دوسرا جو تمہارے ساتھ سفر کرے، اور تیسرا جو تمہارے گھر والوں کے کام کرے، اور ان کے پاس آئے، اور تین جانور کافی ہیں ایک جانور تمہارے پاؤں کے لیے، ایک جانور تمہارے بوجھ کے لئے، اور ایک جانور تمہارے غلام کے لیے، تم میں سے مجھے زیادہ محبوب اور میرے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھے اسی حالت پر ملے جس حالت میں وہ مجھ سے جدا ہوا۔

[کنزالعمال:7124]

(مسند احمد، ابن عساکر عن ابی عبیدہ بن الجراح، وقال: ابن عساکر، منقطع)







حضرت ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

حسبك من الدواب: دابة لثقلك، ودابة لرجلك، ودابة لغلامك.

ترجمہ:

تمہارے لیے (تین) جانور کافی ہیں، ایک تمہاری باربرداری کے لیے، ایک تمہاری سواری کے لیے اور ایک تمہارے غلام کے لیے۔

[کنزالعمال:7125]





حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

خير المؤمنين القانع، وشرهم الطامع.

ترجمہ:

بہترین مومن قناعت کرنے والا ہے اور (جسکا حال) برا ہے جو لالچ کرنے والا ہے۔

[کنزالعمال:7126]





حضرت جابر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

فراش للرجل، وفراش لامرأته، وفراش للضيف، والرابع للشيطان.

ترجمہ:

(تین بستر کافی ہیں) ایک بستر مرد کا ایک اس کی بیوی کا ایک (فالتو) مہمان کے لیے (اس سے زائد) بستر شیطان کا ہے۔

[کنزالعمال:7127]

(مسند احمد، ابو داؤد، نسائی، مسلم، ابو عوانہ ابن حبان عن جابر، مر برقم، ٦١٢٤)





حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

قال الله عز وجل: لم يلتحف العباد بلحاف أبلغ عندي من قلة الطعم.

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: بندوں کے اپنے لیے کم کھانے کا لحاف جو بنایا ہے اس سے بڑھ کر میرے نزدیک انتہائی درجہ کو پہنچنے والا نہیں۔

[کنزالعمال:7128]

تشریح:

یعنی کم کھانے کی قدر و منزلت میرے پاس ہے۔








حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

كان في بني إسرائيل جدي ترضعه أمه فترويه، فأفلت فأرتضع الغنم، ثم لم يشبع، فأوحى الله إليهم أن مثل هذا كمثل قوم يأتون من بعدكم، يعطى الرجل منهم ما يكفي الأمة والقبيلة، ثم لا يشبع.

ترجمہ:

بنی اسرائیل میں ایک بکری کا بچہ تھا، جسے اس کی ماں دودھ پلاتی تھی اس کا دودھ ختم ہوگیا تو اس نے (دوسری) بکریوں کا دودھ پینا شروع کردیا پھر بھی وہ سیراب نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی، کہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک قوم جو تمہارے بعد آئے گی، ان میں سے ایک آدمی اتنا دیا جائے گا جو پوری قوم اور قبیلہ کے لیے کافی ہوگا، پھر بھی وہ (لینے سے) سیراب نہ ہوگا۔

[کنزالعمال:7129]





حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

كان في بني إسرائيل جدي في غنم كثيرة ترضعه أمه فانفلت فرضع الغنم كلها، ثم لم يشبع، فبلغ ذلك نبيهم، فقال: إن هذا مثل قوم يأتون من بعدكم، يعطى الرجل منهم ما يكفي القبيلة أو الأمة، ثم لا يشبع.

ترجمہ:

بنی اسرائیل میں ایک بکروٹا تھا جو اپنی ماں کا دودھ پیتا تھا جب دودھ ختم ہوگیا تو تمام بکریوں کا دودھ پینے لگا پھر بھی وہ سیر نہ ہوا، اس کی اطلاع ان کے نبی کو ہوئی تو انھوں نے فرمایا: اس کی مثال اس قوم جیسی ہے جو تمہارے بعد آئے گی ان میں ایک شخص کو اتنا دیا جائے گا جو ایک قوم اور قبیلہ کے لیے کافی ہوگا پھر بھی وہ سیراب نہ ہوگا۔

[کنزالعمال:7130]




حضرت عثمان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

كل شيء يفضل عن ابن آدم من جلف الخبز وثوب يواري به سوأته، وبيت يكنه، وما سوى ذلك فهو حساب يحاسب به العبد يوم القيامة.

ترجمہ:

انسان کی ہر زائد چیز جو روٹی کے ٹکڑے، اور ستر ڈھانپنے کے کپڑے اور (سر) چھپانے کے گھر سے فالتو ہوگی اس کا قیامت کے روز بندے سے حساب ہوگا۔

{کنزالعمال:7131]



















ما من أحد إلا وهو يتمنى يوم القيامة أنه كان يأكل في الدنيا قوتا.

ترجمہ:

قیامت کے روز ہر شخص اس بات کی تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں گزر بسر کی خوراک کھاتا۔

[کنزالعمال:7134]





حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

شرار أمتي الذين يساقون إلى النار، الأقماع من أمتي، الذين إذا أكلوا لم يشبعوا، وإذا جمعوا لم يستغنوا.

ترجمہ:

میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جو جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے میری امت (میں اعمال کے لحاظ) سے گھٹیا لوگ وہ ہیں جو کھاتے ہیں تو سیر نہیں ہوتے اور جب (مال) جمع کرتے ہیں تو (ان کا دل نہیں بھرتا) مالدار نہیں ہوتے۔

[کنزالعمال:7135]

تشریح:

یعنی ان کی مثال قیف جیسی ہے جس کا منہ کھلا ہوتا ہے اور نیچے سوراخ ہوتا ہے ان لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔




حضرت سمرۃ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أنصر أحدكم ما يسد الجوع إذا أصاب حلالا.

ترجمہ:

تم میں سے زیادہ مددگار وہ شخص ہے جب اسے اتنا حلال مل جائے جس سے وہ اپنی بھوک روک سکے۔

[کنزالعمال:7135]






حضرت مقداد بن معدی کرب سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما ملأ ابن آدم وعاء شرا من بطن، حسبك يا ابن آدم لقيمات يقمن صلبك، فإن كان لا بد فثلث طعام وثلث شراب وثلث نفس.

ترجمہ:

انسان نے پیٹ سے بڑھ کر کسی برے برتن کو نہیں بھرا، اے انسان! تیرے لیے وہ چند لقمے جن سے تو اپنی کمر سیدھی کرے، کافی ہیں، اور اگر (اس سے زائد) ضروری ہوں تو ایک تہائی کھانا، ایک تہائی پانی اور ایک تہائی سانس کے لیے ہے۔

[کنزالعمال:7137]





حضرت سمرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

أنصر أحدكم ما يسد الجوع إذا أصاب حلالا.

ترجمہ:

تم میں سے زیادہ مددگار وہ شخص ہے جب اسے اتنا حلال مل جائے جس سے وہ اپنی بھوک روک سکے۔

[کنزالعمال:7136]





حضرت مقدام بن معدی کرب سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما ملأ ابن آدم وعاء شرا من بطن، حسبك يا ابن آدم لقيمات يقمن صلبك، فإن كان لا بد فثلث طعام وثلث شراب وثلث نفس.

ترجمہ:

انسان نے پیٹ سے بڑھ کر کسی برے برتن کو نہیں بھرا، اے انسان! تیرے لیے وہ چند لقمے جن سے تو اپنی کمر سیدھی کرے، کافی ہیں، اور اگر (اس سے زائد) ضروری ہوں تو ایک تہائی کھانا، ایک تہائی پانی اور ایک تہائی سانس کے لیے ہے۔

[کنزالعمال:7137]






حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من أصبح معافى في بدنه، آمنا في سربه، عنده قوت يومه، فكأنما حيزت له الدنيا، يا ابن جعشم يكفيك منها ما سد جوعتك، ووارى عورتك، فإن كان بيت يواريك فذاك، وإن كانت دابة تركبها فبخ، جلف الخبز وماء الجر، وما فوق ذلك فحساب عليك.

ترجمہ:

جس کے بدن میں عافیت ہو، اس کے دل میں اطمینان ہو اور اس کے پاس اس روز کی خوراک ہو، تو گویا اس کے لیے دنیا جمع ہوگئی، اے ابن جعشم تمہارے لیے اتنی دنیا کافی ہے جس سے تم اپنی بھوک روک سکو، اپنا ستر ڈھانپ سکو پھر اگر (تمہیں ایسا) گھر (مل جائے) جو تمہیں پوشیدہ رکھے تو یہ بھی ٹھیک ہے، اور اگر کوئی سواری ہو جس پر تم سوار ہو تو یہ اچھی بات ہے، روٹی کا ٹکڑا اور گھڑے کا پانی (تو) ضرورت کی چیزیں ہیں بہتر ہیں اس کے علاوہ جو چیز ہوگی اس کا تم سے حساب لیا جائے گا۔

[کنزالعمال:7138]




حضرت ابوسعید اور ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من تسخط رزقه، وبث شكواه، ولم يصبر، لم يصعد له إلى الله عمل، ولقي الله تعالى وهو عليه غضبان.

ترجمہ:

جو اپنے (تھوڑے) رزق پر ناراض ہوا، اور شکوہ کرنے لگا، صبر سے کام نہ لیا، اللہ تعالیٰ کی طرف اس کا کوئی عمل نہ جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کو ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے غصہ ہوگا۔

[کنزالعمال:7139]






حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من رضي من الله باليسير من الرزق رضي منه بالقليل من العمل.

وانتظار الفرج من الله عبادة.

ترجمہ:

جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھوڑے رزق پر راضی ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہوجائیں گے۔

(اور دیلمی میں مزید یہ بھی ہے کہ)

اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشادگی کا انتظار کرنا عبادت ہے۔

[کنزالعمال:7140]





حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من قنع بما رزق دخل الجنة.

ترجمہ:

جو اپنے رزق پر قانع رہا جنت میں داخل ہوگا۔

[کنزالعمال:7141]

(ابن شاہین والدیلمی عن ابن مسعود)






حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

من قل ماله، وكثر عياله، وحسنت صلاته، ولم يغتب المسلمين جاء يوم القيامة وهو معي كهاتين.

ترجمہ:

جس کا مال تھوڑا ہو، عیال و اولاد زیادہ ہوں، اس کی نماز اچھی ہو اور اس نے مسلمانوں کی غیبت نہ کی ہو تو وہ قیامت میں یوں آئے گا کہ میرے ساتھ اس طرح ہوگا (جیسے یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں)۔

[کنزالعمال:7142]

(ابو یعلی والخطیب وابن عساکر عن ابی سعید)






حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يكفي أحدكم من الدنيا خادم ومركب.

ترجمہ:

تم میں کسی کیلئے دنیا (کی چیزوں) میں سے ایک خادم اور سواری کافی ہے۔

[کنزالعمال:7143]






حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يكفيك من الدنيا ما سد جوعتك، ووارى عورتك فإن كان لك شيء يظلك فذاك، وإن كانت لك دابة تركبها فبخ.

ترجمہ:

دنیا کی اتنی چیز جس سے تم اپنے بھوک مٹا سکو، اپنا ستر ڈھانپ سکو، اور اگر کوئی ایسا سائبان ہو جس کا سایہ حاصل کرسکو تو یہ بھی صحیح ہے اور اگر تمہاری سواری ہو جس پر تم سوار ہو تو یہ بھی اچھی چیز ہے۔

[کنزالعمال:7144]





حضرت ابن مبارک حضرت یحیی بن ابی کثیر سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

والذي نفس محمد بيده ما امتلأت دار حبرة إلا امتلأت عبرة وما كانت فرحة إلا تبعتها ترحة.

ترجمہ:

اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو گھر (سرکشی کی) خوشی سے بھرا وہ آنسوؤں سے بھر جائے گا، اور خوشی کے بعد غم ہے۔

[کنزالعمال:7145]






حضرت علی سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يا أبا الحسن: أيما أحب إليك خمسمائة شاة ورعاؤها؟ أو خمس كلمات أعلمكهن تدعو بهن؟ تقول: اللهم اغفر لي ذنبي، وطيب لي كسبي، ووسع لي في خلقي، وقنعني بما قضيت لي، ولا تذهب نفسي إلى شيء صرفته عني.

ترجمہ:

اے ابو الحسن علی: ان میں سے تمہیں کیا زیادہ پسند ہے پانچ سو بکریاں اور ان کے چرواہے؟ یا پانچ کلمے جو میں تمہیں سکھا دوں جن سے تم دعا کرو؟ تم کہا کرو: اے اللہ! میرے گناہ بخش دے، میری کمائی کو پاک بنا دے، اور میرے اخلاق کو وسعت عطا فرما، اور جو آپ نے میرے لیے فیصلہ فرمایا مجھے اس پر قناعت کی توفیق دے، اور میرا دل کسی ایسی چیز کی طرف مائل نہ ہو جسے آپ نے مجھ سے پھیر دیا ہے۔

[کنزالعمال:7146]






حضرت ابوهاشم شيبة بن عتبة القرشي سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يا أبا هاشم: إنها لعلك أن تدرك أموالا تقسم بين أقوام وإنما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله.

ترجمہ:

اے ابو ہاشم! شاید ایسا ہو کہ تم ایسے اموال پاؤ جو قوموں میں تقسیم ہوں گے، مال کے جمع کرنے کے مقابلہ میں تمہارے لیے خادم اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں سواری کافی ہے۔

[کنزالعمال:7147]






حضرت سمرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

يا ابن آدم ارض من الدنيا بالقوت، فإن القوت لمن يموت كثير.

ترجمہ:

اے آدم کی اولاد! دنیا میں سے گزر بسر کی روزی پر راضی ہوجا، کیونکہ اتنی روزی جس سے موت واقع نہ ہو وہ بہت زیادہ ہے۔

[کنزالعمال:7148]






No comments:

Post a Comment