Friday, 9 January 2026

شراب کے انفرادی، اجتماعی، عقلی و نقلی نقصانات وتباہ کاریاں


القرآن:

اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 90]


القرآن:

لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے۔۔۔

[سورۃ نمبر 2 البقرة،آیت نمبر 219]

تفسیر:

چونکہ اہلّ عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے الله تعالیٰ نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا، پہلے سورة نحل (آیت#67) میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے، پھر سورة البقرۃ کی اس آیت(219) میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں جو گناہ ہیں اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں، پھر سورة نساء(43) میں یہ حکم آیا کہ نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو بالاآخر سورة مائدہ(90۔91) میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔


عن ابن عَبَاس، رَضِي الله عَنْهُمَا قال: قال رَسُول الله  صلی اللہ علیہ وسلم : اجْتَنِبُوا الْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ.

ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: شراب سے بچو،كیوں كہ یہ ہر برائی كی چابی ہے۔
[الصحيحة:2798، مستدرك الحاكم:7340]




عَنْ سَالِمِ بن عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بن الْخَطَّابِ، وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم ، جَلَسُوا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ الهِأ  صلی اللہ علیہ وسلم ، فَذَكَرُوا أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُمْ فِيهَا عِلْمٌ، (يَنْتَهُون إِلَيْه) فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو بن الْعَاصِ أَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَعْظَمَ الْكَبَائِرِ شُرْبَ الْخَمْرِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ وَوَثَبُوا إِلَيْهِ جَمِيعًا، (حَتَّى أَتَوْهُ فِي دَارِهِ) فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ مَلِكًا مِّنْ بني إِسْرَائِيلَ أَخَذَ رَجُلا فَخَيَّرَهُ بَيْنَ أَنْ يَّشْرَبَ الْخَمْرَ، أَوْ يَقْتُلَ صَبِيًّا، أَوْ يَزْنِيَ، أَوْ يَأْكُلَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، أَوْ يَقْتُلُوهُ إِنْ أَبَى، فَاخْتَارَ أَنَّهُ يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَأَنَّهُ لَمَّا شَرِبَهَا لَمْ يَمْتَنِعْ مِنْ شَيْءٍ أرادوهُ مِنْهُ ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ لَنَا حِينَئِذٍ: مَا مِنْ أَحَدٍ يَّشْرَبُهَا فَتُقْبَلُ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَلا يَمُوتُ وَفِي مَثَانَتِهِ مِنْهَا شَيْءٌ إِلا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ الْجَنَّةُ، وَإِنْ مَّاتَ فِي الأَرْبَعِينَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً .
ترجمہ:
سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب  ؓ اور رسول اللہ  ‌ﷺ ‌کے کچھ صحابہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌کی وفات کے بعد بیٹھے سب سے بڑے کبیرہ گناہ کا تذکرہ کر رہے تھے۔ ان کے پاس اس بارے میں کوئی حتمی علم نہیں تھا۔ (جس پر وہ سب متفق ہوسکیں)  انہوں نے مجھے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، انہوں نے مجھے بتایا کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ شراب پینا ہے۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے اس بات کا انکار کر دیا اور سب کے سب ان کی طرف چل پڑے۔ (اور ان کے گھر آگئے) عبداللہ  ؓ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ نے ایک آدمی کو پکڑااور اسے اختیار دیا کہ وہ شراب پئے یا بچے کو قتل کر دے۔ یا زنا کرے یا خنزیر کا گوشت کھائے۔ اگر اس نے انکار کیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔اس نے شراب کو اختیار کیا، جب اس نے شراب پی لی،تو جن کاموں کا اس سے مطالبہ ہوا تھا کسی سے بھی باز نہیں رہا، اس وقت رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے ہم سے فرمایا: جو شخص شراب پیتا ہے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اور جو شخص مرجائے اور اس کے مثانے میں کچھ(تھوڑی سی ہی ) شراب ہو تو اس پر جنت حرام ہے،اور اگر وہ چالیس دن کے اندر مر جائے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
[الصحيحة:2695، المعجم الكبير للطبراني:1528]





عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ تَعَالَى يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ. فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ اللهَ تَعَالَى حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلَا يَشْرَبْ وَلَا يَبِعْ .
ترجمہ:
ابو سعید خدری‌ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں خطبہ دیا: اے لوگو  اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت کا اشارہ دیا ہے۔ اورممكن ہے جلد ہی اللہ تعالیٰ اس كے بارے میں كوئی حكم نازل كر دے۔ تو جس شخص كے پاس اس میں سے كوئی چیز ہے اسے بیچ دے اور اس سے فائدہ اٹھائے۔ ابھی تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا كہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام كر دی ہے۔ جس شخص تك یہ آیت پہنچے اور اس كے پاس شراب ہو تو اسے نہ پئے اور نہ ہی فروخت كرے
[الصحيحة:2348، صحيح مسلم:2956،كِتَاب الْمُسَاقَاةِ، بَاب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْخَمْرِ]
شراب کے نقصانات: عقلی و نقلی پہلو

انفرادی نقصانات (عقلی پہلو)

1. صحت پر تباہ کن اثرات (جگر کی بیماریاں، ہیپاٹائٹس، سروسس)
2. ذہنی صحت کا خراب ہونا (ڈپریشن، اضطراب، نفسیاتی مسائل)
3. یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر ہونا
4. معاشی نقصان (ضروریات پر خرچ کی بجائے شراب پر پیسہ ضائع)
5. خاندانی تعلقات کی خرابی
6. جسمانی قوت و توانائی میں کمی
7. قبل از وقت بڑھاپا اور جسمانی حسن کا خاتمہ
8. حادثات کا خطرہ (ڈرائیونگ، کام کے مقام پر)
9. قوت مدافعت کا کمزور ہونا
10. جنسی صلاحیتوں میں کمی
11. نیند کے مسائل اور بے خوابی
12. غذائی قلت اور صحت مند غذا سے محرومی

اجتماعی نقصانات (عقلی پہلو)

1. خاندانی نظام کی تباہی
2. گھریلو تشدد میں اضافہ
3. معاشرتی جرائم میں اضافہ
4. حادثات اور اموات میں اضافہ
5. کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں کمی
6. صحت کے نظام پر بوجھ
7. غربت اور معاشی مسائل میں اضافہ
8. سماجی بے راہ روی
9. نئی نسل کی بربادی
10. سماجی تقدس اور اخلاقیات کا خاتمہ

نقلی دلائل (مذہبی نقصانات)

1. اللہ تعالیٰ کی نافرمانی (قرآن مجید میں صریح حرام قرار دی گئی)
2. نماز اور دیگر عبادات سے محرومی (الکبائر: امام نووی)
3. فرشتوں کی نفرت اور بددعا (صحیح مسلم)
4. شیطان کا قریب ہونا اور وسوسے بڑھنا
5. عقل کا زوال جو انسان کی امتیازی صفت ہے
6. دُعا کی قبولیت میں رکاوٹ (سنن الترمذی)
7. آخرت میں سخت عذاب کا سبب
8. ایمان کی کمزوری اور روحانی موت
9. نیک اعمال کے ثواب کی بربادی
10. برے عمل کی دعوت دینے والوں کی صحبت

مزید عقلی نقصانات

1. قانونی مسائل (شراب نوشی کے جرائم)
2. پیشہ ورانہ زندگی کا خاتمہ (ملازمت سے برطرفی)
3. سماجی عزت و وقار کا خاتمہ
4. بچوں کی پرورش پر منفی اثرات
5. خودکشی کے رجحانات میں اضافہ
6. دائمی بیماریوں کا باعث
7. معاشرتی علیحدگی اور تنہائی
8. انسانیت اور شرافت کی موت

مذہبی حوالے

· قرآن مجید میں شراب کو "رجس" (ناپاک چیز) قرار دیا گیا (المائدہ: 90)
· حدیث: "ہر نشہ آور چیز حرام ہے" (بخاری و مسلم)
· حدیث: "شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے" (بیہقی)

نتیجہ: شراب انسانی زندگی کے ہر پہلو - فرد، خاندان، معاشرہ، صحت، معیشت اور آخرت - کے لیے تباہ کن ہے۔ عقلی دلائل بھی اس کے نقصانات پر شاہد ہیں اور نقلی دلائل (قرآن و حدیث) میں اس کی حرمت قطعی ہے۔






عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر  ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: تین شخص ہیں جن كی طرف قیامت كے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا بھی نہیں۔ اپنے والدین كا نافرمان، مردوں كی مشابہت كرنے والی عورت، اور دیوث، اورتین شخص ہیں جوجنت میں داخل نہیں  ہوں گے۔ اپنے والدین كا نافرمان، دائمی شرابی، اور دے كر احسان جتلانے والا۔
[الصحيحة:674، سنن انسائي:2515،كِتَاب الزَّكَاةِ، باب الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى]





عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعاً: لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ.
ترجمہ:
ابو ہریرہ  ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: زانی جب زنا كرتا ہے تو مومن نہیں رہتا، اور شرابی جب شراب پیتا ہے تو مومن نہیں رہتا اور  چور جب چوری كرتا ہے تو مومن نہیں رہتا اور ڈاكو جب ڈاكہ ڈالتا ہے اور لوگوں كی آنكھیں اس كی طرف اٹھی ہوں تو وہ مومن نہیں رہتا۔
[الصحيحة:3000، صحيح البخاري:2295، كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ بَاب النُّهْبَى بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ]





عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : لَيَسْتَحِلَّنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ بِاسْمٍ يُسَمُّونَهَا إِيَّاهُ (وفي رواية: يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا).

ترجمہ:
عبادہ بن صامت ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ شراب کا نام بدل کر اسے حلال کر لے گا۔ 
[الصحيحة:90، سنن ابن ماجة كِتَاب الْأَشْرِبَةِ بَاب الْخَمْرِ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا رقم (3375-3376)، مسند أحمد:21651]


عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكْفَأُ». يَعْنِى الإِسْلاَمَ: «كَمَا يُكْفَأُ، يَعني الْخَمْر». فَقِيلَ: فَكَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ! وَقَدْ بَيَّنَ اللهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم :«يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا».
ترجمہ:
عائشہ ؓ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: سب سے پہلی چیز جو الٹ دی جائے گی یعنی اسلام میں سے جیسے برتن کو الٹ دیا جاتا ہے۔ یعنی شراب ہے۔ پوچھا گیا کہ: اے اللہ کے رسول یہ کیسے ہوگا جبکہ اس کے بارے یں تو اللہ تعالیٰ نے پوری وضاحت فرمادی ہے؟ کہا گیا: اے اللہ کے رسول  ‌ﷺ ‌!اللہ تعالیٰ نے تو اس میں واضح طور پر بیان کر دیا ہے؟رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: وہ اس کا نام بدل لیں گے۔
[الصحيحة:89، سنن الدارمي:2153، كتابة الأشربة باب مَا قِيلَ فِى الْمُسْكِرِ]


عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا.
ترجمہ:
نبی  ‌ﷺ ‌كے ایك صحابی نے بیان كیا كہ رسول اللہ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میری امت كے كچھ لوگ شراب پیئں  گے اور اسے  كوئی دوسرا نام دیں گے۔
[الصحيحة:414، مسند أحمد رقم (17379]



عَنِ ابنِ عَبّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : «لَيَبِيتَنّ قَوْمٌ من هَذِه الْأُمَّةِ عَلَى طعامٍ وَشَرَابٍ ولهوٍ، ويُصْبِحُوا قَدْ مُسِخُوا قِرَدَة وَخَنَازِير».
ترجمہ:
ابن عباس  ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:اس امت میں سے ایک قوم شراب و کباب اور گانے بجانے میں رات گزارے گی صبح ہوگی تو ان کے چہرے  بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل ہو چکے ہوں گے
[الصحيحة:1604، المعجم الصغير للطبراني رقم (168]



عَنْ أَنسٍ مَرفُوعاً: لَيَكُوننّ في هَذِه الْأَمَةِ خَسفٌ، وَقَذفٌ، وَمَسْخٌ وَذَلِك إِذَا شَرِبُوا الْخُمُور وَاتَّخَذُوا الْقَيْنَات وَضَرَبُوا بِالْمَعَازِف.
ترجمہ:
انس‌ؓ سے مرفوعا مروی ہے کہ اس امت میں زمین میں دھنسنا، پتھروں کی بارش اور چہروں کا بدلنا ہوگا، یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، اور گانے بجانے والیوں کو کا اہتمام کریں گے اور آلات موسیقی بجائیں گے۔
[الصحيحة:2203]





عن ابن عمر قَالَ: نَهَى ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ مَطْعَمَيْنِ عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُومُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے كہ آپ  ‌ﷺ ‌نے دوكھانوں (كھانے كی جگہوں) سے منع فرمایا۔ اس دستر خوان پر بیٹھنے سے جس پر شراب پی جاتی ہو۔ اور آدمی اس حالت میں كھائے كہ وہ اپنے پیٹ  کے بل لیٹا ہو۔
[الصحيحة:388، سنن أبي داؤد:3234،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب فِي الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ]





عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم : أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَهُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ قَالَ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِإِنَاءٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ:  اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ.....
ترجمہ:
انس بن مالک‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا، یہ ایک سفید لمبا جانور تھا۔ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا، جہاں اس کی نگاہ ختم ہوتی وہاں اس کا قدم پڑتا، میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس میں آیا، اور اسے اس ستون سے باندھ دیا جس سے انبیاء سواریاں باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور اس  میں دو رکعت نماز پڑھی، پھر میں باہر نکلا، جبریل علیہ السلام میرے پاس ایک برتن لائے جس میں شراب تھی، اور دوسرا برتن لائے جس میں دودھ تھا، میں نے دودھ کو پسند کیا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے....
[الصحيحة:3987، صحيح البخاري:3606، كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب تَزْوِيجِ النَّبِيِّ ﷺ]











عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ.
ترجمہ:
ابودرداء‌ؓ سے مروی ہے كہ نبی  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: (والدین کا) نافرمان، دا ئمی شرابی اور تقدیر كوجھٹلانے والا جنت میں  داخل نہیں   ہوں گے۔
[الصحيحة:675، مسند أحمد:26212]

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍوعَنْ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ (وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ).
ترجمہ:
عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے كہ نبی ‌ﷺ ‌نے فرمایا: (والدین کا) نافرمان، احسان جتلانے والا دائمی شرابی( اور زنا كا بچہ) جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔
[الصحيحة:673، مسند أحمد:6598]






عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ قال قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم :لَا يَدْخُلُ الْجَنَّة مُدْمِنُ خَمْرٍ ولَا مُؤْمِنٌ بِسِحَر ولَا قَاطَعَ رَحِمٍ .
ترجمہ:
ابوموسیٰ اشعری‌ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: دائمی شرابی، جادوپر یقین ركھنے والا، اور رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیںِ ہوں گے۔
[الصحيحة:678، صحيح ابن حبان:1381]










عَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ وَبَائعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيَهَا وَمُسْتَقِيَهَا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ نے كہا كہ میں نے رسول اللہ  ‌ﷺ ‌سے سنا فرما رہے تھے:میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور كہا: اے  محمد ﷺ! یقینا اللہ عزوجل نے شراب پر، اسے كشید كروانے والے پر، كشید  كرنے والے پر، پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس كی طرف لے جائی جائے اس پر، بیچنے والے پر، خریدنے والے پر، پلانے والے پر اور طلب كرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
[الصحيحة:839، مسند أحمد رقم (2747)]













عَنِ ابن مَسعود، عَن النبي  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال: «بَيْن يَدَي السَّاعَة يَظْهَر الرِّبَا، وَالزِّنَا، وَالْخَمْر».
ترجمہ:
ابن مسعود ؓ  سے مروی ہے کہ نبی  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: قیامت سے پہلے سود ،زنا اور شراب عام ہو جائے گی
[الصحيحة:3415، المعجم الأوسط للطبراني:7910]



عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (بن عمر) عَنِ أَبِيهِ عَنْ النّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: حَرَّمَ اللهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ترجمہ:

سالم بن عبداللہ (بن عمر) ؓ اپنے والد سے بیا ن كرتے ہیں كہ نبی ‌ﷺ ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام كر دی ہے، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

[الصحيحة:1814، سنن النسائي:5604،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، باب ذِكْرُ الْأَخْبَارِ]




عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ.

ترجمہ:

ابوہریرہ‌ؓ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ  ‌ﷺ ‌سے سنا فرما رہے تھے،شراب ان دودرختوں میں سے ہے:كھجور اور انگور۔

[الصحيحة:3159، صحيح مسلم:3672،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ]




عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: دائمی شرابی اگر مرگیا تواللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا گویا وہ بت كا پجاری ہو۔

[الصحيحة:2265، سنن الترمذي:2303،كِتَاب الزُّهْدِ،بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ كَثْرَةِ الْأَكْلِ]





عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی اللہ عنہ  قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي فَإِذَا رَسُولُ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمْشِي وَحْدَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ قَالَ: فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ! تَعَالَهْ قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ: إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللهُ خَيْرًا فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ وَشِمَالَهُ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَوَرَاءَهُ وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا قَالَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا فَقَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ فَلَبِثَ عَنِّي فَأَطَالَ اللُّبْثَ ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ يَقُولُ: وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى! قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ! جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ؟ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ: ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ قَالَ بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ! وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى؟ قَالَ نَعَمْ وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ.

ترجمہ:

ابو ذر  ؓ كہتے ہیں كہ ایك رات میں باہر نكلا كیا دیكھتا ہوں كہ رسول اللہ ﷺ اكیلے چلے جا رہے ہیں، ان كے ساتھ كوئی  بھی نہیں۔ میں سمجھا شاید انہیں اچھا نہ لگتا ہو كہ كوئی ان كے ساتھ چلے، میں چاند كے سائے میں چلنے لگا۔ آپ نے میری طرف دیكھا تو پوچھا: كون ہو؟ میں نے كہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے،میں ابو ذر ہوں۔ فرمایا اے  ابو ذرآجاؤ میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلا تو آپ نے كہا: زیادہ جمع كرنے والے قیامت كے دن سب سے كم مال والے ہوں گے سوائے اس كے جسے اللہ تعالیٰ مال عطا كرے، تو وہ اسے اپنے دائیں بائیں آگے پیچھے خرچ كرے اور اس كے ساتھ بھلائی كا كام كرے۔ پھر میں كچھ دیر آپ كے ساتھ چلتا رہاآپ نے مجھے ایک نرم زمین  پربٹھایا  اس کے اردگرد پتھر پڑے ہوئے تھےتو آپ نے مجھ سے كہا یہاں بیٹھ جاؤ۔ جب تك میں واپس نہ آ جاؤں، آپ حرہ (نامی وادی)میں چلتے ہوئے آنكھوں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ كافی دیر بعد آئے، پھر میں نے انہیں كہتے ہوئے سنا: اگرچہ وہ چوری كرے یا زنا كرے۔ جب وہ آئے تو مجھ سے صبر نہ ہو سكا میں نے كہا: اے اللہ كے نبی ﷺ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان كرے، حرہ كی طرف كس سے بات كی جا رہی تھی؟ میں نے كسی شخص كو جواب دیتے ہوئے نہیں سنا۔ آپ  ‌ﷺ ‌نے فرمایا: وہ جبریل تھے جو حرہ كی جانب مجھ سے ملے اور كہنے لگے اپنی امت كو خوشخبری دے دیجئے كہ جو شخص اس حال میں مرا كہ اس نے اللہ تعالیٰ كے ساتھ شرك نہ كیا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے كہا: اے جبریل  اگرچہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ میں نے كہا: اگر چہ اس نے چوری كی ہو اور زنا كیا ہو؟ جبریل نے كہا: ہاں۔ اگرچہ اس نے شراب بھی كیوں نہ پی ہو۔

[الصحيحة:826، صحيح البخاري:5962، كِتَاب الرِّقَاقِ بَاب الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْمُقِلُّونَ]






عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالُوا: يَا رَسُول اللهِ! إِنَّا هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَة وَقَد حَالَت بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَار مُضَر فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلَ بِه وَنَدْعُوإِلَيْهِ مَنْ وَرَائنَا قَالَ آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فقال: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدَ رَسُولُ اللهِ وَعَقَدَ وَاحِدةً وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكم عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ‌ﷺ ‌كے پاس آیا اور كہا: اے اللہ كے رسول ہم بنو ربیعہ سے تعلق ركھتے ہیں۔ ہمارے اور آپ كے درمیان كفارِ مضر ہیں ہم آپ كے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں آسكتے ہیں۔ ہمیں كسی ایسے كام كا حكم دیجئے جس پر ہم عمل كر سكیں اور جوہمارے پیچھے ہیں انہیں اس كی دعوت دیں آپ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں كا حكم دیتا ہوں اورچار باتوں سے منع كرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان، پھر ان كے لئے وضاحت كی كہ اس بات كی گواہی دینا كہ اللہ كے علاوہ كوئی معبودِ برحق نہیں، اور میں محمد ‌ﷺ ‌اللہ کا رسول ہوں، آپ نے ان کے لیے اس کی تفسیر بیان کی۔ نماز قائم كرنا، زكوٰۃ ادا كرنا، اور تمہیں جوغنیمت حاصل ہواس كا پانچواں حصہ دینا اور میں تمہیں کدوکے برتن،شراب والے برتن(جوسبزی مائل ہوتاہے)،تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن سے منع کرتا ہوں۔  

[الصحيحة:3957، صحيح البخاري:492،كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ،بَاب قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: مُنِيبِينَ إِلَيْهِ...]





عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَقَالَ: إِذَا جَاءَكَ يَطْلُبُ ثَمَنَ الْكَلْبِ فَامْلَأْ كَفَّيْهِ تُرَابًا.

ترجمہ:

) عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ آپ ‌ﷺ ‌نے شراب كی قیمت، زانیہ كی كمائی اور كتے كی قیمت لینے سے منع فرمایا،اور فرمایا كہ جب كوئی شخص تمہارے پاس كےس كی قیمت لینے آئے تو اس كے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو۔

[الصحيحة:1303، مسند أحمد:3103]






عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ مرفوعا: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيْعُ الخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ، وَكَانَ يَشُوْبُ الخَمْرَ بِالمَاء، وَمَعَهُ قِرْدٌ فَأَخذَ الكِيْس فَصَعِدَ الدَّقَلَ، فَجَعَلَ يُلقي دِينَارًا فِي الْبَحْرِ وَدِينَارًا فِي السَّفِينَةِ ، حَتَّى جَعلَه نِصفَين.

ترجمہ:

ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے كہ كسی كشتی میں ایك آدمی شراب بیچ رہا تھا اور شراب میں پانی ملا رہا تھا۔ اس كے پاس ایك بندر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے تھیلی پکڑی اور بادبان کی لکڑی پر چڑھ گیا اور ایك دینار سمندر میں اور ایك دینار كشتی میں پھینكنا شروع كر دیا۔ حتی كہ انہیں دو حصوں میں تقسیم كر دیا۔

[الصحيحة:2844، مسند أحمد:7710، شعب الإيمان للبيهقي :5075]







عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَمَنُ الْخَمْرِ حَرَامٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ حَرَامٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ حَرَامٌ، وَالْكُوبَةُ حَرَامٌ، وَإِنْ أَتَاكَ صَاحِبُ الْكَلْبِ يَلْتَمِسُ ثَمَنَهُ، فَامْلأْ يَدَيْهِ تُرَابًا، وَالْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: شراب كی كمائی حرام ہے، زانیہ كی كمائی حرام ہے، كتےكی كمائی حرام ہے۔شطرنج یا نرد(ڈگڈگی، طبلے وغیرہ)حرام ہیں،اگر تمہارے پاس كتے كا مالك آئے اور قیمت كا مطالبہ كرے تو اس كے دونوں ہاتھ مٹی سے بھر دو، شراب، جوا، اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

[الصحيحة:1806، المعجم الكبير للطبراني:12435]





عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠)قَالَتْ عَائِشَةُ: أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ؟ قَالَ: لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ! وَلَكِنَّهُمْ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) .

ترجمہ:

عائشہ ؓ سے مروی ہے كہ میں نے اس آیت كے متعلق رسول اللہ ‌ﷺ ‌سے سوال كیا: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠) وہ لوگ جو دیتے ہیں اور ان كے دل ڈر رہے ہوتے ہیں۔ عائشہ ؓ نے كہا: كیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور فضول خرچی كرتے ہیں؟ آپ ‌ﷺ ‌نے فرمایا: نہیں صدیق كی بیٹی! یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ ركھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، صدقہ كرتے ہیں، اور ڈرتے ہیں كہ شاید قبول نہ كیا جائے اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) یہی لوگ نیك كاموں میں جلدی كرتے ہیں۔

[الصحيحة:162، سنن الترمذي:3099،كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْمُؤْمِنُونَ]







عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عَمْرِو مرفوعاً: الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ، وَمَنْ شَرِبَهَا لَمْ يَقْبَلِ اللهُ مِنْهُ صَلاتَهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً.

ترجمہ:

عبداللہ بن عمرو ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شراب خبائث كی جڑ (ام الخبائث)ہے۔ جس شخص نے شراب پی اللہ تعالیٰ چالیس دن تك اس كی نماز قبول نہیں كرے گا، اگر وہ مرگیا اور شراب اس كے پیٹ میں ہوئی تو وہ جاہلیت كی موت مرے گا۔

[الصحيحة:1829، غريب الحديث لأبي عبيدة (2/102)]






عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفعَه: الْخَمْرُ أُمُّ الْفَوَاحِشِ وَأَكْبَرُ الْكَبَائِرِ مَنْ شَرِبَهَا وَقَعَ عَلَى أُمِّهِ وَخَالَتِهِ وَعَمَّتِهِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ: شراب فواحش كی جڑ ہے، اور سخت كبیرہ گنا ہ ہے۔ جس شخص نے شراب پی گویا وہ اپنی ماں، خالہ اور پھوپھی پر واقع ہوا( یعنی زناكیا)۔ 

[الصحيحة:1854، المعجم الأوسط:3810]






عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مرفوعاً: كُلُّ مُخَمِّرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ مُسْكِرًا بُخِسَتْ صَلاَتُهُ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ. قِيلَ: وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ سَقَاهُ صَغِيرًا لاَ يَعْرِفُ حَلاَلَهُ مِنْ حَرَامِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عباس ؓ سے مرفوعا مروی ہے كہ ہر نشہ آور چیز شراب كے زمرے میں آتی ہے۔ اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس شخص  نے شراب پی اس كی نماز چالیس دن تك ضائع كر دی گئی۔ اگر اس نے توبہ كر لی تو اللہ تعالیٰ بھی اس كی توبہ قبول كر لے گا، اگر اس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ كا حق ہے كہ اسے طینۃ الباسل سے پلائے۔ پوچھا گیا یہ طینۃ الباہل كیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دوزخیوں كی پیپ، اور جس شخص نے كسی چھوٹے بچے كو شراب پلائی جسے حلال و حرام كی سمجھ نہیں تھی اللہ تعالیٰ پر لازم ہے كہ اسے جہنمیوں كی پیپ پلائے۔

[الصحيحة:2039، سنن أبى داود:3682، كتاب الأشربة باب النَّهْىِ عَنِ الْمُسْكِرِ]






عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ حَرَّمَ عَلَى أُمَّتِي الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ وَزَادَنِي صَلَاةَ الْوَتْرِ.

ترجمہ:

عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت پر شراب،جوا، مکئی، جو اور گندم جَوسےبنائی گئی نبیذ،شطرنج یا طبلہ/ ڈگڈگی اور شراب کاجام حرام كیا اور مجھے نمازِ وتر زیادہ عطا كی

[الصحيحة:1708، مسند أحمد:6260]





عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِى سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ ثُمَّ إِنْ شَرِبُوا (الرَابِعَة) فَاقْتُلُوهُمْ.

ترجمہ:

 معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں كوڑے مارو، پھر شراب پئیں توپھر كوڑے مارو، پھر شراب پئیں تو پھر كوڑے مارو، پھر اگر(چوتھی مرتبہ) شراب پئیں تو انہیں قتل كردو

[الصحيحة:1360، سنن أبى داود:4484، كتاب الحدود باب إِذَا تَتَابَعَ فِى شُرْبِ الْخَمْرِ]






عَنْ سَبِيْعَةَ الأَسْلَمِيْة، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى عَائِشَة نِسْوَة مِنْ أَهْلِ الشَّام فَقَالَتْ عَائِشَة : مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ فَقُلْنَ: مِنْ أَهْلِ حِمْص. فَقَالَتْ : صَوَاحِبُ الْحَمَّامَات؟. فَقُلْنَ: نَعَمْ . قَالَتْ عَائِشَة : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْل :«الحَمَّامُ حَرَامٌ عَلَى نِسَاءِ أُمَّتِي » قَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ:فَلِيَ بَنَات أَمْشِطُهُنَّ بِهَذَا الشَّرابِ ؟ قَالَتْ: بِأَيِّ الشَرَاب؟ فَقَالَتْ: الخَمْر! فَقَالَتْ عَائِشَة: أَفَكُنْتِ طَيِّبَة النَّفْسِ أَنْ تَمْتَشطِي بِدَم خِنْزِيْر؟ قَالَتْ: لاَ قَالَتْ: فَإِنَّهُ مِثْلَهُ .

ترجمہ:

سبیعہ اسلمیہ سے مروی ہے کہتی ہیں کہ عائشہ ؓ کے پاس شام سے کچھ عورتیں آئیں۔ عائشہ ؓ نے پوچھا: تم کن لوگوں سے تعلق رکھتی ہو؟ انہوں نے کہا: اہل حمص سے۔ عائشہ ؓ نے کہا: حمام والی ہو؟ کہنے لگی: جی ہاں۔ عائشہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرما رہے تھے: میری امت کی عورتوں پر حمام حرام ہے۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: میری بیٹیاں ہیں جن کے بال شراب سے دھو کر کنگھی کرتی ہوں۔ عائشہ ؓ نے کہا: کون سا مشروب ہے؟ اس نے کہا:شراب،عائشہ ؓ نے کہا: خنزیر کے خون سے دھونا پسند کرو گی؟اس نے کہا نہیں۔عائشہ ؓ نے کہا: یہ شراب بھی اس خون جیسی ہے

[الصحيحة:3439، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7892]



عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّه قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِى الدُّنْيَا وَلَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِى الآخِرَةِ و إِنْ أُدْخلَ الْجَنَّةَ ».

ترجمہ:

عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور توبہ نہ كی، وہ آخرت میں شراب نہ پی سكے گا اگرچہ جنت میں ہی كیوں نہ داخل ہو جائے۔

[الصحيحة:2634، شعب الإيمان:5573]






عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهُ فِي الْآخِرَةِ،وَمَنْ شَرِبَ فِي آنِيَةِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الدُّنْيَا،لَمْ يَشْرَبْ بِهَا فِي الأَخِرَة،ثُمَّ قَالَ:لِبَاسُ أَهْل الْجَنَّة وَشَرَاب أَهْل الْجَنَّة وَآنِيَة أَهْل الْجَنَّة »

ترجمہ:

ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ریشم نہیں پہن سکے گا۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں شراب نہیں پی سکے گا۔ جس شخص نے دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پیا، وہ آخرت میں ان برتنوں میں پی نہیں سکے گا۔ پھر فرمایا: یہ اہل جنت کا لباس، اہل جنت کا مشروب اور اہل جنت کے برتن ہیں۔

[الصحيحة:384، المستدرك على الصحيحين للحاكم:7324]







عَنْ أَبِي أُمَامَة الْبَاهِلِيّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ  صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُوْل: أَتَانِي رَجُلَانِ ، فَأَخَذَا بِضَبْعِي ، فَأَتَيَا بِي جَبَلًا وَعْرًا، فَقَالَا: اصْعُدْ. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أُطِيْقُهُ . فَقاَلاَ: إِنَّا سَنُسَهِّلُهُ لَكَ. فَصَعَدْتُّ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاء الْجَبَل، إِذَا أَنا بِأَصْواَتٍ شَدِيْدَةٍ ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الْأَصْوَات ؟ قَالُوا: هَذاَ عَوَاءُ أَهْلِ النَّار ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا أَنَا بِقَوْمٍ مُعَلِّقِيْنَ بِعَرَاْقِيْبِهِمْ مُشَقَّقَة أَشْدَاقُهُمْ تَسِيْلُ أَشْدَاْقُهُمْ دَمًا ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَؤُلَاء الَّذِين يُفْطِرُوْنَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِم ،فَقَالَ: خَابَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ سُلَيْمَانِ: مَا أَدْرِي أَسِمعَهُ أَبُو أُمَامَةَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمْ شَيْءٌ مِنْ رَأْيِہ؟!  ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا بِقَوْم أَشَدّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا ، وَأَنْتَنِهِ رِيْحًا ، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ: هَؤُلاَءِ قَتْلَى الكُفَّارِ .ثُمَّ انْطَلَقَا بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدَّ شَيْءٍ وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، كَأَنَّ رِيْحَهُمْ المَرَاحِيْضُ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاء؟ قَالَ: هَؤُلاَءِ الزّانُوْنَ وَالزَّوَانِي ، ثُمَّ انْطَلَقَا بِي ، فَإِذَا انا بِنَسَاءٍ تَنْهَشُ ثُدِيَّهُنّ الْحَيَّاتُ ، قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلَاءِ؟ قِيْل : هَؤُلَاء اللَّاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلَادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي ، فَإِذَا أَناَ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْن نَهْرَيْنِ ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالاَ : هَؤُلَاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِيْن ، ثُمَّ أشَرَفَا بِي شَرَفًا ، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ يَشْرَبُون مِنْ خَمرٍ لَهُمْ ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوْا: هَؤُلَاءِ جَعْفَرُ وَزَيْدُ وَابْنُ رَوَاحَةَ . ثُمَّ أشْرَفَا بِي شَرَفًا آخَر، فَإِذَا أَناَ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ، قُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: هَذاَ إِبْرَاهِيْم ، وَمُوسَى ، وَعِيسَى وَهَم يَنْتَظِرُونَكَ .

ترجمہ:

ابو امامہ باہلی ؓ كہتےہیں كہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا:میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے میرے بازؤوں سے مجھے پكڑا اورایك خوفناک پہاڑ كے پاس لے آئے۔ كہنے لگے: اس پر چڑھئے، میں نے كہا: مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔ انہوں نے كہا: ہم آپ كی مدد كرتے ہیں۔ میں اوپر چڑھ گیا اور پہاڑ كی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اچانك میں نے شدید چیخ و پكار سنی، میں نے كہا: یہ كیسی آواز یں ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ جہنمیوں كی آہ و بكا ہے، پھر وہ مجھے لے كر چل پڑے، میرے سامنے كچھ لوگ آئےجو الٹے لٹکے ہوئے تھے، ان كی باچھیں چیری ہوئی تھیں، ان كی باچھوں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے پوچھا: یہ كون لوگ ہیں؟انہوں نے کہا: یہ روزے كا وقت ہونے سے پہلے ہی روزہ افطار كر لیا كرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: یہودونصاریٰ ہلاك ہو گئے۔ سلیمان نے كہا: مجھے نہیں معلوم كہ یہ جملہ  ابو امامہ نے آپ سے سنا ہے یا ان كی اپنی رائے ہے۔ پھر وہ( مجھے) لے كر ایسی قوم كے پاس گئے جن كے پیٹ پھولے ہوئے تھے، انتہائی بدبو اٹھ رہی تھی اور سیاہ ہو چكے تھے۔ میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ كفار كے مقتولین ہیں، پھر وہ مجھے لے كر ایسی قوم كے پاس گئے، جو پھولے ہوئے تھے، گویا ان كی بدبو پاخانے كی طرح تھی، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا كہ زانی مرد اور عورتیں ہیں۔ پھر مجھے لے كر ایسی عورتوں كے پاس گئے جن كے پستانوں كو سانپ ڈس رہے تھے۔ میں نے پوچھا: ان كا كیا معاملہ ہے؟ اس نے كہا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں كو دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر مجھے لے كرایسے بچوں كے پاس گئے جو دو نہروں كے درمیان كھیل رہے تھے، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ انہوں نے كہا: یہ مومنین کی (بچپن میں فوت ہوجانے والی) اولاد ہیں۔ پھر مجھے ایك اونچی جگہ لے گئے۔ میں نے تین آدمیوں كی ٹولی دیكھی جو شراب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا: یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: جعفر، زیداورابنِ رواحہ ؓ ہیں پھر مجھے ایك دوسرے ٹیلے پر لے گئے۔ میں نے تین آدمی دیكھے، میں نے پوچھا یہ كون لوگ ہیں؟ اس نے كہا: یہ ابراہیم،موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہیں جو آپ كے منتظر ہیں۔

[الصحيحة:2601، صحيح مسلم:274،كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب آخِرِ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا]









No comments:

Post a Comment