Wednesday, 8 July 2026

سانپ کے متعلق بیان


احادیث میں سانپ کے بارے میں مختلف احکام اور ہدایات ملتی ہیں، جنہیں بنیادی طور پر تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:


اصلاحِ عقیدہ

حکم نمبر 1: نقصان دہ سانپوں کو مارنا۔


نبی کریم ﷺ نے خاص طور پر نقصان دہ سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے، جن کی پہچان بھی بتائی گئی ہے۔


· حکمِ قتل: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "سانپوں کو مارو

اسحاق بن اسماعیل، سفیان، ابن عجلان، ، حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
«مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً، فَلَيْسَ مِنَّا» يَعْنِي الْحَيَّاتِ
ترجمہ:
ہم نے سانپوں سے صلح نہیں کی جب سے ہم نے ان سے جنگ شروع کی اور جو ان میں سے کسی سانپ کو چھوڑے ڈر کر وہ ہم میں سے نہیں۔
[سنن أبي داود:5248 ، مسند أحمد:9588 ، مسند البزار:8372، صحيح ابن حبان:5644]

تشریح :
" بدلے کے خوف " کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ڈر کی وجہ سے سانپ کو نہ مارے کہ کہیں اس کا جوڑا مجھ سے انتقام نہ لے ، چنانچہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نے کسی سانپ کو مار ڈالا اور پھر اس کے جوڑے نے آ کر اس شخص کو کاٹ لیا اور بدلہ لیا ، مارا جانے والا سانپ اگر نر ہوتا ہے تو اس کی مادہ انتقام لینے آتی ہے اور اگر وہ مادہ تھی تو اس کا نر بدلہ لینے آتا ہے ، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کے ہاں یہ خوف ایک عقیدے کی حد تک تھا وہ کہا کرتے تھے کہ سانپ کو ہرگز نہیں مارنا چاہئے ، اگر اس کو مارا جائے گا تو اس کا جوڑا آ کر انتقام لے گا ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے قول و اعتقاد سے منع فرمایا ۔


· مخصوص اقسام: خاص طور پر ”ذُو الطُّفْیَتَیْنِ“ (جس کی پیٹھ پر دو سفید یا کالی لکیریں ہوں) اور ”الأَبْتَرَ“ (جس کی دم چھوٹی یا کٹی ہوئی ہو) کو مارنے کا خاص حکم ہے۔

· وجہ: ان سانپوں کو مارنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ آنکھوں کی بینائی زائل کر دیتے ہیں اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں۔

· حیثیت: یہ احکام صحیح احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔



حکم نمبر 2: گھروں میں رہنے والے سانپوں سے نمٹنا


گھر میں ملنے والے سانپ کے لیے طریقہ کار مختلف ہے، پہلے اسے موقع دینے کا حکم ہے۔


· تین دن کی مہلت: گھریلو سانپ کو تین بار آگاہ کیا جائے کہ وہ گھر چھوڑ دے۔

· پھر قتل: اگر تین بار متنبہ کرنے کے باوجود وہ واپس آئے تو اسے مار دینا چاہیے۔

· ممکنہ وجہ: اس ہدایت کی ایک وجہ یہ ہے کہ بعض گھریلو سانپ جن (Jinn) ہو سکتے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہو۔

· ابتدائی حکم میں تبدیلی: ایک روایت کے مطابق، نبی ﷺ نے ابتداء میں تمام سانپ مارنے کا حکم دیا تھا، مگر بعد میں گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرما دیا۔



حکم نمبر 3: نماز کی حالت میں


نماز کی حالت میں بھی سانپ کو مارنے کی اجازت ہے۔


· نماز توڑ کر مارنا: رسول اللہ ﷺ نے نماز میں دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔



۔


---


دیگر اہم احادیث:

· سانپ کو پالتو جانور بنانا جائز نہیں، بلکہ اسے ختم کرنا چاہیے۔


· سود خور کا بھیانک انجام: فرمایا:

جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔

[سنن ابن ماجہ:2273]




· قیامت کے دن، جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا، اس کا مال ایک زہریلے نر سانپ کی شکل اختیار کر لے گا جو اسے ڈسے گا۔



*حدیث 1: کافر پر ستر (90) اژدہے مسلط کیے جائیں گے۔*

· حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدہے (تنین) مسلط کر دیے جاتے ہیں، جو قیامت تک اسے ڈستے اور نوچتے رہیں گے۔ اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو زمین کسی قسم کا سبزہ نہ اگائے۔"



(دوسری مفصل روایت میں ہے)


حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ (ایک مرتبہ) نماز کے لیے تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگ "یکتشرون" (مزاق کر رہے تھے یا کھلکھلا کر ہنس رہے تھے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"سنو! اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والے (یعنی موت) کا کثرت سے ذکر کرو تو یہ اس حالت سے تمہیں غافل کر دے گا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ پس موت کی کثرت سے یاد کرو، جو لذتوں کو ختم کرنے والی ہے۔ کیونکہ قبر پر کوئی دن ایسا نہیں آتا مگر وہ (قبر) کہتی ہے: 'میں اجنبیت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں۔'

اور جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے: 'خوش آمدید، مرحبا! بے شک تم میرے اوپر چلنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے۔ آج جب تمہیں میرے سپرد کر دیا گیا اور تم میرے پاس آ گئے ہو، تو عنقریب تم میرے ساتھ میرا معاملہ دیکھو گے۔'

راوی کہتے ہیں: پھر اس کے لیے قبر اتنی کشادہ کر دی جاتی ہے جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

اور جب فاجر (گنہگار) یا کافر بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے: 'نہ مرحبا اور نہ خوش آمدید! بے شک تم میرے اوپر چلنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ ناپسندیدہ تھے۔ آج جب تمہیں میرے سپرد کر دیا گیا اور تم میرے پاس آ گئے ہو، تو عنقریب تم میرے ساتھ میرا معاملہ دیکھو گے۔'

راوی کہتے ہیں: پھر قبر اس پر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں (ایک دوسری میں) گھس جاتی ہیں۔ (یہ بتاتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں اس طرح داخل کیا جیسے پسلیاں گھستی ہیں۔

آپ ﷺ نے مزید فرمایا: "اور اس پر ستر (۷۰) اژدہے (تنین) مسلط کر دیے جاتے ہیں، اگر ان میں سے ایک بھی زمین پر پھونک مار دے تو جب تک دنیا باقی ہے، زمین کچھ بھی نہ اگائے (یعنی ہر چیز جل جائے)۔ یہ اژدہے اسے ڈستے (نہس) اور نوچتے (خدش) رہیں گے یہاں تک کہ وہ اسے حساب کے دن تک پہنچا دیں (یعنی عذاب جاری رہے گا)۔"

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔"





شرح البيضاويؒ (متوفی 685ھ) :

پہلا احتمال: کہ اس سے مخصوص عدد (یعنی قطعی 99) مراد ہے، اور اس عدد کی خصوصیت (تعیین) توقیفی ہے، یعنی اس میں عقل و اجتہاد کو کوئی دخل نہیں، بلکہ اسے وحی کے ذریعے ہی حاصل کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے نماز کی رکعات کی تعداد (توقیفی ہے اور اس میں قیاس نہیں چلتا)۔

اور دوسری قول (رائے) یہ ہے: کہ بے شک اللہ کے 99 نام ہیں (اسماء الحسنیٰ)۔ ان میں سے ہر نام اس معنی پر دلالت کرتا ہے جس پر ایمان لانا واجب ہے۔ چونکہ کافر نے ان سب سے اعراض کیا (منہ موڑا) اور نہ تو مجموعی طور پر ان پر ایمان لایا اور نہ تفصیل کے ساتھ، اس لیے ہر نام کے بدلے اس پر ایک "تنین" (جو بہت بڑا سانپ ہے) مسلط کر دیا گیا۔

"تنہشہ" یعنی وہ اسے ڈسے گا اور قیامت کے دن تک کاٹتا رہے گا۔

اور تیسرا احتمال (یا مؤول معنی) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے کثرت (بہت زیادہ تعداد) مراد ہو، اور "تنین" کو اس طرح مؤول کیا جائے کہ اس سے مراد وہ تمام مصائب، مکروہات اور عذاب ہیں جو کافر کو (قبر اور آخرت میں) گھیر لیں گے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔"

اس شرح سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟
(1)غیبات میں تسلیمِ امر:
بیضاویؒ نے واضح کیا کہ قبر کے عذاب کی کیفیت اور تعداد (99) ایک غیبی حقیقت ہے۔ اس میں عقل کو دخل نہیں دینا چاہیے، بلکہ اسے ویسے ہی ماننا چاہیے جیسے حدیث میں آیا ہے (بغیر تکلف کے)۔

(2)توقیفیت کا اصول:
عبادات کی تعداد (رکعات، طواف وغیرہ) اور غیبیات کی تعداد (جہنم کے دروازے، قبر کے اژدہے وغیرہ) میں قیاس اور اجتہاد جائز نہیں۔ یہ صرف وحی سے معلوم ہوتا ہے، اور جیسے آیا ہے ویسے ایمان لانا واجب ہے۔

(3)اسمائے حسنیٰ سے ربط:
یہ ایک بہت عمدہ اشارہ ہے کہ اللہ کے ناموں سے محبت اور ان پر ایمان انسان کو عذاب سے بچاتا ہے، جبکہ ان سے اعراض کرنے والے کو عذاب گھیر لیتا ہے۔ (یہ وہ نکتہ ہے جو عام وعظ و نصیحت میں بھی استعمال ہوتا ہے)۔

(4)تأویل کی گنجائش اور حد:
بیضاویؒ نے مؤول معنی (کثرت اور مصائب) کو بھی جائز رکھا، مگر اسے نہ تو پہلی دلیل بنایا اور نہ اسے نص پر مقدم کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء متقدمین جہاں نص کو ظاہر پر رکھتے تھے، وہاں متشابہات میں عقلی توجیہات کو بطورِ احتمال بیان کرتے تھے، مگر انہیں قطعی نہیں گردانتے تھے۔









شرح مظهر الدين الزيدانيؒ (متوفی 727ھ) :

قوله: "يُسلَّط" : یہ "تسلیط" سے ماخوذ ایک مفعول کا صیغہ (مضارع مجہول) ہے، جس کے معنی ہیں کہ کسی کو کسی پر موکل (مقرر) کیا جائے تاکہ وہ اسے عذاب اور اذیت پہنچائے۔

(التنِّين) : پہلے نون پر تشدید کے ساتھ، یہ سانپوں کی ایک قسم ہے جس میں بہت زیادہ زہر ہوتا ہے۔

(نَهَشَ) اور (لَدَغَ) : دونوں کے ماضی اور مستقبل کا صیغہ (فتحہ کے ساتھ) ہے، اور لغت میں ان دونوں کے معانی ایک ہی ہیں۔ ان دونوں الفاظ کو ایک ساتھ ذکر کرنا یا تو تاکید کے لیے ہے، یا عذاب کی مختلف اقسام کو بیان کرنے کے لیے، کیونکہ کبھی "نہش" (ڈسنا) "لدغ" (کاٹنا) سے زیادہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے اور کبھی اس کے برعکس۔

"حتى تقوم الساعة" : یعنی یہ عذاب قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔

قوله: "لو أن تنِّينًا منها نفخَ في الأرض لَمَا أنبتت خضراءَ" : یہ اس (اژدہے) کے زہر کی شدت اور منہ کی حرارت کو بیان کر رہا ہے۔ یعنی اگر اس کے منہ کی ہوا اور حرارت زمین تک پہنچ جائے تو زمین کوئی سبزہ نہ اگائے، اور زمین اس کی حرارت سے جل جائے، یہاں تک کہ اس میں کوئی سبز پودا یا درخت باقی نہ رہے۔

(تسعة وتسعين) کی تحدید (تخصیص) کے بارے میں اختلاف ہے:

"الأصح" (سب سے زیادہ صحیح قول): یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحی کے ذریعے اس عدد (۹۹) کو اس لیے مخصوص کیا کہ آپ کو اس کی حکمت معلوم تھی، اور اسے آپ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسے آپ ﷺ نے استغفار کو ستر (۷۰) مرتبہ یا سو (۱۰۰) مرتبہ وغیرہ کے ساتھ مخصوص کیا (یہ بھی توقیفی ہے)۔

اور ایک قول (قيل) یہ ہے: کہ اسے ۹۹ کے ساتھ اس لیے مخصوص کیا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ۹۹ نام ہیں، ہر نام کسی نہ کسی صفت (جیسے رحمن، رحیم، ملک) سے ماخوذ ہے، اور اس کی بحث اپنی جگہ آئے گی (ان شاء اللہ)۔

کافر نے ان ناموں اور ان صفات کا انکار کیا، اور ان ناموں والے (اللہ) کے ساتھ شرک کیا، اس لیے ہر نام کے بدلے اس پر ایک اژدہا مسلط کر دیا گیا۔ اور مؤمنین کے لیے ہر نام کے بدلے جسے انہوں نے مانا، رحمت حاصل ہوئی، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

"بے شک اللہ کی ایک سو (۱۰۰) رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت اس نے جنوں، انسانوں، چوپایوں اور کیڑوں کے درمیان نازل فرمائی، جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر شفقت اور رحم کرتے ہیں، اور جس کے ذریعے وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربان ہوتے ہیں، اور ۹۹ رحمتیں اس نے اپنے بندوں پر رحم کرنے کے لیے (آخرت کے لیے) روک رکھی ہیں۔"

"التعاطف" : دو افراد کے درمیان شفقت کا تبادلہ، اور "العطف": شفقت اور رحمت ہے۔



قوله: "يَكْتَشِرون" یعنی وہ مسکرا رہے تھے (تبسم کر رہے تھے)۔

"لو أكثرتُمْ ذكرَ هادِمِ اللذَّات لشغلَكُم" یعنی یہ (موت کا ذکر) تمہیں اس چیز سے روک دے گا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ "عما أرى" سے مراد جو میں تم میں دیکھ رہا ہوں (یعنی مسکراہٹ اور ہنسی)۔ "الموت" (لفظ) "ہادم اللذات" کی تفسیر ہے، یا یہ کہ ایک محذوف فعل کا مفعول ہے، تقدیر: "أعنی الموت" (یعنی میں موت کا ذکر کر رہا ہوں)۔ "لشغلکم" یعنی تمہیں روک دے گا۔

"أما" یعنی "اعلم" (جان لو)۔

"وُلِّيْتُكَ"، "ولی" کے معنی کسی پر قابو پانے یا حاکم بننے کے ہیں۔ یعنی جب تم میرے پاس آ گئے اور میں تم پر حاکم اور قادر ہو گیا، اور تم مجبور و بے بس ہو گئے، اور تم میں کوئی طاقت اور قوت نہ رہی۔

"فسترى صَنيعي بكَ" یعنی تم میرا فعل دیکھو گے، (مومن کے لیے) اس کا مطلب ہے کہ میں تمہارے ساتھ احسان کروں گا۔

"فيلتئم عليه" یعنی قبر کا ہر پہلو اس پر جھک جائے گا اور اسے دبائے گا اور نچوڑے گا۔

"حتى تختلفَ" یعنی اس کی دائیں جانب کی پسلیاں بائیں جانب کی پسلیوں میں اور بائیں جانب کی پسلیاں دائیں جانب کی پسلیوں میں گھس جائیں گی اور آپس میں مل جائیں گی۔

"ويُقَيَّضُ" یعنی اس پر (عذاب کے لیے) موکل (مقرر) کر دیا جائے گا۔ "التنين" سانپ کی ایک قسم ہے۔

"فينهشنه" یعنی وہ اسے ڈسیں گے۔ "حتى يفضى به" یعنی قیامت کے دن تک (یہ عذاب) پہنچا دیا جائے گا۔










شرح ابن الملكؒ (متوفی 854ھ) :

"کافر پر (قبر میں) ننانوے (99) اژدہے مسلط کیے جائیں گے" یعنی انہیں اس پر مقرر کر دیا جائے گا تاکہ وہ اسے عذاب اور اذیت پہنچائیں۔ "تنین" بہت بڑے سانپ کو کہتے ہیں۔

اس عدد (99) کی مخصوص تعیین صرف وحی کے ذریعے معلوم ہو سکتی ہے، عقل اسے خود نہیں جان سکتی۔

پہلا احتمال (بیضاویؒ کی طرح): یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے 99 نام (اسماء الحسنیٰ) ہیں، کافر نے ان ناموں والے (اللہ) کے ساتھ شرک کیا، اس لیے ہر نام کے بدلے اس پر ایک اژدہا مسلط کر دیا گیا۔

دوسرا احتمال (نیا اور اہم اضافہ): یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ روایت میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک سو (100) رحمتیں ہیں، جن میں سے ایک رحمت اس نے دنیا میں انسانوں، جنوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان نازل فرمائی، جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت کرتے ہیں، اور باقی 99 رحمتیں اس نے آخرت کے لیے اپنے مومن بندوں کے لیے روک رکھی ہیں۔ پس اس (کافر) پر ہر اس رحمت کے بدلے جو مومنین کے لیے مخصوص ہے، ایک اژدہا مسلط کر دیا گیا (یعنی 99 رحمتوں کے مقابل 99 اژدہے)۔

"تنہشہ وتلدغہ" (وہ اسے ڈسے گا اور کاٹے گا) ان دونوں کے معانی ایک ہی ہیں، اور انہیں ایک ساتھ ذکر کرنا تاکید کے لیے ہے۔ کہا گیا ہے کہ "نہش" (سانپ کا ڈسنا) "لدغ" سے زیادہ شدید ہوتا ہے، کیونکہ اس کا اثر سانپ کے ڈسنے اور کتے کے کاٹنے جیسا عظیم ہوتا ہے۔

"حتیٰ تقوم الساعة" یعنی قیامت تک (یہ عذاب جاری رہے گا)۔

"لو أن تنينًا منها نفخ في الأرض" یعنی اگر ان اژدہوں میں سے ایک بھی زمین پر پھونک مار دے (یعنی اس کے منہ کی گرم ہوا اور حرارت زمین تک پہنچ جائے) تو اس کی حرارت سے زمین اس طرح جل جائے گی کہ وہ کوئی سبزہ (ہری گھاس یا درخت) نہ اگا سکے، یعنی اس میں کوئی نباتات یا درخت باقی نہ رہے۔"



(ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ) نبی کریم ﷺ نماز کے لیے تشریف لائے تو لوگوں کو دیکھا کہ گویا وہ "یکتشرون" ہیں، یعنی "کَشْر" (دانت ظاہر کرنا) سے ہنسی کے لیے دانت کھول رہے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

"أما" (سنو!) "اگر تم لذتوں کو ہضم کرنے والی (یا ڈھا دینے والی) یعنی موت کا کثرت سے ذکر کرتے تو یہ تمہیں اس (ہنسی مذاق) سے غافل کر دیتی جو میں دیکھ رہا ہوں۔"

(یہاں "الموت" کے لیے تین اعراب جائز ہیں):

رفع بطورِ فاعلِ "شغل" کے،

یا خبرِ مبتدٰی محذوف،

اور نصب بطورِ "اَعْنی" (یعنی مراد) کے،

اور جر بطورِ صفتِ "ہاذم اللذات" کے۔

پس تم موت کا کثرت سے ذکر کرو، یعنی لذتوں کو موت کے ذکر سے تباہ کرو۔

"کیونکہ قبر پر کوئی دن ایسا نہیں آتا مگر وہ (قبر) بولتی ہے: میں اجنبیت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، میں کیڑوں کا گھر ہوں۔"

اور جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے: "خوش آمدید! مرحبا!" ("أما" یعنی جان لو!) "بے شک تم میرے اوپر چلنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب تھے۔" (یہاں "أحب" مفعول کے لیے بنا ہوا افعل تفضیل ہے) "آج جب تم میرے سپرد کر دیے گئے (یعنی میں تم پر قادر و حاکم ہو گیا) اور تم میرے پاس آ گئے (یعنی میرے فعل کے تحت مغلوب ہو گئے) تو تم عنقریب میرے ساتھ میرا معاملہ دیکھو گے۔"

راوی کہتے ہیں: پھر اس کے لیے قبر (اتنی) کشادہ کر دی جاتی ہے جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔

اور جب فاجر یا کافر بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے کہتی ہے: "نہ مرحبا اور نہ خوش آمدید! بے شک تم میرے اوپر چلنے والوں میں مجھے سب سے زیادہ ناپسندیدہ تھے۔ آج جب تم میرے سپرد کر دیے گئے اور تم میرے پاس آ گئے تو تم عنقریب میرے ساتھ میرا معاملہ دیکھو گے۔"

راوی کہتے ہیں: پھر قبر اس پر (ہر طرف سے) بند ہو جاتی ہے اور اسے دباتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں (یعنی بعض بعض کے اندر داخل ہو جاتی ہیں)۔

راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے (اس اختلافِ اضلاع کو) اشارہ کیا، تو آپ ﷺ نے بعض انگلیوں کو بعض کے اندر داخل کیا تاکہ پسلیوں کے آپس میں گھسنے کی تصویر کشی ہو۔ اس میں پسلیوں کے شدید اختلاف (گھسنے) کی طرف اشارہ ہے۔

آپ ﷺ نے مزید فرمایا: "اور اس پر ستر (۷۰) اژدہے مسلط (موکل) کیے جائیں گے۔ اگر ان میں سے ایک بھی زمین پر پھونک مار دے تو زمین جب تک دنیا باقی ہے، کوئی چیز نہ اگائے۔ یہ اسے ڈسیں گے (نہش) اور نوچیں گے (خدش) یہاں تک کہ اسے حساب تک پہنچا دیا جائے۔"

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔"









شرح عبد الحق الدهلويؒ (متوفی 958ھ) :

(أبو سعيد): راوی کا نام (ابو سعید خدریؓ)۔

قوله: (تسعة وتسعون تنينًا): مصنف (مشکاۃ) کا قول: "ننانوے اژدہے"۔ القاموس میں ہے: "التِّنِّينُ (کسکیت)": بہت بڑا سانپ۔

(تنهسه وتلدغه): "نہس" (بالمہملہ، سین کے ساتھ) کے معنی دانتوں کے کناروں (اطراف) سے (گوشت) کاٹنے کے ہیں، اور "نہش" (بالمعجمہ، شین کے ساتھ) کے معنی پورے دانتوں سے کاٹنے کے ہیں۔ اور روایت "نہس" (مہملہ، سین) کے ساتھ ہے۔ "تلدغہ" (اسے ڈسنا) اس کے لیے تاکید کے منزلہ میں ہے، کیونکہ "لدغ" (ڈسنا) زیادہ شدید ہوتا ہے۔

(العلم بالعدد قطعاً موکول إلى الشارع): اس عدد (۹۹) کا علم قطعی طور پر شارع (نبی ﷺ) کے بتانے پر موقوف ہے، ہماری عقل اسے خود نہیں جان سکتی۔

(وقد يقال: هذه الحيات صورة الأخلاق تمثلت بها): اور (بعض اہلِ علم) نے کہا ہے کہ یہ سانپ دراصل بری اخلاقیات (صفتوں) کی صورتیں ہیں جو (آخرت میں) ان کی مجسم شکل میں ظاہر ہو گئی ہیں۔

(ولعل أصولها في الشارع تسعة وتسعون): اور شاید شرع میں اس (تعداد) کی اصل (بنیاد) ننانوے (۹۹) ہی ہے۔

(والمراد بالسبعين المبالغة والتكثير): اور (دوسری روایت میں جو ۷۰ آیا ہے) اس سے مبالغہ اور کثرت (بہت زیادہ تعداد) مراد ہے، حقیقی عدد نہیں۔

(وقد ذكر التُّورِبِشْتِي وجهًا آخر): اور توربشتی (شارحِ مصابیح) نے اس (تعداد یا اژدہوں کی کیفیت) کی ایک اور (دوسری) توجیہہ بھی ذکر کی ہے (جسے وہ نقل نہیں کر رہے)۔






(أبو سعيد) : راوی کا نام (ابو سعید خدریؓ)۔

قوله: (يكتشرون) : یہ "کشر" (شین معجمہ کے ساتھ) سے ماخوذ افتعال کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہنسی کے لیے دانت ظاہر کرنے کے ہیں۔ اور "کاشره" کہتے ہیں جب کوئی اس کے چہرے پر ہنسے۔ "الصراح" (فارسی لغت) میں ہے: "کشر دندان سپید کردن شتر" (یعنی اونٹ کا دانت ظاہر کرنا) اور "تبسم کردن مردم" (انسان کا مسکرانا)۔

وقوله: (هاذم اللذات) : "ہذم" (ذال معجمہ کے ساتھ) کے معنی کاٹنا ہیں، اور "ہدم" (دال مہملہ کے ساتھ) کے معنی عمارت گرا دینا ہیں۔ سیوطی نے کہا: سہیلی نے صراحت کی ہے کہ روایت معجمہ (ذال) کے ساتھ ہے۔ اور "الحواشی" میں صاحبِ مہمات سے نقل کیا گیا ہے کہ "ہاذم اللذات" (ذال کے ساتھ) کے معنی "کاٹنے والا" ہیں، اور یہ معنی کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہے، البتہ بعض نسخوں میں مہملہ (دال) کے ساتھ بھی ہے۔

وقوله: (الموت) : یہ یا تو مجرور ہے، یا مرفوع، اور منصوب ہونا بھی ممکن ہے، اور یہ تمام وجوہ ظاہر ہیں (نحوی اعتبار سے درست ہیں)۔

وقوله: (أما إن كنت) : "أما" حرفِ تنبیہ ہے، اور "إن" مخففہ ہے (یعنی اصل "إنّ" تھی جس کا نون حذف ہو گیا)۔ اور "إلي" کا تعلق "أحب" سے ہے۔

وقوله: (فإذ وليتك) : یہ ماضی کے صیغے (متکلم وحدہ) پر ہے، یا تو "التولية" سے مجهول (یعنی مجھے حاکم بنایا گیا)، یا "الولاية" سے معلوم (یعنی میں حاکم بن گیا)۔ یعنی تم پر حاکم اور قادر بنا دیا گیا / بن گیا۔

و(تختلف أضلاعه) : یعنی اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں داخل ہو جائیں گی۔

وقوله: (ويقيض له) : "قیض اللہ فلاناً لفلان" یعنی اللہ نے اسے اس پر مسلط اور موکل کر دیا۔ یہ اس حدیث میں گزر چکا ہے:

"ما أکرم شاب شیخاً إلا قیض اللہ له من یکرمه" (جس جوان نے کسی بوڑھے کا احترام کیا، اللہ اس کے لیے ایسا شخص پیدا کرتا ہے جو اس کا احترام کرے)۔

وقوله: (فَيَنْهَسْنَهُ) : "نہس اللحم" (منع اور فرح کے وزن پر) یعنی گوشت کو اگلے دانتوں سے کاٹ کر نوچنا۔ (ويخدشنه) : "خدش الجلد" یعنی چمڑی کو کسی لکڑی یا اسی طرح کی چیز سے پھاڑنا یا چھیلنا۔

وقوله: (من حفر النار) : اور بعض روایات میں "من حفر النیران" (جمع کے ساتھ) ہے۔







شرح الملا على القاريؒ (متوفی 1014ھ) :

(لَيُسَلَّطُ): یعنی قسم ہے! اس پر (کافر پر) اس کی قبر میں عذاب اور اذیت کے لیے (ایک مخلوق) موکل کی جائے گی۔ (تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا): یعنی ۹۹ بہت بڑے، زہریلے سانپ (اژدہے)۔ اس عدد کی خصوصیت (تخصیص) کا سبب وحی کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔

پہلا احتمال (اسماء سے ربط): کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کے ۹۹ نام ہیں، کافر نے ان ناموں والے (اللہ) کے ساتھ شرک کیا، تو ہر نام کے بدلے ایک اژدہا مسلط کیا گیا۔

دوسرا احتمال (رحمتوں سے ربط - ابن ملک کا قول): یا یہ کہا جائے کہ روایت میں ہے کہ اللہ کی ۱۰۰ رحمتیں ہیں، ایک دنیا میں نازل فرمائی (جس سے انسان، جن، چوپائے اور کیڑے سب ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں اور وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربان ہوتے ہیں)، اور ۹۹ رحمتیں آخرت کے لیے مومنین کے لیے روک رکھی ہیں۔ پس کافر پر ہر اس رحمت کے مقابلے میں جو مومنین کے لیے ہے، ایک اژدہا مسلط کیا جائے گا۔ (یہ ابن الملک کا قول ہے)۔

تیسرا احتمال (اخلاقِ ذمیمہ سے ربط - امام غزالیؒ کا قول): اور حجۃ الاسلام (امام غزالیؒ) نے فرمایا: اژدہوں کی تعداد اس (کافر) کی اخلاقِ ذمیمہ (بری عادات) کی تعداد کے برابر ہے، کیونکہ یہ بری اخلاقیات آخرت میں حیوانات (جانداروں) کی صورت اختیار کر لیں گی، اس لیے کہ دنیا صُورت (ظاہری شکل) کا عالم ہے اور آخرت معنیٰ (باطنی حقیقت) کا عالم۔

طیبیؒ کا قول اور ملا علی قاریؒ کا ترجیحی موقف: طیبیؒ نے کہا: اژدہوں سے مراد وہ "تبعات" (گناہوں کے وبال) اور "مکروہات" (ناگوار چیزیں) ہیں جو اس شخص پر نازل ہوں گی، اور عربی زبان میں یہ (مجازی) گنجائش ضرور موجود ہے، لیکن "اہلِ عقل" کے لیے ظاہر (لفظی معنی) کو اختیار کرنا زیادہ بہتر (اولیٰ) ہے۔ اور اس (عذاب) کو عقلی دلائل سے محال قرار دینا اس شخص کا طریقہ ہے جس کا دین میں کوئی حصہ نہیں (یعنی ملحدانہ طرز فکر ہے)۔ اللہ ہمیں عقل کی لغزش اور سینے کے فتنے سے بچائے۔

(تَنْهَسُهُ): مؤنث کے صیغے کے ساتھ (اور مذکر بھی منقول ہے)۔ "نہس" (بالمہملہ) اور "نہش" (بالمعجمہ) دونوں روایات ہیں۔ النجایہ میں ہے: "نہس" دانتوں کے کناروں سے گوشت کاٹنا، اور "نہش" پورے دانتوں سے (زور سے) کاٹنا ہے۔ القاموس میں ہے: نہَسَ (منع و سمع کے وزن پر) گوشت کو اگلے دانتوں سے کاٹ کر نوچنا، اور نہَشَ اسے ڈسنا، کاٹنا یا پچھلے دانتوں سے کاٹنا ہے (جبکہ "سین" کے ساتھ کناروں سے کاٹنا ہے)۔

(وَتَلْدَغُهُ): یعنی اسے ڈسے گا۔ کہا گیا: "نہس" اور "لدغ" ہم معنی ہیں، اور دونوں کو تاکید کے لیے یا عذاب کی اقسام بیان کرنے کے لیے اکٹھا کیا گیا۔ ابہریؒ نے کہا: نہس زہر بغیر دانت سے کاٹنا (پھاڑنا) ہے، جبکہ لدغ زہر کے اخراج کے ساتھ دانت مارنا ہے، بغیر کاٹے۔

(حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ): قیامت تک۔ (لَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ) یعنی اگر ان میں سے ایک اژدہے کی منہ کی گرم ہوا اور حرارت زمین تک پہنچ جائے تو (مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا) یعنی زمین کوئی ہری نباتات نہ اگائے (کچھ روایت میں "خضراء" حبہ یعنی ہری دانہ بھی ہے)۔

رواہ الدارمی ورَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ: یعنی دارمی نے اس لفظ کے ساتھ روایت کیا، اور ترمذی نے بمعنیٰ روایت کیا، اور اس میں "۹۹" کی بجائے "۷۰" (اژدہے) کا ذکر ہے۔

عدد ۹۹ اور ۷۰ میں تطبیق (جمع):

عینیؒ نے کہا: یہ (۷۰ والی) روایت ضعیف ہے۔

ابن حجرؒ نے کہا: اگر دونوں ثابت ہوں تو جمع کیا جائے گا کہ ۹۹ بڑے (پیشوا) کفار کے لیے اور ۷۰ تابع (پیچھے چلنے والے) کفار کے لیے ہیں۔

یا: عربی زبان میں ۷۰ کثرت (بہت زیادہ) کے لیے بولا جاتا ہے، تو یہ (۷۰) مجمل (مختصر) ہے اور (۹۹) اس کی تفصیل و وضاحت ہے۔

ملا علی قاریؒ کا اضافی نکتۂ نظر: میں (ملا علی قاری) کہتا ہوں: ایک اور احتمال یہ بھی ہے کہ یہ اختلاف کفار کے مختلف درجات کی وجہ سے ہے، کیونکہ امام غزالیؒ نے صراحت کی ہے کہ جہنم میں کافرِ غنی (مالدار) کا عذاب کافرِ فقیر (غریب) کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔




شرح الملا على القاريؒ (متوفی 1014ھ) :

(صحابی) کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز ادا کرنے کے لیے (گھر سے) نکلے۔ ظاہر اور مقامِ گفتگو کا تقاضا یہ ہے کہ یہ نمازِ جنازہ تھی، کیونکہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو آپ پر کآبہ (شدید غم) طاری ہو جاتا اور آپ کم بولتے تھے۔

(فَرَأَى النَّاسَ كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ) یعنی لوگوں کو دیکھا کہ گویا وہ ہنس رہے ہیں۔ یہ "کشر" سے ہے، جس کے معنی ہنسنے کے لیے دانت ظاہر کرنے کے ہیں۔ (یہاں) تاء (تكشیر) شاید مبالغہ کے لیے ہے۔ القاموس میں ہے: کَشَّرَ عَنْ أَسْنَانِهِ: اس نے اپنے دانت ظاہر کیے، خواہ ہنسی ہو یا غیر ہنسی۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے انتہائی ہنسی اور بکثرت گفتگو کو جمع کر لیا تھا۔ توربشتی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی وہ ہنس رہے تھے، اور لغت میں مشہور "کسر" (کشْر) ہے۔

(قَالَ: " أَمَا "): "أما" (مخفف) کے ساتھ ہے تاکہ اس غفلتِ خوابیدہ پر تنبیہ ہو جو ہنسنے اور باتیں کرنے پر ابھارتی ہے۔

(" إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ ") : اصل السیّد اور اکثر معتمد نسخوں میں دالِ مہملہ (ہادم) ہے، اور بعض میں ذالِ معجمہ (ہاذم) ہے۔ سیوطی رحمہ اللہ نے ترمذی کی حاشیہ میں اسی (ہاذم) پر اکتفا کیا ہے۔ القاموس میں ہے: ہَذَمَ (معجمہ) کے معنی تیزی سے کاٹنا اور کھانا، اور ہَدَمَ (مہملہ) کے معنی عمارت کو گرا دینا (یعنی لذتوں کو تباہ کرنے والا)۔

(" أَوِ الْكَافِرُ "): یہ راوی کا شک ہے، تنویع (مختلف قسم) کے لیے نہیں۔ کتاب و سنت کا طریقہ ہے کہ دونوں گروہوں (مومن اور کافر) کا حکم دونوں جہانوں میں بیان کیا جائے، اور مومنِ فاسق کا حال چھوڑ دیا جائے (اس پر سکوت کیا جائے) تاکہ اس پر پردہ رہے، یا رجاء اور خوف کے درمیان رہے، نہ کہ منزلہ بین المنزلتین (معتزلہ کے عقیدہ) کو ثابت کرنے کے لیے، جیسا کہ معتزلہ نے گمان کیا۔

(" قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذَا وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ ". قَالَ): یعنی نبی ﷺ نے فرمایا: (" فَيَلْتَئِمُ ") یعنی قبر اس پر بند (تنگ) ہو جاتی ہے (" عَلَيْهِ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ ") یعنی اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں، اور ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ اس کی پسلیاں آپس میں مل جائیں اور باہم داخل ہو جائیں۔

(قَالَ): راوی (ابو سعید) کہتے ہیں: (" وَقَالَ ") یعنی آپ ﷺ نے اشارہ کیا (" رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصَابِعِهِ ") اپنی مبارک انگلیوں سے (" فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا ") یعنی دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو (" فِي جَوْفِ بَعْضٍ ") دوسری (بائیں ہاتھ) کی انگلیوں کے اندر داخل کیا۔

اس میں اشارہ ہے کہ قبر کا تنگ ہونا اور پسلیوں کا ایک دوسرے میں گھسنا حقیقی (جسمانی) ہے**، نہ کہ صرف حال کے تنگی کے لیے مجاز، اور نہ ہی اختلاف (گھسنا) محض مبالغہ ہے، جیسا کہ بعض ناقص عقل والوں نے گمان کیا، یہاں تک کہ انہوں نے عذابِ قبر کو صرف روحانی قرار دے دیا، جسمانی نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آخرت کا عذاب اور نعمت دونوں (روح اور جسم) سے متعلق ہیں۔

(قَالَ): یعنی نبی ﷺ نے فرمایا: (" وَيُقَيَّضُ ") یعنی اس پر مسلط اور موکل کر دیا جاتا ہے (" لَهُ ") یعنی خصوصی طور پر اس کے لیے (ورنہ وہ اس پر ہی ہے) (" سَبْعُونَ تِنِّينًا ") یعنی ستر بہت بڑے سانپ (اژدہے)، جسے فارسی میں "اَزْدَرْد" اور عربی میں "اَفْعٰی" کہتے ہیں۔

عدد ۷۰ کے دو احتمالات ہیں: تحدید (یقینی تعداد) اور تکثیر (بکثرت)۔ دوسرے (تکثیر) کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو احیاء العلوم میں ابوہریرہؓ سے مرفوعاً مذکور ہے:

"کیا تم جانتے ہو کہ آیت {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا} کس بارے میں نازل ہوئی؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کافر کا قبر کا عذاب ہے، اس پر ننانوے (۹۹) اژدہے مسلط کیے جائیں گے۔ کیا تم جانتے ہو تنین کیا ہے؟ وہ ننانوے سانپ ہیں، ہر ایک کے ننانوے سر ہوں گے، وہ اسے نوچیں گے، چاٹیں گے اور قیامت کے دن تک اس کے جسم میں پھونکیں گے۔"

(" لَوْ أَنَّ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ ") یعنی اگر ان میں سے ایک بھی (پھونک مارے / سانس لے) (" فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ ") یعنی زمین (" شَيْئًا ") کوئی چیز نہ اگائے (" مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا ") یعنی جب تک دنیا باقی ہے (تب تک زمین بنجر رہے)۔

(" فَيَنْهَسْنَهُ ") : "نہس" (سین مہملہ کے ساتھ) کے معنی ڈسنا ہیں۔ القاموس میں ہے: نہَسَ اللحم (منع و فرح کے وزن پر) گوشت کو اگلے دانتوں سے کاٹ کر نوچنا۔ (" وَيَخْدِشْنَهُ ") یعنی نوچیں گے / کھرچیں گے۔ (" حَتَّى يُفْضِيَ ") یعنی پہنچا دے (" بِهِ ") یعنی کافر کو (" إِلَى الْحِسَابِ ") یعنی حساب تک، اور پھر اس کے بعد عذاب تک۔

اس میں دلیل ہے کہ کافر کا حساب ہوگا، اس کے خلاف جو بعض لوگوں نے گمان کیا کہ کافر بغیر حساب کے جہنم میں داخل ہوگا۔ البتہ اگر کہا جائے کہ یہاں "حساب" سے مراد "جزا" (سزا) ہے، تو (بات الگ ہے) اور آیاتِ ظاہرہ (سورۃ القارعہ: {وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ}) صریح ہیں کہ ان کا حساب ہوگا۔ ہاں! ممکن ہے کہ بعض سرکش عاصی کفار بغیر حساب و کتاب کے جہنم میں داخل ہوں، جیسے بعض مومنین جو صبر اور توکل میں مبالغہ کرنے والے ہیں، وہ بھی بغیر حساب کے (جنت میں) داخل ہوں گے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

(قَالَ) : راوی کہتے ہیں: (" وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ") یعنی اسی مقام پر یا کسی اور وقت آپ ﷺ نے فرمایا: (" إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ ") بے شک قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے، یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔ (ترمذی کی روایت میں "النار" واحد ہے، اور بعض نسخوں میں "النِّیران" جمع ہے)۔

طیبی رحمہ اللہ نے کہا: "من حفر النار" اسی طرح جامع ترمذی، جامع الاصول اور مشکاۃ کے اکثر نسخوں میں ہے، اور بعض میں "النیران" (جمع) ہے۔









*حدیث 2: کافر پر ستر (70) سانپ والے (99) اژدہے مسلط کیے جائیں گے۔*

"تنین" (اژدہا) کیا ہے؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"بے شک مومن اپنی قبر میں ایک سرسبز باغ (روضہ) میں ہوتا ہے، اس کی قبر کو ستر ہاتھ (تقریباً 35 میٹر) تک کشادہ کر دیا جاتا ہے، اور اسے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن کر دیا جاتا ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت {...تو بے شک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔} (سورۃ طٰہٰ: 124) کس بارے میں نازل ہوئی؟"
آپ ﷺ نے مزید فرمایا:
"کیا تم جانتے ہو کہ 'مَعِيشَةً ضَنْكًا' (تنگ معیشت) سے کیا مراد ہے؟"
صحابہؓ نے عرض کیا:
اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"یہ کافر کا قبر کا عذاب ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (کافر) پر ننانوے (99) اژدہے (تنین) مسلط کیے جائیں گے۔ کیا تم جانتے ہو 'تنین' کیا ہے؟ یہ ستر (70) سانپ ہیں، ہر سانپ کے سات (7) سر ہوں گے، وہ اسے قیامت کے دن تک ڈستے اور نوچتے رہیں گے۔"















گگگگ


No comments:

Post a Comment