Saturday, 9 May 2015

الحاد، لادینیت، جدیدیت اور استشراق

اللہ نے کارخانہ دنیا کو بےسود پیدا نہیں کیا اور نہ ہی بے اصولی کے ساتھ اللہ اسے چلا رہے ہیں،اگرچہ اللہ کی ذات کسی دنیا میں لگے بندھے اصول کی پابند نہیں، جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے کوئی بھی چیز کسی فائدہ سے خالی نہیں ۔ 

اگر یہ اصولی بات سمجھ میں آگئی تو اب جاننا چاہیے کہ انسان کو اللہ نے اس دنیا میں مرکزی حیثیت دی ہے ، انسان مقصودِ کائنات اور اس کے ماسوا سب اس کی ضرورت، حاجت کی تکمیل کے لیے ہیں اور اسی میں انسان کا امتحان بھی ہے کہ حضرتِ انسان اس کے لیے بنائی گئی اشیاء کو صحیح طور پر استعمال کرتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ صحیح استعمال کرتا ہے تو اس کو دارین یعنی دنیا اور آخرت میں اس کا فائدہ پہنچنا ہے اور اگر بلاضرورت اور غلط استعمال کرتا ہے تو دنیا وآخرت میں سزا کا مستحق ہونا ہے ۔

ہر ادارہ، فیکٹری، مدرسہ، یونیورسٹی اور ملک وحکومت کے اصول وقوانین ہوتے ہیں، اگر اس کی پابندی کی جائے تو اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اس قانون کو توڑ دیا جائے تو سزا ہوتی ہے اور خلفشار بھی پیدا ہوتا ہے ۔

اللہ نے اتنا عظیم کارخانہ دنیا بنایا تو یہ کیسے چل رہا ہے؟ ضرور اس نے اس کے قوانین بنائے ہوں گے؟ جن پر دنیا کے حالات کا مدار ہے۔ (اگرچہ اللہ کسی لگے بندھے اصول وقوانین کے پابند نہیں) انسان کو قرآن و حدیث کے ذریعہ اللہ نے اپنے اصول وقوانین سے مطلع کردیا ہے ۔

دنیا کے حالات کب پر سکون اور سازگار رہیں گے؟
آج جو دنیا کے بد ترین حالات ہیں، اس کا ذمہ دار خود انسان ہے کیوں کہ اللہ کے قا نون کے مطابق دنیا کے حالات کا بگاڑ انسان کے اعمال پر موقوف ہے ۔ ارشادِ الہٰی ہے ﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْ النَّاسِ﴾․(الروم:41) ”خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے ۔“ ایک اور جگہ ارشاد ہے : ﴿وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْْدِیْکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیْر﴾․(الشوری:30) ”جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے کیے ہوئے اعمال کی پاداش میں ہوتی ہے جب کہ اللہ بہت سے (گناہوں کی سزا) سے درگزر کرتا ہے ۔ “ایک اور جگہ ارشاد ہے ﴿ولو یوٴاخذ اللہ النا س بما کسبوا ما تر ک علی ظہرہا من دابة﴾ ”اگر اللہ تعالیٰ انسان کے اعمالِ سیئہ پر دنیا میں مواخذہ لینے پر آجائے تو زمین پر ایک رینگتا ہوا جانور بھی باقی نہ چھوڑے۔ “

معلوم ہوا یہ تو ہمارے اعمال سیئہ میں سے بعض کی سزا ہے، سب کی نہیں ورنہ تو بہت پہلے ہی یہ دنیا نیست و نابود ہوچکی ہوتی اور یہ جو حالات دنیا میں آئے ہیں وہ بطور سزا کے نہیں ہیں، بلکہ لوگوں کو مقصدِ حیات، یعنی اللہ کی بندگی اور اس کی رضا کی طرف راغب کر نے کے لیے ہیں ، لعلہم یرجعون․

بعضے اعمال کی یہ سزا وہ بھی بطور سزا کے نہیں؛ تو آخر ت کی سزا کا کیا عالم ہوگا ؟!!! اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کے عذاب سے ہماری حفاظت فرمائے ۔

روحا نی، جسمانی، معاشی اور سیاسی حالات کے بگاڑ کے تین اہم اسباب 
آج دنیا میں ہر شخص اور ہر علاقہ عجیب وغر یب بے اطمینانی اور بد امنی کا شکار ہے، ہر شخص حالات کا رونا روتا ہے اور اصل اسباب کی تشخیص نہ کرنے کی وجہ سے حالا ت بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں؛ جب صحیح اسباب ہی نہیں معلوم تو علاج کیا ہوگا؟ اور جب علاج نہیں ہوگا تو حالات کیسے درست ہوں گے؟ آئیے! قرآ ن وحدیث کی روشنی میں اس کے اسباب و علاج کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

حالات ِدنیا کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ابتری کا سب سے اہم سبب تو ”مقصدِ حیات سے غفلت اور اللہ سے دوری“ ہے؛ مگر اس کے ذیلی موٹے موٹے اسباب تین ہوسکتے ہیں : 

الحاد اور دین سے دوری 
بے حیائی اور بد اخلاقی 
رشوت خوری اور سودی نظام 

مذکورہ تین چیزیں اس وقت دنیا میں انسان کی تباہی میں اہم رول ادا کر رہی ہیں ، تینوں کے اثرات کیا ہیں؟ 
الحاد اور دینی علم سے جہالت، اور عمل صالح سے فرار، سکونِ قلبی اور اطمینانِ روحانی کے فقدان کا سبب ہے۔ 
بد اخلاقی و بےحیا ئی، ملکی اور عالمی امن و امان کے غارت کا سبب ہے۔ 
اور رشوت وسود خوری ، مالی بحران اور فقروفا قہ میں اضافہ کا سبب ہے ۔

اگر عالمی منظرنامہ اور ملکی و عالمی اخبار، رسائل وجرائد کا مطالعہ کریں؛ تو آپ دیکھیں گے کہ کہیں تو وہ لوگ جو صاحب ِثروت ومال ہیں یا صاحب عزت و شہرت ہیں؛ وہ چین، سکون اور اطمینان کی تلاش میں سر گرداں ہیں؛ تو کہیں پوری پوری حکومتیں یا بڑے بڑے تاجر، مالی بحران کا شکار ہیں؛ تو کہیں زنا بالجبر، قتل وغارت گری، فتنہ و فساد برپا ہے، کوئی دن ایسی بری خبر سے خالی نہیں گزرتا ۔

علم کے نام پر ”الحاد“ کی گرم بازاری 
دین، انسان کی ایک فطری ضرورت ہے اور صرف دین ہی نہیں بلکہ” دین اسلام“ انسان کے لیے ضروری ہے؛ کیوں کہ وہ اس دنیا میں کیوں آیا؟ دنیا میں کیسے آیا؟ دنیا میں کیا کرنا ہے؟ اس کو کس نے پیدا کیا ؟ کیسے پیدا کیا؟ اس کا دنیا میں مقام کیا ہے؟ دنیوی زندگی کیسے گزارے؟ صرف دنیا ہی سب کچھ ہے یا اس دنیا کے بعد بھی کچھ ہوگا؟ موت کے بعد کیا ہوگا؟ اچھائی کا انجام کیا ہوگا؟ اور برائی کی سزا کیا ہوگی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات نہ عقل سے ممکن ہیں، نہ حواس سے ممکن؛ نہ تجربہ سے ممکن ہیں، نہ مشاہدہ سے ممکن؛ ان کے تشفی بخش جوابات صرف اور صرف ”وحیِ الٰہی “ کی روشنی میں ممکن ہیں اور آخری ”وحیِ الٰہی “ خاتم الانبیاء والمرسلین، احمد مصطفی، محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اللہ نے اس کی مکمل حفاظت کی۔ لہٰذا ”اسلام“ صرف مسلمان کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کی ضرورت ہے ۔

تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ دنیا کا کوئی قانون اور کوئی حکمت وفلسفہ انسان کو برائی سے نہیں روک سکا، انسان کو اگر ہر طرح کی برائی سے کوئی چیز روک سکتی ہے؛ تو وہ ہے اللہ کے روبرو جواب دہی کی کلی فکر اور اپنی اس دنیوی زندگی کے بعد قیامت کے دن حساب اور اس پر جزا وسزا کے ترتب کا عقیدہ اور تصور ؛جیسا کہ آپ حضرات صحابہ کی سیرتوں کے مطالعہ سے معلوم کر سکتے ہیں؛ یہ ہی نہیں، بلکہ آج بھی دنیا میں جو جرائم پیشہ لوگ دامنِ اسلام سے وابستہ ہوتے ہیں؛ یکایک ان میں تبدیلی آجاتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ ایمان کے بعد آخرت کی فکر دامن گیر ہوتی ہے ۔ دراصل یہ سب مغرب کے بےخدا افکار کا نتیجہ ہے ۔

جنا ب مختار فاروقی صاحب نے بالکل درست کہا ہے : 
”آج ضرورت اسی بات کی ہے کہ مغرب کے بےخدا علم (جو علم نہیں فن اور ہنر ہے) اور خدا بیزار فلسفہ نے اپنی چکا چوند تہذیب کے ذریعہ؛ جو تباہی انسانی اور اخلاقی سطح پر مچا رکھی ہے؛ اس کو جتنا ممکن ہو ،جس سے ممکن ہو ،جہاں جہاں ممکن ہو اور جس جس ذریعہ سے ممکن ہو، اس کو عام کردیا جائے؛ تاکہ اس علم کی تباہ کاریوں کے احساس کے نتیجہ میں، اپنے خسارہ اور اخلاقی بحران کا احساس ہوتا چلا جائے ۔ یہی آج کی ضرورت ہے ۔ “ (حکمت بالغہ ص: 4 حقیقت علم نمبر )

ابھی چند دنوں پہلے کی بات ہے؛ عربی کی ایک مشہور و مقبول اسلامی ویب سائٹ ”الالوکہ“ www.alukah.com سے ایک مضمون موصول ہوا؛ جس میں کسی امریکی ادارہ کی جانب سے، دنیا بھر میں کیے گئے ایک ایسے سروے کی رپورٹ تھی، جس میں یہ تناسب نکالا گیا تھا کہ دنیا میں کس مذہب کے ماننے والوں کا کتنا تناسب ہے؟ اور الحاد، دہریت اور لادینیت کا نظریہ رکھنے والے کتنے ہیں؟تو اس میں بتایا گیا کہ اس وقت دنیا میں ملحدین اور دہریہ لوگوں کا تناسب 16 فی صد، اور جن کی تعداد ایک سوبیس کروڑ ہوتی ہے ؛ عیسائیت کے ماننے والے 31.5 فی صد یعنی 220 کروڑ؛ اور اسلام کے ماننے والے 23 فی صد 160 کروڑ؛ یہودیوں کا تناسب 0.2 تعداد 14/ملین ،اس کے بعد ہندو، بودھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے، تقریباً 30 فی صد ہیں۔ مزید تفصیل میں لکھا ہے کہ سب سے زیادہ ملحد” چین“ میں ہیں، اس کے بعد فرانس میں، اس کے بعد امریکہ میں، اس کے بعد جاپان میں۔ (اللادینیین ثالث اکبر فئة فی العالم بعد المسیحیة والاسلام)

اس رپورٹ کے پڑھنے کے بعد اس شعر کی تصدیق کرنی پڑے گی جس میں غالباً علامہ اقبال نے کہا تھا #
            یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا 
            افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی 

مذکورہ رپورٹ پر پوری دنیا میں واویلا مچنا چاہیے تھا ، میڈیا کو اسے خوب کوریج دینی چاہیے تھی، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ کیوں ؟ اس لیے کہ جو لوگ مذہب سے منسلک ،ان کی پکڑ بھی اپنے مذہب پر کمزور ہے ؛ اکثریت اپنے مذہب کی بنیادی موٹی موٹی باتوں سے بھی ناواقف ہے ۔اور میڈیا ؟!!! وہ تو پورا انہیں ملحدوں کے زیر ِتسلط ہے، وہ کبھی نہیں چاہے گی کہ ایسی خبر کو اہمیت دے ۔

اب یہ چاہے کسی کے لیے ہو یا نہ ہو؛ ہم مسلمانوں کے لیے تو ضرور سوچنے کا مقام ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ؟ معاشرے میں ملحدوں اور دہریوں میں کیوں اضافہ ہورہا ہے ؟ ؟ کیوں کہ ہمارا فریضہ صرف اتنے پر ختم نہیں ہوتا ہے کہ ایمان لا کر خود عملِ صالح کرلیں ؛بلکہ قرآ ن نے ہماری تخلیق کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی بیان کیا ﴿کنتم خیر امة اخر جت للناس﴾ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے پیدا کی گئی ہو۔ اور نفع سے مراد اگرچہ عام ہے ؛مگر اصل مصداق نفعِ اخروی ہے؛ یعنی امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور دعوة الی الایمان؛ مگر افسوس ہے ہمیں خود اپنے آپ پر کہ نہ ہمیں اپنی اولاد کے ایمان کو بچانے کی فکر ہے، نہ اپنے خاندان کے ایمان کو بچانے کی فکر ہے اور نہ خود اپنے ایمان کی کمزوری کا احساس ہے ؛اسی بدترین غفلت کا نتیجہ ہے کہ الحاد زور پکڑ رہا ہے اور دین سے دوری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

الحاد اور دہریت میں اضافہ کیوں ؟؟ یہ ایک اہم سوال ہے کہ آخر یہ دہریت نے اتنا سر کیوں اٹھایا ہوا ہے ؟؟ تو اس کا سیدھا جواب ہے، تعلیمی نصاب ،اور میڈیا میں مغربی فکر و فلسفہ کا فروغ ، مغربی فکر و فلسفہ کو ماسونیت کے مافیا اور شیطانی گروہ نے یرغمال بنا رکھا ہے اور صدیوں سے اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے؛ جس پر سنجیدگی کے ساتھ صرف سوچنے کی نہیں،بلکہ کوئی مضبوط قدم اٹھانے کی بھی ضرور ت ہے ۔

انسان کو اپنے رب سے کاٹنے کی منصوبہ سازی:
”یہ ایک تحقیقی بات ہے کہ مغرب کے ایک سوچے سمجھے منصو بے کے تحت، ایک گروہ نے انسانوں اور ان کی آئندہ نسلوں کے لیے تباہی کا فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ یہ تھا کہ مذہب (آسمانی ہدایت ،خدا کا تصور ، آخرت کا تصور ، انبیاء اور وحی کا تصور وغیرہ وغیرہ غیبیات کا تصور) اور سائنس کا رشتہ کا ٹ دیا جائے؛ اور سائنس کے آ گے بڑھنے اور پھیلاؤ کا عمل ،خدا اور آ سمانی وحی کے اصول و ضوابط سے نہیں؛ بلکہ ماحول اور ضرورت کے تحت ہوگا، اسی طرح آئندہ کے تجرباتی علوم ،و سوشل سائنس پر عقل کے تعامل کے مراحل میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ؟ یہ فیصلہ ایک ایسے گروہ کے ہاتھوں میں چلا گیا جو استحصال کا عادی تھا ۔“(ایضا ً 41)

مذکورہ گروہ نے علم کا احیا یا RENAISSANCE کے نام سے تحریک شروع کی، جس کی بنیاد ”مذہب کی عدم مداخلت“ پر رکھی اولاً عیسائیت سے بےزار یورپ میں اس کو حمایت حاصل ہوئی اور پھر یورپی اقوام کے دنیا پر تسلط کے ساتھ یہ تحریک عالم گیر بن گئی؛ بس پھر کیا تھا پوری دنیا گم راہی کی لپیٹ میں آ گئی ۔

تجدیدِ علوم کے حامیان کو جب سیکولر بنیادوں پر علوم کو آگے بڑھانے کے لیے فکری بنیادوں اور تاریخی اعتبار سے فکری تسلسل کی تلاش در پیش ہوئی؛ تو انہوں نے مذہب دشمنی اور خدا بے زاری کے جذبہ کے تحت اپنے فکری رشتہ کو تین ہزار سال پرانے یونانی فلاسفہ” ارسطو“ اور” افلاطون“ سے جوڑ دیا اور انہیں زندہ کرکے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے لگے اور انہیں کے استدلال اور تصورات کو بنیاد بنا کر جدید فلسفہ کی بنیاد رکھ دی؛ اس طرح کریلا وہ بھی نیم چڑھا جیسا مسئلہ بن گیا ۔

اسی اصولی فکر اور انحراف سے جو فلسفیانہ سطح پر تبدیلی آئی و ہ یہ تھی : 
٭...  اب آسمانی بات، خدا، اللہ، GOD کا نام سائنس اور فلسفہ میں ہرگز استعمال نہیں ہوگا ۔
٭... وحی، ہدایت، آسمانی راہ نمائی ، خدا کی مرضی ، آسمانی حکومت ، نبی پیغمبر علیہ السلام کے الفاظ بھی اپنی جگہ کتنے ہی مقدس صحیح سائنس اور فلسفہ کے میدان میں متروک متصور ہوں گے ۔
٭... حیات بعد الممات یا موت کے بعد زندگی ، جنت ، دوزخ ، فرشتے اور قبر کی اصطلا حات کا استعمال ممنوع ہوگا ۔
٭...  روح ، روحانی زندگی ، بزرگی ، ولایت وغیرہ کے الفاظ بھی نوک ِقلم پر نہیں آئیں گے ۔

اس ساری کوشش کا حاصل یہ ہوا کہ اس ساری محنت کے نتیجے میں اب فلسفہ سامنے آنے لگا اور آج تک مغرب کے فکری خزانے سے بر آمد ہو رہا ہے … اس کے اہم نکات یہ ہیں کہ:
٭... خدا کے مقابلے میں کائنات پر بحث کرنی ہے؛ خدا ہے یا نہیں اس سے بحث نہیں۔
٭... آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کی بہتری، فلاح و بہبود پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔
٭...روح کے مقابلے میں جسمانی اور مادی زندگی اور اس کی لذات اور ان کا حصول اصل مطمح نظر قرار دیا گیا ہے ۔
٭...انبیائے کرام علیہم السلام ، وحی ، فرشتے ، آسمانی ہدایات کے الفاظ اب سائنس وفلسفہ کا موضوع نہیں ؛بلکہ زندگی میں حلال و حرام اور اختیار و رد کرنے کی بنیاد، سائنسی تحقیق اور سائنس دانوں کے خیالات قرار پاگئے ۔ (حکمت بالغہ، حقیقت علم نمبر ص 43/42 ) 

تجدید ِعلوم اور نشأة ِثانیہ کی یہ تحریک ،بےپناہ مادّی ترقی کے جلوے میں اپنے اختیار کردہ اصولوں کے مطابق رواں دواں ہوئی؛ تو ایک بگٹٹ گھوڑے کی طرح آ گے ہی بڑھتی چلی گئی، چناں نچہ …تصور کائنات ، انسان کی حقیقت اور آئیڈیل ،انسا نی زندگی کے لیے راہ نمائی کے میدان میں ایسے ایسے فلسفے اور تازہ بہ تازہ نت نئے افکار سامنے آئے، کہ خدا کی پناہ! فکری سطح پر انسان پر ضمیر کی گرفت کا خاتمہ ، اخلاقی اصولوں کے بندھنوں کا کھل جانا؛ اور مادّی ترقی نے مغرب کے انسان کو مادر پدر آزاد بنا کر رکھ دیا ۔

صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں انسانی استعمال کی چیزوں کی بھر مار نے مغرب کے عوام و خواص کو حیران کر دیا ، اور نت نئی ایجادات کے احساس نے مغرب کے اوپر کے طبقات میں ایک ایسا ثقافتی انقلاب پیدا کر دیا، جس سے سارے یورپ کی سابقہ اخلاقی اقدار کی عمارت زمین بوس ہوگئی ۔ (اور فلسفہ کی سطح پر لادینیت اور لامذہبیت کی طرح انسانی اور سماجی سطح پر لا اخلاقیت نے لے لی !)(حکمت بالغہ، حقیقت علم نمبر ص47) 

اگرچہ علمی سطح پر سائنسی تجربہ ایک VERIFIABLE FACT شمار ہوتا ہے؛ جو کہ دنیا کے کسی علاقے میں بھی مخصوص حالات کے تحت آزمایا جا سکتا ہے اور ایک جیسے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں؛ تاہم فلسفہ وفکر کے میدان میں ان ٹھوس حقائق کے ساتھ جو تصور کائنات کی عمارت فلاسفہٴ مغرب نے بنائی اور اس میں انسان کا مقام متعین کیا؛ تو وہ ان کی اپنی فکر تھی۔ ہو سکتا ہے یہ فکر خالصةً ان کے قلب و ذہن کی پیداوار ہو ؛ تاہم اس کا بھی امکان ہے کہ یورپی فکر کے پیچھے جو ماسٹر مائنڈ (MASTERMIND) تھا اور وہ آج بھی ہے، اس نے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے ان فلاسفہ کو HIRE کیا ہو؛جنہوں نے مطلوبہ نتائج نکال کر دکھا دیے۔ قرآئن دونوں طرف کے موجود ہیں، تاہم فلسفہ کے میدان میں یہ نتائج کبھی حقائق (FACTS ) کا درجہ حاصل نہ کر سکے؛ بلکہ نظریات (THEORIES) ہی کا درجہ آج تک ان کو دیا جاتا ہے ۔(مگر بڑھا چڑھا کر ضرور پیش کیا جاتا ہے، جس کے نظریہ سے وہ عقیدہ کی حدود میں داخل ہوجاتا ہے ۔نام اگرچہ نظریہ دیا جاتا ہے، مگر اس کے ساتھ سلوک عقیدہ جیسا کیا جاتا ہے۔)(حکمت بالغہ، حقیقت علم نمبر ص47) 

مغرب کے ملحدانہ نظریات:
فکر مغرب کے اجزا وہ مشہور نظریات ہیں جو بیسویں صدی کے چوتھے عشرے تک سامنے آ کر مغربی معاشرے میں سرایت کر چکے تھے، بلکہ معاشرہ ،زندگی کے ہر میدان میں اپنے آپ کو ان کے حوالے کر چکا تھا؛ کہیں کوئی مخالفت بیسویں صدی کے آغاز میں موجود تھی بھی ؛تو وہ بیسویں صدی کا نصف حصہ گزرتے گزرتے دم توڑ چکی تھی ۔

٭...…ڈارون کا نظریہ ارتقا 
٭...میڈو گل کا نظریہ جبلت 
٭...سگمنڈ فرائڈ کا نظریہ جنس 
٭...کارل مارکس کا نظریہ دولت 
٭...ایڈلر کا نظریہ حب تفوق

مغربی فکر وفلسفہ کے بڑے بڑے امام ڈارون ، میڈو گل ، فرائڈ ، ایڈلر ، کارل مارکس اور میکاولی ہیں ۔ ڈارون کی طرف ارتقا کا نظریہ منسوب ہے ؛ میکڈو گل نے جبلت کا نظریہ پیش کیا ہے ؛ فرائڈ اور ایڈلر نے لاشعور کے نظریات پیش کیے ہیں ؛ کارل مارکس کی طرف سوشلزم کا نظریہ منسوب ہے ، اور میکاولی نیشنلزم کی موجودہ شکل کا مبلغ سمجھا جاتا ہے ۔ 

یہ پانچ تو وہ ہیں جو زیادہ زور پکڑ سکے ہیں اور جنہوں نے موجودہ الحاد کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے ، ورنہ صرف یہ پا نچ نظریات نہیں ظاہر ہوئے، بلکہ جناب سید محمد سلیم نے ”مغربی فلسفہ تعلیم ایک تنقیدی مطالعہ “میں تقریباً ایسے سو ملحدانہ افکار کا ذکر کیا ہے؛(مغربی فلسفہ کی وجہ سے دین کے بارے میں ایک سو پچاس سے زائد گم راہیوں کو پروفیسر حسن عسکری صاحب نے مرتب کیا ہے) اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغرب میں الحاد نے کیسا سر اٹھایا ہوگا !!!

لا دینی تحریک پر سید محمد سلیم تحریر فرماتے ہیں :
لا دینی تحریک 
غیرمحسوس اورغیرمادّی حقائق کا برملا انکار کرنے کے بعد مذہب بےزاری Theophobia جدید نظام فکر کا اہم عنصر پایا ۔ مغرب میں اب صرف وہ علم معتبر ہے ؛جس سے لا دینی فکر کو تقویت ملتی ہو ؛ سائنس کا ہر ہم سفر شعوری یا غیر شعوری طور پر مذہب بےزاری کے جذبے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ۔ مغرب کے حکماء اور فلاسفہ کی اس ذہنیت کو ”لادینیت “ Secularism کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہ لاادریت Agnosticism سے بالکل مختلف نظریہ ہے ۔ یونان کے ”لا ادریہ“ فلسفی لاعلمی کے مدعی تھے ؛لیکن جدید دور کے حکماء اور فلاسفہ مذہب دشمنی کے عَلَم بردار ہیں ۔ خدا کے تصور کو حذف کرنا اور مادیت کے ذریعہ کائنات کی ہرشے کی تشریح کرنا اب سائنس کا منتہائے مقصود بن گیا ہے ؛ اس کا واضح ثبوت فرانس کے سائنس داں ”لاپلاس“ Laplace کے جواب سے ملتا ہے ؛ اس نے اپنی طبیعاتی تصنیف نپولین (1804ء تا 1814ء ) کو پیش کی ۔ نپولین نے لاپلاس سے دریافت کیا ؛ میں نے آٹھ سو صفحات کی کتاب میں خدا کا لفظ کہیں نہیں پڑھا؛ اس کی کیا وجہ ہے؟ لاپلاس نے جواب دیا : ”آقا ! اب اس فارمولے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔“(مغربی فلسفہٴ تعلیم کا تنقیدی جا ئزہ، ص:32)

لا دینیت 
مغربی معاشرہ انکار ِمذہب اورانکار مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر استوار ہوا ہے؛ اس لیے مذہب دشمنی اور لادینیت اس نظام ِحیات کی معروف اور مقبول قدر ہے ؛اس نظام ِحیات کے رگ وریشہ میں لادینیت سرایت کیے ہوئے ہے ؛ لادینیت کو اس نظام میں اصولِ موضوعہ کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ ابتدا میں ہی لا دینی تصور حیات کو نوخیز طلبہ کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی پیہم کوشش کی جاتی ہے ۔ سرکاری سطح پر احکام نافذ کیے جاتے ہیں ،جن کے ذریعہ سرکاری درس گاہوں میں ہر قسم کے مذہب کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی۔ امریکہ کی ریاست ”میساچوسیٹس“ Massachusetts نے پہل کی اور 1828ء کے تعلیمی ایکٹ کے ذریعہ سرکاری مدارس میں مذہبی تعلیم کا داخلہ بند کردیا گیا۔ دوسرے مغربی ملکوں نے کم وبیش انہی خطوط پر اپنے یہاں احکام نافذ کیے اور اپنے شہریوں کو مذہب کی تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا۔(مغربی فلسفہٴ تعلیم کا تنقیدی جائزہ ص:123) 

مغرب اور مغرب کے زیرِ تسلط دنیا کے مختلف خطوں میں جب لادینی تحریک کو فروغ حاصل ہوا ؛تو بیسویں صدی میں U.N.O (اقوامِ متحدہ) تشکیل دی گئی اور دنیا کے تمام ممالک کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دی گئی؛ بلکہ مجبور کیا گیا اور پھر مغربی منصوبہ ساز نے ایک خوف ناک منصوبہ بنایا۔ مغرب کے اس منصوبہ ساز ذہن گروہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد جب دیکھا کہ اس کا سیاسی تسلط دنیا سے ختم ہورہا ہے؛ تو پوری دنیا کو اپنی ذہنی غلامی میں کسنے کے لیے 20/اکتوبر 1945ء کے دن اقوام متحدہ کی بنیاد ڈالی گئی؛ ابتداء میں 50 ممالک اس کے ممبر تھے، مگر اس کے بعد مجبوراً یا مفاد کی خاطر اس سے ملحق ہوتے رہے ؛اس وقت تقر یباً 190/( ایک سو نوے ) ممالک اس کے ممبر ہیں۔(www.ur.org)اقوام متحدہ نے 10/ دسمبر1948ء کے دن Universal Declavation of Human Rights یعنی انسانی حقوق کا علم بردار اعلامیہ جاری کیا؛ بس پھر کیا تھا! گویا پوری دنیا سیاسی، معاشرتی، معاشی ، تجارتی ، تعلیمی ، انتظامی ، رفاہی ، مذہبی ؛ ہر اعتبار سے سے مغربی ملحدین کے قبضہ میں آ گئی ۔

U.N.O کے زیر نگرانی مندرجہ ذیل اداروں کو وجود دیا گیا : 
1...سیکورٹی کونسل: جو مملکتوں کے معاملا ت نبھائے گی ؛ مگر ویٹو طاقتوں کے مفاد میں ۔
2... ورلڈ بنک اور آئی، ایم، ایف :جو عا لمی معیشت پر کنٹرول کرتے ہیں ۔
3... W.T.O :جو عالمی تجارت پر قابو کرتا ہے ۔
4... W.H.O :جو عالمی صحت پر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے۔
5... F.A.O :جو عالمی زراعت پر کنٹرول جمائے ہوئے ہے ۔
6... E.L.O : جو عالمی صنعتوں کو لیبر کے ذریعہ کنٹرول کرتا ہے ۔ 
7... UNICEF : جو تعلیم کو اپنے نہج پر لا نے کے لیے دبا ؤ ڈا لتا ہے۔
8... روٹری اور ڈینرز کلب ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے پر کنٹرول کے لیے ۔ 

دنیا پر اس وقت مغربی فکر و تہذیب کا غلبہ ہے اور مغرب اپنی تہذیب کی عالم گیریت کے لیے ہر ممکن طریقے سے کوشاں ہے ، مغرب نے اپنی تہذیب و فکر کے ڈانڈے یونان و روما سے جوڑے ہیں ؛جب کہ یونانی تہذیب بت پرستی، مادّیت پرستی اور عقلیت پرستی سے متاثر ہے اور رومی تہذیب دنیا پرستی ، ظاہر پرستی، فنونِ لطیفہ ، شاعری ، موسیقی ، مذہب سے بےرغبتی اور شہوانیت پرستی سے متأثر ہے ؛ اس طرح مغربی فکر و تہذیب گو ”جُماع الاثم “ یا مجمع الآثام ہے ۔

اس کے علاوہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور این ، جی ، اوز وغیرہ کا بدترین کردار، سب اقوام متحدہ کے آڑ میں ہوتا ہے ۔

اس کا فائدہ اٹھاکر پوری دنیا کو مذہب ،خدا اور آخرت کے تصورات سے پاک کرنے کا منظم پلان بنایا اور تعلیمی میدان میں ایسی اصلاحات کی جس کی رو سے نئی نسل مذہب اورخدا بے زاری کے ساتھ ساتھ اخلاقِ حسنہ سے بھی محروم ہوجائے۔ اور انسان کو حیوانِ کامل بنادیا اور اس کے لیے Moralless اور Valueless سوسائٹی کا منصوبہ بنایا اور اس کے ماتحت تعلیمی نصاب تشکیل دے کر پوری دنیا کے تعلیمی اداروں میں نافذ کردیا، جس سے خالص سیکولر تعلیم کا آغاز ہوا، جس کا منشا یہ ہے کہ انسان کے اندر سے مذہب کی گرفت ختم کردی جائے اور اباحیت کا نظریہ یعنی ہر چیز جائز ہے ، مذہبی اصطلاحا ت جائز ، ناجائز ،حلال، حرا  بےمعنی ہیں؛ کو عام کردیا گیا ۔ 

اسی خوف ناک سا زش کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں تقریباً 16/ فی صد لوگ اور وہ بھی جدید تعلیم یافتہ اپنے آپ کو برملا ملحد کہنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے اور جو لوگ صرف برائے نام مذہب سے منسلک ہیں؛ وہ ملحدین تو اس سے مستثنیٰ ہے۔ ﴿وان کا ن مکرہم لتزول منہ الجبال﴾․ 

مغرب میں رومیوں نے دینِ مبین کا حلیہ بگاڑا، جس کے نتیجہ میں غالی اور دنیادار عیسائی راہبوں نے مذہب کو چیستاں بنادیا ؛ رہبانیت کے نام پرمذہب ِمسیح کو غلاظتوں اور ریا ضتوں سے تعبیر کردیا ؛جس سے لوگ مذہب سے ڈرنے لگے۔ اس کے بعد عقل دشمن کلیسا نے پہلے کتب ِمقدسہ میں تحریف کی اور سائنس دانوں کو وحشیانہ سزائیں دیں؛ جس کی وجہ سے عقل اور مذہبِ مسیح میں دشمنی ٹھن گئی اور سائنسی علوم نے مذہبی تعلیمات کی تغلیط شروع کردی ۔

عیسائیت چوں کہ انحراف کا شکار ہوچکی تھی اور اس کی صحیح تعلیمات بالکل مسخ ہوچکی تھیں؛ بلکہ کلی نہیں تو اکثری طور پر وثنیت کی صورت اختیار کر چکا تھی؛ لہٰذا وہ سائنس کے سامنے نہیں ٹک سکی ؛ کیوں کہ اس کے عقائد چیستاں سے زیادہ پیچیدہ ہوگئے تھے اور آج بھی ہیں؛ جو عقلی بیداری کی تحریک کا مقابلہ نہ کر سکی اور اس طرح عقلیت کے بعد دوسرے مرحلہ میں مغرب، مذہب بے زاری کی تحریک سے دو چار ہوگیا ؛بس پھر کیا تھا؟ لاسکی افکار کا سیلا ب اٹھتا ہے؛ جو رہے سہے مذہبی اقدار اور اخلاقیات کو بھی اپنی رو میں بہا لے جاتا ہے ۔

عقلیت کے زیر اثر مدرسیت کی تحریک برپا ہوئی، جس کا مقصد ارسطوئی منطق اور جدید فلسفہ کی بنیاد، آ رتھو ڈوکس عیسائی افکار کی حقانیت کو ثابت کرنا تھا ۔اسی تحریک کے نتیجہ میں ہیبرس، بولوگنا، آکسفورڈ اور کیمبرج کی یونیورسٹیوں کا آغاز ہوا ۔

اس کے بعد ہیومنزم کی تحریک برپا ہوئی۔ یہ چند بےدین اور مذہب بےزار فلاسفہ کی تحریک تھی؛ جس کا مقصد انسان کی عظمت کا ثبوت اور انسانی عقل و شعور کو (اللہ کے دیے مقام سے زیادہ اونچے مقام) پر فائز کرنا تھا؛ اسی تحریک نے مذہبی مسیحی نظریات کی زنجیروں کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

رومن کیتھو لک پادریوں کی دولت پرستی، رومن اور کلیسا کے مذہبی جبر کے خلاف مارٹن لوتھر نے تحریک اصلاحِ دین شروع کی؛ جس کا مقصد الہامی متون کی تشریح کا حق ہر شخص کو ہے ،نہ کہ محض کلیسا کو ؛یعنی ہر شخص کو اجتہاد کے مر تبے پر بٹھادیا گیا اور لوتھر نے یہ دعویٰ کیا کہ دینی معاملات میں پوپ کا مکمل اقتدار غلط ہے اور ہر انسان انجیل سے براہِ راست ہدایت حاصل کر سکتا ہے۔ اصل میں اس کے پیچھے بھی عقلیت اور ہیومنزم کے اثرات کار فرما تھے ۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں انقلاب ِفرانس میں بظاہر تو بادشاہت کا خاتمہ کرکے جمہوری حکومت قائم کی گئی؛ مگر اس انقلاب کے پیچھے جمہوریت ، آزادی اور مساوات کے اصول کار فرما تھے ۔


انیسویں صدی میں زور وشور سے برپا ہونے والی تحریک ، جدیدیت ہے ۔ جدیدیت کے آغاز میں یہ جذبہ کار فرما تھا کہ مسیحی عقائد کو سائنس اور عقل سے ہم آ ہنگ کیا جائے: یعنی ابھی مذہب سے محبت کی چنگاری خاکستر میں دبی ہوئی تھی ؛ لیکن بعد میں سائنس کی اجارہ داری قائم ہوگئی اور یہ نظریہ تسلیم کرلیا گیا کہ حقائق کی دریافت کے لیے کسی اور سرچشمہ کی نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ کہیں اس کا وجود ہے ۔ صرف وہی حقائق قابلِ اعتبار ہیں؛ جو عقل ، تجربے اور مشاہدے کی کسوٹی پر پورے اتریں ۔ جدیدیت کے حامی فلسفیوں نے ما بعد الطبیعیات اورمذہبی مزعومات کو اسی لیے رد کردیا کہ وہ ان کسوٹیوں پر پورے نہیں اترتے ۔

جدیدیت کی تحریک نے قوم پرستی ، افادیت پرستی ، نسائیت ، انسان کی کامل آزادی ، مذہب کا رد وغیرہ کے نظریات کو عام کیا ۔

چناںچہ بیسویں صدی کے نصف ِآخر میں مغرب نے آزادی ، جمہوریت ، مساواتِ مرد و زن ، سائنسی طرزِ فکر اور سیکولرازم وغیرہ جیسی قدروں کو دنیا میں عام کرنے کے لیے بے دریغ وسائل استعمال کیے ۔(ما بعد جدیدیت اور اسلام ص 74) 

الحاد کو سیکولر تعلیم کے ذریعہ عام کیا گیا : سیکولر تعلیم کے ذریعہ الحاد کو خوب فروغ دیا گیا ؛لہٰذا ہم سب سے پہلے سیکولرازم کی حقیقت سے واقفیت حاصل کرتے ہیں ۔

سیکولرازم کا لفظ ڈکشنری میں:
سیکولرازم ایک لحاظ سے ایک جدید لفظ ہے اور صحیح طور پر لفظ RELIGION (مذہب ) کی ضد (ANTONYM) ہے ، ایک ڈکشنری میں سیکولرازم کا مطلب عوام کے ذہن سے مذہب کی گرفت کو کم کرنا ہے ؛ گویا ایسے طور طریقے اختیار کرنا جس سے عوام الناس کے دلوں سے مذہب کی اہمیت اور گرفت ختم ہوتی چلی جائے ۔

سیکولرازم انگریزی زبان کا لفظ ہے ؛جو دو الفاظ کا مرکب ہے، ایک SECULAR (سیکولر) اور دوسرا ISM (ازم) آکسفورڈ ڈکشنری میں SECULAR کے معنی ہیں "WORLDLY NOT SPIRITUAL" (دنیاوی یعنی روحانی نہ ہونا )"NOT RELATED TO RELIGION" (مذہب سے متعلق نہ ہو نا) اس کے برعکس SECULARISM کی تعریف آکسفورڈ ڈکشنری 1995 کے ایڈیشن میں کچھ یوں ہے : " BELIEF THAT LAW & EDUCATION SHOULD BE BASED ON FACTS & SCIENCE ETC, RATHER THAN RELIGION" ” یہ ماننا کہ قوانین اور تعلیم کی بنیاد مذہب کے بجائے حقائق اور سائنس پر ہونی چاہیے “ ۔یہی وجہ ہے کہ مغرب نے 1960ء کی دہائی سے بالارادہ کوشش کی اپنے نظامِ تعلیم سے فارغ ہونے والے طلباء کے ذہنوں میں کوئی اخلاقی قدریں (MORAL VALUES) یا ضمیر (CONSCIENCE) نام کی کوئی چیز نہ ہو؛ بلکہ وہ بےضمیر ہوں اور ان کے اندر کا انسان مر چکا ہو ؛ ایسے ہی انسانوں کو قرآن ”حیوانِ محض“ کہتا ہے اور مغربی نظام ہائے تعلیم سے دو نسلیں تیار ہو کر عملی زندگی میں اپنے عہدے سنبھال چکی ہیں اور اب تیسری نسل بھی عملی زندگی میں قد م رکھ رہی ہے ۔ 

یہ ہے صیہونیت …جس کا ماٹو (MOTTO) اور (CATCH WORD) اخلاقی، معاشرتی اورعقلی بندھنوں سے آزاد ذہن کے حامل افراد کا مجموعہ، ایک معاشرہ جس میں مذہب ، اخلاق ، وحی ، روح ، آخرت ، نبوت ورسالت وغیرہ جیسے الفاظ کا کوئی گزر نہ ہو؛ بلکہ انسان ایسے الفاظ اور اصطلاحات سے وحشت زدہ ہو؛ یقینا جو شخص آزاد خیال یعنی روشن خیال یا ابلیس کا شاگرد ہے، اسے ہر اس شخص سے نفرت ہوگی؛ جو اللہ ، رسول ، قرآن ، وحی، اخلاق کی بات کرتا ہے اور اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام کے غلبے کی بات کرتا ہے ؛تو یقینا سیکولرازم کے نزدیک وہ شخص دہشت گرد (TERRORIST) ہی ہے اور صیہو نیت کے پرستا روں کی اس سے جنگ ہے ۔ یہ جنگ ہر ایسے فرد ، ادارے ، فکر ، نظام اور افراد کے مجموعے کے خلاف ہے جو سیکو لرازم کے مخالف ذہن رکھتا ہے۔ اعاذنا اللہ من ذالک 

غیر پختہ (IMMATURE) ذہنوں کو فکری آزادی دے دینے کے ہی یہ خوفناک نتائج ہیں، جس کے خلاف آج مغربی معاشرے آواز بلند کر رہے ہیں اورتباہی کا رونا رو رہے ہیں۔ سچ کہا علامہ اقبال نے # 
        ہو فکر اگر خام تو آزادئ افکار 
        انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ 
آج کے مغرب کا انسا ن واقعی حیوان بن چکا ہے ۔
                        (حکمت بالغہ ،جولائی 2011 ص 22 تا24)

سیکولرزام کی اس حقیقت کو جاننے کے بعد اب سیکولر تعلیم کو فروغ دیے جانے کی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں ۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے سفرنامے ؛جہاں سفرنامہ ہیں وہیں ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ جس ملک میں گئے وہاں کی تاریخ کو مختصر اور اسلامی رنگ میں قلم بند کردیا ۔ ہمارے صدیق محترم حکیم فخر الاسلام صاحب نے ”جہان دیدہ“ اور ”دنیا مرے آگے“ سے سیکولر تعلیم کی تاریخ پر بڑی عمدہ معلومات یک جا کردی ہیں ۔

کالج کے لادینی ماحول میں نئی نسل پلتی اور ڈھلتی ہے:
سیکولر تعلیم کا الحادی رنگ مسلمانوں کے اندر دیکھنے کے لیے کسی خردبین کی ضرورت نہیں؛ہر کالج، ہر سیمینار، ہر کانفرنس، بلکہ تمام پروگراموں اور کنونشنوں میں دیکھا جاسکتا ہے ؛اس کا مشاہدہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی آنکھوں سے کرلیجیے، فرماتے ہیں: امریکہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم ”فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشنز“ ( ایف، آئی، اے) نے اپنا سالانہ کنونشن امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کے مرکزی شہر چارلسٹن میں منعقد کیا۔ اس کنونشن کے دوران پکنک، کشتی رانی اور ڈِنر کے جو پروگرام ترتیب دیے گیے، ان میں خردبین لگا کر بھی اسلام کی نہ صرف کوئی جھلک نظر نہ آسکی؛ بل کہ بعض ایسی چیزیں بھی ان پروگراموں کے دوران سامنے آئیں؛ جنہیں دیکھ کر پیشانی عرق عرق ہوگئی…۔( مفتی محمد تقی عثمانی۔جہان دیدہ: ص483) 

یہ چیز کالج کے لادینی ماحول ہی کے متعدی اثر کے نتیجہ میں سیمیناروں اور پروگراموں میں داخل ہوئی کہ ”جس میں ہماری نئی نسل پلتی اور ڈھلتی ہے“۔( حکیم فخرالاسلام)

مسلمانوں میں تعلیمی سیکولرائزیشن:
مسلمانوں میں سیکولرائزیشن کا آغاز تعلیم کے باب میں 1699ء کے بعد ہوا۔ پہلے خلافت ِعثمانیہ میں، پھر مصر میں اور اس کے بعد ہندوستان میں۔ 

کمال اتاترک کا خیال تھا کہ ترکی اپنے ماضی سے کلی طور پر کٹ کر اپنا رشتہ مغربی تہذیب سے جوڑ لے؛ تو ترکی، معاشی اور سیاسی ترقی کی منزلیں تیزی سے طے کر سکے گا۔ (مفتی محمد تقی عثمانی بحوالہ شاہِ راہ علم، محرم الحرام 1428ھ ص 98)

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اسّی سال میں بھی ایسا نہ ہو سکا ، آخرکار ترکی ایک بار پھر اسلام کی طرف لوٹ رہا ہے اور آج ایک اسلام پسند پارٹی وہاں حکومت کی داغ بیل ڈال رہی ہے۔

مصر میں یہودی جو کام 1797ء میں نپولین سے نہ کروا سکے وہ محمد علی سے زیادہ بڑے پیمانے پر کروالیا۔ 1814ء میں اس (محمد علی) سے یہودیوں نے وہی کام لیا جو 1793ء میں انگریزوں سے ہندوستان میں دوامی بندوبست کروا کر اور 1740ء۔1727ء میں اسٹالن سے روس میں Collectivization کروا کرلیا گیا … ملک کوعلمی اور فکری اعتبار سے سیکولرائز کرنے کی کوشش 1825ء سے شروع ہوچکی تھی… اور سعید پاشا (1876ء تا 1882ء) کے دور سے سیکولرائزیشن کے عمل کو سرکاری ہی نہیں، بلکہ عوام کی نچلی سطحوں تک لاکر راسخ کرنے کی کوشش پوری ہوئی اور اس کے بعد تو یہ بھی ہوا کہ 1994ء میں قاہرہ نے عورتوں کی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ (عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال ص/253 تا255) 

مسلمانوں کے اندر پیدا شدہ یہ سیکولر طبقہ مغرب پرستوں اور مستشرقین کے لیے نہایت درجہ کارآمد ؛کیوں کہ ”مغربی افکار کے استیلا“ کے بعد اسی ملک کے بعض ”دانشوروں“ (سیکولر دماغوں۔ حکیم فخر الاسلام) نے مغربیت کی نشر و اشاعت میں بھی بھرپور حصہ لیا، ”مفتی محمد عبدہ“، ”سید رشید رضا“ ان کے بعد ”طٰہ حسین“ اور”احمد امین“ جیسے متجددین اسی ملک میں پیدا ہوئے؛ جن کے افکار اور تحریروں نے پورے عالمِ اسلام کے تجدد پسند حلقے کو (علمی۔ حکیم فخر الاسلام) اسلحے فراہم کیے۔(جہا ں دیدہ۔ از مفتی محمد تقی عثمانی: ص162) 

جمال عبد الناصر کے عہد میں دین کو عملًا جاری کرنے کی فکر کا گلا گھونٹ دیا گیا اور ملک میں عربی قوم پرستی، بےدینی، عریانی اور فحاشی کا ایک سیلاب امڈ آیا… ذرائع ابلاغ کسی ادنیٰ رو رعایت کے بغیر علی الاعلان عریانی وفحاشی کی تبلیغ کرنے لگے۔ (ایضا:ص163) 

الجزائر پر فرانس کا استعمار (جس کی ابتدا 1830ء سے ہوئی۔ حکیم فخر الاسلام) عالم اسلام کا بدترین استعمار ثابت ہوا، جس پر مسلمانوں کے لیے شخصی زندگی میں بھی دین پر عمل کرنا دو بھر بنا دیا گیا… اسلامی علوم تو کجا، عربی زبان پر بھی پابندی لگائی گئی… اس کے ساتھ ساتھ یورپ کی تمام اخلاقی بیماریاں در آمد کر کے یہاں پھیلائی گئیں۔ یہاں تک کہ بڑے شہروں میں مسلمان خواتین کے غیر مسلموں کے ساتھ نکاح کے بھی بہت سے واقعات ہوئے۔ جب زبردست جانی ومالی قربانیوں کے بعد ملک فرانسیسی سام راج کے تسلط سے آزاد ہوا تو عالمِ اسلام کے دوسرے حصوں کی طرح یہاں بھی استعمار کے طویل زمانے میں فرانسیسی سام راج ملک میں ایسے لوگوں کی پوری ایک نسل تیار کر چکا تھا جو سیاسی طور پر سام راج کے خواہ کتنے خلاف ہوں؛ لیکن نظری اور عملی لحاظ سے پوری طرح یورپ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے، اور اسی کے ذہن سے سوچنے کے عادی تھے۔ (جہان دیدہ: ص /118)

حسین بے، شاکر اور احمد بے کی کوششوں کے پسِ پردہ الجزائر کو بھی اسی راہ پر لے جایا گیا، جس پر مصر میں محمد علی، عباس، سعید، اسمعیل اور توفیق پاشا گئے تھے۔ محمد بے (1855ء تا 1859ء) محمد الصادق (1859ء تا 1882ء) اور خیرالدین پاشا کی سرپرستی میں سیکولرائزیشن کا عمل سختی کے ساتھ شروع کیا گیا… تعلیم کی راہ سے سیکولرائزیشن کو آگے بڑھانے کی متعدد اور مختلف النوع کوششیں ہوئیں۔ (اخلاقی صورت حال: ص/257 ) 

انڈونیشیا کی تقریباً نوے فی صد آبادی مسلمان ہے اور باقی دس فی صد آبادی میں عیسائی، ہندو، بدھ، جین وغیرہ ہیں “…حکومت کے زیرِ انتظام چلنے والی دو اسلامی یونیورسٹیوں میں ”یہ دیکھ کر حیرت کے ساتھ افسوس ہوا کہ دونوں جگہ نظام تعلیم مخلوط ہے۔ اس صورتِ حال سے خود یونیورسٹی کے بعض اساتذہ بھی ناخوش معلوم ہوتے تھے؛ لیکن اپنی اس رنجیدگی کا علاج فی الحال ان کے بس میں نہیں“…”جب احقر نے ایک یونیورسٹی کے ذمہ دار ترین فرد سے پوچھا کہ ”اسلامی یونیورسٹی“ میں مخلوط تعلیم کا کیا جواز ہے ؟ تو انہوں نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ حیرت بھرے لہجے میں کہا کہ ”یہ انڈونیشی اسلام ہے“۔ البتہ یہاں طالبات کا لباس کا فی ستر پوش ہے جب کہ عام تعلیمی اداروں میں طالبات کا عام لباس اسکرٹ ہے۔ (جہانِ دیدہ:ص/380 تا، 381 بحوالہ شاہِ راہ علم، محرم الحرام 1428ھ ص 100،102)

لیکن اس کا کیا کیجیے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ سیکولر تعلیم اور سیکولرازم کے شوق میں اسلامی علوم کو ہی بے فائدہ سمجھتا ہے ۔ 

چند مسلم ممالک کا جائزہ پیش کرتے ہوئے یمن کے سفر کے حالات میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ تحریر فرما تے ہیں :
برصغیر کے دینی مدارس کی طرح کے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا تصور اب عرب ملکوں میں مفقود سا ہوچکا ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں سے ہٹ کر دینی تعلیم کا کوئی قابل ذکر ادارہ ان ملکوں میں نہیں پایا جاتا؛ لیکن جامعةالایمان، میری معلومات کی حد تک عرب ممالک میں یونیورسٹی کی سطح کا واحد تعلیمی ادارہ ہے ؛جوسرکاری یونیورسٹی نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے پیمانے پر دینی تعلیم کے لیے قائم ہے…شیخ یوسف القرضاوی نے جامعة الایمان کے پہلے تقسیم اسناد (اجازت) کے موقعہ پر تقریر کرتے ہوے ان لوگوں کی پر زور تردید کی جو سیکولرازم کے شوق میں اسلامی علوم کی تعلیم کو بےفائدہ سمجھتے ہیں اور ایسے اداروں کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔(دنیا مرے آگے:ص252)

یمن میں جب سے جمہوری حکومت قائم ہوئی ہے، اس کا میلان مغرب کی طرف رہتا ہے، عالمِ اسلام کے دوسروں ملکوں کی طرح یہاں بھی عوام اور حکام کے درمیان مفاہمت کے بجائے بُعد کی ایک خلیج حائل ہے، جس کا تمام تر فائدہ دشمنان ِاسلام کو پہنچ رہا ہے اور ملک کے بہترین وسائل امت کی فلاح و بہبود کی بجائے دوسرے مقاصد پورے کرنے کے لیے کام آرہے ہیں۔ اللہ تعالی ہماری شامتِ اعمال کو اپنے فضل وکرم سے دور فرماکر اس مہلک صورت ِحال سے ہمیں نجات عطا فرمائیں تو عالم اسلام آج دنیا بھر کی قیادت کے مقام پر ہو۔ (دنیا میرے آگے: ص 269بحوالہ شاہ ِرا ہ علم محر م الحرا م 1428ھ ص104، 105)

ہم مسلمان ہیں لہٰذا ہمارے لیے سیکولر تعلیم کا شرعی حکم جاننا بھی ضروری ہے؛ حکیم الامت، مجددِ ملت حضرت تھانوی  فرماتے ہیں :

انگریزی اور سیکولر تعلیم کا حکم:
عقائد اگر خلاف شریعت ہوگئے تو کفر والحاد۔ (کفر و الحاد : یعنی اگر کسی مسلمان کے عقائد خلاف شریعت ہوں؛ ”تو وہ کافر اور ملحد“ ہے) بد دینوں کی صحبت کے اثر سے اعمال خراب ہوجائیں؛ تو فسق ِظاہری۔(فسق ظاہری : بد دینوں کی صحبت سے اگر اعمال خراب ہوجائیں تو ”وہ آدمی فاسق ظاہری ہے“) اور اگر دل میں یہ ارادہ اور عزم جما ہوا ہے کہ ذریعہٴ معاش، خواہ حلال ملے یا حرام، اسے اختیار کریں گے؛ تو فسق باطنی۔(فسق باطنی : حلال وحرام کی تمیز کے بغیر اس علم سے کمانے کا ارادہ ہو ”تو فاسق باطنی “ ہے) اور اگر کوئی ان عوارض سے مبرا ہو، اور عزم بھی یہ کرے کہ اس سے وہی معاش حاصل کریں گے جو شرعاً جائز ہوگی تو اس کے لیے انگریزی تعلیم مباح اور درست ہوگی۔ (مبا ح : اور مذکو رہ خرابیوں سے پا ک ہوکر تعلیم حاصل کرے تو مباح ہے) اور اگر اس سے بڑھ کر یہ قصد ہو کہ اس کو ذریعہٴ خدمتِ دین بناویں گے تو اس کے لیے عبادت ہوگی۔ (فتوی حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ملخصاً)، (شاہ ِراہ علم محرم الحرام 1428ھ ص 77)

اس شرعی حکم کے بعد حضرت تھانوی قدس سرہ نے سیکولر تعلیم سے پیدا ہونے والے الحادی اثرات سے بچنے کے لیے چند تجاویز پیش کی ہیں :
بچوں کے دین کی فکر اور علم دین سے وابستگی کا خیال اگر نہ رکھا گیا تو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ارشاد فرماتے ہیں کہ ”بیس سال بعد تمہاری اولاد کچھ یہودی ہوگی اور کچھ نصرانی ہوگی ۔“(انفاسِ عیسی، حصہ دوم)

لہٰذا تعلیم جدید اگر حاصل کرنا ہو تو وہ اس کی شرائط ذکر کرتے ہیں:

تعلیم جدید کی تحصیل کی شرائط:
1...اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرے۔ 
2...کسی عالم کے مشورے سے کورس مقرر کرکے مطالعہ کرے ۔
3...علماء حقانی کی کتابیں مطالعہ میں رکھے۔ 
4...علماء علماء حقانی کی صحبت میں آمدو رفت رکھے ۔
5...غیر جنس کتابوں(مختلف رسالے، اخبارات، ناول، ملحدوں، بددینوں کے مضامین، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل کے ذریعہ فحش خیالات اور مخرب اخلاق پروگرام ۔ حکیم فخر الاسلام) سے اعراض رکھے ۔ اس کے بعد تعلیم جدید حاصل کرنے کا مضائقہ نہیں۔(شاہ ِراہ علم محرم الحرام 1428ھ ص 81)

یہ حضرت رحمة اللہ علیہ کی وہ تجاویز تھیں جو انفرادی طور پر ہر شخص اپنی اولاد کے لیے ضرور اختیار کرے؛ جو عصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مگر اب تقریبا ً ستر اسّی سال کے بعد حالات مزید ابتری کی صورت اختیار کرگئے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ رپورٹ سے ظاہر ہے کہ دنیا میں عیسائیت اور اسلام کے بعد سب سے زیادہ دہریہ اور ملحدین ہیں ؛ تو اب اجتماعی طور پر بھی اس جانب قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تا کہ الحاد کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جاسکے۔ اور دنیا کو جہنم ہونے سے بچایا جائے ؛کیوں کہ ملحد ہی دنیا کے ذہنی وجسمانی امن کو غارت کرنے میں اہم رول اد ا کرتا ہے؛ کیوں کہ وہ کسی بھی طرح کی غیرانسانی حرکت کرنے سے کتراتا نہیں۔ قتل و غارت گری ہو، چاہے بداخلاقی ہو،چاہے بےحیا ئی ؛ اس کے لیے سب برابر ہے ۔ اگر آپ کو یقین نہ آرہا ہو تو تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، اس وقت دنیا میں جو قتل و غارت گری،بےحیائی اور بداخلاقی ، حرام خوری اور خیانت جیسی گھناؤنی کیفیات ہیں؛ تاریخ میں کبھی اس حد تک برائی نہیں ہوئ ؛ کیوں کہ تاریخ میں کبھی اس حد تک الحاد بھی نہیں پایا گیا اور جب جب دنیا میں الحاد جس جس خطہ میں پایا گیا؛ صورت حال ایسی ہی رہی ؛ آپ قدیم یونان اور روم کی تاریخ اٹھا کر دیکھنا چاہیں تو دیکھ لیں! لہٰذا پوری سنجیدگی کے ساتھ ہمیں اس مسئلہ کو اٹھانا چاہیے ۔ سیاسی، تعلیمی ، تربیتی ، میڈیائی ہر سطح پر اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے #
        اجنبی سارے جہاں میں بن گیا تیرے لیے 
        اے خدا تیرے لیے بس اے خدا تیرے لیے 

آج بھی عالمی سطح پر الحاد کو فروغ دینے کی سازش جاری ہے؛ جس کا اندازہ مندرجہ ذیل ایک انکشاف سے کیا جا سکتا ہے ۔ امریکی مجلہ ”سائنٹیفک امریکن“ میں ایک مضمون امریکہ کے سائنس داں اور مذہب کے عنوان سے شائع ہوا ہے ۔ سائنس سے متعلق افراد کی مارکیٹنگ کا سلسلہ 200 سال سے جاری ہے ، سائنس داں کہلانے کے لیے ہمیں اپنا منہ بند رکھنا ہوگا، اور مذہب کی جکڑ بندیوں سے خود کو آزاد رکھنا ہوگا، ریسرچ یونیورسیٹیوں میں مذہبی لوگ اپنے منہ بند رکھتے ہیں؛ اور غیر مذہبی (دہریے اور ملحد) الگ تھلگ رہتے ہیں؛ انہیں خصوصی سلوک کا مستحق گردانا جاتا ہے اور انہیں اعلیٰ مناصب پر پہنچنے کے مواقع دیے جاتے ہیں۔ (SCIENTIFIC AMERICAN, SEP 1999 P.81 ) بلکہ ایک تحقیق کے مطابق سائنس داں کو اپنے شعبے میں ترقی پانے یا PhD کی ڈگری کے لیے یا عالمی سائنسی مجلہ میں اپنے مضمون کی اشاعت کے لیے چند شرائط پوری کرنی پڑتی ہیں؛ ان میں سے اہم شرط نظریہ ارتقا کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرلینا ہے جب کہ یہی شرط الحاد کی جڑ ہے ۔ اللہ ہماری حفا ظت فرمائے ۔

آئیے ! اب الحاد کے زور کو مقامی ، بلکہ عالمی سطح پر توڑنے کے لیے چند موٴثر طریقے اختیار کرتے ہیں ۔ 

مقامی سطح پر:
1... علماء کو چاہیے کہ وہ مسلمان اسکول کے اساتذہ کو کہیں کہ وہ طلبہ کو جب ڈارون کے نظریہ کا سبق پڑھائیں تو انہیں مطلع کردیں کہ یہ غیراسلامی نظریہ ہے، صحیح یہ ہے کہ اللہ نے ہم کو پیدا کیا۔
2... علماء اور طلبہ جامعات اسلامیہ ، تعطیلات میں اسکول کے ذمہ داروں سے ملاقات کرکے انہیں نصاب میں شامل غیر شرعی امور سے واقف کریں۔
3...مکتب پڑھانے والے استاذ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسکولی نصاب کی کتابوں کا جائزہ لے اور غیرشرعی اور تاریخی غلط بیانی سے طلبہ کو آگاہ کرے۔
4... مکتب کے نظام کو مستحکم کریں، اگر نہ ہو تو فوراً شروع کریں، اس لیے کہ ہمارے دوربین اسلاف نے اسی الحاد اور جاہلیت کو روکنے کے لیے مدارس و مکاتب کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔
5...والدین ضرور اپنے بچوں کو ان مکاتب میں بھیجنے کا اہتمام کریں اور گھر میں ان کی تربیت کرتے رہیں، گھر کے ماحول کو اسلامی بنائیں۔
6...جو لوگ بڑی عمر کے ہوں اور دینی تعلیم سے ناواقف ہوں، انہیں بھی اپنی دینی تعلیم کے لیے فکر کرنی چاہیے ۔
7... مکتب کے استاذ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پوری ذمہ داری سے پڑھائے اور خاص طور پر عقائد کو خوب اچھی طرح ذہن نشیں کروائے؛ تاکہ بچپن سے ہی بچے کا ذہن اسلام کے ساتھ مضبوطی سے جڑا رہے ۔
8...مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے بچے جب شادی کی عمر کو پہنچیں؛ تو دین دار رشتہ کو ترجیح دیں ، صرف مال و دولت اور حسن و جمال ،اسی طرح صرف دنیوی تعلیمی ڈگریوں پر نظر نہ رکھیں اور بلکہ ایسے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے بیا ہ نہ کریں؛ جو دین سے بالکل نابلد ہوں؛ بلکہ الحادی فکر کے حامل ہوں یا کسی شرعی اعتبار سے ناجائز پیشہ سے منسلک ہوں، مثلاً انشورنس ، بینک، جوا، شراب، وغیرہ کے کاروبار سے منسلک کسی ادارہ میں کام کرتے ہوں؛ ورنہ آپ کی نسل ایمان سے محروم رہے گی؛ جو انسان کے لیے سب سے بڑا خسارہ ہے ۔

ریاستی اور ملکی سطح پر الحاد کو روکنے کے لیے تجاویز:
1... کسی بھی مذہب کے مذہبی پیشوا اور خاص طورپر علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیمی محکمہ کو متنبہ کریں کہ وہ نصابی کتابوں سے ڈارون کی تھیوری (اور اس جیسے دوسرے مفروضات) کو نکال دیں؛ کیوں کہ مذہبی اعتبار سے تو وہ غلط ہے ہی ، سائنس نے بھی اسے غلط قرار دیا ہے ؛ پھر ہمارے بچوں کو کیوں پڑھائی جارہی ہے؟ اس لیے کہ اسی سے مادّی ذہن بنتا ہے اور بچہ جو عنقریب جوان ہوگا؛ وہ مذہب سے بے زار ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے بےحیائی اور بد اخلاقی کا شکار ہوتا ہے اور پھر کسی بھی طرح کی غیر انسانی حرکت کرنے سے کتراتا نہیں، جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے ۔

2...وزیر اعظم، وزیر تعلیم ، ریاستی و ملکی سطح پر بھی اس بات کی حتی المقدور کوشش کی جائے کہ ”نصابی کتابوں“ سے غیر مذہبی، غیرمحقق تاریخی نظریات وواقعات کو نکالا جائے ”دین سے وابستگی“ اخلاقیات پر مبنی مواد نصاب میں شامل کیا جائے؛ نصاب کی تیاری کے لیے مذہب سے وابستہ محققین سے مدد حاصل کی جائے؛ خاص طور پر علماء سے ۔

3...اسکول ، کالجز اور تعلیمی ادارہ کے ذمہ دار اپنے تدریسی اسٹاف کو ورک شاپ کے ذریعہ اس بات پر تنبیہ کریں؛ بلکہ اس کی زور دار تردید ان کے سامنے موٴثر انداز میں پیش کریں۔ اس سلسلہ میں مولانا علی میاں ندوی  کی کتابوں سے مدد مل سکتی ہے ، ہمارے احمد غریب یونانی کالج کے پروفیسر حکیم فخر الاسلام سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے ، ماشاء اللہ اس موضوع پر ان کی اچھی پکڑ ہے۔

4...اخبارات، رسائل، جرائد وغیرہ میں بھی تحقیقی انداز میں الحادی نظریات کی تردید ضروری ہے ، خاص طور پر راسخ العقیدہ، صائب الفکر اور سائنسی نظریات سے واقفیت رکھنے والے علماء اپنے قلم اٹھائیں ۔

عالمی سطح پر الحاد کو روکنے کی کوشش کے لیے تجاویز:
1... جیسا کہ اوپر U.N.O کے بارے میں بتلایا جا چکا کہ وہ محض دنیا پر مغربی اجارہ داری کے لیے قائم کیا گیا ہے؛ لہٰذا یا تو اس سے ناطہ توڑ دیا جائے یا اسے اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ ”انسانی حقوق کے عالم گیر اعلامیہ“ (Universal Declarution of Human Rights) سے ایسی دفعات کو ختم کرے؛ جو الحاد کے فروغ میں معاون ہوں یا کم از کم اس میں ایسی تبدیلی کرے جو مذہبی عقائد کا لحاظ رکھے؛ مثلاً آزادی کی حدود و قیود متعین کی جائیں اور وہ بھی مذہبی اور خاص طور پر علماء کو شامل کرکے ۔

2...اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کا چارٹر اور جینوا کنونشن کے فیصلے اور قراردادیں، دراصل مغربی فلسفہٴ حیات اور ویسٹرن سولائزیشن کا ترجمان ہیں، جس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما ہے کہ مذہب کا تعلق صرف عقائد، عبادات اور اخلاقیات سے ہے۔ اور اس میں بھی ہر انسان آزاد ہو؛ اس لیے کہ مذہب اس کا ذاتی مسئلہ ہے، جس میں ریاست کو کوئی اتھارٹی نہیں؛ البتہ انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات، مثلاً: سیاست ، قانون ، تجارت ، زراعت اور معیشت کے ساتھ مذہب کا قانونی واسطہ نہیں؛ لہٰذا اجتماعی معاملات مذہب کی قید وبند سے آزاد رہیں گے۔

مسلمانوں کو خاص طور پر اور عام طور پر تمام مذاہب کے پیروکاروں کو U.N.O کے اس طریقہٴ فکر سے اختلاف کرنا چاہیے؛ اور اس کے لیے عالمی سطح پر حتی المقدور کوشش کرنی چاہیے، کہ زندگی کا یہ اجتماعی وانفرادی معاملہ مذہب کے تابع ہو، کوئی اور مذہب کے متبعین کریں یا نہ کریں، مسلمانوں کو تو ضرور U.N.O کو اس پر یا تو مجبور کرنا چاہیے یا U.N.O سے علیحدگی اختیار کرلینی چاہیے ۔

3... تعلیم کے باب میں U.N.O کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ ایسا قانون بنائے، جس میں تعلیمی نصاب سے الحادی افکار ونظریات کو نکال دیا جائے۔ اور اخلاقِ حسنہ کو شامل کیا جائے، اسی طرح اخلاق سوز کلچر پروگرام کو بھی اور اسپورٹس کو بھی تعلیمی سرگرمیوں سے دور کر دیا جائے ۔

یہ تھیں الحاد کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کی چند تجاویز۔ امید ہے کہ مذہب کے متبعین اور خاص طور پر مسلمان اس جانب پیش رفت کریں گے ۔

اللہ ہماری ہر طرح کی گم راہی سے حفاظت فرمائے اور ایمان پر خاتمہ فرمائے اور ہمیں خیر کے لیے جدوجہد و محنت کی توفیق عطا فرمائے اور قدم قدم پر ہماری مدد فرمائے۔ آمین

نوٹ… مغرب کے سروے کے طریقہ کار سے اگرچہ ہمیں اتفاق نہیں مگر اس بات سے بھی انکارکی گنجائش نہیں کہ الحادی نظریات کے حاملین کی معاشرے میں کمی نہیں، اس بات کے امکانات ہیں کہ وہ بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہوں اور مسلمان کا تناسب گھٹا کر بیان کر رہے ہوں اور اگر ہم ان کے 16فی صد کو10 /فی صد تسلیم کرلیں تب بھی 80 کڑور ہوتے ہیں تو کیا یہ بھی کم ہے؟



















سیکولرزم کی تباہ کاریاں اور اس سے بچنے کی تدابیر

                                                                


سیکولرزم، اصل میں لاطینی زبان کالفظ ہے، جسس کا عربی میں ”علمانیة“ اور اردو میں ”لادینیت“ ترجمہ ہوتاہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے ایسے حیرت انگیز اور معجزانہ علمِ وحی سے مالامال کیا تھا کہ جس کی روشنی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی بعثت مبارکہ سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام فتنوں سے امت کو باخبر کردیا تھا، تاکہ امت ضلالت اور گمراہی سے مکمل اجتناب کرے، الحاد اور بے دینی جو سیکولرزم کے نام سے اس وقت دنیا میں فتنہ برپا کیے ہوئے ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ روایت منطبق ہوتی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”دعاة علی ابواب جہنم من اجابہم الیہا قذفوہ فیہا“ یعنی ایک زمانہ میں امت پر ایسا وقت آئے گا جس میں شرپسندوں کے ٹولے جو جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوں گے، انسانوں کو اور خاص کر مسلمانوں کو اس کی طر ف بلائیں گے، جو ان کی بات تسلیم کرلے گا، وہ اسے اس میں یعنی جہنم میں جھونک دیں گے، قربان جائیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعبیر بیان پر، کتنے مختصر الفاظ میں کتنی عظیم خبردی، لفظ ”دعاة“ کے ذریعہ بے دین ملحد، زندیق، سیکولر دین دشمنوں کی کثرت کی طرف اشارہ کیا، جس کا دنیا مدتوں سے مشاہدہ کررہی ہے، غالب گمان یہ ہے کہ اس حدیث سے اسی سیکولرزم کے داعیوں کی طرف اشارہ ہے، لہٰذا ہم سردست سیکولرزم کے بارے میں مختصر معلومات پیش کرنے جارہے ہیں، امید ہے کہ دل کے آنکھوں سے اس کا مطالعہ کر کے سیکولرزم کے فتنے سے اپنے آپ کو اور پورے معاشرہ کو بچانے کی فکر کریں گے، اللہم وفقنا لما تحب وترضی واجعل آخرتنا خیرا من الاولیٰ۔
سیکولرزم کیا ہے؟

 سیکولرزم در اصل ایک ماسونی یہودی تحریک ہے، جس کا مقصد حقوقِ انسانی، مساوات، آزادی، تحقیق و ریسرچ، قانون دولی (International Law) اور تعلیم کے نام پر، دین کو زندگی کے تمام شعبہ جات حیات سے نکال دینا، اور مادیت کا گرویدہ بنا کر، روحانیت سے بے زار کر دینا ہے، یہ کہہ کر کہ دین کی پیروی انسانی آزادی کے منافی ہے، لہٰذا سیاست اور دین، معیشت اور دین و معاشرت اور دین یہ سب الگ الگ ہیں ۔ دین، طبیعت اور فطرت کے خلاف ہے، لہٰذا کسی بھی دین کی پیروی درست نہیں، ان کی صورت حال ایسی ہی ہے، جیسا کہ قرآن کا ارشاد ہے: و اذا قیل لہم تعالوا الی ما انزل اللہ و الی الرسول رایت المنافقین یصدون عنک صدودا۔ (سورة النساء: پ۵/۶۱) یعنی جب ان سے کہا جاتاہے آجاوٴ اس چیز کے طرف جو اللہ نے نازل کی ہے ( یعنی دین اسلام) اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی (تعلیمات) کی طرف (یعنی شریعت پر مکمل طور پر عمل پیرا ہونے کی طرف تو (اے مسلمان) تو دیکھے گا، منافقوں کو کہ وہ لوگوں کو آپ (یعنی شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم) پر عمل کرنے سے روک رہے ہوں گے۔

یہاں قرآن کریم کا مضارع کا صیغہ ”یصدون“ لا نا اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک خاص نہیں بلکہ استمرار کے ساتھ ہر زمانہ میں ایسا ہوگا، اور پھر آگے”صدودا“کہہ کر اشارہ کیا کہ وہ اس پر مصر بھی ہوں گے۔

سیکولرزم کا آغاز کہاں اور کیسے

سسیکولرزم دراصل یورپ کی پیداوار ہے، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب اسلام نے آکر علم کے دروازے کھولے اور اسلام کا اثر ورسوخ مشرق سے نکل کر مغرب میں غرناطہ اور بوسنیا تک پہنچا، تو اہل مغرب کی آنکھیں کھلیں، اس لیے کہ سولہویں صدی عیسوی تک یورپ میں کنیسا اور چرچ کو مکمل اثر و رسوخ حاصل تھا، جب سترھویں صدی میں اہلِ یورپ نے مسلمانوں کی علمی آزادی اور ترقی کو دیکھا اور عیسائی پادریوں اور بادشاہوں کی تنگ نظری اور تعصب کو دیکھا اور اس کے نتیجہ میں علمی تحقیقات پر پابندی اور کوئی رائے پیش کرنے والے کو ظلم کا شکار ہوتے دیکھا تو انہیں ایسا محسوس ہوا کہ عیسائیت ہی دراصل ہماری ترقی کے لیے روڑا اور رکاوٹ ہے، لہٰذا سترھویں صدی میں اہلِ مغرب نے مذہب سے بے زاری کا اعلان کردیا، اور یہ پسِ پردہ دنیا کی خفیہ ترین تخریبی تحریک ماسونیت کی کارستانیوں اور سازشوں کا نتیجہ تھا، اس طرح جب ان سیکولرزم کے حاملین کو کامیابی ملی، تو انہوں نے اعلان کیا کہ ”اب عقل کو آزادی ہوگی اور مذہب کے قید وبند سے انسان آزاد ہوگا اور طبیعت اور نیچریت کا بول بالا ہوگا“۔

جب یورپ میں سیکولرزم کو غلبہ حاصل ہوا، تو اب وہ دنیا پر راج اور سلطنت کے خواب دیکھنے لگے، اس طرح انہوں نے مشرق کا رُخ کیا اور ۱۷۸۹ء میں مصر پر حملہ کیا اور انیسویں صدی کے آنے تک پورے مشرق کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کچھ ناعاقبت اندیش، مادہ پرست مسلمانوں کو بھی اپنے چنگل میں لے لیا۔

 مشرق و مغرب میں سیکولرزم کے علمبردار

سیکولرزم کو پھیلانے میں جن بدباطن اور کج فکر، لوگوں نے اہم رول اور کردار ادا کیا، ان میں سے، مغرب میں ڈارون جس نے تحقیق کے نام پر ”نظریہٴ ارتقاء“ کی بنیاد ڈالی، جو دنیا کا سب سے بڑا فریب شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح فرائیڈ نے”نظریہٴ جنسیت“ پیش کیا، اسی طرح ڈارکا یم نے ”نظریہٴ عقلیت “پیش کیا، جان پول سارترنے ”نظریہٴ وجودیت “کی تحدیدکی، پھرآدم اسمٹھ نے ”کیپٹل ازم“سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادڈالی، کارل مارکس نے ”کمیونزم“کی بنیادڈالی، جوپچھلے تمام مادی افکار کا نچوڑاورخلاصہ تھا اور مشرق میں کمال اتاترک، طہٰ حسین، جمال عبدالناصر، انور سادات، علی پاشا، سرسید، چراغ علی، عنایت اللہ مشرقی، غلام پرویز، غلام قادیانی وغیرہ نے انہیں افکار کو مشرق میں عام کرنے کا بیڑا اٹھایا، اوراب اسی کو گلوبلائیزیشن یعنی”عالمگیریت“کانام دیدیاگیاہے، دیکھنااب کیاہوتاہے، اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین یارب العالمین!

سیکولرزم کا ہدف

سیکولرزم کا اصل ہدف امتِ مسلمہ کو موجودہ دورمیں اسلام سے بے زارکر کے، مادیت سے وابستہ کرناہے، تاکہ مغرب کی بالادستی، برابراس پر باقی رہے، اس لیے کہ اسلامی فکر، اسلامی روحانیت اوراسلام سے وابستگی یہی مسلمانوں کی کامیابی اوربالادستی کی شاہِ کلید ہے، لہٰذامسلمانوں کو اپنی پوری توجہ، ایمان اور اس کے تقاضوں پرمرکوزکرناچاہیے، نہ کہ مادیت کے مکروفریب کے جال میں پھنسنا۔ اللہم انانسئلک العفو والعافیة فی الدین و الدنیا و الاخرة۔

سیکولر فکررکھنے والوں کی اقسام وانواع

سیکولرزم سے متأثرافرادکوتین قسموں میں تقسیم کیاجاسکتاہے:

(۱)     پہلی قسم: ان کافراوربے دین لوگوں کی، جوصراحةًاوراعلانیةً اسلام کا ہی نہیں،کسی دین کا انکارکرے، اگروہ مسلمان ہو اورایسی بات کرے تو مرتدشمارہوگا۔

(۲)     دوسری قسم:ان منافقوں کی، جونام کے مسلمان ہویعنی بظاہراسلام کو تسلیم کرتے ہوں، مگر دل میں کفرکوچھپائے ہوئے ہوں، ان کا پورامیلان اندر سے اسلام مخالف، بلکہ اسلام دشمن نظریات کی جانب ہوں، اس وقت مسلم معاشرہ میں یہ لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں، چند نشانیوں سے ان کو پہچانا جاسکتا ہے، وہ نشانیاں یہ ہیں :

(الف)   وہ اپنے آپ کو مصلحِ ملت، مفکرِاسلام یامجددٹھہراتے ہوں، حالاں کہ اسلام اور اسلام کی بنیادوں کوڈھانے کی کوشش  کررہے ہیں، ان کی حالت اسلامی تعلیمات اورمطالبات کے بالکل برعکس ہو، یہی لوگ اسلام اورمسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

(ب)    وہ یہ آواز لگاتے ہوں کہ اسلامی تعلیمات، عصرِحاضرمیں جاری کرنے کے قابل نہیں، اس لیے کہ (العیاذباللہ)وہ فرسودہ ہیں، وہ قابلِ اعتبار نہیں، لہٰذاعالمی قانون کو مسلمان تسلیم کرلے، اس لیے کہ (العیاذباللہ)وہی مسلمانوں کے لیے شریعتِ اسلامیہ کے مقابل زیادہ نفع بخش اورمفیدہے۔

(ج)     وہ اباحیت پسندی کے شکارہوں،حرام کو حلال کرنے اورحلال کوحرام کرنے کے درپے ہوں، اوراس کواپنے گناہ کی سنگینی کا احساس بھی نہ ہو۔

(د)      دین پر عمل کرنے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں اوردینی شعائرمثلاً،ڈاڑھی، ٹوپی، کرتہ وغیرہ کا مزاق اڑاتے ہوں اوردیندارکوکم عقل تصور کرتے ہوں۔

(ھ)     اس کے فکری رجحان کی کوئی سمت متعین نہ ہو، جدھرکی ہواادھرکا رُخ، اس کی طبیعت ثانیہ ہو، مثلاًجب تک روس کوغلبہ تھاکمیونزم کے حامی، اور اب امریکہ کو غلبہ حاصل ہے، تو سرمایہ داریت اورجمہوریت کے شیدائی ہوں۔

(۳)     تیسری قسم: ان مسلمانوں کی ہے، جوسیکولرزم اورجمہوریت،حقوقِ انسانی،آزادیٴ نسواں،آزادیٴ رائے،دین اورسیاست میں تفریق جیسے اصطلاحات سے متأثرہوں،جن کو آج کل مغربیت زدہ مسلمان، کہاجاتاہے، یہ اسلام کو مانتے ضرور ہیں، اس کی حقیقت کے بھی قائل ہیں، مگردینی علم سے دوری یاکمی کی وجہ ان خوشنمااصطلاحات سے متأثرہوگئے ہوں۔

سیکولرزم کو عام کرنے کے اسالیب

اسلام دشمن طاقتوں نے خاص طورپر صہیونی، صلیبی اشتراک، جس کوماسونیت بھی کہاجاسکتاہے، سیکولرزم کومسلمانوں میں عام کرنے کے مختلف طریقے اپنائے۔

(۱)     الیکڑانک اورپرنٹ میڈیا کے ذریعہ یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ اسلام، یہ دور انحطاط کی کھوج ہے، اور اس کی تعلیمات، روایات قدیمہ کی حامل ہے، (العیاذ باللہ) مادی ترقی کے دور میں قابل عمل نہیں رہا، حالاں کہ ایسا ہرگز نہیں، الحمدللہ! کسی بھی زمانہ میں انسان کی حقیقی ترقی، جس کو روحانی ترقی سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، اس کا حامل اگر ہے تو یہی اسلام، اس لیے کہ انسان کی حقیقی ترقی یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کو راضی کرلے ، اور دنیا میں اس کا تقرب حاصل کرلے، قرآن کا اعلان ہے ”ان اکرمکم عنداللّٰہ اتقٰکم“ (سورة الحجرات:پ۲۶، آیت۱۳)تم میں سب سے زیادہ مکرم و معزز و برگزیدہ اللہ رب العزت کے نزدیک وہ ہے، جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو یعنی گناہوں سے اسی طرح لوگوں کو اور مخلوق کو تکلیف دینے سے مکمل اجتناب کرتا ہو، یہ ہے اصل ترقی کا زینہ۔

(۲)     العیاذ باللہ یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ اسلام خونی مذہب ہے، یعنی اس کی تاریخ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اگر تاریخ کا غائرانہ مطالعہ کریں، تو معلوم ہوگا کہ پچھلے سو سال میں جمہوریت اور سیکولرزم کے نام پر دنیا میں جتنا ظلم ہوا اور قتل و غارت گیری ہوئی، اسلام میں، اس کی ایک بھی نظیر نہیں ملتی، ایک سروے کے مطابق ”اوریا مقبول جان“ مشہور صحافی تحریر فرماتے ہیں کہ پچھلے سو سال میں تقریباً سترہ کروڑ انسانوں کو جمہوریت کے بھینٹ چڑھا دیا گیا، اس سے سولہویں صدی میں ریڈ اینڈینز کو سو ملین کی تعداد میں نئی دنیا کی دریافت کے نام بے قصور موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، غرناطہ میں تیس لاکھ مسلمانوں کو صلیبیت کے نام پر قربان کردیا گیا، فلسطین میں لاکھوں مسلمانوں اور یہودیوں کو عیسائیوں نے بلاجرم قتل کردیا، جب کہ اسلامی تاریخ میں مسلمان امراء کی فراخ دلی، رعایا سے ہمدردی اور انصاف کوئی پوشیدہ چیز نہیں، نیک مسلمان سلطانوں اور امراء نے تو ظلم کیا ہی نہیں، بل کہ فاسق و فاجروں بھی نے کیا بھی ہوگا، تو وہ اس ظلم کے سویں حصہ کیا، یا ہزارویں حصہ کے برابر بھی نہیں ہے، ہماری تاریخ خونی اور ظالمانہ نہیں، اگر ظالمانہ تاریخ ہے، تو تاریخ، انہی سیکولرزم کی نعرہ دینے والوں کی ہے، مگر اپنا عیب چھپانے کے لیے وہی اپنا قصور مسلمانوں پر تھوپ دیا ”فانتظروا انا معکم منتظرون“۔ (سورہٴ یونس:پ۱۱،آیت۳)

(۳)     قرآن و حدیث کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کرنا کہ وہ ایک خاص جماعت او ر نسل کے لیے نازل کیا گیا تھا، یا یہ کہنا کہ قرآن و حدیث کی، العیاذ باللہ کوئی حقیقت نہیں ، وہ تو انسان ہی کا مرتب کردہ ہے، جب کہ حقائق اس کا صراحت کے ساتھ انکار کرتے ہیں، قرآن کا اعلان ہے ”کتاب اَنزلنٰہ الیک۔ (سورة ابراہیم:پ۱۳،آیت۱) و ما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحیٰ“ وغیرہ۔(سورة النجم:پ۲۷،آیت۲،۳)

(۴)     ایمان بالغیب کا انکار کرنا اور اس کا مزاق اڑانا اور یہ کہنا کہ نیچریت اور طبیعت اس کو تسلیم نہیں کرتی، اور اس کے بارے میں یہ کہنا کہ ملائکہ، جن، جنت، دوزخ ،حساب، برزخ، قدر، معراج، معجزات، انبیاء وغیرہ، یہ سب محض خرافات ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں، حالاں کہ قرآن نے پہلے پارے کے پہلے ہی رکوع میں متقی مسلمانوں کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ”یوٴمنون بالغیب“ (سورة البقرة:پ۱، آیت۳) وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔اور اس طرح نقل کو عقل پر ترجیح کے قائل ہیں۔

(۵)     مسلمان معاشرہ میں موجود اخلاقی قدروں کو ملیامیٹ کرنا اور اباحیت پسندی کو فروغ دینا، تعلیمی نصاب میں ایسا مواد سمو دینا، جس سے ابناء قوم طفولیت ہی سے ایمان باللہ، ایمان بالقیامة سے محروم رہے ،اور جنسیت، مادیت، فیشن پرستی کا دلدادہ ہو جائے، ماحول ایسا بنا دیا جائے کہ عشق بازی، حیاسوزی، نوجوانوں کی عادت بن جائے، ایسی ایسی فلمیں اور سیریلیں بنائی جائیں، جس میں مار پیٹ، لڑائی، جھگڑا، فتنہ، فساد، عشق و محبت، بداخلاقی و بدکرداری کو فروغ حاصل ہو ، حالاں کہ بداخلاقی، بدکرداری، عشق بازی، فتنہ فساد سے، تعلیمات اسلامیہ مکمل اجتناب کا درس دیتی ہیں۔

(۶)     توحید کے مقابلہ میں روشن خیالی، مزعوم اعتدال پسندی کو جس کو دوسرے لفظوں میں Modernism کہاجاسکتا ہے، ہر طبقہ میں عام کرنے کی مکمل کوشش کی جارہی ہے، جو سراسر اسلامی تعلیمات کے منافی اور معارض ہے۔

(۷)     اسلام کے خلاف جاری فکری یلغار کو ثقافت اور تبادلہٴ ثقافت کا نام دیا جارہا ہے، تاکہ فکری یلغار کا احساس زندہ نہ ہو، اور مسلمان مِن و عَن مغربی ثقافت کو دلجمعی کے ساتھ قبول کرلے۔

(۸)     بلادلیل و برہان اسلام کو ”دہشت گرد“ اور مسلمانوں کو متعصب اور ظالم، قاتل و سفاک اور بے رحم ثابت کیا جارہا ہے، تاکہ لوگ اسلام اور مسلمان سے متنفر رہے، اور اسلام کو فروغ حاصل نہ ہو۔

(۹)     شراب، جوا، سود اور محرمات کو خوشنما اور نئے نئے ناموں سے مسلمانوں میں متعارف اور عام کیا جارہا ہے، تاکہ حلال و حرام کی تمیز باقی نہ رہے، اور مسلمان بے دھڑک اس کی خرید و فروخت اور استعمال میں مشغول ہو جائے۔

(۱۰)   اسلام اور اس کی تعلیمات مثلاً حدود، تعزیرات وغیرہ اور اسلامی شخصیات، مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ، مجاہدین وغیرہ سے استہزاء اور ان کی زندگیوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے مشکوک کرنا وغیرہ، اللہ ان ملعون حرکات کرنے والوں کو غارت کرے اور مسلمانوں کے دلوں کو اسلام ، اسلامی شخصیات اور اس کی تعلیمات کی محبت سے لبریز کردے۔ آمین یا رب العالمین!

(۱۱)   مغربی باطل نظریات کو خوب عام کرنا، اور ہر ممکن یہ کوشش کرنا کہ ان باطل نظریات کے حاملین کو علم و تحقیق کے باب میں بلند ترین مقام دینا، اور یہ کہنا کہ یہی لوگ حقیقت میں دنیائے علم و تحقیق کے درخشندہ ستارے ہیں اور انہوں نے دنیا پر بڑا احسان کیا، حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے، کیوں کہ علم و تحقیق کے نام پر انہوں نے دنیا کو گمراہ کیا، مثلاً ڈارون ،فرائیڈ، مارگو لیٹھ، کارل مارکس، آدم اسمیٹھ، دور کایم، جان پول، وغیرہ یہ ائمہ ضلال تو ہوسکتے ہیں، مگر محسن نہیں ہوسکتے، لعنة علیہم و الملائکة والناس اجمعین!

سیکولرزم کے بارے میں شرعی فیصلہ

 علمائے اسلام اور فقہاء عظام نے سیکولرزم کو ایک مستقل مذہب قرار دیا ہے، جس کو ”دہریت“ کہا جاسکتا ہے، لہٰذا وہ کفر صریح ہے، اور مسلمانوں کو اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، مسلمانوں میں سیکولرزم فکرکے ان حاملین کو منافقین کہا جائے گا، جو اسلامی تعلیمات کا انکار کرے، سیکولرزم کو حق بجانب تصور کرے، اسلامی محرمات کو حلال گردانے۔

سیکولرزم کے دنیا پر اثرات

سیکولرزم نے سب سے زیادہ نقصان عالم اسلام کو پہنچایا، اس لیے کہ سیکولر فکرکے حاملین نے، جس میں کمال اتاترک جیسے لوگ شامل ہیں، خلافتِ اسلامیہ کے سقوط کے سبب بنے، اور عظیم دولت عثمانیہ اسلامیہ کو تقسیم در تقسیم سے دوچار کیا، یہاں تک کہ وہ پچاس حصوں میں تقسیم ہوگئی، اسرائیل کا ناپاک وجود اسلامی ریاستوں کے بیچ عمل میں آیا۔ دنیا میں فحاشی، بدکاری، اور ہر برائی کو پھیلانے کے راہیں ہموار ہوگئیں، اور پوری دنیا کو جمہوریت اور عالمگیریت کے نام پر جہنم کدہ بنا دیا گیا۔

اسلام کے غلبہ کی راہیں کیسے ہموار ہوسکتی ہیں؟

ہم مسلمان ،ہیں ہمارا دین، دین برحق ہے ہمارا رب اللہ ہے، جو قادر مطلق مالک الملک الہ واحد اور ذوالجود والکرم ہے اور ہمارے رسول خاتم النبیین سید المرسلین ہیں، اور ہماری تعلیمات ہر زمانہ میں انصاف امن وسلامتی کی ضامن ہیں، اسی کو حق ہے کہ وہ دنیا پر قیادت وسیاست کرے، مگر ہم نے اس کی قدر نہ کی ذلت ومسکنت کے شکار ہوئے، اب ہمیں کرامت اور غلبہ کیسے دوبارہ ہوسکتا ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، تو آئیے ہم اسی پر روشنی ڈالتے ہیں۔

(۱)     سب سے پہلے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان میں رسوخ پیدا کریں کیوں کہ قرآن کا اعلان ہے” وانتم الاعلون ان کنتم موٴمنین“۔(آل عمران:۱۳۹) تم ہی سر بلند رہو گے اگر موٴمن رہو۔ موٴمن کس کو کہتے ہیں؟ دل وجان سے اسلام کو تسلیم کر کے، اس پر عمل کرنے اور اس پر سب کچھ قربان کردینے کا نام ہے ایمان اور موٴمن ہونا۔

(۲)     کتاب اللہ اور سنت رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ہر حالت میں ہم مضبوطی کے ساتھ تھام لیں، یعنی ہمارا ہر قول اور ہر عمل قرآن وسنت کے منشاء کے مطابق ہوجائے، حدیث میں ہے ”ان تمسکتم بہما لن تضلوا بعدی ابدا“۔

(۳)     تقویٰ، یعنی ہرحالت میں اللہ سے ڈرنے لگ جائیں، اور ہر طرح کے منکر اور حرام سے مکمل اجتناب کریں، اور ہر فرض وسنت کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنائیں۔

(۴)     اسلا می تعلیمات کوخوب عام کریں، اور یقین رکھیں کہ کامیابی اسی پر عمل کرنے میں ہے نہ کہ کسی اور چیز میں۔

(۵)     دعا کا التزام کریں، اپنے لیے پوری امت کے لیے، رو رو کر اللہ کے دربار میں دعائیں کریں، خاص طور پر یہ دعا کریں کہ اللہ امت کو منافقین کے شر سے نجات دے اور بچائے اور اسلام پر ثابت قدم رکھے۔

(۶)     غفلت سے بیدار ہو، اور دشمنوں کے مکر وفریب سے اور ان کے سازشوں سے واقف ہوں اور اس سے بچنے کی تدابیر کریں، اللہم اجعل کیدہم فی تضلیل۔

(۷)     اس وقت سب سے بڑی ضرورت اسلامی تعلیمات سے واقف ہونا ہے، لہٰذا اس جانب توجہ دیں، تا کہ حلال حرام کی تمیز ہو سکے، علماء سے اپنے مسائل میں رجوع کریں، اور اپنے بچوں کی اسلامی تربیت کی فکر کریں۔

(۸)     ٹیلی ویژن کی نحوست سے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو، کوسوں دور رکھیں ،فلم، کھیل کود اور فضول چیزوں میں وقت صرف نہ کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہوں۔

اللہ ہماری ہر طرح کے شر سے حفاظت کرے اور ہر طاعت کے کرنے کی توفیق دے اور پوری امت کو اسلام سے وابستہ کردے۔آمین یا رب العالمین!

***



مذہب و عقلیات
حضرت مولانا عبدالباری ندویؒ
مذہب سے مراد فوق الفطرۃ (سپر نیچرل) ہستی یا چیزوں کا اعتقاد ہے جو کسی نہ کسی صورت کے ساتھ تمام مذاہب میں پایا جاتا ہے، عقلیات سے مقصود اس کی دو مختلف شاخیں (۱) حکمت (سائنس) اور (۲) فلسفہ ہے۔
مذہب و سائنس کی جنگ بے معنیٰ ہے:
مذہب و عقل کی معرکہ آرائیوں کی داستان توں تو ہمیشہ کہی اور سنی گئی ہے، لیکن پچھلی صدی میں عقلیات نے جو ترقی حاصل کی ہے اس کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ مذہب آخری شکست کھا کر اکھاڑہ سے نکل چکا ہے، ہم (اہلِ سائنس) نے خدا کی عارضی خدمات کا شکریہ ادا کرکے اس کو سرحد پر پہنچا دیا ہے۔ (کیروؔ کا مقولہ ہے، دیباچہ مترجم ’’معمۂ کائنات‘‘:۱۲) عجائب سائنس سے ہیبت زدہ اور تقلیدی پرستارانِ یورپ کے حلقوں میں پہنچ کر یہ آوازیں اور زیادہ پُر شور بن جاتی ہیں۔
آغازِ جنگ میں جرمنی کی عجائب کاریوں اور حربی اختراعات نے اس درجہ مبالغہ آمیز شہرت حاصل کی تھی کہ طلسمِ ہوش رُبا کے افسانے واقعات و مشاہدات معلوم ہونے لگے تھے، ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے بزرگ نے نہایت یقین و سنجیدگی سے بیان کیا کہ ’’جرمنی کی فوج کے تمام سپاہی لوہے اور کاٹھ کی پتلیاں ہوتے ہیں‘‘، عوام کی نفسی حالت یہ ہوگئی تھی کہ جرمنی کی نسبت بے سوچے سمجھے ہر بے سر و پا بات کے مان لینے پر آمادہ تھے۔
میں اُس زمانہ میں سلطان پور میں تھا، ایک دوست نے آکر چشم دید واقعہ بیان کیا کہ ایک اسٹیشن پر مسافر اتر کر جب باہر نکلے تو کسی ظریف نے نہایت خوفزدہ آواز میں چیخ کر کہا کہ ’’جرمن آگئے‘‘ اور بھاگا، اتنا سننا تھا کہ بیسیوں آدمی بدحواس ہوگئے اور اسباب چھوڑ چھوڑ کر جدھر سر سمایا بھاگ کھڑے ہوئے، ان احمقوں نے اتنا نہ سوچا کہ جرمن یہاں کیوں آنے لگے؟ یکایک کیسے اور کدھر سے پہنچ گئے؟ ذرا مڑ کر دیکھ تو لیں، لیکن مرعوبیت اور بدحواسی اس کی مہلت کہاں دیتی ہے۔
مذہب و سائنس کی شکست و فتح تو الگ رہی، ہمارے نزدیک ان کی باہمی جنگ ہی اس سے زیادہ اصلیت نہیں رکھتی جتنا جرمنوں کا اس اسٹیشن پر بے سان و گمان آ پڑنا، ہندوستان میں انگریزی حکومت کے ساتھ ساتھ یورپ کے سائنٹیفک ایجادات بھی آئیں جن میں سے ایک ریل، تار اور الکٹریسٹی وغیرہ اچھے اچھوں کی عقل کو حیران بنادینے کے لئے کافی تھی، اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ سائنس نے زمین کو تول کر وزن معلوم کرلیا، روشنی کی شرح رفتار بتادی، مریخ میں دریاء، پہاڑ اور آبادی کا سراغ لگالیا، اب جو اسکول اور کالجوں میں ہمارے فرزندانِ تعلیمِ جدید نے کہیں یہ سن پایا کہ سائنس نے ’’خدا کو سرحد باہر کردیا‘‘ تو بے چارے سمجھے کہ جو چیز ایسے حیرت انگیز اور سمجھ میں نہ آنے والے معجزے دکھا سکتی ہے، جب اسی نے خدا اور مذہب کو باطل ٹھہرادیا تو پھر اب کیا رہا، اس مرعوبیت کا آج تک یہ عالم ہے کہ نفس یورپ یا سائنس کا نام لے لینا کسی بات کے منوانے کے لئے مؤثر استدلال ثابت ہوتا ہے۔
غلط فہمی کے اسباب:
غرض برادرانِ اسکول و کالج کو سنجیدگی کے ساتھ ’’مذہب و عقلیات‘ کے مطالعہ اور ان کے باہمی تعلق پر کبھی غور و فکر کی فرصت تو میسر نہ ہوئی اور نہ یہ سوچا کہ دونوں ایک میدان میں اُتر سکتے ہیں یا نہیں؟ لیکن عقل و سائنس کی فتح کے نقّارچی بن گئے، اگرچہ مصر اور ہندوستان وغیرہ میں یہ وباء زیادہ تر اسی طرح پھیلی، تاہم اس کی ذمہ دار ہمارے نئے تعلیم یافتہ احباب کی تنہاء مرعوبیت اور و نادانی نہیں ہے، اس کے اور اسباب بھی ہیں جنہوں نے اس خیال کو عالمگیر بنادیا۔
(۱) اولاً بعض ذمہ دار اورسائنس کے اکابرِ رجال، مثلاً لا پلاس، ٹنڈل، ہکسلے وغیرہ کی زبان و قلم سے ایسے الفاظ نکلے کہ عوام کا تو کیا ذکر خواص تک اس دھوکہ اور غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ مذہب و سوائنس کی دشمن کا خیال کوئی بازاری گپ نہیں ہے، لاپلاس نے جب اپنی کتاب “Mecanique cdeste” نپولین کو پیش کی تو اس نے کہا ’’لوگ کہتے ہیں کہ تم نے یہ کتاب نظامِ عالم پر لکھی ہے اور پھر بھی اس کے خالق کا نام نہیں لیا ہے؟‘‘ اس پر لاپلاسؔ نے خشونت کے ساتھ جواب دیا کہ ’’جنابِ والا! مجھ کو اس قسم کے کسی فرض کی کوئی ضرورت نہیں تھی‘‘۔ (فطرت ولا اوریت، از:وارڈ، ۴،۱)
ہکسلےؔ نے یہ کہہ دیا کہ ’’مادّہ اور قوانینِ مادّہ نے عقیدہ خلق (جینیسس) اور روح کے وجود کو باطل کردیا ہے‘‘، اس طرح کی باتوں نے سائنس کی حقیقت سے ناواقفوں کے دل میں اور بھی مذہب کی نسبت وسوسے پیدا کردئے اور ان کی مرعوبیت کو گویا ایک سن ہاتھ آگئی۔
(۲) لیکن حقیقت میں غلط فہمی کا سب سے بڑا منشاء اہل سائنس اور علماءِ مذہب کی عداوت کا مغالطہ ہے، جس کا بہت کچھ ذمہ دار یورپ کا محکمۂ احتساب (انکوینریشن) ہے، جس کی قربان گاہ پر قرونِ وسطیٰ میں پاپاؤں کے ہاتھ بیسیوں محققینِ سائنس انکشافاتِ علمی کے گناہ میں نذر چڑھ گئے، پادری سمجھتے تھے کہ زمین کا گول کہنا بھی مذہب کی تردید ہے، کوپرنیکسؔ نے حرکتِ ارض و مرکزیتِ شمس کے اثبات یا نظامِ فیساغورسؔ کی تائید میں کتاب لکھی تو اس کا پڑھنا کفر قرار پایا، گلیلیوؔ نے دور بین کی ایجاد سے کوپرنیکسؔ کے اکتشافات کی تائید کی، تو اس کو قید کی سزاء ملی اور قید ہی میں مرگیا، برونوؔ اس جرم میں جلادیا گیا کہ وہ ’’تعددِ عوالم‘‘ کا قائل تھا۔
غرض اس محکمہ نے سینکڑوں آدمیوں کو مذہب کے نام سے ستایا اور برباد کیا، اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا کہ لوگ علم و مذہب کو حریف سمجھنے لگے، اس مغالطہ نے اتنا تسلط حاصل کیا کہ ڈریپرؔ نے ایک کتاب ہی ’’معرکۂ مذہب و سائنس‘‘ کے نام سے لکھ ڈالی، حالانکہ اس کا ماحصل تمام تر وہی اہلِ سائنس اور علماءِ مذہب کا معرکہ ہے۔
(۳) تیسرا بڑا سبب خود مذہب کے نادان دوست ہمارے متکلمین ہیں، انہوں نے اس پر تو غور نہ کیا کہ مذہب و عقلیات میں اصولاً کوئی تصادم ہے یا نہیں؟ اور ان دونوں کی تطبیق و مصالحت کی الجھن میں پڑگئے، یا پھر حکمت و فلسفہ کی زبان سے جو بات بھی نکلی اس کی تردید اپنا فرضِ مذہبی قرار دے لیا۔
مسلمانوں میں جس شئ نے عقل و مذہب کی باہمی منافرت کے خیال کو سب سے زیادہ پھیلایا اور راسخ کیا وہ یہی علمِ کلام کی زیاں کار ایجاد ہے، جس نے ایک طرف مذہب کو شدید صدمہ پہنچایا اور دوسری طرف ذہنی قوتوں کو باد پیمائی اور سطحِ آب پر نقش آرائیوں میں رائیگاں کیا۔
غرض علم و مذہب کے باہمی عناد و تصادم کا افسانہ جس قدر دراز اور عالمگیر ہے اس سے بدرجہا زیادہ بے بنیاد اور غلط ہے، اس صحبت میں اسی نکتہ کو آپ حضرات کے سامنے واضح کرنا مقصود ہے، نہ کہ دونوں میں تطبیق، جیسا کہ بعض احباب کو مقرر کی مولویت سے بدگمانی ہوئی ہے اور جیسا کہ بالعموم عقل و مذہب کے یکجائی استعمال سے لوگ سمجھ بیٹھتے ہیں، خصوصاً جب کسی مذہبی آدمی کی زبان پر یہ الفاظ آجائیں، آج صبح ہی ایک تعلیم یافتہ دوست فرمانے لگے ’’ مذہب تو دیوالیہ ہوچکا ہے، اب یہ دیکھنا ہے کہ تم اس کی حمایت کیونکر کرتے ہو؟‘‘
مذہب و سائنس میں تصادم ناممکن ہے!
مذہب و سائنس کی بے تعلقی کو پوری طرح سمجھنے کے لئے پہلے ان کے باہمی فرق اور بعدِ حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے، ریل کی دو گاڑیاں ٹکراسکتی ہیں اور ٹکراتی ہیں، لیکن ریل گاڑی اور جہاز میں تصادم نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ ریل سمندر میں چل ہی نہیں سکتی اور نہ جہاز خشکی پر، بعینہٖ یہی حال سائنس اور مذہب کا ہے، سائنس کا مذہب کی حد میں داخل ہونا اس سے زیادہ ہے جتنا ریل کا پانی یا جہاز کا خشکی پر چلنا، مذہب جہاں سے شروع ہوتا ہے، سائنس کی رسائی وہاں ختم ہوجاتی ہے، سائنس کا جو منتہائے پرواز ہے مذہب کا وہ نقطۂ آغاز ہے، سائنس کی بحث و تحقیق کا تعلق تمام تر فطرت (نیچر) کے واقعات، مشاہدات اور تجربات سے ہے، مذہب کی بناء یکسر فوق الفطرت اور تجربہ و مشاہدہ کی دسترس سے ماوراء چیزوں پر ہے، مثلاً خدا، روح، حشر و نشر وغیرہ۔
ایک عام آدمی اور سائنٹسٹ کے تجربہ اور مشاہدہ میں اتنا فرق ہوتا ہے کہ مؤخر الذکر اپنے مشاہدات اور تجربات کو تفریش اور مختلف قسم کے اختبارات (ایکپریمنٹس) سے وسیع کرکے استقرائی (انڈکیٹیو) کلیات بناتا ہے اور ان کی تشریح و توجیہ (اکسپلے نیشن) کے لئے اصول وضع کرتا ہے۔
ایک راہگیر بھی سیب کو درخت سے زمین پر گرتے دیکھتا ہے، لیکن نیوٹنؔ کا ذہن اس واقعہ سے ایک وسیع اصول کی طرف منتقل ہوجاتا ہے، وہ اپنے تجربہ کو پھیلاتا ہے، طرح طرح کے اختبارات سے اپنے انتقالِ ذہنی کو مصدق و مستحکم بناتا ہے، مختلف واقعات کو ایک سلسلہ میں جوڑتا ہے اور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سمندر کے مدّ و جزر، سیّارات کی گردش، نظامِ شمسی کے قیام جیسے عظیم الشان اور مختلف واقعات میں بھی وہی علۃ و قوۃ کار فرما ہے جو سیب کے زمین پر گرنے میں، اس قوت کا نام وہ کشش رکھتا ہے جس سے عالمِ جسمانیات کا ایک ذرّہ بندھا ہوا ہے، آگے چل کر یہی قانونِ کشش دنیائے سائنس کا عظیم ترین اکتشاف قرار پاتا ہے۔
لیکن خود یہ قانونِ کشش کیا ہے؟ کیسے وجود میں آیا ہے؟ ازلی ہے یا کسی کا مخلوق؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب میں علماءِ سائنس کی زبانیں گنگ ہیں، خود نیوٹنؔ کو اپنی اسی کتاب (پرنسیپیا) کے خاتمہ میں جس میں سائنس کے اس مایہ ناز اکتشاف پر بحث ہے، یہ کہنا پڑا کہ ’’عالمِ فطرت کی یہ نیرنگیاں واجب الوجود کے ارادہ کے علاوہ کسی اور شئے سے ظاہر نہیں ہوسکتیں، وہ واجب الوجود جو ہمیشہ اور ہر جگہ موجود ہے، یعنی خدائے برتر، نا محدود، قادرِ مطلق، سمیع و بصیر اور کمالِ بحث ہستی‘‘۔
مشہور حکیم (سائنٹسٹ) پروفیسر ٹنڈل نے سائنس کی اس حقیقت اور محدود رسائی کو ایک عام فہم تمثیل سے یوں سمجھایا ہے کہ ’’اگر تم گھڑی دیکھو تو اس میں گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ کی سوئیاں پھرتی نظر آتی ہیں، یہ سوئیاں کیوں پھرتی ہیں؟ اور ان کی حرکات کی یہ خاص باہمی نسبت جو ہم کو نظر آتی ہے، کیونکہ قائم ہے؟ ان سوالات کا جواب بے گھڑی کو کھولے، اس کے مختلف پُرزوں کو اچھی طرح دیکھے اور ان کا ایک دوسرے تعلق معلوم کئے بغیر نہیں دیا جاسکتا، جب یہ سب کچھ ہولیتا ہے تو ہم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ سوئیوں کی یہ خاص حرکت گھڑی کی اس اندرونی ساخت اور مشین کا نتیجہ ہے جو کوک کی قوت سے چل رہی ہے؟ سوئیوں کی یہ حرکتِ صنعتِ انسانی کا ایک واقعہ یا حادثہ (فنامنن) کہا جاسکتا ہے، لیکن بعینہٖ یہی حال واقعات و حوادثِ فطرت کا ہے، ان کے اندر بھی ایک مخفی مشین کار فرمان ہے اور ایک خزانۂ قوت ہے جو اس مشین کو چلا رہا ہے، حکمتِ طبعی (فزیکل سائنس) کا انتہائی کام اسی مشین اور ذخیرۂ قوت پر سے پردہ ہٹاکر یہ بتانا ہے کہ یہ واقعات و حوادث انہی دونوں کے فعل و انفعال کا لازمی نتیجہ ہیں‘‘۔
علتِ اولیٰ کا پتہ لگانا سائنس کے دائرۂ بحث سے خارج ہے!
لیکن کارخانۂ عالم کی یہ اندرونی مشین خود کیا ہے اور کیسے بنی؟ اس گھڑی کو کس نے کوکا؟ اس کی چلانے والی قوت (انرجی) کہاں سے آئی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب سائنس کے بس سے باہر ہے، علمی زبان میں یوں کہو کہ سائنس صرف ثانوی اور قریبی علل و اسباب پر سے پردہ اٹھاکر واقعاتِ عالم کی ایک گونہ توجیہ و تشریح کرسکتی ہے، عللِ اولیٰ کا پتہ لگانا سائنس کے دائرۂ بحث سے قطعاً خارج ہے، حکمیات (سائنس) کے بڑے امام ہکسلے نے اس عجز کا اعتراف ’’سائنس کی پرائمر‘‘ میں جو بچوں کے پڑھنے کے لئے ہے اس طرح کیا ہے کہ ’’کسی شئے کی بھی کامل توجیہ و تعلیل نہیں ہوسکتی کیونکہ انسان کا اعلیٰ سے اعلیٰ علم بھی سلسلۂ توجیہ میں آغاز اشیاء کی جانب چند قدم سے آگے نہیں بڑھ سکتا‘‘، اب تم ہی سوچو کہ خدایا علت اولیٰ کے ابطال و اثبات کا بوجھ سائنس پر ڈالنا کیا سائنس کی حقیقت سے جہل اور بما لایرضی بہ القائل نہیں ہے؟
کیا بوالعجبی ہے کہ جس ذمہ داری سے سائنس کی کتاب ’’ابجد‘‘ اس صراحت کے ساتھ اباء و انکار کرتی ہے اسی کا ہم اپنے جہل سے اس کو مدعی بتاتے ہیں! عقل و دانس کے مدعی انسان کی بے عقلی اور گمراہی کا سب سے زیادہ حسرت ناک منظر وہ ہوتا ہے کہ بعض خارجی اتفاقات و حالات کی بناء پر وہ بہت سی ایسی چیزوں کو مسلم سمجھ بیٹھتا ہے جو واقفیت کے لحاظ سے اسی قدر بے سر و پا ہوتی ہیں جس قدر کہ مشہور و مقبولِ عام ہوتی ہیں۔
سائنس کے ہزاروں طلباء اس کے مختلف شعبوں میں تحصیل کرتے ہیں اور ایک ایک شعبہ پر بیسیوں کتابیں نظر سے گذرتی ہیں جن میں ایک باب بھی ایسا نہیں ہوتا جس میں خدا، روح، حشر و نشر وغیرہ کے ابطال و اثبات سے ایک سائینٹفک واقعہ و حقیقت کی حیثیت سے بحث ہو، پھر بھی یہ غوغا ہے کہ ’’بے اعتقادی نے اعتقاد کی جگہ لے لی ہے، عقل نے صحیفۂ آسمانی کی، سیاست نے مذہب کی، زمین نے آسمان کی، عمل کی عبادت کی، مادّی احتیاج نے دوزح کی اور انسان نے دیندار کی‘‘۔ (مقدمہ فلسفہ، از:پاکن:۳۱۷)
بے شک ایک عالم ہیئت اجرام سماوی ان کی باہمی کشش اور قوانینِ حرکت سے بحث کرتا ہے اور کرسکتا ہے، لیکن کیا وہ اس کشش و حرکت کی ماہیت اور انتہائی علت بھی بتاتا ہے یا بتاسکتا ہے؟ ریاضیات کا ماہر اور عدد اور مکان (اسپیس) کے علائق کا پتہ لگاسکتا ہے، لیکن کیا وہ مکان کی اصل حقیقت کا بھی کوئی نشان دے سکتا ہے؟ اتنا بھی تو نہیں معلوم کہ یہ کوئی ذہنی شئے ہے یا خارجی؟ علم الحیات کے اکتشافات سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ جاندار اجسام کاربن، آکسیجن، ہائیڈروجن اور نائٹروجن سے مرکب ہوتے ہیں، لیکن کیا کوئی حیاتیات کا محقق اس کا سراغ لگا سکتا ہے کہ ان مختلف مواد کی کیمیاوی ترکیب و تعامل سے زندگی اور اس کے افعال احساس و شعور وغیرہ کیونکر اور کیسے پیدا ہوجاتے ہیں؟ عالم کیمیاء و طبعیات، سالمات (ایٹمس)، برق، برق پاروں (الکٹرنس) اور ایتھر کے وجود کا اعویٰ کرسکتا ہے، لیکن کیا وہ بجلی اور ایتھر کی حقیقت کے علم کا بھی دعویدار بن سکتا ہے؟ الحاصل علم و حکمت کی جس صنف کو بھی دیکھو یہ بیک نظر معلوم ہوجاتا ہے کہ ’’توجیہ و تعلیل کا سلسلۂ آغاز اشیاء کی طرف چند قدم سے آگے نہیں بڑھ سکتا‘‘، انسانی لاعلمی اور جہل کی تاریکی کے مقابل میں علم کی روشنی کا اتنا حصہ بھی نہیں جتنا گھنگھور گھٹا کے عالمِ ظلمات میں بجلی کی ایک آنی چمک کا ہوتا ہے۔
ایمان بالغیب کی مشعل صرف مذہب کے ہاتھ میں ہے:
مذہب اسی ظلمات میں اعتقاد و ایمان بالغیب کی مشعل سے رہنمائی کرنا چاہتا ہے، کیونکہ عقل و حکمت (ریزن و سائنس) کی چمک تاریکی کے ان بادلوں کو چھانٹ ہی نہیں سکتی، اس کا چراغِ ہدایت اس بحرِ ظلمات میں داخل ہوتے ہی گل ہوجاتا ہے۔
فوق الفطرت اَسرار کے دریافت کی انسانی خلش:
مگر انسان کی فطرت میں کُرید ہے، اس کو بال کی کھال نکالے بغیر کل نہیں پڑتی، اس لئے وہ صرف حوادث و ظاہر (اپیرنسز) کے جانے پر قناعت نہیں کرسکتا تھا، فکر ہوئی کہ عالم بحیثیت مجموعی کیا ہے؟ اس کی ابتداء کیسے ہوئی؟ انتہاء کیا ہوگی؟ ذہن اور موجودات کی خارجی کی اصل حقیقت کیا ہے؟ ہم کیا ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں، کہاں جانا ہے؟ غرض کائناتِ فطرت (نیچر) سے نکل کر فوق الفطرت اَسرار پر سے پردہ اٹھانے کی خلش پیدا ہوئی، جو عقلِ انسانی کے لئے شجرِ ممنوعہ تھا۔
یہاں پہنچ کر آدمی فلسفہ یا مابعد الطبعیات میں آجاتا ہے:
ان سوالات کے پیدا ہوتے ہی آدمی سائنس کی چار دیواری سے نکل کر فلسفہ یا صحیح معنیٰ میں مابعد الطبعیات (میٹافزکس) کی لا محدود فضاء میں داخل ہوجاتا ہے، یہاں پہنچ کر علوم طبیعیہ (فزیکل سائنس) کے یقینیات و قطعیات کا سر رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے، یہ ظن و قیاس کا عالم ہے جہاں کسی بات کی قطعت و یقینیت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔   ؎
ہر کس ز سرِ قیاس چیزے گفتند            
معلوم نہ گشت و قصّہ کوتاہ نہ شد
جنگ و صلح کا امکان صرف مذہب و فلسفہ میں ہے!
مذہب انہی الٰہیاتی (میٹافزیکل) مسائل سے ٹکراتا ہے اور جنگ و صلح کا جو کچھ امکان ہے وہ ’’مذہب و فلسفہ‘‘ میں ہے، نہ کہ ’’مذہب و سائنس‘‘ میں۔
مذہب و فلسفہ کا فرق:
اس لئے اصل بحث ’’فلسفہ و مذہب‘‘ کے باہمی تعلقات کی توضیح و تصحیح ہے، جس کے سمجھنے کے لئے تین باتوں کو پیش نطر رکھنا چاہئے۔
(۱)       فلسفہ و مذہب کی منزلِ مقصود بیشک ایک کہی جاسکتا ہے، لیکن دونوں کی راہیں اس قدر مختلف اور الگ ہیں کہ اگر غلط فہمیوں اور غلط مبحث کو صاف کردیا جائے تو تصادم کا کوئی احتمال و اندیشہ ہی باقی نہیں رہ جاتا، مذہب کی بنیاد تمام تر ایمان و اعتقاد پر ہے، اور فلسفہ کی تعمیر قیاس و استدلال سے ہوئی ہے، مذہب کے اندر جہاں عقل آرائیوں کو راہ دی گئی ہے وہ اپنی قوت و حقیقت گُم کرکے فلسفہ بن جاتا ہے۔ (تفصیل آگے آئے گی)
(۲)       بحث کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر تصادم ہو بھی، تاہم یہ کہنا یا سمجھنا سخت جہل ہوگا کہ فلسفیانہ قیاسات و دلائل مذہب کو آخری اور قطعی طور پر باطل یا ثابت کرسکتے ہیں، فلسفہ و الٰہیات خود اتنے متناقض آراء و خیالات کے مجموعہ کا نام ہے کہ نہ تو وہ معیارِ حق بن سکتا ہے، نہ اس کی بناء پر عقل و مدہب میں سے کسی کی فتح و ہزیمت کا اعلان کیا جاسکتا ہے، اس کی غرض انسان کی صرف اسی فطری کُرید اور موشگانفیوں کی تسکین ہے جو اس کی عقل کو باوجود اعترافِ نارسائی ما بعد الطبعیات کی ارض مموعنہ میں قدم رکھنے پر مضطر و بے اختیار کردیتی ہے۔
(۳)      سب سے آخری بحث یہ ہے کہ فلسفہ کی ڈھائی ہزار سال کی تاریخ ہمارے سامے موجود ہے، دیکھنا یہ ہے کہ واقعیت کے لحاظ سے اس طویل مدت میں فلسفہ کس حد تک مذہب کا حریف و عنید رہا ہے؟ اس کا صحیح جواب بیکنؔ نے دیا ہے، جس کی تصدیق و شبہات میں قدیم و جدید فلسفہ کے مجلدات ہم آہنگ ہیں کہ ’’فلسفہ کا قلیل و سطحی علم الحاد کی طرف مائل کردیتا ہے، لیکن اس کا گہرا علم مذہب سے قریب کردیتا ہے‘‘۔
فلسفہ کے چار مذاہب:
تاریخ فلسفہ کا دفتر یوں بے پایاں ہے، لیکن اس کا نچوڑ چار مذاہب (اسکول) ہیں۔
(۱) ثنویت یا دوئی۔ (۲) تصوّریت یا روحیت۔ (۳) مادّیت۔ (۴) ارتیابیت۔
اِن میں سے دونوں اوّل الذکر تو براہِ راست یا بالواسطہ مذہب کے مؤید و حامی ہیں، تیسرا معاند ہے اور چوتھا نہ دوست نہ دشمن۔
ثنویت کا ماحصل یہ ہے کہ کائنات میں دو بالکل مختلف و متضاد چیزیں موجود ہیں، جس و روح، ایک قطعاً بے بس و حرکت مادہ کا ڈھیر ہے، دوسری مجرد اور عقل و شعور کا مصد ہے، عہدِ قدیم کے سب سے بڑے فلسفی و حکیم ارسطوؔ کا مسلک یہی تھا، دورِ جدید کے آغاز تک دنیا کے فلسفہ کا بیشتر حصہ اسی کا پیرو رہا ہے، فلسفۂ جدیدہ کا ابوالآباء ڈیکارٹؔ بھی ارسطو ہی کا ہم مسلک ہے، تمام مذاہب کی ظاہری تعلیمات کا بھی یہی خلاصہ ہے؛ بلکہ سچ پوچھو تو روح ہی کا عقیدہ مذہب کی جڑ ہے، باقی جزاء و سزاء حشر و نشر وغیرہ اسی کی تعریفات ہیں۔
دوئی کے ماننے والوں کے خلاف ایک طرف تصوریہ (آئیڈیلیسٹس) کا یہ دعویٰ ہے کہ اصل الاصول ایک ہی شئے ہے اور وہ روح، عقل یا ذہن ہے، باقی تمام عالم جسمانیات، اسی کا تصور، پرتو یا اور کسی نہ کسی طرح سے اسی سے پیدا و مستنبط ہے، مادیات کا مستقل وجود محض ایک قسم کا فریب (الیوژن) ہے، اس مسلک کا پرانا رہبر افلاطونؔ مانا جاتا ہے، جس کی جگہ خالص فلسفہ کی بزم میں ارسطوؔ سے بھی بلند تر ہے اور عہدِ حاضر کے تو کہنا چاہئے کہ تمام اساطین فلسفہ اسی ایک علم کے نیچے جمع ہوگئے ہیں، اسپنوز، لبنز، برکلے، مختے، شیلنگ، ہیگل، برگن سب کے سُر اسی ایک تان پر آکے ٹوٹتے ہیں، مذہب میں صوفیہ اور اربابِ باطن سے ان قائلین تصوریت کے ڈانڈے اس قدر مل جاتے ہیں کہ صرف حال اور قال کا پردہ رہ جاتا ہے۔
دوسری طرف طبل مادّیت کی یہ صدا ہے کہ بے شک اصل الاصول ایک ہی شئے ہے، لیکن یہ روح نہیں ہے؛ بلکہ مادّہ ہے، عقل و شعور وغیرہ جن کو تم افعالِ روح خیال کرتے ہو یہ ذرّات مادی ہی کے اجتماع، ترکیب اور تعامل کی نتائج ہیں، یہ مادّہ اور اس کی قوت یا انرجی دونوں ازلی اور غیر مخلوق ہیں، اور اس لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں کہ ایک کا دوسرے سے انفکاک یا جدا ہونا ناممکن ہے۔
مادّہ یا قوت ہی کے بندے ہوئے مقررہ طریق عمل اور اصولِ عمل کا نام فطرت (نیچر) اور قوانینِ فطرت (لاز آف نیچر) ہے، ساری کائناتِ ارضی و سماوی اسی فطرت اور مادہ سے پیدا ہے، کسی خارج مستقل الوجود، صاحب الامر، خالق اور خدا کی احتیاج نہیں ہے، ’’فطرت خود بخود خداؤں کی مداخلت کے بغیر سب کچھ کرلیتی ہے‘‘، (لیوکریٹس کا مقولہ) ’’مادہ خالی ہیولیٰ یا محض منفعل ذات نہیں ہے، جیسا کہ فلاسفہ اس کی تصویر کھینچتے ہیں بلکہ وہ مادرِ کائنات ہے جو خود اپنے ہی رحم سے تمام نتائج بر آمد کرتی ہے‘‘۔ (برنو کا مقولہ)
پس فلسفہ کے مذاہبِ اربعہ میں یہی ایک مذہب ہے جو الحاد اور بے دینی کے نتائج پیدا کرسکتا ہے، یہ اسکول اگرچہ ’’اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود فلسفہ‘‘ اور آج سے تقریباً ڈھائی ہزار برس پہلے دیمقراطیسؔ کے ہاتھ مستقل نظام (سسٹم) کی صورت اختیار کرچکا تھا، لیکن قدیم زمانہ میں، اس کی تعلیمات کو کچھ زیادہ رواج اور قبولیت نہ حاصل ہوسکی، دیمقراطیسؔ کے مشاہیر اتباع میں اپیکورسؔ، لیوکریٹسؔ وغیرہ کے دو چار ناموں سے زیادہ نہیں ملتے۔
قرونِ وسطیٰ مدرسیت کے نقار خانہ کی صدا اس قدر فلسفہ کی فضاء میں گونجی ہوئی تھی کہ کوئی اور آواز سنائی نہیں پرتی تھی اور ’’مادیت‘‘ کی ہستی تو بس طاقِ نسیاں کے نقش و نگار سے زیادہ نہیں رہ گئی تھی، سولہویں صدی کے آخر میں برونوؔ نے اِن فراموش نقش و نگار کو یاد کیا تو اس جرم میں مجلسِ احتساب کی آتش غیظ و غضب نے اس کو آگ میں جھکوادیا۔
اس عاشق علم کے ستی ہوجانے کے بعد سترہویں صدی میں جہاں سے اور چیزوں کے ساتھ فلسفہ کا ’’عصر جدید‘‘ شروع ہوتا ہے گسنڈیؔ نامی ایک شخص نے دیمقراطیسؔ کو پھر زندہ کیا اور سچ یہ ہے کہ دنیائے سائنس میں اب وہ زندۂ جاوید بن گیا ہے اور اس پر نظریۂ سالمات مسلّمات حکمت میں داخل ہوگیا ہے۔
لیکن اس نظریۂ مادت کو الحاد و انکار مذہب کا سرچشمہ بنانے میں سب سے زیادہ حصہ جس کا چیز ہے وہ پچھلی دو صدیوں میں سائنس کے عظیم الشان انکشافات و تحقیقات کے نتائج ہیں، ان میں سے چار ہماری موجودہ بحث کے لئے زیادہ اہم ہیں: (۱) استمرار مادہ و قوّت، (۲) نظریۂ اصل الانواع یا ارتقاء، (۳) کیمیاوی موادِ حیات کا علم اور (۴) افعالِ ذہنی و جسمی کا تعلق۔
یہاں ان مسائلِ سائنس کی تائید یا تضعیف مقصود نہیں، نہ ان کی واقعیت و قطعیت میں شک اندازی ہے؛ بلکہ محض ان مغالطہ آمیز نتائج پر سے پردہ اٹھا دینا ہے، جن پر عوام کیا خواص تک کی نظر نہیں پڑتی اور جو محض غلط فہمی اور خلط مبحث کی بدولت مذہب کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔
(۱)       سب سے پہلے آخر الذکر کو لے لو، یعنی افعالِ ذہن و جسم کا تعلق، ثنویہ کی طرح اہل مذہب کا بھی یہ اعتقاد ہے کہ روح جسم سے ایک بالکل مختلف بلکہ متضاد حقیقت و ہستی ہے اور جسم اس کے لئے محض ایک آلۂ عمل ہے، افعالِ ذہنی اسی روح کے افعال ہیں، اس بات میں سائنس کی تحقیقات یا علم ’’افعال الاعضاء‘‘ (فزیالوجی) کے انکشافات کا ما حصل یہ ہے کہ ہر ذہنی یا روحی فعل کے مقابل میں کئوی نہ کوئی جسمی تغیر بھی پایا جاتا ہے، اگر افعال ذہن میں کچھ خلل واقع ہوتا ہے تو ساتھ ہی دماغ یا اعصاب میں بھی کوئی نہ کوئی فتور ملتا ہے، یہاں تک کہ مختلف افعالِ ذہن، شعور، حافظہ اور ادراک وغیرہ کے لئے دماغ میں الگ الگ خانے یا حصّے ہیں، اور ایک ہوشیار عالم عضویات ان حصوں میں سے جس کو چاہے علاحدہ کرکے ذہن کے اس فعل کو باطل کرسکتا ہے، مثلاً اگر حافظہ کا حصہ دماغی کاسۂ سر سے کسی طرح نکال لیا جائے، تو پھر اس آدمی کو کوئی بات یاد نہ رہے گی، کتوں وغیرہ پر اس قسم کی تجربات کئے بھی گئے ہیں، غرض تجربہ و استقراء سے یہ اچھی طرح ثابت ہوگیا ہے کہ افعال ذہن وتغیرات جسمیہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
اس نتیجۂ استقرائی کے تسلیم میں عذر نہیں، لیکن اس سے آگے بڑھ کر مادیت کا یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ افعال ذہن ان تغیراتِ جسمیہ کے ہی پیدا کئے ہوئے یا معلول ہیں، نہ استقراء پر مبنی ہے اور نہ یہ فزیالوجی کی کوئی سائنٹفک تحقیقات ہیں، ماہر عضویات اتنا اور صرف اتنا جانتا ہے کہ جب شعور و ادراک کا فعل واقع ہوتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ کاسۂ سر کے اندر جو بھورے رنگ کا مادّہ بند ہے، اس میں بھی ایک خاص تغیر واقع ہوتا ہے، اب اس کی تعلیل کے لئے جس طرح یہ صورت ممکن ہے کہ شعور و ادراک اس بھورے مادہ کا آفریدہ و معلول ہو، اس سے کسی طرح کم درجہ کا امکان کیا یہ نہیں ہے کہ شعور و ادراک کسی اور غیر مادی ہستی کا فعل ہو جو اعضائے دماغ و نظامِ عصبی کو بطور ایک آلہ کے استعمال کرتی ہو؟
یہ بحث مابعد الطبعیات کی دنیا کے ظنیات و قیاسیات کی ہے سائنس نہ اس کو ہاتھ لگاسکتی ہے، نہ کسی سائنٹفک واقعہ کی طرح تجربہ و مشاہدہ سے اس کا کوئی قطعی و یقینی فیصلہ کرسکتی ہے، اس بناء پر اب محققین و کبارِ علماء سائنس کا صرف اتنا ہی دعویٰ ہے کہ افعال ذہن و تغیراتِ جسم ساتھ ساتھ اور ایک دوسرے کے متوازی واقع ہوتے ہیں اور بس باقی ان کے باہمی تعلق کا (کہ کون علت ہے اور کون معلل) نہ علم ہے اور نہ اس کے جاننے کا کوئی ذریعہ ہے، پروفیسر ٹنڈل کو جو اپنے خطبۂ بلفاسٹ کو بدولت ملحد و مادہ پرست سب کچھ کہا جاتا ہے اور جس کا شمار رجالِ سائنس میں ہے اس کا اعتراف سنو:
’’اگر ہمارے ذہن و حواس کی وسعت، قوت اور روشنی اس درجہ بڑھ جاتی اور تیزہوتی کہ ہم دماغ کے خود مکسرات (مالی کیولز یعنی جسم کے غیر مرئی ذرّات) کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے اور محسوس کرلیتے، ان کے تمام حرکات مختلف اجتماعات اور برقی اعمال کو اگر ایسا ہوتا کہ ایک ایک کرکے جان لیتے اور ان کے مقابل کی کیفیات فکر و ادراک سے پوری طرح آگاہ ہوتے، جب بھی اس معمہ کے حل کرنے سے ہم اتنے ہی دو پڑے رہتے، جتنا کہ ہمیشہ رہے ہیں کہ ’’یہ جسمی تغیرات واقعات شعور سے کیونکر وابستہ ہیں یا ان میں کیا تعلق ہے؟‘‘ ان دو قسم کے واقعات کے درمیان جو خندق حائل ہے وہ اب بھی عقل کے لئے ناقابلِ عبوری ہی رہتی، فرض کرو کہ شعورِ محبت کا تعلق داہنی جانب کے مکسراتِ دماغ کی ایک پیچ دار حرکت سے ہے اور شعورِ نفرت بائیں جانب کی اس قسم کی ایک پیچیدہ حرکت سے وابستہ ہے، لہٰذا اس سے ہم کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ جب ہمارے اندر محبت کا شعور پیدا ہوتا ہے تو حرکت کا رُخ ایک طرف ہوتا ہے اور شعورِ نفرت کے وقت دوسری طرف لیکن ’’کیوں؟‘‘ اس کا جواب ہمیشہ اسی طرح ناممکن رہے گا جیسا کہ پہلے رہا ہے‘‘۔
’’میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مادّی یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ اس کے ان مکسرات کی حرکات و اجتماعات (گروپس) سے ہر شئے کی توجیہ و تشریح ہوجاتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان سے کسی شئے کی بھی توجیہ نہیں ہوتی، زیادہ سے زیادہ وہ جو کچھ دعویٰ کرسکتا ہے، وہ صرف ان دو قسم کے واقعات کی باہمی وابستگی کا ہے جن کے حقیقی رشتۂ اتحاد و ابستگی سے وہ مطلق جاہل ہے، جسم و روح کے تعلق کا مسئلہ آج بھی اپنی موجودہ صورت میں اسی طرح ناقابلِ حل ہے، جس طرح عصر حکمت و سائنس سے پہلے تھا۔ (خطبات و مقالات، از: ٹنڈل:۵۹، آر پی سیریس)
ہم نظام عصبی کے ارتقاء کا پتہ لگاسکتے ہیں اور احساس و کفر کے متوازی واقعات کو اس سے وابستہ بتاسکتے ہیں، اتنا ہم غیر مشتبہ یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، لیکن جب ہم ان کی باہمی وابستگی کی حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں تو وہ محض ہوا ناپنے کی کوشش ہوتی ہے‘‘۔ (خطبۂ بلفاسٹ:۴۰)
(۲)       روح ہی کی طرح ’’حقیقتِ حیات‘‘ کا راز بھی سربستہ ہے، کوئی نہیں بتاسکتا کہ زندگی کیا ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ کیونکر پیدا ہوئی یا ہوتی ہے؟ یہاں بھی سائنس کا قدم اپنی رسائی کی حد تک جاکر رُک جاتا ہے اور تجربہ و استقراء سے صرف اتنا دریافت ہوسکا ہے کہ حیات کی سب سے ابتدائی اور انتہاء سے انتہاء بسیط شکل کیا ہے، اس کا نام علم الحیاۃ کی اصطلاح میں پروٹو پلازم ہے، جو بقول ہکسلے کے مادّی یا ’’جسمی اساسِ حیاۃ‘‘ اور تمام معلوم اصنافِ زندگی کی بنیاد ہے، معمورہ حیات اسی پروٹو پلازم کے چھوٹے بڑے مختلف الانواع اجتماعات و مرکبات کی آبادی ہے۔
کیمسٹری نے ایک گرہ اور کھولی ہے اور یہ پتہ لگایا ہے کہ یہ بسیط اساسِ حیات کاربن، ہائیڈروجن، آکسیجن اور نائٹروجن کے بسائط عناصر سے بناء ہوتا ہے، ان کیمیاوی اجزاء یا ’’موادِ حیات‘‘ کے معلوم ہوچکنے کے بعد سے اہلِ سائنس کے حلقوں میں یہ امید بھی باندھی جانے لگی ہے کہ کیا عجب ہے کہ وہ دن بھی آکر رہے جبکہ لبوریٹری میں ان عناصر کی ترکیب سے ہم زندگی اسی طرح پیدا کرلیا کریں گے جس طرح آکسیجن اور ہائیڈروجن ملاکر پانی بنالیتے ہیں، اس دن گویا رازِ زندگی کھل جائے گا۔
بلاشبہ ایسا ہونا کچھ ناممکن نہیں ہے اور اس حد تک رازِ زندگی کھل بھی سکتا ہے کہ سائنس ہفت خواں کی یہ آخری منزل ہوگی، لیکن اس سے حقیقت حیات کا آخری عقدہ بھی کھل جائے گا کہ زندگی بالذات کیا شئے ہے؟ ان بے جان عناصر کے خالی اجتماع سے جان کہاں سے اور کیونکر آجاتی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب سے سائنس کی زبان اسی طرح عاجز ہے جس طرح یہ بتلانے سے بے بس تھی کہ ’’داہنی جانب کے مکسرات دماغ کی حرکت سے شعور محبت اور بائیں جانب کے مکسرات کی حرکت سے شعور نفرت کیونکر اور کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟‘‘
(۳)      مذہب کی عمارت کا بڑا حصہ روح اور حیاۃ کی پُر اسرار بنیاد ہی پر قائم ہے، اس لئے اگر سائنس نے ان اسرار کے افشاء کا ادعا کیا اور اہلِ مذہب اس پر کھٹکے تو کچھ زیادہ بیجا نہ تھا، لیکن سخت حیرت کی بات یہ ہے کہ تحقیقات اصل الانواع (اوریجن آف اسپیشیز) یا ارتقاء کے انکشاف سے کیوں اربابِ مذہب اتنا بھڑک اٹھے، بات وہی ہے کہ مرعوب اور دہشت زدہ آدمی کو سایہ پر بھی دیو کا گمان ہوتا ہے۔
ورنہ اگر قانون ارتقاء وک ایک ناقابلِ انکار حقیقت بھی مان لیا جائے اور یہ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ جسم کے ساتھ حیات و روح میں بھی ارتقاء ہے تو بھی ان کی ما بعد الطبعیاتی (میٹافزیکل) حقیقت کا راز اسی طرح سر بمہر رہ جاتا ہے، جیسا کہ اس انکشاف سے صدیوں پہلے تھا، نظریۂ ارتقاء اس سے زیادہ کچھ بھی دعویٰ نہیں کرسکتا نہ کرتا ہے کہ انسان کے جسم کی موجودہ ساخت اور اس کے نفس و روح کے افعال کا موجودہ درجہ ذی حیات اجسام و نفوس کے ابتدائی مدارج سے آہستہ آہستہ ترقی کرکے اس حد تک پہنچا ہے۔
لیکن یہ بعینہٖ وہی شئے ہے جس کو ہم روز اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ذرا بھی متعجب نہیں ہوتے، بچے کے روح یا ذہنی افعال ولادت کے دن سے لے کر ڈارون ہونے کے دن تک جس طرح بتدریج نشو و نماز پاتے ہیں اور تعلیم، صحت و تندرستی وغیرہ کے خارجی حالات عقل و ذہن کی ترقی و تربیت پر جو اثر رکھتے ہیں اس کو کون نہیں جانتا، پھر بچہ ’’ماءِدافق‘‘ کے چند قطرات سے انسان کامل کی صورت تک پہنچنے میں نو مہینوں کے اندر کتنے چولے تبدیل کرتا ہے، سانپ اور بندر خدا جانے کن کن مخلوقات کے عالم جنین سے گذرتا ہے جب جاکر کہیں اس قابل ہوتا ہے کہ ’’اشرف المخلوقات‘‘ کا بچہ کہلائے، فرق صرف مدت کا ہے، ’’ماءِ دافق‘‘ کے جراثیم کو انسان بننے میں نو ہی مہینے لگتے ہیں لیکن ادنیٰ درجہ کے حیوانات کو انسانی ’’احسن تقویم‘‘ تک پہنچنے میں اَن گنت صدیاں لگ گئیں، بچہ کی بے عقلی پچاس ہی سال میں بڑھ کر ’’اصل الانواع‘‘ کے مصنف و مکتشف کی عقل کے برابر ہوجاتی ہے، مگر نفس حیوانی کو روح انسانی تک کی مسافت طے کرنے میں ہزاروں برس صرف ہوگئے۔
اس لئے اگر قانون ارتقاء کے علم سے مذہب کی زمین پر زلزلہ کا کوئی صدمہ محسوس ہوا تو ڈارون اور اسپنسر  (اس نے قانونِ ارتقاء کو اس قدر وسعت دی کہ ذہنی، تمدنی، اخلاقی اور اجتماعی تمام چیزیں اس کی تحت میں آگئی ہیں) کے وجود سے پہلے ہی مذہب کی عمارت کو زمین دوز ہوجانا تھا، لیکن اگر مذہب کی تعمیر اسرار روح و جسم کی اساس پر ہے جس کی گہرائی تک سائنس کا واہمہ بھی نہیں جاسکتا ہے، تو مذہب کے دامن تک سائنس کا گستاخ ہاتھ نہ آج تک دراز ہوسکا اور نہ آئندہ ہوسکتا ہے۔   ؎ این زمیں را آسمانے دیگر ست
(۴)      روح، حیات اور اصل الانواع سے متعلق سائنس کے ان اکتشافات کو زیادہ سے زیادہ مؤیداتِ مادّیت کہا جاسکتا ہے، لیکن اصل جڑ جس کے سبب یہ سب برگ و بار ہیں، استمرار مادہ و قوت کا ادعا ہے جس کا ما حصل یہ ہے کہ مادہ اور اس کی قوت دونوں ازلی اور ابدی ہیں، ان کو نہ کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ کوئی فناء کرسکتا ہے، ان کا وجود ایک دوسرے کے ساتھ غیر منفک طور پر وابستہ ہے، عالم کی تمام نیرنگیاں، زمین و آسمان کی ساری عجائب کاریاں اور جسم و روح کے سراپا مظاہر، یکسر و کلیۃً بلا استثناء انہی دو کے خلق و امر کا تماشہ گاہ ہے۔
اولاً تو ’’استمرار مادہ‘‘ کا نظریہ محض ایک نظریہ اور ما بعد الطبیعیاتی نظریہ ہے، یہ قول ایک حال کے عالم سائنس (الگزنڈر اسمتھ) کا ہے کہ اس کا تعلق ایسے ’’مفروض واقعات سے ہے جو گویا یکسر ہمارے ترجبہ کی حد سے باہر ہیں، اس لئے یہ ایک فوق الفطرۃ نوعیت کا مسئلہ ہے جس کی اصلی جگہ مابعد الطبیعیات میں ہے‘‘، یہ کوئی ایسی سائنٹفک حقیقت نہیں ہے جس کی نفی نہ کی جاسکتی ہو، بلکہ ہمارے زمانہ کا مشہور و مسلم سائنٹسٹ سر آلیور لاج تو علی رؤوس الاشہاد کہتا ہے کہ ’’مادہ کا فناء و تکوین اچھی طرح تخیلِ سائنس کے اندر داخل ہے اور امکانِ تجربہ کی حد میں آسکتا ہے‘‘۔
لیکن ہمارے مقصد کے لئے اس باب میں اہم المباحث نفس مادّہ کی حقیقت و ماہیت کا مسئلہ ہے، مادّہ کیا ہے؟ اس کی نسبت انسان کیا جانتا ہے یا جان سکتا ہے؟ قوت سے اس کا کیا تعلق ہے؟
اختیار و تجربہ کی مدد سے حقیقت مادہ کے متعلق سائنس جن قیاسی نتائج تک پہنچ سکی ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی قسم کے بھی مرکب خواہ مفرد اجسام اگر تم تحلیل و تقسیم کرتے چلے جاؤ تو بالآخر وہ ایسے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء یا ذرات پر جاکر ٹھہر جائیں گے جن کی اب آگے تقسیم و تجزی نہیں ہوسکتی، انہی کا نام سالمات (آئٹم) ہے، ہر دو سالموں کے بیچ میں کچھ نہ کچھ فصل یا دوری ہوتی ہے جو ایک اور لطیف تر ناقابلِ وزن مادّہ سے پُر رہتی ہے، اس کا نام ایتھر ہے، یوں سمجھو کہ کائنات کی ساری فضاء ایتھر کا ایک سمندر ہے، جس میں سالمات تیرتے پھرتے ہیں، زیادہ حال کی تحقیقات یہ ہے کہ ان سالمات کی تعمیر ایک اور قسم کے ناقابلِ تصور چھوٹے چھوٹے ذرّات سے ہے جو بجلی کے ہیں، ان کو الکٹرنس (ذرّاتِ کہربائی یا برق پارہ) کہا جاتا ہے، ان قیاسات کو صحیح مان کر جو حقیقت میں صرف ساخت مادہ پر روشنی ڈالتے ہیں، ماہیت مادہ سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، اب سوال یہ ہے کہ خود سالمات یا الکٹرنس کیا ہیں؟
اس کے جواب میں سائنس والی چیستان بچھاتے ہیں، کوئی کہتا ہے کہ جسم کے یہ آخری و انتہائی اجزائے ترکیبی مراکز قوت (سنٹر لائزڈ فورس) ہیں، کسی کا ادعا ہے کہ نہیں ان کی اصل مابعد الطبیعیات نقطوں (میٹا فزیکل پوائنٹس) سے زیادہ نہیں ہے، جو سکون سے حرکت میں آکر قابلِ حس مادّہ کی صورت اختیار کرتے ہیں اور کوئی سالمہ کی گجہ فقط اقلیدسی یا ہندسی نقطہ کا قائل ہے جو مبدءِ قوت ہے۔ (خواص مادہ، از: پی جی ٹیل)
الکٹرنس کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بحر ایتھر کے گرداب، اس کے تموجات کی گرہیں یا اس کی سطح شکنیں ہیں، غرض        ؎            چوں ندیدند حقیقت رہِ افسانہ زدند
مادّیت‘ خالص فلسفیانہ مسلک ہے:
بات یہ ہے کہ جس طرح نفس مادیت ایک خالص فلسفیانہ مسلک ہے، جس پر بحث دائرۂ سائنس سے خارج ہے، اسی طرح عقلیات میں ماہیت مادّہ کی نسبت موشگافیوں کا حق بھی تنہاء مابعد الطبیعیات ہی کو حاصل ہے، اور سائنس کا وظیفہ ماہیتِ اشیاء کی تحقیق نہیں ہے، لہٰذا اس بحث کے تصفیہ کے لئے سائنس کے بجائے فلسفہ کی عدالت کی جانب رجوع کرنا چاہئے۔
فلسفۂ قدیمہ کے دور اول میں دیمقراطیس نے جب پہلے پل مادیت کی صدا بلند کی تو اس وقت تک کسی کو کہنا چاہئے کہ یہ وہم تک نہ تھا کہ خود مادہ کی حیثیت بحث طلب ہے یا اس کے اصل وجود سے انکار ممکن ہے، چند دن بعد افلاطون نے اس کی جرأت کی مگر اس کی بغاوت کا علم خود اس کے شاگرد ارسطوؔ ہی نے بلند کردیا اور آنے والی نسلوں پر وہ اپنے استیلاء و تسلط سے اس قدر چھاگیا کہ صدیوں تک دنیائے فلسفہ کا وہ خدائے غیر مسئول بن کر پجتا رہا، اس لئے اگر عہد قدیم اور قرونِ وسطیٰ میں پیروان ویمقراطیس کی زبانوں سے یہ کلمات نکل گئے تو کوئی محل استعجاب نہیں کہ ’’مادہ ساری کائنات کا رحم مادر ہے، تمام چیزیں صرف اسی کے نتائج ہیں‘‘، لیکن انیسویں صدی میں کسی ذمہ دار عالمِ فلسفہ و سائنس کا یہ کہہ گذرنا کہ ’’مادہ اور قوانینِ مادہ نے وجود روح اور عقیدۂ تکوین کو باطل کردیا‘‘ موجبِ صد حیرت ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ قدیم زمانہ میں مادیت کی بنیاد کمزور تھی، جدید تحقیقات و انکشافات نے اس کو مستحکم بلکہ اٹل بنادیا ہے، لیکن واقعہ بالکل برعکس ہے، جدید تحقیقات و انکشافات ہی نے مادّیت کا قدم ہمیشہ کے لئے اکھاڑ دیا ہے۔
مادّیت میں گھن تو آج سے دو سو برس پہلے ہی لگ چکا تھا، جب لاکؔ نے صفاتِ اوّلیہ اور ثانویہ کی تقسیم کرکے یہ ثابت کردکھایا تھا کہ رنگ، مزہ اور بو وغیرہ صفاتِ ثانویہ محض ذہن کے احساسات ہیں اور خارج میں ان کا یا ان کے مماثل کسی شئے کا کوئی وجود نہیں، برکلےؔ نے صفاتِ اوّلیہ شکل (فیگر) و امتدادا (اکسٹنشن) وغیرہ کو بھی اسی حکم میں داخل کردیا اور اس طرح چھت سے لے کر نیو تک ساری عمارت ہی ڈھادی۔
آدمی براہِ راست جو کچھ جانتا ہے وہ اپنے ہی احساسات ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ کسی احساس کا وجود احساسات کرنے والے ذہن یا نفس سے باہر نہیں موجود ہوتا، تمہارے پاؤں میں کانٹا چبھ جاتا ہے جس سے درد محسوس ہوتا ہے، کون کہہ سکتا ہے کہ درد کی یہ خاص کیفیت یا اس کے ممثال کوئی چیز تم سے باہر کانٹے وغیرہ میں کہیں پائی جاتی ہے، کُنین زبان پر رکھتے ہی جس تلخی کے احساس سے تم منہ بنالیتے ہو کیا یہ احساس یا کیفیت خود کنین میں پائی جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ انسان کی طرح کنین میں بھی حاسۂ ذوق ہے موجود ہے، غرض اسی طرح سامعہ و باصرہ، لامسہ و شامّہ وغیرہ کے تمام محسوسات، رنگ، بو، مزہ، آواز، سردی، گرمی اور شکل و امتداد سب کی سب صرف احساس کرنے والی ذات کے اندر پائے جاتے ہیں، باہر کوئی وجود نہیں ہوتا، مثال کے لئے ایک آم لو، اس میں سے رنگ و بُو، شکل و صورت، وزن و ذائقہ وغیرہ کے تمام احساسات نکال ڈالو اور پھر بتاؤ کہ تمہارے پاس کیا رہ جاتا ہے جس کے براہِ راست معلوم ہونے کا تم دعویٰ کرسکتے ہو؟ کچھ نہیں! ان احساساتِ ذہنیہ کو مادہ نہیں کہا جاسکتا، ان کے ماوراء کسی چیز کا علم نہیں ہے۔ (مزید تفصیل و رفعِ شکوک کے لئے دیکھئے ’’برکلے‘‘ مطبوعہ شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ)
؎            پَر وہی گِر پڑا کبوتر کا            
جس میں نامہ بندھا تھا دلبر کا
اس بناء پر برکلے نے کسی موجود فی الخارج، قائم بالذات شئے یا مادہ کا سرے سے انکار ہی کردیا، ہیومؔ بھی دبی زبان سے برکلے ہی کا ہم آواز ہے، کینٹؔ (۱۷۲۴ء یا ۱۸۰۴ء) نے البتہ ذرا ہٹ کر یہ کہا کہ ہاں اس میں تو شک ہی نہیں کہ ہم جو کچھ جانتے ہیں وہ اپنے ہی احساسات ہوتے ہیں، ان کے ماوراء ذات اشیاء کا علم نہ ہوتا ہے اور نہ ہوسکتا ہے، نہ ان احساسات کے مماثل کوئی چیز ذہن سے باہر موجود ہوتی ہے، لیکن ایک ایسی نامعلوم شئے(Something unknown) کوئی ہے جو ان احساسات نفسی کی علت ہے، وہ خارج از ذہن پائی جاتی ہے اور وہی مادّہ ہے۔
کینٹ کی اس انجانی کوئی چیز Something unknown کا فرض چونکہ کسی مضبوط استدلال پر مبنی نہ تھا، اس لئے فلسفہ اور مابعد الطبیعیات کی دنیا میں تو اس کو بہت زیادہ فروغ نصیب نہ ہوسکا، خود کینٹ کی مندگی اور اس کے وطن (جرمنی) ہی میں بعد کو جو ناماور فلاسفہ و متالہین (میٹا فریشنز) گذرے، یعنی فختے، شیلنگ اور ہیگل وغیرہ وہ سب کے سب آئیڈیلسٹ (تصوریہ) یا منکرین مادہ تھے۔ (’’ماہیتِ مادہ‘‘ کی تفصیل کے لئے دیکھئے ’’معارف‘‘ ڈسمبر ۱۹۱۹۱ء)
لیکن اہلِ سائنس جن کی کائنات ہی عالم جسمانیات ہے وہ اس سر رشتہ کو بالکل کیسے چھوڑ سکتے تھے، ان کو ’’انجانی کوئی چیز‘‘ کا کچّا دھاگا ہی غنیمت معلوم ہوا جس کو آخری سہارا سمجھ کر انہوں نے مضبوط پکڑ لیا اور اب کینٹ کے بعد سے تقریباً تمام حکماء کا یہی مذہب ہے کہ ذہن کے باہر کچھ نہ کچھ تو ضرور ہے، مگر ہم اس کے متعلق نام سے زیادہ کچھ نہیں جانتے، خود ہکسلے جو ایک جلیل القدر امامِ سائنس ہے اور جس کی زبان سے نکل گیا تھا کہ ’’مادہ اور قوانینِ مادہ نے روح و خلق کو باطل کردیا ہے‘‘ اس کا اعتراف سنئے:
’’آخر کار ہم اس ہیبت ناک مادہ کی نسبت سے اس سے زیادہ کیا جانتے ہیں کہ وہ ہماری کیفیات شعور کی ایک انجانی اور فرضی علت کا نام ہے؟ اسی طرح ہم اس روح کی نسبت بھی جس کے بارے میں تہدید ہے کہ مادہ نے اس کو فناء کردیا ہے اس سے زیادہ کیا جانتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے احوال و کوائف شعور کی نامعلوم و فرضی علت کا ایک نام ہے؟ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ مادہ اور روح دونوں حوادث طبعی (نیچرل فنامنا) کے خیالی محل و ہیولیٰ کے محض نام ہیں‘‘۔ (خطاب و مضامین ہکسلے:۵۵، آر پی سیریز)
اتنا ہی نہیں بلکہ حقیقت مادہ کا طلسم ٹوٹ جانے کے بعد اب سائنس کو انتساب مادیت سے عار آنے لگی ہے اور ’’آج کل سائنس اس سے زیادہ کسی بات کو نفرت و حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی کہ اس کی جانب مادیت کا انتساب ہو، اس لئے کہ یہ بھی بہر حال اسی طرح کا ایک فلسفیانہ ادعا (ڈاگما) ہے، جس طرح کہ تصوریت، مادیت مدعی ہے آغازِ کائنات سے چلنے کی، جو سائنس کے بس سے باہر ہے‘‘۔ (فطرت و لا ادریت(نیچرل ازم اینڈ آنڈیلزم):۱،۱۰)
اور مہدب کی بناء ’’آغاز و انجام کائنات‘‘ ہی کے معمہ پر ہے، جب سائنس کے ناخن سے یہ گرہ نہیں کھل سکتی تو اس کو مادیت کا حلیف اور مذہب کا حریف سمجھنے یا کہنے کی جو بساط ہے وہ ظاہر ہے۔    ؎
تھی خبر گرم کے غالبؔ کے اڑیں گے پُرزے        دیکھنے ہم بھی گئے تھے، پر تماشا نہ ہوا
غرض اٹھارویں صدی کے اواخر سے جب سے عقلِ سائنس کو اپنی پروازہ کا سدرۃ المنتہیٰ معلوم ہوگیا، اس سے آگے نارسائی پوری طرح محقق ہوگئی اور جہلِ مرکب کا پردہ آنکھوں سے پر اٹھ چکا ہے، اسی وقت سے اہلِ سائنس کا فلسفیانہ مسلک مادّیت نہیں بلکہ وہ لا ادریت ہے جو ’’مابعد الطبیعیات‘‘ کے مذاہب اربعہ کا آخری نمبر ہے، جس کی نسبت ہم کہہ آئے ہیں کہ وہ نہ مذہب کا دوست ہے اور نہ دشمن۔
لا ادریت:
لا ادریت کا خلاصہ اعترافِ لا علمی ہے، یہ اسکول بھی اگرچہ فلسفہ کے دوسرے اسکولوں کی طرح زمانۂ قدیم ہی میں پیدا ہوچکا تھا اور تشکیک یا ارتبابیت (سپٹزم) کے نام سے پکارا جاتا ہے، مگر پرانے زمانہ میں اس کا مفہوم اس قدر مطلق و وسیع تھا کہ خود شک میں بھی شک کیا جاتا تھا، عصرِ جدید میں اس کو ہیومؔ نے زندہ اور کیا اور کینت نے تو اس کی بنیاد کو اس قدر مستحکم بنادیا کہ فلسفہ کیا علماء سائنس کو سرتابی کی مجال نہ رہی، لیکن اب مفہوم کی وہ پرانی وسعت اور اطلاق نہیں باقی ہے، بلکہ واقات و حوادث (فنامنا) ظواہر اشیاء ((اپیرنسز) اور مسائل طبعیہ کو عالم شک و لاعلمی سے نکال لیا گیا ہے، البتہ دوات داعیان (نامنا) حقائق اشیاء (ریلیٹیز) اور ما بعد الطبعیاتی مسائل کے دروازوں کو انسانی عقل و علم کے لئے ہمیشہ کے واسطے مقفل سمجھ لیا گیا ہے۔
لا ادریت (اگناسٹزم) کے لقب کا موجد ہکسلے ہے، اس لئے خود اسی کی زبان سے سنو کہ روح اور خدا وغیرہ الہٰیاتی مسائل کی نسبت ایک لا ادری کی کیا پوزیشن ہے، چارلس کنگ سلےؔ کو ایک خط میں لکھتا ہے کہ:
’’میں انسان (روح) کے غیر فانی ہونے کا نہ مدعی ہوں نہ منکر، میرے پاس اس کے یقین کے لئے کوئی دلیل نہیں، لیکن ساتھ ہی دوسری طرف اس کے ابطال کا بھی میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں‘‘۔
ایک اور موقع پر ’’اصول و نتائج‘‘ (میتھڈس ایڈ رزلٹس) میں لکھتا ہے کہ:
’’وجود کی علت اولیٰ کا مسئلہ میرے حقیر قویٰ کی دست رس سے باہر ہے، جتنی لا یعنی ہرزہ سرائیوں کے پڑھنے کا موقع مجھ کو ملا ہے ان میں سب سے بدتر ان فلاسفہ کے دلائل ہوتے ہیں جو خدا کی حقیقت کے بارے میں موشگافی کرتے ہیں، مگر ان فلاسفہ کے مہملات ان سے بھی بڑھ جاتے ہیں جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی خدا نہیں‘‘۔
ایک اور جگہ کہتا ہے:
’’چاہے حوادث و واقعاتِ مادہ کو روح کی اصطلاحات میں بیان کرو اور چاہے حوادثِ روح کو مادہ کی اصطلاحات سے تعبیر کرو، یہ بجائے خود کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ہاں اتنا ہے کہ سائنس کے لئے مادیانہ اصطلاح تعبیر زیادہ موزوں اور قابلِ ترجیح ہے‘‘۔
بعض غلط فہمیوں سے بچنے کے لئے لاادریت کی حقیقت و مدعا کی ذرا اور توضیح ضروری ہے، علمائے سائنس کے اس فلسفیانہ مسلک کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ ہماری سائنٹیفک تحقیقات و عقلی استدلالات کا گذر واقعات و ظواہرِ اشیاء سے آگے نہیں، یعنی جس قسم کے استقرائی تجربات و عقلی دلائل و قیاسات سے ہم علوم طبعیہ کے مسائل کو قطعی طور پر ثابت کرسکتے ہیں اور طرح طرح کے انکشافات تک پہنچ سکتے ہیں، ان کے وسیلہ سے حقائق اشیاء اور مابعد الطبعیات کے مسائل کو ثابت یا باطل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان رموز کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے۔
فہمِ انسانی سے خارج اشیاء کا حیاتِ انسانی سے خارج ہونا ضروری نہیں!
لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا اور نہ نکالنا چاہے کہ جو شئے انسان کی عقل و فہم سے خارج ہے وہ اس کی زندگی سے بھی خارج ہے یا انسان فقط انہیں چیزوں کو مانتا اور قبول کرتا ہے، جو سائیٹیفک دلائل سے ثابت ہوچکی ہیں، اس لئے کہ عقل و دانش کے مدعی انسان کی عملی زندگی کا اکثر بلکہ کل حصہ ایسی ہی نادانیوں کا پروگرام ہے جن میں سے کسی ایک کو بھ عقل و حکمت سے ثابت نہیں کرسکتا، آدمی سمجھتا ہے کہ وہ ہر قدم عقل کی روشنی میں اٹھاتا ہے؛ حالانکہ اس کا سارا سفرِ زندگی جذبات و مرعوبات کی تاریکی میں طے ہوتا ہے۔
اس کے سارے اعمال زندگی کا محور زندگی اور عیش و آرام کی زندگی ہے، اس کا ایک فعل بھی نیک نامی، شہرت و عزت کے جذبات اور نفس کی لذت طلبیوں سے خالی نہیں ہوتا، لیکن کیا کوئی شخص دعویٰ کرسکتا ہے کہ ان جذبات کی حقیقت و صداق کو عقل نظری اور سائنس سے ثابت کیا جاسکتا ہے؟ آدمی جیسے کے لئے مرتا ہے، مگر کیا وہ اپنی زندگی کی ضرورت کسی سائنٹیفک دلیل سے ثابت کرسکتا ہے؟ صبح سے شام تک وہ ہزار چیزوں کو برا بھلا کہتا ہے، لیکن کیا ان میں سے وہ ایک کی برائی بھلائی کو بھی خالص عقلی نقطۂ نظر سے متعین کرسکتا ہے؟ علمائے اخلاق آج تک خیر و شر کا حقیقی معیار نہ بتاسکے، مگر انسان کی زندگی سے اگر یہ امتیاز نکال کیا جائے تو دفعۃً ساری مشین بے حرکت ہوکر رہ جائے، انسان کو خود مختار اور صاحب ارادہ کون ثابت کرسکتا ہے؟ بلکہ نفسیا و افعال الاعضاء سے اس کا مجبور محض اور قطعاً بے بس ہونا ثابت ہوتا ہے، مگر بتاؤ کہ تم صبح سے شام تک کتنے سیکنڈ اپنے کو بے اختیار و بے ارادہ سمجھتے ہو؟ کیا اگر انسان خود مختاری کے اس غیر سائنٹیفک اعتقاد کو ذہن سے نکال سکے تو پھر بھی عمل کے ہاتھ پاؤں میں کچھ جنبش باقی رہ جائے گی، کیا اولاد کے موت پر والدین کے غم و ماتم کو کوئی شخص خلافِ عقل کہہ کر روک سکتا ہے ؟جب تک ثواب آخرت یا صبر و تمل کے خراجِ تحسین کا کوئی اور زبردست جذبہ موجود نہ ہو۔
مذہب کی جڑ کو انسانی قلب سے نکال نہیں جاسکتا!
غرض انسان استدلالات نہیں، اعتقادات اور عقل نہیں، جذبات کا بندہ ہے اور مذہب کی بناء اعتقادات و جذبات ہی پر ہے، اس لئے جب تک امید و بیم، محبت و نفرت، یأس و بے بسی، انعام و انتقام، احترام و تعظیم، حیرت و استعجاب اور جمال پرستی وغیرہ کے جذبات انسان کے خمیر میں داخل ہیں، اس وقت تک مذہب بھی انسانی وجود کا جزو ہے، صورتیں بدل سکتی ہیں لیکن اس کی جڑ کو کوئی قوت دل سے اکھاڑ  کر نہیں پھینک سکتی، بقول پروفیسر ٹنڈلؔ کے:
’’میرا دعویٰ ہے کہ کوئی ملحدانہ استدلال انسان کے دل سے مذہب کو خارج نہیں کرسکتا، منطق ہم کو زندگی محروم نہیں کرسکتی، اور مذہب اہلِ مذہب کی زندگی ہے، مذہب انسان کے ذاتی یا وجدانی تجربہ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں مذہب کا گذر نہیں‘‘۔ (خطبات و مقالات ٹنڈل:۴۵، آر پی سیریز)
’’جذبہ مذہب کی جگہ انسان کے سویداء قلب میں ہے اور آغازِ تاریخ کےقرنوں پہلے سے تمام مذاہبِ عالم کا خمیر ہے، تم نے جو اس مذہب سے بھاگ کر عقل کی بلند و خشک روشنی میں پناہ لی ہے اور اس کی ہنستی اڑاتے ہو تو یاد رہے کہ ایسا کرنے سےتم صرف اعراض اور ظاہری صورتوں کو ہدف بناسکتے ہو، لیکن احساس مذہب کی اس غیر متزلزل اساس کو ہاتھ نہیں لگاسکتے، جن کی جگہ فطرتِ انسانی کی گہرائی میں ہے‘‘۔ (خطبات و مقالات ٹنڈل:۴۵، آر پی سیریز)
زمین اور پہاڑوں کو کھود کو طبقات الارض کے اسرار جانے جاسکتے ہیں، سمندوں کی سطح پر جہاز اور آبدوزی کشتیاں چلائی جاسکتی ہیں، لیکن کیا اس سے اُس عظمت و ہیبت کے احساس میں فرق آسکتا ہے جو ہمالیہ کی ہزار ہا فٹ بلند چوٹیوں کے نیچے کھڑے ہونے سے اور جہاز کی چھت پر کھڑے ہوکر ناپیدا کرنا سمندر پر نظر دوڑانے سے پیدا ہوتا ہے؟ کیا علمِ حیوانات و نباتات پرھ لینے سے جمالِ فطرت کی پرستش کا وہ ذوق فنا ہوجاتا ہے جو عالمِ بہار میں نظر کو ایک ایک پھول پتی سے حاصل ہوتا ہے؟ اور جو کوئل کی کوکو اور بلکل کی نغمہ سرائی سے سامعہ نوازی کرتا ہے؟ شاعر و مصور پر تو یہی پُر کیف موسم رقص طاری کردیتا ہے، ایک فنِ طب کا ماہر اپنے زمانہ کا سب سے مشہور معالج جس کے ہاتھ سے ہزاروں مریض شفاء پاچکے ہیں، وہ ایک معمولی مرض سے اپنی اکلوتی ہونہار جوان اولاد کو نہیں بچا سکتا اور اپنی آنکھوں سے اس کے دم توڑنے کا تماشا دیکھنا پرتا ہے، دوسری طرف ایک فاقہ کش کا بچہ دق میں مبتلا ہوتا ہے، دوا علاج تفریح و آرام کا کوئی سامان نہیں، مگر پھر بھی اچھا ہوجاتا ہے، کیا ان روز مرہ کے واقعات سے آدمی پر اپنی بے بسی و بے چارگی اور انسانی عقل و تدبیر کی ناکامی کا اثر نہیں پڑتا؟ ایک صاحب علم دانشمند اور نیکوکار کی ساری زندگی مایوسیوں اور ناکامیوں میں گذرتی ہے، سونے کو ہاتھ لگاتا ہے تو مٹی ہو جاتا ہے، ہر تدبیر الٹی پڑتی ہے، برخلاف اس کے اپنے پڑوس ہی میں ایک احمق جاہل و بدکار کو دیکھتا ہے کہ دولت و خوشحالی اس کی غلام ہیں اور کامیابیاں ہاتھ باندھے کھڑی رہتی ہیں، کیا اس عالمِ یأس میں اس کو ایک اور زندگی اور عالم جزاء و سزاء سے ڈھارس اور تسکین نہیں حاصل ہوتی؟
شہود کے پردہ میں غیب کا اعتراف ناگزیر ہے!
غرض ہر ادنیٰ و اعلیٰ کو اپنی روزانہ زندگی میں ایسے تجربات و حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے، جو بلا منطقی استدلال و سائیٹفک تحقیقات کے کسی نہ کسی صورت میں اعتراف و اعتقاد پر بے بس کردیتے ہیں کہ انسانی ہاتھوں کے اوپر بھی کوئی اور ہاتھ ہے، ید اللہ فوق ایدیھم اور اس عالمِ شہود کے پردہ میں کوئی نہ کوئی عالم غیب ہے، یہی اعتقاد و ایمان بالغیب مذہب کی جان ہے۔
خود اہلِ سائنس اور مادہ پرست ملاحدہ جو اپنے زعم میں ’’عقل کی فضائے خشک و بلند‘‘ میں پرواز کرتے ہیں، کیا اس ایمان بالغیب پر مضطر نہیں ہیں؟ کیا کوئی سائنٹسٹ یا مادّی، قوت، انرجی، نیچر، قانونِ فطرت اور مادّہ وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے بغیر ایک قدم بھی چل سکتا ہے؟ لیکن کیا کوئی پرستار عقل بتاسکتا ہے کہ مادہ، قوت یا نیچر کیا ہے، ان کی کیا حقیقت ہے؟ سواء اس کے کہ معلوم واقعات و ظواہر کی نامعلوم علت کے لئے مختلف تعبیری الفاظ وضع کر لئے گئے ہیں، جن کی حقیقت معنوی کی تشریح سے ایک حکیم اسی طرح عاْم ہے جس طرح ایک اہلِ مذہب خدا کی تحدید و توصیف سے، دونوں اپنی اپنی جگہ پر ایک نامعلوم الحقیقت علت کائنات پر غیبی ہی اعتقاد و ایمان رکھتے ہیں۔
مثال کے لئے ایک قانونِ فطرت (لا آف نیچر) ہی کو لے لو جو آج کل سائنس اور لٹریچر میں اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ گویا واقعاتِ عالم اور حوادثِ کائنات کی انتہائی علّت اور اصل کنہ کو ہم نے پالیا، حالانکہ تجربۂ واقعات و حوادث سے ہمارا علم ایک انچ بھی آگے نہیں جاتا اور ’’قانونِ فطرت‘‘ کے دو لفظی مرکب کا مفہوم اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ ایک ہی قسم کے مختلف تجربات و مشاہدات کا وہ ایک مجموعی یا کلی نام ہوتا ہے اور بس، جس طرح زید، عمر، بکر وغیرہ ایک ہی قسم کے افراد کا کلی نام انسان ہے، قانونِ فطرت ہم کو یہ مطلق نہیں بتاتا کہ فلاں واقعہ کیوں واقع ہوا یا اس کو لازماً اسی طرح واقع ہونا چاہئے، لزوم و وجوب کا راز اب بھی ویسا ہی سربمہر رہتا ہے جیسا کہ کسی قانونِ فطرت کی دریافت سے پہلے تھے، ہم اس کی مزید تشریح کے بجائے خود ایک نامور سائنٹسٹ کا بیان پیش کئے دیتے ہیں:
’’وہ ڈراؤنا لزوم و وجوب اور ’’آہنی‘‘ قانون کیا ہے جس نے لوگوں کو اس قدر خائف اور دہشت زدہ کر رکھا ہے؟ سچ پوچھو تو یہ ہمارے ہی واہمہ کا گڑھا ہوا محض ایک بھوت ہے، میرے خیال میں اگر کوئی آہنی قانون ہوسکتا ہے تو وہ قانونِ کشش ہے! اور اگر طبعی لزوم و وجوب کوئی چیز ہے تو وہ یہی ہے کہ جس پتھر کے لئے کوئی روک اور مزاحمت نہ ہو! وہ زمین پر گر پڑے گا لیکن اس واقعہ کی نسبت جو کچھ ہم جانتے ہیں یا جان سکتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے؟ صرف اتنی ہی کہ انسانی تجربہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اس خاص حالت میں یعنی جب کوئی سہارا نہ ہو تو پتھر زمین پر گر پڑتا ہے، اور ہمارے پاس اس یقین کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایسی حالت میں پتھر زمین پر نہ گر پڑے گا؛ بلکہ بخلاف اس کے ہم معقول طور پر یقین کرسکتے ہیں کہ یہ گر ہی پڑے گا، البتہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ صورت مذکورہ میں یقین کے تمام شرائط موجود ہیں، اس بیان کا کہ بے سہارے کا پتھر زمین پر گر پڑے گا، قانون فطرت نام رکھ دینا نہایت مناسب و بر محل ہے، لیکن جب ’’گا‘‘ کو ہم ’’چاہئے‘‘ (یعنی گر پڑے گا کی جگہ یہ کہنا کہ ضرور بالضرور گر پڑنا ہی چاہئے) سے بدل دیتے ہیں، جیسا کہ علی العموم کیا جاتا ہے تو ہم لزوم و وجوب کی ایک ایسی زائد شئے کا اضافہ کردیتے ہیں جس کا نہ تو مشاہدۂ واقعات میں نشان ملتا ہے اور نہ کہیں اور سے پتہ چل سکتا ہے، جہاں میری ذات کا تعلق ہے میں ایسے زبردستی کے دخل در معقولات دینے والوں سے قطعاً اپنی بیزاری اور تبرّی ظاہر کرتا ہوں، بے شک میں واقعہ جانتا ہوں اور اس قانون کا علم رکھتا ہوں مگر یہ لزوم خود اپنے ہی ذہن کے گڑھے ہوئے غولِ بیابانی کے سواء اور کیا ہے؟‘‘ (مضمون’’فزیکل بیسس آف لائف‘‘ از:ہکسلے)
غرض جس طرح اہلِ مذہب واقعات و حوادث کائنات کی ایک معلوم الاسم و نامعلوم المسمّٰی آخری علت (خدا) پر ایمان رکھتے ہیں جس میں چون و چرا کی گنجائش نہیں، اسی طرح مشرکین سائنس بھی انرجی، نیچر، لا آف نیچر وغیرہ بیسیوں دیوتاؤں کے سامنے خمیدہ سر ہیں جن کی نسبت چون و چرا کا جواب نہیں دے سکتے۔
لا ادرِیْ تک جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم کو حوادث محسوسہ یا ظواہر اشیاء کے ماوراء چیزوں سے نفیاً یا اثباتاً کوئی سروکار نہیں، کیا ان کی خود تبرّی میں اعیان و حقائق کا اعتراف، رازِ آشکار کی طرح نمایاں نہیں ہے؟ بقول اسپنسر کے کہ :
’’یہ تصور کرنا ہی سرے سے ناممکن ہے کہ ہمارا علم صرف ظواہر تک محدود ہے، بے اس کے کہ ان ظواہر کے پس پردہ کوئی حقیقت تسلیم کی جائے، کیونکہ ظاہر بلا باطن ناقابل تخیل ہے۔
کائنات کے اس محسوس ظواہر کی تہہ میں جو قائم الذات اور متغیر الصفات ہستی پنہاں ہے وہ انسانی علم و تخیل سے مافوق ایک نامعلوم اور ناممکن العلم قوت ہے، جس کی نسبت ہم اس اعتراف پر بے بس ہیں کہ وہ زمان و مکان کے قیود سے برتر ہے‘‘۔
اسپنسر کے اس قول کو نقل کرکے سیمول لینگ لکھتا ہے کہ:
’’یہ بلند ترین فلسفۂ لا ادریت ہے! دیکھو کہ یہ الحاد سے ایک بالکل ہی جدا گانہ شئے ہے، کیونکہ یہ علانیہ ایک پس پردہ قوت کی معترف ہے جو اگرچہ ’’نامعلوم و ناممکن العلم‘‘ ہے، پھر بھی ان ہی جذبات و احاسات کی صدائے باز گشت ہے جو تمام مذاہب کا سرچشمہ ہیں۔
مثلاً لا ادریت میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جس کی بناء پر حیاتِ مستقبل کے امکان سے انکار کیا جاسکتے، پردہ کے پیچھے کون جاتا ہے کہ کیا ہوتا ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ آدمی کا حس و شعور موت کے بعد نہیں باقی رہتا، یا اس کا حشر و نشر نہیں ہوسکتا، اور ہمیر آئندہ حالت موجودہ اعمال کے مطابق بہتر و بدتر نہیں ہوسکتی‘‘۔ (ایضاً، صفحہ:۸۷، آر پی سیریز)
معلوم ہوا کہ فلسفہ کا وہ اسکول بھی جو آج کل دنیائے سائنس میں سب سے زیادہ مقبول ہے، حریفِ مذہب تو کسی طرح بن ہی نہیں سکتا کہ اگرچہ لاادریت کی زبان نفی و اثبات، ردّ و قبول اور اقرار و انکار دونوں سے ساکت ہے، تاہم تم نے دیکھ لیا کہ شیوہائے چشم و ابرو سے اقرار پنہاں ٹپکا پڑتا ہے۔
؎            پرسش ہے اور پائے سخت درمیاں نہیں
بلکہ لا ادریت کے مخترعِ اوّل ہکسلے کو اتنا تو اعتراف ہی کرتے بن آیا کہ لا ادری مادّہ پرست کبھی نہیں ہوسکتا، کہتا ہے کہ ’’اگر مجھ کو خالص مادّیت و خالص روحیت میں سے کسی ایک کو اختیار ہی کرنا پرے تو میں روحیت ہی کے قبول کرنے پر مجبور ہوں گا‘‘۔
عقل مذہب کے ابطال اور اثبات دونوں ہی سے عاجز ہے!
لیکن ان باتوں سے اس غلط فہمی میں ہرگز نہ پڑنا چاہئے کہ مذہب عقل سے ثابت ہوگیا یا ہوسکتا ہے، عقل جس طرح مذہب کے ابطال سے بے بس ہے، اسی طرح اس کے اثبات سے بھی ہے اور یہ مذہب کے لئے کوئی ننگ نہیں بلکہ اس کے استحکام و مزیت کی عین دلیل ہے، عقلِ انسانی کے تفاوت و اختلاف کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں کوئی موٹی سے موٹی بات بھی ایسی نہیں ہے کہ جس پر تمام عقول و آراء کا اتفاق و اجتماع ہوسکے۔
حرکت سے زیادہ کونسی چیز بدیہی الوجود ہے؟ میں اس وقت جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ جنبش قلم کے بغیر ناممکن ہے، پھر بھی ایک حکیم (زینو) کی عقل کہتی ہے کہ نہیں یہ فریبِ محض ہے، اتنا ہی نہیں کہ حرکت ناموجود ہے؛ بلکہ ناممکن الوجود ہے، اور اس پر سے ایسے دلائل قائم کرتا ہے کہ جواب نہیں بن پڑتا، کون شک کرسکتا تھا کہ سمندر، پہاڑ، آفتاب و ماہتاب، موجودات خارجی نہیں ہیں، لیکن برکلے نے نقارہ کی چوٹ پر کہہ دیا ہے کہ ذہن سے باہر سرے سے کسی چیز کا بھی وجود بھی نہیں، اور اس کو کوئی چپ نہ کرسکا، کون نہیں جانتا کہ تناقض محال ہے؟ مگر ہمارے زمانہ کا ہی ایک مشہور ترین فلسفی (ہیگل) مدعی ہے کہ تناقض نہ صرف ممکن ہے بلکہ متحقق ہے کہ وجودِ کائنات تناقض ہی پر مبنی ہے، تمام دنیا مانتی ہے کہ رشتۂ علت و معلول اٹل ہے، آفتاب نکلنے سے گرمی ہی پیدا ہونا چاہئے، لیکن ہیوم کے اصول سے یہ بالکل ممکن ہے کہ کل جو آفتاب نکلے وہ برف برسانے لگے، وزن ہمیشہ مادّہ کی تعریف بلکہ حقیقت میں داخل رہا، مگر اب ایک اور شئے شاغ المکان اہل سائنس کو ماننا پڑی جو ناقابل الوزن ہے، یعنی ایتھر جس کی نسبت یہ بھی نہیں معلوم کہ مادّہ ہے یا کچھ اور؟
غرض عقل کو خود اپنی گرہ کی عقل نہیں، وہ ہر زمانہ میں بدلتی رہتی ہے، ایک ہی زمانہ کے مختلف افراد میں شدید اختلاف ہوتا ہے، ایک ہی شخص مختلف حالات و اوقات میں مختلف الرّائے ہوجاتا ہے، اس لئے اگر مذہب اس قدر ناپائیدار متزلزل اور متناقض معیار پر پورا اُترنے کا مدعی ہے تو وہ خود کوئی پائیدار و ثابت حقیق نہیں ٹھہرتا، قدیم حکماء افلاک کے قائل تھے، تو قرآن میں بھی وہی افلاک آگئے، اب وہ حدِّ نظر ثابت ہوئے تو سیّارات کو ’’سبع السموات‘‘ بنادیا گیا، اگے چل کر اگر یہ سیارات اور ستارے تارِ نطر کے آخری نقطے ثابت ہوئے تو قرآن کی آواز بھی ہم آہنگ بن جائے گا، قرآن مجید بیالوجی کی کتاب بن گئی ہے، ہمارے انشاء پرداز دوست حضرت مہدی نے کیا خوب کہا کہ ’’کچھ ابرے سے لیا، کچھ اَستر سے اور برابر سرابس کردیا‘‘۔
علم کلام کا بڑا حصہ جلادینے کے قابل ہے!
سوچو کہ کیا اس طرح کی تطبیقات یا برابر سرابر کردینے سے مذہب بچوں کا کھلونا بن گیا؟ حکماء یا فلاسفہ کی دشمنی سے مذہب کو اتنا نقصان نہیں پہنچا، مذہب کے اصلی دشمن اس کے نادان دوست (متکلمین) ہیں، میں بلا خوف لامۃ لائم کہنا چاہتا ہوں کہ علم کلام کا بڑا حصہ قطعاً سوخت کردینے کے لائق ہے، یا زیادہ سے زیادہ زیاں کاری کی یادگار کے طور پر کسی عجائب خانہ میں مجتمع کردئے جانے کا مستحق ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ اپنا وقت و دماغ اس زیاں کاری میں شاید مسلمانوں ہی نے رائیگاں کیا ہے، اور فسوس ہے کہ ہندوستانِ جدید میں سر سید نے اپنی واجب الاعتراف خدمات کے ساتھ ساتھ اس فتنہ کو بھی جگادیا، استاد مرحوم (علامہ شبلیؒ) نے بھی اسی آواز میں آواز ملادی، اور اب تو جدید و قدیم تعلیم کے بہتیرے احبابِ علم و مذہب دونوں کی خدمت کا اہم المقاصد اسی کو جاننے لگے ہیں، کاش اردو زبان کو اس تریاق نام زہر سے زیادہ مسموم نہ کیا جاتا!
مذہب کے دو جزو ہیں: (الف) عقائد (ب) اعمال۔
(الف) عقائد:
اللہ، روح، حشر و نشر وغیرہ عقائد میں داخل ہیں، عقل ان فوق الفطرت چیزوں کا نہ اثبات کرسکتی ہے، نہ ابطال اور نہ اس کو ان کے تسلیم و انکار کا فتویٰ صادر کرنے کا منصب حاصل ہے، ان کا دار و مدار تمام تر اعتقاد یا ایمان پر ہے جو انسان کے مختلف فطری احساسات و جذبات سے پیدا ہوتا ہے، اس لئے جب تک حیرت و استعجاب، امید و بیم، انعام و انتقام، مایوسی و بے چارگی، ہیبت و جمال پرستی وغیرہ کے احساسات انسان کی فطرت ہیں، اس وقت تک مذہب بھی اس کی فطرت ہے، یا یوں کہو کہ جب تک انسان انسان ہے مذہب سے گریز پائی کا کوئی راستہ نہیں، تم شاخوں کو ہمیشہ چھانٹتے رہو، لیکن جب تک جڑ قائم ہے وہ بھی ہمیشہ نئے برگ و بار لاتی رہے گی، غرض جہاں تک اصولِ مذہب کا تعلق ہے وہ ایسی بنیاد پر قائم ہیں جو عقل سے کہیں زیادہ استوار و محکم ہے، اہلِ مذہب کی دانائی و فلاح اسی میں ہے کہ ان کی تعمیر کی ایک اینٹ بھی اس بنیاد سے بہکنے نہ پائے۔
مذہب، طرزِ منطق و استدلال کے بجائے احساسات و جذبات کو مخاطب بناتا ہے:
یہی بھید ہے کہ مذہبی کتابوں میں جن کے الہانی ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، منطق کے اشکام و قیاسات اور فلسفیانہ طرز استدلال کا مشکل ہی سے کہیں نشان ملتا ہے، تمام تر انہی احساسات و جذبات کو مخاطب کیا جاتا ہے جن سے اعتقاد و ایمان کی کیفیت پیدا یا تازہ ہوتی ہے؛ بلکہ الٰہیات (میٹافزکس) کے مسائل میں عقلی خوض و فکر سے جابجا اجتناب کی تاکید ہوتی رہتی ہے، مسلمان جو عقائد میں بال کی کھال نکالنے کے سب سے زیادہ شیدائی رہے ہیں، ان کو آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہئے کہ خود قرآن نے کیا راہ اختیار کی ہے۔
قرآنی راہِ ہدایت:
قرآن اللہ کی ذات کا اعتقاد پیدا کرنے کے لئے زمین و آسمان کے ان عظیم عجائب پر توجہ دلاتا ہے جن سے نہ صرف انسانی عقل حیران و ششدر رہ جاتی ہے بلکہ انسانی ارادہ و اختیار سے قطعاً باہر ہوتے ہیں، دن رات کا یکے بعد دیگرے پیدا ہوتے رہنا، آفتاب و ماہتاب کی بندھی ہوئی اور مسخر خدمت گذاریاں، ہواؤں اور بادلوں کی تصریف، نفس یا روح کے نہ سمجھ میں آنے والے افعال:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ۔ (البقرۃ:۱۶۴)

کچھ شک نہیں کہ زمین و آسمان کی آفرینش، فرمانبردار ہواؤں اور بادلوں کی زمین و آسمان کے بیچ میں تصریف میں سمجھنے والوں کے لئے یقینی نشانیاں ہیں۔

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ۔ (فاطر:۱۳)

ارے وہی تو تمہارا خدا ہے صاحب الملک ہے جو رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب و ماہتاب کو مسخر کر رکھا ہے جو تمام کے تمام وقتِ مقررہ تک چلتے رہیں گے۔

وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ۔ (الذاریات:۲۱)

اپنے نفسوں کے اندر کیا تم کو کچھ نہیں دکھائی دیتا؟
انہی چیزوں کو دیکھ کر آدمی بے ساختہ پُکار اٹھتا ہے کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔ (اٰل عمران:۱۹۱) لیکن ہمارے متکلمین کی خوش فہمی دیکھو کہ وہ ان آیات کی تفسیر میں شرح چغمنی لکھ دیتے ہیں وار سمجھتے ہیں کہ ان سے علم ہیئت کی تعلیم مقصود ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آج کل کوئی یہ کہنے لگے کہوَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ سے علم النفس کی تحصیل کا حکم ہے، قرآن یا مذہب ان علوم کی تعلیم و تعلیم کا مخالف نہیں ہے، لیکن اس کا کام ان کی تاکید و حمایت بھی نہیں ہے، اس کا مقصد صرف ان چیزوں کی عظمت و حیرت انگیزی سے ایک اجمالی اعتقاد یا ایمان پیدا کرنا ہوتا ہے اور بس۔
اسی طرح اگلوں کے قصے بیان کرنے کی غرض محض عبرت پذیری کے احساس کو ابھارنا ہوتا ہے، مشہور اقوام اور بڑے بڑے فراعنۂ ارض کی ہلاکت و بربادی کی داستانیں بار بار اس لئے دوہرائی جاتی ہیں کہ غافل انسان کو دنیا کی ناپائیداری، اپنی بے ثباتی اور بے بسی کا یقین پیدا ہو، آئندہ زندگی کی فکر اور نیکوکاری کا خیال ہو، تاریخ کی تحقیق مدعا نہیں ہوتی۔

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا أَفَلَا تَعْقِلُونَ۔ (یوسف:۱۰۹)

کیا زمین میں وہ نہیں پھرے کہ دیکھتے اگلوں کا کیا حشر ہوا اور کچھ شک نہیں کہ آخرت کی بہتری پرہیزگاروں ہی کے لئے ہے، کیا تمہاری سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی؟
جزاء اور سزاء، نیکوکاری پر انعام کی توقع اور بدکاری پر انتقام کا خوف انسان کا اقتضائے فطرت ہے، اس لئے عود و حشر کی غرض کے لئے اسی جذبۂ فطری کو زیادہ تر مخاطب بنایا جاتا ہے۔

إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ۔ (یونس:۴)

بیشک وہی آفرینش کا آغاز کرتا ہے اور (مرنے کے بعد) وہی اعادۂ آفرینش بھی کرے گا، تاکہ ایمان والوں اور نیکوکاروں کو پوری پوری جزاء دے، اور کفر والوں کے لئے ان کے کفر کی بدولت گرم پانی اور درد ناک عذاب ہوگا۔
غرض الٰہیاتی استدلال (میٹافزیکل ریزننگ) کے بجائے اور عقل نظری کو خطاب کی جگہ مذہب کا روئے سخن زیادہ تر جذبات اور عقلِ عملی کی طرف ہوتا ہے۔
بلکہ قرآن نے صراحۃً و کنایۃً طرح طرح سے مذہبی عقائد کو فلسفیانہ استدلالات کا کھلونا بنانے سے روکا ہے اور الٰہیات یا نظر خوض و فکر سے اجتناب کی تعلیم کی ہے۔

وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔ (الانعام:۶۸)

جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں میں خوض کرتے ہیں تو ان سے الگ رہو یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں خوض کریں اور اگر شیطان تم کو یہ حکم بھلادے تو یاد آنے پر ان ظالموں میں ہرگز نہ بیٹھو۔
اور خوض فی آیات اللہ کو ظلم قرار دیا۔

فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ۔ (الانعام:۸۱،۸۲)

کاش تم جانتے کہ فریقین میں سے امن کا کون زیادہ حقدار ہے، وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہیں آلودہ کیا، امن و ہدایت انہی لوگوں کے لئے ہے۔
جن لوگوں نے ان فوق الفہم چیزوں کے ایمان و اعتقاد کو اپنی کوتاہ رس عقل کے ظلم سے آلودہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ امن اور سکونِ نفس کی دولت ان کے نصیب میں نہیں رہی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان کی قوم نے خدا کے بارے میں حجت کی تو جواب ملا کہ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ ۔ (الانعام:۸۰) کیا تم مجھ سے خدا کے بارے میں حجت کرتے ہو؟ (یہ بحث و حجت کی چیز ہی نہیں ہے)
لوگوں نے روح کی حقیقت دریافت کی تو یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي۔ (الاسراء:۸۵) وہ خدا کا ایک امر ہے۔
ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ کہ قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی اولین شرط یہ قرار دی گئی کہ ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ۔الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ۔ (البقرۃ:۲،۳) ’’کچھ شبہ نہیں کہ اس کتاب کے اندر انہی لوگوں کے لئے رہنمائی ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں‘‘۔
ظاہر ہے کہ جو شخص خدا، روح، وحی اور الہام وغیرہ کے غیبیات ہر پر ایمان نہ رکھتا ہو وہ قرآن یا کسی اور مذہبی کتاب سے کیسے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے؟
کسی موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تقدیر کے مسئلہ میں الجھ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپہنچے تو آپؐ کا چہرۂ مبارک غصہ سے تمتما اٹھا اور فرمایا: ’’اگلی قومیں انہی باتوں سے تباہ ہوئی ہیں‘‘۔
وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى۔ (النجم:۴۲) کی حدیث میں یہ تفسیر ہے کہ لا فکرۃ فی الرب کہ خدا تک فکر کی رسائی نہیں، عقل انسانی کو یہیں تک پہنچ کر رک جانا چاہئے۔
اس نکتہ کو بعض ائمۂ دین نے بھی خوب اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ عقائد کو عقل آرائیوں کا اکھاڑہ نہیں بنایا جاسکتا، یہ صرف ایمان کی چیزیں ہیں، چنانچہ حضرت سفیان اور حضرت مالک بن انس رحمہما اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ ترویٰ ھذہ الاشیاء یومن بھا ولا یقال کیف؟ یہ باتیں صرف روایت اور ایمان کی ہیں، چوں چرا کی گنجائش نہیں ہے۔
(ب) اعمال:
عبادات بھی اگرچہ تمام مذاہب جزء ہیں، لیکن یہ حقیقت میں عقائد ہی کی تفریع اور لازمہ ہوتے ہیں، کیونکہ انسان بالطبع اپنے سے زبردست طاقتوں کے سامنے نیاز و عبودیت کا سرجھکادیتا ہے، لہٰذا اصولی طور پر مذہب کا جزو دوسرا معاملات ہی ہیں، جن کا تعلق احَاقی اور معاشرتی (سوشل) تعلیمات سے ہوتا ہے، سچ پوچھو تو سوادِ اعظم کے لئے مذہب کا یہی حصہ زیادہ اہم بلکہ اکثروں کے نزدیک تہذیب، اخلاق اور اصلاح و استقامت عمل ہی مذہب کی اصل غایت ہے، بالتخصیص قرآن نے تو اس کو اتنی اہمیت دی ہے کہ عمل صالح کو ایمان اور عملوا الصالحات کو اٰمنوا سے جُدا ہی نہیں ہونےدیتا۔
لیکن حضرات! یاد رکھنا چاہئے کہ اعمال و اخلاق کے لئے عقائد اُسی وقت تک مفید ہیں جب تک ان کی بنیاد اجمالی اعتقاد یا ایمان بالغیب پر ہے، اس لئے کہ ایمان بالغیب ہی رکھنے والوں کی یہ شان ہے کہ:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ۔ (الانفال:۲)

ایمان والے وہی ہیں جن کے دل خدا کے ذکر سے دہل جاتے ہیں۔
یہ اعتقاد و ایمان ہی کا وصف ہے کہ لا یزنی الزانی حین یزنی و ھو مؤمن۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایمان رکھ کر کوئی شخص زنا کا ارتکاب کرے۔
کیا مقدمات منطق سے ثابت کئے ہوئے خدا کا عمل پر یہ اثر پڑ سکتا ہے؟ ارسطو، ابن سینا اور متکلمین اپنے فلسفہ اور علم کلام سے جس واجب الوجود کو ثابت کرتے ہیں، کیا اس کے ذکر سے قلوب پر وہ وجل و ہیبت طاری ہوسکتی ہے، جو ارتکاب معصیت کے وقت بدن میں کپکپی ڈال دے؟ کیا عقائد نسفی، شرح مواقف، تفسیر احمدی (سرسیّد) اور الکلام (شبلیؒ) کے پڑھنے والوں کے دل میں وہ خشیتِ الٰہی باقی رہ جاتی ہے جو علم کلام کی ایجاد سے پہلے خالی متنِ قرآن کی تلاوت سے حاصل ہوتی تھی؟
اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر کیا اے حضرات! علم کلام مذہب کا عدوٌّ مبین نہیں؟ کیا مذہب کے نادان دوست متکلمین، اس کے دانا دشمن ملاحدہ اور مادّہ پرستوں سے زیادہ خطرناک نہیں؟
؎            سعدی از دستِ خویشتن فریاد!
اخیر میں صرف اتنا عرض کرنا اور رہ گیا ہے کہ چونکہ عقائد یا مذہب کے الٰہیاتی حصہ کی نسبت خالص الہیاتی نقطۂ نظر یا عقل نظری (پیور ریزن) کی رُو سے خطاء و صحت کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوسکتا، اس لئے چشمِ ظاہر کے واسطے مختلف مذاہب میں باہم ترجیح و تفصیل کا منشاء، اگر کوئی چیز کسی حد تک قرار پاسکتی ہے تو وہ معاملات ہی ہیں، یعنی مذہب کا عملی جزء عقائد سے متعلق بھی اگر کچھ رائے زنی جائز ہوسکتی ہے تو وہ بھی اس لحاظ سے کہ انسان کی عملی زندگی کے لئےکس نوع کے اعتقادات زیادہ سودمند اور بہتر ہیں۔
مذہب کا عملی حصہ بھی علومِ طبعیہ کی زد میں نہیں آتا!
اس بحث کو تفصیل کے ساتھ چھیڑنے کا یہ موقع نہیں ہے، کسی دوسری فرصت میں انشاء اللہ اس پر گفتگو ہوگی، البتہ موضوع بحث کی رعایت سے اتنا جان لینا ضروری ہے کہ مذہب کا عملی حصہ بھی علوم طبعیہ (نیچرل سائنس) کے یقنیات کی زد میں نہیں آتا، ہاں علم المعاشر (سوشیالوجی) و اقتصادیات (اکنامکس) وغیرہ کے مسائل سے تصادم ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے۔
اگرچہ اقتصادیات و معاشرت کے اصول تمام تر استقراء پر مبنی ہوتے ہیں جو مختلف مقامات اور زمانوں کے حالات کے ماتحت ہوتے ہیں اور ان حالات کے اختلاف کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں، تاہم بحیثیت مجموعی اور اکثریت کے لحاظ سے اگر کسی مذہب کی عملی تعلیمات کے ردّ و قبول کا معیار عقل ہوسکتی ہے تو وہ فقط عقل عملی (پریکٹیکل ریزن) ہے، یعنی انسان کی عملی زندگی کے تجربات اور ان سے مأخوذ نتائج و اصول یا بہ الفاظ دیگر یوں کہو کہ اگر کوئی علمِ کلام کار آمد ہوسکتا ہے تو وہ جو علم المعاشرت و اقتصادیات وغیرہ کے مقابلہ میں تیار کیا جائے۔
لیکن ہمارے علمائے مذہب اب تک بالعموم ترکستان کے راستہ پر چلتے رہے۔         ؎
ترسم نہ رسی بکعبہ اے اعرابی! کایں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان ست
خدا کرے آئندہ کعبہ کی راہِ مستقیم کی طرف قدم پڑیں۔
خلاصۂ مضمون
اس لکچر نے گو کہ قلم بند ہونے کے بعد لکچر سے زیادہ مضمون کی صورت اختیار کرلی ہے، پھر بھی ایک خالص مضمون کی چست بیانی اور مطالب کی منطقی ترتیب و تحلیل کی پوری پابندی نہیں کی گئی ہے، تاکہ کم از کم لکچر کے نام کی گنجائش رہ جائے، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذیل میں اختصار کے ساتھ ساری بحث کا خلاصہ درج کردیا جائے جس سے مغز سخن ایک نظر میں سامنے آجائے۔
(۱) مقصود بحث ’’مذہب و عقلیات میں تطبیق نہیں بلکہ دونوں کی اختلاف نوعیت اور تباعد حیثیت کی توضیح و تشریح ہے۔
(۲) عقلیات کی دومختلف اور اہم تقسیمات ہیں: (۱) سائنس اور (۲) فلسفہ۔
(۳) مذہب و سائنس کی باہمی نزاع اور اختلاف کا خیال اصل میں علمائے مذہب و اہلِ سائنس کی معرکہ آرائیوں اور اسی طرح بعض اور غلط فہمیوں سے پیدا ہوا ہے، ورنہ:
’’حقیقت یہ ہے کہ مذہب و سائنس کے حدود بالکل الگ الگ ہیں، سائنس کا جو موضوع ہے مذہب کو اس سے کچھ واسطہ نہیں اور مذہب کو جن چیزوں سے بحث ہے، سائنس کو ان سے کچھ سروکار نہیں، فلسفہ البتہ کہیں کہیں مذہب سے ٹکراتا ہے، لیکن اس کا شمار قطعیات اور یقینیات میں نہیں‘‘۔ (الکلام:۱۱)
(۴) فلسفہ اور مذہب میں بے شک تصادم ہوسکتا تھا، لیکن دونوں کی حیثیت بالکل جُداگانہ ہے، فلسفہ کا منشاء فوق الفہم چیزوں کے متعلق عقلی موشگافیوں کی تسکین بخشی ہے، مذہب جہاں عقل کی رسائی نہیں ایمان و اعتقاد پر بس کرتا ہے، اس قسم کا ایمان و اعتقاد کسی نہ کسی صورت میں داخل فطرت ہے۔
(۵) اس کے علاوہ فلسفہ کے اصولی مذاہب اربعہ میں اگر کسی کو مذہب کے مخالف کہا جاسکتا ہے تو وہ صرف مادّیت تھی، لیکن مادّیت کی بناء اسی وقت تک استوار تھی، جب تک خود ماہیتِ مادّہ کے بارے میں گفتگو نہیں چھڑتی تھی، مگر اب جبکہ مادّہ کی حقیقت کیسی اس کا وجود ہی مشتبہ ہوگیا تو لازماً مادیت کی ساری عمارت زمین دوز ہوگئی۔
(۶) اس کشمکش سے بچنے کے لئے دورِ جدید کے بہت سے حکماء و فلاسفہ نے فوق الفطرت (سپر نیچرل) مباحث سے کنارہ کش ہوکر لاعلمی یا لاادریت کی آڑ میں پناہ لینا چاہی، لیکن عدم علم عدم وجود کو مستلزم نہیں؛ بلکہ سچ یہ ہے کہ ماورائے ظواہر (اپیرنسز) کی نسبت اعتراف لاعلمی ہی میں کسی باطنی حقیقت کا اعتقاد جھلک رہا ہے جس سے حکیم فلسفی، عالم و جاہل کوئی اپنا دامن نہیں چھڑا سکتا۔
بقول اسپنسر کے
’’اگرچہ اس ہستی مطلق کا علم ممکن نہیں، لیکن اس کا ایجابی اور قطعی وجود ہمارے احساس و شعور کا لازمہ ہے، جب تک شعور قائم ہے، اس سے ایک لمحہ کے لئے بھی ہم رہائی حاصل نہیں کرسکتے، لہٰذا یہ یقین جس پر نفس شعور دار و مدار ہے، ہر طرح کے یقین سے ارفع اور بڑھ کر ہے‘‘۔
اسی بناء پر جرمنی کا مشہور فلسفی شاعر گیٹے پکار اٹھا کہ:
’’ذی عقل ہستی (انسان) کی انتہائی سعادت یہی ہے کہ اپنی عقل ان ہی چیزوں میں دوڑائے جہاں وہ چل سکتی ہے اور جس شئے کی توصیف و تشریح نہیں ہوسکتی، اس کے سامنے خاموشی کے ساتھ سرِ عبودیت جھکادے‘‘۔
(۷) مذہب بھی بعینہٖ یہی چاہتا ہے کہ تفکروا فی الخلق و لا تفکروا فی الخالق، اس لئے کھلی بد دینی کی منادی کرنے والوں (ملاحدہ) سے کہیں زیادہ وہ حامیانِ دین (متکلمین) دین کے دشمن ہیں جو تفکروا فی الخالق کی بدعت کے مذہب کے موجد ہیں۔
(۸) علمِ کلام کی بدولت خود مذہب والوں میں خدا عقل کی شوخیوں اور گستاخیوں کا کھلونا بن گیا اور اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم کا اصلاح اعمال و معاملات پر جو اثر تھا وہ فکر و استدلال کے گڑھے ہوئے خدا کے ذکر میں مفقود ہوگیا۔
(۹) مذہب کے دو حصوں (۱) عقائد اور (۲) اعمال میں سے عقل کے لئے اگر کچھ گنجائش نکلتی ہے، تو صرف ثانی الذکر میں اس لئے اگر کسی علم کلام کا وجود کسی حد تک جائز ہوسکتا ہے تو وہ جس کو صرف اسرار اعمال سے بحث ہے، لیکن اعمال میں بھی عقل آخری حکم نہیں قرار پاسکتی، یعنی جو بات آج خلاف عقل معلوم ہوتی ہے اس کا ہمیشہ خلاف عقل معلوم ہونا یا فی نفسہٖ نامعقول ہونا ضروری نہیں، اس لئے عقل اور بالتخصیص عقلِ عملی کی حقیقت جو کچھ ہے اس کو مولانا حالی کی حکیمانہ زبان سے سن رکھو          ؎
دیکھ عادت کا تسلط میں نے عادت سے کہا            
گھیرلی عقلِ صواب اندیش کی سب تو نے جائے
ہنس کی عادت نے کہا کیا عقل ہی مجھ سے الگ
        میں ہی بن جاتی ہوں ناداں رفتہ رفتہ عقل ورائے 

=============================================عیسائیت اور استشراق کی جانب سے اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے والا یہ اعتراض؛ بلکہ اتہام اور بہتان کتنا صریح جھوٹ ہے کہ خود کئی ایک مستشرقین نے اپنی کتابوں میں اس کی تردید کی ہے،معروف مستشرق عالم ”ٹامس کارلائل“ (۱۸۸۱- ۱۷۹۵/) نے اپنی کتاب On Heroes, Hero-wership,and the Heroic  in Historyمیں جہاں نبی پاک کو تمام انبیا کے سردارکے طورپر مانا اور پیش کیا ہے، وہیں اس نے اسلام کی اشاعت میں تلوار کے عمل دخل کوقطعاً جھوٹ اوریاوہ گوئی قراردیتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ” یہ عقل میںآ نے والی بات ہی نہیں کہ ایک شخص،جو اپنی دعوت کے ابتدائی دنوں میں بالکل تن تنہا ہو،کوئی اس کو ماننے والا نہ ہو،وہ اکیلے پوری قوم اور جماعت کے خلاف تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہو اور انھیں اپنے آپ کو منوانے پر مجبور کردے“ ۔(محمد المثل الأعلیٰ، تعریب: محمد السباعي، ص:۲۱، مکتبة النافذة، مصر۲۰۰۸ء)


    اسلام کا یہ نقطئہ نظر اتنا واضح اور روشن ہے کہ مستشرقین بھی اس سے چشم پوشی نہیں کرسکے اور انھیں اس کا اعتراف کرنا پڑا؛ چنانچہ مشہور مستشرق ”کولسن“ اقرار کرتا ہے کہ اسلام کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد قانون ساز ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسی کے احکام کا غلبہ ہے۔“ (اے ہسٹری آف اسلامک لا، کولسن ص ۱۲۰)
                فیزجیرالڈ بھی اسے تسلیم کیے بغیر نہ رہ سکا وہ لکھتا ہے: ”اسلام اللہ تعالیٰ کو واحد قانون ساز و صاحبِ تشریع قرار دیتا ہے اور اس سلسلہ میں کسی کو بھی اس کا شریک نہیں گردانتا“ (دی الیجڈڈف آف اسلامک ٹورومن، فیزجیرالڈ ص ۸۲ ج۶۸)
                گوائے ٹائن مستشرق کو بھی اعتراف ہے کہ دقیق قانونی معاملات میں بھی دین سے مربوط ہیں؛ بلکہ وہ وحی الٰہی کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہیں، شریعت ایسے عصری تقاضوں کا مجموعہ نہیں ہے جو قرآن اور نبی … کے بعد مرتب ہوئے ہوں؛ بلکہ اسلامی معاشرہ میں ان کا باضابطہ نفاذ خود رسول اللہ … نے اپنی زندگی میں کیا۔“ (اسٹڈیز اِن اسلامک ہسٹری، گوائے ٹائن ص۱۲۹)

ایک مستشرق کے بقول : تاریخ سے یہ واضح ہے کہ مفتوح اقوام میں اسلام کی اشاعت تلوار کی نوک پر ہونے کا الزام مؤرخین کے ذریعہ نقل کیا جانے والا انتہائی بے ہودہ اور لغو خیال ہے ۔ (De Lacy O'Leary, Islam at the Crossroads, London, 1923, p.8.)




ہفت روزہ ٹائمز مجریہ یکم اکتوبر ۲۰۰۲/ میںآ رم اسٹرانگ کا ایک مضمون ”اسلام کاحقیقی پر امن چہرہ“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے، جس میں اس نقطئہ نظر کی تردید کی گئی ہے کہ اسلام تشدد پسند دین ہے۔ مضمون نگار نے لکھا ہے کہ:
”اسلام میں اگر ان واقعات کے لیے کوئی دلیل ہوتی جو ۱۱/دسمبر کو پیش آئے تو اسلام کبھی دنیا کا تیزی سے پھیلنے والا مذہب نہ ہوتا۔“
اسلام کی انہیں گوناگوں خوبیوں نے اسے مشرق تا مغرب اور شمال تا جنوب بلااکراہ پھیلادیا، جس میں جورو تعدی یا شمشیروسنان کا قطعاً کوئی دخل نہیں۔ جن لوگوں نے تاریخ اسلام کا معروضی مطالعہ کیا ہے اور معاندانہ کے بجائے منصفانہ ذہن ودماغ کے حامل ہیں، انہیں اس کا دل سے اعتراف ہے کہ اسلام اپنی مذکورہ بالا خوبیوں کے سبب ہی دنیا میں پھیلا اور آج بھی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ جس کا برملا اظہار مستشرقین نے بھی بار بار کیاہے، مثال کے طور پر مشہور مورخ مسٹرولز رقم طراز ہیں:

”اسلامی تعلیمات نے دنیا میں منصفانہ، شریفانہ طرز عمل کے لیے عظیم روایات چھوڑی ہیں اور وہ لوگوں میں شرافت اور رواداری کی روح پھونکتی ہیں۔ یہ تعلیمات اونچی انسانی تعلیمات ہیں اور قابل عمل ہیں۔ ان تعلیمات نے ایسی سوسائٹی کو جنم دیا، جس میں اس کے پیشتر کی سوسائٹی کے مقابلے میں سنگدلی اور اجتماعی ظلم کم سے کم رہا۔ اسلام نرمی، رواداری، خوش اخلاقی اور بھائی چارہ سے پھیلا ہے۔“(اسلامی تہذیب کے درخشاں پہلو، ص۱۲۸)




  اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں؛ بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہوچکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ شا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:  ’’آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ؛ بلکہ پورے یورپ پر حکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب ’’اسلام‘‘ ہی ہوسکتا ہے۔ ... میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت و نمو کی وجہ سے ہمیشہ قدرکی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ایسا مذہب ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جو اس کو ہر زمانہ میںقابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ...میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابلِ قبول ہوگا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابلِ قبول ہونا شروع ہوگیا ہے۔‘‘(George Bernard Shaw in 'The Genuine Islam,' Vol. 1, No. 8, 1936)
          فرانس کے طالع آزما سکندر زمانہ نپولین بونا پارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا ۔ قرآن کے یہی اصول ہی صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کرسکتے ہیں۔ (Napoleon Bonaparte as Quoted in Cherfils, ‘Bonaparte et Islam’ Paris, France, pp. 105, 125)
          آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے: اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئندہ ۲۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہوجائے گی وغیرہ ۔ اہلِ یورپ پر آج یہ خوف چھایا ہواہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے؛ بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہلِ مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالمِ اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ ـ’اسلاموفوبیا‘ (Islamophobia) کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیا ت اور اسلام ومسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔




فقہ اسلامی پر کیے گئے شبہات وجوابات

اسلامی قانون یافقہ اسلامی قانون فطرت کے ان ازلی، ابدی اور انقلابی اصولوں کے مجموعہ کا نام ہے جس کے اندر سارے انسانوں کی حقیقی فلاح وکامیابی کا راز پوشیدہ ہے، جس کو خالقِ فطرت نے اہلِ فطرت کی دنیوی واخروی کامیابی، جسمانی وروحانی تربیت اورہرخیر کی طرف ان کی رہنمائی کے لیے نازل فرمایا، اسلامی قانون اپنے روزِاوّل سے ان خدائی احکامات پر مشتمل ہے جنھیں کسی کمی ونقص، بھول چوک اور ذرہ برابر کمی بیشی کا کوئی امکان نہیں ہے، زمانہ کے سب سے اعلیٰ وافضل ذہن ودماغ اس کی تنقیح وتحقیق میں مدتوں مصروف عمل رہے اور ہردوربشمول موجودہ دور کے انصاف پسند طبیعتوں کے مالک مسلم وغیرمسلم اہلِ علم ودانش نے تمام قوانین پر اس کی فضیلت وبرتری کے کھلے دل سے اقرار واعتراف کیا؛ لیکن مغرب کی نشاۃِ ثانیہ کے بعد معاشرہ میں ایسے افراد جنم لینے لگے جنھوں نے محض تعصب وعناد یاجہالت ونادانی کی بناء پر فقہ اسلامی پر لغو وبے جااعتراضات کئے اور اس کو اپنی بے دلیل وبے سہارا تنقیدوں کا نشانہ بنایا، ان کی کاوشوں کا محور اور علمی کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے اس عظیم الشان علمی، فقہی اور قانونی ذخیرہ کوبے سند وبے اعتبار اور موجودہ ترقی یافتہ زمانہ میں اسے ناقابلِ عمل قرار دے کر مسلمانوں کواس سے عملی زندگی میں دور کردیا جائے یاکم ازکم کتاب وسنت کے برخلاف چند علماءو فقہاء کی ذاتی رایوں کا مجموعہ قرار دیکر اُس پر سے مسلمانوں کے تیرہ سوسالہ اجتماعی اعتبار واعتماد کو ختم کردیا جائے۔
معترضین نے فقہ اسلامی پر جتنے اعتراضات کئے ہیں وہ تمام کے تمام ٹھوس علمی دلائل سے خالی اور واقعات کی غلط تصویر کشی سے لبریز اور معترضین کی متعصبانہ ذہنیت، علمی بے بضاعتی اور دقت نظری سے محرومی کے آئینہ دار ہیں، ان میں سے بعض اعتراضات کومختلف اسلوبوں اور پیرایوں میں اتنی کثرت سے دھرایا گیا کہ وہ حقیقت کا روپ اختیار کرنے لگے ، اس پروپیگنڈہ کے نتیجہ میں فقہ اسلامی پر کچھ شبہات ہونے لگے، ان میں  سےبعض شبہات کا جائزہ سطورِ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے:
(۱)فقہ اسلامی کے اندر موجودہ دور کی ضروریات اور نت نئے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے؛ نیزاس میں زمانے کے مسائل اور نئے حالات کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا ہے۔
 لیکن اگرحقیقت پسندی کے ساتھ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے اور موجودہ دور کے عالمی منظر نامہ کا ملکی پیمانہ پر جائزہ لیا جائے اورجن عرب ممالک میں کسی حد تک اسلامی حدود نافذ ہیں ان ممالک کے سال بھر کے اور مغربی ممالک کے روزانہ کے جرائم کے اعداد وشمار جمع کئے جائیں تویہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلام نے اپنی ابتداء میں جس طرح ایک جاہل وغیر مہذب قوم کوتہذیب وتمدن کا امیرقافلہ بنایا اور نیم وحشی معاشرہ کوانسانیت کے لیے قابلِ فخراور مثالی سوسائٹی میں تبدیل کردیا تھا اسی طرح آج بھی فتنہ وفساد، قتل وغارت، بدامنی وبے اطمینانی کی آگ میں جل رہے انسانی کاروان کونجات دے سکتا ہے اور بھنور میں پھنسی ہوئی انسانیت کی کشتی کوپار لگاسکتا ہے، طالبان کی حالیہ حکومت سے کون ناواقف وبےخبر ہوگا، اس حکومت کے زوال کے بعد اس ملک میں بدامنی ولاقانونیت کی جوکیفیت پیدا ہوئی اور اخبارات ورسائل میں جواطلاعات شائع ہورہی ہیں وہ بزبانِ حال اس بات کی شہادت دے رہی ہیں کہ آج بھی اسلامی اصول وقوانین کے اندر وہی زندگی وتابندگی ہے جوروزِ اوّل سے اس کے اندر ودیعت کردی گئی تھی اور ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ فقہ اسلامی پیدائش سے لیکر موت تک کی پوری زندگی پر محیط ایسی کامل واکمل اورجامع اسکیم ہے جوابنِ آدم کی زندگی کے ہرموڑ پرصحیح اور مکمل رہنمائی کرتی ہے، اجتماعی حیات ہویاانفرادی زندگی، مذہبی عبادات ہوں یادنیوی کاروبار، خاندانی حقوق ہوں یامعاشرتی ذمہ داریاں، معاشی معاملات ہوں یاملکی انتظامات، جنگ کا میدان ہویاقاضی کی عدالت، نکاح کی مجلس ہو یا میت کا گھر، خوشی کا موقع ہویاموت کا وقت، فتح نصیب ہویاشکست کا سامنا، امن کا زمانہ ہویافساد کے ایام، صلح کا پیغام ہویاحملہ کی دھمکی، دوست واحباب کے ساتھ نشست وبرخاست ہویاغیرقوموں کے ساتھ تعلقات، غرض ہرشعبۂ زندگی سے متعلق فقہ اسلامی کے اتنے ہمہ گیر جامع اور زرین احکامات ہیں کہ کسی زمانہ اور کسی ملک ومعاشرہ میں اور معاملاتِ زندگی کے کسی گوشہ میں بھی کسی مسلمان کو اپنی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے اور حکومتوں کو اجتماعی تقاضوں کوپورا کرنے اور نئے حالات کا سامنا کرنے کے لیے شرعی حدود وقیود سے باہرجھانکنے کی بالکل ضرورت پیش نہیں آسکتی، فقہ اسلامی کی اس جامعیت وکاملیت کا اصل سرچشمہ شریعت کی وہ جوہری خصوصیات ہیں جواس کودوسرے قوانین موضوعہ سے ممتاز کرتی ہیں، جہاں تک موجودہ زمانے کے نئے مسائل کا تعلق ہے تویہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ اس بحرذخار سے موتی اور ہیرے چن کرانسانوں کے سامنے پیش کریں؛ تاکہ وہ اس کی روشنی میں اپنی زندگی کاسفر طے کریں اور بحمدللہ وہ اس کام کوبحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں اور رہتی دنیا تک وہ اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے؛ یہی وجہ ہے کہ آج کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل علماء نے پیش نہ کیا ہو۔
(۲)مستشرقین کا فقہ اسلامی پر ایک اور اعتراض یہ ہے کہ وہ رومن لاء سے ماخوذ ہے؛ کیونکہ فقہ اسلامی اور رومی قوانین میں یکسانیت ومماثلت پائی جاتی ہے، فقہی کتابوں کی ترتیب اور رومی قوانین کی ترتیب ایک جیسی ہے، ہوسکتا ہے کہ رومی قوانین کا عربی یافارسی ترجمہ فقہاء کے پیشِ نظر رہا ہو؛ نیزفقہ میں "البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر" کاقانون من وعن رومی قانون سے نقل شدہ ہے، فتح اسلامی کے وقت قیصریہ اور بیروت میں ایسی عدالتیں موجود تھیں جن میں رومی قوانین کے مطابق فیصلے ہوتے تھے اور یہ عدالتیں فتح اسلامی کے بعد بھی وہاں موجود رہیں؛ چونکہ مسلمان اس وقت تک شہر کی متمدن زندگی اور اس کے اصولوں سے زیادہ واقف نہیں تھے اور دوسری طرف قدیم متمدن ممالک کی فتوحات کے نتیجے میں نئے نئے مسائل بڑی سرعت کے ساتھ پیدا ہورہے تھے اور قرآن وحدیث سے حاصل شدہ مواد ان ضروریات کی تکمیل کے لیے کافی نہیں تھا، اس لیے قدمائے اسلام مفتوحہ ممالک کے سابقہ قوانین کے مطابق فیصل کرتے تھے، اس طرح بہت سے رومی قوانین اسلامی قانون کی شکل اختیار کرگئے۔
 اگربنظرِ غائر ان دلائل کا مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوگا کہ مستشرقین نے حقائق کو مسخ کرنے ،خیالی مفروضات کوحقیقت کا جامہ پہنانے اور رائی کا پہاڑ بنانے میں جس جرأت وبیباکی کا مظاہرہ کیا ہے؛ شاید اس کی مثال دوسری جگہ نہ مل سکے، تاریخ اسلام وتاریخ فقہ کا ادنی طالب علم بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ جب تک پیغمبرِ اسلام اس دنیا میں جلوہ افروز رہے اس وقت تک ہرمسئلہ کا فیصلہ وحی الہٰی کی روشنی میں دربارِ رسالت سے ہوتا تھا، جب آپ  کی ذات بابرکت سے دنیا محروم ہوگئی اور یکے بعد دیگرے مسلسل فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کو بیشمار نئے مسائل کا سامنا ہوا توخلفاءراشدینؓ نے ان مسائل کے حل کے لیے مدینۃ المنورہ میں جہاں رومن لاء کے اثرات کی پرچھائیاں بھی نہیں تھیں؛ اہلِ فقہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت تشکیل دی، جب بھی کوئی نیا مسئلہ کسی ملک میں پیش آتا اور قرآن وحدیث میں اس کا صریح حکم نہ ملتا تووہ دربارِ خلافت مدینہ منورہ لکھ کر بھیج دیا جاتا خلفاء راشدین کے انفرادی اجتہاد یافقہاء کی اجتماعی رائے سے اس مسئلہ کا فیصلہ کیا جاتا؛
اس طرح فقہ اسلامی کے چار ماخذ وسرچشمے قرار پائے۔
(۱)کتاب اللہ
(۲)سنت رسول اللہ
(۳)اجماع
(۴)قیاس واجتہاد۔
جن میں سے تین کی طرف نبی کریم  نے اپنی حیاتِ طیبہ ہی میں صراحت کے ساتھ رہنمائی فرمادی تھی؛ جیسا کہ حضرت معاذرضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے، خلفاء راشدینؓ نے اپنے عہد زرین میں قانون سازی کے معاملہ میں انہی چاروں اصول کی پیروی کی اور فقہ اسلامی کا ایک بڑا حصہ اسی عہد کے فیصلوں پر مشتمل ہے، عہدِ صحابہؓ کے اختتام پر مدینہ منورہ ہی میں تابعین میں سے فقہاء سبعہ کی ایک جماعت موجود تھی جوقرآن وحدیث اور اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں اپنے اجتہاد سے پیش آمدہ مسائل کوحل کرتی تھی اور ان کے فیصلوں کا فقہ اسلامی میں اعتبار کیا جاتا تھا، ان فقہاء سبعہ میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے رومی قانون کی تعلیم حاصل کی یاکسی رومی کتاب کا مطالعہ کیا تھا، جب دوسری صدی میں مذاہب اربعہ کا ظہور ہوا توکتاب وسنت کے بعد ان کا سب سے بڑا ماخذ یہی فیصلے تھے۔
اسی کے ساتھ ایک نگاہ چاروں مکاتب فقہ پر بھی ڈال لیجئے، عقیدہ اہلِ سنت کے مطابق جن میں حق منحصر ہے:
(۱)فقہ حنفی:
یہ اکثرمسلمانوں کا فقہ ہے جوامام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے، آپ کی پوری زندگی کوفہ، مکہ، بغداد کے ان علاقوں میں گذری جہاں رومی قوانین کوکوئی جانتا بھی نہ تھا اور نہ اس دور میں کسی رومی کتاب کا عربی یافارسی میں ترجمہ ہوا تھا، تدوین فقہ یااسلامی قانون سازی کے بارے میں آپؒ نے کن ماخذ ومصادر سے استفادہ کیا اور اس میں آپ کا طریقۂ کار کیا تھا آپؒ خود بیان فرماتے ہیں:

"میں کتاب اللہ کو لیتا ہوں؛ اگراس میں حکم نہیں پاتا توسنتِ رسولؐ کو لیتا ہوں اورجب معاملہ ابراہیم ، شعبی، ابنِ سیرینؒ وغیرہ تک پہنچتا ہے توجیسے انہوں نے اجہتاد کیا میں بھی اجتہاد کرتا ہوں"۔

(المیزان الکبری:۱/۲)

فقہ حنفی تنہا آپ کی محنتوں کا نتیجہ نہیں؛ بلکہ چالیس ائمہ اسلام کے علم وفہم کا عطر مجموعہ ہے، ان میں بڑے بڑے ائمہ حدیث اورماہرین لغت عربی تھے، ایسے بھی تھے جوتفسیر وفقہ میں امام مانے جاتے تھے؛ لیکن ایسا ایک شخص بھی وہاں نظر نہیں آتا جس نے رومی درسگاہوں میں تعلیم حاصل کی ہو یارومی قوانین سے متاثر ہو۔
(۲)فقہ مالکی:
یہ امام دارالھجرت مالک بن انسؒ کی طرف منسوب ہے، آپ کی پوری عمر مدینۃ النبی  ہی میں گذری، اس ڈر سے کہ مبادا مدینہ منورہ سے باہر موت نہ آجائے، آپؒ نے کبھی دوردراز کا سفر نہیں کیا، آپؒ کے نزدیک کتاب وسنت کے بعد اہلِ مدینہ کا عمل بھی حجت ہے، بے ضرورت قیاس کوآپؒ سخت ناپسند فرماتے تھے، اس لیے آپ کے مذہب میں قیاس بہت کم پایا جاتا ہے، تقریباً یہی حال امام شافعیؒ اور امام احمدؒ کے فقہ کا ہے، ان میں سے کسی نے کبھی کسی رومی علاقہ کا سفر کیا نہ کسی رومی کتاب کا مطالعہ کیا؛ بلکہ خالص کتاب وسنت، اجماع وقیاس ابتداء سے انتہا تک ان کا مرجع وماخذ ہے؛ لہٰذا یہ کہنا کہ فقہ اسلامی اور خصوصاً فقہ حنفی رومن لاء سے ماخوذہے ،آفتاب کے نور کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
رہامستشرقین کا یہ مفروضہ کہ عربی اسلامی فتوحات کے بعد بھی ایک صدی تک رومی علاقوں میں قدیم رومی نظام ہی جاری رہا اور اس کے مطابق رعایا کے فیصلے ہوتے رہے، کیا عجب ہے کہ فاتحینِ اسلام نے قانون سازی کے معاملہ میں اس سے استفادہ کیا ہوگا یاکم ازکم اسکندریہ وبیروت کے قانون کی تعلیم کے مشہور مدارس ہی کی روایات جاری رہی ہوں گی تویہ ان کا خیال ہی خیال ہے، جس میں سچائی اور حقیقت کی کچھ بھی آمیزش نہیں ہے؛ بفرض محال اگر اس بات کو تسلیم بھی کرلیں کہ عربی فتوحات کے بعد بھی وہاں ایک صدی تک سابقہ قوانین نافذ رہے، تب بھی اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ مسلمانوں نے اس سے علمی استفادہ کیا ہوگا، مسلمان خود ایسے زرین اصول وقوانین اور جامع شریعت مدینۃ المنورہ سے ساتھ لیکر ہرجگہ بانٹتے ہوئے روم کی سرحدوں تک آئے تھے جس کی فضیلت وبرتری کا کھلا اعتراف ایک مستشرق کے قلم نے ان الفاظ میں کیا ہے:

"اسلامی قانون کا نظام اپنی داخلی خصوصیات کے لحاظ سے ہی ہے، ماہرین کی نظروں میں وہ تعریف وتحسین کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہے، اپنے ہم عصر ابتدائی جاگیری قوانین کے بے ڈھنگ رسوم اور وحشیانہ رواجوں پر وہ بے حد فضیلت رکھتا ہے"۔     

  (چراغِ راہ:۱/۱۹۰)

نیزمستشرقین کا فقہی کتابوں کے مسائل اور رومی قوانین کے کچھ مسائل میں یکسانیت ثابت کرنا اسی طرح مسائل کی ترتیب میں مماثلت قرار دینا اور اس کی وجہ سے فقہ اسلامی کورومی قانون سے ماخوذ قرار دینا علمی اعتبار سے نہایت غلط ہے؛ کیونکہ دومختلف قوانین کے اندر اگرتھوڑی سی مشابہت پائی جائے توکیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک قانون دوسرے قانون کی محرف اور بگڑی ہوئی شکل ہے، قوانین عالم میں چند اصول ایسے لازماً ہوتے ہیں جوہرقانون کا جزوہوتے ہیں، ان لازمی اجزاء پر یہ دعویٰ کرنا کہ اس قانون کوسامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، نری جہالت اور عناد محض ہے اور مستشرقین کا فقہ اسلامی اور رومی قوانین کی ترتیب میں مشابہت کا دعویٰ تو یہ ان کا دعویٰ ہی دعویٰ ہے، جس کے حقائق پرزور تردید کررہے ہیں، اس دعویٰ کی حقیقت کوواشگاف کرتے ہوئے مشہور محقق عالم دین ڈاکٹر حمیداللہ حیدرآبادی تحریر فرماتے ہیں:

"میں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کم ازکم ابتدائی فقہی کتابوں کی ترتیب ہی قانون روما کے مماثل ہو، قانون روما زمانہ قبل مسیح ہی سے عبادات کومعاملات سے الگ کرچکا تھا اور دنیوی معاملات کا قانون، اشخاص، اشیاء اور ضابطہ کے تین حصوں میں تقسیم ہوتا تھا، جب کہ فقہ حنفی کی ترتیب عبادات، معاملات اور جنایات کے تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی، جس میں قواعدِ عمومی یعنی دستور اور احکامِ مملکت بھی شامل تھے اور ان کی یہ ترتیب رومی قانون کی ترتیب سے بنیادی اختلاف رکھتی ہے، فقہ حنفی کا زمانہ بنوامیہ کے آخری اوربنوعباس کے ابتدائی دور پر مشتمل تھا اور ابھی یونانی علوم وفنون کا زیادہ ترجمہ اور رواج نہیں ہوا تھا؛ پھرجوکچھ بھی اس وقت ترجمہ ہوا تھا اس سے چند فنی اصطلاحیں منطق، فلسفہ، طب ونجوم، کلام وجغرافیہ وغیرہ میں اگرچہ مدد لی گئی تھی؛ لیکن اصولِ فقہ میں کوئی معرب اصطلاح نہیں ملتی، اس کے جتنے بھی الفاظ ہیں وہ قدیم عربی ہی کے مروج الفاظ ہیں اوراکثرقرآنی الفاظ ہیں، امام مالکؒ نے مؤطا کے ابواب کی جوترتیب رکھی ہے وہ امام ابوحنیفہؒ کی ترتیب سے مختلف ہے اور عبادات ومعاملات سب خلط ملط ہیں، ان دوہمعصر فقہاء کی تالیفوں میں ابواب کی ترتیب میں بے انتہاء اختلاف بتاتا ہے کہ ترتیب میں بھی ان کے سامنے کوئی بیرونی نمونہ نہ تھا اور ہرکوئی اپنی ذہنی جولانی سے اپنے لیے کوئی خاکہ پسند کررہا تھا، امام شافعیؒ اور امام حنبلؒ کا زمانہ نسبتاً بعد کا ہے (لیکن ان کی کتابیں بھی بیرونی نمونہ سے بالکل آزاد ہیں) اس کے علاوہ فقہ اسلام اور قانونِ روما میں مسائل کے لحاظ سے بھی غیرمعمولی فرق ہے، عبادات، تعزیرات، مالیات، قرض وسود، وراثت، نکاح وطلاق، نسب، خلع، غلاموں کی آزادی، عدل گستری، قانون بین الممالک وغیرہ میں دونوں کے درمیان کوئی مماثلت ہی نہیں ہے"۔

(خلاصہ چراغِ راہ:۱/۲۲۸،۲۲۹)

اس قدر بے حدوبے شمار نمایاں اختلافات کی موجودگی میں فقہ اسلامی   کے رومی قانون سے ماخوذ ہونے کا دعوی کرنا کسی محروم العقل محقق ہی کا کام ہوسکتا ہے۔
۳۔بعض مستشرقین کا یہ کہنا ہے کہ فقہ اسلامی براہِ راست قرآنِ حکیم سے اخذ نہیں کیا گیا ہے؛ بلکہ اس کا خمیر بنوامیہ کے انتظامی عمل سے اٹھایا گیا ہے اور بعض اوقات بنو امیہ کا عمل قرآن کریم کے الفاظ پر بھاری ہوتا تھا۔
 لیکن ان کی یہ بات  بھی بالکل واہیانہ ہے اور ہم اس کو صریح علمی خیانت قرار دینے پر مجبور ہیں؛ اگران کے اس لغومفروضہ کوتسلیم کرلیا جائے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنوامیہ سے پہلے خلافتِ راشدہ اور خلافتِ فاروقی کے عہدِ زرین میں قانونی ضروریات کی تکمیل کس طرح کی جاتی تھی؟ یہ دعویٰ کہ دورِ جاہلیت کے رسم ورواج اور مختلف ملکوں کے قوانین پر عمل کیا جاتا رہا ہوگا، ایک بے بنیاد دعویٰ ہے، جس کی تاریخ کھل کر تکذیب کررہی ہے؛ کیونکہ عہدِ نبوی اور دورِ خلافت میں ایسے بیشمار واقعات رونما ہوئے جس کی نظیر نہ دورِ جاہلیت میں تھی نہ دوسری قوانین میں اور یہ تصور کہ اس انقلاب آفریں دور میں اسلامی معاشرہ کسی قانون کا پابند نہ تھا ایسا نظریہ ہے جواپنی تردید خود کررہا ہے اور جسے کسی درجہ میں تسلیم کرنا ممکن نہیں۔
اس کے برخلاف حقیقت یہ ہے کہ قرآن جس طرح ایک اصلاحی پند نامہ ہے اسی طرح ایک جامع اور اٹل قانونی دستور بھی ہے، قرآن جہاں اصلاح باطن اور فکر آخرت پر زور دیتا ہے وہیں اعلیٰ معاشرتی قوانین بھی عطا کرتا ہے، اس کا ہراصول اپنے دامن میں زبردست وسعت اور بے شمار جزئیات کوسمیٹا ہوا ہے، وہ عملی معاشرتی اور عائلی قوانین جوقرآن میں صراحتاً بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد چارسو سے متجاوز ہے، اس کے علاوہ احادیث میں بیان کردہ اصول وقوانین کو بھی ملالیا جائے توا سکی تعداد بے شمار ہوجاتی ہے اور یہی چیزیں فقہ کی اساس اور بنیاد ہیں، اس پسِ منظر میں مستشرقین کے مذکورہ غلط دعویٰ کو تسلیم کرنے کے لیے انکارِ حقائق میں مہارت اور حالات وواقعات سے نظریں چرانے کی جرأت کی ضرورت ہے؛ نیزان کا یہ دعویٰ کہ بعض اوقات بنی امیہ کا عمل قرآن حکیم کے الفاظ پر بھاری ہوتا تھا، انتہائی دروغ گوئی ہے اور فقہاء ومحدثین پر افتراء ہے۔
یہ تو مستشرقین کے وہ اعتراضات تھے جوانہوں نے فقہ کوجزءاسلام مانتے ہوئے اس پر کئے تھے، اس کے برعکس بدقسمتی سے امتِ مسلمہ میں بھی ایک ایسا طبقہ ہے جوفقہ اسلامی کوکتاب وسنت کا مخالف قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف برسرِپیکار ہے، ان کا گمان یہ ہے کہ:
(۴)فقہ اسلامی چند علماء کی رایوں کا مجموعہ ہے، کتاب وسنت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان حضرات کا یہ اعتراض درحقیقت فقہ کی حقیقت سے ناواقفیت پر مبنی ہے، الموسوعۃ الفقہیۃ میں فقہ کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے، تفصیلی دلائل سے عملی فروعی اور شرعی احکام کوجاننے کا نام فقہ ہے"۔         

   (الموسوعۃ الفقہیۃ:۱/۲۲)

مذکورہ عبارت میں تفصیلی دلائل سے مراد قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس ہیں؛ چنانچہ فقہ کا ایک حصہ وہ ہے جوکتاب وسنت پر مبنی ہے، ایک حصہ وہ ہے جواجماع سے مستنبط ہے اور ایک حصہ وہ ہے جوقیاس سے ماخوذ ہے، فقہ کا جوحصہ قیاس پر مبنی ہے، اس کے بارے میں بظاہر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ علماء کی آراء کا مجموعہ ہے؛ لیکن یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ فقہ میں علماء وفقہاء کی وہی رائے قابلِ قبول ہے، جس کا دارومدار قرآن وحدیث کی کسی نص پر ہو؛ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہرزمانہ میں فقہاء کرامؒ ایسے رایوں کو رد کردیتے ہیں جوشریعت کے مخالف ہوں، جب قیاس کی بنیاد بھی قرآن وحدیث ہی پر ہے توپھرفقہ کوخلافِ شریعت کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے؟ نیزاہلِ اجتہاد کے قرآن وحدیث پر مبنی آراء وقیاسات قابلِ اعتماد اور حجت ہیں، اس دعویٰ کی بنیاد دراصل رسول اللہ  کی وہ نصیحت ہے جوآپ نے حضرت معاذؓ کویمن روانہ کرتے وقت فرمائی تھی، اس وجہ سے اگر بالفرض فقہ کوعلماء کی آراء کامجموعہ مان بھی لیا جاے تب بھی وہ اس قابلِ نہیں کہ اُسے کتاب وسنت کا مخالف قرار دے کر اس کونذر آتش کردیا جائے۔
(۵)ان حضرات کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ فقہ میں ایسے ناشائستہ مسائل پائے جاتے ہیں، جن کوایک شریف الطبع آدمی زبان پرلاتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہے؛ مگران حضرات کا یہ اعتراض بجائے خود قابل اعتراض ہے؛ کیونکہ اسلام ایسی شرم کا قائل نہیں ہے جوشرعی احکام کے سیکھنے سکھانے میں حائل ہو، اسلام ایک جامع اور آخری دین ہے، اس میں پیدائش سے لیکر موت تک طہارت سے لیکر عبادات ومعاملات تک ہرقسم کے چھوٹے بڑے مسائل واحکام بالتفصیل بیان کیے گئے ہیں، خصوصاً پاکی وناپاکی (جس پر بہت سی اہم عبادات کی قبولیت وصحت کا دارومدار رہے) سے متعلق بہت سے چھوٹے بڑے امور خودپیکر شرم وحیا ءرسالت مآب  نے اس اہتمام اور توجہ سے صحابہ کرامؓ کوسکھائے تھے کہ مشرکین کواعتراض وتمسخر کا ذریعہ ہاتھ آگیا اور بطورِ استہزاء انہوں نے حضرت سلمانؓ سے کہا تھا کہ تمہارے نبی  تولوگوں کو بول وبرازسے فراغت اور صفائی تک کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں؟۔
یعنی جس طرح آج کے معترضین حضرات فقہی کتابوں میں مذکور بعض مسائل کوخلافِ شرم وحیاء سمجھ کر فقہ پر اعتراض کررہے ہیں، کفار ومشرکین بھی پاکی واستنجا کے احکام کوبے حیائی خیال کرکے اسلام اور ذاتِ گرامی پر اعتراض کرتے تھے؛ لیکن جس طرح مشرکین کا اعتراض بالکل بے جا اور لایعنی تھا، اسی طرح ان معترضین کا اعتراض بھی بالکل لغو اور فضول ہے، جس طرح جسمانی امراض کے علاج کے سلسلہ میں مردوزن، شرم وحیا، ستروحجاب کا مکمل لحاظ نہیں رکھا جاتا ویسے ہی تحقیق مسائل میں بھی زائد شرم وحیا کی گنجائش نہیں ہے، قرآن وحدیث میں پاکی ناپاکی بول وبراز، حیض ونفاس، ازدواجی تعلقات وغیرہ کے بہت سے احکام بیان کیے گئے ہیں؛ اگرشرم وحیا کا لحاظ کرکے انہیں بیان نہ کیا جاتا توحضرات معترضین ان مسائل میں کس کے مطابق اور کس طرح عمل کرتے ؟ جب قرآن وحدیث میں اس طرح کے مسائل واحکام بیان کئے گئے ہیں توفقہ انہی دونوں کی شرح ہے، جس میں کتاب وسنت کے اصولوں سے بے شمار جزئیات کی تشریح اور احکام کی علتوں کے ذریعہ لاتعداد نظائر کی تخریج کرکے ان کے شرعی احکام بیان کئے گئے ہیں؛ لہٰذا فقہ پر اعتراض قرآن وحدیث پر اعتراض کرنے کے مترادف ہے۔
لہٰذا جوشخص فقہ اسلامی کے رومی قانون سے ماخوذ ہونے کا دعویدار ہے یااس کو بنو امیہ کے انتظامی امور کا مجموعہ مانتا ہے یاپھر اس کوکتاب وسنت کے مخالف ایک تیسری چیز اور بدعت قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تووہ نہ صرف یہ کہ ایک سچی اور ثابت شدہ حقیقت کا منکر اور کذب محض کا قائل ہے؛ بلکہ اس کا یہ افسانوی دعویٰ تحقیق وتجزیہ کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔
بہرِحال ان ساری تفصیلات سے ایک کھلے ذہن اور غیرجانبدار قاری پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ فقہ اسلامی کی یہ عظیم عمارت قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس کے ایسے چار مضبوط ستونوں پر قائم ہے جونافع تغیرات کو انگیز کرنے، ہرزمانے کے صالح تقاضوں کو پورا کرنے اور اوہام پرست اخلاق باختہ سوسائٹی کی جگہ ایک معتدل ومثالی معاشرہ فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیتوں سے معمور ہیں۔




فقہ اسلامی اور رومن قوانین

علومِ اسلامی میں علوم القرآن اور علوم الحدیث کے بعد جس علم کوسب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ "فقہ" ہے اور اسلامی تاریخ کی بہترین ذہانتیں اور صلاحیتیں اس فن کی آبایاری اور نشوونما میں صرف ہوئی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ایک "نبی اُمی" (فداہ روحی) کای لائی ہوئی شریعت کے ایک ایک حکم کی عقدہ کشائی کے لیے زمانہ کے اتنے ذکی، عالی حوصلہ بالغ نگاہ اور وسیع النظر شخصیتوں کا شب وروم اورسحر وشام مصروف عمل ہوجانا بجائے خود آپ کا ایک معجزہ اور آپکی صداقت وحقانیت کی دلیل ہے۔
"فقہ اسلامی" نے جس وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ انسانی زندگی کا احاطہ کیا ہے اور زندگی کے تمام مسائل ومشکلات میں رہبری کافریضہ انجام دیا ہے؛ نیز اس کی تمام جزئیات میں جونظم ونسق اور ربطِ باہم ہے، ایک خاص قسم کا توازن واعتدال ہے، عصری تغیرات کواحتیاط کے ساتھ مناسب طور پرقبول کرنے کی صلاحیت ہے اور اس کی منصوبہ بندی کے لیے علماء نے احکام کے استنباط کے جوطریقے مقرر کئے ہیں، مسائل واحکام کی درجہ بندی کی ہے، شریعت کے مقاصد متعین کئے ہیں، مصلحتوں کوقبول کرنے کے اصول وضع کئے ہیں، جن کو"اصول فقہ" کہا جاتا ہےـــــ  وہ بقول مشہور محقق ڈاکٹر حمیداللہ (پیرس) قانون کی تاریخ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ 

  (خطباتِ بھاولپور، خطبہ:۴۔ تاریخ اصول فقہ واجتہاد:۱۱۸، فقہ:۱۱۰، ڈاکٹر صاحب نے اصولِ فقہ کومسلمانوں کی ایجادِ خاص قرار دیا ہے)

اسی طرح اسلامی قانون کواسلامی زندگی سے مربوط اور زمانہ کے مسائل سے ہم آہنگ رکھنے کی غرض سے جوٹھوس نظریات فقہاء نے پیش کئے ہیں اور جن کو "قواعد فقہ" سے موسوم کیا ہے، وہ ان کی قانونی دقت نظر، ژرف نگاہی اور زمانہ آگہی کا زندہ جاوید ثبوت ہے۔
مستشرقین علماء جن کومشرق اور خصوصیت سے اسلام کی کوئی خوبی ایک نظر نہیں بھاتی؛ اگرہنرکو عیب بنانے میں کامیاب نہ ہوں توکم ازکم اتنا توکرتے ہی ہیں کہ مسلمانوں اور عربوں کے کارناموں کا رشتہ کسی اور قوم اور خاص کرروم ویونان سے جوڑ دیتے ہیں؛ تاکہ یہ مسلماونں کے کھاتہ میں نہ رہ سکے؛ یہی کام ان حضرات نے فقہ کے بارے میں کیا اور اسلامی فقہ اور خصوصیت سے "حنفی فقہ" کو"رومن قوانین" سے ماخوذ ومستفاد اور قرآن وحدیث سے بے تعلق یاکم ہم آہنگ قرار دیا ہے، ان سطور میں اسی پرروشنی ڈالی جانی ہے۔
تین بحث طلب نکات
اس کے لیے اوّل یہ بات دیکھنی ہوگی کہ کیا امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ تک رومن قوانین کی رسائی تاریخی قرائن کی روشنی میں ممکن ہے؟ دوسرے امام ابوحنیفہؒ اور دوسرے فقہاء اسلام نے احکام شریعت کے لیے جومصادر مقرر کئے ہیں ان میں کسی اجنبی قانون کے لیے کوئی جگہ ہے یانہیں؟ اور وہ کس حد تک کتاب وسنت سے متعلق یاغیرمتعلق ہیں، تیسرے رومن قوانین اور فقہ اسلامی کا مسائل زندگی کے مختلف شعبوں میں موامنہ کرنا ہوگا کہ ان میں کس درجہ مطابقت اور ہم ااہنگی ہے اور جن احکام میں مطابقت ہے اس کی بنیاد کتاب وسنت اور عقل عام کے تقاضے ہیں، یارومی قوانین سے استفادہ، یہ تین نکاح ہیں، جن کی روشنی میں بہ سہولت اس دعوے کوکہ فقہ حنفی رومی قوانین سے مستفاد ہے، پرکھا جاسکتا ہے اور اسی ترتیب سے مجھے اس مسئلہ پرگفتگو کرنی ہے۔
تاریخی قرائن
امام ابوحنیفہؒ (۸۰۔۱۵۰ھ) ارانی النسل تھے، اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ آپ فارسی زبان سے واقف رہے ہوں گے؛ لیکن امام صاحب کے زمانہ تک عراق اور خلافتِ اسلامی کے مشرقی صوبہ جات میں عربی مبان پوری طرح حاوی ہوچکی تھی؛ یہی تصنیف وتالیف، تدریس وقضاء، سرکاری دفاتر وامثلہ جات؛ یہاں تک کہ وعظ وپند اور روزمرہ بول چال کی زبان تھی، اس کی ایک وجہ تواس پورے خطہ کا دامنِ اسلام میں آجانا اور اسلام کے بنیادی لٹریچر قرآن وحدیث کا عربی زبان میں ہونا ہے، دوسرے عربوں کا سیاسی غلبہ اور تیسرے مفتوح قوموں پرفاتح اقوام کا ایک نفسیاتی اثر اور زبان وتہذیب میں فاتحین کے مقابلے کمتری اور مرعوبیت کا احساس بھی اس کی وجہ ہوسکتا ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی بھی اصل زبان یہی تھی اور اسی میں آپ کے علوم کا تمام خزانہ محفوظ ہے، نہ ہی آپ رومی زبان سے واقف تھے، نہ شام وفلسطین کے ایسے علاقوں سے آپ کا تعلق رہا جوپہلے رومی سلطنت کا حصہ تھے اور یہ توبہت قدیم عہد ہے، اس صدی سے پہلے تک عربی زبان میں رومی قوانین کے ترجمہ کا کوئی سراغ نہیں ملتاــــــ  رومی قوانین کے عربی زبان میں منتقل نہ ہونے کا ایک خاص سبب ہے، مسلمانوں کا شروع سے یہ تصور رہا ہے کہ ان کواپنے نظامِ زندگی کے معاملہ میں دوسری اقوام سے ممتاز اور مشخص رہنا چاہیے، یہ چیز ان کوکتاب وسنت اور اسلامی روایات پر انحصار کا پابند کرتی ہے اور دوسری قوموں کے طریقوں اور اطوار سے بازرکھتی ہے، ہاں وہ علوم وفنون جومحض وسائلِ زندگی سے متعلق ہیں، یاانتظاماتِ ملکی میں معاون ہیں ان کوقبول کرنے اور پروان چڑھانے میں مسلمانوں نے نہایت فراخ دلی اور کشادہ قلبی سے کام لیا ہے، جیسے فلکیات، ریاضی، جغرافیہ، طب، طبعیات وغیرہ، پس امام ابوحنیفہؒ رومی زبان سے واقف تھے، نہ رومی قانون کا لٹریچر عربی میں منتقل ہوا تھا اور نہ روم کی سابق ریاستوں سے آپ کا وطنی، تجارتی یاعلمی علاقہ تھا، اس لیے تاریخی اعتبار سے کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں جوامام ابوحنیفہؒ  اور فقہ حنفی کے رومی قوانین سے تأثر اور استفادہ کوکسی درجہ میں بھی ظاہر کرتا ہو۔
فقہ اسلامی کے مآخذ
فقہائے اسلام نے بنیادی طور پرقانون کے چارسرچشمے (Sourcessot Law) مقرر کئے ہیں، ان میں ترتیب اس طرح ہے کہ اوّل قرآن مجید کوپیشِ نظر رکھا جائے؛ پھررسول اللہ کی حدیثیں سامنے رکھیں جائیں، اس کے بعد ان احکام کا درجہ ہے،جن پر امت کا اجماع واتفاق ہے، ظاہر ہے کہ امت کا کسی ایسی بات پراتفاق ممکن نہیں جوقرآن وحدیث کی روح کے خلاف ہو، اس لیے اجماع بھی دراصل کتاب وسنت کے مزاج ومذاق کی اجماعی ترجمانی سے عبارت ہے، چوتھا درجہ "قیاس" کا ہے، قیاس یہ ہے کہ کتاب وسنت میں کسی مسئلہ میں جس سبب خاص کی بناء ئرکوئی حکم لگایا گیا ہو، وہ سبب جہاں جہاں پایا جائے وہاں وہی حکم لگایا جائے، مثلاً حدیث میں کتے کے جھوٹے کوناپاک قرار دیا گیا، حدیث سے بعض اور جانوروں کے جھوٹے کے متعلق بھی ایسا ہی حکم ملتا ہے، فقہاء نے غور کیا اور اس نتیجہ پرپہونچے کہ اس کی وجہ ان جانوروں کاناپاک ہونا ہے؛ لہٰذا فیصلہ کیا کہ تمام جانور جن کا گوشت ناپاک اور حرام ہے، ان کا جھوٹا بھی حرام اور ناپاک ہے؛ اسی کا نام "قیاس" ہے؛ اسی طرح قیاس کی اصل غایت کتاب وسنت کے احکام کے دائرہ کوسیع اور ان صورتوں تک متعدی کرنا ہے، جن کا کتاب اللہ اور سنتِ رسول میں ذکر نہیں؛ گویا فقہ کے اصل مآخذ "کتاب وسنت" ہی ہیں اور اجماع وقیاس میں بھی بالواسطہ کتاب وسنت ہی کی اطاعت وفرماں برداری ہے، اس کے علاوہ فقہ کے جن دوسرے مصادر آثارِ صحابہؓ، استحسان، مصالحِ مرسلہ، استصحاب، عرف وعدات، شرائع ماقبل، سدذرائع کا ذکر کیا جاتا ہے، وہ سب بالواسطہ کتاب اللہ، سنت رسول اور قیاس ہی میں داخل ہیں اور اصولِ فقہ میں اس نکتہ کوبار بار واضح کردیا گیا ہے کہ ان کی حیثیت کتاب وسنت کی طرح مستقل نہیں ہے اور نہ یہ نصوص سے آزاد ہیں؛ جہاں تک اجنبی ذریعہ سے قانون سازی کی بات ہے توان میں سے صرف امم سابقہ کی شریعت ہے، جس کوکسی درجہ میں اس زمرہ میں رکھا جاسکتا ہے؛ لیکن شرائع ماقبل سے مراد پہلی آسمانی کتابوں کے وہ احکام ہیں جن کوقرآن مجید نے منسوخ نہیں کیا ہے، یہ احکام کسی دوسری قوم کے عرف ورواج اور سماجی اطوار پرمبنی نہیں ہیں؛ بلکہ وحی الہٰی پرمبنی ہیں اور اس طرح کتاب اللہ کا ایک حصہ ہے، تاہم فقہائے اسلام نے مجرد ان کتابوں پراعتماد کرکے کسی مسئلہ میں کوئی رائے قائم نہیں کی ہے؛ بلکہ کتاب وسنت میں اممِ سابقہ جن احکام کی تصدیق کی گئی ہے اور امتِ محمدیہ میں ان کے باقی رہنے کا اشارہ کیا گیا ہے انہیں کوقابل عمل تسلیم کیا گیا ہے، اس سلسلہ میں ایک اجماعی حکم "قانونِ قصاص" کا ہے جس کا خود قرآنِ پاک نے ذکر کیا ہے، ممکن ہے اس طرح کا ایک آدھ حکم اور بھی مل جائے، ظاہر ہے اس کواسلامی فقہ میں اجنبی اثرقرار نہیں دیاجاسکتا۔
بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ پیغمبر اسلام نے مسلمانوں کے دوسری اقوام سے تشبیہ کوناپسند فرمایا ہے اور اعتقادات وعبادات کے علاوہ تہذیب ومعاشرت میں بھی ان کی مشابہت کوناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے، اس لیے فقہائے اسلام نے بھی قدم قدم پراس کوملحوظ رکھا ہے اور ان احکام کوبھی جن میں کتاب وسنت کی ہدایات موجود واضح نہیں ہیں، اجنبی اثر سے آزاد رکھا ہے، مجدد اعظم شیخ الاسلام امام حافظ ابن تیمیہؒ (۷۲۸ھ) نے اس موضوع پرایک مستقل کتاب "اقتضاء الصراط المستقیم" تالیف فرمائی ہے اور جہاں تک اس حقیر کا مطالعہ ہے فقہ حنفی اس باب میں زیادہ حساس ہے، غالباً اس لیے کہ ایران اور مشرق کے علاہ میں اس فقہ کی نشرواشاعت کی وجہ سے فقہائے احناف غیرمسلموں کے شعار اور ان کی تہذیب واطوار سے زیادہ واقف تھے۔
رومی قانون کے مآخذ سے تقابل
اب ایک موازنہ فقہ اسلامی کے ان مآخذ اوررومن لا کے مآخذ (Sourcees) کے درمیان کرنا چاہئے کہ اس سے مسئلہ زیربحث کوسمجھنے میں آسانی ہوگیـــــ  بنیادی طور پررومی قوانین دوطرح کے ہیں، ایک مکتوبی اور دوسرے غیرمکتوبی، مکتوبی سے مراد سرکاری قوانین ہیں اور غیرمکتوبی سے مراد وہ قوانین ہیں جوعوام کے رسم ورواج کی وجہ سے ازخود قانون کا درجہ حاصل کرگئے ہیں، گیس (Gaius) کے بقول مکتوبی قانون کے چھ مآخذ ہیں:
(۱)قانون موضوعہ اعلیٰ ترین (Leges) یعنی شاہان قدیم شرفاء روما کی مجلسِ عشریہ، غیررومی باشندوں کی مجلسِ مأۃ وغیرہ کے طئے کئے ہوئے قوانین۔
(۲)قانون موضوعہ مجلس عوام
(۳)سینٹ کی تجاویز
(۴)فرامینِ شاہی
(۵)مجسٹریٹ کے اعلانات۔
(۶)مجتہدین، یعنی مذہبی راہبوں کے فتاویٰ اور دوسرے قانون دانوں کی توضیحات۔

(ملاحظہ ہو، احمدعبداللہ المسدوسی کی کتاب، قانونِ روما برائے ایل، ایل، بی:۱۲۔۱۷)

اب غور کرو کہ "قانونِ مکتوبی" کے ان تمام مآخذ میں انسان کواصل واضح قاونون اور اس کے فہم واختیار اور حکم وفیصلہ کوقانون کی اساس مانا گیا ہے؛ کہیں یہ حیدیثت بادشاہ کوحاصل ہے، کہیں قاضی کو؛ کبھی شرفاء روم کی جماعت دہگانہ کو، کبھی اہلِ روم کے ساتھ دوسری اقوام کے صدرایوان کو، کہیں مجلس عوام اور مذہبی یاقانونی علماء کوــــــ مگراسلامی قانون کا تصور اس سے یکسر مختلف ہے؛ یہاں قانون کا سرچشمہ ذاتِ خداوندی ہے "أَلَالَهُ الْحُكْمُ" (الأنعام:۶۲) اور اسی کے ہاتھ فیصلوں کی زمام ہے "إِنِ الْحُكْمُ إِلَّالِلَّهِ" (یوسف:۴۰) یہی مسلمانوں کے تمام مکاتب فقہ کا مزاج ومذاق ہے، رومی نظامِ قانون میں رائے ایے قابلِ تحسین بات اور مفخرہ ہے اور فقہاء اسلام کے ہاں خودرائی ایک تہمت اور عیب ہے جس کی طرف اس کی صحیح یاغلط نسبت کردی جاتی ہے، وہ اس سے بصد تاکید انکار ومعذرت کرتا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ہمیں فقہاء کے ہاں کثرت سے کتاب وسنت پرانحصار، اس کی بالادستی اور اس کے مقابلہ "رائے" کی مذمت اور اس کی بے اعتباری کے اقوال ملتے ہیں۔                            

(المیزان الکبریٰ کا ابتدائی حصہ دیکھا جائے)

پیغمبراسلام کی ولادت باسعادت سے تقریباً نصف صدی پہلے ۵۲۷ء میں شہنشاہ جسٹینیٹن روم کا فرماں روا ہوتا ہے اور روم کے منتشر، مروج اور منسوخ ومعطل، باضابطہ موضوعہ قوانین اور عوام میں جاریہ اور مروجہ افعال کو "مجموعہ قوانین ملک" کے نام سے مرتب کرتا ہے اور "رسم ورواج" کوبھی قانون کے ساتویں مآخذ کی حیثیت سے قبول کرتا ہے۔                        

(قانونِ روما:۱۲)

ممکن ہے بعض حضرات کوقانون کے اس ماخذ میں اور فقہ اسلامی میں عرف وعادت کا اعتبار کئے جانے میں یکسانیت نظر آئے؛ لیکن اپنی روح کے اعتبار سے ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے "رومن لا" چونکہ انسانی مرضیات وخواہشات پرہی مبنی ہے، اس لیے اس قانون میں رسم ورواج کوخاصی اہمیت حاصل ہونا؛ بلکہ بعض اوقات موضوعہ قانون پرفائق ہوجانا عین مطابقِ فطرت ہے۔
اسلام کا تصور یہ ہے کہ مسلمان جوزندگی کے تمام مسائل میں کتاب وسنت کی ہدایات پرعمل پیرا ہوں گے ان میں جوکچھ رواج پائے گا، ضروری ہے کےکہ وہ کتاب وسنت کے مغائر نہ ہو، اس لیے مسلمانوں کے ایسے رواجات جن کے متعلق کوئی ممانعت یاایجابی حکم موجود نہ ہو، مشروع اور جائز تصور کئے جائیں گے اور غالباً ایسا اس لیے ہے کہ خود رسول اللہنے ایسے امور کومباح بتایا ہے اور "عفو" کا نام دیا ہے

"ومامسکت عنہ فھو مماعفا عنہ"۔

اسی طرح قرآن مجید نے بھی عرف کے معتبر ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر "معروف" پرعمل اور معروف کی دعوت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، امام رازیؒ کے بقول جوباتیں عقل کوبہتر محسوس ہوں اور اصحاب عقل کی نگاہ میں ناپسندیدہ نہ ہوں وہ سب معروف ہیں:

"والمعروف هوماحسن في العقل فعله ولم يكن منكرا عند ذوي العقول الصحيحة"۔

(شرح السیرالکبیر:۱/۱۹۸)

پس عرف کا اعتبار رومی قانون سے تاثر کا نتیجہ نہیں ہے؛ بلکہ کتاب وسنت کے مقرر کئے ہوئے اصول کی روشنی میں ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اگرکوئی مروج عمل کتاب وسنت کے خلاف ہوتوفقہاء کے یہاں قابل قبول نہیں:

"العادۃ تجعل حکما اذایوجد التصریح بخلافہ فاما عند وجود التصریح بخلافہ یسقط اعتبارہ"۔                 

   (قانونِ روما:۲۲۔۲۵)

ترجمہ:عادت حکم ہوگی، جب کہ اس کے خلاف صراحت موجود نہ ہو اگراس کے خلاف نص کی صراحت موجود ہوتواس کا اعتبار نہ ہوگا۔

ابوابِ قانون کی تعیین وترتیب
ماخذ قانون کے بعد ایک قانون دوسرے قانون کا اثرابواب قانون کی تعیین وترتیب میں قبول کرتا ہے اس پہلو سے جب کوئی شخص فقہ اسلامی اور رومن لا کا جائزہ لے گا تودونوں میں اسی درجہ تفاوت نظر آئے گا جتنا کہ خودمآخذ ومصادر میں، رومن لا میں قوانین کے چار حصے کئے گئے ہیں، اوّل قانونِ ملک جورومی نسل کے شہریوں کے لیے مخصوص تھا، دوسرے قانونِ اقوام، جوبین ملکی اور بین قومی تعلقات سے متعلق تھے، تیسرے قانونِ قدرت، یہ عام اصولِ انصاف تھے، جس کے تحت روم کے غیررومی نسل کے باشندوں کے معاملات طے کئے جاتے تھے، چوتھے قانونِ حکام عدالتی، یہ قاضیوں کے وہ عدالتی تشریحات تھیں، جن سے بعض نئے قوانین کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔                        

   (قانونِ روما:۲۲۔۲۵)

فقہ اسلامی کے ابواب اس سے یکسر مختلف ہیں اور اس سے بہت زیادہ جامع، ہمارے یہاں ابواب فقہیہ کی ترتیب اس طرح ہے:
(۱)عبادات:
یعنی وہ افعال جوبراہِ راست بندے اور خداکے درمیان ہیں، مثلاً ارکانِ اربعہ۔
(۲)مناکحات:
وہ احکام جوشخصی زندگی سے متعلق ہیں، نکاح، طلاق، رضاعت، نفقہ، میراث وغیرہ۔
(۳)معاملات:
وہ احکام جودوآدمیوں کے درمیان مالی لین دین وغیرہ سے متعلق ہیں، خریدوفروحت، اجارہ، شرکت وغیرہ۔
(۴)اجتماعی احکام:
اس میں امارت وقضا، جہاد، بین ملکی اور بین قومی تعلقات وغیرہ کی بحثیں آتی ہیں اور عام طور پر ان کوذکر کیا جاتا ہے۔
(۵)عقوبات:
جرائم اور سزاؤں کا ذکر خواہ یہ سزائیں شریعت کی طرف سے مقرر ہوں یانہ ہوں، کوئی بھی صاحب انصاف معمولی غوروفکر سے اندازہ کرسکتا ہے کہ ان دونوں قوانین کے مزاج میں کس قدر فرق اور بون بعید ہے۔
مختلف احکام کا تقابل
اب ایک سرسری نظر فقہ اسلامی اور رومی قانون پرڈال کراس امر کا اندازہ کرنا چاہئے کہ احکام کی تفصیلات میں یہ کس حد تک ایک دوسرے سے قریب ہیں؟ اس پہلو سے بھی ان دونوں مکاتب قانون میں خاصا فرق نظر آتا ہے، رومی قانون کی طرح اسلام نے بھی ابتداً غلامی کوایک قانونی عمل تسلیم کیا تھا؛ لیکن پیدائشی طور پر آزاد شخص کے غلام ہونے کی صورت اس کے سوا کوئی نہ تھی کہ وہ جنگ میں گرفتار کیا جائے اور یہ غلامی کوتسلیم کرنا بھی کچھ اس وجہ سے نہ تھا کہ رومی قانون اس کا قائل تھا؛ بلکہ اس وقت اقوامِ عالم کے نظامِ جنگ کی اساس اسی پرتھی اور پہلی آسمانی اور مذہبی کتابوں نے بھی اس کوروا رکھا تھا، اس لیے عملی طور پراس کوماننے اور بعض اصلاحات کے ساتھ جاری رکھنے کے سوا چارہ نہ تھا؛ لیکن رومی قانون میں جنگ میں گرفتاری کے سوا مزید سات اسباب ہیں جن کی وجہ سے آزاد انسان کوغلام بنایا جاسکتا ہے۔
(۱)کوئی شخص سازشی طور پر اپنے آپ کو غلام ظاہر کرکے فروخت کردے (۲)آزاد شدہ غلام آقاء سابق سے احسان فراموشی کا سلوک کرے
(۳)مردم شماری یافوجی خدمت سے گریز کرے
(۴)مقروض ہو اور قرض ادا نہ کرے
(۵)چور چوری کرتا ہوا پکڑا جائے
(۶)آزاد عورت کسی غلام سے اس کے آقا کی رضامندی کے بغیر مباشرت کرے۔                        

(قانون روما:۲۲۔۲۵)

اسلام نے شہری اور بنیادی حقوق میں نسل وخاندان کی کوئی تفریق نہیں کی ہے؛ لیکن رومی قانون حق رائے دہی، حدماتِ عامہ کے حصول کے حق، حقِ تجارت، یہاں تک کہ حقِ ازدواج، جس سے بچوں پراختیارِ پدری حاصل ہوتا ہے سے بھی غیررومی نسل کے لوگوں کومحروم رکھتا ہے (قانونِ روما:۴۸) لیکن شاہ جسٹینن کے زمانہ سے مملکت روما کے تمام باشندوں کو "رومی" تسلیم کرلیا گیا تھا۔
اسلامی فقہ ہربالغ شخص کوــــــ سوائے اس کے کہ وہ عقل کے اعتبار سے متوازن نہ ہوـــــــ  اپنے بارے میں مکمل خود اختیاری قرار دیتا ہے؛ لیکن رومی قانون میں "مورثِ اکبر" کا تصور ہے، مثلاً اگردادا زندہ ہے تووہ اپنے صاحب اولاد فرزندوں پربھی اسی طرح ولایت رکھتا ہے جس طرح کہ کسی نابالغ بچہ پر۔                  

(قانونِ روما:۵۰)

اسلام میں ثبوتِ نسب نکاح، یااپنی باندی سے وطی یاوطی بالشبہ، انہیں تین ذرائع سے ہوسکتا ہے، زنا کی وجہ سے نسب کا ثبوت نہیں ہوتا؛ لیکن رومی قانون میں ازواج، ماں باپ کے ذریعہ بھی نسب کوصحیح تسلیم کیا جاتا ہے (قانونِ روما:۵۰)اسلام میں رشتۂ ولدیت ایک فطری اور طبعی رشتہ ہے، یہ کوئی عقد اور معاملہ نہیں ہے، جوزبان کے بول کے ذریعہ پیدا ہوجائے، رومی قانون "تبنیت" کو تسلیم کرتا ہے "تبنیت" کے ذریعہ مصنوعی طور پر جس شحص سے اس کا رشتہ فرزندی قائم ہوا ہے وہ اس کے خاندان میں داخل ہوجاتا ہے اور اس کا اپنے اصل خاندان سے رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔                          

(قانونِ روما:۵۱۔۵۳)

اسلام میں باپ دادا کوبھی ولایت حاصل ہے؛ مگروہ ایک بہت محدود نوعیت کی ہے اور اس کے لیے کسی تصرف کی اجازت نہیں جوزیرولایت بچوں کے مفاد میں نہ ہو؛ نیز اولیاء کو ان کے مال پرمالکانہ حقوق بھی حاصل نہیں ہیں، اس کے برخلاف قانون روما میں باپ کے اختیارات بہت وسیع ہیں؛ یہاں تک کہ اسے اپنی اولاد کوبیچنے اور قتل کرنے تک کی اجازت تھی اور جس طرح آقا اپنےغلام کوآزاد کرسکتا تھا؛ اسی طرح باپ کے اپنی اولاد کوآزاد کرنے کا تصور تھا۔     

(قانونِ روما:۵۴۔۵۶)

قانون ازدواج میں بھی ان دونوں کے درمیان خاصا تفاوت پایا جاتا ہے، قانون روما میں اصولی طور پرعورت شادی کے بعد اپنے خاندان سے کٹ جاتی ہے اور شوہر کے خاندان میں ضم ہوجاتی ہے اور شوہر کے بزرگ خاندان کے لیے وہ محض ایک شئی کے درجہ میں ہوتی ہے (قانونِ روما:۵۷) اسلام کا تصور یہ ہے کہ نکاح محض ایک معاہدہ ہے، نکاح کے بعد بھی عورت کا اپنے خاندان سے تعلق باقی ہے، وہ اپنے خاندان سے میراث اور مختلف حقوق پانے کی حقدار ہوتی ہے اور شادی کے بعد بھی تمام انسانی اور بنیادی حقوق اسے حاصل ہوتے ہیں وہ شئی اور سامان کے درجہ میں نہیں ہوتی۔
قانونِ روما شادی شدہ شخص اور غلام کے لیے نکاح کوجائز نہیں رکھتا، نہ صغرِسنی کے نکاح کوجائز قرار دیتا ہے (قانونِ روما:۵۷،۵۸) اسلام نے ان تمام صورتوں میں نکاح کی اجازت دی ہے، مذہبی رسوم کے ساتھ نکاح کے علاوہ ایک عرصہ تک ناجائز طریقہ پرمردوعورت ایک دوسرے کے ساتھ رہیں اور میاں بیوی کا ساسلوک کریں تواس سے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے (قانونِ روما:۵۸،۵۹) اسلام اس طرح کے بے ضابطہ نکاح اور بے شرمی پرمبنی نکاح کروا نہیں رکھ سکتا۔
اسلام میں نکاح میں عورتو ں کی طرف سے جہیز کا کوئی تصور نہیں؛ بلکہ مرد کومہر ادا کرنا ہے؛ لیکن رومی قانون اس کے برعکس جہیز کا تصور پیش کرتا ہے اور اکثراوقات شوہر کواس کا حقدار قرار دیتا ہے، مہر کا کوئی تصور قانونِ روما میں نہیں(قانونِ روما:۹۱) قانونِ روما کی رو سے عورتیں کبھی بھی اپنے نفس کی مالک نہیں ہوتیں؛ بلکہ ولی کی ولایت اس پردائمی رہتی ہے(قانونِ روما:۹۱) اسلام میں بالغ ہونے کے بعد عورت کواپنے نفس اور مال پرخود ولایت حاصل ہوتی ہے۔
اسلام کا تصور یہ ہے کہ مالِ مرہون سے استفادہ جائز نہیں؛ لیکن قانونِ روما کے تحت مالِ مرہون سے نہ صرف استفادہ جائز ہے؛ بلک مالِ مرہون میں قرض خواہ کوحقِ تصرف بھی حاصل ہے (قانونِ روما:۹۸) قانونِ روما میں وصیت کے لیے کوئی حدمقرر نہیں، جب کہ اسلام میں تہائی کی تحدید کرتا ہے، قانونِ روما کے تحت متبنی، آزاد کردہ فرزند، لڑکی وراثت کی حقدار نہیں، وراثت سے محرومی، حجب اور حصہ وراثت کی مقار میں بھی فقہ اسلامی اور قانونِ روما میں شاذ ونادر ہی موافقت پائی جاتی ہے۔  

(دیکھئے،قانونِ روما:۱۲۶۔۱۳۳)

قانونِ روما سود کوجائز قرار دیتا ہے؛ یہاں تک کہ امین امانت کی ادائیگی میں تاخیر کرے تواس سے بھی سود لیا جاسکتا ہے (قانونِ روما:۱۴۱) اسلام میں سود شدید ترین خبائث میں سے ہے۔
یہ محض چند مثالیں بطورِ نمونہ کے ذکر کی گئی ہیں؛ ورنہ اگرمختلف شعبہ حیات کا تفصیل کے ساتھ تقابلی مطالعہ کیا جائے تواندازہ ہوگا کہ فقہ اسلامی اور قانونِ روما کے درمیان اس قدر جوہری اختلاف ہیں کہ کوئی صاحب بصیرت اس طرح کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ فقہ اسلامی "رومن لا" سے ماخوذ یامستفاد ہے، ممکن ہے بعض قوانین میں مطابقت پائی جائے؛ لیکن یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ دنیا کا ہرقانون انسانی ضروریات کی تکمیل اور مقتضیات فطرت کوپورا کرنے کےلیے ہے، انسان کی ضرورت اور اس کے کچھ تقاضے بالکل یکساں ہوا کرتے ہیں، اس لیے کچھ احکام ایسے ہیں کہ دنیا کے ہرقانون میں ایک طرح سے تسلیم کئے جاتے ہیں، یاان میں معمولی تفاوت پایا جاتا ہے، مثلاً نکاح کی اجازت، خریدوفروخت، اجارہ، ہبہ، عاریت، وصیت، قرض وغیرہ کی گنجائش، انسانی قتل اور ہتک عزت، سرقہ وغصب، خیانت وغیرہ کی ممانعت، اس طرح کی چیزوں میں مختلف قوانین کے درمیان یکسانیت ایک دوسرےسے استفادہ کی دلیل نہیں؛ بلکہ انسانی ضروریات اور تقاضوں میں ایک حد تک یسکانیت کا ثبوت ہے، یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ قانونِ معاملات کا بڑا تعلق انسانی تجربات سے ہے اور یہ مصلحت انسان کے دوش بدوش چلتا ہے، ایسے احکام میں مطابقت کا پایا جانا ایک بالکل فطری اور طبعی امر ہے۔
کلمہ آخریں
پس حقیقت یہ ہے کہ فقہ اسلامی کی اپنی مستقل بنیادیں ہیں اور اس کا غالب حصہ کتاب وسنت سے ماخوذ ہے، جوتھوڑے سے احکام نصوص سے صراحۃ یااشارۃ ثابت نہیں وہ بھی ایسے قیاس پرمبنی ہیں کہ جن کی جڑیں کتاب وسنت میں پیوست ہیںــــــ  اسلامی فقہ اور انسان کے خود ساختہ قوانین کے درمیان دوایسے جوہری فرقہ ہیں، جن کا قدم قدم پرمشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور جن سے فقہ اسلامی کا امتیاز اور بہ مقابلہ دوسرے قوانین کے اس کی برتری واضح ہوتی ہے۔
اوّل: یہ کہ فقہ اسلامی میں ایک خاص طرح کی پائیداری اور ثبات ہے، دوام واستحکام اور بقا وقرار ہے انسان کے وضعی قوانین میں ایک مسلسل تغیرات اور بے ثباتی ہے، کسی بھی قانون میں جہاں جمود ایک نقص ہے وہیں بے ثباتی اور استقامت وپائیداری سے محرومی بھی کچھ کم درجہ کا عیب نہیں، اس کی وجہ ظاہر ہے، فقہ اسلامی کا سرچشمہ وہ نصوص ہیں جوقیامت تک ہرطرح کے تغیرات واصلاح سے ماوراء ہیں اور وضعی قوانین کی اساس انسانی خیالات وجذبات ہیں، جوہرآن وزمان تغیروتبدیلی سے دوچار ہیں۔
دوسرے:فقہ اسلامی حقیقی نافعیت اور مآل وانجام کی سعادت پرمبنی ہے، وضعی قوانین میں حقیقی نفع وضرر سے زیادہ خواہشات وجذبات کی رعایت ہے، شراب صحتِ انسانی کے لیے مضر ہے، نشہ جنون کا ایک درجہ ہے، خنزیرکا گوشت مختلف طبعی بیماریوں اور اخلاقی مفاسد کی جڑ ہے، برہنگی علاوہ عصمت وعفت کے مذہبی تصور کے اخلاقی اقدار کے بھی منافی اور امن وسکون کا بھی غارت گرہے، اسلام نے ان مضرتوں پرنظر رکھی ہے اور ان امور کے بارے میں اس کی مخالفت ناقابل تبدیل ہے؛ مگروضعی قوانین ان تمام نقصانات کوتسلیم کرنے کے باوجود ہوائے نفسانی اور ہوسِ انسانی کے سامنے سپرانداز ہےــــــ اس فکر ومزاج نے اس کواعتدال وتوازن سے دور، عدل وانصاف سے محروم اور اصول فطرت سے نآہنگ بھی کردیا ہے اور موم کی طرح قوت وصلابت سے خالی بھی، جیسے روز توڑا جائے اور نئی نئی صورتیں دی جائیں.

"إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ"۔




مستشرقین اور علم حدیث

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
اسلام ابدی مذہب ہے، جو اپنے اندرآفاقیت رکھتا ہے، اس کا کوئی گوشہ ایسا نہیں کہ انگشت نمائی کی گنجائش نکل سکے؛ لیکن ابتداء سے ہی اس کو ہمہ جہتی مقابلہ کا سامنا رہاہے،سابقہ زمانہ میں یہود ونصاریٰ سے جوتصادم رہا، اس کی نوعیت دوسروں سے مختلف رہی؛ کیونکہ ان دونوں قوموں کو "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم کھائے جارہا تھا، ان میں نصاریٰ نسبتاً ٹھیک بھی تھے؛ مگریہود کا دماغی توازن اس طرح بگڑچکا تھا کہ خدائی گرفت تک کا خوف دل ودماغ سے جاتا رہا، جب قرآن نے ان پر "الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ" کاتازیانہ برسایا تو ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کی نگاہوں میں معتوب ہوگئے، آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے؛ لیکن اچانک بنی اسماعیل میں آخری نبی کا ظہور ہمیشہ کے لیے ان کے لیے باعث افسوس رہا؛ پھر"یثرب" کی امارت وسیادت کے لیے یک گونہ اتفاق، عبداللہ بن ابی پر ہوچکا تھا؛ لیکن ہجرت نبوی نے سارا بنابنایا کھیل بگاڑکر رکھ دیا، دیکھتے دیکھتے حالات سنگین ہوتے گئے؛ یہاں تک کہ "خیبر" جیسے ناقابلِ تسخیر قلعے بھی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے اور پھروہ دن بھی آیا کہ حضرت عمرؓ نے جزیرۃ العرب سے ان تمام کو نکال باہرکردیا اور ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب  کا جملہ اچھی طرح یاد ہے:

"لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَلَاأَتْرُكُ فِيهَا إِلَّامُسْلِمًا"۔

(ابوداؤد، باب فی إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، حدیث نمبر:۲۶۳۵)

کہ جزیرۃ العرب سے یہود ونصاریٰ کو بالکل نکال باہرکرونگا اس خطے میں سوائے مسلمان کے اور کسی کو رہنے کا استحقاق نہیں۔

ان سب نے مل کر عداوت میں اس قدر شدت پیدا کردی کہ وہ ابتداء ہی سے ، اسلام اور مسلمانوں کو راست دشمن سمجھنے لگے، اس سلسلے میں بہت سی جنگیں لڑی گئیں جو ہنوز جاری ہیں، بیت المقدس جو مسلمانوں کے یہاں مقدس ہونے کے ساتھ ساتھ، اتفاق سے ان کے مسخ شدہ عقیدے میں بھی قابلِ احترام سمجھا جاتا رہا ہے، حضرت عمرؓ کی فتح کے بعد سے ہی اس کی بازآبادکاری کے لیے کوشاں رہے، ان کی مشترکہ کوششوں نے مثالی کردار بھی ادا کیا، خون ریز لڑائیاں لڑی گئیں، مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور انسانی جانوں کو بے تحاشا تہہ تیغ کیا گیا، ایمانڈوژیل پوئی کا قسیس لکھتا ہے:

"حضرت سلیمان  کی قدیم ہیکل میں اس قدر خون بہا تھا کہ اس میں لاشیں صحن میں تیرتی پھرتی تھیں، کسی کا ہاتھ، کسی کا پیر، کسی کا دھڑ، سب بے جوڑ اس طرح سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے کہ انہیں پہچاننا مشکل تھا، وہ سپاہی جنہوں نے یہ قتل عام کیا تھا، بمشکل خون اور اس سے پیدا ہونے والی بھاپ کی بوبرداشت کرسکتے تھے"۔                         

(تمدنِ عرب:۲۹۹)

پورے اٹھاسی برس تک بیت المقدس، یہودیوں کے قبضے میں رہا؛ مگر جناب نورالدین زنگیؒ پھر صلاح الدین ایوبیؒ کی فراستِ ایمانی اور بے لوث جذبہ اسلامی؛ نیزخدا کی عطا کردہ قائدانہ جنگی صلاحیتوں کے طفیل مسلمانوں کے ہاتھ آیا، یہ پوری اندوہناک داستان دوصدی کو محیط ہے، ڈاکٹرحمیداللہ لکھتے ہیں:

"جب ۳۶۱ھ میں مصر میں فاطمیوں کا قبضہ ہوا توفاطمی حکمرانوں نے عیسائیوں کی تجارتی سرگرمیوں کی سرپرستی کی؛ لیکن اہل اسلام کی یہ تمام رواداری اور فراخ دلی، ان کے تعصب کی آگ نہ بجھاسکی، ان کے لیے بیت المقدس میں مسلمانوں کا وجود کسی طرح بھی قابلِ برداشت نہ تھا؛ چنانچہ یورپ کی متحدہ عیسائی طاقتوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کیا، یسوع مسیح کے دین اور صلیب مقدس کی حفاظت کے نام پر یورپ کے ان وحشی اور غیرمہذب دیوانوں نے جس سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کیا نصرانیت کی تاریخ میں اسے "مقدس لڑائی" کے نام سے پکارا جاتا ہے عیسائیوں اور مسلمانوں کی یہ المناک کشمکش جو تقریباً دوصدی تک جاری رہی، تاریخ میں صلیبی جنگوں کے نام سے مشہور ہے"۔                       

(تاریخِ اسلام:۴۳۵، مؤلف: ڈاکٹر حمید اللہ)

لیکن ان سب کے باوجود مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا؛ بلکہ ہرمیدان میں ثبات قدمی کا ثبوت پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلامی قوت ان علاقوں میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے لگی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میدانِ کارزار میں دو بدو لڑنے کی ہمت ٹوٹ گئی۔
پالیسی بدلو تحریک
تب جاکر "پالیسی بدلوتحریک" کا آغاز ہوا، تیروتلوار پھینک دیئے گئے اور تہذیب وثقافت اور اسلامی اقدار کا مطالعہ شروع کیا گیا؛ لیکن یہ کوئی آسان کھیر کا نوالہ نہیں تھا کہ آسانی سے نگل لیا جاتا؛ بلکہ صدیوں کوشش کے بعد ایک منظم تحریک بن سکی، جس کا آغاز ۱۳۱۳ء میں ہوا اور اکیڈیمی کی شکل ۱۷۸۳ء میں دی گئی، تقریباً پانچ صدی میں ان کی تمام کوششیں عربی تعلیم پر مرکوز رہیں۔
دواہم مقاصد
اس سازش نے ابتداء سے ہی دواہم مقاصد کے لیے کام کرنا شروع کیا۔
(۱)سب سے پہلا مقصد تو یہ تھا کہ اسلام کے فکری حملہ کی روک تھام کی جائے جس کا حاصل یہ تھا کہ اسلام نے ان کے مسخ شدہ عقیدے پر جو ضرب کاری لگائی ہے جس کی وجہ سے ان کے کمزور عقیدے والے ہی نہیں، راسخ العقیدہ حضرات بھی برگشتہ ہوتے جارہے ہیں اور رفتہ رفتہ اسلام کو گلے سے لگاتے جارہے ہیں، ان کو دوبارہ اسلام سے نکال کر اپنا ہم نوابنالیا جائے، یاوہ لوگ جو اب تک اسلامی تعلیمات کو پورے طور پر سمجھ نہیں پائے ہیں ان کو کم ازکم اپنے مذہب پر ثابت قدم رکھا جاسکے؛ چنانچہ ان کو اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑی، مشرکوں کے پرانے پروپگنڈوں کی تشہیر سے کام چلایا، ان پروپگنڈوں سے کماحقہ نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوا۔
نظریۂ استشراق کا آغاز
(۲)ان کا دوسرا سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے دین ومذہب پر اقدامی حملہ کیا جائے اس حملے کا حاصل یہ تھا کہ جولوگ اسلام کو اپنے گلے سے لگا چکے ہیں کم از کم وہ تشکیک کے شکار ہوجائیں؛ تاکہ جس طرح ان کی مسخ شدہ عقیدے کا دائرہ کار تنگ ہوچکا ہے؛ اسی طرح اسلام کا دائرہ تنقید بھی متاثر ہوجائے، اس کے لیے انہوں نے پوری جانفشانی سے اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ، عربی زبان تھی اس کی شدبد پیدا کرنے کے لیے تقریباً پانچ صدیاں صرف کی گئیں؛ چنانچہ ۱۳۱۲ء کو جینوا کی کلیسا نے عربی زبان کو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلِ نصاب کرنے کا فیصلہ کیا تو ۱۷۸۳ء میں اس کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اصل مقصد کی یاد دہانی کرواکر اصل کام کا آغاز کیا گیا اوراس تحریک کا نام Orientalism کادیا گیا، اس وقت استشراق اور مستشرق کا لفظ "شرق" سے وضع کیا گیا (ترات الاسلام:۱/۷۸، بحوالہ من افتراءات المستشرقین) اصطلاحی لحاظ سے بھی بڑی پیچیدگی رہی، ہردور کے علماء نے اپنے اپنے گردوپیش کے تناظر میں اس کی تعریفیں کیں، ہرایک نے یہ کوشش کی کہ اس دور کی وہ تمام کوششیں جو اسلام میں تشکیک کی غرض سے کی جارہی ہیں سب سمٹ آویں، مختلف تعریفوں میں سے یہاں پر دوتعریفوں کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:
جناب احمد عبدالحمید غراب نے مختلف تعریفوں کو ذکر کرنے کے بعد تمام کا ماحصل ان الفاظ میں کشید کیا ہے کہ:

"استشراق، یورپ کے اہل کتاب کفار کی ان تحقیقات کا نام ہے جو اسلام کی صورت بگاڑنے، مسلمانوں کے ذہن میں اس کی جانب سے شک پیدا کرنے اور اس سے برگشتہ کرنے کے لیے خاص طور پر اسلامی عقیدہ وشریعت، تہذیب وتمدن، تاریخ نیززبان وبیان اور نظم وانتظام کے تئیں کی جائیں"۔

(رویۃ اسلامیہ للاستشراق:۷، مؤلف: احمد عبدالحمید غراب)

ڈاکٹرعبدالمنعم فواد نے ان تمام تعریفوں کا تحقیقی جائزہ لینے کے بعد تھوڑی اور تعمیم پیدا کی ہے؛ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

"استشراق، عربوں کے ماسوا، مشرق ومغرب کے غیرمسلموں کی وہ تمام کوششیں ہیں جواسلامی عقیدے، شریعت، تہذیب وتمدن، زبان وبیان اور نظم وانتظام کا مطالعہ کرکے اسلام کی شبیہ بگاڑنے اور تشکیک پیدا کرنے کے لیے کی جائیں"۔

(من افتراءات المستشرقین:۱۸)

اس کا حاصل یہی ہے کہ ان کے ہرکارنامے کے پیچھے کچھ زہریلے جراثیم چھپےہوتے ہیں، جواسلامی تاریخ کو کھاتے چلے جاتے ہیں اور دین کے روشن حقائق کو بھیانک بنادیتے ہیں، اس سے انکار نہیں کہ ان کی تحقیقات سے بعض اوقات مسلمانوں کو فائدہ بھی پہنچا اور مسلمانوں نے فائدہ اٹھایا بھی؛ کیونکہ ان کے دفعات میں سے ایک اہم دفعہ یہ بھی ہے
کہ دانائی کی بات خواہ کہیں بھی ہو، مؤمن کی گمشدہ پونجی ہے، جہاں ملے اُٹھالے۔

 (ترمذی، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، حدیث نمبر:۲۶۱۱)

لیکن امت کو ان کی نگارشات اور زہرآلود تحقیقات سے نقصان بھی پہنچا، علامہ سید سلیمان ندوی نے ایک موقع پر اس تشوش کا اظہار کیا تھا:

"ان کی یہ قابل قدر سرگرمیاں ہمارے شکریہ کی مستحق ہیں؛ لیکن ظاہر ہے کہ یہ علوم ان کے نہ تھے، اس لیے وہ ہمدردی اور محبت جومسلمانوں کو اپنی چیزوں سے ہوسکتی ہے ان کو نہیں ہے اس لیے ان کی تحقیق وتدقیق سے جہاں فائدہ ہورہا ہے، سخت نقصان بھی پہنچ رہا ہے، جس کی تلافی آج مسلمان اہل علم کا فرض ہے، ان میں ایک ایسا گروہ ہے جو اپنے مسیحی نقطہ نظر سے اسلامی علوم پر نظرڈال کر تحقیق وریسرچ کے نام سے ایک نیامحاذِ جنگ بناکر، اسلام، داعی اسلام، اسلامی علوم اور اسلامی تہذیب وتمدن پر بے بنیادحملہ کررہا ہے، قرآن مجید، حدیث، تصوف، سیر، رجال، کلام اور فقہ سب ان کی زد میں ہے، نہیں کہا جاسکتا کہ یورپ کے اس رنگ کے لٹریچر سے اسلام کو کس قدر شدید نقصان پہنچا ہے اور پہنچے گا؛ اگریہ زہر اسی طرح پھیلتا رہا اور اس کا تریاق نہیں تیار کیا گیا تو معلوم نہیں کس حد تک نوجوان مسلمانوں کے دماغوں میں سمیت سرایت کرجائے گی"۔

(اسلام اور مستشرقین:۱/۱۱۔۱۲، مرتب عبدالرحمان اصلاحی)

مستشرقین کی توجہ حدیث کی طرف
ویسے تو ان دشمنانِ اسلام نے دین کے ہرشعبہ ہی کو نشانہ بنایا اور ہرگوشے کو مشکوک کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ حدیث پاک، قرآن پاک کے بعد سب سے اہم مصدر ہے، دین کی صحیح فہم اور اسلام کی حقیقی تصویر کشی، حدیث کے بغیر نامکمل رہتی ہے، اس لیے ہم مستشرقین کو دیکھتے ہیں کہ اس اہم مصدر کی طرف کچھ زیادہ ہی متوجہ رہتے ہیں اور آزاد تحقیق وریسرچ کے نام پر زہراگلتے ہیں۔
اس سلسلے میں سب سے نمایاں شخصیت ہمیں دو نظر آتی ہیں:
(۱)سب سے پہلی شخصیت گولڈزیہر (Gold Hazer) کی ہے، جس کو عربی کتابوں میں "جولدتسھر" سے جانا جاتا ہے یہ شخص جرمن کا یہودی ہے، اس نے تمام اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۸۹۰ء میں پہلی تحقیق شائع کی، جس میں پورے اسلامی مآخذ کو مشکوک ٹھہرایا اس کی سب سے اہم کتاب "دراسات اسلامیۃ" کے نام سے ملتی ہے، جس کو پڑھ کر بعض اسلام کے نام لیوا بھی اپنی راہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔
(۲)دوسری شخصیت "جوزف شاخت" (Joseph Schacht) کی ہے جس نے سارے اسلامی علوم وفنون کا دقتِ نظری سے مطالعہ کیا، خاص طور پر "فقہ اسلامی" پر توجہ دیا اور مختلف چھوٹے بڑے رسالے لکھے "بدایۃ الفقہ الاسلامی"اس کی ضخیم کتاب ہے، جس میں اس نے سارے ہی مآخذ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔

(تفصیلی حالات ملاحظہ کیجئے، موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)

حدیث کے متعلق سے "گولڈزیہر" نے زیادہ توجہ متن پر مرکوز کی، جب کہ "شاخت" نے سند اور تاریخ سند کو مشکوک قرار دیا، مندرجہ ذیل سطور میں انہی دونوں حضرات کے وہ شبہات جو بنیادی حیثیث رکھتے ہیں ذکر کئے جاتے ہیں۔
تدوین حدیث کی اصل حقیقت
یہ بات تقریباً تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہے کہ کتابت حدیث اور حفظ حدیث دونوں زمانہ نبوت سے شروع ہوچکے تھے، بعض صحابہ کے صحیفے اس کے لیے پیش کئے جاسکتے ہیں؛ مگر"تدوین رسمی"  حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں ہوئی اس کا سہرا کسی ایک شخص پر نہیں؛ بلکہ مختلف علاقوں کے مختلف ذی استعداد قابل اعتماد حضرات کے ہاتھوں یہ کام ہوا؛ البتہ امام زہریؒ کا کارنامہ عظیم تھا ۔
سب سے پہلا تیر
اس لیےمستشرقین نے کوشش یہ کی کہ پہلی ہی بنیاد کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تاکہ ساری عمارت خود بخود ڈھ جائے؛ چنانچہ سب سے پہلا تیر گولڈزیہر نے یہ چلایا کہ حدیث بنی امیہ کے دور کی پیداوار ہے؛ یہی اسلام کا مکمل اور پختہ بلکہ دورِ عروج ہے؛ چنانچہ وہ لکھتا ہے:

"إن القسم الأكبر من الحديث ليس صحيحاً مايقال من أنه وثيقة للإسلام في عهده الأول عهد الطفولة، ولكنه أثر من آثار جهود المسلمين في عصر النهضة"۔

(نظریہ عامۃ فی تاریخ الفقہ لعلی حسن عبدالقادر: ۱۲۶)

کہ حدیث کا ایک بڑا حصہ صحیح نہیں ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام کے یہ دستاویز عہد اوّل جوعہد طفولت ہے سے چلے آرہے ہیں یہ تومسلمانوں کے دورِ عروج کی کوششوں کے آثار میں سے ہے۔

پھراس الہام کی تشریح اس طرح کی کہ پہلی صدی ہجری میں امویین وعلویین کے دوگروہ آپس میں نبردآزما ہوئے، کسی کے پاس قرآن وحدیث سے ٹھوس دلائل نہیں تھے اس لیے کچھ حدیثیں گھڑ کر چلتا کیا گیا، ہرگروہ نے اپنے زعم کے مطابق حدیثیں گھڑیں، طرفہ تماشہ یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی بھی حاصل رہی؛ بلکہ شاباشی دی گئی، حضرت امیرمعاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے یوں کہا تھا:

"لَاتَھْمِلْ فِیْ أَنْ تَسُبَّ عَلِیاً وَأَنْ تَطْلُبَ الرَّحْمَۃَ لِعُثْمَانَ وَأَنْ تَسُبَّ أَصْحَابَ عَلِیٍ وَتَضْطَہَدُ مِنْ أَحَادِیْثِہِمْ وَعَلَی الضِدِّ مِنْ ھَذَا وَأَنْ تَمَدَّحَ عُثْمَانَ وَأَھْلَہُ وَأَنْ تَقْرُبَھُمْ وَتَسْمَعْ اِلَیْہِمْ"۔

کہ حضرت علی پر سب وشتم کرنا، حضرت عثمان کے حق میں رحمت کی دعا کرنا؛ نیزاصحاب علی کو گالی گلوج کرنا ان کی حدیثوں کے خلاف حدیثیں گڑھنا مت چھوڑو۔

اس امر کی تائید
پھر تائید میں یہاں تک کہا کہ دیکھتے نہیں:

"فَإِنَّهُ لَاتُوْجَدْ مَسْأَلَةٌ خِلَافِيَّةٌ، سِيَاسِيَّةٌ أَوْاِعْتِقَادِيَّۃٌ، إِلَّاوَلَهَا اِعْتِمَادٌ عَلَى جُمْلَةِ مِنَ الْأَحَادِيْثِ ذَاتَ الْإِسْنَادِ الْقَوِيِّ"۔  

(مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی، بحوث مجمعیۃ السنۃ النبویۃ فی العصر: ۸/۱۴۷۴)

کہ کوئی بھی مسئلہ ہو خواہ وہ سیاسی ہو یااعتقادی ہرباب میں قوی سند والی حدیثوں پر اعتماد کو پائیں گے۔

پھراس کے بعد مستشرق گولڈزیہر نے لکھا:

"وَعَلَی ھَذَا الْاَسَاسِ قَامَتْ أَحَادِیْثُ الْأُمَوِیِّیْنَ ضِدَّ عَلِیٍّ"۔

کہ اسی اساس پر حضرت علی کے خلاف، امویین کی حدیث کا دارومدار ہے 

بنوامیہ نے اس کام کے لیے زہری کو خریدا
اپنی جھوٹی عمارت کی تعمیر کے لیے بنوامیہ کا ایک بادشاہ عبدالملک بن مروان نے چال چلی کہ جب فتنہ عبداللہ بن زبیر کے موقع پر حج سے ممانعت کردی گئی تو عبدالملک نے بیت المقدس میں "قبۃ الصخرہ" کی تعمیر کرکے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس وقت کے نامور محدث، جن کا دور دور تک شہرہ تھا، یعنی امام زہری کو اس کام کے لیے راضی کیا کہ بیت المقدس کی فضیلت کے باب میں کوئی حدیث گڑھیں؛ چنانچہ زہری نے ایک مشہور حدیث گھڑی جس کو امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے:

"لَاتَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّاإِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَاوَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"۔

             (مسلم، باب سفرالمرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ، حدیث نمبر:۲۳۸۳)

یہ زہری کے موضوعات میں سے ہے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جتنی سندیں بھی منقول ہیں سب جاکر زہری پر منتہی ہوتی ہیں۔
ایک دل فریب مکاری جو امویو نے رچی
مستشرقین نے زہری کی بابت ایک عجیب قصہ نقل کیا ہے جو مختلف سندوں سے کتابوں میں محفوظ ہے کہ ابراہیم بن الولید اموی زہری کے پاس ایک صحیفہ لایا، جس میں اپنی من پسندروایتیں لکھ لی تھیں اور زہری سے اس کی اجازت طلب کی، زہری نے بھی بلاکسی تردید کے اس کی اجازت دے دی،اور یہ فرمایا:

"مَنْ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُخْبِرَکَ بِھَا غَیْرِی؟"۔

کہ میرے علاوہ اس کی خبر تم کو اور کون دے سکتا ہے۔

اس طرح اس صحیفہ کی روایتیں زہری کے حوالے سے بیان کی جانے لگی۔

(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۱۹۲)

زہری کی مجبوری
خود امام زہری کے ذاتی احوال میں اس طرح کی باتیں ہیں کہ بادشاہوں کی ہاں میں ہاں ملانا باعثِ فخر تصور کرتے ہیں؛ خواہ اس کے وجوہات کچھ بھی ہوں؛ یہی وجہ ہے کہ ہشام نے اپنے ولی عہد کے اتالیقی کی پیش کش کی، یزید ثانی نے منصبِ قضا کا عہدہ دیا، سب کوبخوشی قبول کیا، جب کہ علماء کے نزدیک یہ ایک محقق مسئلہ ہے :

"مَنْ تَوَلّیٰ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذَبَحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ"۔

جس نے عہدۂ قضاء قبول کیا اسے اُلٹی چھری سے ذبح کردیا گیا۔

البتہ ہوسکتا ہے کہ اس تقرب کی وجہ امام زہری کوحدیثوں کے گڑھنے کی مجبوری ہو؛ یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر آپ نے کھل کر اعتراف کیا:

"أَكْرَهْنَا هَؤَلَاءِ الْأُمَرَاءَ عَلَى أَنْ نَكْتُبَ أَحَادِيْثَ"۔

کہ ان امراء نے ہمیں حدیثوں کے گڑھنے پر مجبور کیا۔

یہ وہ زہرافشانی ہے جو مستشرقین کی طرف سے کی گئی، اب مندرجہ ذیل سطور میں ان سبھوں کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
حدیث پاک امویوں کی پیداوار نہیں
حدیثِ پاک دین کا ایک بنیادی حصہ ہے، اس کے بغیر صحیح اسلام کا تصور محال ہے؛ پھریہ کہنا کہ اس کا بڑا حصہ امویوں کی کوششوں سے وجود میں آیا، سراسر دین وشریعت کے ساتھ ناانصافی ہے؛ کیونکہ رسول اللہ  پرجو آخری آیت اتری ہے وہ ہے "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا" (المائدہ:۳) اس میں کھلے لفظوں میں اکمال دین اور اتمامِ نعمت کا اعلان کردیا گیا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا:

"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ"۔

(موطأ مالک، باب النھی عن القول بالقدر، حدیث نمبر:۱۳۹۵)

کہ دوچیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر ان دونوں کو مضبوط پکڑے رہوگے تو پھر گمراہ نہیں ہوسکتے،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اپنے نبی کی سنت۔

نیزدین اسلام کو روشن دن سے تشبیہ دیکر ایک موقع پر اس کی پختگی کو آشکارا کیا:

"لَقَدْ تَرَکْتُکُمْ  عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ"۔

(ابن ماجہ، باب اتباع سنۃ رسول اللہ ، حدیث نمبر:۵)

ترجمہ:میں تم لوگوں کو صاف شفاف دین پر چھوڑکر جارہا ہوں،جس کے رات اور دن برابر ہیں۔
خلفاء بنی امیہ کو دینی امور سے دل چسپی
تاریخ کی کتابوں کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلفاء بنی امیہ میں ایک دو کو چھوڑ کر سب دین دارنظر آتے ہیں، ذاتی خامی کس شخص میں نہیں ہوتی ہے کہ ان کو لے کر ان کے سارے کارناموں کو ملیامیٹ کردیا جائے، جس عظیم بادشاہ عبدالملک پر گولڈزیہر، امام زہری سے سازباز کرنے کا الزام لگاتا ہے، اسی کے متعلق طبقات ابن سعد میں حضرت ابن عمرؓ کا قول منقول ہے کہ لوگوں نے ان سے پوچھا :
"أرایت اذانفانی أصحاب رسول اللہ من نسال؟" کہ اصحابِ رسول کے ختم ہوجانے کے بعد ہم لوگ کس سے سوال کریں گے؟، تو حضرت ابنِ عمرؓ نے عبدالملک کی طرف اشارہ کرکے ارشاد فرمایا: "سلوا ہذا الفتی" کہ ان نوجوان سے پوچھو۔

(المفصل في الرد على شبهات أعداء الإسلام:۹/۲۹۷،شاملہ، جمع وإعداد الباحث في القرآن والسنة،علي بن نايف الشحود)

اسی طرح جب لوگ آپ کے پاس خلافت وبیعت کے لیے آئے تو دیکھا کہ پورے عالم اسلام کا ہونے والا شاہ، ایک دھیمی روشنی میں قرآن کی تلاوت کررہا ہے؛ کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ علماء کو انہو ں نے وضع حدیث کے لیے استعمال کیا ہو، ان کا جو کچھ بھی اختلاف تھا دینی پیشواؤں سے نہیں؛ بلکہ سیاسی قائدین اور خوارج سے تھا، جوہرملک اور حکمراں کے لیے ناگزیر ہے اس کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
امام زہری اصل نشانہ
چونکہ امام زہریؒ کی طرف منسوب حدیث کی عظیم خدمت، خدمتِ تدوین ہے اس لیے مستشرقین کا اصل زور اسی پر صرف ہوا کہ امام زہری کی شخصیت کو بگاڑ دیا جائے اور ان کو ایک دنیادار، حریص، بادشاہوں کا وفادار اور ان کی ہاں  میں ہاں ملانے والا ثابت کیا جائے؛ تاکہ حدیث نبوی کا پورا ڈھانچہ ہی کچھ کا کچھ ہوجائے اس لیے مختصر طور پر ہم امام زہری کے حالات درج کرتے ہیں۔
امام زہریؒ ابوبکر محمد بن مسلم بن عبیداللہ، قرشی زہری ہیں، ابن شہاب سے بھی مشہور ہیں، راجح قول کے مطابق سنہ۵۱ھ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد حضرت عبداللہ بن زبیر کے فوجی تھے، امویوں کے خلاف لڑتے رہے، باپ کا جب انتقال ہوا تو آپ یتیم ہی نہیں، تربیت کرنے والوں کی تربیت سے بھی محروم ہوگئے؛ لیکن آپ کے اندر کا جوہر، علم کی طرف راغب کررہا تھا؛ چنانچہ صرف ۸۰/یوم میں حفظ مکمل کیا، عبداللہ بن تغلب سے علم الانساب حاصل کیا؛ پھرحلال وحرام اور روایت حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اوراس وقت کے موجود تمام صحابہؓ سے سماع کیا، جن میں دس صحابہ، حضرت انسؓ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت جابرؓ وغیرہ کے اسماء کی تصریح ملتی ہے؛ پھراجلۂ تابعین سے علم حاصل کیا، جن میں سعید بن المسیب کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جن کی صحبت میں مکمل آٹھ سال رہکر، کندن بن گئے (تہذیب الکمال: ۶/۵۱۱) جب عبداللہ بن زبیر شہید کردئے گئے تو اس کے بعدسے آپ کے تعلقات خلفاء بنوامیہ سے استوار ہوئے؛ چنانچہ مروان، عبدالملک، ولید، سلیمان، عمر بن عبدالعزیز، یزید ثانی اور ہشام تک سے مراسم اچھے رہے،۷۲/بہاریں دیکھنے اور دین کی عظیم ترین خدمت انجام دینے کے بعد ۱۲۴ھ میں انتقال فرماگئے، آپ کی وصیت کے مطابق شاہ راہ عام پر دفن کیا گیا؛ تاکہ ہرجانے آنے والا، دعائے مغفرت کرتا رہے۔
علمی انہماک
حضرت ابراہیم بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ زہری آپ سبھی پر فائق ہوگئے، کہنے لگے کہ سنو:

"وہ علمی مجلسوں میں بالکل سامنے بیٹھتے، مجلس میں ہرجوان اور ادھیڑعمر سے سوالات کرتے؛ پھرانصار کے مجلسوں میں آتے، وہاں بھی جس شخص سے ملاقات ہوتی پوچھ لیا کرتے تھے؛ یہاں تک کہ خواتین سے بھی پوچھتے تھے"۔       

(تہذیب الکمال:۶/۵۱۱)

امام زہری عبیداللہ بن عتبہ بن عبداللہ بن مسعودؓ سے حدیثیں پڑھتے، آپ کے دروازے سے چمٹے رہتے، آپ کے لیے پانی لاتے، باندیاں تو آپ کو عبداللہ کا غلام سمجھتی تھیں اور جوں ہی موقع ملتا کتاب کھول کر بیٹھ جاتے، انہماک کا یہ حال ہوتا کہ عبيداللہ کی بیوی صاحبہ کہتی کہ تین سو کنوں سے زیادہ دشوار یہ کتابیں ہیں؛ پھرگھر لوٹتے تو باندی کو جگاتے اور حدیثوں کو سناتے اور کہتے جاتے کہ مجھے معلوم ہے تمھیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا؛ لیکن چونکہ میں نے ابھی یہ حدیث سنی ہے اس لیے مذاکرہ کے طور پر سنارہا ہوں۔

(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۰۸،۲۰۹)

قوتِ حافظہ
آپ اپنے دور کے دریتیم اور قوتِ حافظہ کی دولت سے مالامال تھے، ابن عساکر نے ایک حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے کہ عبدالملک نے اہل مدینہ کو عتاب والا ایک خط لکھا، جو دوصحیفے کے برابر تھا، وہ خط منبر کے پاس پڑھا گیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے توسعید بن المیسب نے اپنے حلقہ درس میں طلبہ سے خواہش کی کہ اس خط میں کیا تھا بتائیں سب نے اپنی اپنی یادداشت کے مطابق کچھ کچھ حصہ سنایا، ابن شہاب زہری نے کہا:

"یاابا محمد أتحب أن تسمع کل مافیہ قال: نعم! فقرء حتی جاء علیہ کلہ کأنھا یقرؤہ من کتاب بیدہ"۔

                       (السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۰۹)

کہ اے ابومحمد! کیا آپ اس خط کے پورے اجزاء سننا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں! تو ابن شہاب نے پورا خط اس طرح سے ذکر کیا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ خط ان کے ہاتھ میں ہے۔

ہشام بن عبدالملک نے ایک موقع پر آپ کے حافظے کا امتحان لینا چاہا؛ چنانچہ آپ سے درخواست کی کہ ان کے بعض صاحبزادے کو حدیثیں املاء کروائیں؛ لہٰذا ابن شہاب نے ایک مجلس میں چار سو حدیثیں املاءکروائیں، ایک ماہ کے بعد ہشام نے کہا کہ وہ صحیفہ ضائع ہوگیا؛ اس لیے دوبارہ حدیثیں لکھوادیں؛ چنانچہ ابن شہاب نے دوبارہ چارسو حدیثیں لکھوائیں، جب مقابلہ کیا گیا توایک لفظ کا بھی فرق نہ تھا۔    

                    (تہذیب الکمال:۶/۵۱۲)

آپ کی علمی خصوصیات
آپ سے متعلق علمی خصوصیات تین بیان کی جاتی ہیں:
(۱) تدوین حدیث: حضرت عمربن عبدالعزیز کے حکم سے اس کارِعظیم کو آپ نے انجام دیا۔
(۲)اسناد: آپ کی شخصیت وہ پہلی کڑی ہے جس نے اسناد کو جاری کیا اور اہتمام سے بیان کیا، امام مالکؒ فرماتے ہیں"اوّل من اسند الحدیث ابن شہاب"
(۳)متن حدیث کا وافر حصہ: ایک اچھا خاصا حصہ ذخیرۂ حدیث کا آپ کے پاس تھا جودوسرں کے یہاں موجود نہیں تھا؛ چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے کہ:

"لِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ وَلَا يُشَارِكُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ"۔

(مسلم، باب من حلف باللات والعزی فلیقل لاإلہ إلا:۳۱۰۷)

امام زہری نوے حدیث کے قریب روایت کرتے ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔

علماء جرح وتعدیل نے آپ کا تذکرہ خیر کے ساتھ کیا ہے آپ کی زندگی کا کوئی ایسا باب نہیں ہے جس پر  اعتراض کیا جاسکتا ہے، علی بن المدینی تو کہتے ہیں:

"دارعلم الثقات علی الزھری وعمروبن دینار بالحجاز، وقتادۃ ویحی ابن أبی کثیر بالبصرۃ وأبی اسحاق والاعمش فی الکوفہ"۔

کہ ثقات کا علم حجاز میں زہری وعمروبن دینار پر، بصرہ میں قتادہ ویحییٰ بن أبی کثیر پر اور کوفہ میں ابی اسحاق اور اعمش پر منحصر ہے۔

حافظ ابن حجر نے خلاصہ کے طور پر آپ کی علمی زندگی کا نچوڑیوں پیش کیا ہے:

"الفقیۃ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ"۔     

(تقریب التہذیب:۵۰۶، رقم:۶۲۹۶)

یہ ہے وہ عظیم شخصیت جس کو مستشرقین نے اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے ہرکارِخیر کو ذاتی تضاد بتلاکر مسلمانوں کوذخیرہ حدیث سے بدگمان کرنے کی کوشش کی۔
قصرِخلافت میں آمد ورفت
اگرامام زہری کی زندگی کے اوراق پلٹیں اور قصر خلافت کے حالات کا جائزہ لیں تو ہرمنصف مزاج یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ امام زہری نے قصر خلافت کی آمدورفت سے اپنا مفاد وابستہ نہیں کررکھا تھا؛ بلکہ ان کے بگڑے حالات اور درآنے والی بدگمانیوں کو دور کرنے کی یہ واحد کوشش تھی کہ تعلقات استوار کرکے ان کے ذہن ودماغ کے میل کو صاف کیا جائے"العقد الفرید" میں اسی قسم کا ایک واقعہ یوں درج ہے کہ امام زہری ولید کے پاس تشریف لے گئے ولید نے پوچھا، اہل شام کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ امام زہری نے کہا وہ کیا ہے؟ ولید نے پوری حدیث سنائی کہ اہل شام کہتے ہیں:

"ان اللہ اذااسترعی عبداً رعیتہ کتب لہ الحسنات ولم یکتب لہ السیئات"۔

کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کو رعایا کے کام کے لیے مسلط کرتے ہیں تو اس کےلیے نیکیاں تو لکھی جاتی ہیں، سیئات نہیں لکھے جاتے۔

امام زہریؒ نے کہا یہ حدیث باطل ہے اور اے امیرالمؤمنین یہ بتائیے کہ کیا بنی خلیفہ افضل ہے یا غیربنی خلیفہ؟ ولید نے کہا بنی خلیفہ امام زہری نے کہا کہ دیکھئے حضرت داؤد کے متعلق قرآن پاک کا کیا ارشاد ہے:

"يَادَاوُودُ إِنَّاجَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَاتَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَانَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ"۔

(سورۂ ص:۲۶)

اے داؤد ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا لہٰذا لوگوں کے مابین ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیجئے اورخواہشات کی اتباع نہ کیجئے کہ آپ اللہ کے راستہ سے بھٹک جائیں،یقیناً جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ یوم حساب سے غافل ہوگیا۔

پس اے امیرالمؤمنین! یہ وعید ہے بنی خلیفہ کے لیے تو آپ کا کیا خیال ہے، غیربنی خلیفہ کے حق میں۔

(العقد الفرید:۱/۶۰)

ایک دوسرا واقعہ ابن عساکر نقل کرتے ہیں، جس سے ان کی جرأت ایمانی کی خوب سے خوب تصویر کشی ہوتی ہے، ایک موقع پر ہشام بن عبدالملک نے سلیمان بن یسار سے پوچھا کہ "والذی تولی کبر" سے کون مراد ہے، انہوں نے کہا عبداللہ بن أبی، ہشام نے کہا غلط ہے اس سے مراد تو علی بن ابی طالب ہیں، سلیمان نے کہا امیرالمؤمنین کو زیادہ معلوم ہے ،پھر جب امام زہری ان کے پاس گئے تو اس نے امام زہری سے بھی پوچھا: انھوں نے بھی یہی جواب دیا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے، ہشام نے کہا کہ غلط ہے، اس سے مراد تو حضرت علی ہیں، امام زہری بالکل آگ بگولا ہوکر بولے:

"اناأکذب! لاأبالک فواللہ لونادانی مناد من السماء ان اللہ احل الکذب فماکذبت، حدثنی فلان عن فلان الذی تولی کبرہ ھوعبداللہ"۔


کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ تیرا ستیاناس ہو! خدا کی قسم اگر مجھ کو آسمان سے پکارنے والا پکار کر کہے کہ اللہ نے جھوٹ کو حلال کردیا ہے تو بھی میں جھوٹ نہیں بولوں گا، مجھ سے فلاں نے اور فلاں سے فلاں نے بیان کیا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہی ہے۔

امام زہری کی دینی حمیت اور ایمانی جرأت کا جب یہ حال ہے تو کیا تصور کیا جاسکتا ہے کہ بقول مستشرقین، چند ٹکوں کی خاطر   انہو ں نے وضع حدیث کا ناپاک بیڑا اٹھایا ہو، جب کہ دنیا کا حال ان کی نگاہوں میں یہ تھا کہ عمروبن دینار بیان کرتے ہیں:

"مارأیت الدینار والدرھم عن أحد أھون منہ عند الزھری کانہما بمنزلۃ البعر"۔

کہ درہم ودینار ان کے نزدیک مینگنی کے برابر تھے۔

اور ناموری وشہرت کا حال یہ ہے کہ بقول گولڈ زیہری:

"کان ذائع الصیت عند الامۃ الاسلامیۃ"۔

کہ مسلمانوں کے یہاں ایک معروف ومشہور شخصیت تھے۔

قبۂ صخرہ کی حقیقت
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ گولڈ زیہر نے زہری پر یہ الزام بھی لگایا کہ جب عبدالملک نے عبداللہ بن زبیرکے فتنہ کے زمانے میں چاہا کہ لوگوں کو حج سے روک دیں تو بیت المقدس میں "قبہ صخرہ" کی تعمیر کی اور اس کو دینی رنگ دینے کے لیے زہری سے "لاتشدالرحال الاالی....،الخ" گڑھوا کر چلتا کیا، مؤرخین میں سے ابن عساکر، طبری، ابن اثیر، ابن خلدون اور ابن کثیر کسی نے بھی اس قبہ کی نسبت عبدالملک کی طرف نہیں کی ہے؛ بلکہ ان کے بیٹے ولید کی طرف کی ہے صرف علامہ دمیری ہیں جنہوں نے ابن خلکان سے نقل کیا ہے، جس کے الفاظ ہیں:

"بناھا عبدالملک وکان الناس یقفون عندھا یوم عرفۃ"۔

کہ عبدالملک نے اس کی تعمیر کروائی، لوگ عرفہ کے روز اس کے پاس ٹھہرتے تھے۔

اگریہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ بھی جائے تو اس سے حج کا ثبوت پھربھی فراہم نہیں ہوپاتا ہے؛ کیونکہ عرفہ کے روز اس کے پاس وقوف اور ہے اور حج اور ہے؛ بلکہ اس دور کی ایک عام بدعت تھی جو قبہ صخرہ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں؛ بلکہ ہرشہر میں لوگ "وقوفِ عرفہ" مناتے تھے جس کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ زہری راجح قول کے مطابق سنہ۵۱ھ اور بعض دیگر اقوال کے مطابق سنہ۵۸ھ میں پیدا ہوئے، حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت سنہ۷۳ھ میں ہوئی ہے تو کیا ۲۲/یا ۱۵/سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ آدمی بلاد اسلامیہ میں شہرت پاکر، عبدالملک کی نظر انتخاب کا شکار ہوجائے، امام ذہبی کے مطابق زہری عبدالملک کے یہاں سنہ۸۰ھ میں، ابن عساکر کے مطابق سنہ ۸۲ھ میں گئے ہیں جو کہ شہادت ابن زبیر سے دس سال بعد کا زمانہ ہے، اس کے علاوہ یہ کہنا کہ "لاتشدواالرحال... الخ" کے راوی تنہا حضرت امام زہری ہیں، روایت حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہے، بخاری نے اس روایت کوحضرت ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے، مسلم نے تین طرق سے ذکر کیا ہے اس میں تیسرا طریق ابن وہب عن عبدالحمید بن جعفر عن عمران بن ابی انس عن سلیمان بن الاغر عن ابی ھریرۃ ہے، اس کے علاوہ زہری نے یہ روایت سعید بن المسیب سے لی ہے اور سعید کا حال یہ تھا کہ ہرچیز پر ٹوکا کرتے تھے، حضرت سعید کا انتقال سنہ۹۳ھ میں ہوا ہے تو کیا بیس سال کا زمانہ گزرگیا، حضرت سعید نے ٹوکا تک نہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ زہری نے اس کو وضع کیا ہے تو پوری روایت پڑھ جائیے "قبۃ الصخرۃ" کی کہیں فضیلت تک بیان نہیں کی گئی ہے، جب کہ بقول گولڈزیہر مقصد اس کا یہی تھا۔
کتاب پیش کرنے والی روایت
ان مستشرقین نے زہری کے وضع حدیث سے متعلق یہ بھی پروپگنڈہ کیا کہ ابراہیم بن الولید اموی نے زہری کے سامنے ایک کتاب پیش کی، زہری نے بلاکسی تردد کے اس کی روایت کی اجازت دی؛ لیکن ان مستشرقین نے تنقید کرتے وقت اصول حدیث کونظرانداز کردیا ابراہیم کا سماع زہری سے ثابت ہے؛ پھروہ کتاب پیش کررہے ہیں جس کو اصولِ حدیث کی روشنی میں مناولہ کہتے ہیں؛ اگرمناولہ کے ساتھ اجازت بھی مل جائے تو اس سے روایت کرنے پر اکثرمحدثین کا اتفاق ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود ذخیرۂ حدیث میں اس صحیفہ سے کوئی روایت موجود نہیں ہے۔
زہری نے جبراً وضع حدیث نہیں کیا
گولڈزیہراور ان کے متبعین نے ابن شہاب کے حالات سے ایک جملہ نکال کر یہ شوشہ چھوڑا کہ خلفائے بنوامیہ نے زبردستی ان سے وضع حدیث کروائی؛ چنانچہ زہری خود کہتے ہیں:

"ان ھولاء الامراء اکرھونا علی کتابۃ الحدیث"۔

اگر اس کو تسلیم کرلیا جائے تو پچھلے صفحات میں؛ نیزکتابوں میں زہری کے جوجرأت مندی کے واقعات نقل کئے گئے ہیں سب کے سب افسانہ بن کر رہ جائیں گے، دراصل اس واقعہ میں مستشرقین نے تحریف کیا ہے، ابن سعد اور ابن عساکر نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زہری، روایت حدیث کی بابت پورا زور حافظہ پر دیتے تھے، لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے؛ مگرجب ہشام نے اصرار کی حد تک خواہش کی اور چارسو حدیثیں املاء ان سے کروالی تو زہر ی نے باہر آکر اعلان کیا:

"یایھا الناس اناکنا منعناکم امراً قدبذلناہ الان لھولاء وان ھولاء الامراء اکرھونا علی کتابۃ الاحادیث فتعالوا حتی احدثکم بہا فحدثہم بالاربعۃ مائۃ"۔

(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۲۱)

کہ اے لوگو! میں جس چیز سے تم لوگوں کو روکتا تھا، آج میں نے وہی کیا ہے، ان حکام نے مجھے کتابتِ حدیث پر مجبور کیا؛ پس آؤ میں تمھیں وہ بیان کردوں؛ چنانچہ انہوں نے بیان کردیا۔

خطیب بغدادی نے تقیید العلم میں اس طرح نقل کیا ہے کہ امام زہری کتابتِ حدیث اور تدوینِ حدیث کو مکروہ سمجھتے تھے؛ لیکن حالات ایسے سامنے آئے کہ پھرکتابتِ حدیث کے قائل ہوئے اور مسلمانوں کو روکنا بند کردیا اسی کو انہوں نے "اکرھونا" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔                                     

(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۲۱)

سندکے سلسلے میں زہرافشانی
سند کا آغاز کس طرح ہوا اس کا پس منظر وپیش منظر کیا تھا، یہ ایک لمبا باب ہے خلاصہ کے طور پر اتنا کہا جاسکتا ہے کہ چوں کہ جیسے جیسے زمانہ مشکاۃ نبوت سے دور ہوتا گیا اور صحابہ کی مقدس جماعت کم ہوتی گئی ویسے ویسے خیالات بدلتے گئے اور جوں جوں اسلام کا حلقہ وسیع ہوتا گیا مختلف پارٹیاں اسلام کے نام پر متعارض خیالات کی پیدا ہوتی گئیں جس کا آغاز خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی کے آخری دور سے ہی شروع ہوگیا "کوفہ" بصرہ وغیرہ کے بلوائی غلط سلط باتیں عوام میں مشہور کرتے اور حضرت عثمان غنی کے خلاف لوگوں کوبھڑکاتے یہاں تک کہ مدینہ پر چڑھائی کرڈالا اور خلیفہ راشد کے گھر کا محاصرہ کرکے سنہ۲۵ھ میں شہید کرڈالا، اس کے بعد گویا کہ فتنوں کا سیلاب اُمنڈ آیا، جنگ جمل، جنگ صفین کے علاوہ حضرت حسین کی شہادت کا اندوہناک حادثہ رونما ہوا؛ پھرحضرت حسین کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر کتنے لوگ اٹھے؛ انہی میں مختار ثقفی بھی تھا، جو لوگوں کو پیسے دے دے کر اپنے موقف کی تائید میں حدیثیں گڑھواتا اور بھی مختلف اسباب پیش آئے اور حدیثیں گڑھی جانے لگیں؛ یہاں تک کہ صغارِتابعین کا دور آیا توحدیث کی سند اور اس کے رجال ورواۃ کی تحقیق وتفتیش کا بہت اہتمام ہونے لگا؛ البتہ اس کے آغاز کا سہرا کس کے سر ہے تو اس سلسلہ میں مختلف حضرات کے نام علماء کے مابین زیربحث رہے ہیں، ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں مختار ثقفی کے دور سے اہتمام ہوا، مختارثقفی سنہ۶۷ھ میں قتل کیا گیا، حضرت یحییٰ القطان کہتے ہیں کہ سب سے پہلے سند کی تحقیق وتفتیش عامرشعبی نے کی، جن کی وفات ۱۰۰ھ یا ۱۰۱ھ میں ہوئی کوئی اولیت ابن سیرین کو دیتا ہے جن کی وفات ۱۱۰ھ میں ہے، مدینہ میں امام زہری نے کافی زور دیا اس لیے بعض لوگوں نے انہی کواس کا سرخیل مانا ہے؛ بہرحال اتنی بات قدر مشترک ہے کہ سند کا سلسلہ توحضرت عثمان غنی یاکم ازکم حضرت علی وحضرت امیرمعاویہ کے مابین اختلاف کے وقت سے شروع ہوگیا ہے؛ البتہ اس کی تفتیش وتحقیق کا کام ان ادوار میں اہتمام کے ساتھ ہوا، ابن سیرین نے اسی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

"لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ فَلَمَّا وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ"۔

(مقدمہ مسلم:۱۱)

کہ لوگ اسناد سے متعلق سوالات نہیں کرتے تھے؛ مگرجب فتنہ رونما ہوا تو کہا کہ اپنے رجال کوبیان کرو؛ پس اگر اہل سنت والجماعۃ سے ہوگا تو ان کی حدیث قبول کی جائے گی اور اگراہل بدعت ہے توقبول نہیں کی جائے گی۔             

( تفصیل کے لیے دیکھئے "الاسناد من الدین" تالیف: عبدالفتاح ابوغدہ)

یہاں پر فتنہ سے مراد کم ازکم حضرت علی وحضرت معاویہ کے مابین جو اختلافات بھڑکائے گئے، جن کے نتیجے میں جنگِ صفین کے نام پر مسلمانوں کی تلواریں آپس میں چلیں اور دونوں طرف سے مسلمان شہید ہوئے وہ ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دورصحابہ سے ہی سند کا سلسلہ چلاآرہا ہے؛ مگرجوزف شاخت مستشرق یہودی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسناد کا سلسلہ مسلمانوں نے ۱۲۶ھ سے شروع کیا ہے اور ابن سیرین نے "فتنہ" سے مراد ولید بن عبدالملک کا قتل لیا ہے، جو۱۲۶ھ کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ ہے، تاریخ طبری میں ان واقعات کو اضطرابات سے تعبیر کرکے فتنہ کا اطلاق کیا گیا ہے"شاخت" نے اس استدلال کے علاوہ اور کچھ پیش نہیں کیا ہے؛ لیکن یہاں پر غور کرنا چاہیے کہ ابن سیرین کی وفات ۱۱۰ھ میں ہوئی ہے اور یہ واقعات ۱۲۶ھ کے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ ابن سیرین نے ۱۶/سال بعد کی بات کہی ہوگی، یہ ایک واضح علامت ہے کہ فتنہ سے مراد وہ نہیں ہے جو "شاخت" لیتا ہے۔
یہ جو کچھ بھی لکھا گیا ہے ایک سرسری جائزہ کے طور پر لکھا گیا ہے؛ ورنہ ان کے مزعومات اور الزامات کا ایک طومار ہے جو روز بروز بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، آج ضرورت ہے کہ پوری دقتِ نظری اور تن من دھن کی کوشش کے ساتھ ان کا مطالعہ کیا جائے اور پھر اس بڑھتے ہوئے ناسور کا فوراً علاج کیا جائے         ؎
فرنگ سے بہت آگے ہے منزل مؤمن
قدم اٹھا! یہ مقام انتہائے راہ نہیں

اسماء الرجال کا امتیاز

یہ وہ علم ہے جس کے موجد خالصۃ مسلمان ہیں اوردوسری کوئی قوم اپنےمذہبی علمی حلقوں میں اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی، مشہور جرمن مستشرق ڈاکٹر اسپینگر الاصابہ فی احوال الصحابہ کے ۱۸۸۱ء کے ایڈیشن کے دیباچہ میں لکھتا ہے:

کوئی قوم دنیا میں ایسی نہیں گزری اورنہ آج موجود ہے جس نے مسلمانوں کی طرح اسماء الرجال کا عظیم الشان فن ایجاد کیا ہو جس کی بدولت پانچ لاکھ مسلمانوں کا حال معلوم ہوسکتاہے۔





تصوّف اور مستشرقین


از: ڈاکٹر ابوعدنان سہیل


تحریک مستشرقین (Orientalism) کا آغاز اس دور میں ہوا تھا؛ جب کہ تیرہویں صدی عیسوی میں عیسائی دنیا، اسلام کے خلاف برپا کی گئی اپنی صلیبی جنگوں میں پے درپے ناکام ہونے لگی تو اس کے مفکرین اوراس دور کے نظریہ سازوں کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ موجودہ حالات میں طاقت وقوت اور تشدد وجارحیت کے ذریعہ اسلام کو مذہبی اور سیاسی اقتدار سے بے دخل کیا جانا ممکن نہیں ہے؛ چنانچہ اس مرحلہ پر غور وفکر کے بعد انھوں نے یہ لائحہ عمل طے کیا کہ سرِدست اپنی جارحانہ مہم اور جنگ جو پالیسی کو ختم یا کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کرکے علم وتحقیق کے عنوان سے اسلام کو نشانہٴ افکار باطلہ بنانا چاہیے اور تلوار کے بجائے قلم کے ذریعہ اسلام کی بیخ کنی کی جائے۔
          چنانچہ اس مقصد سے دشمنانِ اسلام مغربی مفکرین نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اپنی فطری عیاری سے کام لیتے ہوئے یہودی ربّی اورعیسائی مبلغین (Missionary) کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اسلامیات کے منفی مطالعہ کے لیے یورپ میں تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں اور ان میں ”ریسرچ اسکالرس“ کے نام سے ذہین عیسائی عالم اور یہود ربی کارکن متعین کیے جائیں جو اسلام کے بنیادی سرچشموں یعنی قرآن واحادیث نبوی اور دیگر اسلامی لٹریچر کے معروضی مطالعہ کے بعد تعلیماتِ اسلامی کے خدوخال مسخ کرکے دنیاکے سامنے ”تحقیق“ (Research) کے نام سے مقالات اور کتابوں کی صورت میں پیش کریں اور ان میں اسے خود ساختہ ”شواہد“ مہیّا کریں جن سے یہودیت کی برتری اور دین مسیح کی حقانیت اور ترجیح خود بخود ثابت ہوجائے اور جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اپنے دین کی نسبت سے احساسِ کمتری (Inferiority Complex) اور اپنے مسلمان ہونے پر شرمندگی کا جذبہ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ مسیحیت کا تفوّق اور یہودی افکار ونظریات کی برتری کا تصور ان کے ذہنوں پر حاوی ہوجائے۔ پروفیسر آرنلڈ کی کتاب ”پریچنگ آف اسلام“ اس کی زندہ مثال اور واضح ثبوت ہے۔!
          مدت دراز سے یہ مستشرقین یورپ (Orientalists) قرآن واحادیث، سیرت نبوی، فقہ اسلامی اور اخلاق و تصوّف یا ”احسان اسلامی“ کا مطالعہ اسی مقصد سے کرتے رہے ہیں کہ ان میں خامیاں نکالی جائیں اور پھر انھیں اپنے سازشی مقصود کے مطابق اسلام کو سبوتاژ کرنے اور سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ پہلے وہ اسلام کے خلاف ایک باطل نظریہٴ فکر اور شرانگیز بات اپنے ذہن میں طے کرلیتے ہیں اور پھر اس کے اثبات کے لیے تاریخ، حدیث، سیرتِ نبوی، فقہ اور اسلامی لٹریچر میں سے ہر طرح کی غیرمستند اور رطب ویابس باتیں اکٹھی کرلیتے ہیں اوراس مقصد کے لیے وہ افسانہ طرازی کرنے اور جھوٹ کا طومار باندھنے سے بھی نہیں شرماتے؛ غرض جہاں کہیں بھی ان کی مقصدبراری ہوتی ہو، خواہ علمی اصول کی رُوسے یا صحت واستناد کے اعتبار سے وہ بات کتنی ہی مشکوک وبے تکی کیوں نہ ہو وہ اس کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ اور پوری جسارت سے ”سائنٹفک“ بتاکر بڑی آب وتاب اور کرّوفر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن وحدیث، فن تفسیر، فقہ، کلام، سیرت صحابہ، تابعین کرام، ائمہ مجتہدین، اکابر محدثین، فقہاء امت، قضاة، رواة حدیث، اسماء الرجال، فن جرح و تعدیل، جمع قرآن، تدوین حدیث، حجیت حدیث اور مشائخ سلوک و تصوف وغیرہ غرض ہر موضوع پر ان مستشرقین کی تصانیف اور نام نہاد تحقیقاتی مقالوں میں اس قدر مواد پایا جاتاہے جو کہ ایک ذہین اور حساس تعلیم یافتہ انسان کو جو ان موضوعات پر وسیع اور گہری نظر نہ رکھتا ہو، اسلام کے بارے میں اس کے ذہن میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور سلف صالحین وعلماء راسخین کی شخصیتوں کو مجروح کردینے اور ان پر سے اعتماد ختم کردینے کے لیے کافی ہے۔ سطحی علم رکھنے والا اور کچے ذہن کے لوگ ان کے خیالات سے بآسانی مرعوب ہوجاتے ہیں، خصوصاً جدید تعلیم کے مراکز جیسے یونیورسٹی، کالج اور اسکول میں پڑھنے والے طالب علم یا مغربی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے والے ان ”مستشرقین“ کے دام فریب میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں۔
          مستشرقین یورپ نے - جن میں اکثریت یہودی اور درپردہ صہیونیت کے علم برداروں کی ہے - تصوّف پر- جو ”احسانِ اسلامی“ کا مظہر اور اس کی شبیہ ثانی ہے- جو نظر عنایت کی ہے اور اس کے خصوصی مطالعہ اور تحقیق وجستجوکے نام پر اس کی اقدار و نظریات کو سبوتاژ (Sabutage) کرنے کے لیے انھوں نے جس قدر محنت اور لگاتار کوششیں کی ہیں، ان کا اندازہ لگانے کے لیے ہم سطور ذیل میں ان کی تصوف کے موضوع پر تصنیف وتالیف اور تصوف کی قدیم امہات کتب کی یورپ کی سرزمین سے توزیع واشاعت کی بھرپور جدوجہد کا ایک مختصر سا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ انھوں نے محض ”اسلام کی خدمت“ کے جذبہ سے تو کیا نہیں ہے، اور نہ وہ حالت کفر میں رہتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے لیے کبھی مخلص ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کی ان تمام مساعی اور تگ وتاز کا واحد مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اس طرح تصوف کے افکار ونظریات اوراسلامی معتقدات میں دراندازی اور ان کتب تصوف میں تدسیس کے ذریعہ اپنے اسلام دشمنی کے مشن کو پورا کرسکیں۔ تصوف کی نایاب یا کم یاب امہات کتب کے مسودوں کو تلاش کرکے اور زرکثیر صرف کرنے کے بعد ان کی اشاعت اور ان کے مندرجات کی تشہیر وتوضیح کی کوششیں مغرب کے ان مادہ پرست دشمنانِ اسلام کی کس ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں، اس کا جائزہ لینے کے لیے ہم سطور ذیل میں ان کتابوں کی ایک مختصر سی فہرست درج کررہے ہیں جو ان یورپین مستشرقین کی یا تو اپنی تالیفات ہیں، یا پھر انھوں نے تصوف کی قدیم امہات کتب میں سے کچھ مخصوص کتابوں کو خود Edit کرکے یورپ کے مختلف ملکوں سے شائع کیا ہے۔ ان میں سے کچھ کتابیں انگریزی زبان(English) میں ہیں- جو موجودہ دور میں ”بین الاقوامی زبان“ کا درجہ رکھتی ہے- اور کچھ کتابیں جرمن زبان (German Language) میں اور کچھ کتابیں فرانسیسی زبان (Franch Language) میں شائع کی گئی ہیں۔
نمبرشمار
نام کتاب
مصنف
مطبع/ سن طباعت
1
Preaching of Islam
(اسلام کا تعارف)
Thomas Arnold

Constable & Company Ltd. London (U.K.) 1913
2
Mystics of Islam
(صوفیان اسلام)
Rennold, a, Nicholson

Oxford Press
1914

3
Studies in Islamic Mysticism
(اسلامی تصوف کا مطالعہ)
Rennold, A, Nicholson

Oxford Press
1921

4
Mystical Demension of Islam
(اسلام کی صوفیانہ مجذوبیت)
Schimmel

Chapel Hill, North Carolin a University1975

5
Oriental Mysticism
(مشرقی تصوّف)
E. H. Palmer

London
1867

6
Sufism
(صوفی مذہب)
Arberry A. J.

Allen & Unwin, London 1950 Reprint Harper & Row, Newyork (USA) 1970
7
A, Historical Enquiry concerning the origin and development of Sufism
صوفی مذہب کے نقطئہ آغاز اور اس کی نشوونما کا ایک تاریخی جائزہ
A. J. Arberry

J. R. A. S.
1906

8
An Introduction of Sufi Doctrine
(صوفیانہ عقائد کا تعارف)
DM Metheson کی فرانسیسی کتاب کا انگلش ترجمہ
Burckhard
TITUS

London
1968
9
The Transcendental Unity of Religions
(مذاہب اور مسحوریت بے اختیاری کے نفسیاتی عمل) کا باہمی انجذاب
Schuon Frith jof
Eng. Translation by (Peter Town Send)
London
1953

10
A, Comparative study of the Philosophical Concepts of Sufism and Taoism
(صوفیانہ فلسفہ اور ماؤازم کا تقابلی مطالعہ)
ToshihukoIzutsu

Tokyo (Japan)
1966-67
11
Readings from the Mystics of Islam
(اسلامی تصوف کی تعلیمات)
Margret Smith

Luzac & Co,
London. 1972
12
Asiatic Researches
(ایشیائی تحقیقات)
W. Johnes

London
1803

13
Hindu & Muslim Mysticism
(ہندو اورمسلمانوں کا تصوّف)
R. C. Zaehner

New York (USA)
1969
14
The Passion of Al-Hallaj
(الحلّاج کا جذب دروں)
Herbert Mason

Princetion University Press. 1982 (4Vol)
15
Akhbar Al-Hallaj
(اخبار الحلاّج)

Paul Karaus

Paris
1936

16
Creative Imagination in the Sufism of Ibne Arabi
(تصوف میں ابن عربی کے تخلیقی تصورات)
Corbin Henry

Princetion University Press. 1969

17
Al-Muhasibi an Early Mystic of Baghdad
(المحاسبی- بغداد کا ابتدائی دور کا صوفی)
Margret Smithp

Philo Press
Amsterdam

18
Rabia, the Mystic and her fellowsaints in Islam
(رابعہ صوفیہ اوراس کے مسلم ہم خیال ساتھی)
Margret Smith

Philo Press Amsterdam
1928

19
Ibne Taymiah's Sharah on the Futuh-Al-Ghaib
(ابن تیمیہ کی فتوح الغیب کی شرح)
Michal Thomas

London

20
Ibne Taymia. A Sufi of the Qadiria Order
(ابن تیمیہ، قادری دور کا ایک صوفی)
George Makdisi

American Journal of Arabic Studies1973

21
Simnani on Wahdat-Al-Wujud in Collecter papers on Islamic Philosophy and Mysticism
(سمنانی کا نظریہٴ وحدة الوجود، اسلامی فلسفہ اور تصوف کے منتخب اوراق کے مطابق)
Hermann
Landolt

Tehran
1971

22
Shaykh Ahmad Sirhindi, an outline of his Thought and history of his Image in the Eyes of Prosperity
شیخ احمد سرہندی کے تخیلات اور تصورات کا فروغ تاریخ کے تناظر میں
Mc Gill

Cannada
1971

23
Studies in Islam in India before Shah Waliullah
(شاہ ولی اللہ سے پہلے ہندوستان میں اسلام کا مطالعہ)
Freeland, Abbot

New Delhi
(Vol I II)

24
Vorlesungen Uber des Islam
(فرنچ زبان میں)
Ignaz Goldziher

Paris
1925

25
Mysticque Musalmane
(فرنچ زبان میں)
Louis Gardet & G.C. Anawati

Paris
1968

26
Essai sur les origines du lexique technique de laMysticque Muslamane
(فرنچ زبان میں)
Louis Massigon

Paris
1968

27
Le Passion de Husayn ibn Mansur Hallaj
(فرنچ زبان میں)
Louis Massigon

Paris

28
CulturgescHichtliche strefz uge auf dem Gebietedes Islam
(فرنچ زبان میں)
Alfred
Von Kramer

Paris
1873

29
Sufismus sive theologia
(جرمن زبان میں)
Persica Pantheistics

Berlin
1921

30
Ideen and Gundlinier einer algemeine n geschichteder Mystic
(جرمن زبان میں)
Adalbert Merx.

Heidel Berg
1993

31
Sufism
A. J. Arberry
London 1950
32
Muslim Studies
Ignaz Goldziher
London 1971
33
The Sufi Orders in Islam
J. Spencer Trimingham

Oxford University
Press 1973
34
The Heritage of Iran
A. J. Arbery
London
35
Kitabul - Lamaa
(کتاب اللمع) عربی میں
(مولفہ شیخ ابو نصر سراج طوسی)
Edit by R. A Nicholson

Ledon (Holland)
1914

36
Encyclopaedia of Religion and Ethics


New York Vol. VIII
1955

          دیارِ مغرب کے رہنے والے ان دشمنانِ اسلام - یہود ونصاریٰ- نے امتِ مسلمہ کے تعلق باللہ قائم کرنے کے سب سے بڑے مظہر ”احسانِ اسلامی“ یا بعد کے دور میں ”تصوف“ کے نام سے شہرت اور فروغ پانے والے ”اسلامی نظریہ“ کی تفہیم و تبلیغ کی یہ ساری کوششیں ظاہر ہے کہ پورے خلوص اور ایمان داری سے محض ”خدمتِ اسلام“ کے جذبے کے تحت تو یقینا نہیں کی ہوں گی۔ ان دشمنانِ اسلام کا تصوف کی نادر ونایاب قدیم کتب کے ”مخطوطات“ کو مختلف ملکوں اور دور دراز مقامات سے تلاش کرکے اور زر کثیر صرف کرنے کے بعد یورپ سے شائع کرنے میں لامحالہ ان کی اپنی غرض اور مفاد شامل ہے، اتنی بات ہر پڑھالکھا اور باشعور انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ اسلام اور اکابرین امت کی صاف وشفاف شبیہ کو داغ دار کرنا اور ان سے منسوب کرکے غلط اور واہی تباہی باتیں ان کی لکھی ہوئی کتابوں میں شامل کردینا دشمنان اسلام یہود کا ہمیشہ سے مشغلہ اور نصب العین رہا ہے، جو لوگ قرآن مجید کی تفسیروں میں اسرائیلی روایات کا ایک بڑا ذخیرہ شامل کرسکتے ہیں اور تاریخ اسلام کی اہم شخصیات خصوصاً صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پاکیزہ کرداروں کو مسخ کرکے تاریخ کے نام سے پیش کرسکتے ہیں، ان دشمنان اسلام سے یہ توقع رکھنا تو فضول ہوگا کہ انھوں نے ”تصوف“ کے اسلامی نظریات پر اپنی کرم فرمائی نہ کی ہوگی اور تصوف کو اس کی قدیم اور اصلی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کردیا ہوگا؟
          اسلامی لٹریچر خصوصاً تصوف کی اُمہات کتب کو یورپ کے مختلف ملکوں جیسے انگلینڈ اور امریکہ یا ہالینڈ وغیرہ سے شائع کرنے کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ ان دشمنانِ اسلام نے ”صلیبی جنگوں“ میں اپنی مسلسل اور بدترین شکستوں کے بعد مسلمانوں سے انتقام لینے کی اپنی نئی ”حکمت عملی“ کے مطابق یورپ میں مختلف مقامات پر اسلام کے خلاف جو سازشی ادارے ”تحقیقات اسلامی“ (Islamic Research) کے نام سے قائم کیے تھے ، ان میں تعلیم وتربیت پانے والے نام نہاد طلبا اور مستشرقین کی اپنے خود ساختہ منصوبہ کے مطابق اسلام کے خلاف ذہن سازی کے لیے ایسا اسلامی لٹریچر وجود میں لایا جائے جس کو پڑھ کر اسلام کی شبیہ مکروہ اور قابل نفرت معلوم ہو اوراسلام دشمن نام نہاد ”مستشرقین“ ان تحریف شدہ کتابوں سے اپنے مقصد کے لیے ”تحقیقات اسلامی“ کے نام پر اسلام کے خلاف زہریلا مواد حاصل کرسکیں۔ اس طرح انھیں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اوراسلام کی حقانیت کو داغ دار کرنے میں نمایاں کامیابی حاصل ہوگی۔
          اسلام دشمن مستشرقین مغرب، اسلامی نظریات کو مسخ اور داغ دار کرنے کے لیے کس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، اس کا اندازہ ان مستشرقین کی مرتب کردہ کتابوں کو پڑھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر تصور میں شیخ محی الدین ابن عربی کا بدنام زمانہ نظریہ ”وحدة الوجود“ کی تشریح وتفہیم مشہور مستشرق نکلسن (Nicholson) نے اپنی کتاب "Studies In Islamic Mysticism" (Delhi-1876) (یعنی اسلامی تصوف کا مطالعہ) میں صفحہ ۷۷ تا صفحہ ۱۴۳ پر ایران کے صوفی عبدالکریم الجیلی کے حوالہ سے ابن عربی کے فلسفہ میں جو ترمیمات کی ہیں ظاہر ہے کہ اس کا مقصد راہ سلوک کے اس اہم ”ذہنی مرحلے“ پر شیخ محی الدین ابن عربی کے مخصوص مفہوم اور تاثرات کو غلط معنی پہناکر مسلمانوں کے ذہنوں پر ابن عربی کی غلط اور قابل نفرت شبیہ بٹھانا ہی ہے اور اس طرح تصوف کا ایک منفی تعارف کرانا ہی نکلسن کا مطمح نظر ہے اور کچھ نہیں۔ چنانچہ نکلسن اپنی اس کتاب Islamic Mysticism کے صفحہ ۱۴۹ پر تصوف کا تعارف کراتے ہوئے لکھتا ہے:
”صوفی وہ ہے جو اپنی ذات میں فنا ہوجاتا ہے اور خدا میں زندہ رہتا ہے۔ اس معنوں میں فنا ہوجانا دراصل خدا کے ساتھ متحد ہوجانا ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسلم صوفیہ کی آخری غایت خدا بن جانا اورالوہیت میں شریک ہوجانا (Deification) ہی ہے“
          حالانکہ حقیقی ”اسلامی تصوف“ کا مقصد اسرار ورموز کائنات کی معرفت یا ذات باری تعالیٰ میں ادغام یا وصل ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی الوہیت یا صفات الٰہی میں انسان کی شرکت اس کی منتہا و مقصود ہے۔ بقول مجدد الف ثانی:
”فنا وبقا کے تجربہ کو الوہیت میں شرکت تصور کرنا درست نہیں ہے؛ کیونکہ دوران مراقبہ صوفی جب خود کو فنا کرکے خدا کے ساتھ متحد ہوجانے کی کیفیت محسوس کرتا ہے تو یہ کیفیت بعینہ خواب کی طرح ہوتی ہے۔ یہ سب حقیقتاً نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر تم خواب میں دیکھو کہ بادشاہ بن گئے ہو تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ تم حقیقت میں بادشاہ ہوگئے ہو۔ اسی طرح جب سالک دیکھتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ متحد ہوکر خود بھی ”خدا“ بن گیا ہے تو وہ سچ مچ خدا نہیں بن جاتا۔“ (مکتوبات امام ربانی ج۱، م۲۶۶، ص:۵۸۹)
          تصوف کے اس ”ذہنی مرحلہ“ کی کیفیت کی وضاحت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے زیادہ واضح الفاظ میں کی ہے۔ ان کے خیال کے مطابق ”سالک عشق الٰہی میں ہمہ تن غرق اور اپنی ہستی کو فنا کرکے بزعم خود اللہ تعالیٰ کی ذات میں اس طرح جذب ہوجاتاہے جس طرح لوہے کا ٹکڑا آگ میں تپ کر آگ ہی کی طرح سرخ اور شدید گرم ہوجاتا ہے، گویا وہ بھی آگ ہے؛ حالانکہ حقیقت میں وہ آگ نہیں؛ بلکہ لوہا ہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح عشق الٰہی کی آگ میں تپ کر سالک بھی خود کو ذاتِ خدا وندی سے ہم آہنگ محسوس کرنے لگتا ہے۔ بہر نوع! یہ سب محض تصوراتی اور ”خیالی فلسفہ“ ہے، حقیقت میں نفس الامری نہیں ہے“۔ (ہمعات، ص:۳۶)
***


Article image..
Article image..




Article image..
Article image..




Article image..
Article image..

Article image..






سیرتِ رسول ﷺ اور مستشرقین

(پروفیسر غلام احمد حریریؔ ایم۔ اے)​

اَلْحَمْدُ لِلہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہ الّذِیْنَ اَصْطَفٰی، 
آپ نے سرورِ کائنات ﷺ کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر متعدد تقاریر و مقالات سنے۔ آنحضور ﷺ کی سیرت طیبہ وہ بحر ناپیداکنار ہے، جس کی شناوری حیطۂ بشری سے خارج ہے، استطاعت انسانی کی حد تک مدح و توصیف کے بعد بھی یہی کہنا پڑے گا کہ: 
لا یمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
حضرتِ گرامی! مجھے جو فریضہ تفویض ہوا ہے، اس کی نوعیت جداگانہ ہے۔ مجھے جس بات کے لئے مامور کیا گیا ہے، وہ اس امر کا اظہار و بیان نہیں کہ جس پاکیزہ ہستی کا تذکار آج مقصود ہے، اس نے کفرستان ارضی کو نعمتِ ایمان سے نوازا۔ اس کی تشریف آوری سے چمنستان دہر میں روح پرور بہار آگئی۔ چرخ نیلی نام نے اس بزم عالم کو یوں آراستہ کیا کہ نگاہیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔ ایوانِ کسریٰ ہی نہیں بلکہ شانِ عجم، شوکت، روم اور اوج چین کے قصر ہائے فلک بوس گر پڑے۔ نہ صرف آتشِ فارسی بلکہ آتش کدۂ ہائے کفر سروید کر رہ گئے۔ صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی۔ شیرازۂ مجوسیت بکھر گیا۔ نصرانیت کے اوراقِ خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔ 
بخلافِ ازیں مجھے یہ ناخوشگوار فریضہ سونپا گیا ہے کہ سینہ پر پتھر رکھ کر آپ یہ اور میں آپ کو سناؤں کہ آنحضور ﷺ فداۂ اَبی و امی پر کیچڑ کس نے اچھالا؟ آپ کی فرشتوں سے زیادہ پاکیزہ زندگی کو داغدار کرنے کی کوشش کس نے کی؟ آپ کی ازواجِ مطہرات اور امہات المومنین پر ناپاک حملے کس نے کئے؟ جو دین آپ لائے تھے اس کی تضحیک کس نے کی؟ اس کے عقائد و افکار کا مذاق کس نے اڑایا؟ کتبِ الٰہی کو تنقید کے تیروں سے کس نے گھائل کیا؟ 
آپ محو حیرت سوچ رہے ہوں گے کہ وہ بد باطن کون ہے؟ آپ کے اس خاموش سوال کے جواب میں یہ کہنے کی اجازت چاہتا ہوں اور اس کے لئے معذرت خواہ بھی ہوں کہ وہ تھے ہم اہل پاکستان کے محبوب رہنما اور ہمارے پسندیدہ فضلاء جن کو ہم مشرق شناس اور مستشرقین (Orientlist) کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس لئے ان کی یہ برزہ سرائی اور یادہ گوئی بہرحال گوارا ہونی چاہئے، بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر (خاک بدہن ایشاں) ان کی یہ ادا پسندیدہ گناہ سے دیکھی جانے کی اس لئے مستحق ہے کہ محبوب کی ہر ادا بھی محبوب ہوتی ہے۔ 
عزیزانِ من! محبوب کا لفظ میں نے نا دانستہ نہیں بلکہ دانستہ کہا ہے، محبوب کا طرز و انداز، چال ڈھال، نشت و برخاست، طرزِ بود و ماند، زندگی کے آداب و اطوار محب کی نگاہ میں نہ صرف پسندیدہ اور مستحسن ہوتے ہیں بلکہ وہ اس کی ہر ادا سے والہانہ شغف رکھتا اور اس پر سو جان سے فدا ہوتا ہے، یہی حال یہاں بھی ہے۔ 
ان اعدائے دین کی وہ کون سی ادا ہے جو ہمیں عزیز نہیں۔ ہمارا رہنا سہنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا اور سونا جاگنا انہی کے قالب میں ڈھلا ہوا ہے۔ ہمارے یہاں کا مہذب طبقہ دل و جان سے اس بات کا حریص ہے کہ اسی رنگ میں رنگ جائے تاکہ اس کے بارے میں کہا جا سکے۔ 
من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری!
ان دشمنانِ دین کے ساتھ مشابہت و مماثلت کا جو جذبہ ہمارے قلب ذہن میں موج زن ہے، اس کی یہ ادنیٰ کرشمہ سازی ہے کہ اگر وہ حیوانوں کی طرح کھڑے ہو کر بلکہ چلتے پھرتے کاتے پیتے ہیں، تو ہمارا اعلیٰ طبقہ بھی اس کی بھونڈی نقالی شروع کر دیتا ہے۔ اور اگر وہ بے شعور چوپایوں کی طرح کھڑے ہو کر رفعِ حاجت کرتے ہیں، تو ہم میں سے ترقی کا ایک مدعی بھی اسی طرح کرنے لگے اور پھر فحاشی، عریانی اور بے حیائی کا جو طوفان بدتمیزی ہمارے یہاں اُٹھ رہا ہے، یہ مغرب کی اندھی نقالی کے سوا کیا ہے؟ 
حضرات! بڑے ادب سے میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ جن لوگوں کے ساتھ ہمارا تعلقِ خاطر وابستگی او دل بستگی کا یہ عالم ہو ان کے بارے میں ہمارا یہ شکوہ کہاں تک درست ہے کہ انہوں نے محمد ﷺ مصطفےٰ فداہ ابی و امی کا احترا ملحوظ نہیں رکھا۔ قرآن کریم کو اپنی تنقید شدید کا نشانہ بنایا یا دین اسلام کو اپنے اعتراضات کے تیروں سے چھلنی کیا۔ اگر ہم میں دینی زندگی کی کچھ رمق بھی باقی ہوتی، تو اس کی نوبت نہ آتی۔ ہمارا مکتب اپنا فریضہ ادا کرتا تو دینی غیرت و حمیت کا یہ عالم نہ ہوتا۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مکت نے نقالی کے اس جذبہ کو اور فروغ دیا، جس سے ہماری دینی حس زندہ نہ رہی۔ اسی کے حق میں علامہ فرماتے ہیں۔ 
گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
مردہ ہے مانگ لایا ہے فرنگی سے کفن
ہمارے مکتب نے دہریت و الحاد کے دروازے چوپٹ کھول دیئے۔ 
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
سامعین کرام! میں موضوع سے بہت دور نکل جانے کے لئے معذرت خواہ ہوں، مگر مستشرقین کا ذِکر ہو تو دل کی بات کو چھپا نہیں سکتا اس لئے بقول امیر مینائی۔ 
امیرؔ جمع ہیں احباب دردِ دل کہہ لے
پھر التفاتِ دلِ دوستاں رہے نہ رہے 
تمہید میں قدرے طوالت ناگزیر تھی۔ 
سیرت نویسی کا آغاز و ارتقاء
جرمنی کے مشہور مستشرق ڈاکٹر اسپرنگ نے اِس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کے اس فخر کا قیامت تک کوئی حریف نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کے حالات اور واقعات کا ایک ایک حرف اس احتیاط کے ساتھ محفوظ رکھا ہے کہ کسی شخص کے حالات آج تک اس جامعیت کے ساتھ قلمبند نہیں ہو سکے اور نہ آئندہ اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اس کی حد یہ ہے کہ آپ کے افعال و اقوال کی تحقیق کے لئے مسلمانوں نے ‘‘اسماء الرجال‘‘ کے نام سے ایک مستقل فن ایجاد کیا اور اس میں آپ کے دیکھنے والوں اور ملنے والوں میں سے تیرہ ہزار اشخاص کے نام اور حالاتِ زندگی قلمبند کئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اس زمانہ میں ہوا جب دنیا میں تصنیف و تالیف کا آغاز ہو رہا تھا۔ 
مگر یہاں یہ سیرت نویسی کی تاریخ مقصود ہے اور نہ مسلم سیرت نویسوں کا تفصیلی تذکرہ۔ اس دلچسپ اور علمی موضوع کے لئے ایک دوسری فرصت درکار ہے۔ یہاں جو کچھ پیش نظر ہے، وہ یہ ہے کہ مستشرقین کون تھے؟ انہوں نے سیرت نویسی کے سلسلہ میں کیا کارنامہ انجام دیا؟ اور یہ کہ ان کی کاوش اہلِ اسلام کے لئے کس حد تک ضرر یا نفع رساں ہے؟ 
سیرت نویسی اور مستشرقین
اہلِ یورپ ایک مدت تک اسلام سے مطلقاً نابلد تھے، جب وہاں شرق شناسی کا رواج ہوا تو اسلام کے بارے میں طرح طرح کے توہمات میں مبتلا رہے۔ یورپ نے مسلمانوں کو جس طرح جانا اس کو فرانس کا مشہور مصنف ہنری وی کاستری یوں بیان کرتا ہے۔
’’وہ گیت اور کہانیاں جو اسلام کے متعلق یورپ میں قرونِ وسطیٰ میں رائج تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ مسلمان ان کو سن کر کیا کہیں گے؟ یہ تمام داستانیں اور نظمیں مسلمانوں کے مذہب کی ناواقفیت کی وجہ سے بغض و عداوت سے بھری ہوئی ہیں۔ جو غلطیاں اور بدگمانیاں اسلام کے متعلق آج تک قائم ہیں ان کا باعث وہی قدیم معلومات ہیں۔ ہر مسیحی شاعر مسلمانوں کو مشرک اور بت پرست سمجھتا تھا۔ مسلمانوں کے تین خدا تسلیم کئے جاتے تھے۔‘‘ (سیرت النبی شبلی بحوالہ ترجمہ کتاب ہنری وی کاستری بزبانِ عربی مطبوعہ مصر ص ۸) 
سترھویں اور اٹھارھویں صدی
سترہویں صدی کے سنینِ وسطیٰ یورپ کے عصر جدید کا مطلع ہے۔ یورپ کی جدوجہد سعی و کاوش اور حریت و آزادی کا دَور اسی عہد سے شروع ہوتا ہے۔ ہمار مقصد کی جو چیز اس دَور میں پیدا ہوئی، وہ مستشرقین کا وجود ہے۔ جن کی کوشش سے نادر الوجود عربی کتابیں ترجمہ اور شائع ہوئیں، عربی زبان کے مدارس علمی و سیاسی اغراض سے جابجا ملک میں قائم ہوئے اور اس طرح وہ زمانہ قریب آا گیا کہ یورپ اسلام کے متعلق خود اسلام کی زبان سے کچھ سن سکا۔ 
اس دَور کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ سنے سنائے عامیانہ خیالات کے بجائے کسی قدر تاریخ اسلام اور سیرت النبی ﷺ کی بنیاد عربی زبان کی تصایف پر قائم کی گئی۔ گو موقع بہ موقع سابقہ بے بنیاد معلومات کا نمک مرچ بھی شامل کر دیا گیا۔ اس عہد میں عربی زبان کی تاریخی تصنیفات کا ترجمہ ہوا، مگر یہ عجیب بات ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان مستشرقین نے جن عربی تاریخوں کا ترجمہ کیا وہ اکثر ان عیسائی مصنفین کی تصنیفات تیں جو اسلامی ممالک کے باشندے تھے۔ اِس ضمن میں ارپی نیوس مار گولیتھ ایڈورڈ پوکاک اور ہاٹنجر کے نام قابل ذکر ہیں۔ 
اٹھارویں صدی عیسوی کے آخر میں جب یورپ کی سیاسی قوت اسلامی ممالک میں پھیلنی شروع ہوئی تو مستشرقین کی ایک کثیر التعداد جماعت عالم وجود میں آئی۔ انہوں نے حکومت کے اشارہ سے السنۂ شرقیہ کے مدارس کھولے، مشرقی کتب خانوں کی بنا ڈالی، ایشیاٹک سوسائیٹیاں قائم ہیں اور تصنیفات کی طبع و اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ 
ان مدارس اور سوسائٹیوں کی تقلید سے تمام ممالک یورپ میں اس قسم کی درس گاہیں اور انجمنیں قائم ہو گئیں۔ ہر یونیورسٹی میں عربی زبان کے پروفیسروں اور کتب خانوں کا وجود لازمی سمجھا جانے لگا۔ مسلمانوں کے ہاں عربی زبان میں سیرت و مغازی کی جو کتابیں محفوظ تھیں ان میں سے اکثر اٹھارویں صدی کے اواخر سے لے کر انیسویں صدی کے اختتام تک یورپ میں چھپ گئیں۔ اور ان میں سے بہت سی کتب کا ترجمہ یورپین زبانوں میں شائع ہو گیا۔ 
ان اصل عربی تصنیفات اور ان کے تراجم کی اشاعت نیز اسلامی ممالک و یورپ کے تعلقات اور آزادانہ تحقیقات کے ذوق و شوق نے یورپ میں تاریخ اسلام اور سیرتِ نبوی کے مصنفین کی ایک کھیپ پیدا کر دی۔ سیرت النبی ﷺ پر لکھنے والوں کی کثرتِ تعداد کا ذِکر آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشہور عربی دان پروفیسر مارگو لیتھ نے اپنی کتاب ’’محمدؐ‘‘ میں اِس طرح کیا ہے۔ 
’’محمدؐ کے سیرت نگاروں کا ایک وسیع سلسلہ ہے جن کا ختم ہونا غیر ممکن ہے، لیکن اس میں جگہ پانا قابل فخر چیز ہے۔‘‘ 
مستشرقین کی اقسام
مستشرقین کے نام اور ان کا کام اس قدر وسیع الذیل ہے کہ اس کی تفصیلات ذکر کر کے میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا، البتہ یہ عرض کروں گا کہ ان کی تین بڑی قسمیں ہیں: 
1. جو عربی زبان اور اصل ماخذوں سے آشنا نہیں۔ ان لوگوں کا علمی سرمایہ اوروں کی تصانیف و تراجم ہیں۔ ان کا کارنامہ صرف یہ ہے کہ اس مشکوک اور ناقص مواد کو قیاس آرائی کے قالب میں ڈھال کر دکھائیں۔ مثال کے طور پر مشہور مؤرخ گبن کا نام اس ضمن میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ 
2. دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو عربی زبان و ادب اور تاریخ و فلسفۂ اسلام کے بہت بڑے ماہر ہیں، لیکن سیرت کے فن سے بے گانہ ہیں۔ ان لوگوں نے سیرت یا دین اسلام پر کوئی مستقل تصنیف نہیں لکھی، لیکن ضمنی موقعوں پر عربی دانی کے زعم میں اسلام اور نبی کریم ﷺ کے متعلق نہایت بے باکی سے جو چاہتے ہیں لکھ جاتے ہیں۔ مثلاً جرمن کا مشہور مستشرق ساخو جس نے طبقات ابن سعد شائع کی ہے۔ اس کی عربی دانی سے انکار نہیں کیا جا سکتا، علامہ بیروی کی کتاب ’’الہند‘‘ کا دیباچہ اس نے جس تحقیق سے لکھا ہے رشک کے قابل ہے، لیکن اسی دیباچہ میں اسلامی امور کے متعلق اس نے ایسی باتیں لکھی ہیں جن کو پڑھ کر بھول جانا پڑتا ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ جرمنی کے مشہور مستشرق نولایکی نے قرآن مجید کا خاص مطالعہ کیا ہے، لیکن انسائیکلو پیڈیا جلد ۱۶ میں قرآن پر اس کا جو آرٹیکل ہے نہ صرف اس کے تعصب بلکہ اس کی جہالت کے رازِ پنہاں کی بھی پردہ دری کرتا ہے۔ 
3. تیسری قسم کے وہ مستشرقین ہیں جنہوں نے اسلامی ادب کا کافی مطالعہ کیا ہے، مثلاً پاریا مار گولیتھ مگر علم و فضل کے باوصف ان کا یہ حال ہے کہ: ؎ 
دیکھتا سب کچھ ہوں لیکن سوجھتا کچھ بھی نہیں ​
مارگولیتھ نے مسند امام احمدؒ بن حنبل کا ایک ایک حرف پڑھا ہے۔ شاید کسی مسلمان کو بھی اس وصف میں اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں ہو سکتا، لیکن اس نے آنحضرت ﷺ کی سیرت پر جو کتاب لکھی ہے دنیا کی تاریخ میں اس سے زیادہ کوئی کتاب کذب و افتراء اور تاویل و تعصب کی مثال کے لئے پیش نہیں کر سکتی، اس کا اگر کوئی کمال ہے تو یہ ہے کہ سادہ سے سادہ اور معمولی سے معمولی واقعہ کو جس میں برائی کا کوئی پہلو پیدا نہیں ہو سکتا، صرف اپنی ذہانت کے زور سے بد منظر بنا دیتا ہے۔ 
ڈاکٹر اسپرنگ جرمنی کے مشہور عربی دان ہیں۔ کئی سال مدرسہ عالیہ کلکتہ کے پرنسپل رہے حافظ ابن حجر کی کتاب ’’الاصابۃ فی احوال الصحابۃ‘‘ بعد از تصحیح ان ہی نے شائع کی۔ لیکن جب آنحضرت ﷺ کی سیرت پر ایک ضخیم کتاب ۳ جلدوں میں لکھی تو ہر قاری حیران رہ گیا۔ 
مستشرقین کا نقد و جرح
یورپین مصنفین نے مذہبی و سیاسی تعصب کی بنا پر سرور کائنات ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ پر جو نکتہ چینی کی ہے اس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں۔ 












یورپین مصنفین نے زبان و قلم کے جو نشتر چلائے ان کی تندی و تیزی جناب رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ انہوں نے کتابِ الٰہی کو آنحضور ﷺ کی تصنیف قرار دے کر اس میں کیڑے نکالے، اس کی عبارت کو غیر مربوط اور غلط قرار دیا اس کے معانی و مطالب پر تنقید کی اور اسے ادنیٰ درجے کا عوامی کلام ٹھہرایا۔ اسی طرح انہوں نے دین اسلام پر جو حملے کئے ناقابل بیان ہیں۔ 
حضرات! مستشرقین کی عنایات دین اسلام قرآن کریم اور جناب رسالت مآب ﷺ پر اس قدر زیادہ ہیں کہ ؎ 
سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کے لئے ​
میں اپنے اندر یہ جرأت نہیں پاتا کہ مستشرقین کی ہرزہ سرائی پر مشتمل اقتباسات پیش کر کے اپنی زبان کو آلودہ اور آپ کے احساسات کو مجروح کروں ورنہ میں ڈھیروں کتب آپ کے سامنے پیش کر کے مستشرقین کی دریدہ دینی کا ثبوت مہیا کر سکتا ہوں۔
یہی نہیں کہ احقر زمانۂ طلب علم سے مستشرقین کی نصانیف پڑھتا چلا آیا ہے، بلکہ بذاتِ خود مجھے بعض مستشرقین سے ملنے اور ان سے مبادلۂ افکار کرنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ ۱۹۸۵ء جنوری میں پنجاب یونیورسٹی نے لاہور میں ایک مجلس مذاکرہ عالمیہ منعقد کی تھی جس میں احقر نے علماء مصر وشام کے ترجمان کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ اس دوران مجھے عصر حاضر کے عظیم مستشرق اور موّرخ ہٹیّ کے ساتھ کم از کم دو ہفتے گزارنے کا موقع ملا۔ پروفیسر ہٹی اگرچہ سکونت کے اعتبار سے امریکی ہیں مگر لبنانی الاصل ہیں اور عربی ان کی مادری زبان ہے، وہ عصر حاضر کے ان مستشرقین میں شمار ہوتے ہیں جو تعصب سے پاک ہیں۔ 
دوران ملاقات جب احقر نے موصوف کی کتب کے نشان زدہ مقامات پیش کئے جہاں انہوں نے بایں ہمہ اِدّعائے بے تعصبی اسلام اور شارع اسلام پر حملے کئے تھے تو اطمینان بخش جواب دینے کے بجائے چڑ گئے اور تاویلات کا سہارا لینے لگے۔ اسی طرح اٹلی کے مشہور مستشرق بوسانی کے انگریزی مقالہ کے عربی ترجمہ کے سلسلہ میں جب احقر نے ان سے مل کر مستشرقین کی اسلام دشمنی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جو جواب دیا، وہ اس اعتراف پر مبنی تھا کہ مستشرقین کی اکثریت اسی قسم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح مجھے انگلینڈ امریکہ فرانس اور جرمنی کے مستشرقین سے ملنے اور بالمشافہ گفتگو کرنے کے متعدد مواقع ہاتھ آئے اور اس بات کا عملی تجربہ حاصل ہوا کہ ان لوگوں کے دل میں اسلام اور شارع اسلام کے خلاف بغض و عناد کا ایک بحر اوقیانوس موج زن ہے۔ 
مستشرقین کی چابکدستی
حیرت کی بات یہ ہے کہ مستشرقین کی نیش زنی اور قدر ڈھکی چھپی ہوتی ہے کہ ایک صاحب بصیرت شخص ہی کو اس کا احساس ہو سکتا ہے، گویا وہ شربت کے جام میں زہر گھول کر پیش کرتے ہیں۔ 
ستم ظریفی یہ ہے کہ یورپ کے مادّی علوم سے ناپختہ اذہان اس قدر مرعوب ہیں کہ انہوں نے دینی و روحانی علوم میں بھی یورپ کی بالا دستی کو تسلیم کر لیا ہے۔ ؎ 
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے
اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے نو تعلیم یافتہ نوجوان دینی و اسلامی علوم کو بھی یورپی فکر کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں۔ ہمارے نوجوان فضلاء کو اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اسلامی علوم کا مطالعہ براہِ راست کتاب و سنت کے مآخذ سے کریں، بلکہ مستشرقین نے اپنی ناقص تحقیقات کی بناء پر تاریخ اسلام اور کتاب و سنت کے متعلق جو کچھ لکھ دیا ہے۔ اس کو حرفِ آخر سمجھ لیا جاتا ہے، گویا غزالیؒ، ابن تیمیہؒ، رازیؒ، شاہ ولی اللہؒ اور مجد الف ثانیؒ کو نظر انداز کر کے مستشرقین کے خوانِ کرم کی زلہ ربائی ہمارے نوجوانوں ہی کے حصہ میں آئی ہے۔ اس احساس کمتری اور غلامانہ ذہنیت پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے۔
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
ان مستشرقین نے ایک طرف اسلام کے دینی افکار و اقدار کی تحقیر کا کام کیا اور مسیحی یورپ کے افکار و اقدار کی عظمت ثابت کی تاکہ تعلیم یافتہ طبقہ کا رابطہ اسلام سے کمزور پڑ جائے یا کم از کم یہ سمجھنے پر مجبور ہو کہ اسلام موجودہ زندگی کے مزاج کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف انہوں نے بدلتی ہوئی زندگی اور دورِ حاضر کی ارتقاء پذیری کا نام لے کر خدا کے آخری اور ابدی دین پر عمل کرنے کو روایت پرستی، رجعت پسندی اور دقیانوسیت کا مترادف قرار دیا۔ دوسری طرف ان پر ایسی تہذیب کو لا سوار کیا جس نے ان سے دینی حمیت و غیرت کا باقی ماندہ ورثہ بھی چھین لیا۔ 
یہ مستشرقین اپنے فلسفیانہ افکار کا لاؤ لشکر لے کر اسلامی دنیا پر حملہ آور ہوئے، وہ فلسفلے جن کی خراش خراش بڑے بڑے فلاسفر اور یگانۂ روز اشخاص کی ذہنی کاوش کی رہین منت تھی۔ مستشرقین نے ان پر ایسا علمی اور فلسفیانہ رنگ چڑھایا کہ معلوم ہو یہ فکرِ انسانی کی معراج ہے، مطالعہ و تحقیق اور عقل انسانی کی پرواز اس پر ختم ہے اور غور و فکر کا یہ وہ نچوڑ ہے۔ جس کے بعد کچھ اور سوچا نہیں جا سکتا۔ 
حالانکہ ان فلسفوں میں کچھ چیزیں وہ تھیں جو تجربات و مشاہدات پر مبنی تھیں۔ اور اس لئے صحیح تھیں، اور بہت سی چیزیں وہ تھیں جو محض ظنّ و تخمین اور فرض و تخییل پر مبنی تھیں۔ گویا ان میں حق بھی تھا اور باطل بھی، علم بھی تھا اور جہل بھی۔ یہ فلسفے مغربی فاتحین کے جلو میں آئے اور مشرقی عقل و طبیعت نے فاتحین کے ساتھ ساتھ ان کی اطاعت بھی قبول کر لی۔ ان لوگوں میں وہ بھی تھے۔ جنہوں نے ان کو سمجھ کر قبول کیا، مگر وہ کم تھے۔ زیادہ تر وہ تھے جو ذرا بھی نہیں سمجھے تھے لیکن مومن اور مسحور سب کے سب تھے۔ ان فلسفوں پر ایمان لانا ہی عقل و خرد کا معیار بن گیا۔ اور اس کو روشن خیالی کا شعار سمجھا جانے لگا۔ مستشرقین کے زیر اثر یہ الحاد و ارتداد اسلامی ماحول میں بغیر کسی شورش اور کش مکش کے پھیل گیا۔ نہ باپ اس انقلاب پر چونکے، نہ اساتذہ اور مربیوں کو خبر ہوئی اور نہ غیرت ایمانی رکھنے والوں کو جنبش ہوئی۔ اس لئے کہ یہ ایک خاموش انقلاب تھا۔ اس الحاد و ارتداد کو اختیار کرنے والے کسی کلیہ میں جا کر کھڑے ہوئے نہ کسی معبد میں داخل ہوئے ، نہ کسی بت کے آگے انہوں نے ڈنڈوت کی اور نہ کسی استہان پر جا کر قربانی پیش کی۔ سابقہ اَدوار میں یہی سب علامات تھیں جن سے کفر و ارتداد اور زندقہ کا علم ہوتا تھا۔ 
عزیزانِ محترم! یہ ہے قتنۂ استشراق کا تاریخی پس منظر اس کا سرسری تعارف اور مستشرقین کے کام کا معمولی جائزہ۔ اس فتنہ سے کما حقہ آگاہ و آشنا ہونے کے لئے دراصل یہ نقطۂ آغاز اور ایک محرک ہے کہ اس جانب عنانِ توجہ موڑ کر دیکھئے کہ مستشرقین نے رسول کریم ﷺ، قرآن حکیم اور دین اسلام کو کس طرح ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ اور جانچیئے کہ آیا آپ کے ذخیرۂ علم و فضل میں اس کا شافی جواب موجود بھی ہے یا نہیں۔ 
اصل موضوع زیر تبصرہ یہی تھا کہ مستشرقین کے وارد کردہ اعتراضات کا جواب دیا جائے مگر میرے نزدیک اصلی مبحث پر گفتگو اس پس منظر کے بغیر نہ موزوں تھی نہ مفید، میرے لئے اس قلیل فرصت میں ممکن نہیں کہ مستشرقین کے کسی اعتراض کو پیش کر کے اس کا تفصیلی جواب پیش کر سکوں۔ اس لئے اب صورتِ حال یہ ہے کہ اگر آپ کے قلب و ذہن کے کسی گوشے میں یہ جذبہ ابھرا ہے کہ آنحضور ﷺ کی پاکیزہ سیرت کو مستشرقین نے جس طرح داغدار کیا ہے، اس کی تفصیلات معلوم کریں اور پھر اس کے جواب کے در پے ہوں تو اس ضمن میں مطالعہ کی راہیں کھلی ہیں اور رہنمائی کے لئے میری خدمات حاضر ہیں۔ اس لئے کہ ہمارا علماء اس پہلو سے غافل نہیں رہے اور انہوں نے سیرتِ طیبہ کا پورا پورا دفاع کیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سیرت نبوی ﷺ سے دفاع کا فریضہ انہی لوگوں نے ادا کیا جو رجعت پسند کہلاتے ہیں۔ کسی ’’روشن خیال‘‘ کو آج تک یہ توفیق نہیں ہوئی۔ 
سامعین عظام! مستشرقین کی برکات کے طفیل دنیائے اسلام آج ایک دینی، فکری اور تہذیبی ارتداد میں مبتلا ہے۔ یہ مصیبت ان تمام لوگوں کے لئے ایک المیہ سے کم نہیں، جو اسلام کا درد رکھتے ہیں۔ آج ہر اسلامی ملک کے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا حال یہ ہے کہ اعتقاد و ایمان کا سرا ہاتھ سے چھوٹ چکا ہے۔ اخلاقی بندشیں وہ توڑ کر پھینک چکا ہے، شک و الحاد، نفاق و ارتیاب کا ایک طوفان ہے جو ہمارے دل و دماغ میں برپا ہے۔ غیبی حقائق پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔ سیاست و اقتصاد کے مادہ پرستانہ نظریات فروغ پا رہے ہیں۔ 
اس کا واحد علاج یہ ہے کہ ہمارے نوجوان پورے اشتیاق و اخلاص کے ساتھ رسول ﷺ عربی فداہ ابی و امی کی پاکیزہ سیرت کا مطالعہ کریں اور آنحضور ﷺ کے اقوال و اعمال کو اپنے لئے اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ اس طرح ان پر یہ حقیقت آشکار ہو گی کہ رسالت مآب کی حیات طیبہ پاکیزگی فکر و عمل اور بلندیٔ سیرت و کردار کا زندہ پیکر تھی۔ مگر یورپین مصنفین اپنے خبثِ باطن اور جذباتِ حقد و عناد کے باعث چمگادڑ کی طرح اس آفتاب درخشاں سے مستفید نہ ہو سکے اور ان کی آنکھیں اس کی تابانی و درخشانی کے سامنے خیرہ ہو کر رہ گئیں۔ ؎ 
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم، چشمۂ آفتاب راچہ گناہ ​
خلاصہ یہ کہ عملی زندگی میں اتباعِ رسول کے بغیر ایمان و اسلام کا اِدعاء، ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔ اور ایک مومن کے لئے یہ متاعِ گراں بہا ہر دنیوی اثاثہ و سرمایہ سے عزیز تر ہے۔
بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر باد نرسیدی مام بُولہبی است ​



ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی

اسلام ابدی مذہب ہے، جو اپنے اندرآفاقیت رکھتا ہے، اس کا کوئی گوشہ ایسا نہیں کہ انگشت نمائی کی گنجائش نکل سکے؛ لیکن ابتداء سے ہی اس کو ہمہ جہتی مقابلہ کا سامنا رہاہے،سابقہ زمانہ میں یہود ونصاریٰ سے جوتصادم رہا، اس کی نوعیت دوسروں سے مختلف رہی؛ کیونکہ ان دونوں قوموں کو "اہلِ کتاب" ہونے کا زعم کھائے جارہا تھا، ان میں نصاریٰ نسبتاً ٹھیک بھی تھے؛ مگریہود کا دماغی توازن اس طرح بگڑچکا تھا کہ خدائی گرفت تک کا خوف دل ودماغ سے جاتا رہا، جب قرآن نے ان پر "الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ" کاتازیانہ برسایا تو ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کی نگاہوں میں معتوب ہوگئے، آخری نبی کی آرزو لیے بیٹھے تھے؛ لیکن اچانک بنی اسماعیل میں آخری نبی کا ظہور ہمیشہ کے لیے ان کے لیے باعث افسوس رہا؛ پھر"یثرب" کی امارت وسیادت کے لیے یک گونہ اتفاق، عبداللہ بن ابی پر ہوچکا تھا؛ لیکن ہجرت نبوی نے سارا بنابنایا کھیل بگاڑکر رکھ دیا، دیکھتے دیکھتے حالات سنگین ہوتے گئے؛ یہاں تک کہ "خیبر" جیسے ناقابلِ تسخیر قلعے بھی مسلمانوں کے ہاتھ آگئے اور پھروہ دن بھی آیا کہ حضرت عمرؓ نے جزیرۃ العرب سے ان تمام کو نکال باہرکردیا اور ارشاد فرمایا کہ مجھے اپنے محبوب ﷺ کا جملہ اچھی طرح یاد ہے:
"لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَلَاأَتْرُكُ فِيهَا إِلَّامُسْلِمًا"۔

(ابوداؤد، باب فی إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، حدیث نمبر:۲۶۳۵)
کہ جزیرۃ العرب سے یہود ونصاریٰ کو بالکل نکال باہرکرونگا اس خطے میں سوائے مسلمان کے اور کسی کو رہنے کا استحقاق نہیں۔

ان سب نے مل کر عداوت میں اس قدر شدت پیدا کردی کہ وہ ابتداء ہی سے ، اسلام اور مسلمانوں کو راست دشمن سمجھنے لگے، اس سلسلے میں بہت سی جنگیں لڑی گئیں جو ہنوز جاری ہیں، بیت المقدس جو مسلمانوں کے یہاں مقدس ہونے کے ساتھ ساتھ، اتفاق سے ان کے مسخ شدہ عقیدے میں بھی قابلِ احترام سمجھا جاتا رہا ہے، حضرت عمرؓ کی فتح کے بعد سے ہی اس کی بازآبادکاری کے لیے کوشاں رہے، ان کی مشترکہ کوششوں نے مثالی کردار بھی ادا کیا، خون ریز لڑائیاں لڑی گئیں، مسلمانوں کو شکست بھی ہوئی اور انسانی جانوں کو بے تحاشا تہہ تیغ کیا گیا، ایمانڈوژیل پوئی کا قسیس لکھتا ہے:
"حضرت سلیمان کی قدیم ہیکل میں اس قدر خون بہا تھا کہ اس میں لاشیں صحن میں تیرتی پھرتی تھیں، کسی کا ہاتھ، کسی کا پیر، کسی کا دھڑ، سب بے جوڑ اس طرح سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے کہ انہیں پہچاننا مشکل تھا، وہ سپاہی جنہوں نے یہ قتل عام کیا تھا، بمشکل خون اور اس سے پیدا ہونے والی بھاپ کی بوبرداشت کرسکتے تھے"۔ (تمدنِ عرب:۲۹۹)

پورے اٹھاسی برس تک بیت المقدس، یہودیوں کے قبضے میں رہا؛ مگر جناب نورالدین زنگیؒ پھر صلاح الدین ایوبیؒ کی فراستِ ایمانی اور بے لوث جذبہ اسلامی؛ نیزخدا کی عطا کردہ قائدانہ جنگی صلاحیتوں کے طفیل مسلمانوں کے ہاتھ آیا، یہ پوری اندوہناک داستان دوصدی کو محیط ہے، ڈاکٹرحمیداللہ لکھتے ہیں:
"جب ۳۶۱ھ میں مصر می فاطمیوں کا قبضہ ہوا توفاطمی حکمرانوں نے عیسائیوں کی تجارتی سرگرمیوں کی سرپرستی کی؛ لیکن اہل اسلام کی یہ تمام رواداری اور فراخ دلی، ان کے تعصب کی آگ نہ بجھاسکی، ان کے لیے بیت المقدس میں مسلمانوں کا وجود کسی طرح بھی قابلِ برداشت نہ تھا؛ چنانچہ یورپ کی متحدہ عیسائی طاقتوں نے بیت المقدس پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کیا، یسوع مسیح کے دین اور صلیب مقدس کی حفاظت کے نام پر یورپ کے ان وحشی اور غیرمہذب دیوانوں نے جس سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کیا نصرانیت کی تاریخ میں اسے "مقدس لڑائی" کے نام سے پکارا جاتا ہے عیسائیوں اور مسلمانوں کی یہ المناک کشمکش جو تقریباً دوصدی تک جاری رہی، تاریخ میں صلیبی جنگوں کے نام سے مشہور ہے"۔ (تاریخِ اسلام:۴۳۵، مؤلف: ڈاکٹر حمید اللہ)

لیکن ان سب کے باوجود مسلم اقوام میں کبھی تذبذب، اضطراب اور جذبہ شکستگی کا احساس تک نہ پیدا ہوا؛ بلکہ ہرمیدان میں ثبات قدمی کا ثبوت پیش کیا، جس کی وجہ سے اسلامی قوت ان علاقوں میں ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے لگی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میدانِ کارزار میں دو بدو لڑنے کی ہمت ٹوٹ گئی۔

پالیسی بدلو تحریک

تب جاکر "پالیسی بدلوتحریک" کا آغاز ہوا، تیروتلوار پھینک دیئے گئے اور تہذیب وثقافت اور اسلامی اقدار کا مطالعہ شروع کیا گیا؛ لیکن یہ کوئی آسان کھیر کا نوالہ نہیں تھا کہ آسانی سے نگل لیا جاتا؛ بلکہ صدیوں کوشش کے بعد ایک منظم تحریک بن سکی، جس کا آغاز ۱۳۱۳ء میں ہوا اور اکیڈیمی کی شکل ۱۷۸۳ء میں دی گئی، تقریباً پانچ صدی میں ان کی تمام کوششیں عربی تعلیم پر مرکوز رہیں۔

دواہم مقاصد

اس سازش نے ابتداء سے ہی دواہم مقاصد کے لیے کام کرنا شروع کیا۔

(۱)سب سے پہلا مقصد تو یہ تھا کہ اسلام کے فکری حملہ کی روک تھام کی جائے جس کا حاصل یہ تھا کہ اسلام نے ان کے مسخ شدہ عقیدے پر جو ضرب کاری لگائی ہے جس کی وجہ سے ان کے کمزور عقیدے والے ہی نہیں، راسخ العقیدہ حضرات بھی برگشتہ ہوتے جارہے ہیں اور رفتہ رفتہ اسلام کو گلے سے لگاتے جارہے ہیں، ان کو دوبارہ اسلام سے نکال کر اپنا ہم نوابنالیا جائے، یاوہ لوگ جو اب تک اسلامی تعلیمات کو پورے طور پر سمجھ نہیں پائے ہیں ان کو کم ازکم اپنے مذہب پر ثابت قدم رکھا جاسکے؛ چنانچہ ان کو اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑی، مشرکوں کے پرانے پروپگنڈوں کی تشہیر سے کام چلایا، ان پروپگنڈوں سے کماحقہ نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوا۔

نظریۂ استشراق کا آغاز

(۲)ان کا دوسرا سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے دین ومذہب پر اقدامی حملہ کیا جائے اس حملے کا حاصل یہ تھا کہ جولوگ اسلام کو اپنے گلے سے لگا چکے ہیں کم از کم وہ تشکیک کے شکار ہوجائیں؛ تاکہ جس طرح ان کی مسخ شدہ عقیدے کا دائرہ کار تنگ ہوچکا ہے؛ اسی طرح اسلام کا دائرہ تنقید بھی متاثر ہوجائے، اس کے لیے انہوں نے پوری جانفشانی سے اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا ان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ، عربی زبان تھی اس کی شدبد پیدا کرنے کے لیے تقریباً پانچ صدیاں صرف کی گئیں؛ چنانچہ ۱۳۱۲ء کو جینوا کی کلیسا نے عربی زبان کو مختلف یونیورسٹیوں میں داخلِ نصاب کرنے کا فیصلہ کیا تو ۱۷۸۳ء میں اس کی پہلی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں اصل مقصد کی یاد دہانی کرواکر اصل کام کا آغاز کیا گیا اوراس تحریک کا نام Orientalism کادیا گیا، اس وقت استشراق اور مستشرق کا لفظ "شرق" سے وضع کیا گیا (ترات الاسلام:۱/۷۸، بحوالہ من افتراءات المستشرقین) اصطلاحی لحاظ سے بھی بڑی پیچیدگی رہی، ہردور کے علماء نے اپنے اپنے گردوپیش کے تناظر میں اس کی تعریفیں کیں، ہرایک نے یہ کوشش کی کہ اس دور کی وہ تمام کوششیں جو اسلام میں تشکیک کی غرض سے کی جارہی ہیں سب سمٹ آویں، مختلف تعریفوں میں سے یہاں پر دوتعریفوں کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:

جناب احمد عبدالحمید غراب نے مختلف تعریفوں کو ذکر کرنے کے بعد تمام کا ماحصل ان الفاظ میں کشید کیا ہے کہ:
"استشراق، یورپ کے اہل کتاب کفار کی ان تحقیقات کا نام ہے جو اسلام کی صورت بگاڑنے، مسلمانوں کے ذہن میں اس کی جانب سے شک پیدا کرنے اور اس سے برگشتہ کرنے کے لیے خاص طور پر اسلامی عقیدہ وشریعت، تہذیب وتمدن، تاریخ نیززبان وبیان اور نظم وانتظام کے تئیں کی جائیں"۔

(رویۃ اسلامیہ للاستشراق:۷، مؤلف: احمد عبدالحمید غراب)

ڈاکٹرعبدالمنعم فواد نے ان تمام تعریفوں کا تحقیقی جائزہ لینے کے بعد تھوڑی اور تعمیم پیدا کی ہے؛ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:
"استشراق، عربوں کے ماسوا، مشرق ومغرب کے غیرمسلموں کی وہ تمام کوششیں ہیں جواسلامی عقیدے، شریعت، تہذیب وتمدن، زبان وبیان اور نظم وانتظام کا مطالعہ کرکے اسلام کی شبیہ بگاڑنے اور تشکیک پیدا کرنے کے لیے کی جائیں"۔

(من افتراءات المستشرقین:۱۸)

اس کا حاصل یہی ہے کہ ان کے ہرکارنامے کے پیچھے کچھ زہریلے جراثیم چھپےہوتے ہیں، جواسلامی تاریخ کو کھاتے چلے جاتے ہیں اور دین کے روشن حقائق کو بھیانک بنادیتے ہیں، اس سے انکار نہیں کہ ان کی تحقیقات سے بعض اوقات مسلمانوں کو فائدہ بھی پہنچا اور مسلمانوں نے فائدہ اٹھایا بھی؛ کیونکہ ان کے دفعات میں سے ایک اہم دفعہ یہ بھی ہے

کہ دانائی کی بات خواہ کہیں بھی ہو، مؤمن کی گمشدہ پونجی ہے، جہاں ملے اُٹھالے۔

(ترمذی، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، حدیث نمبر:۲۶۱۱)

لیکن امت کو ان کی نگارشات اور زہرآلود تحقیقات سے نقصان بھی پہنچا، علامہ سید سلیمان ندوی نے ایک موقع پر اس تشوش کا اظہار کیا تھا:
"ان کی یہ قابل قدر سرگرمیاں ہمارے شکریہ کی مستحق ہیں؛ لیکن ظاہر ہے کہ یہ علوم ان کے نہ تھے، اس لیے وہ ہمدردی اور محبت جومسلمانوں کو اپنی چیزوں سے ہوسکتی ہے ان کو نہیں ہے اس لیے ان کی تحقیق وتدقیق سے جہاں فائدہ ہورہا ہے، سخت نقصان بھی پہنچ رہا ہے، جس کی تلافی آج مسلمان اہل علم کا فرض ہے، ان میں ایک ایسا گروہ ہے جو اپنے مسیحی نقطہ نظر سے اسلامی علوم پر نظرڈال کر تحقیق وریسرچ کے نام سے ایک نیامحاذِ جنگ بناکر، اسلام، داعی اسلام، اسلامی علوم اور اسلامی تہذیب وتمدن پر بے بنیادحملہ کررہا ہے، قرآن مجید، حدیث، تصوف، سیر، رجال، کلام اور فقہ سب ان کی زد میں ہے، نہیں کہا جاسکتا کہ یورپ کے اس رنگ کے لٹریچر سے اسلام کو کس قدر شدید نقصان پہنچا ہے اور پہنچے گا؛ اگریہ زہر اسی طرح پھیلتا رہا اور اس کا تریاق نہیں تیار کیا گیا تو معلوم نہیں کس حد تک نوجوان مسلمانوں کے دماغوں میں سمیت سرایت کرجائے گی"۔

(اسلام اور مستشرقین:۱/۱۱۔۱۲، مرتب عبدالرحمان اصلاحی)

مستشرقین کی توجہ حدیث کی طرف

ویسے تو ان دشمنانِ اسلام نے دین کے ہرشعبہ ہی کو نشانہ بنایا اور ہرگوشے کو مشکوک کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ حدیث پاک، قرآن پاک کے بعد سب سے اہم مصدر ہے، دین کی صحیح فہم اور اسلام کی حقیقی تصویر کشی، حدیث کے بغیر نامکمل رہتی ہے، اس لیے ہم مستشرقین کو دیکھتے ہیں کہ اس اہم مصدر کی طرف کچھ زیادہ ہی متوجہ رہتے ہیں اور آزاد تحقیق وریسرچ کے نام پر زہراگلتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے نمایاں شخصیت ہمیں دو نظر آتی ہیں:

(۱)سب سے پہلی شخصیت گولڈزیہر (Gold Hazer) کی ہے، جس کو عربی کتابوں میں "جولدتسھر" سے جانا جاتا ہے یہ شخص جرمن کا یہودی ہے، اس نے تمام اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۸۹۰ء میں پہلی تحقیق شائع کی، جس میں پورے اسلامی مآخذ کو مشکوک ٹھہرایا اس کی سب سے اہم کتاب "دراسات اسلامیۃ" کے نام سے ملتی ہے، جس کو پڑھ کر بعض اسلام کے نام لیوا بھی اپنی راہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

(۲)دوسری شخصیت "جوزف شاخت" (Joseph Schacht) کی ہے جس نے سارے اسلامی علوم وفنون کا دقتِ نظری سے مطالعہ کیا، خاص طور پر "فقہ اسلامی" پر توجہ دیا اور مختلف چھوٹے بڑے رسالے لکھے "بدایۃ الفقہ الاسلامی" اس کی ضخیم کتاب ہے، جس میں اس نے سارے ہی مآخذ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔

(تفصیلی حالات ملاحظہ کیجئے، موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)

حدیث کے متعلق سے "گولڈزیہر" نے زیادہ توجہ متن پر مرکوز کی، جب کہ "شاخت" نے سند اور تاریخ سند کو مشکوک قرار دیا، مندرجہ ذیل سطور میں انہی دونوں حضرات کے وہ شبہات جو بنیادی حیثیث رکھتے ہیں ذکر کئے جاتے ہیں۔

تدوین حدیث کی اصل حقیقت

یہ بات تقریباً تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہے کہ کتابت حدیث اور حفظ حدیث دونوں زمانہ نبوت سے شروع ہوچکے تھے، بعض صحابہ کے صحیفے اس کے لیے پیش کئے جاسکتے ہیں؛ مگر"تدوین رسمی" حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں ہوئی اس کا سہرا کسی ایک شخص پر نہیں؛ بلکہ مختلف علاقوں کے مختلف ذی استعداد قابل اعتماد حضرات کے ہاتھوں یہ کام ہوا؛ البتہ امام زہریؒ کا کارنامہ عظیم تھا ۔

سب سے پہلا تیر

اس لیےمستشرقین نے کوشش یہ کی کہ پہلی ہی بنیاد کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تاکہ ساری عمارت خود بخود ڈھ جائے؛ چنانچہ سب سے پہلا تیر گولڈزیہر نے یہ چلایا کہ حدیث بنی امیہ کے دور کی پیداوار ہے؛ یہی اسلام کا مکمل اور پختہ بلکہ دورِ عروج ہے؛ چنانچہ وہ لکھتا ہے:
"إن القسم الأكبر من الحديث ليس صحيحاً مايقال من أنه وثيقة للإسلام في عهده الأول عهد الطفولة، ولكنه أثر من آثار جهود المسلمين في عصر النهضة"۔

(نظریہ عامۃ فی تاریخ الفقہ لعلی حسن عبدالقادر: ۱۲۶)
کہ حدیث کا ایک بڑا حصہ صحیح نہیں ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام کے یہ دستاویز عہد اوّل جوعہد طفولت ہے سے چلے آرہے ہیں یہ تومسلمانوں کے دورِ عروج کی کوششوں کے آثار میں سے ہے۔

پھراس الہام کی تشریح اس طرح کی کہ پہلی صدی ہجری میں امویین وعلویین کے دوگروہ آپس میں نبردآزما ہوئے، کسی کے پاس قرآن وحدیث سے ٹھوس دلائل نہیں تھے اس لیے کچھ حدیثیں گھڑ کر چلتا کیا گیا، ہرگروہ نے اپنے زعم کے مطابق حدیثیں گھڑیں، طرفہ تماشہ یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی بھی حاصل رہی؛ بلکہ شاباشی دی گئی، حضرت امیرمعاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے یوں کہا تھا:
"لَاتَھْمِلْ فِیْ أَنْ تَسُبَّ عَلِیاً وَأَنْ تَطْلُبَ الرَّحْمَۃَ لِعُثْمَانَ وَأَنْ تَسُبَّ أَصْحَابَ عَلِیٍ وَتَضْطَہَدُ مِنْ أَحَادِیْثِہِمْ وَعَلَی الضِدِّ مِنْ ھَذَا وَأَنْ تَمَدَّحَ عُثْمَانَ وَأَھْلَہُ وَأَنْ تَقْرُبَھُمْ وَتَسْمَعْ اِلَیْہِمْ"۔
کہ حضرت علی پر سب وشتم کرنا، حضرت عثمان کے حق میں رحمت کی دعا کرنا؛ نیزاصحاب علی کو گالی گلوج کرنا ان کی حدیثوں کے خلاف حدیثیں گڑھنا مت چھوڑو۔

اس امر کی تائید

پھر تائید میں یہاں تک کہا کہ دیکھتے نہیں:
"فَإِنَّهُ لَاتُوْجَدْ مَسْأَلَةٌ خِلَافِيَّةٌ، سِيَاسِيَّةٌ أَوْاِعْتِقَادِيَّۃٌ، إِلَّاوَلَهَا اِعْتِمَادٌ عَلَى جُمْلَةِ مِنَ الْأَحَادِيْثِ ذَاتَ الْإِسْنَادِ الْقَوِيِّ"۔ 

(مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی، بحوث مجمعیۃ السنۃ النبویۃ فی العصر: ۸/۱۴۷۴)
کہ کوئی بھی مسئلہ ہو خواہ وہ سیاسی ہو یااعتقادی ہرباب میں قوی سند والی حدیثوں پر اعتماد کو پائیں گے۔

پھراس کے بعد مستشرق گولڈزیہر نے لکھا:
"وَعَلَی ھَذَا الْاَسَاسِ قَامَتْ أَحَادِیْثُ الْأُمَوِیِّیْنَ ضِدَّ عَلِیٍّ"۔
کہ اسی اساس پر حضرت علی کے خلاف، امویین کی حدیث کا دارومدار ہے

بنوامیہ نے اس کام کے لیے زہری کو خریدا

اپنی جھوٹی عمارت کی تعمیر کے لیے بنوامیہ کا ایک بادشاہ عبدالملک بن مروان نے چال چلی کہ جب فتنہ عبداللہ بن زبیر کے موقع پر حج سے ممانعت کردی گئی تو عبدالملک نے بیت المقدس میں "قبۃ الصخرہ" کی تعمیر کرکے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس وقت کے نامور محدث، جن کا دور دور تک شہرہ تھا، یعنی امام زہری کو اس کام کے لیے راضی کیا کہ بیت المقدس کی فضیلت کے باب میں کوئی حدیث گڑھیں؛ چنانچہ زہری نے ایک مشہور حدیث گھڑی جس کو امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے:
"لَاتَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّاإِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَاوَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"۔ (مسلم، باب سفرالمرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ، حدیث نمبر:۲۳۸۳)

یہ زہری کے موضوعات میں سے ہے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جتنی سندیں بھی منقول ہیں سب جاکر زہری پر منتہی ہوتی ہیں۔

ایک دل فریب مکاری جو امویو نے رچی

مستشرقین نے زہری کی بابت ایک عجیب قصہ نقل کیا ہے جو مختلف سندوں سے کتابوں میں محفوظ ہے کہ ابراہیم بن الولید اموی زہری کے پاس ایک صحیفہ لایا، جس میں اپنی من پسندروایتیں لکھ لی تھیں اور زہری سے اس کی اجازت طلب کی، زہری نے بھی بلاکسی تردید کے اس کی اجازت دے دی،اور یہ فرمایا:
"مَنْ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُخْبِرَکَ بِھَا غَیْرِی؟"۔
کہ میرے علاوہ اس کی خبر تم کو اور کون دے سکتا ہے۔

اس طرح اس صحیفہ کی روایتیں زہری کے حوالے سے بیان کی جانے لگی۔

(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۱۹۲)

زہری کی مجبوری

خود امام زہری کے ذاتی احوال میں اس طرح کی باتیں ہیں کہ بادشاہوں کی ہاں میں ہاں ملانا باعثِ فخر تصور کرتے ہیں؛ خواہ اس کے وجوہات کچھ بھی ہوں؛ یہی وجہ ہے کہ ہشام نے اپنے ولی عہد کے اتالیقی کی پیش کش کی، یزید ثانی نے منصبِ قضا کا عہدہ دیا، سب کوبخوشی قبول کیا، جب کہ علماء کے نزدیک یہ ایک محقق مسئلہ ہے :
"مَنْ تَوَلّیٰ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذَبَحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ"۔
جس نے عہدۂ قضاء قبول کیا اسے اُلٹی چھری سے ذبح کردیا گیا۔

البتہ ہوسکتا ہے کہ اس تقرب کی وجہ امام زہری کوحدیثوں کے گڑھنے کی مجبوری ہو؛ یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر آپ نے کھل کر اعتراف کیا:
"أَكْرَهْنَا هَؤَلَاءِ الْأُمَرَاءَ عَلَى أَنْ نَكْتُبَ أَحَادِيْثَ"۔
کہ ان امراء نے ہمیں حدیثوں کے گڑھنے پر مجبور کیا۔

یہ وہ زہرافشانی ہے جو مستشرقین کی طرف سے کی گئی، اب مندرجہ ذیل سطور میں ان سبھوں کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

حدیث پاک امویوں کی پیداوار نہیں

حدیثِ پاک دین کا ایک بنیادی حصہ ہے، اس کے بغیر صحیح اسلام کا تصور محال ہے؛ پھریہ کہنا کہ اس کا بڑا حصہ امویوں کی کوششوں سے وجود میں آیا، سراسر دین وشریعت کے ساتھ ناانصافی ہے؛ کیونکہ رسول اللہﷺ پرجو آخری آیت اتری ہے وہ ہے "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا" (المائدہ:۳) اس میں کھلے لفظوں میں اکمال دین اور اتمامِ نعمت کا اعلان کردیا گیا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
"تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ"۔

(موطأ مالک، باب النھی عن القول بالقدر، حدیث نمبر:۱۳۹۵)
کہ دوچیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اگر ان دونوں کو مضبوط پکڑے رہوگے تو پھر گمراہ نہیں ہوسکتے،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری اپنے نبی کی سنت۔

نیزدین اسلام کو روشن دن سے تشبیہ دیکر ایک موقع پر اس کی پختگی کو آشکارا کیا:
"لَقَدْ تَرَکْتُکُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ"۔

(ابن ماجہ، باب اتباع سنۃ رسول اللہﷺ ، حدیث نمبر:۵)

ترجمہ:میں تم لوگوں کو صاف شفاف دین پر چھوڑکر جارہا ہوں،جس کے رات اور دن برابر ہیں۔

خلفاء بنی امیہ کو دینی امور سے دل چسپی

تاریخ کی کتابوں کے پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ خلفاء بنی امیہ میں ایک دو کو چھوڑ کر سب دین دارنظر آتے ہیں، ذاتی خامی کس شخص میں نہیں ہوتی ہے کہ ان کو لے کر ان کے سارے کارناموں کو ملیامیٹ کردیا جائے، جس عظیم بادشاہ عبدالملک پر گولڈزیہر، امام زہری سے سازباز کرنے کا الزام لگاتا ہے، اسی کے متعلق طبقات ابن سعد میں حضرت ابن عمرؓ کا قول منقول ہے کہ لوگوں نے ان سے پوچھا :

"أرایت اذانفانی أصحاب رسول اللہ من نسال؟" کہ اصحابِ رسول کے ختم ہوجانے کے بعد ہم لوگ کس سے سوال کریں گے؟، تو حضرت ابنِ عمرؓ نے عبدالملک کی طرف اشارہ کرکے ارشاد فرمایا: "سلوا ہذا الفتی" کہ ان نوجوان سے پوچھو۔
(المفصل في الرد على شبهات أعداء الإسلام:۹/۲۹۷،شاملہ، جمع وإعداد الباحث في القرآن والسنة،علي بن نايف الشحود)

اسی طرح جب لوگ آپ کے پاس خلافت وبیعت کے لیے آئے تو دیکھا کہ پورے عالم اسلام کا ہونے والا شاہ، ایک دھیمی روشنی میں قرآن کی تلاوت کررہا ہے؛ کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ علماء کو انہو ں نے وضع حدیث کے لیے استعمال کیا ہو، ان کا جو کچھ بھی اختلاف تھا دینی پیشواؤں سے نہیں؛ بلکہ سیاسی قائدین اور خوارج سے تھا، جوہرملک اور حکمراں کے لیے ناگزیر ہے اس کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امام زہری اصل نشانہ

چونکہ امام زہریؒ کی طرف منسوب حدیث کی عظیم خدمت، خدمتِ تدوین ہے اس لیے مستشرقین کا اصل زور اسی پر صرف ہوا کہ امام زہری کی شخصیت کو بگاڑ دیا جائے اور ان کو ایک دنیادار، حریص، بادشاہوں کا وفادار اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والا ثابت کیا جائے؛ تاکہ حدیث نبوی کا پورا ڈھانچہ ہی کچھ کا کچھ ہوجائے اس لیے مختصر طور پر ہم امام زہری کے حالات درج کرتے ہیں۔

امام زہریؒ ابوبکر محمد بن مسلم بن عبیداللہ، قرشی زہری ہیں، ابن شہاب سے بھی مشہور ہیں، راجح قول کے مطابق سنہ۵۱ھ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد حضرت عبداللہ بن زبیر کے فوجی تھے، امویوں کے خلاف لڑتے رہے، باپ کا جب انتقال ہوا تو آپ یتیم ہی نہیں، تربیت کرنے والوں کی تربیت سے بھی محروم ہوگئے؛ لیکن آپ کے اندر کا جوہر، علم کی طرف راغب کررہا تھا؛ چنانچہ صرف ۸۰/یوم میں حفظ مکمل کیا، عبداللہ بن تغلب سے علم الانساب حاصل کیا؛ پھرحلال وحرام اور روایت حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اوراس وقت کے موجود تمام صحابہؓ سے سماع کیا، جن میں دس صحابہ، حضرت انسؓ، حضرت ابن عمرؓ، حضرت جابرؓ وغیرہ کے اسماء کی تصریح ملتی ہے؛ پھراجلۂ تابعین سے علم حاصل کیا، جن میں سعید بن المسیب کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جن کی صحبت میں مکمل آٹھ سال رہکر، کندن بن گئے (تہذیب الکمال: ۶/۵۱۱) جب عبداللہ بن زبیر شہید کردئے گئے تو اس کے بعدسے آپ کے تعلقات خلفاء بنوامیہ سے استوار ہوئے؛ چنانچہ مروان، عبدالملک، ولید، سلیمان، عمر بن عبدالعزیز، یزید ثانی اور ہشام تک سے مراسم اچھے رہے،۷۲/بہاریں دیکھنے اور دین کی عظیم ترین خدمت انجام دینے کے بعد ۱۲۴ھ میں انتقال فرماگئے، آپ کی وصیت کے مطابق شاہ راہ عام پر دفن کیا گیا؛ تاکہ ہرجانے آنے والا، دعائے مغفرت کرتا رہے۔

علمی انہماک

حضرت ابراہیم بن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آخر کیا وجوہات ہیں کہ زہری آپ سبھی پر فائق ہوگئے، کہنے لگے کہ سنو:
"وہ علمی مجلسوں میں بالکل سامنے بیٹھتے، مجلس میں ہرجوان اور ادھیڑعمر سے سوالات کرتے؛ پھرانصار کے مجلسوں میں آتے، وہاں بھی جس شخص سے ملاقات ہوتی پوچھ لیا کرتے تھے؛ یہاں تک کہ خواتین سے بھی پوچھتے تھے"۔ (تہذیب الکمال:۶/۵۱۱)

امام زہری عبیداللہ بن عتبہ بن عبداللہ بن مسعودؓ سے حدیثیں پڑھتے، آپ کے دروازے سے چمٹے رہتے، آپ کے لیے پانی لاتے، باندیاں تو آپ کو عبداللہ کا غلام سمجھتی تھیں اور جوں ہی موقع ملتا کتاب کھول کر بیٹھ جاتے، انہماک کا یہ حال ہوتا کہ عبيداللہ کی بیوی صاحبہ کہتی کہ تین سو کنوں سے زیادہ دشوار یہ کتابیں ہیں؛ پھرگھر لوٹتے تو باندی کو جگاتے اور حدیثوں کو سناتے اور کہتے جاتے کہ مجھے معلوم ہے تمھیں کچھ فائدہ نہیں ہوگا؛ لیکن چونکہ میں نے ابھی یہ حدیث سنی ہے اس لیے مذاکرہ کے طور پر سنارہا ہوں۔

(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۰۸،۲۰۹)

قوتِ حافظہ

آپ اپنے دور کے دریتیم اور قوتِ حافظہ کی دولت سے مالامال تھے، ابن عساکر نے ایک حیرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے کہ عبدالملک نے اہل مدینہ کو عتاب والا ایک خط لکھا، جو دوصحیفے کے برابر تھا، وہ خط منبر کے پاس پڑھا گیا اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے توسعید بن المیسب نے اپنے حلقہ درس میں طلبہ سے خواہش کی کہ اس خط میں کیا تھا بتائیں سب نے اپنی اپنی یادداشت کے مطابق کچھ کچھ حصہ سنایا، ابن شہاب زہری نے کہا:
"یاابا محمد أتحب أن تسمع کل مافیہ قال: نعم! فقرء حتی جاء علیہ کلہ کأنھا یقرؤہ من کتاب بیدہ"۔ (السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۰۹)
کہ اے ابومحمد! کیا آپ اس خط کے پورے اجزاء سننا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں! تو ابن شہاب نے پورا خط اس طرح سے ذکر کیا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ خط ان کے ہاتھ میں ہے۔

ہشام بن عبدالملک نے ایک موقع پر آپ کے حافظے کا امتحان لینا چاہا؛ چنانچہ آپ سے درخواست کی کہ ان کے بعض صاحبزادے کو حدیثیں املاء کروائیں؛ لہٰذا ابن شہاب نے ایک مجلس میں چار سو حدیثیں املاءکروائیں، ایک ماہ کے بعد ہشام نے کہا کہ وہ صحیفہ ضائع ہوگیا؛ اس لیے دوبارہ حدیثیں لکھوادیں؛ چنانچہ ابن شہاب نے دوبارہ چارسو حدیثیں لکھوائیں، جب مقابلہ کیا گیا توایک لفظ کا بھی فرق نہ تھا۔ (تہذیب الکمال:۶/۵۱۲)

آپ کی علمی خصوصیات

آپ سے متعلق علمی خصوصیات تین بیان کی جاتی ہیں:

(۱) تدوین حدیث: حضرت عمربن عبدالعزیز کے حکم سے اس کارِعظیم کو آپ نے انجام دیا۔

(۲)اسناد: آپ کی شخصیت وہ پہلی کڑی ہے جس نے اسناد کو جاری کیا اور اہتمام سے بیان کیا، امام مالکؒ فرماتے ہیں "اوّل من اسند الحدیث ابن شہاب"

(۳)متن حدیث کا وافر حصہ: ایک اچھا خاصا حصہ ذخیرۂ حدیث کا آپ کے پاس تھا جودوسرں کے یہاں موجود نہیں تھا؛ چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے کہ:
"لِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ وَلَا يُشَارِكُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ"۔

(مسلم، باب من حلف باللات والعزی فلیقل لاإلہ إلا:۳۱۰۷)
امام زہری نوے حدیث کے قریب روایت کرتے ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔

علماء جرح وتعدیل نے آپ کا تذکرہ خیر کے ساتھ کیا ہے آپ کی زندگی کا کوئی ایسا باب نہیں ہے جس پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، علی بن المدینی تو کہتے ہیں:
"دارعلم الثقات علی الزھری وعمروبن دینار بالحجاز، وقتادۃ ویحی ابن أبی کثیر بالبصرۃ وأبی اسحاق والاعمش فی الکوفہ"۔
کہ ثقات کا علم حجاز میں زہری وعمروبن دینار پر، بصرہ میں قتادہ ویحییٰ بن أبی کثیر پر اور کوفہ میں ابی اسحاق اور اعمش پر منحصر ہے۔

حافظ ابن حجر نے خلاصہ کے طور پر آپ کی علمی زندگی کا نچوڑیوں پیش کیا ہے:
"الفقیۃ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ"۔ (تقریب التہذیب:۵۰۶، رقم:۶۲۹۶)

یہ ہے وہ عظیم شخصیت جس کو مستشرقین نے اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے ہرکارِخیر کو ذاتی تضاد بتلاکر مسلمانوں کوذخیرہ حدیث سے بدگمان کرنے کی کوشش کی۔

قصرِخلافت میں آمد ورفت

اگرامام زہری کی زندگی کے اوراق پلٹیں اور قصر خلافت کے حالات کا جائزہ لیں تو ہرمنصف مزاج یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ امام زہری نے قصر خلافت کی آمدورفت سے اپنا مفاد وابستہ نہیں کررکھا تھا؛ بلکہ ان کے بگڑے حالات اور درآنے والی بدگمانیوں کو دور کرنے کی یہ واحد کوشش تھی کہ تعلقات استوار کرکے ان کے ذہن ودماغ کے میل کو صاف کیا جائے "العقد الفرید" میں اسی قسم کا ایک واقعہ یوں درج ہے کہ امام زہری ولید کے پاس تشریف لے گئے ولید نے پوچھا، اہل شام کیا حدیث بیان کرتے ہیں؟ امام زہری نے کہا وہ کیا ہے؟ ولید نے پوری حدیث سنائی کہ اہل شام کہتے ہیں:
"ان اللہ اذااسترعی عبداً رعیتہ کتب لہ الحسنات ولم یکتب لہ السیئات"۔
کہ اللہ تعالیٰ جس بندے کو رعایا کے کام کے لیے مسلط کرتے ہیں تو اس کےلیے نیکیاں تو لکھی جاتی ہیں، سیئات نہیں لکھے جاتے۔

امام زہریؒ نے کہا یہ حدیث باطل ہے اور اے امیرالمؤمنین یہ بتائیے کہ کیا بنی خلیفہ افضل ہے یا غیربنی خلیفہ؟ ولید نے کہا بنی خلیفہ امام زہری نے کہا کہ دیکھئے حضرت داؤد کے متعلق قرآن پاک کا کیا ارشاد ہے:
"يَادَاوُودُ إِنَّاجَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَاتَتَّبِعِ الْهَوَى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَانَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ"۔
(سورۂ ص:۲۶)
اے داؤد ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا لہٰذا لوگوں کے مابین ٹھیک ٹھیک فیصلہ کیجئے اورخواہشات کی اتباع نہ کیجئے کہ آپ اللہ کے راستہ سے بھٹک جائیں،یقیناً جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ یوم حساب سے غافل ہوگیا۔

پس اے امیرالمؤمنین! یہ وعید ہے بنی خلیفہ کے لیے تو آپ کا کیا خیال ہے، غیربنی خلیفہ کے حق میں۔
(العقد الفرید:۱/۶۰)

ایک دوسرا واقعہ ابن عساکر نقل کرتے ہیں، جس سے ان کی جرأت ایمانی کی خوب سے خوب تصویر کشی ہوتی ہے، ایک موقع پر ہشام بن عبدالملک نے سلیمان بن یسار سے پوچھا کہ "والذی تولی کبر" سے کون مراد ہے، انہوں نے کہا عبداللہ بن أبی، ہشام نے کہا غلط ہے اس سے مراد تو علی بن ابی طالب ہیں، سلیمان نے کہا امیرالمؤمنین کو زیادہ معلوم ہے ،پھر جب امام زہری ان کے پاس گئے تو اس نے امام زہری سے بھی پوچھا: انھوں نے بھی یہی جواب دیا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہے، ہشام نے کہا کہ غلط ہے، اس سے مراد تو حضرت علی ہیں، امام زہری بالکل آگ بگولا ہوکر بولے:
"اناأکذب! لاأبالک فواللہ لونادانی مناد من السماء ان اللہ احل الکذب فماکذبت، حدثنی فلان عن فلان الذی تولی کبرہ ھوعبداللہ"۔


کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ تیرا ستیاناس ہو! خدا کی قسم اگر مجھ کو آسمان سے پکارنے والا پکار کر کہے کہ اللہ نے جھوٹ کو حلال کردیا ہے تو بھی میں جھوٹ نہیں بولوں گا، مجھ سے فلاں نے اور فلاں سے فلاں نے بیان کیا کہ اس سے مراد عبداللہ بن ابی ہی ہے۔

امام زہری کی دینی حمیت اور ایمانی جرأت کا جب یہ حال ہے تو کیا تصور کیا جاسکتا ہے کہ بقول مستشرقین، چند ٹکوں کی خاطر انہو ں نے وضع حدیث کا ناپاک بیڑا اٹھایا ہو، جب کہ دنیا کا حال ان کی نگاہوں میں یہ تھا کہ عمروبن دینار بیان کرتے ہیں:
"مارأیت الدینار والدرھم عن أحد أھون منہ عند الزھری کانہما بمنزلۃ البعر"۔
کہ درہم ودینار ان کے نزدیک مینگنی کے برابر تھے۔

اور ناموری وشہرت کا حال یہ ہے کہ بقول گولڈ زیہری:
"کان ذائع الصیت عند الامۃ الاسلامیۃ"۔
کہ مسلمانوں کے یہاں ایک معروف ومشہور شخصیت تھے۔

قبۂ صخرہ کی حقیقت

جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ گولڈ زیہر نے زہری پر یہ الزام بھی لگایا کہ جب عبدالملک نے عبداللہ بن زبیرکے فتنہ کے زمانے میں چاہا کہ لوگوں کو حج سے روک دیں تو بیت المقدس میں "قبہ صخرہ" کی تعمیر کی اور اس کو دینی رنگ دینے کے لیے زہری سے "لاتشدالرحال الاالی....،الخ" گڑھوا کر چلتا کیا، مؤرخین میں سے ابن عساکر، طبری، ابن اثیر، ابن خلدون اور ابن کثیر کسی نے بھی اس قبہ کی نسبت عبدالملک کی طرف نہیں کی ہے؛ بلکہ ان کے بیٹے ولید کی طرف کی ہے صرف علامہ دمیری ہیں جنہوں نے ابن خلکان سے نقل کیا ہے، جس کے الفاظ ہیں:
"بناھا عبدالملک وکان الناس یقفون عندھا یوم عرفۃ"۔
کہ عبدالملک نے اس کی تعمیر کروائی، لوگ عرفہ کے روز اس کے پاس ٹھہرتے تھے۔

اگریہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ بھی جائے تو اس سے حج کا ثبوت پھربھی فراہم نہیں ہوپاتا ہے؛ کیونکہ عرفہ کے روز اس کے پاس وقوف اور ہے اور حج اور ہے؛ بلکہ اس دور کی ایک عام بدعت تھی جو قبہ صخرہ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں؛ بلکہ ہرشہر میں لوگ "وقوفِ عرفہ" مناتے تھے جس کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ زہری راجح قول کے مطابق سنہ۵۱ھ اور بعض دیگر اقوال کے مطابق سنہ۵۸ھ میں پیدا ہوئے، حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت سنہ۷۳ھ میں ہوئی ہے تو کیا ۲۲/یا ۱۵/سال کی عمر ایسی ہوتی ہے کہ آدمی بلاد اسلامیہ میں شہرت پاکر، عبدالملک کی نظر انتخاب کا شکار ہوجائے، امام ذہبی کے مطابق زہری عبدالملک کے یہاں سنہ۸۰ھ میں، ابن عساکر کے مطابق سنہ ۸۲ھ میں گئے ہیں جو کہ شہادت ابن زبیر سے دس سال بعد کا زمانہ ہے، اس کے علاوہ یہ کہنا کہ "لاتشدواالرحال... الخ" کے راوی تنہا حضرت امام زہری ہیں، روایت حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہے، بخاری نے اس روایت کوحضرت ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے، مسلم نے تین طرق سے ذکر کیا ہے اس میں تیسرا طریق ابن وہب عن عبدالحمید بن جعفر عن عمران بن ابی انس عن سلیمان بن الاغر عن ابی ھریرۃ ہے، اس کے علاوہ زہری نے یہ روایت سعید بن المسیب سے لی ہے اور سعید کا حال یہ تھا کہ ہرچیز پر ٹوکا کرتے تھے، حضرت سعید کا انتقال سنہ۹۳ھ میں ہوا ہے تو کیا بیس سال کا زمانہ گزرگیا، حضرت سعید نے ٹوکا تک نہیں اور اگر مان بھی لیا جائے کہ زہری نے اس کو وضع کیا ہے تو پوری روایت پڑھ جائیے "قبۃ الصخرۃ" کی کہیں فضیلت تک بیان نہیں کی گئی ہے، جب کہ بقول گولڈزیہر مقصد اس کا یہی تھا۔

کتاب پیش کرنے والی روایت

ان مستشرقین نے زہری کے وضع حدیث سے متعلق یہ بھی پروپگنڈہ کیا کہ ابراہیم بن الولید اموی نے زہری کے سامنے ایک کتاب پیش کی، زہری نے بلاکسی تردد کے اس کی روایت کی اجازت دی؛ لیکن ان مستشرقین نے تنقید کرتے وقت اصول حدیث کونظرانداز کردیا ابراہیم کا سماع زہری سے ثابت ہے؛ پھروہ کتاب پیش کررہے ہیں جس کو اصولِ حدیث کی روشنی میں مناولہ کہتے ہیں؛ اگرمناولہ کے ساتھ اجازت بھی مل جائے تو اس سے روایت کرنے پر اکثرمحدثین کا اتفاق ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود ذخیرۂ حدیث میں اس صحیفہ سے کوئی روایت موجود نہیں ہے۔

زہری نے جبراً وضع حدیث نہیں کیا

گولڈزیہراور ان کے متبعین نے ابن شہاب کے حالات سے ایک جملہ نکال کر یہ شوشہ چھوڑا کہ خلفائے بنوامیہ نے زبردستی ان سے وضع حدیث کروائی؛ چنانچہ زہری خود کہتے ہیں:
"ان ھولاء الامراء اکرھونا علی کتابۃ الحدیث"۔

اگر اس کو تسلیم کرلیا جائے تو پچھلے صفحات میں؛ نیزکتابوں میں زہری کے جوجرأت مندی کے واقعات نقل کئے گئے ہیں سب کے سب افسانہ بن کر رہ جائیں گے، دراصل اس واقعہ میں مستشرقین نے تحریف کیا ہے، ابن سعد اور ابن عساکر نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زہری، روایت حدیث کی بابت پورا زور حافظہ پر دیتے تھے، لکھنے کو مکروہ سمجھتے تھے؛ مگرجب ہشام نے اصرار کی حد تک خواہش کی اور چارسو حدیثیں املاء ان سے کروالی تو زہر ی نے باہر آکر اعلان کیا:
"یایھا الناس اناکنا منعناکم امراً قدبذلناہ الان لھولاء وان ھولاء الامراء اکرھونا علی کتابۃ الاحادیث فتعالوا حتی احدثکم بہا فحدثہم بالاربعۃ مائۃ"۔
(السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۲۱)
کہ اے لوگو! میں جس چیز سے تم لوگوں کو روکتا تھا، آج میں نے وہی کیا ہے، ان حکام نے مجھے کتابتِ حدیث پر مجبور کیا؛ پس آؤ میں تمھیں وہ بیان کردوں؛ چنانچہ انہوں نے بیان کردیا۔

خطیب بغدادی نے تقیید العلم میں اس طرح نقل کیا ہے کہ امام زہری کتابتِ حدیث اور تدوینِ حدیث کو مکروہ سمجھتے تھے؛ لیکن حالات ایسے سامنے آئے کہ پھرکتابتِ حدیث کے قائل ہوئے اور مسلمانوں کو روکنا بند کردیا اسی کو انہوں نے "اکرھونا" کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ (السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۲۲۱)

سندکے سلسلے میں زہرافشانی

سند کا آغاز کس طرح ہوا اس کا پس منظر وپیش منظر کیا تھا، یہ ایک لمبا باب ہے خلاصہ کے طور پر اتنا کہا جاسکتا ہے کہ چوں کہ جیسے جیسے زمانہ مشکاۃ نبوت سے دور ہوتا گیا اور صحابہ کی مقدس جماعت کم ہوتی گئی ویسے ویسے خیالات بدلتے گئے اور جوں جوں اسلام کا حلقہ وسیع ہوتا گیا مختلف پارٹیاں اسلام کے نام پر متعارض خیالات کی پیدا ہوتی گئیں جس کا آغاز خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی کے آخری دور سے ہی شروع ہوگیا "کوفہ" بصرہ وغیرہ کے بلوائی غلط سلط باتیں عوام میں مشہور کرتے اور حضرت عثمان غنی کے خلاف لوگوں کوبھڑکاتے یہاں تک کہ مدینہ پر چڑھائی کرڈالا اور خلیفہ راشد کے گھر کا محاصرہ کرکے سنہ۲۵ھ میں شہید کرڈالا، اس کے بعد گویا کہ فتنوں کا سیلاب اُمنڈ آیا، جنگ جمل، جنگ صفین کے علاوہ حضرت حسین کی شہادت کا اندوہناک حادثہ رونما ہوا؛ پھرحضرت حسین کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر کتنے لوگ اٹھے؛ انہی میں مختار ثقفی بھی تھا، جو لوگوں کو پیسے دے دے کر اپنے موقف کی تائید میں حدیثیں گڑھواتا اور بھی مختلف اسباب پیش آئے اور حدیثیں گڑھی جانے لگیں؛ یہاں تک کہ صغارِتابعین کا دور آیا توحدیث کی سند اور اس کے رجال ورواۃ کی تحقیق وتفتیش کا بہت اہتمام ہونے لگا؛ البتہ اس کے آغاز کا سہرا کس کے سر ہے تو اس سلسلہ میں مختلف حضرات کے نام علماء کے مابین زیربحث رہے ہیں، ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں مختار ثقفی کے دور سے اہتمام ہوا، مختارثقفی سنہ۶۷ھ میں قتل کیا گیا، حضرت یحییٰ القطان کہتے ہیں کہ سب سے پہلے سند کی تحقیق وتفتیش عامرشعبی نے کی، جن کی وفات ۱۰۰ھ یا ۱۰۱ھ میں ہوئی کوئی اولیت ابن سیرین کو دیتا ہے جن کی وفات ۱۱۰ھ میں ہے، مدینہ میں امام زہری نے کافی زور دیا اس لیے بعض لوگوں نے انہی کواس کا سرخیل مانا ہے؛ بہرحال اتنی بات قدر مشترک ہے کہ سند کا سلسلہ توحضرت عثمان غنی یاکم ازکم حضرت علی وحضرت امیرمعاویہ کے مابین اختلاف کے وقت سے شروع ہوگیا ہے؛ البتہ اس کی تفتیش وتحقیق کا کام ان ادوار میں اہتمام کے ساتھ ہوا، ابن سیرین نے اسی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
"لَمْ يَكُونُوا يَسْأَلُونَ عَنْ الْإِسْنَادِ فَلَمَّا وَقَعَتْ الْفِتْنَةُ قَالُوا سَمُّوا لَنَا رِجَالَكُمْ فَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ السُّنَّةِ فَيُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ وَيُنْظَرُ إِلَى أَهْلِ الْبِدَعِ فَلَا يُؤْخَذُ حَدِيثُهُمْ"۔
(مقدمہ مسلم:۱۱)
کہ لوگ اسناد سے متعلق سوالات نہیں کرتے تھے؛ مگرجب فتنہ رونما ہوا تو کہا کہ اپنے رجال کوبیان کرو؛ پس اگر اہل سنت والجماعۃ سے ہوگا تو ان کی حدیث قبول کی جائے گی اور اگراہل بدعت ہے توقبول نہیں کی جائے گی۔ ( تفصیل کے لیے دیکھئے "الاسناد من الدین" تالیف: عبدالفتاح ابوغدہ)

یہاں پر فتنہ سے مراد کم ازکم حضرت علی وحضرت معاویہ کے مابین جو اختلافات بھڑکائے گئے، جن کے نتیجے میں جنگِ صفین کے نام پر مسلمانوں کی تلواریں آپس میں چلیں اور دونوں طرف سے مسلمان شہید ہوئے وہ ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دورصحابہ سے ہی سند کا سلسلہ چلاآرہا ہے؛ مگرجوزف شاخت مستشرق یہودی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسناد کا سلسلہ مسلمانوں نے ۱۲۶ھ سے شروع کیا ہے اور ابن سیرین نے "فتنہ" سے مراد ولید بن عبدالملک کا قتل لیا ہے، جو۱۲۶ھ کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ ہے، تاریخ طبری میں ان واقعات کو اضطرابات سے تعبیر کرکے فتنہ کا اطلاق کیا گیا ہے "شاخت" نے اس استدلال کے علاوہ اور کچھ پیش نہیں کیا ہے؛ لیکن یہاں پر غور کرنا چاہیے کہ ابن سیرین کی وفات ۱۱۰ھ میں ہوئی ہے اور یہ واقعات ۱۲۶ھ کے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ ابن سیرین نے ۱۶/سال بعد کی بات کہی ہوگی، یہ ایک واضح علامت ہے کہ فتنہ سے مراد وہ نہیں ہے جو "شاخت" لیتا ہے۔

یہ جو کچھ بھی لکھا گیا ہے ایک سرسری جائزہ کے طور پر لکھا گیا ہے؛ ورنہ ان کے مزعومات اور الزامات کا ایک طومار ہے جو روز بروز بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، آج ضرورت ہے کہ پوری دقتِ نظری اور تن من دھن کی کوشش کے ساتھ ان کا مطالعہ کیا جائے اور پھر اس بڑھتے ہوئے ناسور کا فوراً علاج کیا جائے


No comments:

Post a Comment