افواہ ہے عیسائیوں کی کہ عیسیٰؑ اللہ کے بیٹے ہیں۔
[القرآن-التوبۃ:30]
بےشک(بغیر باپ کے پیدا ہونے میں) عیسیٰؑ کی مثال اللہ کے نزدیک آدمؑ جیسی ہے کہ بنایا اسے مٹی سے پھر کہا اسے کہ ہوجا تو وہ ہوگیا۔
[آل عمران:59]
وہ نہیں ہیں(خدا)مگر(اللہ کے)رسول ہیں۔۔۔۔(مریم وعیسیٰ، خدا یا خدا میں سے کیسے ہوسکتے ہیں،جبکہ)وہ دونوں کھانا کھاتے تھے
[المائدۃ:78]
اور ان(یہودیوں)کے اس کہنے پر کہ ہم نے قتل کیا مسیح عیسٰی مریم کے بیٹے کو جو رسول تھا اللہ کا اور انہوں نے نہ اس کو مارا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن وہی صورت بن گئی انکے آگے، اور جو لوگ اس میں مختلف باتیں کرتے ہیں تو وہ لوگ اس جگہ شبہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ نہیں ان کو اس کی خبر صرف اٹکل پر چل رہے ہیں اور اس کو قتل نہیں کیا یقیناََ۔
[النساء:157]
بلکہ اس کو اٹھالیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا۔
بلکہ اس کو اٹھالیا اللہ نے اپنی طرف اور اللہ ہے زبردست حکمت والا۔
[النساء:158]
القرآن:
اس پر مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا: بھلا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی پالنے میں پڑا ہوا بچہ ہے؟ (اس پر) بچہ بول اٹھا کہ: میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے، اور نبی بنایا ہے۔(17) اور جہاں بھی میں رہوں، مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں، مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے۔(18) اور مجھے اپنی والدہ کا فرمانبردار بنایا ہے، اور مجھے سرکش اور سنگ دل نہیں بنایا۔ اور (اللہ کی طرف سے) سلامتی ہے مجھ پر اس دن بھی جب میں پیدا ہوا، اور اس دن بھی جس دن میں مروں گا، اور اس دن بھی جب مجھے دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
[سورۃ مریم:29-33]
تفسیر:
(17) یعنی بڑے ہو کر مجھے انجیل عطا کی جائے گی، اور نبی بنایا جائے گا، اور یہ بات اتنی یقینی ہے جیسے ہو ہی چکی۔ دودھ پیتے بچے کا اس طرح بولنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلا ہوا معجزہ تھا جس نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی براءت بالکل واضح کردی۔
(18) یعنی جب تک میں اس دنیا میں زندہ رہوں گا مجھ پر نماز اور زکوٰۃ فرض رہے گی۔
القرآن:
بےشک(بغیر باپ کے پیدا ہونے میں) عیسیٰؑ کی مثال اللہ کے نزدیک آدمؑ جیسی ہے کہ بنایا اسے مٹی سے پھر کہا اسے کہ ہوجا تو وہ ہوگیا۔
[آل عمران:59]
یعنی وہ بھی بشر(mortal-human) محض اور حادث ومخلوق ہیں انہیں قدیم(eternal) اور غیرمخلوق کس طرح مان رہے ہو۔ ان کی مثال بشر محض ہونے اور بغیر باپ کے پیدا ہونے میں تھی آدم جیسی تھی جو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے اور پھر بھی بشر محض تھے، خدا یا اس کا حصہ(بیٹا) نہ تھے۔ جبکہ آدم کو بشر تو خود ہی تسلیم کرتے ہو درآنحالیکہ ان کی پیدائش تو عجیب تر طور پر ہوئی یعنی وہاں ماں اور باپ دونوں میں کسی کا بھی توسط نہ تھا مخلوق ہونے اور حادث ہونے کا دارومدار کسی خاص ومتعین طرز ظہور ووجود پر نہیں مطلق حدوث(incidence) پر ہے اور وہ تخلیقِ عیسیٰ میں پوری طرح موجود تھا۔
مسیحیوں میں ایک قدیم فرقہ ایرین Arians ہوا ہے ۔ اس کا بانی Arius چوتھی صدی عیسوی کے شروع میں اسکندریہ کا لاٹ پادری تھا ۔ اس کی تعلیم یہی تھی کہ مسیح (علیہ السلام) قدیم وغیر مخلوق نہیں، مخلوق وحادث تھے۔
[انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا:1/508 طبع چہار دہم]
اس سے قبل بھی انطیوخ کے بطریق پال محوسطوی (مشہور ومعروف پولوس طرسوسی سے اسے خلط نہ کیجئے) کی تعلیم تیسری صدی عیسوی میں بھی یہی تھی کہ عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش ایک دوشیزہ ہی کے بطن سے ہوئی تھی ، بہ واسطہ روح القدس ۔ اس لیے وہ بشر محض تھے ۔ روح القدس کے توسط نے انہیں خود ہی مقدس بنادیا تھا ۔ اور اس لیے وہ مسیح تھے لیکن شریک الوہیت بہرحال نہ تھے۔
[انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا: جلد17 صفحہ398، انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس:جلد 11 صفحہ 117]
مسیحیوں کے صاحبِ فہم طبقہ میں برابر اس طرح کی تحریکیں صحیح عقیدہ کی اٹھتی رہی ہیں لیکن کلیسا کے عام جمود وتصلب نے کبھی ان اصلاحی تحریکوں کو عام نہ ہونے دیا۔
القرآن:
یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر الله کے بیٹے ہیں، (28) اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح الله کے بیٹے ہیں، یہ سب ان کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ ان لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہوچکے ہیں۔ (29) الله کی مار ہو ان پر ! یہ کہاں اوندھے بہکے جارہے ہیں؟
[سورۃ نمبر 9 التوبة،آیت نمبر 30]
تفسیر:
(28) حضرت عزیر ؑ ایک جلیل القدر پیغمبر تھے، (ان کو بائبل میں عزرا کے نام سے یاد کیا گیا ہے، اور ایک پوری کتاب ان کے نام سے منسوب ہے) اور جب بختِ نصر کے حملے میں تورات کے نسخے ناپید ہوگئے تھے تو انہوں نے اپنی یادداشت سے دوبارہ لکھوایا تھا، اور شائد اسی وجہ سے بعض یہودی انہیں الله تعالیٰ کا بیٹا ماننے لگے تھے، یہاں یہ واضح رہے کہ ان کا بیٹا ماننے کا عقیدہ سب یہودیوں کا نہیں ہے؛ بلکہ بعض یہودیوں کا ہے جو عرب میں بھی آباد تھے۔
(29) اس سے مراد غالباً عرب کے مشرکین ہیں جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔
القرآن:
اور یہ کہا کہ : ہم نے اللہ کے رسول مسیح ابن مریم کو قتل کردیا تھا، حالانکہ نہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو قتل کیا تھا، نہ انہیں سولی دے پائے تھے، بلکہ انہیں اشتباہ ہوگیا تھا۔ (91) اور حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ اس سلسلے میں شک کا شکار ہیں، (92) انہیں گمان کے پیچھے چلنے کے سوا اس بات کا کوئی علم حاصل نہیں ہے، اور یہ بالکل یقینی بات ہے کہ وہ عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کر پائے۔ بلکہ اللہ نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا تھا، اور اللہ بڑا صاحب اقتدار، بڑا حکمت والا ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے ضرور بالضرور عیسیٰ ؑ پر ایمان نہ لائے، (93) اور قیامت کے دن وہ ان لوگوں کے خلاف گواہ بنیں گے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء،آیت نمبر 157-159]
تفسیر:
(91)قرآن کریم نے یہ حقیقت بڑے پرزور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو نہ کوئی قتل کرسکا اور نہ انہیں سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اوپر اٹھا لیا۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی صورت حضرت عیسیٰ ؑ جیسی بنادی۔ دشمنوں نے ان کو حضرت عیسیٰ ؑ سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اوپر اٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ کی جاسوسی کر کے انہیں گرفتار کرنے کے لیے اندر داخل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کو حضرت عیسیٰ ؑ کی شکل میں تبدیل کردیا، اور جب وہ باہر نکلا تو اسی کو گرفتار کر کے سولی دی گئی، واللہ سبحانہ اعلم۔
(92) یعنی بظاہر تو وہ یقینی طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دے دی گئی تھی، لیکن چونکہ ان کے پاس اس کی کوئی یقینی دلیل نہیں ہے، اس لیے ایسا ہے جیسے وہ درحقیقت شک میں ہیں۔
(93) یہودی تو حضرت عیسیٰ ؑ کو پیغمبر ہی نہیں مانتے، اور عیسائی خدا کا بیٹا ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو سولی پر چڑھا کر قتل کردیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سارے اہل کتاب، چاہے یہودی ہوں، یا عیسائی، اپنے مرنے سے ذرا پہلے جب عالم برزخ کے مناظر دیکھیں گے تو اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ان کے تمام غلط خیالات خود بخود ختم ہوجائیں گے، اور وہ ان کی اصل حقیقت پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جسے بہت سے مستند مفسرین نے ترجیح دی ہے، البتہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس آیت کی جو تفسیر منقول ہے اس کی رو سے آیت کا ترجمہ اس طرح ہوگا : اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو عیسیٰ کی موت سے پہلے ان پر ضرور بالضرور ایمان نہ لائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اس وقت تو آسمان پر اٹھا لیا لیکن، جیسا کہ صحیح احادیث میں مروی ہے، آخر زمانے میں وہ دوبارہ اس دنیا میں آئیں گے، اور اس وقت تمام اہل کتاب پر ان کی اصل حقیقت واضح ہوجائے گی، اور وہ سب ان پر ایمان لے آئیں گے۔

القرآن:
اور (اس وقت کا بھی ذکر سنو) جب الله کہے گا کہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے علاوہ دو معبود بناؤ؟(2) وہ کہیں گے: ہم تو آپ کی ذات کو (شرک سے) پاک سمجھتے ہیں۔ میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو یقیناً معلوم ہوجاتا۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہی اور میں اور آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔ یقیناً آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔
[سورۃ نمبر 5 المائدة، آیت نمبر 116]
تفسیر:
(79) عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم ؓ کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کرکے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔
القرآن:
مسیح ابن مریم تو ایک رسول تھے، اس سے زیاد کچھ نہیں، ان سے پہلے (بھی) بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اور ان کی ماں صدیقہ تھیں۔ یہ دونوں کھانا کھاتے تھے (50) دیکھو ! ہم ان کے سامنے کس طرح کھول کھول کر نشانیاں واضح کر رہے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھو کہ ان کو اوندھے منہ کہاں لے جایا جارہا ہے۔ (51)
[سورۃ نمبر 5 المائدة،آیت نمبر 75]
تفسیر:
(50) صدیقہ صدیق کا مونث کا صیغہ ہے، اس کے لفظی معنی ہیں بہت سچا، یا راست باز، اصطلاح میں صدیق عام طور سے ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی پیغمبر کا افضل ترین متبع ہوتا ہے اور نبوت کے بعد یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے۔ حضرت مسیح ؑ اور ان کی والدہ ماجدہ حضرت مریم (علیہا السلام) دونوں کے بارے میں یہاں قرآن کریم نے یہ حقیقت بتلائی ہے کہ وہ کھانا کھاتے تھے۔ کیونکہ تنہا یہ حقیقت اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ خدا نہیں تھے۔ ایک معمولی سمجھ کا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تو وہی ذات ہوسکتی ہے جو ہر قسم کی بشری حاجتوں سے بےنیاز ہو۔ اگر خدا بھی کھانا کھانے کا محتاج ہو تو وہ خدا کیا ہوا۔
(51) قرآن کریم نے یہاں مجہول کا صیغہ استعمال کیا ہے، اس لیے ترجمہ یہ نہیں کیا کہ ”وہ اوندھے منہ کہاں جا رہے ہیں“۔ بلکہ ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ”انہیں اوندھے منہ کہاں لیجایا جا رہا ہے“ اور بظاہر مجہول کا یہ صیغہ استعمال کرنے سے اشارہ اس طرف مقصود ہے کہ ان کی نفسانی خواہشات اور ذاتی مفادات ہیں جو انہیں الٹا لے جا رہے ہیں۔ والله سبحانہ اعلم۔
القرآن:
اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا تھا کہ : اے بنو اسرائیل میں تمہارے پاس الله کا ایسا پیغمبر بن کر آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور اس رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا، جس کا نام احمد ہے۔ (5) پھر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ کہنے لگے کہ : یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
[سورۃ نمبر 61 الصف،آیت نمبر 6]
تفسیر:
(5) ”احمد“ حضور اقدس ﷺ کا نام ہے، اور حضرت عیسیٰ ؑ نے اسی نام سے آپ کی بشارت دی تھی۔ اس قسم کی ایک بشارت آج بھی انجیل یوحنا میں تحریف شدہ حالت میں موجود ہے۔ انجیل یوحنا کی عبارت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے حواریوں سے فرمایا : ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے“ (یوحنا : 16)۔ یہاں جس لفظ کا ترجمہ مددگار کیا گیا ہے۔ وہ اصل یونانی میں ”فار قلیط“ (Periclytos) تھا جس کے معنی ہیں ”قابل تعریف شخص“ اور یہ ”احمد“ کا لفظی ترجمہ ہے لیکن اس لفظ کو ”Paracletus“ سے بدل دیا گیا ہے، جس کا ترجمہ ”مددگار“ اور بعض تراجم میں ”وکیل“ یا ”شفیع“ کیا گیا ہے۔ اگر ”فارقلیط“ کا لفظ مد نظر رکھا جائے تو صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ ”وہ تمہارے پاس اس قابل تعریف شخص (احمد) کو بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا“۔ اس میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں ﷺ کسی خاص علاقے یا کسی خاص زمانے کے لیے نہیں ہوں گے، بلکہ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے ہر زمانے کے لیے ہوگی۔ نیز برنا باس کی انجیل میں کئی مقامات پر حضور اقدس ﷺ کا نام لے کر حضرت عیسیٰ ؑ کی بشارتیں موجود ہیں۔ اگرچہ عیسائی مذہب والے اس انجیل کو معتبر نہیں مانتے، لیکن ہمارے نزدیک وہ ان چاروں انجیلوں سے زیادہ مستند ہے جنہیں عیسائی مذہب میں معتبر مانا گیا ہے۔ اس کے مفصل دلائل میں نے اپنی کتاب ”عیسائیت کیا ہے ؟“ میں بیان کیے ہیں۔
نبی عیسی علیہ السلام کے متعلق معلومات
مریم بنت عمران ایک صالحہ اور متقی و پرہیزگار عورت تھی ، عبادت میں اتنی آگے تھیں کہ اس میں ان کا کوئ نظیر نہیں تھا تو فرشتوں نے اسے یہ خوشخبری سنائ کہ اللہ تعالی نے آّّپ کو چن لیا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :
{ اورجب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تعالی نے تمہیں برگزیدہ بنایا ، اور تمہیں پاک کیا ، اور سارے جہان کی عورتوں کے مقابلہ میں تمہیں چن لیا ہے ، اے مریم تم اپنے رب کے لۓ خاکساری اختیار کرو ، اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو﴾
[آل عمران:42–43]
پھر فرشتوں نے مریم علیہ السلام کو یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالی اسے بیٹا ہبہ کرے گا جسے اللہ تعالی کلمہ کن کہہ کرپیدا فرمائیں گے اور اس بچے کا نام المسیح عیسی بن مریم ہوگا ، اور یہ دنیا وآخرت ميں عزت وجاہت کا مالک ہوگا اوربنواسرائیل کے لۓ وسول ہوگا اور کتاب و حکمت اور تورات اورانجیل کا علم دے گا ۔
اور اس کی کچھ ایسی صفات اورمعجزات ہونگے جوکسی اورکے پاس نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
{ جب فرشتوں نے کہااے مریم ! اللہ تعالی تمہیں اپنے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے ، جس کا نام مسیح عیسی بن مریم ہوگا ، جودنیا اور آخرت میں باعزت اور میرے مقرب بندوں میں سے ہوگا ، اور لوگوں سے گود میں اور ادھیڑ عمرکو پہنچنے کے بعد بات کرے گا ، اور میرے صالح بندوں میں سے ہوگا ، مریم علیہا السلام نے کہا اے میرے رب ! مجھے لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ؟ مجھے تو کسی انسان نے چھوا تک نہیں ، اللہ تعالی نے کہا ، اسی طرح اللہ تعالی جو چاہتاہے پیدا کرتا ہے ، جب کسی چیز کا فیصلہ کر لیتاہے تو وہ اس کے لۓ ، ہوجا ، کہتاہے تووہ چیز ہو جاتی ہے }
[آل عمران:45-47]
پھر اللہ تعالی نے فرشتوں کا مریم علیہا السلام کوبیٹے کی خوشخبری کو پورا کرتے ہوۓ عیسی علیہ السلام کو عزت و شرف اور انکی معجزات کے ساتھ تائید فرمائ ۔
فرمان باری تعالی ہے :
{اور اللہ تعالی اسے کتاب کا علم ، حکمت اور تورات ، انجیل دے گا ، اور رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا ، (جوان سے کہے گا کہ) میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں ، وہ یہ کہ میں مٹی سے پرندہ سے کی شکل بناؤں گا ، پھر اس میں پھونک ماروں گا ، تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے پرندہ بن جاۓ گا ، اور میں اللہ تعال کے حکم سے مادرزاد اندھے کو ، اور برص والے کوٹھیک کردوں گا اور مردوں کوزندہ کردوں گا ،اور میں جوکچھ تم کھاتے ہو ، اورجو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو ،ان کی خبر دوں گا ، اگر تم ایمان والے ہو تو اس میں تمہارے لۓ ایک نشانی ہے ، اورمجھ سے پہلے جو تورات نازل ہوئ ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں ، اور تاکہ میں تمہارے لۓ بعض ان چیزوں کوحلال کروں جو تم پرحرام کردی گئ تھیں اور میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں پس تم اللہ تعالی سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، بے شک اللہ تعالی میرا اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے }
[آل عمران:48–51]
اور اللہ سبحانہ وتعالی کے لۓ ہی پیدا کرنے کا کمال مطلق ہے ، وہ جس طرح چاہے اور جوچاہے پیدا کرتا ہے ، اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کومٹی سے بغیر ماں اور باپ کے پیدا فرمایا ، اور حواء کو آدم علیہ السلام کی پسلی سے بغیرماں کے پیدا فرمایا ، اوربنوآدم کی نسل ماں اورباپ دونوں سے چلائ ، اور عیسی علیہ السلام کو بغیرباپ کے صرف ماں سے پیدا فرمایاتواللہ سبحانہ وتعالی خلاق علیم ہے ۔
اور اللہ تعالی نے قرآ ن کریم میں عیسی علیہ السلام کی ولادت کی کیفیت بڑے وافی اورشافی طریقےسے بیان کی ہے ارشاد باری تعالی ہے:
{اور آپ قرآن میں مریم علیہ السلام کا ذکربھی کیجۓ ، جب وہ اپنےگھر والوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ پر چلی گئ ، پھر لوگوں کی طرف سے اپنے لۓ ایک پردہ بنا لیا ، تو ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے جبریل کو بھیجا ، تو وہ اس کے سامنے بھلے چنگے انسان کی شکل میں ظاہر ہوا ، مریم علیہا السلام نے کہا کہ اگر تم اللہ تعالی سے ڈرنے والے تو تومیں رحمن کے ذریعے پناہ مانگتی ہوں ، جبریل نے کہا میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ ہبہ کروں ، مریم علیہاالسلام نے کہا مجھے لڑکا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں ہے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ، جبریل علیہ السلام کہنے لگے ایسا ہی ہو گا تمہارا رب کہتا ہے کہ یہ کام میرے لۓ آسان ہے ، اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لۓ (اپنی قدرت کی ) ایک نشانی اور رحمت بنائيں ، اوریہ ایک ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے }
[مریم:16–21]
جب جبریل علیہ السلام نے یہ بات کہی تو وہ اللہ تعالی کی قضاءاور قدر اور فیصلے پر راضی ہوگئيں توجبریل علیہ السلام نے ان کے گریبان میں پھونک ماری ارشاد باری تعالی ہے :
{ چنانچہ وہ حاملہ ہوگئ تو اسے لۓ وہ ایک دور جگہ پر چلی گئ پھر زچگی کی تکلیف نے اسے کھجور کے تنے کے پاس پہنچا دیا ، وہ کہنے لگی کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مر چکی ہوتی اور ایک بھولی بسری یاد بن چکی ہوتی}
[مریم:22–23]
پھر اللہ تعالی نے مریم کے لۓ کھانے اورپانی کا انتظام فرمایا اور اسے حکم دیا کہ وہ کسی سے بھی بات نہ کرے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :
{ تو فرشتے نے اس کی نچلی جانب سے پکارا کہ تم غم نہ کرو ، تمہارے رب نے تمہارے نیچے کی جانب ایک چشمہ جاری کردیا ہے ، اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تمہارے لۓ چنی ہوئ اور تازہ کھجوریں گريں گی توکھاؤ پیئو اوراپنی آنکھوں کو (بچے کودیکھ کر) ٹھنڈی کرو ، اور اگر کسی انسان کودیکھو تو (اشارہ سے ) کہہ دو کہ میں نے رحمان کے لۓ خاموش رہنے کی نذر مان رکھی ہے ، اس لۓ میں آج کسی انسان سے بات نہیں کروں گی}
[مریم:24-26]
پھراسکے بعد مریم علیہا السلام اپنے بیٹے عیسی علیہ السلام کواٹھاۓ ہوۓ اپنی قوم کے پاس آئ تو جب انہوں نے اسے دیکھاتو اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھا اوراسے ناپسند کیا ، مگر مریم علہاالسلام نے انہيں کوئ جواب نہ دیا بلکہ اشارہ سے کہا کہ اس بچے کوپوچھ لو یہ تمہيں بتاۓ گا اسی چیزکی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے :
{ پھروہ بچے کواٹھاۓ ہوۓ اپنی قوم کے پاس آئ ، انہوں نے کہا اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے ، اے ھارون کی بہن ! تمہارا باپ تو کوئ برا آدمی نہیں تھا اورنہ ہی تمہاری ماں بدکار تھی ، تومریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا ، لوگ کہنے لگے ہم اس سے کیسے بات کریں جوکہ ابھی بچہ اورگود میں ہے}
[مریم:27–29]
توعیسی علیہ السلام نے فورا جواب دیا حالانکہ وہ ابھی بچے اور گود میں تھے ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ارشاد ربانی ہے:
{ بچے نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے، اور جہاں بھی رہوں مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں، اس نے مجھے نماز اور زکاۃ کی وصیت کی ہے، اور مجھے میری ماں کا فرمانبردار بنایا ہے اور مجھے بد بخت نہیں بنایا، اور مجھ پراللہ تعالی کی سلامتی رہی جس دن میں پیدا ہوا اور اس دن بھی رہے گی جب میں مروں گا، اور جب دوبارہ اٹھایا جاؤں گا}۔
[مریم:30–33]
اللہ تعالی کے بندے اوررسول عیسی علیہ السلام کی تصفیلی خبر یہ ہے لکین ان کے متعلق اہل کتاب اختلاف کرتے ہیں ، بعض کا یہ کہناہے وہ اللہ تعالی کے بیٹے ہیں ، اور کچھ کا کہنا ہے کہ تین ميں سے تیسرا ہیں ، اور بعض کا یہ کہناہے کہ وہ اللہ ہے ، اور بعض کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے بندے اور وسول ہیں ، اور یہ آخری بات ہی حق ہے ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{عیسی بن مریم علیہ السلام کی یہی حقیقت ہے ، اور یہی وہ حق بات ہے جس میں وہ لوگ اختلاف کررہے ہیں ، اللہ تعالی کے لائق ہی نہیں کہ وہ اپنے لۓ کوئ اولاد بناۓ وہ ہر عیب سے مبرا اور پاک ہے، جب کسی چیز کا فیصلہ کر دیتاہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ، ہو جا ، تو وہ چیز ہو جاتی ہے، اور بے شک اللہ تعالی ہی میرا اور تمہارا رب ہے، اس لۓ اسی کی عبادت کرو، اور یہی سیدھی راہ ہے، پھر جماعتوں نے آ پس میں (اس بارہ میں) اختلاف کیا تو کافروں کے لۓ روز قیامت حاضری کے وقت بربادی ہو گی}
[مریم:34–37]
اور جب بنو اسرائیل صراط مستقیم سے ہٹ گئے اور اس سے دور چلے گئے اور انہوں نے اللہ تعالی کی حدود سے تجاوز اورانحراف کیا اور ظلم وستم کرنے لگے اور زمین میں فساد بپا کرنے لگے، اور ان میں سے ایک گروہ نے حشرونشر اور روزِ قیامت اور حساب وکتاب کا انکار کیا ، اور شہوات اور لذتوں میں ڈوب کر حساب وکتاب اور سزا کو بھول گئے تو پھر اس وقت اللہ تبارک وتعالی نے ان کی طرف عیسی بن مریم علیہ السلام کو رسول بناکر مبعوث کیا اور اسے تورات و انجیل سکھائی ۔
جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{اللہ تعالی اسے لکھنا اورحکمت اور توراۃ اورانجیل سکھاۓ گا اور وہ بنواسرائیل کی طرف رسول ہوگا}
[آل عمران:48]
اور اللہ تعالی نے عیسی بن مریم علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائ اور جوکہ لوگوں کے لۓ ھدایت اورنور اورتوراۃ کی تصدیق کرنے والی تھی۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :
{اور ہم نے اسے انجیل عطا فرمائ جس میں نور اور ھدایت تھی ، اور وہ اپنے پہلے کی کتاب توراۃ کی تصدیق کرنے والی اور وہ متقی اورپرہیزگار لوگوں کے لۓ سرا سر ھدایت ونصیحت تھی}
[المائدۃ:46]
اور عیسی علیہ السلام نے یہ خوشخبری بھی دی کہ وہ ان کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے ایک رسول آۓ گا جس کا نام احمد ہوگا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
اللہ تبارک وتعالی نے اس کا ذکر کرتے ہوۓ فرمایا :
{اور جب عیسی بن مریم علیہ السلام نے نے کہا ( اے میری قوم ) بنی اسرائیل میں تم سب کی طرف اللہ تعالی کا رسول ہوں میں اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اورميں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ انکے پاس کھلی اور واضح دلیلیں لاۓ تو وہ یہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے} [سورۃ الصف:6]
عیسی علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو اللہ وحدہ کی عبادت اور تورات وانجیل کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت کا فریضہ سرانجام دیا اوران سے اچھے طریقے کے ساتھ جدال کیا اور ان کے مسلک کا فساد بیان کیا، لیکن جب انہوں نے بنواسرائیل کا کفرو عناد اور فساد دیکھا تو یہ فرمایا کہ اللہ کی طرف میری مدد کون کرے گا؟ تو بارہ حواری ایمان لے آۓ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:
{تو جب عیسی علیہ السلام نے انکا کفر محسوس کیا تو کہنے لگے اللہ تعالی کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟ حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ تعالی کی راہ کے مدد گار ہیں ، ہم اللہ تعالی پرایمان لاۓ اور آپ گواہ رہۓ کہ ہم مطیع ہیں، اے ہمارے رب! ہم تیری نازل کی ہوئ وحی پر ایمان لاۓ اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں وگواہوں میں لکھ لے}
[آل عمران:52-53]
اللہ عزوجل نے عیسی علیہ السلام کی عظیم معجزات کے ساتھ تائید فرمائی جوکہ اللہ تعالی کی قدرت کو یاد دلاتے اور روح کی تربیت کرتے اور اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان پیدا کرتے ہیں، تو عیسی علیہ السلام مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے پرندہ بن جاتا، اور کوڑھ اور برص کے مریض اور مادرزاد اندھے کو اللہ تعالی کے حکم سے تندرست کر دیتے، اور مردے کواللہ تعالی کے حکم سے زندہ کردیتے اور لوگوں کو جو کچھ وہ کھاتے اور اپنے گھروں میں جو ذخیرہ کرتے اس کی خبر دیتے تھے، تو وہ یہودی جن کی طرف عیسی علیہ السلام کو رسول بنا کر مبعوث کیا گیا تھا وہ عیسی علیہ السلام کی دشمنی پر اتر آۓ اور لوگوں کو ان سے ورکنے، اور ان کی تکذیب کرنے لگے اور ان والدہ پر فحاشی کا الزام اور بہتان لگا دیا۔
تو جب بنو اسرائیل نے یہ دیکھا کہ غریب اور فقراء اور کمزور لوگ عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے اور اس کے ارد گرد جمع ہونے لگے ہیں تو ان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے لگے تا کہ عیسی علیہ السلام کو قتل کردیں تو رومیوں کو ان کے خلاف ابھارا، اور رومانی حاکم کو یہ باور کرایا کہ عیسی علیہ السلام کی دعوت میں رومانی حاکم کی حکومت کو خطرہ ہے اور اس کی حکومت زوال میں آجاۓ گی ۔
تو رومانی حاکم نے ان کے جھانسے میں آکر ان کی گرفتاری اور سولی پر چڑھانے کا حکم جاری کردیا، تو اللہ تبارک وتعالی نے ان میں سے ایک منافق جس نے عیسی علیہ السلام کی چغلی کی تھی پر عیسی علیہ السلام کی مشابہت ڈال دی تو فوج نے اسے ہی عیسی علیہ السلام سمجھ کر پکڑ لیا اور سولی پر لٹکا دیا، اور اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو سولی اور قتل سے بچا لیا جیسا کہ اللہ تعالی نے یہودیوں کا قول نقل کرتے ہوۓ فرمایا ہے:
{اور انکے اس قول کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسی بن مریم کوقتل کردیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی سولی چڑھایا، بلکہ ان کے ان (عیسی) کا شبیہ بنادیا گيا یقین جانو کہ عیسی علیہ السلام کے بارہ میں اختلاف کرنے والے ان کے بارہ میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین اور علم نہیں وہ توصرف تخمینی باتوں پر عمل کرتے ہیں، اور یہ بات تو یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالی نے انہيں اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالی بڑا زبردست اور پوری حکمت والا ہے}۔
[النساء:157-158]
تو عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوۓ بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہے ، اور وہ قیامت سے قبل نازل ہونگے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کرینگے ، اوران یہودیوں کوجھٹلائيں گے جن کا یہ گمان ہے یہ انہوں نے عیسی علیہ السلام کو قتل کردیا اور سولی پر لٹکا دیا ہے، اور ان عیسائیوں کوبھی جھٹلائیں گے جنہوں نے ان کے بارہ میں غلو سے کام لیا اوریہ کہنا شروع کردیا کہ وہ اللہ ہے ، یا وہ اللہ کے بیٹے ہیں ، یا تینوں میں سے تیسرا ہیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(اس ذات کی قسم جس ہاتھ میں میری جان ہے! ضرور ایک وقت آۓ گا کہ تم میں ابن مریم حاکم و عادل بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے ، اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ لاگو کريں گے، اور مال کی اتنی بہتات ہوجاۓ گی کہ کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا)۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور اسے مسلم نے حدیث نمبر 155 روایت کیا ہے۔
تو جب عیسی علیہ السلام کا قیامت سے قبل نزول ہوگا تو اہل کتاب ان پر ایمان لے آئيں گے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{اوراہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا ۓ اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہونگے}
[النساء:159]
اور عیسی بن مریم علیہ السلام اللہ تعالی کے رسول اور اس کے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے بنو اسرائیل کی ھدایت اورانہیں صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کی دعوت دینے کے لۓ بھیجا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے یہودیوں اورعیسائیوں کو اس آیت میں فرمایا ہے:
{اے اہل کتاب! اپنے دین کے بارہ میں حد سے تجاوز نہ کرو ، اور اللہ تعالی پر حق کے علاوہ کچھ نہ کہو ، مسیح عیسی بن مریم علیہ السلام تو صرف اللہ تعالی کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم (علیہا السلام) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لۓ تم اللہ تعالی کواور اس کے سب رسولوں کو مانو اور یہ نہ کہو کہ اللہ تین ہیں، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لۓ بہتری ہے ، اللہ تو صرف ایک ہی عبادت کے لائق ہیں اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو ، جو کچھ آسمان وزمین میں ہے وہ اسی کے لۓ ہے اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا }
[النساء:171]
اور یہ کہنا کہ عیسی بن مریم علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہيں بہت ھی بڑی چیزاور منکر ہے ، ارشاد باری تعالی ہے:
{ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمان نے بھی اولاد اختیار کی ہے ، یقینا تم بہت بری اور بھاری چیز لاۓ ہو ، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جاۓ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں ، کہ وہ رحمان کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ، اور یہ رحمان کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے﴾
[مریم:88–93]
اور عیسی بن مریم علیہ السلام بشر اور انسان ہیں ، اور وہ اللہ تعالی کے رسول اور اسکے بندے ہیں ، تو جویہ عقیدہ رکھے کہ مسیح عیسی بن مریم علیہ السلام اللہ ہیں تو اس نے کفر کیا ۔
ارشاد باری تعالی ہے :
{یقیناً ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے یہ کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے}
[المائدۃ:72]
اورجس نے یہ کہا کہ مسیح اللہ تعالی کا بیٹا ہے یا یہ کہا کہ وہ تینوں میں سے تیسرا ہے وہ اس نے بھی کفر کیا ۔
فرمان ربانی ہے :
{وہ لوگ بھی قطعا کافر ہوگۓ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تینوں میں سے تیسرا ہے ، دراصل اللہ تعالی کے سوا کوئ اورمعبود نہیں ، اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ آۓ تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گۓ انہیں ضرورالمناک عذاب دیا جاۓ گا}
[المائدۃ:73]
تو مسیح بن مریم علیہ السلام بشرہیں اور صرف ماں سے پیدا کۓ گۓ اوروہ کھاتے پیتے ، سوتے اورجاگتے ، روتے اورتکلیف محسوس کرنے والوں میں سے تھے ، اورالہ ومعبود ان عیوب اورعوارض سے مبرا اورپاک ہوتاہے تو وہ کیسے الہ اور معبود ہوسکتے ہیں ۔
بلکہ وہ اللہ تعالی کے بندے اوراس کے رسول ہیں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے فرمایا :
{مسیح بن مریم رسول ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں اس سے پہلےبھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ان کی والدہ ایک سچی عورت تھی ، دونوں ماں بیٹا کھانا کھایا کرتے تھے ، آپ دیکھۓ کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں ،پھر غور کریں کہ کس طرح وہ پھرے جارہے ہیں}
[المائدۃ:75]
یہودیوں، عیسائیوں اورصلیبیوں اوران کے پیروکاروں نے دین مسیح کو بگاڑ دیا اور اس میں تحریف کرڈالی اورتبدیلی کر لی ، اللہ تعالی کی ان پر لعنت ہو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے بیٹے مسیح علیہ السلام کوبشریت و انسانیت پرفداء ہونے کے لۓ قتل اور سولی کے لۓ پیش کر دیا ہے ، تو اب کسی کے لۓ بھی کوئ کسی قسم کا حرج نہیں جو چاہے وہ کرتا پھرے عیسی علیہ السلام اس کے سارے گناہ اٹھالیں گے ،اور انہوں نے اسے عیسائیوں کے ہرفرقہ میں پھیلا دیا ہے حتی کہ یہ عقیدے کاایک جزء لا ینفک بنا لیا ہے ، تو یہ سب کا سب باطل اورکذب وافتراء پر مبنی ہے ، اور اللہ تعالی پر افتراء اور ایسا قول ہے جو بغیرعلم کے کہا گیا ہے ، بلکہ معاملہ تو یہ ہے کہ ہر ایک نفس جو کچھ کرتا ہے اسے اس کا بدلہ دیا جاۓ گا وہ اس کے بدلے میں رھین ہے ۔
اور پھر بات یہ ہے کہ اگر لوگوں کے لۓ کوئ منھج اور دستوراور ایسی حدود وقیود اورضابطے نہ ہو جس پر چل کراور عمل کر کے وہ زندگی گزاريں تو ان کی زندگی ہی نہیں سدھر سکتی اورنہ ہی وہ صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں ۔
تو دیکھیۓ کہ وہ اللہ تعالی پر کیسے جھوٹ اور افتراء باندھ رہے ہیں اوراللہ تعالی کے ذمہ ناحق بات لگارہے ہیں ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
{ان لوگوں کیلۓ ویل و ہلاکت ہے جو اپنے ھاتھ کی لکھی ہوئ کتاب کو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ، اور اس طرح وہ دنیا کامال کماتے ہیں ، ان کے ھاتھوں کی لکھائ اور ان کی کمائ کیلۓ بھی ویل وھلاکت و افسوس ہے}
[البقرۃ:79]
اور اللہ تعالی نے عیسائیوں سے عیسی علیہ السلام کے متعلق عہد لیا تھا کہ وہ ان پر ایمان لائیں اور جو وہ لائیں گے اس پر عمل کریں گۓ ، لیکن انہوں نے اسے تبدیل کردیا اوراس میں تحریف کرڈالی اور اختلاف کرنے کے اس سے اعراض کرلیا ۔
تو اللہ عزوجل نے اس کے بدلے میں انہیں بطور سزادنیا کے اندر ان میں بغض و عداوت ڈال دی اور آخرت میں عذاب ہوگا ۔
اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :
{ اور جواپنے آپ کونصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہدو پیمان لیا ، انہوں نے بھی جوانہیں نصیحت کی گئ تھی اس کا بڑا حصہ فراموش کردیا ،تو ہم نے بھی ان کی آپس میں دشمنی و بغض وعداوت ڈال دی جو کہ تاقیامت رہے گی اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالی انہیں وہ سب کچھ بتا دے گا جو یہ کرتے تھے }
[المائدۃ:14]
اور عیسی علیہ السلام روز قیامت اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونگے تو ان سے اللہ عزوجل سب کےسامنے سوال کرے گا کہ انہوں نے بنو اسرائیل کوکیا کہا تھا ؟
اللہ تبارک وتعالی اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرماتے ہیں :
{اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالی فرماۓ گا کہ اے عیسی بن مریم ! کیا تو نے ان لوگوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو بھی اللہ تعالی کے علاوہ معبود بنا لو؟ عیسی علیہ السلام عرض کریں گے اے اللہ تو ان عیوب سے مبرا اور پاک ہے ، مجھے یہ بات کسی طرح بھی زیبا نہیں دیتی کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئ حق ہی حاصل نہیں ، اگر میں نے یہ بات کہی ہوگی تو تجھے اس کا علم ہوگا ، تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہےاس کو نہیں جانتا بے شک تو ہی تمام غیبوں کو جاننے والا ہے۔
میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی بات جس کاتونے حکم دیا تھا کہ انہیں کہہ دو کہ تم اللہ تعالی کی بندگی اختیار کرو ، جوکہ میرا اورتمہارا بھی رب ہے ، میں تو ان پر اس وقت تک گواہ رہا جب تک میں ان میں تھا ، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر مطلع رہا ، اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے ۔
اگر تو ان کوسزا دے تویہ تیرے بندے ہیں اوراگر تو ان کو معاف فرمادے تو تو زبردست اور حکمت والا ہے }
[المائدۃ:116–118]
ارر اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں اور مومنوں میں نرمی اوررحمت پیدا فرما دی ہے ، اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں کی محبت کے قریب ترین ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ یقینا آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ اوربڑا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے ، اور ایمان والوں سے سب سے زیادہ دوستی کے قریب یقینا انہیں پائي گے جو اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ، یہ سب اس لۓ ہے کہ ان میں علماء اور عبادت کے گوشہ نشین افرد پاۓ جاتے ہیں ، اور اس وجہ سے کہ وہ تکبر نہيں کرتے } المائدۃ /
اورعیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں ، پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے سب لوگوں کیلۓ مبعوث فرمایا، اور وہ انبیاء و رسولوں میں سے آخری ہیں ۔ .
نزولِ مسیحؑ
سیدنا عیسی� کو زندہ آسمان پر اٹھانے اور پھر قرب قیامت ان کے نزول کا عقیدہ قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہے،مگر قادیانی اور عصر حاضر کے نام نہاد مفکر جاوید غامدی صاحب اس کی کچھ نہ کچھ تاویل کرتے نظر آتے ہیں۔قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے سیدنا عیسی �کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ "اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا "وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے۔اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فائدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہےاوریہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔سیدنا عیسی� پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے، اب ایک نیا مسیح پیدا ہونا تھا جو کہ ایک محبوط الحواس بھینگے میٹرک فیل دجال و کذاب مرزاقادیانی کی شکل میں پیدا ہوا ہے۔۔یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ غامدی صاحب کا بھی ہے ، یہ بھی ان قادیانیوں کی طرح وفات عیسی کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عیسی �کو صلیب کے قریب ہی موت دی گئی پھر انہیں کہیں دفن کرنے کے بجائے انکا جسم آسمان پر اٹھا لیا گیااور اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ غامدی اور قادیانی دونوں آیت”إِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ ۔)(آل عمران 55) میں”متوفیک“سے ”موت“مراد لیتے ہیں اور اس لفظ کو اپنے عقیدہ وفات مسیح کے لیے نص قطعی قرار دیتے ہیں۔ غامدی صاحب اس آیت کی تشریح کرنے والی متواترصحیح احادیث اور جید صحابہ کےاقوال کو تسلیم نہیں کرتے جبکہ قادیانی انہی احادیث سے مسیح علیہ السلام کے دوبارہ پیدا ہونےکا عقیدہ گھڑ کر مرزا قادیانی کو مسیح قرار دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرز ا قادیانی نے تو محض عیسی علیہ السلام کی سیٹ خالی دیکھ کر خود کو مسیح کہلوانے کے لیے قرآن سے عیسی کی وفات کا عقیدہ اور اسکی قبر کے قصے گھڑے ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ (نزول عیسی ابن مریم) محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے سیدنا عیسی� کے نزول کے حوالے سے وارد قرآنی آیات، احادیث نبویہ اور اجماعِ امت کی روشنی میں اصولی اور علمی انداز میں بحث کرکے واضح فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین
مسیح موعود کی پہچان قرآن و حدیث کی روشنی میں
امت محمدیہ کے آخری دور میں اللہ تعالی کی حکمت سے دجال اکبر کا خروج مقدر ومقرر تھا، جس کے شر سے تمام انبیائے کرام اپنی اپنی امتوں کو ڈراتے آئے ہیں، اور حسب تصریحات احادیث متواترہ اس کا فتنہ اگلے پچھلے تمام فتنوں سے سخت ہوگا۔اس کے ساتھ ساحرانہ قوتیں اور خوارق عادات بے شمار ہوں گی۔اسی کے ساتھ یہ بھی مقرر تھا کہ دجال کے فتنے سے امت کو بچایا جائے۔دجال کو شکست دینے کے لئے سیدنا عیسی دوبارہ اس دنیا میں نزول فرمائیں گے اور اپنی مخصوص شان مسیحی سے مسیح دجال کا خاتمہ کریں گے۔نبی کریم ﷺ نے سیدنا عیسی کی تمام صفات کو اپنی امت کے لئے بیان کر دیا ہے تاکہ امت کے لئے انہیں پہچاننا مشکل نہ رہے۔ زیر تبصرہ کتاب"مسیح موعود کی پہچان، قرآن وحدیث کی روشنی میں"معروف دیو بندی عالم دین مفتی مولانا محمد شفیع عثمانی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مسیح موعود کی پہچان کے حوالے سے قرآن وحدیث کی روشنی میں آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے، اور ان کا ترجمہ وتشریح کسی دوسرے وقت تک کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین







No comments:
Post a Comment