Sunday 1 May 2016

ملکِ شام فضیلت، اہمیت اور تاریخ

شام سریانی زبان کا لفظ ہے، جو حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے حضرت سام بن نوح کی طرف منسوب ہے۔ طوفان نوح کے بعد حضرت سام اسی علاقہ میں آباد ہوئے تھے… ملک شام کے متعدد فضائل احادیث نبویہ میں مذکور ہیں، قرآن کریم میں بھی ملک شام کی سرزمین کا بابرکت ہونا متعدد آیات میں مذکور ہے۔ یہ مبارک سرزمین پہلی جنگ عظیم تک عثمانی حکومت کی سرپرستی میں ایک ہی خطہ تھی۔ بعد میں انگریزوں اوراہل فرانس کی پالیسیوں نے اس سرزمین کو چار ملکوں(سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن) میں تقسیم کرادیا،لیکن قرآن وسنت میں جہاں بھی ملک شام کا تذکرہ وارد ہوا ہے اس سے یہ پورا خطہ مراد ہے، جو عصر حاضر کے چار ملکوں (سوریا، لبنان، فلسطین اور اردن)پر مشتمل ہے۔ اسی مبارک سرزمین کے متعلق نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے متعدد ارشادات احادیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں، مثلاً اسی مبارک سرزمین کی طرف حضرت امام مہدی حجاز مقدس سے ہجرت فرماکر قیام فرمائیں گے اور مسلمانوں کی قیادت فرمائیں گے۔ حضرت عیسیٰ عليه السلام کا نزول بھی اسی علاقہ یعنی دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا۔ غرضیکہ یہ علاقہ قیامت سے قبل اسلام کا مضبوط قلعہ و مرکز بنے گا۔



اسی مبارک سرزمین میں قبلہ اول واقع ہے، جس کی طرف نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام نے تقریباً 16 یا18 ماہ نمازیں ادا فرمائی ہیں۔ اس قبلہٴ اول کا قیام مسجد حرام (مکہ مکرمہ) کے چالیس سال بعد ہوا۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے بعد سب سے بابرکت وفضیلت کی جگہ مسجد اقصیٰ ہے۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جزیرہٴ عرب کے باہر اگر کسی ملک کا سفر کیا ہے تو وہ صرف ملک شام ہے۔ اسی سرزمین میں واقع مسجد اقصیٰ کی طرف ایک رات آپ صلی الله علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے لے جایا گیا اوروہاں آپ صلی الله علیہ وسلم نے تمام انبیا کی امامت فرماکر نماز پڑھائی، پھر بعد میں اسی سرزمین سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو آسمانوں کے اوپر لے جایا گیا ،جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی اللہ تبارک وتعالیٰ کے دربار میں حاضری ہوئی۔ اس سفر میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے جنت وجہنم کے مختلف مناظر دیکھے اور سات آسمانوں پر آپ صلی الله علیہ وسلم کی مختلف انبیائے کرام سے ملاقات ہوئی۔ یہ مکمل واقعہ رات کے ایک حصہ میں انجام پایا۔ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کے اس سفر۔ کو اسراء اور مسجد اقصیٰ سے اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کے اس سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔



اگرچہ قبلہٴ اول بیت المقدس حضرت عمر فاروق  کے عہد خلافت میں فتح ہوا، لیکن اس کی بنیاد حضرت اسامہ بن زید بن حارثہ کے لشکر سے پڑ چکی تھی، جس کی روانگی کا فیصلہ ماہ صفر11ہجری میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے لیا تھا۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی بیماری کی خبر سن کر یہ لشکر مدینہ منورہ کے قریب خیمہ زن رہا۔ اس لشکر نے حضرت ابوبکر صدیق  کے دور خلافت میں پہلی فوجی مہم شروع کی۔ 



ملک شام میں دین اسلام پہنچنے تک تقریباً 1500 سال سے سریانی زبان ہی بولی جاتی تھی، لیکن ملک شام کے باشندوں نے انتہائی خلوص ومحبت کے ساتھ دین اسلام کا استقبال کیا اور بہت کم عرصہ میں عربی زبان ان کی مادری واہم زبان بن گئی، بڑے بڑے جید محدثین، فقہا وعلمائے کرام اس سرزمین میں پیدا ہوئے۔ دمشق کے فتح ہونے کے صرف26یا27 سال بعد دمشق اسلامی خلافت کا دارالسلطنت بن گیا۔



اللہ تعالیٰ نے انس وجن وزمین وساری کائنات کو پیدا کیا۔ بعض انسانوں کو منتخب کرکے ان کو رسول ونبی بنایا، اسی طرح زمین کے بعض حصوں (مثلاً مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور ملک شام ) کو دوسرے حصوں پر فوقیت وفضیلت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ملک شام کی سرزمین کو اپنے پیغمبروں کے لیے منتخب کیا چناں چہ انبیا ورسل کی اچھی خاصی تعداد اسی سرزمین میں انسانوں کی راہ نمائی کے لیے مبعوث فرمائی گئی۔ خلیل اللہ حضرت ابراہیم عليه السلام جیسے جلیل القدر رسول اپنے بھتیجے حضرت لوط عليه السلام کے ہما راہ ملک عراق سے ہجرت فرماکر ملک شام ہی میں سکونت پذیر ہوئے۔ اسی مقدس سرزمین سے حضرت ابراہیم عليه السلام نے مکہ مکرمہ کے متعدد سفر کرکے مکہ مکرمہ کو آباد کیا اور وہاں بیت اللہ کی تعمیر کی۔ حضرت ابراہیم عليه السلام کی نسل کے بے شمار انبیا علیہم السلام (مثلاً حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت ایوب، حضرت داوٴد، حضرت سلیمان، حضرت الیاس، حضرت الیسع، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام) کی یہ سرزمین مسکن ومدفن بنی اور انہوں نے اسی سرزمین سے اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف بلایا۔ غرضیکہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے یہ سرزمین بہت بابرکت ہے۔ فی الحال بیت المقدس کی بابرکت زمین پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کو یہودیوں کے چنگل سے آزاد فرمائے، مسلمانوں کو فتح یاب فرمائے، اپنے دین کی نصرت فرمائے اور ہم سب کو اپنے دین اسلام کی خدمت کے لیے قبول فرمائے۔



قیامت کی بعض بڑی نشانیوں کا ظہور بھی اسی مقدس سرزمین پر ہوگا۔ چناں چہ حضرت مہدی اسی سرزمین سے مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں گے۔ دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر نماز فجر کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگااور اس کے بعد حضرت عیسیٰ عليه السلام امت مسلمہ کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔ دجال اور یاجوج وماجوج جیسے بڑے بڑے فتنے بھی اسی سرزمین سے ختم کیے جائیں گے۔ دنیا کے چپہ چپہ پر اسی علاقہ کی سرپرستی میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی… یمن سے نکلنے والی آگ لوگوں کو اسی بابرکت سرزمین کی طرف ہانک کر لے جائے گی اور سب موٴمنین اس مقدس سرزمین میں جمع ہو جائیں گے… اور پھر اس کے بعد جلدی ہی قیامت قائم ہوجائے گی۔



قرآن کریم میں اس بارکت زمین کا ذکر خیر

﴿سُبْحَانَ الَّذِی اَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصیٰ الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ﴾․ (سورہٴ الاسراء آیت 1) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ کو رات ہی میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا، جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ (یہ علاقہ قدرتی نہروں اور پھلوں کی کثرت اور انبیا کا مسکن ومدفن ہونے کے لحاظ سے ممتاز ہے، اس لیے اس کو بابرکت قرار دیا گیا۔)


﴿وَلِسُلَیْمَانَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِہِ اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا﴾ ․ (سورہٴ الانبیاء آیت 81) 
ترجمہ: ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان عليه السلام کے تابع کردیا، جو اُن کے فرمان کے مطابق اسی زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ یعنی ملک شام کی سرزمین۔

جس طرح پہاڑ اور پرندے حضرت داوٴدعليه السلام کے لیے مسخر کردیے گئے تھے، اسی طرح ہوا حضرت سلیمان عليه السلام کے تابع کردی گئی تھی، وہ تخت پر بیٹھ جاتے تھے اور جہاں چاہتے، مہینوں کی مسافت، لمحوں اور ساعتوں میں طے کرکے وہاں پہنچ جاتے۔ ہوا آپ کے تخت کو اُڑا کرلے جاتی تھی۔

﴿یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ﴾ (سورہٴ المائدہ آیت 21) حضرت موسیٰ عليه السلام نے کہا: اے میری قوم والو! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاوٴ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔ بنی اسرائیل کے مورث حضرت یعقوب عليه السلام کا مسکن بیت المقدس تھا، لیکن حضرت یوسف عليه السلام کی امارت مصر کے زمانے میں یہ لوگ مصر جاکر آباد ہوگئے تھے۔ تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے، جب تک حضرت موسیٰ عليه السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر نکال نہیں لے گئے۔

﴿وَنَجَّیْنَاہُ وَلُوْطاً اِلَی الْاَرْضِ الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا لِلْعَالَمِیْنَ﴾ (سورہٴ الانبیاء آیت 71) ہم ابراہیم اور لوط کو بچاکر اس زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہاں والوں کے لیے برکت رکھی تھی… حضرت ابراہیم عليه السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط عليه السلام عراق سے مقدس سرزمین ملک شام ہجرت فرماگئے تھے۔

﴿وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا الَّتِیْ بَارَکْنَا فِیْہَا﴾ ․ (سورہٴ الاعراف آیت :137) 
ترجمہ: ہم نے ان لوگوں کو جو کہ بالکل کمزور شمارکیے جاتے تھے، اس سرزمین کے مشرق ومغرب کا مالک بنادیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے۔ ۔۔ زمین سے مراد شام کا علاقہ فلسطین ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے عمالقہ کے بعد بنی اسرائیل کو غلبہ عطا فرمایا۔

اس سرزمین کی فضیلت نبی رحمت کی زبانی
٭…رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ شَامِنَا، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْ یَمَنِنَا“ اے اللہ! ہمیں برکت عطا فرما ہمارے شام میں، ہمیں برکت دے ہمارے یمن میں۔ آپ نے یہی کلمات تین یا چار مرتبہ دوہرائے۔
[أخرجه أحمد (2/118، رقم 5987) ، والبخارى (1/351، رقم 990) ، والترمذى (5/733، رقم 3953) وقال: حسن صحيح غريب. وأخرجه أيضًا: ابن حبان (16/290، رقم 7301) .]



٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے سر کے نیچے سے کھینچا جارہا ہے۔ میں نے گمان کیا کہ اس کو اٹھا لے لیا جائے گا تو میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا ،اس کا قصد (ملک) شام کا تھا۔ جب جب بھی شام میں فتنے پھیلیں گے وہاں ایمان میں اضافہ ہوگا۔(مسند احمد، طبرانی… حدیث صحیح ۔ مجمع الزوائد)




٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ کچھ لوگ عمود الکتاب (ایمان) کو لے گئے اور انہوں نے (ملک) شام کا قصد کیا۔ جب جب بھی فتنے پھیلیں گے تو شام میں امن وسکون رہے گا۔ (طبرانی…حدیث صحیح ۔ مجمع الزوائد)




٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے ہٹایا جارہا ہے، میری آنکھوں نے اس کا پیچھا کیا تو پایا کہ وہ بلند نو ر کی مانند ہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اس کو پسند کرتا ہے اور اس کو شام لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے ، تو میں نے سمجھا کہ جب جب بھی فتنے واقع ہوں گے تو شام میں ایمان مضبوط ہوگا۔ (طبرانی)




٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے شب معراج میں دیکھا کہ فرشتے موتی کی طرح ایک سفید عمود اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں نے پوچھا : تم کیا اٹھائے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا : یہ اسلام کا ستون ہے، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اس کو شام میں رکھ دیں۔۔ ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ عمود الکتاب (ایمان) میرے تکیہ کے نیچے سے نکالا جارہا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین سے لے لیا۔ جب میری آنکھ نے اس کا تعاقب کیا تو دیکھا کہ وہ ایک بلند نور کے مانند میرے سامنے ہے، یہاں تک کہ اس کو شام میں رکھ دیا گیا۔ (طبرانی)

رأيت عمودا من نور خرج من تحت رأسى ساطعا حتى استقر بالشام۔
[أخرجه ابن عساكر (1/109) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى فى الشاميين (2/395، رقم 1566) .]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا " میں نے (خواب میں ) دیکھا کہ نور کا ایک ستون میرے سر کے نیچے سے برآمد ہوا ، اوپر کو بلند ہوا اور پھر ملک شام میں جا کر نصب ہوگیا " (ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے)۔
تشریح : اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ آپ ﷺ کا دین بہت تیزی کے ساتھ ملک شام میں پہنچے گا، اس کے برکات واثرات بہت مضبوطی کے ساتھ اس سر زمین پر قائم رہیں گے اور اس ملک میں اس کو سربلندی وشوکت اور غلبہ حاصل ہوگا ، اسی مفہوم میں اس روایت کو لینا چاہئے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت کے وقت آپ کی والدہ ماجدہ کے پیٹ سے ایک نور نکلا جس کی روشنی سے شام کے محلات ومکانات منور ہوگئے ۔




٭ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، وَلَا يَزَالُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ، لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ "۔
[أخرجه ابن أبى شيبة (6/409، رقم 32460) وأحمد (15596 + 15597 +20361  + 20367) ، والترمذى (4/485، رقم 2192) وقال: حسن صحيح، والطبرانى (19/27، رقم 55، 56) ، وابن حبان (16/292، رقم 7302) . وأخرجه أيضًا: الطيالسى (ص 145، رقم 1076) والرويانى (2/128، رقم 946) .]

 … رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اہل شام میں فساد برپا ہوجائے تو پھر تم میں کوئی خیر نہیں ہے۔ میری امت میں ہمیشہ ایک ایسی جماعت رہے گی جس کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوگی اور اس کو نیچا دکھانے والے کل قیامت تک اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی، صحیح ابن حبان)
تشریح : حضرت معاویہ بن قرہ کے والد کا نام قرہ بن ایاس ہے جو صحابی ہیں ۔ خود حضرت معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ ایک تابعی ہیں، ان کا شمار اہل علم و عمل میں ہوتا ہے ۔ بلند پایہ فقیہہ کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں جنگ جمل کے دن ان کی ولادت ہوئی تھی اور ١١٣ھ میں واصل بحق ہوئے۔
" تو پھر تم میں بھلائی نہ ہوگی ۔ ۔ ۔ " یعنی جب اہل شام میں بھی فساد و تباہی پھیل جائے گی تو اس وقت شام میں سکونت اختیار کرنا یا اپنے وطن سے ہجرت کر کے ملک شام میں جانے میں کوئی بھلائی نہیں رہے گی ۔ اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے یوں وضاحت کی ہے کہ ان الفاظ کی بظاہر مراد یہ ہے کہ آخر زمانہ میں اہل شام اللہ کے سچے دین پر قائم ہو نگے اور خیر امت ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گے اور پھر آخر کار ان میں بھی تباہی آجائے گی اور یہ اس وقت ہوگا جب قیامت آئے گی تو اس دنیا میں صرف بدکار لوگ موجود ہوں گے چنانچہ اہل شام کے تباہ ہونے کے ساتھ ہی اس روئے زمین سے خیر کا وجود اٹھ جائے گا جو اس بات کا نتیجہ ہوگا کہ اس وقت اہل خیر میں سے کوئی بھی اس دنیا میں باقی نہیں ہوگا ۔ تا آ نکہ قیامت قائم ہو ۔ ۔ ۔ میں قیامت قائم ہونے سے مراد قائم ہونے کا وقت بالکل قریب آجانا ہے کیونکہ یہ تو اوپر ہی بتایا جا چکا ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس وقت روئے زمین پر کوئی کلمہ گو باقی نہیں ہوگا ۔
" اس جماعت سے مراد ارباب حدیث ہیں ۔ ۔ ۔ " یعنی وہ محدثین اور اہل علم کہ جو حدیث کے حفاظ ہیں، حد یثوں کے راوی ہیں، سنت نبوی ﷺ پر جو کہ کتاب اللہ کی ترجمان اور شارح ہے عمل کرنے اور جو درس وتدریس، تصنیف وتا لیف ، تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ احادیث نبوی ﷺ اور علوم نبوی ﷺ کی خدمت اور اس کے سیکھنے سکھانے میں لگے ہوئے ہیں اور گویا وہ گروہ جن کو " اہل سنت و الجماعت " سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔



حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي قُتَيْلَةَ، عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونُوا جُنُودًا مُجَنَّدَةً ، جُنْدٌ بِالشَّامِ، وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ، وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ "، قَالَ ابْنُ حَوَالَةَ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَاكَ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالشَّامِ، فَإِنَّهُ خِيرَةُ اللهِ مِنْ أَرْضِهِ، يَجْتَبِي إِلَيْهِ خِيرَتَهُ مِنْ عِبَادِهِ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَعَلَيْكُمْ بِيَمَنِكُمْ، وَاسْقُوا مِنْ غُدُرِكُمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ "۔
[وأخرجه أبو داود (2483) ، والطبراني في "مسند الشاميين" (1172) من طريق حيوة بن شريح، بهذا الإسناد.
وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 5/33، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ " 2/ 288، والطبراني في "مسند الشاميين" (1975) من طريق عبد الله بن صالح كاتب الليث، عن معاوية بن صالح الحضرمي، عن أبي يحيى سُلَيم بن عامر الخبائري، عن جبير بن نُفير، عن عبد الله بن حوالة، به.
وعبد الله بن صالح ضعيف يعتبر به.
وأخرجه بنحوه يعقوب بن سفيان 2/288-289، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (2295) ، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (1114) ، والطبراني في "مسند الشاميين" (2540) ، وأبو نعيم في "الحلية" 2/3-4، وفي "الدلائل" (478) ، والبيهقي في "الدلائل" 6/327، وأبو عمرو الداني في "الفتن" (500) من طرق عن يحيى بن حمزة الحضرمي، عن نصر بن علقمة الحضرمي، يرده إلى جُبير بن نفير، عن عبد الله بن حوالة، به. وهذا الإسناد وإن كان ظاهره الانقطاع بين نصر بن علقمة وبين جبير بن نفير، إلا أن نصراً صرح بسماعه من الواسطة بينهما، وهو عبد الرحمن بن جبير بن نُفير في آخر الحديث، فاتصل الإسناد، ورجاله ثقات رجال الصحيح غير نصر بن علقمة، وهو ثقة فقد روى عنه جمع، ووثقه دحيم، وذكره ابن حبان في "الثقات "، ولا يُعلم فيه جرح، وقد توبع.
وأخرجه بنحوه الدولابي في "الكنى" 2/72، والطبراني في "مسند الشاميين" (601) ، وابنُ عساكر في "تاريخه" 1/54 من طريق صالح بن رستم، عن عبد الله بن حوالة. وصالح بن رستم- وهو الهاشمي أبو عبد السلام الدمشقي- مجهول الحال، ومن هذه الطريق أورده الهيثمي في "المجمع" 10/58، ونسبه إلى الطبراني، وقال: رجاله رجال الصحيح غير صالح بن رستم، وهو ثقة!
وسيأتي أيضاً 5/33 و288.
وفي الباب عن أبي الدرداء عند البزار (2851) "زوائد"، أورده الهيثمي في "المجمع" 10/58، ونسبه إلى البزار والطبراني، وقال: وفيهما سليمان بن عقبة، وقد وثقه جماعة، وفيه خلاف لا يضر، وبقية رجاله ثقات.
وعن ابن عمر، وواثلة، وأبي أمامة، أورد أحاديثهم الهيثمي في "المجمع" 10/59، وفي كل منها مقال.
قال السندي: قوله: "مُجَنَّدة": بضم الميم وتشديد نون، والمراد: مختلفة، وقيل: مجتمعة.
"خِرْ لي": أمرٌ من: خَارَ، أصله الخير ضد الشر، أي: اختر لي خيرَ تلك الأماكن.
"خِيرة الله" بكسر خاءٍ معجمة وفتح ياءٍ وقد تسكن، أي: مختارته.
"يجتبي" وفيه ضميرٌ فاعله، و"خيرتَهُ" بالنصب مفعوله، أي: يجمع الله تعالى إليه المختارين من عباده.
"أَبيتُم"، أي: امتنعتم الشامَ أيها العرب. منكم" أضيف إليهم اليمن، لأن الكلام مع العرب، واليمن من بلادهم.
"غُدُركم"- بضمتين-: جمع غدير، وهو الحوض، والمراد فاختاروا بلادكم على البادية.
"توكل"، أي: تكفَل وضمن، تعليل لتقدم الشام على اليمن، والله تعالى أعلم.]

حضرت ابن حولہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : وہ زمانہ قریب ہے جب دین اور ملت کا یہ نظام ہوگا کہ تم مسلمانوں کے جدا جدا کئی لشکر ہوجائیں گے ایک لشکر شام میں ہوگا، ایک یمن میں اور ایک لشکر عراق میں، (یہ سن کر ) ابن حولہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (اگر اس زمانہ میں میں ہوا تو ) فرمائیے کہ میں کون سا لشکر اختیار کروں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تم شام کو اختیار کرنا کیونکہ شام کی سر زمین اللہ کی زمینوں میں سے برگزیدہ سر زمین ہے (یعنی اللہ نے آخر زمانہ میں دینداروں کے رہنے کے لئے شام کی سر زمین ہی کو پسند فرمایا ہے پھر اگر تم شام کو اختیار کرنا قبول نہ کرو تو اپنے یمن کو اختیار کرنا اور دیکھنا تم (جب شام میں جاؤ تو اپنے آپ کو بھی اور اپنے جانوروں کو بھی اپنے ہی حوضوں سے پانی پلانا ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض میری وجہ سے میری امت کے حق میں یہ ذمہ لیا ہے کہ وہ (کفار کے فتنہ و فساد اور ان کے غلبہ سے) شام اور اہل شام کو مامون ومحفوظ رکھے گا ۔ "
تشریح : جنودا مجندۃ (جدا جدا کئی لشکر ) کے الفاظ میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمانوں کے وہ تمام لشکر کلمہ اسلام کی بنیاد پر تو باہم متحدد و متفق ہوں گے لیکن دینی اور ملی احکام ومسائل کی ترجمانی اور ان کے اختیار کرنے میں جدا جدا نقطہ نظر کے حامل ہوں گے ۔ " عراق " سے مراد یا تو اس کا وہ عرب علاقہ ہے جس میں بصرہ اور کوفہ وغیرہ شامل ہیں یا اس کا وہ غیر عرب علاقہ مراد ہے جس میں خراسان اور ماورالنہر کو چھوڑ کر باقی دوسرے عجمی حصے شامل تھے ۔ " تو اپنے یمن کو اختیار کرنا " اس میں یمن کی اضافت ان ( حضرت ابن حولہ کے واسطہ سے عرب سامعین کی طرف اس بنا پر کی کہ اس وقت اس ارشاد رسالت کے براہ راست مخاطب عرب تھے اور یمن کا جغرافیائی اور علاقائی تعلق ملک عرب ہی سے تھا، واضح ہو کہ فاما ان ابیتم (پھر اگر تم شام کو اختیار کرنا قبول نہ کرو تو اپنے یمن کو اختیار کرنا ) کے الفاظ جملہ معترضہ کے طور پر ہیں جو اس ارشاد رسالت کے ایک ہی سلسلہ کے دو حکم یعنی علیک بالشامتو (شام کو اختیار کرنا) اور واسقو ا من غدرکم (اپنے ہی حوضوں سے پانی پلانا ) کے درمیان واقع ہوا ہے ، گویا اصل عبارتی تسلسل یوں تھا کہ : تم شام کو اختیار کرنا کیونکہ شام کی سر زمین اللہ کی زمینوں میں سے برگزیدہ سر زمین ہے اور دیکھنا تم (جب شام میں جاؤ تو ) اپنے ہی حوضوں سے پانی پلانا، اس عبارت کے درمیان آپ نے جملہ معترضہ کے طور پر یہ بھی فرمایا کہ اگر کسی وجہ سے شام کو اختیار کرنا قبول نہ کرو تو پھر اپنے یمن ہی کو اختیار کرنا ، اپنے ہی حوضوں سے پانی پلانا " غدر (اصل میں غدیر کی جمع ہے جس کے معنی حوض کے ہیں اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ شام میں پہنچ کر اس بات کا دھیان رکھنا کہ وہاں کے ملکی وملی امن وانتظام میں تمہاری وجہ سے کوئی خرابی پیدا نہ ہو، لڑائی جھگڑے اور فتنہ وفساد سے اجتناب کرنا ، مثلا پانی کی فراہمی کے سلسلہ میں جو ذریعہ تمہارے لئے مخصوص ہو اسی سے اپنے لئے پانی حاصل کرنا کسی دوسرے کے حصہ میں سے پانی لے کر دوسروں سے مزاحمت اور معارضہ کی صورت ہرگز پیدا نہ ہو خصوصا ان لوگوں سے جو دشمنان دین سے اسلامی مملکت کو محفوظ رکھنے کے لئے اسلامی سرحد پر مامور ومتعین ہوں تاکہ تم آپس میں نزع واختلاف اور فتنہ انگیزی کا سبب نہ بن جاؤ ۔ 




٭…رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے گی، جس کو نیچا دکھانے والے اور مخالفت کرنے والے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آنے تک وہ اللہ کے دین پر قائم رہیں گے… مالک بن یخامر  نے کہا اے امیر الموٴمنین! میں نے حضرت معاذ  سے سنا ہے کہ یہ جماعت ملک شام میں ہوگی۔ (بخاری، مسلم، طبرانی)

تشریح : " اللہ کے حکم پر قائم ہوگا ۔ ۔ ۔ " یعنی اس گروہ کی اعتقادی اور عملی زندگی پوری عمارت ودینی فرائض اور شرعی احکام پر استوار ہوگی جو کتاب اللہ کو یاد کرنے حدیث کا علم حاصل کرنے کتاب سنت سے استباط کر نے، فی سبیل اللہ جہاد کرنے مخلوق اللہ کی خیر خواہی میں لگے رہنے اور جتنے فرض کفایہ ہیں سب کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھا نے سے عبارت ہے اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ کا ارشاد اشارہ کرتا ہے : ولتکن منکم امۃ ید عون الی الخیر و یا مرون بلمعروف وینھون عن المنکر۔ " اور تم میں ( ہمیشہ) ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے جو ( دوسروں کو بھی ) خیر کی طرف بلا یا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں ۔ " بہرحال اس حدیث سے وا ضح ہوا کہ روئے زمین ایسے صلحا اور پا کیزہ نفس لوگوں سے کبھی خالی نہیں رہے گی جو احکام اللہ وندی کی پیروی میں ثابت قدم رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے دور رہتے ہیں، دین وشریعت پر ہر حالت میں عمل کر تے ہیں اور بہر صورت اسلام کی بقاء وسر بلندی کے لئے سر گرم رہتے ہیں ، خواہ مدد و اعانت کرنے والے ان کی مدد و اعانت کریں یا مخالفت پر کمربستہ لوگ ان کی مخالفت وبرائی کریں ۔ حتی یاتی امر اللہ (یہاں تک کہ اللہ کا حکم آن پہنچے گا ) میں (امر اللہ ) اللہ کے حکم ) سے موت اور انقضائے عہد مراد ہے تا ہم شارح نے اس سے " قیامت " مراد لی ہے لیکن اس قول پر اس حدیث کی رو شنی میں یہ اشکال واقع ہوتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے لا تقوم الساعۃ حتی لا یکون فی الا رض من یقول اللہ (روئے زمین پر جب تک ایک بھی اللہ کا نام لیوا موجود رہے گا قیامت نہیں آئے گی ) اسی طرح قائمۃ بامر اللہ ( اللہ کے حکم پر قائم ہوگا ) کے معنی ایک شارح نے اللہ کے دین پر سختی سے عمل کرنا لکھے ہیں ، نیز بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حدیث میں مذکورہ " گروہ " سے مراد اہل علم کی وہ جماعت ہے جو ہر زمانہ میں حدیث کی تعلیم اور دینی علوم کی تدریس وا شاعت کے ذریعہ سنت کی ترویج اور دین کی تجدید و تبلیغ کافریضہ سر انجام دیتی رہے گی اور ایک شارح کہتے ہیں " گروہ " سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اور ہر حالت میں اسلام پر قائم رہیں گے۔ ایک اور شارح لکھتے ہیں ، ہو سکتا ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہو کہ روئے زمین سے اہل اسلام کی شو کت و عظمت کبھی فنا نہیں ہوگی ۔ اگر روئے زمین کے کسی علا قہ اور کسی خطہ میں اسلام اور مسلمانوں کو ضعف واضمحلال لاحق ہوگا تو کسی دوسرے علاقہ اور خطہ میں اسلام کا بول بالا اور مسلمانوں کو شوکت و عظمت حاصل رہے گی جو اعلاء کلمۃ اللہ اور اسلام کا پرچم سر بلند کرنے میں مستعدی سے لگے ہوں گے اور اکثر اقوال کا خلاصہ یہ کہ گروہ سے مراد غازیان اسلام کی جماعت ہے جس کا کام دشمنان دین اسلام سے جہاد کر کے دین کو مضبوط و سر بلند کرنا ہے اور پھر یہی جماعت آخر زمانہ میں اسلامی سرحدوں کی حفا ظت و نگہبانی کرے گی ، بعض روایتوں میں وھم بالشام کے الفاظ بھی آئے ہیں یعنی اس گروہ کا مستقر ملک شام ہوگا اور بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں حتی یقاتل اخر ھم مسیح الدجال ( یہاں تک کہ اس گروہ کے آخری افراد جال کو قتل کریں گے ) گو یا یہ روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ " گروہ " سے مراد غازیان اسلام ہی کی جماعت ہے لیکن حدیث کے ظاہری مفہوم سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ عمومی طور پر ہر وہ جماعت اور ہر وہ طبقہ مراد ہے جو اللہ کے سچے دین پر قائم ہو اور اللہ دین کی خدمت واشاعت میں اور اسلام کی سر بلندی کے لئے کسی بھی صورت سے مصروف عمل ہو ۔ 





٭…رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت حق کے لیے لڑتی رہے گی اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کیا۔ (ابو داوٴد، مسند احمد، طبرانی)




٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں ایک جماعت دمشق اور بیت المقدس کے اطراف میں جہاد کرتی رہے گی۔ لیکن اس جماعت کو نیچا دکھانے والے اور اس جماعت کی مخالفت کرنے والے اس جماعت کو نقصان نہیں پہنچا پائیں گے اور قیامت تک حق انہیں کے ساتھ رہے گا۔ (رواہ ابو یعلی ورجالہ ثقات)

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الشَّامُ، فَإِذَا خُيِّرْتُمُ الْمَنَازِلَ فِيهَا، فَعَلَيْكُمْ بِمَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ، فَإِنَّهَا مَعْقِلُ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمَلَاحِمِ، وَفُسْطَاطُهَا مِنْهَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ "۔
[مسند احمد:17470]
صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : وہ زمانہ قریب ہے جب ملک شام کے شہر اور علاقہ (اسلامی لشکر کے ذریعہ ) فتح کئے جائیں گے پس جب تمہیں ان شہروں اور علاقوں میں مکانات بنانے اور رہائش پزیر ہونے کا اختیار دیا جائے تو تم اس شہر کو اختیار کرنا لازم جاننا جس کو " دمشق شہر ) مسلمانوں کے لئے لڑائیوں سے پناہ کی جگہ ہے اور دمشق ایک جامع شہر ہے اور دمشق کی زمینوں (یعنی علاقوں ) میں سے ایک زمین (یا علاقہ ) ہے جس کو " غوطہ " کہا جاتا ہے (ان دونوں روایتوں کو امام احمد نے نقل کیا ہے ) ۔
تشریح : " صحابہ میں سے ایک شخص " اس حدیث کو جن صحابی نے روایت کیا ہے ان کا نام معلوم نہیں ہوسکا لیکن اس سے حدیث کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ تمام ہی صحابہ عدول ہیں اور کسی صحابی راوی کے نام کا معلوم نہ ہونا مطلق نقصان دہ نہیں ہے ۔ " دمشق " اکثر قول کے مطابق د کے زیر اور میم کے زبر ساتھ ہی فصیح تر ہے ۔ یہ شام کا مرکزی شہر اور پایہ تخت ہے ۔ " لڑائیوں سے پناہ کی جگہ" لفظ " معقل " کے معنی پناہ گاہ اور قلعہ کے ہیں، یہ لفظ عقل سے بنا ہے جس کے معنی ہیں روک رکھنا ، باندھنا اور ملاحم جمع ہے ملحمۃ کی ، جس کے معنی جنگ وجدل اور قتل وقتال کے ہیں، اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ دمشق کے مسلمانوں کے لئے ایک مضبوط قلعہ اور پناہ گاہ ہے ، جو مسلمان اس شہر میں داخل ہوجاتے ہیں وہ دشمنان دین کے غلبہ وتسلط اور ان کے قتل وقتال سے اپنے آپ کو مامون بنا لیتے ہیں ، جس طرح کوئی بکری خود کو اپنے دشمن سے محفوظ رکھنے کے لئے پہاڑوں پر چڑھ جاتی ہے اور کسی پہاڑی چوٹی کو اپنی پناہ گاہ بنا لیتی ہے ۔ " دمشق ایک جامع شہر ہے " فسطاط(بعض روایتوں کے مطابق فسطاط ) جامع شہر کو کہتے ہیں یعنی ایسا شہر جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے اندر جمع کرے، اسی لئے مصر کو بھی فسطاط کہتے ہیں ویسے فسطاط خیمہ اور ڈیرے کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ " جس کو غوطہ کہا جاتا ہے" غوط ان باغات اور پانی کے چشموں کا نام ہے جو شہر دمشق کے گردا گرد ہیں اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ دمشق شہر کے قریب ایک بستی کا نام " غوطہ " ہے ۔




٭  أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ الْغُوطَةُ، إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ "۔
… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قتل کرنے کے دن (یعنی جنگ میں) مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہوگا، جو دمشق کے قریب واقع ہے۔
[وأخرجه أبو داود (4298) ، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 2/290، والطبراني في "مسند الشاميين" (589) ، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/103 و104 من طرق عن يحيى بن حمزة، بهذا الإسناد.
وأخرجه ابن عساكر 1/104 من طريق صدقة بن خالد، عن عبد الرحمن ن يزيد بن جابر، به.
وأخرجه الطبراني في "الشاميين" (1313) ، والحاكم 4/486، وابن عساكر 1/103 من طريق خالد بن دهقان، عن زيد بن أرطاة، به.
وانظر ما سلف برقم (17470) من حديث أصحاب النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.]




٭ إن فسطاط المسلمين يوم الملحمة بالغوطة إلى جانب مدينة يقال لها دمشق من خير مدائن الشام۔
[أخرجه أبو داود (4/111، رقم 4298) وأخرجه أيضًا: أحمد (5/197، رقم 21773)]

… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ میں ہو گا۔ اِس جگہ دمشق نامی ایک شہر ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔
تشریح : من خیر مدائن الشام کے الفاظ " دمشق " کی صفت ہے جس کو ترجمہ میں واضح کردیا گیا ہے اور جیسا کہ پچھلی حدیث میں گزرا " غوطہ " بھی دمشق کے قریب واقع ہے اور ان دونوں حدیثوں میں بظاہر ایک فرق نظر آتا ہے کہ وہاں تو دمشق کو فسطاط کہا گیا تھا اور یہاں غوطہ کو فسطاط کہا گیا ہے ، لیکن " غوطہ " چونکہ دمشق کے قریب اور اسی کا نواحی علاقہ ہے ، اس لئے حقیقت میں ان دونوں کے درمیان کوئی تضاد اور فرق نہیں ہے ۔



٭ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: " عَوْفٌ؟ ": فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " ادْخُلْ " قَالَ: قُلْتُ: كُلِّي أَوْ بَعْضِي؟ قَالَ: " بَلْ كُلُّكَ " قَالَ: " اعْدُدْ يَا عَوْفُ، سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، أَوَّلُهُنَّ مَوْتِي " قَالَ: فَاسْتَبْكَيْتُ حَتَّى جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْكِتُنِي، قَالَ: قُلْتُ: إِحْدَى، " وَالثَّانِيَةُ: فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ " قُلْتُ: اثْنَيْنِ، " وَالثَّالِثَةُ: مُوتَانٌ يَكُونُ فِي أُمَّتِي يَأْخُذُهُمْ مِثْلَ قُعَاصِ الْغَنَمِ قَالَ: ثَلَاثًا، وَالرَّابِعَةُ فِتْنَةٌ تَكُونُ فِي أُمَّتِي، وَعَظَّمَهَا، قُلْ: أَرْبَعًا، وَالْخَامِسَةُ: يَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى الْمِائَةَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطُهَا، قُلْ: خَمْسًا، وَالسَّادِسَةُ: هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَيَسِيرُونَ إِلَيْكُمْ عَلَى ثَمَانِينَ غَايَةً " قُلْتُ: وَمَا الْغَايَةُ؟ قَالَ: " الرَّايَةُ، تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، فُسْطَاطُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ فِي أَرْضٍ يُقَالُ لَهَا: الْغُوطَةُ فِي مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ "۔
[مسند احمد (23985) وأخرجه البزار في "مسنده" (2742) ، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 1/ ورقة 105 من طريق أبي المغيرة الخولاني، بهذا الإسناد.
وأخرجه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (1292) ، والطبراني في "الكبير" 18/ (72) ، وفي "الشاميين" (934) ، وابن منده في "الإيمان" (1000) ، وأبو عمرو الداني في "السنن الواردة في الفتن" (427) و (523) ، وابن عساكر 1/ورقة 105 من طرق عن صفوان بن عمرو، به.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 18/71، وابن منده (999) من طريق خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، به.
وانظر ما سلف برقم (23971) .
ولقوله: "فساط المسلمين يومئذ.. إلخ" انظر ما سلف برقم (17470) .
قال السندي: "مَوَتان" بفتحتين: الموت، وبضم فسكون: موت الماشية.]

… حضرت عوف بن مالک  سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک چھوٹے خیمہ میں موجود تھے … رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اُس وقت مجھے قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں:

1..میری موت۔

2..بیت المقدس کی فتح۔

3..میری امت میں اچانک موتوں کی کثرت۔

4..میری امت میں فتنہ ،جو اُن میں بہت زیادہ جگہ کرجائے گا۔

5..میر امت میں مال ودولت کی فراوانی کہ اگر تم کسی کو 100 دینار بھی دوگے تو وہ اس پر (کم سمجھنے کی وجہ سے) ناراض ہوگا۔ 

6..تمہارے اور بنی اصفر (صیہونی طاقتوں) میں جنگ ہوگی، ان کی فوج میں 80 ٹکڑیاں ہوں گی اور ہر ٹکڑی میں 12000 فوجی ہوں گے… اس دن مسلمانوں کا خیمہ الغوطہ نامی جگہ میں ہوگا، جو دمشق شہر کے قریب میں واقع ہے۔ (رواہ الطبرانی باسناد جید، بیہقی)



٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ شام والو! تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو۔ صحابہٴ کرام نے سوال کیا : کس لیے یا رسول اللہ؟ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: رحمت کے فرشتوں نے خیر وبھلائی کے اپنے بازو اس ملک شام پر پھیلا رکھے ہیں (جن سے خصوصی برکتیں اس مقدس خطہ میں نازل ہوتی ہیں)۔ (ترمذی 3954، مسند احمد)



٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الشام أرض المحشر… شام کی سرزمین سے ہی حشر قائم ہوگا۔
[أخرجه ابن عساكر (1/180) ، كنز العمال 38232+38213 عن ابن عمر، وابی ذر، وحسن۔ جامع الاحادیث للسیوطی:39429+41671+43843۔
وأخرجه أحمد (6/463، رقم 27667) ، وابن ماجه (1/451، رقم 1407) ، والطبرانى (25/32، رقم 54) . وأخرجه أيضا: ابن أبى عاصم فى الآحاد والمثانى (6/216، رقم 3448) ، والطبرانى فى الشاميين (1/271، رقم 471) ، والديلمى (2/25، رقم 2159) .]



٭… رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے مشرق میں سفید مینار پر ہوگا ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)


ان دنوں اِس بابرکت خطہ خاص کر سوریا، میں مسلمانوں کا ناحق خون بہہ رہا ہے۔ مضمون لکھے جانے تک ہزاروں مسلمانوں کی جان جا چکی ہے۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قیمتی اقوال کی روشنی میں مسلمان ایک دوسرے کے بھائی اور ایک جسم کے مانند ہیں ، لہٰذا ہماری دینی واخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی دعاوٴں میں اس خطہ میں امن وسکون کے لیے اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اس خطہ کے مسلمانوں کومتحد فرما، اسلام کے جھنڈے کو بلند فرمائے۔ اللہ تعالیٰ سوریا میں مسلمانوں کے احوال کو صحیح فرما۔ یا اللہ! سوریا میں مسلمانوں کے خون خرابے کو ختم فرما۔ اللہ تعالیٰ اس مقدس سرزمین میں امن وسکون پیدا فرما۔اللہ تعالیٰ سوریا اور فلسطین کے مسلمانوں کو متحد ہوکر اسلام مخالف طاقتوں سے لڑنے والا بنا۔اللہ تعالیٰ سوریا اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما۔ اللہ تعالیٰ ملک شام کے مسلمانوں کو دین اسلام پر قائم رہنے والا بنا۔ جو عناصر ملک شام کے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو ناکام بنادے، ان کو ذلیل کردے۔ آمین۔ ثم آمین۔ 


نوٹ:… یہ مضمون مختلف عربی کتابوں خاص کر فضائل الشام للحافظ محمد بن احمد بن عبد الھادی الدمشقی الحنبلی المذہب (جو امام ابن عبد الہادی کے نام سے مشہور ہیں) (705ھ۔ 744ھ) سے استفادہ کرکے تحریر کیا گیا ہے، حتی الامکان احادیث کے ترجمہ میں احتیاط سے کام لیا گیا ہے… اللہ تعالیٰ اس خدمت کو قبول فرمائے۔ آمین۔ ثم آمین!
****************************************
کیا یہ سب خاندان جو جزیرئہ نمائے عرب کے شمالی کونے میں واقع ایک بے آب و گیاہ علاقے میں آباد ہو گئے یا کردیے گئے؟ ان کے پاس دولت، جائیداد، کاروبار یا عیش و عشرت کی کمی تھی؟ کیا ان کا بچپن یا ان کے باپ دادا کا بچپن اس سرزمین پر گزرا تھا کہ انہیں پل پل اس کے گلی کوچوں کی یاد ستاتی تھی؟ اور وہ اپنے آبائی گھروں میں جا کر آباد ہونا چاہتے تھے؟ اپنے قدیمی گلی محلوں میں کھیلنا کودنا چاہتے تھے؟ ایسا تو ہرگز نہ تھا۔ یہ سب لوگ جو انگلینڈ، یورپ کے دیگر ممالک اور امریکا کی ترقی یافتہ آبادیاں چھوڑ کر یہاں آباد ہوئے، اپنے اپنے علاقوں کے متمول ترین لوگ تھے۔ خوبصورت گھروں میں رہتے، شاندار گاڑیوں میں سفر کرتے اور وسیع کاروبار کے مالک ہوتے تھے۔ ان ملکوں میں امن، خوشحالی اور سلامتی بھی تھی۔ قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری بھی، لیکن جہاں وہ جا کر آباد ہو رہے تھے وہاں تو نہ پانی، نہ سبزہ، سڑکیں نہ عمارات، ایک بے آباد سرزمین اور وہاں پر آباد عرب ان کی جان کے دشمن۔ اس کے باوجود وہ اپنا سب کچھ بیچ کر فلسطین کے علاقے میں جا کر آباد ہو گئے۔ یہ آباد نہیں ہوئے، بلکہ انہیں جنگ عظیم اوّل کے بعد اتحادی افواج کے سرکردہ ملک برطانیہ نے آباد کیا۔ یہ وہ قصہ ہے جو آج بحرین، شام، ایران، یمن، لبنان اور دیگر عرب ممالک میں جنگ و جدل کی بنیاد ہے۔

مارک نے فرانس کے سفارت کار فرانکوئس پی کوٹ (Francois Picot) کے ساتھ مل کر برطانیہ کا فرانس کے درمیان ایک خفیہ معاہدہ کروایا جسے ’’Asia Minor Agrement ‘‘کہتے ہیں۔ اس کے تحت خلافتِ عثمانیہ کے حصے بخرے ہوں گے تو کون کون سا علاقہ کس ملک کے پاس جائے گا؟ برطانیہ کے پاس دریائے اردن اور سمندر کے درمیان کا علاقہ جس میں آج کل اسرائیل واقع ہے اور جنوبی عراق جب کہ فرانس کے پاس جنوب مشرقی ترکی، شمالی عراق، شام اور لبنان اور روس کے پاس استنبول وغیرہ آنے تھے۔ یوں حیفہ اور ہیبرون کا علاقہ برطانیہ کے ہاتھ آ گیا جہاں انہوں نے صیہونی یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں وہاں آباد کرنا تھا۔ سائیکس اور پائی کوٹ نے اپنی مرضی سے پورے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر لکیریں کھینچی جنہیں آج اردن، لبنان، عراق، شام، یمن، سعودی عرب اور دیگر ریاستیں کہتے ہیں۔ 

آپ حیران ہوں گے کہ اس کے ساتھ ہی صیہونی میمورنڈم جنوری 1915ء میں برطانوی کابینہ میں پیش کیا گیا۔ یورپ کے یہودی استقدر بااثر تھے کہ کابینہ نے ان کے میمورنڈم پر غور کیا۔ 1916ء میں بالفور ڈیکلریشن وجود میں آیا جس کے الفاظ تھے: 
His Majestys Government View with favour the establihment of a national Home for Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievemt of their object (تاجِ برطانیہ اور اس کی حکومت یہودیوں کے ایک قومی گھر کے قیام کو اچھی نظر سے دیکھتی ہے اور وہ اس کے حصول کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائے گی) پھر اس کے بعد دنیا بھر سے یہودی اپنی جائیداد فروخت کر کے اس دشت میں جا کر آباد ہونے لگے، جہاں انہیں کوئی پہچانتا تک نہ تھا۔ جہاں چاروں جانب ان کے دشمن تھے۔ کیا یہ سب کسی نسل، رنگ، زبان اور علاقے کے جذبات تھے جو انھیں وہاں لے کر آئے؟ ہرگز نہیں! وہ اپنے مذہب کے مطابق انسانی تاریخ کی آخری اور سب سے بڑی جنگ لڑنے کے لیے وہاں جمع ہوئے ہیں جس کے بعد ان کا مسیحا آئے گا اور انہیں داؤد اور سلیمان جیسی عظیم عالمی حکومت قائم کرکے دے گا۔ یہ جنگ انہوں نے مسلمانوں سے لڑنا ہے۔ کیا ہم تیار ہیں؟ کیا ہم ویسے ہی گھر بار چھوڑ کر ایک جگہ اکٹھا ہونے کے قابل ہیں؟ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی تو فرمایا تھا: ’’ایک زمانہ میں تم یہودیوں سے جنگ کروگے اور تم یہودیوں پر غلبہ پاؤ گے۔‘‘ (متفق علیہ)، لیکن اس وقت سے پہلے کتنا کچھ ہے جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ وقوع پذیر ہو چکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسلام کی کڑیاں ضرور ایک ایک کر کے ٹوٹیں گی۔ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اس کے بعد والی کڑی کو پکڑ لیں گے۔ اس میں سب سے پہلے جو کڑی ٹوٹے گی وہ اسلامی نظام عدالت (خلافت) کی کڑی ہو گی اور سب سے آخری کڑی نماز ہوگی۔‘‘ (شعب الایمان) 

خلافت ٹوٹ گئی۔ اب قومی ریاستیں ہیں، لیکن میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دے دی تھی جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہو گا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے (الفتن)فرمایا: ’’عنقریب تم افواج کو پاؤ گے شام، عراق اور یمن میں۔‘‘ (للبیہقی) پھر فرمایا: ’’جب شام میں فساد ہو تو تمہاری خیر نہیں۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل)اس حدیث پر غور کریں: ’’قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ اہلِ عراق کے اچھے لوگ شام کی طرف منتقل نہ ہو جائیں اور اہلِ شام کے شریر لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہو جائیں، تم شام کو لازم پکڑے رہنا۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل) احادیث کی ایک طویل فہرست ہے جس میں اس اُمت کو خبردار کیا گیا۔ اس دور فتن کے بارے میں کہ جب یہ امت ایسے عذابوں کا شکار ہو گی جیسے تسبیح کا دوڑا ٹوٹ جائے اور دانے اوپر نیچے گرنے لگتے ہیں۔ ہم حالت جنگ نہیں حالت عذاب میں ہیں۔ یہ حالت عذاب ہماری تطہیر کرے گی۔ اس لیے کہ آخری بڑی جنگ سے پہلے دنیا نے دو خیموں میں تقسیم ہونا ہے۔ ایک جانب مکمل ایمان اور دوسری جانب مکمل کفر۔ نفاق کا خاتمہ ہوگا۔ نفاق حکومتوں میں ہو یا افراد میں سب ختم ہو جائے گا۔ تقسیم واضح ہوتی جائے گی، اس لیے کہ حالت جنگ میں کسی ایک جانب ہونا پڑتا ہے۔ 
******************************
سرزمینِ انبیا ملک شام 1946ء میں آزاد ہو کر بھی آج تک آزاد نہ ہو سکا۔ مسلسل انقلابات کی زد میں رہنے کے بعد 1970ء میں ایک آدم خور نے عنان حکومت سنبھالی اور عوام کی زندگی اجیرن بنا دی۔ 2011ء میں اس بڑے میاں کے بعد چھوٹا میاںبرسراقتدار آیا اور قتل و غارت گری کا بازار گرما دیا۔یوں گزشتہ 35سال سے باپ بیٹا ملک شام کے سیاہ و سفید کے مالک چلے آتے ہیں۔ بشارالاسد کو آج چار سال ہونے کو آئے ہیں، ایک تسلسل کے ساتھ عوام کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ عالمی پابندیوں اور تنبیہات کے باوجود کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔ایک عرب دانشور کے بقول: بشارالاسد جس تسلسل کے ساتھ عوامِ شام کو تہ تیغ کر رہا ہے، شاید سینما کی فلم میں اتنی کثرت سے قتل ہوتے نہ دیکھے گئے ہوں۔ 

شام کے عوام ایک ڈکٹیٹر شپ کی قہرمانیوں کی زد میں ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن ہو چکی۔ شیطنت کا علمبردار ایک سرکش حاکم ان کے لیے عذاب بن کر مسلط ہے۔ اب تک لاکھوں لوگ موت کے گھاٹ اتار چکا ہے اور اس قتل عام سے کسی بھی طور پر متاثرہ خاندانوں اور افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ سیکڑوں افراد ملک اور بیرون ملک ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ بے شمار گھروں کومنہدم کر کے اور اجاڑ کر ویرانیوں کو بسا دیا گیا۔ ایسے افراد تو بے شمار ہیں جو بشار کی انا کا شکار ہو کر زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایک رپورٹ کے

مطابق شام میں ہر ہفتے اوسطاً ایک ہزارسے زائد افراد لقمہ اجل بنتے ہیں، چنانچہ گزشتہ تین سالوں اور چندماہ میں ایک لاکھ 60ہزار افراداس سربریت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 

بشار کی اس اندرونی درندگی کے علاوہ بہت سی بیرونی قوتیں بھی اس شام ظلم کو طول دینے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے مذہبی منافرت کو ہوا دے کر وہاں کی واضح اکثریت کو مغلوب بنانے میں اپنا پورا زور صرف کر رہی ہیں۔ اسلامی ممالک کی طرف سے اخلاقی تعاون تک کا فقدان نظر آتا ہے۔ چند ایک ممالک کو چھوڑ کر شاید پورے عالم اسلام کے لیے شامی عوام کے اس مسئلے میں کوئی دلچسپی کا عنصر موجود نہیں۔ اس شدید تعاونی بحران کے باوجود شام کے مظلوم عوام کی جرات و شجاعت کو سلام کہیے کہ وہ نہ صرف ایک ظالم کے آگے سر جھکانے کو تیار نہیں ہوئے بلکہ وہ مایوسی کے نام تک سے ناواقف ہیں۔ 

مسلم حکمرانوں اور عوام الناس کے پاس مظلوم شامیوں کی مدد کے بے شمار طریقے موجود ہیں۔ حکمران بیک آواز ہو کر عالمی دباؤ کے ذریعے اس اندھے ظلم کو رکوائیں۔ اپنا سیاسی وزن انہیں مظلوموںکے پلڑے میں ڈالیں۔ ظلم کا نشانہ بننے والے وہاں کے شہریوں کو مالی تعاون فراہم کریں۔ 

ان کو اپنے ہاں پناہ دے کر اپنا مذہبی فریضہ ادا کریں۔ میڈیا ذرائع حق ، سچ اور انصاف کی آواز بلند کریں۔ یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ اس وقت کا سب سے بڑا جہاد اور دفاع کا ذریعہ ہیں۔ اگر وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں، صرف سچ اور حق کو نکھار کر اقوام عالم کے سامنے رکھ دیں، ان کا فریضہ ادا ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ جلد یا بدیر مظلوموں کو انصاف مل کر رہے گا۔ 

حال ہی میں عالم عرب کی ایک معروف اور محبوب شخصیت علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے اپنے ایک فتوے کے ذریعے عالم اسلام کو متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس فتوے میں دنیا بھر کے معززین اور اہل اسلام سے شامی عوام کوظلم سے نجات دلانے کی درخواست کی ہے ۔ ڈاکٹر موصوف نے اس اندھی جارحیت، لٹتی عصمتوں، تباہ ہوتے مکانات اور اسلحے کے ناروا استعمال کے تناظر میں حق سچ کی آواز بلند کرنے کی تلقین کی ہے۔ 

3جون کو شام میں صدارتی انتخابات ہوچکے ہیں۔ یہ انتخابات ہیںیا ریفرنڈم، یہ تو وقت بتا ہی دے گا، تاہم ماہرین اس معاملے میں متفق نظر آتے ہیں کہ یہ انتخابات بشار الاسد نے اپنے ظلم و ستم کو ایک سیاسی جواز فراہم کرنے کے لیے کروائے ہیں۔ وہ یہ ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں کہ شام کے عوام میرے تمام اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔ بشار الاسد نے گزشتہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ملک میں جاری خانہ جنگی ان کے حق میں جارہی ہے۔ مبصرین کی رائے میں بشار الاسد کا انتخابات منعقد کروانے کا یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ بشار ملک میں جاری خونریزی کا تسلسل اور اپنے اقتدار کا مزید طول چاہتے ہیں۔ 

یہ حالات اتنی بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ فی الحال مظلوم شامی عوام جمہوریت، حق خود ارادیت اور جاری ظلم سے نجات کے حوالے سے محروم ہیں، جبکہ عالم اسلام بے حسی کا شکار ہے۔ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے مسائل بارے شدید غفلت اور مفاد پرستی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اگر اہل اسلام اپنا فریضہ ادا کرتے تو شامی عوام پر ظلم کی یہ شب اتنی طویل نہ ہوتی۔ جانبدار میڈیا نے اسدی ظلم کا چہرہ ہی عوام الناس سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔ عالم اسلام میں ہر حوالے سے کہیں جوڑ تو کہیں توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر نہیں ہے تو مظلوم مسلم ممالک، بالخصوص شام سے متعلق نہیں ہے۔ 

بحیثیت مسلم برادری ،شامی بھائیوں کا درد ہمارے دل میں جاگزیں ہونا چاہیے۔ آپ یہ حدیث پاک ملاحظہ کیجیے اور اپنے احوال پر ایک نظر ڈالیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ جو شخص بھی اپنے اس مسلمان بھائی کی مدد کرے جو ایسے ملک میں رہتا ہے جہاں اس آبرو محفوظ نہیں اور جہاں اس کی جان کو خطرہ لاحق ہے تو اللہ تعالی اس مدد کرنے والے کی ایسے ملک میں مدد کرے گا جہاں وہ چاہے گاکہ اس کی نصرت کی جائے۔ جس آدمی نے کسی مسلمان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ایسے ملک میں جہاں اس کی جان محفوظ نہیں تو اللہ بھی اسے اس ملک میں تنہا چھوڑ دے گا جہاں وہ چاہے گا کہ اس کی مدد کی جائے۔‘‘سو، آج اگر ہم قدرے بہتر حالت میں ہیں تو اپنے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے تمام برادر اسلامی ممالک کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھیں اور اخلاقی فرائض سے غافل نہ رہیں۔ اس بات سے تو کوئی مسلمان بھی خالی نہ رہے کہ اپنے تمام مظلوم مسلمان بھائیوں، بالخصوص شامیوں کی اس شام غم سے نجات کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مسلسل دعا کرتا رہے۔











No comments:

Post a Comment