یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔
[القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3]
یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
عدالت کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہر مخلوق اپنے حق، استعداد اور صلاحیت کے مطابق اپنا حصہ حاصل کرے۔
برابری میں غیرعادلانہ فیصلہ مت کرو۔
القرآن:
بھلا کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم کیسی باتیں طے کرلیتے ہو؟ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔ کہ تمہیں وہاں وہی کچھ ملے گا جو تم پسند کرو گے؟
[سورۃ القلم، آیت نمبر 35-38]
تفسیر:
بعض کافر یہ کہتے تھے کہ اگر بالفرض ہمیں الله تعالیٰ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا تب بھی وہ ہمیں وہاں جنت کی نعمتیں دے گا، جیسا کہ (سورة حم السجدہ : 50) میں گذرا ہے۔ یہ آیتیں اس بےبنیاد خیال کی تردید فرما رہی ہیں۔
بعض اوقات ”عدالت“ کا ”مساوات“ سے مغالطہ کیا جاتا ہے اور تصور کیا جاتا ہے کہ عدالت کے معنیٰ یہ ہیں کہ مساوات کی رعایت کی جائے، جبکہ ایسا نہیں ہے۔
عدالت میں ہرگز مساوات شرط نہیں ہے بلکہ حق اور ترجیحات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔
مثال کے طور پر ایک جماعت کے شاگردوں میں عدالت یہ نہیں ہے کہ سب کو مساوی نمبر دئے جائیں اور دو مزدوروں کے در میان یہ عدالت نہیں ہے کہ دونوں کو مساوی مزدوری دی جائے۔ بلکہ عدالت یہ ہے کہ ہر شاگرد کو اس کی لیاقت اور صلاحیت کے مطابق نمبر دئے جائیں اور ہر مزدور کو اس کی محنت کے مطابق مزدوری دی جائے۔
عالم فطرت میں بھی وسیع معنی میں عدالت کا مفہوم یہی ہے۔ اگر ایک وہیل مچھلی کا دل جس کا وزن تقریباً ایک ٹن ہوتا ہے، ایک چڑیا کے دل کے برابر ہوتا تو یہ عدالت نہیں تھی۔ اگر ایک مضبوط لمبے درخت کی جڑ ایک چھوٹے سے پودے کی جڑ کے برابر ہو تو یہ عدالت نہیں ہے بلکہ عین ظلم ہے۔
اسی طرح مرد وعورت کی بناوٹ، صلاحیت وخوبیاں مختلف ہونے کے سبب حقوق برابر نہیں۔
اسلام میں عدل اور مساوات
مساوات لغت میں: دو چیزوں کے درمیان مماثلت اور ان کے درمیان برابری کو کہتے ہیں۔ لوگوں نے مساوات کے معنی کے تعین میں اختلاف کیا ہے: چنانچہ مساوات کے معنی متعین کرنے کے لیے دو مختلف رجحانات سامنے آئے:
پہلا رجحان: یہ کہ مساوات کا مطلب لوگوں کے درمیان تمام فرقوں کو مٹا دینا ہے، پس وہ سب برابر ہیں، ان کے درمیان نہ دین کا فرق، نہ شرع کا، نہ قانون کا، نہ جنس کا۔ اسے مطلق مساوات کہا گیا۔
دوسرا رجحان: اس نے چیزوں کے درمیان مکمل مماثلت کو واجب قرار دیا، سوائے ان چیزوں کے جن میں شرع نے برابری کی نفی کی ہے، اس اعتبار سے کہ شریعت کو تسویہ اور تفریق کا مطلق حق حاصل ہے۔
[دیکھیے: اثر المساواة فی الفکر الاسلامی المعاصر، ڈاکٹر علاء الدین الامین الزاکی، مجلہ البیان، عدد (240)، شعبان (1428ھ)، ص 8۔]
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ”پہلا رجحان“ دروازہ کھول دیتا ہے، اور یہ لغو اور بے معنی ہے؛ کیونکہ مساوات اپنے مفہوم میں چیزوں اور مخلوقات کے درمیان مشابہت اور برابری کے معنی رکھتی ہے، اور وہ عادلانہ نہیں ہو سکتی مگر جب خصائص اور صفات برابر اور مشابہ ہوں، تب مساوات حقیقت پذیر ہوتی ہے۔ اور جہاں وہ مختلف ہوں — جیسا کہ مرد اور عورت کا معاملہ ہے — وہاں عادلانہ مساوات ممکن نہیں؛ کیونکہ مختلف چیزوں کے درمیان مساوات واضح ظلم ہے جو عدل اور انصاف کو قائم نہیں کرتا۔
[دیکھیے: المساواة العادلة بین الجنسین فی الاسلام، ڈاکٹر مکارم محمود الدیری، ص 151۔ مؤتمر ”تحریر المرأة فی الاسلام“ قاہرہ (22-23) فروری (2003ء) کے بحوث میں شامل۔]
بلکہ ”پہلا رجحان“ ان صریح اور واضح شرعی نصوص سے ٹکراتا ہے جو بعض چیزوں کے درمیان مساوات کی نفی کرتے ہیں؛ جیسے مومن اور کافر، اندھیرے اور روشنی، مرد اور عورت، وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”کیا جو مومن ہو وہ فاسق کی مانند ہے؟ وہ برابر نہیں ہو سکتے۔“
اور فرمایا:
﴿وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ﴾
[فاطر: 22]
”اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے۔“
اور فرمایا:
﴿وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى﴾
[آل عمران: 36]
”اور نر ناری کی مانند نہیں۔“
اور شیخ ابن عثیمین — رحمہ اللہ — نے اس سلسلے میں بہت اچھی بات مقرر کی، جہاں فرمایا: ”اسلام پر بہتان لگایا جس نے کہا: دین اسلام مساوات کا دین ہے! بلکہ دین اسلام عدل کا دین ہے، اور وہ برابر والوں کو جمع کرنا اور مختلف والوں میں فرق کرنا ہے۔۔۔ قرآن میں ایک حرف بھی نہیں آیا جو کبھی مساوات کا حکم دے، وہ تو صرف عدل کا حکم دیتا ہے۔“
[شرح العقیدة الواسطیة، (1/229-230)]
میرے پیارے بھائیو! اس محکم قاعدے کی بنیاد پر، جو اس حکیم عالم نے بیان کیا، ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں:
اولاً: عادلانہ مساوات برابر والوں کو جمع کرتی ہے اور مختلف والوں میں فرق کرتی ہے۔
برابر والوں کو جمع کرنے کی مثالوں میں سے: مرد اور عورت کی انسانی خصائص، شرعی تکالیف، ثواب اور عقاب میں مساوات۔
اور مختلف والوں میں فرق کی مثالوں میں سے: مرد کا عورت سے جسمانی، نفسیاتی اور عقلی خصائص میں اختلاف۔
ثانیاً: مطلق مساوات برابر والوں اور مختلف والوں کو جمع کرتی ہے، اس طرح متضاد چیزوں کو برابر کرتی ہے، اور یہ عدل و انصاف سے دور ہے، اور اس میں جو تضاد ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔
میرے عزت والے بھائیو! رہا عدل؛ تو لغت میں اس کی تعریف یہ ہے: یہ جور کا نقیض اور اس کا ضد ہے، اور وہ چیز جو نفوس میں مستقیم معلوم ہو۔
اور عدل — شرعی اصطلاح میں: کسی چیز کو اس کے اس مقام پر رکھنا جہاں اللہ تعالیٰ نے اسے رکھنے کا حکم دیا۔ دوسرے لفظوں میں: فریقوں کے درمیان موازنہ کرنا کہ ہر ایک کو اس کا حق دیا جائے بغیر کمی اور ظلم کے۔
[دیکھیے: المساواة العادلة بین الجنسین فی الاسلام، ص 151۔]
اور شیخ ابن عثیمین — رحمہ اللہ — کا قول پہلے گزر چکا ہے کہ ”دین اسلام عدل کا دین ہے، اور وہ برابر والوں کو جمع کرنا اور مختلف والوں میں فرق کرنا ہے۔“
[شرح العقیدة الواسطیة، (1/229)]
فضیلت والو! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے عدل اور مساوات میں فرق کیا ہے، اور ان کے اہم فرق یہ ہیں:
[دیکھیے: اثر المساواة فی الفکر الاسلامی المعاصر، ص 9-10۔]
1- شریعت نے (عدل) کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی، مطلقاً، ہر زمان و مکان میں اور ہر انسان کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف پر قائم رہو، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔“
رہی (مساوات) تو وہ بعض مقامات میں منفی ہے؛ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان:
اور فرمایا:
﴿وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ﴾
[فاطر: 22]
”اور زندہ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے۔“
اور فرمایا:
﴿وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى﴾
[آل عمران: 36]
”اور نر ناری کی مانند نہیں۔“
2- (عدل) تسویہ اور تفریق دونوں کو شامل ہے، جبکہ (مساوات) صرف تسویہ کو شامل ہے۔ نبی ﷺ نے بعض مقامات میں مساوات کو عدل سے تعبیر کیا، جیسے اس شخص سے فرمایا جو اپنے ایک بیٹے کو عطیہ دیا اور اپنی باقی اولاد کو نہیں دیا:”اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے درمیان عدل کرو۔“ تو وہ واپس گیا اور اپنا عطیہ لوٹا دیا۔
[بخاری نے روایت کیا، کتاب الہبة وفضلها، باب: الاشهاد فی الہبة (2/781)، (ح 2587)]
پس عدل میں سے ہے: اولاد کے درمیان عطیہ میں برابری۔
[دیکھیے: تحفة الاحوذی، مبارکپوری (4/506)۔]
اور عدل میں سے ہے: بیویوں کے درمیان رات اور نفقہ میں برابری۔ اور عدل میں سے ہے: مرد اور عورت کے درمیان میراث، شہادت اور ان جیسے دیگر امور میں فرق، جن میں شرعی دلیل نے فرق کیا ہے۔
لہٰذا، اسلام عدل کا دین ہے، مساوات کا دین نہیں؛ کیونکہ عدل فریقوں کے درمیان موازنہ چاہتا ہے کہ ہر ایک کو اس کا حق بغیر کمی اور ظلم کے ملے۔ اسی بارے میں شیخ ابن عثیمین — رحمہ اللہ — فرماتے ہیں: ”لوگوں میں سے کچھ عدل کی جگہ مساوات استعمال کرتے ہیں! یہ غلط ہے، مساوات نہیں کہا جائے گا؛ کیونکہ مساوات دو چیزوں کے درمیان تسویہ کا تقاضا کر سکتی ہے، جبکہ حکمت ان کے درمیان فرق کا تقاضا کرتی ہے۔
اور اسی جابرانہ دعوت تسویہ کی وجہ سے وہ کہنے لگے: مرد اور عورت میں کیا فرق ہے؟! مردوں اور عورتوں کو برابر کر دو۔۔۔ لیکن جب ہم عدل کہیں، یعنی ہر ایک کو اس کا مستحق دینا؛ تو یہ قباحت زائل ہو جاتی ہے اور عبارت درست ہو جاتی ہے۔“
[شرح العقیدة الواسطیة، (1/229)]
پس عدل مساوات سے زیادہ عام اور جامع ہے، اور عدل مساوات کا ضابطہ ہے؛ عدل چاہتا ہے کہ عورت کو مرد سے نصف ملے، اور عدل یہ بھی چاہتا ہے کہ دو بہنیں میراث میں برابر حصہ پائیں۔ پس پہلی صورت میں فرق کے باوجود عدل مکمل طور پر قائم ہوا جیسا کہ دوسری صورت میں؛ کیونکہ عدل ہر ایک کو اس کا مستحق دینا ہے۔
اور عدل و مساوات کے اہم فرق میں سے:
3- (عدل) کا لفظ استعمال کرنے میں شریعت کو تضاد سے محفوظ رکھنا ہے؛ کیونکہ اس میں تفریق اور مساوات دونوں موجود ہیں۔ جبکہ (مساوات) کا لفظ استعمال کرنے میں ان شرعی نصوص کی صریح مخالفت ہے جو بعض مقامات پر تفریق کے ساتھ آئے۔
”کیا جو مومن ہو وہ فاسق کی مانند ہے؟ وہ برابر نہیں ہو سکتے۔“
پس مومنوں اور فاسقوں کے درمیان مساوات کرنا ظلم ہے، یہاں عدل تفریق کا تقاضا کرتا ہے۔ اسی بارے میں سعدی — رحمہ اللہ — فرماتے ہیں: ﴿لَا يَسْتَوُونَ﴾ ”عقلاً اور شرعاً، جیسے رات اور دن، روشنی اور اندھیرا برابر نہیں، اسی طرح آخرت میں ان کا ثواب بھی برابر نہیں۔“
[تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان، (4/127)۔]
”کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کی مانند بنا دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟“
اور خود مسلمانوں کے درمیان بھی ہم ان کے دنیا میں نیک اعمال کے درمیان مساوات نہیں کر سکتے، ورنہ اس سے آخرت میں ان کے درجات میں مساوات لازم آئے گی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دنیا میں اعمال اور آخرت میں درجات کے درمیان مساوات کی نفی کی — اور یہی عدل ہے — جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
”مومنوں میں سے بیٹھ رہنے والے، جو کسی عذر والے نہیں، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے، اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، اور اللہ نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر بڑا اجر عطا کرنے کا فضل دیا ہے۔“
”تم میں سے جو لوگ فتح سے پہلے خرچ کیا اور جنگ کیا، وہ برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ لوگ ان سے بڑے درجے کے ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور جنگ کیا، اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے، اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔“
اور دیگر نصوص جو تفریق پر دلالت کرتے ہیں۔
اللہ کے بندو! اور اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں کے درمیان مساوات کا حقیقت میں قائم کرنا عقلاً اور عملاً ناممکن ہے، ورنہ لوگ اپنی تنخواہوں میں کیوں تفاوت رکھتے ہیں جبکہ وہ ایک ہی ادارے میں کام کرتے ہیں؟! کیا وہ ایک ہی سماجی حالات میں نہیں رہتے اور ایک ہی مسائل کا سامنا نہیں کرتے، اور زندگی کی ضروریات — کھانا، پینا، لباس، رہائش — میں برابر نہیں؟! پھر یہ تفاوت کیوں؟ اور کیا اجرتوں میں یہ تفاوت جدید سماجی نظاموں میں ظلم و جور کی علامت سمجھا جاتا ہے؟!
رہا وہ عدل جو برابر والوں کے درمیان برابری اور مختلف والوں کے درمیان فرق کا تقاضا کرتا ہے، تو یہ نہ عقلاً ناممکن ہے نہ عملاً، اور اسی پر شریعت کے علماء کا اتفاق ہے جو واقعیت سے ہم آہنگ ہے، چیزوں اور ان کے درمیان تفاوت کو پہچانتی ہے اور انہیں مضبوطی سے رکھتی ہے۔
[دیکھیے: التمایز العادل بین الرجل والمرأة فی الاسلام، ڈاکٹر محمود بن احمد الدوسری، ص 27۔]
---
المساواۃ :
برابری یا یکسانیت ، دونوں اطراف میں کوئی بھی قدر یکساں یا مشترک ہوں۔ مساوات ایسا ریاضیاتی بیان ہے جو دو تعبیروں کی برابری کا دعوی کرتا ہے۔
عربی زبان ميں مساوات کے معنی وزن، کیل یا مساحت کے لحاظ سے دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے ہیں۔
التسویۃ کے معنی کسی چیز کو ہموار کرنے ہیں۔
اور آیت : ۔
الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ
[سورۃ الانفطار:7]
(وہی تو ہے) جس نے تجھ کو بنایا پھر تجھ کوبرابر کیا پھر تجھ کو ٹھیک کیا۔
میں سَوَّاكَسے مراد یہ ہے کہ انسان کی خلقت کو اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اور صناعی کی پہچان بنایا۔
یعنی برابر بنایا اس (کی انگلیوں)کے پور پور(کناروں) کو۔
[حوالہ سورۃ القیامۃ:4]
اور اسے برابر برابر دو دو (جوڑے) ہاتھ ، پاؤں، آنکھ اور کان دیے۔۔۔۔۔اس نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے لمبا نہیں بنایا۔
[تفسیر الماتريدي:10/446]
اور نہ ایسا کیا کہ بعض اعضاء کو سفید اور بعض کو سیاہ بنایا۔ اور سیدھا کھڑا ہو کر چلتا ہے۔ بہائم کی طرح جھک کر نہیں۔
[تفسیر النسفي:3/610]
اور ویسا ہی بنایا سارے(انسان)کو مناسب طور صحیح سالم اعضاء والا ۔۔۔۔ بہترین سانچے میں
[حوالہ سورۃ التین:4]
اور آیت : ۔
وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها
[سورۃ الشمس:7]
اور(قسم ہے انسان کے) نفس کی اور اس کی جس نے اس کے قویٰ کو برابر بنایا۔
اسی طرح آیت کریمہ : ۔
فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي
[سورۃ الحجر:29]
جب اس کو (صورتِ انسانیہ میں) درست کرلوں اور اس میں (اپنی بے بہا چیز یعنی) روح پھونک دوں۔
[مفردات القرآن، امام راغب اصفہانیؒ (م502ھ)]
انسانوں کی تخلیق اور خالق میں یکسانیت:
اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو،(*) اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کررہا ہے۔ [سورۃ النساء:1]
(*)
یعنی جب دنیا میں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو بکثرت یہ کہتے ہیں کہ خدا کے واسطے مجھے میرا حق دے دو ، آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق کے لیے اللہ کا واسطہ دیتے ہو تو دوسروں کا حق ادا کرنے میں بھی اللہ سے ڈرو اور لوگوں کے حقوق پورے پورے ادا کرو۔
اسلامی نظریہ مساوات کو مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے:
(1) تمام انسانوں کو ایک ہی ابدی و ازلی اور سب سے اعلی و برتر ذات اور ان سب کے پروردگار ہی نے پیدا کیاہے (جس میں تمام انسان برابر ہیں)۔
(2) تمام بنی نوع انسانی کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے اور وہ ایک ہی بابا آدم اورحوا کی اولاد ہونے میں برابر کے شریک ہیں۔
(3) اللہ تعالٰی اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ یکساں طور پر مہربان ہے۔ کسی بھی رنگ و نسل، عہد یا مذہب کے ساتھ اس کی رحمت خاص نہیں۔ ساری کائنات میں اس کی سلطنت اور بادشاہت ہے اور تمام انسان اس کی مخلوق ہیں۔
(4) تمام انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے اس معنی میں یکساں ہے کہ کسی کا اللہ تعالٰی کے اختیار میں سے کچھ بھی حصہ نہیں اور وہ سب یکساں طور پر مرنے والے ہیں کہ دنیا کی کوئی شئی وہ اپنے ہمراہ نہیں لے جاسکتے۔
(5) اللہ تعالٰی ہر فرد کا فیصلہ اسی کے اعمال اور کارناموں ہی کی بنیاد پر کرنے والا ہے۔
لیکن جب خوبیاں یکساں ومشترک نہ ہوں تو انکی قدر ونتائج میں مساوات نہیں رہتی۔
خوبيوں Qualities اور نتائج Results کے لحاظ سے سب برابر نہیں:
القرآن:
اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ہوسکتے۔
[سورہ فاطر:19]
بھلا بتاؤ کہ جو شخص مومن ہو، کیا وہ اس شخص کے برابرہوجائے جو فاسق ہے؟ (ظاہر ہے کہ) وہ برابر نہیں ہوسکتے۔
[سورہ السجدہ:18]
كہہ ديجئے كيا وہ لوگ جو جانتے ہيں اور جو لوگ نہيں جانتے برابر ہيں؟
[سورۃ الزمر:9]
جنت والے اور دوزخ والے برابر نہیں ہوسکتے۔ جنت والے ہی وہ ہیں جو کامیاب ہیں۔
[سورۃ الحشر:20]
كہہ ديجئے كيا اندھا اور ديكھنے والا برابر ہو سكتے ہيں؟ يا كيا اندھيرے اور روشنى برابر ہو سكتے ہيں؟
[سورۃ الرعد:16]
اور اندھا اور بینائی رکھنے والا دونوں برابر نہیں ہوتے، اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، وہ اور بدکار برابرہیں، (لیکن) تم لوگ بہت کم دھیان دیتے ہو.
[سورہ غافر:58]
ان دو گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو، اور دوسرا دیکھتا بھی ہو، سنتا بھی ہو۔ کیا یہ دونوں اپنے حالات میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا پھر بھی تم عبرت حاصل نہیں کرتے ؟
[سورہ ھود:24]
اللہ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ساری تعریفیں اللہ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے۔
[سورہ النحل:76]
اللہ نے ایک مثال یہ دی ہے کہ ایک (غلام) شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی لوگ شریک ہیں جن کے درمیان آپس میں کھینچ تان بھی ہے اور دوسرا (غلام) شخص وہ ہے جو پورے کا پورا ایک ہی آدمی کی ملکیت ہے۔ کیا ان دونوں کی حالت برابرہوسکتی ہے؟ *الحمدللہ (اس مثال سے بات بالکل واضح ہوگئی) لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔
[سورہ الزمر:29]
*جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
القرآن:
بھلا (کیا ایسا شخص اس کے برابر ہوسکتا ہے) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے، اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے ؟ کہو کہ : کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے سب برابرہیں؟ *(مگر) نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔
[سورۃ الرعد:9]
*یعنی اگر آخرت کا حساب و کتاب نہ ہو تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ مومن کافر اور بدکار اور نیک سب برابر ہوجائیں گے، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور انصاف سے ممکن نہیں۔
جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ * اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔
[سورہ النساء:95]
* یہ اس حالت کا ذکر ہے جب جہاد ہر شخص کے ذمے فرض عین نہ ہو، ایسے میں جو لوگ جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ گئے، اگرچہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہے اور ان کے ایمان اور دوسرے نیک کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا ہوا ہے لیکن جو لوگ جہاد میں گئے ہیں ان کا درجہ گھر بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے، البتہ جہاں جہاد فرض عین ہوجائے یعنی مسلمانوں کا امیر تمام مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیدے یا جب کوئی دشمن مسلمانوں پر چڑھ آئے تو پھر گھر بیٹھنا حرام ہے۔
القرآن:
اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ *یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
[سورۃ الحديد :10]
*فتح مکہ (سن 8 ھ) سے پہلے مسلمانوں کی تعداد اور ان کے وسائل کم تھے اور دشمنیاں زیادہ، اس لئے اس زمانہ میں جن حضرات نے جہاد کیا اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ان کی قربانیاں زیادہ تھیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ثواب میں بھی ان کا زیادہ بڑادرجہ رکھا ہے اور فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور وسائل میں بھی اضافہ ہوگیا تھا، اور دشمنیاں بھی کم ہوگئی تھیں، اس لئے جن حضرات نے فتح مکہ کے بعد جہاد اور صدقات وغیرہ میں حصہ لیا ان کو اتنی قربانی دینی نہیں پڑی، اس لئے ان کا درجہ وہاں تک نہیں پہنچا ؛ لیکن اگلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی ہے کہ بھلائی یعنی جنت کی نعمتیں دونوں ہی کو ملیں گی۔
القرآن:
(اے رسول ! لوگوں سے) کہہ دو کہ ناپاک اور پاکیزہ چیزیں برابرنہیں ہوتیں، چاہے تمہیں ناپاک چیزوں کی کثرت اچھی لگتی ہو۔ *لہذا اے عقل والو ! اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔
[سورہ المائدہ:100]
*اس آیت نے بتادیا ہے کہ دنیا میں بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ناپاک یا حرام چیز کا رواج اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ وقت کا فیشن قرار پا جاتا ہے، اور فیشن پرست لوگ اسے اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ صرف کسی چیز کے عام رواج کی وجہ سے اسے اختیار نہ کریں ؛ بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہدایات کی روشنی میں وہ جائز یا پاک ہے یا نہیں۔
القرآن:
کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ *اللہ کے نزدیک یہ سب برابرنہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔
[سورہ التوبه:19]
*اس آیت کریمہ نے یہ اصول بھی بتادیا ہے کہ تمام نیک کام ایک درجے کے نہیں ہوتے، اگر کوئی شخص فرائض تو ادا نہ کرے، اور نفلی عبادتوں میں لگا رہے تو یہ کوئی نیکی نہیں ہے، حاجیوں کو پانی پلانا بیشک ایک نیک کام ہے، مگر وہ نفلی حیثیت رکھتا ہے، اور مسجد حرام کی دیکھ بھال بھی بعض حیثیتوں سے فرض کفایہ اور بعض حیثیتوں سے نفلی عبادت ہے، اس کے مقابلے میں ایمان انسان کی نجات کے لئے بنیادی شرط ہے، اور جہاد کبھی فرض عین اور کبھی فرض کفایہ، لہذا کسی کو صرف ان خدمات کی وجہ سے کسی مومن پر فوقیت حاصل نہیں ہوسکتی۔
القرآن:
اور زندہ لوگ اور مردے برابرنہیں ہوسکتے، اور اللہ تو جس کو چاہتا ہے بات سنا دیتا ہے، اور تم ان کو بات نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں۔
[سورہ فاطر:22]
جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے حق بات ماننے کے تمام دروازے اپنے اوپر بند کرلئے ہیں، ان کو پہلے اندھوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اور ان کے کفر کو اندھیروں سے، اور اس کی سزا میں انہیں دوزخ کے جس عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اس کو دھوپ سے۔ اس کے مقابلے میں حق پرستوں کو دیکھنے والوں سے، ان کے دین کو روشنی سے، اور جنت کی جو نعمتیں انہیں حاصل ہوں گی، ان کو سائے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم کرلی ہے، وہ تو مردوں جیسے ہیں، اور مردوں کو آپ اپنی مرضی سے کچھ سنا نہیں سکتے۔ اس طرح آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ حق کو قبول نہیں کر رہے تو آپ زیادہ رنجیدہ نہ ہوں اور آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری بھی عائد نہیں ہوتی۔
القرآن:
اور اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں کو رزق کے معاملے میں دوسروں پر برتری دے رکھی ہے۔ اب جن لوگوں کو برتری دی گئی ہے وہ اپنا رزق اپنے غلاموں کو اس طرح نہیں لوٹا دیتے کہ وہ سب برابر ہوجائیں۔ (30) تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ؟ (31)
[سورۃ نمبر 16 النحل، آیت نمبر 71]
تفسیر:
(30)مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کرتا کہ اپنے غلام کو اپنی دولت اس طرح دیدے کہ وہ دولت میں اس کے برابر ہوجائے۔ اب تم خود مانتے ہو کہ جن دیوتاؤں کو تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک یعنی غلام ہیں۔ پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ نے انہیں اپنی خدائی اس طرح دے دی ہو کہ انہیں اللہ کے برابر معبود بننے کا حق حاصل ہوگیا ہو۔
(31)یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کر کے یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں نعمت اللہ نے نہیں، بلکہ ان کے گھڑے ہوئے دیوتاؤں نے دی ہے۔
مساوات کی اقسام:
مساوات کی دو اقسام قابلَ غور ہیں:
(۱) قانونی مساوات (۲) معاشرتی مساوات
(۱) قانونی مساوات:
قانونی مساوات سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص مفلس ہو یا خوشحال، کالا ہو یا گورا، عالم ہو یا جاہل قانون سے بالا تر نہیں۔ اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو اس کی حیثیت اور دولت کے بناء پر کوئی رعایت نہ برتی جائے، اللہ کے آخری رسول، محمد ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایا ہی کہ:
کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر سوائے متقی کے۔
پرہیزگار کی برتری وفوقیت عدل ہے اور باقی رنگ ونسل میں مساوات ہے۔
ایک حدیث میں آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”لا فضل لأحد علی أحدٍ إلا بدین وتقوی“․
”کسی شخص کو کسی دوسرے شخص پر کوئی فضیلت نہیں مگر دین داری اور تقوی کی بناء پر“۔
[مسند عقبة بن عامر:69، مسند أحمد:17313، مسند الروياني:208، طبرانى:814 ، شعب الإيمان -البيهقي:4783، مجمع الزوائد:13076، مشکاۃ:4910، صحیح الترغیب:2962]
(۲) معاشرتی مساوات:
معاشرتی مساوات کا مفہوم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کسی کو اولیت حاصل نہیں ہے بزرگی اور عظمت کا معیار صرف تقوی ہے۔
بے شک خدا کے نزدیک سب سے زیادہ تم میں عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔
بقول شاعر
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اسوة رسول اور مساوات:
رسول اللہ ﷺ کی نظر میں سب برابر تھے امیر، غریب، آقا غلام، صغیر و کبیر سب برابر تھے۔ عربی اور عجمی میں کوئی تفریق نہ تھی آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ایسی پچاسوں مثالیں مل جائیں گی جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا عمل ہر موقع پر مساویانہ رہا۔ حضور ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ مجلس میں کوئی چیز تقسیم فرماتے تو دائیں جانب سے شروع کرتے بعض اوقات یہ بھی ہوتا کہ دائیں جانب عام لوگ ہوتے اور بائیں جانب معززین بیٹھتے لیکن آپ ﷺ اپنا طریقہ کبھی بھی نہ بدلتے۔
رسول اللہ ﷺ کے مساویانہ رویہ کی مثال:
غزوہ بدر میں سواریاں کم تھیں۔ تین افراد کے حصے میں ایک سواری آئی لہذا صحابی باری باری اترتے۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ صحابہ رضہ حاضر ہوتے اور خواہش ظاہر کرتے کہ ہم آپ کے بدلے پیدل چل لیں۔ آپ ﷺ نے فرماتے: نہ تم مجھ سے زیادہ پیادہ پا نہ میں تم سے کم ثواب کا محتاج ہوں۔
غزوہ بدر میں آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی قیدی بن کر آئے۔ چونکہ وہ آپ سے قرابت داری رکھتے تھے اس لئے صحابہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے فدیے کی رقم معاف کردی جائے۔ لیکن آپ نے اس بات کو پسند نہ فرمایا اور حکم دیا کہ ایک درہم بھی معاف نہ کرو۔
رسول اللہ ﷺ نے جو آخری خطبہ دیا اس میں معاشرے کے مختلف طبقات کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے۔
قبیلہ مخزوم کی ایک عورت چوری کے الزام میں گرفتار ہوئی۔ اللہ کے نبی ﷺ نے اس کے باتھ کاٹ ڈالنے کا حکم دے دیا۔یہ فیصلہ لوگوں کو گوارہ نہ تھا ان کا خیال تھا کہ اس طرح خاندان کی بدنامی ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہ رضہ کو جن سے حضور ﷺ بے انتہا محبت کرتے تھے سفارش کے لئے بھیجا گیا۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا:
اسامہ تم کیا حضورِ خداوندی میں سفارش کرتے ہو۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا:
پچھلی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں جب ان میں کوئی معزز آدمی جرم کرتا تو نظر انداز کردیتے اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اس کی سزا دیتے۔ اللہ کی قسم اگر حضور ﷺ کی بیٹی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ بھی کاٹ دئیے جاتے۔
عدل کی حقیقت اور اس کی صورتیں
عدل، امانت ہی کی ایک صورت ہے، (تفسیر ابن کبیر، النساء، ذیل آیت:58) عدل غیر جانب داری کے ساتھ ہر صاحب حق کو اس کا حق پہنچانے کا نام ہے، عدل اسلام کا خصوصی امتیاز ہے ،جسے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے معاشرے میں قائم فرمایا،عدل انسانی معاشرے کی بقا کا ذریعہ ہے اور باہمی تعلقات میں استواری کی بنیاد ہے، علامہ رازی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں:
”یدخل فیہ عدل الأمراء مع رعیتھم ، وعدل العلماء مع العوام بأن لا یحملوھم علی التعصبات الباطلة، بل یرشدونھم إلی اعتقادات وأعمال تنفعھم فی دنیاھم وأخراھم“.
(قوانین الوزارة، ص:48)
اس آیت میں حکام کو عوام کے ساتھ عدل کرنے کا حکم ہے، اوراسی آیت میں علمائے کرام کو عوام کے ساتھ عدل قائم کرنے کا حکم بھی شامل ہے، عوام کے ساتھ علماء کا عدل یہ ہے کہ علما عوام کو ناحق تعصبات پر نہ ابھاریں، بلکہ ہمیشہ انہیں ان اعمال کی طرف متوجہ رکھیں جو ان کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہو۔
اہل ِعلم نے عدل کی کئی اقسام بیان فرمائی ہیں، افعال میں عدل، اقوال میں عدل، اقتصادی امور میں عدل، خاندانی امور میں عدل، دشمنوں کے ساتھ عد ل، جسے اختصار کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے۔
افعال میں عدل
ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب الماوردی قوانین الوزراة میں لکھتے ہیں:
افعال میں عدل یہ ہے کہ سزا صرف جرم پر دی جاتی ہے، باز آنے والے کے لیے درگزر ہو، غصہ ایسا نہ ہوکہ خیروبھلائی سے محروم ہوجانا پڑے، اورکسی سے رضامندی ایسی نہ ہوکہ اس کی وجہ سے مجرمو ں پر ہاتھ نہ ڈالا جاسکے۔
گفتگو میں عدل
علامہ ماوردی نے فرمایا :گفت گو میں عدل یہ ہے کہ کسی صاحب منصب کے ساتھ اسی کی حیثیت کے ساتھ گفت گو کریں، عام آدمی کا رویہ نہ رکھیں، اسی طرح کسی عالم دین کے ساتھ جاہل کی طرح گفت گو نہ کریں، کسی کے متعلق تعریف اس کی بھلائی کے بقدر ہو اور کسی کی مذمت اس کے شر کے بقدر ہو، آپ کا کسی کو کسی امر میں شوق دلانا یا ڈرانا حقیقت کے مطابق ہو، بغیر کسی قسم کی زیادتی کے ہوتو یہ گفت گو میں عدل ہے۔
(قوانین الوزارة، ص: 48)
اقتصادی امور میں عدل
اقتصادی امور میں عدل یہ ہے کہ ناپ تول میں کوئی کوتاہی نہ ہو، مالی معاملات سود، جوّا قمار سے محفوظ ہوں، معاملات باطلہ اور فاسدہ کی روک تھام ہو، اشیائے خوردونوش میں ذخیرہ اندوزی نہ ہو، رشوت ستانی، ملاوٹ، دھوکہ سے مکمل اجتناب ہو، یہ اقتصادی امور میں عدل کہلائے گا۔
خاندانی امور میں عدل
صلہ رحمی کا اہتمام، اہل وعیال کے نفقہ کا انتظا م، اولاد میں ہدایا وعطیہ میں برابری ،ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں برابری کرنا، اولاد کے لیے اتنا ترکہ چھوڑ جانا کہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”أن تدع ورثتک أغنیاء خیرمن أن تذرھم عالة یتکففون الناس․“
(صحیح البخاری، رقم الحدیث:5368)
”اپنے ورثا کو مال دار بنا کر چھوڑ جانا بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں محتاج بنا کر چھوڑ جاؤ اور وہ لوگوں سے بھیک مانگتے پھریں“۔
دشمنوں کے ساتھ عدل
اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل قائم کرنے کاحکم دیا ہے، فرمایا:
محض دشمن ہونے کی بنا پر ان کی جان ، مال، عصمت مباح نہیں ہوتی، محض کافر ہونے کے ناطے ان کے وہ حقوق جواسلام نے دیے ہیں،باطل نہیں ہوتے، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ذمیوں کے متعلق فرمایا:
”ألا من ظلم معاھداً أو انتقصہ أو کلّفہ فوق طاقتہ أو أخذ منہ شےئا بغیر طیب نفس فأنا حجیجہ یوم القیامة“․
(سنن أبي داود، رقم الحدیث:3052)
”جس شخص نے کسی ذمی کے ساتھ ظلم کیا یا اسے نقصان پہنچایا یااس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا یا بلا رضامندی کے اس سے کوئی چیز لی تو قیامت کے دن میں اس کا مقدمہ لڑوں گا“۔
عدل
العَدَالَةُ وَالْمُعَادَلَةُ: ایک ایسا لفظ ہے جو مساوات کے معنی کا تقاضا کرتا ہے، اور یہ باہمی تناسب کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے۔ العَدْلُ (فتحہ کے ساتھ) اور العِدْلُ (کسرہ کے ساتھ) دونوں قریب المعنی ہیں، لیکن العَدْلُ ان چیزوں میں استعمال ہوتا ہے جو بصیرت سے ادراک کی جاتی ہیں، جیسے احکام۔ اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ [المائدہ: 95] (یعنی اس کے برابر روزے)۔ اور العِدْلُ اور العَدِیلُ ان چیزوں میں استعمال ہوتے ہیں جو حاسّہ (ظاہری حواس) سے ادراک کی جاتی ہیں، جیسے وزن کی جانے والی، گننے والی اور ماپنے والی چیزیں۔ پس العَدْلُ کا مطلب ہے برابر برابر تقسیم کرنا۔ اسی بنیاد پر روایت کیا گیا ہے: "بالعَدْلِ قامت السموات والأرض" (عدل ہی سے آسمان و زمین قائم ہیں)۔ یہ تنبیہ ہے کہ اگر عالم کے چار ارکان میں سے کوئی ایک رکن حکمت کے تقاضے کے مطابق دوسرے سے زیادہ یا کم ہوتا تو عالم منتظم نہ رہتا۔
اور عدل کی دو قسمیں ہیں:
مطلق عدل: یہ وہ ہے جس کی خوبی کو عقل خود تسلیم کرتی ہے، جو زمانے کے کسی حصے میں منسوخ نہیں ہوتا، اور جسے کسی بھی پہلو سے زیادتی نہیں کہا جا سکتا۔ جیسے: احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کرنا، اور اس شخص کو تکلیف دینے سے باز رہنا جس نے تمہیں تکلیف نہ دی ہو۔
وہ عدل جو شرع سے عدل معلوم ہوتا ہے: یہ وہ ہے جس کا عدل ہونا شرع سے معلوم ہوتا ہے، اور بعض زمانوں میں منسوخ بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے قصاص، جرائم کی دیت، اور مرتد کے مال کی اصل۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ﴾ [البقرہ: 194] (پس جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی طرح زیادتی کرو)، اور فرمایا: ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ [الشوریٰ: 40] (اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے)۔ پس اسے زیادتی اور برائی کا نام دیا گیا۔ اور یہی وہ مفہوم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾ [النحل: 90]۔ کیونکہ عدل بدلے میں مساوات کا نام ہے — اگر بھلائی ہو تو بھلائی، اور اگر برائی ہو تو برائی۔ اور احسان یہ ہے کہ بھلائی کا بدلہ اس سے بڑھ کر دیا جائے اور برائی کا بدلہ اس سے کم دیا جائے۔
رجلٌ عَدْلٌ: یعنی عادل مرد۔ ورجالٌ عَدْلٌ: یہ واحد اور جمع دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا: "فهم رضا وهم عَدْلٌ" (وہ رضا ہیں اور وہ عدل ہیں)۔ اس کی اصل مصدر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [الطلاق: 2] یعنی دو عادل گواہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ﴾ [الشوریٰ: 15] (اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں)۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ﴾ [النساء: 129] یہ انسانی فطرت میں موجود میلان کی طرف اشارہ ہے، یعنی انسان اپنی محبت میں ان کے درمیان برابری نہیں کر سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً﴾ [النساء: 3] یہ اس عدل کی طرف اشارہ ہے جو قسم اور نفقے سے متعلق ہے۔ اور فرمایا: ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا﴾ [المائدہ: 8]۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ [المائدہ: 95] یعنی روزوں میں سے وہ مقدار جو کھانے کے برابر ہو۔ پس کھانے کو عَدْلٌ کہا جاتا ہے جب اس میں مساوات کا معنی ملحوظ ہو۔
"لا يقبل منه صرف ولا عَدْلٌ" (اس سے نہ کوئی نفل قبول ہوگا نہ فرض) — تو العَدْلُ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ فریضہ (فرض) کی کنایہ ہے، اور اس کی حقیقت وہی ہے جو اوپر گزری۔ اور الصَّرْفُ نافلہ ہے، جو اس سے زائد ہے۔ پس یہ دونوں بھی عدل اور احسان کی مانند ہیں۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی بھی خیر قبول نہ ہوگی۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾ [الأنعام: 1] یعنی وہ اپنے رب کے ساتھ (دوسروں کو) برابر ٹھہراتے ہیں، پس یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مانند ہو گیا: ﴿هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ﴾ [النحل: 100] (وہ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں)۔ اور کہا گیا: يَعْدِلُونَ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کے افعال سے منہ موڑتے ہیں اور انہیں غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور کہا گیا: وہ اپنی عبادت میں اللہ سے ہٹ جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ﴾ [النمل: 60] یہ ان کے اس قول سے ہو سکتا ہے: عَدَلَ عن الحقِّ یعنی وہ حق سے ہٹ گیا، عُدُولًا یعنی ہٹ جانا۔ اور أيامٌ مُعْتَدِلَاتٌ یعنی اچھے دن، ان کے اعتدال کی وجہ سے۔ اور عَادَلَ بين الأمرين یعنی اس نے دونوں معاملات میں غور کیا کہ کون سا زیادہ راجح ہے۔ اور عَادَلَ الأمرَ یعنی وہ معاملے میں الجھ گیا، پس اپنی رائے سے کسی ایک طرف مائل نہ ہوا۔ اور ان کا قول: "وضع على يدي عَدْلٍ" (اسے عدل کے ہاتھوں پر رکھ دیا گیا) ایک مشہور ضرب المثل ہے۔
---
تفصیلی وضاحت
علمی نکات
1. عدل اور عدالت کا لغوی مفہوم
راغب الاصفہانی کے مطابق، "العدالة والمعادلة" ایسا لفظ ہے جو مساوات کے معنی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ مساوات مطلق نہیں بلکہ "باعتبار المضايفة" یعنی باہمی تناسب اور اضافت کے اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدل صرف برابر تقسیم نہیں، بلکہ ہر چیز کو اس کے استحقاق کے مطابق دینا ہے。
2. العدل اور العِدل میں فرق: بصیرت اور حاسّہ
راغب نے ایک نہایت لطیف فرق بیان کیا ہے:
· العَدْلُ (فتحہ کے ساتھ): یہ بصیرت سے ادراک کی جانے والی چیزوں میں استعمال ہوتا ہے، جیسے احکام۔ قرآن میں ہے: ﴿أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ یعنی اس کے برابر روزے۔ یہاں "عدل" کا تعلق معنوی اور حکمی امور سے ہے، جو عقل اور بصیرت سے سمجھے جاتے ہیں۔
· العِدْلُ (کسرہ کے ساتھ): یہ حاسّہ (ظاہری حواس) سے ادراک کی جانے والی چیزوں میں استعمال ہوتا ہے، جیسے موزونات (وزن کی جانے والی)، معدودات (گننے والی) اور مکیلات (ماپنے والی) چیزیں۔
یہ فرق بتاتا ہے کہ عدل کا دائرہ صرف مادی اور حسی امور تک محدود نہیں، بلکہ معنوی اور حکمی امور کو بھی شامل ہے。
3. "بالعدل قامت السموات والأرض" — کائناتی توازن
یہ مشہور قول عدل کی کائناتی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کائنات کے چار بنیادی ارکان (مثلاً: مادہ، توانائی، فضا، زمین) میں سے کوئی ایک حکمت کے تقاضے سے زیادہ یا کم ہوتا تو پوری کائنات کا نظام درہم برہم ہو جاتا۔ یہ عدل کے تکوینی پہلو کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کے مناسب اور متوازن وجود سے نوازا ہے۔
4. عدل کی دو بنیادی اقسام
راغب نے عدل کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا ہے:
پہلو عدل مطلق عدل شرعی
تعریف جس کی خوبی عقل خود تسلیم کرتی ہے جس کا عدل ہونا شرع سے معلوم ہوتا ہے
نسخ کبھی منسوخ نہیں ہوتا بعض زمانوں میں منسوخ ہو سکتا ہے
زیادتی کسی بھی پہلو سے زیادتی نہیں کہا جا سکتا بعض حالات میں مجازاً زیادتی کہا جا سکتا ہے
مثالیں احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کرنا، تکلیف دہ سے باز رہنا قصاص، دیت، مرتد کا مال
عقلی/نقلی عقل سے معلوم شرع سے معلوم
یہ تقسیم "حسن و قبح عقلی" کے اصول کی بنیاد پر ہے، جسے معتزلہ اور شیعہ نے اختیار کیا۔ مطلق عدل وہ ہے جس کی خوبی عقل خود سے سمجھتی ہے، جیسے احسان کا بدلہ احسان دینا۔ یہ کبھی منسوخ نہیں ہوتا اور اسے کسی بھی صورت میں "زیادتی" نہیں کہا جا سکتا۔ شرعی عدل وہ ہے جس کا عدل ہونا شرع سے معلوم ہوتا ہے، جیسے قصاص (قاتل کو قتل کرنا)۔ یہ بعض اوقات منسوخ ہو سکتا ہے، اور اسے مجازاً "زیادتی" یا "برائی" کہا جا سکتا ہے، جیسا کہ قرآن میں ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ﴾ اور ﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا﴾ میں آیا ہے۔
5. عدل اور احسان کا فرق — نہایت اہم نکتہ
راغب کا یہ بیان انتہائی اہم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾ میں عدل اور احسان کا فرق یہ ہے:
· عدل: بدلے میں مساوات — اگر بھلائی ہو تو بھلائی، اور اگر برائی ہو تو برائی۔
· احسان: بھلائی کا بدلہ اس سے بڑھ کر دینا، اور برائی کا بدلہ اس سے کم دینا۔
یعنی عدل کا مطلب ہے "إعطاء كل ذي حق حقه" (ہر حق والے کو اس کا حق دینا)، جبکہ احسان کا مطلب ہے "إعطاء أكثر مما عليه وأخذ أقل مما له" (اپنے حق سے زیادہ دینا اور اپنے حق سے کم لینا)۔
6. رجلٌ عدلٌ — واحد اور جمع کے لیے یکساں
"رجلٌ عَدْلٌ" اور "رجالٌ عَدْلٌ" دونوں میں "عدل" کا لفظ ایک ہی صورت میں آتا ہے۔ یہ عربی زبان کی خصوصیت ہے جہاں مصدر (عدل) کو بطور صفت استعمال کیا جاتا ہے اور یہ واحد اور جمع دونوں کے لیے یکساں رہتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ (دو عادل گواہ) آیا ہے。
یہ آیت انسانی فطرت کی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان اپنی محبت اور قلبی میلان میں تمام بیویوں کے درمیان مکمل برابری نہیں کر سکتا۔ ابن بطال نے لکھا: "لن تطيقوا أيها الرجال أن تسووا بين نسائكم في حبهنَّ بقلوبكم" (اے مردو! تم اپنی بیویوں کے درمیان ان کی محبت میں قلبی طور پر برابری نہیں کر سکتے)۔ ابن المنذر نے کہا: "دلت هذه الآية أن التسوية بينهن في المحبة غير واجبة" (اس آیت نے بتایا کہ محبت میں ان کے درمیان برابری واجب نہیں)۔ یعنی عدل کا تعلق ظاہری اعمال (نفقہ، سکونت، قسم) سے ہے، نہ کہ باطنی محبت سے۔
8. "لا يقبل منه صرف ولا عدل" — فرض اور نفل
یہ مشہور حدیث کا حصہ ہے: "المدينة حرام ما بين عير إلى ثور، فمن أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل منه صرف ولا عدل"۔ راغب کے مطابق:
· العدل: فرض (فریضہ) کی کنایہ ہے۔
· الصرف: نفل (نافلہ) ہے، جو فرض سے زائد ہے۔
پس یہ دونوں بھی عدل اور احسان کی مانند ہیں۔ اور "لا يقبل منه" کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی بھی خیر قبول نہ ہوگی۔
9. "يَعْدِلُونَ بِرَبِّهِمْ" — شرک کے معنی میں
اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾ (وہ اپنے رب کے ساتھ برابر ٹھہراتے ہیں) کا مطلب ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو برابر کرتے ہیں، یعنی شرک کرتے ہیں۔ یہ ﴿هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ﴾ کی مانند ہے۔ یعنی "عدل" کا لفظ یہاں اپنے اصل معنی (مساوات) سے شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے، کیونکہ مشرک اللہ کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتا ہے۔
10. عدل کے دیگر استعمالات
· عَدَلَ عن الحقِّ: حق سے ہٹ جانا۔
· أيامٌ مُعْتَدِلَاتٌ: اچھے دن، ان کے اعتدال کی وجہ سے۔
· عَادَلَ بين الأمرين: دو معاملات میں غور کرنا کہ کون سا زیادہ راجح ہے۔
· عَادَلَ الأمرَ: معاملے میں الجھ جانا، کسی ایک طرف مائل نہ ہونا۔
· "وضع على يدي عَدْلٍ": مشہور ضرب المثل، یعنی "اسے عدل کے ہاتھوں پر رکھ دیا گیا"۔ عدل یہاں ایک شخص کا نام ہے (عدل بن جزء)، جو تبع کا والی شرط تھا۔ جب تبع کسی کو قتل کرنا چاہتا تو اسے اس کے حوالے کر دیتا۔ پھر یہ ہر اس چیز کے لیے ضرب المثل بن گیا جس سے مایوسی ہو。
---
عملی اسباق
1. عدل صرف مساوات نہیں، استحقاق کے مطابق دینا ہے
عدل کا مطلب ہر ایک کو برابر دینا نہیں، بلکہ ہر ایک کو اس کے استحقاق اور قابلیت کے مطابق دینا ہے۔ استاد، طالب علم، والدین، اولاد — سب کے حقوق مختلف ہیں۔ عدل کا تقاضا ہے کہ ہر ایک کو اس کا صحیح حق دیا جائے۔
2. عدل کی دو سطحیں: مطلق اور شرعی
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کچھ چیزیں عقل خود سے اچھی سمجھتی ہے (جیسے احسان کا بدلہ احسان، ظلم سے باز رہنا)، اور کچھ چیزیں شرع سے معلوم ہوتی ہیں (جیسے قصاص، حدود)۔ دونوں کو اپنانا ضروری ہے۔
3. عدل اور احسان — دونوں کی ضرورت
اسلام صرف عدل کا حکم نہیں دیتا، بلکہ احسان کا بھی حکم دیتا ہے۔ عدل سے معاشرہ قائم رہتا ہے، اور احسان سے معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ کم از کم عدل کرے، لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ احسان بھی کرے — یعنی بھلائی کا بدلہ بڑھ کر دے اور برائی کا بدلہ کم کرے۔
4. قلبی محبت میں برابری ممکن نہیں — ظاہری اعمال میں عدل ضروری
اسلام نے یہ تسلیم کیا ہے کہ انسان اپنے قلبی میلان کو قابو نہیں کر سکتا۔ لیکن ظاہری اعمال (نفقہ، سکونت، وقت کی تقسیم) میں عدل کرنا ضروری ہے۔ یہ اصول صرف ازدواجی تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ ہر اس معاملے میں لاگو ہوتا ہے جہاں جذباتی تعلقات شامل ہوں۔
5. عدل کا کائناتی پہلو — توازن کی اہمیت
"بالعدل قامت السموات والأرض" ہمیں سکھاتا ہے کہ توازن کائنات کا بنیادی اصول ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں بھی توازن قائم کرنا چاہیے — عبادت اور دنیا، کام اور آرام، حقوق اور فرائض کے درمیان۔
6. عدل کے بغیر معاشرہ تباہ ہوتا ہے
تاریخ گواہ ہے کہ جس معاشرے میں عدل قائم رہا، وہ ترقی کرتا رہا، اور جس میں ظلم و جور پھیلا، وہ تباہ ہو گیا۔ عدل صرف ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ معاشرتی بقا کی شرط ہے۔
7. عدل کی مختلف صورتیں — ہر شعبے میں
عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر شعبے میں ضروری ہے:
· والی/حکمران کا عدل: رعایا کے ساتھ انصاف
· قاضی کا عدل: فیصلوں میں انصاف
· شوہر کا عدل: بیویوں کے درمیان انصاف
· والد کا عدل: اولاد کے درمیان انصاف
· تاجر کا عدل: ناپ تول میں انصاف
· گواہ کا عدل: شہادت میں سچائی
8. "عدل" کا شرک کے معنی میں استعمال — ایک تنبیہ
قرآن میں ﴿بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ﴾ کا مطلب ہے "وہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں"، یعنی شرک۔ یہ بتاتا ہے کہ عدل کا لفظ جب غلط جگہ استعمال ہو تو شرک بن جاتا ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو برابر ٹھہرانا — یہ عدل نہیں، بلکہ ظلم عظیم ہے۔
9. لسانی لطافت — "رجلٌ عدلٌ" اور "رجالٌ عدلٌ"
عربی زبان میں "عدل" کا لفظ واحد اور جمع دونوں کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ عدل ایک صفت ہے جو ہر فرد میں ہونی چاہیے، خواہ وہ اکیلا ہو یا گروہ میں۔
10. عملی نمونہ — نبی کریم ﷺ کا عدل
نبی کریم ﷺ نے عدل کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اعلان کیا: "مَنْ كُنْتُ جَلَدْتُ لَهُ ظَهْرًا فَهَذَا ظَهْرِي فَلْيَسْتَقِدْ مِنْهُ" (جس کی میں نے پیٹھ پر مار ماری ہو، یہ میری پیٹھ ہے، وہ بدلہ لے لے)۔ یہ عدل کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ حکمران خود اپنے آپ پر عدل نافذ کرے۔
---
خلاصہ
امام راغب الاصفہانی کا یہ مضمون عدل کے موضوع پر ایک جامع اور عمیق تجزیہ پیش کرتا ہے۔ اس میں عدل کے لغوی معنی، لسانی استعمالات، دو بنیادی اقسام (مطلق اور شرعی)، عدل اور احسان کا فرق، اور قرآن و حدیث میں اس کے مختلف استعمالات کو نہایت دقت سے بیان کیا گیا ہے۔ عدل کا مفہوم صرف مساوات نہیں، بلکہ "ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنا" ہے۔ یہ تصور کائنات کے نظام سے لے کر انسانی معاشرے تک ہر سطح پر لاگو ہوتا ہے، اور یہی اسلامی تہذیب کی بنیاد ہے۔
No comments:
Post a Comment