Monday, 29 November 2021

گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے والے تین (3) اعمال

اللہ پاک نے فرمایا:

ہاں مگر جو کوئی (شرک و نافرمانی سے) (1)توبہ کرلے، (2)ایمان بھی لے آئے، (3)اور نیک عمل کرتا رہے تو اللہ ایسے لوگوں کی (پچھلی)برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

[سورۃ الفرقان:70]

یعنی حالت کفر میں انہوں نے جو برے کام کیے تھے، وہ ان کے نامہ اعمال سے مٹا دئیے جائیں گے، اور اسلام لا کر جو نیک عمل کیے ہوں گے وہ ان کی جگہ لے لیں گے۔

یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کرے گا۔ یا یہ کہ بدیوں کو مٹا کر توبہ اور عمل صالح کی برکت سے ان کی تعداد کے مناسب نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ جیسا کہ(نیچے)بعض احادیث سے ظاہر ہے۔




مگر جو شرک و گناہوں سے توبہ کرے گا اور ایمان لانے کے بعد نیک کام کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے کفر کو ایمان کی برکت سے اور گناہوں کو اطاعت کی برکت سے اور جو غیر اللہ کی عبادت کی تھی اس کو عبادت خداوندی کی برکت سے اور برائیوں کو نیکیوں کی برکت سے معاف فرما دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحمت فرمانے والا ہے ۔

[تفسیر ابن عباس]

قتادہ کا قول ہے کہ جس نے توبہ کی اور اپنے رب پر ایمان لایا اور نیک عمل کیا جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ آپ کے زمانے میں ہم دو سال تک آیت، والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر، پڑھا کرتے تھے پھر دو سال کے بعد نازل ہوئی، الامن تاب وآمن، اس آیت کے نازل ہونے سے اور آیت، انافتحنالک فتحا مبینا،۔ ،، لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر، کے نازل ہونے سے جیسا خوش رسول اللہ کو دیکھا ایسا خوش میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا۔

”فاو لئک یبدل اللہ سیاتھم حسنات وکان اللہ غفورا رحیما۔

ایک جماعت اس قول کی طرف گئی ہے کہ اس تبدیلی کا ظہور دنیا میں ہی ہوگا۔ حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، امام مجاہد، امام سدی، امام ضحاک کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ حالتِ شرک میں کیے ہوئے برے اعمال کی جگہ حالتِ اسلام میں کیے ہوئے اچھے اعمال کو اللہ دے دے گا۔ شرک کو توحید سے مومنوں کے قتل کو حربی مشرکوں کے قتل سے اور زنا کو عفت اور پاکدامنی سے بدل دے گا۔ 

کچھ علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ اپنی مہربانی سے اسلام میں کیے ہوئے برے اعمال کو قیامت کے دن نیکیوں میں بدل دے گا، یہی قول سعید بن المسیب ، مکحول ، ام المومنین حضرت عائشہ کا ہے۔

اس کی تائید حضرت ابوذر کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، اور حکم ہوگا اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لاؤ، حسب الحکم چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائیں گے اور اس کے بڑے گناہ پوشیدہ رکھے جائیں گے وہ چھوٹے گناہوں کا اقرار کرے گا، انکار نہیں کرے گا، اور بڑے گناہوں کا اندیشہ کرتا رہے گا، حکم ہوگا ہر گناہ کی جگہ اس کو ایک نیکی دو وہ کہے گا میرے گناہ تو اور بھی ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دیتے۔ راوی حدیث حضر ت ابوذر فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد فرماتے وقت حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا ہنس پڑے کہ کچلییاں نظر آنے لگیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اللہ عزوجل اس کے گناہ اس کی ندامت کی وجہ سے مٹادیں گے ۔ پھر اس کی ہر برائی کے بدلے میں نیکی دی جائے گی۔

[تفسیر امام البغوی]

(حديث قدسي) - حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَجَاءٍ الْمِصِّيصِيُّ ، قَالَ : ثنا وَكِيعٌ ، قَالَ : ثنا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : اعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ ذُنُوبِهِ ، وَيَخْبَأُ عَنْهُ كِبَارُهَا ، فَيُقَالُ : عَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا ، وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، وَعَمِلْتَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : وَهُوَ مُقِرٌّ لَيْسَ بِمُنْكِرٍ ، وَهُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ تَجِيءَ ، قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا ، قَالَ : أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ إِنَّ لِي ذَنُوبًا مَا رَأَيْتُهَا هَاهُنَا ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، ثُمَّ تَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ (سورة الفرقان آية 70) .

ترجمہ :
(حدیث قدسی یعنی وہ حدیث ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں)
حضرت ابوذرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا:
قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو (چنانچہ اس کے سامنے صغیرہ گناہ لائے جائیں گے) اور کبیرہ گناہ چھپا لیے جائیں گے، اور اس سے کہا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا اور  فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا اور فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا  اور فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا تین مرتبہ۔
(آگے) فرمایا:
وہ ہر گناہ کا اقرار کرے گا کسی کا بھی انکار نہیں کرے گا اور کبیرہ گناہوں کے آنے کے خوف سے ڈر رہا ہوگا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
پھر ارادہ فرمائے گا الله اس سے بھلائی کا، تو حکم ہوگا کہ ہر گناہ کے بدلے اسے ایک نیکی دے دو۔
وہ کہے گا کہ اے میرے رب! میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا ہی نہیں ہے۔
حضرت ابوذرؓ کہتے ہیں کہ اس بات پر میں نے نبی کریم ﷺ کو اتنا ہنستے ہوئے دیکھا کہ دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے۔
پھر (یہ آیت) نبی ﷺ نے تلاوت فرمائی:
۔۔۔سو ان کو بدل دے گا، اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان.
(سورۃ الفرقان :70)
[صحیح مسلم:190، سنن ترمذی:2596،۔صحیح ابن حبان:7375]
[المعجم الكبير للطبراني » ‌‌عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ » رقم الحديث: 11480+12501]
[تفسير الطبري(م310ھ):19/ 312-سورۃ الفرقان:70]
[تفسير البغوي-(م516ھ) «حدیث1573» ج3 / ص458 - إحياء التراث]
[تفسير الثعلبي، تفسير السمعاني، تفسير القرطبي، تفسير الخازن، تفسير ابن كثير]



نوٹ:
اس فضیلت کے حصول کیلئے تین(3) اعمال اور شرائط یہ ہیں:
(1)توبہ کرنا ۔۔۔۔۔ یعنی (ہر گناہ پر) دل میں نادم-پشیمان-شرمندہ ہونے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم-پختہ ارادہ کرنا۔
(2)ایمان لانا یعنی اس گناہ کو برا ماننا۔۔۔اسکی برائی ونقصان جاننا۔
(3)نیک عمل کرنا۔۔۔ یعنی فوراً بطورِ کفارہ اور پھر ہمیشہ صبح وشام رب ہی کو پکارتے رہنے کی عادت ڈالے۔
لہٰذا
تینوں میں سے کوئی ایک شرط بھی ادا نہ کی جائے یا کسی ایک شرط کو مکمل ادا نہ کیا جائے تو یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی۔
مثلاً:
اعلانیہ گناہ کئے لیکن اعلانیہ توبہ نہ کی، یا بندوں کے حقوق میں ظلم کیا اور ان کے حقوق کو ادا نہ کیا وغیرہ
یا
گناہ کے گناہ ہونے کا اقرار نہ کیا اور دل میں برا نہ مانا۔ اسی طرح ایمانیات کی دیگر تمام ضروری باتوں کا علم حاصل نہ کیا اور نہ مانا یا انکاری رہا۔







حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:

ما من قوم اجتمعوا يذكرون الله عز وجل لا يريدون بذلك إلا وجهه؛ إلا ناداهم منادٍ من السماء: أن قوموا مغفوراً لكم، قد بُدِّلَتْ سيئاتُكم حسناتٍ۔

ترجمہ:

جو قوم جمع ہو اللہ کے ذکر کے لئے ، نہ ہو ان کا ارادہ اس میں سوائے اس(الله)کی رضا کے، تو آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اٹھو! اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔

[صحيح الترغيب والترهيب:1504، الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك لابن شاهين:160، مسند أبي يعلى الموصلي:4141، الأحاديث المختارة:2675، مسند البزار:6467، مسند احمد:12453، ا لمعجم الأوسط-الطبراني:1556، مجمع الزوائد:16764]


تفسیر ابن کثیر»سورۃ الکھف:28


یہ حدیث حضرت عبدالله بن مغفل اور حضرت سہیل بن حنظلہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔

[الصَّحِيحَة:2210، صحيح الجامع:5610،

شعب الإيمان-البيهقي:530+684، مصنف ابن أبي شيبة:29477+35713، المعجم الكبير للطبراني:6039]






مجالسِ ذکر وعلم کی فضیلت:
حضرت سہیل بن حنظلہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ، فَيَقُومُونَ حَتَّى يُقَالَ لَهُمْ قُومُوا، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ، وبُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حَسَنَاتٍ»
ترجمہ:
کوئی قوم اللہ کا ذکر کرنے نہیں بیٹھتی پھر وہ فارغ ہوتی ہے مگر یہاں تک ان کو کہا جاتا ہے کہ اٹھو، اللہ نے تمہارے گناہوں کی مغفرت کردی اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔
[مصنف ابن ابی شیبہ:29477-35713، طبرانی:6039، شعب الإيمان-للبيهقي:683-684، صحيح الجامع الصغير:5610]



حضرت انس بن مالک سے بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
مَا مِنْ قَوْمٍ اجتمعوا يذكرون اللهَ، لَا يُرِيدُونَ بِذَلِكَ إِلَّا وَجْهَهُ، إِلَّا نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ قُومُوا مَغْفُورًا لَكُمْ، قَدْ بُدِّلَتْ سَيِّئَاتُكُمْ حسنات
ترجمہ:

[احمد:12453، البزار:6467، ابویعلیٰ:4141، الترغیب لابن شاھین:160، شعب الایمان-للبیھقی:530، الاحادیث المختارۃ:2678]
﴿المعجم الأوسط-الطبرانی:1556، جامع الاحادیث-للسیوطی:20652﴾
(الصَّحِيحَة:2210 , صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب: 1504)


شرح للمناوی:

"(کوئی قوم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں بیٹھتی مگر یہ کہ آسمان سے ایک پکارنے والا انہیں پکارتا ہے: اٹھو، تمہاری بخشش ہو گئی) یعنی جب مجلس ختم ہو اور تم اٹھو تو تمہاری یہ حالت ہو کہ تم بخشے جا چکے ہو، مراد چھوٹے گناہ ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ ذکر چھوڑ کر فوراً اٹھ جانے کا حکم ہے۔ (احمد اور ضیاء نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے)"

"(کوئی قوم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے نہیں بیٹھتی یہاں تک کہ ان سے کہا جاتا ہے: اٹھو، بیشک اللہ نے تمہارے گناہ معاف کر دیے ہیں اور تمہاری برائیاں نیکیوں سے بدل دی گئی ہیں) یعنی جب اس کے ساتھ صحیح توبہ بھی شامل ہو۔ (طبرانی، ہبیرہ اور ضیاء نے حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے ایک حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے)"

[التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي: 2/347]

---

حاصل شدہ اسباق ونکات:

1. مجلس ذکر کی عظمت: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے بیٹھنے والی ہر جماعت کو آسمانی پکار کے ذریعے مغفرت کی بشارت دی جاتی ہے، جو اجتماعی عبادت کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
2. مغفرت کا وعدہ: ذکر الٰہی کی محفلوں میں شرکت کرنے والوں کے لیے خاص مغفرت کا وعدہ، جو چھوٹے گناہوں کے معاف ہونے پر مشتمل ہے۔
3. شرط کمال: صحیح توبہ: دوسری حدیث میں واضح کیا گیا ہے کہ گناہوں کے نیکیوں میں بدلنے کی یہ فضیلت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر کے ساتھ "صحیح توبہ" بھی موجود ہو۔ یعنی ندامت، گناہ ترک کرنا اور آئندہ نہ کرنے کا عزم۔
4. ذکر سے محبت اور استقامت: احادیث میں "جب مجلس ختم ہو اور تم اٹھو" کے الفاظ سے اشارہ ملتا ہے کہ ذکر کی محفل کو برقرار رکھنا اور اسے جلد ترک نہ کرنا مطلوب ہے۔
5. سند کی قوت: پہلی حدیث کی سند صحیح اور دوسری کی سند حسن قرار دی گئی ہے، جو دونوں احادیث کے قابل اعتماد ہونے کی دلیل ہے۔
6. عمل کی جامعیت: یہ احادیث ایمان کے تین اہم ستونوں کو جمع کرتی ہیں: ذکر (اللہ سے تعلق)، توبہ (گناہوں سے پاکیزگی) اور اجتماعیت (باہمی روحانی رابطہ)۔
7. اللہ کی رحمت کی وسعت: گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت اور کرم کی عکاسی کرتا ہے، جو بندے کی ذرا سی محنت کو کئی گنا بڑھا کر قبول فرماتا ہے۔

خلاصہ: یہ احادیث اور ان کی تشریح ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے ذکر کی اجتماعی محفلیں قربِ الٰہی، مغفرت اور روحانی ترقی کا ذریعہ ہیں، بشرطیکہ انہیں خلوصِ نیت اور صحیح توبہ کے ساتھ اختیار کیا جائے۔

فجر اور عصر کے بعد ذکر ودعا کرنے کی فضیلت:

القرآن:

اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔ (22) اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔

[سورۃ الکھف:28]

تفسیر:

22: بعض کفار کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ جو غریب اور کم حیثیت لوگ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہتے ہیں، اگر آپ انہیں اپنے پاس سے ہٹادیں تو ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہوں گے، موجودہ حالت میں ہم ان غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے، یہ آیت اس مطالبے کو رد کرکے آنحضرت ﷺ کو ہدایت دے رہی ہے کہ آپ اس مطالبے کو نہ مانیں اور اپنے غریب صحابہ کی رفاقت نہ چھوڑیں، اور اس ضمن میں ان غریب صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کے مقابلے میں ان مالدار کافروں کی برائی بیان فرمائی گئی ہے۔ یہی مضمون سورة انعام (6۔ 52) میں بھی گزرچکا ہے۔









کثرت گناہوں کے باوجود سچی توبہ کی فضیلت اور رحمتِ الٰہی سے ناامید نہ ہونا:
حضرت ابو ہریرہ‌ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌ﷺ ‌نے فرمایا:
«لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ لَوْ أَكْثَرُوا مِنَ السَّيِّئَاتِ» قَالُوا: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الَّذِينَ بَدَّلَ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ»
ترجمہ:
کچھ لوگ تمنا کریں گے کہ کاش وہ بہت زیادہ برائیاں کرتے، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! کس وجہ سے؟ آپ ﷺ ‌نے فرمایا: وہ لوگ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں بدل دے گا۔
[مستدرك الحاكم:7643، صَحِيح الْجَامِع: 5359، الصَّحِيحَة: 2177]

نوٹ:
(1)ہر گناہ پر توبہ کرنے ۔۔۔۔۔ یعنی دل میں نادم-پشیمان-شرمندہ ہونے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم-پختہ ارادہ کرنے۔
(2)ایمان لانے یعنی اس گناہ کو برا ماننے۔
(3)اور نیک اعمال یعنی صبح وشام رب ہی کو پکارتے رہنے کی عادت کے سبب۔
[تفسیر سورۃ الفرقان:70]

شرح للمناوی:

"(ليتمنين أقوام لو أكثروا من السيئات)یعنی اس (کثرتِ گناہ) کے کرنے والے لوگ۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: (وہ لوگ جن کے گناہوں کو اللہ نے نیکیوں سے بدل دیا)۔ اس حدیث اور اس سے پہلی حدیث میں یہ بات ہے کہ اگر کوئی نیکی کے کام کے لیے ہو تو ناممکن چیز کی تمنا کرنا جائز ہے۔ اور ممکن ہے کہ یہاں 'تمنی' اپنے اصل معنی میں نہ ہو بلکہ اس سے مقصود اللہ کی رحمت کی وسعت کی طرف توجہ دلانا ہو۔"

[فیض القدیر للمناوی: 7549]

حاصل اسباق ونکات:

1. اللہ کی رحمت کی وسعت: اس تفسیر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نہایت وسیع ہے، جو سچے تائب بندوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتی ہے۔ یہ گناہگاروں کے لیے بے پناہ امید کا پیغام ہے۔
2. تمنیٰ کی حقیقی مراد: یہاں "تمنیٰ" (آرزو) سے مراد حقیقی طور پر گناہوں کی کثرت کی خواہش نہیں، بلکہ اللہ کی خاص رحمت اور بخشش کے عظیم معیار کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ یہ ایک بیانیہ انداز ہے جو رحمتِ الٰہی کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔
3. توبہ کی قدر و منزلت: ان لوگوں کی نشاندہی جن کے گناہ نیکیوں میں بدل دیے جاتے ہیں، درحقیقت سچی توبہ کرنے والوں کی طرف اشارہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں خلوصِ نیت سے کی گئی توبہ نہ صرف گناہ مٹا دیتی ہے بلکہ اسے نیکی کی صورت میں بدل دیتی ہے۔
4. بیان کا اسلوب: کبھی کبھار احادیث میں تمثیل و تخیل کے اسلوب کو اپنایا جاتا ہے تاکہ بات مؤثر طریقے سے سمجھائی جا سکے۔ اس کا مقصد حقیقت میں ایسی چیز کی ترغیب دینا نہیں ہوتا جو ناپسندیدہ ہو، بلکہ ایک گہرے مفہوم کو واضح کرنا ہوتا ہے۔
5. تعلیمی نقطہ: یہ تفسیر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ احادیث کو سمجھتے وقت ظاہری الفاظ پر ہی نہ رُکا جائے، بلکہ ان کے پیچھے چھپے حکمت آمیز مقاصد اور شرعی مفاہیم کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے۔

خلاصہ: یہ عبارت دراصل اللہ تعالیٰ کی بے انتہا رحمت اور توبہ قبول کرنے کے اس کے وسیع فضل کو بیان کرتی ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو مایوسی سے بچانا اور نیکی کی طرف راغب کرنا ہے، نہ کہ گناہوں کی کثرت کی خواہش کی ترغیب دینا۔




ﮨَﻮﺍ ﻭ ﺣِﺮﺱ ﻭﺍﻻ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ
ﻣِﺮﺍ ﻏﻔﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﮈُﻭﺑﺎ ﺩِﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺧﺪﺍﯾﺎ ﻓﻀﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ
بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے
ﻣِﺮﺍ ﻏﻔﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﮈُﻭﺑﺎ ﺩِﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﺗﮏ ﻋﻤﺮ ﮐﺎﭨُﻮﮞ
ﺑﺪﻝ ﺩﮮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺳﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﺰﮦ ﺁ ﺟﺎﮰ ﻣﻮﻻ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﮨﭩﺎﻟﻮﮞ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎ ﺳِﻮﺍ ﺳﮯ
ﺟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﺎﻃﺮ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﮐﺮﻭﮞ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ
ﺗﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻏﻢ ﻋﻄﺎ ﮐﺮ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺳﮩﻞ ﻓﺮﻣﺎ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﯾﺎﺩ ﺍﭘﻨﯽ
ﺧﺪﺍﯾﺎ ﺭﺣﻢ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﭘﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺩﻝ ﺷﮑﺴﺘﮧ
ﺭ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﻝ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﺟﺎﺅﮞ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﮯ
ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﺗﻤﻨّﺎ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﻣﯿﺮﯼ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺳﻦ ﻟﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻮﻻ
ﺑﻨﺎﻟﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺪﺍ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺩﻝِ ﻣﻐﻤﻮﻡ ﮐﻮ ﻣﺴﺮﻭﺭ ﮐﺮﺩﮮ
ﺩﻝِ ﺑﮯ ﻧﻮﺭ ﮐﻮ ﭘُﺮ ﻧﻮﺭ ﮐﺮﺩﮮ

ﭘﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺩﻝ ﺷﮑﺴﺘﮧ
ﺭﮨﻮﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﻝ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﺟﺎﺅﮞ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﮯ
ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﺗﻤﻨّﺎ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﭘﮍﺍ ﮨﻮﮞ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺩﻝ ﺷﮑﺴﺘﮧ
ﺭہﻮﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﻝ ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﺟﺎﺅﮞ ﺍﺗﻨﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﮯ
ﺑﺲ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﮯ ﺗﻤﻨّﺎ ﺩﻝ ﺑﺪﻝ ﺩﮮ

ﻓﺮﻭﺯﺍﮞ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻊِ ﻃﻮﺭ ﮐﺮﺩﮮ
ﯾﮧ ﮔﻮﺷﮧ ﻧﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﻌﻤﻮﺭ ﮐﺮﺩﮮ

ﻣﯿﺮﺍ ﻇﺎﮨﺮ سنور ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻟٰﮩﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﻃﻦ ﮐﯽ ﻇﻠﻤﺖ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺩﮮ

ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﮭﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﻧﻔﺲ ﻣﯿﺮﺍ
ﺧﺪاﯾﺎ ﺍﺳﮑﻮ ﺑﮯ ﻣﻘﺪﻭﺭ ﮐﺮﺩﮮ

ﻣﺌﮯ ﻭﺣﺪﺕ ﭘِﻼ ﻣﺨﻤﻮﺭ ﮐﺮﺩﮮ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﭼُﻮﺭ ﮐﺮﺩﮮ
https://youtu.be/lnG461vFUNc?si=ny4bNRjkoAXd1hTx







1 comment:

  1. السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    شومیٔ قسمت آج ایک حدیث کی جستجو میں گوگل پر’’راہ دلیل ‘‘ تک رسائی ہوئی ۔ دین کی جو خدمت آپ لوگ انجام دے رہے ہیں اللہ رب العزت سے دُعا گو ہوں کہ وہ آپ کی کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے اور اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین

    ReplyDelete