اللہ پاک نے فرمایا:
ہاں مگر جو کوئی (شرک و نافرمانی سے) (1)توبہ کرلے، (2)ایمان بھی لے آئے، (3)اور نیک عمل کرتا رہے تو اللہ ایسے لوگوں کی (پچھلی)برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
[سورۃ الفرقان:70]
یعنی حالت کفر میں انہوں نے جو برے کام کیے تھے، وہ ان کے نامہ اعمال سے مٹا دئیے جائیں گے، اور اسلام لا کر جو نیک عمل کیے ہوں گے وہ ان کی جگہ لے لیں گے۔
یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کرے گا۔ یا یہ کہ بدیوں کو مٹا کر توبہ اور عمل صالح کی برکت سے ان کی تعداد کے مناسب نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ جیسا کہ(نیچے)بعض احادیث سے ظاہر ہے۔
مگر جو شرک و گناہوں سے توبہ کرے گا اور ایمان لانے کے بعد نیک کام کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے کفر کو ایمان کی برکت سے اور گناہوں کو اطاعت کی برکت سے اور جو غیر اللہ کی عبادت کی تھی اس کو عبادت خداوندی کی برکت سے اور برائیوں کو نیکیوں کی برکت سے معاف فرما دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تائب کی مغفرت فرمانے والا اور جو توبہ پر مرے اس پر رحمت فرمانے والا ہے ۔
[تفسیر ابن عباس]
قتادہ کا قول ہے کہ جس نے توبہ کی اور اپنے رب پر ایمان لایا اور نیک عمل کیا جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ آپ کے زمانے میں ہم دو سال تک آیت، والذین لایدعون مع اللہ الھا اخر، پڑھا کرتے تھے پھر دو سال کے بعد نازل ہوئی، الامن تاب وآمن، اس آیت کے نازل ہونے سے اور آیت، انافتحنالک فتحا مبینا،۔ ،، لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر، کے نازل ہونے سے جیسا خوش رسول اللہ کو دیکھا ایسا خوش میں نے حضور کو کبھی نہیں دیکھا۔
”فاو لئک یبدل اللہ سیاتھم حسنات وکان اللہ غفورا رحیما۔
ایک جماعت اس قول کی طرف گئی ہے کہ اس تبدیلی کا ظہور دنیا میں ہی ہوگا۔ حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، امام مجاہد، امام سدی، امام ضحاک کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ حالتِ شرک میں کیے ہوئے برے اعمال کی جگہ حالتِ اسلام میں کیے ہوئے اچھے اعمال کو اللہ دے دے گا۔ شرک کو توحید سے مومنوں کے قتل کو حربی مشرکوں کے قتل سے اور زنا کو عفت اور پاکدامنی سے بدل دے گا۔
کچھ علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ اپنی مہربانی سے اسلام میں کیے ہوئے برے اعمال کو قیامت کے دن نیکیوں میں بدل دے گا، یہی قول سعید بن المسیب ، مکحول ، ام المومنین حضرت عائشہ کا ہے۔
اس کی تائید حضرت ابوذر کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا، اور حکم ہوگا اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لاؤ، حسب الحکم چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائیں گے اور اس کے بڑے گناہ پوشیدہ رکھے جائیں گے وہ چھوٹے گناہوں کا اقرار کرے گا، انکار نہیں کرے گا، اور بڑے گناہوں کا اندیشہ کرتا رہے گا، حکم ہوگا ہر گناہ کی جگہ اس کو ایک نیکی دو وہ کہے گا میرے گناہ تو اور بھی ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دیتے۔ راوی حدیث حضر ت ابوذر فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد فرماتے وقت حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنا ہنس پڑے کہ کچلییاں نظر آنے لگیں۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اللہ عزوجل اس کے گناہ اس کی ندامت کی وجہ سے مٹادیں گے ۔ پھر اس کی ہر برائی کے بدلے میں نیکی دی جائے گی۔
[تفسیر امام البغوی]
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ما من قوم اجتمعوا يذكرون الله عز وجل لا يريدون بذلك إلا وجهه؛ إلا ناداهم منادٍ من السماء: أن قوموا مغفوراً لكم، قد بُدِّلَتْ سيئاتُكم حسناتٍ۔
ترجمہ:
جو قوم جمع ہو اللہ کے ذکر کے لئے ، نہ ہو ان کا ارادہ اس میں سوائے اس(الله)کی رضا کے، تو آسمان سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ اٹھو! اللہ نے تمہیں بخش دیا، تمہاری برائیاں بھلائیوں سے بدل گئیں۔
[صحيح الترغيب والترهيب:1504، الترغيب في فضائل الأعمال وثواب ذلك لابن شاهين:160، مسند أبي يعلى الموصلي:4141، الأحاديث المختارة:2675، مسند البزار:6467، مسند احمد:12453، ا لمعجم الأوسط-الطبراني:1556، مجمع الزوائد:16764]
تفسیر ابن کثیر»سورۃ الکھف:28
یہ حدیث حضرت عبدالله بن مغفل اور حضرت سہیل بن حنظلہ سے بھی روایت کی گئی ہے۔
[الصَّحِيحَة:2210، صحيح الجامع:5610،
شعب الإيمان-البيهقي:530+684، مصنف ابن أبي شيبة:29477+35713، المعجم الكبير للطبراني:6039]
فجر اور عصر کے بعد ذکر ودعا کرنے کی فضیلت:
القرآن:
اور اپنے آپ کو استقامت سے ان لوگوں کے ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں۔ (22) اور تمہاری آنکھیں دنیوی زندگی کی خوبصورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر رکھا ہے، اور جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہوا، اور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔
[سورۃ الکھف:28]
تفسیر:
22: بعض کفار کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ جو غریب اور کم حیثیت لوگ آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہتے ہیں، اگر آپ انہیں اپنے پاس سے ہٹادیں تو ہم آپ کی بات سننے کو تیار ہوں گے، موجودہ حالت میں ہم ان غریبوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کی کوئی بات نہیں سن سکتے، یہ آیت اس مطالبے کو رد کرکے آنحضرت ﷺ کو ہدایت دے رہی ہے کہ آپ اس مطالبے کو نہ مانیں اور اپنے غریب صحابہ کی رفاقت نہ چھوڑیں، اور اس ضمن میں ان غریب صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کے مقابلے میں ان مالدار کافروں کی برائی بیان فرمائی گئی ہے۔ یہی مضمون سورة انعام (6۔ 52) میں بھی گزرچکا ہے۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
ReplyDeleteشومیٔ قسمت آج ایک حدیث کی جستجو میں گوگل پر’’راہ دلیل ‘‘ تک رسائی ہوئی ۔ دین کی جو خدمت آپ لوگ انجام دے رہے ہیں اللہ رب العزت سے دُعا گو ہوں کہ وہ آپ کی کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے اور اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین