Friday, 14 February 2025

لعنت کے معانی، لعنت کے مستحق لوگ اور اعمال

«لعن» یعنی کسی کو ناراضگی کی بنا پر اپنے سے دور کردینا اور دھتکار دینا۔

خدا کی طرف سے کسی شخص پر لعنت سے مراد ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں تو اللہ کی رحمت اور توفیق کے اثر پذیر ہونے سے محروم ہوجائے اور آخرت میں عقوبت(سزا) کا مستحق قرار پائے۔

اور انسان کی طرف سے کسی پر لعنت بھیجنے کے معنیٰ "بددعا" کے ہوتے ہیں۔ قرآن میں ہے:

أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

[سورۃ هود:18]

سن رکھو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔

[المفردات فی غریب القرآن: ص741]


۔۔۔۔اور جس پر اللہ لعنت(یعنی اپنی رحمت سے دور) کرے تو اس کیلئے تم کوئی مددگار نہیں پاؤگے۔

[سورۃ النساء:52]



کیا ناحق لعنت لگتی ہے؟
ناحق (بلا وجہ) کسی کو لعنت دینے کا حکم یہ ہے کہ یہ عمل خود حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کو لعنت کرے جو اس کی مستحق نہیں ہے، تو وہ لعنت واپس خود لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔

اس سلسلے میں احادیثِ مبارکہ میں بہت سخت وعید آئی ہے۔

ناحق لعنت کا انجام

اگر آپ کسی کو ناحق لعنت دیتے ہیں، تو وہ لعنت آپ پر لوٹ سکتی ہے۔ اس کی تفصیل ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے:

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب کوئی شخص کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ زمین کی طرف اترتی ہے تو زمین کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر وہ دائیں اور بائیں جانے کی کوشش کرتی ہے، جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس شخص کی طرف لوٹ جاتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی۔ اگر وہ اس لعنت کا مستحق ہے (تو اس پر پڑتی ہے) ورنہ وہ اس شخص کی طرف لوٹ جاتی ہے جس نے اسے بھیجا تھا۔"
[سنن ابی داؤد، حدیث: 4905]

اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کو لعنت کرے جو گناہگار نہیں ہے یا اس کی لعنت کا مستحق نہیں، تو یہ لعنت بندے کے گناہوں کی وجہ سے قبول نہیں ہوتی اور واپس پلٹ کر لعنت کرنے والے پر آ پڑتی ہے۔


Wednesday, 12 February 2025

حکمت کے معانی، فضائل واحادیث



لفظ "حکمت" قرآن پاک میں بیس بار آیا ہے ، اور خدا تعالی نے اس آسمانی کتاب میں 91 مرتبہ "حکمت" کی صفت کے ساتھ اپنی تعریف کی ہے۔ (صفت "حکیم" قرآن میں 36 مرتبہ صفت "علیم" کے ساتھ، 47 مرتبہ صفت " عزیز " کے ساتھ، چار مرتبہ صفت "خبیر" کے ساتھ اور ایک ایک صفت "تواب"، "حامد"، "علی" اور "وصی" کے ساتھ آئی ہے۔)

Sunday, 9 February 2025

اصول فقہ»درجاتِ احکام: فرض،واجب،سنت،نفل


فرض کے لغوی معنی ’کاٹنے‘ کے ہیں۔ اس کے ایک معنیٰ لازم قرار دینے اور ایک معنیٰ معین و مقرر کرنے کے بھی ہیں۔

حوالہ

الفَرْضُ: القَطْعُ، ويأتي بِمَعنى الإِلْزامِ، فيُقال: فرَضَ عَلَيْهِ الأَمْرَ، أيْ: أوْجَبَهُ وأَلْزَمَهُ بِهِ، ويأتي بِمعنى التَّقْدِيرِ.

[العين : (7/28) - تهذيب اللغة : (12/12) - مقاييس اللغة : (4/488) - النهاية في غريب الحديث والأثر : (3/432) - مختار الصحاح : (ص 237) - لسان العرب : (7/202) - تاج العروس : (18/475) - البحر المحيط في أصول الفقه : (1/181) - اللمع في أصول الفقه : (ص 63) - رفع الحاجب عن مختصر ابن الحاجب : (1/494) - شرح الكوكب المنير : (1/345) - الشامل في حدود وتعريفات مصطلحات علم الأصول : (2/224) - معجم أصول الفقه : (ص 311، وص 466) - معجم أصول الفقه : (ص 314) - معجم المصطلحات والألفاظ الفقهية : (3/40) -]


القرآن:

حج کے مہینے متعین ہیں، پس جس نے (احرام باندھ کر خود پر) فرض(لازم) کرلیا ان(مہینوں) میں حج کو تو...

[سورۃ البقرۃ:197]

یہ ایک سورت ہے، جو ہم نے نازل کی ہے، اور ہم نے جس(کے احکام) کو فرض (مقرر) کیا ہے۔

[النور:1]



فرض وہ بات ہے جو اللہ نے مقرر-لازم-طے فرمائی ہو:

القرآن:

بےشک (اے پیغمبر!) جس (ذات) نے فرض(ذمہ ٹھہرائی) ہے تم پر قرآن(پڑھ کر سنانے) کی۔۔۔

[القصص:85]

نبی کیلئے اس کام میں اعتراض کی کوئی بات نہیں ہوتی جو اللہ نے اس کیلئے فرض(طے) کردیا ہے۔۔۔

[الاحزاب:38]


۔۔۔یقیناً ہمیں معلوم ہے جو ہم نے فرض(لازم) کیا ہے۔۔۔

[الاحزاب:50]


یقیناً فرض(مقرر)کردیا ہے اللہ نے تمہارے لئے نکلنے کا طریقہ تمہاری (فضول/ناجائز)قسموں سے۔۔۔

[التحریم:2]


لہٰذا جس نے ﴿جان لینے کے بعد﴾ فرض کا انکار کیا-یا مذاق اڑایا-﴿یا مخالفت کی﴾﴿یا اسے ترک کیا﴾ تو اس نے کفر کیا اور جس نے اس میں کمی-کوتاہی کی تو اس نے کبیرہ گناہ کیا۔

[حوالہ سورۃ الانعام:49، الاحقاف:20، البقرۃ:99، الکافرون]

﴿بیھقی:19739﴾