دلیل اور اقسامِ دلیل

اگر دلیل صرف فرمان_خدا و رسولؐ ہی ہے تو کس آیت و حدیث کی دلیل سے  کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف، مقبول و مردود کہا جاتا ہے ؟؟؟
=======================================
دلیل اس بیان کو کہتے ہیں جس سے دعوى ثابت کیا جاۓ. قرآن مجید میں دعوى توحید ثابت کرنے کے لئے چار قسم کے دلائل بیان کے گئے ہیں : (١) دلیل عقلی محض، (٢) دلیل عقلی مع اعتراف الخصم ، (٣) دلیل نقلی ، (٤) دلیل وحی

١) دلیل عقلی : دلیل عقلی اس دلیل کو کہتے ہیں جس میں ایسے امور مذکور ہوں جن کا تعلق عقل سے ہے. دلیل عقلی  کے ذریعہ ہر صاحب عقل دعوى کو سمجھ سکتا ہے. اگر مخاطب کافر و مشرک ہو تو بھی عقل سلیم اسے یہ بات منوانے پر مجبور کرے گی کہ جو امور دلیل میں موجود ہیں وہ الله تعالیٰ کے سوا کسی اور کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں، نہ کسی نبی یا ولی کے نہ کسی فرشتہ کے، اس لئے الله کے سوا کوئی عبادت و پکار اور نذر و منت کے لائق نہیں، اسی طرح مخاطب دہریہ ہو تو عقل سلیم اسے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کردے گی کہ مذکورہ فی الدلیل امور کا نظام خود بخود نہیں چل رہا بلکہ ایک قادر و قیوم ہستی اس سارے نظام کو چلا رہی ہے اور یہ کام بےشعور مادہ کا نہیں ہے. جیسے مثال دی مع دلیل عقلی

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙالبقره :۲۱﴾ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿البقره:۲۲﴾

اے لوگو بندگی کرو اپنے رب کی جس نے پیدا کیا تم کو اور ان کو جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ. جس نے بنایا واسطے تمہارے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتارا آسمان سے پانی پھر نکالے اس سے میوے تمہارے کھانے کے واسطے سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے مقابل اور تم تو جانتے ہو.

اس میں ((یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ)) دعوى توحید ہے یعنی اپنے رب کی عبادت کرو اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو، پھر ((الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ - سے - رِزۡقًا لَّکُمۡ)) تک دلیل عقلی ہے کہ تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کرنے والا الله ہی ہے اور کوئی نہیں. اسی طرح تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اسی نے بنایا اور آسمان سے مینہ برساکر زمین سے تمہاری روزی کا سامان بھی اسی نے پیدا کیا. تمہارے معبودان باطلہ میں کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا. اس کے بعد ((فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا)) دلیل کا نتیجہ ہے، یعنی جب تم جانتے ہو کہ سارے کام کرنے والا الله ہے تو پھر کسی کو عبادت میں اس کا شریک نہ بناؤ.

تنبیہ : یھاں دعوى میں حصر ہے جیسا کہ  مفھوم میں ظاہر کردیا گیا ہے، اور نتیجہ بھی اس پر صراحت سے دلالت کرتا ہے، تو دعوى کا مقصد یہ نہیں کہ الله کو معبود مانو بلکہ مقصد یہ ہے کہ صرف الله ہی کو معبود مانو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ. کیونکہ نزول قرآن سے پہلے مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ سب الله کو اپنا معبود مانتے تھے لیکن وہ اس کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے تھے، اس لئے شرک سے منع فرمایا اور صرف الله ہی کی عبادت کرنے کا حکم دیا.

٢) دلیل عقلی مع اعتراف الخصم : یہ وہ دلیل عقلی ہے جس کو منکرین سے استفہام (پوچھتے سمجھانے) کے طور پر بیان کیا جاۓ اور ساتھ ہی ان کی تسلیمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوۓ جواب بیان کیا جاۓ، مَثَلاً : ایک جگہ ارشاد ہے:

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اَمَّنۡ یَّمۡلِکُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ یُّخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَ مَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿یونس : ٣١)

آپ ان (مشرکوں) سے کہیئے کہ (بتاؤ) وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے روزی پہنچاتا ہے (بلکہ بتاؤ) کہ وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو جاندار چیز کو بےجان سے اور بےجان چیز سے جاندار چیز کو باہر نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے تو وہ (جواب میں یہی) کہیں گے (ان تمام کاموں کا کرنے والا) الله ہی ہے....

ابتدا میں چند ایسے امور ذکر فرماۓ جن کے بارے میں مشرکین کا یہ عقیدہ تھا کہ ان امور کا فاعل اور کارساز صرف الله ہی ہے، اس لئے آخر میں فرمایا ((فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ)) جو ان کے اقرار پر دلالت کرتا ہے.

٣) دلیل نقلی : جب دعوى کے اثبات کے لئے کوئی دلیل پیش کی جاۓ تو وہ نقلی دلیل کہلاۓ گی. دلیل نقلی کی سات (٧) قسمیں ہیں : (١) گزشتہ آسمانی کتابوں سے ، مَثَلاً : وَآتَيْنَآ مُوسَى ٱلْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلاَّ تَتَّخِذُواْ مِن دُونِي وَكِيلاً {الاسراء : ٢} یعنی "اور ہم ہی نے موسیٰ کو کتاب دی اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت (کا ذریعہ) بنایا تھا، اس میں یہ حکم تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بناؤ". یہ تورات سے دلیل عقلی ہے. (٢) انبیاء سابقین سے اجمالاً ، مَثَلاً : وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِيۤ إِلَيْهِ أَنَّهُ لاۤ إِلَـٰهَ إِلاَّ أَنَاْ فَٱعْبُدُونِ {الانبیاء : ٢٥} یعنی "اور آپ سے پہلے ہم نے کسی پیغمبر کونہیں بھیجا مگر اس کی طرف ہم نے یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں، اس لئے صرف میری ہی عبادت کرو". (٣) انبیاء سابقین سے تفصیلاً نام بنام ، مَثَلاً : وَٱذْكُرْ فِي ٱلْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً 0 إِذْ قَالَ لأَبِيهِ يٰأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يُبْصِرُ وَلاَ يُغْنِي عَنكَ شَيْئاً {مریم : ٤١-٤٢} یعنی "اور ذکر کیجئے کتاب میں ابراہیم کا، وہ بہت سچے نبی تھے. سچائی کی حد یہ تھی کہ انہوں نے اپنے باپ سے بھی صاف کہدیا کہ اے میرے باپ تو ان (باطل معبودوں) کی کیوں عبادت کرتا ہے جو نہ سنتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ تجھے کچھ فائدہ پہنچا سکتے ہیں. (٤) کتب سابقہ کے عالموں سے جو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے ، مَثَلاً : ٱلَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ أُوْلَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ {البقرہ : ١٢١} یعنی "انھیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کے پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں اور وہ اس دعوے کو مانتے ہیں...، یہ دلیل نقلی ان مولویوں اور پیروں سے لی گئی ہے جو تورات کا علم رکھتے تھے. (٥)  جنات سے ، مَثَلاً : قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ ٱسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ فَقَالُوۤاْ إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباً 0  يَهْدِيۤ إِلَى ٱلرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَن نُّشرِكَ بِرَبِّنَآ أَحَداً{الجن:١-٢} یعنی "فرمادیجئے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک عجیب ہی قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لئے ہم تو اس پر ایمان لے آۓ ہیں اور اب ہم اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے". یہ جنات کی ایک طائفہ (گروہ) سے نقل پیش کی گئی ہے، انہوں قرآن مجید سن کر اپنی قوم کو جاکر صاف اعلان کردیا کہ الله کے سوا کوئی حاجت روا نہیں، اس لئے صرف الله ہی کو غائبانہ حاجات میں پکارا کرو. (٦) ملائکہ سے اور ، مَثَلاً : شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُ لاَ إِلَـٰهَ إِلاَّ هُوَ وَٱلْمَلاَئِكَةُ وَأُوْلُواْ ٱلْعِلْمِ قَآئِمَاً بِٱلْقِسْطِ {آل عمران : ١٨} یعنی "گواہی دی الله نے اس کی کہ بجز اس ذات کے کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور فرشتوں نے بھی اور اہلِ علم نے بھی، وہ نظام کو اعتدال کے ساتھ قائم رکھنے والا ہے". (٧) پرندوں سے، مَثَلاً : جب ہدہد غائب رہنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ  السلام کے پاس آیا تو قوم سبا کے مشرکانہ افعال بیان کرنے کے بعد یوں گویا ہوا: أَلاَّ يَسْجُدُواْ للَّهِ ٱلَّذِي يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ 0 ٱللَّهُ لاَ إِلَـٰهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ {النمل:٢٥-٢٦} یعنی "اس الله کو سجدہ نہیں کرتے جو (ایسا قادر ہے کہ) آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر لاتا ہے اور (ایسا عالم ہے کہ) جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب کچھ جانتا ہے، (پس) الله ہی ایسا ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ عرش عظیم کا مالک ہے.


٤) دلیل وحی : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دعوى کے ساتھ آنحضرت صلی الله عالیہ وسلم کو یہ اعلان کرنے کا حکم بھی ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کہ رہا ہوں اپنی طرف سے اور اپنی راۓ سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ مجھے الله تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی یہ حکم ملا ہے کہ میں یہ دعوى اور مضمون تم تک پہنچاؤں. چناچہ ارشاد ہے : قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ لَمَّا جَآءَنِيَ ٱلْبَيِّنَـٰتُ مِن رَّبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ {مومن/الغافر:٦٦} یعنی "فرمادیجئے کہ مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے جن کو تم الله کے سوا پکارتے ہو، جبکہ میرے پاس اپنے رب کی طرف سے کھلی باتیں آچکی ہیں (اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہ رہا ہوں بلکہ) مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے کو الله کے سپرد کردوں.

Islamic Books Library
فائدہ جلیلہ : قرآن مجید میں دعوى توحید کو تینوں قسم کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے تاکہ مادہِ انکار کا بلکلیہ استیصال ہوجاۓ اور منکرین کے لئے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے. دلیل عقلی اس لئے ذکر کی جاتی ہے تاکہ ثابت ہوجاۓ کہ دعوى توحید عقلِ سلیم کے عین مطابق ہے اور دلیل نقلی اس لئے پیش کی جاتی ہے تاکہ یہ معلوم ہوجاۓ کہ دعوى توحید میں حضرت رسول کریم صلی الله علیہ وسلم منفرد نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء علیھم السلام بھی مسئلہ توحید میں بیان فرماتے رہے اور دلیل وحی اس لئے پیش کی جاتی ہے تاکہ منکرین دعوى کا اس اعتراض کا جواب ہوجاۓ کہ  مسئلہ توحید کے علاوہ اور مسائل و احکام تھوڑے ہیں یہ کیا ضروری ہے کہ اسے ہی بیان کیا جاۓ. اس لئے اسے چھوڑو کوئی اور  مسئلہ بیان کرو. اس پر دلیل وحی سے جواب دیا گیا کہ میں تو الله کی طرف سے اس کام (یعنی دعوى توحید پیش کرے) پر ماموں ہوں اس لئے اسے ہرگز نہیں چھوڑ سکتا.[ماخوذ از تفسیر جواہرالقرآن]
===================
دلیل کو حجت اور سلطان و برہان بھی کہتے ہیں؛



حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ قرآن میں جہاں سلطان کا لفظ آیا ہے اس کے معنی دلیل اور حجت کے ہیں .[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1852(4415- تفاسیر کا بیان :  سورت بنی اسرائیل کی تفسیر]



چرب زبانی بھی دلیل کہلائی گئی ہے؛ حدثنا محمد بن کثير عن سفيان عن هشام عن عروة عن زينب بنت أم سلمة عن أم سلمة عن النبي صلی الله عليه وسلم قال إنما أنا بشر وإنکم تختصمون إلي ولعل بعضکم أن يکون ألحن بحجته من بعض وأقضي له علی نحو ما أسمع فمن قضيت له من حق أخيه شيئا فلا يأخذ فإنما أقطع له قطعة من النار 

ترجمہ : زینب حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  میں تو صرف انسان ہوں تم میرے پاس مقدمہ لے کر آتے ہو، بہت ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ عمدہ طریقے سے بیان کرنے والا ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کردو اسکی بات سن کر اس لئے جس کے موافق اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کروں تو وہ نہ لے کہ میں نے اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا الگ کردیا۔
[صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1870  (6581- حیلوں کا بیان]



بھٹکانے والی دلیل ؛
أخبرنا عبد الملك بن سليمان أبو عبد الرحمن الأنطاكي عن عباد بن عباد الخواص الشامي أبي عتبة قال أما بعد اعقلوا والعقل نعمة فرب ذي عقل قد شغل قلبه بالتعمق عما هو عليه ضرر عن الانتفاع بما يحتاج إليه حتى صار عن ذلك ساهيا ومن فضل عقل المر ترك النظر فيما لا نظر فيه حتى لا يكون فضل عقله وبالا عليه في ترك منافسة من هو دونه في الأعمال الصالحة أو رجل شغل قلبه ببدعة قلد فيها دينه رجالا دون أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أو اكتفى برأيه فيما لا يرى الهدى إلا فيها ولا يرى الضلالة إلا بتركها يزعم أنه أخذها من القرآن وهو يدعو إلى فراق القرآن أفما كان للقرآن حملة قبله وقبل أصحابه يعملون بمحكمه ويؤمنون بمتشابهه وكانوا منه على منار كوضح الطريق فكان القرآن إمام رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان رسول الله إماما لأصحابه وكان أصحابه أمة لمن بعدهم رجال معروفون منسوبون في البلدان متفقون في الرد على أصحاب الأهوا مع ما كان بينهم من الاختلاف وتسكع أصحاب الأهوا برأيهم في سبل مختلفة جارة عن القصد مفارقة للصراط المستقيم فتوهت بهم أدلاؤهم في مهامه مضلة فأمعنوا فيها متعسفين في تيههم كلما أحدث لهم الشيطان بدعة في ضلالتهم انتقلوا منها إلى غيرها لأنهم لم يطلبوا أثر السالفين ولم يقتدوا بالمهاجرين وقد ذكر عن عمر أنه قال لزياد هل تدري ما يهدم الإسلام زلة عالم وجدال منافق بالقرآن وأمة مضلون اتقوا الله وما حدث في قراكم وأهل مساجدكم من الغيبة والنميمة والمشي بين الناس بوجهين ولسانين وقد ذكر أن من كان ذا وجهين في الدنيا كان ذا وجهين في النار يلقاك صاحب الغيبة فيغتاب عندك من يرى أنك تحب غيبته ويخالفك إلى صاحبك فيأتيه عنك بمثله فإذا هو قد أصاب عند كل واحد منكما حاجته وخفي على كل واحد منكما ما أتي به عند صاحبه حضوره عند من حضره حضور الإخوان وغيبته على من غاب عنه غيبة الأعدا من حضر منهم كانت له الأثرة ومن غاب منهم لم تكن له حرمة يفتن من حضره بالتزكية ويغتاب من غاب عنه بالغيبة فيا لعباد الله أما في القوم من رشيد ولا مصلح يقمع هذا عن مكيدته ويرده عن عرض أخيه المسلم بل عرف هواهم فيما مشى به إليهم فاستمكن منهم وأمكنوه من حاجته فأكل بدينه مع أديانهم فالله الله ذبوا عن حرم أغيابكم وكفوا ألسنتكم عنهم إلا من خير وناصحوا الله في أمتكم إذ كنتم حملة الكتاب والسنة فإن الكتاب لا ينطق حتى ينطق به وإن السنة لا تعمل حتى يعمل بها فمتى يتعلم الجاهل إذا سكت العالم فلم ينكر ما ظهر ولم يأمر بما ترك وقد أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه اتقوا الله فإنكم في زمان رق فيه الورع وقل فيه الخشوع وحمل العلم مفسدوه فأحبوا أن يعرفوا بحمله وكرهوا أن يعرفوا بإضاعته فنطقوا فيه بالهوى لما أدخلوا فيه من الخطإ وحرفوا الكلم عما تركوا من الحق إلى ما عملوا به من باطل فذنوبهم ذنوب لا يستغفر منها وتقصيرهم تقصير لا يعترف به كيف يهتدي المستدل المسترشد إذا كان الدليل حارا أحبوا الدنيا وكرهوا منزلة أهلها فشاركوهم في العيش وزايلوهم بالقول ودافعوا بالقول عن أنفسهم أن ينسبوا إلى عملهم فلم يتبروا مما انتفوا منه ولم يدخلوا فيما نسبوا إليه أنفسهم لأن العامل بالحق متكلم وإن سكت وقد ذكر أن الله تعالى يقول إني لست كل كلام الحكيم أتقبل ولكني أنظر إلى همه وهواه فإن كان همه وهواه لي جعلت صمته حمدا ووقارا لي وإن لم يتكلم وقال الله تعالى مثل الذين حملوا التوراة ثم لم يحملوها لم يعملوا بها كمثل الحمار يحمل أسفارا كتبا وقال خذوا ما آتيناكم بقوة قال العمل بما فيه ولا تكتفوا من السنة بانتحالها بالقول دون العمل بها فإن انتحال السنة دون العمل بها كذب بالقول مع إضاعة العمل ولا تعيبوا بالبدع تزينا بعيبها فإن فساد أهل البدع ليس بزاد في صلاحكم ولا تعيبوها بغيا على أهلها فإن البغي من فساد أنفسكم وليس ينبغي للطبيب أن يداوي المرضى بما يبرهم ويمرضه فإنه إذا مرض اشتغل بمرضه عن مداواتهم ولكن ينبغي أن يلتمس لنفسه الصحة ليقوى به على علاج المرضى فليكن أمركم فيما تنكرون على إخوانكم نظرا منكم لأنفسكم ونصيحة منكم لربكم وشفقة منكم على إخوانكم وأن تكونوا مع ذلك بعيوب أنفسكم أعنى منكم بعيوب غيركم وأن يستطعم بعضكم بعضا النصيحة وأن يحظى عندكم من بذلها لكم وقبلها منكم وقد قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه رحم الله من أهدى إلي عيوبي تحبون أن تقولوا فيحتمل لكم وإن قيل لكم مثل الذي قلتم غضبتم تجدون على الناس فيما تنكرون من أمورهم وتأتون مثل ذلك فلا تحبون أن يوجد عليكم اتهموا رأيكم ورأي أهل زمانكم وتثبتوا قبل أن تكلموا وتعلموا قبل أن تعملوا فإنه يأتي زمان يشتبه فيه الحق والباطل ويكون المعروف فيه منكرا والمنكر فيه معروفا فكم من متقرب إلى الله بما يباعده ومتحبب إليه بما يغضبه عليه قال الله تعالى أفمن زين له سو عمله فرآه حسنا الآية فعليكم بالوقوف عند الشبهات حتى يبرز لكم واضح الحق بالبينة فإن الداخل فيما لا يعلم بغير علم آثم ومن نظر لله نظر الله له عليكم بالقرآن فأتموا به وأموا به وعليكم بطلب أثر الماضين فيه ولو أن الأحبار والرهبان لم يتقوا زوال مراتبهم وفساد منزلتهم بإقامة الكتاب وتبيانه ما حرفوه ولا كتموه ولكنهم لما خالفوا الكتاب بأعمالهم التمسوا أن يخدعوا قومهم عما صنعوا مخافة أن تفسد منازلهم وأن يتبين للناس فسادهم فحرفوا الكتاب بالتفسير وما لم يستطيعوا تحريفه كتموه فسكتوا عن صنيع أنفسهم إبقا على منازلهم وسكتوا عما صنع قومهم مصانعة لهم وقد أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه بل مالوا عليه ورققوا لهم فيه
[سنن دارمی:جلد اول:حدیث نمبر 647(43379) - مقدمہ دارمی : ابوعتبہ عباد خواص شامی کا خط۔]



ابو عتبہ عباد بن عباد خواص شامی تحریر کرتے ہیں امابعد۔ یہ بات جان لو کہ عقل بڑی نعمت ہے کچھ عقل مند ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان چیزوں میں غور کرتے ہیں جو ان کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کا ذہن غافل ہوجاتا ہے اور جس چیز کی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے یہاں تک کہ وہ اس چیز سے غافل ہوجاتے ہیں آدمی کی عقل کی فضیلت یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے بارے میں غور و فکر نہ کرے تاکہ اس کی عقل کی فضیلت اس کے لیے وبال کا باعث نہ بن جائے۔ کہ اس نے ان لوگوں پر گرفت نہیں کی جو اعمال میں ان سے کم تھے یا وہ شخص جس کا دل بدعت میں مبتلا ہوجائے اور وہ اپنے گلے میں اس دین کا ہار پہنا لے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا نہیں تھایا وہ اپنی رائے پراکتفا کرتے ہوئے یہی سمجھے کہ صرف وہی ہدایت ہے اور اس کے اپنے نظریے کو ترک کرنا ہی گمراہی ہے وہ یہ سمجھے کہ اس نے یہ نظریہ قرآن سے حاصل کیا ہے حالانکہ وہ قرآن سے الگ کرنے والا ہوگیا اس شخص سے اور اس کے ساتھیوں سے پہلے قرآن کے ماہر نہیں تھے۔ جو قرآن کے محکم پر عمل کرتے تھے اور اس کے متشابہ پر ایمان رکھتے تھے اور وہ لوگ اس واضح طریقے پر گامزن تھے قرآن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے پیشوا تھے اور ان کے ساتھی بعد میں آنے والے لوگوں کے لیے پیشوا تھے جن سے ہر شخص واقف تھا اور وہ ہر شہر میں موجود تھے۔ یہ لوگ آپس میں فقہی مسائل میں اختلاف رکھتے تھے لیکن بدمذہب لوگوں کی تردید کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق پایا جاتا تھا ان بدمذہب لوگوں کو ان کی رائے نے مختلف راستوں پر ڈال دیا ہے جو میانہ روی سے دوور ہے اور صراط مستقیم سے الگ ہے ان کے پیشواؤں نے ان لوگوں کو گمراہی کے میدان میں تھکا دیا ہے یہ لوگ انہیں میدانوں میں دھکے کھاتے پھر رہے ہیں جب بھی ان کی گمراہی کے لیے شیطان کوئی نئی بدعت ایجاد کرتا ہے یہ ایک سے دوسری طرف منتقل ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ لوگ سابقہ زمانے کے لوگوں کے نشانات کی تلاش نہیں کرتے اور ہجرت کرنے والے صحابہ کی پیروی نہیں کرتے۔ حضرت عمر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے زیاد سے یہ کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز اسلام کو منہدم کردیتی ہے عالم شخص کی پھسلن، منافق شخص کا قرآن کے بارے میں بحث کرنا اور گمراہ کرنے والے پیشوا، لہذا اللہ سے ڈرو، اس چیز کے بارے میں جو تمہارے علماء اور تمہارے مساجد والوں کے درمیان غیبت اور چغل خوری اور لوگوں کے ساتھ دوغلے چہرے اور دوغلی زبانوں کے ساتھ ملنا آچکا ہے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جو شخص دنیا میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا وہ جہنم میں دوغلے چہرے کا مالک ہوگا۔ غیبت کرنے والا شخص تم سے ملاقات کرتا ہے اور تمہارے سامنے اس شخص کی غیبت کرتا ہے جس کی غیبت کو تم پسند کرتے ہو پھر وہ تمہارے مخالف کے پاس آجاتا ہے اور اس کے سامنے تمہارے بارے میں وہی حرکت کرتا ہے جو تمہارے ساتھ کی تھی اس طرح وہ دونوں میں سے ہر ایک کے پاس سے اپنا مقصد حاصل کرلیتا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک سے وہ بات پوشیدہ رکھتا ہے جو اس نے دوسرے فریق کے سامنے پیش کی تھی وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اس کے پاس بھائیوں کی طرح موجود ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کے بارے میں دشمنوں کا سا رویہ رکھتا ہے، جس کے پاس اس کے زیر اثر ہوتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اس کا اس کے نزدیک کوئی احترام نہیں ہوتا۔ وہ جس شخص کے پاس موجود ہوتا ہے اسے تزکیہ کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے اور جس شخص کے پاس موجود نہیں ہوتا اسے غیبت کے حوالے سے برا بنا دیتا ہے۔ اور اے اللہ کے بندو کیا تمہارے اندر کوئی بھی سمجھدار نہیں ہے اور کوئی بھی ایسا اصلاح پسند نہیں ہے جو ان لوگوں کے فریب کا قلع قمع کردے اور اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو واپس لوٹا دے بلکہ ان لوگوں کی خواہش کو سمجھ کر وہ لوگ جس طرف لے کے جا رہے ہیں انہیں وہیں رہنے دے اور ان سے ان کی ضرورت پوری کرلے یوں وہ اپنے دین کے ہمراہ ان کے دین کو بھی محفوظ کرلے گا۔ 
اے اللہ کے بندو! کیا تمہارے درمیان کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جو سمجھ دار ہو اور ان لوگوں کی اصلاح کرے اور ان کے فریب کو ختم کرے اور اسے اپنے مسلمان بھائی کی عزت کی خلاف ورزی کرنے سے باز رکھے بلکہ وہ یہ جان لے کہ ان کی خواہش کیا ہے اس چیز کے بارے میں جسے وہ ساتھ لے کر ان کی طرف گیا ہے پھر اس نے ان لوگوں سے اپنی ضرورت نکالی تو انہوں نے اس کی ضرورت پوری کردی یوں اس شخص نے ان لوگوں کے دین کے ہمراہ اپنے دین کو بھی خراب کرلیا ہے۔ اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو۔ اپنے غیر موجود لوگوں کے احترام کے حوالے سے بچو اور ان کے بارے میں اپنی زبان سے صرف اچھی بات استعمال کرو اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں اللہ کی خیرخواہی اختیار کرو اگر تم کتاب وسنت کے عالم ہو بے شک کتاب خود بات نہیں کرتی جب تک اس کی بات بیان نہ کی جائے اور سنت خود عمل نہیں کرتی جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے جب عالم خاموش رہے گا تو ناواقف شخص کیسے علم حاصل کرے گا اگر وہ ظاہر ہونے والی چیز کا انکار نہ کرے اور جس چیز کو ترک کیا گیا ہے اسکا حکم نہ دے تو پھر کیا ہوگا جبکہ اللہ نے ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اسے واضح طور پر بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں پرہیزگاری کمزور ہوگئی ہے اور عاجزی کم ہوگئی ہے علم کے حاصل کرنے والے لوگ وہ ہیں جو اس میں فساد پیدا کرتے ہیں اور یہ بات پسند کرتے ہیں کہ عالم کے طور پر ان کی پہچان ہو اور وہ یہ بات ناپسند کرتے ہیں علم کے ضائع کرنے کے حوالے سے ان کی شناخت ہوجائے وہ علم کے بارے میں اپنی خواہش نفس کے مطابق وہ بات بیان کرتے ہیں جو اس میں انہوں نے غلط شامل کردی ہے اور وہ کلمات میں تحریف کے حق کو چھوڑ کر اس باطل کی طرف لے جاتے ہین جس پر وہ عمل کرتے ہیں ان کے گناہ ایسے ہیں کہ ان کی مغفرت نہیں کی جاسکتی اور ان کی غلطیاں ایسی ہیں جن کا اعتراف نہیں کیا جاسکتا۔ دلیل حاصل کرنے والا اور ہدایت حاصل کرنے والا کیسے ہدایت حاصل کرسکتا ہے جبکہ دلیل ہی بھٹکانے والی ہو۔ یہ لوگ دنیا کو پسند کرتے ہیں اور یہ بات ناپسند کرتے ہیں اہل دنیا کی تعظیم کریں۔ یہ لوگ زندگی میں ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں لیکن باتوں کے حوالے سے ان سے الگ رہتے ہیں اور اپنی طرف سے اس بات کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے عمل کی طرف انہیں منسوب کیا جائے۔ لہذا جس چیز کی نفی کرنا چاہتے ہیں اس سے بری نہیں ہوتے اور جس چیز کی طرف منسوب یہ خود کو کرتے ہیں اس میں یہ داخل نہیں ہوتے اس لیے کہ حق کے اوپر عمل کرنے والا شخص بول رہا ہو یا خاموش ہو اس کی ایک ہی حثثیت ہوتی ہے یہ بات مذکور ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے میں ہر دانا شخص کی ہربات کو قبول نہیں کرتا بلکہ میں اس کی خواہش اور ارادے کی طرف دیکھتا ہوں اگر اس کی خواہش اور ارادہ میرے لیے ہو تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنے لیے حمد و ثناء سمجھتاہوں اگرچہ اس نے کوئی بات کہی ہو یا نہ۔ "وہ لوگ جنہیں تورات کا علم دیا گیا اور پھر انہوں نے اس کا علم حاصل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جو کتابوں کا بنڈل لاد لیتا ہے۔ اور اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے ہم نے جو تمہیں دیا ہے اسے قوت سے حاصل کرلو۔ یعنی جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرو لہذا کسی بھی حدیث پر صرف زبانی طور پر عمل کیے بغیر اکتفا نہ کرو کیونکہ حدیث پر عمل کیے بغیر صرف زبانی طور پر اسے بیان کرنا جھوٹ بولنے کے مترادف ہے اور علم کو ضائع کرنے کے مترادف ہے، اہل بدعت کی برائی اس لیے بیان نہ کرو کہ ان کی برائی بیان کرنے سے تمہیں شہرت ملے گی اس لیے کہ اہل بدعت کا فاسد ہونا تمہاری بہتری میں کوئی اضافہ نہیں کرے گا اور ان کی برائی بیان کرتے ہوئے زیادتی نہ کرو چونکہ یہ زیادتی تمہارے نفس کا فساد ہوگی۔ کسی طبیب کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ بیمار کا علاج کسی ایسی دوائی کے ذریعے کرے جو اسے ٹھیک نہ کرے بلکہ اور بیمار کردے کیونکہ جب وہ شخص بیمار ہوگا تو وہ اپنی بیماری میں مشغول ہونے کی وجہ سے دوسروں کو دوا دینے سے دینے سے باز آجائے گا، اسلۓ اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ پہلے اپنی ذات کے لیے صحت کا خیال رکھے تاکہ اس کی بدولت بیمار لوگوں کے علاج کے قابل ہوسکے۔ اس لیے تمہارا معاملہ یہ ہونا چاہیے کہ تم اپنے بھائیوں کی جس بات کا انکار کرتے ہو اس میں تم اپنے آپ کا بھی جائزہ لو اور اپنی طرف سے اپنے رب کے لیے خیر خواہی اختیار کرو یہ تمہاری طرف سے تمہارے بھائیوں کے لیے شفقت ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی سامنے رکھو کہ دوسروں کے عیوب کے مقابلے میں تمہیں اپنے عیوب کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے، ایک شخص دوسرے کے لیے خیرخواہی چاہتا ہے اور اس شخص کا تمہارے نزدیک حصہ ہونا چاہیے جو تمہارے لیے خیر خواہی کرتا ہے یا تمہاری طرف سے خیر خواہی کو قبول کرتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں اللہ اس شخص پر رحم کرے جو میری خامیوں سے مجھے آگاہ کرتا ہے کہ کیا تم لوگ یہ بات پسند کرتے ہو کہ تم لوگ کوئی بات بیان کرو تو اسے برداشت کیا جائے اور تم نے جو بات بیان کی ہے اگر اسی جیسی تم سے کہی جائے تو تم ناراض ہوجاؤ تم ان لوگوں کو اس حال میں پاتے ہو جس کا تم انکار کرتے ہو اور خود وہی کام سر انجام دیتے ہو کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اس بارے میں تم سے مواخذہ کیا جائے۔ تم اپنی رائے اور اپنے زمانے کے لوگوں کی رائے پر الزام لگاؤ اور بات کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرو اور عمل کرنے سے پہلے علم حاصل کرو کیونک عنقریب وہ زمانہ آجائے گا جس میں حق و باطل مشتبہ ہوجائیں گے اس زمانے میں نیکی گناہ بن جائے گی اور گناہ نیکی بن جائے گا اللہ کے قرب کے طلب گار کتنے ہی لوگ ہوں جو درحقیقت اللہ سے دور ہو رہے ہوں گے اور اللہ کی محبت کے کتنے ہی طلب گار ہیں جو اپنے بارے میں اللہ کی ناراضگی میں اضافہ کر رہے ہوں گے اللہ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جس کے لیے اس کے عمل کی برائی کو سجادیا گیا ہے وہ شخص اسے نیکی سمجھتا ہے۔ شبہات سے بچنا تم پر لازم ہے یہاں تک کہ شہادت کے ذریعے واضح حق تمہارے سامنے نمودار ہوجائے گا اس لیے کہ جو شخص علم کے بغیر اس چیز میں داخل ہوتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہے وہ شخص گناہ گار ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے کسی بات کا جائزہ لیتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کا جائز لیتا ہے 
تم پر قرآن پڑھنالازم ہے تم اسے اپنا پیشوا بناؤ اور اس سے ہدایت حاصل کرو اور گزرے ہوئے لوگوں کے آثار کی تلاش کرو اس لیے کہ اگر مذہی پیشوا اور رہنما اپنے مراتب کے زوال سے نہ ڈریں اور اپنے اعمال میں کتاب قائم کرنے کے ذریعے اپنی قدر و منزلت کے فساد سے نہ ڈریں اور انہوں نے جو تحریف کی ہے اسے واضح نہ کریں اور اسے نہ چھپائیں لیکن وہ لوگ جب وہ اپنے اعمال کے ذریعے کتاب کے خلاف عمل کرتے ہیں تو وہ ایسی چیز تلاش کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ قوم کو دھوکہ دے سکیں اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے کیا ہے انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ وہ اپنی حثییت خراب کر جائیں گے وہ لوگوں کے سامنے اس کے فساد کو بیان کرتے ہیں اور کتاب کے مفہوم میں تحریف کردیتے ہیں اور جہاں وہ تحریف نہیں کرسکتے وہاں اسے چھپا لیتے ہیں اور اپنی حثییت کو برقرار رکھنے کے لیے خود جو حرکت کی ہوتی ہے اس پر خاموش رہتے ہیں اور اس بات پر بھی خاموش رہتے ہیں جو لوگوں نے انہیں بچانے کے لۓ کیا ہوتا ہے تحقیق اللہ نے جن لوگوں کو کتاب دی ان سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے واضح طور پر اسے بتائیں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں بلکہ وہ لوگ تو خود اس کی طرف جھک گئے ہیں اور اس بارے میں انہوں نے لوگوں کے ساتھ نرمی کی ہے۔






قرآن کا ایک نام برہان بھی ہے:
حدثنا إسماعيل حدثني ابن وهب عن عمرو عن بکير عن بسر بن سعيد عن جنادة بن أبي أمية قال دخلنا علی عبادة بن الصامت وهو مريض قلنا أصلحک الله حدث بحديث ينفعک الله به سمعته من النبي صلی الله عليه وسلم قال دعانا النبي صلی الله عليه وسلم فبايعناه فقال فيما أخذ علينا أن بايعنا علی السمع والطاعة في منشطنا ومکرهنا وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا وأن لا ننازع الأمر أهله إلا أن تروا کفرا بواحا عندکم من الله فيه برهان



اسماعیل، ابن وہب، عمرو، بکیر، بسر بن سعید، جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگ عبادہ بن صامت کے پاس گئے وہ بیمار تھے، ہم لوگوں نے کہا اے اللہ آپ اصلاح کردیں آپ کوئی حدیث بیان کریں جو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو تاکہ اللہ آپ کو اس کا نفع پہنچائے، انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو بلایا اور ہم نے آپ کی بیعت کی آپ نے جن باتوں کی ہم سے بیعت لی وہ یہ تھیں، کہ ہم بیعت کرتے ہیں اس بات پر ہم اپنی خوشی اور اپنے غم میں اور تنگدستی اور خوشحالی، اور اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی صورت میں سنیں گے اور اطاعت کریں گے اور حکومت کے لئے حاکموں سے نزاع نہیں کریں گے لیکن اعلانیہ کفر پر، جس پر اللہ کی طرف سے دلیل ہو۔
[صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1952 (6663)- فتنوں کا بیان : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تم عنقریب ایسی باتیں دیکھو گے جنہیں تم برا سمجھو گے۔]



یہاں دلیل سے مراد کیا ہے ؟؟؟
حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري حدثنا أبي حدثنا عاصم وهو ابن محمد بن زيد عن زيد بن محمد عن نافع قال جا عبد الله بن عمر إلی عبد الله بن مطيع حين کان من أمر الحرة ما کان زمن يزيد بن معاوية فقال اطرحوا لأبي عبد الرحمن وسادة فقال إني لم آتک لأجلس أتيتک لأحدثک حديثا سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقوله سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم يقول من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة لا حجة له ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية



حضرت نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ واقعہ حرہ کے وقت جو یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ہوا عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے تو ابن مطیع نے کہا ابوعبدالرحمن کے لئے غالیچہ بچھاؤ تو ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ سے سنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اسکے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اسکی گردن میں کسی کی بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔
[صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 296 (11926- امارت اور خلافت کا بیان : فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں]



کسی صحابی کا قول یا عمل بھی ((دلیل)) ہوتا ہے:
أخبرنا سويد قال أنبأنا عبد الله عن عبيد الله بن عمر السعيدي قال حدثتني رقية بنت عمرو بن سعيد قالت کنت في حجر ابن عمر فکان ينقع له الزبيب فيشربه من الغد ثم يجفف الزبيب ويلقی عليه زبيب آخر ويجعل فيه ما فيشربه من الغد حتی إذا کان بعد الغد طرحه واحتجوا بحديث أبي مسعود عقبة بن عمرو
[سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 2007 (25645)- کتاب الا شربة : جو لوگ شراب کا جواز ثابت کرتے ہیں ان کی دلیل حضرت عبدالملک بن نافع والی حضرت ابن عمر سے مروی حدیث بھی ہے]



رقیة بنت عمرو بن سعید سے روایت ہے کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی گود میں تھی ان کے واسطے خشک انگور بھگوئے جاتے تھے پھر وہ اس کو دوسرے روز پیتے تھے پھر انگور خشک کر لیے جاتے تھے پھر وہ اس کو اگلے دن پیتے تھے پھر اس کو پھینک دیتے تھے اور ان لوگوں نے دلیل حضرت ابومسعود کی حدیث شریف (اگلی حدیث) سے حاصل کی ہے۔





أخبرنا علي بن حجر قال حدثنا عثمان بن حصن قال حدثنا زيد بن واقد عن خالد بن حسين قال سمعت أبا هريرة يقول علمت أن رسول الله صلی الله عليه وسلم کان يصوم في بعض الأيام التي کان يصومها فتحينت فطره بنبيذ صنعته في دبا فلما کان المسا جته أحملها إليه فقلت يا رسول الله إني قد علمت أنک تصوم في هذا اليوم فتحينت فطرک بهذا النبيذ فقال أدنه مني يا أبا هريرة فرفعته إليه فإذا هو ينش فقال خذ هذه فاضرب بها الحاط فإن هذا شراب من لا يؤمن بالله ولا باليوم الآخر ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضي الله عنه
[سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 2009(25647- کتاب الا شربة ]



حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ مجھ کو علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس دن روزہ رکھتے ہیں (اور کس دن نہیں رکھتے)۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ افطار کرنے کے واسطے نبیذ تیار رکھی جس کو میں نے تونبے میں (یعنی کدو کے تونبے میں) بنایا تھا۔ جس وقت شام ہوگئی تو میں اس کو لے کر خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ کو علم تھا کہ آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ دار ہیں تو میں آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی افطاری کے وقت یہ نبیذ لے کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس لاؤ اے ابوہریرہ! چنانچہ میں اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا تو وہ جوش مار رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لے جاؤ اور اسے دیوار پر مار دو۔ اس کو تو وہ شخص پیے گا جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر یقین نہ رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کی ایک دلیل حضرت عمر کا فعل بھی ہے۔ 

صحابی کا عمل کسی ثابت شدہ عمل کے منسوخ ہونے کی دلیل بھی بنتا ہے:
حدثنا موسی بن إسمعيل حدثنا حماد أخبرنا هشام بن عروة أن أباه کان يقرأ في صلاة المغرب بنحو ما تقرون والعاديات ونحوها من السور قال أبو داود هذا يدل علی أن ذاک منسوخ قال أبو داود وهذا أصح
حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (عروہ بن زبیر) مغرب کی نماز میں ویسی ہی سورتیں پڑھتے تھے۔ جیسی کہ تم پڑھتے ہو یعنی والعادیات اور اس جیسی دوسری سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہ (حضرت عروہ کا عمل) اس بات کی دلیل ہے کہ (مغرب میں طوال مفصل کی قرات) منسوخ ہے۔ اور ابوداؤد کہتے ہیں کہ یہی صحیح ہے۔





حدثنا أبو موسی محمد بن المثنی حدثنا سعيد بن سفيان الجحدري حدثنا شعبة عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل أفضل قال وفي الباب عن أبي هريرة وعاشة وأنس قال أبو عيسی حديث سمرة حديث حسن وقد رواه بعض أصحاب قتادة عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب ورواه بعضهم عن قتادة عن الحسن عن النبي صلی الله عليه وسلم مرسل والعمل علی هذا عند أهل العلم من أصحاب النبي صلی الله عليه وسلم ومن بعدهم اختاروا الغسل يوم الجمعة ورأوا أن يجز الوضو من الغسل يوم الجمعة قال الشافعي ومما يدل علی أن أمر النبي صلی الله عليه وسلم بالغسل يوم الجمعة أنه علی الاختيار لا علی الوجوب حديث عمر حيث قال لعثمان والوضو أيضا وقد علمت أن رسول الله صلی الله عليه وسلم أمر بالغسل يوم الجمعة فلو علما أن أمره علی الوجوب لا علی الاختيار لم يترک عمر عثمان حتی يرده ويقول له ارجع فاغتسل ولما خفي علی عثمان ذلک مع علمه ولکن دل في هذا الحديث أن الغسل يوم الجمعة فيه فضل من غير وجوب يجب علی المر في ذلک
[جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 483(26184) - جمعہ کا بیان : جمعہ کے دن وضو کرنا]
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے جمعہ کے دن وضو کیا اس نے بہتر کیا اور جس نے غسل کیا وہ غسل زیادہ افضل ہے اس باب میں حضرت ابوہریره انس اور عائشہ سے بھی روایت ہے امام ابوعیسی ترمذی فرماتے ہیں کہ سمر کی حدیث حسن ہے حضرت قتادہ کے بعض ساتھ اسے قتادہ سے وہ حسن سے اور وہ سمرہ سے روایت کرتے ہیں بعض حضرات نے قتادہ سے انہوں نے حسن سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلا روایت کیا ہے صحابہ کرام اور بعد کے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جمعہ کے دن غسل کیا جائے ان کے نزدیک جمعہ کے دن غسل کی جگہ وضو بھی کیا جا سکتا ہے امام شافعی کہتے ہیں کہ اس کی دلیل حضرت عمر کا حضرت عثمان کو یہ کہنا ہے کہ وضو بھی کافی ہے تمہیں معلوم ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا اور اگر یہ دونوں حضرات جانتے ہوتے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غسل کا حکم وجوب کے لئے ہے تو حضرت عمر حضرت عثمان سے چھپا ہو نہ ہوتا کیوں کہ وہ ہر حکم جانتے تھے لیکن اس حدیث میں اس بات پر دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا افضل ہے اور واجب نہیں ہے



ہر حدیثِ رسولؐ کو بطور دلیل استدلال نہیں کیا جا سکتا:
أخبرنا قتيبة قال حدثنا الليث عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي شريح أنه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث إلی مکة اذن لي أيها الأمير أحدثک قولا قام به رسول الله صلی الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح سمعته أذناي ووعاه قلبي وأبصرته عيناي حين تکلم به حمد الله وأثنی عليه ثم قال إن مکة حرمها الله ولم يحرمها الناس ولا يحل لامر يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفک بها دما ولا يعضد بها شجرا فإن ترخص أحد لقتال رسول الله صلی الله عليه وسلم فيها فقولوا له إن الله أذن لرسوله ولم يأذن لکم وإنما أذن لي فيها ساعة من نهار وقد عادت حرمتها اليوم کحرمتها بالأمس وليبلغ الشاهد الغاب
[سنن نسائی:جلد دوم:حدیث نمبر 788 (22814) - میقاتوں سے متعلق احادیث : مکہ میں جنگ کی ممانعت]



ابوشریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن سعید سے مکہ مکرمہ کی جانب لشکر روانہ کرتے ہوئے فرمایا اے امیر مجھ کو ایک بات بیان کرنے کی اجازت دو۔ جو کہ فتح مکہ کے موقع پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح کے دوسرے روز فرمائی تھی۔ اس کو میرے کانوں نے سنا اور دل نے محفوظ رکھا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خداوند قدوس کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا مکہ مکرمہ ایسا شہر ہے کہ جس کو لوگوں نے نہیں بلکہ خداوند قدوس نے حرام قرار دیا ہے اس وجہ سے کسی مسلمان کے واسطے جو کہ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ اس میں کسی کا خون بہا دے یا یہاں کا درخت کاٹ ڈالے اور اگر کوئی اپنے فعل پر بطور دلیل کے میرے قتال سے دلیل پکڑے تو تم اس سے کہہ دو کہ خداوند قدوس نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت عطا فرمائی تھی تم کو اجازت نہیں عطا فرمائی۔ پھر مجھ کو دن کا ایک حصہ اس کی اجازت تھی اور اس کے بعد اس کی حرمت اس طرح سے دوبارہ واپس آگئی جس طریقہ سے کہ کل تھی اور جو لوگ اس وقت موجود ہیں تو ان کو چاہیے کہ جو لوگ اس وقت موجود نہیں ہیں ان تک پہنچا دیں۔



چند مزید مثالیں : نبیؐ کو بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی خاص رخصت و اجازت ہونا [سورہ الاحزاب : ٥٠]، بطور معجزہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی نعش نبیؐ کو دکھلانے کا کشف ہونے اور ان کے سوا بقیہ غائب اجسامِ شہداءِ صحابہؓ کی "غائبانہ نمازِ جنازہ" نبیؐ و صحابہؓ کا نہ پڑھانا،


اسی طرح نبیؐ کو کشف سے بعض اہل قبور کا عذاب دکھایا جانا اور ان کے سوا پھر کسی پر نبیؐ و صحابہؓ کا عذاب یافتہ اہل قبور کی بجاۓ سب اہل قبور پر عذاب کی تخفیف کے لیے کھجور کے درخت کی ہری شاخوں کا نہ رکھنا رکھوانا وغیرہ وغیرہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ البَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ» ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: «لَعَلَّهُ يُخَفِّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا۔[بخاری، 1:53]
حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کا دو قبروں سے گزر ہوا فرمایا انہیں عذاب ہو رہا ہے اور عذاب کی کوئی بڑی وجہ بھی نہیں، ان میں سے ایک چغل خور تھا اور دوسرا پیشاب سے احتیاط نہ کرتا تھا (حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں) آپﷺ نے ایک سبز شاخ لیکر اس کے دو ٹکڑے کئے اور ہر ایک قبر پر رکھ دیئے پھر فرمایا جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی امید ہے کہ عذاب میں تخفیف رہے گی۔



========================================

دلائل ؛ قطعی اور یقینی اور غیر قطعی اور غیر یقینی دونوں طرح کے ہوتے ہیں، اصطلاح دین میں قرآن کی آیاتِ محکمات اور سنتِ متواترہ محکمہ اور اجماع کو قطعی دلیل کہتے ہیں، ان میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی، ان سے ثابت امور کو ماننا دین میں ضروری اور لازمی ہے، عقائد، فرائض اور محرمات کا ثبوت اسی درجہ کے دلائل سے ہوتا ہے۔

الأدلة الشرعية منها ما هو قطعي، ومنها ما هو ظني:فالدليل القطعي: ما كان قطعي السند والثبوت، وقطعي الدلالة أيضًا.وحكم هذا النوع من الأدلة وجوب اعتقاد موجبه علمًا وعملاً، وأنه لا يسوغ فيه الاختلاف.

(معالم اصول الفقه عند اهل السنة و الجماعة:۱/۸۱)

أما ما كان نص كتاب بين، أو سنة مجتمع عليها، فالعذر فيها مقطوع، ولا يسع الشك في واحد منها، ومن امتنع من قبوله اسُتتيب.

( الرسالة للامام الشافعى:ص۴۶)

وَقَدْ دَخَلَ فِيمَا ذَكَرْنَاهُ مِنْ الْإِيمَانِ بِاَللَّهِ : الْإِيمَانُ بِمَا أَخْبَرَ اللَّهُ بِهِ فِي كِتَابِهِ وَتَوَاتَرَ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجْمَعَ عَلَيْهِ سَلَفُ الْأُمَّةِ.

(العقیدة الواسطیة للامام ابن تيمية)

إجماع الصحابة حجة بلا خلاف

(إرشاد الفحول إلي تحقيق الحق من علم الأصول.: محمد بن علي بن محمد الشوكاني ۱/۲۱۷)

اسی میں روایت کی ایک قسم ’’ مشہور ‘‘ جو فنی اعتبار سے تو خبر واحد ہوتی ہے، لیکن تواتر کے درجہ سے کم اور حقیقی خبر واحد سے بلند تر ہوتی ہے اس سے ثابت امور  بھی عقائد ضروریہ میں شامل ہوسکتے ہیں جن کا منکر کافر شمار ہوگا۔

الثالث ما يكفر به على الأصح وهو المشهور المنصوص عليه الذي لم يبلغ رتبة الضرورة.

(الاشباه و النظائر۱/۴۸۸)




دلیل کی چار قسمیں ہیں: (١) قطعی الثبوت قطعی الدلالة، جیسے قرآن مجید کی آیات اور خبرمتواتر جس کی دلالت اپنے مدلول پر واضح ہو کوئی دوسرا احتمال نہ ہو. اس سے امر میں فرضیت اور نہی میں حرمت ثابت ہوتی ہے؛
(٢) قطعی الثبوت ظنی الدلالة، جیسے آیات کریمہ میں متعدد معانی کا احتمال ہو؛
(٣) ظنی الثبوت قطعی  الدلالة، جیسے خبر واحد جس کی دلالت اپنے مدلول پر قطعی اور واضح ہو؛
ان دونوں قسموں سے امر میں کبھی وجوب اور کبھی سنّیت  ثابت ہوتی ہے؛
(٤) ظنی الثبوت ظنی الدلالة، جیسے خبر واحد جو متعدد معانی کا احتمال رکھتی ہو، اس سے امر میں استحباب اور نہی میں کراہت تنزیہی ثابت ہوتی ہے. [المسائل والدلائل : ص ١٧-١٨



قطعی الثبوت کی دلالت


جواُمور شریعت میں قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہیں اگر ان کی اپنے مدعا پر دلالت بھی قطعی ہے تووہ امور قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہوں گے اور ان کا منکر یقینا کافر ہوگا؛ لیکن قطعی الثبوت امور کی اپنے مدعا پر دلالت اگرظنی ہو اور اس میں کسی اور معنی کی بھی گنجائش ہوتو اس صورت میں یہ دلیل قطعی بھی مفید ظن رہے گی، یہ معاملہ صرف حدیث متواتر تک محدود نہیں، قرآن کریم کے احکام میں بھی باعتبار معنی اگر کہیں اختلاف کی گنجائش ہوتو اس میں بھی صحیح بات کا منکر صرف گمراہ کہا جائے گا اسے کافر نہ کہہ سکیں گے؛ کیونکہ اس قطعی الثبوت بات کی دلالت میں ظنیت آگئی ہے، جس سے حکم بدل گیا ہے۔
دلالت میں قطعیت تواتر معنی سے بھی آجاتی ہے اور کبھی امت کا اجماع بھی اس کے معنی کوقطعی کردیتا ہے، علامہ شاطبیؒ نے اس موضوع پر ایک نہایت نفیس بحث کی ہے، لکھتے ہیں:

"وإنماالأدلة المعتبرة هناالمستقرأة من جملة أدلة ظنية تضافرت على معنى واحد حتى أفادت فيه القطع فإن للإجتماع من القوة ماليس للإفتراق ولأجله أفاد التواتر القطع وهذا نوع منه فإذا حصل من استقراء أدلة المسألة مجموع يفيد العلم فهو الدليل المطلوب وهوشبيه بالتواتر المعنوي"۔

   (الموافقات:۱/۳۶)

ترجمہ:جن دلائل کا یہاں اعتبار ہے وہ اس طرح کے ہیں کہ کچھ ادلہ ظنیہ کے استقراء سے ایک معنی واحد پر آجمع ہوئے ہیں؛ یہاں تک کہ ان میں قطعیت آگئی ہے، دلائل کے ایک موضوع پر مل جانے سے ان میں وہ قوت آجاتی ہے جوان کے علیحدہ علیحدہ ہونے میں نہ تھی اور اسی لیے تواتر بھی قطعیت کا فائدہ بخشتا ہے اور یہ بھی اسی کی ایک قسم ہے، جب کسی مسئلہ کے دلائل کا استقراء کرتے ہوئے ایسا مجموع حاصل ہوجائے جویقین کافائدہ دے تووہ دلیل اس باب میں مطلوب ہے اور یہ تواتر معنوی کی ہی طرح ہے۔

دلائل اپنے اپنے مقام پر گواخبار احاد ہوں؛ لیکن ان کا مجموعی مفاد ضرور یقین کا فائدہ بخشتا ہے، مثلاً:
(۱) آنحضرت   نے خبر دی کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ بن مریمؑ دوبارہ تشریف لائیں گے، یہ بات اپنی جگہ واضح تھی، عیسیٰ بن مریم کے تشخص میں امت میں کبھی کوئی اختلاف پیدا نہ ہوا تھا؛ بلکہ حضور   نے یہ وضاحت بھی فرمادی تھی کہ وہی عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے جومجھ سے پہلے آئے تھے اور میرے اور اُن کے مابین کوئی نبی نہیں گزرا، حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ حضور   نے فرمایا:

"لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ يَعْنِي عِيسَى وَإِنَّهُ نَازِلٌ"۔

(ابوداؤد، كِتَاب الْمَلَاحِمِ،بَاب خُرُوجِ الدَّجَّالِ،حدیث نمبر:۳۷۶۶، شاملہ، موقع الإسلام)

"وأجمعت الأمة على ماتضمنه الحديث المتواتر من: أن عيسى في السماء حي، وأنه ينزل في آخر الزمان"۔    

         (البحرالمحیط:۲/۴۷۳)

اس سے پتہ چلا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے آنے کی خبر جس طرح تواترِ معنوی سے یقینی درجہ رکھتی ہے، اس کی دلالت بھی اپنے مدعا پر اسی طرح واضح اور قطعی ہے؛ جہاں تک حدیث لانبی بعدی کی دلالت کا تعلق ہے، قاضی عیاضؒ (۵۴۴ھ) کا بیان اس باب میں بہت واضح ہے:

"لأنه أخبر النبي   أنه خاتم النبيين لانبي بعده و أخبر عن الله تعالى أنه خاتم النبيين وأنه أرسل كافة للناس وأجمعت الأمة على حمل هذا الكلام على ظاهره وأن مفهومه المراد منه دون تأويل ولاتخصيص فلاشك في كفر هؤلاء الطوائف كلها قطعا إجماعا وسمعا"۔

(الشفاء:۳۶۲)

ترجمہ:امت نے اس لفظ خاتم النبیین اور آنحضرت  کے احوال وقرائن سے یہی سمجھایا ہے کہ آپ کے بعدنہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول، اس مسئلہ ختم نبوت میں نہ کسی تاویل کی گنجائش ہے اور نہ کسی قسم کی تخصیص ہے۔

یہ گمان نہ کیا جائے کہ اس طرح کاتواتر اور یقین توچند امور کوہی حاصل ہوگا، ان کے ماسوا جوامور ہیں وہ توسب ظنی ہوں گے؛ پھراُن کا اعتبار کیسے کیا جائے؛ جواباً عرض ہے کہ اصول دین توواقعی سب قطعی ہونے چاہئیں اور یہ صحیح ہے کہ اسلام کے سب اصول دلائلِ قطعیہ یقینہ سے ثابت ہیں؛ لیکن فروع میں اگرکہیں باعتبار ثبوت یاباعتبار دلالت ظنیت آجائے تواس سے کوئی نقصان نہیں ہے۔



نقل اور عقل میں تعارض ہو تو ترجیح کسے ہو گی؟
عقل پرستوں کا موقف یہ ہے کہ جب عقل اور نقل میں تعارض ہو جائے تو ترجیح بہر صورت عقلی نتائج ہی کو ہو گی کیوں کہ اگر اس طرح نہ کیا جائے تو پھر عقل اور نقل کے دو متضاد موقف بیک وقت تسلیم کرنے پڑیں گے، یا دونوں موقف چھوڑنے پڑیں گے جو ( اجتماع نقیضین) اور رفع نقیضین کی وجہ سے ) محال ہیں۔

اور نقل کو عقل پر ترجیح دینا بھی محال ہے، کیوں کہ جب نقل کا پورا کارخانہ عقل پر قائم ہو تو پھر نقل کو ترجیح دینے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم فرع کے ذریعے اصل کو باطل کر رہے ہیں، حالاں کہ یہ صورت کسی طرح درست نہیں ، لہٰذا عقل اور نقل میں تعارض ختم کرنے کی ایک ہی درست صورت ہے کہ عقل کو ترجیح دی جائے اور نقل کی تاویل کی جائے۔


تعارض کی چند صورتیں اور اس کا حکمدلیل عقلی ونقلی میں تعارض کی چار صورتیں عقلاً متحمل ہیں۔

اول یہ کہ دلیل نقلی قطعی ہو، جس میں کسی طرح گنجائش جانب مخالف کی نہ ہو اور دلیل عقلی بھی اسی طرح قطعی ہو۔

دوم یہ کہ دلیل نقلی بھی ظنی ہو اور دلیل عقلی بھی ظنی ہو ۔

تیسرے یہ کہ دلیل نقلی قطعی ہو اور دلیل عقلی ظنی۔

چوتھے یہ کہ دلیل عقلی قطعی ہو اور دلیل نقلی ظنی ہو ۔

اب ان چاروں صورتوں کے احکا م تفصیل سے پڑھیے۔

پہلی صورت اور اس کا حکم
ان میں سے صورت اول، یعنی یہ کہ دلیل شرعی قطعی مخالف ہو دلیل قطعی عقلی کے اس کا ذکر ہیفضول ہے، کیوں کہ یہ صورت وقوع میں نہیں آئی اور یہ دعوی کیا جاتا ہے اور علی رؤس الاشہاد ( گواہوں کے رو برو) کہا جاتا ہے کہ شریعت اسلامی کو یہ فخر حاصل ہے کہ کوئی بات اس کی، جو قطعی طور پر شریعت کے نزدیک مانی ہوئی ہو ، دلیل عقلی قطعی کے خلاف نہیں اور قیامت تک کوئی بھی ایسی بات پیش نہیں کر سکتا اور یہی دلیل ہے اس شریعت کے حق ہونے کی بخلاف دیگر مذاہب کے، مثلاً موجودہ نصرانیت کہ اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کے لیے بیٹا ہونا الله تعالیٰ کا ثابت کیا جاتا ہے، جو مستلزم ہے جزئیت کو اور جزئیت مستلزم ہے حدوث کو اور حادث خدا نہیں ہو سکتا ۔یہ دلیل عقلی قطعی کے خلاف ہے۔

تنبیہ
بعض شرعی باتوں کو عوام میں خلافِ عقل کہا جاتا ہے، جیسے معراج شریف ، عذاب قبر ، پل صراط، وغیرہ ۔حالاں کہ یہ محض بے عقلی ہے ، یہ چیزیں خلافِ عادت ہیں، جس کو مستبعد ( دشوار) کہا جاتا ہے، خلافِ عقل نہیں… چوں کہ شریعت حقہ اسلامی میں کہیں دلیل نقلی قطعی اور دلیل عقلی قطعی میں تعارض نہیں ہوا، اس وجہ سے اس کا تو بیان ہی چھوڑ دیا گیا۔

تعارض کی دوسری صورت اور اس کا حکم
اور صورت دوم یعنی یہ کہ دلیل نقلی بھی ظنی ہو اور دلیل عقلی بھی ظنی ہو۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اس وقت میں دونوں اس بات میں برابر ہیں کہ جانب مخالف کا کسی درجہ کا احتمال رکھتی ہیں ، لیکن اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ عقلی دلیل کو ترجیح دیں اور دلیل نقلی کو تاویل وتوجیہ کرکے دوسرے بعید احتمال پر محمول کریں ،کیوں کہ یہ تحریف کی ایک قسم ہے ، شریعت کا جو حکم ہمیں معلوم ہوا ہے وہ قرآن کے الفاظ یا حدیث کے الفاظ کے ذریعے معلوم ہوا ہے او راس صورت دوم میں وہ دلیل گو ،دوسرے معنی کو بھی محتمل ہے مگر برابر درجے میں نہیں کیوں کہ ہر لفظ کے ایک معنی قریب ہوتے ہیں، ایک معنی بعید، حتی الامکان الفاظ کو ظاہری اور قریبمعنی پر محمول کرنا چاہیے، ہاں! اگر کوئی وجہ معقول ہو اور الفاظ میں گنجائش ہو تو اور بات ہے، بغیر اس کے کسی عبارت کے معنی قریب کا چھوڑنا ہر گز درست نہیں اور اگر ایسا کیا جائے تو وہ فطری قاعدے کے خلاف ہے ۔ اسی وجہ سے ہم نے اسے تحریف کہا ہے ۔ کیوں کہ یہ قاعدہ فطری ایسا ہے کہ دنیا کے اکثر کاروبار اسی قاعدے پر چل رہے ہیں، مثلاًکوئی ریل کے اسٹیشن پر پہنچ کر نوکر سے کہے ٹکٹ لے لو اور وہ اس کی تعمیل اس طرح کرے کہ ایک پیسہ کا ٹکٹ ڈاک خانہ کا خریدے اور آقا صاحب کے ہاتھ میں دے دے تو یہ حکم کی تعمیل نہ ہو گی، اس میں اس سے زیادہ کیا غلطی ہے کہ اس نے ٹکٹ کے الفاظ کو ظاہری معنی سے پھیر دیا، کیوں کہ ٹکٹ کا لفظ بوقت اسٹیشن پر ہونے کے اسی معنی میں استعمال کیا جاتا ہے کہ ریل میں سفر کے لیے کار آمد ہو، گو ڈاک خانہ کے ٹکٹ پر بھی بولا جاتا ہے جب ایک معمولی انسان کے حکم میں معنی قریب کو بدلنا بلاوجہ درست نہیں تو شریعت کے الفاظ میں، جو احکم الحاکمین کے فرمودہ ہیں ،یہ بدلنا کیسے درست ہو گا…؟ اس سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ الفاظ کے معنی قریب چھوڑ کر معنی بعید میں استعمال کرنا درست نہیں، بنا بریں صورت مذکورہ میں، یعنی جب دلیل نقلی ظنی اور دلیل عقلی ظنی میں تعارض ہو تو دلیل نقلی کو معنی قریب سے پھیرنا جائز نہ ہو گا، کیوں کہ بے وجہ ہے اور دلیل عقلی کا تعارض اس کے لیے وجہ بننے کی قابلیت نہیں رکھتا، کیوں کہ وہ خود ظنی ہے ، قطعی طور پر وہ دلیل اس سے تعارض نہیں رکھتی ، دلیل عقلی میں کیوں تاویل نہ کی جائے یا اس کو غلط سمجھا جائے تو کون سا حرج ہو جائے گا؟ ہزاروں عقلی ظنی باتیں ایسی ہیں کہ مدتوں تک دنیا کے نزدیک مسلم رہتی ہیں، بعد ازاں غلط ثابت ہو جاتی ہیں، خصوصاً آج کل کی سائنسی تحقیقات تو بہت ہی جلد بدلتی ہیں۔

اسی صورت دوم کی مثال یہ ہے کہ قرآن شریف میں آیا ہے:﴿وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ اللَّیْْلَ وَالنَّہَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَسْبَحُون﴾․ (الانبیاء:33)
( حق تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیا رات کو اور دن کو اور آفتاب کو اور چاند کو یہ دونوں آسمان میں چلتے ہیں۔)

یسبحون سباحت سے مشتق ہے ۔ سباحت تیرنے کو کہتے ہیں یعنی ایسے چلتے ہیں جیسے کوئی پانی میں تیرتا ہے ظاہر ہے کہ تیرنے میں تیرنے والے کا جسم ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے ،یعنی پانی کو چیر کر ادھر ادھر پہنچ جاتا ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ستارے اسی طرح آسمان میں چلتے ہیں، اس کو حرکت انیّیہ کہتے ہیں، یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ میں کل جسم متحرک کا منتقل ہو جانا اور بعض حکماء ان کے لیے صرف حرکتِ وضعیہ کے قائل ہوئے ہیں، حرکتِ وضعیہ اس کو کہتے ہیں کہ گول چیز اپنے محور ،یعنی کیلی پر حرکت کرے، اس میں یہ ہوتا ہے کہ جسم متحرک کے اجزا تو ادھر سے ادھر کو ہٹتے ہیں لیکن کل جسم متحرک کی جگہ نہیں بدلتی، جیسے چکی گھومتی ہے۔ حکماء کی یہتحقیق آیت کے مضمون سے متعارض ہے لیکن حکما کی یہ تحقیق ظن کے درجے سے آگے نہ بڑھ سکی کیوں کہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل قطعی نہیں ہے تو اس صورت میں آیت کے الفاظ کے صریح معنوں کو حکماء کی اس ظنی تحقیق کی وجہ سے چھوڑنا اور کوئی دور کی تاویل کرنا کہ مثلاً یہ کہ دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتاہے کہ یہ آسمان میں تیر رہے ہیں اور حرکتِ انییہ ( کل جسم متحرک کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانا) ان کو حاصل ہے۔ ورنہ درحقیقت آسمان میں کیل کی طرح گڑے ہوئے ہیں ، ہاں اپنے محور پر چکی کی طرح گھوم رہے ہیں ، ایسا کہنا جائز نہیں کیوں کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں کسی نے آسماں پر جاکر دیکھا نہیں ۔ زمین میں بلکہ اپنے ہی جسم کے اندر جو چیزیں ہیں ان ہی کی تحقیق قطعی طور پر نہیں ہوتی تا بآسمان چہ رسد #
        تو کار زمین رانکو ساختی
        کہ بآسمان نیز پر داختی
…… خلاصہ یہ کہ جب دلیل عقلی ظنی اور دلیل نقلی ظنی میں تعارض ہو تو دلیل نقلی کو چھوڑنا یا اس میں تاویلات کرنا اور دلیل عقلی ظنی کے مطابق بنانا درست نہیں۔




تعارض کی تیسری صورت اور اس کا حکمتیسری صورت یہ ہے کہ دلیل نقلی قطعی ہو اور دلیل عقلی ظنی ہو۔ اس کا حکم ظاہر ہے کہ … اس صورت میں دلیل نقلی کو ترجیح دی جائے گی اور دلیل عقلی کو ظنی ماننا درحقیقت اس بات کا اقرار ہے کہ اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یقین کے درجے میں نہیں ہے ۔

اس کی مثال یہ ہے کہ کسی با اعتماد افسر نے کسی ملزم کے بارے میں خبر دی کہ یہ گیارہ بجے ڈاکے میں شریک تھا او رمیں نے اسے خود دیکھا ہے۔ اور گواہ صرف اتنا بیان کر دیں کہ دس بجے کی گاڑی آنے سے پہلے ہم نے اسے دیکھا ہے کہ یہ شہر سے اسباب لیے ہوئے اسٹیشن کی طرف با ارادہ دہلی جارہا تھا، یہ اس کو مستلزم ہے کہ ملزم گیارہ بجے ڈاکہ میں شریک نہ تھا، لیکن یہ لازم آنا ظنی ہے، قطعی نہیں، اس واسطے کہ ہو سکتا ہے کہ شہر سے اس طرح نکلنا بھی اس کا صحیح ہو اور ڈاکے میں شریک ہونا بھی صحیح ہو۔ وہ اس صورت سے کہ ملزم دس بجے سے پہلے شہر سے نکلا ہو، لیکن اسٹیشن تک نہیں گیا اور اسباب کہیں رکھ کہ ڈاکے میں شریک ہو گیا، بلکہ بہت ممکن ہے کہ اس نے یہ صورت اسباب باندھنے اور مسافر بننے کی اسی واسطے بنائی ہو کہ لوگ جاتے دیکھ لیں اور ڈاکہ زنی کا شبہ اس پر نہ ہو سکے۔

تو یہاں اس واقعہ کا اس ملزم کے ڈاکے میں شریک نہ ہونے کو مستلزم ہونا ظنی ہوا۔ یعنی یہ دلیل عقلی ظنی ہے اور افسر کا بچشم خود اس کو ڈاکے میں شریک دیکھنا دلیل نقلی قطعی ہے، جس میں کوئی احتمال وشک وشبہ نہیں۔ ہر اہل عقل جانتا ہے کہ اس صورت میں دلیل نقلی کو، یعنی افسر مذکور کی خبر کو دلیل عقلی پر ترجیح ہو گی۔ کیوں کہ دلیل عقلی محتمل ہے اور دلیل نقلی غیر محتمل ۔ اس سے ثابت ہوا کہ تعارض اولہ کی صورت سوم میں یعنی جب دلیل نقلی قطعی ہو اور دلیل عقلی ظنی ہو تو دلیل نقلی ہی کو ترجیح ہو گی، اس کے خلاف کرنا خلاف عقل ہے۔

تعارض کی چوتھی صورت اور اس کا حکم
چوتھی صورت یہ ہے کہ دلیل شرعی ظنی ہو اور دلیل عقلی قطعی ہو اس کا حکم یہ ہے کہ یہاں دلیل عقلی کو ترجیح دی جائے گی اور دلیل شرعی کے وہ معنی لیے جائیں گے جس کو وہ محتمل ہے ، یہ حکم بالکل فطرت سلیمہ کے موافق ہے۔ اس صورت میں یہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں،بلکہ خلاف ادب ہے کہ دلیل شرعی کو چھوڑ دیا گیا۔ یہ چھوڑنا نہیں، بلکہ اس کے ظنی ماننے کا اظہار ہے ، کیوں کہ ظنی کہنے کے معنی یہی تھے کہ اس میں دوسرے معنی کی بھی گنجائش ہے ، جب ایک کلام میں دو معنی لیے جاسکتے ہیں تو ایک معنی کسی معقول وجہ سے مراد لیناجس کی اجازت متکلم کی طرف سے بھی ہو، متکلم کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جیسا کہ ظاہر ہے۔

اس کی مثال عرف میں یہ ہے کہ ایک آقا نوکر کو حکم دے کہ بازار سے ایک تانبے کا لوٹا خرید لاؤ۔ اس کے ظاہر اور متبادر معنی یہ ہیں کہ قریب کے بازار سے خرید لاؤ، لیکن کلام اس دلالت میں قطعی نہیں ہے، کیوں کہ بازار قریب کے بازار کو بھی کہہ سکتے ہیں اور دور کے بازار کو بھی ، تو یہ دلیل قریبی بازار کے واسطے ظنی ہوئی، اس بازار میں لوٹے بکتے ہی نہیں تو اس وقت عقلاً کیا تجویز کریں گے ؟ کیا اس نوکر کو یہ کرنا چاہیے کہ بازار کے لفظ کو بازار قریب ہی کے معنی پر محمول کرکے اور تلاش کرکے خاموش ہو کے بیٹھا رہے ؟ اگر ایسا کرے تو وہ نوکر مطیع اور کار گزار سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اور کیا اگر وہ دور کے بازار سے جاکر لوٹا خرید لائے تو نافرمان قرار دیا جائے گا؟ ہر گز نہیں۔ اگر ایسا کرے گا تو آقا سر زنش کرے گا کہ میں نے کب یہ کہا تھا کہ دور کے بازار تک مت جانا، جب میرا کلام دونوں بازاروں کو شامل تھا اور قریب کے بازار میں لوٹا نہیں ملا تو دوسرے بازار تک کیوں نہیں گیا ؟ اس کی بنا اسی اصول پر ہے کہ دلیل نقلی ظنی کو دلیل عقلی قطعی پر کیوں ترجیح دی ؟ اس وقت نو کر اگر یہ عذر کر دے کہ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کے خوف سے میں دور کے بازار میں نہیں گیا تو جواب یہی دیا جائے گا کہ میرا حکم تو اس بازار کے شمول کا احتمال رکھتا تھا، خلاف ورزی کیسے ہوئی؟ بلکہ یہ عین تعمیل حکم اور کار گزاری تھی۔

اس مثال سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ اصول عقلِ سلیم کے بالکل موافق ہے کہ دلیل نقلی ظنی کو جب دلیل عقلی قطعی سے تعارض ہو تو دلیل عقلی پر عمل کرنا چاہیے او راس پر عمل کرنے سے دلیل نقلی کو ترک کرنا لازم نہیں آتا، بلکہ اس کی ظنیت کو تسلیم کرنا ہے او رمتکلم کے عین مراد کو سمجھنا اور تعمیل کرنا ہے۔

اس کی شرعی مثال یہ ہے کہ سائنس دانوں کے مشاہدے سے اورریاضی کے قواعدیقینیہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ آفتاب زمین سے علیٰحدہ ہے اور اپنی حرکت میں کسی حالت میں زمین سے نہیں چھوتا اور قرآن شریف میں ذوالقرنین کے قصے میں یہ الفاظ آئے ہیں ﴿وجدھا تغرب فی عین حمئة﴾ یعنی ”ذوالقرنین ایک ایسی جگہ پر پہنچے کہ وہاں آفتاب کو پایا ایک کیچڑ والے چشمے میں غروب ہوتا ہے “ ان الفاظ سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں آفتاب پانی او رکیچڑ میں غروب ہوتا تھا تو زمین سے اس کو مس ہوا؟ یہ دلیل عقلی مذکورہ کے خلاف ہے چوں کہ یہاں دلیل نقلی کی دلالت ظنی ہے، اس واسطے کہ یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ وہاں آفتاب پانی او رکیچڑ میں چھپتا تھا، بلکہ یوں کہتی ہے کہ ذوالقرنین نے یوں محسوس کیا ، اس کو بادی النظر میں ایسا معلوم ہونا کہتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر ہمارے محاورے میں بھی ایسے ہی لفظ بولتے ہیں ۔ مثلاً حاجی لوگ سمندر کی حالت بیان کرتے ہیں کہ اتنا لمبا چوڑا ہے کہ ہفتوں تک کہیں خشکی کا سامان نظر نہیں آتا۔ آفتاب پانی ہی میں سے نکلتا ہے او رپانی ہی میں چھپتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ واقع میں ایسا ہی ہے کہ آفتاب پانی کے اندر سے نکلتا ہے او رپانی کے اندر چھپتا ہے، بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ آنکھ سے ایسا نظر آتا ہے ، کیوں کہ جہاں تک نظر پہنچتی ہے ،پانی ہی پانی ہوتاہے تو جو چیز نئی نیچے سے اوپر کو آئے گی وہ پانی ہی میں سے اٹھتی نظر آوے گی ، چوں کہ آیت کی دلالت آفتاب کے زمین سے مس کرنے (چھونے ) پر بالکل ظنی ہے او راس میں دوسرے معنوں کی بہت گنجائش ہے، دلیل عقلی اس کے خلاف بالکل قطعی ہے، لہٰذا دلیل عقلی کو بحال رکھا جائے گا اور دلیل نقلی کے وہ معنی لیے جائیں گے جس کو وہ محتمل ہے، یعنی بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آفتاب پانی میں چھپتا ہے۔

مطلب یہ ہو گا کہ وہ ایسی جگہ تھی کہ آگے اس کے مغرب کی طرف پانی ہی پانی تھا، حتی کہ آفتاب پانی میں غروب ہوتا نظر آتا تھا۔ ( اسلام اور عقلیات، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، تسہیل مصطفیٰ خان بجنوری، ص:105,97)

یہ وہ صورت ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ دلیل عقلی کو دلیل نقلی پر ترجیح ہو گی، متکلمین بھی صرف اسی صورت میں دلیل عقلی کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کا دعوی کہ عقل نقل پر مقدم ہے صرف اسی صورت کے متعلق ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله نے تو فرمایا کہ ایسے موقع پر عقل کو ترجیح صرف اس لیے دی جاتی ہے کہ یہ قطعیت کے درجے پر فائز ہوتی ہے، محض عقل کی بنیاد پر اسے راجح قرار نہیں دیا جاتا۔ (موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول، 45/1، مصر)


علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله نے اسی موضوع پر تصنیف کر دہ کتاب ”موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول“ میں تفصیل سے ان کمزوریوں کی نشان دہی بھی کی ہے جو عقل کو نقل پر ترجیح دینے کی صورت میں پیش آتی ہیں ، لہٰذا قدرے اختصار کے ساتھ اس کے چند مباحث ذکر کیے جاتے ہیں، تاکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے کہ عقل پرستوں کا موقف خود عقل کے نزدیک بھی حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

عقل پرستوں کے موقف پر علامہ ابن تیمیہ کا تجزیہ
علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله کا کہنا ہے کہ جو لوگ عقلی او رنقلی دلائل میں تعارض کی صورتیں پیدا کرکے تاویل کی اہمیتوں پر زور دیتے ہیں، ان میں پہلا نقص تو یہ ہے کہ یہ خود آپس میں کسی موقف پر متفق نہیں۔

ان میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں جن کا موقف ہے کہ انبیاء علیہم السلام نے جنت، جہنم ، آخرت، ملائکہ کے متعلق جن امو راور کیفیات کا اظہار کیا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،روز محشر میں نہ ان جسموں کا بعینہ اعادہ ہو گا نہ جنت کا عیش وسرور اور جہنم کے مصائب وتکلیف جسمانی اور مادی نوعیتوں کی حامل ہوں گی، انبیاء نے یہ خلاف حقیقت چیزیں اس مصلحت کے تحت بیان کی ہیں کہ اس کے بغیر علم سے کوری عوام کے ذہن میں ان حقائق کا اتارنا ناممکن تھا۔ ابن سینا نے ”رسالة أضحویہ“ میں یہی مسلک اختیار کیا ہے ۔ ( سرسید کا موقف بھی یہی ہے، چناں چہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ” انبیاء تمام کافہ أنام (تمام لوگوں) کی تربیت کرتے ہیں جن کا بڑا حصہ قریب کل کے محض ناتربیت یافتہ جاہل وحشی ، جنگلی ، بدوی، بے عقل وبدوماغ ہوتا ہے ۔ اس لیے انبیاء کو یہ مشکل پیش آئی ہے کہ ان حقائق ومعارف کو… ایسے الفاظ میں بیان کریں کہ تربیت یافتہ دماغ اور کوڑی مغز دونوں برابر فائدہ اٹھائیں… وعدہ، وعید، دوزخ وبہشت کے جن الفاظ سے بیان ہوئے ہیں ان سے بعینہ وہی اشیاء مقصود نہیں۔“ تفسیر القرآن: البقرہ، تحت آیة رقم:25)

اس گروہ کو وہمی گروہ کے نام سے موسوم کرنا چاہیے ، ان میں پھر دو گروہ ہیں ،ایک گروہ کا کہنا ہے کہ انبیاء جنت، جہنم، آخرت کی حقیقت سے واقف تھے، مگر عوام کی ذہنی سطح کے پیش نظر بیان کرنے سے قاصر تھے، دوسرا گروہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بڑہانکتا ہے کہ خود انبیاء بھی ان حقائق سے ناواقف تھے ، ان کا علم بھی فقط ظواہر تک محدود تھا، علم وادراک کا یہ شرف صرف حکماء اور فلاسفہ کو حاصل ہے، جو ظواہر پر قناعت کرنے کے بجائے اس کے پوشیدہ معانی اور حقائق کی جلوہ طرازیوں سے بھی بہرہ مند ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوسرے گروہ کا موقف ہے کہ انبیاء نے سرے سے ایسے ظواہر کی تلقین ہی نہیں کی جس سے جنت وجہنم، ملائکہ وغیرہ کی جسمانیت اور مادی ہونے پر استدلال کیا جاسکے، چناں چہ قرآن کریم میں جہاں جہاں جنت وجہنم ، ملائکہ کے متعلق الفاظ ومعانی جسمانیت اور مادیت کے سانچے میں ڈھلتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں تو یہ فوراً تاویل کے درپے ہو جاتے ہیں، جو درحقیقت تحریف ہوتی ہے ۔ اس لیے یہ گروہ درحقیقت محرفین کا گروہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ عقل پرست کتاب الله کی مخالفت پر تو متفق ہیں، لیکن خود کسی رائے پر اتفاق نہیں کرسکتے۔ (بیان موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول: 4,3/1، مصر، مجموعہ الفتاوی لابن تیمیة:84,83/4، بیروت)

اگر دینی حقائق، الہیات، ما بعد الطبعیات کی صحت واستواری کا تعلق عقل وادراک کی طرفہ طرازیوں سے ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ عقل سے کیا مراد ہے ؟ کیا عقل سے ”غزیرہ“ وہ مَلَکہ اور صلاحیت واستعداد مراد ہے جو تفاوت درجات کے ساتھ تمام انسانوں میں موجود ہے ؟ یا وہ علوم وفنون مراد ہیں جو عقل کی روشنی میں پروان چڑھتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سے وہ ”غزیرہ“ ملکہ اور صلاحیت مراد نہیں ہو سکتی، کیوں کہ وہ تو عقل اور نقل دونوں کے لیے بمنزلہ شرط کے ہے ، اس کا اپنا کوئی مستقل مؤقف یا مسلک ہے ہی نہیں۔ اس لیے وہ کسی عقیدے اور نظریے کا حامی ہے نہ مخالف۔

رہی دوسری صورت کہ اس سے مراد وہ علوم وفنون ہیں جن کو عقل ودانش کی کارفرمائیوں نے جنم دیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ اس کا براہ راست دین سے کیا تعلق ؟ دینی حقائق ( توحید ، رسالت ونبوت اور معاد، جنت وجہنم وغیرہ) کا ثبوت عقل کی بنیاد پر نہیں، بلکہ نبی اوررسول کی خبر کی بنا پر تسلیم کیا گیا ہے، اس صورت حال میں علوم عقلی کو دین کی بنیاد ٹھہرانا اصولاً غلط ہے، نہ ان سے دینی حقائق کی صحت واستواری پر کوئی روشنی پڑتی ہے اور نہ ان پر ان کا وجود وثبوت مبنی ہے۔ (موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول:47/1، مصر)

نقلیات پر عقلیات کو ترجیح دینے کا موقف اس بنا پر بھی مسترد کرنے کے لائق ہے کہ جہاں نقلیات کا دائرہ یقین اور قطعیت لیے ہوئے ہے وہاں عقلیات سراسر نقص کا شکار ہیں، عقل ایک ہی موقف پر دو متضاد نتائج فراہم کرسکتی ہے ، چناں چہ عقل پرستوں کی متضاد آرا کی وجہ سے حق و باطل کا فیصلہ کرنا ناممکن ہے، مثلاً قرآن کریم میں روئت بار ی تعالیٰ کی خوش خبری سنائی گئی ہے او راہل سنت والجماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ آخرت میں اہل ایمان الله تعالیٰ کے دیدار سے لطف اندوز ہوں گے اور وہ محبوب حقیقی اپنے جلوے دکھا کر مشتاقانِ دیدار کے قلب وذہن کی بے قراریوں کو سامان تسکین فراہم کرے گا۔ لیکن عقل نے سوال اٹھایا کہ ”روئت“ کے معنی ”مرئی “ ( جسے دیکھا جارہا ہے ) کو نظر وبصر کا ہدف ٹھہرانے کے ہیں ؟ یا اس کا تحقق اس کے بغیر بھی ممکن ہے ؟ عقل پرستوں کا ایک گروہ ضرورت عقلی کی بنا پر کہتا ہے کہ یہ قطعی ناممکن ہے ، کیوں کہ عقل کسی ایسی روئت کا تصور ہی نہیں کر سکتیجس میں ”مرئی“ ( جسے دیکھا جارہا ہے ) کے وجود کا احاطہ نہ ہو پائے ( روئت بار ی تعالیٰ کو تسلیم کر لینے سے لازم آئے گا کہ الله تعالیٰ کا وجودمحدود ہو، جو آنکھوں کا ہدف بن سکے) دوسرا گروہ عقل کی بنیاد پر اس کی تردید کرتا ہے ، اس کا دعوی ہے کہ ”روئت “ کا مفہوم ”مرئی“ کا احاطہ کیے بغیر بھی پورا ہو سکتا ہے ۔ (موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول: 81/1، مصر)

اسی طرح الله تعالیٰ کی صفت علم کے بارے میں ایک گروہ کہتا ہے کہ علم الہیٰ جزئیات کو شامل نہیں دوسرا گروہ کہتا ہے علم الہی جزئیات زمانی کوبھی شامل ہے ، تیسرا گروہ کہتا ہے علم الہی جزئیات زمانی کو شامل تو ہے، لیکن جزئیات زمانی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ کلی کی حیثیت سے۔ ( المسامرہ، ص:68)

عقلیات کی دنیا میں ریاضی ہی ایک ایسا فن ہے جس کے قطعی ہونے پر عقل پرستوں کو ناز ہے، لیکن اسے بھی حرف آخر نہیں قرار دیتے۔ معروف ریاضی وان بطلیموس کی مشہور کتاب ”المجسطی“ جو ریاضی کے نتائج پر مبنی ہے اس کے کئی مقدمات بحث طلب ہیں کئی ایسے ہیں جو صراحتاً غلط اندازوں پر مبنی ہیں۔

ریاضی کے بعد طبعیات کا درجہ ہے، جس میں بنیادی سوال یہ ہے کہ جسم کی حقیقت کیا ہے ؟ اس بنیادی سوال پر بھی اہل عقل کا اتفاق نہ ہو سکا کوئی اسے مادہ اور صورت سے تربیت پذیر مانتا ہے، کوئی کہتا ہے یہ اجزاء لاتتجزی سے بنا ہے او رکچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ضرورت عقلی کی بنیاد پر ان دونوں صورتوں کو تسلیم نہیں کرتے ۔ پھر یہ اجزاء لاتتجزی یا جواہر فردہ کیا ہیں ؟ اس پر بھی کوئی فیصلہ کن رائے نہیں ۔ ابوالحسن البصری جیسا دقیقہ رس، علامہ جوینی جیسا معقولی ، ابوعبدالله الخطیب جیسا فاضل… سب عقل کی پر پیچ وادیوں میں حیران وپریشان ہیں، کسی مسئلے پر روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دیتی۔ (موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول:89,88/1)

اب بتائیے جو عقل ہر موقف پر متضاد رائے فراہم کر سکتی ہو اسے قطعیت کے درجے پر فائز کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ قطعی مؤقف تو اسے کہتے ہیں جس کے برعکس دوسرا موقف قائم نہ ہو سکے، یہاں تو اختلاف آرا کا ایک طوفان برپا ہے ، ایک ہی شے عقلی لحاظ سے حق بھی ہے باطل بھی ، ہدایت بھی ہے گم راہی بھی۔

اس کے برخلاف قرآن وحدیث میں ہر بنیادی اور اصولی مسئلہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اس کے دلائل و براہین میں کوئی تضاد کا پہلو نہیں، اسی بات کو قرآن کریم نے اپنے وحی ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ ﴿أَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْْرِ اللّہِ لَوَجَدُواْ فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْرا﴾․ ( النساء:82)
ترجمہ:” کیا غور نہیں کرتے قرآن میں او راگر یہ ہوتا کسی اور کا سوا الله کے تو ضرور پاتے اس میں بہت تفاوت۔“

بلکہ وحی کی غرض وغایت میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ان تمام اختلافات کو یکسر مٹا دے جو انسانی فہم کی نارسائیوں نے پیدا کر رکھے ہیں۔﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْْء ٍ فَرُدُّوہُ إِلَی اللّہِ وَالرَّسُول﴾․ (النساء:59)
ترجمہ:” اے ایمان والو! حکم مانو الله کااور حکم مانو رسول کا اور حاکموں کا، جو تم میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اس کو رجوع کرو طرف الله کے اور رسول کے۔“

نقلیات میں جن چیزوں کو خلاف عقل سمجھا جاتا ہے وہ دو حال سے خالی نہیں یا تو اس کی بنیاد موضوع احادیث ہیں یا پھر ان میں کہیں دلالت واستنباط میں خلل ہے ، تیسری کوئی صورت نہیں۔(موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول،83/1، مصر)

خلاصہ یہ کہ انبیاء کبھی ایسی چیزوں کی اطلاع نہیں دیتے جو عقلاً محال ہوں یا عقل ان کی نفی کرتی ہو، بلکہ ان کی اطلاع ایسی چیزوں کے بارے میں ہوتی ہے جن کے حقائق جاننے سے عقل قاصر اور عاجز ہوتی ہے۔(موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول:83/1، مصر)

کون ہے جو علامہ رازی رحمہ الله کی شخصیت سے واقف نہ ہو؟ جو عقلیات میں امامت کے درجے پر فائز ہیں ، انہوں نے اپنے اشعار میں فلسفہ اور عقل کی نارسائیوں کو جس انداز سے بیان کیا ہے اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے، تمام اشعار کا خلاصہ اس ایکشعر سے حاصل ہو سکتا ہے #
        ولم نستفد من بحثنا من طول عمرنا
        سوی أن جمعنا فیہ قیل وقالوا
ترجمہ:” ہم نے تمام عمر بحث ومباحثے کے باوجود اپنے دامن میں اس کے علاو ہ کچھ نہیں سمیٹا کہ فلاں کا یہ قول ہے اور فلاں کا یہ قول ہے۔“

حتی کہ علامہ غزالی رحمہ الله بھی اس گروہ سے دست بردار ہو کر ریاض سنت کی شمیم آرائیوں سے قلب ونظر مہکانے لگے ۔ ان کی روح بھی اس عالم میں پرواز ہوئی کہ سینے پر صحیح بخاری تھی اور آنکھیں ابواب وروایات سے فیض یاب ہو رہی تھیں۔ (موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول:90/1)

تھوڑی دیر کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ نقلیات کو جانچنے کے لیے عقل ہی درست اور واحد معیار ہے تو ہمارا سوال یہ ہے کہ تم کس عقل کو حکم اور معیار بناتے ہو؟

اگر تم فلاسفہ کی عقل کوحکم بناتے ہو تو وہ خود کسی موقف پر متفق نہیں، ان میں تو ہر آنے والا گزرنے والے کے قول کی تردید کرتا ہے ۔

اگر ادباء کی عقل کو فیصل قرارا دیتے ہو تو ان کا یہ کام نہیں، ان کا تعلق تو بس نوادرات وحکایات سے ہے۔

اگر اہل طب، اہل ہندسہ، ریاضی دانوں کی عقل کوفیصل قرار دیتے ہو تو ان کو حدیث ( نقلیات ) سے کیا سروکار؟

اگر محدثین وفقہاء کی عقل کو معیار بناتے ہو تو وہ تمہیں سرے سے پسند ہی نہیں، بلکہ محدثین کو تو تم سادہ لوح اور کند ذہن تصور کرتے ہو۔

اگر ملحدین کی عقل پسند ہے تو ان کے نزدیک خدا پر ایمان لانا جہالت اور حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

اگر اہل سنت والجماعت کی عقل پسند ہے تو شیعہ ومعتزلہ اسے پسند نہیں کرتے……۔

اب بتائیے کس کی عقل کو کس بنیاد پر فیصل اور حَکَم قرار دو گے؟ (السنة ومکانتھا فی التشریع الاسلامی، ص:33)

موضوع کی نزاکت او راہمیت کے پیش نظر اسے قدرے تفصیل سے لکھا ہے، کیوں کہ عقل پرست معتزلہ، جدید وقدیم منکرین حدیث ، سر سید اوران کے جدّت پسند پیروکاروں کا یہ اتفاقی اور بنیادی موقف ہے کہ عقل کو بہر صورت نقل پر ترجیح ہوگی، اس کی آڑ میں کسی نے نبوت ورسالت، جنت وجہنم، ملائکہ اور معجزات کا مذاق اڑایا تو کسی نے حدیث رسول کو بازیچہ اطفال بنا کر اپنی بے عقلی کے جوہر دکھائے۔ اس لیے طوالت کا خوف کیے بغیر اس مسئلے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور کوشش کی ہے کہ اس بحث کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہ جائے۔ 

ایک شبہ او راس کا جواب
شبہ: گذشتہ تحریر پڑھ کر کسی کو یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ عقل کی شہادت سرے سے ماننے کے لائق ہی نہیں ، کیوں کہ یہ ہر موقف پر دو متضاد رائے فراہم کر سکتی ہے۔

جواب : ہر گز نہیں، ہم عقل کی اہمیت سے نہ صرف یہ کہ واقف ہیں، بلکہ کھلے دل سے اسے تسلیم کرتے ہیں ۔ عقل پرستوں سے ہمار ا اختلاف عقل کے دائرہ کار کے متعلق ہے، اس اختلاف کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ عقل کی دو قسمیں ہیں ۔ 1.عقل سلیم۔  2.عقل سقیم۔

1...عقلِ سلیم وہ ہے جو علوم نبوت اور وحی پر صدقِ دل سے ایمان لائے او راس میں مناسب رنگ بھرے ( جیسا کہ متکلمین کا طریقہ ہے)۔

2...عقل سقیم وہ ہے جو وحی پر حَکَم بن کر الحاد وزندقہ کو فروغ دے۔
لہٰذا جب ہم عقلیات کی شہادت اور اس کے دلائل کو مشکوک ٹھہرا کر ابطال کرتے ہیں تو اس کا تعلق عقلسقیم سے ہے، نہ کہ عقل سلیم سے۔ (موافقة صریح المعقول لصحیح المنقول:98/1، مصر)

عقل کا دائرہ کار اور اس کے استعمال کا صحیح مصرف
علم کے تین ذرائع ہیں:۱۔ حواسِ خمسہ۔۲۔ عقل۔۳۔ وحی۔ ہر ایک کا اپنا محدو ددائرہ کار ہے۔ جن چیزوں کا علم حواسِ خمسہ ( آنکھ، کان، ناک، زبان،لمس یعنی چھونا) سے ہوتا ہے، اسے نری عقل سے معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک دیوار ہے ،اسے ” دیکھ“ کر اس کا رنگ معلوم کیا جاسکتا ہے، لیکن آنکھیں بند کرکے نری عقل سے اس کارنگ معلوم کرنا ناممکن ہے، اسی طرح جن چیزوں کا علم عقل سے حاصل ہوتا ہے، انہیں حواس کے ذریعے معلوم نہیں کیا جاسکتا،مثلاً آنکھوں سے دیکھ کر یا ہاتھوں سے چھو کر یہ پتہ نہیں لگایا جاسکتا کہ اس دیوار کو کسی انسان نے بنایا ہے، اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے۔

غرض جہاں تک حواس خمسہ کام دیتے ہیں وہاں عقل کوئی راہ نمائی نہیں کرتی او رجہاں حواس خمسہ جواب دے رہیں، وہاں سے عقل کا دائرہ شروع ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک حد پر جاکر رک جاتا ہے اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کا علم نہ حواس کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے اور نہ عقل کے ذریعے۔ مثلاً اسی دیوار کے بارے میں یہ معلوم کرنا اس کو کس طرح استعمال کرنے سے الله تعالیٰ راضی اور کس طرح استعمال کرنے سے الله تعالیٰ ناراض ہو گا۔ اس قسم کے سوالات کا جواب انسان کو دینے کے لیے جو ذریعہ الله تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اسی کا نام وحی ہے یہی وہ دائرہ ہے، جس سے عقل کو متجاوز ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس اقلیم میں صرف وحی ، کتاب اور الله کے برگزیدہ انبیاء اور رسولوں کی ہی حکم رانی ہے او رانہیں کا سکہ چلتا ہے۔

عقلیات کا کام تویہ ہے کہ یہ نقلیات کے تابع بن کر اس میں مناسب رنگ بھرے ، اس کی نوک پلک سنوار کر اسے منظم نظامِ فکر کی حیثیت سے پیش کرے، جیسا کہ متکلمین اسلام نے اس فریضہ کو انجام دے کر نہ صرف فہم وادراک کے نئے سانچے مہیا کیے، بلکہ عقل پرستوں کے بڑھتے ہوئے الحاد وزندقہ کے سیلاب کو بھی مضبوطی سے روکا۔ (جزاھم الله عنا وعن جمیع المسلمین․)


No comments:

Post a Comment