Tuesday, 8 May 2012

دورِ نبوی کے مشرکینِ مکّہ کا مشرکانہ ایمان


مشرکینِ مکّہ اور آج کے بعض نام نہاد مسلمان
قرآن مجید: اور نہیں ایمان لاتے بہت لوگ اللہ پر مگر ساتھ ہی شریک بھی کرتے ہیں - [سورہ یوسف: ١٠٦]
یعنی زبان سے سب کہتے ہیں کہ خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ مگر اس کے باوجود کوئی بتوں کو خدائی کا حصہ دار بنا رہا ہے ۔ چنانچہ مشرکین عرب "تلبیہ" میں یہ لفظ کہتے تھے۔ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا ھُوَ لَکَ تَمْلِکُہٗ وَمَا مَلَکَ کوئی اس کے لئے بیٹی بیٹیاں تجویز کرتا ہے ۔ کوئی اسے روح و مادہ کا محتاج بتاتا ہے ۔ کسی نے احبار و رہبان کو خدائی کے اختیارات دیدیے ہیں۔ بہت سے تغزیہ پرستی ، قبر پرستی ، پیر پرستی کے خس و خاشاک سے توحید کے صاف چشمہ کو مکدر کر رہے ہیں۔ ریا اور ہوا پرستی سے تو کتنے موحدین ہیں جو پاک ہوں گے۔ غرض ایمان کا زبانی دعویٰ کر کے بہت کم ہیں جو عقیدہ یا عمل کےدرجہ میں شرک جلی یا خفی کا ارتکاب نہیں کرتے (اعاذنا اللہ من سائرانواع الشرک)

AL-QURAN : And most of them believe not in Allah except that they attribute partners unto Him (i.e. they are Mushrikoon -polytheists) [12/106].
Tafsir al-Tustari : And most of them do not believe in God without ascribing partners [to Him].He [Sahl] said:This is referring to the association [of others with God] (shirk) by the self which incites to evil (nafs ammāra), as was [indicated] when the Prophet  said, ‘Association [of others with God] (shirk) in my nation is more hidden than the creeping of an ant over a stone.’ This is the inner meaning of the verse. However, the outer meaning of the verse refers to the fact that the polytheists among the Arabs believe in God, just as He has said, If you ask them, who created them, they will certainly say ‘God’…[43:87] Even so they are polytheists who believe in some of the messengers but do not believe in others.His words, Exalted is He:


اور اگر (اے نبی! صلے الله علیہ وسلم) آپ ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ (مشرک) کہدینگے کہ ان کو غالب اور علم والے (الله) نے پیدا کیا (الزخرف:٩)

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس کائنات) کو؟ اور (تمہارے) کام میں لگا دیا سورج اور چاند کو؟ تو (اس کے جواب میں) یہ سب کے سب ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی نے, تو پھر یہ کہاں اُلٹے جا رہے ہیں؟(العنکبوت:٦١)

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور"جو کچھ"زمین میں ہے"سب"کس کا ہے؟ یہ جھٹ ضرور بول اٹھیں گے کہ"اللہ"کا۔ کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں؟ (ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے؟) یہ جھٹ ضرور کہیں گے (کہ)"اللہ"۔ کہو ، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟ ان سے کہو ، بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر ملکیت(حکومت)کس کی ہے؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟ یہ ضرور کہیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو)"اللہ"ہی کے لیے ہے۔ کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑ جاتا ہے؟(المومنون:٨٤-٨٩)

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا تو کہہ دیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے۔ لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے(العنکبوت:٦٣)

تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی سو بول اٹھیں گے کہ اللہ تو تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو(یونس:٣١)

 تو پھر وہ (مشرکین_مکّہ) کافر کیوں کہلاۓ؟
جواب: کیونکہ انہوں نے نیک بندوں/اولیاء کے بتوں (جن کے نام ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر [قرآن=نوح:٢٣]؛ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بت جو قوم نوح میں تھے وہی عرب میں اس کے بعد پوجے جانے لگے "ود" قوم کلب کا بت تھا جو دومتہ الجندل میں تھے اور "سواع" ہذیل کا اور "یغوث" مراد کا پھر بنی عطیف کا سبا کے پاس جوف میں تھا اور "یعوق" ہمدان کا اور "نسر"حمیر کا "جوذی" الکلاع کے خاندان سے تھا یہ قوم نوح علیہ السلام کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان نیک لوگوں نے وفات پائی تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کے بیٹھنے کی جگہ میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے بت نصب کردیں اور اس کا نام ان (بزرگوں) کے نام پر رکھ دیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا لیکن اس کی عبادت نہیں کی تھی یہاں تک کہ جب وہ لوگ بھی مر گئے اور اس کا علم جاتا رہا تو اس کی عبادت کی جانے لگی۔[صحیح بخاری: جلد دوم: حدیث نمبر 2134 (4743) - تفاسیر کا بیان : تفسیر سورت نوح]


اور آج نیک بندوں کی قبروں کو مسجد(سجدے-گاہ) بناکر) عبادت (والے افعال) کر کے"شرک"کرتے تھے


دلیلِ قرآن مجید:
اور (وہ بندے) نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں[7:192]

جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا وہ تو "بندے"ہیں"تم جیسے",بھلا پکارو تو ان کو پس چاہیے کہ وہ قبول کریں تمہارے پکارنے کو، اگر تم سچے ہو(الاعراف:194)

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ (بندے) نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں[7:197]

بُت پرستی کی ابتداء:

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا صَارَتْ الْأَوْثَانُ الَّتِي كَانَتْ فِي قَوْمِ نُوحٍ فِي الْعَرَبِ بَعْدُ أَمَّا وَدٌّ كَانَتْ لِكَلْبٍ بِدَوْمَةِ الْجَنْدَلِ وَأَمَّا سُوَاعٌ كَانَتْ لِهُذَيْلٍ وَأَمَّا يَغُوثُ فَكَانَتْ لِمُرَادٍ ثُمَّ لِبَنِي غُطَيْفٍ بِالْجَوْفِ عِنْدَ سَبَإٍ وَأَمَّا يَعُوقُ فَكَانَتْ لِهَمْدَانَ وَأَمَّا نَسْرٌ فَكَانَتْ لِحِمْيَرَ لِآلِ ذِي الْكَلَاعِ أَسْمَاءُ رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ قَوْمِ نُوحٍ فَلَمَّا هَلَكُوا أَوْحَى الشَّيْطَانُ إِلَى قَوْمِهِمْ أَنْ انْصِبُوا إِلَى مَجَالِسِهِمْ الَّتِي كَانُوا يَجْلِسُونَ أَنْصَابًا وَسَمُّوهَا بِأَسْمَائِهِمْ فَفَعَلُوا فَلَمْ تُعْبَدْ حَتَّى إِذَا هَلَكَ أُولَئِكَ وَتَنَسَّخَ الْعِلْمُ عُبِدَتْ"(صحیح بخاری:4920، باب ودا ولا سواعا ..)



ایسے شرکیہ کام وہ کیوں کرتے تھے؟
جواب: کیونکہ وہ ان بندوں (بتوں) کو "تقرب" اور "شفاعت" کا "وسیلہ"ماننے کے سبب ایسا کرتے تھے

دلیلِ قرآن مجید:
دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور اولیاء(دوست)بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنادیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا.(الزمر:3)

 اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری شفاعت کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے.(یونس:١٨)


تفسیر : دنیوی معاشی درستگی میں وہ الله کے پاس ہمارے لئے شفاعت کرنے والے ہیں.[قرطبی : ٨/٣٢٢]


 یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) "پکارتے" ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں(قرب کا) وسیلہ تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے(اسرا / بنی اسرائیل:٥٧)
======================================
[نوٹ: ظاہری اسباب کے تحت کسی سے مدد مانگنا شرک نہیں، شرک تو کسی کو غائبانہ (دوری سے) مدد کے لئے پکارنا ہے]

ظاہری اسباب کے تحت باہمی استعانت و تعاون {5:2} ؛ باہمی استغاثہ و فریاد {28:15} اور نیک کام میں سفارشی بننا {4:85} جائز ہے.


جب عیسیٰؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی اور (نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کی طرف سے میرا مددگار ہو, حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار اور آپ کے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں[القرآن-٣:٥٢] 61:14 + 12:10


فائدہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ الله کے نبی علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے (جو ظاہری ما تحت الاسباب تھے) سے مدد طلب کی.
 اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔[8:72]
تم کو کیا ہوا کہ ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ [37:25]

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْأَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ وَفْدُ هَوَازِنَ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ إِنَّا أَصْلٌ وَعيرَةٌ وَقَدْ نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " اخْتَارُوا مِنْ أَمْوَالِكُمْ أَوْ مِنْ نِسَائِكُمْ وَأَبْنَائِكُمْ ، فَقَالُوا : قَدْ خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا بَلْ نَخْتَارُ نِسَاءَنَا وَأَبْنَاءَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ , فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ ، فَقُومُوا فَقُولُوا إِنَّا نَسْتَعِينُ بِرَسُولِ اللَّهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَوِ الْمُسْلِمِينَ فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا صَلَّوْا الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا ذَلِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " ، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلَا ، وَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا ، فَقَامَتْ بَنُو سُلَيْمٍ فَقَالُوا : كَذَبْتَ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ بِشَيْءٍ فَلَهُ سِتُّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا " , وَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَرَكِبَ النَّاسُ اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا فَأَلْجَئُوهُ إِلَى شَجَرَةٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي فَوَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لَكُمْ شَجَرَ تِهَامَةَ نَعَمًا قَسَمْتُهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ لَمْ تَلْقَوْنِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا ، ثُمَّ أَتَى بَعِيرًا فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : هَا إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هَذِهِ إِلَّا خُمُسٌ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ بِكُبَّةٍ مِنْ شَعْرٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتُ هَذِهِ لِأُصْلِحَ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي ، فَقَالَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ " فَقَالَ : أَوَبَلَغَتْ هَذِهِ فَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا فَنَبَذَهَا ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ عَارًا وَشَنَارًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .



عمرو بن یزید، حماد بن سلمہ، محمد بن اسحاق، حضرت عمرو بن شعیب سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا انہوں نے اپنے والد ماجد سے سنا انہوں نے اپنے دادا سے نقل کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پاس تھے۔ جس وقت (قبیلہ) ہوازن کے نمائندے حاضر ہوئے تھے اور کہنے لگے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ہم لوگ سب کے سب ایک ہی اصل اور ایک ہی خاندان کے فرد ہیں اور ہم لوگوں پر جو بھی آفت اور مصیبت نازل ہوتی ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ظاہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ احسان فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احسان فرمائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کرو یا تم دولت لے لو یا تم اپنی عورتوں اور بچوں کو چھڑا لو۔ انہوں نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اختیار دیا عورتوں اور مال میں سے ہم دونوں میں سے اختیار کرتے ہیں اپنی عورتوں اور بچوں کو (یعنی خیر اگر مال دولت حاصل نہ ہو سکے تو نہ سہی ہماری عورتیں اور بچے مل جائیں) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس قدر میرا اور عبدالمطلب کی اولاد کا حصہ ہے (مال غنیمت میں سے جو مشاع تھا) وہ میں تم کو دے چکا لیکن جس وقت میں نماز ظہر ادا پڑھوں تو تم سب کھڑے ہو کر اس طریقہ سے کہو کہ ہم لوگ مدد چاہتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سبب تمام مومنین سے یا مسلمانوں سے اپنی عورتوں اور مال میں۔ راوی نقل کرتے ہیں کہ جس وقت لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ نمائندے کھڑے ہو گئے اور ان نمائندوں نے وہ ہی بات کہی پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کچھ میرا اور عبدالمطلب کی اولاد کا حصہ ہے وہ تمہارے واسطے ہے۔ یہ بات سن کر مہاجرین نے بھی یہی کہا اس پر اقرع بن حابس نے کہا ہم اور قبیلہ بنی تمیم دونوں اس بات میں شامل نہیں ہوئے اور حضرت عیینہ بن حصین نے کہا ہم اور قبیلہ بنو فرازہ کے لوگ دونوں کے دونوں اس بات کا اقرار نہیں کرتے اور حضرت عباس بن مرو اس نے اسی طرح سے کہا اور اپنے ساتھ قبیلہ بنی سلیم کے لوگوں کو شامل کیا جس وقت انہوں نے علیحدگی کی بات کہی تو قبیلہ بنی سلیم نے اس کی بات پر انکار کر دیا اور کہا کہ تم نے جھوٹ بولا ہے اور ہمارا جو کچھ بھی ہے وہ تمام کا تمام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واسطے ہے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو! تم لوگ ان کی خواتین اور بچوں کو واپس کر دو اور جو شخص مفت نہ دینا چاہے تو میں اس کے واسطے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کو چھ اونٹ دئیے جائیں اس مال میں سے جو کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے (یعنی ان خواتین اور بچوں میں جو اس کا حصہ تھا اس کے عوض) یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہو گئے اونٹ پر۔ لیکن لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہی رہے اور کہنے لگے واہ واہ ہم لوگوں کا مال غنیمت ہمارے ہی درمیان تقسیم فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاروں طرف سے گھیر کر ایک درخت کی جانب لے گئے۔ وہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک درخت سے اٹک ہو کر الگ ہوگئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! مجھ کو میری چادر اٹھا دو اللہ کی قسم اگر تہامہ (جنگل) کے درختوں کے برابر بھی جانور ہوں تو تم لوگوں پر ان کو تقسیم کر دوں پھر تم لوگ مجھ کو کنجوس اور بخیل نہیں قرار دو گے اور نہ ہی مجھ کو بزدل قرار دو گے اور نہ ہی میرے خلاف کرو گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک اونٹ کے نزدیک تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پشت کے بال اپنے ہاتھ کی چٹکی میں لے لئے پھر فرمانے لگے کہ تم لوگ سن لو میں اس فئی میں سے کچھ بھی نہیں لیتا مگر پانچواں حصہ اور وہ پانچواں حصہ بھی لوٹ کر تم لوگوں کے ہی خرچہ میں آجائے گا۔ یہ بات سن کر ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک آکر کھڑا ہوگیا اور اس کے پاس ایک گچھا تھا بالوں کا اور اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے ہی یہ چیز لی ہے تاکہ میں اس چیز سے اپنے اونٹ کی کملی درست کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو چیز میرے واسطے اور عبدالمطلب کی اولاد کے واسطے ہے بس وہ تمہاری ہے۔ اس پر اس شخص نے عرض کیا جب یہ معاملہ اس حد کو پہنچ گیا اب اس کی مجھ کو کوئی ضرورت نہیں ہے اور پھر اس نے وہ بالوں کا گچھا پھینک ڈالا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور لوگوں کو حکم فرمایا (اگر کسی نے) سوئی اور دھاگہ لے لیا ہو تو وہ بھی اس تقسیم میں داخل کرو کیونکہ غنیمت کے مال میں چوری شرم اور عیب ہوگا چوری کرنے والے شخص کے واسطے قیامت کے دن۔
===========================================
اس (قرآنی مثال) سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو [البقرہ:٢٦]


گمراہ لوگوں کا "قرآن و حدیث"سے"شرک" کو "جائز" کرنے کی گمراہانہ-کوششوں* اور *من-چاہی(خود کی بنائی)تفسیروں* کی حقیقت :

١) الله کے سوا کسی*غیر-الله*سے مدد لینا? = اے ایمان والو! *صبر* اور *نماز*(کے وسیلے)*سے*(الله کی) مدد لیا کرو بےشک الله صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے. [البقرہ:١٥٣] سوال = تو کیا اس آیت کو اس طرح کسی نے مان-کر *نماز* اور *صبر* کو مدد کے لئے پکارا؟ ہرگز نہیں، بلکہ ان نیک اعمال کو الله کی مدد کا وسیلہ/زریعہ بنایا.

٢) اولیاء کو مدد کے لئے پکارنے کا وسیلہ بنانا? = اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے (کے لئے تقویٰ-نیک اعمال) کا*وسیلہ* تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ  تمہارا بھلا ہو.[المائدہ:٣٥]

یہاں وسیلہ کی تفسیر*تقویٰ اور نیکی* ہے، اور مدد کے لئے پکارنے کو نیک-بندوں/اولیاء کو*وسیلہ*  مشرکینِ مکّہ بناتے تھے.(اسرا / بنی اسرائیل:٥٧)

(٣) الله کی "عطا سے" کے نبی علیہ السلام بھی *مشکل-کشا* ہیں? = ...اور میں(حضرت عيسى علیہ السلام) اچھا کرتا ہوں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں مردے اللہ کے حکم سے...[آل-عمران:٤٩]

الله نے قرآن میں تو یہ بھی فرمایا ہے: اور جب کہے گا اللہ اے عیسٰی مریم کے بیٹے تو نے کہا لوگوں کو کہ ٹھہرا لو مجھ کو اور میری ماں کو دو معبود سوا اللہ کے کہا تو پاک ہے مجھ کو لائق نہیں کہ کہوں ایسی بات جس کا مجھ کو حق نہیں اگر میں نے یہ کہا ہوگا تو تجھ کو ضرور معلوم ہو گا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے بیشک تو ہی ہے جاننے والا چھپی باتوں کامیں نے کچھ نہیں کہا انکو مگر جو تو نے حکم کیا کہ بندگی کرو اللہ کی جو رب ہے میرا اور تمہارا اور میں ان سے خبردار تھا جب تک ان میں رہا پھر جب تو نے مجھ کو اٹھا لیا تو تو ہی تھا خبر رکھنے والا ان کی اور تو ہر چیز سے خبردار ہے [المائدہ:١١٦-١١٧]
غائبانہ-دوری سے مدد کے لئے کسی کو پکارنا عبادت ہے =اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو بیشک جو لوگ تکبر کرتے ہیں میری*عبادت*سے اب داخل ہوں گے دوزخ میں ذلیل ہو کر. [الغافر:٦٠]

(٤) الله کے نبی علیہ السلام بھی*گنج بخش*ہیں?
پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی. اَور دیووں کو بھی (ان کے زیرفرمان کیا) وہ سب عمارتیں بنانے والے اور غوطہ مارنے والے تھے. اور اَوروں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے. (ہم نے کہا) یہ ہماری بخشش ہے (چاہو) تو احسان کرو یا (چاہو تو) رکھ چھوڑو (تم سے) کچھ حساب نہیں ہے.[ص: ٣٦-٣٩]
تو ہمارے نبی صلے الله علیہ وسلم اور صحابہ رضی الله عنہ نے الله کے سوا/ساتھ ,ان نبیوں/ولیوں سے (عیسایوں اور مشرکوں کی طرح) ان کے جانے کے بعد کبھی غائبانہ-دوری سے مدد کیوں نا مانگی؟ اور کیا ان سے زیادہ قرآن کی سمجھ آپ کو ہے؟




امتِ مصطفیٰ صلے الله علیہ وسلم شرک نہیں کر سکتی؟
الحديث رقم 39 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : علامات النَّبُوَّةِ فِي الإِسلام، 3 / 1317، الرقم : 3401، وفي کتاب : الرقاق، باب : مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيها، 5 / 2361، الرقم : 6061، ومسلم في الصحيح، کتاب : الفضائل، باب : إثبات حوض نبينا صلي الله عليه وآله وسلم وصفاته، 4 / 1795، الرقم : 2296 وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 153.]

’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک میں تمہارا پیش رو اور تم پر گواہ ہوں۔ بیشک خدا کی قسم! میں اپنے حوض (کوثر) کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں (یا فرمایا : زمین کی کنجیاں) عطا کر دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے بعد"تم"(صحابہ رضی الله عنہ کی جماعت)شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ ‘‘(الله تعالیٰ نے اس سے بھی ان کو محفوظ رکھا اور ان کی اتباع پر اپنی رضا اور جنّت جیسی عظیم کامیابی کا فرمان جاری فرمایا=القرآن؛التوبہ:١٠٠)]

اس مذکورہ بالا حدیث  میں صحابہ رضی الله عنھم کو خطاب ہے جن سے الله نے ان کی حفاظت فرمائی، اور مندرجہ ذیل احادیث سے امتِ مصطفیٰ صلے الله علیہ وسلم میں شرک پر عمل-پیرا ہونے کا ثبوت ملتا ہے :
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 101 ,فتنوں کا بیان : جب تک کذاب نہ نکلیں قیامت قائم نہیں ہو گی, حدیث مرفوع]
قتیبہ، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابة، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے کئی قبائل مشرکین کے ساتھ الحاق نہیں کریں گے اور بتوں کی پوجا نہیں کریں گے پھر فرمایا میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک کا یہی دعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا. یہ حدیث صحیح ہے]

سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ,859  فتنوں کا بیان :   حدیث متواتر
سلیمان بن حرب، محمد بن عیسی، حماد بن زید، ایوب، ابوقلابہ، ابواسماء، حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو آزاد کردہ غلام ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے زمین کو میرے لیے سمیٹ دیا یا یوں فرمایا کہ میرے پرودگار نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا پس مجھے زمین کے مشارق ومغا رب دکھائے گئے اور بیشک میری امت کی سلطنت عنقریب وہاں تک پہنچی گی جہاں تک میرے لیے زمین کو سمیٹا گیا اور مجھے دو خزانے سرخ وسفید دیے گئے اور بیشک میں نے اپنی پروردگار سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہ کیجیے اور نہ ان کے اوپر ان کے علاوہ کوئی غیر دشمن مسلط کردے کہ وہ ان کو جڑ سے ختم کردے۔ اور بیشک میرے پروردگار نے مجھ سے فرمایا کہ اے محمد۔ بیشک میں جب فیصلہ کرتا ہوں تو پھر وہ رد نہیں ہوتا اور میں انہیں کسی عام قحط سے ہلاک نہیں کروں اور نہ ہی ان پر کوئی غیر دشمن مسلط کروں اگرچہ سارا کرہ ارض سے ان پر دشمن جمع ہو کر حملہ آور ہوجائیں یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے آپس میں ہی بعض بعض کو ہلاک کردیں گے اور بعض بعض کو قید کردیں گے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے اماموں (مذہبی رہنماؤں) کا ڈر ہے اور جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس دن تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل مشرکین سے جا ملیں گے اور یہاں تک کہ میری امت کے بعض قبائل بتوں کی عبادت کریں اور بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک یہ دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت میں سے ایک طائفہ ہمیشہ حق پر رہے گی ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حق پر غالب رہے گی اور ان کے مخالفین انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے۔]

سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 832
ہشام بن عمار، محمد بن شعیب بن شابور، سعید بن بشیر، قتادہ، ابوقلابہ، عبداللہ بن زید، ابواسماء، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زمین میرے لئے سمیٹ دی گئی یہاں تک کہ میں نے زمین کے مشرق و مغرب کو دیکھ لیا اور مجھے دونوں خزانے (یا سرخ) اور سفید یعنی سونا اور چاندی دیئے گئے (روم کا سکہ سونے کا اور ایران کا چاندی کا ہوتا تھا) اور مجھے کہا گیا کہ تمہاری (امت کی) سلطنت وہی تک ہوگی جہاں تک تمہارے لئے زمین سمیٹی گئی اور میں نے اللہ سے تین دعائیں مانگیں اول یہ کہ میری امت پر قحط نہ آئے کہ جس سے اکثر امت ہلاک ہو جائے دوم یہ کہ میری امت فرقوں اور گروہوں میں نہ بٹے اور (سوم یہ کہ) ان کی طاقت ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہو (یعنی باہم کشت و قتال نہ کریں) مجھے ارشاد ہوا کہ جب میں (اللہ تعالی) کوئی فیصلہ کرلیتا ہوں تو کوئی اسے رد نہیں کر سکتا میں تمہاری امت پر ایسا قحط ہرگز مسلط نہ کروں گا جس میں سب یا (اکثر) ہلاکت کا شکار ہو جائیں اور میں تمہاری امت پر اطراف و اکناف ارض سے تمام دشمن اکٹھے نہ ہونے دوں گا یہاں تک کہ یہ آپس میں نہ لڑیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں اور جب میری امت میں تلوار چلے گی تو قیامت تک رکے گی نہیں اور مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خوف گمراہ کرنے والے حکمرانوں سے ہے اور عنقریب میری امت کے کچھ قبیلے بتوں کی پرستش کرنے لگیں گے اور (بت پرستی میں) مشرکوں سے جا ملیں گے اور قیامت کے قریب تقریبا جھوٹے اور دجال ہوں گے ان میں سے ہر ایک دعوی کرے گا کہ وہ نبی ہے اور میری امت میں ایک طبقہ مسلسل حق پر قائم رہے گا ان کی مدد ہوتی رہے گی (منجانب اللہ) کہ ان کے مخالف ان کا نقصان نہ کر سکیں گے (کہ بالکل ہی ختم کر دیں عارضی شکست اس کے منافی نہیں) یہاں تک کہ قیامت آجائے امام ابوالحسن (تلمیذ ابن ماجہ فرماتے ہیں کہ جب امام ابن ماجہ اس حدیث کو بیان کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا یہ حدیث کتنی ہولناک ہے]

مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے:
[سنن ابن ماجہ:جلد سوم:حدیث نمبر 1085- زہد کا بیان : (243)ریا اور شہرت کا بیان]
محمد بن خلف عسقلانی، رواد بن جراح، عامر بن عبداللہ ، حسن بن ذکوان، عبادہ بن نسی، حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ مجھ کو اپنی امت پر جس کا ڈر ہے وہ شرک کا ہے میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج یا چاند یا بت کو پوجیں گے لیکن عمل کریں گے غیر کے لئے اور دوسری چیز کا ڈر ہے وہ شہوت خفیہ ہے۔



حدیث : میری قبر کو بت نہ ماننا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجْعَلُنَّ قَبْرِي وَثَنًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .[مسند أبي يعلى الموصلي » تَابِعُ مُسْنَدِ أَبِي هُرَيْرَةَ ...رقم الحديث: 6641]
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مت بنانا میری قبر کو بت ، لعنت ہو الله کی اس قوم پر جو اپنے انبیاء کی قبر کو سجدہ گاہ بناۓ.
شاہ ولی الله محدث دھلوی فرماتے ہیں : اس میں اشارہ ہے تحریف کا دروازہ بند کردیا جاۓ ، کیونکہ یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاء کرام علیھم السلام کی قبروں کو حج کی طرح عید اور موسم بنادیا تھا. [حجة الله البالغة:١/٢٢]


اس (قرآنی مثال) سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو [البقرہ:٢٦]




مشرکوں کے اقسام، خداؤں (معبودوں) کے اعتبار سے:

١) بت-پرست:


إِنَّكُم وَما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُم لَها وٰرِدونَ {21:98} 2:26 ترجمه: (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے آجکل حیدرآباد (پاکستان) میں قلعہ کے قریب (شیعہ حضرات) حضرت علی رضی الله عنہ (کی طرف منسوب) نقشِ قدم نظر آتے ہیں، ان کے آگے بعض لوگ سر جھکاتے سلام کرتے ہیں، بعض ان پر مٹھایاں اور پیسہ رکھتے ہیں، بعض ان سے اپنے مرادیں مانگتے ہیں، بعض نظر و منت مانگتے ہیں، بعض حضرت حسین رضی الله عنہ (کی طرف منسوب) جھنڈے کے سامنے سر جھکاتے سلام کرتے ہیں، سیون-شریف میں قلندر کی کشتی پتھر کی رکھی ہوئی ہے، جسے خلق پوجتی ہے، یہ بت-پرستی نہیں تو اور کیا ہے.



===============================
٢) نبی-پرست:


يَومَ يَجمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقولُ ماذا أُجِبتُم ۖ قالوا لا عِلمَ لَنا ۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلّٰمُ الغُيوبِ {5:109}
ترجمه: (وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے) جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب ملا تھا وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں توہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔



توضیح: چونکہ انبیاء علیھم السلام کو ان کے چلے جانے کے بعد غائبانہ حاجات میں پکارا گیا، لہذا ان سے سوال کیا جاۓ گا کہ تمہارے پیچھے کیا کچھ ہوتا رہا.
[تفسیرِ کبیر]






وَإِذ قالَ اللَّهُ يٰعيسَى ابنَ مَريَمَ ءَأَنتَ قُلتَ لِلنّاسِ اتَّخِذونى وَأُمِّىَ إِلٰهَينِ مِن دونِ اللَّهِ ۖ قالَ سُبحٰنَكَ ما يَكونُ لى أَن أَقولَ ما لَيسَ لى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلتُهُ فَقَد عَلِمتَهُ ۚ تَعلَمُ ما فى نَفسى وَلا أَعلَمُ ما فى نَفسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلّٰمُ الغُيوبِ {5:116}


ترجمه: اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے


توضیح: ویسے ہی آجکل کے بدعتی (نام-نہاد) مسلمان بھی ہمارے نبی (صلے الله علیہ وسلم) کی پرستش کرتے ہیں. اور نبی کو حاضرناظر سمجھنا دور منزل سے پکارنا یا ان پر (اس عقیدے سے خطابی) درود پڑھنا یا ان کے لئے قیام کرنا، یہ سارے کام نبی کی عبادت میں داخل ہیں.اور جیسے یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو اور نصاریٰ(عیسائی) حضرت عيسیٰ عليه السلام کو پوجتے تھے، دیکھئے:



وَقالَتِ اليَهودُ عُزَيرٌ ابنُ اللَّهِ وَقالَتِ النَّصٰرَى المَسيحُ ابنُ اللَّهِ ۖ ذٰلِكَ قَولُهُم بِأَفوٰهِهِم ۖ يُضٰهِـٔونَ قَولَ الَّذينَ كَفَروا مِن قَبلُ ۚ قٰتَلَهُمُ اللَّهُ ۚ أَنّىٰ يُؤفَكونَ {9:30}اتَّخَذوا أَحبارَهُم وَرُهبٰنَهُم أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ وَالمَسيحَ ابنَ مَريَمَ وَما أُمِروا إِلّا لِيَعبُدوا إِلٰهًا وٰحِدًا ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ سُبحٰنَهُ عَمّا يُشرِكونَ {9:31}


ترجمه: اور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں. انہوں نے اپنے علماء اور مشائخ اور مسیح ابن مریم کو الله کے سوا خدا بنا لیا حالانکہ اُن کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے.

=============================

٣) پیر-پرست:



أَفَرَءَيتُمُ اللّٰتَ وَالعُزّىٰ {53:19} وَمَنوٰةَ الثّالِثَةَ الأُخرىٰ {53:20}




ترجمه: بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا. اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں)




تفسیر: ان میں لات ایک بزرگ تھا [بخاری: ٢/٧٦١] اور عزیٰ اور نائلہ دو بدکار مرد-و-زن تھے.










وَقالوا لا تَذَرُنَّ ءالِهَتَكُم وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُواعًا وَلا يَغوثَ وَيَعوقَ وَنَسرًا {71:23}




ترجمه: اور کہنے لگے کہ اپنے معبودوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور ود اور سواع اور یغوث اور یعقوب اور نسر کو کبھی ترک نہ کرنا




تفسیر: یہ پانچوں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں نیک آدمی تھے، جب فوت ہوے تو ان کی سورتیں پتھروں پر کندہ کیں اور ان کو غائبانہ حاجات میں پکارا گیا[بخاری:٢/٧٣٢] اور تفسیر_عزیزی میں اس مقام پر ہے کہ یہ پانچوں حضرت شیث علیہ السلام کے نیک بیٹے تھے، فتح الباری شرح بخاری کی ایک مرسل روایت میں ہے کہ "ود" حضرت شیث علیہ السلام کا نام ہے، اور چار ان کے بیٹے. بہرحال یہ پانچوں نیک مرد (بزرگ) تھے، پتھر (بت) نے تھے.










وَيَومَ نَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ نَقولُ لِلَّذينَ أَشرَكوا مَكانَكُم أَنتُم وَشُرَكاؤُكُم ۚ فَزَيَّلنا بَينَهُم ۖ وَقالَ شُرَكاؤُهُم ما كُنتُم إِيّانا تَعبُدونَ {10:28}




ترجمه: اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور ان کے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو نہیں پوجا کرتے تھے




تشریح : مثلا اگر کوئی حضرت پیران پیر (شیخ عبد القادر جیلانی رح) کو عالم الغیب سمجھتے(مانتے) پیٹھ-پیچھے (دور منزل سے) ان کی مدح پڑھےگا تو وہ ان کی "زبانی" عبادت ہے. اگر کوئی شخص اپنے مرشد میں یہ اعتقاد رکھےگا کہ پیٹھ-پیچھے غائبانہ مرشد کو میری ساری حقیقت "جانتا" ہے، اگر اسے وہ مصیبت کے وقت پس_غائبانہ پکاریگا تو وہ "مدد کرسکےگا" تو (ایسا اعتقاد رکھتے پکارا تو) مرشد کی اس نے عبادت کی(یعنی مشرک کو اس نے معبود بنایا).










اتَّخَذوا أَحبارَهُم وَرُهبٰنَهُم أَربابًا مِن دونِ اللَّهِ ...{9:31}




انہوں نے اپنے علماء اور برگوں کو الله کے سوا خدا بنا لیا...




================================




٤) قبر-پرست:




پچھلے زمانہ میں مشرکین مردہ بزرگوں کی عبادت کرتے تھے، جیسا کہ ارشاد ہے:










وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هٰؤُلاءِ شُفَعٰؤُنا عِندَ اللَّهِ ۚ قُل أَتُنَبِّـٔونَ اللَّهَ بِما لا يَعلَمُ فِى السَّمٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ {10:18}




ترجمه: اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کر سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں۔ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے










ویسے ہی اس زمانہ میں بھی بدعتی (نام-نہاد) مسلمان بزرگوں کی قبروں کی عبادت کرتے ہیں، جیسے قبروں کو سجدہ کرنا، طواف کرنا، قبر پر چادر چڑھانا وغیرہ یہ کام قبر-پرستی میں داخل ہیں اور وہ کام اس ارادے سے لوگ کرتے ہیں کہ بزرگ کی روح راضی ہوگی اور ہمارے کام الله تعالیٰ سے کروائیگا (کراکر رہیگا).




===============================




٥) ملائکہ-پرست:
وَيَومَ يَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ يَقولُ لِلمَلٰئِكَةِ أَهٰؤُلاءِ إِيّاكُم كانوا يَعبُدونَ {34:40}
ترجمه: اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے فرمائے گا کیا یہ لوگ تم کو پوجا کرتے تھے۔
تفسیر: بہت مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے بہت ان کے ہیاکل بنا کر پرستش کرتے تھے بلکہ بعض نے لکھا ہےکہ اصنام پرستی کی ابتداء ملائکہ پرستی ہی سے ہوئی۔ اور عمرو بن لُحی یہ رسم قبیح شام سے حجاز میں لایا۔ بہرحال قیامت کے دن کفار کو سنا کر فرشتوں سے سوال کریں گے کہ کیا یہ لوگ تم کو پوجتے تھے؟ شاید مطلب یہ ہو کہ تم نے تو ان سے ایسا نہیں کہا۔ یا تم ان کے فعل سے خوش تو نہیں ہوئے۔ جیسے حضرت مسیحؑ سےسوال ہو گا۔ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ (مائدہ۔۱۱۶) اور سورہ فرقان میں ہے ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِیۡ ہٰۤؤُلَآءِ (فرقان۔۱۷) ویسے ہی اس زمانہ میں لوگ ملائکہ کو پوجتے ہیں، وظیفوں میں فرشتوں کے نام پڑھتے ہیں اور تعویزوں میں ملائکہ کے نام لکھتے ہیں: یا جبرائیل، یا دردایل وغیرہ اور سمجھتے ہیں کہ ان ناموں میں نفع نقصان پہچانے کا اثر ہے. جیسے مشکل وقت میں زبان سے ملائکہ کے نام پکڑنا ہے ویسے ہی کاغذ پر لکھنے میں کوئی فرق نہیں ہے. کیا اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو زبان سے طلاق دے تو ہوجائیگی، مگر کاغذ پر لکھکر دے تو کیا طلاق نہیں ہوگی؟


=================================
٦) شیطان-و-جن پرست:
وَإِن يَدعونَ إِلّا شَيطٰنًا مَريدًا {4:117}
ترجمه: اور پکارتے ہیں تو شیطان کی سرکش ہی کو...سو کیا اب تم ٹھہراتے ہو اس کو اور اس کی اولاد کو رفیق میرے سوا...{18 : 50 }

ترجمه: اس آیت سے شیطان کو "کار-ساز" ٹھہرانا معلوم ہوا....جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا... {14 : 22 }

ترجمه: اس آیت سے شیطان کو مولاۓ_کریم کا شریک ٹھہرانا معلوم ہوا.وَأَنَّهُ كانَ رِجالٌ مِنَ الإِنسِ يَعوذونَ بِرِجالٍ مِنَ الجِنِّ فَزادوهُم رَهَقًا {72:6}

ترجمه: اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے (اس سے) ان کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی.

توضیح: ویسے ہی اس زمانہ کے مشرکین بھی شیاطین و جنات کی عبادت کرتے ہیں سو اکیلا کسی درخت کے نیچے نہ بیٹھے کہ وہ بھاری ہوتا ہے، اس میں جن ہوتے ہیں اور مصیبت وقت شیاطین و جنات سے مدد لینے کو پکڑتے ہیں اور مشکل وقت وظائف میں شیاطین و جنات کے نام پڑھتے (ذکر کرتے) ہیں اور ان کے نام تعویزوں میں لکھ-کر استمعال کرتے ہیں اور یہ سب کام عبادت میں داخل ہیں.
==================================
٧) شجر (درخت) پرست:
شجر-پرستی دراصل پیر-پرستی ہے. پچھلے زمانہ کے لوگ درختوں کو پوجتے تھے اور "شجرة الرضوان" وہ درخت تھا جس کے نیچے رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے پندرہ سو (١٥٠٠) صحابہ_کرام رضی اللہ عنہم سے "بیعت الرضوان" لی تھی(٤٨:١٨)، بعد میں اس درخت کی پوجا شروع ہوئی تو حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ نے اس درخت کو جڑوں سے اکھڑوا دیا.اور سورہ النجم میں (٥٣:١٩) "لات، منات اور عزیٰ کا بیان ہے اور عزیٰ ایک درخت تھا جس کی مشرکین_عرب پوجا کرتے تھے اور حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ نے بموجب_حکم_نبی صلے الله علیہ وسلم کے، اس درخت کو جلادیا ویسے ہی اس وقت کے بدعتی مسلمان بھی درختوں کی پوجا کرتے ہیں، ضلع جیکب آباد تعلقہ کشمور سے دکھن-مشرق کے کونے پر دس (١٠) کوہ "کھاہے" کے شہر ہے، جس کے مغرب طرف ایک کنڈی کا درخت ہے، جس میں پرانی کپڑوں کی پٹیاں لٹکی ہوئی ہیں، و کوئی آتا سلام کرتے اس میں پتیوں کا ٹکڑا باندھ کر دل کی مراد ان سے بیان کرتے چلاجاتا ہے اور کنڈی کا نام "بلّے شاہ" رکھا ہے اور شہداد-پور شہر سے مشرق کی طرف چھ (٦) میل "جھمراؤ واہ" کے مورے پر ایسے ہی قسم کی کنڈی دیکھی گئی ہے اور شاہ عثمان کے خَبَڑ کو بھی لوگ پوجتے ہیں، ایسے کام شرک میں داخل ہیں.
=====================================
٨) حجر (پتھر) پرست:
إِنَّكُم وَما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُم لَها وٰرِدونَ {21:98} 2:26
ترجمه: (کافرو اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہوں گے۔ اور تم سب اس میں داخل ہو کر رہو گے۔
توضیح: پچھلے زمانہ کے باز لوگ پتھروں کی یادگاروں کو پوجتے تھے، اور آجکل حیدرآباد (پاکستان) میں قلعہ کے قریب (شیعہ حضرات) حضرت علی رضی الله عنہ (کی طرف منسوب) نقش_قدم نظر آتے ہیں، ان کے آگے بعض لوگ سر جھکاتے سلام کرتے ہیں، بعض ان پر مٹھایاں اور پیسہ رکھتے ہیں، بعض ان سے اپنے مرادیں مانگتے ہیں، بعض نظر و منت مانگتے ہیں، بعض حضرت حسین رضی الله عنہ (کی طرف منسوب) جھنڈے کے سامنے سر جھکاتے سلام کرتے ہیں، سیون-شریف میں قلندر کی کشتی پتھر کی رکھی ہوئی ہے، جسے خلق پوجتی ہے، یہ بت-پرستی نہیں تو اور کیا ہے.


=====================================
٩) نجوم (ستارہ) پرست:
پچھلے زمانہ میں بعض لوگ ستاروں کو پوجا کرتے تھے، حضرت ابراھیم علیہ السلام کے زمانہ میں ستارہ پرستی کا رواج بہت تھا، کہ ارشاد فرمایا:
فَلَمّا جَنَّ عَلَيهِ الَّيلُ رَءا كَوكَبًا ۖ قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لا أُحِبُّ الءافِلينَفَلَمّا رَءَا القَمَرَ بازِغًا قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لَئِن لَم يَهدِنى رَبّى لَأَكونَنَّ مِنَ القَومِ الضّالّينَفَلَمّا رَءَا الشَّمسَ بازِغَةً قالَ هٰذا رَبّى هٰذا أَكبَرُ ۖ فَلَمّا أَفَلَت قالَ يٰقَومِ إِنّى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ {6: 76-78}
ترجمه: (یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں.(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں.پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں.

فَنَظَرَ نَظرَةً فِى النُّجومِ + فَقالَ إِنّى سَقيمٌ {37 : 88 -89}ترجمه: پھر نگاہ کی ایک بار تاروں میں. پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں.توضیح: یمن کا بادشاہ، بیبی بلقیس اور اس کی قوم سورج کو پوجتے، جس کا بیان:

وَجَدتُها وَقَومَها يَسجُدونَ لِلشَّمسِ مِن دونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَصَدَّهُم عَنِ السَّبيلِ فَهُم لا يَهتَدونَ {27:24}
ترجمه: میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے یعنی پچھلے زمانہ کے لوگ ستاروں میں نفع نقصان کا اثر مان-کر ان کی پرستش کرتے تھے، ویسے ہی اس دور کے مشرک لوگ بھی ستاروں میں نفع-نقصان کا اثر مانتے انکو پوجتے ہیں اور کہتے ہیں آج فلاں سترہ سامنے ہے، فلاں طرف سفر نہ کیا جاۓ ورنہ نقصان ہوگا. ام طور کہتے ہیں کہ "تیرا-تیزی" کے سامنے سے بھاگا جاۓ مگر اس ستارے کے سامنے نہ جایا جاۓ. اور نجومی اور رملی لوگ اپنے ہاتھوں کی دس (١٠) انگلیوں میں تامبے اور گلٹ وغیرہ کی انگوٹھیاں تیار کرواکر ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ستاروں کا برا اثر نیچے اتریگا تو ان انگوٹھیوں میں جذب ہوگا اور ان کا اثر ہم پر پڑیگا. اور جاہل لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کے سبب ہم پر بارش برسی ہے. یہ سارے کام شرکیہ ہیں.حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں بارش کے بعد جو شب میں ہوئی تھی، صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف اپنا منہ کرکے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ تمہارے پروردگار عز وجل نے کیا فرمایا؟ وہ بولے اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بندوں میں کچھ لوگ مومن بنے اور کچھ کافر، تو جنہوں نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی، تو ایسے لوگ مومن بنے، ستاروں (وغیرہ) کے منکر ہوئے، لیکن جنہوں نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کے سبب سے بارش ہوئی وہ میرے منکربنے ستارے پر ایمان رکھا.[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 809 ، کتاب الاذان، امام لوگوں کی طرف منہ کرلے جب سلام پھیرلے]
=====================================
١٠) حیوان پرست:
پچھلے زمانے کے بعض لوگ حیوان-پرستی کرتے تھے. سورہ المائدہ: ١٠٣ میں الله تعالیٰ "بحیرہ"، "سائبہ"، "وصیلہ" کا بیان فرماتا ہے اور مشرکین_عرب ثواب کے لئے غیرالله کے تقرب کے لئے جانوروں کو خاص کرتے تھے اور ان جانوروں کو آزاد چھوڑدیتے، کہ اس پر نہ کوئی چڑھتا، نہ بار برداری میں کام لاتا اور نہ ہی ان کو ذبح کرتا (نفع نہ اٹھاتا) وغیرہ. پچھلے زمانے کے مشرک لوگ "پرندوں" سے بدفالی لیتے تھے، بعض "الّو" کو منحوس سمجھتے تھے، مگر نبی_کریم صلے الله علیہ وسلم نے ان سب خیالات کو رد فرمایا، دیکھو: دھر (زمان)پرست میں نیچے:
=====================================
١٣) دھر (زمان) پرست:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرض کا ایک سے دوسرے کو لگنا، (پرندوں سے بدفالی کا)شگون لینا، ہامہ (الو) اور (ماہ) صفر (میں) کوئی (برائی کی) چیز نہیں ہے۔[صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 715 ، کتاب الطب، ہامہ کوئی چیز نہیں]
توضیح:

جزام (بیماری والے سے) ایسے بھاگنا جیسے شیر سے بھاگتا ہے. الّو میں کو منحوس سمجھنا حیوان پرستی ہوئی اور ماہ_صفر کو منحوس(نقصان کی چیز) سمجھنا کہ زمان پرستی ہے.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کوئی مرض متعدی (ایک دوسرے کو لگنا) نہیں ہوتا، اور نہ الو میں نحوست ہے، اور نہ ستارے کی کوئی اصل ہے، اور نہ صفر کی نحوست کی کوئی بنیاد ہے۔
[صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1297 ، سلام کرنے کا بیان :مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ، صفر، ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں]
=====================================
١١) آتش (آگ) پرست:
پچھلے زمانے کی طرح اس زمانے میں بھی بعض لوگ آتش-پرست ہیں، (جیسے ہندو) اور شاہ بھٹائی رح کے بعض مرید آگ کا "طواف" کرتے ہیں تو بعض آگ کو "سجدہ" کرتے ہیں. اول لکڑی اور پتوں کا ڈھیر بیچ میں رکھ-کر اس کے چاروں طرف فقیر حلقہ بناکر بیٹھیںگے اور (ان کی تعریف میں) اشعار پڑھیںگے پھر اتوں کو آگ لگیںگے اور جب آگ بلند ہوگی تو سارے فقر آگ کے چوگرد سجدے میں گر پڑینگے.
=====================================
١٢) آب (پانی) پرست:
جیسے پہلے وقت کے بعض لوگ پانی کو پوجتے تھے، ویسے ہی آج اس زمانے کے ہندو پانی کو پوجتے، پانی کو "دریاء شاہ" کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پانی میں خود خدا. اسی طرح مسلمان بھی ہندو کو دیکھ کر پانی-پوجا سکھ ہیں، جیسے (پنو-عاقل تعلقہ میں آنے والے فقیر) دریاء کنارے بیٹھ-کر چلّہ بناتے، وہاں کھڑے ہوکر وظیفہ کرنا، بعض تعویذ لکھ-کر دریاء میں بہاتے ہیں، یہ سب کام آب(پانی)پرستی میں داخل ہیں.
=====================================
١٤) هويٰ (نفس) پرست:
اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــهَه هَوٰى...{45 : 23 }
ترجمه: پھر کیا تم نے کبھی اس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا...
تفسیر:

اس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ جس چیز کی نفس نے خواہش کی اس کا ارتکاب کر گزرا۔ نہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حرام کیا، نہ اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال کیا۔[ابن_جریر]وہ خواہش نفس کی اس طرح اطاعت کرتا ہے جیسے کوئی خدا کی اطاعت کرے[ابوبکر جصاص]وہ خواہش نفس کا نہایت فرمانبردار ہے۔جدھر اس کا نفس اسے بلاتا ہے اسی طرف وہ چلا جاتا ہے، گویا وہ اس کی بندگی اس طرح کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے خدا کی بندگی کرے۔[زمخشری]
++++++++++++++++++++++++++++++++++++
مذکورہ بالا مضامین سے معلوم ہوا کہ آج کل الله تعالیٰ کی توحید پر کس قدر حملے ہو رہے ہیں.تمت وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت إليه منيب.[ماخوذ از تحفة الموحدين:٥٥٣-٥٥٩]
++++++++++++++++++++++++++++++++++++
15) وطن برست:
جو الله تعالیٰ کے دین کی خاطر اگر وطن قربان کرنا پڑے تو دین کو قربان کردے مگر اسلام الله (دین) کے لئے سب کچھ (وطن بھی) قربان کرنے کے لئے "ہجرت" کا حکم دیتا ہے.
يٰعِبادِىَ الَّذينَ ءامَنوا إِنَّ أَرضى وٰسِعَةٌ فَإِيّٰىَ فَاعبُدونِ {29:56}
اے بندو میرے جو یقین لائے ہو میری زمین کشادہ ہے سو مجھی کو بندگی کر و
توضیح:

یعنی یہ مکہ کے کافر اگر تم کو تنگ کرتے ہیں تو خدا کی زمین تنگ نہیں، دوسری جگہ جا کر خدا کی عبادت کرو۔

قُل يٰعِبادِ الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقوا رَبَّكُم ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرضُ اللَّهِ وٰسِعَةٌ ۗ إِنَّما يُوَفَّى الصّٰبِرونَ أَجرَهُم بِغَيرِ حِسابٍ {39:10}
تو کہہ اے بندو میرے جو یقین لائے ہو ڈرو اپنے رب سے جنہوں نے نیکی کی اس دنیا میں انکے لئے ہی ہے بھلائی اور زمین اللہ کی کشادہ ہے صبر کرنے والوں ہی کو ملتا ہے ان کا ثواب بے شمار
توضیح:

یعنی جس نے دنیا میں نیکی کی آخرت میں اس کے لئے بھلائی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جس نے نیکی کی اس کو آخرت سے پہلے اسی دنیا میں بھلائی ملے گی ظاہری یا باطنی۔یعنی اللہ کی طرف سے یہ پیام پہنچا دو۔ یعنی اگر ایک ملک میں لوگ نیک راہ چلنے سے مانع ہوں تو خدا کی زمین کشادہ ہے، دوسرے ملک میں چلے جاؤ۔ جہاں آزادی سے اس کے احکام بجا لا سکو۔ بلاشبہ اس طرح ترک وطن کرنے میں بہت مصائب برداشت کرنا پڑیں گے اور طرح طرح کے خلاف عادت و طبیعت امور پر صبر کرنا پڑے گا۔ لیکن یاد رہے کہ بے شمار ثواب بھی ملے گا تو صرف کرنے والوں ہی کو ملے گا اس کے مقابلہ میں دنیا کی سب سختیاں اور تکلیفیں ہیچ ہیں۔ جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ پس ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے لوٹنے کی۔ ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ تو کوئی تدبیر کر سکتے ہیں اور نہ رستہ ہی جانتے ہیں۔ تو قریب ہے کہ اللہ ایسوں کو معاف کر دے۔ اور اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے بڑا بخشنے والا ہے۔ (النساء/٤: ٩٧-٩٩)
==========================
=============

١٦) قوم پرست:


ایسے ہی جو اپنی قوم کی ہر بات (یعنی غلط پر بھی) حمایت کرتے حق (سچے دین کے احکام_الہی) کے خلاف جاۓ. 




" إِلٰه" (خدا) کی قرآنی معنى (مطلب) و تشريح اور خدا کون ہو سکتا ہے (لائق_خدائی کون؟)؟::
قرآن مجید:
أَمَّن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَنبَتنا بِهِ حَدائِقَ ذاتَ بَهجَةٍ ما كانَ لَكُم أَن تُنبِتوا شَجَرَها ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَل هُم قَومٌ يَعدِلونَ {27:60}
بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں.



١) آسمان و زمین کے پیدا کرنے کی طاقت
٢) آسمان سے بارش برسانے کی طاقت
٣) (اور اس سے) درختوں کو پیدا کرنے کی طاقت



تفسیر روح المعانی:
"ما کان لکم" سے مراد عام ہے یعنی جن ہو یا انسان(پیر و پیمبر) یا فرشتے کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا.
حالانکہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسے کام نہیں کر سکتا، اسی لئے الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی "سچا-حقیقی-خدا" نہیں بن سکتا.
----------------------------
أَمَّن جَعَلَ الأَرضَ قَرارًا وَجَعَلَ خِلٰلَها أَنهٰرًا وَجَعَلَ لَها رَوٰسِىَ وَجَعَلَ بَينَ البَحرَينِ حاجِزًا ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ {27:61}
بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے.
شرح:
زمین تو پیدا کرے مگر پہاڑوں کے سوا وہ قرار نہیں لیگی سو پہاڑوں کو پیدا کرے، بارش تو برساۓ مگر اس کا پانی دریاؤں کے سوا دور پہچانے اور دور کی مخلوق کے فائدے کا انتظام کرے

٤) زمین کو پیدا کرنے کے بعد اس کو برقرار رکھنے کی طاقت
٥) زمین سے دریاء نکال بہانے کی طاقت
٦) زمین (کو برقرار رکھنے کو اس) پر پہاڑ رکھنے کی طاقت
٧) مختلف مزے اور ذائقے رکھنے-والے دریاؤں کو ملاکر بہانے اور دونوں کے درمیاں پردہ رکھنے کی طاقت




حالانکہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسے کام نہیں کر سکتا، اسی لئے الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی "سچا-حقیقی-خدا" نہیں بن سکتا.
------------------------------
أَمَّن يُجيبُ المُضطَرَّ إِذا دَعاهُ وَيَكشِفُ السّوءَ وَيَجعَلُكُم خُلَفاءَ الأَرضِ ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ {27:62}
بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو.



٨) پریشان آدمی کی فریاد (سننا اور) قبول کرنے کی طاقت
٩) اس پر سے سختی ہٹانے (تکلیف دور کرنے) کی طاقت
١٠) زمانہ میں اگلوں کا نائب (جانشین) بنانے والا



حالانکہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسے کام نہیں کر سکتا، اسی لئے الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی "سچا-حقیقی-خدا" نہیں بن سکتا.
-------------------------------
أَمَّن يَهديكُم فى ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالبَحرِ وَمَن يُرسِلُ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ تَعٰلَى اللَّهُ عَمّا يُشرِكونَ {27:63}
بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں)۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے.



١١) دریاؤں اور خشکی میں (بھی ظاہری کسی مدد کرنے والے کے سوا) گم-راہ کو راہ دکھانے-والا 
١٢) بارش (رحمت) برسانے سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجنے والا 



حالانکہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسے کام نہیں کر سکتا، اسی لئے الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی "سچا-حقیقی-خدا" نہیں بن سکتا. 
------------------------------- 
أَمَّن يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ وَمَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قُل هاتوا بُرهٰنَكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ {27:64} 
بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو 



١٣) پہلی بار جو مخلوق کو پیدا کرے 
١٤) موت کے بعد پھر زندہ کرنے والا 
آسمان سے بارش برسانے والا اور اس سے 
١٥) زمین سے اناج اور میواجات وغیرہ پیدا کرنے والا 



حالانکہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسے کام نہیں کر سکتا، اسی لئے الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی "سچا-حقیقی-خدا" نہیں بن سکتا. 



مذکورہ بالہ (عقلی دلائل سے بات سمجھانے والی) آیتوں سے معلوم ہوا کہ "متصرف الامور" (کاموں کا قبضہ/کنٹرول) کرنے والا الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں، مگر کوئی شخص "مافوق الاسباب" (ظاہری اسباب سے بالا) الله تعالیٰ کے سوا کسی اور کو "متصرف الامور" (کاموں کا قبضہ/کنٹرول) کرنے والا سمجھے(مانے) گا تو وہ شخص مشرک ہے اور مشرک کی جگہ جہنم ہے: 



إِنَّهُ مَن يُشرِك بِاللَّهِ فَقَد حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيهِ الجَنَّةَ وَمَأوىٰهُ النّارُ ۖ وَما لِلظّٰلِمينَ مِن أَنصارٍ {5:72} 
(اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں. 



مگر امور میں تصرف کرنا موقوف ہے "علم" پر. اگر کسی کو ملک کی خبر نہیں تو وہ ملک بھی نہیں چلا سکتا، اس سے معلوم ہوا کہ "غیب کا علم" بھی خدا کے سوا کسی کو بھی نہیں اور مذکورہ بالا آیات کے بعد ان سارے کاموں کو (کسی کے) نہ کرنے کا سبب بیان کیا گیا کہ الله تعالیٰ کے سوا "آسمانوں" میں کوئی فرشتہ اور "زمین" میں کوئی بھی ولی یا پیغمبر غیب نہیں جانتا، اس لئے وہ مکورہ بالا امور کرنے ولی شرط (عالم الغیب ہونا) ان میں نہیں، دیکھئے آیت: 



قُل لا يَعلَمُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ الغَيبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَما يَشعُرونَ أَيّانَ يُبعَثونَ {27:65} 
کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے. 



١٦) غیب کا جاننے والا 

حالانکہ الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسے کام نہیں کر سکتا، اسی لئے الله تعالیٰ کے سوا کوئی بھی "سچا-حقیقی-خدا" نہیں بن سکتا. 





قانون لفظ "اله" (خدا):: 
جہاں کہیں قرآن مجید میں "اله" کا لفظ آجاۓ، اور غیر الله سے اله ہونے کی نفی کی جارہی ہو، وہاں غیر الله سے (خواہ نبی ہو یا ولی) غائبانہ حاجات میں "ما فوق الاسباب متصرف فی الامور" (ظاہری اسباب سے بالا کاموں میں قابض) ہونے کی نفی کی جاۓ گی. اور علم_غیب کی بھی نفی کی جاۓ گی، مگر زیادہ تر متصرف فی الامور ہونے کی نفی کی جاۓ گی، کیونکہ اس سے علم_غیب کی نفی لازم آجاتی ہے. 



خلاصہ: ١٦ تصرفات_خدائی کی بنیادی شرط "عالم الغیب اور ما فوق الاسباب متصرف فی الامور (ظاہری اسباب سے بالا کاموں میں قابض) ہونا۔
[ماخوذ از تحفة الموحدين: صفحة # ١٥٥-١٦٠] 







قانون لفظ "اله" (یعنی خدا)


جہاں کہیں قرآن مجید میں "اله" کا لفظ آجاۓ، اور غیر الله سے اله ہونے کی نفی کی جارہی ہو، وہاں غیر الله سے (خواہ نبی ہو یا ولی) غائبانہ حاجات میں "ما فوق الاسباب متصرف فی الامور" (ظاہری اسباب سے بالا کاموں میں قابض) ہونے کی نفی کی جاۓ گی. اور علم_غیب کی بھی نفی کی جاۓ گی، مگر زیادہ تر متصرف فی الامور ہونے کی نفی کی جاۓ گی، کیونکہ اس سے علم_غیب کی نفی لازم آجاتی ہے. 


دلائل_قرآن: 



لَقَد كَفَرَ الَّذينَ قالوا إِنَّ اللَّهَ ثالِثُ ثَلٰثَةٍ ۘ وَما مِن إِلٰهٍ إِلّا إِلٰهٌ وٰحِدٌ ۚ وَإِن لَم يَنتَهوا عَمّا يَقولونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذينَ كَفَروا مِنهُم عَذابٌ أَليمٌ {5:73} 



وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے 


أَفَلا يَتوبونَ إِلَى اللَّهِ وَيَستَغفِرونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ {5:74} 

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے 


مَا المَسيحُ ابنُ مَريَمَ إِلّا رَسولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ ۖ كانا يَأكُلانِ الطَّعامَ ۗ انظُر كَيفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الءايٰتِ ثُمَّ انظُر أَنّىٰ يُؤفَكونَ {5:75} 

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں 


قُل أَتَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَملِكُ لَكُم ضَرًّا وَلا نَفعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ {5:76} 

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے 


یھاں ان آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ سے اله (خدا) ہونے کی نفی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں محتاج ہیں اور نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتے اور ہر شے کو جاننے والے بھی نہیں. یھاں بھی مقصد یہ ہے کہ غائبانہ حاجات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ نافع (نفع دینے والے) اور ضار (نقصان رساں) نہیں. 

الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنّورَ ۖ ثُمَّ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم يَعدِلونَ {6:1} 

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں 


هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن طينٍ ثُمَّ قَضىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِندَهُ ۖ ثُمَّ أَنتُم تَمتَرونَ {6:2} 

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو 


وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَفِى الأَرضِ ۖ يَعلَمُ سِرَّكُم وَجَهرَكُم وَيَعلَمُ ما تَكسِبونَ {6:3} 

اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے 


اس کے بعد دوسری آیت_توحیدیہ آئی: 

قُل لِمَن ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ قُل لِلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلىٰ نَفسِهِ الرَّحمَةَ ۚ لَيَجمَعَنَّكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ ۚ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم فَهُم لا يُؤمِنونَ {6:12} 

(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے 


وَلَهُ ما سَكَنَ فِى الَّيلِ وَالنَّهارِ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ {6:13} 

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے 


وَإِن يَمسَسكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا كاشِفَ لَهُ إِلّا هُوَ ۖ وَإِن يَمسَسكَ بِخَيرٍ فَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ {6:17} اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے 


خلاصہ: امور_مذکورہ فی الآیات میں غائبانہ اور مافوق الاسباب متصرف الله کریم ہی ہے اور ہر شے کا جاننے والا بھی وہی ہے. لہذا اگر وہ کوئی ضرر پہنچانا چاہے تو کوئی دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ نفع پہنچانا چاہے تو وہ قادر ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا. 

وَرَبُّكَ يَخلُقُ ما يَشاءُ وَيَختارُ ۗ ما كانَ لَهُمُ الخِيَرَةُ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ {28:68} 

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک وبالاتر ہے 


وَرَبُّكَ يَعلَمُ ما تُكِنُّ صُدورُهُم وَما يُعلِنونَ {28:69} 

اور ان کے سینے جو کچھ مخفی کرتے اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار اس کو جانتا ہے 


وَهُوَ اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الحَمدُ فِى الأولىٰ وَالءاخِرَةِ ۖ وَلَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ {28:70} 

اور وہی خدا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا اور آخرت میں اُسی کی تعریف ہے اور اُسی کا حکم اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے 


قُل أَرَءَيتُم إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيكُمُ الَّيلَ سَرمَدًا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِضِياءٍ ۖ أَفَلا تَسمَعونَ {28:71} 


کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے ہے جو تم کو روشنی لا دے تو کیا تم سنتے نہیں؟ 


قُل أَرَءَيتُم إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيكُمُ النَّهارَ سَرمَدًا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِلَيلٍ تَسكُنونَ فيهِ ۖ أَفَلا تُبصِرونَ {28:72} 

کہو تو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت تک دن کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے کہ تم کو رات لا دے جس میں تم آرام کرو۔ تو کیا تم دیکھتے نہیں؟ 


وَمِن رَحمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ لِتَسكُنوا فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ {28:73} 

اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر کرو تَنزيلًا مِمَّن خَلَقَ الأَرضَ وَالسَّمٰوٰتِ العُلَى {20:4} 

یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے 


الرَّحمٰنُ عَلَى العَرشِ استَوىٰ {20:5} 

(یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا 


لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ وَما بَينَهُما وَما تَحتَ الثَّرىٰ {20:6} 

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے 


وَإِن تَجهَر بِالقَولِ فَإِنَّهُ يَعلَمُ السِّرَّ وَأَخفَى {20:7} 

اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ تو چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے 


اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ {20:8} 

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں 


خلاصہ: ان آیت میں بھی دعوا دلائل_توحید ہے، جن میں ان ہی دو امور یعنی مافوق الاسباب متصرف اور غیب دان الله ہی ہے، کو خوب واضح کیا گیا ہے.قادر ہے 



(جاری ہے)







جائز و ناجائز تعویذات:
بعض لوگوں کا تعویذ پہننے کو مطلقاً شرک قرار دینا غلط ہے، البتہ کسی تعویذ میں "کلماتِ شرکیہ" ہوں، یا اس کو لینے دینے والے (اس تعویذ کو) موٴثر بالذات (ذاتی طور اثر رکھنے والا) سمجھتے ہوں، یا ٹوٹکا اورجادو وغیرہ کے قبیل سے ہو تو بلاشبہ شرک وحرام ہے، لیکن جس تعویذ میں اسماء اللہ تعالیٰ یا ادعیہٴ ماثورہ ہوں اوراس کو موٴثر حقیقی نہ سمجھا جاتا ہو تو اس قسم کے تعویذ کو بھی شرک قراردینا تحکم و زیادتی ہے، اس لیے کہ اس قسم کے تعویذ کے لینے دینے اور استعمال کی اجازت کتب حدیث سے ملتی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، مرقات شرح المشکاة، ص:۳۲۱ و ۳۲۲، ج۸، الترغیب والترہیب، ج۵ ص۲۷۱، ابوداوٴد شریف، ج۲، ص۹۲ وغیرہا،

جہاں تک ان احادیث كا تعلق ہے جس میں آپ نے تعویذ لٹکانے سے منع فرمایا ہے تو یہ اس صورت پر محمول ہیں، ) جب کہ تعویذ کو  موٴثر بالذات (ذاتی طور اثر رکھنے والا)، نافع (نفع دینے والا) اور ضار (نقصان دینے والا)  سمجھا جائے جیسا کہ لوگ زمانہٴ جاہلیت میں اعتقاد رکھتے تھے، بلکہ موثر حقیقی صرف الله تعالیٰ کو مانا جاۓ اور اس دم و تعویذ کو صرف سبب کے درجہ میں سمجھا جاۓ (جیسا کہ بیماری میں دوا وغیرہ کرانا، (٢)  یا اس طرح کے تعویذ پر محمول ہے جس میں شرکیہ و کفریہ کلمات لکھے ہوں، (٣) یا وہ عجمی زبان میں لکھے ہوں تو ان کے معنی معلوم نہ ہوں؛لیکن اگر اسمائے حسنیٰ اور دیگر آیاتِ قرآنیہ لکھ کر لٹکایا جائے تو اس میں مضائقہ نہیں۔ علاج بالقرآن پر اجماع ہے:دیکھئے بخاری شریف کے حاشیہ پر (حاشية بخاري : ١/٣٠٤) لکھا ہے : "فيه جواز الرقية وبه قالت الأئمة الأربعة" یعنی "رقیہ کے جواز پر ائمہ اربعہ قائل ہیں".

تمائم و تعویذات میں فرق:نبی (صلی الله علیہ وسلم) کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رضی الله عنہا) فرماتی ہیں کہ : "تمیمہ وہ نہیں جو بلاء (مرض) آنے پر لٹکایا جاۓ. (طحاوی : ٢/٣٦٠)


"تميمة" دراصل پتھر، منکے اور کوڑیوں کو کہتے ہیں جنہیں عرب لوگ بچوں کو نظر_بد سے بچانے کے لئے پہناتے تھے. (النهاية لابن الأثير : ج ١) جن کو زمانہ جاہلیت میں موثر بالذات سمجھ کر گلے وغیرہ میں لٹکاتے تھے یہ شرک و حرام ہیں.اور قرآن مجید اور مسنون دعاؤں و اذکار پر مشتمل "رقية" (یعنی دم جھاڑ و تعویذ) کرنا جائز بلکہ منقول ہے.


أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، فِي الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ فِي عُنُقِهَا التَّعْوِيذُ أَوْ الْكِتَابُ ، قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي أَدِيمٍ ، فَلْتَنْزِعْهُ ، وَإِنْ كَانَ فِي قَصَبَةٍ مُصَاغَةٍ مِنْ فِضَّةٍ ، فَلَا بَأْسَ ، إِنْ شَاءَتْ ، وَضَعَتْ ، وَإِنْ شَاءَتْ ، لَمْ تَفْعَلْ " ، قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ : تَقُولُ بِهَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .
[سنن الدارمي » كِتَاب الطَّهَارَةِ » بَاب التَّعْوِيذِ لِلْحَائِضِ، رقم الحديث: 1153



توسل بالذات - کسی (نیک) ذات کا وسیلہ اور امام ابن_تیمیہ (حنبلی) رح::


ذوات کے توسل کی دو (٢) صورتیں : ایک حرام و شرک، دوسری جائز و مستحب:
١) الله کے سوا یا ساتھ غائبانہ-دوری سے مدد کے لئے کسی اور (غیر-الله) کو پکارنا "کفر-و-شرک" ہے. ایسا وسیلہ جائز نہیں.


قرآن:: یہ "لوگ" جن کو (خدا کے سوا) "پکارتے" ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں(قرب کا) *وسیلہ*تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہ



وتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے.[اسرا / بنی اسرائیل:٥٧]



-----------
٢) مدد کے لئے الله کے نیک بندوں کے وسیلے سے "الله کو پکارنا" مستحب (محبوب-عمل) ہے. (فرض یا واجب نہیں


سليمان بن أحمد, طاهر بن عيسى، أصبغ بن الفرج، عبد الله بن وهب، شبيب بن سعيد، روح بن القاسم، عمير بن يزيد، أسعد بن سهل، حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عثمان (رض) کے پاس ضرورت کے سلسلہ میں آیا جایا کرتا تھا اور حضرت عثمان (غالباً بوجھ مصروفیت) نہ تو اس کی طرف توجہ فرماتے اور نہ اس کی حجت براری کرتے وہ شخص حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اور اس کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا کہ وضو کی جگہ جا اور وضو کرکے پھر مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھ، پھر کہہ :



اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَتَقْضِي لِي حَاجَتِي



(خلاصہ یہ کہ) اس شخص نے ایسا ہی کیا اور اس کی دوا کی برکت سے حضرت عثمان بن عفان (رض) نے ان کی تعظیم و تکریم کی اور کام بھی پورا کردیا.


اس حدیث کے بعد امام سبکی (شافعی) رح اور امام سمہودی رح وغیرہما نے تصریح کی ہے کہ نبی (صلے الله عالیہ وسلم) کے اس دنیا سے منتقل ہونے کے بعد بھی آپ کی ذات_مقدسہ کا توسل و توجہ لینا جائز ہے. (شفاء السقام : ص # ١٢٤؛ وفاء الوفاء : ٢/٤٣٠)
---------------------
تنبیہ:
١) یہ عقیدہ ہرگز نہ رکھا جاۓ کہ بغیر-توسل دعا کو الله تعالیٰ سنتا (قبول کرتا) ہی نہیں.


٢) اور نہ یہ عقیدہ ہو کہ وسیلے کے ساتھ جو دعا کی جاۓ، اس کو الله تعالیٰ لازماً قبول کرتا ہے.



صرف اتنا سمجھنا چاہیے کہ مقبول بندوں کے وسیلہ و طفیل کے ساتھ جو دعا کی جاۓ گی اس کی قبولیت کی امید زیادہ ہے. اسی مسئلہ کو فقہاء_کرام اس انداز میں تحریر فرماتے ہیں:



ترجمہ:"دعا میں یہ کہنا "بحق فلاں او بحق فلاں انبیائک و رسولک" مجھے فلاں چیز عطا فرما یہ مکروہ (ناجائز) ہے، کیونکہ مخلوق کا کوئی حق خالق کے ذمہ (واجب و لازم) نہیں.[فتاویٰ ہندیہ (یعنی فتاویٰ عالمگیریہ: کتاب الكراهية، ٤/٤٧٥]

================================
نبی (صلے الله علیہ وسلم) کے لباس سے(شفاء کا) توسل:


صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 912 ، لباس اور زینت کا بیان : مردوں کے لئے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں


...حضرت اسماء نے فرمایا کہ رسول اللہ کا یہ جبہ موجود ہے پھر حضرت اسماء نے ایک طیالسی کسروانی جبہ نکالا جس کا گربیان دیباج کا تھا اور اس کے دامن پر دبیاج کی بیل تھی حضرت اسماء کہتی ہیں کہ یہ جبہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا تو جبہ میں لے آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ جبہ پہنا کرتے تھے اور اب ہم اس جبہ کو دھو کر شفاء کے لئے بیماروں کو پلاتے ہیں۔

----------------------
نبی (صلے الله علیہ وسلم) کے بالوں سے(شفاء کا) توسل:


صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 848, لباس کا بیان :بڑھاپے کے متعلق جو روایتیں منقول ہیں



مالک بن اسماعیل، اسرائیل، عثمان بن عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ مجھے میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پیالہ دے کر بھیجا، اسرائیل نے اس سے تین چلو پانی لیا، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے، جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی تکلیف ہوتی ہو وہ ام سلمہ کے پاس برتن بھیج دیتا، عثمان کا بیان ہے کہ میں نے اس میں جھانک کر دیکھا تو مجھے چند سرخ بال نظر آئے۔
























No comments:

Post a Comment