Friday, 27 June 2014

قرآن مجید کی پیشن گوئیاں

فتح خیبر کی پیشن گوئی

قرآن کریم میں جہاں بہت سی پیش گوئیاں ہیں ان میں سے ایک مشہور پیش گوئی وہ ہے جو صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں سورۂ فتح میں ذکر فرمائی ہے،اور ان تمام مسلمانوں کو جو حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے حضور کے ہاتھ پر بیعت کررہے تھے ان سے اپنی رضامندی کا اعلان کیا اور فرمایا:

 وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا،وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا

(فتح:۱۸،۱۹)

روحانی برکتوں کے علاوہ ہم نے انکو ایک فتح کی خبر دی جو بہت نزدیک ان کو ملنے والی ہے اور مال غنیمت کی کثرت اور اس کے حصول کی بھی ان کو خبر دی۔

خلاصہ یہ کہ اللہ تعالی نے ان مسلمانوں کی ہمت افزائی فرمائی،ان کو اپنی رضامندی عطا فرمائی،اور ان کے دلوں کے خلوص کو ظاہر کردیا اور ان پر سکینہ یعنی روحانی تسکین نازل فرمائی اور مکہ معظمہ سے بغیر عمرہ کیے واپس جانے پر ان کو بدلے میں ایک فتح قریب اور کثیر مال غنیمت سے ان کو مالا مال فرمایا، بہر حال جو اطلاع دی تھی وہ پوری ہوئی ؛چنانچہ اللہ تعالی نے تھوڑے ہی دنوں بعد خیبر کو فتح کیا اور اس کے ساتوں قلعے قبضے میں آئے، بہت سے باغات بھی بطور فئے حاصل ہوئے، جن کی تفصیل کتب سیر میں موجود ہے۔

صلح حدیبیہ کے بعد

نبی کریم نے اپنا ایک خواب صحابۂ کرام کو بتایا کہ ہم لوگ عمرے کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ میں داخل ہوں گے اور ارکان عمرہ بجالائیں گے؛ چنانچہ صحابہ نے اس خواب کو سن کر مکہ معظمہ چلنے کی تیاریاں شروع کردیں اور حضور کے ہمراہ تشریف لے گئے،وہاں جاکر معاندین کی مزاحمت کی اور آپ نے حدیبیہ میں قیام فرمایا اور کفار مکہ سے گفتگو ہوئی،سورۂ فتح میں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کے خواب کی توثیق کی اور فرمایا یہ خواب آئندہ سال کے متعلق ہے اس سال یہ پورا ہونے والا نہ تھا بلکہ اس کی تعبیر آئندہ سال پوری ہونے والی ہے ؛چنانچہ یہ خواب والی پیشن گوئی آئندہ سال پوری ہوئی اور صحابہ کرام نہایت اطمینان کے ساتھ ارکان عمرہ بجالائے اور عمرے سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ بخیر یت تمام واپس ہوئے اور یہ پیشن گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی سورۂ فتح کی آخری رکوع  میں اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

روم اور فارس کے فتح کرنے کی پیشن گوئی


آئندہ کی  فتوحات  کے سلسلہ میں ایک اور پیشن گوئی سورۂ فتح میں مذکور ہے:
 وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا

(فتح:۲۱)

اس فتح کی خبر کے علاوہ اللہ تعالی نے ان غنائم کو اپنے احاطہ علمی میں لے رکھا ہے،اور ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

یعنی بظاہر تمہاری قدرت میں نہیں کہ تم ان پر قبضہ کرسکو مگر وہ اللہ کے علم وقدرت میں ہیں اور اس کی تائید سے وہ غنیمتیں تم کو حاصل ہوں گی۔
جمہور مفسرین نے اس پیشن گوئی سے مراد فارس اور روم کے غنائم کیے ہیں اور یہ واقعہ بھی ہے کہ شاہان فارس اور روم کے مقابلہ میں مسلمانوں کا کوئی شمار نہ تھا یہ قومیں بڑی طاقت اور بکثرت ساز وسامان سے بھر پور تھیں؛ چنانچہ قرآن نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا اور مسلمانوں کو بےشمار غنائم ہاتھ لگے۔


مرتدین کی سرکوبی

قرآنی پیشن گوئیوں میں ایک پیشن گوئی یہ ہے کہ نبی کریم کے وصال کے بعد کچھ مسلمان دین چھوڑ کر مرتد ہوجائیں گے پھر اللہ تعالی ان مرتدین کا استیصال ایسے مسلمانوں کے ہاتھ سے کرائے گا جو اللہ تعالی سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان کو دوست رکھتا ہے ،مسلمانوں کے روبرو تواضع کرنے والے ہیں اورمنکرین کے مقابلہ میں خود دار اور منکروں کو دبانے اور مغلوب کرنے والےہیں اور بغیر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کے خوف کے  اپنی سعی اور کوشش اور جہاد فی سبیل اللہ کو جاری رکھتے ہیں؛ چنانچہ قرآن کی اس پیشن گوئی کے مطابق واقعہ پیش آیا اور نبی کریم کی وفات کے بعد عرب کے کچھ قبائل مرتد ہوگئے اور کچھ مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوگئے، جس نے نبوت  کا دعوی کیا تھااس وقت اخیار صحابہ نے جو صفات مذکورہ سے متصف تھے اس ارتداد کو اللہ تعالی کے فضل سے رفع کیا اور اس شبہ کو مٹایا ،مرتدین کو ہزیمت ہوئی اور مسیلمہ کذاب وحشی کے ہاتوں سے ماراگیا اور مقتول ہوا اور حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں یہ فتنہ فرو ہوا اور مسلمانوں کے ایک لشکر کو حضرت خالد کی سرکردگی میں ان تمام مرتدین اور منکرین پر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ؛چنانچہ پارہ چھ میں ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ۔

(المائدہ:۵۴)

اےایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے گاتو اللہ ایسے لوگ پیدا کردےگا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ،جو مؤمنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے،اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت  سےنہیں ڈریں گے۔


اہل فارس

من جملہ اور پیش گوئیاں کہ قرآن کی یہ پیشن گوئی بھی مشہور ہے جو روم اور فارس کی جنگ کے سلسلہ میں فرمائی ہے ،واقعہ اس طرح ہے کہ رومیوں کی اہل فارس سے جنگ ہوئی تھی اس لڑائی میں اہل فارس کو غلبہ ہوا اور کچھ علاقہ اہل روم کے اہل فارس نے دبالیے اس خبر سے کفار مکہ نے خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے جس طرح اہل فارس جو مشرک ہیں اہل کتاب پر غالب ہوں گے ،اہل فارس اور اہل روم اس وقت کی دو زبردست اور ترقی یافتہ حکومتیں تھیں اہل کتاب چونکہ آسمانی کتاب کا نام لیتے تھے اس لیے مسلمانوں کو ان سے دلچسپی تھی اور کفار مکہ کو بوجہ کفر کے اہل فارس سے محبت تھی اس لیے فطرتاً مسلمانوں کو اس شکست سے رنج ہوا اور کفار مکہ اہل فارس کی فتح پر بہت خوش ہوئے اور اپنے لیے نیک فال لینے لگے، اللہ تعالی نے اس موقع پر یہ آیت نازل فرمائی:
الم ، غُلِبَتِ الرُّومُ، فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ، فِي بِضْعِ سِنِينَ

(روم:۱،۳)

روم مغلوب ہوئے نزدیک کے ملک اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے چند ہی سال میں۔

قرآن نے یہ بات ظاہر کی کہ اہل فارس کی یہ فتح عارضی ہے کچھ دنوں کے بعد  نو سال کے اندر اس کا الٹا اور اس کا عکس ہوگا اور آج کے مغلوب اس دن غالب آجائیں گے اور یہ بھی فرمایا کے اس دن اللہ تعالی کی مدد سے مسلمان خوش ہورہے ہوں گے،چنانچہ یہ پیشن گوئی پوری ہوئی  اور جس دن مسلمان جنگ بدر میں فتح یاب ہوئے اسی دن نبی کریم کو بذریعہ ہوئی بتایا گیا کہ رومیوں نے اہل فارس پر فتح پائی اور مسلمان بہت مسرور ہوئے، ایک طرف جنگ بدر میں جو فتح نصیب ہوئی اس کی خوشی دوسری خوشی اس خبر سے حاصل ہوئی کہ رومیوں کو فتح حاصل ہوئی فارس پر اور رومیوں نے اپنے علاقے واپس لے لیے اور قرآن کریم کی پیشن گوئی پوری ہوئی۔


یہودیوں سے متعلق

قرآن کی پیشن گوئیوں  میں ایک پیشن گوئی یہ ہے کہ جو قرآن نے یہود کے بارے میں بیان فرمائی کہ یہ کبھی موت کی تمنا اور خواہش نہیں کریں گے،واقعہ یوں ہے کہ یہود اس بات کے مدعی تھے کہ سوائے ہمارے اور کوئی شخص قیامت میں قرب خداوندی کا مستحق نہ ہوگا اور دار آخرت کی تمام خوبیاں اور بھلائیاں صرف ہمارے لیے ہوں گی قرآن نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اگر تمہارے زعم باطل میں یہ بات ہے کہ دارآخرت میں فائدہ اٹھانے والے صرف تم ہی تم ہو تو پھر تم دنیا میں رہنا کیوں پسند کرتے ہو اور اللہ تعالی سے موت کی تمنا کیوں نہیں کرتے کہ وہ تم کو دنیا سے آخرت میں منتقل کردے تاکہ تم ان فوائد سے مستفید ہو اور دنیا کی الجھنوں سے رہائی حاصل کرلو اور یہود کی طبائع اور ان کے دل کی خباثت سے اللہ تعالی واقف تھا اس نے اپنی کتاب میں یہ پیشن گوئی بھی فرمادی:
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ

(جمعہ:۷)

یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے،اس سبب سے جو کمائی ان کے ہاتھ کرچکے ہیں۔

اور یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت میں ان کے اعمال کی باز پرس نہ ہوگی،یہود نے موت کی تمنا نہیں کی اور آج تک بھی موت طلب کرنے کو آمادہ نہیں۔


اقتدار سے متعلق


وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔

(النور:۵۵)

تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں،ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا،اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو لاحق رہا ہے اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا ،(بس) وہ میری عبادت کریں میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں،اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان  ہوں گے۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم کی امت میں سےلوگ خلافت راشدہ کے  مستحق ہوئے اور یہ سلسلہ خلافت راشدہ کے بعد بھی چلتا رہا تاآنکہ لوگ عیش پرستی میں مبتلا ہوگئے اور حکومت کو بجائے خدمت کے اپنا حق اور اپنی ملک سمجھنے لگے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح زمین پر پھیلے تھے بالآخر سمٹنے شروع ہوگئے اور ۷۰۰ ہجری سے ضعف بڑھتا گیا اور آج دنیا میں کہیں بھی صحیح معنوں میں اقتدار باقی نہ رہا،جو کبھی اقتدار تقسیم کیا کرتے تھے وہ آج خود اقتدار سے محروم اور دوسروں کے دست نگر ہیں بہر حال پیشن گوئی پوری ہوچکی۔


دین حق


هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه

(فتح:۲۸)

حضرت حق جل مجدہ کی وہ شان ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کردے۔

دین حق کا غلبہ حکومت کے اعتبار سے  پورا ہوچکا ہے اور دین حق کا غلبہ ادیانِ باطلہ کے مقابلہ میں یہ بھی پورا ہوچکا ہے۔


مشرکین مکہ

سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔

(قمر:۴۵)

قریب ہے کہ اہل مکہ شکست پائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔

میدان بدر میں یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور تقریباً نوسو ساٹھ اہل باطل تین سو تیرہ مسلمانوں سے شکست کھاکر بری طرح بدحواس ہوکر بھاگے۔


سخت جنگجو قوم

قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ،فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

(فتح:۱۶)

اے پیغمبر! آپ ان اعراب اور اہل دیہات سے جو حدیبیہ میں شریک نہیں ہوسکے ،فرمادیجیے کہ تھوڑے دنوں کے بعد تم کو ایک سخت جنگ جو قوم سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی ،اس سخت قوم سے تم جنگ کروگے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے،پھر اس موقع پر تم نے اگر دعوت جہاد قبول کرلی اور اس جنگ جو قوم سے لڑنے کو نکل آئے تو اللہ تعالی تم کو بہترین اجر عنایت فرمائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی جیسا کے پہلے روگردانی کرچکے ہوتو تم  کوبڑا دردناک  عذاب دے گا۔

حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓکے زمانۂ خلافت میں ان لوگوں کی مسیلمہ کذاب اور اس کے ہمراہی مرتدین سے  اور فارس وروم وغیرہ سے جنگ ہوئی اور اعراب کو دعوت دی گئی اور قرآن نے جو پیشن گوئی کی تھی وہ لفظ بلفظ پوری ہوئی۔


اللہ آپﷺ کا محافظ ہے

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

(مائدہ:۶۷)

آپ کے پروردگار کی جانب سے جو احکام آپ پر نازل  کیے جاتے ہیں آپ ان احکام کی تبلیغ کرتے رہیں اور مخالفین ومعاندین کا اندیشہ نہ کریں اور کسی دشمن کا خوف دل میں نہ لائیں، اللہ تعالی لوگوں سے آپ کی حفاظت کرنے والا اور آپ کو بچانے والا ہے۔

اس آیت کے نزول سے قبل آپ اپنے خدام میں سے بعض حضرات کو بطور پہرہ دار اور محافظ کے مقررفرمایا کرتے تھے،جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے جملہ محافظین کو رخصت فرمادیا،یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور باوجود صدہا منکرین ومعاندین کے اللہ تعالی نے ہمیشہ آپ کے دشمنوں سےآپ کو محفوظ رکھا اور بڑے بڑے خطرات کے مواقع پرآپ کی مددفرمائی اور دشمنوں کے تمام مکر وفریب پامال کردیے گئے اور کوئی دشمن یا دشمن کی کوئی جماعت آپ پر قابو نہیں پاسکی،ایک مرتبہ آپ ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے اور آپ نے اپنی تلوار درخت میں لٹکا رکھی تھی؛چنانچہ ایک شخص نے دبے پاؤں آکر تلوار اتارلی اور تلوار ہاتھ میں لے کر حضور کو آواز دی اور کہا اے محمد اب میرے ہاتھ سے تجھ کو کون بچائےگاآپ  نے آنکھ کھول کر فرمایا :اللہ تعالی بچائےگا ،اللہ تعالی کا نام سن کر اس پر ہیبت طاری ہوگئی اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، آپ اپنی خوابگاہ سے اٹھے تلوار اٹھائی اور اس سے دریافت کیا: اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا، اس نے معذرت کی اور آپ سے معافی طلب کی آپ نے معاف کردیا ،آپ کی اس عنایت سے اس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا اور اپنی قوم میں جاکر کہا میں نے محمد سے بہتر کوئی آدمی نہیں پایا ،بہر حال حفاظت  کی پیشن گوئی اسی طرح ہر موقع پر پوری ہوئی۔


یہودیوں کی حقیقت

لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ

(اٰل عمران:۱۱۱)

وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی بڑا نقصان  ہرگز نہیں پہنچاسکیں گےاور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی توپیٹھ دِکھا جائیں گے،پھر انہی کوئی مدد بھی نہیں پہنچےگی۔

یہ آیت یہودیوں سے متعلق نازل ہوئی،جس میں ان کی حقیقت کو واضح کیا گیا،یہودیوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہا،اللہ نے ان کی تدبیروں کو ناکام بنادیا،بنی قریظہ،بنی نضیر،،بنی قینقاع اور خیبر کے یہود نے جب مقابلہ کیا پسپا ہوئے یہاں تک کہ فاروق اعظم کے زمانے میں ان سب کو خطۂ عرب سے جلا وطن کردیا گیا اور عرب سے ان کو نکال دیا گیا۔

واقعہ معراج کی خبر

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِير۔

(بنی اسرائیل:۱)

" پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندہ کو مسجد حرام ( خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیاتا کہ ہم اسے اپنی( قدرت) کی نشانیاں دکھائیں ،   بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے"

(سورہ بنی اسرائیل:۱)

وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ، ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى،فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى، مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ، أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى،مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ، لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى

(نجم:۷۔۱۸)

"  اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا ،   پھر اور زیادہ قریب ہوا تو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم،   پھر اﷲ نے اپنے بندے (محمد ) کی طر ف وحی بھیجی جو کچھ کہ بھیجی،   جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کو ان کے دل نے جھوٹ نہ جانا،   کیا جو کچھ انھوں نے دیکھا تم اس کے بارے میں ان سے جھگڑتے ہو اور انھوں نے اس کو ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے،  سدرۃ المنتہیٰ کے پاس،   اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے جب کے اس سدرۃ المنتہیٰ پر چھا رہاتھا جوکچھ چھا رہا تھا،   ان کی نگاہ نہ تو بہکی اور نہ (حدسے) آگے بڑھی ،   انھوں نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) بڑ ی بڑی نشانیاں دیکھیں"

(سورہ نجم تا  ۱۸)





No comments:

Post a Comment