(1)معجزات اور (2)پیشنگوئیاں، پیغمبر کی صداقت کے دلائل ہیں۔
عنوان: نبوت کے بعد کے دلائل – قرآن کریم سب سے بڑا اور دائمی معجزہ
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
"مَا مِنْ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مِنْ الْآيَاتِ (1) مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ (2) وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللهُ إِلَيَّ (3) فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ." (4) (5)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"انبیاء میں کوئی نبی ایسا نہیں جسے ایسی نشانیاں (معجزات) نہ دی گئی ہوں کہ انہیں دیکھ کر لوگ ایمان لے آئیں (1) (2)، اور بیشک جو مجھے عطا کیا گیا وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل کی (3)، پس میں امید رکھتا ہوں کہ میں قیامت کے دن ان سب سے زیادہ پیروکاروں والا ہوں گا۔" (4) (5)
[صحیح البخاری:7274؛ صحیح مسلم:152]
-
---
حاشیہ:
(1) یعنی: معجزات اور خوارقِ عادات۔
(فتح الباری: 14/186)
(2) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کے پاس لازماً کوئی معجزہ ہوتا ہے جو اسے دیکھنے والوں کے ایمان کا تقاضا کرتا ہے، اور جو عناد پر اڑ جائے وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
معنی یہ ہے کہ ہر نبی کو ایک یا زیادہ نشانیاں دی گئیں، جنہیں دیکھنے والے انسانوں کا کام ان کی وجہ سے ایمان لانا تھا۔
(فتح الباری: 14/186)
(3) یعنی: میرا وہ معجزہ جس کے ذریعے میں نے چیلنج کیا وہ وحی ہے جو مجھ پر نازل کی گئی، اور وہ قرآن ہے، کیونکہ اس میں واضح اعجاز موجود ہے۔
اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کے تمام معجزات اسی میں محصور ہیں، اور نہ یہ کہ آپ کو وہ معجزات نہیں دیے گئے جو پچھلے انبیاء کو دیے گئے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ قرآن وہ عظیم معجزہ ہے جس کے ساتھ آپ کو خاص کیا گیا۔
کیونکہ ہر نبی کو ایک خاص معجزہ دیا گیا جو دوسروں کو بعینہٖ نہیں دیا گیا، اور ہر نبی کا معجزہ اس کے قوم کے حالات کے مطابق تھا:
· جب فرعون کے دور میں جادو عام تھا، تو موسیٰ علیہ السلام عصا لے کر آئے، جس نے جادوگروں کا کیا ہوا نگل لیا، مگر یہ معجزہ بعینہٖ کسی اور کو نہیں دیا گیا۔
· اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کرنا اور مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دینا، کیونکہ اس زمانے میں اطباء اور حکماء اپنے عروج پر تھے، تو انہیں ان کے کام کی جنس سے ایسا معجزہ دیا گیا جس پر ان کی طاقت نہ پہنچتی تھی۔
· اسی لیے جب عرب جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، بلاغت میں انتہائی بلند تھے، تو آپ ان کے پاس قرآن لے کر آئے، جس کے ذریعے آپ نے انہیں چیلنج کیا کہ اس جیسی ایک سورت لے آؤ، مگر وہ اس پر قادر نہ ہوئے۔
اور کہا گیا: مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے معجزات ان کے ادوار کے ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو گئے، انہیں صرف وہی دیکھ سکا جو موجود تھا، جبکہ قرآن کا معجزہ قیامت تک باقی ہے، اور یہ اپنے اسلوب، بلاغت، اور غیب کی خبروں میں خرقِ عادت ہے۔
پس کوئی دور ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی ایسی چیز ظاہر نہ ہو جس کی خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی کہ وہ ہو گی، جو آپ کے دعوے کی سچائی پر دلالت کرتی ہے۔ اور یہی سب سے مضبوط احتمال ہے۔
(فتح الباری: 14/186)
(4) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلام کو قرآن کے دائمی معجزے پر مرتب فرمایا، کیونکہ اس کا فائدہ بہت زیادہ اور نفع عام ہے، کیونکہ اس میں دعوت، حجت، اور مستقبل کی خبریں شامل ہیں۔
پس اس کا فائدہ حاضر و غائب، موجود اور آنے والے سب تک پہنچا، اس لیے اس پر امید کا مرتب کرنا مناسب تھا۔
اور یہ امید پوری ہو گئی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے زیادہ پیروکاروں والے ہیں۔
(فتح الباری: 14/186)
یہ آپ ﷺ کی پیشگوئی ہے کہ آپ کے پیروکار دیگر انبیاء سے زیادہ ہوں۔
(5) صحیح البخاری: 6846؛ صحیح مسلم: 152۔
---
قرآن سے شواہد و تفسیر
1. قرآن کا اعجاز:
{قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا} (الإسراء: 88)
(کہہ دو: اگر تمام انسان اور جن اس بات پر جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا لے آئیں، تو وہ اس جیسا نہیں لا سکتے، اگرچہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔)
تفسیر: یہ آیت قرآن کے اعجاز کی واضح دلیل ہے، اور یہی وہ معجزہ ہے جس کا ذکر حدیث میں ہے۔
2. چیلنج:
{فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ} (البقرة: 23)
(پس اس جیسی ایک سورت لے آؤ۔)
تفسیر: اللہ نے قرآن کے اعجاز کو ثابت کرنے کے لیے چیلنج دیا، اور پوری عرب قوم اس سے عاجز رہی۔
3. قرآن کی حفاظت:
{إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ} (الحجر: 9)
(بیشک ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے، اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔)
تفسیر: قرآن کا معجزہ قیامت تک محفوظ ہے، جبکہ پچھلے انبیاء کے معجزات ختم ہو گئے۔
4. غیب کی خبریں:
{وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ} (النور: 55)
(اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا۔)
تفسیر: قرآن میں بہت سی غیب کی خبریں ہیں جو بعد میں پوری ہوئیں، اور یہ قرآن کے اعجاز کی دلیل ہے۔
5. ہر نبی کے معجزات:
{وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ} (البقرة: 87)
(اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو واضح دلائل دیے۔)
تفسیر: اللہ نے ہر نبی کو معجزات دیے، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے۔
6. سب سے زیادہ پیروکار:
{وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ} (الأنبیاء: 107)
(اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔)
تفسیر: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عالمگیر رسالت کی وجہ سے آپ کے پیروکار سب سے زیادہ ہوں گے۔
7. قرآن کی عالمگیریت:
{تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا} (الفرقان: 1)
(بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔)
تفسیر: قرآن عالمگیر ہے، اس لیے اس کا معجزہ بھی عالمگیر اور دائمی ہے۔
8. محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نبوت:
{وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} (الأحزاب: 40)
(بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔)
تفسیر: آپ آخری نبی ہیں، اس لیے آپ کا معجزہ بھی آخری اور دائمی ہے۔
---
حاصل شدہ اسباق و نکات
1. ہر نبی کو معجزات دیے گئے، جو اس کے دور کے مطابق تھے۔
2. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے۔
3. قرآن کا معجزہ دائمی اور عالمگیر ہے۔
4. پچھلے انبیاء کے معجزات ختم ہو گئے، مگر قرآن قیامت تک باقی ہے۔
5. قرآن کا اعجاز اسلوب، بلاغت، اور غیب کی خبروں میں ہے۔
6. نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن سب سے زیادہ پیروکاروں والے ہوں گے۔
7. قرآن کی حفاظت اللہ نے خود اپنے ذمے لی ہے۔
8. قرآن پر ایمان، تلاوت، اور عمل ضروری ہے۔
9. آخرت کی تیاری کرنا اور قرآن سے تعلق جوڑنا نجات کا ذریعہ ہے۔
---
مقاصد
1. نبوت کے دلائل سے آگاہ کرنا۔
2. قرآن کے اعجاز کو واضح کرنا۔
3. ہر نبی کے معجزات کے بارے میں بتانا۔
4. قرآن کی دائمی حیثیت کو واضح کرنا۔
5. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت بتانا۔
6. قرآن پر ایمان، تلاوت، اور عمل کی ترغیب دینا۔
7. سنتِ نبوی کی پیروی کی ترغیب دینا۔
8. اللہ کے فضل اور رحمت کی اہمیت کو واضح کرنا۔
9. آخرت کی تیاری کی ترغیب دینا۔
---
واللہ أعلم بالصواب
اسلامی اصطلاح میں معجزہ وہ خارقِ عادت امر ہے جو اللہ تعالیٰ نبی کے ہاتھ پر ظاہر فرماتا ہے، تاکہ اس کی نبوت کی صداقت ثابت ہو اور مخالفین اس کے مقابلے سے عاجز رہیں۔
📖 لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لغوی معنی: معجزہ "عجز" سے ماخوذ ہے، یعنی ایسا امر جو دوسروں کو عاجز اور بے بس کر دے۔
اصطلاحی تعریف: امام جرجانی نے "التعریفات" میں لکھا ہے:
"المعجزة: أمر خارق للعادة، مقرون بالتحدي، سالم عن المعارضة، يظهر على يد مدعي النبوة"
یعنی: ایسا امر جو عادت کے خلاف ہو، چیلنج کے ساتھ ہو، مقابلہ سے پاک ہو، اور دعوائے نبوت کرنے والے کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔
✅ معجزہ کی بنیادی شرائط
سنی علماء کے نزدیک معجزہ میں مندرجہ ذیل شرائط لازمی ہیں:
1. خارقِ عادت ہونا: عام قوانینِ فطرت سے ماورا ہو۔
2. دعوائے نبوت کے ساتھ ہونا: نبی کے دعوے کی تصدیق کرے۔
3. تحدی (چیلنج) کے ساتھ ہونا: نبی مخالفین کو چیلنج دے کہ اس جیسا لاؤ۔
4. معارضہ سے سالم ہونا: کوئی بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔
5. نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہونا: اللہ کی قدرت سے نبی کے ذریعے ظاہر ہو۔
6. مقصود تصدیقِ نبوت ہو: اس سے نبی کی سچائی ثابت ہو۔
🔍 معجزہ اور دیگر خارقِ عادت امور میں فرق
سنی علماء نے معجزہ کو دوسرے خارقِ عادت امور سے الگ کیا ہے:
قسم » ظہور » تحدی » مقصد
معجزہ » انبیاء کے ہاتھ پر » ہاں » تصدیقِ نبوت
کرامت » اولیاء کے ہاتھ پر » نہیں » اللہ کی تائید، نبی کی تصدیق کے تابع
سحر » جادوگر/کاہن سے » نہیں » فریب، تعلیم و مہارت سے ممکن
استدراج » کفار/فاسقوں سے » نہیں » امتحان و آزمائش
آیت » عام نشانی » نہیں » ہر علامت، معجزہ خاص نبی کے لیے
🧩 معجزات کی اقسام
سنی علماء نے معجزات کو عموماً دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا ہے:
1. معجزاتِ حسیہ (کونی):
جن کا تعلق مادی دنیا سے ہے، جیسے حضرت موسیٰؑ کا عصا، حضرت عیسیٰؑ کی معجزاتی شفا، نبی ﷺ کا شقِ قمر۔
2. معجزاتِ عقلیہ/علمیہ:
جن کا تعلق عقل، علم اور ہدایت سے ہے، جیسے قرآن مجید۔ یہ نبی ﷺ کا سب سے بڑا، دائمی اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے۔
🎯 معجزے کی حکمت
· انبیاء کی نبوت کی تصدیق۔
· مخالفین پر حجت قائم کرنا۔
· اہلِ ایمان کے یقین میں اضافہ۔
· اللہ کی قدرتِ کاملہ کا اظہار۔
💎 خلاصہ
معجزہ اللہ تعالیٰ کی وہ خارقِ عادت نشانی ہے جو نبی کے ہاتھ پر، دعوائے نبوت کے ساتھ، چیلنج کے طور پر ظاہر ہو اور کوئی اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ یہ انبیاء کے لیے خاص ہے، کرامت اولیاء کے لیے، اور سحر و استدراج جھوٹے اور امتحانی امور ہیں۔ قرآن مجید اس اعتبار سے سب سے بڑا معجزہ ہے کہ یہ حسّی نہیں بلکہ علمی و دائمی ہے اور قیامت تک ہر دور کے انسانوں کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کا یہ فرمان کہ قرآن مجید سب سے بڑا معجزہ ہے، ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کی تائید متعدد پہلوؤں سے ہوتی ہے۔ قرآن کی اعجازی حیثیت صرف ایک پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ فصاحت و بلاغت، علم، پیشین گوئی، تاریخ اور انسانیت کی ہدایت سمیت کئی جہات کا احاطہ کرتی ہے۔
📖 اعجازِ بیانی: فصاحت و بلاغت کا معجزہ
قرآن کا سب سے نمایاں اور مشہور پہلو اعجازِ بیانی ہے۔ عرب، جو اپنی فصاحت و بلاغت اور شاعری پر فخر کرتے تھے، قرآن کے سامنے بے بس ہو گئے۔
· بے مثال الفاظ کا انتخاب: قرآن کے ہر لفظ کا انتخاب انتہائی حساب سے کیا گیا ہے۔ اگر کوئی لفظ ہٹا کر اس کی جگہ کوئی اور لفظ لانے کی کوشش کی جائے تو وہ اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ موزوں نہیں ہوگا۔
· منفرد اسلوب اور آہنگ: قرآن نے بیان کا ایک نیا اور بے مثال انداز پیش کیا، جس کی نظم و آہنگ میں ایک خاص موسیقیت ہے جو دلوں کو مسخر کرتی ہے۔
· وحدتِ موضوعی: ہر سورہ کے اندر آیات کے درمیان معنوی تناسب اور موضوع کی وحدت پائی جاتی ہے۔
· تحدی (چیلنج): اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار مشرکین کو چیلنج دیا کہ اگر تمہیں اس کے الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس جیسا ایک سورہ ہی بنا کر لے آؤ، لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہے۔ یہ چیلنج آج بھی قائم ہے اور انسان و جن مل کر بھی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتے۔
🔬 اعجازِ علمی: سائنسی حقائق کی پیشگی خبر
قرآن مجید میں ایسے سائنسی حقائق کا ذکر ہے جو چودہ سو سال پہلے کسی کے علم میں نہ تھے، لیکن جدید سائنس نے ان کی تصدیق کی۔
· کائنات کی تشکیل: قرآن میں "بگ بینگ" (Big Bang) کی طرف اشارہ ہے، جہاں آسمان اور زمین ایک ساتھ ملی ہوئی تھیں اور پھر انہیں جدا کیا گیا۔
· زوجیت (جوڑے) کا قانون: قرآن نے نباتات میں نر اور مادہ کے جوڑے ہونے کا ذکر کیا، جو جدید سائنس نے بعد میں دریافت کیا۔
· دیگر سائنسی اشارے: قرآن میں عمومی کشش ثقل، سورج اور چاند کی روشنی کا فرق، اور بارش کے ذریعے زمین کی زرخیزی جیسے موضوعات کا ذکر موجود ہے۔
🔮 اخبارِ غیبی: ماضی اور مستقبل کی خبریں
قرآن میں ماضی اور مستقبل کے حوالے سے ایسی خبریں موجود ہیں جو اس کے الٰہی ماخذ کا ثبوت ہیں۔
· مستقبل کی پیشین گوئیاں: قرآن نے پیشین گوئی کی کہ رومی (بازنطینی) ایرانیوں کے خلاف اپنی شکست کے بعد جلد فتح یاب ہوں گے، اور یہ پیشین گوئی بالکل درست ثابت ہوئی۔
· گزشتہ اقوام کے واقعات: قرآن نے گزشتہ انبیاء اور اقوام کے ایسے واقعات بیان کیے جو ایک اَن پڑھ شخص (نبی ﷺ) کے ذریعے سے ممکن نہ تھے، اور یہ کہانیاں بعد کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہیں۔
🌍 تاریخی اور سماجی اثر: انقلابِ عظیم
قرآن نے جس معاشرے میں نزول کیا، وہاں صرف چند دہائیوں میں ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا۔
· بے مثال تبدیلی: قرآن نے عربوں کو پستی کی آخری حد سے نکال کر تہذیب کی بلندیوں پر پہنچا دیا، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔
· عالمی تہذیب کی بنیاد: قرآن ہی وہ کتاب تھی جس نے عربوں کو متحد کر کے ایک عظیم سلطنت قائم کرنے کی تحریک دی جو سکندر اعظم اور رومیوں کی سلطنتوں سے بھی بڑی تھی۔
⏳ ابدیت اور جامعیت: ہر دور کے لیے ہدایت
قرآن کا ایک اور معجزاتی پہلو اس کی ابدیت اور جامعیت ہے۔
· ہر زمانے کے لیے تازہ: قرآن کسی خاص زمانے یا گروہ کے لیے نہیں، بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔ امام صادقؓ نے فرمایا کہ قرآن ہر زمانے میں تازہ اور ہر گروہ کے نزدیک قیامت تک با طراوت رہے گا۔
· تمام ضروریات کا احاطہ: قرآن میں انسان کی دنیوی اور اخروی ہدایت سے متعلق تمام ضروری اصول موجود ہیں، اور یہ اپنے اندر لچک رکھتا ہے کہ ہر دور کے مسائل کا حل پیش کر سکے۔
💎 خلاصہ
قرآن مجید کا سب سے بڑا معجزہ ہونا کئی پہلوؤں کا مجموعہ ہے۔ یہ ادب میں بے مثال، سائنس میں پیش رو، تاریخ میں انقلاب برپا کرنے والا، اور مستقبل کی خبر دینے والا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہر دور اور ہر جگہ کے لیے ایک مکمل اور آخری ہدایت نامہ ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جو اسے دیگر تمام معجزات سے ممتاز اور سب سے بڑا معجزہ بناتے ہیں۔
علماء کی معتبر کتب میں "اعجاز القرآن" کے موضوع پر مستقل، جامع اور متنوع تصنیفات موجود ہیں۔ یہ سلسلہ تقریباً ہر دور میں جاری رہا ہے، جس میں ہر مصنف نے اپنے دور کے تقاضوں اور مخالفین کے اعتراضات کے مطابق اعجاز کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
📜 اعجاز القرآن پر مستقل تصنیفات کا سفر
ابتدائی دور اور بنیادی نظریات (قرن دوم تا چہارم 2-4 ہجری)
اس دور میں اعجاز کے موضوع پر باقاعدہ کتابیں لکھی جانے لگیں اور نظریاتی بنیادیں استوار ہوئیں۔
· معانی القرآن (یحییٰ بن زیاد الفراء، ت 207ھ):
یہ اعجاز سے متعلق ابتدائی اور اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
· مجاز القرآن (ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ، ت 209ھ):
اس کتاب میں قرآن کے مجازی اسالیب اور فصاحت پر بحث کی گئی۔
· نظم القرآن (جاحظ، ت 255ھ):
جاحظ نے قرآن کے نظم اور اس کی بےمثال ترتیب کو اعجاز کا اہم پہلو قرار دیا۔
· إعجاز القرآن (ابو عبد اللہ محمد بن یزید الواسطی، ت 306ھ):
یہ پہلی کتاب ہے جس میں باقاعدہ "اعجاز" کے عنوان سے بحث کی گئی اور اس نے بعد کے مصنفین کے لیے راہ ہموار کی۔
· النكت في إعجاز القرآن (علی بن عیسیٰ الرمانی، ت 384ھ):
رمانی نے قرآن کی بلاغت کو تین درجوں میں تقسیم کیا اور اعجاز کے دس اصول بیان کیے۔
· بيان إعجاز القرآن (ابو سلیمان الخطابی، ت 388ھ):
خطابی نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ قرآن کے معانی کی گہرائی پر بھی زور دیا۔
عروج اور تنوع کا دور (قرن پنجم تا نہم 5-9 ہجری)
اس دور میں اعجاز کے موضوع پر بڑی ضخیم کتابیں لکھی گئیں اور مختلف مکاتب فکر نے اپنے نظریات پیش کیے۔
· إعجاز القرآن (قاضی ابو بکر الباقلانی، ت 403ھ):
یہ اعجاز القرآن پر پہلی مستقل اور جامع کتاب مانی جاتی ہے۔ الباقلانی نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ اخبار غیبی اور گزشتہ انبیاء کے قصوں کو بھی اعجاز کا حصہ قرار دیا۔
· دلائل الإعجاز (عبد القاہر الجرجانی، ت 471ھ):
الجرجانی کی "نظریہ نظم" نے ثابت کیا کہ قرآن کا اعجاز اس کے منفرد اسلوب اور الفاظ و معانی کے درمیان گہرے ربط میں ہے۔
· معترك الأقران في إعجاز القرآن (جلال الدین السیوطی، ت 911ھ):
یہ کئی جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ہے جس میں سیوطی نے اعجاز کے 35 سے زائد پہلوؤں کو جمع کیا۔
· الإتقان في علوم القرآن (جلال الدین السیوطی، ت 911ھ):
اس کتاب میں ایک مکمل باب "اعجاز القرآن" کے موضوع پر ہے جس میں بلاغت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔
· البرهان في علوم القرآن (بدر الدین الزركشی، ت 794ھ):
الزركشی نے بھی اس موضوع پر ایک تفصیلی باب شامل کیا اور مختلف آراء کو یکجا کیا۔
· الشفا بتعريف حقوق المصطفى (قاضی عیاض، ت 544ھ):
انہوں نے اعجاز کے چار بنیادی پہلو بیان کیے: حسنِ تالیف، غریب نظم، فصاحتِ کلام اور اخبارِ غیبی۔
جدید دور اور علمی اعجاز (قرن 14 ہجری تا حال)
جدید دور میں سائنسی دریافتیں سامنے آنے کے بعد اعجاز القرآن کی تفسیر میں "اعجاز علمی" کا رجحان ابھرا۔
· إعجاز القرآن والبلاغة النبوية (مصطفیٰ صادق الرافعی):
الرافعی نے قرآن کی بلاغت اور نظم کو انسانی کلام سے ماورا ثابت کیا۔
· تفسير المنار (امام محمد عبده اور رشید رضا):
انہوں نے قرآن کی ہدایت اور اس کی تعلیمات کی جامعیت کو اعجاز کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔
· الكتاب الرباني المعجز والعلم الحديث (عابد توفیق ہاشمی):
اس کتاب میں کائنات اور انسان کی تخلیق سے متعلق سائنسی حقائق کو قرآن کی آیات کے ساتھ تطبیق دیا گیا۔
· موسوعة الإعجاز العلمي في القرآن والسنة (محمد راتب النابلسي):
یہ ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں علمی اعجاز کے مختلف پہلوؤں کو جمع کیا گیا۔
📚 اہم کتب کی تفصیلات کا جدول
مندرجہ ذیل جدول میں چند اہم کتب کی تفصیلات دی گئی ہیں:
کتاب کا نام مصنف (تاریخ وفات) اہم موضوع/خصوصیت
إعجاز القرآن قاضی ابو بکر الباقلانی (403ھ) اعجاز القرآن پر پہلی جامع کتاب؛ فصاحت، بلاغت، اخبار غیبی
دلائل الإعجاز عبد القاہر الجرجانی (471ھ) نظریہ نظم کا تفصیلی بیان؛ بلاغت اور معنوی ربط
معترك الأقران جلال الدین السیوطی (911ھ) اعجاز کے 35 سے زائد پہلوؤں کا احاطہ
إعجاز القرآن مصطفیٰ صادق الرافعی بلاغت اور نظم قرآنی کا ادبی تجزیہ
النكت في إعجاز القرآن علی بن عیسیٰ الرمانی (384ھ) اعجاز کے دس اصول اور بلاغت کے تین درجات
بيان إعجاز القرآن ابو سلیمان الخطابی (388ھ) فصاحت، بلاغت اور معانی کی گہرائی پر زور
التبيان في علم البيان ابن الزملكانی (727ھ) بلاغت کے ذریعے اعجاز القرآن کا اثبات
💎 خلاصہ
اعجاز القرآن کی کتب کا یہ سفر بتاتا ہے کہ ہر دور کے علماء نے قرآن کی اعجازی حیثیت کو نئے زاویوں سے اجاگر کیا۔ ابتدا میں بلاغت و فصاحت اور نظریہ نظم پر زور رہا، جبکہ جدید دور میں اعجاز علمی اور جامعیت ہدایت پر بحث کی گئی۔ یہ تمام کتب اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کا اعجاز ہر زمانے میں نئی جہتوں کے ساتھ منکشف ہوتا رہتا ہے اور یہی اس کے "معجزہ کبریٰ" ہونے کا مظہر ہے۔
(2)غیب کی خبریں اور پیشن گوئیاں:
قبل از وقت کسی واقعے کی اطلاع دینے کو ”پیشن گوئی“ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی آئندہ رونما ہونے والے بعض حالات سے مطلع فرما دیتے تھے، جس کی بنیاد پر نبی کریم ﷺ کسی واقعے کی اطلاع قبل از وقت ارشاد فرما دیتے۔ چونکہ آپ ﷺ اللہ کے سچے اور آخری نبی ہیں، اس لیے آپ نے جن جن باتوں کی پیشن گوئی فرمائی وہ ساری باتیں سچ ثابت ہوئیں۔ آئیےاللہ کے نبی ﷺ کی چند پیشن گوئیاں پڑھتے ہیں۔
اللہ کے آخری پیغمبر محمد ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کی یہ کیفیت تھی کہ تمام اہل عرب کاہنوں، نجومیوں کے جال میں گرفتار تھے۔ مشہور کاہنوں کے پاس لوگ دور دراز سے سفر کر کے آتے تھے اور ان سے مستقبل اور غیب کی باتیں دریافت کرتے تھے۔ کاہن جھوٹ موٹ کی باتیں سنا کر پورے معاشرے کو بے وقوف بنا رہے تھے۔ محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا تو ان کے لیے ثبوت، نبوت کی سب سے بڑی دلیل، غیب کی خبریں اور پیشن گوئیاں تھیں۔ آپ ﷺ مستقبل کے واقعات اور باتوں کو اس طرح پیش فرماتے کہ گویا کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بتا رہے ہوں۔
جن جن باتوں کی اللہ کے سچے نبی ﷺ نے خبر دی وہ سب کی سب پوری ہوئیں۔ یہ پیشن گوئیاں مختلف اوقات میں آپ ﷺ سے مختلف حالتوں میں صادر ہوئیں اور ان کی اطلاع مختلف صورتوں میں دی گئی۔ مثلاً: کبھی نزول وحی(یعنی پیغامِ الٰہی کے اترنے) کی صورت میں، کبھی عالمِ خواب میں اور کبھی قلب(دل) مبارک پر القاء(بات ڈال) کر کے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے :
﴿تِلْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَا أَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هَذَا﴾ ۔
ترجمہ:
*یہ(ماضی کے واقعات) غیب کی باتوں میں سے ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں، اس سے پہلے آپ اور آپ کی قوم ان کو نہیں جانتی تھی۔*
[سورۃ ھود:49]
(آل عمران:44، ھود:100+120، یوسف:102، طٰہٰ:99)
یعنی غیب کی "ساری" خبریں اللہ نے ظاہر نہیں کیں، اور اطلاع کردینے سے پہلے کوئی غیبی باتیں بھی نہیں جانتا تھا۔
محمد عربی ﷺ کی پیشن گوئیوں کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ واضح اور ظاہر ہیں اور شک اور تاویل سے بہت دور ہیں۔ مثلاً غلبۂ روم، خلافتِ راشدہ، فتحِ یمن، فتحِ شام، فتحِ عراق اور قیصر وکسریٰ کی سلطنتوں پر فتح و نصرت کی تمام پیشن گوئیاں صریح اور واضح ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ایسی عظیم الشان ہیں جن کو دیکھ کر اور سن کر تمام عالم حیران ہیں۔
*اس موضوع پر ائمہ کرام کی جمع کردہ احادیث کی کتابیں:*
(1)أحاديث منتخبة من كتاب أمارات النبوة-الجوزجاني (م259ھ)
(2)دلائل النبوة-للفريابي(م301ھ)
(3)تثبيت دلائل النبوة-القاضى عبد الجبار (م415ھ)
(4)دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني(م430ھ)
(5)أعلام النبوة للماوردي(م450ھ)
(6)دلائل النبوة للبيهقي(م458ھ)
(7)دلائل النبوة لإسماعيل لأصبهاني(م535ھ)
*************************
اردو کتاب:
*دلائل النبوۃ - امام البيهقي(م458ھ):*
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ(خوبصورت نمونے) پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ جس کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ کیا جائے۔ اور امت مسلمہ نے اس عظیم الشان تقاضے کو بحسن وخوبی سر انجام دیا ہے۔ سیرتِ نبوی پر ہر زمانے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور اہلِ علم نے اپنے لئے سعادت سمجھ کر یہ کام کیا ہے۔
زیر تبصرہ کتاب "دلائل النبوۃ" بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقیؒ کی تصنیف ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مولانا محمد اسماعیل الجارودی ﷾ نے کیا ہے۔ مولف نے اس عظیم الشان تصنیف میں سیرت نبوی کے ساتھ ساتھ آپ کی نبوت کے دلائل بھی بڑے احسن اور منفرد انداز میں جمع فرما دیئے ہیں۔ اصل کتاب عربی میں ہونے کے سبب اردو خواں طبقہ کے لئے اس سے استفادہ کرنا ایک مشکل کام تھا۔ مولانا محمد اسماعیل الجارودی﷾ نے اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کی اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی ان خدمت کو قبول فرمائے۔آمین۔
مفت ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے اس لنک سے ویب سائیٹ پر جائیں:
فتح خیبر کی پیشن گوئی
قرآن کریم میں جہاں بہت سی پیش گوئیاں ہیں ان میں سے ایک مشہور پیش گوئی وہ ہے جو صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں سورۂ فتح میں ذکر فرمائی ہے،اور ان تمام مسلمانوں کو جو حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے حضورﷺ کے ہاتھ پر بیعت کررہے تھے ان سے اپنی رضامندی کا اعلان کیا اور فرمایا:
وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا،وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا
(فتح:۱۸،۱۹)
روحانی برکتوں کے علاوہ ہم نے انکو ایک فتح کی خبر دی جو بہت نزدیک ان کو ملنے والی ہے اور مال غنیمت کی کثرت اور اس کے حصول کی بھی ان کو خبر دی۔
خلاصہ یہ کہ اللہ تعالی نے ان مسلمانوں کی ہمت افزائی فرمائی،ان کو اپنی رضامندی عطا فرمائی، اور ان کے دلوں کے خلوص کو ظاہر کردیا اور ان پر سکینہ یعنی روحانی تسکین نازل فرمائی اور مکہ معظمہ سے بغیر عمرہ کیے واپس جانے پر ان کو بدلے میں ایک فتح قریب اور کثیر مال غنیمت سے ان کو مالا مال فرمایا، بہر حال جو اطلاع دی تھی وہ پوری ہوئی ؛چنانچہ اللہ تعالی نے تھوڑے ہی دنوں بعد خیبر کو فتح کیا اور اس کے ساتوں قلعے قبضے میں آئے، بہت سے باغات بھی بطور فئے حاصل ہوئے، جن کی تفصیل کتب سیر میں موجود ہے۔
صلح حدیبیہ کے بعد
نبی کریم ﷺ نے اپنا ایک خواب صحابۂ کرام کو بتایا کہ ہم لوگ عمرے کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ میں داخل ہوں گے اور ارکان عمرہ بجالائیں گے؛ چنانچہ صحابہ نے اس خواب کو سن کر مکہ معظمہ چلنے کی تیاریاں شروع کردیں اور حضور ﷺ کے ہمراہ تشریف لے گئے،وہاں جاکر معاندین کی مزاحمت کی اور آپ ﷺ نے حدیبیہ میں قیام فرمایا اور کفار مکہ سے گفتگو ہوئی،سورۂ فتح میں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کے خواب کی توثیق کی اور فرمایا یہ خواب آئندہ سال کے متعلق ہے اس سال یہ پورا ہونے والا نہ تھا بلکہ اس کی تعبیر آئندہ سال پوری ہونے والی ہے ؛چنانچہ یہ خواب والی پیشن گوئی آئندہ سال پوری ہوئی اور صحابہ کرام نہایت اطمینان کے ساتھ ارکان عمرہ بجالائے اور عمرے سے فارغ ہوکر مدینہ منورہ بخیر یت تمام واپس ہوئے اور یہ پیشن گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی سورۂ فتح کی آخری رکوع میں اس کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
روم اور فارس کے فتح کرنے کی پیشن گوئی
آئندہ کی فتوحات کے سلسلہ میں ایک اور پیشن گوئی سورۂ فتح میں مذکور ہے:
وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا
(فتح:۲۱)
اس فتح کی خبر کے علاوہ اللہ تعالی نے ان غنائم کو اپنے احاطہ علمی میں لے رکھا ہے،اور ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
یعنی بظاہر تمہاری قدرت میں نہیں کہ تم ان پر قبضہ کرسکو مگر وہ اللہ کے علم وقدرت میں ہیں اور اس کی تائید سے وہ غنیمتیں تم کو حاصل ہوں گی۔
جمہور مفسرین نے اس پیشن گوئی سے مراد فارس اور روم کے غنائم کیے ہیں اور یہ واقعہ بھی ہے کہ شاہان فارس اور روم کے مقابلہ میں مسلمانوں کا کوئی شمار نہ تھا یہ قومیں بڑی طاقت اور بکثرت ساز وسامان سے بھر پور تھیں؛ چنانچہ قرآن نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا اور مسلمانوں کو بےشمار غنائم ہاتھ لگے۔
مرتدین کی سرکوبی
قرآنی پیشن گوئیوں میں ایک پیشن گوئی یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد کچھ مسلمان دین چھوڑ کر مرتد ہوجائیں گے پھر اللہ تعالی ان مرتدین کا استیصال ایسے مسلمانوں کے ہاتھ سے کرائے گا جو اللہ تعالی سے محبت کرتے ہیں اور اللہ تعالی ان کو دوست رکھتا ہے ،مسلمانوں کے روبرو تواضع کرنے والے ہیں اورمنکرین کے مقابلہ میں خود دار اور منکروں کو دبانے اور مغلوب کرنے والےہیں اور بغیر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کے خوف کے اپنی سعی اور کوشش اور جہاد فی سبیل اللہ کو جاری رکھتے ہیں؛ چنانچہ قرآن کی اس پیشن گوئی کے مطابق واقعہ پیش آیا اور نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد عرب کے کچھ قبائل مرتد ہوگئے اور کچھ مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوگئے، جس نے نبوت کا دعوی کیا تھااس وقت اخیار صحابہ نے جو صفات مذکورہ سے متصف تھے اس ارتداد کو اللہ تعالی کے فضل سے رفع کیا اور اس شبہ کو مٹایا ،مرتدین کو ہزیمت ہوئی اور مسیلمہ کذاب وحشی کے ہاتوں سے ماراگیا اور مقتول ہوا اور حضرت ابوبکر کے عہد خلافت میں حضرت خالد بن ولید کے ہاتھوں یہ فتنہ فرو ہوا اور مسلمانوں کے ایک لشکر کو حضرت خالد کی سرکردگی میں ان تمام مرتدین اور منکرین پر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی ؛چنانچہ پارہ چھ میں ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ۔
(المائدہ:۵۴)
اےایمان والو! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھر جائے گاتو اللہ ایسے لوگ پیدا کردےگا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ،جو مؤمنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے،اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سےنہیں ڈریں گے۔
اہل فارس
من جملہ اور پیش گوئیاں کہ قرآن کی یہ پیشن گوئی بھی مشہور ہے جو روم اور فارس کی جنگ کے سلسلہ میں فرمائی ہے ،واقعہ اس طرح ہے کہ رومیوں کی اہل فارس سے جنگ ہوئی تھی اس لڑائی میں اہل فارس کو غلبہ ہوا اور کچھ علاقہ اہل روم کے اہل فارس نے دبالیے اس خبر سے کفار مکہ نے خوشی کا اظہار کیا اور کہنے لگے جس طرح اہل فارس جو مشرک ہیں اہل کتاب پر غالب ہوں گے ،اہل فارس اور اہل روم اس وقت کی دو زبردست اور ترقی یافتہ حکومتیں تھیں اہل کتاب چونکہ آسمانی کتاب کا نام لیتے تھے اس لیے مسلمانوں کو ان سے دلچسپی تھی اور کفار مکہ کو بوجہ کفر کے اہل فارس سے محبت تھی اس لیے فطرتاً مسلمانوں کو اس شکست سے رنج ہوا اور کفار مکہ اہل فارس کی فتح پر بہت خوش ہوئے اور اپنے لیے نیک فال لینے لگے، اللہ تعالی نے اس موقع پر یہ آیت نازل فرمائی:
الم ، غُلِبَتِ الرُّومُ، فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ، فِي بِضْعِ سِنِينَ
(روم:۱،۳)
روم مغلوب ہوئے نزدیک کے ملک اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے چند ہی سال میں۔
قرآن نے یہ بات ظاہر کی کہ اہل فارس کی یہ فتح عارضی ہے کچھ دنوں کے بعد نو سال کے اندر اس کا الٹا اور اس کا عکس ہوگا اور آج کے مغلوب اس دن غالب آجائیں گے اور یہ بھی فرمایا کے اس دن اللہ تعالی کی مدد سے مسلمان خوش ہورہے ہوں گے،چنانچہ یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور جس دن مسلمان جنگ بدر میں فتح یاب ہوئے اسی دن نبی کریمﷺ کو بذریعہ ہوئی بتایا گیا کہ رومیوں نے اہل فارس پر فتح پائی اور مسلمان بہت مسرور ہوئے، ایک طرف جنگ بدر میں جو فتح نصیب ہوئی اس کی خوشی دوسری خوشی اس خبر سے حاصل ہوئی کہ رومیوں کو فتح حاصل ہوئی فارس پر اور رومیوں نے اپنے علاقے واپس لے لیے اور قرآن کریم کی پیشن گوئی پوری ہوئی۔
یہودیوں سے متعلق
قرآن کی پیشن گوئیوں میں ایک پیشن گوئی یہ ہے کہ جو قرآن نے یہود کے بارے میں بیان فرمائی کہ یہ کبھی موت کی تمنا اور خواہش نہیں کریں گے،واقعہ یوں ہے کہ یہود اس بات کے مدعی تھے کہ سوائے ہمارے اور کوئی شخص قیامت میں قرب خداوندی کا مستحق نہ ہوگا اور دار آخرت کی تمام خوبیاں اور بھلائیاں صرف ہمارے لیے ہوں گی قرآن نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اگر تمہارے زعم باطل میں یہ بات ہے کہ دارآخرت میں فائدہ اٹھانے والے صرف تم ہی تم ہو تو پھر تم دنیا میں رہنا کیوں پسند کرتے ہو اور اللہ تعالی سے موت کی تمنا کیوں نہیں کرتے کہ وہ تم کو دنیا سے آخرت میں منتقل کردے تاکہ تم ان فوائد سے مستفید ہو اور دنیا کی الجھنوں سے رہائی حاصل کرلو اور یہود کی طبائع اور ان کے دل کی خباثت سے اللہ تعالی واقف تھا اس نے اپنی کتاب میں یہ پیشن گوئی بھی فرمادی:
وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ
(جمعہ:۷)
یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے،اس سبب سے جو کمائی ان کے ہاتھ کرچکے ہیں۔
اور یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت میں ان کے اعمال کی باز پرس نہ ہوگی،یہود نے موت کی تمنا نہیں کی اور آج تک بھی موت طلب کرنے کو آمادہ نہیں۔
اقتدار سے متعلق
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔
(النور:۵۵)
تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں،ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا،اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو لاحق رہا ہے اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا ،(بس) وہ میری عبادت کریں میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں،اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریمﷺ کی امت میں سےلوگ خلافت راشدہ کے مستحق ہوئے اور یہ سلسلہ خلافت راشدہ کے بعد بھی چلتا رہا تاآنکہ لوگ عیش پرستی میں مبتلا ہوگئے اور حکومت کو بجائے خدمت کے اپنا حق اور اپنی ملک سمجھنے لگے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح زمین پر پھیلے تھے بالآخر سمٹنے شروع ہوگئے اور ۷۰۰ ہجری سے ضعف بڑھتا گیا اور آج دنیا میں کہیں بھی صحیح معنوں میں اقتدار باقی نہ رہا،جو کبھی اقتدار تقسیم کیا کرتے تھے وہ آج خود اقتدار سے محروم اور دوسروں کے دست نگر ہیں بہر حال پیشن گوئی پوری ہوچکی۔
دین حق
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّه
(فتح:۲۸)
حضرت حق جل مجدہ کی وہ شان ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کردے۔
دین حق کا غلبہ حکومت کے اعتبار سے پورا ہوچکا ہے اور دین حق کا غلبہ ادیانِ باطلہ کے مقابلہ میں یہ بھی پورا ہوچکا ہے۔
مشرکین مکہ
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ۔
(قمر:۴۵)
قریب ہے کہ اہل مکہ شکست پائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔
میدان بدر میں یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور تقریباً نوسو ساٹھ اہل باطل تین سو تیرہ مسلمانوں سے شکست کھاکر بری طرح بدحواس ہوکر بھاگے۔
سخت جنگجو قوم
قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ،فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
(فتح:۱۶)
اے پیغمبر! آپ ان اعراب اور اہل دیہات سے جو حدیبیہ میں شریک نہیں ہوسکے ،فرمادیجیے کہ تھوڑے دنوں کے بعد تم کو ایک سخت جنگ جو قوم سے لڑنے کی دعوت دی جائے گی ،اس سخت قوم سے تم جنگ کروگے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے،پھر اس موقع پر تم نے اگر دعوت جہاد قبول کرلی اور اس جنگ جو قوم سے لڑنے کو نکل آئے تو اللہ تعالی تم کو بہترین اجر عنایت فرمائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی جیسا کے پہلے روگردانی کرچکے ہوتو تم کوبڑا دردناک عذاب دے گا۔
حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓکے زمانۂ خلافت میں ان لوگوں کی مسیلمہ کذاب اور اس کے ہمراہی مرتدین سے اور فارس وروم وغیرہ سے جنگ ہوئی اور اعراب کو دعوت دی گئی اور قرآن نے جو پیشن گوئی کی تھی وہ لفظ بلفظ پوری ہوئی۔
اللہ آپ ﷺ کا محافظ ہے
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
(مائدہ:۶۷)
آپ کے پروردگار کی جانب سے جو احکام آپ پر نازل کیے جاتے ہیں آپ ان احکام کی تبلیغ کرتے رہیں اور مخالفین ومعاندین کا اندیشہ نہ کریں اور کسی دشمن کا خوف دل میں نہ لائیں، اللہ تعالی لوگوں سے آپ کی حفاظت کرنے والا اور آپ کو بچانے والا ہے۔
اس آیت کے نزول سے قبل آپﷺ اپنے خدام میں سے بعض حضرات کو بطور پہرہ دار اور محافظ کے مقررفرمایا کرتے تھے،جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپﷺ نے جملہ محافظین کو رخصت فرمادیا،یہ پیشن گوئی پوری ہوئی اور باوجود صدہا منکرین ومعاندین کے اللہ تعالی نے ہمیشہ آپ کے دشمنوں سےآپ کو محفوظ رکھا اور بڑے بڑے خطرات کے مواقع پرآپ کی مددفرمائی اور دشمنوں کے تمام مکر وفریب پامال کردیے گئے اور کوئی دشمن یا دشمن کی کوئی جماعت آپ پر قابو نہیں پاسکی،ایک مرتبہ آپ ایک درخت کے نیچے آرام فرمارہے تھے اور آپ نے اپنی تلوار درخت میں لٹکا رکھی تھی؛چنانچہ ایک شخص نے دبے پاؤں آکر تلوار اتارلی اور تلوار ہاتھ میں لے کر حضورﷺ کو آواز دی اور کہا اے محمد اب میرے ہاتھ سے تجھ کو کون بچائےگاآپ ﷺ نے آنکھ کھول کر فرمایا :اللہ تعالی بچائےگا ،اللہ تعالی کا نام سن کر اس پر ہیبت طاری ہوگئی اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی، آپﷺ اپنی خوابگاہ سے اٹھے تلوار اٹھائی اور اس سے دریافت کیا: اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا، اس نے معذرت کی اور آپﷺ سے معافی طلب کی آپﷺ نے معاف کردیا ،آپﷺ کی اس عنایت سے اس پر یہ اثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا اور اپنی قوم میں جاکر کہا میں نے محمدﷺ سے بہتر کوئی آدمی نہیں پایا ،بہر حال حفاظت کی پیشن گوئی اسی طرح ہر موقع پر پوری ہوئی۔
یہودیوں کی حقیقت
لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ
(اٰل عمران:۱۱۱)
وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچاسکیں گے اور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی تو پیٹھ دِکھا جائیں گے،پھر انہی کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی۔
یہ آیت یہودیوں سے متعلق نازل ہوئی،جس میں ان کی حقیقت کو واضح کیا گیا،یہودیوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہا،اللہ نے ان کی تدبیروں کو ناکام بنادیا،بنی قریظہ،بنی نضیر،،بنی قینقاع اور خیبر کے یہود نے جب مقابلہ کیا پسپا ہوئے یہاں تک کہ فاروق اعظم کے زمانے میں ان سب کو خطۂ عرب سے جلا وطن کردیا گیا اور عرب سے ان کو نکال دیا گیا۔
واقعہ معراج کی خبر
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِير۔
(بنی اسرائیل:۱)
" پاک ہے وہ ذات جو ایک رات اپنے بندہ کو مسجد حرام ( خانہ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) تک جس کے گرد اگرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیاتا کہ ہم اسے اپنی( قدرت) کی نشانیاں دکھائیں ، بے شک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے"
(سورہ بنی اسرائیل:۱)
وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ، ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى،فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى، فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى، مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ، أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى ، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى، إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى،مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ، لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى
(نجم:۷۔۱۸)
" اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا ، پھر اور زیادہ قریب ہوا تو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم، پھر اﷲ نے اپنے بندے (محمدﷺ ) کی طر ف وحی بھیجی جو کچھ کہ بھیجی، جو کچھ انھوں نے دیکھا اس کو ان کے دل نے جھوٹ نہ جانا، کیا جو کچھ انھوں نے دیکھا تم اس کے بارے میں ان سے جھگڑتے ہو اور انھوں نے اس کو ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے، سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اسی کے پاس جنت الماویٰ ہے جب کے اس سدرۃ المنتہیٰ پر چھا رہاتھا جوکچھ چھا رہا تھا، ان کی نگاہ نہ تو بہکی اور نہ (حدسے) آگے بڑھی ، انھوں نے اپنے پروردگار کی (قدرت کی) بڑ ی بڑی نشانیاں دیکھیں"
(سورہ نجم:۷ تا ۱۸)
اللہ کے دین کا عرب سے عجم تک پھیلنے کی پیشگوئی:
اللہ پاک نے فرمایا:
اور (یہ رسول جن کی طرف بھیجے گئے ہیں) ان میں کچھ اور بھی ہیں جو ابھی ان کے ساتھ آکر نہیں ملے۔ (2) اور وہ بڑے اقتدار والا، بڑی حکمت والا ہے۔
[سورہ الجمعہ:٣]
(2) اس کا مقصد یہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ صرف ان عربوں کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے جو آپ کے زمانے میں موجود تھے بلکہ آپ تو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں چاہے وہ کسی نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔
بخل کی مذمت:
اللہ پاک نے فرمایا:
دیکھو ! تم ایسے ہو کہ تمہیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں، اور جو شخص بھی بخل کرتا ہے وہ خود اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے۔ (16) اور اللہ بےنیاز ہے، اور تم ہو جو محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم پیدا کردے گا، پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔
[سورہ محمد:٣٨]
(16) اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق خرچ کرنے سے بخل کرو گے تو اس کا نقصان تم ہی کو پہنچے گا، اول تو اس لیے کہ اس کے نتیجے میں جہاد نہ ہوسکے گا، اور دشمن غالب آجائے گا، یا مثلاً زکوٰۃ نہ دینے کی صورت میں فقر و فاقہ عام رہے گا، اور دوسرے اس لیے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال بھگتنا پڑے گا۔
دینداروں کی ٤ نشانیاں:
اللہ پاک نے فرمایا:
اے (زبانی) ایمان والو ! اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرجائے گا تو اللہ ایسے لوگ پیدا کردے گا جن سے وہ محبت کرتا ہوگا، اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے جو مومنوں کے لیے نرم اور کافروں کے لیے سخت ہوں گے۔ اللہ کے راستے میں جہاد(جدوجہد) کریں گے، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے، یہ اللہ کا فضل ہے جو وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، بڑے علم والا ہے۔
[سورہ المائدہ:٥٤]
تفسیر:
1 اس آیت میں اسلام کی ابدی بقا اور حفاظت کے متعلق عظیم الشان پیشین گوئی کی گئی ہے پچھلی آیات میں کفار کے موالات سے منع کیا گیا تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص یا قوم کفار سے مُوالات(یعنی پے در پے یا یکے بعد دیگرے بلا فاصلہ انجام دیا جانے والا کام) کی بدولت صریحاً اسلام سے پھر جائے۔ جیسا کہ (وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ) 5 ۔ المائدہ :51) (اور جو کوئی تم میں سے دوستی کرے ان سے، تو وہ انہی میں ہے) میں تنبیہ کی گئی ہے۔
قرآن کریم نے نہایت قوت اور صفائی سے آگاہ کردیا کہ ایسے لوگ اسلام سے پھر کر کچھ اپنا ہی نقصان کریں گے، اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، حق تعالیٰ مرتدین کے بدلے میں یا ان کے مقابلہ پر ایسی قوم لے آئے گا (١)جن کو خدا کا عشق ہو اور (٢)خدا ان سے محبت کرے (٣)وہ مسلمانوں پر شفیق و مہربان اور (٤)دشمنان اسلام کے مقابلہ میں غالب اور زبردست ہوں گے. یہ پیشین گوئی (اللہ کی طاقت وقوت سے) ہر زمانے میں پوری ہوتی رہی ارتداد کا فتنہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد صدیق اکبر کے عہد میں پھیلا۔ کئی طرح کے مرتدین اسلام کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے۔ مگر صدیق اکبر کی ایمانی جرات اور اعلیٰ تدبر اور مخلص مسلمانوں کی سر فروشانہ اور عاشقانہ خدمات اسلام نے اس آگ کو بجھایا اور سارے عرب کو متحد کر کے از سر نو اخلاص و ایمان کے راستہ پر گامزن کردیا۔ آج بھی ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جب کبھی چند جاہل اور طامع افراد اسلام کے حلقہ سے نکلنے لگتے ہیں تو ان سے زیادہ اور ان سے بہتر تعلیم یافتہ اور محقق غیر مسلموں کو اسلام فطری کشش سے اپنی طرف جذب کرلیتا ہے اور مرتدین کی سرکوبی کے لئے خدا ایسے وفادار اور جاں نثار مسلمانوں کو کھڑا کردیتا ہے جنہیں خدا کے راستہ میں کسی کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پروا نہیں ہوتی۔
=============================
اسلام قبول کرنے والے نو مسلم بھائی بہنوں کی کہانی خود ان کی زبانی:
حضرت مولانا کلیم احمد صدیقی دامت برکاتہم العالیہ عالم اسلام اور خاص طور پر ہندوستان کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جن کے دل میں ہر لمحہ، ہر ساعت، امت کے ہر طبقے، ہرمذہب اور ہر مسلک چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، ہندو، یہودی یا عیسائی چاہے وہ جس مذہب سے ہی کیوں نہ ہو ان کا اپنا ہے، ان کا انسانی بھائی ہے، ان کا دل ہر امتی کیلئے دن رات تڑپتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں ہندوئوں میں کام کرنے کا عجیب سلیقہ اور ڈھنگ عطا فرمایا ہے، اب تک ان کے ہاتھوں بلا مبالغہ لاکھوں ہندو مشرف با اسلام ہوچکے ہیں اس میں جہاں ان کی انسانی خیر خواہی روز روشن کی طرح جھلکتی ہے وہاں ان کے اندر ہمدردی، درد اور کڑھن کا ایک گہرا زخم بھی عیاں ہوتا ہے جو کبھی مندمل ہونے کا نام نہیں لیتا، میں نے جب بھی ان سے ملاقات کی ہے ان کی ٹھنڈی سانسوں، متلاشی نگاہوں نے اور ارد گرد بیٹھے نو مسلموں نے یہی پیغام دیا ہے کہ ان کی دنیا ایک اچھوتی اور انوکھی دنیا ہے جو سانس لے تو انسانیت کا درد و سوز اجاگر ہوتا ہے اور زبان حال یہی صدا دیتی ہے کہ اے کاش کوئی غیر مسلم جہنم کی آگ میں جانے والا نہ بنے۔ غیر مسلموں سے نفرت انہیں گولی مارنے کا جذبہ، ان کے ا ندر کیسے ہوسکتا ہے؟ انہوں نے تو لاکھوں دلوں سے یہ جذبہ نکالا ہے۔
زیر نظر کتاب’’ نسیم ہدایت کے جھونکے ‘دراصل ان نو مسلم بھائیوں کے انٹرویوز کا مجموعہ ہے۔جو خداوندعالم کی توفیق وعنایت اور داعی اسلام اور ہدایت کے نور سے سرفراز ہوئے ان نو مسلم بھائیوں کے قبول اسلام کے تفصیلی حالات و واقعات اس کتاب میں پڑھیں ۔
مفت پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے:
یونیکوڈ میں










































.jpg)

Maa ShaaAllah good work...
ReplyDelete