Wednesday, 27 August 2014

کشف و کرامت اور صحابہ و اولیاء


١) مسلمان جب خوب عبادت کرتا ہے اور گناہوں سے بچتا ہے اور دنیا سے محبت نہیں رکھتا اور پیغمبر علیہ السلام کی ہر طرح خوب تابعداری کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا دوست اور پیارا ہوجاتا ہے۔ ایسے شخص کو ولی کہتے ہیں۔
قرآن میں ولی متقی کو فرمایا گیا ہے:
أَلَآ إِنَّ أَوْلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ {10:62} ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَكَانُوا۟ يَتَّقُونَ {10:63}
یاد رکھو جو لوگ اللہ کے دوست ہیں نہ ڈر ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے. جو لوگ کہ ایمان لائے اور ڈرتے رہے.

٢) اس شخص سے کبھی ایسی باتیں ہونے لگتی ہیں جو اور لوگوں سے نہیں ہوسکتیں۔ (جیسے انبیاء سے خلاف عادت امور یعنی معجزہ پیش آتے ہیں اور کرامت فرع ہے معجزہ کی جو بطور میراث ولی سے بھی الله ہی اپنی مرضی سے ظاہر کرادیتے ہیں) ان باتوں کو کرامت کہتے ہیں۔

کرامت_حضرت مریم :
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًۭا ۖ قَالَ يَٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ {3:37} یعنی زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے).

مسئلہ: استقامت، کرامت پر فائق ہے۔
فائدہ: ہرحال میں ہر کام شریعت وسنت کے مطابق کرنا، استقامت کہلاتا ہے، استقامت ہی سب سے بڑی کرامت ہے ایک شخص حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں کئی سال رہا، ایک دن عرض کرنے لگا کہ حضرت! اجازت دیں تو میں کسی اور شیخ کی خدمت میں جاکر رہوں، فرمایا وہ کیوں؟ کہنے لگا کہ میں تو کئی سال آپ کی خدمت میں رہا مگر میں نے ایک بھی کرامت نہ دیکھی، حضرت نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اتنے سالوں میں ایک عمل بھی سنت کے خلاف دیکھا ہے، اس نے کہا: نہیں، فرمایا کہ اس سے بڑی اور کرامت کونسی ہوسکتی ہے۔

٣) ولی لوگوں کو بعض بھید کی باتیں سوتے اور جاگتے میں معلوم ہوجاتی ہیں، اسکو "کشف اور الہام" کہتے ہیں اگر وہ شرع کے موافق ہے تو قبول ہے اور اگر شرع کے خلاف ہے تو رَد ہے۔
(لیکن یہ کشف یا الہام کوئی شرعی دلائل سے نہیں کہ ان سے کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہوسکتا، یہ مثبت احکام نہیں مظہر احکام اسرار شرعی ہیں.

القرآن : وَلا يُحيطونَ بِشَيءٍ مِن عِلمِهِ إِلّا بِما شاءَ [البقرة:255]؛
 اور وہ سب احاطہ نہیں کر سکتے کسی چیز کا اس کی معلومات میں سے مگر جتنا کہ وہی چاہے



قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ ، ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ سورة الحجر آية 75 ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ سورة الحجر آية 75 ، قَالَ : لِلْمُتَفَرِّسِينَ .[جامع الترمذي » كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ » رقم الحديث: 3071]
ترجمہ : رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بچو (ڈرو) مومن کی فراست سے پس بےشک وہ دیکھتا ہے الله کی روشنی (نور) سے. پھر (نبی نے قرآن کی یہ آیت) قرأت فرمائی: "بےشک اس میں یقیناً نشیانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے ".
الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكجامع الترمذي30713127محمد بن عيسى الترمذي256
2اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانمسند الشاميين للطبراني20202042سليمان بن أحمد الطبراني360
3اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكمسند أبي حنيفة رواية الحصكفي4933أبو حنيفة150
4اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانمسند الشهاب626663الشهاب القضاعي454
5اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانالمعجم الأوسط للطبراني33623254سليمان بن أحمد الطبراني360
6اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني80517843سليمان بن أحمد الطبراني360
7اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانالمعجم الكبير للطبراني73697497سليمان بن أحمد الطبراني360
8اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكمعجم الشيوخ لابن جميع الصيداوي192186ابن جميع الصيداوي402
9اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكالأربعون في شيوخ الصوفية للماليني121 : 90أحمد بن محمد الماليني412
10اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكأحاديث أبي الحسن البزاز8---أبو الحسن البزاز330
11اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكجزء فيه أحاديث الأربعين39---معمر بن أحمد بن محمد بن زياد418
12احذروا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكالسابع من فوائد أبي عثمان البحيري19---البحيري330
13احذروا دعوة المؤمن وفراسته فإنه ينظر بنور الله وبتوفيق اللهثوبان بن بجددالأمالي الخميسية للشجري833---يحيى بن الحسين الشجري الجرجاني499
14اتقوا فراسة المؤمنعبد الرحمن بن صخرأمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني111126أبو الشيخ الأصبهاني369
15اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بتوفيق اللهسعد بن مالكأمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني112127أبو الشيخ الأصبهاني369
16احذروا دعوة المؤمن وفراسته فإنه ينظر بنور الله وبتوفيق اللهثوبان بن بجددأمثال الحديث لأبي الشيخ الأصبهاني113128أبو الشيخ الأصبهاني369
17اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله إن في ذلك لآيات للمتوسمينسعد بن مالكجامع البيان عن تأويل آي القرآن1945714 : 96ابن جرير الطبري310
18اتقوا فراسة المؤمن فإن المؤمن ينظر بنور اللهعبد الله بن عمرجامع البيان عن تأويل آي القرآن1945814 : 96ابن جرير الطبري310
19احذروا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله وينطق بتوفيق اللهثوبان بن بجددجامع البيان عن تأويل آي القرآن1946214 : 97ابن جرير الطبري310
20احذروا دعوة المؤمن وفراسته فإنه ينظر بنور الله وينظر بالتوفيقثوبان بن بجددحلية الأولياء لأبي نعيم49264930أبو نعيم الأصبهاني430
21اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهعبد الله بن عمرحلية الأولياء لأبي نعيم50055009أبو نعيم الأصبهاني430
22اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانحلية الأولياء لأبي نعيم81708177أبو نعيم الأصبهاني430
23احذروا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله وقرأ إن في ذلك لآيات للمتوسمين قال للمتفرسينسعد بن مالكحلية الأولياء لأبي نعيم1565215686أبو نعيم الأصبهاني430
24اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكطبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها819822أبو الشيخ الأصبهاني369
25احذروا دعوة المؤمن وفراسته فإنه ينظر بنور الله وبتوفيق اللهثوبان بن بجددطبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها820823أبو الشيخ الأصبهاني369
26اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكتاريخ بغداد للخطيب البغدادي9944 : 313الخطيب البغدادي463
27إن في ذلك لآيات للمتوسمين قال للمتفرسينسعد بن مالكتاريخ بغداد للخطيب البغدادي9954 : 313الخطيب البغدادي463
28اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكتاريخ بغداد للخطيب البغدادي23768 : 167الخطيب البغدادي463
29اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر12329---ابن عساكر الدمشقي571
30احذروا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكالتكملة لكتاب الصلة548ابن الأبار القضاعي659
31اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانتاريخ ابن أبي خيثمة1941153ابن أبي خيثمة279
32اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانتاريخ ابن أبي خيثمة9314794ابن أبي خيثمة279
33اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله ثم قرأ إن في ذلك لآيات للمتوسمينسعد بن مالكطبقات الشافعية الكبرى220---السبكي771
34اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله ثم قرأ إن في ذلك لآيات للمتوسمينسعد بن مالكطبقات الشافعيين211 : 167ابن كثير الدمشقي774
35احذروا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله وتلا إن في ذلك لآيات للمتوسمينسعد بن مالكالصلة لابن بشكوال52 : 398أبو القاسم بن بشكوال578
36اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانالأربعين على مذهب المتحققين من الصوفية لأبي نعيم5454أبو نعيم الأصبهاني430
37احذروا دعوة المؤمن وفراسته فإنه ينظر بنور الله وينطق بتوفيق اللهثوبان بن بجددالأربعين على مذهب المتحققين من الصوفية لأبي نعيم5555أبو نعيم الأصبهاني430
38اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانالزهد الكبير للبيهقي369369البيهقي458
39اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهصدي بن عجلانجامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر7691197ابن عبد البر القرطبي463
40اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكالرسالة القشيرية551 : 127القشيري465
41اتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور اللهسعد بن مالكالفوائد المجموعة للشوكاني5701 : 198الشوكاني1255


فَأَلهَمَها فُجورَها وَتَقوىٰها {91:8}
پھر اس نے الہام کر دیا اس کو اس کی بدی اور پرہیزگاری کا.
الہام کے معنے دل میں ڈالنا، فجور کے معنے کھلا گناہ اور تقویٰ کا مفہوم معروف ومشہور ہے۔ یہ جملہ بھی ساتویں قسم ونفس وماسوھا کے ساتھ مربوط ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا، پھر اسکے دل میں فجور اور تقویٰ دونوں کا الہام کردیا، مراد یہ ہے کہ نفس انسانی کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے گناہ اور اطاعت دونوں کے مادے اور استعداد رکھدی ہے پھر انسان کو ایک خاص قسم کا اختیار اور قدرت دیدی کہ وہ اپنے قصد واختیارسے گناہ کی راہ اختیار کرلے یا اطاعت کی، جب وہ اپنے قصد واختیار سے ان میں سے کوئی راہ اختیار کرتا ہے تو اسی قصد واختیار پر اس کو ثواب یا عذاب ملتا ہے. یعنی اوّل تو اجمالی طور پر عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کے ذریعہ سے بھلائی برائی میں فرق کرنے کی سمجھ دی۔ پھر تفصیلی طور پر انبیاءورسل کی زبانی خوب کھول کھول کر بتلا دیا کہ یہ راستہ بدی کا اور یہ پرہیزگاری کا ہے۔ اس کے بعد قلب میں جو نیکی کارحجان یا بدی کی طرف میلان ہو، ان دونوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ گو القاء اوّل میں فرشتہ واسطہ ہوتا ہے۔ اور ثانی میں شیطان پھر وہ رحجان ومیلان کبھی بندہ کے قصد اختیار سے مرتبہ عزم تک پہنچ کر صدورفعل کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جس کا خالق اللہ اور کاسب بندہ ہے اسی کسب خیروشر پر مجازات کا سلسلہ بطریق تسبیب قائم ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم جب یہ آیت تلاوت فرماتے تو بلند آواز سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلاهَا وَخَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا یعنی یا اللہ! میرے نفس کو تقویٰ کی توفیق عطا فرما، آپ ہی میرے نفس کے ولی اور مربی ہیں ۔[السنة لابن أبي عاصم:249(319)، المعجم الكبير للطبراني :11035(11191)]

مُحَدَّثْ (ملہم) امّت: 
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ وَإِنَّهُ إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِي هَذِهِ مِنْهُمْ فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " .
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:۔ بے شک تم سے پہلی امتوں میں مُحَدَّثْ (صاحبِ الہام) ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں بھی کوئی مُحَدَّثْ ہے تو عمر ہے۔ (بخاری کتابُ المناقب، مسلم باب فضائل عمر) 
تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1كان فيما مضى قبلكم من الأمم محدثون وإنه إن كان في أمتي هذه منهم فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرصحيح البخاري32343469محمد بن إسماعيل البخاري256
2لقد كان فيما قبلكم من الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فإنه عمرعبد الرحمن بن صخرصحيح البخاري34363689محمد بن إسماعيل البخاري256
3كان فيما مضى قبلكم من الأمم ناس يحدثون وإنه إن كان في أمتي هذه منهم أحد فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرمسند أحمد بن حنبل82658263أحمد بن حنبل241
4كان فيما خلا قبلكم من الأمم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي هذه أحد منهم فعمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالسنن الكبرى للنسائي78068066النسائي303
5كان فيمن خلا من الأمم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمرعبد الرحمن بن صخرالمدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي3764البيهقي458
6كان فيمن خلا من الأمم قبلكم ناس يحدثون وإن يك في أمتي منهم أحد فهو عمرعبد الرحمن بن صخرمسند أبي داود الطيالسي24572469أبو داود الطياليسي204
7كان فيمن خلا قبلكم من الأمم أناس محدثون فإن يكن من أمتي هذه فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالأول من حديث أبي علي بن شاذان70---الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان426
8كان فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يك في أمتي هذه فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرجزء عبد الله بن عمر المقدسي8---عبد الله بن عمر بن أبي بكر المقدسي330
9كان فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن من أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران5641 : 244أبو القاسم بن بشران430
10كان فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران 1935---أبو القاسم بن بشران430
11فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن من أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران ( مجالس أخرى )5441 : 244عبد الملك بن بشران431
12فيمن خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يكن من أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرأمالي ابن بشران 915---أبو القاسم بن بشران430
13قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يك في أمتي أحد فإنه عمرعبد الرحمن بن صخرتغليق التعليق لابن حجر12034 : 59ابن حجر العسقلاني852
14كان فيما خلا قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي أحد منهم فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالسنة لابن أبي عاصم10551261ابن أبي عاصم287
15كان فيمن خلا من الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخركرامات أولياء الله عز وجل للالكائي2547هبة الله اللالكائي418
16كان فيما خلا قبلكم من الأمة ناس محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرشرح السنة37813873الحسين بن مسعود البغوي516
17فيمن خلا من الأمم قبلكم ناس محدثون وإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرتثبيت الإمامة وترتيب الخلافة لأبي نعيم84---أبو نعيم الأصبهاني430
18كان فيمن خلا قبلكم من الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرمعرفة الصحابة لأبي نعيم180193أبو نعيم الأصبهاني430
19كان فيمن قبلكم أناس محدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4650644 : 94ابن عساكر الدمشقي571
20كان فيما خلا قبلكم من الأمم ناس محدثون فإن يك في أمتي هذه أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرتاريخ دمشق لابن عساكر4650744 : 94ابن عساكر الدمشقي571
21كان فيمن كان قبلكم ناس محدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل431529أحمد بن حنبل241
22فيمن مضى قبلكم من الأمم ناس محدثون وإنه إن كان في أمتي هذه منهم أحد فإنه عمر بن الخطابعبد الرحمن بن صخرالتبصرة لابن الجوزي75---ابن الجوزي597


الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1كان يكون في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فإن عمر بن الخطاب منهمعائشة بنت عبد اللهصحيح مسلم44182401مسلم بن الحجاج261
2كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهجامع الترمذي36553693محمد بن عيسى الترمذي256
3كان في الأمم محدثون فإن يكن من أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2372923763أحمد بن حنبل241
4كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان705115 : 317أبو حاتم بن حبان354
5كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالمستدرك على الصحيحين44373 : 84الحاكم النيسابوري405
6يكون في الأمة محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالسنن الكبرى للنسائي78058065النسائي303
7كان في الأمم محدثون فإن يك في أمتي فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه9291058إسحاق بن راهويه238
8كان في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في هذه الأمة فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمسند الحميدي248255عبد الله بن الزبير الحميدي219
9قد كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهمشيخة محمد الرازي ابن الحطاب106106أبو طاهر السلفي576
10كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهمشيخة أبي عبد الله الرازي1111 : 280محمد بن أحمد بن إبراهيم الرازي371
11كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهحديث أبي الفضل الزهري7088الحسن بن علي الجوهري381
12كان في الأمم محدثون وإن كان في أمتي منهم أحد فهو عمرعائشة بنت عبد اللهالجزء العاشر من الفوائد المنتقاة15---أبو الفتح بن أبي الفوارس412
13كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهحديث سفيان بن عيينة رواية الطائي44---علي بن حرب بن محمد الطائي256
14في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهتصحيفات المحدثين711 : 69الحسن بن عبد الله بن سهل العسكري382
15كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمعرفة علوم الحديث للحاكم4671 : 220الحاكم النيسابوري405
16كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهإثارة الفوائد177---ابن عبد البر463
17ما كان من نبي إلا وفي أمته معلم أو معلمان فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالسنة لابن أبي عاصم10561262ابن أبي عاصم287
18في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي فعمر بن الخطاب كأنه يلهم الشيء من الحقعائشة بنت عبد اللهالسنة لأبي بكر بن الخلال386---أبو بكر الخلال311
19كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالشريعة للآجري1363---الآجري360
20يكون في أمتي محدثون فإن يكن منهم أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهالشريعة للآجري1364---الآجري360
21يكون في الأمم محدثون قد كان في أمتي فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهشرح مذاهب أهل السنة لابن شاهين8685ابن شاهين385
22كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20622486هبة الله اللالكائي418
23كان في الأمم محدثون وإن كان في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهشرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة للالكائي20632487هبة الله اللالكائي418
24كان في الأمم محدثون فإن كان في أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهكرامات أولياء الله عز وجل للالكائي2648هبة الله اللالكائي418
25كان يكون في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في أمتي أحد منهم فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهمشكل الآثار للطحاوي14291648الطحاوي321
26كان في الأمم محدثون فإن يكن في هذه الأمة فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهدلائل النبوة للبيهقي2656---البيهقي458
27كان يكون في الأمم رجال محدثون فإن يك في هذه الأمة فهو عمرعائشة بنت عبد اللهالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4411 : 243يعقوب بن سفيان277
28كان يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد منهم فعمرعائشة بنت عبد اللهالمعرفة والتاريخ ليعقوب بن سفيان4511 : 246يعقوب بن سفيان277
29يكون في الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649544 : 91ابن عساكر الدمشقي571
30كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي فعمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649644 : 91ابن عساكر الدمشقي571
31كان في بني إسرائيل محدثون فإن كان في أمتي منهم أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649744 : 91ابن عساكر الدمشقي571
32كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649844 : 92ابن عساكر الدمشقي571
33كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4649944 : 92ابن عساكر الدمشقي571
34كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650044 : 92ابن عساكر الدمشقي571
35كان في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فعمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650144 : 92ابن عساكر الدمشقي571
36كان في الأمم محدثون وإن كان في أمتي منهم أحد فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650244 : 93ابن عساكر الدمشقي571
37كان فيما خلا قبلكم أناس يحدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650344 : 93ابن عساكر الدمشقي571
38لكل أمة محدث وإن يك في هذه الأمة محدث فهو عمرعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650444 : 93ابن عساكر الدمشقي571
39كان في الأمم محدثون فإن يك في أمتي منهم أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهتاريخ دمشق لابن عساكر4650544 : 93ابن عساكر الدمشقي571
40كان يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهأسد الغابة1217---علي بن الأثير630
41يكون في الأمم محدثون فإن يكن في أمتي أحد فعمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل419516أحمد بن حنبل241
42كان فيما خلا قبلكم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهفضائل الصحابة لأحمد بن حنبل432530أحمد بن حنبل241
43كان في الأمم قبلكم محدثون فإن يكن في هذه الأمة فهو عمر بن الخطابعائشة بنت عبد اللهفضائل الخلفاء الراشدين لأبي نعيم1515أبو نعيم الأصبهاني430


عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَإِنَّ اللَّهَ باهَى بِالنَّاسِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وباهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلا كَانَ فِي أَمَّتِهِ مُحَدَّثٌ ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ مُحَدَّثٌ ؟ قَالَ : " تَتَكَلَّمُ الْمَلائِكَةُ عَلَى لِسَانِهِ " .[المعجم الأوسط للطبراني » بَابُ الْمِيمِ » مَنِ اسْمُهُ : مُحَمَّدٌ ... رقم الحديث: 6901]
ترجمہ : حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ عرفہ پر عموماً اور حضرت عمر پر خصوصاً فخر کیا ہے۔ جتنے انبیاء کرام مبعوث ہوئے ہیں، ہر ایک کی امت میں ایک محَدَّثْ ضرور ہوا ہے اگر میری امت کا کوئی محَدَّث ْ ہے تو وہ عمر ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ! محدَث کون ہوتا ہے؟ فرمایا، جس کی زبان سے ملائکہ گفتگو کریں۔ اس حدیث کی اسناد درست ہیں۔ (طبرانی فی الاوسط، تاریخ الخلفاء:١٩٤)


تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله باهى بالناس عشية عرفة عامة وباهى بعمر خاصة لم يبعث نبيا إلا كان في أمته محدث وإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر قالوا يا رسول الله كيف محدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكالمعجم الأوسط للطبراني69016726سليمان بن أحمد الطبراني360
2من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله باهي بالناس عشية عرفة عامة وإن الله باهى بعمر خاصة الله لم يبعث نبيا قط إلا كان في أمته من يحدث وإن يكن في أمتي أحد فهو عمر قيل يا رسول الله كيف يحدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر1228814 : 22ابن عساكر الدمشقي571
3من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله باهى بالناس عشية عرفة عامة وإن الله باهى بعمر خاصة لم يبعث نبيا قط إلا كان في أمته من يحدث وإن يكن في أمتي أحد فهو عمر قيل يا رسول الله كيف يحدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4657444 : 116ابن عساكر الدمشقي571
4من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني عمر معي حيث حللت وأنا مع عمر حيث حل وعمر معي حيث أحببت وأنا مع عمر حيث أحبسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر4660144 : 127ابن عساكر الدمشقي571
5من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحب عمر فقد أحبني الله قد باهى بالناس عشية عرفة عامة وإن الله باهى بعمر خاصة لم يبعث نبي قط إلا كان في أمته من يحدث فإن يكن في أمتي منهم أحد فهو عمر قيل يا رسول الله كيف يحدث قال تتكلم الملائكة على لسانهسعد بن مالكتاريخ دمشق لابن عساكر5989356 : 92ابن عساكر الدمشقي571
6من أبغض عمر فقد أبغضني ومن أحبه فقد أحبني عمر معي حيث حللت وأنا مع عمر حيث حلسعد بن مالكسير أعلام النبلاء الذهبي945---الذهبي748



کراماتِ صحابہ کرامؓ:
کرامات سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ
امام مالک(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ
" حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیس وسق (یعنی ساٹھ صاع تقریبا پانچ من)کھجوریں جو درختوں میں لگی تھیں  ہبہ کی تھیں  اور اپنی وفات سے پہلے ہی فرمایا:اے میری پیاری بیٹی!مال و دولت کے باب میں مجھے تم سے زیادہ کوئی پیارا نہیں اور مجھے تمہاری حاجت مندی بھی پسند ہے ، بلاشبہ بیس وسق کھجوریں میں نے تمہیں ہبہ کی تھیں ، اگر تم نے انہیں توڑ کر اکٹھا کرلیا ہوتا تو وہ تمہاری مملوکہ ہو جاتیں ؛ لیکن اب وہ تمام وارثوں کا مال ہے ، جس میں تمہارے دو بھائی اور تمہاری دو بہنیں شریک ہیں ، بس اس کو تم قرآنِ کریم کے احکام کے موافق تقسیم کرلو ، جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ابا جان! اگر زیادہ بھی ہوتیں تو تب بھی میں اس ہبہ سے دست بردار ہوجاتی ؛ لیکن یہ تو فرمائیے کہ میری بہن تو صرف اسماءؓ ہے ، یہ دوسری کون ؟ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جواب دیا کہ بنت خارجہ کے پیٹ میں مجھے لڑکی دکھائی دے رہی ہے"۔
اس واقعہ کو ابن سعدؒ نے اس طرح روایت کیا ہے کہ بنت خارجہ کے پیٹ کی لڑکی کو میرے دل میں القاء کیا گیا ، یعنی میری بیوی بنت خارجہ کے پیٹ میں لڑکی ہی ہے ، پس میری اس نصیحت و وصیت کو قبول کرو ، بالآخر حضرت ام کلثومؓ پیداہوئیں۔ (۱)
اس وصیت سے سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی الہامی کرامت ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پیٹ ہی میں حضرت ام کلثومؓ کے وجود کو معلوم کرکے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ تمہاری بہن موجود ہے۔
ابویعلیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ایک قصہ کے تحت نقل کیا ہے کہ:
" حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے دریافت فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس دنیا سے کس دن رخصت فرمائی ؟ انہوں نے کہا :پیر کے دن ، اس پر آپؓ نے فرمایا کہ میں ایک رات کے بعد اسی چیز کا امیدوارہوں ؛ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے منگل کی رات میں داعی اجل کو لبیک کہا اور صبح ہونے سے پہلے ہی پہلے آپ دفن کئے گئے"۔ (۲)
سیدنا صدیق اکبرؓ کی یہ دوسری کرامت ہے کہ آپؓ نے جو حکم لگایا تھا  اسی وقت آپ کی وفات ہوئی ، اگرچہ زہوقِ روح (روح نکلنا) شب میں ہوا ؛ لیکن وفات کے مقدماتِ یقینیہ دن ہی میں واقع ہوئے جو موت کے حکم میں ہیں ۔
حضرت سعدؓ نے حضرت سعید بن مسیبؒ سے روایت کیا ہے کہ :
" حضرت ابو بکر صدیقؓ کی وفات کے وقت مکہ معظمہ تھرایا تھا ، جس پر صدیق اکبرؓ کے والد ماجد حضرت ابو قحافہؓ نے فرمایا یہ زلزلہ کیسا ؟لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے صاحبزادہ نے جامِ رحمت نوش فرمایا، جس پر حضرت ابوقحافہؓ  نے فرمایا یہ تو بڑی سخت مصیبت آن پڑی"۔ (۳)
آپ لوگوں نے دیکھا کہ مکہ معظمہ کانپا ، تھرایا اور زلزلہ پذیر ہوکر آپؓ  کی کرامت کا ظہور ہوا ۔
حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما سے ایک بڑا قصہ میں منقول ہے کہ
" ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبرؓ نے مہمانوں کی دعوت کی اور خود بھی شریک طعام تھے ، جس میں ہر شخص یہ محسوس کررہا تھا اور مشاہدہ میں بھی آرہا تھا کہ ہر لقمہ اٹھانے کے بعد کھانا پہلے سے زیادہ بڑھ جاتا ، گویا اور پیدا ہوجاتا ، سیدنا صدیق اکبرؓ نے اپنی بیوی سے جو بنی فراس کے قبیلہ کی تھیں فرمایا:اے ہمشیرۂ بنی فراس !یہ کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے جواباً عرض کیا:اے آنکھوں کے سکھ !کلیجہ کی ٹھنڈک !اس وقت تو یہ کھانا پہلے سے تین گنا زیادہ ہے ، چنانچہ ان سبھوں نے خوب کھانا کھایا اوررسالت مآب ﷺ کی خدمت میں بھی روانہ کیا ، جسے حضور ہادئ کل ﷺ نے بھی نوش فرمایا"۔ (۴)
سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کی نیک نیتی اور برکت کا یہ طفیل تھا ؛ بلکہ آپؓ کی کرامت کا ادنی ظہور تھا کہ تھوڑا سا کھانا تمام مہمانوں نے کھایا جس میں برابر اضافہ ہی ہوتارہا ۔
محمد بن منظورؓ سے روایت ہے کہ :
" ایک مرتبہ حضور پُر نور سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو بیمار دیکھا اور پھر اس بیماری کی اطلاع کے لئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور ان سے صدیق اکبرؓ کی علالت کو بیان ہی فرمارہے تھے کہ عین اسی وقت صدیق اکبرؓ نے ہادئ کل ﷺ کے درِ دولت پر حاضر ہوکر اندر آنے کی اجازت چاہی، جس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاکہ ابا جان تو آرہے ہیں ، اس پر رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس بات سے کہ شافی مطلق نے اتنی جلد اچھا کردیا ، تعجب فرمایا ، صدیق اکبرؓ نے کہا کہ: حضور ﷺ جوں ہی میرے پاس سے نکلے جبریل امینؑ نے آکر مجھے ایک دوا سنگھائی اور میں تندرست ہوگیا ، اس واقعہ کو ابن ابی الدنیاؒ اور ابن عساکرؒ نے بھی بیان فرمایا ہے"۔ (۵)
حضرت صدیق اکبرؓ کی یہ کرامت بھی آپ نے دیکھی کہ ایک ہی لمحہ میں بیماری سے صحت یاب ہوگئے اور حضرت جبریلؑ کے ذریعہ احکاماتِ الٰہی کو حاصل کیا ۔
ابو جعفر سے روایت کی گئی ہے کہ
"سرکار دو عالم ﷺ اور جبریل امینؑ کی سرگوشیوں کو سیدنا ابو بکر صدیقؓ سنتے تھے اور ان کو دیکھتے نہیں تھے ، اس کو مصاحف میں بھی ابو داؤدؒ نے لکھا ہے اور حافظ محدث ابن عساکرؒ نے بھی بیان کیا ہے"۔ (۶)
حدیبیہ سے متعلق مذکور ہے کہ
" حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا کہ میں نے سرکار دوعالم ﷺ  کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھا یا رسول اللہ !کیا آپؐ اللہ کے سچے رسول ہیں ؟ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: ہاں  ہوں! پھر میں نے کہا کیا ہم حق پر نہیں ؟ اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں ہیں !پھر میں نے عرض کیا:تو ہم اپنے دین کے بارے میں اب ذلت کیوں گوارہ کریں ؟ یعنی جبکہ ہم حق اور سچائی پر قائم ہیں تو وہ صلح جو مصلحۃً کرلی گئی ہے ، اسے برقرار کیوں رکھیں ؟ اس پر سرکار دوعالم ﷺ کا ارشاد ہوا :میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتا ، وہ ہماری مدد کرنے والا ہے اور انجام کار ہمیں غلبہ دے گا ، پھر میں نے کہا :آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم عنقریب بیت اللہ آئیں گے ؟ اور اس کا طواف کریں گے ؟ اس پر سرکار دوعالم ﷺ  نے فرمایا:ہاں ؛ لیکن میں نے تم سے یہ کہا تھا کہ ہم اسی سال آئیں گے ؟ میں نے عرض کیا جی نہیں ، اس پر سرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یقینا یہاں آؤگے اور بیت اللہ کا طواف کروگے ، اس کے بعد میں نے صدیق اکبرؓ کے پاس آکر کہا کہ سرور عالم ﷺ کیا اللہ تعالیٰ کے سچے رسول نہیں ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا بے شک ہیں! میں نے کہا: کیا ہم حق وراستی پر اور ہمارے دشمن کجراہی اور باطل پر نہیں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں!  میں نے کہا کہ: اس وقت جبکہ ہم راستی پر ہیں اور مخالف باطل پر تو دین کے بارے میں اس صلح کو برقرار رکھ کر ذلت کیوں اختیار کریں ؟ جس پر صدیقؓ نے جواباً کہا : اے مرد خدا! سُن سرور عالم ﷺ بلا شک و شبہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہے اور ان کو غلبہ دینے والاہے ، پس تم ان کے احکام کی سختی سے تعمیل کرتے رہو ؛ کیونکہ اللہ کی قسم !وہ راستی اور حق پر گامزن ہیں ، پھر میں نے اور دریافت کیا کہ کیا انہوں ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم بیت اللہ آ کر اس کا طواف کریں گے ؟ جس پر صدیق اکبرؓ نے جواب دیا کہ :سرکار دوعالم ﷺ نے کیا یہ بھی فرمایا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ آؤگے اور اس کا طواف کروگے ؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں نے اس جرأتِ دریافت کے تدارک کے لئے بہت سے نیک اور صالح اعمال کئے"۔ (۷)
سیدنا صدیق اکبرؓ کا جواب لفظ بلفظ بالکل رسالت مآب ﷺ کے جواب کے برابر پایا جانا بالعموم لوگوں کی عادتوں کے خلاف ہے ؛ اس لئے یہ بھی آپؓ کی کرامت تصور کی گئی ، امر واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر ص کی نیک نیتی اور برکت کا طفیل تھا ؛ بلکہ در حقیقت آپؓ کی کرامت تھی کہ اپنی کرامتوں اور خرقِ عادت کاموں کو دوسروں پر واضح الفاظ میں بیان نہیں فرماتے تھے ؛ بلکہ خود کو ادنی بندہ کہتے اور اکثر اوقات اپنے اقوال و کردار سے کرامتوں کا اظہار فرماتے ؛ تاکہ تمام لوگ اسلام کے حلقہ بگوش ہوجائیں ۔
کرامات خلیفۂ دوم فاروق اعظم سیدنا عمر بن الخطابؓ
امام بخاریؒؒ نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ سرورِ دوعالم ﷺ نے ارشادفرمایا:
" پہلی امتوں میں ایسے لوگ تھے جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے باتیں القاء کی جاتی تھیں ، یعنی الہام ہوتا تھااور میری امت میں اگر کوئی ایسا شخص ہے تو وہ عمر ہیں "۔ (۸)
نیز علامہ طبرانی نے کتاب الاوسط میں حضرت ابو سعید خدریؓ کے ذریعہ ایک لمبی مرفوع حدیث کے تحت بیان کیا ہے کہ
" اللہ تعالیٰ نے جس امت پر کوئی نبی بھیجا تو اس امت میں کوئی نہ کوئی ملہم ضرور ہوتا تھا ، یعنی نبی کی آمد سے قبل اس امت میں ایسی شخصیت ضرور ہوتی تھی جس پر پروردگار الہام فرماتے رہتے تھے  اور اگر ان الہاماتِ الٰہی سے سرفراز ہونے والا کوئی شخص میری ملت میں ہے تو وہ عمر ہیں ، صحابہؓ کے استفسار پر کہ محدث و ملہم کی کیا کیفیت ہوتی ہے ؟ رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا:اس کی زبان پر فرشتے بولتے ہیں ، یعنی اس شخص ملہم کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ فرشتے اس سے جو کچھ کہتے ہیں وہ فرشتوں کی کہی ہوئی باتوں کو انسانوں سے کہہ دیتا ہے اور کوئی بات اپنی طرف سے کسی سے بھی نہیں کہتا"۔ اس حدیث کی سند حسن یعنی معتبر ہے ۔(۹)
ان دونوں حدیثوں سے فاروق اعظمؓ کا صاحب الہام ہونا ،آپؓ کی کرامت کو ظاہر کرتا ہے اور ان دونوں حدیثوں میں لفاظ " إن یکن" یعنی اگر کا لفظ اس لئے لایا گیا ہے تاکہ انتہائی وثوق ظاہر ہو اور کلام میں قوت پیدا ہو، جیسے کوئی شخص اپنے پکے دوست سے یوں کہے کہ اگر دنیا میں میرا کوئی یار ہے تو وہ تم ہو ، اس جملہ سے کسی سمجھ دار کو اس کی یاری اور دوستی میں وہم اور شک پیدا نہیں ہوتا ؛ بلکہ بے انتہاء و پکی دوستی کو ظاہر کرتا ہے ، جبکہ پچھلی امتوں میں صاحب الہام ہواکرتے تھے تو ملت اسلامیہ جو باعتبار علم و فضل افضل تر ہے ، اس نعمت الہام سے زیادہ تر مشرف ہوئی ، ان دونوں حدیثوں میں کوئی لفظ تو کیا ، کوئی نقطہ بھی ایسا نہیں جو حضرت عمرؓ کے سوا دوسرے پر منحصر اور دلالت کرتا ہو ، حضرت صدیق اکبرؓ کا صاحب الہام ہونا پہلے بیان کیاجاچکا ہے ، جو بالکل صحیح ہے اور فاروق اعظمؓ پر الہامات کی بارش آپؓ کے اوصاف حمیدہ کے ساتھ متصف ہے ، نیز ہر شخص پرو اضح ہے کہ تقریبا بائیس مقامات ایسے ہیں جہاں فاروق اعظمؓ کی رائے فرمانِ پروردگار کے عین موافق تھی ، جن کا تذکرہ قرآن کریم اور احادیث میں موجود ہے ۔ (۱۰)
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" البتہ میں نے انسانوں ، جناتوں اور شیاطین کو دیکھا کہ وہ عمر کے خوف سے بھاگ گئے "۔ (۱۱)
اور امام احمد(رحمہ اللہ تعالیٰ) نے حضرت بریدہؓ کی سند سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
" اے عمر ! البتہ تم سے شیطان تک ڈرتا ہے"۔ (۱۲)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
"فاروق اعظمؓ نے حضرت ساریہؓ کی قیادت میں جہاد کی غرض سے ایک لشکر روانہ فرمایا ، حضرت فاروق اعظمؓ ایک دن خطبہ پڑھ رہے تھے کہ اپنے اسی خطبہ کے دوران میں فرمانے لگے :اے ساریہ! پہاڑ کی طرف ہٹ جا ، آپؓ نے تین دفعہ اسی طرح فرمایا ؛ کیونکہ پہاڑ کی طرف ہٹ جانے سے مسلمانوں کے غالب ہوجانے کی امید تھی ، جب تھوڑے دنوں بعد اس فوج کا قاصد آیا تو فاروق اعظمؓ نے اس لڑائی کا حال پوچھا ، قاصد نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین!ایک دن شکست کھانے والے تھے کہ ہمیں ایک آواز سنائی دی ، جیسے کوئی پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے ساریہ!پہاڑ کی طرف ہٹ جا ، اس آواز کو ہم نے تین مرتبہ سنا  اور ہم نے پہاڑ کی طرف پیٹھ کرکے سہارا لیا ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو شکست فاش دی ، حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے فاروق اعظمؓ سے کہا :جبھی تو آپؓ جمعہ کے دن خطبہ کے درمیان اسی لئے چیخ رہے تھے  اور یہ پہاڑ جہاں حضرت ساریہؓ اور ان کی فوج تھی مشرق کے شہر نہاوند میں تھا"۔ (۱۳)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
" حضرت فاروق اعظمؓ نے ایک شخص سے اس کا نام دریافت کیا ، اس نے کہا : جمرہ (بمعنی چنگاری) پھر آپؓ نے استفسار کیا کہ تمہارے باپ کا نام ؟ اس نے جواب دیا کہ ابن شہاب (بمعنی شعلہ) پھر پوچھا کہ تم کس قبیلہ کے فرد ہو ؟ اس نے کہا حرقہ (بمعنی سوزش) پھر آپؓ نے فرمایا: تمہاری بود باش کی جگہ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا حرہ (یعنی گرمی)اور دوبارہ دریافت پر کہ حرہ کے کس حصہ میں سکونت پذیر ہو ؟ اس شخص نے کہا کہ ذات نطی(بمعنی شعلہ والا)میں ، اس پر فاروق اعظمؓ نے ارشاد فرمایا: جا اپنے کنبے کی خبرلے کہ وہ سب جل کر سوختہ ہوگئے ، چنانچہ اس آدمی نے لوٹ کر اپنے کنبے والوں کو سوختہ سامان پایا"۔ (اس تاریخی واقعہ کو ابو القاسم بن بشرؓ نے فوائد میں اور حضرت مالک -رحمہ اللہ تعالیٰ-نے بروایت یحی بن سعید موطأ میں اورابن درید نے اخبار مشہورہ میں اور ابن کلبی نے جامع میں بیان کیا ہے ) (۱۴)

حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایک مرتبہ مقام حرہ میں آگ لگی، حضرت عمررضی اللہ عنہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے واقعہ بیان کیا، حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور بے خطرآگ میں گھس گئے اور اسے بجھاکر صحیح وسالم واپس چلے آئے، حضرت عمررضی اللہ عنہ آپ کوخیراہل المدینہ (مدینہ کے سب سے اچھے اور نیک آدمی) فرمای کرتے تھے۔(اصابہ:۳/۴۹۷)

حضرت ابن عساکرؒ نے طارق بن شہاب (رحمہ اللہ تعالیٰ) سے روایت کی ہے کہ
" ایک شخص تھا جو دوران گفتگو میں حضرت عمر فاروق ؓ سے جب کوئی جھوٹی بات کہتا تو آپؓ فرماتے اس بات کو یاد رکھنا ، پھر باتیں کرنے لگتا اور پھر جب کوئی جھوٹ بات کہتا تو آپؓ اس کو ٹوک کر فرماتے اس بات کو بھی یاد رکھنا ، آخر کار اس شخص نے حضرت فاروق اعظمؓ سے کہا کہ میری تمام گفتگو میں جہاں جہاں ٹوک کر آپؓ نے اس بات کو یاد رکھنا فرمایا ہے بس یہ جھوٹی ہیں اور باقی پوری باتیں ٹھیک اور سچی ہیں ، حافظ حدیثحضرت ابن عساکرؒنے حضرت حسن بصری (رحمہ اللہ تعالیٰ) سے روایت کی ہے کہ صحابہ کرامؓ کے زمانے میں جھوٹی بات کا پہچاننا حضرت عمر فاروق ؓ کا حق تھا "۔ (۱۵)
ہر جھوٹی بات پہچان لینایہ آپؓ کا سچا ادراک بلکہ در حقیقت کشفِ فراست تھا جو خرق عادت ہے  اور آپؓ کی کرامتوں کا مظہر ہوا، اس شبہ کا جواب کہ بعض عقلمند بھی قرائن سے ایسی باتیں معلوم کرلیتے ہیں ، جن کو خرق عادت کہا جاسکتا ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ عقلمندوں کا اندازہ صرف تحقیق پر مبنی ہوتا ہے اور ان کا قیاس بیشتر اوقات اس لئے صحیح نہیں ہوتا کہ وہ فراست کشفیہ کے مالک نہیں ہیں اور فراستِ کشفیہ میں کسی قرینہ کی تحقیق کی حاجت نہیں ؛ بلکہ ایسے کاشف کو خود بخود ضروری علم حاصل ہوجاتا ہے ، نیز چونکہ کشف کو شرعی حجت قرار نہیں دیا گیا ؛ اس لئے محض کشف کی بنیاد پر کسی سے بدگمانی کرنا بھی جائز نہیں رکھا گیا ، پس جس صورت میں کشف پر عمل کرنے سے کوئی شرعی عذر لازم آئے ، ایسے کشف پر عمل نہ کیا جائے گا ؛ بلکہ اسباب ظاہری کی تحقیق پر جو نتیجہ ہاتھ آئے اس پر کار بند ہونا چاہئے ۔
علامہ بیہقی نے کتاب الدلائل میں بروایت ابی ہدیہ حمصی بیان کیا ہے کہ
"عراقیوں کے اپنے حاکم اعلیٰ کو سنگسار کرنے کی خبر حضرت فاروق اعظمؓ کو پہنچی تو ان کی یہ ناشائستہ حرکت سن کر آپ کو غصہ آگیا اور آپؓ نے نماز ادا فرمائی ، جس میں آپؓ کو سجدۂ سہو لازم ہوگیا ، آپؓ نے نماز ختم کرکے دعا کی کہ اے اللہ !ان ظالم عراقیوں نے مجھے شبہ میں ڈال دیا ، جس سے میری نماز میں سہو ہوگیا ، اے بار خدایا! تو ان کو بھی شبہ میں ڈال دے اور نو عمر ثقفی کی حکومت کو ان پر جلدی سے مسلط کردے ؛ تاکہ ان پر زمانۂ جاہلیت جیسی حکومت نظر آئے ، نیک و بد کی مطلق تمیز نہ کرنے والی رعایا پر یہ نئی حکومت اپنا حکم چلائے اور ان کی برائیوں سے درگزر کرکے ان کی اچھائیوں کو شرف قبول بھی نہ دے ، علامہؒ کہتے ہیں کہ اس نئی حکومت سے فاروق اعظمؓ کی مراد حجاج سے تھی ؛ لیکن ابن لہیہؒ کا بیان ہے کہ حجاج اس تاریخ تک پیدا ہی نہیں ہوا تھا "۔
حضرت فاروق اعظمؓ کا غصہ کی حالت میں ان ظالم عراقیوں کے لئے ایسی دعا کرنا جس سے بد دعاء کا غالب گمان واضح ہوتا ہے کہ یہ بد دعا در اصل دعویٰ اور مقابلہ کے عنوان اور طریق پر ہے اور اس صورت میں اس قسم کی دعاء کرنا درست اور جائز ہے اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ آپؓ کی ہردعاء کا قبول ہونا خرقِ عادت اور کرامت ہے ۔
حضرت ابن سعدؒ (رحمہ اللہ تعالیٰ)نے حضرت سلیمان بن یسار(رحمہ اللہ تعالیٰ)سے روایت کی ہے کہ
" سیدنا فاروق اعظمؓ کی وفات حسرت آیات پر جنات نے بھی اظہار رنج و غم کیا اور نوحہ پڑھا"۔ (۱۶)
حضرت حکم نے مالک بن دینار رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کی ہے کہ
" جس وقت حضرت عمرؓ مقتول ہوئے تو جبل تبالہ سے یہ آواز آئی: "اسلام سے محبت رکھنے والے کو اسلام کی حالت پر رونا چاہئے ، اسلامی زمانہ اگرچہ پرانا نہیں ؛ لیکن اہل اسلام بچھڑ گئے اور مسلمانوں میں ضعف نمودار ہوگیا ، دنیا اچھائیوں اور دنیا والوں نے اسلام سے منہ موڑ لیا اور جس کو موت کا یقین ہے وہ تو اس دنیا میں ملول اور رنجیدہ ہی رہتا ہے ، چونکہ دنیاوی نعمتیں فنا ہونے والی ہیں اور آخرت میں حشرو نشر اور بقا پیش آنے والی ہے ؛ اس لئے اس دنیا میں عقلمندوں کو سکون جامد جس کو چین اور سکھ کا نام دیا گیا ہے ، ہر گز ہرگز نہیں مل سکتا "۔ (۱۷)
جنات کا یہ گریہ وزاری اور ان کے آہ و بکا کا سنا جانا نہ صرف عجیب و غریب امر ہے ؛ بلکہ یہ بات خوارقِ عادت میں داخل ہے ۔
حافظ الحدیث ابو الشیخ(رحمہ اللہ تعالیٰ) نے کتاب العصمہ میں قیس بن الحجاج کے ذریعہ بیان کنندہ سے روایت کی ہے کہ
" مصر فتح ہونے کے بعد عجمی مہینوں میں سے ایک مہینہ کی پہلی تاریخ کو ایک وفد نے رئیس مملکت حضرت عمرو بن العاصؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا :اے امیر المؤمنین!ہمارا یہ معمول ہے اورجب تک اس کی تکمیل نہ کردی جائے ہمارے اس دریائے نیل میں روانی نہیں ہوتی ، حضرت عمرو بن العاصؓ نے فرمایا:بتاؤ تو تمہارا معمول کیا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہمارا سالانہ دستور یہ ہے کہ ہر سال ایک کنواری جوان لڑکی کو جو اپنے والدین کی اکلوتی ہوتی ہے اس کے والدین کو راضی کرلیتے ہیں اور پھر اس کو نہلا دھلاکر اس کو اچھے اچھے کپڑے اور عمدہ سے عمدہ زیورات پہناکر اور اس کو خوب سجاکر دریائے نیل کی نظر کردیتے ہیں ، حضرت عمرو بن العاصؓ نے یہ سب کچھ سن کر فرمایا:یہ سب کچھ ایام جاہلیت کی رسوم ہیں اور خدا کی قسم اسلام کے عہد میں تو ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہوگا ؛ اس لئے کہ اسلام نے زمانۂ جاہلیت کے تمام رسوم کو ختم کردیا ہے ، چنانچہ تمام مصری خاموش ہوگئے اور اس سال زندہ لڑکیوں کو اس طرح ڈبونے کی رسم ادا نہ ہونے سے دریائے نیل کی روانی رُکی رہی ، دریا کی روانی کو بند دیکھ کر لوگوں نے ترکِ وطن کا ارادہ کیا ، حضرت عمرو بن العاصؓ نے ان تمام حالات کی امیر المؤمنین حضرت فاروق اعظمؓ کو اطلاع دی ، جنہوں نے جواب میں لکھا کہ اے عمرو بن العاص ! تم نے جو کچھ کیا درست کیا اور تمہاری رائے بالکل ٹھیک ہے ، اسلام نے رسوم سابق کو جڑپیڑ سے اکھاڑ دیا ہے ، نیز اپنے مکتوب گرامی میں ایک علیحدہ پرچہ رکھ کر حضرت عمرو بن العاصؓ کو لکھا کہ تمہارے موسومہ خط میں ہم ایک علیحدہ پرچہ بھیج رہے ہیں ، اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا ، پس عمرو بن العاصؓ نے اپنے موسومہ خط میں اس علیحدہ پرچہ کو پڑھا جس میں مرقوم تھا :"منجانب عبد اللہ عمر امیر المؤمنین بنام نیل مصر ، حمد وصلاۃ کے بعد اگر تو باختیار خود بہتا ہے تو ہر گز مت چل اور اللہ تعالیٰ تجھ کو رواں کرتے ہیں تو خداوند یکتا و زبردست سے دعاءکرتاہوں کہ وہ تجھ کو جاری کرے ، چنانچہ عمرو بن العاصؓ نے ستارۂ صلیب نکلنے سے ایک دن پہلے کے وقت اس حکم نامہ کو دریائے نیل میں ڈال دیا ، دوسرے دن صبح کو لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہی رات میں سولہ ہاتھ اونچا پانی دریائے نیل میں اللہ تعالیٰ نے جاری فرماکر لڑکی کے ڈباؤ کے دستور قدیم کو اہلیان مصر سے آج تک کے لئے مسدود و منقطع کردیا"۔ (۱۸)
معزز حکم نامہ میں "إن کان" یعنی اجرائے آب میں لفظ اگر سے توبہ توبہ کوئی بھی یہ شک نہیں کرسکتا کہ اللہ کے سوا کوئی دوسری طاقت پانی پر قابض ہے ؛ بلکہ فاروق اعظمؓ کی اس قسم کی تحریر سے تاکید ثابت ہوتی ہے ، یعنی اے دریائے نیل! تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے جاری ہے ، اس پر تیرا کوئی اقتدار اور اختیار نہیں اور "جاری مت ہو" کا لفظ کہنا محض زجر و توبیخ اور سرزنش کے لئے تھا وگرنہ ظاہر ہے کہ وہ کسی طرح کا بھی مختار نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے تو اس سے دنیا کی ہرچیز ڈرتی ہے ، اللہ سے ڈرنے والی شخصیت کی سب پر حکومت ہوتی ہے ۔
یحیی بن ایوب خزاعی(رحمہ اللہ تعالیٰ) بیان کرتے ہیں کہ
" ایک دن حضرت فاروق اعظمؓ نے ایک نوجوان کی قبر پر جاکر فرمایا کہ جو شخص اپنی زندگی میں پروردگار عالم سے ڈرتا رہا تو اللہ تعالیٰ جنت میں اسے دو باغ دے گا :وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ ۔یہ سورۂ رحمن میں موجود ہے ،اس نوجوان نے اپنی قبر میں سے جواب دیا: اے فاروق اعظم !مجھے تو رب نے ایسے دو مرتبہ عطا فرمائے ہیں "۔(اس دراز قصہ کو حافظ ابن عساکرؒ نے بھی بیان کیا ہے ) (۱۹)
حضرت معدان بن ابی طلحہ (رحمہ اللہ تعالیٰ) نے ایک واقعہ کے تحت لکھا ہے کہ
" حضرت فاروق اعظمؓ نے ارشاد فرمایا: آگ  لوگو سنو !میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ دو لال مرغوں نے مجھے ٹھونگیں ماریں اور اس خواب کی تعبیر میری موت کی قربت ہے"۔ (اس واقعہ کو ابن ابی شیبہؒ نے بھی روایت کیا ہے ) (۲۰)
چونکہ یہ خواب الہامی کشف تھا جو آپؓ کی رحلت سے ثابت ہوا اور یہ بھی آپؓ کی کرامت کو ظاہر کرتا ہے ۔
حضرت مجاہد (رحمہ اللہ تعالیٰ)فرماتے ہیں:
" ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ امیر المؤمنین عمرؓ کی خلافت میں تمام شیاطین مقید اور بند تھے ؛ لیکن ان کے وصال کے بعد یہ سارے طاغوت پھیل گئے "۔ (اس خبر کو حافظ حدیث ابن عساکرؒ نے بیان کیا ہے ) (۲۱)
حضرت سالمؓ اپنے والدؓ سے روایت کرتے ہیں کہ
" میں نےفاروق اعظمؓ کو کہیں یہ کہتے نہیں سنا کہ میں امر کے متعلق یہ اور یہ گمان کرتاہوں ؛ لیکن حقیقت نفس الامری یہ ہے کہ جیساآپ فرماتے تھے ویساہی ہواکرتا تھا ، ایک مرتبہ آپؓ تشریف فرماتھے کہ سامنے سے ایک شخص گذرا ، آپؓ نے فرمایا کہ میرا گمان غلط نکلا ، یہ تو زمانۂ جاہلیت میں نجومی اور فال بتانے والا تھا اور اب تک اپنے پرانے دین پر قائم ہے ، ذرا اس کو میرے پاس تولاؤ ، جب وہ حاضر ہوگیا تو فاروق اعظمؓ نے فرمایا:کیا میرایہ گمان غلط تھا کہ اب تک تم اپنے پرانے مذہب پر قائم ہواور زمانۂ جاہلیت میں تم نجومی اورفال دیکھنے والے تھے ؟ اس نجومی نے جواب دیا ، میں نے آج تک تم جیسا مسلمان نہیں دیکھا ، آپؓ نے فرمایا: تو اچھا تم مجھے اپنے پورے حالات بتاؤ ، اس پر اس نجومی نے کہا کہ ہاں میں ایام جاہلیت میں ان کا کاہن تھا"۔ (اس کو امام بخاریؒ نے بھی بیان کیا ہے) (۲۲)
کرامات سیدنا عثمان بن عفان ذو النورینؓ
حضرت امام مالک (رحمہ اللہ تعالیٰ) سے روایت ہے کہ
" خلیفۂ سوم حضرت ذو النورینؓ شہید کی نعش مبارک آپ کے دروازہ پر رکھی ہوئی تھی اورآپؓ کی زبان مبارک سے طق ، طق " دفن دفن " کی پے درپے آواز آرہی تھی ؛ چنانچہ آپؓ  کی نعش مبارک باغ کوکب پہنچائی گئی ، جہاں آپؓ دفن کئے گئے"۔ (۲۳)
حضرت امام مالک (رحمہ اللہ تعالیٰ) سے روایت ہے کہ
" سیدنا عثمان ذی النورینؓ جب کبھی باغِ کوکب سے گزرتے تو فرماتے کہ یہاں عنقریب ایک نیک مرد دفن کیا جائے گا ؛ چنانچہ آپؓ خود وہاں دفن کئے گئے "۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ
" حضرت عثمان ذی النورینؓ نے ایک دن صبح کے وقت بیان فرمایا:میں نے رات کو دیکھا کہ سرور کائنات محمد ﷺ نے فرمایا: اے عثمان !آج کا روزہ ہمارے پاس کھولنا ؛ چنانچہ حضرت عثمان ذی النورینؓ کو روزہ کی حالت میں اسی دن شہید کیا گیا ، اس واقعہ کو حاکم نے بھی بیان کیا ہے"۔ (۲۴)
اوریہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عثمان ذی النورینؓ نے سرور عالم ﷺ کو خواب میں یہ بھی کہتے سنا کہ اے عثمان ! تم جمعہ کے دن ہمارے پاس آجاؤگے ۔ (۲۵)
چونکہ جمعہ کے دن ہی آپؓ نے روزہ کی حالت میں جامِ شہادت نوش فرمایا ، جس سے آپؓ کا خواب مزید کسی تعبیر کا محتاج نہ رہا ، یہ آپؓ کی کرامت نہیں ہے تو کیا چیز تھی ؟
حضرت عثمان ذی النورینؓ کے آزاد کردہ غلام محجنؓ کہتے ہیں کہ
" ایک دن میں آپؓ کے ساتھ آپؓ کی زمین پر گیا ، جہاں ایک عورت نے  --جو کسی تکلیف کا شکار تھی-- آپؓ کے پاس آکر عرض کیا:اے امیر المؤمنین!مجھ سے زنا کی غلطی ہوگئی ، اس پر آپؓ نے مجھ کو حکم دیا کہ اس عورت کو نکال دو ، چنانچہ میں نے اس کو بھگادیا ، تھوڑی دیر بعد اس عورت نے آکر پھر کہا کہ میں نے تو زنا کیا ہے ؛ چنانچہ سرکار کے فرمانے پر کہ اے محجن !اسے باہر نکال دو، میں نے دور بھگادیا اور تیسری مرتبہ پھر اس عورت نے کہا :اے خلیفۂ وقت !میں نے بلا شک و شبہ زنا کیا ہے اور میرے تین مرتبہ کے اقرار پر حد زنا جاری فرمائی جائے ، اس پر میرےآقا حضرت عثمانؓ نے ارشا دفرمایا:اوناواقف محجن !اس عورت پر مصیبت آپڑی ہے اور مصیبت و تکلیف ہمیشہ شرو فساد کا سبب ہوتی ہے ، تم جاؤ اور اس کو اپنے ساتھ لے جاکر اس کو پیٹ بھر روٹی اور تن بھر کپڑا دو ، اس دیوانی کو میں اپنے ساتھ لے گیا اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جو میرےآقا نے فرمایا تھا ، یعنی میں نے آرام سے رکھا ، تھوڑے دنوں بعد جب اس کے ہوش و حواس ٹھکانے لگے اور وہ مطمئن ہوگئی تب آپؓ نے فرمایا کہ اچھا اب کھجور، آٹا اور کشمش سے ایک گدھا بھر کر کل اس کو جنگل کے باشندوں کے پاس لے جاؤ اور ان بادیہ نشینوں سے کہو کہ اس عورت کو اس کے کنبہ والوں اور اہل و عیال کے پاس پہنچادیں ؛ چنانچہ میں کھجور، کشمش اور آٹے سے بھرے ہوئے گدھا لے کر اس کے ساتھ روانہ ہوا ، میں نے راستہ چلتے چلتے کہا کہ کیا اب بھی تم اس کا اقرار کرتی ہو ، جس کا تم نے امیر المؤمنین کے سامنے اقرار کیا تھا ؟ وہ کہنے لگی نہیں ہر گز نہیں ؛ کیونکہ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ تو صرف مصیبتوں اور تکلیفوں کے پہاڑ پھٹ پڑنے سے کہا تھا ؛ تاکہ حد لگادی جائے اور مصیبتوں سے نجات پاجاؤں ، اس واقعہ کو عقیلی نے بھی کہا ہے "۔ (۲۶)
لوگو! دیکھو الہامی کشف تھا جو بالکل صحیح واقعہ ثابت ہوا ، اس سے بڑھ کر اور کس کرامت کے طلب گار ہو ؟ خلیفۂ سوم سیدنا عثمان ذی النورینؓ مجسم کرامت تھے ، ان کی کرامتوں کو مشتے از خروارے بیان کیا ہے ۔
کرامات سیدنا علی بن ابی طالبؓ
حضرت شیر خداؓ نے ابن ملجم کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
"آگاہ ہوجاؤ یہ شخص مجھے قتل کرے گا !  اس پر لوگوں نے کہا کہ اس کے قصاص کے بارے میں کیا چیز مانع ہے ؟ آپؓ نے فرمایا کہ اس نے ابھی تک مجھ کو قتل نہیں کیا ہے ؛ اس لئے قصاص لینا کسی طرح جائز نہیں ہے"۔ (۲۷)
آخر کار جیساکہ آپؓ نے فرمایا وہی شیطنت پیش آئی ، یعنی بد بخت ابن ملجم نے آپؓ کو شہید کیا ، دیکھئے ان صحابہ کرامؓ کی ہر بات میں الہامی کشف ہواکرتا تھا ، جو ان حضرات کی کرامات ہیں۔
طبرانی(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے کتاب الاوسط میں اور ابو نعیمؒؒ نے کتاب الدلائل میں حضرت زاذان سے روایت کی ہے کہ
"حضرت حیدر کرارؓ نے کسی سے گفتگو فرمائی جس نے دوران گفتگو ہی میں آپؓ کو جھٹلایا ، اس پر حضرت شیر خداؓ نے فرمایا کہ جھوٹا تو در اصل تو ہے اور کیا تیرے جھوٹ کے اظہار کے لئے میں حضرت باری عزّ اسمہٗ میں دعا کروں ؟ اس بے وقوف نے اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے بڑی دلیری سے کہا کہ میں تو سچاہوں ، اگر میں جھوٹا ہوں گا تو آپؓ کی بد دعا مجھے لگے گی ، آپؓ نے اس جھوٹے کے حق میں بد دعا کی اور آپؓ کی دعا قبول ہوگئی ، یعنی وہ جھوٹا ابھی بیٹھا تھا کہ بد دعا کے ساتھ ہی اندھا ہوگیا اور اس مجلس سے اٹھنے بھی نہ پایا"۔(۲۸)
حضرت ابو یحیی(رحمہ اللہ تعالیٰ) روایت کرتے ہیں کہ
" میں نے حضرت علیؓ سے یہ کہتے سنا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور رسول اللہ ﷺ کا بھائی ہوں اوراس کلمہ کو میرے بعد سوائے کسی کذاب کے اور کوئی زبان پر نہیں لائے گا ، عدنی(رحمہ اللہ تعالیٰ) بیان کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین کی موجودگی میں ان کلمات کو جس شخص نے اپنی زبان سے ادا کیا وہ فوراً ہی مجنون اور پاگل ہوگیا"۔ (۲۹)
قاضی عبد الرحمن بن ابی لیلی(رحمہ اللہ تعالیٰ)بیان کرتے ہیں کہ
"حضرت شیر خداؓ نے خطبہ پڑھتے پڑھتے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اسلامی قسم دلاتاہوں کہ ہر شخص کو جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے بیچ میں جحفہ کے پاس جو مقام خمِ غدیر کے نام سے موسوم ہے ، اس میں حضور سرو کائنات ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا کہ اے مسلمانو !کیا میں تمہاری جانوں سے زیادہ تم کو پیارا نہیں ہوں ؟ ان سب لوگوں کے اقرار کے بعد آپؐ  نے فرمایا کہ میں جس کا پیارا ہوں تو علی بھی اس کے پیارے ہیں ، اے پروردگار !تو محبوب کرلے اس کو جو محبوب کرلے علیؓ  کو اور دشمنی کا مزہ چکھادے اس کو، جو علی سے دشمنی رکھے اور اے بار خدایا!جو علی کی مدد کرے تو تو اس کی مدد کر اور ذلیل و رسوا کر اس کو جو علی کو مصیبت میں تنہا چھوڑدے ، لوگو !سرورِ کائنات ﷺ کو یہ اقوال کہتے ہوئے جس کسی نے سناہو وہ کھڑا ہوجائے ؛ چنانچہ دس سے زیادہ آدمیوں نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ آپؓ سچ کہتے ہیں ، ان آدمیوں کے سوا ایک قوم نے اس شہادت کو چھپایا جس کی وجہ سے ان کو برص کا مرض ہوگیا، یعنی ان کے جسم پر سفید داغ پڑ گئے اور وہ سب اندھے ہوکر اس دنیا سے فناہوئے ، اس واقعہ کو خطیب نے افراد میں بیان کیا ہے"۔ (۳۰)
آپ نے یہ زندہ کرامت دیکھی کہ اس قوم کے افراد اندھے ہوکر موت کے گھاٹ اترتے ہیںاللہم احفظنا من کل الخطایا۔
حضرت امام جعفرؓادقؓ اپنے والد بزرگوار حضرت امام محمد باقرؓ سے روایت کرتے ہیں کہ
" دو آدمی اپنے جھگڑے کا فیصلہ کرانے کے لئے حضرت شیرخداؓ کے پاس آئے اور ان کا جھگڑا سننے کے لئے آپؓ ایک دیوار کی جڑ میں بیٹھ گئے ، ایک نے کہا کہ دیوار گر رہی ہے تو آپؓ نے فرمایا کہ تم اپنا بیان شروع کرو ، حفاظت کے لئے اللہ کافی ہے ، جب ان دونوں کے بیانات سن کر مقدمہ کا فیصلہ کرکے کھڑے ہوئے تو اس کے بعد وہ دیوار گر پڑی ، اس واقعہ کو ابو نعیمؒ نے کتاب الدلائل میں بیان کیا ہے"۔ (۳۱)
ابو البختریؒ سے روایت ہے کہ
" ایک شخص نے حضرت علیؓ کے پاس آکر آپؓ کی بڑھ چڑھ کر تعریف کرنا شروع کی ، اس شخص کے متعلق حضرت علیؓ کو اس سے پہلے ہی کچھ معلومات ہوچکی تھیں ، آپؓ نے فرمایا تو جوجو منافقانہ مدح سرائی کررہا ہے میں تو اس سے بہت زیادہ بلند ہوں یعنی تو جس قدر میرا مرتبہ سمجھا ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سربلندی اور ذی مرتبہ کیا ہے ، اس واقعہ کو ابن ابی الدنیاؒ اور ابن عساکرؒ نے بھی بیان کیا ہے"۔ (۳۲)
حیدر کرارؓ  کو اس جھوٹے مدح سراکی خوشامد کا کشف بذریعہ الہام ہوجانا کرامت ہے ۔
امام جعفرؓادقؓ سے روایت ہے کہ
" رمضان کا مہینہ تھا اور حضرت شیرخداؓ ایک ایک دن حضرت امام حسنؓ حضرت امام حسینؓ اور حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ کے پاس روزہ افطار کرتے تھے ، آپؓ دو تین لقموں سے زیادہ تناول نہیں کرتے تھے ، آپؓ کی کم خوردنی دیکھ کر لوگوں نے کہا کہ آپ اس قدر کم کیوں کھارہے ہیں ؟ آپؓ نے جواب دیا:میری زندگی تو بہت تھوڑی سی رہ گئی ہے ، وہ وقت قریب ہے کہ میں بھوکا رہوں گا اور موت کا فرشتہ آجائے گا ، آپؓ اسی شب میں شہید کردئے گئے"۔  اس واقعہ کو عسکریؓ نے بھی بیان کیا ہے ۔ (۳۳)
حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت شیر خداؓ نے فرمایا کہ
" رات کو خواب میں میرے محبوب یعنی رسول خدا ﷺ سے میری ملاقات ہوئی ، میں نے ان سے عراقیوں کے طرز عمل کی شکایت کی جو آپؐ کے بعد انہوں نے مجھے مخالفت اور ایذاء رسانی کرکے پہنچائیں ، اس پر رسالت مآب ﷺ نے مجھے ان کی ایذاء رسانی سے نجات دلاکر عنقریب راحت و آرام دلانے کا وعدہ کیا ، اس خواب کے بعد شیرخداؓ صرف تین دن اس دنیا میں مقیم رہے اور اس کے بعد شہید کردئے گئے "۔  اس واقعہ کو عدنی نے بھی بیان کیا ہے ۔ (۳۴)
حضرت حسن بن کثیر اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ
" حضرت شیر خداؓ نماز فجر کے لئے تشریف لے گئے جہاں بطخیں آپؓ کے سامنے آکر آپؓ  کو دیکھ دیکھ کر چلانے لگیں ، لوگوں نے ان کو آپؓ کے پاس سے ہنکایا تو آپؓ نے فرمایا:ان کو رہنے دو، چھوڑ دو یہ تو نوحہ پڑھ رہی ہیں ، پھر ابن ملجم نے آپؓ کو شہید کیا"۔ اس واقعہ کو ابن عساکرؒ نے بھی ذکر کیا ہے ۔(۳۵)
حضرت عاصم بن ضمرہ (رحمہ اللہ تعالیٰ)سے روایت ہے کہ حضرت امام حسن بن علیؓ نے ایک تقریر کے دوران فرمایا کہ
" سرکار دو جہاں ﷺ جب والد بزرگوار حضرت علیؓ کو کسی جہاد میں روانہ کرتے تو آپؓ کے داہنے طرف جبریل ؑاور بائیں جانب میکائیلؑ ہوتے تھے  اور آپؓ اس جنگ کو جیت کر واپس آجاتے تھے ، یعنی جہاد میں حضرت علیؓ کے ساتھ جبرئیلؑ اورمیکائیلؑ رہا کرتے تھے اور اللہ کی امداد سے حضرت شیرخداؓ اس جنگ کو جیت لیتے تھے"۔ اس روایت کو ابن ابی شیبہ نے بھی بیان کیا ہے ۔ (۳۶)
حضرت ابو رافعؓ روایت کرتے ہیں کہ
"سرکار دو عالم ﷺ نے جب حضرت علیؓ کو اپنا جھنڈا دے کر خیبر کی طرف روانہ کیا تو ہم بھی ان کے ساتھ تھے ، جب ہم قلعۂ خیبر کے پاس پہنچے جو مدینۂ منورہ کے قریب ہے تو خیبر والے آپؓ پر ٹوٹ پڑے ، آپؓ نے کشتوں کے پشتے لگادئیے تھے کہ آپؓ پر ایک یہودی نے چوٹ کرکے آپ کے ہاتھ سے آپؓ کی ڈھال گرا دی ، اس پر حضرت حیدرکرارؓ نے قلعہ کے ایک دروازے کو اکھیڑ کر اپنی ڈھال بنالیا اور اس کو ڈھال کی حیثیت سے اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے شریکِ جنگ رہے ، بالآخر دشمنوں پر فتح حاصل ہوجانے کے بعد اس ڈھال نما دروازے کو اپنے ہاتھ میں سے پھینک دیا ، اس سفر میں میرے ساتھ سات آدمی اور بھی تھے اور ہم آٹھوں آدمی مل کر اس دروازہ کو الٹ دینے کی کوشش کرتے رہے ؛ لیکن وہ دروازہ جس کو تن تنہا حیدرکرارؓ نے اپنے ہاتھ میں اٹھالیا تھا ، اس کو ہم آٹھوں آدمی کوشش کے باوجود پلٹ تک نہ سکے"۔ (۳۷)
حضرت والا مرشدی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کا یہ قول " مَا حَمَلْتُہَا بِقُوَّۃٍ وَلٰکِنْ حَمَلْتُہَا بَقُوَّۃٍ إِلٰہِیَّۃٍ" یعنی میں نے کواڑ کو انسانی قوت کے بل بوتے پر نہیں اٹھایا ؛ بلکہ قوت الٰہیہ سے اٹھایا ، اس قصہ کو امام احمد نے بھی بیان فرمایا ہے ۔
علامہ بیہقیؒ نے دلائل النبوۃ میں ایک طویل قصہ کے ماتحت بیان کیا ہے کہ
"رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد جب ماتم پرسی ہونے لگی تو صحابہؓ نے گھر کے کونے سے ایک آواز سنی ، اے رسول اللہؐ کے گھر والو !تم پر اللہ کا سلام ہو اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اللہ تعالیٰ زندہ ہے وہ ہر مشکل کو ٹال دیتا ہے ، وہی بندوں کے غم غلط کرتا ہے ، ہر فوت ہونے والی چیز کا وہ خود نعم البدل ہوجاتا ہے ، بس اللہ ہی سے امید رکھو ؛ کیونکہ مصیبت زدہ تو در اصل وہ شخص ہے جو ثواب سے محروم اور مایوس رہے ، حضرت علی مرتضیؓ نے فرمایا جانتے ہو یہ کون تھے ؟ یہ حضرت خضرؑ تھے جو نبی تو نہیں مگر کامل ولی ہیں"۔ (۳۸)
آپؓ کا حضرت خضرؑ کو دریافت کرلینا یہ بھی منجملہ دیگر کرامات کے ایک کرامت تھی ، انہی شخصوں کے لئے تو کہا گیا ہے      ؎
آنکس کہ ترا شناخت جاں راجہ کند                 فرزند وعیال وخان ومال راچہ کند
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بخشی                       دیوانۂ توہر دو جہاں راچہ کند
کرامات سبط رسول سیدنا امام حسینؓ
جب حضرت امام حسینؓ شہید کئے گئے تو دنیا کی سات دن تک یہ حالت تھی کہ :
۱۔       سورج کی روشنی دیواروں پر کسم میں رنگی ہوئی چادروں کی طرح معلوم ہوتی تھی ، یعنی دھوپ بالکل پھیکی ہوتی تھی ۔
۲۔      اور ایک ستارہ دوسرے ستارے پر گررہا تھا ، یعنی لگاتار آسمانی ستارے ٹوٹ رہے تھے ۔
۳۔      آپؓ کی شہادت ۱۰/محرم ۶۰ھ میں ہوئی اور اسی دن شدید ترین سخت سورج گرہن لگا ۔
۴۔      آپؓ کی شہادت کے سات ماہ تک آسمان کے کنارے کچھ عجیب طرح سے سرخ رہے اور پھر وہ سرخی جاتی رہی ، شہادت سے پہلے اور اس کے بعد پھر کبھی ایسی سرخی نہیں دیکھی گئی ۔
۵۔      آپؓ کی شہادت کے دن بیت المقدس میں ہر پتھر کے نیچے تازہ تازہ خون نکلا ۔
۶۔      ظالموں کی فوج میں جو پیلے رنگ کی گھانس رکھی ہوئی تھی وہ راکھ ہوگئی ۔
۷۔      ان ظالموں نے اپنے لشکر میں ایک اونٹنی ذبح کی تو اس کے گوش میں سے آگ کی چنگاریاں نکلتے دیکھیں ۔
۸۔      اور جب اس کا گوشت پکایا تو وہ اند رائن کی طرح کڑوا زہر ہوگیا ۔
۹۔       ایک شخص نے حضرت حسینؓ سے گستاخ باتیں کیں تو خدائے جبار و قہار نے اس پر دو آسمانی ستارے پھینکے جس سے اس کی قوت بصارت جاتی رہی ۔ (۳۹)
اور ان ایام کی اسی حالت سے متعلق حضرت ابو نعیمؒ(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے کتاب الدلائل میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت حسینؓ پر جنات کو روتے اور نوحہ کرتے سنا ۔
حضرت امام حسینؓ کی یہ دس کرامتیں تاریخ خلفاء سے نقل کی گئی ہیں ، مابقی آگے دیکھئے ۔
حضرت مولانا تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کسوف شمس سے اہل ہیئت کی اصطلاح جو آخری مہینہ میں رونما ہوتی ہے ، وہ نہیں ؛ بلکہ لغوی یعنی آفتاب کا بے نور ہوجانا بتایا ہے ، نیز ان مذکورہ بالا کرامات کو حافظ ابن حجر (رحمہ اللہ تعالیٰ)نے مزیدؓحیح حوالوں کے ساتھ کتاب تہذیب التہذیب کی جلد دوم صفحات : ۴۵۴ ، ۳۵۵ پر بھی بیان کیا ہے ۔
" خلف بن خلیفہ(رحمہ اللہ تعالیٰ) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسینؓ کی شہادت کے وقت آسمان کالا ہوگیا اور دن میں ستارے نکل آئے ، محمد بن صلت اسدی(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے ربیع بن منذر ثوری(رحمہ اللہ تعالیٰ)اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے آکر امام حسینؓ کی شہادت کی اطلاع دی اور وہ اندھا ہوگیا ، جس کو دوسرا آدمی کھینچ کر لے گیا ، ابن عیینہ(رحمہ اللہ تعالیٰ)کا بیان ہے کہ مجھ سے میری دادی نے کہا قبیلہ جعفیین کے دو آدمی حضرت امام حسینؓ کے قتل میں شریک تھے جن میں سے ایک کی شرمگاہ اتنی لمبی ہوئی کہ وہ مجبورًا اس کو لپیٹتا تھا اور دوسرے آدمی کو اتنا سخت استسقاء ہوگیا کہ وہ پانی کی بھری ہوئی مشک کو منہ سے لگالیتا اور اس کی آخری بوند تک چوس جاتا ، سدیؒ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک جگہ مہمان گیا، جہاں قتل حسینؓ کا ذکر ہورہا تھا ، میں نے کہا:حسینؓ کے قتل میں جو شریک ہوا وہ بُری موت مرا ، جس پر گفتگو کرنے والے نے کہا :اے عراقیو!تم کتنے جھوٹے ہو ، مجھے دیکھو میں قتل حسینؓ میں شریک تھا ؛ لیکن اب تک بُری موت سے محفوظ ہوں ، اسی لمحہ اس نے جلتے ہوئے چراغ میں اور تیل ڈال کر بتی کو اپنی انگلی سے ذرا بڑھایا ہی تھا کہ پوری بتی میں آگ لگ گئی ، جسے وہ اپنی پھونک سے بجھارہا تھا کہ اس کی ڈاڑھی میں آگ لگ گئی ، وہ وہاں سے دوڑا اور پانی میں کود پڑا ؛تاکہ آگ بجھ جائے ؛ لیکن آخر کار جب اسے دیکھا تو جل کر کوئلہ ہوگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہی دکھادیا کہ تیری شرارت کا یہ انجام ہے"۔ (۴۰)
عمارہ بن عمیرؒ نے بیان کیا ہے کہ
"جب عبید اللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لاکر مسجد کے برآمدے میں برابر برابر رکھے گئے اور میں اس وقت ان لوگوں کے پاس پہنچا جب کہ وہ لوگ کہہ رہے تھے وہ آگیا کہ اتنے میں ایک سانپ نے آکر ان سروں میں گھسنا شروع کردیا اور عبید اللہ بن زیاد کے نتھنے میں گھستا اور اس میں تھوڑی دیر ٹھہرکر باہر آجاتا۔ اس واقعہ کو امام ترمذیؒ نے بیان کرکے سند کو بھی صحیح کہا ہے"۔ (۴۱)
کرامات سیدنا حضرت امام حسنؓ
حافظ حدیث ابن عبد البر (رحمہ اللہ تعالیٰ)نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ہے کہ
" ہم کو کئی سندوں سے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت امام حسنؓ  قریب المرگ ہوئے تو انہوں نے حضرت حسینؓ سے کہا :اے بھائی!ابا جان کو امر خلافت کا خیال ہواتھا کہ اسلام کی خدمت کریں ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے بعض حکمتوں اور مصلحتوں کے پیش نظر ان کو خلافت نہ دے کر حضرت ابو بکر صدیقؓ کو اس کا والی بنایا ، ان کی وفات کے بعد پھر اباجان کو اس کا خیال ہوا تو سلطنت خلافت حضرت عمرؓ کے حوالہ کردی گئی اور فاروق اعظمؓ کی وفات کے بعد مجلس شوری میں اباجان کو یقین تھا کہ خلافت ان کو تجاوز نہ کرے گی ، یعنی وہی خلیفہ مقرر کئے جائیں گے ؛ لیکن خلافت کی باگ ڈور حضرت عثمانؓ کے سپرد کردی گئی اورحضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد والد بزرگوار حضرت علیؓ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی ، یعنی وہ خلیفہ بنائے گئے ، پھر ایک فتنہ برپا ہوا جس میں تلواریں کھینچ لی گئیں اور لڑائیاں ہوئیں ، یعنی وہ خلافت اباجان کو بلا غبار نہیں ملی ، خدا کی قسم میں یہ امر تجویز نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ ہم اہل بیت نبویؐ میں نبوت اور خلافت دونوں چیزیں جمع کردے ، یعنی میرا اندازہ یہ ہے کہ خلافت اہل بیت میں نہیں رہے گی اور یقینا میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ کوفہ کے بیوقوف تم کو حرکت دے کر جنگ و جدل کی طرف متوجہ کردیں اور تم کو وطن سے باہر نکال دیں "۔ (۴۲)
ان امور کا اس وقت تک بظاہر کوئی قرینہ تو نہ تھا کہ کوئی حضرت حسینؓ کے ساتھ نازیبا برتاؤ کریں گے ؛ لیکن آپؓ کو کشف کے ذریعہ یہ سب کچھ معلوم ہوجانا آپؓ کی کرامت تھی ۔
حضرت امام حسنؓ  فرماتے ہیں کہ میری خواہش پر کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس دفن کیا جاؤں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اقرار فرمایا تھا ، یعنی سرور عالم ﷺ کے پاس مجھے دفن ہونے کی اجازت دے دی تھی اور جب میں مرجاؤں تو اس کی درخواست ان سے پھر کر لینا ؛ لیکن اس کے ساتھ ہی میرا گمان ہے کہ قوم تم کو اس بات سے روکے گی اور اگر وہ ایسا کریں یعنی میرے دفن سے تم کو روکیں تو ان سے بار بار نہ کہنا ، الحاصل حضرت حسنؓ  کی وفات پر حضرت حسینؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جاکر کہا: انہوں نے جواب دیا نہایت خوشی سے؛ لیکن مدینہ کے گورنر مروان نے ان کو وہاں دفن کرنے سے منع کردیا ، اس پر حضرت حسینؓ اور ان کے رفقاء مسلح ہوکر لڑائی کے لئے آمادہ ہوگئے ؛ لیکن حضرت ابوہریرہؓ نے ان کو اس ارادۂ جنگ سے باز رکھا اور کہا اس موقع پر اگرچہ مروان نے نامعقول اور ناشائستہ حرکت کی ہے ؛ لیکن تمہارا آمادۂ جنگ ہونا مناسب نہیں ، آخر کار حضرت حسنؓ  مقامِ بقیع میں اپنی والدہ ماجدہ کے پاس دفن ہوئے ۔
سیدنا امام حسنؓ  کی وفات کے وقت رفقاء اہل بیت کی کثرت کی وجہ سے کسی سے ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ آپؓ کو دفن سے روکا جائے گا ؛ لیکن امام عالی مقام نے ظاہراً حالت کے خلاف جس ہونے والے واقعہ کو بذریعۂ کشف ظاہر کیا وہ آپؓ کی کرامت تھی ۔
کرامات حضرت سعد بن معاذؓ
 تہذیب التہذیب میں درج ہے کہ
" حضرت سعدؓ کی وفات پر منافقوں نے کہا کہ ان کا جنازہ کتنا ہلکا ہے ؟ اس پر سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جنازہ کو ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں ؛ اس لئے ہلکا معلوم ہورہا ہے ؛ حالانکہ حضرت سعدؓ بڑے موٹے تازے آدمی تھے ، جیساکہ علامہ واقدیؒ  نے کتاب المغازی اور زیلعیؒ نے تخریج الہدایہ پر درج کیا ہے اور کئی معتبر سندوں کے ذریعہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سعد بن معاذؓ کی موت کے وقت عرشِ اعظم بھی اس شوق میں جھوما کہ اب ان کی روح ہمارے پاس آجائے گی"۔ (۴۳)
حضرت ابن عمرؓ سے حضرت ابن سعدؒ نے روایت کی ہے کہ
" حضرت سعد بن معاذؓ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہوئے جو اس سے پہلے اتنی تعداد میں کبھی زمین پر نہیں آئے ، تاختم حدیث شریف"۔ (۴۴)
زہریؒ نے ابن مسیبؒ کے ذریعہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے بیان پر کہا کہ حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ :
"تین آدمیوں میں سے میں ایک شخص ہوں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے جو حدیث بھی سنی وہ اللہ کا حق ہے اور میں نے کثرت مشاغل کے باوجود اپنی پوری نمازیں پڑھی ہیں اور میں جس جنازے میں شریک رہا تو میں نے اس سے باتیں کیں ، حضرت ابن مسیب(رحمہ اللہ تعالیٰ)کہتے ہیں کہ میں تو ان خصلتوں کو صرف انبیائے کرام میں جانتاہوں ؛ لیکن اپنی آنکھوں سے یہ حضرت سعدؓ میں دیکھ لیں ، ایسا ہی تہذیب التہذیب جلد سوم صفحہ :۳۸۲ مطبوعہ حیدرآباد دکن میں مرقوم ہے"۔ (۴۵)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ :
"جب رسول اللہ ﷺ جنگ خندق سے لوٹ کرآئے ، اس میں یہ قصہ بھی ہے کہ حضرت سعدؓ کی  ہفت اندام رگ میں تیر لگاتھا ، رسول اللہ ﷺ نے قریب ہی سے ان کی عیادت کے لئے مسجد میں ایک خیمہ لگادیا تھا ، جس پر حضرت سعدؓ نے دعاء کی ، اے الہ العالمین!تو خوب جانتا ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلایا اور ان کو مکہ معظمہ سے جلا وطن کیا ہے ، مجھے ایسے لوگوں سے جہاد کرنا بہت زیادہ محبوب ہے ، اے اللہ !میرا گمان ہے کہ تونے ہم میں اور ان میں لڑائی بند کردی ہے ، یعنی میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ ہم مسلمانوں اور ان ظالموں میں کوئی جنگ نہیں ہوگی ، اگر میرایہ خیال غلط ہے اور قریش کے ساتھ کوئی معرکہ ہونا باقی ہے تو مجھے زندہ رکھ ؛ تاکہ میں تیری راہ میں ان سے جہاد کروں اور اگر میرایہ گمان صحیح ہے کہ ہم سے ان کا کوئی معرکہ نہ ہوگا تو میرے زخم کے خون کو جاری کردے اور اسی میں مجھے موت دی دے ، چنانچہ اسی رات کو اس رگ کا منہ کھل گیا اور مسجد والوں نے دیکھا کہ آپؓ کا خون بہتے ہوئے ان لوگوں کی طرف آرہا تھا ، پس اسی حالت میں کہ خون بہہ رہا تھا ، آپؓ نے وفات پائی ۔
 اس حدیث کو شیخینؒ یعنی امام بخاری اور امام مسلم (رحمہما اللہ تعالیٰ)نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن معاذؓ کو جنگ خندق میں ایک تیر لگا ، جس سے ہفت اندام کی رگ کٹ گئی ، جس کو رسول اللہ ﷺ نے خون تھم جانے کے لئے آگ سے داغ دیا ، خون تو رک گیا، مگر حضرت سعد بن معاذ کا ہاتھ سوج گیا ؛ چونکہ خون کی روانی میں جوش تھا ،اس لئے خون پھر بہنے لگا ، آپ ﷺ نے دوبارہ داغ دیا ، اس سے خون تو رک گیا ، مگر ہاتھ پر ورم زیادہ ہوگیا ، حضرت سعدؓ نے یہ دیکھ کر کہا :اے اللہ !اس وقت تک میری روح پرواز نہ ہو جب تک بنوقریظہ کی طرف سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوجائیں ، یعنی ان کی شرارت کی سزا دیکھنے کے بعد مجھے موت آجائے ؛ چنانچہ ان کی رگ کا خون بند ہوگیا اور ایک بوند بھی نہ نکلی ، یہاں تک کہ بنوقریظہ محاصرہ سے عاجز آکر سرکار دو عالم ﷺ کے حکم پر اس شرط کے ساتھ باہر آئے کہ حضرت سعدؓ ہمارے لئے جو تجویز کریں وہ کاروائی ہم سے کی جائے ، چنانچہ حضرت سعدؓ نے شریعت کے موافق ان کے مقدمہ میں فیصلہ کردیا کہ ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے سعد !تم نے اس مقدمہ میں خداکے حکم کے موافق فیصلہ دیا ہے ، ان لوگوں کی تعداد چارسو تھی ، حسب فیصلۂ مذکورہ جب ان کے قتل سے فراغت ہوگئی تو ان کی وہ ہفت اندام کی رگ پھر پھٹ پڑی اور ان کا انتقال ہوگیا، اس روایت کو امام ترمذی(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے بھی بیان کیا ہے اور اس کی صحت کا بھی اقبال واقرار کیا ہے۔  (۴۶)
اس قصہ میں حضرت سعدؓ کی کئی کرامتیں درج ہیں ، ایک تو یہ کہ میرے خیال سے ہماری اور مشرکین قریش کی جنگ موقوف ہوگئی ہے ، چنانچہ اس کے بعد کوئی معرکہ نہیں ہوا اور فتح مکہ میں چھوٹی سی نبردآزمائی اور چھیڑ چھاڑ ہوئی تھی ، جس کو عربی زبان میں مقاتلہ کہتے ہیں ، دوسری کرامت جاری خون کا بند ہوجانا ، تیسری کرامت بند خون کا بہنے لگنا اور راوی کا " فلما فرغ " کا لفظ استعمال کرنا صرف اختصار بیان کے لئے ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ:
 فلما فرغ ودعا بما في الحدیث الأول فانتفق ۔ (۴۷)
کرامات حضرت خبیبؓ
حضرت امام بخاریؒ (رحمہ اللہ تعالیٰ) نے ایک طویل قصہ میں بیان کیا ہے کہ
"وہ خاتون جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے ، وہ کہتی تھی کہ میں نے کسی قیدی کو حضرت خبیبؓ سے زیادہ اچھا نہیں دیکھا ، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کہ خبیبؓ مکہ معظمہ میں کافروں کی قید و بند میں تھے ، نیز انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت خبیبؓ کو جب وہ لوہے کے پنجرے میں مقید تھے اور کہیں آجانہ سکتے تھے اور اس وقت مکہ معظمہ میں پھلوں کا موسم بھی نہ تھا ، انہیں انگور کے خوشے کھاتے دیکھا اور ان کا وہ کھانا در حقیقت اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا رزق تھا"۔ (۴۸)
حضور ختمی نبوت ﷺ نے اصحابؓ سے فرمایا:ہے کوئی جو خبیبؓ کی لاش کو سولی سے اتار لائے ؟ چنانچہ حضرت زبیر اور حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس کام کا اقرار کیا اور پھر روانہ ہوگئے ، وہ رات کو چلتے اور دن کو چھپتے رہتے ، چنانچہ وہ اس سولی کے پاس پہنچ گئے جہاں چالیس محافظ موجود تھے ؛ لیکن سب سورہے تھے ، ان دونوں نے حضرت خبیبؓ کو سولی سے اتارا اور گھوڑے پر رکھ لیا، اگرچہ حضرت خبیبؓ کے قتل کو چالیس دن گذرچکے تھے ؛ لیکن ان کا جسم بالکل تازہ تھا ، زخموں سے خون ٹپک رہا تھا اور مشک کی خوشبو آرہی تھی  صبح کے وقت جب قریش کو اس کی خبر ہوئی تو چاروں طرف شتر سوار دوڑادئے ، کچھ شتر سواروں نے آپؓ  کو آلیا ، حضرت زبیرؓ نے یہ دیکھ کر لاش کو فوراً زمین پر رکھ دیا اور زمین انہیں نگل گئی ؛ اس لئے تو حضرت خبیبؓ کو" بلیغ الارض" کہا جاتا ہے ، اس کے بعد حضرت زبیرؓ نے ان کفار کی طرف منہ کرکے کہا :میں زبیر بن العوام ہوں اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت عبد المطلب میری ماں ہیں اور یہ میرے رفیق حضرت مقداد بن الاسودؓ ہیں ، تمہارا جی چاہے تو تیروں سے اور کہو تو اتر کر نیزے اور تلوار سے لڑیں اور چاہو تو لوٹ سکتے ہو ، چنانچہ وہ شتر سوار کافر واپس ہوگئے ۔
ان دونوں حضرات نے حضور اقدس ﷺ میں کل ماجرا بیان کیا اور اسی وقت حضرت جبریل امینؑ نے مجلس میں حاضری دے کر کہا کہ سرکار آپ ﷺ کے ان دونوں اصحابؓ کی فرشتوں میں تعریف ہورہی ہے ۔
مندرجہ تاریخ حبیب الٰہ مؤلف مولانا مفتی عنایت احمد صاحب مطبوعہ نامی پریس لکھنؤ (ص :۸۵-۸۶)کے اس قصہ پر بندہ مطلع نہیں ہوا ، مگر چونکہ تاریخ حبیب الٰہ نہایت معتبر کتاب ہے ، پس موجودہ کتاب سے اس قصہ کی نقل کافی ہے ۔
کرامات حضرت عاصمؓ
حضرت امام بخاریؒ(رحمہ اللہ تعالیٰ) نے ایک قصہ کے تحت روایت کی ہے کہ
" کفار قریش نے اپنے ایک دستہ کو حضرت عاصمؓ  کی لاش میں سے کوئی ٹکڑا کاٹ لانے کے لئے بھیجا ؛ تاکہ اس عضوِ بدن کو دیکھ کر ان کے قتل کا یقین ہوجائے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے دل کو ٹھنڈک بھی ہوجائے کہ یہی وہ عاصمؓ ہیں جنہوں نے ہمارے ایک بڑے آدمی کو جنگ بدر میں قتل کردیا تھا، اس دستہ کے پہنچتے ہی اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عاصمؓ اوران کے مقتول ساتھیوں کی لاش پر شہد کی مکھیوں کو بادل کی طرح بھیج دیا ، جنہوں نے ان شہیدوں کی لاش کو ان سے محفوظ کردیا اور وہ کافر کچھ بھی نہ کرسکے"۔ (۴۹)
بخاری شریف کے حاشیہ پر حضرت اسحاق (رحمہ اللہ )نے یہ مضمون لکھا ہے کہ حضرت عاصمؓ  نے حق تعالیٰ سے عہد کرلیا تھا کہ کوئی مشرک ان کو چھونہ سکے گا ، چنانچہ فاروق اعظمؓ کو یہ قصہ معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے معاہدہ کے مد نظر اپنے مسلمان بندہ کی اس کے انتقال کے بعد بھی حفاظت کی ، بظاہر اگر چہ حضرت عاصمؓ  کی لاش کی حفاظت کا کوئی خاص انتظام نہ تھا ؛ لیکن پروردگار نے اس کی حفاظت کی اور ان کے جسد اطہر کو کوئی کافر ہاتھ تک نہ لگاسکتا اور آپؓ کا عہد بھی پورا ہوگیا ، یہ سب آپؓ کی کرامتیں تھیں ۔
کرامات حضرت انسؓ
حضرت انس بن نضرؓ جو حضرت انس بن مالکؓ کے بھتیجے تھے ، روایت کرتے ہیں کہ
" ان کی پھوپھی نے کس لڑکی کا اگلا دانت توڑ دیا تھا ، ہمارے آدمیوں نے اس لڑکی والوں سے معافی مانگی تو انہوں نے انکار کردیا ، پھر ان سے کہا گیا کہ تم لوگ دیت یعنی دانت کے بدلے میں دانت لینے کے بجائے کچھ رقم لے لو ، اس پر بھی ان لوگوں نے انکار کیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر معافی دینے اور دیت قبول کرنے پر انکار کرتے ہوئے قصاص طلب کیا ، چنانچہ بحکم قرآن کریم سرور عالم ﷺ نے قصاص ہی کا حکم دیا ، اس پر حضرت انس بن نضرؓ نے کہا :یا رسول اللہ ! کیا میری پھوپھی حضرت ربیع کا اگلا دانت توڑ دیا جائے گا ؟ اس ذات کی قسم !جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، ان کا دانت تو نہیں توڑا جائے گا ، آپؓ کا یہ قول شریعت کے مقابلہ میں انکار کے طور پر نہ تھا ؛ بلکہ غلبۂ حال میں ایسا تو کل اور بھروسہ غالب ہوا تو قسم کھالی اور سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دل میں معافی ڈال دیں گےیا پھر یہ لوگ دیت قبول کرلیں گے ، اس پر سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اے انس !اللہ کی کتاب تو قصاص کا حکم دیتی ہے ، اس پر ان لوگوں نے خوش ہوکر دانت کا بدلہ معاف کردیا ، اسی واقعہ پر سرور عالم ﷺ نے فرمایا:بیشک بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرماتا ہے"۔ (۵۰)
ایسی قسم صرف غلبۂ حال و کیفیت میں ہوتی ہے ، جب تک ہر شخص حضرت انسؓ جیسی کیفیت پیدا نہ کرلے ، اس کو ہرگز ایسی قسم نہ کھانا چاہئے ۔
کرامات حضرت سعد بن ابی وقاصؓ
امام بخاریؒ (رحمہ اللہ تعالیٰ) ایک طویل قصہ میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فرمایا:
" اللہ کی قسم ! میں اس شخص کے لئے بد دعا کرتاہوں جس نے میری تین باتوں کی جھوٹی شکایت کی تھی ، اے اللہ !یہ تیرا جھوٹا بندہ جو مکاری سے شکایتیں سنانے کے لئے کھڑا ہوا ہے اس کی عمر دراز کردے ، اس کی محتاجی میں اضافہ کردے اور اس کو فتنہ و فساد میں مبتلاکردے ، حضرت سعدؓ کی اس دعا کے بعد لوگوں نے اسے دیکھا کہ جب اس سے خیریت دریافت کی جاتی تو وہ بوڈھا پھونس جواب دیتا ، میں بالکل بڈھا ہوگیا ہوں ، میر عقل ماری گئی ہے اورمجھے سعدؓ کی بد دعا لگ گئی ہے ، حضرت عبد الملک (رحمہ اللہ تعالیٰ) کہتے ہیں کہ میں نے اس بڈھے کو اس حال میں دیکھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی آنکھوں کو اس کی دونوں بھوؤں نے بالکل چھپالیا اور و ہ راستہ چلتی باندیوں کو روکتا اور اتنا بے حیا ہوگیا تھا کہ راستہ ہی میں چھیڑ چھاڑ کرتا اور افلاس و غربت کی وجہ سے وہ اسی قسم کی ذلیل حرکتیں کیا کرتا تھا ، وہ اگر مالدار ہوتاتو اس میں شرم و لحاظ کا کچھ اثر رہتا "۔ (۵۱)
الحاصل حضرت سعدؓ کی یہ تینوں باتیں درازئے عمر ، افلاس اور فتنہ میں مبتلا ہونا درگاہِ خداوندی میں مقبول ہوگئیں ۔
حضرت سعدؓ روایت کرتے ہیں کہ
" میں نے یوم احد میں سرکار دو عالم ﷺ کے دائیں اور بائیں دو سفید پوش لوگوں کو دیکھا جو بڑی سخت جنگ لڑرہے تھے ، ایسے جنگ جو میں نے نہ تو پہلے دیکھے اور نہ بعد میں اور یہ دونوں سفید پوش جبرائیل اور میکائیل تھے "۔ (۵۲)
کرامات حضرت حنظلہؓ
حافظ حدیث علامہ واقدی(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے کتابِ مغازی میں لکھا ہے کہ
" حضرت حنظلہ بن ابی عامیؓ نے جمیلہ دختر عبد اللہ بن ابی سلول رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے شادی کی اور سرکار دو عالم ﷺ سے اجازت لے کر جنگ احد کی ایک رات اپنی بیوی سے ہم بستر ہوئے اور اسی حالت جنابت میں صبح سویرے ہتھیار لگاکر مسلمانوں کی فوج میں پہنچ گئے ، ادھر ان کی نئی نویلی دلہن نے اپنی قوم کے چار آدمیوں کے پاس اطلاع بھیجی کہ میرے خاوند ہم بستری کے بعد جہاد میں چلے گئے اور لوگوں کو اس لئے گواہ کرلیا ؛تاکہ حمل رہ جانے کی صورت میں کسی کو کوئی بات کہنے کی گنجائش نہ رہے ، جس کو سُہیلیؒ نے کتاب زیلعی (۱/۳۷۰) میں بھی ذکر کیا ہے ، لوگوں نے اس نئی دلہن سے پوچھا کہ ایسا کیوں کہہ رہی ہو ؟ تو اس نے جواب دیا کہ رات کو میں نے خواب میں دیکھا ، آسمان کھولا گیا ، اس میں حضرت حنظلہؓ داخل ہوئے اور پھر آسمان کے دروازے بند کردئے گئے ، جس سے مجھے یقین ہوا کہ کل وہ شہید کردئیے جائیں گے ، حضرت حنظلہؓ کی شہادت کے بعد ان نیک سیرت بی بی کا ثابت بن قیسؓ کے ساتھ نکاح ہوا ، جن کے پیٹ سے محمد بن ثابت بن قیسؓ ہیں ، اورادھر کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حنظلہؓ نے فوج میں آتے ہی دل کھول کر ہاتھ دکھائے ، جس کے نتیجہ میں مشرکین کو شکست نظر آرہی تھی اور انہوں نے ابو سفیانؓ کو  ---جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے  --- مارنا ہی چاہاتھا کہ پیچھے سے اسود بن شعیب نے حملہ کرکے حنظلہؓ کو ایسا برچھا مارا کہ وہ شہید ہوگئے ، رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ حنظلہ بن ابی عامرؓ  کو نقرئ طشت یعنی چاندی کے ٹب میں مینہ کے پانی سے آسمان و زمین کے بیچ نہلارہے تھے ، ابو اسید ساعدیؓ نے کہا کہ ہم نے حنظلہؓ کو دیکھا کہ ان کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں اور یہ دیکھ کر میں نے فوراً رسالتمآب ﷺ کی خدمت میں حاضری دے کر تمام واقعہ سنایا ، اس پر سرور عالم ﷺ نے ان کی بیوی کے پاس ایک قاصد بھیجا کہ ان کی حالت روانگی معلوم کرے ، چنانچہ اس قاصد سے حضرت جمیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ وہ جہاد کے میدان میں گھر سے بحالت جنابت گئے تھے ، یعنی ان کو غسل کی ضرورت تھی"۔ (۵۳)
ہر وہ شخص جو بحالتِ جنابت شہید ہوجائے تو شریعتِ اسلامیہ کے مدّ نظر ایسے شہیدکو بھی غسل دیا جانا ضروری ہے ؛ چونکہ حنظلہؓ کو غسل کی ضرورت تھی اور اسلامی فوج کے کسی آدمی کو اس کی اطلاع نہ تھی کہ ان کو غسل دیتا ؛ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ حنظلہؓ کو غسل دلایا ، حضرت حنظلہؓ کے سر کے بالوں سے پانی کی بوندیں ٹپکتے ہوئے رسول مقبول ﷺ کے سوائے اور لوگوں نے بھی دیکھیں اور یہ بھی آپؓ  کی کرامت تھی ۔
کرامات ایک انصاری صحابیؓ کی
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ
" جنگ بدر کے دن ایک مسلمان شخص ایک مشرک کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے اپنے آگے والے مشرک کے سرپر ایک کوڑا مارنے کی آواز سنی اور گھوڑے سوار کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ حیزوم(جو حضرت جبرئیلؑ کے گھوڑے کا نام ہے)آگے بڑھ ، اس کے بعد مشرک کو چت گراہوا دیکھا جس کی ناک چرگئی تھی اور چہرہ لہو لہان تھا ، جیساکہ خوب زور سے کوڑا مارانے کی وجہ سے ہوجایا کرتا ہے ، ایسے ہی اس کے بدن کے سب اعضاء نیلے پڑگئے تھے ، چنانچہ ان انصاریؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پورا واقعہ بیان کیا ، جس پر سرور کائنات ﷺ نے فرمایا:تو سچ کہتا ہے ، یہ تو تیسرےآسمان کی مدد تھی ؛ چنانچہ مسلمانوں نے اس روز ستر مشرکوں کو قید کیا اور ستر کافروں کو تلوار کے گھاٹ اتارا ، اس کو امام مسلم (رحمہ اللہ تعالیٰ)نے بیان کیا ہے"۔ (۵۴)
کرامات حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ
مشکوۃ شریف میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بروایت امام بخاریؒ مروی ہے ، انہوں نے فرمایا:
" ہم کئی صحابیؓ جو کھانا کھارہے تھے ہم نے سنا کہ وہ غذا جو ہم کھارہے تھے ، وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تسبیح بیان کررہی تھی ، یعنی وہ کھانا سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھ رہا تھا"۔ (۵۵)
ابو نعیمؒ نے دلائل النبوۃ میں ایک طویل قصہ کے تحت حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رات میرے سامنے چھوارے کے پیڑوں میں سے ایک کالا بادل اٹھا ، جس سے مجھے خوف ہوا کہ حضور ﷺ کو اس سے کوئی صدمہ نہ پہنچے ؛ لیکن آپ ﷺ کا یہ حکم یاد آنے پر کہ " اس جگہ سے مت ہٹنا "  میں اپنی جگہ جما رہا اور اسی حالت میں میں نے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا:بیٹھ جاؤ ، تو وہ سارا بادل بیٹھ گیا اور صبح ہوتے ہوتے وہ سارا بادل چھٹ گیا ، صبح کو رسول اللہ ﷺ کی اس جگہ تشریف آوری پر میں نے اپنا اندیشہ اور پورا واقعہ سنایا تو سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:نصیبین کے جن تھے جو مجھ سے ملنے آئے تھے ۔ (۵۶)
چونکہ جنات کو دیکھنا خلاف عادت ہے ؛ اس لئے اس کو بھی خوارق میں شمار کیا گیا ۔
کرامات حضرت اسید بن حضیر و عباد بن بشیر رضی اللہ عنہما
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ
"سرکار دوعالم ﷺ سے حضرت اسید و عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی کچھ ضرورتیں ظاہر کیں ، جس میں کچھ رات ہوگئی ، رات بہت ہی تاریک تھی ، چنانچہ وہ اسی اندھیرے میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹے ، ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں ، ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور لالٹین کا کام دینے لگی ، جس کی روشنی کی مدد سے دونوں چلنے لگے ، جب ایک راستہ ختم ہوگیا اور دوسرے کو آگے جانا تھا تو اس روشن عصا نے اس دوسرے کی لاٹھی کو بھی روشن کردیا اور یہ دوسرا بھی اپنے گھر کو روانہ ہوگیا اور یہ دونوں آدمی اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے اپنے ہاں بچوں میں پہنچ گئے ۔ اس کو امام بخاری(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے بھی بیان کیا ہے"۔ (۵۷)
اس قصہ میں دو کرامتیں ظاہر ہوئیں : ایک تو یہ کہ بغیر کسی تیل بتی کے ایک لاٹھی روشن ہوگئی اور دوسری کرامت یہ کہ ایک لاٹھی سے دوسری لاٹھی جس میں کوئی الیکٹرک کرنٹ نہ تھا ، وہ بھی روشن ہوگئی اور رات کے اندھیرے سے ان دونوں حضرات کو کوئی تکلیف نہ ہوئی ۔
کرامات والدِ حضرت جابرؓ
حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ
" جنگ احد کے وقت ایک رات مجھے میرے والد بزرگوار نے طلب کرکے فرمایا:کل اصحابؓ رسول اللہ ﷺ کی شہادت میں سب سے اول میری شہادت واقع ہوگی ، رسول اللہ ﷺ کے علاوہ مجھے سب سے زیادہ عزیز تم ہو ، سنو ! مجھ پر ایک آدمی کا قرضہ ہے ، وہ تم ادا کردینا اورمیں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اپنی بہنوں کے ساتھ بھلائی کرنا ، صبح کو میں نے دیکھا کہ سب سے پہلے میرے والد ماجد ہی نے جام شہادت نوش فرمایا ہے ، میں نے ان کو اور ان کے ایک ساتھی کو جگہ کی تنگی کی وجہ سے ایک ہی قبر میں سپرد خاک کیا "  اس کو امام بخاری(رحمہ اللہ تعالیٰ) نے بھی بیان کیا ہے ۔ (۵۸)
یہ الہام کشفی در اصل کرامت ہی کرامت ہے ۔
کرامات بعض صحابہؓ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ
"رسول اللہ ﷺ کی وفات شریف پر جب آپ ﷺ کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو صحابہؓ نے کہا :ہماری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کپڑے اتارکر آپ ﷺ کو غسل دیں ، جیساکہ عام طور پر اپنی میتوں کے ساتھ کرتے ہیں یا کپڑوں سمیت آپ ﷺ کو نہلائیں ؟ اس معاملہ میں اختلاف رائے ہورہا تھا کہ اللہ نے ان پر نیند کو اس طرح مسلط کردیا کہ ہر ایک کی ٹھوڑی اس کے سینہ پر ہوگئی ، یعنی وہ سب سوگئے اور اسی حالت میں مکان کی ایک سمت سے جس کو کہتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں ، اس نے کہا :نبی کریم ﷺ کو کپڑوں سمیت غسل دو ، پس صحابہؓ نے آپ ﷺ کو اس طرح نہلایا کہ آپ ﷺ جو کرتہ پہنے ہوئے تھے ، اسی پر پانی ڈالتے اور اسی کرتہ پر سے آپ ﷺ کے جسد مبارک کو ملتے جاتے تھے " دلائل النبوۃ میں علامہ بیقہی نے بھی یہی بیان کیا ہے" ۔ (۵۹)
کرامات حضرت سفینہؓ
ابن منکدر سے روایت ہے کہ
" حضرت سفینہؓ جو حضور ﷺ کے غلام تھے ، ایک مرتبہ سر زمینِ روم میں اپنے اسلامی لشکر کا راستہ بھول گئے ، وہ راستہ تلاش کررہے تھے کہ دشمنان اسلام نے انہیں قید کرلیا ، ایک دن وہ قید سے بھاگ کر راستہ ڈھونڈ رہے تھے کہ ان کی ایک شیر سے مڈبھیڑ ہوگئی چنانچہ حضرت سفینہؓ نے اس شیر کو کنیت سے پکار کر کہا :اے ابو الحارث !سن میں رسول اللہ ﷺ کا غلام ہوں اور میرے ساتھ ایسا معاملہ ہوا ہے ، جنگل کا شیریہ سن کر خوشامد میں لگ گیا اور ان کے سامنے کھڑے ہوکر دم ہلانے لگا اور پھر ان کے برابر چلنے لگا ، اسے جب کوئی آواز سنائی دیتی تو وہ فوراً ادھر کا رخ کرلیتا اور پھر آپؓ کے ساتھ بغل میں چلنے لگتا ، جب حضرت سفینہؓ اپنے اسلامی لشکر میں پہنچ گئے تو شیر ان کو پہنچاکر واپس لوٹ آیا"۔ (۶۰)
اس واقعہ کو کتاب شرح السنۃ میں بیان کیا گیا ہے ۔
کرامات سیدتنا ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
حضرت ابو الجوزاءؒ سے روایت ہے کہ
" ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں سخت قحط آیا تو ان قحط زدہ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جاکر کہا کہ اس قحط سے ہم لوگ بہت پریشان ہوگئے ہیں ، اس پر بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے مزار شریف کی طرف دیکھو اور گنبد خضراء میں آسمان کی طرف کو ایک آرپارسوراخ کردو ؛ تاکہ دونوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ رہے ، ان لوگوں نے ایسا ہی کیا تھا کہ خوب بارش ہوئی ، اتنا مینہ پڑا کہ گھاس جم آئی اور اونٹ اتنے موٹے ہوگئے کہ چربی کی وجہ سے پھٹ پڑے اوراس کا نام فتق رکھا گیا"۔ اس قصہ کو دارمیؒ نے بھی بیان کیا ہے ۔ (۶۱)
ایک طویل قصہ کے تحت درج ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" اے ام سلمہ ! تم عائشہ - رضی اللہ تعالیٰ عنہا - سے کوئی بُرا برتاؤ کر کے مجھے تکلیف مت پہنچاؤ ، اللہ کی قسم ! بی بی عائشہ - رضی اللہ تعالیٰ عنہا - کے پاس لیٹنے کی حالت میں مجھ پر وحی آتی رہی ، ان کے سوائے کسی دوسری بی بی کے پاس لیٹے رہنے کی حالت میں مجھ پر وحی نہیں آئی اور وہ تم سب میں ایک اچھی خاتون ہیں "۔ (۶۲)
اللہ اللہ ! حضرت بی بی عائشہ - رضی اللہ تعالیٰ عنہا - کی کرامت ملاحظہ فرمائیے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کوئی بات ناگوار ہونے سے سرکار دو جہاں ا کو صدمہ ہوتا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ ایک دیندار کی اذیت اور تکلیف سے دوسرے دیندار کو رنج ، دکھ ،غم اور اندوہ و ملال ہواہی کرتا ہے ۔
ابوسلمہؓ نے بروایت حضرت عائشہ - رضی اللہ تعالیٰ عنہا -بیان کیا ہے کہ
"رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا:اے عائشہ ! یہ جبرئیل تم کو سلام کہہ رہے ہیں ، میں نے جواباً کہا :ان پر اللہ کی سلامتی ، رحمتیں اور برکتیں ہوں ، اے حضو! آپ ﷺ ان کو دیکھتے ہیں اور میں نہیں دیکھ سکتی"۔ (۶۳)
یعنی جس طرح سرکار دو عالم ﷺ کے ذریعہ حضرت جبرئیلؑ نے سلام کہلوایا ، اسی طرح ان کو حضرت عائشہ - رضی اللہ تعالیٰ عنہا -نے جواب بھجوایا اور چونکہ عورت کسی مرد کو نہیں دیکھتی ؛ اس لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی ان کو جھانکاتاکا نہیں، اس حدیث سے بھی حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عالمِ بالا کے ساتھ جس طرح اعلیٰ درجہ کا تعلق ظاہر ہوا کہ فرشتے تک آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سلام کہتے تھے ، یہ بھی آپ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی کرامت ہے ۔
کرامات سیدتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے رسول اللہ ﷺ سے (عرب کی عادت کے موافق کہ مخاطب کو چچا کے بیٹےیا بھتیجہ سے خطاب کرتے ہیں ، اگر چہ در حقیقت یہ رشتہ نہ بھی ہو ) کہا :
"اے میرے چچا کے بیٹے! آپ ﷺ کے وہ دوست جو آپؐ کے پاس ہمیشہ آتے ہیں ، یعنی جبرئیل امینؑ جب وہ آئیں تو ان کے آنے کی اطلاع دے سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہا ں ، ابھی آپ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے پاس ہی تھے کہ جبرئیلؑ کے آنے کی آپ ﷺ نے ان کو اطلاع کردی ، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہاکہ اس وقت آپ ﷺ ان کو دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے کہا :ہاں ، اس پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ آپ ﷺ ذرا میرے بائیں جانب بیٹھ جائیں ، جب سرکار دو عالم ﷺ بائیں جانب بیٹھ گئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پوچھا: کیا اب آپ ﷺ ان کو دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے کہا : ہاں ، اس پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا تو ذرا اب میری سیدھی طرف تشریف رکھئے ، آپ ﷺ بی بی کی سیدھی جانب آبیٹھے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پھر پوچھا :کیا اب بھی آپ ﷺ ان کو دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ! اس کے بعد بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا :اچھا حضور ﷺ ب ذرا میری گود کی طرف آجائے ، جب آپ ﷺ ادھر آگئے تو پھر انہوں نے پوچھا :کیا اب بھی آپ ﷺ دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں! اس کے بعد بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنے سر سے دوپٹا اتارا اور سر کو کھول کر پوچھا کیا اب بھی دیکھ رہے ہیں ؟ فرمایا:اب تو نہیں ! اس پر حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا :یہ شیطان نہیں ہے ؛ بلکہ در حقیقت فرشتہ ہے ، اب آپ ﷺ مطلق نہ گھبرائیں اور حق پر ثابت قدم رہیں اور خوش ہوجائیں کہ نبوت جیسی نعمت سے آپ ﷺ کو سرفراز فرمایا گیا ، اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ ﷺ پر ایمان لائیں اور اس بات کی شہادت دی کہ آپ ﷺ جو کچھ خدا سے لائے ہیں وہ بالکل سچ ہے"۔ (۶۴)
چونکہ ابتدائے نزول وحی میں سرکار ﷺ کو کچھ گھبراہٹ ہونے پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے آپ ﷺ کو تسکین اور تسلی دی تھی ؛ تاکہ طبیعت کو قرار آجائے اور اس مرتبہ بھی اپنی فطرت کو کام میں لائیں ، تسلی دینے والا تسلی دینے کی وجہ سے جس کو تسلی دے اس سے کبھی اعلیٰ و افضل نہیں بن سکتا ؛ بلکہ ایک چھوٹا اپنے بڑے کو اس لئے تسلی دیتا ہے کہ اس کو اس کے امور مستحضر اور یاد آجائیں ، اس حدیث سے حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا یہ برتاؤ بذریعہ الہام ہونا ثابت ہے ۔
خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ عقل و سمجھ کے ذریعہ ہرگز ایسے لطیف اور دقیق نکات کا استفادہ نہیں ہوسکتا ؛ بلکہ یہ تمام کیفیات الہام کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں اور الہام نام ہے خرقِ عادت و کرامت کا ۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ
" جبرئیلؑ نے مجھ سے آکر کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ ﷺ کے پاس بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآرہی ہیں اور ان کے ہاتھ میں جو برتن ہے اس میں سالن ، کھانے کی چیز اورکچھ پینے کی چیز ہے ، جب وہ آپ ﷺ کے پاس آجائیں تو ان سے میرا سلام کہہ دیجئے کہ اللہ میاں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو سلام کہا ہے اور یہ کہہ دیجئے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاخوش ہوجائیں آپ کے لئے جنت میں ایسا مکان ہے جو موتیوں کا بناہوا ہے ، جہاں کوئی شور وغل نہیں اور کوئی تکلیف نہیں ہے"۔ (۶۵)
حضرت جبرئیلؑ کا حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو اللہ ٰ کا سلام لے کر آنا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بزرگی اور اللہ سے لگاؤ کی کھلی دلیل ہے ، چونکہ عام طور پر بندوں سے اللہ بزرگ و برتر کا یہ برتاؤ نہیں اور یہ سب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کرامتیں ہیں۔
کرامات سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بیان کیا ہے کہ
" حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاایسی بیماری میں مبتلا ہوگئیں جس میں ان کو موت آگئی ، وہ بیمار تھیں اور میں تیماردار تھی ، ایک دن صبح سویرے میں نے دیکھا کہ ان کو افاقہ نظر آرہاتھا اورحضرت علیؓ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے کہنے پرکہ اے اماں !میں نہانا چاہتی ہوں میرے لئے نہانے کا پانی انڈیل دو ، میں نے پانی تیار کردیا اور جس طرح وہ تندرستی میں نہاتی تھیں ویسے ہی خوب نہائیں ، پھر انہوں نے نئے کپڑے مانگے ، میں نے ان کو نئے کپڑے بھی دے دئیے جو انہوں نے خود پہن کرکہا : امی اب آپ ذرا میرے لئے گھر کے بیچوں بیچ بچھونا بچھا دیجئے ، میں نے یہ بھی کردیا ، بس وہ بستر پر جالیٹیں اور قبلہ کی طرف منہ کرکے اپنا ایک ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھ کر کہا : اے امی جان !اب میں اللہ تعالیٰ سے ملنے جارہی ہوں اور بالکل پاک ہوں ، اب کوئی بلاضرورت مجھے کھولے نہیں ، اس کے بعد ان کی روح پرواز کرگئی اور حضرت علیؓ کے آنے کے بعد پورا واقعہ میں نے ان سے کہہ سنایا"۔ (۶۶)
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے مناقب و فضائل اور تفصیلی حالات کتاب مناقب فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہامؤلفہ احمد حسن صاحب سنبھلیؒ میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں ، امام احمد بن حنبل (رحمہ اللہ تعالیٰ)نے مسند ابن حنبل میں حضرت ابو نعیمؒ سے روایت کی ہے کہ بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو کپڑے دینے اور ان کا بستر بچھانے والی خاتون کا نام زوجہ ابی رافعؓ ہے ، ہمیں اس کرامت کے ضمن میں یہ بتانا ہے کہ حضرت خاتونِ جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہاجس مرض الموت میں تھیں  ان کو قربِ موت کا کشفِ الہامی ہوا ، چنانچہ وہ تندرستوں کی طرح نہا دھوکر نئے کپڑے بدل کر خدا سے ملنے کے لئے تیار ہوگئیں ، جو ان کی کرامت ہے ، کتاب اسد الغابۃ (۶۷)میں  لکھا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے اس طرح غسل سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا ارادہ یہ نہیں تھا کہ آپ کو غسل میت نہ دیا جائے ؛ بلکہ ایک دوسری روایت میں حضرت اسماعیلؒ سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا جب میں مرجاؤں تو اے اسماء !تم اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہامجھے نہلائیں اور ان کے سواء میرے غسل میں کوئی ہاتھ نہ لگائے ۔
الحاصل!آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو مرنے سے پہلے اپنی موت کا الہام ہوا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کرامت ہے ۔
حضرت علیؓ کہتے ہیں :
"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک پکارنے والا پردہ کے پیچھے سے پکارکر کہے گا :اے حاضرین!اپنی آنکھیں بند کرلو ؛ اس لئے کہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہابنت رسول اللہ ﷺ ادھر سے گزر رہی ہیں"۔ (۶۸)
اللہ اللہ !آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بزرگی اور بلندئ درجات کہ قیامت کے دن بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی یہ عزت ہوگی کہ آپ کی خاطر داری کے لئے الگ الگ احکام جاری ہوتے رہیں گے ۔
حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" اے فاطمہ ! تمہاری خفگی سے اللہ تعالیٰ غضبناک ہوجاتا ہے اور تمہاری رضامندی سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجاتا ہے"۔ (۶۹)
یعنی اگر تم کسی سے ناراض ہوجاؤ اور اس پر خفاء ہو تو اللہ تعالیٰ بھی غضبناک ہوکر اس شخص پر قہر و غضب کی بجلیاں گراتا ہے ؛ کیونکہ تم کسی سے ناحق ناراض نہیں ہوتی ہو، تو تمہارا غصہ اور تمہاری رضامندی سب کچھ اللہ کے واسطے ہے ؛ اس لئے تم کو اللہ تعالیٰ نے اتنی عزت دی ہے اور تمہارے رتبہ کو بلند کیا ہے ، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی رضا کو اللہ پاک کی خوشنودی اورآپ کی خفگی کو اللہ  کا غضب قرار دیا گیا ہے ؛ اس لئے کہ ان کا کوئی کام اللہ کے سوائے کسی دوسرے کے لئے نہیں تھا ، سب لوگ اور خصوصاً عورتیں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی قدم بقدم چل کر اپنا رتبہ اونچا کرسکتی ہیں ، بس عمل کی دیر ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ایک طویل قصہ میں بیان کیا ہے کہ
" ایک مرتبہ جب رسول اللہ ﷺ نماز میں مشغول تھے تو کافروں نے سجدہ کی حالت میں نجاست ڈال دی اور آپ ﷺ کا مذاق اڑانے لگے ، میں نے ان کافروں کو سمجھایا ؛ لیکن وہ سمجھنے کے بجائے الٹا برہم ہوگئے اور فساد ہونے کو ہی تھا کہ میں نے خود کو اکیلا پاکر اس واقعہ کی اطلاع حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو دیدی ؛تاکہ ان کی صغر سنی پر ہی یہ ظالم اپنی حرکتوں سے باز آجائیں ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااگرچہ چھوٹی عمر کی لڑکی تھیں ؛ لیکن انہوں نے میری گفتگو کو نہایت غور سے سنا اور پھر دوڑتی ہوئی جاکر رسول ﷺ پر سے جبکہ آپؐ ابھی تک سجدہ کی حالت میں تھے ، اس نجاست کو اٹھاکر دور پھینک دیا اور ان کافروں سے خوشامدکی کوئی بات کہے بغیر نہایت دلیری سے بات کرکے ان کو خوب خوب صلواتیں سنائیں"۔ (۷۰)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے اس حدیث کی جو شرح کی ہے اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے :
"حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی اس عالی ہمتی اور قوتِ گفتار سے ان کی بزرگی اورکرامت ظاہر ہوتی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بچپن کے باوجود نہایت دلیری سے دشمنوں کو گالیاں(۷۱)دیں اور ان ظالموں کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے تعرض و مقابلہ کی ہمت نہ ہوئی"۔ (۷۲)
کوئی دشمن غصہ کی حالت میں اپنے مخالف کے بچہ کی سخت و سست گفتگو اور گالیوں کو کبھی بھی یہ کہہ کر نہیں ٹالتا کہ جانے دو بچہ ہے ، اس کی گالیاں ہی کیا ؛ بلکہ وہ اور بھی برسرپیکار ہوجاتا ہے اور یہ ایک نئی لڑائی کا پیش خیمہ ثابت ہوجاتی ہیں ، چہ جائیکہ مسلمانوں کے پکے دشمن یہ ظالم کافر جو لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کے عادی تھے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بچپن کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی گالیوں سے خاموش نہ بیٹھے ؛ بلکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی دلیرانہ گفتگو کے سبب اللہ ٰ نے ان ظالم کافروں کا منہ بند کردیا۔
الحاصل حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابڑی بزرگ شخصیت تھیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بہت سی کرامتیں تھی۔

ایک صحابیؓ کی کرامات
حضرت براءؓ  کہتے ہیں کہ
" ایک آدمی کے برابر میں مضبوط رسیوں سے ایک گھوڑا بندھاہوا تھا اور یہ آدمی سورۂ کہف کی تلاوت کررہا تھا کہ اتنے میں ایک ابراٹھا اور وہ گھوڑے پر بھی چھاگیا ، گھوڑا بدک رہا تھا اوربادل برابر بڑھتا جارہا تھا ، اس قصہ کا تذکرہ جب صبح ہوئی تو رسول ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ بادل نہیں تھا ؛ بلکہ تلاوت قرآن کی وجہ سے طمانیت اور سکون کے فرشتے نازل ہوئے تھے"۔ (۷۳)

کرامت حضرت اسید بن حضیرؓ
حضرت ابو سعید الخدریؓ بیان کرتے ہیں کہ اسید بن حضیرؓ نے کہا کہ :
"وہ ایک رات سورۂ بقرہ کی تلاوت کررہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس بندھاہوا تھا ، وہ دفعۃً کودا تو یہ خاموش ہوگئے اور وہ گھوڑا بھی ٹھہرگیا اور جب وہ تلاوت کرنے لگے تو گھوڑے نے پھر جولانی دکھائی تو یہ پھر چپ ہوگئے اور گھوڑا بھی خاموش کھڑا ہوگیا ، پھر پڑھنے لگے تو تیسری مرتبہ گھوڑے نے ٹاپیں مارنی شروع کردیں تو یہ قرآن شریف پڑھنا چھوڑ کر اس جگہ سے اس لئے ہٹ گئے کہ گھوڑا ان کے چھوٹے لڑکے کو جو ان کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا ، کہیں لات نہ ماردے جس سے بچہ کو نقصان پہنچ جائے ، انہوں نے اپنے لڑکے کو وہاں سے اٹھاکر اپنا سر جو اونچا کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان پر سائبان کی طرح ایک چیز ہے جس میں چراغ جل رہا ہے ، صبح کو یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے فرمایا:تم پڑھتے جاتے اور برابر پڑھتے رہتے ، انہوں نے کہا میں اس بات سے ڈر گیا کہ میرا بیٹا یحییٰ جو گھوڑے کے قریب ہی تھا کہیں اس کو کوئی نقصان نہ ہوجائے ؛ اس لئے میں نے تلاوت چھوڑ کر بچے کی طرف رخ کیا اور اتفاقا آسمان کی طرف سراٹھانے پر اس سائبان کو دیکھا جس میں لیمپ روشن تھے ، میں یحیی کو وہاں سے اٹھاکر نکلاتو میں نے وہ سائبان وغیرہ کچھ نہ دیکھا ، اس پر سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم جانتے ہو وہ کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا جی نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا:وہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے قریب آرہے تھے ، اگر تم مسلسل اور برابر پڑھتے رہتے تو صبح کو تمام لوگ ان کو دیکھتے،یعنی ہر ایک کو دکھائی دیتے"۔ بخاری شریف کی اس حدیث کو مسلم میں بھی درج کیا گیا ہے۔ (۷۴)

کرامت بعض اصحابؓ النبی 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں :
" بعض اصحابؓ نے اپنا خیمہ اس جگہ لگایا جہاں ایک قبر تھی جو انہیں معلوم نہ تھی اور اس قبر کے مردے نے سورۂ "تبارک الذی" پڑھ کر پوری کی ، ان اصحابؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پورا واقعہ بیان کیا ؛ چنانچہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:سورۂ "تبارک الذی" انسان کو برائیوں سے روکنے والی ہے ، اس سورت نے اس قبر والے کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دلائی"۔اس واقعہ کو امام ترمذی(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے بھی بیان کیا ہے ۔ (۷۵)
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ بعض اصحابؓ النبیﷺ نے جیتے جاگتے اس قبر والے کی آواز سنی اور اس کی حالت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جو خرق عادت و کرامت ہے ۔

کرامت حضرت ابوہریرہؓ
 حضرت ابوہریرہؓ ایک طویل حدیث کے ما تحت کہتے ہیں کہ :
" مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے فرمانے پر کہ تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ حضور !اس کا ارادہ ہے کہ مجھے ایسی باتیں سکھائے گا جن سے مجھے فائدے ہوں گے ، آپ ﷺ نے فرمایا:یاد رکھو جو کچھ اس نے کہا وہ تو ٹھیک ہے اور تم تین راتوں سے جس سے باتیں کررہے ہو جانتے ہو وہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا:حضور !میں تو پوری پوری اس کی حقیقت نہیں جانتا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ مردود  شیطان ہے"۔ (۷۶)
امام بخاری(رحمہ اللہ تعالیٰ)نے اس سالم حدیث کو بخاری شریف میں بیان کیا ہے ؛ لیکن ضرورت کے مطابق اس کا تھوڑا سا وہ مضمون یہاں نقل کردیا گیا ہے ، جس میں حضرت ابوہریرہؓ کا مردود شیطان کو گرفتار کرلینا مذکور ہے ، شیطان کی گرفتاری یہ خرق عادت اور کرامت ہے ۔
کرامت حضرت ربیعؓ
حضرت ربعی بن خراشؓ  کہتے ہیں کہ
" ہم چار بھائی تھے اور ہمارے بڑے بھائی حضرت ربیعؓ پکے نمازی اور بڑے روزہ دار تھے ، سردیوں ، گرمیوں میں بھی وہ نفلیں پڑھتے اور روزے رکھتے ، جب ان کا انتقال ہوا تو ہم سب ان کے آپ پاس اکٹھے تھے اور ہم ان کے لئے کفن کا کپڑا لینے ایک آدمی بھیج چکے تھے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے منہ سے کپڑا ہٹا کر کہا السلام علیکم(ہم لوگ عبسی قوم کے ہیں )جواب دیا:وعلیکم السلام برادران عبس ، کیا موت کے بعد بھی تم بات چیت کرتے ہو ؟ حضرت ربیعؓ نے جواب دیا:ہاں تم سے جدا ہوکر جب میں پروردگار عالم سے ملا تو میں نے اسے غضبناک نہیں دیکھا ، اس نے مجھ پر رحمتوں کے بادل برساکر جنت کی خوشبوئیں ، جنت کی روزی ، جنت کے لباس اور دبیز ریشمی کپڑے مرحمت فرمائے ، سنو!حضرت ابوالقاسم رحمۃ للعالمین ﷺ میری نماز پڑھانے کے لئے منتظر ہیں ، بس اب دیر مت لگاؤ اورجلدی کرو ، اس کے بعد وہ اس طرح ہوگئے جیسے کسی طست میں ایک کنکری گرجائے ، یعنی تھوڑی دیر کے لئے ان کی زبان نے حرکت کی اور پھر وہ بالکل خاموش اور بے جان ہوگئے اور پھر ان کے کفن دفن کا انتظام کیا گیا ، یہ قصہ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سنایا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا:ہاں مجھے یاد ہے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت میں ایسےآدمی ہیں جو مرنے کے بعد بھی گفتگو کرتے ہیں"۔ اس واقعہ کو حلیہ میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔  (۷۷)
حضرت ربیعؓ کا اسم گرامی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی فہرست میں دیکھا تو نہیں گیا ، مگر دوسرے قرینوں اور اس واقعہ سے بھی آپؓ کا صحابی ہونا مسلم ہوجاتا ہے ۔
کرامات حضرت علاء بن الحضرمیؓ
سہمؓ نے بیان فرمایا کہ
" ہم علاء بن حضرمیؓ کے ساتھ جہاد کے لئے روانہ ہوکر جب مقامِ دارین پہنچے جو ہندوستانی مشک اور کستوری کی بحرین میں بہت بڑی منڈی ہے اور سمندر کے ساحل پر واقع ہے ، چنانچہ حضرت علاء بن حضرمیؓ نے سمندر کے کنارے پر کھڑے ہوکر کہا :اے اللہ ! تو جاننے والا ہے ، تو قوت والا ہے ، تو بہت بڑا ہے ، ہم تیرے معمولی بندے یہاں کھڑے ہیں اور اسلام کا دشمن سمندر کے اس سرے پر ہے ، اللہ !ان کو شکست دینے کے لئے ، ان کو راہ راست پر لانے کے لئے اور ان کو اسلام کا کلمہ پڑھانے کے لئے  ان تک پہنچادے ، اس دعاء کے بعد انہوں نے ہم کو سمندر میں اتار دیا ، اس سمندر کا پانی ہمارے گھوڑوں کے سینوں تک بھی نہیں پہنچا اور ہم سمندر پار ہوکر اسلام کے دشمنوں پر جاٹوٹے ، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ان حالت میں بادشاہِ کسری کے عامل نے دیکھ کر اپنی فوج کے سرداروں سے کہا کہ ہم ان مجاہدوں سے ہرگز نہیں لڑسکتے ، ان بہادروں سے مقابلہ کی میں تو ہمت ہی نہیں رہی اور بالآخر وہ کشتی میں بیٹھ کر فارس روانہ ہوگیا اور اس کی فوج بھی ایک دو تین ہوگئی " اس قصہ کو حلیہ میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ (۷۸)
کرامت حضرت زید بن خارجہ بن زید بن ابی زبیر انصاری خزرجیؓ
حافظ حدیث ابن حجر (رحمہ اللہ تعالیٰ)نے تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ
" زید بن خارجہؓ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مرنے کے بعد بھی گفتگوکی ، اس کو ابن سعدؒ ، ابن ابی حاتمؒ ، امام ترمذیؒ ، یعقوب بن سفیانؒ ، بغویؒ ، طبریؒ اور ابو نعیمؒ وغیرہ نے بھی بیان کیاہے"۔ (۷۹)
زید بن خارجہؓ نے خلافتِ سوم میں داعئ اجل کو لبیک کہا ، تہذیب التہذیب کے حاشیہ پر لکھا ہوا ہے کہ اس قصہ کی سند حضرت نعمان بن بشیرؓ نے اس طرح بیان کی ہے کہ
" زید بن خارجہؓ کے انتقال کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھانے کے لئے خلیفۂ سوم حضرت عثمانؓ کی تشریف آوری کا انتظار تھا ، میں نے کہا: لاؤ اتنی دیر میں دو رکعت نفل پڑھ لیتاہوں ، ادھر میں نماز میں لگا ادھر حضرت زید بن خارجہؓ نے اپنے منہ سے کپڑا ہٹاکر کہا : السلام علیکم یا أہل البیت!سب لوگوں سے ان کی گفتگو ہورہی تھی اورمیں سجدہ میں "سبحان ربی الأعلی" پڑھ رہا تھا ، زید بن خارجہؓ نے اپنی دوران گفتگو میں کہا :لوگو !بالکل خاموش ہوجاؤ سنو !رسول اللہ ﷺ نے حدیث شریف میں فرمایا ہے کہ سب سے سچے پہلے ابوبکر صدیقؓ تھے جو جسمانی طور پر تو دبلے پتلے تھے ، مگر اللہ کے احکام کے اجراء میں بڑے طاقتور اور قوت دار تھے  اور اس کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ سب سے زیادہ سچے تھے وہ جس طرح مضبوط بدن کے آدمی تھے اسی طرح احکامِ خدا کے اجراء میں بھی بڑے سخت اور بڑے کڑے تھے اور اب حضرت عثمان بن عفانؓ کی خلافت کے بھی دو برس گزرچکے ہیں اور چار سال باقی ہیں ، یہ بھی سچ اور صداقت کا مجسمہ ہیں ، ان کے دور خلافت میں تمام معاملات اور اشیائے محفوظ پر فتنوں کا دباؤ ہے اور اُریس کے کنویں کو تو تم لوگ جانتے ہی ہو ، جہاں رسول ﷺ کی انگوٹھی حضرت عثمانؓ کے ہاتھ سے گر گئی تھی اور اسی دن سے فتنہ و فساد کے دروازے کھل گئے تھے اور اے عبد اللہ بن رواحہ !تم پر اللہ کی سلامتی ہو ، کیا تم کو خارجہ اور سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حالات معلوم نہیں ، اس کے بعد وہ بالکل خاموش ہوگئے ، میں تو نماز سے فارغ ہوکر یہ تمام باتیں سن ہی رہاتھا کہ حضرت عثمانؓ نے تشریف آکر نماز جنازہ پڑھادی"۔اس واقعہ کو کئی طریقوں سے حضرت نعمان بن بشیرؓ اور دوسرے حضراتؓ نے بیان کیا ہے ۔  (۸۰)
کرامت حضرت ابو واقد اللیثیؓ
ابن اسحاق اور علامہ بیہقی (رحمہما اللہ تعالیٰ) روایت کرتے ہیں کہ
" حضرت ابو واقد لیثیؓ نے بیان کیا کہ وہ جنگ بدر میں ایک مشرک کے قتل کرنے کے لئے جھپٹے ، کیا دیکھتے ہیں کہ شمشیر آب دارا بھی اس تک پہنچی بھی نہیں تھی کہ اس کا سر کٹ کر نیچے گر پڑا"۔ (۸۱)
کرامت حضرت سہل بن حنیفؓ
حاکم ، بیہقی اور ابو نعیم رحمہم اللہ تعالیٰ بیان کرتے ہیں کہ
" حضرت سہل بن حنیفؓ نے فرمایا کہ جنگِ بدر کی حالت یہ تھی کہ ہمارے کسی مشرک اور خدا کے باغی کے لئے تلوار کا اشارہ کرتے ہی ہماری تلوار اس کے سر پر پڑتی تک نہ تھی کہ اس بد بخت کی کھوپڑی کٹ کر دور جاپڑتی"۔ (۸۲)
واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی امداد کے لئے آسمان سے فرشتے آئے تھے اور وہ ہر مسلمان کا اشارہ پاتے ہی اس مشرک کو قتل کردیتےتھے ۔

کرامت حضرت ابوبردہؓ
امام بیہقی (رحمہ اللہ تعالیٰ) روایت کرتے ہیں کہ
" حضرت ابوبردہؓ نے فرمایا:میں نے حضرت رسالت مآب ﷺ کی خدمت میں مشرکوں کے تین سر لے جاکر عرض کیا:یا رسول اللہ !ان میں سے دو کو تو میں نے قتل کیا ہے اور تیسرے کا واقعہ یہ ہے کہ ایک خوش رو نوجوان جو بڑا لمبا تڑنگا تھا ؛ لیکن وہ ہم مجاہدوں میں کا نہیں تھا ؛ کیونکہ سب دوستوں کو تو میں پہچانتاہوں ، اس شیر مرد نے اس ناپاک کو مار گرایا اور میں اس گندے سر کو یہاں لے آیاہوں ، اس پر سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ وہ فلاں فرشتہ تھا"۔ (۸۳)
کرامت حضرت سہل بن عمرؓ
علامہ بیہقی(رحمہ اللہ تعالیٰ) بیان فرماتے ہیں کہ
" حضرت سہلؓ نے فرمایا کہ میں نے جنگ بدر میں کچھ گورے چٹے اور سرخ و سفید لوگوں کو دیکھا جو چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے اور مشرکوں میں سے کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا ، وہ جدھر بھی رخ کرتے صفوں کی صفیں کھیت کردیتے"۔ (۸۴)
موج رواں کی طرح جدھر یہ پلٹ گئے             مشرک سر اپنا پھینک کر پیچھے کو ہٹ گئے

کرامت حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما
صحیحین میں حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ
" انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حضور میں جبرئیل کو دیکھا"۔ (۸۵)
کرامت زنِ صالحہؓ
بیہقی اور ابن عدی(رحمہما اللہ تعالیٰ) نے حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ
" ایک اندھی بڑھیا کے ایک نوجوان انصاری بیٹے نے وفات پائی اور بڑھیا نے اس کے منہ پر کپڑا اڑھادیا ، ہم اس کو صبر و تسلی دے رہے تھے ، بیچ میں وہ کہنے لگی:اے اللہ !تو جانتا ہے کہ میں نے تیرے پیغمبر کی طرف اس امید پر ہجرت کی کہ تو تکلیفوں میں میری مدد کرے ، آج میری مصیبت کو تو ٹال دے ، اے اللہ !محمد رسول اللہ ﷺ کا صدقہ میری مدد کر ، حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ابھی وہیں بیٹھے تھے کہ اس مردے نے  - جو اپنے باپ کے لحاظ سے انصاری تھا  -اپنے منہ سے کپڑا اٹھایا اور اپنی بوڈھی مہاجر ماں سے کہا :اب تم گھبراؤ مت ، میں اچھا ہوگیا ؛ چنانچہ ہم سب نے اس کے ساتھ کھانا کھایا"۔ (۸۶)
لیکن ان صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجبورا غلبۂ حال میں دعا کی تھی اور غلبۂ حال میں ہر شخص معذور ہوتا ہے  اور ان صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نیتِ ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت تھی تو اللہ کے لئے ، مگر اس کی برکت سے مقصود انسانی بھی پیش نظر تھا اور صلوۃ الحاجۃ کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ انسان کی تکلیفیں دور ہوجائیں ؛ تاکہ وہ اطمینان سے عبادت کرسکے ۔
نوٹ : ہروہ دعا جس میں مقصد کا حصول ناممکن ساہو وہ جائز نہیں ۔

کرامت حضرت ثابت بن قیسؓ
علامہ بیہقی (رحمہ اللہ تعالیٰ) نے عبد اللہ بن عبید اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ
" حضرت ثابت بن قیسؓ جس وقت جنگ یمامہ میں شہید ہوئے تو ان کے دفن میں میں بھی شریک تھا ، جب ان کو قبر میں رکھ دیا گیا تو انہوں نے کہا :
"محمد رسول اللہ ،أبو بکر الصدیق ، عمر الشہید ، عثمان البر الرحیم"
اس پوری شہادت کو ہم نے سنا ، اس کے بعد ان شہید کو ویسے ہی پایا جیساکہ وہ باتیں کرنے سے پہلے تھے، یعنی بالکل خاموش مردہ"۔ (۸۷)

کرامت حضرت سعید بن زید بن عمر وبن نفیلؓ
سعید بن زیدؓ کے بارے میں جس حدیث پر تمام علماء کا اتفاق ہے اور جس کو " روض الریاحین"  میں لکھا ہے وہ یہ ہے کہ :
" ایک مکار عورت نے حضرت سعیدؓ پر یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس سے زبردستی کچھ زمین لے لی ہے ، اس پر حضرت سعیدؓ نے اس کے لئے بد دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی آنکھیں پھوڑ دے اور اس کو اس کی زمین میں ہی موت دے دے ، بس وہ اپنی زندگی میں ہی اندھی ہوگئی اور ایک دن جبکہ وہ اپنی زمین پر چل رہی تھی ناگاہ ایک گڑھے میں گر کر مرگئی"، اس قصہ کو صحیحین میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (۸۸)

کرامت حضرت سلیمان وابوداؤد رضی اللہ تعالیٰ عنہما
" حضرت سلیمان و ابو داؤد رضی اللہ تعالیٰ عنہمابیٹھے ہوئے تھے اور دونوں کے بیچ میں پیالہ رکھا ہوا تھا جو سبحان اللہ پڑھ رہا تھا اور اس کی اس تسبیح کو دونوں حضرات نے سنا"۔ (۸۹)

کرامت حضرت ابو ذر غفاریؓ
حضرت ابو ذر غفاریؓ نے ایک لمبی حدیث کے تحت بیان کیا ہے کہ
" مجھ سے سرکار دو عالم ﷺ نے دریافت فرمایا:اے ابو ذر ! تم کو کھانا کون کھلاتا تھا ؟ میں نے جواب دیا حضور مجھے کھانا تو کوئی نہیں کھلاتا تھا ؛ البتہ آب زمزم خوب پیا کرتا تھا ، جس سے میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ میں بٹیں پڑنے لگیں اور بھوک نے میرے جگر کا فعل بھی خراب نہیں کیا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:آب زمزم بڑی اچھی چیز ہے اور پیٹ بھر نے کے لئے عمدہ قسم کا کھانا ہے"، اس کو مسلم میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ (۹۰)
واقعہ یہ ہے کہ حضرت ابو ذر غفاریؓ چاہ زمزم پر ایک ماہ تک مقیم رہے ، آپؓ وہاں صرف آب زمزم ہی پیتے رہے اور کوئی غذا نہیں کھائی ، اگرچہ اس متبرک پانی کی تأثیر یہی ہے ، مگر ہر شخص اس کا مظہر نہیں ہوسکتا ، جن کو اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے ، وہی ایسی برکتوں کے محل و مظہر ہوا کرتے ہیں      ؎
در نجواہی آدمیت ، دررہ آں ، زودزن

کرامت حضرت عمران بن حصینؓ
صحیح مسلم میں حضرت عمرانؓ سے روایت ہے کہ
" فرشتے مجھے سلام کیا کرتے تھے ، مجھے تیس برس سے بواسیر تھی ، اس بیماری کو دور کرنے کے لئے میں نے مسوں کو داغنا شروع کیا تو فرشتوں نے مجھے سلام کرنا چھوڑ دیا اور جب میں نے اس مکروہ چیز کو ترک کردیا تو ملائکہ پھر مجھے سلام کرنے لگے"۔ (۹۱)
 اور صحیح ترمذی میں ہے کہ
" عمران بن حصینؓ کے گھر میں لوگ کسی سلام کرنے والے کو نہیں دیکھتے تھے ، مگر السلام علیکم یا عمران کی آواز برابر ان کو سنائی دیتی تھی"۔ (۹۲)
"نسیم الریاض" میں معتبر کتابوں کے حوالے سے لکھاہوا ہے کہ عمران بن حصینؓ سے فرشتے مصافحہ کیا کرتے تھے ۔
بدن کے کسی حصہ کو داغنا ، گودنا اور جلانا بہت ہی برا کام ہے ؛ لیکن حضرت عمران بن حصینؓ سے فرشتوں کو سلام ، گفتگو اور مصافحہ یہ سب آپؓ کی کرامتیں ہیں ۔

کرامات حضرت حارث بن کلدہؓ
ابن سعد اور حاکم (رحمہما اللہ تعالیٰ) نے صحیح سند کے ساتھ بذریعہ ابن شہاب (رحمہ اللہ تعالیٰ) روایت کیا ہے کہ
" حضرت صدیق اکبرا ور حضرت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں بیٹھے تھے اور دلیا کھارہے تھے ، جو تحفہ کے طور پر آیا تھا ، دلیا کھاتے کھاتے ایک مرتبہ حضرت حارثؓ نے کہا :اے خلیفۂ رسولؐ! ہاتھ کھینچ لیجئے ، اللہ کی قسم اس حریرہ میں وہ زہر ہے جس سے سال بھر میں ہلاکت واقع ہوتی ہے ، اب آپؓ اور میں ایک دن میں مریں گے ؛ چنانچہ صدیق اکبرؓ نے وہ دلیا کھانا چھوڑ دیا اور پھر وہ دونوں ایک سال تک بیمار رہ کر ایک ہی دن اس دنیا سے رحلت فرماگئے "۔ (۹۳)
حضرت حارثؓ کی دو کرامتیں ظاہر ہوئیں ، ایک تو دلیا کھاتے کھاتے بغیر کسی ظاہری سبب کے یہ معلوم کرلیا کہ اس میں وہ سلو پائزن(سست رفتار سے اثر کرنے والا زہر) ملا ہوا ہے ، جس کا کھانے والا ایک سال میں ہلاک ہوجاتا ہے اور دوسری کرامت یہ کہ دونوں کی وفات ایک ہی دن ہوگی اور یہ سب ایسا ہی ہوا جس کو قرینہ سے کوئی دوسرا معلوم نہیں کرسکتا اور یہ کشف آپؓ  کی کرامت تھی ۔

کرامت حضرت ہلال بن امیہؓ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
" حضرت ہلال بن امیہؓ نے اپنی بیوی پر زنا کا دعویٰ کیا جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اے ہلال ! تم گواہ لاؤ ورنہ اس تہمت کی وجہ سے تم پر حد قذف جاری ہوگی ، یعنی تم کو اسّی کوڑے مارے جائیں گے ، اس پر حضرت ہلال بن امیہؓ نے کہا: قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ ﷺ کو دین حق دے کر بھیجا!میں بالکل سچاہوں اور اللہ تعالیٰ عنقریب کوئی حکم بھیجے گا ، جو میری کمر کو حدِ قذف سے بری کردے گا ، اتنے میں حضرت جبرئیلؑ آئے اور لعان کی آیت ساتھ لائے ، یعنی وہ حکم جو میاں بیوی کی قسموں سے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ ہوتا ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر لعان کا یہ حکم اللہ تعالیٰ نازل نہ کرتا تو میرا اوراس عورت کا معاملہ بڑا ہی سخت ہوجاتا"۔ (۹۴)
یعنی اس کو وہ سزا دی جاتی جو ولدِ حرام پیدا ہونے والے لڑکے کے لئے مقرر کردی گئی ہے ، (۹۵) اس کو بخاری ، ترمذی اور ابو داؤد نے بھی بیان کیا ہے ۔

کرامت حضرت خالد بن ولیدؓ
بیہقی اور نسائی نے بیان کیا ہے کہ
" رسول اللہ ﷺ کے حکم پر خالدؓ نے جب عمارتِ عزیٰ کو ڈھایا تو اس میں سے ایک کالی بھجنگی ننگی عورت پریشان حال بنے سر پر ہاتھ رکھے چیختے ہوئے نکلی کہ حضرت خالدؓ نے اس کو دو ٹکڑے کرڈالے اور پھر آنحضرت ﷺ کے حضور میں آکر اس قصہ کو بیان کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا:عزیٰ وہی عورت تھی جس کو تم نے قتل کردیا ، اب کبھی اس عورت کی عبادت نہ ہوگی ، شاباش ! شاباش ! عزیٰ درخت پر بنائی ہوئی ایک عمارت تھی ، جس کو مشرکین اس لئے پوجتے تھے کہ اس میں سے آ وازیں سنائی دیتی تھیں از قبیل شیطان ، اس عمارت میں ایک خبیث روح تھی جو بولاکرتی تھی ؛ چنانچہ وہ خبیث روح سرکار دو عالم ﷺ کے خوف سے انسانی حالت میں جب نکلی تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے موت کے گھاٹ اتاردیا، اسی کا نام عزیٰ تھا"۔ (۹۶)
اس شیطان روح کو قتل کرنا اور بت خانۂ عزیٰ کی پھر دوبارہ عبادت نہ ہونا ، یہ حضرت خالدؓ کی کرامت تھی ۔

کرامت حضرت عامر بن فہیرہؓ
امام بخاری(رحمہ اللہ تعالیٰ) نے ایک طویل حدیث میں روایت بیان کی ہے کہ ہشام بن عروہؓ نے کہا کہ مجھ سے میرے والد بزرگوار فرماتے تھے کہ
" بیر معونہ میں جس وقت صحابہؓ شہید کئے گئے اور عمرو بن امیہ ضمریؓ کو قید کیا گیا تو ان سے عامر بن طفیلؓ نے ایک مقتول و شہید کی طرف اشارہ کرکے پوچھایہ کون ہے ؟ جس پر اسیرِ مشرکین عمرو بن امیہؓ نے جواب دیا تم نہیں جانتے یہ تو عامر بن فہیرہؓ ہیں اور عامر بن طفیلؓ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ میں نے اس شہید یعنی عامر بن فہیرہؓ کے جنازے کو آسمان کی طرف جاتے ہوئے دیکھا اور پھر وہ جنازہ اتنا اونچا ہوگیا کہ آسمان وزمین کے درمیان میں اس کو دیکھ نہ سکا ، یعنی وہ میری حدِ نگاہ سے بھی پرے ہوگیا  اور پھر تھوڑی دیر بعد ان کا جنازہ زمین پر لاکر رکھ دیا گیا"۔ (۹۷)
اللہ نے عامر بن فہیرہؓ کی بزرگی دکھانے کے لئے ان کے جنازہ کو آسمان کی طرف اٹھانا دکھایا ، یہ بھی آپؓ کی کرامت تھی ۔

کرامات ایک جن صحابیؓ کی
حافظ حدیث ابن جوزی(رحمہ اللہ تعالیٰ) نے کتاب صفوۃ الصفوۃ میں اپنی سند سے امام الاولیاء حضرت سہل بن عبد اللہؒ سے روایت کی ہے ، وہ کہتے تھے کہ
" میں قوم عاد کے شہروں میں شہر عاد کی ایک سرحد پر تھا ، جہاں میں نے تراشیدہ پتھروں کا ایک شہر دیکھا یعنی اس شہر کی سب عمارتیں پتھروں کو اندر سے کھود کر بنائی گئی تھیں اوراس شہر کے بیچوں بیچ ایک سنگیں محل تھا ، جس میں جنات رہا کرتے تھے ، ایک دن میں اس محل میں گیا ، کیا دیکھتاہوں کہ ایک موٹا تازہ اور لحیم ، شحیم پرانا بڈھا جن کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہا ہے اور پررونق جبہ پہنے ہوئے ہے ، میں اس کے بے انتہا موٹاپے اور اس بھڑک دار عبا پر تعجب ہی کررہا تھاکہ اس نے نماز سے فراغت کے لئے سلام پھیرا ، میں نے ان کو سلام کیا اورانہوں نے مجھے سلام کا جواب دیا اور کہا : اے سہل بن عبد اللہ ! بدن سے کپڑے پرانے اور بوسیدہ نہیں ہوتے ؛ اس لئے کہ بدن میں کوئی ایسی خاصیت نہیں کہ اس سے کپڑے پھٹ جائیں ؛ بلکہ کپڑے تو صرف گناہوں کی بدبو اور حرام غذاء کے کھانے سے بوسیدہ ہوکر پھٹ جاتے ہیں ، اس ادنی جبہ کو تقریباً سات سو سال سے پہنے ہوئے ہوں اور میں نے اسی لباس میں حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام اور سرور عالم  سے ملاقات کی ہے اور دونوں پر ایمان بھی لاچکاہوں ، میں نے ان کو پوچھا آپ ہیں کون ؟ تو انہوں نے جواب دیا میں ان میں سے ہوں جن کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے : " قد أوحی الی انہ استمع نفر من الجن("(۹۸
دیکھا آپ نے ان جن صحابیؓ نے اپنی تین کرامتوں کو ظاہر کیا:
اول: یہ کہ انہوں نے بلا میل جول نام معلوم کرلیا ۔
دوم: یہ بتایا کہ گناہوں کی نحوست بُری چیز ہے ۔
اور تیسری کرامت یہ بتائی کہ تعجب کی کوئی بات نہیں یہ تو سات سو سال سے بھی پرانا جبہ ہے ، مگر برائیوں سے دور رہنے کی وجہ سے بالکل نیا معلوم ہورہا ہے ۔
حوالہ جات
(۱)         تاریخ الخلفاء ، ص : ۶۱ ، مطبوعہ فخر المطابع - لکھنؤ                   (۲)        ابو یعلی
(۳)        تاریخ الخلفاء ، ص : ۶۲                                        (۴)        متفق علیہ - مشکوۃ شریف ، مطبوعہ اصح المطابع لکھنؤ
(۵)        قرۃ العین ، ص : ۹۹ ، مجتبائی دہلی                               (۶)        کنز العمال : ۶/۳۱۱ ، مطبوع حیدر آباد
(۷)        تیسیر مطبوعہ نول کشور ، ص : ۱۴۵                              (۸)        تاریخ الخلفاء ، ص : ۸۴
(۹)        تاریخ الخلفاء ، ص : ۸۵                                        (۱۰)       تفصیلات کے لئے تاریخ الخلفاء ، صفحات : ۸۷ تا ۸۹ دیکھئے
(۱۱)        تاریخ الخلفاء ، ص : ۸۴                                        (۱۲)       تاریخ الخلفاء ، ص : ۸۵
(۱۳)       تاریخ الخلفاء ، ص : ۸۹                                        (۱۴)       تاریخ الخلفاء ، ص : ۹۰
(۱۵)       باب کرامات عمرؓ ، تاریخ الخلفاء ، ص : ۹۱                         (۱۶)       تاریخ الخلفاء ، ص : ۱۰۳
(۱۷)       تاریخ الخلفاء ، ص : ۱۰۳                                       (۱۸)       تاریخ الخلفاء : ۹۰ - ۹۱
(۱۹)       قرۃ العینین ، ص : ۹۷ - ۹۸                                  (۲۰)       قرۃ العینین ، ص : ۱۰۳
(۲۱)       کنز العمال : ۶/۳۳۶                                         (۲۲)       تیسیر ، ص : ۲/۱۴۵ ، مطبوعہ نول کشور
(۲۳)      استیعاب : ۲/۴۹۱                                          (۲۴)      قرۃ العینین ، ص : ۱۳۸
(۲۵)      تفصیل کے لئے قرۃ العینین ، ص : ۱۳۸                         (۲۶)       رواہ العقیلی
(۲۷)      استیعاب : ۲/۴۸۳                                         (۲۸)      تاریخ الخلفاء ، ص : ۱۲۵ - ۱۲۶
(۲۹)       کنزالعمال : ۲/۳۹۶                                         (۳۰)      کنزالعمال : ۲/۳۹۷
(۳۱)       کنزالعمال : ۲/۴۰۲                                         (۳۲)      کنز العمال : ۲/۴۰۹
(۳۳)      کنز العمال : ۲/۴۰۹                                         (۳۴)      کنز العمال : ۲/۴۰۹
(۳۵)      کنز العمال : ۲/۴۱۳                                          (۳۶)      کنز العمال : ۲/۴۱۲
(۳۷)      الرحمۃالمہداۃ مطبوعۃ فاروقی دہلی ، ص : ۲۱۶                      (۳۸)      مشکوۃ : ۲/۵۵
(۳۹)      تفصیل کے لئے دیکھئے : تاریخ الخلفاء ، ص : ۱۴۵                (۴۰)      تہذیب التہذیب کی : ۲/ ۴۵۴ ، ۳۵۵
(۴۱)       تیسیر کشوری : ۲/۱۵۰                                       (۴۲)      تاریخ الخلفاء ، ص : ۱۳۵
(۴۳)      تہذیب التہذیب : ۳/۴۸۱                                 (۴۴)      زیلعی : ۱/۳۵۷
(۴۵)      تکشف : ۵/ ۸۸ - ۸۹                                      (۴۶)      تکشف : ۵/ ۸۸ - ۸۹
(۴۷)      تفصیل کے لئے تکشف ملخصاً ، ص : ۹۰ - ۹۱                     (۴۸)      بخاری : ۲/۵۸۵
(۴۹)      بخاری : ۲/۵۸۶                                           (۵۰)      ۱/۶۴۶ ، مطبوعہ مصطفائی لکھنؤ
(۵۱)       بخاری : ۱/۱۰۴                                            (۵۲)      مشکوۃ : ۲/۵۳۱، مطبوعہ اصح المطابع لکھنؤ
(۵۳)      زیلعی تخریج ہدایہ : ۱/ ۳۷۰ - ۳۷۱ ، مطبوعہ علوی             (۵۴)      مشکوۃ : ۲/۵۳۱
(۵۵)      رواہ البخاری : ۲/ ۵۳۷ ، ۵۳۸
(۵۶)      تفصیل کے لئے دیکھئے : الکلام المبین مؤلفہ مفتی عنایت احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ، ص : ۱۱۱ ، ۱۱۲
(۵۷)      مشکوۃ : ۲/۵۴۴                                           (۵۸)      مشکوۃ ،ص : ۴۴ - ۴۵
(۵۹)      مشکوۃ :۲/ ۴۵                                             (۶۰)       مشکوۃ : ۲/ ۵۴۵
(۶۱)       مشکوۃ : ۲/ ۵۴۵                                          (۶۲)       اسد الغابۃ : ۵/۵۰۳ ، مصری
(۶۳)      اسد الغابۃ : ۵/۵۰۳                                        (۶۴)      اسد الغابۃ : ۵/۴۳۷
(۶۵)      اسد الغابۃ                                                   (۶۶)       اسد الغابۃ ، ابی نعیم وابی موسی: ۵/۵۹۰
(۶۷)      اسد الغابہ : ۵/۵۲۴                                         (۶۸)      اسد الغابۃ : ۵/۵۲
(۶۹)       اسد الغابۃ : ۵/ ۵۲۲                                       (۷۰)      اشعث اللمعاث : ۴/ ۴۸۱ ، ط : مصطفائی
(۷۱)       اگر شرعی مضرت کا اندیشہ نہ ہو تو کافر کو گالی دینے کی گنجائش ہے ، ویسے اصل حدیث میں " سب " کالفظ ہے ،جس کے معنی بُرا بھلا کہنے کے آتے ہیں ۔ محمود اشرف غفر اللہ لہ                                          (۷۲)      ۴/۲۸۸
(۷۳)      مشکوۃ : ۱/۱۸۴                                             (۷۴)      مشکوۃ : ۱/۱۸۴
(۷۵)      مشکوۃ : ۱/۱۸۷- ۱۸۸                                      (۷۶)      مشکوۃ : ۱/۱۸۵
(۷۷)      الرحمۃ المہداۃ ، مطبوعہ فاروقی دہلی ، ص : ۳۰۳                    (۷۸)      الرحمۃ المہداۃ ، ص : ۳۰۳
(۷۹)      تہذیب التہذیب : ۳ / ۴۰۹ - ۴۱۰ مع حاشیہ
(۸۰)      تفصیل کے لئے دیکھئے : حاشیہ تہذیب التہذیب : ۳/۴۱۰ - ۴۱۴
(۸۱)       تفصیل کے لئے دیکھئے : الکلام المبین ، ص : ۷۹                 (۸۲)      تفصیل کے لئے دیکھئے : حاکم ، بیہقی ، حلیۃ الأولیاء
(۸۳)      الکلام المبین ، ص : ۸۰                                        (۸۴)      الکلام المبین ، ص : ۸۱
(۸۵)      الکلام المبین ، ص : ۸۱                                        (۸۶)      الکلام المبین ، ص : ۱۰۴ - ۱۰۵
(۸۷)      الکلام المبین ، ص : ۱۰۵                                       (۸۸)      روض الریاحین ، ص : ۱۷ ، مصری
(۸۹)      روض الریاحین ، ص : ۱۸ ، مصری                              (۹۰)       تیسیر الاصول :۲ / ۱۵۲
(۹۱)       صحیح مسلم                                                    (۹۲)       ترمذی
(۹۳)      تاریخ الخلفاء ، ص : ۶۰                                        (۹۴)      کذا فی التیسیر المطبوع فی کلکتہ ، ص : ۸۱ ، تکشف : ۵/۲۹
(۹۵)      مطبوعہ نسخہ میں اسی طرح ہے ۔ اصل مسودہ دستیاب نہ ہوسکا ، بہ ظاہر عبارت یہ ہونی چاہئے کہ " اس کو وہ سزادی جاتی جو زنا کے لئے مقرر کردی گئی ہے " ۔ محمود اشرف غفر اللہ لہ                                                 (۹۶)       بیہقی ونسائی
(۹۷)      بخاری                                                      (۹۸)      صفوۃ الصفوۃ ، باب العقول مصر : ۲/۱۱۷






علاماتِ اولیاء الله اور اولیاء الشیطان:
القرآن: اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا ﴿سورۃ النساء٪۷۶﴾
ترجمہ: خد
جو مومن ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو تم شیطان کے اولیاء(مددگاروں) سے لڑو اور ڈرو مت کیونکہ شیطان کا داؤ کمزور ہوتا ہے۔



اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوۡلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمۡ وَ خَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿آل عمران:۱۷۵﴾
یہ خوف دلانے والا تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے۔ تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔




۔۔۔اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾
وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾
قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾
فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿الأعراف:٢٧-۳۰﴾
۔۔۔ہم نے شیطانوں کو انہی لوگوں کا اولیاء(ساتھی) بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔[خصوصاً یہود ونصاریٰ-سورۃ المائدۃ:51]
اور یہ لوگ جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے کہدو کہ اللہ بے حیائی کے کام کرنے کا تو حکم نہیں دیتا کیا تم اللہ کی نسبت ایسی بات کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔
کہدو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا قبلے کی طرف رخ کیا کرو۔ اور صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتدا میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہو گے۔
ایک فرقہ کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اولیاء(مددگار) بنا لیا اور "سمجھتے" یہ ہیں کہ "ہدایت یاب" ہیں۔



کیا شرک صرف غیر الله کو سجدہ کرنا ہے؟؟؟
... وَ اِنَّ الشَّیٰطِیۡنَ لَیُوۡحُوۡنَ اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِہِمۡ لِیُجَادِلُوۡکُمۡ ۚ وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ
﴿سورۃ الانعام:۱۲۱﴾
۔۔۔اور شیطان لوگ اپنے اولیاء(ساتھیوں) کے دلوں میں یہ وحی(بات)ڈالتے ہیں کہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم لوگ ان کے کہے پر چلے تو یقیناً تم بھی مشرک ہوئے۔






تصرفاتِ ولی کا انکار ممکن نہیں
علامہ ابن تیمیہؒ (٧٨٤ ھہ) فرماتے ہیں کہ : بہت سے لوگ ولی اسے سمجھتے ہیں جس کے ہاتھ میں خوارقِ عادت چیزوں کا ظہور ہو، اور اس سے کشف کا ظہور ہو، اس سے بعض خارقِ عادت تصرفات کا ظہور ہو، مَثَلاً : وہ کسی کی طرف اشارہ کرے تو وہ مرجاۓ یا وہ ہوا میں اڑ کر مکہ یا دوسرے شہر پہنچ جاۓ یا وہ پانی پر چلے یا وہ ہوا سے لوٹا بھردے یا اس کے پاس کچھ نہیں مگر وہ غیب سے خرچ کرتا ہے، یا وہ نگاہوں سے غائب ہوجاتا ہے، یا جب کوئی اس سے مدد چاہتا ہے اور وہ اس کے پاس نہیں ہے، یا وہ اپنی قبر میں ہے تو وہ اس کے پاس آتا ہے اور وہ اس کی مدد کرتا ہے، یا چوری شدہ مال کی خبر دیتا ہے یا غائب آدمی کا حال بتلادیتا ہے، یا مریض کے احوال سے آگاہ کردیتا ہے .......... ان خوارق عادت باتوں کا صدور اگرچہ کبھی الله کے ولی سے ہوتا ہے مگر کبھی اس طرح کی باتیں الله کے دشمنوں سے بھی ظاہر ہوتی ہیں ............. بلکہ ولی الله ہونے کا اعتبار ان کی صفات، افعال اور احوال سے ہوگا کہ وہ کتاب الله اور سنّت کے مطابق ہیں؟  [مجموع الفتاوى : 11 / 214]؛

وقال امام ابن تيمية (٧٨٤ ھہ) في مجموع الفتاوى ( 11 / 65 ) : وأما خواص الناس فقد يعلمون عواقب أقوام بما كشف الله لهم ...؛
ترجمہ : (الله کے) مخصوص بندے کچھ لوگوں کے انجام بذریعہ کشف معلوم کرلیتے.؛





No comments:

Post a Comment