Thursday, 21 August 2014

بدنظری - آنکھوں کا زنا

اسلام پاک وصاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے جو اہم تدیبرکرتاہے، وہ انسانی جذبات کو ہر قسم کے ہیجان سے بچاکر پاکیزہ زندگی کاقیام ہے ۔چنانچہ اسی سلسلے میں اسلام نے حفاظتِ نظر پر زور دیا ہے؛ چونکہ بدنظری تمام فواحش کی بنیاد ہے، اس لیے قران وحدیث سب سے پہلے اس کی گرفت کرتے ہیں۔

بدنظری پر وارد قرآنی آیات میں وعیدیں:
مسلمان مردوں کو نظر (کا پردہ) جھکانے کا حکم:
1) قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ۭ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ [النور:30]
آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں (یعنی جس عضو کی طرف بالکل دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اور جس کو ویسے تو دیکھنا جائز ہے مگر شہوت سے دیکھنا جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز جگہ میں شہوت پوری نہ کریں جس میں اغلام بازی اور زنا سب داخل ہیں) یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے (اس کے خلاف زنا یا زنا کے سبب بدنظری وغیرہ میں گندگی ہے) بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں (پس اس کے خلاف کرنے والے سزا کے حقدار ہوں گے).
Tell believing men to lower their gaze, from what is unlawful for them to look at (min [of min absārihim, ‘their gaze’] is extra) and to guard their private parts, from doing with them what is unlawful [for them to do]. That is purer, in other words, better, for them. Truly God is Aware of what they do, with their gazes and private parts, and He will requite them for it.


عورتوں کو بھی حفاظت نظر اور پردہ کا حکم:
القرآن : وَقُل لِلمُؤمِنٰتِ يَغضُضنَ مِن أَبصٰرِهِنَّ وَيَحفَظنَ فُروجَهُنَّ وَلا يُبدينَ زينَتَهُنَّ إِلّا ما ظَهَرَ مِنها ۖ وَليَضرِبنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلىٰ جُيوبِهِنَّ ۖ وَلا يُبدينَ زينَتَهُنَّ إِلّا لِبُعولَتِهِنَّ أَو ءابائِهِنَّ أَو ءاباءِ بُعولَتِهِنَّ أَو أَبنائِهِنَّ أَو أَبناءِ بُعولَتِهِنَّ أَو إِخوٰنِهِنَّ أَو بَنى إِخوٰنِهِنَّ أَو بَنى أَخَوٰتِهِنَّ أَو نِسائِهِنَّ أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُهُنَّ أَوِ التّٰبِعينَ غَيرِ أُولِى الإِربَةِ مِنَ الرِّجالِ أَوِ  الطِّفلِ الَّذينَ لَم يَظهَروا عَلىٰ عَورٰتِ النِّساءِ ۖ وَلا يَضرِبنَ بِأَرجُلِهِنَّ لِيُعلَمَ ما يُخفينَ مِن زينَتِهِنَّ ۚ وَتوبوا إِلَى اللَّهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ {24:31}
ترجمہ : اور کہہ دو مومن عورتوں سے بھی کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں (سوا اپنے خاوند کے) اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو (جیسے چادر اور اوپر کا کپڑا وغیرہ) اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور (کنگن، دوپٹہ، بالیاں، انگوٹھیوں، پیر کے خلخال وغیرہ کے بناؤ سنگھار سے صرفاپنے خاوند اور (بغیر بناؤ سنگھار کے) باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب الله کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ.

حقیقت یہ ہے کہ ”بدنظری“ہی ”بدکاری“ کے راستے کی پہلی سیڑھی ہے۔ اسی وجہ سے ان آیات میں نظروں کی حفاظت کے حکم کو”حفاظتِ فرج“ کے حکم پر مقدم رکھا گیا ہے۔شریعتِ اسلامیہ نے ”بدنظری” سے منع کیا او ر اس کافائدہ یہ بتایا کہ اس سے شہوت کی جگہوں کی حفاظت ہوگی نیز یہ چیز تزکیہٴ قلوب میں بھی معاون ہوگی ۔ ”غضِ بصر“ کا حکم ہر مسلمان کو دیا گیاہے ۔نگاہ نیچی رکھنا فطرت اور حکمتِ الٰہی کے تقاضے کے مطابق ہے؛اس لیے کہ عورتوں کی محبت اوردل میں ان کی طرف خواہش فطرت کا تقاضاہے ۔
ارشاد ربانی ہے:
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَاءِ(القرآن،آل عمران:۱۴)
”لوگوں کو مرغوب چیزوں کی محبت نے فریفتہ کیا ہوا ہے جیسے عورتیں“۔
آنکھوں کی آزادی اوربے باکی خواہشات میں انتشار پیدا کرتی ہے ۔



تفسير القرآن الكريم/ ابن كثير (ت 774 هـ):
حرام چیزوں پر نگاہ نہ ڈالو: حکم ہوتا ہے کہ جن چیزوں کا دیکھنا میں نے حرام کر دیا ہے ان پر نگاہیں نہ ڈالو ۔ حرام چیزوں سے آنکھیں نیچی کرلو ۔ اگر بالفرض نظر پڑجائے تو بھی دوبارہ یا نظر بھر کر نہ دیکھو ۔ صحیح مسلم میں ہے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی  ؓ نے حضور ﷺ سے اچانک نگاہ پڑ جانے کی بابت پوچھا تو آپ نے فرمایا اپنی نگاہ فورا ہٹا لو۔(1) نیچی نگاہ کرنا یا ادھر ادھر دیکھنے لگ جانا اللہ کی حرام کردہ چیز کو نہ دیکھنا آیت کا مقصود ہے ۔ حضرت علی  ؓ سے آپ نے فرمایا ۔ علی  ؓ نظر پر نظر نہ جماؤ ، اچانک جو پڑگئی وہ تو معاف ہے قصدا معاف نہیں(2)۔ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا" راستوں پر بیٹھنے سے بچو " ۔ لوگوں نے کہا حضور ﷺ کام کاج کے لئے وہ تو ضروری ہے ۔ " آپ نے فرمایا اچھا تو راستوں کا حق ادا کرتے رہو " ۔ انہوں نے کہا وہ کیا ؟ فرمایا "نیچی نگاہ رکھنا " کسی کو ایذاء نہ دینا ، سلام کا جواب دینا ، اچھی باتوں کی تعلیم کرنا، بری باتوں سے روکنا "(3) ۔ آپ فرماتے ہیں چھ چیزوں کے تم ضامن ہو جاؤ میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں ۔ بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو ۔ امانت میں خیانت نہ کرو ۔ وعدہ خلافی نہ کرو ۔ نظر نیچی رکھو ۔ ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو ۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو(4) ۔ صحیح بخاری میں ہے جو شخص زبان اور شرمگاہ کو اللہ کے فرمان کے ماتحت رکھے ۔ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں(5) ، عبیدہ کا قول ہے کہ جس چیز کا نتیجہ نافرمانی رب ہو ، وہ کبیرہ گناہ ہے چونکہ نگاہ پڑنے کے بعد دل میں فساد کھڑا ہوتا ہے ، اس لئے شرمگاہ کو بچانے کے لئے نظریں نیچی رکھنے کا فرمان ہوا ۔ نظر بھی ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔ پس زنا سے بچنا بھی ضروری ہے اور نگاہ نیچی رکھنا بھی ضروری ہے ۔(المنذری،عبدالعظیم،الترغیب والترھیب،بیروت ،دارالکتب العلمیہ،۱۴۱۷ھ ،جلد۳،صفحہ۱۵۳)
اور اللہ نے شرمگاہ کی حفاظت کا بھی حکم فرمایا جیسا کہ (پہلے) نظر کی حفاظت کا فرمایا، حفاظت نظر سبب ہے حفظت شرمگاہ کا، پس الله نے فرمایا : "آپ مومنین سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں"[النور:40] کیونکہ (روزہ و نکاح وغیرہ سے) شرمگاہ کی حفاظت رکاوٹ بنتی ہے زنا سے. جیسے الله نے (دوسری جگہ) فرمایا : "اور (وہی کامیابی پاچکے) جو اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں"[المومنون:٥] اور کبھی ہوجاتی ہے حفاظت نظر کی بھی اس سے، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ  حضور ﷺ فرماتے ہیں: "اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو مگر اپنی بیویوں اور لونڈیوں سے(6)" ۔ محرمات کو نہ دیکھنے سے دل پاک ہوتا ہے اور دین صاف ہوتا ہے ۔ جو لوگ اپنی نگاہ حرام چیزوں پر نہیں ڈالتے ۔ اللہ ان کی آنکھوں میں نور بھر دیتا ہے ۔ اور ان کے دل بھی نورانی کر دیتا ہے ۔ آپﷺ فرماتے ہیں جس کی نظر کسی عورت کے حسن وجمال پر پڑجائے پھر وہ اپنی نگاہ ہٹالے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ایک ایسی عبادت اسے عطا فرماتا ہے جس کی لذت وہ اپنے دل میں پاتا ہے(7)۔ اس حدیث کی سندیں تو ضعیف ہیں مگر یہ رغبت دلانے کے بارے میں ہے اور ایسی (احادیث)میں برداشت (و نرمی) کی جاتی ہے۔ طبرانی کی مروی حدیث میں آپﷺ کا فرمان ہے کہ یا تو تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کروگے اور اپنے منہ سیدھے رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دے گا.(8)(اعاذنا اللہ من کل عذابہ ) فرماتے ہیں ۔ نظر ابلیسی تیروں میں سے ایک تیر ہے(9) جو شخص اللہ کے خوف سے اپنی نگاہ روک رکھے ، اللہ اس کے دل کے بھیدوں کو جانتا ہے ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ابن آدم کے ذمے اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے جسے وہ(کم علمی یا کم ایمانی سے) لا محالہ پالے گا ، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا بولنا ہے ۔ کانوں کا زنا سننا ہے ۔ ہاتھوں کا زنا تھامنا ہے ۔ پیروں کا زنا چلنا ہے ۔ دل خواہش تمنا اور آرزو کرنا ہے ۔ پھر شرمگاہ تو سب کو سچا کر دیتی ہے یا سب کو جھوٹا بنا دیتی ہے۔(10)(رواہ البخاری تعلیقا) اکثر سلف لڑکوں کو گھورا گھاری سے بھی منع کرتے تھے ۔ اکثر ائمہ صوفیہ نے اس بارے میں بہت کچھ سختی کی ہے ۔ اہل علم کی جماعت نے اس کو مطلق حرام کہا ہے اور بعض نے اسے کبیرہ گناہ فرمایا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے رودے ۔ گو اس میں سے آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو(11) ۔



2) يَعلَمُ خائِنَةَ الأَعيُنِ وَما تُخفِى الصُّدورُ {40:19}
وہ (اللہ) جانتا ہے آنکھوں کی خیانت کو اور جس چیز کو سینہ میں چھپاتے ہیں اس کو بھی جانتے ہیں۔‘‘
He, namely, God, knows the treachery of the eyes, when it steals a glance at what is prohibited [for it to look at], and what the breasts hide — [what] the hearts [hide].
اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے دو گناہوں کا ذکر فرمایا ہے ،آنکھوں کے گناہ اور دل کے گناہ کو۔ نیز فرماتے ہیں کہ دل کا گناہ آنکھوں کے گناہ سے زیادہ سخت ہے یعنی گناہ صرف نگاہ ہی سے نہیں بلکہ دل سے بھی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ دل سے سوچا کرتے ہیں اور عورتوں اور مردوں کا تصورکرتے ہیں اور خیال سے مزے لیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم متقی ہیں، خوب سمجھ لو کہ یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔

جو کرتا ہے تو چھپ کے اہل_جہاں سے،
کوئی دیکھتا ہے تجھے آسمان سے.

تفسير الدر المنثور في التفسير بالمأثور/ السيوطي (ت 911 هـ):
۱:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ رحمہ اللہ علیہ وابن المنذر وابن ابی حاتم رحمہ اللہ علیہ نے ابن عباس  ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’’يَعلَمُ خائِنَةَ الأَعيُنِ وَما تُخفِى الصُّدورُ‘‘ (وہ جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور ان باتوں کو جو دلوں میں پوشیدہ ہیں ) سے مراد ہے کہ ایک آدمی لوگوں میں موجود ہوتا ہے ان کے پاس سے ایک عورت گزرتی ہے وہ آدمی دوسرے لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنی نظر کو اس عورت سے بند کررہا ہے ۔ اور جب ان کو غافل پاتا ہے تو آنکھ کے گوشتے سے اس کی طرف دیکھ لیتا ہے اور جب وہ لوگ اسے دیکھتے ہیں تو یہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو جان چکے ہیں کہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی شرم گاہ کو دیکھے ۔
۲:۔ ابونعیم فی الحلیہ وابن ابی حاتم وطبرانی رحمہ اللہ علیہ فی الاوسط وبیہقی رحمہ اللہ علیہ نے شعب الایمان میں ابن عباس  ؓ سے روایت کیا کہ (آیت )’’يَعلَمُ خائِنَةَ الأَعيُنِ وَما تُخفِى الصُّدورُ‘‘ یعنی تو نے اس عورت کی طرف دیکھا تاکہ تو خیانت کا ارادہ کرے یا نہیں (آیت )’’ وما تخفی الصدور‘‘ یعنی جب اس پر قابو پائے کیا تو اس کے ساتھ زنا کرے گا یا نہیں کیا میں تم کو خبر نہ دوں (آیت ) ’’ واللہ یقضی بالحق ‘‘ (اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھاک فیصلہ کردے گا ) وہ قادر ہے اس بات پر کہ وہ بدلہ دے بھلائی کا بھلائی کے ساتھ اور برائی کا برائی کے ساتھ ۔
۳:۔ عبد بن حمید رحمہ اللہ علیہ وابو الشیخ رحمہ اللہ علیہ نے فی العظمہ میں قتادہ  ؓ سے روایت کیا کہ (آیت )’’ یعلم خآئنۃ الاعین ‘‘ یعنی وہ جانتا ہے آنکھوں کے اشارہ اور ان کی آنکھوں کے بند کرنے کا جب وہ ایسے کاموں میں یہکرے جن کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتے ۔
٤:۔ عبد بن حمید رحمہ اللہ علیہ وابن المنذر رحمہ اللہ علیہ نے مجاہد رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت )’’يَعلَمُ خائِنَةَ الأَعيُنِ ‘‘ یعنی آنکھ سے آنکھ سے دیکھنا اس چیز کو طرف جس سے منع کیا گیا ۔
۵:۔ عبد بن حمید رحمہ اللہ علیہ نے ابو الجوز ا رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت )’’ یعلم خآئنۃ الاعین ‘‘ سے مراد ہے کہ ایک آدمی کسی گھر میں لوگوں کے پاس جاتا ہے اور گھر میں ایک عورت ہوتی ہے تو وہ اپنے سر کواٹھاتا ہے اور اس عورت کی طرف دیکھتا ہے پھر اپنے سر کونیچے کرلیتا ہے۔
٦:۔ ابوداؤد والنسائی وابن مردویہ رحمہ اللہ علیہ نے سعد  ؓ سے روایت کیا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے سب لوگوں کوامن دیا سوائے چار مردوں اور دو عورتوں کے اور فرمایا ان کو قتل کرو اگرچہ تم ان کو اس حال میں پاؤ کہ وہ کعبہ کے پروں کے ساتھ چمٹے ہوئے ہوں ان میں سے عبد اللہ بن سعد بن ابی سرج تھے انہوں نے عثمان بن عفان  ؓ کے پاس اپنے آپ کو چھپالیا جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی بیعت کے لئے بلایا تو وہ ان کو لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! عبداللہ کو بیعت کرلیجئے آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا اس کی طرف تین مرتبہ دیکھا اور ہر مرتبہ اس کی بیعت سے انکار فرمایا پھر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کیا تم میں کوئی بھی ہدایت یافتہ نہیں تھا جو اس کی طرف کھڑا ہوجاتا جب وہ مجھ کو دیکھتا کہ میں نے اس کی بیعت لینے سے انکار کردیا ہے تو وہ اس کو قتل کردیتا ؟صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے نہیں جانا کہ آپ کے دل میں کیا ہے کیوں نہیں آپ ہماری طرف اپنی آنکھ سے اشارہ فرمادیتے آپ نے فرمایا کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔
۷:۔خطیب فی تاریخہ (رقم الحديث: 552) وحاکمؒ ترمذیؒ نے ام معبد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ ، وَعَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ ، وَلِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ ، وَعَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورِ۔
ترجمہ : اے اللہ !پاک کردے میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریاکاری سے اور میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے بلاشبہ آپ جانتے ہیں آنکھوں کی خیانت کو اور جو کچھ سینے چھپاتے ہیں۔
[جامع الاحادیث:5109، ذكره الحكيم (2/227) ، وأخرجه الخطيب (5/267) ، والديلمى (1/478، رقم 1953) . وأخرجه أيضًا: الرافعى (2/301) . قال المناوى (2/143) : قال الحافظ العراقى: سنده ضعيف.]

علاج: اس آیت اور دعا کو بطور علاج ورد رکھنا موثر و مجرب ہے.
۸:۔ ابن المنذر رحمہ اللہ علیہ نے ابن جریج رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت)’’ واللہ یقضی بالحق ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ کرنے پر قادر ہیں (آیت)’’ والذین یدعون من دونہ ‘‘ (اور وہ لوگ جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں) وہ اس بات پر قادر نہیں ہیں کہ حق کے مطابق فیصلہ کریں ۔


بدنظری پر وارد احادیث میں وعیدیں:

1) أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : نا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : نا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ ، قَالَ : " غُضَّ بَصَرَكَ " .
[السنن الكبرى للنسائي » كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ » أَبْوَابُ الْمُلاعِبَةِ » بَابٌ نَظْرَةُ الْفَجْأَةِ ... رقم الحديث: 8891]
وفي رواية: أصرف بصري.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے کسی نامحرم پر اچانک نظرپڑجانے کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ نیچی کرلے نگاہ اپنی۔ 
اور ایک روایات میں ہے کہ : میں اپنی نگاہیں پھیرلیا کروں.
[مسند احمد(19160)، أخرجه ابن أبي شيبة 4/324- ومن طريقه مسلم (2159) - والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/15، وفي "شرح مشكل الآثار" (1871) ، والخطيب في "الموضح" 2/321 من طريق إسماعيل، بهذا الإسناد.
وأخرجه وكيع في "الزهد" (481) - ومن طريقه هناد في "الزهد" (1417) - والدارمي (2643) ، ومسلم (2159) ، وأبو داود (2148) ، والنسائي في "الكبرى" (9233) ، وأبو عوانة كما في "إتحاف المهرة" 4/67، والطحاوي في "شرح المعاني" 3/15، وفي "شرح مشكل الآثار" (1868) و (1869) و (1870) ، وابن حبان (5571) ، والطبراني في "الكبير" (2404) و (2405)
و (2406) و (2408) ، والخطابي في "معالم السنن" 3/222، والحاكم 2/396، والبيهقي في "السنن" 7/89- 90، وفي "الصغير" (2361) ، وفي "الآداب" (748) ، وفي "الشعب" (5420) من طرق عن يونس بن عبيد، به. وجاء لفظه عند الخطابي من رواية أبي نعيم "اطْرِقْ بَصَرَك"! بالقاف، وعند ابن معين في  "تاريخه" 1/287: أن أطرفَ بصري- بالفاء- وكلاهما بمعنى، وقد شرح الخطابي على الإطراق فقال: الإطراق أن يقبل ببصره إلى صدره، والصرف أن يقبله إلى الشق الآخر أو الناحية الأخرى. اهـ.
وعدها ابن معين من أخطاء أبي نعيم فقال: إنما هو أن أصرف بصري.
وأخرجه الطيالسي (672) - ومن طريقه الخطيب في "الموضح" 2/321-322- عن حماد، عن يونس بن عبيد، عن سعيد الأصلع، عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير، به.
قال أبو حاتم- فيما نقله عنه ابنه في "العلل" 2/344-345-: هذا خطأ، إنما هو يونس بن عبيد، عن عمرو بن سعيد، عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير، عن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (2407) عن المقَدام بن داود، عن أسد بن موسى، عن حماد بن سلمة، عن يونس بن عبيد، عن عمرو بن سعيد، عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير، عن أبيه، أن جريراً سأل ... بزيادة: عن أبيه.
قلنا: والمقدام بن داود ضعيف.
وأخرجه الطبراني (2403) ، وتمام في "فوائده" (739) من طريق أشعث ابن سوار، عن علي بن مدرك، عن أبي زرعة، به.
قال الدارقطني في "العلل" 4/الورقة 108 بعد أن أورد طرق الحديث: والصحيح حديث الثوري ومن تابعه عن يونس بن عبيد، عن عمرو بن سعيد، عن أبي زرعة، عن جرير.
وسيأتي برقم (19197) .
وفي الباب عن علي، سلف برقم (1369) .
وعن أبي أمامة، سيرد 5/264.
قال السندي: قوله: الفجاءة، بضم فاء، وفتح جيم، ممدود، أو بفتح فاء، وسكون جيم، مقصور. أن أصرف، أي: لا إثم في النظر المذكور، إذ لا اختيار فيه، وإنما الإثم في استدامته، فينبغني تركها، فلا تتوهم أن هذا لا يصلح جواباً للسؤال، فافهم.]


























*********************
2) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
[سنن أبي داود » كِتَاب النِّكَاحِ » بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ ... رقم الحديث: 1840]
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے حضرت علی رض اللہ عنہ سے فرمایا اے علی نظر کی پیروی مت کر اس لئے کہ پہلی نظر تو جائز ہے مگر دوسری نگاہ جائز نہیں.
[مسند احمد(22974)، وأخرجه أبو داود (2149) ، والترمذي (2777) ، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/15، وفي "شرح مشكل الآثار" (1866) و (1867) ، والحاكم 2/194، والبيهقي في "السنن" 7/90، وفي "الشعب" (5421) و (5422) ، والمزي في ترجمة أبي ربيعة الإيادي من "تهذيب الكمال" 33/306 من طرق عن شريك النخعي، بهذا الإسناد. ووقع عندهم جميعاً خلا الطحاوي في الموضع الثاني من "شرح المشكل" أن النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال ذلك لعلي بن أبي طالب، وأسند الطحاوي في "شرح معاني الآثار" وفي الموضع الأول من "شرح المشكل" هذا الحديث عن بريدة - عن علي.  وسيأتي الحديث عن هاشم بن القاسم برقم (22991) ، وعن أحمد بن عبد الملك برقم (23021) ، كلاهما عن شريك بن عبد الله النخعي، لكن قرن الأخير بأبي ربيعة الإيادي أبا إسحاق السبيعي.
ورواه حماد بن سلمة كما سلف برقم (1369) عن محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم، عن سلمة بن أبي الطفيل، عن علي، قال: قال لي رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فذكره. وانظر تعليقنا عليه هناك.
وفي الباب عن جرير بن عبد الله، سلف في مسنده برقم (19160) ، قال: سألت النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عن الفُجاءة، فأمرني أن أَصرِفَ بصري. وهو في "صحيح مسلم ".]

راستے میں مجلس جماکر بیٹھنے سے اسی وجہ سے منع کیا گیا ہے کہ وہ عام گزر گاہ ہے ،ہرطرح کے آدمی گزرتے ہیں، نظر بے باک ہوتی ہے ،ایسا نہ ہو کہ کسی پر نظر پڑے اور وہ برائی کا باعث بن جائے ۔


3) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ عَلَى الطُّرُقَاتِ ، فَقَالُوا : مَا لَنَا بُدٌّ ، إِنَّمَا هِيَ مَجَالِسُنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا ، قَالَ : فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجَالِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهَا ، قَالُوا : وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ ؟ قَالَ : غَضُّ الْبَصَرِ ، وَكَفُّ الْأَذَى ، وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الْمَظَالِمِ وَالْغَصْبِ » بَاب أَفْنِيَةِ الدُّورِ وَالْجُلُوسِ فِيهَا وَالْجُلُوسِ ... رقم الحديث: 2297]
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے پرہیز کرو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے تو ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کے لئے راستوں کے سوا کوئی چارہ کار نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تمہارا بیٹھنا ہی ضروری ہے تو راستے کو اس کا حق دے دیا کرو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ راستے کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نگاہیں نیچی رکھنا تکلیف دہ باتوں سے رکنا سلام کا جواب دینا اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا۔
[مسند احمد(11309)، وأخرجه البيهقي في "الشعب" (9087) من طريق أحمد، بهذا الإسناد.
وأخرجه البخاري (6229) ، وأبو يعلى (1247) ، وابن حبان (595) ، والبيهقي في "السنن" 10/94، وفي "الشعب" (9085) و (9086) ، وفي "الآداب" (225) ، والبغوي في "شرح السنة" (3338) من طريقين عن زهير، به.
وأخرجه البخاري في "صحيحه" (2465) ، وفي "الأدب المفرد" (1150) ، ومسلم (2121) -وهو مكرر ج4/1704-، وأبو داود (4815) ، والطحاوي في  "شرح مشكل الآثار" (169) ، والبيهقي في "السنن" 7/89، وفي "الشعب" (5423) من طرق عن زيد بن أسلم، به.
وسيأتي بالأرقام (11436) و (11586) .
وفي الباب عن أبي طلحة الأنصاري، سيرد 4/30.
وعن البراء بن عازب، سيرد 4/282.
وعن أبي شريح الخزاعي، سيرد 6/385.
وعن عمر بن الخطاب عند البزار (2018) (زوائد) ، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (165) .
وعن أبي هريرة عند أبي داود (4816) ، وصححه ابن حبان (596) ، والحاكم 4/264، ووافقه الذهبي.
قال السندي: قوله: ما لنا من مجالسنا بد: لم يريدوا رد النهي وإنكاره، وإنما أرادوا عرض حاجتهم، وأنها هل تصلح للتخفيف أم لا.]





4) ... أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ فِي سَنَةِ 315 ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ الصَّيْرَفِيُّ مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا فَضَّالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اكْفُلُوا لِي بِسِتٍّ أَكْفُلُ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ : إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَكْذِبْ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ فَلَا يَخُنْ ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا يُخْلِفْ ، غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ " .[الأربعون التيمية ابن تيمية » رقم الحديث: 34]

خلاصة حكم المحدث: مشهور [مجموع الفتاوى (ابن تيمية) - الصفحة أو الرقم: 15/397]
حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں چھ چیزوں کے تم ضامن ہو جاؤ میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں ۔ بات کرتے ہوئے جھوٹ نہ بولو ۔ امانت میں خیانت نہ کرو ۔ وعدہ خلافی نہ کرو ۔ نظر نیچی رکھو ۔ ہاتھوں کو ظلم سے بچائے رکھو ۔ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو.
[أخرجه الطبرانى فى الأوسط (5/154، رقم 4925) . قال المنذرى (1300) : إسناد لا بأس به وله شواهد كثيرة. وقال الهيثمى (1293) : إسناده حسن.]
أخرجه الطبرانى (8/262، رقم 8018) ، والخطيب (7/392) . وأخرجه أيضا: ابن عدى (6/21، ترجمة 1568 فضال بن جبير) . وابن حبان فى الضعفاء (2 204، ترجمة 861 فضال بن جبير) ، الطبرانى فى الأوسط (3/77، رقم 2539) قال الهيثمى (10/301) : رواه الطبرانى فى الكبير، والأوسط، وفيه فضال بن الزبير، ويقال ابن جبير وهو ضعيف. وأخرجه السمعانى فى أدب الإملاء والاستملاء من طريق البغوى (139) .


5) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، سَمِعَ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الرِّقَاقِ » بَاب حِفْظِ اللِّسَانِ ... رقم الحديث: 6020]
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص زبان اور شرمگاہ کو اللہ کے فرمان کے ماتحت رکھے ۔ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں.
[أخرجه البخارى (5/2376، رقم 6109) ، والبيهقى فى شعب الإيمان (4/235، رقم 4913) . وأخرجه أيضًا: فى السنن الكبرى (8/166، رقم 16448) .]

کسی خاکی پہ مت کر خاک اپنی زندگانی کو،

جوانی کر فدا اس پر کہ جس نے دی جوانی کو.


6) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى نَحْوَهُ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ ؟ قَالَ : احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ ، قَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَيَنَّهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا ، قَالَ : اللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ.
[سنن أبي داود » كِتَاب الْحَمَّامِ » بَاب مَا جَاءَ فِي التَّعَرِّي ... رقم الحديث: 3503]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنی شرمگاہ کا کتنا حصہ چھپائیں اور اور کتنا چھوڑ سکتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اپنی بیوی اور باندی کے علاوہ ہر ایک سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بعض لوگوں کے رشتہ دار ان کے ساتھ رہتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا جہاں تک ممکن ہو کہ وہ تمہاری شرمگاہ نہ دیکھیں، تم انہیں مت دکھاؤ، میں نے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم میں سے کوئی شخص تنہا بھی تو ہوتا ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔
[أخرجه عبد الرزاق (1/287، رقم 1106) ، وأحمد (5/3، رقم 20046) ، وأبو داود (4/40، رقم 4017) ، والترمذى (5/97، رقم 2769) وقال: حديث حسن. وابن ماجه (1/618، رقم 1920) ، والحاكم (4/199، رقم 7358) وقال: صحيح الإسناد. ووافقه الذهبى. والبيهقى (1/199، رقم 910) . وأخرجه أيضًا: الطبرانى (19/413، رقم 992) .
ومن غريب الحديث: "احفظ عورتك": استرها كلها.]

حفاظت نظر اور حلاوت ایمان:

7) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ وَعَتَّابٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ , إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا " .[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ » حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ الصُّدَيِّ بْنِ ... رقم الحديث: 21690]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کی پہلی نظر کسی عورت کے محاسن پر پڑے اور وہ اپنی نگاہیں جھکا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت میں وہ لذت پیدا کر دیں گے جس کی حلاوت وہ خود محسوس کرے گا۔
[مسند احمد(22278)، وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (5431) من طريق سعيد بن سليمان، عن ابن المبارك، بهذا الإسناد.
وأخرجه الطبراني في "المعجم الكبير" (7842) من طريق سعيد بن أبي  مريم، عن يحيى بن أيوب، به.
وفي الباب عن ابن مسعود عند الطبراني في "الكبير" (10362) عن رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فيما يرويه عن ربه: "النظرة سهم من سهام إبليس مسموم، من تركها مخافتي، أبدلته إيماناً يجد له حلاوته في قلبه". وفيه عبد الرحمن بن إسحاق الواسطي، وهو ضعيف.
وعن حذيفة عند الحاكم 4/313-314، والقضاعي في "مسند الشهاب" (292) . وصححه الحاكم، وتعقبه الذهبي بقوله: إسحاق -وهو ابن عبد الواحد القرشي الموصلي- واهٍ، وعبد الرحمن هو الواسطي، ضعَّفوه.
وعن ابن عمر عند القضاعي (293) ، وإسناده ضعيف أيضاً.]



حسن_فانی سے آہ یہ ترا شاداں ہونا،

یہی دلیل ہے ظالم ترا نادان ہونا؛
دل دیا غیر کو ظالم تو کہاں چین و سکوں،
آہ ہر لمحہ ترے دل کا پریشان ہونا؛


نظر کے چور کے سر پر نہیں ہے تاج_ولایت؛

جو متقی نہیں ہوتا اسے ولی نہیں کہتے.


8) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْأَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتَغُضَّنَّ أَبْصَارَكُمْ ، وَلَتَحْفَظُنَّ فُرُوجَكُمْ ، وَلَتُقِيمُنَّ وُجُوهَكُمْ أَوْ لَتُكْسَفَنَّ وُجُوهُكُمْ " .
[المعجم الكبير للطبراني » بَابُ الصَّادِ » مَنِ اسْمُهُ الصَّعْبُ » صُدَيُّ بْنُ الْعَجْلانِ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ... رقم الحديث: 7742]
حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ یا تو تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو گے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کروگے اور اپنے منہ سیدھے رکھو گے یا (پھر اس حکم کی نافرمانی میں) اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دے گا.
[أخرجه الطبرانى (8/208، رقم 7840) . وضعفه المنذرى (3/25) ، وقال الهيثمى (8/63) : فيه على بن يزيد
الألهانى، وهو متروك.]


عشق_بتاں کی منزلیں ختم ہیں سب گناہ پر،

جس کی ہو ابتدا غلط کیسے صحیح ہو انتہا.


9) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ ، قَالَ : قَرَأْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الضَّرِيرِ الْمُقْرِئِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ النَّظْرَةَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ مَسْمُومٌ ، مَنْ تَرَكَهَا مَخَافَتِي أَبْدَلْتُهُ إِيمَانًا يَجِدُ حَلاوَتَهُ فِي قَلْبِهِ " .
[المعجم الكبير للطبراني » بَابُ التَّاءِ » الاخْتِلافُ عَنِ الأَعْمَشِ فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ ... رقم الحديث: 10215]
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے رسول اللہ  کا ارشاد مروی ہے کہ نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اس سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے بچے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسا نور ایمانی عطا فرماتے ہیں جس کی مٹھاس اور لذت دل میں محسوس کرتا ہے۔
[أخرجه الطبرانى (10/173، رقم 10362) . قال الهيثمى (8/63) : فيه عبد الله بن إسحاق الواسطى وهو ضعيف.
عن حذيفة: أخرجه الحاكم (4/349، رقم 7875) وقال: صحيح الإسناد. وأخرجه أيضًا: القضاعى (1/195، رقم 292) .]



10) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ ، فَزِنَا الْعَيْنِ : النَّظَرُ ، وَزِنَا اللِّسَانِ : الْمَنْطِقُ ، وَالنَّفْسُ : تَمَنَّى وَتَشْتَهِي ، وَالْفَرْجُ : يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ » بَاب زِنَا الْجَوَارِحِ دُونَ الْفَرْجِ ... رقم الحديث: 5801]
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہؓ کی بات سے زیادہ بہتر بات نہیں سنی، (دوسری سند) محمود، عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس بواسطہ اپنے والد، حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ کی بات سے بہتر کوئی بات نہیں جو وہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے لئے ایک حصہ زنا کا لکھ دیا ہے جو اس سے یقینا ہو کر رہے گا، چنانچہ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور نفس خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
[مسند احمد(8356)، والبخارى (6/2438، رقم 6238) ، ومسلم (4/2046، رقم 2657) ، وأبو داود (2/246، رقم 2152) . ]



بدنظری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے حسرت وافسوس اور رنج وغم کی کیفیت ہوجاتی ہے ۔کئی دفعہ نظر کا تیر دیکھنے والے کو خود ہی لگ کر اس کے دل ودماغ کو زخمی کردیتاہے ۔
حافظ ابن قیم (م۷۵۱ھ)لکھتے ہیں:
کُلُّ الْحَوَادِثِ مَبْدَاُہَا مِنَ النَّظَرِ          $       وَمُعْظَمُ النَّارِ مِنْ مُسْتَصْغَرِ الشَّرَرِ
کَمْ نَظْرَةٍ بَلَغَتْ فِی قَلْبِ صَاحِبِہَا       $       کَمَبْلَغِ السَّہْمِ بَیْنَ الْقَوْسِ وَالْوَتَرِ
یَسُرُّ مُقْلَتَہُ مَا ضَرَّ مُہْجَتَہُ              $       لَا مَرْحَبًا بِسُرُورٍ عَادَ بِالضَّرَرِ
یَا رَامِیًا بِسِہَامِ اللَّحْظِ مُجْتَہِدًا           $       أَنْتَ الْقَتِیلُ بِمَا تَرْمِی فَلَا تُصِبِ
یَا بَاعِثَ الطَّرْفِ یَرْتَادُ الشِّفَاءَ لَہُ      $       اِحْبِسْ رَسُولَکَ لَا یَأْتِیکَ بِالْعَطَبِ
(ابن قیم الجوزیہ،الجواب الکافی لمن سال عن الدواء الشافی،دارالمعرفت،۱۴۱۸ھ،جلد۱،صفحہ۱۵۳-۱۵۴)
ترجمہ: تمام حادثات کی ابتدا نظر سے ہوتی ہے، اور بڑی آگ چھوٹی چنگاریوں سے ہوتی ہے، کتنی ہی نظریں ہیں جو نظر والے کے دل میں چبھ جاتی ہیں، جیساکہ کمان اور تانت کے درمیان تیر ہوتا ہے، اس کی آنکھ ایسی چیز سے خوش ہورہی ہے جو اس کی روح کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایسی خوشی جو ضرر کو لائے، اس کے لیے خوش آمدید نہیں ہے۔ اے نظر کا تیر چلانے میں کوشش کرنے والے! اپنے چلائے ہوئے تیر سے توہی قتل ہوگا! اے نظر باز! تو جس نظر سے شفا کا متلاشی ہے، اپنے قاصد کو روک! کہیں یہ تجھ ہی کو ہلاک نہ کردے۔

یہ ایک حقیقت ہے جس کا کوئی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا کہ نگاہ کا غلط استعمال انسان کے لیے نقصان دہ ہے ۔اسی لیے شریعت نے عفت وعصمت کی حفاظت کے لیے ”غضِ بصر“کاحکم دیا ہے۔ قرآن کریم میں مردوں اور عورتوں دونوں کو ”غضِ بصر“کاحکم دیا گیا؛مگر جمہور فقہا ء نے اس حکم میں مرد وعورت کے درمیان فرق کیاہے ۔پہلے مردوں کے لیے غض بصر کے حکم میں اہل علم کا موقف ذکر کرکے پھر عورتوں کے لیے اس حکم کاتفصیلی جائزہ پیش کیا جاتاہے ۔





12) حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ، كَانَ يُنْسَبُ إِلَى حِفْظِ الْحَدِيثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَهْلٍ الْمَازِنِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَيْنٍ بَاكِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلا ثَلاثَةَ أَعْيُنٍ : عَيْنًا غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ ، وَعَيْنًا سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَيْنًا يَخْرُجُ مِنْ مَلْمَعِهَا مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ دُمُوعٌ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ " .
[الجهاد لابن أبي عاصم » فَضْلُ حَرَسِ الْمُسْلِمِينَ مَا ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ ... رقم الحديث: 116]
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا کہ ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کی راہ (جہاد) میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئے گو آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو۔
[جامع الاحادیث(15674)، أخرجه الديلمى (3/256، رقم 4759) . أخرجه البزار (1659- زوائده) ، وأبونعيم في «الحلية» (3/ 163) ، وأبوالقاسم الأصبهاني في «الترغيب والترهيب» (497) ، وابن عساكر في «الأربعين في الحث على الجهاد» (36) من طريق عمر بن صهبان به. ولفظ البزار: ثلاثة أعين لا تدخل النار ... وضعفه الألباني في «الضعيفة» (1562) (5144) .]


13) حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سَلْمَانَ ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُورَ إِلَيْهِ " .
[المراسيل مع الأسانيد لأبي داود » مراسيل أبي داود » باب : الأَدَبُ رقم الحديث: 419]
رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا کہ لعنت (رحمت سے دوری) ہو الله کی (اس پر) جو بدنظری کرے اور (جس) کی طرف بد نظری کی جاۓ.
تنبیہ: عورت پر یہ لعنت اس وقت ہے جبکہ اس کی طرف سے بے پردگی اور بدنظری کے اسباب ہوں۔
[المراسيل لأبي داود:473 ، السنن الكبرى للبيهقي:13566، شعب الإيمان للبيهقي:7399، جامع الأحاديث:2534
حديث ابن عمر: جامع الأحاديث:18412، أخرجه الديلمى (3/465، رقم 5441) .]




14) حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ : لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ ، وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنَ اللَّهِ ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ ".
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ ... رقم الحديث: 17801]
حضرت مغیرہؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادؓنے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لو تو تلوار سے اس کی گردن اڑادوں نبی کریم ﷺ تک یہ بات پہنچی تو فرمایا کہ تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو؟ بخدا! میں ان سب سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیور ہے اسی بناء پر اس نے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا اور اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی شخص نہیں ہوسکتا اللہ سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا کوئی شخص نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔
[مسند احمد(18168)، أخرجه البخارى (6/2698، رقم 6980) ،مسلم (2/1136، رقم 1499) . وأخرجه أيضًا: ابن أبى شيبة (5/450، رقم 27884) ، عبد بن حميد (ص 151، رقم 392) ، أبو عوانة (3/215، رقم 4721) .]

دیور تو موت ہے:
15حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : " الْحَمْوُ : الْمَوْتُ " .
[صحيح البخاري » كِتَاب النِّكَاحِ » بَاب لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا ذُو ... رقم الحديث: 4857]
 حضرت عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا کہ نامحرم عورتوں کے پاس آنے جانے سے بچا کرو۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ  دیور کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ  نے فرمایا:’’دیور تو موت ہے‘‘۔
[مسند احمد(17347+17396)، وأخرجه ابن أبي شيبة 4/409، والدارمي (2642) ، والبخاري (5232) ، ومسلم (2172) ، والترمذي (1171)  وقال: حسن صحيح. والنسائي في "الكبرى" (9216) ، والطبراني في "الكبير" 17/ (762) ، والبيهقي في "السنن" 7/90، وفي "الشعب" (5437) ، والبغوي في "شرح السنة" (2252) من طرق عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
وأخرجه مسلم (2172) ، والطبراني 17/ (763) و (765) من طرق عن يزيد بن أبي حبيب، به.]
تنبیہ : موت اس لئے ارشاد فرمایا کہ دیور ہمیشہ گھر میں رہتا ہے، اگر خدانخواستہ آنکھ لڑگئی تو اس سے جو نتائج بد پیداہوں گے وہ کسی صاحبِ عقل سے پوشیدہ نہیں۔
حمو تو موت ہے، کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح موت انسانی کی ظاہری اور دنیوی زندگی کو ہلاک کر دیتی ہے اس طرح حمو کا تنہائی میں غیر محرم عورت کے پاس جانا اس کی دینی اور اخلاقی زندگی کو ہلاکت وتباہی کے راستہ پر ڈال دیتا ہے کیونکہ عام طور پر لوگ غیر محرم عورتوں کے ساتھ حمو کے خلط ملط کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لئے ان کے عورتوں کے پاس آتے جاتے رہنے اور ان کے ساتھ بے محابا نشست وبرخواست رکھنے کی وجہ سے ان کا کسی برائی میں مبتلا ہو جانا زیادہ مشکل نہیں رہتا اس کی وجہ سے فتنے سر ابھارتے ہیں اور نفس برائیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ جملہ الحمو الموت ( یعنی حمو تو موت ہے لفظ موت کا ذکر دراصل اس محاورہ کی بنیاد پر جو اہل عرب کے ہاں عام طور پر کسی خطرناک چیز سے خوف دلانے کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ اہل عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ شیر مرگ ہے یا بادشاہ آگ ہے۔ چنانچہ ان جملوں کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ شیر کے قریب جانا موت کی آغوش میں چلا جانا ہے یا بادشاہ کی قربت آگ کی قربت کی مانند ہے لہذا ان سے بچنا چاہئے۔ 


آج کل بے پردگی کا یہ نتیجہ نکلا،
جسکو سمجھتے تھے کہ بیٹا ہے، بھتیجا نکلا.






ازواج النبی ﷺ کو بھی ((نظروں کے پردہ)) کا حکم:
16حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : احْتَجِبَا مِنْهُ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .[جامع الترمذي » كِتَاب الْأَدَبِ ... رقم الحديث: 2721]
(نبی کے زوجہ اور مومنوں کی ماں) حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اور میمونہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھی تھیں کہ ابن ام مکتوم (نابینا صحابی) داخل ہوئے اور یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان سے پردہ کرو۔ میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ یہ پہچانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم بھی اسے نہیں دیکھ سکتیں؟". یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 
[مسند احمد(26537)، وأخرجه أبو داود (4112) ، والترمذي (2778) ، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (289) ، وأبو يعلى (6922) ، وابن حبان (5575) ، والطبراني في "الكبير" 23/ (678) ، والبيهقي في "السنن" 7/91-92، والخطيب في "تاريخه" 3/17 من طرق عن عبد الله بن المبارك، به. قال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح!
وأخرجه النسائي في "الكبرى" (9241) ، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (288) من طريق ابن وهب، عن يونس بن يزيد، به.
وأخرجه يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 1/416، والنسائي في "الكبرى" (9242) ، والخطيب في "تاريخه" 3/18، والبيهقي في "السنن" 7/91، وفي "الآداب" (747) من طريق سعيد بن أبي مريم، عن نافع بن يزيد، عن عُقيل، عن الزهري، به.
وأخرجه ابن سعد 8/175-176- ومن طريقه الخطيب في "تاريخه" 3/17- عن محمد بن عمر الواقدي، عن معمر ومحمد بن عبد الله، عن الزُّهري، به. والواقدي متروك. وقد أنكر أحمد على الواقدي هذا الحديث، فيما ذكر العقيلي في "الضعفاء" 4/107، والخطيب في "تاريخه" 3/16،
ونقلا عنه قوله: والحديث حديث يونس لم يروه غيره. قلنا: بل إنَّ عُقيلاً تابع يونس عن الزُّهري في هذا الحديث، كما سلف، وانظر ما ذكره العقيلي والخظيب على رواية الواقدي هذه.
وقد اختلف قول الحافظ في هذا الحديث، فقال في "الفتح" 1/550:
هوحديث مختلف في صحته، وقال في موضع آخر 9/337: إسناده قوي، وأكثر ما علل به انفراد الزُّهري بالرواية عن نبهان وليس بعلة قادحة، فإن من يعرفه الزُّهري ويصفه بأنه مكاتب أم سلمة، ولم يجرحه أحد، لا ترد روا يته!
قلنا: والحديث معارض بأحاديث صحاح منها حديث عائشة السالف برقم (24541) ، وحديث فاطمة بنت قيس الآتي برقم (27327) . وقد بينا وجه المعارضة فيما علقناه في "صحيح" ابن حبان و"شرح مشكل الآثار".]

تنبیہ : غور فرمائیں کہ آج کل کی اسلام کی دعویدار کم علم و کم ایمان عورتوں کا یہ بہانہ کہ ’’پردہ تو بس دل کا ہوتا ہے‘‘ یا ’’بس نیت صاف ہونی چاہیے‘‘ وغیرہ کہہ کر اپنی نظروں کا تو دور اپنے چہروں کے پردہ کو بھی چھوڑنا، تلبیس_ابلیس اور دین_نبوی  سے گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟



حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ " .
[صحيح مسلم » كِتَاب الْآدَابِ » بَاب تَحْرِيمِ النَّظَرِ فِي بَيْتِ غَيْرِهِ ... رقم الحديث: 4024 (2161)]










17) حضرت ابو ہریرہؓ نے منع فرمایا کہ آدمی کسی امرد (نو عمر بغیر ڈاڑھی والے لڑکے) کو نظر جما کردیکھے۔

18) رسول اللہ  نے ارشاد فرمایا کہ تم شہزادوں کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ ان کا فتنہ دوشیزہ لڑکیوں کے فتنہ سے بھی زیادہ ہے۔





No comments:

Post a Comment