Saturday, 5 November 2016

ماهِ محرم اور ہمارے نظریات


شیخ الحدیث مولانا محمد صاحب کنگن پوری
محرم الحرام چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک اور اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ جہاں کئی شرعی فضیلتوں کا حامل ہے وہاں بہت سی تاریخی اہمیتیں بھی رکھتا ہے۔
کیونکہ اسلامی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات اس مہینہ میں رونما ہوئے بلکہ یوں کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ نہ صرف تاریخ اُمت محمدیہ کی چند اہم یاد گاریں اس سے وابستہ ہیں بلکہ گزشتہ اُمتوں اور جلیل القدر انبیاء کے کارہائے نمایاں اور فضلِ ربانی کی یادیں بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ لیکن شرعی اصولوں کی روشنی میں جس طرح دوسرے شہور و ایام کو بعض عظیم الشان کارناموں کی وجہ سے کوئی خاص فضیلت و امتیاز نہیں ہے۔ اسی طرح اس ماہ کی فضیلت کی وجہ بھی یہ چند اہم واقعات و سانحات نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اشہرِ حُرُم (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب) کو ابتدائے آفرینش سے ہی اس اعزاز و اکرام سے نوازا ہے
جس کی وجہ سے دورِ اسلام اور دورِ جاہلیت دونوں میں ان مہینوں کی عزت و احترام کا لحاظ رکھا جاتاتھا اور بڑے بڑے سنگدل اور جفا کار بھی جنگ و جدال اور ظلم و ستم سے ہاتھ روک لیتے تھے۔ اس طرح سے کمزوروں اور ناداروں کو کچھ عرصہ کے لئے گوشۂ عافیت میں پناہ مل جاتی تھی۔
اچھے یا برے دن منانے کی شرعی حیثیت: 
اسلام نے واقعاتِ خیر و شر کو ایام کی معیارِ فضیلت قرار نہیں دیا بلکہ کسی مصیبت کی بنا پر زمانہ کی برائی سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور قرآن مجید میں کفار کے اس قول کی مذمت بیان کی ہے: ﴿وَمَا يُهۡلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهۡرُ﴾ [الجاثية: ٢٤] یعنی ہمیں زمانہ کے خیر و شر سے ہلاکت پہنچتی ہے۔
اور حدیث میں ہے:
’’زمانہ کو گالی نہ دو کیونکہ برا بھلا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘(بخاری و مسلم)
یعنی خیر و شر کی وجہ لیل و نہار نہیں ہیں بلکہ خدا کارسازِ زمانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اچھے یا بُرے دِن منانے کی کوئی اصل ہی تسلیم نہیں کی جیسا کہ آج کل محرم کے علاوہ بڑے بڑے لوگوں کے دن یا سالگرہ وغیرہ منائی جاتی ہیں۔
فضیلتِ محرم قرآن کریم سے: 
خصوصی طور پر ماہِ محرم یا اس کے بعض ایام کی فضیلت کے متعلق میں پہلے قرآن و حدیث سے کچھ عرض کرتا ہوں، قرآن مجید میں ہے:۔
﴿إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡ﴾ الاٰية (التوبة: ۳۶)
بے شک شریعت میں ابتدائے آفرینش سے اللہ تعالیٰ کے ہاں بارہ ۱۲ ماہ میں جن سے چار حرمت والے ہیں، یہی مستحکم دین ہے۔ تم ان مہینوں کی حرمت توڑ کر اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔
تفسیر جامع البیان ص ۱۶۷ میں ہے:
فَاِنَّ الظُّلْمَ فِيْها اَعْظَمُ وِزْرًا فِيْمَا سِوَاهُ وَالطَّاعَةُ اَعْظَمُ اَجْرًا
یعنی ان مہینوں میں ظلم و زیادتی بہت بڑا گناہ ہے اور ان میں عبادت کا بہت اجر و ثواب ہے۔
تفسیر خازن جلد ۳ ص ۷۳ میں ہے:
وإنما سميت حرما لأن العرب في الجاهلية كانت تعظمها وتحرم فيها القتال حتى لو أن أحدهم لقي قاتل أبيه وابنه وأخيه في هذه الأربعة الأشهر لم يهجه ولما جاء الإسلام لم يزدها إلا حرمة وتعظيما ولأن الحسنات والطاعات فيها تتضاعف وكذلك السيئات أيضا أشد من غيرها فلا يجوز انتهاك حرمة الأشهر الحرم
یعنی ان کا نام حرمت والے مہینے اس لئے پڑ گیا کہ عرب دورِ جاہلیت میں ان کی بڑی تعظیم کرتے تھے اور ان میں لڑائی جھگڑے کو حرام سمجھتے تھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اپنے یا بیٹے یا بھائی کے قاتل کو بھی پاتا تو اس پر بھی حملہ نہ کرتا۔ اسلام نے ان کی عزت و احترام کو اور بڑھایا۔ نیز ان مہینوں میں نیک اعمال اور طاعتیں ثواب کے اعتبار سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ان میں برائیوں کا گناہ دوسرے دنوں کی برائیوں سے سخت ہے۔ لہٰذا ان مہینوں کی حرمت توڑنا جائز نہیں۔
فضیلتِ محرم احادیث سے:
آیت مذکورہ بالا کی تفسیر سے محرم الحرام کی فضیلت اور اس ماہ کی عبادت کی اہمیت معلوم ہو چکی ہے۔ اب ہم احادیث سے صرف مزید وضاحت اور بعض ایام کی خوصی فضیلت پیش کرتے ہیں۔
ماہِ محرم کے روزے:
عن ابی هريرة رضی الله تعالیٰ عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وأفضل الصلوة بعد الفريضة صلٰوة الليل )اخرجہ مسلم ص ۳۶۸ ج۱، ایضا ابو داؤد، الترمذی، النسائی)
رمضان کے بعد سب سے افضل روزے ماہِ محرم کے روزے ہیں اور فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل رات کی نماز (تہجد) ہے۔
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صام يوم عرفة كان له كفارة سنتين ومن صام يوما من المحرم فله بكل يوم ثلاثون يوما۔ (رواه الطبراني في الصغير وهو غريب واسناده لا بأس به) (الترغيب والترهيب ص ۲۳۷)
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عرفہ کے دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے اور جو محرم کے روزے رکھے اسے ہر روزہ کے عوض تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔
(یہ روایت اگرچہ اس پائے کی نہیں لیکن ترغیب و ترہیب میں قابلِ استیناس ہے) نیز حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ:
ایک آدمی نے آنحضرت صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا کہ رمضان کے بعد میں کس ماہ میں روزے رکھوں؟ آپ نے فرمایا: محرم کے روزے رکھ! کیونکہ وہ اللہ کا مہینہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کر لی اور ایک اور قوم کی توبہ قبول کرے گا۔ ) الترغیب والترھیب ص ۲۳۶)
عاشوراء کا روزہ: 
ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کے متعلق اگرچہ عمومی طور پر صحیح احادیث وارد ہیں، جیسا کہ ابھی گزرا لیکن خصوصی طور پر یومِ عاشوراء یعنی دس تاریخ محرم کے بارے میں کثرت سے احادیث آئی ہیں۔ جو اس دن کے روزے کی بہت فضیلت بیان کرتی ہیں بلکہ بعض روایات کے مطابق رمضان شریف کے روزوں سے قبل عاشوراء کا روزہ فرض تھا۔ (جیسا کہ بعض شوافع کا قول ہے) (فتح الباری)
پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کے روزے کی صرف تاکید باقی رہ گئی۔
اب قارئین اس سلسلہ میں وارد احادیث ملاحظہ فرمائیں:
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى صيام يوم فضله علي غيره إلا هذا اليوم يوم عاشوراء وهذا الشهر يعني رمضان (أخرجه البخاري ومسلم)
ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلى الله عليه وسلم کو کسی دن کے روزے کا دوسرے عام دنوں کے روزوں پر افضل جانتے ہوئے ارادہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح ہ یومِ عاشوراء اور ماہِ رمضان کا (اہتمام کرتے ہوئے دیکھا ہے)۔
عن أبی قتادة رضی الله عنه قال: سُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ فَقَالَ: «يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ» (اخرجه مسلم ج ۱ ص ۳۶۸(
ابو قتادہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے عاشوراء کے روزہ کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے ایک سال گزشتہ کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
عن حفصة رضي الله عنها قالت اربع لم يكن يدعھن النبي (صلى الله عليه وسلم) صيام عاشوراء ۔۔۔۔۔ الحديث (اخرجه النسائي)
آپ چار چیزیں نہ چھوڑا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک عاشوراء کا روزہ ہے۔ الخ
عاشوراء کا روزہ اور یہود: 
عن ابن عباس رضی الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة فوجد اليهود صياما يوم عاشوراء فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما هذا اليوم الذي تصومونه؟ فقالوا: هذا يوم عظيم انجي الله فيه موسٰي وقومه وغرق فرعون وقومه نصامه موسٰي شكرا فنحن نصومه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فنحن احق واولٰي بموسٰي منكم فصامه رسول الله صلى الله عليه وسلم وامر بصيامه ) اخرجه البخار و مسلم(
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے ان سے روزہ رکھنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے جواب دیا، یہ بہت بڑا دن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور اس کی قوم کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تھا (اس پر) موسیٰ علیہ السلام نے (اس دن) شکر کا روزہ رکھا۔ پس ہم بھی ان کی اتباع میں روزہ رکھتے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا، ہم تمہاری نسبت موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب اور حق دار ہیں لہٰذا آپ صلى الله عليه وسلم نے خود روزہ رکھا اور (صحابہؓ کو) اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
اس حدیث سے عاشوراء کے روزہ کا مسنون ہونا ثابت ہوا۔ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں نبی صلى الله عليه وسلم نے یہود کی مشابہت سے بچنے کے لئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ظاہر فرمایا ( رواہ رزین)۔ اور مسند احمد کی اک روایت میں گیارہ محرم کا بھی ذکر ملتا ہے یعنی ۹ محرم یا ۱۱ گیارہ۔
یومِ عاشوراء اور عرب عاشوراء کے دن کی فضیلت عرب کے ہاں معروف تھی۔ اس لئے وہ بڑے بڑے اہم کام اسی دن سر انجام دیتے تھے۔ مثلاً روزہ کے علاوہ اسی روز خاہ کعبہ پر غلاف چڑھایا کرتے تھے۔
حافظ ابن حجرؒ نے بحوالہ ازرقی ذکر کیا ہے کہ ’’حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی عاشوراء کے روز خانہ کعبہ کو غلاف چڑھایا۔‘‘ (فتح الباری ج ۳ ص ۳۶۷)
حاصل یہ ہے کہ اللہ ارحم الراحمین اور نبی رحمۃ للعالمین (صلى الله عليه وسلم) نے امتِ مسلمہ کو ماہِ محرم کی برکات و فیوض سے مطلع کر دیا ہے اور بعض ایام میں مخصوص اعمال کی فضیلت سے بھی آگاہ کر دیا ہے تاکہ ہم شریعت کے ہدایات کے مطابق عمل کر کے سعادتِ دارین حاصل کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم دیکھیے کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد وہ ہمیں کتنے عظیم الشان مواقع مہیا کرتا ہے جن سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہم فیضانِ رحمت سے دامن بھر سکیں اور تلافیٔ مافات کرتے ہوئے اسی کی اطاعت و فرمانبرداری کے لئے کمر بستہ ہو سکیں۔
رمضان خیر و برکت کی بارانی کرتا ہوا گزرا تو شوال اشہر الحج (شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ) کی نوید لایا پھر ذی الحجہ ختم ہوا ہی تھا کہ حرمت و عظمت میں اس کا شریک کار سن ہجری کا پہلا مہینہ اپنی برکات و فیوض سے ہم پر آسایہ فکن ہوا۔ گویا سدا رحمت برس رہی ہے۔
کاش کوئی جھولی بھرنے والا ہو! انسان کو چاہئے کہ ان مبارک اوقات کو غنیمت جانے اور اعمالِ صالحہ صوم و صلوٰۃ، ذکر و فکر، جہد و جہاد میں مصروف رہ کر اپنے آقا کو خوش کرے اور خداوندِ عزوجل کا قرب حاصل کر کے منزل مقصود پر پہنچ جائے لیکن یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے کہ ہم ان ایام و شہور کی اصل برکتوں سے محروم رہ کر غلط رواجات اور قبیح رسومات میں مبتلا ہو کر یا ان میں شرکت کر کے ارحم الراحمین کی رحمت بے پایاں سے تہی دامن رہتے ہیں بلکہ اُلٹا گناہ گار ہو کر اس کے غضب کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
ماہِ محرم کی بدعات: 
ہم نے ماہِ محرم سے بہت سے غلط رواج وابستہ کر لیے ہیں، اسے دکھ اور مصیبت کا مہینہ قرار دے لیا ہے جس کے اظہار کے لئے سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ رونا پیٹنا، تعزیہ کا جلوس نکالنا اور مجالس عزاء وغیرہ منعقد کرنا یہ سب کچھ کارِ ثواب سمجھ کر اور امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کے اظہار کے طور پر کیا جاتا ہے۔
حالانکہ یہ سب چیزیں نہ صرف نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمودات کے خلاف ہیں بلکہ نواسۂ رسول صلى الله عليه وسلم کے اس مشن کے بھی خلاف ہیں جس کے لئے انہوں نے اپنی جان قربان کر دی۔ شیعہ حضرات کی دیکھا دیکھی خود کو سنی کہلانے والے بھی بہت سی بدعات میں مبتلا ہو گئے ہیں مثلاً اس ماہ میں نکاح شادی کو بے برکتی اور مصائب و آلام کے دور کی ابتداء کا باعث سمجھ کر اس سے احتراز کیا جاتا ہے اور لوگ اعمالِ مسنونہ کو چھوڑ کر بہت سی من گھڑت اور موضوع احادیث پر عمل کرتے ہیں۔
مثلاً بعض لوگ خصوصیت سے عاشوراء کے روز بعض مساجد و مقابر کی زیارتیں کرتے اور خوب صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اس دن اہل و عیال پر فراخی کرنے کو سارے سال کے لئے موجبِ برکت سمجھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
کیا ماہِ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟ 
شہادت حسینؓ اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جس کی یاد محرم سے وابستہ ہے بلکہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں سے اگر چند ایک افسوسناک ہیں تو کئی موقعے ایسے بھی ہیں جن پر خوش ہونا اور خدا کا شکر بجا لانا چاہئے ۔
جیسا کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے موسیٰؑ کی اقتداء میں عاشورے کے دن شکر کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰؑ کو فرعون سے نجات دی تھی۔ نیز اگر اتفاق سے شہادتِ حسینؓ کا المیہ بھی اسی ماہ میں واقع ہو گیا تو بعض دیگر جلیل القدر صحابہؓ کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے۔ مثلاً سطوتِ اسلامی کے عظیم علمبردار خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت نماز میں ابو لؤلؤ فیروز نامی ایک غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
اس لئے شہادتِ حسینؓ کا دن منانے والوں کو ان کا بھی دن منانا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو سال کا کوئی ہی ایسا دن باقی رہ جائے ا جس میں کوئی تاریخی واقعہ یا حادثہ رونما نہ ہوا ہو اور اس طرح مسلمان سارا سال انہی تقریبات اور سوگوار ایام منانے اور ان کے انتظام میں لگےے رہیں گے۔
آزمائشیں دنیا کی امامت اور حیات جاودانی بخشتی ہیں: 
پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا دار البلاء اور امتحان گاہ ہے۔ اس دنیا میں ہر نبی اور امت پر کٹھن وقت آئے ہیں صرف بنی اسرائیل ہی کو لیجئے۔ ان پر کس قدر آزمائشیں آئیں؟ کس قدر انبیاء بے دریغ قتل کئے گئے؟ کتنے معصوم بچے ذبح ہوئے؟ جس کا اعتراف قرآن کریم نے بھی کیا ہے:
وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ---- یعنی اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی
ہمارے نبی صلى الله عليه وسلم فداہ ابی و امی، اہل بیت، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف و خلف میں ائمہ دین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین پر ایسی ایسی مشکل گھڑیاں آئیں کہ ان کے سننے سے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
بعثت سے لے کر واقعہ کربلا اور پھر کربلا سے لے کر اب تک اسلامی تاریخ کا کونسا ایسا ورق ہے جو اس قسم کے دِل ہلا دینے والے واقعات سے خالی ہو؟ نبی صلى الله عليه وسلم کی مکی زندگی اور اسلام قبول کرنے والوں کے دل دوز حالات اور پھر مدنی زندگی اور حق و باطل کے معرکے کس قدر جگر سوز ہیں۔ کیا شہادت حمزہؓ، شہادتِ عمرؓ، شہادتِ عثمانؓ، شہادتِ علیؓ، شہادت عبد اللہ بن زبیرؓ اور شہادت جگر گوشۂ رسول صلى الله عليه وسلم حسینِ کے لرزہ خیز حالات سننے کی تاب کسی کو ہے؟ لیکن یہی آزمائشں تو انہیں امامت کے منصب پر فائز کرتی ہیں اور حیات جاودانی بخشتی ہیں۔
قرآن مجید میں ابو الانبیاء حضرت ابراہیمؑ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہیں دنیا کی امامت آزمائشوں میں کامرانی کے بعد ہی ملی تھی۔ ارشاد ہے:
(وَاِذِ ابْتَلٰيْٓ اِبْرَاهِيْمَ رَبُّهُ بِكَلِمٰتٍ فَاَتمَّهُنَّ قَالَ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلْنَّاسِ اِمَامًا)
یعنی ہم نے اپنے بندے ابراہیم کو چند آزمائشوں سے گزارا، وہ ان میں پورے اترے تو ہم نے کہا (اے ابراہیم) ہم آپ کو دنیا کا امام بنا رہے ہیں۔ (البقرہ: ۱۲۴)
ترمذی میں ہے:
’’ہشام بن حسان کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف ظالم نے لوگ باندھ کر قتل کیے وہ ایک لاکھ بیس ہزار تھے (جن میں سے بیشتر صحابہ، جلیل القدر تابعین اور تبع تابعین تھے) ‘‘
اور مسلم میں ہے کہ: ’’حجاج نے عبد اللہ بن زبیرؓ کو کئی روز تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ لوگ آتے اور ان کا درد ناک انجام دیکھ کر گزر جاتے، جب عبد اللہ بن عمرؓ کا ادھر سے گزر ہوا تو کہنے لگے۔ میں نے تجھے کئی بار منع کیا تھا۔ تین بار کہا۔ پھر فرمایا۔ خدا کی قسم!
جہاں تک مجھے علم ہے تو بہت روزے رکھنے والا، بہت قیام کرنے والا اور بہت صلہ رحم تھا۔ خبردار! جو امت تجھ کو برا سمجھتی ہے بُری امت ہے! حجاج بن یوسف کو جب یہ خبر پہنچی تو ابن زبیرؓ کی نعش کو وہاں سے اتروا کر اسے بے گور و کفن یہود کے قبرستان میں پھینک دیا۔ پھر ان کی والدہ اسماءؓ، بنت ابی بکر الصدیقؓ کو بلایا۔ وہ نہ آئیں تو دوبارہ آدمی بھیجا اور کہا کہ آجا! ورنہ ایسے آدمی بھیجوں گا جو تجھے چوٹی (میڈیوں) سے پکڑ کر گھسیٹ کر لائیں گے۔ اسماءؓ نے انکار کر دیا اور کہا کہ جب تک تو ایسے آدمی نہ بھیجے جو مجھے زمین پر گھسیٹ کر تیرے پاس لائیں میں نہیں آؤں گی۔ پھر حجاج غصہ میں اُٹھا اور الٹا جوتا پہن کر تکبر سے اسماءؓ کے پاس آیا اور کہا تو نے دیکھا لیا، میں نے اللہ کے دشمن (تیرے بیٹے عبد اللہ) کے ساتھ کیسا کیا ہے؟ حضرت اسماء نے جواب دیا، میں نے دیکھا لیا کہ تو نے اس کی دنیا خراب کی اور اس نے تیری آخرت تباہ کر دی۔ نیز فرمایا،میں نے سنا ہے کہ تو میرے بیٹے عبد اللہؓ کو ’’دو آزار بند والی کا بیٹا‘‘ کہہ کر پکارتا تھا۔ خدا کی قسم! واقعی میرے دو آزار بند تھے، ایک سے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور ابو بکرؓ کا کھانا باندھتی تھی جس وقت کہ وہ غارِ ثور میں چھپے ہوئے تھے۔ دوسرا وہی جو عورتوں کے لئے ہوتا ہے، پھر حضرت اسماء نے کہا: گوش ہوش سے سن لے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ ثقیف میں ایک کذاب اور ایک مفسد ہو گا۔ کذاب تو میں پہلے دیکھ چکی ہوں اور مفسد تو ہی ہے۔ پس وہ لاجواب ہو کر چلا گیا۔‘‘
اسی طرح اپنوں ہی نے حضرت عثمانؓ خلیفہ ثالث اور نواسۂ رسول صلى الله عليه وسلم حضرت امام حسینؓ کو میدانِ کربلا میں جس طرح تختہ مشق بنایا اور بے جگری سے شہید کیا، سن کر پتا پانی ہوتا ہے۔
غرضیکہ دنیا آزمائشوں کا گھر اور حق و باطل کا میدان کار زار ہے۔ اس میں خدا پرستوں پر اللہ کے دین کی خاطر اسی طرح کے مصائب و آلام کی بارش ہوا کرتی ہے جس سے وہ ہمیشہ سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔ دکھ اور الم کی لہروں کے سامنے وہ چٹان بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ نہ ان کے دل ڈرتے ہیں، نہ پاؤں ڈگمگاتے ہیں بلکہ وہ خدا کی خوشنودی کی خاطر سب کچھ خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہیں اور اپنے مقصد کے اعتبار سے ہمیشہ کامیاب و کامران لوٹا کرتے ہیں۔
نوحہ اور ماتم بزرگانِ ملّت کی تعلیم کے خلاف اور ان کے مشن کی توہین ہے:
ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پاکباز ہستیاں کس طرح صبر و استقلال کا پہاڑ ثابت ہوئیں۔ ان کے خلفاء اور ورثاء بھی ان کے نقش قدم پر چلے۔ نہ کسی نے آہ و فغاں کیا، نہ کسی نے ان کی برسی منائی نہ چہلم، نہ روئے نہ پیٹے، نہ کپڑے پھاڑے، نہ ماتم کیا اور نہ تعزیہ کا جلوس نکال کر گلی کوچوں کا دورہ کیا بلکہ یہ خرافات سات آٹھ سو سال بعد تیمور لنگ بادشاہ کے دور میں شروع ہوئیں لیکن یہ سب حرکتیں اور رسوم و رواج نہ صرف روح اسلام اور ان پاکباز ہستیوں کی تلقین و ارشاد کے خلاف ہیں بلکہ ان بزرگوں کی توہین اور غیر مسلمانوں کے لئے استہزاء کا ساماں ہیں۔ اسلام تو ہمیں صبر و استقامت کی تعلیم دیتا ہے اور ’’بَشِّرِ الصَّابِرِينَ‘‘ (صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو) کا مژدہ سناتا ہے۔
﴿ٱلَّذِينَ إِذَآ أَصَٰبَتۡهُم مُّصِيبَةٞ قَالُوٓاْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيۡهِ رَٰجِعُونَ﴾ [البقرة: ١٥٦]
وہ لوگ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
نوحہ اور ماتم کی مذمت زبان رسالت صلى الله عليه وسلم سے:
نوحہ اور ماتم کی مذمت کے سلسلہ میں اگرچہ قرآن کریم کی کئی آیات اور احادیث نبوی سے استدلال کیا جا سکتا ہے بلکہ شیعہ حضرات کی بعض معتبر کتابوں سے ان کی ممانعت ثابت کی جا سکتی ہے لیکن اختصار کے پیشِ نظر اس صحبت میں ہم صرف دو فرمان نبوی پیش کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
نمبر1۔قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوی الجاهلية (بخاری و مسلم)
آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو شخص رخسار پیٹے، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کا واویلا کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
نمبر2۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنا بریٔ من حلق و صلق وخرق (بخاری و مسلم)
آپ نے فرمایا جو شخص سر منڈوائے، بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے میں اس سے بیزار ہوں۔
ماہِ محرم کے چند تاریخی واقعات: 
اب آخر میں وہ چند واقعات ذکر کئے جاتے ہیں جو ماہِ محرم میں وقوع پذیر ہوئے لیکن آج عوام میں امام حسینؓ کی شہادت کے علاوہ ان کی یادیں طاق نسیاں میں رکھی رہتی ہیںَ اگرچہ ان کے ذِکر سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ
شہادتِ حسینؓ کی طرح ان کی بھی یادیں منائی جائیں کیونکہ جیسا کہ میں پہلے ذِکر کر چکا ہوں کہ اگرچہ اسلام ان واقعات کی اہمیت اپنی جگہ تسلیم کرتا ہے اور ان کی عظمت کی یاد دہانی بھی ضروری سمجھتا ہے تاکہ ان کا کردار ہمیں جذبۂ قربانی اور شوق شہادت دے اور جن موقعوں پر مسلمانوں نے کامیابی حاصل کی یا ظلم و ستم سے نجات حاصل کی ان کے ذِکر سے ہماری تثبیتِ قلبی ہو اور ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر سکیں لیکن وہ اس عظمت میں لیل و نہار کا کسی طرح کا دخل تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی عظمت میں انہیں شریک کار بناتا ہے۔
بلکہ میرا مقصد تاریخی یاد داشتوں کی حیثیت سے ان کا ذِکر ہے۔
دو جلیل القدر صحابیوں، بطل جلیل امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اور گوشۂ جگر رسول صلى الله عليه وسلم سید شباب المسلمین حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا ذکر تو پہلے ہو چکا ہے جو بالترتیب یکم محرم اور دس محرم الحرام کو واصل بحق ہوئے اور ابتدائے آفرینش سے لے کر بعثت رسول صلى الله عليه وسلم تک چیدہ چیدہ واقعات درج ذیل ہیں:
نمبر1: آدمِ ثانی حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کشتی کے ذریعے ان کی قوم کے ہتھکنڈوں سے اسی ماہ میں نجات ملی اور طوفانِ نوح میں مجرم کیفرِ کردار کو پہنچے۔
نمبر2: ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے نارِ نمرود اسی ماہ میں گلزار بنی اور نمرود اور اس کے ایجنٹوں کی کوششیں اکارت گئیں۔
نمبر3: موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے دس محرم (عاشوراء) کو نجات ملی اور فرعون اور اس کی فوج غرقاب ہوئی۔
اس قسم کے بہت سے دیگر معرکہ ہائے حق و باطل تھے جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حق کو کامیابی نصیب ہوئی اور باطل خائب و خاسر ہوا۔ اگر ان شخصیتوں سے ہمارا بھی کوئی دینی اور روحانی تعلق ہے اور اسی حق میں ہم پیروکار ہیں جس کی خاطر انہوں نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور جابر و ظالم بادشاہوں سے ٹکر لی تو ہمیں جہاں امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن الخطاب کی شہادت کا غم ہے وہاں ان چند واقعات پر خوش بھی ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے حق کی مدد فرما کر اسلامی تاریخ کو ایسا تابناک بنایا اور ہمارے اسلاف کو اسی حق کی خاطر ثابت قدم فرما کر دین کا بول بالا کیا۔
ہمیں چاہئے کہ ان واقعات سے اچھا سبق لیں اور ان بزرگوں کی زندگیوں سے دینِ الٰہی کی خاطر ہر قسم کی جدوجہد کا نمونہ حاصل کریں۔ حتیٰ کہ اگر اس راہ میں اپنے جان و مال کی قربانی بھی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہ کریں۔ ان واقعات کی یہی روح اور یہی ان بزرگوں کا مشن تھا۔ یہی راستہ دارین کی فوز و فلاح کا ضامن ہے اور یہی ان سے اظہارِ محبت کا طریقہ ہے۔
محرم کے مروجہ رواجات و رسوماتِ ماتم، مرثیہ خوانی، مجالس عزاء، تعزیہ داری، علم دلدل، مہندی تابوت، لباسِ غم پہننا، امام حسین کے نام کی سبیلیں لگانا، ان کے نام کی نذر و نیاز دینا اور مالیدہ چڑھانا شرعاً ممنوع ہونے کے ساتھ ساتھ ان ائمہ کے مشن سے کوئی نسبت نہیں رکھتا۔ نہ ہی ان کے خلاء و ورثاء محبین مخلصین کا یہ وطیرہ تھا او نہ ہی یہ سب کچھ ان سے اظہارِ عقیدت کا ذریعہ ہے۔
مراد ما نصیحت بود گفتمیم
حوالت با خدا کریم رفتیم
اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو صحیح رستہ پر چلائے اور بزرگوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین














محرم الحرام میں شادی بیاہ کرنے کا حکم



اسلامی سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کو سال کے بارہ مہینوں میں خاص طرح کا امتیاز حاصل ہے، صحیح بخاری میں ایک حدیث مبارکہ ہے، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر ایک طویل اور نہایت ہی قیمتی نصائح پر مشتمل خطبہ ارشاد فرمایا، اس میں یہ بات بھی تھی:
”(اس وقت) زمانہ اسی رفتار اور ہیئت پر آ چکا ہے، جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کو پیدا فرمایا تھا، ایک سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے ، ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، جن میں سے تین مہینے یعنی: ذوالقعدہ ذوالحج اور محرم الحرام تو مسلسل ہیں۔ اور ایک ”رجب“ کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔(صحیح بخاری، رقم الحدیث: ۴۲۹۴)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف فرمان کے مطابق اس ماہ مبارک میں کیے جانے والے اعمال کا اجر بنسبت دیگر ایام یا مہینوں کے زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے میں روزے رکھنے کے بارے میں ارشاد فرمایا: ”رمضان المبارک کے بعد افضل ترین روزے اللہ تعالیٰ کے یہاں محرم الحرام کے روزے ہیں“۔(صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۱۱۶۳)
علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس مہینے میں فضیلت محض روزے رکھنے کی ہی نہیں ہے؛ بلکہ اس ماہ کا ہر نیک عمل بہ نسبت دوسرے مہینوں کے بہت بڑھا ہوا ہے؛ چنانچہ اعمال میں سے ایک بڑا اور اہم عمل نکاح کا بھی ہے، معاشرے میں ماہِ محرم الحرام سے متعلق کچھ ایسا تصور اور رجحان عام ہو چکا ہے کہ اس مہینے میں نکاح نہیں کرنا چاہیے حالانکہ شریعت کا مزاج اور احکام اس کی صریح نفی کرتے ہیں۔ 
”عمل ِ نکاح“ چاہے کسی مہینے میں ہو، یہ اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہے، اور مباح کام کا ناجائز ہونا کسی واضح ممانعت سے ہوتا ہے؛ لیکن اس مہینے میں ، یا اس کے علاوہ کسی اور بھی مہینے میں شریعت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی ممانعت نہیں ملتی، نہ کتاب وسنت میں، نہ اجماع امت سے اور نہ ہی قیاس وغیرہ سے؛ چنانچہ جب ایسا ہے تو اس ماہ کا نکاح اپنی اصل (مباح ہونے )کے اعتبار سے جائز ہی رہے گا۔ 
بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقہائے کرام کا اس بات پر کہ ( محرم یا اس کے علاوہ کسی بھی مہینے میں نکاح کرناجائزہے ) کم از کم اجماعِ سکوتی ہے۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین وتبع تابعین اور متقدمین یا متاخرین فقہاء میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے، جو اس ماہ مبارک میں شادی، بیاہ وغیرہ کو ناجائز قرار دیتا ہو۔ لہٰذا اگر کوئی اس کو منع بھی کرتا ہے تو اس کا منع کرنا بغیر دلیل کے ہو گا اور کسی بھی درجہ قابل اعتبار نہیں ہو گا۔
اس ماہ میں نکاح سے منع کرنے کی بنیاد کیا ہے ؟ چنانچہ تتبع سے عقلاً اس کی بنیاد اس مہینے کا منحوس ہونا ہو سکتی ہے، یا غم والا مہینہ ہونا(جس کی بناء پر سوگ کو لازم سمجھا جاتا ہے اور سوگ والے دنوں یا مہینوں میں شادی کو جائز سمجھا جاتا)۔ ذیل میں ہر دو امر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
کیا ماہ محرم نحوست والا مہینہ ہے؟
مزاج شریعت سے معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اس مہینے کی نحوست کا قائل نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا الف الف صلوات سے بہت پہلے سے ہی اس مہینے کا معزز ومکرم اور صاحب شرف ہونا مشہور ومعروف چلا آ رہا ہے، حتی کہ زمانے کی ابتدا سے اب تک ہر ذی شان کام کا اسی مہینے میں وقوع پذیر ہونا زبان زد عام ہے؛ بلکہ روایات کے مطابق تو وقوع قیامت کا عظیم الشان واقعہ بھی اس مہینے میں ہو گا۔ 
چنانچہ اتنا سب کچھ ہوتے ہوئے اس مہینہ کو نحوست والا قرار دینا ممکن ہی نہیں، لہٰذا اس بنا پر تو اس مہینے میں نکاح سے روکنا عقلا بھی درست نہیں ہے۔
کیا ماہ محرم غم والا مہینہ ہے؟
اس مہینے میں شادی سے روکنے والے اگر اس بنیاد پر شادی سے روکتے ہیں کہ یہ غم اور سوگ کا مہینہ ہے لہٰذا اس مہینے میں خوشی نہیں منانی چاہیے، کیوں؟! اس لیے کہ اس مہینے میں نواسہٴ رسول حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کے چھوٹوں اور بڑوں کو ظالمانہ طور پر نہایت بیدردی سے شہید کر دیا گیاتھا، ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے غم منانا، سوگ کرنا اور ہر خوشی والے کام سے گریز کرنا ضروری ہے، تو یہ احکامات دینیہ سے ناواقفیت کی علامت ہے؛ اس لیے کہ ”شہادت“ جیسی نعمتِ بے بہا کسی بھی طور پر غم کی چیز نہیں ہے، یہ تو سعادت چیز ہے۔ یہاں سوچنا تو یہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں شریعت کی طرف سے کیا راہ نمائی ملتی ہے؟تعلیماتِ نبویہ علی صاحبہا الف تحیہ سے تو یہ سبق ملتا ہے کہ شہادت کا حصول تو بے انتہا سعادت کی بات ہے۔
حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت
 یہی وجہ تھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مستقل حصولِ شہادت کی دعا مانگا کرتے تھے، (صحیح البخاری، کتاب فضائل مدینہ، باب کراہیة النبي  صلی اللہ علیہ وسلم أن تعری المدینة، رقم الحدیث: ۱۸۹۰، ۳/۲۳، دارطوق النجاة)
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا شوق شہادت
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنہیں بارگاہِ رسالت سے سیف اللہ کا خطاب ملا تھا، وہ ساری زندگی شہادت کے حصول کی تڑپ لیے ہوئے قتال فی سبیل اللہ میں مصروف رہے؛ لیکن اللہ کی شان انھیں شہادت نہ مل سکی، تو جب ان کی وفات کا وقت آیا تو پھوٹ پھوٹ کے رو پڑے کہ میں آج بستر پر پڑا ہوا اونٹ کے مرنے کی طرح اپنی موت کا منتظر ہوں۔ (البدایہ والنھایہ، سنة احدی وعشرین، ذکر من توفی احدی وعشرین: ۷/۱۱۴، مکتبة المعارف، بیروت)
جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق شہادت
شہادت تو ایسی عظیم سعادت اور دولت ہے، جس کی تمنا خود جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے لیے کی اور امت کو بھی اس کی ترغیب دی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جس میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں، پھر شہید کر دیا جاوٴں، (پھر مجھے زندہ کر دیا جائے) پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور شہید کر دیا جاوٴں،(پھر مجھے زندہ کر دیا جائے) پھر میں اللہ کے راستے میں جہاد کروں اورپھر شہید کر دیا جاوٴں“۔ (صحیح مسلم، کتاب الامارة، باب: فضل الجھاد والخروج في سبیل اللہ، رقم الحدیث: ۴۹۶۷)
الغرض یہاں تو صرف یہ دکھلانا مقصود ہے کہ شہادت تو ایسی نعمت ہے، جس کے حصول کی شدت سے تمنا کی جاتی تھی، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر افسوس اور غم منایا جائے، اگر اس عمل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے توپھر غور کر لیا جائے کہ پورے سال کا ایسا کون سا مہینہ یا دن ہے ؟ جس میں کسی نہ کسی صحابیِ رسول کی شہادت نہ ہوئی ہو، کتب تاریخ اور سیر کو دیکھ لیا جائے، ہر دن میں کسی نہ کسی کی شہادت مل جائے گی، مثلاً: 
صفر: ۳ ھ میں مقام رجیع میں ۸/ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کیا گیا۔ صفر: ۴ ھ میں بئر معونہ کے واقعے میں کئی اصحاب صفہ کو شہید کیا گیا۔صفر: ۵۲ ھ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔
ربیع الاول: ۱۸ ھ میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ ربیع الاول: ۲۰ ھ میں ام الموٴمنین حضرت زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔
ربیع الثانی: ۲۱ ھ میں مقام نہاوند میں ایرانی کفار سے لڑائی کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دو لاکھ ایرانیوں کے مقابلے کے لیے چالیس ہزار مسلمانوں کی فوج بھیجی جس میں تقریباتین ہزار مسلمان شہید ہوئے اور کفار کے تقریباًایک لاکھ افراد واصل جہنم ہوئے، اور مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ربیع الثانی: ۲۱ ھ میں مشہور صحابی رسول حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ ربیع الثانی: ۵۰ ھ میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔
جمادی الاولی: ۸ ھ میں حضرت سراقہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔ اور اسی سال ، اسی مہینے میں حضرت عبادہ بن قیس رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔جمادی الاولی: ۸ ھ میں ہی غزوہ موتہ ہوا، جس میں کئی جلیل القدر اصحاب رسول رضی اللہ عنہم شہید ہوئے۔
جمادی الاخری: ۴ھ میں حضرت ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ جمادی الاخری: ۱۳ ھ میں صحابی رسول حضرت ابو کبشہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ جمادی الاخری: ۲۱ ھ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ جمادی الاخری: ۵۰ ھ میں حضرت عبدالرحمن بن سمرہ کی وفات ہوئی۔
رجب المرجب:۱۵ھ میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ رجب المرجب: ۲۰ھ میں حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔رجب المرجب:۴۵ھ میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
شعبان : ۹ ھ میں بنت ِ رسول حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔شعبان :۵۰ھ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کاانتقال ہوا۔ شعبان : ۹۳ھ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
رمضان:۱۰نبوی میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی۔ رمضان:۲ھ میں بنت رسول حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی۔ رمضان:۱۱ھ میں بنت رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ رمضان:۳۲ھ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔
شوال: ۳ھ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی۔ شوال: ۳۸ھ میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
ذوالقعدہ: ۶۲ھ میں مشہور تابعی حضرت مسلمہ بن مخلد رحمہ اللہ کا انتقال ہوا۔ ذوالقعدہ: ۱۰۶ھ میں حضرت سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب کا انتقال ہوا۔
ذو الحجہ: ۵ ھ میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ ذو الحجہ: ۶ھ میں حضرت ام رومان رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ ذو الحجہ: ۱۲ھ میں حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔
اس پوری تاریخ کا مقتضی تو یہ ہے کہ ان میں سے ہر دن کو اظہارِ غم اور افسوس بنایا جائے۔ اور شادی وغیرہ ہر خوشی اور اظہار خوشی سے گریز کیا جائے؛ لیکن ظاہر ہے کہ کوئی بھی ذی شعور اس کو تسلیم نہیں کر سکتا۔ 
نیز! اس بات کو بھی دیکھا جائے کہ جناب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں بھی تو کئی عظیم اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب شخصیات کو شہادت ملی؛ لیکن کیا ہمارے پیارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلمنے بھی ان کی شہادت کے دن کو بہ طور یادگار کے منایا؟ نہیں ؛بالکل نہیں، تو پھر کیا ہم اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غم محسوس کرنے والے ہیں؟! خدا را !ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس قسم کی گم راہ کن رسومات سے بچنے کی مکمل کوشش کریں۔
شرعاًسوگ کرنے کا حکم
شرعاً سوگ کرنے کی اجازت صرف چند صورتوں میں ہے اور وہ بھی صرف عورتوں کے لیے نہ کہ مردوں کے لیے:
(۱) ایسی عورت جس کو طلاق بائن دی گئی ہو اس کے لیے صرف زمانہ عدت میں۔
(۲)جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے، اس کے لیے صرف زمانہ عدت میں۔
(۳)کسی قریبی رشتے دار کی وفات پر صرف تین دن کے لیے۔ اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر عورت کے لیے سوگ کرنا جائز نہیں ہے ۔
اور سوگ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس عرصہ میں زیب وزینت اور بناوٴ سنگار نہ کرے، زینت کی کسی بھی صورت کو اختیار نہ کرے، مثلا: خوش بو لگانا، سرمہ لگانا، مہندی لگانا اور رنگ برنگے خوشنما کپڑے وغیرہ پہننا، اس کے علاوہ کوئی صورت اپنانا، مثلاً: اظہارِ غم کے لیے سیاہ لباس پہننا یا بلند آواز سے آہ وبکا جائز نہیں۔نیز! مرد وں کے لیے تو کسی صورت میں سوگ کی اجازت نہیں ہے تو پھر محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی سوگ اور ماتم کے نام پر پورے ملک وملت کو عملی طور پر یرغمال بنا لینا کیا معنی رکھتا ہے؟؟!!
محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم
اوپر ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اس ماہِ مبارک میں سوگ کرنا بالکلیہ بے اصل اور دین کے نام پر دین میں زیادتی ہے، جس کا ترک لازم ہے، لہٰذا جب سوگ جائز نہیں ہے تو پھر شرعاً اس مہینے میں شادی نہ کرنے کی وجہ یہ بھی نہیں بن سکتی۔
بنت رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی
بلکہ عجیب بات تو یہ ہے کہ ایک معتبر قول کے مطابق امیر الموٴمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی اسی ماہِ مبارک میں ہوئی، اگرچہ اس قول کے علاوہ دیگر اقوال بھی ملتے ہیں۔(ملاحظہ ہو: تاریخ مدینة الدمشق لابن عساکر، باب ذکر بنیہ وبناتہ علیہ الصلاة والسلام وأزواجہ: ۳/۱۲۸، دار الفکر۔ تاریخ الرسل والملوک للطبري، ذکر ما کان من الأمور في السنة الثانیة، غزوة ذات العشیرة، ۲/۴۱۰، دار المعارف بمصر)
محرم الحرام کے دنوں میں فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ سوشل میڈیا پر ایک میسیج بہت زیادہ گردش کرتا ہے، جس میں تین شخصیات کے نکاح کا محرم الحرام میں ہونا مذکور ہوتا ہے:
(۱) زوجہ النبی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
(۲) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے۔ 
(۳) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے۔
تو اس میسج کا تحقیقی رُخ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سنہ ۲/ ہجری میں ہوا؛ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ مہینہ کون سا تھا، توا س میں تین طرح کے اقوال ملتے ہیں، محرم الحرام، صفر المطفر اور ذوالحجہ۔ ابن عساکر اور طبری رحمہما اللہ نے محرم الحرام کے مہینے میں نکاح ہونے کی روایت کو ترجیح دی ہے۔
بقیہ دو شخصیات کا نکاح بھی محرم میں نہیں ہوا، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ۷/ ہجری، ماہ صفر میں ہوا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے ۳/ ہجری میں ربیع الاول کے مہینے میں ہوا اور رخصتی جمادی الاخری کے آخر میں ہوئی۔
خلاصہ کلام یہ کہ اپنے مدعیٰ کے ثبوت کے لیے غیر محقق امور کو پیش کرنا مناسب نہیں ہے، معتبر اور محقق بات ہی پیش کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔
چند فقہی کتب کا حوالہ
اکابر مفتیانِ عظام کے فتاوی میں اس کی تصریحات موجود ہیں، ذیل میں فتاوی رحیمیہ سے اسی مسئلے کا جواب نقل کیا جاتا ہے: 
(الجواب): ماہ محرم کو ماتم اور سوگ کا مہینہ قرار دینا جائز نہیں، حدیث میں ہے کہ عورتوں کو ان کے خویش واقارب کی وفات پر تین دن ماتم اور سوگ کرنے کی اجازت ہے اور اپنے شوہر کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ منانا ضروری ہے، دوسرا کسی کی وفات پر تین دن سے زائد سوگ منانا جائز نہیں ، حرام ہے، آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: 
”لا یحل لامرأة توٴمن باللہ والیوم الآخر إن تحد علی میت فوق ثلٰث لیال إلا علٰی زوج أربعة أشھر وعشراً“
 ترجمہ: ”جو عورت خدا اور قیامت کے دن پر ایمان رکھے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی موت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے؛ مگر شوہر اس سے مستثنیٰ ہے کہ اس کی وفات پر چار ماہ دس دن سوگ کرے“۔ (بخاري، باب: تحد المتوفی عنھا أربعة أشھر وعشراً إلخ، ص: ۸۰۳، ج:۲، پ:۲۲)، ( صحیح مسلم، باب: وجوب الإحداد في عدة الوفات، إلخ، ص: ۴۹۶، ج:۱)، (مشکوٰة، باب العدة، الفصل الأول، ص: ۲۸۸)
ماہ مبارک محرم میں شادی وغیرہ کرنے کو نامبارک اور ناجائز سمجھنا سخت گناہ اور اہل سنت کے عقیدے کے خلاف ہے، اسلام میں جن چیزوں کو حلال اور جائز قرار دیا گیا ہو، اعتقاداً یا عملاً ان کو ناجائز اور حرام سمجھنے میں ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ روافض اور شیعہ سے پوری احتیاط برتیں، ان کی رسومات سے علیحدہ رہیں، ان میں شرکت حرام ہے۔
”مالابد منہ“ میں ہے: ”مسلم ر اتشبہ بہ کفار وفساق حرام است۔“ یعنی: مسلمانوں کو کفار وفساق کی مشابہت اختیار کرنی حرام ہے۔ (ص: ۱۳۱)
ماہ مبارک میں شادی وغیرہ کے بارے میں دیوبندی اور بریلوی میں اختلاف بھی نہیں ہے۔ مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی کا فتویٰ پڑھیے:
(سوال) بعض سنی جماعت عشرہ محرم میں نہ تو دن بھر میں روٹی پکاتے ہیں اور نہ جھاڑو دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعد دفن تعزیہ روٹی پکائی جائے گی۔ ۲: ان دس دن میں کپڑے نہیں اتارتے۔ ۳:ماہِ محرم میں کوئی بیاہ شادی نہیں کرتے، اس کا کیا حکم ہے؟ 
(الجواب) تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ (احکام شریعت، ص: ۹۰، ج:۱) فقط واللہ اعلم بالصواب
(فتاوی رحیمیہ، کتاب البدعة والسنة، ماہ محرم میں شادی کرے یا نہیں؟۲/۱۱۵، دارالاشاعت، کراچی )
اسی طرح فتاوی حقانیہ (کتاب البدعة والرسوم،محرم الحرام میں شادی کرنے کا حکم؟ ۲/۹۶، جامعہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک)میں بھی موجود ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے منکرات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور افراط وتفریط سے بچتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رکھے! آمین 
$$$




بریلوی علماء کی نظر میں:

عرض کیا محرم ، صفر میں نکاح منع ہے ؟
ارشاد فرمایا..... نکاح کسی بھی مہینہ میں منع نہیں یہ غلط مشہور ہے ۔ ( ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ اول ص 64)



قرآن کریم، حدیث شریف، شروحِ حدیث، فقہ وفتاویٰ میں نکاح کے احکام بہت مفصل طریق پر بیان کیے گئے ہیں حتی کہ فرائض، شرائط، ارکان، مستحبات، مکروہات، موانعات پر تفصیل سے بحث ہے اسی طرح ماہِ محرم میں عبادات کی ترغیب اور خلافِ شرع پھیلے ہوئے منکرات قبائح، برائیاں ذکر کرکے سب کے تفصیلی احکام کتب معتبرہ میں موجود ہیں، مگر کسی کتاب میں نکاح یا محرم کے منکرات اور رسومِ مروجہ وغیرہ میں نو-دس یا کسی اور دیگر تاریخ محرم میں اس کو شمار نہیں کیا، پس محرم یا محرم کی نو دس تاریخ میں شادی بیاہ کرنا شریعت مطہرہ کی نظر میں مثل دیگر ماہ اور دیگر ماہ کی ہرتاریخ میں بلاکراہت درست ہونا یکساں ہے، جو لوگ اس ماہ یا اس ماہ کی نو دس تاریخ میں شادی کی تقریب کو انجام دینا برا سمجھتے ہیں ان کی سوچ شرعی اعتبار سے غلط ہے، حقیقت شرعیہ کے اعتبار سے ایسی سوچ لغو اور کالعدم ہے۔ 

حضور علیہ السلام کا اپنا نکاح حضرت خدیجہؓ کےساتھ محرم میں ہوا اور اسی طرح حضرت علیؓ کا حضرت فاطمہؓ کے ساتھ نکاح بھی محرم میں ہوا:
( تاریخ الخمیس، جلد:1 صفحہ:407. بحوالہ اشرف الفتاوی،صفحہ:45. ناشر معھد ام القری جامعہ اشرفیہ لاھور)



محرم میں نکاح کرنا منع نہیں. (رد المحتار کتاب النکاح ج4،ص76)



No comments:

Post a Comment