Saturday, 6 September 2025

محمد رسول اللہ ﷺ کی مصیبت (رحلت-وصال) کو یاد کرنا




حضرت سابطؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت (صدمہ) پہنچے (یعنی کوئی قریبی عزیز فوت ہوجائے) تو میرے دکھ (وفات) کو یاد کرلے، بےشک (میری رحلت) اس کیلئے سب سے بڑا غم ودکھ ہے۔

حوالہ

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُصِيبَ أَحَدُكُمْ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي، فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ عِنْدَهُ»


القرآن:
یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
[سورۃ البقرۃ:156]






امام ابن الحاج(م737ھ) تشریح فرماتے ہیں:
وَهَذَا أَمْرٌ مِنْهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِأُمَّتِهِ وَتَسْلِيَةٌ لَهُمْ، أَمَّا الْأَمْرُ فَقَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي، وَأَمَّا التَّسْلِيَةُ فَقَوْلُهُ: - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ، فَإِذَا تَذَكَّرَ الْمُؤْمِنُ مَا أُصِيبَ بِهِ مِنْ فَقْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَانَتْ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْمَصَائِبِ وَاضْمَحَلَّتْ، وَلَمْ يَبْقَ لَهَا خَطَرٌ وَلَا بَالٌ.
ترجمہ:
اور یہ (بات) آپ ﷺ کی اپنی امت کے لیے ایک حکم اور ان کے لیے تسلی ہے۔ رہا حکم تو وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: "اسے چاہیے کہ وہ میری مصیبت (یعنی میرے وصال کے غم) کو یاد کرے۔" اور رہی تسلی تو وہ آپ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ: "بے شک وہ (یعنی میری جدائی) سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے۔" پس جب ایک مومن یہ یاد کرے کہ اسے نبی ﷺ کے فراق میں کیا مصیبت پہنچی ہے تو اس پر دیگر تمام مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں، اور ان (دیگر مصیبتوں) کا کوئی وزن اور غم نہیں رہتی۔



📜 شرح المناوي:

جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ وہ میری (نبی کی) مصیبت کو یاد کرے یعنی میری وفات کو یاد کرے، جو اس امت کے درمیان سے میرا اٹھ جانا، وحی کا منقطع ہو جانا اور آسمانی امداد کا ختم ہو جانا ہے، کیونکہ یہ مصیبت سب سے بڑی (اور دوسری روایت میں: سب سے شدید) مصیبت ہے – بلکہ یہ سب مصیبتوں سے بڑی ہے، جیسا کہ ابن ماجہ کی اس حدیث سے ثابت ہے: "میری امت میں سے کوئی شخص میرے بعد کسی ایسی مصیبت میں مبتلا نہیں ہوگا جو اس پر میری مصیبت سے زیادہ سخت ہو۔"

(یہ کہنا کہ یہ "سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ہے" اس بات کے منافی نہیں کہ یہ "بلا مقابلہ سب سے بڑی مصیبت ہے"، کیونکہ "سب سے بڑی میں سے ایک" کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے کوئی بڑی بھی ہو سکتی ہے، بلکہ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہم جنسوں میں سب سے بڑی ہے۔ کیا تم نے انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نہیں سنا: "نبی کریم ﷺ سب لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے" – حالانکہ آپ سب کے سب سے اچھے اخلاق والے تھے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ (یہ نکتہ ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا جنہوں نے "مِن" کے جزوی معنی پر زور دیا)۔

اور نبی ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت اس لیے ہے کہ اس کے ساتھ وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، شر کا ظہور ہوا (عربوں کے ارتداد اور منافقوں کی سازشوں کی صورت میں)، اور آپ کی وفات خیر کے زوال کا آغاز تھی۔
انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم نے آپ کو دفن کرنے کے بعد اپنے ہاتھوں سے مٹی جھاڑی بھی نہ تھی کہ ہمارے دلوں کو (ایسی گھبراہٹ) نے آ لیا جو ہم نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔"

اور کسی نے اپنے بھائی کو اس کے بیٹے کی وفات پر تعزیت اور تسلی دیتے ہوئے بہت عمدہ شعر کہے ہیں:

"ہر مصیبت پر صبر کرو اور مضبوط رہو،
اور جان لو کہ انسان ہمیشہ رہنے والا نہیں۔
اور جب تم محمد ﷺ اور ان کی مصیبت کو یاد کرو،
تو اپنی مصیبت کو نبی محمد ﷺ کی مصیبت کے ساتھ یاد کرو (تاکہ یہ ہلکی ہو جائے)۔"

اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ مصیبت زدہ شخص نبی کریم ﷺ کی وفات (جو سب سے بڑی عمومی مصیبت ہے) کو یاد کرے، تاکہ اس کی اپنی مصیبت اس پر ہلکی ہو جائے اور اسے تسلی حاصل ہو۔
اور یہ اس (پچھلی) حدیث کے منافی نہیں کہ "اللہ جب کسی امت پر رحمت کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا نبی اس سے پہلے وفات پا جاتا ہے" – کیونکہ دونوں کا اعتبار اور زاویۂ نظر مختلف ہے۔

[فیض القدیر للمناوی: 452]

---

💡 اس حدیث سے اہم نکات

1. نبی ﷺ کی وفات سب سے بڑی مصیبت ہے
   · وحی کا خاتمہ، آسمانی امداد کا رک جانا، اور خیر کا زوال۔
2. مصیبت کو ہلکا کرنے کا طریقہ
   · جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت آئے تو نبی ﷺ کی وفات کو یاد کرو، کیونکہ اس کے مقابلے میں آپ کی مصیبت بہت معمولی ہے۔
3. امت کے لیے نبی ﷺ کی عظمت
   · آپ ﷺ کی ذات اور آپ کا جانا امت کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے۔
4. صحابہ کا حال
   · انس رضی اللہ عنہ کا قول: "ہم نے مٹی جھاڑی بھی نہ تھی کہ ہمارے دلوں کو گھبراہٹ نے آ لیا" – یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کو نبی ﷺ کی وفات کا کتنا گہرا صدمہ تھا۔
5. تعزیت کا بہترین طریقہ
   · مصیبت زدہ کو نبی ﷺ کی مصیبت کی یاد دلا کر تسلی دینا، جیسا کہ شعر میں ہے۔

---

💎 خلاصہ

· یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت کے وقت نبی کریم ﷺ کی وفات کو یاد کیا جائے، کیونکہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔
· اس سے انسان کی اپنی مصیبت ہلکی ہو جاتی ہے اور اسے تسلی ملتی ہے۔
· اگرچہ اس حدیث کی سند میں کچھ ضعف ہے، لیکن اس کے دوسرے شواہد (متعدد طرق) اسے قابلِ قبول بناتے ہیں۔
· یہ حدیث ایمان، محبت اور تسلی کا ایک بہترین سبق دیتی ہے۔


1. کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں۔

القرآن:

وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ

ترجمہ:
اور (اے پیغمبر) تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لیے طے نہیں کیا۔ (18) چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں؟
[سورۃ الأنبياء:34]
تفسیر:
(18)سورة طور:30 میں مذکور ہے کہ کفار مکہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہتے تھے کہ ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کے انتقال کے موقع پر وہ خوشی منائیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اول تو موت ہر شخص کو آنی ہے، اور کیا خود یہ خوشی منانے والے موت سے بچ جائیں گے۔



وفات یا شہادت کی صورت میں استقامت

القرآن:

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ

ترجمہ:

اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ الله کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں الله ان کو ثواب دے گا۔

[سورۃ آل عمران، آیت 144]

تفسیر:

یہ آیت غزوہ احد کے موقع پر نازل ہوئی، جب ایک افواہ پھیلی کہ نبی ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور کچھ مسلمان حوصلہ ہار بیٹھے۔ اس آیت نے واضح کیا کہ آپ ﷺ بھی ایک بشر اور رسول ہیں، جن سے پہلے دوسرے رسول بھی گزر چکے ہیں۔ آپ کی وفات یا شہادت دین کے خاتمے کا سبب نہیں بن سکتی۔ اس آیت کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی وفات کے موقع پر پڑھ کر ان لوگوں کو تسلی دی جو اس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔


وفات کی حتمی خبر

القرآن:

إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ

ترجمہ:

بے شک تم (بھی) مرنے والے ہو اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔

[سورۃ الزمر (۳۹:۳۰)]

تفسیر:

یہ آیت نبی ﷺ کو مخاطب کرکے بتاتی ہے کہ آپ کو بھی ایک دن اس دنیا سے جانا ہے، جیسے آپ کے مخالفین اور تمام انسانوں کو جانا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کرانا اور یہ حقیقت واضح کرنا ہے کہ آپ ﷺ، باوجود اپنے بلند مقام کے، موت سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔








جب کسی امت پر اللہ تعالیٰ کی مہر ہوتی ہے تو اس کا پیغمبر اس کے سامنے گزر جاتا ہے.

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ایک امت پر رحمت کرنا چاہتا ہے تو وہ اس امت سے پہلے اس کے نبی کو اٹھا لیتا ہے اور اسے (امت) سے آگے پہلے پہنچنے والا، (اس کا) پیش رو بنادیتا ہے۔ اور جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کے نبی کی زندگی میں عذاب میں مبتلا کردیتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے انہیں ہلاک کرتا ہے۔ انہوں نے جو اس کو جھٹلایا تھا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی تو وہ انہیں ہلاک کرکے اس (نبی) کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔“



📜 شرح الصنعاني:

(إن الله إذا أراد رحمة أمة من عباده) یعنی اللہ تعالیٰ جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحمت (یعنی مہلت اور تاخیر) کا ارادہ کرتا ہے (قبض نبيها قبلها) تو اس سے پہلے اس کے نبی کو وفات دے دیتا ہے (فجعله لها فرطاً) چنانچہ اسے اس امت کے لیے "فرط" بنا دیتا ہے۔

فرط کی تعریف: النهایۃ (۳/۴۳۴) میں ہے: کہا جاتا ہے: "فرط يفرط فهو فارط وفرط" یعنی وہ جو قوم سے آگے بڑھ کر ان کے لیے پانی کا انتظار کرے اور ڈول اور رسیاں تیار کرے۔

(وسلفًا) اور "سلف" بنا دیتا ہے۔
اس کی وضاحت: "سلف المال" (مال کا پیشگی ادا کردہ حصہ) کی طرح ہے، گویا اس نے اسے پیشگی دے دیا اور اسے اجر و ثواب کی قیمت بنا دیا جو اس (نبی) پر صبر کرنے کی وجہ سے ملے گا۔
اور کہا گیا: انسان کا سلف وہ ہے جو اس سے پہلے مر گیا ہو، اس کے باپ دادا اور رشتہ داروں میں سے، اسی لیے تابعین کے پہلے طبقے کو "السلف الصالح" کہا جاتا ہے۔

پس یہاں دوسرا معنی (سلف) مراد ہے۔

(بين يديها وإذا أراد هلكة) اور جب اللہ کسی امت کی ہلاکت (فتحہ ہا اور لام کے ساتھ) کا ارادہ کرتا ہے (أمة عذّبها ونبيها حي فأهلكها وهو ينظر) تو اسے عذاب دے دیتا ہے جبکہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے، اور وہ اس کی ہلاکت کو دیکھ رہا ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے ساتھ ہوا۔

(فأقر عينه بهلكتها حين كذبوه) یعنی جب انہوں نے اسے جھٹلایا تو اللہ نے اس کی آنکھیں ٹھنڈی کیں، اسے خوش کیا اور اس کی آرزو پوری کی۔
اس کی وجہ: خوش ہونے والے کی آنکھوں سے ٹھنڈا پانی (آنند کے آنسو) نکلتے ہیں، جس سے اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔

(وعصوا أمره) یعنی انہوں نے اس کے حکم کی مخالفت کی۔

(م عن أبي موسى) یعنی امام مسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
(صحیح مسلم: ١١٨٨)

[التنوير شرح الجامع الصغير-الصنعاني:1669]
---

📚 شرح کے اہم نکات

۱. "فرط" اور "سلف" کا مفہوم

· فرط: وہ شخص جو قوم سے پہلے پانی کی جگہ پہنچ کر ڈول اور رسیاں تیار کرے تاکہ بعد میں آنے والے آرام سے پانی پی سکیں۔
· سلف: وہ پیشگی ادا کردہ چیز، یا وہ شخص جو کسی سے پہلے مر گیا ہو۔
· حدیث میں: نبی کریم ﷺ امت کے لیے پانی کے حوض پر پہنچنے والے اور شفیع ہیں۔

۲. امت پر رحمت کی صورت

جب اللہ کسی امت پر رحمت کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ اس کا نبی اس سے پہلے وفات پا لیتا ہے۔

· نبی اس امت کے لیے شفیع اور پیشوا بن جاتا ہے۔
· امت اس کے بعد اپنے نبی کی شریعت پر قائم رہتی ہے اور اس کی شفاعت سے فیض یاب ہوتی ہے۔

۳. امت کی ہلاکت کی صورت

جب اللہ کسی امت کی ہلاکت کا ارادہ کرتا ہے:

· وہ اسے عذاب دیتا ہے جبکہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے۔
· نبی اس عذاب کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
· اس سے نبی کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں، کیونکہ انہوں نے اسے جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی۔
· مثال: حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ۔

۴. اس حدیث کے اہم فوائد

· امت محمدیہ پر رحمت: اللہ نے اس امت کو نبی ﷺ کی شفاعت سے نوازا۔
· انبیاء کا اپنی قوم سے تعلق: انبیاء اپنی قوم کی ہدایت اور بھلائی کے خواہاں ہوتے ہیں۔
· کفار کی ہلاکتی: اللہ کافروں کو اس لیے ہلاک کرتا ہے کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
· نبی کی دلجوئی: اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ آپ کو جھٹلائیں گے، ان کا انجام برا ہوگا۔

---

💎 خلاصہ

· فرط اور سلف سے مراد نبی کا امت کے لیے شفیع اور پیشوا ہونا ہے۔
· جب اللہ کسی امت پر رحمت کرتا ہے، تو اس کا نبی پہلے وفات پا کر اس کے لیے شفاعت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
· جب اللہ کسی امت کو ہلاک کرتا ہے، تو وہ اسے عذاب دیتا ہے جبکہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اسے دیکھتا ہے۔
· یہ حدیث امت محمدیہ کے لیے رحمت اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کی بشارت ہے۔

اگر آپ کو مزید وضاحت درکار ہو تو ضرور پوچھیے۔





وضاحت:

(اگر خدا کسی قوم پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کی روح اس سے پہلے قبض کرتا ہے )

ایک اور حدیث ہے: ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے ، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے رحمت چاہتا ہے تو اس کے نبی کو ان سے پہلے ہٹا لیتا ہے، اسے ان کا پیش خیمہ بنا دیتا ہے، جب کہ جب وہ ان کی قوم کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس کا پیش رو بنا دیتا ہے۔ وہ زندہ ہے، تو وہ ان کو ہلاک کرتا ہے جب کہ وہ زندہ اور دیکھ رہا ہے، اور جب وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ ان کی تباہی سے اپنی آنکھوں کو تسلی دیتا ہے ۔ "

صحابہ کرام نے یہ سن کر تعجب کیا: کیا سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگی یا آپ کے صحابہ؟ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گویا اس قوم کو رب العالمین کی رحمت سے آگاہ کر رہے تھے۔ وہ اس قوم کے لیے رحمت ہے، اللہ تعالیٰ کی دعا اور سلام۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا، مگر رحمت عالم کے لیے۔}
[سورۃ الانبیاء: 107]
لفظ "مگر" ایک پابندی والی اصطلاح ہے، اس لیے وہ اس امت کے لیے رحمت ہے، اللہ تعالیٰ کی دعاؤں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان ہوں گے اور انہیں اپنے فضل و کرم سے بڑھا دیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اور اللہ تعالیٰ ان کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک آپ ان میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کریں گے ۔

اس کا فرمان: (اور آپ ان میں سے ہیں) معنیٰ:
اور آپ امت کے لیے رحمت ہیں، پس اگر اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے لے تو اس کی طرف سے رحمت، اس کی شان، باقی رہے گی، تاکہ مومنین رب العالمین سے بخشش طلب کریں، اور وہ ان کو معاف کرے گا اور انہیں عذاب نہیں دے گا، یعنی: ایک عام عذاب جو ہر ایک کو دے گا۔ تاہم، یہ کچھ لوگوں کو ان پر اللہ کے غضب سے نہیں روکتا، اور وہ اس دنیا میں ان کے کچھ گناہوں کا بدلہ لے گا۔ البتہ عام عذاب جو قوم کو مٹا دے گا وہ واقع نہیں ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں ہوں گے اور نہ ہی ان کو اس وقت ہلاک کریں گے جب وہ استغفار کر رہے ہوں گے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے امید کی فضیلت کے بارے میں ایک آیت ذکر کی ہے جو نیک بندے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ پس اللہ نے اسے ان کے مکر کے شر سے بچا لیا اور فرعون والوں کو بدترین عذاب نے گھیر لیا ۔ یہ فرعون کے خاندان میں سے ایک مومن ہے جس نے اپنی قوم کو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی دعوت دی، تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کفر کیا، اس شخص نے ان سے کہا: یہ وہ شخص ہے جو تمہارے پاس رب العالمین کی طرف سے واضح دلیلیں لے کر آیا ہے۔

اور ان سے فرمایا:
{اے میری قوم، میں تمہیں نجات کی طرف کیوں بلاتا ہوں جب کہ تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو؟}
(سورۃ غافر:41)
تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
{اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بے شک اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔‘‘
(سورۃ غافر:44) ۔

اگر کوئی شخص خدا پر توکل کرتا ہے اور اپنے معاملات اس کے سپرد کرتا ہے تو خدا اسے ہر برائی اور نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{پس خدا نے اس کو ان کے شر سے محفوظ رکھا جو انہوں نے کی تھیں}
[سورۃ غافر:45]
 جب وہ خدا پر توکل کرتا ہے اور اپنے معاملات اس کے سپرد کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے ان کی چالوں سے محفوظ رکھے گا۔






عن عائشة، قالت:" مات النبي صلى الله عليه وسلم وإنه لبين حاقنتي وذاقنتي، فلا اكره شدة الموت لاحد ابدا بعد النبي صلى الله عليه وسلم".
ترجمہ:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان (سر رکھے ہوئے) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کی شدت سکرات) دیکھنے کے بعد اب میں کسی کے لیے بھی نزع کی شدت کو برا نہیں سمجھتی۔ 
[صحيح البخاري:4446-3100، سنن النسائى:1831]




نبی کریم ﷺ کی بیماری اور آپ ﷺ کی وفات کا بیان۔

وقال يونس: عن الزهري، قال عروة: قالت عائشة رضي الله عنها:" كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في مرضه الذي مات فيه:" يا عائشة، ما ازال اجد الم الطعام الذي اكلت بخيبر، فهذا اوان وجدت انقطاع ابهري من ذلك السم".
ترجمہ:
اور یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں فرماتے تھے کہ خیبر میں (زہر آلود) لقمہ جو میں نے اپنے منہ میں رکھ لیا تھا، اس کی تکلیف آج بھی میں محسوس کرتا ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری شہ رگ اس زہر کی تکلیف سے کٹ جائے گی۔
[صحيح البخاري:4428، صحیح مسلم:5705(2190)، سنن ابوداود:4512، مستدرک حاکم:4393]






كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنِّي أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُهُ بِخَيْبَرَ ، فَهَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ " .
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ جس بیماری میں رسول الله ﷺ کا انتقال ہوا، اس میں آپ فرماتے تھے کہ مجھے اس کھانے کا زہر جو میں نے خیبر میں کھایا تھا برابر محسوس ہوتا رہا یہاں تک کہ اب وہ وقت قریب آگیا ہے کہ اس زہر سے میری شہہ رگ کٹ جاۓ.
[المستدرك على الصحيحين: 3/56، 4331  ؛ السنن الكبرى للبيهقي: 10/9، 18146؛ دلائل النبوة للبيهقي: 3101]




القرآن:

اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو (ان کی زندگی کا) احساس نہیں ہوتا۔

[ سورۃ البقرہ، آیت 154]

اور (اے پیغبر) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

[سورۃ آل عمران:169-171]

عقیدہ حیات النبی ﷺ کے دلائل
قبروں میں پیغمبروں کی زندگی کے دلائل












عَنْ عَائِشَةَ. قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِهِ، نَفَثَ عَلَيْهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ. فَلَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ. لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي.
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوتا تو آپ پناہ دلوانے والے کلمات اس پر پھونکتے۔ پھر جب آپ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی رحلت ہوئی تو میں نے آپ پر پھونکنا اور آپ کا اپنا ہاتھ آپ کے جسم اطہر پر پھیرنا شروع کر دیا کیونکہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا۔







نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کے زندگی گزارنے اور دنیا ( کی لذتوں) سے علیحدہ رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّى قُبِضَ.
ترجمہ:
مجھ سے عثمانؒ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے جریرؒ بن عبدالحمید نے، ان سے منصورؒ نے، ان سے ابراہیمؒ نے، ان سے اسودؒ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ محمد ﷺ کے گھر والوں کو مدینہ آنے کے بعد کبھی تین دن تک برابر گیہوں کی روٹی کھانے کے لیے نہیں ملی، یہاں تک کی نبی کریم ﷺ کی روح قبض ہوگئی۔
[صحيح البخاری:6454-6687-6454-5416-6458، صحیح مسلم:7444(2970)، 7448(2971)، 7449(2972)، 7453(2974)، 7446(2970)، 7447(2970)، 7448(2971)، 7445(2970)، جامع الترمذي:2357-2356]



میں(عروہ بن زبیرؓ) نے پوچھا پھر آپ لوگ زندہ کس چیز پر رہتی تھیں؟ بتلایا کہ صرف دو کالی چیزوں پر، کھجور اور پانی۔ ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے یہاں دودہیل اونٹنیاں تھیں وہ اپنے گھروں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ بھیج دیتے اور آپ ہمیں وہی دودھ پلا دیتے تھے۔
[صحيح البخاري:6459-2567، صحيح مسلم:7452(2972)]

📖 قرآن سے شواہد

۱. دنیا کی لذتوں سے بے رغبتی کا حکم

القرآن:

"اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دوں اور بھلے طریقے سے رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔"
(سورۃ الاحزاب: ۲۸-۲۹)

۲. دنیا کی حقیقت اور اس کی بےثباتی

القرآن:

"یقیناً دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ تمہیں تمہارے اجر عطا فرمائے گا..."
(سورۃ محمد: ۳۶)

۳. اللہ نے نبی ﷺ کو قناعت عطا کی

القرآن:

"اور اس نے تمہیں محتاج پایا تو بے نیاز کر دیا۔"
(سورۃ الضحیٰ: ۸)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو یاد دلاتا ہے کہ آپ کی یہ سادہ زندگی اللہ کی عطا کردہ قناعت اور بےنیازی کا نتیجہ ہے، نہ کہ محرومی۔

۴. دنیا کی لذتوں کو حقیر جاننا

القرآن:

"اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟"
(سورۃ القصص: ۶۰)

۵. نبی ﷺ کو دنیا کی زینت کا انتخاب نہ کرنے کا حکم

القرآن:

"اور جو چیز ہم نے ان میں سے مختلف گروہوں کو دنیا کی زینت کے طور پر دی ہے، اس پر اپنی آنکھیں نہ پھیلا اور نہ ان پر غم کھا، اور مومنین کے لیے اپنا بازو جھکا کر رکھ۔"
(سورۃ الحجر: ۸۸)



📖 احادیث سے شواہد

📌 پہلی حدیث (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)
عربی متن:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ شِبَعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا

ترجمہ:

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اللہ کے نبی ﷺ نے دنیا سے رخصت ہونے تک کبھی تین دن مسلسل گندم کی روٹی سے پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔




📌 دوسری حدیث (انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
عربی متن:

مَا أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا، وَلَا شَاةً سَمِيطًا حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ

ترجمہ:

مجھے علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (کبھی) باریک (اعلیٰ قسم کی) روٹی دیکھی ہو، اور نہ ہی بھنی ہوئی (پوری) بکری دیکھی یہاں تک کہ آپ اپنے رب سے جا ملے۔




📌 تیسری حدیث (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ)
عربی متن:

لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ اليَوْمَ يَلْتَوِي، مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ

ترجمہ:

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ پورا دن (بھوک کی شدت سے) کروٹیں بدلتے رہتے تھے، اور (اتنا بھی) نہ پاتے تھے کہ کھجور کا گھٹیا (خشک) ٹکڑا ملے جو پیٹ بھر سکے۔



سخاوت کی فضیلت اور بخل کی مذمت
عَنْ عَائِشَةَ،  أَنَّهَا قَالَتْ: اشْتَدَّ وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلى الله عَلَيه وسَلم وَعِنْدَهُ سَبْعَةُ دَنَانِيرَ أَوْ تِسْعَةٌ، فقَالَ: "يَا عَائِشَةُ،   مَا فَعَلَتْ تِلْكَ الذَّهَبُ؟ " فَقُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: "تَصَدَّقِي بِهَا"، قَالَتْ: فَشُغِلْتُ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: "يَا عَائِشَةُ،   مَا فَعَلَتْ تِلْكَ الذَّهَبُ؟ " فَقُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، فقَالَ: "ائْتِنِي بِهَا"، قَالَتْ: فَجِئْتُ بِهَا، فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟ مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ أَنْ لَوْ لَقِيَ اللهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟۔ أنْفِقيها۔
ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف (بیماری) بہت شدید ہو گئی، اور آپ کے پاس سات یا نو دینار (سونے کے سکے) تھے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے عائشہ! اس سونے (دینار) کا کیا ہوا؟'

میں نے کہا: 'وہ میرے پاس ہیں (محفوظ ہیں)۔'

آپ ﷺ نے فرمایا: 'انہیں صدقہ کر دو۔'

عائشہ کہتی ہیں: پھر میں آپ ﷺ کی (تیمارداری) میں مصروف ہو گئی (اور صدقہ کرنا بھول گئی)۔

پھر آپ ﷺ نے (دوبارہ) فرمایا: 'اے عائشہ! اس سونے کا کیا ہوا؟'

میں نے کہا: 'وہ میرے پاس ہیں۔'

آپ ﷺ نے فرمایا: 'وہ میرے پاس لاؤ۔'

عائشہ کہتی ہیں: چنانچہ میں وہ (دینار) لے کر آئی۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنی ہتھیلی میں رکھا، پھر فرمایا:

'محمد (ﷺ) کا اللہ سے کیا گمان ہے اگر وہ اللہ سے اس حالت میں ملے کہ یہ (دینار) ان کے پاس ہوں؟'

آپ ﷺ نے یہ بات دوہرائی: 'محمد (ﷺ) کا اللہ سے کیا گمان ہے اگر وہ اللہ سے اس حالت میں ملے کہ یہ (دینار) ان کے پاس ہوں؟'

(عائشہ کہتی ہیں:) پھر آپ ﷺ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔" 
[صحیح ابن حبان:(713)3966+3967+7372]
[مسند احمد:24560-24733، السنن الکبریٰ للبیھقی:13029]


تشریح و وضاحت:

1. "سات یا نو دینار" کا ذکر
دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا، جو اس وقت کے اسلامی معاشرے میں قیمتی ترین کرنسی تھا۔

راوی کو تعداد میں شک ہے (سات یا نو) – اس کا مطلب یہ ہے کہ تعداد متعین نہیں تھی، بلکہ یہ کچھ دینار تھے۔ 

بعض روایات میں "پانچ سے سات" یا "چھ" دینار کا ذکر بھی آیا ہے۔ 

2. نبی ﷺ کا بار بار پوچھنا اور عائشہ کا مصروف ہو جانا
عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی تیمارداری میں مصروف تھیں، اس لیے وہ دینار صدقہ کرنا بھول گئیں۔

نبی ﷺ نے اپنی شدید تکلیف کے باوجود تین بار اس کے بارے میں پوچھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے پاس موجود مال کی فکر تھی اور وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ 

3. "ما ظن محمد أن لو لقي الله وهذه عنده" – ایک گہرا سوال
نبی ﷺ نے یہ سوال اپنے نفس سے (یا عائشہ سے خطاب کرتے ہوئے) کیا: "محمد کا اللہ سے کیا گمان ہے اگر وہ اللہ سے اس حالت میں ملے کہ یہ دینار ان کے پاس ہوں؟"

اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو ڈر تھا کہ اگر وہ مال دنیا اپنے پاس رکھ کر اللہ سے ملیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے اس مال کے بارے میں سوال کرے گا۔

آپ ﷺ نے اپنے لیے بھی دنیا کی کسی چیز کو ذخیرہ کرنا پسند نہیں فرمایا۔ 

4. یہ آپ ﷺ کی بےنیازی اور توکل کی انتہا ہے
سات یا نو دینار ایک معمولی رقم تھی، لیکن آپ ﷺ نے اسے بھی اپنے پاس رکھنا گوارا نہیں کیا۔

آپ ﷺ اس دنیا سے اس طرح جانا چاہتے تھے کہ آپ کسی کا مال (حقوق) اپنے ذمہ نہ رکھیں اور نہ ہی کوئی ایسی چیز آپ کے پاس ہو جس کا حساب دینا پڑے۔

یہ زہد (دنیا سے بےرغبتی) اور تقویٰ کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔

5. صدقہ کرنے کا حکم
نبی ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ یہ دینار صدقہ کر دیے جائیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے پاس موجود مال کو صدقہ کرنا مستحب ہے، تاکہ انسان اللہ سے اس حالت میں ملے کہ اس پر کوئی مالی حق (ذمہ داری) نہ ہو۔



حاصل شدہ اسباق و نکات:

1. موت سے پہلے مال دنیا سے بےنیاز ہو جانا
نبی ﷺ نے اپنی وفات سے پہلے اپنے پاس موجود تمام مال کو صدقہ کر دیا۔

اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی اپنی زندگی میں مال کی محبت کو دل سے نکال دینا چاہیے اور جتنا ممکن ہو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔

2. قیامت کے دن مال کا حساب
نبی ﷺ کو ڈر تھا کہ اگر وہ مال دنیا اپنے ساتھ رکھ کر اللہ سے ملیں گے تو ان سے اس کا حساب لیا جائے گا۔

اگر نبی ﷺ کو یہ خوف تھا، تو ہم عام لوگوں کو کس قدر ڈرنا چاہیے؟ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں استعمال کریں۔

3. عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی ﷺ کی خدمت میں مصروفیت
عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی تیمارداری میں اتنی مصروف تھیں کہ صدقہ کرنا بھول گئیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی محبت اور ان کی خدمت ہر چیز پر مقدم ہے، اور یہی صحابہ کرام کا طریقہ تھا۔

4. نبی ﷺ کا اپنے لیے بھی سخت محاسبہ
آپ ﷺ کو دنیا کی کسی چیز کی پروا نہیں تھی، اور وہ اس دنیا سے اس طرح جانا چاہتے تھے جیسے کوئی مسافر اپنا سامان پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے۔

یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی دنیا کو "زرع" (کھیتی) سمجھیں اور آخرت کی کھیتی کے لیے اسے استعمال کریں۔

5. صدقہ کی فضیلت
آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ انسان کو موت کے وقت بھی نجات دلاتا ہے اور اللہ کی رحمت کا ذریعہ بنتا ہے۔

واللہ أعلم بالصواب



ضمانتِ رزق، علمِ الٰہی، توکل/بھروسہ:
القرآن:
اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو وہ اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی جانتا ہے، اور عارضی ٹھکانے کو بھی۔ ہر بات ایک واضح کتاب میں درج ہے۔
[سورۃ ھود، آیت نمبر 6]
اور کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ الله انہیں بھی رزق دیتا ہے، اور تمہیں بھی (32) اور وہی ہے جو ہر بات سنتا، ہر چیز جانتا ہے۔
[سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 60]
تفسیر:
(32) ہجرت کرنے میں ایک خوف ہوسکتا تھا کہ یہاں تو ہمارے روزگار کا ایک نظام موجود ہے، کہیں اور جاکر معلوم نہیں کوئی مناسب روزگار ملے یا نہ ملے، اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں کتنے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق ساتھ لئے نہیں پھرتے، بلکہ وہ جہاں کہیں جاتے ہیں الله تعالیٰ وہیں ان کے رزق کا انتظام فرماتا ہے، لہذا جو لوگ الله تعالیٰ کے حکم کی اطاعت میں وطن چھوڑیں گے، کیا الله تعالیٰ ان کے رزق کا انتظام نہیں فرمائے گا ؟ البتہ رزق کی کمی اور زیادتی تمام تر الله تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر موقوف ہے، لہذا وہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کس کو کس وقت کتنا رزق دینا ہے۔




 موت کے وقت کی سختی کا بیان

عن عائشة، انها قالت: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالموت وعنده قدح فيه ماء، وهو يدخل يده في القدح ثم يمسح وجهه بالماء، ثم يقول:" اللهم اعني على غمرات الموت، وسكرات الموت ".
ترجمه:
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: ”اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما“۔
 [سنن ترمذيل:978، سنن ابن ماجه:1623]


مریض کا موت کی آرزو کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَيَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى.
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ میرا سہارا لیے ہوئے تھے (مرض الموت میں) اور فرما رہے تھے:
اے اللہ! میری مغفرت فرما مجھ پر رحم کر اور مجھ کو اچھے رفیقوں (فرشتوں اور پیغمبروں) کے ساتھ ملا دے۔
[صحيح البخاری:5674]





نبی کریم ﷺ کے معجزوں یعنی سچی پیشنگوئیوں کا بیان


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ مرض میں اپنی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور چپکے سے کوئی بات ان سے فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور چپکے سے پھر کوئی بات فرمائی تو وہ ہنسیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق پوچھا۔
[صحيح البخاري:كتاب المناقب، حدیث: 3625]
تو انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آہستہ سے گفتگو کی تھی تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ کی اس مرض میں وفات ہو جائے گی جس میں واقعی آپ کی وفات ہوئی۔ میں اس پر رو پڑی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے جو بات کہی اس میں آپ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں، میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں گی۔ میں اس پر ہنسی تھی۔
[صحيح البخاري:كتاب المناقب۔ حدیث: 3626]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
[صحيح البخاري:كتاب فضائل الصحابة، حدیث: 3715]
‏‏‏‏ تو انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں وفات پا جائیں گے، میں اس پر رونے لگی۔ پھر مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے فرمایا کہ آپ کے اہل بیت میں سب سے پہلے میں آپ سے جا ملوں گی، اس پر میں ہنسی تھی۔
[صحيح البخاريؒ:كتاب فضائل الصحابة، حدیث: 3716]

تخریج:
[صحيح البخاريؒ:4434-3626-3716، صحیح مسلم:6312-6313(2450 )، جامع الترمذي:3872، سنن ابن ماجه:1621]

تشریح:
یہ دو حدیثیں ہیں پہلی حدیث کو حضرت عائشہ ؓ سے بیان کرنے والے حضرت مسروق ہیں۔
جبکہ دوسری حدیث کو ان سے بیان کرنے والے حضرت عروہ ؒ ہیں لیکن دونوں روایات میں کچھ اختلاف ہے پہلی روایت میں سیدہ کے رونے کا سبب آپ کا رسول اللھ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے پہلے ملنے کو قرار دیا گیا جبکہ دوسری روایت میں اسے سیدہ کے ہنسنے کا باعث قراردیا گیا ہے۔
دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ ؓ کو خفیہ طور پر تین باتیں بتائیں پہلی بات تو آپ کے انتقال کی تھی یہ تو ان کے رونے کا سبب تھا۔
دوسری بات جنت میں ان کے سردار ہونے کی تھی جس کے سبب انھیں سرور لاحق ہوا اور آپ ہنس پڑیں۔
تیسری بات یہ تھی کہ اہل خانہ میں سب سے پہلے سیدہ وفات پائیں گی اور سب سے پہلے مجھ سے ان کی ملاقات ہوگی۔
یہ خبر ایک وجہ سے خوشی اور سرور کا باعث تھی جیسا کہ عروہ کی روایت میں ہے اور ایک وجہ سے غم کی خبر تھی جس وجہ سے آپ رونے لگیں۔
جیسا کہ مسروق کی روایت میں ہے اس طرح سے دونوں روایات کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے علامہ سندھی کہتے ہیں شایدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ ؓ کو دو مرتبہ بشارت سنائی ہو۔
ایک مرتبہ وفات کی خبر کے ساتھ ملا دیا۔
جس سے ان پر رونا غالب آگیا اور دوسری مرتبہ بشارت سیادت کے ساتھ ملا دیا تو دونوں بشارتیں ہنسنے کا سبب بن گئیں اس طرح بھی دونوں روایات جمع ہو سکتی ہیں۔
[حاشیہ سندھی: 284/2]


حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدِّثُهُ (٢) ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ: مَا هَذَا الَّذِي سَارَّكِ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَكَيْتِ، ثُمَّ سَارَّكِ فَضَحِكْتِ؟ قَالَتْ: " سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ أَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَضَحِكْتُ۔
[مسند أحمد:24483]




نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی جب وفات ہوئی تو ابوبکر ؓ اس وقت مقام سُنح میں تھے۔ اسماعیل نے کہا یعنی عوالی کے ایک گاؤں میں۔ آپ کی خبر سن کر عمر ؓ اٹھ کر یہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی۔ عائشہ ؓ نے کہا کہ عمر ؓ کہا کرتے تھے اللہ کی قسم اس وقت میرے دل میں یہی خیال آتا تھا اور میں کہتا تھا کہ اللہ آپ کو ضرور اس بیماری سے اچھا کر کے اٹھائے گا اور آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیں گے (جو آپ کی موت کی باتیں کرتے ہیں) اتنے میں ابوبکر ؓ تشریف لے آئے اور اندر جا کر آپ کی نعش مبارک کے اوپر سے کپڑا اٹھایا اور بوسہ دیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر دو مرتبہ موت ہرگز طاری نہیں کرے گا۔ اس کے بعد آپ باہر آئے اور عمر ؓ سے کہنے لگے، اے قسم کھانے والے! ذرا تامل کر۔ پھر جب ابوبکر ؓ نے گفتگو شروع کی تو عمر ؓ خاموش بیٹھ گئے۔
ابوبکر ؓ نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: لوگو! دیکھو اگر کوئی محمد (ﷺ) کو پوجتا تھا (یعنی یہ سمجھتا تھا کہ وہ آدمی نہیں ہیں، وہ کبھی نہیں مریں گے) تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد ﷺ کی وفات ہوچکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔ (پھر ابوبکر ؓ نے سورة الزمر کی یہ آیت پڑھی)
اے پیغمبر! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔
(سورة الزمر:30)
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ الله کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں الله ان کو ثواب دے گا۔
(سورۃ آل عمران:144)
راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ راوی نے بیان کیا کہ انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سعد بن عبادہ ؓ کے پاس جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا (دونوں مل کر حکومت کریں گے) پھر ابوبکر، عمر بن خطاب اور ابوعبیدہ بن جراح ؓ ان کی مجلس میں پہنچے۔ عمر ؓ نے گفتگو کرنی چاہی لیکن ابوبکر ؓ نے ان سے خاموش رہنے کے لیے کہا۔ عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم! میں نے ایسا صرف اس وجہ سے کیا تھا کہ میں نے پہلے ہی سے ایک تقریر تیار کرلی تھی جو مجھے بہت پسند آئی تھی پھر بھی مجھے ڈر تھا کہ ابوبکر ؓ کی برابری اس سے بھی نہیں ہو سکے گی۔ پھر ابوبکر ؓ نے انتہائی بلاغت کے ساتھ بات شروع کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم (قریش) امراء ہیں اور تم (جماعت انصار) وزارء ہو۔ اس پر حباب بن منذر ؓ بولے کہ نہیں اللہ کی قسم ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا کہ نہیں ہم امراء ہیں تم وزارء ہو (وجہ یہ ہے کہ) قریش کے لوگ سارے عرب میں شریف خاندان شمار کیے جاتے ہیں اور ان کا ملک (یعنی مکہ) عرب کے بیچ میں ہے تو اب تم کو اختیار ہے یا تو عمر ؓ کی بیعت کرلو یا ابوعبیدہ بن جراح کی۔ عمر ؓ نے کہا: نہیں ہم آپ کی ہی بیعت کریں گے۔ آپ ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے نزدیک آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ عمر ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی پھر سب لوگوں نے بیعت کی۔ اتنے میں کسی کی آواز آئی کہ سعد بن عبادہ ؓ کو تم لوگوں نے مار ڈالا۔ عمر ؓ نے کہا: انہیں اللہ نے مار ڈالا۔
اور عبداللہ بن سالم نے زبیدی سے نقل کیا کہ عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، انہیں قاسم نے خبر دی اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی نظر (وفات سے پہلے) اٹھی اور آپ نے فرمایا: اے اللہ! مجھے رفیق اعلیٰ میں (داخل کر) آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ عائشہ ؓ نے کہا کہ ابوبکر اور عمر ؓ دونوں ہی کے خطبوں سے نفع پہنچا۔ عمر ؓ نے لوگوں کو دھمکایا کیونکہ ان میں بعض منافقین بھی تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس طرح (غلط افواہیں پھیلانے سے) ان کو باز رکھا۔
اور بعد میں ابوبکر ؓ نے جو حق اور ہدایت کی بات تھی وہ لوگوں کو سمجھا دی اور ان کو بتلا دیا جو ان پر لازم تھا (یعنی اسلام پر قائم رہنا) اور وہ یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے باہر آئے وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل‏ محمد ( ﷺ ) ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں الشاکرين‏ تک(سورۃ آل عمران:144)۔

تخریج:
[صحيح بخاری:1241-1242-3667-4452، سنن النسائى:1840-1841-1842، سنن ابن ماجه:1627]











نبی اکرم ﷺ کی وفات اور تدفین کا بیان
یومِ وصال النبی ﷺ : صحابہؓ کیلئے حزن وملال کا دن۔

عن انس بن مالك، قال: " لما كان اليوم الذي دخل فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة اضاء منها كل شيء، فلما كان اليوم الذي مات فيه اظلم منها كل شيء، ولما نفضنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم الايدي وإنا لفي دفنه حتى انكرنا قلوبنا ".
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب وہ دن ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے پہل) مدینہ میں داخل ہوئے تو اس کی ہر چیز پرنور ہو گئی، پھر جب وہ دن آیا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو اس کی ہر چیز تاریک ہو گئی اور ابھی ہم نے آپ کے دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑے تھے کہ ہمارے دل بدل گئے۔
[سنن ترمذي:3618، سنن ابن ماجہ:1631، سنن الدارمی:14 (89)]




وفاتِ نبی کریم ﷺ

حدیث نمبر 1

عنوان: سورہ النصر کی تفسیر اور نبی ﷺ کی وفات کی پیشین گوئی – (ابن عباس اور عمر رضی اللہ عنہما کا واقعہ)


عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: (كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - يُدْنِينِي) (١) (وَيُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ) (٢) (فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ) (٣) (فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ - رضي الله عنه -:) (٤) (لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا , وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ؟) (٥) (فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ) (٦) (قَالَ: فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ , وَدَعَانِي مَعَهُمْ , وَمَا رُئِيتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ مِنِّي , فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ , وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا .. حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ} , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أُمِرْنَا أَنْ نَحْمَدَ اللهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا , وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا نَدْرِي , فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ , أَكَذَاكَ تَقُولُ؟ , قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَمَا تَقُولُ؟ , قُلْتُ: هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَعْلَمَهُ اللهُ لَهُ) (٧) (وَنُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ) (٨) (قَالَ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} وَالْفَتْحُ: فَتْحُ مَكَّةَ , فَذَاكَ عَلَامَةُ أَجَلِكَ , {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا}) (٩) (فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَقُولُ) (١٠). 
_________ 

ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھے (اپنے قریب) بٹھاتے تھے (1) اور مجھے بدری بزرگوں (شیوخ) کے ساتھ (مجلس میں) داخل کرتے تھے (2)۔

پس ایسا لگتا تھا کہ ان میں سے بعض کو (اس بات پر) دل میں کچھ کھچاؤ محسوس ہوا (3)، چنانچہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: (4)

'آپ اس نوجوان کو ہمارے ساتھ کیوں داخل کرتے ہیں، جبکہ ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں؟' (5)

تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'یہ (اس بات کا حقدار ہے) جہاں سے تم جانتے ہو (یعنی اس کی علمی صلاحیت کی وجہ سے)' (6)۔

(ابن عباس کہتے ہیں:) پھر ایک دن انہوں (عمر) نے ان (بزرگوں) کو بلایا اور مجھے بھی ان کے ساتھ بلایا – اور مجھے نہیں لگتا کہ انہوں نے اس دن مجھے اس لیے بلایا تھا سوائے اس کے کہ وہ مجھے (ان کے سامنے) اپنی (علمی) حیثیت دکھانا چاہتے تھے۔

(عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:) 'تم (سورہ) {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا... حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ} کے بارے میں کیا کہتے ہو؟'

تو ان میں سے بعض نے کہا: 'ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب ہمیں نصرت اور فتح ملے تو ہم اللہ کی حمد و تسبیح کریں اور اس سے استغفار کریں۔'

اور بعض نے کہا: 'ہمیں معلوم نہیں۔'

پھر انہوں (عمر) نے مجھ سے کہا: 'اے ابن عباس! کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟'

میں نے کہا: 'نہیں۔'

انہوں نے کہا: 'پھر تم کیا کہتے ہو؟'

میں نے کہا: 'یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات (اجل) ہے، اللہ نے آپ کو اس سے آگاہ فرمایا (7) اور آپ کو آپ کی موت کی خبر دے دی گئی (8)۔

یہ (اللہ کا فرمان ہے): {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ} – اور فتح سے مراد مکہ کی فتح ہے، پس یہ آپ کی (موت کی) علامت ہے، پھر (اللہ نے فرمایا:) {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا} (9) **(یعنی پھر اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو، بےشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے)۔'

تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'میں اس کے بارے میں ویسا ہی جانتا ہوں جیسا تم کہتے ہو' (10)۔"

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (خ) صحیح البخاری:3428 — اس حوالے سے عمر رضی اللہ عنہ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو قریب بٹھانا ثابت ہے۔
(2) (خ) صحیح البخاری:4043 — اس حوالے سے بدری بزرگوں کے ساتھ مجلس میں شامل کرنا ثابت ہے۔
(3) (خ) صحیح البخاری:4686 — اس حوالے سے بعض صحابہ کو دل میں کھچاؤ محسوس ہونا ثابت ہے۔
(4) (خ) صحیح البخاری:3428 — اس حوالے سے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا اعتراض کرنا ثابت ہے۔
(5) (خ) صحیح البخاری:4043 — اس حوالے سے عبدالرحمن کا قول: "ہمارے بھی اس جیسے بیٹے ہیں" ثابت ہے۔
(6) (خ) صحیح البخاری:4167 (ت) جامع الترمذی:3362 — اس حوالے سے عمر کا جواب: "یہ اس بات کا حقدار ہے جہاں سے تم جانتے ہو" ثابت ہے۔
(7) (خ) صحیح البخاری:4043 — اس حوالے سے ابن عباس کا یہ کہنا کہ "یہ نبی ﷺ کی اجل ہے" ثابت ہے۔
(8) (حم) مسند أحمد:3201 (خ) صحیح البخاری:4685 — اس حوالے سے "نُعِیَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ" (آپ کو موت کی خبر دے دی گئی) کا اضافہ ثابت ہے۔
(9) (خ) صحیح البخاری:4043 — اس حوالے سے سورہ النصر کی تفسیر اور مکہ کی فتح کو علامتِ اجل قرار دینا ثابت ہے۔
(10) (خ) صحیح البخاری:4686 (ت) جامع الترمذی:3362 — اس حوالے سے عمر کا قول: "میں اس کے بارے میں ویسا ہی جانتا ہوں جیسا تم کہتے ہو" ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص116]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. عمر رضی اللہ عنہ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ذہانت اور علم کا اعتراف

· عمر رضی اللہ عنہ باوجود بدری بزرگوں کی موجودگی کے، ابن عباس (جو اس وقت نوجوان تھے) کو مجلس میں شامل کرتے تھے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ علم اور ذہانت کی قدر کرتے تھے، چاہے وہ کسی نوجوان میں ہی کیوں نہ ہو۔
· انہوں نے دوسرے صحابہ کو جواب دیا کہ یہ اپنی علمی قابلیت کی وجہ سے اس مقام کا مستحق ہے۔

2. صحابہ کا اختلافِ رائے اور اس کا احترام

· بعض بدری صحابہ کو عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل پر کھچاؤ تھا، اور انہوں نے عبدالرحمن بن عوف کے ذریعے اعتراض کیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں اختلافِ رائے تھا، لیکن وہ اسے احترام اور شرعی اصولوں کے ساتھ حل کرتے تھے۔

3. سورہ النصر کی تفسیر – نبی ﷺ کی وفات کا اشارہ

· اکثر صحابہ نے سورہ النصر کو فتح مکہ کے بعد حمد و استغفار کا حکم سمجھا۔
· لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے نبی ﷺ کی وفات کی علامت قرار دیا، کیونکہ جب اللہ کا دین مکمل ہو جاتا ہے اور فتح حاصل ہو جاتی ہے، تو نبی کی زندگی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔
· یہ تفسیر انتہائی گہری اور بصیرت بھری تھی، جو عمر رضی اللہ عنہ کو بھی پسند آئی۔

4. نبی ﷺ کو موت کی خبر (نعی) – وحی کا ایک پہلو

· ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "وَنُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ" (آپ کو آپ کی موت کی خبر دے دی گئی)۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے نبی ﷺ کو وحی کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ آپ کی وفات کا وقت قریب ہے۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو اپنی وفات کا علم تھا، اور آپ نے اس کی تیاری کی۔

5. عمر رضی اللہ عنہ کا ابن عباس کی تفسیر کو قبول کرنا

· عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس کی تفسیر سن کر کہا: "مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَقُولُ" (میں اس کے بارے میں ویسا ہی جانتا ہوں جیسا تم کہتے ہو)۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی اس تفسیر کو جانتے تھے، لیکن وہ ابن عباس کو اسے بیان کرنے کا موقع دینا چاہتے تھے تاکہ دوسرے صحابہ بھی اس کی علمی صلاحیت کو پہچانیں۔

6. علم کا حصول اور اس کی قدر (چاہے نوجوانوں میں ہو)

· اس حدیث سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ علم کی قدر اس کے حامل کی عمر سے نہیں، بلکہ اس کی فہم اور بصیرت سے ہے۔
· نوجوانوں کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، اور بڑوں کو چاہیے کہ وہ ان کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط (وفاتِ نبوی ﷺ)

· اس سے پہلے کی حدیث (عائشہ رضی اللہ عنہا والی) میں بھی نبی ﷺ کی وفات کے آخری لمحات کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ نبی ﷺ کو اپنی وفات کا علم سورہ النصر کے ذریعے دیا گیا تھا۔
· دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں: ایک میں آپ کے آخری لمحات کا احوال ہے، اور دوسری میں اس کی پیشین گوئی اور علامات کا ذکر ہے۔

8. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · علم کی قدر کریں، چاہے وہ کسی نوجوان میں ہی کیوں نہ ہو۔
  · اختلافِ رائے کو احترام اور شرعی اصولوں کے ساتھ حل کریں۔
  · قرآن کی تفسیر میں گہرائی اور تدبر کریں، اور صرف ظاہری مفہوم پر اکتفا نہ کریں۔
  · نبی ﷺ کی وفات کی علامات کو جان کر ان کی سنت پر عمل کرنے کی ترغیب حاصل کریں۔

---

واللہ أعلم بالصواب





حديث نمبر 2
عنوان: خیبر کا واقعہ، یہودیوں سے معاہدہ، زہر کا واقعہ اور نبی ﷺ کی شہادت

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ - رضي الله عنهما - قَالَ: (أَجْلَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ، " وَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ، حَتَّى أَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ، وَغَلَبَ عَلَى النَّخْلِ وَالْأَرْضِ " فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنَّ لِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - الصَّفْرَاءَ وَالْبَيْضَاءَ) (٢) (وَالْحَلْقَةَ (٣) وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ (٤)) (٥) (وَيَخْرُجُونَ مِنْهَا، " فَاشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا , فلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عِصْمَةَ " , فَغَيَّبُوا مَسْكًا) (٦) (لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ (٧) - وَقَدْ كَانَ قُتِلَ قَبْلَ خَيْبَرَ - كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ) (٨) (إِلَى خَيْبَرَ حِينَ أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ) (٩) (فِيهِ حُلِيُّهُمْ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِسِعْيَةَ) (١٠) (- عَمِّ حُيَيٍّ -:) (١١) (" أَيْنَ مَسْكُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ) (١٢) (الَّذِي جَاءَ بِهِ مِنْ النَّضِيرِ؟ " , قَالَ: أَذْهَبَتْهُ الْحُرُوبُ وَالنَّفَقَاتُ , فَقَالَ - صلى الله عليه وسلم -: " الْعَهْدُ قَرِيبٌ , وَالْمَالُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ - رضي الله عنه - فَمَسَّهُ بِعَذَابٍ " - وَقَدْ كَانَ حُيَيٌّ قَبْلَ ذَلِكَ قَدْ دَخَلَ خَرِبَةً - فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ حُيَيًّا يَطُوفُ فِي خَرِبَةٍ هَاهُنَا، فَذَهَبُوا فَطَافُوا، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ , " فَقَتَلَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ابْنَيْ أَبِي الْحُقَيْقِ , وَأَحَدُهُمَا زَوْجُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَسَبَى رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُم (١٣) وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ , لِلنَّكْثِ الَّذِي نَكَثُوهُ، وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمُ مِنْهَا ") (١٤) (فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ , دَعْنَا نَكُونُ فِي هَذِهِ الأرْضِ، نُصْلِحُهَا وَنَقُومُ عَلَيْهَا) (١٥) (فَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ) (١٦) (فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١٧) (أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا) (١٨) (عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا) (١٩) (مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ) (٢٠) (- وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَلَا لِأَصْحَابِهِ غِلْمَانُ يَقُومُونَ عَلَيْهَا , فَكَانُوا لَا يَتَفَرَّغُونَ أَنْ يَقُومُوا - " فَأَعْطَاهُمْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - خَيْبَرَ , عَلَى أَنَّ لَهُمُ الشَّطْرَ مِنْ كُلِّ زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَشَيْءٍ) (٢١) وَ (قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا "، فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ) (٢٢) (فِي إِمَارَتِهِ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَا) (٢٣) (قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَلَمَّا سَمِعَ أَهْلُ فَدَكَ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بِخَيْبَرَ , بَعَثُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَسْأَلُونَهُ أَنْ يُسَيِّرَهُمْ , وَيَحْقِنَ لَهُمْ دِمَاءَهُمْ، وَيُخَلُّوا لَهُ الأَمْوَالَ , " فَفَعَلَ "، فَصَالَحَهُ أَهْلُ فَدَكَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، فَكَانَتْ خَيْبَرُ لِلْمُسْلِمِينَ، " وَكَانَتْ فَدَكُ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللهُ - صلى الله عليه وسلم - " , لأَنَّهُمْ لَمْ يَجْلِبُوا عَلَيْهَا بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ) (٢٤) (" فَلَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " , أَهْدَتْ لَهُ زَيْنَبُ بِنْتُ الْحَارِثِ، امْرَأَةُ سَلَّامِ بْنِ مِشْكَمٍ شَاةً مَصْلِيَّةً , وَقَدْ سَأَلَتْ: أَيُّ: عُضْوٍ مِنَ الشَّاةِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَقِيلَ لَهَا: الذِّرَاعُ , فَأَكْثَرَتْ فِيهَا مِنْ السُّمَّ، وَسَمَّمَتْ سَائِرَ الشَّاةِ، ثُمَّ جَاءَتْ بِهَا) (٢٥) (" - وَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ , وَلَا يَأكُلُ الصَّدَقَةَ - ") (٢٦) (فَلَمَّا وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - تَنَاوَلَ الذِّرَاعَ فَلَاكَ مِنْهَا مُضْغَةً , فَلَمْ يُسِغْهَا "، وَمَعَهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ، وَقَدْ أَخَذَ مِنْهَا كَمَا أَخَذَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَأَمَّا بِشْرٌ فَأَسَاغَهَا، " وَأَمَّا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَلَفَظَهَا) (٢٧) (ثُمَّ قَالَ: ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ , فَإِنَّهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا مَسْمُومَةٌ) (٢٨) (فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِلَى الْيَهُودِيَّةِ ") (٢٩) (فَاعْتَرَفَتْ , فَقَالَ: " مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ؟ " , فَقَالَتْ: بَلَغْتَ مِنْ قَوْمِي مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ , فَقُلْتُ:) (٣٠) (إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا , لَمْ يَضُرَّكَ الَّذِي صَنَعْتُ، وَإِنْ كُنْتَ مَلِكًا , أَرَحْتُ النَّاسَ مِنْكَ) (٣١) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَا كَانَ اللهُ لِيُسَلِّطَكِ عَلَيَّ " , فَقَالُوا: أَلَا نَقْتُلُهَا؟ , قَالَ: " لَا) (٣٢) (ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: اجْمَعُوا إِلَيَّ مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ الْيَهُودِ " , فَجُمِعُوا لَهُ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ , فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَنْ أَبُوكُمْ؟ "، قَالُوا: أَبُونَا فُلَانٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " كَذَبْتُمْ , بَلْ أَبُوكُمْ فُلَانٌ "، قَالُوا: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ، قَالَ: " فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا الْقَاسِمِ , وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا، فَقَالَ لَهُمْ: " مَنْ أَهْلُ النَّارِ؟ "، قَالُوا: نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا , ثُمَّ تَخْلُفُونَا فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " اخْسَئُوا فِيهَا , وَاللهِ لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا، ثُمَّ قَالَ: هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ؟ "، فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا؟ "، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ؟ " , قَالُوا: أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا أَنْ نَسْتَرِيحَ مِنْكَ , وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ يَضُرَّكَ) (٣٣) (قَالَ: فَمَاتَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ الْأَنْصَارِيُّ - رضي الله عنه -) (٣٤) (مِنْ أَكْلَتِهِ الَّتِي أَكَلَ) (٣٥) (" فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بِالْيَهُودِيَّةِ فَقُتِلَتْ ") (٣٦) (قَالَ أَنَسٌ: " فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ (٣٧) رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٣٨) (وَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ , فَسَافَرَ مَرَّةً , فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا , فَاحْتَجَمَ ") (٣٩) (حَتَّى دَخَلَتْ أُمُّ بِشْرِ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - تَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ: " يَا أُمَّ بِشْرٍ، مَا زِلْتُ أَجِدُ أَلَمَ الْأَكْلَةِ الَّتِي أَكَلْتُ مَعَ ابْنِكِ بِخَيْبَرَ , تُعَاوِدُنِي كُلَّ عَامٍ، حَتَّى كَانَ هَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ أَبْهَرِي مِنْ ذَلِكَ السُّمِّ " قَالَ: فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يَرَوْنَ أَنَّ رَسُولَ اللهُ - صلى الله عليه وسلم - مَاتَ شَهِيدًا , مَعَ مَا أَكْرَمَهُ اللهُ مِنَ النُّبُوَّةِ) (٤٠). 
_________ 

---
ترجمہ:

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہودیوں اور نصرانیوں کو حجاز کی سرزمین سے جلا وطن کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (1) نے خیبر کے لوگوں سے جنگ کی، یہاں تک کہ انہیں ان کے قلعے میں محصور کر دیا، اور کھجوروں اور زمین پر غالب آ گئے۔

**پس انہوں (یہودیوں) نے آپ ﷺ سے اس شرط پر صلح کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سونا اور چاندی (2) اور ہتھیار (زرہیں) (3) ہوں گے، اور ان کے لیے وہ سامان ہوگا جو ان کے اونٹ اٹھا کر لے جائیں (4) (5) اور وہ (خیبر سے) نکل جائیں گے۔ "

(ابن عمر کہتے ہیں:) "پس آپ ﷺ نے ان پر شرط رکھی کہ وہ کوئی چیز نہ چھپائیں اور نہ چھپا کر رکھیں، اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کے لیے کوئی ذمہ (امان) اور تحفظ نہیں ہوگا۔

**پس انہوں نے حُیَی بن اخطب (7) کا ایک چمڑے کا تھیلا (مسک) چھپا لیا (6) – اور حُیَی خیبر سے پہلے قتل ہو چکا تھا – جو وہ اپنے ساتھ خیبر لے کر آیا تھا جب نضیر (قبیلہ) کو جلا وطن کیا گیا تھا (8) (9)، اس میں ان کے زیورات تھے۔

**پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعیہ (10) (جو حُیَی کا چچا تھا) (11) سے فرمایا: (12)

'حُیَی بن اخطب کا وہ چمڑے کا تھیلا کہاں ہے جو وہ نضیر سے لایا تھا؟'

اس نے کہا: 'جنگوں اور اخراجات نے اسے ختم کر دیا۔'

تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'عہد (معاہدہ) قریب ہے، اور مال اس سے زیادہ ہے۔'

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (سعیہ کو) زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا، اور انہوں نے اسے عذاب (سزا) دی – اور حُیَی اس سے پہلے ایک ویران جگہ (کھنڈر) میں داخل ہوا تھا – پس (زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے حُیَی کو یہاں ایک کھنڈر میں گھومتے دیکھا ہے۔

چنانچہ وہ (صحابہ) گئے اور اس کھنڈر کا طواف کیا، اور انہیں وہ چمڑے کا تھیلا (مسک) مل گیا۔

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الحُقَیق کے دو بیٹوں کو قتل کر دیا – اور ان میں سے ایک صفیہ بنت حُیَی بن اخطب کا شوہر تھا – اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا (13) اور ان کا مال تقسیم کر دیا، ان کے عہد شکنی (نکث) کی وجہ سے، اور آپ ﷺ نے انہیں وہاں سے جلا وطن کرنا چاہا (14)۔

پس انہوں (یہودیوں) نے کہا: 'اے محمد! ہمیں اس سرزمین میں رہنے دو، ہم اس کی اصلاح کریں گے اور اس کی دیکھ بھال کریں گے (15) ، کیونکہ ہم تم سے زیادہ زمین کو جانتے ہیں (16)۔'

چنانچہ یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی (17) کہ آپ انہیں اس (زمین) پر قائم رکھیں (18) اس شرط پر کہ وہ اسے آباد کریں اور اس میں کاشت کریں، اور جو کچھ اس سے نکلے (پھل یا کھیتی) اس کا آدھا حصہ ان کا ہوگا (19) (20) – اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے پاس کوئی غلام نہیں تھا جو اس کی دیکھ بھال کر سکے، اور وہ (صحابہ) اس کی دیکھ بھال کے لیے فارغ نہیں ہوتے تھے – "پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر اس شرط پر دے دی کہ ہر کھیتی، کھجور اور ہر چیز کا آدھا حصہ ان کا ہوگا" (21) اور "آپ ﷺ نے ان سے کہا: ہم تمہیں اس پر اس وقت تک قائم رکھیں گے جب تک ہم چاہیں" – پس وہ اس پر (وہاں) قائم رہے یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کیا (22) اپنی خلافت میں تیماء اور اریحا (فلسطین کے علاقے) کی طرف (23)۔

(محمد بن اسحاق کہتے ہیں:) "پس جب فدک کے لوگوں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے ساتھ کیا کیا ہے، تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ انہیں (ان کی زمین سے) جلا وطن کر دیں، اور ان کی جانوں کو بچا لیں، اور ان کے اموال کو آپ کے لیے چھوڑ دیں، تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔ پس فدک کے لوگوں نے اسی طرح آپ ﷺ سے صلح کی۔

چنانچہ خیبر مسلمانوں کے لیے تھا، اور فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خالص تھا، کیونکہ ان (فدک والوں) نے آپ ﷺ کے خلاف گھوڑے اور اونٹ (سواریاں) نہیں چلائی تھیں (24)۔

(پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مطمئن ہوئے) (25) تو زینب بنت حارث (سلام بن مشکم کی بیوی) نے آپ ﷺ کو بھنی ہوئی بکری کا گوشت ہدیہ کیا – اور اس نے پوچھا تھا کہ بکری کا کون سا عضو رسول اللہ ﷺ کو زیادہ پسند ہے؟ تو اسے بتایا گیا: دستی (آگے کا پاؤں) – پس اس نے اس میں بہت زیادہ زہر ڈالا، اور پوری بکری کو زہر آلود کر دیا، پھر اسے لے کر آئی (26) – اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے، اور صدقہ نہیں کھاتے تھے (27)۔

پس جب اس نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا تو آپ ﷺ نے دستی (ذراع) پکڑی اور اس سے ایک نوالہ چبایا، لیکن اسے نگل نہ سکے – اور آپ ﷺ کے ساتھ بشر بن براء بن معرور (انصاری) تھے، جنہوں نے بھی ویسا ہی لیا جیسا رسول اللہ ﷺ نے لیا تھا – پس بشر نے اسے نگل لیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے (منہ سے) نکال دیا (28)۔

پھر آپ ﷺ نے فرمایا: 'اپنے ہاتھ اٹھاؤ (اور کھانا چھوڑ دو)، کیونکہ اس (بکری) نے مجھے بتایا ہے کہ یہ زہریلی ہے' (29)۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی عورت کے پاس پیغام بھیجا (30) تو اس نے اعتراف کر لیا۔

آپ ﷺ نے پوچھا: 'تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟'

اس نے کہا: 'تم اپنی قوم کے بارے میں وہ مقام پہنچ گئے جو تم سے پوشیدہ نہیں، پس میں نے (دل میں) کہا: (31) 'اگر تم نبی ہو تو جو میں نے کیا ہے وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور اگر تم بادشاہ ہو تو میں لوگوں کو تم سے نجات دلا دوں گی' (32)۔

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ پر مسلط نہیں کرے گا۔'

پھر صحابہ نے کہا: کیا ہم اسے قتل نہ کریں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: 'نہیں' (33)۔

(اس کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 'میرے پاس ان یہودیوں کو جمع کرو جو یہاں موجود ہیں۔'

چنانچہ وہ آپ کے لیے جمع کر دیے گئے۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'میں تم سے ایک چیز کے بارے میں پوچھوں گا، کیا تم اس کے بارے میں سچ بولو گے؟'

انہوں نے کہا: 'جی ہاں، اے ابوالقاسم!'

پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: 'تمہارا باپ کون ہے؟'

انہوں نے کہا: 'ہمارا باپ فلاں ہے۔'

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'تم نے جھوٹ بولا، بلکہ تمہارا باپ فلاں ہے۔'

انہوں نے کہا: 'آپ نے سچ کہا اور نیکی کی۔'

آپ ﷺ نے فرمایا: 'کیا تم ایک چیز کے بارے میں سچ بولو گے اگر میں تم سے پوچھوں؟'

انہوں نے کہا: 'جی ہاں، اے ابوالقاسم، اور اگر ہم آپ سے جھوٹ بولیں تو آپ ہمارا جھوٹ پہچان لیں گے جیسا کہ آپ نے ہمارے باپ کے بارے میں پہچان لیا۔'

پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: 'جہنم کے لوگ کون ہیں؟'

انہوں نے کہا: 'ہم اس میں تھوڑی دیر رہیں گے، پھر تم ہماری جگہ لے لو گے (یعنی ہمارے بعد تم جہنم میں جاؤ گے)۔'

تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'تم اس میں ذلیل و خوار رہو، اللہ کی قسم! ہم کبھی تمہاری جگہ نہیں لیں گے۔'

پھر آپ ﷺ نے فرمایا: 'کیا تم ایک چیز کے بارے میں سچ بولو گے اگر میں تم سے پوچھوں؟'

انہوں نے کہا: 'جی ہاں۔'

آپ ﷺ نے پوچھا: 'کیا تم نے اس بکری میں زہر ڈالا تھا؟'

انہوں نے کہا: 'جی ہاں۔'

آپ ﷺ نے پوچھا: 'تمہیں اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟'

انہوں نے کہا: 'ہم چاہتے تھے کہ اگر تم جھوٹے ہو تو ہم تم سے نجات پا جائیں، اور اگر تم نبی ہو تو اس سے تمہیں نقصان نہیں پہنچے گا' (34)۔

(راوی کہتے ہیں:) "پس بشر بن براء بن معرور انصاری رضی اللہ عنہ اس کھانے کی وجہ سے فوت ہو گئے جو انہوں نے کھایا تھا" (35) (36) "پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس یہودی عورت کو قتل کر دیا گیا" (37)۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: "پس میں اس (زہر) کا اثر رسول اللہ ﷺ کی تالو (لهوات) پر پہچانتا رہا" (38) (39) اور جب رسول اللہ ﷺ کو اس میں سے کچھ محسوس ہوتا تو آپ پچھنا (حجامت) کرواتے تھے – پس ایک مرتبہ آپ نے سفر کیا، جب آپ نے احرام باندھا تو آپ کو اس میں سے کچھ محسوس ہوا، تو آپ نے (احرام کی حالت میں بھی) پچھنا کروا لیا (40)۔

یہاں تک کہ (آخری مرض میں) بشیر بن براء بن معرور کی والدہ (امّ بِشر) رسول اللہ ﷺ کی عیادت کے لیے آئیں جس بیماری میں آپ کا انتقال ہوا۔

تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے امّ بشر! میں خیبر میں تمہارے بیٹے کے ساتھ کھائی گئی اس کھانے کا درد ہر سال محسوس کرتا رہا ہوں، یہاں تک کہ یہ اس (زہر) کی وجہ سے میری شہ رگ (ابہر) کے ٹوٹنے کا وقت آ گیا ہے۔'

(راوی کہتے ہیں:) "پس مسلمانوں کا خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺ نبوت کے اس عظیم مقام کے ساتھ شہید ہوئے" (41)۔

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (خ) صحیح البخاری:2213 — عمر رضی اللہ عنہ کا یہودیوں اور نصرانیوں کو حجاز سے جلا وطن کرنا۔

(2) (حب) صحیح ابن حبان:5199 (د) سنن أبی داود:3006 (البانی) الإرواء:805، صحیح موارد الظمآن:1415 — خیبر کی صلح میں رسول اللہ ﷺ کے لیے سونا اور چاندی ہونے کا ذکر۔ البانی نے اسے صحیح قرار دیا۔

(3)تشریح: "الصَّفْرَاء" = سونا، "الْبَيْضَاء" = چاندی، "الْحَلْقَة" = ہتھیار اور زرہیں۔(عون المعبود:6/486)

(4)تشریح: "وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ" کا معنی: ان کے اونٹ جو سامان اٹھائے ہوئے تھے وہ ان کا ہوگا۔(عون المعبود:6/486)

(5) (د) سنن أبی داود:3006 — صلح کی شرط کا ذکر۔

(6) (حب) صحیح ابن حبان 5199 — چمڑے کے تھیلے (مسک) کو چھپانے کا ذکر۔

(7)تشریح: "المَسْك" = چمڑا۔ خطابی نے کہا: یہ حُیَی بن اخطب کا خزانہ تھا جس میں زیورات تھے، جس کی قیمت دس ہزار دینار تھی، اور کسی عورت کی شادی پر یہ زیورات مستعار لیے جاتے تھے۔(عون المعبود:6/486)

(8) (د) سنن أبی داود:3006 — حُیَی کا خیبر سے پہلے قتل ہونا اور وہ تھیلا لے کر آنا۔

(9) (حب) صحیح ابن حبان:5199 — نضیر کے جلا وطن ہونے کے بعد حُیَی کا خیبر آنا۔

(10) (د) سنن أبی داود:3006 — سعیہ (حُیَی کا چچا) کا ذکر۔

(11) (حب) صحیح ابن حبان:5199 — سعیہ کا حُیَی کا چچا ہونا۔

(12) (د) سنن أبی داود:3006 — نبی ﷺ کا سعیہ سے تھیلے کے بارے میں پوچھنا۔

(13)تشریح: "ذَرَارِيَّهُمْ" = ان کی چھوٹی اولاد اور عورتیں۔(عون المعبود:6/486)

(14) (د) سنن أبی داود:3006 — ابو الحُقَیق کے بیٹوں کا قتل، عورتوں اور بچوں کو قید کرنا، اور مال تقسیم کرنا۔

(15) (حب) صحیح ابن حبان:5199 — یہودیوں کا زمین میں رہنے کی درخواست اور اس کی اصلاح کا وعدہ۔

(16) (د) سنن أبی داود:3410 — یہودیوں کا کہنا: "ہم زمین کو تم سے زیادہ جانتے ہیں۔"

(17) (خ) صحیح البخاری:2213 — یہودیوں کا نبی ﷺ سے درخواست کرنا۔

(18) (م) صحیح مسلم:1551 — انہیں زمین پر قائم رکھنے کی درخواست۔

(19) (خ) صحیح البخاری:2202 — آدھا حصہ ان کا ہونے کی شرط۔

(20) (خ) صحیح البخاری:2204 (م) صحیح مسلم:1551 — پھل اور کھیتی کے بارے میں تفصیل۔

(21) (حب) صحیح ابن حبان:5199 — نبی ﷺ کا خیبر انہیں نصف پیداوار پر دینا۔

(22) (خ) صحیح البخاری:2213 (م) صحیح مسلم:1551 — نبی ﷺ کا فرمان: "ہم تمہیں اس پر جب تک چاہیں قائم رکھیں گے" اور عمر کا جلا وطن کرنا۔

(23) (خ) صحیح البخاری:2213 (م) صحیح مسلم:1551 (حم) مسند أحمد:6368 — تیماء اور اریحا کی طرف جلا وطنی۔

(24) (سیرۃ ابن ہشام:2/337) (البانی) فقہ السیرۃ:ص266 — فدک کا خالص مالِ نبوی ہونا، کیونکہ اس پر جنگ نہیں ہوئی۔

(25) (سیرۃ ابن ہشام:2/338) (خ) صحیح البخاری:2474 (م) صحیح مسلم:2190 (البانی) فقہ السیرۃ:ص266 — زینب بنت حارث کا بکری کا گوشت ہدیہ کرنا، اور اس میں زہر ڈالنا۔

(26) (د) سنن أبی داود:4512 — نبی ﷺ کا ہدیہ قبول کرنا اور صدقہ نہ کھانا۔

(27) (سیرۃ ابن ہشام:2/338) — نبی ﷺ کا دستی پکڑ کر چبانا اور نہ نگلنا، بشر کا نگلنا۔

(28) (د) سنن أبی داود:4512 — نبی ﷺ کا یہ کہنا کہ "اس نے مجھے بتایا کہ یہ زہریلی ہے۔"

(29) (د) سنن أبی داود:4512 (م) صحیح مسلم:2190 — یہودی عورت کے پاس پیغام بھیجنا اور اس کا اعتراف۔

(30) (سیرۃ ابن ہشام:2/338) (د) سنن أبی داود:4512 — زینب کا نبی ﷺ کو جواب دینا۔

(31) (د) سنن أبی داود:4512 (م) صحیح مسلم:2190 — زینب کا کہنا: "اگر تم نبی ہو تو نقصان نہیں، اور اگر بادشاہ ہو تو لوگوں کو نجات مل جائے گی۔"

(32) (م) صحیح مسلم:2190 (خ) صحیح البخاری:2474 (د) سنن أبی داود:4508 — نبی ﷺ کا فرمان: "اللہ تمہیں مجھ پر مسلط نہیں کرے گا" اور اسے قتل نہ کرنے کا حکم۔

(33) (خ) صحیح البخاری:5441   (حم) مسند أحمد:2998-9826 — یہودیوں سے جہنم اور زہر کے بارے میں سوال و جواب۔

(34) (د) سنن أبی داود:4512 — بشر بن براء کا گوشت کھانے کی وجہ سے فوت ہونا۔

35) (سیرۃ ابن ہشام:2/338) — بشر کی موت کا ذکر۔

(36) (د) سنن أبی داود:4512 — یہودی عورت کو قتل کرنے کا حکم۔

(37)تشریح: "لَهَوَات" = تالو، سقف حلق۔ زہر کا اثر وہاں باقی رہنا۔ (فتح الباری:8/112) / (شرح النووی:7/329)

(38) (خ) صحیح البخاری:2474 (م) صحیح مسلم:2190 (حم) مسند أحمد:13309 — زہر کا اثر تالو پر پہچاننا۔

(39) (حم) مسند أحمد:2785 (شیخ شعیب: إسناده صحيح) — احرام کی حالت میں پچھنا (حجامت) کروانا۔

(40) (سیرۃ ابن ہشام:2/338) (خ) صحیح البخاری:4165 (د) سنن أبی داود:4512 — نبی ﷺ کا امّ بشر کو فرمانا کہ خیبر کا زہر شہ رگ تک پہنچ گیا، اور مسلمانوں کا آپ کو شہید سمجھنا۔

[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج15 ص117]

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. خیبر کی فتح اور یہودیوں سے معاہدہ

· نبی ﷺ نے یہودیوں سے صلح کی اور انہیں زمین پر کاشت کاری کی شرط پر قائم رکھا۔
· اس معاہدے میں امانت داری اور چھپانے کی ممانعت کو بنیادی شرط رکھا گیا۔

2. عہد شکنی کا انجام

· جب یہودیوں نے چمڑے کا تھیلا چھپایا تو انہیں سزا دی گئی اور ان کے سرداروں کو قتل کر دیا گیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی سنگین جرم ہے اور اس کا وبال بھگتنا پڑتا ہے۔

3. فدک کا مالِ نبوی ہونا

· فدک کی زمین بغیر جنگ کے حاصل ہوئی، اس لیے وہ نبی ﷺ کی ذاتی ملکیت (خالصہ) قرار پائی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فیء (بغیر جنگ کے حاصل شدہ مال) کا حکم الگ ہے۔

4. نبی ﷺ کا ہدیہ قبول کرنا اور صدقہ نہ کھانا

· آپ ﷺ ہدیہ قبول کرتے تھے مگر صدقہ نہیں کھاتے تھے، کیونکہ صدقہ لوگوں کی پاکیزگی کے لیے ہے، جبکہ انبیاء اس سے پاک ہیں۔

5. زہر کا واقعہ اور نبی ﷺ کا معجزہ

· بکری نے آپ ﷺ کو بتایا کہ وہ زہریلی ہے (معجزہ)۔
· آپ ﷺ نے زہر کو پہچان لیا اور صحابہ کو روک دیا۔
· یہ آپ ﷺ کی نبوت کا ایک روشن معجزہ ہے۔

6. یہودی عورت کا اعتراف اور آپ ﷺ کا درگزر

· زینب بنت حارث نے اعتراف کیا کہ اس نے زہر ڈالا تھا۔
· آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے سے منع فرمایا (پہلے) اور بعد میں اسے سزا دی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں عدل و انصاف کا نظام ہے، اور مجرم کو سزا ملتی ہے۔

7. نبی ﷺ کا یہودیوں سے مناظرہ (علمی مباحثہ)

· آپ ﷺ نے یہودیوں سے ان کے باپ اور جہنم کے بارے میں سوالات کیے، اور ان کے جھوٹ کا پردہ فاش کیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوتِ دین میں مناظرہ اور دلیل کا استعمال ضروری ہے۔

8. زہر کا اثر اور نبی ﷺ کی شہادت

· نبی ﷺ نے خیبر کا زہر ہر سال محسوس کیا، یہاں تک کہ یہ آپ کی شہ رگ تک پہنچ گیا۔
· مسلمانوں کا ماننا ہے کہ آپ ﷺ شہید ہوئے، کیونکہ آپ کو زہر دے کر قتل کیا گیا تھا۔
· یہ آپ ﷺ کے لیے نبوت کے ساتھ شہادت کا درجہ ہے۔

9. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات اور آپ کے آخری لمحات کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس کی وجہ (خیبر کا زہر) اور اس کا اثر بیان کیا گیا ہے۔
· یہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

10. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · معاہدوں کی پاسداری کریں اور دھوکہ دہی سے بچیں۔
  · ہدیہ قبول کرنے اور صدقہ سے بچنے کا اصول جانیں۔
  · دشمنوں کے مکر و فریب سے بچنے کے لیے ہوشیار رہیں۔
  · عدل و انصاف کو ہر حال میں قائم رکھیں۔
  · نبی ﷺ کی شہادت پر ایمان رکھیں اور آپ کی سنت پر عمل کریں۔

---

واللہ أعلم بالصواب





حدیث نمبر 3
عنوان: نبی ﷺ کی شہادت پر ایمان و یقین

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ: " لَأَنْ أَحْلِفَ [بِاللهِ] (١) تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قُتِلَ قَتْلًا , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ , وَذَلِكَ أَنَّ اللهَ - عز وجل - جَعَلَهُ نَبِيًّا , وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا " , قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ وَيَقُولُونَ: أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ - رضي الله عنه -. (٢) 
_________ 
ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"مجھے (اللہ کی) نو قسموں سے یہ قسم کھانا (1) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتل کیے گئے، اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک قسم کھاؤں کہ آپ قتل نہیں کیے گئے۔

اور اس (ترجیح) کی وجہ یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے آپ کو نبی بنایا اور آپ کو شہید (بنایا / قرار دیا)۔"

(راوی) اعمش کہتے ہیں:
"پھر میں نے یہ بات ابراہیم (نخعی) کو بتائی، تو انہوں نے کہا:
'صحابہ کا یہی خیال اور قول تھا کہ یہودیوں نے آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔' (2)"

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل:3617
شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "إسناده صحيح" (اس کی سند صحیح ہے)۔
اس حوالے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول ثابت ہے کہ وہ نو قسموں سے اس بات پر قسم کھانے کو ترجیح دیتے ہیں کہ نبی ﷺ قتل ہوئے۔


(2) (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل:4139 شیخ شعیب الأرناؤوط نے فرمایا: "إسناده صحيح" (اس کی سند صحیح ہے) (عب) مصنف عبد الرزاق:9571 (ك) المستدرک للحاکم:4394 — اس حوالے سے اعمش کا ابراہیم نخعی کو یہ بتانا کہ صحابہ کا یہی خیال تھا کہ یہودیوں نے نبی ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا، ثابت ہے۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ کی شہادت پر پختہ یقین

ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ نبی ﷺ شہید (یعنی زہر کے ذریعے قتل) کیے گئے۔ انہوں نے قسم کے ذریعے اس بات کو اس قدر یقینی قرار دیا کہ کہا کہ نو قسموں سے اس پر قسم کھانا انہیں ایک قسم سے اس کے برعکس (یعنی نہ قتل ہونے) پر قسم کھانے سے زیادہ محبوب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ صحابہ کرام کے نزدیک بہت مضبوط اور مسلمہ تھا۔

2. شہادت کا بلند مرتبہ اور نبوت کے ساتھ اس کا اجتماع

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "وَذَلِكَ أَنَّ اللهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا، وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا" (اس لیے کہ اللہ نے انہیں نبی بنایا اور شہید قرار دیا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ کو نبوت کے ساتھ شہادت کا درجہ بھی عطا ہوا، جو انبیاء میں سے خاص طور پر آپ کے ساتھ ہوا (اور کچھ دوسرے انبیاء بھی شہید ہوئے، جیسے یحییٰ علیہ السلام)۔ یہ آپ ﷺ کے لیے ایک عظیم فضیلت ہے کہ آپ نبی بھی تھے اور شہید بھی۔

3. یہودیوں کی طرف سے زہر دینے کا واقعہ (اختلاف کی وضاحت)

ابراہیم نخعی کا قول ہے کہ صحابہ کرام کا یہی خیال تھا کہ یہودیوں نے آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔ یاد رہے: خیبر میں زینب بنت حارث (یہودی عورت) نے نبی ﷺ کو بکری کا گوشت زہر آلود کر کے دیا تھا، جس کا اثر آپ ﷺ پر طویل عرصے تک رہا اور آخر کار اسی زہر کی وجہ سے آپ کی شہادت ہوئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ قول کہ انہیں بھی زہر دیا گیا، بعض روایات میں آیا ہے (اگرچہ ان کی وفات بیماری سے ہوئی)، لیکن اس روایت میں اسے صحابہ کا عام خیال قرار دیا گیا ہے۔

4. اس روایت کی سند کی صحت اور اس کی اہمیت

اس روایت کو مسند أحمد، مصنف عبد الرزاق، اور مستدرک الحاکم نے روایت کیا ہے۔ شیخ شعیب الأرناؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت مستند اور قابلِ قبول ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی شہادت کا عقیدہ صرف ایک کمزور روایت نہیں، بلکہ صحیح الاسناد ہے۔

5. اس حدیث کا پچھلے ابواب (خیبر کا واقعہ) سے گہرا تعلق

پچھلی حدیث (ابن عمر رضی اللہ عنہما والی) میں خیبر کے واقعہ اور زہر دینے کا ذکر مفصل آیا تھا، جہاں بشر بن براء رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور نبی ﷺ نے زہر کا اثر محسوس کیا۔ اس حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس نتیجے کو شرعی اور عقیدتی طور پر بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ واقعی شہید ہوئے۔ یہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں: ایک میں واقعہ (قصہ) ہے، اور دوسری میں اس پر یقین اور قسم کا اظہار ہے۔

6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:

· نبی ﷺ کی شہادت پر پختہ ایمان رکھیں اور اسے صحیح روایات کی روشنی میں قبول کریں۔
· صحابہ کرام کے اقوال اور ان کے عقائد کو اہمیت دیں، کیونکہ وہ واقعات کے عینی شاہد تھے۔
· یہودیوں کے مکر و فریب سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کریں، جیسا کہ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ کیا۔
· قسم کا معاملہ: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس معاملے میں قسم کا سہارا لیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی اہم دینی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے قسم کھائی جا سکتی ہے (اگر مقصد حق کا اظہار ہو)۔

---

واللہ أعلم بالصواب











حدیث نمبر 4
عنوان: وفاتِ نبی کریم ﷺ – حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا تفصیلی بیان

وَعَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: (دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ - رضي الله عنها - فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟ قَالَتْ: بَلَى) (١) (" أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ - رضي الله عنها -) (٢) (وَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا مَرَّ بِبَابِي , مِمَّا يُلْقِي الْكَلِمَةَ يَنْفَعُ اللهُ - عز وجل - بِهَا فَمَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ مَرَّ أَيْضًا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - " , فَقُلْتُ: يَا جَارِيَةُ، ضَعِي لِي وِسَادَةً عَلَى الْبَابِ، وَعَصَبْتُ رَأسِي) (٣) (" فَرَجَعَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جِنَازَةٍ بِالْبَقِيع (٤)) (٥) (فَمَرَّ بِي ") (٦) (فَوَجَدَنِي أَقُولُ: وَارَأسَاهُ) (٧) (فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، مَا شَأنُكِ؟ ") (٨) (فَقُلْتُ: أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأسِي) (٩) (فَقَالَ: " بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَارَأسَاهُ , ثُمَّ قَالَ: مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي؟، فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ) (١٠) (وَأَسْتَغْفِرَ لَكِ، وَأَدْعُوَ لَكِ) (١١) (وَدَفَنْتُكِ؟ ") (١٢) (فَقُلْتُ لَهُ - غَيْرَى -:) (١٣) (وَاثُكْلِيَاهْ، وَاللهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي وَلَوْ) (١٤) (فَعَلْتُ ذَلِكَ , لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي , فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَتْ: " فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ) (١٥) (قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ , أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ) (١٦) (حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا) (١٧) (فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ، وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى) (١٨) (ثُمَّ قُلْتُ:) (١٩) (يَأبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ) (٢٠) (ثُمَّ بُدِئَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ) (٢١) (وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ) (٢٢) (فَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ") (٢٣) (وَمَا أَغْبِطُ (٢٤) أَحَدًا بِهَوْنِ مَوْتٍ (٢٥)) (٢٦) (وَلَا أَكْرَهُ شِدَّةَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا) (٢٧) (بَعْدَ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ شِدَّةِ مَوْتِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - (٢٨)) (٢٩) (" وَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَدُورُ فِي نِسَائِهِ) (٣٠) (وَيَقُولُ: أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ؟ أَيْنَ أَنَا غَدًا؟ - اسْتِبْطَاءً لِيَوْمِ عَائِشَةَ) (٣١) (وَحِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ - قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي سَكَنَ) (٣٢) (فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٣٣) (مُعْتَمِدًا عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , وَعَلَى رَجُلٍ آخَرَ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ) (٣٤) (وَبَعَثَ إِلَى) (٣٥) (أَزْوَاجِهِ ") (٣٦) (فَاجْتَمَعْنَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ، فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأذَنَّ لِي فَأَكُونَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ) (٣٧) (فَاسْتَأذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي) (٣٨) (- وَلَمْ أُمَرِّضْ أَحَدًا قَبْلَهُ - ") (٣٩) (فَأَذِنَ لَهُ أَزْوَاجُهُ أَنْ يَكُونَ حَيْثُ شَاءَ) (٤٠) (" وَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - إِذَا اشْتَكَى , نَفَثَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَمَسَحَ عَنْهُ بِيَدِهِ (٤١)) (٤٢) (فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ نَفْثَ آكِلِ الزَّبِيبِ) (٤٣) (فَلَمَّا اشْتَكَى وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ) (٤٤) (كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ) (٤٥) (بِالْمُعَوِّذَاتِ) (٤٦) (وَجَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ , وَأَمْسَحُهُ بِيَدِ نَفْسِهِ , لِأَنَّهَا كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْ يَدِي ") (٤٧) (فَحَضَرَتْ الصَلَاةُ , فَأُذِّنَ) (٤٨) (فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَلَاةِ) (٤٩) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَصَلَّى النَّاسُ؟ " قُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ , قَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ (٥٠) " , قَالَتْ: فَفَعَلْنَا , " فَاغْتَسَلَ، فَذَهَبَ لِيَنُوءَ (٥١) فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ؟ " , قُلْنَا: لَا , هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ , قَالَتْ: فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ , فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ؟ " , قُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ، فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ , فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: أَصَلَّى النَّاسُ؟ " , فَقُلْنَا: لَا، هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللهِ - وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ، يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ -) (٥٢) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَمْعَةَ: " مُرْ النَّاسَ فَلْيُصَلُّوا "، فَلَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - فَقَالَ: يَا عُمَرُ، صَلِّ بِالنَّاسِ، فَصَلَّى بِهِمْ، " فَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - صَوْتَهُ فَعَرَفَهُ - وَكَانَ جَهِيرَ الصَّوْتِ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: أَلَيْسَ هَذَا صَوْتَ عُمَرَ؟ " , قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " يَأبَى اللهُ جَلَّ وَعَزَّ ذَلِكَ وَالْمُؤْمِنُونَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ , لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ، وَإِنَّهُ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ بَكَى) (٥٣) (وَإِنَّهُ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ , لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنْ الْبُكَاءِ فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ) (٥٤) (فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ") (٥٥) (قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ فِي مَقَامِكَ , لَمْ يُسْمِعْ النَّاسَ مِنْ الْبُكَاءِ، فَمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " مَهْ، إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ " , فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا) (٥٦) (فَأُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَأمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ "، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ) (٥٧) (قَالَتْ عَائِشَةَ: لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي ذَلِكَ، وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا، وَكُنْتُ أُرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ أَحَدٌ مَقَامَهُ , إِلَّا تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ أَبِي بَكْرٍ) (٥٨) (ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: " أَهَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ، فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ مِنْ تِلْكَ الْقِرَبِ، حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ أَنْ: قَدْ فَعَلْتُنَّ، قَالَتْ: فَوَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ) (٥٩) (يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ) (٦٠) (أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ) (٦١) (كَأَنِّي أَنْظُرُ رِجْلَيْهِ تَخُطَّانِ) (٦٢) (فِي الْأَرْضِ) (٦٣) (مِنْ الْوَجَعِ ") (٦٤) (وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ) (٦٥) (حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ) (٦٦) (فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ , سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ) (٦٧) (فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ " فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَنْ مَكَانَكَ، ثُمَّ قَالَ:) (٦٨) (أَجْلِسَانِي إِلَى جَنْبِهِ , فَأَجْلَسَاهُ) (٦٩) (عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا، وَكَانَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يُصَلِّي قَاعِدًا، يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٧٠) (وَيُسْمِعُ النَّاسَ التَّكْبِيرَ) (٧١) (وَالنَّاسُ مُقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ) (٧٢) (قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ , قَالَ: هَاتِ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَدِيثَهَا , فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ , قُلْتُ: لَا , قَالَ: هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه -) (٧٣). 
_________ 
ترجمہ:
حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں:

(عبیداللہ کہتے ہیں:) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور میں نے کہا: "کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے بارے میں نہیں بتائیں گی؟" انہوں نے کہا: "کیوں نہیں" (1)۔

(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی بار بیماری نے میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں پکڑا" (2)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے دروازے کے پاس سے گزرتے تو کوئی ایسی بات کہتے جس سے اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچاتا تھا۔ ایک دن آپ گزرے تو کچھ نہیں فرمایا، پھر دوسری بار گزرے تو پھر کچھ نہیں فرمایا – دو یا تین بار ایسا ہوا۔ پس میں نے (اپنی لونڈی سے) کہا: اے لونڈی! میرے لیے دروازے پر ایک گاؤ تکیہ (وسادہ) رکھ دے، اور میں نے اپنا سر باندھ لیا" (3)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر ایک دن آپ ﷺ (جنازہ سے) واپس آئے جو بقیع (گورستان) میں تھا" (4) (5) تو میرے پاس سے گزرے" (6) اور مجھے یہ کہتے ہوئے پایا: "وَارَأْسَاهْ" (ہائے میرے سر!) " (7)۔

آپ ﷺ نے پوچھا: "اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟" (8)۔

میں نے کہا: "مجھے سر میں درد ہے" (9)۔

تو آپ ﷺ نے فرمایا: "بلکہ اے عائشہ! ہائے میرے سر! پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا نقصان ہوتا اگر تم مجھ سے پہلے مر جاتیں؟ میں تم پر کھڑا ہوتا، تمہیں غسل دیتا، کفن پہناتا، تم پر نماز پڑھتا" (10) "اور تمہارے لیے استغفار اور دعا کرتا" (11) "اور تمہیں دفن کرتا؟" (12)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "تو میں نے (غیرت کے طور پر) آپ سے کہا:" (13) "ہائے میری بدبختی! اللہ کی قسم، مجھے تو یقین ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں، اور اگر" (14) "آپ نے ایسا کیا تو آپ میرے گھر لوٹ آتے اور اس میں اپنی کسی بیوی سے شادی کر لیتے۔" (عائشہ کہتی ہیں:) "تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے، پھر" (15) فرمایا: "میں نے واقعی ارادہ کیا تھا، یا چاہا تھا کہ میں ابو بکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں" (16) "یہاں تک کہ ایک تحریر (وصیت) لکھ لوں" (17) "کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کوئی آرزو کرنے والا (خلافت کی) آرزو کرے، اور کوئی کہنے والا کہے: میں زیادہ حقدار ہوں" (18)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر میں نے کہا:" (19) "اللہ اور مومنین ابوبکر کے سوا کسی کو (اس منصب کے لیے) پسند نہیں کریں گے" (20)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بیماری کا آغاز ہوا جس میں آپ کا انتقال ہوا" (21) اور آپ کو شدید تکلیف ہوئی" (22) "پس میں نے کسی کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھا" (23)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "اور میں کسی کو آسانی سے مرنے پر حسد (غبطہ) نہیں کرتی" (24) (25) "اور نہ ہی میں کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند کرتی ہوں" (26) (27) "اس کے بعد جو میں نے رسول اللہ ﷺ کی موت کی شدت دیکھی" (28) (29)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس (باری کے مطابق) گھومتے رہے" (30) اور فرماتے رہے: "آج میں کہاں ہوں؟ کل میں کہاں ہوں؟" – یہ عائشہ کے دن کا انتظار کرتے ہوئے" (31) اور عائشہ کے گھر کی شدید خواہش رکھتے ہوئے۔ عائشہ کہتی ہیں: "پھر جب میرا دن آیا تو آپ ﷺ (میرے پاس) ٹھہر گئے" (32) "پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے" (33) "عباس بن عبدالمطلب اور ایک دوسرے شخص کا سہارا لیے ہوئے، اور آپ کے پاؤں زمین پر (گھسیٹتے ہوئے) خط (لکیر) ڈال رہے تھے" (34)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "اور آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا" (35) (36) "پس وہ سب جمع ہوئیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان گھوم پھر نہیں سکتا، اگر تم اچھا سمجھو تو مجھے اجازت دو کہ میں عائشہ کے پاس رہوں" (37) "پس آپ ﷺ نے اپنی بیویوں سے یہ اجازت طلب کی کہ آپ میرے گھر میں بیمار پڑے رہیں" (38) – اور میں نے آپ سے پہلے کسی کو تیمارداری نہیں کی تھی – (39) "پس آپ کی بیویوں نے آپ کو اجازت دے دی کہ آپ جہاں چاہیں رہیں" (40)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "اور رسول اللہ ﷺ جب بیمار ہوتے تو اپنے اوپر معوذات (قلق اور الناس) پڑھ کر دم کرتے اور اپنے ہاتھ سے مسح کرتے" (41) (42) "پس ہم آپ کے دم کو کشمش کھانے والے کے دم (تھوکنے) سے تشبیہ دیتے تھے" (43) (پھر جب آپ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا" (44) "تو میں آپ پر معوذات پڑھتی تھی" (45) (46) اور میں آپ پر دم کرتی تھی اور آپ کے اپنے ہاتھ سے آپ کو مسح کرتی تھی، کیونکہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ سے زیادہ بابرکت تھا" (47)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر نماز کا وقت آ گیا اور اذان ہوئی" (48) "اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے" (49) "تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے مخضب (برتن) میں پانی رکھ دو" (50) عائشہ کہتی ہیں: ہم نے ایسا ہی کیا۔ "پھر آپ ﷺ نے غسل کیا، اور اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہو گئی، پھر ہوش آیا تو پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے مخضب میں پانی رکھ دو – عائشہ کہتی ہیں: پھر آپ بیٹھے اور غسل کیا، پھر اٹھنے لگے تو پھر بےہوش ہو گئے، پھر ہوش آیا تو پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے مخضب میں پانی رکھ دو – پھر بیٹھے اور غسل کیا، پھر اٹھنے لگے تو بےہوش ہو گئے، پھر ہوش آیا تو پوچھا: کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کہا: نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ! – اور لوگ مسجد میں بیٹھے (عکوف) تھے، عشاء کی نماز کے لیے نبی ﷺ کا انتظار کر رہے تھے" (52)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن زمعہ سے کہا: لوگوں کو حکم دو کہ نماز پڑھیں" – تو انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پایا اور کہا: اے عمر! لوگوں کو نماز پڑھاؤ۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز پڑھائی۔ "پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سنی اور پہچان لی – اور وہ بلند آواز والے تھے – تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ عمر کی آواز نہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور مومنین اسے پسند نہیں کریں گے، لوگوں کو حکم دو کہ ابوبکر لوگوں کو نماز پڑھائیں" (53)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "تو میں نے کہا: بیشک ابوبکر بہت رقیق القلب ہیں، اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکتے، اور جب قرآن پڑھتے ہیں تو رو پڑتے ہیں" (54) "اور جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو سنائی نہیں دیں گے، پس آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں" (55)۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں" (56)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر میں نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ ان (نبی ﷺ) سے کہیں کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو سنائی نہیں دیں گے، پس آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں – چنانچہ حفصہ نے ایسا کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رکو! تم لوگ تو یوسف کی ساتھیوں (عورتوں) کی طرح ہو۔ ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں" – پس حفصہ نے عائشہ سے کہا: تم سے مجھے کبھی کوئی بھلائی نہیں مل سکتی" (57)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر ابوبکر کے پاس پیغام بھیجا گیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ چنانچہ پیغام لے کر آنے والا (رسول) ان کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ پس ابوبکر نے ان دنوں میں (نماز) پڑھائی" (58)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بارہا گفتگو کی، اور مجھے بار بار گفتگو کرنے پر آمادہ کرنے والی بات یہ تھی کہ میرے دل میں یہ بات نہیں آئی کہ لوگ آپ کے بعد کسی کو پسند کریں گے جو آپ کی جگہ کھڑا ہوگا، اور میں سمجھتی تھی کہ کوئی شخص آپ کی جگہ کھڑا ہوگا تو لوگ اسے منحوس سمجھیں گے، پس میں چاہتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اس (حکم) کو ابوبکر کے علاوہ کسی اور کی طرف پھیر دیں" (59)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ پر سات مشکیزوں کا پانی انڈیلو جن کے منہ نہ کھولے گئے ہوں، شاید میں لوگوں سے کچھ کہہ سکوں – چنانچہ ہم نے آپ کو حفصہ رضی اللہ عنہا کے ایک برتن (مخضب) میں بٹھایا، پھر ہم ان مشکیزوں کا پانی آپ پر انڈیلتے رہے، یہاں تک کہ آپ ہمیں ہاتھ سے اشارہ کرنے لگے کہ اب بس کرو۔ عائشہ کہتی ہیں: پھر آپ کو اپنے جسم میں ہلکا پن محسوس ہوا، تو آپ لوگوں کی طرف نکلے" (60) (دو آدمیوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے)" (61) "ان میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے" (62) "گویا میں آپ کے پاؤں کو دیکھ رہی ہوں جو (تکلیف کی وجہ سے) زمین پر لکیر ڈال رہے تھے" (63) (64) "اور ابوبکر لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے" (65) (یہاں تک کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے" (66) (جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے ابوبکر کو تسبیح (یعنی توجہ دلانے کے لیے) کی" (67) (پس ابوبکر نے پیچھے ہٹنا چاہا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، پھر فرمایا:" (68) "مجھے ان کے پہلو میں بٹھاؤ" – چنانچہ انہوں نے آپ کو بٹھایا" (69) "ابوبکر کے بائیں جانب۔ پس ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے رہے، اور رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے، ابوبکر رسول اللہ ﷺ کی نماز کی پیروی کرتے تھے" (70) "اور لوگوں کو تکبیر سناتے تھے" (71) "اور لوگ ابوبکر کی نماز کی پیروی کرتے تھے" (72)۔

(راوی عبیداللہ کہتے ہیں:) "پھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا: کیا میں آپ کو وہ کچھ نہ بتاؤں جو عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے نبی ﷺ کی بیماری کے بارے میں بیان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ضرور بتاؤ۔ چنانچہ میں نے انہیں عائشہ کی حدیث سنائی، تو انہوں نے اس میں سے کسی چیز کا انکار نہیں کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے پوچھا: کیا عائشہ نے تمہیں اس شخص کا نام بتایا تھا جو عباس کے ساتھ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے" (73)۔

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (خ) صحیح البخاری:655 (م) صحیح مسلم:418 — عائشہ رضی اللہ عنہا کا عبیداللہ کو حدیث سنانے کا وعدہ۔

(2) (م) صحیح مسلم:418 — نبی ﷺ کو پہلی بار میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیماری کا آغاز ہوا۔

(3) (حم) مسند أحمد:25883 (شیخ شعیب: إسناده حسن) — عائشہ کا دروازے پر گاؤ تکیہ رکھنا اور سر باندھنا۔

(4) (لغوی تشریح) — "البقيع" = مدینہ میں مسلمانوں کا قبرستان۔

(5) (حم) مسند أحمد:25950 (شیخ شعیب: حديث حسن) — نبی ﷺ کا بقیع سے جنازے کے بعد واپس آنا۔

(6) (حم) مسند أحمد:25883 — آپ ﷺ کا عائشہ کے پاس سے گزرنا۔

(7) (جة) سنن ابن ماجہ:1465 (خ) صحیح البخاری:5342 — عائشہ کا "وارأساه" کہنا۔

(8) (حم) مسند أحمد:25883 — نبی ﷺ کا پوچھنا: "اے عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟"

(9) (حم) مسند أحمد:25950 — عائشہ کا سر میں درد کا بتانا۔

(10) (جة) سنن ابن ماجہ:1465  (خ) صحیح البخاری:5342 — نبی ﷺ کا فرمان کہ اگر عائشہ پہلے مر جاتیں تو آپ انہیں غسل، کفن، نماز اور دفن کرتے۔

(11) (خ) صحیح البخاری:5342 — استغفار اور دعا کا ذکر۔

(12) (جة) سنن ابن ماجہ:1465 — دفن کرنے کا ذکر۔

(13) (حم) مسند أحمد:25156 (انظر تلخیص أحکام الجنائز) ص99 — عائشہ کا غیرت سے جواب دینا۔

(14) (خ) صحیح البخاری:5342 — عائشہ کا کہنا: "مجھے یقین ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں"

(15) (حم) مسند أحمد (می) سنن الدارمی (خ) صحیح البخاری 25950 80 5342 — نبی ﷺ کا مسکرانا۔

(16) (خ) صحیح البخاری:5342 — نبی ﷺ کا ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلانے کا ارادہ۔

(17) (م) صحیح مسلم:2387 (خ) صحیح البخاری: 5342 — کتاب (وصیت) لکھنے کا ارادہ۔

(18) (م) صحیح مسلم:2387  (خ) صحیح البخاری: 5342 — آپ ﷺ کا ڈر کہ کوئی خلافت کا دعویٰ کرے گا۔

(19) (خ) صحیح البخاری:6791 — عائشہ کا جواب دینا۔

(20) (م) صحیح مسلم:2387 (حم) مسند أحمد:25156 — عائشہ کا کہنا: "اللہ اور مومنین ابوبکر کے سوا کسی کو پسند نہیں کریں گے"

(21) (حم) مسند أحمد 25950 — بیماری کا آغاز ہونا۔

(22) (خ) صحیح البخاری 195 — شدید تکلیف کا ذکر۔

(23) (خ) صحیح البخاری:5322 (م) صحیح مسلم:2570 (جة) سنن ابن ماجہ:1622  (حم) مسند أحمد:25520 — عائشہ کا کہنا: کسی کو نبی ﷺ سے زیادہ تکلیف میں نہیں دیکھا۔

(24) تشریح:– "غَبَطْتُ" کا معنی: کسی کی نعمت کو دیکھ کر اس کی مثل چاہنا اور اسے دوام کی تمنا کرنا۔(تحفۃ الأحوذی:ج3 ص37)

(25) (ت) جامع الترمذی:979 (انظر مختصر الشمائل:325) — عائشہ کا کسی کو آسان موت پر حسد نہ کرنا۔

(26) (خ) صحیح البخاری:4181 (س) سنن النسائی:1830 — عائشہ کا کسی کے لیے موت کی شدت کو ناپسند نہ کرنا۔

(27) تشریح: — اس کا مطلب یہ ہے کہ موت کی شدت کوئی بری علامت نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی ﷺ پہلے اس سے محفوظ ہوتے۔(تحفۃ الأحوذی:ج3 ص37)

(28) (ت) جامع الترمذی:979 (خ) صحیح البخاری:4181 — عائشہ کا نبی ﷺ کی موت کی شدت دیکھنے کا ذکر۔

(29) (خ) صحیح البخاری:3563 — نبی ﷺ کا اپنی بیویوں کے درمیان گھومنا۔

(30) (خ) صحیح البخاری:553 — نبی ﷺ کا "آج میں کہاں ہوں؟ کل میں کہاں ہوں؟" کہنا۔

(31) (خ) صحیح البخاری:3563 — عائشہ کے دن کا انتظار کرنا اور اس کے گھر کی خواہش۔

(32) (حم) مسند أحمد:25883 — عائشہ کے دن آپ ﷺ کا ٹھہرنا۔

(33) (حم) مسند أحمد:24107 (خ) صحیح البخاری:195، 4178 — نبی ﷺ کا عباس اور دوسرے شخص کا سہارا لے کر آنا، پاؤں کا زمین پر لکیر ڈالنا۔

(34) (خ) صحیح البخاری:634 — عائشہ کے گھر میں داخل ہونا۔

(35) (د) سنن أبی داود:2137 (حم) مسند أحمد:25883 — بیویوں کو بلانے کا پیغام۔

(36) (خ) صحیح البخاری:634 — نبی ﷺ کا بیویوں سے کہنا کہ میں تمہارے درمیان نہیں گھوم سکتا، مجھے عائشہ کے پاس رہنے دو۔

(37) (د) سنن أبی داود:2137 (خ) صحیح البخاری:634 (حم) مسند أحمد:25883  — بیویوں سے اجازت طلب کرنا۔

(38) (خ) صحیح البخاری:2448 — عائشہ کا آپ سے پہلے کسی کو تیمارداری نہ کرنا۔

(39) (حم) مسند أحمد:25883 — بیویوں کا اجازت دینا۔

(40) (خ) صحیح البخاری:4185 — نبی ﷺ کا جہاں چاہیں رہنا۔

(41) (خ) صحیح البخاری:5403 — معمر کا کہنا: نبی ﷺ اپنے ہاتھوں پر دم کرتے پھر چہرے پر مسح کرتے تھے۔

(42) (خ) صحیح البخاری:4175 — نبی ﷺ کا اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم کرنا۔

(43) (حم) مسند أحمد:24149 (جة) سنن ابن ماجہ:1618 (شیخ شعیب: إسناده صحيح) — عائشہ کا نبی ﷺ کے دم کو کشمش کھانے والے سے تشبیہ دینا۔

(44) (خ) صحیح البخاری:4175 — آخری بیماری کا ذکر۔


(45) (خ) صحیح البخاری:4728 — عائشہ کا نبی ﷺ پر معوذات پڑھنا۔


(46) (خ) صحیح البخاری:4175 — معوذات کا ذکر۔


(47) (م) صحیح مسلم:2192  — عائشہ کا نبی ﷺ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے زیادہ بابرکت قرار دینا۔


(48) (خ) صحیح البخاری:633 — نماز کا وقت اور اذان۔

(49) (خ) صحیح البخاری:681 — بلال رضی اللہ عنہ کا آنا۔

(50) (لغوی تشریح) — "المِخْضَب" = وہ برتن جس میں دھویا جاتا ہے، چھوٹا ہو یا بڑا۔

(51) (لغوی تشریح) — "ناءَ" کا معنی: اٹھا اور کھڑا ہوا۔

(52) (خ) صحیح البخاری:655 (م) صحیح مسلم:418 — غسل کی تین بار کوشش اور بےہوشی کا ذکر، لوگوں کا مسجد میں انتظار کرنا۔

53) (حم) مسند أحمد:24107 (خ) صحیح البخاری:650 (م) صحیح مسلم:418 — نبی ﷺ کا عمر کی آواز پہچاننا اور ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم۔


(54) (خ) صحیح البخاری:647 — عائشہ کا ابوبکر کے رونے والے ہونے کا ذکر۔


(55) (خ) صحیح البخاری:681 — عائشہ کا عمر کو نماز پڑھانے کا مشورہ۔


(56) (خ) صحیح البخاری:684 (م) صحیح مسلم:418 (ت) جامع الترمذی:3672 — حفصہ کا عائشہ کے مشورے پر نبی ﷺ سے کہنا اور آپ ﷺ کا "تم یوسف کی ساتھیوں کی طرح ہو" کہنا۔


(57) (خ) صحیح البخاری:655 (م) صحیح مسلم:418 — ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم بھیجنا۔


(58) (خ) صحیح البخاری:4180 (م) صحیح مسلم:418 — عائشہ کا نبی ﷺ سے بارہا گفتگو کرنا اور اس کی وجہ بیان کرنا۔


(59) (خ) صحیح البخاری:4178 — نبی ﷺ کا سات مشکیزوں کا پانی منگوانا اور غسل کرنا۔


(60) (خ) صحیح البخاری:633 — آپ ﷺ کا دو آدمیوں کے سہارے نکلنا۔


(61) (خ) صحیح البخاری:655، (م) صحیح مسلم:418 — ان میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ کا ہونا۔


(62) (خ) صحیح البخاری:633 — عائشہ کا آپ کے پاؤں کو زمین پر لکیر ڈالتے ہوئے دیکھنا۔


(63) (خ) صحیح البخاری:681 — تکلیف کی وجہ سے پاؤں کا لکیر ڈالنا۔


(64) (خ) صحیح البخاری:633 — ابوبکر کا ظہر کی نماز پڑھانا۔


(65) (خ) صحیح البخاری:655، (م) صحیح مسلم:418 — مسجد میں داخل ہونا۔


(66) (خ) صحیح البخاری:681 — لوگوں کا نبی ﷺ کو دیکھ کر ابوبکر کو تسبیح کرنا۔


(67) (جة) سنن ابن ماجہ:1235، (حم) مسند أحمد:3355 (شیخ شعیب: إسناده صحيح) — ابوبکر کا پیچھے ہٹنا اور نبی ﷺ کا اشارہ کہ اپنی جگہ پر رہو۔


(68) (خ) صحیح البخاری:633، (م) صحیح مسلم:418 — نبی ﷺ کا ابوبکر کے بائیں جانب بٹھایا جانا۔


(69) (خ) صحیح البخاری:681، (م) صحیح مسلم:418 — ابوبکر کا کھڑے ہو کر اور نبی ﷺ کا بیٹھ کر نماز پڑھانا۔


(70) (خ) صحیح البخاری:680 — ابوبکر کا نبی ﷺ کی پیروی کرنا۔

(71) (خ) صحیح البخاری:681، (س) سنن النسائی:833، (جة) سنن ابن ماجہ:1232،  (حم) مسند أحمد:25918 — لوگوں کا ابوبکر کی پیروی کرنا۔


(72) (خ) صحیح البخاری:655، (م) صحیح مسلم:418، (س) سنن النسائی:834 — عبیداللہ کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث سنانا اور علی رضی اللہ عنہ کا نام بتانا۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص119]


---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی آخری بیماری کا آغاز اور آپ کا عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی خواہش

· آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے درمیان گھومتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی خواہش ظاہر کی، اور آخر کار انہیں اجازت مل گئی کہ وہ عائشہ کے گھر میں رہیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی بیویوں کے ساتھ بہت شفیق اور نرم مزاج تھے، اور ان کی مرضی کا خیال رکھتے تھے۔

2. نبی ﷺ کا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا اصرار

· عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہر ممکن کوشش کے باوجود کہ وہ اس حکم کو عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پھیر دیں، آپ ﷺ نے ہر بار ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام لیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی نظر میں خلافت اور امامت کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔
· آپ ﷺ کا یہ اصرار دراصل خلافت کی طرف اشارہ تھا، اگرچہ آپ نے صریحاً کوئی وصیت نہیں کی۔

3. عائشہ رضی اللہ عنہا کا ابوبکر کے بارے میں خیال اور اس کی اصلاح

· عائشہ رضی اللہ عنہا کو ڈر تھا کہ لوگ ابوبکر کی امامت کو منحوس سمجھیں گے، اس لیے انہوں نے بارہا نبی ﷺ سے درخواست کی کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں۔
· لیکن نبی ﷺ نے انہیں "یوسف کی ساتھیوں کی طرح" قرار دے کر ان کی مخالفت کی اور اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا مشورہ قابلِ قدر ہے، لیکن نبوی فیصلہ عین حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

4. موت کی شدت اور اس کا فلسفہ

· عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے کسی کو نبی ﷺ سے زیادہ تکلیف میں نہیں دیکھا۔
· لیکن انہوں نے اس شدت کو کوئی بری علامت نہیں سمجھا، بلکہ یہ ثابت کیا کہ موت کی شدت انسان کے مقام کی دلیل نہیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے، اور یہ ان کی عظمت میں کمی نہیں۔

5. نبی ﷺ کا مسجد میں آخری بار آنا اور ابوبکر کی امامت

· آپ ﷺ نے شدید تکلیف کے باوجود غسل کیا اور دو آدمیوں کے سہارے مسجد گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں جانب بیٹھ کر نماز پڑھی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی نماز کی اہمیت کو برقرار رکھا اور امت کو امامت کی تعلیم دی۔

6. ابن عباس رضی اللہ عنہما کا علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی کی تصدیق

· ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس شخص کی شناخت (جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا) کو علی رضی اللہ عنہ قرار دیا، جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں مبہم تھا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی آخری وقت میں موجود تھے، اور ان کا صحابہ میں بلند مقام تھا۔

7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں خیبر کا واقعہ، زہر، اور شہادت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس شہادت کے آخری لمحات، نماز کی امامت، اور خلافت کی طرف اشارہ ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات کے واقعات کو مکمل کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 5
عنوان: نبی ﷺ کا شہدائے احد پر آٹھ سال بعد نمازِ جنازہ پڑھنا اور آخری وعظ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (" خَرَجَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى) (١) (قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ) (٢) (صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ) (٣) (ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ) (٤) (فَقَالَ: إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ , وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ , وَإِنَّ مَوْعِدَكُمْ الْحَوْضُ) (٥) (وَإِنِّي وَاللهِ) (٦) (لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ) (٧) (الْآنَ) (٨) (مِنْ مَقَامِي هَذَا) (٩) (وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ) (١٠) (وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ) (١١) (أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي) (١٢) (وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا) (١٣) (أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا وَتَقْتَتِلُوا , فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ") (١٤) (قَالَ عُقْبَةُ: فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١٥) (عَلَى الْمِنْبَرِ) (١٦). 
_________ 
ترجمہ:
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن (باہر) نکلے اور آپ نے (1) شہدائے احد پر آٹھ سال بعد (2) نمازِ جنازہ (صلوٰۃ علی المیت) پڑھی (3)۔

پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گئے گویا (اس موقع پر) زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے تھے (4)، اور فرمایا:

'بیشک میں تم سے پہلے (حوضِ کوثر پر) پہنچنے والا ہوں، اور میں تم پر گواہ ہوں، اور تمہارے (مجھ سے) ملنے کا وعدہ حوض (کوثر) ہے (5)۔**

'اور میں اللہ کی قسم! (6) **اس (حوض) کو ابھی (7) اس وقت (8) اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں (9)۔'

'اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں (10)۔**

'اور میں تم پر اس بات کا خوف نہیں رکھتا (11) کہ تم میرے بعد شرک کرو گے (12)، لیکن مجھے تم پر دنیا کا خوف ہے (13) (کہ) تم اس میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے اور آپس میں قتال کرو گے، پس تم ہلاک ہو جاؤ گے جیسے تم سے پہلے (لوگ) ہلاک ہوئے تھے (14)۔'

(راوی عقبہ بن عامر کہتے ہیں:) 'یہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آخری (بار) دیکھنا تھا' (15) (16)۔"

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (خ) صحیح البخاری:3401 (م) صحیح مسلم:2296 — نبی ﷺ کا شہدائے احد پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا ذکر۔

(2) (خ) صحیح البخاری:3816 — شہدائے احد پر آٹھ سال بعد نمازِ جنازہ پڑھنا۔

(3) (خ) صحیح البخاری:3401 (م) صحیح مسلم:2296 — آپ ﷺ کا نمازِ جنازہ پڑھنا۔

(4) (م) صحیح مسلم:2296 — آپ ﷺ کا منبر پر جانا اور زندوں اور مردوں کو الوداع کہنا۔

(5) (خ) صحیح البخاری:3816 (م) صحیح مسلم:2296 — حوضِ کوثر کا ذکر اور آپ ﷺ کا پہلے پہنچنے والا ہونا۔

(6) (خ) صحیح البخاری:3401 — آپ ﷺ کا "واللہ" کہہ کر قسم کھانا۔

(7) (خ) صحیح البخاری:3816 — آپ ﷺ کا حوض کو دیکھنا۔

(8) (خ) صحیح البخاری:3401 — "الآن" (ابھی) کا لفظ۔

(9) (خ) صحیح البخاری:3816 (م) صحیح مسلم:2296 — آپ ﷺ کا اپنی جگہ سے حوض کو دیکھنا۔

(10) (خ) صحیح البخاری:6062 (م) صحیح مسلم:2296 — زمین کے خزانوں کی کنجیاں دینے کا ذکر۔

(11) (خ) صحیح البخاری:3816 — آپ ﷺ کا اپنی امت پر شرک کا خوف نہ رکھنا۔

(12) (خ) صحیح البخاری:3401 (م) صحیح مسلم:2296 — شرک کا ذکر۔

(13) (خ) صحیح البخاری:3816 (م) صحیح مسلم:2296 — آپ ﷺ کا دنیا کا خوف رکھنا۔

(14) (م) صحیح مسلم:2296 (خ) صحیح البخاری:3401 (حم) مسند أحمد:17382 — دنیا میں مسابقت، قتال، اور پہلے لوگوں کی طرح ہلاکت کا ذکر۔

(15) (خ) صحیح البخاری:3816 (م) صحیح مسلم:2296 — عقبہ کا کہنا کہ یہ آخری بار نبی ﷺ کو منبر پر دیکھنا تھا۔

(16) (م) صحیح مسلم:2296 — منبر پر آخری نگاہ کا ذکر۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص120]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. شہدائے احد پر آٹھ سال بعد نمازِ جنازہ

· نبی ﷺ نے شہدائے احد پر جنگ کے آٹھ سال بعد (فتح مکہ کے بعد) نمازِ جنازہ پڑھی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہداء پر نمازِ جنازہ پڑھنا جائز ہے، اور یہ ان کی شان و عظمت کے اظہار کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
· اگرچہ شہداء کو غسل اور کفن کی ضرورت نہیں (کیونکہ وہ زندہ ہیں)، لیکن نبی ﷺ نے ان پر نماز پڑھ کر ان کی فضیلت کو اجاگر کیا۔

2. آپ ﷺ کا منبر پر جانا اور الوداعی خطاب

· آپ ﷺ منبر پر اس طرح تشریف لے گئے جیسے زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی وفات کا علم تھا، اور یہ آپ کا آخری خطبہ یا آخری وعظ تھا۔

3. حوضِ کوثر کا ذکر اور آپ ﷺ کا اسے دیکھنا

· آپ ﷺ نے فرمایا: "إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ" – میں تم سے پہلے (حوض پر) پہنچنے والا ہوں۔
· آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ اپنی جگہ سے حوض کو دیکھ رہے ہیں، جو آپ کے غیبی علم اور نبوت کی دلیل ہے۔
· حوضِ کوثر قیامت کے دن نبی ﷺ کی امت کے لیے ایک عظیم نعمت ہے، جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔

4. زمین کے خزانوں کی کنجیاں

· آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں زمین کے خزانوں کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو دنیا کی سلطنت اور دولت کا اختیار دیا تھا، لیکن آپ نے اسے قبول کرنے کے بجائے آخرت کو ترجیح دی۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انبیاء دنیا کے طلبگار نہیں ہوتے، بلکہ وہ آخرت کے خواہاں ہوتے ہیں۔

5. شرک کا خوف نہ ہونا

· آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ کو اپنی امت پر شرک کا خوف نہیں، کیونکہ توحید کا عقیدہ ان کے دلوں میں راسخ ہو چکا تھا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین شرک سے محفوظ رہیں گے، اور ان کا ایمان مضبوط تھا۔

6. دنیا کا خوف اور اس کا فتنہ

· آپ ﷺ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف دنیا (مال و دولت اور اس کی کشش) کا تھا۔
· آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگ دنیا میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے اور آپس میں قتال کریں گے، جس کی وجہ سے وہ پہلے لوگوں کی طرح ہلاک ہو جائیں گے۔
· یہ آپ ﷺ کی پیشین گوئی تھی جو بعد میں امت کے مختلف حصوں میں (خاص طور پر خلافت کے بعد کے ادوار میں) پوری ہوئی۔

7. عقبہ بن عامر کا آخری بار نبی ﷺ کو دیکھنا

· عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ ان کی آخری نظر تھی جو انہوں نے نبی ﷺ پر منبر پر ڈالی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپ ﷺ زیادہ دن زندہ نہیں رہے، اور یہ آپ کا آخری خطاب تھا۔

8. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی آخری بیماری، عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ کا آخری وعظ، حوضِ کوثر کا ذکر، اور دنیا کے فتنے کا بیان ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات سے پہلے کے آخری ایام کے واقعات کو مکمل کرتی ہیں۔

9. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · دنیا کی محبت اور اس کا فتنہ سب سے بڑا خطرہ ہے، اس لیے ہمیں دنیا کی کشش سے بچنا چاہیے۔
  · حوضِ کوثر پر ایمان رکھیں اور اس کے پانی کی تمنا کریں۔
  · نبی ﷺ کا آخری وعظ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے، اس پر عمل کریں۔
  · شرک سے بچنے کے لیے توحید کا عقیدہ مضبوط کریں، اور دنیا کے فتنوں سے بچنے کے لیے زہد و قناعت اختیار کریں۔

---

واللہ أعلم بالصواب





حدیث نمبر 6 
عنوان: نبی ﷺ کا آخری خطبہ – (ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور انصار کی وصیت)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: (" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ) (١) (مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكِبَيْهِ , قَدْ عَصَبَ رَأسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ ") (٢) (فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بَيْنَهُمْ , فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ) (٣) (فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ) (٤) (- وَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ - فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِلَيَّ " , فَثَابُوا إِلَيْهِ) (٥) (" فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:) (٦) (إِنَّ اللهَ خَيَّرَ عَبْدًا) (٧) (بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ , وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ) (٨) (فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللهِ " , فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ - رضي الله عنه -) (٩) (وَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , بَلْ نَفْدِيكَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلَادِنَا) (١٠) (فَعَجِبْنَا لِبُكَائِهِ) (١١) (وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ , يُخْبِرُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ , وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا) (١٢) (" فَكَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - هُوَ الْعَبْدَ) (١٣) (الْمُخَيَّرَ " , وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا) (١٤) (بِمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١٥) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " يَا أَبَا بَكْرٍ لَا تَبْكِ) (١٦) (إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ) (١٧) وفي رواية: (مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ , إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ , مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ , فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِئُهُ اللهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ ") (١٨) (فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: هَلْ أَنَا وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟) (١٩) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلَّتِهِ , وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا) (٢٠) (مِنْ النَّاسِ خَلِيلًا , لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا) (٢١) (وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي , وَقَدْ اتَّخَذَ اللهُ - عز وجل - صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا) (٢٢) (لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ بَابٌ إِلَّا سُدَّ , إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ) (٢٣) (ثُمَّ قَالَ: أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ , فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي , وَقَدْ قَضَوْا الَّذِي عَلَيْهِمْ , وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ) (٢٤) وفي رواية: (وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ) (٢٥) (وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ , وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ , حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ) (٢٦) (فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم - فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرُّ فِيهِ أَحَدًا , أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا , فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ , وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ) (٢٧) (قَالَ: فَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَ بِهِ النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم -) (٢٨). 
_________ 
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس بیماری میں (جس میں آپ کا انتقال ہوا) ہمارے پاس تشریف لائے" (1) ، ایک چادر اپنے دونوں کندھوں پر لپیٹے ہوئے، اور اپنے سر پر ایک چکنی پٹی باندھے ہوئے تھے (2)۔

پھر انصار (صحابہ) آپ کے استقبال کے لیے (آپ کے گرد) جمع ہو گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں' (3)۔

پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے (4) – اور یہ آپ کی آخری مجلس تھی جو آپ نے (صحابہ کے ساتھ) کی – تو آپ ﷺ نے فرمایا: 'اے لوگو! میرے پاس آؤ' – چنانچہ وہ آپ کے پاس جمع ہو گئے (5)۔

"پھر آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:" (6)

'بیشک اللہ نے ایک بندے کو" (7) "دنیا کی رونق (زہرۃ الدنیا) میں سے جو چاہے اسے دینے اور جو اس (اللہ) کے پاس ہے، اس کے درمیان اختیار دیا" (8) "تو اس نے وہ چیز انتخاب کی جو اللہ کے پاس ہے" – پس ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے (9) اور کہا: 'میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، بلکہ ہم آپ کو اپنے مالوں، جانوں اور اولادوں سے فدیہ دیں گے' (10)۔

(ابو سعید کہتے ہیں:) "ہم ان کے رونے پر حیران ہوئے" (11) اور لوگوں نے کہا: 'اس بوڑھے کو دیکھو! رسول اللہ ﷺ ایک بندے کے بارے میں بتا رہے ہیں جسے اللہ نے دنیا کی رونق اور جو اس کے پاس ہے، اس کے درمیان اختیار دیا، اور وہ کہہ رہے ہیں: ہم آپ کو اپنے باپوں اور ماؤں سے فدیہ دیں گے' (12)۔

"پس رسول اللہ ﷺ ہی وہ بندے تھے" (13) "جنہیں (دنیا اور آخرت کے درمیان) اختیار دیا گیا تھا، اور ابوبکر ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے" (14) "اس بات کو جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا" (15)۔

"پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 'اے ابوبکر! مت روؤ" (16) 'بیشک لوگوں میں سے کوئی ایسا نہیں جس نے مجھ پر اپنی جان اور مال کے ساتھ ابوبکر بن ابی قحافہ سے زیادہ احسان کیا ہو' (17)۔

اور ایک روایت میں ہے:
"ہمارے پاس کسی کا کوئی احسان نہیں مگر ہم نے اس کا بدلہ چکا دیا، سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے پاس ایسا احسان ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں دے گا، اور مجھے کسی کے مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے" (18)۔

پس ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور کہا: 'کیا میں اور میرا مال آپ کے سوا کسی اور کے لیے ہے، یا رسول اللہ؟' (19)۔

پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"سنو! میں ہر خلیل (دوست) سے اپنی خلّت (دوستی) کو بری کرتا ہوں، اور اگر میں لوگوں میں سے کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا" (20) "تو میں ابوبکر کو خلیل بناتا" (21) "لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں، اور اللہ عزوجل نے تمہارے ساتھی (یعنی مجھے) کو خلیل بنا لیا ہے" (22) "مسجد میں کوئی دروازہ نہیں رہنا چاہیے مگر اسے بند کر دیا جائے، سوائے ابوبکر کے دروازے کے" (23)۔

"پھر آپ ﷺ نے فرمایا: 'میں تمہیں انصار کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ وہ میرے پیٹ (خاص رشتہ) اور میرے رازدار ہیں، اور انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، اور جو ان کا حق ہے وہ باقی ہے' (24) اور ایک روایت میں ہے: 'اور جو تم پر (حق) ہے وہ باقی ہے' (25)۔

"اور لوگ بڑھیں گے اور انصار کم ہوں گے، یہاں تک کہ وہ لوگوں میں نمک کی مانند ہو جائیں گے جو کھانے میں (اس کی مقدار) ہوتی ہے" (26)۔

"پس جو شخص امتِ محمد ﷺ کی کسی چیز کا والی (ذمہ دار) بنے، اور وہ اس میں کسی کو نقصان یا نفع پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ ان (انصار) کے نیک لوگوں کو قبول کرے اور ان کے بدکاروں سے درگزر کرے" (27)۔

(راوی کہتے ہیں:) "یہ آخری مجلس تھی جس میں نبی ﷺ (صحابہ کے ساتھ) بیٹھے" (28)۔

---

حواشی وحوالہ جات:

1 (حم) مسند أحمد (خ) صحیح البخاری 11881 455 نبی ﷺ کا آخری مرض میں صحابہ کے پاس آنا۔
2 (خ) صحیح البخاری (حم) مسند أحمد 885 2074 آپ ﷺ کا چادر لپیٹے اور سر پر پٹی باندھے ہوئے آنا۔
3 (حم) مسند أحمد (حب) صحیح ابن حبان (البانی: الصحيحة) 12973 7271 916 آپ ﷺ کا انصار سے محبت کا اظہار۔
4 (خ) صحیح البخاری (حم) مسند أحمد 455 2432 منبر پر تشریف فرما ہونا۔
5 (خ) صحیح البخاری 885 لوگوں کو اپنی طرف بلانا اور ان کا جمع ہونا۔
6 (خ) صحیح البخاری (حم) مسند أحمد 455 2432 حمد و ثنا کے بعد خطبہ دینا۔
7 (خ) صحیح البخاری 454 ایک بندے کا ذکر۔
8 (خ) صحیح البخاری 3691 دنیا کی رونق اور اللہ کے پاس والی چیز کے درمیان اختیار۔
9 (خ) صحیح البخاری 454 ابوبکر رضی اللہ عنہ کا رونا۔
10 (حم) مسند أحمد (خ) صحیح البخاری (ت) جامع الترمذی 11881 3691 3660 ابوبکر کا اپنے والدین، مال، جان اور اولاد کو نبی ﷺ پر قربان کرنے کا اظہار۔
11 (خ) صحیح البخاری 3454 صحابہ کا ابوبکر کے رونے پر حیران ہونا۔
12 (خ) صحیح البخاری (ت) جامع الترمذی 3691 3660 لوگوں کا ابوبکر کے قول پر تبصرہ۔
13 (خ) صحیح البخاری 454 نبی ﷺ کا خود وہ بندہ ہونا۔
14 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 3454 2 - (2382) ابوبکر کا سب سے زیادہ جاننے والا ہونا۔
15 (ت) جامع الترمذی (حم) مسند أحمد (شیخ شعیب: صحيح لغيره) 3659 15964 ابوبکر کا نبی ﷺ کے قول کو سمجھنا۔
16 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 454 2 - (2382) نبی ﷺ کا ابوبکر کو رونے سے منع کرنا۔
17 (خ) صحیح البخاری (حم) مسند أحمد 455 2432 ابوبکر کا سب سے زیادہ احسان کرنے والا ہونا۔
18 (ت) جامع الترمذی (جة) سنن ابن ماجہ 3661 94 ابوبکر کا احسان جس کا بدلہ اللہ دے گا، اور ان کے مال کا نفع۔
19 (جة) سنن ابن ماجہ (حم) مسند أحمد 94 7439 ابوبکر کا کہنا: "کیا میں اور میرا مال آپ کے سوا کسی اور کے لیے ہے؟"
20 (جة) سنن ابن ماجہ (م) صحیح مسلم (ت) جامع الترمذی 93 7 - (2383) 3655 نبی ﷺ کا ہر خلیل سے برائت کا اظہار۔
21 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم (حم) مسند أحمد 455 7 - (2383) 2432 نبی ﷺ کا کہنا کہ اگر وہ کوئی خلیل بناتے تو ابوبکر کو بناتے۔
22 (م) صحیح مسلم (ت) جامع الترمذی (حم) مسند أحمد 3 - (2383) 3655 4182 نبی ﷺ کا ابوبکر کو بھائی اور ساتھی قرار دینا، اور اللہ کا نبی کو خلیل بنانا۔
23 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم (ت) جامع الترمذی (حم) مسند أحمد 454 2 - (2382) 3660 11150 مسجد کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔
24 (خ) صحیح البخاری (حم) مسند أحمد 3588 12973 انصار کی وصیت، ان کا پیٹ اور رازدار ہونا۔
25 (حم) مسند أحمد (حب) صحیح ابن حبان 12973 7271 دوسری روایت: "اور جو تم پر (حق) ہے وہ باقی ہے"
26 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم (ت) جامع الترمذی 3429 176 - (2510) 3907 انصار کا لوگوں میں نمک کی مانند ہونا۔
27 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم (ت) جامع الترمذی (حم) مسند أحمد 885، 3589 176 - (2510) 3907 13906 انصار کے نیک کو قبول کرنے اور بدکار سے درگزر کرنے کی وصیت۔
28 (خ) صحیح البخاری 3429 یہ نبی ﷺ کی آخری مجلس تھی۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص121]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کا آخری خطبہ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بصیرت

· نبی ﷺ نے ایک بندے کا ذکر کیا جسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا، اور اس نے آخرت کو ترجیح دی۔
· ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ خود نبی ﷺ کی طرف اشارہ ہے، اور وہ رو پڑے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ کے الفاظ کی گہری سمجھ تھی، اور وہ صحابہ میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔

2. ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نبی ﷺ کے ساتھ ان کا قریبی تعلق

· نبی ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنا "بھائی" اور "ساتھی" قرار دیا، اور فرمایا کہ اگر وہ کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتے تو ابوبکر کو بناتے۔
· آپ ﷺ نے مسجد کے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر کے دروازے کے، جو ان کی خاص قربت اور فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔

3. ابوبکر کا نبی ﷺ پر احسان اور اس کا اعتراف

· نبی ﷺ نے فرمایا: "مَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ" – کسی کے مال نے مجھے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی راہ میں اپنا تمام مال خرچ کر دیا تھا، اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔

4. انصار کی فضیلت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت

· نبی ﷺ نے انصار کو اپنا "پیٹ" اور "رازدار" قرار دیا، اور فرمایا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے۔
· آپ ﷺ نے حاکموں کو وصیت کی کہ وہ انصار کے نیک لوگوں کو قبول کریں اور بدکاروں سے درگزر کریں۔
· انصار کو نمک سے تشبیہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ معاشرے میں اہم اور ناگزیر ہیں، اور ان کی کمی سے پوری امت متاثر ہوگی۔

5. دنیا کی رونق اور آخرت کا انتخاب

· نبی ﷺ نے دنیا کی رونق (زہرۃ الدنیا) کے مقابلے میں آخرت کا انتخاب کیا، جو آپ کی زہد و قناعت اور آخرت پرستی کا مظہر ہے۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی عارضی کشش کے بجائے آخرت کی دائمی نعمتوں کو ترجیح دی جائے۔

6. آخری مجلس کی اہمیت

· یہ نبی ﷺ کی آخری مجلس تھی جس میں آپ نے صحابہ کو خطاب فرمایا۔
· اس مجلس میں آپ نے ابوبکر کی خلافت کی طرف اشارہ کیا اور انصار کی وصیت فرمائی، جو امت کے لیے ایک اہم رہنما اصول ہے۔

---

واللہ أعلم بالصواب








حدیث نمبر 7

عنوان: یوم الخمیس کا واقعہ – نبی ﷺ کی وصیت اور صحابہ کا اختلاف

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ: (يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ , ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى , فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ , فَقَالَ: " اشْتَدَّ (١) بِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَجَعُهُ (٢)) (٣) (يَوْمَ الْخَمِيسِ ") (٤) (- وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه -) (٥) (فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " ائْتُونِي بِاللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ") (٦) (فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَدْ غَلَبَهُ الْوَجَعُ (٧) وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللهِ حَسْبُنَا) (٨) (فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا , مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ , فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -) (٩) (- وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ - فَقَالُوا: مَا لَهُ؟ , أَهَجَرَ (١٠)؟ , اسْتَفْهِمُوهُ) (١١) (فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ) (١٢) (فَقَالَ: " قُومُوا) (١٣) (دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ (١٤)) (١٥) (وَأَمَرَهُمْ) (١٦) (عِنْدَ مَوْتِهِ بِثَلَاثٍ , قَالَ: أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ (١٧) وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ (١٨) بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ (١٩) " , وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ (٢٠)) (٢١) (فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: إِنَّ الرَّزِيَّةَ (٢٢) كُلَّ الرَّزِيَّةِ , مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ , لِاخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ (٢٣)) (٢٤). 
_________ 
ترجمہ:

سعید بن جبیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں (ابن عباس) نے فرمایا:

(ابن عباس کہتے ہیں:) "جمعرات کا دن، اور جمعرات کا دن کیا ہے؟"

پھر وہ روئے یہاں تک کہ ان کے آنسوؤں نے کنکریوں کو تر کر دیا۔

میں (سعید بن جبیر) نے کہا: اے ابا عباس! جمعرات کا دن کیا ہے؟

تو انہوں نے کہا:

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف (بیماری) بہت شدید ہو گئی (1) (2) جمعرات کے دن" (3) (4) اور گھر میں کچھ لوگ تھے جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے (5)۔

(ابن عباس کہتے ہیں:) "تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تختی (لوح) اور دوات (روشنائی) لاؤ، میں تمہارے لیے ایک تحریر (وصیت) لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے" (6)۔

تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
"بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف (بیماری) غالب آ گئی ہے (7) اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے، وہ ہمیں کافی ہے" (8)۔

(ابن عباس کہتے ہیں:) "پس گھر والوں میں اختلاف ہو گیا اور وہ آپس میں جھگڑ پڑے – ان میں سے بعض کہنے لگے: قریب لاؤ تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دیں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو، اور بعض وہی کہہ رہے تھے جو عمر نے کہا تھا۔

پھر جب انہوں نے نبی ﷺ کے پاس بہت زیادہ لغو (بےہودہ) اور اختلافی باتیں کیں (9) – اور کسی نبی کے پاس جھگڑا مناسب نہیں – تو کہنے لگے: انہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیا وہ ہذیان (بےہوشی کی باتیں) کہہ رہے ہیں (10) ؟ ان سے پوچھو (کیا واقعی یہی چاہتے ہیں)۔" (11)

(ابن عباس کہتے ہیں:) "پھر وہ آپ پر دوبارہ (وہی بات) دہرانے لگے" (12) تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"اٹھ جاؤ (یعنی مجھے چھوڑ دو) (13) ، مجھے اس حال میں چھوڑ دو جس میں میں ہوں، کیونکہ میں جس (حال) میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو (14) (15)۔"

(ابن عباس کہتے ہیں:) "اور آپ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت تین چیزوں کا حکم دیا" (16) ، فرمایا:

"مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکال دو (17) ، اور وفود کو ویسا ہی انعام دو جیسا میں انہیں دیا کرتا تھا (18) (19) " – اور (راوی) تیسری (وصیت) بھول گیا (20) (21)۔

(ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے:) "بیشک سب سے بڑی مصیبت (22) (یہ تھی کہ) رسول اللہ ﷺ اور ان کے اس تحریر لکھنے کے درمیان جو چیز حائل ہوئی وہ ان کا اختلاف اور شور و غل تھا" (23) (24)۔

---

حواشی وحوالہ جات:

1 (لغوی تشریح) — "اشتد" کا معنی: شدید ہو گیا / قوی ہو گیا۔
2 (لغوی تشریح) — یہ آخری بیماری تھی، اور جمعرات کا دن وفات سے چار دن پہلے تھا۔
3 (خ) صحیح البخاری 2997 نبی ﷺ کی تکلیف کا ذکر۔
4 (خ) صحیح البخاری 2888 جمعرات کے دن کا تعین۔
5 (خ) صحیح البخاری 5345 گھر میں عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر کا موجود ہونا۔
6 (م) صحیح مسلم   (خ) صحیح البخاری 1637   2888 نبی ﷺ کا لوح و دوات منگوانا اور وصیت لکھنے کا ارادہ۔
7 (فتح الباری) – تشریح (ج1 ص182) عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ تحریر (وصیت) میں تطویل ہوگی اور آپ ﷺ پر مشقت ہوگی، اس لیے انہوں نے یہ کہا۔ ان کا مقصد آپ ﷺ کی تکلیف کو دور کرنا تھا، نہ کہ آپ کی مخالفت۔ انہوں نے یہ بھی سوچا کہ قرآن ہمیں کافی ہے: {مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِنْ شَيْءٍ} اور {تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ} ۔
8 (خ) صحیح البخاری 114 عمر کا قول: "حسبنا کتاب اللہ"۔
9 (خ) صحیح البخاری 5345 صحابہ کا اختلاف اور لغو گفتگو۔
10 (فتح الباری) – تشریح (ج12 ص252) "أَهْجَرَ" کا معنی: فحش کلامی / ہذیان۔ یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے یہ کہا: "کیا نبی ﷺ ہذیان کہہ رہے ہیں؟" – حالانکہ یہ محال ہے، کیونکہ آپ ﷺ معصوم ہیں اور ہر حالت میں حق ہی فرماتے ہیں۔ یہ قول کسی نئے مسلمان یا گھبراہٹ کی وجہ سے صادر ہوا ہوگا۔
11 (خ) صحیح البخاری 2997 "استفہموہ" (ان سے پوچھو) کا ذکر۔
12 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده صحيح) 1935 دوبارہ دہرانے کا ذکر۔
13 (خ) صحیح البخاری 5345 آپ ﷺ کا "قوموا" (اٹھ جاؤ) فرمانا۔
14 (فتح الباری) – تشریح (ج12 ص252) ابن جوزی وغیرہ کی تشریح: آپ ﷺ کا فرمان "جس حال میں ہوں وہ بہتر ہے" کے کئی معنی ہیں: (1) جو کرامت اور آخرت میں اللہ نے میرے لیے تیار کی ہے وہ دنیا سے بہتر ہے۔ (2) جو اس وقت میری حالت (مراقبہ اور اللہ کی ملاقات کی تیاری) ہے وہ تمہاری اس بحث سے بہتر ہے۔ (3) جو میں نے تمہیں تحریر کا مشورہ دیا تھا وہ اس سے بہتر ہے کہ تم اسے ترک کرو۔
15 (خ) صحیح البخاری 2888 آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ "دعونی فالذی أنا فیہ خیر..."
16 (خ) صحیح البخاری 2997 آپ ﷺ کا تین چیزوں کا حکم دینا۔
17 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: صحيح لغيره) 26395 عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت: آپ ﷺ کا آخری عہد یہ تھا کہ "جزیرۃ العرب میں دو مذاہب (اسلام اور کفر) نہ رہنے دیئے جائیں"۔
18 (فتح الباری) – تشریح (ج12 ص252) "أَجِيزُوا الْوَفْدَ" کا معنی: وفود کو انعام دو۔ اور نبی ﷺ کے عہد میں ایک شخص کو ایک اوقیہ (چالیس درہم) دیا جاتا تھا۔
19 (خ) صحیح البخاری 2888 وفود کو انعام دینے کا حکم۔
20 (فتح الباری) – تشریح — تیسری وصیت کا ذکر کرنے والے راوی (ابن عیینہ) ہیں، جنہوں نے اسے بھولنے کا اعتراف کیا۔
21 (خ) صحیح البخاری 2888 تیسری وصیت بھول جانے کا ذکر۔
22 (فتح الباری) – تشریح (ج1 ص182) "الرَّزِيَّةُ" کا معنی: مصیبت۔ یعنی اختلاف کی وجہ سے یہ تحریر نہ لکھی جا سکی، جو کہ ایک بہت بڑی مصیبت تھی۔
23 (فتح الباری) – تشریح (ج1 ص182) "اللَّغَطُ" کا معنی: مبہم آوازیں، شور و غل جس کا مفہوم سمجھ نہ آئے۔
24 (خ) صحیح البخاری 4169 ابن عباس کا یہ قول کہ "ان الرزیة کل الرزیة..."

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. یوم الخمیس کا واقعہ – امت کی تاریخ کا ایک اہم موڑ

· یہ واقعہ نبی ﷺ کی وفات سے چار دن پہلے (جمعرات کے روز) پیش آیا۔
· ابن عباس رضی اللہ عنہما اس واقعہ کو یاد کر کے رو پڑے، کیونکہ اس دن ایک بڑی مصیبت پیش آئی جس کی وجہ سے امت کا ایک عظیم فائدہ ہاتھ سے نکل گیا۔

2. نبی ﷺ کا لوح و دوات منگوانا – وصیت لکھنے کا ارادہ

· آپ ﷺ نے ایک تحریر لکھنا چاہی جو امت کو ہمیشہ کے لیے گمراہی سے بچاتی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریری وصیت اور علم کو لکھنا جائز اور مستحب ہے۔

3. عمر رضی اللہ عنہ کا موقف اور ان کی نیت

· عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "حسبنا کتاب اللہ" (ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے)۔
· ان کا مقصد نبی ﷺ پر مشقت نہ ڈالنا تھا، کیونکہ آپ اس وقت شدید تکلیف میں تھے۔
· یہ آپ ﷺ کی محبت اور شفقت کی وجہ سے تھا، نہ کہ مخالفت یا انکار۔

4. صحابہ کا اختلاف اور اس کا وبال

· گھر والوں (صحابہ) میں اختلاف ہو گیا – بعض آپ ﷺ کی بات ماننے کے حق میں تھے، اور بعض عمر رضی اللہ عنہ کے موقف کے ساتھ تھے۔
· اس اختلاف اور شور و غل کی وجہ سے آپ ﷺ نے تحریر لکھنے سے انکار فرما دیا۔
· ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے "سب سے بڑی مصیبت" قرار دیا۔

5. "أَهْجَرَ" کا واقعہ – نبی ﷺ کی معصومیت کا ثبوت

· بعض لوگوں نے (گھبراہٹ یا نئے ایمان کی وجہ سے) کہا: کیا نبی ﷺ ہذیان کہہ رہے ہیں؟
· یہ قول سراسر غلط ہے، کیونکہ نبی ﷺ ہر حالت (خواہ بیماری یا صحت) میں معصوم ہیں اور وحی کے مطابق ہی بات کرتے ہیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں بھی بعض کمزوریاں تھیں، لیکن یہ ان کی گمراہی نہیں بلکہ انسانی کمزوری تھی۔

6. نبی ﷺ کا "قُومُوا" فرمانا – ایک حکیمانہ فیصلہ

· جب صحابہ نے اختلاف کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اٹھ جاؤ، مجھے اس حال میں چھوڑ دو جو اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم بلا رہے ہو۔"
· اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس اختلاف کو دیکھتے ہوئے تحریر کو ترک کر دیا تاکہ فتنہ نہ پھیلے۔
· یہ آپ ﷺ کی حکمت اور امت کی مصلحت کا خیال تھا۔

7. تین وصیتیں – آپ ﷺ کے آخری احکام

آپ ﷺ نے تین چیزیں وصیت کیں:

· (1) مشرکین کو جزیرۃ العرب سے نکالنا – تاکہ توحید کا گہوارہ شرک سے پاک رہے۔
· (2) وفود کو انعام دینا – تاکہ آنے والے وفود کی عزت اور ان کی دلجوئی ہو۔
· (3) تیسری وصیت – راوی (ابن عیینہ) بھول گئے، اس لیے ہمیں معلوم نہیں۔

8. "حسبنا کتاب اللہ" – قرآن کی کامل حیثیت

· عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن ہر معاملے میں مکمل اور کافی ہے۔
· یہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ قرآن و سنت دونوں کامل ہیں، اور نبی ﷺ کی سنت قرآن کی تفسیر ہے۔

9. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی آخری بیماری، ابوبکر کی امامت، اور آخری وعظ کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس آخری بیماری کے دوران پیش آنے والا ایک اہم واقعہ (وصیت کا معاملہ) بیان ہوا ہے۔
· یہ سب ملا کر نبی ﷺ کے آخری ایام کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔

10. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · اختلاف اور جھگڑا بڑی نیکیوں کو ہاتھ سے نکلوا سکتا ہے، اس لیے اختلاف کو احسن طریقے سے حل کریں۔
  · نبی ﷺ کی وصیت اور سنت کو اہمیت دیں اور ان پر عمل کریں۔
  · قرآن و سنت کو سمجھیں اور انہیں اپنی زندگی کا محور بنائیں۔
  · علم کی حفاظت کے لیے اسے لکھیں اور محفوظ کریں۔
  · دوسروں کی نیات کو برا نہ سمجھیں – عمر رضی اللہ عنہ کی نیت محبت اور شفقت تھی، نہ کہ مخالفت۔

---

واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 8
عنوان: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نبی ﷺ کی آخری بیماری میں آنا اور ان سے رازدارانہ گفتگو

(وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: (" لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ") (١) (كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - عِنْدَهُ جَمِيعًا، لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ - رضي الله عنها - تَمْشِي) (٢) (كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مَشْيُ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -) (٣) (" فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - رَحَّبَ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنَتِي، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ) (٤) (ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا " فَبَكَتْ) (٥) (بُكَاءً شَدِيدًا) (٦) (فَقُلْتُ لَهَا: لِمَ تَبْكِينَ؟) (٧) (" فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا , سَارَّهَا الثَّانِيَةَ ") (٨) (فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ , فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُول اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (٩) (" فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " قُلْتُ لَهَا: عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ لَمَا أَخْبَرْتِنِي فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ، " أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ (١٠) كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَإِنَّهُ قَدْ عَارِضُهُ بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ) (١١) (فَقَالَ: وَلَا أُرَاهُ إِلَّا حَضَرَ أَجَلِي) (١٢) (فَاتَّقِي اللهَ وَاصْبِرِي، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ " , قَالَتْ: فَبَكَيْتُ بُكَائِيَ الَّذِي رَأَيْتِ، " فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ) (١٣) (فَقَالَ لِي: " إِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِي لَحَاقًا بِي) (١٤) (وَقَالَ: يَا فَاطِمَةُ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ) (١٥) (أَهْلِ الْجَنَّةِ) (١٦) (إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ؟ ") (١٧) (فَسُرِرْتُ بِذَلِكَ وَأَعْجَبَنِي) (١٨) (فَضَحِكْتُ ضَحِكِي الَّذِي رَأَيْتِ) (١٩). 
_________ 
ترجمہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے" (1) تو ہم (نبی ﷺ کی) تمام بیویاں آپ کے پاس جمع تھیں، ہم میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہی۔

پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں (2) گویا ان کا چلنا نبی ﷺ کے چلنے کی طرح تھا (3)۔

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ نے خوش آمدید کہا اور فرمایا: 'میری بیٹی کو خوش آمدید'، پھر آپ نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھایا" (4)۔

"پھر آپ ﷺ نے ان سے راز میں کوئی بات کی" تو وہ رو پڑیں (5) بہت شدت سے (6)۔

"میں نے ان سے کہا: تم کیوں رو رہی ہو؟" (7) "پھر جب آپ ﷺ نے ان کا رونا دیکھا تو آپ نے ان سے دوسری بار راز میں بات کی" (8) تو وہ ہنس پڑیں۔

پھر میں نے کہا: میں نے آج کے دن جیسی خوشی قریب سے غم کو (بدلتے ہوئے) نہیں دیکھی۔ پس میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے کہا:

"میں رسول اللہ ﷺ کا راز افشا کرنے والی نہیں ہوں" (9)۔

"پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا" تو میں نے ان سے کہا: میں تمہیں اس حق کے ساتھ قسم دیتی ہوں جو تم پر میرا ہے کہ تم مجھے ضرور بتاؤ (کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تھا)۔

تو انہوں نے کہا: اب (آپ کی وفات کے بعد) ہاں (بتا سکتی ہوں)۔

"پہلی بار جب آپ ﷺ نے مجھ سے راز میں بات کی تو آپ نے مجھے بتایا کہ جبریل علیہ السلام ہر سال ایک بار قرآن کا مقابلہ (مدارسہ) کیا کرتے تھے، اور اس سال انہوں نے دو بار مقابلہ کیا ہے" (10) (11) – پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

"اور میں سمجھتا ہوں کہ میری اجل (وفات کا وقت) قریب آ گیا ہے" (12) "پس تم اللہ سے ڈرو اور صبر کرو، کیونکہ میں تمہارے لیے کتنا اچھا پیش رو (سلف) ہوں" – فاطمہ کہتی ہیں: پس میں نے وہ رونا رویا جو تم نے دیکھا۔

"پھر جب آپ ﷺ نے میری جزع (بےصبری) دیکھی تو آپ نے دوسری بار مجھ سے راز میں بات کی" (13) اور فرمایا:

"بیشک تم میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملنے والی ہو" (14) اور فرمایا:

"اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو" (15) (16) "سوائے مریم بنت عمران کے" (17) ؟

"پس میں اس بات سے خوش ہوئی اور یہ بات مجھے بہت پسند آئی" (18) "اور میں وہ ہنسی ہنسی جو تم نے دیکھی" (19)۔

---

حواشی وحوالہ جات

1 (حم) مسند أحمد (شیخ شعیب: إسناده صحيح) 26074 نبی ﷺ کی بیماری کا ذکر۔
2 (خ) صحیح البخاری 5928 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا آنا۔
3 (خ) صحیح البخاری 3426 فاطمہ کا چلنا نبی ﷺ کے چلنے کی مانند۔
4 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 5928 98 - (2450) نبی ﷺ کا فاطمہ کو خوش آمدید کہنا اور انہیں بٹھانا۔
5 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 3426 98 - (2450) پہلی رازدارانہ بات پر فاطمہ کا رونا۔
6 (خ) صحیح البخاری 5928 شدید رونے کا ذکر۔
7 (خ) صحیح البخاری 3426 عائشہ کا فاطمہ سے رونے کی وجہ پوچھنا۔
8 (خ) صحیح البخاری 5928 دوسری رازدارانہ بات پر فاطمہ کا ہنسنا۔
9 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 3426 98 - (2450) فاطمہ کا نبی ﷺ کا راز افشا نہ کرنا۔
10 (النهایۃ فی غریب الحدیث) – تشریح (ج3 ص439) "مُعَارَضَهُ" کا معنی: مقابلہ / مدارسہ، یعنی جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے ساتھ نازل شدہ قرآن کا جائزہ لیتے تھے۔
11 (خ) صحیح البخاری 5928 جبریل کا ہر سال ایک بار اور اس سال دو بار مقابلہ کرنا۔
12 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 3426 97 - (2450) نبی ﷺ کا اپنی اجل قریب ہونے کا اظہار۔
13 (خ) صحیح البخاری 5928 فاطمہ کی جزع دیکھ کر دوسری بار راز میں بات کرنا۔
14 (خ) صحیح البخاری 3426، 3427 (ت) جامع الترمذی 3872 فاطمہ کا اہلِ خانہ میں سب سے پہلے نبی ﷺ سے ملنا۔
15 (خ) صحیح البخاری (م) صحیح مسلم 5928 99 - (2450) فاطمہ کا جنت کی عورتوں کی سردار ہونا۔
16 (خ) صحیح البخاری (ت) جامع الترمذی 3426 3893 جنت کی عورتوں کی سرداری کا ذکر۔
17 (ت) جامع الترمذی (صحیح الجامع) للالبانی (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 3893 3181 796 استثناء: سوائے مریم بنت عمران کے۔
18 (خد) الأدب المفرد للبخاری (انظر صحیح الأدب المفرد) 947 729 فاطمہ کا اس بات پر خوش ہونا۔
19 (م) صحیح مسلم (خ) صحیح البخاری (جة) سنن ابن ماجہ (حم) مسند أحمد 98 - (2450) 5928 1621 26456 فاطمہ کا ہنسنا۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص123]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نبی ﷺ سے قریبی تعلق

· فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی سب سے چھوٹی اور پیاری بیٹی تھیں۔
· ان کا چلنا نبی ﷺ کے چلنے کی مانند تھا، جو ان کی نبی ﷺ سے مشابہت اور قربت کو ظاہر کرتا ہے۔
· نبی ﷺ نے انہیں دیکھ کر خوش آمدید کہا اور انہیں اپنے پاس بٹھایا، جو والدین اور اولاد کے درمیان محبت کا مظہر ہے۔

2. پہلی رازدارانہ بات – نبی ﷺ کی وفات کی خبر اور فاطمہ کا رونا

· نبی ﷺ نے فاطمہ کو بتایا کہ جبریل علیہ السلام نے اس سال قرآن کا دو بار مقابلہ کیا، جبکہ ہر سال ایک بار ہوتا تھا۔
· اس سے آپ ﷺ نے اندازہ لگایا کہ ان کی وفات قریب ہے۔
· فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر رو پڑیں، کیونکہ انہیں اپنے والد کی جدائی کا غم تھا۔

3. دوسری رازدارانہ بات – فاطمہ کی فضیلت اور ان کا ہنسنا

· نبی ﷺ نے فاطمہ کو بتایا کہ وہ ان کے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے ان سے ملنے والی ہیں (یعنی وفات پانے والی)۔
· نیز انہیں جنت کی عورتوں کی سردار ہونے کی بشارت دی (سوائے مریم بنت عمران کے)۔
· اس بشارت پر فاطمہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں، کیونکہ انہیں اپنے اعلیٰ مقام اور جنت کی سرداری کا علم ہوا۔

4. عائشہ رضی اللہ عنہا کا حیرت اور فاطمہ کا رازداری کا پاس

· عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ہی موقع پر رونا اور ہنسنا دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا۔
· فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کی زندگی میں ان کا راز افشا نہیں کیا، جو ان کی رازداری اور امانت داری کو ظاہر کرتا ہے۔
· نبی ﷺ کی وفات کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا نے قسم دے کر ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا۔

5. نبی ﷺ کی وفات کی پیشین گوئی اور اس کا علم

· نبی ﷺ کو اپنی وفات کا علم تھا، اور انہوں نے اسے فاطمہ کو بتایا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کو اپنی وفات کا علم دیا جاتا ہے، اور یہ ان کی نبوت کی علامت ہے۔

6. فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور ان کا مقام

· فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جنت کی عورتوں کی سردار ہونے کا درجہ ملا (سوائے مریم علیہا السلام کے)۔
· یہ ان کی عظیم فضیلت ہے کہ وہ جنت کی سردار ہیں، اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔

7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی آخری بیماری، وصیت کا معاملہ، اور آخری خطبہ کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ کا اپنی بیٹی فاطمہ کو وفات کی خبر دینا اور انہیں جنت کی سرداری کی بشارت دینا بیان ہوا ہے۔
· یہ سب ملا کر نبی ﷺ کے آخری ایام اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ان کے تعلقات کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔

8. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · والدین اور اولاد کے درمیان محبت کو فروغ دیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔
  · رازداری کا پاس کریں، خاص طور پر دوسروں کے رازوں کو افشا نہ کریں۔
  · وفات کی یاد کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں اور اس کی تیاری کریں۔
  · جنت کی سرداری جیسی فضیلت حاصل کرنے کے لیے نیک اعمال کریں۔
  · نبی ﷺ کی سنت اور آپ کے اہلِ بیت کی محبت کو اپنے دل میں رکھیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب









حدیث نمبر 9
عنوان: نبی ﷺ کی بیماری کے دوران اسامہ بن زید کے لیے دعا

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: (" لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " هَبَطْتُ، وَهَبَطَ النَّاسُ مَعِي إِلَى الْمَدِينَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " وَقَدْ أَصْمَتَ فلَا يَتَكَلَّمُ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ يَصُبُّهَا عَلَيَّ) (١) (فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي ") (٢) 
_________ 
ترجمہ:

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی" (1) تو میں (کوہِ احد سے) نیچے اترا، اور لوگ بھی میرے ساتھ مدینہ کی طرف اترے۔

پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ ﷺ خاموش تھے، بول نہیں رہے تھے۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے، پھر انہیں مجھ پر ڈالا (یعنی میرے اوپر پھیرا) (1) – تو میں نے جان لیا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں (2)۔"

---

حواشی وحوالہ جات:

1 (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل   (ت) جامع الترمذی 21803   3817 اس حوالے سے نبی ﷺ کی بیماری کے دوران اسامہ رضی اللہ عنہ کا آنا اور آپ ﷺ کا ہاتھ اٹھانا ثابت ہے۔
2 (طب) المعجم الکبیر للطبرانی   (ت) جامع الترمذی   (حم) مسند أحمد   (البانی: صححہ فی فقہ السیرة) ج1/ص160 ح377   3817   21803   ص464 اس حوالے سے اسامہ رضی اللہ عنہ کا یہ جاننا کہ نبی ﷺ ان کے لیے دعا کر رہے ہیں، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح" قرار دیا ہے۔

[الجامع الصحیح للسنن والمسانید: ج15 ص125]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے محبت اور ان کے لیے دعا

· اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کو بہت عزیز تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنا "حِبّ" (محبوب) کہا ہے۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ نے اپنی شدید بیماری میں بھی اسامہ کے لیے دعا کی، جو ان سے آپ کی محبت اور شفقت کو ظاہر کرتا ہے۔

2. دعا کا ایک خاص انداز – ہاتھ اٹھانا اور پھر ڈالنا

· نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور پھر انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ پر ڈالا (یعنی ان پر پھیرا)۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا اور پھر انہیں دعا کرنے والے یا جس کے لیے دعا کی جا رہی ہو، اس پر پھیرنا ایک مستحب عمل ہے۔

3. بیماری کے باوجود دوسروں کے لیے دعا کرنا

· نبی ﷺ خود شدید تکلیف میں تھے، پھر بھی آپ نے اسامہ کے لیے دعا کی۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی مصیبت میں بھی دوسروں کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی بیماری اور آپ کے آخری ایام کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں اس بیماری کے دوران آپ ﷺ کا ایک خاص صحابی (اسامہ) کے ساتھ معاملہ اور ان کے لیے دعا بیان ہوئی ہے۔
· یہ آپ ﷺ کی رحمت اور محبت کا مظہر ہے کہ آپ اپنے صحابہ کو کبھی نہیں بھولتے تھے۔

5. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · دوسروں کے لیے دعا کریں، خاص طور پر اپنے پیاروں اور اہلِ ایمان کے لیے۔
  · دعا کا انداز اختیار کریں اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگیں۔
  · بیماری اور مصیبت میں بھی دوسروں کا خیال رکھیں۔
  · نبی ﷺ کی سنت پر عمل کریں اور اپنے پیاروں کے لیے دعا کو اپنی عادت بنائیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 10
عنوان: نبی ﷺ کا آخری دیدار، مسکراہٹ اور وفات کا دن

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى 
رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ) (٢) ("لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ثَلَاثًا ") (٣) (فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - يُصَلِّي لَنَا) (٤) (فَبَيْنَمَا الْمُسْلِمُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، لَمْ يَفْجَأهُمْ " إِلَّا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - كَشَفَ سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ) (٥) (خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ) (٦) (قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِهِ - صلى الله عليه وسلم - حِينَ وَضَحَ لَنَا) (٧) (كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ) (٨) (" فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ضَاحِكًا) (٩) (حِينَ رَآنَا صُفُوفًا ") (١٠) (فَهَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ مِنْ الْفَرَحِ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -) (١١) (فَأَشَارَ إِلَيْنَا النَّبِيُّ - صلى الله عليه وسلم - بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ ") (١٢) (وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - عَلَى عَقِبَيْهِ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١٣) (يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ لِلنَّاسِ) (١٤) (" فَأَشَارَ إِلَيْهِ أنْ كَمَا أَنْتَ، ثُمَّ أَرْخَى رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١٥) (السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَنَا) (١٦) (وَتُوُفِّيَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ - صلى الله عليه وسلم - ") (١٧) 
_________ 
ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"میری آخری نظر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی (1) وہ پیر کے دن تھی (2)۔

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن (مسجد میں) ہمارے پاس نہیں آئے تھے" (3) اور اس دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے (4)۔

پھر ایک مرتبہ جب مسلمان فجر کی نماز میں تھے، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کا پردہ اٹھایا اور انہیں دیکھا، اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا رہے تھے (5) (6)۔

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر جب نبی ﷺ کا چہرہ ہمیں واضح ہوا تو ہم نے اس سے زیادہ خوبصورت کوئی منظر کبھی نہیں دیکھا (7) گویا وہ (چہرہ) قرآن کا ایک ورق تھا (8) پھر رسول اللہ ﷺ ہمیں صفیں بنا دیکھ کر مسکرائے (9) (10)۔

"ہم نے نبی ﷺ کو دیکھ کر خوشی سے گھبرا جانے کا قریب تھے" (11) پھر نبی ﷺ نے ہمیں ہاتھ سے اشارہ کیا کہ 'اپنی نماز مکمل کرو' (12)۔

اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹے اور سمجھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (13) لوگوں کو نماز پڑھانا چاہتے ہیں (14) تو آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (15) اپنے اور ہمارے درمیان پردہ ڈال دیا (16) اور اسی دن کے آخر میں آپ کا انتقال ہو گیا (17)۔"

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (م) صحیح مسلم:419

(2) (خ) صحیح البخاری:648  (س) سنن النسائی:1831

(3) (م) صحیح مسلم:419

(4) (خ) صحیح البخاری:648

(5) (خ) صحیح البخاری:721

(6) (س) سنن النسائی:1831

(7) (خ) صحیح البخاری:649  (م) صحیح مسلم:419

(8) (جة) سنن ابن ماجہ:1624 (خ) صحیح البخاری:648

(9) (م) صحیح مسلم:419، (خ) صحیح البخاری:648

(10) (حم) مسند أحمد:12688، (خ) صحیح البخاری:1148

(11) (خ) صحیح البخاری:648

(12) (م) صحیح مسلم:419، (خ) صحیح البخاری:648

(13) (خ) صحیح البخاری:1148

(14) (حم) مسند أحمد:12688 (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح)

(15) (حم) مسند أحمد:13051، (خ) صحیح البخاری:649

(16) (حم) مسند أحمد:12688 (خ) صحیح البخاری:648

(17) (خ) صحیح البخاری:721، (م) صحیح مسلم:419 (س) سنن النسائی:1831 (جة) سنن ابن ماجہ:1624

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص126]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی آخری نظر اور ان کا چہرہ مبارک

· انس رضی اللہ عنہ کا آخری دیدار پیر کے دن ہوا جب آپ ﷺ نے پردہ اٹھایا۔
· آپ ﷺ کا چہرہ قرآن کے ورق کی مانند روشن اور خوبصورت تھا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی صورت مبارک انتہائی حسین اور نورانی تھی۔

2. ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت اور نبی ﷺ کی رہنمائی

· نبی ﷺ نے تین دن تک نماز نہ پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نائب امامت کی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی غیرموجودگی میں امت کی امامت کے لیے موزوں ترین تھے۔
· جب نبی ﷺ نے پردہ اٹھایا تو انہوں نے ابوبکر کو اپنی جگہ قائم رہنے کا اشارہ کیا، جو اس کی تصدیق تھی۔

3. نماز کی اہمیت اور اسے مکمل کرنے کا حکم

· نبی ﷺ نے صحابہ کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی نماز مکمل کریں، چاہے آپ خود تشریف لے آئے ہوں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں کسی بھی صورت خلل نہیں ڈالنا چاہیے، اور اسے پوری توجہ سے مکمل کرنا ضروری ہے۔

4. نبی ﷺ کا صحابہ کے لیے محبت اور ان کی خوشی

· صحابہ نے نبی ﷺ کو دیکھ کر خوشی سے گھبرا جانے کا اندازہ کیا، جو ان کی بےپناہ محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
· آپ ﷺ نے انہیں دیکھ کر مسکرایا، جو ان کے ساتھ شفقت اور محبت کا مظہر ہے۔

5. آپ ﷺ کی وفات کا دن

· یہ واقعہ پیر کے روز پیش آیا، اور اسی دن کے آخر میں آپ ﷺ کا انتقال ہوا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنی وفات کا علم تھا، اور یہ آپ کا آخری دیدار تھا۔

6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی بیماری، ان کی وصیت، اور ابوبکر کی امامت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ کا آخری دیدار، ان کا مسکرانا، اور وفات کا دن بیان ہوا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں آپ ﷺ کے آخری ایام کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب











آخری لمحات اور حضرت عائشہ کا بیان

حدیث نمبر 11

وَعَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ: (ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - أَنَّ عَلِيًّا - رضي الله عنه - كَانَ وَصِيًّا , فَقَالَتْ: مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ (١)؟) (٢) (" رَجَعَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ حِينَ دَخَلَ مِنْ الْمَسْجِدِ) (٣) (فَأسْنَدْتُهُ إِلَى صَدْرِي) (٤) (فَدَخَلَ) (٥) (عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ - رضي الله عنه -) (٦) (وَمَعَهُ سِوَاكٌ يَسْتَنُّ بِهِ، " فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُول اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ") (٧) (فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ السِّوَاكَ، فَقُلْتُ: آخُذُهُ لَكَ؟ , " فَأَشَارَ بِرَأسِهِ , أَنْ نَعَمْ ") (٨) (فَقُلْتُ لَهُ: أَعْطِنِي هَذَا السِّوَاكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، فَأَعْطَانِيهِ , فَقَصَمْتُهُ ثُمَّ مَضَغْتُهُ , فَأَعْطَيْتُهُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " فَاسْتَنَّ بِهِ) (٩) (وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى صَدْرِي) (١٠) (كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ ") (١١) (فَجَمَعَ اللهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ الدُّنْيَا وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنْ الْآخِرَةِ) (١٢) (" وَبَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ (١٣) فِيهَا مَاءٌ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ , فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ , وَيَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ) (١٤) (اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ) (١٥) (وَدَعَا بِالطَّسْتِ لِيَبُولَ فِيهَا) (١٦) (قَالَتْ: وَكُنْتُ أَسْمَعُ) (١٧) (رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ صَحِيحٌ يَقُولُ:) (١٨) (لَا يَمُوتُ نَبِيٌّ) (١٩) (حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ، ثُمَّ) (٢٠) (يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ) (٢١) (فَلَمَّا اشْتَكَى وَحَضَرَهُ الْقَبْضُ) (٢٢) (غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ") (٢٣) (فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ , فَجَعَلْتُ أُمِرُّهَا عَلَى صَدْرِهِ , وَدَعَوْتُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ التَّي) (٢٤) (" كَانَ يَدْعُو لَهُ بِهَا جِبْرِيلُ - عليه السلام - وَكَانَ هُوَ يَدْعُو بِهَا إِذَا مَرِضَ، فَلَمْ يَدْعُ بِهَا فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ:) (٢٥) (أَذْهِبْ الْبَأسَ رَبَّ النَّاسِ , فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي) (٢٦) (وَرَفَعَ بَصَرَهُ) (٢٧) (نَحْوَ سَقْفِ الْبَيْتِ) (٢٨) (ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ) (٢٩) (فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ - وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ -: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} (٣٠) ") (٣١) وفي رواية: (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى (٣٢) ") (٣٣) (فَقُلْتُ: " إِذَنْ لَا يَخْتَارُنَا، وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ) (٣٤) (الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ) (٣٥) (وَأَنَّهُ خُيِّرَ) (٣٦) (فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ , خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ) (٣٧) (قَالَتْ: فَكَانَتْ آخِرَ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى) (٣٨) (حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ) (٣٩) (وَمَالَتْ يَدُهُ) (٤٠) (فَلَمَّا خَرَجَتْ نَفْسُهُ , لَمْ أَجِدْ رِيحًا قَطُّ أَطْيَبَ مِنْهَا) (٤١) (ومَالَ رَأسُهُ نَحْوَ رَأسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ مِنْ رَأسِي حَاجَةً، فَخَرَجَتْ مِنْ فِيهِ نُطْفَةٌ بَارِدَةٌ " , فَوَقَعَتْ عَلَى ثُغْرَةِ نَحْرِي , فَاقْشَعَرَّ لَهَا جِلْدِي، " فَظَنَنْتُ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَسَجَّيْتُهُ ثَوْبًا) (٤٢) (فَقَبَضَهُ اللهُ وَإِنَّ رَأسَهُ لَبَيْنَ نَحْرِي وَسَحْرِي (٤٣)) (٤٤) وفي رواية: (بَيْنَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي)  (٤٥) (وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ غَيْرِي) (٤٦) (فَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ) (٤٧) (وَدُفِنَ فِي بَيْتِي) (٤٨) (فَمَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟) (٤٩).
_________

حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (ایک مرتبہ) ذکر کیا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وصی تھے، تو انہوں (عائشہ) نے کہا:

"انہوں نے ان (علی) کو کب وصیت کی؟" (1) (2)

(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:)

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن (وفات کے دن) مسجد سے داخل ہوئے تو اپنی اس (وصیت) سے رجوع فرما گئے" (3)۔

(پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا:)

"میں نے آپ ﷺ کو اپنے سینے سے لگا لیا" (4)، پھر (اس وقت) داخل ہوئے (5) عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ (6)، اور ان کے ساتھ ایک مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مسواک) کی طرف دیکھا (7)۔

پس میں نے جان لیا کہ آپ ﷺ مسواک کو پسند فرماتے ہیں، تو میں نے کہا: کیا میں آپ کے لیے وہ (مسواک) لوں؟ تو آپ ﷺ نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں (8)۔

چنانچہ میں نے عبدالرحمن سے کہا: مجھے یہ مسواک دے دو، تو انہوں نے مجھے دے دی۔ میں نے اسے توڑا، پھر اسے چبایا (نرم کیا)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ ﷺ نے اس سے مسواک کی (9)، اور آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے (10)، جیسا کہ میں نے کبھی آپ کو اس سے زیادہ خوبصورت مسواک کرتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپ نے اسے میری طرف اٹھانا چاہا تو وہ آپ کے ہاتھ سے گر گیا (11)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پس اللہ نے میرے تھوک اور آپ ﷺ کے تھوک کو دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میں جمع کر دیا" (12)۔

"اور آپ ﷺ کے سامنے ایک چھوٹا سا چمڑے کا برتن (رکوة) تھا جس میں پانی تھا۔ آپ ﷺ اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے اور ان سے اپنا چہرہ مسح کرتے اور فرماتے:

"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ" (14)
(اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بےشک موت کی سختیاں (سکرات) ہیں)۔

(اور فرماتے:) "اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ" (15)
(اے اللہ! مجھے موت کی سختیوں پر مدد دے)۔

اور آپ ﷺ نے ایک طشت (پاخانے کا برتن) منگوایا تاکہ اس میں پیشاب کریں (16)۔

(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) "اور میں سنتی تھی" (17) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ تندرست تھے فرماتے ہوئے: (18)

"کوئی نبی اس وقت تک نہیں مرتا" (19) "جب تک وہ اپنا جنت میں ٹھکانا نہ دیکھ لے، پھر" (20) "اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے" (21)۔

"پھر جب آپ ﷺ بیمار پڑے اور آپ کی روح قبض کرنے کا وقت آیا" (22) تو آپ پر ایک گھنٹہ بےہوشی طاری رہی" (23)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے سینے پر پھیرنے لگی، اور ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے لگی جو" (24) "جبریل علیہ السلام آپ کے لیے دعا کرتے تھے، اور آپ خود جب بیمار ہوتے تو ان کلمات سے دعا کرتے تھے، لیکن اس بیماری میں آپ نے وہ دعا نہیں کی:" (25)

"أَذْهِبْ الْبَأسَ رَبَّ النَّاسِ" (اے لوگوں کے رب! تکلیف دور فرما)۔

پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے کھینچ لیا (26)، اور اپنی نگاہ اٹھائی (27) گھر کی چھت کی طرف (28)، پھر اپنا ہاتھ سیدھا کیا (29)، پھر میں نے آپ کو (سخت بےہوشی / آواز میں بھاری پن کے ساتھ) یہ کہتے سنا:

{مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا} (30) (31)
(ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں کے ساتھ، اور یہ لوگ کتنے اچھے رفیق ہیں)۔

(اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:) "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَاجْعَلْنِي مَعَ الرَّفِيقِ الْأَعْلَى" (32) (33)
(اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے رفیقِ اعلیٰ (بلند ترین ساتھیوں) کے ساتھ شامل فرما)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پس میں نے (دل میں) کہا: تب تو وہ ہمیں (دنیا کو) نہیں چنیں گے، اور میں جان گئی کہ یہ وہی حدیث ہے" (34) جو آپ ﷺ ہمیں تندرستی کے زمانے میں سنایا کرتے تھے (35)، اور یہ کہ آپ کو (دنیا اور آخرت کے درمیان) اختیار دیا گیا ہے (36)۔

پس میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! آپ نے اختیار کیا (اور آخرت کو پسند کیا) (37)۔

(عائشہ کہتی ہیں:) "پس آخری کلمہ جو آپ ﷺ نے کہا وہ یہ تھا: اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى" (38)، یہاں تک کہ آپ کی روح نکل گئی (39) اور آپ کا ہاتھ (میرے ہاتھ سے) ڈھل گیا (40)۔

"جب آپ کی روح نکل گئی تو میں نے اس سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں پائی" (41)۔

اور آپ ﷺ کا سر میری طرف جھکا، تو میں نے سمجھا کہ آپ میرے سر سے کوئی حاجت چاہتے ہیں، پھر آپ کے منہ سے ایک ٹھنڈی بوند نکلی (جو میرے حلق اور سینے کے درمیان پڑی)، جس سے میری جلد کپکپا گئی، پھر میں نے سمجھا کہ آپ پر بےہوشی طاری ہو گئی ہے، تو میں نے آپ کو کپڑے سے ڈھانپ دیا (42)۔

"پس اللہ نے آپ کی روح قبض کر لی، اور اس وقت آپ کا سر میرے حلق اور سینے کے درمیان تھا" (43) (44)۔

(اور ایک روایت میں ہے:) "میرے حلق (تحتِ حنک) اور سینے (تحتِ سحر) کے درمیان" (45)۔

"اور آپ کے پاس میرے سوا کوئی نہیں تھا" (46)، "مجھے پتہ ہی نہ چلا کہ آپ کا انتقال ہو گیا ہے" (47)۔

"اور آپ کو میرے گھر میں دفن کیا گیا" (48)۔

(اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) "پھر ان (علی) کو وصیت کب کی گئی؟" (49)۔

---

حواشی وحوالہ جات:

1 (عون المعبود / فتح الباری) – امام قرطبی کا قول (فتح الباری ج 8 / ص 295) امام قرطبی کی تشریح: شیعہ نے یہ روایات وضع کیں کہ نبی ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو خلافت کی وصیت کی۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد والوں نے اسے رد کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کا استدلال یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے خود اس دعویٰ کو بیان نہیں کیا، نہ سقیفہ کے دن کسی صحابی نے اس کا ذکر کیا۔ قرطبی کہتے ہیں: شیعہ نے دراصل علی کی شجاعت اور دین میں مضبوطی کے باوجود انہیں مداہنت اور تقیہ کا مرتکب قرار دے کر ان کی تحقیر کی ہے۔ اور یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انکار اس لیے کیا کہ وہ آخری بیماری میں نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں دیکھی۔ امام احمد، ابن ماجہ اور بیہقی کی روایات سے بھی ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے کوئی وصیت نہیں کی۔
2 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 2590   19 - (1636) اس حوالے سے عائشہ کا حضرت علی کی وصیت کے بارے میں انکار ثابت ہے۔
3 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده حسن) 26390 اس حوالے سے نبی ﷺ کا مسجد سے داخل ہونا اور اس دن رجوع کرنا ثابت ہے۔
4 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 2590   19 - (1636) اس حوالے سے عائشہ کا آپ ﷺ کو سینے سے لگانا ثابت ہے۔
5 (حم) مسند أحمد 26390 اس حوالے سے (عبدالرحمن کا) داخل ہونا ثابت ہے۔
6 (خ) صحیح البخاری 4174 اس حوالے سے عبدالرحمن بن ابی بکر کا آنا ثابت ہے۔
7 (خ) صحیح البخاری 850 اس حوالے سے نبی ﷺ کا مسواک کی طرف دیکھنا ثابت ہے۔
8 (خ) صحیح البخاری 4184 اس حوالے سے آپ ﷺ کا سر سے ہاں کا اشارہ کرنا ثابت ہے۔
9 (خ) صحیح البخاری 850 اس حوالے سے آپ ﷺ کا مسواک کرنا ثابت ہے۔
10 (خ) صحیح البخاری 4185 اس حوالے سے آپ ﷺ کا عائشہ کے سینے سے ٹیک لگائے ہونا ثابت ہے۔
11 (حم) مسند أحمد   (خ) صحیح البخاری 24262   4186 اس حوالے سے مسواک کا ہاتھ سے گرنا ثابت ہے۔
12 (خ) صحیح البخاری 4186 اس حوالے سے تھوک کے جمع ہونے کا واقعہ ثابت ہے۔
13 (لسان العرب) – لغوی تشریح (ج14 ص 333) "الرَّكْوَة" ایک چھوٹا چمڑے کا برتن ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے۔
14 (خ) صحیح البخاری 4184 اس حوالے سے آپ ﷺ کا "لا إله إلا الله، إن للموت سكرات" کہنا ثابت ہے۔
15 (جة) سنن ابن ماجہ   (حم) مسند أحمد   (البانی: صححہ فی فقہ السیرہ) 1623   24401 اس حوالے سے آپ ﷺ کا "اللهم أعني على سكرات الموت" کہنا ثابت ہے (بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے)۔
16 (س) سنن النسائی (الکبریٰ)   (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 3624   2590   19 - (1636) اس حوالے سے طشت منگانے کا ذکر ثابت ہے۔
17 (خ) صحیح البخاری 4171 اس حوالے سے عائشہ کا سننا ثابت ہے۔
18 (خ) صحیح البخاری 4173 اس حوالے سے عائشہ کا تندرستی کے زمانے میں سننا ثابت ہے۔
19 (خ) صحیح البخاری 4171 اس حوالے سے "لا يموت نبي..." کا پہلا حصہ ثابت ہے۔
20 (خ) صحیح البخاری 4173 اس حوالے سے "حتى يرى مقعده..." ثابت ہے۔
21 (خ) صحیح البخاری 4171 اس حوالے سے "يُخَيَّر" ثابت ہے۔
22 (خ) صحیح البخاری 4173 اس حوالے سے بیماری اور قبضِ روح کا وقت ثابت ہے۔
23 (خ) صحیح البخاری 5988 اس حوالے سے بےہوشی کا ذکر ثابت ہے۔
24 (حم) مسند أحمد 24979 اس حوالے سے دعا کے کلمات کا ذکر ثابت ہے۔
25 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده صحيح) 24262 اس حوالے سے اس بیماری میں دعا نہ کرنے کا ذکر ثابت ہے۔
26 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده حسن) 24935 اس حوالے سے ہاتھ کھینچنے کا ذکر ثابت ہے۔
27 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده صحيح) 24262 اس حوالے سے نگاہ اٹھانے کا ذکر ثابت ہے۔
28 (خ) صحیح البخاری 4173 اس حوالے سے چھت کی طرف دیکھنے کا ذکر ثابت ہے۔
29 (خ) صحیح البخاری 4184 اس حوالے سے ہاتھ سیدھا کرنے کا ذکر ثابت ہے۔
30 (سورۃ النساء) آیت 69 یہ آیت کریمہ ہے۔
31 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم   (جة) سنن ابن ماجہ 4171   85 - (2444)   1620 اس حوالے سے آیت کریمہ کی تلاوت ثابت ہے۔
32 (تحفۃ الأحوذی) – تشریح (ج 8 / ص 395) "الرَّفِيقُ الْأَعْلَى" سے مراد انبیاء کا وہ گروہ ہے جو اعلیٰ علیین میں رہتے ہیں۔
33 (م) صحیح مسلم   (خ) صحیح البخاری 46 - (2191)   4176 اس حوالے سے "اللهم اغفر لي وارحمني واجعلني مع الرفيق الأعلى" ثابت ہے۔
34 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 6144   87 - (2444) اس حوالے سے عائشہ کا یہ جاننا کہ "یہی وہ حدیث ہے" ثابت ہے۔
35 (م) صحیح مسلم   (خ) صحیح البخاری 87 - (2444)   5988 اس حوالے سے تندرستی کے زمانے کی حدیث کا ذکر ثابت ہے۔
36 (خ) صحیح البخاری 4171 اس حوالے سے اختیار دیے جانے کا ذکر ثابت ہے۔
37 (حم) مسند أحمد 26390 اس حوالے سے عائشہ کا "خُيِّرْتَ فَاخْتَرْتَ" کہنا ثابت ہے۔
38 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 4194   87 - (2444) اس حوالے سے آخری کلمہ "اللهم الرفيق الأعلى" ثابت ہے۔
39 (حم) مسند أحمد   (خ) صحیح البخاری 24262   4184 اس حوالے سے روح کے نکلنے کا ذکر ثابت ہے۔
40 (خ) صحیح البخاری 4184 اس حوالے سے ہاتھ کا ڈھل جانا ثابت ہے۔
41 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده صحيح) 24949 اس حوالے سے روح کی خوشبو کا ذکر ثابت ہے۔
42 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده حسن) 25883 اس حوالے سے ٹھنڈی بوند اور کپڑے سے ڈھانپنے کا ذکر ثابت ہے۔
43 (فتح الباری) – تشریح (ج 12 ص 255) "السَّحْر" سے مراد سینہ ہے، اور "النَّحْر" سے مراد حلق / سینے کا بالا حصہ ہے۔ یعنی آپ ﷺ کا سر ان کے حلق اور سینے کے درمیان تھا۔
44 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 4919   84 - (2443) اس حوالے سے سر کے حلق اور سینے کے درمیان ہونے کا ذکر ثابت ہے۔
45 (خ) صحیح البخاری 4174 اس حوالے سے "بین حاقنتی و ذاقنتی" کا ذکر ہے۔
46 (س) سنن النسائی (الکبریٰ) 3625 اس حوالے سے عائشہ کے علاوہ کسی اور کے نہ ہونے کا ذکر ثابت ہے۔
47 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم 2590   19 - (1636) اس حوالے سے عائشہ کو موت کا احساس نہ ہونے کا ذکر ثابت ہے۔
48 (خ) صحیح البخاری 553 اس حوالے سے دفنِ نبوی ﷺ کا عائشہ کے گھر میں ہونا ثابت ہے۔
49 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم   (س) سنن النسائی   (جة) سنن ابن ماجہ 2590   19 - (1636)   3624   1626 اس حوالے سے عائشہ کا دوبارہ سوال "پھر کب وصیت کی؟" ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص127]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی کوئی وصیتِ خلافت نہیں تھی (شیعہ عقیدے کا رد)

· حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کو سختی سے رد کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔
· ان کا کہنا تھا کہ وہ آخری وقت میں آپ ﷺ کے ساتھ تھیں اور آپ نے کوئی وصیت نہیں کی۔
· یہ اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ خلافت کا فیصلہ صحابہ کے مشورے (سقیفہ) سے ہوا، نہ کہ نصِ الٰہی یا وصیت سے۔

2. مسواک کی اہمیت – نبی ﷺ کی سنت اور آخری خواہش

· آپ ﷺ نے وفات سے پہلے مسواک کی خواہش ظاہر کی، جو اس سنت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
· عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود مسواک کو چبا کر نرم کیا اور آپ کو دیا – یہ ان کی محبت اور خدمت کا مظہر ہے۔

3. موت کی سختیاں (سکرات) اور نبی ﷺ کی دعا

· آپ ﷺ نے موت کے وقت فرمایا: "إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ" (بیشک موت کی سختیاں ہیں)۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت ایک تکلیف دہ عمل ہے، حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
· آپ ﷺ نے اللہ سے موت کی سختیوں پر مدد مانگی، جو ہمارے لیے اس وقت دعا کرنے کا طریقہ ہے۔

4. نبی ﷺ کا دنیا و آخرت میں اختیار (تخییر) اور "رفیقِ اعلیٰ" کا انتخاب

· آپ ﷺ کو جنت میں اپنا مقام دکھایا گیا اور پھر دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا۔
· آپ ﷺ نے "الرَّفِيقَ الْأَعْلَى" (بلند ترین ساتھیوں) کو منتخب کیا، یعنی آپ نے آخرت اور اللہ کی قربت کو دنیا پر ترجیح دی۔
· یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ دنیا کی عارضی چیزوں کے بجائے آخرت کی دائمی نعمتوں کو ترجیح دی جائے۔

5. عائشہ رضی اللہ عنہا کا آخری لمحات میں حضور ﷺ کے ساتھ قربت

· آپ ﷺ کا سر عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود (یا سینے) میں تھا، اور آپ کے منہ سے ایک ٹھنڈی بوند نکلی – یہ ان کی سعادت اور آپ سے ان کی قربت کا مظہر ہے۔
· انہوں نے آپ کی روح کی خوشبو کو انتہائی پاکیزہ قرار دیا، جو آپ کے مقامِ نبوت کی علامت ہے۔

6. آخری کلمہ "اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى" – ہمارے لیے دعا کا طریقہ

· نبی ﷺ کا آخری کلمہ اللہ کا ذکر اور رفیقِ اعلیٰ کی درخواست تھا۔
· یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ موت کے وقت بھی اللہ کا ذکر اور اس سے قربت کی دعا کرنی چاہیے۔

7. عائشہ رضی اللہ عنہا کا حضرت علی کی وصیت کے بارے میں انکار (امامت کے عقیدے کی رد)

· اس حدیث کا ایک اہم پہلو شیعہ عقیدے (امامت / وصیتِ علی) کا رد ہے۔
· عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا تھا کہ اگر آپ ﷺ نے وصیت کی ہوتی تو وہ اسے جانتیں، کیونکہ وہ آخری لمحات میں آپ کے ساتھ تھیں۔

8. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · موت کی یاد ہمیں دنیا سے بےرغبت اور آخرت کی طرف مائل کرتی ہے۔
  · مسواک جیسی سنتوں کو زندگی کے آخری لمحات میں بھی ترک نہ کریں۔
  · دعا اور اللہ کا ذکر موت کے وقت بھی جاری رہنا چاہیے۔
  · صحابہ کرام کے درمیان اختلافات کو صحیح تناظر میں دیکھیں، اور ان کی عظمت و مقام کا احترام کریں۔

---

واللہ أعلم بالصواب





حدیث نمبر 12


عنوان: نبی ﷺ کا آخری کلام – "رفیقِ اعلیٰ" اور فرشتوں کا ذکر

عَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: " أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَرَأسُهُ فِي حِجْرِي "، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ , " فَلَمَّا أَفَاقَ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: لَا، بَلْ أَسْأَلُ اللهَ الرَّفِيقَ الأَعْلَى، مَعَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وإِسْرَافِيلَ "

_________ 

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بےہوشی طاری ہو گئی، اور آپ کا سر میری گود میں تھا۔

میں آپ کو مسح کرنے لگی اور آپ کے لیے شفا کی دعا کرنے لگی۔

پھر جب آپ ﷺ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا:

'نہیں، بلکہ میں اللہ سے رفیقِ اعلیٰ (بلند ترین ساتھی) کا سوال کرتا ہوں، جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے ساتھ (یعنی ان کی رفاقت میں)'" (1)۔


---


حوالہ جات:

(حب) صحیح ابن حبان   (ن) سنن النسائی الکبریٰ   (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی   (صحیح موارد الظمآن) للالبانی 6591   10936   3104 (کے تحت)   1805 اس حوالے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان کہ نبی ﷺ پر بےہوشی طاری ہوئی، آپ کا سر ان کی گود میں تھا، اور آپ نے افاقہ کے بعد "الرَّفِيقَ الأَعْلَى" اور جبریل، میکائیل، اسرافیل کا ذکر فرمایا، ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص128]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. نبی ﷺ کا آخری وقت میں "رفیقِ اعلیٰ" کا انتخاب


· عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے لیے شفا کی دعا کی، لیکن آپ ﷺ نے اس کے بجائے "رفیقِ اعلیٰ" (اللہ کی قربت اور اعلیٰ درجات) کا انتخاب فرمایا۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ دنیا کی عارضی صحت کے بجائے آخرت کی دائمی نعمتوں کو ترجیح دیتے تھے۔


2. تین عظیم فرشتوں (جبریل، میکائیل، اسرافیل) کا ذکر


· آپ ﷺ نے رفیقِ اعلیٰ کے ساتھ خاص طور پر جبریل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام کا ذکر فرمایا۔

· ان کا مقام بہت بلند ہے:

  · جبریل علیہ السلام: وحی لانے والے فرشتہ۔

  · میکائیل علیہ السلام: رزق اور بارش کے ذمہ دار۔

  · اسرافیل علیہ السلام: صور پھونکنے والے فرشتہ (قیامت کے دن)۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کا ان عظیم فرشتوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔


3. عائشہ رضی اللہ عنہا کی نبی ﷺ کے ساتھ محبت اور ان کی خدمت


· عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے سر کو اپنی گود میں رکھا، اسے مسح کیا اور شفا کی دعا کی۔

· یہ آپ ﷺ سے ان کی بےپناہ محبت اور عقیدت کا مظہر ہے۔


4. مرض الموت میں نبی ﷺ کا صبر اور اللہ کی طرف رجوع


· آپ ﷺ نے شدید تکلیف اور بےہوشی کے باوجود اللہ سے رفیقِ اعلیٰ کی درخواست فرمائی۔

· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی آخری وقت میں اللہ کی رحمت اور بلند درجات کی دعا کرنی چاہیے۔


5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط


· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کا آخری کلمہ "اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى" اور آپ کا عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں انتقال کا ذکر تھا۔

· اس حدیث میں آپ ﷺ نے اس رفیقِ اعلیٰ کی وضاحت تین عظیم فرشتوں کے ساتھ کی، جو اس درخواست کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔


6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)


· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:

  · موت کے وقت دنیا کی بجائے آخرت کی فکر کریں۔

  · شفا کی دعا کے ساتھ ساتھ بلند درجات کی دعا بھی کریں۔

  · فرشتوں پر ایمان رکھیں اور ان کی عظمت کو پہچانیں۔

  · نبی ﷺ کی سنت پر عمل کریں اور آخری لمحات میں اللہ کا ذکر کریں۔


---


واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 13

عنوان: نبی ﷺ کی وفات، صحابہ کا ردعمل، غسل اور دفن کا واقعہ


وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: (ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ - رضي الله عنهما - فَاسْتَأذَنَا , فَأَذِنْتُ لَهُمَا وَجَذَبْتُ إِلَيَّ الْحِجَابَ، فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَيْهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: وَاغَشْيَاهْ، مَا أَشَدَّ غَشْيَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ قَامَا، فَلَمَّا دَنَوَا مِنْ الْبَابِ قَالَ الْمُغِيرَةُ: يَا عُمَرُ , " مَاتَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " , قَالَ: كَذَبْتَ، بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ تَحُوسُكَ فِتْنَةٌ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللهُ الْمُنَافِقِينَ , ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -) (١) (عَلَى فَرَسٍ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنُحِ , حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ حَتَّى دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ - " وَرَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مُسَجًّى (٢) بِبُرْدٍ حِبَرَةٍ "، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ) (٣) (فَقَالَ: إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، " مَاتَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ") (٤) (ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ) (٥) (بَيْنَ عَيْنَيْهِ) (٦) (وَبَكَى، ثُمَّ قَالَ:) (٧) (وَانَبِيَّاهْ، ثُمَّ رَفَعَ رَأسَهُ، ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ , ثُمَّ قَالَ: وَاصَفِيَّاهْ، ثُمَّ رَفَعَ رَأسَهُ، ثُمَّ حَدَرَ فَاهُ وَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ وَقَالَ: وَاخَلِيلَاهْ) (٨) (بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا) (٩) (وَاللهِ لَا يَجْمَعُ اللهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ) (١٠) (أَبَدًا، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كَتَبَ اللهُ عَلَيْكَ , فَقَدْ مِتَّهَا) (١١) (فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَعُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ وَيَتَكَلَّمُ , وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لَا يَمُوتُ حَتَّى يُفْنِيَ اللهُ - عز وجل - الْمُنَافِقِينَ) (١٢) (وَلَكِنَّ رَبَّهُ أَرْسَلَ إِلَيْهِ كَمَا أَرْسَلَ إِلَى مُوسَى، فَمَكَثَ عَنْ قَوْمِهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أنْ يَعِيشَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ رِجَالٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَأَلْسِنَتَهُمْ , يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَدْ مَاتَ) (١٣) (فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَيُّهَا الْحَالِفُ عَلَى رِسْلِكَ) (١٤) (اجْلِسْ، فَأَبَى، فَقَالَ: اجْلِسْ، فَأَبَى) (١٥) (فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ) (١٦) (- وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ -) (١٧) (فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ) (١٨) (فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَكُوا عُمَرَ فَقَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا , فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ، فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ؟ , وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا , وَسَيَجْزِي اللهُ الشَّاكِرِينَ} (١٩) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما -: وَاللهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللهَ أَنْزَلَهَا حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ) (٢٠) (فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ كُلُّهُمْ) (٢١) (فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوهَا) (٢٢) (قَالَ عُمَرُ: فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ) (٢٣) (فَقُلْتُ: وَإِنَّهَا لَفِي كِتَابِ اللهِ؟، مَا شَعَرْتُ أَنَّهَا فِي كِتَابِ اللهِ) (٢٤) (قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا , فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِي رِجْلَايَ , فَأَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ , وَعَلِمْتُ حِينَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - قَدْ مَاتَ) (٢٥) (فَنَشَجَ النَّاسُ يَبْكُونَ) (٢٦) (ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ ذُو شَيْبَةِ الْمُسْلِمِينَ، فَبَايِعُوهُ، فَبَايَعُوهُ) (٢٧) (قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالُوا: وَاللهِ مَا نَدْرِي، أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا؟، أَمْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ , فَلَمَّا اخْتَلَفُوا , أَلْقَى اللهُ عَلَيْهِمْ النَّوْمَ، حَتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ: أَنْ اغْسِلُوا النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ , مَا غَسَّلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ) (٢٨) (قَالَتْ: وَاخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ، حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - حَيًّا وَلَا مَيِّتًا، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا، فَجَاءَ اللَّاحِدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ثُمَّ دُفِنَ - صلى الله عليه وسلم -) (٢٩) (قَالَتْ عَائِشَةَ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَوْمَ الِاثْنَيْنِ) (٣٠) (فَمَا عَلِمْنَا أَيْنَ يُدْفَنُ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي (٣١) مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ) (٣٢) (فَدُفِنَ لَيْلَةَ الْأَرْبِعَاءِ ") (٣٣) 

_________ 

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:


(عائشہ کہتی ہیں:) "پھر حضرت عمر اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما آئے اور انہوں نے اجازت طلب کی، تو میں نے انہیں اجازت دے دی اور پردہ اپنی طرف کھینچ لیا۔


پھر عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو دیکھا اور کہا: 'ہائے اس بےہوشی! رسول اللہ ﷺ کی بےہوشی کتنی شدید ہے!' پھر وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔


پھر جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: 'اے عمر! رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے۔'


عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'تم نے جھوٹ بولا، بلکہ تم ایک ایسے شخص ہو جسے فتنہ نے گھیر لیا ہے۔ بیشک رسول اللہ ﷺ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک اللہ منافقوں کو ختم نہ کر دے۔'


پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے (1) اپنے گھر (سُنُح) سے گھوڑے پر سوار ہو کر، یہاں تک کہ وہ اترے اور مسجد میں داخل ہوئے۔ انہوں نے لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے – اور رسول اللہ ﷺ ایک چادر (برد حبرہ) سے ڈھکے ہوئے تھے (2) ۔


(ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) آپ ﷺ کا چہرہ کھولا (3) اور کہا: 'بیشک ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے' (4) ۔


پھر وہ آپ ﷺ پر جھکے اور آپ کو بوسہ دیا (5) آپ کی پیشانی کے درمیان (6) اور روئے، پھر کہا: (7)


'ہائے میرے نبی!' پھر اس نے اپنا سر اٹھایا، پھر اپنا منہ جھکایا اور آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا، پھر کہا: 'ہائے میرے برگزیدہ ساتھی!' پھر اس نے اپنا سر اٹھایا، پھر اپنا منہ جھکایا اور آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا: 'ہائے میرے خلیل (گہرے دوست)!" (8)


'میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں پاکیزہ رہے' (9) 'اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا (10) ، رہی وہ موت جو اللہ نے آپ پر لکھی تھی، تو آپ اسے پا چکے ہیں' (11) ۔


(پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ) مسجد کی طرف نکلے، اور عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے:


'بیشک رسول اللہ ﷺ اس وقت تک نہیں مریں گے جب تک اللہ منافقوں کو ختم نہ کر دے (12) ، لیکن ان کے رب نے ان کی طرف ویسے ہی پیغام بھیجا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف بھیجا تھا، پس وہ اپنی قوم سے چالیس راتیں غائب رہے۔ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ زندہ رہیں گے یہاں تک کہ وہ منافقوں میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھ اور زبانیں کاٹ دیں، جو یہ گمان کر رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے' (13) ۔


پس ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'اے قسم کھانے والے! ذرا ٹھہر جا' (14) 'بیٹھ جا' – لیکن اس نے انکار کر دیا، پھر کہا: 'بیٹھ جا' – مگر اس نے انکار کر دیا (15) ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا (16) جبکہ عمر رضی اللہ عنہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے (17) ۔


(ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی (18) ، پھر لوگ ان کی طرف مائل ہو گئے اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔


پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'اما بعد! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا ہے تو محمد ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:


{وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ؟، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا، وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} (19) (آل عمران: 144)


ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ایسا لگتا تھا جیسے لوگ نہیں جانتے تھے کہ اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے تلاوت کیا (20) پھر تمام لوگوں نے ان سے یہ آیت لے لی (21) پھر کوئی شخص ایسا نہیں تھا جسے سنا جائے مگر وہ اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا (22) ۔


عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'گویا میں نے اس آیت کو اس دن کے سوا کبھی نہیں پڑھا تھا' (23) 'پھر میں نے کہا: کیا یہ آیت اللہ کی کتاب میں ہے؟ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اللہ کی کتاب میں ہے' (24) ۔


عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'اللہ کی قسم! جب میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا تو میری ٹانگیں اکڑ گئیں یہاں تک کہ وہ مجھے اٹھا نہیں سکیں، پس میں زمین کی طرف جھک گیا، اور جب میں نے انہیں اس آیت کی تلاوت کرتے سنا تو میں جان گیا کہ نبی ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے' (25) ۔


پھر لوگ بلک بلک کر رونے لگے (26) پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'اے لوگو! یہ ابوبکر ہیں، اور یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں، پس ان کی بیعت کرو' – چنانچہ لوگوں نے ان کی بیعت کر لی (27) ۔


(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) "پھر جب لوگوں نے نبی ﷺ کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں معلوم نہیں، کیا ہم رسول اللہ ﷺ کو ان کے کپڑوں سے اتار دیں جیسا کہ ہم اپنے مردوں کو اتارتے ہیں؟ یا ہم انہیں ان کے کپڑوں سمیت غسل دیں؟


پھر جب انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ نے ان پر نیند ڈال دی، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کی ٹھوڑی اس کے سینے پر نہ ہو۔


پھر گھر کی طرف سے ایک بات کرنے والے (فرشتے) نے ان سے کلام کیا – وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کون ہے – کہ: 'نبی ﷺ کو ان کے کپڑوں سمیت غسل دو۔'


چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور انہیں ان کے قمیص سمیت غسل دیا، وہ قمیص کے اوپر پانی ڈالتے اور قمیص کے ذریعے (نبی ﷺ کے جسم کو) ملتے تھے، نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔


اور عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: 'اگر میں اپنے معاملے میں اس بات کو جان لیتی جو بعد میں جانا، تو نبی ﷺ کو ان کی عورتوں کے علاوہ کوئی غسل نہ دیتا' (28) ۔


(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) اور انہوں نے لحد اور شق (قبر کی دو قسموں) میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی اور ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔


پس عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: 'زندہ اور مردہ نبی ﷺ کے پاس شور و غل نہ کرو۔'


پھر انہوں نے شق کرنے والے اور لحد بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، چنانچہ لحد بنانے والا آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے لحد بنائی، پھر آپ کو دفن کر دیا گیا (29) ۔


(عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:) "رسول اللہ ﷺ کا انتقال پیر کے دن ہوا" (30) "اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو کہاں دفن کیا جائے گا یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے آخر میں (قبر کھودنے والوں کی) بیلچوں کی آواز سنی" (31) (32) "پس آپ کو بدھ کی رات دفن کیا گیا" (33) ۔


---


حواشی وحوالہ جات:


1 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده حسن) 25883 ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سنح سے گھوڑے پر سوار ہو کر آنا۔

2 (لغوی تشریح) — "مُسَجًّى" کا معنی: ڈھانپا / چھپایا گیا۔

3 (س) سنن النسائی (الکبریٰ)   (خ) صحیح البخاری 1841   4187 ابوبکر کا چہرہ مبارک سے پردہ ہٹانا۔

4 (حم) مسند أحمد 25883 ابوبکر کا "إنا لله..." کہنا۔

5 (خ) صحیح البخاری   (س) سنن النسائی 4187   1841 ابوبکر کا نبی ﷺ کو بوسہ دینا۔

6 (حم) مسند أحمد   (س) سنن النسائی 24075   1839 پیشانی کے درمیان بوسہ دینا۔

7 (خ) صحیح البخاری   (س) سنن النسائی 4187   1841 رونے کا ذکر۔

8 (حم) مسند أحمد   (انظر الإرواء: 692، مختصر الشمائل: 328) 24075 ابوبکر کا "وانبیاہ، واصفیاہ، واخلیلاه" کہنا۔

9 (خ) صحیح البخاری 3467 ابوبکر کا "طبت حیا ومیتا" کہنا۔

10 (خ) صحیح البخاری 4187 ابوبکر کا "لا یجمع اللہ علیک موتتین" کہنا۔

11 (س) سنن النسائی   (خ) صحیح البخاری 1841   1184 ابوبکر کا یہ کہنا کہ آپ کو ایک موت آ چکی ہے۔

12 (حم) مسند أحمد 25883 عمر کا نبی ﷺ کی وفات کا انکار کرنا۔

13 (حم) مسند أحمد   (خ) صحیح البخاری 13051   3467 عمر کا خطبہ اور منافقوں کا ذکر۔

14 (خ) صحیح البخاری 3467 ابوبکر کا "على رسلك" کہنا۔

15 (خ) صحیح البخاری 1185 ابوبکر کا عمر کو بیٹھنے کا کہنا اور عمر کا انکار۔

16 (حم) مسند أحمد 25883 ابوبکر کا خطبہ دینا۔

17 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: إسناده صحيح) 3091 عمر کا لوگوں سے باتیں کرنا۔

18 (حم) مسند أحمد 25883 ابوبکر کا حمد و ثنا بیان کرنا۔

19 (سورۃ آل عمران) آیت 144 ابوبکر کی تلاوت کردہ آیت۔

20 (خ) صحیح البخاری 1185 ابن عباس کا یہ کہنا کہ لوگ اس آیت کو نہیں جانتے تھے۔

21 (خ) صحیح البخاری 4187 لوگوں کا ابوبکر سے آیت کو لینا۔

22 (خ) صحیح البخاری 1185 ہر شخص کا آیت کی تلاوت کرنا۔

23 (جة) سنن ابن ماجہ 1627 عمر کا کہنا کہ میں نے اسے اس دن پڑھا۔

24 (حم) مسند أحمد 25883 عمر کا یہ کہنا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ قرآن میں ہے۔

25 (خ) صحیح البخاری 4187 عمر کا آیت سن کر وفات کا یقین کرنا۔

26 (خ) صحیح البخاری 3467 لوگوں کا رونا۔

27 (حم) مسند أحمد 25883 عمر کا ابوبکر کی بیعت کا کہنا اور بیعت ہونا۔

28 (د) سنن أبی داود   (جة) سنن ابن ماجہ   (حم) مسند أحمد   (البانی: حسن فی الإرواء: 702، صحيح موارد الظمآن: 1808)   (شیخ شعیب: إسناده حسن) 3141   1464   26349 نبی ﷺ کے غسل کا واقعہ، کپڑوں میں غسل دینا، اور عائشہ کا قول۔

29 (جة) سنن ابن ماجہ 1558 لحد اور شق میں اختلاف اور عمر کا شور سے منع کرنا۔

30 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: حديث محتمل للتحسين) 24834 نبی ﷺ کی وفات کا دن (پیر)۔

31 (لغوی تشریح) — "المساحي" کا معنی: بیلچے، جو لوہے کے بنے ہوتے ہیں۔

32 (حم) مسند أحمد   (شیخ شعیب: حديث محتمل للتحسين) 26091 بدھ کی رات بیلچوں کی آواز سننا۔

33 (حم) مسند أحمد 24834 نبی ﷺ کو بدھ کی رات دفن کرنا۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص130]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. نبی ﷺ کی وفات پر عمر رضی اللہ عنہ کا انکار اور ابوبکر کا حکمت بھرا ردعمل


· عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی وفات پر یقین نہیں کر پا رہے تھے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ آپ منافقوں کو ختم کرنے کے بعد وفات پائیں گے۔

· ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آ کر آپ ﷺ کا چہرہ دیکھا اور فوراً وفات کی تصدیق کی اور لوگوں کو اس آیت کے ذریعے سمجھایا کہ ہر نبی کو وفات آتی ہے۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قرآن کا گہرا علم تھا اور وہ بحران کے وقت امت کی صحیح رہنمائی کر سکتے تھے۔


2. ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ سے گہرا تعلق اور محبت


· ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو دیکھ کر رونا، آپ کو بوسہ دینا، اور "وانبیاہ، واصفیاہ، واخلیلاه" کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نبی ﷺ سے بےپناہ محبت رکھتے تھے۔

· ان کا قول "طِبْتَ حَيًّا وَمَيِّتًا" اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ زندگی اور وفات دونوں حالتوں میں پاکیزہ اور محبوب ہیں۔


3. ابوبکر کا خطبہ اور قرآن کی آیت کی تلاوت


· ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی جس میں واضح کیا گیا کہ ہر رسول کی وفات ہوتی ہے، اور اللہ زندہ ہے، کبھی نہیں مرتا۔

· اس آیت نے صحابہ کو یقین دلایا کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد بھی دین قائم ہے اور اللہ کی عبادت جاری رہے گی۔


4. عمر رضی اللہ عنہ کا ابوبکر کی تلاوت سن کر یقین کرنا


· عمر رضی اللہ عنہ نے جب ابوبکر کو آیت پڑھتے سنا تو انہیں یقین ہو گیا کہ نبی ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ حق کو قبول کرنے والے تھے اور جب دلیل واضح ہو گئی تو انہوں نے فوراً اسے تسلیم کر لیا۔


5. ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اور خلافت


· عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابوبکر کی بیعت کرنے کی ترغیب دی اور لوگوں نے بیعت کر لی۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت صحابہ کے اجماع اور رضایت سے ہوئی۔


6. نبی ﷺ کا غسل اور دفن


· نبی ﷺ کو ان کے کپڑوں سمیت غسل دیا گیا، اور قمیص کے اوپر پانی ڈالا گیا۔

· صحابہ نے لحد اور شق میں اختلاف کیا، لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے شور سے منع کیا اور لحد بنانے والے کو بلایا گیا۔

· نبی ﷺ کو بدھ کی رات دفن کیا گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے مطابق اگر وہ پہلے جانتیں تو نبی ﷺ کو عورتوں کے علاوہ کوئی غسل نہ دیتا۔


7. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط


· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، ان کا آخری کلمہ، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مرثیہ تھا۔

· اس حدیث میں وفات کے بعد صحابہ کا ردعمل، غسل، اور دفن کا مکمل واقعہ ہے۔

· یہ تمام حدیثیں آپ ﷺ کی وفات کے تمام مراحل کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔


---


واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 14

عنوان: علی رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ کو غسل دینے کا واقعہ اور "طِبْتَ حَیًّا وَطِبْتَ مَیِّتًا" کا فرمانا


وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رضي الله عنه - قَالَ: لَمَّا غَسَّلْنَا النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - ذَهَبْتُ أَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يُلْتَمَسُ مِنْ الْمَيِّتِ , فَلَمْ أَجِدْهُ , فَقُلْتُ: بِأَبِي الطَّيِّبُ , طِبْتَ حَيًّا , وَطِبْتَ مَيِّتًا.

_________ 

ترجمہ:

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"جب ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو میں آپ ﷺ کی وہ چیز تلاش کرنے لگا جو میت (مردے) سے (غسل کے دوران) تلاش کی جاتی ہے (یعنی نجاست / جنابت وغیرہ کی کوئی علامت)، لیکن مجھے وہ (کچھ) نہیں ملا۔

پس میں نے کہا:

'میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے پاکیزہ! آپ زندہ پاک تھے اور آپ مردہ بھی پاک ہیں۔" (1)


---


حواشی وحوالہ جات:


1 (جة) سنن ابن ماجہ   (ك) مستدرک الحاکم 1467   1339 اس حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول ثابت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو غسل دیتے وقت آپ کے جسم سے وہ نجاست نہیں پائی جو عام مردوں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے آپ ﷺ کی طہارت اور پاکیزگی ثابت ہوتی ہے۔


---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. نبی ﷺ کی مکمل طہارت (جسمانی اور روحانی)


· حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے جسم مبارک پر غسل کے دوران کوئی ایسی چیز (نجاست / آلودگی) نہیں پائی جو عام انسانوں میں پائی جاتی ہے۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا جسم مبارک ہر قسم کی نجاست سے پاک تھا، اور آپ کی پاکیزگی صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی بھی تھی۔

· یہ اس حدیث کی تصدیق ہے کہ انبیاء کرام کے جسموں کو زمین نہیں کھاتی اور وہ ہمیشہ پاکیزہ رہتے ہیں۔


2. علی رضی اللہ عنہ کا نبی ﷺ سے عقیدت اور محبت


· علی رضی اللہ عنہ نے "بِأَبِي الطَّيِّبُ" (میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں) کہہ کر آپ ﷺ کی تعظیم کی۔

· یہ جملہ صحابہ کرام کی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ نبی ﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے تھے۔


3. "طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا" – زندگی اور وفات میں یکساں پاکیزگی


· نبی ﷺ کی پاکیزگی زندگی تک محدود نہیں تھی، بلکہ وفات کے بعد بھی جاری رہی۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام کا مقام اور پاکیزگی موت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے، اور ان کے جسموں کو نجاست اور بوسیدگی نہیں لگتی۔


4. حضرت علی کا علمی اور عملی کردار


· انبیاء علیہم السلام کو غسل دینے کا شرف حضرت علی جیسے عظیم صحابی کو حاصل ہوا، جو ان کے مقام اور علم کو ظاہر کرتا ہے۔

· وہ نہ صرف جنگجو تھے بلکہ دین کے گہرے عالم اور فقیہ بھی تھے۔


5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط


· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، اور دفن کا مکمل واقعہ تھا۔

· اس حدیث میں خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشاہدہ اور آپ کا یہ اعلان کہ نبی ﷺ کے جسم سے وہ نجاست نہیں نکلی جو عام مردوں میں پائی جاتی ہے۔

· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات کے واقعات کو مکمل کرتی ہیں اور آپ کی عظمت اور طہارت کو اجاگر کرتی ہیں۔


---


واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 15

عنوان: نبی ﷺ کو غسل دینے والے صحابہ اور دفن کا واقعہ


وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: (" غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ - رضي الله عنهم - وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ , قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو مَرْحَبٍ - رضي الله عنه - أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ - رضي الله عنه -) (١) (فَنَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً ") (٢) (فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ قَالَ: إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ) (٣). 

_________ 

ترجمہ:

عامر الشعبی بیان کرتے ہیں:


"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی، حضرت فضل اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہوں نے ہی آپ ﷺ کو قبر میں اتارا۔"


(راوی شعبی کہتے ہیں:) اور مجھ سے ابو مرحب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنے ساتھ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بھی (قبر میں اتارنے کے لیے) شامل کیا (1)۔


(ابو مرحب کہتے ہیں:) "پھر وہ نبی ﷺ کی قبر میں اترے، گویا میں ان چاروں کو دیکھ رہا ہوں" (2)۔


پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ (دفن سے) فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا:


'بیشک مرد کے (غسل اور کفن کا) انتظام اس کے اہل خانہ کو کرنا چاہیے' (3)۔


---


حواشی وحوالہ جات:


1 (د) سنن أبی داود 3209 اس حوالے سے نبی ﷺ کو غسل دینے والوں (علی، فضل، اسامہ) کا ذکر ہے، اور ابو مرحب کے ذریعے عبدالرحمن بن عوف کا بھی شامل ہونا ثابت ہے۔

2 (د) سنن أبی داود 3210 اس حوالے سے ابو مرحب کا یہ قول کہ وہ ان چاروں کو قبر میں اترتے ہوئے دیکھ رہے تھے، ثابت ہے۔

3 (د) سنن أبی داود (یع) مسند یعلیٰ بن منیع (انظر أحكام الجنائز) للالبانی 3209 2367 ص147 اس حوالے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ "بیشک مرد کے (غسل و کفن کا) انتظام اس کے اہل خانہ کو کرنا چاہیے" ثابت ہے۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص132]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. نبی ﷺ کو غسل دینے والے صحابہ کرام


· اس حدیث کے مطابق نبی ﷺ کو چار صحابہ نے غسل دیا اور قبر میں اتارا:

  · حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

  · حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ

  · حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ

  · حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (ابو مرحب کی روایت کے مطابق)

· ان تمام صحابہ کا نبی ﷺ سے قریبی رشتہ یا خصوصی نسبت تھی، اس لیے انہیں یہ عظیم شرف حاصل ہوا۔


2. حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول – "إنما يلي الرجل أهله"


· حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مرد کے غسل اور کفن کا انتظام اس کے اہل خانہ کو کرنا چاہیے۔

· اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کو اس کے قریبی رشتہ دار (خاص طور پر اہل خانہ) ہی غسل دیں، جیسا کہ ان صحابہ نے نبی ﷺ کو غسل دیا۔

· یہ ایک فقہی اصول ہے کہ میت کو اس کے ہم جنس (مرد کو مرد اور عورت کو عورت) یا اس کے محارم (رشتہ دار) غسل دیں۔


3. قبر میں اترنے کا شرف


· ان چاروں صحابہ کو نبی ﷺ کو قبر میں اتارنے کا شرف حاصل ہوا، جو ان کی عظمت اور آپ ﷺ سے قربت کو ظاہر کرتا ہے۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کو انہی لوگوں نے دفن کیا جو آپ کے سب سے قریب تھے۔


4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط


· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان، عمر اور ابوبکر کا ردعمل، اور غسل و دفن کا ذکر تھا۔

· اس حدیث میں غسل دینے والوں کے نام اور قبر میں اتارنے والوں کی تعداد کا ذکر ہے۔

· یہ تمام حدیثیں مل کر نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، اور دفن کے تمام مراحل کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔


---


واللہ أعلم بالصواب





حدیث نمبر 16

عنوان: نبی ﷺ کا کفن – نجریٰ کا کپڑا اور دو ریطیں

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: " كُفِّنَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فِي ثَوْبٍ نَجْرَانِيٍّ وَرَيْطَتَيْنِ (١) " (٢) 

_________ 

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نجریٰ کپڑے اور دو ریطوں (باریک چادروں) میں کفنایا گیا" (1) (2)۔


---


حواشی وحوالہ جات:


1 (شرح النووی) – لغوی تشریح (ج 9 / ص 252) "الرَّيْطَة" ایک باریک کپڑا ہے، اور کہا گیا ہے کہ یہ ملاء (چادر) کو کہتے ہیں۔

2 (حب) صحیح ابن حبان   (انظر صحيح موارد الظمآن) للالبانی 6630   1809 اس حوالے سے نبی ﷺ کے کفن کا ذکر ہے کہ آپ کو ایک نجریٰ کپڑا (یمن کے علاقے نجران کا بنا ہوا عمدہ کپڑا) اور دو ریطیں (باریک چادریں) پہنائی گئیں۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15 ص133]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. نبی ﷺ کا کفن سادہ اور معمولی تھا


· نبی ﷺ کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کوئی خاص تکلف یا اسراف نہیں تھا۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفن میں سادگی اور اعتدال کو اپنانا چاہیے، اور بےجا خرچ اور تکلف سے بچنا چاہیے۔


2. کفن کے لیے تین کپڑوں کا استعمال سنت ہے


· نبی ﷺ کا کفن تین کپڑوں پر مشتمل تھا، جیسا کہ دیگر احادیث میں بھی آپ ﷺ کے کفن کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔

· فقہاء کرام کے نزدیک مرد کے لیے کم از کم تین کپڑوں کا کفن سنت ہے، جبکہ عورت کے لیے پانچ کپڑے مستحب ہیں۔


3. کفن کے لیے اچھے اور عمدہ کپڑے کا استعمال جائز ہے


· نبی ﷺ کو نجریٰ کا کپڑا پہنایا گیا، جو یمن کے علاقے نجران کا بنا ہوا عمدہ اور معیاری کپڑا تھا۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفن کے لیے اچھے، صاف اور معیاری کپڑے کا استعمال کرنا جائز اور مستحب ہے، بشرطیکہ اسراف نہ ہو۔


4. "دو ریطیں" – باریک چادروں کا استعمال


· ریطہ (ریط) ایک باریک اور نرم کپڑا ہوتا ہے، جسے چادر یا ملاء کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کے کفن میں ایک نجریٰ کپڑا اور دو باریک چادریں شامل تھیں، جنہیں ایک ساتھ لپیٹا گیا۔


5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط


· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، اور دفن کا ذکر تھا۔

· اس حدیث میں خاص طور پر آپ ﷺ کے کفن کا ذکر ہے، جو آپ کی وفات کے بعد کے واقعات کا ایک اہم حصہ ہے۔

· یہ تمام حدیثیں مل کر نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، اور دفن کے تمام مراحل کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔


---


واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 17

عنوان: نبی ﷺ کے دفن کی جگہ کا تعین – ابوبکر رضی اللہ عنہ کی یاددہانی


وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: (" لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ") (١) (لَمْ يَدْرُوا أَيْنَ يَقْبُرُونَهُ , حَتَّى قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -:) (٢) (سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - شَيْئًا مَا نَسِيتُهُ , قَالَ: " مَا قَبَضَ اللهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُدْفَنَ فِيهِ , ادْفِنُوهُ فِي مَوْضِعِ فِرَاشِهِ) (٣) (فَأَخَّرُوا فِرَاشَهُ , وَحَفَرُوا لَهُ تَحْتَ فِرَاشِهِ ") (٤) 

_________ 

ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا (1) تو صحابہ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ کو کہاں دفن کریں، یہاں تک کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (یہ بات) کہی (2) :

'میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جسے میں نہیں بھولا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا:

'اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی قبض کیا، وہ اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں وہ دفن ہونا چاہتا تھا، پس تم اسے اس کے بستر کی جگہ دفن کرو' (3) ۔

پھر انہوں نے اس کا بستر ہٹایا اور اس کے بستر کے نیچے اس کے لیے قبر کھودی (4) ۔"


---


حواشی وحوالہ جات:


1 (ت) جامع الترمذی 1018 اس حوالے سے نبی ﷺ کی وفات کا ذکر ہے۔

2 (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل 27 اس حوالے سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ انہیں نبی ﷺ کی ایک بات یاد ہے، ثابت ہے۔

3 (ت) جامع الترمذی 1018 اس حوالے سے نبی ﷺ کا یہ فرمان کہ ہر نبی اسی جگہ دفن ہوتا ہے جہاں اس کی وفات ہوتی ہے، ثابت ہے۔

4 (حم) مسند أحمد   (صحیح الجامع) للالبانی: 5605   (مختصر الشمائل) للالبانی: 326   (أحكام الجنائز) للالبانی: ص137 27 اس حوالے سے بستر ہٹانے اور اس کے نیچے قبر کھودنے کا ذکر ہے۔


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص134]

---


حاصل شدہ اسباق و نکات


1. ابوبکر رضی اللہ عنہ کا علمِ حدیث اور حافظہ


· ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ کا ایک قول یاد تھا جسے دوسرے صحابہ بھول گئے تھے۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ حدیث کے بہت بڑے عالم اور حافظ تھے۔


2. انبیاء کا دفن ان کی وفات کی جگہ پر ہوتا ہے


· نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی اسی جگہ دفن ہوتا ہے جہاں اس کی وفات ہوتی ہے۔

· اس لیے آپ ﷺ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں، جہاں آپ کا انتقال ہوا، وہیں دفن کیا گیا۔


3. صحابہ کا نبی ﷺ سے محبت اور ان کی نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل


· صحابہ کرام نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات سن کر فوراً عمل کیا اور بستر ہٹا کر قبر کھودی۔

· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا ہر معاملہ نبی ﷺ کی سنت اور ہدایت کے مطابق تھا۔


4. نبی ﷺ کا آخری آرام گاہ (مدینہ منورہ)


· آپ ﷺ کو اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں آپ کا انتقال ہوا، یعنی عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں۔

· یہی وہ جگہ ہے جہاں آپ ﷺ کا روضہ مبارک ہے، اور یہ مسجد نبوی کا حصہ ہے۔


5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط


· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، اور دفن کا ذکر تھا۔

· اس حدیث میں خاص طور پر دفن کی جگہ کے تعین کا واقعہ ہے، جسے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے قول کی بنیاد پر حل کیا۔


---


واللہ أعلم بالصواب










حدیث نمبر 18
عنوان: نبی ﷺ کی قبر میں اترنے والے صحابہ اور لحد کو سنوارنے والا انصاری صحابی

 وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: دَخَلَ قَبْرَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ وَالْفَضْلُ - رضي الله عنهم - وَسَوَّى لَحْدَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَهُوَ الَّذِي سَوَّى لُحُودَ قُبُورِ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ بَدْرٍ.
_________ 
ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں یہ لوگ اترے:

· حضرت عباس (آپ ﷺ کے چچا)
· حضرت علی (آپ ﷺ کے داماد)
· حضرت فضل (آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی)

اور آپ ﷺ کی لحد (قبر کا کنارہ) کو ایک انصاری صحابی نے سنوارا، اور وہی وہ شخص تھے جنہوں نے جنگ بدر کے دن شہداء کی قبروں کی لحدیں سنواری تھیں"۔

---

حواشی وحوالہ جات:

(حب) صحیح ابن حبان:6633، (مش) مشکل الآثار للطحاوی:2843، (ابن الجارود) المنتقیٰ لابن الجارود:547 ص145،  (البانی: صححہ فی أحکام الجنائز:145، وصحيح موارد الظمآن:1811)  — اس حوالے سے نبی ﷺ کی قبر میں اترنے والے صحابہ (عباس، علی، فضل) کا ذکر ہے، اور یہ کہ لحد کو سنوارنے والا ایک انصاری صحابی تھا جو بدر کے شہداء کی قبریں بھی بناتا تھا۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص135]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی قبر میں اترنے والے صحابہ کرام

· حضرت عباس بن عبدالمطلب – آپ ﷺ کے چچا اور قریش کے سردار۔
· حضرت علی بن ابی طالب – آپ ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی۔
· حضرت فضل بن عباس – آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی اور عباس کے بیٹے۔
  یہ تینوں صحابہ آپ ﷺ کے قریبی رشتہ دار تھے، اور انہیں آپ کو قبر میں اتارنے کا شرف حاصل ہوا۔

2. قبر میں اترنے کا شرف صرف قریبی رشتہ داروں کو ملا

· نبی ﷺ کو انہی لوگوں نے دفن کیا جو آپ کے سب سے قریب تھے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے قریبی رشتہ دار ہی اسے دفن کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔

3. انصاری صحابی کا لحد سنوارنا

· ایک انصاری صحابی نے نبی ﷺ کی لحد (قبر کا کنارہ) کو سنوارا۔
· وہی شخص تھا جس نے جنگ بدر کے شہداء کی قبروں کی لحدیں بنائی تھیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انصار صحابہ کو نبی ﷺ کے ساتھ بہت محبت اور عقیدت تھی، اور انہیں آپ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا۔

4. صحابہ کا نبی ﷺ کی خدمت میں لگن

· ہر صحابی نے اپنے درجے اور حیثیت کے مطابق نبی ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ کی خدمت کی۔
· قریبی رشتہ داروں نے قبر میں اتارا، اور انصاری صحابی نے لحد سنوار کر آپ کی تکریم کی۔

5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، اور دفن کی جگہ کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں خاص طور پر قبر میں اترنے والے صحابہ اور لحد سنوارنے والے صحابی کا ذکر ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات اور دفن کے تمام مراحل کی تکمیل کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب








حدیث نمبر 19
عنوان: نبی ﷺ کی نمازِ جنازہ اور تدفین کا طریقہ – ابو عسیب کا بیان

وَعَنْ أَبِي عَسِيبٍ مَوْلَى النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ , قَالُوا: ادْخُلُوا أَرْسَالًا (١) أَرْسَالًا , فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ , ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْ الْبَابِ الْآخَرِ , " فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ - صلى الله عليه وسلم - " قَالَ الْمُغِيرَةُ: قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ , قَالُوا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ , فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ فَمَسَّ قَدَمَيْهِ , فَقَالَ: أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ , فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ , ثُمَّ خَرَجَ , فَكَانَ يَقُولُ: أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -. (٢) 
_________ 

ترجمہ:
حضرت ابو عسیب – جو نبی ﷺ کے غلام تھے – بیان کرتے ہیں:

"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔

لوگوں نے کہا: 'ہم آپ ﷺ پر کیسے نماز پڑھیں؟'

انہوں نے کہا: 'تم گروہ در گروہ (رسلًا) داخل ہو' (1) ۔

چنانچہ وہ لوگ اس دروازے سے اندر آتے، آپ ﷺ پر نماز پڑھتے، پھر دوسرے دروازے سے نکل جاتے۔

پھر جب آپ ﷺ کو لحد (قبر کے کنارے) میں رکھا گیا، تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:

'آپ ﷺ کے پاؤں کا کچھ حصہ باقی ہے جسے انہوں نے درست نہیں کیا (یعنی قبر میں ٹھیک سے نہیں رکھا)۔'

لوگوں نے کہا: 'پس تم اندر جاؤ اور اسے درست کرو۔'

چنانچہ وہ (مغیرہ) اندر گئے اور اپنا ہاتھ ڈال کر آپ ﷺ کے پاؤں کو چھوا، پھر کہا:

'مجھ پر مٹی ڈالو۔'

پس انہوں نے ان پر مٹی ڈالی یہاں تک کہ وہ ان کی پنڈلیوں کے آدھے حصے تک پہنچ گئی، پھر وہ باہر نکل آئے۔

پھر وہ (مغیرہ) کہا کرتے تھے:

'میں تم سب میں سے رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ قریب کا آخری رابطہ رکھنے والا ہوں۔' (2) "

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (لغوی تشریح) — "الأَرْسَال" (رسل) کی جمع ہے، جس کا معنی ہے: گروہ، مختلف فوجیں، اور متفرق جماعتیں جو ایک دوسرے کے پیچھے آتی ہیں۔
(2) (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل:20785 (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح)، (الآحاد والمثانی) للدارقطنی:1547، (مش) مشکل الآثار للطحاوی:2839 — اس حوالے سے نبی ﷺ کی نمازِ جنازہ کا طریقہ (گروہ در گروہ داخل ہونا)، مغیرہ کا قبر میں پاؤں کو درست کرنا، اور ان کا یہ کہنا کہ "میں تم سب میں سے نبی ﷺ سے سب سے زیادہ قریب کا آخری رابطہ رکھنے والا ہوں" ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص136]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی نمازِ جنازہ کا طریقہ (گروہ در گروہ)

· صحابہ کرام نے نبی ﷺ کی نمازِ جنازہ گروہ در گروہ (رسلًا) ادا کی۔
· وہ ایک دروازے سے اندر آتے، نماز پڑھتے، اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے تاکہ ہجوم اور بھیڑ نہ ہو۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنازے کی نماز میں نظم و ترتیب اور قطاروں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

2. قبر میں پاؤں کو درست کرنے کا اہتمام (مغیرہ کا عمل)

· جب نبی ﷺ کو قبر میں رکھا گیا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے محسوس کیا کہ آپ کے پاؤں ٹھیک سے قبر میں نہیں رکھے گئے۔
· انہوں نے اندر جا کر آپ کے پاؤں کو چھوا اور اسے درست کیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کو قبر میں اچھی طرح اور پوری عزت کے ساتھ رکھنا چاہیے۔

3. صحابہ کا آپس میں تعاون اور مشورہ

· لوگوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ وہ اندر جائیں اور پاؤں کو درست کریں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام آپس میں مشورے اور تعاون سے کام کرتے تھے۔

4. مغیرہ کا "میں سب سے زیادہ قریب کا آخری رابطہ رکھنے والا ہوں" کا قول

· مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس لیے یہ کہا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے جسم کو دوسروں کے مقابلے میں آخر میں چھوا تھا۔
· اس سے ان کی خوشی اور فخر کا اظہار ہوتا ہے کہ انہیں آپ ﷺ کی خدمت کا یہ آخری شرف حاصل ہوا۔

5. نبی ﷺ کی قبر میں مٹی ڈالنے کا طریقہ

· مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "مجھ پر مٹی ڈالو" – یعنی اپنے اوپر مٹی ڈالو تاکہ میں قبر کو پوری طرح بند کر دوں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں مٹی ڈالنا اور اسے پوری طرح بند کرنا ضروری ہے۔

6. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، دفن کی جگہ، اور قبر میں اترنے والے صحابہ کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں نمازِ جنازہ کا طریقہ اور قبر میں پاؤں کو درست کرنے کا واقعہ ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات اور تدفین کے تمام مراحل کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 20
عنوان: فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نبی ﷺ کی تدفین پر اظہارِ غم

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (لَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَرَجَعْنَا) (١) (قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ - رضي الله عنها -: يَا أَنَسُ، كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -؟) (٢). 
_________ 
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا اور (دفن کر کے) واپس لوٹے" (1) تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا:

'اے انس! تمہارے دل کیسے راضی ہو گئے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو؟' (2) "

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح) 13139 اس حوالے سے انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ "جب ہم نے نبی ﷺ کو دفن کیا اور واپس لوٹے" ثابت ہے۔ شیخ شعیب نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
(2) (جة) سنن ابن ماجہ (خ) صحیح البخاری 1630 4193 اس حوالے سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انس رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے کہنا کہ "تمہارے دل کیسے راضی ہو گئے کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟" ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص137]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نبی ﷺ سے بےپناہ محبت اور عقیدت

· فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے والد کی تدفین کے بعد بھی اس درد کو برداشت نہیں کر پا رہی تھیں کہ ان کے جسم مبارک پر مٹی ڈالی گئی۔
· ان کا یہ جملہ "كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ" (تمہارے دل کیسے راضی ہو گئے) اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے لیے اپنے والد کو دفن کرنا کتنا دشوار تھا۔

2. انس رضی اللہ عنہ کا فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قول کو نقل کرنا

· انس رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس جذباتی جملے کو نقل کر کے امت کو بتایا کہ اہلِ بیت کو نبی ﷺ کی جدائی کا کتنا دکھ تھا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے تھے اور انہیں نقل کرتے تھے۔

3. نبی ﷺ کی تدفین کا مشاہدہ اور اس کا اثر

· صحابہ کرام نے نبی ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دفن کیا، لیکن ان کے دلوں پر اس کا گہرا اثر تھا۔
· فاطمہ رضی اللہ عنہا کا یہ سوال اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی تدفین کا عمل صحابہ کے لیے کتنا تکلیف دہ تھا۔

4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، نمازِ جنازہ، قبر میں اتارنے، اور قبر کو سنوارنے کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں دفن کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جذبات کا اظہار ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات کے بعد اہلِ بیت اور صحابہ کے جذبات اور ان کی محبت کا مکمل احاطہ کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 21
عنوان: نبی ﷺ کی مدینہ آمد پر روشنی اور وفات پر تاریکی – انس بن مالک کا بیان

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: (" لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - الْمَدِينَةَ , أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ) (١) (إِنِّي لَأَسْعَى فِي الْغِلْمَانِ، يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى فلَا أَرَى شَيْئًا، ثُمَّ يَقُولُونَ: جَاءَ مُحَمَّدٌ، فَأَسْعَى فلَا أَرَى شَيْئًا، قَالَ: " حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - " وَصَاحِبُهُ أَبُو بَكْرٍ .. فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، حَتَّى إِنَّ الْعَوَاتِقَ (٢) لَفَوْقَ الْبُيُوتِ يَتَرَاءَيْنَهُ، يَقُلْنَ: أَيُّهُمْ هُوَ؟ , أَيُّهُمْ هُوَ؟ , قَالَ: فَمَا رَأَيْنَا مَنْظَرًا شبيهًا بِهِ يَوْمَئِذٍ) (٣) (فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ) (٤) (قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ عَلَيْنَا وَيَوْمَ قُبِضَ، فَلَمْ أَرَ يَوْمَيْنِ مُشْبِهًا بِهِمَا) (٥) (وَمَا نَفَضْنَا عَنْ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - الْأَيْدِي , وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ , حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا (٦)) (٧). 
_________ 
ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے، اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی" (1)۔

(انس کہتے ہیں:) "میں لڑکوں کے ساتھ دوڑ رہا تھا، وہ کہہ رہے تھے: 'محمد آ گئے!' میں دوڑتا تھا مگر کچھ نظر نہیں آتا تھا، پھر وہ کہتے: 'محمد آ گئے!' میں دوڑتا تھا مگر کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔

پھر مدینہ کے لوگ باہر نکل آئے، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں (2) اپنے گھروں کی چھتوں پر آ کر آپ کو دیکھنے لگیں، وہ کہہ رہی تھیں: 'ان میں سے کون ہیں؟ ان میں سے کون ہیں؟'

(انس کہتے ہیں:) "پس ہم نے اس دن کے مشابہ کوئی منظر نہیں دیکھا" (3)۔

"پھر جس دن آپ ﷺ کا انتقال ہوا، اس دن مدینہ کی ہر چیز تاریک ہو گئی" (4)۔

(انس کہتے ہیں:) "بیشک میں نے وہ دن دیکھا جب آپ ہمارے پاس آئے اور وہ دن جب آپ کا انتقال ہوا، تو میں نے ان دونوں دنوں کے مشابہ کوئی دو دن نہیں دیکھے" (5)۔

"اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرتے وقت اپنے ہاتھ نہیں ہلائے (یعنی ہاتھ نہیں چھڑائے) تھے کہ ہمارے دلوں میں (اجنبیت اور) تبدیلی محسوس ہو گئی" (6) (7)۔

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (ت) جامع الترمذی:3618، (جة) سنن ابن ماجہ:1631 اس حوالے سے نبی ﷺ کی مدینہ آمد پر روشنی کا پھیلنا ثابت ہے۔
(2) (لغوی تشریح) — "العواتق" جمع ہے "عاتق" کی، جس سے مراد نوجوان لڑکیاں ہیں جو پہلی بار بلوغت کو پہنچی ہوں اور جن کی شادی نہ ہوئی ہو۔
(3) (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح) 13342 اس حوالے سے انس کا یہ کہنا کہ انہوں نے اس دن کے مشابہ کوئی منظر نہیں دیکھا، ثابت ہے۔
(4) (ت) جامع الترمذی:3618، (جة) سنن ابن ماجہ:1631 اس حوالے سے نبی ﷺ کی وفات پر مدینہ کی تاریکی کا ذکر ہے۔
(5) (حم) مسند أحمد:13342 اس حوالے سے انس کا یہ کہنا کہ انہوں نے ان دونوں دنوں کی مانند کوئی دن نہیں دیکھا، ثابت ہے۔
(6) تشریح: اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کو اپنے دلوں میں تبدیلی محسوس ہوئی، کیونکہ نبی ﷺ کی موجودگی میں جو الفت، صفا اور نرمی تھی، وہ آپ کی وفات کے بعد ختم ہو گئی۔(فتح الباری:ج12 / ص272)
(7) (ت) جامع الترمذی:5962، (جة) سنن ابن ماجہ:3618 (البانی: صححہ فی فقه السیرة:201، المشکاة:1631، مختصر الشمائل:329) اس حوالے سے انس کا یہ قول کہ "ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دفن کرتے وقت ہاتھ نہیں ہلائے تھے کہ ہمارے دلوں میں تبدیلی محسوس ہو گئی" ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص138]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی مدینہ آمد – روشنی اور خوشی کا دن

· نبی ﷺ کی مدینہ آمد کے ساتھ ہی مدینہ منورہ کی ہر چیز روشن ہو گئی۔
· یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ ﷺ کی آمد سے ایمان، علم اور برکت کا نور پھیل گیا۔
· لوگ، یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں بھی، آپ کو دیکھنے کے لیے چھتوں پر آ گئیں، جو ان کی محبت اور شوق کو ظاہر کرتا ہے۔

2. نبی ﷺ کی وفات – تاریکی اور غم کا دن

· جس دن آپ ﷺ کا انتقال ہوا، مدینہ کی ہر چیز تاریک ہو گئی۔
· اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی وفات سے ایمان اور روحانیت کا نور کم ہو گیا، اور صحابہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
· انس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دو دنوں جیسا کوئی دن نہیں دیکھا – ایک دن روشنی اور خوشی کا، اور دوسرا تاریکی اور غم کا۔

3. صحابہ کے دلوں میں تبدیلی (فقدانِ نبوت کا اثر)

· جب صحابہ نبی ﷺ کو دفن کر رہے تھے تو انہیں اپنے دلوں میں ایک اجنبیت اور تبدیلی محسوس ہوئی۔
· اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا، اور صحابہ کو آپ کی رہنمائی، الفت اور تعلیم کی کمی محسوس ہونے لگی۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کی موجودگی صحابہ کے دلوں کو سکون اور اطمینان دیتی تھی، اور آپ کی وفات کے بعد یہ سکون ختم ہو گیا۔

4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، غسل، کفن، نمازِ جنازہ، دفن، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جذبات کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں مدینہ میں آمد اور وفات کے دنوں کا موازنہ ہے، اور صحابہ کے دلوں پر اس کے اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات کے واقعات کو مکمل کرتی ہیں اور آپ کی عظمت اور صحابہ کی محبت کو اجاگر کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب









حدیث نمبر 22
عنوان: نبی ﷺ کا آخری پردہ اٹھانا، ابوبکر کی امامت، اور مصیبت میں تسلی کا حکم

وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: " فَتَحَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ , أَوْ كَشَفَ سِتْرًا " , فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ , " فَحَمِدَ اللهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ , رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ , فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ , أَيُّمَا أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ أَوْ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ , فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي , فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي "
_________ 
ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور لوگوں کے درمیان ایک دروازہ کھولا، یا پردہ اٹھایا، (1) تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔

پس آپ ﷺ نے اللہ کی حمد بیان کی اس (خوبصورت) حالت پر جو آپ نے دیکھی، اور اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو دیکھ کر ان میں آپ کی جانشینی (خلافت) عطا فرمائے گا۔

پھر آپ ﷺ نے فرمایا:

'اے لوگو! جس کسی شخص یا مومن کو کوئی مصیبت پہنچے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی اس مصیبت کے مقابلے میں میری (وفات کی) مصیبت سے تسلی حاصل کرے، کیونکہ میرے بعد میری امت میں سے کسی کو ایسی کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی جو اس پر میری مصیبت سے زیادہ سخت ہو۔'

---

حوالہ جات:
1 (جة) سنن ابن ماجہ   (عب) مصنف عبد الرزاق   (صحیح الجامع) للالبانی   (السلسلۃ الصحیحۃ) للالبانی 1599   6700   347   1106
اس حوالے سے نبی ﷺ کا پردہ اٹھا کر لوگوں کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پڑھتے دیکھنا، آپ ﷺ کا اللہ کی حمد بیان کرنا، اور آپ کا یہ فرمان کہ "میری مصیبت (وفات) سب سے بڑی مصیبت ہے، لہٰذا اس سے تسلی حاصل کرو" ثابت ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتب میں صحیح قرار دیا ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص139]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کا آخری دیدار اور ابوبکر کی امامت کی توثیق

· آپ ﷺ نے اپنی شدید بیماری میں بھی پردہ اٹھا کر یہ دیکھنا چاہا کہ امت کی نماز کی حالت کیا ہے۔
· آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے دیکھا اور اس پر اللہ کی حمد بیان کی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت اور ان کی خلافت سے راضی اور خوش تھے۔

2. آپ ﷺ کا لوگوں کی جماعت کو دیکھ کر خوش ہونا

· آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز کی صفوں میں (جمعیت میں) دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کا اتحاد، جماعت اور نماز کی پابندی نبی ﷺ کے لیے خوشی کا باعث تھی۔

3. "میری مصیبت سب سے بڑی مصیبت ہے" – تعزیت کا حکم

· آپ ﷺ نے فرمایا کہ امت کے کسی فرد کو جو مصیبت بھی آئے، وہ آپ کی وفات کی مصیبت سے زیادہ سخت نہیں ہو سکتی۔
· اس لیے جب کوئی مسلمان کسی مصیبت (جیسے اولاد کی موت، مال کا نقصان، بیماری وغیرہ) میں مبتلا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ نبی ﷺ کی جدائی کی مصیبت کو یاد کر کے اپنی مصیبت کو ہلکا سمجھے اور صبر کرے۔
· یہ ایک بہترین علاج ہے جو ہر مصیبت کو کم کر دیتا ہے۔

4. صحابہ کی حالت اور ان کا ایمان

· صحابہ کرام نبی ﷺ کی شدید بیماری کے باوجود جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، جو ان کے ایمان اور ان کی نماز کی پابندی کو ظاہر کرتا ہے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی جماعت کا اہتمام کرنا چاہیے، چاہے حالات کیسی بھی ہوں۔

5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی آخری بیماری، ان کا آخری دیدار، پردہ اٹھانا، اور ابوبکر کی امامت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں آپ ﷺ کا لوگوں کی جماعت کو دیکھ کر خوش ہونا اور آپ ﷺ کا "میری مصیبت سب سے بڑی ہے" کا فرمان ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کے آخری ایام، آپ کی امت سے محبت، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

6. اس تحریر کا جدید دور میں اطلاق (عملی پیغام)

· اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
  · مصیبت کے وقت نبی ﷺ کی جدائی کو یاد کریں اور صبر کریں۔
  · نماز کی جماعت کو اہمیت دیں اور اسے ترک نہ کریں۔
  · امت کا اتحاد اور جماعت نبی ﷺ کو پسند تھی، اس لیے ہمیں بھی اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔
  · ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خلافت کے لیے موزوں ترین تھے، اس لیے ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے۔

---

واللہ أعلم بالصواب









حدیث نمبر 23
عنوان: نبی ﷺ کی وفات کے بعد ابوبکر اور عمر کا ام ایمن کی زیارت اور وحی کے انقطاع پر ان کا رونا

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - بَعْدَ وَفَاة ِرَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - لِعُمَرَ - رضي الله عنه -: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا , كَمَا " كَانَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - يَزُورُهَا "، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ , مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ - صلى الله عليه وسلم - وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدْ انْقَطَعَ مِنْ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ , فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا.
_________ 
ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:

'چلو ہم ام ایمن کے پاس چلیں، ان کی زیارت کریں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کیا کرتے تھے۔'

پھر جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ (ام ایمن) رو پڑیں۔

ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: 'تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول ﷺ کے لیے بہتر نہیں؟'

تو انہوں نے کہا: 'میں اس لیے نہیں رو رہی کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول ﷺ کے لیے بہتر ہے، بلکہ میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔'

پس ان (ابوبکر و عمر) کے دلوں کو (یہ بات) ہلا کر رکھ دیا، چنانچہ وہ دونوں بھی اس کے ساتھ رونے لگے"۔
---
حوالہ
[صحیح مسلم:2454  مسند الإمام أحمد بن حنبل:13616]
اس حوالے سے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا ام ایمن کی زیارت کرنا، ان کا رونا، اور وحی کے انقطاع پر ان کا یہ کہنا کہ "میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے" ثابت ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص140]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی ام ایمن سے محبت اور ان کی زیارت کی سنت

· نبی ﷺ ام ایمن (جو آپ کی رضاعی والدہ اور غلام تھیں) کی زیارت کیا کرتے تھے۔
· ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے اس عمل کو زندہ رکھا اور وفات کے بعد بھی ان کی زیارت کی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بزرگانِ دین کی قبروں یا ان کی اولاد کی زیارت کرنا اور ان سے محبت کرنا سنت ہے۔

2. ام ایمن کا رونا – وحی کے منقطع ہونے کا غم

· ام ایمن نبی ﷺ کی وفات پر نہیں رو رہی تھیں (کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر ہے)، بلکہ وہ وحی کے منقطع ہونے پر رو رہی تھیں۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا نزول ایک عظیم نعمت تھا، اور اس کے ختم ہونے کا غم ایک بہت بڑا غم ہے۔
· یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام کو وحی، نبوت، اور آسمانی پیغام سے بےپناہ محبت تھی۔

3. ابوبکر اور عمر کا ام ایمن کے ساتھ رونا

· جب ام ایمن نے وحی کے انقطاع کا ذکر کیا تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی رو پڑے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نہ صرف نبی ﷺ سے محبت رکھتے تھے، بلکہ وحی، نبوت، اور آسمانی پیغام سے بھی انہیں بےپناہ عقیدت تھی۔
· ان کا رونا کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی شدت اور اللہ کے ساتھ تعلق کا اظہار ہے۔

4. "جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے" – یقین اور تسلی کا اظہار

· ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ام ایمن کو یہ بتایا کہ نبی ﷺ کے لیے جو اللہ کے پاس (آخرت کا اجر اور رضا) ہے، وہ دنیا کی زندگی سے بہتر ہے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو وفات کے وقت یہ یقین ہونا چاہیے کہ آخرت کی زندگی بہتر اور دائمی ہے۔

5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، ان کا آخری خطبہ، ابوبکر کی امامت، اور صحابہ کی محبت کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں نبی ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کا آپس میں تعاون، ام ایمن کی زیارت، اور وحی کے انقطاع پر ان کا رونا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کے جذبات، ان کی محبت، اور ان کی عقیدت کو مکمل طور پر بیان کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب








حدیث نمبر 24
عنوان: نبی ﷺ کی عمر مبارک، نبوت کا آغاز، ہجرت اور وفات کا خلاصہ

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضي الله عنهما - قَالَ: (" أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ , فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً , ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ , فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ , فَمَكَثَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ , ثُمَّ تُوُفِّيَ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ ") (٢) 
_________ 
ترجمہ:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت وحی نازل ہوئی جب آپ کی عمر چالیس (40) سال تھی۔

پھر آپ ﷺ نے مکہ میں تیرہ (13) سال گزارے، پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا، چنانچہ آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور وہاں دس (10) سال گزارے۔

پھر آپ ﷺ کا انتقال ہو گیا (1) اور اس وقت آپ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی" (2) ۔

---

حواشی وحوالہ جات:

(1) (خ) صحیح البخاری:3638 – اس حوالے سے نبی ﷺ کے مکہ میں 13 سال اور مدینہ میں 10 سال قیام کا ذکر ہے۔
(2) (خ) صحیح البخاری:3689، (م) صحیح مسلم:2351، (ت) جامع الترمذی:3621، (حم) مسند الإمام أحمد:2017 – اس حوالے سے نبی ﷺ کی کل عمر مبارک 63 سال ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص141]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی عمر مبارک اور نبوت کا آغاز

· نبی ﷺ کو 40 سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی۔ یہ آپ کی زندگی کا سب سے اہم اور فیصلہ کن موڑ تھا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کا آغاز جوانی کے اختتام اور میانہ عمری میں ہوتا ہے، جب عقل و فہم اپنے عروج پر ہوتی ہے۔

2. مکہ میں 13 سال – دعوت و صبر کا زمانہ

· آپ ﷺ نے مکہ میں 13 سال گزارے، جن میں سے بیشتر سال آپ نے اپنے قبیلے اور دوسرے لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے گزارے۔
· اس عرصے میں آپ کو بہت سی تکلیفوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
· اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ صبر اور استقامت سے ہی دین کی دعوت پھیلتی ہے۔

3. مدینہ میں 10 سال – ریاست اور شریعت کا قیام

· آپ ﷺ نے مدینہ میں 10 سال گزارے، جہاں آپ نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، مسجد نبوی تعمیر کی، اور اسلامی قوانین نافذ کیے۔
· اس عرصے میں غزوات ہوئے، معاہدے کیے گئے، اور دین کی تکمیل ہوئی۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا قیام صرف دعوت سے نہیں، بلکہ عملی ریاست اور نظام کی تشکیل سے بھی ممکن ہے۔

4. نبوت کا کل دورانیہ 23 سال

· نبی ﷺ کی نبوت کا کل دورانیہ 40 سے 63 سال تک = 23 سال پر محیط ہے۔
· اس مختصر عرصے میں آپ نے ایک پوری قوم کی تربیت کی، ایک عظیم تہذیب کی بنیاد رکھی، اور دنیا کو ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا کیا۔
· یہ آپ کی عظمت اور اللہ کی توفیق کا مظہر ہے۔

5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، آپ کے آخری ایام، اور صحابہ کے ردعمل کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں آپ کی پوری زندگی کا ایک مختصر خلاصہ ہے، جو آپ کی نبوت، ہجرت، اور وفات کے اہم سنگ میل کو بیان کرتا ہے۔
· یہ تمام حدیثیں سیرتِ نبوی کے اہم گوشوں کو اجاگر کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب






حدیث نمبر 25
عنوان: نبی ﷺ کی عمر مبارک – حضرت عائشہ کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "
_________ 
ترجمہ:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس وقت ہوا جب آپ کی عمر تریسٹھ (63) سال تھی"۔
---
 حوالہ
1 (خ) صحیح البخاری   (م) صحیح مسلم   (ت) جامع الترمذی   (حم) مسند الإمام أحمد 3343   115 - (2349)   3654   24662 اس حوالے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ثابت ہے کہ نبی ﷺ کا انتقال 63 سال کی عمر میں ہوا۔

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. نبی ﷺ کی عمر مبارک 63 سال

· نبی ﷺ کی عمر مبارک 63 سال تھی، جو پچھلی حدیث (ابن عباس رضی اللہ عنہما والی) میں بھی بیان ہوئی۔
· یہ آپ کی زندگی کا مکمل دورانیہ ہے، جو 40 سال نبوت سے پہلے، 13 سال مکہ میں، اور 10 سال مدینہ میں گزارے گئے۔

2. عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کی اہمیت

· عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ تھیں اور آپ کے قریب ترین افراد میں سے تھیں۔
· ان کا یہ بیان انتہائی معتبر ہے کیونکہ انہوں نے آپ کے ساتھ زیادہ وقت گزارا اور آپ کی زندگی کے آخری ایام کو قریب سے دیکھا۔

3. نبوت کا دورانیہ 23 سال

· نبی ﷺ کو 40 سال کی عمر میں نبوت ملی، اور 63 سال میں وفات ہوئی، لہٰذا نبوت کا دورانیہ 23 سال ہے۔
· ان 23 سالوں میں آپ نے اسلام کی بنیاد رکھی، ایک عظیم امت کی تشکیل کی، اور ایک مکمل نظامِ حیات عطا کیا۔

4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیث (ابن عباس رضی اللہ عنہما والی) میں بھی نبی ﷺ کی عمر 63 سال بتائی گئی تھی۔
· یہ دونوں حدیثیں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں اور نبی ﷺ کی عمر کے بارے میں قطعی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب









حدیث نمبر 26
عنوان: نبی ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم – تینوں کی وفات 63 سال کی عمر میں

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه - قَالَ: " قُبِضَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "، وَأَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَعُمَرُ - رضي الله عنه - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ "
_________ 
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس وقت ہوا جب آپ کی عمر 63 سال تھی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا (انتقال بھی اس وقت ہوا جب) ان کی عمر 63 سال تھی، اور عمر رضی اللہ عنہ کا (انتقال بھی اس وقت ہوا جب) ان کی عمر 63 سال تھی"۔

---

حوالہ جات
(م) صحیح مسلم: 2348
(حب) صحیح ابن حبان 6389

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. تینوں عظیم شخصیات کی عمر کا اتفاق

· نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما – تینوں کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔
· یہ ایک نمایاں اور قابلِ ذکر اتفاق ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا حصہ ہے۔

2. ان کی عمروں کا عددی موازنہ

· نبی ﷺ کی عمر 63 سال تھی۔
· حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر بھی 63 سال تھی (جبکہ وہ نبی ﷺ سے 3 سال چھوٹے تھے، لیکن ان کی وفات نبی ﷺ کے 2 سال بعد ہوئی)۔
· حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عمر بھی 63 سال تھی (وہ نبی ﷺ سے 13 سال چھوٹے تھے، اور ان کی وفات ابوبکر کے 10 سال بعد ہوئی)۔
· اس عددی ہم آہنگی کو صحابہ کرام نے بھی ایک خاص اہمیت دی ہے۔

3. تینوں کا مقام اور ان کی ہم عمری

· نبی ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم – یہ تین وہ شخصیات ہیں جنہوں نے اسلام کی تشکیل، اشاعت اور مضبوطی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
· ان کی عمر کا یہ اتفاق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تینوں ایک ہی دور اور ایک ہی فکری اور روحانی سطح کے حامل تھے۔

4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی دو حدیثوں (ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہما والی) میں صرف نبی ﷺ کی عمر 63 سال بتائی گئی تھی۔
· اس حدیث میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا اضافہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تینوں ایک خاص عددی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
· یہ تمام روایات سیرت کے اعداد و شمار کو مکمل کرتی ہیں۔

---

واللہ أعلم بالصواب







حدیث نمبر 27
عنوان: معاویہ رضی اللہ عنہ کا خطبہ – تینوں عظیم شخصیات کی عمر 63 سال اور خود کا ذکر

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيَّ - رضي الله عنه - قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ - رضي الله عنهما - يَقُولُ وَهُوَ يَخْطُبُ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ " , وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ , وَتُوُفِّيَ عُمَرُ - رضي الله عنه - وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ , قَالَ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا الْيَوْمَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ.
_________ 
ترجمہ:
حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"میں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے:
'رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال اس وقت ہوا جب آپ کی عمر 63 سال تھی،
اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی عمر 63 سال تھی،
اور عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال اس وقت ہوا جب ان کی عمر 63 سال تھی۔'
پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
'اور میں آج 63 سال کا ہوں۔'"

---

حوالہ جات:

 (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل 16919
 (م) صحیح مسلم 120 - (2352)
 (ت) جامع الترمذی 3653

---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. تینوں عظیم شخصیات کی عمر کا اتفاق

· نبی ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم – تینوں کا انتقال 63 سال کی عمر میں ہوا۔
· یہ ایک قابلِ ذکر اتفاق ہے، جسے صحابہ کرام نے بھی اہمیت دی ہے۔

2. معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی عمر کا ذکر

· معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کی بھی عمر 63 سال ہے۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس عددی ہم آہنگی کو ایک اہم علامت سمجھتے تھے۔
· بعض روایات کے مطابق معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات بھی 63 سال کی عمر میں ہوئی، گویا یہ ایک خاص عددی تسلسل ہے۔

3. اس حدیث کی اہمیت

· یہ روایت متعدد کتب (مسند احمد، صحیح مسلم، جامع ترمذی) میں مروی ہے، جو اس کی صحت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
· معاویہ رضی اللہ عنہ کا خطبہ میں اس کا ذکر کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک معروف اور مسلمہ بات تھی۔

4. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں انس، ابن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ کی عمر 63 سال بتائی تھی۔
· اس حدیث میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے تینوں (نبی، ابوبکر، عمر) کی عمر 63 سال بتائی، اور خود کو بھی اس عدد میں شامل کیا۔
· یہ سلسلہ اس عددی ہم آہنگی کو مزید مستحکم کرتا ہے۔
---
واللہ أعلم بالصواب









حدیث نمبر 28
عنوان: وفات سے پہلے وحی کا نزول اور اس کی شدت – انس بن مالک کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ - وَأَنَا أَسْمَعُ - فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ , كَمِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ عَنْ نَبِيِّ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَبْلَ مَوْتِهِ؟، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْ هَذَا أَحَدٌ مُذْ وَعَيْتُهَا مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رضي الله عنه -) (١) (أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ اللهَ - عز وجل - تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - قَبْلَ وَفَاتِهِ، حَتَّى تُوُفِّيَ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - ") (٢) 
_________ 
ترجمہ:

عبدالرحمن بن اسحاقؒ، زہریؒ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:

(زہریؒ کہتے ہیں:) میرے پاس ایک شخص آیا – اور میں سن رہا تھا – اس نے کہا:

'اے ابوبکر! (زہری کا نام ابوبکر بن محمد بن حزم تھا) نبی ﷺ کی وفات سے پہلے کتنی مدت تک وحی منقطع رہی؟'

تو زہری نے کہا:

'جب سے میں نے یہ بات انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، اس کے بارے میں مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔'

'بیشک انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ پر وفات سے پہلے وحی کا سلسلہ برابر جاری رکھا، یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا، اور سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا۔' (1) (2)

---

حوالہ جات:

1 (حب) صحیح ابن حبان   (البانی: صححہ فی التعلیقات الحسان)   (شیخ شعیب الأرناؤوط: إسناده صحيح) 44
اس حوالے سے زہری کا یہ کہنا کہ "جب سے میں نے یہ انس بن مالک سے سنا، اس کے بارے میں مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا" ثابت ہے۔
2 (م) صحیح مسلم   (خ) صحیح البخاری   (حم) مسند الإمام أحمد بن حنبل 2 - (3016)   4697   13504
اس حوالے سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ "اللہ نے وفات سے پہلے نبی ﷺ پر وحی کا سلسلہ برابر جاری رکھا، اور سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن آپ کا انتقال ہوا" ثابت ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد ج15 ص145]
---

حاصل شدہ اسباق و نکات

1. وفات سے پہلے وحی کا سلسلہ برابر جاری رہا

· انس رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی ﷺ پر وفات تک وحی کا نزول جاری رہا، کسی وقت بھی منقطع نہیں ہوا۔
· اس سے یہ غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ آخری وقت میں وحی منقطع ہو گئی تھی۔

2. سب سے زیادہ وحی وفات کے دن نازل ہوئی

· انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن نبی ﷺ کا انتقال ہوا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری وقت میں بھی اللہ اپنے نبی کو وحی سے نواز رہا تھا، اور آپ کی وفات کے ساتھ ہی وحی کا سلسلہ ختم ہوا۔

3. اس حدیث کی سند کی صحت

· اس حدیث کو صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن حبان، اور مسند أحمد نے روایت کیا ہے۔
· امام البانی اور شیخ شعیب الأرناؤوط نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
· اس لیے یہ ایک مستند اور قابلِ قبول روایت ہے۔

4. زہری کا تعجب – "مجھ سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا"

· زہری نے فرمایا کہ انہوں نے یہ بات انس رضی اللہ عنہ سے سنی تھی، مگر اس کے بارے میں ان سے کسی نے نہیں پوچھا تھا۔
· اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی بات تھی جس کے بارے میں لوگ عام طور پر سوال نہیں کرتے تھے، یا انہیں اس کا علم نہیں تھا۔

5. اس حدیث کا پچھلے ابواب سے ربط

· اس سے پہلے کی حدیثوں میں نبی ﷺ کی وفات، آپ کی عمر، اور صحابہ کے ردعمل کا ذکر تھا۔
· اس حدیث میں وحی کے نزول کا خاص طور پر ذکر ہے، جو نبی ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی ختم ہوا۔
· یہ تمام حدیثیں نبی ﷺ کی وفات کے واقعات کو مکمل کرتی ہیں۔
---
واللہ أعلم بالصواب




No comments:

Post a Comment