Thursday, 22 January 2026

کیوں شرک ناقابلِ معافی جرم اور سب سے بڑا ظلم ہے؟


یہ حکم قرآنِ کریم کی آیت "إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ" (سورۃ النساء: ۴۸) سے واضح ہے۔ شرک کے ناقابلِ معافی ہونے کے چند اہم پہلو اور حکمتیں یہ ہیں:


🔍 شرک کی سنگینی اور دیگر گناہوں سے فرق:

· سب سے بڑا ظلم و جرم: شرک صرف ایک گناہ نہیں، بلکہ بنیادی حق کی نفی ہے۔ یہ خالق کے ساتھ کیے گئے عہد کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے "ظلم عظیم" کہا گیا ہے۔

· تعلق کی بنیاد ہی غلط: دیگر گناہ عبادت گزار بندے کی نافرمانیاں ہیں، جبکہ شرک عبادت کی بنیاد (توحید) ہی کو بگاڑ دیتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کوئی ملازم کام میں کوتاہی کرے (جس پر معافی ہو سکتی ہے) بجائے اس کے کہ وہ خود کو مالک کا شریک یا دوسرا مالک ہی بتانے لگے (جو اساس کے خلاف ہے)۔

· اللہ کا واضح اعلان: اللہ تعالیٰ نے خود واضح فرما دیا کہ وہ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا، جبکہ اس کے سوا ہر گناہ اُس کی مشیت پر منحصر ہے۔


💡 حکمتیں اور اہمیت


· توحید کی حفاظت: یہ حکم توحید کے مرکزی عقیدے کی حفاظت اور اُس کی اہمیت کو ہمیشہ زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔

· انسانی فطرت کا تحفظ: انسان فطرتاً عبادت کی طرف مائل ہے۔ یہ حکم اس فطرت کو صرف ایک ہی معبود (اللہ) کی طرف مرکوز رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

· نظامِ کائنات کا تقاضا: کائنات کا پورا نظام توحید پر قائم ہے۔ شرک اس نظام کے بنیادی اصول کے خلاف بغاوت ہے۔


🌟 امید کا پیغام اور معافی کے راستے


یہ یاد رہے کہ شرک کے علاوہ ہر گناہ کے لیے معافی کا دروازہ کھلا ہے، لیکن شرائط کے ساتھ:


· حقوق اللہ (مثلاً نماز چھوڑنا): توبہ اور قضا (چھوٹے ہوئے فرائض کی تلافی) ضروری ہے۔

· حقوق العباد (مالی، مثلاً چوری): توبہ اور حق دار کو اس کا حق واپس دینا ضروری ہے۔ اگر مالک فوت ہو چکا ہو تو وارثوں کو دینا یا صدقہ کرنا لازم ہے۔

· حقوق العباد (غیر مالی، مثلاً بدکلامی): توبہ اور معافی مانگنا ضروری ہے۔ اگر ممکن نہ ہو تو اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔


اہم نکتہ: شرک پر مرنے والے کی بخشش نہیں، لیکن اگر کوئی شرک کرنے کے بعد توبہ کر کے اسلام قبول کر لے، تو اللہ کی رحمت سے اُس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں۔ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کا واقعہ (جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے) اس کی واضح مثال ہے۔


✨ خلاصہ


شرک کی ناقابلِ معافی کا حکم درحقیقت توحید کی عظمت اور مرکزیت کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔ یہ حکم اللہ کے عدل اور رحمت دونوں کو ظاہر کرتا ہے: عدل اس لیے کہ سب سے بڑے جرم کی سب سے بڑی سزا ہے، اور رحمت اس لیے کہ اس کے سوا ہر گناہ گزار کے لیے توبہ اور معافی کا وسیع میدان موجود ہے۔







شرک سب سے بڑا ظلم کیوں ہے؟ اسے آسان عقلی اور مثالی پہلوؤں سے سمجھیں:


1️⃣ ظلم کی تعریف میں شرک کی نوعیت


ظلم کا مطلب ہے "حق کو اس کی جگہ نہ رکھنا"۔


· ظلمِ خفیف: نیکی میں تاخیر کرنا (جیسے نماز دیر سے پڑھنا)

· ظلمِ متوسط: چوری، جھوٹ (حقوق العباد کی خلاف ورزی)

· ظلمِ عظیم: خالق کو مخلوق کی جگہ رکھ دینا - یہی شرک ہے۔


2️⃣ عقلی پہلو: منطقی بغاوت


· مثال 1: اگر کوئی شخص اپنے باپ کو ہی نہ پہچانے اور کسی اجنبی کو باپ مان لے، تو یہ صرف نافرمانی نہیں بلکہ رابطے کی بنیاد ہی غلط ہے۔ شرک اسی طرح خالق کو نہ پہچاننے کا عمل ہے۔

· مثال 2: جیسے کوئی مریض ڈاکٹر کی بجائے دیوار سے علاج مانگے، یہ صرف بیوقوفی نہیں بلکہ علاج کے نظام کی بنیاد کو ہی مسترد کرنا ہے۔


3️⃣ عملی مثالوں سے سمجھیں


مثال: بادشاہ کا قاصد


ایک بادشاہ نے آپ کو قلعہ دیا، روزی دی، محافظ دیے۔ پھر اپنا خاص قاصد بھیجا جو آپ سے کہتا ہے: "بادشاہ تم سے محبت کرتا ہے، بس اس ایک بات پر عمل کرو: میری طرف سے ہر پیغام مانو۔"


· آپ نے قاصد کو ہی بادشاہ مان لیا، یا

· نوکروں کو بادشاہ کا شریک ٹھہرایا

  یہ صرف نافرمانی نہیں، بلکہ بادشاہ کی ذات اور حکمرانی کا انکار ہے۔


مثال: زندگی کی ٹرین


زندگی ایک ٹرین ہے جس کے:


· مالک/چالک: اللہ

· راستہ/منزل: دنیا سے آخرت

· ٹکٹ/ہدایت: قرآن و سنت


شرک ایسے ہے جیسے:


1. مالک کو ہی انکار کردیا

2. کسی مسافر کو ڈرائیور بنا لیا

3. اپنی مرضی کا راستہ بنا لیا

   نتیجہ: ٹرین پٹری سے اتر جائے گی - یہ صرف غلطی نہیں، بلکہ سفر کا نظام تباہ کرنا ہے۔


4️⃣ شرک کا "تین طرفہ" ظلم


1. اللہ پر ظلم:

   · اس کی خالقیت، رزاقیت، حاکمیت میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا

   · جیسے کسی مصنف کی کتاب پر دوسرے کا نام لگا دینا

2. مخلوق پر ظلم:

   · بتوں، ستاروں، بزرگوں کو وہ مقام دینا جو ان کی استطاعت سے باہر ہے

   · جیسے کسی غلام کو بادشاہ بنا کر اس پر بھی بوجھ ڈالنا

3. اپنی ذات پر ظلم:

   · اپنی عقل، فطرت اور روح کو جھوٹے معبودوں کے آگے جھکا کر اپنی عزت گنوا دینا

   · مخلوق کی غلامی اختیار کر کے خالق کی غلامی چھوڑ دینا


5️⃣ فطری پہلو: انسان کی پیدائشی سمجھ


ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے (حدیث: "ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے...")


· فطرت کا تقاضا: خالق واحد کی پہچان

· شرک: اس فطری رشتے کو توڑ کر مصنوعی رشتے بنانا

· جیسے: تازہ پانی میں زہر ملانا - پانی کی اصل کو ہی بگاڑ دینا


6️⃣ نتیجہ کی سطح پر فرق


  • گناہ نافرمانی ہے، لیکن شرک بغاوت ہے۔
  • گناہ نظام میں خرابی ہے، شرک نظام ہی غلط ہے۔
  • گناہ تعلقات میں کشیدگی، شرک تعلق ہی ختم
  • گناہ جزوی نقصان ہے، شرک مکمل تباہی ہے۔


7️⃣ آخری بات: شرک کیوں ناقابلِ معافی؟


· معافی کا فلسفہ: معافی تعلق کی بنیاد پر ملتی ہے

· شرک: تعلق کی بنیاد ہی ختم کر دیتا ہے

· جیسے: درخت کی جڑ کاٹ دی، پھر شاخیں سینچنے کا فائدہ؟ 💧


خلاصہ: شرک محض "گناہ" نہیں، بلکہ حقیقت کو الٹ دینے کا عمل ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے کوئی پوری کتاب کو ہی غلط پڑھ لے، صرف اغلاط درست نہ ہوں۔






قرآنِ کریم نے شرک کو "ظلم عظیم" قرار دیا ہے اور اس کی سنگینی کو متعدد آیات میں واضح کیا ہے۔ درج ذیل آیات اس بارے میں واضح دلائل ہیں:


📖 1. شرک کو "ظلم عظیم" قرار دینا


وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

"اور (یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے سے نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک نہ کر، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"


📖 2. شرک ہی ناقابلِ معافی گناہ ہے


إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ

"بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا دوسرے گناہوں کو جس کے لیے چاہے بخش دیتا ہے۔"


ایک دوسری آیت میں بھی یہی بات دہرائی گئی ہے:


إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ

"بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، اور اس کے سوا دوسرے گناہوں کو جس کے لیے چاہے بخش دیتا ہے۔"


📖 3. شرک کرنے والے پر جنت حرام ہے


إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ

"بیشک جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔"


📖 4. شرک تمام نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے


وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ

"اور (اے پیغمبر) تمہاری طرف اور تم سے پہلے کے رسولوں کی طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک کرو گے تو تمہارا سارا عمل ضائع ہو جائے گا۔"


📖 5. شرک: اللہ کے سوا دوسروں کو اُسی کی مانند محبت دینا


وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ

"اور بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو (اس کا) ہمسر بناتے ہیں، ان سے اللہ جیسی محبت کرتے ہیں۔"


📖 6. شرک سے بچنے کا حکم اور اس کی خطرناک مثال


حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ

"اللہ کے لیے یکسو ہو کر (اس کی عبادت کرو) اس کے ساتھ شرک نہ کرو۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اُچک لے گئے یا ہوا کسی دور دراز جگہ لے گئی۔"


📖 7. شرک دور کی گمراہی ہے


وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا

"اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے، وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں بھٹک گیا۔"


📖 8. عمل کی قبولیت کی شرط: شرک سے پاک ہونا


فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا

"پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔"


خلاصہ


قرآنِ کریم کے ان واضح بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ:


1. شرک کو "ظلم عظیم" قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ خالق کے بنیادی حق (توحید) کی نفی ہے۔

2. شرک واحد گناہ ہے جو اللہ کے ہاں ناقابلِ معافی ہے، جبکہ اس کے سوا دیگر گناہوں کی معافی ممکن ہے۔

3. شرک کرنے والے پر جنت حرام ہو جاتی ہے اور اس کا انجام دوزخ ہے۔

4. شرک ساری نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے، چاہے عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

5. شرک کی صورت میں محبت و عبادت کا رخ اللہ کے بجائے مخلوق کی طرف پھر جاتا ہے، جو فطری رشتے کی خرابی ہے۔

6. شرک سے بچنے کا حکم ہے اور اسے آسمان سے گرنے اور پرندوں کے پھاڑ کھانے جیسے خطرناک عمل سے تشبیہ دی گئی ہے۔


یہ آیات مل کر اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ شرک محض ایک "گناہ" نہیں، بلکہ پورے دینی نظام کی بنیاد (توحید) کے خلاف بغاوت ہے۔ اسی لیے اسے سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے۔



 

No comments:

Post a Comment