حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من عير أخاه بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ قَالَ أَحْمَدُ: قَالُوا: مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ منه.
ترجمہ:
"جس شخص نے اپنے بھائی (مسلمان) کو کسی گناہ پر عار دلایا (یعنی اس کا مذاق اڑایا یا طعنہ زنی کی)، تو وہ مرتا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ خود وہ (جیسا یا ویسا) گناہ کرنے لگے۔" امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے (اس کی وضاحت میں) کہا: "علماء کہتے ہیں کہ یہ اس گناہ کے ساتھ خاص ہے جس سے اس (بھائی) نے توبہ کرلی ہو۔"
[سنن الترمذي:2505، شعب الإيمان-للبيهقي:6271، الصمت-ابن أبي الدنيا:288، مشكاة المصابيح:4855، جامع الأحاديث-للسيوطي:22997]
القرآن:
الله نے توبہ قبول کرنے کی جو ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ چنانچہ الله ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اور الله ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی۔
[سورة النساء:17 ﴿تفسير السمرقندي:1/289، تفسير القرطبي:5/93﴾]
شرح:
قوله: (من عير أخاه إلخ) بين التعيير والنهي عن المنكر فرق فإن التعيير يكون من الكبر ويكون فيه براءة لنفسه، والنهي عن المنكر يكون لكون الشيء منكرا في الشريعة ويكون لله لا للتكبر.
ترجمہ:
"(جس شخص نے اپنے بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا...)" تعییر (عیب لگانا/طعنہ زنی) اور منکر سے روکنے میں فرق ہے۔ تعییر عموماً تکبر سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں انسان اپنے آپ کو بے عیب ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ منکر سے روکنا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ کام شرعاً ناجائز ہے اور یہ عمل اللہ کی خاطر ہوتا ہے، تکبر کی خاطر نہیں۔
[العرف الشذي شرح سنن الترمذي:4/80]
شرح للمناوي:
(من عير أخاه بذنب لم يمت حتى يعمله) قال مخرجه الترمذي: قال أحمد بن منيع قالوا من ذنب قد تاب منه
(ت) في الزهد من حديث محمد بن الحسن بن أبي يزيد عن ثور عن خالد بن معدان (عن معاذ) بن جبل وقال أعني الترمذي: حسن غريب وليس إسناده بمتصل اه. وقال البغوي: هو منقطع لأن خالد بن معدان لم يدرك معاذا ومحمد بن الحسن ابن أبي يزيد قال أبو داود وغيره: كذاب ومن ثم أورده ابن الجوزي في الموضوع ولم يتعقبه المؤلف في مختصره سوى بأن له شاهدا وهو قول الحسن كانوا يقولون من رمى أخاه بذنب قد تاب منه لم يمت حتى يبتليه الله به ومن العجب أن المؤلف لم يكتف بإيراده حتى أنه رمز لحسنه أيضا.
ترجمہ:
"جس شخص نے اپنے بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا، وہ مرتا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ خود وہ گناہ کرنے لگے۔" امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ امام احمد بن منبع نے بیان کیا کہ علماء کہتے ہیں کہ یہ اس گناہ کے بارے میں ہے جس سے اس نے توبہ کر لی ہو۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے (الزہد میں) اسے خالد بن معدان کے حوالے سے بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث "حسن غریب" ہے لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔ امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ سند منقطع ہے کیونکہ خالد بن معدان نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ نیز محمد بن الحسن بن ابی یزیـد کے بارے میں امام ابو داود وغیرہ نے کہا ہے کہ وہ "کذاب" (جھوٹا) ہے۔ اسی وجہ سے امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اسے "موضوع" (من گھڑت) حدیثوں میں شمار کیا ہے۔ تاہم (دوسری طرف) مصنف (علامہ منذری) نے اس کی تائید میں ایک شاہد (دوسری روایت) پیش کی ہے جو حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے: "صحابہ کہا کرتے تھے کہ جس نے اپنے بھائی کو ایسے گناہ پر طعنہ دیا جس سے اس نے توبہ کر لی تھی، تو وہ مرتا نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اسی (گناہ) میں مبتلا کر دیتا ہے۔" عجیب بات یہ ہے کہ مصنف (علامہ منذری) نے صرف اسے نقل کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے "حسن" بھی قرار دیا ہے۔
[فيض القدير-للمناوي:8869]
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. عیب جوئی کی شدید وعید: کسی مسلمان بھائی کے کسی گناہ یا عیب کو اس پر طعنہ زنی یا مذاق کا موضوع بنانا سخت گناہ ہے۔ اس پر دنیا میں ہی ایسی سزا کا وعدہ ہے کہ عیب لگانے والا خود اسی قسم کے گناہ میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
2. تائب شخص کی تکریم: حدیث کی شرح کے مطابق یہ وعید خاص طور پر اس صورت میں ہے جب مومن نے اپنے گناہ سے سچی توبہ کر لی ہو۔ توبہ کرنے والے کو معاف کر کے اس کے ماضی کو یاد دلانا یا اسے شرمندہ کرنا اللہ کے فضل اور بخشش کے خلاف گستاخی ہے۔
3. نصیحت اور طعنہ میں فرق: شرح میں "تعییر" (طعنہ/عیب جوئی) اور "نہی عن المنکر" (برائی سے روکنے) کے بنیادی فرق کو واضح کیا گیا ہے۔
· طعنہ زنی: یہ تکبر، خود نمائی اور دوسरे کو نیچا دکھانے کے جذبے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بھلائی نہیں بلکہ دوسرے کی بے عزتی ہوتا ہے۔
· نصیحت/منع کرنا: یہ اللہ کی خوشنودی، شرعی حکم کی پاسداری اور بھائی کے بھلے کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں نرمی، ہمدردی اور رازداری کا اخلاص ہوتا ہے۔
4. حدیث کی سندی حیثیت پر بحث: علماء حدیث نے اس روایت کی سند میں ضعف (کمزوری) کی نشاندہی کی ہے۔ اس کا ایک راوی "کذاب" (سخت ضعیف) بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ حدیث قوت کے اعتبار سے "ضعیف" یا "منکر" شمار ہوتی ہے۔
5. ضعیف حدیث سے اخذ حکم: اگرچہ سند کمزور ہے، لیکن:
· اس کا مفہوم دیگر شرعی نصوص (جیسے تکبر کی مذمت، توبہ کے احکام) سے میل کھاتا ہے۔
· حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا اثر (جو ایک مشہور تابعی ہیں) اس مفہوم کی تائید کرتا ہے کہ تائب شخص کو عار دلانا مناسب نہیں۔
· اس لیے علماء اخلاقیات اور وعظ و نصیحت میں اس کے مفہوم سے استدلال کرتے ہیں، اگرچہ یہ شرعی احکام میں قطعی دلیل نہیں بن سکتی۔
6. اخلاقی سبق: ایک مومن کو ہمیشہ دوسرے کے عیب ڈھونڈنے کی بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے۔ دوسرے کے گناہوں (خاص طور پر جو توبہ سے پاک ہو چکے ہوں) کو یاد دلانا یا اس پر فخر محسوس کرنا انتہائی مذموم عمل ہے۔ ہمارا رویہ درگذر، درگزر اور بھائی کے احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
قرآن و سنت سے مزید شواہد:
اول: قرآن مجید سے شواہد
1. عیب جوئی اور طعنہ زنی کی مذمت:
· سورہ الحجرات (49:11):
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
· ترجمہ: "اے ایمان والو! نہ کوئی قوم کسی قوم کا مذاق اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے پر عیب لگاؤ اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد تو فسق (کا نام) بہت برا نام ہے۔ اور جو توبہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔"
· سورہ الهمزة (104:1):
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ
· ترجمہ: "ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لیے جو (لوگوں کو) طعنہ مارتا ہے، عیب لگاتا ہے۔"
2. توبہ کرنے والوں کے احترام اور رازداری:
· سورہ النور (24:19):
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
· ترجمہ: "بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"
· سورہ النساء (4:148):
لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا
· ترجمہ: "اللہ بری بات کے اعلان (بلند آواز سے کہنے) کو پسند نہیں کرتا سوائے اس کے جس پر ظلم کیا گیا ہو۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔"
دوم: سنت سے شواہد
1. دوسروں کے عیوب چھپانے کی فضیلت:
· صحیح بخاری(13)،صحیح مسلم (2699):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی (بھلائی) پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔"
یہ اصول عیب جوئی کے خلاف ہے۔
· صحیح مسلم (2580)، صحیح البخاری (2442):
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ»
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی مومن کی دنیا کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا۔ جس نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی کرے گا۔ اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے۔"
2. تکبر اور خود پسندی کی مذمت (جو عیب جوئی کا سبب بنتا ہے):
· صحیح مسلم (91):
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ»
· ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
3. گناہوں کو عام کرنے کی مذمت:
· مسند احمد (8766)–صَحِيح التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيب(2939) :
عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُؤْمِنُ العَبْدُ الإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمِزَاحِ، وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا»
ترجمہ:
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بندہ کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ مذاق میں جھوٹ بولنا ترک نہ کر دے، اور لڑائی جھگڑا ترک نہ کر دے، اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔" یہ عیب جوئی اور طعنہ زنی سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے۔
4. تائب کی عزت اور اس کے گناہوں کو چھپانا:
· سنن ابن ماجہ (4250) – حسن:
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ»۔
ترجمہ:
حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ اپنے والد (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس کا کوئی گناہ ہی نہ ہو۔"
. صحیح بخاری (6069) – صحیح:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَيَقُولَ: يَا فُلَانُ، عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ»
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "میری ساری امت معاف ہے سوائے "مجاہرین" (اپنے گناہوں کو علانیہ کرنے والوں) کے۔ اور بے شک مجاہرت (علانیہ گناہ) میں سے یہ ہے کہ آدمی رات کو کوئی (برا) عمل کرے، پھر صبح ہو اور اللہ نے اس پر پردہ ڈال رکھا ہو (لوگوں سے چھپا رکھا ہو)، تو وہ کہے: اے فلاں! میں نے کل رات ایسا ایسا کیا۔ حالانکہ اس کا رب رات بھر اس پر پردہ ڈالے رہا، اور وہ صبح کو اللہ کے پردے کو خود اٹھا دیتا ہے۔"
خلاصہ و اسباق:
1. قرآنی حکم: قرآن نے صراحتاً طعنہ زنی، عیب جوئی، تمسخر اور برے القاب سے پکارنے سے منع فرمایا ہے۔
2. توبہ کا احترام: تائب شخص کی پردہ پوشی واجب ہے، اس کے ماضی کو یاد دلانا گویا اللہ کی بخشش کو رد کرنا ہے۔
3. اخلاص کا معیار: نصحیت اور برائی سے روکنے کا مقصد خالصتاً اللہ کی رضا ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی برتری جتانا۔
4. سنتی ترغیبات: دوسرے مسلمانوں کے عیوب چھپانا، ان کی مدد کرنا، اور ان سے محبت کرنا عظیم اجر کا باعث ہے۔
5. تکبر کی تباہی: عیب جوئی کا بنیادی محرک تکبر ہے، جو جنت سے محرومی کا سبب ہے۔
6. عملی اصول: "اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو" کا اصول اپنا کر عیب جوئی سے مکمل بچا جا سکتا ہے۔
ان شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث کا اخلاقی مفہوم قرآن و سنت کے عمومی تعلیمات سے ہم آہنگ اور ان کی تائید و تفسیر کرتا ہے، اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے۔

No comments:
Post a Comment