Saturday, 10 October 2026

پیغمبر نوح کی کشتی کا اصل واقعہ

 

پیغمبر نوح علیہ السلام کی کشتی کا واقعہ — واقعاتی ترتیب کے ساتھ باحوالہ


1. طویل دعوت، قوم کی سرکشی اور بہت کم ایمان لانے والے


حضرت نوح علیہ السلام(سلامتی ہو ان پر) نے تقریباً ایک ہزار سال عمر پائی اور صدیوں تک اپنی قوم کو نہایت دردمندی سے تبلیغ فرماتے رہے۔ اس کے بدلے سخت اذیتیں برداشت کیں، مگر بہت تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب اپنے کفر اور بداعمالیوں پر قائم رہے۔

حوالہ: تفسیر (18)، سورۃ ہود 37-49۔





2. قوم کے ایمان نہ لانے کا فیصلہ اور کشتی بنانے کا حکم


آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو بتادیا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں اور اب ان پر طوفان کا عذاب آئے گا۔ اس لیے آپ کو کشتی بنانے کا حکم دیا تاکہ آپ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے اس میں سوار ہو کر طوفان کی تباہی سے بچ سکیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:


اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ، اور جو لوگ ظالم بن چکے ہیں ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا۔ یہ اب غرق ہو کر رہیں گے۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:37؛ تفسیر (18)۔


بعض مفسرین کے مطابق کشتی سازی کی صنعت سب سے پہلے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) نے وحی کے ذریعے شروع فرمائی اور پہلی بار تین منزلہ جہاز تیار کیا۔

حوالہ: تفسیر (18)۔


3. کشتی کی تعمیر اور قوم کا مذاق


چنانچہ وہ کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی ان کی قوم کے کچھ سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:38؛ تفسیر (19)۔


تفسیر کے مطابق وہ مذاق اس بات کا اڑاتے تھے کہ انہوں نے دوسرے کام چھوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی ہے، حالانکہ پانی کا کہیں دور دور پتہ نہیں تھا۔

حوالہ: تفسیر (19)۔


4. حضرت نوح علیہ السلام کا جواب


نوح نے کہا:


اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو جیسے تم ہنس رہے ہو، اسی طرح ہم بھی تم پر ہنستے ہیں۔ عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:38-39؛ تفسیر (20)۔


تفسیر میں ہے کہ یعنی ہمیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ عذاب تمہارے سر پر آچکا ہے اور تمہیں دل لگی سوجھی ہے۔

حوالہ: تفسیر (20)۔


5. عذاب کا آغاز: تنور ابل پڑا


یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:40؛ تفسیر (21)۔


تفسیر کے مطابق عربی زبان میں ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہتے ہیں اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ ایک تنور سے پانی ابلنا شروع ہوا اور پھر کسی طرح نہ رکا۔ بعض مفسرین نے تنور کو سطح زمین کے معنیٰ میں لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوگیا، پھر ساری زمین میں پھیل گیا، اور اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی۔

حوالہ: تفسیر (21)۔


6. کشتی میں سوار کرنے کا حکم


تو ہم نے نوح سے کہا:


اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو کے جوڑے سوار کرلو، اور تمہارے گھر والوں میں سے جن کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے کہ وہ کفر کی وجہ سے غرق ہوں گے، ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو بھی، اور جتنے لوگ ایمان لائے ہیں ان کو بھی ساتھ لے لو۔ اور تھوڑے ہی سے لوگ تھے جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:40؛ تفسیر (22)۔


تفسیر کے مطابق چونکہ طوفان میں وہ جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے جن کی انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے، اس لیے حکم دیا گیا کہ کشتی میں ضرورت کے تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور طوفان کے بعد ان سے کام لیا جاسکے۔

حوالہ: تفسیر (22)۔


7. کشتی میں سوار ہونے کا اعلان


اور نوح نے ان سب سے کہا:


اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا بھی اللہ ہی کے نام سے ہے، اور لنگر ڈالنا بھی۔ یقین رکھو کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:41۔


8. کشتی کا سفر


اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:42۔


9. حضرت نوح علیہ السلام کا اپنے بیٹے کو بلانا


اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی:


بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:42؛ تفسیر (23)۔


تفسیر کے مطابق حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) نے اس وعدے کا حوالہ بھی دیا۔

حوالہ: تفسیر (23)۔


10. بیٹے کا انکار اور ڈوبنا


وہ بولا:


میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔

نوح نے کہا:

آج اللہ کے حکم سے کوئی کسی کو بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس کے جس پر وہ ہی رحم فرمادے۔

اس کے بعد ان کے درمیان موج حائل ہوگئی، اور ڈوبنے والوں میں وہ بھی شامل ہوا۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:43؛ تفسیر (23)۔


11. پانی کا خاتمہ اور کشتی کا جودی پر ٹھہرنا


اور حکم ہوا:


اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان! تھم جا۔

چنانچہ پانی اتر گیا اور سارا قصہ چکا دیا گیا۔ کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری اور کہہ دیا گیا کہ:

بربادی ہے اس قوم کی جو ظالم ہو۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:44؛ تفسیر (24-25)۔


تفسیر کے مطابق یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کردیے گئے۔ جودی اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑی سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔

حوالہ: تفسیر (24-25)۔


12. حضرت نوح علیہ السلام کی دعا اور اللہ کا جواب


اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا:


اے میرے پروردگار! میرا بیٹا میرے گھر ہی کا ایک فرد ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:45؛ تفسیر (26)۔


اللہ نے فرمایا:


اے نوح! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:46؛ تفسیر (26-27)۔


تفسیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ وہ کافر ہے اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے، اس لیے وہ درحقیقت تمہارے گھر والوں میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لیے تم نے اس کی نجات یا ایمان کی دعا مانگی۔

حوالہ: تفسیر (26)۔


13. حضرت نوح علیہ السلام کی توبہ اور پناہ


نوح نے کہا:


میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آئندہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائے اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:47۔


14. کشتی سے اترنے کا حکم اور برکتیں


فرمایا گیا:


اے نوح! اب کشتی سے اتر جاؤ، ہماری طرف سے وہ سلامتی اور برکتیں لے کر جو تمہارے لیے بھی ہیں اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے بھی۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جن کو ہم دنیا میں لطف اٹھانے کا موقع دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:48؛ تفسیر (27)۔


تفسیر کے مطابق سلامتی اور برکتوں کا وعدہ جو حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے ساتھیوں کے لیے کیا گیا، اس میں ”قوموں“ کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت تھوڑے سے ہیں لیکن ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیدا ہوں گی اور دین حق پر قائم رہیں گی، اس لیے سلامتی اور برکتوں میں وہ بھی شریک ہوں گی۔ البتہ آخر میں یہ فرمایا گیا کہ کچھ قومیں ان کی نسل میں ایسی آئیں گی کہ جو دین برحق پر قائم نہیں رہیں گی۔ لہذا انہیں دنیا میں کچھ عرصے لطف اٹھانے کا موقع دیا جائے گا، لیکن ان کا آخری انجام ان کے کفر کی وجہ سے یہی ہوگا کہ وہ دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

حوالہ: تفسیر (27)۔


15. غیب کی خبر اور صبر کی تلقین


اے پیغمبر(محمد ﷺ)! یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔

حوالہ: سورۃ ہود 11:49؛ تفسیر (28)۔


تفسیر میں ہے کہ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہل کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس واقعے کے ذریعے آپ کو اول تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو شروع میں سخت مشکلات پیش آئیں، مگر آخر انجام انہی کے حق میں ہوا، اسی طرح آنحضرت (رحمت ہو اللہ کی ان پر اور سلامتی بھی) بالآخر ان لوگوں پر غالب آئیں گے۔

حوالہ: تفسیر (28)۔


---


واقعہ کے بعد کے قرآنی حوالہ جات


1. سورۃ الاعراف


پھر بھی انہوں نے نوح کو جھٹلایا، چنانچہ ہم نے ان کو اور کشتی میں ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ اور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔

حوالہ: سورۃ الاعراف 7:64۔


2. سورۃ یونس


پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بچا لیا، اور ان کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا، اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، انہیں طوفان میں غرق کردیا۔ اب دیکھو کہ جن لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا؟

حوالہ: سورۃ یونس 10:73۔


3. سورۃ الاسراء


اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے۔

حوالہ: سورۃ الاسراء 17:3۔


تفسیر کے مطابق حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کی کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے طوفان میں ڈوبنے سے بچالیا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اسے یاد دلا کر فرمایا جا رہا ہے کہ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ان لوگوں کی اولاد اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائے۔

حوالہ: تفسیر (2)۔


4. سورۃ القمر


اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی کشتی پر سوار کردیا۔ جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس پیغمبر کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

حوالہ: سورۃ القمر 54:13-14۔


5. سورۃ الحاقہ


جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔ تاکہ ہم اس واقعے کو تمہارے لیے سبق آموز بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے سن کر یاد رکھیں۔

حوالہ: سورۃ الحاقہ 69:11-12۔


تفسیر کے مطابق اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا، جس کا مفصل واقعہ سورۃ ہود 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔

حوالہ: تفسیر (5)۔


---


مختصر خلاصہ


یوں پیغمبر نوح (سلامتی ہو ان پر) کی کشتی کا واقعہ (1)دعوت و تبلیغ، (2)قوم کی سرکشی، (3)کشتی کی تعمیر، (4)مذاق، (5)طوفان، (6)کشتی میں سوار ہونے، (7)بیٹے کے ڈوبنے، (8)پانی کے خاتمے، (9)جودی پر ٹھہرنے، (9)نوح (سلامتی ہو ان پر) کی دعا، (10)اللہ کے جواب، (11)برکتوں اور صبر کی تلقین کے ساتھ مکمل ہوتا ہے۔ اس کے بعد سورۃ الاعراف، یونس، الاسراء، القمر اور الحاقہ میں اس واقعے کے مختلف پہلوؤں کو یاد دلایا گیا ہے۔



آیات سے حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور وحی کے بغیر کوئی نیک کام مکمل نہیں ہوتا؛ کشتی سازی کا حکم بھی اللہ کی نگرانی اور وحی کے ساتھ دیا گیا۔

2. ظالموں اور کافروں کے بارے میں اللہ سے سفارش یا رعایت کی درخواست نہیں کرنی چاہیے؛ ان کا عذاب حتمی ہے۔

3. حق پر چلنے والوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے، مگر مومن کو اس پر صبر اور اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے۔

4. دنیاوی مذاق اور دل لگی کے باوجود عذاب الٰہی اپنے وقت پر آکر رہتا ہے۔

5. اللہ کے حکم کے آتے ہی ہر چیز اس کے تابع ہوجاتی ہے؛ تنور کا ابلنا اور پانی کا پھوٹنا اللہ کی قدرت کی علامت ہے۔

6. جانوروں کے جوڑے کشتی میں سوار کرانے کا حکم عملی حکمت اور نسل کے تحفظ کی طرف اشارہ ہے۔

7. نجات صرف ایمان والوں کو ملتی ہے؛ گھر والوں میں بھی جو کفر پر قائم رہے، وہ نجات نہیں پاسکتا۔

8. ایمان لانے والے لوگ اگرچہ تھوڑے تھے، مگر حق کی راہ پر قلیل تعداد مایوسی کا سبب نہیں بننی چاہیے۔

9. کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے نام سے ہے؛ ہر کام میں اللہ کی مدد، مغفرت اور رحمت پر بھروسا کرنا چاہیے۔

10. پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان کشتی کا چلنا اللہ کی قدرت اور مومنین کی حفاظت کا مظاہرہ ہے۔

11. نوح (سلامتی ہو ان پر) نے اپنے بیٹے کو ایمان اور کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی، مگر کافروں کے ساتھ رہنا اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

12. رشتہ داری ایمان سے بالاتر نہیں؛ کفر اختیار کرنے والا گھر والا بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکتا۔

13. پہاڑ کی پناہ لینے کا تصور باطل ہے؛ اللہ کے حکم کے سامنے کوئی پناہ گاہ کام نہیں آتی۔

14. موج حائل ہونے کے بعد بیٹا ڈوب گیا؛ کفر اور عناد کا انجام ہلاکت ہے۔

15. زمین اور آسمان کو پانی نگلنے اور تھم جانے کا حکم دینا اللہ کے مکمل اختیار کو ظاہر کرتا ہے۔

16. کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری؛ اللہ کے وعدے اور حکم کی تکمیل یقینی ہے۔

17. ظالم قوم کے لیے بربادی کا اعلان کیا گیا؛ ظلم کا انجام تباہی ہے۔

18. نوح (سلامتی ہو ان پر) نے اپنے بیٹے کے بارے میں اللہ سے دعا کی، مگر اللہ کے علم کے آگے انسانی جذبات محدود ہیں۔

19. اللہ نے فرمایا کہ وہ بیٹا گھر والوں میں شامل نہیں؛ ایمان اور عمل ہی اللہ کے ہاں معیار ہیں، نسب نہیں۔

20. ناپاک عمل کا پلندہ بننے والا اللہ کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے۔

21. علم کے بغیر کوئی چیز مانگنا درست نہیں؛ نادانوں میں شامل ہونے سے بچنا چاہیے۔

22. نوح (سلامتی ہو ان پر) نے اپنے رب کی پناہ مانگی اور اپنی مغفرت و رحمت کی درخواست کی؛ انسان کو اپنی کمزوری کا اعتراف کرنا چاہیے۔

23. کشتی سے اترنے کے بعد سلامتی اور برکتیں ملیں؛ نیک لوگوں کی نسلوں میں بھی خیر باقی رہتی ہے۔

24. بعض قومیں دنیا میں لطف اٹھانے کا موقع پائیں گی، مگر کفر پر قائم رہنے کی صورت میں دردناک عذاب ان کا انجام ہوگا۔

25. نوح (سلامتی ہو ان پر) کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہے، جو وحی کے ذریعے نبی کریم ﷺ کو بتایا گیا؛ یہ نبوت و رسالت کی دلیل ہے۔

26. نبی کریم ﷺ اور مومنین کو صبر کی تلقین کی گئی؛ آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔

27. نوح (سلامتی ہو ان پر) کو جھٹلانے والے غرق کردیے گئے، اور کشتی میں سوار مومنین کو نجات دی گئی۔

28. مومنین کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا گیا؛ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اہل ایمان کو وراثت عطا فرماتا ہے۔

29. اولادِ کشتی والوں کو یاد دلایا گیا کہ وہ اللہ کے خاص کرم اور نعمت کو یاد رکھیں اور شکر گزار بندے بنیں۔

30. کشتی تختوں اور میخوں والی تھی، جو اللہ کی نگرانی میں چلی؛ ناقدری کرنے والوں کا بدلہ اللہ ضرور لے گا۔

31. پانی کی طغیانی کے وقت مومنین کو کشتی میں سوار کرایا گیا؛ یہ واقعہ سبق آموز ہے اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھتے ہیں۔


تفسیر سے حاصل شدہ اسباق و نکات:


1. حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) نے تقریباً ایک ہزار سال عمر پائی اور صدیوں تک دردمندی سے تبلیغ کی، مگر قوم کے اکثر لوگ کفر اور بداعمالیوں پر قائم رہے۔

2. تبلیغ میں صبر، ہمدردی اور استقامت مطلوب ہے؛ طویل عرصے تک مخالفت برداشت کرنا بھی دعوت کا حصہ ہے۔

3. جب اللہ نے فیصلہ کردیا کہ یہ قوم ایمان نہیں لائے گی، تو نوح (سلامتی ہو ان پر) کو کشتی بنانے کا حکم دیا گیا تاکہ مومنین عذاب سے بچ سکیں۔

4. کشتی سازی کی صنعت سب سے پہلے وحی کے ذریعے حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) نے شروع کی اور پہلی بار تین منزلہ جہاز تیار کیا؛ اللہ کی تعلیم میں عملی حکمت بھی ہے۔

5. مخالفین کشتی بنانے کا مذاق اڑاتے تھے، حالانکہ پانی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری حالات کو دیکھ کر اللہ کے حکم کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔

6. مذاق اڑانے والوں کو جواب دیا گیا کہ جس طرح وہ ہنس رہے ہیں، اسی طرح مومنین بھی ہنسیں گے؛ یعنی عذاب قریب ہو تو دنیاوی دل لگی بے معنی ہوجاتی ہے۔

7. ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہا جاتا ہے اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی؛ بعض روایات کے مطابق طوفان کی ابتدا ایک تنور سے پانی ابلنے سے ہوئی۔

8. بعض مفسرین کے نزدیک زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوا اور پھر ساری زمین میں پھیل گیا، اوپر سے تیز بارش بھی شروع ہوگئی؛ یہ سب اللہ کی قدرت کے مظاہر ہیں۔

9. طوفان میں جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے، اس لیے ضرورت کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرایا گیا تاکہ نسل باقی رہے اور بعد میں انسان ان سے فائدہ اٹھائیں۔

10. حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے دیگر بیٹے کشتی میں سوار ہوگئے، مگر کنعان نامی بیٹا کافر تھا اور کافروں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا، اس لیے وہ کشتی میں سوار نہ ہوا۔

11. حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کو یا تو اس کے کفر کا علم نہیں تھا، یا وہ چاہتے تھے کہ اسے ایمان کی توفیق ہوجائے؛ اس لیے انہوں نے اسے کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی۔

12. اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کے صاحب ایمان گھر والوں کو نجات ملے گی؛ اسی وعدے کے حوالے سے نوح (سلامتی ہو ان پر) نے دعا کی۔

13. اللہ نے جواب دیا کہ وہ بیٹا کافر ہے اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لیے وہ حقیقتاً گھر والوں میں شامل نہیں؛ یعنی ایمان ہی اللہ کے ہاں رشتہ داری کا معیار ہے۔

14. ”مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں“ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ کے علم اور فیصلے کے آگے تسلیم رہنا چاہیے۔

15. قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کردیے گئے؛ ظلم اور کفر کا اجتماعی انجام ہلاکت ہے۔

16. جودی پہاڑ شمالی عراق میں واقع ہے اور کردستان سے آرمینیا تک پھیلے پہاڑی سلسلے کا حصہ ہے؛ بائبل میں اسے ارارات کہا گیا ہے۔

17. نوح (سلامتی ہو ان پر) کی دعا میں اللہ کی قدرت کا اعتراف ہے کہ اگر اللہ چاہے تو اسے ایمان کی توفیق دے دے، پھر ایمان والوں کے وعدے کا مستحق ہوجائے۔

18. سلامتی اور برکتوں کے وعدے میں ”قوموں“ کا لفظ استعمال ہوا؛ یعنی اس وقت مومنین تھوڑے تھے، مگر ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیدا ہوں گی اور دین حق پر قائم رہیں گی۔

19. بعض قومیں نسل میں ایسی آئیں گی جو دین حق پر قائم نہیں رہیں گی؛ انہیں دنیا میں کچھ عرصے لطف اٹھانے کا موقع ملے گا، مگر آخری انجام عذاب ہوگا۔

20. حضرت نوح (سلامتی ہو ان پر) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کو دو حقیقتیں بتائی گئیں:

21. یہ واقعہ نہ آپ کو پہلے معلوم تھا، نہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب کو؛ یہ وحی سے معلوم ہوا، جو نبوت کی دلیل ہے۔

22. آپ کو صبر کی تلقین اور تسلی دی گئی کہ جس طرح نوح (سلامتی ہو ان پر) کو ابتدا میں مشکلات پیش آئیں، مگر آخر میں کامیابی ملی، اسی طرح آپ بھی آخر کار غالب آئیں گے۔

23. کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا کہ اس میں سوار لوگوں کو اللہ نے طوفان سے بچایا؛ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ اولاد اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہ بنائے۔

24. کشتی تختوں اور میخوں والی تھی اور اللہ کی نگرانی میں رواں دواں تھی؛ یہ بتاتا ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کی ناقدری کرنے والوں سے بدلہ لیتا ہے۔

25. پانی کی طغیانی کے وقت مومنین کو کشتی میں سوار کرایا گیا؛ یہ واقعہ سبق آموز ہے تاکہ یاد رکھنے والے کان اسے سن کر یاد رکھیں۔

26. سورة ہود میں اس واقعے کی تفصیل 36 تا 48 آیات میں گزر چکی ہے؛ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے واقعات باہم مربوط اور ایک دوسرے کی تفسیر ہیں۔


مجموعی سبق:

اللہ کی نگرانی، وحی، صبر، توکل، ایمان، عمل، رشتہ داری سے بالاتر حق، عذاب الٰہی کی حتمیت، اور متقیوں کے لیے خوش انجام—یہ سب اس واقعے کے اہم اسباق ہیں۔



پیغمبر نوح کی کشتی کا اصل واقعہ

القرآن:

اور ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کی مدد سے کشتی بناؤ، (18) اور جو لوگ ظالم بن چکے ہیں ان کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کرنا۔ یہ اب غرق ہو کر رہیں گے۔ چنانچہ وہ کشتی بنانے لگے۔ اور جب بھی ان کی قوم کے کچھ سردار ان کے پاس سے گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ (19) نوح نے کہا کہ : اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو جیسے تم ہنس رہے ہو، اسی طرح ہم بھی تم پر ہنستے ہیں۔ (20) عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور تنور ابل پڑا، (21) تو ہم نے (نوح سے) کہا کہ : اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں میں سے دو دو کے جوڑے سوار کرلو (22) اور تمہارے گھر والوں میں سے جن کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے (کہ وہ کفر کی وجہ سے غرق ہوں گے) ان کو چھوڑ کر باقی گھر والوں کو بھی، اور جتنے لوگ ایمان لائے ہیں ان کو بھی (ساتھ لے لو) اور تھوڑے ہی سے لوگ تھے جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ اور نوح نے (ان سب سے) کہا کہ : اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، اس کا چلنا بھی الله ہی کے نام سے ہے، اور لنگر ڈالنا بھی، یقین رکھو کہ میرا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔ اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی کہ : بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ (23) وہ بولا : میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا، نوح نے کہا : آج الله کے حکم سے کوئی کسی کو بچانے والا نہیں ہے، سوائے اس کے جس پر وہ ہی رحم فرمادے۔ اس کے بعد ان کے درمیان موج حائل ہوگئی، اور ڈوبنے والوں میں وہ بھی شامل ہوا۔ اور حکم ہوا کہ : اے زمین ! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان ! تھم جا۔ چنانچہ پانی اتر گیا اور سارا قصہ چکا دیا گیا۔ (24) کشتی جودی پہاڑ پر آٹھہری (25) اور کہہ دیا گیا کہ : بربادی ہے اس قوم کی جو ظالم ہو۔ اور نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ : اے میرے پروردگار ! میرا بیٹا میرے گھر ہی کا ایک فرد ہے، اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے، اور تو سارے حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔ (26) الله نے فرمایا : اے نوح ! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔ نوح نے کہا : میرے پروردگار میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آئندہ آپ سے وہ چیز مانگوں جس کا مجھے علم نہیں، اور اگر آپ نے میری مغفرت نہ فرمائی اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں گا جو برباد ہوگئے ہیں۔ فرمایا گیا کہ : اے نوح اب (کشتی سے) اتر جاؤ، ہماری طرف سے وہ سلامتی اور برکتیں لے کر جو تمہارے لیے بھی ہیں اور تمہاری جتنی قومیں ہیں، ان کے لیے بھی۔ اور کچھ قومیں ایسی ہیں جن کو ہم (دنیا میں) لطف اٹھانے کا موقع دیں گے، پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔ (27) (اے پیغمبر محمد!) یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعے بتا رہے ہیں۔ یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے، نہ تمہاری قوم۔ لہذا صبر سے کام لو اور آخری انجام متقیوں ہی کے حق میں ہوگا۔ (28) 


[سورۃ هود، آیت نمبر 37-49]


تفسیر:

(18)حضرت نوح ؑ نے تقریباً ایک ہزار سال عمر پائی اور صدیوں تک اپنی قوم کو نہایت دردمندی سے تبلیغ فرماتے رہے اور اس کے بدلے سخت اذیتیں برداشت کیں، مگر بہت تھوڑے لوگوں کے سوا باقی سب لوگ اپنے کفر اور بداعمالیوں پر قائم رہے، آخر میں الله تعالیٰ نے انہیں بتادیا کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور اب ان پر طوفان کا عذاب آئے گا، اس لئے آپ کو کشتی بنانے کا حکم دیا تاکہ آپ اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والے اس میں سوار ہو کر طوفان کی تباہی سے بچ سکیں، بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ کشتی سازی کی صنعت سب سے پہلے حضرت نوح ؑ نے وحی کے ذریعے شروع فرمائی تھی اور پہلی بار تین منزلہ جہاز تیار کیا تھا۔


(19) وہ مذاق اس بات کا اڑاتے تھے کہ انہوں نے دوسرے کام چھوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی ہے ؛ حالانکہ پانی کا کہیں دور دور پتہ نہیں،


(20) یعنی ہمیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ عذاب تمہارے سر پر آچکا ہے اور تمہیں دل لگی سوجھی ہے۔


(21)عربی زبان میں ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہتے ہیں، اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کی ابتدا اس طرح ہوئی تھی کہ ایک تنور سے پانی ابلنا شروع ہوا، اور پھر کسی طرح نہ رکا۔ اور بعض مفسرین نے تنور کو سطح زمین کے معنی میں لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوگیا، اور پھر ساری زمین میں پھیل گیا۔ اور اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی،۔

(22)چونکہ طوفان میں وہ جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے جن کی انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے، اس لئے حکم دیا گیا کہ کشتی میں ضرورت کے تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور طوفان کے بعد ان سے کام لیا جاسکے۔


(23)حضرت نوح ؑ کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا، اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح ؑ کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے، یعنی اگر کافر ہے تو اسے ایمان کی توفیق ہوجائے۔ چونکہ الله تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح ؑ کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح ؑ نے اس وعدے کا حوالہ بھی دیا۔ الله تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ وہ کافر ہے اور اس کے مقدر میں ایمان نہیں ہے، اس لیے وہ درحقیقت تمہارے گھر والوں میں شامل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تمہارے علم میں نہیں تھی کہ اس کے مقدر میں ایمان نہیں، اس لیے تم نے اس کی نجات یا ایمان کی دعا مانگی۔ اگلی آیت میں جو ارشاد ہے کہ : مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں ٰخبر نہیں۔ اس کا یہی مطلب ہے۔


(24)یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کر دئیے گئے۔


(25)یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑی سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔


(26)یعنی آپ کو ہر چیز پر قدرت ہے، اگر چاہیں تو اسے ایمان کی توفیق دے دیں، اور پھر ایمان والوں کے حق میں آپ کا جو وعدہ ہے وہ اس کے حق میں بھی پورا ہوجائے۔


(27) سلامتی اور برکتوں کا وعدہ جو حضرت نوح ؑ کے ساتھیوں کے لیے کیا گیا، اس میں ”قوموں“ کا لفظ استعمال کر کے یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اگرچہ اس وقت تھوڑے سے ہیں لیکن ان کی نسل سے بہت سی قومیں پیدا ہوں گی، اور دین حق پر قائم رہیں گی، اس لیے سلامتی اور برکتوں میں وہ بھی شریک ہوں گی۔ البتہ آخر میں یہ فرمایا گیا کہ کچھ قومیں ان کی نسل میں ایسی آئیں گی کہ جو دین برحق پر قائم نہیں رہیں گی۔ لہذا انہیں دنیا میں کچھ عرصے لطف اٹھانے کا موقع دیا جائے گا۔ لیکن ان کا آخری انجام ان کے کفر کی وجہ سے یہی ہوگا کہ وہ دنیا یا آخرت میں الله تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوں گے۔


(28) حضرت نوح ؑ کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہل کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس واقعے کے ذریعے آپ کو اول تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح ؑ کو شروع میں سخت مشکلات پیش آئیں، مگر آخر انجام انہی کے حق میں ہوا اسی طرح آنحضرت ﷺ بالآخر ان لوگوں پر غالب آئیں گے۔

🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰🔰

القرآن:

پھر بھی انہوں نے نوح کو جھٹلایا، چنانچہ ہم نے ان کو اور کشتی میں ان کے ساتھیوں کو نجات دی۔ اور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔

[سورۃ الأعراف، آیت نمبر 64]


پھر ہوا یہ کہ ان لوگوں نے نوح کو جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے نوح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے انہیں بچا لیا، اور ان کو کافروں کی جگہ زمین میں بسایا، اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، انہیں (طوفان میں) غرق کردیا۔ اب دیکھو کہ جن لوگوں کو خبردار کیا گیا تھا ان کا انجام کیسا ہوا؟

[سورۃ يونس، آیت نمبر 73]






القرآن:

اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا۔ (2) اور وہ بڑے شکر گزار بندے تھے۔

[سورۃ الإسراء، آیت نمبر 3]

تفسیر:

(2)حضرت نوع ؑ کی کشتی کا حوالہ خاص طور پر اس لیے دیا گیا ہے کہ جو لوگ اس کشتی میں سوار ہوئے تھے، انہیں الله تعالیٰ نے طوفان میں ڈوبنے سے بچالیا تھا۔ یہ الله تعالیٰ کا خاص کرم تھا، اسے یاد دلا کر فرمایا جا رہا ہے کہ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ ان لوگوں کی اولاد الله تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہ بنائے۔




القرآن:

اور نوح کو ہم نے ایک تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کردیا۔ جو ہماری نگرانی میں رواں دواں تھی، تاکہ اس (پیغمبر) کا بدلہ لیا جائے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔

[سورۃ القمر، آیت نمبر 13-14]





القرآن:

جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تمہیں کشتی میں سوار کردیا۔ (5) تاکہ ہم اس واقعے کو تمہارے لیے سبق آموز بنادیں اور یاد رکھنے والے کان اسے (سن کر) یاد رکھیں۔

[سورۃ الحاقة، آیت نمبر 11-12]

تفسیر:

(5)اس سے مراد اس طوفان کا پانی ہے جو حضرت نوع ؑ کی قوم پر عذاب کے طور پر بھیجا گیا تھا، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حضرت نوح ؑ پر ایمان لے آئے تھے، انہیں پانی کی طغیانی سے بچانے کے لیے الله تعالیٰ نے انہیں کشتی میں سوار کردیا جس کا مفصل واقعہ سورة ہود : 36 تا 48 میں گذر چکا ہے۔








No comments:

Post a Comment