Saturday, 10 October 2026

اللہ کی عظمت: معانی، حقیقت، اہمیت و ضرورت، فضائل اور مقاصد


پوسٹ کا اجمالی خلاصہ، تفصیلی دلائل سے پہلے:

1. اللہ کی عظمت کے معانی

لغوی معنی:

عظمت کا لغوی مطلب ہے بڑائی، بلندی، بزرگی، شان و شوکت، کبریائی اور رفعت۔


اصطلاحی معنی:

اللہ کی عظمت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، اسماء و صفات، افعال اور حکم میں ہر قسم کی کمی، محدودیت اور عیب سے پاک ہے۔ وہ ہر چیز سے بڑا، ہر چیز سے بلند، ہر چیز پر قادر، ہر چیز کا مالک اور ہر چیز سے بے نیاز ہے۔


اللہ اکبر کا مفہوم:

”اللہ اکبر“ کا مطلب ہے: اللہ ہر چیز سے بڑا ہے۔ کوئی چیز اس کے مقابلے میں نہیں، کوئی اس کا ہمسر نہیں، کوئی اس سے بڑا نہیں۔






عظمت کے پہلو:

ذات میں عظمت: اللہ کی ذات بے مثال اور لاثانی ہے۔

صفات میں عظمت: اس کا علم، قدرت، حکمت، رحمت، عدل اور غلبہ لامحدود ہے۔

افعال میں عظمت: تخلیق، رزق، موت، حیات، تدبیر اور عذاب سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔

سلطنت میں عظمت: زمین و آسمان، عرش و کرسی، ملک و ملکوت سب اس کی بادشاہت میں ہیں۔

حکم و تشریع میں عظمت: حلال و حرام، احکام و قوانین، سب اسی کی طرف سے ہیں۔






2. اللہ کی عظمت کی حقیقت

ذاتی اور غیر محدود صفت:

اللہ کی عظمت اس کی ذاتی صفت ہے۔ کسی نے اسے عطا نہیں کی، نہ وہ کسی سبب یا واسطے سے ہے۔ یہ عارضی، محدود یا مشروط نہیں۔


بے مثال و لاثانی:

قرآن میں ہے:

﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ (الشورى: 11)

”اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“

پس اللہ کی عظمت کا کوئی ہمسر، کوئی شریک اور کوئی مقابل نہیں۔


مخلوق کی عظمت عارضی ہے:

پہاڑ، سمندر، سورج، چاند، فرشتے، بادشاہ اور طاقتور قومیں—سب عظیم نظر آتی ہیں، مگر اللہ کے مقابلے میں فانی، محتاج اور عاجز ہیں۔


عظمت اور قربت میں تضاد نہیں:

اللہ بے نہایت بلند اور عظیم ہے، مگر اپنے بندوں کے لیے قریب بھی ہے۔

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ﴾ (البقرة: 186)

”اور جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں، تو میں قریب ہوں۔“


کبریائی صرف اللہ کے لیے:

حدیث قدسی میں ہے:

”الکبریاء میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے۔“ (صحیح مسلم)

یعنی بڑائی اور عظمت صرف اللہ کی ذاتی صفت ہے۔ کسی مخلوق کے لیے نہیں۔


3. اللہ کی عظمت کی اہمیت و ضرورت

توحید کی بنیاد:

اللہ کی عظمت کو مانے بغیر توحید کامل نہیں ہو سکتی۔ جب انسان اللہ کو سب سے بڑا مانتا ہے، تو وہ شرک سے بچتا ہے۔


عبادت کا محرک:

جب انسان اللہ کی عظمت کو سمجھتا ہے، تو اس کی عبادت، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دعا میں خلوص پیدا ہوتا ہے۔


تقویٰ اور خوفِ الٰہی:

اللہ کی عظمت کا احساس انسان کو گناہوں سے روکتا ہے اور نیکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔


توکل اور بھروسہ:

جب انسان جانتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا اور قادر مطلق ہے، تو وہ ہر مشکل میں اسی پر بھروسہ کرتا ہے۔


شکر اور حمد:

اللہ کی عظمت کا علم انسان کو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اس کی حمد کرنے کی توفیق دیتا ہے۔


صبر اور استقامت:

مصیبتوں میں اللہ کی قدرت پر یقین انسان کو صبر اور استقامت عطا کرتا ہے۔


تکبر کا خاتمہ:

اللہ کی عظمت کا شعور انسان کے اندر سے خودی، غرور اور تکبر کو ختم کرتا ہے۔


معاشرتی اصلاح:

اللہ کی عظمت کا عقیدہ عدل، انصاف، عاجزی، انکساری اور دوسروں کو حقیر نہ سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔


آخرت کی جوابدہی:

اللہ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب دینے کا شعور انسان کو نیکی اور پرہیزگاری کی طرف مائل کرتا ہے۔


4. اللہ کی عظمت کے مقاصد

معرفتِ الٰہی:

اللہ کو اس کے اسماء و صفات کے ساتھ پہچاننا اور اس کی عظمت کا اقرار کرنا۔


خالص عبادت:

صرف اللہ کی بندگی کرنا اور ہر قسم کی بندگی سے آزاد ہونا۔


اطاعت و فرمانبرداری:

اللہ کے احکام کی پابندی کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔


شرک و الحاد کا رد:

ہر قسم کی بڑائی، قدرت اور الوہیت کو صرف اللہ کے لیے ماننا۔


انسان کی تربیت:

عاجزی، انکساری، شکر، صبر، توکل، رضا اور تسلیم جیسی صفات پیدا کرنا۔


دعوت الی اللہ:

دوسروں کو اللہ کی عظمت، اس کی قدرت اور اس کی بادشاہت کی طرف بلانا۔


قیامت کی تیاری:

آخرت، حساب، جنت اور جہنم پر یقین رکھتے ہوئے نیکیوں کی تیاری کرنا۔


کائنات کی تفہیم:

مخلوقات کی عظمت کو دیکھ کر خالق کی عظمت کو پہچاننا۔


رضا و تسلیم:

اللہ کے فیصلوں اور تقدیر پر راضی رہنا اور اس کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا۔


خلاصہ

اللہ کی عظمت کا مطلب ہے: وہ ذات، صفات، قدرت، علم، حکمت، رحمت، عدل، بادشاہت اور حکم میں سب سے بڑا، سب سے بلند اور سب سے بے نیاز ہے۔ اس کی عظمت ذاتی، لامحدود اور بے مثال ہے۔ اس عظمت کو سمجھنے کی اہمیت یہ ہے کہ انسان توحید، عبادت، تقویٰ، توکل، شکر، صبر اور آخرت کی تیاری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس کے مقاصد میں معرفتِ الٰہی، خالص عبادت، اطاعت، تربیت، دعوت اور رضا و تسلیم شامل ہیں۔


اللہ کی عظمت کا علم انسان کو بندگی، عاجزی اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اور اس کے برعکس غرور، سرکشی اور شرک سے بچاتا ہے۔





(۱) "العَظْمُ" کا لغوی مفہوم

"العَظْمُ" (ہڈی) کی جمع "عِظَام" ہے۔


قرآن میں:

﴿عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا﴾

ترجمہ:
”(پھر ہم نے) ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں کو گوشت پہنایا۔“

(المؤمنون: 14)


ایک قراءت میں: دونوں مقامات پر "عِظَامًا" (جمع) آیا ہے۔


(۲) "عَظْم" کے دیگر استعمالات

"عَظْمَة الذِّرَاع" – بازو کا موٹا اور ابھرا ہوا حصہ۔


"عَظْمُ الرَّحْل" – پالان (کجاوہ) کی لکڑی، جس پر کوئی تسمہ یا پٹی نہ ہو (یعنی ننگا ڈھانچہ)۔


(۳) "عَظُمَ" کا اصل معنی اور استعاراتی استعمال

"عَظُمَ الشَّيْءُ" کا اصل معنی ہے: "اس کی ہڈی بڑی ہو گئی"۔


پھر یہ لفظ ہر بڑی چیز کے لیے استعارہ کے طور پر استعمال ہونے لگا، خواہ وہ:

محسوس ہو یا معقول (عقلی)

جسمانی ہو یا معنوی


قرآن میں:


﴿عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ﴾

ترجمہ:

”ایک بڑے دن کا عذاب۔“

(الزمر: 13)


﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ﴾

ترجمہ:

”کہہ دو کہ یہ ایک عظیم خبر ہے۔“

(ص: 67)


﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ﴾

ترجمہ:

”یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟ اس عظیم خبر کے بارے میں۔“

(عمّ: 1-2)


﴿مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ﴾

ترجمہ:

”(ان) دو بستیوں میں سے ایک بڑے آدمی پر۔“

(الزخرف: 31)


(۴) "العَظِيم" کا استعمال (اعیان اور صفات میں فرق)

"العَظِيم" جب اعیان (جسمانی چیزوں) کے لیے استعمال ہو، تو اس کا اصل اطلاق "متصل اجزاء" (جڑے ہوئے حصوں) پر ہوتا ہے۔


جبکہ "الكثير" (بہت) کا اطلاق "منفصل اجزاء" (الگ الگ حصوں) پر ہوتا ہے۔


بعد میں "عَظِيم" کا استعمال منفصل چیزوں کے لیے بھی ہونے لگا، جیسے:


"جَيْشٌ عَظِيمٌ" (بڑی فوج)


"مَالٌ عَظِيمٌ" (بڑی دولت)


اور ان دونوں میں "عَظِيم" کا معنی "کثیر" (بہت زیادہ) ہوتا ہے۔


(۵) دیگر مشتقات

"العَظِيمَة" – "النازلة" (بڑی مصیبت، آفت)۔


"الإعظامة" اور "العِظَامَة" – ایک گدے نما چیز جسے عورت اپنی پشت (کولھے) کو بڑا دکھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

[المفردات فی غریب القرآن: ص573]




ہم اپنے دلوں میں اللہ کی عظمت کیسے حاضر کریں؟


اللہ تعالیٰ کی عظمت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات، صفات، قدرت، علم، بادشاہت اور تدبیر میں یکتا اور بے مثال ہے۔ درج ذیل آیات اس کی عظمت کے مختلف پہلوؤں کو واضح کرتی ہیں:


1. اللہ مطلق مالک اور بادشاہ ہے:


”قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔“

(الزمر: 67)

یعنی زمین و آسمان کی حقیقی ملکیت اور قدرت صرف اللہ کے پاس ہے۔ بڑی سے بڑی مخلوق بھی اس کے قبضے سے باہر نہیں۔


”اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو محیط ہے۔“

(البقرة: 255)

اس کا علم، اقتدار اور بادشاہت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطے سے باہر نہیں۔


2. تخلیق اور حکم کا تنہا مالک:


”اور سورج، چاند اور ستارے سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ سنو! اسی کے لیے تخلیق اور حکم ہے۔ بابرکت ہے اللہ، تمام جہانوں کا رب۔“

(الأعراف: 54)

کائنات خود مختار نہیں؛ ہر چیز اس کے حکم سے چل رہی ہے۔ تخلیق بھی اسی کی اور فرمانروائی بھی اسی کی۔


3. پوری کائنات اس کی فرمانبردار ہے:


”پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جبکہ وہ دھواں تھا، تو اس نے اس سے اور زمین سے کہا: آؤ خوشی سے یا مجبوری سے۔ ان دونوں نے کہا: ہم خوشی سے آئے۔“

(فصلت: 11)

آسمان اور زمین جیسی عظیم مخلوقات بھی اللہ کے حکم کے آگے سرِ تسلیم ہیں۔


”اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے روکے ہوئے ہے، مگر اس کے اذن سے۔“

(الحج: 65)

کائنات کو سنبھالنے والا، اسے گرنے سے بچانے والا وہی اللہ ہے۔


”پس ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا، جو اس کے حکم سے نرمی سے چلتی جہاں وہ پہنچنا چاہتا۔“

(ص: 36)

ہوا جیسا بے کنٹرول عنصر بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے۔


4. اللہ کی قدرت کے حیران کن مظاہر:


”پس جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔“

(الأعراف: 143)

اللہ کی ایک جھلک پہاڑ کو برداشت نہ ہو سکی۔ اس کی عظمت مخلوق کی طاقت سے کہیں بلند ہے۔


”اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔“

(الأنبياء: 69)

آگ جیسی جلانے والی چیز بھی اللہ کے حکم سے ٹھنڈک اور سلامتی بن جاتی ہے۔


”اے زمین! اپنا پانی نگل جا، اور اے آسمان! ٹھہر جا۔“

(هود: 44)

زمین اور آسمان اس کے ایک حکم پر عمل کرتے ہیں۔


”اے پہاڑو! اس کے ساتھ تسبیح کرو، اور پرندوں کو بھی، اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا۔“

(سبأ: 10)

پہاڑ، پرندے اور لوہا سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔


”پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ تو وہ پھٹ گیا، اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی مانند ہو گیا۔“

(الشعراء: 63)

سمندر بھی اللہ کے حکم سے پھٹتا اور راستہ بناتا ہے۔


5. ہلاکت اور عذاب پر مکمل اختیار:


”یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔“

(الأحقاف: 25)

ایک ہوا کو تباہی کا ذریعہ بنانا اللہ کی قدرت ہے۔


”پس ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔“

(القصص: 81)

قارون جیسے مال و دولت والے کو زمین میں دھنسا دینا اللہ کے لیے آسان ہے۔


”اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے، اور یہ اللہ پر مشکل نہیں۔“

(إبراهيم: 19-20)

تخلیق، فنا اور نئی مخلوق لانا اس کے لیے کوئی دشوار کام نہیں۔


”اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کیں جو ان سے زیادہ طاقتور تھیں، پھر انہوں نے ملکوں میں گھوم پھر کر دیکھا، کیا کوئی بچ نکلنے کی جگہ ہے؟“

(ق: 36)

طاقتور قومیں بھی اللہ کے عذاب سے بچ نہ سکیں۔


”وہ تو صرف ایک چیخ تھی، بس وہ بجھ کر رہ گئے۔“

(يس: 28-29)

اللہ کے عذاب کے لیے بڑی تیاری کی ضرورت نہیں؛ ایک حکم کافی ہے۔


”اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان سے ٹکڑے گرا دیں۔“

(سبأ: 9)

زمین و آسمان کے ذریعے عذاب دینا اس کی قدرت کا مظاہرہ ہے۔


6. قیامت اور فرشتوں پر مکمل اقتدار


”جس دن روح اور فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے، کوئی بات نہیں کرے گا مگر جسے رحمن اجازت دے۔“

(النبأ: 38)

قیامت کے دن کلام، شفاعت اور فیصلہ سب اللہ کی اجازت سے ہوگا۔


”اور رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتا ہے اور فرشتے اس کے خوف سے۔“ 

(الرعد: 13)

کائنات کی گرج اور فرشتے سب اس کی تسبیح اور اس کے خوف میں ہیں۔


”اس پر سخت اور طاقتور فرشتے ہیں، جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔“ 

(التحريم: 6)

طاقتور فرشتے بھی اللہ کے حکم کے آگے مکمل فرمانبردار ہیں۔


نتیجہ:

یہ آیات بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہی خالق، مالک، حاکم اور قادر مطلق ہے۔ زمین، آسمان، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، سمندر، ہوا، آگ، فرشتے اور قیامت—سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ اس کی عظمت کا تقاضا ہے کہ انسان اسے واحد رب مانے، اسی کی عبادت کرے، اس کے احکام کی اطاعت کرے، اس کی نافرمانی سے بچے، اور اس کی حمد و تسبیح کرے۔






































































📜 احادیث نبوی ﷺ


درج احادیث میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کے کئی پہلو نمایاں ہیں۔ یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ اللہ واحد مالک، قادرِ مطلق، بادشاہِ حقیقی اور سب سے بڑا ہے۔



1. قیامت کے دن اللہ کی مطلق بادشاہت


”اللہ قیامت کے دن زمین کو قبضے میں کر لے گا، آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟“

[صحیح البخاری:4812-6947-7385-6154، صحیح مسلم:2787 سنن ابن ماجہ:192]


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام بادشاہتیں، حکومتیں اور طاقتیں فانی ہیں۔ قیامت کے دن صرف اللہ کی بادشاہت باقی رہے گی۔ وہ زمین و آسمان کو اپنے قبضے میں لے لے گا اور اعلان کرے گا کہ حقیقی بادشاہ صرف وہی ہے۔ یہ اللہ کی عظمت، قدرت اور مالکیت کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے۔


2. انبیاء کے جسموں کی حفاظت


”بے شک اللہ نے زمین پر حرام کیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسم کھائے۔“

(صحیح الجامع: 2212)


یہ حدیث بتاتی ہے کہ زمین بھی اللہ کے حکم کی پابند ہے۔ اللہ نے اپنے انبیاء کے جسموں کو زمین کی تحلیل سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ اللہ کی قدرت، انبیاء کی حرمت اور ان کی عزت کا اعلان ہے۔ جس اللہ کی زمین اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو نہیں کھا سکتی، اس کی عظمت کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟


3. سورج کی فرمانبرداری


حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج ڈوبنے کے وقت فرمایا: ”یہ کہاں جاتا ہے؟“ میں نے کہا: ”اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جاتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے، پھر اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دی جاتی ہے۔ قریب ہے کہ سجدہ کرے مگر قبول نہ ہو، اجازت مانگے مگر اجازت نہ ملے، اسے کہا جائے گا: جہاں سے آیا وہیں واپس جا۔ پھر وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔“

[صحیح بخاری:3199-4525-6988-6996, صحیح مسلم:159]


یہ حدیث بتاتی ہے کہ سورج جیسا عظیم اور طاقتور ستارہ بھی اللہ کا فرمانبردار بندہ ہے۔ وہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور اپنے سفر کی اجازت مانگتا ہے۔ جب اللہ اجازت نہ دے تو وہ مغرب سے طلوع ہوگا۔ یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ سورج معبود نہیں، بلکہ اللہ کا مطیع مخلوق ہے۔


4. فرشتوں کی عظیم خلقت


”میں نے جبرائیل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔“

(صحیح الجامع: 3464)


جبرائیل علیہ السلام اللہ کے مقرب فرشتے ہیں، ان کے چھ سو پر ہیں۔ یہ فرشتوں کی عظیم خلقت اور اللہ کی بے پایاں قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس کے فرشتے اتنے عظیم ہیں، اس کا رب کتنا عظیم ہوگا۔


5. فرشتوں کا خوفِ الٰہی


”شبِ معراج میں میں ملأ اعلیٰ کے پاس سے گزرا، جبرائیل اس طرح پرانے چیتھڑے کی مانند تھے — یعنی اللہ کے خوف سے گھلے ہوئے کپڑے کی طرح۔“

(صحیح الجامع: 5864)


جبرائیل علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے بھی اللہ کے خوف سے اس حال میں تھے جیسے پرانا چیتھڑا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی عظمت اور ہیبت کتنی بڑی ہے۔ فرشتے گناہ نہیں کرتے، پھر بھی اللہ کے خوف سے کانپتے ہیں۔ انسان کو تو زیادہ ڈرنا چاہیے۔


6. آسمان کا چرچرانا اور فرشتوں کی کثرت


”آسمان چرچرا اٹھا، اور اسے چرچرانے کا حق ہے۔ اس میں چار انگلیوں کی جگہ نہیں مگر ایک فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے لیے سجدے میں رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔“

(صحیح الجامع: 2449)


آسمان فرشتوں سے بھرا ہوا ہے۔ ہر جگہ فرشتے اللہ کے لیے سجدے اور عبادت میں مصروف ہیں۔ یہ اللہ کی عظمت اور اس کی عبادت کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر انسان کو اس کا علم ہو جائے تو وہ ہنسی کم اور رونا زیادہ کرے۔


7. عرش اٹھانے والے فرشتے کی عظمت


”مجھے اجازت دی گئی کہ میں عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کے بارے میں بیان کروں۔ اس کے پاؤں زمین کے نیچے، اور اس کا سینگ عرش پر، اور اس کے کان کی لو اور کندھے کے درمیان پرندے کے پھڑپھڑانے کے برابر سات سو سال کا فاصلہ ہے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: سبحانك حيث كنت۔(اے اللہ! تو پاک ہے، جہاں بھی تو ہو۔)“

(صحیح الجامع: 853)


عرش اٹھانے والے فرشتے کی عظمت کا یہ اندازہ ہے کہ اس کے پاؤں زمین کے نیچے اور سینگ عرش پر ہے، اور کان سے کندھے تک سات سو سال کا فاصلہ ہے۔ وہ فرشتہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ جس کے فرشتے اتنے عظیم ہیں، اس کا خالق کتنا عظیم ہوگا۔


خلاصہ:

یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ:

  1. اللہ واحد مالک اور بادشاہ ہے۔
  2. زمین، آسمان، سورج، فرشتے اور پوری کائنات اس کے حکم کے تابع ہے۔
  3. فرشتے اللہ کی عبادت اور اس کے خوف میں رہتے ہیں۔
  4. اللہ اپنے انبیاء کی حفاظت کرتا ہے۔
  5. قیامت کے دن صرف اللہ کی بادشاہت باقی رہے گی۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی عظمت کو پہچانے، اس کی عبادت کرے، اس سے ڈرے، اس کی اطاعت کرے اور اپنی بڑائی کا گھمنڈ نہ کرے۔

اللہ کی عظمت کا کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ سب سے بڑا، سب سے طاقتور اور سب کا مالک ہے۔



کتاب العظمۃ



آسمانِ دنیا پر ایک قدم کی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدے یا قیام کی حالت میں نہ ہو۔ اسی وجہ سے فرشتوں کا قول ہے: ہم میں سے ہر ایک کی ایک مخصوص جگہ ہے اور ہم صف بنائے ہوئے ہیں اور ہم تسبیح بیان کرتے ہیں۔(سورۃ الصافات:١٦٤-١٦٦)

[الصحيحة:1059، الكنى والأسماء للدولابي:224، العظمة لأبي الشيخ الأصبهاني:497]


تسبیح - اللہ کی پاکی بیان کرنے - سُبْحَانَ اللَّهِ کہنے - کے فضائل

https://raahedaleel.blogspot.com/2021/11/blog-post.html

تحمید - اللہ کی تعریف بیان کرنے - اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہنے - کے فضائل

http://raahedaleel.blogspot.com/2021/11/blog-post_21.html?m=1

تکبیر - یعنی اللہ کی بڑائی بیان کرنے -  اَللّٰهُ اَکْبَرُ کہنے- کے فضائل

http://raahedaleel.blogspot.com/2021/11/blog-post_56.html?m=1

تَھلِیل - اللہ کا ذکر کرنے - لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللَّهُ کہنے - کے فضائل

https://raahedaleel.blogspot.com/2021/12/blog-post_21.html










اللہ کی عظمت: معانی، حقیقت، اہمیت و ضرورت، فضائل اور مقاصد

(دلائلِ عقلی و نقلی کی روشنی میں)


اللہ تعالیٰ کی عظمت ایمان کا مرکزی نقطہ اور تمام عبادات کی روح ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ادراک انسان کو توحید، عاجزی، اطاعت اور آخرت کی تیاری کی طرف لے جاتا ہے۔ ذیل میں قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔


1. اللہ کی عظمت کے معانی

لغوی معنی: عظمت کا لغوی مطلب بڑائی، بلندی، بزرگی، شان و شوکت اور کبریائی ہے۔


اصطلاحی معنی: اللہ کی عظمت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات، اسماء و صفات، افعال اور حکم میں ہر قسم کی کمی، محدودیت اور عیب سے پاک ہے۔ وہ ہر چیز سے بڑا، ہر چیز سے بلند، ہر چیز پر قادر اور ہر چیز کا مالک ہے۔


اللہ اکبر کا مفہوم: ”اللہ اکبر“ کا مطلب ہے کہ اللہ ہر چیز سے بڑا ہے، وہ ہر اس چیز سے بڑا ہے جو تصور میں آ سکے یا خیال میں سما سکے۔ ”اکبر“ اسم تفضیل ہے جس کا معنی ہے ”سب سے بڑا، سب سے بلند، سب سے زیادہ عظیم“۔


عظمت کے پہلو:


ذات میں عظمت: اللہ کی ذات بے مثال اور لاثانی ہے۔


صفات میں عظمت: اس کا علم، قدرت، حکمت، رحمت اور عدل لامحدود ہے۔


افعال میں عظمت: تخلیق، رزق، موت، حیات اور تدبیر سب اسی کے ہاتھ میں ہیں۔


سلطنت میں عظمت: زمین و آسمان، عرش و کرسی سب اس کی بادشاہت میں ہیں۔


حکم و تشریع میں عظمت: حلال و حرام، احکام و قوانین سب اسی کی طرف سے ہیں۔


2. اللہ کی عظمت کی حقیقت

ذاتی اور غیر محدود صفت: اللہ کی عظمت اس کی ذاتی صفت ہے جو اس سے کبھی جدا نہیں ہوتی۔ یہ عارضی، محدود یا مشروط نہیں۔


بے مثال و لاثانی: قرآن میں ہے: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ (الشورى: 11) ”اس جیسی کوئی چیز نہیں۔“ اللہ کی عظمت کا کوئی ہمسر، کوئی شریک اور کوئی مقابل نہیں۔


مخلوق کی عظمت عارضی ہے: پہاڑ، سمندر، سورج، چاند، فرشتے اور طاقتور قومیں سب عظیم نظر آتی ہیں، مگر اللہ کے مقابلے میں فانی، محتاج اور عاجز ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اللہ کے ہاتھ میں ایک رائی کے دانے سے بھی چھوٹی ہیں۔


کبریائی صرف اللہ کے لیے: حدیث قدسی میں ہے: ”الکبریاء میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے، پس جو شخص ان میں سے کسی ایک پر میرا مقابلہ کرے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا“۔


عظمت اور قربت میں تضاد نہیں: اللہ بے نہایت بلند اور عظیم ہے، مگر اپنے بندوں کے لیے قریب بھی ہے۔ ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ﴾ (البقرة: 186) ”اور جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں، تو میں قریب ہوں۔“


3. اللہ کی عظمت کی اہمیت و ضرورت

توحید کی بنیاد: اللہ کی عظمت کو مانے بغیر توحید کامل نہیں ہو سکتی۔ جب انسان اللہ کو سب سے بڑا مانتا ہے، تو وہ شرک سے بچتا ہے۔


عبادت کا محرک: عبادت کی حقیقت ہی تعظیمِ الٰہی ہے۔ امام مناوی رحمہ اللہ نے عبادت کی تعریف میں کہا: ”عبادت یہ ہے کہ مکلف اپنی خواہشات کے خلاف اپنے رب کی تعظیم کے لیے عمل کرے“۔


تقویٰ اور خوفِ الٰہی: اللہ کی عظمت کا احساس انسان کو گناہوں سے روکتا ہے اور نیکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔


توکل اور بھروسہ: جب انسان جانتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا اور قادر مطلق ہے، تو وہ ہر مشکل میں اسی پر بھروسہ کرتا ہے۔


تکبر کا خاتمہ: اللہ کی عظمت کا شعور انسان کے اندر سے خودی، غرور اور تکبر کو ختم کرتا ہے۔


آخرت کی جوابدہی: اللہ کے سامنے کھڑے ہونے اور حساب دینے کا شعور انسان کو نیکی اور پرہیزگاری کی طرف مائل کرتا ہے۔


قرآن میں تذکرہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ (الزمر: 67) ”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنی چاہیے تھی“۔ اس آیت میں اللہ کی عظمت کو نہ ماننے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔


4. اللہ کی عظمت کے فضائل

قرآن میں فضائل:


عبادت کا اصل: ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ (الفاتحة: 5) ”ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔“ امام قرطبی نے فرمایا: اس آیت میں بندے کی اپنے رب کے سامنے عاجزی اور تعظیم ہے۔


تعظیمِ شعائر: ﴿ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ (الحج: 32) ”یہ ہے، اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی تقویٰ سے ہے“۔


توقیر کا حکم: ﴿مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا﴾ (نوح: 13) ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا خیال نہیں رکھتے؟“۔


احادیث میں فضائل:


نماز کا آغاز تعظیم سے: نبی ﷺ نماز کا آغاز تعظیم کے کلمات سے کرتے تھے: ”سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك“۔


ذکر کی فضیلت: ”جو اللہ کا ذکر کرتا ہے، وہ بہترین ہے“ (صحیح مسلم)۔ ذکر اللہ کی عظمت کا اعتراف ہے۔


تعظیم کی برکت: نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی تعظیم کرتا ہے، اللہ اس کی عزت بڑھاتا ہے۔“


فضائل کے ثمرات (دل و جسم پر اثرات):


تحقیقِ توحید: اللہ کی عظمت کا ایمان شرک سے حفاظت کرتا ہے۔


محبتِ الٰہی: اللہ کی عظمت اس کی محبت کو جنم دیتی ہے۔


خوفِ الٰہی: بغیر مایوسی کے اللہ کا خوف۔


رجا و امید: نیک عمل کے ساتھ اللہ سے امید۔


مراقبہ: تنہائی اور جلوت میں اللہ کا خیال۔


توکل: ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ۔


ثبات و طمانینت: مشکل حالات میں یقین اور استقامت۔


حیا: اللہ سے شرم و حیا۔


افتقار: اپنی بے بسی کا اعتراف اور اللہ کی طرف محتاجی کا اظہار۔


رضا و تسلیم: اللہ کے فیصلوں پر راضی رہنا۔


ضروریات کا تحفظ: دین، نفس، عقل، مال اور عزت کی حفاظت۔


5. اللہ کی عظمت کے مقاصد

معرفتِ الٰہی: اللہ کو اس کے اسماء و صفات کے ساتھ پہچاننا اور اس کی عظمت کا اقرار کرنا۔ قرآن کا ایک بڑا مقصد اللہ کی عظمت کو بیان کرنا ہے۔


خالص عبادت: صرف اللہ کی بندگی کرنا اور ہر قسم کی بندگی سے آزاد ہونا۔ اللہ نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (الذاريات: 56)۔


اطاعت و فرمانبرداری: اللہ کے احکام کی پابندی کرنا اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔


شرک و الحاد کا رد: ہر قسم کی بڑائی، قدرت اور الوہیت کو صرف اللہ کے لیے ماننا۔


انسان کی تربیت: عاجزی، انکساری، شکر، صبر، توکل اور رضا جیسی صفات پیدا کرنا۔


دعوت الی اللہ: دوسروں کو اللہ کی عظمت، اس کی قدرت اور اس کی بادشاہت کی طرف بلانا۔


قیامت کی تیاری: آخرت، حساب، جنت اور جہنم پر یقین رکھتے ہوئے نیکیوں کی تیاری کرنا۔


6. دلائلِ عقلی (عقلی دلائل)

دلیلِ اول: علو اور بلندی صفتِ کمال ہے: ہر عقلمند جانتا ہے کہ بلندی اور علو کمال کی صفت ہے۔ اگر اللہ اس صفت سے متصف نہ ہو تو وہ ناقص ہو گا، جو اللہ کے لیے ناممکن ہے۔


دلیلِ دوم: تخلیق کی عظمت سے خالق کی عظمت: اس کائنات کی وسعت، ستاروں کی تعداد، سمندروں کی گہرائی اور پہاڑوں کی بلندی کو دیکھ کر عقل خود بخود تسلیم کرتی ہے کہ اس کا خالق ان سب سے کہیں بڑا اور عظیم ہے۔


دلیلِ سوم: فطرت: ہر انسان جب ”یا رب!“ کہتا ہے تو اس کے دل میں خود بخود ایک بلند ذات کی طرف رجوع کا احساس ہوتا ہے۔ یہ فطری تقاضا اللہ کی عظمت کا عقلی ثبوت ہے۔


دلیلِ چہارم: کمالِ مطلق: اللہ ہر لحاظ سے کامل ہے۔ کامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر چیز سے بڑا اور بلند ہو۔ اگر کوئی چیز اس سے بڑی ہو تو وہ کامل نہیں رہے گا۔


7. دلائلِ نقلی (قرآن و سنت سے دلائل)

قرآن سے دلائل:


﴿وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ﴾ (البقرة: 255) ”اور وہ بلند اور عظیم ہے“۔


﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾ (الواقعة: 74) ”پس اپنے رب کے عظیم نام کی تسبیح کر“۔


﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ (الزمر: 67)۔


سنت سے دلائل:


نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ قیامت کے دن زمین کو قبضے میں کر لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟“ (متفق علیہ)


نبی ﷺ رکوع میں فرماتے: ”سبحان ذی الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة“ (نسائی)۔


حدیث قدسی: ”الکبریاء میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے“ (صحیح مسلم)۔


8. نتیجہ

اللہ کی عظمت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات، صفات، قدرت، علم، حکمت، رحمت، عدل، بادشاہت اور حکم میں سب سے بڑا، سب سے بلند اور سب سے بے نیاز ہے۔ اس کی عظمت ذاتی، لامحدود اور بے مثال ہے۔ اس عظمت کو سمجھنے کی اہمیت یہ ہے کہ انسان توحید، عبادت، تقویٰ، توکل، شکر، صبر اور آخرت کی تیاری کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس کے فضائل میں دل کی صفائی، اللہ کی محبت، خوف، امید، توکل اور رضا شامل ہیں۔ اس کے مقاصد میں معرفتِ الٰہی، خالص عبادت، اطاعت، تربیت، دعوت اور رضا و تسلیم شامل ہیں۔


اللہ کی عظمت کا علم انسان کو بندگی، عاجزی اور کامیابی کی طرف لے جاتا ہے، اور اس کے برعکس غرور، سرکشی اور شرک سے بچاتا ہے۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل، زبان اور اعمال میں Utara کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرے۔








No comments:

Post a Comment