Wednesday, 7 November 2012

معیاِر حق، ایمان و ہدایت : اصحاب رسول الله ﷺ


معیاِرِ حق، ایمان و ہدایت : ایمان و فہمِ صحابہ کرامؓ

القرآن : اور جب ان (منافقین) سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں (یعنی اصحابِؓ النبیؐ  کی طرح تم بھی ایمان لے آؤ، (تو) کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لاۓ بیوقوف، (مومنو!) سن لو! (دراصل) یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے. (البقرہ : ١٣)

مطلب یہ ہے کہ جب ان کو صحابہ کی طرح اللہ  تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے، موت کے بعد جی اٹھنے، جنت دوزخ کی حقانیت کے تسلیم کرنے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کر کے نیک اعمال بجا لانے اور برائیوں سے رکے رہنے کو کہا جاتا ہے تو یہ فرقہ ایسے ایمان والوں کو بےوقوف قرار دیتا ہے۔ 
 ان منافقین کے جواب میں یہاں بھی خود پروردگار عالم نے جواب دیا اور تاکیداً حصر کے ساتھ فرمایا کہ بیوقوف تو یہی ہیں لیکن ساتھ ہی جاہل بھی ایسے ہیں کہ اپنی بیوقوفی کو جان بھی نہیں سکتے۔ نہ اپنی جہالت و ضلالت کو سمجھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی برائی اور کمال اندھا پن اور ہدایت سے دوری اور کیا ہو گی؟
 دوسری آیت میں فرمایا :  پھر اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں... (البقرہ : ١٣٧)




صحابہ کرام پر اعتراض یا قرآن و سنّت پر اعتراض :
کیوں عالم الغیب الله، مومنوں کو ان صحابہ کے لیے یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان لوگوں جیسے ایمان لائیں[البقرہ:١٣ ، ١٣٧]
کیوں عالم الغیب الله، مومنوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان مہاجر و انصار صحابہ کے ساتھ ان کی اتباع (پیروی) کرنے والوں پر بھی اپنی رضا اور جنّت میں داخلہ جیسی عظیم کامیابی  حاصل ہوگی[التوبہ:١٠٠] ؟؟؟
کیوں عالم الغیب الله، مومنوں کو تعلیم دیتا ہے کہ ان مومنین کے راستہ کی مخالفت بھی جہنم لے جائیگی[النساء:١١٥]
کیوں عالم الغیب الله، مومنوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کی دینی فقہ [التوبہ:١٢٢] یعنی سمجھ (عذاب سے) بچنے کا ذریعہ ہے؟؟؟



معیاِر ایمان و ہدایت
إن الله اختار أصحابي على العالمين ، سوى النبيين والمرسلين ، واختار لي منأصحابي أربعة – يعني أبا بكر ، وعمر ، وعثمان ، وعليا ، فجعلهم أصحابي ، وقال في أصحابي : كلهم خير ، واختار أمتي على الأمم ، واختار أمتي أربع قرون ، الأول ، والثاني ، والثالث ، والرابع

حضرت جابر بن عبداللہ  نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ بیشک میرے صحابہ کو الله تعالیٰ  نے سارے جہاں والوں میں سے پسند فرمایا ہے سواۓ انبیاء اور رسولوں کے، اور پسند کیا میرے لئے میرے صحابہ میں سے چار کو ،  (جو) ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان الله علیھم (ہیں)،  بس بنادیا ان کو میرے ساتھی۔

المحدث : عبد الحق الإشبيلي | المصدر : الأحكام الصغرى: 905
خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة أنه صحيح الإسناد]
المحدث : القرطبي المفسر | المصدر : تفسير القرطبي16/306+ 19/348 | 
خلاصة حكم المحدث : صحيح




حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: میرے اصحاب کو برا نہ کہو اس لئے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تبارک و تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد (سیر بھر وزن) یا آدھے (کے ثواب) کے برابر بھی (ثواب کو) نہیں پہنچ سکتا۔





حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، وَأَبُو الْفَضْلِ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ السِّنْجِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَبْعيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " ، وَقَال : " أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ.
ترجمہ : حضرت حذیفہ بن حسیلؓ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیروی کرنا میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کی، اور فرمایا : میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے راہ یاب ہوجاؤ گے۔

المصدر : موافقة الخبر الخبر الصفحة أو الرقم: 1/145 خلاصة حكم المحدث :غريب
المصدر : الأمالي المطلقة الصفحة أو الرقم: 60 خلاصة حكم المحدث : له شاهد

صحیح اور حسن لذاتہ دونوں حدیثیں حجت ہیں. (فتاویٰ علمیہ، زبیر علی زئی : ٢/٣٠٠)



الشواهد
١) عن عبد الله بن عباس، الإبانة الكبرى لابن بطة » الإِبَانَةُ الْكُبْرَى لابْنِ بَطَّةَ » بَابُ التَّحْذِيرِ مِنِ اسْتِمَاعِ كَلامِ قَوْمٍ يُرِيدُونَ ... رقم الحديث: 323
٢) عن عبد الله بن عمر، مسند عبد بن حميد » أَحَادِيثُ ابْنِ عُمَرَ، رقم الحديث:791
٣) عن عبد الرحمن بن صخر (ابو ہریرہ)، مسند الشهاب » الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ كِتَابِ مُسْنَدِ الشِّهَابِ ... » الْبَابُ الثَّانِي، رقم الحديث: 1251
٤) عن جابر بن عبد الله، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ ...رقم الحديث: 1061 
٥) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر ... » كِتَابُ الْمَنَاقِبِ » بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ عَلَى الْإِجْمَالِ ... رقم الحديث: 4299

[کشف الخفاء:۱/۱۴۷، مشکوٰة: ص554؛ جلد پنجم: حدیث نمبر 624 (42363) - صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان : صحابہ کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے]




یہ حدیث علماۓ حدیث کے اصول حدیث کے تحت مقبول ہے
1 - قوت تعدد طرق 
اصول_حدیث میں یہ مقرر ہے کہ جب ایسی (یعنی ضعیف) حدیث کے طرق کثیرہ ہوں تو وہ حسن بلکہ صحیح ہوجاتی ہے. (فتاویٰ علماء حدیث : ٧/٧٠)
2 - تلقی بالقبول 
تقریباً 200 کتب کے مصنف مصنف محدث، فقیہ، اصولی، مؤرخ علامہ سخاوی رح لکھتے  ہیں؛

وقال الحافظ السخاوي في شرح ألفية : إذا تلقت الأمة الضيف بالقبول يعمل به الصحيح حتى أنه ينزل منزلة المتواتر في أنه ينسخ المقطوع به، ولهذا قال الشافعي رحمة الله تعالیٰ في حديث "لا وصية الوارث" أنه لا يثبت أهل العلم بالحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوه ناسخا لاية الوصية الوارث...إنتهى

ترجمہ : علامہ سخاوی رح نے "شرح الفیہ" میں کہا ہے کہ: جب امت حدیث_ضعیف کو قبول کرلے تو صحیح یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ ، یہاں تک کہ وہ یقینی اور قطعی حدیث کو منسوخ کرنے میں ((متواتر حدیث کے رتبہ میں سمجھی جاۓ گی))، اور اسی وجہ سے امام شافعی رح نے حدیث : "لاوصية لوارث" کے بارے میں یہ فرمایا کہ اس کو حدیث کے علم والے (علماۓ حدیث) ((ثابت نہیں)) کہتے ہیں لیکن عامه علماء نے اس کو قبول کرلیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو آیت_وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے. [فتح المغيث بشعره ألفية الحديث: ص # ١٢٠ ؛ المعجم الصغیر لطبرانی: باب التحفة المرضية في حل مشكلات الحديثية،٢/١٧٩؛
(فتاویٰ علماۓ_حدیث : ٢/٧٤ ; فتاویٰ غزنویہ : ١/٢٠٦)
-----------------------------
تقریباً 600 کتب کے مصنف علامہ جلال الدین السیوطی (الشافعی) رح لکھتے ہیں؛
"قال بعضھم يحكم للحديث بالصحة إذا تلقاه الناس بالقبول وإن لم يكن له أسناد صحيح.[تدريب الراوي: صفحة # ٢٩
ترجمہ: بعض محدثین فرماتے ہیں کہ حدیث پر صحت (صحیح ہونے) کا حکم لگا دیا جاۓ گا جب امت نے اسے قبول کرلیا ہو اگرچہ اس کی سند صحیح نہ بھی ہو.
المقبول ما تلقاه العلماء بالقبول وإن لم يكن له أسناد صحيح،[شرح نظم الدرر المسمى بالبحر الذي ذخر
ترجمہ: مقبول وہ حدیث ہے جسے علماء قبول کرلیں اگرچہ اس کی سند صحیح نہ بھی ہو.

===========================================
مشروعیت_تقلید_شخصی اور اس کی تفسیر: "من بعدی" سے مراد ان صاحبوں کی حالت_خلافت ہے، کیوں کہ بلا-خلافت تو دونوں صاحب آپکے روبرو بھی موجود تھے. پس مطلب یہ ہوا کہ ان کے خلیفہ ہونے کی حالت میں ان کی اتباع کیجیو اور ظاہر ہے کہ خلیفہ ایک ایک ہوں گے. پس حاصل یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں تو ان کا اتباع کرنا، حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ان کا اتباع کرنا، پس ایک زمانہ خاص تک ایک معین شخص کی اتباع کا حکم فرمایا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان کے احکام کی دلیل بھی دریافت کرلیا کرنا.اور نہ یہ عادت مستمرہ (جاریہ) تھی کہ دلیل کی تحقیق ہر مسئلے میں کی جاتی ہو اور یہی تقلید_شخصی ہے. کیونکہ حقیقت_تقلید_شخصی یہ ہے کہ ایک شخص کو جو مسئلہ پیش آوے وہ کسی مرجح کی وجہ سے ایک ہی عالم سے رجوع کیا کرے اور اس سے تحقیق کر کے عمل کیا کرے. اور اس مقام میں اس کے وجوب سے بحث نہیں اور آگے مذکور ہے اس کا جواز اور مشروعیت اور موافقت اور سنّت ثابت کرنا مقصود ہے، گویا ایک معین زمانے کے لئے سہی. " ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے " کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح گھپ اندھیری رات میں آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے مسافروں کو دریا وجنگل کے راستوں کا نشان بتاتے ہیں جس کی قرآن کریم نے ان الفاظ میں آیت (وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل : 16) (اور ستاروں کے ذریعہ وہ راستہ پاتے ہیں ) میں اشارہ کیا ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی سچائی کے راستے کو ظاہر کرنے اور برائی کے اندھیروں کو دور کرنے والے ہیں کہ ان کے نورانی وجود ، ان کے اخلاق و کردار اور ان کی روایات وتعلیمات کی روشنی میں راہ حق نمودار ہوتی ہے اور بدی کا اندھیرا چھٹ جاتا ہے ۔


 فهو عندي على هدى یعنی " میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے " [أخرجه رزين، والشطر الأول من الحديث إلى قوله: «فهو عندي على هدى» ذكره السيوطي في «الجامع الصغير» ونسبه إلى السجزي في «الإبانة» وابن عساكر. والشطر الثاني من الحديث: «أصحابي كالنجوم» رواه ابن عبد البر في «جامع بيان العلم» 2/91 من حديث سلام بن سليم عن الحارث بن غصين عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ... فذكره، وإن كان في إسناد هذا الحديث ضعف؛ ولكنه روي من عدة وجوه، يتقوى بعضها ببعض. «الكفاية في معرفة علم الرواية» للخطيب، ص: 46، و«الإصابة» لابن حجر، ج1 ص:11. «جزء العاشر من المنتخب» لإبن قدامة، رقم الحديث: 62،



اس سے ثابت ہوا کہ ائمہ دین کا باہمی اختلاف امت کے لئے رحمت ہے ، لیکن جیسا کہ علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے وضاحت کی ہے اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو دین کے فروعی وذیلی مسائل میں ہو نہ کہ اصول دین میں، اور سید جمال الدین نے لکھا ہے : بظاہر یہ بات زیادہ صحیح ہے کہ اس حدیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جس اختلاف کی طرف اشارہ ہے، اس سے وہ اختلاف مراد ہے ۔ جو دینی معاملات و مسائل میں رونما ہو نہ کہ اختلافات جو دینوی معاملات میں رونما ہوئے ۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس اختلاف پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوگا ، جو خلافت وامارت کے سلسلہ میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان رونما ہوئے ۔ 

لیکن اس موقع پر ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے لکھا ہے کہ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ خلافت وامارت سے متعلق رونما ہونے والے اختلافات بھی " فروع دین میں اختلاف " کے زمرہ میں آتے ہیں کیونکہ اس بارے میں ان کے درمیان جو اختلاف واقع ہوا وہ اجتہادی تھا نہ کہ کسی دنیاوی غرض اور نفسانی جذبہ وخواہش کے تحت ، جیسا دنیاوی بادشاہوں کے ہاں ہوتا ہے ۔ ۔
" جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤگم " چونکہ ولکل نور ( نور ان میں سے ہر ایک میں ہے ) کے ذریعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ہر صحابی اپنے اپنے مرتبہ واستعداد کے مطابق علم فقہ کا نور ہدایت ضرور رکھتا ہے اور اس اعتبار سے کوئی بھی صحابی دین و شریعت کے علم سے خالی نہیں ہے، اس لئے جو بھی صحابی اپنے مرتبہ واستعداد کے مطابق دین و شریعت کی جو بھی بات بیان کرتا ہے، اس کی پیروی ہدایت کی ضامن ہوگی ۔

واضح رہے کہ اس حدیث اصحابی کالنجوم الخ میں علماء نے کلام کیا ہے، چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث پر طویل گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ ابن حزام کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ حدیث موضوع باطل ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہی بیہقی کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے کہ مسلم کی ایک حدیث سے اس حدیث کے بعض معنی ثابت ہوتے ہیں ، مسلم کی حدیث میں ہے : النجوم امنۃ السماء ( ستارے آسمان کے محافظ و امین ہیں ) اور پھر اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : واصحابی امنۃ لامتی (اور میرے اصحاب میری امت کے امین ومحافظ ہیں )
===========================================

الفقه الدين : (القرآن : ٩/١٢٢)؛
معیاِر حق : علمِ دین میں صحابہ کرامؓ کا فہم
:ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے دریافت فرمایا 
اس امت کا جب نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک تو اس میں اختلاف کیوں کر پیدا ہوگا؟ 
:تو حضرت ابنِ عباسؓ نے جواب دیا 
اے امیر المومنین قرآن ہمارے سامنے اترا ہے، ہم تو اس کے مواردِ نزول کو اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن آئندہ ایسے لوگ آئیںگے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر انھیں صحیح طور پر اس کے موادر و مصادر (یعنی جس پر جو آیات وارد و صادر ہوئیں  ) کا علم نہ ہوگا پھر اس میں (بےعلم ہوتے ہوۓ بھی) اپنی طرف سے راۓ زنی شروع کرینگے اور اٹکل کے تیر چلائیںگے. اس لئے ان میں اختلاف ہوجاۓ گا اور جب اختلاف ہوگا تو لڑائیاں ہوں گی. شروع میں تو اس خیال سے حضرت عمرؓ نے اتفاقِ راۓ نہ کیا لیکن غور  کرنے کے بعد انھیں بھی حضرت ابنِ عباسؓ سے اتفاقِ راۓ کرنا پڑا


اب ہم فقہ کے اماموں کی اس بارے میں رائے ملاحظہ کریں گے:
(ابو حنیفہ رحمہ اللہ):
اگر اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں مجھے کوئی چیز نہیں ملتی تو میں صحابہ کے اقوال اختیار کرلیتا ہوں-
[ ابو حنیفہ للشیخ ابی زھرۃ (ص/309)]


(مالک رحمہ اللہ):

انہوں نے اپنی کتاب موطا میں بہت سے صحابہ کے فتاوی جات نقل کیے ہیں اور اکثر مسائل میں انہی پر اعتماد کیا ہے۔
[ مالک للشیخ ابی زھرۃ (ص/259)]


(شافعی رحمہ اللہ):

اگر مجھے کتاب و سنت یا اجماع یا اس کے ہم معنی کسی دوسری چيز میں جو حکم لگانے والی ہو یا اس کے ساتھ قیاس ہو، کوئی چیز نہیں ملتی تو میرا مسلک یہی ہے کہ صحابہ میں سے کسی کے قول کو اختیار کرلیا جائے-
[ الرسالۃ للشافعی (ص/598)]


(احمد بن جنبل رحمہ اللہ):

میں نے ہر مسئلے میں یا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے جواب دیا یا صحابہ یا تابعین کے کسی قول سے-
[ اصول الفقہ لابی زھرۃ (ص/215) ، اصول الفقہ و ابن التیمیہ (ص/356)]


الله کی کتابوں میں اوصاف صحابہ کرامؓ
القرآن : محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ انکے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلے میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل اے دیکھنے والے تو انکو دیکھتا ہے کہ اللہ کے آگے جھکے ہوئے سربسجود ہیں اور اللہ کا فضل اور اسکی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ کثرت سجود کے اثر سے انکی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں انکے یہی اوصاف تورات میں ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں۔ وہ گویا ایک کھیتی ہیں جس نے پہلے زمین سے اپنی سوئی نکالی پھر اسکو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئ اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے اللہ نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔[الفتح : ٢٩]

تشریح : کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالٰی: وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً (توبہ۔۱۲۳) وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ (توبہ۔۷۳) وقال تعالٰی اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ (المائدہ۔۵۴) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ" علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔آپس میں نرم دل ہیں: اپنے بھائیوں کے ہمدرد و مہربان، اُنکے سامنے نرمی سے جھکنے والے اور تواضع و انکسار سے پیش آنے والے "حدیبیہ" میں صحابہ کی یہ دونوں شانیں چمک رہی تھیں۔ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ ۔صحابہ کرامؓ کے صفات حَسنہ: نمازیں کثرت سے پڑھتے ہیں۔ جب دیکھو رکوع و سجود میں پڑے ہوئے اللہ کے سامنے نہایت اخلاص کے ساتھ وظیفہ عبودیت ادا کر رہے ہیں۔ ریاء و نمود کا شائبہ نہیں۔ بس اللہ کے فضل اور اسکی خوشنودی کی تلاش ہے۔ نمازوں کی پابندی خصوصًٓا تجہد کی نماز سے انکے چہروں پر خاص قسم کا نور اور رونق ہے۔گویا خشیت و خشوع اور حسن نیت و اخلاص کی شعاعیں باطن سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر کو روشن کر رہی ہیں۔ حضرت کے اصحاب اپنے چہروں کے نور اور متقیانہ چال ڈھال سے لوگوں میں الگ پہچانے جاتے تھے۔صحابہ کرامؓ کا پچھلی کتابوں میں تذکرہ: پہلی کتابوں میں خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھیوں کی ایسی ہی شان بیان کی گئ تھی۔ چنانچہ بہت سے غیر متعصب اہل کتاب انکے چہرے اور طور و طریق دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیحؑ کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔ کھیتی کی مثال اور صحابہ کرامؓ: حضرت شاہ صاحبؒ کھیتی کی مثال کی تقریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں "یعنی اول اس دین پر ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر آہستہ آہستہ قوت بڑھتی گئ حضرت کے وقت میں پھر خلفاء کے عہد میں "بعض علماء کہتے ہیں کہ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ میں عہد صدیقی فَاٰزَرَہٗ میں عہد فاروقی فَاسْتَغْلَظَ میں عہد عثمانی اور فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ میں عہد مرتضوی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ بعض دوسرے بزرگوں نے وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا کو علی الترتیب خلفائے اربعہ پر تقسیم کر دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام جماعت صحابہؓ کی بہیات مجموعی مدح و منقبت پر مشتمل ہے۔ خصوصًا اصحاب بیعت الرضوان کی جن کا ذکر آغاز سورت سے برابر چلا آ رہا ہے۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کرنے والے چونکہ اس کام کے مبصر ہوتے ہیں اس لئے ان کا ذکرخصوصیت سے کیا۔ جب ایک چیز کا مبصر اسکو پسند کرے دوسرے کیوں نہ کریں گے۔صحابہؓ سے حسد رکھنے والے: یعنی اسلامی کھیتی کی یہ تازگی اور رونق و بہار دیکھ کر کافروں کے دل غیظ و حسد سے جلتے ہیں۔ اس آیت سے بعض علماء نے یہ نکالا کہ صحابہ سے جلنے والا کافر ہے۔مومنین سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ: حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ وعدہ دیا انکو جو ایمان والے ہیں اور بھلے کام کرتےہیں۔ حضرت کے سب اصحاب ایسے ہی تھے۔ مگر خاتمہ کااندیشہ رکھا۔ حق تعالٰی بندوں کو ایسی صاف خوشخبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں اس مالک سے اتنی شاباشی بھی غنیمت ہے"۔ تم سورۃ الفتح بفضل اللہ و رحمۃ فللہ الحمد والمنہ۔


قرآن کریم میں بیان کردہ صحابہ اکرام کے اوصاف
المومنون حقا ( سچے مومن )
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (انفال 74 )
ترجمہ : اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہی لوگ سچے مسلمان ہیں۔ ان کے لیے (خدا کے ہاں) بخشش اور عزت کی روزی ہے
الراشدون (ہدایت یافتہ)
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (الحجرات 7 )
ترجمہ : اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبرﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا۔ یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں
الفائزون (کامیاب )
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (التوبہ 20 )
ترجمہ : جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں
الصادقون (سچے )
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (الحشر 8 )
ترجمہ: ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں۔
ان مفلسین تارکین میں حضرت ابو ہریرہ بھی تھے جو صرف اللہ تعالی کی خوشنودی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے اور ساتھ دینے اپنا وطن چھوڑ کر آئے تھے ۔ بہت ہی مفلسی سے مدینہ میں رہتے تھے ان کے بہت سے واقعات مشہور ہیں کبھی کبھی فاکہہ کشی لمبی ہوجاتی تھی ۔ پر آپ یہ سب دین اسلام سیکہنے کے واسطے برداشت کرتے رہے قرآن کریم کی اس آیت کے مصداق اولین یہی ہیں اور جو انہیں جہوٹا کہتے ہیں یہ آیت ان کی تکذیب کرتی ہے ۔
رضی اللہ عنہ (اللہ ان سے راضی ہوا)
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ 100 )
ترجمہ : جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کےساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے
اہل توبہ و رحمۃ (توبہ کرنے والے)
لَّقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ( التوبہ 117 )
ترجمہ : بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے
یہ آیت ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے جو کسی وجہ سے جنگ تبوک میں شامل نہیں ہوسکے تھے اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ بات کہی کہ وہ سستی کی وجہ سے نہیں جاسکے تو ان سے سوشل بائیکاٹ کیا گیا تانکہ قرآن کریم کی یہ آیت اور اس اگلی آیت ان کے حق میں نازل ہوئی جن میں ان کی توبہ کو قبول کیا گیا ۔ وہ تین تھے اور حضرت کعب بن مالک ان میں سے ایک تھے۔
المبشرون من ربہم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے)
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ (التوبہ 20-21 )
ترجمہ : جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہیمراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے
صحابہ کی جماعت اس امت کے وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو سیدہا اللہ تعالی سے خوشخبری سننے والے تھے وہ کتاب اللہ کے سیدہے مخاطب تھے
خیر الامت اخرجت الناس (لوگوں میں سے چنے گئے بہترین فرد)
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ (آل عمران 110 )
ترجمہ : تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے چنے گئے ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے)اور اکثر نافرمان ہیں
یہ چنے گئے بہترین لوگ وہ تھے جو مکہ میں ایمان لے آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔
حافظ ابن کثیر رح اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ خیر امت سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ساری امت کے لئے ہے بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد کا زمانہ پھر اک کے بعد کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (تفسیر ابن کثیر تفسیر سورہ آلعمران اایت 110)
مصنف عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید ، فریابی ، امام احمد ، امام نسائی ، ابن جریر ، ابن ابی حاتم ، ابن منذر ، طبرانی اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے کہ کنتم خیر امۃ سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں حضور علیہ السلام کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کی ۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت سدی سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ امیر المومنین عمر بن الخطاب رضہ نے فرمایا اگر اللہ تعالی چاہتا تو فرماتا انتم تو ہم سب اس میں شامل ہوجاتے لیکن فرمایا کنتم اور یہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لئے خاص ہے اور جس نے ان کے اعمال جیسے اعمال کئے وہ بھی خیر امت میں داخل ہونگے(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
اگر اس آیت کو ساری امت کے لئے لیا جائے تب بھی اس کے پہلے مصداق اور فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق سب سے بہترین صحابہ ہی ہیں جو اس دین کو لوگوں تک پہنچانے کے واسطے چنے گئے ۔ (تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
اھل التقوی (پرہیز گار)
إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الفتح 26 )
ترجمہ : جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اوران کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے
اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ اہل تقوی تھے لہذا جو بھی ان کو اہل ضلال کہتا ہے وہ زندیق ہے ۔
اشد علی الکفار و غیظ الکفار (کافروں پر سخت اور کافروں کا دل جلانے والے)
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الفتح 29 )
ترجمہ : محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ٓایت شیعوں کی تکفیر کرتی ہے کیون کہ وہ صحابہ سے بغض رکہتے ہیں اور ان کے دل ان سے جلتے ہیں بس جس کا دل صحابہ سے جلے وہ اس آیت کے مطابق کافر ہے۔

(استفادہ منزل الصحابہ فی القرآن صفحہ 16-20)


فضائلِ صحابہ کرامؓ و خلفاء رسول اللهﷺ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ " . قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَكَانُوا يَضْرِبُونَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ .
[صحيح البخاري » كِتَاب الشَّهَادَاتِ » بَاب لَا يَشْهَدُ عَلَى شَهَادَةِ جَوْرٍ إِذَا أُشْهِدَ ... رقم الحديث: 2471]

ترجمہ : حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے کہ نبیﷺ نے فرمایا : تم لوگوں میں بہتر میرے زمانے کے لوگ (صحابہ) ہیں پھر جو ان کے بعد والے (تابعین) ہیں پھر ان کے بعد والے  (تبع تابعین) ہیں پھر ان کے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے ۔


عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى جَمِيعِ الْعَالَمِينَ سِوَى النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ ،  وَاخْتَارَ مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً : أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ، فَجَعَلَهُمْ أَصْحَابِي 



حضرت جابر بن عبداللہ  نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ بیشک میرے صحابہ کو الله تعالیٰ  نے سارے جہاں والوں میں سے پسند فرمایا ہے سواۓ انبیاء اور رسولوں کے، اور پسند کیا میرے لئے میرے صحابہ میں سے چار کو ،  (جو) ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان الله علیھم (ہیں)،  بس بنادیا ان کو میرے ساتھی.



حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ حُبَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، كَمَا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الصَّلاةَ وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَالزَّكَاةَ ، فَمَنْ أَبْغَضَ وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ ، وَلا حَجَّ وَلا زَكَاةَ ، وَيُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَبْرِهِ إِلَى النَّارِ " .











صحابی رضی اللہ عنہ کی تعریف
صحابی کے اصل معنی ساتھی اور رفیق کے ہیں؛ لیکن یہ اسلام کی ایک مستقل اور اہم اصطلاح ہے ،اصطلاحی طور پر صحابی کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے بحالت ایمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےملاقات کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں دنیا سےرخصت ہوئے ہوں۔

(القاموس الفقہی،باب حرف الصاد:۱/۲۰۷  شیخ سعدی ابو حبیب رحمۃ اللہ علیہ)




صحابیؓت کا ثبوت

صحابیؓت کا ثبوت چار طریقوں  سے ہوسکتا ہے :

 (۱)     تواتر کے ذریعہ ، جیسے حضرات خلفاء راشدین اور عشرۂ مبشرہؓ وغیرہ
۔

(۲)     تواتر سے کم تر درجہ شہرت کے ذریعہ ، جیسے حضرت ضمام بن ثعلبہ اور عکاشہ بن محصن وغیرہ ۔

(۳)     کوئی معروف صحابیؓ کسی شخص کے بارے میں صحابیؓ ہونے کی اطلاع دے ، جیساکہ حضرت ابو موسی اشعریؓ نے حممۃ بن ابو حممہ الدوسی کی بابت صحابیؓ ہونے کی خبردی ۔

(۴)     کوئی ایسا شخص جس کا عادل و معتبر ہوا معلوم ہو اور زمانی اعتبار سے اس کا صحابیؓ ہونا ممکن بھی ہو ، اگر اپنے صحابیؓ ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کو قبول کرلیا جائے گا ، اس سلسلہ میں علماء کا خیال ہے کہ ۱۱۰ھ ؁کے بعد اگر کوئی شخص صحابیؓت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ غیر معتبر ہے ، اسی بنا پر جعفر بن نشطور رومی اور رتن ہندی وغیرہ کے دعوئ صحابیؓت کو غیر معتبر ماناگیا ہے ؛ کیونکہ آپ  نے ۱۰ ھ میں ارشا د فرمایا تھا :

 ما من نفس منفوسۃ الیوم یأتي علیہا مائۃ سنۃ وہی حیۃ یومئذ۔ (مسلم کتاب فضائل الصحابۃ ، حدیث نمبر : ۲۵۳۸)


" آج کوئی متنفس نہیں  کہ سو سال گذرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہے"۔


ان چار طریقوں  سے کسی کا صحابیؓ ہونا تسلیم کیا جاتا ہے ۔ ( مقدمہ ابن الصلاح ، ص : ۱۲۵ ، علوم الحدیث ومصطلحہ للدکتور صجی المحمصانی ، ص : ۵۳ ۳- ۳۵۲)

صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام: قرآن کریم میں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ     کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے،قرآن کریم اور حضور      کی عملی زندگی کا نمونہ قیامت تک محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالی نے ایک ایسی جماعت کو منتخب فرمایاجس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی،صحابہ کرام کے مقام اور ان کی حیثیت کو خود اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے،جس میں سے چند آیتوں کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے،جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صحابہ کرام اللہ کی منتخب کردہ ایک چنندہ جماعت ہیں ،ان کی صفات کا تذکرہ گزشتہ نبیوں کی کتابوں میں بھی بیان کیا گیا ہے،اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اللہ نے صحابہ کرام کو جنت کی خوشخبری بھی سنادی،آیات قرآنی ملاحظہ فرمائیں:

(۱)"ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ..الخ۔   

(فاطر:۳۲)

ترجمہ:پھر وارث بنایا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا..الخ۔
"الکتاب" یعنی قرآن مجید کے پہلے وارث بالیقین صحابۂ رسول ہیں، جن کے بارے میں آیتِ مبارکہ گواہی دیتی ہے، وہ اﷲ کے منتخب بندے ہیں؛ پھر بعض مقامات پر ان منتخب بندوں کو سلامِ خداوندی سے بھی نوازا گیا، ارشاد ہے:

(۲)"قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی"۔

(النمل:۵۹)

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فرمادیجئے کہ تعریفات سب اﷲ کے لیے ہیں اورسلام ہو ان بندوں پر جن کو اﷲ نے منتخب فرمایا۔
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ اس آیت میں منتخب بندوں سے مراد "صحابۂ رسول" ہیں۔                

(التفسیر المظہری:۷/۱۲۴)

(۳)محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں (اور)آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں،تم انہیں دیکھوگے کہ کبھی رکوع میں ہیں،کبھی سجدے میں(غرض)اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں ،ان کی علامتیں سجدہ کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں،یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں...الخ۔

        (الفتح:۲۹)

(۴)اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ اُن کی پیروی کی،اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے،یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔           

    (التوبہ:۱۰۰)

(۵)اﷲ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت عطافرمائی اور ایمان کو تمہارے دلوںمیں مرغوب کردیا، کفروفسق (گناہِ کبیرہ) عصیان (گناہِ صغیرہ) سے تم کو نفرت عطاکی، ایسے ہی لوگ اﷲ کے فضل وانعام سے راہِ راست پر ہیں۔ 

             (الحجرات:۷)

(۶)ان لوگوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان کو اپنے فیضِ غیب سے مضبوطی عطا فرمائی۔

(المجادلہ:۲۲)

صحابہ کا مقام احادیث پاک میں
  زبانِ رسالت سے صحابہ کے چنندہ ہونے کی خوشخبری دی گئی،جن میں سے چند احادیث کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے:

"اِنَّ اﷲَ اخْتَارَ اَصْحَابِیْ عَلٰی العٰالَمِیْنَ سِوٰی النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ.... وَقَالَ فِیْ اَصْحَابِیْ کُلُّھُمْ خَیْرٌ"۔                          

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۶)

اﷲ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے بعد ساری دنیا سے میرے صحابہ کو منتخب فرمایا اورفرمایا: میرے سب ہی صحابہ بھلائی والے ہیں۔

"اِنَّ اﷲَ  اخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَ لِیْ اَصْحَابِیْ...الخ"۔

(الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ إلی الجامع الصغیر، باب حرف الھمزۃ، حدیث نمبر:۳۲۲۴، صفحہ نمبر:۱/۲۹۷)

اﷲ نے میرا انتخاب فرمایا اور میرے لیے میرے صحابہ کا انتخاب فرمایا ۔

"خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ"۔

(بخاری، باب لایشھد علی شھادۃ جور، حدیث نمبر:۲۴۵۸)

لوگوں میں بہترین میرے قرن والے ہیں؛پھر وہ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہیں۔
حافظ ابن ِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے :"قرنی" سے مراد صحابہ ہیں، نیز بخاری میں باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم(کتاب الفضائل ۷/۳) میں ہے کہ

"بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ"۔

ابن آدم کے سب سے بہترلوگوں کے درمیان مجھے بھیجا گیاہے۔
اسی لیے حضرت ابن ِ مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: صحابۂ رسول اس امت کے سب سے افضل افراد تھے، جو دل کے اعتبار سے بہت نیک،علم کے لحاظ سے سب سے پختہ اور تکلفات کے اعتبار سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔ 

          (رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)

حافظ ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" اور علامہ سفارینی نے "شرح الدرۃ المضیئہ" میں لکھا ہے کہ جمہور ِ امت کی رائے کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں۔  
         

         (مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲) 


صحابہ سے متعلق امت مسلمہ کو ہدایت
قرآن کریم میں اور احادیث میں صحابہ کرامؓ کی مدح وثناء کی گئی اور ان کو جنت کی بشارت دی گئی اور اسی کے ساتھ امت کو ان کے ادب واحترام اور ان کی اقتداء کا حکم بھی دیا گیا ہے، ان میں سے کسی کو برا کہنے پر سخت وعید بھی فرمائی ہے ،ان کی محبت کورسول اللہ  کی محبت، ان سے بغض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض قرار دیا گیا ہے، اس سلسلہ کی چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

"خَیْرُالْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ"۔

(مسلم:کتاب فضائل الصحابۃ،حدیث نمبر:۴۶۰۰)

میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں پھر ان کے بعد آنے والے پھر ان کے بعد آنے والے۔
"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ"۔                                  

(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر:۴۶۱۰)

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:میرے صحابہ کو برا نہ کہو؛اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مد بلکہ اس کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔
          ایک اور روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا:
"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَاتَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"۔

(ترمذی، بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،حدیث نمبر ۳۷۹۷)

لوگو! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سےڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ،جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے در حقیقت مجھ سے بغض رکھا ،جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس نے مجھ کو اذیت پہچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالی اس کو پکڑلے۔
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
خدا کی قسم ہے کہ صحابہ کرام میں کسی شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوجائے غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت وعمل سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوح(علیہ السلام)عطا ہوجائے۔

(ابوداؤد،باب فی الخلفاء،حدیث نمبر۴۰۳۱)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَدَثَ فِي أُمَّتِي الْبِدَعُ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .


ترجمہ : حضرت معاذ بن جبل رسول الله صلی الله عالیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں : جب لوگ بدعت میں مبتلا ہوں اور (اس امت کے آخر لوگ پہلے لوگوں) میرے صحابہ کو کوسنے لگے تو عالم کو چاہیے کہ ظاہر کرے اپنا علم تو جو ایسا نہ کریں ان میں سے تو ان پر لعنت ہو الله کی اور اس کے ملائکہ کی اور سارے انسانوں کی.


صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم
اگر کوئی شخص صحابہ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں، لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ،فقہائے احناف میں عبدالرشید طاہر البخاری نے لکھا ہے کہ اگر کوئی رافضی شیخین کی شان میں گستاخی کرے اور لعنت  بھیجے تو وہ کافر ہے۔
(خلاصۃ الفتاوی:۴/۳۸۱)
ملا علی قاری نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے ۔

(شرح فقہ اکبر:۲۲۹)

فقہاء مالکیہ  میں علامہ دردیر نے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں دیا ہے لیکن صحابہ اور اہل بیت کی تنقیص کرنے والوں کو شدید تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے (الشرح الصغیر۴/۴۴۴)علامہ صاوی مالکی نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفاء اربعہ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کافتوی تو نہیں لگایا جائے گاالبتہ تعزیر کی جائے گی لیکن سحنون مالکی نے خلفاء اربعہ کو کافر کہنے والوں کو مرتد قرار دیا ہے نیز صاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہ کی تکفیر کرے وہ بالاتفاق کافر ہے۔                       

(حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر:۴/۴۴۔۴۴۳)

غرض اگر از راہ احتیاط صحابی کی شان میں گستاخی کو کفر قرار نہ دیا جائے تب بھی اس کے قریب بہ کفر ہونے میں شبہ نہیں ؛اسی لیے سلف نے مشاجراتِ صحابہ پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ،افسوس کہ گزشتہ نصف صدی میں ایسی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں ناحق صحابہ کے اختلاف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں تو ناصبیت کے درجے کو پہنچ گئی ہے اور کہیں اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں بلکہ بد خدمتی ہے اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے جو شیشہ سے زیادہ نازک اور بال سے زیادہ باریک ہے،  فالی اللہ المشتکی وبہ التوفیق۔


صحابہؓ  میں مراتب
اہل سنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکرؓؓ اور آپؓ کے بعد حضرت عمرؓ تمام امت میں افضل ہیں  ، حضرت عمرؓ  کے بعد حضرت عثمانؓ و علیؓ کا درجہ ہے ، اکثر علماء نے حضرت عثمانؓ  کو افضل قرار دیا ہے اور علماء کوفہ نے حضرت علیؓ کو ۔ (        مقدمہ ابن الصلاح ، ص : ۱۲۸)
امام ابو حنیفہؒ کا رجحان بھی اسی طرف بتایا جاتا ہے ؛ اسی لئے آپ نے اہل سنت والجماعت کی علامات میں حضرات شیخینؓ کی فضیلت اور حضرت عثمانؓ وعلیؓ کی محبت کو شمار کیا ہے ۔ (        خلاصۃ الفتاوی : ۴/۳۸۱)
امام مالکؒؒ سے اس سلسلہ میں توقف منقول ہے ، نیز مشہور محدث محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ اور خطابیؒ نے بھی حضرت علیؓ  کو افضل مانا ہے ۔
خلفائے  اربعہؓ کے بعد پھر ان چھ صحابہؓ   کا درجہ ہے جو عشرۂ مبشرہؓ میں ہیں  ،ا ن کے بعد اصحابِِ بدرؓ ، ان کے بعد اصحابِ احدؓ اور ان کے بعد حدیبیہ میں بیعت رضوان کے شرکاء کا شمار ہے ، آخر درجہ فتح مکہ اور اس کے بعد ہونے والے مسلمانوں  کا ہے ، جن میں حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت معاویہؓ وغیرہ ہیں  ۔
امام حاکمؒ نیشاپوریؒ نے صحابہؓ  کے بارہ طبقات بیان کئے ہیں :
۱)       مکہ میں ابتداء ً اسلام قبول کرنے والے جن میں خلفائے اربعہؓ بھی داخل ہیں  ۔
۲)       دار الندوہ کے اصحابؓ ، یعنی جب حضرت عمرؓ  اسلام لائے اور اپنے اسلام کا عام اعلان واظہار کیا تو وہ آپ کو دار الندوہ لے گئے ، جہاں  اہل مکہ کی ایک جماعت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، ان حضرات کو اصحابؓ دار الندوہ کہتے ہیں  ۔
۳)      حبش ہجرت کرنے والے صحابہؓ  ؓ۔
۴)      بیعت عقبہ اول میں شریک رہنے والے صحابہؓ  ۔
۵)      بیعت عقبہ ثانی میں شریک رہنے والے صحابہؓ  ۔
۶)       وہ مہاجرینؓ جو آپ کے قباء میں رہتے ہوئے پہونچ چکے تھے ۔
۷)      غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہؓ  ۔
۸)      غزوۂ بدر ، صلح حدیبیہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہؓ  ۔
۹)       وہ صحابہؓ  جو بیعت رضوان میں شریک رہے ، جن کے بارے میں قرآن مجید میں آیت نازل ہوئی:

لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا 

(الفتح :۱۸)

"اللہ ایمان والوں  سے خوش ہوا جب تجھ سے بیعت کرنے لگے اس درخت کے نیچے" ۔

۱۰)      صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہؓ  ، ان ہی میں حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمرؓو بن العاص اور حضرت ابو ہریرہ وغیرہ ہیں  ۔
۱۱)      جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے ۔
۱۲)      وہ کم سن صحابہؓ  جنہوں  نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع وغیرہ کے موقع سے آپ کی زیارت کی ہے ، حضرت سائب بن یزید ، عبد اللہ بن ثعلبہ ، ابو الطفیل ، عامر بن واصلہ اور حضرت ابو جحیفہ وغیرہ کا شمار اسی طبقہ میں ہے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ، ص : ۲۹ - ۳۱)
روایت کے اعتبار سے درجات
باعتبار روایت حدیث کے صحابہؓ  کے تین درجات کئے گئے ہیں  ، اول مکثرین جن کی روایات ہزار سے اوپرہوں  ، دوسرے مقسطین جن کی روایات ہزار سے کم اور سو سے زیادہ ہوں  ، تیسرے مقلین جن سے سو سے کم حدیثیں منقول ہیں  ، مقسطین اور مقلین کی تعداد تو بہت ہے ؛ البتہ مکثرین سات ہیں  ، اور ان کے نام اور مرویات کی تعداد اس طرح ہے :
          حضرت ابوہریرہؓ              ۵۳۷۴
          حضرت عبد اللہ بن عمرؓ         ۲۶۳۰
          حضرت انس بن مالکؓ         ۲۲۸۶
          حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا   ۲۲۱۰
          حضرت عبد اللہ بن عباسؓ     ۱۶۶۰
          حضرت جابر بن عبد اللہؓ       ۱۵۴۰
          حضرت ابو سعید خدریؓ       ۱۱۷۰
فقہی اعتبار سے بھی بعض صحابہؓ  مکثرین شمار کئے گئے ہیں  ، تاہم مسروق سے منقول ہے کہ حضور  کے صحابہؓ  کا علم چھ صحابہؓ  میں جمع ہوگیا ہے ، حضرت عمرؓ  ، حضرت علیؓ  ، حضرت ابی بن کعبؓ ، زید بن ثابتؓ ، ابو الدرداءؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، بعض نے ابوالدرداءؓ کی جگہ ابو موسی اشعریؓ کا ذکر کیا ہے اور پھر ان چھ کا علم دو میں جمع ہوگیا ، حضرت علیؓ   اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، امام شعبیؒ ؒسے مروی ہے کہ ان میں حضرت عمرؓ  ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت ابو موسی اشعریؓ اور ابی بن کعبؓ کی آراء میں زیادہ موافقت پائی جاتی تھی ۔ (       مقدمہ ابن صلاح ، ص : ۱۲۷)
صحابہ کرامؓ   کے بارے میں احتیاط
امت میں حضرات صحابہ کرامؓ  کا ایک خاص درجہ و مقام ہے کہ انہیں  کے ذریعہ دین ہم تک پہنچا ہے اور ان ہی کی قربانیوں  اور جاں  نثاریوں  سے اسلام کا شجر طوبی پر واں  چڑھا ہے ؛ اسی لئے آپ  نے ان کو امت کا سب سے بہتر طریقہ قراردیا ہے۔
آپ  نے فرمایاکہ میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں  ، پھر ان کے بعد آنے والے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں  :"خیر القرون قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم" ۔(        مجمع الزوائد : ۱۰ / ۲۰ ، مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے منقول ہے کہ آپ  نے فرمایا:
" میرے صحابہؓ  کو برا بھلا نہ کہو ، اس ذات کی قسم  جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!  اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کروتو وہ ان کے ایک مُد بلکہ ا س کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں  ہوسکتا"۔ (مسلم ، حدیث نمبر : ۲۵۴۰ ، بخاری ، حدیث نمبر : ۳۶۷۳)
ایک اور روایت میں آپ  نے ارشاد فرمایا:
" لوگو ! میرے صحابہؓ  کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ، جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان بغض رکھا ، اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، جس نے ان کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے "۔
اس لئے حضرات صحابہؓ  کے بارے میں بہت احتیاط چاہئے اور ہمیشہ سوءِ کلام اور سوءِ گمان سے بچنا چاہئے ؛ چنانچہ اگر کوئی شخص صحابہؓ  کی شان میں بد گوئی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں  ؛ لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ، فقہاءِ احناف میں عبدالرشید طاہر البخاریؒ نے لکھا ہے کہ " اگر کوئی شخص رافضی شیخینؓ کی شان میں گستاخی کرے اور لعنت بھیجے تو وہ کافر ہے" ۔(خلاصۃ الفتاوی : ۴/۳۸۱)
ملا علی قاریؒ نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے ؛ لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے ۔ (شرح فقہ اکبر ، ص : ۲۲۹)
فقہاءِ مالکیہ میں علامہ دردیرؒ نے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں  دیا ہے ؛ لیکن صحابہؓ  اور اہل بیتؓ  کی تنقیص کرنے والوں  کو شدید تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے ۔ (       الشرح الصغیر : ۴/۴۴۴)
علامہ صاوی مالکیؒ نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفائے اربعہؓ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کا فتویٰ تو نہیں لگایا جائے گا ؛البتہ تعزیر کی جائے گی ؛ لیکن سحنون مالکیؒ نے خلفائے اربعہؓ کو کافر کہنے والوں  کو مرتد قرار دیا ہے ، نیز صاویؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہؓ  کی تکفیر کرے وہ بالاتفاق کافر ہے ۔ (       حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر : ۴/۴۴۴ - ۴۴۳                          (۱۷)       نہایۃ السول للأسنوی ، ص : ۳۶۷)
غرض اگر از راہِ احتیاط صحابیؓؓ کی شان میں گستاخی کو کفر قرار نہ دیا جائے تب بھی اس کے قریب بہ کفر ہونے میں شبہ نہیں  ؛ اسی لئے سلف نے مشاجرات صحابہؓ  پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ، افسوس کہ گذشتہ نصف صدی میں بعض ایسی کتابیں  منظر عام پرآئی ہیں  جن میں ناحق صحابہؓ  کے اختلاف کو زیر بحث لایاگیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں  تو ناصبیت کے درجہ کو پہنچ گئی ہے اور کہیں  اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں  بلکہ بد خدمتی ہے اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے ، جو شیشہ سے زیادہ نازک اور بال سے زیادہ باریک ہے ۔فإلی اللہ المشتکی وبہ التوفیق ۔
آثار صحابہؓ  ؓ
صحابہؓ  نے جس طرح اسلام کی تبلیغ واشاعت اور دین حق کی صیانت وحفاظت میں رسول اللہ  کی بھر پور نصرت و حمایت کی اور آپ  کی رفاقت کا حق ادا فرمایا ، اسی طرح رسول اللہ  کی صحبت بافیض سے گہری بصیرت ، دین کا فہم صحیح اور عمیق علم بھی حاصل کیا اور اس اعتبار سے بھی ان کا درجہ و مقام بعد میں آنے والی امت سے بدرجہا بلند و بالا ہے ، اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ صحابہؓ  کے فتاوی اور اقوال و افعال کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟

خصوصیات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
 عام افراد امت سے صحابہ کرام کو بچند وجوہ خاص امتیاز حاصل ہے :
(۱)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے اللہ تعالی نے ان کو ایسا بنادیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی خلاف شرع ان سے کوئی کام یا گناہ صادر ہونا انتہائی شاذ ونادر تھا ان کے اعمال صالحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام پر اپنی جانیں اور مال واولاد سب کو قربان کرنا اور ہر کام پر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضیات کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا جس کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی ایسے بےشمار اعمال صالحہ اور فضائل وکمالات سے صحابہ کرام مزین تھے۔
(۲)اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعظمت اور ادنی گناہ کے صدور کے وقت ان کا خوف وخشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا جاری کرنے کے لیے پیش کردینا اور اس  پراصرار کرناروایات حدیث میں معروف ومشہور ہے، بحکم حدیث توبہ کرلینے سے گناہ مٹادیا جاتا ہے اور ایسا ہوجاتا ہے کہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔
(۳)قرآنی ارشاد کے مطابق انسان کی حسنات بھی اس کی سیئات کا خود بخود کفارہ ہوجاتی ہیں:

"اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ"۔             

(ھود:۱۱۴)

(۴)اقامت دین اور نصرت اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی عسرت اور تنگدستی اور مشقت ومحنت کے ساتھ معرکے سر کرنا کہ اقوام عالم میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔
(۵)ان حضرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہونا کہ باقی امت کو قرآن وحدیث اور دین کی تمام تعلیمات  انھیں حضرات کے ذریعے پہنچی ان میں خامی اور کوتاہی رہتی تو قیامت تک دین کی حفاظت اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں اشاعت کا کوئی امکان نہیں  تھا ،اس لیے حق تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت وبرکت سے ان کے اخلاق وعادات ان کی حرکات وسکنات کو دین کے تابع بنادیا تھا ،ان سے اول تو گناہ صادر ہی نہ ہوتا تھا اور اگر عمر بھر میں کبھی شاذ ونادر کسی گناہ کا صدور ہوگیا تو فوراً اس کا کفارہ توبہ استغفار اور دین کے معاملہ میں پہلے سے زیادہ محنت ومشقت اٹھانا ان میں معروف ومشہور تھا۔
(۶)حق تعالی نے ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا اور دین کا راستہ اور رابطہ بنایا تو ان کو خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا کہ اسی دنیا میں ان سب حضرات کی خطاؤں سے درگزر اور معافی اور اپنی رضا اوررضوان کا اعلان کردیا اور ان کے لیےجنت کا وعدہ قرآن میں نازل فرمادیا۔
(۷)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ہدایت فرمائی کہ ان سب حضرات سے محبت وعظمت علامت ایمان ہے اور ان کی تنقیص وتوہین خطرہ ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتکلیف دینےکا سبب ہے۔
ان وجوہات کی بنیاد پر امت کا یہ عقیدہ قرار پایا کہ ان کی طرف کسی عیب وگناہ کی نسبت نہ کریں ان کی تنقیص وتوہین کے شائبہ سے بھی گریز کریں۔
قرآن کریم نے ان کی مدح وثنا اور ان سے اللہ تعالی کے راضی ہونے کا بھی اعلان فرمادیا جو عفو درگزر سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے ،جن حضرات کے گناہوں اور خطاؤں کو حق تعالی معاف کرچکا تو اب کسی کو کیا حق ہے کہ ان گناہوں اور خطاؤں کا تذکرہ کرکے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرے اور اس مقدس گروہ پر امت کے اعتقاد واعتماد میں خلل ڈال کر دین کی بنیادوں پر ضرب لگائے، اس لیے سلف صالحین نے عموماً ان معاملات میں زبان کو بند رکھنے اور خاموش رہنے کو ایمان کی سلامتی کا ذریعہ قرار دیا۔

(ملخص  مقام صحابہ:۱۱۱۔۱۱۴، از مفتی محمدشفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ)


صحابہ اورمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
صحابہ کے نزدیک آپ      اپنی جان،اپنے مال ومتاع ،اپنی عزت وآبرو اوراپنی اولاد،عزیزواقارب سے زیادہ محبوب وعزیز تھے،جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں،جن میں سے دو مثالوں کو یہاں نقل کیا جارہا ہے:
 حضرت ابوبکر صدیق ؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب العمر صحابی ہیں،اسلام قبول کرنے اور اس کی نشر واشاعت کی محنت میں جان توڑ کوششوں کے کرنے کو دیکھ کر مکہ کے سرداروں کو چپ نہ رہا گیا،حتی کہ ایک دن آپ کو خوب زدوکوب کیا گیا ،عقبہ بن ربیعہ ان کے پاس آکر اپنے پیوند والے جوتوں سے انھیں مارنا شروع کیا،حالت یہ ہوئی کہ ناک پر گہرا زخم آیا،چہرہ پہچانانہ جاتا تھا۔
بہت دیر بعد ان کے قبیلہ بنو تمیم کوعلم ہوا،کپڑے میں لپیٹ کر گھر لایا گیا، صحت یابی کی امید یں ٹوٹ چکی تھیں،اللہ کے فضل نے دستگیری کی اور آپؓ دن کے آخری حصہ میں باہوش ہوئے،آنکھ کھلی اور زبان بولنے کے لائق ہوئی تو سب سے پہلا بول یہی تھا کہ:رسول اللہ       کیسے ہیں؟پاس بیٹھے لوگوں نے کوسنا اور برا بھلا کہنا شروع کیا کہ:جن کی وجہ سے یہ مصیبت آئی ہے،ہوش آیا توپھران ہی کا تذکرہ؟ان کی والدہ "امّ خیر" سے یہ کہتے ہوئے :صبح سے کچھ نہیں کھائے ہیں ،کچھ کھلا پلا دینا،لوگ اٹھ کر چلے گئے،جب گھر میں کوئی نہ رہا تو اماں نے کھانے کے لیے اصرار کیا؛لیکن حضرت ابوبکرؓکی بس ایک رٹ تھی کہ :رسول اللہ       کیسے ہیں؟جب والدہ نے ام جمیل بن خطاب ؓ کو بلالائیں انھوں نے بتایا کہ آپ       بہ خیر وعافیت ہیں،پوچھا کہاں پر ہیں؟ کہا:دار ابن ارقم میں تشریف فرماں ہیں،یہ سن کرحضرت ابو بکر ؓنے فرمایا:بخدا! میں اس وقت تک کچھ کھا پی نہیں سکتا جب تک کہ رسول اللہ       سے ملاقات نہ کرلوں،جب سارے لو گ اپنے اپنے گھر جاچکے ،تو دونوں نے سہارا دے کر رسول اللہ کی خدمت میں پہنچایا۔

(البدایہ:۳/۳۰)

حضرت عروہ بن زبیر ؓکی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ قریش نے حضرت خبیبؓ کو خریدا؛ تاکہ جنگ بدر میں اپنے مقتول آباء کے بدلے میں ان کو قتل کریں؛پھر جب پھانسی دینے کے لیے تختۂ دار پر چڑھا یا اور پوچھا کیا تم یہ گواراکرو گے کہ محمد       تمھاری جگہ ہوں،حضرت خبیب ؓ بول پڑے :خدائے عظیم کی قسم ! مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے قتل  کے بدلےمیں میرے آقا کے قدمِ مبارک میں کوئی کانٹا چبھے ۔

       حفاظتِ قرآن میں صحابہ کی خدمات
حضور اکرم       کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعددور صحابہ میں حفاظت قرآن سے متعلق کی گئی محنتوں کا حاصل درج ذیل روایتوں سے ثابت ہوتا ہے:
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ یمامہ کے فوراً بعد حضرت ابو بکر نے ایک روز مجھے پیغام بھیج کر بلوایا،میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر بھی موجود تھے حضرت ابو بکر نے مجھ سے فرمایا کہ :عمر نے ابھی آکر مجھ سے یہ بات کہی ہے کہ جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی ،اور اگر مختلف مقامات پر قرآن کریم کے حافظ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ ناپید نہ ہوجائے ،لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپ اپنے حکم سے قرآن کریم کو جمع کروانے کا کام شروع کردیں  ،میں نے عمرؓ سے کہا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اسے ہم کیسے کریں، عمر نے جواب دیا کہ: خدا کی قسم یہ کام بہتر ہی بہتر ہے، اس کے بعد عمر مجھ سے  بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرح صدر ہوگیا اوراب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر ؓکی ہے ،اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے مجھ سے فرمایا :تم نوجوان اور سمجھ دارآدمی ہو ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابت وحی کا کام بھی کرتے رہے ،لہٰذا تم قرآن کریم کی آیتوں  کو تلاش کرکے انہیں جمع کرو۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: خدا کی قسم اگر یہ حضرات مجھے کوئی پہاڑ ڈھونے کا حکم دیتے تو مجھ پر اتنا بوجھ نہ ہوتا جتنا جمع قرآن کے کام میں ہوا ،میں نے ان سے کہا کہ آپ وہ کام کیسے کررہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ،حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ: یہ کام بہتر ہی بہتر ہے ،اس کے بعد حضرت ابو بکر بار بار مجھ سے یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا سینہ اسی رائے کے لیے کھول دیا جو حضرت ابو بکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کی رائے تھی ،چنانچہ میں نے قرآنی آیات تلاش کرنا شروع کیا اور کھجور کی شاخوں پتھرکی تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کریم کو جمع کیا۔

(صحیح بخاری،کتاب فضائل القرآن،حدیث نمبر:۴۶۰۳)

یہ اعلان عام کردیا گیا کہ جس شخص کے پاس قرآن کریم کی جتنی آیات لکھی ہوئی  موجود ہوں وہ حضرت زید کے پاس لے آئےاورجب کوئی شخص ان کے پاس قرآن کریم کی لکھی ہوئی کوئی آیت لے کر آتا تو وہ مندرجہ ذیل چار طریقوں سے اس کی تصدیق کرتے تھے۔
۱۔سب سے پہلے اپنی یادداشت سے اس کی توثیق کرتے ۔(حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حافظ قرآن تھے)۔
۲۔پھر حضرت عمر بھی حافظ قرآن تھے اور روایات سے ثابت ہے کہ حضرت ابو بکر نے ان کو بھی اس کام میں حضرت زید کے ساتھ لگادیا تھا اور جب کوئی شخص کوئی آیت لے کر آتا تھا تو حضرت زید اور حضرت عمر دونوں مشترک طور پر اسے وصول کرتے تھے۔

(فتح الباری:۹/۱۱۔بحوالہ ابن ابی داؤد)

۳۔ کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی تھی جب تک دو قابل اعتبارگواہوں نے اس بات کی گواہی نہ دیدی ہو کہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی۔                          

(اتقان:۱/۶۰)

۴۔اس کے بعد ان لکھی ہوئی آیتوں کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا تھا جو مختلف صحابہ نے تیار کر رکھے تھے ۔

(البرہان فی علوم القرآن للزرکشی:۱/۲۳۸)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ کے پاس(حضرت ابو بکر کے تیار کرائے ہوئے)جو صحیفے موجود ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے،ہم ان کو مصاحف میں نقل کرکے آپ کو واپس کردیں گے ،حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کے پاس بھیج دیے،حضرت عثمان نے چار صحابہ کی ایک جماعت بنائی، جو حضرت زید بن ثابت،حضرت عبداللہ بن زبیر،حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم پر مشتمل تھی،اس جماعت کو اس کام پر مأ مور کیا گیا کہ وہ حضرت ابو بکر کے صحیفوں سے نقل کرکے کئی ایسے مصاحف تیار کریں جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں(اب یہی مصحف ساری دنیا میں قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے)
حفاظتِ حدیث میں صحابہ کی خدمات
 (۱)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا قریش کے لوگوں نے مجھے منع کیا کہ تم ہربات رسول اللہ       سے لکھ لیا کرتے ہو؛ حالانکہ رسول اللہ       ایک انسان ہیں ان پر بھی خوشی اور غصہ دونوں حالتیں طاری ہوتی ہیں؛ چنانچہ میں لکھنے سے رُک گیا اور رسول اللہ       کے پاس جاکر یہ بات میں نے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
"اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَايَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّاحَقٌّ"۔

(ابوداؤد،بَاب فِي كِتَابِ الْعِلْمِ، حدیث نمبر:۳۱۶۱)

تم لکھتے رہو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق بات ہی کا صدور ہوتا ہے۔
(۲)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیثوں کا جامع کوئی نہیں ہے سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔

(بخاری شریف، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)

 (۵)فتح مکہ کے موقعہ پر حضور       نے خطبہ دیا تو ایک یمنی صحابی جن کا نام ابوشاہ تھا درخواست کی کہ ان کے واسطے یہ خطبہ لکھ دیا جائے ،حضور   سے اجازت چاہی گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا  "اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ شَاہ" (ابوشاہ کے لیے لکھ دو)۔

(بخاری، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کے دور میں حدیث کے کئی مجموعے (جو ذاتی نوعیت کے تھے) تیار ہوچکے تھے، جیسے صحیفۂ صادقہ، صحیفۂ علی، کتاب الصدقہ، صحفِ انس بن مالک، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سعد بن عبادہ اور صحیفۂ ہمام بن منبہ رضی اللہ عنہم،  اس طرح تاریخ کی وہ کتاب یعنی حضور       کی زندگی عہدِ صحابہ میں بجائے ایک نسخہ کے ہزاروں نسخوں کی صورت میں موجود ہوچکی تھی اس اعتبار سے حفاظتِ حدیث کی ایک صورت خود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تھی۔
 دورصحابہ رضی اللہ عنہ میں فتوحات کے اسباب
دور صحابہ میں اسلام اتنی تیزی سے کیسے پھیلا،اس کی وجوہات اور اسباب کیا تھے ؟اس بات پر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوگا کہ صحابہ حضور اکرم        کے فیض یافتہ تھے،اشاعت اسلام کے خاطر صحابہ ہر طرح کی قربانی دیا کرتے تھے، عدل وانصاف ،مساوات،حفاظتِ امانت اس جیسے اور کئی اوصاف تھے،جس کی وجہ سے اسلام تیزی سے پھیلتا گیا،جن میں سے اہم اوراصولی اسباب حسب ذیل قراردیئے جاسکتے ہیں۔
(۱)صحابہ کرام دنیا کی فتح کے لئے اٹھے تو ان کے سامنے ایک خاص مقصد تھا جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مطمع نظر قرار دیا تھا، چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو غزوہ خیبر میں علم فتح عنایت فرمایا تو ساتھ ساتھ یہ الفاظ بھی فرمائے۔
"لان یھدی اللہ بک رجلا خیرلک من حمر النعم"۔
اگر خدا تمہارے ذریعہ سے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
 (۲)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک خود صحابہ کرام کی فتوحات کا ایک عظیم الشان سبب تھی، محبت واطاعت نے صحابہ کرام کو اس شمع ہدایت کا پروانہ بنادیا تھا، اوروہ صرف جان دے کر اس سے جدا ہوسکتے تھے۔
(۳)صحابہ کرامؓ کی فتوحات کا ایک بڑا سبب مشقت اور تکلیف کوبرداشت کرنا تھا،صحابہ کرام نے فوجی خدمات کے ادا کرنے میں جس قدر جسمانی تکلیفیں اٹھائی ہیں، اس کی نظیر سے دنیا کی مذہبی اورسیاسی تاریخ خالی ہے۔
 صحابہ کرامؓ کو ایک غزوہ میں فی کس صرف ایک کھجور ملتی تھی جس کو وہ بچوں کی طرح چوس کے پانی پی لیتے تھے، درخت سےپتے جھاڑ لاتے تھے اوراس کو پانی میں بھگو کرکھالیتے تھے۔

(ابوداؤد، کتاب الاطعمہ، باب فی دواب البحر۔ مسلم، کتاب الایمان، باب من لقی اللہ بالایمان وہو غیر شاک فیہ داخل الجنتہ وحرم علی النار)

غزوہ احزاب میں سامان رسد اس قدر کم تھا کہ تمام صحابہؓ مٹھی بھر جو اورمتأثر ہوئی چربی پر بسر کرتے تھے۔
(بخاری، غزوہ خندق)
ایک غزوہ میں تمام صحابہ کے درمیان صرف ایک سواری تھی اس لیے پیدل چلتے چلتے تلووں میں سوراخ ہوگئے تھے ،پاؤں کے ناخن گر گر پڑتے تھے، مجبورا تمام صحابہ کو پاؤں میں چیتھڑے لپیٹنے پڑے، اسی مناسبت سے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع پڑگیا جس کے معنی چیتھڑے کے ہیں۔            

(مسلم، کتاب اللجہاد، باب غزوہ ذات الرقاع)

(۴)صحابہ کرام کی فتوحات کا ایک سبب ان کا بے باکانہ اقدام تھا، چنانچہ صحابہ کرام نے مدین میں داخل ہوناچاہا تو بیچ میں دریا پڑتا تھا، لیکن اس سیلاب کو یہ دریا کیوں کر روک سکتا تھا؟ تمام صحابہ نے دریا میں گھوڑے ڈالدئے اوراس کو عبور کرکے شہر میں داخل ہونا چاہا،ایرانیوں نے اس منظر کو دیکھا تو کہا کہ دیوان آمدند اوریہ کہہ کر شہر کو خالی کردیا۔      

(طبری،صفحہ نمبر:۲۴۴۱)

(۵)فتوحات کا ایک سبب صحابہ کا صبر واستقلال ہے۔
ایک بار رومیوں نے مسلمانوں کے مقابل میں ایک لشکر گراں جمع کیا ،حضرت ابو عبیدہ ابن جراحؓ نے حضرت عمرؓ کو اس خطرے کی اطلاع دی تو انہوں نے لکھا کہ مسلمان بندے پر جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو اس کے بعد خدا اس کو اطمینان وسکون عطافرماتا ہے ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی، خدا وند تعالی قرآن پاک میں خود کہتا ہے۔
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"۔

(آل عمران:۲۰۰)

مسلمانوں صبرکرو، باہم صبر کی تلقین کرو، استقلال اختیار کرو اورخدا سے ڈرو شائد تم کامیاب ہوجاؤ۔
(۶)اگر فوج میں ایک بددیانت سپاہی بھی شامل ہے تو وہ پوری فوج کی مادی اوراخلاقی طاقت کو بے اثر کرسکتا ہے، اس کو حرص و طمع ہر قسم کی منافقت پر آمادہ کرسکتی ہے، وہ ہر قسم کی نمک حرامی کرسکتا ہے، وہ درپردہ دشمن کا جاسوس بن سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چند پیسوں پر اپنے فوجی مقصد کو قربان کرسکتا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے۔
"مَاظَهَرَ الْغُلُوْل فِي قَوْم قطّ إلاألْقَى اللَّه فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْب"۔

(طبری،صفحہ نمبر:۲۶۹۶)

کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں خیانت پیدا ہو اور مرعوب نہ ہو جائے۔
لیکن صحابہ کرام نے قیصر و کسریٰ کے دربار کے سامان دیکھے ، دنیا نے ان کے آگے اپنا خزانہ اگل دیا، ان کے سامنے زر وجواہر کے انبار لگ گئے، تاہم ان میں کوئی چیز ان کی دیانت کو صدمہ نہ پہونچا سکی، ایران کی فتح کے بعد جب دربار خلافت میں کسریٰ کی مرصع تلوار اور زریں کمر بند آیا تو حضرت عمرؓ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ جس قوم نے ان چیزوں کو ہاتھ نہیں لگایا وہ ایک دین دار قوم ہے۔
یہی دیانت تھی جس نے صحابہ کے سامنے فتوحات کے دروازے کھول دیئے تھے

(طبری،صفحہ۲۶۹۰)

(۷)صحابہ کرام کے فتوحات کا ایک سبب ان کا مساویانہ طرز عمل تھا، اسلامی فوج میں اصول مساوات سے ذرہ برابر تجاوز نہیں کیا جاسکتا تھا، جنگ ایران میں حضرت ابو عبیدہؓ سپہ سالار تھے ان کے سامنے چند ایرانی رئیسوں نے نہایت لذیذ کھانے پیش کئے تو انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی طرح کے کھانوں سے تمام فوج کی ضیافت کی ہے؟ بولے نہیں فرمایا ابو عبیدہ بدترین شخص ہوگا اگر ایک قوم کوساتھ  لے کر آئے جو اس کے آگے اپنا خون بہائے اورپھر وہ اپنے آپ کو ان پر ترجیح دے وہ وہی کھائے گا جس کو سب لوگ کھاتے ہیں۔

(طبری ،صفحہ نمبر:۲۱۷۱)

اس مساوات نے خود مخالفین کو یقین دلادیا تھا کہ اس قوم کے سامنے اب ان کے عرش کے پائے متزلزل ہوجائیں گے، چنانچہ جب رومیوں سے جنگ ہوئی تو "قینقلاء" نے ایک عربی جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کی اخلاقی حالت کا پتہ لگائے اس نے پلٹ کر خبردی کہ یہ لوگ راتوں کو تو راہب رہتے ہیں اور دن کو شہسوار بن جاتے ہیں، اگر ان کے بادشاہ کا لڑکا بھی کوئی چیز چرائے تو اس کے ہاتھ کاٹ لیتے ہیں اوراگر زنا کرے تو اس کو سنگسار کرتے ہیں، یہ سن کر قینقلاء خود بول اٹھا کہ، اگریہ سچ ہے تو میرے لئے یہی بہتر ہے کہ میں پیوند خاک ہوجاؤں۔                

(ایضا،۲۱۲۶)

(۸)صحابہ کرام کی فتوحات کو ذمیوں کی ہمدردی اور اعانت نے بھی بہت کچھ ترقی دی،کیونکہ صحابہ کرام نے ذمیوں کے ساتھ جو سلوک کیا اس نے ان کو اس قدر گرویدہ کرلیا کہ جب یرموک میں رومیوں سے معرکہ آرائی ہوئی اور صحابہ کرام نے اس خیال سے کہ اب وہ ذمیوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کرسکتے، جزیہ و خراج کی کل رقم ان کو واپس کردی، تو اہل حمص نے کہا کہ تمہاری عادلانہ حکومت ہم کو اپنی قدیم ظالمانہ حکومت سے زیادہ پسند ہے ،ہم تمہارے عامل کے ساتھ ہر قل کی فوج سے معرکہ آرا ہوں گے یہودیوں نے تورات کی قسم کھا کر کہا کہ جب تک ہم مغلوب نہ ہوجائیں ہر قل کا عامل حمص میں داخل نہیں ہوسکتا۔        

(فتوح البلدان: ۱۴۴)

صحابہ کرام کے حریفوں کو اس طرز عمل نے خود یقین دلادیا تھا کہ یہ جو قوم معاہدہ کی اس قدر پابند ہو اس کی اخلاقی طاقت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ،چنانچہ جب مسلمانوں کی فوج سے ایک رومی قیدی بھاگ نکلا اور ہر قل نے اس سے مسلمانوں کے حالات پوچھے تواس نے کہا کہ وہ لوگ دن کو شہسوار اوررات کو راہب ہوتے ہیں جس قوم سے معاہدہ کرتے ہیں اس سے ہر چیز بہ قمیت لے کر کھاتے ہیں اور جس شہر میں داخل ہوتے ہیں امن و امان کے ساتھ داخل ہوتے ہیں، ہر قل نے یہ سن کر کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو وہ میرے ان دونوں قدموں کے نیچے کی زمین تک کے مالک ہوجائیں گے۔                     

(طبری، صفحہ نمبر:۲۳۹۵)

(۹)صحابہ کرام کی فتوحات کا ایک سبب ان کا اتحاد تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی صحابہ کرام نے اس اتحاد کو قائم رکھا اور جب اس میں کسی قسم کا ضعف پیدا ہوا تو اس کی اصلاح کی، ایک بار حضرت عمرؓ کو خبر ہوئی کہ قریش نے مختلف مجلسیں قائم کرلی ہیں اور باہم مل جل کر نہیں بیٹھتے تو ان کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگوں نے مختلف مجلسیں قائم کرلی ہیں اوراب یہ امتیاز قائم ہوگیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں یہ فلاں کا دوست ہے ،خدا کی قسم یہ تمہارے مذہب کو، تمہارے شرف کو اورتمہارے تعلقات کوبہت جلد برباد کردے گا، اورگویا میں ان لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اس کے بعد کہیں گے کہ یہ فلاں کی رائے ہے، اور اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں گے، ایک ساتھ نشست و برخاست کرو، کیونکہ وہ ہمیشہ تمہاری محبت کو قائم رکھے گا اوردشمن تمہارے اجتماع کو دیکھ کر مرعوب ہونگے۔

                           (طبری، صفحہ نمبر:۲۷۵۶)

(۱۰)ان اسباب کے علاوہ اور دوسرے اخلاقی اوصاف ؛مثلا مذہبی پابندی،وفا، صدق، اصلاح اور مواسات وغیرہ نے بھی صحابہ کرام کی فتوحات کو بہت کچھ ترقی دی، صحابہ کرام کی مادی طاقت کا غیر قوموں پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا تھا، چنانچ عجمیوں نے جب ان کے تیر دیکھے تو نہایت حقارت آمیز لہجے میں کہا کہ، یہ تکلے ہیں، لیکن ان کی روحانیت عجمیوں کے بڑے بڑے جنرلوں کو مرعوب کردیتی تھی، ایک بارمقام قادسیہ  میں صبح کی اذان ہوئی تو تمام صحابہ اس تیزی سے نماز ادا کرنے کے لئے دوڑے کہ ایرانیوں کو دھوکا ہوا کہ حملہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن جب رستم نے دیکھا کہ وہ ایک روحانی آواز پر اس قدر جلد جمع ہوجاتے ہیں تو خود بخود بول اٹھا کہ عمرمیرا کلیجہ کھا گیا۔

(طبری،صفحہ نمبر:۲۲۹۱)

اسی جنگ میں جب ایک ایرانی گرفتار ہوا اور اس نے مسلمانوں کے اخلاقی منظر کو دیکھا تو مسلمان ہوگیا اورکہا کہ جب تک تم میں یہ وفا، یہ صداقت ،یہ اصلاح ، یہ مواسات ہے تم لوگ شکست نہیں کھاسکتے۔                            

(طبری،صفحہ نمبر:۲۲۶۴)

(۱۱)بعض اوقات صحابہ کرام کی ظاہری شان و شوکت ،کچھ کم موثر اور ان کا ظاھری جوش وخروش بھی کچھ کم مرعوب کرنے والانہ تھا، حضرت حارث بن یزیدؓ بکری کا بیان ہے کہ میں مدینہ آیا تو دیکھا کہ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ جھنڈیاں لہرا رہی ہیں، حضرت بلالؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لگائے ہوئے کھڑے ہیں، میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا آپ       عمروبن العاصؓ کو ایک مہم پر روانہ فرما رہے ہیں۔                            

(ترمذی،تفسیر القرآن سورہ ذاریات)

(۱۲)صحابہ کرام کو ان کی مستعدی اورسرگرمی نے بھی غزوات میں بہت کچھ کامیاب کیا اوران کو مختلف جنگی خطرات سے محفوظ رکھا۔

              (ملخص سیر صحابہ:ج،۵ حصہ دوم:۱۷۶)

خلاصہ
دنیا کی محبت صحابہ کے دلوں سے نکل چکی تھی،صحابہ نے اشاعتِ اسلام کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا، الغرض! جن صفات پر اللہ نے خلافت ارضی اور آخرت کی کامیابی کا وعدہ فرمایا تھا  وہ پورا ہوا،اس ارشاد خدا وندی پر غور کیجیے:
تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئےہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ،ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا،جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا اوران کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے  اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا (بس) وہ میری عبادت کریں میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں،اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے  تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے،اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی فرماں برداری کرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

(النور:۵۵۔۵۶)

اس آیت میں خلافت ارضی کا وعدہ اللہ تعالی نے چند صفات  کے ساتھ مقید فرمایا ہے،یعنی ایمان،عمل صالح،خالص اللہ کی عبادت، ہر قسم کے شرک سے اجتناب،نمازوں کی پابندی،زکوۃ کی ادائیگی اور سب سے اہم بات رسول اللہ       کی اطاعت،یہ صفات صحابہ کرام میں مجموعی طور پر پوری طرح پائی جاتی تھیں،صحابہ کرام کی روحانیت مادیت پر غالب تھی،ان حضرات کو ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا مقصود ہوتی تھی،اللہ تعالی نے دور صحابہ میں اپنے اس وعدہ کو پورا کردکھایا،اور قیامت تک اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے کہ جب کبھی اور جن لوگوں میں یہ صفات پیدا ہوں گی اللہ تعالی ان کو صحابہ کی طرح کامیابی عطا فرمائے گا۔
سنتِ صحابہ رضی اللہ عنہم
صحابہ کے اقوال وافعال وتقریرات جن کو اصطلاح میں اثر واٰثار سے بھی تعبیر کرتے ہیں نیز تابعین کے اقوال وافعال کو بھی اثر کہتے ہیں اور صحابہ وتابعین سے منقول امور کے درمیان فرق کے لیے سنت صحابہ کو حدیث موقوف اور تابعین سے منقول امور کو مقطوع کہتے ہیں اور حضور       کی سنت کو حدیث مرفوع کہتے ہیں۔
سنتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی اہمیت وحجت
سنت صحابہؓ کی اہمیت وحجت یعنی شرعی دلیل ہوناان کی اس عظمت وشرف سے ظاہر ہے جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا؛ نیز حضور       سے اور ان کے ارشادات سے جن کا تعلق خاص طور سے اسی موضوع سے ہے ،حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم حضور       کی صحبت سے مستفید ہونے اور نزول وحی کے زمانے کو پانے کی وجہ سے شریعت کے احکام اور اللہ ورسول کے منشا ومراد سے سب سے زیادہ واقف اور اس کو سمجھنے والے تھے، اس لیے ان کے اقوال وافعال وتقریرات لائق اقتدا ہیں نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ: صحابہ کے اختلاف کے باوجود جو آدمی ان کی کسی چیز کو اپنائے گاوہ میرے نزدیک ہدایت پر ہوگا،اس طرح کی اور کئی احادیث ہیں جن کی بنا پر ائمہ اربعہ اور تمام معتبر معتمد علماء  وفقہاء ان کے اقوال وفتاوی کو حجت بنانے اور ماننے پر متفق ہیں۔
(المدخل،فصل فی العالم والکیفیۃ نیتہ:۱/۱۰۴۔ اعلام الموقعین،وجوب اتباع الصحابۃ والتابعین:۴/۱۳۹۔ اصول الفقہ از عبیداللہ اسعدی،سنت صحابہ:۲۰۹)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ : " مَهْمَا أُوتِيتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَالْعَمَلُ بِهِ لا عُذْرَ لأَحَدِكُمْ فِي تَرْكِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَسُنَّةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سَنَةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ فَمَا قَالَ أَصْحَابِي ، إِنَّ أَصْحَابِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، فَأَيُّهَا أَخَذْتُمْ بِهِ اهْتَدَيْتُمْ ، وَاخْتِلافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ " .عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ : " مَهْمَا أُوتِيتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَالْعَمَلُ بِهِ لا عُذْرَ لأَحَدِكُمْ فِي تَرْكِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَسُنَّةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سَنَةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ فَمَا قَالَ أَصْحَابِي ، إِنَّ أَصْحَابِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، فَأَيُّهَا أَخَذْتُمْ بِهِ اهْتَدَيْتُمْ ، وَاخْتِلافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ " .


(رزین) مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 624 (42363)- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان : صحابہ کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے]

ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا میں نے اپنے پروردگار سے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان اختلاف کے بارے میں پوچھا جو (شریعت کے فروعی مسائل میں ) میرے بعد واقع ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مجھ کو آگاہ کیا کہ اے محمد !(صلی اللہ علیہ وسلم ) حقیقت یہ ہے کہ تمہارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان پر ستارے، (جس طرح) ان ستاروں میں سے اگرچہ بعض زیادہ قوی یعنی زیادہ روشن ہیں لیکن نور (روشنی ) ان میں سے ہر ایک میں ہے (اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں سے ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق نور ہدایت رکھتا ہے ) پس جس شخص نے (علمی وفقہی مسائل میں ) ان اختلاف میں سے جس چیز کو بھی اختیار کر لیا میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں (پس تم ان کی پیروی کرو) ان میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے ۔ (رزین)

[مشکوۃ شریف:جلد پنجم:حدیث نمبر 624 (42363)- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان : صحابہ کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے]




اور اصول_حدیث کے تحت ضعیف روایت مقبول ہوتی ہے: فضائل میں ، شواہد ملنے پر اور تلقی بالقبول (علماۓ امّت کا اس حدیث کے متن و مضمون کو قبول کرنے) کے سبب.
دیکھئے: ضعیف حدیث پر عمل کے شرائط








صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعداد
ابوزرعہ رازی کا قول ہے کہ آپ کی وفات کے وقت جن لوگوں نے آپ کو دیکھا اورآپ سے حدیث سنی ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی(تجرید:/۳) جن میں مرد اور عورت دونوں شامل تھے اوران میں ہر ایک نے آپ سے روایت کی تھی (مقدمہ اصابہ :۳) ابن فتحون نے ذیل استیعاب میں اس قول کو نقل کرکے لکھا ہے کہ ابوزرعہ نے یہ تعداد صرف ان لوگوں کی بتائی ہے جو رواۃ حدیث میں تھے، لیکن ان کے علاوہ صحابہؓ کی جو تعداد ہوگی وہ اس سے کہیں زیادہ ہوگی (ایضاً) بہرحال اکابر صحابہؓ کے نام ان کی تعداد اوران کے حالات تو ہم کو صحیح طورپر معلوم ہیں، لیکن ان کے علاوہ ہم اورصحابہ کی صحیح تعداد نہیں بتاسکتے،اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ خود صحابہؓ کے زمانہ میں مشاغل دینیہ نے صحابہ کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ اپنی تعداد کو محفوظ رکھیں (مقدمہ اسد الغابہ :۳) اس کے علاوہ اکثر صحابہ ؓ صحرانشین بدوی تھے، اس لیے ایسی حالت میں ان کا گمنام رہنا ضروری تھا۔                            

(مقدمہ اصابہ :۴)

صحابہ  رضی اللہ عنہم کازمانہ
صحابہ کرام کا مبارک زمانہ ابتدائے بعثت سے شروع ہوکر پہلی صدی کے آخر تک ختم ہوگیا اوراس طرح رسول اللہ       کی معجزانہ پیشین گوئی پوری ہوئی جو ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
"فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ"۔

(بخاری، کتاب موقیت الصلوٰۃ،بَاب السَّمَرِ فِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ،حدیث نمبر:۵۶۶)

ترجمہ:جو لوگ آج روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے سو سال کے بعد کوئی باقی نہ رہے گا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین دین کی بنیاد ہیں، دین کے اول پھیلانے والے ہیں، انہوں نے حضور اقدس       سے دین حاصل کیا اور ہم لوگوں تک پہنچایا، یہ وہ مبارک جماعت ہے کہ جس کو اللہ جل شانہ نے اپنے نبی پاک       کی مصاحبت کے لیے چنا اور اس  بات کی مستحق ہے کہ اس مبارک جماعت کو نمونہ بناکر اس کا اتباع کیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے جسے دین کی راہ اختیار کرنی ہے تو ان کی راہ اختیار کرے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ حضرت محمد       کے صحابہ ہیں جو اس امت کا افضل ترین طبقہ ہے ،قلوب ان کے پاک تھے، علم ان کا گہرا تھا، تکلف اور بناؤٹ ان کے اندر نہیں تھی،اللہ جل شانہ نے انھیں اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اشاعت کے لیے چنا تھا،  اس لیے ان کی فضیلت کوپہچانو ان کے نقش قدم پر چلو اور طاقت بھر ان کے اخلاق اور ان کی سیرتوں کو مضبوط پکڑو ،اس لیے کے وہی ہدایت کے راستے ہیں۔

(مشکوۃ،باب اعتصام بالکتاب والسنۃ ،حدیث نمبر:۱۹۳،ازرزین)

انسان کے فرائض میں سب سے مقدم اور سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اخلاق انسانی کی اصلاح کی جائے ،علم اور فن،تہذیب وتمدن،صنعت وحرفت تمام چیزیں دنیا میں آئیں اور آتی رہیں گی؛ لیکن انسانیت کو تہذیب سے آراستہ کرنا بہت ضروری تھا اس لیے دنیا میں جب سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو بھیجا گیا تو اسی ذمہ داری کے ساتھ بھیجا گیا پھر ان کے بعد آنے والے بڑے بڑے پیغمبر اسی سلسلے کو یعنی تہذیب نفوس کو آگے بڑھاتے رہے اس کے بعد سب سے آخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کمالات کا مجموعہ بناکر بھیجا گیا اور  پھر اعلان کردیا گیا کہ :

"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاۭ"۔

(المائدہ: ۳)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کومکمل کردیا ،تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا۔
اب انسانوں کے اخلاق سدھارنے کے لیے قیامت تک کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے،اگر کوئی انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مطالعہ کرنا چاہے یا آپ کی تربیت کا انداز دیکھنا چاہے ،آپ کے اقوال وافعال اور اعمال کا نمونہ دیکھنا چاہےتو وہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہے،صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ  ایمانی کیفیت کو بڑھاتا ہے، زندگی کے اصول سکھاتا ہے،عقائد ،عبادات ،معاشرت اورمعاملات انسان کے درست ہوتے ہیں، سنت اور بدعت کی پہچان ہوتی ہے۔
اس زمانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صحابہ کرام کی مقدس زندگی کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے جس سے لوگوں میں شوق عمل پیدا ہو اور اس مثال کو پیش نظر رکھ کر لوگ خود بخود اپنے عقائد واعمال کی طرف مائل ہوں۔

(خلاصہ سیر الصحابہ:۵/۷)

 جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو پہچاننے کے لیے حضرات صحابہ ہی کی زندگی معیار ہوسکتی ہے کیونکہ یہی وہ مقدس جماعت ہے جس نے براہ راست  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کیا اور آپ کی نبوت کی روشنی بغیر کسی پردہ اور بغیر کسی واسطے کے صحابہ کرام پر پڑی ان میں جو ایمان کی حرارت اور نورانی کیفیت تھی وہ بعد والوں کو میسر آنا ممکن نہ تھی، اس لیے قرآن کریم نے صحابہ کرام کی پوری جماعت کی تقدیس وتعریف فرمائی ہے اور جماعت صحابہ کو مجموعی طور پر "رضی اللہ عنہم ورضو عنہ" فرمایا یعنی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، صحابہ کرام راستہ پانے والے اور راستہ دکھانے والے ہیں ،اسی غرض سے آئندہ صفحات میں صحابہ کرام  رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی سیرت کو پیش کیا جارہا ہے ۔




مقام صحابہ قرآن کریم کی روشنی میں




صحابی کی تعریف

علماء متقدمین ومتاخرین نے صحابی کی تعریف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر اس صاحب ایمان شخص کو صحابی کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد عربی صلى الله عليه وسلم سے شرف ملاقات حاصل کیا اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی،اور ظاہر ہے کہ وہ نابینا حضرات یا صحابہ کے نومولود بچے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی خدمت مبارکہ میں لائے گئے ان سب کو ملاقات حاصل ہے لہٰذا بلا تردد جماعت صحابہ میں ان کا شمار ہوگا۔

اس طرح کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کا پاکیزہ گروہ اس زمرہ میں شما رکیا جاتا ہے جس کے بارے میں علماء اہل سنت والجماعت اور ائمہ سلف کا بالاتفاق قول ہے کہ سب کے سب نجوم ہدایت ہیں کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: اَصْحَابی کالنُّجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم. (ترمذی) گروہ صحابہ کا وجود، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوب صلى الله عليه وسلم کے عالمگیر پیغام رسالت کو خطہٴ ارضی کے ہرگوشہ تک اس کی حقیقی روح کے ساتھ پھیلایا اور اس طرح آنحضور صلى الله عليه وسلم کا رحمة للعالمین ہونا بھی ثابت کردیا اور وما ارسلناک الا کافة للناس (سورہ فاطر:۲۴) کی تفسیر بھی دنیا کے سامنے پیش کردی گئی۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پاکیزہ برگزیدہ جماعت کے ذریعہ اسلام کا تعارف بھی کرادیاگیا اور رسول عربی صلى الله عليه وسلم کی سیرتِ طیبہ اور سنت کو عام کیاگیا اگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کوعام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کرکے غیر معتبر قرار دیا جائے گا تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گی نہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رسالت معتبر رہے گی نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا کیونکہ اللہ کے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطاء کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے خود معلم انسانیت محمد عربی نے اپنے جاں نثار اطاعت شعار صحابہ کی تربیت فرمائی تھی۔ صحابہ کرام نے اوّل اوّل، زبان رسالت سے آیات اللہ کو ادا ہوتے سنا تھااور کلام رسول کی سماعت کی تھی پھر دونوں کو دیانت وامانت کے ساتھ اسی لب ولہجہ اور مفہوم ومعانی کے ساتھ محفوظ رکھا اور بحکم رسول عربی صلى الله عليه وسلم اس کو دوسروں تک پہنچایا کیونکہ حجة الوداع کے موقع پر آنحضور صلى الله عليه وسلم نے ان کو تبلیغ کا مکلف بنایا تھا... بَلِّغُوْ عَنِّی وَلَوْ آیةً (بخاری ومسلم) میری جانب سے لوگوں کو پہنچادو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درسگاہ نبوت میں حاضری کا مکلف ایک خاص حکم کے ذریعہ بنایا تھا کہ ہر وقت ایک متعدبہ جماعت اللہ کے رسول کی خدمت میں اسلام سیکھنے کیلئے حاضر رہے اس لئے کہ کب کوئی آسمانی حکم اور شریعت کا کوئی قانون عطا کیا جائے، لہٰذا ایک جماعت کی آپ کی خدمت میں حاضری لازمی تھی اور ان کو بھی حکم تھا کہ جو حضرات خدمت رسالت میں موجود نہیں ہیں ان تک ان نئے احکام اور آیات کو پہنچائیں۔

وَمَا کَانَ الْمُوٴْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّةً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْہُم طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُم اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْہِمْ لَعَلََّہُمْ یَحْذَرُوْنَ (سورہ توبہ:۱۲۲)

ترجمہ: اور مسلمانوں کو نہیں چاہئے کہ سب کے سب چلے جائیں۔ تو کیوں نہ ہر فرقہ میں سے نکلی ایک جماعت جو مہارت ورسوخ حاصل کرتی دین میں اور تاکہ ڈرائیں اپنی قوم کو جب کہ وہ لوٹ کر آئیں ان کے پاس ہوسکتا ہے کہ وہ ڈریں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال وجمال، عقیدہ کی پختگی، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح وتقویٰ کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے ان کو عطا کی ہے اور معلم انسانیت صلى الله عليه وسلم نے اپنے قولِ پاک سے اپنے جاں نثاروں کی تعریف وتوصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت وسعادت قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی انسان تھے ان سے بھی بہت سے مواقع پر بشری تقاضوں کے تحت لغزشیں ہوئی ہیں لیکن لغزشوں، خطاؤں، گناہوں کو معاف کرنے والی ذات اللہ کی ہے اس نے صحابہ کرام کی اضطراری، اجتہادی خطاؤں کو صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس معافی نامہ کو قرآن کریم کی آیات میں نازل فرماکر قیامت تک کیلئے ان نفوس قدسیہ پر تنقید و تبصرہ اور جرح و تعدیل کا دروازہ بند کردیا اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے ایمان کی صداقت اور اپنی پسندیدگی کی سند بھی بخشی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی فرد یا جماعت صحابہ کرام پر نقد و تبصرہ کی مرتکب ہوتی ہے تواس کو علماء حق نے نفس پرست اور گمراہ قرار دیا ہے ایسے افراد اور جماعت سے قطع تعلق ہی میں خیر اورایمان کی حفاظت ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت (خواہ کبار صحابہ ہوں یا صغار صحابہ) عدول ہے اس پر ہمارے ائمہ سلف اور علماء خلف کا یقین و ایمان ہے۔ قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق آیات پر ایک نظر ڈالئے پھر ان کے مقام ومرتبہ کی بلندیوں کا اندازہ لگائیے اس کے بعد بھی اگرکسی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کی جرأت کی ہے تواس کی بدبختی پر کفِ افسوس ملئے۔

صحابہ سراپا ادب اور پیکر تقویٰ تھے

اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)

ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔

کفر  وفسق سے محفوظ تھے

وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات:۷)

ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر وفسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں۔

عبادت کے خوگر اور رحمدل تھے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)

ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب سورہ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن جلد۸ میں تحریر کرتے ہیں:

قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس کی تصریحات ہیں جن میں چند آیات اسی سورة میں آچکی ہیں: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ مِنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ، اور، اَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَقْوٰی وَکَانُوا اَحَقَّ بِہا وَاَہْلَہا، انکے علاوہ بہت سی آیات میں یہ مضمون مذکور ہے، یَومَ لاَ یُخْزِ اللّٰہُ النَّبِیَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ مَعَہ وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ المُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اِتَّبَعَہُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَّدَ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحتَہَا الْاَنْہٰرَ اور سورہ حدید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا ہے: وَکُلاَّ وَعَدَ اللّٰہُ الحُسْنٰی.

یعنی ان سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے پھر سورہ انبیاء میں حسنیٰ کے متعلق فرمایا انَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنا الحُسْنٰی اولئک عَنہَا مُبْعَدُوْنَ یعنی جن لوگوں کیلئے ہماری طرف سے حسنیٰ کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے وہ جہنم کی آگ سے دور رکھے جائیں گے۔

صحابہ پر طعنہ زنی جائز نہیں

امام المفسرین علامہ قرطبی اپنی مشہور ومعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر ۱۶، ص:۳۲۲ پر رقم طراز ہیں: یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیاتھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اورہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (وعظمت) کی چیز ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کررکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔ بحوالہ معارف القرآن،ج:۸۔

ہرمشکل کا حل اتباع صحابہ

آج ہم مسلمانوں کو عالمگیر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے ہر محاذ پر ناکامی اور پسپائی ہے دشمنان اسلام متحد اوراسلام کو مٹانے پرمتفق ہیں مسلمانوں پر طرح طرح سے الزامات اور بہتان تراشی ہورہی، پوری دنیا میں اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں میڈیا سرگرم ہے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چل رہی ہے ہم ایک خطرناک اور نازک دور سے گذر رہے ہیں ان حالات میں صحابہ کرام کی مثالی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان پاکیزہ نفوس کو بھی ان حالات کا سامنا تھا بلکہ بعض اعتبار سے آج کے حالات سے زیادہ خطرناک صورتِ حال تھی مکہ میں ابتلاء و آزمائش کے شدید دور سے گذرتے تھے تعداد بھی کم تھی اور وسائل بھی نہیں، حدیبیہ میں یہودیوں اور منافقوں کی فتنہ انگیزیاں اور سازشیں تھیں، مشرکین مکہ کے حملے اور یہودی قبائل سے لڑائیاں تھیں پھر دائرہ وسیع ہوا تو قیصر روم اور کسریٰ کے خطرناک عزائم تھے ان سب حالات کا مقابلہ صحابہ کرام نے جس حکمت عملی اور صبر واستقامت سے کیا وہی تاریخ ہم کو دہرانی پڑے گی، اس لئے ضروری ہے کہ ہم سیرتِ صحابہ کا مطالعہ کریں ان کو اپنا رہنما و مقتدا جان کر اِس محبت وعقیدت سے ان کی پیروی کریں کہ ان کا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک پسندیدہ ہے صحابہ ہمارے لئے معیار حق اور مشعل راہ ہیں ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں ان کی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گذشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں۔

میں نے چند آیات کے ذکر پر اکتفاء کیاہے ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی آیات میں ان کے فضائل ومناقب بیان کئے گئے ہیں جبکہ کتب احادیث میں مناقب صحابہ ایک مستقل باب ہوتا ہے جس میں انفرادی طور پر کبار صحابہ کے مناقب بھی ہیں اور مجموعی طورپر تمام اصحاب رسول کی عظمت و جلالت کا ذکر بھی ہے۔

***



اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان




اللہ تعالیٰ نے جس دین کو حضور ختمی مرتبت پر مکمل فرمایا اس کی تاریخ اصحابِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے اسلام کی گنتی شروع ہوئی اور حضرت عمر پر اسلام کا پہلا چلہ پورا ہوا۔ سیدنا حضرت عثمان بنو اُمیہ کی سیادت اور وجہات سے رسولِ ہاشمی کے خدمت گزار بنے اور حضرت علی المرتضیٰ نبوت کے زیرسایہ جوان ہوئے۔ ان چار حضرات کے علاوہ اور کئی صحابہ بھی برسراقتدار آئے (جیسے حضرت حسن، حضرت امیرمعاویہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) لیکن ان پہلے چار بزرگوں میں خلافت افضلیت کے ساتھ ساتھ چلی اس لیے ان چار حضرات کو جو شرف وکمال ملا وہ عقائد اہل السنة والجماعت کی اساس ہے اور اس کے گرد پہرہ دینا وہ اپنا دینی فرض سمجھتے ہیں۔ ان کے ذمہ ہے کہ وہ ان پاکبازوں کے گرد بچھائے گئے کانٹوں کو ایک ایک کرکے چنیں اور ابن آدم کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو بطور طبقہ اخلاق فاضلہ کی جلا بخشی تھی اور انہیں کفر گناہ اور نافرمانی سے دوری صرف از حکم شریعت نہیں ازراہ طبیعت حاصل ہوچکی تھی۔ شریعت کے تقاضے ان کی طبیعت بن چکے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کے دلوں کی طلب اور زینت بنادیا تھا۔ ہمارے اس عقیدہ پر قرآن کریم کی کھلی شہادت موجود ہے۔

ولٰکن اللّٰہ حبب الیکم الایمان وزیّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان أولئک ہم الراشدون (پ:۲۲، الحجرات)

ترجمہ: پر اللہ تعالیٰ نے محبت ڈال دی تمہارے دلوں میں ایمان اور کھبادیا اس کو تمہارے دلوں میں اور لائق نفرت بنادیا تمہارے دلوں میں کفر گناہ اور نافرمانی وہ ہیں راشدین․

ان تمام پیش بندیوں کے باوجود اگر اتفاق سے مسلمانوں کی دو جماعتیں باہم لڑپڑیں تو وہ رہیں گی مومن ہی۔ ان کے اختلاف کا منشاء غلط فہمی تو ہوسکتا ہے لیکن بدنیتی نہیں، سوء اعتقاد نہیں، ایمان اپنی بنیادی شان سے ان کے دلوں میں جگہ پاچکا ہے ان میں خون ریزی تک دیکھو تو بدگمانی کو راہ نہ دو۔ یہ سب بھائی بھائی ہیں بدگمانی سے انتہا تک بچو۔

ان میں سے کسی بڑے سے بڑا گناہ دیکھو تو بھی بدگمانی نہ کرو۔ اس کا ظہور بتقاضائے فسق نہیں ہوا۔ محض اس حکمت سے وجود میں آیا ہے کہ اس پر شریعت کی ہدایت اُترے اور یہ لوگ تکمیل شریعت کے لیے استعمال ہوجائیں۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت نماز کی رکعتوں میں بھولنا از راہ غفلت نہیں تھا اس حکمتِ الٰہی کے تحت تھا کہ لوگوں پر سجدہ سہو کا مسئلہ کھلے اور شریعت اپنی پوری بہار سے کھلے۔

سو ایسے جو اُمور شانِ نبوت کے خلاف نہ تھے ان کے حالات حضور  صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالے گئے اور جو گناہ کی حد تک پہنچتے تھے انہیں بعض صحابہ پر ڈالا گیا اور حضرت اس طرح تکمیل شریعت کے لیے بطور سبب استعمال ہوگئے ان حالات سے گزرنے کے بعد ان کا وہ تقدس بحال ہے جو انہیں بطور صحابی کے حاصل تھا اور ان کی بھی بدگوئی کسی پہلو سے جائزنہیں۔ اعتبار ہمیشہ اواخر امور کا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان اُمور اور واقعات کی قرآن کریم سے تطبیق نہیں ہوتی۔ یہ بات بالقطع و الیقین حق ہے کہ صحابہ میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو غیر ثقہ ہو یا جو دین میں کوئی غلط بات کہے۔ سرخیل محدثین حضرت علامہ عینی (۸۵۷ھ) لکھتے ہیں:

لیس فی الصحابة من یکذب وغیر ثقة(۱)

جب کوئی حدیث کسی صحابی سے مروی ہو اور اس کے نام کا پتہ نہ چلے تو وہ راوی کبھی مجہول الحال نہ سمجھا جائیگا، صحابی ہونے کے بعد کسی اور تعارف یا تعدیل کی حاجت نہیں۔

علامہ ابن عبدالبر مالکی (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

ان جمعیہم ثقات مامونون عدل رضی فواجب قبول ما نقل کل واحد منہم وشہدوا بہ علٰی نبیّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم(۲)

ترجمہ: سب صحابہ ثقہ اور امانت دار ہیں عادل ہیں اللہ ان سے راضی ہوا ان میں سے ہر ایک نے جو بات اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی اور اس کے ساتھ اپنے نبی کے عمل کی شہادت دی (لفظاً ہو یا عملاً) وہ واجب القبول ہے۔

صحابیت میں سب صحابہ راشد اور مہدی تھے، مگر ان میں سے ایسے حضرات بھی ہوئے جو نظم اُمور سلطنت میں بھی راشد اور مہدی ہوئے اور آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اپنی امت کو ان کے نقش پاپر چلنے کی دعوت دی۔

علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین او کما قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم

یہ حضرات وہی نفوسِ قدسیہ ہیں جنہیں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے چار یار کہا جاتا ہے۔ حضرت مولانا اسماعیل شہید لکھتے ہیں۔ دیکھئے صراط مستقیم، ص:۱۱۵

طالب کو چاہیے کہ اپنے تہ دل سے اعتقاد کرلے کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے بعد حضرت سرور کائنات  صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بڑے یار رضی اللہ عنہم اجمعین تمام بنی آدم سے بہتر ہیں اور اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق ان کی آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت خلافت کی ترتیب کے موافق ہے مسلمان کو چاہیے کہ اسی ترتیب پر افضلیت کا اعتقاد رکھے اور وجوہ تفضیل کو نہ ڈھونڈے کیوں کہ وجوہ تفضیل کو ڈھونڈنا دین کے واجبوں اور مستحبوں میں سے بھی نہیں۔

ان چار یار کے علاوہ باقی صحابہ میں تفضیل کی یہ بحث نہیں۔ آسمان ہدایت کے سب ستارے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ ستارے ایک جیسے نہیں چمکتے، چمک ہر کسی کی اپنی اپنی ہے لیکن ہے ہرکسی میں روشنی اور تاب اندھیرا ان میں سے کسی میں نہ ملے گا۔

انبیاء علیہم السلام کے بعد صحابہ ہیں جو بطور طبقہ محمود ومنصور ہیں۔ عام طبقات انسانی میں اچھے بُرے کی تقسیم ہے، علماء تک میں علماء حق اور علماء سوء کی دو قطاریں لگی ہیں، لیکن صحابہ میں یہ تقسیم نہیں۔ صحابہ سارے کے سارے اچھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے باطن کی خبر دی ہے اور فرمادیا کہ کلمہ تقویٰ ان میں اُتاردیاگیا اور بیشک وہ اس کے اہل تھے:

والزمہم کلمة التقویٰ وکانوا احق بہا واہلہا (پ:۲۶، الفتح، ع:۳)

حدیث میں کلمة التقویٰ کی تفسیر لاالہ الا اللہ سے کی گئی ہے۔ سو یہ بات ہر شک اور شبہ سے بالا ہے کہ کلمہ اسلام ان کے دلوں میں اُتاراگیا تھا اوراس کے لیے ان کے دل کی دُنیا بلاشبہ تیار اور استوار تھی کہ اس میں یہ دولت اُترے اور انہی کا حق تھا کہ یہ دولت پاجائیں۔

سو یہ حضرات ہم احاد امت کی طرح نہیں۔ ان کا درجہ ہم سے اُوپر اور انبیاء کرام کے نیچے ہے۔ انہیں درمیانی مقام میں سمجھوکہ یہ حضرات ہم پر اللہ کے دین کے گواہ بنائے گئے ہیں اور اللہ کا رسول ان پر اللہ کے دین کا گواہ ہے جس طرح کعبہ قبلہ نماز ہے یہ حضرات قبلہ اقوام ہیں:

وکذلک جعلناکم امّة وسطاً لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدًا (پ:۲، البقرہ، ع:۱۷، آیت:۱۴۳)

خطیب بغدادی (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام مخلوق میں سے کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو اُن کے باطن پر پوری طرح مطلع ہے ان کی تعدیل کرچکا ہے:

فلا یحتاج احد منہم مع تعدیل اللّٰہ لہم المطلع علٰی بواطنہم الٰی تعدیل احدٍ من الخلق لہ (۳)

ترجمہ: صحابہ میں سے کوئی بھی مخلوقات میں سے کسی کی تعدیل کا محتاج نہیں اللہ تعالیٰ جو اُن کے قلوب پر مطلع ہے اس کی تعدیل کے ساتھ اور کسی کی تعدیل کی ضرورت نہیں۔

ہر وہ قول اور فعل جو اُن سے منقول نہیں بدعت ہے۔ سو یہ حضرات خود بدعت کا موضوع نہیں ہوسکتے ان کے کسی عمل پر بدعت کا حکم نہیں کیاجاسکتا۔ حافظ ابن کثیر (۷۷۴ھ) لکھتے ہیں:

کل فعل وقول لم یثبت عن الصحابة رضی اللّٰہ عنہم ہو بدعة(۴)

ترجمہ: دین کے بارے میں کوئی قول اور کوئی فعل جو صحابہ سے ثابت نہ ہو بدعت ہے۔

 صحابی رسول حضرت حذیفہ بن الیمان (۳۶ھ) فرماتے ہیں:

کل عبادة لم یتعبدہا اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلا تعبدوہا(۵)

ترجمہ: دین کا ہر وہ عمل جسے صحابہ نے دین نہیں سمجھا اسے تم بھی دین نہ سمجھنا۔

جب دین انہی سے ملتا ہے تو ان حضرات کی تعظیم اس امت میں حق کی اساس ہوگی۔ انہی سے قافلہٴ امت آگے بڑھاہے اور پوری امت جمعہ اور عید کے ہر خطبہ میں ان کی ثناخوانی کرتی آئی ہے۔ یہ حضرات حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار رہے کہ ان کی مثال نہیں ملتی۔ بقول مولانا ابوالکلام آزاد:

دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے سارے دل اور اپنی ساری روح سے ایسا عشق نہیں کیا ہوگا جیساکہ صحابہ نے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے راہِ حق میں کیا۔ انھوں نے اس محبت کی راہ میں وہ سب کچھ قربان کردیا جو انسان کرسکتا ہے اور پھر اس راہ سے انہوں نے سب کچھ پایا جو انسانوں کی کوئی جماعت پاسکتی ہے۔

اہل حق ہمیشہ سے صحابہ کی عظمتوں کے گرد پہرہ دیتے آئے ہیں جہاں کسی نے شک کا کوئی کانٹا لگایا، اہل حق نے ان کے تزکیہ کی کھلی شہادت دی، جہاں کہیں تبرّا کی آواز اٹھی اہل حق تولا کی دعوت سے آگے بڑھے اور نفاق کے بُت ایک ایک کرکے گرادئیے۔
-----------------
(۱) عینی علی البخاری، ج:۲، ص:۱۰۵ ۔             (۲) کتاب التمہید، ج:۴، ص:۲۶۳۔             (۳) الکفایہ،ص:۴۶۔
(۴) تفسیر ابن کثیر، ج:۴، ص:۵۵۶               (۵) االاعتصام للشاطبی، ص:۵۴۔
***



No comments:

Post a Comment