القرآن:
اور جب ان(کفار ومنافقين)سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں۔۔۔۔
[سورۃ
البقرۃ:13]
یعنی اصحابِ محمد ﷺ کی طرح سچے بنو۔
[تفسير
الطبري:1/292، تفسير ابن أبي
حاتم: 127، تفسير السمرقندي:1/28، تفسير ابن عطية:1/94، الدر
المنثور:1/77]
یعنی اصحابِ محمد ﷺ کی طرح ایمان لاؤ۔
[تفسير الماتريدي:1/385، تفسير الماوردي:1/75، الوجيز للواحدي: ص93، تفسير الراغب الأصفهاني:1/102، تفسير القرطبي:1/205، تفسير ابن جزي:1/71، تفسير الجلالين:ص5، الدر المنثور:1/77]
لہٰذا اہل بیت تو اول صحابی ہیں،کیونکہ انہوں نے نبی کی صحبت پہلے اور زیادہ پائی ہے۔
صحابہؓ کی قرآنی شان:
تمام صحابہ(نبی کے ساتھی)حقیقی مومن، بخشش اور عزت والا(جنتی)رزق پانے والے ہیں.
[دلیلِ قرآن-سورۃ الانفال:74]
وہ معیارِحق اور تنقید سے بالاتر ہیں، بلکہ ان گستاخ ہی بیوقوف ہیں۔
[البقرۃ:13، 137]
وہ اس قابل ہیں کہ ان پیروی کی جائے اور وہ جنتی ہیں۔
[التوبۃ:100 الحدید:10]
دین میں فقہ(سمجھ)بھی ان سے حاصل ہوگی(ان کے بغیر نہیں)۔
[التوبہ:122]
پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی خوبیاں پہلی کتابوں تورات وانجیل میں بیان کرتے انہیں محمد رسول اللہ ﷺ کا ساتھی چنا جاچکا تھا۔
[الفتح:29]
الله ان سے راضی ہوچکا اور وہ اس سے راضی ہوچکے
[الفتح:18]
قیامت کے دن مواخذہ(پکڑ وحساب)سے محفوظ رہیں گے
[التحریم:8]
ان(جنتیوں)کے سینوں میں جو(باہمی)خفگی/کینہ ہوگا نکال دیا جاۓگا
[الاعراف:43]الحشر:10
لہٰذا، صحابہ کرام پر اعتراض، دراصل اللہ پاک اور اسکے قرآن مجید پر اعتراض ہے، مولوی پر نہیں۔ مولوی پر اعتراض قرآن والے نہیں کرتے کیونکہ وہی تو قرآن والے ہیں، مولویوں پر اعتراض بےعلم یا متعصب اسکالر ہی کرتا ہے۔
القرآن: کہا(نبی نے انہیں) کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے، میرا رب نہ بھولتا ہے نہ چُوکتا ہے۔ (سورۃ طٰهٰ:52)
لہٰذا، رب جو پاک ہے بھول چوک سے اور وہی ہر چیز کا خالق ہونے کی وجہ سے مالک بھی ہے اور ہر چیز کا جاننے والا قادر بھی ہے، وہ قیامت تک کے ایمان والوں کو نبی ﷺ کے صحابہؓ(ساتھیوں)کے بارے میں یہ تعلیم کیوں پڑھتے سنواتے رہنا چاہے گا؟؟؟
یہ(دلائل) اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں سچائی کے ساتھ۔ تو اب یہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ (سورۃ الجاثیۃ:6)
حدیث نمبر 2
عنوان:
سورہ نصر کا نزول اور فتح مکہ کے بعد ہجرت کا خاتمہ
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ}، قَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - حَتَّى خَتَمَهَا، وَقَالَ: النَّاسُ حَيِّزٌ (١) وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ، وَقَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ "۔
---
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"جب یہ سورت نازل ہوئی: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ} (جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور تم لوگوں کو دیکھو) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ مکمل کر لیا، اور فرمایا: "لوگ ایک گروہ ہیں اور میں اور میرے صحابہ دوسرے گروہ ہیں۔" اور فرمایا: "فتح (مکہ) کے بعد ہجرت نہیں، البتہ جہاد اور نیت (ہے)۔"
---
تخریج و حوالہ جات
· (حم) مسند احمد: ١١١٨٣
· (ش) مصنف ابن ابی شیبہ: ٣٦٩٢٩
· علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (الإرواء: ١١٨٧)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص 239]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
سورہ نصر کی تفسیر اور نبی ﷺ کی پیشگوئی
1. سورہ نصر کا مفہوم: جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں فتح مکہ کی خبر تھی۔ نبی ﷺ نے اسے پڑھ کر لوگوں کو بتایا کہ یہ آپ کی وفت کے قریب ہونے کی علامت ہے۔
2. لوگوں کی تقسیم: آپ ﷺ نے فرمایا: "الناس حيز وأنا وأصحابي حيز" (لوگ ایک گروہ ہیں، اور میں اور میرے صحابہ دوسرے گروہ ہیں)۔ اس سے مراد یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد لوگوں کے جوق در جوق اسلام قبول کرنے کے باوجود، آپ اور آپ کے صحابہ کا مقام اور مرتبہ سب سے بلند ہے۔
3. ہجرت کا خاتمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: "لا هجرة بعد الفتح" (فتح مکہ کے بعد (مکہ کی طرف) ہجرت نہیں)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ دارالاسلام بن گیا تو وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ البتہ اگر کوئی جگہ دارالکفر ہو تو وہاں سے ہجرت کرنا اب بھی واجب ہے۔
4. جہاد اور نیت: آپ ﷺ نے فرمایا: "ولكن جهاد ونية" (البتہ جہاد اور نیت ہے)۔ یعنی ہجرت کے بعد جہاد اور نیک نیتی ہی اصل کام ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ جہاد کرے اور اپنی نیت کو خالص رکھے۔
صحابہ کی صداقت اور مروان کا تعصب
1. ابو سعید خدری کی بہادری: جب مروان نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا تو انہوں نے ڈٹ کر جواب دیا اور دوسرے صحابہ کے خاموش رہنے کی وجہ بتائی۔
2. خوف کی وجہ سے حق چھپانا: رافع بن خدیج اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اس لیے خاموش رہے کہ وہ اپنے عہدوں سے محروم ہونے سے ڈرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی لوگ دنیاوی مفاد کی وجہ سے حق بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
3. مروان کا جبر: مروان نے ابو سعید کو کوڑے سے مارنے کی کوشش کی، لیکن جب دوسرے صحابہ نے گواہی دی کہ ابو سعید سچے ہیں تو وہ باز آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کو دبانے کی کوشش کی جائے تو آخرکار حق ظاہر ہو کر رہتا ہے۔
4. صحابہ کی گواہی: جب رافع اور زید نے دیکھا کہ مروان ابو سعید کو مارنے لگا تو انہوں نے حق کا ساتھ دیا اور کہا: "صدق" (انہوں نے سچ کہا)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں کسی قسم کی دنیاوی رکاوٹ کے باوجود آخرکار حق گوئی کرنا ان کا شیوہ تھا۔
دینی اور سیاسی نکات
1. فتح مکہ کی اہمیت: فتح مکہ نے اسلام کو جزیرہ نما عرب میں مکمل غلبہ عطا کیا۔ اس کے بعد ہجرت کا دروازہ بند ہوا اور جہاد کا دروازہ کھلا۔
2. نیت کی اہمیت: "جهاد ونية" سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیت ہی اعمال کی اصل ہے۔ بغیر نیت کے کوئی عمل مقبول نہیں۔
3. حاکم کے سامنے حق کہنے کی اہمیت: یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ظالم حاکم کے سامنے بھی حق کہنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ ابو سعید نے یہی کیا۔
4. حدیث کی صحت: اس حدیث کو امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ حدیث قابلِ اعتماد ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
عنوان: صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی ممانعت اور ان کا بلند مرتبہ
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا , مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ "
---
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میرے صحابہ کو برا نہ کہو، میرے صحابہ کو برا نہ کہو! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے ایک مد (کے برابر) اور نہ اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔"
---
تخریج و حوالہ جات
· (م) صحیح مسلم: ٢٢١ (٢٥٤٠)
· (خ) صحیح بخاری: ٣٤٧٠
· (ت) سنن ترمذی: ٣٨٦١
· (حم) مسند احمد: ١١٠٩٤
---
تشریح و وضاحت
1. "لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي" (میرے صحابہ کو برا نہ کہو)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اس جملے کو دہرایا تاکید اور نصیحت کے لیے۔ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنا، انہیں برا بھلا کہنا، یا ان پر طعن و تشنیع کرنا نہایت سنگین جرم ہے۔ آپ ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا۔
2. "فوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" (قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے)
یہ ایک سخت قسم ہے جو بات کی اہمیت اور صداقت کو ظاہر کرتی ہے۔
3. "مثل أحد ذهبًا" (احد پہاڑ کے برابر سونا)
احد پہاڑ مدینہ منورہ کے قریب ایک مشہور پہاڑ ہے۔ اس کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی مقدار ہے، جو کسی عام انسان کے لیے ناممکن ہے۔
4. "ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه" (ان میں سے کسی کے ایک مد اور نہ اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا)
· مد: ایک مد تقریباً ٦٠٠ سے ٧٠٠ گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے (تفصیل میں کچھ اختلاف ہے)۔
· نصيف: آدھا مد۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام کی ایک معمولی سی قربانی (ایک مد یا نصف مد) بھی اتنے زیادہ سونے کے خرچ کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اللہ کے ہاں زیادہ وزنی ہے۔
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. صحابہ کرام کی عصمت نہیں، لیکن عدالت ہے: صحابہ کرام معصوم نہیں تھے، لیکن وہ سب سے زیادہ نیک اور اللہ کے نزدیک مقرب تھے۔ ان کے درمیان اجتہادی اختلافات تھے، لیکن ان کی نیتیں صاف اور اعمال باعثِ رضائے الٰہی تھے۔
2. صحابہ کی فضیلت میں کوئی شریک نہیں: آپ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ بعد میں آنے والی کوئی بھی نسل، خواہ وہ کتنی ہی بڑی قربانیاں دے، صحابہ کے ایک معمولی عمل کے برابر نہیں پہنچ سکتی۔
3. صحابہ کی شان میں گستاخی کبیرہ گناہ ہے: حدیث میں سخت وعید نہ ہونے کے باوجود (براہِ راست جہنم کا ذکر نہیں)، لیکن یہ حکم کہ انہیں برا کہنا منع ہے، خود اس کی حرمت پر دلالت کرتا ہے۔ جمہور اہل سنت کے نزدیک صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
4. صحابہ کی قربانیوں کا مقام: صحابہ نے اپنے اوقات، جان و مال، اور اولاد سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں قربان کر دیا۔ ان کی قربانیوں کی کوئی نظیر نہیں۔
5. احادیث میں مد اور نصیف کا ذکر: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں اعمال کی قدر و قیمت کا دارومدار ان کی کثرت پر نہیں بلکہ اخلاص، مشقت، اور زمانے کی اہمیت پر ہے۔ صحابہ نے ایسے نازک حالات میں قربانیاں دیں جن کا بعد میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
6. صحابہ سے محبت ایمان کا حصہ: اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت رکھنا اور ان کی قدر کرنا ایمان کا تقاضا ہے، جبکہ ان سے بغض رکھنا اور ان کی شان میں گستاخی کرنا نفاق اور گمراہی کی علامت ہے۔
7. دنیاوی عہدوں کی کوئی حیثیت نہیں: یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بھی نصیحت ہے جو صحابہ کے درمیان دنیاوی عہدے یا مراتب کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ درحقیقت ان کا مقام اللہ کے ہاں ان کے اخلاص اور قربانیوں کی بنا پر ہے۔
8. صحابہ کی اصلاح نہیں بلکہ پیروی: ہمارا کام صحابہ پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان کی پیروی کرنا ہے۔ نبی ﷺ نے انہیں "خیر القرون" (بہترین دور) قرار دیا ہے۔
9. اختلافات کو سمجھنے کا طریقہ: صحابہ کے درمیان کچھ سیاسی یا فقہی اختلافات تھے۔ انہیں سمجھنے کے لیے ان کے اخلاص اور نیک نیتی کو پیش نظر رکھنا چاہیے، نہ کہ ان پر الزامات لگانا۔
10. حدیث کی صحت: یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور اس کے مطابق عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
عنوان: صحابہ کرام کے درمیان اختلاف اور ان کے اعمال کی عظمت
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ - رضي الله عنه - وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رضي الله عنه - كَلَامٌ , فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: تَسْتَطِيلُونَ (١) عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا؟ , فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: " دَعُوا لِي أَصْحَابِي , فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ , أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا , مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ " (٢)
---
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کہا سنی ہو گئی (یا کچھ اختلاف ہو گیا) تو خالد نے عبدالرحمٰن سے کہا: 'کیا تم ہم پر اس لیے فضیلت (اور برتری) حاصل کرتے ہو کہ تمہیں (اسلام میں) ہم سے پہلے دن مل گئے؟'
پھر ہمیں یہ خبر ملی کہ اس واقعہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: 'میرے صحابہ کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو (یعنی ان کے بارے میں مجھ پر چھوڑ دو)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ کے برابر، یا پہاڑوں کے برابر بھی سونا خرچ کر دو، تو تم ان کے اعمال کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔'"
---
تخریج و حوالہ جات
· (حم) مسند احمد: ١٣٨٣٩
· (الضياء) الأحاديث المختارة: ٢٠٤٦
· دیکھیے: صحيح الجامع: ٣٣٨٦، سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٩٢٣
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کے درمیان اختلاف
1. صحابہ میں اختلاف کی نوعیت: صحابہ کرام میں بعض اوقات اجتہادی یا ذاتی معاملات میں اختلاف ہو جاتا تھا، جیسا کہ خالد اور عبدالرحمٰن کے درمیان ہوا۔ یہ اختلاف عقیدے کا نہیں تھا، بلکہ دنیاوی معاملات یا کسی بات پر ناراضگی تھی۔
2. خالد کا اعتراض: خالد نے کہا کہ تم (مہاجرین) ہم پر ان دنوں کی وجہ سے فضیلت رکھتے ہو جو تمہیں ہم سے پہلے ملے (یعنی تم نے اسلام پہلے قبول کیا)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالد (جو بعد میں مسلمان ہوئے) کو یہ احساس تھا کہ پہلے قبول اسلام والوں کو زیادہ فضیلت حاصل ہے۔
3. نبی ﷺ کا جواب: آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ اختلاف درست ہے یا غلط، بلکہ آپ نے صحابہ کے مجموعی مقام اور ان کے اعمال کی عظمت کو اجاگر کیا۔
صحابہ کے اعمال کی فضیلت
1. صحابہ کے اعمال ناقابلِ تقلید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعد میں آنے والے لوگ خواہ کتنا ہی بڑا سونا خرچ کریں (خواہ احد پہاڑ کے برابر یا تمام پہاڑوں کے برابر)، وہ صحابہ کے اعمال کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔
2. پہلے قبول اسلام کی فضیلت: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام میں سبقت حاصل کرنے والوں (مہاجرین اور انصار) کو بعد میں آنے والوں پر فضیلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالد نے کہا کہ تم اپنی پہل سے ہم پر بڑھ کر ہو۔
3. صحابہ کے اعمال کی اہمیت: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد والوں کے اعمال رائیگاں ہیں، بلکہ یہ کہ صحابہ کے اعمال کا مقام اتنا بلند ہے کہ کوئی بھی بعد میں آنے والا ان کی قربانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
آدابِ اختلاف
1. اختلاف کو بڑھانے سے منع: نبی ﷺ نے اس موقع پر یہ نہیں فرمایا کہ تم دونوں میں سے کون صحیح ہے، بلکہ آپ نے صحابہ کے احترام اور ان کے اعمال کی عظمت بیان فرما کر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
2. صحابہ کے بارے میں ہماری ذمہ داری: ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھیں، اور ان کی شان میں گستاخی سے بچیں۔
صحابہ کی سبقت اور مقام
1. سبقت بالخیرات: صحابہ کرام نے اسلام کو سب سے پہلے قبول کیا، سب سے پہلے ہجرت کی، سب سے پہلے جہاد کیا، اور اپنی جانیں اور مال اللہ کی راہ میں قربان کیے۔ یہ سبق ان کی عظمت کی بنیاد ہے۔
2. محبتِ صحابہ ایمان کا تقاضا: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا ایمان کا حصہ ہے، اور ان کے درمیان ہونے والے اختلافات کو سمجھتے ہوئے ان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔
3. اللہ کے ہاں اعمال کی قدر: اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت، اس کے زمانے اور اس کے حالات کے مطابق بدلہ دیتا ہے۔ صحابہ کے اعمال اس لیے افضل ہیں کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اسلام کی خدمت کی۔
4. حدیث کی صحت: یہ حدیث مسند احمد اور الأحاديث المختارة میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحيح قرار دیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 5
عنوان: صحابہ کرام کے صاع اور مد کی عظمت (بعد میں آنے والوں کی کبھی بھی ان کے درجے تک نہ پہنچ سکنا)
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ "
---
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تمہارے بعد کوئی قوم تمہارے صاع اور نہ تمہارے مد کو (کبھی) حاصل نہیں کر سکے گی۔"
---
تخریج و حوالہ جات
· (حم) مسند احمد: ١١٢٢٤
· (ن) سنن النسائی: ٨٨٥٥
· (ش) مصنف ابن ابی شیبہ: ٢٥٩١٩
· صحيح الجامع: ١٣٢٥
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٥٤٧
· شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند حسن ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص242]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صاع اور مد کی حقیقت
1. صاع اور مد کیا ہیں؟
· صاع: نبی ﷺ کے زمانے میں ناپنے کا ایک پیمانہ تھا، جو تقریباً ٢.٥ کلوگرام کے برابر ہوتا ہے (غلہ یا کھجور کے لیے)۔
· مد: ایک مد، صاع کا چوتھائی حصہ ہوتا ہے (تقریباً ٦٢٥ گرام)۔
· یہاں صاع اور مد سے مراد صحابہ کے اعمال اور قربانیوں کی مقدار ہے، نہ کہ حقیقی پیمانہ۔
2. صحابہ کے عمل کی عظمت:
· نبی ﷺ نے فرمایا کہ بعد میں آنے والی کوئی بھی قوم صحابہ کے صاع اور مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتی۔
· یعنی صحابہ کی ایک معمولی قربانی (ایک مد) بھی بعد والوں کے بہت بڑے اعمال سے افضل ہے۔
صحابہ کی فضیلت اور ان کے درجے کی بلندی
1. سبقت و قربانی کی اہمیت:
· صحابہ نے انتہائی مشکلات میں اسلام قبول کیا، ہجرت کی، اور جہاد کیا۔ ان کے اعمال کا ثواب اللہ کے ہاں اتنا زیادہ ہے کہ بعد میں آنے والے خواہ کتنی ہی نیکیاں کر لیں، ان کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتے۔
2. یہ فضیلت صرف صحابہ کے لیے خاص ہے:
· یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک خاص مقام ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
· اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد والوں کے اعمال رائیگاں ہیں، بلکہ یہ کہ صحابہ کا درجہ منفرد اور بے مثال ہے۔
عملی زندگی کے لیے ہدایات
1. صحابہ کی اتباع کا طریقہ:
· ہم صحابہ کے اعمال کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے، لیکن ہم ان کی اتباع کر سکتے ہیں۔ ان کے نقش قدم پر چلنا ہی ہماری کامیابی ہے۔
2. نیک نیتی اور اخلاص کی اہمیت:
· اگرچہ ہم صحابہ کے اعمال کی مقدار میں ان کے برابر نہیں، لیکن ہم اخلاص اور نیت کے اعتبار سے ان جیسی کوشش کر سکتے ہیں۔
3. صحابہ سے محبت اور احترام:
· یہ حدیث ہمیں صحابہ سے محبت رکھنے اور ان کا احترام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کرنا یا انہیں کم تر سمجھنا بہت بڑی گمراہی ہے۔
حدیث کی سندی حیثیت
1. حدیث کا درجہ:
· یہ حدیث حسن ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا۔ البانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
· لہٰذا یہ حدیث قابلِ عمل اور قابلِ اعتماد ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام کی منفرد فضیلت کو واضح کرتی ہے کہ ان کے بعد کبھی کوئی قوم ان کے صاع اور مد (یعنی ان کی معمولی قربانیوں) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا مقصد صحابہ کی عظمت کو اجاگر کرنا اور امت کو ان کی اتباع کی ترغیب دینا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 6
عنوان: صحابہ کرام کے لیے استغفار کا حکم اور ان کی شان میں گستاخی کی ممانعت
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ - رضي الله عنها -: يَا ابْنَ أُخْتِي، أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - (١) فَسَبُّوهُمْ. (٢)
---
ترجمہ:
حضرت عروہ بن زبیر (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: "اے میرے بھانجے! (لوگوں کو) حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے استغفار کریں، (لیکن) انہوں نے انہیں برا بھلا کہا۔"
---
تخریج و حوالہ جات
(١) آیت کی طرف اشارہ:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس آیت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں:
{وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ , وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا , رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10]
ترجمہ: "اور جو ان کے بعد آئے (وہ دعا کرتے ہیں): اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ (اور بغض) نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔"
(٢) صحیح مسلم: ١٥ (٣٠٢٢)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص243]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کے لیے استغفار کا حکم
1. قرآن کا حکم: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صحابہ کرام کے لیے استغفار کریں، اور ان کے دلوں میں ان کے لیے کوئی کینہ (بغض) نہ رکھیں۔
2. حضرت عائشہ کی تنبیہ: آپ نے اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں کو صحابہ کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے انہیں برا بھلا کہا۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے۔
3. صحابہ کی شان میں گستاخی کی مذمت: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنا، انہیں برا بھلا کہنا، یا ان پر طعن کرنا نہ صرف خلافِ قرآن ہے بلکہ یہ اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
صحابہ سے محبت اور ان کا احترام
1. صحابہ سے محبت ایمان کا تقاضا: اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت رکھنا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔
2. دلوں سے کینہ نکالنا: اس آیت میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے دلوں سے صحابہ کے لیے کسی قسم کا بغض اور کینہ نکال دیں۔
3. حضرت عائشہ کا فہم و فراست: آپ نے قرآن کی اس آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے لوگوں کو صحابہ کی عظمت اور ان کے حقوق سے آگاہ کیا۔
حدیث کی اہمیت
1. صحابہ کی عدالت پر دلیل: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام سب عادل اور قابلِ احترام ہیں، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
2. تابعین کا کردار: اس حدیث میں حضرت عروہ (تابعی) کا واسطہ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تابعین بھی صحابہ کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف تھے اور انہیں آگاہ کرتے تھے۔
3. ہماری ذمہ داری: ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم صحابہ کے لیے استغفار کریں، ان سے محبت کریں، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے براءت اختیار کریں۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام کی عظمت اور ان کے لیے استغفار کرنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے لوگوں کو تنبیہ کی کہ انہیں صحابہ کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی شان میں گستاخی کرنا ایک سنگین جرم ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 7
عنوان: بہترین لوگوں کے متعلق نبی ﷺ کا فرمان
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: يَا رَسُولَ اللهِ , أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ , قَالَ: " أَنَا وَمَنْ مَعِي "، فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ "، فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ "، فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " ثُمَّ كَأَنَّهُ رَفَضَ مَنْ بَقِيَ "
---
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: "یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟"
آپ نے فرمایا: "میں اور جو میرے ساتھ ہیں۔"
پھر پوچھا گیا: "پھر (اس کے بعد) کون؟"
آپ نے فرمایا: "پھر وہ جو (ان کے) نقش قدم پر چلیں گے۔"
پھر پوچھا گیا: "پھر (ان کے بعد) کون؟"
آپ نے فرمایا: "پھر وہ جو (ان کے) نقش قدم پر چلیں گے۔"
پھر پوچھا گیا: "پھر (ان کے بعد) کون؟"
آپ نے فرمایا: "پھر گویا آپ نے باقی لوگوں کو چھوڑ دیا (یعنی کوئی تیسرا درجہ نہیں بلکہ ان کی نہیں پہنچ سکتے)۔"
---
تخریج و حوالہ جات
· (حم) مسند احمد: ٨٤٦٤
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٨٣٩
· شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند جید ہے۔
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص244]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کرام کا مقام
1. سب سے بہترین لوگ نبی ﷺ اور صحابہ ہیں:
آپ ﷺ نے سب سے پہلے اپنا اور اپنے ساتھیوں (صحابہ کا) نام لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تمام لوگوں میں سب سے افضل ہیں۔
2. تابعین کا درجہ:
آپ ﷺ نے دوسرے درجے میں "الذین على الأثر" (نقش قدم پر چلنے والوں) کا ذکر کیا، جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہ کے بعد آئے اور ان کی اتباع کی (یعنی تابعین اور تبع تابعین)۔
3. تیسرے درجے کا ذکر نہیں:
تیسری بار پوچھنے پر آپ نے بھی تیسرے درجے کے لیے وہی جواب دیا (جو صحابہ کے نقش قدم پر چلے) – لیکن جب چوتھی بار پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ گویا باقی لوگوں کو چھوڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا درجہ نہیں جس کا ذکر کیا جا سکے۔
بہترین لوگوں کی ترتیب
1. بہترین لوگوں کی ترتیب حسب ذیل ہے:
· پہلا درجہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم۔
· دوسرا درجہ: تابعین (جو صحابہ کے نقش قدم پر چلے)۔
· تیسرا درجہ: تبع تابعین (جو تابعین کے نقش قدم پر چلے)۔
· اس کے بعد آنے والوں کا درجہ ان سے کم ہے۔
2. ہر دور میں بہترین لوگ وہ ہیں جو صحابہ کے نقش قدم پر چلیں:
اگرچہ وقت کے ساتھ بہترین لوگوں کی فضیلت کم ہوتی گئی، لیکن ہر دور میں جو لوگ صحابہ اور سلف صالحین کی پیروی کریں گے، وہ اپنے دور میں بہترین ہوں گے۔
حدیث کی روشنی میں ہماری ذمہ داری
1. اتباعِ صحابہ ہی کامیابی کی کنجی ہے:
ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی اتباع کریں، نہ کہ ان کی مخالفت یا ان پر تنقید کریں۔
2. تابعین کی عظمت:
تابعین کا درجہ بھی بہت بلند ہے، لیکن وہ صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔
3. آخرت میں درجات کا فرق:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں بھی لوگوں کے درجات ان کی اتباع اور قربانیوں کے مطابق ہوں گے۔
علمی نکات
1. حدیث کی سند:
یہ حدیث جید (اچھی) سند سے مروی ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا۔ البانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
2. صحابہ کی فضیلت پر اجماع:
یہ حدیث صحابہ کی فضیلت پر اہل سنت کے عقیدے کی ایک مضبوط دلیل ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ سب سے بہترین لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ہیں، پھر تابعین، پھر تبع تابعین۔ اس کے بعد آنے والے لوگ ان کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ ہمیں صحابہ سے محبت اور ان کی اتباع کرنی چاہیے، اور ان کی شان میں گستاخی سے بچنا چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 8
عنوان: بہترین لوگ پہلی تین نسلیں (قرون) ہیں
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ "
---
ترجمہ:
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟
آپ نے فرمایا: "وہ زمانہ (گروہ) جس میں میں ہوں، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کے بعد والا (یعنی صحابہ، پھر تابعین، پھر تبع تابعین)۔"
---
تخریج و حوالہ جات
· (م) صحیح مسلم: ٢١٦ (٢٥٣٦)
· (حم) مسند احمد: ٢٥٢٧٢
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص245]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
تین بہترین نسلیں (قرون)
1. پہلا قرن (زمانہ):
نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، یعنی صحابہ کرام۔
2. دوسرا قرن:
ان کے بعد بہترین لوگ تابعین ہیں، جو صحابہ کے بعد آئے اور ان کی اتباع کی۔
3. تیسرا قرن:
ان کے بعد بہترین لوگ تبع تابعین ہیں، جو تابعین کے بعد آئے۔
فضیلت میں کمی کا اصول
1. ہر آنے والے دور میں فضیلت کم ہوتی گئی:
نبی ﷺ نے تین نسلوں کا ذکر کیا اور اس کے بعد والوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بعد والا دور پہلے دور سے کم فضیلت والا ہے۔
2. تیسرے قرن کے بعد والوں کا درجہ:
اگرچہ تیسرے قرن کے بعد والے بھی اچھے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی فضیلت ان تینوں نسلوں کے برابر نہیں۔
صحابہ کی افضلیت پر دلیل
1. صحابہ کرام کی فضیلت:
یہ حدیث صحابہ کرام کی افضلیت پر سب سے واضح دلائل میں سے ایک ہے۔ نبی ﷺ نے خود انہیں سب سے بہترین قرار دیا۔
2. تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت:
یہ بھی ثابت ہوا کہ تابعین اور تبع تابعین کا درجہ بھی بہت بلند ہے، لیکن وہ صحابہ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔
عملی زندگی کے لیے ہدایات
1. اتباع کا طریقہ:
ہمیں ان تینوں نسلوں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، کیونکہ انہیں سب سے بہترین قرار دیا گیا ہے۔
2. بدعات سے بچنا:
جتنا ہم ان تینوں نسلوں کے طریقے سے دور ہوں گے، اتنا ہی ہمارے دین میں بدعات اور گمراہیاں بڑھیں گی۔
3. محبتِ صحابہ کی اہمیت:
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ سے محبت رکھنا اور ان کی عظمت ماننا ایمان کا حصہ ہے۔
حدیث کی سندی حیثیت
1. حدیث کا درجہ:
یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔ لہٰذا اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
---
خلاصہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سب سے بہترین لوگ پہلے زمانے والے (صحابہ) ہیں، پھر ان کے بعد والے (تابعین)، پھر ان کے بعد والے (تبع تابعین)۔ اس کے بعد آنے والوں کا درجہ ان کے برابر نہیں۔ ہمیں انہی تین نسلوں کے طریقے پر چلنا چاہیے اور ان کی اتباع کرنی چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 9
عنوان: صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی برکت سے فتح و نصرت
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" يَأتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ , فَيَغْزُو فِئَامٌ (١) مِنْ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيُفْتَحُ لَهُمْ , ثُمَّ يَأتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ , فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ , فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ , فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيُفْتَحُ لَهُمْ , ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ , فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ , فَيُوجَدُ الرَّجُلُ , فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ "
---
ترجمہ:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا، تو (کسی سے) پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح (اور نصرت) دی جائے گی۔
پھر لوگوں پر دوسرا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا، تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کے صحابہ کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح دی جائے گی۔
پھر لوگوں پر تیسرا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا، تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے صحابہ کے کسی صحابی (یعنی تابعی) کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح دی جائے گی۔
پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا، تو (لوگوں سے) کہا جائے گا: دیکھو، کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے اس شخص کو دیکھا ہو جس نے کسی اور کو دیکھا ہو جس نے صحابہ کو دیکھا ہو؟ تو ایک شخص (ایسا) مل جائے گا، اور اسی کی وجہ سے انہیں فتح نصیب ہو گی۔"
---
تخریج و حوالہ جات
(١) فِئَامٌ: یعنی جماعت (فتح الباری: 9/47)
(٢) صحیح البخاری: ٣٤٤٩، صحیح مسلم: ٢٠٨ (٢٥٣٢)
(٣) صحیح البخاری: ٢٧٤٠
(٤) صحیح البخاری: ٣٤٤٩، صحیح مسلم: ٢٠٩ (٢٥٣٢)
(٥) صحیح البخاری: ٢٧٤٠، صحیح مسلم: ٢٠٨ (٢٥٣٢)
(٦) صحیح البخاری: ٣٤٤٩
(٧) صحیح البخاری: ٢٧٤٠، صحیح مسلم: ٢٠٨ (٢٥٣٢)
(٨) صحیح البخاری: ٣٤٤٩، مسند احمد: ١١٠٥٦
(٩) صحیح مسلم: ٢٠٩ (٢٥٣٢)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص246]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ و تابعین کی برکت
1. صحابہ کی موجودگی باعثِ فتح ہے:
جس جیش میں کوئی صحابی ہوتا ہے، اس کے وجود کی برکت سے اللہ تعالیٰ فتح و نصرت عطا فرماتا ہے۔
2. تابعین کی بھی برکت:
جس جیش میں تابعی (صحابہ کی صحبت پانے والا) ہوتا ہے، اسے بھی فتح ملتی ہے۔ اسی طرح تبع تابعین کی موجودگی بھی باعثِ فتح ہے۔
3. دور دراز کے سلسلے کی برکت:
چوتھے طبقے میں اگر کوئی شخص ایسا ہو جس نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہو جس نے کسی صحابی کو دیکھا ہو (یعنی بہت دور کا سلسلہ)، تو اسی کی وجہ سے فتح ملتی ہے۔
تین بہترین نسلوں کی فضیلت
1. پہلا زمانہ: صحابہ کرام کا زمانہ۔
2. دوسرا زمانہ: تابعین کا زمانہ۔
3. تیسرا زمانہ: تبع تابعین کا زمانہ۔
4. چوتھے زمانے میں بس ایک شخص کی برکت:
چوتھے زمانے میں کوئی بڑی جماعت باقی نہیں رہتی، بلکہ صرف ایک شخص (یا بہت کم لوگ) ایسے ہوتے ہیں جن کا سلسلہ صحابہ سے ملتا ہے۔ اس ایک شخص کی وجہ سے پوری جماعت کو فتح ملتی ہے۔
دین کی حفاظت کا سبب
1. علماء اور نیک لوگوں کی برکت:
جب تک دنیا میں صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ان کی سنت پر چلنے والے موجود رہیں گے، امت کو فتح و نصرت حاصل رہے گی۔
2. صحابہ سے محبت اور ان کا احترام:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا شمار بہت بلند ہے اور ان کی وجہ سے امت کو اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ لہٰذا ان کا احترام کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔
3. حدیث کی پیشگوئی:
یہ حدیث نبی ﷺ کی ایک عظیم پیشگوئی ہے کہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی صحابہ اور تابعین کے وجود کی برکت سے فتح یاب ہوتی رہیں گی۔
عملی زندگی کے لیے ہدایات
1. ہمارا کردار:
ہمیں چاہیے کہ ہم ان تینوں نسلوں کے طریقے کو اپنائیں اور ان کی سنت پر چلیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔
2. حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ کرام، پھر تابعین، پھر تبع تابعین کی برکت سے جہاد کرنے والوں کو فتح ملتی ہے۔ چوتھے زمانے میں اگر کوئی شخص ان سے دور بھی ہو، تو اس کی وجہ سے بھی فتح نصیب ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اور ان کے بعد والوں کی عظمت اور برکت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 10
عنوان: صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی موجودگی میں خیر کا باقی رہنا
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَآنِي وَصَاحَبَنِي، وَاللهِ لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي , وَصَاحَبَ مَنْ صَاحَبَنِي، وَاللهِ لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي , وَصَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَنِي "
---
ترجمہ:
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم ہمیشہ خیر (بھلائی) پر رہو گے جب تک تم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے مجھے دیکھا اور میری صحبت اختیار کی۔ اللہ کی قسم! تم ہمیشہ خیر پر رہو گے جب تک تم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے مجھے دیکھا، اور ان کی صحبت اختیار کی جنہوں نے میری صحبت اختیار کی۔ اللہ کی قسم! تم ہمیشہ خیر پر رہو گے جب تک تم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے مجھے دیکھا، اور ان کی صحبت اختیار کی جنہوں نے ان کی صحبت اختیار کی جنہوں نے میری صحبت اختیار کی۔"
---
تخریج و حوالہ جات
· (ش) مصنف ابن ابی شیبہ: ٣٢٤١٧
· (صم) السنة لابن ابی عاصم: ١٤٨١
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ٣٢٨٣ (البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص247]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کرام کی موجودگی میں خیر
1. صحابہ کی برکت: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تم میں صحابہ کرام (وہ لوگ جنہوں نے مجھے دیکھا اور میری صحبت اختیار کی) موجود ہیں، تم خیر پر رہو گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی موجودگی امت کے لیے باعثِ برکت اور خیر ہے۔
2. صحابہ کے بعد تابعین کی برکت: پھر آپ نے فرمایا کہ جب تک تم میں تابعین (وہ جنہوں نے صحابہ کو دیکھا اور ان کی صحبت اختیار کی) موجود ہیں، تم خیر پر رہو گے۔
3. تبع تابعین کی برکت: پھر آپ نے فرمایا کہ جب تک تم میں تبع تابعین (وہ جنہوں نے تابعین کو دیکھا اور ان کی صحبت اختیار کی) موجود ہیں، تم خیر پر رہو گے۔
خیر کے درجات میں کمی
1. خیر میں کمی کا سلسلہ: ہر آنے والے دور کے ساتھ خیر کی مقدار کم ہوتی گئی، لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے دور میں خیر کا سبب ہیں۔
2. تیسرے درجے کے بعد کا ذکر نہیں: آپ ﷺ نے تیسرے درجے کے بعد کسی کا ذکر نہیں کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبع تابعین کے بعد آنے والے دور میں خیر کی مقدار بہت کم ہو جائے گی، یا پھر یہ کہ ان تینوں نسلوں کی موجودگی ہی اصل خیر ہے۔
صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت
1. قرونِ اولیٰ کی فضیلت: یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ بہترین لوگ پہلے زمانے والے ہیں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے، جیسا کہ دوسری احادیث میں بھی آیا ہے
2. اتباع کی اہمیت: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا مقام صرف دیکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ صحبت (ان کی اتباع اور ان کے نقش قدم پر چلنے) کی وجہ سے بھی ہے۔
عملی زندگی کے لیے ہدایات
1. ہمارے لیے سبق: اگرچہ آج ان میں سے کوئی موجود نہیں، لیکن ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی اتباع کرنی چاہیے۔
2. خیر کی تلاش: ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو ان تینوں نسلوں کے طریقے پر چلتے ہیں، تاکہ ہم بھی خیر میں شامل ہو سکیں۔
حدیث کی سندی حیثیت
1. حدیث کا درجہ: یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے سلسلہ صحیحہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت اور ان کی موجودگی میں خیر کے باقی رہنے کو واضح کرتی ہے۔ نبی ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر فرمایا کہ جب تک یہ تینوں نسلیں موجود رہیں گی، امت خیر پر رہے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ان ہی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے اور ان کی اتباع کرنی چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 11
عنوان: "طوبی" ان کے لیے جنہوں نے مجھے دیکھا اور ایمان لائے، اور ان کے لیے جنہوں نے انہیں دیکھا
متنِ حدیث (عربی)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوبَى لِمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي، وَلِمَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآَبٍ "
---
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"طوبی (جنت کی خوشخبری یا جنت کا ایک درخت) ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا، اور طوبی ہے اس کے لیے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا، اور طوبی ہے اس کے لیے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ان کے لیے طوبی ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔"
---
تخریج و حوالہ جات:
· (ك) المستدرك للحاكم: ٦٩٩٤
· (الضياء) الأحاديث المختارة: ٨٧
· صحيح الجامع: ٣٩٢٦
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٢٥٤ (البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص248]
---
تشریح و وضاحت:
"طوبی" کا مفہوم
· لغوی معنی: "طوبی" کے معنی خوشخبری، بہترین زندگی، یا جنت کا ایک درخت ہے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ جنت کا ایک درخت ہے جس کی شاخیں جنت کے تمام گھروں میں پھیلی ہوں گی۔
· مراد: یہاں "طوبی" ان لوگوں کے لیے دعا اور بشارت ہے جنہیں یہ اعلیٰ مرتبہ حاصل ہوگا۔
تین طبقوں کی فضیلت
1. پہلا طبقہ – صحابہ کرام:
"طوبى لمن رآني وآمن بي" – یعنی وہ لوگ جنہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ کی صحبت پائی، اور آپ پر ایمان لائے۔ یہ صحابہ کرام ہیں۔
2. دوسرا طبقہ – تابعین:
"طوبى لمن رأى من رآني" – یعنی وہ لوگ جنہوں نے صحابہ کو دیکھا۔ یہ تابعین ہیں۔
3. تیسرا طبقہ – تبع تابعین:
"ولمن رأى من رأى من رآني وآمن بي" – یعنی وہ لوگ جنہوں نے تابعین کو دیکھا۔ یہ تبع تابعین ہیں۔
فضیلت میں ترتیب
· یہ حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ سب سے افضل ہیں، پھر تابعین، پھر تبع تابعین۔
· ہر طبقے کو "طوبی" کی بشارت دی گئی، لیکن مرتبے میں کمی آتی گئی۔
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. صحابہ کرام کی فضیلت:
نبی ﷺ نے سب سے پہلے اپنے صحابہ کو "طوبی" کی بشارت دی، جو ان کے بلند مرتبے کی دلیل ہے۔
2. تابعین کی عظمت:
تابعین بھی اس بشارت میں شامل ہیں، کیونکہ انہوں نے صحابہ کی صحبت پائی اور ان سے علم حاصل کیا۔
3. تبع تابعین کا مقام:
تبع تابعین (یعنی وہ جنہوں نے تابعین کو دیکھا) بھی اس بشارت کے مستحق ہیں، البتہ ان کا درجہ پہلے دو طبقوں سے کم ہے۔
4. ایمان شرط ہے:
حدیث میں صرف دیکھنے کا ذکر نہیں، بلکہ "وآمن بي" (اور مجھ پر ایمان لایا) کے الفاظ ہیں۔ اس لیے صرف دیکھنا کافی نہیں، بلکہ سچے ایمان کی ضرورت ہے۔
5. ہر دور میں بہترین لوگ:
اگرچہ ہم ان تینوں نسلوں میں شامل نہیں، لیکن ہم ان کے نقش قدم پر چل کر ان کی اتباع کر سکتے ہیں۔
6. حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے اسے سلسلہ صحیحہ میں شامل کیا ہے۔
7. "حسن مآب" کا وعدہ:
آخر میں "حسن مآب" (بہترین ٹھکانا) کا وعدہ ہے، جو جنت کی طرف اشارہ ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت کو واضح کرتی ہے کہ ان تینوں طبقوں کو نبی ﷺ سے "طوبی" (خوشخبری اور جنت کا درخت) کی بشارت دی گئی۔ ہمیں ان کی اتباع کرنی چاہیے اور ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 12
عنوان: صحابہ کی اجازت طلب کرنا اور نبی ﷺ کی تنبیہ، توحید کی گواہی کے ساتھ جنت کی بشارت
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ:
(أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (مِنْ مَكَّةَ) (٢) (حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ , جَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ , " فَيَأذَنُ لَهُمْ , فَقَامَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ؟ " , فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنْ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا) (٣)
(فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ (٤) فِي نَفْسِي , " ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - حَمِدَ اللهَ وَقَالَ خَيْرًا , ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ) (٥) (لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ , ثُمَّ يُسَدِّدُ , إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ , وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي - عز وجل - أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ , وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا , حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ ") (٦)
---
ترجمہ:
حضرت رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
(١) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (٢) مکہ سے چلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام "کدید" پر پہنچے تو ہم میں سے کچھ لوگ اپنے گھروں والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگنے لگے۔
(آپ انہیں اجازت دے دیتے تھے۔)
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
"ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس درخت کا وہ حصہ جو رسول اللہ کے قریب ہے، انہیں دوسرے حصے سے زیادہ ناپسند ہے؟"
(٣) ہم نے اس وقت لوگوں میں سے ہر ایک کو روتا ہوا دیکھا۔
(پھر) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:
"میرے خیال میں جو شخص اس (تنبیہ) کے بعد بھی آپ سے اجازت مانگے گا، وہ بے وقوف ہے۔"
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور اچھی باتیں فرمائیں، پھر کہا:
(٥) "میں اللہ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ (٦) جو بندہ سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، پھر اس پر قائم رہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل کرے گا۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اس قدر جگہ نہیں گھیر لیں گے، یہاں تک کہ تم خود اور تم میں سے جو نیک ہیں تمہارے باپ، تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد جنت میں اپنے گھر بنا لیں۔"
---
تخریج و حوالہ جات:
(١) مسند احمد: ١٦٢٦٠، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٢) مسند احمد: ١٦٢٦١، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٣) مسند احمد: ١٦٢٦٠، مسند طیالسی: ١٢٩١
(٤) سَفَه: ہلکا پن اور نادانی، سفیدہ (بے وقوف) وہ ہے جس کی رائے مضطرب اور بے ربط ہو۔
(٥) مسند احمد: ١٦٢٦١
(٦) مسند احمد: ١٦٢٦٠، سنن ابن ماجہ: ٤٢٨٥، صحیح ابن حبان: ٢١٢، دیکھیے: سلسلہ صحیحہ: ٢٤٠٥
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص249]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کی اجازت اور نبی ﷺ کی تنبیہ
1. صحابہ کا گھروں کی طرف جانے کا جذبہ: صحابہ نبی ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، پھر کچھ نے گھروں والوں سے ملنے کی اجازت مانگی۔ یہ ان کی فطری محبت اور انسانی ضرورت تھی۔
2. نبی ﷺ کی شفقت اور حکمت: آپ نے انہیں اجازت دے دی، لیکن پھر اس رویے کی اصلاح کے لیے خطاب فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کی تربیت بہترین انداز میں کرتے تھے۔
3. درخت کی مثال سے ملامت: آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا لوگوں کو وہ حصہ (جہاں میں ہوں) دوسرے حصے سے زیادہ ناپسند ہے؟" یعنی کیا تم میرے قریب رہنے سے گریز کرتے ہو؟ یہ ایک بہت مؤثر اور نرم انداز میں ڈانٹ تھی۔
4. صحابہ کا ردعمل: جب انہوں نے یہ سنا تو سب رونے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی ﷺ کی ناراضگی سے بہت ڈرتے تھے اور اپنی غلطی پر فوراً نادم ہو جاتے تھے۔
5. ابو بکر رضی اللہ عنہ کی شدید گرفت: انہوں نے کہا کہ اب جو بھی اجازت مانگے گا وہ بے وقوف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی ﷺ کے اشارے کو سمجھتے تھے اور اس پر سختی سے عمل کرتے تھے۔
توحید کی گواہی اور جنت کی بشارت
1. توحید و رسالت کی گواہی کا عظیم اجر: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر اس پر قائم رہے، تو وہ جنت میں جائے گا۔
2. استقامت شرط ہے: صرف زبان سے کہنا کافی نہیں، بلکہ "ثم يسدد" (پھر قائم رہے) کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس عقیدے پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارے اور گناہوں سے بچے۔
3. ستر ہزار بغیر حساب و عذاب جنت میں جانے والے: یہ حدیث نبوت کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے کہ آپ نے بتایا کہ ستر ہزار افراد کو بغیر حساب جنت میں داخل کیا جائے گا۔ دوسری روایات میں ان کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں (جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، منحوس نہیں مانتے، وغیرہ)۔
4. امید سے مراد یقین: نبی ﷺ نے فرمایا "إني لأرجو" (میں امید رکھتا ہوں) لیکن یہ امید دراصل یقین کے قریب ہے، کیونکہ یہ اللہ کے وعدے پر مبنی ہے۔
5. صحابہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے جنت میں جگہ: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ وہ ستر ہزار اتنی جگہ نہیں گھیر لیں گے کہ تم اور تمہارے نیک باپ، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر نہ بنا سکیں۔ یہ صحابہ کرام کے لیے بڑی بشارت ہے۔
6. والدین اور اہل خانہ کے ساتھ نیکی کا اجر: جنت میں نیک والدین، بیویوں اور اولاد کے ساتھ رہنے کا وعدہ ہے، بشرطیکہ وہ نیک ہوں۔
عام اسباق
1. نبی ﷺ کی صحبت کی قدر: صحابہ کو چاہیے تھا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔
2. موت کے بعد بھی استقامت کا اجر: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص ایمان اور استقامت پر مرے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
3. حدیث کی صحت: یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 13
عنوان: حضرت عمر کا ابو عبیدہ اور معاذ کو مال بھیجنا اور ان کا ایثار
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ مَالِكِ الدَّارِ قَالَ: أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ , فَقَالَ لِلْغُلامِ: اذْهَبْ بِهِمْ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بن الْجَرَّاحِ , ثُمَّ تَلَهَّ (١) فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ , فَذَهَبَ بِهَا الْغُلامُ إِلَيْهِ , فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ , فَقَالَ: وَصَلَهُ اللهُ وَرَحِمَهُ , ثُمَّ قَالَ: تَعَالِي يَا جَارِيَةُ , اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ , وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ , حَتَّى أَنْفَدَهَا فَرَجَعَ الْغُلامُ وَأَخْبَرَهُ , فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا إِلَى مُعَاذِ بن جَبَلٍ - رضي الله عنه - , فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى مُعَاذِ بن جَبَلٍ , وَتَلَهَّ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ , فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ , فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذَا فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ , فَقَالَ: رَحِمَهُ اللهُ وَوَصَلَهُ , تَعَالِي يَا جَارِيَةُ , اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا , وَاذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا , فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ فَقَالَتْ: نَحْنُ وَاللهِ مَسَاكِينٌ , فَأَعْطِنَا - وَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ - فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا , وَرَجَعَ الْغُلامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ , فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ , بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ.
---
ترجمہ:
حضرت مالک دار (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لیے اور انہیں ایک تھیلی میں رکھا، پھر اپنے ایک لڑکے (غلام) سے کہا:
"انہیں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ، پھر (ان کے) گھر میں تھوڑی دیر ٹھہر کر دیکھو کہ وہ کیا کرتے ہیں۔"
غلام وہ دینار لے کر ابو عبیدہ کے پاس گیا اور کہا:
"امیر المؤمنین کہتے ہیں کہ آپ اسے اپنی کسی ضرورت میں خرچ کر لیں۔"
ابو عبیدہ نے کہا: "اللہ عمر کو صلہ دے اور اس پر رحم کرے۔"
پھر انہوں نے اپنی لونڈی (خادمہ) سے کہا:
"آؤ، ان سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ، اور یہ پانچ فلاں کے پاس لے جاؤ۔"
یہاں تک کہ انہوں نے سارے دینار تقسیم کر دیے۔
پھر غلام واپس آیا اور عمر کو بتایا۔ عمر نے دیکھا کہ انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اسی طرح کی تھیلی تیار کر رکھی تھی۔
انہوں نے (اسی غلام سے) کہا:
"یہ معاذ بن جبل کے پاس لے جاؤ، اور (ان کے) گھر میں ٹھہر کر دیکھو کہ وہ کیا کرتے ہیں۔"
غلام وہ دینار لے کر معاذ کے پاس گیا اور کہا:
"امیر المؤمنین کہتے ہیں کہ آپ اسے اپنی کسی ضرورت میں خرچ کر لیں۔"
معاذ نے کہا: "اللہ عمر پر رحم کرے اور اسے صلہ دے۔"
پھر انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا:
"آؤ، اتنا فلاں کے گھر لے جاؤ، اور اتنا فلاں کے گھر لے جاؤ۔"
اتنے میں معاذ کی بیوی نے جھانک کر کہا:
"اللہ کی قسم! ہم خود مسکین ہیں، ہمیں بھی کچھ دیں۔"
(اس وقت کپڑے میں صرف دو دینار باقی تھے) تو معاذ نے انہیں وہ دو دینار دے دیے۔
پھر غلام عمر کے پاس واپس آیا اور انہیں ساری خبر سنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا:
"یہ لوگ آپس میں بھائی ہیں، ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔"
---
تخریج و حوالہ جات:
· (طب) المعجم الكبير للطبرانی: ج20/ص33، حدیث نمبر 46
· صحيح الترغيب والترهيب: 926
· حافظ منذری نے فرمایا: "اسے طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے، اور مالك الدار تک کے راوی ثقہ اور مشہور ہیں، البتہ میں مالك الدار کو نہیں جانتا۔"
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص250]
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
صحابہ کی سخاوت اور ایثار
1. ابو عبیدہ بن جراح کا ایثار: جب انہیں چار سو دینار دیے گئے تو انہوں نے اپنے لیے کچھ نہیں رکھا، بلکہ سب ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیے۔ یہ ان کی بے نظیر سخاوت اور ایثار کی مثال ہے۔
2. معاذ بن جبل کا ایثار: انہوں نے بھی وہی کیا۔ جب ان کی بیوی نے کہا کہ ہم خود مسکین ہیں تو انہوں نے آخری دو دینار بھی انہیں دے دیے، حالانکہ وہ خود بھی محتاج تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے تھے۔
3. مال کی محبت نہیں بلکہ اللہ کی رضا: یہ دونوں صحابی مال کو اپنی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتے تھے۔
حضرت عمر کی حکمت اور دور اندیشی
1. جانچ کا طریقہ: عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ اور معاذ کو مال بھیج کر یہ دیکھنا چاہا کہ وہ اسے کیسے خرچ کرتے ہیں۔ یہ ایک حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمال اور قریبی ساتھیوں کی حالت معلوم کرے۔
2. غلام کو ٹھہرنے کا حکم: عمر نے غلام کو کہا کہ وہ ان کے گھر میں تھوڑی دیر رکے اور دیکھے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حاکم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حالات کا جائزہ لے۔
3. خوشی کا اظہار: جب عمر کو معلوم ہوا کہ ان دونوں نے سارے دینار دوسروں میں تقسیم کر دیے تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: "یہ لوگ آپس میں بھائی ہیں۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی ایثار اور قربانی سے عمر کو خوشی ہوتی تھی۔
صحابہ کی اخلاقی اقدار:
1. اپنی ضرورت سے زیادہ دوسروں کی فکر: ابو عبیدہ اور معاذ دونوں نے اپنی ذاتی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی مدد کی۔
2. بیوی کا بھی ایثار: معاذ کی بیوی نے بھی جب دیکھا کہ سارے دینار بانٹ دیے گئے، تو انہوں نے صرف دو دینار مانگے، حالانکہ وہ خود بھی محتاج تھیں۔ یہ صحابیہ کی بھی بلند اخلاق کی مثال ہے۔
3. صدقہ و خیرات کی ترغیب: یہ واقعہ مسلمانوں کو دوسروں کی مدد کرنے اور اپنی ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
عمومی اسباق:
1. امیر المومنین کا کردار: عمر کا یہ عمل ایک ذمہ دار حاکم کی ذمہ داریوں کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں اور عوام کے حالات سے باخبر رہے۔
2. مال کی تقسیم میں عدل: عمر نے دونوں کو یکساں مال دیا، جس سے عدل و انصاف کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
3. حدیث کی سند: اس روایت کی سند "مالک الدار" تک ثقہ ہے، البتہ مالک الدار کے بارے میں منذری نے کہا کہ وہ انہیں نہیں جانتے۔ اس کے باوجود یہ واقعہ صحابہ کی سیرت کے باب میں مشہور اور قابلِ قبول ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 14
عنوان: صحابہ کرام کے نزدیک نشانیاں برکات تھیں، بعد والوں کے نزدیک ڈرانے والی
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ:
(كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم -) (١)
(نَرَى الْآيَاتِ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - بَرَكَاتٍ , وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا) (٢)
(وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ) (٣)
---
ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔(١)
ہم نبی ﷺ کے زمانے میں (جو) نشانیاں (معجزات) دیکھتے تھے، انہیں برکت سمجھتے تھے، اور تم (بعد والے) انہیں ڈرانے والی چیز سمجھتے ہو۔(٢)
اور ہم کھانے کو کھاتے ہوئے اس کی تسبیح سنتے تھے۔"(٣)
---
تخریج و حوالہ جات:
(١) مسند احمد: ٤٣٩٣، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: حدیث صحیح ہے۔
(٢) مسند احمد: ٣٧٦٢، صحیح بخاری: ٣٣٨٦، سنن ترمذی: ٣٦٣٣
(٣) صحیح بخاری: ٣٣٨٦، سنن ترمذی: ٣٦٣٣، مسند احمد: ٤٣٩٣
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص252]
---
تشریح و وضاحت:
صحابہ کے نزدیک معجزات (آیات) برکات تھے
1. "الآيات" سے کیا مراد ہے؟
یہاں "آیات" سے مراد وہ نشانیاں اور معجزات ہیں جو نبی ﷺ کے ذریعے ظاہر ہوتے تھے، جیسے:
· چاند کا شق ہونا
· پانی کی انگلیوں سے نکلنا
· کھانے کا تسبیح کرنا
· درخت کا نبی ﷺ کو سلام کرنا
· اور دیگر معجزات۔
2. صحابہ کا رویہ:
صحابہ کرام ان معجزات کو برکت سمجھتے تھے، کیونکہ یہ ان کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ تھے اور وہ ان سے لطف اندوز ہوتے تھے۔
3. بعد والوں کا رویہ:
بعد میں آنے والے لوگ انہی معجزات کو تخویف (ڈرانے والی چیز) سمجھتے ہیں، یعنی وہ ان سے ڈرتے ہیں یا انہیں عذاب کی نشانی سمجھتے ہیں۔
4. فرق کی وجہ:
صحابہ کے پاس ایمان کی قوت تھی، وہ اللہ کی قدرت کو براہِ راست دیکھ کر خوش ہوتے تھے، جبکہ بعد والوں کے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے وہ ہر غیر معمولی چیز سے گھبراتے ہیں۔
کھانے کی تسبیح سننا
1. کھانے کا تسبیح کرنا:
نبی ﷺ کے زمانے میں صحابہ کھانا کھاتے ہوئے اس کی تسبیح سنتے تھے، یعنی کھانا (غذا) اللہ کی تسبیح کرتا تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا جو نبی ﷺ کے ذریعے ظاہر ہوا۔
2. اس معجزے کا پس منظر:
یہ وہی واقعہ ہے جب نبی ﷺ کے پاس تھوڑا سا کھانا تھا، آپ نے اسے بڑھنے کا حکم دیا، اور پھر سینکڑوں صحابہ نے اسے کھایا، اور کھانا تسبیح کر رہا تھا۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر ٣٥٧٩)
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. صحابہ کا مقام اور ایمان کی بلندی:
صحابہ کرام کا ایمان اتنا بلند تھا کہ وہ معجزات کو ڈرانے والی نہیں بلکہ برکت سمجھتے تھے۔
2. ایمان کی کمزوری کے ساتھ خوف بڑھتا ہے:
جب ایمان کمزور ہو جاتا ہے تو انسان ہر غیر معمولی چیز سے ڈرنے لگتا ہے، جبکہ مضبوط ایمان والے اسے اللہ کی قدرت کا مظہر سمجھتے ہیں۔
3. نبی ﷺ کے معجزات کی حقیقت:
یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کے معجزات حقیقی تھے، اور صحابہ نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
4. کھانے کی تسبیح کا معجزہ:
یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز میں ہے، اور ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے جیسا کہ قرآن میں ہے: {وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ} (الاسراء: 44)
5. صحابہ کی طرف سے بعد والوں کو نصیحت:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ "تم انہیں تخویف سمجھتے ہو" دراصل بعد والوں کے ایمان کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔
6. معجزات کا مقصد:
معجزات اللہ کی قدرت کا اظہار، نبی کی سچائی کا ثبوت، اور مومنین کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
7. حدیث کی صحت:
یہ حدیث صحیح بخاری اور مسند احمد میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام کے ایمان کی بلندی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے معجزات کو برکات سمجھتے تھے، جبکہ بعد والے لوگ انہیں تخویف (ڈرانے والی چیز) سمجھتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا (غذا) بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کی نشانیوں کو برکت سمجھیں اور ان سے سبق حاصل کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 16
عنوان: صحابہ کرام کی زندگی: کھیل کود میں لچک اور حقیقت میں سنجیدگی
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ بكر بن عبد الله قال: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - يَتَبَادَحُونَ (١) بالبَّطِيخ، فإِذَا كَانَتْ الحَقَائِقُ، كَانُوا هُمُ الرِّجَالُ. (٢)
---
ترجمہ:
حضرت بکر بن عبداللہ مزنی (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے (ساتھ) تربوز ایک دوسرے کی طرف پھینک کر کھیلا کرتے تھے،(١) لیکن جب سخت حالات (حقیقت، جہاد یا مصیبت) آ جاتی تو وہی (حقیقی) مرد ہوتے تھے۔"(٢)
---
تخریج و حوالہ جات:
· (خد) الأدب المفرد للبخاری: ٢٦٦
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ٤٣٥
· صحيح الأدب المفرد: ٢٠١ (البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص253]
---
تشریح و وضاحت:
صحابہ کا کھیل کود کرنا
1. "یتبادحون بالبطیخ" کا مطلب:
"تبادح" کے معنی ایک دوسرے کی طرف پھینکنا، اور "بطیخ" تربوز یا خربوزہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام کبھی کبھار کھیل کود میں تربوز ایک دوسرے کی طرف پھینکا کرتے تھے۔
2. کھیل کی نوعیت:
یہ ایک معمولی اور بے ضرر کھیل تھا، جو انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ہر وقت سخت اور بے رونق نہیں تھے، بلکہ وہ جائز طریقے سے تفریح بھی کرتے تھے۔
"حقیقت" کے وقت سنجیدگی
1. "الحقائق" سے کیا مراد ہے؟
"حقائق" سے مراد وہ سخت حالات ہیں، جیسے جہاد، مصیبت، یا دین کی حفاظت کے مواقع۔ جب ایسے مواقع آتے تو صحابہ کی پوری شخصیت بدل جاتی تھی۔
2. صحابہ کا کردار:
جب سخت حالات آتے تو وہی لوگ جو تربوز سے کھیل رہے تھے، حقیقی مرد بن جاتے تھے، یعنی وہ:
· دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے تھے
· جان کی پروا کیے بغیر لڑتے تھے
· اللہ کی راہ میں قربانیوں سے گریز نہیں کرتے تھے
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. صحابہ کی زندگی کا توازن:
صحابہ کرام نے ہمیں یہ سبق دیا کہ انسان کو اپنی زندگی میں اعتدال رکھنا چاہیے۔ کھیل کود اور تفریح کے لیے بھی وقت ہو، لیکن جب ذمہ داری اور سنجیدہ موقع آئے تو وہی لوگ سب سے آگے ہوں۔
2. حقیقی مرد وہ ہیں جو مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کریں:
صحابہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ کھیل کود میں بھی دلچسپی رکھتے تھے، لیکن جب دین کی حفاظت کا وقت آتا تو وہ سب سے بہادر اور مضبوط ثابت ہوتے تھے۔
3. کھیل کود میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ حدود میں رہے:
اسلام نے کھیل کود کو منع نہیں کیا، بلکہ اس کی اجازت ہے، لیکن یہ حد سے زیادہ نہ ہو اور فرائض میں رکاوٹ نہ بنے۔
4. صحابہ کی سادگی اور بشریت:
یہ واقعہ صحابہ کی بشریت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح کھیل کود بھی کرتے تھے۔ اس سے ان کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی۔
5. زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن:
ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں عبادت، کام، آرام، اور تفریح میں توازن رکھے۔
6. صحابہ کی سچائی اور قربانی:
"فإذا كانت الحقائق كانوا هم الرجال" – اس جملے میں صحابہ کی سچائی، ثابت قدمی اور قربانی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کھیل کود میں لچک رکھتے تھے مگر سنجیدہ معاملات میں وہی سب سے بہادر اور بھروسہ مند تھے۔
7. حدیث کی صحت:
یہ حدیث ادب المفرد میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحيح قرار دیا ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام کی زندگی کے دو پہلوؤں کو واضح کرتی ہے:
· عام حالات میں وہ معمولی کھیل کود بھی کرتے تھے (جیسے تربوز پھینکنا)۔
· لیکن جب سخت حالات (جہاد، مصیبت) آتے تو وہی لوگ حقیقی مرد اور بہترین سپاہی ثابت ہوتے تھے۔
یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی زندگی میں توازن رکھیں، تفریح کریں، لیکن فرض کے وقت سنجیدہ اور ثابت قدم رہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر 17
عنوان: صحابہ کرام کی سادگی اور دین کے معاملے میں سنجیدگی
متنِ حدیث (عربی)
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (١) قَالَ:
لَمْ يَكُنْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مُتَحَزِّقِينَ (٢) وَلَا مُتَمَاوِتِينَ (٣) وَكَانُوا يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فِي مَجَالِسِهِمْ، وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ جَاهِلِيَّتِهِمْ، فَإِذَا أُرِيدَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ اللهِ، دَارَتْ حَمَالِيقُ (٤) عَيْنَيْهِ كَأَنَّهُ مَجْنُونٌ. (٥)
---
ترجمہ:
حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
"صحابہ کرام نہ تو (دین میں) سخت گیر تھے (٢) اور نہ ہی (عبادت کے نام پر) بے حس و حرکت (جیسے مردہ) تھے۔(٣) وہ اپنی مجالس میں ایک دوسرے کو شعر سنایا کرتے تھے، اور اپنے جاہلیت کے زمانے کے واقعات ذکر کیا کرتے تھے۔ لیکن جب ان میں سے کسی کو دین کے کسی معاملے (حق بات) کی طرف بلایا جاتا تو اس کی آنکھیں اس طرح گھوم جاتیں (٤) جیسے وہ دیوانہ ہو گیا ہو۔"
---
تخریج و حوالہ جات
(١) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف قرشی زہری مدنی: تابعی، ثقہ، کثیر الحدیث، امام بخاری و مسلم وغیرہ کے راوی۔
(٢) مُتَحَزِّقِينَ: یعنی سخت گیر، تنگ مزاج، جماعت کی طرح اکٹھے ہو جانے والے۔
(٣) مُتَمَاوِتِينَ: ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خود کو بے حرکت، کمزور اور مردہ جیسا بنا لے (خاص طور پر عبادت و زہد میں تکلف کرتے ہوئے)۔
(٤) حَمَالِيق: "حملاق" کی جمع، آنکھ کی پتلی کے گرد کا سیاہ حصہ، یہاں آنکھوں کے گھومنے اور شدت سے دیکھنے پر کنایہ ہے۔
(٥) (خد) الأدب المفرد للبخاری: ٥٥٥، دیکھیے صحيح الأدب المفرد: ٤٣٢
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص254]
---
تشریح و وضاحت:
صحابہ کا دین میں اعتدال
1. "متخصصين" سے کیا مراد ہے؟
"تحزق" کے معنی سخت گیری، تنگ نظری اور بلاوجہ دین کو مشکل بنانا ہے۔ صحابہ اس سے پاک تھے۔
2. "متماوتین" سے کیا مراد ہے؟
"تماوت" کا مطلب ہے خود کو بے حس اور مردہ بنا لینا، یعنی عبادت میں تکلف کرنا اور دنیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنا۔ صحابہ نے کبھی ایسا نہیں کیا۔
صحابہ کی عام زندگی
1. شعر سننا اور سنانا:
صحابہ اپنی مجالس میں جائز اشعار سنتے اور سناتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جائز تفریح اور ادبی سرگرمیوں کی اسلام میں اجازت ہے۔
2. جاہلیت کے واقعات کا تذکرہ:
وہ اپنے جاہلیت کے زمانے کے واقعات بیان کرتے تھے، تاکہ اس دور کی برائیوں سے عبرت حاصل کی جا سکے اور اسلام کی نعمت کا شکر ادا کیا جا سکے۔
دین کے معاملے میں سنجیدگی
1. "دارت حمالیق عینیه" کا مفہوم:
جب صحابہ کو دین کے کسی معاملے (حق بات) کی طرف بلایا جاتا تو ان کی آنکھیں شدت سے گھوم جاتی تھیں، جیسے وہ دیوانہ ہو گئے ہوں۔ یہ ان کی غیرت دینی اور جوش و خروش کی علامت تھی۔
2. حق کے لیے کھڑے ہونا:
صحابہ عام حالات میں نرم اور خوش مزاج تھے، لیکن جب دین کو خطرہ ہوتا یا کسی حق بات کی طرف بلایا جاتا تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جاتے اور اپنی جان و مال سے دفاع کرنے کو تیار ہو جاتے۔
---
حاصل شدہ اہم اسباق و نکات
1. دین میں اعتدال کی ضرورت:
اسلام نے افراط (بے جا سختی) اور تفریط (بے حسی) دونوں سے منع کیا ہے۔ صحابہ نے اعتدال کو اپنایا۔
2. جائز تفریح اور شعر خوانی کی اجازت:
جائز اور اخلاقی تفریح، شعر خوانی، اور اچھی باتیں کرنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
3. جاہلیت کے واقعات سے عبرت:
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ماضی کی برائیوں کو یاد کر کے ان سے بچیں اور اسلام کی نعمت پر شکر کریں۔
4. دین کے معاملے میں سنجیدگی اور غیرت:
جہاں دین کا معاملہ ہو، وہاں صحابہ کی طرح سنجیدہ اور جانثاری کا جذبہ ہونا چاہیے۔
5. صحابہ کی عملی تربیت:
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ اپنی زندگی کے عمومی معاملات میں نرم اور خوش اخلاق تھے، لیکن جب دین کی حفاظت کا سوال ہوتا تو وہ بے مثال بہادری اور جذبے کا مظاہرہ کرتے تھے۔
6. بدعت سے بچنا:
"تحزیق" اور "تماوت" دونوں بدعات کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔ صحابہ کا طریقہ ان سے پاک تھا۔
7. دین کی طرف بلانے کا انداز:
جب صحابہ کو کسی حق کی طرف بلایا جاتا تو وہ فوراً لبیک کہتے تھے۔ یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ حق قبول کرنے میں تاخیر نہ کریں۔
8. حدیث کی صحت:
یہ حدیث "الأدب المفرد" میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحيح قرار دیا ہے۔
---
خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام کی زندگی کے دو پہلوؤں کو واضح کرتی ہے:
· عام حالات: وہ نرم مزاج، خوش اخلاق، جائز تفریح کرنے والے، اور شعر خوانی جیسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے والے تھے۔
· دین کے معاملات: جب دین کی حفاظت، حق بات، یا جہاد کا موقع آتا تو وہ انتہائی سنجیدہ، بہادر اور جانثاری پر آمادہ ہو جاتے تھے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کے اسی نقش قدم پر چلیں: زندگی میں اعتدال، تفریح میں جائز حدود، اور دین کے معاملے میں غیرت و جانثاری۔
واللہ اعلم بالصواب
ترجمہ:
اہل السنۃ و الجماعۃ کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں ہیں مگر وہ عادل، متقن، متقی اور انتہا درجہ پرہیز گار ہیں ،، آسمانِ دیانت و تقویٰ کے درخشندہ ستارے ہیں ، فسق و فجورجن کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔
چنانچہ خداوند ِ قدوس نے قرآن کریم میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطَب کرکے فرمایا:
وَلَکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُولٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُون۔(الحجرات:۷)
لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں کی اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں ۔
نیز ارشادِ باری ہے: أُولٰئِکَ الَّذِینَ امْتَحَنَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوَی لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ عَظِیمٌ، (الحجرات:۷)
ترجمہ: یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔
علم العقائد کی معروف کتاب المسامرۃ شرح المسایرۃ میں ہے:
’’و اعتقاد أھل السنۃ و الجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منہم و الکف عن الطعن فیہم و الثناء علیہم … و ما جریٰ بین علی و معاویۃ رضی اللّٰہ عنہما … کان مبنیاً علی الاجتہاد من کل منہما لامنازعۃ من معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فی الامامۃِ‘‘ (۲۶۹، ۲۷۰)
ترجمہ: اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ تمام صحابۂ کرام کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے اس طرح کہ ا ن سب کے لیے عدالت ثابت کرنا اور ان کے بارے طعن سے رکنا اور ان کی مدح و ثنا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جو کچھ معاملہ پیش آیا یہ دونوں حضرات کے اجتہاد کی بنا پر تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکومت و امامت کا جھگڑا نہیں تھا۔
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
الصّحابۃ کلّہم عدول من لابس الفتن وغیرہم بإجماع من یعتد بہ، قال تعالی: (وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا)(البقرۃ:۱۴۳) الآیۃ، أی عدولا۔ وقال تعالی: (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران:۱۱۰)، والخطاب فیہا للموجودین حینئذ۔ وقال صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم: خیر النّاس قرنی، رواہ الشیخان۔ قال إمام الحرمین: والسبب فی عدم الفحص عن عدالتہم: أنّہم حملۃ الشریعۃ؛ (تدریب الراوی، ص۴۹۲، ۴۹۳، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
یعنی باجماعِ معتبر علماء تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں ، مبتلائے فتن ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں ، (دلیل ) ارشادِ باری تعالیٰ ہے، وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا، کہ ہم نے تمہیں امت وسط یعنی عادل بنایا ۔نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ،کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو، ان آیات میں خطاب اُس وقت موجود حضرات (صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ) کو ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ لوگوں میں بہترین میرا زمانہ ہے، امام الحرمین نے فرمایا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت سے بحث و جستجو نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حاملینِ شریعت و ناقلینِ شریعت ہیں ۔
مشہور حنفی محقق ملاقاری رحمہ اللہ تعالیٰ ارقام فرماتے ہیں :
’’ذہب جمہور العلماء الی أنّ الصحابۃَ رضی اللّٰہ عنہم کلّہم عدول قبل فتنۃ عثمان و علی وکذا بعدہا ولقولہ علیہ الصلاۃ والسّلام أصحابی کالنجوم بأیّہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ (شرح الفقہ الأکبر لملاعلی القاری،ص۶۳)
ترجمہ:
جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل(پاکباز، متقی) ہیں حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں وقوع پذیرفتنوں سے پہلے بھی اور اُس کے بعد بھی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’قال ابن الصلاح والنووی الصحابۃ کلہم عدول وکان للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مائۃ ألف وأربعۃ عشر ألف صحابی عند موتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم والقرآن والأخبار مصرّحان بعدالتہم وجلالتہم ولما جری بینہم محامل‘‘(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ،۲؍۶۴۰، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
ابن صلاح اور امام نووی فرماتے ہیں ، کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل و متقی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ تھے،قرآن کریم اور احادیث ِ طیبہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت و تقویٰ اور جلالتِ شان کی صراحت و وضاحت کررہے ہیں ، اور ان کے باہمی مشاجرات و معاملات کے محمل اور تاویلات موجود ہیں ۔
اس لیے اہل السنۃ و الجماعۃ کا بجاطورموقف پر یہی ہے کہ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں عادل و پاکباز ہیں ؛ بلکہ تمام معاملات ِ زندگی اور اعمالِ حیات میں بھی عادل و متقی اور پرہیزگار ہیں ؛تاہم معصوم نہیں ہیں کہ ان سے کوئی خطا اور گناہ سرزد ہی نہ ہو، معصوم عن الخطا صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ذواتِ قدسیہ ہیں ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ عن الخطا ہیں ، یعنی یا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے خطا و معصیت کا صدور ہونے نہیں دیتے، اور اگر کسی ایزدی حکمت وربانی مصلحت کی بنا پر کسی معصیت و گناہ کا صدور ہو تو خداوند ِ قدوس صحابی کی زندگی میں ہی اس کا ازالہ و تدارک کروادیتے ہیں کہ صحابی جب دنیا سے جاتا ہے تو بموجبِ وعدۂ خداوندی ’’وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی‘‘جنتی بن کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس لیے ’’الصّحابۃ کُلُّہم عُدول‘‘ کا یہ مطلب لینا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم انبیائِ کرام علیہم السلام کی مانند معصوم ہیں ، نادرست اور غلط ہے، عصمت خاصۂ انبیاء ہے؛ تاہم دوسر ی طرف یہ کہنا کہ صحابی عام زندگی میں اس مفہوم میں بھی عادل نہیں ہوتا جو اہل السنۃ کے متفق علیہ و مسلّم ہے، تصریحاتِ اہل السنۃ وتشریحاتِ اکابر علماء ِ دیوبند کے مطابق و موافق نہیں ہے، اس کا واضح مطلب تو یہ ہوا کہ صحابی فاسق ہوسکتا ہے؛ کیونکہ عدالت اور فسق میں تباین و تضاد ہے، عادل ہے تو فاسق نہیں ، فاسق ہے تو عادل نہیں ، اور عادل نہیں تو فاسق ہے۔
مگر بہت سے گم راہ نظریات رکھنے والے لوگوں کا نظریہ اور اعتقاد یہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث میں تو عادل ہیں ؛ مگر دیگر احوالِ زندگی میں عادل اور متقی نہیں ہیں ، درحقیقت اس اعتراض اور نقطئہ نظر کا مبدأ اور منشا سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو غیرعادل اور فاسق و فاجر اور باغی و طاغی تک قرار دینا ہے، اسی ضرورت سے یہ نظریہ ایجاد کرنا پڑا۔
چنانچہ مودودی صاحب اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’میں ’’الصَّحَابۃُ کلُّہُم عُدول‘‘ (صحابہ سب راست باز ہیں ) کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم بے خطا تھے، اور ان میں کا ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالا ترـتھا، اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے؛ بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے‘‘ (خلافت و ملوکیت، ۳۰۳، ط:ادراہ ترجمان القرآن، لاہور، ۲۰۱۹ء)
موجودہ دور میں بھی بعض ایسے نظریاتِ فاسدہ و خیالاتِ کاسدہ کے حامل لوگ پیدا ہوچکے ہیں ۔
اس نظریہ کا علمائِ امت نے ابطال اور رَد فرمایا ہے، چنانچہ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم مودودی صاحب کے اس موقف کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’اگر اس کتاب (خلافت و ملوکیت) کے ان مندرجات کو درست مان لیا جائے جو خاص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہیں تو اس سے عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا وہ بنیادی عقیدہ مجروح ہوتا ہے جو اہل سنت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جسے مولانا مودودی صاحب بھی اصولی طور پر درست مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مولانا نے ’ ’الصحابۃ کلہم عُدول‘‘ (تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں ) کو اصولی طور پر اپنا عقیدہ قرار دے کر یہ لکھا ہے کہ اس عقیدے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوسکتی؛ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ روایتِ حدیث میں انہوں نے پوری دیانت اور ذمہ داری سے کام لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس گفتگو میں مولانا نے اس بحث کو صاف نہیں فرمایا، عقلی طور پر عدالت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے تین مفہوم ہوسکتے ہیں ۔
(۱) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معصوم اور غلطیوں سے بالکل پاک ہیں ۔
(۲) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنی عملی زندگی میں (معاذ اللہ) فاسق ہوسکتے ہیں ؛ لیکن روایتِ حدیث کے معاملے میں بالکل عادل ہیں ۔
(۳) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بتقاضائے بشریت ’ ’دو ایک یا چند‘‘ غلطیاں سرزد ہوگئی ہوں ؛ لیکن تنبہ کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور اللہ نے انھیں معاف فرمادیا؛ اس لیے وہ ان غلطیوں کی بنا پر فاسق نہیں ہوئے؛ چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی صحا بی نے گناہوں کو اپنی ’’پالیسی‘‘ بنالیا ہو، جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جاسکے۔۔۔۔۔۔۔ پہلے مفہوم کو تو انہوں نے صراحتاً غلط کہا ہے اور جمہور اہل سنت بھی اسے غلط کہتے ہیں ، اب آخری دو مفہوم رہ جاتے ہیں ، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم وہ درست سمجھتے ہیں ، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم درست ہے، اگر ان کی مراد دوسرا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایتِ حدیث کی حد تک عادل ہیں ، ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ معاذ اللہ فاسق و فاجر بھی ہوسکـتے ہیں ، تو یہ بات ناقابل بیان حد تک غلط اور خطرناک ہے؛اس لیے کہ اگر کسی صحابی کو فاسق و فاجر مان لیا جائے تو آخر روایتِ حدیث کے معاملہ میں اسے فرشتہ تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے؟ جو شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے جھوٹ، فریب، رشوت، خیانت اور غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے، وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے تمام محدثین اس اُصول کو مانتے ہیں کہ جو شخص فاسق و فاجر ہو اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی، ورنہ اگر روایات کو مسترد کرنے کے لیے یہ شرط لگادی جائے کہ راوی کا ہر ہر روایت میں جھوٹ بولنا ثابت ہو تو شاید کوئی بھی روایت موضوع ثابت نہیں ہوسکے گی اور حدیث کے تمام راوی معتبر اور مستند ہوجائیں گے، خواہ وہ عملی زندگی میں کتنے ہی فاسق و فاجر نہ ہوں ۔ اور اگر مولانا مودودی صاحب عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیسرے مفہوم میں درست سمجھتے ہیں جیساکہ اوپر نقل کی ہوئی ایک عبارت سے معلوم ہوتا ہے، سو یہ مفہوم جمہور اہل سنت کے نزدیک درست ہے؛ لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر انھوں نے جو اعتراضات اپنی کتاب میں کیے ہیں اگر اُن کو درست مان لیا جائے تو عدالت کا یہ مفہوم ان پر صادق نہیں آسکتا۔(حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق، ۱۳۹ تا ۱۴۲، ط: معارف القرآن، کراچی، ۲۰۱۶ء)
یہی بحث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے دوسرے باب ، صفحہ۲۵۴ پر بھی کی ہے۔
مولانا محمد ثاقب اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’دراصل مولانا مودودی صاحب نے عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا جو مفہوم بیان کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث کی حدتک تو عادل ہوسکتے ہیں ؛ لیکن ز ندگی کے تمام معاملات میں ان سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہوسکتے ہیں ۔(حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی روایات، ص۱۶۳، مکتبہ معارف القرآن، کراچی، ۲۰۱۱ء)
حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ تعالیٰ اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے ’’عدالت‘‘ کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں ’’عدالت‘‘ سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں ؛ بلکہ روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے،یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘(مقامِ صحابہ، ص۶۰)
اس زمانہ کے مؤرخ مولانا محمد اسماعیل ریحان نے بھی اپنی کتاب ’’تاریخ امت ِ مسلمہ‘‘ (ج۲؍ص۶۷) پر مفتی اعظم مولانا محمد شفیع دیوبندی قدس سرہ کے حوالے سے اس نظریہ اور خیال کی تردید فرمائی ہے۔
محقق اہل السنۃ مولانا مہر محمد صاحب رحمہ اللہ (میانوالی) لکھتے ہیں :
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بلااستثناء ، دروغ گوئی خصوصاً کذب فی الروایۃ سے پاک و صاف تھے اور کسی سے بھی کذب کا صدور نہیں ہوا اور بایں معنیٰ عادل ہونا بھی ان کی منقبت کی واضح دلیل ہے؛لیکن عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو صرف اس معنیٰ میں منحصر کرنا اور اسے محدثین کی مراد بتانا ناقابلِ تسلیم اور لائقِ مناقشہ ہے؛ کیونکہ بعض محدثین نے عدالت کی تفسیر میں جھوٹ سے بچنا لکھا ہے تو اس کا یہ معنٰی ہرگز نہیں کہ ان محدثین کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم روایت میں عمداً کذب ِ بیانی کے سواباقی سب امور اور شعبہ ہائے حیات میں غیرعادل حتی کہ ہرقسم کے کبیرہ گناہوں تک کا ارتکاب کرتے تھے، جیسے صاحبِ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ اور ان کے حواریوں کا خیال ہے بلکہ جھوٹ سے بچنے کی تصریح کا مطلب یہ ہے کہ بایں معنٰی صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت اتنی قطعی اور اٹل ہے جیسے انبیاء علیہم السلام کی گناہوں سے عصمت کہ اس میں استثناء یا شذوذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتااور نہ کسی عالم نے آج تک یہ لکھا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جھوٹ بولتے تھے، بخلاف چند اور گناہوں کے کہ چند حضرات کی ان سے عصمت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ہر فرد انبیاء علیہم السلام کی طرح قطعی معصوم نہیں کہ صدورِ معصیت محال ہی ہو، ہم نے اپنی کتاب میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت عن الرسول میں منحصر نہیں ؛ بلکہ ان کی سیرت کے ہر پہلو میں عام ہے۔۔۔۔۔۔۔ محدثین جو عام رُواۃ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ عادل ہیں تو یہ اس کی پوری سیرت کی پاکیزگی پر شہادت ہوتی ہے کہ وہ کبائر سے مجتنب اور صغائر پر غیر مصر ہے، پھر اسی بحث میں وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کہتے ہیں : ’’الصّحابہ کُلُّہم عدول‘‘ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں ، تو اب اس عدالت کو تجنب عن الکذب میں مخصوص نہیں کیا جائے گا ورنہ لازم آئے گا کہ غیرصحابی کی عدالت صحابی سے افضل ہو، وھو باطل۔ ۔۔۔۔۔۔۔ علمائِ اصول حدیث اور محدثین ’’کلہم عدول‘‘ کی دلیل ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ فرماتے ہیں : ’’زَکّیاھم و عدّلاھم‘‘کیونکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تزکیہ کیا ہے، اور ان کو عادل قرار دیا ہے۔ خدا اور رسول کا یہ تزکیہ اور تعدیل صرف کذب سے اجتناب میں نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم دیگر گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے تھے؛ بلکہ یہ مجموعی طورپر ان کے اعمال و اخلاق کی عیوب سے طہارت اور آلودگیوں سے اجتناب پر شہادت ہے، تو معلوم ہوا محدثین کے نزدیک بھی عدالت میں تعمیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بہرحال ! تزکیہ، نزاہت، قصدِ معصیت سے تبریہ ان کی شان کی گناہوں سے بلندی جیسے واضح الفاظ ہمارے مؤید ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت عام ہے، اور وہ بالعموم سب گناہوں اور معاصی سے محفوظ ہیں ، ایسی صراحتوں کے باوجود کیا اب بھی محدثین پر یہ اتہام لگایا جائے گا کہ ان کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم تعمدِ کذب فی الروایۃ تک عادل تھے باقی ہر قسم کے کبائر اور معاصی کرتے تھے، اور ذنوب ان سے معدوم نہیں ہوئے تھے۔(عدالتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، ص۷۰ تا ۷۵، طبع ہفتم)
یہ ایک بالکل بدیہی اور سادہ سی سے بات ہے ،اگر یہ موقف تسلیم کرلیا جائے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عام زندگی میں عاد ل نہیں ، صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں ، اور ان کی قبولِ روایت کے لیے عام زندگی میں عدالت ضروری نہیں تو اس سے نہ صرف یہ اصولِ حدیث میں برائے قبولِ روایت عدالت کی شرط ایک مذاق اور مضحکہ خیز قاعدہ بن کر رہ جائے گا؛ بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ دیگر رواۃ تو عام معاملاتِ حیات میں بھی عادل ہوں اور صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ عادل نہ ہو،جیسا کہ حضرت مولانا مہر محمد صاحب میانوالی رحمہ اللہ نے بھی ذکر فرمایا ہے۔
بعض حضرات نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ایسی باتوں کی نسبت کی ہے، جس کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ تعالیٰ نے (مقامِ صحابہ،۶۰، ۶۱)یہ تصریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاً شاہ صاحب کی طرف ان عبارات کی نسبت مشکوک ہے، ثانیاً اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ حضرت شاہ رحمہ اللہ کی عبارات ہیں تو خلافِ جمہور ہونے کی وجہ سے متروک و مردود ہیں ۔
دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عدالت و تقو یٰ پر علمائِ امت کی تصریحات موجود ہیں ، ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔
شارح صحیح مسلم امام نووی رحمہ اللہ تعالی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت پر مہر اثبات ثبت کرتے ہوئے میں فرماتے ہیں :
’’وأما معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فہو من العَدُول الفضلاء والصَّحابۃ النُّجباء رضی اللّٰہ عنہ وأما الحروب التی جرت فکانت لکل طائفۃ شبہۃ اعتقدت تصویب أنفسہا بسببہا وکلہم عدول رضی اللّٰہ عنہم ومتأولون فی حروبہم وغیرہا ولم یخرج شیء من ذلک أحدا منہم عن العدالۃ لأنہم مجتہدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتہاد کما یختلف المجتہدون بعدہم فی مسائل من الدماء وغیرہا ولا یلزم من ذلک نقص أحد منہم … فکلہم معذورون رضی اللّٰہ عنہم ولہذا اتفق أہل الحق ومن یعتد بہ فی الإجماع علی قبول شہاداتہم وروایاتہم وکمال عدالتہم رضی اللّٰہ عنہم اجمعین‘‘۔ (شرح النووی علی الصحیح لمسلم، کتاب الفضائل، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم، ۱۵/۱۴۹، دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
ترجمہ: بہرحال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو وہ عادل ، صاحبِ فضیلت اور معزز صحابی ہیں ، جہاں تک ان محاربات و مشاجرات کا تعلق ہے جو ان حضرات کے مابین پیش آئے تو وہاں ہر ایک کو کوئی اشتبا ہ و التباس تھا، جس کی وجہ سے ہر ایک نے خود کو درست سمجھا؛ جب کہ وہ سب کے سب عادل ہیں اوان کے مخاصمات و باہمی منازعات میں ان کے پاس تاویل موجود ہے، ایسی کسی معاملہ نے انھیں عدالت سے نہیں نکالا؛ کیونکہ وہ مجتہد تھے ،(جس کا نتیجہ یہ ہے کہ) محلِ اجتہاد میں کچھ مسائل میں ان کا اختلاف ہوگیا، جیسا کہ ان کے بعد بھی مختلف مسائل میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا رہتا ہے، اس سے ان میں سے کسی کی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا یہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معذور ہیں اور اسی وجہ اہلِ احق اور ان لوگوں کا کہ اجماع کے باب میں جو لائقِ اعتبار وقابلِ شمار ہے، کا حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہیوں اور روایات کے قبول ہونے نیز کمال ِ عدالت و تقویٰ پر اتفاق اور اجماع ہے ۔
لہٰذا حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں ؛ بلکہ تمام امورِ حیات و معاملاتِ زندگی، احوال و آثار اور اوصاف و خصال میں عادل اور متقی و پرہیزگار ہیں ، یہ نظریہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں ، خلافِ اہل السنۃ و الجماعۃ ، باطل اور غلط ہے، جس کا قلع قمع ضروری ہے۔
تقدیری خوبیاں:
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
ترجمہ:
محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (٣١) اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ (٣٢) اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ (٣٣) تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔
[سورہ الفتح:29]
تشریح:
(٣١) جیسا کہ پیچھے حاشیہ نمبر 27 میں گذرا ہے، کافروں نے صلح نامہ لکھواتے وقت آنحضرت ﷺ کا نام مبارک محمد رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا، اور صرف محمد بن عبداللہ لکھوایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو محمد رسول اللہ فرما کر اشارہ دیا ہے کہ کافر لوگ اس حقیقت سے چاہے کتنا انکار کریں، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک قرآن کریم میں ثبت فرمادیا ہے۔
(٣٢) اگرچہ تورات میں بہت سی تبدیلیاں ہوچکی ہیں، لیکن بائبل کے جن صحیفوں کو آج کل یہودی اور عیسائی مذہب میں تورات کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک یعنی استثناء :2، 3 میں ایک عبارت ہے جس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ شاید قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہو۔ وہ عبارت یہ ہے :
خداوند سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا، اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا، اور وہ دس ہزار قدسیوں میں سے آیا۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے، اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں، اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔ (استثناء :2، 3)
واضح رہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آخری خطبہ ہے، جس میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کوہ سینا پر اتری، جس سے مراد تورات ہے، پھر کوہ شعیر پر اترے گی، جس سے مراد انجیل ہے، کیونکہ کوہ شعیر وہ پہاڑ ہے، جسے آج جبل الخلیل کہتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ تیسری وحی کوہ فاران پر اترے گی، جس سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ فاران اس پہاڑ کا نام ہے جس پر غار حرا واقع ہے۔ اور اس ی میں حضور اقدس ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی تعداد دس ہزار تھی، لہٰذا ” دس ہزار قدسیوں میں سے آیا “ سے ان صحابہ کی طرف اشارہ ہے۔ (واضح رہے کہ قدیم نسخوں میں دس ہزار کا لفظ ہے، اب بعض نسخوں میں اسے لاکھوں سے تبدیل کردیا گیا ہے) ۔
نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ صحابہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ قرآن کریم میں ہے کہ : وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ اور وہ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے بات دور از قیاس نہیں ہے کہ قرآن کریم نے اس عبارت کا حوالہ دیا ہو، اور وہ تبدیل ہوتے ہوتے موجودہ استثناء کی عبارت کی شکل میں رہ گئی ہو۔
(٣٣) انجیل مرقس میں بالکل یہی تشبیہ ان الفاظ میں مذکور ہے۔ خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے، اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔ (مرقس : 26 تا 29)
یہی تشبیہ انجیل لوقا : 18، 19 اور انجیل متی : 31 میں بھی موجود ہے۔
کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالٰی: وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً (توبہ۔۱۲۳) وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ (توبہ۔۷۳) وقال تعالٰی اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ (المائدہ۔۵۴) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ" علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔
آپس میں نرم دل ہیں:
۔صحابہ کرامؓ کے صفات حَسنہ:
صحابہ کرامؓ کا پچھلی کتابوں میں تذکرہ:
کھیتی کی مثال اور صحابہ کرامؓ:
صحابہؓ سے حسد رکھنے والے:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحریم:8)
ترجمہ:
اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں تم سے جھاڑ دے، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ (٨) وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کردیجیے (٩) اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
تشریح:
(٨) اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہونگے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سورة حدید :12 میں گذر چکا ہے۔
(٩) یعنی آخر تک اسے برقرار رکھیے، کیونکہ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن بعد میں ان سے نور سلب کرلیا جائے گا۔
(1) المفلحون (کامیاب) :
لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التوبۃ:88)
ترجمہ:
لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف:157)
ترجمہ:
جو اس رسول یعنی نبی امی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دے گا، برائیوں سے روکے گا، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا، اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اتار دے گا جو ان پر لدے ہوئے تھے۔ چنانچہ جو لوگ اس (نبی) پر ایمان لائیں گے اس کی تعظیم کریں گے اس کی مدد کریں گے، اور اس کے ساتھ جو نور اتارا گیا ہے اس کے پیچھے چلیں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہونگے۔
إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (51) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (النور:52)
ترجمہ:
مومنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (حکم) سن لیا، اور مان لیا۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اللہ سے ڈریں، اور اس کی نافرمانی سے بچیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر:9)
ترجمہ:
(اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ (٧) جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ (٨) اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
تشریح:
(٧) اس سے مراد وہ انصاری صحابہ ہیں جو مدینہ منورہ کے اصل باشندے تھے، اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی۔
(٨) اگرچہ سارے ہی انصار کی یہی کیفیت تھی کہ وہ ایثار سے کام لیتے تھے، لیکن روایات میں ایک صحابی (حضرت ابو طلحہؓ کا خاص طور پر ذکر آیا ہے جن کے گھر میں کھانا بہت تھوڑا سا تھا، پھر بھی جب آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ کچھ مہمانوں کو اپنے گھر لے جائیں، اور انہیں کھانا کھلائیں تو یہ کچھ مہمان اپنے ساتھ لے گئے، اور ان کی تواضع اس طرح کی کہ خود کچھ نہیں کھایا، اور چراغ بجھا کر مہمانوں کو بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کچھ نہیں کھا رہے۔ اس آیت میں ان کے ایثار کی بھی تعریف فرمائی گئی ہے۔
فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الروم:38)
ترجمہ:
لہٰذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی (١٧) جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
تشریح:
(١٧) پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لیے جو کچھ اس نے عطا فرمایا ہے وہ اسی کے حکم اور ہدایت کے مطابق خرچ ہونا چاہیے، لہٰذا اس میں غریبوں مسکینوں اور رشتہ داروں کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ ان کو دینا ضروری ہے، اور دیتے وقت یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے مال میں کمی آجائے گی، کیونکہ جیسا کہ پچھلی آیت میں فرمایا گیا رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے وہ تمہیں حقوق کی ادائیگی کے بعد محروم نہیں فرمائے گا، چنانچہ آج تک نہیں دیکھا گیا کہ حقوق ادا کرنے کے نتیجے میں کوئی مفلس ہوگیا ہو۔
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلۃ:22)
ترجمہ:
جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ (١٢) یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے، اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔
تشریح:
(١٢) سورة آل عمران : 28 کے حاشیہ میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ غیر مسلموں سے کس قسم کی دوستی جائز اور کس قسم کی ناجائز ہے۔
أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرۃ:5، لقمان:5)
ترجمہ:
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
(2) رضی اللہ عنہ (اللہ ان سے راضی ہوا) :
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ 100)
ترجمہ :
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کےساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (7) جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (البینۃ:8)
ترجمہ:
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ بیشک ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔ ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہونگے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔
(3) السابقون (پہل لے جانے والے) :
وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (12) ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ (13) وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعہ:14)
ترجمہ:
اور جو سبقت لے جانے والے ہیں، وہ تو ہیں ہی سبقت لے جانے والے (٤) وہی ہیں جو اللہ کے خاص مقرب بندے ہیں۔ وہ نعمتوں کے باغات میں ہونگے۔ شروع کے لوگوں میں سے بہت سے۔ اور بعد کے لوگوں میں سے تھوڑے۔ (٥)
تشریح:
(٤) اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کا سب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔
(٥) یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔
(4) الْمُخْلَصِينَ (وفادار) :
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ (40) أُولَئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ (41) فَوَاكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ (42) فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (43) عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (44) يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ (45) بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ (46) لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ (47) وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ (48) كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ (الصافات:49)
ترجمہ:
البتہ جو اللہ کے مخلص بندے ہیں۔ ان کے لیے طے شدہ رزق ہے۔ میوے ہیں، ان کی پوری پوری عزت ہوگی۔ اور نعمت بھرے باغات میں۔ وہ اونچی نشستوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہونگے۔ ایسی لطیف شراب کے جام ان کے لیے گردش میں آئیں گے۔ جو سفید رنگ کی ہوگی، پینے والوں کے لیے سراپا لذت۔ نہ اس سے سر میں خمار ہوگا اور نہ ان کی عقل بہکے گی۔ اور ان کے پاس وہ بڑی بڑی آنکھوں والی خواتین ہونگی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔ (٩) (ان کا بےداغ وجود) ایسا لگے گا جیسے وہ (گرد و غبار سے) چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔
تشریح:
(٩) یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔
(5) المومنون حقا (سچے مومن):
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال:74)
وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنْكُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الانفال:75)
ترجمہ:
اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔ (٥٤) ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔ اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ اور (ان میں سے) جو لوگ (پرانے مہاجرین کے) رشتہ دار ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے (کی میراث کے دوسروں سے) زیادہ حق دار ہیں۔ (٥٥) یقینا اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔
تشریح:
(٥٤) یعنی جن مسلمانوں نے ابھی ہجرت نہیں کی ہے، اگرچہ مومن وہ بھی ہیں، لیکن ان میں ابھی یہ کسر ہے کہ انہوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا، دوسری طرف مہاجرین اور انصار میں یہ کسر نہیں ہے، اس لیے وہ صحیح معنی میں مومن کہلانے کے مستحق ہیں۔
(٥٥) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ مسلمان بھی بالآخر ہجرت کر آئے تھے جنہوں نے شروع میں ہجرت نہیں کی تھی، اس آیت نے ان کے بارے میں دو حکم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ اب انہوں نے چونکہ وہ کسر پوری کردی ہے جس کی وجہ سے ان کا درجہ مہاجرین اور انصار سے کم تھا، اس لیے اب وہ بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں، اور دوسرا حکم یہ کہ اب تک وہ اپنے ان رشتہ داروں کے وراث نہیں ہوتے تھے جو ہجرت کرچکے تھے اب چونکہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے ہیں، اس لیے اب ان کے وارث ہونے کی اصل رکاوٹ دور ہوگئی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ انصاری صحابہ کو ان مہاجرین کا جو وارث بنایا گیا تھا اب وہ حکم منسوخ ہوگیا، کیونکہ وہ ایک عارضی حکم تھا جو اس وجہ سے دیا گیا تھا کہ ان مہاجرین کے رشتہ دار مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے، اب چونکہ وہ آگئے ہیں اس لیے میراث کا اصل حکم کہ وہ قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، واپس آگیا۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال:4)
ترجمہ:
مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء:146)
ترجمہ:
البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے، اپنی اصلاح کرلیں گے، اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیں گے اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے بنالیں گے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا کرے گا۔
(6) الصادقون (سچے):
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (الحشر:8)
ترجمہ:
(نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ (٦) وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔
تشریح:
ان مفلسین تارکین میں حضرت ابوہریرہؓ بھی تھے جو صرف اللہ تعالی کی خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہنے اور ساتھ دینے اپنا وطن چھوڑ کر آئے تھے ۔ بہت ہی مفلسی سے مدینہ میں رہتے تھے ان کے بہت سے واقعات مشہور ہیں کبھی کبھی فاکہہ کشی لمبی ہوجاتی تھی ۔ پر آپ یہ سب دین اسلام سیکہنے کے واسطے برداشت کرتے رہے قرآن کریم کی اس آیت کے مصداق اولین یہی ہیں اور جو انہیں جہوٹا کہتے ہیں یہ آیت ان کی تکذیب کرتی ہے ۔
(٦) یعنی وہ صحابہ جنہیں کافروں نے مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا، اور وہ اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم ہوگئے۔
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (الحجرات:15)
ترجمہ:
ایمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔
وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (33) لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ (الزمر:34)
ترجمہ:
اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں ۔ ان کو اپنے پروردگار کے پاس ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ ہے نیک لوگوں کا بدلہ ۔
أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ (الاحقاف:16)
ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے، اور ان کی خطاؤں سے درگزر کریں گے (جس کے نتیجے میں) وہ جنت والوں میں شامل ہونگے، اس سچے وعدے کی بدولت جو ان سے کیا جاتا تھا۔
(7) الفائزون (کامیاب):
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (التوبۃ:20)
ترجمہ:
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (الحجرات:7)
ترجمہ:
اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ (٤) ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔
تشریح:
(٤) سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا کہ حضرت ولید بن عقبہ کے واقعے میں ہوا کہ وہ تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ بنو مصطلق لڑائی پر آمادہ ہیں، اس لیے ان کی رائے تو یہی ہوگی کہ ان سے جہاد کیا جائے، لیکن اگر آنحضرت ﷺ ان کی رائے پر عمل کرتے تو خود مسلمانوں کو نقصان پہنچتا۔ چنانچہ آگے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اس لیے وہ اطاعت کے اسی اصول پر عمل کرتے ہیں۔
(9) الْمُهْتَدُونَ (ہدایت یافتہ) :
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ:157)
ترجمہ:
أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ:157)
ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔
(10) الْمُصْلِحِينَ (اصلاح کرنے والے) :
وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ (الاعراف:170)
اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
(11) الصَّالِحِينَ (نیکوکار) :
يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (آل عمران:114)
ترجمہ:
یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے۔
(12) شہداء (شہید لوگ) :
ترجمہ:
اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (الحدید:19)
ترجمہ:
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ (١٥) ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔
تشریح:
(١٥) صدیق کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنے قول وفعل کا سچا ہو اور یہ انبیائے کرام کے بعد پرہیزگاری کا سب سے اونچا درجہ ہے، جیسا کہ سورة نساء (النساء:٧٠) میں گزرا ہے، اور شہید کے لفظی معنی تو گواہ کے ہیں، اور قیامت میں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے پرہیزگار افراد پچھلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرۃ (١٤٣) میں گزرا ہے، نیز شہیدان حضرات کو بھی کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی پیش کریں، یہاں یہ بات منافقوں کے مقابلے میں فرمائی جارہی ہے کہ صرف زبان سے ایمان کا دعوی کرکے کوئی شخص صدیق اور شہید کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ وہی لوگ یہ درجہ حاصل کرسکتے ہیں جو دل سے سچا اور پکا ایمان لائے ہوں، یہاں تک کہ اس ایمان کے آثار ان کی عملی زندگی میں پوری طرح ظاہر ہوں۔
(13) اھل التقوی (پرہیز گار) :
إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الفتح26)
ترجمہ :
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو اللہ نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اوران کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے۔
تشریح:
اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ اہلِ تقوی تھے لہذا جو بھی ان کو اہل ضلال کہتا ہے وہ زندیق ہے ۔
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرۃ:177)
ترجمہ:
نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو(*)، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خڑچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔
تشریح:
(14) الصابر (جمے رہنے والے) :
قُلْ يَاعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر:10)
ترجمہ:
کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ (٦) جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔ تشریح:
(٦) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے۔
(15) الْمُجَاهِدِينَ (جہاد کرنے والے) :
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ (محمد:31)
ترجمہ:
اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کرلیں۔
(16) الْعَامِلِينَ (عمل کرنے والے) :
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135) أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (آل عمران:136)
ترجمہ:
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بےحیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فورا اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے ؟ اور یہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔
یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہونگے، جن میں انہین دائمی زندگی حاصل ہوگی، کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے۔
(17) اہلِ توبہ و رحمۃ (توبہ کرنے والے) :
لَّقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ( التوبہ 117 )
ترجمہ :
بےشک اللہ نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔
تشریح:
یہ آیت ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے جو کسی وجہ سے جنگِ تبوک میں شامل نہیں ہوسکے تھے اور بعد میں رسول اللہ ﷺ سے سچ بات کہی کہ وہ سستی کی وجہ سے نہیں جاسکے تو ان سے سوشل بائیکاٹ کیا گیا تانکہ قرآن کریم کی یہ آیت اور اس اگلی آیت ان کے حق میں نازل ہوئی جن میں ان کی توبہ کو قبول کیا گیا ۔ وہ تین تھے اور حضرت کعب بن مالکؓ ان میں سے ایک تھے۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرۃ:218)
ترجمہ:
(اس کے برخلاف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تو وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (التوبۃ:71)
ترجمہ:
اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔
(18) المبشرون من ربھم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے) :
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ (التوبہ 20-21)
ترجمہ :
جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے۔
تشریح:
صحابہ کی جماعت اس امت کے وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو سیدہا اللہ تعالی سے خوشخبری سننے والے تھے وہ کتاب اللہ کے سیدہے مخاطب تھے
(19) خیر الامت اخرجت الناس (لوگوں میں سے چنے گئے بہترین فرد) :
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ (آل عمران 110 )
ترجمہ :
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے چنے گئے ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے)اور اکثر نافرمان ہیں۔
تشریح:
یہ چنے گئے بہترین لوگ وہ تھے جو مکہ میں ایمان لے آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ خیر امت سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ساری امت کے لئے ہے بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد کا زمانہ پھر اک کے بعد کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تفسیر ابن کثیر تفسیر سورہ آلعمران اایت 110)
مصنف عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید ، فریابی ، امام احمد ، امام نسائی ، ابن جریر ، ابن ابی حاتم ، ابن منذر ، طبرانی اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے کہ کنتم خیر امۃ سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں حضور ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کی۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت سدی سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ امیر المومنین عمر بن الخطابؓ نے فرمایا اگر اللہ تعالی چاہتا تو فرماتا انتم تو ہم سب اس میں شامل ہوجاتے لیکن فرمایا کنتم اور یہ صرف حضور ﷺ کے صحابہ کے لئے خاص ہے اور جس نے ان کے اعمال جیسے اعمال کئے وہ بھی خیر امت میں داخل ہونگے۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
اگر اس آیت کو ساری امت کے لئے لیا جائے تب بھی اس کے پہلے مصداق اور فرمان نبوی ﷺ کے مطابق سب سے بہترین صحابہ ہی ہیں جو اس دین کو لوگوں تک پہنچانے کے واسطے چنے گئے ۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
(20) جنت کا وعدہ الٰہی:
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (الحدید:10)
ترجمہ:
اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتحِ مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ (٧) یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
تشریح:
(٧) فتح مکہ (سن ٨ ھ) سے پہلے مسلمانوں کی تعداد اور ان کے وسائل کم تھے اور دشمنیاں زیادہ، اس لیے اس زمانہ میں جن حضرات نے جہاد کیا اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ان کی قربانیاں زیادہ تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ثواب میں بھی ان کا زیادہ بڑادرجہ رکھا ہے اور فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور وسائل میں بھی اضافہ ہوگیا تھا، اور دشمنیاں بھی کم ہوگئی تھیں، اس لیے جن حضرات نے فتح مکہ کے بعد جہاد اور صدقات وغیرہ میں حصہ لیا ان کو اتنی قربانی دینی نہیں پڑی، اس لیے ان کا درجہ وہاں تک نہیں پہنچا ؛ لیکن اگلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی ہے کہ بھلائی یعنی جنت کی نعمتیں دونوں ہی کو ملیں گی۔
لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (یونس:26)
ترجمہ:
جن لوگوں نے بہتر کام کیے ہیں، بہترین حالت انہی کے لیے ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی (١٤) نیز ان کے چہروں پر نہ کبھی سیاہی چھائے گی، نہ ذلت۔ وہ جنت کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
تشریح:
(١٤) وعدے کا یہ انتہائی لطیف پیرایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ”کچھ اور“ کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، بلکہ پردے میں رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں تمام بہترین نعمتوں کے علاوہ کچھ نعمتیں ایسی ہوں گی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو بیان بھی فرما دیں تو ان کی لذت اور حلاوت کو انسان اس وقت محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ بس انسان کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اضافی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہی کی شان کے مطابق ہوں گی۔ آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یہ منقول ہے کہ جب تمام جنتی جنت کی نعمتوں سے سرشار اور ان میں مگن ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، اب ہم اسے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جنت کے لوگ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں دوزخ سے بچا کر اور جنت عطا فرما کر سارے وعدے پورے کردئیے ہیں۔ اب کونسا وعدہ رہ گیا ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنا حجاب ہٹا کر اپنی زیارت کرائیں گے، اور اس وقت جنت والوں کو محسوس ہوگا کہ یہ نعمت ان تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہے جو انہیں اب تک عطا ہوئی ہیں۔ (روح المعانی بحوالہ صحیح مسلم وغیرہ)
إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (الانبیاء:101)
ترجمہ:
(البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جاچکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔
(21) پاکباز:
اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ ۚ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (النور:26)
ترجمہ:
گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق (١٤) ۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔
(١٤) اشارہ فرما دیا گیا کہ اس کائنات میں نبی کریم ﷺ سے زیادہ پاکباز شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اس اصول کے تحت یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زوجیت میں کسی ایسی خاتون کو لائے جو (معاذ اللہ) پاکباز نہ ہو، کوئی شخص اسی بات پر غور کرلیتا تو اس پر اس تہمت کی حقیقت واضح ہوجاتی۔
(22) صفاتِ صحابہ:
الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ (آل عمران:17)
ترجمہ:
یہ لوگ بڑے صبر کرنے والے ہیں، سچائی کے خوگر ہیں، عبادت گزار ہیں (اللہ کی خوشنودی کے لیے) خرچ کرنے والے ہیں، اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے رہتے ہیں۔
إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب:35)
ترجمہ:
بیشک فرماں بردار مرد ہوں یا فرماں بردار عورتیں (٢٩) مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں، عبادت گزار مرد ہوں یا عبادت گزار عورتیں، سچے مرد ہوں یا سچی عورتیں، صابر مرد ہوں یا صابر عورتیں، دل سے جھکنے والے مرد ہوں یا دل سے جھکنے والی عورتیں (٣٠) صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ دار مرد ہوں یا روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد ہوں یا ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے۔
تشریح:
(٢٩) مسلمانوں کو قرآن کریم میں جب بھی کوئی حکم دیا گیا ہے، یا ان کو کوئی خوشخبری دی گئی ہے، تو عام طور سے مذکر ہی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اگرچہ خواتین بھی اس میں داخل ہیں، (جیسا کہ دنیوی قوانین میں بھی صورت حال یہی ہے) لیکن بعض صحابیات کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ خاص مونث کے صیغے کے ساتھ بھی خواتین کے بارے میں کوئی خوشخبری دیں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(٣٠) یہ ” خشوع “ کا ترجمہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کے وقت دل عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ اس کا بیان سورة مومنون کی دوسری آیت میں گذر چکا ہے۔
*تم میں سب سے بہترین امت/زمانہ/لوگ میرے زمانہ کے(صحابہ)ہیں، پھر جو انکے بعد(تابعین)ہیں، پھر جو انکے بعد(تبع تابعین)ہیں۔۔۔*
[بخاری:6428]
*پھر تمہادے بعد وہ لوگ آئیں گے جو خیانت کریں گے اور امانتداری نہ ہوگی، مانگے سے پہلے(جھوٹی)گواہیاں دیتے پھریں گے، ﴿قسم لینے سے پہلے گواہیاں دیں گے اور کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے﴾، اور نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے۔ اور موٹاپا ان میں عام ہوگا۔*
(3) عليكم بأصحابى ۔۔۔ میرے ساتھیوں(کی اتباع)کو لازم پکڑو۔۔۔
[جامع الاحادیث:30589]
(4) ۔۔۔ إن أصحابى خياركم فأكرموهم ۔۔۔ بےشک میرے ساتھی بہتریں لوگ ہیں لہٰذا اکرام کرو ان کا ۔۔۔
(5) أمتى على خمس طبقات فأربعون سنة أهل بِرٍّ وتقوى ثم الذين يَلُونَهُمْ إلى عشرين ومائة سنة أهل تَرَاحُمٍ وَتَوَاصُلٍ ثم الذين يلونهم إلى ستين ومائة سنة أهل تَدَابُرٍ وَتَقَاطُعٍ ثم الْهَرْجُ الْهَرْجُ النجا النجا۔
ترجمہ:
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے پانچ طبقات ہوں گے: چالیس(40)سال تک نیکی اور تقوی والے لوگ ہوں گے، ان کے بعد ایک سو بیس(120)سال تک ایک دوسرے پر رحم کرنے والے اور باہمی تعلقات اور رشتہ داریوں کو استوار رکھنے والے لوگ ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو ساٹھ(160)برس تک ایسے لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے دشمنی رکھیں گے اور تعلقات توڑیں گے، اس کے بعد قتل ہی قتل ہوگا۔ نجات مانگو نجات۔
[سنن ابن ماجه:4058]
(6) أوصيكم بأصحابى خيرًا ثم الذى يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف ويشهد الشاهد ولا يستشهد ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان عليكم بالجماعة وإياكم والفرقة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد من أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة من سرته حسنته وساءته سيئته فذلكم المؤمن۔
(7) «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
ترجمہ:
بےشک سب سے سخت لوگوں میں آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(یعنی صحابہ)، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(یعنی تابعین)، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(تبع تابعین)۔
[مسند أحمد:27124 . قال الهيثمى (2/292) : إسناد حسن، المعجم الکبیر الطبرانى:627، المستدرک الحاكم:8231]
ایک روایت مزید فرمایا:
۔۔۔ انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کردی جاتی ہے اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
[ترمذی:2398، ابن ماجہ:4023، احمد:1494]
"بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ"۔
(رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)
(مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲)
حضرت سعید بن زیدؓ سے مروی ہے:
«لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ»
[ابوداؤد:4650، احمد:1629، الأحاديث المختارة:1083-1085، مصنف ابن ابی شیبہ:31946]
لہٰذا، بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی کسی ادنیٰ صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔
ایک اور روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا:
حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
[سنن ترمذی: بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ ،حدیث نمبر 3862]
ترجمہ:
لوگو! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ،جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے در حقیقت مجھ سے بغض رکھا ،جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس نے مجھ کو اذیت پہچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالی اس کو پکڑلے۔
[ترمذی:3862، احمد:20549، الروياني:882، السُّنَّة لأبي بكر بن الخلال:830، الشريعة للآجري:1991، البغوي:3860، التاريخ الكبير(امام)البخاري:389، ابن أبي عاصم:992]
کتاب العقائد:
حضرت جابر بن عبداللهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے ، پس بیشک علم کو چھپانے والا اس دن ایسا ہوگا جیسے چھپانے والا ہو اس چیز کا جو(شریعت) نازل کی الله نے محمد ﷺ پر.
[الشريعة، للآجري :1987
السنة، لابن أبي عاصم (المتوفى: 287هـ)رقم الحديث:994
السنن الواردة، الداني (المتوفى: 444هـ) :287،الرسالة الوافية:1/285
الإبانة الكبرى لابن بطة(المتوفى: 387هـ):49
فيض القدير شرح الجامع الصغير (المتوفى: 1031هـ):751(1/401)
السيوطي في مفتاح الجنة (1/ 66) ،جامع الأحاديث:2335(2/352)
الديلمي:1/206،التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِير:747(2/140)
المدخل،لابن الحاج:1/6
حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَلَّبِ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ السَّاحِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَدَثَ فِي أُمَّتِي الْبِدَعُ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ : مَا إِظْهَارُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ : إِظْهَارُ السُّنَّةِ ، إِظْهَارُ السُّنَّةِ .
[الشريعة للآجري » كِتَابُ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَؓ » بَابُ عُقُوبَةِ الإِمَامِ وَالأَمِيرِ لأَهْلِ الأَهْوَاءِ ... رقم الحديث:2075]
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں پیدا ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے گا اس پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔ عبداللہ بن حسن ؒ نے فرمایا کہ میں نے ولید بن مسلم سے دریافت کیا کہ حدیث میں اظہار علم سے کیا مراد ہے ، فرمایا:اظہار سنت.
(الاعتصام للشاطبی:١/٨٨)1/104
فيض القدير شرح الجامع الصغير:751(1/401)
ديلمي:1/206، التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ:747(2/140)
جامع الأحاديث:2336،مفتاح الجنة:1/68
والربيع في مسنده (1 / 365)
والديلمي في الفردوس (1 / 321)
قال السيوطي في الدر المنثور (2 / 402)
والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي (2 / 118)
ابن عساكر في «تاريخ دمشق» (54/80 - ط. دار الفكر) (5/ق331)
حضرت عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں نے اپنے پروردگار سے اپنے صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلاف کے بارے میں پوچھا جو (شریعت کے فروعی مسائل میں ) میرے بعد واقع ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مجھ کو آگاہ کیا کہ اے محمد (ﷺ)! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے صحابہ کرامؓ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان پر ستارے، (جس طرح) ان ستاروں میں سے اگرچہ بعض زیادہ قوی یعنی زیادہ روشن ہیں لیکن نور (روشنی) ان میں سے ہر ایک میں ہے (اسی طرح صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق نور ہدایت رکھتا ہے ) پس جس شخص نے (علمی وفقہی مسائل میں ) ان اختلاف میں سے جس چیز کو بھی اختیار کر لیا میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے حضرت عمرؓ کہتے ہیں اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ " میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں (پس تم ان کی پیروی کرو) ان میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے ۔ (رزین)

"من بعدی" سے مراد ان صاحبوں کی حالتِ خلافت ہے، کیوں کہ بلاخلافت تو دونوں صاحب آپکے روبرو بھی موجود تھے. پس مطلب یہ ہوا کہ ان کے خلیفہ ہونے کی حالت میں ان کی اتباع کیجیو اور ظاہر ہے کہ خلیفہ ایک ایک ہوں گے. پس حاصل یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں تو ان کا اتباع کرنا، حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ان کا اتباع کرنا، پس ایک زمانہ خاص تک ایک معین شخص کی اتباع کا حکم فرمایا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان کے احکام کی دلیل بھی دریافت کرلیا کرنا.اور نہ یہ عادت مستمرہ (جاریہ) تھی کہ دلیل کی تحقیق ہر مسئلے میں کی جاتی ہو اور یہی تقلیدِ شخصی ہے. کیونکہ حقیقتِ تقلیدِ شخصی یہ ہے کہ ایک شخص کو جو مسئلہ پیش آوے وہ کسی مرجح کی وجہ سے ایک ہی عالم سے رجوع کیا کرے اور اس سے تحقیق کر کے عمل کیا کرے. اور اس مقام میں اس کے وجوب سے بحث نہیں اور آگے مذکور ہے اس کا جواز اور مشروعیت اور موافقت اور سنّت ثابت کرنا مقصود ہے، گویا ایک معین زمانے کے لئے سہی. "ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے" کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح گھپ اندھیری رات میں آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے مسافروں کو دریا وجنگل کے راستوں کا نشان بتاتے ہیں جس کی قرآن کریم نے ان الفاظ میں آیت (وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل : 16) (اور ستاروں کے ذریعہ وہ راستہ پاتے ہیں ) میں اشارہ کیا ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی سچائی کے راستے کو ظاہر کرنے اور برائی کے اندھیروں کو دور کرنے والے ہیں کہ ان کے نورانی وجود ، ان کے اخلاق و کردار اور ان کی روایات وتعلیمات کی روشنی میں راہ حق نمودار ہوتی ہے اور بدی کا اندھیرا چھٹ جاتا ہے ۔
*علم کیا ہے؟*
حافظ ابن عبدالبرؒ (م463ھ) امام اوزاعیؒ (م157ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شاگرد بقیہ بن الولید(م197ھ) سے فرمایا:
يَا بَقِيَّةُ، الْعِلْمُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَمْ يَجِئْ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ بِعِلْمٍ
[جامع بیان العلم:1067+1420+1421،
فتح
الباري شرح صحيح البخاري:ج13 ص291، سلسلة الآثار الصحيحة:322]
*اے بقیہ! علم تو وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابِ کرام سے منقول Transmitted ہو اور جو ان سے منقول نہیں وہ علم نہیں۔*
امام شعبیؒ (م103ھ) فرماتے ہیں :
«مَا حَدَّثُوكَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ فَشُدَّ عَلَيْهِ يَدَكَ وَمَا حَدَّثُوكَ مِنْ رَأْيِهِمْ فَبُلْ
عَلَيْهِ»
[الإبانة الكبرى لابن بطة:607، المدخل
إلى السنن الكبرى للبيهقي:814+1898، جامع بیان العلم:1066]
يعني *جو باتیں تمہارے سامنے لوگ صحابۂ کرام کی جانب سے نقل فرمائیں تو انہیں اختیار کرلو اور جو باتیں اصولِ شرع کے خلاف اپنی طرف سے کہیں انہیں بے زاری کے ساتھ ٹھکرادو۔*
حضرت حسن
بصریؒ (م110ھ) اصحابِ رسول کی مدح میں فرماتے ہیں:
«إِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ قُلُوبًا،
وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، قَوْمًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ
لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَتَشَبَّهُوا
بِأَخْلَاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ عَلَى
الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ
یہ جماعت پوری امت میں سب سے زیادہ مخلص اور نیک دل سب سے زیادہ گہرے علم کے ساتھ متصف سب سے زیادہ بے تکلف جماعت تھی خداوندِ قدوس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیلئے انہیں منتخب فرمایا تھا ۔ وہ آپ کے اخلاق اور آپ کے طریقوں سے مشابہت کی جدوجہد اور اسی کی سعی میں رہا کرتی تھی ان کو لگن تھی تو اسی کی تلاش و دھن تھی تو اسی کی، رب کعبہ کی قسم ہے کہ وہ جماعت صراطِ مستقیم پر گامزن تھی۔
[الشريعة
للآجري:1161+1984، جامع بيان العلم:1807،
ذم التأويل،لابن قدامۃ:63]
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس سے بھی زیادہ صاف اور شاندار اور مکمل انداز میں اتباعِ صحابہ کی تاکید کی ہے، فرماتے ہیں:
«مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ
مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ
الْأُمَّةِ قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا وَأَقْوَمَهَا
هَدْيًا وَأَحْسَنَهَا حَالًا، قَوْمًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لِصُحْبَةِ
نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ
وَاتَّبِعُوهُمْ فِي آثَارِهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهُدَى
الْمُسْتَقِيمِ»
ترجمہ:
*تم میں سے جس کو اقتداء کرنی ہو وہ حضور اکرم ﷺ کے صحابہ ہی کی اقتدا ء کرے کیوں کہ وہ نیک دلی میں سب سے زیادہ اور علم میں سب سے زیادہ گہرے نہایت بے تکلف مضبوط کیرکٹر اور سب سے بہترین حالات کے لوگ تھے ۔ خدا وند علیم و خبیر نے اس بہترین جماعت کو اپنے بہترین رسول کی صحبت اور دین کی حفاظت کیلئے انتخاب فرمایا اس لئے تم بھی ان کی فضیلت کو پہچانو اور ان کے ہی نقش قدم پر چلو اس لئے کہ وہ صراط مستقیم اور سیدھے راستہ پر تھے۔*
(القاموس الفقہی،باب حرف الصاد:۱/۲۰۷ شیخ سعدی ابو حبیب رحمۃ اللہ علیہ)
ما من نفس منفوسۃ الیوم یأتي علیہا مائۃ سنۃ وہی حیۃ یومئذ۔ (مسلم کتاب فضائل الصحابۃ ، حدیث نمبر : ۲۵۳۸)
" آج کوئی متنفس نہیں کہ سو سال گذرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہے"۔
(۱)"ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ..الخ۔
(فاطر:۳۲)
(۲)"قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی"۔
(النمل:۵۹)
(الفتح:۲۹)
(التوبہ:۱۰۰)
(الحجرات:۷)
(المجادلہ:۲۲)
"اِنَّ اﷲَ اخْتَارَ اَصْحَابِیْ عَلٰی العٰالَمِیْنَ سِوٰی النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ.... وَقَالَ فِیْ اَصْحَابِیْ کُلُّھُمْ خَیْرٌ"۔
(مجمع الزوائد:۱۰/۱۶)
"اِنَّ اﷲَ اخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَ لِیْ اَصْحَابِیْ...الخ"۔
(الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ إلی الجامع الصغیر، باب حرف الھمزۃ، حدیث نمبر:۳۲۲۴، صفحہ نمبر:۱/۲۹۷)
"خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ"۔
(بخاری، باب لایشھد علی شھادۃ جور، حدیث نمبر:۲۴۵۸)
"بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ"۔
(رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)
(مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲)
"خَیْرُالْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ"۔
(مسلم:کتاب فضائل الصحابۃ،حدیث نمبر:۴۶۰۰)
(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر:۴۶۱۰)
(ترمذی، بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،حدیث نمبر ۳۷۹۷)
(ابوداؤد،باب فی الخلفاء،حدیث نمبر۴۰۳۱)
(شرح فقہ اکبر:۲۲۹)
(حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر:۴/۴۴۔۴۴۳)
لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًاo
(الفتح :۱۸)
"اللہ ایمان والوں سے خوش ہوا جب تجھ سے بیعت کرنے لگے اس درخت کے نیچے" ۔
تاریخِ اسلامی میں جھوٹے راویوں کا کردار
"اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ"۔
(ھود:۱۱۴)
(ملخص مقام صحابہ:۱۱۱۔۱۱۴، از مفتی محمدشفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ)
صحابہ اورمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
(البدایہ:۳/۳۰)
(صحیح بخاری،کتاب فضائل القرآن،حدیث نمبر:۴۶۰۳)
(فتح الباری:۹/۱۱۔بحوالہ ابن ابی داؤد)
(اتقان:۱/۶۰)
(البرہان فی علوم القرآن للزرکشی:۱/۲۳۸)
(ابوداؤد،بَاب فِي كِتَابِ الْعِلْمِ، حدیث نمبر:۳۱۶۱)
(بخاری شریف، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)
(بخاری، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)
(ابوداؤد، کتاب الاطعمہ، باب فی دواب البحر۔ مسلم، کتاب الایمان، باب من لقی اللہ بالایمان وہو غیر شاک فیہ داخل الجنتہ وحرم علی النار)
(مسلم، کتاب اللجہاد، باب غزوہ ذات الرقاع)
(طبری،صفحہ نمبر:۲۴۴۱)
(آل عمران:۲۰۰)
(طبری،صفحہ نمبر:۲۶۹۶)
(طبری،صفحہ۲۶۹۰)
(طبری ،صفحہ نمبر:۲۱۷۱)
(ایضا،۲۱۲۶)
(فتوح البلدان: ۱۴۴)
(طبری، صفحہ نمبر:۲۳۹۵)
(طبری، صفحہ نمبر:۲۷۵۶)
(طبری،صفحہ نمبر:۲۲۹۱)
(طبری،صفحہ نمبر:۲۲۶۴)
(ترمذی،تفسیر القرآن سورہ ذاریات)
(ملخص سیر صحابہ:ج،۵ حصہ دوم:۱۷۶)
(النور:۵۵۔۵۶)
اور اصولِ حدیث کے تحت ضعیف روایت مقبول ہوتی ہے: فضائل میں ، شواہد ملنے پر اور تلقی بالقبول (علماۓ امّت کا اس حدیث کے متن و مضمون کو قبول کرنے) کے سبب.
دیکھئے: ضعیف حدیث پر عمل کے شرائط
صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعداد
(مقدمہ اصابہ :۴)
(بخاری، کتاب موقیت الصلوٰۃ،بَاب السَّمَرِ فِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ،حدیث نمبر:۵۶۶)
(مشکوۃ،باب اعتصام بالکتاب والسنۃ ،حدیث نمبر:۱۹۳،ازرزین)
"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاۭ"۔
(المائدہ: ۳)
(خلاصہ سیر الصحابہ:۵/۷)







No comments:
Post a Comment