Wednesday, 7 November 2012

معیاِر حق، ایمان و ہدایت : اصحاب رسول الله ﷺ


اصحاب کے معنیٰ ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والے۔
﴿جیسے الله پاک نے ارشاد فرمایا:
أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ...یہی ہیں جنت میں ہمیشہ رہنے والے[سورۃ الاعراف:44]﴾
خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے، اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے، یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے (الطوایل) (اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے) اور عرف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔
إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ
[سورۃ التوبة:40]
اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔
پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو۔
قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ
[سورۃ الكهف:34]
تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا ۔
اور آیت کریمہ :
أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ
[سورۃ الكهف:9]
کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ۔
اور آیت کریمہ :
وَأَصْحابِ مَدْيَنَ
[سورۃ الحج:44]
اور مدین کے رہنے والے بھی۔
اور آیت کریمہ :
أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ
[سورۃ البقرة:82]
وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے۔
اور آیت کریمہ :
وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ
[سورۃ القلم:48]
اور مچھلی ) کا لقمہ ہونے والے ( یونس علیہ السلام) کی طرح نہ ہونا ۔
اور آیت کریمہ :
مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ
[سورۃ فاطر:6]
( تاکہ وہ ) دوزخ والوں میں ہوں ۔
اور آیت کریمہ :
وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً
[سورۃ المدثر:31]
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں۔
میں اصحاب النار سے دوزخی مراد نہیں ہیں بلکہ دوزخ کے داروغے مراد ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ پھر صاحب کا لفظ کبھی ان کی طرف مضاف ہو تو ہے جو کسی کے زیر نگرانی ہوتے ہیں جیسے صاحب الجیش (فوج کا حاکم اور کبھی حاکم کی طرف جیسے صاحب الاسیر (بادشاہ کا وزیر) المصاحبۃ والا صطحاب میں بنسبت لفظ الاجتماع کے مبالغہ پایا جاتا ہے کیونکہ مصاحبۃ کا لفظ عرصہ دراز تک ساتھ رہنے کو مقتضی ہے اور لفظ اجتماع میں یہ شرط نہیں ہے لہذا اصطحاب کے موقعہ پر اجتماع کا لفظ تو بول سکتے ہیں مگر اجتماع کی جگہ پر ہر مقام میں اصطحاب کا لفظ نہین بول سکتے اور آیت کریمہ : ۔ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [سورۃ سبأ:46] تمہارے رفیق کو سودا نہیں میں رسول اللہ ﷺ کو صاحبکم کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ تم نے ان کے ساتھ زندگی بسر کی ہے ان کا تجربہ کرچکے ہو اور ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہوچکے ہو پھر بتاؤ کہ ان میں کوئی دماغی خلل یا دیوانگی پائی جاتی ہے یہی معنی آیت: وما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [سورۃ التکوير:22] کے ہیں ۔ الا صحاب للشئی کے معنی ہیں وہ فرمانبردار ہوگیا اصل میں اس کے معنی کسی کا مصاحب بن کر اس کے ساتھ رہنے کے ہیں ۔ چناچہ اصحب فلان اس وقت بولتے ہیں جب کسی کا بیٹا بڑا ہو کر اس کے ساتھ رہنے لگے ۔ اور اصحب فلان فلانا کے معنی ہیں وہ اس کا ساتھی بنادیا گیا قرآن میں ہے : ۔
وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ
[سورۃ الأنبیاء:43]
اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے ۔
یعنی ہماری طرف سے ان پر سکینت تسلی کشائش وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا ساتھ نہیں دیا جائے گا جیسا کہ اس قسم کی چیزوں سے اولیاء اللہ کی مدد کی جاتی ہے ۔ ادیم مصحب : کچا چمڑہ جس سے بال نہ اتارے گئے ہوں۔

[مفردات القرآن، امام الراغب الاصفھانی]


رضائے الٰہی پالینے والے کون؟
القرآن: 
مہاجر وانصار(صحابہ)سے الله راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔
[سورۃ التوبة:100 {المائدة:119، المجادلة:22، البينة:8}]

علامہ ابن تیمیہؒ  نے ’’الصارم المسلول‘‘ میں قاضی ابویعلیٰ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ:
’’رضٰی‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدیم ہے، وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انھیں کے لیے فرماتا ہے، جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کی وفات اعمالِ رضا پر ہوگی۔

القرآن: 
۔۔۔ میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔
[سورۃ طٰہٰ:52]
أي لا يخطئ في سعادة الناس وشقاوتهم {وَلاَ يَنسَى} ثوابهم وعقابهم
ترجمہ:
یعنی وہ لوگوں کی خوش بختی اور بدبختی میں خطا نہیں کرتا اور ان کے ثواب اور عقاب کو نہیں بھولتا۔
رضائے الٰہی دلانے والے(اصحابِ رسول ﷺ کے) اعمال واخلاق»

اور اللہ راضی ہوتا ہے۔۔۔۔

(1)پرہیزگاری اختیار کرنے والوں سے
[آل عمران:15]

(2)سچا رہنے والوں سے
[المائدۃ:119]

(3)ایمان لانے والوں سے
[التوبہ:72]

(4)شکر(حق)ماننے والوں سے
[الزمر:7]

(5)نیک اعمال کرتے رہنے والوں سے
[الاحقاف:15]

(6)بیعت(آزمائش)میں پورا اترنے والوں سے
[الفتح:18]

(7)الله اور رسول کے  مخالفین سے محبت نہ رکھنے والے، چاہے وہ(مخالفین) ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہوں
[المجادلہ:22]

(8)رب سے ڈرنے والوں سے
[البینۃ:8]


علم العقائد کی معروف کتاب المسامرۃ شرح المسایرۃ میں ہے:
          ’’و اعتقاد أھل السنۃ و الجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منہم و الکف عن الطعن فیہم و الثناء علیہم … و ما جریٰ بین علی و معاویۃ رضی اللّٰہ عنہما … کان مبنیاً علی الاجتہاد من کل منہما لامنازعۃ من معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فی الامامۃِ‘‘ 
            ترجمہ:
اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ تمام صحابۂ کرام کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے اس طرح کہ ا ن سب کے لیے عدالت ثابت کرنا اور ان کے بارے طعن سے رکنا اور ان کی مدح و ثنا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اور حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جو کچھ معاملہ پیش آیا یہ دونوں حضرات کے اجتہاد کی بنا پر تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکومت و امامت کا جھگڑا نہیں تھا۔
[المسامرۃ شرح المسایرۃ ۲۶۹، ۲۷۰]





🧠 عقلی دلائل (منطق)
1. عدالتِ صحابہ کا تقاضا
قرآنی آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام عادل اور قابلِ اعتماد تھے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کسی گروہ کی اس قدر مدح فرمائی، تو ان کی اتباع ہی دین کا ذریعہ ہے۔ ان کی مخالفت کا مطلب ہے ایک ایسے گروہ کو غلط ٹھہرانا جسے اللہ نے خود سچا اور سیدھا قرار دیا ہے۔

2. دین کی حفاظت اور صحابہ کا کردار
صحابہ کرام وہ درمیانی کڑی ہیں جن کے ذریعے قرآن و سنت ہم تک پہنچی۔ اگر ان کی دیانت اور علمی حیثیت پر کوئی حرف آجائے، تو پورے دین کی بنیاد ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کی جماعت کی مخالفت عملاً دین کے ماخذ کو ہی مسترد کرنا ہے۔

3. مخالفت کے لازمی نتائج
صحابہ کرام کی اتباع اور ان سے محبت ایمان کی علامت ہے۔ اس کے برعکس، ان کی مخالفت اور بغض کا مطلب ایمان سے باہر نکل جانا ہے، کیونکہ یہ عمل رسول اللہ ﷺ کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے۔

4. صحابہ کا علمی مقام
صحابہ کرام نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے علم حاصل کیا اور دین کو سمجھا۔ وہ دین کے سب سے بڑے عالم تھے۔ ان کی جماعت کے متفقہ موقف کی مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی عقل یا بعد میں آنے والے کسی شخص کو ان مقدس ہستیوں پر ترجیح دے رہا ہے، جو عقل کے خلاف ہے۔

القرآن:

اور جب ان(کفار ومنافقين)سے کہا جاتا ہے کہ تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ جیسے دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں۔۔۔۔

[سورۃ البقرۃ:13]


یعنی اصحابِ محمد ﷺ کی طرح سچے بنو۔

[تفسير الطبري:1/292، تفسير ابن أبي حاتم: 127، تفسير السمرقندي:1/28، تفسير ابن عطية:1/94، الدر المنثور:1/77]


یعنی اصحابِ محمد کی طرح ایمان لاؤ۔

[تفسير الماتريدي:1/385، تفسير الماوردي:1/75، الوجيز للواحدي: ص93، تفسير الراغب الأصفهاني:1/102، تفسير القرطبي:1/205، تفسير ابن جزي:1/71، تفسير الجلالين:ص5، الدر المنثور:1/77]



لہٰذا اہل بیت تو اول صحابی ہیں،کیونکہ انہوں نے نبی کی صحبت پہلے اور زیادہ پائی ہے۔


وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا
اور کون ہوگا اللہ کے مقابلہ میں زیادہ سچا قول میں۔
[سورۃ النساء:122]












صحابہؓ کی قرآنی شان:
تمام صحابہ(نبی کے ساتھی)حقیقی مومن، بخشش اور عزت والا(جنتی)رزق پانے والے ہیں.
[دلیلِ قرآن-سورۃ الانفال:74]

وہ معیارِحق اور تنقید سے بالاتر ہیں، بلکہ ان گستاخ ہی بیوقوف ہیں۔
[البقرۃ:13، 137]

وہ اس قابل ہیں کہ ان پیروی کی جائے اور وہ جنتی ہیں۔
[التوبۃ:100 الحدید:10]

دین میں فقہ(سمجھ)بھی ان سے حاصل ہوگی(ان کے بغیر نہیں)۔
[التوبہ:122]

پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی خوبیاں پہلی کتابوں تورات وانجیل میں بیان کرتے انہیں محمد رسول اللہ ﷺ کا ساتھی چنا جاچکا تھا۔
[الفتح:29]

الله ان سے راضی ہوچکا اور وہ اس سے راضی ہوچکے
[الفتح:18]

قیامت کے دن مواخذہ(پکڑ وحساب)سے محفوظ رہیں گے
[التحریم:8]

ان(جنتیوں)کے سینوں میں جو(باہمی)خفگی/کینہ ہوگا نکال دیا جاۓگا
[الاعراف:43]الحشر:10




لہٰذا، صحابہ کرام پر اعتراض، دراصل اللہ پاک اور اسکے قرآن مجید پر اعتراض ہے، مولوی پر نہیں۔ مولوی پر اعتراض قرآن والے نہیں کرتے کیونکہ وہی تو قرآن والے ہیں، مولویوں پر اعتراض بےعلم یا متعصب اسکالر ہی کرتا ہے۔

القرآن: کہا(نبی نے انہیں) کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے، میرا رب نہ بھولتا ہے نہ چُوکتا ہے۔ (سورۃ طٰهٰ:52)
لہٰذا، رب جو پاک ہے بھول چوک سے اور وہی ہر چیز کا خالق ہونے کی وجہ سے مالک بھی ہے اور ہر چیز کا جاننے والا قادر بھی ہے، وہ قیامت تک کے ایمان والوں کو نبی ﷺ کے صحابہؓ(ساتھیوں)کے بارے میں یہ تعلیم کیوں پڑھتے سنواتے رہنا چاہے گا؟؟؟

یہ(دلائل) اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں سچائی کے ساتھ۔ تو اب یہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ (سورۃ الجاثیۃ:6)





صحابہ کرام کے بارے میں دس بنیادی عقائد:
(1) تمام صحابہ خدائی انتخاب اور نبی ﷺ کے نمائندے ہیں۔
(2) تمام صحابہ کرام عقائداور اعمال میں معیار حجت(دلیل) ہیں۔
(3)تمام صحابہ کرام خود ہدایت یافتہ اور ہدایت کا سبب ہیں۔
(4) تمام صحابہ کرام تنقید سے بالا تر ہیں۔
(5) تمام صحابہ کرام کے مشاجرات میں خاموشی اختیار کرنا واجب ہے،
(6) تمام صحابہ کرام باہمی طور پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے۔
(7) تمام صحابہ کرام کافروں کے خلاف سخت ہیں۔
(8) تمام صحابہ کرام سے اللہ راضی ہیں اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔
(9) تمام صحابہ کرام جہنم کے عذاب سے محفوظ ہیں۔
(10) تمام صحابہ کرام پکے سچے جنتی ہیں۔




حدیث نمبر 1
عنوان: بیعت رضوان (حدیبیہ کی بیعت) اور اللہ کی رضامندی

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ - رضي الله عنهما - أَنَّهُ قَالَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنْ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ , فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ , وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا} (١) 
قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ (٢) وفي رواية: كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ (٣) 
فَبَايَعْنَا رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - (٤) تَحْتَ الشَّجَرَةِ - وَهِيَ سَمُرَةٌ - (٥) 
قَالَ جَابِرٌ: بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ , وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ (٦) 
فَبَايَعْنَاهُ كُلُّنَا إِلَّا الْجَدَّ بْنَ قَيْسٍ , اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِ , وَنَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ مِنْ الْبُدْنِ , لِكُلِّ سَبْعَةٍ جَزُورٌ (٧) 
فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -: " أَنْتُمْ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ " (٨) 
وَقَالَ جَابِرٌ: لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ , لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ (٩)

---

ترجمہ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: {بیشک اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے، پس اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا، اور ان پر سکینہ نازل فرمایا، اور انہیں قریب کی فتح (خیبر) عطا فرمائی} [الفتح: 18] کے بارے میں فرماتے ہیں:

"ہم حدیبیہ کے دن (کل) ایک ہزار چار سو (اور دوسری روایت میں: ایک ہزار پانچ سو) تھے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر درخت کے نیچے بیعت کی – اور وہ درخت ببول (سمرہ) تھا۔"

حضرت جابر نے فرمایا: "ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم (میدان جنگ سے) بھاگیں گے نہیں، اور ہم نے آپ سے موت پر بیعت نہیں کی۔"

"ہم سب نے بیعت کی سوائے جد بن قیس کے، جو اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا۔ اور ہم نے اس دن ستر اونٹ نحر کیے (بطور قربانی)، ہر سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ تھا۔"

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: "آج تم زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔"

اور حضرت جابر نے فرمایا: "اگر میری آنکھیں (اب بھی) دیکھ رہی ہوتیں تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھا دیتا۔"
---

تخریج و حوالہ جات

(١) سورہ الفتح: ١٨
(٢) صحیح البخاری: ٤٥٦٠، صحیح مسلم: ٦٧ (١٨٥٦)
(٣) صحیح مسلم: ٧٢ (١٨٥٦)، صحیح البخاری: ٣٩٢٢
(٤) سنن ترمذی: ١٥٩١، سنن النسائی: ٤١٥٨، مسند احمد: ١٤١٤٦
(٥) صحیح مسلم: ٦٧ (١٨٥٦)، مسند احمد: ١٤٨٦٥
(٦) صحیح مسلم: ٦٧ (١٨٥٦)، سنن ترمذی: ١٥٩١، سنن النسائی: ٤١٥٨، مسند احمد: ١٤١٤٦
(٧) مسند احمد: ١٥٢٩٤، صحیح مسلم: ٦٩ (١٨٥٦)، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
(٨) صحیح مسلم: ٧١ (١٨٥٦)، صحیح البخاری: ٣٩٢٣، مسند احمد: ١٤٣٥٢
(٩) صحیح مسلم: ٧١ (١٨٥٦)، صحیح البخاری: ٣٩٢٣
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص237]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

بیعت رضوان کی فضیلت

1. اللہ کی رضامندی: یہ واقعہ قرآن میں اس طرح آیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان مومنین سے اپنی رضامندی کا اعلان فرمایا۔ یہ صحابہ کرام کے مقام و مرتبے کی عظیم سند ہے۔
2. بیعت کی تعداد: حدیبیہ میں صحابہ کی تعداد ایک ہزار چار سو یا ایک ہزار پانچ سو تھی۔ مختلف روایات میں تعداد کے اختلاف کے باوجود، یہ ایک بہت بڑی جماعت تھی جس نے نبی ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔
3. درخت کی قسم: بیعت کا درخت سمرہ (ببول) تھا۔ یہ اس جگہ کی پہچان تھی جو بعد میں مٹ گئی۔
4. بیعت کا موضوع: صحابہ نے اس بیعت میں "لَا نَفِرُّ" (ہم بھاگیں گے نہیں) پر عہد کیا، یعنی جب جنگ ہو تو ثابت قدم رہیں گے۔ انہوں نے موت پر بیعت نہیں کی، یعنی ان پر زندگی اور موت دونوں صورتوں میں جہاد لازم نہیں تھا، بلکہ وہ جنگ کے وقت فرار نہ کرنے پر بیعت کر رہے تھے۔

صحابہ کی بصیرت

1. منافق کا چھپنا: جد بن قیس (جو منافق تھا) نے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ کر بیعت سے بچنے کی کوشش کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عظیم اجتماع میں بھی ایک منافق موجود تھا، لیکن اللہ نے اسے ظاہر کر دیا۔
2. قربانی کا اہتمام: صحابہ نے ستر اونٹ نحر کیے، ہر سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ۔ یہ ان کی قربانی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
3. زمین کے بہترین لوگ: نبی ﷺ نے اس موقع پر صحابہ کو "خیر أهل الأرض" (زمین والوں میں سب سے بہتر) قرار دیا۔ یہ صحابہ کی فضیلت میں ایک واضح اور مستند دلیل ہے۔

صحابہ کے بعد والوں کے لیے ہدایت

1. جگہ کا نشان: حضرت جابر نے کہا کہ اگر میری آنکھیں دیکھ رہی ہوتیں تو میں تمہیں درخت کی جگہ دکھا دیتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں ان کی بصارت چلی گئی تھی، یا شاید بڑھاپے میں ضعف آ گیا تھا۔ بہرحال ان کا یہ کہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ جگہ متعین تھی۔
2. سکینہ کا نزول: قرآن میں ہے کہ اللہ نے ان پر سکینہ نازل فرمایا۔ سکینہ سے مراد وہ طمانیت اور اطمینان ہے جو اللہ اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالتا ہے، خاص طور پر مشکل حالات میں۔
3. فتح قریب: اس بیعت کا اجر اللہ نے فتح قریب (خیبر کی فتح) سے نوازا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی راہ میں ثابت قدمی اور قربانی کا صلہ جلد ملتا ہے۔

عمومی نکات

1. صحابہ کی فضیلت پر اجماع: یہ حدیث صحابہ کرام کی فضیلت پر اہل سنت والجماعت کے عقیدے کی بنیادی دلیل ہے۔ ان کی جماعت کو "خیر أهل الأرض" کہا گیا ہے۔
2. حدیث کی صحت: یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ اس لیے اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
3. واقعہ حدیبیہ کی اہمیت: حدیبیہ کا صلح اور اس کے بعد یہ بیعت، جسے بیعت رضوان کہا جاتا ہے، اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ اس نے مسلمانوں کو طاقت اور اعتماد بخشا اور فتح خیبر کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث نمبر 2
عنوان:
سورہ نصر کا نزول اور فتح مکہ کے بعد ہجرت کا خاتمہ

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ}، قَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - حَتَّى خَتَمَهَا، وَقَالَ: النَّاسُ حَيِّزٌ (١) وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ، وَقَالَ: لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ "۔

---

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"جب یہ سورت نازل ہوئی: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ} (جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے، اور تم لوگوں کو دیکھو) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ مکمل کر لیا، اور فرمایا: "لوگ ایک گروہ ہیں اور میں اور میرے صحابہ دوسرے گروہ ہیں۔" اور فرمایا: "فتح (مکہ) کے بعد ہجرت نہیں، البتہ جہاد اور نیت (ہے)۔"

---

تخریج و حوالہ جات

· (حم) مسند احمد: ١١١٨٣
· (ش) مصنف ابن ابی شیبہ: ٣٦٩٢٩
· علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (الإرواء: ١١٨٧)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص 239]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

سورہ نصر کی تفسیر اور نبی ﷺ کی پیشگوئی

1. سورہ نصر کا مفہوم: جب یہ سورت نازل ہوئی تو اس میں فتح مکہ کی خبر تھی۔ نبی ﷺ نے اسے پڑھ کر لوگوں کو بتایا کہ یہ آپ کی وفت کے قریب ہونے کی علامت ہے۔

2. لوگوں کی تقسیم: آپ ﷺ نے فرمایا: "الناس حيز وأنا وأصحابي حيز" (لوگ ایک گروہ ہیں، اور میں اور میرے صحابہ دوسرے گروہ ہیں)۔ اس سے مراد یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد لوگوں کے جوق در جوق اسلام قبول کرنے کے باوجود، آپ اور آپ کے صحابہ کا مقام اور مرتبہ سب سے بلند ہے۔

3. ہجرت کا خاتمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: "لا هجرة بعد الفتح" (فتح مکہ کے بعد (مکہ کی طرف) ہجرت نہیں)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مکہ دارالاسلام بن گیا تو وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ البتہ اگر کوئی جگہ دارالکفر ہو تو وہاں سے ہجرت کرنا اب بھی واجب ہے۔

4. جہاد اور نیت: آپ ﷺ نے فرمایا: "ولكن جهاد ونية" (البتہ جہاد اور نیت ہے)۔ یعنی ہجرت کے بعد جہاد اور نیک نیتی ہی اصل کام ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ جہاد کرے اور اپنی نیت کو خالص رکھے۔

صحابہ کی صداقت اور مروان کا تعصب

1. ابو سعید خدری کی بہادری: جب مروان نے ان پر جھوٹ کا الزام لگایا تو انہوں نے ڈٹ کر جواب دیا اور دوسرے صحابہ کے خاموش رہنے کی وجہ بتائی۔

2. خوف کی وجہ سے حق چھپانا: رافع بن خدیج اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اس لیے خاموش رہے کہ وہ اپنے عہدوں سے محروم ہونے سے ڈرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی لوگ دنیاوی مفاد کی وجہ سے حق بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

3. مروان کا جبر: مروان نے ابو سعید کو کوڑے سے مارنے کی کوشش کی، لیکن جب دوسرے صحابہ نے گواہی دی کہ ابو سعید سچے ہیں تو وہ باز آیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق کو دبانے کی کوشش کی جائے تو آخرکار حق ظاہر ہو کر رہتا ہے۔

4. صحابہ کی گواہی: جب رافع اور زید نے دیکھا کہ مروان ابو سعید کو مارنے لگا تو انہوں نے حق کا ساتھ دیا اور کہا: "صدق" (انہوں نے سچ کہا)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں کسی قسم کی دنیاوی رکاوٹ کے باوجود آخرکار حق گوئی کرنا ان کا شیوہ تھا۔

دینی اور سیاسی نکات

1. فتح مکہ کی اہمیت: فتح مکہ نے اسلام کو جزیرہ نما عرب میں مکمل غلبہ عطا کیا۔ اس کے بعد ہجرت کا دروازہ بند ہوا اور جہاد کا دروازہ کھلا۔

2. نیت کی اہمیت: "جهاد ونية" سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نیت ہی اعمال کی اصل ہے۔ بغیر نیت کے کوئی عمل مقبول نہیں۔

3. حاکم کے سامنے حق کہنے کی اہمیت: یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ظالم حاکم کے سامنے بھی حق کہنے سے نہیں ہچکچانا چاہیے۔ ابو سعید نے یہی کیا۔

4. حدیث کی صحت: اس حدیث کو امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس لیے یہ حدیث قابلِ اعتماد ہے۔

واللہ اعلم بالصواب



حدیث نمبر 3

عنوان: صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کی ممانعت اور ان کا بلند مرتبہ

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا , مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ "

---

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میرے صحابہ کو برا نہ کہو، میرے صحابہ کو برا نہ کہو! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان میں سے کسی کے ایک مد (کے برابر) اور نہ اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔"

---

تخریج و حوالہ جات

· (م) صحیح مسلم: ٢٢١ (٢٥٤٠)
· (خ) صحیح بخاری: ٣٤٧٠
· (ت) سنن ترمذی: ٣٨٦١
· (حم) مسند احمد: ١١٠٩٤

---

تشریح و وضاحت

1. "لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي" (میرے صحابہ کو برا نہ کہو)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اس جملے کو دہرایا تاکید اور نصیحت کے لیے۔ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنا، انہیں برا بھلا کہنا، یا ان پر طعن و تشنیع کرنا نہایت سنگین جرم ہے۔ آپ ﷺ نے اس سے سختی سے منع فرمایا۔

2. "فوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" (قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے)

یہ ایک سخت قسم ہے جو بات کی اہمیت اور صداقت کو ظاہر کرتی ہے۔

3. "مثل أحد ذهبًا" (احد پہاڑ کے برابر سونا)

احد پہاڑ مدینہ منورہ کے قریب ایک مشہور پہاڑ ہے۔ اس کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہت بڑی مقدار ہے، جو کسی عام انسان کے لیے ناممکن ہے۔

4. "ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه" (ان میں سے کسی کے ایک مد اور نہ اس کے نصف کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا)

· مد: ایک مد تقریباً ٦٠٠ سے ٧٠٠ گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے (تفصیل میں کچھ اختلاف ہے)۔
· نصيف: آدھا مد۔
  اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام کی ایک معمولی سی قربانی (ایک مد یا نصف مد) بھی اتنے زیادہ سونے کے خرچ کرنے سے کہیں زیادہ افضل اور اللہ کے ہاں زیادہ وزنی ہے۔

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. صحابہ کرام کی عصمت نہیں، لیکن عدالت ہے: صحابہ کرام معصوم نہیں تھے، لیکن وہ سب سے زیادہ نیک اور اللہ کے نزدیک مقرب تھے۔ ان کے درمیان اجتہادی اختلافات تھے، لیکن ان کی نیتیں صاف اور اعمال باعثِ رضائے الٰہی تھے۔

2. صحابہ کی فضیلت میں کوئی شریک نہیں: آپ ﷺ نے واضح فرما دیا کہ بعد میں آنے والی کوئی بھی نسل، خواہ وہ کتنی ہی بڑی قربانیاں دے، صحابہ کے ایک معمولی عمل کے برابر نہیں پہنچ سکتی۔

3. صحابہ کی شان میں گستاخی کبیرہ گناہ ہے: حدیث میں سخت وعید نہ ہونے کے باوجود (براہِ راست جہنم کا ذکر نہیں)، لیکن یہ حکم کہ انہیں برا کہنا منع ہے، خود اس کی حرمت پر دلالت کرتا ہے۔ جمہور اہل سنت کے نزدیک صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

4. صحابہ کی قربانیوں کا مقام: صحابہ نے اپنے اوقات، جان و مال، اور اولاد سب کچھ اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں قربان کر دیا۔ ان کی قربانیوں کی کوئی نظیر نہیں۔

5. احادیث میں مد اور نصیف کا ذکر: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں اعمال کی قدر و قیمت کا دارومدار ان کی کثرت پر نہیں بلکہ اخلاص، مشقت، اور زمانے کی اہمیت پر ہے۔ صحابہ نے ایسے نازک حالات میں قربانیاں دیں جن کا بعد میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔

6. صحابہ سے محبت ایمان کا حصہ: اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت رکھنا اور ان کی قدر کرنا ایمان کا تقاضا ہے، جبکہ ان سے بغض رکھنا اور ان کی شان میں گستاخی کرنا نفاق اور گمراہی کی علامت ہے۔

7. دنیاوی عہدوں کی کوئی حیثیت نہیں: یہ حدیث ان لوگوں کے لیے بھی نصیحت ہے جو صحابہ کے درمیان دنیاوی عہدے یا مراتب کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔ درحقیقت ان کا مقام اللہ کے ہاں ان کے اخلاص اور قربانیوں کی بنا پر ہے۔

8. صحابہ کی اصلاح نہیں بلکہ پیروی: ہمارا کام صحابہ پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان کی پیروی کرنا ہے۔ نبی ﷺ نے انہیں "خیر القرون" (بہترین دور) قرار دیا ہے۔

9. اختلافات کو سمجھنے کا طریقہ: صحابہ کے درمیان کچھ سیاسی یا فقہی اختلافات تھے۔ انہیں سمجھنے کے لیے ان کے اخلاص اور نیک نیتی کو پیش نظر رکھنا چاہیے، نہ کہ ان پر الزامات لگانا۔

10. حدیث کی صحت: یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔ لہٰذا اس پر عمل کرنا اور اس کے مطابق عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔

واللہ اعلم بالصواب





حدیث نمبر 4

عنوان: صحابہ کرام کے درمیان اختلاف اور ان کے اعمال کی عظمت

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ أَنَسٍ - رضي الله عنه - قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ - رضي الله عنه - وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رضي الله عنه - كَلَامٌ , فَقَالَ خَالِدٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: تَسْتَطِيلُونَ (١) عَلَيْنَا بِأَيَّامٍ سَبَقْتُمُونَا بِهَا؟ , فَبَلَغَنَا أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - فَقَالَ: " دَعُوا لِي أَصْحَابِي , فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَوْ أَنْفَقْتُمْ مِثْلَ أُحُدٍ , أَوْ مِثْلَ الْجِبَالِ ذَهَبًا , مَا بَلَغْتُمْ أَعْمَالَهُمْ " (٢)

---

ترجمہ:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کہا سنی ہو گئی (یا کچھ اختلاف ہو گیا) تو خالد نے عبدالرحمٰن سے کہا: 'کیا تم ہم پر اس لیے فضیلت (اور برتری) حاصل کرتے ہو کہ تمہیں (اسلام میں) ہم سے پہلے دن مل گئے؟'

پھر ہمیں یہ خبر ملی کہ اس واقعہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: 'میرے صحابہ کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو (یعنی ان کے بارے میں مجھ پر چھوڑ دو)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم احد پہاڑ کے برابر، یا پہاڑوں کے برابر بھی سونا خرچ کر دو، تو تم ان کے اعمال کے برابر نہیں پہنچ سکتے۔'"

---

تخریج و حوالہ جات

· (حم) مسند احمد: ١٣٨٣٩
· (الضياء) الأحاديث المختارة: ٢٠٤٦
· دیکھیے: صحيح الجامع: ٣٣٨٦، سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٩٢٣

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کے درمیان اختلاف

1. صحابہ میں اختلاف کی نوعیت: صحابہ کرام میں بعض اوقات اجتہادی یا ذاتی معاملات میں اختلاف ہو جاتا تھا، جیسا کہ خالد اور عبدالرحمٰن کے درمیان ہوا۔ یہ اختلاف عقیدے کا نہیں تھا، بلکہ دنیاوی معاملات یا کسی بات پر ناراضگی تھی۔

2. خالد کا اعتراض: خالد نے کہا کہ تم (مہاجرین) ہم پر ان دنوں کی وجہ سے فضیلت رکھتے ہو جو تمہیں ہم سے پہلے ملے (یعنی تم نے اسلام پہلے قبول کیا)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالد (جو بعد میں مسلمان ہوئے) کو یہ احساس تھا کہ پہلے قبول اسلام والوں کو زیادہ فضیلت حاصل ہے۔

3. نبی ﷺ کا جواب: آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ اختلاف درست ہے یا غلط، بلکہ آپ نے صحابہ کے مجموعی مقام اور ان کے اعمال کی عظمت کو اجاگر کیا۔

صحابہ کے اعمال کی فضیلت

1. صحابہ کے اعمال ناقابلِ تقلید: آپ ﷺ نے فرمایا کہ بعد میں آنے والے لوگ خواہ کتنا ہی بڑا سونا خرچ کریں (خواہ احد پہاڑ کے برابر یا تمام پہاڑوں کے برابر)، وہ صحابہ کے اعمال کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔

2. پہلے قبول اسلام کی فضیلت: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام میں سبقت حاصل کرنے والوں (مہاجرین اور انصار) کو بعد میں آنے والوں پر فضیلت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خالد نے کہا کہ تم اپنی پہل سے ہم پر بڑھ کر ہو۔

3. صحابہ کے اعمال کی اہمیت: اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد والوں کے اعمال رائیگاں ہیں، بلکہ یہ کہ صحابہ کے اعمال کا مقام اتنا بلند ہے کہ کوئی بھی بعد میں آنے والا ان کی قربانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

آدابِ اختلاف

1. اختلاف کو بڑھانے سے منع: نبی ﷺ نے اس موقع پر یہ نہیں فرمایا کہ تم دونوں میں سے کون صحیح ہے، بلکہ آپ نے صحابہ کے احترام اور ان کے اعمال کی عظمت بیان فرما کر اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

2. صحابہ کے بارے میں ہماری ذمہ داری: ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کو بھلائی کے ساتھ یاد رکھیں، اور ان کی شان میں گستاخی سے بچیں۔

صحابہ کی سبقت اور مقام

1. سبقت بالخیرات: صحابہ کرام نے اسلام کو سب سے پہلے قبول کیا، سب سے پہلے ہجرت کی، سب سے پہلے جہاد کیا، اور اپنی جانیں اور مال اللہ کی راہ میں قربان کیے۔ یہ سبق ان کی عظمت کی بنیاد ہے۔

2. محبتِ صحابہ ایمان کا تقاضا: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا ایمان کا حصہ ہے، اور ان کے درمیان ہونے والے اختلافات کو سمجھتے ہوئے ان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

3. اللہ کے ہاں اعمال کی قدر: اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت، اس کے زمانے اور اس کے حالات کے مطابق بدلہ دیتا ہے۔ صحابہ کے اعمال اس لیے افضل ہیں کہ انہوں نے انتہائی مشکل حالات میں اسلام کی خدمت کی۔

4. حدیث کی صحت: یہ حدیث مسند احمد اور الأحاديث المختارة میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحيح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب




حدیث نمبر 5

عنوان: صحابہ کرام کے صاع اور مد کی عظمت (بعد میں آنے والوں کی کبھی بھی ان کے درجے تک نہ پہنچ سکنا)

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا يُدْرِكُ قَوْمٌ بَعْدَكُمْ صَاعَكُمْ وَلَا مُدَّكُمْ "

---

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تمہارے بعد کوئی قوم تمہارے صاع اور نہ تمہارے مد کو (کبھی) حاصل نہیں کر سکے گی۔"

---

تخریج و حوالہ جات

· (حم) مسند احمد: ١١٢٢٤
· (ن) سنن النسائی: ٨٨٥٥
· (ش) مصنف ابن ابی شیبہ: ٢٥٩١٩
· صحيح الجامع: ١٣٢٥
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٥٤٧
· شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند حسن ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص242]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صاع اور مد کی حقیقت

1. صاع اور مد کیا ہیں؟

   · صاع: نبی ﷺ کے زمانے میں ناپنے کا ایک پیمانہ تھا، جو تقریباً ٢.٥ کلوگرام کے برابر ہوتا ہے (غلہ یا کھجور کے لیے)۔
   · مد: ایک مد، صاع کا چوتھائی حصہ ہوتا ہے (تقریباً ٦٢٥ گرام)۔
   · یہاں صاع اور مد سے مراد صحابہ کے اعمال اور قربانیوں کی مقدار ہے، نہ کہ حقیقی پیمانہ۔

2. صحابہ کے عمل کی عظمت:

   · نبی ﷺ نے فرمایا کہ بعد میں آنے والی کوئی بھی قوم صحابہ کے صاع اور مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتی۔
   · یعنی صحابہ کی ایک معمولی قربانی (ایک مد) بھی بعد والوں کے بہت بڑے اعمال سے افضل ہے۔

صحابہ کی فضیلت اور ان کے درجے کی بلندی

1. سبقت و قربانی کی اہمیت:

   · صحابہ نے انتہائی مشکلات میں اسلام قبول کیا، ہجرت کی، اور جہاد کیا۔ ان کے اعمال کا ثواب اللہ کے ہاں اتنا زیادہ ہے کہ بعد میں آنے والے خواہ کتنی ہی نیکیاں کر لیں، ان کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتے۔

2. یہ فضیلت صرف صحابہ کے لیے خاص ہے:

   · یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ صحابہ کرام کا ایک خاص مقام ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتا۔
   · اس کا مطلب یہ نہیں کہ بعد والوں کے اعمال رائیگاں ہیں، بلکہ یہ کہ صحابہ کا درجہ منفرد اور بے مثال ہے۔

عملی زندگی کے لیے ہدایات

1. صحابہ کی اتباع کا طریقہ:

   · ہم صحابہ کے اعمال کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے، لیکن ہم ان کی اتباع کر سکتے ہیں۔ ان کے نقش قدم پر چلنا ہی ہماری کامیابی ہے۔

2. نیک نیتی اور اخلاص کی اہمیت:

   · اگرچہ ہم صحابہ کے اعمال کی مقدار میں ان کے برابر نہیں، لیکن ہم اخلاص اور نیت کے اعتبار سے ان جیسی کوشش کر سکتے ہیں۔

3. صحابہ سے محبت اور احترام:

   · یہ حدیث ہمیں صحابہ سے محبت رکھنے اور ان کا احترام کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ان کی شان میں گستاخی کرنا یا انہیں کم تر سمجھنا بہت بڑی گمراہی ہے۔

حدیث کی سندی حیثیت

1. حدیث کا درجہ:

   · یہ حدیث حسن ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا۔ البانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
   · لہٰذا یہ حدیث قابلِ عمل اور قابلِ اعتماد ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کی منفرد فضیلت کو واضح کرتی ہے کہ ان کے بعد کبھی کوئی قوم ان کے صاع اور مد (یعنی ان کی معمولی قربانیوں) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتی۔ اس کا مقصد صحابہ کی عظمت کو اجاگر کرنا اور امت کو ان کی اتباع کی ترغیب دینا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب




حدیث نمبر 6

عنوان: صحابہ کرام کے لیے استغفار کا حکم اور ان کی شان میں گستاخی کی ممانعت

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ - رضي الله عنها -: يَا ابْنَ أُخْتِي، أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - (١) فَسَبُّوهُمْ. (٢)

---

ترجمہ:

حضرت عروہ بن زبیر (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: "اے میرے بھانجے! (لوگوں کو) حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے استغفار کریں، (لیکن) انہوں نے انہیں برا بھلا کہا۔"

---

تخریج و حوالہ جات

(١) آیت کی طرف اشارہ:
   حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس آیت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں:
   {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ , وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا , رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحشر: 10]
   ترجمہ: "اور جو ان کے بعد آئے (وہ دعا کرتے ہیں): اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے، اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کینہ (اور بغض) نہ رکھ، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔"

(٢) صحیح مسلم: ١٥ (٣٠٢٢)
[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص243]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کے لیے استغفار کا حکم

1. قرآن کا حکم: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ صحابہ کرام کے لیے استغفار کریں، اور ان کے دلوں میں ان کے لیے کوئی کینہ (بغض) نہ رکھیں۔

2. حضرت عائشہ کی تنبیہ: آپ نے اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگوں کو صحابہ کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے انہیں برا بھلا کہا۔ یہ ایک سخت تنبیہ ہے۔

3. صحابہ کی شان میں گستاخی کی مذمت: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنا، انہیں برا بھلا کہنا، یا ان پر طعن کرنا نہ صرف خلافِ قرآن ہے بلکہ یہ اس آیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔

صحابہ سے محبت اور ان کا احترام

1. صحابہ سے محبت ایمان کا تقاضا: اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت رکھنا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔

2. دلوں سے کینہ نکالنا: اس آیت میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اپنے دلوں سے صحابہ کے لیے کسی قسم کا بغض اور کینہ نکال دیں۔

3. حضرت عائشہ کا فہم و فراست: آپ نے قرآن کی اس آیت کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے لوگوں کو صحابہ کی عظمت اور ان کے حقوق سے آگاہ کیا۔

حدیث کی اہمیت

1. صحابہ کی عدالت پر دلیل: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام سب عادل اور قابلِ احترام ہیں، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

2. تابعین کا کردار: اس حدیث میں حضرت عروہ (تابعی) کا واسطہ ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ تابعین بھی صحابہ کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف تھے اور انہیں آگاہ کرتے تھے۔

3. ہماری ذمہ داری: ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم صحابہ کے لیے استغفار کریں، ان سے محبت کریں، اور ان کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے براءت اختیار کریں۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کی عظمت اور ان کے لیے استغفار کرنے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قرآن کی آیت سے استدلال کرتے ہوئے لوگوں کو تنبیہ کی کہ انہیں صحابہ کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس کے برعکس کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی شان میں گستاخی کرنا ایک سنگین جرم ہے۔

واللہ اعلم بالصواب




حدیث نمبر 7

عنوان: بہترین لوگوں کے متعلق نبی ﷺ کا فرمان

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رضي الله عنه - قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -: يَا رَسُولَ اللهِ , أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ , قَالَ: " أَنَا وَمَنْ مَعِي "، فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ "، فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ "، فَقِيلَ لَهُ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ , قَالَ: " ثُمَّ كَأَنَّهُ رَفَضَ مَنْ بَقِيَ "

---

ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: "یا رسول اللہ! لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟"
آپ نے فرمایا: "میں اور جو میرے ساتھ ہیں۔"
پھر پوچھا گیا: "پھر (اس کے بعد) کون؟"
آپ نے فرمایا: "پھر وہ جو (ان کے) نقش قدم پر چلیں گے۔"
پھر پوچھا گیا: "پھر (ان کے بعد) کون؟"
آپ نے فرمایا: "پھر وہ جو (ان کے) نقش قدم پر چلیں گے۔"
پھر پوچھا گیا: "پھر (ان کے بعد) کون؟"
آپ نے فرمایا: "پھر گویا آپ نے باقی لوگوں کو چھوڑ دیا (یعنی کوئی تیسرا درجہ نہیں بلکہ ان کی نہیں پہنچ سکتے)۔"

---

تخریج و حوالہ جات

· (حم) مسند احمد: ٨٤٦٤
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٨٣٩
· شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند جید ہے۔

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص244]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کرام کا مقام

1. سب سے بہترین لوگ نبی ﷺ اور صحابہ ہیں:

      آپ ﷺ نے سب سے پہلے اپنا اور اپنے ساتھیوں (صحابہ کا) نام لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام تمام لوگوں میں سب سے افضل ہیں۔

2. تابعین کا درجہ:

      آپ ﷺ نے دوسرے درجے میں "الذین على الأثر" (نقش قدم پر چلنے والوں) کا ذکر کیا، جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو صحابہ کے بعد آئے اور ان کی اتباع کی (یعنی تابعین اور تبع تابعین)۔

3. تیسرے درجے کا ذکر نہیں:

      تیسری بار پوچھنے پر آپ نے بھی تیسرے درجے کے لیے وہی جواب دیا (جو صحابہ کے نقش قدم پر چلے) – لیکن جب چوتھی بار پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ گویا باقی لوگوں کو چھوڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا درجہ نہیں جس کا ذکر کیا جا سکے۔

بہترین لوگوں کی ترتیب

1. بہترین لوگوں کی ترتیب حسب ذیل ہے:

   · پہلا درجہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم۔
   · دوسرا درجہ: تابعین (جو صحابہ کے نقش قدم پر چلے)۔
   · تیسرا درجہ: تبع تابعین (جو تابعین کے نقش قدم پر چلے)۔
   · اس کے بعد آنے والوں کا درجہ ان سے کم ہے۔

2. ہر دور میں بہترین لوگ وہ ہیں جو صحابہ کے نقش قدم پر چلیں:

      اگرچہ وقت کے ساتھ بہترین لوگوں کی فضیلت کم ہوتی گئی، لیکن ہر دور میں جو لوگ صحابہ اور سلف صالحین کی پیروی کریں گے، وہ اپنے دور میں بہترین ہوں گے۔

حدیث کی روشنی میں ہماری ذمہ داری

1. اتباعِ صحابہ ہی کامیابی کی کنجی ہے:

      ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی اتباع کریں، نہ کہ ان کی مخالفت یا ان پر تنقید کریں۔

2. تابعین کی عظمت:

      تابعین کا درجہ بھی بہت بلند ہے، لیکن وہ صحابہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔

3. آخرت میں درجات کا فرق:

      اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں بھی لوگوں کے درجات ان کی اتباع اور قربانیوں کے مطابق ہوں گے۔

علمی نکات

1. حدیث کی سند:

      یہ حدیث جید (اچھی) سند سے مروی ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا۔ البانی نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔

2. صحابہ کی فضیلت پر اجماع:

       یہ حدیث صحابہ کی فضیلت پر اہل سنت کے عقیدے کی ایک مضبوط دلیل ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث بتاتی ہے کہ سب سے بہترین لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ہیں، پھر تابعین، پھر تبع تابعین۔ اس کے بعد آنے والے لوگ ان کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ ہمیں صحابہ سے محبت اور ان کی اتباع کرنی چاہیے، اور ان کی شان میں گستاخی سے بچنا چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب




حدیث نمبر 8

عنوان: بہترین لوگ پہلی تین نسلیں (قرون) ہیں

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ عَائِشَةَ - رضي الله عنها - قَالَتْ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -: أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ، ثُمَّ الثَّانِي، ثُمَّ الثَّالِثُ "

---

ترجمہ:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟
آپ نے فرمایا: "وہ زمانہ (گروہ) جس میں میں ہوں، پھر اس کے بعد والا، پھر اس کے بعد والا (یعنی صحابہ، پھر تابعین، پھر تبع تابعین)۔"

---

تخریج و حوالہ جات

· (م) صحیح مسلم: ٢١٦ (٢٥٣٦)
· (حم) مسند احمد: ٢٥٢٧٢
  [الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص245]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

تین بہترین نسلیں (قرون)

1. پہلا قرن (زمانہ):

      نبی ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے میں ہیں، یعنی صحابہ کرام۔

2. دوسرا قرن:

      ان کے بعد بہترین لوگ تابعین ہیں، جو صحابہ کے بعد آئے اور ان کی اتباع کی۔

3. تیسرا قرن:

      ان کے بعد بہترین لوگ تبع تابعین ہیں، جو تابعین کے بعد آئے۔

فضیلت میں کمی کا اصول

1. ہر آنے والے دور میں فضیلت کم ہوتی گئی:

      نبی ﷺ نے تین نسلوں کا ذکر کیا اور اس کے بعد والوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بعد والا دور پہلے دور سے کم فضیلت والا ہے۔

2. تیسرے قرن کے بعد والوں کا درجہ:

      اگرچہ تیسرے قرن کے بعد والے بھی اچھے ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی فضیلت ان تینوں نسلوں کے برابر نہیں۔

صحابہ کی افضلیت پر دلیل

1. صحابہ کرام کی فضیلت:

      یہ حدیث صحابہ کرام کی افضلیت پر سب سے واضح دلائل میں سے ایک ہے۔ نبی ﷺ نے خود انہیں سب سے بہترین قرار دیا۔

2. تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت:

      یہ بھی ثابت ہوا کہ تابعین اور تبع تابعین کا درجہ بھی بہت بلند ہے، لیکن وہ صحابہ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔

عملی زندگی کے لیے ہدایات

1. اتباع کا طریقہ:

      ہمیں ان تینوں نسلوں کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، کیونکہ انہیں سب سے بہترین قرار دیا گیا ہے۔

2. بدعات سے بچنا:

      جتنا ہم ان تینوں نسلوں کے طریقے سے دور ہوں گے، اتنا ہی ہمارے دین میں بدعات اور گمراہیاں بڑھیں گی۔

3. محبتِ صحابہ کی اہمیت:

       اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ سے محبت رکھنا اور ان کی عظمت ماننا ایمان کا حصہ ہے۔

حدیث کی سندی حیثیت

1. حدیث کا درجہ:

       یہ حدیث صحیح ہے، اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔ لہٰذا اس پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔

---

خلاصہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سب سے بہترین لوگ پہلے زمانے والے (صحابہ) ہیں، پھر ان کے بعد والے (تابعین)، پھر ان کے بعد والے (تبع تابعین)۔ اس کے بعد آنے والوں کا درجہ ان کے برابر نہیں۔ ہمیں انہی تین نسلوں کے طریقے پر چلنا چاہیے اور ان کی اتباع کرنی چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب




حدیث نمبر 9

عنوان: صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی برکت سے فتح و نصرت

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" يَأتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ , فَيَغْزُو فِئَامٌ (١) مِنْ النَّاسِ، فَيَقُولُونَ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيُفْتَحُ لَهُمْ , ثُمَّ يَأتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ , فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ , فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ , فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ , فَيُفْتَحُ لَهُمْ , ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ , فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم -؟ , فَيُوجَدُ الرَّجُلُ , فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ "

---

ترجمہ:

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا، تو (کسی سے) پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح (اور نصرت) دی جائے گی۔

پھر لوگوں پر دوسرا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا، تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کے صحابہ کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح دی جائے گی۔

پھر لوگوں پر تیسرا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کا ایک گروہ جہاد کرے گا، تو پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے صحابہ کے کسی صحابی (یعنی تابعی) کی صحبت پائی ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، تو انہیں فتح دی جائے گی۔

پھر چوتھا لشکر بھیجا جائے گا، تو (لوگوں سے) کہا جائے گا: دیکھو، کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے اس شخص کو دیکھا ہو جس نے کسی اور کو دیکھا ہو جس نے صحابہ کو دیکھا ہو؟ تو ایک شخص (ایسا) مل جائے گا، اور اسی کی وجہ سے انہیں فتح نصیب ہو گی۔"

---

تخریج و حوالہ جات

(١) فِئَامٌ: یعنی جماعت (فتح الباری: 9/47)
(٢) صحیح البخاری: ٣٤٤٩، صحیح مسلم: ٢٠٨ (٢٥٣٢)
(٣) صحیح البخاری: ٢٧٤٠
(٤) صحیح البخاری: ٣٤٤٩، صحیح مسلم: ٢٠٩ (٢٥٣٢)
(٥) صحیح البخاری: ٢٧٤٠، صحیح مسلم: ٢٠٨ (٢٥٣٢)
(٦) صحیح البخاری: ٣٤٤٩
(٧) صحیح البخاری: ٢٧٤٠، صحیح مسلم: ٢٠٨ (٢٥٣٢)
(٨) صحیح البخاری: ٣٤٤٩، مسند احمد: ١١٠٥٦
(٩) صحیح مسلم: ٢٠٩ (٢٥٣٢)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص246]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ و تابعین کی برکت

1. صحابہ کی موجودگی باعثِ فتح ہے:

      جس جیش میں کوئی صحابی ہوتا ہے، اس کے وجود کی برکت سے اللہ تعالیٰ فتح و نصرت عطا فرماتا ہے۔

2. تابعین کی بھی برکت:

      جس جیش میں تابعی (صحابہ کی صحبت پانے والا) ہوتا ہے، اسے بھی فتح ملتی ہے۔ اسی طرح تبع تابعین کی موجودگی بھی باعثِ فتح ہے۔

3. دور دراز کے سلسلے کی برکت:

      چوتھے طبقے میں اگر کوئی شخص ایسا ہو جس نے کسی ایسے شخص کو دیکھا ہو جس نے کسی صحابی کو دیکھا ہو (یعنی بہت دور کا سلسلہ)، تو اسی کی وجہ سے فتح ملتی ہے۔

تین بہترین نسلوں کی فضیلت

1. پہلا زمانہ: صحابہ کرام کا زمانہ۔

2. دوسرا زمانہ: تابعین کا زمانہ۔

3. تیسرا زمانہ: تبع تابعین کا زمانہ۔

4. چوتھے زمانے میں بس ایک شخص کی برکت:

      چوتھے زمانے میں کوئی بڑی جماعت باقی نہیں رہتی، بلکہ صرف ایک شخص (یا بہت کم لوگ) ایسے ہوتے ہیں جن کا سلسلہ صحابہ سے ملتا ہے۔ اس ایک شخص کی وجہ سے پوری جماعت کو فتح ملتی ہے۔

دین کی حفاظت کا سبب

1. علماء اور نیک لوگوں کی برکت:

      جب تک دنیا میں صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ان کی سنت پر چلنے والے موجود رہیں گے، امت کو فتح و نصرت حاصل رہے گی۔

2. صحابہ سے محبت اور ان کا احترام:

      اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کا شمار بہت بلند ہے اور ان کی وجہ سے امت کو اللہ کی نصرت ملتی ہے۔ لہٰذا ان کا احترام کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔

3. حدیث کی پیشگوئی:

       یہ حدیث نبی ﷺ کی ایک عظیم پیشگوئی ہے کہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی صحابہ اور تابعین کے وجود کی برکت سے فتح یاب ہوتی رہیں گی۔

عملی زندگی کے لیے ہدایات

1. ہمارا کردار:

       ہمیں چاہیے کہ ہم ان تینوں نسلوں کے طریقے کو اپنائیں اور ان کی سنت پر چلیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔

2. حدیث کی صحت:

       یہ حدیث صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ کرام، پھر تابعین، پھر تبع تابعین کی برکت سے جہاد کرنے والوں کو فتح ملتی ہے۔ چوتھے زمانے میں اگر کوئی شخص ان سے دور بھی ہو، تو اس کی وجہ سے بھی فتح نصیب ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اور ان کے بعد والوں کی عظمت اور برکت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

واللہ اعلم بالصواب




حدیث نمبر 10

عنوان: صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی موجودگی میں خیر کا باقی رہنا

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعَ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:
" لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَآنِي وَصَاحَبَنِي، وَاللهِ لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي , وَصَاحَبَ مَنْ صَاحَبَنِي، وَاللهِ لَا تَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا دَامَ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي , وَصَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَنِي "

---

ترجمہ:

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"تم ہمیشہ خیر (بھلائی) پر رہو گے جب تک تم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے مجھے دیکھا اور میری صحبت اختیار کی۔ اللہ کی قسم! تم ہمیشہ خیر پر رہو گے جب تک تم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے مجھے دیکھا، اور ان کی صحبت اختیار کی جنہوں نے میری صحبت اختیار کی۔ اللہ کی قسم! تم ہمیشہ خیر پر رہو گے جب تک تم میں وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے مجھے دیکھا، اور ان کی صحبت اختیار کی جنہوں نے ان کی صحبت اختیار کی جنہوں نے میری صحبت اختیار کی۔"

---

تخریج و حوالہ جات

· (ش) مصنف ابن ابی شیبہ: ٣٢٤١٧
· (صم) السنة لابن ابی عاصم: ١٤٨١
· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ٣٢٨٣ (البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص247]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کرام کی موجودگی میں خیر

1. صحابہ کی برکت: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تم میں صحابہ کرام (وہ لوگ جنہوں نے مجھے دیکھا اور میری صحبت اختیار کی) موجود ہیں، تم خیر پر رہو گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی موجودگی امت کے لیے باعثِ برکت اور خیر ہے۔

2. صحابہ کے بعد تابعین کی برکت: پھر آپ نے فرمایا کہ جب تک تم میں تابعین (وہ جنہوں نے صحابہ کو دیکھا اور ان کی صحبت اختیار کی) موجود ہیں، تم خیر پر رہو گے۔

3. تبع تابعین کی برکت: پھر آپ نے فرمایا کہ جب تک تم میں تبع تابعین (وہ جنہوں نے تابعین کو دیکھا اور ان کی صحبت اختیار کی) موجود ہیں، تم خیر پر رہو گے۔

خیر کے درجات میں کمی

1. خیر میں کمی کا سلسلہ: ہر آنے والے دور کے ساتھ خیر کی مقدار کم ہوتی گئی، لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے دور میں خیر کا سبب ہیں۔

2. تیسرے درجے کے بعد کا ذکر نہیں: آپ ﷺ نے تیسرے درجے کے بعد کسی کا ذکر نہیں کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبع تابعین کے بعد آنے والے دور میں خیر کی مقدار بہت کم ہو جائے گی، یا پھر یہ کہ ان تینوں نسلوں کی موجودگی ہی اصل خیر ہے۔

صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت

1. قرونِ اولیٰ کی فضیلت: یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ بہترین لوگ پہلے زمانے والے ہیں، پھر ان کے بعد والے، پھر ان کے بعد والے، جیسا کہ دوسری احادیث میں بھی آیا ہے

2. اتباع کی اہمیت: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا مقام صرف دیکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ صحبت (ان کی اتباع اور ان کے نقش قدم پر چلنے) کی وجہ سے بھی ہے۔

عملی زندگی کے لیے ہدایات

1. ہمارے لیے سبق: اگرچہ آج ان میں سے کوئی موجود نہیں، لیکن ہمیں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی اتباع کرنی چاہیے۔

2. خیر کی تلاش: ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو ان تینوں نسلوں کے طریقے پر چلتے ہیں، تاکہ ہم بھی خیر میں شامل ہو سکیں۔

حدیث کی سندی حیثیت

1. حدیث کا درجہ: یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے سلسلہ صحیحہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت اور ان کی موجودگی میں خیر کے باقی رہنے کو واضح کرتی ہے۔ نبی ﷺ نے تین مرتبہ قسم کھا کر فرمایا کہ جب تک یہ تینوں نسلیں موجود رہیں گی، امت خیر پر رہے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں ان ہی کے نقش قدم پر چلنا چاہیے اور ان کی اتباع کرنی چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب



حدیث نمبر 11

عنوان: "طوبی" ان کے لیے جنہوں نے مجھے دیکھا اور ایمان لائے، اور ان کے لیے جنہوں نے انہیں دیکھا

متنِ حدیث (عربی)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ - رضي الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -:

" طُوبَى لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، وَطُوبَى لِمَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي، وَلِمَنْ رَأَى مَنْ رَأَى مَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي، طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآَبٍ "

---

ترجمہ:

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"طوبی (جنت کی خوشخبری یا جنت کا ایک درخت) ہے اس شخص کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا، اور طوبی ہے اس کے لیے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا، اور طوبی ہے اس کے لیے جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے اس شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ان کے لیے طوبی ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔"

---

تخریج و حوالہ جات:

· (ك) المستدرك للحاكم: ٦٩٩٤

· (الضياء) الأحاديث المختارة: ٨٧

· صحيح الجامع: ٣٩٢٦

· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ١٢٥٤ (البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص248]

---

تشریح و وضاحت:

"طوبی" کا مفہوم

· لغوی معنی: "طوبی" کے معنی خوشخبری، بہترین زندگی، یا جنت کا ایک درخت ہے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یہ جنت کا ایک درخت ہے جس کی شاخیں جنت کے تمام گھروں میں پھیلی ہوں گی۔

· مراد: یہاں "طوبی" ان لوگوں کے لیے دعا اور بشارت ہے جنہیں یہ اعلیٰ مرتبہ حاصل ہوگا۔

تین طبقوں کی فضیلت

1. پہلا طبقہ – صحابہ کرام:

      "طوبى لمن رآني وآمن بي" – یعنی وہ لوگ جنہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا، آپ کی صحبت پائی، اور آپ پر ایمان لائے۔ یہ صحابہ کرام ہیں۔

2. دوسرا طبقہ – تابعین:

      "طوبى لمن رأى من رآني" – یعنی وہ لوگ جنہوں نے صحابہ کو دیکھا۔ یہ تابعین ہیں۔

3. تیسرا طبقہ – تبع تابعین:

      "ولمن رأى من رأى من رآني وآمن بي" – یعنی وہ لوگ جنہوں نے تابعین کو دیکھا۔ یہ تبع تابعین ہیں۔

فضیلت میں ترتیب

· یہ حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ سب سے افضل ہیں، پھر تابعین، پھر تبع تابعین۔

· ہر طبقے کو "طوبی" کی بشارت دی گئی، لیکن مرتبے میں کمی آتی گئی۔

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. صحابہ کرام کی فضیلت:

      نبی ﷺ نے سب سے پہلے اپنے صحابہ کو "طوبی" کی بشارت دی، جو ان کے بلند مرتبے کی دلیل ہے۔

2. تابعین کی عظمت:

      تابعین بھی اس بشارت میں شامل ہیں، کیونکہ انہوں نے صحابہ کی صحبت پائی اور ان سے علم حاصل کیا۔

3. تبع تابعین کا مقام:

      تبع تابعین (یعنی وہ جنہوں نے تابعین کو دیکھا) بھی اس بشارت کے مستحق ہیں، البتہ ان کا درجہ پہلے دو طبقوں سے کم ہے۔

4. ایمان شرط ہے:

      حدیث میں صرف دیکھنے کا ذکر نہیں، بلکہ "وآمن بي" (اور مجھ پر ایمان لایا) کے الفاظ ہیں۔ اس لیے صرف دیکھنا کافی نہیں، بلکہ سچے ایمان کی ضرورت ہے۔

5. ہر دور میں بہترین لوگ:

      اگرچہ ہم ان تینوں نسلوں میں شامل نہیں، لیکن ہم ان کے نقش قدم پر چل کر ان کی اتباع کر سکتے ہیں۔

6. حدیث کی صحت:

      یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ علامہ البانی نے اسے سلسلہ صحیحہ میں شامل کیا ہے۔

7. "حسن مآب" کا وعدہ:

      آخر میں "حسن مآب" (بہترین ٹھکانا) کا وعدہ ہے، جو جنت کی طرف اشارہ ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت کو واضح کرتی ہے کہ ان تینوں طبقوں کو نبی ﷺ سے "طوبی" (خوشخبری اور جنت کا درخت) کی بشارت دی گئی۔ ہمیں ان کی اتباع کرنی چاہیے اور ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث نمبر 12

عنوان: صحابہ کی اجازت طلب کرنا اور نبی ﷺ کی تنبیہ، توحید کی گواہی کے ساتھ جنت کی بشارت

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ - رضي الله عنه - قَالَ:

(أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم -) (١) (مِنْ مَكَّةَ) (٢) (حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ , جَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ , " فَيَأذَنُ لَهُمْ , فَقَامَ رَسُولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ؟ " , فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنْ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا) (٣)

(فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رضي الله عنه -: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ (٤) فِي نَفْسِي , " ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صلى الله عليه وسلم - حَمِدَ اللهَ وَقَالَ خَيْرًا , ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ عِنْدَ اللهِ) (٥) (لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ , ثُمَّ يُسَدِّدُ , إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ , وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي - عز وجل - أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ , وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا , حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ ") (٦)

---

ترجمہ:

حضرت رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

(١) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (٢) مکہ سے چلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام "کدید" پر پہنچے تو ہم میں سے کچھ لوگ اپنے گھروں والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگنے لگے۔

(آپ انہیں اجازت دے دیتے تھے۔)

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:

"ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس درخت کا وہ حصہ جو رسول اللہ کے قریب ہے، انہیں دوسرے حصے سے زیادہ ناپسند ہے؟"

(٣) ہم نے اس وقت لوگوں میں سے ہر ایک کو روتا ہوا دیکھا۔

(پھر) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا:

"میرے خیال میں جو شخص اس (تنبیہ) کے بعد بھی آپ سے اجازت مانگے گا، وہ بے وقوف ہے۔"

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور اچھی باتیں فرمائیں، پھر کہا:

(٥) "میں اللہ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ (٦) جو بندہ سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، پھر اس پر قائم رہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اور میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل کرے گا۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ اس قدر جگہ نہیں گھیر لیں گے، یہاں تک کہ تم خود اور تم میں سے جو نیک ہیں تمہارے باپ، تمہاری بیویاں اور تمہاری اولاد جنت میں اپنے گھر بنا لیں۔"

---

تخریج و حوالہ جات:

(١) مسند احمد: ١٦٢٦٠، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔

(٢) مسند احمد: ١٦٢٦١، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔

(٣) مسند احمد: ١٦٢٦٠، مسند طیالسی: ١٢٩١

(٤) سَفَه: ہلکا پن اور نادانی، سفیدہ (بے وقوف) وہ ہے جس کی رائے مضطرب اور بے ربط ہو۔

(٥) مسند احمد: ١٦٢٦١

(٦) مسند احمد: ١٦٢٦٠، سنن ابن ماجہ: ٤٢٨٥، صحیح ابن حبان: ٢١٢، دیکھیے: سلسلہ صحیحہ: ٢٤٠٥

[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص249]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کی اجازت اور نبی ﷺ کی تنبیہ

1. صحابہ کا گھروں کی طرف جانے کا جذبہ: صحابہ نبی ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، پھر کچھ نے گھروں والوں سے ملنے کی اجازت مانگی۔ یہ ان کی فطری محبت اور انسانی ضرورت تھی۔

2. نبی ﷺ کی شفقت اور حکمت: آپ نے انہیں اجازت دے دی، لیکن پھر اس رویے کی اصلاح کے لیے خطاب فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کی تربیت بہترین انداز میں کرتے تھے۔

3. درخت کی مثال سے ملامت: آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا لوگوں کو وہ حصہ (جہاں میں ہوں) دوسرے حصے سے زیادہ ناپسند ہے؟" یعنی کیا تم میرے قریب رہنے سے گریز کرتے ہو؟ یہ ایک بہت مؤثر اور نرم انداز میں ڈانٹ تھی۔

4. صحابہ کا ردعمل: جب انہوں نے یہ سنا تو سب رونے لگے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی ﷺ کی ناراضگی سے بہت ڈرتے تھے اور اپنی غلطی پر فوراً نادم ہو جاتے تھے۔

5. ابو بکر رضی اللہ عنہ کی شدید گرفت: انہوں نے کہا کہ اب جو بھی اجازت مانگے گا وہ بے وقوف ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی ﷺ کے اشارے کو سمجھتے تھے اور اس پر سختی سے عمل کرتے تھے۔

توحید کی گواہی اور جنت کی بشارت

1. توحید و رسالت کی گواہی کا عظیم اجر: نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سچے دل سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، پھر اس پر قائم رہے، تو وہ جنت میں جائے گا۔

2. استقامت شرط ہے: صرف زبان سے کہنا کافی نہیں، بلکہ "ثم يسدد" (پھر قائم رہے) کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس عقیدے پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزارے اور گناہوں سے بچے۔

3. ستر ہزار بغیر حساب و عذاب جنت میں جانے والے: یہ حدیث نبوت کی عظیم نشانیوں میں سے ایک ہے کہ آپ نے بتایا کہ ستر ہزار افراد کو بغیر حساب جنت میں داخل کیا جائے گا۔ دوسری روایات میں ان کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں (جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، منحوس نہیں مانتے، وغیرہ)۔

4. امید سے مراد یقین: نبی ﷺ نے فرمایا "إني لأرجو" (میں امید رکھتا ہوں) لیکن یہ امید دراصل یقین کے قریب ہے، کیونکہ یہ اللہ کے وعدے پر مبنی ہے۔

5. صحابہ اور ان کے اہل خانہ کے لیے جنت میں جگہ: آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ وہ ستر ہزار اتنی جگہ نہیں گھیر لیں گے کہ تم اور تمہارے نیک باپ، بیویاں اور اولاد جنت میں اپنے گھر نہ بنا سکیں۔ یہ صحابہ کرام کے لیے بڑی بشارت ہے۔

6. والدین اور اہل خانہ کے ساتھ نیکی کا اجر: جنت میں نیک والدین، بیویوں اور اولاد کے ساتھ رہنے کا وعدہ ہے، بشرطیکہ وہ نیک ہوں۔

عام اسباق

1. نبی ﷺ کی صحبت کی قدر: صحابہ کو چاہیے تھا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیں۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

2. موت کے بعد بھی استقامت کا اجر: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص ایمان اور استقامت پر مرے گا، وہ جنت میں جائے گا۔

3. حدیث کی صحت: یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ شیخ شعیب ارناؤوط نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث نمبر 13

عنوان: حضرت عمر کا ابو عبیدہ اور معاذ کو مال بھیجنا اور ان کا ایثار

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ مَالِكِ الدَّارِ قَالَ: أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رضي الله عنه - أَرْبَعَ مِائَةِ دِينَارٍ فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ , فَقَالَ لِلْغُلامِ: اذْهَبْ بِهِمْ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بن الْجَرَّاحِ , ثُمَّ تَلَهَّ (١) فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ , فَذَهَبَ بِهَا الْغُلامُ إِلَيْهِ , فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ , فَقَالَ: وَصَلَهُ اللهُ وَرَحِمَهُ , ثُمَّ قَالَ: تَعَالِي يَا جَارِيَةُ , اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ , وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ , حَتَّى أَنْفَدَهَا فَرَجَعَ الْغُلامُ وَأَخْبَرَهُ , فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا إِلَى مُعَاذِ بن جَبَلٍ - رضي الله عنه - , فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى مُعَاذِ بن جَبَلٍ , وَتَلَهَّ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ , فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ , فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذَا فِي بَعْضِ حَاجَتِكَ , فَقَالَ: رَحِمَهُ اللهُ وَوَصَلَهُ , تَعَالِي يَا جَارِيَةُ , اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا , وَاذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا , فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ فَقَالَتْ: نَحْنُ وَاللهِ مَسَاكِينٌ , فَأَعْطِنَا - وَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ - فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا , وَرَجَعَ الْغُلامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ , فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ , بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ.

---

ترجمہ:

حضرت مالک دار (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لیے اور انہیں ایک تھیلی میں رکھا، پھر اپنے ایک لڑکے (غلام) سے کہا:

"انہیں ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ، پھر (ان کے) گھر میں تھوڑی دیر ٹھہر کر دیکھو کہ وہ کیا کرتے ہیں۔"

غلام وہ دینار لے کر ابو عبیدہ کے پاس گیا اور کہا:

"امیر المؤمنین کہتے ہیں کہ آپ اسے اپنی کسی ضرورت میں خرچ کر لیں۔"

ابو عبیدہ نے کہا: "اللہ عمر کو صلہ دے اور اس پر رحم کرے۔"

پھر انہوں نے اپنی لونڈی (خادمہ) سے کہا:

"آؤ، ان سات دینار فلاں کے پاس لے جاؤ، اور یہ پانچ فلاں کے پاس لے جاؤ۔"

یہاں تک کہ انہوں نے سارے دینار تقسیم کر دیے۔

پھر غلام واپس آیا اور عمر کو بتایا۔ عمر نے دیکھا کہ انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اسی طرح کی تھیلی تیار کر رکھی تھی۔

انہوں نے (اسی غلام سے) کہا:

"یہ معاذ بن جبل کے پاس لے جاؤ، اور (ان کے) گھر میں ٹھہر کر دیکھو کہ وہ کیا کرتے ہیں۔"

غلام وہ دینار لے کر معاذ کے پاس گیا اور کہا:

"امیر المؤمنین کہتے ہیں کہ آپ اسے اپنی کسی ضرورت میں خرچ کر لیں۔"

معاذ نے کہا: "اللہ عمر پر رحم کرے اور اسے صلہ دے۔"

پھر انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا:

"آؤ، اتنا فلاں کے گھر لے جاؤ، اور اتنا فلاں کے گھر لے جاؤ۔"

اتنے میں معاذ کی بیوی نے جھانک کر کہا:

"اللہ کی قسم! ہم خود مسکین ہیں، ہمیں بھی کچھ دیں۔"

(اس وقت کپڑے میں صرف دو دینار باقی تھے) تو معاذ نے انہیں وہ دو دینار دے دیے۔

پھر غلام عمر کے پاس واپس آیا اور انہیں ساری خبر سنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا:

"یہ لوگ آپس میں بھائی ہیں، ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔"

---

تخریج و حوالہ جات:

· (طب) المعجم الكبير للطبرانی: ج20/ص33، حدیث نمبر 46

· صحيح الترغيب والترهيب: 926

· حافظ منذری نے فرمایا: "اسے طبرانی نے الکبیر میں روایت کیا ہے، اور مالك الدار تک کے راوی ثقہ اور مشہور ہیں، البتہ میں مالك الدار کو نہیں جانتا۔"


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص250]

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

صحابہ کی سخاوت اور ایثار

1. ابو عبیدہ بن جراح کا ایثار: جب انہیں چار سو دینار دیے گئے تو انہوں نے اپنے لیے کچھ نہیں رکھا، بلکہ سب ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیے۔ یہ ان کی بے نظیر سخاوت اور ایثار کی مثال ہے۔

2. معاذ بن جبل کا ایثار: انہوں نے بھی وہی کیا۔ جب ان کی بیوی نے کہا کہ ہم خود مسکین ہیں تو انہوں نے آخری دو دینار بھی انہیں دے دیے، حالانکہ وہ خود بھی محتاج تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے تھے۔

3. مال کی محبت نہیں بلکہ اللہ کی رضا: یہ دونوں صحابی مال کو اپنی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتے تھے۔

حضرت عمر کی حکمت اور دور اندیشی

1. جانچ کا طریقہ: عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبیدہ اور معاذ کو مال بھیج کر یہ دیکھنا چاہا کہ وہ اسے کیسے خرچ کرتے ہیں۔ یہ ایک حاکم کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمال اور قریبی ساتھیوں کی حالت معلوم کرے۔

2. غلام کو ٹھہرنے کا حکم: عمر نے غلام کو کہا کہ وہ ان کے گھر میں تھوڑی دیر رکے اور دیکھے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حاکم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے حالات کا جائزہ لے۔

3. خوشی کا اظہار: جب عمر کو معلوم ہوا کہ ان دونوں نے سارے دینار دوسروں میں تقسیم کر دیے تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: "یہ لوگ آپس میں بھائی ہیں۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی ایثار اور قربانی سے عمر کو خوشی ہوتی تھی۔

صحابہ کی اخلاقی اقدار:

1. اپنی ضرورت سے زیادہ دوسروں کی فکر: ابو عبیدہ اور معاذ دونوں نے اپنی ذاتی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی مدد کی۔

2. بیوی کا بھی ایثار: معاذ کی بیوی نے بھی جب دیکھا کہ سارے دینار بانٹ دیے گئے، تو انہوں نے صرف دو دینار مانگے، حالانکہ وہ خود بھی محتاج تھیں۔ یہ صحابیہ کی بھی بلند اخلاق کی مثال ہے۔

3. صدقہ و خیرات کی ترغیب: یہ واقعہ مسلمانوں کو دوسروں کی مدد کرنے اور اپنی ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

عمومی اسباق:

1. امیر المومنین کا کردار: عمر کا یہ عمل ایک ذمہ دار حاکم کی ذمہ داریوں کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں اور عوام کے حالات سے باخبر رہے۔

2. مال کی تقسیم میں عدل: عمر نے دونوں کو یکساں مال دیا، جس سے عدل و انصاف کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

3. حدیث کی سند: اس روایت کی سند "مالک الدار" تک ثقہ ہے، البتہ مالک الدار کے بارے میں منذری نے کہا کہ وہ انہیں نہیں جانتے۔ اس کے باوجود یہ واقعہ صحابہ کی سیرت کے باب میں مشہور اور قابلِ قبول ہے۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث نمبر 14

عنوان: صحابہ کرام کے نزدیک نشانیاں برکات تھیں، بعد والوں کے نزدیک ڈرانے والی

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رضي الله عنه - قَالَ:

(كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صلى الله عليه وسلم -) (١)

(نَرَى الْآيَاتِ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - بَرَكَاتٍ , وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا) (٢)

(وَلَقَدْ كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ وَهُوَ يُؤْكَلُ) (٣)

---

ترجمہ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی تھے۔(١)

ہم نبی ﷺ کے زمانے میں (جو) نشانیاں (معجزات) دیکھتے تھے، انہیں برکت سمجھتے تھے، اور تم (بعد والے) انہیں ڈرانے والی چیز سمجھتے ہو۔(٢)

اور ہم کھانے کو کھاتے ہوئے اس کی تسبیح سنتے تھے۔"(٣)

---

تخریج و حوالہ جات:

(١) مسند احمد: ٤٣٩٣، اور شیخ شعیب ارناؤوط نے فرمایا: حدیث صحیح ہے۔

(٢) مسند احمد: ٣٧٦٢، صحیح بخاری: ٣٣٨٦، سنن ترمذی: ٣٦٣٣

(٣) صحیح بخاری: ٣٣٨٦، سنن ترمذی: ٣٦٣٣، مسند احمد: ٤٣٩٣


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص252]

---

تشریح و وضاحت:

صحابہ کے نزدیک معجزات (آیات) برکات تھے

1. "الآيات" سے کیا مراد ہے؟

      یہاں "آیات" سے مراد وہ نشانیاں اور معجزات ہیں جو نبی ﷺ کے ذریعے ظاہر ہوتے تھے، جیسے:

   · چاند کا شق ہونا

   · پانی کی انگلیوں سے نکلنا

   · کھانے کا تسبیح کرنا

   · درخت کا نبی ﷺ کو سلام کرنا

   · اور دیگر معجزات۔

2. صحابہ کا رویہ:

      صحابہ کرام ان معجزات کو برکت سمجھتے تھے، کیونکہ یہ ان کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ تھے اور وہ ان سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

3. بعد والوں کا رویہ:

      بعد میں آنے والے لوگ انہی معجزات کو تخویف (ڈرانے والی چیز) سمجھتے ہیں، یعنی وہ ان سے ڈرتے ہیں یا انہیں عذاب کی نشانی سمجھتے ہیں۔

4. فرق کی وجہ:

      صحابہ کے پاس ایمان کی قوت تھی، وہ اللہ کی قدرت کو براہِ راست دیکھ کر خوش ہوتے تھے، جبکہ بعد والوں کے ایمان کمزور ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے وہ ہر غیر معمولی چیز سے گھبراتے ہیں۔


کھانے کی تسبیح سننا

1. کھانے کا تسبیح کرنا:

      نبی ﷺ کے زمانے میں صحابہ کھانا کھاتے ہوئے اس کی تسبیح سنتے تھے، یعنی کھانا (غذا) اللہ کی تسبیح کرتا تھا۔ یہ ایک معجزہ تھا جو نبی ﷺ کے ذریعے ظاہر ہوا۔

2. اس معجزے کا پس منظر:

      یہ وہی واقعہ ہے جب نبی ﷺ کے پاس تھوڑا سا کھانا تھا، آپ نے اسے بڑھنے کا حکم دیا، اور پھر سینکڑوں صحابہ نے اسے کھایا، اور کھانا تسبیح کر رہا تھا۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر ٣٥٧٩)

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. صحابہ کا مقام اور ایمان کی بلندی:

      صحابہ کرام کا ایمان اتنا بلند تھا کہ وہ معجزات کو ڈرانے والی نہیں بلکہ برکت سمجھتے تھے۔

2. ایمان کی کمزوری کے ساتھ خوف بڑھتا ہے:

      جب ایمان کمزور ہو جاتا ہے تو انسان ہر غیر معمولی چیز سے ڈرنے لگتا ہے، جبکہ مضبوط ایمان والے اسے اللہ کی قدرت کا مظہر سمجھتے ہیں۔

3. نبی ﷺ کے معجزات کی حقیقت:

      یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کے معجزات حقیقی تھے، اور صحابہ نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

4. کھانے کی تسبیح کا معجزہ:

      یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز میں ہے، اور ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے جیسا کہ قرآن میں ہے: {وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ} (الاسراء: 44)

5. صحابہ کی طرف سے بعد والوں کو نصیحت:

      ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ "تم انہیں تخویف سمجھتے ہو" دراصل بعد والوں کے ایمان کی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔

6. معجزات کا مقصد:

      معجزات اللہ کی قدرت کا اظہار، نبی کی سچائی کا ثبوت، اور مومنین کے ایمان میں اضافے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

7. حدیث کی صحت:

      یہ حدیث صحیح بخاری اور مسند احمد میں موجود ہے اور محدثین کے نزدیک صحیح ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کے ایمان کی بلندی کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ نبی ﷺ کے معجزات کو برکات سمجھتے تھے، جبکہ بعد والے لوگ انہیں تخویف (ڈرانے والی چیز) سمجھتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا (غذا) بھی اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کی نشانیوں کو برکت سمجھیں اور ان سے سبق حاصل کریں۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث نمبر 16

عنوان: صحابہ کرام کی زندگی: کھیل کود میں لچک اور حقیقت میں سنجیدگی

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ بكر بن عبد الله قال: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صلى الله عليه وسلم - يَتَبَادَحُونَ (١) بالبَّطِيخ، فإِذَا كَانَتْ الحَقَائِقُ، كَانُوا هُمُ الرِّجَالُ. (٢)

---

ترجمہ:

حضرت بکر بن عبداللہ مزنی (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے (ساتھ) تربوز ایک دوسرے کی طرف پھینک کر کھیلا کرتے تھے،(١) لیکن جب سخت حالات (حقیقت، جہاد یا مصیبت) آ جاتی تو وہی (حقیقی) مرد ہوتے تھے۔"(٢)

---

تخریج و حوالہ جات:

· (خد) الأدب المفرد للبخاری: ٢٦٦

· سلسلة الأحاديث الصحيحة: ٤٣٥

· صحيح الأدب المفرد: ٢٠١ (البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص253]

---

تشریح و وضاحت:

صحابہ کا کھیل کود کرنا

1. "یتبادحون بالبطیخ" کا مطلب:

      "تبادح" کے معنی ایک دوسرے کی طرف پھینکنا، اور "بطیخ" تربوز یا خربوزہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام کبھی کبھار کھیل کود میں تربوز ایک دوسرے کی طرف پھینکا کرتے تھے۔

2. کھیل کی نوعیت:

      یہ ایک معمولی اور بے ضرر کھیل تھا، جو انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ہر وقت سخت اور بے رونق نہیں تھے، بلکہ وہ جائز طریقے سے تفریح بھی کرتے تھے۔


"حقیقت" کے وقت سنجیدگی

1. "الحقائق" سے کیا مراد ہے؟

      "حقائق" سے مراد وہ سخت حالات ہیں، جیسے جہاد، مصیبت، یا دین کی حفاظت کے مواقع۔ جب ایسے مواقع آتے تو صحابہ کی پوری شخصیت بدل جاتی تھی۔

2. صحابہ کا کردار:

      جب سخت حالات آتے تو وہی لوگ جو تربوز سے کھیل رہے تھے، حقیقی مرد بن جاتے تھے، یعنی وہ:

   · دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے تھے

   · جان کی پروا کیے بغیر لڑتے تھے

   · اللہ کی راہ میں قربانیوں سے گریز نہیں کرتے تھے

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. صحابہ کی زندگی کا توازن:

      صحابہ کرام نے ہمیں یہ سبق دیا کہ انسان کو اپنی زندگی میں اعتدال رکھنا چاہیے۔ کھیل کود اور تفریح کے لیے بھی وقت ہو، لیکن جب ذمہ داری اور سنجیدہ موقع آئے تو وہی لوگ سب سے آگے ہوں۔

2. حقیقی مرد وہ ہیں جو مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کریں:

      صحابہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ کھیل کود میں بھی دلچسپی رکھتے تھے، لیکن جب دین کی حفاظت کا وقت آتا تو وہ سب سے بہادر اور مضبوط ثابت ہوتے تھے۔

3. کھیل کود میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ حدود میں رہے:

      اسلام نے کھیل کود کو منع نہیں کیا، بلکہ اس کی اجازت ہے، لیکن یہ حد سے زیادہ نہ ہو اور فرائض میں رکاوٹ نہ بنے۔

4. صحابہ کی سادگی اور بشریت:

      یہ واقعہ صحابہ کی بشریت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح کھیل کود بھی کرتے تھے۔ اس سے ان کی عظمت میں کوئی کمی نہیں آتی۔

5. زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن:

      ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں عبادت، کام، آرام، اور تفریح میں توازن رکھے۔

6. صحابہ کی سچائی اور قربانی:

      "فإذا كانت الحقائق كانوا هم الرجال" – اس جملے میں صحابہ کی سچائی، ثابت قدمی اور قربانی کی طرف اشارہ ہے کہ وہ کھیل کود میں لچک رکھتے تھے مگر سنجیدہ معاملات میں وہی سب سے بہادر اور بھروسہ مند تھے۔

7. حدیث کی صحت:

      یہ حدیث ادب المفرد میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحيح قرار دیا ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کی زندگی کے دو پہلوؤں کو واضح کرتی ہے:

· عام حالات میں وہ معمولی کھیل کود بھی کرتے تھے (جیسے تربوز پھینکنا)۔

· لیکن جب سخت حالات (جہاد، مصیبت) آتے تو وہی لوگ حقیقی مرد اور بہترین سپاہی ثابت ہوتے تھے۔

یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی زندگی میں توازن رکھیں، تفریح کریں، لیکن فرض کے وقت سنجیدہ اور ثابت قدم رہیں۔

واللہ اعلم بالصواب






حدیث نمبر 17

عنوان: صحابہ کرام کی سادگی اور دین کے معاملے میں سنجیدگی

متنِ حدیث (عربی)

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (١) قَالَ:

لَمْ يَكُنْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ - صلى الله عليه وسلم - مُتَحَزِّقِينَ (٢) وَلَا مُتَمَاوِتِينَ (٣) وَكَانُوا يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فِي مَجَالِسِهِمْ، وَيَذْكُرُونَ أَمْرَ جَاهِلِيَّتِهِمْ، فَإِذَا أُرِيدَ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ اللهِ، دَارَتْ حَمَالِيقُ (٤) عَيْنَيْهِ كَأَنَّهُ مَجْنُونٌ. (٥)

---

ترجمہ:

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن (تابعی) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:

"صحابہ کرام نہ تو (دین میں) سخت گیر تھے (٢) اور نہ ہی (عبادت کے نام پر) بے حس و حرکت (جیسے مردہ) تھے۔(٣) وہ اپنی مجالس میں ایک دوسرے کو شعر سنایا کرتے تھے، اور اپنے جاہلیت کے زمانے کے واقعات ذکر کیا کرتے تھے۔ لیکن جب ان میں سے کسی کو دین کے کسی معاملے (حق بات) کی طرف بلایا جاتا تو اس کی آنکھیں اس طرح گھوم جاتیں (٤) جیسے وہ دیوانہ ہو گیا ہو۔"

---

تخریج و حوالہ جات

(١) ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف قرشی زہری مدنی: تابعی، ثقہ، کثیر الحدیث، امام بخاری و مسلم وغیرہ کے راوی۔

(٢) مُتَحَزِّقِينَ: یعنی سخت گیر، تنگ مزاج، جماعت کی طرح اکٹھے ہو جانے والے۔

(٣) مُتَمَاوِتِينَ: ایسے شخص کو کہتے ہیں جو خود کو بے حرکت، کمزور اور مردہ جیسا بنا لے (خاص طور پر عبادت و زہد میں تکلف کرتے ہوئے)۔

(٤) حَمَالِيق: "حملاق" کی جمع، آنکھ کی پتلی کے گرد کا سیاہ حصہ، یہاں آنکھوں کے گھومنے اور شدت سے دیکھنے پر کنایہ ہے۔

(٥) (خد) الأدب المفرد للبخاری: ٥٥٥، دیکھیے صحيح الأدب المفرد: ٤٣٢


[الجامع الصحيح للسنن والمسانيد: ج15/ ص254]

---

تشریح و وضاحت:

صحابہ کا دین میں اعتدال

1. "متخصصين" سے کیا مراد ہے؟

      "تحزق" کے معنی سخت گیری، تنگ نظری اور بلاوجہ دین کو مشکل بنانا ہے۔ صحابہ اس سے پاک تھے۔

2. "متماوتین" سے کیا مراد ہے؟

      "تماوت" کا مطلب ہے خود کو بے حس اور مردہ بنا لینا، یعنی عبادت میں تکلف کرنا اور دنیا سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنا۔ صحابہ نے کبھی ایسا نہیں کیا۔


صحابہ کی عام زندگی

1. شعر سننا اور سنانا:

      صحابہ اپنی مجالس میں جائز اشعار سنتے اور سناتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جائز تفریح اور ادبی سرگرمیوں کی اسلام میں اجازت ہے۔

2. جاہلیت کے واقعات کا تذکرہ:

      وہ اپنے جاہلیت کے زمانے کے واقعات بیان کرتے تھے، تاکہ اس دور کی برائیوں سے عبرت حاصل کی جا سکے اور اسلام کی نعمت کا شکر ادا کیا جا سکے۔


دین کے معاملے میں سنجیدگی

1. "دارت حمالیق عینیه" کا مفہوم:

      جب صحابہ کو دین کے کسی معاملے (حق بات) کی طرف بلایا جاتا تو ان کی آنکھیں شدت سے گھوم جاتی تھیں، جیسے وہ دیوانہ ہو گئے ہوں۔ یہ ان کی غیرت دینی اور جوش و خروش کی علامت تھی۔

2. حق کے لیے کھڑے ہونا:

      صحابہ عام حالات میں نرم اور خوش مزاج تھے، لیکن جب دین کو خطرہ ہوتا یا کسی حق بات کی طرف بلایا جاتا تو وہ فوراً سنجیدہ ہو جاتے اور اپنی جان و مال سے دفاع کرنے کو تیار ہو جاتے۔

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

1. دین میں اعتدال کی ضرورت:

      اسلام نے افراط (بے جا سختی) اور تفریط (بے حسی) دونوں سے منع کیا ہے۔ صحابہ نے اعتدال کو اپنایا۔

2. جائز تفریح اور شعر خوانی کی اجازت:

      جائز اور اخلاقی تفریح، شعر خوانی، اور اچھی باتیں کرنا صحابہ کا طریقہ تھا۔

3. جاہلیت کے واقعات سے عبرت:

      ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ماضی کی برائیوں کو یاد کر کے ان سے بچیں اور اسلام کی نعمت پر شکر کریں۔

4. دین کے معاملے میں سنجیدگی اور غیرت:

      جہاں دین کا معاملہ ہو، وہاں صحابہ کی طرح سنجیدہ اور جانثاری کا جذبہ ہونا چاہیے۔

5. صحابہ کی عملی تربیت:

      یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ اپنی زندگی کے عمومی معاملات میں نرم اور خوش اخلاق تھے، لیکن جب دین کی حفاظت کا سوال ہوتا تو وہ بے مثال بہادری اور جذبے کا مظاہرہ کرتے تھے۔

6. بدعت سے بچنا:

      "تحزیق" اور "تماوت" دونوں بدعات کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔ صحابہ کا طریقہ ان سے پاک تھا۔

7. دین کی طرف بلانے کا انداز:

      جب صحابہ کو کسی حق کی طرف بلایا جاتا تو وہ فوراً لبیک کہتے تھے۔ یہ ہمارے لیے بھی سبق ہے کہ حق قبول کرنے میں تاخیر نہ کریں۔

8. حدیث کی صحت:

      یہ حدیث "الأدب المفرد" میں موجود ہے اور علامہ البانی نے اسے صحيح قرار دیا ہے۔

---

خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کی زندگی کے دو پہلوؤں کو واضح کرتی ہے:

· عام حالات: وہ نرم مزاج، خوش اخلاق، جائز تفریح کرنے والے، اور شعر خوانی جیسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے والے تھے۔

· دین کے معاملات: جب دین کی حفاظت، حق بات، یا جہاد کا موقع آتا تو وہ انتہائی سنجیدہ، بہادر اور جانثاری پر آمادہ ہو جاتے تھے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ کے اسی نقش قدم پر چلیں: زندگی میں اعتدال، تفریح میں جائز حدود، اور دین کے معاملے میں غیرت و جانثاری۔

واللہ اعلم بالصواب




انوکھی حدیث:
عنوان:
نبی ﷺ کا جنت اور جہنم کا مشاہدہ، اور امت کے فتنوں کی پیشگوئی

متنِ حدیث (عربی)

نا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:
صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ فِي الصَّلَاةِ مَدَّ يَدَهُ، ثُمَّ أَخَّرَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ فِي صَلَاتِكَ هَذِهِ مَا لَمْ تَصْنَعْ فِي صَلَاةٍ قَبْلَهَا قَالَ:
«إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ قَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ، وَرَأَيْتُ فِيهَا. . . . قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ، حَبُّهَا كَالدُّبَّاءِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْهَا، فَأُوحِيَ إِلَيْهَا أَنِ اسْتَأْخِرِي، فَاسْتَأْخَرَتْ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ حَتَّى رَأَيْتُ ظِلِّيَ وَظِلَّكُمْ، فَأَوْمَأْتُ إِلَيْكُمْ أَنِ اسْتَأْخَرُوا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَقِرَّهُمْ، فَإِنَّكَ أَسْلَمْتَ وَأَسْلَمُوا، وَهَاجَرْتَ وَهَاجَرُوا، وَجَاهَدْتَ وَجَاهَدُوا، فَلَمْ أَرَ لِي عَلَيْكُمْ فَضْلًا إِلَّا بِالنُّبُوَّةِ» 
[صحيح ابن خزيمة:892، مسند الشاميين للطبراني:2087، الأحاديث المختارة:2136، جامع الأحاديث للسيوطي:9278]

اور دوسری روایت میں ہے:
فَأَوَّلْتُ ذَلِكَ مَا يَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي مِنَ الْفِتَنِ
[المستدرك الحاكم:8408، جامع الأحاديث للسيوطي:9063]

---

ترجمہ:

بحر بن نصر بن سابق الخولانی، ابن وہب، معاویہ بن صالح، عیسیٰ بن عاصم، زر بن حبیش، اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا:

ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں: نماز کے دوران آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا، پھر اسے واپس کر لیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس نماز میں ایسا کیا جو آپ نے پہلے کبھی کسی نماز میں نہیں کیا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مجھے جنت دکھائی گئی اور میں نے اسے دیکھا... اس کے پھل نزدیک (اور جھکے ہوئے) تھے، اس کے دانے کدو کی مانند تھے۔ میں نے ان میں سے کچھ پھل حاصل کرنے کا ارادہ کیا، تو اس سے (یعنی جنت سے) کہا گیا: پیچھے ہٹ جا، چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر مجھے آگ (جہنم) دکھائی گئی، وہ میرے اور تمہارے درمیان (ایسی قریب) تھی کہ میں نے اپنا سایہ اور تمہارے سائے دیکھ لیے۔ میں نے تمہاری طرف اشارہ کیا کہ تم پیچھے ہٹ جاؤ (آگ سے بچنے کے لیے)، تو میری طرف وحی کی گئی کہ انہیں (اپنی جگہ پر) ٹھہرنے دو، کیونکہ تم نے اسلام قبول کیا اور انہوں نے بھی قبول کیا، تم نے ہجرت کی اور انہوں نے بھی ہجرت کی، تم نے جہاد کیا اور انہوں نے بھی جہاد کیا۔ پس میں نے اپنے لیے تم پر کوئی فضیلت نہیں دیکھی، سوائے نبوت کے۔"

[صحیح ابن خزیمہ: 892، مسند الشامیین للطبرانی: 2087، الاحادیث المختارہ: 2136، جامع الاحادیث للسیوطی: 9278]

اور دوسری روایت میں ہے:
"پس میں نے اس کی تعبیر ان فتنوں سے کی جو میری امت کو میرے بعد پیش آئیں گے۔"
[المستدرک للحاکم: 8408، جامع الاحادیث للسیوطی: 9063]

---

تخریج و حوالہ جات

· صحيح ابن خزيمة: 892
· مسند الشاميين للطبراني: 2087
· الأحاديث المختارة للضياء المقدسي: 2136
· جامع الأحاديث للسيوطي: 9278
· المستدرك للحاكم: 8408 (دوسری روایت کے لیے)
· جامع الأحاديث للسيوطي: 9063 (دوسری روایت کے لیے)

حكم الحديث:
یہ حدیث صحیح ہے۔ اسے امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں، امام طبرانی نے مسند الشامیین میں، اور ضیاء مقدسی نے الاحادیث المختارہ میں روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے بھی اسے مستدرک میں روایت کیا ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیث قابلِ حجت ہے۔

---

حاصل شدہ اہم اسباق و نکات

جنت اور جہنم کا مشاہدہ

1. جنت کی حقیقت: حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کو دکھایا جانا ممکن ہے۔ یہ ایک حقیقی جگہ ہے جس کے پھل نزدیک اور جھکے ہوئے ہیں، اور اس کے دانے کدو کی مانند ہیں۔
2. جنت کا پیچھے ہٹنا: نبی ﷺ نے جنت سے کچھ پھل لینا چاہا تو جنت کو حکم دیا گیا کہ وہ پیچھے ہٹ جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور جہنم دونوں اللہ کے حکم کی تابع ہیں۔
3. جہنم کا قریب آنا: جہنم اتنی قریب آ گئی کہ آپ ﷺ نے اپنا سایہ اور صحابہ کے سائے دیکھ لیے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن یہ منظر عام ہوگا۔
4. شفقت نبوی: نبی ﷺ نے جہنم کو دیکھ کر فوراً صحابہ کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا، جو آپ کی امت کے لیے شفقت اور محبت کو ظاہر کرتا ہے۔

صحابہ کا مقام اور فضیلت

1. صحابہ کی عظمت: اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ صحابہ کو پیچھے نہ ہٹنے دیں، کیونکہ انہوں نے بھی وہی کیا جو آپ نے کیا: اسلام قبول کیا، ہجرت کی، اور جہاد کیا۔
2. نبوت ہی اصل فضیلت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ کو صحابہ پر صرف نبوت کے اعتبار سے فضیلت حاصل ہے۔ ورنہ اعمال اور قربانیوں میں وہ آپ کے شریک ہیں۔
3. صحابہ کے اعمال کا اعتراف: اللہ نے خود صحابہ کے اسلام، ہجرت اور جہاد کو قبول کیا اور انہیں نبی ﷺ کے برابر قرار دیا (سوائے نبوت کے)۔

فتنوں کی پیشگوئی

1. امت کو فتنوں کا سامنا: دوسری روایت کے مطابق، نبی ﷺ نے اس واقعے کو امت کے مستقبل کے فتنوں سے تعبیر کیا۔ گویا جنت کا پیچھے ہٹنا اور آگ کا قریب آنا اس بات کی علامت تھی کہ امت کو سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑے گا۔
2. فتنوں کے وقت صبر کی ضرورت: جس طرح نبی ﷺ نے صحابہ کو آگ سے بچنے کا نہیں کہا، اسی طرح فتنوں کے وقت مسلمانوں کو اپنے ایمان اور عمل پر قائم رہنا چاہیے۔
3. جماعت کی اہمیت: اللہ نے صحابہ کو جماعت سے الگ ہونے کا حکم نہیں دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنوں کے وقت مسلمانوں کو متحد رہنا چاہیے اور جماعت سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔

دیگر نکات

1. نماز میں معاملہ: نبی ﷺ نے نماز کے دوران جنت اور جہنم کا نظارہ کیا، اس کے باوجود آپ کی نماز باطل نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز کے دوران قلب میں آنے والے خیالات اور مشاہدات نماز کو فاسد نہیں کرتے۔
2. اللہ کا فضل: یہ حدیث اللہ کے فضل و کرم کو ظاہر کرتی ہے کہ اس نے صحابہ کو اتنا بلند مقام عطا کیا کہ انہیں نبی ﷺ کے برابر قرار دے دیا (سوائے نبوت کے)۔
3. نبوت کی حقیقت: یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ نبوت ایک عطیہ ہے جو صرف انبیاء کو ملتا ہے۔ صحابہ اس میں شریک نہیں ہو سکتے، لیکن اعمال کے اعتبار سے وہ نبی ﷺ کے ساتھ ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب





اللہ والوں کے پیچھے چلنے کے انعام
القرآن:
اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
[سورۃ نمبر 9 التوبة، آیت نمبر 100]
تشریح:
(1)مہاجر کہتے ہیں جو چھوڑ دے اللہ کی نافرمانی(کی باتوں، چیزوں اور جگہ)کو.....یہاں مہاجرین سے مراد مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ آنے والے رسول اللہ ﷺ کے ساتھی مراد ہیں۔
(2)انصار کہتے ہیں اللہ کی خاطر(مستحق-ضرورتمندوں کی) مدد کرنے والوں کو.....یہاں انصار سے مراد رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین کے وہ "مددگار" ہیں جو مدینہ میں رہتے  تھے۔
(3)ان کی اتباع-پیروی کرنے-پیچھے چلنے والوں کو تابعی کہتے ہیں۔۔۔جو عموماً قیامت تک کے مسلمان بھی ہوسکتے ہیں ، ان سب کی اتباع کرنے کی وجہ سے۔

امام خطیب البغدادیؒ(م463ھ) نے فرمایا:
وَجَمِيعُ ذَلِكَ يَقْتَضِي طَهَارَةَ الصَّحَابَةِ ، وَالْقَطْعَ عَلَى تَعْدِيلِهِمْ وَنَزَاهَتِهِمْ ، فَلَا يَحْتَاجُ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَعَ تَعْدِيلِ اللَّهِ تَعَالَى لَهُمُ الْمُطَّلِعِ عَلَى بَوَاطِنِهِمْ إِلَى تَعْدِيلِ أَحَدٍ مِنَ الْخَلْقِ لَهُمْ
ترجمہ:
اگر اللہ تعالیٰ اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت سے متعلق کچھ منقول نہ بھی ہوتا تب بھی ان کے اپنے ایمانی حالات، ہجرت، جہاد اور دین کی سربلندی کے لیے جان و مال اور اولاد کی قربانی ان کی عدالت و امانت اور عقیدہ و عمل کی پاکیزگی و طہارت ان کے ما بعد عظمت و شان کا اعتراف کرنے والوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔
«إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يَنْتَقِصُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ فَاعْلَمْ أَنَّهُ زِنْدِيقٌ ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ عِنْدَنَا حَقٌّ ، وَالْقُرْآنَ حَقٌّ ، وَإِنَّمَا أَدَّى إِلَيْنَا هَذَا الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ ، وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنْ يُجَرِّحُوا شُهُودَنَا لِيُبْطِلُوا الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ ، وَالْجَرْحُ بِهِمْ أَوْلَى وَهُمْ زَنَادِقَةٌ»
ترجمہ:
ابو زرعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب آپ کسی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے دیکھیں تو جان لیں کہ وہ زندیق ہے۔ اس لیے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن کریم ہمارے ہاں برحق ہیں ، ہم تک قرآن اور سنت رسول پہنچنے کا ذریعہ اصحاب رسول ہی ہیں۔ یہ زندیق اور ملحد لوگ ہمارے گواہانِ شریعت پر جرح کرکے کتاب و سنت کو معطل کرنا چاہتے ہیں اور حقیقت میں یہی زندیق جرح کے حق دار ہیں۔
[الكفاية في علم الرواية: صفحہ 48 -49]

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہؓ صرف روایت حدیث میں عادل ہیں؟

          اہل السنۃ و الجماعۃ کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں ہیں مگر وہ عادل، متقن، متقی اور انتہا درجہ پرہیز گار ہیں ،، آسمانِ دیانت و تقویٰ کے درخشندہ ستارے ہیں ، فسق و فجورجن کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔

            چنانچہ خداوند ِ قدوس نے قرآن کریم میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطَب کرکے فرمایا:

          وَلَکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُولٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُون۔(الحجرات:۷)

            لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں کی اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں ۔

          نیز ارشادِ باری ہے: أُولٰئِکَ الَّذِینَ امْتَحَنَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوَی لَہُمْ مَغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ عَظِیمٌ، (الحجرات:۷)

            ترجمہ: یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔

            علم العقائد کی معروف کتاب المسامرۃ شرح المسایرۃ میں ہے:

          ’’و اعتقاد أھل السنۃ و الجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منہم و الکف عن الطعن فیہم و الثناء علیہم … و ما جریٰ بین علی و معاویۃ رضی اللّٰہ عنہما … کان مبنیاً علی الاجتہاد من کل منہما لامنازعۃ من معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فی الامامۃِ‘‘ (۲۶۹، ۲۷۰)

            ترجمہ: اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ تمام صحابۂ کرام کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے اس طرح کہ ا ن سب کے لیے عدالت ثابت کرنا اور ان کے بارے طعن سے رکنا اور ان کی مدح و ثنا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اور حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جو کچھ معاملہ پیش آیا یہ دونوں حضرات کے اجتہاد کی بنا پر تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکومت و امامت کا جھگڑا نہیں تھا۔

            امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

           الصّحابۃ کلّہم عدول من لابس الفتن وغیرہم بإجماع من یعتد بہ، قال تعالی: (وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا)(البقرۃ:۱۴۳) الآیۃ، أی عدولا۔ وقال تعالی: (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران:۱۱۰)، والخطاب فیہا للموجودین حینئذ۔ وقال صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم: خیر النّاس قرنی، رواہ الشیخان۔ قال إمام الحرمین: والسبب فی عدم الفحص عن عدالتہم: أنّہم حملۃ الشریعۃ؛ (تدریب الراوی، ص۴۹۲، ۴۹۳، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

            یعنی باجماعِ معتبر علماء تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں ، مبتلائے فتن ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں ، (دلیل ) ارشادِ باری تعالیٰ ہے، وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطًا، کہ ہم نے تمہیں امت وسط یعنی عادل بنایا ۔نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ،کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو، ان آیات میں خطاب اُس وقت موجود حضرات (صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ) کو ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ لوگوں میں بہترین میرا زمانہ ہے، امام الحرمین نے فرمایا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت سے بحث و جستجو نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حاملینِ شریعت و ناقلینِ شریعت ہیں ۔

            مشہور حنفی محقق ملاقاری رحمہ اللہ تعالیٰ ارقام فرماتے ہیں :

          ’’ذہب جمہور العلماء الی أنّ الصحابۃَ رضی اللّٰہ عنہم کلّہم عدول قبل فتنۃ عثمان و علی وکذا بعدہا ولقولہ علیہ الصلاۃ والسّلام أصحابی کالنجوم بأیّہم اقتدیتم اہتدیتم‘‘ (شرح الفقہ الأکبر لملاعلی القاری،ص۶۳)

            ترجمہ:

جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل(پاکباز، متقی) ہیں حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں وقوع پذیرفتنوں سے پہلے بھی اور اُس کے بعد بھی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ستاروں کی مانند ہیں ، ان میں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔

            علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

            ’’قال ابن الصلاح والنووی الصحابۃ کلہم عدول وکان للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مائۃ ألف وأربعۃ عشر ألف صحابی عند موتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم والقرآن والأخبار مصرّحان بعدالتہم وجلالتہم ولما جری بینہم محامل‘‘(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ،۲؍۶۴۰، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

            ابن صلاح اور امام نووی فرماتے ہیں ، کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عادل و متقی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ تھے،قرآن کریم اور احادیث ِ طیبہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت و تقویٰ اور جلالتِ شان کی صراحت و وضاحت کررہے ہیں ، اور ان کے باہمی مشاجرات و معاملات کے محمل اور تاویلات موجود ہیں ۔

             اس لیے اہل السنۃ و الجماعۃ کا بجاطورموقف پر یہی ہے کہ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں عادل و پاکباز ہیں ؛ بلکہ تمام معاملات ِ زندگی اور اعمالِ  حیات میں بھی عادل و متقی اور پرہیزگار ہیں ؛تاہم معصوم نہیں ہیں کہ ان سے کوئی خطا اور گناہ سرزد ہی نہ ہو، معصوم عن الخطا صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ذواتِ قدسیہ ہیں ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ عن الخطا ہیں ، یعنی یا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے خطا و معصیت کا صدور ہونے نہیں دیتے، اور اگر کسی ایزدی حکمت وربانی مصلحت کی بنا پر کسی معصیت و گناہ کا صدور ہو تو خداوند ِ قدوس صحابی کی زندگی میں ہی اس کا ازالہ و تدارک کروادیتے ہیں کہ صحابی جب دنیا سے جاتا ہے تو بموجبِ وعدۂ خداوندی ’’وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی‘‘جنتی بن کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس لیے ’’الصّحابۃ کُلُّہم عُدول‘‘ کا یہ مطلب لینا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم انبیائِ کرام علیہم السلام کی مانند معصوم ہیں ، نادرست اور غلط ہے، عصمت خاصۂ انبیاء ہے؛ تاہم دوسر ی طرف یہ کہنا کہ صحابی عام زندگی میں اس مفہوم میں بھی عادل نہیں ہوتا جو اہل السنۃ کے متفق علیہ و مسلّم ہے، تصریحاتِ اہل السنۃ وتشریحاتِ اکابر علماء ِ دیوبند کے مطابق و موافق نہیں ہے، اس کا واضح مطلب تو یہ ہوا کہ صحابی فاسق ہوسکتا ہے؛ کیونکہ عدالت اور فسق میں تباین و تضاد ہے، عادل ہے تو فاسق نہیں ، فاسق ہے تو عادل نہیں ، اور عادل نہیں تو فاسق ہے۔

            مگر بہت سے گم راہ نظریات رکھنے والے لوگوں کا نظریہ اور اعتقاد یہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث میں تو عادل ہیں ؛ مگر دیگر احوالِ زندگی میں عادل اور متقی نہیں ہیں ، درحقیقت اس اعتراض اور نقطئہ نظر کا مبدأ اور منشا سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو غیرعادل اور فاسق و فاجر اور باغی و طاغی تک قرار دینا ہے، اسی ضرورت سے یہ نظریہ ایجاد کرنا پڑا۔

            چنانچہ مودودی صاحب اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں لکھتے ہیں :

            ’’میں ’’الصَّحَابۃُ کلُّہُم عُدول‘‘ (صحابہ سب راست باز ہیں ) کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم بے خطا تھے، اور ان میں کا ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالا ترـتھا، اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے؛ بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے‘‘ (خلافت و ملوکیت، ۳۰۳، ط:ادراہ ترجمان القرآن، لاہور، ۲۰۱۹ء)

            موجودہ دور میں بھی بعض ایسے نظریاتِ فاسدہ و خیالاتِ کاسدہ کے حامل لوگ پیدا ہوچکے ہیں ۔

            اس نظریہ کا علمائِ امت نے ابطال اور رَد فرمایا ہے، چنانچہ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم مودودی صاحب کے اس موقف کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

            ’’اگر اس کتاب (خلافت و ملوکیت) کے ان مندرجات کو درست مان لیا جائے جو خاص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہیں تو اس سے عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا وہ بنیادی عقیدہ مجروح ہوتا ہے جو اہل سنت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جسے مولانا مودودی صاحب بھی اصولی طور پر درست مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مولانا نے ’ ’الصحابۃ کلہم عُدول‘‘ (تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں ) کو اصولی طور پر اپنا عقیدہ قرار دے کر یہ لکھا ہے کہ اس عقیدے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوسکتی؛ بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ روایتِ حدیث میں انہوں نے پوری دیانت اور ذمہ داری سے کام لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس گفتگو میں مولانا نے اس بحث کو صاف نہیں فرمایا، عقلی طور پر عدالت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے تین مفہوم ہوسکتے ہیں ۔

            (۱) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معصوم اور غلطیوں سے بالکل پاک ہیں ۔

            (۲) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنی عملی زندگی میں (معاذ اللہ) فاسق ہوسکتے ہیں ؛ لیکن روایتِ حدیث کے معاملے میں بالکل عادل ہیں ۔

            (۳) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بتقاضائے بشریت ’ ’دو ایک یا چند‘‘ غلطیاں سرزد ہوگئی ہوں ؛ لیکن تنبہ کے بعد انہوں نے توبہ کرلی  اور اللہ نے انھیں معاف فرمادیا؛ اس لیے وہ ان غلطیوں کی بنا پر فاسق نہیں ہوئے؛ چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی صحا بی نے گناہوں کو اپنی ’’پالیسی‘‘ بنالیا ہو، جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جاسکے۔۔۔۔۔۔۔ پہلے مفہوم کو تو انہوں نے صراحتاً غلط کہا ہے اور جمہور اہل سنت بھی اسے غلط کہتے ہیں ، اب آخری دو مفہوم رہ جاتے ہیں ، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم وہ درست سمجھتے ہیں ، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم درست ہے، اگر ان کی مراد دوسرا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایتِ حدیث کی حد تک عادل ہیں ، ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ معاذ اللہ فاسق و فاجر بھی ہوسکـتے ہیں ، تو یہ بات ناقابل بیان حد تک غلط اور خطرناک ہے؛اس لیے کہ اگر کسی صحابی کو فاسق و فاجر مان لیا جائے تو آخر روایتِ حدیث کے معاملہ میں اسے فرشتہ تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے؟ جو شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے جھوٹ، فریب، رشوت، خیانت اور غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے، وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اسی لیے تمام محدثین اس اُصول کو مانتے ہیں کہ جو شخص فاسق و فاجر ہو اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی، ورنہ اگر روایات کو مسترد کرنے کے لیے یہ شرط لگادی جائے کہ راوی کا ہر ہر روایت میں جھوٹ بولنا ثابت ہو تو شاید کوئی بھی روایت موضوع ثابت نہیں ہوسکے گی اور حدیث کے تمام راوی معتبر اور مستند ہوجائیں گے، خواہ وہ عملی زندگی میں کتنے ہی فاسق و فاجر نہ ہوں ۔ اور اگر مولانا مودودی صاحب عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیسرے مفہوم میں درست سمجھتے ہیں جیساکہ اوپر نقل کی ہوئی ایک عبارت سے معلوم ہوتا ہے، سو یہ مفہوم جمہور اہل سنت کے نزدیک درست ہے؛ لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر انھوں نے جو اعتراضات اپنی کتاب میں کیے ہیں اگر اُن کو درست مان لیا جائے تو عدالت کا یہ مفہوم ان پر صادق نہیں آسکتا۔(حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق، ۱۳۹ تا ۱۴۲، ط: معارف القرآن، کراچی، ۲۰۱۶ء)

            یہی بحث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے دوسرے باب ، صفحہ۲۵۴ پر بھی کی ہے۔

            مولانا محمد ثاقب اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

            ’’دراصل مولانا مودودی صاحب نے عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا جو مفہوم بیان کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث کی حدتک تو عادل ہوسکتے ہیں ؛ لیکن ز ندگی کے تمام معاملات میں ان سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہوسکتے ہیں ۔(حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی روایات، ص۱۶۳، مکتبہ معارف القرآن، کراچی، ۲۰۱۱ء)

            حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ تعالیٰ اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

            ’’اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے ’’عدالت‘‘ کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں ’’عدالت‘‘ سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں ؛ بلکہ روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے،یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘(مقامِ صحابہ، ص۶۰)

            اس زمانہ کے مؤرخ مولانا محمد اسماعیل ریحان نے بھی اپنی کتاب ’’تاریخ امت ِ مسلمہ‘‘ (ج۲؍ص۶۷) پر مفتی اعظم مولانا محمد شفیع دیوبندی قدس سرہ کے حوالے سے اس نظریہ اور خیال کی تردید فرمائی ہے۔

            محقق اہل السنۃ مولانا مہر محمد صاحب رحمہ اللہ (میانوالی) لکھتے ہیں :

            ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بلااستثناء ، دروغ گوئی خصوصاً کذب فی الروایۃ سے پاک و صاف تھے اور کسی سے بھی کذب کا صدور نہیں ہوا اور بایں معنیٰ عادل ہونا بھی ان کی منقبت کی واضح دلیل ہے؛لیکن عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو صرف اس معنیٰ میں منحصر کرنا اور اسے محدثین کی مراد بتانا ناقابلِ تسلیم اور لائقِ مناقشہ ہے؛ کیونکہ بعض محدثین نے عدالت کی تفسیر میں جھوٹ سے بچنا لکھا ہے تو اس کا یہ معنٰی ہرگز نہیں کہ ان محدثین کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم روایت میں عمداً کذب ِ بیانی کے سواباقی سب امور اور شعبہ ہائے حیات میں غیرعادل حتی کہ ہرقسم کے کبیرہ گناہوں تک کا ارتکاب کرتے تھے، جیسے صاحبِ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ اور ان کے حواریوں کا خیال ہے بلکہ جھوٹ سے بچنے کی تصریح کا مطلب یہ ہے کہ بایں معنٰی صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت اتنی قطعی اور اٹل ہے جیسے انبیاء علیہم السلام کی گناہوں سے عصمت کہ اس میں استثناء یا شذوذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتااور نہ کسی عالم نے آج تک یہ لکھا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جھوٹ بولتے تھے، بخلاف چند اور گناہوں کے کہ چند حضرات کی ان سے عصمت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔۔۔ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ہر فرد انبیاء علیہم السلام کی طرح قطعی معصوم نہیں کہ صدورِ معصیت محال ہی ہو، ہم نے اپنی کتاب میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت عن الرسول میں منحصر نہیں ؛ بلکہ ان کی سیرت کے ہر پہلو میں عام ہے۔۔۔۔۔۔۔ محدثین جو عام رُواۃ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ عادل ہیں تو یہ اس کی پوری سیرت کی پاکیزگی پر شہادت ہوتی ہے کہ وہ کبائر سے مجتنب اور صغائر پر غیر مصر ہے، پھر اسی بحث میں وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کہتے ہیں : ’’الصّحابہ کُلُّہم عدول‘‘ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں ، تو اب اس عدالت کو تجنب عن الکذب میں مخصوص نہیں کیا جائے گا ورنہ لازم آئے گا کہ غیرصحابی کی عدالت صحابی سے افضل ہو، وھو باطل۔ ۔۔۔۔۔۔۔ علمائِ اصول حدیث اور محدثین ’’کلہم عدول‘‘ کی دلیل ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ فرماتے ہیں : ’’زَکّیاھم و عدّلاھم‘‘کیونکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تزکیہ کیا ہے، اور ان کو عادل قرار دیا ہے۔ خدا اور رسول کا یہ تزکیہ اور تعدیل صرف کذب سے اجتناب میں نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم دیگر گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے تھے؛ بلکہ یہ مجموعی طورپر ان کے اعمال و اخلاق کی عیوب سے طہارت اور آلودگیوں سے اجتناب پر شہادت ہے، تو معلوم ہوا محدثین کے نزدیک بھی عدالت میں تعمیم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بہرحال ! تزکیہ، نزاہت، قصدِ معصیت سے تبریہ ان کی شان کی گناہوں سے بلندی جیسے واضح الفاظ ہمارے مؤید ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت عام ہے، اور وہ بالعموم سب گناہوں اور معاصی سے محفوظ ہیں ، ایسی صراحتوں کے باوجود کیا اب بھی محدثین پر یہ اتہام لگایا جائے گا کہ ان کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم تعمدِ کذب فی الروایۃ تک عادل تھے باقی ہر قسم کے کبائر اور معاصی کرتے تھے، اور ذنوب ان سے معدوم نہیں ہوئے تھے۔(عدالتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، ص۷۰ تا ۷۵، طبع ہفتم)

            یہ ایک بالکل بدیہی اور سادہ سی سے بات ہے ،اگر یہ موقف تسلیم کرلیا جائے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عام زندگی میں عاد ل نہیں ، صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں ، اور ان کی قبولِ روایت کے لیے عام زندگی میں عدالت ضروری نہیں تو اس سے نہ صرف یہ اصولِ حدیث میں برائے قبولِ روایت عدالت کی شرط ایک مذاق اور مضحکہ خیز قاعدہ بن کر رہ جائے گا؛  بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ دیگر رواۃ تو عام معاملاتِ حیات میں بھی عادل ہوں اور صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ عادل نہ ہو،جیسا کہ حضرت مولانا مہر محمد صاحب میانوالی رحمہ اللہ نے بھی ذکر فرمایا ہے۔

            بعض حضرات نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ایسی باتوں کی نسبت کی ہے، جس کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی رحمہ اللہ تعالیٰ نے (مقامِ صحابہ،۶۰، ۶۱)یہ تصریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاً شاہ صاحب کی طرف ان عبارات کی نسبت مشکوک ہے، ثانیاً اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ حضرت شاہ رحمہ اللہ کی عبارات ہیں تو خلافِ جمہور ہونے کی وجہ سے متروک و مردود ہیں ۔

            دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عدالت و تقو یٰ پر علمائِ امت کی تصریحات موجود ہیں ، ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں ۔

            شارح صحیح مسلم امام نووی رحمہ اللہ تعالی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت پر مہر اثبات ثبت کرتے ہوئے میں فرماتے ہیں :

          ’’وأما معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فہو من العَدُول الفضلاء والصَّحابۃ النُّجباء رضی اللّٰہ عنہ وأما الحروب التی جرت فکانت لکل طائفۃ شبہۃ اعتقدت تصویب أنفسہا بسببہا وکلہم عدول رضی اللّٰہ عنہم ومتأولون فی حروبہم وغیرہا ولم یخرج شیء من ذلک أحدا منہم عن العدالۃ لأنہم مجتہدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتہاد کما یختلف المجتہدون بعدہم فی مسائل من الدماء وغیرہا ولا یلزم من ذلک نقص أحد منہم … فکلہم معذورون رضی اللّٰہ عنہم ولہذا اتفق أہل الحق ومن یعتد بہ فی الإجماع علی قبول شہاداتہم وروایاتہم وکمال عدالتہم رضی اللّٰہ عنہم اجمعین‘‘۔ (شرح النووی علی الصحیح لمسلم، کتاب الفضائل، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللّٰہ عنہم، ۱۵/۱۴۹، دار إحیاء التراث العربی، بیروت)

            ترجمہ: بہرحال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو وہ عادل ، صاحبِ فضیلت اور معزز صحابی ہیں ، جہاں تک ان محاربات و مشاجرات کا تعلق ہے جو ان حضرات کے مابین پیش آئے تو وہاں ہر ایک کو کوئی اشتبا ہ و التباس تھا، جس کی وجہ سے ہر ایک نے خود کو درست سمجھا؛ جب کہ وہ سب کے سب عادل ہیں اوان کے مخاصمات و باہمی منازعات میں ان کے پاس تاویل موجود ہے، ایسی کسی معاملہ نے انھیں عدالت سے نہیں نکالا؛ کیونکہ وہ مجتہد تھے ،(جس کا نتیجہ یہ ہے کہ) محلِ اجتہاد میں کچھ مسائل میں ان کا اختلاف ہوگیا، جیسا کہ ان کے بعد بھی مختلف مسائل میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا رہتا ہے، اس سے ان میں سے کسی کی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا یہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم معذور ہیں اور اسی وجہ اہلِ احق اور ان لوگوں کا کہ اجماع کے باب میں جو لائقِ اعتبار وقابلِ شمار ہے، کا حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہیوں اور روایات کے قبول ہونے نیز کمال ِ عدالت و تقویٰ پر اتفاق اور اجماع ہے ۔

            لہٰذا حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں ؛ بلکہ تمام امورِ حیات و معاملاتِ زندگی، احوال و آثار اور اوصاف و خصال میں عادل اور متقی و پرہیزگار ہیں ، یہ نظریہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں ، خلافِ اہل السنۃ و الجماعۃ ، باطل اور غلط ہے، جس کا قلع قمع ضروری ہے۔







قرآن مجید میں اصحابِؓ رسول ﷺ کا تعارف:

تقدیری خوبیاں:

مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
ترجمہ:
محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (٣١) اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ (٣٢) اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ (٣٣) تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔
[سورہ الفتح:29]

تشریح:

(٣١) جیسا کہ پیچھے حاشیہ نمبر 27 میں گذرا ہے، کافروں نے صلح نامہ لکھواتے وقت آنحضرت ﷺ کا نام مبارک محمد رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا، اور صرف محمد بن عبداللہ لکھوایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو محمد رسول اللہ فرما کر اشارہ دیا ہے کہ کافر لوگ اس حقیقت سے چاہے کتنا انکار کریں، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک قرآن کریم میں ثبت فرمادیا ہے۔
(٣٢) اگرچہ تورات میں بہت سی تبدیلیاں ہوچکی ہیں، لیکن بائبل کے جن صحیفوں کو آج کل یہودی اور عیسائی مذہب میں تورات کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک یعنی استثناء :2، 3 میں ایک عبارت ہے جس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ شاید قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہو۔ وہ عبارت یہ ہے :
 خداوند سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا، اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا، اور وہ دس ہزار قدسیوں میں سے آیا۔ اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے، اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں، اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔ (استثناء :2، 3)
 واضح رہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آخری خطبہ ہے، جس میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کوہ سینا پر اتری، جس سے مراد تورات ہے، پھر کوہ شعیر پر اترے گی، جس سے مراد انجیل ہے، کیونکہ کوہ شعیر وہ پہاڑ ہے، جسے آج جبل الخلیل کہتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ تیسری وحی کوہ فاران پر اترے گی، جس سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ فاران اس پہاڑ کا نام ہے جس پر غار حرا واقع ہے۔ اور اس ی میں حضور اقدس ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی تعداد دس ہزار تھی، لہٰذا ” دس ہزار قدسیوں میں سے آیا “ سے ان صحابہ کی طرف اشارہ ہے۔ (واضح رہے کہ قدیم نسخوں میں دس ہزار کا لفظ ہے، اب بعض نسخوں میں اسے لاکھوں سے تبدیل کردیا گیا ہے) ۔
 نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ صحابہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔ قرآن کریم میں ہے کہ : وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ اور وہ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ : وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے بات دور از قیاس نہیں ہے کہ قرآن کریم نے اس عبارت کا حوالہ دیا ہو، اور وہ تبدیل ہوتے ہوتے موجودہ استثناء کی عبارت کی شکل میں رہ گئی ہو۔
(٣٣) انجیل مرقس میں بالکل یہی تشبیہ ان الفاظ میں مذکور ہے۔ خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے، اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے۔ پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔ (مرقس : 26 تا 29)
 یہی تشبیہ انجیل لوقا : 18، 19 اور انجیل متی : 31 میں بھی موجود ہے۔

تشریح :
کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالٰی: وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً (توبہ۔۱۲۳) وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ (توبہ۔۷۳) وقال تعالٰی اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ (المائدہ۔۵۴) حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ" علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو۔ کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔
آپس میں نرم دل ہیں: 
اپنے بھائیوں کے ہمدرد و مہربان، اُنکے سامنے نرمی سے جھکنے والے اور تواضع و انکسار سے پیش آنے والے "حدیبیہ" میں صحابہ کی یہ دونوں شانیں چمک رہی تھیں۔ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ 
۔صحابہ کرامؓ کے صفات حَسنہ: 
نمازیں کثرت سے پڑھتے ہیں۔ جب دیکھو رکوع و سجود میں پڑے ہوئے اللہ کے سامنے نہایت اخلاص کے ساتھ وظیفہ عبودیت ادا کر رہے ہیں۔ ریاء و نمود کا شائبہ نہیں۔ بس اللہ کے فضل اور اسکی خوشنودی کی تلاش ہے۔ نمازوں کی پابندی خصوصًٓا تجہد کی نماز سے انکے چہروں پر خاص قسم کا نور اور رونق ہے۔گویا خشیت و خشوع اور حسن نیت و اخلاص کی شعاعیں باطن سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر کو روشن کر رہی ہیں۔ حضرت کے اصحاب اپنے چہروں کے نور اور متقیانہ چال ڈھال سے لوگوں میں الگ پہچانے جاتے تھے۔
صحابہ کرامؓ کا پچھلی کتابوں میں تذکرہ: 
پہلی کتابوں میں خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھیوں کی ایسی ہی شان بیان کی گئ تھی۔ چنانچہ بہت سے غیر متعصب اہل کتاب انکے چہرے اور طور و طریق دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیحؑ کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔
کھیتی کی مثال اور صحابہ کرامؓ: 
حضرت شاہ صاحبؒ کھیتی کی مثال کی تقریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں "یعنی اول اس دین پر ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر آہستہ آہستہ قوت بڑھتی گئ حضرت کے وقت میں پھر خلفاء کے عہد میں "بعض علماء کہتے ہیں کہ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ میں عہد صدیقی فَاٰزَرَہٗ میں عہد فاروقی فَاسْتَغْلَظَ میں عہد عثمانی اور فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ میں عہد مرتضوی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ بعض دوسرے بزرگوں نے وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا کو علی الترتیب خلفائے اربعہ پر تقسیم کر دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام جماعت صحابہؓ کی بہیات مجموعی مدح و منقبت پر مشتمل ہے۔ خصوصًا اصحاب بیعت الرضوان کی جن کا ذکر آغاز سورت سے برابر چلا آ رہا ہے۔ واللہ اعلم۔ کھیتی کرنے والے چونکہ اس کام کے مبصر ہوتے ہیں اس لئے ان کا ذکرخصوصیت سے کیا۔ جب ایک چیز کا مبصر اسکو پسند کرے دوسرے کیوں نہ کریں گے۔
صحابہؓ سے حسد رکھنے والے: 
یعنی اسلامی کھیتی کی یہ تازگی اور رونق و بہار دیکھ کر کافروں کے دل غیظ و حسد سے جلتے ہیں۔ اس آیت سے بعض علماء نے یہ نکالا کہ صحابہ سے جلنے والا کافر ہے۔مومنین سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ: حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ وعدہ دیا انکو جو ایمان والے ہیں اور بھلے کام کرتےہیں۔ حضرت کے سب اصحاب ایسے ہی تھے۔ مگر خاتمہ کااندیشہ رکھا۔ حق تعالٰی بندوں کو ایسی صاف خوشخبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں اس مالک سے اتنی شاباشی بھی غنیمت ہے"۔ تم سورۃ الفتح بفضل اللہ و رحمۃ فللہ الحمد والمنہ۔


عقیدہ:
"جو شخص صحابہ کرام کو گالی دے، یا ان پر کفر و ارتداد کا الزام لگائے، یا ان سب یا اکثر کو فاسق قرار دے، تو وہ کافر ہے، یہ درج ذیل وجوہات کی بنا پر:

(1) یہ قرآن و سنت کے ناقلین (صحابہ) پر طعن ہے، اور لازمہ یہ ہے کہ خود قرآن و سنت پر طعن ہو۔

(2) یہ قرآن مجید کی اس نص کا تکذیب (جھٹلانا) ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ سے رضا مندی کا اظہار فرمایا ہے۔

(3) امام مالک رحمہ اللہ نے آیت کریمہ: "تاکہ کافروں کو ان (صحابہ) کے ذریعے غصہ دلائے" (الفتح: 29) سے استنباط کیا ہے کہ جو شخص صحابہ سے بغض رکھتا ہے وہ کافر ہے۔ امام مالک نے فرمایا: "کیونکہ صحابہ کافروں کو غصہ دلاتے ہیں، اور جسے صحابہ غصہ دلائیں (یعنی جو ان سے بغض رکھے) وہ کافر ہے۔" امام شافعی اور دوسرے ائمہ نے بھی ان کی موافقت کی ہے۔ ہیثمی نے کہا: "یہ اچھا ماخذ ہے جس پر آیت کا ظاہر شہادت دیتا ہے۔"
(الصواعق المحرقة: 317، تفسیر ابن کثیر: 4/204)

(4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے، اور نفاق کی علامت انصار سے بغض ہے۔"
(بخاری: 17، 3784، مسلم: 74)

اور ایک روایت میں ہے: "انصار سے وہی محبت کرتا ہے جو مومن ہے، اور انصار سے وہی بغض رکھتا ہے جو منافق ہے۔ پس جس نے ان سے محبت کی، اللہ نے اس سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض کیا، اللہ نے اس سے بغض کیا۔"
(بخاری: 3783، مسلم: 75)

اور مسلم کی روایت میں ہے: "وہ شخص انصار سے بغض نہیں رکھتا جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔"
(مسلم: 76، 77)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس قسم کے حکم کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اور جو شخص اس سے آگے بڑھ کر یہ گمان کرے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ارتداد کر لیا، سوائے چند افراد کے جو دس سے بھی کم تھے، یا یہ کہ ان کی اکثریت فاسق ہو گئی، تو اس کے کفر میں بھی کوئی شک نہیں، کیونکہ وہ قرآن کی متعدد جگہوں پر موجود نص کا تکذیب کر رہا ہے جس میں اللہ نے ان سے رضا مندی کا اظہار کیا ہے اور ان کی تعریف کی ہے۔ بلکہ جو شخص ایسے شخص کے کفر میں شک کرے، اس کا اپنا کفر متعین ہے... یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا: اس شخص کا کفر ان امور میں سے ہے جو ضرورتاً معلوم من الدین ہیں۔"
(الصارم المسلول: 586، 587)

ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"پھر کلام تو صرف ان میں سے بعض کو سب کرنے کے بارے میں ہے۔ رہا سب کا سب کو سب کرنا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کفر ہے۔"
(الصواعق المحرقة: 379)

ب: بعض صحابہ کو اس طرح سب کرنا جو ان کے دین میں طعن ہو
بعض صحابہ پر کفر یا فسق کا الزام لگانے کے بارے میں اہل علم کے مختلف اقوال ہیں:

بعض علما اسے کفر کہتے ہیں،

بعض اسے فسق کہتے ہیں،

بعض علما صرف خلفاء راشدین کو سب کرنے والے کو کافر کہتے ہیں،

بعض صرف شیخین (ابوبکر و عمر) پر اکتفا کرتے ہیں،

اور بعض اس بات کو دیکھتے ہیں کہ کس صحابی کے بارے میں فضائل متواتر ہیں یا نہیں۔
(ملاحظہ کریں: اعتقاد اہل السنہ فی الصحابہ: ص 63)

صحیح یہ ہے کہ جو شخص ایسے صحابی کو سب کرنا حلال سمجھے جس کے بارے میں فضائل متواتر ہوں (جیسے خلفاء راشدین)، تو یہ کفر ہے کیونکہ یہ متواتر امر کا تکذیب ہے۔
(الصارم المسلول: 569، الصواعق المحرقة: 383، اور دیکھیے المسائل والرسائل المرویۃ عن الامام احمد: 2/366)

قاضی عیاض نے فرمایا:
"ان میں سے کسی ایک کو سب کرنا کبائر میں سے ہے۔ اور ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اسے تعزیراً سزا دی جائے، قتل نہ کیا جائے۔"
(صحیح مسلم بشرح النووی: 16/93)

خلال نے ابوبکر المروذی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
"میں نے ابوعبداللہ (امام احمد) سے پوچھا: اس شخص کے بارے میں جو ابوبکر، عمر اور عائشہ کو گالی دے؟ تو انہوں نے فرمایا: میں اسے اسلام پر نہیں سمجھتا۔"
اور میں نے ابوعبداللہ کو یہ بھی کہتے سنا: "امام مالک نے فرمایا: جو لوگ صحابہ کرام کو گالی دیتے ہیں، ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔"
(مسائل عبداللہ: 431، نیز دیکھیے مسائل احمد فی العقیدۃ للاحمدی: 2/364)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
"کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ صحابہ کی کسی برائی کا ذکر کرے، یا ان میں سے کسی پر عیب یا کمی کی بنا پر طعن کرے۔ جو ایسا کرے تو حاکم پر لازم ہے کہ اسے تعزیراً سزا دے اور اسے سزا دے، اسے معاف کرنے کا اختیار نہیں۔ بلکہ اسے سزا دے اور اس سے توبہ کرائے۔ اگر توبہ کر لے تو قبول کرے، ورنہ پھر سے سزا دے اور اسے قید خانے میں ڈال دے یہاں تک کہ مر جائے یا توبہ کر لے۔"
(طبقات الحنابلہ: 1/24، الصارم المسلول: 568)

ہیثمی نے فرمایا:
"جنہوں نے صحابہ کو سب کرنے والے کے کفر کا حکم نہیں لگایا، ان کا اجماع ہے کہ وہ فاسق ہے۔"
(الصواعق المحرقة: 383)

امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے فرمایا:
"اور جو شخص ان میں سے کسی خاص کو سب کرے، اگر وہ ان میں سے ہو جس کے بارے میں فضائل متواتر ہوں (جیسے خلفاء) تو اگر وہ یہ اعتقاد رکھے کہ اسے سب کرنا حق ہے یا جائز ہے، تو وہ کافر ہے کیونکہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قطعی طور پر ثابت شدہ باتوں کو جھٹلایا، اور اس کا جھٹلانے والا کافر ہے۔ اور اگر بغیر اس اعتقاد کے (محض غصہ یا لا علمی سے) سب کرے تو وہ فاسق ہے کیونکہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔ اور بعض علما نے شیخین کو سب کرنے والے کے بارے میں مطلقاً کفر کا حکم لگایا ہے – واللہ اعلم۔"
(الرد على الرافضہ: ص 19)

اور یہ بھی فرمایا:
"اور اگر وہ شخص ان میں سے ہو جس کے فضائل متواتر نہ ہوں، تو ظاہر یہ ہے کہ اسے سب کرنے والا فاسق ہے، البتہ اگر وہ اسے صرف اس وجہ سے سب کرے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے، تو وہ کافر ہے۔"
(الرد على الرافضہ: ص 19)

ہیثمی نے حضرت ابوبکر کو سب کرنے کے حکم میں فرمایا:
"خلاصہ یہ ہے کہ ابوبکر کو سب کرنا حنفیہ کے نزدیک کفر ہے، شافعیہ کے نزدیک دو قولوں میں سے ایک قول کے مطابق کفر ہے، اور مشہور مذہب مالک کے مطابق اس پر کوڑے لگائے جائیں، کفر نہیں۔ تو مالک کے نزدیک یہ مسئلہ دو صورتوں پر ہے: اگر صرف سب کرے (تکفیر نہ کرے) تو اسے کافر نہ کہیں گے، ورنہ کافر کہیں گے۔"
(الصواعق المحرقة: 386)

اور فرمایا:
"رہا ابوبکر اور ان جیسے دوسرے لوگوں کو جن کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی گواہی دی ہے، تو ان کے بارے میں اصحاب شافعی نے کوئی کلام نہیں کیا۔ اور میں جو دیکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں یقیناً کفر ہے۔"
(الصواعق المحرقة: 385)



عقیدہ:
امام  بر بہاری(م٣٢٩ھ) نے فرمایا:
 ((فمن خالف أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في شيء من أمر الدين فقد كفر.)) 
ترجمہ:
''سو جس نے اصحاب ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت امور ِ دین میں سے کسی چیزمیں کی، اس نے یقیناً کفر کا ارتکاب کیا۔''

امام مالکؒ، احمد اور بخاری کی طرح کے کبار ائمہ اسلام کا یہی موقف ہے۔ ذیل میں اثناء عشریہ اور جعفریہ کے نام سے موسوم روافض کے بارے میں ائمہ اسلام اور علمائے مسلمین کے فتوے ذکر کیے جاتے ہیں۔

1: امام مالکؒ(م٩٥ھ) فرماتے ہیں کہ یہ آیت [تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔(سورہ الفتح:29)] شیعوں کی تکفیر کرتی ہے، کیون کہ وہ صحابہ سے بغض رکھتے ہیں، اور ان کے دل ان سے جلتے ہیں، بس جس کا دل صحابہ سے جلے وہ اس آیت کے مطابق کافر ہے۔
ومن هذه الآية انتزع الإمام مالك ﵀، في رواية عنه- بتكفير الروافض الذين يبغضون الصحابة، قال: لأنهم يغيظونهم، ومن غاظ الصحابة فهو كافر لهذه الآية.

ابن کثیر کہتے ہیں: اس پر علماء کی ایک جماعت نے ان سے اتفاق کیا اور صحابہ کرام کے فضائل اور ان کی برائی کی ممانعت کے بارے میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔
حوالہ
قال ابن كثير: ووافقه طائفة من العلماء ﵃ على ذلك، والأحاديث في فضائل الصحابة ﵃ والنهي عن التعرض لهم بمساءة كثيرة

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بدکار تھے۔
والظاهر أنهم فسّاق.

اور یہ (امام مالک کا) ایک اچھا ماخذ ہے جس پر آیت کریمہ کا ظاہر شہادت دیتا ہے۔
اسی بنا پر امام شافعی نے بھی ان کے کفر کے قول میں امام مالک کی موافقت کی، اور ائمہ میں سے ایک جماعت نے بھی ان کی موافقت کی۔
اور صحابہ کرام کے فضائل میں بہت سی احادیث موجود ہیں۔
حوالہ
قال: لأن الصحابة يغيظونهم ومن غاظه الصحابة فهو كافر. وهو مأخذ حسن يشهد له ظاهر الآية. ومن ثم وافقه الشافعي رضي الله تعالى عنهما في قوله بكفرهم ووافقه أيضا جماعة من الأئمة. والأحاديث في فضل الصحابة كثيرة.


تشریح(1):

امام قرطبیؒ کہتے ہیں کہ امام مالکؒ نے بڑی اچھی بات کہی ہے اور آیت کی صحیح تاویل کی ہے۔ جس نے کسی ایک صحابی کی بھی عیب جوئی کی یا اس کی روایت پر طعن کیا، (شیعہ مرجع کا یہ بیان گزر چکا ہے کہ صحابہ کرامؓ جیسے ابو ہریرہؓ، عمرو بن العاصؓ، اور سمرة بن جندبؓ کی روایات شیعہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتیں۔ صفحہ، 375) اس نے اللہ رب العزت کا رد کیا اور مسلمانوں کے احکام کو جھوٹا قرار دیا۔
[تفسير القرطبی: جلد، 16 صفحہ، 298]

علامہ عبد العزيز بن عبد الله الراجحي اس کی شرح کرتے فرماتے ہیں:

یہ مصنف رحمہ اللہ کا ایک مجمل (مختصر اور غیر مفصل) کلام ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی دینی امر میں مخالفت کی، اس نے کفر کیا۔ کیونکہ اگر وہ اعتقادی امور میں سے کسی امر کی مخالفت کرے، مثلاً کوئی نواقضِ اسلام (اسلام کو توڑنے والا کام) کرے، یا عبادت میں شرک کرے، یا ضرورتاً معلوم من الدین (دین کے وہ احکام جن کا علم بدیہی ہو) کا انکار کرے، تو اس نے کفر کیا۔

اور کبھی اس کا کفر کفرِ اصغر (چھوٹا کفر، جس سے ملت سے خارج نہ ہو) ہوتا ہے، جیسے غیر اللہ کی قسم کھانا، یا نسب میں طعن کرنا، یا میت پر نوحہ کرنا۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"دو باتیں لوگوں میں کفر ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"

اسی طرح وہ شخص جو اپنے بھائی کو "اے کافر" کہے، اور مسلمانوں کے آپس میں لڑائی (قتال) – یہ سب کفریہ اعمال ہیں، لیکن یہ ملت (اسلام) سے خارج نہیں کرتے۔

اور بعض اوقات مخالفت اس سے بھی کم درجے کی ہوتی ہے، محض عام مخالفت (بدعت یا معصیت) ہوتی ہے۔ پس مصنف کا کلام مجمل ہے، اسے مطلق (ہر صورت پر) نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ اس میں تفصیل ہے۔ یقیناً مخالفت کبھی کفرِ اکبر ہوتی ہے، کبھی کفرِ اصغر، کبھی بدعت اور کبھی معصیت۔



تشریح(2):

ولا يخفاك أن هذا خلاف ما اتفق عليه المحققون من أهل السنة والجماعة من أنه لا يكفر أحد من أهل القبلة، كما بسط في كتب العقائد، وأوضحه النوويّ في شرح (مقدمة مسلم) ، وقبله الإمام الغزاليّ في كتابه (فيصل التفرقة) . وقد كان من جملة البلاء في القرون الوسطى التسرع من الفقهاء بالتكفير والزندقة. وكم أريقت دماء في سبيل التعصب لذلك، كما يمر كثير منه بقارئ التاريخ. على أن كلمة الأصوليين اتفقت على أن المجتهد كيفما كان، مأجور غير مأزور، ناهيك بمسألة عدالتهم المتعددة أقوالها، حتى في أصغر كتاب في الأصول كمثل (جمع الجوامع) .


دلائل عقيده:
📖 نقلی دلائل (قرآن و حدیث)
1. اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحابہ کی توثیق (عدالتِ صحابہ)
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی مدح و توثیق فرمائی ہے، جس سے ان کی عدالت و دیانت ثابت ہے:

آیتِ رضوان: "بیشک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے..." (الفتح: 18) اس آیت کی روشنی میں، جن لوگوں سے اللہ خود راضی ہے، ان میں سے کسی کے خلاف بولنا یا ان پر الزام لگانا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔

آیتِ تطہیر (بالمعنی): "لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے... اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں کی اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے..." (الحجرات: 7) اس آیت میں صحابہ کرام کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر و نافرمانی سے نفرت ڈالنے کا ذکر ہے۔

آیتِ امتحان: "یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کر لیا ہے..." (الحجرات: 7)

2. نبی کریم ﷺ کی احادیث میں صحابہ کی تعظیم کا حکم
نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں صحابہ کرام کی تعظیم اور ان سے محبت کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔

"میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! میرے بعد ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنانا۔ جس نے ان سے محبت کی، اس نے درحقیقت مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے دشمنی کی، اس نے مجھ سے دشمنی کی۔"

"میرے صحابہ میں سے کسی کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔" (صحیح مسلم)

ان احادیث سے واضح ہے کہ صحابہ کی شان میں گستاخی یا ان کی اہلیت پر شک کرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

3. اجماعِ امت
امت مسلمہ کا ہمیشہ سے یہ اجماعی عقیدہ رہا ہے کہ تمام صحابہ کرام عادل اور قابلِ اعتماد ہیں۔ محدثین نے صحابہ کرام کی عدالت کو بدیہی اور مسلّمہ امور میں شمار کیا ہے۔ جس شخص نے اس اجماعی عقیدے کی مخالفت کی، اسے گمراہ اور بدعتی قرار دیا گیا ہے۔

🧠 عقلی دلائل (منطق)
1. عدالتِ صحابہ کا تقاضا
قرآنی آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ صحابہ کرام عادل اور قابلِ اعتماد تھے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کسی گروہ کی اس قدر مدح فرمائی، تو ان کی اتباع ہی دین کا ذریعہ ہے۔ ان کی مخالفت کا مطلب ہے ایک ایسے گروہ کو غلط ٹھہرانا جسے اللہ نے خود سچا اور سیدھا قرار دیا ہے۔

2. دین کی حفاظت اور صحابہ کا کردار
صحابہ کرام وہ درمیانی کڑی ہیں جن کے ذریعے قرآن و سنت ہم تک پہنچی۔ اگر ان کی دیانت اور علمی حیثیت پر کوئی حرف آجائے، تو پورے دین کی بنیاد ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کی جماعت کی مخالفت عملاً دین کے ماخذ کو ہی مسترد کرنا ہے۔

3. مخالفت کے لازمی نتائج
صحابہ کرام کی اتباع اور ان سے محبت ایمان کی علامت ہے۔ اس کے برعکس، ان کی مخالفت اور بغض کا مطلب ایمان سے باہر نکل جانا ہے، کیونکہ یہ عمل رسول اللہ ﷺ کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے۔

4. صحابہ کا علمی مقام
صحابہ کرام نے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے علم حاصل کیا اور دین کو سمجھا۔ وہ دین کے سب سے بڑے عالم تھے۔ ان کی جماعت کے متفقہ موقف کی مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی عقل یا بعد میں آنے والے کسی شخص کو ان مقدس ہستیوں پر ترجیح دے رہا ہے، جو عقل کے خلاف ہے۔

💎 خلاصہ
نقلی طور پر: قرآن و سنت صحابہ کرام کی عدالت اور تعظیم کا حکم دیتے ہیں، نیز امت کا اجماع ان کی اتباع پر ہے۔
عقلی طور پر: دین کے ماخذ کی حفاظت، صحابہ کے علمی مرتبے، اور ان کے خلاف رویے کے منطقی نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کی جماعت کی مخالفت دائرہ اسلام سے خارج کرنے والی چیز ہے۔
لہٰذا یہ فرمان کسی خاص شخص یا گروہ کی طرف اشارہ نہیں، بلکہ ایک اصولی اور اعتقادی حیثیت رکھتا ہے جو اہل سنت والجماعت کے نزدیک قطعی اور مسلمہ ہے۔



2: امام احمد رحمۃ اللہ:
ان سے روافض کی تکفیر کے متعلق کئی روایات مروی ہیں:
خلال نے ابوبکر مروزی سے روایت کیا کہ میں نے ابو عبداللہؒ سے ان کے بارے میں پوچھا، جو حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور عائشہؓ کو گالیاں دیتے ہیں، تو انھوں نے کہا: میں اس کو اسلام پر نہیں سمجھتا۔

[الخلال: السنة: جلد، 2 صفحہ، 557 کتاب کے محقق نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ نیز دیکھیں: شرح السنة لابن بطة: صفحہ، 161 الصارم المسلول: صفحہ، 571]

خلال نے کہا ہے: مجھے عبدالملک بن عبد الحمید نے بتایا، اس نے کہا: میں نے ابو عبداللہؒ سے سنا، انھوں نے کہا:
“جس نے گالی دی، مجھے اس پر روافض کی طرح کفر کا خدشہ ہے۔“
پھر کہا:
”جس نے صحابہ کرامؓ کو گالی دی، بعید نہیں کہ وہ دین سے نکل چکا ہو۔“

[الخلال: السنة: جلد، 2 صفحہ، 558 اس کی سند بھی صحیح ہے۔]




خلال نے کہا:
ہمیں عبداللہ بن احمد بن حنبلؒ نے بتایا، اس نے کہا: میں نے اپنے والد سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا، جو کسی صحابہؓ کو گالی دیتا ہے، تو انھوں نے کہا: میں اس کو اسلام پر نہیں سمجھتا۔
[الخلال: السنة: جلد، 2 صفحہ، 558 نیز دیکھیں: مناقب الإمام أحمد لابن الجوزی: صفحہ، 214]

امام احمدؒ کی کتاب "السنة" میں ان کا روافض کے متعلق یہ قول مذکور ہے:
یہ لوگ اصحابِ محمدﷺ پر تبرا کرتے ہیں، ان کو دشنام طرازی کرتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے ہیں اور علیؓ، عمارؓ، مقدادؓ اور سلیمانؓ کے سوا ائمہ کو کافر کہتے ہیں، رافضہ کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
[السنة للإمام أحمد: صفحہ، 82تصحيح الشيخ إسماعيل الأنصاری]

اثناء عشریہ چند ایک صحابہؓ کے سوا جن کی تعداد انگلیوں کے بھی برابر نہیں، سب صحابہؓ کو کافر کہتے ہیں۔ یہ اپنی دعاؤں، زیارتوں، درگاہوں اور بڑی بڑی بنیادی کتابوں میں ان پر لعنت بھیجتے اور قیامت تک ان کی پیروی کرنے والوں کو کافر کہتے ہیں۔
(اسی کتاب کا صفحہ، 766)




امام ابنِ عبد القوی کہتے ہیں:
جو شخص صحابہؓ سے براءت کا اظہار کرتا اور حضرت عائشہؓ کو گالی دیتا اور ان پر وہ بہتان لگاتا، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بری قرار دیا ہے، تو امام احمدؒ اس کو کافر کہتے ہیں اور وہ یہ آیت پڑھتے: 
يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنۡ تَعُوۡدُوۡا لِمِثۡلِهٖۤ اَبَدًا اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‌۞
ترجمہ:
اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے، اس سے کہ دوبارہ کبھی ایسا کام کرو، اگر تم مومن ہو۔
(سورۃ النور: آیت، 18)
[ما يذهب إليه الإمام أحمد للإمام أبي محمد رزقا الله بن عبد القوي التميمي المتوفى ٤٨٠هـ الورقة: 21]

لیکن امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ نے مجموعہ فتاویٰ میں امام احمدؒ وغیرہ سے روافض کی تکفیر میں اختلاف نقل کیا ہے۔
[الفتاوىٰ: جلد، 3 صفحہ، 352]

امام احمدؒ کی جو پہلی عبارتیں گزری ہیں وہ صریحاً اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ امام صاحب ان کی تکیفر کے قائل تھے۔ تاہم شیخ الاسلام نے، جو لوگ روافض کو صحابہ کرامؓ کو سب وشتم کرنے کی وجہ سے کافر نہیں کہتے، ان کی اس انداز میں توجیہ کی ہے، جس سے امام احمدؒ کے اقوال میں خیال کیا جانے والا تعارض رفع ہو جاتا ہے:
لیکن جس نے ان (صحابہؓ) کے بارے میں اس طرح کی بد زبانی کی، جس کی وجہ سے ان کی دیانت داری یا دین داری پر کوئی حرف نہ آتا ہو، مثلاً : بعض صحابہؓ کو بخیل، بزدل، کم علم یا دنیا دار کہنا، اس طرح کی باتیں کرنے والا تعزیر اور تادیب کا سزا وار ہے، صرف اس کی وجہ سے ہم اس کو کافر نہیں کہہ سکتے ، اہلِ علم میں جو ان کو کافر نہیں کہتا تو اس کے کلام کو اسی مفہوم پر محمول کیا جائے گا۔
[الصارم المسلول: صفحہ، 586 قاضی ابو یعلی نے عدمِ تکفیر کی روایت کی ایک توجیہ کی ہے۔ دیکھیں: الصارم المسلول: صفحہ، 581]
اس کا یہ مطلب ہوا کہ جو ان کے بارے میں ایسی بد زبانی کرتا ہے، جو ان کی دیانت، عدالت اور تدوین پر جرح کرتی ہو، اہلِ علم کے نزدیک اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا، لیکن جو تمام صحابہؓ کو مرتد خیال کرتا ہے، اس کا پھر کیا حال ہو گا؟




3: امام بخاریؒ المتوفی 257ھ
امام بخاریؒ نے کہا ہے:
"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کسی جہمی اور رافضی کے پیچھے نماز پڑھوں یا کسی یہودی اور عیسائی کے پیچھے (یعنی یہ چاروں برابر ہیں) ان کو سلام نہیں کہنا چاہیئے، نہ ان کی عیادت کرنی چاہیئے، نہ ان کے ساتھ نکاح کیا جائے، نہ ان کے جنازوں میں شرکت کی جائے، اور نہ ان کے ذبیحے کھائے جائیں۔
[الامام البخاری، خلق افعال العباد: صفحہ، 125]




4: عبداللہ بن ادریس:
 (عبد الله بن ادريس بن يزيد بن عبد الرحمٰن الأودی امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں: وہ حجت اور مسلمانوں کے امام ہیں امام احمد کے بقول وہ بے مثال ہیں ابنِ سعد کہتے ہیں کہ ثقہ مامون، کثیر الحدیث، حجت، اہلِ سنت و الجماعت والے ہیں یہ 198ھ کو فوت ہوئے تکذيب التہذيب: جلد، 5 صفحہ، 144، 145 الجرح و التعديل لابنِ أبی حاتم: جلد، 5 صفحہ، 8، 9 یہ کوفے کے بڑے ائمہ میں سے ہیں الصارم المسلول: صفحہ، 570 یہ کوفہ روافض کی جائے پیدائش ہے، لہٰذا وہ رافضہ اور ان کے مذہب کو بہ خوبی جاننے والے ہیں، کیونکہ گھر والا دوسروں سے زیادہ گھریلو اشیاء کو جانتا ہے)
وہ کہتے ہیں رافضی کو شفعہ کا حق حاصل نہیں ہے۔ (الصارم المسلول: صفحہ، 570 السيف المسلول على من سب الرسوله علي بن عبد الكافی السبكی: الورقة، 71 أ مخطوط) 
5: عبد الرحمٰن بن مہدی: 
(الامام الحافظ العلم عبد الرحمٰن بن مهدی بن حسان بن عبد الرحمٰن العنبری، البصری، المتوفى 198ھ تہذيب التکذيب: جلد، 6 صفحہ، 281 ،279)
امام بخاریؒ نے کہا ہے: عبد الرحمٰن بن مہدی نے کہا: یہ دونوں علاحدہ ملتیں ہیں، ایک جہمیہ اور دوسرے رافضہ۔
(خلق أفعال العباد للبخاری: صفحہ، 125 نیز دیکھیں: مجموع فتاوىٰ شيخ الإسلام ابنِ تيميہؒ: جلد، 35 صفحہ، 415)
6: الفريابی:
(محمد بن يوسف الفريابی امام بخاریؒ نے ان سے 26 احادیث روایت کی ہیں۔ یہ اپنے زمانے کے افضل ترین انسان تھے یہ 212ھ کو فوت ہوئے تہذیب التہذيب: جلد: 9 صفحہ، 535) 
خلال نے روایت کیا ہے کہ مجھے حرب بن اسماعیل کرمانی نے بتایا، اس نے کہا: ہمیں موسیٰ بن ہارون بن زیاد نے بیان کیا، اس نے کہا: میں نے فریابی سے سنا کہ ایک آدمی ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا رہا تھا، جس نے سیدنا ابوبکرؓ کو گالی دی، تو انہوں نے کہا: وہ کافر ہے، اس نے پوچھا: کیا اس کا جنازہ پڑھا جائے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: وہ لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے، اس کے ساتھ کس طرح پیش آیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو ہاتھ نہ لگاؤ، اس کو لکڑی کے ساتھ اٹھاؤ اور گڑھے میں دفنا دو۔
(الخلال السنة: جلد، 6 صفحہ، 566 کتاب کے محقق نے کہا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن ہارون بن زیاد ہے، جس کے متعلق مجھے علم نہیں ہو سکتا۔ البتہ امام ابنِ تیمیہؒ نے الصارم المسلول صفحہ، 570 میں حتمی طور پر اسے فریابی کی طرف منسوب کیا ہے۔
7: احمد بن یونس: 
(أحمد بن عبدالله بن يونس: یہ اہلِ سنت کے امام اور کوفہ کے رہنے والے ہیں، جو رافضہ کا گڑھ اور جائے پیدائش ہے، لہٰذا یہ روافض اور ان کے مذہب سے خوب باخبر ہیں امام احمدؒ ایک شخص کو وصیت کرتے ہیں: احمد بن یونس سے جا کر علم حاصل کرو، کیوں کہ وہ شیخ الاسلام ہیں کتب ستہ کے مؤلفین نے ان کی حدیث بیان کی ہے۔ امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں: ثقہ اور متقن ہیں۔ نیز امام نسائیؒ نے انہیں ثقہ اور امام ابنِ سعد نے ثقہ صدوق و صاحب سنة و جماعة کہا ہے۔ حافظ ابنِ حجرؒ ذکر کرتے ہیں کہ احمد بن یونس فرماتے ہیں: میں حماد بن زید کے پاس آیا تو میں نے ان سے کہا کہ مجھے کچھ فضائلِ سیدنا عثمانؓ بھی لکھوا دیں تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: کوفہ کا رہنے والا ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے تعجب کرتے ہوئے کہا: ایک کوفہ کا رہنے والا فضائلِ سیدنا عثمانؓ عالی کا خواستگار ہے پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں صرف اس شرط پر تمہیں یہ فضائل لکھواؤں گا کہ تم بیٹھ کر لکھو اور میں تمہیں کھڑے ہو کر بہ طورِ اکرام لکھواتا ہوں۔ احمد بن یونس نے 227ھ کو وفات پائی۔ 
(تہذیب التہذيب: جلد، 1 صفحہ، 50 تقريب التہذيب: جلد،1 صفحہ، 29) 
انہوں نے کہا: اگر کوئی یہودی ایک بکری ذبح کرے اور کوئی رافضی بھی ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھالوں گا لیکن رافضی کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا، کیوں کہ وہ اسلام سے مرتد ہو چکا ہے۔
(الصارم المسلول: صفحہ، 570 ابوبکر بن ہانی نے بھی ایسے ہی کہا ہے۔ المصدر السابق نیز دیکھیں: السيف المسلول على من سب الرسول: علی بن عبد الكافی السبكج: صفحہ، 71 مخطوط)
8: ابو زرعہ رازی:
 (عبد الله بن عبد الکریم بن یزید بن فروخ: امام ابو زرعہ کبار حفاظِ حدیث اور ائمہ میں سے ہیں۔ انہیں ایک لاکھ حدیث یاد تھی اور کہا جاتا تھا کہ ہر وہ حدیث جسے ابو زرعہ نہیں پہچانتے وہ حدیث بے بنیاد ہے۔ یہ 264ھ کو فوت ہوئے) 
انہوں نے کہا: اگر آپ کسی آدمی کو دیکھیں جو اصحابِ رسولﷺ میں عیب نکال رہا ہے تو جان لیں وہ زندیق ہے، کیوں کہ اس کا قول قرآن اور سنت دونوں کی تردید پر منتج ہو گا۔ 
(ديكھيں الكفاية: صفحہ، 49)
9: ابنِ قتیبہ: 
(ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ الدینوری بے مثال کتابوں کے مصنف ہیں، جو بڑے مفید علوم و فنون پر مشتمل ہیں، جیسا کہ حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں۔ یہ 276ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: وفيات الأعيان: جلد، 3 صفحہ، 43، 44 تاریخ بغداد: جلد، 10 صفحہ، 170، 171 البداية والنہاية: جلد، 11 صفحہ، 48)  
رافضہ کا حبِ علیؓ میں غلو جس کے نتیجے میں وہ اس کو اس پر مقدم کرتے ہیں، جس کو رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان سے (سیدنا علیؓ) مقدم رکھا اور ان کا یہ دعویٰ کہ وہ رسول اللہﷺ کی نبوت میں شریک ہے اور اس کی اولاد میں سے ائمہ کے لیے علمِ غیب کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان تمام اقوال اور خفیہ امور نے جھوٹ اور کفر کے ساتھ جہالت اور بیوقوفی کو ایک ساتھ اکٹھا کر دیا ہے۔ 
(الاختلاف فی اللفظ والرد على الجهمية والمشبهة: صفحہ، 47 مطبعة السعادة بمصر 1349ھ)
10:عبد القاہر بغدادی: 
(عبد القاہر بن طاہر بن محمد البغدادی اپنے زمانے میں ان کو صدر الاسلام کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ یہ 17 فنون میں درس دیتے تھے۔ انہوں نے 469ھ کو وفات پائی۔ دیکھیں: السبكی: طبقات الشافعية: جلد، 5 صفحہ، 145 القفطی: أبناء الرواة: جلد، 2 صفحہ، 185، 186 السيوطی: بغية الوعاة: جلد، 2 صفحہ، 105) 
یہ کہتے ہیں: جارودیہ، ہشامیہ، جہمیہ اور امامیہ میں سے خواہش پرست لوگ جنہوں نے بہترین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر قرار دیا ہم ان کو کافر کہتے ہیں، ہمارے لیے نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے نہ ان کی نمازِ جنازہ ہی ادا کرنا روا ہے۔
(الفرق بين الفرق: صفحہ، 357 نیز وہ کہتے ہیں: ان کی تکفیر واجب ہے، کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے بدا (ظہورِ علم) کے قائل ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، پھر اس کے لیے کوئی نیا امر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جب کسی چیز کا حکم دیتا ہے، پھر اس کو منسوخ کرتا ہے تو منسوخ اس لیے کرتا ہے، کیوں کہ اس کو اس میں بدا ہوتا ہے۔ ہم نے کفر کی جس نوع کے بارے میں بھی سنایا اس کو دیکھا ، اس کی کسی نہ کسی فرع کو رافضہ کے مذہب میں ضرور پایا۔
(الملل والنحل: صفحہ، 35، 36 تحقيق البير نصری نادر)
11: قاضی ابو یعلیٰ:
(محمد بن الحسین بن محمد بن خلف بن الفراء اپنے زمانے کے اصول و فروع کے ممتاز عالم تھے۔ انہوں نے 458ھ کو وفات پائی۔ دیکھیں: طبقات الحنابلة: جلد، 2 صفحہ، 103، 230)
کہتے ہیں: رافضہ کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر کہیں یا اس معنیٰ میں فاسق کہیں جو ان کے لیے جہنم کو واجب قرار دے، تو وہ کافر ہے۔
(المعتمد: صفحہ، 267) 
روافض کے بارے میں شیعہ کی کتابوں کے عام ہو جانے کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ اکثر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر کہتے ہیں۔
12: ابنِ حزمؒ:
امام ابنِ حزمؒ کہتے ہیں:
ان کا عیسائیوں کا یہ کہنا کہ روافض قرآن میں تبدیلی کا دعویٰ کرتے ہیں تو روافض تو مسلمان ہی نہیں (یعنی مسلمانوں اور قرآن کے خلاف ان کا قول حجت نہیں بن سکتا) بلکہ یہ ایک فرقہ ہے، جو رسول اللہﷺ کی وفات کے پچیس سال بعد پیدا ہوا یہ فرقہ جھوٹ اور کفر میں یہود و نصاریٰ کے قائم مقام ہے۔ 
(الفصل: جلد، 2 صفحہ، 213)
وہ کہتے ہیں: امامیہ کا قدیم اور جدید دور میں یہ مؤقف ہے کہ قرآن میں تبدیلی ہوئی ہے۔ 
(انہوں نے ان سے صرف تین کو مستثنیٰ کیا ہے، جیسا کہ گزر چکا ہے) 
پھر کہتے ہیں: یہ کہنا کہ کتابی صورت میں دو جلدوں کے درمیان جو قرآن ہے، اس میں تبدیلی ہوئی ہے، یہ صریح کفر اور رسول اللہﷺ کی تکذیب ہے۔ 
(الفصل: جلد، 5 صفحہ، 40)
وہ مزید کہتے ہیں اہلِ سنت، معتزلہ، خوارج، مرجیہ اور زیدیہ، ان تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے کہ قرآنِ کریم میں جو کچھ ہے، سب کو لینا واجب ہے اور ہمارے ہاں اس کی تلاوت کی جاتی ہے، لیکن اس کی غالی رافضیوں کی ایک جماعت نے مخالفت کی ہے۔ یہ کافر ہیں اور اس کی وجہ سے وہ تمام اہلِ اسلام کے نزدیک مشرک ہیں۔ ہمارا کلام ان کے ساتھ نہیں، بلکہ ہمارا کلام اپنے ہم مذہب کے ساتھ ہے۔
(الإحكام فی أصول الأحكام: جلد،1 صفحہ، 96)
وہ مزید کہتے ہیں:
جان لو! رسول اللہﷺ نے شریعت کا ایک کلمہ بلکہ ایک حرف بھی چھپایا ہے نہ آپﷺ نے اپنی کسی بیٹی، چچا زاد بھائی، بیوی یا دوست یا ان جیسے کسی سب سے قریب اور مخصوص فرد کو شریعت کی کوئی ایسی چیز بتانے کے لیے مخصوص کیا، جو آپﷺ نے کسی کالے گورے، بکریوں کے چرواہے یا عام آدمی سے چھپائی ہو۔ آپﷺ نے تمام لوگوں کو جو دعوت دی، اس کے سوا آپﷺ کے پاس کوئی راز تھا نہ رمز اور نہ کوئی باطن، اگر آپﷺ نے ان سے کچھ چھپایا ہوتا تو آپﷺ رسالت کو اس طرح نہ پہنچانے والے ہوتے، جس طرح آپﷺ کو حکم دیا گیا تھا اور جس نے یہ بات کہی وہ کافر ہے۔
(الفصل: جلد، 2 صفحہ، 273، 275 جس عقیدے کے حامل کو امام ابنِ حزمؒ کافر قرار دیتے ہیں آج یہ اثناء عشری مذہب کا بنیادی عقیدہ بن چکا ہے اور اس مذہب کے سابقین اور معاصرین علماء اسی نظریے کی تاکید کرتے ہیں اس کتاب کا صفحہ، 344 دیکھیں)
13: الاسفرائینی:
(أبو المظفر شہفور بن طاہر بن محمد الإمام الأصول الفقیه المفسر ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں التفسير الكبير اور التبصير فی الدین شامل ہیں۔ یہ 471ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: طبقات الشافعية: جلد، 5 صفحہ، 11 الأعلام: جلد، 3 صفحہ، 360)
انہوں نے ان کے جملہ عقائد جیسے وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کرتے ہیں، قرآن میں تحریف اور کمی زیادتی کے قائل ہیں، مہدی کا انتظار کرتے ہیں، جو آ کر ان کو شریعت کی تعلیم دے گا نقل کرنے کے بعد کہا ہے: امامیہ کے تمام فرقے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، وہ ان عقائد پر متفق ہیں، اس کے بعد انہوں نے ان الفاظ میں ان پر حکم لگایا ہے: یہ فی الحال دین کی کسی چیز پر قائم نہیں، کفر کی اس نوع میں مزید اضافے کی کوئی گنجائش نہیں، کیوں کہ اس میں دین کی تو کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
(الفصل: جلد، 5 صفحہ، 40)
14: ابو حامد غزالیؒ: 
(محمد بن محمد بن احمد الغزالی حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں: دنیا کے ذہین ترین انسان تھے، جو اپنے مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے ان کی متعدد فنون میں معروف کتب ہیں ان کی ایک کتاب فضائح الباطنية ہے انہوں نے 505ھ کو وقات پائی دیکھیں: البداية والنہاية: جلد، 12 صفحہ، 173، 174 مرآة الجنان: جلد، 3 صفحہ، 177، 192)
امام غزالیؒ کہتے ہیں: روافض نے اس مسئلے میں کم فہمی کی وجہ سے بدا کا ارتکاب کیا۔ 
(جو شخص رافضیت کا مطالعہ کرے گا، اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ کم فہمی نہیں ہے، بلکہ یہ ان کا یقینی نظریہ ہے، جس کا سبب شیعہ کا اپنے ائمہ میں غلو کرتا ہے۔ امام غزالی کا یہ کلام آمدی کے کلام سے ملتا جلتا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رافضہ پر سخ اور بدا میں فرق مخفی رہ گیا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ عبد الرزاق عفیفییؒ فرماتے ہیں: جو شخص رافضہ کی حالت سے آگاہ ہے، ان کے باطن کے فساد سے واقف ہے اور ان کے ظاہراً اسلام اور باطناً کفر کے عقیدے و زندیقیت سے آشنا ہے اور یہ جانتا ہے کہ انہوں نے اپنے اصول و مبادی یہود سے اخذ کیے ہیں اور اسلام کے خلاف چالبازیوں میں ان ہی کے طور طریقوں پر عمل پیرا ہیں تو وہ یہ امر پہچان لیتا ہے کہ ان کی اس افترا پردازی اور بہتان طرازی (بدا) کا سبب بدنیتی، حق اور اہلِ حق کے خلاف کینہ اور مذموم تعصب ہے، جس نے انہیں اس دھوکا دہی اور شرعی احکام اور اس بنیاد پر قائم حکومتوں کے خلاف سرا و ظاہر آ سازشیں تیار کرنے پر اکسایا ہے الإحكام فی أصول الأحكام: جلد، 3 صفحہ، 110،109 حاشيہ) 
انہوں نے سیدنا علیؓ سے نقل کیا کہ وہ اس خدشے کے پیشِ نظر غیب کی خبر نہیں دیتے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کو اس میں بدا ہو جائے اور وہ اس میں تبدیلی کر دے۔
(یہ روایت مجالسی کے ہاں موجود ہے اور اس نے اسے قرب الإسناد کی طرف منسوب کیا ہے بحار الأنوار: جلد، 4 صفحہ، 97 ایک دوسری روایت میں شیعہ نے یہ قول علی بن حسین کی طرف منسوب کیا ہے دیکھیں: تفسير العياشی: جلد، 2 صفحہ، 215، بحار الأنوار: جلد، 4 صفحہ، 117 البرہان: جلد، 2 صفحہ، 299، تفسير الصافی: جلد، 3 صفحہ، 75) 
انہوں نے جعفر بن محمد سے بیان کیا کہ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کو جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں بدا ہوا، کسی اور معاملے کے بارے میں اس طرح نہیں ہوا، یعنی ان کو ذبح کرنے کا حکم دینے کے متعلق یہ صریح کفر ہے۔
(یہ روایت كتاب التوحيد لابنِ بویہ: صفحہ:336 میں دیکھیں) 
اور اللہ تعالیٰ کی طرف جماعت اور تبدیلی کی نسبت، نیز اللہ تعالیٰ کے ہر چیز کے علم پر محیط ہونے کے مستحیل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
(المستصفى: جلد، 1 صفحہ، 110)
اگر کوئی شخص کھلے لفظوں میں سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے کفر کا اظہار کرے تو اس نے اجماع کی مخالفت کی، اور جو ان کی تعریف، ان کے ایمان کی صحت، ان کے یقین کی ثابت قدمی، ان کی تمام لوگوں پر افضلیت اور ان کو جنت کی بشارت کے متعلق بہت زیادہ روایات ذکر ہوئی ہیں، ان کی اس شخص نے نفی کی ہے۔
پھر وہ کہتے ہیں: اس کے قائل کو اگر یہ تمام روایات پہنچی ہیں، اس کے باوجود وہ ان کے کفر کا عقیدہ رکھتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے کیوں کہ وہ رسول اللہﷺ کو جھٹلاتا ہے اور جو شخص آپﷺ‎ کے اقوال میں سے کسی ایک لفظ کو بھی جھٹلاتا ہے، وہ بالاجماع کافر ہے۔ 
(فضاںٔح الباطنیۃ: صفحہ، 149)
15: قاضی عیاض:
(عیاض بن موسیٰ بن عیاض بن عمرون یحصبی مغرب کے بڑے عالم اور اپنے وقت میں اہلِ حدیث کے امام تھے، وہ 544ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: وفيات الأعيان: جلد، 3، صفحہ، 483، والعبر للذہبی: جلد، 2 صفحہ، 467، الضبی: بغية الملتمس، صفحہ، 437، النباهی: تاريخ قضاة الأندلس: صفحہ،101)
قاضی صاحب فرماتے ہیں:
ہم غالی رافضہ کے اس قول کی وجہ سے کہ ائمہ انبیاء سے افضل ہیں۔
(اسی کتاب کا صفحہ، 659 دیکھیں، شیعہ معاصرین اس کفر کو اپنا بنیادی اور ضروری عقیدہ قرار دیتے ہیں اور ان کے ضروری عقیدے کا انکار کفر ہوتا ہے، اسی کتاب کا صفحہ، 1151 دیکھیں شیعہ عالم ممقانی کہتا ہے: ہمارے مذہب کا ضروری عقیدہ ہے کہ ہمارے ائمہ علیہم السلام انبیاۓ بنی اسرائیل سے افضل ہیں، جیسا کہ متواتر روایات میں صراحت موجود ہیں، اہلِ بیتؓ کی روایات کی ممارست کرنے والے کے نزدیک اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ائمہ سے انبیائے بنی اسرائیل کی خوارق ظاہر ہوتے تھے، بلکہ ان سے کہیں زیادہ خرقِ عادت امور رونما ہوتے تھے، نیر انبیاء اور سلف کے لیے علم کے ایک یا دو دروازے وا ہوتے تھے، جبکہ ائمہ کے لیے عبادت و طاعت کی بنا پر، جو بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرح بنا دیتی ہے کہ جب وہ کسی شے کو کہتا ہے: ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے، تمام دروازے کھل جاتے ہیں تنقيح المقال: جلد، 3، صفحہ، 232 دیکھیں شروع میں کس طرح وہ اپنے ائمہ کو انبیاء پر فوقیت دیتا ہے اور بعد ازاں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرح بنا دیتا ہے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی زندیقیت و الحاد ہو سکتا ہے) 
ان کی یقینی تکفیر کرتے ہیں، اسی طرح جو شخص یہ کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ اور ان کے بعد والے امام رسول اللہﷺ کی نبوت میں شریک ہیں اور ہر امام نبوت اور حجت میں نبی کے قائم مقام ہیں، وہ بھی کافر ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے: یہ اکثر رافضہ کا مذہب ہے۔
[شیعہ اثناء عشریہ کا دعویٰ ہے کہ امامت، نبوت سے زیادہ بڑا مقام ہے۔ دیکھیں: صفحہ، 702 اور یہ کہ ائمہ تمام لوگوں پر رسولوں کی طرح حجت ہیں۔ دیکھیں: صفحہ، 669]
اسی طرح جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ائمہ کی طرف وحی ہوتی ہے، اگرچہ اس نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔
(یہ بھی روافض کا نظریہ ہے اسی کتاب کا صفحہ، 339 دیکھیں)
وہ مزید کہتے ہیں: اسی طرح جس نے قرآن کے ایک حرف کا بھی انکار کیا یا اس میں کسی چیز کو بدلا یا اس میں کسی چیز کا اضافہ کیا، جس طرح باطنیہ اور اسماعیلیہ نے کیا ہے تو اس کو بھی ہم کافر کہتے ہیں۔
(یہاں ایک انتہائی اہم امر ملحوظ خاطر رہے کہ بعض ائمہ دین تحریفِ قرآن کا نظریہ اسماعیلیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، جب کہ یہ اثناء عشریہ کا قول ہے اور اسماعیلیہ کا یہ نظریہ نہیں ہے، بلکہ وہ باطنی تاویل کی راہ پر چلتے ہیں)

16: سمعانی المتوفى 562ھ: 
[الإمام الحافظ المحدث ابو سعد عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمی السمعانی: یہ كتاب الأنساب وغیرہ کے مؤلف ہیں، انہوں نے طلبِ علم میں کئی سفر کیے اور بہت سے علماء سے سماع کیا، حتیٰ کہ چار ہزار اساتذہ سے لکھا، حافظ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں کہ امام ابنِ خلکان نے ذکر کیا ہے کہ ان کی متعدد تصانیف ہیں اور ان کی ایک کتاب ہے، جس میں انہوں نے ایک سو استاد سے ایک ہزار حدیث جمع کی ہے اور ان پر سنداً و متناً بحث کی ہے، یہ کتاب انتہائی مفید ہے، یہ 562ھ کو فوت ہوئے۔ وفيات الأعيان: جلد، 3، صفحہ، 209، البداية والنہاية: جلد، 12، صفحہ، 175]
فرماتے ہیں: امامیہ کی تکفیر پر امت کا اجماع ہے، کیوں کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین گمراہ ہو گئے تھے، نیز وہ ان کے اجماع کا انکار کرتے ہیں اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں، جو ان کی شان کے لائق نہیں۔
[الأنساب: جلد، 6 صفحہ، 341]

17: رازی: 
محمد بن عمر بن الحسين المعروف بالفخر الرازی یہ بہت بڑے مفسر، متکلم اور اصولی ہیں، ان کی تصانیف میں تفسیر کبیر اور محصول وغیرہ ہیں، ان کی طرف کچھ تشیع بھی منسوب ہے یہ 606ھ میں فوت ہوئے۔
[لسان المیزان: جلد، 4 صفحہ، 426 السيوطی: طبقات المفسرين: صفحہ، 115 عيون الأنباء: صفحہ، 414، 427]
رازی ذکر کرتے ہیں کہ ان کے اصحاب اشاعرہ تین وجوہ کی بناء پر رافضہ کو کافر کہتے ہیں:
1: انہوں نے مسلمانوں کے سادات اور سربر آوردہ شخصیات کو کافر قرار دیا اور جو کسی مسلمان کو کافر کہتا ہے، وہ خود کافر ہوتا ہے، کیوں کہ آپﷺ کا فرمان ہے: جس شخص نے اپنے بھائی سے کہا: او کافر تو ان دونوں میں سے کوئی ایک تو ضرور اس کا بوجھ اٹھائے گا (اس کی تخریج آگے آئے گی) لہٰذا ان کی تکفیر واجب ہے۔
2: انہوں نے ایسی جماعت کو کافر کہا، جن کی تعریف اور تعظیم رسول اللہﷺ نے واضح لفظوں میں کی ہے، لہٰذا ان کو کافر کہنا رسول اللہﷺ کو جھٹلانا ہے۔
3: امت کا اجماع ہے کہ جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سادات اور معزز ترین افراد کو کافر کہا، وہ خود کافر ہے۔
[الرازی: نہایۃ العقول: صفحہ، 212 أپمخطوط]

18: ابنِ تیمیہؒ:
شیخ الاسلام فرماتے ہیں: جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ قرآن سے آیات کم ہوئی ہیں یا انہیں چھپا لیا گیا ہے، یا یہ دعویٰ کیا کہ اس کی باطنی تاویلات ہیں، جو مشروع اعمال کو ساقط کر دیتی ہیں تو ان کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ جس نے یہ دعویٰ کیا کہ چند اشخاص کے سوا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہﷺ کے بعد مرتد ہو گئے، یا ان کی اکثریت فاسق ہوگئی، تو ایسے شخص کے کافر ہونے میں بھی کوئی شک نہیں، کیوں کہ وہ قرآن کریم کی اس آیت:
رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ۔
(سورۃ التوبہ: آیت، 100) 
اور ان کی تعریف کے بارے میں قرآنی آیات کو جھٹلانے والا ہے، بلکہ کون ہے جو ایسے شخص کے کافر ہونے میں شک کرے؟ اس کا کفر تو متعین ہو چکا ہے، کیوں کہ ان کے اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ کتاب و سنت کو نقل کرنے والے کافر یا فاسق ہیں اور یہ آیت:
كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ۔
ترجمہ:
تم سب سے بہتر امت چلے آئے ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی
(سورة آل عمران: آیت، 110) 
جن میں بہترین قرنِ اول کے مسلمان تھا، ان کی اکثریت کافر یا فاسق تھی۔ شیعہ کے نظریے کا موضوع یہ ہے کہ یہ امت تمام امتوں سے بدتر ہے اور اس امت کے سابقہ پیروکار بد ترین لوگ تھے، العیاذ باللہ اس نظریے کے حامل شخص کا کافر ہونا دین کے ان امور میں داخل ہے، جن کا معلوم ہونا بداہتاً ہر کسی کو معلوم ہے۔
[الصارم المسلول: صفحہ، 586، 587]
شیخ الاسلام فرماتے ہیں: یہ عام بد عقیدہ لوگوں سے بدتر لوگ ہیں اور ان کے خلاف جنگ کرنا خوارج کے خلاف جنگ کرنے سے زیادہ اہم ہے۔
[مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: جلد، 28، صفحہ، 482]
انہوں نے رسول اللہﷺ کی پیش کردہ شریعت کے ساتھ بےشمار انداز سے کفر کیا، کبھی یہ آپﷺ سے ثابت شدہ احادیث کی تکذیب کرتے ہیں تو کبھی قرآن کریم کے معانی کی تکذیب کرتے ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعریف کی اور ان پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا، جس کی حقیقت کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں جمعے، جہاد اور اولی الامر کی فرمانبرداری کا حکم دیا، یہ اس سے خارج ہیں، اس نے اپنی کتاب میں مومنوں کے ساتھ محبت، موالات اور ان کے درمیان اصلاح کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ لوگ خارج ہیں، اس نے اپنی کتاب میں کافروں کے ساتھ دوستی رکھنے اور ان کے ساتھ تعلقات بڑھانے سے منع کیا، اس سے یہ لوگ خارج ہیں، اس نے اپنی کتاب میں مسلمانوں کے خون، اموال، عزتیں، ان کی غیبت اور ان پر طنز و تعریض حرام کی، یہ لوگ سب سے زیادہ ان کو حلال قرار دیتے ہیں۔
اس نے اپنی کتاب میں اتفاق و اتحاد کا درس دیا، اختلاف اور فرقے بندی سے منع کیا، لیکن یہ تمام لوگوں سے زیادہ اس حکم سے دور ہیں، اس نے اپنی کتاب میں رسول کی فرمانبرداری، محبت اور اتباع کا حکم دیا، جس کی یہ مخالفت کرتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں رسول اللہﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ کے حقوق بیان کیے، جن سے یہ لوگ بری ہیں، اس نے اپنی کتاب میں اپنی توحید، خالص عبادت اور شرک نہ کرنے کا حکم دیا، یہ اس کے مخالف ہیں، یہ مشرک ہیں، کیوں کہ یہ ان قبروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے ہیں، جن کو انھوں نے اللہ کے سوا بت بنایا ہوا ہے۔
اس نے اپنی کتاب میں اپنے اسما و صفات کا ذکر کیا، یہ ان کا انکار کرتے ہیں، اس نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ ہر چیز کا خالق ہے، جو وہ چاہتا ہے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، نیکی کی استطاعت اللہ کی توفیق سے ہوتی ہے، لیکن وہ ان تمام امور کا انکار کرتے ہیں۔
اس کے بعد شیخ الاسلام فرماتے ہیں: جو کوئی اہلِ علم کی نسبت رکھنے والا یا کوئی دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنا کسی جائز اور معقول تاویل کے ہوتے حاکم وقت کے خلاف بغاوت کرنے والی باغیوں کی جماعت کے خلاف جنگ کرنے کے مترادف ہے، تو ایسا انسان غلط ہے اور شریعت اسلام کے حقائق سے ناواقف ہے، کیوں کہ یہ لوگ بذاتِ خود رسول اللہﷺ کی شریعت اور آپﷺ کی سنتوں ہی سے خارج ہیں، جو حروری خوارج کے خروج سے بڑا شر ہے، ان کے پاس کوئی جائز اور معقول تاویل نہیں۔ 
[دیکھیں، الفتاویٰ: جلد، 28، صفحہ، 484، 485]
جائز تاویل وہ ہوتی ہے، جس کا کوئی جواب نہ ہو اور آدمی اس پر برقرار ہے، جس طرح اجتہاد کے مواد کے متعلق اختلاف کرنے والے علماء کی تاویل جب کہ ان لوگوں کی یہ تاویل کتاب و سنت اور اجماع کے ساتھ نہیں، ان کی تاویل یہود و نصاریٰ کی تاویل کی قسم ہے اور ان کی تاویل خواہش پرستوں اہلِ سنت کی تاویل سے بھی بدتر تاویل ہے۔ 
[دیکھیں، الفتاویٰ: جلد، 28، صفحہ، 486]
شیخ الاسلام ان نظریات کے حامل افراد کی تکفیر کرتے ہیں، لیکن ان کے نزدیک کسی مخصوص اور متعین شخص کی تکفیر اس پر حجت قائم کرنے اور اس تک حقیقت پہنچانے کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے آپ نے ان رافضہ کے متعلق جن کو گرفتار کیا گیا، درج ذیل فتویٰ دیا۔
رافضہ کو مغلوب کرنے کے بعد ان کے متعلق شیخ الاسلام کا فتویٰ
آپؒ فرماتے ہیں: یہ سب کو معلوم ہے کہ شام کے ساحل پر ایک بہت بڑا پہاڑ تھا، جہاں ہزاروں رافضہ رہتے تھے، جو لوگوں کا خون بہاتے اور ان کا مال لوٹتے، انہوں نے ایک بھاری مقدار میں لوگوں کو قتل کیا اور ان کے اموال لوٹے، جب غازان [اسی کتاب کا صفحہ 1242 دیکھیں] کے عہد میں مسلمانوں کو شکست سے دو چار ہونا پڑا تو انہوں نے گھوڑے، اسلحہ، قیدی سب کو پکڑا اور قبرص کے عیسائی کافروں کو بیچ دیا، جو لشکر ان کے پاس سے گزرتا، اس کو پکڑ لیتے، یہ مسلمانوں کے لیے تمام دشمنوں سے زیادہ ضرر رساں تھے، ان کے ایک سردار نے تو عیسائیت کے جھنڈے تک لہرا دیے، انہوں نے اس سے پوچھا: مسلمان بہتر ہیں یا عیسائی؟ اس نے کہا: عیسائی، انہوں نے پوچھا: قیامت کے دن تم کس کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے؟ اس نے کہا: عیسائیوں کے ساتھ، انہوں نے مسلمانوں کے بعض علاقے تک ان کو دے دیے، اس کے باوجود جب ایک مسلمان حاکم نے ان کے خلاف جنگ کرنے کے متعلق مشورہ کیا اور میں نے ان سے قتال کے متعلق ایک تفصیلی فتویٰ لکھا۔ 
[شاید وہ یہ ہے الفتاویٰ: جلد، 28 صفحہ، 398]
ہم ان کے علاقے میں گئے تو میرے پاس ان کی ایک جماعت آئی، پھر میرے اور ان کے درمیان مناظرے اور مذاکرات ہوئے، جن کی تفصیل لکھنا طوالت کا باعث ہوگا، جب مسلمانوں نے ان کے علاقے فتح کر لیے اور مسلمان ان پر غالب آ گئے تو میں نے مسلمانوں کو انہیں قتل کرنے اور انہیں جنگی قیدی بنانے سے منع کر دیا اور انہیں مسلمانوں کے علاقوں میں منتشر کر دیا، تاکہ وہ اکٹھے نہ ہوسکیں۔ 
[منہاج السنۃ: جلد، 3 صفحہ، 39]
دیکھیے یہ اپنے وقت کے امام اہلِ سنت کا فتویٰ ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اہلِ سنت اس حق کی اتباع کرتے ہیں، جو ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اور جس کو رسول اللہﷺ نے پیش کیا، وہ ہر ایک مخالف کو کافر نہیں کہتے، بلکہ وہ حق کو زیادہ جاننے والے اور مخلوق کے ساتھ زیادہ رحم کرنے والے ہیں، خواہش پرستوں کے بالکل برعکس جو خود ایک رائے کو ایجاد کر لیتے ہیں اور جو ان کی اس میں مخالفت کرے، اس کو کافر قرار دے دیتے ہیں۔ 
[المصدر السابق]

19: ابنِ کثیرؒ: 
[أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير الإمام المحدث المفتى المؤرخ جيسا كہ امام ذہبی نے کہا ہے امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ان کی بڑی مفید تصانید ہیں، جن میں ایک تفسیر قرآن ہے، جو سب سے اچھی نہیں تو بہترین تفاسیر میں سے ہے، وہ 774ھ کو فوت ہوئے۔ (ابنِ حجر الدرر الكامنة: جلد، 1 ، صفحہ، 372، 374 الشوكانی: البدر الطالع: جلد، 1، صفحہ، 153]
امام ابنِ کثیرؒ نے وہ بعض صحیح احادیث نقل کیں، جو نص اور وصیتِ علی کے دعوے کی نفی کرتی ہیں، اس کے بعد ان الفاظ میں ان پر تبصرہ کیا: اگر معاملہ ایسے ہی ہوتا، جس طرح یہ دعویٰ کرتے ہیں، تو کوئی صحابی بھی اس کی تردید نہ کرتا، کیوں کہ وہ لوگ رسول اللہﷺ کی زندگی میں بھی اور آپﷺ کی وفات کے بعد بھی تمام لوگوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے اطاعت گزار تھے، لہٰذا وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے تھے کہ آپﷺ پر افتراء پردازی کرتے، سیدنا علیؓ کو محروم کر دیتے اور دوسرے کو ان پر مقدم کر دیتے، جس کو وصیت نے مقدم کیا تھا، اس کو مؤخر کر دیتے، حاشا و کلا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے جو صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں یہ گمان رکھتا ہے، وہ ان تمام کو نافرمانی، رسول کی مخالفت اور آپ کے حکم اور وصیت کی روگردانی کی طرف منسوب کرتا ہے اور جو شخص اس حد تک پہنچ جائے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور ائمہ اعلام کے اجماع کے ساتھ کافر ہو جاتا ہے، اس کا خون بہانا شراب بہانے سے زیادہ حلال ہے۔
[البداية والنہاية: جلد، 5 صفحہ، 252]
رافضہ کے بارے میں یہ ثابت ہے، جس طرح پہلے گزر چکا ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے سیدنا علیؓ کے متعلق وصیت کی تھی صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین نے اس نص سے روگردانی کی اور اس کی وجہ سے مرتد ہو گئے۔ معاصر رافضہ اور ان کے بزرگ یہی کہتے ہیں۔
[اس کتاب کا صفحہ 766 1134 دیکھیں]

20: ابو حامد المقدسی:
[محمد بن خليل بن يوسف الرملی المقدسی، یہ بہت بڑے شافعی فقیہ ہیں۔ انہوں نے 888ھ کو وفات پائی۔ دیکھیں: السخاوی: الضوء اللامع: جلد، 7 صفحہ، 234 الشوكانی: البدر الطالع: جلد، 2 صفحہ، 169]
وہ شیعہ کے فرقوں اور ان کے عقائد کے بارے میں گفتگو کے بعد کہتے ہیں: ہر صاحبِ بصیرت اور سمجھ دار مسلمان پر یہ پوشیدہ نہیں کہ اس سے پہلے باب میں ہم نے اس رافضی فرقے کی مختلف اصناف کے ساتھ جن عقائد کا ذکر کیا ہے، وہ صریح کفر اور بدتر جہالت کے ساتھ عناد بھی ہے، ان سے واقف ہو جانے کے بعد کوئی شخص بھی ان کے کافر ہونے اور ان پر دینِ اسلام سے خارج ہونے کا حکم لگانے میں دیر نہیں لگائے گا۔
[رسالة فی الرد على الرافضة: صفحہ، 200]

21: ابو المحاسن يوسف الواسطی: 
[يوسف الجمال أبو المحاسن الواسطی، يہ نویں صدی ہجری کے عالم ہیں۔ دیکھیں: السخاوی الضوء اللامع: جلد، 10 صفحہ، 338، 339]

انہوں نے رافضہ کے جملہ کفریہ عقائد ذکر کیے اور ان کے ضمن میں کہا: یہ لوگ صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر کی وجہ سے کافر ہیں، جن کی عدالت، دیانت داری اور تزکیہ قرآن کریم میں ثابت ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ۞
ترجمہ:
تاکہ تم لوگوں پر شہادت دینے والے بنو۔ 
(سورة البقرة: آیت، 142)  
اللہ تعالیٰ کی ان کے بارے میں گواہی ہے کہ یہ کافر نہیں ہوئے تھے:
فَإِن يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّيْسُوا بِهَا بِكَفِرِينَ۞
ترجمہ:
پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں، جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں۔
(سورة الأنعام: آیت، 89)
یہ لوگ قبرِ حسین کی زیارت کو حج کا بدل قرار دے کر حج سے مستغنی ہو جانے کی وجہ سے بھی کافر ہیں، ان کا نظریہ ہے کہ اس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ اس کو حج اکبر کہتے ہیں۔ یہ کفار کے خلاف جہاد ترک کرنے کی وجہ سے بھی کافر ہیں، جن کے بارے میں شیعہ کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف معصوم امام کی معیت میں جائز ہے، جو غائب ہے۔
[المناظرة بين أهل السنة والرافضة: صفحہ، 66 مخطوط]

یہ لوگ رسول اللہﷺ کی ادا کردہ ان متواتر سنتوں، جیسے: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ، نفلی نمازوں، فرضی نماز سے پہلے اور بعد کی سنتوں اور ان کے علاوہ دیگر موکدہ سنتوں میں عیب جوئی کی وجہ سے بھی کافر ہیں۔
[المناظرة بين أهل السنة والرافضة: صفحہ، 67 مخطوط]

22: علی بن سلطان بن محمد قاری:
کہتے ہیں: جس نے کسی ایک صحابی کو بھی گالی دی وہ فاسق اور بالاجماع بدعتی ہے، لیکن اگر وہ یہ عقیدہ رکھے کہ ان کو گالی دینا جائز ہے، جس طرح بعض شیعہ کا مذہب ہے، یا ان کو گالی دینا موجبِ ثواب ہے یا وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ سُنّت کے کافر ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے تو ایسا شخص بالاجماع کافر ہے۔
[شسم العوارض فی دوم الروافض: صفحہ، 6 أمخطوط]

اس کے بعد انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح سرائی میں قرآن و سُنت سے دلائل پیش کیے اور ان سے یہ نتیجہ کیا کہ روافض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اپنا مذہب رکھنے کی وجہ سے کافر ہیں۔
[دیکھیں: المصدر السابق: صفحہ، 252، 254]

اس کے بعد انہوں نے رافضہ کے جملہ کفریہ عقائد کا تذکرہ کیا کہ وہ کتاب الله کی تبدیلی کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان کے بعض اقوال بھی درج کیے ہیں۔
[المصدر السابق: صفحہ، 259]

23: محمد بن عبد الوہاب: 
(محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن احمد التمیمی النجدی: بارہویں صدی عیسوی میں جزیرہ عرب میں اسلام کی تجدید کرنے والے امام تھے۔ ان کی توحید خالص اور ترک بدعات کی دعوت و بیداری کی پہلی چنگاری تھی۔ جس نے ان کا تذکرہ تمام عالمِ اسلام میں پھیلا دیا، حتیٰ کہ ہند، مصر، عراق اور شام وغیرہ میں اصلاح پسند افراد نے ان کا گہرا اثر لیا۔ یہ 1206ھ کو فوت ہوئے۔
(دیکھیں عبد العزیز بن باز: الشیخ محمد عبد الوہاب دعوته وسيرتهو مسعود عالم الندوی محمد بن عبد الوہاب مصلح مظلوم و مفتری علیہ وبھجته الأثری محمد بن عبد الوہاب داعیته التوحید التجدید فی العصر الحدیث وغیرھا نیز دیکھیں: أحمد أمین: زعما الاصلاح: صفحہ، 10 مجلته الزھراء، جلد، 3 صفحہ، 82، 98)
امام محمد بن عبد الوہاب نے اثناء عشریہ کے جملہ عقائد پر یہ حکم لگایا ہے کہ وہ کفر ہیں۔ انہوں نے اثناء عشریہ کا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا بازی کا عقیدہ ذکر کرنے اور الله تعالیٰ کے قرآن میں ان کی ثناء خوانی کا تذکرہ کرنے کے بعد کہا ہے:
جب آپ نے یہ جان لیا کہ ان کی فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات بے شمار ہیں اور متواتر احادیث ان کے کمال پر نص ہیں تو جس نے ان کے فاسق ہونے یا ان کے ایک گروہ کے فاسق ہونے، ان کے مرتد ہونے یا ان کی اکثریت کے مرتد ہونے کا عقیدہ رکھا یا ان کو گالی دینے کے جواز کا عقیدہ رکھا یا اس کے اعتقاد کہ ساتھ ان کو گالی دی کہ وہ اس کا حق رکھتے ہیں تو اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ کفر کیا۔
متواتر اور قطعی طور پر ثابت شدہ بات کا علم نا ہونے کا عذر غیر مقبول ہے، اس کی تاویل کرنا اور کسی معتبر دلیل کے بغیر اس کے معنیٰ کو حقیقی مفہوم سے پھیرنا غیر مفید ہے، مثلاً کوئی شخص اس بناء پر پانچ فرض نمازوں کا انکار کرتا ہے کہ اس کو ان کی فرضیت کا علم نہیں تو وہ اس لاعلمی اور جہالت کی بنا پر کافر ہوجاتا ہے، کیونکہ قرآنی نصوص اور احادیث رسولﷺ کے ذریعے ان کی فضیلت کے بارے میں حاصل ہونے والا علم قطعی ہے، جو بعض کو بدزبانی کے لیے مخصوص کرتا ہے اگر وہ ان میں سے جن کی فضیلت اور کمال تواتر کے ساتھ ثابت ہے جس طرح خلفاء اگر وہ ان کو گالی دینے کے حلال ہونے کا ان کے استحقاق ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے تو وہ رسول اللّٰہﷺ سے قطعی طور پر ثابت ہونے والی بات کی تکذیب کی وجہ سے کافر ہوجاتا ہے کیونکہ آپﷺ کی تکذیب کرنے والا کافر ہے، اگر وہ ان کو گالی دیتا ہے لیکن ان کو گالی دینے کے جواز اور برحق ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتا تو ایسا شخص فاسق ہے کیونکہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔
بعض علماء نے شیخین کو مطلق گالی دینے والے کو کافر کہا ہے اگر جس صحابی کو وہ گالی دیتا ہے وہ ان میں سے نہیں، جس کی فضیلت و کمال تواتر کے ساتھ نفل ہوا ہے، تو ظاہر یہی ہے کہ اس کو گالی دینے والا فاسق ہے، لیکن اگر وہ اس اعتبار سے گالی دے کہ وہ نبیﷺ کے صحابہ ہیں تو یہ کفر ہے۔ ان روافض کی اکثریت جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں دشنام طرازی کرتے ہیں، یہ ان کو گالی حق یا جائز بلکہ واجب سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی دین کا ایک اہم معاملہ ہے۔
(رسالة فی الرد علی الرافضة: صفحہ، 19، 18 بلکہ یہ لوگ گالیوں کی تکفیر کی حد تک تجاوز کر چکے ہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ جو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے اسلام کا اعتقاد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دیکھیں گے کہ نہ اس سے کلام کریں گے اور ایسے شخص کے لیے دردناک عذاب ہے، اسی کتاب کا صفحہ، 773 دیکھیں دن بہ دن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ان کی طعن و تشنیع بڑھتی جاتی ہے حتیٰ کہ آج کل یہ غلو اپنی آخری حدوں کو چھو چکا ہے)
اس کے بعد کہتے ہیں: علماء سے جو کہ صحیح معقول ہے کہ اہلِ قبلہ کا کافر نہیں کہا جائے گا تو یہ قاعدہ اس پر صادق آتا ہے، کس کی بدعت کفریہ نہ ہو۔ یقیناً رسول اللہﷺ سے جو ثابت ہے بلا شبہ اس کی تکذیب کفر ہے اور اس جیسے معاملے میں جہالت کوئی عذر نہیں۔
[رسالة فی الرد الرافضته: صفحہ، 20]

وہ ان کی کتابوں میں قرآنِ کریم میں کمی اور تبدیلی کے دعوت کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں: اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حتیٰ کہ سیدنا علیؓ کی بھی تکفیر لازم آتی ہے، کیونکہ وہ اس عمل پر راضی تھے اور ان آیات کی تکذیب بھی ہوتی ہے جس میں مذکور ہے:

لَّا یَاۡتِیۡہِ الۡبَاطِلُ مِنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ لَا مِنۡ خَلۡفِہٖ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ حَکِیۡمٍ حَمِیۡدٍ۞
ترجمہ:
باطل اس کے آگے اور نا اس کے پیچھے سے لگ آتا ہے، ایک کمال حکمت والے تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔
(سورة فصلت، حم السجد: آیت، 42)

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡن۞
(سورة الحجر: آیت، 9) 
ترجمہ: بے شک ہم ہی نے یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔

جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ قرآن ساقط ہونے سے محفوظ نہیں اور جو اس سے ساقط ہے،وہ اس کا حصہ تھا تو وہ کافر ہے۔
[رسالة فی الرد على الرافضة: صفحہ، 14، 15]

شیخ مزید فرماتے ہیں: جس نے اللہ اور اپنے درمیان کسی کو وسیلہ بنایا وہ رافضہ کی طرح ہے، جو اپنے ائمہ کو وسیلہ بناتے ہیں جو اپنے درمیان اور اللہ کے درمیان وسیلے مقرر کرتا ہے، پھر انہیں پکارتا ہے، ان سے شفاعت طلب کرتا ہے اور پھر ان پر بھروسا کرتا ہے وہ بالاجماع کافر ہے۔
[رسالة نوافض الاسلام: صفحہ، 283 ضمن الجامع الفریدط: الجمیع]

وہ مزید کہتے ہیں:
جس نے ائمہ کو انبیاء پر فضیلت دی، وہ بالاجماع کافر ہے، یہ بات کئی اہلِ علم نے نقل کی ہے۔
[رسالة فی الرد على الرافضة: صفحہ، 29 نیز اسی کتاب کا صفحہ، 259 دیکھیں]

24: شاہ عبد العزیز دہلویؒ: 
[عبد العزیز بن أحمد الشاہ ولی اللہ بن عبد الرحیم العمری الفاروقی الملقب سراج الہند علامہ محب الدین خطیب فرماتے ہیں: ہند میں اپنے وقت میں بہت بڑے عالم تھے اور شیعہ کی کتب میں انہیں تجربہ حاصل تھا وہ 1239ھ کو فوت ہوئے۔ دیکھیں: الاعلام: جلد، 3 صفحہ، 138 مقدمہ مختصر التحفۃ الأثنیٰ عشربة لمحب الدین الخطیب،ص: یب)
وہ اثناء عشریہ کے معتبر مصادر و مراجع کی روشنی میں اس مذہب کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد کہتے ہیں: جو ان کے خبیث عقائد اور جن پر وہ مشتمل ہیں، ان تمام امور کی حقیقت تلاش کرتا ہے، وہ یہ جان لیتا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں اور اس کے نزدیک ان کا کفر ثابت ہو جاتا ہے۔
[مختصر التحفۃ الأثنیٰ عشریہ: صفحہ، 300]

25: محمد بن علی شوکانی:
[امام محمد بن علی بن محمد عبداللہ الشوکانی یمن کے بہت بڑے عالم تھے ان کی کتابوں میں فتح القدیر اور نیل الاوطأر وغیرہ مفید تالیفات شامل ہیں یہ 1250ھ کو فوت ہوئے دیکھیں: فی ترجمۃ البدر الطالع: جلد، 2 صفحہ، 214، 225]

علامہ شوکانیؒ ذکر کرتے ہیں کہ روافض کی دعوت کی بنیاد دین کے خلاف ریشہ دوانی اور مسلمانوں کی شریعت کی مخالفت پر مبنی ہے۔ علمائے اسلام اور دین کے سلاطین پر تعجب ہوتا ہے کی انہوں نے ان کو کس طرح اس انتہائی زیادہ قبیح، منکر اور برائی پر چھوڑ دیا ہے!یہ زلیل لوگ جب اس شریعت مطہرہ کی مخالفت اور تردید کرنا چاہتے ہیں تو اس دین کے حاملین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزتوں کو نشانہ بناتے ہیں کہ جن کی راہ کے بغیر دین تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس کوئی راہ نہیں۔
انہوں نے اس شیطانی ذریعے اور ملعون وسیلے کی وساطت سے کم عقلوں کو ورغلایا ،جو تمام مخلوق کی بہترین ہستیوں کو علی الاعلان دشنام درازی کا نشانہ بناتے ہیں ،شریعت کے خلاف اپنے دلوں میں بغض رکھتے ہیں اور لوگوں کو احکام شریعت سے بےزار کرتے ہیں اور ان کو غیر فعال کرتے ہیں ۔کبیرہ گناہوں میں اس سے بد ترین کوئی وسیلہ نہیں،یہ سب سے قبیح وسیلہ ہے ،کیونکہ اس میں اللہ ،اس کے رسول اور اس کی شریعت کے خلاف عناد چھپا ہوا ہے ۔یہ جس روش پر قائم ہے ،اس کے نتیجے میں یہ چار کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر رہے ہیں ،جن میں ہر ایک کھلم کھلا کفر ہے۔
1: اللہ کے ساتھ عناد
2: اللہ کے رسول کے ساتھ عناد 
3: شریعتِ مطہرہ کے ساتھ عناد اور اس کو غیر فعال بنانے کی کوشش
4: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تکفیر رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کی کتاب اللہ میں یہ صفت ذکر ہوئی ہے کہ وہ کفار پر بڑے سخت ہیں، کفار ان کو دیکھ کر غضبناک ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے حالانکہ شریعت مطہرہ میں ثابت ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو کافر کہا، وہ خود کافر ہے، جس طرح صحیحین میں سیدنا ابنِ عمرؓ کی حدیث ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے کہتا ہے ،اے کافر تو دو باتوں میں سے ایک بات ضرور ہوگی یا تو وہ کافر ہو گا جس طرح اس نے کہا اور اگر نہیں تو پھر یہ کفر اس کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔

[صحيح البخاری، كتاب الأدب، باب من كفر أخاه من غير تأويل فهو كما قال: جلد، 7 صفحہ، 97 صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان حال إيمان من قال لأخيه المسلم يا کافر جلد، 7 روح، 997 سنن أبی داؤد، كتاب السنة، باب زيادة الإيمان ونقصانه: جلد، 5 صفحہ: 64 رقم الحديث:378 سنن الترمذی: كتاب الإيمان، باب ما جاء فيمن رمى أخاه بكفر: جلد، 5 صفحہ، 22 رقم الحديث، 2637) موطأ الإمام مالك: كتاب الكلام، باب ما يكره من الكلام: صفحہ، 974 مسند أحمد: جلد، 2 صفحہ، 18، 44 23 الطيالسی: صفحہ: 253 رقم الحديث، 1842]

اس سے ثابت ہوا کہ ہر رافضی کسی ایک صحابی کو کافر کہنے کی وجہ سے خود کافر ہو جاتا ہے، تو جو سب کو کافر قرار دے اور کم عقلوں کی عقلوں پر پردہ ڈالنے کے لیے محض چند ایک کو مستثنیٰ قرار دے اس کا کیا حال ہوگا۔
[الشوكانی، نثر الجوهر على حديث أبی ذر: صفحہ، 15، 17 مخطوط]

سلطنتِ عثمانیہ کے علما و شیوخ:
زین العابدین بن یوسف الاسکوبی نے عثمانی سلطان محمد خان بن سلطان ابراہیم خاں کے عہد میں ایک رسالہ لکھا جس میں اس نے نقل کیا: سلطنتِ عثمانیہ کے تمام متاخر علماء نے ان کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔
[الاسکوبی، الرد علی الشیعۃ: صفحہ، 5 ب]

ماوراء النہر کے علماء:
(اس سے مراد خراسان کے علاقے جیحون کی نہر کے پیچھے والے لوگ ہیں اس کی مشرقی طرف والے علاقوں کو بلاد الهباطلة کہتے ہیں اور اسلام میں ان کا نام ما وراء النهر رکھا گیا ہے۔ اس کی مغربی جانب تو خراسان اور خوارزم کا صوبہ ہے۔ 
[معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 45 نہج السلامة: صفحہ، 20، 30 مخطوط]

تفسیر روح المعانی کے مؤلف علامہ آلوسی کہتے ہیں:
علمائے ماوراء النہر کی اکثریت اثنا عشریہ کے کافر ہونے کی قائل ہے، انہوں نے ان کے خون، اموال اور عورتیں حلال قرار دی ہیں، کیوں کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص شیخین ابوبکرؓ و عمرؓ کو سبِ و شتم کرتے ہیں، جو آپﷺ کی آنکھ اور کان تھے، وہ صدیقؓ کی خلافت کا انکار کرتے ہیں، ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ پر وہ بہتان لگاتے ہیں، جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بَری قرار دیا ہے، وہ سیدنا علیؓ کو اولو العزم نبیوں کے سوا ان تمام پر ترجیح دیتے ہیں، بلکہ ان میں سے بعض ان کو ان پر بھی ترجیح دیتے ہیں اور یہ لوگ قرآن کریم کے کمی و زیادتی سے محفوظ رہنے کا بھی انکار کرتے ہیں۔ 
[نہج اسلامۃ: صفحہ، 29، 30 مخطوط]

یہ اس مسئلے کے متعلق بعض ائمہ مسلمین اور علمائے مسلمین کے فتوے ہیں، میں اسی قدر فتاویٰ پر اکتفاء کرتا ہوں۔ فقہ کی کتابوں میں ان کی تکفیر کے متعلق بے بہا اقوال موجود ہیں، جن کی طرف بڑی آسانی سے رجوع کیا جا سکتا ہے، اس لیے ان کو ذکر کرنے کی کو ضرورت نہیں۔ 

[مثلاً دیکھیں: العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ لابنِ عابدین اس میں مؤلف نے شیخ نوحی حنفی کا فتویٰ ذکر کیا ہے، جنہوں نے رافضہ کو متعدد وجوہ کی بنا پر کافر قرار دیا ہے یہ فتویٰ بہت طویل ہے دیکھیں: العقود الدریۃ، صفحہ: 92 اسی طرح مؤلف نے مفسرِ قرآن سیدنا ابو مسعود کا قول بھی ذکر کیا ہے اور رافضہ کی تکفیر اپنے علماء کا اجماع نقل کیا ہے المصدر السابق فتاویٰ بزازیہ لابنِ البزار المتوفی 827ھ میں ہے: کیسانیہ کی نظر یہ بدا کی وجہ سے تکفیر ضروری ہے اور رافضہ کی تکفیر عقیدہ رجعت کی وجہ سے لازمی ہے الفتاویٰ البزازیۃ المطبوعۃ علی ھامش الفتاویٰ الھندیہ: جلد، 7 صفحہ، 318 امام ابنِ نجیم حنفی کہتے ہیں کہ شیخین کو گالی دینا اور ان پر لعنت کرنا کفر ہے الأشباہ والنظائر: صفحہ:190 نیز دیکھیں:نواقض الروافض لمخدوم الشیرازی]

چند ضروری امور:
یہاں چند امور ملحوظ خاطر رہیں:
1: علمائے اسلام کا روافض پر یہ حکم اس وقت کا ہے جب ان کی کتابوں اور ان کے عقائد کا علی الاعلان اظہار اور اشاعت اس وسیع پیمانے پر نہیں تھا،جس طرح آج ہے ،اس لیے اس مقابلے کے صفحات پر اثناء عشریہ کے ایسے عقائد بھی ذکر ہوئے ہیں جنہیں علمائے اسلام باطنی فرقے قرامطہ کی طرف منسوب کرتے تھے، مثال کے طور پر قرآنِ مجید میں کمی اور تحریف کا نظریہ جو ان کی کتابوں میں مشہور تھا۔اسی طرح ان کے اکثر اعتقادی اور اصول دین کے مسائل بھی انہی کی طرف منسوب تھے ،پھر ان کے کچھ ایسے بھی عقائد تھے ،جو معروف نہیں تھے ،جیسے شیعی خمیر اور خاک کا عقیدہ وغیرہ ہے،اس کا یہ مطلب ہوا کہ ان علماء کا آج رافضہ پر حکم اس سے بھی زیادہ سخت ہوتا۔
2: متاخر اور معاصر رافضہ نے مذہب کا گھٹیا اور خطرناک ترین مواد اکھٹا کیا ہے۔ انہوں نے تقدیر کی نفی میں قدریہ کا نظریہ صفات کی تردید میں جہمیہ کا نظریہ اور خلق قرآن کا عقیدہ صوفیہ سے وحدۃ الوجود کی گمراہی، سبائیہ سے سیدنا علیؓ کی الوہی صفات کا حامل قرار دینے کا قول،خوارج اور وعیدیہ سے مسلمانوں کی تکفیر اور مرجیہ کے عقیدے کے مطابق حبِ علیؓ کے ہوتے ہوئے کوئی برائی برائی نہیں رہتی،کا عقیدہ کشید کر کے شیعت کو ان تمام گمراہیوں کا ملغوبہ بنا دیا ہے بلکہ قبروں کی تعظیم،ان کا طواف ان کی طرف منہ اور قبلے کی طرف پشت کر کے نماز پڑھنے ،جیساکہ شرکیہ اعمال کے ذریعے سے وہ مشرکین کی راہ پر بھی چل نکلے ہیں۔ جو عین مشرکوں کا مذہب ہے۔ 
[اس کی تفصیل اور اثنا عشریہ کا اس عقیدے کو اپنانے کے ثبوت کے لیے اسی کتاب کا صفحہ، 1102 دیکھیں]

کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شک باقی رہتا ہے کہ اس فرقے نے اپنے لیے اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب پسند کیا ہوا ہے؟ یہ لوگ اگرچہ کلمہ پڑھتے ہیں ،لیکن انہوں نے بہت سے کفریہ اعمال کے ذریعے سے اس کلمے کا کام تمام کر دیا ہوا ہے ،لیکن پھر بھی کسی کو کافر کہنے کے بارے میں اہلِ سنت کے طریقے کار اور ان کے منہج تکفیر کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے :یہ تمام اقوال اور نظریات جن کے وہ قائل ہیں اور ان کے متعلق معلوم ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کی پیش کردہ تعلیمات کے خلاف ہیں یہ تمام اقوال کفر ہیں، اسی طرح ان کے وہ افعال جو کافروں کے اعمال و افعال و اعمال کی جنس سے ہیں اور کافر اس طرح کا رویہ مسلمانوں سے رکھتے ہیں یہ بھی کفر ہیں لیکن اہلِ قبلہ میں سے کسی ایک مخصوص اور متعین شخص کو کافر قرار دینا اور اس پر دائمی جہنمی ہونے کا حکم لگایا شروطِ تکفیر کے ثبوت اور عدمِ مانع پر موقوف ہے ہم وعدو وعید اور تکفیر و تفسیق کی نصوص و آیات کا مطلقاً ذکر کرتے ہیں اور ان کے عام معنیٰ میں کسی مخصوص شخص کو اس وقت تک داخل نہیں کر سکتے جب تک اس میں تکفیر کا تقاضا کرنے والا کوئی عمل ثابت نہ ہو جائے جس کا کوئی مخالف نہ ہو، اس لیے علمائے اسلام ایسے شخص کو کافر نہیں کہتے، جو نیا نیا مسلمان ہونے کی وجہ سے یا کسی درو دراز کے علاقے اور عملی طور پر پسماندہ بستی کے ساتھ تعلق رکھنے کی وجہ سے کسی حرام کام کو حلال کر لے۔ کفر کا حکم پیغام اسلام تک پہنچنانے کے بعد ہوتا ہے، اس لیے ان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو وہ نصوص اور دلائل نہ ملے ہوں گے، جو ان کے موقف کے خلاف ہوں۔ ہو سکتا ہے،اس کو علم ہو نہ کہ رسول اللہﷺ اس کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ اس لیے مطلقاً کہا جائے گا کہ یہ قول کفر ہے اور اس کو کافر کہا جائے گا، جس پر وہ حجت قائم ہو جائے، جس کے تارق کو کافر کہا جا سکے،دوسرے کو نہیں۔
[الفتاویٰ: جلد، 28 صفحہ، 501،502 اس مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیں: الفتاویٰ: جلد، 12 صفحہ، 466 وما بعدها: جلد، 23 صفحہ: 340 وما بعدها]














يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (التحریم:8)
ترجمہ:
اے ایمان والو ! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں تم سے جھاڑ دے، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کردے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ (٨) وہ کہہ رہے ہوں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لیے اس نور کو مکمل کردیجیے (٩) اور ہماری مغفرت فرما دیجیے۔ یقینا آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
تشریح:
(٨) اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہونگے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سورة حدید :12 میں گذر چکا ہے۔
(٩) یعنی آخر تک اسے برقرار رکھیے، کیونکہ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن بعد میں ان سے نور سلب کرلیا جائے گا۔

(1) المفلحون (کامیاب) :

لَكِنِ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ جَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَأُولَئِكَ لَهُمُ الْخَيْرَاتُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (التوبۃ:88)
ترجمہ:
لیکن رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الاعراف:157)
ترجمہ:
جو اس رسول یعنی نبی امی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے، جو انہیں اچھی باتوں کا حکم دے گا، برائیوں سے روکے گا، اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے گا، اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اتار دے گا جو ان پر لدے ہوئے تھے۔ چنانچہ جو لوگ اس (نبی) پر ایمان لائیں گے اس کی تعظیم کریں گے اس کی مدد کریں گے، اور اس کے ساتھ جو نور اتارا گیا ہے اس کے پیچھے چلیں گے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہونگے۔



إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (51) وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (النور:52)
ترجمہ:
مومنوں کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ : ہم نے (حکم) سن لیا، اور مان لیا۔ اور ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔  اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اللہ سے ڈریں، اور اس کی نافرمانی سے بچیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ 




وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر:9)
ترجمہ:
 (اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ (٧) جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ (٨) اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔


تشریح:
(٧) اس سے مراد وہ انصاری صحابہ ہیں جو مدینہ منورہ کے اصل باشندے تھے، اور انہوں نے مہاجرین کی مدد کی۔

(٨) اگرچہ سارے ہی انصار کی یہی کیفیت تھی کہ وہ ایثار سے کام لیتے تھے، لیکن روایات میں ایک صحابی (حضرت ابو طلحہؓ کا خاص طور پر ذکر آیا ہے جن کے گھر میں کھانا بہت تھوڑا سا تھا، پھر بھی جب آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ کچھ مہمانوں کو اپنے گھر لے جائیں، اور انہیں کھانا کھلائیں تو یہ کچھ مہمان اپنے ساتھ لے گئے، اور ان کی تواضع اس طرح کی کہ خود کچھ نہیں کھایا، اور چراغ بجھا کر مہمانوں کو بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ کچھ نہیں کھا رہے۔ اس آیت میں ان کے ایثار کی بھی تعریف فرمائی گئی ہے۔


فَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ذَلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الروم:38)
ترجمہ:
لہٰذا تم رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی
 (١٧) جو لوگ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ بہتر ہے، اور وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

تشریح:

(١٧) پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ رزق تمام تر اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اس لیے جو کچھ اس نے عطا فرمایا ہے وہ اسی کے حکم اور ہدایت کے مطابق خرچ ہونا چاہیے، لہٰذا اس میں غریبوں مسکینوں اور رشتہ داروں کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں وہ ان کو دینا ضروری ہے، اور دیتے وقت یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے مال میں کمی آجائے گی، کیونکہ جیسا کہ پچھلی آیت میں فرمایا گیا رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے وہ تمہیں حقوق کی ادائیگی کے بعد محروم نہیں فرمائے گا، چنانچہ آج تک نہیں دیکھا گیا کہ حقوق ادا کرنے کے نتیجے میں کوئی مفلس ہوگیا ہو۔


لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (المجادلۃ:22)
ترجمہ:
جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔
 (١٢) یہ وہ لوگ ہیں جن کے د لوں میں اللہ نے ایمان نقش کردیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے، اور انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ یہ اللہ کا گروہ ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔

تشریح:
(١٢) سورة آل عمران : 28 کے حاشیہ میں تفصیل سے بتایا جا چکا ہے کہ غیر مسلموں سے کس قسم کی دوستی جائز اور کس قسم کی ناجائز ہے۔




أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِنْ رَبِّهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرۃ:5، لقمان:5)
ترجمہ:
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔











(2) رضی اللہ عنہ (اللہ ان سے راضی ہوا) :
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ 100)
ترجمہ :
جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کےساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔


إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (7) جَزَاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ (البینۃ:8)
ترجمہ:
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ بیشک ساری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔ ان کے پروردگار کے پاس ان کا انعام وہ سدا بہار جنتیں ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہوگا اور وہ اس سے خوش ہونگے۔ یہ سب کچھ اس کے لیے ہے جو اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھتا ہوں۔






(3) السابقون (پہل لے جانے والے) :

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (12) ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ (13) وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ (الواقعہ:14)
ترجمہ:
اور جو سبقت لے جانے والے ہیں، وہ تو ہیں ہی سبقت لے جانے والے (٤)  وہی ہیں جو اللہ کے خاص مقرب بندے ہیں۔  وہ نعمتوں کے باغات میں ہونگے۔  شروع کے لوگوں میں سے بہت سے۔  اور بعد کے لوگوں میں سے تھوڑے۔ (٥)

تشریح:
(٤) اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کا سب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔
(٥) یعنی اس اعلی درجے کے لوگوں میں اکثریت قدیم زمانے کے انبیاء کرام وغیرہ کی ہوگی اور بعد کے زمانوں میں بھی اگرچہ اس درجے کے لوگ ہوں گے مگر کم۔ 





(4) الْمُخْلَصِينَ (وفادار) :
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ (40) أُولَئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ (41) فَوَاكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ (42) فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (43) عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (44) يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ (45) بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ (46) لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ (47) وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ (48) كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ (الصافات:49)
ترجمہ:
البتہ جو اللہ کے مخلص بندے ہیں۔  ان کے لیے طے شدہ رزق ہے۔  میوے ہیں، ان کی پوری پوری عزت ہوگی۔  اور نعمت بھرے باغات میں۔  وہ اونچی نشستوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہونگے۔  ایسی لطیف شراب کے جام ان کے لیے گردش میں آئیں گے۔  جو سفید رنگ کی ہوگی، پینے والوں کے لیے سراپا لذت۔  نہ اس سے سر میں خمار ہوگا اور نہ ان کی عقل بہکے گی۔  اور ان کے پاس وہ بڑی بڑی آنکھوں والی خواتین ہونگی جن کی نگاہیں (اپنے شوہروں پر) مرکوز ہوں گی۔ (٩)  (ان کا بےداغ وجود) ایسا لگے گا جیسے وہ (گرد و غبار سے) چھپا کر رکھے ہوئے انڈے ہوں۔ 

تشریح:
(٩) یہ حوریں ہوں گی جو اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گی۔ اور اس آیت کا ایک مطلب بعض مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی نگاہوں اتنی حسین ہوں گی کہ وہ ان کو دوسری عورتوں کی طرف مائل نہیں ہونے دیں گی۔ 







(5) المومنون حقا (سچے مومن):
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال:74)
وَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَئِكَ مِنْكُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (الانفال:75)
ترجمہ:
اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا اور ان کی مدد کی وہ سب صحیح معنوں میں مومن ہیں۔
 (٥٤) ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں۔  اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ اور (ان میں سے) جو لوگ (پرانے مہاجرین کے) رشتہ دار ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے (کی میراث کے دوسروں سے) زیادہ حق دار ہیں۔ (٥٥) یقینا اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے۔

تشریح:
(٥٤) یعنی جن مسلمانوں نے ابھی ہجرت نہیں کی ہے، اگرچہ مومن وہ بھی ہیں، لیکن ان میں ابھی یہ کسر ہے کہ انہوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا، دوسری طرف مہاجرین اور انصار میں یہ کسر نہیں ہے، اس لیے وہ صحیح معنی میں مومن کہلانے کے مستحق ہیں۔
(٥٥) یہ اس وقت کا ذکر ہے جب وہ مسلمان بھی بالآخر ہجرت کر آئے تھے جنہوں نے شروع میں ہجرت نہیں کی تھی، اس آیت نے ان کے بارے میں دو حکم بیان فرمائے ہیں، ایک یہ کہ اب انہوں نے چونکہ وہ کسر پوری کردی ہے جس کی وجہ سے ان کا درجہ مہاجرین اور انصار سے کم تھا، اس لیے اب وہ بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں، اور دوسرا حکم یہ کہ اب تک وہ اپنے ان رشتہ داروں کے وراث نہیں ہوتے تھے جو ہجرت کرچکے تھے اب چونکہ وہ بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے ہیں، اس لیے اب ان کے وارث ہونے کی اصل رکاوٹ دور ہوگئی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ انصاری صحابہ کو ان مہاجرین کا جو وارث بنایا گیا تھا اب وہ حکم منسوخ ہوگیا، کیونکہ وہ ایک عارضی حکم تھا جو اس وجہ سے دیا گیا تھا کہ ان مہاجرین کے رشتہ دار مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے، اب چونکہ وہ آگئے ہیں اس لیے میراث کا اصل حکم کہ وہ قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، واپس آگیا۔

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (الانفال:4)
ترجمہ:
مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔  جو نماز قائم کرتے ہیں، اور ہم نے ان کو جو رزق دیا ہے اس میں سے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں۔  یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔ 



إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء:146)
ترجمہ:
البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے، اپنی اصلاح کرلیں گے، اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیں گے اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے بنالیں گے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا کرے گا۔














(6) الصادقون (سچے):
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (الحشر:8)
ترجمہ:
 (نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ (٦) وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔ 

تشریح:
ان مفلسین تارکین میں حضرت ابوہریرہؓ بھی تھے جو صرف اللہ تعالی کی خوشنودی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہنے اور ساتھ دینے اپنا وطن چھوڑ کر آئے تھے ۔ بہت ہی مفلسی سے مدینہ میں رہتے تھے ان کے بہت سے واقعات مشہور ہیں کبھی کبھی فاکہہ کشی لمبی ہوجاتی تھی ۔ پر آپ یہ سب دین اسلام سیکہنے کے واسطے برداشت کرتے رہے قرآن کریم کی اس آیت کے مصداق اولین یہی ہیں اور جو انہیں جہوٹا کہتے ہیں یہ آیت ان کی تکذیب کرتی ہے ۔

(٦) یعنی وہ صحابہ جنہیں کافروں نے مکہ مکرمہ سے نکلنے پر مجبور کیا، اور وہ اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم ہوگئے۔ 



إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (الحجرات:15)
ترجمہ:
ایمان لانے والے تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانا ہے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے، اور جنہوں نے اپنے مال و دولت اور اپنی جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ وہی لوگ ہیں جو سچے ہیں۔ 




وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (33) لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ (الزمر:34)
ترجمہ:
اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں ۔ ان کو اپنے پروردگار کے پاس ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ ہے نیک لوگوں کا بدلہ ۔ 



أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ (الاحقاف:16)
ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جن سے ہم ان کے بہترین اعمال قبول کریں گے، اور ان کی خطاؤں سے درگزر کریں گے (جس کے نتیجے میں) وہ جنت والوں میں شامل ہونگے، اس سچے وعدے کی بدولت جو ان سے کیا جاتا تھا۔ 










(7) الفائزون (کامیاب):
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (التوبۃ:20)
ترجمہ:
جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔









(8) الراشدون (ہدایت یافتہ):
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (الحجرات:7)
ترجمہ:
اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں جن میں وہ اگر تمہاری بات مان لیں تو خود تم مشکل میں پڑجاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ (٤) ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔

تشریح:

(٤) سورت کے شروع میں جو حکم دیا گیا تھا، اور جس کی تشریح اوپر حاشیہ نمبر 1 میں گذری ہے، اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ صحابہ کرام کبھی کوئی رائے ہی پیش نہ کریں، بلکہ رائے قائم کر کے اس پر اصرار سے منع فرمایا گیا تھا، اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ مناسب موقع پر کوئی رائے دینے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ آنحضرت ﷺ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ تمہاری ہر رائے پر عمل ضرور کریں، بلکہ آپ مصلحت کے مطابق فیصلہ فرمائیں گے، اور اگر وہ تمہاری رائے کے خلاف ہو، تب بھی تمہیں اس پر راضی رہنا چاہیے، کیونکہ تمہاری ہر بات پر عمل کرنے سے خود تمہیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جیسا کہ حضرت ولید بن عقبہ کے واقعے میں ہوا کہ وہ تو یہ سمجھے ہوئے تھے کہ بنو مصطلق لڑائی پر آمادہ ہیں، اس لیے ان کی رائے تو یہی ہوگی کہ ان سے جہاد کیا جائے، لیکن اگر آنحضرت ﷺ ان کی رائے پر عمل کرتے تو خود مسلمانوں کو نقصان پہنچتا۔ چنانچہ آگے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اس لیے وہ اطاعت کے اسی اصول پر عمل کرتے ہیں۔








(9) الْمُهْتَدُونَ (ہدایت یافتہ) :

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ:157)
ترجمہ:
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ“ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے.(102) یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔
تشریح:
(102) اس فقرے میں پہلے تو اس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور چونکہ ہم اس کے ہیں اور کوئی بھی اپنی چیز کا برا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہوگا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آرہی ہو، دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کرجائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر انشاء اللہ ثواب بھی ملنا ہے، جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی کا نام صبر ہے، خواہ اس کے ساتھ ساتھ بےاختیار آنسو بھی نکل رہے ہوں۔

أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ (البقرۃ:157)
ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔




أصحابي كالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم
[شرح السنة للبربهاري(م329ھ)، ص 56]


حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، نا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَنَشٍ الْكِنَانِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ: مَنْ عَرَفَنِي فَأَنَا مَنْ قَدْ عَرَفَنِي، وَمَنْ أَنْكَرَنِي فَأَنَا أَبُو ذَرٍّ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ مَثَلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ» .
ترجمہ:
ہم سے عباس بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن اسماعیل الاحماسی سے، مفضل بن صالح سے، ابواسحاق کی سند سے، حناش کنانی سے ، انہوں نے کہا: میں نے ابوذر کو یہ کہتے ہوئے سنا، جب کہ میں نے کعبہ کے دروازے کو پکڑ رکھا تھا، اس وقت وہ جانتا تھا کہ کون ہے؟ مجھے پہچانا ہے اور جس نے مجھے جھٹلایا تو میں ابوذر ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی سی ہے، جو اس پر سوار ہو گا وہ نجات پائے گا اور جو پیچھے رہے گا وہ ہلاک ہو جائے گا ۔ "
[فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل1402]



(10الْمُصْلِحِينَ (اصلاح کرنے والے) :
وَالَّذِينَ يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ (الاعراف:170)
ترجمہ:
اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔











(11) الصَّالِحِينَ (نیکوکار) :
يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (آل عمران:114)
ترجمہ:
یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے۔



وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ (العنکبوت:9)
ترجمہ:
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم انہیں ضرور نیک لوگوں میں شامل کریں گے۔ 




(12) شہداء (شہید لوگ) :
وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (النساء:69)
ترجمہ:
اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اور وہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔



وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (الحدید:19)
ترجمہ:
اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں، وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ (١٥) ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہ دوزخی لوگ ہیں۔ 

تشریح:
(١٥) صدیق کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنے قول وفعل کا سچا ہو اور یہ انبیائے کرام کے بعد پرہیزگاری کا سب سے اونچا درجہ ہے، جیسا کہ سورة نساء (النساء:٧٠) میں گزرا ہے، اور شہید کے لفظی معنی تو گواہ کے ہیں، اور قیامت میں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) کے پرہیزگار افراد پچھلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں گواہی دیں گے جیسا کہ سورة بقرۃ (١٤٣) میں گزرا ہے، نیز شہیدان حضرات کو بھی کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی پیش کریں، یہاں یہ بات منافقوں کے مقابلے میں فرمائی جارہی ہے کہ صرف زبان سے ایمان کا دعوی کرکے کوئی شخص صدیق اور شہید کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا ؛ بلکہ وہی لوگ یہ درجہ حاصل کرسکتے ہیں جو دل سے سچا اور پکا ایمان لائے ہوں، یہاں تک کہ اس ایمان کے آثار ان کی عملی زندگی میں پوری طرح ظاہر ہوں۔ 










(13) اھل التقوی (پرہیز گار) :
إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الفتح26)
ترجمہ :
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو اللہ نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اوران کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے۔
تشریح:

اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحابہ اہلِ تقوی تھے لہذا جو بھی ان کو اہل ضلال کہتا ہے وہ زندیق ہے ۔


لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرۃ:177)
ترجمہ:
نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کرلو
(*)، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خڑچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کرلیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں۔

تشریح:
(*) یعنی رُوئے سخن ان اہلِ کتاب کی طرف ہے، جنہوں نے قبلے(اور فرمانبردار اصحابِ رسول پر تبرأ کرنے) کے مسئلے پر بحث و مباحثہ اس انداز سے شروع کر رکھا تھا جیسے دین میں اس سے زیادہ اہم کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ قبلے کے مسئلے کی جتنی وضاحت ضروری تھی وہ ہوچکی ہے، اب آپ کو دین کے دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اہلِ کتاب سے بھی یہ کہنا چاہیے کہ قبلے کے مسئلے پر بحث سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنا ایمان درست کرو اور وہ صفات پیدا کرو جو ایمان کو مطلوب ہیں، اس سلسلے میں آگے قرآن کریم نے نیکی کے مختلف شعبے بیان فرمائے ہیں اور اسلامی قانون کے محتلف احکام کی وضاحت کی ہے جو ایک ایک کرکے آگے آرہے ہیں۔






(14) الصابر (جمے رہنے والے) :
قُلْ يَاعِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر:10) 
ترجمہ:
کہہ دو کہ : اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھو۔ بھلائی انہی کی ہے جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی ہے، اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔
(٦) جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، ان کا ثواب انہیں بےحساب دیا جائے گا۔ تشریح:
(٦) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بےحساب ہے۔






(15) الْمُجَاهِدِينَ (جہاد کرنے والے) :
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ (محمد:31)
ترجمہ:
اور ہم ضرور تمہیں آزمائش میں ڈالیں گے، تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ تم میں سے کون ہیں جو مجاہد اور ثابت قدم رہنے والے ہیں، اور تاکہ تمہارے حالات کی جانچ پڑتال کرلیں۔ 









(16) الْعَامِلِينَ (عمل کرنے والے) :

وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135) أُولَئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (آل عمران:136)
ترجمہ:
اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بےحیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فورا اللہ کو یاد کرتے ہیں کہ اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے ؟ اور یہ اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔


یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہونگے، جن میں انہین دائمی زندگی حاصل ہوگی، کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے۔ 








(17) اہلِ توبہ و رحمۃ (توبہ کرنے والے) :
لَّقَد تَّابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ( التوبہ 117 )
ترجمہ :
بےشک اللہ نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔
تشریح:
یہ آیت ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے جو کسی وجہ سے جنگِ تبوک میں شامل نہیں ہوسکے تھے اور بعد میں رسول اللہ ﷺ سے سچ بات کہی کہ وہ سستی کی وجہ سے نہیں جاسکے تو ان سے سوشل بائیکاٹ کیا گیا تانکہ قرآن کریم کی یہ آیت اور اس اگلی آیت ان کے حق میں نازل ہوئی جن میں ان کی توبہ کو قبول کیا گیا ۔ وہ تین تھے اور حضرت کعب بن مالکؓ ان میں سے ایک تھے۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (البقرۃ:218)
ترجمہ:
(اس کے برخلاف) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، تو وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ 



وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (التوبۃ:71)
ترجمہ:
اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا۔ یقینا اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔









(18) المبشرون من ربھم (اللہ کی طرف سے بشارت لینے والے) :
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ (التوبہ 20-21)
ترجمہ :
جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔ ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے۔
تشریح:
صحابہ کی جماعت اس امت کے وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو سیدہا اللہ تعالی سے خوشخبری سننے والے تھے وہ کتاب اللہ کے سیدہے مخاطب تھے




(19) خیر الامت اخرجت الناس (لوگوں میں سے چنے گئے بہترین فرد) :
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ (آل عمران 110 )
ترجمہ :
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے چنے گئے ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے)اور اکثر نافرمان ہیں۔
تشریح:
یہ چنے گئے بہترین لوگ وہ تھے جو مکہ میں ایمان لے آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ خیر امت سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ ساری امت کے لئے ہے بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد کا زمانہ پھر اک کے بعد کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تفسیر ابن کثیر تفسیر سورہ آلعمران اایت 110)
مصنف عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید ، فریابی ، امام احمد ، امام نسائی ، ابن جریر ، ابن ابی حاتم ، ابن منذر ، طبرانی اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے کہ کنتم خیر امۃ سے مراد وہ صحابہ ہیں جنہوں حضور ﷺ کے ساتھ مدینہ میں ہجرت کی۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت سدی سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ امیر المومنین عمر بن الخطابؓ نے فرمایا اگر اللہ تعالی چاہتا تو فرماتا انتم تو ہم سب اس میں شامل ہوجاتے لیکن فرمایا کنتم اور یہ صرف حضور ﷺ کے صحابہ کے لئے خاص ہے اور جس نے ان کے اعمال جیسے اعمال کئے وہ بھی خیر امت میں داخل ہونگے۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)
اگر اس آیت کو ساری امت کے لئے لیا جائے تب بھی اس کے پہلے مصداق اور فرمان نبوی ﷺ کے مطابق سب سے بہترین صحابہ ہی ہیں جو اس دین کو لوگوں تک پہنچانے کے واسطے چنے گئے ۔(تفسیر در المنثور تفسیر سورہ آلعمران آیت 110)







(20) جنت کا وعدہ الٰہی: 

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (الحدید:10)
ترجمہ:
اور تمہارے لیے کونسی وجہ ہے کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرو، حالانکہ آسمانوں اور زمین کی ساری میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتحِ مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔
 (٧) یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

تشریح:
(٧) فتح مکہ (سن ٨ ھ) سے پہلے مسلمانوں کی تعداد اور ان کے وسائل کم تھے اور دشمنیاں زیادہ، اس لیے اس زمانہ میں جن حضرات نے جہاد کیا اور اپنا مال اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا ان کی قربانیاں زیادہ تھیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ثواب میں بھی ان کا زیادہ بڑادرجہ رکھا ہے اور فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کی تعداد اور وسائل میں بھی اضافہ ہوگیا تھا، اور دشمنیاں بھی کم ہوگئی تھیں، اس لیے جن حضرات نے فتح مکہ کے بعد جہاد اور صدقات وغیرہ میں حصہ لیا ان کو اتنی قربانی دینی نہیں پڑی، اس لیے ان کا درجہ وہاں تک نہیں پہنچا ؛ لیکن اگلے ہی فقرے میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی ہے کہ بھلائی یعنی جنت کی نعمتیں دونوں ہی کو ملیں گی۔ 



لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرٌ وَلَا ذِلَّةٌ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (یونس:26)
ترجمہ:
جن لوگوں نے بہتر کام کیے ہیں، بہترین حالت انہی کے لیے ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی 
(١٤) نیز ان کے چہروں پر نہ کبھی سیاہی چھائے گی، نہ ذلت۔ وہ جنت کے باسی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

تشریح:

(١٤) وعدے کا یہ انتہائی لطیف پیرایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ”کچھ اور“ کو کھول کر بیان نہیں فرمایا، بلکہ پردے میں رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں تمام بہترین نعمتوں کے علاوہ کچھ نعمتیں ایسی ہوں گی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو بیان بھی فرما دیں تو ان کی لذت اور حلاوت کو انسان اس وقت محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ بس انسان کے سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ اضافی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہی کی شان کے مطابق ہوں گی۔ آنحضرت ﷺ سے اس آیت کی تفسیر یہ منقول ہے کہ جب تمام جنتی جنت کی نعمتوں سے سرشار اور ان میں مگن ہوچکے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ ہم نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا، اب ہم اسے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ جنت کے لوگ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں دوزخ سے بچا کر اور جنت عطا فرما کر سارے وعدے پورے کردئیے ہیں۔ اب کونسا وعدہ رہ گیا ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ اپنا حجاب ہٹا کر اپنی زیارت کرائیں گے، اور اس وقت جنت والوں کو محسوس ہوگا کہ یہ نعمت ان تمام نعمتوں سے زیادہ لذیذ اور محبوب ہے جو انہیں اب تک عطا ہوئی ہیں۔ (روح المعانی بحوالہ صحیح مسلم وغیرہ)


إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَى أُولَئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (الانبیاء:101)
ترجمہ:
(البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جاچکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔










(21) پاکباز:

اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ  ۚ  وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (النور:26)
ترجمہ:
گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہیں، اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق۔ اور پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لائق ہیں، اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لائق
 (١٤) ۔ یہ (پاکباز مرد اور عورتیں) ان باتوں سے بالکل مبرا ہیں جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ ان (پاکبازوں) کے حصے میں تو مغفرت ہے اور باعزت رزق۔ 


(١٤) اشارہ فرما دیا گیا کہ اس کائنات میں نبی کریم ﷺ سے زیادہ پاکباز شخصیت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اس اصول کے تحت یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی زوجیت میں کسی ایسی خاتون کو لائے جو (معاذ اللہ) پاکباز نہ ہو، کوئی شخص اسی بات پر غور کرلیتا تو اس پر اس تہمت کی حقیقت واضح ہوجاتی۔ 





(22) صفاتِ صحابہ:
الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ (آل عمران:17)
ترجمہ:
یہ لوگ بڑے صبر کرنے والے ہیں، سچائی کے خوگر ہیں، عبادت گزار ہیں (اللہ کی خوشنودی کے لیے) خرچ کرنے والے ہیں، اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے رہتے ہیں۔ 



إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب:35)
ترجمہ:
بیشک فرماں بردار مرد ہوں یا فرماں بردار عورتیں
(٢٩) مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں، عبادت گزار مرد ہوں یا عبادت گزار عورتیں، سچے مرد ہوں یا سچی عورتیں، صابر مرد ہوں یا صابر عورتیں، دل سے جھکنے والے مرد ہوں یا دل سے جھکنے والی عورتیں (٣٠) صدقہ کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ دار مرد ہوں یا روزہ دار عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا حفاظت کرنے والی عورتیں، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے مرد ہوں یا ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے۔

تشریح:
(٢٩) مسلمانوں کو قرآن کریم میں جب بھی کوئی حکم دیا گیا ہے، یا ان کو کوئی خوشخبری دی گئی ہے، تو عام طور سے مذکر ہی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اگرچہ خواتین بھی اس میں داخل ہیں، (جیسا کہ دنیوی قوانین میں بھی صورت حال یہی ہے) لیکن بعض صحابیات کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ خاص مونث کے صیغے کے ساتھ بھی خواتین کے بارے میں کوئی خوشخبری دیں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(٣٠) یہ ” خشوع “ کا ترجمہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کے وقت دل عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ اس کا بیان سورة مومنون کی دوسری آیت میں گذر چکا ہے۔





معیاِرِ ایمان و ہدایت : ایمان و فہمِ صحابہ کرامؓ



القرآن : 
اور جب ان (منافقین) سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں (یعنی اصحابِؓ النبیؐ  کی طرح تم بھی ایمان لے آؤ، (تو) کہتے ہیں کہ کیا ہم ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لاۓ بیوقوف، (مومنو!) سن لو! (دراصل) یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے.
[البقرہ : ١٣]

مطلب یہ ہے کہ جب ان کو صحابہ کی طرح اللہ  تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے، موت کے بعد جی اٹھنے، جنت دوزخ کی حقانیت کے تسلیم کرنے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کر کے نیک اعمال بجا لانے اور برائیوں سے رکے رہنے کو کہا جاتا ہے تو یہ فرقہ ایسے ایمان والوں کو بےوقوف قرار دیتا ہے۔ 
 ان منافقین کے جواب میں یہاں بھی خود پروردگار عالم نے جواب دیا اور تاکیداً حصر کے ساتھ فرمایا کہ بیوقوف تو یہی ہیں لیکن ساتھ ہی جاہل بھی ایسے ہیں کہ اپنی بیوقوفی کو جان بھی نہیں سکتے۔ نہ اپنی جہالت و ضلالت کو سمجھ سکتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی برائی اور کمال اندھا پن اور ہدایت سے دوری اور کیا ہو گی؟
 دوسری آیت میں فرمایا :  پھر اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لے آئے ہو تو ہدایت یاب ہو جائیں... [البقرہ : ١٣٧]










منقبتِ خلفاء بزبانِ رسول اللہ ﷺ:

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ اخْتَارَ أَصْحَابِي عَلَى الْعَالَمِينَ سِوَى النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، وَاخْتَارَ لِي مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً " أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلِيًّا - رَحِمَهُمُ اللَّهُ - " فَجَعَلَهُمْ أَصْحَابِي ". وَقَالَ: " فِي أَصْحَابِي كُلِّهِمْ خَيْرٌ، وَاخْتَارَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ، وَاخْتَارَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَةَ قُرُونٍ: الْقَرْنَ الْأَوَّلَ، وَالثَّانِيَ، وَالثَّالِثَ، وَالرَّابِعَ».
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

ترجمہ :
حضرت جابر بن عبداللہؓ نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ بیشک میرے صحابہ کو الله تعالیٰ  نے سارے جہاں والوں میں سے پسند فرمایا ہے سواۓ انبیاء اور رسولوں کے، اور پسند کیا میرے لئے میرے صحابہ میں سے چار کو ،  (جو) ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان الله علیھم (ہیں)،  بس بنادیا ان کو میرے ساتھی۔
[مجمع الزوائد:(ج10 ص16)16380]

المحدث : عبد الحق الإشبيلي | المصدر : الأحكام الصغرى: 905
خلاصة حكم المحدث : [أشار في المقدمة أنه صحيح الإسناد]
المحدث : القرطبي المفسر | المصدر : تفسير القرطبي16/306+ 19/348 | 
خلاصة حكم المحدث : صحيح



حضرت ابوھریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يجتمع حب هؤلاء الْأَرْبَعَةِ إِلَّا فِي قَلْبِ مُؤْمِنٍ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ۔
ترجمہ:
نہیں جمع ہوگی ان چار کی محبت سوائے مومن کے دل میں: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ۔
[مسند عبد بن حمید:1464، شرح اصول اعتقاد-اللالكائي:2332، الشريعة للآجري:1224-1225، جامع الأحاديث للسيوطي:17492، كنز العمال:33104]


اعتقادی منافق کی خاص علامت:
حضرت انس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يَجْتَمِعُ حُبُّ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ فِيْ قَلْبِ مُنَافِقٍ: أَبِيْ بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِىٍّ.
ترجمہ:
ان چار کی محبت کسی منافق کے دل میں جمع نہ ہوگی: ابوبکر، عمر، عثمان اور علی۔
[جامع الأحاديث للسيوطي:3109-36190،ابن عساكر (39/128)، كنزالعمال:33103-36735]






حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ حُبَّ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، وَعُثْمَانَ ، وَعَلِيٍّ ، كَمَا فَرَضَ عَلَيْكُمُ الصَّلاةَ وَالصِّيَامَ ، وَالْحَجَّ ، وَالزَّكَاةَ ، فَمَنْ أَبْغَضَ وَاحِدًا مِنْهُمْ ، فَلا صَلاةَ لَهُ ، وَلا حَجَّ وَلا زَكَاةَ ، وَيُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قَبْرِهِ إِلَى النَّارِ " .

ترجمہ :
حضرت عبداللہ  بن عمرؓ نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ : بیشک الله نے فرض کی ہے تم پر محبت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی  (رضی الله عنھم) کی، جیسا کہ فرض کی تم پر نماز، روزے، حج اور زکات. پھر جس نے بغض رکھا کسی ایک سے، تو نہ اس کی نماز ہے، نہ حج اور نہ زکات. اور وہ اٹھایا جاۓگا قیامت کے دن اپنی قبر سے آگ (جہنم) کی طرف۔
[الجامع لعلوم الإمام أحمد:4/348، الفردوس بمأثور الخطاب:645، تاريخ دمشق لابن عساكر:7927 (39/128)، المقصد الارشد:478، جامع الأحاديث:39320]



اصحاب رسول کو برا کہنے والے ملعون کی نہ فرض عبادت قبول نہ نفل:

عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ ،  أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اخْتَارَنِي وَاخْتَارَ لِي أَصْحَابًا ، فَجَعَلَ لِي مِنْهُمْ وُزَرَاءَ وَأَنْصَارًا وَأَصْهَارًا ، فَمَنْ سَبَّهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لا صَرْفًا وَلا عَدْلا "۔

ترجمہ :
حضرت عویم بن ساعدہؓ رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ بیشک الله تبارک و تعالیٰ نے مجھے چن لیا، اور میرے لئے اصحاب کو چن لیا، پس ان میں بعض کو میرے وزیر اور میرے مددگار اور میرے سسرالی بنادیا، پس جو شخص ان کو برا کہتا ہے ، ان پر لعنت ہے الله کی اور  فرشتوں کی اور سارے انسانوں کی بھی ، قیامت کے دن نہ ان کا کوئی فرض قبول ہوگا، اور نہ ہی نفل.
[السنة لابن أبي عاصمؒ:1000، الآحاد والمثاني لابن أبي عاصم:1772+1946، السنة لأبي بكر بن الخلال:834 الشريعة للآجري:1990]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ 
[حاکم:6656]
تفسير القرطبي(م671ھ): ج16/ص297، سورۃ الفتح:آیۃ29
تفسير روح البيان: ج5/ص174، سورۃ الفتح:آیۃ29




حضرت انس من مالکؓ رسول الله ﷺ سے مروی ہیں کہ بےشک اللہ نے مجھے چن لیا، اور میرے ساتھیوں کو بھی چن لیا، چنانچہ (کچھ کو) میرا رازدار اور (کچھ کو) میرا مددگار بنایا۔ آخر زمانہ میں ایک فرقہ ان کی برائی بیان کرے گا، خبردار ان کو کبھی رشتہ نہ دینا، خبردار انہیں شادی میں شریک نہ کرنا، ان کے ساتھ نماز نہ پڑھنا، اور نہ ان پر(جنازہ کی)نماز پڑھنا، (کیونکہ) ان پر اللہ کی لعنت ہوگی۔
[مشيخة يعقوب بن سفيان الفسوي(م277ھ) : حدیث#148، السنة لأبي بكر بن الخلال(م311ھ) : حدیث#769, من حديث أبي علي اللحياني عن شيوخه: حدیث#35، المخلصيات-المخلص(م393ھ) : 2732]




بےشک الله نے منتخب کیا "میرے"صحابہ کو تمام جن و انس پر سوائے انبیاء کے۔
[روضة المحدثين:3530 رجاله موثقون]
الإصابة في تمييز الصحابة:1/ 14
فتح المغيث بشرح الفية الحديث:4/ 97



اعتقاد» حلیۃ الاولیاء:
الله نے بندوں کے قلوب کا معائنہ فرمایا تو محمد ﷺ کو منتخب فرمایا، چنانچہ آپ ﷺ کو رسول بناکر بھیجا، اور اپنے علم سے ممتاز فرمایا۔ اور الله نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا تو نبی کے اصحاب کو منتخب فرمایا، اور انہیں اپنے اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کے وزراء ومشیر بنایا، پس یہ مومنین(صحابہ)جس چیز کو اچھا(نیکی)سمجھیں وہی الله کے نزدیک اچھی ہے، اور جسے مومن(صحابہ)قبیح سمجھیں وہ الله کے نزدیک بھی قبیح ہے۔
[موطا محمد:241، الطیالسی:243، البزار:1816، طبرانی:8583]
تفسیر الآلوسي»سورة غافر:35





حدیث خَيْرِ الْقُرُونِ:


اس کے متعلق مختلف اصحاب سے مختلف راویوں نے مختلف موقعوں اور الفاظ سے رسول اللہ ﷺ کے یہ فرمان نقل کئے ہے:

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ» - قَالَ عِمْرَانُ: لاَ أَدْرِي أَذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً - قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ».
ترجمہ :
نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو میرے زمانہ میں ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے ... تمہارے بعد ایسی قوم پیدا ہوگی جو خیانت کرے گی اور اس میں امانت نہیں ہوگی اور گواہی دیں گے حالانکہ انہیں گواہ نہ بنایا جائے گا اور نذر مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے اور ان میں موٹاپا ظاہر ہوجائے گا۔
[بخاری:3650 مسلم:2534 ابوداؤد:2534 ترمذی:2221]





اللہ کیا چاہتا ہے؟
القرآن:
اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے (احکام کی) وضاحت کردے، اور جو (نیک) لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں، تم کو ان کے طور طریقوں پر لے آئے، اور تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائے، اور اللہ ہر بات کا جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی ہے۔
[سورۃ نمبر 4 النساء، آیت نمبر 26]

*تم میں سب سے بہترین امت/زمانہ/لوگ میرے زمانہ کے(صحابہ)ہیں، پھر جو انکے بعد(تابعین)ہیں، پھر جو انکے بعد(تبع تابعین)ہیں۔۔۔*

[بخاری:6428]

*پھر تمہادے بعد وہ لوگ آئیں گے جو خیانت کریں گے اور امانتداری نہ ہوگی، مانگے سے پہلے(جھوٹی)گواہیاں دیتے پھریں گے، ﴿قسم لینے سے پہلے گواہیاں دیں گے اور کبھی گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے﴾، اور نذریں مانیں گے لیکن پوری نہیں کریں گے۔ اور موٹاپا ان میں عام ہوگا۔*

[البخاري:2651﴿6429﴾]
*اور بازاروں میں شور شرابہ کریں گے۔*

[الطيالسي:32، الصحيحة:3431]
تفسير(امام)البغوي:425»سورة آل عمران:آية110




«خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي»
لوگوں میں سب سے بہتر میرے زمانہ کے ہیں۔۔۔
[بخاری:2652+3651+6429+6658]



«خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي»
میری امت میں سب سے بہتر(لوگ)میرے زمانہ کے ہیں۔۔۔۔
[بخاری:3650]



«خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ»
سب سے بہتر اس امت(کے وہ لوگ ہیں)جس زمانہ میں مجھ کو بھیجا گیا۔۔۔

[مصنف ابن أبى شيبة:32414، مسند أحمد:23024، وقال الهيثمى (10/19) : رواها كلها أحمد وأبو يعلى باختصار ورجالها رجال الصحيح. سنن الطحاوى(4/152) ، السنة لابن أبى عاصم:1474 ، مسند الرويانى:54]




تفسیر نبوی:

(1) أَحْسِنُوا إلى أصحابى ۔۔۔ حسنِ سلوک کرو میرے ساتھیوں سے 
[مسند أحمد:177 ، السنن الكبرىٰ للنسائى:9219) ، صحیح ابن حبان:6728، مسند أبو يعلى:143 ، الضياء المقدسی:96]



(2) احْفَظُونِى فى أصحابى ... حفاظت کرو میری(تعلیم کی) میرے ساتھیوں(سے عقیدت کے بارے) میں ۔۔۔
[سنن ابن ماجه:2363) ، وقال البوصيرى (3/53) : هذا إسناد رجاله ثقات. السنن الكبرىٰ للنسائى:9226، المعجم الأوسط للطبرانى:1134]




(3) عليكم بأصحابى ۔۔۔ میرے ساتھیوں(کی اتباع)کو لازم پکڑو۔۔۔

[جامع الاحادیث:30589]



(4) ۔۔۔ إن أصحابى خياركم فأكرموهم ۔۔۔ بےشک میرے ساتھی بہتریں لوگ ہیں لہٰذا اکرام کرو ان کا ۔۔۔
[جامع الاحادیث:31311]



(5) 
أمتى على خمس طبقات فأربعون سنة أهل بِرٍّ وتقوى ثم الذين يَلُونَهُمْ إلى عشرين ومائة سنة أهل تَرَاحُمٍ وَتَوَاصُلٍ ثم الذين يلونهم إلى ستين ومائة سنة أهل تَدَابُرٍ وَتَقَاطُعٍ ثم الْهَرْجُ الْهَرْجُ النجا النجا۔
ترجمہ:
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے پانچ طبقات ہوں گے: چالیس(40)سال تک نیکی اور تقوی والے لوگ ہوں گے، ان کے بعد ایک سو بیس(120)سال تک ایک دوسرے پر رحم کرنے والے اور باہمی تعلقات اور رشتہ داریوں کو استوار رکھنے والے لوگ ہوں گے، پھر ان کے بعد ایک سو ساٹھ(160)برس تک ایسے لوگ ہوں گے جو ایک دوسرے سے دشمنی رکھیں گے اور تعلقات توڑیں گے، اس کے بعد قتل ہی قتل ہوگا۔ نجات مانگو نجات۔
[سنن ابن ماجه:4058]



(6) أوصيكم بأصحابى خيرًا ثم الذى يلونهم ثم الذين يلونهم ثم يفشو الكذب حتى يحلف الرجل ولا يستحلف ويشهد الشاهد ولا يستشهد ألا لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان عليكم بالجماعة وإياكم والفرقة فإن الشيطان مع الواحد وهو من الاثنين أبعد من أراد بحبوحة الجنة فليلزم الجماعة من سرته حسنته وساءته سيئته فذلكم المؤمن۔

ترجمہ:
میرے صحابہؓ کے بارے میں تمہیں خیر(وبھلائی) کی نصیحت کرتا ہوں پھر جو ان کے زمانہ کے بعد کے لوگ ہیں پھر جو ان کے زمانہ کے بعد کے لوگ ہیں، پھر جھوٹ پھیل جائے گا یہاں آدمی قسم کے مطالبہ کے بغیر قسم کھائے گا، گواہی طلب کے بغیر گواہی دے گا۔ سن لو! کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہیں کرتا مگر تیسرا شیطان ہوتا ہے (لہٰذا) جماعت(علماء) کو لازم پکڑو، تفرقہ بازی سے اجتناب کرو کیونکہ شیطان اکیلئے آدمی کو پکڑتا ہے دو آدمیوں سے دور بھاگتا ہے جو جنت کا درمیان چاہے اس کو چاہیے جماعت(علماء) کا ساتھ دے جسے اپنے نیک اعمال خوش کریں اور برے اعمال پریشان کرے یہ مومن ہے۔




(7) «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ»
ترجمہ:
بےشک سب سے سخت لوگوں میں آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(یعنی صحابہ)، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(یعنی تابعین)، پھر جو ان کے بعد(جڑے ہوئے)ہوں گے(تبع تابعین)۔
[مسند أحمد:27124 . قال الهيثمى (2/292) : إسناد حسن، المعجم الکبیر الطبرانى:627، المستدرک الحاكم:8231]

ایک روایت مزید فرمایا:
۔۔۔ انسان پر آزمائش اس کے دین کے اعتبار سے آتی ہے، اگر اس کے دین میں پختگی ہو تو اس کے مصائب میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اس کے مصائب میں تخفیف کردی جاتی ہے اور انسان پر مسلسل مصائب آتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ زمین پر چلتا ہے تو اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔
[ترمذی:2398، ابن ماجہ:4023، احمد:1494] 




حافظ ابن ِ حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری میں لکھا ہے :"قرنی" سے مراد صحابہ ہیں، نیز بخاری میں باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم(کتاب الفضائل ۷/۳) میں ہے کہ

"بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ"۔

ابن آدم کے سب سے بہترلوگوں کے درمیان مجھے بھیجا گیا ہے۔
اسی لیے حضرت ابن ِ مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: صحابۂ رسول اس امت کے سب سے افضل افراد تھے، جو دل کے اعتبار سے بہت نیک،علم کے لحاظ سے سب سے پختہ اور تکلفات کے اعتبار سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔ 

          (رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)

حافظ ابن عبدالبرؒ نے "الاستیعاب" اور علامہ سفارینیؒ نے "شرح الدرۃ المضیئہ" میں لکھا ہے کہ جمہور ِ امت کی رائے کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں۔ 

         (مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲) 




"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ"۔
ترجمہ:
حضرت ابوھریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میرے صحابہ کو برا نہ کہو؛ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مد بلکہ اس کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔
[صحیح مسلم:2540(6487)، سنن ابن ماجہ:161، السنن الکبریٰ للنسائی:8251]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ﴿كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، فَقَالَ﴾ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ، ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلاَ نَصِيفَهُ»
ترجمہ:
حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ ﴿حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے درمیاں کچھ جھگڑا ہوگیا، حضرت خالد نے حضرت عبد الرحمٰن کو برا بھلا کہا تو ﴾ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: میرے اصحاب کو برا نہ کہو اس لئے کہ اگر کوئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ تبارک و تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے تو میرے اصحاب کے ایک مد (سیر بھر وزن) یا آدھے (کے ثواب) کے برابر بھی (ثواب کو) نہیں پہنچ سکتا۔
[بخاری:3673، ابوداؤد:4658 ﴿مسلم:2541(6488)﴾ ترمذی:3861، السنن الکبریٰ للنسائی:8250]


نسیر بن ذعلوق کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ کہتے تھے:
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ.
ترجمہ:
اصحاب محمد ﷺ کو گالیاں نہ دو، ان کا نبی اکرم ﷺ کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے۔
[سنن ابن ماجہ:162]

حضرت سعید بن زیدؓ سے مروی ہے:
«لَمَشْهَدُ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْبَرُّ فِيهِ وَجْهُهُ، خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمُرَهُ، وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ»
ترجمہ:
اللہ کی قسم ہے کہ صحابہ کرامؓ میں کسی شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوجائے غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت وعمل سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوح(علیہ السلام)عطا ہوجائے۔

[ابوداؤد:4650، احمد:1629، الأحاديث المختارة:1083-1085، مصنف ابن ابی شیبہ:31946]

لہٰذا، بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی کسی ادنیٰ صحابی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔

القرآن:
اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، الله ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور الله نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
[سورۃ التوبة:100 ﴿تفسیر السمعانی:2/342﴾]

تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور الله پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔
[آل عمران:110﴿تفسیر البغوی:2/89﴾]

محمد الله کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) الله کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔ ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں۔ تاکہ الله ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے۔ یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، الله نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔
[الفتح:29]




          ایک اور روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا:

حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
[سنن ترمذی: بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ ﷺ ،حدیث نمبر 3862]
ترجمہ:
لوگو! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ،جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے در حقیقت مجھ سے بغض رکھا ،جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس نے مجھ کو اذیت پہچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالی اس کو پکڑلے۔
[ترمذی:3862، احمد:20549، الروياني:882، السُّنَّة لأبي بكر بن الخلال:830، الشريعة للآجري:1991، البغوي:3860، التاريخ الكبير(امام)البخاري:389، ابن أبي عاصم:992]

خلاصة حكم المحدث : صحيح 
[صحيح ابن حبان:7256، الجامع الصغير: 1436، أحاديث الشيوخ الثقات،قاضي المارِسْتان:656]
[حَسَنٌ، شرح السنة البغوي:3860 ]
[له شواهد (شعب الإيمان للبيهقي:1424)]جامع المسانيد،ابن الجوزي:4242

تفسير البغوي(م 510هـ) : 7/328، سورۃ الفتح: آیۃ#29
تفسير ابن كثير (م774هـ) :6/424، سورۃ الاحزاب: آیۃ57


کتاب العقائد:
الإمامة والرد على الرافضة (امام أبو نعيم الأصبهاني م430هہ) : حدیث#202
الاعتقاد للبيهقي(م458هـ) : ص321
الاعتقاد الخالص من الشك والانتقاد(ابن العطار م724هـ) : ص286






علماءِ حق اور علماءِ سوء میں فرق کا معیار:

حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السُّرِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَظْهَرَتْ أُمَّتِي الْبِدَعَ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَإِنَّ كَاتِمَ الْعِلْمِ يَوْمَئِذٍ كَكَاتِمِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
حضرت جابر بن عبداللهؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے ، پس بیشک علم کو چھپانے والا اس دن ایسا ہوگا جیسے چھپانے والا ہو اس چیز کا جو(شریعت) نازل کی الله نے محمد ﷺ پر.
[الشريعة، للآجري :1987
السنة، لابن أبي عاصم (المتوفى: 287هـ)رقم الحديث:994
السنن الواردة، الداني (المتوفى: 444هـ) :287،الرسالة الوافية:1/285
الإبانة الكبرى لابن بطة(المتوفى: 387هـ):49
فيض القدير شرح الجامع الصغير (المتوفى: 1031هـ):751(1/401)
السيوطي في مفتاح الجنة (1/ 66) ،جامع الأحاديث:2335(2/352)
الديلمي:1/206،التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِير:747(2/140)
المدخل،لابن الحاج:1/6


حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْعَبَّاسُ بْنُ يُوسُفَ الشِّكْلِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَلَّبِ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ السَّاحِلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَدَثَ فِي أُمَّتِي الْبِدَعُ وَشُتِمَ أَصْحَابِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ : فَقُلْتُ لِلْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ : مَا إِظْهَارُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ : إِظْهَارُ السُّنَّةِ ، إِظْهَارُ السُّنَّةِ .
[الشريعة للآجري » كِتَابُ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَؓ » بَابُ عُقُوبَةِ الإِمَامِ وَالأَمِيرِ لأَهْلِ الأَهْوَاءِ ... رقم الحديث:2075]
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
جب میری اُمت میں بدعتیں پیدا ہوجائیں اور میرے صحابہؓ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے گا اس پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب انسانوں کی ۔ عبداللہ بن حسن ؒ نے فرمایا کہ میں نے ولید بن مسلم سے دریافت کیا کہ حدیث میں اظہار علم سے کیا مراد ہے ، فرمایا:اظہار سنت.
(الاعتصام للشاطبی:١/٨٨)1/104
فيض القدير شرح الجامع الصغير:751(1/401)
ديلمي:1/206، التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ:747(2/140)
جامع الأحاديث:2336،مفتاح الجنة:1/68
والربيع في مسنده (1 / 365)
والديلمي في الفردوس (1 / 321)
قال السيوطي في الدر المنثور (2 / 402)

والخطيب البغدادي في الجامع لأخلاق الراوي (2 / 118)
ابن عساكر في «تاريخ دمشق» (54/80 - ط. دار الفكر) (5/ق331) 
عن رسول الله (صلّى الله عليه وآله وسلّم) أنه قال : « إِذَا ظَهَرَتِ الْبِدَعُ فِي أُمَّتِي فَلْيُظْهِرِ الْعَالِمُ عِلْمَهُ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُاللَّهِ » الكاج 1 ص 54 باب البدع والرأي والمقاييس. ح 2.
عن رسول الله (صلّى الله عليه وآله وسلّم) : «إذا ظهرت البدع ولعن آخر هذه الأمة أولها ، فمن كان عنده علم فلينشره ، فإن كاتم العلم يومئذ ككاتم ما أنزل الله على محمد » الجامع الصغير : 1 / 115 / 751 ، كنز العمال : 1 / 178 / 903 وكلاهما عن ابن عساكر عن معاذ.








عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ : " مَهْمَا أُوتِيتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَالْعَمَلُ بِهِ لا عُذْرَ لأَحَدِكُمْ فِي تَرْكِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَسُنَّةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سَنَةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ فَمَا قَالَ أَصْحَابِي ، إِنَّ أَصْحَابِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، فَأَيُّهَا أَخَذْتُمْ بِهِ اهْتَدَيْتُمْ ، وَاخْتِلافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ " .عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَّ : " مَهْمَا أُوتِيتُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَالْعَمَلُ بِهِ لا عُذْرَ لأَحَدِكُمْ فِي تَرْكِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَسُنَّةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سَنَةٌ مِنِّي مَاضِيَةٌ فَمَا قَالَ أَصْحَابِي ، إِنَّ أَصْحَابِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ ، فَأَيُّهَا أَخَذْتُمْ بِهِ اهْتَدَيْتُمْ ، وَاخْتِلافُ أَصْحَابِي لَكُمْ رَحْمَةٌ " .


ترجمہ :
حضرت عمر بن خطابؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں نے اپنے پروردگار سے اپنے صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلاف کے بارے میں پوچھا جو (شریعت کے فروعی مسائل میں ) میرے بعد واقع ہوگا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مجھ کو آگاہ کیا کہ اے محمد (ﷺ)! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے صحابہ کرامؓ میرے نزدیک ایسے ہیں جیسے آسمان پر ستارے، (جس طرح) ان ستاروں میں سے اگرچہ بعض زیادہ قوی یعنی زیادہ روشن ہیں لیکن نور (روشنی) ان میں سے ہر ایک میں ہے (اسی طرح صحابہ کرامؓ میں سے ہر ایک اپنے اپنے مرتبہ اور اپنی اپنی استعداد کے مطابق نور ہدایت رکھتا ہے ) پس جس شخص نے (علمی وفقہی مسائل میں ) ان اختلاف میں سے جس چیز کو بھی اختیار کر لیا میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے حضرت عمرؓ کہتے ہیں اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ " میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں (پس تم ان کی پیروی کرو) ان میں سے تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے ۔ (رزین)








عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتَدُوا بِاللَّذِينَ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ " ، وَقَال : " أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ.
ترجمہ :
حضرت حذیفہ بن حسیلؓ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پیروی کرنا میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کی، اور فرمایا : میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کی اقتداء کروگے راہ یاب ہوجاؤ گے۔

المصدر : موافقة الخبر الخبر الصفحة أو الرقم: 1/145 خلاصة حكم المحدث :غريب
المصدر : الأمالي المطلقة الصفحة أو الرقم: 60 خلاصة حكم المحدث : له شاهد

[شرح السنة للبربهاري: ص56، الشريعة للآجري:1166، الإبانة الكبرى لابن بطة:702، آداب الصحبة لأبي عبد الرحمن السلمي:192، تفسير الثعلبي:1183، جامع بيان العلم وفضله:1760، جامع الأصول:6369]
[منهاج السنة النبوية:7/142،فصل البرهان الثالث عشر " إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ " والجواب عليه]


الشواهد
١) عن عبد الله بن عباس، الإبانة الكبرى لابن بطة » الإِبَانَةُ الْكُبْرَى لابْنِ بَطَّةَ » بَابُ التَّحْذِيرِ مِنِ اسْتِمَاعِ كَلامِ قَوْمٍ يُرِيدُونَ ... رقم الحديث: 323
٢) عن عبد الله بن عمر، مسند عبد بن حميد » أَحَادِيثُ ابْنِ عُمَرَ، رقم الحديث:791
٣) عن عبد الرحمن بن صخر (ابو ہریرہ)، مسند الشهاب » الْجُزْءُ الثَّالِثُ مِنْ كِتَابِ مُسْنَدِ الشِّهَابِ ... » الْبَابُ الثَّانِي، رقم الحديث: 1251
٤) عن جابر بن عبد الله، جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر » بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ مِنْ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ ...رقم الحديث: 1061 
٥) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر ... » كِتَابُ الْمَنَاقِبِ » بَابُ فَضْلِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ عَلَى الْإِجْمَالِ ... رقم الحديث: 4299

[کشف الخفاء:۱/۱۴۷، مشکوٰة: ص554؛ جلد پنجم: حدیث نمبر 624 (42363) - صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان : صحابہ کی اقتداء ہدایت کا ذریعہ ہے]




یہ حدیث علماۓ حدیث کے اصول حدیث کے تحت مقبول ہے
1 - قوت تعدد طرق 
اصول_حدیث میں یہ مقرر ہے کہ جب ایسی (یعنی ضعیف) حدیث کے طرق کثیرہ ہوں تو وہ حسن بلکہ صحیح ہوجاتی ہے. (فتاویٰ علماء حدیث : ٧/٧٠)
2 - تلقی بالقبول 
تقریباً 200 کتب کے مصنف مصنف محدث، فقیہ، اصولی، مؤرخ علامہ سخاوی رح لکھتے  ہیں؛

وقال الحافظ السخاوي في شرح ألفية : إذا تلقت الأمة الضيف بالقبول يعمل به الصحيح حتى أنه ينزل منزلة المتواتر في أنه ينسخ المقطوع به، ولهذا قال الشافعي رحمة الله تعالیٰ في حديث "لا وصية الوارث" أنه لا يثبت أهل العلم بالحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوه ناسخا لاية الوصية الوارث...إنتهى

ترجمہ : علامہ سخاوی رح نے "شرح الفیہ" میں کہا ہے کہ: جب امت حدیث_ضعیف کو قبول کرلے تو صحیح یہی ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ ، یہاں تک کہ وہ یقینی اور قطعی حدیث کو منسوخ کرنے میں ((متواتر حدیث کے رتبہ میں سمجھی جاۓ گی))، اور اسی وجہ سے امام شافعی رح نے حدیث : "لاوصية لوارث" کے بارے میں یہ فرمایا کہ اس کو حدیث کے علم والے (علماۓ حدیث) ((ثابت نہیں)) کہتے ہیں لیکن عامه علماء نے اس کو قبول کرلیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو آیت_وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے. [فتح المغيث بشعره ألفية الحديث: ص # ١٢٠ ؛ المعجم الصغیر لطبرانی: باب التحفة المرضية في حل مشكلات الحديثية،٢/١٧٩؛
(فتاویٰ علماۓ حدیث : ٢/٧٤ ; فتاویٰ غزنویہ : ١/٢٠٦)
-----------------------------
تقریباً 600 کتب کے مصنف علامہ جلال الدین السیوطی (الشافعی) رح لکھتے ہیں؛
"قال بعضھم يحكم للحديث بالصحة إذا تلقاه الناس بالقبول وإن لم يكن له أسناد صحيح.[تدريب الراوي: صفحة # ٢٩
ترجمہ: بعض محدثین فرماتے ہیں کہ حدیث پر صحت (صحیح ہونے) کا حکم لگا دیا جاۓ گا جب امت نے اسے قبول کرلیا ہو اگرچہ اس کی سند صحیح نہ بھی ہو.
المقبول ما تلقاه العلماء بالقبول وإن لم يكن له أسناد صحيح،[شرح نظم الدرر المسمى بالبحر الذي ذخر
ترجمہ: مقبول وہ حدیث ہے جسے علماء قبول کرلیں اگرچہ اس کی سند صحیح نہ بھی ہو.

===========================================
مشروعیتِ تقلیدِ شخصی اور اس کی تفسیر:
"من بعدی" سے مراد ان صاحبوں کی حالتِ خلافت ہے، کیوں کہ بلاخلافت تو دونوں صاحب آپکے روبرو بھی موجود تھے. پس مطلب یہ ہوا کہ ان کے خلیفہ ہونے کی حالت میں ان کی اتباع کیجیو اور ظاہر ہے کہ خلیفہ ایک ایک ہوں گے. پس حاصل یہ ہوا کہ حضرت ابو بکر رضی الله عنہ کی خلافت میں تو ان کا اتباع کرنا، حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں ان کا اتباع کرنا، پس ایک زمانہ خاص تک ایک معین شخص کی اتباع کا حکم فرمایا اور یہ کہیں نہیں فرمایا کہ ان کے احکام کی دلیل بھی دریافت کرلیا کرنا.اور نہ یہ عادت مستمرہ (جاریہ) تھی کہ دلیل کی تحقیق ہر مسئلے میں کی جاتی ہو اور یہی تقلیدِ شخصی ہے. کیونکہ حقیقتِ تقلیدِ شخصی یہ ہے کہ ایک شخص کو جو مسئلہ پیش آوے وہ کسی مرجح کی وجہ سے ایک ہی عالم سے رجوع کیا کرے اور اس سے تحقیق کر کے عمل کیا کرے. اور اس مقام میں اس کے وجوب سے بحث نہیں اور آگے مذکور ہے اس کا جواز اور مشروعیت اور موافقت اور سنّت ثابت کرنا مقصود ہے، گویا ایک معین زمانے کے لئے سہی. "ایسے ہیں جیسے آسمان کے ستارے" کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح گھپ اندھیری رات میں آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے مسافروں کو دریا وجنگل کے راستوں کا نشان بتاتے ہیں جس کی قرآن کریم نے ان الفاظ میں آیت (وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُوْنَ) 16۔ النحل : 16) (اور ستاروں کے ذریعہ وہ راستہ پاتے ہیں ) میں اشارہ کیا ہے ۔ اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی سچائی کے راستے کو ظاہر کرنے اور برائی کے اندھیروں کو دور کرنے والے ہیں کہ ان کے نورانی وجود ، ان کے اخلاق و کردار اور ان کی روایات وتعلیمات کی روشنی میں راہ حق نمودار ہوتی ہے اور بدی کا اندھیرا چھٹ جاتا ہے ۔


 فهو عندي على هدى یعنی " میرے نزدیک وہ ہدایت پر ہے "
[أخرجه رزين، والشطر الأول من الحديث إلى قوله: «فهو عندي على هدى» ذكره السيوطي في «الجامع الصغير» ونسبه إلى السجزي في «الإبانة» وابن عساكر. والشطر الثاني من الحديث: «أصحابي كالنجوم» رواه ابن عبد البر في «جامع بيان العلم» 2/91 من حديث سلام بن سليم عن الحارث بن غصين عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ... فذكره، وإن كان في إسناد هذا الحديث ضعف؛ ولكنه روي من عدة وجوه، يتقوى بعضها ببعض. «الكفاية في معرفة علم الرواية» للخطيب، ص: 46، و«الإصابة» لابن حجر، ج1 ص:11. «جزء العاشر من المنتخب» لإبن قدامة، رقم الحديث: 62،]



اس سے ثابت ہوا کہ ائمہ دین کا باہمی اختلاف امت کے لئے رحمت ہے ، لیکن جیسا کہ علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے وضاحت کی ہے اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو دین کے فروعی وذیلی مسائل میں ہو نہ کہ اصول دین میں، اور سید جمال الدین نے لکھا ہے : بظاہر یہ بات زیادہ صحیح ہے کہ اس حدیث میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جس اختلاف کی طرف اشارہ ہے، اس سے وہ اختلاف مراد ہے ۔ جو دینی معاملات و مسائل میں رونما ہو نہ کہ اختلافات جو دینوی معاملات میں رونما ہوئے ۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس اختلاف پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوگا ، جو خلافت وامارت کے سلسلہ میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان رونما ہوئے ۔ 

لیکن اس موقع پر ملا علی قاریؒ نے لکھا ہے کہ میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ خلافت وامارت سے متعلق رونما ہونے والے اختلافات بھی " فروع دین میں اختلاف " کے زمرہ میں آتے ہیں کیونکہ اس بارے میں ان کے درمیان جو اختلاف واقع ہوا وہ اجتہادی تھا نہ کہ کسی دنیاوی غرض اور نفسانی جذبہ وخواہش کے تحت ، جیسا دنیاوی بادشاہوں کے ہاں ہوتا ہے ۔ ۔
" جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤگے " چونکہ ولکل نور ( نور ان میں سے ہر ایک میں ہے ) کے ذریعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ہر صحابی اپنے اپنے مرتبہ واستعداد کے مطابق علم فقہ کا نور ہدایت ضرور رکھتا ہے اور اس اعتبار سے کوئی بھی صحابی دین و شریعت کے علم سے خالی نہیں ہے، اس لئے جو بھی صحابی اپنے مرتبہ واستعداد کے مطابق دین و شریعت کی جو بھی بات بیان کرتا ہے، اس کی پیروی ہدایت کی ضامن ہوگی ۔

واضح رہے کہ اس حدیث اصحابی کالنجوم الخ میں علماء نے کلام کیا ہے، چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس حدیث پر طویل گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے بلکہ ابن حزام کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ حدیث موضوع باطل ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہی بیہقی کا یہ قول بھی ذکر کیا ہے کہ مسلم کی ایک حدیث سے اس حدیث کے بعض معنی ثابت ہوتے ہیں ، مسلم کی حدیث میں ہے : النجوم امنۃ السماء ( ستارے آسمان کے محافظ و امین ہیں ) اور پھر اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں : واصحابی امنۃ لامتی (اور میرے اصحاب میری امت کے امین ومحافظ ہیں )
===========================================

*علم کیا ہے؟*

حافظ ابن عبدالبرؒ (م46) امام اوزاعیؒ (م157ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شاگرد بقیہ بن الولید(م197ھ) سے فرمایا:

يَا بَقِيَّةُ، الْعِلْمُ مَا جَاءَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَمْ يَجِئْ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَيْسَ بِعِلْمٍ

[جامع بیان العلم:1067+1420+1421، فتح الباري شرح صحيح البخاري:ج13 ص291، سلسلة الآثار الصحيحة:322]

*اے بقیہ! علم تو وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحابِ کرام سے منقول Transmitted    ہو اور جو ان سے منقول نہیں وہ علم نہیں۔*

امام شعبیؒ (م103ھ) فرماتے ہیں :

«مَا حَدَّثُوكَ عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُدَّ عَلَيْهِ يَدَكَ وَمَا حَدَّثُوكَ مِنْ رَأْيِهِمْ فَبُلْ عَلَيْهِ»

[الإبانة الكبرى لابن بطة:607، المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي:814+1898، جامع بیان العلم:1066]

يعني *جو باتیں تمہارے سامنے لوگ صحابۂ کرام کی جانب سے نقل فرمائیں تو انہیں اختیار کرلو اور جو باتیں اصولِ شرع کے خلاف اپنی طرف سے کہیں انہیں بے زاری کے ساتھ ٹھکرادو۔*

 

حضرت حسن  بصریؒ (م110ھ) اصحابِ رسول کی مدح میں فرماتے ہیں:

«إِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ قُلُوبًا، وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا، قَوْمًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَتَشَبَّهُوا بِأَخْلَاقِهِمْ وَطَرَائِقِهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ عَلَى الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ

یہ جماعت پوری امت میں سب سے زیادہ مخلص اور نیک دل سب سے زیادہ گہرے علم کے ساتھ متصف سب سے زیادہ بے تکلف جماعت تھی خداوندِ قدوس نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کیلئے انہیں منتخب فرمایا تھا ۔ وہ آپ کے اخلاق اور آپ کے طریقوں سے مشابہت کی جدوجہد اور اسی کی سعی میں رہا کرتی تھی ان کو لگن تھی تو اسی کی تلاش و دھن تھی تو اسی کی، رب کعبہ کی قسم ہے کہ وہ جماعت صراطِ مستقیم پر گامزن تھی۔

[الشريعة للآجري:1161+1984، جامع بيان العلم:1807، ذم التأويل،لابن قدامۃ:63]

 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس سے بھی زیادہ صاف اور شاندار اور مکمل انداز میں اتباعِ صحابہ کی تاکید کی ہے، فرماتے ہیں:

«‌مَنْ ‌كَانَ ‌مِنْكُمْ ‌مُتَأَسِّيًا فَلْيَتَأَسَّ بِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَبَرَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا وَأَقْوَمَهَا هَدْيًا وَأَحْسَنَهَا حَالًا، قَوْمًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ وَاتَّبِعُوهُمْ فِي آثَارِهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهُدَى الْمُسْتَقِيمِ»

ترجمہ:

*تم میں سے جس کو اقتداء کرنی ہو وہ حضور اکرم کے صحابہ ہی کی اقتدا ء کرے کیوں کہ وہ نیک دلی میں سب سے زیادہ اور علم میں سب سے زیادہ گہرے نہایت بے تکلف مضبوط کیرکٹر اور سب سے بہترین حالات کے لوگ تھے ۔ خدا وند علیم و خبیر نے اس بہترین جماعت کو اپنے بہترین رسول کی صحبت اور دین کی حفاظت کیلئے انتخاب فرمایا اس لئے تم بھی ان کی فضیلت کو پہچانو اور ان کے ہی نقش قدم پر چلو اس لئے کہ وہ صراط مستقیم اور سیدھے راستہ پر تھے۔*

[جامع بيان العلم:1810، الحجة في بيان المحجة:498، سلسلة الأحاديث الصحيحة:2648]
الفقه الدين : (القرآن، التوبۃ:122)
معیاِر حق : علمِ دین میں صحابہ کرامؓ کا فہم
ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابنِ عباسؓ سے دریافت فرمایا:
اس امت کا جب نبی ایک، قبلہ ایک، کتاب ایک تو اس میں اختلاف کیوں کر پیدا ہوگا؟
تو حضرت ابنِ عباسؓ نے جواب دیا:
اے امیر المومنین! قرآن ہمارے سامنے اترا ہے، ہم تو اس کے مواردِ نزول کو اچھی طرح جانتے ہیں، لیکن آئندہ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن تو پڑھیں گے مگر انھیں صحیح طور پر اس کے موادر و مصادر (یعنی جس کیلئے جو آیات وارد و صادر ہوئیں ) کا علم نہ ہوگا پھر اس میں (بےعلم ہوتے ہوۓ بھی) اپنی طرف سے راۓ زنی شروع کریں گے اور اٹکل کے تیر چلائیں گے. اس لئے ان میں اختلاف ہوجاۓ گا اور جب اختلاف ہوگا تو لڑائیاں ہوں گی. شروع میں تو اس خیال سے حضرت عمرؓ نے اتفاقِ راۓ نہ کیا لیکن غور  کرنے کے بعد انھیں بھی حضرت ابنِ عباسؓ سے اتفاقِ راۓ کرنا پڑا۔


قرآن مجید سے دھوکہ دینے والوں کو پہچاننے کا طریقہ:
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ الله نے منکرین تقدیر کے ایک مغالطے (کہ قرآن کریم میں ایسی آیات بھی موجود ہیں جن سے تقدیر تک کی نفی معلوم ہوتی ہے) کو دور کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا:
لَقَدْ قَرَءُوا مِنْهُ مَا قَرَأْتُمْ، ‌وَعَلِمُوا ‌مِنْ ‌تَأْوِيلِهِ مَا جَهِلْتُمْ، وَقَالُوا بَعْدَ ذَلِكَ: كُلِّهِ بِكِتَابٍ وَقَدَرٍ
ترجمہ:
حضراتِ صحابہ کرام وتابعین اور سلف ِ صالحین نے یہ آیتیں بھی پڑھی ہیں جن کو تم پڑھتے ہو، لیکن وہ ان کے مطلب کو سمجھے ہیں اور تم نہیں سمجھے اور انہوں نے یہ سب آیات پڑھنے کے باوجود تقدیر کا اقرار کیا ہے۔
[سنن أبي داود:4612, الشريعة للآجري:529]



اب ہم فقہ کے اماموں کی اس بارے میں رائے ملاحظہ کریں گے:
(ابو حنیفہؒ):
اگر اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت میں مجھے کوئی چیز نہیں ملتی تو میں صحابہ کے اقوال اختیار کرلیتا ہوں-
[ ابو حنیفہ للشیخ ابی زھرۃ (ص/309)]


(مالکؒ):

انہوں نے اپنی کتاب موطا میں بہت سے صحابہ کے فتاوی جات نقل کیے ہیں اور اکثر مسائل میں انہی پر اعتماد کیا ہے۔
[ مالک للشیخ ابی زھرۃ (ص/259)]


(شافعیؒ):

اگر مجھے کتاب و سنت یا اجماع یا اس کے ہم معنی کسی دوسری چيز میں جو حکم لگانے والی ہو یا اس کے ساتھ قیاس ہو، کوئی چیز نہیں ملتی تو میرا مسلک یہی ہے کہ صحابہ میں سے کسی کے قول کو اختیار کرلیا جائے-
[ الرسالۃ للشافعی (ص/598)]


(احمد بن جنبلؒ):

میں نے ہر مسئلے میں یا تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے جواب دیا یا صحابہ یا تابعین کے کسی قول سے-
[ اصول الفقہ لابی زھرۃ (ص/215) ، اصول الفقہ و ابن التیمیہ (ص/356)]












فضائلِ صحابہ کرامؓ و خلفاء رسول الله ﷺ




حضرت جابر بن عبداللہ  نے رسول الله ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ بیشک میرے صحابہ کو الله تعالیٰ  نے سارے جہاں والوں میں سے پسند فرمایا ہے سواۓ انبیاء اور رسولوں کے، اور پسند کیا میرے لئے میرے صحابہ میں سے چار کو ،  (جو) ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان الله علیھم (ہیں)،  بس بنادیا ان کو میرے ساتھی.












صحابیؓ کی تعریف
صحابی کے اصل معنی ساتھی اور رفیق کے ہیں؛ لیکن یہ اسلام کی ایک مستقل اور اہم اصطلاح ہے ،اصطلاحی طور پر صحابی کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے بحالت ایمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم سےملاقات کی ہو اور ایمان ہی کی حالت میں دنیا سےرخصت ہوئے ہوں۔

(القاموس الفقہی،باب حرف الصاد:۱/۲۰۷  شیخ سعدی ابو حبیب رحمۃ اللہ علیہ)




صحابیؓت کا ثبوت

صحابیؓت کا ثبوت چار طریقوں  سے ہوسکتا ہے :

 (۱)     تواتر کے ذریعہ ، جیسے حضرات خلفاء راشدین اور عشرۂ مبشرہؓ وغیرہ۔

(۲)     تواتر سے کم تر درجہ شہرت کے ذریعہ ، جیسے حضرت ضمام بن ثعلبہ اور عکاشہ بن محصن وغیرہ ۔

(۳)     کوئی معروف صحابیؓ کسی شخص کے بارے میں صحابیؓ ہونے کی اطلاع دے ، جیساکہ حضرت ابو موسی اشعریؓ نے حممۃ بن ابو حممہ الدوسی کی بابت صحابیؓ ہونے کی خبردی ۔

(۴)     کوئی ایسا شخص جس کا عادل و معتبر ہوا معلوم ہو اور زمانی اعتبار سے اس کا صحابیؓ ہونا ممکن بھی ہو ، اگر اپنے صحابیؓ ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کو قبول کرلیا جائے گا ، اس سلسلہ میں علماء کا خیال ہے کہ ۱۱۰ھ ؁کے بعد اگر کوئی شخص صحابیؓت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ غیر معتبر ہے ، اسی بنا پر جعفر بن نشطور رومی اور رتن ہندی وغیرہ کے دعوئ صحابیؓت کو غیر معتبر ماناگیا ہے ؛ کیونکہ آپ  نے ۱۰ ھ میں ارشا د فرمایا تھا :

 ما من نفس منفوسۃ الیوم یأتي علیہا مائۃ سنۃ وہی حیۃ یومئذ۔ (مسلم کتاب فضائل الصحابۃ ، حدیث نمبر : ۲۵۳۸)


" آج کوئی متنفس نہیں  کہ سو سال گذرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہے"۔


ان چار طریقوں  سے کسی کا صحابیؓ ہونا تسلیم کیا جاتا ہے ۔ 
( مقدمہ ابن الصلاح ، ص : ۱۲۵ ، علوم الحدیث ومصطلحہ للدکتور صجی المحمصانی ، ص : ۵۳ ۳- ۳۵۲)

صحابہؓ کا مقام: قرآن کریم میں
حضور اکرم ﷺ آخری نبی ہیں، آپ     کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے،قرآن کریم اور حضور      کی عملی زندگی کا نمونہ قیامت تک محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالی نے ایک ایسی جماعت کو منتخب فرمایاجس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی،صحابہ کرام کے مقام اور ان کی حیثیت کو خود اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے،جس میں سے چند آیتوں کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے،جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ صحابہ کرام اللہ کی منتخب کردہ ایک چنندہ جماعت ہیں ،ان کی صفات کا تذکرہ گزشتہ نبیوں کی کتابوں میں بھی بیان کیا گیا ہے،اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، اللہ نے صحابہ کرام کو جنت کی خوشخبری بھی سنادی،آیات قرآنی ملاحظہ فرمائیں:

(۱)"ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا ..الخ۔   

(فاطر:۳۲)

ترجمہ:پھر وارث بنایا ہم نے کتاب کا ان لوگوں کو جن کا ہم نے اپنے بندوں میں سے انتخاب کیا..الخ۔
"الکتاب" یعنی قرآن مجید کے پہلے وارث بالیقین صحابۂ رسول ہیں، جن کے بارے میں آیتِ مبارکہ گواہی دیتی ہے، وہ اﷲ کے منتخب بندے ہیں؛ پھر بعض مقامات پر ان منتخب بندوں کو سلامِ خداوندی سے بھی نوازا گیا، ارشاد ہے:

(۲)"قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلاَمٌ عَلٰی عِبَادِہٖ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی"۔

(النمل:۵۹)

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ فرمادیجئے کہ تعریفات سب اﷲ کے لیے ہیں اورسلام ہو ان بندوں پر جن کو اﷲ نے منتخب فرمایا۔
تفسیر:
حضرت ابنِ عباسؓ اور حضرت سفیان ثوریؒ سے روایت ہے کہ اس آیت میں منتخب بندوں سے مراد "صحابۂ رسول" ہیں۔حوالہ
عن ابن عباس: (وَسَلامٌ عَلَى ‌عِبَادِهِ ‌الَّذِينَ ‌اصْطَفَى) قال: ‌أصحاب محمد اصطفاهم الله لنبيه.
[تفسير الطبري:19/ 482-483، تفسير ابن أبي حاتم: حدیث#16495+16496، معاني القرآن للنحاس:5/ 143، مسند الموطأ للجوهري:حدیث#2، تفسير الثعلبي:2099(20/301)، حلية الأولياء:7/77، أمالي ابن بشران:507+1591، التفسير البسيط:17/ 270، التفسير الوسيط للواحدي:3/382، تفسير السمعاني:4/107، تفسير البغوي:6/171، تفسير القرطبي:13/220، الرياض النضرة في مناقب العشرة:1/18، تفسير الخازن:3/350، تفسير ابن كثير:6/201، مجمع الزوائد: 11249، الدر المنثور في التفسير بالمأثور:6/370]

(۳)محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں (اور)آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں،تم انہیں دیکھوگے کہ کبھی رکوع میں ہیں،کبھی سجدے میں(غرض)اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں ،ان کی علامتیں سجدہ کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں،یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں...الخ۔

        (الفتح:۲۹)

(۴)اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ اُن کی پیروی کی،اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے اور وہ اس سے راضی ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ،جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے،یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔           

    (التوبہ:۱۰۰)

(۵)اﷲ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت عطافرمائی اور ایمان کو تمہارے دلوںمیں مرغوب کردیا، کفروفسق (گناہِ کبیرہ) عصیان (گناہِ صغیرہ) سے تم کو نفرت عطاکی، ایسے ہی لوگ اﷲ کے فضل وانعام سے راہِ راست پر ہیں۔ 

             (الحجرات:۷)

(۶)ان لوگوں کے دلوں میں اﷲ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان کو اپنے فیضِ غیب سے مضبوطی عطا فرمائی۔

(المجادلہ:۲۲)

صحابہ کا مقام احادیث پاک میں
  زبانِ رسالت سے صحابہ کے چنندہ ہونے کی خوشخبری دی گئی،جن میں سے چند احادیث کا ترجمہ یہاں پیش کیا جارہا ہے:

"اِنَّ اﷲَ اخْتَارَ اَصْحَابِیْ عَلٰی العٰالَمِیْنَ سِوٰی النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ.... وَقَالَ فِیْ اَصْحَابِیْ کُلُّھُمْ خَیْرٌ"۔                          

(مجمع الزوائد:۱۰/۱۶)

اﷲ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں کے بعد ساری دنیا سے میرے صحابہ کو منتخب فرمایا اورفرمایا: میرے سب ہی صحابہ بھلائی والے ہیں۔

"اِنَّ اﷲَ  اخْتَارَنِیْ وَاخْتَارَ لِیْ اَصْحَابِیْ...الخ"۔

(الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ إلی الجامع الصغیر، باب حرف الھمزۃ، حدیث نمبر:۳۲۲۴، صفحہ نمبر:۱/۲۹۷)

اﷲ نے میرا انتخاب فرمایا اور میرے لیے میرے صحابہ کا انتخاب فرمایا ۔

"خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ"۔

(بخاری، باب لایشھد علی شھادۃ جور، حدیث نمبر:۲۴۵۸)

لوگوں میں بہترین میرے قرن والے ہیں؛ پھر وہ جو ان کے بعد ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہیں۔
حافظ ابن ِ حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے :"قرنی" سے مراد صحابہ ہیں، نیز بخاری میں باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم(کتاب الفضائل ۷/۳) میں ہے کہ

"بُعِثْتُ فِیْ خَیْرُ الْقُرُوْنِ بَنِیْ آدَمَ"۔

ابن آدم کے سب سے بہتر لوگوں کے درمیان مجھے بھیجا گیا ہے۔
اسی لیے حضرت ابن ِ مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: صحابۂ رسول اس امت کے سب سے افضل افراد تھے، جو دل کے اعتبار سے بہت نیک،علم کے لحاظ سے سب سے پختہ اور تکلفات کے اعتبار سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔ 

          (رزین،مشکوٰۃ:۱/۳۲)

حافظ ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" اور علامہ سفارینی نے "شرح الدرۃ المضیئہ" میں لکھا ہے کہ جمہور ِ امت کی رائے کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں۔  
         

         (مقدمۃ لاستیعاب تحت الاصابۃ:۱/۲) 


صحابہ سے متعلق امت مسلمہ کو ہدایت:
قرآن کریم میں اور احادیث میں صحابہ کرامؓ کی مدح وثناء کی گئی اور ان کو جنت کی بشارت دی گئی اور اسی کے ساتھ امت کو ان کے ادب واحترام اور ان کی اقتداء کا حکم بھی دیا گیا ہے، ان میں سے کسی کو برا کہنے پر سخت وعید بھی فرمائی ہے ،ان کی محبت کورسول اللہ  کی محبت، ان سے بغض کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض قرار دیا گیا ہے، اس سلسلہ کی چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

"خَیْرُالْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ"۔

(مسلم:کتاب فضائل الصحابۃ،حدیث نمبر:۴۶۰۰)

میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں پھر ان کے بعد آنے والے پھر ان کے بعد آنے والے۔
"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ"۔                                  

(مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، حدیث نمبر:۴۶۱۰)

 آپ ﷺ  نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا نہ کہو؛اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرو تو وہ ان کے ایک مد بلکہ اس کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔
          ایک اور روایت میں آپ نے ارشاد فرمایا:
"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَاتَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ"۔

(ترمذی، بَاب فِيمَنْ سَبَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم،حدیث نمبر ۳۷۹۷)

لوگو! میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سےڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ،جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے در حقیقت مجھ سے بغض رکھا ،جس نے ان کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی اور جس نے مجھ کو اذیت پہچائی اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالی اس کو پکڑلے۔
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
خدا کی قسم ہے کہ صحابہ کرام میں کسی شخص کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں اس کا چہرہ غبار آلود ہوجائے غیر صحابہ سے ہر شخص کی عمر بھر کی عبادت وعمل سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوح(علیہ السلام)عطا ہوجائے۔

(ابوداؤد،باب فی الخلفاء،حدیث نمبر۴۰۳۱)




توہینِ صحابہ کی سزا:
سیدنا علی المرتضیٰ ؓ (اور حضرت انسؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ سَبَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَاقْتُلُوهُ، وَمَنْ سَبَّ وَاحِدًا مِنْ ‌أَصْحَابِي ‌فَاجْلِدُوهُ»
ترجمہ:
جس شخص نے کسی نبی کو گالی دی وہ قتل کیا جائے اور جو شخص اس نبی کے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں۔
[فوائد تمام:740، المعجم الصغير للطبراني:659، المعجم الأوسط:4602
وَله شَاهد فِي الْجَامِع الْكَبِير انْتهى
[العجالة في الأحاديث المسلسلة: ص65]]


امام مالکؒ کا فتویٰ:
مَنْ ‌سَبَّ أَبَا بَكْرٍ ‌وَعُمَرَ جُلِدَ
ترجمہ:
جو برا بھلا کہے ابوبکر وعمر کو تو اسے کوڑے مارو۔
[ثلاثة مجالس من أمالي أبي سعيد النقاش:12 ، شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة:7/1327، المحلى بالآثار:12/ 440، المنتقى شرح الموطإ:7/ 206، جامع الأحاديث:22361]




ایک شخص نے سیدنا معاویہؓ کو بُرا کہا تو عمر بن عبد العزیزؒ نے اسے کوڑے لگوائے تھے۔
مَا رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ضَرَبَ إِنْسَانًا قَطُّ إِلَّا إِنْسَانًا ‌شَتَمَ ‌مُعَاوِيَةَ، ‌فَإِنَّهُ ‌ضَرَبَهُ أَسْوَاطًا.
[تاریخ دمشق(امام)ابن عساکر: 59 / 211، وسندہ صحیح، دار الفكر]
[البداية والنهاية، ابن كثير: 11/ 451، دار هجر]


صحابہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم:
اگر کوئی شخص صحابہ کی شان میں گستاخی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام نہیں، لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ،فقہائے احناف میں عبدالرشید طاہر البخاری نے لکھا ہے کہ اگر کوئی رافضی شیخین کی شان میں گستاخی کرے اور لعنت  بھیجے تو وہ کافر ہے۔
(خلاصۃ الفتاوی:۴/۳۸۱)
ملا علی قاری نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے ۔

(شرح فقہ اکبر:۲۲۹)

فقہاء مالکیہ  میں علامہ دردیر نے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں دیا ہے لیکن صحابہ اور اہل بیت کی تنقیص کرنے والوں کو شدید تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے (الشرح الصغیر۴/۴۴۴)علامہ صاوی مالکی نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفاء اربعہ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کافتوی تو نہیں لگایا جائے گاالبتہ تعزیر کی جائے گی لیکن سحنون مالکی نے خلفاء اربعہ کو کافر کہنے والوں کو مرتد قرار دیا ہے نیز صاوی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہ کی تکفیر کرے وہ بالاتفاق کافر ہے۔                       

(حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر:۴/۴۴۔۴۴۳)

غرض اگر از راہ احتیاط صحابی کی شان میں گستاخی کو کفر قرار نہ دیا جائے تب بھی اس کے قریب بہ کفر ہونے میں شبہ نہیں ؛اسی لیے سلف نے مشاجراتِ صحابہ پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ،افسوس کہ گزشتہ نصف صدی میں ایسی کتابیں منظر عام پر آئی ہیں جن میں ناحق صحابہ کے اختلاف کو زیر بحث لایا گیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں تو ناصبیت کے درجے کو پہنچ گئی ہے اور کہیں اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں بلکہ بد خدمتی ہے اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے جو شیشہ سے زیادہ نازک اور بال سے زیادہ باریک ہے،  فالی اللہ المشتکی وبہ التوفیق۔


صحابہؓ  میں مراتب:
اہل سنت والجماعت کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکرؓؓ اور آپؓ کے بعد حضرت عمرؓ تمام امت میں افضل ہیں  ، حضرت عمرؓ  کے بعد حضرت عثمانؓ و علیؓ کا درجہ ہے ، اکثر علماء نے حضرت عثمانؓ  کو افضل قرار دیا ہے اور علماء کوفہ نے حضرت علیؓ کو ۔ (        مقدمہ ابن الصلاح ، ص : ۱۲۸)
امام ابو حنیفہؒ کا رجحان بھی اسی طرف بتایا جاتا ہے ؛ اسی لئے آپ نے اہل سنت والجماعت کی علامات میں حضرات شیخینؓ کی فضیلت اور حضرت عثمانؓ وعلیؓ کی محبت کو شمار کیا ہے ۔
 (   خلاصۃ الفتاوی : ۴/۳۸۱)
امام مالکؒؒ سے اس سلسلہ میں توقف منقول ہے ، نیز مشہور محدث محمد بن اسحاق بن خزیمہؒ اور خطابیؒ نے بھی حضرت علیؓ  کو افضل مانا ہے ۔
خلفائے  اربعہؓ کے بعد پھر ان چھ صحابہؓ   کا درجہ ہے جو عشرۂ مبشرہؓ میں ہیں  ،ا ن کے بعد اصحابِِ بدرؓ ، ان کے بعد اصحابِ احدؓ اور ان کے بعد حدیبیہ میں بیعت رضوان کے شرکاء کا شمار ہے ، آخر درجہ فتح مکہ اور اس کے بعد ہونے والے مسلمانوں  کا ہے ، جن میں حضرت ابو سفیانؓ اور حضرت معاویہؓ وغیرہ ہیں  ۔
امام حاکمؒ نیشاپوریؒ نے صحابہؓ  کے بارہ طبقات بیان کئے ہیں :
۱)       مکہ میں ابتداء ً اسلام قبول کرنے والے جن میں خلفائے اربعہؓ بھی داخل ہیں  ۔
۲)       دار الندوہ کے اصحابؓ ، یعنی جب حضرت عمرؓ  اسلام لائے اور اپنے اسلام کا عام اعلان واظہار کیا تو وہ آپ کو دار الندوہ لے گئے ، جہاں  اہل مکہ کی ایک جماعت نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ، ان حضرات کو اصحابؓ دار الندوہ کہتے ہیں  ۔
۳)      حبش ہجرت کرنے والے صحابہؓ  ؓ۔
۴)      بیعت عقبہ اول میں شریک رہنے والے صحابہؓ  ۔
۵)      بیعت عقبہ ثانی میں شریک رہنے والے صحابہؓ  ۔
۶)       وہ مہاجرینؓ جو آپ کے قباء میں رہتے ہوئے پہونچ چکے تھے ۔
۷)      غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہؓ  ۔
۸)      غزوۂ بدر ، صلح حدیبیہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہؓ  ۔
۹)       وہ صحابہؓ  جو بیعت رضوان میں شریک رہے ، جن کے بارے میں قرآن مجید میں آیت نازل ہوئی:

لَقَدْ رَضِیَ اللہ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ إِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوبِہِمْ فَأَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا 

(الفتح :۱۸)

"اللہ ایمان والوں  سے خوش ہوا جب تجھ سے بیعت کرنے لگے اس درخت کے نیچے" ۔

۱۰)      صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیان ہجرت کرنے والے صحابہؓ  ، ان ہی میں حضرت خالد بن ولید ، حضرت عمرؓو بن العاص اور حضرت ابو ہریرہ وغیرہ ہیں  ۔
۱۱)      جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے ۔
۱۲)      وہ کم سن صحابہؓ  جنہوں  نے فتح مکہ اور حجۃ الوداع وغیرہ کے موقع سے آپ کی زیارت کی ہے ، حضرت سائب بن یزید ، عبد اللہ بن ثعلبہ ، ابو الطفیل ، عامر بن واصلہ اور حضرت ابو جحیفہ وغیرہ کا شمار اسی طبقہ میں ہے ۔ (معرفۃ علوم الحدیث ، ص : ۲۹ - ۳۱)



روایت کے اعتبار سے درجات:
باعتبار روایت حدیث کے صحابہؓ  کے تین درجات کئے گئے ہیں  ، اول مکثرین جن کی روایات ہزار سے اوپرہوں  ، دوسرے مقسطین جن کی روایات ہزار سے کم اور سو سے زیادہ ہوں  ، تیسرے مقلین جن سے سو سے کم حدیثیں منقول ہیں  ، مقسطین اور مقلین کی تعداد تو بہت ہے ؛ البتہ مکثرین سات ہیں  ، اور ان کے نام اور مرویات کی تعداد اس طرح ہے :
          حضرت ابوہریرہؓ              ۵۳۷۴
          حضرت عبد اللہ بن عمرؓ         ۲۶۳۰
          حضرت انس بن مالکؓ         ۲۲۸۶
          حضرت عائشہؓ رضی اللہ عنہا   ۲۲۱۰
          حضرت عبد اللہ بن عباسؓ     ۱۶۶۰
          حضرت جابر بن عبد اللہؓ       ۱۵۴۰
          حضرت ابو سعید خدریؓ       ۱۱۷۰
فقہی اعتبار سے بھی بعض صحابہؓ  مکثرین شمار کئے گئے ہیں  ، تاہم مسروق سے منقول ہے کہ حضور  کے صحابہؓ  کا علم چھ صحابہؓ  میں جمع ہوگیا ہے ، حضرت عمرؓ  ، حضرت علیؓ  ، حضرت ابی بن کعبؓ ، زید بن ثابتؓ ، ابو الدرداءؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، بعض نے ابوالدرداءؓ کی جگہ ابو موسی اشعریؓ کا ذکر کیا ہے اور پھر ان چھ کا علم دو میں جمع ہوگیا ، حضرت علیؓ   اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ، امام شعبیؒ ؒسے مروی ہے کہ ان میں حضرت عمرؓ  ، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اور حضرت ابو موسی اشعریؓ اور ابی بن کعبؓ کی آراء میں زیادہ موافقت پائی جاتی تھی ۔
( مقدمہ ابن صلاح ، ص : ۱۲۷)

صحابہ کرامؓ   کے بارے میں احتیاط:
امت میں حضرات صحابہ کرامؓ  کا ایک خاص درجہ و مقام ہے کہ انہیں  کے ذریعہ دین ہم تک پہنچا ہے اور ان ہی کی قربانیوں  اور جاں  نثاریوں  سے اسلام کا شجر طوبی پر واں  چڑھا ہے ؛ اسی لئے آپ  نے ان کو امت کا سب سے بہتر طریقہ قراردیا ہے۔
آپ  نے فرمایاکہ میرے عہد کے مسلمان بہترین مسلمان ہیں  ، پھر ان کے بعد آنے والے اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں  :"خیر القرون قرني ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم" ۔
(       مجمع الزوائد : ۱۰ / ۲۰ ، مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے منقول ہے کہ آپ  نے فرمایا:
" میرے صحابہؓ  کو برا بھلا نہ کہو ، اس ذات کی قسم  جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!  اگر تم احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کروتو وہ ان کے ایک مُد بلکہ ا س کے نصف خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں  ہوسکتا"۔ (مسلم ، حدیث نمبر : ۲۵۴۰ ، بخاری ، حدیث نمبر : ۳۶۷۳)
ایک اور روایت میں آپ  نے ارشاد فرمایا:
" لوگو ! میرے صحابہؓ  کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو ، اللہ سے ڈرو ، میرے بعد ان کو نشانہ نہ بناؤ ، جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان بغض رکھا ، اس نے درحقیقت مجھ سے بغض رکھنے کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ، جس نے ان کو اذیت پہنچائی اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو پکڑلے "۔
اس لئے حضرات صحابہؓ  کے بارے میں بہت احتیاط چاہئے اور ہمیشہ سوءِ کلام اور سوءِ گمان سے بچنا چاہئے ؛ چنانچہ اگر کوئی شخص صحابہؓ  کی شان میں بد گوئی کرے تو اس کے فاسق العقیدہ ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں  ؛ لیکن تکفیر میں اختلاف ہے ، فقہاءِ احناف میں عبدالرشید طاہر البخاریؒ نے لکھا ہے کہ " اگر کوئی شخص رافضی شیخینؓ کی شان میں گستاخی کرے اور لعنت بھیجے تو وہ کافر ہے" ۔(خلاصۃ الفتاوی : ۴/۳۸۱)
ملا علی قاریؒ نے بھی مشائخ سے اس طرح کی بات نقل کی ہے ؛ لیکن اس کو از روئے قواعد مشکل قرار دیا ہے ۔ (شرح فقہ اکبر ، ص : ۲۲۹)
فقہاءِ مالکیہ میں علامہ دردیرؒ نے ایسے شخص کو کافر تو قرار نہیں  دیا ہے ؛ لیکن صحابہؓ  اور اہل بیتؓ  کی تنقیص کرنے والوں  کو شدید تعزیر کا مستحق قرار دیا ہے ۔ (       الشرح الصغیر : ۴/۴۴۴)
علامہ صاوی مالکیؒ نے نقل کیا ہے کہ قول معتمد یہ ہے کہ خلفائے اربعہؓ کی اہانت یا تکفیر کی وجہ سے کفر کا فتویٰ تو نہیں لگایا جائے گا ؛البتہ تعزیر کی جائے گی ؛ لیکن سحنون مالکیؒ نے خلفائے اربعہؓ کو کافر کہنے والوں  کو مرتد قرار دیا ہے ، نیز صاویؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو تمام صحابہؓ  کی تکفیر کرے وہ بالاتفاق کافر ہے ۔ (       حاشیہ صاوی علی الشرح الصغیر : ۴/۴۴۴ - ۴۴۳                          (۱۷)       نہایۃ السول للأسنوی ، ص : ۳۶۷)
غرض اگر از راہِ احتیاط صحابیؓؓ کی شان میں گستاخی کو کفر قرار نہ دیا جائے تب بھی اس کے قریب بہ کفر ہونے میں شبہ نہیں  ؛ اسی لئے سلف نے مشاجرات صحابہؓ  پر گفتگو کرنے سے بھی منع کیا ہے ، افسوس کہ گذشتہ نصف صدی میں بعض ایسی کتابیں  منظر عام پرآئی ہیں  جن میں ناحق صحابہؓ  کے اختلاف کو زیر بحث لایاگیا ہے اور آخر یہ بحث کہیں  تو ناصبیت کے درجہ کو پہنچ گئی ہے اور کہیں  اس کی سرحد تشیع سے جاملی ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا عمل خدمت نہیں  بلکہ بد خدمتی ہے اور ایک ایسی راہ پر بے احتیاطی سے قدم رکھنا ہے ، جو شیشہ سے زیادہ نازک اور بال سے زیادہ باریک ہے ۔فإلی اللہ المشتکی وبہ التوفیق ۔



مشاجراتِ صحابہ پر اصولی حکم:
مسلمانوں کو ہمیشہ سے تاریخی کتب کے جھوٹے قصوں اور واقعات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے، اگر کوئی عقل مند اس فرمانِ باری تعالی پر غور کرے:

( تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ )

ترجمہ: یہ امت ہے جو گزر گئی جو اس نے کمایا اس کیلئے وہی ہے اور تمہارے  لئے وہ ہے جو تم نے کمایا، اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔
[ البقرة:134]

اور پھر اس آیت پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو لگام دے، اور فتنوں سے متعلقہ گفتگو میں مت پڑے، تاکہ اللہ کے سامنے جب جائے تو اس نے کسی پر ظلم نہ کیا ہو، نبوی خانوادے سے محبت کرے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی روا رکھے تو وہ اپنے رب کے ہاں متقی شخص ہو گا اور اس کا دین بھی صحیح سلامت ہوگا۔

مسلمانوں کے ما بین ہونے والے اختلافات اور جھگڑوں کو بیان کرنے والے عام طور پر راوی  جھوٹے ، نا معلوم  اور کذاب ہوتے ہیں، اس لیے ان راویوں کی جانب سے بیان کردہ روایات پر بالکل بھی اعتماد نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ وہ عادل راوی نہیں ہیں، جبکہ کسی کی بات پر اعتماد کرنے کیلیے اللہ تعالی نے اصول بیان فرمایا کہ:
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ )
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو [مبادا] تم کسی قوم کو لا علمی کی بنا پر کوئی گزند پہنچاؤ اور پھر تمھیں اپنے کیے پر ندامت اٹھانی پڑے۔
[ الحجرات:6]

انہی جھوٹے قصہ گو راویوں میں ابو مخنف [ميزان الاعتدال:3/419] 

تاریخِ اسلامی میں جھوٹے راویوں کا کردار

صرف تاریخِ طبری میں موجود جھوٹے دروغ گو راویوں کا اجمالی خاکہ یہ ہے:
حمد بن سائب کلبی کی بارہ (۱۲) روایات، حشام بن محمد کلبی کی پچپن (۵۵) روایات ،محمد بن عمر کی چار سو چالیس (۴۴۰)روایات ،سیف بن عمر تمیمی کی سات سو (۷۰۰)روایات ، ابو مخنف لوط بن یحی ٰ کی چھ سو بارہ (۶۱۲)روایات، ہیثم بن عدی کی سولہ(۱۶) روایات،محمد بن اسحاق بن سیار (یسار)(۲۵) کی ایک سو چونسٹھ (۱۶۴)روایات ہیں،ان سب کی روایات کا مجموعہ جن کو موٴرخ طبری نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے وہ انیس سو ننانوے( ۱۹۹۹) ہے۔
[تفصیل کے لیے دیکھیے : مدرسة الکذابین فی روایة التاریخ الإسلامي و تدوینیہ، ص:۴۵۔۴۷،دار البلاغ الجزائر]

اصول وقاعدہ:
صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں جو آیات وارد ہیں، وہ قطعی ہیں، جو احادیث صحیحہ ان کے متعلق وارد ہیں، وہ اگرچہ ظنّی ہیں؛ مگر ان کی اسانید اس قدر قوی ہیں کہ تواریخ کی روایات ان کے سامنے ہیچ ہیں؛ اس لیے اگر کسی تاریخی روایت میں اور آیات واحادیث صحیحہ میں تعارض واقع ہوگا تو تواریخ کو غلط کہنا ضروری ہوگا۔
علامہ ابن تیمیہؒ  نے ’’الصارم المسلول‘‘میں قاضی ابویعلیٰ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ: ’’رضٰی‘‘ اللہ تعالیٰ کی صفتِ قدیم ہے، وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انھیں کے لیے فرماتا ہے، جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کی وفات اسبابِ رضا پر ہوگی۔
۔۔۔ میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔ [سورۃ طٰہٰ:52] یعنی وہ لوگوں کی خوش بختی اور بدبختی میں خطا نہیں کرتا اور ان کے ثواب اور عقاب کو نہیں بھولتا۔[تفسیر مدارک]
 علامہ ابن فورکؓ فرماتے ہیں:
          ’’ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابۂ کرامؓ کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات  کہ وہ حضرات آپس کے ان اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے، بالکل یہی معاملہ صحابہؓ کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے۔‘‘
          اور حضرت محاسبیؒ فرماتے ہیں کہ:
          ’’جہاں تک اس خونریزی کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں ہمارا کچھ کہنا مشکل ہے؛کیونکہ اس میں خود صحابہؓ کے درمیان اختلاف تھا اور حضرت حسن بصریؒ سے صحابہؓ کے باہمی قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایاکہ
          ’’ یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہؓ موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملہ پر تمام صحابہؓکااتفاق ہے، ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف ہے، اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔‘‘


آثارِ صحابہؓ :
صحابہؓ  نے جس طرح اسلام کی تبلیغ واشاعت اور دین حق کی صیانت وحفاظت میں رسول اللہ  کی بھر پور نصرت و حمایت کی اور آپ  کی رفاقت کا حق ادا فرمایا ، اسی طرح رسول اللہ  کی صحبت بافیض سے گہری بصیرت ، دین کا فہم صحیح اور عمیق علم بھی حاصل کیا اور اس اعتبار سے بھی ان کا درجہ و مقام بعد میں آنے والی امت سے بدرجہا بلند و بالا ہے ، اسی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا کہ صحابہؓ  کے فتاوی اور اقوال و افعال کی قانونی حیثیت کیا ہے ؟

خصوصیات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
 عام افراد امت سے صحابہ کرام کو بچند وجوہ خاص امتیاز حاصل ہے :
(۱)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے اللہ تعالی نے ان کو ایسا بنادیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی خلاف شرع ان سے کوئی کام یا گناہ صادر ہونا انتہائی شاذ ونادر تھا ان کے اعمال صالحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دین اسلام پر اپنی جانیں اور مال واولاد سب کو قربان کرنا اور ہر کام پر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضیات کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لیے ایسے مجاہدات کرنا جس کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی ایسے بےشمار اعمال صالحہ اور فضائل وکمالات سے صحابہ کرام مزین تھے۔
(۲)اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعظمت اور ادنی گناہ کے صدور کے وقت ان کا خوف وخشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا جاری کرنے کے لیے پیش کردینا اور اس  پراصرار کرناروایات حدیث میں معروف ومشہور ہے، بحکم حدیث توبہ کرلینے سے گناہ مٹادیا جاتا ہے اور ایسا ہوجاتا ہے کہ کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔
(۳)قرآنی ارشاد کے مطابق انسان کی حسنات بھی اس کی سیئات کا خود بخود کفارہ ہوجاتی ہیں:

"اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ"۔             

(ھود:۱۱۴)

(۴)اقامت دین اور نصرت اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی عسرت اور تنگدستی اور مشقت ومحنت کے ساتھ معرکے سر کرنا کہ اقوام عالم میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔
(۵)ان حضرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہونا کہ باقی امت کو قرآن وحدیث اور دین کی تمام تعلیمات  انھیں حضرات کے ذریعے پہنچی ان میں خامی اور کوتاہی رہتی تو قیامت تک دین کی حفاظت اور دنیا کے گوشہ گوشہ میں اشاعت کا کوئی امکان نہیں  تھا ،اس لیے حق تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت وبرکت سے ان کے اخلاق وعادات ان کی حرکات وسکنات کو دین کے تابع بنادیا تھا ،ان سے اول تو گناہ صادر ہی نہ ہوتا تھا اور اگر عمر بھر میں کبھی شاذ ونادر کسی گناہ کا صدور ہوگیا تو فوراً اس کا کفارہ توبہ استغفار اور دین کے معاملہ میں پہلے سے زیادہ محنت ومشقت اٹھانا ان میں معروف ومشہور تھا۔
(۶)حق تعالی نے ان کو اپنے نبی کی صحبت کے لیے منتخب فرمایا اور دین کا راستہ اور رابطہ بنایا تو ان کو خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا کہ اسی دنیا میں ان سب حضرات کی خطاؤں سے درگزر اور معافی اور اپنی رضا اوررضوان کا اعلان کردیا اور ان کے لیےجنت کا وعدہ قرآن میں نازل فرمادیا۔
(۷)نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ہدایت فرمائی کہ ان سب حضرات سے محبت وعظمت علامت ایمان ہے اور ان کی تنقیص وتوہین خطرہ ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتکلیف دینےکا سبب ہے۔
ان وجوہات کی بنیاد پر امت کا یہ عقیدہ قرار پایا کہ ان کی طرف کسی عیب وگناہ کی نسبت نہ کریں ان کی تنقیص وتوہین کے شائبہ سے بھی گریز کریں۔
قرآن کریم نے ان کی مدح وثنا اور ان سے اللہ تعالی کے راضی ہونے کا بھی اعلان فرمادیا جو عفو درگزر سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے ،جن حضرات کے گناہوں اور خطاؤں کو حق تعالی معاف کرچکا تو اب کسی کو کیا حق ہے کہ ان گناہوں اور خطاؤں کا تذکرہ کرکے اپنا نامہ اعمال سیاہ کرے اور اس مقدس گروہ پر امت کے اعتقاد واعتماد میں خلل ڈال کر دین کی بنیادوں پر ضرب لگائے، اس لیے سلف صالحین نے عموماً ان معاملات میں زبان کو بند رکھنے اور خاموش رہنے کو ایمان کی سلامتی کا ذریعہ قرار دیا۔

(ملخص  مقام صحابہ:۱۱۱۔۱۱۴، از مفتی محمدشفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ)


صحابہ اورمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
صحابہ کے نزدیک آپ      اپنی جان،اپنے مال ومتاع ،اپنی عزت وآبرو اوراپنی اولاد،عزیزواقارب سے زیادہ محبوب وعزیز تھے،جس کی متعدد مثالیں موجود ہیں،جن میں سے دو مثالوں کو یہاں نقل کیا جارہا ہے:
 حضرت ابوبکر صدیق ؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب العمر صحابی ہیں،اسلام قبول کرنے اور اس کی نشر واشاعت کی محنت میں جان توڑ کوششوں کے کرنے کو دیکھ کر مکہ کے سرداروں کو چپ نہ رہا گیا،حتی کہ ایک دن آپ کو خوب زدوکوب کیا گیا ،عقبہ بن ربیعہ ان کے پاس آکر اپنے پیوند والے جوتوں سے انھیں مارنا شروع کیا،حالت یہ ہوئی کہ ناک پر گہرا زخم آیا،چہرہ پہچانانہ جاتا تھا۔
بہت دیر بعد ان کے قبیلہ بنو تمیم کوعلم ہوا،کپڑے میں لپیٹ کر گھر لایا گیا، صحت یابی کی امید یں ٹوٹ چکی تھیں،اللہ کے فضل نے دستگیری کی اور آپؓ دن کے آخری حصہ میں باہوش ہوئے،آنکھ کھلی اور زبان بولنے کے لائق ہوئی تو سب سے پہلا بول یہی تھا کہ:رسول اللہ       کیسے ہیں؟پاس بیٹھے لوگوں نے کوسنا اور برا بھلا کہنا شروع کیا کہ:جن کی وجہ سے یہ مصیبت آئی ہے،ہوش آیا توپھران ہی کا تذکرہ؟ان کی والدہ "امّ خیر" سے یہ کہتے ہوئے :صبح سے کچھ نہیں کھائے ہیں ،کچھ کھلا پلا دینا،لوگ اٹھ کر چلے گئے،جب گھر میں کوئی نہ رہا تو اماں نے کھانے کے لیے اصرار کیا؛لیکن حضرت ابوبکرؓکی بس ایک رٹ تھی کہ :رسول اللہ       کیسے ہیں؟جب والدہ نے ام جمیل بن خطاب ؓ کو بلالائیں انھوں نے بتایا کہ آپ       بہ خیر وعافیت ہیں،پوچھا کہاں پر ہیں؟ کہا:دار ابن ارقم میں تشریف فرماں ہیں،یہ سن کرحضرت ابو بکر ؓنے فرمایا:بخدا! میں اس وقت تک کچھ کھا پی نہیں سکتا جب تک کہ رسول اللہ       سے ملاقات نہ کرلوں،جب سارے لو گ اپنے اپنے گھر جاچکے ،تو دونوں نے سہارا دے کر رسول اللہ کی خدمت میں پہنچایا۔

(البدایہ:۳/۳۰)

حضرت عروہ بن زبیر ؓکی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ قریش نے حضرت خبیبؓ کو خریدا؛ تاکہ جنگ بدر میں اپنے مقتول آباء کے بدلے میں ان کو قتل کریں؛پھر جب پھانسی دینے کے لیے تختۂ دار پر چڑھا یا اور پوچھا کیا تم یہ گواراکرو گے کہ محمد       تمھاری جگہ ہوں،حضرت خبیب ؓ بول پڑے :خدائے عظیم کی قسم ! مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے قتل  کے بدلےمیں میرے آقا کے قدمِ مبارک میں کوئی کانٹا چبھے ۔

       حفاظتِ قرآن میں صحابہ کی خدمات
حضور اکرم       کے اس دنیا سے پردہ فرماجانے کے بعددور صحابہ میں حفاظت قرآن سے متعلق کی گئی محنتوں کا حاصل درج ذیل روایتوں سے ثابت ہوتا ہے:
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ یمامہ کے فوراً بعد حضرت ابو بکر نے ایک روز مجھے پیغام بھیج کر بلوایا،میں ان کے پاس پہنچا تو وہاں حضرت عمر بھی موجود تھے حضرت ابو بکر نے مجھ سے فرمایا کہ :عمر نے ابھی آکر مجھ سے یہ بات کہی ہے کہ جنگ یمامہ میں قرآن کریم کے حفاظ کی ایک بڑی جماعت شہید ہوگئی ،اور اگر مختلف مقامات پر قرآن کریم کے حافظ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں قرآن کریم کا ایک بڑا حصہ ناپید نہ ہوجائے ،لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپ اپنے حکم سے قرآن کریم کو جمع کروانے کا کام شروع کردیں  ،میں نے عمرؓ سے کہا کہ جو کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اسے ہم کیسے کریں، عمر نے جواب دیا کہ: خدا کی قسم یہ کام بہتر ہی بہتر ہے، اس کے بعد عمر مجھ سے  بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ مجھے بھی اس پر شرح صدر ہوگیا اوراب میری رائے بھی وہی ہے جو عمر ؓکی ہے ،اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے مجھ سے فرمایا :تم نوجوان اور سمجھ دارآدمی ہو ہمیں تمہارے بارے میں کوئی بدگمانی نہیں ہے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کتابت وحی کا کام بھی کرتے رہے ،لہٰذا تم قرآن کریم کی آیتوں  کو تلاش کرکے انہیں جمع کرو۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: خدا کی قسم اگر یہ حضرات مجھے کوئی پہاڑ ڈھونے کا حکم دیتے تو مجھ پر اتنا بوجھ نہ ہوتا جتنا جمع قرآن کے کام میں ہوا ،میں نے ان سے کہا کہ آپ وہ کام کیسے کررہے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ،حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ: یہ کام بہتر ہی بہتر ہے ،اس کے بعد حضرت ابو بکر بار بار مجھ سے یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا سینہ اسی رائے کے لیے کھول دیا جو حضرت ابو بکر وعمر (رضی اللہ عنہما) کی رائے تھی ،چنانچہ میں نے قرآنی آیات تلاش کرنا شروع کیا اور کھجور کی شاخوں پتھرکی تختیوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کریم کو جمع کیا۔

(صحیح بخاری،کتاب فضائل القرآن،حدیث نمبر:۴۶۰۳)

یہ اعلان عام کردیا گیا کہ جس شخص کے پاس قرآن کریم کی جتنی آیات لکھی ہوئی  موجود ہوں وہ حضرت زید کے پاس لے آئےاورجب کوئی شخص ان کے پاس قرآن کریم کی لکھی ہوئی کوئی آیت لے کر آتا تو وہ مندرجہ ذیل چار طریقوں سے اس کی تصدیق کرتے تھے۔
۱۔سب سے پہلے اپنی یادداشت سے اس کی توثیق کرتے ۔(حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ حافظ قرآن تھے)۔
۲۔پھر حضرت عمر بھی حافظ قرآن تھے اور روایات سے ثابت ہے کہ حضرت ابو بکر نے ان کو بھی اس کام میں حضرت زید کے ساتھ لگادیا تھا اور جب کوئی شخص کوئی آیت لے کر آتا تھا تو حضرت زید اور حضرت عمر دونوں مشترک طور پر اسے وصول کرتے تھے۔

(فتح الباری:۹/۱۱۔بحوالہ ابن ابی داؤد)

۳۔ کوئی لکھی ہوئی آیت اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی تھی جب تک دو قابل اعتبارگواہوں نے اس بات کی گواہی نہ دیدی ہو کہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی۔                          

(اتقان:۱/۶۰)

۴۔اس کے بعد ان لکھی ہوئی آیتوں کا ان مجموعوں کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا تھا جو مختلف صحابہ نے تیار کر رکھے تھے ۔

(البرہان فی علوم القرآن للزرکشی:۱/۲۳۸)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ کے پاس(حضرت ابو بکر کے تیار کرائے ہوئے)جو صحیفے موجود ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے،ہم ان کو مصاحف میں نقل کرکے آپ کو واپس کردیں گے ،حضرت حفصہ نے وہ صحیفے حضرت عثمان کے پاس بھیج دیے،حضرت عثمان نے چار صحابہ کی ایک جماعت بنائی، جو حضرت زید بن ثابت،حضرت عبداللہ بن زبیر،حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم پر مشتمل تھی،اس جماعت کو اس کام پر مأ مور کیا گیا کہ وہ حضرت ابو بکر کے صحیفوں سے نقل کرکے کئی ایسے مصاحف تیار کریں جن میں سورتیں بھی مرتب ہوں(اب یہی مصحف ساری دنیا میں قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے)
حفاظتِ حدیث میں صحابہ کی خدمات
 (۱)حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتا تھا قریش کے لوگوں نے مجھے منع کیا کہ تم ہربات رسول اللہ       سے لکھ لیا کرتے ہو؛ حالانکہ رسول اللہ       ایک انسان ہیں ان پر بھی خوشی اور غصہ دونوں حالتیں طاری ہوتی ہیں؛ چنانچہ میں لکھنے سے رُک گیا اور رسول اللہ       کے پاس جاکر یہ بات میں نے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگشتِ مبارک سے اپنے دہنِ مبارک کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:
"اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَايَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّاحَقٌّ"۔

(ابوداؤد،بَاب فِي كِتَابِ الْعِلْمِ، حدیث نمبر:۳۱۶۱)

تم لکھتے رہو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق بات ہی کا صدور ہوتا ہے۔
(۲)حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں مجھ سے زیادہ حدیثوں کا جامع کوئی نہیں ہے سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔

(بخاری شریف، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)

 (۵)فتح مکہ کے موقعہ پر حضور    نے خطبہ دیا تو ایک یمنی صحابی جن کا نام ابوشاہ تھا درخواست کی کہ ان کے واسطے یہ خطبہ لکھ دیا جائے ،حضور   سے اجازت چاہی گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا  "اُکْتُبُوْا لِاَبِیْ شَاہ" (ابوشاہ کے لیے لکھ دو)۔

(بخاری، کتاب العلم، باب کتابۃ العلم:۱/۲۲)

صحابۂ کرامؓ کے دور میں حدیث کے کئی مجموعے (جو ذاتی نوعیت کے تھے) تیار ہوچکے تھے، جیسے صحیفۂ صادقہ، صحیفۂ علی، کتاب الصدقہ، صحفِ انس بن مالک، صحیفۂ سمرہ بن جندب، صحیفۂ سعد بن عبادہ اور صحیفۂ ہمام بن منبہ رضی اللہ عنہم،  اس طرح تاریخ کی وہ کتاب یعنی حضور       کی زندگی عہدِ صحابہ میں بجائے ایک نسخہ کے ہزاروں نسخوں کی صورت میں موجود ہوچکی تھی اس اعتبار سے حفاظتِ حدیث کی ایک صورت خود صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تھی۔
 دورصحابہؓ میں فتوحات کے اسباب
دور صحابہ میں اسلام اتنی تیزی سے کیسے پھیلا،اس کی وجوہات اور اسباب کیا تھے ؟اس بات پر غور کیا جائے تو واضح طور پر معلوم ہوگا کہ صحابہ حضور اکرم        کے فیض یافتہ تھے،اشاعت اسلام کے خاطر صحابہ ہر طرح کی قربانی دیا کرتے تھے، عدل وانصاف ،مساوات،حفاظتِ امانت اس جیسے اور کئی اوصاف تھے،جس کی وجہ سے اسلام تیزی سے پھیلتا گیا،جن میں سے اہم اوراصولی اسباب حسب ذیل قراردیئے جاسکتے ہیں۔
(۱)صحابہ کرام دنیا کی فتح کے لئے اٹھے تو ان کے سامنے ایک خاص مقصد تھا جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مطمع نظر قرار دیا تھا، چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب آپ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو غزوہ خیبر میں علم فتح عنایت فرمایا تو ساتھ ساتھ یہ الفاظ بھی فرمائے۔
"لان یھدی اللہ بک رجلا خیرلک من حمر النعم"۔
اگر خدا تمہارے ذریعہ سے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
 (۲)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک خود صحابہ کرام کی فتوحات کا ایک عظیم الشان سبب تھی، محبت واطاعت نے صحابہ کرام کو اس شمع ہدایت کا پروانہ بنادیا تھا، اوروہ صرف جان دے کر اس سے جدا ہوسکتے تھے۔
(۳)صحابہ کرامؓ کی فتوحات کا ایک بڑا سبب مشقت اور تکلیف کوبرداشت کرنا تھا،صحابہ کرام نے فوجی خدمات کے ادا کرنے میں جس قدر جسمانی تکلیفیں اٹھائی ہیں، اس کی نظیر سے دنیا کی مذہبی اورسیاسی تاریخ خالی ہے۔
 صحابہ کرامؓ کو ایک غزوہ میں فی کس صرف ایک کھجور ملتی تھی جس کو وہ بچوں کی طرح چوس کے پانی پی لیتے تھے، درخت سےپتے جھاڑ لاتے تھے اوراس کو پانی میں بھگو کرکھالیتے تھے۔

(ابوداؤد، کتاب الاطعمہ، باب فی دواب البحر۔ مسلم، کتاب الایمان، باب من لقی اللہ بالایمان وہو غیر شاک فیہ داخل الجنتہ وحرم علی النار)

غزوہ احزاب میں سامان رسد اس قدر کم تھا کہ تمام صحابہؓ مٹھی بھر جو اورمتأثر ہوئی چربی پر بسر کرتے تھے۔
(بخاری، غزوہ خندق)
ایک غزوہ میں تمام صحابہ کے درمیان صرف ایک سواری تھی اس لیے پیدل چلتے چلتے تلووں میں سوراخ ہوگئے تھے ،پاؤں کے ناخن گر گر پڑتے تھے، مجبورا تمام صحابہ کو پاؤں میں چیتھڑے لپیٹنے پڑے، اسی مناسبت سے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع پڑگیا جس کے معنی چیتھڑے کے ہیں۔            

(مسلم، کتاب اللجہاد، باب غزوہ ذات الرقاع)

(۴)صحابہ کرام کی فتوحات کا ایک سبب ان کا بے باکانہ اقدام تھا، چنانچہ صحابہ کرام نے مدین میں داخل ہوناچاہا تو بیچ میں دریا پڑتا تھا، لیکن اس سیلاب کو یہ دریا کیوں کر روک سکتا تھا؟ تمام صحابہ نے دریا میں گھوڑے ڈالدئے اوراس کو عبور کرکے شہر میں داخل ہونا چاہا،ایرانیوں نے اس منظر کو دیکھا تو کہا کہ دیوان آمدند اوریہ کہہ کر شہر کو خالی کردیا۔      

(طبری،صفحہ نمبر:۲۴۴۱)

(۵)فتوحات کا ایک سبب صحابہ کا صبر واستقلال ہے۔
ایک بار رومیوں نے مسلمانوں کے مقابل میں ایک لشکر گراں جمع کیا ،حضرت ابو عبیدہ ابن جراحؓ نے حضرت عمرؓ کو اس خطرے کی اطلاع دی تو انہوں نے لکھا کہ مسلمان بندے پر جب کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو اس کے بعد خدا اس کو اطمینان وسکون عطافرماتا ہے ایک مشکل دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی، خدا وند تعالی قرآن پاک میں خود کہتا ہے۔
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ"۔

(آل عمران:۲۰۰)

مسلمانوں صبرکرو، باہم صبر کی تلقین کرو، استقلال اختیار کرو اورخدا سے ڈرو شائد تم کامیاب ہوجاؤ۔
(۶)اگر فوج میں ایک بددیانت سپاہی بھی شامل ہے تو وہ پوری فوج کی مادی اوراخلاقی طاقت کو بے اثر کرسکتا ہے، اس کو حرص و طمع ہر قسم کی منافقت پر آمادہ کرسکتی ہے، وہ ہر قسم کی نمک حرامی کرسکتا ہے، وہ درپردہ دشمن کا جاسوس بن سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ چند پیسوں پر اپنے فوجی مقصد کو قربان کرسکتا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا قول ہے۔
"مَا ظَهَرَ الْغُلُوْل فِي قَوْم قطّ إلا ألْقَى اللَّه فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْب"۔

(طبری،صفحہ نمبر:۲۶۹۶)

کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس میں خیانت پیدا ہو اور مرعوب نہ ہو جائے۔
لیکن صحابہ کرام نے قیصر و کسریٰ کے دربار کے سامان دیکھے ، دنیا نے ان کے آگے اپنا خزانہ اگل دیا، ان کے سامنے زر وجواہر کے انبار لگ گئے، تاہم ان میں کوئی چیز ان کی دیانت کو صدمہ نہ پہونچا سکی، ایران کی فتح کے بعد جب دربار خلافت میں کسریٰ کی مرصع تلوار اور زریں کمر بند آیا تو حضرت عمرؓ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ جس قوم نے ان چیزوں کو ہاتھ نہیں لگایا وہ ایک دین دار قوم ہے۔
یہی دیانت تھی جس نے صحابہ کے سامنے فتوحات کے دروازے کھول دیئے تھے

(طبری،صفحہ۲۶۹۰)

(۷)صحابہ کرام کے فتوحات کا ایک سبب ان کا مساویانہ طرز عمل تھا، اسلامی فوج میں اصول مساوات سے ذرہ برابر تجاوز نہیں کیا جاسکتا تھا، جنگ ایران میں حضرت ابو عبیدہؓ سپہ سالار تھے ان کے سامنے چند ایرانی رئیسوں نے نہایت لذیذ کھانے پیش کئے تو انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی طرح کے کھانوں سے تمام فوج کی ضیافت کی ہے؟ بولے نہیں فرمایا ابو عبیدہ بدترین شخص ہوگا اگر ایک قوم کوساتھ  لے کر آئے جو اس کے آگے اپنا خون بہائے اورپھر وہ اپنے آپ کو ان پر ترجیح دے وہ وہی کھائے گا جس کو سب لوگ کھاتے ہیں۔

(طبری ،صفحہ نمبر:۲۱۷۱)

اس مساوات نے خود مخالفین کو یقین دلادیا تھا کہ اس قوم کے سامنے اب ان کے عرش کے پائے متزلزل ہوجائیں گے، چنانچہ جب رومیوں سے جنگ ہوئی تو "قینقلاء" نے ایک عربی جاسوس کو بھیجا کہ مسلمانوں کی اخلاقی حالت کا پتہ لگائے اس نے پلٹ کر خبردی کہ یہ لوگ راتوں کو تو راہب رہتے ہیں اور دن کو شہسوار بن جاتے ہیں، اگر ان کے بادشاہ کا لڑکا بھی کوئی چیز چرائے تو اس کے ہاتھ کاٹ لیتے ہیں اوراگر زنا کرے تو اس کو سنگسار کرتے ہیں، یہ سن کر قینقلاء خود بول اٹھا کہ، اگریہ سچ ہے تو میرے لئے یہی بہتر ہے کہ میں پیوند خاک ہوجاؤں۔                

(ایضا،۲۱۲۶)

(۸)صحابہ کرام کی فتوحات کو ذمیوں کی ہمدردی اور اعانت نے بھی بہت کچھ ترقی دی،کیونکہ صحابہ کرام نے ذمیوں کے ساتھ جو سلوک کیا اس نے ان کو اس قدر گرویدہ کرلیا کہ جب یرموک میں رومیوں سے معرکہ آرائی ہوئی اور صحابہ کرام نے اس خیال سے کہ اب وہ ذمیوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کرسکتے، جزیہ و خراج کی کل رقم ان کو واپس کردی، تو اہل حمص نے کہا کہ تمہاری عادلانہ حکومت ہم کو اپنی قدیم ظالمانہ حکومت سے زیادہ پسند ہے ،ہم تمہارے عامل کے ساتھ ہر قل کی فوج سے معرکہ آرا ہوں گے یہودیوں نے تورات کی قسم کھا کر کہا کہ جب تک ہم مغلوب نہ ہوجائیں ہر قل کا عامل حمص میں داخل نہیں ہوسکتا۔        

(فتوح البلدان: ۱۴۴)

صحابہ کرام کے حریفوں کو اس طرز عمل نے خود یقین دلادیا تھا کہ یہ جو قوم معاہدہ کی اس قدر پابند ہو اس کی اخلاقی طاقت کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ،چنانچہ جب مسلمانوں کی فوج سے ایک رومی قیدی بھاگ نکلا اور ہر قل نے اس سے مسلمانوں کے حالات پوچھے تواس نے کہا کہ وہ لوگ دن کو شہسوار اوررات کو راہب ہوتے ہیں جس قوم سے معاہدہ کرتے ہیں اس سے ہر چیز بہ قمیت لے کر کھاتے ہیں اور جس شہر میں داخل ہوتے ہیں امن و امان کے ساتھ داخل ہوتے ہیں، ہر قل نے یہ سن کر کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو وہ میرے ان دونوں قدموں کے نیچے کی زمین تک کے مالک ہوجائیں گے۔                     

(طبری، صفحہ نمبر:۲۳۹۵)

(۹)صحابہ کرام کی فتوحات کا ایک سبب ان کا اتحاد تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی صحابہ کرام نے اس اتحاد کو قائم رکھا اور جب اس میں کسی قسم کا ضعف پیدا ہوا تو اس کی اصلاح کی، ایک بار حضرت عمرؓ کو خبر ہوئی کہ قریش نے مختلف مجلسیں قائم کرلی ہیں اور باہم مل جل کر نہیں بیٹھتے تو ان کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا کہ تم لوگوں نے مختلف مجلسیں قائم کرلی ہیں اوراب یہ امتیاز قائم ہوگیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں یہ فلاں کا دوست ہے ،خدا کی قسم یہ تمہارے مذہب کو، تمہارے شرف کو اورتمہارے تعلقات کوبہت جلد برباد کردے گا، اورگویا میں ان لوگوں کو دیکھ رہا ہوں جو اس کے بعد کہیں گے کہ یہ فلاں کی رائے ہے، اور اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں گے، ایک ساتھ نشست و برخاست کرو، کیونکہ وہ ہمیشہ تمہاری محبت کو قائم رکھے گا اوردشمن تمہارے اجتماع کو دیکھ کر مرعوب ہونگے۔

                           (طبری، صفحہ نمبر:۲۷۵۶)

(۱۰)ان اسباب کے علاوہ اور دوسرے اخلاقی اوصاف ؛مثلا مذہبی پابندی،وفا، صدق، اصلاح اور مواسات وغیرہ نے بھی صحابہ کرام کی فتوحات کو بہت کچھ ترقی دی، صحابہ کرام کی مادی طاقت کا غیر قوموں پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا تھا، چنانچ عجمیوں نے جب ان کے تیر دیکھے تو نہایت حقارت آمیز لہجے میں کہا کہ، یہ تکلے ہیں، لیکن ان کی روحانیت عجمیوں کے بڑے بڑے جنرلوں کو مرعوب کردیتی تھی، ایک بارمقام قادسیہ  میں صبح کی اذان ہوئی تو تمام صحابہ اس تیزی سے نماز ادا کرنے کے لئے دوڑے کہ ایرانیوں کو دھوکا ہوا کہ حملہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن جب رستم نے دیکھا کہ وہ ایک روحانی آواز پر اس قدر جلد جمع ہوجاتے ہیں تو خود بخود بول اٹھا کہ عمرمیرا کلیجہ کھا گیا۔

(طبری،صفحہ نمبر:۲۲۹۱)

اسی جنگ میں جب ایک ایرانی گرفتار ہوا اور اس نے مسلمانوں کے اخلاقی منظر کو دیکھا تو مسلمان ہوگیا اورکہا کہ جب تک تم میں یہ وفا، یہ صداقت ،یہ اصلاح ، یہ مواسات ہے تم لوگ شکست نہیں کھاسکتے۔                            

(طبری،صفحہ نمبر:۲۲۶۴)

(۱۱)بعض اوقات صحابہ کرام کی ظاہری شان و شوکت ،کچھ کم موثر اور ان کا ظاھری جوش وخروش بھی کچھ کم مرعوب کرنے والانہ تھا، حضرت حارث بن یزیدؓ بکری کا بیان ہے کہ میں مدینہ آیا تو دیکھا کہ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی ہے، سیاہ جھنڈیاں لہرا رہی ہیں، حضرت بلالؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لگائے ہوئے کھڑے ہیں، میں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا آپ       عمروبن العاصؓ کو ایک مہم پر روانہ فرما رہے ہیں۔                            

(ترمذی،تفسیر القرآن سورہ ذاریات)

(۱۲)صحابہ کرام کو ان کی مستعدی اورسرگرمی نے بھی غزوات میں بہت کچھ کامیاب کیا اوران کو مختلف جنگی خطرات سے محفوظ رکھا۔

              (ملخص سیر صحابہ:ج،۵ حصہ دوم:۱۷۶)

خلاصہ
دنیا کی محبت صحابہ کے دلوں سے نکل چکی تھی،صحابہ نے اشاعتِ اسلام کو اپنی زندگی کا مقصد بنالیا تھا، الغرض! جن صفات پر اللہ نے خلافت ارضی اور آخرت کی کامیابی کا وعدہ فرمایا تھا  وہ پورا ہوا،اس ارشاد خدا وندی پر غور کیجیے:
تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئےہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ،ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا،جس طرح اُن سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا اوران کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے  اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا (بس) وہ میری عبادت کریں میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں،اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے  تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے،اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی فرماں برداری کرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔

(النور:۵۵۔۵۶)

اس آیت میں خلافت ارضی کا وعدہ اللہ تعالی نے چند صفات  کے ساتھ مقید فرمایا ہے،یعنی ایمان،عمل صالح،خالص اللہ کی عبادت، ہر قسم کے شرک سے اجتناب،نمازوں کی پابندی،زکوۃ کی ادائیگی اور سب سے اہم بات رسول اللہ       کی اطاعت،یہ صفات صحابہ کرام میں مجموعی طور پر پوری طرح پائی جاتی تھیں،صحابہ کرام کی روحانیت مادیت پر غالب تھی،ان حضرات کو ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی رضا مقصود ہوتی تھی،اللہ تعالی نے دور صحابہ میں اپنے اس وعدہ کو پورا کردکھایا،اور قیامت تک اللہ کا یہ وعدہ برحق ہے کہ جب کبھی اور جن لوگوں میں یہ صفات پیدا ہوں گی اللہ تعالی ان کو صحابہ کی طرح کامیابی عطا فرمائے گا۔
سنتِ صحابہؓ
صحابہ کے اقوال وافعال وتقریرات جن کو اصطلاح میں اثر واٰثار سے بھی تعبیر کرتے ہیں نیز تابعین کے اقوال وافعال کو بھی اثر کہتے ہیں اور صحابہ وتابعین سے منقول امور کے درمیان فرق کے لیے سنت صحابہ کو حدیث موقوف اور تابعین سے منقول امور کو مقطوع کہتے ہیں اور حضور       کی سنت کو حدیث مرفوع کہتے ہیں۔
سنتِ صحابہ ؓ  کی اہمیت وحجت
سنت صحابہؓ کی اہمیت وحجت یعنی شرعی دلیل ہونا ان کی اس عظمت وشرف سے ظاہر ہے جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا؛ نیز حضور       سے اور ان کے ارشادات سے جن کا تعلق خاص طور سے اسی موضوع سے ہے ،حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم حضور       کی صحبت سے مستفید ہونے اور نزول وحی کے زمانے کو پانے کی وجہ سے شریعت کے احکام اور اللہ ورسول کے منشا ومراد سے سب سے زیادہ واقف اور اس کو سمجھنے والے تھے، اس لیے ان کے اقوال وافعال وتقریرات لائق اقتدا ہیں نیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ: صحابہ کے اختلاف کے باوجود جو آدمی ان کی کسی چیز کو اپنائے گاوہ میرے نزدیک ہدایت پر ہوگا،اس طرح کی اور کئی احادیث ہیں جن کی بنا پر ائمہ اربعہ اور تمام معتبر معتمد علماء  وفقہاء ان کے اقوال وفتاوی کو حجت بنانے اور ماننے پر متفق ہیں۔
(المدخل،فصل فی العالم والکیفیۃ نیتہ:۱/۱۰۴۔ اعلام الموقعین،وجوب اتباع الصحابۃ والتابعین:۴/۱۳۹۔ اصول الفقہ از عبیداللہ اسعدی،سنت صحابہ:۲۰۹)





اور اصولِ حدیث کے تحت ضعیف روایت مقبول ہوتی ہے: فضائل میں ، شواہد ملنے پر اور تلقی بالقبول (علماۓ امّت کا اس حدیث کے متن و مضمون کو قبول کرنے) کے سبب.
دیکھئے: ضعیف حدیث پر عمل کے شرائط








صحابہ رضی اللہ عنہم کی تعداد
ابوزرعہ رازی کا قول ہے کہ آپ کی وفات کے وقت جن لوگوں نے آپ کو دیکھا اورآپ سے حدیث سنی ان کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی(تجرید:/۳) جن میں مرد اور عورت دونوں شامل تھے اوران میں ہر ایک نے آپ سے روایت کی تھی (مقدمہ اصابہ :۳) ابن فتحون نے ذیل استیعاب میں اس قول کو نقل کرکے لکھا ہے کہ ابوزرعہ نے یہ تعداد صرف ان لوگوں کی بتائی ہے جو رواۃ حدیث میں تھے، لیکن ان کے علاوہ صحابہؓ کی جو تعداد ہوگی وہ اس سے کہیں زیادہ ہوگی (ایضاً) بہرحال اکابر صحابہؓ کے نام ان کی تعداد اوران کے حالات تو ہم کو صحیح طورپر معلوم ہیں، لیکن ان کے علاوہ ہم اورصحابہ کی صحیح تعداد نہیں بتاسکتے،اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ خود صحابہؓ کے زمانہ میں مشاغل دینیہ نے صحابہ کو یہ موقع نہ دیا کہ وہ اپنی تعداد کو محفوظ رکھیں (مقدمہ اسد الغابہ :۳) اس کے علاوہ اکثر صحابہ ؓ صحرانشین بدوی تھے، اس لیے ایسی حالت میں ان کا گمنام رہنا ضروری تھا۔                            

(مقدمہ اصابہ :۴)

صحابہ  رضی اللہ عنہم کازمانہ
صحابہ کرام کا مبارک زمانہ ابتدائے بعثت سے شروع ہوکر پہلی صدی کے آخر تک ختم ہوگیا اوراس طرح رسول اللہ       کی معجزانہ پیشین گوئی پوری ہوئی جو ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
"فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ"۔

(بخاری، کتاب موقیت الصلوٰۃ،بَاب السَّمَرِ فِي الْفِقْهِ وَالْخَيْرِ بَعْدَ الْعِشَاءِ،حدیث نمبر:۵۶۶)

ترجمہ:جو لوگ آج روئے زمین پر موجود ہیں ان میں سے سو سال کے بعد کوئی باقی نہ رہے گا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت کا مطالعہ
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین دین کی بنیاد ہیں، دین کے اول پھیلانے والے ہیں، انہوں نے حضور اقدس       سے دین حاصل کیا اور ہم لوگوں تک پہنچایا، یہ وہ مبارک جماعت ہے کہ جس کو اللہ جل شانہ نے اپنے نبی پاک       کی مصاحبت کے لیے چنا اور اس  بات کی مستحق ہے کہ اس مبارک جماعت کو نمونہ بناکر اس کا اتباع کیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے جسے دین کی راہ اختیار کرنی ہے تو ان کی راہ اختیار کرے جو اس دنیا سے گزر چکے ہیں اور وہ حضرت محمد       کے صحابہ ہیں جو اس امت کا افضل ترین طبقہ ہے ،قلوب ان کے پاک تھے، علم ان کا گہرا تھا، تکلف اور بناؤٹ ان کے اندر نہیں تھی،اللہ جل شانہ نے انھیں اپنے نبی کی صحبت اور دین کی اشاعت کے لیے چنا تھا،  اس لیے ان کی فضیلت کوپہچانو ان کے نقش قدم پر چلو اور طاقت بھر ان کے اخلاق اور ان کی سیرتوں کو مضبوط پکڑو ،اس لیے کے وہی ہدایت کے راستے ہیں۔

(مشکوۃ،باب اعتصام بالکتاب والسنۃ ،حدیث نمبر:۱۹۳،ازرزین)

انسان کے فرائض میں سب سے مقدم اور سب سے اہم فرض یہ ہے کہ اخلاق انسانی کی اصلاح کی جائے ،علم اور فن،تہذیب وتمدن،صنعت وحرفت تمام چیزیں دنیا میں آئیں اور آتی رہیں گی؛ لیکن انسانیت کو تہذیب سے آراستہ کرنا بہت ضروری تھا اس لیے دنیا میں جب سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو بھیجا گیا تو اسی ذمہ داری کے ساتھ بھیجا گیا پھر ان کے بعد آنے والے بڑے بڑے پیغمبر اسی سلسلے کو یعنی تہذیب نفوس کو آگے بڑھاتے رہے اس کے بعد سب سے آخر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کمالات کا مجموعہ بناکر بھیجا گیا اور  پھر اعلان کردیا گیا کہ :

"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاۭ"۔

(المائدہ: ۳)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کومکمل کردیا ،تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر (ہمیشہ کے لیے) پسند کرلیا۔
اب انسانوں کے اخلاق سدھارنے کے لیے قیامت تک کوئی نیا نبی آنے والا نہیں ہے،اگر کوئی انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مطالعہ کرنا چاہے یا آپ کی تربیت کا انداز دیکھنا چاہے ،آپ کے اقوال وافعال اور اعمال کا نمونہ دیکھنا چاہےتو وہ صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہے،صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ  ایمانی کیفیت کو بڑھاتا ہے، زندگی کے اصول سکھاتا ہے،عقائد ،عبادات ،معاشرت اورمعاملات انسان کے درست ہوتے ہیں، سنت اور بدعت کی پہچان ہوتی ہے۔
اس زمانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صحابہ کرام کی مقدس زندگی کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا جائے جس سے لوگوں میں شوق عمل پیدا ہو اور اس مثال کو پیش نظر رکھ کر لوگ خود بخود اپنے عقائد واعمال کی طرف مائل ہوں۔

(خلاصہ سیر الصحابہ:۵/۷)

 جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی کو پہچاننے کے لیے حضرات صحابہ ہی کی زندگی معیار ہوسکتی ہے کیونکہ یہی وہ مقدس جماعت ہے جس نے براہ راست  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے استفادہ کیا اور آپ کی نبوت کی روشنی بغیر کسی پردہ اور بغیر کسی واسطے کے صحابہ کرام پر پڑی ان میں جو ایمان کی حرارت اور نورانی کیفیت تھی وہ بعد والوں کو میسر آنا ممکن نہ تھی، اس لیے قرآن کریم نے صحابہ کرام کی پوری جماعت کی تقدیس وتعریف فرمائی ہے اور جماعت صحابہ کو مجموعی طور پر "رضی اللہ عنہم ورضو عنہ" فرمایا یعنی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، صحابہ کرام راستہ پانے والے اور راستہ دکھانے والے ہیں ،اسی غرض سے آئندہ صفحات میں صحابہ کرام  رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی سیرت کو پیش کیا جارہا ہے ۔


مقام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین

اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی معصوم نہیں ہے اور کوئی فرد یا جماعت کسی غیررسول کی عصمت کا مدعی ہے تو وہ اپنے دعویٰ میں کاذب اور جھوٹا ہے۔ اس لیے جماعتِ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے علاوہ ہرانسان سے صواب وخطا اور خیروشر کا صدور ہوسکتا ہے؛ البتہ بعض خدا کے ایسے سعید بندے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی پر خیروصلاح کا غلبہ ہوتا ہے، اسی غلبۂ خیرکی بناپر انھیں نیک، صالح، ولی وغیرہ محترم ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، جس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ زلّات وسیئات سے بالکلیہ پاک ہیں۔

اس کے بالمقابل کچھ نابکار ایسے بھی ہیں جومجموعۂ شرور ومعاصی اور خزینۂ فسق وفساد ہوتے ہیں، ان کے فسق وفساد کی یہ کثرت انھیں ظالمین ومفسدین کے زمرے میں پہنچادیتی ہے، بایں ہمہ ان کا بھی دامنِ حیات خیروصلاح سے یکسر خالی نہیںہوتا۔

صلحائے امت کی حیات وسوانح پر بحث وتحقیق کے وقت ان کی بعض لغزشوں اور بشری کمزوریوں کے پیش نظر ان کے جملہ محاسن ومزایا پر خطِ تنسیخ کھینچ دینا اور ان کے سارے حسنات وخیرات کا انکار کرکے انھیں ظالمین ومفسدین کی صف میں کھڑا کردینا علم ودیانت کے سراسر منافی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ظالمین ومفسدین کے چند گنے چنے اچھے کاموں کو سامنے رکھ کر ان کی زندگی کے سارے سیاہ کارناموں سے آنکھیں بند کرکے انھیں صلحاء واولیاء کی جماعت میں شامل کردینا کسی طرح بھی درست نہیں ہوگا؛ بلکہ ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمال خیر وشر کی قلت وکثرت کے اعتبار سے معاملہ کیا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں أمَرَنا رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن نُنْزِلَ الناسَ مَنازِلَہم آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیں حکم تھا کہ ہم لوگوں کو ان کے درجات ومراتب میں رکھیں۔

گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی

بحث ونظر اور تحقیق و تبصرہ کا یہ ایسا لازمی اصول ہے جس سے غفلت اور بے اعتباری ایک محقق ومبصر کو دائرہ بحث وتحقیق سے نکال کر افراط وتفریط اور تنقیص وتضلیل کی صف میںپہنچادیتی ہے، جس سے خود اس کی ذات مجروح اور علمی کاوشیں بے سود ہوکر رہ جاتی ہیں۔

پر ایک محقق کی علمی دیانت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ کسی شخصیت پر بحث کرنے کے لیے اس سے متعلق جو درست، صالح، معتبر اور مستند مواد ہیں انھیں کو کام میں لائے، خود تراشیدہ، غیرمقبول اور گری پڑی باتوں کو بنیاد بناکر اس کے بارے میںکوئی رائے قائم کرنا نہ صرف اس شخصیت پر ظلم ہے؛ بلکہ خود علم وتحقیق کے ساتھ مذاق کرنا ہے، محقق کا یہ رویہ بھی اسے پایۂ اعتبار سے ساقط اور علمی خیانت سے متہم کردیتا ہے، باری تعالیٰ عز اسمہ کا ارشاد ہے یا أیہا الذین آمنوا إنْ جائکم فاسِقٌ بِنَبَائٍ فَتَبَیَّنُوا جب غلط کار دروغ گو کوئی خبر دے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ ایک دوسری آیت میں ہے إذا ضَرَبْتُمْ فی الأرض فَتَبَیَّنُوا، اس لیے صحیح، سقیم، قوی، ضعیف کی اچھی طرح چھان بین کے بعد ہی کوئی فیصلہ درست سمجھا جائے گا۔

عام اسلامی شخصیات سے ہٹ کر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اور ان کے مقام ومرتبہ پر بحث وکلام کے لیے محض تاریخی روایات پر انحصار واعتماد بھی ایک محقق کو راہِ اعتدال اور راہِ صواب سے دور کردیتا ہے؛ کیونکہ تاریخ کو ہرگز یہ حیثیت حاصل نہیں ہے کہ اس کی شہادت سے کتاب وسنت کے مسلمات کے خلاف استدلال فراہم کیاجائے؛ البتہ خدا اور عام امت کے درمیان دین خالص کے صحیح تصور کے لیے اگر کوئی قابلِ اعتماد واسطہ ہے تو وہ صحابۂ کرام کی برگزیدہ اور مقدس جماعت ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے یہ ساتھی ہی آپ کے پیغام اور آپ کی تعلیمات کو پورے عالم میں پہنچانے والے ہیں، صحابۂ کرام کی اس داعیانہ حیثیت کا اعلان خود خدائے علیم وخبیر نے اپنے رسول … کی زبانی یوں فرمایا ہے قُلْ ہٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْا إِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ الآیۃ آپؐ اعلان کردیں کہ یہ میرا راستہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف، سمجھ بوجھ کر میں اور میرے ساتھی۔ مطلب یہ ہے کہ کسی اندھی تقلید کی بنیاد پر نہیں؛ بلکہ حجت وبرہان اور بصیرت ووجدان کی روشنی میں، میں اور میرے اصحاب دینِ توحید کی دعوت دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نورِ بصیرت عطا فرمایا تھا، آپ کے فیض صحبت سے ہر صحابی کا دل ودماغ اس نور سے روشن ہوگیا تھا اور دعوت الی اللہ علی وجہ البصیرۃ میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست وبازو اور رفیقِ کار بن گئے تھے، حدیث پاک ’’ما أنا علیہ وأصحابی‘‘ میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابۂ کرام کے اسی مرتبۂ بلند کو بیان فرمایا ہے، اس لیے صحابہ کی سیرت درحقیقت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جز ہے، عام شخصیات ورجال کی طرح انھیں صرف کتب تاریخ کی روشنی میں نہیں؛ بلکہ قرآن وحدیث اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ میں دیکھاجائے گا۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

ومن توقیرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم توقیر اصحابہ وبرہم معرفۃ حقہم والقتداء بہم وحسن الثناء علیہم والاستغفار لہم والإمساک عما شجر بینہم ومعاداۃ من عاداہم والاضراب عن أخبار المؤرخین وجہلۃ الرواۃ۔ (الاسالیب البدیعۃ ص۸)

ترجمہ: آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر میں سے ہے صحابہؓ کی تعظیم کرنا، ان سے حسن سلوک کرنا، ان کے حق کو پہچاننا، ان کی پیروی کرنا، ان کی مدح وستائش کرنا، ان کے واسطے استغفار کرنا، ان کے باہمی اختاف کے ذکر سے (زبان وقلم کو) روکے رکھنا، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا مورخین اور جاہل راویوں کی (ان کی خلاف شان) روایتوں کے نقل وبیان سے باز رہنا۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی قدس سرہٗ اپنے ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں:

’’صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میںجو آیات وارد ہیں وہ قطعی ہیں، جو احادیث صحیحہ ان کے متعلق وارد ہیں وہ اگرچہ ظنی ہیں؛ مگر ان کی اسانید اس قدر قوی ہیں کہ تواریخ کی روایات ان کے سامنے ہیچ ہیں؛ اس لیے اگر کسی تاریخی روایت میںاور آیات واحادیث صحیحہ میں تعارض واقع ہوگاتو تواریخ کو غلط کہنا ضروری ہوگا‘‘۔ (مکتوبات شیخ الاسلام، ج۱، ص۲۴۲ مکتوب ۸۸)

حضرات صحابہ کا یہ تقدس وامتیاز کسی انسانی شخصیت وجماعت کا عطاکردہ نہیں ہے؛ بلکہ انھیں یہ رتبۂ بلند خود مالک کائنات وخالقِ دوجہاں کے دربار سے مرحمت ہوا ہے، ذیل میں چند آیات ملاحظہ فرمائیں آپ پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح آشکارا ہوجائے گی:

(۱) کنتم خیر أمۃٍ أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر وتؤمنون باللّٰہ۔ (آل عمران:۱۱۰)

ترجمہ: تم لوگ بہترین جماعت ہو جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے پیدا کی گئی ہے، تم نیک کاموں کو کرتے اور بری باتوں سے منع کرتے ہو، اللہ پر ایمان لاتے ہو۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا: ’’اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو انتم فرماتے اس وقت خطاب کی وسعت میں پوری امت مرحومہ براہ راست داخل ہوجاتی؛مگر اللہ تعالیٰ نے کنتم فرمایا اور صحابہ کی تخصیص فرمادی، اب رہے امت کے باقی لوگ تو وہ جیسے اعمال کریںگے وہ بھی ان کے تابع ہوکر اس خیریت وافضلیت کے مصداق ہوجائیںگے۔ (اخرجہ ابنجریر وابوحاتم عن السدّی)

حضرت فاروق اعظمؓ نے آیت پاک کا مصداقِ اولین صحابۂ کرامؓ کو قرار دیا ہے اور امت کے دیگر وہ افراد جو آیت پاک میں مذکورہ صفات کے حامل ہوںگے انھیں ثانوی درجہ میں شامل کیا ہے اور عربی زبان کے قواعد کی رو سے یہ بات اس طرح سمجھائی ہے کہ أنتم خیر أمۃ جملہ اسمیہ ہے جو ثبوت نسبت کو بتاتا ہے، تو أنتم سے خطاب عام ہوگا جس کے عموم و وسعت میں موجود وغیرموجود سب داخل ہوجائیںگے؛ لیکن جب ضمیر ’’أنتم‘‘ پر ’’کان‘‘ فعل ماضی داخل کردیاجائے تو وقوع وحدوث کا معنی پیدا ہوجائے گا، اس صورت میں کنتم کے مخاطب صرف موجودین ہوںگے، یعنی نزول آیت کے وقت جو امت موجود ہے وہی اس کی مصداق اولین ہوگی، یہ آیت صاف طورپر بتارہی ہے کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بلا تخصیص جماعتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد سب سے افضل ہیں، علامہ سفارینی نے شرح عقیدۃ الدرۃ المضیئہ میں اسے جمہور امت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاء کے بعد صحابۂ کرامؓ افضل الخلائق ہیں، ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز میںکون افضل ہے توانھوں نے فرمایا لا نعدل بأصحابہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم أحدًا (الروضۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ ابن تیمیہ ص۴۰۵)

امام ابن حزم اپنی مشہور کتاب الفصل میں لکھتے ہیں ولا سبیل الیٰ أن یلحق أقلہ درجۃ أحد من أہلِ الأرض کوئی شکل نہیں ہے کہ صحابۂ کرامؓ میں سے کم رتبہ کے درجہ کو بھی کوئی (غیرصحابی) فرد بشر پہونچ سکے۔

اب اگر کسی تاریخی روایت سے صحابۂ کرامؓ کی تنقیص لازم آتی ہو تو وہ اس نص قطعی کے معارض ہونے کی بنا پر لازمی طور پر مردود ہوگی۔

(۱) لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح وقاتل اولٰئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا وکلا وعد اللّٰہ الحسنٰی۔(الحدید:۱۰)

ترجمہ: برابر نہیں تم میں جس نے خرچ کیا فتح مکہ (یا صلح حدیبیہ) سے پہلے اور جنگ کی ان لوگوں کا درجہ بڑا ہے، ان لوگوں سے جنھوں نے خرچ کیا اس کے بعد اور جنگ کی اور سب سے وعدہ کیا اللہ نے خوبی کا۔

سورئہ انتیاء میں الحسنی کے متعلق ارشاد ہے : إِنَّ الَّذِینَ سَبَقَتْ لَہُم مِّنَّا الْحُسْنٰی أُوْلَئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُونَ جن لوگوں کے واسطے ہماری طرف سے حسنیٰ کا وعدہ ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیںگے۔ اس آیت پاک سے معلوم ہوا کہ فرق مراتب کے باوجود سارے صحابہ جنتی ہیں یہی بات سورئہ توبہ میں ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے۔

(۲) وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ وَالأَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوہُم بِإِحْسَانٍ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ وَأَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِی تَحْتَہَا الأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا أَبَدًا ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ (آیت: ۱۰۰)

ترجمہ: اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو لوگ ان کے پیرو ہیں نیکی کے ساتھ اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے تیار کررکھے ہیں واسطے ان کے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں، رہا کریں انھی میں ہمیشہ یہی ہے تیری کامیابی۔

آیت میں صحابۂ کرامؓ کو دو طبقوں میں تقسیم کیاگیا ہے: ایک اولین سابقین کا اور دوسراان کے بعد والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کردیاگیا ہے کہ اللہ ان سب سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیںاور ان کے لیے جنت کا مقامِ دوام ہے۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہ لکھتے ہیں: ’’جو شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے جب اس کے علم میں یہ بات آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو دوامی طور پر جنتی فرمایاہے تو اب ان کے حق میں جتنے بھی اعتراضات ہیں سب ساقط ہوگئے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ فلاں بندہ سے فلاں وقت میںنیکی اور فلاں وقت میں گناہ صادر ہوگا اس کے باوجود جب وہ اطلاع دے رہے ہیں کہ میں نے اسے جنتی بنادیا تو اسی کے ضمن میں اس بات کا اشارہ ہوگیا کہ اس کی تمام لغزشیں معاف کردی گئی ہیں، لہٰذا اب کسی کا ان مغفور بندوں کے حق میں لعن وطعن اور برا بھلا کہنا حق تعالیٰ پر اعتراض کے مرادف ہوگا؛ اس لیے کہ ان پر اعتراض اور زبان طعن دراز کرنے والا گویا یہ کہہ رہا ہے کہ پھر اللہ نے اسے جنتی کیسے بنادیا‘‘ الخ
(فضائل صحابہ واہل بیت، مجموعہ رسائل ص۲۰۶، مطبوعہ انجمن حمایت الاسلام لاہور ۱۹۶۷ء)

اور علامہ ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں قاضی ابو یعلی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفتِ قدیمہ ہے کہ وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انھیں کے لیے فرماتا ہے جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کی وفات موجباتِ رضا پر ہوگی۔ (معارف القرآن، ص۱۰۶، ج۸) لہٰذا اگر کوئی تاریخی روایت اس نص قطعی کے خلاف ہوگی تو وہ لائق اعتناء نہ ہوگی۔

ہُوَ الَّذِیَ أَیَّدَکَ بِنَصْرِہِ وَبِالْمُؤْمِنِینَ وَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِی الأَرْضِ جَمِیعًا مَّا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ وَلٰـکِنَّ اللّہَ أَلَّفَ بَیْنَہُمْ إِنَّہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ۔ (الأنفال:۶۲-۶۳)

ترجمہ: اللہ ہی نے تجھ کو زور دیا اپنی مدد کا اورمسلمانوں کا اورالفت ڈال دی ان کے دلوں کے درمیان اگر تو خرچ کردیتا جو کچھ زمین میںہے سارا نہ الفت ڈال سکتا ان کے دلوں میں؛ لیکن اللہ نے الفت پیداکردی ان کے درمیان بیشک وہ زور آور، حکمت والا ہے۔

اسلام سے پہلے عرب میںجدال وقتال کا جو بازار گرم تھا اس سے کون ناواقف ہے، ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائل عرب باہم ٹکراتے رہتے تھے اور بسا اوقات ان کی قبائلی جنگوں کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا، باہمی عداوت اور شقاق وعناد کے اس دور میں رحمۃ للعالمین توحید و معرفت اور اتحاد واخوت کا عالم گیر پیغام لے کرمبعوث ہوئے کیا دنیا کی کوئی طاقت تھی جو ان درندہ صفت، جہالت پسند لوگوں میںمعرفت الٰہی اور حبِ نبوی کی روح پھونک کر سب کو ایک دم باہمی اخوت والفت کی زنجیر میں جکڑ دیتی، بلاشبہ روئے زمین کے سارے خزانے خرچ کرکے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کیاجاسکتا تھا، یہ خدائی طاقت وحکمت کا کرشمہ ہے کہ کل تک جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور عزت وآبرو کے بھوکے تھے ان کے درمیان اس طرح سے برادرانہ اتحاد واتفاق پیدا کردیا کہ حقیقی بھائیوں سے زیادہ ایک دوسرے سے محبت والفت کرنے لگے صحابۂ کرامؓ کی اس باہمی الفت ومحبت کا ذکر سورئہ آل عمران میں اس طرح کیاگیا ہے:

وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَآئً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً۔ ( آل عمران: ۱۰۳)

ترجمہ: یادکرو اللہ کا احسان اپنے اوپر جب کہ تھے تم آپس میں دشمن پھر اللہ نے الفت پیدا کردی تمہارے دلوں میں۔

آیت پاک محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم (الفتح) (محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحیم ومہربان ہیں) بھی حضرات صحابہ کی باہمی رحمت والفت کی خبر دے رہی ہے۔

امام قرطبی اور عامۂ مفسرین لکھتے ہیں ’’والذین معہ‘‘ میں بلا تخصیص تمام صحابۂ کرامؓ داخل ہیں، اس آیت پاک میں تمام صحابہؓ کو آپس میں رحیم اور مہربان اور فضل خداوندی کا طالب بتایا گیا ہے۔

ان نصوص قطعیہ کے برخلاف اگر تاریخی روایتیں یہ شہادت دیں کہ صحابہ آپس میں ذاتی پرخاش اور بغض وعناد رکھتے تھے تو یہ شہادتِ زور ہوگی جو کسی عدالت میں بھی قابل قبول نہیں ہے، رہا معاملہ صحابہ کے باہمی مشاجرات اور ا ٓپسی لڑائیوں کا تواس کا منشاء بغض وعداوت اور شقاق وعناد قطعی نہیں تھا؛ بلکہ اس میں ہر فریق اپنے نقطئہ نظر اور اجتہاد کے مطابق مسلمانوں کی مصالح اور راہ حق ورضائے الٰہی کے حصول میں کوشاں تھا، یہ الگ بات ہے کہ ایک فریق اپنے اجتہاد میں چوک گیاجس پر وہ قابلِ گرفت نہیں؛ بلکہ مستحق اجر ہے، چنانچہ علامہ سفارینی لکھتے ہیں:

التخاصم والنزاع والتقاتل والدفاع الذی جری بینہم کان عن اجتہاد قد صدر من کل واحد من رؤس الفریقین ومقصد سائغ لکل فرقۃ من الطَّائفتین وان کان المصیب فی ذلک للصواب واحدہما۔۔۔۔۔ غیر ان للمخطی فی الاجتہاد اجرًا وثوابًا۔ (مقام صحابہ، ص۱۰۴)

جو نزاع وجدال اور دفاع وقتال صحابہ کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بنا پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیاتھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا اگرچہ اس اجتہاد میں ایک ہی فریق صواب پر ہے۔۔۔۔ مگر اپنے اجتہاد میں خطا کرجانے والے کے لیے بھی اجر وثواب ہے۔

(۴) لَا تَجِدُ قَوْماً یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُولَہٗ وَلَوْ کَانُوا آبَائَہُمْ أَوْ أَبْنَائَہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیرَتَہُمْ أُوْلَئِکَ کَتَبَ فِی قُلُوبِہِمُ الإِیمَانَ وَأَیَّدَہُم بِرُوحٍ مِّنْہُ (المجادلۃ:۲۲)

ترجمہ: تو نہیں پائے گا کسی قوم کو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پرایمان رکھتے ہیں کہ وہ دوستی رکھیں ان جیسے لوگوں سے جو اللہ اور رسول اللہ کے مخالف ہیں خواہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا اپنے گھرانے ہی کے کیوں نہ ہوں ان لوگوں کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان کواپنے فیض غیبی سے مدد کی ہے۔

حضرت شاہ عبدالقادر مفسر دہلویؒ اس آیت کے ذیل میںلکھتے ہیں، یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے (وغیرہ) ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے ۔۔۔۔ (جنت ورضوان الٰہی) ملتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان یہی تھی کہ اللہ ورسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی۔ الحاصل حضرات صحابہ اسی آیت پاک کے مصداق اولین ہیں؛ چنانچہ امام قرطبی، زمخشری، حافظ ابن کثیر وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس آیت کے تحت حضرت ابوعبیدہ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عمر فاروق وغیرہ رضوان اللہ علیہم کے بے لوث مخلصانہ واقعات بیان کیے ہیں۔

اب اس قرآنی اطلاع کے برعکس تاریخ کی روایتیں یہ خبر دیں کہ صحابہ خدا اور رسولِ خدا کے مقابلے میں اپنے بیٹے عزیز واقارب اور قبیلے وگھرانے کو اولیت دیتے تھے تو یہ روایتیں ساقط الاعتبار ہوںگی انھیں کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔

(۵) وَلَکِنَّ اللَّہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہُ فِی قُلُوبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ أُوْلَئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَنِعْمَۃً وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ (الحجرات:۷-۸)

ترجمہ: لیکن اللہ نے محبوب بنادیا تمہارے لیے ایمان کو اوراس کو مزین کردیا تمہارے دلوں میں اور نفرت ڈال دی تمہارے دلوں میںکفر، گناہ اور نافرمانی کی ایسے ہی لوگ نیک راہ پر ہیں اللہ کے فضل واحسان سے اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے، یعنی اللہ سب کی استعداد وصلاحیت کو جانتا ہے اوراپنی حکمت سے ہر ایک کو وہ مقام ومرتبہ مرحمت فرماتا ہے جو اس کی استعداد کے مناسب ہو۔

یہ آیت ناطق ہے کہ بلا استثناء تمام صحابہؓ کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر، گناہ اور نافرمانی سے نفرت و کراہیت من جانب اللہ راسخ کردی گئی تھی اور ’’الیکم‘‘ میں حرف ’’الٰی‘‘ سے مستفاد ہوتا کہ یہ ایمان کی محبت اورکفر وفسق سے نفرت انتہا درجے کو پہنچی ہوئی تھی؛ کیونکہ ’’الیٰ‘‘ عربی میں انتہا وغایت کے معنی بیان کرنے کے لیے وضع کیاگیا ہے، نیز آیت پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابۂ کرامؓ سے جو لغزشیں صادر ہوتی ہیں اس کی بنیاد ضعفِ ایمان اور فسق وعصین کا (نعوذ باللہ) استحسان نہیں؛ بلکہ بہ تقاضائے بشریت ان کا صدور ہوگیا ہے، جس سے ان کے رشد پر کوئی حرف نہیں آسکتا؛ اس لیے ان کی معدودے چند لغزشوں کی بنا پر انھیں تنقید وتنقیص کا نشانہ بنانا کسی طرح بھی درست نہیں ہے؛ چنانچہ علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

ما ذکر عن الصحابۃ من السیئات کثیر منہ کذب وکثیر منہ کانوا مجتہدین فیہ لٰکن لا یعرف کثیر من الناس وجہ اجتہادہم ما قدِّر انہ کان فیہ ذنب من الذنوب لہم فہو مغفور لہم، امام بتوبۃ واما بحسنات ماحیۃ، و اما بمصائب مکفرۃ واما بغیر ذلک، فانہ قد قام الدلیل الذی یجب القول بموجبہ انہم من اہل الجنۃ، فامتنع ان یفعلوا ما یوجب النار لا محالۃ وإذا لم یمت احدہم علی موجب النار لم یقدح ذلک فی استحقاقہم للجنۃ (المنتقیٰ ص ۲۱۹-۲۲۰)

بعض صحابہ کی طرف جو برائیاں منسوب کی گئی ہیںان میں بیشتر خودساختہ ہیں اور ان میں بہت سی ایسی ہیں جن کو انھوں نے اپنے اجتہاد (سے حکم شرعی سمجھ کر) کیا؛ مگر لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ معلوم نہ ہوسکی اورجن کو گناہ ہی مان لیا جائے توان کا وہ گناہ معاف ہوگیا، یہ عفو ومغفرت یاتو توبہ کی بنا پر ہے یا ان کی (کثرت) حسنات نے ان گناہوں کو مٹادیا، یا دنیاوی مصائب ان کے لیے کفارہ بن گئیں، علاوہ ازیں دیگر اسباب مغفرت بھی ہوسکتے ہیں؛ کیونکہ قرآن وسنت سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوچکا ہے؛ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامۂ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے، تو جب حضرات صحابہ میں سے کوئی ایسی حالت میں وفات نہیں پائے گا جو دخول جہنم کا ذریعہ ہے تو اب کوئی چیز ان کے استحقاق جنت میںمانع نہیںہوسکتی۔

صحابہ کے ایمان واخلاص، دیانت وعدالت پر اس قرآنی شہادت کے بعد کسی تاریخی مفروضہ کی بنیاد پر صحابۂ کرام کے اسلام کو استسلام سے تعبیر کرنا ایمان بالقرآن سے میل کھاتا ہے؟ پرستارانِ تاریخ و دلدادگان سید قطب وطہٰ حسین کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس سے رشتہ توڑرہے ہیں اور کس سے ناطہ جوڑ رہے ہیں

بقول دشمن پیمانِ دوست بشکستی

ببیں از کہ بریدی و باکہ پیوستی

قرآن مقدس کی مندرجہ بالا آیات بصراحت ناطق ہیں کہ

(۱) بغیر کسی استثناء کے تمام صحابہؓ جنتی ہیں۔

(۲) سارے صحابہؓ کو اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا وخوشنودی حاصل ہے۔

(۳) جملہ اصحابِ رسول آپس میں برادرانہ الفت واخوت رکھتے تھے۔

(۴) سبھی حضرات صحابہ اللہ ورسول کے معاملے میں نسبی وقبائلی عصبیت سے بالکل پاک تھے۔

(۵) ہر ایک صحابی کا دل ایمان واخلاص کی محبت سے مزین اور کفر، فسق اورنافرمانیوں سے متنفر تھا۔
صحابہ کا مقام حدیث کی نظر میں

کتاب الٰہی کی ان واضح تصریحات کے ساتھ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی پیش نظررکھیں تاکہ بات بالکل منقح ہوجائے اورکسی تاویل باطل سے آپ شکوک وشبہات میں گرفتار نہ ہوں۔

آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے:

(۱) خیرالناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم، فلا ادری ذکر قرنین او ثلاثۃ الخ۔ (السنۃ الامالکا جمع الفوائد، ص۲۰۱، ج۲ طبع الہند)

ترجمہ: سب سے بہترمیرا زمانہ ہے پھر انکا جو اس سے متصل ہیں، پھر ان کا جو اس سے متصل ہیں،راویِ حدیث کہتے ہیں مجھے یاد نہیں رہا کہ ’’ثم الذین یلونہم‘‘ آں حضرتؐ نے دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔

اس حدیث پاک سے متعین طور پر معلوم ہوگیا کہ عہد نبوی کے بعد سب سے بہتر زمانہ صحابۂ کرام کا ہے ’’اصابہ‘‘ کے مقدمہ میں مشہور شارح حدیث حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں۔ وتواتر عنہ صلی اللّٰ علیہ وسلم خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم الخ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک متواتر ہے جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔

(۲) عن جابر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اللّٰہ اختار اصحابی علی الثقلین سوی النبیین والمرسلین، رواہ البزار بسند رجالہ موثقون۔

ترجمہ: آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے میرے اصحاب کو انبیاء ومرسلین کے علاوہ تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔

یہ حدیث پاک اس بات پر نص ہے کہ تمام حضرات صحابہ اللہ تعالیٰ کے منتخب وبرگزیدہ ہیں، جماعت انبیاء کے بعد گروہ جن وانس میں سے کوئی بھی ان کے مقام ومرتبہ کو نہیں پاسکتا، شرف صحابیت ایک ایسا شرف ہے جس کے مقابلے میں ساری فضیلتیں ہیچ در ہیچ ہیں؛ اسی لیے حضرت سعید بن زید (یکے از عشرئہ مبشرہ) قسم کھاکر فرماتے ہیں:

واللّٰہ لشہد رجل منہم مع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغبر فیہ وجہہ خیر من عمل احدکم ولو عمّر عمر نوح (جمع الفوائد، ص۲۰۲، ج۲)

ترجمہ: خدا کی قسم صحابہ میں سے کسی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی جہاد میں شرکت جس سے اس کا (صرف) چہرہ غبار آلود ہوجائے غیرصحابی میں سے ہر فرد کی عمر بھر کی عبادت وعمل صالح سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر نوحؑ مل جائے۔

صحابی رسول آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

(۳) اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوہم غرضا من بعدی فمن احبہم فبحبی احبہم ومن ابغضہم فببغضی ابغضہم ومن اذاہم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ فیوشک ان یاخذہ (للترمذی جمع الفوائد، ص۲۰۱، ج۲)

ترجمہ: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملہ میں میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع) کا نشانہ نہ بنائو؛ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اورجس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اورجس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی اور جواللہ کوایذا پہونچانا چاہے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں پکڑ لے۔

آیت کریمہ فِیْ بُیُوتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ الخ کی تفسیر میں امام قرطبی نے آںحضرت … کی درج ذیل حدیث ذکر کی ہے جس سے حدیث بالا کی تائید ہوتی ہے۔

(۴) من احب اللّٰہ عز وجل فلیحبنی ومن احبنی فلیحب اصحابی ومن أحب أصحابی فلیحب القرآن ومن احب القرآن فلیحب المساجد الخ (الجامع لاحکام القرآن ج۲۱ ص ۲۶۶)

ترجمہ: جو اللہ سے محبت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ مجھ سے محبت رکھے اورجومجھ سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ میرے اصحاب سے محبت رکھے اور جو صحابہ سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ قرآن سے محبت رکھے اور جو قرآن سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ مساجد سے محبت رکھے۔

کوئی انتہا ہے حضراتِ صحابہؓ کی رفعت مقام کا کہ سید المرسلین، محبوب رب العالمین، خلاصۂ کائنات، فخرموجودات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرامؓ کی محبت کو اپنی محبت بتارہے ہیں اور ان سے بغض وعناد کو اپنے ساتھ بغض وعناد قرار دیتے ہیں، جس کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنیٰ درجہ کی محبت بھی ہوگی وہ اصحابِ رسول کی شان میں لب کشائی کی جرأت کرسکتا ہے؟ اورجب کہ آپؐ نے صاف فرمادیا ہو کہ دیکھو میرے بعد میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور انھیں اپنے اعتراضات کا ہدف نہ بنانا۔

ایک حدیث میں آپ … کا ارشاد ہے لا تسبوا اصحابی فمن سبہم فعلیہ لعنۃ اللّٰہ والملائکۃ والناس اجمعین لاتقبل اللّٰہ منہ صرفا ولا عدلا (شرح الشفاء للملا علی قاری، ص۷۵۵، ج۲)

ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں: اذا رائیتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللّٰہ علی شرکم (الترمذی جمع الفوائد، ص۲۰۱، ج۲)

ان حادیث پاک پر بطور خاص ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو مؤرخین کی گری پڑی روایتوں اور ان کے طبع زاد مفروضوں کو بنیاد بناکر صحابۂ کرامؓ کے اخلاق واعمال کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے یا اپنے بڑے بوڑھوں کے بارے میں قطعاً گوارہ نہیں کرسکتے تو کیا (نعوذ باللہ) صحابۂ کرام میں فروتر اور پست تھے؟ (العیاذ باللہ)

(۵) عن انس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مثل اصحابی فی امتی کالملح فی الطعام لا یصلح الطعام الا بالملح (مشکوۃ شریف بحوالہ شرح السنۃ، ص۵۵۴)

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں میرے اصحاب کی وہی حیثیت ہے جو نمک کی کھانے میں ہے کہ بغیر نمک کا کھانا پسندیدہ نہیں ہوتا۔

مطلب یہ ہے کہ جس طرح عمدہ سے عمدہ تر کھانا بے نمک کے پھیکا اور بے مزہ ہوتا ہے بعینہٖ یہی حال امت کا ہے کہ اس کی ساری صلاح وفلاح اوراس کا تمام تر شرف ومجد صحابہ کی مقدس جماعت کا مرہون احسان ہے اگر اس جماعت کو درمیان سے الگ کردیاجائے توامت کے سارے محاسن وفضائل بے حیثیت اور غیرمعتبر ہوجائیںگے۔

الحاصل اس حدیث میں واضح اشارہ ہے کہ امت مسلمہ کے دین کی صحت ودرستگی کے لیے حضرات صحابہؓ کے اقوال واعمال حجت وسند اورمعیار کا درجہ رکھتے ہیں۔

ان حادیث سے معلوم ہوا کہ

(۱) عہد نبوی کے بعد صحابہ کا دور سارے زمانہ سے بہتر ہے۔

(۲) حضرات صحابہؓ اللہ کے منتخب وبرگزیدہ ہیں، جماعت انبیاء کے علاوہ جن وبشر کاکوئی بھی فرد ان کے مقام ومرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔

(۳) صحابہؓ کی محبت محبت رسول کی علامت اور ان سے بغض وعناد رسول اللہ … سے بغض وعناد کی نشانی ہے، صحابہؓ کو ایذا پہونچانا خود نبی پاکؐ کو اذیت پہنچانے کے مرادف ہے۔

(۴) حضرات صحابہؓ کو تنقیدوتنقیص کا ہدف بنانا ناجائز وحرام ہے۔

(۵) امت کا سارا شرف ومجد صحابہؓ کے ساتھ وابستگی پر موقوف ہے اور ان کا قول وعمل امت کے لیے حجت ہے۔

آیات قرآنی اور احادیث نبوی کے نصوص سے ثابت شدہ صحابہؓ کے اسی امتیازی مقام ومرتبہ کو ایک دو گمراہ فرقوں کے علاوہ ساری امت ہمیشہ سے مانتی چلی آرہی ہے، ان کے حق میں طعن و تشنیع، سب وشتم اور اس کی عیب جوئی اور اہانت کو اکبر کبائر میں شمار کیاجاتا رہا ہے۔

چنانچہ امام نوویؒ لکھتے ہیں:

(۱) واعلم ان سب الصحابۃ حرام من فواحش المحرمات سواء لابس الفتنۃ منہم او غیرہ۔ (شرح مسلم، ص۳۱۰، ج۲)

ترجمہ: اچھی طرح سمجھ لو کہ صحابہ کا نازیبا الفاظ سے ذکر کرنا حرام ہے اور بڑے حراموں میں سے خواہ وہ صحابی باہمی جنگ کے فتنہ میں مبتلا ہوئے ہوں یا اس سے بری ہوں۔

حضرت امام مالکؒ کا قول مشہور شارح حدیث ملا علی قاریؒ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:

(۲) من شتم احدا من اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابابکر او عمر او عثمان او علیا او معاویۃ او عمرو بن العاص فان قال شاتمہم کانوا علی ضلال او کفر قتل وان شتم بغیر ہذا نکل نکالا شدیدا (شرح الشفاء، ص۷۵۵، ج۲)

ترجمہ: جس نے اصحاب رسول میں سے کسی کو،مثلاً ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، معاویہؓ، عمرو بن عاصؓ کو گالی دی اگرانھیں گالی دینے والا یہ کہتا ہے کہ وہ کفر وضلالت پر تھے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے تو اسے سخت عبرتناک سزا دی جائے گی۔

عظیم المرتبت محدث امام ابوزرعہ الرازیؒ فرماتے ہیں:

(۳) اذا رأیت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاعلم انہ زندیق وذٰلک ان الرسول حق، والقرآن حق وما جاء بہ حق وانما روی الینا ذٰلک کلہ الصحابۃ وہؤلاء یریدون ان یجرحوا شہودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ والجروح بہم اولیٰ وہم زنادقۃ۔ (الاصابۃ، ص۱۱، ج۱)

ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ میں سے کسی کی تنقیص کررہا ہے تو سمجھ لو کہ یہ زندیق ہے اوریہ اس لیے ہے کہ رسول حق ہیں، قرآن حق ہے، قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے حق ہے اور ان سب کو ہم تک پہنچانے والے صحابہؓ ہیں تو یہ عیب جویان صحابہؓ چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں اور واسطہ کو مجروح کردیں؛ تاکہ وہ کتاب وسنت کو باطل اور بے اصل ٹھہرادیں، لہٰذا یہی بدگومجروح ہونے کے زیادہ مستحق ہیں یہ لوگ تو زندیق ہیں۔

امام ذہبیؒ اپنی مشہور کتاب ’’الکبائر‘‘ میںلکھتے ہیں:

(۴) من ذم اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بشيء وتتبع عثراتہم وذکر عیبا واضافہ الیہم کان منافقا الخ۔ (ص۲۳۹)

ترجمہ: جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی کسی نوع کی مذمت کی اور ان کی عیب جوئی اور لغزشوں کی تلاش کے پیچھے لگا رہا یاکسی عیب کا ذکر کرکے اس کی نسبت صحابہ کی جانب کردی تو وہ منافق ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ کا قول ان کے تلمیذ المیمونی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔

(۵) سمعت احمد یقول مالہم ولمعاویۃ نسأل اللّٰہ العافیۃ وقال لی یا ابا الحسن اذا رأیت احدا یذکر اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بسوء فاتہمہ علی الاسلام۔ (مقام صحابہ، ص۷۷)

ترجمہ: میں نے امام احمد سے فرماتے ہوئے سنا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حضرت معاویہؓ کی برائی کرتے ہیں ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہؓ کا ذکر برائی سے کررہا ہے تو اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو۔

حضرات ائمہ ومحدثین کے ان اقوال کا حاصل یہی ہے کہ حضرات صحابہؓ کی اہانت، برائی اور ان کے اوپر طعن وتشنیع عظیم تر گناہ کبیرہ ہے، کسی مخلص سچے مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ رسول خدا کے مخلص و جاں نثار ساتھیوں کو ہدف ملامت اورنشانۂ مذمت بنائے ایسی شنیع جسارت کوئی زندیق، منافق اور مشکوک الاسلام ہی کرسکتا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ)

محقق ابن ہمامؒ اسلامی عقائد پر اپنی جامع کتاب مسایرہ میںلکھتے ہیں:

واعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ وجوبا باثبات العدالۃ لکل منہم والکف عن الطعن منہم والثناء علیہم (ص۱۳۲)

ترجمہ: اور اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر صحابی کے لیے عدالت ثابت کرتے ہوئے تمام صحابہؓ کا تزکیہ کیا جائے، ان پر طعن سے باز رہا جائے اور ان کی تعریف کی جائے۔

علامہ ابن تیمیہؒ نے شرح عقیدئہ واسطیہ میںاس عقیدہ کی تصریح ان الفاظ میںکی ہے:

عن اصول اہل السنۃ سلامۃ قلوبہم والسنتہم لاصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (ص۴۰۳)

ترجمہ: اہل سنت کے اصول عقائد میںسے ہے کہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہؓ کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں۔

عقائد کی معروف کتاب شرح مواقف میں سید شریف جرجانی رقم طراز ہیں۔

المقصد السابع انہ یجب تعظیم الصحابۃ کلہم والکف عن القدح فیہم لان اللّٰہ عظیم واثنیٰ علیہم فی غیر موضع فی کتابہم (عقیدہ سے متعلق یہ تینوں حوالے ’’مقام صحابہ‘‘ از مفتی محمد شفیعؒ سے ماخوذ ہیں)

ترجمہ: ساتواں مقصد اس بیان میں ہے کہ تمام صحابہ کی تعظیم اوران پر طعنہ زنی سے رکنا واجب ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ عظیم ہے اور اس نے اپنی کتاب میں ان حضرات کی بہت سے مقامات میں تعریف بیان کی ہے۔




مقام صحابہ قرآن کریم کی روشنی میں




صحابی کی تعریف

علماء متقدمین ومتاخرین نے صحابی کی تعریف میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر اس صاحب ایمان شخص کو صحابی کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد عربی صلى الله عليه وسلم سے شرف ملاقات حاصل کیا اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی،اور ظاہر ہے کہ وہ نابینا حضرات یا صحابہ کے نومولود بچے جو آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی خدمت مبارکہ میں لائے گئے ان سب کو ملاقات حاصل ہے لہٰذا بلا تردد جماعت صحابہ میں ان کا شمار ہوگا۔

اس طرح کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کا پاکیزہ گروہ اس زمرہ میں شما رکیا جاتا ہے جس کے بارے میں علماء اہل سنت والجماعت اور ائمہ سلف کا بالاتفاق قول ہے کہ سب کے سب نجوم ہدایت ہیں کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے: اَصْحَابی کالنُّجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم. (ترمذی) گروہ صحابہ کا وجود، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے معجزات میں سے ایک عظیم الشان معجزہ ہے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوب صلى الله عليه وسلم کے عالمگیر پیغام رسالت کو خطہٴ ارضی کے ہرگوشہ تک اس کی حقیقی روح کے ساتھ پھیلایا اور اس طرح آنحضور صلى الله عليه وسلم کا رحمة للعالمین ہونا بھی ثابت کردیا اور وما ارسلناک الا کافة للناس (سورہ فاطر:۲۴) کی تفسیر بھی دنیا کے سامنے پیش کردی گئی۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پاکیزہ برگزیدہ جماعت کے ذریعہ اسلام کا تعارف بھی کرادیاگیا اور رسول عربی صلى الله عليه وسلم کی سیرتِ طیبہ اور سنت کو عام کیاگیا اگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو الگ رکھ کر ان کوعام انسانوں کی طرح خاطی و عاصی تصور کرکے غیر معتبر قرار دیا جائے گا تو اسلام کی پوری عمارت ہی منہدم ہوجائے گی نہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی رسالت معتبر رہے گی نہ قرآن اور اس کی تفسیر اور حدیث کا اعتبار باقی رہے گا کیونکہ اللہ کے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو کچھ من جانب اللہ ہم کو عطاء کیا ہے وہ ہم تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کی معرفت پہنچا ہے خود معلم انسانیت محمد عربی نے اپنے جاں نثار اطاعت شعار صحابہ کی تربیت فرمائی تھی۔ صحابہ کرام نے اوّل اوّل، زبان رسالت سے آیات اللہ کو ادا ہوتے سنا تھااور کلام رسول کی سماعت کی تھی پھر دونوں کو دیانت وامانت کے ساتھ اسی لب ولہجہ اور مفہوم ومعانی کے ساتھ محفوظ رکھا اور بحکم رسول عربی صلى الله عليه وسلم اس کو دوسروں تک پہنچایا کیونکہ حجة الوداع کے موقع پر آنحضور صلى الله عليه وسلم نے ان کو تبلیغ کا مکلف بنایا تھا... بَلِّغُوْ عَنِّی وَلَوْ آیةً (بخاری ومسلم) میری جانب سے لوگوں کو پہنچادو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درسگاہ نبوت میں حاضری کا مکلف ایک خاص حکم کے ذریعہ بنایا تھا کہ ہر وقت ایک متعدبہ جماعت اللہ کے رسول کی خدمت میں اسلام سیکھنے کیلئے حاضر رہے اس لئے کہ کب کوئی آسمانی حکم اور شریعت کا کوئی قانون عطا کیا جائے، لہٰذا ایک جماعت کی آپ کی خدمت میں حاضری لازمی تھی اور ان کو بھی حکم تھا کہ جو حضرات خدمت رسالت میں موجود نہیں ہیں ان تک ان نئے احکام اور آیات کو پہنچائیں۔

وَمَا کَانَ الْمُوٴْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَافَّةً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْہُم طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَہُم اِذَا رَجَعُوْا اِلَیْہِمْ لَعَلََّہُمْ یَحْذَرُوْنَ (سورہ توبہ:۱۲۲)

ترجمہ: اور مسلمانوں کو نہیں چاہئے کہ سب کے سب چلے جائیں۔ تو کیوں نہ ہر فرقہ میں سے نکلی ایک جماعت جو مہارت ورسوخ حاصل کرتی دین میں اور تاکہ ڈرائیں اپنی قوم کو جب کہ وہ لوٹ کر آئیں ان کے پاس ہوسکتا ہے کہ وہ ڈریں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام نے جس انداز میں زندگی گزاری ہے وہ عین اسلام اور اتباع سنت ہے اور ان کے ایمان کے کمال وجمال، عقیدہ کی پختگی، اعمال کی صحت و اچھائی اور صلاح وتقویٰ کی عمدگی کی سند خود رب العالمین نے ان کو عطا کی ہے اور معلم انسانیت صلى الله عليه وسلم نے اپنے قولِ پاک سے اپنے جاں نثاروں کی تعریف وتوصیف اور ان کی پیروی کو ہدایت وسعادت قرار دیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی انسان تھے ان سے بھی بہت سے مواقع پر بشری تقاضوں کے تحت لغزشیں ہوئی ہیں لیکن لغزشوں، خطاؤں، گناہوں کو معاف کرنے والی ذات اللہ کی ہے اس نے صحابہ کرام کی اضطراری، اجتہادی خطاؤں کو صرف معاف ہی نہیں کیا بلکہ اس معافی نامہ کو قرآن کریم کی آیات میں نازل فرماکر قیامت تک کیلئے ان نفوس قدسیہ پر تنقید و تبصرہ اور جرح و تعدیل کا دروازہ بند کردیا اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے ایمان کی صداقت اور اپنی پسندیدگی کی سند بھی بخشی ہے اس کے بعد بھی اگر کوئی فرد یا جماعت صحابہ کرام پر نقد و تبصرہ کی مرتکب ہوتی ہے تواس کو علماء حق نے نفس پرست اور گمراہ قرار دیا ہے ایسے افراد اور جماعت سے قطع تعلق ہی میں خیر اورایمان کی حفاظت ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پوری جماعت (خواہ کبار صحابہ ہوں یا صغار صحابہ) عدول ہے اس پر ہمارے ائمہ سلف اور علماء خلف کا یقین و ایمان ہے۔ قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق آیات پر ایک نظر ڈالئے پھر ان کے مقام ومرتبہ کی بلندیوں کا اندازہ لگائیے اس کے بعد بھی اگرکسی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص کی جرأت کی ہے تواس کی بدبختی پر کفِ افسوس ملئے۔

صحابہ سراپا ادب اور پیکر تقویٰ تھے

اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)

ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔

کفر  وفسق سے محفوظ تھے

وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَہ فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات:۷)

ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر وفسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں۔

عبادت کے خوگر اور رحمدل تھے

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)

ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب سورہ فتح کی تفسیر کرتے ہوئے معارف القرآن جلد۸ میں تحریر کرتے ہیں:

قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں اس کی تصریحات ہیں جن میں چند آیات اسی سورة میں آچکی ہیں: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ مِنَ الْمُوٴْمِنِیْنَ، اور، اَلْزَمَہُمْ کَلِمَةَ التَقْوٰی وَکَانُوا اَحَقَّ بِہا وَاَہْلَہا، انکے علاوہ بہت سی آیات میں یہ مضمون مذکور ہے، یَومَ لاَ یُخْزِ اللّٰہُ النَّبِیَ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ مَعَہ وَالسَّابِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ المُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اِتَّبَعَہُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَّدَ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحتَہَا الْاَنْہٰرَ اور سورہ حدید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں فرمایا ہے: وَکُلاَّ وَعَدَ اللّٰہُ الحُسْنٰی.

یعنی ان سب سے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ کا وعدہ کیا ہے پھر سورہ انبیاء میں حسنیٰ کے متعلق فرمایا انَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنا الحُسْنٰی اولئک عَنہَا مُبْعَدُوْنَ یعنی جن لوگوں کیلئے ہماری طرف سے حسنیٰ کا فیصلہ پہلے ہوچکا ہے وہ جہنم کی آگ سے دور رکھے جائیں گے۔

صحابہ پر طعنہ زنی جائز نہیں

امام المفسرین علامہ قرطبی اپنی مشہور ومعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر ۱۶، ص:۳۲۲ پر رقم طراز ہیں: یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیاتھا اور ان سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے ان کے باہمی اختلافات میں کف لسان کریں اورہمیشہ ان کا ذکر بہتر طریقہ پر کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت (وعظمت) کی چیز ہے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ نے انہیں معاف کررکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔ بحوالہ معارف القرآن،ج:۸۔

ہرمشکل کا حل اتباع صحابہ

آج ہم مسلمانوں کو عالمگیر سطح پر مشکلات کا سامنا ہے ہر محاذ پر ناکامی اور پسپائی ہے دشمنان اسلام متحد اوراسلام کو مٹانے پرمتفق ہیں مسلمانوں پر طرح طرح سے الزامات اور بہتان تراشی ہورہی، پوری دنیا میں اسلام کی شبیہ کو خراب کرنے اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں میڈیا سرگرم ہے یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چل رہی ہے ہم ایک خطرناک اور نازک دور سے گذر رہے ہیں ان حالات میں صحابہ کرام کی مثالی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ان پاکیزہ نفوس کو بھی ان حالات کا سامنا تھا بلکہ بعض اعتبار سے آج کے حالات سے زیادہ خطرناک صورتِ حال تھی مکہ میں ابتلاء و آزمائش کے شدید دور سے گذرتے تھے تعداد بھی کم تھی اور وسائل بھی نہیں، حدیبیہ میں یہودیوں اور منافقوں کی فتنہ انگیزیاں اور سازشیں تھیں، مشرکین مکہ کے حملے اور یہودی قبائل سے لڑائیاں تھیں پھر دائرہ وسیع ہوا تو قیصر روم اور کسریٰ کے خطرناک عزائم تھے ان سب حالات کا مقابلہ صحابہ کرام نے جس حکمت عملی اور صبر واستقامت سے کیا وہی تاریخ ہم کو دہرانی پڑے گی، اس لئے ضروری ہے کہ ہم سیرتِ صحابہ کا مطالعہ کریں ان کو اپنا رہنما و مقتدا جان کر اِس محبت وعقیدت سے ان کی پیروی کریں کہ ان کا ہر عمل اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم کے نزدیک پسندیدہ ہے صحابہ ہمارے لئے معیار حق اور مشعل راہ ہیں ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی گوارہ نہیں ان کی عظمت شان کی بلندیوں تک کسی کی رسائی نہیں عصر حاضر میں ان حضرات کی پیروی گذشتہ صدیوں کے مقابلہ میں زیادہ ضروری اور اہم ہے اور کامیابی کا تصور اس کے بغیر ممکن نہیں۔

میں نے چند آیات کے ذکر پر اکتفاء کیاہے ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی آیات میں ان کے فضائل ومناقب بیان کئے گئے ہیں جبکہ کتب احادیث میں مناقب صحابہ ایک مستقل باب ہوتا ہے جس میں انفرادی طور پر کبار صحابہ کے مناقب بھی ہیں اور مجموعی طورپر تمام اصحاب رسول کی عظمت و جلالت کا ذکر بھی ہے۔

***






اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت شان




اللہ تعالیٰ نے جس دین کو حضور ختمی مرتبت پر مکمل فرمایا اس کی تاریخ اصحابِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہوتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے اسلام کی گنتی شروع ہوئی اور حضرت عمر پر اسلام کا پہلا چلہ پورا ہوا۔ سیدنا حضرت عثمان بنو اُمیہ کی سیادت اور وجہات سے رسولِ ہاشمی کے خدمت گزار بنے اور حضرت علی المرتضیٰ نبوت کے زیرسایہ جوان ہوئے۔ ان چار حضرات کے علاوہ اور کئی صحابہ بھی برسراقتدار آئے (جیسے حضرت حسن، حضرت امیرمعاویہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم) لیکن ان پہلے چار بزرگوں میں خلافت افضلیت کے ساتھ ساتھ چلی اس لیے ان چار حضرات کو جو شرف وکمال ملا وہ عقائد اہل السنة والجماعت کی اساس ہے اور اس کے گرد پہرہ دینا وہ اپنا دینی فرض سمجھتے ہیں۔ ان کے ذمہ ہے کہ وہ ان پاکبازوں کے گرد بچھائے گئے کانٹوں کو ایک ایک کرکے چنیں اور ابن آدم کو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو بطور طبقہ اخلاق فاضلہ کی جلا بخشی تھی اور انہیں کفر گناہ اور نافرمانی سے دوری صرف از حکم شریعت نہیں ازراہ طبیعت حاصل ہوچکی تھی۔ شریعت کے تقاضے ان کی طبیعت بن چکے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کے دلوں کی طلب اور زینت بنادیا تھا۔ ہمارے اس عقیدہ پر قرآن کریم کی کھلی شہادت موجود ہے۔

ولٰکن اللّٰہ حبب الیکم الایمان وزیّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان أولئک ہم الراشدون (پ:۲۲، الحجرات)

ترجمہ: پر اللہ تعالیٰ نے محبت ڈال دی تمہارے دلوں میں ایمان اور کھبادیا اس کو تمہارے دلوں میں اور لائق نفرت بنادیا تمہارے دلوں میں کفر گناہ اور نافرمانی وہ ہیں راشدین․

ان تمام پیش بندیوں کے باوجود اگر اتفاق سے مسلمانوں کی دو جماعتیں باہم لڑپڑیں تو وہ رہیں گی مومن ہی۔ ان کے اختلاف کا منشاء غلط فہمی تو ہوسکتا ہے لیکن بدنیتی نہیں، سوء اعتقاد نہیں، ایمان اپنی بنیادی شان سے ان کے دلوں میں جگہ پاچکا ہے ان میں خون ریزی تک دیکھو تو بدگمانی کو راہ نہ دو۔ یہ سب بھائی بھائی ہیں بدگمانی سے انتہا تک بچو۔

ان میں سے کسی بڑے سے بڑا گناہ دیکھو تو بھی بدگمانی نہ کرو۔ اس کا ظہور بتقاضائے فسق نہیں ہوا۔ محض اس حکمت سے وجود میں آیا ہے کہ اس پر شریعت کی ہدایت اُترے اور یہ لوگ تکمیل شریعت کے لیے استعمال ہوجائیں۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی وقت نماز کی رکعتوں میں بھولنا از راہ غفلت نہیں تھا اس حکمتِ الٰہی کے تحت تھا کہ لوگوں پر سجدہ سہو کا مسئلہ کھلے اور شریعت اپنی پوری بہار سے کھلے۔

سو ایسے جو اُمور شانِ نبوت کے خلاف نہ تھے ان کے حالات حضور  صلی اللہ علیہ وسلم پر ڈالے گئے اور جو گناہ کی حد تک پہنچتے تھے انہیں بعض صحابہ پر ڈالا گیا اور حضرت اس طرح تکمیل شریعت کے لیے بطور سبب استعمال ہوگئے ان حالات سے گزرنے کے بعد ان کا وہ تقدس بحال ہے جو انہیں بطور صحابی کے حاصل تھا اور ان کی بھی بدگوئی کسی پہلو سے جائزنہیں۔ اعتبار ہمیشہ اواخر امور کا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان اُمور اور واقعات کی قرآن کریم سے تطبیق نہیں ہوتی۔ یہ بات بالقطع و الیقین حق ہے کہ صحابہ میں ایک بھی ایسا نہ تھا جو غیر ثقہ ہو یا جو دین میں کوئی غلط بات کہے۔ سرخیل محدثین حضرت علامہ عینی (۸۵۷ھ) لکھتے ہیں:

لیس فی الصحابة من یکذب وغیر ثقة(۱)

جب کوئی حدیث کسی صحابی سے مروی ہو اور اس کے نام کا پتہ نہ چلے تو وہ راوی کبھی مجہول الحال نہ سمجھا جائیگا، صحابی ہونے کے بعد کسی اور تعارف یا تعدیل کی حاجت نہیں۔

علامہ ابن عبدالبر مالکی (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں:

ان جمعیہم ثقات مامونون عدل رضی فواجب قبول ما نقل کل واحد منہم وشہدوا بہ علٰی نبیّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم(۲)

ترجمہ: سب صحابہ ثقہ اور امانت دار ہیں عادل ہیں اللہ ان سے راضی ہوا ان میں سے ہر ایک نے جو بات اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی اور اس کے ساتھ اپنے نبی کے عمل کی شہادت دی (لفظاً ہو یا عملاً) وہ واجب القبول ہے۔

صحابیت میں سب صحابہ راشد اور مہدی تھے، مگر ان میں سے ایسے حضرات بھی ہوئے جو نظم اُمور سلطنت میں بھی راشد اور مہدی ہوئے اور آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اپنی امت کو ان کے نقش پاپر چلنے کی دعوت دی۔

علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المہدیین او کما قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم

یہ حضرات وہی نفوسِ قدسیہ ہیں جنہیں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے چار یار کہا جاتا ہے۔ حضرت مولانا اسماعیل شہید لکھتے ہیں۔ دیکھئے صراط مستقیم، ص:۱۱۵

طالب کو چاہیے کہ اپنے تہ دل سے اعتقاد کرلے کہ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے بعد حضرت سرور کائنات  صلی اللہ علیہ وسلم کے چار بڑے یار رضی اللہ عنہم اجمعین تمام بنی آدم سے بہتر ہیں اور اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق ان کی آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت خلافت کی ترتیب کے موافق ہے مسلمان کو چاہیے کہ اسی ترتیب پر افضلیت کا اعتقاد رکھے اور وجوہ تفضیل کو نہ ڈھونڈے کیوں کہ وجوہ تفضیل کو ڈھونڈنا دین کے واجبوں اور مستحبوں میں سے بھی نہیں۔

ان چار یار کے علاوہ باقی صحابہ میں تفضیل کی یہ بحث نہیں۔ آسمان ہدایت کے سب ستارے ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ ستارے ایک جیسے نہیں چمکتے، چمک ہر کسی کی اپنی اپنی ہے لیکن ہے ہرکسی میں روشنی اور تاب اندھیرا ان میں سے کسی میں نہ ملے گا۔

انبیاء علیہم السلام کے بعد صحابہ ہیں جو بطور طبقہ محمود ومنصور ہیں۔ عام طبقات انسانی میں اچھے بُرے کی تقسیم ہے، علماء تک میں علماء حق اور علماء سوء کی دو قطاریں لگی ہیں، لیکن صحابہ میں یہ تقسیم نہیں۔ صحابہ سارے کے سارے اچھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے باطن کی خبر دی ہے اور فرمادیا کہ کلمہ تقویٰ ان میں اُتاردیاگیا اور بیشک وہ اس کے اہل تھے:

والزمہم کلمة التقویٰ وکانوا احق بہا واہلہا (پ:۲۶، الفتح، ع:۳)

حدیث میں کلمة التقویٰ کی تفسیر لاالہ الا اللہ سے کی گئی ہے۔ سو یہ بات ہر شک اور شبہ سے بالا ہے کہ کلمہ اسلام ان کے دلوں میں اُتاراگیا تھا اوراس کے لیے ان کے دل کی دُنیا بلاشبہ تیار اور استوار تھی کہ اس میں یہ دولت اُترے اور انہی کا حق تھا کہ یہ دولت پاجائیں۔

سو یہ حضرات ہم احاد امت کی طرح نہیں۔ ان کا درجہ ہم سے اُوپر اور انبیاء کرام کے نیچے ہے۔ انہیں درمیانی مقام میں سمجھوکہ یہ حضرات ہم پر اللہ کے دین کے گواہ بنائے گئے ہیں اور اللہ کا رسول ان پر اللہ کے دین کا گواہ ہے جس طرح کعبہ قبلہ نماز ہے یہ حضرات قبلہ اقوام ہیں:

وکذلک جعلناکم امّة وسطاً لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدًا (پ:۲، البقرہ، ع:۱۷، آیت:۱۴۳)

خطیب بغدادی (۴۶۳ھ) لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام مخلوق میں سے کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو اُن کے باطن پر پوری طرح مطلع ہے ان کی تعدیل کرچکا ہے:

فلا یحتاج احد منہم مع تعدیل اللّٰہ لہم المطلع علٰی بواطنہم الٰی تعدیل احدٍ من الخلق لہ (۳)

ترجمہ: صحابہ میں سے کوئی بھی مخلوقات میں سے کسی کی تعدیل کا محتاج نہیں اللہ تعالیٰ جو اُن کے قلوب پر مطلع ہے اس کی تعدیل کے ساتھ اور کسی کی تعدیل کی ضرورت نہیں۔

ہر وہ قول اور فعل جو اُن سے منقول نہیں بدعت ہے۔ سو یہ حضرات خود بدعت کا موضوع نہیں ہوسکتے ان کے کسی عمل پر بدعت کا حکم نہیں کیاجاسکتا۔ حافظ ابن کثیر (۷۷۴ھ) لکھتے ہیں:

کل فعل وقول لم یثبت عن الصحابة رضی اللّٰہ عنہم ہو بدعة(۴)

ترجمہ: دین کے بارے میں کوئی قول اور کوئی فعل جو صحابہ سے ثابت نہ ہو بدعت ہے۔

 صحابی رسول حضرت حذیفہ بن الیمان (۳۶ھ) فرماتے ہیں:

کل عبادة لم یتعبدہا اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلا تعبدوہا(۵)

ترجمہ: دین کا ہر وہ عمل جسے صحابہ نے دین نہیں سمجھا اسے تم بھی دین نہ سمجھنا۔

جب دین انہی سے ملتا ہے تو ان حضرات کی تعظیم اس امت میں حق کی اساس ہوگی۔ انہی سے قافلہٴ امت آگے بڑھاہے اور پوری امت جمعہ اور عید کے ہر خطبہ میں ان کی ثناخوانی کرتی آئی ہے۔ یہ حضرات حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار رہے کہ ان کی مثال نہیں ملتی۔ بقول مولانا ابوالکلام آزاد:

دنیا میں انسانوں کے کسی گروہ نے کسی انسان کے ساتھ اپنے سارے دل اور اپنی ساری روح سے ایسا عشق نہیں کیا ہوگا جیساکہ صحابہ نے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے راہِ حق میں کیا۔ انھوں نے اس محبت کی راہ میں وہ سب کچھ قربان کردیا جو انسان کرسکتا ہے اور پھر اس راہ سے انہوں نے سب کچھ پایا جو انسانوں کی کوئی جماعت پاسکتی ہے۔

اہل حق ہمیشہ سے صحابہ کی عظمتوں کے گرد پہرہ دیتے آئے ہیں جہاں کسی نے شک کا کوئی کانٹا لگایا، اہل حق نے ان کے تزکیہ کی کھلی شہادت دی، جہاں کہیں تبرّا کی آواز اٹھی اہل حق تولا کی دعوت سے آگے بڑھے اور نفاق کے بُت ایک ایک کرکے گرادئیے۔
-----------------
(۱) عینی علی البخاری، ج:۲، ص:۱۰۵ ۔             (۲) کتاب التمہید، ج:۴، ص:۲۶۳۔             (۳) الکفایہ،ص:۴۶۔
(۴) تفسیر ابن کثیر، ج:۴، ص:۵۵۶               (۵) االاعتصام للشاطبی، ص:۵۴۔
***






۔۔۔ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (البقرۃ:82)

 اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں تو وہ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔




إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرۃ:160)
ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی ہو اور اپنی اصلاح کرلی ہو (اور چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کردیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں، اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا۔ 










لَكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء:162)
البتہ ان (بنی اسرائیل) میں سے جو لوگ علم میں پکے ہیں اور مومن(صحابی ہوگئے) ہیں وہ اس (کلام) پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو (اے پیغمبر) تم پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو تم سے پہلے نازل کیا گیا تھا اور قابلِ تعریف ہیں وہ لوگ جو نماز قائم کرنے والے ہیں، زکوۃ دینے والے ہیں اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔ 




إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (الانفال:72)
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے ہجرت کی ہے اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، (مگر) انہوں نے ہجرت نہیں کی، جب تک وہ ہجرت نہ کرلیں (اے مسلمانو) تمہارا ان سے وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ (٥١) ہاں اگر دین کی وجہ سے وہ تم سے کوئی مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد واجب ہے سوائے اس صورت کے جبکہ وہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے۔ (٥٢) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھتا ہے۔
تشریح:
(٥١) سورة انفال کی ان آخری آیات میں میراث کے کچھ وہ احکام بیان فرمائے گئے ہیں جو مسلمانوں کی مکہ مکرمہ سے ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ اصول شروع سے طے فرمادیا تھا کہ مسلمان اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وراث نہیں ہوسکتے، اب صورت حال یہ تھی کہ جو صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تھے، ان میں سے بہت سے ایسے تھے کہ ان کے رشتہ دار جو ان کے وارث ہوسکتے تھے، سب مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، ان میں سے اکثر وہ تھے جو کافر تھے اور مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، وہ مسلمانوں کے اس لیے وارث نہیں ہوسکتے تھے کہ ان کے درمیان کفر اور ایمان کا فاصلہ حائل تھا ؛ چنانچہ ان آیات نے واضح طور پر بتادیا کہ وہ نہ مسلمانوں کے وارث ہوسکتے ہیں اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوسکتے ہیں اور مہاجرین کے کچھ ایسے رشتہ دار بھی تھے جو مسلمان تو ہوگئے تھے ؛ لیکن انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، ان کے بارے میں بھی اس آیت نے یہ حکم دیا ہے کہ مہاجر مسلمانوں کا ان سے بھی وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہوسکتا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس وقت تمام مسلمانوں کے ذمے فرض تھا کہ وہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کریں، اور انہوں نے ہجرت نہ کرکے اس فریضے کو ابھی تک ادا نہیں کیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مہاجر مسلمان مدینہ منورہ میں تھے جو دارالاسلام تھا، اور وہ حضرات مکہ مکرمہ میں تھے جو اس وقت دارالحرب تھا، اور دونوں کے درمیان بڑی رکاوٹیں حائل تھیں، بہر صورت مہاجر مسلمانوں کے جو رشتہ دار مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ان کے ساتھ مہاجرین کا وراثت کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اگر ان کا کوئی رشتہ دار مکہ مکرمہ میں فوت ہوتا تو اس کے ترکے میں ان مہاجرین کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا اور اگر ان مہاجرین میں سے کوئی مدینہ منورہ میں فوت ہوتا تو اس کی میراث میں اس کے مکی رشتہ داروں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا، دوسری طرف جو مہاجرین مدینہ منورہ آکر آباد ہوئے تھے ان کو انصار مدینہ نے اپنے گھروں میں ٹھہرایا تھا، آنحضرت ﷺ نے ہر مہاجر صحابی کا کسی انصاری صحابی سے بھائی چارہ قائم کردیا تھا جسے مواخات کہا جاتا ہے، اس آیت کریمہ نے یہ حکم دیا کہ اب مہاجرین کے وارث ان کے مکی رشتہ داروں کے بجائے وہ انصاری صحابہ کرام ہوں گے جن کے ساتھ ان کی مواخات قائم کی گئی ہے۔
(٥٢) یعنی جن مسلمانوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی، اگرچہ وہ مہاجرین کے وارث نہیں ہیں، لیکن چونکہ بہرحال مسلمان ہیں، اس لیے اگر کافروں کے خلاف مسلمانوں سے کوئی مدد مانگیں تو مہاجر مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کی مدد کریں، البتہ ایک صورت ایسی بیان کی گئی ہے جس میں اس طرح کی مدد کرنا مہاجر مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے، اور وہ یہ کہ جن کافروں کے خلاف وہ مدد مانگ رہے ہیں ان سے مہاجر مسلمانوں کا کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ہوچکا ہو، ایسی صورت میں اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کارروائی کریں تو یہ بد عہدی ہوگی، اس لیے ایسی مدد کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اس سے زیادہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ جب کوئی معاہدہ ہوجائے تو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے بھی اس کی خلاف ورزی کو اسلام نے جائز نہیں رکھا ؛ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کفار کے ہاتھوں پسے ہوئے مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے کفار قریش کے خلاف مدد مانگی اور مسلمانوں کا دل بےتاب تھا کہ انکی مدد کریں، مگر چونکہ قریش کے لوگوں سے معاہدہ ہوچکا تھا، اس لیے ان کے صبر وضبط کا بہت کڑا امتحان پیش آیا، اور آنحضرت ﷺ کے حکم کے تحت وہ اس امتحان میں ثابت قدم رہے۔






إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ (ھود:11)
 ہاں ! مگر جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ہیں، ان کو مغفرت اور بڑا اجر نصیب ہوگا۔ 




إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (ھود:23)
 (دوسری طرف) جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے آگے جھک کر مطمئن ہوگئے ہیں، تو وہ جنت کے بسنے والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ 



وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد:22)
 اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا ہے، (٢٢) اور نماز قائم کی ہے اور ہم نے انہیں جو رزق عطا فرمایا ہے، اس میں سے خفیہ بھی اور علانیہ بھی خرچ کیا ہے، اور وہ بدسلوکی کا دفاع حسن سلوک سے کرتے ہیں، (٢٣) وطن اصلی میں بہترین انجام ان کا حصہ ۔ (٢٤) ۔
تشریح:
(٢٢)  قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر عمل کو حاوی ہے۔ یہی معنی آیت نمبر 24 میں بھی مراد ہیں۔
(٢٣) یعنی برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں اور دفاع کا لفظ استعمال فرما کر قرآن کریم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ اچھائی کرنے کا انجام بالاآخر یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی بد سلوکی کے برے اثرات مٹ جاتے ہیں۔
(٢٤) اس آیت میں اصل الفاظ یہ ہے۔ لھم عقبی الدار۔ اس میں الدار کے لفظی معنی گھر کے ہیں۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد آخرت کا عالم ہے یہ لفظ بکثرت وطن کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں آخرت کے بجائے اس لفظ کو استعمال کرنے سے بظاہر اشارہ اس طرف ہے کہ انسان کا اصلی گھر اور وطن آخرت ہے اس لیے کہ دنیا کی زندگی تو فنا ہوجانے والی ہے انسان کو ہمیشہ ہمیشہ جہاں رہنا ہے وہ آخرت کا عالم ہے اس لیے یہاں الدار کا ترجمہ اصلی وطن سے کیا گیا ہے یہی بات آگے آیت 24 اور 25 میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔ 




وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا (الاسراء:19) 
 اور جو شخص آخرت (کا فائدہ) چاہے اور اس کے لیے ویسی ہی کوشش کرے جیسی اس کے لیے کرنی چاہے، جبکہ وہ مومن بھی ہو، تو ایسے لوگوں کی کوشش کی پوری قدر دانی کی جائے گی۔




أُولَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِنْ سُنْدُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا (الکھف:31)
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغات ہیں، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان کو وہاں سونے کے کنگنوں سے مزین کیا جائے گا، وہ اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے ہوئے باریک اور دبیز ریشم کے سبز کپڑے پہنے ہونگے۔ کتنا بہترین اجر اور کیسی حسین آرام گاہ۔





إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (مریم:60)
البتہ جن لوگوں نے توبہ کرلی، اور ایمان لے آئے، اور نیک عمل کیے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہونگے، اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔ 




وَمَنْ يَأْتِهِ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصَّالِحَاتِ فَأُولَئِكَ لَهُمُ الدَّرَجَاتُ الْعُلَى (طٰهٰ:75)
 اور جو شخص اس کے پاس مومن بن کر آئے گا جس نے نیک عمل بھی کیے ہونگے، تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بلند درجات ہیں۔ 








أُولَئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ (10) الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (المؤمنون:11)
 یہ ہیں وہ وارث۔ جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی۔ (٨) یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ 

(٨) جنت کو مومنوں کی میراث اس لیے کہا گیا ہے کہ ملکیت کے اسباب میں سے میراث ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس میں ایک چیز خود بخود اس طرح انسان کی ملکیت میں آجاتی ہے کہ اس ملکیت کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اشارہ اس طرف ہے کہ جنت کے مل جانے کے بعد اس کے چھن جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوگا۔





أُولَئِكَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ (المؤمنون:61)
وہ ہیں جو بھلائیاں حاصل کرنے میں جلدی دکھا رہے ہیں، اور وہ ہیں جو ان کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔








إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (النور:62)
 مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں اور جب رسول کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں شریک ہوتے ہیں تو ان سے اجازت لیے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ (٤٧) (اے پیغمبر) جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو دل سے مانتے ہیں۔ چنانچہ جب وہ اپنے کسی کام کے لیے تم سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جن کو چاہو، اجازت دے دیا کرو، اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کیا کرو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
تشریح:
(٤٧) یہ آیت غزوہ ٔ احزاب کے موقع پر نازل ہوئی، اس وقت عرب کے کئی قبیلوں نے مل کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تھی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہر کے دفاع کے لیے مدینہ منورہ کے گرد ایک خندق کھودنے کے لیے تمام مسلمانوں کو جمع کیا تھا، سارے مسلمان خندق کھودنے میں مصروف تھے، اور اگر کسی کو اپنے کسی کام سے جانا ہوتا تو آپ سے اجازت لے کرجاتا تھا، لیکن منافق لوگ اول تو اس کام کے لیے آنے میں سستی کرتے تھے، اور اگر آجاتے تو کبھی کسی بہانے سے اٹھ کر چلے جاتے، اور کبھی بلا اجازت ہی چپکے سے روانہ ہوجاتے، اس آیت میں ان کی مذمت اور ان مخلص مسلمانوں کی تعریف کی گئی ہے جو بلا اجازت نہیں جاتے تھے۔ 




إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا (الفرقان:70)
 ہاں مگر جو کوئی توبہ کرلے، ایمان لے آئے، اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردے گا، (٢٥) اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
تشریح:
(٢٥) یعنی حالت کفر میں انہوں نے جو برے کام کیے تھے، وہ ان کے نامہ اعمال سے مٹا دئیے جائیں گے، اور اسلام لا کر جو نیک عمل کیے ہوں گے وہ ان کی جگہ لے لیں گے۔






أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا (75) خَالِدِينَ فِيهَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا (الفرقان:76)
 یہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بالاخانے عطا ہونگے، اور وہاں دعاؤں اور سلام سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔  وہ وہاں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کسی کا مستقر اور قیام گاہ بننے کے لیے وہ بہترین جگہ ہے۔ 





أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (القصص:54)
 ایسے لوگوں کو ان کا ثواب دہرا دیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا (٣٠) اور وہ نیکی سے برائی کا دفعیہ کرتے ہیں، (٣١) اور ہم نے جو کچھ ان کو دیا ہے، اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں۔ 
تشریح:
(٣٠) جو شخص پہلے ایک دین کو اختیار کیے ہوئے ہو، اور جسے اس بات پر فخر بھی ہو کہ وہ ایک آسمانی کتاب کی پیروی کر رہا ہے، اس کے لیے نیا دین اختیار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے بھی کہ اپنی پرانی عادت چھوڑنا دشوار ہے، اور اس لیے بھی کہ اس کے ہم مذہب اسے تکلیفیں پہنچاتے ہیں، لیکن ان حضرات نے ان تمام تکلیفوں پر صبر کیا، اور حق پر ثابت قدم رہے، اس لیے ان کو دہرا ثواب ملے گا۔
(٣١) یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں۔








لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (لقمان:4)
وہ نیک لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور زکوۃ ادا کرتے ہیں، اور آخرت کا پورا یقین رکھتے ہیں۔ 









۔۔۔ فَبَشِّرْ عِبَادِ (17) الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُولَئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ (الزمر:18)
۔۔۔  لہٰذا میرے ان بندوں کو خوشی کی خبر سنا دو ۔ جو بات کو غور سے سنتے ہیں تو اس میں جو بہترین ہوتی ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ (١٠) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔
تشریح:
(١٠) اس کا زیادہ واضح مطلب یہ ہے کہ وہ سنتے تو سب کچھ ہیں، لیکن پیروی اسی بات کی کرتے ہیں جو بہترین ہو (روح المعانی عن الزجاج) ۔







۔۔۔ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ (غافر:40)
 اور جس شخص نے کوئی برائی کی ہوگی، اسے اسی کے برابر بدلہ دیا جائے گا، اور جس نے نیک کام کیا ہوگا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت جبکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہاں انہیں بےحساب رزق دیا جائے گا۔ 





إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (13) أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاحقاف:14)
 یقینا جن لوگوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ : ہمارا پروردگار اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے (٨) تو ان پر نہ کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ وہ غم گین ہونگے۔  وہ جنت والے لوگ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ ان اعمال کا بدلہ ہوگا جو وہ کیا کرتے تھے۔ 
تشریح:
(٨) ثابت قدم رہنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مرتے دم تک اس ایمان پر قائم رہے، اور یہ بھی کہ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کی۔ 






إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ (الحجرات:3)
 یقین جانو جو لوگ اللہ کے رسول (ﷺ) کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقوی کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔ 




No comments:

Post a Comment