Friday, 9 November 2012

دور جدید کے وکٹورین اہل حدیث



نواب صدیق حسن خاں غیرمقلد لکھتے ہے
زمانہ عذر ہندوستان میں سب چھوٹے بڑے سرکار انگریزی کے خیرخواں رہے ترجمان وہابیہ ص 5 ملخصآ
اور اگر کوئی بدخواں سلطنت برٹش کا ہوگا ، تو وہی شخص ہوگا جو آزادگی مذہب کو ناپسند کرتا ہے ، اور مذہب خاص پر جو باپ دادا کے وقت سے چلا آتا ہے جما ہوا ہےترجمان ہابیہ ص 5
کتب تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو امن و آسائش اور آزادگی اس حکومت انگریزی میں تمام خلق کو نصیب ہوئی ہے کسی حکومت میں نہ تھی اور وجہ اسکی سوائے اسکے کچھ نہیں سمجھی گئی کہ گورنمنٹ نے آزادی کامل ہر مذہب والے کو مسلمان ہو ، یا ہندو یا اور کچھ عطا فرمائی ہے. جس کا اشتہارت بڑی دھوم دھام سے دربار قیصری میں بمقام دہلی مجمع جملہ رؤسا و معززین ہند میں رعایا برایا کو سنایا گیا. ترجمان وہابیہ ص 8

اور بڑی بات تو یہ ہے کہ ہم لوگ صرف کتاب و سنت کی دلیلوں کو اپنا دستور العمل ٹھراتے ہے اور اگلے بڑے بڑے مجتہدوں کی طرف منسوب ہونے سے عاکرتے ہے
اور یہ آزادگی ہماری مذہب مروجہ جدیدہ سے عین مراد قانون انگلشیہ نہ تعصب مذہبی ، ہاں البتہ جو تقلید اگلے مولویوں کی واجب اور فرض کہتے ہیں ، وہ اگر تقلید محمد عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ کی بھی کریں تو تعجب نہیں ، اور جو اگلوں کی تقلید سے بھاگتا ہے ، انکی تقلید کیا کریں. ترجمان وہابیہ ص 20
تقلید کسی مذہب کی واجب نہیں ، آزادگی مذہب بھی عجیب نعمت ہے اور قائد مذہب نیچریہ ، یا مذہب مقلدین ، یا مذہب مبتدعین ، یا مذہب حنفیہ ، یا مذہب بین بین بڑی بلا ہے اور سبب عداوت حکومت انگلشیہ ہے . ترجمان وہابیہ ص 29
ہمیں مذہب کے نام سے چڑ ہے ، ہم کو مذہبی جاننا بلکل ستانا ہے ، ہمارا تو یہ حال ہے کہ سب مذہبوں سے آزاد ہے. ترجمان وہابیہ ص 30
یہ لوگ اپنے مذہب میں وہی آزادگی برتتے ہیں جسکا اشتہار بار بار سرکار انگریزی سے جاری ہوا ہے ، خصوصآ دربار دہلی جو سب درباروں کا سردار ہے ، جو رسائل و مسائل رد تقلید و تقلید مذہبی میں اب تک تالیف ہوئے ہیں ، وہ شاہد عدل ہے اس بات پر کہ مدعی اس طریقہ کہ قید و مذہب خاص سے آزاد ہے اور جس قدر رسائل بجواب ان مسائل کے طرف سے مقلدین مذہب کے لکھے گئے ہیں وہ سب با آواز بلند پکارتے ہیں کہ ہم مذہب خاص کہ مقید و مقلد ہے ،ہم پر پیروی فلاں و ہماں فرض و واجب ہے ، آزادگی مذہب سے کچھ واسطہ نہیں ، یہ آزادگی سرکار برٹش کو یا انکو جو اس حکومت میں اظہار اپنی آزادگی مذہب خاص کا کرتے ہیں ، مبارک رہا اب تعمل کرنا چاہیے کہ دشمن سرکار انگلشیہ کا وہ ہوگا جو کسی قید میں اسیر ہے یا وہ ہوگا جو آزاد و فقیر ہیں .ترجمان وہابیہ ص 32
یعنی بعض لوگوں نے سرکار انگلشیہ کے کہنے پر نہیں چھوڑا وہ انگریز کے دشمن ہیں ، ہم نے سرکار انگلشیہکی خدمت کے لئے اتنی بڑی قربانی دی کہ مذہب چھور کر لامذہب بن گئے اور سرکار برطانیہ کے دروازے کے فقیر بن گئے ، ہم کیسے آپ سے مخالفت کرسکتے ہیں ملکہ عالیہ معظمہ دام اقبالہا کے اشتہار نے سب کو وعدہ دیا .ترجمان وہابیہ ص 45
اور حنفیوں کے بارے میں لکھا ہے ، یہ چاہتے ہے وہی تعصب مذہبی و تقلید شخصی اور ضد اور جہالت آبائی جو ان میں چلی آتی ہے قائم رہے ، اور جو آسائش رعایا ہند کو بوجہ آزادگی مذہب گورنمنٹ انگلشیہنے عطا کی ہے وہ اٹھ جائے اور امن عالم باقی نہ رہے ، سارے مسلمان وغیرہ ایک مذہب خاص کے پابند ہوکر خوب اپنا تعصب گورنمنٹ انگلشیہ سے ظاہر کریں ، اور جب موقع پاویں مثل زمانہ عذر کے فساد برپا کریں ، ترجمان وہابیہ ص 56
یعنی سب ایک مذہب کے ہوجاوے گے تو ان میں اتفاق ہوجائے گا اور یہ اتفاق کرکے حکومت برطانیہ سے جہاد کریں گیں ، ہم ان میں اتفاق نہیں ہونے دینگے ، تانکہ حکومت برطانیہ بے فکر ہوکر ہم پر اپنا سایہ برقرار رکھے .
1857ء میں مولوی محمد حسین سر گروہ مؤحدین لاہور نے بجواب سوال و مسئلہ اس فتوی کے کہ آیا بمقابلہ گورنمنٹ ہند سے مسلمان ہند کو جہاد کرنا اور اپنی مذہبی تقلید میں ہتھیار اٹھانا چاہیے یا نہیں ، یہ جواب دیا اور بیان کیا کہ جہاد اور جنگ مذہبی بمقابلہ برٹش گورنمنٹ ہند یا مقابلہ اس حاکم کے جس نے آزادی مذہب دے رکھی ہے ، از روئے شریعت اسلام عمومآ خلاف ممنون ہے اور وہ لوگ جو بمقابلہ برٹش گورنمنٹ ہند یا کسی اور بادشاہ کہ جس نے آزادی مذہب دی ہے ، ہتھیار اٹھاتے ہے اور مذہبی جہاد کرتے ہے ، بلکل ایسے لوگ باغی ہے اور مستحق سزا مثل باغیوں کہ ہیں اور جہاد بمقابلہ برٹش گورنمنٹ ہند سے کرنا خلاف مسئلہ سنت و ایمان مؤحدین ہے ، بمقابلہ گورنمنٹ ہند مؤحدین کو ہتھیار اٹھانا خلاف ایمان و اسلام ہے .ترجمان وہابیہ ص 61
الغرض تقلید شخصی کو چھوڑنے کی اصل غرض انگریز کے خلاف جہاد کو حرام قرار دینا تھا ، اور مسلمان مجاہدین میں فروعی اختلافات پیدا کرکے لڑانا ، ہر مسجد میں دنگا و فساد کرانا اصل مقصد تھا . حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلیدی شخصی کے حرام ہونے پر نہ کوئی آیت قرآنی پیش کرسکا ہے نہ ہی حدیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، اور نہ ہی اجماع امت . صرف اور صرف ملکہ وکٹوریہ کے اشتہار کو دلیل بنانا ہے.
اعتراف جرم
مولوی محمد مبارک غیرمقلد شاگرد خاص مولوی عطاء اللہ حنیف بھوجیانوی لکھتا ہے .
جماعت غرباء اہلحدیث کی بنیاد صرف محدیثین کی مخالفت کے لئے رکھی گئی "
صرف یہی مقصد نہیں تھا بلکہ تحریک مجاہدین یعنی سید احمد شہید رحمہ اللہ کی تحریک کی مخالفت کرکے انگریز کو خوش کرنے کا مقصد پنہاں تھا ، جسکا اظہار اس طرح کیا گیا کہ 1911ء میں ، مولوی عبدالوہاب ملتانی نے امام ہونے کا دعوی کردیا اور ساتھ ہی یہ کہا جو میری بیعت نہیں کرے گا وہ جہالت کی موت مرے گا . (علمائے احناف اور تحریک مجاہدین ص 48)
نواب عبدالوہاب ملتانی صاحب لکھتے ہے .
تقلید کسی مذہب کی اسکے نزدیک واجب نہیں .وفاداری اور خیر سگالی اور خیرخواہی رفاہ عوام کہ انکو کوئی امر ملحوظ خاطر نہیں اور اقرار و قول کو پورا کرنا اور اپنے عہد و میثاق پر قائم رہنا ان کے دین میں سب فرضوں سے بڑا فرض اور حاکموں کی اطاعت اور رئیسوں کا انقیاد ان کی ملت میں سب واجبوں سے بڑا واجب ہے .(ترجمان وہابیہ ص 29)
یعنی تقلید امام واجب نہیں .انگریز کی اطاعت بڑا واجب ہے،
ہم جن کے مقلد ہیں انکو اپنی جماعت حنفی تو کجا غیر حنفی بھی نہیں .امام الاعظم (تذکرہ الحافظ ذہبی ج2ص158) فقيه الملة والاسلام (ذہبی ص84خلاصہ خرزجی ص445)احد ائمة الاسلام والسادة الاعلام واحد الائمة الاربعة اصحاب مذاہب المطبوعة (البدایہ والنھایہ ج10ص107) کہتے ہیں انکو امام اعظم کہا شرك قرار پایا . مگر ملكہ وكٹوريہ کو ساری جماعت کی طرف سے یہ القابات و خطابات دیگر یہ ایڈریس دیا گیابحضور فیض گنجور کوئین وکٹوریہ دی گریٹ قیصرہ ہند .بارك الله فی سلطنتها .ہم ممبران گروہ اہلحدیث اپنے گروہ کے کل اشخاص کی طرف سے حضور والا کی خدمت عالی میں جشن جوبلی کی دلی مسرت سے مبارکباد عرض کرتے ہے . آپکی سلطنت میں جو نعمت مذہبی آزادگی کی حاصل ہے اس سے یہ گروہ اپنا خاص نصیبہ اٹھارہا ہے . وہ خصوصیت یہ ہے کہ مذہبی آزادی اس گروہ اہلحدیث کو خاص اس سلطنت میں حاصل ہے بخلاف دوسرے اسلامی فرقوں کے کہ انکو اور اسلامی سلطنتوں میں بھی یہ آزادی حاصل ہے ، اس خصوصیت سے یہ یقین ہوسکتا ہے کہ اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ مسرت ہے . اور ان کے دل سے مبارکباد کی صدائیں زیادہ زور کے ساتھ نعرہ زن ہیں .اشاعت السنۃ ج 9 ص 206 شمارہ نمبر 7 .
انصاف کيجئے ذرا ديکھ بھال کے
کاغذ پہ رکھ دیا ہے دل نکال کے



القرآن : قسم ہے تارے کی جب گرے (یعنی غروب ہو)۔ بہکا نہیں تمہارا رفیق (نبی کریم ﷺ) اور نہ بے راہ چلا۔ اور نہیں وہ بولتا اپنے نفس کی خواہش سے۔ یہ تو وحی (حکم) ہے بھیجی ہوئی.[النجم :1-4]
بیشک ہم نے اتاری تیری طرف کتاب سچی کہ تو انصاف کرے لوگوں میں جو کچھ دکھاۓ (ہدایت کرے) تجھ کو اللہ...[النساء : 105]
=================
گمراہانہ عقیدہ # 5 : گستاخی امام سے گستاخی رسول تک:
وکٹورین اہل حدیث کے مشہور عالم محمد جونا گڑھی (محمدی) لکھتے ہیں :
سنیے جناب! بزرگوں کی مجتہدوں اور اماموں کی راۓ قیاس ، اجتہاد و استنباط اور ان کے اقوال تو کہاں؟ شریعت اسلام میں تو خود پیغمبر سے بھی اپنی طرف سے بغیر وحی کے کچھ فرمائیں تو وہ بھی حجت نہیں.[طریق محمدی: ٥٧]

نتیجہ : اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رسول الله کی بات پھر کسی معنی میں دلیل و حجت نہیں رہی ، یعنی جو کام بھی رسول الله نے الله کی جانب سے وحی اترنے سے پہلے کیا یا وحی کا انتظار کرنے کی بجاۓ اپنی جانب سے کچھ فرمادیا تو اس کی کوئی اہمیت نہ رہی...معاف کیجئے اگر یہی عقیدہ رکھ لیا جاۓ تو ایمان کے لئے نبوت کے مقام پر یقین و اعتماد تو گیا لیکن کافروں کے صادق و امین ماننے والے درجہ میں بھی کیا شمار باقی رہا ؟؟؟




((قرآن و حدیث بس)) کے دعویدار اہل حدیث علامہ وحید الزماں کے (بلا دلیل محض اپنی راۓ سے) امام مہدی کے لئے شرعی رہنمائی چھوڑتے اپنی کتاب [هدية المهدي:25] میں لکھتے ہیں :
اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ نبیؐ یا علیؓ یا کوئی اور اولیاء اللهؒ میں سے عام لوگوں سے زیادہ سن سکتا ہے، حتیٰ کہ تمام دنیا اور زمین کے کناروں دور اور نزدیک سے سن لیتے ہیں تو یہ شرک نہیں. [هدية المهدي:25]
اب انہیں یہ آیت یاد کیوں نہیں آتی ؟؟؟
القرآن : إِنَّكَ لا تُسمِعُ المَوتىٰ ... {27:80} {30:52}
ترجمہ : بیشک تو نہیں سنا سکتا مردوں کو










1 comment: