Friday, 16 November 2012

جنگ جمل اور جنگ صفین کے بارے میں روایات


جنگ جمل اور جنگ صفین کے بارے میں روایات

حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، قَالَ : قِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا حَمَلَهُمْ عَلَى قَتْلِ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : الْحَسَدُ 

حضرت علی سے پوچھا گیا کہ لوگوں کو قتل عثمان پر کس چیز نے برانگیختہ کیا توفرمایا : حسد اور عناد نے۔ 


حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ " مَا قَتَلْتُ يَعْنِي : عُثْمَانَ وَلَا أَمَرْتُ ثَلَاثًا وَلَكِنِّي غُلِبْتُ " .
حضرت ابن عباس حضرت علی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ کی قسم ! حضرت عثمان کو میں نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی میں نے ان کے قتل کا حکم دیا ہے بلکہ میں نے قتل ہذا سے منع کیا تھا اور میں اس معاملے میں مغلوب رہا۔ 
[المصنف لابن ابی شیبہ: ج 15 ص 208]


فَقَالَ عَلِيٌّ " لَعَنَ اللَّهُ قَتَلَةَ عُثْمَانَ فِي السَّهْلِ وَالْجَبَلِ وَالْبَرِّ وَالْبَحْرِ. 
حضرت علی نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی قاتلین عثمان پر لعنت کرے ،ہر جگہ لعنت ہو ، صاف زمین میں ، پہاڑوں میں، اور خشکی اور سمندر میں۔ 
[المصنف لابن ابی شیبہ: ج 4 ص 1018]


أَخْبَرَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : رَأَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ عِمَامَةً سَوْدَاءَ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ ، قَالَ : وَرَأَيْتُهُ جَالِسًا فِي ظُلَّةِ النِّسَاءِ ، وَسَمِعْتُهُ يَوْمَئِذٍ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ يَقُولُ : " تَبًّا لَكُمْ سَائِرَ الدَّهْرِ " .
ابوجعفر انصاری کی روایت ہے کہ جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قتل کئے گئے اس دن میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سیاہ عمامہ باندھے دیکھا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس شخص نے کیا کیا : میں نے کہا : وہ قتل کر دیئے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہمیشہ کیلئے تمہارے لئے ہلاکت ہو۔ 






جس کو خود حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) باغی اور منافق نہ کہیں انہیں آج کل کہ شیعہ کس منہ سے کہتے ہیں حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) نے تو انہیں اپنا بھائی کہا ہے 



شیعوں کے معروف و معتبر عالم عبداللہ بن جعفر الحمیری اپنی معتبر کتاب "قرب الاسناد" میں بسندِ صحیح روایت کرتا ہے اس سند کے دو راوی جو حضرت علی عليه السلام سے روایت کر رہے ہیں خود آئمہ معصومین ہیں اور باقی تین راوی معتبر اور ثقہ شیعہ راوی ہیں جن کو جمہور شیعہ علماء نے ثقہ اور صحیح کہا ہے



جعفر، عن أبيه: أن عليا عليه السلام كان يقول لأهل حربه

  إنا لم نقاتلهم على التكفير لهم، ولم نقاتلهم على التكفير لنا، ولكنا رأينا أنا على حق، ورأوا أنهم على حق


عن جعفر عن ابیہ ان علیاً علیہ السلام کان یقول لاھل حربہ انا لم نقاتلھم علی التکفیر لھم ولم نقاتلھم علی التکفیر لنا ۔ ولکنا راینا انا علی حق وراو انھم علی حق 

حضرت امام باقر سے مروی ہے کہ حضرت علی المرتضٰی اپنے مقابلین کے حق میں فرماتے تھے کہ ہم ان سے ان کی تکفیر کی بنا پر قتال نہیں کر رہے اور نہ ہی ان سے اس وجہ سے قتال کر رہے ہیں کہ وہ ہماری تکفیر کرتے ہیں۔ بلکہ بات یہ ہے کہ ہم یقین کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ یقیناً وہ حق پر ہیں۔ 

کتاب قرب الاسناد - الحميري القمي - الصفحة ٩٣







جعفر، عن أبيه عليه السلام: أن عليا عليه السلام لم يكن ينسب أحدا من أهل حربه إلى الشرك ولا إلى النفاق، ولكنه كان يقول: " هم إخواننا بغوا علينا

کتاب قرب الاسناد - الحميري القمي - الصفحة ٩٤

 ترجمہ

امام جعفر صادق عليه السلام اپنے والد امام باقر عليه السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی عليه السلام اپنے مدمقابل (حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) اور ان کے ساتھیوں) میں سے کسی کو مشرک یا منافق کی نسبت یاد نہیں کرتے تھے لیکن یوں کہتے تھے وہ ہمارے بھائی تھے ان سے زیادتی ہو گئی








حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ جُنْدُبٍ الْخَيْرِ ، قَالَ : أَتَيْنَا حُذَيْفَةَحِينَ سَارَ الْمِصْرِيُّونَ إِلَى عُثْمَانَ ، فَقُلْنَا : إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ سَارُوا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَمَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " يَقْتُلُونَهُ وَاللَّهِ " ، قَالَ : قُلْنَا : أَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ وَاللَّهِ " , قَالَ : قُلْنَا : فَأَيْنَ قَتَلَتُهُ ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ وَاللَّهِ " .
حضرت جندب خیر کی روایت ہے کہ ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب مصریوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر رکھا تھا، تو ہم نے کہا: یہ لوگ اس شخص کی طرف چل پڑے ہیں۔ آپ کیا کہتے ہیں: اللہ کی قسم ، یہ لوگ اسے قتل کر کے رہیں گے۔ ہم نے کہا : یہ شخص کہاں ہو گا۔ فرمایا جنت میں ۔ ہم نے کہا : اس کے قاتل کہاں ہوں گے ۔ فرمایا : اللہ کی قسم ، دوزخ میں جائیں گے۔ 


عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : خَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ذَاتَ يَوْمٍ ، وَمَعَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الطَّائِيُّ ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ قَتِيلٌ ، قَدْ قَتَلَهُ أَصْحَابُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ عَدِيُّ : يَا وَيْحَ هَذَا ! كَانَ أَمْسِ مُسْلِمًا وَالْيَوْمَ كَافِرًا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " مَهْلا ، كَانَ أَمْسِ مُؤْمِنًا وَالْيَوْمَ مُؤْمِنٌ " .
حضرت علی اپنی جماعت کے ساتھ تشریف لا رہے تھے تو اس وقت ایک شخص عدی بن حاتم طائی بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے بنی طے کے ایک مقتول کو دیکھا جس کو حضرت علی کی جماعت نے قتل کر ڈالا تھا تو عدی بن حاتم کہنے لگا کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ یہ کل مسلمان تھا اور آج کافر مرا پڑا ہے۔ حضرت علی نے یہ سن کر فرمایا کہ ایسا نہ کہو، بلکہ یہ کل بھی مومن تھا اور آج بھی مومن ہے۔ 




حضرت علی رضی اللہ عنہ اور مقتولین جنگ صفین



حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہےکہ وہ جنگ صفین کی رات نکلےتواہل شام کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا:

((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُمْ))
[مصنف ابن أبي شيبة » كِتَابُ الْجَمَلِ » بَابُ مَا ذُكِرَ فِي صِفِّينَ ... رقم الحديث: 37162]
’’اے اللہ مجھے اور انھیں معاف فرمادے‘‘
(مصنف ابن ابی شیبہ:297/15)
صحیح سند سے یزید بن الاصم سے منقول ہےکہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےصفین کے مقتولین کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا
’’ہمارے اور ان کے مقتولین جنتی ہیں‘‘
(مصنف ابن شیبہ:303/15،سنن سعید بن منصور:398/2،مجمع الزوائد:357/9، وذكر نحوه الذهبي في السير (3/144))
جبکہ اس معاملہ پر قرآن کریم کی صریح دلالت ہے .
وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پران کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن میں نہریں جاری ہیں ۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے.
[سورۃ التوبہ:100]
اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے دلوں میں خفگی تھی، بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں اور وہ کہیں گے شکر اللہ کا جس نے ہم کو یہاں تک پہنچا دیا اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ ہدایت کرتا ہم کو اللہ بیشک لائے تھے رسول ہمارے رب کے سچی بات، اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے وارث ہوئے تم اس کے بدلے میں اپنے اعمال کے.
[سورہ الاعراف:43]



عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : كُنْتُ إِلَى جَنْبِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ بِصِفِّينَ , وَرُكْبَتِي تَمَسُّ رُكْبَتَهُ , فَقَالَ رَجُلٌ : كَفَرَ أَهْلُ الشَّامِ , فَقَالَ عَمَّارٌ : " لَا تَقُولُوا ذَلِكَ ، نَبِيُّنَا وَنَبِيُّهُمْ وَاحِدٌ , وَقِبْلَتُنَا وَقِبْلَتُهُمْ وَاحِدَةٌ ، وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ مَفْتُونُونَ جَارُوا عَنِ الْحَقِّ ، فَحَقَّ عَلَيْنَا أَنْ نُقَاتِلَهُمْ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَيْهِ 

ایک شخص نے اہل شام کے حق میں کفر کی نسبت کی اور ان کو کافر کہنے لگا تو حضرت عمار نے سن کر ارشاد فرمایا کہ ایسا مت کہو کیونکہ ان کے اور ہمارے نبی ایک ہیں اور ان کا اور ہمارا قبلہ ایک ہے لیکن بات یہ ہے کہ وہ لوگ فتنہ میں مبتلا ہو گئے اور امر حق سے متجاوز ہو گئے ہیں ، ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کے ساتھ قتال کریں تاکہ وہ حق کی طرف پلٹ آئیں۔ 

المصنف لابن ابی شیبہ ج 15 ص 290 


عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، قال : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا ، يَوْمَ صِفِّينَ وَهُوَ عَاضٌّ عَلَى شَفَتِهِ : " لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَمْرَ يَكُونُ هَكَذَا مَا خَرَجْتُ , اذْهَبْ يَا أَبَا مُوسَى فَاحْكُمْ وَلَوْ بِحَزِّ عُنُقِي 

سلیمان بن مہران کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے صفین کے موقع پر خود حضرت علی سے سنا تھا ، اس وقت آپ کی اضطرابی کیفیت یہ تھی کہ آپ اپنے لب مبارک کو زیر دندان کرتے تھے اور فرماتے اگر اس معاملہ کے متعلق مجھے یہ معلوم ہوتا کہ یہاں تک پہنچے گا تو میں اس کے لیے خروج ہی نہ کرتا۔ حضرت ابوموسٰی کے حق میں فرمان دیا کہ آپ تشریف لے جائیں اور فیصلہ کریں اگرچہ اس میں مجھے خسارہ ہو۔ 

مصنف لابن ابی شیبہ ج 15 ص 293 


عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ يَوْمَ الْجَمَلِ : " يَا حَسَنُ ، لَيْتَ أَبَاكَ مَاتَ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً " ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَتِ قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ هَذَا ، قَالَ : " يَا بُنَيَّ لَمْ أَرَ أَنَّ الأَمْرَ يَبْلُغُ هَذَا 

حضرت علی نے فرمایا : اے حسن ! کاش تیرا باپ آج سے بیس سال قبل فوت ہو گیا ہوتا۔ حضرت حسن نے کہا : اے ابا جان ! میں نے آپ کو اس سے روکا تھا۔ حضرت علی نے کہا ! اے بیٹے! مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ معاملہ یہاں تک پہنچے گا۔ 

البدایۃ والنہایہ ج 7 ص 288 


  حضرت علی نے فرمایا : اللهم أحلل بقتلة عثمان خزيا 
اے اللہ ! قاتلین عثمان پر ذلت اور رسوائی نازل کر۔ 
المصنف لابن ابی شیبہ ج 15 ص 277






حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کا مقصد محض اپنی خلافت قائم کرنا نہ تھا بلکہ وہ تو حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کو اپنے سے افضل اور خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتے تھے  تاریخ الاسلام میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے کہ

وحدثني يعلى بن عبيد: ثنا أبي قال: قال أبو مسلم الخولاني وجماعة لمعاوية: أنت تنازع عليا هل أنت مثله فقال: لا والله إني لأعلم أن عليا أفضل مني وأحق بالأمر، ولكن ألستم تعلمون أن عثمان قتل مظلوما، وأنا ابن عمه، وإنما أطلب بدمه، فأتوا عليا فقولوا له: فليدفع إلي قتلة عثمان وأسلم له، فأتوا عليا فكلموه بذلك، فلم يدفعهم إليه

کتاب تاريخ الإسلام - الذهبي - ج ٣ - الصفحة ٥٤٠

ترجمہ

حضرت ابومسلم خولانی حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کے پاس گئے اور فرمایا :آپ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) سے خلافت کے بارے میں تنازع کیوں کرتے ہیں؟ کیا آپ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) جیسے ہیں؟ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا نہیں الله کی قسم میں جانتا ہوں کہ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے زیادہ حقدار ہیں لیکن تم نہیں جانتے کہ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کو ظلما قتل کردیا گیا؟ اور میں ان کا چچا زاد بھائ ہوں اور ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہا ہوں تم حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے پاس جاؤ اور انہیں کہو کہ وہ قاتلین عثمان (رضی اللہ تعالی عنہ) کو میرے حوالے کردیں اور میں یہاں کا نظام ان کے سپرد کر دوں گا۔








حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا 
إِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَحْجِزَ بَيْنَ النَّاسِ مَكَانِي قَالَتْ : وَلَمْ أَحْسَبْ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ ، وَلَوْ عَلِمْتُ ذَلِكَ لَمْ أَقِفْ ذَلِكَ الْمَوْقِفَ أَبَدًا قَالَتْ : فَلَمْ يَسْمَعِ النَّاسُ كَلَامِي ، وَلَمْ يَلْتَفِتُوا إِلَيَّ ، وَكَانَ الْقِتَالُ 

میرا خیال تھا کہ میں اپنے مقام و مرتبہ کی بنا پر لوگوں کے درمیان (جنگ) سے مانع ہوں گی۔ اور فرماتی ہیں کہ مجھے یہ گمان ہی نہیں تھا کہ لوگوں کے درمیان قتال واقع ہو گا۔ اگر مجھے یہ بات قبل ازیں معلوم ہوتی تو میں اس مقام میں ہرگز نہ پہنچتی۔ فرماتی تھیں کہ لوگوں نے میرا کلام نہ سنا اور میری بات کی طرف توجہ نہ کی۔ اور قتال واقع ہو گیا۔ 

المصنف لعبدالرزاق ج 5 ص 457 


حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو جَمِيلَةَ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ لِعَائِشَةَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ! - يَوْمَ الْجَمَلِ - ، فَقَالَتْ : كُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ ، فَأَغْمَدَ سَيْفَهُ بَعْدَمَا سَلَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : حَتَّى قُتِلَ 

حضرت محمد بن طلحہ سے حضرت عائشہ نے کہا کہ آدم کے فرزندوں میں سے بہترین فرزند کی صورت اختیار کر۔ پس اس نے جو تلوار کھینچی تھی، اس کو نیام میں کر لیا، پھر کھڑا تھا حتی کہ کسی نے شہید کر ڈالا۔ 

تاریخ کبیر ج 1 ص 110 


عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَاشِمَةِ : " لَمَّا فَرَغَ مِنْ أَصْحَابِ الْجَمَلِ وَنَزَلَتْ عَائِشَةُ مَنْزِلَهَا ، دَخَلْتُ عَلَيْهَا ، فَقُلْتُ : السَّلامُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : مَنْ هَذَا ؟ قُلْتُ : خَالِدُ بْنُ الْوَاشِمَةِ ، قَالَتْ : مَا فَعَلَ طَلْحَةُ ؟ قُلْتُ : أُصِيبَ ، قَالَتْ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، فَمَا فَعَلَ الزُّبَيْرُ ؟ قُلْتُ : أُصِيبَ ، قَالَتْ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، قُلْتُ : بَلْ نَحْنُ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فِي زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، قَالَتْ : وَأُصِيبَ زَيْدٌ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَتْ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، ذَكَرْتُ طَلْحَةَ ، فَقُلْتِ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ ، فَقُلْتِ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، وَذَكَرْتُ زَيْدًا ، فَقُلْتِ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، وَقَدْ قَتَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، وَاللَّهِ لا يَجْمَعُهُمُ اللَّهُ فِي جَنَّةٍ أَبَدًا ، قَالَتْ : أَوَ لا تَدْرِي أَنَّ رَحْمَةَ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ 

ابن سیرین کہتے ہیں کہ خالد بن واشمہ جنگ جمل کے بعد حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس سے دریافت کیا۔ حضرت طلحۃ کا کیا بنا، تو خالد نے عرض کیا، وہ شہید ہو گئے، توحضرت عائشہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور ان پر ترحم کے کلمات فرمائے۔ پھر پوچھا کہ زبیر کا کیا ہوا۔ تو خالد نے عرض کی : وہ بھی شہید ہو گئے تو حضرت صدیقہ نے پھر کلمہ ترجیع ادا فرمایا اور کلمات ترحم فرمائے۔ پھر میں نے کہا زید بن صوحان جو قبیلہ عبدالقیس پر امیر تھا، اور حضرت علی کے حامیوں میں سے تھا، قتل ہو گئے، توحضرت صدیقہ نے ان پر بھی کلمہ ترحم ادا فرمایا۔ اس وقت خالد بن واشمہ کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا کہ یا ام المومنین : میں نے طلحہ اور زبیر کا ذکر کیا، تو آپ نے کلمہ ترحم ادا فرمائے اور جب میں نے زید بن صوجان کی شہادت کا ذکر کیا ، پھر بھی آپ نے کلمہ ترحم فرمائے ہیں، حالانکہ یہ ہر دو فریق مقابل تھے اور انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا ہے۔ اور اللہ تعالٰی کی قسم یہ لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ تو حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا کہ اے خالد! کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالٰی کی رحمت وسیع ہے اوروہ ہر چیز پر قادر ہے۔ 

سنن الکبرٰی للبیہقی ، کتاب النفقات، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ ثَنَاءِ السُّلْطَانِ
*******************************
صحابہ کرامؓ، تاریخی روایات 
احوالِ زمانہ سے عبرت حاصل کرنا، انقلابات جہاں سے دنیا کی بے ثباتی کا سبق لے کر فکر آخرت کو مقدم رکھنا، اللہ تعالیٰ کے انعامات واحسانات کا استحضار، انبیاء وصلحاءِ امت کے احوال سے قلوب کو منور کرنا اور کفار وفجار کے انجام بد سے نصیحت حاصل کرنا وغیرہ فن تاریخ -جو واقعات نگاری اور احوال ماضیہ کو بیان کرنے کا نام ہے- کے فوائد ہیں، اس لئے اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے، اس کی اہمیت کے لئے تو یہی کافی ہے کہ قصص وتاریخ، قرآن کریم کے پانچ علوم میں سے ایک ہے اور اس کا وہ حصہ جس پر حدیث نبویؐ کے صحت وسقم کو پہچاننے کا مدار ہے، جس کو محدثین نے"اسماء الرجال" کے نام سے الگ مکمل تنقیح واحتیاط کے ساتھ جمع کیا ہے، فن حدیث کے جزء کی حیثیت رکھتا ہے، اس اہمیت کے باوجود تاریخ کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس سے عقائد کے باب میں استدلال کیا جائے یا حلال وحرام کی تعیین میں حجت قرار دیا جائے،یا قرآن وسنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ مسائل میں تاریخی روایات کی بناء پر شکوک وشبہات پیدا کئے جائیں، اس لئے صحابہ کرامؓ اور تاریخی روایات کے باب میں علماء دیوبند کا موقف جمہور امت کے مطابق یہ ہے کہ:
۱۔       چوں کہ صحابہ کرامؓ عام افراد امت کی طرح نہیں ہیں بلکہ یہ حضرات، رسول خدا اور خلق خدا کے درمیان خدا تعالیٰ کا ہی عطا کیا ہوا ایک واسطہ ہیں ، یہ از روئے قرآن وحدیث ایک خاص مقام رکھتے ہیں، اس لئے ان کے مقام کی تعیین تاریخ سے نہیں ، قرآن وسنت سے کی جائے گی۔
۲۔      چوں کہ قرآنِ کریم کی دسیوں آیات میں صحابہ کرامؓ کے حالات مصرح مذکور ہیں اس لئے تاریخی روایات ان کے معارض قطعاً نہیں ہوسکتیں ۔
۳۔      یہ ان احادیث صحیحہ ثابتہ کے بھی معارض نہیں ہوسکتیں جن کے جمع وتدوین میں وہ احتیاط برتی گئی ہے جو احتیاط تاریخ میں نہیں کی گئی، اصول حدیث کے معروف امام ابن صلاحؒ  لکھتے ہیں :
وغالب علی الاخباریین الاکثار والتخلیط فی ما یروونہ۔

(علوم الحدیث:۲۶۳)

"مؤرخین میں یہ بات غالب ہے کہ روایاتِ کثیرہ جمع کرتے ہیں جن میں صحیح وسقیم ہرطرح کی روایات خلط ملط ہوتی ہیں"۔
۴۔      پھر یہ مسئلہ عقائد اسلامیہ سے متعلق ہے اور جمہور امت نے کتب عقائد میں اپنے اپنے ذوق کے مطابق مفصل یا مجمل اس کا ذکر کیا ہے اس لئے اس کا مدار قرآن وسنت پر ہی رکھا جاسکتا ہے نہ کہ تاریخ کی خلط ملط روایات پر۔
*************************************
مشاجرات صحابہؓ 
صحابہ کرامؓ کے مابین جو اختلافات رونما ہوئے اور خون ریز جنگوں تک کی نوبت آگئی، ان اختلافات کو علماء امت، صحابہ کرامؓ کے ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے"مشاجرات" کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں ، جنگ وجدال کی تعبیر سے گریز کرتے ہیں کہ اس میں ایک گونہ ان کے تئیں سوء ادب ہے"مشاجرہ" کے معنی از روئے لغت ایک درخت کی شاخوں کا دوسرے میں داخل ہونا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ درختوں کے لئے باعث زینت ہے نہ کہ عیب، اس طرح علماء امت اس اختلاف کی تعبیر سے ہی یہ اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ کے وہ اختلافات جو اپنی انتہاء کو پہنچ گئے تھے اور جس میں وہ باہم برسرپیکار بھی ہوگئے وہ اختلافات بھی کوئی نقص وعیب نہیں بلکہ زینت وکمال ہیں ۔
مشاجرات صحابہؓ میں باعث تشویش یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق، جب تمام صحابہ کرامؓ واجب الاحترام اور لائق تعظیم ہیں اور کسی ایک کے حق میں بھی ادنیٰ سے ادنیٰ سوء ادب کی گنجائش نہیں تو پھر اختلاف کے موقع پر یہ احترام کیسے قائم رہ سکتا ہے کیونکہ ان اختلافات میں ایک فریق کا حق پر اور دوسرے فریق کا خطا پر ہونا بدیہی ہے بلکہ ایمان وعقیدے کے لئے اہل حق اور ارباب خطا کی تعیین ضروری بھی ہے تو جو خطا پر ہیں ان کی تنقیص ایک لازمی امر ہے۔
مشاجراتِ صحابہؓ کے اس شبہ کے سلسلے میں علماء امت اور علماء دیوبند کا دوٹوک موقف یہ ہے کہ باجماع امت تمام صحابہ کرامؓ واجب التعظیم ہیں ، اسی طرح اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جنگ جمل وجنگ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ حق پر تھے اور ان سے مقابلہ کرنے والے حضرت معاویہؓ وغیرہ خطا پر، لیکن ان کی خطا اجتہادی تھی جو شرعاً گناہ نہیں کہ جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے عتاب کے مستحق قرار پائیں بلکہ معاملہ یہ ہے کہ جب انہوں نے اصولِ اجتہاد کی رعایت کرتے ہوئے اپنی وسعت بھر تمام تر کوشش کی پھر بھی خطا ہوگئی تو وہ ایک اجر کے حق دار ہوں گے، اس طرح خطا وصواب بھی واضح ہوگیا اور صحابہ کرامؓ کے مقام ومرتبے پر کوئی آنچ بھی نہیں آئی، ہمارے خیال میں مشاجرات صحابہؓ کے حوالہ سے"امام قرطبی" نے اپنی تفسیر میں سورۃ الحجرات کی آیت"وإن طائفتان من المومنین اقتتلوا" کے ذیل میں اہل سنت والجماعت کے مسلک کی بہترین تحقیق فرمائی ہےاس کا مطالعہ کرلینا ہی چاہئے، یہ سطور اس تفصیل کی متحمل نہیں، تاہم مفسر موصوف کے ایک استدلال کا خلاصہ نقل کردینا مناسب ہوگا جو -انشاء اللہ- بیمار دلوں کے لئے سامان شفاء ہوگا۔
مفسر موصوفؒ نے اس نظریے کو مدلل کرتے ہوئے کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی گناہ اور فسق وفجور کا مرتکب نہیں تھا، حضرت طلحہؒ حضرت زبیرؓ اور حضرت عمارؓ سے متعلق ارشادات نبویؐ بیان فرمائے ہیں ، جس کا ماحصل یہ ہے کہ:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہؓ کے بارے میں فرمایا ہے:"طلحہ روئے زمین چلنے والے شہید ہیں "اورحضرت زبیرؓ کے بارے میں خود حضرت علیؓ سے یہ حدیث مروی ہے:"زبیر کا قاتل جہنم میں ہے"، حضرت علیؓ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ"صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو" اور یہ دونوں حضرات ان عشرۂ مبشرہؓ میں ہیں جن کے نام لے کر جنتی ہونے کی خبر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے، پھر یہ بھی معلوم ہے کہ ان دونوں حضرات نے حضرت عثمانؓ کے قصاص کا مطالبہ کیا تھا، حضرت علیؓ سے مقابلہ کیا اور اسی دوران شہید ہوئے۔
دوسری طرف حضرت عمار بن یاسررضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت علیؓ کے طرف دار ہیں ، آپ کے مخالفین سے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شہادت کی بھی پیشین گوئی فرمائی ہے۔
جب حال یہ ہے کہ حضرت علیؓ کے طرف دار بھی شہید اور مخالفین بھی شہید، تو پھر کیسے کسی فریق کو گناہ گار یا فاسق کہا جاسکتا ہے، ہرگز نہیں ! بلکہ ان تمام حضرات کے پیش نظر رضاء الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا، دونوں کا اختلاف کسی دنیوی غرض سے نہ تھا بلکہ اجتہاد ورائے کی بناء پر تھا جس پر کسی بھی فریق کو مجروح ومطعون نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح جو صحابہؓ کنارہ کش رہے وہ بھی اجتہاد کی بناء پر، اس لئے وہ بھی نقص وعیب سے مبرأ اور واجب التعظیم ہیں ۔
پھر علماء دیوبند کے نزدیک سب سے اہم سکوت اور کف لسان ہے اور حضرت حسن بصریؒ کا یہ قول ان کے لئے اسوہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں :
"یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہؓ موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملے پر تمام صحابہؓ کا اتفاق ہے، ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں"۔

(قرطبی سورۂ حجرات)

No comments:

Post a Comment