Monday, 28 January 2013

سماعِ موتی

سماعِ موتی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف ہے دونوں طرف اکابر ودلائل ہیں، فیصلہ کن بات تحریر کرنا دشوار ہے، بہتر یہ ہے کہ اس بحث و تحقیق میں نہ پڑیں کیونکہ اس سے کوئی عمل متعلق نہیں۔
=====================
سماعِ موتی کے مسئلہ میں صحابہ کے زمانہ سے اختلاف ہے دونوں طرف اکابر ودلائل ہیں، فیصلہ کن بات تحریر کرنا دشوار ہے، بہتر یہ ہے کہ اس بحث و تحقیق میں نہ پڑیں کیونکہ اس سے کوئی عمل متعلق نہیں۔


جو حضرات سماع کے قائل ہیں ان کے نزدیک مردے سننے اور جواب دیتے نیز پہچانتے ہیں۔



امام ذہبی رح (تذکرہ الحفاظ : 3/306) میں امام ، شیخ الاسلام اور حافظ المغرب کے الفاظ سے حافظ (ابو عمر) ابن عبد البر المالکی رح (المتوفی 463 ھ) کے علمی مقام کی تعریف فرماتے ہیں، انہوں نے "موطا امام مالک" کی مطول و مختصر شرح "التمہید" اور "الستذکار" میں یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رض (اور بعض دوسری روایات میں حضرت ابو ہریرہ رض بھی) نبی صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہیں کہ :

"ما من رجل يمر بقبر رجل كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه"
ترجمہ : جو شخص بھی اپنے کسی جاننے والے (مسلمان) کی قبر پر گذرتا ہے اور اس کو سلام کرتا ہے وہ میت اس (کے اندازِ سلام و کلام کے لب و لہجے) کو پہچان لیتی ہے اور اس کو سلام کا جواب دیتی ہے۔

حافظ ابن تیمیہ الحنبلی رح (المتوفی ٧٦٨ ھ) نے [اقتضاء الصراط المستقیم، طبع مصر : ص ١٥٧] میں ..... اور ان کے شاگرد حافظ ابن القیم رح الحنبلی (المتوفی ٧٥١ ھ) نے اس روایت کی تائید میں فرمایا: "قال ابن عبد البر: ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم ..." الخ [کتاب الروح : ص ٢
ترجمہ : امام ابن عبد البر رح نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے یہ روایت ثابت ہے...


امام محمد بن احمد عبد الہادی الحنبلی رح فرماتے ہیں : "وهو صحيح الاسناد (الصارم المنكي : ص ١٨٦، طبع مصر)

ترجمہ : اس (حدیث) کی سند صحیح ہے.
اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے عند القبور سماع کا تو کہنا ہی کیا.....یہ تو عام مومنوں کے حق میں آیا ہے، جو شخص بھی کسی ایسے شخص کی قبر کے پاس سے گزرتا ہے جس کو وہ دنیا میں پہچانتا تھا تو وہ جب بھی اس کو سلام کہتا ہے، الله تعالیٰ اس کی روح کو اس کی طرف لوٹادیتا ہیں. یھاں تک کہ وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے. (الصارم المنكي : ص ٩٥ ، طبع مصر)


اس صحیح صریح حدیث کی روشنی میں حافظ ابن القیم رح فرماتے ہیں : یہ حدیث اس بات کی نص ہے کہ مردہ سلام کرنے والے کو بعینہ پہچانتا، اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے. (کتاب الروح : ص ٤)

اور یہی حافظ ابن القیم رح اپنے مشہور "قصيدة نونية " میں لکھتے یہں : 
هذا ورد نبينا التسليم من ... يأتي بتسليم مع الإحسان
ما ذاك مختصا به أيضا كما ... قد قاله المبعوث بالقرآن
من زار قبر أخ له فأتى بتسـ ... ـليم عليه وهو ذو إيمان
رد الإله عليه حقا روحه ... حتى يرد عليه رد بيان (نونية :1/183 ، فصل: في الكلام في حياة الأنبياء في قبورهم) 
ترجمہ : اور یہ امر (بات) کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم ہر اس شخص کے سلام کا جواب عنایات فرماتے یہں جو عمدہ طریقہ سے سلام کہتے ہے، یہ صرف آپ کی ذات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ خود اس ذات نے فرمایا جس کو قرآن سے کر بھیجا گیا ہے، کہ جس شخص نے اپنے مومن بھائی کے قبر کی زیارت کی اور اسے سلام کہا، تو پروردگار یقینی طور پر اس پر اس کی روح لوٹادیتا ہے حتیٰ کہ وہ اس کے سلام کا واضح بیان سے جواب دیتا ہے.


امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد امام ابو یوسفؒ نبی کریمﷺ کی سماع کے قائل تھے۔





’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بندے کو (مرنے کے بعد) جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی (تدفین کے بعد واپس) لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سن رہا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر کہتے ہیں تو اس شخص یعنی (سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے (کامل) بندے اور اس کے (سچے) رسول ہیں۔ اس سے کہا جائے گا : (اگر تو انہیں پہچان نہ پاتا تو تیرا جو ٹھکانہ ہوتا) جہنم میں اپنے اس ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے اس (معرفتِ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) بدلہ میں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے۔ پس وہ دونوں کو دیکھے گا اور اگر منافق یا کافر ہو تو اس سے پوچھا جائے گا تو اس شخص (یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہتا ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا تو نے نہ جانا اور نہ پڑھا. اسے لوہے کے گُرز سے مارا جائے گا تو وہ (شدت تکلیف) سے چیختا چلاتا ہے جسے سوائے جنات اور انسانوں کے سب قریب والے سنتے ہیں۔‘‘

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الجنائز، باب : ما جاء في عذاب القبر، 1 / 462، الرقم : 1308، وفي کتاب : الجنائز، باب : الميت يسمع خفق النعال، 1 / 448، الرقم : 1673، ومسلم في الصحيح، کتاب : الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب : التي يصرف بها في الدنيا أهل الجنة وأهل النار، 4 / 2200، الرقم : 2870، وأبوداود في السنن، کتاب : السنة، باب : في المسألة في القبر وعذاب القبر، 4 / 238، الرقم : 4752، والنسائي في السنن کتاب : الجنائز، باب : المسألة في القبر 4 / 97، الرقم : 2051، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 126، الرقم : 12293.


















No comments:

Post a Comment