کیوں شیاطین کے قید ہوجانے کے باوجود بعض لوگوں سے گناہ ہو جاتے ہیں؟
مشاہدہ یہ ہے کہ رمضان میں بھی گناہ ہوتے ہیں، برائیاں ہوتی ہیں اور معصیت بھی۔ محدثین اور علماء نے اس "اشکال" کو دور کرنے کے لیے کئی اہم توجیہات پیش کی ہیں، جو درج ذیل ہیں:
1. گناہ کا سبب صرف شیطان نہیں، بلکہ "نفسِ امارہ" ہے
انسان کے اندر گناہ کا سب سے بڑا داعیہ اس کا اپنا "نفسِ امارہ" ہے۔ قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے ارشاد ہوتا ہے:
"اور میں اپنے نفس کو بری نہیں کرتا، بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے۔" [سورۃ یوسف:53]
شیطان صرف وسوسہ ڈالتا ہے اور برائی کو مزین کرکے پیش کرتا ہے، لیکن اصل فیصلہ کرنے والا اور عمل کرنے والا انسان کا نفس ہوتا ہے ۔ اگر شیطان مکمل طور پر بھی قید ہو جائے، تب بھی نفسِ امارہ انسان کو گناہوں پر اکساتا رہتا ہے ۔
2. تمام شیاطین قید نہیں ہوتے، صرف سرکش (مَرَدَہ) قید ہوتے ہیں
حدیث کی بعض روایات میں وضاحت ہے:
"صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ" (شیاطین اور سرکش جن جکڑ دیے جاتے ہیں) [بغوی:1705]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام شیاطین قید نہیں ہوتے، بلکہ صرف بڑے اور زیادہ فتنہ باز شیاطین (مردہ) کو قید کیا جاتا ہے ۔ چھوٹے شیاطین اور عام شیاطین اپنا کام جاری رکھتے ہیں، البتہ ان کی طاقت پہلے جیسی نہیں رہتی ۔
3. "شیاطینِ انس" (انسان نما شیاطین) رمضان میں بھی آزاد ہوتے ہیں
قرآن مجید میں شیاطین کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں:
"وہ جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جنوں اور انسانوں میں سے۔" [سورۃ الناس: 5-6]
رمضان میں صرف جنی شیاطین قید ہوتے ہیں، لیکن انسانی شیاطین (برے دوست، گناہوں کی ترغیب دینے والے لوگ، بے حیائی پھیلانے والے) اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں ۔ قرآن میں واضح کیا گیا:
"اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں کو دشمن بنا دیا۔" [سورۃ الانعام: 112]
4. عادت کا اثر
بہت سے گناہ ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی عادت بن چکے ہوتے ہیں ۔ گیارہ مہینے مسلسل گناہوں میں ملوث رہنے سے انسان کے اندر یہ عادت راسخ ہو جاتی ہے ۔ شیطان کے قید ہونے کے باوجود، عادت کے طور پر کیے جانے والے گناہ جاری رہتے ہیں کیونکہ اب اس کے لیے شیطان کی ترغیب کی ضرورت نہیں رہتی ۔
5. روزے کی شرائط اور آداب کی پابندی نہ کرنا
حدیث کی یہ برکت اور فضیلت ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو روزے کا حق ادا کرتے ہیں ۔ جو شخص روزہ رکھ کر بھی اپنی زبان، آنکھ، کان اور دوسرے اعضاء کی حفاظت نہیں کرتا، اس کے لیے روزے کی وہ حفاظتی ڈھال کمزور پڑ جاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص (روزہ رکھ کر بھی) جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔" [صحیح بخاری: 6057]
خلاصہ
رمضان میں شیاطین کے جکڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ:
· گناہوں میں خاطر خواہ کمی آجاتی ہے
· شیطان کی وہ قوت سلب کر لی جاتی ہے جس سے وہ بندوں کو بہکانے پر قادر ہوتا ہے
· اس کی بھڑکائی ہوئی آگ کچھ مدت کے لیے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے
· گناہوں میں منہمک لوگ باز آجاتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں
لیکن شیاطین کے مکمل قید نہ ہونے، نفسِ امارہ کے موجود رہنے، انسانی شیاطین کی موجودگی اور عادات کے اثرات کی وجہ سے رمضان میں بھی گناہ ہوتے رہتے ہیں ۔ تاہم عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ رمضان میں جرائم کی شرح، شراب نوشی اور علانیہ گناہ باقی مہینوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہو جاتے ہیں۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ تَزَّخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ الْقَابِلِ " ، قَالَ : " فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ تَحْتَ الْعَرْشِ نَشَرَتْ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ ، فَيَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تَقَرُّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا وَنُقِرُّ أَعْيُنَهُمْ بِنَا " .
[شعب الإيمان للبيهقي » الْبَابُ الثَّالِثُ وَالْعِشْرُونَ مِنْ شُعَبِ الإِيمَانِ ... » فَضَائِلُ شَهْرِ رَمَضَانَ ... رقم الحديث: 3352]
حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان شریف کے لئے آراستہ کی جاتی ہے۔ فرمایا جب پہلا دن آتا ہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہوا سفید اور بڑی آنکھوں والی حوروں پر چلتی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ اے پروردگار اپنے بندوں سے ہمارے لئے ان کو شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ان کی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْضُرُوا الْمِنْبَرَ " ، فَحَضَرْنَا ، فَلَمَّا ارْتَقَى دَرَجَةً ، قَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّانِيَةَ ، قَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا ارْتَقَى الدَّرَجَةَ الثَّالِثَةَ ، قَالَ : " آمِينَ " ، فَلَمَّا فَرَغَ ، نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ ، قَالَ : فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْنَا الْيَوْمَ مِنْكَ شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَسْمَعُهُ ، قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامِ عَرْضَ لِي ، فَقَالَ :بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ ، فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّانِيَةَ ، قَالَ : بَعُدَ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ ، فَقُلْتُ : آمِينَ ، فَلَمَّا رَقِيتُ الثَّالِثَةَ ، قَالَ : بَعُدَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ الْكِبَرَ عِنْدَهُ ، أَوْ أَحَدُهُمَا ، ثُمَّ لَمْ يُدْخِلاهُ الْجَنَّةَ ، أَظُنُّهُ قَالَ : فَقُلْتُ : آمِينَ " .
حضرت کعب بن عجرہؓ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: تم لوگ منبر کے پاس حاضر ہو۔ پس ہم منبر کے پاس حاضر ہوئے۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے پہلے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا''آمین''۔ اور جب تیسرے درجہ پر چڑھے تو فرمایا ''آمین''۔ جب منبر شریف سے اترے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی کہ کبھی نہ سنتے تھے۔ فرمایا بے شک جبرئیلؑ نے آکر عرض کی کہ ــ''بے شک وہ شخص دور ہو (رحمت سے یا ہلاک ہو) جس نے رمضان شریف کو پایا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی'' میں نے کہا ــ''آمین ''۔ جب دوسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا: ''وہ شخص دور ہو جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور وہ درود شریف نہ پڑھے ''میں نے کہا ''آمین''جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو اس نے کہا کہ'' دور ہو وہ شخص جو اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کا موقع پائے پھر بھی کوتاہی کے نتیجے میں جنت میں داخل نہ ہوسکے ''میں نے کہا ''آمین''.
فضائل شهر رمضان، لابن أبي الدنيا (المتوفی:281ھہ)
فضائل شهر رمضان، لابن شاهين (المتوفی:385ھہ)
فضل شهر رمضان، لابن عساكر (المتوفی:571ھہ)
فضائل شهر رمضان، لعبد الغني المقدسي (المتوفی:600ھہ)
1. لفظ "رمضان" کا لغوی ماخذ اور زبان:
- زبان:
یہ لفظ "عربی" زبان سے ہے، جس کی جڑ "رَمَضَ" (رمض) ہے۔
- معنیٰ:
- رَمَضَ کے معنی "تیز گرمی"، "جلنا"، یا "خشک ہونا" ہیں۔
- رمضان کا لفظ "رَمِضَ" سے مشتق ہے، جس کا مطلب ہے "وہ مہینہ جو گناہوں کو جلا دیتا ہے"۔
- بعض علماء کے نزدیک یہ "رَمَضَانُ الصَّائِمِ" (روزہ دار کی پیاس کی شدت) سے بھی منسوب ہے۔
---
2. لفظ "رمضان" کے معنیٰ:
- لغوی معنیٰ:
- تپش یا جلن، جو "گناہوں کے خاتمے" کی علامت ہے۔
- خشک موسم کی طرف بھی اشارہ، کیونکہ عربوں کا قمری کیلنڈر موسموں سے ہٹتا رہتا ہے۔
- شرعی معنی:
- اسلام کا نواں قمری مہینہ، جس میں روزے "فرض" ہیں اور قرآن مجید "نازل" ہوا۔
---
3. رمضان کا مقصد (قرآن و حدیث کی روشنی میں):
(الف) قرآن نزول کا مہینہ:
- قرآن:
> "رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور رہنمائی اور حق وباطل میں فرق کرنے والی واضح نشانیاں رکھتا ہے"۔
[سورۃ البقرہ:185]
(ب) تقویٰ اور روحانی پاکیزگی:
- روزے کا بنیادی مقصد (1)نفس کی تربیت اور (2)اللہ کی خوشنودی ہے۔
- حدیث:
> "جو شخص رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں"۔
[صحیح بخاری:38]
(ج) رحمتوں اور مغفرت کا موسم:
- حدیث:
> "رمضان کے آغاز میں رحمت نازل ہوتی ہے، درمیان میں مغفرت، اور آخر میں جہنم سے آزادی"۔
[صحیح ابن خزیمہ:1887]
(د) سماجی ہم آہنگی:
- صدقہ فطر اور افطاری کے ذریعے غریبوں کے ساتھ تعاون۔
---
4. رمضان کی خصوصیات:
1. لیلۃ القدر:
قرآن کے مطابق، اس رات کی عبادت "ہزار مہینوں" سے بہتر ہے۔[سورۃ القدر:3]
2. تلاوتِ قرآن:
اس مہینے میں قرآن ختم کرنے کی خصوصی فضیلت۔
3. تراویح:
سنت کے مطابق رات کی نماز۔
---
5. تاریخی و ثقافتی تناظر:
- پیش اسلامی دور:
عرب رمضان کو "گرم موسم" کے لیے جانتے تھے، لیکن اسلام نے اسے "روحانی گرمی (گناہوں کے خاتمے)" کا مہینہ بنا دیا۔
- دیگر مذاہب میں:
یہودیت میں "یوم کپور" اور عیسائیت میں "لینٹ" جیسے فاقہ کشی کے تصورات ہیں، لیکن رمضان کا مقصد اور طریقہ ان سے منفرد ہے۔
---
6. جدید سائنس اور رمضان:
صحت کے فوائد:
جدید تحقیق کے مطابق روزہ (1)میٹابولزم کو ری سیٹ کرتا ہے، (2)بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرتا ہے، اور (3)دماغی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
-نفسیاتی فوائد:
صبر، نظم، اور خود پر قابو پانے کی تربیت۔
---
نتیجہ:
لفظ "رمضان" عربی الاصل ہے جس کا بنیادی مفہوم "گناہوں کو جلا دینا" یا "روحانی تپش" ہے۔ اسلام نے اسے ایک جامع تربیتی مہینہ بنایا ہے، جہاں (1)روزہ، (2)تلاوتِ قرآن، (3)دعا، اور (4)سماجی خدمت کے ذریعے انسان اپنے رب سے قربت حاصل کرتا ہے۔ یہ مہینہ نہ صرف فرد کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ پورے معاشرے کو رحمت اور یکجہتی کی طرف لے جاتا ہے۔
*دعا کی قبولیت اور شیاطین کی گرفتاری»*
حضرت علی سے روایت ہے کہ:
جب رمضان شریف کی پہلی رات ہوئی تو اللہ کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ و سلم (لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے) کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرکے ارشاد فرمایا:
اے لوگو! تمہاری طرف سے تمہارے دشمن جنات کے لیے الله تعالیٰ کافی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تم سے دعاء قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے(چنانچہ قرآن پاک میں)ارشاد ہے:
*﴿مجھ سے دعاء مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔﴾*
[ سورۃ غافر:60]
خوب سن لو! اللہ پاک نے ہر سرکش شیطان پر سات فرشتے(نگرانی کے لئے)مقرر فرما دیئے ہیں، لہٰذا اب وہ ماہِ رمضان گزرنے تک چھوٹنے والے نہیں ہیں(اور یہ بھی سن لو!)رمضان شریف کی پہلی رات سے اخیر رات تک(کے لئے)آسمان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور اس مہینے میں دعاء قبول ہوتی ہے۔ جب رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی پہلی شب ہوتی تو آپ ﷺ (ہمہ تن عبادت میں مصروف ہونے کے لئے) تہبند کس لیتے اور ازواج مطہرات سے علیحدہ ہوجاتے، اعتکاف فرماتے، شبِ بیداری کا اہتمام کرتے، کسی نے پوچھا: تہبند کس لیتے کا کیا مطلب ہے؟ تو فرمایا: حضور ﷺ ان دنوں بیویوں سے الگ رہتے تھے۔
[الترغيب والترهيب للأصبهاني:1836، جامع الأحاديث-للسيوطي:34669، كنزالعمال:24274]
[تفسير الدر المنثور-للسیوطي:1/455،سورة البقرة:185]
*تحفۂ رمضان»
فرشتوں کی دعا اور یاقوت کا محل:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:
جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ بھی رمضان شریف کی آخری رات تک بند نہیں کیا جاتا۔ اور کوئی مسلمان بندہ ایسا نہیں ہے کہ رمضان شریف کی راتوں میں سے کسی رات میں نماز پڑھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر سجدہ کے بدلے میں ڈھائی ہزار نیکیاں لکھے گا اور اس کے لیے جنت میں سرخ یا قوت کا ایک مکان بنا دے گا جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اور ہر دروازے کے لیے سونے کا ایک محل ہو گا جو سرخ یاقوت سے آراستہ ہو گا پھر جب روزہ دار رمضان المبارک کے پہلے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے گزشتہ سب (چھوٹے) گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور اس روزہ دار کے لیے روزانہ صبح کی نماز سے لے کر غروب آفتاب تک ستر ہزار فرشتے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتے رہتے ہیں۔ اور رمضان شریف کی رات یا دن میں (اللہ کے حضور جب) کوئی سجدہ کرتا ہے تو ہر سجدے کے عوض اس کو (جنت میں) ایک ایسا درخت ملتا ہے جس کے سایہ میں سوار پانچ سو برس تک چل سکتا ہے۔
[شعب الإيمان-البيهقي:3362، فضائل الأوقات للبيهقي:43، کنزالعمال:23706]

عظیم الشان محل:
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت ماہِ مضان کے لیے شروع سال سے آخر سال تک سجائی جاتی ہے، جب رمضان شریف کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت (اللہ تعالیٰ سے) عرض کرتی ہے: اے اللہ! اس مبارک مہینہ میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے میرے اندر قیام کرنے والے مقرر فرما دیجئے (جو عبادت کرکے میرے اندر داخل ہو سکیں) (اسی طرح) حوریں بھی عرض کرتی ہیں کہ اے خدائے ذوالجلال! س بابرکت مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے واسطے کچھ خاوند مقرر فرما دیجیے، چنانچہ جس شخص نے رمضان شریف کے مہینے میں اپنے نفس کی (منع کردہ خواہشات سے)حفاظت کی اور کوئی نشہ آور چیز نہ پی اور نہ کسی مومن پر کوئی بہتان لگایا اور نہ کوئی گناہ (کبیرہ) کیا تو اللہ جل شانہ (رمضان شریف کی) ہر رات میں اس بندہ کی سو حوروں سے شادی کر دیتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک محل سونے چاندی، یاقوت اور زمرد کا تیار کر دیتے ہیں (اس محل کی لمبائی چوڑائی کا یہ عالم ہے کہ) اگر ساری دنیا اکٹھی اس محل میں رکھ دی جائے تو ایسی معلوم ہو جیسے دنیا میں کوئی بکریوں کا باڑہ ہو (یعنی جس طرح تمام دنیا کے مقابلے میں بکریوں کا باڑہ چھوٹا سا معلوم ہوتا ہے اسی طرح اگر ساری دنیا جنت کے اس محل میں رکھ دی جائے تو بکریوں کے باڑے کی طرح چھوٹی سی معلوم ہو گی)۔ اور جس شخص نے اس مبارک مہینے میں کوئی نشہ والی چیز پی یا کسی مومن پر کوئی بہتان لگایا یا کوئی گناہ (کبیرہ) کیا *تو اللہ تعالیٰ اس کے سال بھر کے نیک اعمال ختم کر دیں گے۔* لہٰذا رمضان شریف کے مہینے میں بے احتیاطی سے بچو! کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے، اس میں حدود سے آگے نہ بڑھو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گیارہ مہینے مقرر کئے ہیں جن میں (طرح طرح کی) نعمتیں استعمال کرتے ہو اور لذتیں حاصل کرتے ہو۔ رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ نے (اپنی عبادت کرنے کے لیے) خاص فرما لیا ہے۔ لہٰذا رمضان کے مہینہ میں بے احتیاطی سے گریز کرو اور جان و دل سے اطاعت کرو۔
[شعب الإيمان-البيهقي:3359]
[صحيح ابن خزيمة:1886 عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْغِفَارِيِّ]
تحفہ رمضان»
شب و روز لاکھوں کی تعداد میں مغفرت»
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جب رمضان شریف کے مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں (اور پورے مہینے یہ دروازے کھلے رہتے ہیں) ان میں سے کوئی ایک دروازہ بھی پورے مہینے میں بند نہیں ہوتا اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں (اور تمام مہینے دروازے بند رہتے ہیں) اس دوران کوئی ایک دروازہ بھی نہیں کھلتا اور سرکش جنات قید کر دیئے جاتے ہیں۔
اور (رمضان شریف کی) ہر رات میں ایک آواز لگانے والا (تمام رات) صبح صادق تک یہ آواز لگاتا رہتا ہے کہ اے بھلائی اور نیکی کے تلاش کرنے والے! (نیکی کا ارادہ کر) اور خوش ہوجا اور اے بدی کا قصد کرنے والے! (بدی سے) رک جا اور اپنے حالات میں غور کر (اور ان کا جائزہ لے) اور یہ بھی آواز لگاتا ہے کوئی گناہوں کی معافی چاہنے والا ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں، کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے۔ کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔ کوئی ہم سے کسی چیز کے متعلق سوال کرنے والا ہے کہ اس کا سوال پورا کر دیا جائے۔ اور رمضان شریف کے مہینہ میں روزانہ رات کو (روزہ) افطار کرتے وقت ساٹھ ہزار (60,000) آدمی جہنم سے بری فرماتے ہیں، جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اتنی تعداد میں جہنم سے بری فرماتے ہیں کہ مجموعی طور پر جتنی تعداد میں پورے مہینے میں آزاد فرماتے ہیں یعنی ساٹھ ہزار تیس مرتبہ جن کی کل مجموعی تعداد اٹھارہ لاکھ (18,00,000) ہوتی ہے۔
[شعب الإيمان-للبيهقي:3334، فضائل الأوقات-للبيهقي:51، جامع الأحاديث-للسيوطي: 2583]
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جل شانہ رمضان المبارک کی ہر شب میں چھ لاکھ (6,00,000) آدمیوں کو دوزخ سے بری فرماتے ہیں‘ اور جب رمضان المبارک کی آخری شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ (اتنی تعداد میں آدمیوں کو دوزخ سے) بری فرماتے ہیں جتنی تعداد میں آج رات تک پورے مہینہ میں آزاد فرمائے ہیں۔‘‘
[شعب الإيمان-للبيهقي:3332، فضائل الأوقات-للبيهقي:52، جامع الأحاديث-للسيوطي:8290]
حضرت ابن عباس سے رمضان المبارک کی فضیلت کے متعلق ایک بہت طویل اور جامع روایت منقول ہے اس میں یہ بھی ہے کہ: ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ۔۔۔
حق تعالیٰ شانہ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ(10,00,000) آدمیوں کو جہنم سے بری فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہو چکے تھے اور جب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو یکم رمضان سے آج تک جس قدر لوگ جہنم سے آزاد کئے گئے ہیں ان کے برابر اس ایک دن میں آزاد فرماتے ہیں۔‘‘
[شعب الإيمان-للبيهقي:3421، فضائل الأوقات-للبيهقي:109، جامع الأحاديث-للسيوطي:38559]
*تحفۂ رمضان» رمضان شریف میں امت پر پانچ خصوصی انعام»*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ:
رمضان شریف کے متعلق میری امت کو خاص طور پر پانچ چیزیں دی گئی ہیں،جو پہلی امتوں کو نہیں ملیں:
(1)روزہ دار کے منہ کی بدبو (جو بھوک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے) اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
(2) ان کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعائے مغفرت کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔
(3)جنت ہر روز ان کے لیے سجائی جاتی ہے‘ پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے بندے (دنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آئیں۔
(4)اس ماہ مبارک میں سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔ (یعنی رمضان میں شیاطین قید ہونے کی بناء پر روزہ داروں کو گناہوں پر نہیں ابھار سکتے‘ لیکن انسان کا نفس گناہ کرانے میں شیاطین سے کم نہیں ہے اور گناہوں کا چسکا بھی گناہوں کی پٹڑی پر چلاتا رہتا ہے تاہم پھر بھی گناہوں کی کمی اور عبادت کی کثرت کا ہر شخص مشاہدہ کرتا ہے۔)
(5)رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لیے مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا یہ شب مغفرت شب قدر ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔
[مسند احمد:7917، فضائل رمضان لابن أبي الدنيا:18، مسند الحارث:319، مسند البزار8571، مختصر قيام الليل للمروزي: ص258، شرح مشكل الآثار للطحاوي:2013، المجالسة وجواهر العلم:2991، تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي:453، فضائل رمضان لابن شاهين:27، شعب الإيمان للبيهقي:3330]
ایک روزہ کا بدلہ»*
حضرت ابو مسعود غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم سے رمضان کے چاند نظر آنے پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ:
’’اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان المبارک کی کیا حقیقت ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہو جائے۔ پھر (قبیلہ) خزاعہ کے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! رمضان کے بارے میں ہمیں کچھ بتلایئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا رمضان المبارک کے لیے جنت شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہے۔ جب رمضان شریف کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش (اعلیٰ) کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس سے جنت کے درختوں کے پتے ہلنے (اور بجنے) لگتے ہیں اور حوریں عرض کرتی ہیں: اے ہمارے رب! اس مبارک مہینے میں ہمارے لیے اپنے بندوں میں سے کچھ شوہر مقرر کر دیجئے جن سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں (اس کے بعد پھر) آپ نے فرمایا کوئی بندہ ایسا نہیں ہے کہ رمضان شریف کا روزہ رکھے گا مگر یہ بات ہے کہ اس کی شادی ایسی حور سے کر دی جاتی ہے جو ایک ہی موتی سے بنے ہوئے خیمے میں ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں فرمایا ہے کہ:
حُوْرٌ مَّقْصُوْرَاتٌ فِی الْخِیَامْ
(یعنی حوریں خیموں میں رکی رہنے والی)
[سورہ الرحمن:۷۲]
ان عورتوں میں سے ہر عورت کے جسم پر ستر قسم کے لباس ہوں گے جن میں سے ہر لباس کا رنگ دوسرے لباس سے مختلف ہو گا اور انہیں ستر قسم کی خوشبودی جائے گی جن میں سے ہر عطر کا انداز دوسرے سے مختلف ہو گا اور ان میں سے ہر عورت کی (خدمت اور) ضرورت کے لیے ستر ہزار نوکرانیاں اور ستر ہزار خادم ہوں گے‘ ہر خادم کے ساتھ ایک سونے کا بڑا پیالہ ہو گا جس میں کئی قسم کا کھانا ہو گا (اور وہ کھانا اتنا لذیذ ہو گا کہ) اس کے آخری لقمے کی لذت پہلے لقمے سے کہیں زیادہ ہو گی۔ اور ان میں سے ہر عورت کے لیے سرخ یاقوت کے تخت ہوں گے‘ ہر تخت پر ستر بسترے ہوں گے جن کے استر موٹے ریشم کے ہوں گے اور ہر بسترے پر ستر گدے ہوں گے اور اس کے خاوند کو بھی اسی طرح سب کچھ دیا جائے گا (اور وہ) موتیوں سے جڑے ہوئے سرخ یاقوت کے ایک تخت پر بیٹھا ہو گا۔ اس کے ہاتھوں میں دو کنگن ہوں گے یہ رمضان المبارک کے ہر روزہ کا بدلہ ہے(خواہ) جو (شخص) بھی روزہ رکھے۔ (روزہ دار نے) روزہ کے علاوہ جو نیکیاں (اور اعمال صالحہ) کئے ہیں ان کا اجر و ثواب اس کے علاوہ ہے مذکورہ ثواب صرف روزہ رکھنے کا ہے۔‘‘
[صحیح ابن خزیمہ:1886]
تخريج:
مسند أبويعلى:5273
تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين:459
المعجم الكبير-للطبراني:967(22/388)
شعب الإيمان-للبيهقي:3361
الترغيب والترهيب للأصبهاني:1765
الترغيب والترهيب للمنذري:1495
مجمع الزوائد-للهيثمي:4781
جامع الأحاديث-للسيوطي:19146
كنز العمال:23715
---
حاصل شدہ اسباق و نکات:
1. رمضان کی عظمت
حدیث میں بتایا گیا کہ اگر لوگوں کو رمضان کی حقیقت کا علم ہو جائے تو وہ تمنا کریں کہ سارا سال رمضان ہی رہے۔
2. رمضان کی آمد سے قبل جنت کی تیاری
رمضان کے استقبال میں جنت کو سال بھر سجایا جاتا ہے، جو اس ماہ کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
3. روزہ دار کے لیے حوروں کی دعا
رمضان کے پہلے دن جنت کی حوریں اللہ سے دعا کرتی ہیں کہ ان کے لیے روزہ داروں کو شوہر بنایا جائے۔
4. روزہ دار کا حور سے شادی کا انعام
جو شخص رمضان کا روزہ رکھتا ہے، اس کی شادی ایک خاص حور سے کر دی جاتی ہے۔
5. جنت کی حوروں کی صفات
· وہ موتی کے خیموں میں رہنے والی ہیں۔
· ان کے جسم پر ستر قسم کے مختلف رنگوں کے لباس ہوں گے۔
· انہیں ستر قسم کی خوشبوئیں دی جائیں گی۔
· ان کی خدمت کے لیے ستر ہزار نوکرانیاں اور ستر ہزار خادم ہوں گے۔
6. جنت کے کھانے کی لذت
کھانے کا آخری لقمہ پہلے لقمے سے زیادہ لذیذ ہو گا، جو جنت کی نعمتوں کے دوام اور لذت کو ظاہر کرتا ہے۔
7. روزہ دار کے لیے خاص انعام
روزہ دار کو موتیوں سے جڑے یاقوت کے تخت پر بیٹھنے کا شرف حاصل ہو گا اور اسے کنگن پہنائے جائیں گے۔
8. روزہ کا الگ اجر
مذکورہ انعامات صرف روزہ رکھنے کا بدلہ ہیں، باقی نیکیوں کا اجر اس کے علاوہ ہے۔
9. رمضان میں عبادات کی ترغیب
یہ حدیث مسلمانوں کو رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور روزے رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
10. اللہ کا فضل و کرم
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے اور تھوڑی سی نیکی کا بے حساب اجر عطا فرماتا ہے۔
*بلاعذر روزہ نہ رکھنا:*
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ:
’’جس نے (شرعی) اجازت اور مرض کی (مجبوری) کے بغیر رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا (اگر وہ ساری) عمر (بھی) روزے رکھے تب بھی اس کی قضا(تلافی) نہیں ہو سکتی۔
[سنن الترمذی:723، السنن الكبرى للنسائي:3268، صحيح ابن خزيمة:1987، شرح السنة للبغوي:1753]
تشریح:
(جو شخص رمضان کا ایک روزہ بغیر کسی رخصت کے جو اللہ نے اسے دی ہے) اور ایک روایت میں "بغیر کسی عذر کے" اور ایک روایت میں "بغیر کسی علت (وجہ) کے" (افطار کر لے) تو (اس کے بدلے) پورے سال کے روزے بھی (اس کی قضاء) پورا نہیں کر سکتے۔ یہ (عبارت) مبالغے کے طور پر ہے، اسی لیے اسے (آپ ﷺ نے) ان الفاظ میں تاکید فرمائی: (اگر وہ پورا سال روزے رکھ لے) یعنی پورے سال کے روزے مکمل طور پر، اور اس میں کوئی کمی نہ کرے اور اپنی پوری کوشش اور طاقت صرف کر دے۔ (راوی نے) مبالغے میں مزید اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے قضاء کو صوم (روزے) کی طرف مجازی طور پر منسوب کیا اور صوم کو دہر (سال) کی طرف اضافت کرکے ظرف کو مفعول بہ کا درجہ دیا ہے، کیونکہ اصل (عبارت) یہ تھی: "وہ (آدمی) پورے سال میں (اس ایک دن کی) قضاء نہیں کر سکتا۔" یا اس کا مطلب یہ ہے کہ قضاء (اپنی ادائیگی کے اعتبار سے) ادائے اصلی کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، چاہے وہ اس دن کے بدلے پورے سال روزے رکھ لے، کیونکہ گناہ قضاء کرنے سے ساقط نہیں ہوتا، اگرچہ اس سے روزے کا فریضہ ساقط ہو جاتا ہے، اور اس لیے بھی کہ قضاء (روزہ) ادائے اصلی کی طرح کامل نہیں ہوتا۔ پس آپ ﷺ کے اس فرمان: "پورے سال کے روزے اس کی قضاء نہیں کر سکتے" کا مطلب یہ ہے کہ (قضاء) اس (ادائے اصلی) کے خاص وصف یعنی کمال کے لحاظ سے (پورا نہیں کر سکتی)، اگرچہ اس کا عام وصف جو ادائے اصلی کے کمال سے کم تر ہے، اس کے لحاظ سے قضاء ہو جاتی ہے۔ ابن منیر نے کہا: یہ (توجیہ) حدیث کے معنی کے زیادہ قریب ہے، اور اسے قضاء کے سرے سے نفی (عدم قبولیت) پر محمول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ کوئی بھی واجب عبادت جو وقت کے ساتھ مخصوص ہو، ایسی نہیں ہے جو قضاء ہی نہ ہو۔
---
حاشیہ:
(1) اور امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اس پر (صرف) ایک دن کی قضاء کرنا اور باقی دن (جس میں اس نے روزہ نہیں رکھا) میں (بطور توبہ) بھوکا پیاسا رہنا واجب ہے، اور اس کا ذمہ (قضاء سے) بری ہو جاتا ہے۔ یہی امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام احمد اور جمہور علماء کا قول ہے۔ ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے مروی ہے کہ اس پر بارہ دن روزے رکھنا لازم ہے کیونکہ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا: اس پر تیس دن روزے رکھنا لازم ہے۔ اور امام نخعی نے کہا: اس پر تین ہزار دن روزے رکھنا لازم ہے۔ اور حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: پورے سال کے روزے بھی اس کی قضاء نہیں کر سکتے، اور انہوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
[فیض القدیر للمناوی: حدیث نمبر 8492]
حاصل اسباق و نکات:
1. رمضان کے روزے کی حرمت اور تاکید: مذکورہ بالا عبارت میں رمضان کے روزے کی اہمیت اور اس کے بلا عذر افطار کرنے کی سنگینی کو واضح کیا گیا ہے۔ حدیث میں اس گناہ کی شدت کو مبالغے کے انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ پورے سال کے روزے بھی اس ایک دن کی قضاء کی برکت اور ثواب کا بدل نہیں بن سکتے۔
2. فقہی اصول: مبالغہ اور حقیقت میں فرق: شارحین نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ حدیث کا یہ انداز محض مبالغہ اور وعید کے لیے ہے، نہ کہ اس حقیقت کے بیان کے لیے کہ قضاء سرے سے قابل قبول ہی نہیں۔ یہ ایک اہم اصولی نکتہ ہے کہ وعید پر مبنی احادیث کو ان کے حقیقی اور مبالغہ آمیز پہلوؤں کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
3. جمہور کا مسلک: قضاء کا وجوب: عبارت کے آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ جمہور ائمہ کرام (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد) کا مسلک یہی ہے کہ بلا عذر روزہ توڑنے والے پر صرف ایک دن کی قضاء واجب ہے، اور اس کی توبہ قبول ہوگی۔ حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا موقف بھی اسی ضعیف حدیث کی بنا پر نقل کیا گیا ہے، لیکن جمہور کا مسلک ہی راجح ہے۔
4. حدیث کی سند پر کلام اور اہمیت: اس عبارت میں حدیث کی سند پر مفصل کلام کیا گیا ہے، جس سے علم حدیث کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ محدثین نے اس حدیث کے راویوں (ابوالمطوس اور ان کے والد) پر جرح کی ہے اور اسے ضعیف، مضطرب اور غیر ثابت قرار دیا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دین کا کوئی بھی مسئلہ لیتے وقت حدیث کی سند کی صحت پر نظر رکھنا کس قدر ضروری ہے۔
5. توبہ اور گناہ سے نجات کا راستہ: اگرچہ یہ حدیث وعید پر مبنی ہے، لیکن دیگر صحیح احادیث اور جمہور کا مسلک ہمیں بتاتا ہے کہ بندہ اگر سچی توبہ کرے، ندامت محسوس کرے، اور قضاء کر لے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ لہٰذا کسی گناہ کے بعد مایوس ہونے کے بجائے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ: رمضان کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین کو بند کر دیا جاتا ہے اور مضبوط باندھ دیا جاتا ہے اور سرکش جنوں کو بھی بند کر دیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اس کا کوئی دروازہ بھی کھولا نہیں جاتا اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ اے نیکی کے طالب آگے بڑھ کہ نیکی کاوقت ہے۔ اور اے بدی کے چاہنے والے بدی سے رک جا اور اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھ۔ کیونکہ یہ وقت گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کو چھوڑنے کا ہے اور خدا تعالیٰ کے لیے ہے۔ دوزخ کی آگ سے آزاد کئے ہوئے یعنی اللہ تعالیٰ آزاد کرتا ہے بہت بندوں کو دوزخ کی آگ سے بحرمت اس ماہ مبارک کے اور یہ آزاد کرنا رمضان شریف کی ہر رات میں ہے شب قدر کے ساتھ مخصوص نہیں۔
[سنن الترمذي:682]
فائدہ:
*مسند حمد اور ترمذی کی روایتوں میں تطبیق(جوڑ)»*
اوپر مسند احمد کی روایت میں منقول ہوا کہ رمضان المبارک کی "آخری" شب میں امت کی مغفرت کی جاتی ہے۔
وَيُغْفَرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ
[مسند أحمد:7917]
اور اس روایت ترمذی میں رمضان کی "ہر" رات میں عتق و آزادی کا ذکر ہے.
وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ.
[سنن الترمذي:682]
تو سمجھ میں یوں آتا ہے کہ شاید ترمذی کی روایت میں ہر روز کے گناہوں کے منادی(پکارنے والے) کی خبر دی گئی ہو، اور جب تمام رمضان میں ہر روز کے گناہ رات کو معاف کر دیئے جاتے ہیں تو آخری شب میں تمام گناہوں کی مغفرت کی خبر دے دی گئی۔ ہر روز گناہ معاف ہونے کا لازمی نتیجہ آخری شب میں کل گناہوں کی مغفرت اور نَجَاةً مِنَ النَّارِ (یعنی جہنم کسے نجات) کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ اور اگر ﴿وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ﴾ (اور یہ ہر رات ہوتا ہے) کا یہ مطلب ہو کہ یہ منادی رمضان المبارک کی ہر شب میں ہوتی ہے تو اس صورت میں وللہ عتقا من النار منادی کا جز ہو گا اور اس کا تعلق ﴿كُلُّ لَيْلَةٍ﴾ سے نہ ہو گا۔ پھر کسی تطبیق کی حاجت نہیں رہتی۔
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے اپنی شرح [مشکوٰۃ اشعۃ اللمعات] میں چونکہ وہ ترجمہ اختیار فرمایا ہے جو اوپر گزرا ہے اس لیے اس میں توجیہہ کی ضرورت پیش آئی۔
واللّٰہ اعلم بمرادہ و رسولہ
فائدہ:
*شیاطین اور جنوں کے قید کرنے کی حکمت»*
اس ماہ مبارک کے اندر شیاطین اور سرکش جنوں کے قید کر دینے میں حکمت یہ ہے کہ وہ روزہ داروں کے دلوں میں وسوسہ گناہوں کا نہ ڈال سکیں اور معصیت کی طرف ان کو نہ بلائیں اسی کا یہ اثر ہے کہ اکثر گرفتار ان معاصی اس ماہ مبارک میں گناہوں سے پرہیز کرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جاتے ہیں۔
*شیاطین کے قید ہوجانے کے باوجود بعض لوگوں سے گناہ کیوں ہو جاتے ہیں؟*
بعض لوگوں سے اس ماہ کے اندر بھی جو معاصی (گناہوں) کا صدور ہو جاتا ہے اس میں شیاطین کی پہلی وسوسہ اندازی اور سابقہ "عادت" پڑی ہوتی ہے، اس "عادت" کی وجہ سے اس مبارک زمانہ میں بھی ان سے گناہ ہوجاتے ہیں یا یہ اثر ہے نفس کی قوت (برائی کی طرف لے جانے والی قوت) داعیہ الی الشر کا کہ نفس گناہوں کی طرف رغبت دلاتا ہے اس لیے گناہ ہو جاتے ہیں شیاطین کے اثر سے گناہ نہیں ہوتے تو جو گناہ اس مبارک ماہ میں ہوتے ہیں وہ نفس کے تقاضا اور اس کی قوت داعیہ الی الشر(یعنی برائی کی طرف بلائے جانے والی قوت) کے سبب ہوتے ہیں اور شیاطین کے وساوس کی وجہ سے جو گناہ رمضان سے قبل ہوا کرتے تھے ان سے اس زمانہ میں لوگوں کو محفوظ کر دیا جاتا ہے۔
*شاہ محمد اسحاق کا جواب»*
اس اشکال کا ایک جواب استاذ الکل حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب دہلویؒ نے دیا ہے جس کو صاحب مظاہر حق نے پسند فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فاسقوں کے بہکانے سے صرف "سرکش" شیطان روک دیئے جاتے ہیں اور "کم" درجہ کے شیطان ان کو بہکاتے رہتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ بہ نسبت اور دنوں کے ایام رمضان میں گناہ کم کرتے ہیں لیکن کچھ گناہ ان سے ہوتے رہتے ہیں۔
*مسلمانوں کی ذمہ داری»*
ماہ مبارک کی ان تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس مہینہ میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ اور کوئی لمحہ ضائع اور بے کار جانے نہیں دینا چاہئے شب و روز کے ساعات کو اعمال صالحہ کے ساتھ مزین و معمور رکھنے کی سعی اور کوشش میں مصروف رہنا چاہئے۔
ترجمہ:

فائدہ:
ایک حدیث میں آیا ہے کہ: اللہ کی رَضا باپ کی رَضا میں ہے، اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔[ترمذی:1889] اَور بھی بہت سی روایات میں اِس کا اہتمام اور فَضل وَارِد ہوا ہے، جولوگ کسی غفلت سے اِس میں کوتاہی کر چکے ہیں اور اب اُن کے والدین موجود نہیں، شریعتِ مُطہَّرہ میں اُس کی تَلافِی(کمی کو پورا کرنا) بھی موجود ہے: ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ: جس کے والدین اِس حالت میں مرگئے ہوں کہ وہ اُن کی نافرمانی کرتا ہو، تو اُن کے لیے کثرت سے دُعا اور اِستِغفار کرنے سے مُطِیع(فرماںبردار) شمار ہوجاتا ہے۔[شعب الإيمان للبيهقي:7902] ایک دوسری حدیث میں وارد ہے کہ: بہترین بھلائی باپ کے بعد اُس کے مِلنے والوں سے حُسنِ سُلُوک ہے۔[ترمذی:1903]
حضرت عُبادہؓ کہتے ہیں کہ: ایک مرتبہ حضور ﷺ نے رمَضانُ المبارک کے قریب ارشاد فرمایا کہ: رمَضان کا مہینہ آگیا ہے جو بڑی برکت والا ہے، حق تَعَالیٰ شَانُہٗ اُس میں تمہاری طرف مُتوجَّہ ہوتے ہیں، اور اپنی رَحمتِ خاصَّہ نازل فرماتے ہیں، خَطاؤں کو مُعاف فرماتے ہیں، دُعاؤں کو قبول کرتے ہیں، تمہارے تَنافُس کو دیکھتے ہیں، اور ملائکہ سے فَخر کرتے ہیں؛ پس اللہ کو اپنی نیکی دِکھلاؤ، بدنصیب ہے وہ شخص جو اِس مہینے میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جاوے۔
شواهد:
[عن ابي.هريرة ...مسند احمد (7450)]
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
[مجمع الزوائد-للهيثمي:17633]
[صحيح الجامع الصغير:2169]
تشریح علامہ مناوی:
"بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر دن اور رات جہنم سے آزاد کیے جانے والے لوگ ہوتے ہیں۔"
یعنی رمضان کے ہر دن اور رات میں، جیسا کہ دوسری روایت میں وضاحت ہے۔
ان میں سے ہر بندے کے لیے (یعنی ان آزاد کیے جانے والوں میں سے ہر ایک کے لیے) ایک قبول شدہ دعا ہے۔
یعنی اس کے افطار کے وقت، یا اس کی آزادی کا فیصلہ صادر ہونے کے وقت۔
یہ رمضان، اس کے روزہ داروں، دعا اور دعا کرنے والے کے لیے ایک عظیم فضیلت ہے۔
حکیم ترمذی نے کہا:
"ہر انسان کی دعا اس کی قوتِ قلبی کے مطابق ہوتی ہے۔ کبھی ایسی دعا نکلتی ہے جو نہایت روشن ہوتی ہے، جیسے طلوع ہونے والا سورج۔ کبھی دعا چاند کے طلوع ہونے کی مانند ہوتی ہے۔ اور کبھی دعا کچھ کمی کے ساتھ نکلتی ہے، تو اس کا نور ستاروں کی طرح ہوتا ہے۔"
[فیض القدیر-للمناوی:2348]
---
فوائد و اسباق
1. دو عظیم بشارتیں: اس حدیث میں رمضان کے روزہ داروں کے لیے دو عظیم خوشخبریاں ہیں:
· ہر روز اور ہر رات جہنم سے بہت سے لوگ آزاد کیے جاتے ہیں۔
· ان آزاد شدگان میں سے ہر ایک کے لیے ایک قبول شدہ دعا ہے۔
2. رمضان کی ہر رات میں آزادی: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کی ہر رات میں (نہ صرف لیلۃ القدر) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے۔ جیسا کہ حضرت جابر کی حدیث میں ہے: "ذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ" [سنن ابن ماجہ: 1643]۔
3. قبولیتِ دعا کے اوقات: علامہ مناوی نے دو اوقات بتائے ہیں جب یہ دعا قبول ہوتی ہے:
· افطار کے وقت (کیونکہ روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی)
· آزادی کا فیصلہ صادر ہونے کے وقت (جب اللہ کسی کو جہنم سے آزاد کرنے کا حکم فرماتا ہے)
5. کثرتِ عتقاء: "عتقاء" کا لفظ جمع ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہر رات بے شمار لوگوں کو اپنے فضل و کرم سے جہنم سے نجات دیتا ہے۔
7. رمضان کو غنیمت جاننا: یہ حدیث ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ رمضان کی ہر رات اور ہر دن کو غنیمت جانیں، خوب عبادت کریں، اور خوب دعائیں مانگیں۔
8. دعا کا اہتمام: روزہ داروں کو چاہیے کہ وہ افطار کے وقت اور سحری کے وقت خصوصی طور پر دعاؤں کا اہتمام کریں، کیونکہ ان اوقات میں دعا قبول ہونے کی امید زیادہ ہے۔
شَهرُ رَمَضانَ الَّذى أُنزِلَ فيهِ القُرءانُ هُدًى
لِلنّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِنَ الهُدىٰ وَالفُرقانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهرَ
فَليَصُمهُ ۖ وَمَن كانَ مَريضًا أَو عَلىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِن أَيّامٍ أُخَرَ
ۗ يُريدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسرَ وَلا يُريدُ بِكُمُ العُسرَ وَلِتُكمِلُوا
العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ
{2:185}
|
مہینہ
رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت
ہے واسطے لوگوں کو اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی
[۲۷۹] سو جو کوئی پائے تم میں سے اس مہینہ کو تو ضرور روزے رکھے اسکے [۲۸۰] اور
جو کوئی ہو بیمار یا مسافر تو اس کو گنتی پوری کرنی چاہیئے اور دنوں سے [۲۸۱]
اللہ چاہتا ہے تم پر آسانی اور نہیں چاہتا تم پر دشواری اور اس واسطے کہ تم پوری
کرو گنتی اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ تم کو ہدایت کی اور تاکہ تم
احسان مانو [۲۸۲]
|
The month of
Ramadhan: therein was sent down the Qur'an: is a guidance unto mankind, and
with evidences: one of the Books of guidance and the distinction. So
whosoever of you witnesseth the month, he shall fast it, and whosoever sick
or journeying, for him the like number of other days. Allah intendeth for you
ease, and intendeth not for you hardship; so ye shall fulfil the number and
shall magnify Allah for His having guided you,and haply ye may give thanks.
|
مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو
اول رمضان میں روزہ کا حکم فرمایا اور
بوجہ عذر پھر مریض اور مسافر کو افطار کرنے کی اجازت دی اور دیگر اوقات میں ان
دنوں کے شمار کے برابر روزوں کا قضا کرنا تم پر پھر واجب فرمایا ایک ساتھ ہونے
یا متفرق ہونے کی ضرورت نہیں تو اس میں اس کا لحاظ ہے کہ تم پر سہولت رہے دشواری
نہ ہو اور یہ بھی منظور ہے کہ تم اپنے روزوں کا شمار پورا کر لیا کرو ثواب میں
کمی نہ آ جائے اور یہ بھی مدنظر ہے کہ تم اس طریقہ سراسر خیر کی ہدایت پر اپنے
اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس کو بزرگی سے یاد کرو اور یہ بھی مطلوب ہے کہ ان
نعمتوں پر تم شکر کرو اور شکر کرنے والوں کی جماعت میں داخل ہو جاؤ سبحان اللہ
روزہ جیسی مفید عبادت ہم پر واجب فرمائی اور مشقت و تکلیف کی حالت میں سہولت بھی
فرمادی اور فراغت کے وقت میں اس نقصان کے جبر کا طریقہ بھی بتلا دیا۔
|
اس حکم عام سے یہ سمجھ میں
آتا تھا کہ شاید مریض اور مسافر کو بھی افطار و قضا کی اجازت باقی نہیں رہی اور
جیسے روزہ رکھنے کی طاقت رکھنے والوں کو اب افطار کی ممانعت کر دی گئ ایسے ہی
مسافر اور مریض کو بھی ممانعت ہو گئ ہو اس لئے مریض و مسافر کی نسبت پھر صاف
فرما دیا کہ ان کو رمضان میں افطار کرنے
اور اور دنوں میں اس کے قضا کرنے کی اجازت اسی طرح باقی ہے جیسے تھی۔
|
یعنی جب اس ماہ مبارک کے
فضائل مخصوصہ عظیمہ تم کو معلوم ہو چکے تو اب جس کسی کو یہ مہینہ ملے اس کو روزہ
ضرور رکھنا چاہیئے اور بغرض سہولت ابتداء میں جو فدیہ کی اجازت برائے چندے دی گئ
تھی وہ موقوف ہو گئ۔
|
حدیث میں آیا ہے کہ صحف
ابراہیمی اورتوریت اور انجیل سب کا نزول رمضان
ہی میں ہوا اور قرآن شریف بھی رمضان کی
چوبیسویں رات میں لوح محفوظ سے اول آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا پھر تھوڑا
تھوڑا کر کے مناسب احوال آپ پر نازل ہو تا رہا اور ہر رمضان میں جبرئیلؑ قرآن نازل شدہ آپ کو مکرر سنا
جاتے تھے ان سب حالات سے مہینے رمضان کی
فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی مناسبت اور خصوصیت خوب ظاہر ہو گئ اس لئے اس
مہینے میں تراویح مقرر ہوئی پس قرآن کی خدمت اس مہینے میں خوب اہتمام سے کرنی
چاہیئے کہ اسی واسطے مقرر اور معین ہوا ہے۔
|
ماہ رمضان شریف کی فضیلت وبزرگی کا بیان ہو رہا ہے اسی ماہ مبارک میں قرآن کریم اترا
مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے ابراہیمی صحیفہ رمضان کی پہلی رات اترا اور توراۃ چھٹی تاریخ اگلے تمام صحیفے اور توراۃ و انجیل تیرھویں تاریخ اور قرآن چوبیسویں تاریخ نازل ہوا.
[مسند أحمد بن حنبل » مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ... » بَاقِي مُسْنَد المُكْثِرِينَ مِنَ الصَّحَابَةِ » مُسْنَدُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ...رقم الحديث: 12103(11924)+12923(12763)]
[فتح الباري لابن حجر : 4/135 / خلاصة حكم المحدث : ضعيف]
(۳) ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رمضان اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں گناہوں کو جلا دیا جاتا ہے اور شوال اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں گناہوں کو اوپر اٹھا لیا جاتا ہے جیسے اونٹنی اپنی دم کو اوپر اٹھاتی ہے۔
(۵) ابن مردویہ اور الاصبہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ! رمضان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس میں مؤمنین کے گناہوں کو جلا دیتے ہیں اور ان کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں (پھر) پوچھا گیا شوال کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اس میں لوگوں کے گناہوں کو اوپر اٹھا لیتے ہیں (یعنی ختم فرما دیتے ہیں! کوئی گناہ اس میں باقی نہیں رہتا مگر یہ کہ اس کو بخش دیتے ہیں۔
(٦) بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے یعنی رمضان اور ذوالحجہ۔
(۷) البزار ، طبرانی نے الاوسط میں بیہقی نے شعب میں انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب رجب (کا مہینہ) داخل ہوتا یہ دعا فرماتے: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ.
ترجمہ:
[البحر الزخار بمسند البزار 10-13 » بَقِيَّةُ مُسْنَدِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ » زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ عَنْهُ... رقم الحديث: 2032(6496)]
(۱۰) ابن ابی شیبہ، احمد، نسائی اور بیہقی نے عرفجہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ ہم عتبہ بن فرقد رحمہ اللہ علیہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ہم کو رمضان کے بارے میں بیان فرما رہے تھے اچانک نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی داخل ہوئے تو عتبہ بن فرقد خاموش ہوگئے اور (اس صحابی سے) فرمایا اے ابو عبید اللہ ہم کو رمضان کے بارے میں بتائیے کس طرح آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سنا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رمضان مبارک ایسا مہینہ ہے اس میں جنت کا دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں شیاطین کو قید کر لیا جاتا ہے اور ہر رات ایک آواز لگانے والا آواز لھاتا ہے اے خیر کے متلاشی متوجہ ہو اور اے شر کے متلاشی بس کر یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا ہے۔
(۱۱) امام احمد، طبرانی، بیہقی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر افطار کے وقت اللہ تعالیٰ کے چند بندے ہیں جو دوزخ سے آزاد کئے گئے ہیں۔
روزہ کفارہ سیئات
(۱۲) مسلم اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچوں نمازیں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک مٹانے والے ہیں ان گناہوں کو جو ان کے درمیان ہو جائیں جب بڑے گناہوں سے بچے۔
(۱۳) ابن حبان اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اس کی حدود کو بچانا اور حفاظت کی ان چیزوں کی جن کی حفاظت کرنی چاہئے تھی تو پہلے سب گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے۔
(۱٤) ابن ماجہ نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر افطار کے وقت اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ (دوزخ سے) آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات میں ایسا ہوتا ہے۔
(۱۵) ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن خزیمہ، حاکم (انہوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینے کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات کو باندھ دیا جاتا ہے دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور اس میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک پکارنے والا ہر رات پکارتا ہے اے خیر کے متلاشی متوجہ ہو اور اس شر کے متلاشی بس کر، اور اللہ تعالیٰ کے لئے دوزخ سے آزاد ہوتے ہیں اور ہر رات کو ایسا ہوتا ہے۔
(۱٦) ابن ابی شیبہ، نسائی اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا ہم تم کو خوشخبری دیتے ہیں کہ تمہارے پاس رمضان کا مبارک مہینہ آچکا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرما دئیے۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور اس میں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیر سے محروم ہوگیا تو وہ (پوری خیر) سے محروم ہوگیا۔
(۱۷) احمد، البزار، ابو الشیخ نے بیہقی اور الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ میں میری امت کو پانچ باتیں دی گئیں جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں۔ جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں۔ (۱) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (۲) ان کے لئے فرشتے استغفار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ افطار کر لیں۔ (۳) ہر دن اللہ تعالیٰ اپنی جنت کو سمجھاتے ہیں پھر (جنت سے) فرماتے ہیں عنقریب میرے نیک بندے جو (دنیا میں) مشقت اور تکلیف کو اٹھائیں وہ تیری طرف لوٹ آئیں۔ (٤) اس (مبارک مہینہ) میں شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ اس مہینہ میں نجات پاتے ہیں اتنے کسی اور مہینہ میں نجات نہیں پاتے۔ (۵) اور ان کے لئے آخری رات میں مغفرت کی جاتی ہے کہا گیا یا رسول اللہ ! کیا یہ لیلۃ القدر ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن عمل کرنے والے کو اس کو پورا اجر دیا جاتا ہے جب وہ اپنے عمل کو پورا کر لیتا ہے۔
(۱۸) بیہقی اور الاصبہانی نے جابر بن عبدا للہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے مہینہ میں میری امت کو پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی بنی کو نہیں دی گئیں پہلی یہ ہے کہ جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر (رحمت) فرماتے ہیں اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت فرما دیتے ہیں اس کو کبھی عذاب نہیں دیا جاتا۔ دوسری چیز یہ ہے کہ منہ کی بوجب شام ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاک ہوتی ہے اور تیسری چیز یہ ہے کہ فرشتہ ہر دن اور رات میں ان کے لئے استغفار کرتے ہیں اور چوتھی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت کو حکم فرماتے ہیں کہ وہ تیار ہو جائے اور میری بندوں کے لئے مزین (یعنی خوبصورت) ہو جائے۔ عنقریب وہ دنیا کی تھکان سے آرام حاصل کرنے کے لئے میرے گھر اور میری کر امت میں آجائیں۔ اور پانچویں چیز یہ ہے کہ جب آخری رات ہوتی ہے تو ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ صحابہ میں سے ایک آدمی نے کہا کیا یہ لیلۃ القدر ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں کیا تم مزدوں کی طرف دیکھتے ہو جو کام کرتے ہیں جب وہ کام سے فارغ ہوتے ہیں تو ان کو پورا پورا اجر دیا جاتا ہے۔
(۱۹) بیہقی نے شعب الایمان میں اور اصبہانی نے الترغیب میں حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے لئے رمضان کی ہررات میں چھ لاکھ (آدمی) کو جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور جب آخری رات ہوتی ہے۔ تو گزشتہ تمام راتوں کی تعداد کے برابر آزاد کئے جاتے ہیں۔
(۲۰) بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رمضان کے مہینہ کی جب پہلی رات ہوتی ہے تو جنتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور سارا مہینہ کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور سارا مہینہ اس میں سے کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ اور سرکش جن کو ہتھکڑی ڈال دی جاتی ہے (یعنی باندھ دیا جاتا ہے) اور ایک پکارنے والا ہررات صبح ہونے تک پکارتا ہے اے خیر کے تلاش کرنے والو! (خیر کو) پورا کرو اور خوش ہو جاؤ اور اے شر کے تلاش کرنے والے بس کر اور آسمان کی طرف کہہ۔ آسمان سے (آواز آتی ہے) ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ ہم اس کو بخش دیں، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ ہم اس کی توبہ قبول کریں، ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں، ہے کوئی سوال کرنے وال کہ ہم اس کا سوال پورا کریں۔ اور ہر افطاری کے وقت رمضان کے مہینہ کی ہر رات سے اللہ تعالیٰ ساٹھ ہزار بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں اور جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو سارے مہینے میں جتنے لوگ آزاد کئے گئے تھے اس کے برابر مزیر آزاد کئے جاتے ہیں۔ یعنی بیس مرتبہ ساٹھ ساٹھ ہزار آزاد کئے جاتے ہیں۔
(۲۱) ابن ابی شیبہ، ابن خریمہ نے الصحیح میں بیہقی اور الاصبہانی نے الترغیب میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر یہ رمضان کا مہینہ پہنچ چکا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قسم مسلمان ہر مسلمان کے لئے اس سے بہتر مہینہ نہیں گزرا۔ اور منافقوں پر اس سے برا مہینہ نہیں گزرا رسول اللہ ﷺ کی قسم اللہ تعالیٰ اس کا اجر و ثواب اس کے داخل ہونے سے پہلے لکھ دیتا ہے۔اور (اس مال کے) داخل ہونے سے پہلے اس کا گناہ اور اس کی بدبختی لکھ دی جاتی ہے اور یہ اس وجہ سے مؤمن اس میں نفقہ تیار کرتا ہے عبادت میں قوت حاصل کرنے کے لئے اور منافق اس میں تیار کرتا ہے مؤمنین کی غیبت اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کے پیچھے پڑنے کو اور یہ (مہینہ) مؤمنین کے لئے غنیمت ہے اور فاجر لوگوں پر تاوان ہے۔
(۲۲) العقیلی انہوں نے اسے ضعیف کہا ہے۔ ابن خزیمہ نے صحیح میں بیہقی ، خطیب، الاصبہانی نے الترغیب میں سلمان فارسی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن میں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا اے لوگو تمہارے پاس بڑا برکت والا عظمت والا مہینہ پہنچ چکا ہے یہ ایسا مہینہ ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے فرض کئے ہیں اور رات کے قیام مستحب بنایا ہے جو اس میں ایک نیکی کرے گا وہ اس طرح ہوگا جیسے اس نے باقی مہینوں میں فرض ادا کیا اور جو اس میں فرض (نماز) ادا کرے کرے گا تو اس کو اتنا ثواب ملے گا گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرض ادا کئے اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے یہ مہینہ غم خواری کا ہے اور اس مہینہ میں مؤمن کا رزق زیادہ کر دیا جاتا ہے جس نے اس مہینہ میں کسی روزہ دار کو افطار کرا ئے گا تو اس کے لئے گناہوں سے مغفرت ہوگی اور آگ سے چھٹکارا ہوگا اور اس کے لئے اتنا ہی اجر ہوگا جتنا روزہ دار کو ملے گا اور وہ روزہ دار کے اجر میں کمی نہ ہوگی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے ہر ایک اس چیز کو نہیں پاتا جس سے روزہ دار کو افطار کرائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس کو بھی عطا فرمائیں گے جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور ایک گھونٹ پانی سے کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرا دے۔ اور جس نے روزہ دار کا پیٹ بھرد یا اللہ تعالیٰ میرے حوض سے اس کو اس طرح پلائیں گے جس سے کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور اس مہینہ کا اول اور درمیانی عشرہ مغفرت ہے اور اس کا آخری عشرہ آگ سے چھٹکارا ہے اور جس نے اس مہینہ میں اپنے غلام سے ہلکا کر دیا (کام کو) تو اس کی مغفرت کر دی جائے گی اور آگ سے چھٹکارا ہو جائے گا اس میں چار کاموں کو کثرت سے کر و دو کان ایسے ہیں کہ ان دونوں کے ذریعے تمہارا رب راضی ہوگا اور دو کام ایسے ہیں جس سے تم بے پرواہ نہیں ہو وہ دو کام جن سے تمہارا رب راضی ہوگا وہ یہ ہیں کہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس سے استغفار کرنا اور دو کام جن سے تم بے پرواہ نہیں ہو وہ یہ ہیں کہ تم جنت کا سوال کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔
تراویح سنت ہے
(۲۳) ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی نے عبد الرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کا ذکر آتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے تم پر فرض کئے ہیں اور میں اس کے قیام کو سنت قرار دیتا ہوں سو جو شخص اس کا روزہ رکھے گا اور اس کا قیام کرے گا ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے تو وہ گناہوں سے ایسا نکل جائے گا جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ تو اس دن اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ [مصنف ابن أبي شيبة » كتاب الصلاة » أَبْوَابُ صَلاةِ التَّرَاوِيحِ ... رقم الحديث: 7533(7779)
(۲۵) ابن خزیمہ، بیہقی اور الاصبہانی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ جب رمضان کا مہینہ آیا تو رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سبحان اللہ تم کس کا استقبال کر رہے ہو؟ اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے؟ عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! کیا وحی نازل ہوئی یا دشمن پہنچ چکا ہے؟ فرمایا نہیں لیکن رمضان کا مہینہ ہے اس کی پہلی رات میں اللہ تعالیٰ ان تمام قید والوں کو مغفرت فرماتے ہیں۔ صحابہ میں سے ایک آدمی اپنے سر کو ہلا کر کہنے لگا واہ واہ (آپ نے کیا فرما دیا؟) نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا یہ سن کر کیا تیرا سینہ تنگ ہوگیا اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ لیکن میں نے منافق کافر ہے اور کافر کے لئے اس میں سے کچھ نہیں۔
(۲٦) بیہقی نے جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کیا جب رسول اللہ ﷺ کے لئے منبر تیار فرمایا تو اس کی تین سیڑھیاں تھیں جب رسول اللہ ﷺ پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین۔ مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو آمین آمین کہتے ہوئے سنا اور کسی کو ہم نے نہیں دیکھا آپ نے فرمایا جبرئیل علیہ السلام مجھ سے پہلے پہلی سیڑھی پر چڑھتے اور فرمایا اے محمد ﷺ میں نے کہا لبیک وسعدیک جبرئیلؑ نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پایا (اور ان کی خدمت کرکے) اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ و برباد کرے۔ (اور مجھ سے کہا) آپ کہہ دیجئے آمین۔ میں نے کہا آمین پھر جب وہ دوسری سیڑھی پر چڑھے تو جبرئیلؑ نے فرمایا اے محمد ﷺ میں نے کہا لبیک وسعد یک۔ پھر فرمایا جس نے رمضان کا مہینہ پایا۔ دن کو روزہ رکھا اور رات کو قیام کیا پھر مرگیا اس کی مغفرت نہ ہوئی اور دوزخ میں داخل ہوگیا اللہ تعالیٰ ا س کو بھی تباہ و برباد کرے آپ کہہ دیجئے آمین۔ میں نے کہا آمین۔ میں نے کہا آمین۔ جب جبرئیلؑ تیسری سیڑھی پر چڑھے تو کہا اے محمد ﷺ میں نے کہا لبیک وسعد یک۔ پھر فرمایا جس کے سامنے آپ کا ذکر ہو اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا اور پھر مر جائے (اس حال میں) کہ اس کی مغفرت نہ ہوئی اور دوزخ میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ اسے بھی تباہ و برباد کرے۔ آپ فرما دیجئے آمین میں نے کہا آمین۔
رمضان میں گناہ بخشوانے کی کوشش
(۲۷) امام حاکم (انہوں نے اسی صحیح کہا ہے) نے سعد بن اسحاق کعب بن عجرہ ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منبر لے آؤ تو ہم منبر لے آئے جب آپ پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین جب دوسری پر چڑھے تو فرمایا آمین جب تیسری پر چڑھے تو فرمایا آمین جب آپ نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم نے آپ سے آج ایسی چیز سنی ہے جو پہلے ہم نے نہیں سنی تھی آپ نے فرمایا جبرئیل میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا (ہلاکت ہو) اس شخص کے لئے جو رمضان (کا مہینہ) پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، میں نے کہا آمین۔ جب دوسری سیڑھی پر چڑھے تو انہوں نے فرمایا ہلاکت ہو اس شخص کے لئے جس کے پاس آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا آمین۔ جب تیسری سیڑھی پر چڑھے تو انہوں نے فرمایا ہلاکت ہو اس شخص کے لئے جس نے اپنے بوڑھے والدین کو یا ان میں سے ایک کو پایا اور (ان کی خدمت نہ کی) انہوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کرایا تو میں نے کہا آمین (کہ ایسا ہی ہو)۔
(۲۸) امام ابن حبان نے حسن بن مالک حویرث رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ منبر پر پہلی سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر دوسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر تیسری سیڑھی پر چڑھے تو فرمایا آمین پھر فرمایا میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے تھے اور فرمایا محمد جس نے رمضان (کا مہینہ) پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے میں نے کہا آمین پھر انہوں نے فرمایا جس نے اپنے والدین یا ان میں سے ایک کو پایا پھر وہ دوزخ میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ہلاک کرے میں نے کہا آمین۔ پھر فرمایا جس کے پاس آپ کا ذکر ہو اور اس نے آپ پر درود نہ بھیجا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی تباہ وبرباد کرے میں نے کہا آمین۔
(۲۹) ابن خدیجہ اور ابن حابن نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر تشریف لائے تو فرمایا آمین آمین عرض کیا گیا یا رسول اللہ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا آمین آمین آمین آپ نے فرمایا جبرئیل علیہ السلام میر ے پاس تشریف لائے اور فرمایا جس شخص نے رمضان کا مہینہ پایا اس کی بخشش نہ ہوئی اور جہنم میں داخل ہوا تو اللہ تعالیٰ اس کو تباہ و برباد کرے آپ فرما دیجئے آمین آمین آمین۔
(۳۰) امام بیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو آپ اپنی چادر مبارک کو مضبوطی سے کس لیتے پھر رمضان کے گزرنے تک بستر مبارک پر تشریف نہ لاتے یہاں تک کہ مہینہ گزر جاتا۔
(۳۱) بیہقی، اصبہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ کثرت سے نماز پڑھتے اور گڑ گڑاہٹ سے دعا مانگتے اور رمضان میں انتہائی خوف زدہ ہو جاتے۔
(۳۲) البزار، بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو رسول اللہ ﷺ پر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر سائل کو عطا فرما دیتے تھے۔
(۳۳) بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا رمضان میں پہلی تہائی رات یا آخری تہائی رات کے بعد ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ ہے کوئی سائل جو سوال کرے اور اس کو عطا کیا جائے ہے کوئی استغفار کرنے والا جو استغفار کرے اور اس کو بخش دیا جائے ، ہے کوئی توبہ کرنے والا جو توبہ کرے اور اس کی توبہ قبول کی جائے۔
(۳٤) بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کو سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے مہینہ کے لئے اور حوروں کو سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے روزہ داروں کے لئے جب رمضان داخل ہوتا ہے تو جنت کہتی ہے کہ اس ماہ میں میرے لئے کچھ اپنے بندوں میں سے تجویز کر دیجئے۔ اور حور کہتی ہیں اے اللہ! اس ماہ میں اپنے بندوں میں سے میرے لئے شوہر بنا دیجئے ۔ جس نے اس ماہ میں کسی مسلمان پر بہتان نہیں لگایا اور نشہ آور چیز نہیں پی اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں اور جس شخص نے اس ماہ میں کسی مسلمان پر تہمت لگائی یا کوئی نشہ آور چیز پی لی۔ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو ایک سال کے لئے ختم فرما دیتے ہیں سو ڈرو تم رمضان کے مہینے میں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گیارہ مہینے بنائے کہ تم اس میں کھاتے ہو پیتے ہو اور لذت حاصل کرتے ہو اور اپنے لئے ایک مہینہ بنایا سو ڈرو تم رمضان کے مہینہ سے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔
(۳٦) دارقطنی نے(ا لا فر ادمیں) طبر انی، ابو نعیم نے (الحلیہ میں بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کو رمضان کے لئے مزین کیا جاتا ہے ایک سال کے شروع سے آنے والے سال تک جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جنت کے پتوں سے حور عین پر تو وہ کہتی ہے اے میرے رب ہمارے لئے اپنے بندوں میں سے شوہر بنا دیجئے کہ جس سے ہم اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں اور وہ ہم سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کریں۔
(۳۷) حکیم ترمذی نے نوادر الاصول میں ، ابن خزیمہ، ابو الشیخ نے الثواب میں، ابن مردویہ ، بیہقی الاصبہانی نے الترغیب میں أبو مسعود انصاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک دن سنا اور رمضان کا اچانک نکلا ہوا تھا آپ نے فرمایا اگر بندے جان لیتے جو رمضان کی فضیلت بیان کیجئے؟ آپ نے فرمایا جنت کو رمضان کے لئے سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے تو جنت کے پتے آواز دینے لگتے ہیں حورعین اس کی طرف دیکھ کر کہتی ہے۔ اے میرے رب ہمارے لئے اس مہینہ میں اپنے بندوں میں سے شوہر بنا دیجئے کہ ہم ان کے ساتھ آنکھیں ٹھنڈی کریں اور ہمارے ساتھ آنکھیں ٹھنڈی کریں ان سے کہا جاتا ہے جو بندہ رمضان کا ایک مہینہ روزہ بھی رکھتا ہے تو اس کا نکاح حورعین سے کر دیا جاتا ہے موتی کے ایسے خیمہ میں جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی لفظ آیت ’’حور مقصورات فی الخیام‘‘ ان میں سے ہر عورت پر ستر جوڑے ہوں گے اور کوئی بھی جوڑہ دوسرے رنگ کا نہ ہوگا اور اس کو ستر قسم کی خوشبو دی گئی ہوگی اور اس میں سے ہر ایک رنگ دوسری سے مختلف نہ ہوگا اور ان میں سے ہر عورت کی خدمت کے لئے ستر ہزار خادمات اور ستر ہزار خادم ہوں گے اور ہر خادم کے پاس ایک سونے کا بڑا تھال ہوگا جس میں ایک رنگ کا کھانا ہوگا۔ دوسرے لقمہ میں وہ لذت پائے گا جو پہلے میں نہ ہوگی اور عورت کے لئے اس میں سے ستر سرخ یاقوت کے تخت ہوں گے اور ہر تخت پر ستر بستر ہوں گے جس کا اندر حصہ موٹے ریشم کا ہوگا ہر بستر صوفے ہوں گے اور اس کے شوہر کو بھی اسی طرح سر یاقوت کا تخت دیا جائے گا موتیوں سے جڑا ہوا اس پر سونے کے دو کنگن ہوں گے یہ اس دن کا بدل ہے جس دن اس نے روزہ رکھا۔ دوسری نیکیوں کی جزاء اس کے علاوہ ہے۔
(۳۸) بیہقی اور الصبہانی میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب رمضان کی پہلی روات ہوتی تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور رمضان کی آخری رات تک ان میں سے کوےء دروازہ بند نہیں کیا جاتا مؤمن بندہ جب اس میں سے کسی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ہر سجدہ کے بدلہ میں ڈیڑھ ہزار نیکیاں لکھ دیتے ہیں اور سرخ یاقوت کا ایک گھر اس کے لئے جنت میں بنا دیتے ہیں جس کے ساٹھ ہزار دروازے ہوں گے اس میں ایک سونے کا محل ہوگا جو سرخ یاقوت سے جڑا ہوگا جب رمضان کے پہلے دن کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور اس دن کی طرح رمضان کے مہینہ کے ہر دن میں (گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) اور اس کے لئے روزانہ ستر ہزار فرشتے استغفار کرتے ہیں صبح کی نماز سے سورج غروب ہونے تک اور ہر سجدہ کے بدلہ میں جو وہ رمضان کے مہینہ میں دن یا رات میں سجدہ کرتا ہے ایک درخت ہوگا جس کے سایہ میں ایک سوار پانچ سو سال تک چلے گا۔
(۳۹) بزار اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور حرمت کے لحاظ سے عظیم ذوالحجہ کا مہینہ ہے۔
(٤۰) ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ ہے اور دنوں کا سردار جمعہ ہے۔
(٤۱) بیہقی نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی اوقات کا چناؤ کیا اور ان میں فرض نمازیں مقرر فرمائیں پھر دنوں کو چنا اور ان میں سے جمعہ بنایا اور مہینوں کو چنا کا چنا پھر ان سے رمضان کا مہینہ بنایا اور راتوں کو چنا اور ان میں سے لیلۃ القدر بنائی جگہوں کو چنا اور ان میں سے مساجد بنائیں۔
(٤۲) ابو الشیخ نے الثواب میں بیہقی اور اصبہانی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جنت کا تیار کیا جاتا ہے اور سجایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک رمضان کے مہینہ کے داخل ہونے کے لئے جب رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ہوا چلتی ہے جس کو مشیرہ کہا جاتا ہے۔ جس سے جنت کے پتے ہلتے ہیں اور کواڑ بجتے ہیں۔ آواز سنی جاتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز نہیں سنی ہوگی پھر موٹی آنکھوں والی حوریں کودتی ہیں یہان تک کی جنت کی بلندی میں جھانکتی ہیں اور آواز لگاتی ہیں ہے کوئی اللہ کی طرف نکاح کا پیغام دینے والا کہ اللہ تعالیٰ اس کا نکاح کر دے پھر حورعین کہتی ہیں اے جنت کے رضوان یہ کون سی رات ہے؟ وہ ان کو تلبیہ کے ساتھ جواب دیتا ہے پھر کہتا ہے یہ رمضان کے مہینہ کی پہلی رات ہے امت محمدیہ کے روزہ داروں پر جنت کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں اے جبرئیل! نیچے زمین پر اتر جا سرکش شیاطین کو باندھ دے اور ان کو لوہے کی بیڑیوں میں جکڑ دے پھر ان کو سمندر میں ڈال دے یہاں تک کہ میرے حبیب محمد ﷺ کی امت کے روزوں کو خراب نہ کریں اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینہ کی ہر رات میں ایک آواز دینے والے کو فرماتے ہیں کہ آواز لگا کوئی ہے سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ کو قبول کروں، ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اس کی مغفرت کروں، کون مالدار بھرے ہوئے خزانوں والی ذات کو قرض دے گا جو کسی چیز سے محروم نہیں ہے جو پورا پورا بدلہ دینے والا ہے ذرہ برابر بھی کمی کرنے والا نہیں ہے۔ پھر فرمایا اور اللہ تعالیٰ رمضان کے مہینہ میں ہر دن افطار کے وقت دس لاکھ ایسے لوگ کو آزاد فرماتے ہیں جن پر دوزخ واجب ہو چکی تھی۔ جب رمضان کا مہینہ کا آخری دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دن میں اتنی مقدار میں لوگوں کو آزاد فرماتے ہیں جتنی شروع مہینے سے آخری دن تک آزاد فرمایا تھا۔
لیلۃ القدر میں فرشتوں کی جماعت کا نزول
جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ جبرئیل علیہ السلام کو حکم فرماتے ہیں تو وہ فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور ان کے ساتھ سبز(ہرا) جھنڈا ہوتا ہے اس جھنڈا کو کعبہ کی پشت پر لگایا جاتا ہے اور ان کے چھ سوپر ہوتے ہیں ان میں سے دو پروں کو اس رات میں کھولتے ہیں جب ان کو اس رات میں کھولتے ہیں تو وہ مشرق سے مغرب تک پہنچ جاتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام اس رات میں فرشتوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ ہر اس شخص کو سلام کریں جو کھڑا ہے، بیٹھا ہے، نماز پڑھ رہا ہے یا ذکر کر رہا ہے وہ فرشتے ان سے مصافحہ کرتے ہیں اور ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ جب فجر طلوع ہو جاتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں: اے فرشتوں کی جماعت کوچ کوچ (یعنی زمین سے اب کوچ کر جاؤ) تو وہ کہتے ہیں کہ احمد ﷺ کی امت کے مؤمنین کی ضروریات کا اللہ تعالیٰ نے کیا کیا؟ جبرئیل علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات میں ان کی طرف دیکھا ہے۔ اور ان کو معاف کر دیا ہے اور ان کی مغفرت فرما دی مگر چار آدمیوں کی مغفرت نہیں ہوتی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ آدمی جو شراب کا عادی ہو، والدین کی نافرمانی کرنے والا قطع رحمی کرنے والا، مشاحن ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ مشاحن کیا ہے؟ آپ نے فرمایا قطع تعلق کرنے والا جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس رات کو بدلہ دینے کی رات کہا جاتا ہے۔ جب عید الفطر کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہر شہر میں فرشتوں کو بھیجتے ہیں وہ زمین کی طرف اترتے ہیں اور ہر گلی کے شروع میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور پکارتے ہیں آواز کے ساتھ جس کو اللہ کی ساری مخلوق سوائے انسان اور جنات کے سنتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ کی امت رب کریم کی طرف نکلو بہت بڑا (اجر) دے گا اور بڑے بڑے گناہ معاف کر دے گا۔ جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام (پورا) کرے؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں اے ہمارے معبود! ہمارے سرداران کا بدلہ یہ ہے کہ ان کوپورا پورا بدلہ دیا جائے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! رم گواہ ہو جاؤ میں رمضان کے مہینہ کے روزے اور اس کے قیام کے ثواب کو اپنی رضا مندی اور ان کی مغفرت بنا دیا ہے۔ اور فرماتے ہیں اے میرے بندو! مجھ سے سوال کرو میری عزت اور جلال کی قسم تمہارے اس مجمع میں آج کے دن مجھ سے تم اپنی آخرت کے لئے کچھ بھی مانگو گے میں تم کو عطا کروں گا۔ اور اپنی دنیا کے لئے مانگو گے تو تمہاری طرف دیکھوں گا۔ میری عزت کی قسم میں تمہاری لغزشوں کو چھپا دوں گا۔ جب تک تم مجھے دیکھتے رہو گے اور میری عزت کی قسم! میں تم کو حد نافذ کرنے والوں کے سامنے رسوا نہیں کروں گا اب بخشے بخشائے لوٹ جاؤ تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے راضی ہوں پس فرشتے خوش ہو جاتے ہیں اور اس امت کو جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے رمضان کے مہینہ میں افطاری کے وقت اس کی وجہ سے استغفار کرتے ہیں
(٤۳) بیہقی نے شعب الایمان میں کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں نے اپنے بندوں پر رمضان کے مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اے موسیٰ جو شخص قیامت کے دن آئے گا اور اس کے اعمال نامہ میں دس رمضان ہوں گے تو وہ ابدال میں سے ہوگا اور جو شخص قیامت کے دن آئے گا اور اس کے اعمال نامہ میں بیس رمضان ہوں گے تو وہ مخبتین میں سے ہوگااور جو شخص قیامت کے دن آئے گا اور اس کے اعمال نامہ میں تیس رمضان ہوں گے تو وہ میرے نزدیک ثواب کے لحاظ سے افضل الشہداء میں سے ہوگا۔ اے موسیٰ میں عرش اٹھانے والے (فرشتوں) کو حکم دیتا ہوں کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہو جائے تو عبادت سے رک جاؤ اور جو کوئی رمضان کے روزے رکھنے والا دعا کرے تو تم آمین کہو اور میں نے اپنی ذات پر یہ واجب کر لیا ہے کہ رمضان کے روزہ رکھنے والوں کی دعا کو رد نہ کروں۔
روزے دار کے حق میں مخلوقات کا استغفار
(٤٤) طبرانی نے الاوسط میں بیہقی اور الاصبہانی نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ذکر کرنے والا رمضان میں بخشا ہوا ہے اور اس (رمضان) میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوتا۔
(٤۵) بخاری، مسلم ، ترمذی نے شمائل میں نسائی اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی سخاوت میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ سب سے زیادہ سخی رمضان میں ہوتے تھے جب آپ جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات فرماتے تھے اور رمضان کی ہر رات میں جبرئیل سے ملاقات ہوتی تھی یہاں تک کہ رمضان ختم ہو جاتا تھا یا وہ نبی اکرم ﷺ پر قرآن کا دور کرتے تھے جب جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملاقات فرماتے تو رسول اللہ ﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے۔
[صحيح البخاري » بَاب بَدْءُ الْوَحْيِ ... رقم الحديث: 5(6) صحيح البخاري » كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ » بَاب ذِكْرِ الْمَلَائِكَةِ... رقم الحديث: 2999(3220)، صحيح البخاري » كِتَاب الْمَنَاقِبِ » بَاب صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... رقم الحديث: 3312(3554)
ماہِ رمضان المبارک تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ
استقبالِ رمضان
ماہِ رمضان بڑی فضیلت،عظمت،رحمت،مغفرت اور برکت کا مہینہ ہے،رمضان کی صحیح قدرو قیمت کا احساس در اصل اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم کو تھا ،اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم رجب کے مہینے کے شروع ہوتے ہی رمضان کا استقبال و انتظار فرمایا کرتے تھے،بلکہ پوری امت کو یہ حکم فرمایا کہ :”احصوا ہلال شعبان لرمضان“․رمضان کے لیے شعبان کے چاندکو اچھی طرح یاد رکھو۔(ترمذی) اور رمضان تک پہنچنے کی دعا مانگناشروع فرما دیا کرتے تھے،حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:”اللّٰھمَّ باَرِکْ لَنَافِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَارَمَضَان“اے اللہ!ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔(مسند احمد ،رقم الحدیث2228) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب رمضان کا چاند دیکھتے تو قبلہ کی طرف رخ فرما کر یہ دعا فرمایا کرتے تھے :اے اللہ!اس(چاند) کو ہمارے اوپر امن وایمان اور سلامتی واسلام ،وعافیت داربنا ،بیماریوں سے حفاظت اور روزے ،نماز(وتراویح)اور قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ مزّین رکھیے،یا اللہ! ہمیں رمضان کے لیے اور رمضان کو ہمارے لیے سلامتی وعافیت کے ساتھ رکھیے،اور رمضان اس حال میں مکمل ہو کہ آپ نے ہماری مغفرت فرما دی ہو اور ہم پر رحم فرما دیا ہو اور ہمارے قصور معاف کر دیے ہوں۔ (فضائل رمضان لابن ابی الدنیا ،رقم الحدیث20)۔ بعض احادیث میں یہ دعا منقول ہے:اے اللہ!مجھے رمضان کے لیے اور رمضان کو میرے لیے صحیح سالم رکھیے اور رمضان کو میرے لیے سلامتی کے ساتھ قبولیت کا ذریعہ بنا دے۔(کنزالعمال) رمضان کی نسبت اللہ کے ساتھ:حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔(کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر ودیلمی ،فیض القدیر) رمضان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے رمضان کی خاطر چاند دیکھنے اور شعبان کے چاند کی تاریخوں کو یاد کرنے کا حکم دیااور فرمایا:شعبان کے چاند(اور اس کی تاریخوں)کے حساب کو خوب اچھی طرح محفوظ رکھو تا کہ رمضان کا حساب صحیح ہو سکے(ترمذی واللفظ لہ،سنن دار قطنی،السنن ا لکبری)۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم شعبان کے(چاند اور اس) مہینے کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے،پھررمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے اور اگر(29شعبان)کو چاند دکھائی نہ دیتا تو تیس (شعبان کے)دن پورے کرکے پھر رمضان کے روزے رکھتے تھے۔(ابو داود،مسند احمد،سنن دار قطنی) آپ صلی الله علیہ وسلم اس مہینے میں عبادت واطاعت کا اور زیادہ اہتمام فرماتے تھے،حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے :جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتاتھااور آپ صلی الله علیہ وسلم کی نمازوں میں زیادتی ہو جاتی تھی اور دعاوٴں میں تضرع وزاری بڑھادیتے تھے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا رنگ سرخ ہو جاتا تھا ۔(شعب الایمان للبیھقی)ایک دوسری جگہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے :کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا تھا تو آپ صلی الله علیہ وسلم اپنا تہبند کس لیتے تھے پھر اپنے بستر پر نہیں آتے تھے یہاں تک کہ رمضا ن کا مہینہ گزر جاتا۔ (شعب ا لایمان للبیھقی) معلی ابن الفضل تابعی فرماتے ہیں :صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین رمضان سے چھ مہینے پہلے اللہ سے دعائیں مانگنا شروع فرما دیا کرتے تھے کہ:اے اللہ!ہمیں رمضان تک پہنچا دے اور رمضان کے بعد چھ مہینے تک یہ دعا کیا کرتے تھے کہ:اے اللہ!رمضان میں جو عبادتیں کیں ان کو قبول فرما ۔ ہمارے بزرگوں کا معمول بھی رمضان میں اپنے آپ کو دیگر مصروفیات سے فارغ کرنے کا تھا۔لہٰذا ہمیں بھی رمضان کا استقبال اور انتظار کرنے کے لیے مذکورہ باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے: 1...یہ دعا کی جائے کہ اللہ ہم کو بخیر وعافیت رمضان تک پہنچائے اور پھر رمضان کی رحمت،خیروبرکت سے خوب استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 2...دوسری مصروفیات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ 3...رمضان کے جو کام پہلے ہو سکتے ہیں ان کو پہلے کر لیں اور جو کام موٴخر ہو سکتے ہیں ان کو موٴخر کریں۔ 4...29شعبان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کریں۔ 5...رمضان سے پہلے ہی گناہوں سے پکی وسچی توبہ کر کے اپنے گناہوں کی بخشش اور دل کی صفائی کر لیں تا کہ پہلے ہی دن سے رمضان کی برکتوں سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں۔ روزے کی اہمیت روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے،اللہ رب العزت نے فرمایا:اے ایمان والو! تمہارے اوپر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کئے گئے تھے،تاکہ تم متقی بن جاوٴ۔(سورہ بقرہ:183) 1... روزہ گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ روزہ رکھا اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابوداوٴد، ترمذی) 2... روزہ گناہوں سے ڈھال ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ دے۔ 3... روزہ جہنم کی آگ سے بچاوٴ کا مضبوط قلعہ ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ ڈھال ہے اور جہنم کی آگ سے بچاوٴ کا مضبوط قلعہ ہے۔(شعب الایمان،کتاب الصیام،مسند احمد:رقم الحدیث:8857) 4... روزہ جہنم کی آگ سے ہزاروں میل دوری کا سبب ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھا تو اللہ تعالی اس کو جہنم سے اتنا دور فرمادیتے ہیں کہ جتنی مقدار کوّا اپنی عمر کی ابتداء سے بوڑھے ہو کر مرنے تک اڑتے ہوئے مسافت طے کرتا ہے۔ (شعب الایمان،کتاب الصیام،مسند احمد:رقم الحدیث:10388) 5... روزہ بہترین سفارشی ہے…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ اور قرآن سفارش کریں گے اور ان کی سفارش قبول کی جائے گی۔ 6... روزہ دار کی نیند عبادت،سانس لینا، تسبیح اوردعا مقبول ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:روزہ دار کی نیند عبادت ہے،اس کاسانس لینا تسبیح ہے،اوراس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔(حلیة الاولیاء،کنزالایمان) 7.... روزہ دار کے لیے جنت کی حور آراستہ اور مزین کی جاتی ہے… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:کہ جنت ماہِ رمضان کے لیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہے،اورحوریں بھی روزہ داروں کے لیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہیں۔(شعب الایمان:کتاب الصیام،رقم الحدیث:3359) 8... روزہ دار کے لیے جنت میں داخلے کا اسپیشل گیٹ…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں ایک دروازہ ہے اس کا نام ”ریّان“ہے اورقیامت کے دن اس سے صرف روزہ دار داخل ہونگے،کہاجائے گا”روزے دار کہاں ہیں؟“،پھر وہ کھڑے ہو جائیں گے اورجب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تووہ دروازہ بند کر دیاجائیگا۔ ([صحيح البخاري:1896-1897-3257] 9... روزہ جسم کی زکوة ہے(شعب الایمان،کتاب الصیام)روزہ رکھو تندرست رہو۔ رمضان اور روزے کے فضائل پر قرآن وحدیث میں بیسیوں دلیلیں موجود ہیں ،سب کا مقصدیہ ہے کہ رمضان کا مہینہ ہمارے لیے حاضر ہو گیا ہے،یہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک پیکج ہے جس کی مدت بہت محدود ہے،جس قدر چاہیں ہم اس سے فائدہ اٹھائیں اور فائدہ وہی اٹھاتا ہے جو عقل مند ہو،اگر آپ اپنے آپ کو عقل مندوں کی فہرست میں شمار کرتے ہیں تو خوب خوب فائد ہ اٹھا کر اپنے عقل مند ہونے کا ثبوت دیں۔ حدیث مبارکہ میں ہے: رمضان کی پہلی رات ہی سے شیطانوں،اور سر کش جنوں کو قید کر دیا جا تا ہے، اور جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جا تا ہے اور ان میں سے کو ئی دروا زہ بھی کھلا نہیں رہتا ،اور جنت کے دروازوں کو کھول دیا جا تا ہے اور ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، اور اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ” اے خیر کے طلب کرنے والے! آگے بڑھ، اور اے شر کے طلب کرنے والے! رک جا“ اور اللہ کی طرف سے دوزخ سے بہت سے لوگ آزاد کیئے جا تے ہیں اور یہ واقعہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا کہ:بلا شبہ جنت ماہ رمضان کیلیے شروع سال سے اخیر تک سجائی جا تی ہے، اور حوریں بھی رمضان کے روزے رکھنے والوں کیلیے شروع سال سے اخیر سال تک سجائی جاتی ہیں، جب رمضان شریف کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت (اللہ تعالی) سے عرض کرتی ہے اے اللہ ! اس مبارک مہینہ میں اپنے بندوں میں سے کچھ بندے میرے اندر قیام کرنے والے مقرر فرما دیجئے؛( جو عبا دت کر کے میرے اندر داخل ہو سکیں)اور (اسی طرح) حوریں بھی عرض کرتی ہیں کہ اے اللہ ذوالجلال! اس با برکت مہینے میں اپنے بندوں میں سے ہمارے واسطے کچھ خاوند مقرر فرما دیجئے۔ رمضان آچکا ،آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے،جنت کے دروازے کھول دئیے گئے،رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے،جہنم کے دروازے بند کردئے گئے،سرکش شیاطین کی گردن میں طوق ڈال کر سمندروں میں پھینک دیا گیا،رمضان کورحمت مغفرت اور بخشش کاذریعہ بنادیا گیا،چناں چہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ رمضان کا اول حصہ رحمت ہے اور اس کا درمیانی حصہ مغفرت ہے اور اس کا آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے۔ ہماری بھرپور کوشش ہونی چاہیے کہ اس ماہِ مبارک میں اپنے اللہ کو راضی کرلیں ،اپنے گناہوں کی بخشش کروالیں،وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سید الملائکہ کی بد دعا ہو اور سید الانبیاء کی آمین ہو،ایک روایت میں ہے کہ:حضور صلی الله علیہ وسلم منبر کی طرف تشریف لائے، اور اپنے منبر کے پہلے درجے پر قدم مبارک رکھا تو فرما یا :آمین، جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرما یا :آمین جب تیسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا :آمین،جب آپ خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو ہم (صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین)نے عرض کیا کہ: ہم نے آج آپ سے منبر پر چڑھتے ہوئے ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی ،آپ صلی الله علیہ وسلم سے فرما یا ، کیا تم نے بھی وہ بات سنی ہے؟ ہم نے عرض کیا جی ، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے( جب پہلے درجے پر میں نے قدم رکھا تو)انہوں نے کہا :ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اسکے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھا پے کو پائے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائے میں نے کہا :آمین! پھر جب میں دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا :ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ صلی الله علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہو اور وہ آپ صلی الله علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے میں نے کہا :آمین! پھر انہوں نے کہا کہ: ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضا ن المبارک کا مہینہ پایاپھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی ،میں نے کہا :آمین۔ اس بد دعا کی قبولیت میں کس کو شک ہو سکتا ہے؟لہذا اس حدیث کو ہر وقت سامنے رکھیں ،اور یہ خیال رہے کہ اس بد دعا میں ہم داخل نہ ہو جائیں۔ جبکہ روزہ رکھنے سے آدمی اللہ کا محبوب بن جاتا ہے کہ روز ہ دار کے منہ کی بو (جو معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے)اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیا دہ پاکیزہ(اور پسندیدہ ہے)کما فی الحدیث۔ روزے کا صلہ اللہ جل شانہ خود دیتے ہیں ،چناچہ ایک روایت میں ہے:اللہ عزوجل فرما تے ہیں کہ: روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا ، دوسری روایت کے مطابق اللہ فرماتے ہیں:روزہ کا بدلہ میں خود ہوں۔اسی محبت کی وجہ سے فرمایا کہ:روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ کے ہاں مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے“،اوریہ محبت ہی تو ہے کہ محبوب کو محب سے ملاقات میں مزہ آتا ہے ،فرمایا:کہ روزہ دار کو اپنے رب سے ملاقات کے وقت فرحت ملے گی۔ روزہ دار کے اعزاز کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جنت میں داخلہ کے لیے اللہ نے روزہ داروں کے لیے ایک علیحدہ دروازہ کا اہتمام فرمایا جیساکہ حدیث میں ہے جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ”ریاّن“ ہے۔اس دروازہ سے قیامت کے دن صرف روزہ دار داخل ہونگے ، قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے روزہ داروں کا نام لے کر بلا یا جائے گا ۔ وہ اس دعوت پر کھڑے ہونگے ، اور ان کے علاوہ کوئی اور اس دروازہ سے داخل نہ ہوگا۔ رمضان کس طرح قیمتی بنائیں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے :” ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جس پر رمضان کا مہینہ گزر گیا اور اس نے اپنے گناہ نہ بخشوائے۔ “،آج رمضان کا مہینہ آتا ہے اور گزر جاتا ہے مگر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ،معمول کی طرح زندگی چل رہی ہوتی ہے ،احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہم پر رمضان کا مہینہ گزر رہا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سستی کرتے ہیں اور رمضان کو اہمیت نہیں دیتے ہیں اور اپنے آپ کو ہلاکت کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں ،اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں اور کوشش کریں کہ ہمارا رمضان اس طرح گزرے جس طرح ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم گزارا کرتے تھے،اصحابِ پیغمبر گزارا کرتے تھے ،اسلافِ امت اور اکابرین گزارا کرتے تھے،اس کے لیے ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ ٹائم ٹیبل اور نظام الاوقات کے ساتھ گزارنا ہوگااور رمضان کے لیے ایک مضبوط پلاننگ اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے دستور العمل تیار کرناہوگا،تاکہ اس ماہ میں کسی بھی خیرکے کام اور اللہ کے وعدوں سے محروم نہ ہوسکیں اور رمضان کے یہ قیمتی اوقات اور ساعتیں قیمتی سے قیمتی تر ہو سکیں،لہٰذا دیگر امور اور معاملات کو جتنا موٴخر کر سکتے ہیں ان کو موٴخر کریں،اگر رمضان میں چھٹی کا اختیار ہو اور پیچھے معاملات میں حرج نہ آتا ہو تو چھٹی کریں،اگر چھٹی کا اختیار نہ ہو توکم از کم اپنے اوقات کو ایسا مرتب کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی براہِ راست عبادت میں گذر جائے۔چناں چہ: 1...سب سے پہلے پکی وسچی توبہ کریں،تاکہ گناہوں سے پاک وصاف ہوکررمضان کے انوارات اور برکات سے مستفید ہو سکیں۔ 2... اخلاص کے ساتھ روزہ کا اہتمام کریں …آج کل دین سے بہت دوری ہونے کی وجہ سے بعض مسلمان روزوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے اور اکثر روزہ چھوڑ دیتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ روزے اور رمضان کے تمام فضائل سامنے رکھتے ہوئے اور بندگی بجا لاتے ہوئے اخلاص کے ساتھ روزوں کا اہتمام کریں۔ 3...تراویح کا باجماعت اہتمام کریں…کیوں کہ تراویح مغفرت کا ذریعہ ہے کہ اللہ کے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا” من قام رمضان إیماناً واحتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ،“جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھا اس کے گذشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، تراویح کے واسطہ سے روزانہ اللہ کے چالیس مقاماتِ قرب حاصل ہوتے ہیں،سجدہ مقامِ قرب ہے،اور یہی سجدہ معراج کے دن تحفہ میں ملا،پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے” الصلوة معراج الموٴمن“فرماکر اس کو موٴمن کی معراج قرار دیا۔اللہ ربّ العزت نے بڑے عجیب انداز سے اس بات کو قرآنِ کریم میں سمجھایا،فرمایا:”واسجد واقترب“کہ سجدہ کرو اور ہمارے قریب آجاوٴ۔ 4...تلاوت قرآنِ کریم کی کثرت کریں…رمضان اور قرآن میں ایک خاص مناسبت اور جوڑ ہے،اسی وجہ سے آپ صلی الله علیہ وسلم،صحابہ کرام اور بزرگانِ دین اس ماہِ مقدس میں اور دنوں کی بنسبت تلاوت کلامِ پاک کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے،حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ایک قرآن دن میں،ایک رات میں اور ایک تراویح میں،اسی طرح پورے رمضان میں اکسٹھ قرآن کریم کے ختم فرماتے تھے،علامہ شامی رحمہ اللہ روزانہ ایک قرآن ختم فرماتے تھے۔ 5...سنتوں اورنوافل کا اہتمام کثرت سے کریں…ایک تو اس وجہ سے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”من تقرب فیہ بخصلة من الخیر کان کمن أدی فریضة فیماسواہ“رمضان میں نفل پر فرض کا ثواب ہوگا،دوسرا اس وجہ سے کہ جب نوافل کا اہتمام کیا جائے تو سنتوں پر پختگی ہوتی ہے اور جب سنتوں کا اہتمام کیا جائے تو فرائض پر پختگی ہوتی ہے،جب کہ رمضان میں ایک فرض کی ادائیگی سے ستر فرضوں کا ثواب ملتا ہے،تیسری وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن فرائض کی کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا۔ لہٰذا سنت موٴکدّہ اورغیر موٴکدہ کی پابندی کے ساتھ مندرجہ ذیل نوافل کا بھی اہتمام کیا جائے: تہجد…سحری کے لیے تو بیدار ہوتے ہی ہیں صرف اتنا اہتمام کر لیا جائے کہ سحری سے آگے پیچھے تھوڑا سا وقت نکال کرچند رکعات نماز پڑھ لی جائیں۔کیوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ فرائض کے بعد سب سے افضل نماز تہجدکی نماز ہے(ترمذی:90)َ،نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ جو رات کو اٹھے اوراپنے اہل کو بھی اٹھا کر دو رکعت نفل پڑھے تو ان کانام ذکر کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے “(ابن ماجہ)۔ اشراق (2سے 8 رکعت)… آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ جل شانہ فرماتے ہیں ”کہ اے ابن آدم!تو دن کے شروع حصہ میں چار رکعت نمازخالص میرے لیے پڑھ،میں تجھ کو اس دن کی شام تک کفایت کرونگا“(ترمذی)۔ صلا ة الضحی یعنی چاشت(6سے 12 رکعت )…نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے”کہ جو شخص چاشت کی دورکعت میں مواظبت(پابندی) اختیار کرے، اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر کیوں نہ ہوں“ (ترمذی:1/108)۔ صلاةالاوابین( 6سے 20 رکعت )…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :” کہ جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت پڑھیں اور درمیان میں کوئی بری بات نہیں کی اس کو بارہ(12)سال کی عبادت کے برابر ثواب ملتا ہے “،اور فرمایا:”کہ جس نے بیس(20)رکعت پڑھیں اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“ (ترمذی:1/98) تحیة الو ضو…جب بھی وضو کریں تو اگر مکروہ وقت نہ ہو تو کم ازکم دورکعت پڑھ لیں۔یہی وہ نماز ہے جس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اس مقام پر فائز کیا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ،اے بلال( رضی اللہ عنہ!)تمہارا وہ کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے جنت میں تمہارے جوتوں کی کھٹکھٹاہٹ میں نے اپنے سامنے سنی،حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فرمایا،اے اللہ کے رسول !اور تو کوئی عمل یاد نہیں لیکن جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس سے نماز ضرور پڑھتا ہوں…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا کریگا اس کے لیے جنت واجب ہوگی۔ تحیة المسجد …جب بھی مسجد میں داخل ہوں تو کم از کم دو رکعت پڑھ لیا کریں۔(ترمذی:1/71) صلاة تسبیح …جس کے بارے میں اللہ کے محبوب صلی الله علیہ وسلم نے اپنے چچا کو فرمایا،اے چچا میں آپ کو عطیہ نہ دوں،ہدیہ وگفٹ نہ دوں،کیا (بڑی) خبر نہ دوں،جب آپ یہ کام کروگے تو اللہتعالیٰ آپ کے اول وآخر،قدیم وجدید ،اور عمداً(وسہواً)،صغیرہ وکبیرہ،پوشیدہ وظاہرسب گناہ بخش دیگا،یہ نماز اگر ہر دن ہو سکے تو پڑھو ،ورنہ ہر جمعہ،ورنہ سال میں ایک دفعہ،اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے توعمر میں ایک دفعہ (ضرور)پڑھو۔ صلاةالحا جہ…جب بھی کوئی حاجت پیش آئے تو نماز پڑھیں۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ”کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم میرے لیے دعا فرمائیے کہ اللہ تعالی مجھے بینائی عطا فرمائیں حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اگر تم صبر کرو تو بہت ثواب ہوگا اگر کہو تو میں دعا کروں، انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ دعا فرمائیے، اس وقت آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کو صلاةالحاجة کی تعلیم فرمائی، جسے پڑھ کر اللہ تعالی نے دوبارہ بینائی عطا فرمائی“۔(ترغیب وترھیب :174) صلاة التوبہ…حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کہ کسی مسلمان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس کے بعد فورا ًطہارت کرکے دورکعت نماز پڑھے، پھر اللہ تعالی سے مغفرت چاہے اللہ جلّ شانہ اس کے گناہ بخش دے گا“(ترمذی:1/92)۔ صدقات کی کثرت…آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”صدقہ اللہ تعالی کے غضب کو ٹھنداکرتا ہے اوربری موت کو ٹالتا ہے“اور فرمایا: ” تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائے اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے سے کیوں نہ ہو “۔(ترغیب وترہیب:221) ذکراللہ کی کثرت…(تیسرا کلمہ ، درودشریف اور استغفار صبح وشام سو سودفعہ۔)․ذکر اللہ کی کثرت:جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کثرت سے اللہ تعالی کا ذکر کیا کرو یہاں تک کہ لوگ کہیں کہ یہ پاگل ہے“ اور فرمایا:”کہ اللہ جل شانہ کا ایسا ذکر کرو کہ منا فقین کہیں کہ یہ ریاکار ہے“۔(ترغیب وترہیب:383) گناہوں سے بچنے کا اہتمام…آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ جو جھوٹ بولنااور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔(بخاری وترمذی) دعا کی کثرت …حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :”کہ اگر کوئی چاہے کہ اللہ تعالی تنگی اور مصیبت کے وقت اس کی دعا ئیں قبول فرمائے تو اس کو چاہیے کہ خوشحالی میں کثرت سے دعا کیا کرے ۔(ترمذی) اللہ ربّ العزت ہم سب کو رمضان کی قدر کی توفیق نصیب فرمائے۔ |
رمضان المبارک میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے معمولات میں یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم تیز وتند ہوا کی طرح سخاوت ، فرمایا کرتے تھے۔(بخاری1/3)
تیز وتند آندھی سے اس لئے تشبیہ دی گئی کیوں کہ اس آندھی کا نفع وفائدہ ہر ایک کو پہنچتا ہے اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کی سخاوت اور رحمت کا اثر سب کو پہنچتا ہے، اس حدیث سے امام نووی نے کچھ فوائد ذکر فرمائے ہیں: ہر وقت انسان سخاوت کرے، رمضان میں خیر کی راہوں میں خرچ کرنے میں اضافہ ہونا چاہئے، نیک لوگوں کے ا جتماع پر خرچ کرے، نیکوکاروں کی زیارت کے موقع پر خرچ کرے۔(فتح الباری 1/31)
ایک اور حدیث میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا معمول کچھ یوں ذکر کیا گیا کہ جب رمضان آجاتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم ہر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر مانگنے والے کو عطا کردیتے۔ (طبقات الکبری1/99)
ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے کسی سائل کو کبھی ”لا“ نہیں کہایعنی انکار نہیں فرمایا، اس کے سوال کو ٹالا نہیں، کبھی کسی بھی مانگنے والے کو واپس نہیں لوٹایا۔ (فتح الباری1/31)
حافظ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852) فرماتے ہیں: ر مضان میں چوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم قرآن کریم کا زیادہ دور فرماتے تھے، اور قرآن کریم کے ورد سے دل میں استغناء کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور یہی استغناء کی کیفیت انسان کو سخاوت کی راہ پر ڈالدیتی ہے، نیز رمضان میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیگر دنوں کے مقابلہ میں زیادہ نعمتوں سے نوازتے ہیں اسی سنت الہیہ کو اپناتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم بھی رمضان میں اپنی امت پر زیادہ خرچ کرتے تھے۔(فتح الباری1/31)
اسی کا اثر تھا کہ صحابہ کرام اور بزرگانِ دین بالخصوص رمضان المبارک میں سخاوت میں اضافہ کو ترجیح دیا کرتے تھے، ابن عمر رمضان میں افطار یتیموں ، مسکینوں کے ساتھ فرماتے تھے،بیت المال ان کے لئے کثیر مقدار میں نفقہ جاری کرتا تھا پھر بھی کچھ جمع کرکے نہ رکھتے تھے، ایوب بن وائل کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر کے پاس چار ہزار درہم اور ایک چادر آئی، دوسرے دن ایوب نے ابن عمر کو دیکھا کہ وہ بازار میں جانور کے لئے ادھار گھاس خرید رہے ہیں، جب ایوب بن وائل نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ابن عمر نے وہ رقم ایک فقیر کو ہدیہ دے دی۔ (المعجم الوسیط)
امام شافعی فرماتے ہیں: میں لوگوں کے لئے رمضان میں سخاوت کو زیادہ پسند کرتا ہوں، اس میں لوگوں کا فائدہ زیادہ ہے کیوں کہ لوگ عبادتوں میں روزوں میں مشغول ہوتے ہیں(طبقات الشافعیہ) حماد بن ابی سلیمان رمضان کے مہینے میں پانچ سو افراد کو افطار کرواتے، انہیں عید میں ہر ایک کو سو درہم عطا کرتے، محمد بن احمد اصحاب علم وفضل میں ان کا شمار ہے، اہل علم فقراء پر ان کا احسان مشہور تھا، یہ رمضان میں فقراء کے لئے افطار کا سامان مہیا فرماتے۔(طبقات الشافعیہ1/182)
امام زہری فرماتے ہیں کہ رمضان کا مہینہ تو تلاوت قرآن اور لوگوں کو کھانا کھلانے کا ہے۔
رمضان میں سخاوت کا فائدہ
1...یہ بابر کت مہینہ ہے عامل کے اجر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
2...روزہ داروں اور شب بیداروں کی امداد کرنے سے ان کی عبادتوں کے مثل اجر کے ہم بھی مستحق ہوں گے، کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا اس کو بھی روزہ دارکے اجر میں کمی کئے بغیر ویسے ہی اجر ملے گا۔
3...رمضان خو دایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اس مہینہ میں اپنے بندوں پر سخاوت کرتا ہے، رحمت کے ذریعہ ،مغفرت کے ذریعہ ، آگ سے آزادی کے ذریعہ بالخصوص شب قدر میں بندے بھی بندوں پر سخاوت میں مشغول رہیں۔
4...روزہ اور صدقہ کا اجتماع ہوجائے گا یہ دونوں جنت کو واجب کرنے والے ہیں، ایک حدیث میں آتاہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ اس کے ظاہری حصے سے اندرونی نظارہ ہوگا اور باطن سے ظاہری نظارہ ہوگا، صحابہ کرام نے سوال کیا وہ کس کے لئے ہوگا یارسول اللہ؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے گفت گو عمدہ کی اور کھانا کھلایا، اور روزہ پر مداومت کی، اور را ت میں نماز ادا کی جب کہ لوگ آرام کررہے ہوں، بعض اسلاف کا کہنا ہے کہ نماز انسان کو آدھے راستے تک پہنچادیتی ہے اور روزہ بادشاہ کے دربار تک، اور صدقہ ہاتھ پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں داخل کردیتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ راوی ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے سوال کیا کس نے صبح روزے کی حالت میں کی؟ ابو بکر نے فرمایا: میں نے، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے سوال کیا کون جنازے کے ساتھ گیا تھا ؟ابو بکر نے فرمایا: میں ، پھر سوال ہوا کہ کس نے صدقہ کیا؟ ا س پر ابو بکر نے جواب دیا : میں نے، پھر سوال کیا؟ کس نے مریض کی عیادت کی؟ آپ نے جواب دیا: میں نے،یہ سن کر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں جس میں بھی جمع ہوجائیں وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
5...نیز صدقہ روزے کے خلل کمی نقصان کو پورا کردیتا ہے، اسی لئے جن افراد سے روزہ نہیں ہوسکتا انہیں فدیہ دینے کا حکم دیا گیا؛ لہٰذا روزے کی کمی کی تکمیل کے لئے صدقہٴ فطر کو واجب قرارد یاگیا، الغرض رمضان المبارک کا معظم مہینہ مالداروں سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں اپنے مالوں سے غرباء کا حق نکالیں اور انہیں پہنچانے کا اہتمام کریں، اور اپنے دلوں سے بے نیازی واستغناء پیدا کرتے ہوئے مال کو راہِ خدا میں لٹادیں، اس لئے کہ مال، تو سال بھر آتا جاتا رہے گا لیکن رمضان کا مبارک مہینہ زندگی میں بار بار نصیب نہیں ہوتا، کم از کم اپنا معمول یہ بنائیں کہ ہم اپنے مال سے فرض زکوٰة کے علاوہ اتناحصہ غرباء پر خرچ کریں گے، اور اس پر عمل بھی کریں ان شاء اللہ بہت زیادہ نفع ہوگا، اس لئے کہ راہِ خدا میں دینا در حقیقت اپنے ہی گھر کو بھر لینا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ ہمیں سخی بناوے، اور ماہِ رمضان سے کما حقہ استفادہ کی توفیق نصیب فرمائے، آمین!
قرآن کریم کی تلاوت کے فضائل وفوائد بے شمار ذکر کیے گئے ہیں؛اسی لیے اکابراولیائے کرام تلاوتِ قرآن کا بہت ہی زیادہ اہتمام فرماتے تھے؛ چناں چہ بعض بعض افراد کے تلاوتِ قرآن کے ایسے محیر العقول واقعات ہیں، جنہیں دیکھ کر سوائے حیرانگی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا؛ لہٰذا ایسے ہی چند واقعات کو تاریخ کی کتابوں سے یہاں نقل کیا جارہا ہے، جسے پڑھ کر ہم بھی اس ابدی وسرمدی کتاب کی تلاوت کی طرف متوجہ ہوں، اس کی تلاوت کے ذریعہ اپنی دنیا وآخرت کو سنواریں۔
٭.. امام بخاری… رمضان کی پہلی رات میں اپنے ساتھیوں کو جمع کرتے، ان کی امامت فرماتے، ہر رکعت میں بیس آیتوں کی تلاوت فرماتے، نیز اسی ترتیب پر قرآن ختم فرماتے، ہر دن سحری تک قرآ ن کریم کا ایک تہائی حصہ تلاوت فرماتے، اس طرح تین رات میں قرآن ختم فرماتے اورر مضان کے ہر دن میں ایک قرآن ختم کرتے اور یہ ختم افطار کے موقعہ پر ہوتا اور ہر مرتبہ ختم کرتے ہوئے دعاء کا اہتمام کرتے۔ (فتح الباری1/481)
٭..امام احمد… امام احمد دن رات میں سو رکعت نماز پڑھتے تھے، جب کوڑے لگنے سے کمزور ہوئے تو رات دن میں ڈیڑھ سو رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، حالاں کہ عمر اس وقت اسی برس کے قریب تھی، ہر سات دن میں ایک ختم فرماتے، ہر سات راتوں میں ایک قرآن مجید ختم فرماتے، عشاء کی نماز کے بعد تھوڑی دیر سوتے پھرصبح تک نماز دعا میں رہتے، امام احمد نے پانچ حج کئے جس میں تین پیدل تھے اور دو حج سوار ہو کر۔ (صفة الصفوة 1/484)
٭.. زھیر بن محمد…رمضان کے ایک دن ورات میں تین قرآن ختم فرماتے، مکمل رمضان میں 90 دفعہ قرآن ختم کرتے۔ (صفة 1/510)
٭.. ابو العباس بن عطاء…روز انہ ایک قرآن کریم کی تلاوت کرتے، رمضان کے ایک دن ورات میں تین قرآن ختم فرماتے۔(صفة 1/533) (البدایہ 11/164)
٭.. ابو بکر محمد بن علی کنانی…انہوں نے دوران طواف 12 ہزار دفعہ قرآن کریم کی تلاوت کی۔ (ایضا 1/539)
٭.. ابوبکر بن عباس …جب ان کی وفات کا وقت قریب ہوا تو ان کی بہن رونے لگی، آپ نے ان کی جانب دیکھ کر فرمایا کیوں روتی ہو؟ دیکھو گھر کے اس حصے کو !جس میں تمہارے بھائی نے اٹھارہ ہزار دفعہ قرآن کریم کی تلاوت کی ہے۔ (صفة 2/96) اسی طرح ابو بکر نے اپنے فرزند کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے باپ کو ضائع نہیں کرے گا، جس نے چالیس سال سے ہر رات قرآن ختم کیاہے۔(ایضا) (البدایہ 10/243) چالیس سال تک پشت کو زمین سے نہیں لگایا،60 سال تک روزانہ ایک ختم کرتے،80 رمضان کے روزے رکھے، وفات 96سال میں ہوئی۔
٭..عبد اللہ بن ا دریس…ان کی وفات کے موقعہ پر ان کی لڑکی رونے لگی، انہوں نے تسلی دی کہ مت رو ، تمہارا والد اس گھر میں چار ہزار دفعہ قرآن مجید کی تلاوت کر چکا ہے۔(صفة 2/98) (البدایہ والنہایہ 10/226)
٭.. محمد بن یوسف البناء…یہ فتوی دینے پر اجرت لیتے تھے اور صرف ایک درہم اپنے لیے خرچ کرتے، بقیہ صدقہ کردیتے، ہر دن ایک دفعہ قرآن مجید ختم فرماتے۔ (صفة الصفوة 2/287)
٭.. عبد العزیز المقدسی…یہ ابدال میں سے ہیں، انہوں نے بلوغ سے ہی گناہوں سے بچنے کی بڑی فکر کی اور اس کا اہتمام کرتے رہے، ان کا بیان ہے کہ بلوغ سے لے کر اخیر عمر تک ان کی لغزشیں(36) رہیں، نیز انہوں نے ان میں سے ہر غلطی پر ایک لاکھ دفعہ استغفار کیا اور ہر غلطی کے لیے ایک ہزار رکعت نماز ادا کی، ہر غلطی کی جانب سے ایک دفعہ قرآن ختم کیا ہے، اس کے باوجود بھی میں اللہ کے غصہ سے مامون نہیں کہ وہ میری پکڑ فرمادے اور میں توبہ کی قبولیت کی امیدپر ہوں۔(صفة 2/395)
قرآن کریم کی تلاوت کوئی مقرر نہیں اپنے نشاط وقوت پر موقوف ہے، نیز حضرت عثمان سے مروی ہے کہ وہ ہر رات ایک قرآن ختم فرماتے، نیز یہی عمل سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے، اسی لیے چالیس دن سے تاخیرمیں ایک ختم میں کرنا بلا عذر مکروہ ہے۔ (غذاء الالباب 2/153)
٭.. شیخ علی بن الحسن شافعی…حالتِ احرام میں سفر حج کے دوران ان کا انتقال ہوا، بہت زیادہ اونچی ہمت والے تھے، کئی مرتبہ حج کیے، ایک ہزار سے زائد دفعہ عمرہ کیے، چار ہزار سے زائد دفعہ تلاوت کے ذریعہ قرآن کو ختم کیا، ہر رات ستر مرتبہ کعبة اللہ کاطواف کرتے۔ (مرآة الجنان2/252)
٭.. ولید بن عبد الملک…یہ اپنے ظلم فسق وفجور میں مشہور تھا، اس کے باوجود قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتا تھا، تین دن میں ایک قرآن ختم کرتا اور رمضان میں سترہ دفعہ قرآن ختم کردیتا (مرآة الجنان1/91)
٭.. مامون الرشید…یہ عباسی خلفاء کا بہترین شخص تھا ،اس میں کئی خوبیاں جمع تھیں، لیکن یہ خلقِ قرآن کے فتنہ سے متاثر ہوا، اس کی بناء پر کئی علماء پر ظلم بھی کیا، اس کے بارے میں منقول ہے کہ بعض دفعہ رمضان میں 33 دفعہ قرآن حکیم ختم کرتا۔(تاریخ الخلفاء1/126)
٭.. محمد بن علی بن محمد ابو جعفر…یہ ہمدان کے رہنے والے ہیں، کئی دفعہ انہوں نے حج کیا،قرآن کریم بہت عمدہ آواز میں تلاوت فرماتے، مسجد نبوی میں ہر سال ایک رات میں روضہ کے پاس کھڑے ہو کر قرآن کریم ختم فرماتے۔ (المنتظم 5/100)
٭.. عبد الملک بن الحسن بن احمد…حدیث کے رواة میں سے ہیں، ان کا شمار بڑے زاہدوں میں ہے ہر رات ایک قرآن کریم ختم فرماتے، کثرت سے روزے رکھتے۔ (المنتظم 4/483) (البدایہ 12/147)
٭.. صالح بن محمد ابو الفضل شیرازی… یہ قاری قرآن تھے، یہ فرماتے تھے کہ میں نے چار ہزاردفعہ قرآن ختم کئے ہیں۔(المنتظم 4/22)
٭..ابو بکر بن احمد بن عمر البغدادی…یہ بڑے عبادت گذار اور صاحب ورع وتقوی ہیں، یہ ایک سال مکہ مکرمہ میں قیام کیے ہوئے رہے، جس میں انہوں نے ایک ہزار دفعہ قرآن کریم ختم کیا۔ (الدارس فی تاریخ المدارس 1/414)
٭..ابو الحسن سلمی…ابن الحاجب کہتے ہیں کہ ان کا شمار بڑے علماء میں ہے، یہ فقیہ تھے، دن ورات میں ایک دفعہ قرآن کریم ختم فرماتے، (الدارس فی تاریخ المدارس1/79)
٭..ابو علی عبد الرحیم بن القاضی الاشرف ابی المجد…یہ صاحب ثروت تھے، بہت زیادہ صدقہ وخیرات کا اہتمام فرماتے، عبادت وریاضت قابل رشک تھی، ہر دن ورات میں ایک دفعہ مکمل قرآن کریم ختم کرنے کی پابندی فرماتے۔ (البدایہ 13/31)
٭..شیخ ابو الفرج ابن الجوزی… معروف عالم دین ہیں ،بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں، ان کے وعظ میں کئی کئی لوگ تائب ہوجاتے، تقریبا اسی (80) سال عمر ہوئی، ہر دن ورات میں ایک دفعہ قرآن ختم فرماتے۔ (البدایہ 13/13)
٭..سعید بن جبیر…حضرت ابن عباس کے عظیم شاگرد وں میں سے ہیں، تفسیر فقہ اور دیگر علوم کے امام ہیں، صحابہ کرام کی ایک جماعت سے ان کی ملاقات ہے، مغرب اور عشاء کے درمیان نمازمیں ایک قرآن کریم روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے ختم فرماتے، پھر کعبة اللہ میں بیٹھ کر تلاوت کرتے ہوئے ختم فرماتے، بعض دفعہ کعبة اللہ میں ایک ہی رکعت میں ختم فرماتے، ان کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات میں کعبة اللہ میں نماز میں ڈھائی قرآن تلاوت فرمائی۔ (البدایہ 9/116)
٭..امام ابو حنیفہ…امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ امام صاحب ہر دن ورات میں ایک قرآن ختم فرماتے، جب رمضان کا مہینہ ہوتا تو عید الفطر ولیلة الفطر کو ملا کر62 قرآن ختم فرماتے۔ (اخبار ابی حنیفہ1/41)
خارجہ کہتے ہیں کہ ایک رکعت میں قرآن کریم ختم کرنا چار ائمہ کے سلسلہ میں ہے، عثمان بن عفان، تمیم داری ،سعید بن جبیر اور امام ابو حنیفہ ، نیز یحییٰ بن نضیر کے سلسلہ میں بھی ہے۔ (مغانی الاخیار5/161)
٭..امام شافعی…امام شافعی رمضان کے مہینہ میں ساٹھ(60) دفعہ قرآن کریم ختم کرتے۔ (نداء الریان 1/198)
٭..اسود بن یزید…اسود رمضان میں ہر دو راتوں میں ایک قرآن ختم فرماتے، رمضان کے علاوہ نو(9) راتوں میں ہمیشہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان 1/197)
٭..قتادة…سات دن میں ایک دفعہ ہمیشہ قرآن ختم فرماتے، رمضان میں تین دن میں ایک دفعہ ختم فرماتے، جب عشرہٴ اخیر آتا ہر رات میں ایک دفعہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)
٭..نخعی…عشرہٴ اخیر میں ہر رات میں ایک ختم فرماتے اور بقیہ مہینہ میں تین دن میں ایک دفعہ ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)
٭..سعدبن ابراہیم…یہ ہر دن ایک قرآن ختم فرماتے۔ (نداء الریان1/198)
٭..امام زہری… جب رمضان آتاتو کہتے کہ یہ تلاوتِ قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینہ ہے۔ (نداء الریان1/199)س
٭..سفیان ثوری…رمضان آتا تو دیگر عبادات چھوڑ کر قرآن کی تلاوت کی طرف متوجہ ہوتے۔
٭..ابن عون…بکار السیرینی کہتے ہیں کہ ابن عون ایک دن روزہ رکھتے، ایک دن افطار کرتے، میں ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہا، بہترین خوش بو استعمال کرتے، نرم کپڑا پہنتے، ہر ہفتہ ایک دفعہ قرآن ختم فرماتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی3/132)
٭..ابن عمار… ابن عمار ہر تین دن میں ایک ختم فرماتے۔ (تاریخ الاسلام للذہبی4/267)
٭..شیخ علی بن الحسین… بڑے پُر ہمت شافعی عالم دین ہیں، کئی مرتبہ حج کیے ہیں، ان کے سلسلہ میں مروی ہے کہ ایک ہزار سے زائد عمرہ ادا کیے تھے، چار ہزار دفعہ سے زیادہ قرآن کریم ختم کیے، ہر رات کئی کئی مرتبہ طواف فرماتے تھے، ان کا انتقال حج کے احرام کی حالت میں ہوا۔ (مرآة الجنان2/252)
٭..امام مالک…ابن عبد الحکیم کہتے ہیں کہ جب رمضان آجاتا امام مالک اہل علم کی مجالس ترک کردیتے اور حدیث کا پڑھنا پڑھانا موقوف کردیتے تلاوتِ قرآن کی جانب متوجہ ہوجاتے۔(لطائف 1/172)
٭..شیخ الحدیث زکریا…ماضی قریب کے وہ عظیم بزرگ ہیں جن کی اصلاحی وعلمی وحدیثی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں، ان کے سلسلہ میں مذکور ہے کہ 38ھ میں ماہِ مبارک میں ایک قرآن روزانہ پڑھنے کا معمول شروع ہوا تھا، جو تقریبا 80ھ تک رہا، بلکہ اس کے بعد تک بھی جاری رہا۔ (آپ بیتی 2/67)
ایک حکیم صاحب حضرت شیخ الحدیث صاحب سے ملاقات کے لیے ماہِ رمضان میں آئے، لیکن شام تک وہ تلاوت میں اور اپنے اشغال ہی میں رہے، یہ دیکھ کر آخر کار وہ یہ جملہ کہہ کر گئے، رمضان اللہ کے فضل سے ہمارے یہاں بھی آتا ہے مگر یوں بخار کی طرح کہیں نہیں آتا۔ (ایضا 2/69)
نیز شیخ الحدیث نے اپنی دادی صاحبہ کے تعلق سے لکھا ہے کہ وہ حافظہ تھیں، خانگی مشاغل میں کھانا پکانے کے علاوہ روزانہ ایک منزل پڑھنے کا معمول تھا اور رمضان المبارک میں روز انہ چالیس پارے تلاوت کا معمول تھا۔(آپ بیتی 2/62)
ایسے ہی عاشقین قرآن کے سلسلہ میں وہیب بن ورد کا ایک اقتباس نقل کرنا مناسب ہے کہ ایک شخص نے وہیب سے سوال کیا کہ کیا آپ رات میں سوتے نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ قرآنِ کریم کے عجائبات مجھے سونے سے روک د یتے ہیں۔ ایک شخص دوماہ تک آپ کے ساتھ رہا، انہیں سوتا ہوا نہیں دیکھا، اس نے سوال کیا کہ کیا ہوا آپ سوتے کیوں نہیں؟ انہوں نے جواب دیا قرآن کریم کا ایک اعجوبہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسرا کھل جاتاہے، قرآن کریم یاد رکھ کر بھی سونے والے کے سلسلہ میں احمد ابی الحوار کہتے ہیں: میں قرآن کریم پڑھتاہوں، اس کی آیت کریمہ میں غوروفکر کرتاہوں تو میری عقل حیران رہ جاتی ہے، تعجب ہے ان حفاظ قرآن پر کہ کیسے انہیں نیند آتی ہے کیسے انہیں گنجائش ہوتی ہے اس بات کی کہ وہ دنیاوی مصروفیات میں مشغول رہیں، اس حال میں کہ وہ قرآن کریم پڑھتے ہوں، بہر حال اگر وہ تلاوت کردہ کو سمجھ لیتے اور اس کا حق جانتے تو اس میں لذت محسوس ہوتی تو ان کی نیندیں اڑ جاتیں۔(لطائف المعارف 1/173)
الغرض اکابر کا قرآن کریم سے عشق ہم سے تقاضا کررہا ہے کہ ہم بھی قرآن کریم سے اپنے لگاوٴ میں اضافہ کریں اور قرآن کریم کی تلاوت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!
رمضان کے مبارک مہینے کو کیسے قیمتی بنایا جائے؟ اس میں کون سے اعمال اختیار کیے جائیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر رمضان کی آمد کے ساتھ ہر مسلمان مرد وعورت کے ذہن میں اٹھتا ہے، بہت اہم ،انتہائی قیمتی اور اہمیت کا حامل سوال ہے، رمضان کے مہینے کو قیمتی بنانے کے لیے جہاں فرض روزہ اور پانچ وقت کی نماز باجماعت کا اہتمام اور تمام معاصی کا ترک کرنا ضروری ہے، وہیں ایسے اعمال ، اسباب ووسائل کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے جن سے یہ مبارک مہینہ مزیدقیمتی بن جائے، ذیل میں اختصار کے ساتھ ان وسائل واسباب کا تذکرہ کرتے ہیں جن کو اختیار کرکے ہر مسلمان اس مہینے کو قیمتی بنا سکتا ہے:
افطار کروانا اس مبارک مہینے میں ہر مسلمان حسب استطاعت روزہ داروں کو افطار کرواکر دہرا اجر حاصل کرسکتا ہے، چناں چہ حضرت زید بن خالدجھنی رضی الله عنہ نے حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی روزہ دار کو افطار کروایا اس کو روزہ دار کے مثل اجر ملے گااور روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ (رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجہ) خیر کے کاموں میں خرچ خیر کے کاموں میں خرچ کے ذریعہ سے جہاں ایک طرف نیکی کے کاموں میں تعاون اور مستحق لوگوں کی امداد ہوتی ہے تو دوسری طرف رمضان میں عام دنوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ اجر حاصل ہوتا ہے۔ مکمل یکسوئی رمضان کے مبارک مہینے کوقیمتی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم اس مہینے میں گھر کے تمام افراد پرنٹ والیکٹرانک میڈیا میں موجود اسباب معاصی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، تاکہ یکسو ہوکر الله کی عبادت میں مشغول ہوسکیں، سلف صالحین رحمہم الله تو اس مہینے میں قرآن وحدیث کی تعلیم کو موقوف کردیتے تھے، تاکہ قرآن کی تلاوت، اس میں غور وفکر اور تدبر، عبادت اور قیام اللیل یعنی تہجد کے لیے مکمل طور سے فارغ ہوجائیں، تو کیا ہم لوگ ایک مہینہ کے لیے اپنے آپ کو میڈیا کے ایمان کش سیلاب سے خود کو دور نہیں رکھ سکتے!۔ دعا کا اہتمام ویسے تو رمضان کا لمحہ لمحہ دعا کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے،لیکن افطار سے پہلے کے چند لمحات بہت ہی قیمتی ہوتے ہیں ،یہ دعا کی قبولیت کے یقینی اوقات میں سے ہیں، بجائے فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کے اس وقت کو قیمتی جان کر دعامیں مصروف ہو جائیں، اپنے لیے اور تمام امت مسلمہ کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا سوال کریں۔ والدین کی اطاعت رمضان کو قیمتی بنانے کا ایک بہت ہی اہم وسیلہ اور ذریعہ والدین کی اطاعت وفرماں برداری ہے، کوشش کریں کہ اس مہینے میں خاص طور سے والدین کے قریب رہیں، ان کی خدمت کریں ، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کو ہر طرح کی راحت وسہولت پہنچانے کی فکر کریں۔ مسواک کا اہتمام مسواک کا اہتمام کریں، مسواک جیسے پورے سال میں سنت ہے، ایسے ہی رمضان میں اس کا کرنا سنت ہے، بلکہ عام دنوں کے مقابلے میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ رمضان میں عمرہ کرنا رمضان میں عمرہ کرنا ایک بہت بڑا عمل ہے ، ثواب کے اعتبار سے اس کا اجر ایک حج کے برابر ہے، اس میں بھی لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں، اس لئے کوشش کریں کہ ائمہ مساجد اور علماء سے مشاورت کے بعد اس عمل کو انجام دیں۔ دعوت الی الله اس مہینے میں دعوت الی الله کے عمل کو اہتمام و خصوصیت کے ساتھ انجام دیں، لوگوں کو مساجد کی طرف اور اعمال خیر کی طرف متوجہ کریں۔ اہل ثروت کے لئے اہل ثروت واصحاب خیر حضرات معتمد علماء کرام کی دینی کتب خاص کر رمضان کے مسائل وفضائل سے متعلق کتابیں خرید کر مسلمانوں میں تقسیم کریں، تاکہ معاشرے میں رمضان کے مسائل وفضائل کے معلوم کرنے کی ایک عام فضا قائم ہوجائے۔ تلاوت قران کریم قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کریں، لیکن کوشش کریں کہ قرآن کریم کو صحیح اور درست پڑھیں ، تلفظ اور ادائیگی میں فحش غلطیوں سے اجتناب کریں، اگر پہلے سے پڑھا ہوا نہیں تو کوشش اس بات کی کریں کہ اس مہینے میں قرآن پاک کے حوالے سے اتنی محنت کریں کہ قرآن صحیح پڑھنا آجائے۔ ما تحتوں کی فکر اپنی اولاد ، بہن بھائیوں اور اپنے ما تحتوں کی فکر کریں کہ وہ بھی اس مہینے کو قیمتی بنائیں ، خدانخواستہ ان کے اوقات کسی غلط اور لغو کام میں صرف نہ ہوجائیں، پیار، محبت ،ترغیب اور بقدر ضرورت ترہیب کے ساتھ ان کو اعمال خیر کی طرف متوجہ کریں۔ نماز پنج گانہ باجماعت کا اہتمام نماز پنج گانہ باجماعت ادا کرنے کی کوشش کریں، عام طور سے مغرب میں افطار کی وجہ سے اور فجر میں نیند کے غلبہ کی وجہ سے جماعت کی نماز سے غفلت برتی جاتی ہے، یہ بہت بڑی محرومی کی بات ہے، تھوڑی سی ہمت کرکے ہم خود بھی اور ترغیب کے ذریعے دوسروں کو بھی اس غفلت سے بچا سکتے ہیں، فرائض باجماعت ادا کرنے کے اہتمام کے علاوہ سنن اور نوافل کا بھی خاص اہتمام کریں، اشراق، چاشت ، اوابین اور تہجد کے علاوہ بھی کچھ وقت نوافل کے لیے مخصوص کردیں، کیوں کہ رمضان میں نفل کا ثواب فرائض کے بقدر کردیا جاتا ہے۔ وقت سحر اعمال کا اہتمام سحری کا وقت بہت ہی قیمتی وقت ہوتا ہے، اس وقت الله کی خاص رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے، ایک تو سحری کھانے کا اہتمام ہو، اس کے علاوہ کچھ وقت بچا کر اذکار ، وظائف اور استغفار میں لگائیں، اس وقت استغفار کرنا متقیوں اور اہل جنت کی صفات میں سے ہے۔ خواتین کے لئے خواتین رمضان کی مبارک گھڑیوں کو صرف کھانے پکانے میں صرف نہ کریں، اس میں کوئی شک نہیں کہ افطاری وسحری تیار کرنا باعث اجر وثواب ہے، لیکن بقدر ضرورت وقت اس میں صرف کریں اور اس کے علاوہ اوقات کو اعمال صالحہ میں صرف کریں۔ بازاروں میں فضول گھومنے پھرنے سے اجتناب رمضان میں بہت سارے خواتین وحضرات بازاروں میں گھوم پھر کر کپڑوں، جوتوں اوردیگر اشیاء کی خریداری کے عنوان سے اپنے قیمتی اوقات ضائع کر تے ہیں، اعمال صالحہ سے محروم ہوجاتے ہیں، رمضان سے متعلق جتنی ضروریات ہیں وہ اس مہینے کے شروع ہونے سے پہلے ہی خرید لیں اور باقی اگر رمضان میں کوئی ضرورت ہو تو بقدر ضرورت چیزیں خرید کر فورا گھر لوٹ آئیں، بازاروں اور شاپنگ مالوں میں فضول گھوم پھر کر اپنا قیمتی وقت ضائع اور بربادمت کریں۔ بیس رکعات تراویح کا اہتمام نماز تراویح اور اعتکاف کا مکمل اہتمام کریں، بیس رکعات تروایح پرخیر القرون سے لے کر آج تک تمام امت مسلمہ متفق ہے، سستی اور غفلت یا کسی کے شک میں ڈالنے سے کچھ رکعات(مثلاآٹھ رکعات) پڑھ کر جان نہ چھڑائیں، بلکہ مکمل ۲۰ رکعات پڑھنے کا اہتمام کریں، اس طرح سستی کرنا بڑی محرومی کی بات ہے۔ خواتین کی تراویح و اعتکاف خواتین اپنے گھروں میں فرض نمازوں کے ساتھ تراویح اور اعتکاف کا بھی اہتمام کریں، تراویح اور اعتکاف کا حکم جیسے مردوں کے لیے ہے ، ایسے ہی خواتین کے لیے بھی ہے۔ بچوں کو نماز روزہ کا عادی بنائیں کوشش کریں کے سات سال کے بچوں کو نماز اور روزہ کا عادی بنائیں ان کی حوصلہ افزائی کریں،ہمت دلائیں تاکہ وہ بھی اس مہینے کی برکات سے مالا مال ہوجائیں۔ حضرت ربیع بنت معوز رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رمضان میں اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے تھے اور ان کو مشغول رکھنے لیے کھلونے بنا کر دیتے تھے۔ یہ چند امور رمضان کے مہینے کو قیمتی بنانے کے حوالے سے قابل توجہ ہیں، ان کے علاوہ بھی ائمہ مساجد اور مستند علماء سے پوچھ پوچھ کر اپنا رمضان قیمتی بناسکتے ہیں، اللہ تعالی سب مسلمانوں کو اس مبارک ماہ کی قدر نصیب فرمادے۔(آمین) |
سحری سے اشراق تک کے مسنون اعمال
٭... فجرکے قریب سحری کھانا سنت ہے اور یہ کھانا برکت والا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”تسحَّرُوا فإن فی السحور برکة“․ (صحیح البخاری۔ باب برکة السحور )۔ ترجمہ: سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری کا کھانا برکت والا ہوتاہے۔ حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ۔کسی نے دریافت کیا کہ سحری اور نماز میں کتنا فاصلہ تھا ؟ حضرت زید بن ثابت نے فرمایا: جتنی دیر میں پچاس آیات پڑھی جائیں۔( صحیح البخاری، باب وقت الفجر) ٭... جب فجرکے وقت مؤذن کی آواز سنیں تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں ،پھر یہ دعا پڑھیں:”اللّہم ربَّ ہذہ الدَّعوة التَّامَّة والصلاةِ القآئمةِ آتِ محمَّداً الوَسیلة َوالفَضیلة وَابعثہُ مقاما محموداً الذی وعدتہ“․ ( صحیح البخاری، باب الدعاء عند النداء) اس دعا کے پڑھنے سے قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہونے کی بڑی امید ہے ۔جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں بشارت آئی ہے۔ بیہقی کی روایت میں اس دعا کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں :إنک لاتخلف المیعاد ․ لہٰذا ان کلمات کو بھی شامل کرلینا بہتر ہے۔ نوٹ : یہ دعا ہراذان کے بعد پڑھنا سنت ہے۔ اس کے بعد فجر کی دو سنتیں اداکریں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :” رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیہا“․ (صحیح مسلم، باب استحباب رکعتی الفجر)۔ ترجمہ: فجر کی دو سنتیں دنیا وما فیہا سے بہترہیں۔ ٭... اذان واقامت کے درمیان دعا مانگیں ․ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :”الدعاء لایُرد بین الأذان والإقامة“․ (رواہ الترمذی وقال: حدیث حسن)۔ ترجمہ: اذان واقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔ ٭... فجر کی نماز باجماعت مسجد میں اداکریں ․․ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے :اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ عشا اور فجر کی نماز کا کتنا ثواب ہے تو گھٹنوں کے بل بھی چل کرآتے۔ (بخاری ومسلم) ٭... خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں۔ ٭... نماز فجر کے بعد نماز کی جگہ بیٹھ کر ذِکرُ اللہ میں مشغول رہیں،بہترین ذِکر‘ تلاوت قرآن ہے، لہٰذا کم ازکم آدھا پار ہ تلاوت کرلیں اور بقیہ آدھا کسی اور وقت پور اکرلیں، تاکہ رمضان شریف میں کم ازکم ایک مرتبہ پورے قرآن مجیدکا دور پورا ہوجائے۔ پُورے حج وعمرہ کا ثواب رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جس نے نماز فجر ادا کی، پھر اشراق تک نماز کی جگہ بیٹھ کر ذکر اللہ میں مشغول رہا اس کے بعد اشراق کی دو رکعتیں پڑھ لیں، تواس کو حج وعمرہ جیسا ثواب ملے گا ۔اس کے بعدآپ صلی الله علیہ وسلم نے تین بار فرمایاکہ پورے حج وعمرہ کا ثواب ملے گا۔(رواہ الترمذي وقال حدیث حسن) دوسری حدیث میں ہے کہ ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے جسم کے تین سو ساٹھ جوڑوں کی طرف سے صدقہ ادا ہوجاتا ہے۔(رواہ مسلم فی باب استحباب صلاة الضحی)․ یہ فضیلت خواتین بھی حاصل کریں، نماز کی جگہ بیٹھ کر ذکر اللہ میں مشغول رہیں، اس کے بعد اشراق کی دو رکعتیں پڑھ لیں اور حج وعمرہ کا ثواب مفت میں کمائیں۔ اشراق سے عصر تک کے اعمال ٭... اگر آرام کریں تو یہ نیت کرلیں کہ جسمانی اور دماغی تھکاوٹ دور ہوگی تو دوبار ہ اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہو جاؤں گا تو یہ آرام بھی عبادت میں لکھا جائے گا ۔ ٭... اور اگرڈیوٹی پر جانا ہو تو یہ نیت کرلے کہ رزق حلال کماؤں گا اور اہل وعیال کے حقوق ادا کروں گا تو ڈیوٹی کے تمام اوقات بھی عبادت میں لکھے جائیں گے، البتہ یہ خیال رہے کہ اس دوران زبان آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور تمام اعضا گناہوں سے محفوظ رہیں، خاص کر غیبت، جھوٹ، تمسخر اور ایذا رسانی اور بد نظری سے پور ااجتناب کرے۔ یہی فضیلت تاجرکو بھی ملے گی ،اگر نیت درست ہو، رزق حلال حاصل کرنے کی نیت ہو تجارت میں جھوٹ ا ور خیانت اور وعدہ خلافی سے بچے ۔ ٭... اور دینی علوم حاصل کرنے والے طالب علم کو بھی یہی فضیلت ملے گی ،بشرطے کہ علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالی کو راضی کرنا ہواور میڈیکل وغیرہ کے طلبہ بھی اگر نیت رکھیں کہ اس علم کو حاصل کرکے رزق حلال کے حصول کاذریعہ بنائیں گے اور اپنے مسلمان بھائیوں اور انسانیت کی خدمت کریں گے تو ان کا جو وقت طلبِ علم میں صرف ہوگا وہ بھی ان شاء اللہ تعالی باعث اجر ہوگا۔ ٭... ظہر تک آرام یا کام کاج کرنے کے بعد مؤذن کی آواز سنیں تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں، پھروہی دعا پڑھیں جو پہلے لکھی جاچکی ہے۔اس کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ اداکریں اور اذان واقامت کے درمیان دُعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذِکر کریں ․ظہر کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں‘ صف اول اور تکبیرئہ اولی کی فضیلت حاصل کریں،اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں۔ ٭... خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں۔ ٭... ظہرکے بعد قیلولہ کریں، اس میں اتباع سنت کی نیت ہونی چاہیے اور اگر آرام کا موقع نہ ہو تو کوئی بھی جائز کام کر سکتے ہیں۔ گناہوں سے بچنے کا پورااہتمام کریں، غیبت ‘ جھوٹ ‘تمسخر اور ایذا رسانی اور بد نظری سے پور ااجتناب کریں۔ ٭... عصر کے لیے جب مؤذن پکارے تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں، پھروہی دعا پڑھیں جو پہلے لکھی جاچکی ہے۔اس کے بعد چار رکعت سنت غیرمؤکدہ اداکریں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالی اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ (رواہ مسلم )․یہ فضیلت مرد وعورت سب کے لیے ہے۔ اور اذان واقامت کے درمیان دعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذکر کریں، مرد حضرات عصرکی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں‘ صفِ اول اور تکبیرئہ اولی کی فضیلت حاصل کریں۔ خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، اذان واقامت کے درمیان دُعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذکر کریں،عصرکی نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں․۔ عصر کے بعد سے تراویح تک کے اعمال ٭... قرآن مجید کی تلاوت کریں یا استراحت یعنی آرام کریں ۔ اگر جمعہ کا دن ہو تو مغرب تک درود شریف پڑھنے میں مصروف رہیں، اس وجہ سے کہ جمعہ دن درود شریف پڑھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ روزہ داروں کو افطار کرانے کے لیے حسب توفیق کوشش کریں، مسجد میں افطاری پہنچائیں۔ ٭... خواتین گھر کے کام کو ثواب کی نیت سے کریں، اپنے گھر والوں کے لیے جو افطاری وغیرہ تیار کریں تو دل سے یقین ر کھیں کہ ان شاء اللہ تعالی ان تمام روزہ داروں کو افطار کرانے کا ثواب مجھے ملے گا، جو میری تیارکی ہوئی افطاری کھائیں گے ۔ ٭... افطاری کے وقت دعا مانگیں۔ رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے بلا شبہ افطاری کے وقت روزہ دار کے لیے ایک خاص دعا ہے جو رد نہیں ہوتی۔(رواہ ابن ماجہ، باب فی الصائم لاترد دعوتہ)۔ ٭... افطاری کے وقت یہ دعا پڑھیں: اللّہم لَکَ صُمتُ وعلی رِزقِک أَفطَرتُ ․ (رواہ ابو داود، باب القول عند الإفطار)۔ ترجمہ:اے اللہ! میں نے تیری رضا کے لیے روزہ رکھا اورتیرے دئیے ہوئے رزق سے افطار کیا۔ اور افطاری کے بعد یہ دعاپڑھیں :ذَہَبَ الظَّمأُ وابتَلَّتِ العُروقُ وثَبَتَ الأجرُ إن شاء اللہ۔(رواہ ابو داود، باب القول عند الإفطار) ترجمہ: پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اور اجر ثابت ہوگیا ان شاء اللہ۔ ٭... مرد حضرات مغرب کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں،اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں اور خواتین گھر میں نمازپڑھیں۔ ٭... شام کے مسنون اذکار اور دعائیں پڑھیں اور اللہ تعالی کا شکر اداکریں کہ آج کا روزہ اس کی دی ہوئی توفیق سے پورا ہوا ۔ بیوی بچوں سے ہنسنا بولنا بھی ثواب ہے ٭... اپنے بیوی بچوں سے شفقت ومحبت کے ساتھ گفتگو کریں، ہنسیں بولیں، بچوں سے شفقت والفت کا اظہار کریں۔ رحمتِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتاہو ۔(رواہ الترمذی، وقال: حسن صحیح)۔ مرد حضرات عشا کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں، اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں اور تراویح پڑھیں اور خواتین گھر میں نمازپڑھیں، اگر فتنہ کا خوف نہ ہو تو مسجد جاکر بھی تراویح پڑھ سکتی ہیں، بشرطے کہ پردہ کے اہتمام کے ساتھ جائیں اور خوش بو استعمال نہ کریں۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:جس نے رمضان کی راتوں میں نماز میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ (رواہ الترمذی، وقال: حسن صحیح)۔ تراویح کے بعد سے سحری تک کے اعمال ٭... تراویح کے بعد چاہے آرام کریں یا کوئی بھی جائز مصروفیت اختیار کریں صرف اتنا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کوئی گناہ سر زد نہ ہو، تو آپ کی پوری رات عبادت میں لکھی جائے گی غیبت ، جھوٹ اور بد نظری سے پور ااجتناب کریں۔ رمضان کی مقدس راتوں کو فلم بینی اور لغو باتوں میں ضائع نہ کریں۔ ٭... فجر سے پہلے رات کا آخری تہائی حصہ، جو تہجد کا وقت ہے، اس میں عبادت اور دعا میں مصروف ہو جائیں اس وقت اللہ تعالی خود اپنے بندوں سے فرماتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا میں اسے عطا کروں ؟ ہے کوئی مغفرت کا طلب گار میں اس کی مغفرت کردوں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والے میں اس کی توبہ قبول کرلوں․(صحیح الخاری، باب الدعاء والصلاة من آخر اللیل)۔ ٭... آپ پختہ عزم کرلیں کہ باقی زندگی غفلت اور اللہ تعالی کی نا فرمانی میں برباد نہ کروں گا ․کیوں کہ گناہوں وا لی زندگی بے کیف اور پریشانیوں سے بھری ہوئی ہے اور اللہ تعالی کی اطاعت وفرماں برداری میں دونوں جہاں کا لطف ہے۔ نوٹ: جو اعمال بیان ہوئے ہیں ان میں سحری، افطاری اور تراویح کے علاوہ سب اعمال پورے سال انجام دینے والے ہیں۔ آخری عشرہ کے خاص اعمال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ازار مبارک کس لیتے تھے اور رات بھر عبادت میں جاگتے تھے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے․(صحیح البخاری، باب العمل فی العشر الأواخر)․ ٭... اگر ہو سکے تو آخری عشرہ کا اعتکاف کرلیں، یہ اس عشرہ کی خاص سنت ہے ۔ ٭... اگر اعتکاف نہ کر سکیں تو کم ازکم ان مقدس راتوں میں خوب زیادہ عبادت وتلاوت کریں ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم آخری عشرہ میں عبادت کا اور زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ (صحیح الخاری) ٭... اگر زیادہ عبادت کی توفیق نہ ہوتو کم ازکم اتنا تو کریں کہ اللہ تعالی کی نافرمانی نہ کریں اورفرائض اور واجبات سے غفلت نہ برتیں۔ واضح رہے کہ فرائض اور واجبات کی فضیلت نفلی عبادات کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے، ان سے اللہ تعالی کا بہت قرب حاصل ہوتاہے ان کے بعد نفلی عبادات کا نمبر ہے ․بہت سے لوگ فرض نمازوں میں سستی کرتے ہیں اور نوافل بہت شوق سے پڑھتے ہیں․بلا شبہ نوافل کے ذریعہ اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتاہے، لیکن فرائض کی ادائیگی کے بعدنوافل کا درجہ ہے․ کیوں کہ فرائض سے غفلت برتنا فسق ہے ۔ زندگی میں تبدیلی لانے کا آسان ترین نسخہ دین داری اور تقوی والی زندگی حاصل کرنے کا سب سے سہل اورآسان طریقہ یہ ہے کہ انسان صالحین اور متقین کی صحبت اختیار کرلے، صحبت صالحین غفلت کا بہترین علاج ہے، وہ حضرات جو خود متبع سنت ہوں اورقرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے والے ہوں، ہر عمل میں جائز وناجائز کا خیال کرتے ہوں، اللہ تعالی سے ڈرنے والے ہوں ان کے دل فکر آخرت سے لبریز ہوں جب ایسے لوگوں سے تعلق اور دوستی ہوگی تو خود بھی انسان ان شاء اللہ تعالی ویسا ہی ہو جائے گا ‘کسی عالمِ ربانی کو اپنا مشیر بنائیں،جو اپنی تربیت کسی مصلح سے کراچکا ہو ‘ زندگی کے تمام امور میں ان سے پوچھ کراور مشورہ کرکے عمل کرے اور یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے۔صالحین کے قافلہ میں شامل ہوجانا بڑی سمجھ داری اور سعادت کی بات ہے۔ نہایت اہم بات اگر کوئی شخص فرائض اور واجبات اور سنت موٴکدہ کی پابندی کرلے اور گناہوں سے بچتا رہے اور حقوق العباد کو بھی ضائع نہ کرے تو وہ اللہ تعالی کا ولی ہے اوروہ ان شاء اللہ تعالی ضروررمضان شریف کی برکتوں سے مالا مال ہوگا۔ دعا اے اللہ! ہمیں اپنے فرماں بردار اور مقبول بندوں شامل فرما لیجیے اور ہمارے چھوٹے بڑے سب گناہ معاف فرما دیجیے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے خوب نوازئیے اور عافیت والی زندگی عطا فرمائیے اوردنیا سے اس حال میں اٹھائیے کہ آپ ہم سے راضی ہوں اورحسن خاتمہ عطا فرمائیے۔میدان حشر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائیے اورہمارے ساتھ معافی اور درگزر کا معاملہ فرمائیے۔آمین۔ |
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے خصوصی فضائل
لفظ اعتکاف کا مادہ(ع۔ک۔ف) ہے، جس کے معنیٰ ہیں: *تعظیماً کسی چیز پر متوجہ ہونا اور اس سے وابستہ رہنا۔*
اور اصطلاحِ شریعت میں الاعتکاف کے معنیٰ ہیں: *عبادت کی نیت سے مسجد میں رہنا اور اس سے باہر نہ نکلنا۔*
قرآن میں ہے:
وَأَنْتُمْ عاكِفُونَ فِي الْمَساجِدِ[البقرة:187]
*جب تم مسجدوں میں اعتکاف "بیٹھے" ہو۔*
سَواءً الْعاكِفُ فِيهِ وَالْبادِ[الحج:25]
*خواہ وہ وہاں کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے۔*
وَالْعاكِفِينَ [البقرة:125]
*اور اعتکاف کرنے والوں*
فَنَظَلُّ لَها عاكِفِينَ [الشعراء:71]
*اور اس کی پوجا پر "قائم" رہیں*
عکفتہ علٰی کذا
*کسی چیز پر "روک" رکھنا*
يَعْكُفُونَ عَلى أَصْنامٍ لَهُمْ [الأعراف:138]
*یہ اپنے بتوں کی عبادت کے لیے "بیٹھے" رہتے تھے۔*
ظَلْتَ عَلَيْهِ عاكِفاً [طه:97]
*جس معبود کی پوجا پر تو "قائم و معتکف" تھا۔*
وَالْهَدْيَ مَعْكُوفاً [الفتح:25]
*اور قربانی کے جانوروں کو بھی "روک دیئے گئے" ہیں۔*
[مفردات القرآن-امام الراغب(م606ھ)»
القرآن:
*....میرے گھر کو ان لوگوں کے لیے پاک کرو جو (یہاں) طواف کریں اور اعتکاف میں بیٹھیں اور رکوع اور سجدہ بجا لائیں۔*
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 125]
القرآن:
*...اور ان (اپنی بیویوں) سے اس حالت میں مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھے ہو، یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں، لہذا ان (کی خلاف ورزی) کے قریب بھی مت جانا...*
[سورۃ نمبر 2 البقرة، آیت نمبر 187]

















Your blog is Owsome. This is very nice and informative blog. Ramadan Dua Day 9
ReplyDeleteYour blog is Owsome. This is very nice and informative blog. Ramadan Dua Day 9
ReplyDelete