یقینًا ہم ہی نے اسے رستہ بھی دکھا دیا، اب خواہ شکرگذار ہو خواہ ناشکرا۔
[القرآن،سورۃ الدھر:آیۃ3]
یعنی اولًا اصل فطرت اور پیدائشی عقل و فہم سے پھر دلائل عقلیہ و نقلیہ سے نیکی کی راہ سجھائی جس کا مقتضٰی یہ تھا کہ سب انسان ایک راہ چلتے لیکن گرد وپیش کے حالات اور خارجی عوارض سے متاثر ہو کر سب ایک راہ پر نہ رہے۔ بعض نے اللہ کو مانا اور اس کا حق پہچانا،اور بعض نے ناشکری اور ناحق کوشی پر کمر باندھ لی۔ آگے دونوں کا انجام مذکور ہے۔
[صحيح مسلم:433(975)، سنن أبي داود:668، سنن ابن ماجه:993]
صف محاذاۃ (سیدھی-برابری) میں رکھنا ہے:
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا:
”اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“۔
[صحيح البخاري:717، صحيح مسلم:978+979، جامع الترمذي:227، سنن أبي داود:663+662، سنن النسائى الصغرى:811، سنن ابن ماجه:994]
سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ صفوں میں خوب مل کر کھڑے ہو، اور ایک صف دوسری صف سے نزدیک رکھو، اور گردنوں کو بھی ایک دوسرے کے مقابل میں رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں شیطان کو دیکھتا ہوں وہ صفوں کے بیچ میں سے گھس آتا ہے، گویا وہ بکری کا بچہ ہے۔
[سنن أبي داود:667، سنن النسائى الصغرى:816]
عن انس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رصوا صفوفكم وقاربوا بينها وحاذوا بالاعناق».
ترجمہ:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”اپنی صفوں کو مضبوطی سے ملاؤ اور ان کے درمیان فاصلہ کم رکھو اور اپنی گردنوں کو ایک محاذ پر (یعنی برابر برابر) رکھو۔“
[صحیح ابن حبان (الإحسان):2163، صحیح ابن خزيمة:1545]
نماز میں ٹخنے کا ٹخنے سے - کندھے کا کندھاسے ملانے کا حکم:
واضح رہے کہ جیسے احادیث میں کندھوں اور ٹخنوں کے ملانے کا ذکر ہے، اسی طرح گھٹنوں کے ملانے کا بھی ذکر ہے۔[ابوداؤد:662]۔ اور ان احادیث میں کندھوں، ٹخنوں اور گھٹنوں کے ملانے سے مراد ’’محاذاۃ‘‘ یعنی ان کو ایک سیدھ میں رکھنا ہے، حقیقی معنیٰ مراد نہیں ہے، مقتدیوں پر لازم ہے کہ جماعت کی نماز میں آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں، کندھوں کو کندھوں سے ملا کر رکھیں، ٹخنوں کی سیدھ میں ٹخنے رکھیں، صفوں کے درمیان خلاء نہ چھوڑیں تاکہ درمیان میں شیطان داخل نہ ہو۔
نماز میں پاؤں ملانے کا حکم:
نماز میں کھڑے ہوتے وقت پاؤں سے پاؤں ملانا ضروری نہیں ہے؛ ہاں صفیں اچھی طرح سیدھی کرنی چاہیے بایں طور کہ درمیان میں کوئی خالی جگہ نہ رہے، نیز ایسا بھی نہ ہو کہ کوئی آگے کوئی پیچھے کھڑا ہو ؛ بلکہ سارے لوگ اعتدال کے ساتھ خالی جگہوں کو پُر کرتے ہوئے صف میں کھڑے ہوں، جن احادیث میں تسویة الصفوف پاؤں سے پاؤں ملانے کی بات آئی ہے، اس سے یہی مراد ہے، حافظ ابن حجر نے یہ صراحت کی ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ مقتدی حضرات حقیقتًا پاؤں سے پاؤں ملاکر کھڑے ہوں۔
احادیث میں ٹخنے سے ٹخنے، کندھے سی کندھے ملانا اپنی حقیقت پر محمول نہیں ہے۔
شارحِ بخاری علامہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعہ اپنی مشہور کتاب فتح الباری میں فرماتے ہیں:
والمراد بذالک المبالغة فی تعدیل الصف وسد خللہ
(فتح الباری: باب الأذان، رقم الحدیث، ص: ۷۲۵)
حدیث شریف کی مشہور کتاب ابوداؤد شریف میں صف سیدھی کرنے اور خلل کو بند کرنے سے متعلق کئی الفاظ وارد ہوئے ہیں، ان سب کو ملاحظہ فرمالیں۔
نیز اعلاء السنن میں (باب سنة تسویة الصف) اور فیض الباری شرح صحیح البخاری میں (باب الزاق المنکب بالمنکب (فی باب الاذان) کو بھی مطالعہ کرلیں۔
حوالہ
والمراد بتسویة الصفوف اعتدال القائمین بہا علی سمت واحد أو یراد بہا سد الخلل الذی فی الصف إلخ
(فتح الباری لابن حجر، /207، باب تسویة الصفوف عند الإقامة وبعدہا، ط:المملکة العربیة السعودیة)....
(قولہ باب إلزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف)
المراد بذلک المبالغة فی تعدیل الصف وسد خللہ وقد ورد الأمر بسد خلل الصف والترغیب فیہ فی أحادیث کثیرة أجمعہا حدیث بن عمر عند أبی داود وصححہ بن خزیمة والحاکم ولفظہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال أقیموا الصفوف وحاذوا بین المناکب وسدوا الخلل ولا تذروا فرجات للشیطان ومن وصل صفا وصلہ اللہ ومن قطع صفا قطعہ اللہ۔
(فتح الباری لابن حجر : باب إلزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف 2/ 211،ط: السعودیة)
واضح رہے کہ جیسے احادیث میں کندھوں اور ٹخنوں کے ملانے کا ذکر ہے، اسی طرح گھٹنوں کے ملانے کا بھی ذکر ہے اور جماعت کی نماز میں اگر بتکلف کندھوں اور ٹخنوں کو ملا بھی لیا جائے تو بھی گھٹنوں کو ملا کر صف میں کھڑا ہونا تقریباً محال ہے، اسی طرح بہت زیادہ پیر کھول کر ٹخنے سے ٹخنے ملانے کی صورت میں کاندھے ملانا بھی تقریباً ناممکن ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی احادیث میں کندھوں، ٹخنوں اور گھٹنوں کے ملانے سے مراد ’’محاذاۃ‘‘ یعنی ان کو ایک سیدھ میں رکھنا ہے۔
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ صف سیدھی کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹخنے اور ایڑھیاں پیچھے سے برابر کرکے کھڑے ہوجائیں، صف سیدھی ہوجائے گی، ایڑھیاں برابر کرنے سے ٹخنے خود ہی تقریباً برابر ہوجائیں گے اور اس کے ساتھ مونڈھا مونڈھے (کندھے) کی سیدھ میں رکھیں۔
واضح رہے کہ جماعت کی نماز میں صفوں کے درمیان اتصال سنت مؤکدہ ہے ، مقتدیوں پر لازم ہے کہ جماعت کی نماز میں آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں، کندھوں کو کندھوں سے ملا کر رکھیں، صفوں کے درمیان خلاء نہ چھوڑیں تاکہ درمیان میں شیطان داخل نہ ہو، اگر مقتدی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے نہ ہوں بلکہ فاصلہ سے کھڑے ہوں تو جماعت کی فضیلت تو حاصل ہوجائے گی البتہ یہ خلافِ سنت اور مکروہ عمل ہے۔
سنن ابی داؤد میں ہے:
"يقول: أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس بوجهه، فقال: «أقيموا صفوفكم» ثلاثاً، «والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم» قال: فرأيت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعبه."
ترجمہ:
ابوالقاسم جدلی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اپنا رخ کیا اور فرمایا ”اپنی صفیں برابر کر لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا۔“ قسم اللہ کی! (ضرور ایسا ہو گا کہ) یا تو تم اپنی صفوں کو برابر رکھو گے یا اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں مخالفت پیدا کر دے گا۔“ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ ایک آدمی اپنے کندھے کو اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ، اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے کے ساتھ ملا کر اور جوڑ کر کھڑا ہوتا تھا۔
[سنن أبي داود:662]
البحرالرائق میں ہے:
"وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف."
"ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة. قلت: وبالكراهة أيضا صرح الشافعية. قال السيوطي في [بسط الكف في إتمام الصف] : وهذا الفعل مفوت لفضيلة الجماعة الذي هو التضعيف لا لأصل بركة الجماعة، فتضعيفها غير بركتها، وبركتها هي عود بركة الكامل منهم على الناقص. اهـ
قوله وهذا الفعل مفوت إلخ) هذا مذهب الشافعية لأن شرط فضيلة الجماعة عندهم أن تؤدى بلا كراهة، وعندنا ينال التضعيف ويلزمه مقتضى الكراهة أو الحرمة كما لو صلاها في أرض مغصوبة رحمتي ونحوه في ط"
(كتاب الصلاة،باب الإمامة،1/ 570،ط:سعید )
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:
"فيأمرهم الإمام بذلك وقال صلى الله عليه وسلم: "استووا تستوي قلوبكم وتماسوا تراحموا" وقال صلى الله عليه وسلم: "أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيدي إخوانكم.
قوله: "فيأمرهم الإمام بذلك" تفريع على الحديث الدال على طلب الموالاة واسم الإشارة راجع إليها ويأمرهم أيضا بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويستووا مناكبهم وصدورهم كما في الدر عن الشمني وفي الفتح ومن سنن الصف التراص فيه والمقاربة بين الصف والصف والاستواء فيه قوله: "استووا" أي في الصف قوله: "تستو" بحدف الياء جواب الأمر وهذا سر علمه الشارع صلى الله عليه وسلم كما علم أن اختلاف الصف يقتضي اختلاف القلوب قوله: "أقيموا الصفوف" أي عدلوهها قوله: "وحاذوا بين المناكب" ورد كأن أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه."
(ص: 306,ط: دار الكتب العلمية بيروت)
ـ’’اس باب میں مختلف الفاظ سے روایات آئی ہیں، بخاری کے الفاظ تو سوال ہی میں مذکور ہیں اور سنن ابو داؤد میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ آئے ہیں: قال فرأیت الرجل یلزق منکبہ بمنکب صاحبہ و رکبتہ برکبة صاحبہ و کعبہ بکعبہ۔ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا یہ الفاظ ہیں: قاربو بینہما و حاذوا بالاعناق۔اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا یہ الفاظ ہیں: حاذوا بالمناکب۔ اور یہ امر یقنی ہے کہ ان سب عبارات کا معبر عنہ ایک ہی ہے، اسی کو کہیں الزاق سے تعبیر کردیا، کہیں مقاربت سے کہیں محاذاۃ سے، اس سے معلوم ہوا کہ محاذاۃ و مقاربت ہی کو الزاق کہہ دیا ہے مبالغۃ فی المقاربۃ۔ دوسرے اگر الزاق کے معنی حقیقی لئے جاویں تو الزاق المناکب اور الزاق الکعب اس صورت متعارفہ معتادہ میں مجتمع نہیں ہوسکتے کہ مصلی اپنے قدمین میں خوب انفراج رکھے، کیونکہ اس میں الزاق الکعاب تو ہوگا لیکن الزاق المناکب نہ ہوگا ، جیسا کہ ظاہر اور مشاہد ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ الزاق الکعب کو مقصود سمجھا جاوے اور الزاق المناکب کی رعایت نہ کی جاوے، کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ الزاق المناکب اصل ہے اور الزاق الکعاب غیر مقصود۔ تیسرے الزاق الکعاب کی جو صورت بھی لی جاوے الزاق الرکب کے ساتھ اس کے تحقیق کی کوئی صورت نہیں، کیونکہ رکبہ بمعنی زانو کا الزاق دوسرے رکبہ سے جب ہوسکتا ہے کہ دو شخص باہم متقابل اور متواجہ ہوں جیسا کہ ظاہر ہے، البتہ محاذاۃ رکب میں ہر حال میں ممکن ہے ان وجوہ سے ثابت ہوا کہ جس الزاق کا دعوی کیا جاتا ہے، حدیث اس پر دلالت نہیں کرتی بلکہ فرجات چھوڑنے کی ممانعت سے اس کی نفی ہوتی ہے۔ واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم ۔‘‘
(امداد الفتاوی: ج:1 ص:326 ط:مکتبہ دار العلوم کراچی )
فتاوی محمودیہ میں ہے:
علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں تصریح کی ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھے، اس سے معلوم ہوا کہ ٹخنہ سے ٹخنہ نہیں ملایا جائے گا، علاوہ ازیں ٹخنہ سے ٹخنہ ملا کر نماز پڑھنا بہت دشوار ہے اور قعدہ تو اس حالت میں ممکن بھی نہیں، البتہ ایک نمازی دوسرے نمازی کے ساتھ صف میں کھڑا ہو کر اپنا ٹخنہ دوسرے کے ساتھ سیدھ میں رکھے، آگے پیچھے نہ رکھے، تاکہ صف سیدھی رہے، یہی حکم حدیث وفقہ سے ثابت ہے، یہ نہیں کہ ایک نمازی ٹخنہ کو دوسرے نمازی کے ٹخنہ سے ملالے ۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
(باب صفۃ الصلاۃ ج:21 ص:508 ط:جامعہ فاروقیہ)
صف بندی کی ترتیب:
احادیث اور فقہ کی کتابوں میں صف بندی کی ترتیب یہ بیان کی گئی ہے کہ پہلا مقتدی امام کے پیچھے کھڑا ہو، اس کے بعد آنے والا شخص پہلے مقتدی کی دائیں جانب سے، پھر بائیں جانب، پھر دائیں جانب پھر بائیں جانب، اس طرح جب پہلی صف مکمل ہوجائے تو دوسری صف بنائی جائے ، اس میں بھی پہلا مقتدی امام کے بالمقابل کھڑا ہو، دوسرا پہلے کی دائیں جانب، تیسرا پہلے کی بائیں جانب، اس طرح دوسری صف مکمل ہونے کے بعد تیسری صف بنائی جائے۔ اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں رحمت خداوندی کے پہلے یا بعد میں یا زیادہ اور کم نازل ہونے کا دخل ہے۔ صف بندی کے سلسلہ میں دار العلوم دیوبند کا ایک مفصل فتوی (۲۷۲/ ن، ۲۵۳/ ن،۱۴۳۷ھ)ارسال ہے ، اس میں صف بندی کے دلائل بھی تفصیل کے ساتھ آ گئے ہیں؛ لہٰذا اسے ملاحظہ فرمالیں۔ صف بندی كے سلسے میں ایك اور فتوی بعض حضرات مسجد میں صف کے دائیں طرف بیٹھنے ارو نماز پڑھنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جب کہ بائیں طرف جگہ خالی رہتی ہے، حالانکہ دائیں اور بائیں دونوں طرح نماز پڑھنے کی مستقل فضیلتیں احادیث میں آئی ہیں۔
حدیث نمبر (۱)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں جانب کھڑے ہونے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ (ابوداوٴد)
حدیث نمبر (۲)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مسجد میں صف کے بائیں جانب اس لیے کھڑا ہوتا ہے کہ وہاں لوگ کم کھڑے ہیں تو اسے دو اجر ملتے ہیں (طبرانی، مجمع الزوائد)
آپ سے درخواست ہے کہ صف میں بیٹھنے اور نماز کے وقت صف بنانے کی ترتیب اور اس پر ملنے والے اجر کے متعلق تفصیلی جواب تحریر فرمائیں نیز حدیث نمبر (۲) میں ذکر کئے کئے ”دو اجر“ کی بھی وضاحت فرمائیں، نوازش ہوگی۔
Fatwa ID: 272-253/N=1/1438
الجواب وباللہ التوفیق :۔
(۱):صف بندی کی ترتیب یہ ہے کہ اولاً پہلی صف مکمل کی جائے، اس کے بعد دوسری صف بنائی جائے ، اس کے بعد تیسری ،چوتھی صف بنائی جائے ،اور ہر صف کی ترتیب میں شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلے آنے والا شخص امام کے پیچھے کھڑا ہو، دوسرے نمبر پر آنے والا پہلے کی دائیں جانب اور تیسرے نمبر پر آنے والا پہلے کی بائیں جانب ، اس کے بعد چوتھے نمبر پر آنے والا دوسرے کی دائیں جانب اور پانچویں نمبر پر آنے والا تیسرے کی بائیں جانب کھڑا ہو اور اس طرح پوری صف بنائی جائے، یہ نہ ہو کہ امام کی ایک جانب مقتدی زیادہ ہوں اور دوسری جانب کم ہوں، البتہ اگر امام سے قرب یا بعد میں دونوں جانب برابر ہوں تو ایسی صورت میں دائیں جانب کو بائیں پر ترجیح ہوگی،یعنی: نیا آنے والا شخص صف میں دائیں جانب کھڑا ہو، حدیث میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی پہلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور دوسری صف والوں پر؟ آپ نے پھر یہی فرمایا کہ اللہ تعالی پہلی صف والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور دوسری صف والوں پر؟ تو آپ نے پھر یہی فرمایا: اور چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا: اور دوسری صف والوں پر۔اور پہلی، دوسری اور تیسری صف وغیرہ میں بھی فضیلت صف کی دائیں جانب کو ، جیسا کہ حضرت عائشہ کی روایت میں ہے، لیکن اگر دائیں جانب مقتدی زیادہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں جانب کھڑے ہونے والوں کو دوہرے اجر کی بشارت دی ہے، پس دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضلیت اس صورت میں ہے جب کہ بائیں جانب مقتدیوں کی تعداد کم نہ ہو ، دونوں جانب برابر مقتدی ہوں، ورنہ بائیں جانب کھڑا ہونا ،دائیں جانب کھڑے ہونے سے افضل ہوگا اور اس پر دوہرا اجر ملے گا، عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أتموا الصف المقدم ثم الذي یلیہ فما کان من نقص فلیکن فی الصف الآخر رواہ بو داود(مشکوة شریف ص ۹۸، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)،وعن عائشة قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ وملائکتہ یصلون علی میامن الصفوف رواہ أبو داود(حوالہ بالا)،وعن أبي أمامة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ وملائکتہ یصلون علی الصف الأول، قالوا: یا رسول اللہ! وعلی الثاني، قال:إن اللہ وملائکتہ یصلون علی الصف الأول، قالوا: یا رسول اللہ! وعلی الثانی، قال:إن اللہ وملائکتہ یصلون علی الصف الأول، قالوا: یا رسول اللہ! وعلی الثاني، قال: وعلی الثاني، الحدیث رواہ أحمد(حوالہ بالا، ص ۹۸،۹۹)،
وعن أبي ھریرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:توسطوا الإمام وسدوا الخلل رواہ أبو داود(حوالہ بالا ص ۹۹)،،
عن ابن عمر قال: قیل للنبي صلی اللہ علیہ وسلم: إن میسرة المسجد تعطلت فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: من عمر میسرة المسجد کتب لہ کفلان من الأجر
(سنن ابن ماجہ ص ۷۱، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)،
قولہ:”من عمر میسرة المسجد الخ لما بین النبي صلی اللہ علیہ وسلم فضیلة ترک الناس قیامھم بالمیسرة فتعلطت المیسرة فأعلمھم أن فضیلة المیمنة إذا کان القوم سواء في جانبي الإمام، وأما إذا کان الناس فی المیمنة أکثر لکان لصاحب المیسرة کفلان من الأجر ، والحاصل أنہ یستحب توسط الإمام
(انجاح الحاجہ حاشیہ سنن ابن ماجہ ص ۷۱)،
وفی القھستاني:وکیفیتہ أن یقف أحدھما بحذائہ والآخر بیمینہ إذا کان الزائد اثنین ،ولو جاء ثالث وقف عن یسار الأول والرابع عن یمین الثاني والخامس عن یسار الثالث وھکذا اھ
(شامی ۲: ۳۰۹، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)،
ومتی استوی جانباہ یقوم عن یمین الإمام إن أمکنہ
(شامی ۲:۳۱۰)
قولہ:”وخیر صفوف الرجال أولھا“:لأنہ روي فی الأخبار ”أن اللہ تعالی إذا أنزل الرحمة علی الجماعة ینزلھا أولاً علی الإمام ، ثم تتجاوز عنہ إلی من بحذائہ فی الصف الأول،ثم إلی المیامن، ثم إلی المیاسر، ثم إلی الصف الثاني“، وتمامہ فی البحر
(حوالہ بالا)۔
(۲): اور دوہرے اجر کا مطلب یہ ہے کہ دائیں طرف کھڑے ہونے والوں کو جتنا اجر ملے گا،اسے اس کا ڈبل ملے گا؛کیوں کہ امام کا صفوں کے بیچ میں ہونا اور اس کی دونوں جانب مقتدیوں کا برابر ہونا دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضیلت سے زیادہ اہم ہے۔
برابر والے نمازی کے پاؤں سے پاؤں ملانے والی حدیث کا مطلب
نمازیوں کا کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملانے کا حکم:
واضح رہے کہ جیسے احادیث میں کندھوں اور ٹخنوں کے ملانے کا ذکر ہے، اسی طرح گھٹنوں کے ملانے کا بھی ذکر ہے اور ان احادیث میں کندھوں، ٹخنوں اور گھٹنوں کے ملانے سے مراد ’’محاذاۃ‘‘ یعنی ان کو ایک سیدھ میں رکھنا ہے،حقیقی معنی مراد نہیں ہے۔باقی نماز کے دوران ایک نمازی کے دونوں پاؤں کےدرمیان چار انگلیوں کے بقدر فاصلہ کرنا مستحب ہے،اورصفوں کے درمیان اتصال سنت مؤکدہ ہے ، مقتدیوں پر لازم ہے کہ جماعت کینماز میں آپس میں مل مل کر کھڑے ہوں ،کندھوں کو کندھوں سے ملا کر رکھیں،ٹخنوں کی سیدھ میں ٹخنے رکھیں ،صفوں کے درمیان خلاء نہ چھوڑیں تاکہ درمیان میں شیطان داخل نہ ہو۔
سنن ابی داؤد میں ہے:
"يقول: أقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس بوجهه، فقال: «أقيموا صفوفكم» ثلاثاً، «والله لتقيمن صفوفكم أو ليخالفن الله بين قلوبكم» قال: فرأيت الرجل يلزق منكبه بمنكب صاحبه وركبته بركبة صاحبه وكعبه بكعبه"
(كتاب الصلاة ،باب تسوية الصفوف ج:1ص:178 ط:المكتبة العصرية)
البحرالرائق میں ہے:
"وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف"
"وينبغي أن يأمرهم بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا مناكبهم ويقف وسطا"
(کتاب الصلاۃ ،باب الامامۃ ج:1ص:568 ط:سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال:نماز میں ٹخنہ سےٹخنہ ملانا چاہیے یا نہیں؟ کیاحدیث یا فقہ میں اس کی ممانعت ہے یا اس کا ثبوت ہے؟
الجواب:علامہ شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں تصریح کی ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ رکھے،اس سے معلوم ہوا کہ ٹخنہ سے ٹخنہ نہیں ملایا جائے گا،علاوہ ازیں ٹخنہ سے ٹخنہ ملا کر نماز پڑھنا بہت دشوار ہےاور قعدہ تو اس حالت میں ممکن بھی نہیں ،البتہ ایک نمازی دوسرے نمازی کے ساتھ صف میں کھڑا ہو کر اپنا ٹخنہ دوسرے کے ساتھ سیدھ میں رکھے،آگے پیچھے نہ رکھے،تاکہ صف سیدھی رہے،یہی حکم حدیث وفقہ سے ثابت ہے،یہ نہیں کہ ایک نمازی ٹخنہ کو دوسرے نمازی کے ٹخنہ سے ملالے ۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
غیر مقلدوں کی مسجد یں جن کو نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا ہو گا تو وہاں اسے یہ بھی تماشا دیکھنے میں آیا ہو گا کہ یہ لوگ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو خوب پاں پھیلا کر اور بغل والے مصلی کے پاں کی کانی انگلی سے اپنے پاں کی کانی انگلی ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کے لئے بار بار وہ اپنے پاں کو حرکت بھی دیتے ہیں، اور اگر اتفاق سے ان کے بغل میں کوئی حنفی کھڑا ہو گیا تو ان کا یہ عمل ایسا مستمر ہوتا ہے کہ وہ حنفی بیچارہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ کہاں آپھنسا، اس کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔
غیرمقلدین حضرات بزعم خویش یہ سمجھتے ہیں کہ نماز میں کھڑے ہونے کا یہی مسنون طریقہ ہے ، حالانکہ رسول اللہﷺکی کسی ایک حدیث سے ثابت نہیں کہ جماعت میں کھڑے ہونے والے مصلیٰ پاں کی کافی انگلی ملا کر اور دونوں پاں چیر کر کھڑے ہوں نہ خود آپﷺ کا یہ عمل تھا اور نہ دوسروں کو آپﷺنے اس کا حکم دیا ، غیر مقلدین حضرات اس بارے میں صحیح حدیث تو کیا ضعیف حدیث بھی پیش نہیں کر سکتے۔
نماز میں کھڑے ہونے کا یہ نہایت مکروہ طریقہ ہے، مگر اس مکروہ طریقہ قیام پر ہمارے برادران غیر مقلدین کو اتنا اصرار ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں یقینا آنحضورﷺکا کوئی واضح ارشاد اور حکم بخاری و مسلم کی کسی حدیث میں موجود ہے، حالانکہ بخاری و مسلم تو کیا کسی بھی حدیث کی کتاب میں نماز میں کھڑے ہونے کی اس کیفیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے متبع سنت سے تو ان کا عمل اس کے خلاف منقول ہے، مصنف عبدالرزاق میں حضرت نافع سے مروی ہے۔
ان ابن عمر کان لایفرسخ بینھما۔
یعنی حضرت عبداللہ بن عمر دونوں پاں کو پھیلا کر اور چیز کر نہیں کھڑے ہوتے تھے۔ (ج۲۷ص۲۴۶)
مگر اہلحدیث کہلوانے والے لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل کے برخلاف جماعت میں کھڑے ہو کر پاں کی کانی سے کانی انگلی ملانے اور دونوں پاں پھیلانے ہی کو مسنون سمجھتے ہیں۔ فیا للعحب
آیئے ہم اس مسئلہ کو امام بخاری رحمة اللہ علیہ اور شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ کی تحقیق کی روشنی میں دیکھتے ہیں، امام بخاری رحمة اللہ علیہ کا علم حدیث میں جو مقام ہے وہ ہر طرح کے شبہ سے بالاتر ہے، رہے حافظ ابن حجر تو ان کے بارے میں مشہور غیر مقلد عالم مولانا عبدالرحمن مبارکپوری فرماتے ہیں:
والحافظ ابن حجر ھذا ھو امام الحفاظ فی زمانہ.... فلم یکن فی عصرہ حافظ سواہ
یعنی حافظ ابن حجر اپنے زمانہ میں حفاظ حدیث کے امام تھے۔ ان کے زمانہ میں ان کے سوا کوئی دوسرا حافظ حدیث نہیں تھا۔
غرض حافظ ابن حجر شافعی رحمة اللہ علیہ باعتراف علماءغیر مقلدین اپنے زمانہ کے سب سے بڑے حافظ حدیث ، سب سے بڑے محدث اور اول نمبر کے اہلحدیث تھے، اس لئے ان کی کسی تحقیق کو غیر مقلدین حضرات کو قبول کرنے میں قطعاً تردو نہ ہونا چاہیئے۔
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں ایک باب یہ قائم کیا ہے۔
باب الصاق المنکب والقدم بالقدم فی الصف
یعنی یہ باب اس مسئلہ کو بتلانے کے لئے ہے کہ نماز کی صف میں کاندھے سے کاندھا اور قدم سے قدم ملانا چاہیئے۔
اول تو میں ناظرین سے یہ گذارش کروں گا کہ وہ حضرت امام بخاری کے اس کلام میں غور فرمائیں کہ انہوں نے صف میں کھڑے ہونے کے لئے نہ اس کا ذکر کیا ہے نہ پاں چیز کر اور خوب پھیلا کر کھڑے ہوں اور نہ یہ فرمایا ہے کہ پاں کی کانی انگلی کو دوسرے کے پاں کی کانی انگلی سے ملا کر کھڑے ہوں، امام بخاری رحمة اللہ علیہ کے فرمان کا حاصل صرف یہ ہے کہ صف میں کاندھے سے کاندھا ملا کر اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونا چاہیئے۔
اب ذرا اس پر بھی آپ غور کر لیں کہ نماز میں پاں پھیلا کر اور پاں کی کانی انگلی کو دوسرے کے پاں کی کانی انگلی سے ملا کرکھڑے ہونے کی شکل میں کیا کاندھے سے کاندھا مل سکتا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اس شکل میں کبھی کاندھے سے کاندھا مل ہی نہیں سکتا، ہم اپنی ان سطور کو پڑھنے والوں سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ تجربہ کر کے میری بات کی تصدیق کر لیں۔
امام بخاری رحمة اللہ علیہ تو کاندھے کے علاوہ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونے کو مسنون قرار دے رہے ہیں اور ہمارے برادران غیرمقلدین پاں کی چھوٹی انگلی (یا انگلیوں کو ملا کر کھڑے ہوتے ہیں پورا قدم ملا کھڑے ہونے کا منظر ان کی مساجد میں نظر نہیں آتا، یاد رہے کہ قدم کہتے ہیں پاں کے پورے نچلے حصہ کو۔)
اس باب کے تحت امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے۔
ریت الرجل یلصق منایلزق کعبہ یکعب صاحبہ
یعنی میں نے دیکھا کہ.... ہم میں کا آدمی اپنے ٹحنہ کو اپنے بغل والے ساتھی کے ٹخنہ سے ملا کرکھڑا ہوتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا مشاہدہ یہ تھا کہ جب لوگ نماز میں صف باندھ کر کھڑے ہوتے تھے تو نمازی بغل والے نمازی کے ٹخنہسے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتا تھا، ٹخنہ کہتے ہیں اس ہڈی کو جوایڑی کے اوپر اور پنڈلی کے نیچے ابھری ہوتی ہے۔
اب آپ جایئے غیر مقلدین حضرات کی مساجد میں اور دیکھئے کہ کیا وہ جماعت میں اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں، یعنی کیا ایک مصلی کا ٹخنہ دوسرے مصلیسے ملا ہوتا ہے ، یا وہ پاں پھیلا کر اور چھوٹی انگلی ملا کر کھڑے ہوتے ہیں ، میرا چیلنج ہے کہ آپ کو ایک مصلی بھی اس طرح کھڑا نظر نہیں آئے گا جو بغل والے مصلی کے ساتھ ٹخنہ ملا کر کھڑا ہو۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کو نقل کرنے کے بعد امام بخاری نے اس باب کے تحت جو حدیث ذکر کی ہے وہ یہ ہے۔
عن انس عن النبیﷺقال: اقیموا صفوفکم فانی اراکم من وراءظھری ، وکان احدنا یلزق منکمبہ بمنکب صاحبہ وقدمہ بقدمہ
یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا، لوگو اپنی صفوں کو سیدھارکھواس لئے کہ میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں (کہ تم اپنی صفوں کو سیدھی رکھتے ہو یا نہیں، حضرت انس فرماتے ہیں کہ ہم میں کا نمازی اپنے کا ندھے کواپنے سا تھی کے کا ند ھے اور اپنے قدم کو اس کے قدم سے ملا کر کھڑا ہوتا تھا)۔
اس حدیث میں ایک بات تو یہ غور کرنے کی ہے کہ نبی اکرمﷺنے پاں کی انگلی سے انگلی ملا کر کھڑے ہونے کی بات تو درکنار کاندھا ملا نے اور قدم ملانے کا بھی حکم نہیں دیا ہے، آپ کا صاف صاف تو حکم یہ ہے کہ اپنی صفوں کو سیدھی رکھو کاندھا سے کاندھا ملا کر یاقدم سے قدم ملا کر کھڑا ہونا یہ صحابہ کرام کا عمل تھا، اور غیر مقلدین کے یہاں نہ صحابہ کرام کا عمل حجت ہے نہ ان کا قول حجت ہے، اس لئے صحابہ کرام کے عمل سے ان حضرات کا استدلال کرنا خودان کے عقیدہ خلاف ہے۔
اور ہمارا کہنا یہ کہ اللہ کے رسولﷺکا مقصد صرف اتنا تھا کہ نماز میں صف بالکل سیدھی ہو، صحابہ کرام اسی کا لحاظ رکھتے تھے، جس کی تعبیر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں یہ ہے کہ نمازی اپنے ٹخنوں سےٹخنہ ملا کر کھڑا ہوتاا ور اس کی تعبیر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں یہ ہے کہ نمازی اپنے ساتھی کے کاندھا سے کاندھا اور قدم ملا کر کھڑا ہوتا ، حضرت انس اورحضرت نعمان دونوں کے فرمان کا حاصل یہ ہے کہ ہم لوگ نماز میں اپنی صفوں کو بالکل سیدھی رکھتے تھے جو آنحضورﷺ کی تعلیم و ارشاد کا مقصود تھا۔
ناظرین دیکھ رہے ہیں کہ کاندھا سے کاندھا ملانے یا قدم سے قدم ملانے یا ٹخنہ سے ٹخنہ ملانے کا حکم آنحضور اکرمﷺنہیں فرما رہے ہیں، آپ کا ارشاد تو صرف اتنا ہے کہ نماز میں صف کو سیدھی رکھو، اور چونکہ نماز میں صفوں کا سیدھی رکھنا اور مل کر کھڑا ہونا اور دوآدمیوں کے درمیان خلل کا نہ ہونا یہ نماز کا حسن اور شریعت کا مطلوب ہے اس وجہ سے آپﷺ صحابہ کرام کو ان امور کی بڑی تاکید فرماتے تھے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ابوداد میں ہے کہ رسول اﷲ کا ارشاد تھا۔
اقیموا الصفوف وحاذوا بین المناکب وسدوالخلل ولا تذروا فرجات للشیطان ومن وصل صفا وصلہ اﷲ ومن قطع صفا قطعہ اﷲ
صفوں کو سیدھا رکھو، کاندھا کو کاندھے کے مقابلہ میں رکھو، صفوں کے درمیان خلل کو بند کرو اور شیطان کے لئے جگہ مت چھوڑو ، جو صف کو جوڑ کر کھڑا ہوتا ہے اللہ اس کو جوڑے رکھتا ہے اور جو صف کو کاٹ کر کھڑا ہوتا ہے اللہ اس سے اپنا ناطہ توڑ لیتا ہے۔
حضرت نعمان بن بشیر کی ایک روایت ہے جس کو ابوداد نے ذکر کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اس کو صحیح بتلایا ہے، اس روایت کے الفاظ یہ ہیں:
اقبل رسول اﷲﷺبوجہہ فقال اقیموا صفوفکم ثلاثا واﷲ لتقیمن صفوفکم اولیخالفن اﷲ بین قلوبکم
یعنی آنحضورﷺ نے اپنا چہرہ ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا، اپنی صفوں کو سیدھی رکھو، یہ تین بار فرمایا، اور پھر فرمایا خدا کی قسم تم اپنی صفوں کو ضرور ضرور سیدھی رکھو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا۔
غرض اللہ کے رسول ﷺ کا نمازیوں کو جو حکم تھا وہ یہ کہ ان کی صفیں بالکل سیدھی ہوں اور دوآدمیوں کے بیچ جگہ چھوٹی ہوئی نہ ہو اور ایک نمازی کا کاندھا دوسرے کے کاندھے کے بالمقابل ہو۔
اللہ کے رسولﷺ کے انہیں ارشادات پر عمل پیرا ہونے کی کیفیت کو بطور مبالغہ صحابہ کرام میں سے کسی نے یہ کہا کہ ہم لوگ اپنی صفوں کو اس طرح سیدھی رکھتی تھے کہ ہمارا کاندھا سے کاندھا ملا ہوا کرتا تھا، کسی نے یہ کہا کہ ہم کھڑے ہوتے تو ہمارا ٹخنہ سے ٹخنہ ملا ہوتا اور کسی نے یہ کہا کہ ہم قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہوتے اور مقصود سب کا یہی تھا کہ نماز میں ہماری صفیں سیدھی ہوا کرتی تھیں۔
اب جو میں نے یہ عرض کیا کہ صحابہ کرام کے یہ ارشادات اقامت صف اور تسویہ صف کی کیفیت کا بطور مبالغہ اظہار اور بیان ہے نہ کہ یہی شریعت کا حکم ہے، اس کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ حدیث میں ٹخنہ سے ٹخنہ ملا کر کھڑے ہونے کا بھی ذکر ہے، اور ٹخنہ سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہونا یہ ممکن نہیں ہے، اسی طرحالزاق المنکبیعنی کاندھا سے کاندھا ملاکر کھڑے ہونے کا بھی امکان نہیں ہے، الزاق کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی چیز کا کسی چیز سے چپکانا اور سٹانا ، کیا بلاتکلف کے یہ ممکن ہے کہ نماز میں قدم سے قدم بھی ملا ہو اور کاندھا سے کاندھا بھی چپکا ہو اس سے معلوم ہوا کہ یہ محض صف کے سیدھی رکھنے کی تاکید تھی نہ کہ الزاق کے حقیقی معنی پر عمل کرنے کا حکم تھا، مگر براہو ان لوگوں کی سمجھ کا جو الفاظ کے ظواہر کو دیکھتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے حقیقت اوجھل رہتی ہے اور شریعت کا مقصود گم ہوتا ہے۔
میں یہ جو کہہ رہا ہوں کہ شریعت کا مقصود نماز میں صرف صفوں کو سیدھی رکھنے کی تاکید ہے اور آنحضورﷺکے ارشادات کی تعبیر صحابہ کرام نے اپنے اپنے انداز میں بطور مبالغہ کی تھی یہی بات حافظ ابن حجر جو اپنے زمانہ کے علم حدیث کے سب سے بڑے تاجدار تھے وہ بھی فرما رہے ہیں۔ امام بخاری کے اس ارشادالزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدمکی شرح میں وہ فرماتے ہیں
یعنی اس سے مراد امام بخاری کی یہ ہے کہ آدمی کو صف سیدھی رکھنے اور بیچ کی جگہ نہ چھوڑنے میں اہتمام اور مبالغہ سے کام لینا چاہئے
غرض اللہ کے رسول اور شریعت کا منشا تو بس اتنا ہے کہ نمازیوں کو اپنی صف بالکل سیدھی رکھنی چاہئے، دو آدمی کے درمیان فاصلہ نہ ہونا چاہئے اور اس میں جتنا اہتمام ہو سکے اسے کرنا چاہئے۔
غیرمقلدین حضرات نے شریعت کے منشاءو مقصود کو تو سمجھا نہیں اور صحابہ کرام نے صفوں کو سیدھی رکھنے کی جس کیفیت کو مبالغہ بیان کرنے کے لئے جوپرایہ بیان اختیار کیا تھا اسی کو اصل منشاءشریعت اور مراد رسولﷺسمجھ لیا اور پھر لگے نماز میں اپنے دونوں پاں پھیلانے اور پاں کی کانی انگلی سے اپنی کانی انگلی ملانے جس کا نہ اللہ نے حکم دیا نہ اللہ کے رسول نے اور جو نہ صحابہ کرام کا طریقہ و عمل تھا، اور اس عقل و فہم پر غرہ اتنا ہے کہ ہم جو نماز پڑھتے ہیں وہی اصل اہل سنت والی نماز ہے ور جو لوگ نماز میں پاں پھیلا کر اور کانی انگلی سے کانی انگلی ملا کر نیں کھڑے ہوتے ہیں ان کی نماز خلاف سنت اور خلاف شریعت ہے ، مولانا صادق سیالکوٹی صاحب مشہور غیر مقلد عالم صلوة الرسول لکھتے ہیں۔
”پیر ٹخنے ایڑیاں پنڈلیاں اور مونڈھے خوب جوڑ کر کھڑے ہو ا کرو“ ص۲۲۷
پیر ٹخنے ایڑیاں پنڈلیاں اور مونڈھے خوب جوڑ کر اور بقول مولانا صادق صاحب کے چپکا کر اگر کھڑا ہونا ممکن ہے تو غیر مقلدین حضرات ذرا اس کیفیت پر عمل کر کے دکھلا دیں ہم ابھی عمل کرنے کے لئے تیار ہیں، غیر عملی باتوں کو زبردستی عملی قرار دینا معلوم نہیں یہ کس شریعت کا حکم ہے۔
نماز میں صف سیدھی رکھنے کے بارے میں بعض ارشادات رسول یہاں مزید ذکر کر رہا ہوں، ان ارشادات رسول میں وہ باتیں کہاں ہیں جن کا ذکر مولانا صادق سیالکوٹی نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ آپ خود بھی غور کر لیں۔
عن انس قال قال رسول اﷲﷺرسووا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوا بالاعناق (ابوداد)
یعنی آنحضورﷺکا ارشا د تھا کہ تم اپنی صفوں کو جوڑے رکھو اور ان کو قریب قریب بنااور گردنوں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھو۔
عن النعمان بن بشیر عن النبیﷺقال عباد اﷲ تسوون صفوفکم اولیخالفن اﷲبین قلوبکم۔(مسلم)
آنحضورﷺ نے فرمایا، اے اللہ کے بندو اپنی صفوں کو سیدھی رکھو ورنہ اللہ تمہارے مابین اختلاف پیداکر دے گا۔
عن انس عن النبیﷺقال سووا صفوفکم فان تسویة الصفوف من اقامة الصلوة (بخاری)
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضور کا ارشا د ہے کہ لوگو صفوں کو سیدھی رکھوا اس لئے کہ صفوں کا سیدھی رکھنا نماز کو ٹھیک طرح سے پڑھنے کا ایک حصہ ہے۔
ان تمام ارشادات رسول میں آپ غور فرمائیں کہ وہ باتیں کہاں ہیں جن کا ذکرمولانا محمد صادق صاحب سیالکوٹی نے اپنی کتاب صلوة الرسول میں کیا ہے، یعنی ٹخنہ سے ٹخنہ ملانا، ایڑیاں سے ایڑیاں ملانا، مونڈھے خوب جوڑ کر کھڑا ہونا۔
چونکہ غیر مقلدین یعنی جن کو اہلحدیث ہونے کا زعم ہے ان کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف کتاب و سنت پر عمل کرتے ہیں، ان سے اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ان ارشادات رسول کے بالکل خلاف آپ حضرات جو نماز میں پاں پھیلا کر اور انگلی سے انگلی ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اس کا ذکر کتاب و سنت میں کہاں ہے۔ تو کیا ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟
آپ حضرات کا تو عقیدہ ہے”قول صحابی حجت نیست“یعنیصحابی کا قول حجت نہیں ہے۔وافعال الصحابة لاتنھض الاحتجاج بھاصحابہکے عمل سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی۔وفھم اصحابی لیس بحجةاور فہم صحابی حجت نہیں ہے۔ تو آخر احادیث رسولﷺکو چھوڑ کر نماز میں کھڑے ہونے کی کیفیت اگر آپ نے کسی صحابی سے اخذ بھی کی ہے تو یہ آپ کے عقیدہ کے خلاف ہے، آپ کے عقیدہ میں نہ صحابی کا قول حجت نہ فعل حجت نہ ان کی فہم حجت تو آخر ان کے کسی عمل سے آپ کا احتجاج جائز کیسے ہو گا؟ آپ کا عمل تو صرف کتاب و سنت کی روشنی میں ہونا چاہئے۔ اور میں حتمی انداز میں عرض کر رہا ہوں کہ نماز میں کھڑے ہونے کی وہ کیفیت جس پر غیرمقلدین کا عمل ہے اس کا ذکر نہ کتاب اللہ میں ہے نہ سنت رسول اللہ میں۔
سجدے میں قدموں اور ایڑیوں کا الگ الگ رکھنا سنت ہے۔
مسنون طریقہ یہ ہے کہ دونوں قدموں اورایڑیوں کے درمیان فاصلہ رکھے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کا رخ بھی قبلہ کی طرف ہو، دونوں قدموں اورایڑیوں کے ملانے کا ذکر فقہائے احناف کی کتبِ متقدمہ جیسے ہدایہ اور اس کی شروح نہایہ، عنایہ، کفایہ، بنایہ، فتح القدیر اور کنز وغیرہ میں نہیں ملتا؛ البتہ متأخرین رحمہم اللہ نے اس کو ذکر کیا ہے؛ مگر اس کا مطلب محاذات اور برابر رکھنا ہے، الصاق حقیقی (دونوں کا ملانا) مراد نہیں ہے۔
کما فی السعایة للعلامة اللکنوی رحمة اللہ: ومنہا الصاق الکعبین وذکرہ جمع من المأخرین وجمہور الفقہاء لم یذکروہ ولا أثر لہ فی الکتب المعتبرة کالہدایة وشروحہا: النہایة والعنایة والبنایة والکفایة وفتح القدیر وغیرہا والکنز وشرحہ للعینی وشرح النقایة لا لیاس زادہ والبرجندی والشمنی وفتاوی قاضی خان والبزازیة وغیرہا․․․․ وقال خیر المتاخرین شیخ مشائخنا محمد عابد السندی المدنی فی طوالع الأنوار شرح الدرالمختار قولہ والصاق کعبیہ أی حالة الرکوع قال الشیخ الرحمتی مع بقاء تفریج ما بین القدمین قلت لعلہ أراد من الالصاق المحاذاة وذلک یحاذی کل من کعبیہ الاٰخر فلا یتقدم أحدہما علی الاٰخر․․․ قلت لقد دارت ہذہ المسألة فی سنة اربع وثمانین بعد الألف المئتین بین علماء عصرنا فأجاب أکثرہم بأن الصاق الکعبین فی الرکوع والسجود لیس بمسنون ولا أثر لہ فی الکتب المعتبرة والقول الفیصل أن یقال ان کان المراد بالصاق الکعبین أن یلزق المصلی أحد کعبیہ بالآخر ولا یفرج بینہما کما ہو ظاہر عبارة الدرالمختار والنہر وغیرہما وسبق الیہ فہم المفتی ابی السعود أیضا فلیس ہو من السنن علی الأصح کیف وقد ذکر المحققون من الفقہاء أن الاولٰی للمصلی أن یجعل بین قدمیہ نحو أربعة أصابع ولم یذکروا أنہ یلزقہما فی حالة الرکوع والسجود وقال العینی فی البنایة نقلاً عن الواقعات ینبغی أن یکون بین قدمی المصلی قدر أربع أصابع الید لأنہ أقرب الی الخشوع والمراد من قولہ علیہ الصلوة والسلام الصقوا الکعاب بالکعاب اجماعہما انتہیٰ․ فہٰذا صریح فی أن المسنون ہو التفریج مطلقاً والا لقیدہ بحالة القیام وأن المراد بالصاق الکعب بالکعب الوارد فی الخبر غیر الزاقہما ویوٴیدہ ما أخرجہ أبوداود وصححہ ابن خزیمة وذکرہ البخاری تعلیقا عن النعمان بن بشیر قال رأیت الرجل منا یلزق کعبہ بکعب صاحبہ وفی رد المحتار نقلا عن فتاویٰ سمرقند ینبغی أن یکون بین القدمین مقدار أربع أصابع وما روی أنہم الصقو الکعاب بالکعاب أرید بہ الجماعة انتہی وان کان المراد بہ محاذاة احدی الکعبین بالاٰخر کما أبدع العلامة السندی فہو أمر حق ولا بعد فی حمل الالصاق علی المحاذاة فانہ جاء استعمالہ فی القرب ویوٴید عدم سنیة الزاق الکعبین والمعنی الأول أی ترک التفریج بینہما أنہ یلزم فیہ تحریک احدی الکعبین الی الأخری وتحریک عضو فی الصلوة من غیر ضرورة لیس بجائز عندہم․ (جلد۲/۱۸۰-۱۸۱ سہیل اکیڈمی، لاہور، پاکستان)
الصاق حقیقی کی بات سب سے پہلے زاہدی نے مجتبیٰ میں تحریر فرمائی، پھر ان ہی کے اتباع میں قہستانی نے جامع الرموز میں اور شرح خلاصہ کیدانیہ میں اور حلبی نے غنیة میں اور ابن نجیم نے بحر اور ان کے تلمیذ تمرتاشی نے منع الغفار میں نقل کی ہے اور صاحب نہر اور صاحب درمختار نے صیغہٴ جزم سے اسے نقل کیا ہے؛ لیکن نقل کرتے ہوئے کسی نے بھی الصاق کعبین کی مراد کو واضح نہیں کیا؛ جبکہ بعض فقہاء کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ تفریج (علیحدہ رکھنا) ہی سنت ہے۔
کما فی السعایة للعلامة اللکنوی: واما الذین اوردوہ فی ذکرہ الزاہدی حیث قال فی المجتبی برمزبط یسن فی الرکوع الصاق الکعبین واستقبال الأصابع القبلة ونقلہ عنہ القہستانی فی جامع الرموز وفی شرح الخلاصة الکیدانیة والحلبی فی الغنیة وابن نجیم فی البحر وتلمیذہ التمرتاشی فی منع الغفار واقروہ وذکرہ صاحب النہر وصاحب الدرالمختار علی سبیل الجزم لکن لم یبین واحد منہم المراد من الصاق الکعبین․․․ ورأیت کلاما للشیخ محمد حیات السندی یقتضی اثبات سنیة التفریج ونفی سنیة الالصاق انتہی کلامہ․ (جلد۲/۱۸۰-۱۸۱)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں مولانا میرک شاہ کا جواب زیربحث مسئلہ میں مفصل مذکور ہے، جس میں مولانا رقمطراز ہیں کہ:
”بعض فقہاء کے کلام سے اور توارث وتعامل سے معلوم ہوتا ہے کہ تفریج ہی سنت ہونا چاہیے، کما فی السعایہ ورأیت کلاما للشیخ الخ ان حالات کو دیکھ کر فقہاء متأخرین کی عبارت یا موٴول ہوگی یا مرجوح، طوالع الانوار شرح درمختار میں شیخ محمد عابد نے اس کی تاویل کرتے ہوئے الصاق کعبین سے محاذات کعبین مراد لی ہے اور اس میں علامہ رحمتی کے قول سے استیناس بھی کرلیا ہے․․․ اور جن فقہاء نے اس کی تاویل کا ارادہ نہیں کیا ہے، وہ اس کو قولِ مرجوح اور زاہدی کے اوہام میں درج کرتے ہیں“ الخ (۲/۲۰۳-۲۰۴)
واضح رہے کہ علامہ شامی نے الصاق کو سنت لکھا ہے؛ مگر علامہ رافعی نے اس کی تردید کرتے ہوئے (مذکورة الصدر قول کو) لکھا ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے اسے اوہامِ صاحب مجتبیٰ میں شمار کیا ہے۔
قال العلامة الرافعیرحمة اللہ: (قول الشارح ویسن أن یلصق کعبیہ) قال الشیخ أبوالحسن السندی الصغیر فی تعلیقتہ علی الدر ہذہ السنة انما ذکرہا من ذکرہا من المتأخرین تبعا للمجتبیٰ ولیس لہا ذکر فی الکتب المتقدمة کالہدایة وشروحہا وکان بعض مشائخنا یری أنہا من أوہام صاحب المجتبی ولم ترد فی السنة علی ما وقفنا علیہ، وکأنہم توہموا ذلک مما ورد أن الصحابة کانوا یہتمون بسد الخلل فی الصفوف حتیٰ یضمون الکعاب والمناکب ولا یخفیٰ أن المراد ہنا الصاق کعبہ بکعب صاحبہ لا کعبہ مع کعبہ الاٰخر اھ قلت ولعل الشیخ أبا الحسن لحظ الی الاٰثار الواردة فی أن التراوح بین القدمین فی الصلاة مطلقاً أفضل من الصاقہما اھ․ (تقریرات الرافعی ۱/۶۸ مکتبہ امدادیہ ملتان، پاکستان)
حضرت اقدس تھانوی نے بھی ایک سوال کے جواب میں سعایہ کی تحقیق کو راجح قرار دیا ہے، سائل نے سوال میں زاہدی کے متعلق النافع الکبیر اور الفوائد البہیہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”وہ فقہ میں عظیم المرتبت امام تھے؛ لیکن نقل روایات میں متساہل تھے، نیز وہ عقیدةً معتزلی تھے اور علامہ شامی نے تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ میں لکھا ہے کہ زاہدی کی ”الحاوی“ روایاتِ ضعیفہ نقل کرنے میں مشہور ہے، جس کی وجہ سے ابن وہبان وغیرہ فرماتے ہیں کہ زاہدی کا جو قول دیگر فقہاء کے خلاف ہو اس کا اعتبار نہیں“ الخ۔ (تفصیل ملاحظہ ہو: امداد الفتاویٰ ۱/۲۲۲تا ۲۲۴)
امداد الاحکام میں بھی سعایہ کی تحقیق درج فرمائی اور آخر میں یہ لکھا ہے کہ ”امام طحاوی نے رکوع وسجود کے درمیان فاصلے کی سنیت کی تصریح فرمائی ہے“۔ (امداد الاحکام ۲/۹۱-۹۲ زکریا بک ڈپو دیوبند) صاحب احسن الفتاویٰ نے بھی سعایہ کی تحقیق کو اختیار فرمایا ہے۔ (احسن الفتاویٰ ۳/۳۷ تا ۴۰- ۴۹ تا ۵۰)
مفتی عزیز الرحمن صاحب عثمانی نے ایک سوال کے جواب کے ضمن میں یہ بات تحریر فرمائی ہے کہ: ”بہرحال معلوم ہوتا ہے کہ اصل سنت الصاق محاذات و تسویہٴ صف سے حاصل ہوجاتی ہے، اور تجربہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رکوع اور سجود میں الصاق کعبین حقیقتاً متعذر ہے یا بہت تکلف اور دقت سے ہوتا ہے، ایڑیوں کو تو ملایا جاسکتا ہے؛ مگر تجربہ سے معلوم ہوا کہ ایڑیوں کے ملانے سے کعبین نہیں ملتے؛ البتہ محاذات کعبین پوری طرح اس میں حاصل ہوجاتی ہے، اور یہی مقصود شارع علیہ السلام معلوم ہوتا ہے جیساکہ احادیث سے ثابت ہے۔“ (فتاویٰ دارالعلوم ۲/۲۰۲-۲۰۳ بعنوان رکوع میں ٹخنوں کا ملانا سنت ہے یا نہیں)
آخر میں ابوحنیفہٴ عصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کی اس باب میں فیصلہ کن تحریر ”باقیات فتاویٰ رشیدیہ“ سے درج کی جارہی ہے،جو انشاء اللہ چشم کشا ثابت ہوگی، حضرت تحریر فرماتے ہیں کہ: ”الصاق کعبین رکوع و سجود میں جیسا درمختار میں ہے، کسی کتاب حدیث سے اس کا نشان معلوم نہیں ہوتا اور چونکہ اس کی سنیت حیزخفا میں ہے؛ لہٰذا متروک ہے۔ بعض پہلے علماء کو بھی اس میں تکرار ہوا ہے، بخاری کا الصاق کعاب باہم مقتدیوں کا مراد ہے اوراس سے محاذات مقصود ہے اور اتصال و تراص صفوف، اور یہاں وہ بظاہر مراد نہیں“، فقط۔ واللہ تعالیٰ اعلم
”اگر سجود میں الصاقِ کعبین کیا جاوے تو توجہ اصابع رجلین الی القبلة نہیں ہوسکتا؛ مگر ہاں! جس کا سارا پنجہ پاؤں کا مساوی اور سب انگشت پا برابر مساوی ہوویں، تو مضائقہ نہیں۔ اور ایسا پاؤں تو کہیں شاذ ونادر ہوتا ہے، تو اب حقیقی معنی الصاق میں توجہ اصابع الی القبلة فوت ہوتی ہے، تو بظاہر یہ مراد نہیں، اگر محاذات پر حمل کیا جاوے تو رکوع وسجود کی خصوصیت کیا ہے، یہ قیام کی سنت ہونی چاہیے؛ مگر یہ معنی مراد نہیں ہوسکتے؛ کیونکہ شامی سجدہ کی بحث میں کہتا ہے، قدمنا أنہ ربما یفہم منہ أن السجود کذلک، اذ لم یذکروا تفریجہا بعد الرکوع فالأصل بقاوٴہما ہنا کذلک الخ
ترجمہ: اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں، کبھی کبھی اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ سجدے بھی اس طرح ہیں؛ کیوں کہ ان دونوں کو رکوع کے بعد کھولنے کا ذکر نہیں، تو اصل ان کا یہاں اس طرح باقی رہنا ہے۔
سو تفریج کے مخالف الصاق مراد رکھتے ہیں اور وہ معنی حقیقی کے مراد ہونے پر دال ہے، اور اس الصاق کی کہیں سند نہیں ملی، پہلے بھی تحقیق کیا تھا“۔ فقط (مکتوبات بنام مولانا خلیل احمد مکتوب نمبر۳۴)
محدث کبیر حضرت اقدس مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری دامت برکاتہم حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: (قولہ سو تفریج) یہ بحث کا خلاصہ ہے کہ جو لوگ الصاق کعبین کے قائل ہیں اور تفریج (کشادہ رکھنے) کے مخالف ہیں، وہ اِلصاق کے حقیقی معنی مراد لیتے ہیں، صرف محاذات مراد نہیں لیتے اور اِلصاق حقیقی کی کوئی دلیل نہیں؛ بلکہ طحاوی باب التطبیق فی الرکوع میں تفریق کے افضل ہونے کی صراحت ہے۔ (باقیات فتاویٰ رشیدیہ ص:۱۷۱-۱۷۲)
اب آخر میں یہ بات رہ جاتی ہے کہ بعض احادیث میں ”فوجدتہ ساجدًا راصاً عقبیہ“ کے الفاظ ایڑیوں کے ملانے پر صراحتاً دلالت کرتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ الفاظ کی یہ زیادتی شاذ ہے، جو قابل استدلال نہیں ہے، اس سلسلہ کا تحقیقی کلام فتاویٰ دارالعلوم زکریا (جنوبی افریقہ) سے درج کیاجارہا ہے، صاحب فتاویٰ مفتی رضاء الحق صاحب مدظلہ رقمطراز ہیں کہ: یہ حدیث مختلف طرق کے ساتھ مختلف کتب میں مذکور ہے؛ لیکن یہ الفاظ ”فوجدتہ ساجداً راصاً عقبیہ“ صرف یحییٰ بن ایوب نقل کرتے ہیں اور دوسرے ثقات کی مخالفت کرتے ہیں؛ لہٰذا یہ زیادتی شاذ ہے۔
حدیث کی تحقیق ملاحظہ ہو:
یہ حدیث درج ذیل کتابوں میں مذکور ہے:
(۱) الاسناد الاوّل: ابن خزیمة (۶۵۴) ابن حبان: (۱۹۳۳) شرح معانی الاٰثار: (۱/۲۳۴) الحاکم: (۱/۲۲۸) البیہقی فی الکبیر: (۲/۱۱۶) ابن عبد البر فی التمہید: (۲۳/۳۴۸) واسنادہ عند جمیعہم من طریق سعید بن ابی مریم عن یحیٰی بن ایوب عن عمارة بن غزیة عن ابی النضر عن عروة عن عائشة رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا․
سعید بن ابی مریم
متفرد
یحیٰی بن ایوب
علل الذہبی احادیثہ․
رد احمد روایتہ فی الوتر لیس بذلک القوی․قال ابوحاتم: لا یحتج بہ وقال النسائی:
لیس بالقوی وقال الدارقطنی: فی حدیثہ اضطراب․
المستدرک: ۲/۲۰۱۱․
المستدرک: ۳/۹۷․
الضعفاء للعقیلی: ۲۱۱․
تنقیح التحقیق ۲/۱۹۳․
میزان الاعتدال ۴/۳۶۳․
ولفظہ راصاً عقبیہ عن الکل، یحیٰی بن ایوب لیس بذلک القوی وخالف الاقوی ہنا فشذت روایتہ․
(۲) الاسناد الثانی: رواہ مسلم: (۱/۳۵۲) واحمد: (۶/۸۵، ۲۰۱) و ابوداوٴد: (۱/۵۴۷) والنسائی: (۱/۱۰۲) وابن عبدالبر: (۲۳/۳۴۹) عن:
مذکورہ بالا محققین کی تصریحات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رکوع وسجود میں دونوں قدموں اورایڑیوں کو علیحدہ رکھنا ہی مسنون ہے۔ ہٰذا ہُو الحقُّ والحقُّ أحَقُّ أنْ یُتَّبَعَ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
No comments:
Post a Comment