زمین پر خشکی (dry land) کا سب سے کم نقطہ بحیرہ مردار (Dead Sea) کے کنارے ہیں۔
• گہرائی: یہ سطح سمندر سے تقریباً 430 سے 440 میٹر (1,411 فٹ) نیچے واقع ہے۔
• مقام: یہ اردن، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان واقع ہے۔
1400 سال پہلے زمین کے سب سے نچلے مقام کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا لیکن قرآن میں اس کی تصویر کشی کی گئی تھی۔
رومیوں کے فارسیوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد قرآن نے صحیح پیشین گوئی کی تھی کہ وہ دوبارہ فتح حاصل کریں گے۔ یہ جنگ بحیرہ مردار کے قریب ہوئی۔
" بحیرہ مردار
2019 تک، جھیل کی سطح سطح سمندر سے 430.5 میٹر (1,412 فٹ) نیچے ہے، [4][7] اس کے ساحلوں کو زمین پر زمین کی بنیاد پر سب سے کم بلندی بناتی ہے۔"
Wikipedia, Dead Sea, 2019
زمین پر سب سے کم نقطہ بحیرہ مردار پر ہے۔
Quran 30:2-3
رومیوں کو زمین کے نچلے حصے میں شکست ہوئی اور وہ اس شکست کے بعد دوبارہ فتح یاب ہوں گے
٢ غُلِبَتِ الرُّومُ
٣ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ
عدن عربی میں أَدْنَى کے دو معنی ہیں: قریب ترین اور پست۔ آج ہم جانتے ہیں کہ بحیرہ مردار زمین کا سب سے نچلا نقطہ ہے (سطح سمندر سے 423 میٹر یا 1388 فٹ نیچے)۔
ایک ناخواندہ آدمی جو 1400 سال پہلے رہتا تھا وہ کیسے جان سکتا تھا کہ زمین کا سب سے نچلا مقام کہاں ہے؟
1. لوط علیہ السلام کی دعوت اور قوم کا انکار
القرآن:
لوط کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ جبکہ ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کہ: کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو؟ یقین جانو کہ میں تمہارے لیے ایک امانت دار پیغمبر ہوں۔ لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مانو۔ اور میں تم سے اس کام پر کسی قسم کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اس ذات نے اپنے ذمے لے رکھا ہے جو سارے دنیا جہان کی پرورش کرتی ہے۔ کیا دنیا کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مَردوں کے پاس جاتے ہو۔ اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔
[سورۃ الشعراء:160-166]
تفسیر:
حضرت لوط ؑ جس قوم کی طرف بھیجے گئے تھے، ان کے مرد فطرت کے خلاف مردوں ہی سے اپنی جنسی ہوس پوری کرتے تھے۔ ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة ھود:77 تا 83 اور سورة حجر: 58 تا 76 میں گذر چکا ہے، اور ہم نے ان کا مختصر تعارف سورة اعراف:80 میں کرایا ہے۔
القرآن:
اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا: حقیقت یہ ہے کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہان والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ کیا تم مَردوں کے پاس جاتے ہو (یعنی اپنی جنسی خواہش عورتوں کے بجائے مردوں سے پوری کرتے ہو۔) اور راستوں میں ڈاکے ڈالتے ہو، اور اپنی بھری مجلس میں بدی کا ارتکاب کرتے ہو؟ پھر ان کی قوم کے لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ انہوں نے کہا: لے آؤ ہم پر اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو۔ لوط نے کہا: میرے پروردگار! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرمایے۔
[سورۃ العنکبوت:28-30]
القرآن:
اور ہم نے لوط کو بھیجا (40) جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں کے کسی شخص نے نہیں کی؟ تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔ ان کی قوم کا جواب یہ کہنے کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ: نکالو ان کو اپنی بستی سے! یہ لوگ ہیں جو بڑے پاکباز بنتے ہیں۔
[سورۃ الاعراف:80-82]
تفسیر:
(40) حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط ؑ بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم ؑ فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا، سدوم ایک مرکزی شہر تھا اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں، کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط ؑ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچائے اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے تو ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور ان تمام بستیوں کو الٹ دیا گیا، آج بحر میت (dead sea) کے نام سے جو سمندر ہے، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تو اس میں ڈوب گئی ہیں یا اس کے آس پاس تھیں جن کا نشان واضح نہیں رہا، حضرت لوط ؑ کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط ؑ کی قوم کہا گیا ہے کیونکہ یہ وہ امت تھی جس کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ ان کے واقعے کی سب سے زیادہ تفصیل سورة ہود (69:11 تا 83) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورة حجر (52:15 تا 84) ، سورة شعراء (160:26 تا 174) اور سورة عنکبوت (26:29 تا 35) میں بھی ان کے واقعے کی کچھ تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نیز سورة ذاریات (24:51 تا 37) اور سورة تحریم (10:66) میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔
2. فرشتوں کا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنا اور قومِ لوط کا تذکرہ
القرآن:
اور ہمارے فرشتے (انسانی شکل میں) ابراہیم کے پاس (بیٹا پیدا ہونے کی) خوشخبری لے کر آئے۔ (39) انہوں نے سلام کہا، ابراہیم نے بھی سلام کہا، پھر ابراہیم کو کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ وہ (ان کی مہمانی کے لیے) ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (بچھڑے) کی طرف نہیں بڑھ رہے، تو وہ ان سے کھٹک گئے، اور ان کی طرف سے دل میں خوف محسوس کیا۔ (40) فرشتوں نے کہا : ڈریے نہیں، ہمیں (آپ کو بیٹے کی خوشخبری سنانے اور) لوط کی قوم کے پاس بھیجا گیا ہے۔ اور ابراہیم کی بیوی کھڑی ہوئی تھیں، وہ ہنس پڑیں، (41) تو ہم نے انہیں (دوبارہ) اسحاق کی، اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی خوشخبری دی۔ وہ کہنے لگیں: ہائے ! کیا میں اس حالت میں بچہ جنوں گی کہ میں بوڑھی ہوں، اور یہ میرے شوہر ہیں جو خود بڑھاپے کی حالت میں ہیں؟ واقعی یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا: کیا آپ اللہ کے حکم پر تعجب کر رہی ہیں؟ آپ جیسے مقدس گھرانے (42) پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہی برکتیں ہیں، بیشک وہ ہر تعریف کا مستحق، بڑی شان والا ہے۔ پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی، اور ان کو خوشخبری مل گئی تو انہوں نے ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں (ناز کے طور پر) جھگڑنا شروع کردیا۔ (43) حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے بردبار، (اللہ کی یاد میں) بڑی آہیں بھرنے والے (اور) ہر وقت ہم سے لو لگائے ہوئے تھے۔ (44) (ہم نے ان سے کہا) ابراہیم ! اس بات کو جانے دو۔ یقین کرلو کہ تمہارے رب کا حکم آچکا ہے، اور ان لوگوں پر ایسا عذاب آکر رہے گا جس کو کوئی پیچھے نہیں لوٹا سکتا۔
[سورۃ ہود:69-76]
تفسیر:
(39) اللہ تعالیٰ نے یہ فرشتے دو کاموں کے لئے بھیجے تھے، ایک یہ کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خوشخبری دیں کہ ان کے یہاں ایک بیٹا ہوگا، یعنی حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوں گے اور ان کا دوسرا کام یہ تھا کہ وہ حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کریں، چنانچہ حضرت ابراہیم ؑ کو خوشخبری دینے کے بعد وہ حضرت لوط ؑ کی بستیوں کی طرف جانے والے تھے۔
(40) چونکہ فرشتے انسانی شکل میں آئے تھے، اس لیے حضرت ابراہیم ؑ شروع میں انہیں انسان ہی سمجھتے اور ان کی مہمانی کے لیے بھنے ہوئے بچھڑے کا گوشت لے کر آئے لیکن چونکہ وہ فرشتے تھے اور کچھ کھا نہیں سکتے تھے، اس لئے انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا، اس زمانے میں رسم یہ تھی کہ اگر کوئی شخص میزبان کے یہاں کھانا پیش ہونے کے بعد نہ کھائے تو یہ اس بات کی علامت سمجھی جاتی تھی کہ وہ کوئی دشمن ہے جو کسی بری نیت سے آیا ہے، اس لئے حضرت ابرہیم ؑ نے خوف محسوس کیا، اس موقع پر فرشتوں نے واضح کردیا کہ وہ فرشتے ہیں، اور ان دو کاموں کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
(41) ہنسنے کی وجہ بعض مفسرین نے تو یہ بیان کی ہے کہ جب انہیں اطمینان ہوگیا کہ یہ فرشتے ہیں، اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے، تو خوشی کی وجہ سے وہ ہنس پڑیں، لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری سن کر ہنسی تھیں۔ سورة حجر آیت 53 اور سورة ذاریات آیت 29، 30 میں بیان فرمایا گیا ہے کہ فرشتوں نے بیٹے کی خوشخبری پہلے دے دی تھی اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ذکر بعد میں کیا تھا اس پر انہیں تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی اور ان کو ہنستا دیکھ کر فرشتوں نے دوبارہ خوشخبری دی۔
(42) یہ ترجمہ اہل البیت کو عربی گرامر کے قاعدے سے منصوب علی سبیل المدح قرار دینے پر مبنی ہے۔ ترجمے میں مقدس کا لفظ بھی اسی لیے بڑھایا گیا ہے۔ اس کا دوسرا ترجمہ اس طرح بھی ممکن ہے کہ : اے اہل بیت! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔
(43) جیسا کہ سورة اعراف آیت 80 کے حاشیہ میں بیان کیا جا چکا ہے حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے بھتیجے تھے جو عراق میں ہی ان پر ایمان لا کر ان کے ساتھ وطن سے ہجرت میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی پیغمبر بنا کر سدوم کے شہر میں بھیجا۔ اس شہر کے لوگ شرک کے علاوہ ہم جنس پرستی کی خباثت میں مبتلا تھے۔ جب انہوں نے حضرت لوط ؑ کی بات نہیں مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے ان فرشتوں کو بھیجا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو یہ امید تھی کہ شاید یہ لوگ سنبھل جائیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ سے فرمائش کرتے رہے کہ ابھی ان پر عذاب نازل نہ کیا جائے۔ حضرت ابراہیم ؑ چونکہ اللہ تعالیٰ کے لاڈلے پیغمبر تھے، اس لیے انہوں نے ناز کے انداز میں بار بار جس طرح عذاب کو موخر کرنے کی فرمائش کی، اسے اس آیت میں پیار بھرے اسلوب میں جھگڑنے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
(44) حضرت ابراہیم ؑ کی یہ فرمائش تو منظور نہیں فرمائی گئی کہ قوم لوط سے عذاب کو موخر کردیا جائے، لیکن جس جذبے اور جس انداز سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رجوع فرمایا تھا، اس فقرے میں اس کی بڑے بلیغ انداز میں تعریف فرمائی گئی ہے۔
3. فرشتوں کا لوط علیہ السلام کے پاس آنا اور قوم کا ہجوم
القرآن:
اور جب ہمارے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے گھبرائے، ان کا دل پریشان ہوا اور وہ کہنے لگے کہ : آج کا یہ دن بہت کٹھن ہے۔ (45) اور ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس دوڑتے ہوئے آئے، اور اس سے پہلے وہ برے کام کیا ہی کرتے تھے۔ لوط نے کہا: اے میری قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے کہیں زیادہ پاکیزہ ہیں (46) اس لیے اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی ایک بھی بھلا آدمی نہیں ہے؟ کہنے لگے: تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کچھ مطلب نہیں، اور تم خوب جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ لوط نے کہا: کاش کہ میرے پاس تمہارے مقابلے میں کوئی طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا۔ (47) (اب) فرشتوں نے (لوط سے) کہا: اے لوط! ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ (کافر) لوگ ہرگز تم تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لہذا تم رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے روانہ ہوجاؤ، اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں مگر تمہاری بیوی (تمہارے ساتھ نہیں جائے گی) اس پر بھی وہی مصیبت آنے والی ہے جو اور لوگوں پر آرہی ہے۔ یقین رکھو کہ ان (پر عذاب نازل کرنے) کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے۔ کیا صبح بالکل نزدیک نہیں آگئی۔ پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، (48) اور ان پر پکی مٹی کے تہہ بر تہہ پتھر برسائے۔ جن پر تمہارے رب کی طرف سے نشان لگے ہوئے تھے۔ اور یہ بستی (مکہ کے ان) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ (49)
[سورۃ ہود:77-83]
تفسیر:
(45) حضرت لوط ؑ کے پاس یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے۔ اور انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ دوسری طرف وہ اپنی قوم کی بد فطرت بےحیائی سے واقف تھے۔ اس لیے ان کی پریشانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کی قوم ان مہمانوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے، وہ لوگ ان نوجوانوں کی آمد کی خبر سنتے ہی اس مقصد سے دورتے ہوئے آئے، اور حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان مہمانوں کو ان کے حوالے کردیں۔
(46) نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں۔ تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو۔ اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
(47) سدوم کی اس بستی میں حضرت لوط ؑ کے خاندان یا قبیلے کا کوئی آدمی نہیں تھا۔ وہ تو عراق کے باشندے تھے۔ اور اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تھے۔ سدوم کے لوگوں کو ان کی قوم بھی قرآن کریم نے اس معنی میں کہا ہے کہ وہ ان کی امت تھے جن کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے انتہائی بےچارگی محسوس کی کہ اگر میرے خاندان کا کوئی فرد یہاں ہوتا تو شاید میری کچھ مدد کرسکتا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں بتایا گیا ہے، اس موقع پر فرشتوں نے بات کھول دی کہ ہم فرشتے ہیں، اس لیے آپ بالکل نہ گھبرائیں، یہ آپ کا یا ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، اور ہمیں ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ صبح تک ان کا قلع قمع ہونے والا ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر بستی سے راتوں رات نکل جائیں، تاکہ اس عذاب سے محفوظ رہیں۔ البتہ حضرت لوط ؑ کی بیوی کافرہ تھی اور اپنی قوم کی بد اعمالیوں میں ان کا ساتھ دیا کرتی تھی، اس لیے حکم ہوا کہ وہ آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، بلکہ دوسرے کے ساتھ وہ بھی عذاب کا شکار ہوگی۔
(48) روایات میں ہے کہ یہ کل چار بستیاں تھیں جن میں یہ بد قماش لوگ بستے تھے، اس ساری بستیوں کو فرشتوں نے جوں کا توں اوپر اٹھا کر زمین پر اوندھا پٹخ دیا، اور ان کا نام ونشان مٹ گیا، بعض حضرات کا کہنا ہے کہ بحر میت (dead sea) جسے بحر مردار بھی کہا جاتا ہے ان بستیوں کے الٹنے سے پیدا ہوا ہے، ورنہ کسی بڑے سمندر سے اس کا رابطہ نہیں ہے، اس کے علاوہ جس مقام پر یہ بستیاں واقع تھیں یعنی بحر مردار کے آس پاس کا علاقہ، اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ پورے کرہ زمین کا سب سے نچلا حصہ ہے، یعنی زمین کا کوئی اور حصہ سطح سمندر سے اتنا نیچا نہیں ہے جتنا نیچا یہ ہے، قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ ہم نے اس زمین کے اوپر والے حصے کو نیچے والے حصے میں تبدیل کردیا، کچھ بعید نہیں کہ ان الفاظ میں اس جغرافیائی حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہو اور ان کی انتہائی نچلی حرکتوں کو یہ محسوس شکل دے دی گئی ہو۔
(49) حضرت لوط ؑ کے واقعے کے آخر میں اب روئے سخن مکہ مکرمہ کے کافروں کی طرف موڑا گیا ہے، اور ان کو توجہ دلائی گئی ہے کہ حضرت لوط ؑ کی قوم کا یہ علاقہ تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جب تم تجارت کے لیے شام جاتے ہو تو یہ علاقہ تمہارے راستے میں پڑتا ہے اور اگر تم میں ذرا بھی معقولیت ہو تو تمہیں اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
القرآن:
چنانچہ جب یہ فرشتے لوط کے گھر والوں کے پاس پہنچے۔ تو لوط نے کہا : آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ (21) انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ ہم آپ کے پاس وہ (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے۔ ہم آپ کے پاس اٹل فیصلہ لے کر آئے ہیں، اور یقین رکھیے کہ ہم سچے ہیں۔ لہذا آپ رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جایے، اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے (22) اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے، اور وہیں جانے کے لیے چلتے رہیں جہاں کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ اور (اس طرح) ہم نے لوط تک اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جائے گی۔ اور شہر والے خوشی مناتے ہوئے (لوط کے پاس) آپہنچے۔ (23) لوط نے (ان سے) کہا کہ : یہ لوگ میرے مہمان ہیں، لہذا مجھے رسوا نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو، اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ کہنے لگے : کیا ہم نے آپ کو پہلے ہی دنیا جہان کے لوگوں (کو مہمان بنانے) سے منع نہیں کر رکھا تھا ؟ لوط نے کہا : اگر تم میرے کہنے پر عمل کرو تو یہ میری بیٹیاں (جو تمہارے نکاح میں ہیں، تمہارے پاس) موجود ہی ہیں۔ (24) (اے پیغمبر) تمہاری زندگی کی قسم ! حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی بدمستی میں اندھے بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ سورج نکلتے ہی ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا۔ پھر ہم نے اس زمین کو تہ وبالا کر کے رکھ دیا، اور ان پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی۔
[سورۃ الحجر:61-74]
تفسیر:
(21) حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی بد فطرتی سے واقف تھے کہ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے گھبراہٹ کا اظہار کیا۔ حضرت لوط ؑ کی اس بد نہاد قوم کے مختصر تعارف کے لیے دیکھئے۔ سورة اعراف آیت 80 پر ہمارا حاشیہ۔
(22) حضرت لوط ؑ کو پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ آپ اپنے تمام ساتھیوں کی نگرانی کرسکیں، خاص طور پر ان سب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ حضرت لوط ؑ کے پیچھے ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ جرأت نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرے۔
(23) یہ فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اس لیے جیسا کہ حضرت لوط ؑ کو اندیشہ تھا۔ یہ لوگ اپنی ہوس کو پوری کرنے کے شوق میں خوشی مناتے ہوئے آئے۔
(24) کسی نبی کی امت میں جتنی عورتیں ہوتی ہیں، وہ اس نبی کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ حضرت لوط ؑ نے ان بد قماش لوگوں کو نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی کہ تمہاری عورتیں جو میری روحانی بیٹیاں ہیں، تمہارے گھروں میں موجود ہیں۔ تم اپنی نفسانی خواہشات ان سے پوری کرسکتے ہو، اور یہی فطرت کا پاکیزہ طریقہ ہے۔
4. لوط علیہ السلام کی نجات اور قوم کی ہلاکت
القرآن:
پھر ہوا یہ کہ ہم نے ان کو (یعنی لوط ؑ کو) اور ان کے گھر والوں کو (بستی سے نکال کر) بچا لیا، البتہ ان کی بیوی تھی جو باقی لوگوں میں شامل رہی (جو عذاب کا نشانہ بنے) اور ہم نے ان پر (پتھروں کی) ایک بارش برسائی۔ اب دیکھو ! ان مجرموں کا انجام کیسا (ہولناک) ہوا ؟
[سورۃ الاعراف:83-84]
القرآن:
کہنے لگے : لوط ! اگر تم باز نہ آئے تو تم بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے جنہیں (بستی سے) نکال باہر کیا جاتا ہے۔ لوط نے کہا : یقین جانو، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو تمہارے اس کام سے بالکل بیزار ہیں۔ میرے پروردگار ! جو حرکتیں یہ لوگ کر رہے ہیں، مجھے اور میرے گھر والوں کو ان سے نجات دیدے۔ (35) چنانچہ ہم نے ان کو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی۔ سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہنے والوں میں شامل رہی۔ (36) پھر اور سب کو ہم نے تباہ کردیا۔ اور ان پر ایک زبردست بارش برسا دی۔ (37) غرض بہت بری بارش تھی جو ان پر برسی جنہیں پہلے سے ڈرا دیا گیا تھا۔
[سورۃ الشعراء:167-173]
تفسیر:
(35) یعنی اس کڑھن سے نجات دیدے جو ان لوگوں کو ایسے گھناؤنے کردار میں ملوث دیکھ کر پیدا ہوتی ہے، اور اس عذاب سے محفوط رکھ جو ان کی حرکتوں کی وجہ سے ان پر نازل ہونے والا ہے۔
(36) اس سے مراد خود حضرت لوط ؑ کی بیوی ہے جو ایمان لانے کے بجائے اپنی بدکردار قوم کا ساتھ دیتی تھی۔ جب عذاب آنے سے پہلے حضرت لوط ؑ کو شہر سے باہر نکلنے کا حکم ہوا تو یہ عورت اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے پیچھے رہ گئی تھی، اور جب بستی والوں پر عذاب آیا تو یہ بھی اس کا شکار ہوئی۔
(37) پتھروں کی بارش سے مراد ہے جو ان لوگوں پر برسائی گئی تھی، جیسا کہ سورة حجر میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے۔
القرآن:
لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔ ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔ لوط کی قوم نے (بھی) تنبیہ کرنے والوں کو جھٹلایا۔ ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا، سوائے لوط کے گھر والوں کے جنہیں ہم نے سحری کے وقت بچا لیا تھا۔ یہ ہماری طرف سے ایک نعمت تھی۔ جو لوگ شکر گزار ہوتے ہیں، ان کو ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ اور لوط نے لوگوں کو ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا، لیکن وہ ساری تنبیہات میں میکھ نکالتے رہے۔ اور انہوں نے لوط کو ان کے مہمانوں کے بارے میں پھسلانے کی کوشش کی۔ (9) جس پر ہم نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا کہ : چکھو میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزہ۔ اور صبح سویرے ان پر ایسا عذاب حملہ آور ہوا جو کم کر رہ گیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان بنادیا ہے۔ اب کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ؟
[سورۃ القمر:33-39]
خلاصہ:
قرآن مجید میں قومِ لوط کا قصہ ترتیب کے ساتھ یوں ہے: لوط علیہ السلام کی توحید و پاکیزگی کی دعوت → قوم کا انکار اور بے حیائی پر اصرار → فرشتوں کا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنا → فرشتوں کا لوط علیہ السلام کے پاس آنا → قوم کا مہمانوں پر ہجوم → لوط اور مومنین کی نجات → قوم کی ہلاکت اور عذاب۔
قرآن مجید کے بعد احادیث نبوی ﷺ میں بھی قومِ لوط کے واقعے اور ان کے عمل کی مذمت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ذیل میں احادیث کی روشنی میں یہ قصہ ترتیب وار اور باحوالہ پیش کیا جا رہا ہے۔
1. لوط علیہ السلام کا اپنی قوم کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار اور اللہ کی طرف پناہ
قرآن مجید میں لوط علیہ السلام کا یہ قول موجود ہے: "کاش میرے پاس تم پر قوت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لے سکتا" (ہود: 80)۔ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں بتایا کہ لوط علیہ السلام کا اشارہ اللہ کی طرف تھا۔
حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ"
ترجمہ:
"اللہ لوط پر رحم فرمائے! یقیناً انہوں نے (اپنے قول 'یا آوی إلی رکن شدید' سے) ایک مضبوط سہارے (یعنی اللہ) کی پناہ لی تھی۔"
حوالہ:
صحیح بخاری (حدیث نمبر: 3375) اور صحیح مسلم (حدیث نمبر: 151)۔
2. قومِ لوط کے عذاب کی کیفیت: فرشتوں کا کردار
قرآن مجید میں قومِ لوط پر "حاصبًا" (کنکر پتھر برسانے والی آندھی) اور "صیحہ" (سخت آواز) کے عذاب کا ذکر ہے۔ احادیث میں اس کی مزید تفصیل ملتی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کس طرح انہیں ہلاک کیا۔
روایت:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"فَلَمَّا أَتَوْهُ (أي قوم لوط) قَالَ لَهُمْ لُوطٌ: ... فَضَرَبَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِجَنَاحِهِ فَطَمَسَ أَعْيُنَهُمْ..."
ترجمہ:
"جب لوط کی قوم ان کے پاس آئی تو لوط نے ان سے کہا... پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے بازو سے انہیں مارا اور ان کی آنکھیں مٹا دیں..."
حوالہ:
المستدرك على الصحيحين للحاكم (حدیث نمبر: 1567 کے تحت)۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
3. نبی کریم ﷺ کا اپنی امت کے لیے عملِ قومِ لوط کے خطرے کا اظہار
نبی کریم ﷺ نے قیامت تک آنے والی اپنی امت کو اس بدترین فعل سے خبردار کیا اور اسے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
حدیث:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ"
ترجمہ:
"بے شک مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ قومِ لوط کا عمل (بدکاری) ہے۔"
حوالہ:
سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر: 2563)۔ اس حدیث کو بعض محققین (جیسے البانی) نے حسن/صحیح قرار دیا ہے۔
4. عملِ قومِ لوط کی سزا (حد)
اسلامی شریعت میں اس فعل کے مرتکب افراد کے لیے سخت سزا مقرر کی گئی ہے، جس کی بنیاد احادیث نبوی ﷺ ہیں۔
حدیث:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ"
ترجمہ:
"جسے تم قومِ لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا، دونوں کو قتل کر دو۔"
حوالہ:
یہ حدیث متعدد کتب میں مروی ہے، جن میں سنن ابو داؤد (حدیث نمبر: 4462)، جامع ترمذی (حدیث نمبر: 1456)، اور سنن ابن ماجہ شامل ہیں۔ اس کی سند کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن امام حاکم، امام ذہبی، ابن حبان، اور ابن قیم جیسے محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
خلاصہ
احادیث نبوی ﷺ قومِ لوط کے قصے کی تصدیق کرتی ہیں، ان کے عذاب کی تفصیل بتاتی ہیں، اور سب سے اہم بات یہ کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو اس فعل کی مذمت اور اس کی سزا سے آگاہ کیا تاکہ کوئی اس میں مبتلا نہ ہو۔
سائنسدانوں نے بحیرہ مردار کا ایک اہم راز دریافت کرلیا

بحیرہ مردار دنیاکی سب سے بڑی نمکین جھیل ہے، جس کے مغرب میں فلسطین کا مغربی کنارہ اور اسرائیل جبکہ مشرق میں اردن واقع ہے۔
یہ زمین پر سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام ہے، جو 438 میٹر نیچے واقع ہے۔
یہ دنیا کی سب سے گہری نمکین پانی کی جھیل بھی ہے، جہاں کوئی پرندہ، مچھلی یا پودا دیکھنے میں نہیں آتا۔
اب سائنسدانوں نے اس کا ایک اور اسرار دریافت کیا ہے۔
انہوں نے بحیرہ مردار کی تہہ میں ایسی معدنیاتی چمنیوں کو دریافت کیا ہے جو وہاں ممکنہ سنک ہول کے مقامات کا اشارہ دیتی ہیں۔
ان چمنیوں کو پہلے 'وائٹ اسموکرز' کہا جاتا تھا جو نمکین پانی اس جھیل کا حصہ بناتی ہیں۔
بحیرہ مردار بہت تیزی سے دھنس رہا ہے اور گزشتہ 50 برسوں کے دوران وہاں بخارات کا اخراج بہت زیادہ ہوا اور ہر سال اس کی سطح میں اوسطاً ایک میٹر کی کمی آرہی ہے۔
سطح میں اس کمی کے باعث سائنسدانوں کے لیے وہاں کے بارے میں جاننے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
تحقیق کے دوران غوطہ خوروں کو بحیرہ مردار کے مغربی کنارے میں زیرآب موجود چشموں کو نمونے اکٹھے کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس دوران وہ وہاں چمنی جیسے اسٹرکچر کو دریافت کرکے حیران رہ گئے۔

ان چمنیوں سے سفید سیال خارج ہو رہا تھا۔
لیبارٹری تجزیے سے تصدیق ہوئی کہ سفید سیال کا ماخذ اردگرد موجود تازہ پانی کے چشمے ہیں۔
یہ سفید سیال بہت تیزی سے کرسٹلائز ہوکر چمنیوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور ان کی موٹائی میں روزانہ متعدد سینٹی میٹرز کا اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ان چمنیوں کے اجتماع سے کسی بڑے سنک ہول کا ابتدائی انتباہ ملتا ہے جو کہ اس خطے کا ایک خطرناک مسئلہ ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنس آف دی ٹوٹل انوائرمنٹ میں شائع ہوئے۔
خیال رہے کہ بحیرہ مردار دنیا کی دوسری سب سے زیادہ نمکین جھیل ہے جس کے پانی میں نمک کی مقدار 34 فیصد ہے۔
اس کے مقابلے میں سمندر کے پانی میں یہ مقدار اوسطاً 3.5 فیصد ہوتی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جھیل کا پانی کتنا نمکین ہوگا۔
اتنے زیادہ نمکین ہونے کی وجہ سے پانی میں کوئی چیز ڈوبتی نہیں بلکہ سطح پر تیرتی رہتی ہے۔
بحیرہ مردار میں صرف مائیکرو اسکوپک جاندار ہی دریافت ہوئے ہیں، دیگر جاندار اتنے نمکین پانی میں زندہ نہیں رہ سکتے۔
بحیرۂ مردار خشک کیوں ہو رہا ہے ؟
بحیرۂ مردار یا دنیا میں نمکین پانی کی سب سے بڑی جھیل کی سطح میں سالانہ ایک میٹر سے زیادہ کی کمی ہو رہی ہے۔
بحیرۂ مردار زمین پر سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام ہے اور مشرق وسطیٰ میں سورج کی تپیش اور تازہ پانی کی کمی کی وجہ سے آہستہ آہستہ سکڑ رہا ہے۔
خشکی میں گھرے بحیرۂ مردار کی ایک جانب غزہ کا مغربی کنارہ اور اسرائیل ہے اور دوسری مشرق میں اردن ہے۔
اس کے کناروں پر بسنے والوں کو وقت کے ساتھ ساتھ ایک بحران کا سامنا ہے جس میں بحیرۂ مردار کو بچانے کے لیے اس میں پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنا ایک بہت بڑا چلینج ہے۔

بحیرۂ مردار دنیا کے دیگر سمندروں کے مقابلے میں تقریباً نو گنا زیادہ نمکین ہے اور اس میں نمکیات اور معدنیات کی کثیر تعداد کی وجہ سے اس کا پانی مختلف نظر آتا ہے اور دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ زیتون کے تیل کو ریت کے ساتھ ملایا گیا ہو۔
دہائیوں سے مقدس سرزمین یا اردن میں تعطیلات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی تھیں جب تک بحیرۂ مردار کے پانی کی سطح پر لیٹے ہوئے تصویریں نہ بنا لی جائیں جس میں عام طور پر اس کے پانی کی غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے سطح پر لیٹے ہوئے اخبار پڑھنا شامل ہوتا تھا کیونکہ اس میں نمکیات اور معدنیات کی بہتات کی وجہ سے انسان قدرتی طور پر اس کی سطح پر ڈوبے بغیر تیر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ مردار کا منفرد ماحولیاتی نظام اور دنیا میں ماحولیات کی صورتحال سے متعلق ایک حساس پیمانہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ نے بحیرۂ مردار کے آہستہ آہستہ ختم ہونے کے بارے میں پڑھا ہو لیکن یہ مکمل سچ نہیں ہے کیونکہ جیسے جیسے اس کی سطح میں کمی ہو رہی ہے تو اس کی کثافت اور نمکیات میں اضافہ ہوتا جائے گا اور بلآخر ایک ایسے مقام پر پہنچ جائیں گی جہاں اس کا پانی اتنا وزنی ہو جائے گا کہ بخارات کی شکل میں تبدیل نہیں ہوگا۔ تو ہو سکتا ہے کہ یہ سکڑ کر بہت چھوٹا رہ جائے لیکن مکمل طور پر غائب نہیں ہو گا۔

تاہم یہ خطرے کی حد تک سکڑ رہا ہے جس میں سطح میں سالانہ ایک میٹر سے زیادہ کی کمی ہو رہی ہے۔
اس تناظر میں یہ بحیرۂ مردار زمین پر سطح سمندر سے سب سے نچلا مقام ہے اور اس وقت یہ سطح سمندر سے 1380 فٹ نیچے ہے ۔
اس کے ساحل پر سفر کرتے ہوئے ہواؤں کے نتیجے میں آپ کے کان کے پردوں پر اسی طرح سے دباؤ پڑ سکتا ہے جیسا کہ جہاز میں سفر کے دوران جب وہ زمین پر لینڈ کر رہا ہوتا ہے۔
بحیرۂ مردار کے حیران کن طبی فوائد بھی ہیں جس میں دمے کے مرض میں مبتلا افراد کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
معدنیات سے بھرپور پانی، سکون بخش کیچڑ اور سخت دھوپ کی وجہ سے تکلیف دہ جلد کی بیماریوں کا شکار افراد کو افاقہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے بعض ممالک میں صحت اور خیراتی ادارے جلد کے مرض میں مبتلا افراد کو اس شرط پر رقم دیتے ہیں کہ وہ بحیرۂ مردار پر تھیراپی کے لیے جائیں گے۔

اگرچہ بحیرۂ مردار سکڑ رہا ہے اور اس کی شکل تبدیل ہو رہی ہے لیکن پھر بھی اس کی معاشی قدر ہے۔ یہاں آنے کے لیے سیاح اردن یا اسرائیل کا انتخاب کر سکتے ہیں اور یہ دونوں ممالک نمکین جھیل کی معدنیات سے تیار کرہ کاسمیٹک مصنوعات برآمد بھی کرتے ہیں۔
بحیرۂ مردار کی ایک ساحلی پٹی فلسطین کے غرب اردن کے ساتھ لگتی ہے لیکن یہاں پر اسرائیل کے قبضے کی وجہ سے مستقبل میں فلسطین کے اس سمندر کی منفرد معدنی دولت سے فائدہ اٹھا سکے گا۔
اس سمندر کی تاریخی طور پر بڑی اہمیت رہی ہے جس میں مصری ملکہ قلو پطرہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بحیرۂ مردار کے علاقے کی خوبصورتی کی وجہ سے یہاں پر خوبصورتی کے لیے تیار کردہ مصنوعات کا استعمال کرتی تھیں جب کہ رومی سلطنت نے جب اس علاقے پر قبضہ کیا تو یہاں پر نمک کے وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھایا کیونکہ اس وقت نمک پرتعیش چیز سمجھا جاتا تھا اور اسے بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس علاقے میں سیاحت کے کاروبار سے منسلک این گیدی نے ساحل سے دور ایک مقام پر کھڑے ہو کر بتایا کہ جب وہ 18 برس کے تھے تو اس وقت پانی یہاں تک تھا اور یہ کوئی پانچ سو برس یا ایک ہزار برس پرانی بات نہیں ہے لیکن اس وقت پانی یہاں سے دو کلومیٹر دور ہے۔
انھوں نے بتایا کہ سمندر کی سکڑنے کی وجہ سے انھیں اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں جس میں ٹریکٹر اور پیٹرول، سٹاف کی مد میں سالانہ پانچ لاکھ ڈالر کا اضافی خرچ ہے کیونکہ سیاحتی مقام سے سیاحوں کو دو کلومیٹر دور ساحل پر ٹریکٹر کی مدد سے پہنچایا جاتا ہے۔
’میں بحیرۂ مردار کے کنارے جوان ہوا اور ساری زندگی یہاں ہی گزاری، لیکن بدقسمتی سے جب آپ اپنے گھر سے سمندری مناظر کو دور ہوتا دیکھتے ہیں تو زندگی افسردہ ہو جاتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ جب میں نے یہاں پر اپنا مکان تعمیر کرنا تھا تو ان کی بیوی نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ گھر سے سمندر نظر آئے لیکن میں نے کہا کہ ہمیں پہاڑوں کے نظارے کو سامنے رکھتے ہوئے اسے تعمیر کرنا چاہیے کیونکہ وہ وہیں رہیں گے لیکن سمندر پیچھے حرکت رہے گا۔
سمندری کے سکڑنے کی وجہ علاقے میں گڑھے بھی پڑ رہے ہیں اور اس وقت ایسے گڑھوں کی تعداد ساڑھے پانچ ہزار کے قریب ہے جس کی وجہ سے یہاں تعمیرات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اسرائیل کے ارضیاتی سروے کے ڈاکٹر گیدی بیر کے مطابق وہ ان گڑھوں کے وجود میں آنے کی پیشگی اطلاع کے بارے میں کام کر رہے ہیں اور یہ معلومات حاصل کرنا بہت اہم ہے کیونکہ ساحل کے پاس سے کئی مصروف سڑکیں گزرتی ہیں تاہم گڑھوں کے مسئلے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
’ ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ عمل بھی تیز ہو رہا ہے، مثال کے طور پر رواں برس 700 کے قریب نئے گڑھے وجود میں آئے اور گذشتہ برس یہ تعداد کم تھی۔ 1990 کی دہائی میں ان کی تعداد چند درجن تھی اور اب یہ سینکڑوں کی تعداد میں ہیں۔‘
بحیرۂ مردار کی سطح میں کمی کی ایک وجہ علاقے میں تازہ پانی کے وسائل میں بھی کمی ہے جس میں دریائے اردن کا شمالی حصہ بحیرۂ طبريہ میں گرتا ہے جبکہ اس کا جنوبی حصہ بحیرۂ طبريہ کے اوپر سے گزرتا ہوا بحیرۂ مردار کا حصہ بن جاتا ہے۔
تاہم گذشتہ چند دہائیوں سے اس دریا سے بحیرۂ مردار میں آنے والے پانی کی مقدار میں کمی آئی ہے اور ایسا مشرق وسطی کی پانی کے معاملے پر پیچیدہ سیاست ہے۔
اسرائیل نے دریائے اردن کے بحیرۂ طبريہ میں جانے والے جنوبی حصے پر ڈیم بنا رکھا ہے اور یہاں سے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اسرائیل اس کو پانی کے سٹریٹیجک اثاثے کے طور پر دیکھتا ہے اور اس میں پانی کے ذخیرے میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ یہ بحیرۂ احمر کے پانی کو صاف کر کے استعمال کر رہا ہے۔
اسرائیل نے ڈیم کی تعمیر سے پہلے ایک دہائی قبل 1950 میں ہی وادی اردن کے پانی کے نظام سے پانی حاصل کرنا شروع کیا تھا اور اس کی وجہ سے اردن اور فلسطین کے مغربی کنارے میں آباد کسانوں کی مشکلات شروع ہوئیں کیونکہ انھیں بھی اپنی فصلوں کے لیے پانی کی ضٰرورت تھی لیکن اس میں اسرائیل کے بھی مسئلہ تھا اور مالی اور تکنیکی وسائل ہونے کے باوجود اسے دریائے اردن کے پانی کی ضرورت تھی۔
دریائے اردن میں پانی دریائے یرموک سے آتا ہے اور یہ دریا شام سے گزرتا ہے جس پر شام نے گذشتہ 30 برس کے دوران 40 سے زیادہ ڈیم تعمیر کیے ہیں۔
اس میں اردن کے بغص حلقوں کے خیال میں شام نے اردن سے بدلہ لینے کی خاطر یہ ڈیم تعمیر کیے ہیں کیونکہ اردن اور اسرائیل نے 1994 میں امن سمجھوتہ کیا تھا۔
دوسری جانب اردن نے بھی اپنی ضروریات کے لیے ڈیم تعمیر کیے جس میں وادی اردن مشرق وسطیٰ میں واحد جگہ نہیں جہاں ڈیمز کی تعمیر نے دفاعی تنازعے کو جنم دیا ہے۔

ترکی کی جانب سے 1990 کی دہائی میں دریائے فرات پر ڈیم کی تعمیر کے بعد عراق اور شام نے بھی اعتراضات کیے تھے کہ یہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کے تحت تعمیر کیاگیا ہے۔
مجموعی صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں آبی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پانی کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور ایسے خطے میں جہاں فریقین میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا ایک جامع سمجھوتہ ہونا بہت مشکل کام ہے اور یہ وہ عوامل ہیں جو بحیرۂ مردار کی سطح کو متاثر کر رہے ہیں۔
حال ہی میں بحیرۂ مردار کو سوکھنے سے بچانے کے لیے ایک طویل پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر سے پانی بحیرۂ مردار میں ڈالنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اور امریکہ اس کے لیے کچھ مالی وسائل بھی مہیا کرے گا۔ اس مصنوبے کے تحت فلسطین اور اسرائیل کو پینے کا صاف پانی بھی دستیاب ہوگا۔

اس منصوبے کے تحت بحیرۂ مردار میں پانی ڈالنے سے پہلے اس میں سے نمک کو نکالا جائے گا تاہم تکنکی، مالی اور سیاسی مشکلات کی وجہ سے مستقبل قریب میں اس منصوبے پر کام شروع ہونے کی توقع نہیں ہے اور اس صورتحال میں بحیرۂ مردار کے سکڑنے کا عمل آئندہ کئی برسوں تک جاری رہے گا۔
لیکن یہ مکمل طور پر خشک نہیں ہو گا کیونکہ ایک وقت میں اس میں موجود نمک اور دیگر معدنیات اتنی کثیف ہو جائیں گے کہ اس کے پانی کے بخارات میں تبدیل ہونے کا عمل رک جائے گا اور اس صورت میں اس میں موجود پانی اطراف کی فضا سے پانی کو جذب کو کرنا شروع کر دے گا اور یہ خطرے میں اس قدرتی خزانے کا خود ساختہ حفاظتی نظام ہو گا۔
یہ بحیرۂ مردار کے مرنے کے عمل کی کہانی کا اختتام نہیں ہے بلکہ یہ ایک حوصلہ افزا کہنا ہے کہ ایک ایسے خطے میں قدرت اپنے تحفظ کا راستہ کیسے تلاش کرتی ہے جہاں بسنے والے انسان قدرتی وسائل کی ہمیشہ سے قدر یا احتیاط نہیں کرتے۔
بحر مردار کے صحیفے
ستر برس قبل ارضِ فلسطین کے غاروں سے دریافت ہونے والے بائبل کے قدیم ترین نسخے۔

ماہرین کے مطابق یہ تحریریں تیسری صدی قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی تک لکھی گئیں
یہ 1947 کی بات ہے، ارضِ فلسطین میں واقع بحر مردار کے شمال مغربی ساحلی علاقے قمران میں دو بدّو اپنی بکریاں تلاش کرتے کرتے زمین سے قدرے اونچائی پر واقع ایک سنسان اور ویران غار کے دھانے تک جا پہنچے۔ کھیل ہی کھیل میں کنکر اندر پھینکنے پر اندر سے مٹی کے برتنوں کے ٹکرانے کی غیر معمولی آوازیں سنائی دیں۔
شام کا اندھیرا پھیل چلا تھا اور ان کے پاس روشنی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ غار کا دھانا زمین سے خاص بلند تھا اور باہر سے یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ غار اندر سے کتنا گہرا ہوگا۔ اْس وقت دونوں بدّو گھر لوٹ گئے لیکن اگلی صبح ان میں سے ایک غالباً کسی خزانہ ملنے کی خواہش یا تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر غار میں اترا تو اسے وسیع اور طویل غار میں ایک دیوار کے ساتھ ترتیب سے رکھے ہوئے آٹھ مرتبان نظر آئے، ان میں سے بیشتر خالی تھے لیکن آخری مرتبان میں چمڑے اور کپڑے پر تحریر شدہ تین قلمی نسخے ملے جن میں سے دو کو غالباً حفاظت کے لئے کپڑے میں لپیٹا گیا تھا۔ یہ دونوں بہت اچھی حالت میں تھے اور ان پر موجود تحریریں بہت نمایاں تھیں۔
مزید قلمی نسخوں کی دریافت
آنے والے دس برسوں میں قمران کی پہاڑیوں کے11 غاروں سے تقریباً ایک ہزار صحیفے دریافت ہوئے جنھیں عالمی ماہر آثار قدیمہ نے بحر مردار کے صحیفے یا Dead Sea Scrolls کا نام دیا۔ حال ہی میں اس علاقے سے ایک بارہواں غار بھی دریافت ہوا۔ اگرچہ اس میں بھی ٹوٹے ہوئے مرتبانوں کے آثار ملے مگر قلمی نسخے پہلے ہی نکالے جا چکے تھے۔اس وقت بھی آثار قدیمہ کے حلقوں میں بھی یہ خبر گرم ہے، جس کی تفصیلات دو ماہ پہلے یعنی فروری 2017 میں ہیبریو یونیورسٹی یروشلم کی ویب سائٹ پر شائع کی گئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تحریریں تیسری صدی قبل مسیح سے پہلی صدی عیسوی تک لکھی گئیں۔ آرامی، یونانی، عبرانی اور نباتی زبانوں میں کپڑے اور چمڑے کے پارچوں اور کہیں کہیں مصری کاغذ پیپیرس پر تحریرکردہ ان صحیفوں میں اس دور کے رسوم و رواج اور رہن سہن سے متعلق معلومات کے علاوہ بائبل کے عہد نامہ قدیم کے قدیم ترین نسخے بھی شامل تھے۔ یاد رہے کہ عہد نامہ قدیم عیسائیت اور یہودیت دونوں مذاہب کے لئے آسمانی صحیفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
فلسطین کو انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم ؑ یہاں کنعان نامی علاقے میں منتقل ہوئے۔ ان کے پوتے حضرت یعقوبؑ کا لقب اسرائیل تھا۔ اس مناسبت سے ان کے بارہ بیٹوں کی نسلیں بنی اسرائیل کہلائیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ بھی جن کا تعلق بنی اسرائیل ہی سے تھا ،بھی فلسطین ہی میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ معلوم معلومات کے مطابق اغلب خیال یہ ہے کہ انہوں نے ساری زندگی یہاں گزاری۔ عبرانی زبان تاریخی طور پر بنی اسرائیل یعنی یہود کی زبان ہے جو آج اسرائیل کی قومی زبان کی حیثیت رکھتی ہے۔ آرامی وہ زبان ہے جس میں حضرت عیسیٰ ؑ نے تبلیغ کی۔ انجیل پہلی مرتبہ اسی زبان میں لکھی گئی۔ آج یہ زبان تقریباً معدوم تو نہیں ہوئی مگرشام کے تین دور افتادہ دیہاتوں کے سوا شاید ہی کہیں بولی جاتی ہو۔
ان تحریروں میں بائبل کے عہد نامہ قدیم کے تقریباً ہر باب کے مندرجات شامل ہیں۔ بعض کی ایک سے زائد نقلیں موجود ہیں۔ ان میں سے کچھ بائبل کے فی زمانہ مستعمل نسخوں سے مماثلت رکھتے ہیں لیکن بیشتر مقامات پر ان میں اختلافات بھی موجود ہیں۔ سب سے لمبی دستاویز آٹھ میٹر طویل ہے اور چمڑے کے ٹکڑے جوڑ کر تیار کی گئی تھی۔ ایک تانبے پر لکھی ہوئی تحریر بھی حاصل ہوئی جس پر ارض فلسطین کے 68 مقامات کی نشاندہی کی گئی کہ شاید ان خفیہ مقامات پر بھی کچھ نسخے اور سونا اور چاندی چھپایا گیا۔
قلمی نسخوں کی فروخت
ان عرب بدوؤں کے ذریعہ پہلے یہ ابتدائی دریافت شدہ نسخے فلسطین کے شہر بیت اللحم (جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جائے پیدائش بھی ہے) کے ایک تاجر ابراہیم الجار کے پاس پہنچیں جس نے ان پر موجود عبرانی تحریر دیکھ کر گمان کیاکہ شاید یہ کسی یہودی سیناگوگ سے چرائی گئی ہیں، چنانچہ انہیں واپس کر دیا۔ اس کے بعد یہ یروشلم شہر میں نوادرات کے ایک دوسرے تاجر کے پاس پہنچیں، اس سے سیموئیل مار نامی شخص نے ان کی تاریخی اہمیت کو آثار قدیمہ اور علمی ماہرین سے تصدیق کرانے کے بعد خرید لیا۔
سن 1948 میں اسرائیل کے قیام کی جنگ چھڑ گئی جسے پہلی عرب اسرائیل جنگ کا نام دیا گیا تھا اور ان نسخوں کو عالمی برادری نے حفاظت کے پیش نظر فلسطین سے باہر منتقل کر دیا۔ سن 1954 میں پہلے چار دریافت شدہ صحیفوں کو امریکا کے وال اسٹریٹ جرنل میں مشتہر کیا، ان کی قیمت فروخت ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر طے پائی۔ یاد رہے کہ یہ 1000 میں سے صرف چار صحیفوں کی قیمت تھی، یہ اس قدر خطیر رقم تھی کہ 1954 ء میں اس رقم سے ورلڈ ٹریڈ سنٹر قائم کیا جا سکتا تھا۔
عیسائی اور یہودی مذاہب کی موجودہ تعبیرات میں اختلاف
Dead Sea Scrolls کہلائے جانے والے ان قلمی نسخوں کا جو یہودیت کی تاریخ، عبرانی بائبل کی ترتیب اور عیسائیت کی تشکیل کے ابتدائی مراحل کی تفہیم میں مدد دے سکتے ہیں کا شمار قیمتی نوادرات میں ہی ہوتا ہے۔ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے منظر عام پر آنے کے بعد عیسائی کلیسا میں کھلبلی مچ گئی۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویٹی کن چرچ کی مداخلت کی وجہ سے ان نسخوں میں سے بیشتر کی اشاعت عشروں بعد ممکن ہوئی کیونکہ ان دستاویزات کے جوں کا توں منظر عام پر آنے سے عیسائیت کی موجودہ تعبیروتشریح میں اختلاف کا اندیشہ تھا۔ اس لئے انہیں ضروری عمل سے گزارنے مثلاً بوسیدہ ٹکڑوں کو دوبارہ جوڑ کر انہیں پڑھنے کے لائق بنانے اور پھر ویٹی کن چرچ کے سنسر سے گزارنے کے بعد ہی شائع کیا گیا۔ ہمارے نزدیک یہ بات اس لئے محل نظر لگتی ہے کہ ماہرین ہی کے مطابق انہیں دو ہزار سال قبل لکھنے والا بھی یہودیوں ہی کا ایک فرقہ تھا اور موجودہ دریافت کے بعد بھی یہ دستاویزات یہودیوں ہی کے کنٹرول میں رہیں۔ اگر کسی مذہب کی تعبیرات میں اختلاف کا خطرہ تھا تو عیسائیت سے زیادہ یہودی مذہب اس کا زیادہ حق دار ہے۔
قمران کے کھنڈرات
ان نسخوں کی دریافت کے بعد قریبی تاریخی آثار کی کھدائی کے دوران ایک بڑی آبادی کے آثار ملے جن میں رہائش کے کمرے، حمام، پانی کے تالاب اور برج کے علاوہ مزید قلمی نسخے اور اس دور میں مستعمل سکّے بھی پائے گئے۔ ایک کمرہ بھی ملا جس کے بارے میں غالب خیال یہ ہے کہ یہاں تورات کے یہ نسخے قلمبند کئے گئے ہوںگے۔ دو روشنائی کے کنویں Ink Wells بھی ملے اور قدیم زمانے میں مستعمل کچھ ڈیسک نما فرنیچر بھی جو ماہرین کے مطابق ان نسخوں کی تیاری کے مختلف مراحل میں استعمال ہوا ہوگا۔
آثار قدیمہ کی کھدائی کے بعد ماہرین کی حتمی رائے یہ تھی کہ یہود کا ایک فرقہ اسین قمران میں سو قبل مسیح سے 68 یا 69 عیسوی تک آباد رہا۔ رومیوں کے خلاف یہودی بغاوت کے دوران رومی فوج نے اس علاقے کو بُری طرح روند ڈالا۔ آبادی یا تو بھاگ گئی یا قتل کر دی گئی یا رومی انہیں غلام بنا کر روم لے گئے جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وہ وقت تھا جس سے پہلے اپنے مذہبی صحیفوں کی حفاظت کے لئے صحرا میں موجود یہ غار جن میں سے بیشتر کے دھانے ایک سوراخ سے بڑے نہیں غالباً انہیں واحد پناہ گاہ نظر آئے اور اس طرح یہ محفوظ تعلیمات دو ہزار سال بعد بیسویں صدی کے نصف آخر میں دنیا کے سامنے آئیں۔
بحر مردار کے قلمی نسخوں کی اشاعت
سن1947 سے2008ء تک The Discoveries in The Judean Desert کے نام سے بحر مردار کے ان صحیفوں پر 39 والیوم شائع ہو چکے ہیں لیکن غار نمبر چار سے نکلنے والے 15000 ٹکڑوں میں تقسیم شدہ 500 دستاویزات جو کل مواد کا 40 فیصد حصہ بنتا ہے،کو عرصے تک حد درجہ خفیہ رکھا گیا۔ کام کرنے والی ٹیم کا کہنا تھا کہ ان کو اس کی تصویر تک لینے کی اجازت نہ تھی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ویٹی کن کا سنسر کس نوعیت کا تھا مگرعام طور سے جو سکالرز اور آرکیالوجسٹ ویٹی کن کی مداخلت کو اپنی کتابوں میں منظرعام پرلائے ان کی بات کو Theory Conspiracy کہہ کر نظر انداز کیا گیا اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ڈاکومنٹری The Dead Sea Scrollکے مطابق کم از کم ایک فرد کو ٹیم سے بھی نکال بھی دیا گیا۔
ان دستاویزات کے اصل نسخوں میں سے بیشتر یروشلم میںThe Book Shrine of نامی ادارے میں نمائش کے لئے موجود ہیں۔ کچھ نیویارک کے جیوش Jewish History میوزیم میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان نسخوں پر تحقیق کا کام تا حال جاری ہے۔ سیاٹل واشنگٹن سے لے کر برن جرمنی تک انہیں سائنسی اور تکنیکی مراحل سے گزارا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی جامعات میں بے شمارسکالرز نے ان صحیفوں کو اپنیPh.D کا موضوع بنایا ہے۔ بلامبالغہ ان صحیفوں پر سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسلم دنیا کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ ہم تاریخ اور تحقیق کی اس دنیا سے بالکل بیگانہ اور بے نیاز ہیں۔ یہ امت اپنے حال میں مست ہے۔
(اس مضمون کی تیاری میں برطانوی نشریاتی ادارے' بی بی سی' کی وڈیو The Dead Sea Scroll، سعودی آرامکو ورلڈ کے مضمون The Dead Sea، ٹائمز میگزین فروری 2017 ، آکسفورڈ ڈکشنری آف آرکیالوجی اور Hebrew International Universityکی ویب سائٹ سے استفادہ کیا گیا ہے)
نپولین کا حملہ اور مشرق وسطیٰ کے تاریخی نوادر
یاد رہے کہ نپولین کے مصر پر حملے (1799عیسوی) کے بعد انیسویں صدی کے آغاز سے مغربی آثار قدیمہ کے ماہرین اور نوادرات کے تاجر مشرق وسطیٰ میں موجود تھے جو مشرق وسطیٰ کے تاریخی نوادر کو مغربی میوزیمز اور آثار قدیمہ کے شائق امراء اور اشرافیہ تک پہنچا کے کثیر منافع کماتے رہے۔ بعد ازاں اس کام میں برطانوی اشرافیہ نے بھی سرمایہ کاری کی۔ ان میں بڑی تعداد میں یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے سکالرز اور تاجر بھی تھے جو اس علاقے میں بنی اسرائیل کی موجودگی کے شواہد حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہ امر بھی نہایت دلچسپ ہے کہ ہالی وڈ کی مقبول ترین فلم سیریل انڈیانا جونز کا موضوع بین الاقوامی سیاست کے پس منظر میں مشرق وسطیٰ کے آثار قدیمہ ہی ہیں۔
نپولین کے حملے سے پہلے یورپ انڈیا، امریکا، آسٹریلیا میں اپنی نو آبادیات قائم کرنے کی ابتداء کر ہی چکا تھا مگر ایوبی، مملوک اور پھر سلطنت عثمانیہ کی سرحدوں میں صلیبی جنگوں کے بعد سے پچھلی پانچ صدیوں تک اسے مداخلت کی ہمت نہ ہو سکی تھی۔ نپولین کو برطانوی مداخلت کی وجہ سے ہزیمت اٹھا کر شکست خوردہ واپس جانا پڑا مگر مصر کے عثمانوی گورنر محمد علی پاشا نے اپنا اثر ورسوخ مغربی دنیا میں بڑھانے کے لئے دربار میں یورپی سفراء اور موقع پرستوں کو جگہ دی، انھوں نے سارے خطے میں مہم جوؤں اور جاسوسوں کا جال بچھا دیا، جنہوں نے اپنی حکومتوں اور یونیورسٹیز کی سپانسرشپ پر سیاسی معلومات بھی اکٹھی کیں اور آثار قدیمہ پر بھی ہاتھ صاف کیے۔
آج لندن کے برٹش میوزیم، پیرس کے لوور، جرمنی کے برلن میوزیم سے لے کر نیویارک کے اسمتھسونین اور میٹروپولٹن میوزیم آف آرٹس کے ساتھ ساتھ کئی چھوٹے چھوٹے میوزیمز بھی مشرق وسطیٰ کے خصوصاً مصر کے نوادر سے بھرے پڑے ہیں۔ بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ 'لارنس آف عریبیا' کہلانے والا ٹی ای لارنس شخص اس خطے میں ماہر آثار قدیمہ کے طور پر ہی آیا تھا۔ ترکوں کے خلاف عرب بغاوت منظم کرنے کے لئے اسی خطے کے بارے میں ا س کی وسیع معلومات کی وجہ سے بہت بعد میں منتخب کیا گیا جس نے بالآخر سلطنت عثمانیہ ختم کرکے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی۔
تانبے پر لکھی ہوئی واحد تحریر
یہ عبرانی تحریر غار نمبر تین سے حاصل ہوئی، یہ پندرہ تحریروں میں سے ایک تھی اور آج اردن کے عمان میوزیم میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ جس وقت یہ دریافت ہوئی موجودہ اسرائیل کا بیشتر حصہ اردن کی ملکیت تھا۔ یہ دوسری تحریروں سے قدرے مختلف ہے۔ یہ ارض فلسطین میں 64 مقامات کی نشاندھی کرتی ہے جہاں دستاویز کے مطابق ماضی کے کسی دور میں سونے اور چاندی کا خزانہ دفن کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ہیرود نامی یہودی بادشاہ کے دور کی سرکاری دستاویز تھی اور پہلی صدی عیسوی میں تیار کی گئی۔
اس کا تحریری انداز یونانی مندروں کی تحریروں سے مما ثل ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ کسی مندر کی ملکیت تھا۔ اغلب خیال ہے کہ یہ خزانہ پہلے یا دوسرے یہودی مندر کی ملکیت تھا جسے رومیوں کے خطرے کے پیش نظر مختلف مقامات پر دفن کیا گیا۔ یہ لسٹ اس جگہ اس لئے چھپا دی گئی کہ بعد میں آنے والے اسے آسانی سے دریافت کر سکیں۔ یاد رہے کہ اس لسٹ میں مقامات کی نشاندھی میں جا بجا کوڈ ورڈز اور ایسے حوالے (references) استعمال کیے گئے ہیں جو مخصوص افراد کو معلوم ہو سکتے ہیں۔ اس تحریر میں موجود بعض مقامات پر کسی خزانے کو دفن کرنے کے آثار پائے گئے مگر خزانہ کہیں سے نہیں ملا۔
خیال ہے کہ رومیوں نے یہودیوں کو تشدد کرکے خزانے کا پتہ معلوم کرکے اسے حاصل کر لیا ہوگا۔ اس خیال کو اس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ پہلی صدی عیسوی کے رومی مؤرخ جوزیفس کے مطابق رومیوں نے مقبوضہ علاقوں میں چھپے ہوئے خزانوں کی تلاش کے لئے با قاعدہ ایک سرکاری پالیسی تیار کررکھی تھی۔

No comments:
Post a Comment