فرقة النّاجية : أهل السنة والجماعة کون؟


دین_اسلام:
اس دنیا میں بہت سےدین پاۓ جاتے ہیں مگر ان میں سچا دین صرف اور صرف اسلام: إن الدين عند الله الإسلام (۳:۱۹) بےشک دین جو ہے الله کے ہاں سو یہی مسلمانی “حکم برداری” ہے، ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه و هو في الآخرة من الخاسرين (۳:۸۵) اور جوکوئی چا ہے سواے اسلام کے اور کوئی دین سو اس سے ہرگز قبول نہ ہوگا اور وه آخرت میں خراب ہے۔۔۔ اسی طرح مسلمانوں میں کئی فرقے ملتے ہیں مگر ان میں نجات پانے والے صرف اہل سنت والجماعت ہیں۔ رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ما انا علیه واصحابی (ترمذی:2641) یعنی نجات وه پائیں گے جو میرے اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کےطریقہ پرہوں گے.


(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ بْنِ أَنْعَمُ الْأَفْرِيقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً ، قَالُوا : وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي " .

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت پر بھی وہی کچھ آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا اور دونوں میں اتنی مطابقت ہوگی جتنی جوتیوں کے جوڑے میں ایک دوسرے کے ساتھ۔ یہاں تک کہ اگر ان کی (کافر) امت میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری (مسلم) امت میں بھی ایسا کرنے والا آئے گا اور بنو اسرائیل بہتر فرقوں پر تقسیم ہوئی تھی لیکن میری (کلمہ گو مسلم) امت تہتر فرقوں پر تقسیم ہوگی ان میں ایک کے علاوہ باقی سب فرقے جہنمی ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ نجات پانے والے کون ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر چلیں گے۔








تفرقہ سے مراد، متقدمین اہلِ علم کے نزدیک، اس راستے کو ترک کرنا ہے جس پر رسول ﷲ ﷺ اور صحابہ کرامؓ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ تفرقہ سے مراد مفسرین ومحدثین کے نزدیک اہلِ بدعت ہیں اور اہلِ اھواء۔ کیونکہ دین میں ایک نیا راستہ ایجاد کرکے آدمی رسول ﷲ ﷺ اور صحابہؓ کے راستہ سے خود بخود علیحدگی اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ تفرقہ بنیادی طور پر حق سے ’’علیحدگی‘‘ ہے۔

    


          اس حدیث میں فرقِ اسلامیہ کی نجات وہلاکت اور بہ الفاظ دیگر ان کے حق وباطل ہونے کا معیار نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے کہ وہ میرا اور میرے صحابہ کا طریقہ ہے؛ لیکن اس طریقہ کو شخصیتوں سے الگ کرکے تنہا کو معیار نہیں بتلایا؛ بلکہ اپنی ذاتِ بابرکات اور اپنے صحابہ کی ذواتِ قدسیہ کی طرف منسوب کرکے معیار بتلایا کہ وہ ان شخصیتوں کے ضمن میں پایا جائے۔ ورنہ بیانِ معیار میں اس نسبت اور نام زدگی کی ضرورت نہ تھی؛ بلکہ مَنْ ہُمْ کے جواب میں بجائے مَا أَنَا عَلَیْہِ کے سیدھی تعبیر یہ تھی کہ مَا جِئْتُ بہ فرمادیا جاتا، یعنی معیارِ حق وہی ہے، جسے لے کر میں آیا ہوں یعنی شریعت؛ لیکن اس شریعت کو شخصیتوں سے الگ کرکے ذکر کرنے کے بجائے شخصیتوں کے انتساب سے ذکر کرنے کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ محض کاغذ کے کالے نقوش معیار نہیں؛ بلکہ وہ ذوات معارِ حق ہیں، جن میں یہ نقوش و حروف اعمال واحوال بن کر رچ گئے ہیں اور اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ اب کوئی بھی ان کی ذوات کو دین سے الگ کرکے اور دین کو ان کی ذوات سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھ سکتا، جس کا حاصل یہ نکلا کہ محض لٹریچر معیارِ حق نہیں؛ بلکہ وہ ذوات معیارِ حق ہیں، جو اس لٹریچر کے حقیقی ظرف بن چکے ہیں:
          بَلْ ہُوَ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ أوتُوا الْعِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیاتِنَا الاَّ الظٰلِمُوْنَ (سورة العنکبوت:۴۸)
          ترجمہ: بلکہ یہ قرآن تو آیتیں ہیں صاف، ان لوگوں کے سینوں میں جن کو سمجھ ملی ہے، اور منکر نہیں ہماری باتوں سے؛ مگر وہی جو بے انصاف ہیں۔ پھر اس طریقہ کو شخصیت کی طرف منسوب کرنے کے سلسلہ میں بظاہر ”ما“ کے بعد ”اَنا“ کافی تھا اور یہ فرمادینا بس کرتا کہ نجات وہلاکت پہنچانے کا طریقہ میری ذات ہے؛ تاکہ معیارِ حق صرف رسولِ خدا  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ثابت ہوتی؛ لیکن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ اپنے صحابہ کو بھی شامل فرمایا۔ جس سے واضح طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ فرقوں اور مختلف مکاتیبِ خیال کے پرکھنے کا معیار جیسے رسول کی ذات ہے، ویسے ہی صحابہٴ رسول کی ذوات بھی ہیں اور اس لیے رسولِ خدا کی موجودگی یا عدمِ موجودگی میں کسی فرقہ اور مکتب خیال کے افراد کو پرکھنے کے لیے یہ دیکھ لینا کافی ہے کہ وہ صحابہ کی راہ کے مطابق چل رہے ہیں یا مخالف سَمت میں ہیں۔ ان کی اطاعت کررہے ہیں یا اس سے گریز کررہے ہیں، ان کے ساتھ حسنِ ظن کا برتاؤ کررہے یا سوءِ ظن اور بے اعتمادی کا؟ کہ یہی شان کسی شئے کے معیار ہونے کی ہوتی ہے جس سے صاف طور پر رسولِ خدا کے ساتھ صحابہٴ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کا معیارِ حق ہونا واضح ہوجاتا ہے اور یہ حدیث اس بارے میں نص صریح ثابت ہوتی ہے، جس کا مقصد ہی یہ مدعا ثابت کرنا ہے۔
          اس کی وجہ یہ ہے جو خود اس حدیث ہی سے نمایاں ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنے طریق کو بعینہ اپنے صحابہ کا طریق بتلایا ہے، جس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ ان کی راہ چلنا میری راہ چلنا ہے اور ان کی پیروی میری پیروی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیساکہ حق تعالیٰ شانہ نے اپنے رسولِ پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أطَاعَ اللّٰہَ (سورة النساء:۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
          اس سے ایک کی اطاعت کو بعینہ دوسرے کی اطاعت بتلانا مقصود ہے، جس کے صاف معنی یہی ہوتے ہیں کہ خدا اور اس کے رسول کا طریق الگ الگ نہیں جو رسول کا راستہ ہے وہی اللہ کا راستہ ہے۔ پس اللہ کی اطاعت معلوم کرنے کا معیار یہ ہے کہ رسول کی اطاعت دیکھ لی جائے، اگر وہ ہے تو بلاشبہ خدا کی اطاعت بھی ہے ورنہ نہیں۔ وہی صورت یہاں بھی ہے کہ رسولِ خدا  صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی پیروی اور اطاعت کو بعینہ اپنی پیروی اور اطاعت قرار دیا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر رسول کی اطاعت دیکھنی ہوتو صحابہ کی اطاعت دیکھ لی جائے۔
          اگر صحابہ کی متابعت کی جارہی ہے تو رسولِ خدا کی اطاعت قائم ہے ورنہ نہیں۔ اس کا حاصل وہی نکلتا ہے کہ رسول اور صحابہٴ رسول کے طریقے الگ الگ نہیں؛ بلکہ جو رسول کا طریقہ ہے وہی بعینہ صحابہٴ رسول کا طریقہ ہے، اس لیے جیسے رسول فرقوں کے حق وباطل ہونے کا معیار ہیں، ایسے ہی صحابہٴ رسول بھی معیارِ حق وباطل ہیں۔ جن کو سامنے رکھ کر سب کے حق وباطل کو بآسانی پرکھا جاسکتا ہے۔“

          خلاصہ یہی ہے کہ حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا معیارِ حق وباطل ہونا کوئی قیاسی مسئلہ نہیں؛ بلکہ منصوص مسئلہ ہے۔ حدیثِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی حکیمانہ تشریح سے یہ بات بَیِّنْ طریقہ سے واضح ہوتی ہے کہ اہل السنة والجماعة کا مصداق وہ جماعت ہے جو کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماعِ صحابہ کو حجتِ شرعیہ مانتی ہو اور امت کا سوادِ اعظم اسی زمرہ میں آتا ہے؛ کیونکہ پوری دنیا میں زیادہ تر ائمہٴ اربعہ کے ماننے والے اور ان کے مقلدین ہیں ، جو بالاتفاق اصولِ ثلاثہ کو حجت مانتے ہیں اور طریقہٴ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ اقوالِ صحابہ، افعالِ صحابہ اور بالخصوص اجماعِ صحابہ کو دلیلِ شرعی مان کر اتباع کرتے ہیں اور صرف اتباع ہی نہیں؛ بلکہ سنت کا درجہ دیتے ہیں، خاص طور پر خلفاءِ راشدین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کو اتفاقی طور پر قبول کرکے عمل کرتے ہیں؛ کیونکہ حدیث شریف میں حضرات خلفاء راشدین کے طریقوں کو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل اپنا طریقہ فرمایا ہے جیساکہ حضرت حکیم الاسلام کی تحریر میں بہ وضاحت یہ مسئلہ آچکا ہے، اور ایک دوسری حدیث میں یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ مذکور ہے؛ ارشاد نبوی ہے: عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِيْ وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ تَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ (مشکاة المصابیح:۳۰) تم لوگ میرے طریقہ اور رہنمائی کرنے والے اور راہ یافتہ خلفاء کے طریقہ کو لازم پکڑلو اور اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ حضرت رسولِ خدا  صلی اللہ علیہ وسلم بھی خلفاءِ راشدین کے طریقوں اور ان کے اعمال واقوال کو سنت رسول کے مساوی قرار دے رہے ہیں کہ دونوں پر سنت کا لفظ لانا اور پھر بہا میں ضمیر واحد لانا بتاتا ہے کہ حجت شرعیہ ہونے کی حیثیت سے دونوں میں فرقِ مراتب نہیں؛ بلکہ دونوں مساوی اور برابر ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوتا کہ اہل حق صرف اہل السنة والجماعة ہیں اور اہل السنة والجماعة کا صحیح مصداق ائمہٴ اربعہ کے مقلدین؛ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی حضرات ہیں اور جو حضرات تقلید کے قائل نہیں وہ اہل السنة والجماعة میں داخل نہیں؛ بلکہ خارج ہیں۔





 ::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::




حدیث افتراقِ امت

اور‎‎

اس کی اسناد پرایک نظر

از: مولانا بدرعالم، رفیق ندوة المصنّفین دہلی


امام ترمذی نے حدیث افتراقِ امت روایت کرنے والوں میں چار صحابہ کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمر کی روایت تفصیل کے ساتھ پیش کی ہے اور حضرت سعد اور عوف بن مالک کا صرف حوالہ دے کر چھوڑ دیا ہے۔ پھر اول الذکر صحابی کی حدیث پر صحت کا حکم لگایا ہے اور ثانی الذکر(1)کی حدیث کو غریب قرار دیا ہے۔
ابوہریرہ کی حدیث
عن ابی ہریرة ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال تفرقت الیہود علی احدی و سبعین او اثنین و سبعین فرقة والنصاری مثل ذلک وتفترق امتی علی ثلاث و سبعین فرقة (ترمذی)
ابوہریرہ روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں منقسم ہوئے اور نصاریٰ بھی اتنے ہی فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں منقسم ہوجائے گی۔
حافظ سخاوی نے بھی مقاصد حسنہ میں اس حدیث کی صحت کو تسلیم کیاہے اور شیخ محمد طاہر نے تذکرة الموضوعات میں اسے نقل فرماکر کوئی اختلاف رائے ظاہر نہیں کیا۔ امام شاطبی نے کتاب الاعتصام میں ابوہریرہ کی روایت پر کئی جگہ صحت کا حکم لگایا ہے۔(2)
حدیثِ افتراق کے پندرہ راویوں کے نام
شارح سفر السعادة نے امام ترمذی کے پیش کردہ ناموں پر گیارہ صحابہ کا اوراضافہ کیا ہے۔ (۱) انس، (۲) جابر، (۳) ابوامامہ، (۴) ابن مسعود، (۵) علی، (۶) عمروبن عوف، (۷) عویمر، (۸) ابوالدرداء، (۹) ابومعاویہ(3)، (۱۰) ابن عمر، (۱۱) واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔ اس طرح اس حدیث کے رُواة کی تعداد پندرہ تک پہنچ جاتی ہے جن میں ابوہریرہ کی روایت کے متعلق جہاں تک ہمیں معلوم ہے کسی نے کوئی قابلِ ذکر رد و قدح نہیں کی۔ بعض دوسرے صحابہ کی روایات میں البتہ کچھ کلام کیاگیا ہے جو مختصراً درج ذیل ہے:
حضرت انس کی روایت
شیخ جلال الدین سیوطی حضرت انس کی روایت عقیلی اور دارقطنی کے حوالہ سے پیش کرکے تحریر فرماتے ہیں والحدیث المعروف، واحدة فی الجنة وہی الجماعة یعنی معروف حدیث کے الفاظ یہ ہیں(ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور وہ مسلمانوں کی جماعت ہوگی) پھر بطریق ابن عدی نقل کرکے کہتے ہیں والمحفوظ فی المتن (یعنی اس متن کے جو الفاظ محفوظ ہیں یہ ہیں) ”تفترق امتی عن ثلاث و سبعین فرقة کلہا فی النار الا واحدة (4)
اہل علم جانتے ہیں کہ معروف و محفوظ، منکر و شاذ کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے اور شاذ و منکر میں صرف راوی کے ثقہ اور غیر ثقہ ہونے کا فرق ہے گویا پہلے الفاظ کے خلاف روایت کرنے والے راوی ثقہ نہیں ہیں اور دوسرے متن کے خلاف راوی اگرچہ ثقہ ہیں مگر ان کے الفاظ میں شذوذ ہے۔ بہرحال معروف محفوظ کہہ کر حافظ سیوطی نے حضرت انس کی روایت کے متعلق اپنی رائے ظاہر کردی ہے۔
حافظ نورالدین ہیثمی نے اس مقام پر قدرے مبسوط کلام کیا ہے اوراس حدیث کے طرق سنن مشہورہ کے علاوہ مسند ابویعلی، مسند بزار اور طبرانی سے پیش فرماکر ہر صحابی کی روایت پر تنقید کی ہے۔ چنانچہ حضرت انس کی روایت کو بطریق مسند ابویعلیٰ ایک طویل سیاق کے ساتھ نقل فرماکر لکھتے ہیں۔
وبزید الرقاشی ضعفہ الجمہور و فیہ توثیق لین و بقیة رجالہ رجال الصحیح(5)
اس میں ایک راوی یزید رقاشی ہے جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ہلکے درجہ پر اس کی توثیق بھی کی گئی ہے بقیہ تمام راوی صحیح کے راوی ہیں۔
ایک جگہ اسی حدیث کا دوسرا طریقہ پیش کرکے اس پر حسب ذیل کلام کرتے ہیں:
رواہ ابو یعلی وفیہ ابو معشر نجیح و فیہ ضعف(6)
اس حدیث کو ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اس میں قدرے ضعف ہے۔
حضرت ابواُمامہ کی روایت
حضرت ابوامامہ کی روایت کے متعلق فرماتے ہیں:
رواہ ابن ماجہ والترمذی باختصار و رواہ الطبرانی و رجالہ ثقات(7)
اس کو ابن ماجہ اور ترمذی نے مختصراً روایت کیا ہے اور طبرانی نے بھی روایت کیاہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں۔
ساتویں جلد میں اتنی تفصیل اور مذکور ہے۔
رواہ الطبرانی فی الاوسط والکبیر بنحوہ وفیہ ابوغالب وثقہ یحیی بن معین وغیرہ وبقیة رجال الاوسط ثقات وکذلک احدی اسناد الکبیر(8)
اس حدیث کو طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے اور معجم کبیر میں بھی اسی کے قریب قریب الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے اس میں ایک راوی ابوغالب(9) ہے۔ یحییٰ بن معین وغیرہ نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے بقیہ معجم اوسط کے سب راوی ثقہ ہیں اور اسی طرح معجم کبیر کی ایک اسناد کا حال ہے۔
حضرت سعد بن وقاص کی روایت
حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت مسند بزار سے نقل کرکے لکھتے ہیں:
رواہ البزار وفیہ موسٰی بن عبیدة الزبدی وہو ضعیف(10)
مسند بزار میں اس کو روایت کیا ہے اور اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدة زبدی ضعیف ہے۔
حضرت ابن عمر کی روایت
پھر اسی جلد میں حضرت ابن عمر کی روایت کے متعلق حسب ذیل ارشاد ہے:
رواہ ابویعلیٰ وفیہ لیث بن ابی سلیم وہو مدلس وبقیة رجالہ ثقات  (11)
اس کو ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اس میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے(12)جو مدلس ہے۔ بقیہ راوی ثقہ ہیں۔
حضرت ابوالدرداء وواثلہ کی روایت
پھر حضرت ابوالدرداء، ابواُمامہ، واثلہ اور انس کی روایات کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
رواہ الطبرانی وفیہ کثیر بن مروان وہو ضعیف جدًا(13)
اس کو طبرانی نے روایت کیاہے اور اس میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ بہت ضعیف ہے۔
حضرت عمروبن عوف کی روایت
اس کے بعد حضرت عمرو بن عوف کی روایت بحوالہٴ طبرانی نقل کرکے اپنی رائے ان الفاظ میں ظاہر کی ہے۔
رواہ الطبرانی وفیہ کثیر بن عبداللہ وہو ضعیف وقد حسن الترمذی لہ حدیثا وبقیة رجالہ ثقات(14)
اس میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ضعیف ہے۔ ترمذی نے اس کی ایک حدیث کی تحسین بھی کی ہے بقیہ تمام راوی ثقہ اور قابلِ اعتبار ہیں۔
بلاشبہ کثیر بن عبداللہ کے بارے میں محدثین کی رائے اچھی نہیں ہے اوراسی وجہ سے امام ترمذی کی تحسین کو بھی قابل اعتراض سمجھا گیا ہے مگر اہلِ علم و تجربہ جانتے ہیں کہ ترمذی اگر ضعیف راویوں کی روایات کی تحسین کرتے ہیں تو بیشتر ایسی جگہ کرتے ہیں جہاں تعامل یا خارجی دلائل سے روایت کی قوت ثابت ہوجاتی ہے صرف اس ضعیف طریقہ ہی پر ان کی نظر نہیں ہوتی۔ بنابریں اگر ابوہریرہ کی روایت کی صحت کے بعد اس طریقہ کی بھی تحسین کردی جائے تو گنجائش نکل سکتی ہے۔
حضرت ابن مسعود کی روایت
باب افتراقِ امت کے خاتمہ پر حافظ نورالدین نے حضرت ابن مسعود کی حدیث تحریر فرماکر لکھا ہے:
رواہ الطبرانی باسنادین ورجال احدہما رجال الصحیح غیر بکیر بن معروف وثقہ احمد وغیرہ وفیہ ضعف
اس حدیث کو طبرانی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے جس میں ایک سند کے راوی وہی ہیں جو صحیح کے راوی ہیں سوائے بکیر بن معروف کے کہ وہ صحیح کاراوی نہیں ہے مگر امام احمد وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے اوراس میں کچھ ضعف ہے۔
حضرت عوف بن مالک کی روایت
عوف بن مالک کی روایت مستدرک حاکم میں موجود ہے اوراسکے متعلق حاکم کے الفاظ یہ ہیں:
ہذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین(15)
یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حاکم کی تصحیح کو عام طور پر علماء بنظر اعتبار نہیں دیکھتے مگر یہاں حافظ ذہبی نے بھی سکوت کیا ہے اور ان کے خلاف کوئی نکتہ چینی نہیں کی اس سے ظاہرہوتا ہے کہ ذہبی کو بھی ان سے اتفاق ہے ورنہ وہ حسب عادت یہاں بھی اپنا اختلافِ رائے ظاہر کرتے۔
حضرت علی کی حدیث
علامہ شاطبی نے حضرت علی کی روایت نقل کرکے لکھا ہے لا أضمن عہدة صحتہ ”میں اس کی صحت کی ذمہ داری نہیں لیتا“(16) مگر کوئی خاص جرح بھی نہیں فرمائی۔
حدیث معاویہ
اور ابوہریرہ کی حدیث نقل کرکے حاکم فرماتے ہیں:
ہذہ اسانید تقام بہا الحجة فی تصحیح ہذا الحدیث(17)
یہ اسانید ایسی ہیں کہ ان کی بناپر حدیث کو صحیح کہا جاسکتا ہے۔
اتنی بات کو ذہبی نے بھی تسلیم کیا ہے۔
پندرہ صحابہ میں سے تیرہ صحابہ کی احادیث پر علماء کے یہ خیالات ہیں ان میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو،اَنس،ابواُمامہ، عمروبن عوف، معاویہ، ابن عمر، عوف بن مالک کی روایات صحیح یا حسن کے درجہ پر آسکتی ہیں۔ بقیہ روایات کی اسانید اگرچہ ضعیف ہوں مگر تعددِ طرق کالحاظ رکھتے ہوئے وہ بھی قاطبةً نظر انداز کرنے کے لائق نہیں۔ اب اس مجموعہ روایات کو سامنے رکھ کر انصاف کیجئے کہ جو حدیث اتنے صحابہ سے مختلف صحیح اور حسن طریقوں سے مروی ہو کیا محض چند شبہات کی وجہ سے اس سے صرفِ نظر کرلینا درست ہوگا۔
کسی حدیث پر اجمالی حکم اس کے مجموعہٴ طرق پر حکم نہیں
مذکورہ بالا بیان سے مختصراً یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ایک حدیث کتنے کتنے صحابہ سے روایت کی گئی ہے۔ پھر ایک ایک صحابی کی حدیث کے کتنے کتنے طریقے ہیں۔ اس لئے کسی حدیث کے متعلق ضعف یا صحت کاحکم دیکھ کر پہلے یہ تحقیق کرلینا چاہئے کہ یہ حکم اس کے تمام طریقوں پر حاوی ہے یا کسی خاص صحابی کی حدیث یا اس کے کسی خاص طریقے سے متعلق ہے پھر یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ایک ایک حدیث کے تمام طریقے ہر محدث کے پیش نظر ہو۔
امام ترمذی جیسا جلیل القدر امامِ حدیث یہاں صرف چارصحابہ کاپتہ دیتا ہے حالانکہ ان کے علاوہ گیارہ صحابہ اور بھی ہیں جو اس کو روایت کرنے والے ہیں۔ پس اگر کوئی محدث کسی حدیث پر کوئی اجمالی حکم لگاتا ہے تو یہ صرف اس کے علمی استحضار کے لحاظ سے ہے۔ اب اگر خارجی ذرائع اور تحقیقات سے کسی خاص طریقہ کا ضعف و صحت ثابت ہوجائے تو یہ اس کے مبہم حکم کے ہرگز معارض نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ اس کے علم میں یہ طریق نہ ہو ہاں اگر ان طرق کے علم کے بعد بھی اس کی رائے وہی رہتی ہے تو اب اس کو مخالف یا موافق کہنا درست ہوگا اس کے بعداختلافِ رائے کا مرحلہ پھر زیر بحث رہے گا۔ راویوں اور روایات کے سلسلہ میں تضعیف و توثیق کا معاملہ اہل علم کے نزدیک دن رات کی بات ہے۔ ایک ناواقف ایک محدث کی رائے نقل کرکے اسے سارے طریقے پر حاوی بنادیتا ہے اوراس ایک رائے کو سارے محدثین کی رائے سمجھ بیٹھتا ہے اور واقفِ حال کو تحقیق کے بعد غور کرنا پڑتا ہے کہ دلائل کا پلہ کس طرف بھاری ہے۔ یہی حدیث جس کے متعلق آپ نے یہ تفصیل پڑھی۔ اب آئیے اس کے مخالف آراء کا حال دیکھئے علامہ مجدالدین فروزآبادی ”سفر السعادة“ کے خاتمہ پراس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔
لم یثبت فیہ شیٴ اس باب میں کوئی حدیث ثابت نہیں ہوئی۔
احادیث پر تنقید کی تین تعبیرات اور ان کا فرق
ان الفاظ کو دیکھ کر بعض لوگ تو یہاں تک غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ مصنف کے نزدیک یہ حدیث گویا موضوع ہے۔ کاش ان حضرات نے اگراس کتاب کی ذرا ورق گردانی کی ہوتی تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ مصنف نے احادیث پر حکم لگانے کے لئے مختلف تعبیرات اختیار کی ہیں کہیں ”باطل موضوع“ اور کہیں ”لم یصح فیہ حدیث“ اور کہیں ”لم یثبت“ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ان تینوں الفاظ میں بڑا فرق ہے ۔ پہلی تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ اس مضمون کو حدیثِ رسول کہناہی غلط ہے اور دوسرا لفظ صرف صحت کی نفی کرتا ہے خواہ کسی درجے میں حدیث ثابت ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ قنوت، جہر بسم اللہ اور وضوء بالنبیذ کی احادیث پر بھی مصنف نے یہی حکم لگایا ہے، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ سب حدیثیں بے اصل ہیں۔ اسی طرح ”لم یثبت“ کا لفظ ضعیف طرق کی نفی نہیں کرتا۔ اگر ان تعبیرات کے فروق کی رعایت کی جائے تو پھر بہت سے مواضع پر مصنف کے کلام سے اعتراض اٹھ جائے گا۔ (18)
علاوہ ازیں شارح ”سفر السعادة“ لکھتے ہیں کہ علامہ مجد الدین کا یہ حکم صرف ان الفاظ پر ہے جو جہاں انھوں نے نقل کئے ہیں یعنی ۷۲ فرقوں میں امت کا افتراق۔کوئی شبہ نہیں کہ یہ لفظ تمام طریقوں کے خلاف ہے۔ حافظ سیوطی نے حضرت انس کی روایت کے صرف ایک طریقہ میں یہ لفظ پیش کیاہے بقیہ سب طرق و روایات میں ۷۳ کا لفظ ہے مگرمشکل یہ ہے کہ ”سفرالسعادة“ کے بعض نسخوں میں دو کی بجائے تین کا لفظ بھی موجود ہے اس کے متعلق شارح فرماتے ہیں ”اگر ایں چنیں است محل سخن است“ اگر ۷۳ کی روایت کے متعلق بھی مصنف کی یہی رائے ہے تواس میں کلام ہے۔
ابن حزم بھی زیر عنوان ”الکلام فیمن یکفر و من لایکفر“ اس حدیث کے ساتھ ایک اور حدیث نقل کرکے لکھتے ہیں:
ہذان حدیثان لایصحان اصلا عن طریق الاسناد (19)
یہ دونوں حدیثیں اسنادی لحاظ سے بالکل صحیح نہیں۔
یہاں بھی صحت کی نفی ہے اب ان دونوں حضرات کا یہ مجمل حکم دیکھئے اور اس کے مقابلہ میں وہ ساری تفصیلات سامنے رکھئے جہاں ایک ایک روایت کی پوری چھان بین کی گئی ہے۔
ابن حزم کی رائے فیصلہ کن نہیں ہے
ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ان حفاظِ حدیث کے سامنے وہ سب طرق موجود بھی ہیں یا نہیں اور اگر موجود بھی ہیں تو کیا اصولِ حدیث کا یہ کوئی ضابطہ ہے کہ جس طرف ابن حزم ہوجائیں بس راہِ صواب اسی میں منحصر ہوجائے گی اگر ایک طرف حافظ ابن جوزی کا تشدد امت میں ضرب المثل ہے تواس کے ساتھ ہی ابن حزم کی زبان کا سیف(20)حجاج ہونابھی مشہور ہے۔
بہرحال حدیث کا معاملہ ما و شما کے تابع نہیں ہے۔ حدیث کے اسانید اب بھی موجود ہیں۔ ان مبہم اور مجمل کلمات کو چھوڑ کر اس کے رجال پر تفصیلاً نظر کرلینا چاہئے اس کے بعد بھی اگر رجحان ابن حزم اور علامہ مجدالدین کے ساتھ رہتا ہے توامر دیگرہے۔(21) پھر یہ امر بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ حافظ ابن حزم اپنی وسعت نظر کے باوجود خود امامِ ترمذی اوران کی کتاب الجامع سے ناواقف ہیں اس لئے ان کا ”لایصح“ کہنا اور بھی بے اثر ہوجاتا ہے۔
حدیث کی صحت پر معنوی قرائن
حنیفیة اور یہودیة و نصرانیة کا تقابل
قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی دنیا میں دین حنیف کے حریف صرف دو مذہب ہیں یہودیة اور نصرانیة عہد نبوة میں بھی حریفانہ جنگ ان ہی دو کے درمیان نظر آتی ہے اوراحادیث صحیح بھی ان ہی دو کے درمیان مستقبل میں کشمکش کاپتہ دیتی ہیں۔ آیاتِ ذیل کو بغور پڑھئے اوراس جذبہ کا اندازہ کرلیجئے۔
قَالُوْا کُوْنُوْا ہُوْدًا اَوْ نَصَارٰی تَہْتَدُوْا قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا
کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ یا نصرانی بن جاؤ تو راہ یاب ہوگے آپ اُن سے کہہ دیجئے بلکہ میں حضرت ابراہیم کی ملت کا متبع ہوں جو ایک طرف ہوجانے والاتھا۔
مَاکَانَ اِبْرَاہِیْمُ یَہُوْدِیًّا وَلاَ نَصْرَانِیًّا وَّلٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا
حضرت ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ایک طرف ہوکر خدا کے فرمانبردار نبی تھے۔
غیر المغضوب علیہم میں اتباع یہود ونصاریٰ کی طرف ایک لطیف اشارہ
غالباً اسی لئے قرآن کریم نے صراطِ مستقیم کی تفسیر کرتے ہوئے اثباتی پہلو میں منعم علیہم کا اور سلبی پہلو میں مغضوب علیہم اور ضالین ہی کا ذکر کیا ہے اوراس اہتمام سے کیاہے گویا جب تک یہ سلبی پہلو ذکر نہ کیاجائے اس وقت تک صرف صراط الذین انعمت علیہم اس کے پورے مفہوم کو ادا ہی نہیں کرتا پھر اس دعاء کے پنجوقتہ تعلیم کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ملت حنفیہ پر سب سے زیادہ خطرہ ہے تو شاید ان مغضوب علیہم اور ضالین کی اتباع کا ہے جس کا دوسرا نام یہودیة و نصرانیة ہے۔
مشرکین و یہود کے تعلقات
کتب سیرت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیة ونصرانیة بھی گو آسمانی دین تھے مگر مشرکین کے ساتھ ان کے برادرانہ تعلقات قائم تھے جونہی اسلام نے دنیا میں قدم رکھا سب سے پہلے مشرکین کے ساتھ اس کے مدمقابل یہی یہودی و نصرانی تھے حالانکہ دین سماوی میں اشتراک کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو دین حنیفی کے ساتھ پوری ہمدردی ہوتی اور بجائے مشرکین کے ان کا رُخ اسلام کی طرف ہوجاتا لیکن جیسے جیسے اسلام ترقی کرتا رہا اسی قدر یہودیة و نصرانیة بڑھ بڑھ کر اسی کے مقابلہ پرآتی رہی یہاں تک کہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو مشرکین عرب نے اسلام کے سامنے سپر ڈالدی اور ان کی طرف سے شریعت مطہرہ کو اتنا اطمینان میسر ہوا کہ صاف لفظوں میں یہ اعلان کردیاگیا۔
ان الشیطان قدأیس ان یعبدہ المصلون فی جزیرة العرب (مشکوٰة شریف)
شیطان اب اس بات سے نامید ہوچکا ہے کہ نمازی مسلمان پھر کبھی جزیرئہ عرب میں اس کی عبادت کریں گے۔
پیغمبر اسلام کا یہود ونصاری کی طرف سے خطرہ کا آخری الارم
لیکن یہودیة و نصرانیة کا عَلَمِ جنگ اسلام کے بالمقابل برابر لہراتا رہا اورکسی وقت بھی اسلام کو ان کی دسیسہ کاریوں سے اطمینان میسر نہ ہوا حتی کہ صاحب شریعت کے آخری لمحاتِ حیات کی وصیتوں میں ایک مہتم بالشان وصیت یہ تھی۔
اخرجوا الیہود والنصاری من جزیرة العرب 
یہود و نصاریٰ کو جزیرئہ عرب کے چپے چپے سے باہر نکال دینا۔
اسی حریفانہ کشمکش کا نتیجہ تھا کہ جب حنیفیة کا زمین پر اقتدار ہوا تو یہودیة ونصرانیة مغلوب ہوگئیں اور جب کبھی یہودیة و نصرانیة کا غلبہ ہوا تو حنیفیة کو مغلوب ہوجانا پڑا۔
یہود ونصاریٰ سے جزیہ قبول کرنے کی وجہ
اس سلسلہ میں واضح رہنا چاہئے کہ یہودیة و نصرانیة کے مسخ ہوجانے کے باوجود اسلام نے محض دین سماوی ہونے کے باعث ان کی بڑی رعایت رکھی ہے۔
موافقت اہل کتاب کی عام سنت فتح مکہ تک تھی
چنانچہ اسلام فتح مکہ سے قبل تک جن امور میں جدید ہدایات نازل نہ ہوتیں بہ نسبت کفار کے ان کی موافقت کو ترجیح دیتا رہا لیکن جب اس سلوک کے بعد بھی ان کا دل نہ پسیجا تو یہ ثابت ہوگیا کہ اب ان کے سینہ پر کینہ سے اسلام کی عداوت نکلنے والی نہیں ہے اس لئے مخالفت کا حکم دیدیاگیا اورآئندہ ان تمام مواقع پر جہاں جہاں سے حنیفیة کو یہودیة و نصرانیة سے خطرہ ہوسکتا تھا امت کو خبردار کردیاگیا۔
مشترکہ حدود کی نگرانی میں اسلام کی خیر مضمر ہے
روزہ، نماز، شکل و شباہت، دعاء و سلام میں غرض جہاں بھی اسلامی حدود اُن کے حدود سے ملتے نظر آتے تھے ملت حنیفیہ کے حلقہ بگوشوں کو تنبیہ کردی گئی کہ اپنے حدود کی نگرانی رکھیں۔ اس کے باوجود صاحب نبوة کی دوربیں نظروں نے تاڑلیا تھا کہ اس حریف کاایک دن پھر غلبہ ہوگا اور پھرپیروانِ ملت حنیفی یہودیة ونصرانیة کے پیچھے چل پڑیں گے۔ اسی عہد نامسعود کا نقشہ صحیح بخاری کی اس حدیث میں کھینچا گیا ہے۔
اس امت میں یہود ونصاری کی اتباع کی پیشگوئی
قال لتتبعن سنن الذین من قبلکم شبرا بِشبرٍ و ذراعاً بذراع حتی لو دخلوا فی حجر ضب لاتبعتموہ قلنا یارسول اللّٰہ الیہود والنصاری قال فمن 
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تم ضرور گذشتہ لوگوں کے قدم بقدم چل کر رہوگے حتی کہ اگران میں کوئی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا ہوگا تو تم بھی ضرور داخل ہوگے ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کیاآپ کی مرادیہود و نصاریٰ ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر اورکون۔
دوسرے الفاظ میں اس مجنونانہ اتباع کی غایت یہاں تک بیان کی گئی ہے کہ اگران میں کسی نے اپنی ماں سے علانیہ زناء کیا ہوگا تو تم میں بھی ایسے افراد ہوں گے جو یہ روسیاہی کرکے رہیں گے۔
بعض نو مسلموں کو مشرکین کی نقالی کی تمنا اور آپ کی سرزنش
جب تک اسلام کا ضعیف دور رہا بعض نومسلموں کے قلوب میں ہرمعمولی اور غیر معمولی امور میں یہ ہی جذبہٴ اتباع اُبھرتا رہا۔
”ابوواقد لیثی فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ خیبر کی سمت آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اُس وقت ہم نو مسلم تھے وہاں مشرکین نے ایک درخت اپنے ہتھیار لٹکانے کے لئے مقرر کررکھا تھا ہم نے اُسے دیکھ کرکہا یا رسول اللہ ہمارے لئے بھی ایک ایسا ہی درخت ہتھیار لٹکانے کے لئے مقرر کردیجئے آپ نے تعجباً تکبیر کہی اور فرمایا یہ تو وہی بات ہوئی جیسا بنی اسرائیل نے (سمندر عبور کرنے کے بعد کچھ بت پرستوں کو پوجا کرتے دیکھ کر کہہ دیاتھا) اے موسیٰ جیسا خدا ان کا ہے ہمارے لئے بھی ایک ایسا ہی خدا بنادیجئے۔ تم ضرور یہود و نصاریٰ کی نقالی کرکے رہوگے۔“
لیکن جتنی اسلام کو قوت حاصل ہوتی گئی اس کے یہ جذبات فنا ہوتے رہے حتی کہ کچھ دن بعد ہی اب ان کا نقشہ یہ تھا کہ
”حضرت مقداد بن الاسود جنگ بدر کی تیاری کے موقعہ پر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں کہتے ہیں یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہم وہ نہیں ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہ کہہ دیں۔اے موسیٰ جا تواور تیرا رب لڑ آ۔ ہم تو آپ کے دائیں بائیں آگے اورپیچھے رہ کر آپ کے ساتھ جنگ کریں گے۔“ (بخاری شریف)
اب ان دونوں جذبات کا موازنہ کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہی بات یعنی حرصِ اتباع جو دورِ ضعف میں غیر اختیاری طور پر منہ سے نکل رہی تھی اب انتہائی قابل نفرت وعار بن رہی ہے مگر دونوں جگہ نقطئہ تجاذب وہی بنی اسرائیل ہیں۔ اسلامی دورِ انحطاط میں وہی اتباعِ بنی اسرائیل کا جذبہ پھر لوٹ آئے گا۔ اور بنی اسرائیل کی جو مشابہت پہلے انتہائی قابل نفرت وحقارت معلوم ہوتی تھی پھر لائق رغبت بن جائے گی۔ امت محمدیہ کے اسی رجعت قہقریہ کو صحیح بخاری کی حدیث بالا میں بیان کیاگیا ہے یعنی وہی بات جو آپ کے زمانہ میں قابل تعجب تھی آئندہ دور میں ناگزیر طور پر ہونے والی بات ہوگی۔ حتی کہ اگریہود و نصاری میں کسی نے ماں سے زنا کیا ہوگا تواس بے حیائی میں بھی یہ امت ان کی اتباع کرکے رہے گی۔
امت محمدیہ شغفِ اتباع ہی کی بدولت صفتِ افتراق میں بھی اتباع کریگی
اس شغفِ اتباع سے یہ مترشح ہورہا ہے کہ یہ امت جب ہرمعقول اور نامعقول بات میں ان کے نقش قدم پر چلے گی تو یقینا ضلالت اور گمراہی کی وہ سب راہیں جو یہود ونصاریٰ نے اختیار کی تھیں یہ بھی اختیار کرے گی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جتنے گمراہ فرقے ان میں نمودار ہوئے تھے اس میں بھی نمودار ہوں گے لیکن افسوس یہ ہے کہ بلند تر جب گرتا ہے تو یہاں بھی فروتر رہتا ہے اس لئے امتِ محمدیہ جب دورِ عروج و کمال میں بلند تر تھی تو اپنے دورِ انحطاط میں اُسے فروتر ہی رہنا چاہئے اور اسی لئے وصفِ افتراق میں یہود ونصاری سے آگے آگے نظر آناچاہئے۔ آخر جو مسند اعلیٰ علیین پرجلوہ نما تھا جب ایمان اور عمل صالح سے محروم ہوا تواس کا ٹھکانا اسفل السافلین ہی ٹھہرا۔
شدتِ اتباع اور حدیثِ افتراق کا تناسب
غالباً اسی گہری مناسبت کی وجہ سے صحیح بخاری کی اس حدیث کو جامع ترمذی میں حدیثِ افتراق کے لئے بطور مقدمہ ذکر کیا گیا ہے یا بالفاظِ دیگر اس شدید افتراق کو اس مبالغہ آمیز اتباع کا ثمرہ اور نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو باتیں بنی اسرائیل میں ہوئیں وہ ٹھیک ٹھیک سب میری امت میں ہوں گی حتیٰ کہ اگر ان میں کسی نے بے محابااپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی کوئی ایسا بدبخت ہوگاجو اس بے حیائی کا ارتکاب کرے گا اور بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹے تھے (آخر حدیث تک)
اس سیاق کو پڑھئے اور بغور پڑھئے اوراس عمیق ربط کی تہ تک پہنچ جائیے جو اس شدید اتباع اور شدید اختلاف کے مابین مستور ہے اگر آپ اس ربط کو پالیں تو یقینا اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ حدیث افتراق درحقیقت صحیح بخاری کی حدیث اتباع کا ایک تتمہ تھا جو وہاں رہ گیا تھا وہ یہاں ذکر کردیا گیا ہے بہرحال اگر ہمارے پاس صرف صحیح بخاری ہی کی یہی ایک حدیث ہوتی تو افتراقِ امت کی اجمالی داستان پڑھنے کے لئے کافی تھی۔
$ $ $
حواشی
(1)حاکم کہتے ہیں کہ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد افریقی ہے وہ ضعیف ہے۔ (مستدرک، ج:۱، ص: ۱۲۸)
(2) دیکھو ج:۲، ص: ۱۶۳ و ۱۷۰ و ۲۰۶۔ اور الموافقات، ج:۴، ص: ۱۷۷۔ حاکم نے حدیث مذکور کو دو جگہ روایت کیا ہے۔ (مستدرک ، ج:۱، ص: ۶ و ۱۲۸) ذہبی فرماتے ہیں علی شرط مسلم یعنی حدیث مسلم کی شرط پر ہے۔
(3) مشکوٰة شریف میں بحوالہ مسند احمد ابوداؤد صحابی کا نام معاویہ ذکر کیا ہے۔ اگر کتب حدیث میں کہیں ابو معاویہ کی روایت مل جائے تو خیر ورنہ بظاہر یہاں راوی معاویہ ہی معلوم ہوتے ہیں۔ کنزالعمال میں بھی راوی کا نام معاویہ ہے بحوالہ مسند احمد و طبرانی، مستدرک (ج۱، ص: ۵۴) مستدرک میں بھی معاویہ ہے۔ (دیکھو ،ج:۱ ،ص: ۱۲۸)۔
(4) اللآلی ، ص: ۲۴۸ و ۲۴۹۔
(5)مجمع الزوائد، ج:۶، ص: ۲۲۶۔
(6)ایضا، ج:۷، ص: ۲۵۸۔
(7)ایضاً ،ج:۶، ص: ۲۳۴۔
(8)ایضاً، ج:۷، ص: ۱۵۹۔
(9)ابوغالب کے نام میں اختلاف ہے کوئی حزور کوئی سعید بن حزور اور کوئی نافع کہتا ہے۔ تہذیب التہذیب کی بارہویں جلد میں حافظ ابن حجر نے ان کا مفصل تذکرہ کیاہے۔ بعض کتب میں ابوغالب کی بجائے ابن ابی غالب لکھا گیا ہے ہمارے نزدیک اس حدیث کے راوی ابوغالب ہی ہیں اسی طرح کتاب الاعتصام ، ج:۱، ص: ۳۳ میں زاء کی بجائے حرور راء کے ساتھ لکھا ہے وہ بھی کاتب کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔
(10و 11)مجمع الزوائد، ج:۷، ص: ۱۵۹۔
(12) یہ راوی مختلف فیہ ہے بایں ہمہ اس کو ثقہ کہا گیا ہے۔
(13) مجمع الزوائد، ج:۷، ص: ۲۵۹۔
(14)مجمع الزوائد، ج:۷، ص: ۲۶۰ و مستدرک، ج:۱، ص: ۱۲۹۔
(15) مستدرک، ج:۴، ص:۴۳۰۔
(16)الاعتصام،ج:۲، ص: ۲۱۱۔
(17)مستدرک، ج:۱، ص: ۱۲۸۔
(18) مولانا عبدالحئی صاحب نے رسالہ الرفع والتکمیل میں ان فروق کی پوری تشریح فرمادی ہے ملاحظہ ہو:
کثیرا ما یقولون لایصح اولا یثبت ہذا الحدیث ویظن منہ من لا علم لہ انہ موضوع او ضعیف وہو مبنی علی جہلہ بمصطلحاتہم وعدم وقوفہ علی مصرحاتہم فقد قال علی القاری فی تذکرة الموضوعات لایلزم من عدم الثبوت وجود الوضع انتہیٰ وقال الحافظ ابن حجر فی تخریج احادیث الافکار المسمی بنتائج الافکار ثبت عن احمد بن حنبل انہ قال لا اعلم فی التسمیة فی الوضوء حدیثا ثابتا قلت لایلزم من نفی العلم ثبوت العدم وعلی التنزل لا یلزم من نفی الثبوت ثبوت الضعف لاحتمال ان یراد بالثبوت الصحة فلا ینتفی الحسن و علی التنزل لایلزم من نفی الثبوت عن کل فرد نفیہ عن المجموع۔ وقال نورالدین السمہوری قلت لایلزم من قول احمد فی حدیث التوسعة علی العیال یوم عاشوراء لا یصح ان یکون باطلاً فقد یکون غیر صحیح وہو صالح للاحتجاج بہ اذ الحسن رتبة بین الصحیح والضعیف۔اھ۔ وقال الزرکشی فی نکتہ علی ابن الصلاح۔ بین قولنا موضوع وبین قولنا لایصح لون کثیرا فان الاول اثبات الکذب والاختلاق والثانی اخبار عن عدم الثبوت ولا یلزم منہ اثبات العدم وہذا یجئی فی کل حدیث قال فیہ ابن الجوزی لایصح ونحن اھ ۔ وقال علی القاری مع ان قول السخاوی لایصح لایُنَافی الضعف والحسن اہ ۔ قال الزرقانی ونقل القسطلانی عن ابن رجب ان ابن حبان صححہ فیہ رد علی قول ابن دحیہ لم یصح فی لیلة نصف شعبان شیء الا ان یرید نفی الصحة الاصطلاحیة فان حدیث معاذ ہذا حسن لاصحیح اھ ۔
بسا اوقات محدثین لایصح یا لا یثبت کا لفظ فرماتے ہیں۔ ناواقف اس کا مطلب یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ حدیث ان کے نزدیک موضوع یا ضعیف ہے یہ خیال ان کی اصطلاح سے جہالت اور ان کی تصریحات سے ناواقفی کا نتیجہ ہے۔ ملا علی قاری تذکرة الموضوعات میں فرماتے ہیں کہ عدم ثبوت کہنے سے اس کا موضوع ہوجانا ضروری نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر نتائج الافکار میں فرماتے ہیں کہ امام احمد فرماتے تھے کہ میرے نزدیک وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کے متعلق کوئی حدیث ثابت نہیں، میں کہتا ہوں کہ پہلے تو کسی شخص کے نہ جاننے سے اس چیز کا فی الواقع نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے تو پھر نفی ثبوت سے اس کا ضعیف ہونا ثابت نہیں ہوتا اوراگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے تو ہر ہر فرد کے نفی ثبوت سے مجموعہ کا ثبوت نہ ہونا کوئی ضروری امر نہیں ہے۔ نورالدین سمہوری فرماتے ہیں کہ امام احمد کے عاشوراء کی حدیث کے متعلق (لایصح) فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ باطل ہو، ہوسکتاہے کہ صحیح تو نہ ہو مگر قابل استدلال ہو کیونکہ صحیح اور ضعیف کے درمیان ایک مرتبہ حسن کا بھی ہے۔ زرکشی نکت ابن صلاح میں فرماتے ہیں کہ ہمارے (لایصح) اور (موضوع) کہنے میں بہت بڑا فرق ہے کیونکہ موضوع کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راوی کا جھوٹ اور وضع ثابت ہوگیا ہے اور لا یصح میں صرف عدم ثبوت کی خبر ہے یہ کوئی ضروری نہیں کہ اس کا عدم ثابت مان لیاجائے یہی بات ان تمام حدیثوں کے متعلق کہی جاسکتی ہے جن کے بارے میں ابن جوزی نے لایصح یا اسی طرح کا کوئی اور حکم لگادیا ہے۔ اھ۔ زرقانی کہتے ہیں کہ قسطلانی نے حافظ ابن رجب سے یہ نقل کیا ہے کہ ابن حبان نے شب نصف شعبان کی فضیلت کی حدیث کو صحیح کہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث کے متعلق ابن دحیہ کا لم یصح کہنا غلط ہے مگر یہ کہ اس کے کلام میں اصطلاحی صحت کی نفی مراد لی جائے کیونکہ معاذ کی یہ حدیث اصطلاحی طور پر یقینا صحیح نہیں ہے گو حسن ہو۔
(19)کتاب الفصل،ج:۳، ص: ۱۳۸۔
(20) اس کی وجہ حافظ ابن حزم نے اپنی تصنیف مداواة النفوس میں خود تحریر فرمائی ہے۔
ولقد اصابتنی علة شدیدة ولدت علی ربوا فی الطحال شدیدا فولد ذلک علی ومن الفجر وضیق الخلق وقلة الصبر والتزق امرا حاسبت نفسی فیہ فانکرت تبدل خلقی واشتد عجبی من مفارقتی لطبعی  (توجیہ النظر ص:۳۱ تحت استدراک فی الفائدة السابعہ)
میں ایک شدید بیماری میں مبتلا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میری تلی بہت بڑھ گئی تھی اس لئے میرے مزاج میں تنگی، تیزی و بداخلاقی جلد بازی پیدا ہوگئی ہے جب میں اپنی پہلی زندگی پر غور کرتا ہوں تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ میرے عادات و اخلاق کس قدر تبدیل ہوگئے ہیں اور میں اپنی اصلی طبیعت سے کتنا دور ہوگیا ہوں۔
(21)حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابن حزم اپنی جلالتِ قدر کے باوجود امام ترمذی جیسے شخص سے بالکل نا آشنا ہیں حتی کہ جب ان کے سامنے امام ترمذی کا تذکرہ ہوا تو تعجب سے فرمایا ”ومن محمد بن عیسی بن سورة؟“ یہ محمد بن عیسیٰ کون شخص ہیں۔ (دیکھو الباعث الحثیث الی معرفت علوم الحدیث)
حافظ ابن حجر امام ترمذی کے تذکرہ میں تحریر فرماتے ہیں واما ابو محمد بن حزم فانہ نادی علی نفسہ بعدم الاطلاع فقال فی کتاب الفرائض من الایصال محمد بن عیسی بن سورة مجہول ابن حزم کواس بات کا خود اقرار ہے کہ وہ محمد بن عیسیٰ (ترمذی) سے واقف نہیں ہیں چنانچہ ان کو مجہول لکھتے ہیں۔ (تہذیب التہذیب)
حافظ ذہبی فرماتے ہیں ۔ ترمذی کے بارے میں ابن حزم کا قول کہ وہ مجہول شخص ہیں کچھ قابل التفات نہیں ہے کیونکہ ان کو نہ امام ترمذی کی کتاب جامع سے واقفیت ہے اور نہ ان کی کتاب العلل کا علم ہے۔ (میزان الاعتدال)
______________________________










وأخبر النبي عليه الصلاة و السلام : ( ستفترق أمتي على ثلاث وسبعين فرقة الناجية منها واحدة والباقون هلكى ) 
قيل : ومن الناجية ؟ قال : ( أهل السنة والجماعة ) قيل : وما السنة والجماعة ؟ قال : ( ما أنا عليه اليوم وأصحابي ) 
وقال عليه الصلاة و السلام : ( لا تجتمع أمتي على ضلالة ) . [ الملل والنحل : 1 / 13 ؛ تنبيه الغافلين: 435]

ترجمہ : اور ان لوگوں میں کہ جنکو ہم نے پیدا کیا ہے ایک جماعت ہے کہ راہ بتلاتے ہیں سچی اور اسی کے موافق انصاف کرتےہیں۔[الاعراف:181] اور خبر دی نبی ﷺ نے : (عنقریب میری امت تہتر (٧٣) فرقوں میں بٹ جاۓ گی، اس میں نجات یافتہ فرقہ صرف ایک ہوگا اور باقی ہلاک ہونگے) پوچھا گیا : اور نجات یافتہ کونسا ہوگا؟ فرمایا : (اہل السنّت والجماعت پوچھا گیا : اور سنّت اور جماعت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : (جس طریقہ پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں) اور فرمایا آپؐ نے : (میری امت میں سے ایک گروہ حق پر قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاۓ گی) اور فرمایا آپ صلی الله علیہ وسلم نے : (نہیں جمع ہوگی میری امت گمراہی پر). [الملل والنحل : 1 / 13]






اور فرمایا : میری خلفاء راشدین کے سنت کو لازم پکڑنا (ترمذی) اور فرمایا : جس نے میری سنت سے منہ موڑا وه مجھ سے نہیں (بخاری) اور ایک روایت میں تو آپ نے تارک سنت کو ملعون فرمایا (مشکوة) اور اہل سنت والجماعت کے علاوه باقی فرقوں کو آپ نے دوزخی فرمایا (ابو داود) حضرت ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ سے آیت کریمہ ’’یوم تبیض وجوه‘‘ کی تفسیر پوچهی گی تو آپ نے فرمایا جن کے چهرے قیامت کے دن روشن ہوں گے وه اہل سنت والجماعت ہیں اور حضرت عبدالله بن عباسؓ نے بهی یہی ارشاد فرمایا. 




















اور آپ نے فرمایا حسن اور حسین اہلسنت کے آنکهوں کی ٹهنڈک ہیں (الکامل الابن ایثر ص62ج 4)














شیخ عبد القادر جیلانی رح نے بھی اخبار_نبوی سے فرقہ ناجیہ اہل السنّت والجماعت فرمایا.[غنية الطالبين : ١/١٢١]





عقیدہ اہل سنّت کی اہمیت، امام غزالیؒ (450ھ - 505ھ) کے نظر میں:




::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::



وضاحت: آپ ﷺ نے فرمایا: میرے امتیو! میں دو چیزیں چهوڑ کر جا رہا ہوں ان پر مضبوطی سے قائم رہو گے تو گمراه نہیںہوگےـ الله کی کتاب اور میری سنت (موطا ص 702) قرآن پاک الله تعالی کی آخری کتاب اور کامل کتاب ہے جو ہر قسم کے شک و شبہ سے پاک ہے ـ اور لفظی الهام یا وحی متلو ہے اور آپ ﷺ نے اس کتاب پر خود الله تعالی کے سمجهانے سے الله تعالی کی زیر نگرانی عمل کر کے جو عملی نمونہ پیش فرمایا اس کو سنت کهتے ہیں اس سے اہل سنت کا معنی بهی سمجھ آگیا کہ جو لوگ قرآن پاک پر اپنی خود رای سے نہیں بلکہ رسول اقدس ﷺ کے عملی نمونے کو سامنے رکھ کر عمل کرتے ہیں وه ’’اہل سنت‘‘ کهلاتے ہیں۔ کیونکہ الفاظ قرآن کے ہوں اور نمونہ عمل حضور کا ہو یہی سنت ہے۔

اہل_سنّت والجماعت: تین لفظوں سے مرکب ہے:’’اہل‘‘ کے معنى اشخاص، مقلدین، اتباع اور پیرو کے یہاں ہیں، "سنّت" عربی میں راستہ کو کہتے ہیں اور مجازا اصول مقررہ، روش، زندگی اور طرز_عمل کے معنى میں یہ لفظ آتا ہے، جیسا کہ یہ لفظ متعدد دفعہ انہی معنوں میں آیا ہے:
سُنَّةَ اللَّهِ فِى الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبديلًا {33:62}
جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں تغیر وتبدل نہ پاؤ گے:

اسی طرح احادیث میں جو سنّت کا لفظ آتا ہے، اس کے معنى حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے اصول_مقررہ اور طرز_عمل ہے. اسی لئے اصطلاح_دینی میں حضرت رسول_اکرم صلی الله علیہ وسلم کی طرز_زندگی اور طریقہ_عمل کو "سنّت" کہتے ہیں؛ "جماعت" کے لغوی معنى تو گروہ کے ہیں، لیکن یھاں جماعت سے مرد "جماعت_صحابہ" رضی الله عنھم ہے. اس لفظی تحقی
 سے اہل_سنّت والجماعت کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے. یعنی یہ کہ اس فرقہ کا اطلاق ان اشخاص پر ہوتا ہے، جن کے اعتقادات، اعمال و مسائل کا محور پیغمبر علیہ السلام کی سنّت_صحیحہ اور صحابہ_کرام رضی الله عنھم کا اثر_مبارک ہے، یا یوں کہیے کہ جنہوں نے اپنے عقائد اور اصول_حیات، عبادات و اخلاق میں اس راہ کو پسند کیا جس پر رسول_مقبول صلی الله علیہ وسلم ہمیشہ چلتے رہے، اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ اس پر چل کر منزل_مقصود کو پہنچے.

نمبر۱:سنت کی تعریف

الطریقة المسلوکة المرضیة فی الدین ۔دین میں ایسا پسندیدہ طریقہ جو تسلسل سے چلا آ رہا ہو۔

سنت کی تین قسمیں ہیں:

 (١) سنت رسول ﷺ ، (٢) سنت خلفائے راشدین،  (۳) سنت صحابہ۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ علم شریعت کی تین قسمیں ہیں:

(١) آیاتِ محکمہ (٢) سنت قائمہ (٣) فریضہ عادلہ۔
[ابوداود:2885، ابنِ ماجہ:54، حاکم:7949، بیھقی:11952]
المحدث : أحمد شاكر | المصدر : عمدة التفسير: 1/467 | خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح

سنت رسول کی دو قسمیں ہیں:

١) سنت قائمہ 
٢) سنت غیر قائمہ

سنت قائمہ: پر عمل کرنا ضروری ہے۔ غیر قائمہ پر نہیں۔


اصول: سنت قائمہ پر عمل ضروری ہے۔اگر عمل حضورﷺ کا ہو اور صحابہ آگے نہ چلائیں تو یہ وہ سنت نہیں جس پر عمل کرنا عوام کے لئے ضروری ہے۔


دلیل: حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا کہ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓو عمر ؓقرات الحمد اللہ سے شروع کرتے۔ (بخاری ج۱ص۲۰۱۔۱۰۱)


دلیل: صحیح بخاری میں امام بخاری نے حدیث نقل کی ہے کہ قرآن مجید کی آیت وما خلق الذکر و الانثے (٩٢/الیل:٣) ہے۔اور جبکہ اس روایت پر کوئی قاری عمل نہیں کرتا۔اور نہ ہی عوام الناس اس روایت کو پڑہتی ہے۔تو ثابت ہوا کہ کیوں کہ یہ سنت قائمہ نہیں ہے اسلئے اسے اختیار نہیں کیا گیا۔اور (وما خلق الذکر و الانثیٰ) یہ روایت سنت قائمہ ہے اسلئے ہم سب یہی روایت پڑہتے ہیں۔ [صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 2089، - تفاسیر کا بیان : تفسیر سورت واللیل اذا یغشی]


خلفائے راشدین کا ذکر اس لئے کیا کے یہ سنت قائمہ ہے۔ جسے خلفائے راشدین نے قائم کیا ہے۔بتانا مقصود ہے کہ جس سنت کو خلفائے راشدین نے قائم کیا ہے اس سنت کو ہم بھی قائم کریں گے۔کیونکہ حضور نے فرمایا من یعش منکم بعدی فسیر اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی و سنت الخلفاء الراشدین (او کما قال ؑ)کہ اے صحابہ تم میں سے جو بھی میرے بعد ہو گا وہ بہت سے اختلافات دیکھے گا تو تمہیں چاہئے کہ تم ان اختلافات کو میری اور خلفائے راشدین کی سنت سے حل  کرنا۔ یہ دلیل کہاں سے بنی، حضور ﷺ نے فرمایا : علیکم بسنتی و سنت  الخلفاءالراشدین تمسکو بھا و عزو علیھا بالنواجذ (او کما قال ؑ) حضور نے فرمایا : علیکم بسنتی و سنت الخلفاءالراشدین اور آگے فرمایا : تمسکو بھا و عزو علیھا ضمیر واحد کی لائے لیکن پیچھے سنتیں دو ہیں تو ھما لانا چاہئے تھا ھا اسلئے لائے کہ بظاہر یہ دو ہیں لیکن اصل میں ایک ہی ہے۔ تو ھا اسبات پر دلالت کر رہا ہے کہ جس طرح حضور کی سنت پر عمل کرنا لازمی ہے اسی طرح سنت خلفائے راشدین پر بھی عمل کرنا ضروری ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ میں فاروق اعظم ؓ کی بات نہیں مانتا بلکہ میں حضورﷺ کی بات کرتا ہوں تو یہ بدعت پھیلا رہا ہے۔



إختلاف كا حل : نبی (صلے الله علیہ وسلم) کی سنّت اور خلفاء_راشدین کی سنّت:



حضرت عرباض بن ساریہ (رضی الله عنہ) نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز ہمیں نماز پڑھائی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں ایک بلیغ اور نصیحت بھرا وعظ فرمایا کہ جسے سن کر آنکھیں بہنے لگے اور قلوب اس سے ڈر گئے تو ایک کہنے والے نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گویا کہ یہ رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے۔ تو آپ ہمارے لیے کیا مقرر فرماتے ہیں فرمایا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور تقوی کی وصیت کرتا ہوں اور سننے کی اور ماننے کی اگرچہ ایک حبشی غلام تمہارا امیر ہو پس جو شخص تم میں سے میرے بعد زندہ رہے گا تو عنقریب وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا پس تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور خلفائے راشدین میں جو ہدایت یافتہ ہیں کی سنت کو پکڑے رہو اور اسے نواجذ (ڈاڑھوں) سے محفوظ پکڑ کر رکھو اور دین میں نئے امور نکالنے سے بچتے رہو کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
[سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر ١٢١٩، سنت کا بیان :سنت کو لازم پکڑنے کا بیان]

تشریح و توضیح:

حافظ ابن_رجب حنبلی (المتوفی ٧٩٥ ھ) نے تحریر فرمایا : سنّت" اس راہ کا نام ہے جس راہ پر چلا جاۓ، اور یہ اس (راہ کا) تمسک (مظبوط پکڑنا) ہے جس پر وہ (رسول الله صلی الله علیہ وسلم) اور آپ کے" خلفاء راشدین عامل تھے، (عام اس سے کہ) وہ (باتیں) اعتقادات ہوں یا اعمال و اقوال، اور یہی سنّت_کاملہ ہے.[جامع العلوم والحکم: ١/١٩١]

شاہ عبدالحق محدث دھلوی رح (المتوفی:١٠٥٢ھ) اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
جس چیز کے بارے میں حضرات_خلفاء_راشدین نے حکم دیا ہے، اگرچہ وہ ان کے قیاس و اجتہاد سے صادر ہوا ہو، وہ بھی سنّت کے موافق ہے اور اس پر بدعت کا اطلاق ہرگز صحیح نہیں جیسا کہ گمراہ فرقہ کرتا ہے.
[أشعة اللمعات: ١/١٣٠]

شیخ عبد القادر جیلانی (حنبلي) رح نے فرمایا : "ہر مومن کو سنت اور جماعت (اہل_سنّت-والجماعت) کی پیروی کرنا واجب ہے، سنّت اس طریقے کو کہتے ہیں جس پر آپ (صلى الله علیہ وسلم) چلتے "رہے" اور جماعت اسے کہتے ہیں جس پر چاروں خلفاء_راشدین نے اپنے خلافت کے زمانے میں "اتفاق(اجماع)" کیا، یہ لوگ سیدھی راہ دکھانے-والے تھے، کیوں کہ انھیں سیدھی راہ دکھائی گئی تھی."[غنية الطالبين: صفحة # ١٨٥]

اہل سنّت والجماعت اور اہل البدعت کی پہچان:
اہل سنّت و الجماعت (سنّت_نبوی اور جماعت_صحابہ کی پیروی کرنے-والوں) کا عقیدہ ہے کہ جو قول و فعل صحابہ_رسول (صلے الله علیہ وسلم) سے ثابت نہ ہو، وہ بدعت ہے. اس لئے کہ اگر اس میں بہتری(نیکی/بھلائی) ہوتی تو وہ پاک جماعت جو کسی چیز (نیکی) میں پیچھے رہنے والی نہ تھی وہ اسے ترک نہ کرتی.
[تفسیر_ابن_کثیر: سورہ احقاف، آیت # ١١]

==========================================
ہدایت-یافتہ خلفاء کی سنّت 

١) حضرت عمر کے مشورے سے حضرت ابو بکر کا حضرت زید بن ثابت (رضی الله عنہم) کو حکم دیکر قرآن مجید کا جمع کرنا اور اس کی سورتوں کو (موجودہ ترتیب کے ساتھ) مرتب کرنا،

٢) حضرت عمر (رضی الله عنہ) کا "پورا" رمضان "مسجد" میں ٢٠ رکعت تراویح کی جماعت"ایک امام" کی اقتدا میں جاری کرانا، ایک مجلس میں دی گئی طلاق_بتہ(جس کا مانا ایک یا تین ہیں) کو تین (٣) قرار دینا۔

٣) حضرت عثمان کا نماز_جمعہ کے واسطے پہلی اذاں مقرر کرنا جو آج بھی مکّہ و مدینہ بلکہ دنیا کی لاکھوں مسجدوں میں ہوتی ہے.

٤) حضرت علی رضی الله عنہ (اس امت کے قاضی یعنی جج) کا (اور بقیہ صحابہ_کرام رضی الله عنہم کا) ان سے پہلے کے خلفاء کے اجتہادی فیصلوں اور طریقوں پر اتفاق کرتے جاری و ساری رکھنا یعنی ان فیصلوں پر ان کا اتفاق و اجماع قائم رہنا. جس پر چاروں (٤) ائمہ_کرام رحمہم الله کا بھی اتفاق و اجماع ہے.
حدیث کی کتابوں کو لکھنا.وغیرہ



الجماعت:
اسکے دو معنی ہو سکتے ہیں نمبر۱۔صحابہ کی جماعت نمبر۲۔سنت کے ماہر

تو ان معنی کو سامنے رکھتے ہوے اہل سنت و الجماعت کا معنی ہو گا کہ ایسی جماعت جو سنت پر عمل کرتی ہے اور صحابہ سے پوچھ پوچھ کر کرتی ہے۔اسلئے کہ صحابہ ہی وہ جماعت ہے جس نے حضور ﷺ سے عمل لیا اور اسے اسی طرح کیا جس طرح سے حضور نے کیا۔

ہم کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی سنت پر عمل کرو لیکن صحابہ سے پوچھ کر۔کیوں:حضرت امام ابو داود نے اصول ذکر کیا ہے (باب لحم الصید للمحرم میں اور باب من لا یقطع الصلوة شیئ)کتاب میں فرمایا(اذا تنازع الخبران عن النبی ﷺ نظر الیٰ ما عمل اصحابہ بعدہ)

اور امام بخاری اپنے ذوق کے مطابق اصول بیان کرتے ہیں (جلد ۱،ص۵۹ ) پر باب باندھا (انما جعل الامام لیوتم)

اور آگے دو قسم کی احادیث لائے ہیں۔نمبر۱۔حضور ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھی اور صحابہ نے بھی بیٹھ کر نماز پڑھی نمبر۲۔حضور ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھی اور صحابہ کو کہا کہ تم کھڑے ہو کر پڑہو

امام بخاری نے اپنے استاد سے اصول ذکر کیا کہ امام ہمیدی نے ذکر فرمایا کہ ہم دیکھیں گے کہ حضور ﷺ کا آخری عمل کیا تھا تو ہم حضور ﷺ کے آخری عمل کو لے لیں گے۔ (جلد ۱،ص۶۹ )



اہل سنت و الجماعت کا مطلب


سنت: سے مراد ہے قانونِ شریعت
جماعت: سے مراد ہے ماہرینِ قانونِ شریعت
اہلِ سنت والجماعت: تو اہلِ سنت والجماعت کا مطلب یہ ہوا کہ ایسی جماعت جو سنت پر عمل کرے ماہرین قانونِ شریعت سے پوچھ کر۔اور جو شخص اپنی رائے پر عمل کرے یا قانون شریعت پر عمل ہی نہ کرے وہ اہل بدعت ہے۔

ماہرینِ قانونِ شریعت کون ہیں:
۱۔ خلفائے راشدین ۲۔ صحابہ کرام ۳۔ مجتہدین

آخری اور پہلا عمل صحابی بتائے گا۔ لہٰذا ہم کسی بھی عمل کے بارے میں پہلے صحابی سے پوچھیں گے کہ حضور سے اس عمل کے بارے میں دو احادیث ہیں تو آخری عمل کونسا ہے۔

(جاری ہے)
======================================================================

جو دین/نیکی کا کام/طریقہ/حالت، نبوی سنّت اور جماعتِ صحابہ سے ثابت نہ ہو تو وہ بدعت(دین میں نئی بات)ہے.

بدعت کا لغوی معنی


مشہور امامِ لغت ابو الفتح ناصر بن عبد السید المطرازی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 616 ھ )لکھتے ہیں کہ :

بدعت ابتداع کا اسم ہے جس کے معنی یہ ہے کہ کوئی نئی چیز ایجاد کی جائے ،رفعت ارتفاع کا اور خلفت اختلاف کا اسم ہے ۔لیکن پھر بدعت کا لفظ ایسی چیز پر غالب آگیا جو دین میں زیادہ یا کم کردی جائے"(مغرب ج 1 ص 30)

علامہ راغب اصفہانی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 503 ھ) لکھتے ہیں کہ " مذہب میں بدعت کا اطلاق ایسے قول پر ہوتا ہے جس کا قائل یا فاعل صاحب شریعت کے نقش قدم پر نہ چلا ہو ۔اور شریعت کی سابق مثالوں اور اس کے محکم اصولوں پر وہ گامزن نہ ہوا ہو"(مفرادت القرآن ص 37)

بدعت کا شرعی معنی 

حافظ بدرالدین عینی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 855 ھ) لکھتے ہیں کہ " بدعت اصل میں ایسی نو ایجاد چیز کو کہتے ہیں جو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ تھی (عمدۃ القاری ج 5 ص 356)

حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "بدعت اصل میں اس چیز کو کہا جاتا ہے جو بغیر کسی سابق مثال اور نمونہ کے ایجاد کی گئی ہو ۔اور شریعت میں بدعت کا اطلاق سنت کے مقابلہ میں ہوتا ہے لہذا مذموم ہی ہوگی "(فتح الباری ج 4 ص 219)

حافظ ابن رجب رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "بدعت سے مراد وہ چیز ہے جس کی شریعت میں کوئی اصل نہ ہو جو اس پر دلالت کرے ،اور بہرحال وہ چیز جس کی شریعت میں کوئی اصل ہو جو اس پر دال ہے تو شرعا بدعت نہیں ہے اگر چہ لغۃ بدعت ہوگی"(جامع العلوم و الحکم ص 193)

اور بعینہ ان الفاظ سے بدعت کی تعریف علامہ معین بن صفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 889 ھ ) نے شرح اربعین نووی میں کی ہے (الجنہ ص 159

نیز حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "بدیع السمٰوت " کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے بغیر کسی سابق مثال اور نمونہ کے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔اور لغت میں ہر نئی چیز کو بدعت کہا جاتا ہے اور بدعت کی دو قسمیں ہیں ۔(اول)بدعت شرعی جس کے متعلق جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ"کہ ہر نئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ۔۔۔(دوم)کبھی بدعت لغوی ہوئی ہے جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے مل کے تراویح پڑھنے کے متعلق فرمایا "نعمت البدعۃ ھٰذا"یہ کیا ہی اچھی نو ایجاد ہے"۔۔۔۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ اور اسی طرح ہر وہ قول جس کو پہلے کسی نے نہ کیا ہو ،اہل عرب ایسے کام کو بدعت کہتے ہیں "(تفیسر ابن کثیر ج 1 ص 161)



اس سے قبل کے ہم بعت سیئہ اور بدعت حسنہ کی وضاحت کریں مناسب ہے کہ ایک اہم نکتہ کی وضاحت آپ حضرات کے سامنے پیش کردی جائے۔



اہل بدعت کا یہ کہنا کہ جس چیز کی نہیں کتاب و سنت میں موجود نہ ہو اس کا نکالنا اور کرنا برا نہیں ۔۔۔۔ سراسر باطل اور قطعا مردود ہے اور محدثین عظام اور فقہائے کرام کے صریح ضوابط کے خلاف ہے ۔۔علماء اسلام نے اس کی تصریح فرمائی ہے کہ جیسے عزائم سے خدا تعالیٰ کی بندگی اور عبادت و خشنودی کی جاتی ہے اسی طرح رخصتوں سے بھی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی متعلق ہے اور جس طرح جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو کرنا سنت ہی طرح کسی کام کا چھوڑنا بھی سنت ہے ۔ لہذا آپ کے ترک فعل کی اتباع بھی سنت ہے اور اس کی مخالفت بدعت ہے ۔۔۔چناچہ ملاعلی قاری رحمتہ اللہ علیہ اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ ایک حدیث شریف یوں پیش فرماتے ہیں :

"اللہ تعالیٰ جیسے عزائم کی ادائیگی کو پسند کرتا ہے اسی طرح وہ اس کو بھی پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصتوں پر بھی عمل کیا جائے (مرقات ج 2 ص 15)(اشعۃ اللمعات ج 1 ص 12

نیز حضرت ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ مشکوۃ شریف کی پہلی حدیث "انما الاعمال بالنیات"کی شرح میں یہ نقل کرتے ہیں کہ "متابعت جیسے فعل میں ہوتی ہے اسی طرح ترک میں بھی متابعت ہوتی ہے ۔سو جس نے کسی ایسے کام پر مواظبت کی جو شارع علیہ السلام نے نہیں کیا تو وہ بدعتی ہے"(مرقات ج 1 ص 41)

اور اسی موقع پر شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ " اتباع جیسے فعل میں واجب ہے اسی طرح ترک میں بھی اتباع ہوگی ۔سو جس نے کسی ایسے کام پر مواظبت کی جو شارع علیہ السلام نے نہیں کیا وہ بدعتی ہوگا ۔اسی طرح محدثین کرام نے فرمایا ہے "(اشعۃ اللمعات ج 1 ص 20)

شرح مسند امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ میں ہے "اتباع جیسے فعل میں ہے اسی طرح ترک میں بھی ہے سو جس نے ایسے فعل پر مواظبت کی جو شارع علیہ السلام نے نہیں کیا تو وہ مبتدع ہوگا ۔کیوں کہ اس کو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا یہ قول شامل ہے کہ جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا ثبوت نہیں تو وہ مردود ہوگا"(انتہی)(مواہب لطیفہ شرح مسند ابی حنیفہ بحث تلفظ بالنیۃ)


ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ باوجود محرک اور سبب کے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا کسی کام کو نہ کرنا ایسا ہی سنت ہے جیسا کہ آپ کو کسی کام کو کرنا سنّت ہے ۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص آپ کی اس سنت پر عمل نہیں کرتا ،وہ محدثین کرام کی تصریح کے مطابق بدعتی ہوگا۔۔اور یہی کچھ ہم کہنا چاہتے ہیں کہ وہ تمام کام جو اہل بدعت کرتے ہیں اس کے داعی اور محرکات آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی موجود تھے مگر آپ نے ان کو ترک فرمایا اور آپ کا ان کو ترک فرمانا سنت ہے اور اس کی مخالفت بدعت ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِنَّ رَفْعَكُمْ أَيْدِيَكُمْ بِدْعَةٌ ، مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا " ، يَعْنِي : إِلَى الصَّدْرِ .


حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " تمہارے (اس طرح ) ہاتھ اٹھانے بدعت ہیں کیوں کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے سینہ مبارک سے اوپر ہاتھ نہیں اٹھائے "(مسند احمد ج 2 ص 61)

المحدث : أحمد شاكر
المصدر : مسند أحمد الصفحة أو الرقم: 7/163 / خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن



تخريج الحديث
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1إن رفعكم أيديكم بدعة ما زاد رسول الله على هذاعبد الله بن عمرمسند أحمد بن حنبل51145242أحمد بن حنبل241
2إن رفعكم أيديكم في الصلاة لبدعة والله ما زاد رسول الله على هكذا يعني بإصبعهعبد الله بن عمرالمطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية لابن حجر541540ابن حجر العسقلاني852
3رفعكم أيديكم في الصلاة لبدعة والله ما زاد رسول الله على هكذا يعني بأصبعهعبد الله بن عمرإتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة14942 : 368البوصيري840
4رفعكم أيديكم بدعة ما زاد رسول الله على هذا يعني الصدرعبد الله بن عمرإتحاف المهرة8973---ابن حجر العسقلاني852



وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، قَالَ : رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ رَافِعًا يَدَيْهِ ، فَقَالَ قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ ، " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الْمُسَبِّحَةِ " . وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ " ، فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
[صحيح مسلم » كِتَاب الْجُمُعَةِ » بَاب تَخْفِيفِ الصَّلَاةِ وَالْخُطْبَةِ ... رقم الحديث: 1449]

حضرت عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو منبر پر دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو سخت لہجہ میں یوں ارشاد فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کا ناس کرے میں نے تو جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کی انگلی سے زیادہ اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا(اور یہ دونوں ہاتھ اٹھا رہے ہیں) )(مسلم ج 1 ص 287)

تخريج الحديث

 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1ما يزيد على أن يقول بيده هكذا وأشار بإصبعه المسبحةعمارة بن رويبةصحيح مسلم1449875مسلم بن الحجاج261
2ما يزيد على أن يقول هكذا وأشار بالسبابةعمارة بن رويبةجامع الترمذي473515محمد بن عيسى الترمذي256
3ما يزيد على هذه يعني السبابة التي تلي الإبهامعمارة بن رويبةسنن أبي داود9321104أبو داود السجستاني275
4على المنبر وما يشير إلا بإصبعهعمارة بن رويبةسنن الدارمي15291560عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
5على المنبر وما يقول بأصبعه إلا هكذاعمارة بن رويبةسنن الدارمي15301561عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي255
6أشار بإصبعه السبابةعمارة بن رويبةمسند أحمد بن حنبل1688516768أحمد بن حنبل241
7أشار بإصبعه السبابةعمارة بن رويبةمسند أحمد بن حنبل1688716770أحمد بن حنبل241
8ورفع السبابة وحدهاعمارة بن رويبةمسند أحمد بن حنبل1688916773أحمد بن حنبل241
9على المنبر يدعو وهو يشير بإصبععمارة بن رويبةمسند أحمد بن حنبل1792917835أحمد بن حنبل241
10لا يزيد على أن يشير بأصبعهعمارة بن رويبةصحيح ابن خزيمة13731370ابن خزيمة311
11على المنبر وما يقول إلا هكذا يشير بإصبعهعمارة بن رويبةصحيح ابن خزيمة16971691ابن خزيمة311
12يزيد على أن يقول بيده كذا وأشار بأصبعه للسبحةعمارة بن رويبةصحيح ابن حبان889882أبو حاتم بن حبان354
13ما يزيد أن يقول هكذا بيده وأشار بأصبعه المسبحةعمارة بن رويبةالمسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم17721961أبو نعيم الأصبهاني430
14ما يزيد على أن يقول هكذا وأشار بأصبعهعمارة بن رويبةالمسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم17731962أبو نعيم الأصبهاني430
15رأيت بشر بن مروان يوم الجمعة يرفع يديه فقال عمارة بن رويبة قبح الله هاتين اليدين لقد رأيت رسول الله ما يزيد على هذا وأشار بأصبعه السبابةعمارة بن رويبةالسنن الكبرى للنسائي17012 : 278النسائي303
16ما زاد رسول الله على هذا وأشار بأصبعه السبابةعمارة بن رويبةالسنن الكبرى للنسائي17021727النسائي303
17ما يزيد على أن يقول بيده هكذا وأشار بأصبعه المسبحةعمارة بن رويبةالسنن الكبرى للبيهقي53253 : 209البيهقي458
18رأيت رسول الله وما يزيد على هذا وأشار بأصبعه السبابةعمارة بن رويبةالسنن الكبرى للبيهقي53263 : 210البيهقي458
19ما زاد رسول الله على هكذا وأشار بالسبابةعمارة بن رويبةمسند أبي داود الطيالسي13531365أبو داود الطياليسي204
20وما يشير إلا بأصابعهعمارة بن رويبةإتحاف المهرة14227---ابن حجر العسقلاني852
21يقول إلا هكذا وأشار بإصبعه السبابةعمارة بن رويبةمصنف عبد الرزاق51335279عبد الرزاق الصنعاني211
22ما يزيد على أن يقول بيده هكذا وأشار بإصبعه المسبحةعمارة بن رويبةمصنف ابن أبي شيبة50725249ابن ابي شيبة235
23ما يزيد على أن يقول بيديه هكذا وأشار بإصبعه المسبحةعمارة بن رويبةمصنف ابن أبي شيبة53535536ابن ابي شيبة235
24على المنبر يشير بيدهعمارة بن رويبةمعجم الصحابة لابن قانع11781321ابن قانع البغدادي351
25ما يزيد على هكذا وأشار بالسبابةعمارة بن رويبةالمعجم المختص بالمحدثين الذهبي43---الذهبي748
26على المنبر فما يزيد على أن يشير بإصبعهعمارة بن رويبةالجزء الرابع من حديث ابن البختري93336أبو جعفر بن البختري339
27يخطب وهو رافع يديه على المنبر يخطب وما يزيد على أن يشير بإصبعهعمارة بن رويبةغوامض الأسماء المبهمة لابن بشكوال351---ابن بشكوال578
28ما يزيد أن يقول هكذا وأشار بالسبابةعمارة بن رويبةغوامض الأسماء المبهمة لابن بشكوال352---ابن بشكوال578
29على المنبر فما يزيد على أن يشير بأصبعهعمارة بن رويبةذم الكلام وأهله لعبد الله الأنصاري411432عبد الله بن محمد الأنصاري481
30ما يزيد على أن يقول هكذا وأشار بالسبابةعمارة بن رويبةشرح السنة10691079الحسين بن مسعود البغوي516
31ما يزيد على أن يقول بيده هكذا وأشار بالمسبحةعمارة بن رويبةالآحاد والمثاني لابن أبي عاصم14151581ابن أبي عاصم287
32يدعو ما يزيد على أن يشير بإصبعيهعمارة بن رويبةتاريخ واسط لأسلم بن سهل الرزاز2441 : 98أسلم بن سهل الرزاز292
33يدعو ويشير بأصبعه السبابةعمارة بن رويبةالثقات لابن حبان681 : 396أبو حاتم بن حبان354
34ما زاد رسول الله على هكذا وأشار بالسبابةعمارة بن رويبةمعرفة الصحابة لأبي نعيم47765245أبو نعيم الأصبهاني430
35رأيت رسول الله وما يزيد أن يقول هكذاعمارة بن رويبةتاريخ دمشق لابن عساكر8355---ابن عساكر الدمشقي571
36رأيت رسول الله على المنبر يدعو وهو يشير بأصبععمارة بن رويبةتاريخ دمشق لابن عساكر835610 : 259ابن عساكر الدمشقي571
37ما يزيد أن يشير بأصبعهعمارة بن رويبةتاريخ دمشق لابن عساكر835710 : 260ابن عساكر الدمشقي571
38يدعو على المنبر يشير بأصابعهعمارة بن رويبةتاريخ ابن أبي خيثمة6793713ابن أبي خيثمة279
39ما يزيد على أن يقول هكذا أشار بالسبابةعمارة بن رويبةأسد الغابة1175---علي بن الأثير630



حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ 
فَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَاجْتَنِبْهُ ، فَإِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا ذَلِكَ " ، يَعْنِي لَا يَفْعَلُونَ إِلَّا ذَلِكَ الِاجْتِنَابَ.


دعا میں سجع (قافیہ آرائی) سے بچو کیوں کہ جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام دعا میں سجع نہیں کیا کرتےتھے


 (صحیح بخاری ج 2 ص 93)



الراوي : عائشة أم المؤمنين / المحدث : الهيثمي / المصدر : مجمع الزوائد

الصفحة أو الرقم: 1/196 / خلاصة حكم المحدث : رجاله رجال الصحيح


الشواهد
 م طرف الحديثالصحابياسم الكتابأفقالعزوالمصنفسنة الوفاة
1اجتنب السجع من الدعاءعائشة بنت عبد اللهمسند أحمد بن حنبل2524625291أحمد بن حنبل241
2قص في الجمعة مرة فإن أبيت فمرتين فإن أبيت فثلاثا لا ألفينك تأتي القوم وهم في حديثهم فتقطعه عليهم ولكن إن استمعوا حديثك فحدثهم اجتنب السجع في الدعاءعائشة بنت عبد اللهصحيح ابن حبان990978أبو حاتم بن حبان354
3اجتنب السجع من الدعاءعائشة بنت عبد اللهمسند إسحاق بن راهويه14541634إسحاق بن راهويه238
4لا يسجعونعائشة بنت عبد اللهالمقصد العلي في زوائد أبي يعلى الموصلي جزء15251710الهيثمي807
5انظر السجع من الدعاء فاجتنبهعبد الله بن عباسالمعجم الكبير للطبراني1178211943سليمان بن أحمد الطبراني360
6انظر السجع من الدعاء فاجتنبهعبد الله بن عباسموضح أوهام الجمع والتفريق للخطيب2221 : 189الخطيب البغدادي463
7إياك والسجع في الدعاء قص على الناس في كل جمعة مرة فإن أبيت فمرتين فإن أكثرت فثلاث ولا تمل الناس لا ألفينك تأتي القوم وهم في حديث من حديثهم فتقطع عليهم فتغمهم ولكن أنصت فإذا حدوك عليه وأمروك به فحدثهمعائشة بنت عبد اللهتاريخ المدينة لابن شبة2729ابن شبة النميري262
8لم يكونوا يسجعونعائشة بنت عبد اللهالدعاء للطبراني4854سليمان بن أحمد الطبراني360


آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمارہ رضی اللہ عنہ تینوں جلیل القدر صحابی ہیں اور وہ ایسے امور کا سختی سے رد فرمارہے ہیں جو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ۔۔۔۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ دعا میں سجع کرنے سے صرف اس لئے منع کرتے ہیں کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا۔

علامہ سدید الدین کاشغری الحنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ "رات کے وقت آٹھ رکعت سے زیادہ اور دن کے وقت چار رکعت سے زیادہ ایک سلام کے ساتھ نفلی نماز پڑھنا آئمہ احناف کے اجماع سے مکروہ ہے"(منیۃ المصلیٰ ص 102)

اور نہرالفائق میں اس کی تصریح موجود ہے کہ مکروہ تحریمی ہے ۔۔۔حضرات فقہائے احناف نے اس کی دلیل یہ پیش کی ہے "لعدم وردود الاثربہاس لئے مکروہ ہے کہ اس کے لئے کوئی اثر اور دلیل موجود نہیں ہے

اور علامہ علاوالدین ابو بکر بن مسعود الکاسانی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 587ھ) بعض فقہائے کرام سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "اس لئے مکروہ ہے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے اس سے زیادہ مروی نہیں ہے"(البدائع والصنائع ج 1 ص 295)

ملاحظہ فرمایا آپ نے کہ حضرات فقہائے کرام نے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام کے عدم فعل کو ایک مستقل قاعدہ اور ضابطہ سمجھ کر متعدد مقامات میں اس سے استدلال کیا ہے

صاحب ہدایہ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ "اور عید گاہ میں نماز عید سے پہلے نماز نہ پڑھی جائے کیوں کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے باوجود نماز پر حریص ہونے کے ایسا نہیں کیا پھر اس میں اختلاف ہے کہ یہ کراہت عیدہ گاہ کے ساتھ خاص ہے ،یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید گاہ اور غیر عید گاہ دونوں میں کراہت ہوگی کیوں کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ اور غیر عید گاہ دونوں میں نماز نہیں پڑھی"(ہدایہ ج 1 ص 153)
آپ نے ملاحظ فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے عدم فعل کو حجت اور دلیل کو طور پر پیش کیا حالانکہ صراحتہ مرفوع حدیث سے نہی اس پر پیش کرنا ایک دشوار امر ہے کہ آپ نے عید گاہ میں یا عید کے دن کسی دوسری جگہ نفل پڑھنے سے علی الخصوص منع کیا ہے ۔۔۔ تو پھر اہل بدعت کے نزدیک اس فعل کو برا اور مکروہ نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی نہی اس پر موجود نہیں 
علامہ ابراہیم حلبی الحنفی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 956ھ) نے صلوۃ رغائب(جو رجب میں پڑھی جاتی ہے)وغیرہ کے بدعت اور مکروہ ہونے کی یہ دلیل پیش کی ہے "حضرات صحابہ کرام اور تابعین کرام اور بعد کے آئمہ مجتہدین سے یہ منقول نہیں ہے"(کبیری ص 433)
اور مشہور حنفی امام احمد بن محمد رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 446ھ ) ایک مسئلہ کی تحقیق میں یوں ارقام ہیں "یہ بدعت ہے حضرات صحابہ کرام اور تابعین کرام سے منقول نہیں ہے"(الواقعات)
بدعت کی دو قسمیں ہیں ۔۔۔۔لغوی بدعت اور شرعی بدعت
لغوی بدعت ہر اُس نو ایجاد کا نام ہے جو آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیدا ہوئی ۔۔عام اس سے وہ عبادت ہو یا عادت ۔۔۔۔ اور اس کی پانچ قسمیں ہیں ۔واجب ،مندوب ،حرام ،مکروہ ،مباح ۔۔۔۔ اور شرعی بدعت وہ ہے جو قرون ثلاثہ کے بعد پیدا ہوئی اور اُس پر قولا” فعلا”،صراحۃ” اور اشارۃ” کسی طرح بھی شارع کی طرف سے اجازت موجود نہ ہو ۔۔یہی وہ بدعت ہے جس کو بدعت ضلالۃ اور بدعت قبیحہ اور بدعت سیئہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور علماء نے اس کی تصریح کی ہے۔۔ملاحظہ فرمائیں:
بدعت کی دو قسمیں ہیں ۔ایک لغوی بدعت ،اور دوسری شرعی بدعت ۔۔لغوی بدعت ہر نو ایجاد کا نام ہے جو عبادت یا عادت ،اور اسی بدعت کی پانچ قسمیں کی جاتیں ہیں ۔اور دوسری وہ بدعت ہے جو طاعت کی مد میں کسی مشروع امر پر زیادت (یا کمی) کی جائے مگر ہو قرون ثلاثہ کے ختم ہونے کے بعد اور یہ زیادتی شارع کے اذن سے نہ ہو ،اس پر شارع کا قول موجود ہو اور نہ فعل نہ صراحت اور نہ اشارہ اور بدعت ضلالہ سے یہی مراد ہے"(ترویج الجنان ۔۔والجنہ ص 161)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ :
"والتحقیق انھا ان کانت مما تندرج تحت مستحسن فی الشرع فھی حسنۃ وان کانت مما تندرج تحت مستقبح فی الشرح فھی مستقبحۃ والافھی من قسم المباح وقد تنقسم الی الاحکام الخمسۃ(فتح الباری ج 4 ص 219)
یعنی تحقیق یہ ہے کہ اگر بدعت ،شریعت کی کسی پسندیدہ دلیل کے تحت داخل ہے تو وہ بدعت حسنہ ہوگی اور اگر وہ شریعت کی کسی غیر پسندیدہ دلیل کے تحت داخل ہے تو وہ بدعت قبیحہ ہوگی ،ورنہ مباح ہوگی اور بدعت پانچ اقسام کی طرف منسقم ہے
اس کے قریب قریب عبارت علامہ عینی رحمتہ اللہ علیہ کی ہے (ملاحظہ ہو عمدۃالقاری ج 5 ص 356)
اب اس بات پر غور کرنا باقی رہ جاتا ہے کہ "مستحسن فی الشرع" کیا ہے اور "مستقبح فی الشرع" کیا ہے?
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ (المتوفی 204 ھ )فرماتے ہیں کہ
"بدعت کی دو قسمیں ہیں ایک وہ بدعت جو کتاب سنت یا اجماع یا کسی صحابی کے اثر کے مخالف ہو ایسی بدعت گمراہی ہے اور دوسری وہ بدعت ہے جو ان میں سے کسی ایک کے مخالف نہ ہو تو ایسی بدعت کبھی اچھی ہوتی ہے جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا ہی اچھی نو ایجاد اور بدعت ہے"(موافقہ صریح المعقول الصحیح المنقول لابن تیمیہ علیٰ منہاج السنۃ ج 2 ص 12
اس کی پوری تحقیق آپ حضرات ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ مخالفت جیسے قول میں ہوتی ہے اسی طرح فعل میں بھی مخالفت ہوتی ہے۔۔۔جو کام آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے باوجود داعی و اسباب کے ترک کیا اور خیرالقرون نے بھی اُسے ترک کیا تو وہ یقینا بدعت اور ضلالت ہوگا۔۔۔کیوں کہ وہ کتاب و سنت اور اجماع خیر القرون اور قیاس صحیح کے مخالف ہے۔۔۔ اور جو ان میں سے کسی دلیل میں داخل ہو تو وہ کبھی اچھا ہوگا جس پر ثواب ملے گا اور کبھی مباح ہوگا جس پر نہ ثواب ہوگا یا عقاب۔
اس بحث کو مد نظر رکھتے ہوئے بدعت حسنہ اور سیئہ کی تعریف یوں ہوگی ۔۔۔بدعت حسنہ وہ دینی کام جس کا مانع آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بعد زائل ہوگیا ہو ۔۔۔یا اس کا داعیہ یا محرک اور سبب بعد کو پیش آیا ہو اور کتاب و سنت اور اجماع و قیاس سے اس پر روشنی پڑتی ہو اور ان میں سے کسی دلیل سے اس کا ثبوت ملتا ہو تو وہ بدعت حسنہ اور باالفاظ دیگر لغوی بدعت ہوگی جو مذموم نہیں ہے علامہ ابن رجب رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کی عبارتیں بھی پیش کی جاچکیں ہیں جو اس پر صراحت سے دلالت کرتیں ہیں ۔۔۔۔اور جس چیز کا محرک اور داعیہ اور سبب آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں موجود تھا مگر وہ دینی کام آپ نے نہیں کیا اور حضرات صحابہ کرام اور تابعین و تبع تابعین کرام نے بھی باوجود کمال عشق و محبت اور محرکات و اسباب کے نہیں کیا تو وہ کام بدعت قبیحہ اور بدعت سیئہ اور بدعت شرعیہ کہلائے گا جو ہر حالت میں مذموم اور ضلالت و گمراہی ہوگا۔۔۔باقی غیر مجتہد کا اجتہاد خصوصا اس زمانہ میں ہرگز کسی بدعت کا حسنہ نہیں قرار دے سکتا ۔۔۔چناچہ حضرات فقہائے کرام نے اس کی تصریح کی ہے کہ "نصاب الفقہ میں ہے کہ بدعت حسنہ وہ ہے جس کو حضرات مجتہدین نے بدعت حسنہ قرار دیا ہو ۔۔۔اور اگر کوئی شخص اس زمانہ میں کسی چیز کو بدعت حسنہ قرار دے گا تو وہ حق کے خلاف ہے کیوں کہ مصفی میں ہے کہ ہمارے زمانہ میں ہر بدعت گمراہی ہے"(انتہی)(فتاوی جامع الروایات)(والجنہ ص 60)

اسی عبارت سے صراحت کے ساتھ یہ بات واضح ہوگئی کہ بدعت حسنہ صرف وہی ہوگی جس میں حضرات مجتہدین کا اجتہاد کا فرما ہوگا ،اور اجتہاد اور قیاس صرف اُن احکام و مسائل میں ہی ہوسکتا ہے جو غیر منصوص ہوں اور ان کے دواعی اور اسباب آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور خیرالقرون میں موجود نہ ہوں بلکہ بعد میں ظہور پذیر ہوئے ہوں ۔۔۔اس نئی تہذیب کے زمانے میں جو شخص بدعت کو حسنہ قرار دیتا ہے اس کا قول سراسر باطل اور مردود ہے۔



























بدعت غیر-ضروری کیوں؟

ما تركت من شيءٍ يقربُكم إلى الجنةِ إلا وقد حدثتكم به ، ولا تركتُ من شيءٍ يبعدُكم عن النارِ إلا وقد حدثتكم به
الراوي : - المحدث : الألباني
المصدر : النصيحة الصفحة أو الرقم: 232 خلاصة حكم المحدث : إسناده صحيح

ترجمہ : نہیں چھوڑی میں نے کوئی (خیر کی) شئی جو قریب کرے تمہیں جنّت کے مگر وہ کرچکا میں بیان تمہیں، اور نہیں چھوڑی میں نے کوئی (شر کی) شئی جو قریب کرے تمہیں (جہنم کی) آگ کے مگر وہ بھی کرچکا میں بیان تمہیں.



ما تركتُ شيئًا مما أمركم اللهُ به إلا قد أمرتُكم به ، وما تركتُ شيئًا مما نهاكم عنه إلا قد نهيتُكم به
الراوي : المطلب بن عبدالله بن حنطب المحدث : الألباني
المصدر : السلسلة الصحيحة الصفحة أو الرقم: 4/417 خلاصة حكم المحدث :إسناده مرسل حسن

المصدر : السلسلة الصحيحة الصفحة أو الرقم: 2866 خلاصة حكم المحدث :حسن على أقل الأحوال
المصدر : صحيح الترغيب الصفحة أو الرقم: 1700 خلاصة حكم المحدث : صحيح لغيره
المصدر : الترغيب والترهيب الصفحة أو الرقم: 3/9 خلاصة حكم المحدث : [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما]
المصدر : إتحاف الخيرة المهرة الصفحة أو الرقم: 3/271 خلاصة حكم المحدث :له شاهد


کیا ہر نئی چیز بدعت ہے؟

احادیث میں جس بدعت کی مذمت آئی ہے اس سے وہ بدعت مراد ہے جسے شرعی اعتبار سے بدعت کہا جائے، اس لئے ہر نئی بات کو بدعت ممنوعہ نہیں کہا جاسکتا، بلکہ جو عمل "فی الدین"یعنی دین (میں) کے اندر بطور اضافہ اور کمی بیشی کے ہو اور اسے دین قرار دے کر اور عبادات وغیرہ دینی امور کی طرح ثواب اور رضائے الہی کا ذریعہ سمجھ کر کیا جائے ، حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی دلیل نہ ہو ، نہ قرآن و سنت (نبوی و خلفاء_راشدین) سے، اور نہ قیاس و اجتہاد سے (دینی ضرورت کے سبب جیسے عربی علوم الصرف و النحو کا سیکھنا وغیرہ)؛  تو  (وہ دین میں) بدعت ہے۔ جیسے عیدین کی نماز میں اذان اور اقامت کا اضافہ وغیرہ وغیرہ (کیونکہ اس کا نہ تو حکم ہے اور نہ ہی کوئی دین کا کوئی نقصان اس پر موقوف ہے جو ضرورت ہو).


اور جو نیا کام "للدین"ہو یعنی دین کے (استحکام و مضبوطی اور دینی مقاصد کی تکمیل و تحصیل کے) لئے ہو اسے بدعت ممنوعہ نہیں کہا جاسکتا جیسے جمع قرآن کا مسئلہ، قرآن میں اعراب لگانا،کتب احادیث کی تالیف اور ان کی شرحیں لکھنا اور ان کتابوں کا صحیح بخاری ،صحیح مسلم وغیرہ نام رکھنا، (اور حفاظت کے لیے محدثین کا اپنے اجتہاد سے اصول_حدیث بنانا) اور اسی طرح احکام فقہ کا مدون کرنا اور ان کو مرتب کرنا اور مذاہب اربعہ کی تعیین اور ان کا حنفی ، شافعی ،مالکی اور حنبلی نام رکھنا ، مدارس مکاتب اور خانقاہیں بنانا،ان تمام امور کو بدعت نہیں کہا جاسکتا،اسی طرح آج کل کی نو ایجاد چیزیں ،سفر کے جدید ذرائع ، ریل موٹر ہوائی جہاز وغیرہ وغیرہ ،ان چیزوں کو بھی بدعت نہیں کہا جائےگا ،اس لئے کہ ان کو دین اور ثواب اور رضائے الہی کا کام سمجھ کر استعمال نہیں کیا جاتا، لہٰذا جو لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ جب ہر نئی چیز بدعت ہے تو یہ تمام نو ایجاد اشیاء بھی بدعت ہونا چاہئے اور ان کو استعمال نہ کرنا چاہئےیہ صریح جہالت ہے یا عوام کو دھوکہ دینا ہے۔ (فتاویٰ رحیمیہ:۱۹۰/۲)





بدعت کی برائی:
غیر-دین کو دین بنانا ، کسی کام کو اچھا یا برا خود قرار دینا ایک طرح سے خود کو خدا بنانا ہے. دین کو نامکمل اور نبی پر پورا دین نہ پہنچانے یا چھپانے کا الزام لگانا اور خود کو خدا کا پیغام(دین) پہنچانے والا نبی ہونے کا خفیہ دعوا کرنا بدعت کی سب سے خطرناک برائی اور تلبیس ابلیس ہے ہے.

قرآن :
أَم لَهُم شُرَكٰؤُا۟ شَرَعوا لَهُم مِنَ الدّينِ ما لَم يَأذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَولا كَلِمَةُ الفَصلِ لَقُضِىَ بَينَهُم ۗ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ {42:21} 

کیا ان کے لئے اور شریک ہیں کہ راہ ڈالی ہے انہوں نے انکے واسطے دین کی کہ جس کا حکم نہیں دیا اللہ نے [۳۰] اور اگر نہ مقرر ہو چکی ہوتی ایک بات فیصلہ کی تو فیصلہ ہو جاتا ان میں اور بیشک جو گنہگار ہیں انکو عذاب ہے دردناک [۳۱] 
[۳۰] یعنی اللہ تعالیٰ نے نبیوں کی زبانی آخرت کا اور دین حق کا راستہ بتلاد یا۔ کیا اسکے سوا کوئی اور ہستی ایسی ہے جسے کوئی دوسرا راستہ مقرر کرنے کا حق اور اختیار حاصل ہو کہ وہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال اور حلال کی ہو ئی چیزوں کو حرام ٹھہرا دے۔ پھر آخر ان مشرکین نے اللہ کی وہ راہ چھوڑ کر جو انبیاء علیہم السلام نے بتلائی تھی دوسری راہیں کہاں سے نکال لیں۔
[۳۱] یعنی فیصلہ کا وعدہ ہے اپنے وقت پر۔



أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ {45:23} 
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے اور باوجود جاننے بوجھنے کے (گمراہ ہو رہا ہے تو) خدا نے (بھی) اس کو گمراہ کردیا اور اس کے کانوں اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب خدا کے سوا اس کو کون راہ پر لاسکتا ہے۔ بھلا تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے؟ 

... قُل إِنَّ الأَمرَ كُلَّهُ لِلَّهِ ... {3:154}
... تم کہہ دو کہ بےشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں ...

أَلا يَعلَمُ مَن خَلَقَ وَهُوَ اللَّطيفُ الخَبيرُ {67:14} 
بھلا وہ نہ جانے جس نے بنایا اور وہی ہے بھید جاننے والا خبردار 
====================
وَما هُوَ عَلَى الغَيبِ بِضَنينٍ {81:24} 
اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں 
یعنی یہ پیغمبر ہر قسم کے غیوب کی خبر دیتا ہے ماضی سے متعلق ہوں یا مستقبل سے۔ یا اللہ کے اسماء و صفات سے یا احکام شرعیہ سے یا مذاہب کی حقیقت و بطلان سے یا جنت ودوزخ کے احوال سے یا واقعات بعدالموت سے اور ان چیزوں کے بتلانے میں ذرا بخل نہیں کرتا نہ اُجرت مانگتا ہے۔ نہ نذرانہ، نہ بخشش، پھر کاہن کا لقب اُس پر کیسے چسپاں ہو سکتا ہے، کاہن محض ایک جزئی اور نامکمل بات غیب کی سو جھوٹ ملا کربیان کرتا ہے اور اُس کے بتلانے میں بھی اس قدر بخیل ہے کہ بدون مٹھائی یا نذرانہ وغیرہ وصول کیے ایک حرف زبان سے نہیں نکالتا۔ پیغمبروں کی سیرت سے کاہنوں کی پوزیشن کو کیا نسبت۔ 

... اليَومَ أَكمَلتُ لَكُم دينَكُم وَأَتمَمتُ عَلَيكُم نِعمَتى وَرَضيتُ لَكُمُ الإِسلٰمَ دينًا ۚ ... {5:3}
...  آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا.


مِنَ الَّذينَ فَرَّقوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزبٍ بِما لَدَيهِم فَرِحونَ {30:32}
جنہوں نے کہ پھوٹ ڈالی اپنے دین میں اور ہو گئے ان میں بہت فرقے ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر فریفتہ ہے [۳۸]
(اور نہ) اُن لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور (خود) فرقے فرقے ہو گئے۔ سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو اُن کے پاس ہے
یعنی دین فطرت کے اصول سے علیحدہ ہو کر ان لوگوں نے اپنے مذہب میں پھوٹ ڈالی، بہت سے فرقے بن گئے۔ ہر ایک کا عقیدہ الگ، مذہب و مشرب جدا، جس کسی نے غلط کاری یا ہوا پرستی سے کوئی عقیدہ قائم کر دیا یا کوئی طریقہ ایجاد کر لیا۔ ایک جماعت اسی کے پیچھے ہو گئ، تھوڑے دن بعد وہ ایک فرقہ بن گیا۔ پھر ہر فرقہ اپنے ٹھہراے ہوئے اصول و عقائد پر خواہ وہ کتنے ہی مہمل کیوں نہ ہوں ایسا فریفتہ اور مفتون ہے کہ اپنی غلطی کا امکان بھی اس کے تصور میں نہیں آتا۔

ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّۦنَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا {33:40} 
محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے.




شرک کے بعد سب سے زیادہ برائی بدعت کی آئی ہے 
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ الله فرماتے ہیں: ”آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے بدعت کی جتنی مذمت فرمائی ہے شاید کفر وشرک کے بعد کسی او رچیز کی اتنی برائی نہیں کی ۔“ (اختلاف امت اور صراطِ مستقیم :74)

دین میں اضافہ الله تعالیٰ کے ہاں ناقابل قبول ہے
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات نکالی تو وہ مردود ہو گی ۔“( بخاری:371/1)

بدعت کی نحوست کی وجہ سے سنت کے نور سے محرومی ہو جاتی ہے 
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جب کوئی قوم اپنے دین میں کوئی بدعت گھڑ لیتی ہے تو الله تعالیٰ اسی کے بقدر سنت اس سے چھین لیتے ہیں او رپھر قیامت تک ان کی طرف واپس نہیں لوٹاتے۔“ ( مشکوٰة:31/1)

نیز فرمایا:” جب کوئی قوم کوئی بدعت ایجاد کر لیتی ہے تو اس کی مثل سنت اس سے اٹھالی جاتی ہے ، اس لیے چھوٹی سے چھوٹی سنت پر عمل کرنا بظاہر اچھی سے اچھی بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے ۔“ (ایضا)

بدعت شیطان کا جال ہے
حضرت صدیق اکبر رضی الله تعالی عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” ابلیس نے کہا میں نے انہیں گناہوں کے ذریعہ ہلاک کیا اور لوگوں نے مجھے استغفار کرکے ہلاک کیا، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے انہیں خواہشات نفسانی ( بدعات) سے ہلاک کیا، تو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں اور استغفار نہیں کرتے۔“ ( الترغیب والترہیب:46/1)

پل صراط پر دیرنہ لگنے کا طریقہ
حضرت حسن بصری رحمہ الله فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر تم چاہتے ہو کہ پل صراط پر تمہیں دیرنہ لگے اور سیدھے جنت میں جاؤ تو الله تعالیٰ کے دین میں اپنی رائے سے کوئی نیا طریقہ پیدا نہ کرو۔ (سنت و بدعت بحوالہ اعتصام)

بدعت کی وجہ سے حوض کوثر کا پانی نصیب نہ ہو گا
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” میں حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص میرے پاس آئے گا وہ اس کا پانی پئے گا او رجو ایک بارپی لے گا ،پھر اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی ، کچھ لوگ میرے پاس وہاں آئیں گے ، جن کو میں پہچانتا ہوں گا او روہ مجھے پہچانتے ہوں گے، مگر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی جائے گی ، میں کہوں گا کہ یہ تو میرے آدمی ہیں۔ مجھے جواب ملے گا کہ آپ نہیں جانتے، انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا؟ یہ جواب سن کر میں کہوں گا:” پھٹکار، پھٹکار ان لوگوں کے لیے جنہوں نے میرے بعد میرا طریقہ بدل ڈالا۔“ (مشکوٰة:488)

بدعتیں کس قدر عام ہوں گی؟
حضرت حذیفہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا، خدا کی قسم! آئندہ زمانے میں بدعتیں اس طرح پھیل جائیں گی کہ اگر کوئی شخص اس بدعت کو چھوڑ دے گا تو لوگ کہیں گے کہ تم نے سنت چھوڑ دی۔ ( سنت وبدعت)

ہر سال بدعتوں میں اضافہ ہو گا
حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ آئندہ لوگوں پر کوئی نیا سال نہیں آئے گا جس میں وہ بدعت ایجاد نہیں کریں گے اور کسی سنت کو مردہ نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ بدعتیں زندہ اور سنتیں مردہ ہو جائیں گی۔ (ایضا)

اتباعِ سنت کیا ہے ؟
حضرت ابوعلی جوزانی رحمہ الله سے پوچھا گیا اتباع سنت کیا ہے ؟ فرمایاکہ بدعات سے اجتناب او ران عقائد واحکام کا اتباع جن پر پچھلے علمائے اسلام کا اتفاق ہے او ران کی پیروی کو لازم سمجھنا ۔ ( ایضا)

بدعتی کا کوئی عمل مقبول نہیں
رسول کریم ا نے فرمایا: ”الله تعالیٰ بدعتی کا نہ روزہ قبول کرتا ہے ، نہ نماز، نہ حج ، نہ عمرہ، نہ جہاد، نہ نفل، نہ فرض ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح آٹے سے بال نکل جاتا ہے ۔“ (الترغیب والترہیب:46/1)

بدعتی کی تعظیم کرنا ممنوع ہے
حضرت ابراہیم بن میسرة رضی الله تعالی عنہ نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جس شخص نے کسی بدعتی کی تعظیم کی تو اس نے اسلام کو گرانے میں مدد دی ۔“

بدعتی آں حضرت ا پر خیانت کا الزام لگاتا ہے
امام مالک رحمہ الله نے فرمایا جو شخص کوئی بدعت ایجاد کرتا ہے تو وہ گویا یہ دعوی کرتا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ( معاذ الله) رسالت میں خیانت کی کہ پوری بات نہیں بتائی ( اور میں بتا رہا ہوں )۔ نیز فرمایا جو کام اس زمانے میں دین نہیں تھا وہ آج بھی دین نہیں کہا جاسکتا ۔ ( سنت و بدعت)

بدعتی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ہے
الله تعالیٰ فرماتے ہیں :”آپ فرمائیے! کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ کون لوگ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں، وہ لوگ جن کی کوشش عمل دنیا کی زندگی میں ضائع اور بے کار ہو گئی او روہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم اچھا عمل کر رہے ہیں۔ “( سورة الکہف:104,103)

بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” الله تعالیٰ نے ہر بدعتی پر توبہ کا دروازہ بند کر دیا ہے ۔ ( مجمع)

بدعتی کی نماز اسے الله تعالیٰ کے قریب نہیں کرتی
حضرت حسن رحمہ الله نے فرمایا:” بدعتی جتنا زیادہ روزہ او رنماز میں مجاہدہ کرتا ہے اتنا ہی الله تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے۔“ نیز فرمایا: ” بدعتی کے پاس نہ بیٹھو ، وہ تمہارے دل کو بیمار کر دے گا۔“ ( سنت و بدعت)

بدعتی کو توبہ نصیب نہیں ہوتی
حضرت ابو عمر وشیبانی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ بدعتی کو توبہ نصیب نہیں ہوتی۔

بدعتوں کے پھیلنے پر علمائے کرام کی ذمہ داری
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” جب میری امت میں بدعتیں پیدا ہو جائیں اور میرے صحابہ کو برا کہا جائے تو اس وقت کے عالم پر لازم ہے کہ وہ اپنے علم کو ظاہر کرے اور جو ایسا نہ کرے گا تو اس پر الله تعالیٰ اور فرشتوں اور سارے لوگوں کی لعنت ہے۔“

بدعت کیا ہے ؟
جو چیز آں حضرت صلی الله علیہ وسلم صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہم، تابعین او رتبع تابعین رحمہم الله کے دور میں معمول ومروج نہ رہی ہو اسے دین کی بات سمجھ کر کرنا، بدعت کہلاتا ہے۔ (اختلاف امت:72)

لوگ بدعتوں میں کیوں مبتلا رہتے ہیں؟
اس کی پہلی وجہ جہالت ہے ، کہ اصل سنت ودین کا بہت سے لوگوں کو پتہ نہیں او رنہ سیکھنے کی طلب ہے۔

دوسری وجہ شیطان کا بہکانا ہے ، کہ شیطان بنی آدم کا بھلا کبھی نہیں چاہ سکتا ، وہ لوگوں کو بدعت کے نت نئے راستوں پر چلاتا ہے۔

تیسری وجہ شہرت پسندی کامرض ہے کہ چھپ کر صدقہ کرنے میں وہ دکھاوا کہاں ہو سکتا ہے۔ جو مسجدوں، گھروں اور سڑکوں کو سجانے میں ہوتا ہے۔

چوتھی وجہ غیر قوموں کی تقلید ہے کہ انہوں نے اہم شخصیات کے دن منائے تو مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی دن منانے میں لگ جاتے ہیں۔( ملخص از اختلاف امت)

سنت اور بدعت کی پہچان
جس طرح اصلی نوٹ پورے پاکستان میں ایک ہوتا ہے ، جب کہ جعلی کئی طرح کے ، کمپنیوں کی مصنوعات اصلی ایک سی اور جعلی کئی طرح کی ہوتی ہیں، اسی طرح سنت او راس کا رنگ پوری دنیا میں ایک جیسا ہو گا جب کہ بدعات او ررسم ورواج ہر جگہ کے الگ ہوں گے ۔

رسول کریم صلی الله علیہ وسلم، صحابہ رضی الله عنہم، تابعین وتبع تابعین رحمہم الله کے مبارک زمانوں میں 12 ربیع الاول کی بدعات، محرم کی بدعات، صفر کو منحوس سمجھنا، رجب کے کونڈے، سوئم، چہلم، عرس، جنازہ کے بعد دعا ،قبر پر اذان اور عہد نامہ رکھنے کی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی۔

قارئین کرام! حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے بہشتی زیور او راغلاط العوام میں ، مفتی محمد شفیع رحمہ الله نے ” سنت وبدعت “ نامی رسالے میں ، حضرت لدھیانوی رحمہ الله نے ” اختلاف امت اور صراطِ مستقیم“ میں ،مولانا سرفراز خان صاحب صفدر نے ” راہِ سنت“ میں بدعات جمع فرمائی ہیں ، مگر دین دار سے دین دار گھرانے کے حضرات ذرا اپنی خوشی او رغمی کے مواقع پر گھر کی خواتین کے معمولات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ آج بھی ہم کس قدر بدعات او ررسم ورواج کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بہرحال حکمت وبصیرت سے، اگر ابھی سے ہم نے گھر کے افراد، بالخصوص خواتین کی ” ذہن سازی‘ نہ کی تو عین موقع پر ہمارا ان کو سمجھا نا فائدہ مند نہ ہو گا۔ الله کریم ہمیں سنتوں کو عام کرنے اور بدعات او ررسوم ورواج کو ختم کرنے کا ذریعہ بنائے!

وصلی الله علی سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین






No comments:

Post a Comment