Sunday, 17 March 2013

اسلام میں فتویٰ کی اہمیت و ضرورت


فتویٰ  (کسی سوال کا جواب دینا) کوئی غیر اسلامی یا بدعتی فعل نہیں، بلکہ یہ اسلام کی نبوت پر ایک اہم زمیداری ہے، جو الله تعالیٰ نے اپنے آخری نبی صلی الله علیہ وسلم کے فرمان : علماء انبیاء کے (علوم دینیہ کے) وارث ہیں، کے مطابق علماء پر عائد کی ہے :
(١) سو پوچھو اہلِ علم سے اگر تم نہیں جانتے. [النحل: ٤٣، الانبیاء : ٧]
(٢) اور مسلمانوں کے لئے یہ بھی مناسب نہیں کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لئے) نکل کھڑے ہوں، لہذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لئے) نکلا کرے، تاکہ (جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں) وہ دین کی سمجھ حاصل (کرنے کے لئے محنت) کریں، اور ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو آگاہ کریں، تاکہ وہ گناہوں سے بچ سکیں.[التوبہ : ١٢٢]


فتوی دراصل کسی شخص کے خاص معاملہ میں علماء سے حکم شرعی دریافت کیے جانے کے وقت اس معاملے کے حکم شرعی سے (علماء کے) آگاہ کرنے کا نام ہے۔



فتویٰ کا قرآن مجید سے ثبوت:
(اے پیغمبر) لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے (ساتھ نکاح کرنے کے) معاملے میں اجازت دیتا ہے اور جو حکم اس کتاب میں پہلے دیا گیا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جن کو تم ان کا حق تو دیتے نہیں اور خواہش رکھتے ہو کہ ان کے ساتھ نکاح کرلو اور (نیز) بیچارے بیکس بچوں کے بارے میں۔ اور یہ (بھی حکم دیتا ہے) کہ یتیموں کے بارے میں انصاف پر قائم رہو۔ اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے. [النساء : ١٢٧]

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا کلالہ بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا۔ اور اگر بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنے والے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اس لئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے. [النساء:١٧٦]


فتویٰ کا احادیثِ شریفہ سے ثبوت :

 حضرت عبداللہ ابن عمروؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 101, - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]

تشريح : (١) اس حديث میں واضح طور پر فتویٰ دينا علماء كا كام قرار ديا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں، یہی حاصل ہے تقلید (ائمہ و علماء) کا.
(٢) نبی صلی الله علیہ وسلم نے (بعد کے) ایک ایسے زمانہ کی خبر دی، جس میں علماء مفقود ہوجائیں گے، اور (فقہِ دین - قرآن:9/122) جاہل قسم کے لوگ فتویٰ دینے شروع کردیں گے، یھاں سوال یہ ہے کہ اس دور میں احکامِ شریعت پر عمل کرنے کی سواۓ اس کے اور کیا صورت ہو سکتی ہے کہ وہ لوگ گزرے ہوے (علم و عمل میں معتبر) علماء کی تقلید کریں،کیونکہ جب زندہ لوگوں میں کوئی عالم نہیں بچا تو کوئی شخص براہِ راست قرآن و سنّت سے احکام مستنبط کرنے کا اہل رہا، اور نہ ہی کسی (معتبر) زندہ عالم کی طرف رجوع کرنا اس کی قدرت میں ہے، کیونکہ کوئی عالم موجود ہی نہیں، لہذا احکامِ شریعت پر عمل کرنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہیں رہتی کہ جو علماء وفات پاچکے ہیں اس کی تصانیف وغیرہ کے ذریعہ ان کی تقلید کی جاۓ.
لہذا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک علماءِ اہلِ اجتہاد موجود ہوں اس وقت ان سے مسائل معلوم کے جائیں، اور ان کے فتووں پر عمل کیا جاۓ، اور جب کوئی علم باقی نہ رہے تو نااہل لوگوں کو مجتہد سمجھہ کر  ان کے فتووں پر عمل کرنے کی بجاۓ گزشتہ علماء میں سے کسی کی تقلید کی جاۓ.

بلا علم فتویٰ دینا اور بلا تحقیق (دلیل) فتویٰ لینا کیسے ہے؟
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا ہوگا تو اس کا گناہ اس آدمی پر ہوگا جس نے اس کو (غلط) فتویٰ دیا ہے اور جس آدمی نے اپنے بھائی کو کسی ایسے کام کے بارے میں مشورہ دیا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ اس کی بھلائی اس میں نہیں ہے تو اس نے خیانت کی۔" (سنن ابوداؤد)
[ابوداؤد:3657، ابن ماجہ:53، دارمي:164، حاکم:436، احمد:8266، بيهقى:20140+20111، جامع بیان العلم:1625، صحيح الجامع الصغير: 6068، المشكاة:242، الإتحاف:19964]
فائدہ:
دیکھئے اگر تقلید جائز نہ ہوتی اور کسی کے فتوے پر بلاتحقیقِ دلیل عمل جائز نہ ہوتا، جو حاصل ہے تقلید کا، تو گناہگار ہونے میں مفتی کی کیا تخصیص تھی؟ جیساکہ سیاقِ کلام سے مفہوم ہوتا ہے، بلکہ جس طرح مفتی کو غلط فتویٰ بتانے کا گناہ ہوتا ہے، اسی طرح سائل کو دلیل کی تحقیق نہ کرنے کا گناہ ہوتا۔ پس جب شارع عليه السلام نے باوجود تحقیقِ دلیل نہ کرنے کے عاصي (گناہگار) نہیں ٹھہریا تو جوازِ تقلید يقينا ثابت ہوگیا.

حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے اپنے کسی بھائی کی بد خواہی اس طرح چاہی کہ اسے اس چیز کا مشورہ دیا جس کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ اس کی بھلائی اس میں نہیں ہے بلکہ دوسرے امر میں ہے تو یہ اس کی خیانت ہے وہ اپنے غیر اخلاقی وغیر شرعی عمل کی بنا پر خائن کہلاے گا۔




اندھی تقلید کیا ہے؟
اندھی تقلید اس کو کہتے ہیں کہ اندھا اندھے کے پیچھے چلے، تو لازماً دونوں کسی کھائی میں گرجائیں، گے اگر اندھا کسی آنکھوں والے کے پیچھے چلے تو آنکھ والا اپنی آنکھ کی برکت سے اپنے آپ کو بھی اور اس اندھے کو بھی ہر کھائی سے بچاکر لیجائے گا اور منزل تک پہنچادے گا، حضرات ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ معاذ اللہ اندھے نہیں ہیں، عارف اور بصیر ہیں، البتہ اندھی تقلید کا شکار وہ لوگ ہیں جو خود بھی اندھے ہیں اور ان کے پیشوا بھی اجتہاد کی آنکھ سے محروم ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عن عبد اللہ بن عمروؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ: ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من العباد، و لکن یقبض العلم بقبض لعلماء حتی اذا لم یبق عالما اتخذ الناس رؤوساجھالا فسئلوا بغیر علم فضلوا و اضلوا۔(مشکوٰۃ:۱/۳۳)
"جو جاہل کو دینی پیشوا بنائے تو وہ جاہل خود بھی گمراہ ہوگا اور اپنے ماننے والے کو بھی گمراہ کرے گاد"۔

یہ اندھی تقلید ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں پیغمبرِ معصوم ﷺ اور مجتہدِ ماجور رحمہم اللہ کی تحقیق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں اور فتنوں سے محفوظ فرمائیں۔ آمین








منصب افتاء پر فائز صحابہ کرامؓ

عہد نبویؐ میں صاحب فتاوی صحابہ کرامؓ
اسلام جب کہ ابتدائی دور سے گزر رہاتھا اور مسلمانوں کی تعدادا تھوڑی تھی،مسلمان ابھی اچھی طرح شریعت اور اسلامی تعلیمات سے واقف بھی نہ تھے اور مسلمانوں کا مدینہ اور اطراف مدینہ میں ہونے کی وجہ سے براہ راست رسول اللہ سے مسائل کا حل معلوم کرنا کوئی دشوار امر نہ تھا، اس لئے ابتدائی زمانہ میں تنہا رسول اللہ  اس فریضہ کو انجام دیتے تھے؛ لیکن جب اسلام فاران کی چوٹی سے باہر نکلا اور اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلاگیا، مسلمانوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا ،دور دراز علاقوں میں اسلام کی باز گشت سنائی دینے لگی،مدینہ اور اطراف مدینہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی اور بلاد بعیدہ سے سفر کرکے آپ کی خدمت میں آنا اور سوال معلوم کرنا سیاسی ومعاشی ہر دو لحاظ سے دشوار ہوگیا، تو آپ  نے اہل علم صحابہؓ کولوگوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ان علاقوں میں بھیجا، صحابہ کرامؓ  نے وہاں جاکر لوگوں کو کتاب وسنت کی تعلیم دی اور منصب افتاء کے فرائض حسن وخوبی کے ساتھ انجام دئے؛ چنانچہ المصباح کے مصنف لکھتے ہیں :

ولم یکن أحد في عھد رسول اللہ یشتغل بمنصب الإفتاء غیرہ غیر انہ علیہ السلام ربما بعث بعض الصحابۃ إلی البلاد النائیۃ فأذن لھم بالإفتاء والقضاء کما بعث معاذ بن جبل۔ (۶)

آپ کے زمانہ میں آپ کے علاوہ کوئی بھی اس منصب پر فائز نہ تھاالبتہ آپؓ لی اللہ علہ وسلم بعض صحابہؓ کو دور دراز علاقوں میں بھیجتے تو ان کو افتاء اور قضاء کی بھی ذمہ داری عطا فرماتے۔
ابن سعدؒ نے طبقات میں سہل بن خیثمہؓ کے حوالہ سے ان صحابہ کرامؓ  کے اسماء کو ذکر کیا ہے جو آپ  کے عہد میں اس منصب پر فائز تھے چنانچہ لکھتے ہیں :

کان الذین یفتون علی عہد رسول اللّہ ثلاثۃ نفر من المہاجرین وثلاثۃ من الأنصار عمر و عثمان و علی وابی بن کعب ومعاذ بن جبل وزید بن ثابت۔(۷)

"آپ  کے زمانہ میں مہاجرین صحابہؓ میں حضرت عمر حضرت عثمان حضرت علیؓ اور انصار صحابہؓ میں حضرت ابی بن کعب حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم فتوی دیا کرتے تھے"۔

ابن سعدؒ کی طبقات میں ہی کعب بن مالک کا قول منقول ہے:

کان معاذ بن جبل یفتی بالمدینۃ فی حیاۃ الرسول وابی بکر۔(۸)

حضرت معاذؓ حضور  کی  زندگی میں اور حضرت ابوبکرؓ  کی زندگی میں مدینہ میں فتوی دیتے تھے۔

ابن عمرؓؓ سے معلوم کیا گیا کہ حضورؐ کے زمانہ میں کون لوگ فتوی دیتے تھے تو ابن عمرؓ نے فرمایا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ فتوی دیتے تھے ان کے علاوہ میں کسی تیسرے کا نام نہیں جانتا ہوں (۹) قاسم بن محمدؒ کا قول ہے کہ چاروں خلفاء حضور کے زمانہ میں فتوی دیا کرتے تھے۔(۱۰)
عہدصحابہؓ میں منصب افتاء پر فائز صحابہ کرامؓ  
آپ  کے بعد اس عظیم الشان منصب پر آپ کے وہ جلیل القدر صحابہ کرامؓ  فائز ہوئے جو آپ کی وراثت کے اولین محافظ و امین تھے اور تقوی وطہارت، صداقت وعدالت، شجاعت و سخاوت اور ایثار و ہمدردی میں مانند آفتاب اور رشد و ہدایت، علم و معرفت میں مانند ماہتاب تھے جن کے متعلق ارشاد ربانی ہے:رضی اللہ عنہم ورضواعنہ۔(۱۱) اللہ ان سے خوش ہوئے اور یہ اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش ہیں جن کے متعلق معلم انسانیت نبی کریم کا ارشاد گرامی ہے:اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم۔(۱۲) "میرےصحابہؓ مانند ستارے کے ہیں ان میں تم جن کی اقتدا کرلوگے راہ یاب ہوجاؤگے"،جن کو کتاب وسنت کا فہم خاص عطا کیا گیا تھا جو نزول قرآن ،اسباب نزول اور منشاء قرآن سے اچھی طرح با خبر تھے جن کے بارے میں امت کا متفقہ فیصلہ ہے:

الین الأمۃ قلوبا واعمقھا علما واقلھا تکلفا واحسنھا بیانا واصدقھا ایمانا واعمھا نصیحۃ واقربھا إلی اللہ وسیلۃ۔ (۱۳)

صحابہ کرامؓ  امت میں سب سے زیادہ نرم دل،سب سے زیادہ گہرے علم والے ،سب سے کم تکلف کرنے والے اور حسن بیان میں سب سے بڑھ کر ہیں ، اسی طرح ایمان میں سب سے سچے، خیر خواہی میں سب سے آگے اور اللہ کے وسیلہ کے اعتبار سے قریب ترہیں ۔
حضرت ابو بکرؓ اور محکمۂ افتاء
آپ  کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد امت نے متفقہ طور پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو آپ کا خلیفہ اور جانشین مقرر کیا،حضرت ابوبکر ؓنے خلافت کے ابتدائی زمانہ میں فتنۂ ارتداد کی بیخ کنی کی، اور ان کاموں کی طرف توجہ دی جن کو کرنے کا حضور  نے عزم مصمم فرمالیا تھا اور نہ کرسکے تھے پھر انہوں نے اسلامی نظام سلطنت کے تمام شعبوں کو مضبوط و مستحکم کیا، فقہ وفتاوی کے لئے باضابطہ ایک شعبہ قائم کیا شاہ معین الدین ندوی سیر الصحابہؓ میں لکھتے ہیں :
"حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسائل فقہیہ کی تحقیق وتنقید اور عوام کی سہولت کے خیال سے افتاء کا ایک محکمہ قائم کردیا تھا حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ،حضرت علیؓؓ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ ،حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت ابی بن کعبؓ، حضرت زید بن ثابتؓ جو اپنے علم واجتہاد کے لحاظ سے تمام صحابہؓ میں منتخب تھے اس خدمت پر مامور تھے ان کے سوا کسی کو فتوی دینے کی اجازت نہ تھی حضرت عمر ؓنے بھی اپنے عہد خلافت میں پابندی کے ساتھ اس کو قائم رکھاتھا"۔(۱۴)
صاحب فتاوی صحابہ کرامؓ  کی تعداد
جو لوگ فقہ وفتاوی سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ فقہ وفتاوی میں نزاکت اور دقیقہ سنجی پائی جاتی ہے دوسری طرف صحابہ کرامؓ  باہمی فہم وفراست،ذہانت وذکاوت،شرف صحبت اور قبول اسلام کے اعتبار سے مختلف تھے ؛اس لئے تمام صحابہ کرامؓ  اس منصب پر فائز نہ ہوسکے جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے:

ثم ان الصحابۃ کلھم لم یکونوا أہل فتیا ولا کان الدین یؤخذ عن جمیعھم وانما کان مختصا بالحاملین القرآن العارفین بناسخہ ومنسوخہ  ....الخ۔ (۱۵)

پھر تمام صحابہؓ اصحاب فتوی نہ تھے اور نہ ہی تمام صحابہؓ سے دین حاصل کیا جاتا تھا بلکہ اس کے لئے وہ صحابہؓ مختص تھے جو حاملین قرآن تھے اور ناسخ ومنسوخ کو پہنچانتے تھے۔
ابن قیم کی تحقیق کے مطابق ۱۳۰/ سے زائد صحابہ کرامؓ اس منصب پر فائز تھے پھر ابن القیم نے صاحب فتاوی صحابہ کرامؓ کو تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے پہلا طبقہ ان صحابہ کرامؓ کا ہے جنہوں نے طویل مدت تک کثرت کے ساتھ اس ذمہ داری کو انجام دیا اورجن کے فتاوی کتب حدیث میں کثرت کے ساتھ منقول ہیں ان کو’‘ مکثرین فی الفتیا" سے تعبیر کرتے ہیں ان کے فتاوی کو اگر یکجا کیا جائے تو ہر ایک کے فتاوی کی تعداد اتنی ہے کہ ضخیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں ، مکثرین صحابہؓ کی تعداد بقول ابن القیم سات ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔
(۱)      امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جو فطرتاً ذہین اور صائب الرائے تھے، ان کی طبیعت نکتہ رس واقعہ ہوئی تھی، جنہوں نے نئے نسل کے استنباط احکام  اور تفریع مسائل کے لئے ایک شاہراہ قائم کی تھی، جن کے بارے میں نبی کریم  کا ارشاد ہے:ان اللہ جعل الحق علی لسان عمر وقلبہ۔(۱۶) اور عبداللہ ابن مسعودؓ ؓ کا قول ہے:

 لو وضع علم احیاء العرب فی کفۃ ووضع علم عمر فی کفۃ لرجح بھم علم عمر۔ (۱۷)

"اگر عرب کے زندہ لوگوں کا علم ایک جانب رکھا جائے اور حضرت عمر ؓ کاعلم ایک جانب تو حضرت عمرؓ کا علم غالب ہوگا"۔

(۲)     امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ؓ :جن کو فقہ واجتہاد میں کامل دست گاہ حاصل تھی اور کتاب وسنت کے علم کے ساتھ سرعت فہم ، دقیقہ سنجی اور انتقال ذہنی میں اپنی مثال آپ تھے ان کے متعلق فقیہ الامت عبداللہ ابن مسعودؓ کا قول ہے کہ اہل مدینہ میں علم فرائض ،کار افتاء اور کار قضاء میں حضرت علیؓؓ سب سے اعلی ہیں (طبقات لابن سعدؒ)اور ترجمان القرآن ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اذا حدثنا ثقۃ عن علی بفتیا لانعدوھا۔ (۱۸) اگر کوئی معتمد شخص ہمارے سامنے حضرت علیؓ کے فتاوی اور احکام بیان کرے تو ہم ان سے ہٹ کر کوئی فتوی نہیں دیتے ہیں ۔
(۳)     فقیہ الامت حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ جن کے متعلق زبان رسالت سے یہ کلمہ جاری ہوا :

رضیت لامتی ما رضی لھا ابن أم عبد وکرھت ما کرہ لھا ابن ام عبد۔(۱۹)

میں ہر اس چیز سے راضی ہوں جس سے ابن ام عبدؓ(عبداللہ بن مسعود)راضی ہیں اور ہر اس چیز کو نا پسند کرتا ہوں جس کو ابن ام عبد نا پسند کرتے ہیں ۔

ابن مسعودؓ کی شان تفقہ کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ابوموسی اشعریؓ جیسے بلند پایہ فقیہ صحابیؓ  فرماتے ہیں :

لاتسألونی مادام ھذا الحبر فیکم یعنی ابن مسعود۔ (۲۰)

"جب تک یہ بڑے عالم یعنی ابن مسعودؓ ؓ  تمہارے درمیان ہیں مجھ سے مسائل مت معلوم کیا کرو"۔

 فقہ حنفی کی بنیاد بھی عبداللہ بن مسعود کی فقہ پر ہے
(۴)     افقہ نساء الامت أم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا :جن کو تمام خوبیوں کے ساتھ فقہ واجتہاد میں بھی امتیازی مقام حاصل تھا، امام زھری فرماتے ہیں "اگر حضرت عائشہ ؓ کے علم کو تمام عورتوں کے علم کے ساتھ ملایا جائے تو حضرت عائشہؓ کا علم افضل ثابت ہوگا (۲۱) حضرت عائشہؓ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ سے اخیر عمر تک فتوی دیا کرتی تھیں اور اکابر صحابہؓ اکثر مشکل مسائل حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کیا کرتے تھے"۔ (۲۲)
(۵)     مفتئ مدینہ کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ:جن کے متعلق حضور  کا ارشاد ہے أ فرض امتی زید بن ثابت۔ (سیر اعلام النبلائ:۲/۴۳۲میری امت میں علم فرائض کے بڑے عالم زید بن ثابت ہیں ، امام مالک فرماتے ہیں :کان امام الناس عندنا بعد عمر زید بن ثابت (ایضا:۲/۴۳۶لوگوں کے امام حضرت عمر ؓ کے بعد ہمارے نزدیک زید بن ثابت ہیں ،سلیمان بن یسار کا قول ابن سعدؒ نے طبقات میں نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمانؓ قضائ، فتوی، علم قرأت اور فرائض میں زید بن ثابت پر کسی کو مقدم نہیں رکھتے تھے ۔(طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۵۹)
(۶)     فقیہ العصر ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ: جن کی فقہی بصیرت کے لئے زبان رسالت سے دعائیہ کلمات نکلے: اللّٰھم فقھہ فی الدین،حضرت مجاہدؒ کہتے ہیں :ماسمعت فتیا احسن من فتیا ابن عباس۔ (سیر اعلام النبلائ:۳/۳۵۰میں نے ابن عباس کے فتوی سے بہتر کسی کا فتوی نہیں سنا ،آپ  کی دعا کا اثر تھا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ بدری صحابہؓ کے ساتھ حضرت ابن عباسؓ سے مشورہ کیا کرتے تھے اور ابن عباس عہد فاروقی اور عہد عثمانی سے اخیر عمر تک منصب افتا پر فائز رہے، (طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۶۶ابوبکر محمد بن موسیٰؒ نے ابن عباس کے فتاوی کو بیس کتابوں میں جمع کیا ہے (المصباح:۱/۶۴)
(۷)     حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:جن کے متعلق امام مالک کا قول ہے:

کان امام الناس عندنا بعد زید بن ثابت عبداللہ بن عمر مکث ستین سنۃ یفتی الناس۔ (سیر اعلام النبلائ:۳/۲۲۱)

"حضرت زید بن ثابتؓ کے بعد لوگوں کے امام ہمارے نزدیک حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہیں ساٹھ سال تک انہوں نے افتاء کے فرائض انجام دئے"۔

 لیکن شعبی کا قول جس کو اسد الغابہ میں نقل کیا اور ابن سعدؒ نے طبقات میں :

کان ابن عمرؓ جید الحدیث ولم یکن جید الفقہ۔ (اسد الغابہ:۳/۳۴۹)

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمرؓ کا مقام فقہ کے مقابلہ میں حدیث میں زیادہ بلند ہے لیکن اس کے باوجود ابن حزم نے "الاحکام" میں اور ابن القیم نے "اعلام الموقعین" ابن عمرؓ کا شمار" مکثرین فی الفتیا"صحابہؓ میں کیا ہے۔
دوسرا طبقہ متوسطین فی الفتیاصحابہ کرامؓ  کا ہے، ان صحابہ کرامؓ کے فتاوی کو اگر علیحدہ علیحدہ جمع کیا جائے تو چھوٹی چھوٹی جلد تیار ہوسکتی ہے، اس طبقہ میں بیس صحابہؓ کا شمار ہوتا ہے جس کو ابن القیم نے اعلام الموقعین میں ذکر کیا ہے جن کے اسماء گرامی قدریہ ہیں  (۱)امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ (۲)ام المؤمنین ام سلمہ ؓ۔ (۳)انس بن مالکؓ۔ (۴)ابو سعید خدریؓ۔  (۵)عثمان بن عفانؓ۔ (۶)ابو ہریرہؓ۔(۷)عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ۔ (۸)عبداللہ بن زبیرؓ ۔ (۹)ابوموسیٰ اشعریؓؓ۔ (۱۰)سعد بن ابی وقاصؓ۔  (۱۱)سلمان فارسیؓ۔ (۱۲)جابر بن عبداللہؓ۔ (۱۳)معاذ بن جبلؓ۔ (۱۴)حضرت طلحہؓ۔ (۱۵)حضرت زبیرؓ۔ (۱۶)عبد الرحمن بن عوفؓ۔ (۱۷)عمران بن حصین۔ (۱۸)ابوبکرہؓ۔ (۱۹)حضرت عبادہ بن صامتؓ۔ (۲۰)حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ۔
تیسرا طبقہ مقلین فی الفتیاصحابہ کرامؓ  کا ہے بعض سے ایک مسئلہ بعض سے دو یا تین یا کچھ زائد منقول ہیں اگر ان تمام کے فتاوی کو جمع کیا جائے توایک چھوٹا سا رسالہ مرتب ہوسکتا ہے، اس طبقہ میں اوپر مذکور صحابہ کرامؓ کے علاوہ باقی اصحاب افتاء صحابہ کرامؓ شامل ہیں جن کی تعداد ایک سو سے کچھ زائد ہے، ابن قیم نے ان کے اسماء بھی شمار کرائے ہیں لیکن طوالت کے خوف سے راقم نے ان حضرات صحابہؓ کے اسماء یہاں ذکر کرنے سے گریز کیا ہے، اہل تحقیق وہاں رجوع کرسکتے ہیں ۔
صحابہ کرامؓ  کے فتاوی کے مآخذ
صحابہ کرامؓ کے فتاوی مؤطا، مسند اور سنن کی ان کتابوں میں مذکور ہیں جنہوں نے مرفوع روایت نقل کرنے کا التزام نہیں کیا، جیسے مؤطا مالک، مؤطا محمد، مسند دارمی، مصنف عبدالرزاق،مصنف ابن ابی شیبہ، مسند طحاوی، مسند عبداللہ بن وھب وغیرہ۔ (المصباح:۱/۵)


(۱)         المصباح فی رسم المفتی ومناہج الافتاء: ۱/۱۶۔                      (۲)        مقدمہ فتاوی دارالعلوم دیوبند:۱/۸۰۔
(۳)        النسائ:۱۹۔                                                 (۴)        النسائ:۱۷۷۔
(۵)        اعلام الموقعین :۱/۱۲۔                                       (۶)        المصباح:۱/۵۸۔
(۷)        طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۳۴۔                                              (۸)        طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۳۴۔
(۹)        طبقات ۲/۳۳۵۔                                                        (۱۰)       طبقات ۲/۳۳۵۔
(۱۱)        توبہ:۱۳۔                                                   (۱۲)       جامع الاصول ،رقم الحدیث:۶۳۶۹۔
(۱۳)       اعلام الموقعین:۱/۵۔                                         (۱۴)       سیر الصحابہؓ:۱/۶۹۔
(۱۵)       تاریخ ابن خلدون:۱/۴۴۶۔                                               (۱۶)       طبقات لابن سعدؒ:۲/۳۳۵۔
(۱۷)       مصنف ابن ابی شیبہ،رقم الحدیث:۳۲۶۶۶۔                     (۱۸)       طبقات:۲/۳۳۸۔
(۱۹)       سیر اعلام النبلاء :۱/۴۷۹۔                                     (۲۰)       طبقات:۲/۳۴۳۔
(۲۱)       سیر اعلام النبلا:۲/۱۹۹۔                                       (۲۲)       طبقات:۲/۳۷۵۔
(۲۳)      ۔                                               (۲۴)      ۔


============================

فتویٰ نویسی کا تاریخی ارتقاء



پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں خبر دینے کو فتویٰ کہتے ہیں(۱)۔فتویٰ لغوی اعتبار سے اسم ِ مصدر ہے اور اس کی جمع ”فتاویٰ“ہے، اس کا مادہ (ف۔ت۔ی)ہے۔
قرآنِ کریم میں لفظ فتویٰ اپنے مشتقات کے اعتبارسیمختلف مقامات پر اکیس بار استعمال ہوا ہے۔ ان میں سے دسمقامات پر تو یہ لفظ اپنے لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے؛ جبکہ گیارہ مقامات پر یہ لفظ تحقیق و تدقیق کے معنوں میں آیا ہے۔
احادیث مبارکہ میں بھی یہ لفظ بکثرت استعمال ہواہے۔ان احادیث مبارکہ میں یہ لفظ اپنے اصطلاحی معنوں میں مستعمل ہے۔فتویٰ دینے والے شخص کو مفتی(۲)فتویٰ لینے والے کو مستفتی(۳) اورسوال کو استفتاء کہتے ہیں(۴)۔
فتویٰ ایک اہم ذمہ داری ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مفتی شارع کے نائب کی حیثیت سے دینی معاملات میں لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔اس کی اسی اہمیت کے پیش نظر فتویٰ نویسی کے اصول وقواعد کو باقاعدہ فن کی شکل دی گئی اور اس فن کو ”رسم المفتی“سے تعبیر کیاگیا۔
فتویٰ مسلم معاشرہ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اس کی اساس قرآن کریم کی درج ذیل آیت ہے:
فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۵)
ترجمہ: پس اگر تمہیں معلوم نہ ہوتو علم والوں سے پوچھ لو۔
قرآن کریم نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے فرمایا:
لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ(۶)
ترجمہ:” آپ بیان کردیجیے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو ان کی طرف نازل کی گئی “۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں فتویٰ نویسی کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے؛ چونکہ ایک مسلمان کو دینی اوردنیاوی معاملات میں جدید مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ اس لیے مسلم معاشرہ میں اس کی موجودگی ضروری ہوجاتی ہے ۔نبی کریم کے دور سے لے کر اب تک علماء نے اس اہم ذمہ داری کو نبھایا اور ا س کے اصول ،شرائط اور آداب پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ابن الصلاح کے مطابق افتاء کے لیے مرد ہونا ضروری نہیں؛ بلکہ مرد، عورت،غلام حتیٰ کہ گونگا شخص بھی فتویٰ دے سکتا ہے(۷)۔ چنانچہ نبی کریم کے زمانے میں ازواج مطہرات فتویٰ دیا کرتی تھیں۔شیخ سعید فائز الدخیل نے حضرت عائشہکے تمام فتاویٰ جات کو کتابی شکل میں شائع کیا ہے(۸)۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب ”بدائع الصنائع“کے مولف علامہ علاؤ الدین کا سانی کی اہلیہ فاطمہ فتویٰ دیا کرتی تھیں(۹)۔ اسی طرح ڈاکٹر عمررضا کحالہ نے” أعلام النساء“ میں فتویٰ دینے والی عورتوں کی کافی تفصیل فراہم کی ہے(۱۰)۔
 مفتی اور قاضی کو عام طورپر مترادف سمجھا جاتا ہے؛ لیکن ان میں فرق ہے۔ شیخ وہبةالزحیلی کے مطابق مفتی اور قاضی میں محض اتنا فرق ہے کہ
”مفتی اطلاع دینے والا اور قاضی اسے لازم کرنے والاہوتا ہے“(۱۱)۔
چنانچہ مفتی کے فتویٰ کی حیثیت عمومی ہوتی ہے؛ جبکہ قاضی کا فیصلہ ایک خاص واقعہ سے متعلق ہوتا ہے۔ لیکن یہ دونوں خوبیاں ایک شخص میں اکٹھی بھی ہوسکتی ہیں۔جیسا کہ عہدصحابہ میں بعض صحابہ فتویٰ بھی دیتے تھے اور قاضی بھی تھے۔
فتاویٰ دراصل مسلم معاشرہ کے اقتصادی ،معاشی ،سیاسی اور سماجی مسائل کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک مخصوص معاشرہ کے لوگ ایک مخصوص وقت اور حالات میں کن مسائل کا شکار تھے؟ معاشرتی تغیرات اور علمی وفکری اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟ ان مسائل کے حل کے لیے اس دور کے اہلِ علم نے کس نہج پر سوچ وبچار کی اور کن اصولوں کو پیش نظر رکھا ؟ نیز ان فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر کتنے گہرے اثرات مرتب کیے؛چنانچہ امام مالک  ،امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل،امام مالک،ابن تیمیہ اور برصغیر میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے فتاویٰ نے مسلم معاشرہ پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے۔بہت سے علماء کے فتاویٰ انقلابی اور فکری تحریکات کا باعث بنے۔
تاہم بعض فتاویٰ مسلم معاشرہ میں فکری انتشار کا باعث بھی بنے اور یہ عمل برصغیر میں مسلمانوں کے زوال کے بعد شروع ہوا۔یہی وجہ ہے کہ بارہ سو سال میں اتنے فتاویٰ نہیں دیے گئے جتنے برصغیر کے دوسوسالہ غلامی کے زمانے میں جاری کیے گئے۔ اس دور میں ہمیں فتاویٰ میں شدت پسندی نیز مسلکی وسیاسی تکفیر کا عنصر بڑا واضح طور پر نظر آتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں فقہ وفتاویٰ سے متعلق جملہ امور آپ کی ذات سے وابستہ تھے۔طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی مشکل مسئلہ پیش آتا تو مسلمان آں حضرت  صلی اللہ علیہ وسلمکی طرف رجوع کرتے؛ کیونکہ جملہ امور میں آپ ہی شارحِ اسلام اور مرجعِ خلائق تھے۔
صحابہٴ کرام ہر اہم مسئلہ میں آپ کی جانب متوجہ ہوتے۔صحابہٴ کرام کے ان سوالات کے جوابات اکثر قرآنی آیات کی صورت میں نازل ہوئے۔ اس حوالہ سے قرآن کریم نے درج ذیل اصطلاحات استعمال کی ہیں۔
یَسْتَفْتُوْنَکَ  ”آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں“۔
یَسْئَلُوْنَکَ    ” آپ سے سوال کرتے ہیں“۔
قرآن کریم میں یہ الفاظ سترہمختلف مقامات پر استعمال ہوئے ہیں(۱۲)۔جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ان پوچھے گئے امور کی وضاحت بھی دراصل آپ کے فرضِ منصبی میں شامل تھا۔ارشاد باریٰ تعالیٰ ہے:
لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ(۱۳)
ترجمہ:”آپ بیان کردیجیے لوگوں کے سامنے وہ چیز جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے“۔
بعض اوقات صحابہٴ کرام کے سوالات کے جوابات نبی کریم اپنے ارشادات سے بھی دیتے تھے؛ چنانچہ کتبِ حدیث اور کتب سیرت میں ان پوچھے گئے سوالات کے جوابات ملتے ہیں۔ نبی کریم کے عہد میں تحریر ی وتقریری دونوں طرح سے فتویٰ دیا جاتا تھا(۱۴)۔حضرت عمر نے ایک بدوی کو اس بناء پر قتل کردیا تھا کہ وہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ لے کر دوبارہ حضرت عمر سے اس پر نظر ثانی چاہتا تھا۔
علماء کرام نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فتاویٰ کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کی کوشش بھی کی ہے؛چنانچہ علامہ ابن قیم جوزی نے اپنی کتاب ”اعلام الموقِّعین“میں نبی کریم کے بارہ سو فتاویٰ کو جمع کیا ہے(۱۵)۔اسی طرح مولانا سید اصغر حسین دیوبندی نے”فتاویٰ محمدی مع شرح دیوبندی“ میں نبی کریم کے کل ایک سو بیس فتاویٰ مع ترجمہ اکٹھے کیے ہیں(۱۶)۔
نبی کریم کے عہد کے ان فتاویٰ پر علامہ ابن قیم کا تبصرہ یہ ہے کہ
”آپ کے فتوے جامعِ احکام اور فیصلہ کن ارشادات پر محیط ہوا کرتے تھے۔ یقیناپیروی کے اعتبار سے کتاب اللہ کے بعد دوسرا درجہ آپ کے فتاویٰ کا ہے اور مومنین کے لیے کسی بھی صورت میں ان سے انحراف ممکن نہیں“(۱۷)۔
آج کل فتویٰ دینے کا جو طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے، وہ صرف جائز و ناجائز اور حلال وحرام کی صراحت کردینے کا نام ہے؛ لیکن نبی کریم کا اسلوب افتاء اس سے مختلف تھا۔ اگرچہ آپ کا قول بذات خود حجت تھا؛ مگر آپ پیش آمدہ مشکلات کے حل کی وضاحت اور اس کی علت بھی بتا دیتے تھے۔ اس حوالہ سے شیخ محمد شفیق العانی فرماتے ہیں:
”رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلمنے جو فتاویٰ اپنی زندگی میں صادر فرمائے۔وہ جامع ترین احکام پر مشتمل تھے اور مسائل کے استنباط کے سلسلے میں سرچشمہ کی حیثیت رکھتے تھے“(۱۸)۔
نبی کریم کے بعد صحابہٴ کرامبالخصوص خلفاء راشدین کا عہد فتویٰ نویسی کے حوالے سے اہم ہے۔ خلفاء راشدین کے ان احکامات، مکاتیب اور فتاویٰ جات کو پروفیسر خورشید احمد فاروق نے چار الگ الگ جلدوں میں شائع کیا ہے۔
صحابہٴ کرام کے دور میں کئی جدید مسائل سامنے آئے جن پر غور وخوض کی ضرورت محسوس ہوئی۔اس دور میں قرآن وسنت کے علاوہ اجماع اور قیاس کا اضافہ ہوااور اجماع کو منظم شکل دی گئی اور رائے کے استعمال کے لیے فقہی قواعد واصول منضبط ہوئے۔
اس دور میں فتووں کے حوالے سے صحابہٴ کرام میں اختلاف بھی رونماہوا۔ مولانا تقی امینی نے صحابہٴ کرام کے اختلافات کے درج ذیل اسباب بیان فرمائے ہیں۔
(۱) قرآن کریم کو سمجھنے میں اختلاف
(۲) حدیث کی لاعلمی کی وجہ سے اختلاف
(۳)حدیث کے قبول کرنے میں اختلاف
(۴)رائے کی وجہ سے اختلاف(۱۹)
صحابہٴ کرام میں چار طرح کے لوگ تھے۔
پہلا طبقہ: صحابہٴ کرام کا پہلا طبقہ وہ ہے جن سے بہت زیادہ فقہی مسائل منسوب ہیں۔ یہ حضرات خلفاء راشدین ہیں۔
دوسرا طبقہ: یہ طبقہ متخصصین کا ہے۔ ا س طبقہ کو فقہی حوالے سے بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل،ابو موسیٰ اشعری اور زید بن ثابت وغیرہ شامل ہیں۔
تیسرا طبقہ: یہ طبقہ مکثرین کا ہے یعنی جن سے بہت زیادہ اجتہادات اور فتاویٰ منقول ہیں۔
چوتھا طبقہ: یہ طبقہ مقلین کا ہے ۔ان لوگوں سے بہت کم فتاویٰ منقول ہیں(۲۰)۔
اس دور میں استنباط صر ف ان فتووں تک محدود تھا جو وہ لوگ دیتے تھے؛ جن سے کسی واقعہ کے متعلق سوال کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ مسائل کے اثبات اور ان کے جوابات میں بہت زیادہ پاؤں نہیں پھیلاتے تھے؛ بلکہ اس کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ اور جب تک کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوجاتا اس کے متعلق اپنی رائے ظاہر نہیں کرتے تھے؛ البتہ جب مسئلہ پیدا ہوجاتا تھا تو اس کے لیے استنباط حکم میں اجتہاد کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ کبارِ صحابہ  سے جو فتوے منقول ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے۔
صحابہٴ کرام کے فتاویٰ کے حوالے سے علامہ خضری لکھتے ہیں کہ:
”اس دورمیں فتاویٰ زیادہ تر زبانی روایت ہوتے رہے؛لیکن بعض فتاویٰ تحریر میں بھی آئے، جن میں سے بعض تو وہ تھے جو خلفاء راشدین کے سرکاری احکام کی شکل میں قلمبند ہوکر مختلف دیاروامصار کو ارسال ہوتے رہے اور بعض فتاویٰ انفرادی کوششوں سے بھی قلمبند کیے گئی“(۲۱)
 صحابہٴ کرام فتویٰ نویسی میں کمالِ احتیاط ملحوظ رکھتے تھے۔ وہ اپنی رائے کا اظہار کم سے کم کرتے تھے۔ ہر مسئلہ قرآن وسنت اور اجماع کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
صحابہٴ کرام  کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا دور آتا ہے۔ اس دور میں منصبِ افتاء اجلہٴ تابعین کے سپرد رہا۔ ان میں سے بعض تو ایسے بزرگ بھی تھے جو صحابہٴ کرام کی موجودگی میں بھی فتویٰ دیتے تھے۔ مثلاً سعید بن المسیباور سعید بن جبیر وغیرہ(۲۲)۔
 تابعین اور تبع تابعین نے صحابہٴ کرام کے فقہی افکار اور فتاویٰ کی روشنی میں اس کو باقاعدہ ایک فن کی شکل دیدی۔ اسی دور میں صحابہٴ کرامکے شاگردانِ رشید نے ان کی آراء اور فتاویٰ کو عام کیا اور بہت سے فقہی مکاتب و مالک وجود میں آئے۔ ا س دور کے بچ جانے والے فقہی مسالک کو مجتہدین کا دور کہا جاتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں۔
۱-  فقہ حنفی    (امام ابو حنیفہ)                           ۵- فقہ جعفری          (امام جعفر صادق )
۲- فقہ شافعی  (امام شافعی)                              ۶- فقہ اباضی           (امام عبداللہ بن اباض)
۳- فقہ مالکی    (امام مالک )                               ۷-فقہ ظاہری          (امام داؤد ظاہری)
۴- فقہ حنبلی   (امام احمد بن حنبل)                   ۸-فقہ اوزاعی           (امام اوزاعی)
 ان تمام حضرات میں سے اولین چار فقہاء کو شہرت حاصل ہوئی۔
ان میں سے امام ابوحنیفہ نے فتویٰ نویسی کے حوالے سے اجتماعی رائے کو ترجیح دی ۔ انھوں نے چالیس فقہاء کی ایک مجلس قائم کی جو باہمی غوروخوض کے بعد مسئلہ کا حل تلاش کرتی اور پھر اس مسئلہ کو لکھ لیا جاتا ۔امام صاحب کی اس مجلس نے بڑی تعداد میں فتاویٰ اکھٹے کیے۔ اما م صاحب  کے دور میں کوفہ میں تین بڑے فقہیہ بھی موجود تھے جو درج ذیل ہیں۔
(۱) سفیان بن سعید ثوری
 (۲) شریک بن عبداللہ نخعی
(۳) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ 
ان حضرات سے فقہی آراء اور فتاویٰ کے حوالے سے اما م صاحب کی علمی بحث چلتی رہتی تھی۔ اس دور کی فتویٰ نویسی اور اس دور کے علماء کے علمی اور فکری اختلافات اور دالائل وبراہین دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔بہرحال امام صاحب کے فقہی افکار میں تنوع اور گہرائی پائی جاتی ہے۔وہ ان مسائل پر بھی غور وفکر کرنے اور کسی نتیجہ میں پہنچنے کے عادی تھے جو ابھی معرضِ وجود میں ہی نہ آئے تھے۔
 امام شافعی  نے بھی اصولِ فقہ کے موضوع پر پہلی کتاب ”الرسالة“ تحریر کی نیزاپنے فتاویٰ کو پہلے ”الحجہ“ اور پھر ”کتاب الام“ میں جمع کیا۔ امام شافعی کے انتقال سے چار سال قبل کے فتاویٰ ان کی کتاب ”الحجہ“ میں منقول تھے جو نایاب ہے؛ مگر بعد میں آپ نے اپنے قدیم فتاویٰ پر غورو فکر کیا اور انھیں ”کتاب الام“ کی چار جلدوں میں لائے۔ ان کے پہلے فتاویٰ کو قولِ قدیم اور بعد کے فتاویٰ کو قولِ جدید کہتے ہیں۔
امام مالک بھی حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ ان کی کتاب ”الموطاء“ احادیثِ مبارکہ اور ان کے فقہی افکار کا مجموعہ ہے۔ وہ فتویٰ دینے کے حوالے سے اگر چہ بہت محتاط تھے؛ مگر ان کے فتاویٰ کا کافی بڑا ذخیرہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔
 امام احمد بن حنبل نے اگر چہ مسند امام حنبل کی تدوین کی؛ مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کے فقہی افکار کا ایک بڑا مجموعہ بھی ہے۔ امام صاحب اپنے اقوال و آراء اور فتاویٰ کے لکھنے کے سخت مخالف تھے؛ مگر ان کے شاگرد جیش بن سندی نے دو جلدوں میں ان کے فتاویٰ اور مسائل جمع کیے اور ابو بکر خلال نے بھی ”الجامع الکبیر“کی بیس جلدوں میں ان کے مسائل اکٹھا کیے۔
ائمہٴ مجتہدین کے دور میں فتویٰ نویسی کے حوالے سے اجتہاد سے کام لیا جاتا تھا ۔ مسائل کی کثرت اور سلطنت کی وسعت نے جدید مسائل پر غور و خوض کرنے پر امادہ کیا۔ اصول فقہ کی تدوین بھی اسی دور میں ہوئی ۔ اس دور میں قیاس اور استحسان کو ماخذِشریعت قرار دینے پر اختلاف ہوا۔ اسی اختلاف کے نتیجے میں اہل الرائے اور اہل الحدیث کے مکاتب وجود میں آئے۔
ائمہٴ مجتہدین کے اس دور میں اگر چہ اختلافات سامنے آئے؛ لیکن ان فقہی اختلافات میں اس درجہ شدت نہیں تھی کہ ایک دوسرے کی رائے کا احترام نہ کیا جائے ۔
امام بغوی نے اپنے فتاویٰ خود جمع کیے اور ان کی زندگی ہی میں قاضی حسین نے ان سے مزیدفتاویٰ حاصل کیے اور ان پر تعلیقات لکھیں(۲۳)۔ اسی طرح علامہ سُبکی نے بھی دو جلدوں میں فتاویٰ اکٹھا کیے۔ علامہ جلال الدین سیوطینے بھی ”الحاوی للفتاویٰ“ کے نام سے اپنے فتاویٰ کتابی شکل میں جمع کیے ۔ اس دور کے فتاویٰ میں تجدید احیائے دین کے مسائل پر غور وخوض ہوا۔بروکلمان نے تاریخِ ادبیات میں تیسری صدی ہجری سے گیارہویں صدی ہجری تک کے ایک سو دوعربی مجموعہ ہائے فتاوی کی فہرست دی ہے(۲۴)۔
اس دور میں سلطنتِ عثمانیہ کے زیر سایہ ایک جامع فقہی کتاب مرتب کی گئی جس کا نام ”مجلة الأحکام العدلیہ“ رکھا گیا۔ سلطنت عثمانیہ نے اسے ملکی قانون کے طور پر رائج کردیا ۔ اس کتاب میں تمام فقہاء کے فقہی افکار سے استفادہ کیا گیا ۔ اس کا آغاز۱۸۵۶ء میں ہوا اور ۱۸۷۶ء میں یہ کام مکمل ہوگیا ۔ اس کتاب کو سولہ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور جملہ فقہی مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، یہ سلطنتِ عثمانیہ کا پہلا مدون قانون تھا جو فقہ اسلامی سے بالعموم اور فقہ حنفی سے بالخصوص ماخوذ تھا(۲۵)۔ اس کام کے بہت دور رس نتائج برآمد ہوئے اور فقہ اسلامی ایک جدید دور میں داخل ہوگئی۔ اس حوالہ سے ڈاکٹر محموداحمد غازی لکھتے ہیں:
”جب بیسیویں صدی کا آغاز ہوا تو ”مجلة الأحکام العدلیہ“ پوری سلطنتِ عثمانیہ کی حدود مشرقی یورپ کے کئی ممالک ، ترکی، وسط ایشیاء کا کچھ حصہ ، عراق ، شام ، فلسطین ، لبنان ، الجزائر ، لیبیا ، تیونس اور جزیرہ عرب کے بعض علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ گویا ۱۸۷۶ء سے لے کر ۱۹۲۵ء تک کا زمانہ ”مجلة الأحکام العدلیہ“کی حکمرانی کا زمانہ تھا“(۲۶)۔
انگریز کے نو آبادیاتی نظام نے عرب ممالک کو فقہی قانون سازی پر توجہ دلائی؛ چنانچہ استاد عبدالقادر عودہ نے ”التشریع الجنائی الاسلامی“ نامی کتاب لکھی ۔ اسی طرح استاد مصطفی احمد زرقا نے بھی ایک زبردست کام کیا۔ انھوں نے الموسوعة الفقہیہ“ نام کافقہی انسائیکلوپیڈیا تیار کیا، جسے پینتالیس جلدوں میں کویت کے وزارتِ اوقاف نے شائع کیا۔ یہ کام چالیس سال کی محنت کے بعد مرتب ہوا۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ”اسلامی فقہ اکیڈمی“ انڈیا سے شائع ہورہا ہے۔ اسی طرز کا ایک موسوعہ مصر نے بھی شائع کیا ہے جو دس جلدوں میں شائع ہوا ہے۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد اگر چہ ”مجلة الأحکام العدلیہ“ کا اثر کم ہوگیا ؛مگر ”فتاویٰ عالمگیری“ کے بعد اس جیسا منظم کام دوبارہ نہیں ہوا(۲۷)۔
برصغیر میں فتویٰ نویسی کا سلسلہ چوتھی صدی ہجری کے بعد شروع ہوا۔ جب اس براعظم میں آزاد سلطنتیں قائم ہوئیں تو فتووں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ جگہ جگہ مساجد و مدارس قائم ہوئے اور علماءِ کرام نے باقاعدہ فتویٰ نویسی کا آغاز کیا۔ مسلمانوں سے غیر مسلموں نے بھی استفسارات کیے ہیں؛ چنانچہ اس قسم کے استفسارات کا حال بزرگ بن شہریار کی کتاب ”عجائبُ الہند“ سے معلوم ہوتا ہے(۲۸)۔
 ہندوپاک کے مسلمان بادشاہوں کو فقہ اسلامی سے خاص دلچسپی تھی ۔ سلطان محمود غزنوی زبردست فقیہ تھے۔ انھوں نے ”التفرید فی الفروع“ نامی کتاب لکھی جس میں فتاویٰ اور فقہی مسائل ذکر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح ظہیر الدین بابر# نے بھی اصول مذاہب پر ایک کتاب لکھی تھی(۲۹)۔
ان مسلمان بادشاہوں نے درج ذیل کتبِ فتاوی میں خصوصی دلچسپی لی:
 (۱) فتاویٰ فیروزشاہی                      (۲) فتاویٰ ابراہیم شاہی             (۳) فتاویٰ اکبر شاہی
(۴) فتاویٰ عادل شاہی                      (۵) فتاویٰ تاتار خانی                  (۶) فتاویٰ عالمگیری
فتاویٰ عالمگیری کو ان سب میں زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں لکھی گئی تھی۔بعد میں عالمگیر نے مولانا عبداللہ رومی سے اس کا فارسی ترجمہ کروایا۔ اس کتاب کااردو ترجمہ مولانا امیر علی لکھنوی نے ”فتاویٰ ہندیہ“ کے نام سے کیا(۳۰)۔
ان فتاویٰ کی اہم بات یہ ہے کہ یہ فتاویٰ ایک آزاد ریاست میں اجتماعی مفادات اور ملکی قانون کے طور پر مرتب کیے گئے تھے۔ اس کے بعد برصغیرمیں انگریزوں کے تسلط نے مسلم پرنسل لا کی بنیاد رکھی۔ اس دور میں نجی فتووں کی بنیادیں بھی مضبوط ہوئیں۔ ڈاکٹر جلال الدین احمد نوری اس حوالے سے لکھتے ہیں :
”نجی فتووں کے زیادہ ترمجموعے اس وقت نظر آتے ہیں جب مسلمان دورِ غلامی میں داخل ہوئے؛ چنانچہ۱۸۵۷ء سے کچھ قبل اور بعد میں مختلف زبانوں میں عموماً اور اردو زبان میں خصوصاً اس قسم کے مجموعوں کا پتہ چلتا ہے“(۳۱)۔
برصغیر ہندوپاک میں جو فتاویٰ مرتب ہوئے وہ اکثر حنفی علماء کے ہیں، اگر چہ جنوبی ہندوستان میں اس حوالے سے شافعی علماء کا بھی کام موجود ہے؛ مگر وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ذیل میں ہم برصغیر کے چندعلماء کے فتاویٰ کی فہرست دیتے ہیں:
(۱) فتاویٰ عزیزی (شاہ عبدالعزیز دہلوی)          (۲) مجموعة الفتاویٰ (عبدالحی لکھنوی)
(۳) جامع الفتاویٰ (عبدالفتاح حسینی نقوی)       (۴) فتاویٰ مسعودی (مسعود شاہ دہلوی)
(۵) فتاویٰ رشیدیہ (رشیدیہ احمد گنگوہی)             (۶) فتاویٰ ارشادیہ (ارشاد حسین رامپوری)
(۷) فتاویٰ محبوبیہ (احمدحسین خان امروہی)      (۸) فتاویٰ قادریہ (مولانا عبدالقادر)
(۹) فتاویٰ عثمانی (مظہر الحق انصاری)                                (۱۰) فتاویٰ عثمانی(سید منور الدین)
(۱۱) مجموعہٴ آگرہ (نواب صدیق حسن خان)       (۱۲) فتاویٰ بے نظیر(عبدالغفار لکھنوی)
(۱۳) فتاویٰ نظامیہ اُندراویہ (نظام الدین اعظمی)(۱۴) نظام الفتاویٰ (نظام الدین اعظمی)
(۱۵) فتا ویٰ نظامیہ (نظام الدین حنفی)               (۱۶) فتاویٰ مظاہرعلوم (خلیل احمد سہار نپوری)
(۱۷) امداد الفتادیٰ (اشرف علی تھانوی)          (۱۸) کفایت المفتی (کفایت اللہ دہلوی)
(۱۹) عزیز الفتاویٰ (عزیز الرحمن عثمانی)            (۲۰) امداد الاحکام   (ظفر احمد عثمانی)
(۲۱) فتاویٰ رحیمیہ (مفتی عبدالرحیم)                                (۲۲) فتاویٰ محمودیہ (محمود حسن گنگوہی)
(۲۳) کتاب الفتاویٰ (خالد سیف اللہ رحمانی)    (۲۴) فتاویٰ عثمانی(محمدتقی عثمانی)
(۲۵) نوادر الفقہ (رفیع عثمانی)                           (۲۶) فتاویٰ محمود (مفتی محمود)
(۲۷) خیر الفتاویٰ (خیر محمد جالندھری)             (۲۸) فتاویٰ رضویہ (احمد رضا خان بریلوی)
(۲۹) فتاویٰ مہریہ             (پیر مہر علی شاہ)        (۳۰) فتاویٰ حامدیہ (حامد رضاخان)
(۳۱) فتاویٰ امجدیہ           (امجد علی اعظمی)       (۳۲) فتاویٰ اجملیہ (اجمل قادری رضوی)
(۳۳) فتاویٰ مظہری (مظہر اللہ دہلوی)             (۳۴) ریاض الفتاویٰ (ریاض الحسن)
(۳۵) فتاویٰ نعیمیہ             (احمد یار خان نعیمی)   (۳۶) فتاویٰ نوریہ (نور اللہ بصیر پوری)
(۳۷) ضیاء الفتاویٰ          (قاضی محمد ایوب)     (۳۸) احسن الفتاویٰ (خلیل احمد برکاتی)
(۳۹) فتاویٰ امینیہ            (محمد امین)               (۴۰) فتاویٰ اویسیہ    (فیض احمد اویسی)
(۴۱) فتاویٰ پاسبانی           (مشتاق احمد نظامی)    (۴۲) فتاویٰ شیخ الاسلام (حسین احمد مدنی)
(۴۳) جامع الفتاویٰ (مہربان علی)                     (۴۴) فتاویٰ قاضی    (مجاہدالاسلام قاسمی)
(۴۵) فتاویٰ دارالعلوم (مفتی عزیز الرحمن)        (۴۶) فتاویٰ ریاض العلو (مفتیان مدرسہ ریاض العلوم گورینی)
ان کے علاوہ بھی بے شمار کتب فتاویٰ ہیں جو یا تو غیر مطبوعہ ہیں یا ایک ہی مرتبہ شائع ہوئے۔یہ تمام فتاویٰ دراصل انیسویں اور بیسویں صدی کی علمی و فکری تحریکات، فسادات، مسلم معاشرت، سائنسی اور صنعتی انقلابات اور انگریزی ثقافت کے اثرات کا بہترین مطالعہ ہیں۔ ان فتاویٰ میں برصغیر کے بیانیہ ادب کا جائزہ بھی لیا جاسکتا ہے ۔ اس دور کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ فتاویٰ کا سنہری دور ہے۔
 (۱) ہردورکے فتاویٰ میں اس دور کا رنگ نظر آتا ہے ۔
(۲) قرآن و حدیث اور فقہی کتب سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔
(۳)اکثرعبارت بلا ترجمہ دی جاتی ہے جو مستفتی کے لیے غیر مانوس ہوتی ہے۔
(۴)جدید مسائل کے حوالے سے بعض فتاویٰ میں لاعلمی کااظہارہے۔
(۵)زبان اور اسلوب کے حوالے سے بھی قدیم فتاویٰ کی پیروی کی جاتی ہے۔
(۶)ان فتاویٰ میں اپنے پیش روفتاویٰ کے حوالے بھی ملتے ہیں۔
عثمانی سلطنت کا زوال مغرب کے عسکری و سیاسی غلبے اور نو آبادیاتی دور کے آغاز کے ساتھ ہوا ۔ اس دوران برصغیراور دیگر کئی ممالک نو آبادیاتی نظام کے زیر تسلط آئے۔ سامراجی طاقتوں نے ان ممالک میں اپنے ملک کے قوانین پبلک لا کے طور پر رائج کیے؛ تاہم ذاتی زندگی میں مسلمان پرسنل لاء کی پابندی کرتے رہے۔ اس طرح کم از کم عائلی زندگی کی حد تک ان کا تعلق اسلامی قانون سے قائم رہا ، یہ کام اس دور کے مفتیان نے سرانجام دیا۔
بیسویں صدی کے نصف آخر میں نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ ہوااور مسلم ممالک نے آزادی کے بعد اس بات کی ضررورت محسوس کی کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ملکی قوانین کا جائزہ لیں۔ اس حوالے سے درج ذیل ادارے وجود میں آئے:
(۱) اسلامی نظریاتی کونسل                                 (پاکستان)
(۲) ادارہ تحقیقات اسلامی                                 (پاکستان)
(۳)ہیأةُ کبارالعلماء                           (سعودی عرب)
(۴)المجمع الفقہ الاسلامی                    (سعودی عرب)
(۵)اسلامک فقہ اکیڈمی                   (ہندوستان)
(۶)ادارہ مباحث فقہیہ                     (جمعیة علماء ہند)
(۷)امارت شرعیہ پھلواری شریف     (ہندوستان)
(۸)مجمع البحوث الاسلامیہ               (مصر)
(۹) مجمع الفقہ الاسلامی                     (جنوبی امریکہ)
ان اداروں کے علاوہ بھی کئی دیگر ادارے اس پر کام کررہے ہیں اور جدید مسائل کے حوالے سے ان کے اجتماعی فتاویٰ یعنی قراردادیں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔
ان اداروں کے باوجود نجی سطح کے فتاویٰ بھی اب دینی مدارس کے تحت لوگوں کی رہنمائی کررہے ہیں جو عدالتی نظام میں کسی حد تک قابلِ قبول ہیں؛ مگر عملی طور پر عدالتی نظام میں ان کا بہت زیادہ کردار نہیں ہے، اس کے باوجود لوگ ان نجی فتاویٰ پر بہت اعتماد کرتے ہیں۔
دور حاضر میں فتویٰ نویسی کے حوالے سے علماء کو کئی جدید چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
(1) عقائد وعبادات
 قادیانیت،روئیت ہلال،توہین رسالت کی سزا وغیرہ۔
(2) طبی وسائنسی مسائل
خاندانی منصوبہ بندی ،اعضاء کی پیوند کاری ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور کلوننگ ،ایڈز سے متعلقہ احکام وغیرہ۔
(3)قانون سازی
 ملکی قوانین کو اسلامی قانون سے ہم آہنگ کرنا، مثلاً حدود اورر قصاص ودیت کے مسائل ۔
(4) جدید ایجادات
 ٹی وی ، انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور دیگر جدید ایجادات کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا۔
(5) اقتصادی مسائل 
انشورنس،اسٹاک ایکسچینج،کریڈٹ کارڈ، زکوٰة کی ادائیگی کا مسئلہ ، سود اور بینکاری کی شرعی حیثیت کا تعین کرنا۔
(6) عائلی زندگی       
 عائلی زندگی سے متعلق احکام یعنی نکاح ، طلاق ، خلع اور وراثت کے مسائل وغیرہ۔
$ $ $
حوالہ جات
(۱)    شیخ حسین محمد ملاح، الفتویٰ نشاتہا و تطورھا، ج۱، ص۳۹۸،دار الفکر،دمشق۔
(۲)بلیاوی، عبد الحفیظ، مصباح اللغات، ص۶۱۸، قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۳)فیروز الدین، فیروز اللغات، ص۹۱، فیروز سنز لاہور۔
(۴)مصباح اللغات، ص۶۱۸۔
(۵)الانبیاء :۷۔
(۶)النحل:۴۴۔
(۷)ابن صلاح، ادب المفتی و المستفتی، ص۴۲، میر محمد کتب خانہ کراچی۔
(۸)سعید فائز الدخیل، موسوعہ فقہ عائشہ ام المومنین، دار النفائس، بیروت،۱۹۸۹ء۔
(۹)محمود احمد غازی، ڈاکٹر، محاضرات فقہ،۴۹۳، الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور۔
(۱۰)کحالہ، عمر رضا، اعلام النساء فی عالم الادب والاسلام، موعة الرسالة، بیروت۔
(۱۱)وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی و ادلتہ، ج۱، ص۴۹، دار الفکر، دمشق۔
(۱۲)فواد عبد الباقی، المعجم المفہرس لا لفاظ القرآن الکریم،ص۹۹۶، قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۱۳)النحل:۴۴۔
(۱۴)ماہنامہ معارف (اعظم گڑھ)، مارچ۱۹۹۸ء، ص۸۶۔
(۱۵)ملاحظہ ہو ”اعلام الموقعین عن رب العالمین“ عنوان ”فتاویٰ امام المتقین۔“
(۱۶)یہ فتاویٰ ۱۹۰۷ء میں اردو ترجمہ کے ساتھ اعزازیہ کتب خانہ دیوبند نے شائع کیے۔
(۱۷)الجوزی، ابن قیم، اعلام الموقعین، ج۱، ص۱۴، مکتبہ نزار مصطفی الباز، مکہ مکرمہ۔
(۱۸)العانی محمد شفیق، الفقہ الاسلامی، ص۶، مطبع البیان العربی، ۱۹۶۵ء۔
(۱۹)ماہنامہ دار العلوم(دیوبند)، جنوری ۲۰۱۲ء، ص۸۔
(۲۰)امینی، محمد تقی، فقہ اسلامی کا تاریخی پس منظر، ص ۴۳، قدیمی کتب خانہ کراچی۔
(۲۱)محاضرات فقہ، ص ۲۲۳۔
(۲۲)الخضری، محمد، تاریخ التشریع الاسلامی، ص۳۲، قاہرہ۱۹۶۵ء۔
(۲۳)تاریخ التشریع الاسلامی، ص۱۳۳۔
(۲۴)معارف(اعظم گڑھ)، فروری ۱۹۹۸ء ص۹۰۔
(۲۵)محاضرات فقہ، ص ۵۲۱۔
(۲۶)محاضرات فقہ ، ص ۵۲۱۔
(۲۷)ایضاً ، ص۵۳۰۔
(۲۸)بزرگ بن شہریار ، عجائب الہند، لیڈن ،۱۸۸۶ء ۔
(۲۹)سید نوشہ علی ، مسلمانان ہندو پاکستان کی تاریخ تعلیم ، ص ۱۷۴،کراچی ۱۹۶۲ء
(۳۰)معارف(اعظم گڑھ)، فروری ۱۹۹۸ء ص۹۴۔
(۳۱)ایضاً ، ص۹۵۔

از: پروفیسر مولانا محمد انس حسان

گورنمنٹ ڈگری کالج جہانیاں، پاکستان


$ $ $


موجودہ دور میں فتویٰ کی اہمیت و معنویت



          موجودہ دور علم و فن اورتحقیق و ریسرچ کا ہے، آج دنیا اکتشافاتِ جدیدہ کے میدان میں بہت آگے نکل چکی ہے، مگر ساتھ ہی اس کے اظہار میں بھی ذرّہ برابر تذبذب نہیں کہ دنیا اُس ”نظامِ حیات“ سے کافی دور جا پڑی ہے،جس نے انسان کو انسانیت بخشی،یہ درست ہے کہ انسانی دماغ نے فضا کو محکوم بنا لیا اور زمین کا سینہ چیر کر اس کے خزانے نکال لیے؛ لیکن اسی کے ساتھ اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس ماڈل اور ترقی یافتہ دور میں نہ اخلاق و اعمال کی پاکیزگی باقی رہی اور نہ عقائد و اعمال کی پختگی،نہ دلوں میں اخلاص و للّٰہت کی روشنی رہی اور نہ سینوں میں امانت و دیانت کی ذمہ داری،مختصر یہ کہ انسان سب کچھ ہے ؛ لیکن جوہرِآدمیت سے محروم ہے،تا ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس تہذیبی اور صنعتی انقلاب کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا،جس طرح انسان ترقی کرتا گیا،اُس کی ضرورتیں بڑھتی اور پھیلتی چلی گئیں، جس نے ایسے بہت سے شرعی مسائل کو جنم دیا جن کا حل صراحتاً قرآن و حدیث اور اقوالِ صحابہ میں موجود نہیں ہے،جب کہ اسلام ایک ہمہ گیر اور دائمی ”نظامِ حیات“ ہے اور اُس نے اپنی اسی شانِ ہمہ گیری اور دوامی حیثیت کی بقا کی خاطر اپنے اندر ایسی لچک اور گنجائش رکھی ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ ا نسانی ضروریات کا ساتھ دے سکے اور اپنے پیروکاروں کی رہبری کر سکے؛چنانچہ ہر دور میں قرآن و حدیث پر گہری نظر رکھنے والے علماء ربّانیین اور مفتیانِ شرع متین کی ایک ایسی جماعت منجانب اللہ پیدا ہوتی رہی جس نے کتاب اللہ،سنتِ رسول اور دیگر نصوصِ شرعیہ میں باہمی غور وفکر اور عمیق بحث و ریسرچ کے بعد ان نت نئے مسائل کا حل امت کے سامنے پیش کیا؛تاکہ امّت کے تمام افراد دن و رات کے پیش آمدہ مسائل میں کہیں الجھاوٴ میں گرفتار نہ ہو جائیں،بلا شبہ و بلا مبالغہ انھیں مستنبط شدہ احکام و مسائل کا نام ”فتویٰ“ ہے، زمانے کی تبدیلی،احوال کے فرق اور ضرورتوں و تقاضوں کے تحت آنے والے نت نئے پیچیدہ مسائل کا فقہی اُصول و ضوابط کی روشنی میں حل کرنے کا نام ہی تو ”فتویٰ“ ہے ، فقہائے کرام و مفتیانِ عظام نے اپنی شبانہ روز محنت، اپنے فہم و ادراک کا صحیح استعمال اور نہایت ہی دیانت و امانت کے ساتھ سالہا سال نصوص شرعیہ میں باہمی غور و فکر کے بعد” فقہ و فتاویٰ“ کا عظیم الشان تحفہ امت کے حوالے کر دیا،بحث و ریسرچ کا یہ سلسلہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہے ،ان حضرات کی محنتوں اور کاوشوں کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے۔
          فتوی کا انسانی زندگی اور معاشرہ سے انتہائی گہرا تعلق ہے،فقہ و فتاوی سے انسانی زندگی کے شب وروز،معاشرہ کے نشیب و فراز میں نہ یہ کہ صرف رہنمائی ملتی ہے؛بلکہ اس سے سماج کو حرکت،حرارت اور اسپرٹ بھی نصیب ہو تی ہے؛مگر یہ انتہائی افسوناک بات ہے کہ آج امت مسلمہ میں اس عظیم الشان، ناگزیر اور نازک ترین دینی شعبہ کے حوالے سے یہ کہہ کر گمراہی پھیلانے کی نامسعود کوششیں کی جا رہی ہیں کہ اسلام میں”فتویٰ“ کی حیثیت صرف اور صرف ایک رائے کی ہے، جس پر عمل کرنا ہر ایک کے لیے ضروری و لازم نہیں ہے،کسی کی طرف سے امت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ”فتوی“ قرآن و حدیث سے الگ ایک چیز ہے،جو غیر واجب العمل ہے،’فتوی‘ مفتی کی اپنی نجی رائے ہے ا ور دینی احکامات سے الگ ایک غیر اہم اور غیر ضروری شئے ہے وغیرہ وغیرہ، الغرض دین کے اس اہم ستون کو جس کی بنیاد خود نبی اکرم … نے رکھی منہدم کرنے اور امت مسلمہ کے قلب و دماغ سے اس کی عظمت ووقعت کو نکالنے کی ناکام کوششیں کی جا رہی ہیں،اسے اس امت کا المیہ ہی کہا جائے کہ یہ ساری ”بکواس“ کسی غیر کی طرف سے نہیں؛بلکہ اُن دانشورانِ ملت کی طرف سے ہو رہی ہے، جنہیں دین کا” مفکر“ اور ”ماہرِاسلامیات“ جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے․ ”فتویٰ“ کی حیثیت صرف رائے کی ہے ،یہ تھیوری کم علمی اور اسلامیات سے نا واقفیت کی بنیاد پر گڑھی جا رہی ہے، ”فتوی“ در اصل کسی پیش آمدہ مسئلہ میں شرعی حکم بیان کرنے کا نام ہے،”ڈاکٹر شیخ حسین ملّاح“ نے فتوی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ’ ’ پیش آمدہ واقعات کے بارے میں دریافت کرنے والے کو دلیل شرعی کے ذریعہ اللہ تعالی کے حکم کے بارے میں خبر دینے کا نام ”فتویٰ“ ہے (الفتوی و نشأتھاوتطورھا ۱/۳۹۸) تمام مصنّفین نے فتوی کو شریعت کا حکم قرار دیا ہے،خود قرآن کریم میں فتوی کو شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے،( سورة النساء ۴:۱۲۷-۱۷۶)اسی طرح ایک دوسری حدیث میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، (دارمی: ۱/۱۵۷) ” فتوی“ اگر ایک رائے ہے تو وہ مفتی کی کوئی نجی رائے نہیں؛بلکہ شرعی رائے ہے ،جو ہر حالت میں واجب العمل ہے، آپ ہی انصاف کریں کہ اگرکسی سائل نے کسی مفتی سے نماز کے لیے وضو کے بارے میں سوال کیا ، اور مفتی نے وضو کو نماز کے صحیح ہونے کے لیے شرط بتا دیا ،تو کیا مفتی کا یہ فتوی صرف ایک رائے کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا ماننا ہر ایک کے لیے ضروری نہیں ہے؟؟
           فتوی کے تاریخی پس منظر کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ امت کے سب سے پہلے مفتی خود مفتی الثقلین جناب محمد رسول اللہ … کی ذات گرامی ہیں، آپ نے ”جوامع الکلم“ کی شکل میں فتوے دئے،جو احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے موجودہیں، (اِعلام الموقعین: ۱/۱۱) آپ … کی وفات کے بعد صحابہٴ کرام نے اس حسّاس اور ناگزیر شرعی ذمہ داری کو سنبھالا اور احسن طریقے سے انجام دیا،الغرض دورِنبوت سے لے کر دورِ حاضر تک فتوی کی نازک ترین ذمہ داری امت کے فقہا ء کرام و مفتیان عظام کے ذریعہ انجام دی جارہی ہے، ا ن حضرات نے اپنی جانفشانی اور خدا ترسی کے ساتھ حلال و حرام کے جو قواعد و ضوابط مرتب کیے،وہ تاریک رات میں روشن ستاروں کی مانند ہیں،اور امام شاطبی کے بقول یہی حضرات انبیاء کرام کے حقیقی وارث ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مفتی کے لیے تقوی،تفقہ،دیانت و امانت اور بیدار مغزی و زمانہ شناسی جیسی متعدد صفات کا حامل ہونا ضروری ہے، تو اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ وہ کسی بھی پیش آمدہ مسئلہ کے جواب میں احکامِ خداوندی کا ترجمان ہوتا ہے،اُس کے فتوی کو ”رائے“ کہہ کر مسترد کر دینا فرمانِ خداوندی کو ٹھکرا دینے کے مترادف ہے،یہ بھی تسلیم ہے کہ اگر کسی مفتی نے کوئی غلط فتوی دیا جو شرعی اصول اور اسلامی مزاج سے متصادم ہے،تو اس فتوی کو اصول و ضوابط کی روشنی میں رد کیا جانا ضروری ہے؛ کیونکہ وہ حکم شرعی نہیں ہے؛ تاہم اس طرح کے غلط فتوے کی آڑ میں مجموعی طور پر اس اہم ترین دینی ذمہ داری (فتویٰ) کو زک پہنچانے کا کوئی جواز نہیں، جب ایک مستند مفتی کسی مسئلہ کے جواب کے لیے قلم اٹھاتا ہے،تو اس کے دل میں جہاں خوف ِ خدا ہوتا ہے،اسی طرح سائل کے حالات،زمانے کی تبدیلی اور حالات کے تقاضے سمیت بہت ساری چیزوں کو سامنے رکھ کر پوری بصیرت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے وہ شریعت کی ترجمانی کرتا ہے، موجودہ دور میں ”فتویٰ“ کی معنویت وافادیت اور اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے،گلوبلائزیشن کے اس دور میں تجارت و ملازمت اور صنعت و حرفت کی نئی نئی شکلوں نے جنم لیا ہے،میڈیکل سائنس کے حیران کن ریسرچ نے علاج اور تحفظِ انسان کے لیے نئی نئی ایجادات پیش کی ہیں،انسان آسمانوں پر اپنی آبادی بسانے لگا ہے،مختصر یہ کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی نئی راہ کھل چکی ہے ․اس صورتِ حال میں” فقہ و فتاوی“ ایسا فن بن گیا ہے جس سے کوئی مفر نہیں،ایک شخص اپنے آپ کومسلمان بھی کہے،یعنی وہ ایک مکمل ”نظامِ حیات“ کا پابند بھی ہو اور اسے اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں فتوی کی ضرورت پیش نہ آئے، ایساممکن ہی نہیں؛بلکہ عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق و اعمال میں سیکڑوں ایسے مواقع آتے ہیں،جہاں اسے فتوی کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے اور یقینی طور پر وہ فقہائے عظام اور مفتیانِ کرام کی رہبری کا محتاج ہوتا ہے،ہر شخص کو اپنی منہمک زندگی میں اس قدر مہلت کہاں کہ وہ یکسر قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور وقت کے پیش آمدہ مسائل کا حل تلاش کرے۔
============================

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کے بارے میں مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں نے مانی تھی اور اس کو پورا کرنے سے پہلے وہ مر گئی تھیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو یہ فتویٰ دیا کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے اس نذر کو پورا کریں ۔ " ( بخاری ومسلم )

[مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 605 (39813)- نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان : نذر ماننے والے کے ورثاء پر نذر پوری کرنا واجب ہے یا نہیں؟]
تشریح :
 حضرت سعد کی والدہ کی نذر کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ، بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مطلق نذر مانی تھی ، بعض تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے روزے کی نذر مانی تھی ، بعض کا قول یہ ہے کہ ان کی نذر غلام کو آزاد کرنے کی تھی ، اور بعض یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صدقہ کی نذر مانی تھی ، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انہوں نے یا تو مالی نذر مانی تھی یا ان کی نذر مبہم تھی چنانچہ اس کی تائید دار قطنی کی روایت کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد سے فرمایا کہ " ان کی طرف سے پانی پلاؤ ۔ "
اگر کسی شخص نے کوئی نذر مانی ہو اور اس نذر کو پورا کرنے سے پہلے مر گیا ہو تو اس کے بارے میں جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ اس شخص کے وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہے جب کہ وہ نذر غیر مالی ہو ، اسی طرح اگر نذر مالی ہو اور اس میت نے کچھ ترکہ نہ چھوڑا ہو تو اس صورت میں بھی اس کے وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ہوگا ، البتہ مستحب ہوگا ، لیکن علماء ظواہر اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے بموجب یہ کہتے ہیں کہ وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا ۔ جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ اس نذر کو خود وارث نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے کہ اس کو پورا کرنا واجب ہوگا ۔ البتہ مستحب ہوگا ۔ لیکن علماء ظواہر اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے بموجب یہ کہتے ہیں کہ وارث پر اس نذر کو پورا کرنا واجب ہوگا ۔ جمہور علماء کی دلیل یہ ہے کہ اس نذر کو خود وارث نے اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے کہ اس کو پورا کرنا اس پر واجب ہو ، اور جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے تو اول تو یہ حدیث وجوب پر دلالت ہی نہیں کرتی دوسرے یہ کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت سعد کی والدہ نے ترکہ چھوڑا ہو اور اس ترکہ سے ان کی نذر پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہو یا یہ کہ محض تبرعاً یہ حکم دیا گیا ہو ۔



حضرت محمد ابن منتشر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ اس کو دشمن سے نجات دلا دے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کر ڈالے گا ، چنانچہ جب اس کو اپنے دشمن سے نجات مل گئی تو ( اس نے اس مسئلہ میں حضرت ابن عباس سے دریافت کیا حضرت ابن عباس نے اس سے فرمایا کہ یہ مسئلہ مسروق ( تابعی ) سے پوچھو ، اس شخص نے مسروق سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ " تم اپنے آپ کو ذبح نہ کرو ، کیونکہ اگر تم مسلمان ہو تو ( اس صورت میں ) تم ایک مسلمان کو قتل کرنے کے مرتکب ہو گے اور اگر تم کافر ہو تو ( اس صورت میں گویا ) تم دوزخ میں جانے میں جلدی کرو گے ، لہٰذا اگر تمہارے بارے میں یہ حکم ہے کہ ( تم دنبہ خرید کر مسکینوں کے لئے اس کو ذبح کرو ، حضرت اسحاق تم سے بہتر تھے جن کا بدلہ ایک دنبہ کو قرار دیا گیا ، جب اس شخص نے حضرت ابن عباس کو ( حضرت مسروق کے اس فتویٰ سے آگاہ کیا ) تو انہوں نے فرمایا کہ حقیقت یہی ہے ، میں خود تمہیں یہ فتویٰ دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ " ( رزین )

[مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 616(39824) - نفقات اور لونڈی غلام کے حقوق کا بیان : جان قربان کرنے کی نذر کا مسئلہ]
تشریح :
 حضرت مسروق ابن اجدع کا شمار اونچے درجہ کے تابعین میں ہوتا ہے ۔ ان کی علمی فضیلت اور فقہی حیثیت اپنے زمانہ میں ایک امتیازی شان رکھتی تھی ۔ مرہ ابن شرحبیل کا قول ہے کہ کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسا سپوت نہیں جنا ، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ مگر دربار رسالت میں حاضری کی سعادت سے محروم رہے تھے ، چنانچہ انہوں نے چاروں خلفاء راشدین اور حضرت عائشہ صدیقہ سے تحصیل علم کیا تھا اس لئے جب اس شخص نے حضرت ابن عباس سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے اپنی جلالت علم کے باوجود اس شخص کو حضرت مسروق سے مسئلہ پوچھنے کے لئے کہا ، اس سے جہاں حضرت مسروق کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے ، وہیں حضرت ابن عباس کے جذبہ احتیاط اور ان کے کمال صبر ودیانت پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔
حدیث میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے اس کو اپنے دشمن کے ہاتھوں مرنا نہایت شدید اور فضیحت ناک معلوم ہوتا تھا ، چنانچہ اس نے التجا کی کہ " پروردگار ! اصل موت مجھ پر سخت نہیں ہے اور نہ میں اپنے زندگی کے خاتمہ سے گبھراتا ہوں ، میں اپنی جان اپنے ہاتھوں تجھے سونپتا ہوں اور اپنے آپ کو تیرے نام پر قربان کرتا ہوں لیکن دشمن کے ہاتھوں مرنا مجھ پر سخت شاق ہے اس لئے اگر تو مجھے دشمن سے نجات دے گا تو میں اپنے آپ کو تیرے نام پر قربان کر دوں گا " یہ تو گویا اس کا جذبہ اور اس کی ایک طبعی خواہش تھی لیکن اس نے یہ نہیں جانا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر لینا اس سے کہیں زیادہ سخت اور حرام ہے ۔ چنانچہ حضرت مسروق نے اس کے سامنے اس مسئلہ کو بڑے لطیف انداز میں واضح کیا کہ اگر تم مسلمان ہو اور اپنے آپ کو قتل کر ڈالتے ہو تو اس طرح درحقیقت تم ایک مسلمان کو قتل کرنے کے مرتکب گردانے جاؤ گے اور یہ معلوم ہونا چاہئے کہ نفس مؤمن کو قتل کرنے والے کے بارے میں اس آیت کریمہ ( وَلَا تَقْتُلُوْ ا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا) 4۔ النساء : 29) کے بموجب دوزخ کے دائمی عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے ، اور اگر تم کافر ہو تو اس صورت میں تمہارا اپنے آپ کو قتل کر دینا ، اس بات کے مترادف ہوگا کہ تم دوزخ میں جانے میں جلدی کر رہے ہو ، کیونکہ اگر تم بقید حیات رہتے ہو تو عجب نہیں کہ حق تعالیٰ تمہیں راہ ہدایت سے نوازے اور تم اسلام قبول کر کے دائمی نجات پاؤ ۔ بہر حال کسی بھی صورت میں تمہارا اپنے آپ کی قتل کر دینا نہ صرف یہ کہ نامشروع ہے بلکہ غیر معقول بھی ہے ۔
حدیث کا یہ جملہ " حضرت اسحاق تم سے بہتر تھے جن کا بدلہ ایک دنبہ کو قرار دیا گیا تھا " بعض علماء کے اس قول پر مبنی ہے کہ حضرت ابراہیم نے جو خواب دیکھا تھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہا ہوں تو وہ بیٹے حضرت اسحاق تھے ۔ لیکن اس بارے میں مشہور و مختار اور صحیح قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو خواب میں جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ حضرت اسماعیل تھے ۔ چنانچہ جلال الدین سیوطی نے وضاحت کی ہے کہ اس واقعہ میں اہل کتاب نے سخت تحریف و تکذیب سے کام لیا ہے ، سابقہ آسمانی کتابوں میں اصل نام اسماعیل تھا جس کو اہل کتاب نے حذف کر کے اسحاق بنا دیا ۔
در مختار میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی تو حضرت ابراہیم کے واقعہ کی موافقت میں اس پر بکری ذبح کرنا واجب ہوگا لیکن حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام شافعی کہتے ہیں کہ ایسی نذر لغو ہوگی ، اسی طرح اپنے آپ کو یا اپنے غلام کو ذبح کرنے کی نذر بھی لغو ہوگی لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک اس صورت میں ایک بکری ذبح کرنا واجب ہوگا ! اور اگر کسی نے اپنے باپ یا اپنے دادا کو اور یا اپنی ماں کو ذبح کرنے کی نذر مانی تو تمام علماء کے نزدیک اس کی نذر " لغو " ہوگی ۔



نضر بن انس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے لیکن اپنے کسی فتویٰ کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں کر رہے تھے، اسی دوران ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں اور میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اسے دو یا تین مرتبہ اپنے قریب ہونے کا حکم دیا، جب وہ قریب ہوگیا تو فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص دنیا میں تصویر سازی کرتا ہے اسے قیامت کے دن اس تصویر میں روح پھونکنے کا حکم دیا جائے گا ظاہر ہے کہ وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔

[مسند احمد:جلد دوم:حدیث نمبر 314(48153)  عبداللہ بن عباس کی مرویات]



 حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ سدھائے ہوئے کتے ہیں ان کے ذریعے شکار کے بارے مجھے فتویٰ دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے کتے سدھائے ہوئے ہوں تو وہ تمہارے لیے شکار کریں تم اسے کھا سکتے ہو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! خواہ اسے ذبح کروں یانہ کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! انہوں نے پوچھا اگرچہ کتا بھی اس میں سے کچھ کھا لے؟ فرمایا: ہاں! انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کمان کے بارے بتایئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کمان کے ذریعے (مراد تیر ہے) تم جو شکار کرو وہ کھا بھی سکتے ہو انہوں نے پوچھا کہ خواہ ذبح کروں یانہ کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، انہوں نے پوچھا اگرچہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! بشرطیکہ (جب تم شکار کے پاس پہنچو تو) وہ بگڑ نہ چکا ہو یا اس میں تمہارے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ہو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجوسیوں کے برتن کے بارے بتائیے جب کہ انہیں استعمال کرنا ہماری مجبوری ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم انہیں استعمال کرنے پر مجبور ہو تو انہیں پانی سے دھو کر پھر اس میں پکا سکتے ہو۔

[مسند احمد:جلد سوم:حدیث نمبر 2223 (52537) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مرویات]



حسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں کے سامنے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ ایک آدمی ایک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے آیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوکر کہنے لگا کہ اے ابوہریرہ! کیا میرے اس جوڑے کے متعلق آپ کے پاس کوئی فتویٰ ہے؟ انہوں نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا مجھے صادق ومصدوق میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جارہا تھا کہ اسی اثنا میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔

[مسند احمد:جلد چہارم:حدیث نمبر 3229 (56149) صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ]



ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے سونے چاندی کی خرید و فروخت کے معاملے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک فتویٰ سنا اور ایک عرصہ تک لوگوں کو وہی فتویٰ دیتا رہا، جب دوبارہ ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا ، میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ صرف میری رائے تھی جو میں نے قائم کر لی تھی، بعد میں مجھے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 461 (57120) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]
نوٹ : جب کسی مسئلہ کا واضح حکم قرآن و سنت میں نہ ملے تو علماء کا اپنی  اجتہادی راۓ  سے فتویٰ دینا جائز ہے، جیسا کہ حدیثِ معاذؓ (ابو داود، ابن ماجہ) میں مذکور ہے، مگر جب واضح حکم معلوم ہوجاۓ تو راۓ  کو ترک کردینا لازم ہے، کیونکہ مسئلہ کا حکم قرآن و سنّت میں واضح موجود ہونے کے بعد نہ مجتہد عالم کو اجتہاد کی اجازت و ضرورت نہیں رہتی اور اسی علم سے عالم عوام کو آگاہ کرے گا.



ابو الجوزاء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کمی بیشی کے ساتھ لیکن نقد سونے چاندی کی بیع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ دو کے بدلے میں ایک یا کمی بیشی کے ساتھ نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ، کچھ عرصے کے بعد مجھے دوبارہ حج کی سعادت نصیب ہوئی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت تک حیات تھے، میں نے ان سے دوبارہ وہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نقد کے ساتھ دونوں کا وزن بھی برابر ہو، میں نے ان سے عرض کیا کہ پہلے تو آپ نے مجھے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ایک کے بدلے دو بھی جائز ہے اور میں تو اس وقت سے لوگوں کو بھی یہی مسئلہ بتارہا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ یہ میری رائے تھی، بعد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی تو میں نے حدیث کے سامنے اپنی رائے کو ترک کر دیا۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 493 (57152) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]



ابو نضرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سونے چاندی کی فروخت کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا جب کہ معاملہ ہاتھوں ہاتھ ہو؟ میں نے کہا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ سوال پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ، انہوں نے فرمایا کیا انہوں نے یہ بات کہی ہے؟ ہم انہیں خط لکھیں گے کہ وہ یہ فتویٰ نہ دیا کریں ، بخدا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان کچھ کھجوریں لے کر آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کچھ اوپرا سا معاملہ لگا، اس لئے اس سے فرمایا کہ یہ ہمارے علاقے کی کھجور نہیں لگتی، اس نے کہا کہ ہم نے اپنی دو صاع کھجوریں دے کر ان عمدہ کھجوروں کا ایک صاع لے لیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے سودی معاملہ کیا، اس کے قریب بھی نہ جانا، جب تمہیں اپنی کوئی کھجور اچھی نہ لگے تو اسے بیچو پھر اپنی مرضی کی خرید لو۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 593 (57252) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]




 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت تین دن کا سفر اپنے محرم کے بغیر نہ کرے۔

[مسند احمد:جلد پنجم:حدیث نمبر 640 (57299) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مرویات]



حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے لوگ ایک یہودی کے لے گذرے جس کے چہرے پر سیاہی ملی ہوئی تھی اور اسے کوڑے مارے گئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ایک عالم (پادری) کو بلایا اور فرمایا: میں تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے موسیٰ پر تورات نازل فرمائی کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی یہی سزا پاتے ہو؟ اس نے قسم کھا کر کہا نہیں اگر آپ نے مجھے اتنی بڑی قسم نہ دی ہوتی تو میں کبھی آپ کو اس سے آگاہ نہ کرتا ہم اپنی کتاب میں زانی کی سزا رجم ہی پاتے ہیں لیکن ہمارے شرفاء میں زناء کی بڑی کثرت ہوگئی ہے اس لئے جب ہم کسی معزز آدمی کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے اور کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد جاری کر دیتے پھر ہم نے سوچا کہ ہم ایک سزا ایسی مقرر کرلیتے ہیں جو ہم معزز اور کمزور دونوں پر جاری کرسکیں ، چنانچہ ہم نے منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے پر اتفاق رائے کرلیا یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! میں سب سے پہلا آدمی ہوں جو تیرے حکم کو زندہ کر رہا ہوں جبکہ انہوں نے اسے مردہ کردیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کردیا گیا ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: اے پیغمبر! کفر کی طرف تیزی سے لپکنے والے آپ کو غمگین نہ کردیں جو کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ ملے تولے لو یعنی تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کا فتویٰ دیں تو اسے قبول کرلو اور اگر رجم کا حکم دیں تو اسے چھوڑ دو پھر یہودیوں کے متعلق خاص طور پر فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ کافر ہیں. پھر تمام کافروں کے متعلق فرمایا گیا کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ ظالم ہیں جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ایسے لوگ فاسق ہیں راوی کہتے ہیں کہ ان تینوں آیتوں کا تعلق کافروں سے ہے۔

[مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر 401 (63897) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مرویات]


حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں مر گئیں اور ان پر ایک نذر باقی ہے تو آپ نے فرمایا کہ تم اس کو ان کی طرف سے پورا کردو۔
[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 33- وصیتوں کا بیان : میت کی نذروں کے پورا کرنے اور اچانک مرنیوالے کی طرف سے خیرات کرنے کے استحباب کا بیان۔]


حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حیض والی عورت طواف وداع کرنے سے پہلے بیت اللہ سے واپس آسکتی ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم میرے اس فتویٰ کو نہیں مانتے تو فلاں انصاری عورت سے پوچھ لو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہی حکم دیا تھا؟ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباس کی طرف مسکراتے ہوئے آئے اور فرمایا کہ آپ ہمیشہ سچ فرماتے ہیں۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 728(10354)- حج کا بیان : طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کے بیان میں]



حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ میں قیام کیا تو فرمایا کہ لوگوں کے دلوں کو اللہ نے اندھا کر دیا ہے جیسا کہ وہ بینائی سے نابینا ہیں کہ وہ متعہ کا فتویٰ دیتے ہیں اتنے میں ایک آدمی نے انہیں پکارا اور کہا کہ تم کم علم اور نادان ہو میری عمر کی قسم امام المتقین یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کیا جاتا تھا تو ان سے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے) ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تم اپنے آپ پر تجربہ کرلو اللہ کی قسم اگر آپ نے ایسا عمل کیا تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا ابن شہاب نے کہا مجھے خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے خبر دی کہ وہ ایک آدمی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے اس سے آکر متعہ کے بارے میں فتویٰ طلب کیا تو اس نے اسے اس کی اجازت دے دی تو اس سے ابن ابی عمرہ انصاری نے کہا ٹھہر جا انہوں نے کہا کیا بات ہے حالانکہ امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا کیا گیا ابن ابی عمرہ نے فرمایا کہ یہ رخصت ابتدائے اسلام میں مضطر آدمی کے لئے تھی مردار اور خون اور خنزیر کے گوشت کی طرح پھر اللہ نے دین کو مضبوط کردیا اور متعہ سے منع کردیا ابن شہاب نے کہا مجھے ربیع بن سبرہ الجہنی نے خبر دی ہے اس کے باپ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کیا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متعہ سے منع فرما دیا ابن شہاب نے کہا کہ میں نے ربیع بن سبرہ کی یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز سے بیان کرتے سنا اس حال میں کہ میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 936- نکاح کا بیان : نکاح متعہ اور اس کے بیان میں کہ وہ جائز کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا پھر منسوخ کیا گیا اور پھر قیامت تک کے لئے اس کی حرمت باقی کی گئی ۔]


حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ابوعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھی اس نے انہیں تین طلاقیں دے دیں پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ لینے کے لئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا کی طرف منتقل ہو جائے اور مروان نے ان کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا کہ مطلقہ اپنے گھر سے نکلے اور عروہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس کی اس بات کو ماننے سے انکار کردیا۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1209 (10835)- طلاق کا بیان : مطلقہ بائنہ کے لئے نفقہ نہ ہونے کے بیان میں]




حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کے پاس لکھا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سبیعہ بنت حارث کے پاس جائے اور اس سے اس کی مروی حدیث کے بارے میں پوچھے اور اسکے بارے میں پوچھو جو اس کے فتویٰ طلب کرنے کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا تو عمر بن عبداللہ بن عتبہ کو لکھا اور اسے اس کی خبر دی کہ سبیعہ نے اسے خبر دی ہے کہ وہ سعد بن خولہ کے نکاح میں تھی جو نبی عامر بن لوئی میں سے تھے اور جنگ بدر میں شریک ہوئے اور ان کی وفات حجۃ الوداع میں ہوگئی اور وہ حاملہ تھی پس اس کی وفات کے تھوڑے ہی دنوں کے بعد وضع حمل ہوگیا پس جب وہ نفاس سے فارغ ہوگئی تو اس نے پیغام نکاح دینے والوں کے لئے بناؤ سنگار کیا تو بنو عبداللہ میں سے ایک آدمی ابوالسنابل بن بعکک اس کے پاس آیا تو اس نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تجھے بناؤ سنگار کئے ہوئے دیکھتا ہوں شاید کہ تو نکاح کی امید رکھتی ہے اللہ کی قسم تو اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی جب تک تجھ پر چار ماہ دس دن نہ گزر جائیں جب اس نے مجھے یہ کہا تو میں نے اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹے اور شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ وضع حمل ہوتے ہی آزاد ہو چکی ہوں اور مجھے نکاح کا حکم دیا اگر میں چاہوں ابن شہاب نے کہا کہ میں وضع حمل ہوتے ہی عورت کے نکاح میں کوئی حرج نہیں خیال کرتا اگرچہ وہ خون نفاس میں مبتلا ہو لیکن جب تک خون نفاس سے پاک نہ ہو جائے شوہر اس سے صحبت نہیں کر سکتا۔
[صحیح مسلم:جلد دوم:حدیث نمبر 1229 (10855)- طلاق کا بیان : جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور اس کے علاوہ مطلقہ عورت کی عدت وضع حمل سے پوری ہو جانے کے بیان میں]


حضرت شریح بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبیر بن نفیر نے مجھے اس حوالہ سے جنابت سے غسل کا فتویٰ دیا کہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مرد کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ وہ اپنا سر کھول کر بالوں کو دھوئے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے مگر عورت کے لیے سر کے بالوں کا کھولنا ضروری نہیں ہے بلکہ اسکو چاہیئے کہ وہ دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ پانی سر پر ڈال لے۔
[سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 254 (14947)- پاکی کا بیان : غسل جنابت کے وقت عورت کے لیے چٹیا کھولنا ضروری نہیں ہے]


حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہمیں مغیرہ بن شعبہ نے نماز پڑھائی تو وہ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوگئے (بیٹھے نہیں) ہم نے سبحان اللہ کہا تو انھوں نے بھی سبحان اللہ کہا اور نماز جاری رکھی جب نماز پوری کرلی اور سلام پھیرا تو دو سہو کے سجدے کیے اور جب نماز سے فارغ ہوگئے تو کہا میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا تھا جیسا کہ میں نے اس وقت کیا ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس کو ابن ابی لیلیٰ نے بھی بواسطہ شعبی حضرت مغیرہ بن شعبہ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور ابوعمیس نے اس کو ثابت بن عبیدہ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو مغیرہ بن شعبہ نے نماز پڑھائی زیاد بن علاقہ کی طرح ابوداؤد کہتے ہیں کہ ابوعمیس مسعودی کا بھائی ہے اور سعد بن ابی وقاص نے بھی ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ مغیرہ، عمران، حصین، ضحاک بن قیس اور معاویہ بن ابی سفیان نے کیا ابن عباس اور عمر بن عبدالعزیز نے اس پر فتویٰ دیا ہے ابوداؤد نے کہا یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو دو رکعت پڑھ کر بیٹھے نہیں پھر سلام کے بعد سجدہ کیا۔
[سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1034 (15727)- نماز کا بیان : جو شخص قعدہ اولیٰ بھول جائے وہ کیا کرے؟]




حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حالت خوف میں ظہر کی نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور کچھ نے دشمن کے سامنے پس پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیرا پھر یہ لوگ چلے گئے اور وہ لوگ آئے جو دشمن کے سامنے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی دو دو رکعتیں ہوئیں حضرت حسن اسی پر فتویٰ دیتے تھے ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی طرح مغرب میں امام کی چھ رکعتیں اور قوم کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس کو یحیی بن ابی کثیر نے بواسطہ ابوسلمہ بروایت جابر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے اسی طرح سلیمان الیشکری نے عن جابر عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روایت کیا ہے۔
[سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1244(15937)- نماز کا بیان : آٹھویں صورت بعضوں نے کہا ہر گروہ کے ساتھ امام دو رکعتیں پڑھے]
====================================================
حضرت وابصہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ تھا کہ میں کوئی نیکی اور گناہ ایسا نہیں چھوڑوں گا جس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں ، جب میں وہاں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے لوگ موجود تھے، میں لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھنے لگا، لوگ کہنے لگے وابصہ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے ہٹو، میں نے کہا کہ میں وابصہ ہوں ، مجھے ان کے قریب جانے دو، کیونکہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب ہونا پسند ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھ سے فرمایا وابصہ! قریب آجاؤ، چنانچہ میں اتنا قریب ہوا کہ میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے لگنے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وابصہ تم مجھ سے کیا پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ ہی بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ سے نیکی اور نگاہ کے متعلق پوچھنے کے لئے آئے ہو، میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تین انگلیاں اکٹھی کیں اور ان سے میرے سینے کو کریدتے ہوئے فرمایا: وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے، اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتے ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں ۔
[مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 1114 (63423)؛ سنن دارمی:جلد دوم:حدیث نمبر 379 (45153) - خرید وفروخت کا بیان : جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ دو اسے اپناؤ جو شک میں مبتلا نہ کرے۔]
یہ حدیث حسن ضعیف ہے، یعنی سنداً ضعیف ہے، لیکن شواہد و توابع سے متناً حسن درجہ کی مقبول ہے.

تشریح :
 اس ارشاد گرامی میں نیکی وبدی اور اچھائی و برائی کو پہچاننے کی ایک ایسی واضح علامت بتائی گئی ہے جسے ہر صالح انسان اپنے ہر قول و فعل کی کسوٹی بنا سکتا ہے جس قول اور جس عمل پر اپنا جی مطمئن ہو جائے اور دل سکون محسوس کرے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ قول یا عمل نیک اور اچھا ہے اور جس قول یا عمل پر طبیعت میں خلش وچبھن اور دل میں شک وتردد کی کسک پیدا ہو جائے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ قول یا فعل غلط اور برا ہے چنانچہ حدیث کا حاصل یہی ہے کہ ہر قول وفعل کے بارے میں خود اپنے ضمیر کی راہنمائی حاصل کرو جس چیز سے خاطر جمعی حاصل ہو اور دل میں یہ خلجان نہ ہو کہ یہ بری ہے سمجھو کہ وہی نیکی ہے اور جس چیز سے خاطر جمعی حاصل نہ ہو اور دل میں تردد وخلجان پیدا ہو جائے سمجھو کہ وہی گناہ ہے اگرچہ لوگ اس چیز کے بارے میں یہی کیوں نہ کہیں کہ یہ صحیح اور اچھی ہے اور کوئی مفتی اس کے صحیح ہونے کا فتوی ہی کیوں نہ دیدے لہذا ان کے کہنے پر عمل نہ کرو۔ مثلا اگر کسی شخص کے بارے میں تمہیں یہ معلوم ہو کہ اس کے پاس حلال مال بھی ہے اور حرام مال بھی اور وہ شخص تمہیں اپنے مال میں سے کچھ دینا چاہتا ہے تو اگر تمہارا دل اس پر مطمئن ہو کہ وہ تمھیں جو مال دے رہا ہے وہ وہی مال ہے جو اس نے صرف حلال ذرائع سے کمایا ہے تو تم لے لو اور اگر تمہارا دل مطمئن نہ ہو اور تمہیں یہ خوف ہو کہ کہیں یہ وہ مال نہ ہو جو اس نے حرام ذرائع سے کمایا ہے تو تم اس سے ہرگز کچھ نہ لو اگرچہ وہ خود یہ کہے کہ میں تمہیں اپنے حلال میں سے دے رہا ہوں اور کوئی مفتی یہ فتوے بھی دے رہا ہو کہ تمہارے لئے یہ مال لینا جائز ہے کیونکہ فتوی اور چیز ہے اور تقوی اور چیز ہے تقوی پر عمل کرنا فتوی پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
حدیث : ((جو چیز تم کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور اس چیز کی طرف میلان رکھو جو تم کو شک میں نہ ڈالے کیونکہ حق دل کے اطمینان کا باعث ہے اور باطل شک وتردد کا موجب. - رواه أحمد والترمذي والنسائي وروى الدارمي الفصل الأول))
شبہات میں پڑنے سے بچو اور جو چیزیں شبہات میں مبتلا کرنے والی ہوں ان سے اجتناب کرو بعض علماء کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ ازقسم اقوال واعمال جس چیز کی حلت وحرمت کے بارے میں تمہارا ضمیر شک میں مبتلا ہو جائے تو اس چیز کو چھوڑ کر اس چیز کو اختیار کرلو جس کے بارے میں تمہارا ضمیر کسی شک میں مبتلا نہ ہو کیونکہ انسان کا ضمیر چونکہ غلط راہنمائی نہیں کرتا اس لئے کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا شک میں مبتلا ہونا اس چیز کے غلط اور باطل ہونے کی علامت ہے اور کسی چیز کے بارے میں ضمیر کا مطمئن ہو جانا اس چیز کے صحیح اور حق ہونے کی علامت ہے گویا کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کی پہچان کے لئے یہ ایک قاعدہ اور کسوٹی ہے تاہم یہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ یہ بات ہر شخص کو حلال نہیں ہوتی بلکہ یہ وصف خاص ان صالح انسانوں کو نصیب ہوتا ہے جن کے ذہن وفکر اور جن کے دل ودماغ تقوی وایمان داری اور راستبازی وحق پسندی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں۔ ضمیر کی صحیح راہنمائی کا جوہر ہر شخص کو نصیب نہیں ہوتا اور اب اس موقع پر بھی جان لیجئے کہ حدیث میں اپنے دل سے دریافت کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا تعلق ان صالح لوگوں سے ہے جن کے دل خواہشات نفسانی کی کدورت سے صاف اور تقوی وخدا ترسی کے جوہر سے معمور ہوتے ہیں کیوکہ ان کے طبائع اور ان کے قلوب صرف خیروبھلائی کی طرف مائل اور برائی سے بیزار رہتے ہیں جبکہ برے لوگ نفسانی خواہشات میں گرفتار رہتے ہیں اور نیکی وبھلائی سے بے اعتنائی اختیار کئے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں انہیں ضمیر کی صحیح راہنمائی حاصل نہیں ہو سکتی نیز یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ اپنے دل سے دریافت کرنے کا یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ کسی چیز کے بارے میں کوئی واضح شرعی فیصلہ سامنے نہ ہو چنانچہ جب کسی چیز کے حکم کے بارہ میں قرآن کی آیتوں میں تعارض نظر آئے تو واجب ہے کہ حدیث کیطرف رجوع کیا جائے حدیث جس آیت کے مطابق فیصلہ کرے اسی آیت پر عمل کیا جائے اگر حدیثوں میں بھی تعارض ہو تو پھر علماء کے اقوال کی طرف رجوع کرنا واجب ہے اور اگر علماء کے اقوال میں بھی تعارض ہو تو پھر اس کے بعد اپنے دل کی راہنمائی حاصل کرے اور ان اقوال میں سے اس قول کے مطابق عمل کرے جس کو اپنا دل صحیح و راجح تسلیم کرے اور اس پر مطمئن ہو جائے۔
آخر میں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ جب حضرت وابصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی حاضری کا مقصد خود بیان نہیں کیا تھا بلکہ یہ اعجاز نبوت تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ازخود ازراہ مکاشفہ ان کے دل کی بات بیان فرما دی نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اٹھا کر ان کے سینہ پر اس لئے ماریں تاکہ آپ کے مبارک ہاتھوں کی برکت کی وجہ سے ان کو آپ کے کلام کی پوری سمجھ حاصل ہو جائے دوسرے ان کے دل کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود تھا کہ دل یہاں ہے اس سے دریافت کر لو۔
[مشکوۃ شریف:جلد سوم:حدیث نمبر 17 (39225) - خرید و فروخت کے مسائل و احکام : اچھائی اور برائی کی پہچان]

سوال : ایک حدیث میں ہے : وابصہ! اپنے نفس سے فتوی لیا کرو، نیکی وہ ہوتی ہے جس میں دل مطمئن ہوتا ہے اور نفس کو سکون ملتا ہے، اور گناہ وہ ہوتا ہے جو تمہارے دل میں کھٹکتے ہے اور دل میں تردد رہتا ہے، اگرچہ لوگ تمہیں فتوی دیتے رہیں ۔[مسند احمد:جلد ہفتم:حدیث نمبر 1114 (63423)]
کیا ہر شخص کو فتویٰ خود سے لینے کی اجازت ملنے کے بعد عالم/مفتی سے فتویٰ لینے کی کیا ضرورت؟؟؟

جواب : یہ حدیث حسن ضعیف ہے، جس سے کسی "مشتبہ" بات میں دل کے تقویٰ اور احتیاط اختیار کرنے کی "افضلیت" معلوم ہوتی ہے، کیونکہ نا معلوم باتوں پر علماء سے پوچھنا اور فتویٰ لینے کا حکم تو قرآن و سنّت سے ثابت ہے:

القرآن : سو پوچھو اہلِ علم سے اگر تم نہیں جانتے. [النحل: ٤٣، الانبیاء : ٧]
الحدیث : حضرت عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
[صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 101, - علم کا بیان : علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا]

اس صحیح حديث میں واضح طور پر فتویٰ دينا علماء كا كام قرار ديا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگ ان سے مسائل شرعیہ پوچھیں وہ ان کا حکم بتائیں، اور لوگ اس پر عمل کریں،


یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اس حدیث میں دل (ضمیر) سے فتویٰ لینا ان باتوں میں فرمایا جو کسی کام کے نیک (حلال) یا برے (حرام)  ہونے میں شک و تردد پیدا کریں، یعنی جن کاموں کے نیک (حلال) یا برا (حرام) ہونا قرآن و سنّت میں (علماء سے) واضح نہ ہو، کیونکہ جو واضح معلوم ہو کہ یہ حلال یا حرام ہے اس پر دل سے فتویٰ لینا گویا الله تعالیٰ کے کامل علم و احکام یعنی وحی الہی میں نقص سمجھنا ہے جو سبب ہوگا کفر کا. البتہ جس بات کے نیک یا بد ہونے کی کوئی واضح دلیل نہ ہو یعنی مشتبہ ہوں جیسے کسی کی کمائی کے حلال و حرام ہونے میں تردد ہو یا حلال و حرام کی ملاوٹ ہو تو اس کی دعوت و تحائف قبول کرنا یا نہ کرنا. اگرچہ وہ خود یہ کہے کہ میں تمہیں اپنے حلال میں سے دے رہا ہوں اور کوئی مفتی شریعت کے اصول ( شک کی بناء پر کوئی چیز حلال یا حرام نہیں ہوتی؛ اور کسی مسلمان بھائی کی کمائی کی جاسوسی کرنا جائز نہیں) کے تحت یہ فتوے بھی دے رہا ہو کہ تمہارے لئے یہ مال لینا جائز ہے لیکن فتوی اور چیز ہے اور تقوی اور چیز ہے، تقوی پر عمل کرنا فتوی پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔

کیونکہ رسول الله  نے فرمایا : ایسی چیز جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرلو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، اس لیے کہ سچ سکون ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔  [جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 418 (28352)]
واللہ تعالیٰ اعلم




No comments:

Post a Comment