Saturday, 5 December 2015

اسلام کے بغیر انسانیت کی حقیقت


اسلام کے بغیر انسان یقینا سرکش وبےلغام [سورۃ العلق:6]، حرام کاموں میں فضول خرچی کرنےوالا بےباک [یونس:12]، بےانصاف اور خالق کا احسان فراموش [ابراہیم:34]، انجام سے غافل جلدباز [بنی اسرائیل:100]، بخیل وکنجوس [بنی اسرائیل:100]، بہت جھگڑالو [الکھف:54]، آسمان و زمین جیسی بڑی چیزوں کے خالق (اللہ) کے متعلق مخلوق کو مارنے کے بعد پہلے کی طرح دوبارہ پیدا کرسکنے اور انصاف کا دن قائم کرنے پر قادر ہونے کا انکار کرنے والا [مریم:66-72،یٰس:77-83]، ڈھٹائی کرتا بگڑجاتا ہے [القیامۃ:6] خسارہ میں ہے [العصر:2]۔



انسانیت پر حق تعالیٰ کی اتمامِ حجت
﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَاء کُم بُرْہَانٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَأَنزَلْنَا إِلَیْْکُمْ نُوراً مُّبِیْنا، فَأَمَّا الَّذِیْنَ آمَنُواْ بِاللّہِ وَاعْتَصَمُواْ بِہِ فَسَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ وَیَہْدِیْہِمْ إِلَیْْہِ صِرَاطاً مُّسْتَقِیْماً﴾․(سورة النساء:175-174)
ترجمہ:”اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی روشنی بھیج دی ہے جو راستے کی پوری وضاحت کرنے والی ہے۔ چناں چہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اسی کا سہارا تھام لیا ہے،اللہ ان کو اپنے فضل اور رحمت میں داخل کرے گا۔اور انہیں اپنے پاس آنے کے لیے سیدھے راستے تک پہنچائے گا۔“(آسان ترجمہ قرآن)

تشریح و توضیح
مذکورہ آیت شریفہ کی تشریح کرتے ہوئے صاحب ایسر التفاسیر رقم طرازہیں:”اس آیت مبارکہ میں اللہ ربّ العالمین نے تمام لوگوں، خواہ مشرک ہوں، یہودہوں یا نصاریٰ… کو اتمامِ حجت کے تحت یہ خبر دے دی ہے کہ اُس ذات حق نے اپنے پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ علیہ السلام (کا یوں پیغمبر بن کر تشریف لے آنا) اللہ تعالیٰ کے وجود ، قدرت اور علم کی حتمی دلیل اور واضح ثبوت ہے ۔ خدا تعالیٰ کی ذات اور تمام رسولوں پر ایمان لانا اور اللہ کے رسول کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی کو لازم پکڑنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب علیہ السلام پر ایسی کتاب نازل کی ہے جو(ہرظاہری اور باطنی مرض سے) شفا دینے والی ،(دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں)کفایت کرجانے والی، (حق کے طلب گاروں کو)ہدایت دینے والی اور(راہ ہدایت بتلانے کے لیے) سراپاروشنی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس شخص کو سلامتی کے راستوں کی طرف راہ نمائی کرتے اور (کفر کے ) اندھیروں سے (اسلام کی) روشنی کی جانب نکال کر لے آتے ہیں، جو اللہ رب العالمین کی رضا مندی کا طالب ہو ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لیے ہر قسم کی معذرت اور عذر خواہی کا راستہ بند کردیاہے۔اب انسانوں کی (صرف)دو قسمیں ہیں ۔ایک مومن، دوسری کافر۔ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں ،وہ حق سبحانہ وتعالیٰ کو اپنا رب اور معبود مانتے اور اس کے نبی کو اپنا رسول اور پیغمبر مانتے ہیں اور قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑکر اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہیں، اس کی خبروں کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے بتلائے گئے آداب کی رعایت اور پابندی کرتے ہیں۔ چناں چہ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ ربّ کریم اپنی رحمت اور فضل سے اس طرح نوازیں گے کہ انہیں جہنم سے نجات اور جنت کے باغات میں داخل کریں گے۔ حقیقت میں یہی سب سے بڑی کام یابی ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ایک مقام پر ارشاد ہے :﴿فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز﴾ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی کتاب کا انکار کیا تو ان کا ٹھکانا مشہور اور ان کا بدلہ معلوم ہے ،جس کے ذکر کی ضرورت بھی نہیں کہ وہ حرمان اور خسران ہے۔(ایسر التفاسیر 1/232،شاملہ)

آیت مبارکہ میں ایک لفظ ”برھان“آیا ہے۔ لغوی اعتبار سے جس چیز کے ذریعے مقصود و مطلوب پر دلیل حاصل کی جائے ،اسے برہان کہتے ہیں ۔یہاں اس لفظ سے مراد قرآن کریم ہے، جو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی صحت پر دلالت کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان (مختلف)احکام کو ثابت کرنے والا ہے جو اس کے اندر موجود ہیں،جن میں سے ایک احقاقِ حق اور ابطال ِباطل (بھی)ہے جس کا تذکرہ آیت مبارکہ میں ہے۔

دوسرے قول کے مطابق اس لفظ سے مراد معجزات نبوی علیٰ صاحبھا الصلوٰة والسلام ہیں۔

تیسرے قول کے مطابق وہ دین حق مراد ہے ،جو آپ علیہ السلام لے کر آئے ۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات مبارکہ کو ”برھان “سے تعبیر فرمایا ہے،کیوں کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ ایسے معجزات تھے جو آپ کی حقانیت و سچائی پر دلالت کرنے والے تھے۔ (تفسیر ابوالسعود:2/193، 194،195شاملہ)

مصنف شہیر ،داعی کبیر حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری نور اللہ مرقدہ مذکورہ آیت مبارکہ میں ”برھان“ اور”نور مبین“ کے اطلاق کی بابت حضرات مفسرین کرام رحمھم اللہ کے اقوال کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”در حقیقت یہ کوئی اختلاف نہیں، کیوں کہ قرآن کریم حجت بھی ہے اور نور مبین بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی حجت ہے اور نور مبین بھی ہے۔ اللہ جل شانہ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو معجزات کثیرہ کے ساتھ مبعوث فرمایا۔آپ کی ذات گرامی ساری مخلوق کے لیے اللہ کی طرف سے ایک حجت ہے اور آپ کے اوصاف ،کمالاتِ اخلاق ،صفات و نعوت اور آپ کی دعوت ِتوحید اور دلائلِ توحید اس قدر واضح ہیں کہ کسی بھی شخص کے لیے جو اپنی عقل کو ذرا بھی استعمال کرے؛ان سے منحرف ہونے اور کفر اختیار کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی حجت ہے اور نورمبین ہے کہ آپ نے کھول کر ہدایت کے راستے بتائے اور خیر و شر کا امتیاز واضح فرمایا۔ پھر جس طرح آپ علیہ السلام کی ذات گرامی لوگوں پر حجت ہے اور نور مبین ہے، اسی طرح قرآن عظیم بھی عظیم معجزہ ہونے کے اعتبار سے لوگوں پر حجت ہے ، جس نے توحید کے دلائل بیان کیے اور کافروں اور مشرکوں کی گم راہی بیان کی اور صالحین اور طالحین کا انجام بتایا اور حجت ہونے کے ساتھ ساتھ؛ وہ نور مبین بھی ہے، جس نے خالق و مالک کو راضی کرنے کے طریقے سکھائے، احکام شرعیہ واضح فرمائے اور صلاح وفلاح کے راستے بتائے۔ ( تفسیر انوار البیان :49/2)

نکات ومعارف
مذکورہ آیت مبارکہ سے حاصل ہونے والے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے صاحب ”ایسر التفاسیر“ لکھتے ہیں:
٭…اسلام کی دعوت اور اس کا پیغام بنی نوع انسان کے تمام افراد کے لیے عام ہے۔
٭… انسان کی سعادت مندی، خوش بختی اور بلند اقبالی کی قیمت اللہ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم پر ایمان اور اللہ سے ملاقات کا یقین پیدا کرنا ہے۔جب کہ ”عمل صالح “کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کا نام ہے۔
٭…”برھان “کا اطلاق جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس اعتبار سے ہے کہ آپ علیہ السلام اپنی صفت امّیت اور عظمت و کمال کے ساتھ اس (بلند)مقام پر پہنچے ،جہاں کوئی انسان آپ سے آگے نہیں بڑھ سکتا(اور ایساہونادرحقیقت) اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کے علم اور رحمت کی دلیل ہے۔ (ایسر التفاسیر1/232،شاملہ)

جب کہ علامہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے احکام کو مضبوطی سے تھامے رکھیں ،ان کے لیے اللہ رب العالمین نے تین وعدے فرمائے ہیں:
1..رحمت۔2.. فضل۔3.. ہدایت۔

علامہ فخرالدین رازی رحمہ اللہ تینوں کی تشریح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ نقل کرتے ہیں : ”رحمت سے مراد جنت ہے۔ فضل سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھیں ،نہ کسی کان نے سنیں۔ جب کہ ہدایت سے مراد دین قیم (اسلام) ہے۔ “

مذکورہ انعامات کی مزید توضیح کرتے ہوئے علامہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”رحمت اور فضل تو جنت میں حاصل ہونے والے فائدے اورعظمت سے متعلق ہیں۔ جب کہ ہدایت سے مراد وہ سعادت اور نیک بختی ہے جو عالم قدس کے انوارات کی تجلی سے حاصل ہوتی ہے ۔ (اسی طرح)وہ بلند مقامی (بھی)مراد ہے جو انسانی روحوں کے درمیان حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روحانی سعادت ہے اور اسے پہلی دو قسموں سے موٴخر ذکر کیا ،یہ بتلا نے کے لیے کہ روحانی سرورو مستی جسمانی لذت و کیف سے زیادہ وقعت اور عزت کے قابل ہے۔ “(التفسیر الکبیرللامام الرازی: 5/451،شاملہ)

آیت، حدیث نبوی کے آئینے میں 
صاحب تفسیر حقی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:” آیت مبارکہ میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر نبی اور پیغمبر کو کسی نشانی اور برھان سے نوازا ہے ،تاکہ وہ اپنی امت پرا تمام حجت کرسکیں۔ جب کہ جناب نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ کی ذات مبارکہ کو(ہی) آپ کی طرف سے ایک برھان اور دلیل بناکر دنیا کے سامنے مبعوث فرمایا۔ کیوں کہ دیگر انبیا ئے کرام صلوات اللہ علیھم اجمعین کے براہین (و شواہد نبوت) تو ان کی ذات کے علاوہ دیگر چیزوں میں ہوا کرتے تھے؛ جیسے سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ اور برھان عصا اور اس پتھر میں تھا جس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تھے۔ اس کے برعکس جناب نبی کریم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہی کلیتاً برھان اور معجزہ ہے۔

چناں چہ آپ علیہ السلام کی دونوں آنکھوں کا معجزہ یہ تھا کہ آپ نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا:”مجھ سے رکوع اور سجدے میں آگے نہ بڑھو، کیوں کہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسا آگے سے۔“

آپ علیہ السلام کی نگاہوں کا معجزہ قرآن کریم میں اللہ نے ارشاد فرمایا:”پیغمبر کی آنکھ (معراج کے موقع پر )نہ تو چکرائی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔“(النجم:17)

آپ علیہ السلام کی ناک مبارک کا معجزہ یہ تھا کہ آپ نے ارشاد فرمایا :”میں رحمن کی سانس اپنے دائیں جانب پاتا ہوں۔“

آپ علیہ السلام کی زبان مبارک کا معجزہ قرآن کریم میں ذکر ہے: ”اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے ،یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔“(النجم:3،4)

آپ علیہ السلام کے لعاب مبارک کا معجزہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ خندق کے دن آپ صلی الله علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا : میرے آنے تک اپنے گوندھے ہوئے آٹے سے روٹی مت بنانا اور نہ ہی اپنی ہانڈی چولھے سے اتارنا۔آپ علیہ السلام تشریف لائے اور آٹے میں تھوکااور برکت کی دعا فرمائی۔ اس کے بعد ہانڈی میں تھوکا اور برکت کی دعا فرمائی۔

حضرت جابر  فرماتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ لوگوں نے وہ کھانا کھا یا اور اسے چھوڑ کر واپس چلے گئے ،حالاں کہ وہ ہزار سے زیادہ تھے اورہماری ہانڈی اسی طرح جوش ماررہی تھی اور ہمارے آٹے سے روٹیاں بنائی جارہی تھیں۔

اسی طرح آپ  علیہ السلا کے لعاب مبارک کا معجزہ یہ (بھی )تھا کہ خیبر کے دن حضرت علیؓ کی دکھتی آنکھ پرآپ نے تھوکاتو وہ درست ہوگئی۔

بدر کے دن ہاتھ مبارک کا معجزہ قرآن کریم میں ذکر ہے :” اور (اے پیغمبر) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نہیں تھے، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔“ (الانفال:17)

اسی طرح کنکریاں آپ علیہ السلام کے ہاتھ مبارک میں تسبیح کیا کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگشت مبارک کا معجزہ یہ تھا کہ آپ نے اپنی انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کیا تو وہ دو ٹکڑے ہوگیا ،یہاں تک کہ حراء پہاڑ کو اس کے دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا گیا۔

اسی طرح ایک موقع پر آپ علیہ السلام کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹ پڑا،اسے پیا گیا اور بہت سوں نے ذخیرہ بھی کیا۔

آپ علیہ السلام کے صدر اطہر کا معجزہ یہ تھا کہ جب آپ نماز پڑھا کرتے تو آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے ایسی آواز نکلتی جیسے ہانڈی سے(پکنے کے وقت)نکلاکرتی ہے۔

آپ علیہ السلام کے قلب مبارک کا معجزہ یہ تھا کہ آپ کی آنکھ سوجایا کرتی ، لیکن دل بیدار رہتا ۔ قرآن کریم میں اللہ پاک نے آپ کے قلب مبارک کی یہ صفات بیان فرمائی ہیں: ”جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی۔ “(النجم)…”(اے پیغمبر!)کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ نہیں کھول دیا۔“(الم نشرح)…”بے شک یہ قرآن رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے،امانت دار فرشتہ اسے لے کر اترا ہے(اے پیغمبر!) تمہارے قلب پر اترا ہے تاکہ تم ان پیغمبروں میں شامل ہوجاؤ جو لوگوں کو خبردار کرتے ہیں۔ “ (الشعراء:192،193،194)

الغرض اِن جیسے معجزات بے انتہا ہیں۔ سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو معراج آسمانی کے لیے لے جایا گیا، یہاں تک کہ آپ قاب قوسین (دو کمانوں کے فاصلے)سے بھی آگے تشریف لے گئے اور انتہا کو پہنچے یااس کے قریب قریب۔ یہ کلی طور پر آپ علیہ السلام کا ذاتی اورجسمانی معجزہ تھا، اس سے قبل یہ معجزہ کسی اور نبی کو نہیں دیا گیا۔ اسی طرح عرب و عجم کی سب سے فصیح اور بلیغ زبان (عربی) میں وحی آپ کی طرف بھیجی گئی، حالاں کہ اس سے قبل آپ بے پڑھے لکھے تھے اور کتاب و ایمان کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے۔ (چناں چہ غور و فکر کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ )اس سے بڑھ کر(کوئی اور) معجزہ واضح، ظاہر اور مضبوط (نہ)ہوگا۔(تفسیر حقی:3/169،170،171،شاملہ)

حاصل کلام
صاحب تفسیر حقی فرماتے ہیں:” اللہ تعالیٰ نے اس امت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے عزت و وجاہت بخشی اور ان پر احسان کیا۔اب جو کوئی اللہ کے نور کو دیکھ کر، نہ کہ محض تقلید و اتباع کی وجہ سے،آپ علیہ السلام پر حقیقی ایمان لائے گا تو اللہ کی توفیق اس کی دست گیری کرے گی اور اسے صفات (کمال )کے عالم میں داخل کردے گی… (یہ بات قابل ذکر ہے کہ) باطن کو روشنی اور نورِ معرفت صرف اور صرف ذکر، عبادت اور اللہ کی پہچان سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ مذکورہ امور پر قوت و طاقت اس عبادت خالصہ سے حاصل ہوتی ہے جسے علیٰ وجہ الکمال اور سنت کے مطابق ادا کیا جائے ۔(کیوں کہ ایسی) عبادت (ہی )انسان کو شہوات اور مذموم اخلاق سے چھٹکارا دلانے میں صیقل کا کام دیتی ہے۔ (اور یاد رکھنا چاہیے کہ )توحید تمام نیک اعمال میں سب سے افضل عمل ہے، جو انسان کو سعادت مندی اور بھلائی کی جانب لے جاتاہے۔ حدیث مبارکہ میں ذکر ہے کہ جن لوگوں کی زبانیں اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہیں، وہ جنت میں ہنستے داخل ہوں گے۔ دوسری حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے: ” لاالہ الا اللہ کہنے والوں پر قبر اور نشر میں و حشت اور تنگی نہیں ہوگی۔ گویا میں قیامت کی چنگھاڑ کے وقت انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے آپ سے مٹی جھاڑ تے کھڑے ہوں گے اور کہیں گے تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم کو دور کردیا۔ بے شک ہمارا رب بڑا بخشنے والا اور قدر دان ہے۔“(تفسیر حقی:3/169،170،171،شاملہ)
وماعلینا الاالبلاغ المبین




1-                اسلام کے بغیر انسان یقینا سرکش (بےلغام) بن جاتا ہے:

اقرَأ بِاسمِ رَبِّكَ الَّذى خَلَقَ {96:1}
پڑھ اپنے رب کے نام سے [۱] جو سب کا بنانے والا ہے [۲]
(اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا
یہ پانچ آیتیں ( { اِقْرَاْ } سے { مَالَمْ یَعْلَمْ } تک) قرآن کی سب آیتوں اور سورتوں سے پہلے اتریں۔ آپ "غارحراء" میں خدائے واحد کی عبادت کر رہے تھے کہ اچانک حضرت جبریلؑ وحی لے کر آئے اور آپ کو کہا { اِقْرَاْ } (پڑھیے) آپ نے فرمایا { ماانا بقاریٍٔ } (میں پڑھا ہوا نہیں) جبریلؑ نے کئی بار آپ کو زور زور سے دبایا، اور بار بار وہی لفظ { اِقْرَاْ } کہا۔ آپ وہی { ماانا بقاریٍٔ } جواب دیتے رہے۔ تیسری مرتبہ جبریلؑ نے زور سے دبا کر کہا { اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ } الخ یعنی اپنے رب کے نام کی برکت اور مدد سے پڑھیے۔ مطلب یہ ہے کہ جس رب نے ولادت سے اس وقت تک آپ کی ایک عجیب اور نرالی شان سے تربیت فرمائی جو پتہ دیتی ہے کہ آپ سے کوئی بڑا کام لیا جانیوالا ہے کیا وہ آپ کو ادھر میں چھوڑ دے گا؟ ہر گز نہیں۔ اسی کے نام پر آپ کی تعلیم ہو گی جس کی مہربانی سے تربیت ہوئی ہے۔
یعنی جس نے سب چیزوں کو پیدا کیا، کیا وہ تم میں صفت قرأۃ پیدا نہیں کر سکتا۔

خَلَقَ الإِنسٰنَ مِن عَلَقٍ {96:2}
بنایا آدمی کو جمے ہوئے لہو سے [۳]
جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا
جمے ہوئے خون میں نہ حس ہے نہ شعور، نہ علم نہ ادراک، محض جماد لایعقل ہے، پھر جو خدا جماد لایعقل کو انسان عاقل بناتا ہے، وہ ایک عاقل کو کامل اور ایک اُمّی کو قاری و عالم نہیں بناسکتا۔ یہاں تک قرأت کا امکان ثابت کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کچھ مشکل نہیں کہ تم کو باوجود اُمّی ہونے کے قاری بنا دے، آگے اس کی فعلیت اور وقوع پر متنبہ فرماتے ہیں۔

اقرَأ وَرَبُّكَ الأَكرَمُ {96:3}
پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے [۴]
پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے
یعنی آپ کی تربیت جس شان سے کی گئ، اس سے آپ کی کامل استعداد اور لیاقت نمایاں ہے جب ادھر سے استعداد میں قصور نہیں اور اُدھر سے مبداء فیاض میں بخل نہیں۔ بلکہ وہ تمام کریموں سے بڑھ کر کریم ہے۔ پھر وصول فیض میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے ضرور ہے کہ یونہی ہو کر رہے۔

الَّذى عَلَّمَ بِالقَلَمِ {96:4}
جس نے علم سکھایا قلم سے [۵]
جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں کہ "حضرت نے کبھی لکھا پڑھا نہ تھا، فرمایا کہ قلم سے بھی علم وہی دیتا ہے یوں بھی وہی دیگا"۔ اور ممکن ہے ادھر بھی اشارہ ہو کہ جس طرح مفیض و مستفیض کے درمیان قلم واسطہ ہوتا ہے، اللہ اور محمد کے درمیان جبریلؑ محض ایک واسطہ ہیں۔ جس طرح قلم کا توسط اس کو مستلزم نہیں کہ وہ مستفیض سے افضل ہو جائے۔ ایسے ہی یہاں حقیقت جبریلیہ کا حقیقت محمدیہ سے افضل ہونا لازم آتا۔

عَلَّمَ الإِنسٰنَ ما لَم يَعلَم {96:5}
سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا [۶]
اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا
یعنی انسان کا بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو کچھ نہیں جانتا۔ آخر اسے رفتہ رفتہ کون سکھاتا ہے بس وہی رب قدیر جو انسان کو جاہل سے عالم بناتا ہے، اپنے ایک اُمّی کو عارف کامل بلکہ تمام عارفوں کا سردار بنا دے گا۔

كَلّا إِنَّ الإِنسٰنَ لَيَطغىٰ {96:6}
کوئی نہیں آدمی سر چڑھتا ہے اس سے
مگر انسان سرکش ہو جاتا ہے

أَن رَءاهُ استَغنىٰ {96:7}
کہ دیکھے اپنے آپکو بے پروا [۷]
جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہے
یعنی آدمی کی اصل تو اتنی ہے کہ جمے ہوئے خون سے بنا اور جاہل محض تھا، خدا نے علم دیا، مگر وہ اپنی اصل حقیقت کو ذرا یاد نہیں رکھتا۔ دنیا کے مال و دولت پر مغرور ہو کر سرکشی اختیار کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں۔

إِنَّ إِلىٰ رَبِّكَ الرُّجعىٰ {96:8}
بیشک تیرے رب کی طرف پھر جانا ہے [۸]
کچھ شک نہیں کہ (اس کو) تمہارے پروردگار ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
یعنی اوّل بھی اس نے پیدا کیا اور آخر بھی اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ اس وقت اس تکبر اور خودفراموشی کی حقیقت کھلیگی۔

أَرَءَيتَ الَّذى يَنهىٰ {96:9}
تو نے دیکھا اُسکو جو منع کرتا ہے
بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے

عَبدًا إِذا صَلّىٰ {96:10}
ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھے [۹]
(یعنی) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے
یعنی اس کی سرکشی اور تمرد کو دیکھو کہ خود تو اپنے رب کے سامنے جھکنے کی توفیق نہیں، دوسرا بندہ اگر خدا کے سامنے سربسجود ہوتا ہے، اسے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ ان آیات میں اشارہ ابوجہل ملعون کی طرف ہے۔ جب وہ حضرت کو نماز پڑھتے دیکھتا تو چڑاتا اور دھمکاتا تھا اور طرح طرح سے ایذائیں پہنچانے کی سعی کرتا تھا۔

أَرَءَيتَ إِن كانَ عَلَى الهُدىٰ {96:11}
بھلا دیکھ تو اگر ہوتا نیک راہ پر
بھلا دیکھو تو اگر یہ راہِ راست پر ہو

أَو أَمَرَ بِالتَّقوىٰ {96:12}
یا سکھلاتا ڈر کے کام
یا پرہیز گاری کا حکم کرے (تو منع کرنا کیسا)

أَرَءَيتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ {96:13}
بھلا دیکھ تو اگر جھٹلایا اور منہ موڑا [۱۰]
اور دیکھو تو اگر اس نے دین حق کو جھٹلایا اور اس سے منہ موڑا (تو کیا ہوا)
یعنی نیک راہ پر ہوتا بھلے کام سکھاتا تو کیا اچھا آدمی ہوتا۔ اب جو منہ موڑا تو ہمارا کیا بگاڑا۔ کذا فی موضح القرآن۔ وللمفسرین اقوال فی تفسیر ہا من شاء الا طلاع علیہا فلیراجع روح المعانی۔

أَلَم يَعلَم بِأَنَّ اللَّهَ يَرىٰ {96:14}
یہ نہ جانا کہ اللہ دیکھتا ہے [۱۱]
کیااس کو معلوم نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے
یعنی اس ملعون کی شرارتوں کو اور اس نیک بندے کے خشوع و خضوع کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

كَلّا لَئِن لَم يَنتَهِ لَنَسفَعًا بِالنّاصِيَةِ {96:15}
کوئی نہیں اگر باز نہ آئے گا ہم گھسیٹیں گے چوٹی پکڑ کر [۱۲]
دیکھو اگر وہ باز نہ آئے گا تو ہم (اس کی) پیشانی کے بال پکڑ گھسیٹیں گے
یعنی رہنے دو! یہ سب کچھ جانتا ہے۔ پر اپنی شرارت سے باز نہیں آتا۔ اچھا اب کان کھول کر سن لے کہ اگر اپنی شرارت سے باز نہ آیا تو ہم اس کو جانوروں اور ذلیل قیدیوں کی طرح سر کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے۔

ناصِيَةٍ كٰذِبَةٍ خاطِئَةٍ {96:16}
کیسی چوٹی جھوٹی گنہگار [۱۳]
یعنی اس جھوٹے خطاکار کی پیشانی کے بال
یعنی جس سر پر یہ چوٹی ہے وہ جھوٹ اور گناہوں سے بھرا ہوا ہے۔ گویا اس کا دروغ اور گناہ بال بال میں سرایت کرگیا ہے۔

فَليَدعُ نادِيَهُ {96:17}
اب بلا لیوے اپنے مجلس والوں کو
تو وہ اپنے یاروں کی مجلس کو بلالے

سَنَدعُ الزَّبانِيَةَ {96:18}
ہم بھی بلاتے ہیں پیادے سیاست کرنے کو [۱۴]
ہم بھی اپنے موکلانِ دوزخ کو بلا لیں گے
ابو جہل نے ایک مرتبہ حضرت کو نماز سے روکنا چاہا۔ آپ نے سختی سے جواب دیا۔ کہنے لگا کیا جانتے نہیں کہ مکہ میں سب سے بڑی مجلس میری ہے۔ اس پر فرماتے ہیں کہ اب وہ اپنی مجلس والے ساتھیوں کو بلالے۔ ہم بھی اس کی گوشمالی کے لئے اپنے سپاہی بلاتے ہیں۔ دیکھیں کون غالب رہتا ہے۔ چند روز بعد "بدر" کے میدان میں دیکھ لیا کہ اسلام کے سپاہیوں نے اسے کس طرح گھسیٹ کر "قلیب بدر" میں پھینک دیا۔ باقی اصل وقت گھسیٹے جانے کا آخرت ہے جب دوزخ کے فرشتے اس کو نہایت ذلّت کے ساتھ جہنم رسید کرینگے۔ آنحضرت کو نماز سے روکنے کا واقعہ: روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل حضرت کو نماز میں دیکھ کر چلا کہ بے ادبی کرے وہاں پہنچا نہ تھا کہ گھبرا کر پیچھے ہٹا اور لوگوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ مجھے اپنے اور محمد کے درمیان ایک آگ کی خندق نظر آئی جس میں کچھ پر رکھنے والی مخلوق تھی۔ میں گھبرا کر واپس آگیا۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ اگر وہ (ملعون) ذرا آگے بڑھتا فرشتے اس کی بوٹی بوٹی جدا کر دیتے۔ گویا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اس کو { سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ } کا ایک چھوٹا سا نمونہ دکھلادیا۔ (تنبیہ) اکثر مفسرین نے "زبانیۃ" سے دوزخ کے فرشتے مراد لئے ہیں۔

كَلّا لا تُطِعهُ وَاسجُد وَاقتَرِب ۩ {96:19}
کوئی نہیں مت مان اُسکا کہا اور سجدہ کر اور نزدیک ہو [۱۵]
دیکھو اس کا کہا نہ ماننا اور قربِ (خدا) حاصل کرتے رہنا
یعنی آپ اس کی ہرگز پروا نہ کیجیے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے۔ جہاں چاہو شوق سے اللہ کی عبادت کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ "بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ سے نزدیک ہوتا ہے۔



2-                اسلام کے بغیر انسان کی بے باکی اور غلفت:

وَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ الضُّرُّ دَعانا لِجَنبِهِ أَو قاعِدًا أَو قائِمًا فَلَمّا كَشَفنا عَنهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَم يَدعُنا إِلىٰ ضُرٍّ مَسَّهُ ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلمُسرِفينَ ما كانوا يَعمَلونَ {10:12}
اور جب پہنچے انسان کو تکلیف پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر اسی طرح پسند آیا ہے بیباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں [۲۴]
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کر دیتے ہیں تو (بےلحاظ ہو جاتا ہے اور) اس طرح گزر جاتا ہے گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کرکے دکھائے گئے ہیں
یعنی انسان اول بے باکی سے خود عذاب طلب کرتا اور برائی اپنی زبان سے مانگتا ہے۔ مگر کمزور اور بودا اتنا ہے کہ جہاں ذرا تکلیف پہنچی ، گھبرا کر ہمیں پکارنا شروع کر دیا۔ جب تک مصیبت رہی کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے ہر حالت میں خدا کو پکارتا رہا۔ پھر جہاں تکلیف ہٹا لی گئ، سب کہاسنا بھول گیا۔ گویا خدا سے کبھی کوئی واسطہ نہ تھا۔ وہ ہی غرور و غلفت کا نشہ ، وہ ہی اکڑفوں رہ گئ جس میں پہلے مبتلا تھا۔ حدیث میں ہے کہ تو خدا کو اپنے عیش و آرام میں یاد رکھ ، خدا تجھ کو تیری سختی اور مصیبت میں یاد رکھے گا۔ مومن کی شان یہ ہے کہ کسی وقت خدا کو نہ بھولے ۔ سختی پر صبر اور فراخی پر خدا کا شکر ادا کرتا رہے۔ یہ ہی وہ چیز ہے جس کی توفیق مومن کے سوا کسی کو نہیں ملتی۔

وَإِذا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِى البَحرِ ضَلَّ مَن تَدعونَ إِلّا إِيّاهُ ۖ فَلَمّا نَجّىٰكُم إِلَى البَرِّ أَعرَضتُم ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ كَفورًا {17:67}
اور جب آتی ہے تم پر آفت دریا میں بھول جاتے ہو جن کو پکارا کرتے تھے اللہ کے سوائے پھر جب بچا لایا تم کو خشکی میں پھر جاتے ہو اور ہے انسان بڑا نا شکر [۱۰۶]
اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا
یعنی مصیبت سےنکلتے ہی محسن حقیقی کو بھول جاتا ہے۔ چند منٹ پہلے دریا کی موجوں میں خدا یاد آرہا تھا۔ کنارہ پر قدرم رکھا اور بے فکر ہو کر سب فراموش کر بیٹھا ۔ اس سے بڑھ کر ناشکر گذاری کیا ہوگی۔

وَإِذا أَنعَمنا عَلَى الإِنسٰنِ أَعرَضَ وَنَـٔا بِجانِبِهِ ۖ وَإِذا مَسَّهُ الشَّرُّ كانَ يَـٔوسًا {17:83}
اور جب ہم آرام بھیجیں انسان پر تو ٹال جائے اور بچائے اپنا پہلو اور جب پہنچے اس کو برائی تو رہ جائے مایوس ہو کر [۱۲۹]
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے
یعنی انسان کا عجیب حال ہے خدا تعالیٰ اپنے فضل سے نعمتیں دیتا ہے تو احسان نہیں مانتا۔ جتنا عیش آرام ملے اسی قدر منعم حقیقی کی طرف سے اس کی غلفت و اعراض بڑھتا ہے اور فرائض بندگی سے پہلو بچا کر کھسکنا چاہتا ہے۔ پھر جب سخت اور برا وقت آیا تو ایک دم آس توڑ کر اور ناامید ہو کر بیٹھ رہتا ہے۔ گویا دونوں حالتوں میں خدا سے بے تعلق رہا۔ کبھی غلفت کی بناء پر کبھی مایوسی کی (نعوذ باللہ من کلا الحالین) یہ مضمون غالبًا اس لئے بیان فرمایا کہ قرآن جو سب سے بڑی نعمت الہٰی ہے ، بہت لوگ اس کی قدر نہیں پہچانتے بلکہ اس کے ماننے سے اعراض و پہلو تہی کرتے ہیں ۔ پھر جب اس کفران نعمت اور اعراض و انکار کا برا نتیجہ سامنے آئے گا اس وقت قطعًا مایوسی ہو گی کسی طرف امید کی جھلک نظر نہ پڑے گی۔

وَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ ضُرٌّ دَعا رَبَّهُ مُنيبًا إِلَيهِ ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعمَةً مِنهُ نَسِىَ ما كانَ يَدعوا إِلَيهِ مِن قَبلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندادًا لِيُضِلَّ عَن سَبيلِهِ ۚ قُل تَمَتَّع بِكُفرِكَ قَليلًا ۖ إِنَّكَ مِن أَصحٰبِ النّارِ {39:8}
اور جب آ لگے انسان کو سختی پکارے اپنے رب کو رجوع ہو کر اسکی طرف پھر جب بخشے اسکو نعمت اپنی طرف سے بھول جائے اس کو کہ جس کے لئے پکار رہا تھا پہلے سے اور ٹھہرائے اللہ کی برابر اوروں کو تاکہ بہکائے اسکی راہ سے [۱۸] تو کہہ برت لے ساتھ اپنے کفر کے تھوڑے دنوں تو ہے دوزخ والوں میں [۱۹]
اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتا (اور) اس کی طرف دل سے رجوع کرتا ہے۔ پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور خدا کا شریک بنانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کے رستے سے گمراہ کرے۔ کہہ دو کہ (اے کافر نعمت) اپنی ناشکری سے تھوڑا سا فائدہ اٹھالے۔ پھر تُو تو دوزخیوں میں ہوگا
یعنی انسان کی حالت عجیب ہے مصیبت پڑے تو ہمیں یاد کرتا ہے، کیونکہ دیکھتا ہے کوئی مصیبت کو ہٹانے والا نہیں۔ پھر جہاں اللہ کی مہربانی سے ذرا آرام و اطمینان نصیب ہوا معًا وہ پہلی حالت کو بھول جاتا ہے جس کے لئے ابھی ابھی ہم کو پکار رہا تھا۔ عیش و تنعم کے نشہ میں ایسا مست و غافل ہو جاتا ہے گویا کبھی ہم سے واسطہ ہی نہ تھا۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو دوسرے جھوٹے اور من گھڑت خداؤں کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے اور ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو خدائے واحد کے ساتھ کرنا چاہئے تھا۔ اس طرح خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور اپنے قول و فعل سے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔
یعنی اچھا۔ کافر رہ کر چند روز یہاں اور عیش اڑا لے۔ اور خدا نے جب تک مہلت دے رکھی ہے دنیا کی نعمتوں سے تمتع کرتا رہ اس کے بعد تجھے دوزخ میں رہنا ہے۔ جہاں سے کبھی چھٹکارا نصیب نہ ہو گا۔

فَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ ضُرٌّ دَعانا ثُمَّ إِذا خَوَّلنٰهُ نِعمَةً مِنّا قالَ إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ ۚ بَل هِىَ فِتنَةٌ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ {39:49}
سو جب آ لگتی ہے آدمی کو کچھ تکلیف ہم کو پکارنے لگتا ہے [۶۳] پھر جب ہم بخشیں اسکو اپنی طرف سے کوئی نعمت کہتا ہے یہ تو مجھ کو ملی کہ پہلے سے معلوم تھی [۶۴] کوئی نہیں یہ جانچ ہے پر وہ بہت سے لوگ نہیں سمجھتے [۶۵]
جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے
یعنی قیاس یہ ہی چاہتا تھا کہ یہ نعمت مجھ کو ملے۔ کیونکہ مجھ میں اس کی لیاقت تھی اور اس کی کمائی کے ذرائع کا علم رکھتا تھا اور خدا کو میری استعداد و اہلیت معلوم تھی، پھر مجھے کیوں نہ ملتی۔ غرض اپنی لیاقت اور عقل پر نظر کی، اللہ کے فضل و قدرت پر خیال نہ کیا۔
یعنی ایسا نہیں بلکہ یہ نعمت خدا کی طرف سے ایک امتحان ہے کہ بندہ اسے لیکر کہاں تک منعم حقیقی کو پہنچانتا اور اس کا شکر ادا کرتا ے۔ اگر ناشکری کی گئ تو یہ ہی نعمت نقمت بن کر وبال جان ہو جائے گی۔ حضرت شاہ صاحبؒ کہتے ہیں "یہ جانچ ہے کہ عقل اس کی دوڑنے لگتی ہے تا اپنی عقل پر بہکے۔ وہ ہی عقل رہتی ہے اور آفت آ پہنچتی ہے" پھر کسی کے ٹالے نہیں ٹلتی۔
یعنی جس کے ذکر سے چڑتا تھا مصیبت کے وقت اسی کو پکارتا ہے اور جس کے ذکر سے خوش ہوتا تھا انہیں بھول جاتا ہے۔

لا يَسـَٔمُ الإِنسٰنُ مِن دُعاءِ الخَيرِ وَإِن مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَـٔوسٌ قَنوطٌ {41:49}
نہیں تھکتا آدمی مانگنے سے بھلائی اور اگر لگ جائے اس کو برائی تو آس توڑ بیٹھے ناامید ہو کر
انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے

وَإِذا أَنعَمنا عَلَى الإِنسٰنِ أَعرَضَ وَنَـٔا بِجانِبِهِ وَإِذا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذو دُعاءٍ عَريضٍ {41:51}
اور جب ہم نعمتیں بھیجیں انسان پر تو ٹلا جائے اور موڑ لے اپنی کروٹ اور جب لگے اسکو برائی تو دعائیں کرے چوڑی [۷۴]
اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے
یعنی اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونے کے وقت تو منعم کی حق شناسی اور شکر گذاری سے اعراض کرتا ہے اور بالکل بے پروا ہو کر اُدھر سے کروٹ بدل لیتا ہے۔ پھر جب کوئی تکلیف اور مصیبت پیش آتی ہے تو اسی خدا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ شرم نہیں آتی کہ اب اسے کس منہ سے پکارے۔ اور تماشا یہ ہے کہ بعض اوقات اسباب پر نطر کر کے دل اندر سے مایوس ہوتا ہے، اس حالت میں بھی بدحواس اور پریشان ہو کر دعا کے ہاتھ بے اختیار خدا کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ قلب میں ناامیدی بھی ہے اور زبان پر یااللہ بھی، حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ سب بیان ہے انسان کے نقصان (و قصور) کا۔ نہ سختی میں صبر ہے نہ نرمی میں شکر"۔





3-                اسلام کے بغیر انسان یقینا بےانصاف بن جاتا ہے:


وَءاتىٰكُم مِن كُلِّ ما سَأَلتُموهُ ۚ وَإِن تَعُدّوا نِعمَتَ اللَّهِ لا تُحصوها ۗ إِنَّ الإِنسٰنَ لَظَلومٌ كَفّارٌ {14:34}
اور دیا تم کو ہر چیز میں سےجو تم نے مانگی [۵۹] اور اگر گنو احسان اللہ کے نہ پورے کر سکو [۶۰] بیشک آدمی بڑا بے انصاف ہے ناشکرا [۶۱]
اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے
یعنی جنس انسان میں بہترے بے انصاف اور ناسپاس ہیں ، جو اتنے بیشمار احسانات دیکھ کر بھی منعم حقیقی کا حق نہیں پہچانتے۔
یعنی خدا کی نعمتیں اتنی بے شمار بلکہ غیر متناہی ہیں کہ اگر تم سب مل کر اجمالاً ہی گنتی شروع کرو تو تھک کر اور عاجز ہو کر بیٹھ جاؤ۔ اس موقع پر امام رازی نے نعمائے الہٰیہ کا بے شمار ہونا ، اور علامہ ابوالسعود نے ان کا غیر متناہی ہونا ذرا بسط سے بیان فرمایا ہے اور صاحب روح المعانی نے ان کے بیانات پر مفید اضافہ کیا ۔ یہاں اس قدر تطویل کی گنجائش نہیں۔
یعنی جو چیزیں تم نے زبان قال یا حال سے طلب کیں ، ان میں سے ہر چیز کا جس قدر حصہ حکمت و مصلحت کے موافق تھا مجموی طور پر تم سب کو دیا۔





إِنّا عَرَضنَا الأَمانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَالجِبالِ فَأَبَينَ أَن يَحمِلنَها وَأَشفَقنَ مِنها وَحَمَلَهَا الإِنسٰنُ ۖ إِنَّهُ كانَ ظَلومًا جَهولًا {33:72}
ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا کہ اس کو اٹھائیں اورا س سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے یہ ہے بڑا بے ترس نادان [۱۰۲]
ہم نے (بار) امانت کو آسمانوں اور زمین پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ بےشک وہ ظالم اور جاہل تھا
یعنی ستم کر دیے جو بوجھ آسمان، زمین، اور پہاڑوں سے نہ اٹھ سکتا تھا، اس نادان نے اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لیا ؎ آسمان بارامانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا ہے؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر۔ آسمان و زمین وغیرہ میں اپنی خواہشات کچھ نہیں، یا ہے تو وہ ہی ہے جس پر قائم ہیں۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے ۔ اس پرائی چیز (یعنی حکم) کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے اس کا انجام یہ ہے کہ منکروں کو قصور پر پکڑا جائے اور ماننے والوں کا قصور معاف کیا جائے۔ اب بھی یہ ہی حکم ہے۔ کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کر دے تو بدلہ (ضمان) دینا پڑے گا اور بے اختیار ضائع ہو جائے تو بدلہ نہیں"۔ (موضح) اصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی ایک خاص امانت مخلوق کی کسی نوع میں رکھنے کا ارادہ کیا جو اس امانت کو اگر چاہے تو اپنی سعی و کسب اور قوت بازو سے محفوظ رکھ سکے اور ترقی دے سکے تا اس سلسلہ میں اللہ کی ہر قسم کی شئون و صفات کا ظہور ہو ۔ مثلاً اس نوع کے جو افراد امانت کو پوری طرح محفوظ رکھیں اور ترقی دیں ان پر انعام و اکرام کیا جائے۔ جو غفلت یا شرارت سے ضائع کر دیں ان کو سزا دی جائے اور جو لوگ اس بارہ میں قدرے کوتاہی کریں ان سے عفو و درگذر کا معاملہ ہو۔ امانت کیا چیز ہے؟ میرے خیال میں یہ امانت ایمان و ہدایت کا ایک تخم ہے جو قلوب بنی آدم میں بکھیرا گیا جس کو "مابہ التکلیف" بھی کہہ سکتے ہیں۔ { لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ } اسی کی نگہداشت اور تردد کرنے سے ایمان کا درخت اگتا ہے۔ گویا بنی آدم کے قلوب اللہ کی زمینیں ہیں، بیج بھی اسی نے ڈال دیا ہے۔ بارش برسانے کے لئے رحمت کے بادل بھی اس نے بھیجے جن کے سینوں سے وحی الہٰی کی بارش ہوئی۔ آدمی کا فرض یہ ہے کہ ایمان کے اس بیج کو جو امانت الہٰیہ ہے ضائع نہ ہونے دے بلکہ پوری سعی و جہد اور تردد و تفقد سے اس کی پرورش کرے مبادا غلطی یا غفلت سے بجائے درخت اگنے کے بیج بھی سوخت ہو جائے اسی کی طرف اشارہ ہے حذیفہؓ کی حدیث میں { اِنَّ الاَ مَانَۃَ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ فِی جَذْرِقُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ عَلِمُوْا مِنَ الْقُرْآن } الحدیث۔ یہ امانت وہی تخم ہدایت ہے۔ جو اللہ کی طرف سے قلوب رجال میں تہ نشین کیا گیا ، پھر علوم قرآن و سنت کی بارش ہوئی جس سے اگر ٹھیک طور پر انتفاع کیا جائے تو ایمان کا پودا اگے، بڑھے، پھولے، پھلے اور آدمی کو اس کے ثمرہ شیریں سے لذت اندوز ہونے کا موقع ملے اور اگر انتفاع میں کوتاہی کی جائے تو اسی قدر درخت کے ابھرنے اور پھولنے پھلنے میں نقصان رہے یا بالکل غفلت برتی جائے تو سرے سے تخم بھی برباد ہو جائے۔ یہ امانت تھی جو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور پہاڑوں کو دکھلائی۔ مگر کس میں استعداد تھی جو اس امانت عظیمہ کو اٹھانے کا حوصلہ کرتا ہر ایک نے بلسان حال یا بزبان قال ناقابل برداشت ذمہ داریوں سے ڈر کر انکار کر دیا کہ ہم سے یہ بار نہ اٹھ سکے گا۔ خود سوچ لو کہ بجز انسان کے کونسی مخلوق ہے جو اپنے کسب و محنت سے اس تخم ایمان کی حفاظت و پرورش کر کے ایمان کا شجر بار آور حاصل کر سکے۔ فی الحقیقت اس عظیم الشان امانت کا حق ادا کر سکنا اور ایک افتادہ زمین کو جس میں مالک نے تخم ریزی کر دی تھی خون پسینہ ایک کر کے باغ و بہار بنا لینا اسی ظلوم و جہول انسان کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے پاس زمین قابل موجود ہے اور محنت و تردد کر کے کسی چیز کو بڑھانے کی قدرت اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائی ہے۔ ظلوم و جہول کی تفسیر: "ظلوم" و "جہول" ۔ "جاہل" کا مبالغہ ہے۔ ظالم و جاہل وہ کہلاتا ہے جو بالفعل عدل اور علم سے خالی ہو مگر استعدداد و صلاحیت ان صفات کے حصول کی رکھتا ہو۔ پس جو مخلوق بدء فطرت سے علم و عدل کے ساتھ متصف ہے اور ایک لمحہ کے لئے بھی یہ اوصاف اس سے جدا نہیں ہوئے (مثلاً ملائکۃ اللہ) یا جو مخلوق ان چیزوں کے حاصل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی۔ (مثلاً زمین و آسمان پہاڑ وغیرہ) ظاہر ہے کہ دونوں اس امانت الہٰیہ کے حامل نہیں بن سکتے۔ بیشک انسان کے سوا "جن" ایک نوع ہے جس میں فی الجملہ استعداد اس کے تحمل کی پائی جاتی ہے اور اسی لئے { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لَیَعْبُدُوْنَ } میں دونوں کو جمع کیا گیا ۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ ادائے حق امانت کی استعداد ان میں اتنی ضعیف تھی کہ حمل امانت کے مقام میں چنداں قابل ذکر اور درخور اعتناء نہیں سمجھے گئے۔ گویا وہ اس معاملہ میں انسان کے تابع قرار دیے گئے جن کا نام مستقل طور پر لینے کی ضرورت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔






اسلامی تعلیمات کے بغیر انسان یقینا احسان فراموش ہے:


وَهُوَ الَّذى أَحياكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ۗ إِنَّ الإِنسٰنَ لَكَفورٌ {22:66}
اور اُسی نے تمکو جلایا پھر مارتا ہے پھر زندہ کرے گا [۱۰۰] بیشک انسان ناشکرا ہے [۱۰۱]
اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی۔ پھر تم کو مارتا ہے۔ پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکر ہے
یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اس کا حق نہیں مانتا۔ منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکنے لگتا ہے۔
اسی طرح کفر و جہل سے جو قوم روحانی موت مر چکی تھی ، ایمان و معرفت کی روح سے اس کو زندہ کر دے گا۔

فَإِن أَعرَضوا فَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا ۖ إِن عَلَيكَ إِلَّا البَلٰغُ ۗ وَإِنّا إِذا أَذَقنَا الإِنسٰنَ مِنّا رَحمَةً فَرِحَ بِها ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم فَإِنَّ الإِنسٰنَ كَفورٌ {42:48}
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے ان پر نگہبان تیرا ذمہ تو بس یہی ہے پہنچا دینا [۶۷] اور ہم جب چکھاتے ہیں آدمی کو اپنی طرف سے رحمت اس پر پھولا نہیں سماتا اور اگر پہنچتی ہے انکو کچھ برائی بدلے میں اپنی کمائی کے تو انسان بڑا ناشکرا ہے [۶۸]
پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔ تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے۔ اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے۔ اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتے ہیں) بےشک انسان بڑا ناشکرا ہے
یعنی ان کے اعراض سے آپ غمگین نہ ہوں۔ انسان کی طبعیت ہی ایسی واقع ہوئی ہے { اِلَّا مَنْ شَاء اللہُ } کہ اللہ انعام و احسان فرمائے تو اکڑنے اور اترانے لگتا ہے۔ پھر جہاں اپنی کرتوت کی بدولت کوئی افتاد پڑ گئ، بس سب نعمتیں بھول جاتا ہے اور ایسا نا شکر بن جاتا ہے گویا کبھی اس پر اچھا وقت آیا ہی نہ تھا۔ خلاصہ یہ کہ فراخی اور عیش کی حالت ہو یا تنگی اور تکلیف کی۔ اپنی حد پر قائم نہیں رہتا۔ البتہ مومنین قانتین کا شیوہ یہ ہے کہ سختی پر صبر اور فراخی کی حالت میں منعم حقیقی کا شکر ادا کرتے ہیں اور کسی حال اسکے انعامات و احسانات کو فراموش نہیں کرتے۔
یعنی آپ ذمہ دار نہیں کہ زبردستی منوا کر چھوڑیں۔ آپ کا فرض پیغام الٰہی پہنچا دینا ہے۔ وہ آپ ادا کر رہے ہیں۔ یہ نہیں مانتے تو جائیں جہنم میں۔




بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ عَبَسَ وَتَوَلّىٰ {80:1}
[۱] تیوری چڑھائی اور منہ موڑھا
(محمد مصطفٰے) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے
آنحضرت بعض سردارانِ قریش کو مذہب اسلام کے متعلق کچھ سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں ایک نابینا مسلمان (جن کو ابن اُم مکتومؓ کہتے ہیں) حاضر خدمت ہوئے اور اپنی طرف متوجہ کرنے لگے کہ فلاں آیت کیونکر ہے یارسول اللہ مجھے اُس میں سے کچھ سکھائیے جو اللہ نے آپ کو سکھلایا ہے۔ حضرت کو ان کا بے وقت کا پوچھنا گراں گزرا۔ آپ کو خیال ہوا ہو گا کہ میں ایک بڑے اہم کام میں مشغول ہوں قریش کے یہ بڑے بڑے سردار اگر ٹھیک سمجھ کر اسلام لے آئیں تو بہت لوگوں کے مسلمان ہونے کی توقع ہے۔ حضرت ابن اُم مکتومؓ: ابن اُم مکتومؓ بہر حال مسلملان ہے اس کو سمجھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے ہزار مواقع حاصل ہیں، اس کو دکھائی نہیں دیتا کہ میرے پاس ایسے بااثر اور بارسوخ لوگ بیٹھے ہیں جن کو اگر ہدایت ہو جائے تو ہزاروں اشخاص ہدایت پر آسکتے ہیں، میں ان کو سمجھا رہا ہوں، یہ اپنی کہتا چلا جاتا ہے۔ اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ اگر ان لوگوں کی طرف سے ہٹ کر گوشہ التفات اس کی طرف کروں گا تو ان لوگوں پر کس قدر شاق ہو گا۔ شاید پھر وہ میری بات سننا بھی پسند نہ کریں۔ غرض آپ منقبض ہوئے اور انقباض کے آثار چہرے پر ظاہر ہونے لگے۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ روایات میں ہے کہ اس کے بعد جب وہ نابینا آپ کی خدمت میں آتے، آپ بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے { مَرْحَبًا بِمَنْ عَاتبنی فیْہ رَبِّی }۔

أَن جاءَهُ الأَعمىٰ {80:2}
اس بات سے کہ آیا اُسکے پاس اندھا [۲]
کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا
یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بچیں ہو کر منہ پھیر لیا۔ حالانکہ اس کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی، اور طلب صادق کا لحاظ زیادہ کرنا چاہئیے تھا۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "یہ کلام گویا اوروں کے سامنے گلہ ہے رسول کا (اسی لئے بصیغہ غائب ذکر کیا) آگے خود رسول کو خطاب فرمایا ہے"۔ اور محققین کہتے ہیں کہ یہ غایت تکرّم و استحیاء متکلم کا، اور غایت کرامت مخاطب کی ہے کہ عتاب کے وقت بھی رُودر رُو اُس امر کی نسبت آپ کی طرف نہیں فرمائی اور آگے خطاب کا صیغہ بطور التفات کے اس لئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہ ہو۔ نیز وہ مضمون پہلے مضمون سے ہلکا ہے۔ واللہ اعلم۔

وَما يُدريكَ لَعَلَّهُ يَزَّكّىٰ {80:3}
اور تجھ کو کیا خبر ہے شاید کہ وہ سنورتا
اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا

أَو يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكرىٰ {80:4}
یا سوچتا تو کام آتا اُسکے سمجھانا [۳]
یا سوچتا تو سمجھانا اسے فائدہ دیتا
یعنی وہ اندھا طالب صادق تھا۔ تمہیں کیا معلوم کہ تمہارے فیض توجہ سےاس کا حال سنور جاتا اور اس کا نفس مزکیّٰ ہو جاتا۔ یا تمہاری کوئی بات کان میں پڑتی ، اس کو اخلاص سے سوچتا سمجھتا اور آخر وہ بات کسی وقت اسکے کام آجاتی۔

أَمّا مَنِ استَغنىٰ {80:5}
وہ جو پروا نہں کرتا
جو پروا نہیں کرتا

فَأَنتَ لَهُ تَصَدّىٰ {80:6}
سو تو اُسکی فکر میں ہے
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

وَما عَلَيكَ أَلّا يَزَّكّىٰ {80:7}
تور تجھ پر کچھ الزام نہیں کہ وہ نہیں درست ہوتا [۴]
حالانکہ اگر وہ نہ سنورے تو تم پر کچھ (الزام) نہیں
یعنی جو لوگ اپنے غرور اور شیخی سے حق کی پروا نہیں کرتے اور ان کا تکبر اجازت نہیں دیتا کہ اللہ ورسول کے سامنے جھکیں۔ آپ ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ یہ کسی طرح مسلمان ہو جائیں۔ تاکہ ان کے اسلام کا اثر دوسروں پر پڑے۔ حالانکہ اللہ کی طرف سے آپ پر کوئی الزام نہیں کہ یہ مغرور اور شیخی باز آپ کی ہدایت سے درست کیوں نہ ہوئے۔ آپ کا فرض دعوت و تبلیغ کا تھا، وہ ادا کر چکے اور کر رہے ہیں۔ آگے ان لاپروا متکبروں کی فکر میں اس قدر انہماک کی ضرورت نہیں کہ سچے طالب اور مخلص ایماندار توجہ سے محروم ہونے لگیں۔ یا معاملہ کی ظاہری سطح دیکھ کر بے سوچے سمجھے لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ پیغمبر صاحب کی توجہ امیروں اور تونگروں کی طرف زیادہ ہے۔ شکستہ حال غریبوں کی طرف نہیں۔ اس مہمل خیال کے پھیلنے سے جو ضرر دعوت اسلام کے کام کو پہنچ سکتا ہے وہ اس نفع سے کہیں بڑھ کر ہے جس کی ان چند متکبرین کے مسلمان ہونے سے توقع کی جاسکتی ہے۔

وَأَمّا مَن جاءَكَ يَسعىٰ {80:8}
اور وہ جو آیا تیرے پاس دوڑتا
اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا

وَهُوَ يَخشىٰ {80:9}
اور ہو ڈرتا ہے [۵]
اور (خدا سے) ڈرتا ہے
یعنی اللہ سے ڈرتا ہے یا ڈرلگا ہے کہ آپ کی ملاقات میسر ہو یا نہ ہو، پھر اندھا ہے کوئی پکڑنے والا نہیں۔ اندیشہ ہے کہیں راستہ میں ٹھوکر لگے یا کسی چیز سے ٹکرا جائے یا یہ سمجھ کر کہ آپ کے پاس جارہا ہے دشمن ستانے لگیں۔

فَأَنتَ عَنهُ تَلَهّىٰ {80:10}
سو تو اُس سے تغافل کرتا ہے [۶]
اس سے تم بےرخی کرتے ہو
حالانکہ ایسے ہی لوگوں سے امید ہوسکتی ہے کہ ہدایت سے منتفع ہونگے اور اسلام کے کام آئیں گے، کہتے ہیں کہ یہ ہی نابینا بزرگ زرہ پہنے اور جھنڈا ہاتھ میں لئے جنگ قادسیہ میں شریک تھے۔ آخر اسی معرکہ میں شہید ہوئے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

كَلّا إِنَّها تَذكِرَةٌ {80:11}
یوں نہیں یہ تو نصیحت ہے
دیکھو یہ (قرآن) نصیحت ہے

فَمَن شاءَ ذَكَرَهُ {80:12}
پھر جو کوئی چاہے اسکو پڑھے [۷]
پس جو چاہے اسے یاد رکھے
یعنی متکبر اغنیاء اگر قرآن کو نہ پڑھیں اور اس نصیحت پر کان نہ دھریں تو اپنا ہی براکریں گے۔ قرآن کو ان کی کچھ پروا نہیں۔ نہ آپ کو اس درجہ ان کے درپے ہونے کی ضرورت ہے ایک عام نصیحت تھی سو کر دی گئ جو اپنا فائدہ چاہے اس کو پڑھے اور سمجھے۔

فى صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ {80:13}
لکھا ہے عزت کے ورقوں میں
قابل ادب ورقوں میں (لکھا ہوا)

مَرفوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ {80:14}
اونچے رکھے ہوئے نہایت ستھرے [۸]
جو بلند مقام پر رکھے ہوئے (اور) پاک ہیں
یعنی کیا ان مغرور سر پھروں کے ماننے سے قرآن کی عزت و وقعت ہو گی؟ قرآن تو وہ ہے جس کی آیتیں آسمان کے اوپر نہایت معزز، بلند مرتبہ اور صاف ستھرے ورقوں میں لکھی ہوئی ہیں اور زمین پر مخلص ایماندار بھی اس کے اوراق نہایت عزت و احترام اور تقدیس وتطہیر کے ساتھ اونچی جگہ رکھتے ہیں۔

بِأَيدى سَفَرَةٍ {80:15}
ہاتھوں میں لکھنے والوں کے
لکھنے والوں کے ہاتھوں میں

كِرامٍ بَرَرَةٍ {80:16}
جو بڑے درجہ والے نیک کار ہیں [۹]
جو سردار اور نیکو کار ہیں
یعنی وہاں فرشتے اس کو لکھتے ہیں اسی کے موافق وحی اترتی ہے اور یہاں بھی اوراق میں لکھنے اور جمع کرنیوالے دنیا کے بزرگ ترین پاکباز نیکو کار اور فرشتہ خصلت بندے ہیں جنہوں نے ہرقسم کی کمی بیشی اور تحریف و تبدیل سے اس کو پاک رکھا ہے۔

قُتِلَ الإِنسٰنُ ما أَكفَرَهُ {80:17}
مارا جائیو آدمی کیسا نا شکرا ہے [۱۰]
انسان ہلاک ہو جائے کیسا ناشکرا ہے
یعنی قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی کچھ قدر نہ کی اور اللہ کا حق کچھ نہ پہچانا۔

مِن أَىِّ شَيءٍ خَلَقَهُ {80:18}
کس چیز سے بنایا اُسکو
اُسے (خدا نے) کس چیز سے بنایا؟

مِن نُطفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ {80:19}
ایک بوند سے [۱۱] بنایا اسکو پھر اندازہ پر رکھا اُسکو [۱۲]
نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا
یعنی ذرا اپنی اصل پر تو غور کیا ہوتاکہ وہ پیدا کس چیز سے ہوا ہے؟ ایک ناچیز اور بے قدر قطرہ آب سے جس میں حس و شعور، حسن وجمال اور عقل و ادراک کچھ نہ تھا۔ سب کچھ اللہ نے اپنی مہربانی سے عطا فرمایا جس کی حقیقت کُل اتنی ہو کیا اسے یہ طمطراق زیبا ہے کہ خالق ومنعم حقیقی ایسی عظیم الشان نصیحت اتارے اور یہ بے شرم اپنی اصل حقیقت اور مالک کی سب نعمتوں کو فراموش کرکے اس کی کچھ پروا نہ کرے۔ او احسان فراموش کچھ تو شرمایا ہوتا۔
یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سب اعضاء و قویٰ ایک خاص اسلوب اور اندازے سے رکھے۔ کوئی چیز یونہی بے تکی اور بے ڈھنگی خلاف حکمت نہیں رکھ دی۔

ثُمَّ السَّبيلَ يَسَّرَهُ {80:20}
پھر راہ آسان کر دی اُسکو [۱۳]
پھر اس کے لیے رستہ آسان کر دیا
یعنی ایمان و کفر اور بھلے برے کی سمجھ دی یا ماں کے پیٹ میں سے نکالا آسانی سے۔

ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقبَرَهُ {80:21}
پھر اُسکو مردہ کیا پھر قبر میں رکھوا دیا اُسکو [۱۴]
پھر اس کو موت دی پھر قبر میں دفن کرایا
یعنی مرنے کے بعد اس کی لاش کو قبر میں رکھنے کی ہدایت کر دی۔ تاکہ زندوں کے سامنے یونہی بے حرمت نہ ہو۔

ثُمَّ إِذا شاءَ أَنشَرَهُ {80:22}
پھر جب چاہا اٹھا نکالا اُسکو [۱۵]
پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا
یعنی جس نے ایک مرتبہ جلایا اور مارا۔ اسی کو اختیار ہے کہ جب چاہے دوبارہ زندہ کرکے قبر سے نکالے۔ کیونکہ اس کی قدرت اب کسی نے سلب نہیں کرلی (العیاذ باللہ) بہر حال پیدا کرکے دنیا میں لانا، پھر مارکر برزخ میں لیجانا، پھر زندہ کرکے میدانِ حشر میں کھڑا کر دینا، یہ امور جس کے قبضہ میں ہوئے کیا اس کی نصیحت سے اعراض و انکار اور اس کی نعمتوں کا استحقار کسی آدمی کے لئے زیبا ہے۔

كَلّا لَمّا يَقضِ ما أَمَرَهُ {80:23}
ہرگز نہیں پورا نہ کیا جو اُسکو فرمایا [۱۶]
کچھ شک نہیں کہ خدا نے اسے جو حکم دیا اس نے اس پر عمل نہ کیا
یعنی انسان نے ہر گز اپنے مالک کا حق نہیں پہچانا اور جو کچھ حکم ہوا تھا ابھی تک اس کو بجا نہیں لایا (تنبیہ) ابن کثیرؒ نے { کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ } کو { ثُمَّ اِذَاشَآءَ اَنْشَرَہٗ } سے متعلق رکھا ہے۔ یعنی جب چاہیگا، زندہ کرکے اٹھائیگا۔ ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کی آبادی کے متعلق اس کا جو حکم کونی وقدری ہے وہ ابھی تک اس نے ختم نہیں کیا۔

فَليَنظُرِ الإِنسٰنُ إِلىٰ طَعامِهِ {80:24}
اب دیکھ لے آدمی اپنے کھانے کو [۱۷]
تو انسان کو چاہیئے کہ اپنے کھانے کی طرف نظر کرے
پہلے انسان کے پیدا کرنے اور مارنے کا ذکر تھا۔ اب اُس زندگی اور بقاء کے سامان یاد دلاتے ہیں۔

أَنّا صَبَبنَا الماءَ صَبًّا {80:25}
کہ ہم نے ڈالا پانی اوپر سے گرتا ہوا
بے شک ہم ہی نے پانی برسایا

ثُمَّ شَقَقنَا الأَرضَ شَقًّا {80:26}
پھر چیرا زمین کو پھاڑ کر [۱۸]
پھر ہم ہی نے زمین کو چیرا پھاڑا
یعنی ایک گھاس کے تنکے کی کیا طاقت تھی کہ زمین کو چیر پھاڑ کر باہر نکل آتا یہ قدرت کا ہاتھ ہے جو زمین کو پھاڑ کر اس سے طرح طرح کے غلّے، پھل اور سبزے، ترکاریاں وغیرہ باہر نکالتا ہے۔

فَأَنبَتنا فيها حَبًّا {80:27}
پھر اگایا اُس میں اناج
پھر ہم ہی نے اس میں اناج اگایا

وَعِنَبًا وَقَضبًا {80:28}
اور انگور اور ترکاری
اور انگور اور ترکاری

وَزَيتونًا وَنَخلًا {80:29}
اور زیتون اور کھجوریں
اور زیتون اور کھجوریں

وَحَدائِقَ غُلبًا {80:30}
اور گھن کے باغ
اور گھنے گھنے باغ

وَفٰكِهَةً وَأَبًّا {80:31}
اور میوہ اورگھاس
اور میوے اور چارا

مَتٰعًا لَكُم وَلِأَنعٰمِكُم {80:32}
کام چلانے کو تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے [۱۹]
(یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چارپایوں کے لیے بنایا
یعنی بعض چیزیں تمہارے کام آتی ہیں اور بعض تمہارے جانوروں کے۔

فَإِذا جاءَتِ الصّاخَّةُ {80:33}
پھر جب آئے وہ کان پھوڑنے والی [۲۰]
تو جب (قیامت کا) غل مچے گا
یعنی ایسی سخت آواز جس سے کان بہرے ہو جائیں۔ اُس سے مراد نفح صور کی آواز ہے۔

يَومَ يَفِرُّ المَرءُ مِن أَخيهِ {80:34}
جس دن کے بھاگے مرد اپنے بھائی سے
اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا

وَأُمِّهِ وَأَبيهِ {80:35}
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے

وَصٰحِبَتِهِ وَبَنيهِ {80:36}
اور اپنی ساتھ والی سے اور اپنے بیٹوں سے
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے

لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ {80:37}
ہر مرد کو اُن میں سے اُس دن ایک فکر لگا ہوا ہے جو اُسکے لئے کافی ہے [۲۱]
ہر شخص اس روز ایک فکر میں ہو گا جو اسے( مصروفیت کے لیے) بس کرے گا
یعنی اُس وقت ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہو گی، احباب و اقارب ایک دوسرے کو نہ پوچھیں گے بلکہ اس خیال سے کہ کوئی میری نیکیوں میں سے نہ مانگنے لگے یا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگے ایک دوسرے سے بھاگے گا۔

وُجوهٌ يَومَئِذٍ مُسفِرَةٌ {80:38}
کتنے منہ اُس دن روشن ہیں
اور کتنے منہ اس روز چمک رہے ہوں گے

ضاحِكَةٌ مُستَبشِرَةٌ {80:39}
ہنستے خوشیاں کرتے [۲۲]
خنداں و شاداں (یہ مومنان نیکو کار ہیں)
یعنی مومنین کے چہرے نور ایمان سے روشن اور غایت مسرت سے خنداں و فرحاں ہو نگے۔

وَوُجوهٌ يَومَئِذٍ عَلَيها غَبَرَةٌ {80:40}
اور کتنے منہ اُس دن اُن پر گرد پڑی ہے
اور کتنے منہ ہوں گے جن پر گرد پڑ رہی ہو گی

تَرهَقُها قَتَرَةٌ {80:41}
چڑھی آتی ہے اُن پر سیاہی [۲۳]
(اور) سیاہی چڑھ رہی ہو گی
یعنی کافروں کے چہروں پر کفر کی کدورت چھائی ہو گی اور اوپر سے فسق وفجور کی ظلمت اور زیادہ تیرہ و تاریک کر دیگی۔

أُولٰئِكَ هُمُ الكَفَرَةُ الفَجَرَةُ {80:42}
یہ لوگ وہی ہیں جو منکر ہیں ڈھیٹھ [۲۴]
یہ کفار بدکردار ہیں
یعنی کافر بے حیا کو کتنا ہی سمجھاؤ ذرا نہ پسیجیں۔ نہ خدا سے ڈریں، نہ مخلوق سے شرمائیں۔
                                                                                                           


وَالفَجرِ {89:1}
قسم ہے فجر کی
فجر کی قسم

وَلَيالٍ عَشرٍ {89:2}
اور دس راتوں کی
اور دس راتوں کی

وَالشَّفعِ وَالوَترِ {89:3}
اور جفت اورطاق کی
اور جفت اور طاق کی

وَالَّيلِ إِذا يَسرِ {89:4}
اور اس رات کی جب رات کو چلے [۱]
اور رات کی جب جانے لگے
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "عید قرباں کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اُس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو"۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی۔ (تنبیہ) { وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ } کے معنی عموماً مفسرین نے "رات کے گزرنے" یا "اس کی تاریکی پھیلنے" کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلے میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئ ہے۔ اور { لَیَالٍ عَشْرٍ } سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افرادومصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے۔ مہینہ کے شروع کی دس راتیں اوّل روشن ہوتی ہیں پھر تاریک اور اخیر کی دس راتیں ابتداء میں تاریک رہتی ہیں پھر روشن ہوتی ہیں اور درمیانی دس راتوں کا حال ان دونوں سے جداگانہ ہے۔ گویا اس اختلاف و تقابل سے اشارہ فرمادیا کہ آدمی کو عیش و آرام یا مصیبت اور تنگی یا فراخی کی جو حالت پیش آئے مطمئن نہ ہوجائے اور یوں نہ سمجھے کہ اب اس کے خلاف دوسری حالت پیش نہ آئیگی اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ حق تعالیٰ خالق اضداد ہے جس طرح وہ آفاق میں ایک ضد کے مقابل دوسری ضد کو لاتا ہے۔ ایسے ہی تمہارے حالات و کوائف کو بھی اپنی حکمت و مصلحت کے موافق ادل بدل کرتا رہتا ہے چنانچہ آگے جو واقعات و مضامین مذکور ہیں ان میں اسی اصول پر متنبہ فرمایا ہے۔ (تنبیہ دوم) اس آیت کی تفسیر میں دو حدیثیں مرفوع آئی ہیں جابرؓ کی اور عمران بن حصینؓ کی، حافظ ابن کثیرؒ پہلی کی نسبت لکھتے ہیں { وھٰذا اسنادٌ رجالہ لابأس بھم وعندی ان المتن فی رفعہ نکارۃ } اور دوسری کی نسبت فرماتے ہیں { وعندی ان وقفہ علی عمران بن حصین اشبہ واللہ اعلم }۔

هَل فى ذٰلِكَ قَسَمٌ لِذى حِجرٍ {89:5}
ہے اُن چیزوں کی قسم پوری عقلمندوں کے واسطے [۲]
اور بے شک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں کہ (کافروں کو ضرور عذاب ہو گا)
یعنی یہ قسمیں معمولی نہیں، نہایت معتبر اور مہتم بالشان ہیں اور عقلمند لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ تاکید کلام کے لئے ان میں ایک خاص عظمت و وقعت پائی جاتی ہے۔

أَلَم تَرَ كَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعادٍ {89:6}
تو نے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے رب نے عاد کے ساتھ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

إِرَمَ ذاتِ العِمادِ {89:7}
وہ جو ارم میں تھے [۳] بڑے ستونوں والے [۴]
(جو) ارم (کہلاتے تھے اتنے) دراز قد
یعنی ستون کھڑے کرکے بڑی بڑی اونچی عمارتیں بناتے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اکثر سیروسیاحت میں رہتے اور اونچے ستونوں پر خیمے تانتے تھے اور بعض کے نزدیک { ذَاتِ الْعِمَادِ } کہہ کر ان کے اونچے قدوقامت اور ڈیل دول کو ستونوں سے تشبیہ دی ہے۔ واللہ اعلم۔
"عاد" ایک شخص کا نام ہے جس کی طرف یہ قوم منسوب ہوئی، ان کے اجداد میں سے ایک شخص "ارم" نامی تھا۔ اس کی طرف نسبت کرنے سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہاں "عاد" سے "عاد اولیٰ" مراد ہے۔ "عاد ثانیہ" نہیں، اور بعض نے کہا کہ "قوم عاد" میں جو شاہی خاندان تھا اس "ارم" کہتے تھے۔ واللہ اعلم۔

الَّتى لَم يُخلَق مِثلُها فِى البِلٰدِ {89:8}
کہ بنی نہیں ویسی سارے شہروں میں [۵]
کہ تمام ملک میں ایسے پیدا نہیں ہوئے تھے
یعنی اس وقت دنیا میں اس قوم جیسی کوئی مضبوط و طاقتور نہ تھی، یا ان کی عمارتیں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔

وَثَمودَ الَّذينَ جابُوا الصَّخرَ بِالوادِ {89:9}
اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے تراشا پتھروں کو وادی میں [۶]
اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادئِ (قریٰ) میں پتھر تراشتے تھے (اور گھر بناتے) تھے
" وادئ القُریٰ" ان کے مقام کا نام ہے جہاں پہاڑ کے پتھروں کو تراش کر نہایت محفوظ و مضبوط مکان بناتے تھے۔

وَفِرعَونَ ذِى الأَوتادِ {89:10}
اور فرعون کے ساتھ و ہ میخوں والا [۷]
اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا
یعنی بڑے لاؤلشکر والا جس کو فوجی ضروریات کے لئے بہت کثیر مقدار میں میخیں رکھنا پڑتی تھیں یا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو چومیخا کر کے سزا دیتا تھا۔

الَّذينَ طَغَوا فِى البِلٰدِ {89:11}
یہ سب تھے جنہوں نے سر اٹھایا ملکوں میں
یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے

فَأَكثَروا فيهَا الفَسادَ {89:12}
پھر بہت ڈالی اُن میں خرابی
اور ان میں بہت سی خرابیاں کرتے تھے

فَصَبَّ عَلَيهِم رَبُّكَ سَوطَ عَذابٍ {89:13}
پھر پھینکا اُن پر تیرے رب نے کوڑا عذاب کا [۸]
تو تمہارے پروردگار نے ان پر عذاب کا کوڑا نازل کیا
یعنی ان قوموں نے عیش و دولت اور زور و قوت کے نشے میں مست ہو کر مُلکوں میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں، اور ایسا سر اٹھایا، گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں؟ ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے! کبھی اس ظلم و شرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا؟ آخر جب انکے کفروتکبر اور جوروستم کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور مہلت ودرگزر کا کوئی موقع باقی نہ رہا۔ دفعۃً خداوند قہار نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ان کی سب قوت اور بڑائی خاک میں مل گئ، اور وہ سازوسامان کچھ کام نہ آیا۔

إِنَّ رَبَّكَ لَبِالمِرصادِ {89:14}
بیشک تیرا رب لگا ہے گھات میں [۹]
بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے
یعنی جیسے کوئی شخص گھات میں پوشیدہ رہ کر آنے جانے والوں کی خبر رکھتا ہے کہ فلاں کیونکر گزرا اور کیا کرتا ہوا گیا، اور فلاں کیا لایا اور کیا لے گیا، پھر وقت آنے پر ان معلومات کے موافق معاملہ کرتا ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ حق تعالیٰ انسانوں کی آنکھوں سے پوشیدہ رہ کر سب بندوں کے ذرہ ذرہ احوال و اعمال دیکھتا ہے، کوئی حرکت و سکون اس سے مخفی نہیں، ہاں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، غافل بندے سمجھتے ہیں کہ بس کوئی دیکھنے اور پوچھنے والا نہیں۔ جو چاہو بے دھڑک کیے جاؤ۔ حالانکہ وقت آنے پر ان کا سارا کچا چٹھا کھول دیتا ہے اور ہر ایک سے انہی اعمال کے موافق معاملہ کرتا ہے جو شروع سے اس کے زیر نظر تھے اس وقت پتہ لگتا ہے کہ وہ سب ڈھیل تھی اور بندوں کا امتحان تھا کہ دیکھیں کن حالات میں کیا کچھ کرتے ہیں اور ایک عارضی حالت پر نظر کرکے آخری انجام کو تو نہیں بھولتے۔

فَأَمَّا الإِنسٰنُ إِذا مَا ابتَلىٰهُ رَبُّهُ فَأَكرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقولُ رَبّى أَكرَمَنِ {89:15}
سو آدمی جو ہے جب جانچے اُسکو رب اُس کا پھر اُس کو عزت دے اور اُسکو نعمت دے تو کہے میرے رب نے مجھ کو عزت دی [۱۰]
مگر انسان (عجیب مخلوق ہے کہ) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے تو اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ (آہا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی
یعنی میں اسی لائق تھا اس لئے عزت دی۔

وَأَمّا إِذا مَا ابتَلىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيهِ رِزقَهُ فَيَقولُ رَبّى أَهٰنَنِ {89:16}
اور وہ جس وقت اُسکو جانچے پھر کھینچ کرے اُس پر روزی کی تو کہے میرے رب نے مجھے ذلیل کیا [۱۱]
اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے کہ اس پر روزی تنگ کر دیتا ہے تو کہتا ہے کہ (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا
یعنی میری قدر نہ کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کی نظر صرف دنیا کی زندگی اور حالت حاضرہ پر ہے۔ بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت و ذلت کا معیار سمجھتا ہے۔ نہیں جانتا کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے۔ نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبرورضا کو جانچا جا رہا ہے۔ نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول و معزز ہونے کی دلیل ہے۔ نہ محض تنگی اور سختی مردود ہونے کی علامت ہے۔ مگر انسان اپنے افعال و اعمال پر نظر نہیں کرتا۔ اپنی بے عقلی یا بے حیائی سے رب پر الزام رکھتا ہے۔

كَلّا ۖ بَل لا تُكرِمونَ اليَتيمَ {89:17}
کوئی نہیں پر تم عزت سے نہیں رکھتے یتیم کو [۱۲]
نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے
یعنی خدا کے ہاں تمہاری عزت کیوں ہو، جب تم بےکس یتیموں کی عزت اور خاطر مدارات نہیں کرتے۔

وَلا تَحٰضّونَ عَلىٰ طَعامِ المِسكينِ {89:18}
اور تاکید نہیں کرتے آپس میں محتاج کے کھلانے کی [۱۳]
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو
یعنی خود اپنے مال سے مسکینوں کی خبر گیری کرنا تو کجا، دوسروں کو بھی اس طرف نہیں ابھارتے کہ بھوکے محتاجوں کی خبر لے لیا کریں۔

وَتَأكُلونَ التُّراثَ أَكلًا لَمًّا {89:19}
اور کھا جاتے ہو مردے کا مال سمیٹ کر سارا [۱۴]
اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو
یعنی مردے کی میراث لینے میں حلال حرام اور حق ناحق کی کچھ تمیز نہیں، جو قابو چڑھا ہضم کیا یتیموں اور مسکینوں کے حقوق تلف ہوں، ہونے دو۔

وَتُحِبّونَ المالَ حُبًّا جَمًّا {89:20}
اور پیار کرتے ہو مال کو جی بھر کر [۱۵]
اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
یعنی جڑ کی بات یہ ہے کہ تمہارا دل مال کی حرص اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ بس کسی طرح مال ہاتھ آئے اور ایک پیسہ کسی نیک کام میں ہاتھ سے نہ نکلے خواہ آگے چل کر نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ مال کی اس قدر محبت اور پرستش کہ آدمی اسی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لے، صرف کافر کا شیوہ ہوسکتا ہے۔

كَلّا إِذا دُكَّتِ الأَرضُ دَكًّا دَكًّا {89:21}
کوئی نہیں جب پست کر دی جائے زمین کوٹ کوٹ کر [۱۶]
تو جب زمین کی بلندی کوٹ کوٹ کو پست کر دی جائے گی
یعنی سب ٹیلے اور پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیے جائیں اور زمین صاف چٹیل میدان ہو جائے۔

وَجاءَ رَبُّكَ وَالمَلَكُ صَفًّا صَفًّا {89:22}
اور آئے تیرا رب [۱۷] اور فرشتے آئیں قطار قطار [۱۸]
اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے
یعنی اپنی قہری تجلّی کے ساتھ جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔
یعنی میدان محشر میں آئیں گے وہاں انتظامات کے لئے۔

وَجِا۟يءَ يَومَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَومَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الإِنسٰنُ وَأَنّىٰ لَهُ الذِّكرىٰ {89:23}
اور لائی جائے اُس دن دوزخ [۱۹] اُس دن سوچے گا آدمی اور کہاں ملے اُسکو سوچنا [۲۰]
اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی تو انسان اس دن متنبہ ہو گا مگر تنبہ (سے) اسے (فائدہ) کہاں (مل سکے گا)
یعنی اس وقت سمجھے گا کہ میں سخت غلطی اور غفلت میں تھا۔ مگر اس وقت کا سمجھنا کس کام کا سوچنے سمجھنے کا موقع ہاتھ سے نکل چکا۔ دارلعمل میں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ دارالجزاء میں نہیں ہو سکتا۔
یعنی لاکھوں فرشتے اُس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے۔

يَقولُ يٰلَيتَنى قَدَّمتُ لِحَياتى {89:24}
کہے کیا اچھا ہوتا جو میں کچھ آگے بھیجدیتا اپنی زندگی میں [۲۱]
کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا
یعنی افسوس دنیا کی زندگی میں کچھ نیکی کرکے آگے نہ بھیجی۔ جو آج اس زندگی میں کام آتی۔ یونہی خالی ہاتھ چلا آیا۔ کاش حسنات کا کوئی ذخیرہ آگے روانہ کر دیتا۔ جو یہاں کے لئے توشہ بنتا۔

فَيَومَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذابَهُ أَحَدٌ {89:25}
پھر اُس دن عذاب نہ دے اُس کا سا کوئی
تو اس دن نہ کوئی خدا کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا

وَلا يوثِقُ وَثاقَهُ أَحَدٌ {89:26}
اور نہ باندھ کر رکھے اُس کا سا باندھنا کوئی [۲۲]
اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا
یعنی اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دیگا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کسی مجرم کے حق میں متصور نہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ "اس روز نہ مارے گا اس کا سا مارنا کوئی ۔نہ آگ نہ دوزخ کے مؤکل نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہونگے، کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے، اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہو گا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دیگا جو عذاب روحانی ہے۔ اور ظاہر ہے عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس کا سا باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہر چند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈالیں گے اور زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کرکے اوپر سے سرپوش رکھدیں گے، لیکن ان کی عقل اور خیال کو بند نہ کرسکیں گے اور عقل و خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرف التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں دوسری باتوں کے لئے حجاب ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے عین قید کی تنگی میں انسان کو عقلی اور خیالی وسعت حاصل ہوتی ہے۔ برخلاف اس شخص کے کہ اللہ تعالیٰ عقل و خیال کو ادھر ادھر جانے سے روک دے اور بالکل ہمہ تن دکھ درد ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجے سخت ہے۔ اسی لئے مجنوں سودائیوں کو عین باغوں اور جنگلوں کی سیر کے وقت تنگی اور گھبراہٹ وہم و خیال کے سبب سے پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ باغ اور وسیع جنگل اس کی نظر میں تنگ معلوم ہوتے ہیں۔

يٰأَيَّتُهَا النَّفسُ المُطمَئِنَّةُ {89:27}
اے وہ جی جس نے چین پکڑ لیا
اے اطمینان پانے والی روح!

ارجِعى إِلىٰ رَبِّكِ راضِيَةً مَرضِيَّةً {89:28}
پھر چل اپنے رب کی طرف تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی
اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

فَادخُلى فى عِبٰدى {89:29}
پھر شامل ہو میرے بندوں میں
تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا

وَادخُلى جَنَّتى {89:30}
اور داخل ہو میری بہشت میں [۲۳]
اور میری بہشت میں داخل ہو جا
یعنی پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا، اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی طاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ان سے محشر میں کہا جائیگا کہ اے نفس آرمیدہ بحق! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کا کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ { اللّٰھم انی اسالک نفسًا بک مطمئنۃً تو من بلقائک وترضٰی بقضائک و تقنع بعطائک } (تنبیہ) نفس مطمئنہ، نفس امّارہ اور نفس لوّامہ کی تحقیق سورۃ "قیامہ" کے شروع میں دیکھ لی جائے۔




اسلامی تعلیمات کے بغیر انسان انجام سے غافل ہے:

وَيَدعُ الإِنسٰنُ بِالشَّرِّ دُعاءَهُ بِالخَيرِ ۖ وَكانَ الإِنسٰنُ عَجولًا {17:11}
اور مانگتا ہے آدمی برائی جیسے مانگتا ہے بھلائی اور ہے انسان جلد باز [۱۶]
اور انسان جس طرح (جلدی سے) بھلائی مانگتا ہے اسی طرح برائی مانگتا ہے۔ اور انسان جلد باز (پیدا ہوا) ہے
یعنی قرآن تو لوگوں کو سب سے بڑی بھلائی کی طرف بلاتا اجر کبیر کی بشارتیں سناتا ، اور بدی کے مہلک نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔ لیکن حضرت انسان کا حال یہ ہے کہ وہ سب کچھ سننے کے بعد بھی اپنے لئے برائی کو اسی اشتیاق و الحاج سے طلب کرتا ہے۔ جس طرح کوئی بھلائی مانگتا ہو ، یا جیسے بھلائی طلب کرنا چاہئے وہ انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر کے بڑی تیزی کےساتھ گناہوں اور برائیوں کی طرف لپکتا ہے بلکہ بعض بدبخت تو صاف لفظوں میں زبان سے کہہ اٹھتے ہیں ۔ { اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ } (خداوند ! اگر پیغمبر اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دیجئے یا اور کوئی سخت عذاب نازل کیجئے) بعض بے وقوف غصہ سے جھنجھلا کر اپنے حق میں یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں بے سوچے سمجھے بد دعا کر بیٹھتے ہیں بعض دنیا کے نفع عاجل کو معبود بنا کر ہر ایک حلال و حرام طریقہ سے اس کی طرف دوڑتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس لہلہاتے پودے کے نیچے سانپ بچھو بھی چھپے ہوئے ہیں۔ جو انجام کار ہلاکت کے گڑھے میں پہنچا کر رہیں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنی جلد بازی سے کسی چیز کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو دیکھ لیتا ہے ، بدی کے دورس نتائج پر غور نہیں کرتا ۔ بس جو بات کسی وقت سانح ہوئی فورًا کہہ ڈالی یا ایک دم کر گذرا ۔ جدھر قدم اٹھ گیا بے سوچے سمجھے ادھر ہی بڑھتا چلا گیا۔ اگر جلد بازی چھوڑ کر متانت ، تدبر اور انجام بینی سے کام لے تو کبھی ایسی غلطیاں نہ کرے۔




اسلامی تعلیمات کے بغیر انسان بخیل وکنجوس ہے:

قُل لَو أَنتُم تَملِكونَ خَزائِنَ رَحمَةِ رَبّى إِذًا لَأَمسَكتُم خَشيَةَ الإِنفاقِ ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ قَتورًا {17:100}
کہہ اگر تمہارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانے تو ضرور بند کر رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں اور ہے انسان دل کا تنگ [۱۵۲]
کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے خوف سے (ان کو) بند رکھتے۔ اور انسان دل کا بہت تنگ ہے
گذشتہ رکوع میں فرمایا تھا۔ { اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ؕ اِنَّ فَضْلَہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا۔قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْابِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ } الخ (خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آپ پر بہت بڑا فضل کیا ہے کہ قرآن جیسی بے مثال دولت عطا فرمائی) درمیان میں مخالفین کے تعنت و عناد ، دور ازکار مطالبات ، اعراج و تکذیب اور ان کے نتائج کا ذکر کر کے یہاں پھر اسی پہلے مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے۔ یعنی ایک بندہ کو ایسی عظیم الشان رحمت اور عدیم النظیر دولت سے سرفراز فرمانا ، اسی جواد حقیقی اور وہاب مطلق کی شان ہو سکتی ہے جس کے پاس رحمت کے غیر متناہی خزانے ہوں ، اور کسی مستحق کو زیادہ سے زیادہ دینے میں نہ اس کو اپنے تہی دست رہ جانے کا خوف ہو ، نہ اس کا اندیشہ کہ دوسرا ہم سے لے کر کہیں مد مقابل نہ بن جائے یا آگے چل کر ہمیں دبا نہ لے۔ خداوند قدوس تھڑدلے انسان کی طرح (العیاذ باللہ) تنگ دل واقع نہیں ہوا ، جسے اگر فرض کرو خزائن رحمت کا مالک و مختار بنا دیا جائے تب بھی اپنی طبیعت سے بخل و تنگ دلی نہ چھوڑے اور کسی مستحق کو دینے سے اس لئے گھبرائے کہ کہیں سارا خرچ نہ ہو جائے اور میں خالی ہاتھ رہ جاؤں یا جس پر آج خرچ کرتا ہوں کل میری ہمسری نہ کرنے لگے۔ بہرحال اگر رحمت الہٰیہ کے خزانے تمہارے قبضہ میں ہوتے تو تم کسے دینے والے تھے اور کہاں گوارا کر سکتے تھے کہ مکہ و طائف کے بڑے متکبر دولتمندوں کو چھوڑ کر وحی و نبوت کی یہ بیش بہا دولت "بنی ہاشم" کے ایک در یتیم کو مل جائے۔ یہ حق تعالیٰ کا فیض ہے کہ جس میں جیسی استعداد و قابلیت دیکھی اس کے مناسب کمالات و انعامات کے خزانے انڈیل دیے۔ تمہارےتعنت و تعصب سے خدا کا فضل رکنے والا نہیں۔ محمد کے طفیل میں جو خزائن آپ کے اتباع کو ملنے والے ہیں مل کر رہیں گے اور پیغمبر علیہ السلام اور ان کے پیرو دریادلی سے اس دولت کو بنی نوع انسان پر خرچ کریں گے تمہاری طرح تنگدلی نہیں دکھائیں گے۔





إِنَّ الإِنسٰنَ خُلِقَ هَلوعًا {70:19}
بیشک آدمی بنا ہے جی کا کچا
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے

إِذا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزوعًا {70:20}
جب پہنچے اُسکو برائی تو بے صبرا
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

وَإِذا مَسَّهُ الخَيرُ مَنوعًا {70:21}
اور جب پہنچے اُسکو بھلائی تو بے توفیقا [۱۳]
اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے
یعنی کسی طرف پختگی اور ہمت نہیں دکھلاتا۔ فقر فاقہ، بیماری اور سختی آئے تو بے صبر ہو کر گھبرا اٹھے، بلکہ مایوس ہو جائے گویا اب کوئی سبیل مصیبت سے نکلنے کی باقی نہیں رہی اور مال و دولت تندرستی اور فراخی ملے تو نیکی کیلئے ہاتھ نہ اٹھے، اور مالک کے راستہ میں خرچ کرنے کو توفیق نہ ہو۔ ہاں وہ لوگ مستثنٰی ہیں جن کا ذکر آگے آتا ہے۔

إِلَّا المُصَلّينَ {70:22}
مگر وہ نمازی
مگر نماز گزار





اسلامی تعلیمات کے بغیر انسان بہت جھگڑالو ہے:

وَلَقَد صَرَّفنا فى هٰذَا القُرءانِ لِلنّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ أَكثَرَ شَيءٍ جَدَلًا {18:54}
اور بیشک پھیر پھیر کو سمجھائی ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو ہر ایک مثل اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑالو [۷۱]
اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے
یعنی قرآن کریم کس طرح مختلف عنوانات اور قسم قسم کی دلائل وامثلہ سے سچی باتیں سمجھاتا ہے۔ مگر انسان کچھ ایسا جھگڑالو واقع ہوا ہے کہ صاف اور سیدھی باتوں میں بھی کٹ حجتی کئے بغیر نہیں رہتا۔ جب دلائل کا جواب بن نہیں پڑتا تو مہمل اور دور ازکار فرمائشیں شروع کر دیتا ہے کہ فلاں چیز دکھاؤ تو مانوں گا۔

وَقالوا ءَأٰلِهَتُنا خَيرٌ أَم هُوَ ۚ ما ضَرَبوهُ لَكَ إِلّا جَدَلًا ۚ بَل هُم قَومٌ خَصِمونَ {43:58}
اور کہتے ہیں ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ [۵۳] یہ مثال جو ڈالتے ہیں تجھ پرسو جھگڑنے کو بلکہ یہ لوگ ہیں جھگڑالو
اور کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ؟ انہوں نے عیسیٰ کی جو مثال بیان کی ہے تو صرف جھگڑنے کو۔ حقیقت یہ ہے یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو
حضرت مسیحؑ کا جب ذکر آتا تو عرب کے مشرکین خوب شور مچاتے اور قسم قسم کی آوازیں اٹھاتے تھے۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم نے قرآن کی یہ آیت پڑھی { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ } (انبیاء رکوع۷) کہنے لگے نصارٰی حضرت مسیحؑ کی عبادت کرتے ہیں۔ اب بتاؤ! تمہارے خیال میں ہمارے معبود اچھے ہیں یا مسیحؑ ۔ ظاہر ہے تم مسیحؑ کو اچھا کہو گے جب وہ ہی (معاذ اللہ) آیت کےعموم میں داخل ہوئے تو ہمارے معبود بھی سہی۔ بعض روایات میں ہے کہ نبی کریم نے ایک مرتبہ فرمایا { لَیْسَ اَحَدٌ یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللہِ فِیْہِ خَیْرٌ } ۔ کہنے لگے کیا مسیحؑ میں بھی کوئی خیر اور بھلائی نہیں؟ ظاہر ہے کہ آیت کا اور حضور کے ان الفاظ کا مطلب ان چیزوں سے متعلق تھا جن کی پرستش لوگ کرتے ہیں اور وہ انکو اس سے نہیں روکتے اور اپنی بیزاری کا اظہار نہیں کرتے۔ مگر ان معترضین کا منشاء تو محض جھگڑے نکالنا اور کٹ حجتی کر کے رِلانا تھا۔ اس لئے جان بوجھ کر ایسے معنی پیدا کرتے تھے جو مراد متکلم کے مخالف ہوں۔ کبھی کہتے تھے کہ بس معلوم ہو گیا آپ بھی اسی طرح ہم سے اپنی پرستش کرانا چاہتے ہیں جیسے نصاریٰ حضرت مسیحؑ کی کرتے ہیں۔ شاید کبھی یہ بھی کہتے ہوں گے کہ خود قرآن نے حضرت مسیح کی مثل یہ بیان کی ہے { اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلْقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } (اٰل عمران رکوع۶) اب دیکھ لو ہمارے معبود اچھے ہیں یا مسیح؟ انہیں کیوں بھلائی سے یاد کرتے ہو؟ اور ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو؟ اور خدا جانے کیا کیا کچھ کہتے ہوں گے۔ ان سب باتوں کا جواب آگے دیا گیا ہے۔




مارنے کے بعد پہلے کی طرح دوبارہ زندہ کرسکنے والے اللہ کا منکر

وَيَقولُ الإِنسٰنُ أَءِذا ما مِتُّ لَسَوفَ أُخرَجُ حَيًّا {19:66}
اور کہتا ہے آدمی کیا جب میں مر جاؤں تو پھر نکلوں گا زندہ ہو کر [۸۱]
اور (کافر) انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤ گا تو کیا زندہ کرکے نکالا جاؤں گا؟
گذشتہ رکوع میں نیکوں اور بدوں کا انجام بیان فرمایا تھا جو مرنے کے بعد ہو گا جو لوگ مر کر زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھتے ہیں یہاں ان کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے یعنی آدمی انکار و تعجب کی راہ سے کہتا ہے کہ مر گل کر جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو گئیں اور مٹی میں مل کر مٹی بن گئے۔ کیا اس کے بعد پھر ہم قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے۔ اور پردہ عدم سے نکل کر پھر منصّہ وجود پر جلوہ گر ہوں گے۔

أَوَلا يَذكُرُ الإِنسٰنُ أَنّا خَلَقنٰهُ مِن قَبلُ وَلَم يَكُ شَيـًٔا {19:67}
کیا یاد نہیں رکھتا آدمی کہ ہم نے اسکو بنایا پہلے سے اور وہ کچھ چیز نہ تھا [۸۲]
کیا (ایسا) انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اس کو پہلے بھی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی چیز نہ تھا
یعنی آدمی ہو کر اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتا کہ چند روز پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا۔ حق تعالیٰ نے نابود سے بود کیا ۔ کیا وہ ذات جو لاشے کو شے اور معدوم محض کو موجود کر دے، اس پر قادر نہیں کہ ایک چیز کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کر سکے۔ آدمی کو اپنی پہلی ہستی کی کیفیت یاد نہیں رہی جو دوسری ہستی کا مذاق اڑاتا ہے۔ { وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہ } (الروم رکوع۳)

فَوَرَبِّكَ لَنَحشُرَنَّهُم وَالشَّيٰطينَ ثُمَّ لَنُحضِرَنَّهُم حَولَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا {19:68}
سو قسم ہے تیرے رب کی ہم گھیر بلائیں گے انکو اور شیطانوں کو [۸۳] پھر سامنے لائیں گے گرد دوزخ کے گھٹنوں پر گرے ہوئے [۸۴]
تمہارے پروردگار کی قسم! ہم ان کو جمع کریں گے اور شیطانوں کو بھی۔ پھر ان سب کو جہنم کے گرد حاضر کریں گے (اور وہ) گھٹنوں پر گرے ہوئے (ہوں گے)
یعنی یہ منکرین ان شیاطین کی معیت میں قیامت کے دن خدا کے سامنے حاضر کئے جائیں گے جو اغواء کر کے انہیں گمراہ کرتے تھے ہر مجرم کا شیطان اس کے ساتھ پکڑا ہوا آئے گا۔
یعنی مارے دہشت کے کھڑے سے گر پڑیں گے اور چین سے بیٹھ بھی نہ سکیں گے۔ یہ ہی ہوا گھٹنوں پر گرنا۔

ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شيعَةٍ أَيُّهُم أَشَدُّ عَلَى الرَّحمٰنِ عِتِيًّا {19:69}
پھر جدا کر لیں گے ہم ہر ایک فرقہ میں سے جو نسا اُن میں سے سخت رکھتا تھا رحمٰن سے اکڑ
پھر ہر جماعت میں سے ہم ایسے لوگوں کو کھینچ نکالیں گے جو خدا سے سخت سرکشی کرتے تھے

ثُمَّ لَنَحنُ أَعلَمُ بِالَّذينَ هُم أَولىٰ بِها صِلِيًّا {19:70}
پھر ہم کو خوب معلوم ہیں جو بہت قابل ہیں اُس میں داخل ہونے کے [۸۵]
اور ہم ان لوگوں سے خوب واقف ہیں جو ان میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں
یعنی منکریں کے ہر فرقہ میں جو زیادہ بد معاش ، سر کش ، اور اکڑ باز تھے ، انہیں عام مجرموں سے علیحدہ کر لیا جائے گا پھر ان میں جو بھی بہت زیادہ سزا کے لائق اور دوزخ کا حقدار ہو گا وہ خدا کے علم میں ہے اس کو دوسرے مجرموں سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا۔

وَإِن مِنكُم إِلّا وارِدُها ۚ كانَ عَلىٰ رَبِّكَ حَتمًا مَقضِيًّا {19:71}
اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا اس پر ہو چکا یہ وعدہ تیرے رب پر لازم مقرر
اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اسے اس پر گزرنا ہوگا۔ یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے

ثُمَّ نُنَجِّى الَّذينَ اتَّقَوا وَنَذَرُ الظّٰلِمينَ فيها جِثِيًّا {19:72}
پھر بچائیں گے ہم انکو جو ڈرتے رہے اور چھوڑ دیں گے گنہگاروں کو اس میں اوندھے گرے ہوئے [۸۶]
پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے۔ اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے
یعنی ہر نیک و بد ، مجرم و بری ، اور مومن و کافر کے لئے حق تعالیٰ قسم کھا چکا اور فیصلہ کر چکا ہے کہ ضرور بالضرور دوزخ پر اس کا گذر ہو گا، کیونکہ جنت میں جانے کا راستہ ہی دوزخ پر سے ہو کر گیا ہے جسے عام محاورات میں "پل صراط" کہتے ہیں اس پر لا محالہ سب کا گذر ہو گا، خدا سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق وہاں سے صحیح سلامت گذر جائیں گے اور گنہگار الجھ کر دوزخ میں گر پڑیں گے (العیاذ باللہ) پھر کچھ مدت کے بعد اپنے اپنے عمل کے موافق نیز انبیاء ، ملائکہ اور صالحین کی شفاعت سے ، اور آخر میں براہ راست ارحم الراحمین کی مہربانی سے وہ سب گنہگار جنہوں نے سچے اعتقاد کے ساتھ کلمہ پڑھا تھا ، دوزخ سے نکالے جائیں گے صرف کافر باقی رہ جائیں گے اور دوزخ کا منہ بند کر دیا جائے گا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ کی آگ میں ہر شخص کو داخل کیا جائے گا مگر صالحین پر وہ آگ بَر دو سلام بن جائے گی ۔ وہ بے کھٹکے اس میں سے گذر جائیں گے ۔ واللہ اعلم۔ امام فخرالدین رازیؒ نے اپنی تفسیر میں اس دخول کی بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں ۔ فلیر اجع۔





وَجَعَلوا لَهُ مِن عِبادِهِ جُزءًا ۚ إِنَّ الإِنسٰنَ لَكَفورٌ مُبينٌ {43:15}
اور ٹھہرائی ہے اُنہوں نے حق تعالیٰ کے واسطے اولاد اسکے بندوں میں سے تحقیق انسان بڑا ناشکر ہے صریح
اور انہوں نے اس کے بندوں میں سے اس کے لئے اولاد مقرر کی۔ بےشک انسان صریح ناشکرا ہے




اسلامی تعلیمات کے بغیر انسان ڈھٹائی کرتا، بگڑجاتا ہے:

لا أُقسِمُ بِيَومِ القِيٰمَةِ {75:1}
قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی [۱]
ہم کو روز قیامت کی قسم
یعنی قیامت کا دن جس کا ممکن ہونا عقل سے اور متیقن الوقوع ہونا ایسے مخبر صادق کی خبر سے ثابت ہو چکا ہے س کے صدق پر دلائل قطعیہ قائم ہیں اس کی قسم کھاتا ہوں کہ تم یقینًا مرے پیچھے اٹھائے جاؤگے اور ضرور بھلے برے کا حساب ہوگا۔ (تنبیہ) واضح ہو کہ دنیا میں کئ قسم کی چیزیں ہیں جن کی قسم لوگ کھاتے ہیں، اپنے معبود کی، کسی معظم و محترم ہستی کی، کسی مہتم بالشان چیز کی، کسی محبوب یا نادر شئے کی اس کی خوبی یا ندرت جتانے کے لئے، جیسے کہتے ہیں کہ فلاں کی قسمت کی قسم کھائیے۔ پھر بُلغاء یہ بھی رعایت کرتے ہیں کہ مقسم بہ مقسم علیہ کے مناسب ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر جگہ مقسم بہ کو مقسم علیہ کے لئے شاہد ہی گردانا جائے۔ جیسے ذوق نے کہا ہے "اتنا ہوں تری تیغ کا شرمندہ احساں ۔ سر میرا ترے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا" یہاں اپنے سر کے نہ اٹھ سکنے پر محبوب کے سر کی قسم کھانا کس قدر موزوں ہے۔ شریعت حقہ نے غیر اللہ کی قسم کھانا بندوں کے لئے حرام کر دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان بندوں سے جدا گانہ ہے۔ وہ اپنے غیر کی قسم کھاتا ہے اور عمومًا ان چیزوں کی جو اس کے نزدیک محبوب یا نافع یا وقیع مہتم بالشان ہوں، یا مقسم علیہ کے لئے بطور شاہد و حجت کے کام دے سکیں یہاں یوم قیامت کی قسم اس کے نہایت وقیع و مہتم بالشان ہونے کی وجہ سے ہے اور جس مضمون پر قسم کھائی ہے اس سے مناسبت ظاہر ہے کیونکہ بعث و مجازات کا ظرف ہی یوم قیامت ہے۔ واللہ اعلم۔

وَلا أُقسِمُ بِالنَّفسِ اللَّوّامَةِ {75:2}
اور قسم کھاتا ہوں جی کی کہ جو ملامت کرے برائی پر [۲]
اور نفس لوامہ کی (کہ سب لوگ اٹھا کر) کھڑے کئے جائیں گے
محققین نے لکھا ہے کہ آدمی کا نفس ایک چیز ہے لیکن اس کی تین حالتوں کے اعتبار سے تین نام ہوگئے ہیں۔ اگر نفس عالم علوی کی طرف مائل ہو اور اللہ کی عبادت و فرمانبرداری میں اس کو خوشی حاصل ہوئی اور شریعت کی پیروی میں سکون اور چین محسوس کیا اس نفس کو "مطمئنہ" کہتے ہیں۔ { یٰٓآ یَّتُھَاالنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً } (الفجر) اور اگر عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذات و خواہشات میں پھنس کر بدی کی طرف رغبت کی اور شریعت کی پیروی سے بھاگا اس کو "نفس امّارہ" کہتے ہیں کیونکہ وہ آدمی کو برائی کا حکم کرتا ہے { وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَارَحَمِ رَبِّیْ } (یوسف رکوع۷) اور اگر کبھی عالم سفلی کی طرف جھکتا اور شہوت و غضب میں مبتلا ہوتا ہے اور کبھی عالم علوی کی طرف مائل ہو کر ان چیزوں کو برا جانتا ہے اور ان سے دور بھاگتا ہے اور کوئی برائی یا کوتاہی ہو جانے پر شرمندہ ہو کر اپنے تئیں ملامت کرتا ہے اس کو "نفس لوّامہ" کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "آدمی کا جی اوّل کھیل میں اور مزوں میں غرق ہوتا ہے ہرگز نیکی کی طرف رغبت نہیں کرتا۔ ایسے جی کو "امّارہ بالسّوء" کہتے ہیں۔ پھر ہوش پکڑا نیک و بد سمجھا تو باز آیا کبھی (غفلت ہوئی تو) اپنی خو پر دوڑ پڑا پیچھے کچھ سمجھ آئی تو اپنے کئے پر پچھتانے اور ملامت کرنے لگا۔ ایسا نفس (جی) "لوّامہ" کہلاتا ہے۔ پھر جب پورا سنور گیا، دل سے رغبت نیکی ہی پر ہو گئ بیہودہ کام سے خود بخود بھاگنے لگا اور بدی کے ارتکا ب بلکہ تصوّر سے تکلیف پہنچنے لگی وہ نفس "مطمئنہ" ہو گیا"۔ ا ھ بتغییر یسیر۔ یہاں نفس لوّامہ کی قسم کھا کر اشارہ فرمادیا کہ اگر فطرت صحیح ہو تو خود انسان کا نفس دنیا ہی میں برائی اور تقصیر پر ملامت کرتا ہے یہی چیز ہے جو اپنی اعلٰی واکمل ترین صورت میں قیامت کے دن ظاہر ہوگی۔

أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَلَّن نَجمَعَ عِظامَهُ {75:3}
کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ جمع نہ کریں گے ہم اُسکی ہڈیاں [۳]
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے؟
یعنی یہ خیال ہے کہ ہڈیوں تک کا چورا ہو گیا اور ان کے ریزے مٹی وغیرہ کے ذرات میں جاملے۔ بھلا اب کس طرح اکٹھے کر کے جوڑ دیئے جائینگے؟ یہ چیز تو محال معلوم ہوتی ہے۔

بَلىٰ قٰدِرينَ عَلىٰ أَن نُسَوِّىَ بَنانَهُ {75:4}
کیوں نہیں ہم ٹھیک کر سکتے ہیں اُسکی پوریاں [۴]
ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں
یعنی ہم تو انگلیوں کی پوریاں بھی درست کر سکتے ہیں اور پوریوں کی تخصیص شاید اس لئے کی کہ یہ اطراف بدن ہیں اور ہر چیز کے بننے کی تکمیل اس کے اطراف پر ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمارے محاورہ میں ایسے موقع پر بولتے ہیں کہ میرے پور پور میں درد ہے۔ اس سے مراد تمام بدن ہوتا ہے۔ دوسرے پوریوں میں باوجود چھوٹی ہونے کے صنعت کی رعایت زیادہ اور عادۃً یہ زیادہ دشوار اور باریک کام ہے۔ لھذا جو اس پر قادر ہوگا وہ آسان پر بطریق اولٰی قادر ہوگا۔

بَل يُريدُ الإِنسٰنُ لِيَفجُرَ أَمامَهُ {75:5}
بلکہ چاہتا ہے آدمی کہ ڈھٹائی کرے اُسکے سامنے
مگر انسان چاہتا ہے کہ آگے کو خود سری کرتا جائے

يَسـَٔلُ أَيّانَ يَومُ القِيٰمَةِ {75:6}
پوچھتا ہے کب ہو گا دن قیامت کا [۵]
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہوگا؟
یعنی جو لوگ قیامت کا انکار کرتے اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو محال جانتے ہیں اس کا سب یہ نہیں کہ یہ مسئلہ بہت مشکل ہے اور اللہ کی قدرت کاملہ کے دلائل و نشانات غیر واضح ہیں۔ بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے اپنی اگلی عمر میں جو باقی رہ گئ ہے بالکل بیباک ہو کر فسق و فجور کرتا رہے اگر کہیں قیامت کا اقرار کر لیا اور اعمال کے حساب کتاب کا خوف دل میں بیٹھ گیا تو فسق و فجور میں اس قدر بیباکی اور ڈھٹائی اس سے نہ ہو سکے گی۔ اس لئے ایسا خیال دل میں آنے ہی نہیں دیتا جس سے عیش منغض ہو اور لذت میں خلل پڑے بلکہ استہزاء تعنّت اور سینہ زوری سے سوال کرتا ہے کہ ہاں صاحب وہ آپ کی قیامت کب آئیگی۔ اگر واقعی آنیوالی ہے تو بقید سنہ و ماہ اس کی تاریخ تو بتلائیے۔

فَإِذا بَرِقَ البَصَرُ {75:7}
پھر جب چندھیانے لگے آنکھ [۶]
جب آنکھیں چندھیا جائیں
یعنی حق تعالیٰ کی تجلی قہری سے جب آنکھیں چندھیانے لگیں گی اور مارے حیرت کے نگاہیں خیرہ ہو جائیں گی اور سورج بھی سر کے قریب آجائے گا۔

وَخَسَفَ القَمَرُ {75:8}
اور گہہ جائے چاند [۷]
اور چاند گہنا جائے
یعنی بے نور ہو جائے۔ چاند کو شاید الگ اس لئے ذکر کیا کہ عرب کو بوجہ قمری حساب رکھنے کے اس کا حال دیکھنے کا زیادہ اہتمام تھا۔

وَجُمِعَ الشَّمسُ وَالقَمَرُ {75:9}
اور اکٹھے ہوں سورج اور چاند [۸]
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں
یعنی بے نور ہونے میں دونوں شریک ہونگے۔

يَقولُ الإِنسٰنُ يَومَئِذٍ أَينَ المَفَرُّ {75:10}
کہے گا آدمی اُس دن کہاں چلا جاؤں بھاگ کر
اس دن انسان کہے گا کہ (اب) کہاں بھاگ جاؤں؟

كَلّا لا وَزَرَ {75:11}
کوئی نہیں کہیں نہیں ہے بچاؤ
بےشک کہیں پناہ نہیں

إِلىٰ رَبِّكَ يَومَئِذٍ المُستَقَرُّ {75:12}
تیرے رب تک ہے اُس دن جا ٹھہرنا [۹]
اس روز پروردگار ہی کے پاس ٹھکانا ہے
یعنی اب تو کہتا ہے کہ وہ دن کہاں ہے۔ اور اس وقت بدحواس ہو کر کہے گا کہ آج کدھر بھاگوں اور کہاں پناہ لوں۔ ارشاد ہو گا کہ آج نہ بھاگنے کا موقع ہے نہ سوال کرنے کا۔ آج کوئی طاقت تیرا بچاؤ نہیں کرسکتی، نہ پناہ دے سکتی ہے۔ آج کے دن سب کو اپنے پروردگار کی عدالت میں حاضر ہونا اور اسی کی پیشی میں ٹھہرنا ہے پھر وہ جس کے حق میں جو کچھ فیصلہ کرے۔

يُنَبَّؤُا۟ الإِنسٰنُ يَومَئِذٍ بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ {75:13}
جتلا دیں گے انسان کو اُس دن جو اُس نے آگے بھیجا اور پیچھے چھوڑا [۱۰]
اس دن انسان کو جو (عمل) اس نے آگے بھیجے اور پیچھے چھوڑے ہوں گے سب بتا دیئے جائیں گے
یعنی سب اگلے پچھلے اعمال نیک ہوں یا بد، اس کو جتلا دیئے جائیں گے۔

بَلِ الإِنسٰنُ عَلىٰ نَفسِهِ بَصيرَةٌ {75:14}
بلکہ آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے
بلکہ انسان آپ اپنا گواہ ہے

وَلَو أَلقىٰ مَعاذيرَهُ {75:15}
اور پڑالا ڈالے اپنے بہانے [۱۱]
اگرچہ عذر ومعذرت کرتا رہے
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں " یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے (اور یہ کہ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے) اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا، یہ سب بہانے ہیں" لیکن اکثر مفسّرین نے اس کا تعلق { یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ } الخ سے رکھا ہے یعنی جتلانے پر بھی موقوف نہیں۔ انسان اپنی حالت پر خود مطلع ہوگا گو باقتضائے طبیعت وہاں بھی بہانے بنائے اور حیلے حوالے پیش لائے جیسے کفار کہیں گے { واللہ ربنا ماکنا مشرکین } بلکہ یہاں دنیا میں بھی وہ انسان جس کا ضمیر بالکل مسخ نہ ہوگیا ہو اپنی حالت کو خوب سمجھتا ہے۔ گو دوسروں کے سامنے حیلے بہانے بنا کر اسکے خلاف ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے۔

لا تُحَرِّك بِهِ لِسانَكَ لِتَعجَلَ بِهِ {75:16}
نہ چلا تو اُسکے پڑھنے پر اپنی زبان تاکہ جلدی اُسکو سیکھ لے
اور (اے محمد) وحی کے پڑھنے کے لئے اپنی زبان نہ چلایا کرو کہ اس کو جلد یاد کرلو

إِنَّ عَلَينا جَمعَهُ وَقُرءانَهُ {75:17}
وہ تو ہمارا ذمہ ہے اُسکو جمع رکھنا تیرے سینہ میں اور پڑھنا تیری زبان سے
اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے

فَإِذا قَرَأنٰهُ فَاتَّبِع قُرءانَهُ {75:18}
پھر جب ہم پڑھنے لگیں فرشتہ کی زبانی تو ساتھ رہ اُسکے پڑھنے کے
جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم (اس کو سنا کرو اور) پھر اسی طرح پڑھا کرو

ثُمَّ إِنَّ عَلَينا بَيانَهُ {75:19}
پھر مقرر ہمارا ذمہ ہے اُسکو کھول کر بتلانا [۱۲]
پھر اس (کے معانی) کا بیان بھی ہمارے ذمے ہے
شروع میں جس وقت حضرت جبرئیلؑ اللہ کی طرف سے قرآن لاتے، ان کے پڑھنے کے ساتھ حضرت بھی دل میں پڑھتے جاتے تھے۔ تاکہ جلد اسے یاد کر لیں اور سیکھ لیں۔ مبادا جبرئیلؑ چلے جائیں اور وحی پوری طرح محفوظ نہ ہو سکے۔ مگر اس صورت میں آپ کو سخت مشقت ہوتی تھی۔ جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہ آتا۔ اور سمجھنے میں بھی ظاہر ہے دقت پیش آتی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے اور زبان ہلانے کی حاجت نہیں ہمہ تن متوجہ ہو کر سننا ہی چاہیئے۔ یہ فکر مت کرو کہ یاد نہیں رہیگا۔ پھر کیسے پڑھونگا۔ اور لوگوں کو کس طرح سناؤ نگا۔ اس کا تمہارے سینے میں حرف بحرف جمع کر دینا اور تمہاری زبان سے پڑھوانا ہمارے ذمہ ہے۔ جبرئیلؑ جس وقت ہماری طرف سے پڑھیں آپ تو خاموشی سے سنتے رہیئے۔ آگے اس کا یاد کرانا اور اس کے علوم و معارف کا تمہارے اوپر کھولنا اور تمہاری زبان سے دوسروں تک پہنچانا، ان سب باتوں کے ہم ذمہ دار ہیں۔ اس کے بعد حضور نے جبرئیلؑ کے ساتھ ساتھ پڑھنا ترک کر دیا۔ یہ بھی ایک معجزہ ہوا، کہ ساری وحی سنتے رہے اس وقت زبان سے ایک لفظ نہ دھرایا۔ لیکن فرشتے کے جانے کے بعد پوری وحی لفظ بہ لفظ کامل ترتیب کے ساتھ بدون ایک زبر زیر کی تبدیلی کے فر فر سنا دی اور سمجھا دی، یہ اس دنیا میں ایک چھوٹا سا نمونہ ہوا { یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍبِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ } کا یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنی وحی فرشتے کے چلے جانے کے بعد پوری ترتیب کے ساتھ حرف بحرف بدون ادنیٰ فروگذاشت کے اپنے پیغمبر کے سینے میں جمع کر دے، کیا اس پر قادر نہیں کہ بندوں کے اگلے اور پچھلے اعمال جن میں سے بعض کو کرنیوالا بھی بھول گیا ہوگا سب جمع کرکے ایک وقت میں سامنے کر دے اور ان کو خوب طرح یاد دلا دے۔ اور اسی طرح ہڈیوں کے منتشر ذرات کو سب جگہ سے اکٹھا کر کے ٹھیک پہلی ترتیب پر انسان کو ازسر نو وجود عطا فرما دے۔ بیشک وہ اس پر اور اس سے کہیں زیادہ پر قادر ہے۔

كَلّا بَل تُحِبّونَ العاجِلَةَ {75:20}
کوئی نہیں پر تم چاہتے ہو جو جلد آئے
مگر (لوگو) تم دنیا کو دوست رکھتے ہو

وَتَذَرونَ الءاخِرَةَ {75:21}
اور چھوڑتے ہو جو دیر میں آئے [۱۳]
اور آخرت کو ترک کئے دیتے ہو
یعنی تمہار ا قیامت وغیرہ سے انکار کرنا ہر گز کسی دلیل صحیح پر مبنی نہیں، بلکہ دنیا میں انہماک اس کا سبب ہے۔ دنیا چونکہ نقد اور جلد ملنے والی چیز ہے اسی کو تم چاہتے ہو اور آخرت کو ادھار سمجھ کر چھوڑتے ہو کہ اس کے ملنے میں ابھی دیر ہے۔ انسان کی طبیعت میں جلد بازی داخل ہے { خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ } (انبیاء رکوع۳) فرق اتنا ہے کہ نیک لوگ پسندیدہ چیزوں کے حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہیں جس کی ایک مثال ابھی { لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانِکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ } میں گزری اور بدتمیز آدمی اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو جلد ہاتھ آجائے خواہ آخر کار اس کا نتیجہ ہلاکت ہی کیوں نہ ہو۔

وُجوهٌ يَومَئِذٍ ناضِرَةٌ {75:22}
کتنے منہ اس دن تازہ ہیں
اس روز بہت سے منہ رونق دار ہوں گے

إِلىٰ رَبِّها ناظِرَةٌ {75:23}
اپنے رب کی طرف دیکھنے والے [۱۴]
اور) اپنے پروردگار کے محو دیدار ہوں گے
یہ آخرت کا بیان ہوا یعنی مومنین کے چہرے اس روز تروتازہ اور ہشاش بشاش ہونگے۔ اور ان کی آنکھیں محبوب حقیقی کے دیدار مبارک سے روشن ہونگی۔ قرآن کریم اور احادیث متواترہ سے یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوگا۔ گمراہ لوگ اس کے منکر ہیں کیونکہ یہ دولت ان کے نصیب میں نہیں۔ { اللّٰہم لاتحرمنا من ہذہ النعمۃ التی لیس فوقہا نعمۃ }۔

وَوُجوهٌ يَومَئِذٍ باسِرَةٌ {75:24}
اور کتنے منہ اُس دن اداس ہیں [۱۵]
اور بہت سے منہ اس دن اداس ہوں گے
یعنی پریشان اور بے رونق ہونگے۔

تَظُنُّ أَن يُفعَلَ بِها فاقِرَةٌ {75:25}
خیال کرتے ہیں کہ اُن پر وہ آئے جس سے ٹوٹے کمر [۱۶]
خیال کریں گے کہ ان پر مصیبت واقع ہونے کو ہے
یعنی یقین رکھتے ہیں کہ اب وہ معاملہ ہونیوالا ہے اور وہ عذاب بھگتنا ہے جو بالکل ہی کمر توڑ دیگا۔

كَلّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِىَ {75:26}
ہرگز نہیں جس وقت جان پہنچے ہانس تک [۱۷]
دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے
یعنی آخرت کو ہرگز دور مت سمجھو۔ اس سفر آخرت کی پہلی منزل تو موت ہے جو بالکل قریب ہے یہیں سے باقی منزلیں طے کرتے ہوئے آخری ٹھکانے پر جا پہنچو گے۔ گویا ہر آدمی کی موت اس کے حق میں بڑی قیامت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔ جہاں مریض کی روح سمٹ کر ہنسلی تک پہنچی اور سانس حلق میں رکنے لگی سمجھو کہ سفر آخرت شروع ہو گیا۔

وَقيلَ مَن ۜ راقٍ {75:27}
اور لوگ کہیں کون ہے جھاڑنے والا [۱۸]
اور لوگ کہنے لگیں (اس وقت) کون جھاڑ پھونک کرنے والا ہے
ایسی مایوسی کے وقت طبیبوں اور ڈاکٹروں کی کچھ نہیں چلتی جب لوگ ظاہری علاج و تدبیر سے عاجز آجاتے ہیں تو جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کی سوجھتی ہے۔ کہتے ہیں کہ میاں کوئی ایسا شخص ہے جو جھاڑ پھونک کر کے اس کو مرنے سے بچا لے اور بعحض سلف نے کہا کہ { مَنْ رَاقٍ } فرشتوں کاکلام ہے جو ملک الموت کے ساتھ روح قبض کرنے کے وقت آتے ہیں وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ کون اس مردے کی روح کو لے جائیگا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اس تقریر پر "راقی" سے مشتق ہوگا جس کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں۔ "رقیہ" سے نہ ہوگا۔ جو افسوں کے معنی میں ہے۔

وَظَنَّ أَنَّهُ الفِراقُ {75:28}
اور وہ سمجھا کہ اب آیا وقت جدائی کا [۱۹]
اور اس (جان بلب) نے سمجھا کہ اب سب سے جدائی ہے
یعنی مرنیوالا سمجھ چکا کہ تمام عزیز و اقارب اور محبوب ومالوف چیزوں سے اب اسکو جدا ہونا ہے یا یہ مطلب کہ روح بدن سے جدا ہونے والی ہے۔

وَالتَفَّتِ السّاقُ بِالسّاقِ {75:29}
اور لپٹ گئ پنڈلی پر پنڈلی [۲۰]
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے
یعنی بعض اوقات سکرات موت کی سختی سے ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ لپٹ جاتی ہے۔ نیز نیچے کے بدن سے روح کا تعلق منقطع ہونے کے بعد پنڈلیوں کا ہلانا اور ایک کو دوسرے سے جدا رکھنا اس کے اختیار میں نہیں رہتا۔ اس لئے ایک پنڈلی دوسری پر بے اختیار جاگرتی ہے۔ اور بعض سلف نے کہا کہ عرب کے محاورات میں "ساق" کنایہ ہے سخت مصیبت سے۔ تو آیت کا ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ "ملی ایک سختی دوسری سختی کے ساتھ" کیونکہ مرنے والے کو اس وقت دو سختیاں پیش آتی ہیں۔ پہلی سختی تو یہی دنیا سے جانا، مال و اسباب، اہل و عیال، جاہ وحشم، سب کو چھوڑنا دشمنوں کی خوشی و طعنہ زنی، اور دوستوں کے رنج و غم کا خیال آنا، اور دوسری اس سے بڑی قبر اور آخرت کے احوال کی ہے۔ جس کی کیفیت بیان میں نہیں آسکتی۔

إِلىٰ رَبِّكَ يَومَئِذٍ المَساقُ {75:30}
تیرے رب کی طرف ہے اُس دن کھنچ کر چلا جانا [۲۱]
اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے
یعنی سفر آخرت کی ابتداء یہاں سے ہے۔ گویا اب بندہ اپنے رب کی طرف کھنچنا شروع ہوا۔ مگر افسوس اپنی غفلت و حماقت سے کوئی سامان سفر کا پہلے سے درست نہ کیا نہ اتنے بڑے سفر کے لئے کوئی توشہ ساتھ لیا۔

فَلا صَدَّقَ وَلا صَلّىٰ {75:31}
پھر نہ یقین لایا اور نہ نماز پڑھی
تو اس (ناعاقبت) اندیش نے نہ تو (کلام خدا) کی تصدیق کی نہ نماز پڑھی

وَلٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ {75:32}
پھر جھٹلایا اور منہ موڑا
بلکہ جھٹلایا اور منہ پھیر لیا

ثُمَّ ذَهَبَ إِلىٰ أَهلِهِ يَتَمَطّىٰ {75:33}
پھر گیا اپنے گھر کو اکڑتا ہوا [۲۲]
پھر اپنے گھر والوں کے پاس اکڑتا ہوا چل دیا
یعنی بجائے سچا سمجھنے اور یقین لانے کے پیغمبروں کو جھوٹا بتلاتا رہا، اور بجائے نماز پڑھنے اور مالک کی طرف متوجہ ہونے کے ہمشہ ادھر سے منہ موڑ کر چلا۔ نہ صرف یہی بلکہ اپنی اس سرکشی اور بدبختی پر اتراتا اور اکڑتا ہوا اپنے متعلقین کے پاس جاتا تھا۔ گویا کوئی بہت بڑی بہادری اور ہنر مندی کاکام کر کے آرہا ہے۔

أَولىٰ لَكَ فَأَولىٰ {75:34}
خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری
افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے

ثُمَّ أَولىٰ لَكَ فَأَولىٰ {75:35}
پھر خرابی تیری خرابی پر خرابی تیری [۲۳]
پھر افسوس ہے تجھ پر پھر افسوس ہے
یعنی او بدبخت اب تیری کمبختی آئی، ایک مرتبہ نہیں کئ مرتبہ اب تیرے لئے خرابی اور تباہی پر تباہی ہے۔ تجھ سے بڑھ کر اللہ کی نئی نئی سزاؤں کا مستحق اور کون ہوگا۔ (تنبیہ) شاید اوّل خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری اس سے بڑھ کر جھٹلانے اور منہ موڑنے پر، تیسری اور چوتھی ان دونوں امور میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر ہو۔ جس کی طرف { ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی } میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔

أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَن يُترَكَ سُدًى {75:36}
کیا خیال رکھتا ہے آدمی کہ چھوٹا رہے گا بے قید [۲۴]
کیا انسان خیال کرتا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
یعنی کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کو یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ اور امرونہی کی کوئی قید اس پر نہ ہوگی؟ یا مرے پیچھے اٹھایا نہ جائے گا؟ اور سب نیک و بد کا حساب نہ لیں گے؟

أَلَم يَكُ نُطفَةً مِن مَنِىٍّ يُمنىٰ {75:37}
بھلا نہ تھا وہ ایک بوند منی کی جو ٹپکی [۲۵]
کیا وہ منی کا جو رحم میں ڈالی جاتی ہے ایک قطرہ نہ تھا؟
یعنی عورت کے رحم میں۔

ثُمَّ كانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّىٰ {75:38}
پھر تھا لہو جما ہوا پھر اُس نے بنایا اور ٹھیک کر اٹھایا
پھر لوتھڑا ہوا پھر (خدا نے) اس کو بنایا پھر (اس کے اعضا کو) درست کیا

فَجَعَلَ مِنهُ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ وَالأُنثىٰ {75:39}
پھر کیا اُس میں جوڑا نر اور مادہ
پھر اس کی دو قسمیں بنائیں (ایک) مرد اور (ایک) عورت

أَلَيسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلىٰ أَن يُحۦِىَ المَوتىٰ {75:40}
کیا یہ خدا زندہ نہیں کر سکتا مردوں کو [۲۶]
کیا اس خالق کو اس بات پر قدرت نہیں کہ مردوں کو جلا اُٹھائے؟
یعنی نطفہ سے جمے ہوئے خون کی شکل میں آیا۔ پھر اللہ نے اس کی پیدائش کے سب مراتب پورے کر کے انسان بنا دیا اور تمام ظاہری اعضاء اور باطنی قوتیں ٹھیک کر دیں۔ ایک نطفہ بیجان سے انسان عاقل بن گیا۔ پھر اسی نطفہ سے عورت اور مرد دوقسم کے آدمی پیدا کئے۔ جن میں سے ہر ایک قسم کی ظاہری و باطنی خصوصیات جداگانہ ہیں۔ کیا وہ قادر مطلق جس نے اولًا سب کو ایسی حکمت وقدرت سے بنایا، اس پر قادر نہیں کہ دوبارہ زندہ ک ردے؟ { سبحانک اللّٰھم فبلٰی }۔ پاک ہے تیری ذات اے خدا! کیوں نہیں، تو بیشک قادر ہے۔ تم سورۃ القیٰمۃ وللہ الحمد والمنہ۔


تمہید: علم اللہ کی معرفت سے متعلق اور معلومات مخلوق سے متعلق ہے۔ علم سے للہیت وروحانیت آتی ہے اور صرف معلومات سے مادیت پرستی پیدا ہوتی ہے۔
وَالعَصرِ {103:1}
قسم ہے عصر کی [۱]
عصر کی قسم
"عصر" زمانہ کو کہتے ہیں یعنی قسم ہے زمانہ کی جس میں انسان کی عمر بھی داخل ہے جسے تحصیل کمالات و سعادات کے لئے ایک متاع گراں ما یہ سمجھنا چاہیے۔ یا قسم ہے نماز عصر کے وقت کی جو کاروباری دنیا میں خاص مشغولیت اور شرعی نقطہ نظر سے نہایت فضیلت کا وقت ہے (حتّٰی کہ حضور  نے حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جس کی نماز عصر فوت ہو گئ گویا اس کا سب گھر بار لٹ گیا) یا قسم ہے ہمارے پیغمبر کے زمانہ مبارک کی جس میں رسالت عظمٰی اور خلافت کبریٰ کا نور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔

إِنَّ الإِنسٰنَ لَفى خُسرٍ {103:2}
مقرر انسان ٹوٹے میں ہے [۲]
کہ انسان نقصان میں ہے
اس سے بڑھ کر ٹوٹا کیا ہو گا کہ برف بیچنے والے دوکاندار کی طرح اس کی تجارت کا ر اس المال جسے عمر عزیز کہتے ہیں، دم بدم کم ہوتا جارہا ہے۔ اگر اس رواروی میں کوئی ایسا کام نہ کر لیا جس سے یہ عمر رفتہ ٹھکانے لگ جائے، بلکہ ایک ابدی اور غیرفانی متاع بن کر ہمیشہ کے لئے کارآمد بن جائے تو پھر خسارہ کی کوئی انتہا نہیں۔ زمانہ کی تاریخ پڑھ جاؤ اور خود اپنی زندگی کے واقعات پر غور کرو تو ادنیٰ غوروفکر سے ثابت ہو جائے گا کہ جن لوگوں نے انجام بینی سے کام نہ لیا اور مستقبل سے بے پروا ہو کر محض خالی لذتوں میں وقت گزار دیا وہ آخر کس طرح ناکام و نامراد بلکہ تباہ برباد ہو کر رہے۔ زندگی کی قدروقیمت: آدمی کو چاہیئے کہ وقت کی قدر پہچانے اور عمر عزیز کے لمحات کو یونہی غفلت و شرارت یا لہوولہب میں نہ گنوائے جو اوقات تحصیل شرف و مجد اور اکتساب فضل و کمال کی گرم بازاری کے ہیں، خصوصًا وہ گراں ما یہ اوقات جن میں آفتاب رسالت اپنی انتہائی نور افشانی سے دنیا کو روشن کر رہا ہے، اگر غفلت و نسیان میں گزار دیے گئے تو سمجھو کہ اس سے بڑھ کر آدمی کے لئے کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ بس خوش نصیب اور اقبال مند انسان وہی ہیں جو اس عمر فانی کو باقی اور ناکارہ زندگی کو کارآمد بنانے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اور بہترین اوقات اور عمدہ مواقع کو غنیمت سمجھ کر کسب سعادت اور تحصیل کمال کی کوشش میں سرگرم رہتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر آگے { اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } میں کیا گیا ہے۔

إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَواصَوا بِالحَقِّ وَتَواصَوا بِالصَّبرِ {103:3}
مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی [۳]
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے
یعنی انسان کو خسارہ سے بچنے کے لئے چارباتوں کی ضرورت ہے۔ اوّل خدا و رسول پر ایمان لائے اور ان کی ہدایات اور وعدوں پر خواہ دنیا سے متعلق ہوں یا آخرت سے پورا یقین رکھے۔ دوسرے اس یقین کا اثر محض قلب و دماغ تک محدود نہ رہے بلکہ جوارح میں ظاہر ہو، اور اس کی عملی زندگی اس کے ایمان قلبی کا آئینہ ہو۔ تیسرے محض اپنی انفرادی صلاح وفلاح پر قناعت نہ کرے بلکہ قوم و ملّت کے اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھے۔ جب دو مسلمان ملیں ایک دوسرے کو اپنے قول و فعل سے سچے دین اور ہر معاملہ میں سچائی اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہیں۔ چوتھے ہر ایک کو دوسرے کی یہ نصیحت و وصیت رہے کہ حق کے معاملہ میں اور شخصی و قومی اصلاح کے راستہ میں جس قدر سختیاں اور دشواریاں پیش آئیں یا خلافِ طبع امور کا تحمل کرنا پڑے، پورے صبر و استقامت سے تحمل کریں، ہر گز قدم نیکی کے راستہ سے ڈگمگانے نہ پائے۔ خوش قسمت حضرات ان چار اوصاف کے جامع ہونگے اور خود کامل ہو کر دوسروں کی تکمیل کریں گے ان کا نام صفحات دہر پر زندہ جاوید رہیگا۔ اور جو آثار چھوڑ کر دنیا سے جائیں گے وہ بطور باقیات صالحات ہمیشہ ان کے اجر کو بڑھاتے رہیں گے۔ سورۃ عصر کی فضیلت: فی الحقیقت یہ چھوٹی سی سورت سارے دین و حکمت کا خلاصہ ہے۔ امام شافعیؒ نے سچ فرمایا کہ اگر قرآن میں سے صرف یہی ایک سورت نازل کر دی جاتی تو (سمجھدار بندوں کی) ہدایت کے لئے کافی تھی۔ بزرگان سلف میں جب دو مسلمان آپس میں ملتے تھے، جدا ہونے سے پہلے ایک دوسرے کو یہ سورت سنایا کرتے تھے۔





انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ اور اُمّت مسلمہ کی ذمہ داری


الحمدلله الذی ھدانا لھذا وما کنا لنھتدی لولا ان ھدانا الله لقد جاء ت رسل ربنا بالحق․

ہم سب خدا پرستوں کا عقیدہ ہے کہ اس ساری دنیا کو ایک الله نے پیدا کیا ہے او روہی دنیا کے اس کارخانہ کو چلا رہا ہے اور ہم آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس پور ی کائنات میں اور اس سارے سنسار میں انسان کو الله نے وہ صلاحیتیں دی ہیں اور وہ طاقتیں بخشی ہیں جو دوسری مخلوقات کو نہیں دی گئی ہیں ، اس میں جو ترقیاں او رجو نئی نئی ایجادیں ہو رہی ہیں وہ سب انسان ہی کی قابلیت او رانسان ہی کی ترقی پسند ی کا نتیجہ ہیں۔

انسان کو ترقی کرنے او ربڑھنے کی جو صلاحیت اور قابلیت دی گئی ہے اس کے ذریعہ وہ نیکی اور بھلائی میں بھی ترقی کر سکتا ہے او راسی طرح بدی او ربرائی میں بھی ۔ وہ اگر اپنی صلاحیتوں اور طاقتوں کو نیکی کے راستہ پر لگائے تو ایسے بلند مقام تک پہنچ سکتا ہے اور وہ مرتبے حاصل کر سکتا ہے جہاں فرشتوں کی بھی رسائی نہیں اور اگر اپنی اسی طاقت اور قابلیت کو وہ برائی کے راستہ پر لگائے او راس کے ذریعہ بدی اور شرارت میں ترقی کرے تو ایسا شریر اور موذی بن سکتا ہے کہ سانپ بچھو اور بھیڑیے اور چیتے بھی اس سے پیچھے رہ جائیں۔

الله تعالیٰ نے نبوت او رپیغمبری کا سلسلہ اسی لیے جاری فرمایا اور مختلف زبانوں او رمختلف ملکوں او رقوموں میں ہزاروں رسول اور پیغمبر اسی واسطے بھیجے کہ وہ انسان کو نیک بن کر دنیا میں رہنے اور نیکی کے راستہ پر اپنی طاقت صرف کرنے کا طریقہ بتلائیں اور اپنی تعلیم وتربیت سے ان کو نیک اورصالح بنا کر فرشتوں سے بھی آگے بڑھائیں۔

انبیاء علیہم السلام کی تاریخ سے ہم نے جوکچھ سمجھا او رجانا ہے، وہ یہ ہے کہ انسانوں کو وہ زندگی کے تین بنیادی اصول دیتے ہیں اور ان ہی اصولوں کی بنیاد پر وہ پوری زندگی کی تنظیم اور تشکیل کرتے ہیں ، یعنی یہ بنیادی اصول جن کاموں کے کرنے کا تقاضا کرتے ہیں وہ حضرات اپنے ماننے والوں کو ان کے کرنے کا حکم دیتے ہیں اورجن چیزوں سے بچنے او رجن باتوں کو چھوڑنے کا تقاضا کرتے ہیں وہ ان سے منع کرتے ہیں۔

ان میں پہلا بنیادی اصول وہ یہ دیتے ہیں کہ انسان اس پر یقین کرے اور دل سے اس کو مانے کہ میرا او رساری دنیا کا بس ایک خالق اور رب ہے ، وہی دنیا کے اس پورے کارخانے کو بلاشرکت غیر ے چلا رہا ہے اور اس پوری کائنات کی ہر چیز صرف اسی کے قبضہ اور اختیار میں ہے، جس کو جو چاہے دے او رجس سے جو چاہے لے ، موت اور زندگی ، بیماری اور تندرستی، رزق کی فراخی اور تنگی ، خوش حالی اور بد حالی سب اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کے حکم سے آتی او رجاتی ہے، اس لیے بس وہی عبادت کا مستحق ہے او راس کو راضی کرنا اور زندگی کے سارے معاملات میں اس کی مرضیات پر چلنا اور اس کا حکم ماننا انسان کا سب سے اہم فرض ہے۔

یہ سب سے پہلا اصول ہے جو انبیاء علیہم السلام انسانوں کو زندگی کی بنیاد کے طور پر دیتے ہیں اور ہدایت کرتے ہیں کہ زندگی کے سارے معاملات میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائے او رجو کچھ سوچا جائے اسی کی روشنی میں سوچا جائے اورجو کچھ کیا جائے اس کی بنیاد پر اور اس کے تقاضے کے مطابق کیا جائے ۔

دوسرا اصول وہ یہ دیتے ہیں کہ انسان اس کا یقین کرے اور دل سے اس کو حق اور یقیناً ہونے والا واقعہ مانے کہ اس زندگی میں وہ جو اچھے بُرے عمل کرے گا مرنے کے بعد والی زندگی میں وہ ضرور اس کی جزا اورسزا پائے گا، اگر وہ اچھے اور نیک اعمال کرے گا اور زندگی اچھے طریقے اور اپنے پیداکرنے والے کے حکموں کے مطابق گزار کے جائے گا تو مرنے کے بعد وہ بڑی لذت او رمسرت والی زندگی پائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کی لذتیں او رمسرتیں حاصل کرے گا اور اگر وہ غلط طریقہ پر زندگی گزار کے اور الله کی نافرمانیاں اور بندوں کی حق تلفیاں کرکے اس دنیا سے جائے گا تو اگلی دنیامیں اسے بڑے سخت دکھ اٹھانا پڑیں گے اور وہاں اس کی زندگی بڑی ذلتوں او رمصیبتوں والی زندگی ہو گی اور وہاں کی وہ ذلتیں اور مصیبتیں اس دنیا کی بڑی سے بڑی ذلتوں اور مصیبتوں سے بھی ہزاروں لاکھوں گنا بڑی ہوں گی۔

تو انسانوں کی زندگی کے لیے دوسرا بنیادی اصول انبیا علیہم السلام یہ دیتے ہیں کہ مرنے کے بعد کی جزا اور سزا پر یقین رکھتے ہوئے اور اسکا دھیان وفکر کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔

تیسرا بنیادی اصول انبیاء علیہم السلام یہ دیتے ہیں کہ انسان ہمیشہ اس حقیقت کو نظر کے سامنے رکھے اور کبھی اس سے غافل نہ ہو کہ اس کی دو جہتیں ہیں، یعنی خود اس کی زندگی میں دو پہلو او ردو رُخ ہیں ایک مادیت کا اور ایک روحانیت کا اور ان دونوں کے تقاضے باہم بہت مختلف ہیں ، ہماری مادیت کی بعض خواہشیں وہ ہیں جو روحانیت کے لیے زہر ہیں او رروحانیت کے بعض تقاضے وہ ہیں جو مادی خواہشوں کے سرا سر خلاف ہیں تو انبیاء علیہم السلام انسانی زندگی کا ایک بنیادی اصول یہ قرار دیتے ہیں کہ مادیت کو اورمادی خواہشات کو ہماری روحانیت پر غالب آنے او راس کو دبانے کا موقع نہ دیا جائے بلکہ روحانیت کو غالب رکھ کر طبیعت کے مادی تقاضوں کو اس کا ماتحت اور تابع بنایا جائے۔

الله کے جو پیغمبر بھی جب کبھی جس ملک میں اور جس قوم میں آئے اگر ان کی تعلیم او ران کے کام کے متعلق صحیح معلومات حاصل کرنے کا ہمارے آپ کے پاس کوئی ذریعہ ہو تو اس ذریعہ سے جو معلومات حاصل ہوں گی وہ یہی بتلائیں گی کہ انہوں نے زندگی کا جو نقشہ اور جو نظام الله تعالیٰ کی طرف سے اپنی قوم کے سامنے پیش کیا تھا اس کی بنیاد ان ہی اصولوں پر تھی۔

پھر انسان جب ان سچے اصولوں کو مان لے تو اسے آپ سے آپ ضرورت محسوس ہو گی کہ وہ معلوم کرے کہ میں الله کی عبادت کس طرح کروں اور زندگی کے بارے میں اس کے کیا احکام ہیں، جن کی میں فرماں برداری کروں اور وہ کیا اعمال ہیں جن کو کرکے میں الله تعالیٰ کی رضا مند ی اور مرنے کے بعد لذت ومسرت والی دائمی زندگی حاصل کرسکتا ہوں اور وہ کون سے اعمال ہیں جن کو خدا نخواستہ اگر میں نے کیاتو مرنے کے بعد مجھے بے انتہا ذلتیں اور تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی اور وہ کون سا طریقہ ہے جس پر چل کر میری روحانی ترقی ہوتی رہے اور مادیت کو روحانیت پر غالب آکر اس کا گلا گھونٹنے کا موقع نہ ملے؟ اس لیے انبیاء علیہم السلام ان بنیادی اصولوں کے ساتھ انسانی زندگی کے متعلق الله تعالیٰ کی طرف سے تفصیلی ہدایات بھی لاتے ہیں او ربتلاتے ہیں کہ تم کو یہ یہ کام کرنے ہیں اور یہ یہ باتیں چھوڑنی ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ الله کے جو رسول اور پیغمبر جب کبھی کسی ملک اور کسی قوم میں آئے وہ اس سلسلہ کی ضروری ہدایتیں بھی الله تعالیٰ کی طرف سے لائے او رجن لوگوں نے ان کی بات مانی اور ان کی پیروی قبول کی، ان کی تعلیم وتربیت ان نبیوں نے ان ہی اصولوں او ران ہی ہدایات کے مطابق کی او رپھر انہیں وہ ترقیاں حاصل ہوئیں اور وہ کمالات نصیب ہوئے کہ فرشتوں نے ان پر رشک کیا اور الله کے وہ پیارے ہو گئے اور مرنے کے بعد ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ انہوں نے کیا کچھ پایا۔

اور جن لوگوں نے پیغمبروں کے لائے ہوئے ان اصولوں کو اور زندگی کے بارہ میں ان کی ہدایات کو نہیں مانا او رنہیں اپنایا اور خدا کی ہدایات اور مرنے کے بعد کی جزا اور سزا کی فکر اور روحانیت کی تکمیل وترقی سے بے پروا ہو کر جنہوں نے اپنی اغراض وخواہشات او رہویٰ وہوس ہی کو زندگی کا منتہا اورنصب العین بنالیا ، ان کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ وہ انسان نما درندے یا شکل آدم میں شیطان یا کم ازکم ایک ترقی یافتہ حیوان بن گئے ہیں۔

ہماری بدنصیبی ہے کہ اس وقت دنیا ایسے ہی انسان نما حیوانوں اور آدم صورت شیطانوں سے بھری ہوئی ہے ۔ خدا اور مذہب اور آخرت کا انکار کرنے والے تو اگرچہ اب بھی بہت کم ہیں، لیکن زندگی کے بارے میں انبیاء علیہم السلام کے لائے ہوئے اصول او ران کی ہدایات وتعلیمات سے بے پروا ہو کر اور خدا کے احکام اور آخرت کی جزا اور سزا او رروحانیت کے تقاضوں سے بے فکر ہو کر خدا ومذہب کے منکروں کی سی زندگی گزارنے والوں سے ہماری یہ دنیا بھری ہوئی ہے او راس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی خداداد قابلیت سے صرف حیوانیت میں اور درندگی میں ترقی کر رہے ہیں او رروحانی کمالات سے روز بروز خالی اور دیوالیے ہوتے جارہے ہیں۔

حضرات! آپ اگر عقل سلیم اور انصاف سے کام لے کر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس وقت انسانی دنیا جن مصیبتوں میں مبتلا ہے اور تباہی وبربادی کے جو سخت خطرے اس وقت ساری دنیا پر منڈلارہے ہیں جن کا خیال کرکرکے تمام یورپ وایشیا والے سمجھتے جارہے ہیں یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری اس دنیا نے انبیاء علیہم السلام کا لایا ہوا انسانی اور روحانی طریقہٴ زندگی چھوڑ کر اور خدا اور آخرت اور روح کے تقاضوں کو بالکل پس پشت ڈال کر شیطان کا بتلایا اور سکھایا ہوا حیوانی اور خالص مادی طریقہٴ زندگی اختیار کر لیا ہے ۔ کم از کم اجتماعی اور قومی معاملات میں تو ہم خدا اور آخرت اور روحانیت کو بالکل بھلا چکے ہیں اور خیر یورپ والوں نے اگر یہ مادہ پرستانہ طرز زندگی اختیار کیا تھا تو کیا تھا۔ ان کی اندھی تقلید میں ہم ایشیا والے بھی اسی راستہ پر چل پڑے ہیں،حالاں کہ ایشیا کی سر زمین نبیوں، رسولوں کی سر زمین ہے۔

آج حماقت او رجہالت سے یورپ کی اس اندھی تقلید کو ترقی سمجھا جارہا ہے، حالاں کہ میں نے جیساکہ ابھی عرض کیا تھا یہ صرف حیوانیت میں، شیطانیت میں اوردرندگی میں ترقی ہے ۔ او راگر یہ ترقی یوں ہی ہوتی رہی اور انبیاء علیہم السلام کے انسانیت اور روحانیت اور عبدیت کے اصولوں کو پھر سے نہیں اپنایا گیا تو اس خدا فراموش اور آخرت سے بے پروا دنیا کے سامنے شاید جلدی ہی اس کا انجام آجائے گا اور تیسری جنگ عظیم اگر برپا ہوئی تو جو اس سے بچ جائیں گے وہ دیکھ لیں گے کہ خدا اور اس کی ہدایت سے بے تعلق ہو کر اور آخرت کو بُھلا کر ترقی کرنے والوں کا او ران کی ترقیوں کا حشر کیا ہوا کرتا ہے ۔﴿ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون﴾․

حضرات! ہمارے سامنے یہی مسئلہ ہے او رہم اسی کو انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ہماری دعوت او رہمارا پیام اپنے کو اور آپ سب حضرات کو بھی بس یہی ہے کہ الله کے نبیوں اور رسولوں کے بتلائے ہوئے ان اصولوں کو ہم پھر سے زندگی کی بنیاد بنائیں جو انسان کو خدا کا اچھا بندہ او راچھا آدمی بناتے ہیں اور مادہ پرستی او رخدا فراموشی کے ان طور طریقوں کو چھوڑیں جنہوں نے ہماری زندگی کو حیوانی اور شیطانی زندگی بنا کر پوری انسانی دنیا کو جہنم کے کنارے پر کھڑا کر دیا ہے۔

عجیب بات ہے کہ آج سڑکوں او رگلی کوچوں کی صفائی کا مسئلہ قابل فکر ہے ، گندی نالیوں کی دھلائی کا مسئلہ فکر کے قابل ہے ، مچھروں اور مکھیوں اور چوہوں کو مارنے اور کم کرنے کے لیے لمبی لمبی اسکیمیں بنائی جاتی ہیں اوران کاموں پر ہزاروں لاکھوں آدمیوں کا وقت اور کڑوروں روپیہ صرف ہوتا ہے ، لیکن آدمیوں میں سے درندگی او رحیوانیت کی تباہ کن صفات نکالنے اور ان کو اچھا آدمی اور الله کا اچھا بندہ بنانے کی طرف بالکل توجہ نہیں کی جاتی ۔ میرے نزدیک تویہ اسی کا عذاب ہے کہ ہمارا کوئی مسئلہ سلجھنے میں نہیں آتا او راگر برسوں کی محنت اور اربوں روپے کے خرچ کے بعد کوئی ایک مسئلہ کچھ قابو میں آتا ہے تو چار اور الجھ جاتے ہیں، ابھی گزشتہ ہفتہ کے اخباروں میں آپ نے پڑھا ہو گا کہ صرف غذا کے مسئلہ پر اب تک بے تحاشہ روپیہ صرف ہو چکا ہے اورمسئلہ کی مشکلیں جوں کی توں ہیں۔ بعض علاقوں میں پانی کی کمی ہو رہی ہے او رکنوئیں سوکھ رہے ہیں اور ڈر ہے کہ بھوک کے عذاب سے پہلے، بہت سے آدمی او رجانور کہیں پانی نہ ملنے کے اس عذاب سے موت کا شکار نہ ہو جائیں۔

حضرات! ہم خدا پرستوں کاایمان ہے کہ دنیا اس وقت جن پریشانیوں میں مبتلا ہے وہ محض اتفاقی نہیں ہیں، بلکہ الله کی بادشاہی میں کوئی چیز بھی آپ سے آپ اور محض اتفاق سے نہیں ہوتی ، یہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ الله کے حکم سے ہوتا ہے، اس لیے ہماری موجودہ پریشانیاں یقینا خدا کے حکم سے ہیں اور وہ الله ظالم نہیں ہے اور نہ بلاوجہ ہمیں ستانے میں اسے کوئی لذت آتی ہے ۔ بلکہ انسانی دنیا کی یہ پریشانیاں اور بے چینیاں اس کی خدا فراموشی اور آخرت سے بے فکری کی سزا ہیں ۔ ﴿ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا﴾․

پس ہمیں آپ سے صرف یہ کہنا ہے کہ جہاں آپ اور بہت سے قومی کاموں پر اپنا وقت ، اپنا روپیہ اور اپنی طاقتیں صرف کرتے ہیں، وہاں اس کام کی طرف بھی توجہ کریں ، اس کے لیے جماعتیں اور سوسائٹیاں بنائیں، اس کے طریقے سوچیں ، جب آپ خلوص اور دیانت داری سے اس کام کو شروع کریں گے اور صاف ذہن سے غور کریں گے تو آپ پر خودراہیں کھلیں گی اور آپ کی طرف سے اپنے ملک او راپنی قوم کی بلکہ ساری انسانیت کی یہ بہت بڑی خدمت ہو گی۔

اگر آپ نے اپنے کو اچھا خدا پرست اور خدا ترس آدمی بنا لیا اور اپنی قوم کے صرف دس بیس فیصدی افراد ہی کو آپ اچھا آدمی بناسکے اور وہ زندگی کے ہر معاملہ میں خدا سے ڈرنے والے اور مرنے کے بعد والی جزا سزا کی فکر کرنے والے بن گئے تویقین کیجیے کہ روحانی فائدوں کے علاوہ آپ ملک او رقوم کو موجودہ مصیبتوں سے نجات دلانے میں بھی بڑی مدد دیں گے۔ اس وقت ہم جن مصیبتوں میں مبتلا ہیں ان میں 95,90 فیصدی وہ ہیں جن میں ہم صرف اس لیے گھر ے ہوئے ہیں کہ قوم میں خدا پرستی او رایمان داری نہیں ہے اور مرنے کے بعد کی جزا وسزا کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ اگر ہمارے وزیروں اور چھوٹے بڑے افسروں میں اورحکومت کے عام اہلکاروں میں ، اسی طرح تاجروں میں، مزدورں میں اور دوسرے عام طبقوں میں انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کے مطابق بجائے غرض پرستی اور مادہ پرستی کے خدا پرستی اورایمان داری آجائے ، بجائے حرص اور طمع کے قناعت آجائے ، ایثار اور سخاوت آجائے ، دوسروں کی غم خواری اور دوسروں کے لیے خود تکلیف اٹھانے اور قربانی دینے کا رواج ہو جائے تو ہماری ساری وہ مشکلیں ایک دن میں دور ہو جائیں گی جن کو حل کرنے کے لیے کروڑوں روپیہ صرف کرنے کے باوجود ہماری وزارتیں آج بھی عاجز ہیں۔

حضرات! اتنی بات جو میں نے اب تک کہی یہ کسی مذہب وملت سے مخصوص نہیں ہے، اس لیے یہ بات ہم ہر مذہب وملت والے سے کہتے ہیں ، عیسائیوں سے بھی کہتے ہیں اوریہودیوں سے بھی، اسی طرح دوسرے ادیان ومذاہب والوں سے بھی۔

البتہ مسلمانوں سے ہم اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ تم تو اپنے کو مسلمان کہہ کر ان سب باتوں کا عہد اور اقرار کر چکے ہو، کیوں کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ اپنی زندگی وہ ان اصولوں اور ان ہدایات کے مطابق گزارے گا، جو الله تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام اور سب سے آخر میں حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم مکمل ترین شکل میں لے کر آئے اور دنیا سے زیادہ فکر وہ آخرت کی کرے گا او رمادی خواہشات کے مقابلہ میں روحانی تقاضوں او رمطالبوں کو ترجیح دے گا۔

اس لیے ہر مسلمان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اس اقرار اور ان اصولوں کے مطابق بنائے یعنی اس کی زندگی الله کی بندگی اورعبدیت والی زندگی ہو ، وہ نفس کی خواہشات اور طبیعت کے تقاضوں کے بجائے الله کے احکام پر او راس کی بھیجی ہوئی شریعت پر چلنے والا ہو ، مرنے کے بعد حساب او رجزا وسزا سے ڈرنے والا اور دنیا سے زیادہ آخرت کی زندگی بنانے کی فکر کرنے والا ہو ، اسی طرح مادی ترقی سے زیادہ اس کو روحانی ترقی کی فکر ہو ۔

مسلمان اسی لیے پیدا کیے گئے تھے کہ وہ دنیا میں الله تعالیٰ کی بتلائی ہوئی ایمانی اور روحانی زندگی گزاریں او راسی مبارک زندگی کو دنیا میں رواج دیں۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے ․﴿کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتؤمنون بالله﴾․

اس کا مطلب یہی ہے کہ نیکی کو دنیا میں رواج دینا، برائی او ربدی کے طور طریقوں سے لوگوں کو بچانا اور روکنا اور خود مضبوطی سے اس ایمانی طریقہ پر اور نیکی کے راستہ پر قائم رہنا مسلمانوں کے خاص فرائض میں سے ہے، بلکہ وہ دنیا میں اسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔

لیکن ہمیں اقرار ہے کہ ہم بھی راستہ سے ہٹ گئے ، جس مقدس کام کے لیے ہم پیدا کیے گئے تھے او رجو خدمت ہمارے سپرد کی گئی تھی ہم نے اپنی نالائقی اور غفلت سے اس کو چھوڑ دیا اور نفس پرستی ، غرض پرستی اور آخرت فراموشی اور صرف مادی ترقیوں میں انہماک والی وہی زندگی ہم نے بھی اختیار کر لی جس کو مٹانے کے لیے ہم پیدا کیے گئے تھے ۔ بلاشبہ یہ ہمارا بہت بڑا جرم ہے اور یہ ہم نے خود اپنے اوپر بہت بڑا ظلم کیا ہے، بس الله تعالیٰ ہی ہمارے اس جرم کو معافر فرمائے۔

حضرات! اگرچہ ہماری حالت بہت بگڑ گئی ہے او رہم اپنے مقام سے بہت ہٹ گئے ہیں لیکن الله تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم مایوس نہیں ہیں ، ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سنبھلنے کی اور پھر اپنے مقصد زندگی کی طرف لوٹنے کی توفیق دے گا اور ہم سے وہ کام لے گا جو ” خیرامة“ کی حیثیت سے ہم کو کرنا چاہیے تھا ۔

محترم حاضرین! یہ خالص دینی اور ایمانی دعوت اور تحریک، جس کے سلسلہ میں ہمارا مختصر سا قافلہ کل سے یہاں آپ کے اس شہر میں آیا ہوا ہے دراصل یہ اس کی کوشش ہے کہ ہماری بگڑی ہوئی زندگی درست ہو جائے اور ہم وہ زندگی گزارنے لگیں اور وہ کام کرنے لگیں جس کے لیے ہم پیدا کیے گئے تھے، آج کل لوگ مادیت اور خدا فراموشی کے غلبہ سے اس قدر متاثر ہیں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس زمانہ میں بھی ایمانی اور روحانی زندگی کی کوئی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے، لیکن ہم الله تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس کے رحم وکرم نے ایک ایسے طریق کار کی طرف ہماری رہنمائی کر دی ہے، جس کے کافی تجربہ کے بعد ہم الحمدلله اس پر بالکل مطمئن ہیں کہ مسلمانوں کا جو طبقہ اس مقصد کی اہمیت اور ضرورت کو محسوس کرتا ہے یا محسوس کرانے سے محسوس کر سکتا ہے، اگر وہی اس طریقے پر جدوجہد کرنے لگے تو ہمیں بالکل یقین ہے کہ ان شاء الله فضا بالکل بدل جائے گی اور ہماری زندگی ایمان بالله اور فکر آخرت والی زندگی بن جائے گی، جس میں روحانیت مادیت پر غالب ہو گی۔

مسلمانوں میں پھر سے ایمانی زندگی پیدا کرنے کی اس خاص طریقہ سے یہ کوشش یوں تو بیس سال سے زیادہ عرصے سے ہو رہی ہے او رخود میرا تعلق بھی اس تحریک سے قریباً10,9 سال سے ہے لیکن ابتدا میں اس کا دائرہ بہت محدود تھا اور رفتار بہت دھیمی تھی جس کی ایک خاص وجہ کام کے بالکل نامانوس ہونے کے علاوہ یہ بھی تھی کہ سیاسی تحریکوں کے شورو شغب میں اس خالص غیر سیاسی کام کرنے والوں اور اس کی طرف بلانے والوں کی آواز کوئی سنتا ہی نہ تھا، اب ادھر دو تین سال سے لوگ کچھ متوجہ ہونے لگے ہیں اور حالات کی رفتار نے بھی یہ سمجھنا ان کے لیے آسان کر دیا ہے کہ ایمان اور ایمان والی زندگی بھی کوئی ضروری چیز ہے اور ہمیں آخرت کی فکر بھی کرنی چاہیے۔

حضرات! اس کام کے لیے ہم نے جو طریق کار اختیار کیا ہے، جس کے متعلق میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ الحمدلله تجربہ نے اُس پر ہم کو بالکل مطمئن کر دیا ہے۔ لیکن وہ کچھ اس طرح کا ہے کہ صرف میرے بتلانے اور بیان کرنے سے اس کو پوری طرح نہیں سمجھا جاسکتا، بلکہ کچھ وقت کام کرنے والوں کے ساتھ رہ کر اور خود دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے، خود میرا معاملہ یہ ہے کہ میں بھی اس کو اس وقت تک اچھی طرح نہیں سمجھ سکا او راس کے بارہ میں مطمئن نہیں ہو سکا تھا، جب تک کہ چند روز ایک جماعت کے ساتھ رہ کر اُس کو دیکھ نہ لیا ۔ اس لیے میں آپ کو اس طریق کار کے سمجھانے کی کوشش نہیں کروں گا۔ بلکہ یہی گزارش کروں گا کہ آپ کچھ وقت کے لیے ہمارے ساتھ ہو جائیں، ان شاء الله چند ونوں میں آپ جان لیں گے اور امید ہے کہ جان کر مطمئن ہو جائیں گے کہ ہاں! اس طریقہ پر جد وجہد کرنے سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی امت میں وہ ایمان او رعمل صالح والی زندگی ان شاء الله پھر سے پیدا ہو سکتی ہے جس کے پیدا کرنے کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور جس کے متعلق الله تعالیٰ کا یہ محکم وعدہ ہے کہ اگر کوئی قوم او رامت وہ زندگی اپنے اندر پیدا کرلے تو وہ اس دنیا میں بھی خاص نعمتوں سے سرفراز کی جائے گی او رمرنے کے بعد عالم آخرت میں بھی جنت اور الله کی رضا اس کو حاصل ہو گی۔

اپنے دینی بھائیوں سے میں ایک آخری بات او رکہنا چاہتا ہوں ۔ دنیا اس وقت مادی ترقیوں سے اور ان کے انجام سے تنگ آچکی ہے او رجن کو الله نے سوچنے سمجھنے کے قابل بنایا ہے وہ اب محسوس کرنے لگے ہیں کہ جو خدا فراموشانہ اور مادہ پرستانہ نظر یہ حیات انہوں نے اختیار کیا تھا اس کاانجام عالم گیر تباہی او ربربادی اور انسانیت کی درد ناک موت کے سوا کچھ ہونے والا نہیں ہے، ایسے وقت میں اگر کوئی قوم اورامت انبیاء علیہم السلام کی تعلیم وہدایت کے مطابق ایمانی طرز زندگی کا نمونہ بن کر دنیا کے سامنے آجائے تو اس میں ذرا شبہ نہیں کہ اس وقت دنیا اس کی طرف دوڑ پڑے گی او راس کو اپنالے گی اور وہ ایمانی طرز زندگی بالکل مکمل او رمرتب شکل میں صرف محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی امت کے پاس ہے، ضرورت صرف اس کی ہے کہ وہ چیز بجائے کتابوں کے، دنیا کی نظر کے سامنے ہماری تمہاری زندگی میں آجائے اور دنیا والے بجائے کتابوں میں پڑھنے اور مطالعہ کرنے کے ہماری زندگی میں اس کے نتائج دیکھ لیں۔

بزرگو اور بھائیو! میرے پاس الفاظ نہیں ہیں جن سے میں اپنے دل کے اس یقین کو ظاہر کر سکوں کہ اس وقت ساری دنیا کی سلامتی او رنجات اس پر موقوف او رمتعلق ہے کہ مسلمان ایمانی طرز زندگی اختیار کرکے دنیا کو ایمان والی زندگی کے طریقہ سے روشناس کرائیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو دنیا کے بگاڑ اور اس کی بربادی کی بڑی ذمہ داری ان پر ہو گی اور یہ محض الله کا فضل ہے اور ایک لطیفہٴ غیبی ہے کہ مسلمانوں میں ایمانی زندگی پیدا کرنے اور عام کرنے کی کوشش کا ایک خاص سہل اور قابل عمل طریقہ الله تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی سے اسی زمانہ میں ہم عاجزوں، بے چاروں کے ہاتھ آگیا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر طبقہ اور ہرعلاقہ کے لوگ اس کو ہم سے لے لیں، وہ ہماری جاگیر نہیں ہے اور نہ ہم اس کو اپنی جاگیر بنانا چاہتے ہیں، ہم تو اسی لیے علاقے علاقے خود پھرتے ہیں اور آپ کے یہاں بھی اسی لیے آئے ہیں کہ آپ حضرات ہمارے ساتھ تھوڑا سا وقت گزار کے اس طریقہ کو ہم سے لے لیں اور پھر اپنی ذمہ داری پر خو دکام کریں ، کیا عجب ہے کہ الله تعالیٰ آپ سے وہ کام لے لے جوہم سے نہیں ہو پا رہا ہے ۔ اس کام میں ہماری حیثیت صرف یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے اس کام کی اہمیت اور ضرورت کا کچھ احساس ہمارے اندر پیدا فرما دیا ہے اور یہ یقین دل میں ڈال دیا ہے کہ جہاں تک بن پڑے اس کام کے لیے کوشش کرنا اور الله کے بندوں تک اس کی دعوت اور اس کا پیغام پہنچانا ہمارا اپنا فرض ہے، اس لیے جہاں تک ہم سے بن پڑتا ہے خود جاجاکر اپنے بھائیوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں اور الله کے بعض بندوں کی صحبت ورفاقت سے او رکچھ اپنے تجربوں سے بفضلہ تعالیٰ اس کام کا جو طریقہ معلوم ہو گیا ہے بس بطور مشورے کے اس کو عرض کرتے ہیں ، اس سے زیادہ ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ ہم نے اس کے لیے کوئی خاص انجمن یا جماعت قائم نہیں کی ہے ،جس کی ہم شاخیں قائم کرنا چاہتے ہوں یا آپ کو اس کا ممبر یا رکن بنانا چاہتے ہوں یا کسی امیر یا کسی پیر کے ہاتھ پر بیعت کراناچاہتے ہوں۔

ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ آپ حضرات اس کام کو اپنائیں اور اس کا پیغام لے کر شہروں شہروں اور خدا توفیق دے تو ملکوں ملکوں پھریں، اس راستہ میں تھکنا اور بے آرام ہوناانبیاء علیہم السلام کی خاص وراثت ہے اور الله تعالیٰ کو ہر دوسرے کام سے زیادہ محبوب ہے ۔ مبارک ہیں وہ پاؤں جو اس راہ میں تھکیں او رمبارک ہیں زندگی کی وہ گھڑیاں جو اس کام میں صرف ہوں۔

الله تعالیٰ ہم سب کو اس کام کی توفیق دے اور دین کے زندہ کرنے کے لیے تکلیفیں اٹھانے اور مرنے مٹنے کا شوق ہم سب کے دلوں میں پیدا فرما دے، دراصل اس راہ میں مرمٹنا ہی اصل زندگی ہے ۔

واخردعوانا ان الحمد لله رب العالمین وسلام علی المرسلین․

اسلام امن وسلامتی کا دین ہے، دہشت گردی کا نہیں
دور حاضر کے ذرائع ابلاغ دہشت گردی کا لفظ بہ کثرت استعمال کررہے ہیں اور بعض سیاسی عناصر یہ ثابت کرنے کی ناپاک کوشش بھی کررہے ہیں کہ نعوذ باللہ اس کا رشتہ اسلام سے ہے جب کہ تشدد اور اسلام میں آگ اور پانی جیسا بیر ہے جہاں تشدد ہو وہاں اسلام کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، اسی طرح جہاں اسلام ہو وہاں تشدد کی ہلکی پرچھائیں بھی نہیں پڑسکتی، اسلام امن وسلامتی کا سر چشمہ اور انسانوں کے مابین محبت اور خیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے، جس کی بابت اللہ رب العزت خود فرماتا ہے﴿یا ایہا الذین آمنواادخلو ا فی السلم کافة ولا تتبعوا خطوات الشیطن﴾․

ترجمہ:اے مومنو! امن وسلامتی میں پورے پورے داخل ہوجاوٴ اور شیطان کے قدموں کی تابع داری نہ کرو۔“(البقرة:208)اسی طرح دوسرے مقام پرکچھ یو ں حکم دیتا ہے ﴿ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحہا﴾․

ترجمہ:اور زمین میں اسکی درستگی کے بعد فساد مت پھیلاوٴ۔(الاعراف (56:

جب کہ تشدد کا خمیر ظلم و جور اور وحشت سے اٹھتا ہے اور خوں ریزی وغارت گری سے اس کی کھیتی سیراب ہوتی ہے، کائنات کے جملہ ادیان ومذاہب میں انسانی جان کے احترام ،وقار اور امن واطمینان کے ساتھ زندگی گذارنے کے حق کو اولیت دی گئی ہے ،ماشاء اللہ اس سلسلے میں اسلام کا درجہ سب سے عظیم ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے﴿ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق ذلکم وصاکم بہ لعلکم تعقلون﴾․

ترجمہ:اور جس کا خون کرنا اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو،ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ سمجھو۔ (الانعام:151)

ان واضح اسلامی تعلیمات کے فیض سے دنیا میں انسانی جان کے تحفظ کا حیرت انگیز منظر سامنے آیا اور دنیامیں بڑی بڑی سلطنتوں کے اندر انسانی جان کی ناقدری کے خوفناک واقعات اورہول ناک تماشوں کے سلسلے اسلام کی آمد کے بعد موقوف ہوگئے اور دہشت وخوں ریزی سے عالم انسانیت کو نجات ملی، انہیں تعلیمات کے باعث ایک مختصر مدت میں عرب جیسی خوں خوار قوم تہذیب وشرافت کے سانچے میں ڈھل گئی اور احترام نفس وامن و سلامتی کی علم بردار ہوکر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گئی جس کا نقشہ قرآن کریم نے کچھ اس طرح کھینچا ہے ﴿وکنتم علی شفا حفرة من النار فانقذکم منھا﴾․

ترجمہ:اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا۔(آل عمران:103)

آج انہیں اسلامی اقدار کو بدنام کرنے کی ہر چہار جانب کوششیں جاری ہیں۔مذہب اسلام نے تشدد ودہشت گردی کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور امن وسلامتی کو فروغ دینے کی تلقین کی ہے ،اسلام کسی بھی قسم کی دہشت گردی یا ظلم وتعدی کی قطعا اجازت نہیں دیتا، اسلامی تعلیمات کے مطابق ظلم کا بدلہ تو لیا جاسکتا ہے لیکن اگر مظلوم تجاوز کرگیا تو وہ بھی ظالم کی صف میں آجائے گاارشاد ربانی ہے﴿وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین﴾․

ترجمہ:اوران سے اللہ کی راہ میں لڑوجو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، اللہ زیادتی کرنے والوں کو نہیں پسند کرتا۔ (البقرة:190)

اسی سورہ میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی باخبر کردیا کہ بدلے کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ ارشاد ہے:﴿فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم واتقواللہ واعلموا ان اللہ مع المتقین﴾․

ترجمہ:جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی طرح زیادتی کرو جو اس نے تم پر کی اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان لو کہ اللہ تعالی پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔(البقرة:194)

یعنی بدلہ لیتے وقت یہ بات ملحوظ رہے کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور اس کی گرفت بہت سخت ہے ۔

دہشت گردی اور تشدد کے سلسلے میں اسلام کا موقف بالکل صاف اور واضح ہے کہ اسلام قتل ناحق کا مخالف ہے، جس کی وعید قرآن کریم کچھ اس طرح بیان کرتا ہے ﴿من قتل نفسا بغیر نفس او فساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا﴾․

ترجمہ:جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو ،قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔(المائدة:32)۔

اسی طرح اللہ کے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”اکبر الکبائر عند اللہ الاشراک باللہ وقتل النفس وعقوق الوالدین“․

ترجمہ:اللہ کے ساتھ شرک کرنا یا کسی کو قتل کرنااور والدین کی نافرمانی کرنا اللہ کے نزدیک گناہ کبیرہ ہے ۔(البخاری)

آج اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ مسلمان پوری کائنات میں اپنی دہشت گردی کے ذریعہ اسلام پھیلانا چاہتے ہیں ،جب کہ قرآن نے خود ان کے ان باطل افکار کی تردید کی ہے﴿لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی﴾․

ترجمہ:دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، سیدھی راہ غلط راہ سے الگ کرکے دکھائی جا چکی ہے۔(البقرة:256)

اسی طرح قرآن کریم دوسرے مقام پرارشاد فرماتا ہے﴿ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ﴾․

ترجمہ:اور جولوگ اللہ کے علاوہ کسی اورکی عبادت کرتے ہیں انہیں گالی مت دو۔(الانعام:108)

اسلام مذہبی عقائد اور اشاعت دین کے سلسلے میں نہایت انسان دوست اور بردبار ہے، جبرا کسی پر بھی کوئی چیز تھوپنے کی یا حلق سے اتارنے کی کسی کو اجازت نہیں دی ہے، اگر اسلام کا نام لے کر کہیں اور کبھی کوئی بھی دہشت گردی یا تشدد کا مظاہرہ کرتا ہے تو حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہے بلکہ مذہب اسلام سے ایک انحراف اور شریعت محمدیہ میں ایک تحریف کا فعل بد ہے، جسے شریعت اسلامیہ کے بدترین استحصال پر محمول کیا جائے گا۔اسلام اذیت پسندی اور فساد انگیزی کا روادار نہیں،اسلام میں صرف مسلم معاشرہ کے اندر کسی بھی اختلاف کو ختم کرنے کے سلسلے میں تشدد سے کنارہ کشی کا حکم نہیں دیا گیا ہے، بلکہ بین الاقوامی سطح یا ایک خطے یا سرزمین پر رہنے والے مختلف مذاہب وادیان کے لوگوں کے ساتھ بھی اعلی درجے کے حسن اخلاق کی ہدایت دی ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے﴿لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین ﴾․

ترجمہ:جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک واحسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاوٴ کرنے سے اللہ تعالی تمہیں نہیں روکتا، بلکہ اللہ تعالی تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(الممتحنة8:)

مذ ہب اسلام نے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور ظالم کے روبرو حق کہنے پر زور دیا ہے اور اسے ایک حقیقی مومن کا ضروری وصف قرار دیا ہے اسلام نے جہاں انسانی جان کی حرمت کا اعلان کیا ہے وہیں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ فتنہ وفساد برپاکرنے اور انسانو ں کاخون بہانے والوں کو معاف بھی نہیں کیا جاسکتا، ارشاد ہے ﴿فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ﴾․

ترجمہ:پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لیگا اور جس نے ذرہ برابربرائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔(الزلزال:8/7)

اس کے باوجود دور حاضر میں جب بھی دہشت گردی موضوع بحث بنتی ہے مغربی دانش ور بالعموم اسلامی تحریکوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور بالخصوص فرشتہ صفت علمائے اسلام نشانہ بنائے جاتے ہیں جب کہ قرآن صریح لفظوں میں بیان کرتا ہے ﴿انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ان اللہ عزیز غفور﴾․

ترجمہ:اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، واقعی اللہ تعالی بڑا بخشنے والا ہے۔ “(فاطر28:)

حالاں کہ اس سلسلے میں اب تک کوئی مبینہ ثبوت فراہم نہیں کیا جا سکا ہے اس لیے اسلامی تحریکو ں یا اسلامی بیداری کے مخالفین کا یہ رویہ عدل وانصاف کے قطعی منافی ہے ۔

دہشت گردی ایک وحشیانہ فعل ہے اور اسلام کے تہذیبی نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، اسلام انسان کو صرف خدا کا خوف دلاتا ہے لہذا وہ کسی انسان کو اس کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ لوگوں کو اپنا خوف دلائے اور انہیں خوف زدہ کرکے اپنے اغراض و مفادات حاصل کرے ،اللہ رب العزت نے اپنے حبیب محمدا کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا:﴿فذکر انما انت مذکر لست علیہم بمصیطر﴾․

ترجمہ:پس آپ نصیحت کردیا کریں (کیوں کہ)آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیة:22/21)

معاشرے میں کشیدگی اسلام کو گوارا نہیں ،وہ تو ہر قسم کی کشمکش اور چپقلش ختم کرکے ایک پر امن ماحول میں افراد کے درمیان الفت وموٴدت اور فلاحی کاموں میں اشتراک وتعاون کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ ارشادہے :﴿واذکروا نعمة اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا﴾․

ترجمہ:اور اللہ تعالی کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی، پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے۔(آل عمران :103)

تا کہ بندگان خدا یکسوئی کے ساتھ اپنی اور کائنات کی تخلیق کے مقاصد کی تکمیل میں بے روک ٹوک مشغول ہو جائیں، دنیا میں اخلاص اور خدا ترسی کے ساتھ نیک اعمال کرکے آخرت کی کام یابی کا سامان مہیا کریں اور اللہ تعالی کی اس بشارت کے مستحق قرار پائیں ﴿فمن تبع ہدای فلا خوف علیم ولاہم یحزنون﴾․

ترجمہ:تو جو میری راہ پر چلا تو ان پر کوئی ڈر یا غم نہیں۔ (البقرة:38)

حاصل کلام یہ ہے کہ اسلامی تاریخ ،روایات اور مزاج اس بات کے گواہ ہیں کہ اس نے کبھی دہشت گردی اور تشدد کی اجازت نہیں دی ہے اور دنیامیں جو اس نے عظیم انقلاب برپا کیا وہ اپنے اخلاق حسنہ کے زور پر کیا ہے، جسے ہم صالح اور پر امن انقلاب کا عنوان دے سکتے ہیں ۔



دنیائے انسانیت میں اسلام کا ہمہ گیر انقلاب



تاریخِ انسانی میں اسلام سراپا انقلاب ثابت ہوا ہے۔ اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں تاریخ ساز تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسلام نے دنیا کے مذہبی و سیاسی، علمی و فکری اور اخلاقی و معاشرتی حلقوں میں نہایت پاکیزہ اور دوررس انقلاب کی قیادت کی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں تک آفتابِ اسلامی کی کرنیں نہ پہنچی ہوں۔ قافلۂ انسانیت، اسلام کی آمد سے پہلے ایک بھیانک اور تباہ کن رخ کی طرف محوِ سفر تھا۔ مجموعی طور پر پوری دنیا کی مذہبی، اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور علمی حالت نہایت ابتر تھی۔ اسلام کی دل گیر صداؤں نے اسے ایک روح پرور، حیات بخش اور امن آفریں منزل کی طرف رواں دواں کردیا۔ کرۂ ارضی مذہبی بے راہ روی، اخلاقی انارکی، سیاسی پستی، طبقاتی کشمکش، علمی و فکری تنزلی اور معاشرتی لاقانونیت کے اس آخری نقطے پر پہنچ چکا تھا جس کے آگے سراسر ہلاکت، شر و فساد اور ہمہ گیر تباہی کی حکم رانی تھی۔ اسلام نے دنیا کو اس مہیب صورتِ حال سے نکال کر سرخ روئی اور سرفرازی عطا کی۔
          اسلام سے پہلے اور بعد کی عالمی تاریخ کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو بہت واضح طور پر محسوس ہوگا کہ اسلام کا ظہور تاریخ عالم کا سب سے زیادہ صالح انقلاب ثابت ہوا ہے۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اس عالمِ رنگ و بو میں بپا ہونے والا ہر انقلاب اسلامی انقلاب کا براہِ راست یا بالواسطہ نتیجہ ہے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد کی انسانی دنیا بالکل مختلف ہے۔ زمانے کے ان دونوں ادوار کے مابین اسلام ایک واضح نشان امتیاز محسوس ہوتا ہے۔ اسلام کے بعد کی دنیا میں انسانی زندگی کا ہر پہلو خوشگوار اسلامی انقلاب کی بادِ بہاری سے مہک اٹھا ہے۔ خواہ وہ مذہبی و سیاسی پہلو ہو یا اخلاقی و معاشرتی ہو یا علمی و سائنسی ۔ قرآن کریم نے اپنے بلیغ اور جامع پیرائے میں اس کو  من الظلمات الی النور (تاریکی سے روشنی کی طرف سے) سے تعبیر کیا ہے۔ (دیکھیے سورۃ البقرۃ۲۵۷:۱، سورۃ المائدۃ ۱۶:۵ ، سورۃ ابراہیم ۱:۱۴، سورۃ الحدید ۹: ۵۷)
          آج ہم جس تاریخ کو پڑھتے ہیں وہ عموماً مغربی مؤرخوں اور مصنفوں کے خیالات اور اصطلاحات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یورپ جس کی ذہنی ترقی اور علمی و فکری بلندی کی تاریخ مسلمانوں کے زیر اثر چند سو سال پہلے شروع ہوئی اور جس کا نقطۂ آغاز انقلابِ فرانس یا اقتصادی انقلاب کہا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل کی تاریخ کو اہل یورپ تاریک دور (Dark Age)  یا  ازمنۂ وسطی (Middle Ages) سے یاد کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل یہ تاریکی عالم گیر تھی، لیکن ساتویں صدی کی ابتداء میں جب جزیرہ نمائے عرب میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا ، اس کی روشنی (صرف ساتویں صدی) کے اخیر تک ایشیا و افریقہ کے ایک بڑے حصے کو منور کرچکی تھی۔ یہ تاریکی صرف یورپ میں چھائی ہوئی تھی اور مسلم اسپین و قبرص و سسلی کے استثناء کے ساتھ یہ تاریکی وہاں مسلسل بعد کی کئی صدیوں تک چھائی رہی ۔ عین اس وقت جب یورپ تاریک دور کی اندھیریوں میں گم تھا، اسلامی تہذیب و تمدن کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور وہ زمانہ تاریخِ عالم کی مذہبی، سیاسی، علمی و فکری تاریخ کا روشن ترین زمانہ تھا۔ مشہور مغربی مفکر برٹرینڈ رسل (Bertrand Russel) نے لکھا ہے کہ 699عیسوی سے 1000عیسوی تک کے زمانے کو تاریک دور کہنے کی ہماری اصطلاح مغربی یورپ پر ناجائز ترکیز کی علامت ہے۔ اس وقت ہندوستان سے اسپین تک اسلام کی شاندار تہذیب پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت عالمِ عیسائیت کو جو کچھ دستیاب نہیں تھا وہ اس تہذیب کو دستیاب تھا۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ مغربی یورپ کی تہذیب ہی تہذیب ہے، لیکن یہ ایک تنگ خیال ہے۔ (History of Western Philosophy,’ London, 1948, p. 419)

اسلام کا مذہبی وروحانی انقلاب

          ظہورِ اسلام سے قبل دنیا کی مذہبی حالت نہایت خستہ تھی۔ عرب اس وقت کی آباد دنیا کے وسط میں واقع تھا۔ وہاں کفر و شرک اور جہالت و لاقانونیت کا دور دورہ تھا۔ قتل و غارت گری، ظلم و ناانصافی کا راج تھا ۔ عرب میں ایک دو نہیں، ہزاروں بت تھے۔ صرف خانۂ کعبہ میں ۳۶۰ بت تھے اور ہر ہر گھر کا بت الگ تھا، یہی نہیں؛ بلکہ معبودوں کی فہرست میں جنوں، فرشتوں اور ستاروں کا بھی نام تھا۔ کہیں کہیں آفتاب پرستی بھی رائج تھی۔
روم و ایران اس وقت دنیا کی دو سُپر طاقتیں تھیں اور آباددنیا کے نصف سے زیادہ حصے پر ان کی حکومت تھی؛ لیکن وہاں اخلاق و مروت، عدل و انصاف کا نام و نشان نہ تھا۔ روم اپنی قدیم یونانی علمی و مادی ترقیات کے باوجود انتہائی ذلت و پستی میں پہنچ چکا تھا۔ ایران میں آتش کدے روشن تھے، جن کے آگے سرِ نیاز خم کیے جاتے تھے۔ پوری انسانی سوسائٹی طرح طرح کی مذہبی و اخلاقی خرابیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہندوستان میں بھی ابتری پھیلی ہوئی تھی۔ تمام ملک میں بت پرستی کا زور تھا۔ ستاروں، پہاڑوں، دریاؤں، درختوں ، حیوانوں پتھروں اور حتی کہ شرم گاہوں کی بھی پرستش کی جاتی تھی۔
          یہودی قوم حضرت موسی علیہ السلام کی اصل تعلیمات بھول کر دنیا کے مختلف خطوں اور گوشوں میں ذلت کے ساتھ در در کی ٹھوکریں کھارہی تھی، خود عیسائی بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی اصل دعوت اور پیغام کو چھوڑ کر انھیں خدا کا بیٹا مان چکے تھے۔ وہ انجیل میں تحریف کرچکے تھے اور سینٹ پال پولس کی پیش کردہ عیسائیت کے پیروکار ہوچلے تھے۔ بدھ ازم چند سو سال کی آب و تاب کے بعد تیزی سے رو بزوال تھا۔ بدھ مذہب کے پیشوا خانقاہوں میں تیاگی بن کر بیٹھ گئے تھے۔ گوتم بدھ جو شرک کے خلاف مشن لے کر آئے تھے، ان کے ماننے والوں نے خود انھیں کو خدا بناکر ان کی پوجا شروع کردی تھی۔
          غرض ساتویں صدی عیسوی تک روئے زمین پر ایسی کوئی قوم نہیں تھی جو مزاج کے اعتبار سے صالح کہی جا سکے۔ نہ کوئی ایسا دین تھا جو انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف صحیح نسبت رکھتا ہو۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کہیں کہیں عبادت گاہوں میں اگر کبھی کبھی کچھ روشنی نظر آجاتی تھی، تو اس کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسے برسات کی شب دیجور میں جگنو چمکتا ہے۔ صحیح علم اتنا نایاب اور خدا کا سیدھا راستہ بتانے والے اتنے خال خال تھے کہ ایران کے بلند ہمت اور بے چین طبیعت نوجوان سلمان فارسی (رضی اللہ عنہ) کو ایران سے لے کر شام تک کے اپنے طویل سفر میں صرف چار راہب ایسے مل سکے، جن سے ان کی روح کو سکون اور قلب کوذرا اطمینان حاصل ہوا؛غرض یہ کہ دنیا مذہبی کشاکش سے دو چار تھی اور انسانیت کی کشتی مسائل کے گرداب میں چکر کھارہی تھی۔ کوئی ایسا باہمت شناور نہ دکھائی دیتا تھا جو اسے موجوں کے تلاطم سے بچا کر ساحلِ مراد تک پہنچاسکے۔ مایوسی کے اس عالم گیر سناٹے میں صحرائے عرب سے ایک صدا بلند ہوئی:
          یَا اَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَکُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّکُمْ فَآَمِنُوْا خَیْرًا لَکُمْ وَاِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلَّہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا (سورۃ النساء 170:4)
          ترجمہ:  اے لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق لے کر آگئے ہیں ، اب (ان پر )ایمان لے آؤ کہ تمہاری بہتری اسی میں ہے۔ اگر (اب بھی) تم نے کفر کی راہ اپنائی تو (خوب سمجھ لو کہ ) تمام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے اور اللہ علم اور حکمت دونوں کا مالک ہے۔ (سورۃ النساء ۱۷۰)

اسلام کی اشاعت

          پھر کیا تھا؟ سسکتی ہوئی انسانیت کی ڈھارس بندھ گئی، تشنہ کاموں کی سیرابی کا انتظام ہوگیا اور حق کے طالب اور سلیم روحیں قرآن کی اس آواز پر لبیک کہنے لگیں۔ ہزار مخالفتوں اور رکاوٹ کے باوجود اسلام کی تسخیری قوت نے عمل کرنا شروع کیا اور اسلام کے نام لیواؤں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی؛ تا آں کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک صرف تیئس سال میں اسلام پورے جزیرۃ العرب میں پھیل چکا تھا ۔ خلافتِ راشدہ کے تیس برسوں میں اسلام جزیرۃ العرب سے نکل کر شام و مصر اور ایران و عراق سے گزرتا ہوا شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا کے علاقوں تک پھیل گیا۔ خلافتِ بنی امیہ کے ابتدائی چند عشروں میں اسلام پورے شمالی افریقہ سے ہوتا ہوا یورپ کے مختلف علاقوں جیسے سسلی، قبرص اور خصوصاً اسپین تک پہنچ چکا تھا اور مشرق میں وسط ایشیا سے ہوتا ہوا سندھ اور ہندوستان میں بھی داخل ہوچکا تھا۔ ایک صدی سے کم عرصہ میں اسلام ایک عالمگیر مذہب بن گیا۔ ایک مستشرق کے الفاظ میں: انسان کی پوری لمبی تاریخ میں اس سے زیادہ تعجب خیز شاید کوئی اور واقعہ نہیں جتنا کہ غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کا پھیلاؤ۔ کون اندازہ کرسکتا تھا کہ وہ پیغمبرِ اسلام جنھیں ۶۲۲ء میں ان کے وطن سے نکال دیا تھا اور وہ ایک اجنبی شہر میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے، ایک ایسے مذہب کی بنیاد رکھیں گے جو ایک صدی کے اندر مغرب میں فرانس کے قلب تک پہنچ جائے گا اور مشرق میں دریائے سندھ کو عبور کر کے چین کی آخری حدود تک پہنچ جائے گا؛ یعنی آدھی مہذب دنیا پر۔
          ’اشاعت اسلام ‘کے مقدمے میں حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ لکھتے ہیں: ’’اس (اسلام) کی روحانی تربیت اور اخلاقی اصلاحات نے نہ صرف حلقہ بگوشانِ ادیان سابقہ کو اپنا گرویدہ بنالیا؛ بلکہ ریگستانوں میں بادیہ پیمائی کرنے والوں اور پہاڑوں میں وحشیانہ زندگی بسر کرنے والوں کو اپنا مطیع کرلیا۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت تھوڑی سی مدت میں بحرِ اٹلانٹک کے ساحل سے لے کر بحرِ پاسفک کے کناروں تک اور بحرِ منجمد شمالی کے برفستان سے لے کر صحرائے کبیر افریقہ کی انتہائی گرم حدود تک ہزارہا ہزار میل کی مسافت میں اس کا ڈنکا بجنے لگا۔‘‘ (ص ۷)

اسلام کی خصوصیات

          اسلام نے ایک جامع و مکمل نظامِ زندگی اور ابدی دینِ فطرت دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اسلامی عقائد و تعلیمات اور اسلامی نظامِ زندگی سابقہ سماوی ادیان کا جامع تھا۔ اسلام نے سارے مذاہب کی خوبیوں کو اپنے اندر سمولیا اور ان مذاہب میں انسانوں نے جو اضافے یا تبدیلیاں کر لی تھیں ان کو نکال باہر کیا۔ گویا اسلام سماوی مذاہب کا سب سے آخری اور مکمل ایڈیشن تھا، جو سب کی خوبیوں کا مجموعہ تھا۔ قرآنِ عظیم نے اسی کو اس طرح بیان فرمایا ہے:
          الْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (سورۃ المائدۃ ۳:۵)
          ترجمہ:  آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔ (سورۃ المائدۃ ۳:۵)
          اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام (سورۃ آل عمران ۱۹:۳)
          ترجمہ : بے شک (معتبر ) دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ (سورۃ آل عمران ۱۹:۳)
          اسلام نے اپنی تعلیمات کی جامعیت اور اپنے پیغام کی آفاقیت سے یہ ثابت کردکھایا کہ وہ کسی مخصوص وقت اور قوم کی حدود سے ماورا ایک آفاقی اور ابدی پیغام کا حامل ہے۔ اسلام ابتداء ہی سے مختلف رنگ و نسل اور مختلف قوم و وطن کے درمیان عملی شکل میں موجود رہا اور تاریخ کے ہر مرحلے میں اس نے اپنی زندہ تعلیمات اور آفاقی پیغام سے کروڑہا افراد کے عقیدہ و عمل کو متاثر کیا ہے۔
          اسلام نے مذہب کی اساس توحیدِ خالص کی طرف دعوت دے کر مذہب کی دنیا میں انقلاب پیدا کیا۔ اسلام سے قبل کے مذاہب اور تہذیبیں یا تو مکمل طور پر کفر و شرک میں ڈوبی ہوئی تھیں جیسے عرب جاہلیت اور ہندوستان وغیرہ ، یا کم از کم توحید خالص کی روح سے نابلد تھیں جیسے عالمِ عیسائیت جو تثلیث کے عقیدہ میں مبتلا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتا تھا۔ یا اگر کہیں توحید تھی بھی تو وہ انتہائی محدود جیسے یہودی جو بری طرح بکھراؤ کا شکار تھے۔ اسلام نے توحیدِ خالص کی طرف دعوت دی اور اللہ کی بڑائی کا بول اس بلند آہنگی سے بولا کہ اس وقت سے توحیدِ خالص کی یہ دعوت دنیا کی سب سے بڑی دعوت بن گئی اور اللہ کی بڑائی کا بول پوری قوت کے ساتھ پورے عالم میں جاری ہوگیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر اور اس تسلسل اور دوام کے ساتھ توحیدِ خالص کا نظریہ اسلام سے پہلے دنیا میں کبھی رائج نہیں رہا۔ احادیث میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا کہ اس سرزمین پر اس کی پرستش ہوگی۔(دیکھیے: سنن کبری للبیہقی ۴۴۵:۲، مستدرک علی الصحیحین ۳۰۶:۱)
           اسلام کے اس پیغام توحید نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی اور اس نے ایسی مذہبی، سیاسی، علمی و تہذیبی انقلابات کی راہ ہموار کی کہ پچھلی صدیوں میں جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خالص عقیدۂ توحید سے نہ صرف مذہبی انقلاب برپا ہوا؛ بلکہ اس عقیدہ کی برکت سے انسانی ذہن اوہام و خرافات کی بھول بھلیوں سے نکل کر علوم و فنون کی ایسی وسیع شاہراہ پر آگیا جس کے سامنے تحقیق و دریافت کی ایک عظیم الشان دنیا اس کی منتظر بیٹھی تھی۔
          اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ قرآن کریم جو اسلام کا دستورِ اساسی ہے وہ من و عن محفوظ اور ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اس خصوصیت میں اسلام کا کوئی شریک نہیں۔ دوسری طرف اسلام کی دوسری اساس پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ، آپ کے اقوال و افعال ہیں ، جنھیں اسلام نے اس طور پر محفوظ رکھا ہے کہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ صرف یہی نہیں؛ بلکہ آپ کے اقوال و افعال کی روایت کرنے والے اور تدوین کا فریضہ انجام دینے والے صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور بعد کی صدیوں کے راویوں تک کے تفصیلی حالات بھی محفوظ ہیں۔
          اسلام سے پہلے جو مذاہب رائج ہوئے ، کچھ دنوں کے گزرنے کے بعد ان کے متبعین کی تعداد کم ہوتی گئی یا ان سے لوگوں کی دل چسپی کم ہوتی گئی؛ کیوں کہ وہ مذاہب خاص وقت اور خاص قوم تک محدود تھے ۔ ان میں وہ آفاقیت اور جامعیت نہیں تھی جو اسلام کے حصے میں آئی۔ اسلام مادیت اور روحانیت دونوں کو جمع کرنے والا اور ان دونوں کے درمیان مکمل اعتدال و توازن رکھنے والا مذہب تھا۔ اسلام نے رہبانیت اور جوگ کو مذہب قرار نہیں دیا؛ بلکہ اس نے انسان کی فطری و جبلی نفسیات اور خصوصیات کی رعایت کی اور ایسا جامع نظامِ زندگی پیش کیا جو انسان کی انفرادی و عائلی زندگی سے لے کر اس کی معاشرتی، سیاسی اور معاشی زندگی کے تمام پہلؤوں پر محیط تھا۔
          اسلام نے ایک قلیل عرصہ میں دنیا کی مذہبی حالت میں وہ انقلابِ عظیم پیدا کیا، جس کی مثال نہیں مل سکتی۔دنیا میں بابل، ہندوستان و چین ، مصر و شام ا ور یونان و روم میں بڑے بڑے تمدن پیدا ہوئے، اخلاق و افکار کے بڑے بڑے نظریے قائم ہوئے، تہذیب و شائستگی کے بڑے بڑے اصول وضع کیے گئے، یہ اصول و افکار سیکڑوں سال میں بنے، پھر بھی بگڑ گئے۔ صدیوں میں ان کی تعمیر ہوئی،پھر بھی وہ فنا ہوگئے؛ لیکن اسلام کا تمدن چند برسوں میں تعمیر ہوا اور ایسا بنا کہ آج چودہ سو سال سے تمام روئے زمین پر قائم و دائم ہے ۔
          اسلام کی اشاعت کے سلسلے میں ایک فرسودہ الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے، جب کہ پوری اسلامی تاریخ گواہ ہے مسلمان فاتح اور غالب ہونے کے باوجود تبدیلیٔ مذہب کے سلسلے میں ہمیشہ روادار اور انصاف پسند واقع ہوئے ہیں۔ پوری اسلامی تاریخ میں بالجبر اسلام قبول کرنے کے واقعات معدوم ہیں؛ جب کہ اس کے برخلاف عیسائیوں کو جب بھی مسلمانوں پر غلبہ ہوا، انھوں نے مسلمانوں کو جبریہ عیسائی بنانے یا ان کا صفایا کردینے میں کوئی عار نہیں محسوس کی۔اسپین اور صقلیہ (سسلی) اس کے گواہ ہیں کہ وہ ممالک جہاں مسلمانوں کی صدیوں حکومت قائم رہی، آج وہاں اسلام کا کوئی نام لیوا نہیں۔ اسلام پر عائد کیے جانے والے بے ہودہ الزامات میں یہ بالکل لغو اور فضول الزام ہے۔ انصاف پسند غیر مسلم مؤرخین نے بھی اس حقیقت کا برملا اظہار کیا ہے۔ ایک مستشرق کے بقول : تاریخ سے یہ واضح ہے کہ مفتوح اقوام میں اسلام کی اشاعت تلوار کی نوک پر ہونے کا الزام مؤرخین کے ذریعہ نقل کیا جانے والا انتہائی بے ہودہ اور لغو خیال ہے ۔ (De Lacy O'Leary, Islam at the Crossroads, London, 1923, p.8.)

اسلام روحانی سُپر پاور

          اسلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ تاریخ کے ہردور میں ہمیشہ ہی سُپر طاقت ہی ثابت ہوا ہے۔ کبھی تو مسلمانوں کو سیاسی عروج کی بنیاد پر اسلام فاتح اور غالب بن کر رہا اور سیاسی غلبہ کے فقدان کی صورت میں اس نے قلوب پر حکمرانی کی۔ تاریخ میں چند ایسے موڑ بھی آئے ہیں جب لوگوں کو محسوس ہو چلا کہ اسلام اب زوال پذیر ہے اور اس کا چل چلاؤ شروع ہوچکا ہے؛ لیکن تھوڑی ہی مدت میں اچانک کایا پلٹ گئی اور اسلام پھر پوری آب و تاب کے ساتھ رواں دواں ہوگیا۔ پہلی مرتبہ عالمِ اسلام پر اور خصوصاً اس وقت کی سب سے بڑی اسلامی حکومت خلافتِ عباسیہ اور بغداد پر تاتاریوں کی یورش کے موقعہ پر لوگوں کو محسوس ہوا کہ اب اسلام کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تاتاریوں کے طوفانِ بلا خیز سے اسلامی علوم و فنون کی دھجیاں اڑ گئی تھیں اور تہذیب و تمدن کا چراغ غل ہوگیا تھا؛ لیکن ایسے وقت جب اسلام کی سیاسی طاقت کا ستارۂ اقبال گردش میں تھا، اسلام کی روحانی طاقت قلوب کو مسخر کررہی تھی اور جنھوں نے مسلمانوں کو مفتوح بنا لیا تھا اسلام نے اسی فاتح قوم کے قلوب کو فتح کرنا شروع کیا؛ تا آں کہ وہی تاتاری ایک دن اسلام کے سب سے بڑے محافظ اور پاسبان بن گئے۔
          اسی طرح گذشتہ صدیوں میں جب ہندوستان سے سلطنت مغلیہ اور پھر خلافتِ عثمانیہ کا زوال ہوا ، اور نتیجہ کے طور پر اسلامی ممالک پر یوروپی استعمار کا تسلط ہوا ، اس وقت کچھ لوگوں کو محسوس ہونے لگا کہ اسلام اب شاید زوال پذیر ہے۔ اس وقت بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت یقینا شکست خوردہ اور زوال پذیر تھی؛ لیکن اسلام کی روحانی طاقت اور قوتِ تسخیر نے شکست تسلیم نہیں کیا اور اس نے اہلِ یوروپ و امریکہ کے قلوب کو مسخر کرنا شروع کیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور اکثر اسلامی ممالک و علاقہ جات پر یورپ کے استعماری قبضہ و تسلط کی وجہ سے گذشتہ انیسویں اور بیسویں صدی کے نصفِ اول میں یہ تصور بھی مشکل تھا کہ مسلمان کبھی امریکہ یا یورپ میں اپنی بستیاں بسائیں گے اور وہاں پورے اسلامی تشخص و امتیازکے ساتھ نہ صرف آباد ہوں گے؛ بلکہ مساجد و اسلامی مراکز بنا کر یورپ و امریکہ کی ترقی یافتہ قوموں کو اپنا مدعوبنائیں گے۔ آج صور تِ حال یہ ہے امریکہ مسلمانوں کی تعدادتقریباً ایک کڑوڑ  اور یورپ میں تقریباً پانچ کڑوڑ ہو رہی ہے۔ اسلام اس وقت امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔
          اسلام کی تسخیری قوت اور اس کے روحانی طور پر سپر پاور ہونے کا تصورمسلمانوں کا بنایا ہوا کوئی خواب نہیں؛ بلکہ تاریخ اسلام کے مختلف مراحل میں اس کا تجربہ ہوچکا ہے اور ماضی قریب میں بھی ایسے خیالات پائے جاتے رہے ہیں۔ مشہور انگریزی مفکر اور فلسفی جارج برنارڈ شا نے نہایت کھل کر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:  ’’آئندہ سو برسوں میں اگر کوئی مذہب انگلینڈ؛ بلکہ پورے یورپ پر حکومت کرنے کا موقع پاسکتا ہے تو وہ مذہب ’’اسلام‘‘ ہی ہوسکتا ہے۔ ... میں نے اسلام کو اس کی حیرت انگیز حرکت و نمو کی وجہ سے ہمیشہ قدرکی نگاہ سے دیکھا ہے ۔ یہی صرف ایک ایسا مذہب ہے جو زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جو اس کو ہر زمانہ میںقابلِ توجہ بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ...میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مذہب کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ وہ کل کے یورپ کو قابلِ قبول ہوگا جیسا کہ وہ آج کے یورپ کو قابلِ قبول ہونا شروع ہوگیا ہے۔‘‘(George Bernard Shaw in 'The Genuine Islam,' Vol. 1, No. 8, 1936)
          فرانس کے طالع آزما سکندر زمانہ نپولین بونا پارٹ کا کہنا ہے کہ مجھے امید ہے کہ وہ دن دور نہیں جب میں سارے ممالک کے سمجھدار اور تعلیم یافتہ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کروں گا اور قرآنی اصولوں کی بنیاد پر متحدہ حکومت قائم کروں گا ۔ قرآن کے یہی اصول ہی صحیح اور سچے ہیں اور یہی اصول انسانیت کو سعادت سے ہم کنار کرسکتے ہیں۔ (Napoleon Bonaparte as Quoted in Cherfils, ‘Bonaparte et Islam’ Paris, France, pp. 105, 125)
          آج بھی مغربی مصنفین اور محققین کی طرف سے ایسے مضامین کثرت سے شائع ہورہے ہیں جس کا عنوان کچھ اس طرح ہوتا ہے: اسلام امریکہ کا اگلا مذہب، مغربی یورپ میں آئندہ ۲۵ برسوں کے اندر مسلمانوں کی اکثریت ہوجائے گی وغیرہ ۔ اہلِ یورپ پر آج یہ خوف چھایا ہواہے کہ ایک صدی کے اندر مسلمان متعدد یورپی ممالک میں نہ صرف بڑھ جائیں گے؛ بلکہ دیگر ہم وطنوں سے آگے نکل جائیں گے۔ اہلِ مغرب کے اسی خوف اور اس کی بنیاد پر عالمِ اسلام کے خلاف اس کی خفیہ یلغار کی وجہ مغربی لٹریچر میں ایک نئے لفظ ـ’اسلاموفوبیا‘ (Islamophobia) کا اضافہ ہوا جس کا مطلب ہے اسلام سے خوف کی نفسیا ت اور اسلام ومسلمانوں کے خلاف تعصب کا اظہار۔
          غرض یہ کہ اسلام کا وجود و ظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور قابلِ ذکر واقعہ ہے۔ یہ ایک ایسا نقطئہ انقلاب ہے، جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا ۔ اسلام کل بھی روحانیت کا سرچشمۂ اعلی تھا اور وہ آج بھی انسان کی بھٹکی ہوئی روح اور اس کے آوارہ ذہن کو ایمان و یقین کی تازگی اور روحانیت کی لذت آگیں حلاوت سے بالیدہ و زندہ بنا سکتا ہے۔
***

دینِ اسلام اور راہِ اعتدال

اس کارخانہٴ قدرت میں سب سے مؤثر وفعال عنصرانسان ہے، اس عالم امکان کے سارے ہنگامے، نوبہ نوحسن آفرینیاں او رجہان رنگ وبو کے سارے نقش ونگار اس کے وجود کے کرشمے ہیں۔

عقل واختیار کی دولت سے مالا مال اورالله تعالیٰ کے قول: ﴿ولقد کرمنا بنی آدم وحملناھم فی البر والبحر ورزقناھم من الطیبات وفضلناھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً﴾․(بنی اسرائیل:70)

﴿انی جاعل فی الارض خلیفة﴾․ (بقرہ:30)

بڑے بڑے تمغوں کا تن تنہا مالک یہ انسان بھی دوسری مخلوقات کی طرح ﴿ألا لہ الخلق والامر﴾․ (اعراف:54) کے تکوینی نظام طاعت کا پابند ہونے کے ساتھ ساتھ تشریعی احکام کا بھی پابند ہے ، انسان کو ”خلیفة الله فی الارض“ قرار دینے کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ تصرف واستفادے میں آزاد نہیں، بلکہ محکوم ونائب ہے۔

شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰت والتسلیمات افراط وتفریط کے درمیان ایک معتدل شریعت ہے ، جس میں نہ بالکل کھلی چھوٹ ہے اور نہ ہی بالکل مواخذہ ومطالبہ ہے۔ اسلام انسان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ فکر سے کام لے کر، جس چیز کو چاہے اپنے قبضہٴ قدرت میں لائے، مگر اسے اخلاقی ذمہ داری کا پابند بناتا ہے کہ وہ فکری آزادی سے وہ کام لے جو دوسروں کے لیے مفید ہو اور اس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو ، چناں چہ الله تعالیٰ نے جہاں انسان کے لیے کائنات کی سب چیزیں مسخر کرنے کا ذکر کیا ہے وہاں ”لکم“ کی قید لگائی ہے، یعنی یہ تسخیر فائدہ اٹھانے اور پہنچانے کے لیے ہے ، نہ کہ نقصان اور ضرر پہنچانے کے لیے ۔

لہٰذا وہ تمام صنعتیں اور فیکٹریاں ممنوع ہوں گی جن سے نسل انسانی کی بقا کو خطرہ لاحق ہو۔ ایسی تمام نشہ آور اشیا ممنوع ہوں گی جن سے انسان کی عقل وفکر متاثر ہوتی ہو ، اسی سے فیملی پلاننگ کا مسئلہ بھی واضح ہو جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلام کسی کے آنے جانے، کھانے پینے اور کاروبارکرنے پر اس وقت تک پابندی نہیں لگاتا جب تک اس کی کوئی بنیادی قدر مجروح نہ ہوتی ہو، یا کسی کی حق تلفی نہ ہوتی ہو۔

اسلام اپنے ماننے والوں کوجائز لذتوں سے لطف اٹھانے کی دعوت دیتا ہے، مگر ودسری طرف ﴿لاتسرفوا﴾ ( یعنی دائرہ اعتدال سے قدم باہر نہ رکھنے) کی بھی تاکید کرتا ہے ، نفس انسانی میں لذتوں پر جھک پڑنے کا قدرتی میلان موجود ہے ، عوام کی گمراہی کا نام فسق ہے اور خواص جب گمراہ ہوتے ہیں تو رہبانیت کے گڑھے میں جاپڑتے ہیں، مگر اسلام لذتوں پر جھک پڑنے کا نام فسق اور لذتوں سے بالکل کنارہ کش ہونے کا نام رہبانیت رکھتے ہوئے دونوں سے منع کرکے راہ اعتدال اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے،اسلام ہر انسان کی بنیادی ضروریات یعنی دین ، جان، نسل ، مال اور عقل کی حفاظت کو ضروری قرار دیا گیا ہے ، موافقات شاطبی (ج4، ص:24) میں ایک اصول مذکور ہے کہ ”مجموع الضروریات خمسة: حفظ الدین ، والنفس، والنسل، والمال، والعقل․“ اس اصول کے تحت ہر ایسا طریقہ اختیار کرنے سے اسلام روکتا ہے جس سے انسان کے دین ومذہب، جان ومال اورنسل وعقل کو نقصان پہنچتا ہو۔

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے فکر وخیال کی آزادی ہو ، اس کی جان، اس کی عزت وآبرو اور مال محفوظ ہو ، اس نقطہٴ نظر سے آپ اسلام پر نظر ڈالیں گے تو ان حقوق کے ادا کرنے میں اسلام کا سینہ دنیا کے دوسرے دنیوی ومذہبی نظاموں سے زیادہ کشادہ نظر آئے گا۔ اگر آپ ایک طرف یونایٹڈنیشن (UNO) کا منشور پڑھیں اور پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے آخری حج یعنی حجةالوداع کا خطبہ پڑھیں تو ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق نظر آئے گا۔

اسلام بے سوچے سمجھے کسی کو ماننے پر مجبور نہیں کرتا، حتی کہ بنیادی عقائد توحید وآخرت جن کو اصول مسلمہکی طرح مان لینا چاہیے ، ان کے لیے بھی اسلام عقلی دلائل فراہم کرتا ہے ۔ اسلام ہر شخص کو دنیا میں اس بات کی آزادی دیتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر چلتا رہے یا غلط عقیدہ قائم کرکے چھوٹی چھوٹی پگڈنڈیوں پر بھٹکتا پھرے، بہرحال اس دنیا میں اسے کوئی نظر یہ یا عقیدہ قبول کرنے پر مجبو رنہیں کیا جاسکتا۔

قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے :﴿لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی﴾․ ( بقرہ:256)
ترجمہ:” دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے ، بھلائی اور گمراہی دونوں واضح ہو چکی ہیں۔“

اسلام نے محض حریت عقیدہ کا نظریہ پیش نہیں کیا ہے، بلکہ عملی اور قانونی طور پر اس کی حفاظت بھی کی ہے ۔ فقہ کا قاعدہ ہے کہ ” امرنا بترکھم وما یدینون“ یعنی ہمیں کفار او ران کے دین کو چھوڑنے یعنی مجبور نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، چناں چہ اسلامی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کسی کافر کو جبراً مسلمان نہیں بنایا گیا۔

حضرت ریحانہ جو بنوقریظہ کی جنگ میں گرفتار ہو کر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی مِلک میں آئیں، حضور صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا ، بلکہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئیں، چناں چہ امام طبری اپنی تاریخ کی کتاب میں فرماتے ہیں:” وقد کانت حین سباھا تعصبت بالاسلام، وکانت یھودیة، فلم یکرھھا حتی اسلمت من تلقاء نفسھا“․

نیز اہل نجران او رمدینہ کے یہودیوں کو مذہبی آزادی اورجان ومال کی حفاظت کی تحریر عطا فرمانا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام غیر مسلموں کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ ہاں! اسلام کی دعوت دینے کو جائز قرار دیا ہے تو بھی وہ دعوت عمدہ پیرائے میں ہو اور اخلاق حسنہ کی بھی شرط لگائی گئی ہے ۔

الله تعالیٰ کا رشاد ہے :﴿ادع الی سبیل ربک بالحکمة﴾․ (نحل:125)
ترجمہ: اور بلاؤ اپنے رب کی طرف حکمت کے ساتھ۔

اسلام کو سختی اور تنگ نظری کا طعنہ دینے والوں کا زیادہ تر نشانہ جہاد ہوتا ہے کہ جہاد کا مطلب غیر مسلماوں کو مسلمان ہونے پر مجبور کرنا ہے، حالاں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ جہاد کاکا مقصد امن عامہ اور عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا وار فساو وظلم کو ختم کرنا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر جب موذی مرض اور بدنی فساد کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کرے تو کوئی اسے سختی نہیں سمجھتا، بلکہ اس کی تحسین کرتا ہے، مگر جب اسلام امن عامہ کی بحالی اور فساد فی الارض کے خاتمے کے لیے جہاد کا حکم دیتا ہے تو وہ سب کو سختی اور ظلم نظر آتا ہے۔

لطیفہ یہ کہ اسلام کو تنگ نظری اور سختی کا طعنہ دینے والے وہ ہیں جن کے یہاں حق ، قوت وطاقت کا نام ہے ، جن کے ہاں طاقت ور ہر قسم کے حق کا مالک ہے او رکمزو رکے سارے حقوق طاقت ور کے لیے مباح ہیں، جن کے ہاں ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کا قانون رائج ہے او رجن کے ظلم کے سامنے خود ظلم بھی شرماجائے او رجن کے ہاں انصاف عنقاء ہے #
        شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر ہیں پھینکتے
        دیوار آہنی پہ حماقت تو دیکھیے

روشن خیال اور تجدد نواز ( جو جاہلیت فرنگ سے مرعوب افراد کا دوسرا نام ہے ) اسلامی سزاؤں کو سخت او رانسانی حقوق کے خلاف کہہ کر اسلام کو بدنام کرنے اور یہود ونصاری ٰ کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا مصداق ہیں ، کیوں کہ خودشریعت موسویہ اور عیسویہ میں بھی ایسی ہی سزائیں مقرر رہی ہیں ، حتی کہ تورات میں چو رکو قتل کرنے اور زانی کو رجم کرنے کا حکم بھی ملتا ہے ، شریعت موسویہ میں بھی نقب زن کی جان سے امان اٹھ جاتی ہے ، کوئی اسے قتل کر دے تو اس سے بدلہ نہ لیا جائے گا۔

توراة میں ہے کہ:
”اگر چور سیند مارتے ہوئے دیکھا جائے اور اسے کوئی مار بیٹھے او ر وہ مر جائے تو اس کے لیے خون نہ کیا جائے گا۔“ ( خروج:2:22)

موجودہ تورات میں اتنے تحریفی انقلابات کے باوجود بھی حکم قصاص ان الفاظ میں موجود رہ گیا ہے :
”اگر وہ اس صدمہ سے ہلاک ہو جائے تو جان کے بدلہ میں جان لے اور آنکھ کے بدلہ میں آنکھ، دانت کے بدلہ میں دانت۔“ (خروج:25:23-21)

تورات میں ایک جگہ نقب زن کے قتل کا حکم بھی ملتا ہے:
”اگر کوئی شخص اپنے بھائیوں بنی اسرائیل میں سے کسی کو چرانے میں پکڑا جائے او راس کا بیوپار کرے یا اسے بیچ ڈالے تو چور ما ڈالا جائے اورتُو شرکو اپنے درمیان سے دفع کر۔“ ( استثناء:7:24)

نیز رجم کا حکم تو تورات وانجیل دونوں میں ہی موجود ہے ، چناں چہ تورات میں ہے کہ:”اگر یہ بات سچ نکلے اور لڑکی کے کنوارے پن کی نشانیاں پائی نہ جائیں تو وہ اس لڑکی کو اس کے ماں باپ کے گھر کے باہر دروازہ پر نکال لائیں اور اس کی بستی کے لوگ اس پر پتھراؤ کریں کہ وہ مر جائے۔“ (استثناء:23:22)

انجیل میں ہے کہ:”تورات میں موسی علیہ السلام نے ہم کو حکم دیا کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کردیں تو ایسی عورت کی نسبتکیا کہتا ہے؟“ (یوحنا:604:7)

ان تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی سزائیں، جن پر یہ روشن خیال او راہل مغرب اعتراض کرتے ہیں، وہ تو شریعت موسویہ عیسویہ میں بھی رہی ہیں اور ویسے بھی مجرمین کی سزا کا مقصد اصلی ”نکال“ یعنی عبرت حاصل ہو ، پھر عبرت وموعظت کے لیے سزاؤں کا محض جسمانی حیثیت سے سخت اور تکلیف دہ ہونابھی کافی نہیں ہے، رسوائی، دماغی وقلبی تکلیف کا پہلو بھی ان میں نمایاں ہونا چاہیے۔

اسلامی فلسفہ تعزیر میں یہ بھی خوبی ہے کہ سزا کے تجویز کرنے میں دو بڑے پہلو پیش نظر رہتے ہیں:

ایک انتقامی یعنی مظلوم یا مستغیث کے جذبات کی تسکین۔

دوسرے انتظامی یعنی آئندہ کے ممکن مجرموں کی حوصلہ شکنی۔ تو یہ ساری چیزیں سزا کو سخت تو بناتی ہیں، مگر ان میں فوائد بھی ہیں، لہٰذا سختی کا اعتراض بے جا ہے۔

نیز یہ بھی سوچنا چاہیے کہ الله تعالیٰ حاکم مطلق ہے ، وہ جس جرم کی جو سزا مقرر فرمائے، اس کی مرضی ہے، کسی کو اعتراض کا حق نہیں پہنچتا اور الله تعالیٰ کا حکم حکمت ومصلحت سے خالی نہیں ہوتا ہے تو حاصل یہ ہے کہ سزاؤں کا سخت ہونا درحقیقت کوئی قابل اعتراض ہے ہی نہیں کہ ان پر انگلی اٹھائی جائے۔

الله تعالیٰ کی صفت عدالت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ سزاؤں میں کچھ سختی ہو تبھی تو عدل وانصاف قائم ہو گا، ان تمام عقلی اور قیاسی دلائل کے باوجود بھی ممکن ہے کچھ لوگ سزاؤں کی ان سختیوں پر چیں بجبیں ہوں تو ان سے گزارش ہے کہ ساری عقلی اور قیاسی بحثوں سے قطع نظر صرف عملی او رتجرباتی حیثیت سے ہی دیکھ لیں کہ جن ملکوں نے اپنے ہاں قانون نرم کرکے سزائیں ہلکی سے ہلکی کر دی ہیں ، ان کے ہاں بدامنی اور جرائم کا کیا حال ہے؟ او رجن کے ہاں اب تک اسلامی تعزیرات وحدود کا نفاذ جاری ہے وہاں کا کیا حال ہے؟ یہی فرق بھی ان معترضین کے منھ پر زور دار طمانچہ ہے۔

دین اسلام کو عبادات احکام کے اعتبار سے بھی اگر دیکھا جائے تو دین اسلام میں سہولت اور آسانی ہی ہے، اس کے احکام میں عزائم بھی ہیں اور رخصتیں بھی ، جو اعمال رخصت ہیں ان میں تو سہولت ہے ہی اور جو اعمال عزیمت ہیں ، ان میں بھی چوں کہ میانہ روی اور اعتدال کی رعایت ہے ، اس وجہ سے یہ کہنا درست ہے کہ دین اسلام اپنے احکام کے اعتبار سے سہولت والا دین ہے۔ قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ماجعل علیکم فی الدین من حرج﴾․(حج:78) یعنی الله تعالیٰ نے دین اسلام میں مشقت اور تعب نہیں رکھی ، حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے : ”ان الدین یسر“ ․ (بخاری ص:10)

یعنی دین آسان ہے ۔ ایک اور حدیث میں حضور صلی الله علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :”احب الدین الی الله الحنیفیة السمحة“․ (بخاری ص:10) یعنی آسان او رتوحید والی شریعت الله تعالیٰ کے ہاں محبوب ہے۔

شریعت کے آسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے احکام پر کوئی عمل کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ، اس کے احکام میں کوئی حکم ایسا نہیں جو فی نفسہ ناقابل برداشت ہو ، بظاہر ایسا لگتاہے کہ شر میں سہولت اور خیر میں دشوار ی ہے، مگر دراصل بات یہ ہے کہ شر میں فی نفسہ سہولت نہیں ہے، مگر عادت کے غلبہ سے وہ سہل ومرغوب معلوم ہوتا ہے اور خیر میں فی نفسہ دشواری نہیں ہے، مگر عادت نہ ہونے سے اس میں عارضی دشواری معلوم ہوتی ہے۔

آسان ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کسی عمل کے کرنے میں کچھ بھی تکلیف نہ ہو اور جو چاہے کر لے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نفسانی خواہشات کے مطابق ہونا آسانی نہیں اور تنگی نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایسی تنگی نہیں ہے کہ انسان اسے برداشت نہ کرسکے، اگر بالفرض کچھ محنت اٹھانی بھی پڑتی ہے تو یہ قابل اعتراض بات تو نہیں ہے ، دنیاوی بادشاہوں اور حکمرانوں کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے کس قدر کوشش او رتکلفات سے کام لیا جاتا ہے تو الله تعالیٰ جو مالک حقیقی ہے، اس کے لیے تھوڑی سی محنت برداشت کرنا کون سا مشکل ہے کہ اس پر اعتراض کیا جاتا ہے ؟ ویسے تھوڑی بہت محنت تودنیا کے ہر کام میں کرنی ہی پڑتی ہے، تعلیم حاصل کرنے، ملازمت اور تجارت وصنعت میں کسی کیسی محنتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں؟ مگر ان کی وجہ سے بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کام سخت ہیں او ربعض اوقات تو ماحول کے غلط اور مخالف ہونے یا ملک وشہر میں اس کا رواج نہ ہونے کی وجہ سے بعض احکام مشکل نظر آتے ہیں ،مگر دراصل وہ مشکل ہوتے نہیں، بلکہ کرنے والے کو بھاری اس لیے معلوم ہوتے ہیں، کہ ماحول میں کوئی اس کا ساتھ دینے والا نہیں ہوتا جس ملک میں روٹی کھانے اور پکانے کی عادت نہ ہو وہاں روٹی حاصل کرنا کس قدر دشوار ہوتا ہے ، یہ سب سمجھتے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ روٹی پکانا، کھانا بڑا سخت کام ہے۔

بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ھو اجتباکم وماجعل علیکم فی الدین من حرج﴾ ․ (حج:78) یعنی الله تعالیٰ نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کوئی حرج نہیں رکھا تو یہ حضرات کہتے ہیں کہ جو چاہو کرو تو اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ اجتباء یعنی چن لینے کا مطلب یہ نہیں کہ اب عمل نہیں کرنا ہے، بلکہ عمل بھی ضروری ہے، الله تعالیٰ نے تو اجتباء کا سامان مہیا کر دیا ہے ، اب عمل خود کرنا پڑے گا، جیسے دعوت کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ منھ میں نوالہ بھی میزبان ڈالے گا۔

نیز دین کے آسان ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ پچھلی امتوں پر جو سختیاں تھیں ، وہ اس امت پر نہیں ، چناں چہ یہود پر پچاس نماز یں فرض تھیں ، زکوٰة چوتھائی حصہ کا نکالنا فرض تھا، نجاست لگنے پر کپڑے کو کاٹنا ضروری تھا، بھول چوک پر سزا ہوتی تھی ، گناہ کے جرم میں بعض حلال چیزیں حرام ہو گئیں تھیں، وغیرہ ، اسی سلسلہ میں قرآن مجید میں حضور صلی الله عیہ وسلم کی صفت یوں بیان کی گئی کہ ﴿ویضع عنھم اصرھم والاغلال التی کانت علیھم﴾(انفال)

ترجمہ… اور وہ ( یعنی نبی کریم صلی الله علیہ وسلم) ان سے وہ بوجھ اور بیڑیاں ( یعنی سختیاں) دو رکرتے ہیں جو ان (یہودیوں اور امم سابقہ) پر تھیں۔

یہودیوں کی شرارت اور نافرمانی کی وجہ سے کئی حلال اشیا ان کے لیے حرام قرار دی گئی تھیں اور کئی خبائث ( حرام) کو انہوں نے اپنے لیے حلال قررار دے دیا تھا، اس بارے میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم․“

ترجمہ: یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر بہت سی طیبات (یعنی حلال چیزوں) کو حرام قرار دیا تھا جو ان کے لیے حلال تھیں۔ جب کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طیبات کی حلت کا اعلان فرمایا۔ معلوم ہوا کہ شریعت اسلامیہ میں وہ سختیاں نہیں ہیں جو سابقہ امتوں پر تھیں ، چناں چہ انجیل میں پطرس ( حواری مسیح علیہ السلام) کا قول غیر اسرائیلی مسیحیوں کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ : ” اب تم ان کی گردن پر ایسا جوارکھ کر جس کو نہ ہمارے باپ دادا اٹھا سکتے تھے نہ ہم خدا کو کیوں آزماتے ہو ؟ (اعمال:10:15)

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی امتوں پر کیسی سختیاں تھیں ، اگرچہ انجیل کے اس قول میں مبالغہ ہے، کیوں کہ سختیاں ناقابل برداشت نہ تھیں، بہرحال یہ تمام سختیاں پہلے ادیان میں تھیں، مگر دین اسلام میں نہیں ہیں۔

اسلام ایک آفاقی وبین الاقوامی مذہب ہے، اس کے احکام وتصورات کی بنیاد نہ تو محض چند مشترک مادی اغراض پر ہے او رنہ ہنگامی اورعارضی حالات نے انہیں جنم دیا ہے اور نہ اس میں کسی خاص گروہ یا قوم ہی کی سیاسی برتری یا معاشی بہبود پوشیدہ ہے ، بلکہ اس کے واضع الله تعالیٰ نے اس کی فطرت وساخت ہی ایسی بنائی ہے کہ وہ ہر انسان کے لیے ، ہر وقت اور ہر زمانہ میں قابل عمل ہے ، الله تعالیٰ نے انسان کو زندگی دی ہے تو اسے زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھایا ہے۔

دنیا میں زندگی گزارنے کے دو طریقے اور نظام چل رہے ہیں ، ایک وہ جوالله تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا ہے او رایک وہ ہے جو انسان نے خود اپنے لیے طے کیا ہے، یا یوں کہیے کہ گھڑ لیا ہے ۔ الله تعالیٰ نے جونظام انسانوں کو دیا ہے ، وہ اسلام ہے اور دوسرے نظام مختلف ناموں سے اس دنیا میں موجود ہیں، بعض تو اپنے وجود مستعار کو بھی کھو چکے ہیں اور کئی نظام ختم ہونے کو ہیں ، الله تعالیٰ نے اسلام کو انسانی ، مزاج وفطرت کے مطابق تشکیل دیا ہے، اسلامی نظام میں انسان کی تمام خوبیوں اور ضرورتوں کا خیال رکھا گیا ہے ، چناں چہ خطا ونسیان پر مواخذہ نہ ہونا او رمشقت والے احکام مقرر نہ ہونا اس کی دلیل ہے۔

شریعت کے احکام کا جائزہ لینے سے یہ بات بخوبی واضح ہوتی ہے کہ مختلف نظاموں میں یہ بات تو مشترک ہے کہ وہ زندگی کے ایک شعبے یا ایک شعبے کے چند مسائل پر تو بحث کر سکتے ہیں اور وقتی حل نکال سکتے ہیں، مگر مجموعی طور پر کوئی بھی انسانی نظام اس قابل نہیں کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرسکے اور اس کے مسائل کو بخوبی حل کر سکے۔

مسلمانوں کا ایک طبقہ، جن میں مغرب زدہ دین دار طبقہ بھی ہے، اس دھوکے میں ہے کہ اسلام چند مخصوص عبادات کا نام ہے او ردنیاوی معمولات کے طے کرنے کے لیے ہمیں ایک عقلی طریقہ کار یا نظام کی ضرورت ہے ، یہ وہ عام خیال ہے جس کی وجہ سے لوگ اسلام کو مسجد تک محدود رکھتے ہیں او رمسجد سے باہر اپنی عقل لڑاتے ہیں، گویا نعوذ بالله! خدا صرف مسجد میں ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ اسلام پوری زندگی پر محیط تو ہے مگرچودہ سو سال پرانا ہونے کی وجہ سے اس کے تقاضے بھی بدل گئے ہیں ، آج کی دنیا سائنسی دنیا ہے ، لہٰذا اسلام کی عام زندگی پر من وعن عمل کرنا ممکن نہیں رہا ہے ، لہٰذا اجتہاد کیا جائے اور اجتہاد کا معیار ان حضرات کی خواہش کے مطابق ہو ، مگر یہ بھی الله تعالیٰ پر بہتان ہے کہ نعوذ بالله! الله تعالیٰ نے انسان کو تخلیق تو کر دیا مگر وقت کے ساتھ بدلتی ہوئی ضرورتوں کے لیے موثر لائحہ عمل ترتیب دینے میں ناکام رہا ، سچ یہ ہے کہ اسلام مسجدکی طرح باہر بھی ایک لائحہ عمل فراہم کرتا ہے ، مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کو ترک کرکے الله تعالیٰ کی خواہش کی پیروی کرے ، وہ جدید سائنسی دور میں سائنسی کرشموں کو اپنا خالق نہ بنائے ، بلکہ الله تعالیٰ کی مخلوق بن کر اسی کو معبود برحق سمجھے۔ جو لوگ یہ شرط پوری کرنے کو تیار ہیں اسلام انہیں لائحہ عمل فراہم کرتا ہے۔

اسلام کے احکام میں ایسی لچک ہے جو انہیں ہر زمانہ میں ہر ایک کے لیے قابل عمل بناتی ہے ، الله تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین ہی حقوق انسانی کا بہترین مصدر ہو سکتے ہیں، مگر انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں خامی رہتی ہے ، کیوں کہ انسانوں کے مزاج ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا ایک انسان کا وضع کردہ قانون دوسرے انسان کے مزاج سے متصادم ہو گا، وہ اسے توڑنے کی کوشش کر ے گا، لیکن الله تعالیٰ کے قانون میں کوئی خامی ونقصان کی گنجائش نہیں ہے ، لہٰذا ہر انسان جو سلیم الفطرت اور عقل مند ہو، وہ اسے بخوشی قبول کرے گا۔

دین اسلام کی عبادات کے سلسلہ میں غور کیا جائے تویہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں آسانی ہی آسانی ہے ۔ ایک سلسلہ تو انعامات خداوندی کا ہے او رایک عبادات کا ہے ، انعامات تو بے شمار ہیں:﴿ وان تعدوا نعمة الله لا تحصوھا﴾․ ( براہیم:34)

ترجمہ:… او راگر تم الله تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ۔ اس رب السموات والارض کے احسانات کا کیا شمار ہے ؟ جس نے پیدا ہونے سے پہلے ہی وہ تمام ضروریات مہیا فرما دیں جن پر حیات انسانی کا مدار ہے ، پیدائش سے بلوغ تک کی طویل مدت احسانات کی طویل حکایت ہے ، جس کے صلہ میں کوئی چیز مطلوب نہیں ہے ، کوئی خدمت وعبادت متعلق نہیں ہے او ربلوغ کے بعد جو عبادات متعلق ہیں وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ان انعامات کے مقابلہ میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمہ وقت بغیر انقطاع کے الله جل شانہ کا شکر بجا لایا جاتا اور عبادات کا سلسلہ قائم رہتا ، لیکن جوسلسلہ عبادات ہے وہ بھی سہل و آسان ہے ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ الله تعالیٰ خالق کائنات ہے ، سب سے پہلے اسے وحدہ لاشریک ماننے کاحکم ہوا، پھر ہر وقت کی عبادت فرض کرنے کے بجائے نماز صرف پانچ وقت فرض ہے ، پھر اس میں بھی اوقات نشاط کا لحاظ کیا گیا ہے چوبیس گھنٹوں میں سے نمازوں کے اوقات کو نکالا جائے تو مشکل سے تقریباً گھنٹہ یا ڈیڑھ گھنٹہ بنتا ہے۔ گویا الله رب العزت نے چوبیس گھنٹے عبادت فرض کرنے کے بجائے صرف گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ اپنی بارگاہ میں حاضری دینے کے لیے فرمایا اورباقی وقت (تقریباً23 گھنٹے) آرام وراحت اور کاروبار کرنے کی اجازت دے دی۔

اسی طرح زکوٰة کا معاملہ سراسر سہولت پر مبنی ہے کہ ہر شخص پر فرض نہیں ہے ، بلکہ صاحب نصاب پر فرض ہے ، پھر ہر قسم کے مال پر بھی زکوٰة نہیں، بلکہ اس مال پر ہے جو نامی اور ضرورت سے زیادہ ہو ، پھر جو زکوٰة مقرر ہے وہ بھی صرف چالیسواں حصہ ہے۔

رمضان المبارک کے روزے ہیں ، ان میں بھی آسانی ہی آسانی ہے ، سال بھر میں صرف ایک مہینہ کے روزے فرض ہیں ،پھر صرف دن میں تو روزہ ہے مگر رات کو کھانے ، پینے او رجماع کی اجازت ہے ۔ نیز سحری کرکے روزے کا حکم او ربیمار کے لیے افطار کی اجازت ، یہ سب سہولت نہیں تو او رکیا ہے ؟

حج کو لے لیں ، پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ حج فرض ہے ، وہ بھی صرف ان لوگوں پر جو صاحب مال اور اصحاب ثروت ہوں، گھر کے اخراجات کے علاوہ آمدورفت کا خرچہ او ر راستہ کا امن ہو تو حج فرض ہو گا ، ورنہ نہیں ۔ یہ سہولت ہی تو ہے۔

معلوم ہوا کہ الله تعالیٰ کی طرف سے انعامات کا سلسلہ تو بے شمار ہے، مگر ان کے مقابلے میں عبادات بہت کم ہیں او رپھر ان میں بھی آسانی ہی آسانی ہے ۔

دین میں آسانی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ خود شریعت کا حکم مسلمان کو یہ ہے کہ وہ اعمال میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرے ، لہٰذا لازم ہے کہ دین کے اعمال وعبادات میں ایسی شدات کو اختیار نہ کیا جائے کہ آدمی اصل عمل سے ہی رہ جائے۔

مسند احمد کی روایت ہے کہ:” ان ھذا الدین متین فاوغلوا فیہ برفق“ (مسند احمد)
ترجمہ:… دین بہت مضبوط ہے ، اس میں نرمی اور آہستگی سے داخل ہو ۔ پھر آگے ارشاد ہے:” فسددوا وقاربوا“ یعنی درست طریقہ اختیار کرو اور قریب قریب چلتے رہو، یعنی اگر تم اکمل پر عمل نہیں کر سکتے یا طریق اعتدال پر کلی طور پر نہیں چل پائے تو کم از کم یہ کوشش کرو کہ اس کے قریب قریب رہو۔





اسلام کا اخلاقی انقلاب



معاشرتی و اجتماعی زندگی کے بنانے اور سنوارنے میں اخلاق کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، بلکہ معاشرت کی پہلی اینٹ اخلاقِ حسنہ ہی ہیں۔ حسن اخلاق کے بغیر انسان نہ صرف یہ کہ انسان نہیں رہتا؛ بلکہ درندگی و بہیمیت پر اتر آتا ہے۔ انسانیت کا زیور حسنِ اخلاق ہے؛ لیکن چھٹی صدی عیسوی میں دنیا اخلاقی اعتبار سے کنگال اور دیوالیہ ہوچکی تھی۔ انسانیت و شرافت کی بنیادیں ہل چکی تھیں۔ تہذیب و اخلاق کے ستون اپنی جگہ چھوڑ چکے تھے۔ تہذیب و تمدن کے گہواروں میں خود سری، بے راہ روی اور خلاقی پستی کا دور دورہ تھا۔ روم و ایران اخلاق باختگی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جارہے تھے۔ شراب عربوں کی گھٹی میں پڑی تھی، جو جاہلی معاشرے میں بڑائی اور خوبی کی بات تھی۔ سودی لین دین، کمزوروں کا استحصال اور اس سلسلے میں بے رحمی و سخت گیری عام تھی۔ بے شرمی وبے حیائی، رہزنی و قزاقی معمولی بات تصور کی جاتی تھی۔ جنگ جوئی اور سفّاکی بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ بے جا انتقام اور تعصب کا شمار قومی خصوصیتوں میں ہوتا تھا۔ ایسے اخلاق سوز اور غیر انسانی ماحول میں اسلام نے جو عمدہ اخلاقی نظام پیش کیا وہ انسانی طبائع کے لیے اکسیر ثابت ہوا اور ان کی وجہ سے تہذیب و ثقافت سے بے بہرہ قوم عرب میں ایسے اخلاقی نمونے پیدا ہوئے جن کی نظیر انسانی تاریخ میں ملنی مشکل ہے۔
اسلام کا اخلاقی نظام
یوں تو ہر ملک و ملت اور عہد و زمانے میں معاشرہ و ماحول پر برا اثر ڈالنے والی عادات و اطوار کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا گیا ہے؛ بلکہ مذہب اور سماج میں اس کو جرم اور ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ چوری و ڈاکہ، قتل و خوں ریزی، غیبت و بد گوئی ، کینہ و حسد ، تکبر، حق تلفی وغیرہ افعال و عادات ہر مذہب وسماج میں مذموم ہیں؛ جب کہ وقار و سنجیدگی، خوش کلامی و نرمی، عدل و تواضع، امانت و دیانت وغیرہ ہر معاشرے میں اچھے اخلاق شمار کیے جاتے ہیں؛ لیکن اسلام کے اخلاقی نظام اور دیگر اخلاقی قدروں میں کئی اعتبار سے بہت فرق پایاجاتا ہے۔ اسلام کے علاوہ دیگر نظاموں میں اچھے اور برے اخلاق کا معیار عقل سلیم، پاکیزہ شعور اور تجربہ ہے؛ جب کہ اسلام میں ان سب سے بڑھ کر ایک متعین اٹھاریٹی ہے اور وہ ہے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اٹھاریٹی۔ اچھا اخلاق وہی ہے جسے اللہ و رسول نے اچھا اخلاق قرار دیا ہو اور اسی طرح برے اخلاق وہ ہیں جسے اللہ و رسول برا کہیں۔ اسلام میں اچھے اور برے اخلاق کا مسئلہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، وہ کسی انسانی عقل یا تجربہ کا محتاج نہیں۔ اسلام نے کسی طرز عمل کو اچھا یا برا اس لیے نہیں کہا کہ اسے لوگ ایسا ہی کہتے اور سمجھتے چلے آئے ہیں؛ بلکہ خود اسے اپنے اصولوں کی بنیاد پر اچھا یا برا کہا ہے۔ اسلامی اخلاقیات چوں کہ مستقل بنیاد وں پر قائم ہیں؛ اس لیے وہ ناقابلِ تغیر اور مستقل ہیں۔
اسلام کا اخلاقی نظام مختلف دائروں میں تقسیم ہے اور اس کی ابتداء انسان کی انفرادی زندگی سے ہوتی ہے۔ معاشرہ کے ایک فرد کے بہ طور ایک انسان کی اخلاقی ذمہ داری کیا ہے، اسے اسلام نے اپنی جامع اخلاقی تعلیمات میں سمیٹ دیا ہے۔ جھوٹ و بہتان طرازی، کبر و نخوت، ظلم و ستم، بدسلوکی و بے رحمی، فریب و دھوکہ دہی، شراب نوشی و جوا بازی ، زناکاری و بے حیائی، جنگ و جدال وغیرہ امور کو برا ئی قرار دیا گیا؛ جب کہ اس کے بالمقابل عمدہ اخلاق کی ہمت افزائی کی گئی۔ انفرادی دائرہ کے بعد گھریلو سطح پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک و خدمت گزاری کی تعلیم دی گئی۔ بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و صلہ رحمی ، بیوی بچوں کے ساتھ محبت وشفقت کی تعلیم دی گئی۔ پھر گھریلو سطح سے اٹھ کر معاشرتی سطح پر پڑوسیوں ساتھ اچھا برتاؤ اور لوگوں کے ساتھ انسانی سلوک اور احترام کا درس دیا گیا۔ تمام مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی اور تمام انسانوں کے ساتھ ہر حال میں عدل و انصاف، رواداری اور مساوات کا برتاؤ۔ اسلام کے نظامِ اخلاق کا حاصل یہ ہے کہ انسانی زندگی کے ہر پہلو اور ہر مرحلہ میں اعلی کردار کو اپنایا جائے۔اسلام نے باہمی معاملات کو مطلب پرستی اور خود غرضی نہیں؛ بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کے جذبہ سے انجام دینے کی تعلیم دی۔ اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی روح ہمدردی و خیر خواہی، عدل و انصاف اور مساوات و احترامِ نفس ہے۔ اسلام کی خصوصیت یہ ہے اس نے یہ اعلی اخلاقی اصول وضع کیے اور معاشرے میں اسے صد فی صد لاگو کرکے دکھا بھی دیا۔اس سلسلے میں اسلام کی آواز اتنی موٴثر تھی کہ محض قرآن کے اس اعلان سے کہ شراب گندگی اور شیطانی عمل ہے (سورة المائدة ، ۹۰) مدینہ میں گلیوں میں شراب بہنے لگی؛ حالاں کہ نشہ چھڑانا اور وہ بھی شراب کا کتنا مشکل ہے۔ آج ساری دنیا اس بارے میں پریشان ہے کہ قوم سے نشے کی لت کیسے ختم کی جائے، مگر اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ قرآن نے اسے جڑ سے ختم کردیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام کی پوری زندگی اسلام کے اسی انقلاب آفریں اخلاقی نظام کا آئینہ ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی ترین اخلاق
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ انسانی کے سب سے اعلی اخلاقی معیار قائم کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق گوئی اور سچائی کا یہ عالم تھا کہ کفار مکہ کے سردار ابو سفیان کو ہرقل کے دربار میں اس کے اس سوال پر کہ کیا تم نے کبھی محمد سے کچھ جھوٹ سنا ہے، یہ گواہی دینی پڑی کہ نہیں۔ (صحیح بخاری، باب بدء الوحی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت و دیانت کا یہ حال کہ پورا مکہ آپ کا دشمن ، آپ کی دعوت سے ان کو انکار؛ لیکن امانتوں کے لیے اگر کوئی محفوظ جگہ تھی جو اسی نبی ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و تحمل کی انتہا یہ تھی کہ طائف کی خوں چکاں شام اور آپ کا لہو لہان جسم، ایسا دن جس کے بارے میں آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ وہ میری زندگی کا سخت ترین دن تھا، اس دن جب پہاڑوں کا فرشتہ اللہ کے حکم سے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر عرض کرتا ہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ٹکرادوں اور یہ گستاخ قوم پس جائے، اس وقت رحمة للعالمین کا جواب تھا کہ نہیں، میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ان کی نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائیں گے جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔(صحیح بخاری، باب ذکر الملائکہ) اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس عفو و درگذر اور تواضع و شفقت کا ثبوت دیا ، کیا اس کی نظیر کسی تاریخ میں ملنی ممکن ہے؟
غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اعلی ترین اخلاق و اوصاف کا ایسا نمونہ ہے کہ اس سے بہتر نمونہ پیش نہیں کیا جاسکتا اور ایسا جامع اخلاقی دستور العمل کہ اس سے بہتر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمدہ اخلاق کا فیضان تھا کہ آپ کی دعوت نہایت تیزی کے ساتھ عربوں میں پھیلتی چلی گئی۔ آپ اپنے بلند انسانی کردار سے دشمن کے دل کو فتح کر لیتے اور اس کی روح کو اسیر کرلیتے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ایک مہم کے دوران صحابہ نے یمامہ کے سردار ثُمامہ ابن اُثال کو زندہ پکڑ لیا اور خدمتِ اقدس میں پیش کیا۔ آپ نے ان کا حال پوچھا تو انھوں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو قتل کردیں، اگر آپ معاف کردیں تو آپ کا احسان مند ہوں گا اور اگر مال کی خواہش ہے تو وہ بھی پیش کردوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بالآخر رہا کردیا؛ جب کہ دشمنوں کے سردار کو رہا کرنے کا تصور بڑا ہی عجیب تھا؛ مگر ہوتا کیا ہے کہ وہی شخص جس کو آپ قید سے نکال رہے ہیں، وہ بخوشی آپ کی غلامی میں آرہا ہے؛ چناں چہ ثمامہ ایک قریبی باغ میں جاکر غسل کرنے کے بعد دوبارہ واپس آتے ہیں اور اپنے اسلام کا اعلان کرتے ہیں۔(مسلم ، حدیث ۳۳۱۰) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ایسے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے۔
صحابہٴ کرام، اخلاق و انسانیت کے مکمل پیکر
اسلام کی معجزاتی تاثیر نے ہی اخلاق و اقدار سے بیگانہ عرب قوم کو تہذیب اور اعلی اخلاق کا آئیڈیل بنادیا۔ درس گاہِ قرآنی کے اولین فضلاء یعنی صحابہٴ کرام دین و اخلاق اور سیاست و قوت کے مکمل پیکر تھے۔ ان میں انسانیت کی اپنے تمام گوشوں، شعبوں اور محاسن کے ساتھ نمود تھی۔ ان کی اعلی روحانی تربیت، بے مثال اعتدال، غیر معمولی جامعیت اور وسیع عقل کی بنا پر ان کے لیے ممکن ہوا کہ وہ انسانی گروہ کی بہتر طور پر اخلاقی اور روحانی قیادت کرسکیں۔ ان کے اعلی اخلاقی نمونے معیار کا کام دیتے تھے اور ان کی اخلاقی تعلیمات عام زندگی اور نظامِ حکومت کے لیے میزان کا درجہ رکھتی تھیں۔ ان میں فرد وجماعت کا تعلق حیرت انگیز طور پر روادارانہ اور برادرانہ تھا۔ وہ ایک معیاری دور تھا، جس میں عدل و انصاف، صدق و سادگی، خلوص ووفا اور محبت و الفت کی خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ اس سے زیادہ ترقی یافتہ دور کا انسان خواب نہیں دیکھ سکتا اور اس سے زیادہ مبارک و پر بہار زمانہ فرض نہیں کیا جاسکتا۔
مدینہ کی ابتدائی زندگی میں مہاجرین و انصار صحابہ کے درمیان قائم ہونے والی ’موٴاخاة ‘ (بھائی چارہ) اخلاق و ایثار کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بھائی چارہ کے ذریعہ ایک ایسے معاشرہ کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد میں اخلاق و محبت، ایثار و ہمدردی اور مساوات کا خمیر شامل تھا۔ اس صالح معاشرہ کی ٹکسال سے حضراتِ صحابہ کی وہ جماعت تیار ہوئی جو رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لیے اعلی ترین اخلاقی نمونے چھوڑ گئی۔ نمونہ کے طور پر حضراتِ صحابہ کے کچھ واقعات درج کیے جاتے ہیں۔
حلم اور تواضع اخلاق کا اعلی درجہ ہے؛ جب کہ حق گوئی اخلاقی جرأت کا تقاضہ۔ حضرت عمر کے اس واقعہ میں دونوں چیزیں اعلی درجہ کی پائی جاتی ہیں۔حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں جب کہ آپ کی حکومت ملکِ عرب سے نکل شام و مصر اور عراق و ایران تک پھیل چکی تھی، بھرے مجمع میں فرماتے ہیں: اگر مجھ میں کوئی غلطی دیکھو گے تو کیا کرو گے؟ مجمع میں سے ایک شخص کھڑا ہوا ور کہا: بخدا اگر تمہارے اندر کوئی کجی پائیں گے تو تلوار سے اس کو درست کردیں گے۔ حضرت عمر فاروق نے اس شخص کے اس جملہ پر ارشاد فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگوں ہیں جو عمر کی کجی کو تلوار سے درست کردیں گے۔
اطاعت و فرماں برداری اور خلوص و بے نفسی کی عظیم ترین مثال حضرت خالد بن ولید کے واقعہ میں ملتی ہے ۔ آپ بے حد بہادر اور غیر معمولی فوجی قابلیت والے شخص تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے حضرت ابوبکر کی خلافت تک مسلسل اسلامی فوج کے کمانڈر رہے؛ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے سلسلے میں کچھ شکایتیں تھیں؛ اس لیے اپنے زمانہٴ خلافت میں حضرت خالد کو سرداری سے معزول کرکے ایک معمولی سپاہی کی حیثیت دے دی۔ اس وقت وہ شام کے علاقہ میں فتوحات کے شاندار کارنامے دکھا رہے تھے۔ عین یرموک کی لڑائی میں جسے تقریباً حضرت خالد اپنی سربراہی میں سر کرچکے تھے، اسی وقت خلیفہٴ وقت نے انھیں معزول کرکے حضرت ابوعبیدة بن الجراح کو لشکر اسلامی کا سردار بنا دیا۔ فتح یرموک کے بعد فوجیوں کی ایک تعداد آپ کے پاس جمع ہوئی اور اس حکم کی مخالفت کی بات کی؛ لیکن انھوں نے ایسے ہر مشورہ کو ماننے سے قطعی انکار کردیا اور حضرت ابوعبیدہ کی ماتحتی میں ایک معمولی فوجی کی حیثیت سے لڑنے کو ترجیح دی اور ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: انِّيْ لاَ أُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ عُمَرَ وَلٰکِنْ فِيْ سَبِیْلِ رَبِّ عُمَرَ (میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں لڑتا؛ بلکہ عمر کے رب کی راہ میں لڑتا ہوں)۔
اموی حکومت کے بانی حضرت معاویہ اور رومی حکومت کے درمیان ایک میعادی معاہدہ تھا۔ حضرت معاویہ اپنی فوج لے کر دشمنوں کی سرحد سے قریب اس نیت سے پہنچ گئے کہ معاہدہ کی مدت پوری ہوتے ہی ان پر اچانک حملہ بول دیں گے۔ اس صورت میں اچانک حملہ کے مقابلہ میں دشمن تیار نہ ہوگا اور یقینی طور پر شکست کھا جائے گا۔ ابھی حضرت معاویہ سرحد پر پہنچے ہی تھے کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ظاہر ہوا اور زور زور سے کہنے لگا: اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، وفاءٌ لا غَدَرَ (اللہ اکبر ، وعدہ کی پاس داری کرو، اسے توڑو نہیں)۔ لوگوں نے دیکھا کہ یہ صحابی رسول حضرت عمرو بن عنبسہ تھے۔ حضرت معاویہ نے انھیں اپنے خیمہ میں بلایا اور مطلب پوچھا، تو انھوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کی کہ جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو وہ اس کی کوئی گرہ باندھے اور نہ کوئی کھولے؛ یہاں تک کہ مدت پوری ہوجائے۔ حضرت معاویہاس حدیث کو سن کر اپنے اقدام سے باز آگئے اور اپنی فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا۔ (تفسیر ابن کثیر )
احد کی لڑائی میں عین اس وقت جب کہ قتل و خون کا معرکہ گرم تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ہاتھ میں لی اور فرمایا کون اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے گا۔ حضرت ابو دجانہ سامنے آئے اور پوچھا : یا رسول اللہ! اس تلوار کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے دشمنوں کو مارو یہاں تک کہ اس کو ٹیڑھا کردو۔ حضرت ابو دجانہ نے کہا کہ میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تلوار عنایت فرمادی۔ حضرت ابو دجانہ اس تلوار کو لے کر اکڑ تے ہوئے میدان میں کود پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی چال خدا کو پسند نہیں سوائے ایسے موقعوں کے۔ پھر کیا تھا وہ انتہائی بہادری کے ساتھ لڑنے لگے، جو بھی ان کے سامنے آتا، وہ ان کی تلوار کا نشانہ بن جاتا۔ اسی درمیان اچانک کیا ہوتا ہے کہ ان کی نظر ایک شخص پر پڑتی ہے جو لوگوں کو جنگ پر ابھار رہا تھا۔ وہ اس کی طرف لپکے اور اپنی تلوار اس کے سر پر اٹھا لی، اتنے میں وہ چیخا یَا وَیْلَاہ۔ تو حضرت ابودجانہ کو محسوس ہوا کہ یہ کوئی عورت (ہند بن عتبہ زوجہ ابو سفیان ) ہے۔ یہ ذہن میںآ تے ہی انھوں نے تلوار ہٹا لی۔ جذبات پر قابو پانے اور انتہائی جذباتی حالات میں بھی نفسانی فیصلہ نہ کرنے کی یہ عمدہ ترین مثال ہے۔ (سیرت ابن ہشام ، ۶۸:۲)
دنیا سے بیزاری اور آخرت سے محبت صحابہٴ کرام میں اس قدر پیوست تھی کہ وہ دنیا کے مال و اسباب کو اللہ کے راستے میں بے خطر لٹا دیا کرتے تھے اور یہ پورا پورا اثاثہ اللہ کے راستے میں دینا ان کے نزدیک معمولی چیز تھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص اللہ کو قرضِ حسن دے گا، اللہ تعالی اس کے اجر کو بڑھادیں گے۔ حضرت ابو دحداح انصاری نے عرض کیا : کیا اللہ واقعی ہم سے قرض چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! اپنا ہاتھ لایئے ۔ آپ نے ہاتھ دیا، تو انھوں نے عرض کیا: میں اپنے باغ کو اللہ کو قرض دیا۔ ان کے باغ میں چھ سو کھجور کے درخت تھے۔ پھر اپنے باغ میں آئے اور اپنی بیوی کو بتایا کہ میں نے اللہ کو اپنا باغ قرض دے دیا ہے۔ ان کی بیوی نے کہا کہ آپ کی تجارت سود مند رہی؛ چناں چہ انھوں نے اپنا سامان وہاں سے خالی کردیا۔ (تفسیر ابن کثیر)
جنگ یرموک میں حضرات صحابہ کا جذبہٴ ایثار و ہمدردی بھی ایک مشہور واقعہ ہے جس میں میدان جنگ میں جان بلب ایک صحابی کو پانی پیش کیا جاتا ہے، اتنے میں انھیں قریب سے کراہنے کی آواز آتی ہے، وہ انھیں پانی پیش کرنے کو کہتے ہیں۔ پانی پلانے والا ان کے پاس پہنچتا ہے کہ انھیں بھی کسی کے کراہنے کی آواز آتی ہے وہ بھی پہلے انھیں پانی پلانے کو کہتے ہیں۔ جب پانی پلانے والا ان کے پاس پہنچتا ہے تب تک ان کی سانس بند ہوچکی ہوتی ہے اور جب لوٹ کر پچھلے صحابہ کے پاس پہنچتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بھی روح قبض ہوگئی۔
حضراتِ صحابہ کی زندگی ایسے واقعات سے لبریز ہے ، جس میں ہمیں نہایت اعلی درجہ کے اخلاقی نمونے ملیں گے۔ اسلام نے اخلاقی تعلیمات کا ایسا جامع نظامِ عمل مرتب کیا اور صحابہ نے اس کو اپنی زندگی میں اس طرح نافذ کیا کہ جس نے انسانی معاشرے میں اخلاقی قدروں میں انقلاب برپا کردیا۔ اسلام کی یہی اخلاقی تعلیمات بعد کے زمانے میں بھی اسلام کی اشاعت میں زبردست طورپر موٴثر ہوئیں۔ کتنے ہی ممالک اور علاقے ایسے ہیں جہاں کسی مسلم فوج کشی کی کوئی تاریخ نہیں؛ مگر پورا کا پورا علاقہ اسلام کے نام لیواوٴں سے بھرا ہوا ہے۔ آج دنیا میں سب سے بڑی مسلم آبادی والا ملک انڈونیشیا اور ملیشیا میں اسلام کے نام لیواوٴں کا وجود ،نیز یورپ، امریکہ و آسٹریلیا وغیرہ میں اسلام کی روز بروز ترقی در اصل اسلام کی انقلابی اخلاقی تعلیمات کا ہی کرشمہ ہے ۔ اسلام کے نظامِ اخلاق کے بدولت کتنے دلوں کی کایا پلٹی اور کتنے ہی علاقوں میں اسلام کا بول بالا ہوا؛ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں جو چند ظاہری اسباب ہیں، ان میں اسلام کا نظامِ اخلاق ایک اہم حیثیت رکھتا ہے۔
$ $ $







آخرت کا عقیدہ ... عقل سلیم اور قرآن کریم کی روشنی میں
آخرت کا عقیدہ بھی خدا کی ہستی کے عقیدہ کی طرح دین ومذہب کی اہم بنیاد ہے ، اگر یہ مان لیا جائے کہ انسان کی زندگی بس یہی دنیوی زندگی ہے او راس کے بعد اعمال کی جزا اور سزا کا کوئی عالم نہیں ہے ، تو پھر انسان کو کسی دین اور کسی مذہبی تعلیم کی مطلق ضرورت نہیں۔ پھر تو اُس کا مذہب بس یہ ہونا چاہیے #
        بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

عقیدہٴ آخرت کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن پاک میں جا بجا ”ایمان بالله“ اور ﴿ایمان بالیوم الآخر﴾ کا ذکر ساتھ ساتھ کیا گیا ہے ، کہیں ارشاد فرمایا گیا۔﴿ یؤمنون بالله وبالیوم الاخر﴾ اور کہیں فرمایا گیا ﴿ من آمن بالله والیوم الاخر﴾․

آخرت کے عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین کیا جائے کہ اس دنیا کی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ایک اور عالم آنے والا ہے اور وہاں انسان کو اس دنیا میں کیے ہوئے اُس کے اچھے بُرے اعمال کی جزا اور سزا ملے گی ، آخرت کی اجمالی حقیقت اتنی ہے اور اس کو عقل سلیم بھی ضروری سمجھتی ہے ، انسان اگر غور وفکر سے کام لے تو یہاں تک اس کی عقل بھی پہنچا دیتی ہے کہ اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور ایسا عالم ہونا چاہیے، جہاں انسانوں کو ان کے اچھے اور بُرے اعمال کی جزا اور سزا ملے، کیوں کہ اس دنیا میں برائی اوربھلائی تو موجود ہے ، لیکن اس کی سزا اور جزا، جو الله تعالیٰ کی صفت عدل کا لازمی تقاضا ہے، یہاں نہیں ملتی، اس لیے کسی اور ایسی زندگی کا ہونا ضروری ہے، جس میں نیک بختوں کو اُن کی نیکوکاریوں کی جزا اور مجرموں کو اُن کی مجرمانہ بدکرداریوں کی سزا ملے، اس کو ذرا اور تفصیل سے یوں سمجھیے کہ اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پیشہ ور مجرم عمر بھر بڑے ظلم اور پاپ کرتے ہیں ، لوگوں کی جان ومال پر ڈاکے ڈالتے ہیں، بندگان خدا کے حق مارتے ہیں ، کمزوروں اور غریبوں کو ستاتے ہیں ، رشوتیں لیتے اور خیانتیں کرتے ہیں اور عمربھر عیش کرتے ہوئے، بلکہ اولاد کے لیے بھی عیش وعشرت کا بہت کچھ سامان چھوڑ کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں او راس کے برعکس الله کے بہت سے بندوں کو اس حال میں بھی دیکھا جاتا ہے ، کہ وہ بیچارے بڑی پرہیز گاری اورپارسائی کی زندگی گزارتے ہیں ، کسی پر ظلم نہیں کرتے ، کسی کے ساتھ دغا اور دھوکا نہیں کرتے، کسی کا حق نہیں مارتے ، الله کی عبادت بھی کرتے ہیں اس کی مخلوق کی خدمت بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود طرح طرح کی تکلیفوں او رپریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں ، غربت وافلاس اور بیماریوں کا سلسلہ رہتا ہے او راسی حال میں زندگی کے دن پورے کرکے، بیچارے اس دنیا سے چلے بھی جاتے ہیں او رنہیں دیکھا جاتا کہ ان کی اس نیکی او رپارسائی کا کوئی بھی صلہ اس دنیا میں ان کو ملا ، تو اگر اس دنیوی زندگی کے بعد بھی کوئی اور ایسا عالم اور ایسی زندگی نہ ہو ، جہاں ان نیکوکاروں اور بد کرداروں کو اپنے اپنے کیے کی جزا اور سزا ملے تو یقینا خدا پر الزام آئے گا کہ اس کے یہاں دنیا کے بے انصاف حکومتوں سے بھی زیادہ اندھیر ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی سلیم عقل اس کو قبول نہیں کرسکتی۔

الله کی ہستی تو بہت بلند ہے، وہ تو مالک الملک اور احکم الحاکمین ہے۔ یہ طرز عمل تو کسی بھلے آدمی کے بھی شایان شان نہیں کہ وہ شریفوں اور شریروں اور پرہیز گاروں اور پیشہ ور مجرموں کو ایک نظر سے دیکھے اور سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے ، قرآن مجید نے اسی بات کو اپنے بلیغ معجزانہ انداز اور نہایت مختصر الفاظ میں اس طرح کہاہے۔

﴿افنجعل المسلمین کالمجرمین مالکم کیف تحکمون﴾․ ( القلم:35-36)

کیا ہم اپنے فرماں بردار بندوں کو مجرموں نافرمانوں کی طرح کردیں گے اور دونوں گروہوں کے ساتھ یکساں معاملہ کریں گے؟

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے :﴿ام نجعل الذین اٰمنوا وعملوا الصلحت کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار﴾․ ( ص:28)

کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان لوگوں کے برابر کر دیں گے ، جو دنیا میں فساد برپا کرتے پھرتے ہیں ، کیا ہم پرہیز گاروں اور بدکاروں کے ساتھ یکساں برتاؤ کریں گے( ایسا ہر گز نہیں ہو گا)۔

ایک تیسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے :﴿ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلھم کالذین آمنوا وعملوا الصلحت سواء محیاھم ومماتھم ساء مایحکمون﴾․ ( الجاثیہ:21)

یہ مجرمین جنہوں نے بد کاریوں کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے ، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کو اپنے ان نیک بندوں کی طرح کردیں گے ، جو ایمان لائے او رجنہوں نے اعمال صالحہ کیے اور دونوں گروہوں کا انجام اور جینا مرنا یکساں ہو گا ( او راپنے اپنے اعمال کا ان کو کوئی بدلہ نہیں ملے گا؟) بالکل غلط اور بیہودہ ہے ، ان کا یہ خیال ( ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا)۔

بہرحال عقل سلیم بھی کہتی ہے اور قرآن حکیم کا بھی ارشاد ہے کہ نیکوکاروں پرہیز گاروں کو ان کی نیکو کاری اور پرہیز گاری کی اور مجرموں بدکاروں کو ان کی بدکرداری کی جزا اور سزا ملنی ضروری ہے اور جب وہ اس دنیا میں نہیں مل رہی ہے ، تو اس دنیوی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی ،کوئی او رعالم ہونا چاہیے ، جہاں یہ جزا اور سزا ملے اور الله تعالیٰ کی صفتِ عدل کا تقاضا پورا ہو۔ بس وہی عالم آخرت ہے۔

ہاں !یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اچھے اور برے اعمال کی جزا اور سزا کو ، یعنی ثواب اور عذاب کو عالم آخرت کے لیے کیوں موخر کیا گیا اور کیوں نہ اسی دنیا میں اس کا بھی حساب بے باق کر دیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ الله تعالیٰ اپنے فرماں بردار اور نیکوکار بندوں کا جو صلہ اور انعام دینا چاہتا ہے اور جیسی لذت او رمسرت سے بھرپور غیر فانی زندگی ان کو بخشنا چاہتا ہے، جو اس کی شانِ رحمت اور صفت کریمی کا تقاضا ہے ، اس کا اس دنیا میں کوئی امکان ہی نہیں ہے او راسی طرح نافرمان او رباغی وسرکش مجرموں کو وہ سخت سزا اور لرزہ خیزعذاب دینا چاہتا ہے ، جو اس کی شان جلالی اور صفت قہاری کا تقاضا ہے، اس کی برداشت کی بھی ہماری اس دنیا میں طاقت نہیں ہے، یعنی وہ ایسا سخت اور المناک ہے کہ اگر اس دنیا میں اس کا ظہور ہو جائے تو یہاں کا سارا چین وآرام ختم ہو جائے ۔ یہ پوری دنیا سوخت ہو کر رہ جائے ۔ ہماری یہ دنیا تو بہت ہی کمزور اور ناپائیدار دنیا ہے ۔

آخرت کے مقابلہ میں ہماری اس دنیا کی حیثیت بالکل وہ ہے ، جو ہماری اس دنیا اور اس زندگی کے مقابلے میں ماں کے پیٹ والی زندگی کی تھی ۔ اس دینا میں آنے سے پہلے ہر آدمی چند مہینے اپنی ماں کے پیٹ میں رہ کے آیا ہے ۔ وہ اس کی سب سے پہلی دنیا تھی اور بڑی محدود دنیا تھی ، الله تعالیٰ اولاد آدم کو جو کچھ عطا فرمانا چاہتا تھا او رجہاں تک پہنچانا چاہتا تھا وہ ماں کے پیٹ والی اس پہلی دنیامیں ممکن نہیں تھا، اسی لیے انسان کو اس دنیا میں لایا گیا ، بالکل اسی طرح سمجھنا چاہیے کہ اس دنیوی زندگی کی نیک کرداری کے صلہ میں ، الله تعالیٰ اپنے فرماں بردار اور پرہیز گار بندوں کو جن انعامات سے نوازنا چاہتا ہے اور لذت ومسرت سے بھرپور جو غیر فانی زندگی ان کوبخشا چاہتا ہے اور علی ہذا سرکش مجرموں اور نافرمانوں کو جو سخت سزا اور ابدی عذاب دینا چاہتا ہے ۔ وہ ہماری اس فانی دنیا میں ممکن ہی نہیں ، اس دنیا کے خاتمہ کے بعد عالم آخرت کا برپا ہونا او رجنت ودوزخ کا وجود میں آنا ضروری ہے ، تاکہ الله تعالیٰ کی صفات، کمال عدل وانصاف ، انعام واحسان رحمت ورافت اور قہاریت وجباریت کا بھرپور ظہور ہو۔

آخرت کے بارے میں ہماری عقل کی پرواز بس یہیں تک ہے ۔ آگے قیامت ، حشر، جنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی تفصیلات بس وحی کے ذریعہ ہی معلوم ہو سکتی ہیں اور قرآن مجید اور احادیث میں ان کا تفصیلی بیان ہے ۔

بعض لوگ اپنی عقل کی خامی ونارسائی کی وجہ سے ، آخرت اورجنت ودوزخ اور وہاں کے ثواب وعذاب کی ان تفصیلات کے بارے میں ، جو قرآن وحدیث میں وارد ہوئی ہیں ، شکوک کا اظہار کرتے ہیں او رکہتے ہیں کہ یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ، میں ایسے لوگوں سے کہا کرتا ہوں کہ اگر ایسے بچہ سے، جو ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہے ، کسی آلہ کے ذریعہ یہ بات کہی جائے کہ اے بچے! تو چند روز کے بعد ایک ایسی دنیا میں آنے والا ہے ، جہاں لاکھوں میل کی لمبی چوڑی زمین ہے او راس سے بھی بڑے سمندر ہیں اور آسمان ہے او رچاند سورج اور لاکھوں ستارے ہیں اور وہاں ریلیں دوڑتی ہیں، ہوائی جہاز اُڑتے ہیں ، لڑایاں ہوتی ہیں ، جن میں توپیں گرجتی ہیں اور ایٹم بم اور ہائیڈروجن بمپھٹتے ہیں تو وہ بچہ اگر کسی طرح ان باتوں کو سمجھ بھی لے تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے ان باتوں کا یقین کرنا بڑا مشکل ہو گا ، کیوں کہ وہ جس دنیا میں ہے اور جس کو دیکھتا اور جانتا ہے ، وہ تو اس کے ماں کے پیٹ کی صرف ایک بالشت بھر کی اندھیری دنیا ہے ، جس میں خون اور غلاظت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، لیکن چند دن کے بعد جب وہ بچہ الله کے حکم سے اس دنیامیں آئے گا اورکچھ دیکھنے سمجھنے کے قابل ہو گا تو وہ سب کچھ دیکھ لے گا اور یقین کرے گا ، جو ماں کے پیٹ والی دنیا میں اس کے لیے ناقابل فہم اور اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ، بالکل ایسا ہی معاملہ آخرت کے بارے میں اس دنیا کے انسانوں کا ہے ، آخرت کے عالم میں پہنچ کر سب انسان وہ سب کچھ دیکھ لیں گے ، جو الله کی کتابوں نے اور اس کے پیغمبروں نے آخرت کے بارے میں بتایا ہے اورجس کا نہایت مستند واضح اور مفصل بیان قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں محفوظ ہے۔

آخرت کے عقیدہ کے سلسلہ میں ، آخری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انسان کو برائیوں اور بد اخلاقیوں سے بچانے کی جتنی طاقت آخرت کے یقین میں ہے ، اتنی کسی دوسری چیز میں نہیں ہے۔ بے شک حکومت کا قانون اور تہذیبی ترقی یا برائی بھلائی کو فطری احساس اور نفس کی شرافت بھی ، انسان کو برائیوں او ربد اخلاقیوں سے بچانے والی چیزیں ہیں ، لیکن یہ اتنی موثر اور کار گر نہیں ہوتیں، جتنا کہ مرنے کے بعد کی جزا و سزا کا یقین اور آخرت پر ایمان، بشرطے کہ زندہ یقین اور حقیقی ایمان ہو ، صرف نام کا ایمان اور بے جان عقیدہ نہ ہو ۔

یہ کوئی خالی منطق کا مسئلہ نہیں ہے ، بلکہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ برائیوں اور بد اخلاقیوں کی گنجائش ا س معاشرہ میں ہوتی ہے، جو آخرت اورمرنے کے بعد خدا کے سامنے پیشی او رجزا وسزا کے یقین سے خالی ہو، ورنہ جن کے دلوں میں یقین وایمان کا نور موجود ہو ، اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ برے خیالات او رگناہ کے وسوسوں سے بھی گھبراتے ہیں او رالله سے پناہ مانگتے ہیں ، تاریخ عالم گواہ ہے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ پاکیزہ، صاف ستھری اور مہذب ومبارک زندگی ان ہی بندگان خدا کی رہی ہے جو مرنے کے بعد کی پیشی اور آخرت کی جزا وسزا پر یقین رکھتے تھے او راس کی وجہ یہ ہے کہ یہ یقین آدمی کو برائی کے ارادہ سے وہاں بھی روکتا ہے ، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو اور دنیا میں کسی قانون پکڑ اور سزا کا خطرہ نہ ہو۔

الغرض اس دنیا کے خاتمہ کے بعد عالم آخرت کا برپا ہونا، الله کے پیغمبروں او راس کی کتابوں کی بتائی ہوئی ایک حقیقت بھی ہے اور خود ہماری عقل سلیم کا تقاضا بھی ہے اور اس پر ایمان وعقیدہ انسانی دنیا کی ایک بڑی مصلحت بھی ہے۔



No comments:

Post a Comment