Tuesday, 18 March 2025

تسبیح تراویح کی تحقیق


تسبیح تراویح کی تحقیق


تراویح میں چار رکعت كے بعد جو دعاء پڑھی جاتی ہے:

( سُبحان ذی المُلک والمَلَکوت ) اس کی تحقیق مطلوب ہے بحوالہ ؟




الجواب بعون الملک الوھاب:

اس میں تین باتوں کی تحقیق کرنی ہے:

پہلی بات:
کیا آپ ﷺ سے ترویحہ ( چار رکعت کے بعد کچھ دیر بیٹھنا )   ثابت ہے ؟
جواب: 
جی ہاں، امام بیھقیؒ (المتوفى:458هـ) نے "السنن الکبریٰ" میں ایک روایت نقل کی ہے : 
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي اللَّيْلِ، ثُمَّ يَتَرَوَّحُ، فَأَطَالَ حَتَّى رَحِمْتُهُ فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟ " تَفَرَّدَ بِهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَقَوْلُهُ: ثُمَّ يَتَرَوَّحُ إِنْ ثَبَتَ فَهُوَ أَصْلٌ فِي تَرَوُّحِ الْإِمَامِ فِي صَلَاةِ التَّرَاوِيحِ، وَاللهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:
حضرت عائشہؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو چار رکعات پڑھا کرتے تھے، پھر آرام کرتے، پھر آپ ﷺ رکعت اتنی لمبی کردیتے کہ مجھے آپ پر رحم آجاتا، میں کہتی : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، اللہ نے آپ کے پہلے اور بعد والے تمام گناہ معاف کردیے ہیں! آپ ﷺ فرماتے : کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں۔
[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء -أبو نعيم الأصبهاني » ج8 / ص289]

(آگے امام بیھقیؒ فرماتے ہیں) اس (روایت) میں مغیرہ بن شعبہ اکیلا ہے اور وہ مضبوط نہیں، اور اس قول (ثُمَّ يَتَرَوَّحُ) سے نمازِ تراویح میں امام کا راحت لینے کی اصل (بنیاد) ثابت ہوتی ہے، اور اللہ سب سے زیادہ جانتا ہے۔
[السنن الكبرى للبيهقي » جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَقِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ، بَابُ مَا رُوِيَ فِي عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ۔۔۔ رقم الحدیث#4623]
[المهذب في اختصار السنن الكبير-الذهبي » 4098]
[تقريب البغية بترتيب أحاديث الحلية-الهيثمي » 1123]
. والله أعلم .

تو یہ روایت ترویحہ(چار رکعت کے بعد وقفہ کرنے)  کی اصل ہوسکتی ہے ۔
مذہب حنفی میں تراویح کی چار رکعت کے بعد بیٹھنامستحب ہے ، [محیط برھانی:ج2 ص181] میں ہے :
(والانتظار بين كل ترويحتين مستحب بقدر ترويحة عند أبي حنيفة رحمه الله )

دوسری بات: 
کیا ترویحہ کے لئے کوئی خاص دعا منقول ہے؟
جواب : 
نہیں ، آپ ﷺ یا سلف صالحین سے کوئی خاص دعا ،منقول نہیں ہے ۔ البتہ اہلِ حرمین سے یہ نقل کیا گیا ہے کہ : اہلِ مکہ ترویحات کے دوران طواف کرتے تھے ، اور اہلِ مدینہ طواف کے بدلہ چار رکعت کا اضافہ کرتے تھے ، اس طرح سے اہلِ مدینہ چار ترویحات کی جگہ 16 رکعتیں پڑھتے تھے ، تو تراویح کی رکعتیں 36 تھیں ، اور تین وتر ملاکر  ان کے یہاں کل رکعتیں 39 تھیں۔
[الحاوی الکبیر ج۲ص۲۹۱] ۔
قال ابن القیم فی (بدائع الفوائد) [ج4ص109] :
قال الفضل : "رأيت أحمد بن حنبل يقعد بين التراويح ويردّد هذا الكلام (لا إله إلا الله وحده لا شريك له أستغفر الله الذي لا إله إلا هو) وجلوسُ أبي عبد الله للاستراحة ، لأن القيام إنما سمي تراويح لما يتخلَّله من الاستراحة بعد كل ترويحة".
اور فقہ حنفی کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ: دو ترویحہ کے درمیان نمازی کو اختیار ہے چاہے تو تسبیح کرے، چاہے حمد و ثناء کرے، اور اگر چاہے تو سکوت اختیار کرے اور اگلی رکعات کا انتظار کرے۔ ملاحظہ فرمائیں:
[محیط برھانی  ۲؍۱۸۱ ، جوھرہ نیرہ:۳۸۵] ۔

تیسری بات:
پھر یہ مشہور دعا(تسبیح) جو پڑھی جاتی ہے وہ کہاں سے آئی ؟
جواب : 
فقہ حنفی کی کتابوں میں سب سے پہلے یہ دعا قہستانی کی شرح وقایہ میں ملتی ہے ، اور قہستانی نے اس کا حوالہ [منہج العباد] نامی کتاب کا  دیا ہے ، پھر قہستانی کی کتاب سے ابن عابدین نے [رد المحتار] میں نقل کیا ہے ، پھر ابن عابدین سے یہ دعاء کتبِ فقہ وفتاوی میں رائج ہوئی۔
لیکن مذکورہ دعا کے الفاظ چند روایتوں  میں وارد ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں :
1- عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: قمتُ مع رسول الله- صلى الله عليه وسلم - ليلةً، فقام فقرأ سورةَ البقرة، لا يمرُّ بآَيةِ رحمةٍ إلا وقفَ فسأل، ولا يمرُّ بآيةِ عذابٍ إلا وقفَ فتعوَّذ، قال: ثم ركع بقَدْر قيامه، يقول في ركوعه: "سُبحان ذي الجَبَروت والمَلَكوت والكِبرياء والعَظَمة" ثم سجد بقَدْر قيامه، ثم قال في سُجوده مِثلَ ذلك...
ترجمہ:
حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے سورة البقرہ پڑھی، آپ ﷺ کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے، پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا، اور آپ ﷺ نے رکوع میں کہا:
پاک ہے وہ ذات جو سطوت اور بادشاہت اور بڑائی اور عظمت والی یے۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورة آل عمران پڑھی، پھر (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورة پڑھی۔   
[سنن ابوداود:873 ، سنن النسائي:1149، سنن الترمذي:313]
پھر رکوع کے بقدر سجدہ کیا اور اپنے سجدوں میں بھی کہا:
پاک ہے وہ ذات جو سطوت اور بادشاہت اور بڑائی اور عظمت والی یے۔
[سنن النسائي:1132، شرح السنة للبغوي:912، السسن الكبريٰ للبيهقي:3689،.مسمد البزار:2750]

۲۔ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، فَافْتَتَحَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بِالْخَفِيضَةِ وَلَا بِالرَّفِيعَةِ، قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ نَحْوًا مِنْ رُكُوعِهِ، فَقَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: « الْحَمْدُ لِلَّهِ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ » ، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطَّوْلِ، وَعَلَيْهِ سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ۔
ترجمہ:
حضرت حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک رات میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کی نماز میں شریک ہوجاؤں نبی کریم ﷺ نے قرأت شروع کی تو آواز پست تھی اور نہ بہت اونچی بہترین قرأت جس میں نبی کریم ﷺ ٹھہر ٹھہر کر ہمیں آیات الہیہ سناتے رہے پھر قیام کے بقدر رکوع کیا پھر سر اٹھا کر رکوع کے بقدر کھڑے رہے اور " سمع اللہ لمن حمدہ " کہہ کر فرمایا:
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو طاقت اور سلطنت والا ہے کبریائی اور عظمت والا ہے۔
یہاں تک کہ اس طویل نماز سے فارغ ہوئے تو رات کی تاریکی کچھ ہی باقی بچی تھی۔
[مسند احمد:23411(22325)، 23300، 23363 ] .
۳۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، اس وقت نماز ( کی جماعت ) قائم تھی اور تین آدمی ( الگ ) بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک ’’ ابوجحش الیثی ‘‘ تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اٹھو اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھو ، ان میں سے دو آدمی اٹھ کر نماز میں شامل ہو گئے جبکہ تیسرے ابوجحش نے انکار کر دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوجحش ! نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھو ، اس نے کہا : میں نہیں اٹھوں گا حتی کہ میرے پاس وہ شخص آئے جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے اور جس کی پکڑ مجھ سے زیادہ سخت ہو ، پھر وہ مجھے پچھاڑے ، پھر میرا چہرہ مٹی میں خاک آلود کر دے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس کے قریب آیا ، میں اس سے زیادہ طاقتور بھی تھا اور میری پکڑ بھی اس سے زیادہ سخت تھی ۔ میں نے اس کو پچھاڑا اور اس کا چہرہ مٹی میں رگڑا ۔ اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے جھڑکا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے سخت غصہ کی حالت میں نکل گئے ۔ اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں واپس آ پہنچے ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابوحفص ! تم اتنے غصے میں کیوں ہو ؟ عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں نے مسجد کے دروازے پر تین آدمیوں کو بیٹھے دیکھا ، اس وقت جماعت ہو رہی تھی ۔ ابوجحش اللیثی میں ان میں تھے ۔ ان میں سے دو تو اٹھ گئے ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا ۔ اس کے بعد آپ کہنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ ! عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی حمایت صرف اس لئے کی ہے کہ اس نے ایک رات اس کی مہمان نوازی کی تھی اور عثمان رضی اللہ عنہ اس کے احسان کا بدلہ دینا چاہتا تھا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی یہ بات سن رہے تھے ۔ آپ بولے : یا رسول اللہ ( ﷺ ) کیا آپ نے وہ باتیں نہیں سنی ہیں جو عمر رضی اللہ عنہ نے ہمارے بارے میں آپ سے کہی ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر عمر رضی اللہ عنہ اللہ کی رحمت پر راضی ہو تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تو خبیث کو میرے پاس لے آتا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے ، جب یہ کچھ دور چلے گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو آواز دے کر کہا : عمر رضی اللہ عنہ ، ادھر آؤ ، کہاں جا رہے ہو ؟ عرض کی : خبیث کا سر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے جا رہا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو ابوجحش کی نماز کی ضرورت نہیں ہے ۔ بے شک آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو ہر وقت عاجزی سے سر جھکائے رکھتے ہیں اور یہ قیامت تک سر نہیں اٹھائیں گے ۔ جب قیامت قائم ہو جائے گی تو یہ سر اٹھا کر عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا : آسمان دنیا والوں کا وظیفہ یہ ہے ۔’’ «سبحان اللہ ذی الملك والملکوت» ‘‘ اور دوسرے آسمان والوں کا یہ ہے ’’ «سبحان الحی الذی لایموت» ‘‘ اے عمر رضی اللہ عنہ ! اپنی نماز میں ان وظائف کو شامل کر لو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں ان کو نماز میں کس طریقے سے پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دونوں ایک ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو ، اور یہ دعا مانگنے کا بھی حکم دیا ’’اے اللہ ! میں تیرے عذاب سے تیرے عفو کی پناہ مانگتا ہوں۔ اور تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں ، اور تجھ سے تیری بزرگی کی پناہ مانگتا ہوں۔ ‘‘
یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔
[قیام اللیل للمروزی:256، المستدرك الحاكم:4552(4502)] ۔
۴۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدوں میں یہ کہا کرتے تھے:
سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ 
ترجمہ:
وہ نرا پاک ہے (بذات خود) مقدس ہے، ملائکہ اور روح (امین جبرائیل علیہ السلام) کا پروردگار ہے۔
[مسلم:487، ابوداؤد:872، نسائی:1134، بیھقی:2562،2683،640]

5. حضرت الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے تنہائی (یا خوف) کی شکایت کی۔ آپ  نے فرمایا: "کہو: 
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ، وَالرُّوحِ،  جَلَّلْتَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضِ بِالْعِزَّةِ، وَالْجَبَرُوتِ.
ترجمہ:
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، رَبِّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، جَلَّلْتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ بِالْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوتِ"۔ اس شخص نے یہ دعا پڑھی تو اللہ عزوجل نے اس کی تنہائی (یا خوف) دور کر دیا۔  

[طبرانی:1171، جامع الاحادیث:15255]


6.حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"إن لله بحراّ من نور حوله ملائكةٌ من نور على جبل من نور، بأيديهم حرابٌ من نور، يسبّحون حول ذلك البحر: سُبحان ذي المُلك والمَلكوت، سبحان ذي العِزة والجَبَروت، سبحان الحيّ الذي لا يموت، سُبُّوح قدوس ربُّ الملائكة والروح، فمن قالها في يوم مرة أو شهر أو سنة مرة، أو في عمره غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ولو كانت ذنوبه مثل زبد البحر أو مثل رمل عالج، أو فرَّ من الزَّحف".
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ کا ایک سمندر ہے نور سے بھرا ہوا۔ اس کے گرد و پیش نور کے ملائکہ ہیں جو نور کے پہاڑوں پر (متمکن) ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں نور سے لبریز ڈول ہیں۔ وہ ملائکہ اس سمندر کے پاس اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں تسبیح کرتے رہتے ہیں:
پاک ہے ملک اور ملکوت والی ذات، پاک ہے عزت اور طاقت والی ذات، پاک ہے وہ زندہ جو کبھی مرے گا نہیں، وہ نرا پاک ہے (بذات خود) مقدس ہے، ملائکہ اور روح (امین جبرائیل علیہ السلام) کا پروردگار ہے۔
جس شخص نے یہ کلمات دن میں، یا مہینے میں، یا سال میں، یا ساری زندگی میں ایک مرتبہ بھی کہہ لے اللہ پاک اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دے گا خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں یا ریت کے ذرات کے برابر ہوں یا وہ جنگ سے بھاگا ہو۔
[جامع الاحادیث-للسیوطی:8238، كنزالعمال:3840]
شاید یہی روایات اس دعا کی اصل ہوسکتی ہیں، ان میں سے فرشتوں کی تسبیح والی روایات سند کے اعتبار سے بہت زیادہ کمزور ہیں، مزید یہ کہ ان روایتوں میں اس تسبیح کا ترویحات میں  پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔


امام نووی رحمہ اللہ نے ﴿اللهم أجرنا من النار﴾ کے انکار کرنے والوں کا خوب رد کرتے ہوئے اسے ثابت بالسنۃ مانا ہے۔
(الاذکار للنووی: ص384)
فائدہ:
دعا کے الفاظ میں صیغے کی تبدیلی کی شرعا گنجائش موجود ہے۔ جیسا کہ تلبیہ کے الفاظ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی معمولی اضافے کا ثبوت کتب حدیث میں ملتا ہے۔

واللہ اعلم ۔






کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی تسبیح تراویح پڑھی تھی؟

الجواب:
بسم اللہ حامداًومصلیاً
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تسبیح تراویح کا پڑھنا منقول نہیں لیکن  کسی عمل کے جائز ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ اس کاحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونا ثابت ہو۔

نوٹ:
تراویح کی نماز میں ہر چار تراویح کے بعد کچھ دیر وقفہ کرنا مستحب ہےکیونکہ تراویح کو تراویح کہتے ہی اس وجہ سے ہیں کہ ان کے درمیان راحت و آرام کیا جاتا ہے۔صحابہ کرام ؓ اور تابعینؒ  وغیرہ چونکہ ہمت والے تھے اس لیے وہ اس وقفے سے فائدہ اٹھاتے تھے چناچہ مکہ کے لوگ اس دوران جلدی جلدی طواف کرلیتے تھے اور مدینہ کے لوگ اس دوران چار رکعات نفل مزید پڑھ لیتے تھے باقی ہمارے جیسے کم ہمت لوگوں کے لیے یہ ہے کہ اس دوران بالکل خاموش بھی رہ سکتے ہیں اور یہ بھی کرسکتے ہیں  کہ اس دوران کوئی نہ کوئی ذکر مثلاً  لااله الاالله پڑھ لیں یا کوئی اور ذکر کرلیں تاکہ اس وقت میں آرام بھی ہوجائے اور یہ وقت مزید قیمتی بھی بن جائے ۔اس وقت کو قیمتی بنانے کے لیے اہلِ علم نے عوام کی خاطر ایک آسانی یہ کی کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و بڑائی پر مشتمل کلمات پر ایک ذکر "تسبیح تراویح" کے نام سے بتادیا اب اہلِ علم کی اس آسانی سے اگر کوئی فائدہ اٹھانا چاہے تو  اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں اور اگر کوئی فائدہ نہ اٹھانا چاہے تو اس پر کوئی ملامت بھی نہیں کی جاسکتی۔

لسان العرب (2/ 462)میں ہے:

«والترويحة في شهر رمضان: ‌سميت ‌بذلك ‌لاستراحة ‌القوم بعد كل أربع ركعات؛ وفي الحديث: صلاة التراويح؛ لأنهم كانوا يستريحون بين كل تسليمتين. والتراويح: جمع ترويحة، وهي المرة الواحدة من الراحة، تفعيلة منها، مثل تسليمة من السلام»

فتاویٰ شامی (2/600) میں ہے:

ويجيزون بين تسبيح وقرأة….. قال القهستاني: فيقال ثلاث مرات «‌سبحان ‌ذي ‌الملك والملكوت، سبحان ذي العزة والعظمة والقدرة والكبرياء والجبروت، سبحان الملك الحي الذي لا يموت، سبوح قدوس رب الملائكة والروح، لا إله إلا الله نستغفر الله، نسألك الجنة ونعوذ بك من النار» كما في منهج العباد…

فتح القدير (1/408) میں ہے:

(قوله ‌والمستحب ‌الجلوس) قيل ينبغي أن يقول: والمستحب الانتظار بين الترويحتين لأنه استدل بعادة أهل الحرمين، وأهل المدينة كانوا يصلون بدل ذلك أربع ركعات فرادى، وأهل مكة يطوفون بينهما أسبوعا ويصلون ركعتي الطواف، إلا أنه روى البيهقي إلا أنه روى البيهقي بإسناد صحيح أنهم ‌كانوا ‌يقومون على عهد عمر، ونحن لا نمنع أحدا من التنفل ما شاء، وإنما الكلام في القدر المستحب بجماعة وأهل كل بلدة بالخيار يسبحون أو يهللون أو ينتظرون سكوتا أو يصلون أربعا فرادى

مسائل بہشتی زیور (1/272) میں ہے:

مسئلہ: نماز تراویح میں چار رکعت کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا جتنی دیر میں چار رکعتیں پڑھی گئی ہیں مستحب ہے۔ ہاں اگر دیر تک بیٹھنے سے لوگوں کو تکلیف ہو اور جماعت کے کم ہو جانے کا خوف ہو تو اس سے کم بیٹھنے میں اختیار ہے اس دوران میں چاہے تنہا نوافل پڑھے یا تسبیح وغیرہ پڑھے چاہے چپ بیٹھا رہے۔ بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ بیٹھنے کی حالت میں یہ تسبیح تین بار پڑھے۔   سبحان ذی الملک و الملکوت، سبحان ذی العزة والعَظَمة و القدرة والکبریاء والجبروت، سبحان الملک الحی الذی لا یموت، سبوح قدوس رب الملائكة و الروح لا اله الا الله نستغفر الله نسالک الجنة و نعوذبک من النار

فتاویٰ عثمانی (1/327) میں ہے:

سوال:  تراویح کی ہر چار رکعت کے بعد کیا آیت پڑھی جاتی ہے، یہ سنت ہے یا واجب یا مستحب؟ اور یہ آیات صرف امام صاحب پڑھیں یا مقتدی بھی؟ زبانی یاد نہ ہو تو دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:  تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد عام رکعتوں کی مقدار بیٹھنا مستحب ہے، اس وقفے میں کوئی خاص ذکر واجب یا مسنون نہیں ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اس میں چاہے کچھ تسبیحات پڑھ لے، چاہے الگ نفلیں پڑھے اور چاہے تو خاموش رہے (۱) اور مشائخ کا معمول یہ ہے کہ اس میں یہ تسبیح پڑھتے ہیں  سبحان ذی الملک و الملکوت، سبحان ذی العزة والعَظَمة و القدرة والکبریاء والجبروت، سبحان الملک الحی الذی لا یموت، سبوح قدوس رب الملائكة و الروح لا اله الا الله نستغفر الله نسالک الجنة و نعوذبک من النار (کذا فی رد المحتار من القهستانی) (۲) اور یہ تسبیح آہستہ پڑھنی چاہئے امام کو بھی اور مقتدی کو بھی۔ واللہ اعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم


اکابرین دیوبند کا موقف:
مرغوب الفتاوی [ج3ص429 ] پر حاشیہ میں یہ لکھا ہے :
ہمارے اس زمانہ میں تسبیحِ تراویح میں بہت غلو ہونے لگا ہے، خصوصا برطانیہ کی اکثر مساجد میں تراویح کی یہ تسبیح (سبحان ذی الملک والملکوت۔۔۔الخ) بڑے بڑے پوسٹر اور اشتہار کی شکل میں قبلہ کی دیوار پر بڑی تعداد میں چسپاں کی جاتی ہے، حالانکہ کسی مستحب کے ساتھ زیادہ اہتمام اور واجب کا سا معاملہ ہونے لگے، تو فقہاء اس کے ترک حکم فرماتے ہیں۔ اور یہاں حال یہ ہے کہ عوام تو عوام، علماء تک اسے بڑے اہتمام سے پڑھتے ہیں، اور لطف یہ کہ بالجہر پڑھنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔
اولاً:
اس تسبیح کا ثبوت حدیث سے مشکل ہے ، علامہ شامی نے ضرور اسے لکھا ہے، اور ان کی اتباع میں یہ دعا ہماری کتب فقہ وفتاویٰ میں درج ہوگئی ہے، حالانکہ جو دعائیں اور اذکار احادیث میں مروی ہیں ان کا پڑھنا زیادہ ثواب رکھتا ہے۔
اسی وجہ سے حضرتِ اقدس مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ؒ کا معمول اس کی بجائے (سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر) پڑھنے کا تھا۔
حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحبؒ تحریر فرماتے ہیں:
احقر کہتا ہے کہ کلمہ (سبحان اللہ ) الخ کی بہت فضیلت احادیث صحیحہ میں وارد ہے ، اس لئے تکرار اس کا افضل ہے ، اور یہی معمول ومختار تھا حضرت محدث وفقیہ گنگوہی رحمة اللہ علیہ کا۔
[فتاوی دار العلوم دیوبند ص246، ج4، سوال نمبر1761]۔
حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ سے کسی نے پوچھا کہ: 
آپ ترویحہ میں کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا : شرعاً کوئی ذکر متعین تو ہے نہیں ، باقی میں پچیس مرتبہ درود شریف پڑھ لیتاہوں۔
[تحفۂ رمضان ص۱۱۱] ۔
خلاصہ:
ترویحہ میں پڑھنے کی کوئی دعا احادیث سے ثابت نہیں ہے، یہ جو مشہور تسبیح ہے اس کے پڑھنے کی گنجائش ہے، لیکن اس کو ضروری نہیں سمجھنا چاہئے، اور نہ بالجہر پڑھنا چاہئے۔ اس کے بجائے وہ اذکارِ مسنونہ پڑھنا جن کی فضیلت ثابت ہے زیادہ بہتر ہے، اور یہی سلف صالحین اور اکابرین دیوبند رحمہم اللہ کا معمول اور یہی سلف صالحین اور اکابرین دیوبند رحمہم اللہ کا معمول رہا ہے۔
واللہ الموفق والہادی الی الصواب۔


کیا تراویح میں ہر ترویحہ کے بعد سبحان ذی الملک والملکوت والی ہی دعا پڑھنا مسنون ہے یا کوئی بھی  دعا کوئی بھی ذکر کرسکتے ہیں؟

جواب
تراویح میں ہر ترویحہ کے بعد مذکورہ بالا دعاء کا پڑھنا ہی ضروری نہیں بلکہ آدمی تسبیح، تہلیل، درود، تلاوت وغیرہ بھی کرسکتا ہے۔ (کما في الدر المختار ومجمع الأنہر، والبدائع)۔
واللہ تعالیٰ اعلم


چند دنوں سے ایک میسیج مجھے موصول ہوا، جس میں ترویحات کی زبان زد تسبیح (سبحان ذی العزۃ والعظَمۃ) میں لفظ (العظَمۃ) کی ظاء پر جزم لگاکر پڑھنے کے متعلق کسی کاتب نے یہ وضاحت لکھی تھی کہ: جزم کے ساتھ پڑھنا غلط ہے اور اس سے ایک فاسد معنی پیدا ہوجاتا ہے، جس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کرنا بہت غلط ہے ۔
چونکہ عربی میں یہ لفظ ( العَظَمۃ) ہے ، ظاء پر زبر کے ساتھ ہے ، جس کا معنی ہے : بزرگی ، بڑائی، شان وشوکت، تو (ذی العزۃ والعظمۃ) کا معنی ہوا : عزت اور کبریائی والا ۔
جبکہ جزم کے ساتھ ( العَظْمۃ ) کے معنی ہیں: ہڈی کا ٹکڑا، تو معنیٰ بنے گا: ہڈی والا، اور یہ معنی اللہ تعالی کے حق میں بولنا بہت غلط ہے ۔

کاتب نے اس وضاحت کے ساتھ عربی لغت کی بعض کتابوں کے اقتباسات بھی پیش کئے ہیں ۔

میری گذارش ہے کہ: آپ نے صرف لغت ومعنی کا سہارا لے کر جو بات کہی وہ بے سہارا ہے، اس سلسلہ میں قواعد لغت کا سہارا آپ سے چھوٹ گیا ۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ: 
۱۔ لفظ (العظمۃ) میں عین ظاء میم تینوں حروف پر حرکت ہے، اور ملاکر پڑھنے میں گول تاء پر چوتھی حرکت آئے گی، عربی میں اس کو (تَوَالی حَرَکات ) کہا جاتا ہے  ۔ اور عربی لغت کا قاعدہ ہے کہ: جس لفظ میں تین یا اس سے زائد حروف لگاتار متحرک ہوں، تو اس لفظ میں دوسرے حرف پر تخفیفا جزم لگاکر پڑھنا جائز ہے۔
یہ قاعدہ (النحو الوافی ) جلد ۱، مسئلہ ۱۶، صفحہ ۱۹۹ پر لکھا ہے ، اور اس طرح کے جزم کو (سکون تخفیف ) کا نام دیا ہے ۔
کتبِ تفسیر وقراءات میں سورہ بقرہ کی آیت ۵۴ میں لفظ ( بارئکم ) کی ذیل میں ،جہاں امام ابو عمرو بصری کی قراءت (بسکون الہمز) ذکر کی جاتی ہے ، وہاں امام نحو ابو علی فارسی کی یہ بات مذکور ہے :

قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: وَأَمَّا حَرَكَةُ الْبِنَاءِ فَلَمْ يَخْتَلِفِ النُّحَاةُ فِي جَوَازِ تَسْكِينِهَا مَعَ تَوَالِي الْحَرَكَاتِ۔

اور یہاں پر (العَظَمۃ) کی ظاء پر بھی جو حرکت ہے وہ حرکتِ بناء ہے ۔

۲۔ عموما عربی زبان میں حرکات کو تلفظ میں ثقل ( بھاری پن ) کا باعث سمجھا جاتا ہے ، اسی لئے توالی حرکات کے وقت اہل عرب لفظ میں تخفیف پیدا کرنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں ، جیسے : ادغام ، حذف ، ابدال ، اختلاس ، جزم۔
جو شخص قواعد صرف اور علم قراءات سے واقف ہوگا ، اس کو معلوم ہوگا کہ لفظ کے ثقل کو دور کرنے کے لئے عربی زبان میں یہ سب طریقے بے شمار الفاظ میں رائج ہیں ، اور ان سے لفظ کا اصل معنی نہیں بدلتا ، اور نہ دوسرا معنی متکلم کے یہاں مراد ہوتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ: 
عوام الناس جو (العظمۃ) کی ظاء پر جزم لگاتے ہیں وہ اردو کے تلفظ سے متاثر ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں ، اور سہولت کی بناء پر بھی۔ اور اس طرح سے کرنا عربی زبان کے قواعد کے اعتبار سے درست ہے ، اس سے فاسد معنیٰ نمودار نہیں ہوتا ہے ، اور نہ وہ مقصود ہوتا ہے ۔
اس لئے جو حضرات ان باتوں سے ناواقفیت کی بناء پر عوام الناس کے بارے میں شدت اختیار کرتے ہیں ، ان کا رویہ درست نہیں ہے ، ہاں بہتر یہ ہے کہ اس لفظ کو زبر کی حرکت کے ساتھ بولا جائے ، جیساکہ اس کا اصل تلفظ ہے ۔

واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم




No comments:

Post a Comment