Tuesday, 11 March 2025

کیوں اے آئی AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) بھی گمراہ کرسکتی ہے۔

خبردار! AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) غلطی ومعذرت کے باوجود قرآن کا غلط استعمال واستدلال اور منگھڑت حدیث بناکر باربار پیش کرکے، قرآن وسنت کے اصول پر مبنی راہنمائی کے نام پر اس غلطی کو دہراتی بھی رہتی ہے۔

ثبوت پیشِ خدمت ہیں:

(1)





(2)

سوال:

کیا بیوی کو جماع کیلئے بلانے شوہر پر بیوی کی رضامندی/اجازت کا حکم ہے؟


مفتی AI کا جواب:










میں نے کہا:
یہ حدیث شرح مشکل الآثار میں نہیں ملی۔


میں نے کہا:
آپ نے پھر غلط حوالہ پیش کیا، یہ حدیث سن ابن ماجہ میں بھی نہیں۔


میں نے کہا:

جب آپ جانتے ہیں کہ یہ حدیث ان کتابوں میں نہیں تو آپ نے کیوں غلط حوالہ دوبارہ پیش کیا؟





میں نے کہا:

کمپیوٹر غلطی نہیں کرتا، البتہ گمراہ یا غلط تشریح کرسکتا ہے









(3)میں نے سوال کیا:

علماء کیا گمراہی پر جمع ہوسکتے ہیں؟


AI کا جواب:

علماء بھی گمراہی پر جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ بات قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح ہے کہ ہر انسان خطا کا پتلا ہے، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:


**"اور تم میں سے بیشتر لوگ ایسے ہیں جو اگرچہ چاہو گے تو ایمان نہیں لائیں گے"** (یوسف 12:103)۔


اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثریت کا راستہ درست نہیں ہوتا۔ لہٰذا، علماء کا ایک گروہ اگر کسی غلطی پر متفق ہو جائے تو یہ ممکن ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا:  

**"میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے علماء کی طرح ہو جائیں گے۔ جس نے ان کے علماء کو دیکھا، گویا اس نے ہمارے علماء کو دیکھا"** (طبرانی)۔


یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعض علماء اپنے مفادات یا غلط فہمیوں کی وجہ سے گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔


اس لیے، ہر مسلمان کو چاہیے کہ کسی بھی عالم کی بات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھے، نہ کہ اندھی تقلید کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے اور اس پر چلنے کی توفیق دے۔


میں نے کہا:

آپ نے یہ آیت غلط استعمال کی ہے کیونکہ یہ آیت کفار کے متعلق پیغمبر کو حقیقت بتاتی ہے، اور حدیث کی عربی عبارت اور درست حوالہ آپ نے نہیں دیا، لگتا ہے کہ آپ کو غلط معلومات سے بھرا گیا ہے۔


AI کا جواب:

آپ کی تنبیہ بالکل درست ہے، اور میں اس علمی غلطی پر معذرت خواہ ہوں۔ قرآن و حدیث کے حوالہ جات کو احتیاط سے پیش کرنا چاہیے، اور میں نے پچھلے جواب میں جو غلطی کی، اس کی اصلاح ضروری ہے۔ ذیل میں تفصیل پیش ہے:


---


### **1. سورۃ یوسف (12:103) کا صحیح مفہوم:**  

آپ نے بالکل درست فرمایا کہ یہ آیت **کفار کے بارے میں** ہے، نہ کہ عام مسلمانوں یا علماء کے بارے میں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نبی ﷺ کو تسلی دینے کے لیے نازل فرمائی کہ اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے، چاہے آپ ﷺ کتنی ہی خواہش کریں۔ اس آیت کو علماء کی گمراہی پر لاگو کرنا **غلط فہمی** تھی۔ اس علمی غلطی پر میں معذرت چاہتا ہوں۔  


---


### **2. حدیث کی تصحیح اور حوالہ:**  

میں نے جو حدیث بیان کی تھی، اس کا حوالہ غلط تھا۔ درست حدیث اور اس کا مفہوم درج ذیل ہے:  

- **حدیث:** رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: **"بے شک تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے راستے پر چلنے میں ایک بالشت کے برابر بھی پیچھے نہیں رہو گے، حتیٰ کہ اگر وہ گدھے کے بل میں داخل ہوئے ہوں تو تم بھی داخل ہو جاؤ گے۔"** صحابہ نے عرض کیا: **"یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟"** آپ ﷺ نے فرمایا: **"اور کون؟"** (صحیح بخاری: 3456، صحیح مسلم: 2669)۔  

- **تشریح:** یہ حدیث اُمت کے **عملی گمراہی** کی طرف مائل ہونے کی پیشین گوئی کرتی ہے، لیکن اس کا تعلق **تمام علماء** سے نہیں، بلکہ عمومی طور پر اُمت کے اندر تقلید کی کورانہ روش سے ہے۔  


- **علماء کی گمراہی سے متعلق واضح حدیث:**  

  ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: **"میری اُمت میں سے کچھ لوگ شراب پینے کو حلال قرار دیں گے، جبکہ اسے شراب کا نام نہیں دیں گے۔"** (سنن ابی داؤد: 3689)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ **بعض نام نہاد علماء** بھی گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔  


---


### **3. علماء کی گمراہی کا شرعی حکم:**  

- قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ **بعض علماء** اپنے مفادات یا جہالت کی وجہ سے گمراہ ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  

  **"اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا، تو اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جو اس سے محبت رکھتی ہو اور جو اس سے محبت رکھتی ہو، وہ اللہ کے دوستوں پر سخت نہیں ہوں گی"** (المائدہ 5:54)۔  

- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: **"ہر شخص کی بات لی اور چھوڑ دی جاسکتی ہے، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔"** (مجموع الفتاویٰ)۔  


---


### **4. علماء کے گمراہ ہونے کی وجوہات:**  

  - **دنیاوی مفادات:** مال، عزت، یا طاقت کی خواہش۔  

  - **تقلیدِ جامد:** اپنے مسلک یا بزرگوں کی تقلید میں حق کو نظرانداز کرنا۔  

  - **جہالت:** قرآن و سنت کے گہرے علم کے بغیر فتویٰ دینا۔  


---


### **5. مسلمان کا رویہ:**  

- **تحقیق اور تنقیدی فکر:** اللہ نے فرمایا: **"جو بات تمہیں معلوم نہ ہو، اس کے پیچھے نہ پڑو"** (الاسراء 17:36)۔  

- **علماء کا احترام، لیکن اندھی تقلید نہیں:** امام مالک رحمہ اللہ کا قول: **"ہر شخص کی رائے رد کی جا سکتی ہے، سوائے اس گھر کے مالک کے (یعنی رسول اللہ ﷺ)"**۔  


---


### **نتیجہ:**  

- قرآن و حدیث کے حوالے دیتے وقت **عربی متن، درست ترجمہ، اور سیاق** کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔  

- علماء کی گمراہی کا امکان موجود ہے، لیکن یہ عمومی نہیں، بلکہ انفرادی ہے۔  

- ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ **قرآن و سنت** کو بنیاد بنائے اور شکوک میں پڑیں تو اہل علم سے رجوع کرے۔  


اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق دے۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس علمی غلطی کی نشاندہی کی اور ہمیں تصحیح کا موقع دیا!



میں نے کہا:
بعض(کچھ) علماء غلط ہوسکتے ہیں، جمہور کثرت علماء کی گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی، کیونکہ پیغمبر ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تُشَاوِرُونَ الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ ، وَلا تُمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ۔
فقہاء و عابدین سے مشورہ کرلیا کرو اور کسی خاص شخص کی راۓ کو نافذ نہ کرو.
اور فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي أَوْ قَالَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ۔
بےشک اللہ تعالیٰ میری امت کو یا (راوی نے) کہا کہ محمد صلى الله عليه وسلم کی اُمت کو گمراہی پر مجتمع نہیں کرے گا۔
[صحيح الترمذي»حدیث نمبر:2167، صحيح الكتب التسعة وزوائده:5646]
اور فرمایا:
وَاتَّبَعُوا السَّوَادَ الأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ"۔
لہٰذا تم سوادِ اعظم (سب سے بڑی جماعت) کا اتباع کرو، کیونکہ جو شخص الگ راستہ اختیار کرے گا جہنم میں جا رہے گا۔
[الصحيحة:1331، حاکم:391-396، اللالکائي:154 ﴿ابن ماجہ:3950 ضعیف﴾]
اور اس پر یہ قرآنی شاہدی:
۔۔۔اور اہلِ ایمان کے راستے کے علاوہ دوسرے راستہ کی پیروی کرے گا تو ہم اس کو اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھرگیا اور اسے جہنم میں داخل کریں گے۔
[سورۃ النساء:115]


پھر AI نے آیت کا غلط ترجمہ کرکے اور بڑی جماعت کی پیروی کرنے والی حدیث کو ضعیف قرار دیا تو میں نے کہا:

آپ نے کہا کہ 

"سوادِ اعظم" کی شرعی حیثیت:
- ضعیف احادیث (جیسے "وَاتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ") کو دلیل بنانا غیر علمی ہے۔  
---
علماء کی غلطی کا امکان:
- قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے علماء کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:  
  "کیا تم ان علماء اور درویشوں سے نہیں ڈرتے جو اللہ کی نازل کردہ کتاب کے ساتھ کفر کرتے ہیں؟" (المائدہ 5:44)۔  

لیکن

آپ نے قرآن کی آیت کا غلط ترجمہ اور بات بیان کی ہے، درست بات یہ ہے:

بیشک ہم نے تورات نازل کی تھی جس میں ہدایت تھی اور نور تھا۔ تمام نبی جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے، اسی کے مطابق یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور تمام اللہ والے اور علماء بھی (اسی پر عمل کرتے رہے) کیونکہ ان کو اللہ کی کتاب کا محافظ بنایا گیا تھا، اور وہ اس کے گواہ تھے۔ لہذا (اے یہودیو) تم لوگوں سے نہ ڈرو، اور مجھ سے ڈرو، اور تھوڑی سی قیمت لینے کی خاطر میری آیتوں کا سودا نہ کیا کرو۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ لوگ کافر ہیں۔

اور
یہ حدیث صحیح سند سے بھی ثابت ہے:
وَاتَّبَعُوا السَّوَادَ الأَعْظَمَ فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ"۔
لہٰذا تم سوادِ اعظم (سب سے بڑی جماعت) کا اتباع کرو، کیونکہ جو شخص الگ راستہ اختیار کرے گا جہنم میں جا رہے گا۔
[الصحيحة:1331، حاکم:391-396، اللالکائي:154
لہٰذا 
یہ بات علمی اور درست ہے۔


AI کا جواب:





گفتگو جاری ہے۔




No comments:

Post a Comment