افطاری سے پہلے کی دعائیں:
(1)عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ»
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب افطاری کرتے تھے تو کہتے: شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! میں نے آپ ہی کیلئے روزہ رکھا، اور آپ ہی کے رزق سے افطار کیا۔
[المعجم الاوسط للطبرانی:7549، العجم الصغیر للطبرانی:912]
(2)حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إذا قرب إلى أحدكم طعام وهو صائم فليقل: بسم الله والحمد لله اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت وعليك توكلت سبحانك وبحمدك تقبل مني إنك أنت السميع العليم
ترجمہ:
جب تم میں سے کسی روزہ دار کے قریب کھانا لایا جائے تو وہ یہ دعا کہے۔
اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں یا اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق سے روزہ افطار کرتا ہوں اور تجھی پر بھروسہ کرتا ہوں تو پاک ہے اور تیری ہی حمد ہے تو میرا روزہ قبول فرما بلاشبہ تو سننے والا اور علم والا ہے۔
[سن دارقطنی:699، جامع الاحادیث -للسیوطی:2500، کنزالعمال:23873]
(3)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔
ترجمہ:
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب افطاری کرتے تو کہتے تھے: آپ ہی کیلئے میں نے روزہ رکھا، اور آپ ہی کے رزق سے میں نے افطار کیا، پھر آپ قبول فرمائیں مجھ سے (کیوں)کہ بےشک آپ ہی ہیں (دعائیں) خوب سننے والے (دلوں کے حال) خوب جاننے والے۔
[المعجم الکبیر للطبرانی:12720، کنزالعمال:18057]
(4)حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی ۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ، أَنْ تَغْفِرَ لِي.
اے اللہ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے ۔
[سنن ابن ماجہ:1753، المستدرک الحاکم:1549، شعب الایمان-للبیھقی:3904، عمل اليوم والليلة-ابن سني:481]
افطاری کے بعد کی دعائیں:
(1)مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو دیکھا، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے، اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے:
ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
ترجمہ:
پیاس ختم ہوگئی، رگیں تر ہوگئیں، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا۔
[سنن ابوداؤد:2357، السنن الكبري-للنسائي:3315، 10058، السنن الكبري-للبيهقي :8133،۔شرح السنة للبغوي:1740، المستدرک الحاکم:1550، شعب الایمان-للبیھقی:3902، مسند البزار:5395، عمل الیوم والليلة-ابن سني:478]
(2)عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَانَنِي فَصُمْتُ، وَرَزَقَنِي فَأَفْطَرْتُ»
ترجمہ:
حضرت معاذ بن زھرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب افطاری کرلیتے تھے تو کہتے: تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہی۔ جس نے میری مدد کی تو میں نے روزہ رکھا، اور مجھے رزق دیا تو میں نے افطار کیا۔
[عمل اليوم والليلة-ابن سني:479، شعب الایمان-للبيهقي:3902، كنزالعمال:18058]
(1) بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ
[المعجم الاوسط للطبرانی:7549، العجم الصغیر للطبرانی:912]
(2)....فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔
[المعجم الکبیر للطبرانی:12720]
(3) بسم الله والحمد لله اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت وعليك توكلت سبحانك وبحمدك تقبل مني إنك أنت السميع العليم۔
[سن دارقطنی:699، جامع الاحادیث -للسیوطی:2500]
(4) الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعَانَنِي فَصُمْتُ، وَرَزَقَنِي فَأَفْطَرْتُ.
[عمل اليوم والليلة-ابن سني:479، شعب الایمان-للبيهقي:3902]
No comments:
Post a Comment