(1)حضرت حذیفہ بن یمانؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اقْرَءُوا الْقُرْآنَ بِلُحُونِ الْعَرَبِ وأَصْوَاتِها، وَإِيَّاكُمْ ولُحُونَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ، وَأَهْلِ الْفسقِ، فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ بَعْدِي قَوْمٌ يُرَجِّعُونَ بِالْقُرْآنِ تَرْجِيعَ الْغِنَاءِ وَالرَّهْبَانِيَّةِ وَالنَّوْحِ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، مفتونةٌ قُلُوبُهُمْ، وقلوبُ مَنْ يُعْجِبُهُمْ شَأْنُهُمْ
ترجمہ:
تم قرآن کریم کو اہل عرب کے لہجوں اور ان کی آوازوں کے مطابق پڑھو، اہل کتاب اور فاسق﴿عاشق﴾ لوگوں کے طرز پر پڑھنے سے بچو۔ میرے بعد ایک جماعت پیدا ہوگی جس کے افراد (خوشی میں)راگ اور (غمی میں)نوحہ کی طرح آواز بناکر قرآن پڑھیں گے، (ان کا یہ حال ہوگا) قرآن ان کی حلق سے آگے نہیں بڑھے گا(یعنی قرآن ان کے دل پر اثر نہ کرے گا)۔ ان کے اور ان کی قرأت سن کر خوش ہونے والوں کے دل فتنہ(گمراہی) میں مبتلا ہوں گے۔
[المعجم الاوسط للطبرانی:7223، شعب الایمان-للبیھقی:2406، جامع الاصول-ابن الاثیر:913، تفسیر القرطبی:1/17، جامع الاحادیث-للسیوطی:4180]
